سب سے زیادہ تلاش شدہ
مشروع منهاج زادك
جمعیۃ الدعوہ والارشاد و توعیۃ الجالیات، روضہ دین سے آگاہی پہلا مرحلہ پیش لفظ سب تعریف اللہ تعالی کے لیے ہے، جس نے انسان کو پیدا کیا، اسے علم و بیان کے ذریعہ عزت بخشى اور قرآن و سنت کے ذریعے اس پر حجت قائم کر دی۔ درود و سلام ہو ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر، آپ کے اہل و عیال، صحابۂ کرام اور ہر اس شخص پر جو قیامت تک بحسن وخوبی ان کی اتباع کرے گا۔
This PDF is generated automatically from the book's text; its layout may differ from the printed edition.
جمعیۃ الدعوہ والارشاد و توعیۃ الجالیات، روضہ
دین سے آگاہی
پہلا مرحلہ
پیش لفظ
سب تعریف اللہ تعالی کے لیے ہے، جس نے انسان کو پیدا کیا، اسے علم و بیان کے ذریعہ عزت بخشى اور قرآن و سنت کے ذریعے اس پر حجت قائم کر دی۔
درود و سلام ہو ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر، آپ کے اہل و عیال، صحابۂ کرام اور ہر اس شخص پر جو قیامت تک بحسن وخوبی ان کی اتباع کرے گا۔
امابعد! اس بات میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہيں ہے کہ بندے پر عمل سے پہلے علم حاصل کرنا عظیم واجبات میں سے ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے : "تو آپ اس کا یقین رکھیے کہ بجز اللہ کے کوئی معبود برحق نہیں اور اپنی خطا کی معافی مانگتے رہیے اور سارے ایمان والوں اور ایمان والیوں کے لیے بھی، اور اللہ خوب خبر رکھتا ہے تم (سب) کے چلنے پھرنے اور رہنے سہنے کی۔"
[سورۂ محمد : 19]
دراصل شرعی علم اس امت کی اہم ترین امتیازات میں سے ایک امتیاز اور اسلامی شخصیت کے اہم ترین عناصر میں سے ایک عنصر ہے۔
علم کی اہمیت کے پیش نظر، جس کے چشمے سے جمعیۃ الدعوہ و توعیۃ الجالیات روضہ کا فیض جاری ہے اور وہ لوگوں کو حکمت کے ساتھ اور تبلیغ کے بہترین طریقوں کو بروئے کار لاتے ہوئے لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے اورغيرملكي کمیونٹیز کی تعلیم اور ان کو شرعی اعتبار سے اہل بنانے کے مقصد سے کیے گئے پروگراموں، جیسے "دین سے آگاہی" کا پروگروام، جو غير ملكي کمیونٹیز کے لیے سات زبانوں میں شرعی کورسیز فراہم کرتا ہے، کے توسط سے مسلمانوں کے اندر دینی بیداری لانے کے کام میں مشغول ہے۔ اس پروجیکٹ (منصوبے) کو تیار کرنے کے لیے جمعیہ مذکورہ نے "بصائر للاستشارات التربوية" نامی کمپنی سے رابطہ کیا، جو شرعی تعلیم کے نصاب کو بہتر سے بہتر بنانے کا کام کرتی ہے۔ چنانچہ جمعیہ کی جانب سے فراہم کردہ مواد کی بنیاد پر اس نصابی دستاویز کو تیار کرنے پر اتفاق عمل میں آیا اور پھر درج ذیل مراحل کے مطابق طلبہ کے لیے کتابیں تالیف کی گئیں :
- پہلا مرحلہ، جو چالیس (40) اسباق پر مشتمل ہے۔
-دوسرا مرحلہ، جو تیس (30) اسباق پر مشتمل ہے۔
- تیسرا مرحلہ، جو تیس (30) اسباق پر مشتمل ہے۔
متعلم کے لیے تیار کی گئی ہر کتاب کے مقابلے میں معلم کے لیے بھی ایک رہنما کتاب تیار کی گئی ہے، جو مؤثر تعلیمی اور تربیتی طریقے پر درس پیش کرنے میں معین و مددگار ثابت ہو گی۔ نصابی دستاویز مرتب کرنے، متعلمین کے لیے کتابیں تالیف کرنے اور معلمین کے لیے گائیڈ تیار کرنے کا عمل بڑے ہی علمی انداز میں انجام پایا ہے اور بڑی باریک بینی کے ساتھ مراجعہ کیا گیا ہے۔ یہ کام شرعی تعلیمی نصاب کے ماہرین کی ایک جماعت نے کیا ہے۔
اخیر میں دعا ہے کہ اللہ اس عمل کو اسلام اور مسلمانوں کے لیے نفع بخش بنائے اور اس میں شریک ہونے والے ہر شخص کو بہتر بدلہ عطا کرے اور جنت سے نوازے۔ اس نصاب تعلیم کے بارے میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور جمعیہ کے فون نمبروں کے ذریعہ موصول ہونے والی آپ کی کارآمد تجاویز اور آرا کا پرجوش خیر مقدم ہے۔
درود وسلام نازل ہو ہمارے نبی محمد ﷺ اور آپ ﷺ کے آل واصحاب پر۔
جمعیۃ الدعوہ، روضہ
مقدمہ
سب تعریف اللہ کے لیے ہے، جو سارے جہانوں کا رب ہے۔ درود و سلام ہو ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم، آپ کے اہل بیت اور تمام ساتھیوں پر۔
اما بعد!
عزیز طالبِ علم! نصاب کی پہلی کتاب آپ کے سامنے ہے۔ اس تعلیمی نصاب کی پہلی کتاب، جس کا مقصد مسلمان کو دین سے متعلق ضروری باتیں سکھانا، ایک مضبوط اسلامی ثقافت کی بنیاد رکھنا اور اسلامی تربیت کے مطابق طالب علم کی شخصیت کی تعمیر کرنا ہے۔
اس کتاب کو شرعی علوم کے مختلف شعبوں کے مد نظر مختلف تعلیمی اکائیوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے، جو اس طرح ہيں :
- اکائی : قرآن اور تفسیر : اس اکائی کے اندر قرآن کریم کا مقام و مرتبہ، سورہ فاتحہ اور کچھ چھوٹی چھوٹی سورتوں کی مختصر تفسیر اور ان سورتوں کی آیتوں سے حاصل ہونے والے کچھ اہم ترین علمی اور تربیتی فوائد بیان کيے گئے ہيں۔
- اکائي : ایمان اور تزکیہ : اس میں ایمان کی اہمیت، اس کے ارکان اور اس کے ہر رکن کے ایک مسلمان کے عقیدے، برتاؤ اور زندگی کے بارے میں اس کے نظریے پر پڑنے والے اثرات کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے۔
- اکائی : سنت اور شمائل نبویہ : اس میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا مختصر تعارف اور آپ کے اہم اوصاف و خصائص کا ذکر کیا گيا ہے، تاکہ سیکھنے والے کے دل و دماغ میں آپ کے مقام و مرتبے کو بٹھایا جا سکے اور اسے آپ کے اتباع پر آمادہ کیا جا سکے۔ بعد ازاں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی چار حدیثوں کا مطالعہ پیش کیا گیا ہے، جو قرآن پڑھنے کی فضیلت، گناہوں کے مٹانے والے اہم اعمال، اللہ سے حسن ظن رکھنے کے آثار اور کچھ ایسے لوگوں کے بیان پر مشتمل ہے، جن پر اللہ قیامت کے دن کے ہولناک حالات میں ان پر رحم فرمائے گا۔
- اکائی : فقہ الاحکام : اس میں طہارت اور نماز سے متعلق وہ اہم ترین باتیں بیان کی گئی ہیں، جن کا سیکھنا ایک مسلمان پر فرض ہے۔ جیسے :
وضو، غسل اور نماز کا طریقہ۔
- اکائی : اسلامی آداب : اس میں شب و روز کے اہم آداب، جیسے کھانے پینے، اجازت طلبی، گفتگو، مجلس اور قضائے حاجت وغیرہ کے آداب بیان کیے گئے ہیں۔
ہم نے ان کتابوں کو علمی اصولوں اور جدید تربیتی معیاروں کے مطابق تیار کرنے کی کوشش کی ہے۔
ان کی تیاری میں ہم نے درج ذیل باتوں کا خاص خیال رکھا ہے :
طالبِ علم (متعلم) کی دل چسپی بڑھانے کے لیے -ضرورت محسوس ہونے پر- سبق کا آغاز ایک مختصر تمہید سے کیا گیا ہے۔
ایسی تصاویر اور مفہوم کو واضح کرنے والے نقشے دیے گئے ہيں، جو علمی مشمولات کے استیعاب میں مددگار ہوں۔
ہر سبق فعال انداز میں سیکھنے کی حکمت عملیوں کے مطابق تربیتی مقاصد کے حصول کے لیے تعلیمی سر گرمى پر مشتمل ہے۔
ان عملی کاموں کے سلسلے میں ہم نے درج ذیل باتوں کا خاص خیال رکھا ہے :
سبجیکٹ سے مربوط ہونے کے ساتھ ساتھ, یہ عملی کام سبق کے مقاصد کے حصول کے سلسلے میں مشمولات سے مکمل طور سے ہم آہنگ ہیں۔
شخصیت کے مختلف پہلؤوں کو پروان چڑھانا اور نوع بہ نوع صلاحیتوں کو فروغ دینا۔
انھیں کرنے کے طریقے میں بھی تنوع سے کام لیا گیا ہے۔ کچھ عملی کام انفرادی طور پر کرنے کے ہیں اور کچھ اجتماعی طور پر۔ انھیں کرنے کی جگہ میں بھی تنوع رکھا گیا ہے۔ کچھ کلاس روم میں کرنے کے ہیں، تو کچھ کلاس روم سے باہر۔
ان کی شکلوں اور صورتوں میں بھی تنوع رکھا گیا ہے۔ کچھ تحریر ہیں، کچھ زبانی ہيں، کچھ اشاراتی ہیں اور کچھ دماغی۔
ہر سبق کے آخر میں سوالات دیے گئے ہيں، تاکہ اس بات کا اندازہ لگایا جا سکے کہ سبق کا استیعاب کہاں تک ہوا اور اس کے مقاصد کہاں تک حاصل ہوئے؟
اس کتاب کو پیش کرتے ہوئے ہمیں امید ہے کہ یہ کتاب علمی مواد کو آسان اور واضح انداز میں سامنے رکھنے،
کارگر عملی کام ترتیب دینے اور جانچنے کا جامع انداز اپنانے کی اپنی کوشش میں کامیاب ہوئے ہيں۔
دعا ہے کہ اللہ تعالی ہماری اس کوشش کو طلبہ کے لیے مفید بنائے اور شرف قبول عطا کرے۔ بے شک وہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔
درود و سلام نازل ہو ہمارے نبی محمد ﷺ اور آپ ﷺ کے تمام اہل بیت اور ساتھیوں پر۔
بصائر للاستشارات التربوية والتعليمية
- اکائی : قرآن اور تفسیر :
پہلا سبق : قرآن کریم کا مقام و مرتبہ
سبق کے مقاصد:
عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:
1- قرآن کریم کے مقام و مرتبہ کی نشان دہی کر سکیں گے۔
2- اہل قرآن کی تکریم کے مظاہر کو گنوا سکیں گے۔
3- قرآن کریم کی تعظیم کريں گے۔
4- قرآن اور اہل قرآن سے محبت رکھيں گے۔
قرآن مقام و مرتبے کے لحاظ سے سب سے عظیم آسمانی کتاب ہے۔ یہ اللہ تعالی کا کلام ہے، در اصل اللہ تعالی نے قرآن مجید کو مخلوق کی ہدایت کے لیے ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر اتارا ہے۔ قرآن خود ایک معجزہ ہے۔ کوئی بھی اس جیسی کتاب تالیف نہيں کر سکتا۔
قرآن کریم کا مقام و مرتبہ :
قرآن کریم اللہ تعالی کا کلام ہے
قرآنِ کریم کا اعجاز
قرآن کریم نور و ہدایت ہے
اللہ تعالی کی جانب سے قرآن کریم کی حفاظت کا انتظام
دنیا اور آخرت میں اہل قرآن کی عزت افزائی
1- قرآن کریم اللہ کا کلام ہے :
یہی وجہ ہے کہ قرآن سب سے اشرف اور سب سے عظیم کلام ہے۔ اس کی عظمت کی ایک دلیل یہ ہے کہ قرآن سننے اور سمجھنے والے کے دل پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔
2- قرآن کریم کا اعجاز :
قرآن کریم، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا سب سے بڑا معجزہ ہے۔ اللہ تعالی نے جنوں اور انسانوں کو اس جیسی کتاب پیش کرنے کا چیلنج کیا تھا، لیکن وہ ایسا کرنے سے قاصر رہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے : "کہہ دیجیے کہ اگر تمام انسان اور کل جنات مل کر اس قرآن کے مثل ﻻنا چاہیں تو ان سب سے اس کے مثل ﻻنا نا ممکن ہے، گو وه (آپس میں) ایک دوسرے کے مددگار بھی بن جائیں"۔ (سورہ اسرا : 88)
بعد ازاں ان کو دس سورتیں پیش کرنے کا چیلنج کیا، لیکن کسی سے کچھ نہ ہو سکا۔ اخیر میں ایک ہی سورہ پیش کرنے کا چیلنج کیا، لیکن وہ اس کو بھى پورا نہ کرسکے۔
3- قرآنِ کریم سارے جہاں کے لوگوں کے لیے کتابِ ہدایت ہے :
اللہ نے قرآن کو اپنی شریعت بیان کرنے والی اور لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت پر مبنی کتاب بنا کر اتارا ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "اور ہم نے تجھ پر یہ کتاب نازل فرمائی ہے، جس میں ہر چیز کا شافی بیان ہے اور ہدایت اور رحمت اور خوش خبری ہے مسلمانوں کے لیے"۔ (سورہ نحل : 89)
4- اللہ کی جانب سے قرآن کریم کی حفاظت :
اللہ تعالی نے قرآن کریم کو یہ خصوصیت عطا کی ہے کہ تورات اور انجیل کی طرح اس میں تحریف نہيں ہو سکتی۔ اس کی ذمے داری اللہ نے خود لے رکھی ہے۔ اللہ کا فرمان ہے : "ہم نے ہی اس ذکر (قرآن) کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔" (سورہ حجر : 9)
5- دنیا اور آخرت میں اہلِ قرآن کی عزت افزائی :
اہل قرآن سے مراد قرآن پڑھنے اور حفظ کرنے والے، اس کی تفسیر اور اس کے علوم کے رمز شناس اور اس کے احکامات پر عمل کرنے والے لوگ ہيں۔ اللہ نے اہل قرآن کو دنیا میں اونچا مقام اور آخرت میں کامیابی عطا کی ہے۔
چنانچہ اہل قرآن اس امت کے سب سے بہتر لوگ ہيں۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : ”تم میں سب سے بہتر شخص وہ ہے، جو قرآن سیکھے اور اسے سکھائے“۔ (صحیح بخاری : 5027)
قرآن قیامت کے دن اہل قرآن کے حق میں شفارش کرے گا۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : "قرآن پڑھا کرو، کیوں کہ قرآن قیامت کے دن اہل قرآن کا سفارشی بن کر آئے گا۔" (صحیح مسلم : 804)
سرگرمیاں
سرگرمی (1) : میں تلاش کروں گا اور چارٹ بناؤں گا :
قرآن میں شرف واعزاز کے تمام وجوہ اکٹھا ہیں, اپنے معلم کی نگرانی میں ان کو جمع کریں۔ بعد ازاں ان کو نیچے دیے گئے چارٹ میں درج کریں :
اعزاز
مکانی اعزاز
زمانی اعزاز
وہ زبان جس میں قرآن اترا ہے
قرآن ساتھ لے کر اترنے والا فرشتہ
وہ رسول جس پر قرآن اتارا گیا ہے
اس کی وضاحت قرآن اترنے کا آغاز اللہ کے حرمت والے شہر مکہ مکرمہ میں ہوا۔ قرآن اترنے کا آغاز ماہ رمضان میں ہوا۔ قرآن عربی زبان میں اترا، جو کہ اہل جنت کی زبان ہے۔ وہ فرشتہ (جو قرآن لے کر آئے) جبریل علیہ السلام ہیں۔ (جس رسول پر قرآن نازل ہوا وہ) آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم ہیں۔ امت اسلامیہ، جو کہ سب سے بہترین امت ہے اور جسے لوگوں کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔
سرگرمی (2) : میں غور کروں گا اور جواب دوں گا :
نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: "جو لوگ اللہ کے کسی گھر میں اللہ کی کتاب پڑھنے اور پڑھانے کے لیے جمع ہوتے ہیں، تو ان پر اللہ تعالیٰ کی سکینت اترتی ہے، رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا ذکر اپنے پاس رہنے والوں (یعنی فرشتوں) میں کرتا ہے"۔ (صحیح مسلم : 2699) حدیث پر غور کرنے کے بعد درج ذیل سوالوں کے جواب دیں :
1- اس حدیث سے قرآن کی تلاوت اور اسے سیکھنے کی فضیلت معلوم کیجیے۔
الف) فرشتوں کا اترنا اور قرآن کی مجلسوں میں حاضر ہونا۔
ب) قرآن پڑھنے والوں پر سکینت اور رحمت کا اترنا۔
ج) اللہ تعالی قرآن پڑھنے والوں کا ذکر آسمان میں کرتا ہے۔
2- اپنے ساتھی کے ساتھ تلاوت قرآن کے تین آداب اور اسے سیکھنے کی مجلسوں کے بارے میں چرچا کریں۔
تلاوت کے وقت وضو کر لینا۔ پرسکون اور باوقار انداز میں بیٹھنا۔ خشوع کا مظاہرہ کرنا اور غور و فکر سے کام لینا۔
اندازۂ قدر
سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :
1- قرآن کریم ماہ شعبان میں اترا۔ (×)
2- قرآن پڑھنے والوں پر سکینت اور رحمت اترتی ہے۔
3- قرآن قیامت کے دن اسے پڑھنے اور اس پر عمل کرنے والوں کے لیے سفارش کرے گا۔
4- جنات قرآن جیسی کتاب پیش کر سکتے ہيں۔ (×)
5- قرآن ہدایت اور خیر پر مشتمل ہے، کیوں کہ وہ اللہ کا کلام ہے۔
سوال 2 : نیچے دیے گئے دونوں نصوص کو پورا کریں:
1- اللہ تعالی کا فرمان ہے : "إِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا ٱلذِّكۡرَ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَٰفِظُونَ..................."۔
2- نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے : "خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ القُرْآنَ و................"
سوال 3 : قرآن کریم سے اپنی عقیدت اور اہل قرآن سے اپنی محبت کا تین فقروں میں اظہار کریں۔
دوسرا سبق : سورہ فاتحہ کی تفسیر
سبق کے مقاصد:
عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ :
1۔ سورہ فاتحہ کی آیتوں کی مختصر تفسیر کر سکیں گے۔
2- سورہ فاتحہ کی آیتوں سے حاصل ہونے والے کچھ فوائد بتا سکیں گے۔
3- سورہ فاتحہ کی قدر و قیمت کو جان سکیں گے۔
سور ۂ فاتحہ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم واﻻ ہے۔ سب تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ بڑا مہربان نہایت رحم کرنے واﻻ۔ بدلے کے دن (یعنی قیامت) کا مالک ہے۔ ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔ ہمیں سیدھی راه دکھا۔ ان لوگوں کی راه جن پر تو نے انعام کیا، ان کی نہیں جن پر غضب کیا گیا (یعنی وه لوگ جنہوں نے حق کو پہچانا، مگر اس پر عمل پیرا نہیں ہوئے) اور نہ گمراہوں کی (یعنی وه لوگ جو جہالت کے سبب راه حق سے برگشتہ ہوگئے)۔ [سورہ فاتحہ : 1-7]
توضیح وتفسیر :
سورہ فاتحہ قرآن کریم کی عظیم ترین سورت ہے۔ اس میں توحید اور اللہ کی عبادت سے متعلق بنیادی باتیں بیان کی گئی ہیں۔
"بِسمِ ٱللَّهِ" میں اللہ کے نام سے قرآن کریم کی تلاوت کا آغاز کرتا ہوں۔ اللہ کی مدد طلب کرتے ہوئے اور اس کے نام کے ذکر کی برکت حاصل کرتے ہوئے۔
"ٱلرَّحمَٰنِ" تمام مخلوقات کو شامل عام رحمت کا حامل۔
"ٱلرَّحِيمِ" اپنے مؤمن بندوں کے ساتھ رحم و کرم کا معاملہ کرنے والا۔
"ٱلحَمدُ لِلَّهِ" شکر اور اچھی تعریف اللہ تعالی ہی کے لیے سزاوار ہے۔
"رَبِّ ٱلعَٰلَمِينَ" جو ہمارے اس جہان اور دیگر تمام جہانوں کی دیکھ بھال کرتا ہے۔
"مَٰلِكِ يَومِ ٱلدِّينِ" جو قیامت کے دن تنہا حساب لینے اور بدلہ دینے کا مالک ہوگا۔
"إِيَّاكَ نَعبُدُ وَإِيَّاكَ نَستَعِينُ" ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں، کسی کو تیرا شریک نہيں ٹھہراتے اور سارے کاموں میں تجھ ہی سے مدد طلب کرتے ہيں۔
"ٱهدِنَا ٱلصِّرَٰطَ ٱلمُستَقِيمَ" ہمیں صحیح راستہ دکھا۔ یعنی اسلام اور اس کی تعلیمات پر عمل کا راستہ۔
"صِرَٰطَ ٱلَّذِينَ أَنعَمتَ عَلَيهِم" ان لوگوں کا راستہ، جنھیں اللہ نے اسلام کی راہ دکھائی۔ یعنی نبیوں اور ان کے پیروکاروں کا راستہ۔
غَيرِ ٱلمَغضُوبِ عَلَيهِم" ان لوگوں کا راستہ نہیں، جنھوں نے حق کو پہجاننے کے باوجود اسے نہیں مانا۔ جیسے یہود۔
"وَلَا ٱلضَّآلِّينَ" اور نہ ہی ان لوگوں کا راستہ جو حق سے عدم واقفیت کی بنیاد پر گمراہ ہو گئے۔ جیسے نصاری۔
سورہ فاتحہ کے کچھ فضائل :
سورہ فاتحہ کو نماز میں پڑھنا واجب ہے۔ یہ قرآن کی سب سے عظیم اور سب سے زیادہ فضیلت والی سورت ہے۔ اس کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ آیا ہے، اس میں سے ایک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ فرمان ہے : "اللہ تعالی نے کہا ہے : میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان آدھا آدھا بانٹ دیا ہے اور میرے بندے کے لیے وہ سب کچھ ہے، جو وہ مانگے۔ جب بندہ {الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} کہتا ہے، تو اللہ تعالی کہتا ہے کہ میرے بندے نے میری حمد کی۔ جب بندہ {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} کہتا ہے، تو اللہ تعالی کہتا ہے کہ میرے بندے نے میری ثنا کی۔ جب بندہ {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} کہتا ہے، تو اللہ تعالی کہتا ہے کہ میرے بندے نے میری بڑائی بیان کی۔ اور ایک دفعہ فرمایا : میرے بندے نے اپنے سارے کاموں کو میرے حوالے کر دیا۔- جب بندہ {إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ} کہتا ہے تو اللہ تعالی کہتا ہے کہ یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے کے لیے وہ سب کچھ ہے، جو وہ مانگے۔ پھر جب بندہ {اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ، صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ} کہتا ہے، تو اللہ تعالی کہتا ہے کہ یہ میرے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ سب کچھ ہے، جو وہ مانگے۔" (صحیح مسلم : 395)
مذکورہ بالا آیتوں سے حاصل ہونے والے کچھ فوائد :
1- ہر اچھی چیز، جیسے پڑھنے، کوئی کام کرنے اور کھانے پینے وغیرہ کو اللہ کے نام سے شروع کرنا چاہیے۔
2-۔ اللہ کی رحمت سے اس کی ساری مخلوقات عمومی طور پر اور اس کے مؤمن بندے خصوصی طور پر فیض یاب ہوتے ہیں۔
3- قیامت کے دن کے لیے، جو کہ بدلے کا دن ہے، تیاری کرنا ضروری ہے۔
4- اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت جائز نہیں ہے۔
5۔ انبیا کی پیروی اور اہل کفر کے راستوں سے گریز کرنا واجب ہے۔
سرگرمیاں
سرگرمی (1) : میں غور کروں گا اور جوڑوں گا :
آیت اور اس سے حاصل ہونے والے معنی کے مابین تعلق جوڑیں :
آیت
معنی
اللہ کے اچھے اچھے نام ہيں۔
اللہ ہی اکیلے عبادت کا مستحق ہے۔
اللہ ہی اکیلے ساری کائنات کا رب ہے۔
سرگرمی (2) : میں پڑھوں گا اور جوڑوں گا :
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھنے کی وصیت کی : ’’”اے اللہ! اپنے ذکر، شکر اور اپنی بہترین عبادت کے سلسلہ میں میری مدد فرما۔‘‘
سورہ فاتحہ کی کون سی آیت اس معنی پر دلالت کرتی ہے؟
اندازۂ قدر
سوال 1 : کالم (الف) میں دیے گئے ہر لفظ کو کالم (ب) میں دیے گئے اس کے معنی کے ساتھ جوڑیں :
کالم : (الف) "ٱلرَّحمَٰنِ" "ٱلرَّحِيمِ" "ٱلمَغضُوبِ عَلَيهِم" "ٱلضَّآلِّينَ" "ٱهدِنَا" کالم : (ب)
ایسے لوگ جنھوں نے حق کو جاننے کے باوجود اسے نہيں مانا۔
جو اپنے مؤمن بندوں پر رحم کرتا ہے۔
ہماری رہ نمائی فرما۔
وہ جس کی رحمت ساری مخلوقات کو محیط ہے۔
ایسے لوگ جنھوں نے اللہ تعالی کی عبادت جہالت اور گمراہی کے ساتھ کی۔
سوال 2 : درج ذیل معانی پر دلالت کرنے والی آیات کریمہ لکھیے :
1- اللہ کی وسیع رحمت۔
2۔ نبیوں اور اللہ کے نیک بندوں کے راستے پر چلنا واجب و ضروری ہے۔
سوال 3 : اللہ تعالی کے اس قول سے جو فائدہ حاصل ہوتا ہے، اسے بیان کریں : "إِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَإِيَّاكَ نَسۡتَعِينُ" ۵
تیسرا سبق : سورہ "الکوثر" اور سورہ " الکافرون" کی تفسیر
سبق کے مقاصد :
عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:
1- آپ ان دونوں سورتوں کی آیتوں کی مختصر تفسیر کر سکیں گے۔
2- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی فضیلت بیان کر سکیں گے۔
3- کفر اور اہل کفر سے براءت کا اظہار کریں گے۔
4- ان آیتوں سے حاصل ہونے والے فوائد کو بیان کر سکیں گے۔
سورۂ کوثر
"یقیناً ہم نے تجھے (حوض) کوﺛر (اور بہت کچھ) دیا ہے." ١ "پس تو اپنے رب کے لیے نماز پڑھ اور قربانی کر." ۲
توضیح وتفسیر :
سورۂ کوثر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی فضیلت اور دنیا و آخرت میں آپ کا مقام و مرتبہ بیان کرتی ہے۔
"إِنَّآ أَعطَينَكَ ٱلكَوثَرَ" اللہ تعالی نے ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو دنیا اور آخرت کی بہت سی اچھی اچھی چیزیں عطا کی ہیں، جن میں سے ایک بہت ہی اچھی چیز جنت کی نہر کوثر ہے۔
"فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَٱنحَر"۔ لہذا اس کے شکر کے طور پر اللہ کے لیے نماز قائم کریں اور اپنے ذبیحہ کو اللہ کے لیے ذبح کریں اور اس میں کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں۔
"إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ ٱلأَبتَرُ "۔ بلاشبہ آپ سے حسد اور بغض رکھنے والا ہی دنیا وآخرت میں بے نام و نشان اور خیر سے محروم ہے۔
سورۂ کافرون
اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کر رہا ہوں. ۳ اور نہ میں اس کی عبادت کروں گا جس کی تم عبادت کرتے ہو. ٤
اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کر رہا ہوں. ۵ تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین ہے. ٦ (سورۂ کافرون : 1-6)
توضیح وتفسیر :
قرآن کی یہ سورت اس بات کو بڑی مضبوطی کے ساتھ بیان کرتی ہے کہ عبادت صرف اللہ تعالی کی ہوگی اور کفر و اہل کفر سے براءت ضروری ہے۔
"آپ کہہ دیجیے کہ اے کافرو! ۱ نہ میں عبادت کرتا ہوں اس کی جس کی تم عبادت کرتے ہو. ۲ اے محمد! آپ کافروں سے کہہ دیں : میں ان بتوں کی عبادت نہيں کرتا، جن کی عبادت تم کرتے ہو۔
اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کر رہا ہوں. ۳ اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو، جس کی میں عبادت کر رہا ہوں۔ میں تو بس ایک اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو عبادت کا مستحق ہے اور کسی کو اس کا شریک نہیں ٹھہراتا۔
اور نہ میں عبادت کروں گا اس کى جس کی تم عبادت کرتے ہو. ٤ میں ہرگز ان بتوں کی پوجا نہیں کروں گا، جن کی پوجا تم لوگ کرتے ہو۔
اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کر رہا ہوں. ۵ تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین ہے. ٦ تمھارے لیے تمھارا دین ہے، جس پر تم کو اصرار ہے۔ میں اس سے بری ہوں۔ جب کہ میرے لیے میرا دین ہے، جسے اللہ نے مجھ پر اتارا ہے اور میں اس میں کوئی تبدیلی کرنے کا مجاز نہیں ہوں۔
مذکورہ بالا آیتوں سے حاصل ہونے والے کچھ فوائد :
1- اللہ تعالی کی بارگارہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا عظیم مقام و مرتبہ۔
2- اللہ دنیا میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا دفاع کرتا ہے۔
3- اللہ تعالی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو جنت میں نہر کوثر عطا کی ہے۔
4- ذبح کرنا ایک عبادت ہے، جسے صرف اللہ وحدہ کے لیے کرنا ضروری ہے۔
5- ایک مسلمان پر واجب ہے کہ وہ اسلام سے اپنی نسبت کو باعث افتخار سمجھے۔
6- ایک مسلمان پر واجب ہے کہ ان چیزوں سے اپنی براءت کا اعلان کر دے، جن کی عبادت کفار کرتے ہیں۔
7- ایک مسلمان پر واجب ہے کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرے۔
سرگرمیاں
سرگرمی (1) : میں غور کروں گا اور توقع رکھوں گا :
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : "کوثر جنت کی ایک نہر ہے۔ اس کے دونوں کنارے سونے کے ہیں، اس کا پانی موتی اور یاقوت پر بہتا ہے، اس کی مٹی مشک سے زیادہ پاکیزہ ہے اور اس کا پانی شہد سے زیادہ میٹھا اور برف سے زیادہ سفید ہے۔" (سنن ترمذی : 3361، سنن ابن ماجہ : 4334)
اس حدیث پر اور اس میں بیان کی گئی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کی امت کی فضیلت پر غور کریں اور پھر ان لوگوں کى صفات کا توقع رکھیں، جن کو اللہ تعالی جنت میں واقع کوثر نامی نہر کا پانی پینے کا شرف عطا کرے گا۔
سرگرمی (2) : میں نص اور اس کے معنی کو جوڑوں گا :
نص اور اس سے حاصل ہونے والے معنی کو جوڑیں :
نص "جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی نہیں لڑی اور تمھیں جلاوطن نہیں کیا ان کے ساتھ سلوک و احسان کرنے اور منصفانہ بھلے برتاؤ کرنے سے اللہ تعالیٰ تمھیں نہیں روکتا، بلکہ اللہ تعالیٰ تو انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے." (سورۂ ممتحنہ : 8) اللہ تعالیٰ نے فرمایا : "نہ میں عبادت کرتا ہوں اس کی جس کی تم عبادت کرتے ہو." (سورۂ کافرون : 2) اسما بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ میری ماں جو کہ مشرکہ تھیں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے میں میرے یہاں آئیں۔ چنانچہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے مسئلہ دریافت کیا۔ میں نے پوچھا کہ کیا میں اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحمی کروں؟ تو آپ نے جواب دیا :
"ہاں! تم اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔" (صحیح بخاری : 2620) معنی
مشرک رشتے دار کے ساتھ صلہ رحمی جائز ہے۔
غیر محارب کافر کے ساتھ حسن سلوک جائز ہے۔
مشرکوں کے دین سے براءت ضروری ہے۔
سرگرمی (3) : میں چرچا (بحث و مباحثہ) کروں گا اور فرق سمجھوں گا :
سورہ "کافرون" اسلام مخالف مذاہب سے براءت کو ضروری قرار دیتی ہے، یہ الگ بات ہے کہ ہمارے اوپر اپنے سماج کے غیر مسلموں کے ساتھ اچھا سلوک بھی واجب ہے۔
اس نکتے پر اپنے استاد کے ساتھ چرچا کریں، تاکہ اعتقاد کے مقام اور معاملات کے مقام کے درمیان موجود فرق کو جان سکیں۔
اندازۂ قدر
سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :
1- مسلمان اپنے دین کو اپنے لیے فخر کا سرمایہ سمجھتا ہے اور اپنے عقیدے کو مضبوطی سے پکڑا رہتا ہے۔ ( ✓)
2- ذبح کرنا بھی حج اور نماز کی طرح ایک عبادت ہے۔ ()
3- نہر کوثر کا تعلق نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ خاص ہے، آپ کی امت کے ساتھ نہیں۔ (×)
4- اچھے اخلاق کا مظاہرہ صرف مسلمان کے ساتھ ہونا چاہیے۔ غیر مسلم کے ساتھ نہيں۔ (×)
سوال 2 : نیچے دی گئی دونوں آیتوں کا معنی اختصار کے ساتھ لکھیے :
سوال 3 : نیچے دی گئی باتوں پر دلالت کرنے والی آیت لکھیے :
1- صرف ایک اللہ کے لیے نماز پڑھنے اور ذبح کرنے کا حکم۔
2- معبودان کفار سے براءت ضروری ہے۔
چوتھا سبق : سورہ "نصر" اور سورہ "مسد" کی تفسیر :
طریقہ کار کے مقاصد:
عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:
1-ان دونوں سورتوں کی آیتوں کی مختصر تفسیر کر سکیں گے۔
2 - اللہ کی جانب سے اپنے نبی کے دفاع کی وضاحت کر سکیں گے۔
3- ان آیتوں سے حاصل ہونے والے فوائد کو بیان کر سکیں گے۔
4- اسلام اور مسلمانوں کی نصرت سے خوش ہوں گے۔
سورۂ نصر
تفسیر :
اس سورت میں ایمان والوں کے لیے فتح و نصرت اور عربوں کے بیچ اسلام کے پھیل جانے کی بشارت ہے۔
"إِذَا جَآءَ نَصرُ ٱللَّهِ وَٱلفَتحُ." ١ جب مسلمانوں کے حق میں مشرکین عرب کے خلاف اللہ کی مدد آ گئی اور اللہ نے تمھیں مکہ مکرمہ کو فتح کرنے کی توفیق عطا کر دی۔
"وَرَأيتَ ٱلنَّاسَ يَدخُلُونَ فِي دِينِ ٱللَّهِ أَفوَاجٗا" ٢ اور آپ نے لوگوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پر اسلام میں داخل ہوتے ہوئے دیکھ لیا۔
"فَسَبِّح بِحَمدِ رَبِّكَ وَٱستَغفِرهُ." لہذا اپنے رب کو کسی بھی شریک سے پاک رکہیے، فتح و نصرت کی نعمت پر اپنے رب کا شکر ادا کیجیے اور اس سے عفوو درگزر اور مغفرت طلب کیجیے۔
"إِنَّهُۥ كَانَ تَوَّابَا ." ۳ بلاشبہ اللہ اپنے بندے کی توبہ اور استغفار بہت زیادہ قبول کرتا ہے۔
سورۂ مسد
ابو لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وه (خود) ہلاک ہو گیا. ۱ نہ تو اس کا مال اس کے کام آیا اور نہ اس کی کمائی. ۲
تفسیر :
یہ سورت اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے چچا ابو لہب کا انجام بیان کرتی ہے، جس نے آپ کو جھٹلایا اور ذیت دی۔
"تَبَّت يَدَآ أَبِي لَهَبٖ وَتَبَّ." ۱ ابو لہب خسارے میں پڑ گیا، شقی ونامراد ہوا اور عذاب سے دوچار ہوا، کیوں کہ اس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو اذیت پہنچائی۔
"مَآ أَغنَىٰ عَنهُ مَالُهُۥ وَمَا كَسَبَ." ۲ اس کا مال اور اس کی اولاد اسے اللہ کے عذاب سے ہرگز بچا نہیں سکے گی۔
"سَيَصلَىٰ نَارٗا ذَاتَ لَهَبٖ." ۳ وہ بہت جلد ایسی آگ میں داخل ہوگا، جس کی لپٹیں اٹھ رہی ہوں گی۔
"وَٱمرَأَتُهُۥ حَمَّالَةَ ٱلحَطَبِ." ٤ اور اس کے ساتھ اس کی بیوی (ام جمیل) بھی ہوگی، جو کانٹے اور تکلیف دہ چیزیں اٹھا کر لاتی اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے راستے میں رکھ دیا کرتی تھی۔
"فِي جِيدِهَا حَبل مِّن مَّسَدِ ." ۵ اس کی گردن میں پوست کھجور کی بٹی ہوئی کھردری رسی ڈال کر اسے جہنم کی جانب کھینچ کر لے جایا جائے گا۔
مذکورہ بالا آیتوں سے حاصل ہونے والے کچھ فوائد :
1- اللہ کی تسبیح اور اس کی حمد بیان کرنا اور توبہ و استغفار کرتے رہنا واجب ہے۔
2- اللہ بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔ وہ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے۔
3- اللہ تعالی اپنے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا دفاع کرتا ہے اور آپ کو اذیت دینے والے کو عذاب دیتا ہے۔
جو اللہ پر ایمان نہ لائے اور نیک عمل نہ کرے، اس کا مال اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے اس کی قرابت اس کے کچھ کام نہيں آسکتی۔
سرگرمیاں
سرگرمی (1) : میں جستجو کروں گا اور جواب دوں گا :
اپنے معلم کی مدد سے یہ معلوم کریں کہ سورۂ نصر سے کیسے پتہ چلتا ہے کہ مسلمان صرف گناہ کے وقت ہی نہیں، بلکہ ہمیشہ اللہ سے بخشش طلب کرتا رہتا ہے۔
سرگرمی (2) : میں غور کروں گا اور واضح کروں گا :
قرآن کریم نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے چچا ابو لہب کو اس بنا پر عذاب کی دھمکی دی ہے کہ اس نے آپ کو جھٹلایا تھا اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکا تھا۔ خود اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی کہا ہے : "اے قریش کی جماعت! تم اپنی جانوں کو (اللہ کے عذاب سے) خرید لو، میں اللہ کی بارگاہ میں تمھارے کسی کام نہیں آؤں گا۔ اے بنو عبد مناف! میں اللہ کے ہاں تمھیں کوئی نفع نہیں دوں گا۔ اے عباس بن عبد المطلب! میں اللہ کی بارگاہ میں تمھارے کچھ کام نہیں آسکوں گا۔ اے صفیہ! جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی پھوپی ہیں٬ میں اللہ کے ہاں تمھیں کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکوں گا۔ اور اے فاطمہ بنت محمد! میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے طلب کرلو، میں اللہ کے ہاں تمھیں کوئی نفع نہیں دوں گا"۔ (صحیح بخاری : 4771، صحیح مسلم : 206)
یہ حدیث اسلام میں عدل کی اہمیت پر کیسے دلالت کرتی ہے؟ وضاحت کیجیے۔
اندازۂ قدر
سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :
1۔ مسلمان اسلام اور مسلمانوں کی فتح سے خوش ہوتا ہے۔ (✓)
2- استغفار گناہ میں ملوث ہونے کے بعد ہی مشروع ہے۔ (×)
3- اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے رشتے دار گناہوں سے معصوم ہیں۔ (×)
4- اسلام عدل و رحمت کا دین ہے۔ (✓)
سوال 2 : آنے والی دونوں آیتوں کا معنی اختصار کے ساتھ لکھیے :
"اور اس سے مغفرت کی دعا مانگ، بیشک وه بڑا ہی توبہ قبول کرنے واﻻ ہے."
سوال 3 : سورۂ نصر اور سورۂ مسد کی آیتوں کے دو فائدے بیان کیجیے۔
پانچواں سبق : سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس کی تفسیر
طریقہ کار کے مقاصد:
عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:
1- سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس کی آیتوں کی مختصر تفسیر کر سکیں گے۔
4- ان آیتوں سے حاصل ہونے والے فوائد کو بیان کر سکیں گے۔
3- سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس کی عظمت کو محسوس کر سکیں گے۔
4- سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس کو روزانہ پڑھیں گے۔
سورۂ اخلاص
آپ کہہ دیجیے کہ وه اللہ تعالیٰ ایک (ہی) ہے. ۱ اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے. ۲ نہ اس سے کوئی پیدا ہوا نہ وه کسی سے پیدا ہوا. ۳
تفسیر :
اس عظیم سورت کے اندر اللہ عز و جل کے کچھ صفات بیان کیے گئے ہیں۔
"قُل هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ." ۱ اے رسول! آپ کہہ دیں : بے شک اللہ ایک ہے اور ربوبیت و الوہیت میں اکیلا ہے۔
"ٱللَّهُ ٱلصَّمَدُ." ۲ اللہ ہی وہ برتر ہستی ہے، جس کى طرف بندے اپنی ضرورتیں پوری کروانے کے لیے متوجہ ہوتے ہيں۔
"لَم يَلِد وَلَم يُولَد۔" ۳ اللہ کی نہ کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔
"وَلَم يَكُن لَّهُۥ كُفُوًا أَحَدُ." ٤ اللہ کا نہ کوئی مشابہ ہے اور نہ کوئی نظیر۔
سورۂ فلق
آپ کہہ دیجیے کہ میں صبح کے رب کی پناه میں آتا ہوں. ۱ ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے. ۲ اور اندھیری رات کی تاریکی کے شر سے جب اس کا اندھیرا پھیل جائے. ۳
تفسیر :
یہ سورہ ہمیں مخلوق، جادو اور حسد کی برائی سے اللہ کی پناہ مانگنا سکھاتی ہے۔
"قُل أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلفَلَقِ" ۱ اے رسول! آپ کہہ دیں کہ میں صبح اور روشنی کے رب کی پناہ میں آتا ہوں۔
"مِن شَرِّ مَا خَلَقَ." ۲ ساری مخلوقات اور ان کی اذیتوں کی برائی سے۔
"اور اندھیری رات کى تاریکی کے شرسے جب اس کا ندھیرا چھا جائے" ۳ اور رات اور اس کی تاریکی، نیز اس میں موجود برائیوں اور اذیت ناک چیزوں سے۔
"وَمِن شَرِّ ٱلنَّفَّٰثَٰتِ فِي ٱلعُقَدِ" ٤ اور جادوگرنیوں کی برائی سے، جو جادو کرنے کے ارادے سے گرہ لگاکر اس میں پھونکتی ہیں۔
"وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ." ۵ اور حسد کرنے والے کی برائی سے، جو کسی کی نعمت کے زائل ہونے کی تمنا کرتا ہے۔
سورۂ ناس
آپ کہہ دیجیے کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناه میں آتا ہوں. ۱ لوگوں کے مالک کی (اور)۔ ۲ لوگوں کے معبود کی (پناه میں)۔ ۳
تفسیر :
یہ سورت ہمیں شیطان کی برائی اور اس کے وسوسے سے اللہ کی پناہ مانگنا سکھاتی ہے۔
"قُل أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ" ۱ اے رسول! آپ کہہ دیں کہ میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں، جو لوگوں کا خالق، رازق اور اس کائنات کا مدبر ہے۔
"مَلِكِ ٱلنَّاسِ" ۲ جس کے ہاتھ میں لوگوں کے سارے کام ہیں اور وہ خود ان سے بے نیاز ہے۔
"إِلَٰهِ ٱلنَّاسِ" ۳ جو اکیلے ہر طرح کی عبادت کا حق دار ہے اور جس کے سوا کوئی معبود برحق نہيں ہے۔
"مِن شَرِّ ٱلوَسوَاسِ ٱلخَنَّاسِ" ٤ شیطان کی اذیت سے، جو اللہ کے ذکر سے غفلت دیکھتے ہی انسان کے دل میں برے خیالات ڈالنے لگتا ہے اور جیسے ہی اللہ کا ذکر ہونے لگتا ہے، چھپ جاتا ہے۔
"ٱلَّذِي يُوَسوِسُ فِي صُدُورِ ٱلنَّاسِ" ۵ جو لوگوں کے دلوں میں برے خیالات ڈالتا اور شکوک پیدا کرتا ہے۔
"مِنَ ٱلجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ" ٦ میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں ان جنوں سے جو چھپ چھپاکر وسوسے ڈالتے ہیں اور ان انسانوں سے جو غلط اور برے کاموں کا حکم دیتے ہيں۔
مذکورہ بالا آیتوں سے حاصل ہونے والے کچھ فوائد :
1- اللہ ایک اکیلا ہے۔ نہ اس کا کوئی شریک ہے، نہ اولاد ہے، نہ والد ہے، نہ مشابہ ہے اور نہ نظیر ہے۔
2- اللہ ہی معبود برحق اور ہر طرح کی عبادتوں کا مستحق ہے۔
مسلمان جب اللہ کی پناہ لے لیتا ہے، تو اللہ جنوں اور انسانوں کی برائیوں سے اس کی حفاظت فرماتا ہے۔
4- جادو اور حسد کے نقصانات حقیقی ہیں اور اللہ کی پناہ میں جانے اور اس پر بھروسہ کرنے سے ایک مسلمان کو اس سے تحفظ فراہم ہو جاتا ہے۔
5- اللہ تعالی کا ذکر، شیطان کے وسوسے سے مسلمان کی حفاظت کرتا ہے۔
سرگرمیاں
عملی کام (1) : میں سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس پڑھنے کا وقت متعین کروں گا :
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیں کچھ اوقات اور احوال میں سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس پڑھنے کی رہنمائی فرمائی ہے۔ اس وقت/حالت کے سامنے اشارہ رکھیے، جس میں ان سورتوں کو پڑھنا مشروع ہے۔
وقت/حالت پڑھنے کی مشروعیت
صبح کے وقت
شام کے وقت
مسجد میں داخل ہوتے وقت
مسجد سے نکلتے وقت
سونے سے پہلے کھانے سے فارغ ہونے کے بعد
عملی کام (2) : میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ چرچا کروں گا :
اللہ نے سورۂ فلق اور سورۂ ناس کو جادو اور شیطان سے پناہ حاصل کرنے کا وسیلہ بنایا ہے۔ لیکن اس کے باوجود کچھ لوگ جادو کھولنے کے غیر مشروع طریقوں، جیسے تعویذوں اور شیطان کا تقرب حاصل کرنے وغیرہ کو اپناتے ہیں۔
آپ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ان سلوکیات کی تشخیص اور مسلمانوں کے عقیدے پر پڑنے والے ان کے نقصان دہ اثرات کے بارے میں چرچا کریں۔
اندازۂ قدر
سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :
1- 'الأحد' سے مراد وہ ذات یکتا ہے، جو صفات الوہیت اور ربوبیت میں یگانہ ہو۔ (✓)
2- 'الصمد' سے مراد وہ ذات ہے، کہ بندے اپنی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے جس کى پناہ لیتے ہیں۔ (✓)
3- مسلمان کے لیے جادو کے ذریعے جادو کا علاج کرنا جائز ہے۔ (×)
4- پھونک مارنے والیوں سے مراد جادوگرنیاں ہیں، جو لوگوں پر جادو کرتی ہیں۔ (✓)
5- سورۂ فلق اور سورۂ ناس کا پڑھنا حسد سے بچاتا ہے اور شیطان کو دور بھگاتا ہے۔ (✓)
6- تعویذوں میں ملوث ہونا اور جنوں کا تقرب حاصل کرنا شرکیہ کام ہیں۔ (✓)
سوال 2 : وہ آیت کریمہ لکھیے، جو نیچے دیے گئے معنی سے مناسبت رکھتی ہو :
معنی
اللہ کا کوئی مشابہ اور نظیر نہيں ہے۔
ہم رات اور اس کی برائیوں سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں۔
ہم انسانوں اور جنوں کی برائیوں سے اللہ کی پناہ میں آتے ہيں۔ اس پر دلالت کرنے والی آیت
سوال 3 : سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس پڑھنے کے اوقات کی نشان دہی کریں۔
اکائی : ایمان اور تزکیہ
پہلا سبق : ایمان اور اس کی اہمیت
سبق کے مقاصد :
عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:
1- ایمان کی تعریف کر سکیں گے۔
2- ایمان کے ارکان گنوا سکیں گے۔
3- اسلام، ایمان اور احسان کے بیچ فرق کر سکیں گے۔
4- ایمان اور عمل صالح کے بیچ کے مضبوط رشتے کو محسوس کر سکیں گے۔
5- اپنے ایمان اور عمل کو درست کرنے کی فکر کریں گے۔
تمہید :
اللہ تعالی نے جبریل علیہ السلام کو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس بھیجا، تاکہ آپ صحابہ کو دین سکھائیں، جس کا ذکر اس حدیث میں موجود ہے :
(صحیح مسلم : 8)۔
اس صحیح حدیث کے مطابق دین کے درج ذیل تین مراتب ہیں :
پہلا مرتبہ : اسلام۔ اس کے درج ذیل پانچ ارکان ہیں : دو گواہیاں، نماز قائم کرنا، زکاۃ دینا، رمضان کے روزے رکھنا اور حج کرنا۔
دوسرا مرتبہ : ایمان۔ یہ اسلام کے بعد کا مرتبہ ہے۔
ایمان نام ہے دل سے تصدیق کرنے، زبان سے اقرار کرنے اور اعضا سے عمل کرنے کا۔
لہذا یہ ضروری ہے کہ انسان اپنے دل میں عقیدہ رکھے اور دل کے عقیدے کا اظہار زبان سے دونوں گواہیوں کی ادائیگی کے ذریعے کرے۔ ایمان اعضا کے عمل کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اہل جنت کے وصف میں ایمان اور عمل صالح دونوں کا ذکر ہوا ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "اور جو لوگ ایمان ﻻئیں اور نیک کام کریں، وه جنتی ہیں، جو جنت میں ہمیشہ رہیں گے۔" (سورۂ بقرہ : 82)۔
لہذا ہر مؤمن کو دونوں جہان میں سرخ روئی حاصل کرنے کے لیے عمل صالح میں کوشاں ہونا چاہیے۔
ایمان کے چھ ارکان ہیں : اللہ پر ایمان، اس کے فرشتوں پر ایمان، اس کی کتابوں پر ایمان، اس کے رسولوں پر ایمان، آخرت کے دن پر ایمان اور بھلی بری تقدیر پر ایمان۔
تیسرا مرتبہ : احسان۔ اس میں بندہ اپنے سارے اقوال اور افعال میں اپنے رب کا اس طرح دھیان رکھتا ہے کہ گویا وہ اسے دیکھ رہا ہو۔ اگر اسے دیکھ نہ رہا ہو، تو یہ احساس ضرور ہو کہ اس کا رب اسے دیکھ رہا ہے۔
سرگرمیاں
سرگرمی (1) : میں دین کے مراتب کے بیچ تمیز کروں گا :
ان آیتوں کا انتخاب کریں، جو بتاتی ہیں کہ اسلام کا مرتبہ ایمان کے مرتبے سے پہلے ہے :
"دیہاتی لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان ﻻئے۔ آپ کہہ دیجیے کہ در حقیقت تم ایمان نہیں ﻻئے، لیکن تم یوں کہو کہ ہم اسلام ﻻئے (مخالفت چھوڑ کر مطیع ہوگئے)، حاﻻں کہ ابھی تک تمھارے دلوں میں ایمان داخل ہی نہیں ہوا ہے۔" (سورۂ حجرات : 14)۔
"اپنے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر (قائم رہو۔) اسی اللہ نے تمھارا نام مسلمان رکھا ہے اس قرآن سے پہلے۔۔۔" (سورۂ حج : 78)۔
سرگرمی (2) : میں نص کو اس کے مدلول کے ساتھ جوڑوں گا :
نیچے دیے گئے ہر نص کو اس کے مدلول کے ساتھ جوڑیں :
نص
اللہ تعالی کا فرمان ہے: "اور جو بھی اس کے پاس ایمان کی حالت میں حاضر ہوگا اور اس نے اعمال بھی نیک کیے ہوں گے۔ اس کے لیے بلند وباﻻ درجے ہیں۔" (سورۂ طہ : 75)۔
اللہ کے نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: "مؤمن وہ ہے جس سے لوگ اپنے مال اور جان کے بارے میں خطرہ محسوس نہ کریں۔" (سنن ابن ماجہ : 3934)۔
اللہ کے نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے : "جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔'' (صحیح بخاری : 6135، صحیح مسلم : 48)۔ حدیث جس پر دلالت کرتی ہے۔
ایمان، انسان کو دوسروں کے ساتھ برا سلوک کرنے سے روکتا ہے۔
حسن اخلاق ایمان کا ایک ثمرہ ہے۔
ایمان آخرت میں قدر و منزلت میں اضافے کا باعث ہے۔
سرگرمی (3) : میں ایک نصیحت کروں گا :
کسی کسی کا دعوی رہتا ہے کہ اس کا دل ایمان سے آباد ہے، جب کہ وہ فرض عبادتیں بھی ادا نہیں کرتا۔
اس طرح کے لوگوں کے حق میں آپ ایک نصیحت لکھیں۔
اندازۂ قدر
سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :
1- نماز قائم کرنا احسان کا ایک رکن ہے۔
2- جنت اور جہنم پر ایمان، ایمان کا ایک رکن ہے۔
3- ایمان دین کا پہلا مرتبہ ہے۔
سوال 2 : درج ذیل میں صحیح جواب کا انتخاب کریں :
1- ایمان کے ارکان :
(پانچ ہيں ۔ چھ ہیں۔ سات ہيں)
2- اللہ کے دھیان رکھنے کے مرتبے کا نام ہے :
(اسلام - ایمان - احسان)
3- ایمان کے اندر اعتقاد رکھنا ضرورى ہىے :
(دل - زبان - اعضا) کے ساتھ
سوال 3 : نیچے دیے گئے سوالوں کا جواب دو :
1- ایمان کی تعریف لکیھں۔
2- عمل صالح ایمان سے جڑا ہوا ہے، اس کی دلیل پیش کریں۔
3- دین کے مراتب (احسان - اسلام - ایمان) کو ادنی سے اعلی تک ترتیب دیں۔
دوسرا سبق : اللہ پر ایمان اور اس کے اثرات
سبق کے مقاصد :
عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ :
1۔ اللہ پر ایمان کا معنی بتا سکیں گے۔
2- فرد اور سماج پر پڑنے والے اللہ پر ایمان کے اثرات کو بتا سکیں گے۔
3- بندے کے سلوک ورویہ پر پڑنے والے ایمان کے اثرات کی اہمیت کو محسوس کریں گے۔
4- اہل ایمان کے اخلاق اور سلوکیات سے آراستہ ہوں گے۔
آپ نے یہ جانا کہ ایمان کے چھ ارکان ہيں، جن میں سے پہلا رکن اللہ پر ایمان لانا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ پر ایمان لانے کا کیا معنی ہے؟
اس سوال کا جواب ہم نیچے دیے گئے نقاط کے ذریعے جانیں گے:
اللہ تعالیٰ پر ایمان
اس کے وجود پر ایمان
اس کے رب ہونے پر ایمان
اس کے معبود ہونے پر ایمان
اس کے اسما و صفات پر ایمان
اولا : اللہ پر ایمان :
اللہ پر ایمان، ایمان کا پہلا اور سب سے بڑا رکن ہے۔ اس کے اندر درج ذیل چار باتیں شامل ہیں :
1- اللہ تعالی کے وجود پر ایمان۔ اس پر فطرت اور عقل سلیم بھی دلالت کرتی ہے۔
اللہ کے وجود کی ایک دلیل تخلیق کی دلیل ہے۔ کیوں کہ ہر مخلوق اپنے خالق کے وجود پر دلالت کرتی ہے اور وہ خالق اللہ تعالی ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "کیا یہ بغیر کسی (پیدا کرنے والے) کے خود بخود پیدا ہوگئے ہیں؟ یا یہ خود پیدا کرنے والے ہیں؟" (سورۂ طور : 35)۔
2- اس بات پر ایمان کہ اللہ ہی ہر چیز کا رب، خالق اور مالک ہے۔ وہی روزی دیتا ہے، وہی زندگی دیتا ہے اور وہی مارتا ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "پس اللہ کی تعریف ہے جو آسمانوں اور زمین اور تمام جہانوں کا رب ہے۔" (سورۂ جاثیہ : 36)۔
3- اس بات پر ایمان کہ اللہ کے اچھے اچھے نام اور اونچے صفات ہیں۔ اس جیسی کوئی چیز نہيں ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : " اس جیسی کوئی چیز نہیں۔ وه سننے اور دیکھنے واﻻ ہے۔" (سورۂ شوری : 11)۔
4- اس بات پر ایمان کہ اللہ ہی اکیلے عبادت کا مستحق ہے۔ کیوں کہ جس کے دل میں یہ بات بیٹھ جائے کہ اللہ ہی اس کا رب اور خالق ہے، تو وہ صرف اسی کی عبادت کرے گا اور کسی دوسرے کی عبادت سے دامن بچاکر رکھے گا۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "آسمانوں کا، زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، سب کا رب وہی ہے۔ تو اسی کی بندگی کر اور اس کی عبادت پر جم جا۔ کیا تیرے علم میں اس کا ہم نام ہم پلہ کوئی اور بھی ہے؟" (سورۂ مریم : 65)۔
ثانیا : مسلمان کے سلوک ورویہ پر، اللہ پر ایمان لانے کے اثرات :
1- اللہ پر ایمان مؤمن کے دل کو اللہ سے اس طرح معلق رکھتا ہے کہ وہ اس سے محبت رکھتا ہے، خوف کھاتا ہے، اور اسی پہ بھروسہ کرتا ہے۔ اس کی زبان پر اللہ کا ذکر جاری رہتا ہے، وہ اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتا ہے اور اپنے اعضاۓ جسم سے نیکی کے کام کرتا اور گناہوں سے بچتا ہے۔
2- اللہ پر ایمان، انسان کے دل سے غیر اللہ کا خوف نکال باہر کرتا ہے۔ اللہ تعانی نے کہا ہے : "یہ (خبر دینے واﻻ) صرف شیطان ہی ہے، جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے۔ تم ان کافروں سے نہ ڈرو اور میرا خوف رکھو، اگر تم مؤمن ہو۔" (سورۂ آل عمران : 175)۔
3- اللہ پر ایمان، مؤمن کو عبادتوں کی ادائیگی اور اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی خشیت اور اس پر بھروسہ کرنے کا حریص بناتا ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "بس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وه آیتیں ان کے ایمان کو اور زیاده کردیتی ہیں اور وه لوگ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔ جو نماز کی قائم کرتے ہیں اور ہم نے ان کو جو کچھ دیا ہے وه اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ یہی لوگ سچے مؤمن ہیں۔ ان کے لیے ان کے رب کے ہاں بڑے درجے ہیں اور مغفرت اور عزت کی روزی ہے۔" (سورۂ انفال : 2-4)۔
4- اللہ پر ایمان، مؤمن کو بندوں کے حقوق ادا کرنے کا حریص بناتا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : "مؤمن وہ ہے جس سے لوگ اپنے مال اور جان کے بارے میں خطرہ محسوس نہ کریں۔" (سنن ابن ماجہ : 3934)۔
اس طرح اللہ پر ایمان، ایک مسلمان کے طرز عمل و رویہ پر اثر انداز ہوتا ہے اور اسے اچھے اعمال کرنے اور گناہوں اور نافرمانیوں سے دور رہنے پر آمادہ کرتا ہے۔
سرگرمیاں
سرگرمی (1) : میں غور و فکر سے کام لوں گا اور استنباط کروں گا :
نیچے دیے ہر نص کو اس کے مدلول کے ساتھ جوڑیں :
نص
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "اور نصیحت کرتے رہیں۔ یقیناً یہ نصیحت ایمان والوں کو نفع دے گی۔" (سورۂ ذاریات : 55)۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : "اہل جنت جنت میں داخل ہوں گے اور اہل جہنم جہنم میں داخل ہوں گے۔ پھر اللہ تعالی کہے گا : جہنم سے ہر اس شخص کو نکال لاؤ، جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو۔" (صحیح بخاری : 22، صحیح مسلم : 184)۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : ”اللہ کی قسم وہ ایمان والا نہیں، اللہ کی قسم وہ ایمان والا نہیں، اللہ کی قسم وہ ایمان والا نہیں، کہا گیا : اے اللہ کے رسول ﷺ ! کون ہے وہ ؟ آپ نے فرمایا : جس کا پڑوسی اس کی اذیتوں سے محفوظ نہ رہے“۔ (صحیح بخاری : 6016)۔ حدیث کا معنی (حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ :)
ایمان بندوں کے حقوق سے جڑا ہوا ہے۔
نصیحت سے فائدہ اٹھا پانا اللہ پر ایمان کا ایک ثمرہ ہے۔
ایمان قیامت کے دن جہنم کی آگ سے نجات کا سبب ہے۔
سرگرمی (2) میں غور کروں گا اور جواب دوں گا :
ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ہجرت کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : "چنانچہ سورج ڈھلنے کے بعد ہم نکل پڑے۔ اسی بیچ سراقہ بن مالک نے ہمارا پیچھا کیا۔ اسے دیکھ کر میں نے کہا : اے اللہ کے رسول! ہم تک پہونچ گئے ہیں! تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "فکر مت کرو۔ یقینا اللہ ہمارے ساتھ ہے۔" چنانچہ آپ نے سراقہ کے حق میں بد دعا کی اور اس کا گھوڑا پیٹ تک زمین میں دھنس گیا۔" (صحیح بخاری : 3615، صحیح مسلم : 7706)۔
مذکورہ قصے کو پڑھنے کے بعد نیچے دیے گئے سوالوں کے جواب دیں :
اس قصے سے ہم کیا سیکھتے ہيں؟
اس قصے کا متعلقہ درس کے موضوع سے کیا تعلق ہے؟
اندازۂ قدر
سوال 1 : بریکٹ کے درمیان سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :
1- مخلوقات کا وجود دلالت کرتا ہے :
(اللہ تعالی کے وجود پر - اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی سچائی پر - قرآن کے اعجاز پر)
2- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے : "مؤمن وہ ہے جس سے لوگ اپنے مال اور جان کے بارے میں خطرہ محسوس نہ کریں۔" دلالت کرتا ہے :
(توحید ربوبیت پر - ایمان کے عمل سے جڑے ہوئے ہونے پر - سماج کے مامون ہونے کی اہمیت پر)
3- سچا مؤمن :
(اللہ کو اس کی کسی مخلوق کے مشابہ قرار نہیں دیتا - اپنے پڑوسی کو اذیت پہنچاتا ہے- گفتگو کے دوران سچ نہيں بولتا)
سوال 2 : نیچے دیے گئے جملوں میں موجود غلطیوں کو درست کر کے ان کو دوبارہ لکھیں :
1- انسان اس وقت اسلام میں داخل ہوتا ہے، جب اللہ کے وجود پر ایمان لائے۔
بندہ اس وقت تک مسلمان نہيں ہوتا، جب تک اللہ کے وجود اور اس کے رب اور معبود ہونے پر ایمان نہ لائے۔
2- ایمان ایک قلبی عمل ہے۔ اس کا جسم کے اعضا سے کوئی تعلق نہيں ہے۔
ایمان ایک قلبی عمل ہے، لیکن اس کا اثر زبان اور اعضاۓ جسم پر ظاہر ہوتا ہے۔
سوال 3 : نیچے دیے گئے ہر بیان کی ایک ایک دلیل لکھیں :
1- ایمان انسان کو اپنے پڑوسی کو اذیت دینے سے روکتا ہے۔
2- سچا مؤمن اللہ تعالی سے ڈرتا ہے۔
سوال 4 : ایک مسلمان جب چار باتوں کا اقرار کر لیتا ہے، تو اللہ پر اس کا ایمان حقیقت بن جاتا ہے۔ ان چار باتوں کو آپ چار سطروں میں اختصار کے ساتھ لکھیں۔
تیسرا سبق : فرشتوں پر ایمان اور اس کے اثرات
سبق کے مقاصد :
عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:
1- فرشتوں سے مراد کون ہيں، بتا سکیں گے۔
2- فرشتوں پر ایمان کا مطلب بتا سکیں گے۔
3- فرشتوں پر ایمان لانا واجب ہے، اس کو دلیل سے ثابت کر سکیں گے۔
4- کچھ فرشتوں کے کام بتا سکیں گے۔
5- آپ فرشتوں سے حیا کریں گے۔
تمہیدی سرگرمی
آپ فرشتوں کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟
"اللہ چنتا ہے فرشتوں میں سے پیغام پہنچانے والوں کو۔"
اولا : فرشتوں سے مراد
ثانیا : فرشتوں پر ایمان کا معنی
ثالثا : فرشتوں کے کام
رابعا : فرشتوں پر ایمان لانے کے اثرات
فرشتوں پر ایمان رکھنا ہر مسلمان پر واجب ہے۔ یہ ارکان ایمان میں سے ایک رکن ہے۔ اس کے بغیر بندے کا ایمان درست نہيں ہو سکتا۔ اس کی دلیل :
ارشادِ باری تعالٰی ہے: "رسول اس چیز پر ایمان لایا جو اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے اتری اور مومن بھی ایمان ﻻئے۔ یہ سب اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان ﻻئے۔ اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے۔ انہوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں اے ہمارے رب! اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔" (سورۂ بقرہ : 285)۔
اسی طرح جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے ایمان کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے کہا : "اللہ پر ایمان لانا، اس کے فرشتوں پر ایمان لانا، اس کی کتابوں پر ایمان لانا، اس کے رسولوں پر ایمان لانا، قیامت کے دن پر ایمان لانا اور اچھی وبُری تقدیر پر ایمان لانا۔" (صحیح مسلم : 102)۔
اولا : فرشتوں سے مراد
فرشتے اللہ کی بہت بڑی مخلوق ہیں۔ اللہ نے ان کو نور سے پیدا کیا ہے۔ فرشتے اللہ کے حکم کی نافرمانی نہيں کرتے۔ وہی کرتے ہيں، جس کا حکم ان کو ملتا ہے۔
فرشتے اللہ کی عظیم مخلوق ہيں، اس کی دلیل جبریل علیہ السلام کے وصف میں اللہ تعالی کا یہ قول ہے: "جو قوت واﻻ ہے، عرش والے (اللہ) کے نزدیک بلند مرتبہ ہے"۔ (سورۂ تکویر : 20)۔
ثانیا : فرشتوں پر ایمان کے معنی :
فرشتوں پر ایمان درج ذیل باتوں سے متحقق ہوتا ہے :
ان کے وجود کی تصدیق۔
فرشتوں کے ان ناموں پر ایمان جو ہم جاتنے ہیں اور جو قرآن کریم اور صحیح حدیثوں سے ثابت ہیں۔
ان کے ان صفات اور اعمال پر ایمان، جنھیں ہم جاتنے ہيں اور جو قرآن کریم اور صحیح سنت میں وارد ہوئے ہيں۔
ثالثا : فرشتوں کے کام :
فرشتوں کے ذمے بہت سے کام ہيں۔ ان میں سے چند یہ ہیں :
1- وحی لے کر اترنا۔ یہ کام جبریل علیہ السلام انجام دیتے ہيں۔
2- بارش برسانا۔ یہ کام میکائیل علیہ السلام انجام دیتے ہيں۔
3- بندوں کے اعمال لکھنا۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "یقیناً تم پر نگہبان۔ 10 عزت والے لکھنے والے مقرر ہیں۔" 11 (سورۂ انفطار _ 10-11)۔
4- روح قبض کرنا۔ یہ کام موت کا فرشتہ انجام دیتا ہے۔
5- قیامت کے دن صور پھونکنا۔ یہ کام اسرافیل علیہ السلام کریں گے۔
فرشتے یہ اور اس طرح کے کچھ دوسرے کام بھی انجام دیتے ہیں، جن کا ذکر قرآن اور سنت نبوی میں ہوا ہے۔
رابعا : فرشتوں پر ایمان لانے کے اثرات :
ایک مسلمان کے رویہ پر فرشتوں پر ایمان لانے کے بڑے بڑے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ان میں کچھ اثرات یہ ہیں :
1- فرشتوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اللہ کے احکام کی تعمیل کرنا۔
2- عمل میں غرور و فخر سے دور رہنا، کیوں کہ فرشتے معصوم ہوتے ہیں اور اس کے باوجود وہ ہمشیہ عبادت میں لگے رہتے ہيں۔ لہذا کوتاہیوں میں رہنے والے اور گنہگار انسان کو تو کہیں زیادہ عبادت اور استغفار کرنا چاہیے۔
3- پہلے اللہ کا ڈر رکھتے ہوئے اور اس کے بعد اعمال لکھنے پر مامور فرشتوں سے حیا کرتے ہوئے اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے دور رہنے کی پوری کوشش کرنا۔
سرگرمیاں
سرگرمی (1) میں غور کروں گا اور جواب دوں گا :
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو۔" (سورۂ احزاب : 56)۔
اس آیت میں اللہ تعالی نے فرشتوں کا ایک کام بیان کیا ہے اور ایمان والوں کو ان کی پیروی کرنے کا حکم دیا ہے۔ آپ بتائیں کہ وہ کام کیا ہے؟
سرگرمی (2) : آپس میں چرچا کروں گا اور اپنے خیالات کا اظہار کروں گا :
اللہ کے نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے : "بے شک فرشتے طالب علم سے خوش ہو کر اپنے پر بچھا دیتے ہیں۔" (سنن ابو داؤد : 3643)۔
ایک طالب علم کی حیثیت سے آپ اپنے احساس کا اظہار کیجیے کہ جب آپ کو پتہ چلا کہ فرشتے طالب علم کی عزت کرتے ہیں، تو آپ کو کیسا لگا؟
سرگرمی (3) : میں واضح کروں گا :
اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے : ’’جو پیاز اور لہسن اور گندنا (ایک بدبودار قسم کی ترکاری) کھائے، وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے، کیوں کہ جس چیز سے اولادِ آدم کو اذیت پہنچتی ہے اُس چیز سے فرشتوں کو بھی اذیت پہنچتی ہے‘‘۔ (صحیح مسلم : 1282)۔
اس حدیث کے مد نظر آپ فرشتوں کے تئیں اپنی عملی ذمے داری واضح کیجیے۔
اندازۂ قدر
سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :
1- فرشتوں کو اللہ نے نور سے پیدا کیا ہے۔
2- اسرافیل کا کام نبیوں کو وحی پہنچانا ہے۔
3- اللہ نے جبریل علیہ السلام کے سپرد زمین میں بارش برسانے کا کام کر رکھا ہے۔
4- فرشتوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہمیں پوری تندہی کے ساتھ عبادت کرنی چاہیے۔
سوال 2 : نیچے دیے کئے بیانوں کی دلیل میں کوئی آیت یا حدیث پیش کیجیے۔
1- فرشتوں پر ایمان لانا واجب ہے۔
2- جبریل ایک عظیم الخلقت مخلوق ہيں۔
سوال 3 : نیچے دیے کئے دونوں سوالوں کے جواب دیجیے :
1- ایک مسلمان کا فرشتوں پر ایمان کیسے متحقق ہوگا؟
2- فرشتوں پر ایمان کا ایک اثر دل سے فخر و غرور کو دور کرنا ہے۔ اس کی وضاحت کیجیے :
چوتھا سبق : کتابوں اور رسولوں پر ایمان اور اس کے اثرات
سبق کے مقاصد :
عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:
1- کتابوں اور رسولوں پر ایمان کا معنی بتا سکیں گے۔
2- قرآن کریم کی روشنی میں کتابوں اور رسولوں کے نام گنوا سکیں گے۔
3- ديگر آسمانی کتابوں کے مقابلے میں قرآن کریم کے امتیازات کی نشان دہی کر سکیں گے۔
4- کتابیں اتارنے اور رسولوں کو بھیجنے کی نعمت کو محسوس کر سکیں گے۔
5- انبیا علیھم السلام کے اوصاف اور اعمال کی پیروی کریں گے۔
آسمانی کتابوں پر ایمان
رسولوں پر ایمان
دونوں پر ایمان کے اثرات
اولا : کتابوں پر ایمان :
1- کتابوں پر ایمان کا معنی اور حکم :
کتابوں پر ایمان کا مطلب : اس بات کی تصدیق اور ایمان ہے کہ اللہ نے لوگوں کی ہدایت اور ان کی دنیا و آخرت کی فلاح و کامرانی کے لیے اپنے رسولوں پر کتابیں اتاریں۔
لہذا اجمالی طور پر اللہ کی اتاری ہوئی ساری کتابوں پر ایمان رکھنا واجب ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ پر، اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اتاری ہے اور ان کتابوں پر جو اس سے پہلے اس نے نازل فرمائی ہیں، ایمان لاؤ!" (سورۂ نساء : 136)۔
جب کہ ان کتابوں پر تفصیلا ایمان رکھنا ضروری ہے، جن کا ذکر قرآن میں ہوا ہے۔ وہ کتابیں ہیں : ابراہیم علیہ السلام کے صحیفے، داؤد علیہ السلام پر اترنے والی کتاب زبور، موسی علیہ السلام پر اترنے والی کتاب تورات، عیسی علیہ السلام پر اترنے والی کتاب انجیل اور آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر اترنے والی کتاب قرآن۔
2- سب سے افضل کتاب :
ایک مسلمان کا اس بات پر ایمان ہونا چاہیے کہ قرآن :
اللہ کا کلام ہے اور اس میں بتائی گئی ساری باتیں صحیح ہيں۔
وہ تحریف اور تبدیلی سے محفوظ ہے۔ جب کہ پچھلی کتابیں تحریف کی شکار ہو گئيں۔ آج ہمارے پاس پچھلی کتابوں میں سے ایک بھی ایسی کتاب موجود نہیں ہے، جس کی نسبت ہم یقین کے ساتھ اللہ کی جانب کر سکیں۔
یہ اللہ کی سب سے عظیم اور سب سے آخری کتاب ہے نیز پچھلی کتابوں کو منسوخ کرنے والی کتاب ہے۔
قرآن خود معجزہ ہے کوئی اس جیسی کتاب لا نہيں سکتا۔
ثانیا : رسولوں پر ایمان لانا:
1) رسولوں پر ایمان کا معنی اور اس کا حکم :
رسولوں پر ایمان سے مراد اس بات کی تصدیق اور اقرار کرنا ہے کہ اللہ نے اپنی مخلوق کی جانب کچھ رسول بھیجے، جو ان کو صرف ایک اللہ کی عبادت کی جانب بلائیں اور اس سلسلے کی آخری کڑی ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم ہيں۔
اجمالی طور پر تمام نبیوں پر ایمان رکھنا واجب ہے۔ چاہے ہمیں ان کے نام اور تعداد معلوم نہ بھی ہوں۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے : "اور آپ سے پہلے کے بہت سے رسولوں کے واقعات ہم نے آپ سے بیان کیے ہیں اور بہت سے رسولوں کے نہیں بھی کیے اور موسیٰ (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر کلام کیا۔" (سورۂ نساء : 164)۔
جب کہ ان نبیوں پر تفصیلی ایمان رکھنا واجب ہے، جس کا ذکر قرآن کریم میں ہوا ہے۔ ان نبیوں کی تعداد پچیس ہے۔
اسی طرح اس بات پر ایمان رکھنا بھی ضروری ہے کہ انبیاء ہر گناہ اور بری صفت سے پاک ہوتے ہیں۔ ان کے بارے میں جھوٹ، خیانت اور کم عقلی وغیرہ جیسی بری باتوں اور کمیوں کا وہم و گمان بھی نہیں ہو سکتا۔
2- سب سے افضل رسول :
عزیز قاری! اس بات کو ذہن نشیں کرلیں کہ تمام رسولوں میں سب سے افضل رسول پانچ ہيں۔ انہی کو اولو العزم رسول کہا جاتا ہے۔ کیوں کہ انہوں نے اللہ کے دین کی دعوت کے لیے دیگر نبیوں اور رسولوں سے زیادہ صبر کیا ہے۔ ان کا ذکر اللہ تعالی نے اس آیت میں کیا ہے : "جب کہ ہم نے تمام نبیوں سے عہد لیا اور (بالخصوص) آپ سے اور نوح سے اور ابراہیم سے اور موسیٰ سے اور مریم کے بیٹے عیسیٰ سے، اور ہم نے ان سے (پکا اور) پختہ عہد لیا۔" (سورۂ احزاب : 7)۔
سب سے افضل رسول ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم ہیں، جو آخری رسول ہيں اور جن کی رسالت قیامت تک آنے والے تمام لوگوں کے لیے عام ہے۔
ثالثا : کتابوں اور رسولوں پر ایمان لانے کے اثرات :
کتابوں اور رسولوں پر ایمان لانے کے کئی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جن میں سے چند یہ ہیں :
1- اللہ کی رحمت پر یقین کہ اس نے ہماری ہدایت کے لیے رسول بھیجے اور کتابیں اتاریں۔
2) اللہ کی اتاری ہوئی کتابوں اور رسولوں کے بیان کے مطابق اللہ کی معرفت۔
3) کتابوں کی تعلیمات اور رسولوں کے عملی اسوہ کے مطابق بصیرت کے ساتھ اللہ کی عبادت۔
4) نبیوں کے اخلاق، اوصاف اور اعمال کی پیروی۔
سرگرمیاں
سرگرمی (1) : نبیوں کے نام لکھو :
اللہ تعالی نے سورۂ انعام کی آیت 83 سے 86 تک 18رسولوں کے نام بیان کیے ہيں۔ ان آیتوں کو پڑھیں اور ان میں ذکر کیے گئے نبیوں کے نام نکال کر لکھیں۔
سرگرمی (2) : تلاش کروں گا اور جواب دوں گا :
نبیوں کی زندگی اور صفات کے بہت سے پہلو ہیں تاکہ ان کى پیروی کی جائے۔ انہی پہلؤوں میں سے ایک پہلو اخلاق ہے۔ اللہ نے اپنے نبیوں کے اعلی اخلاق کے کئی نمونے بیان کیے ہیں۔ نبیوں کے جو اخلاق یاد ہيں، انھیں آپ نیچے دیے گئے چارٹ میں لکھیں :
اخلاق / نبی
فیاضی / ابراہیم علیہ السلام
صبر / ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اندازۂ قدر
سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :
1- اللہ کے نبی ابراہیم علیہ السلام سب سے افضل رسول ہيں۔ ()
2- زبور کتاب اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام پر اتاری گئی تھی۔ ()
3- قرآن کریم میں تمام نبیوں کا نام آیا ہے۔
4- انبیاء کے اعمال اور اخلاق کی پیروی محال ہے۔
سوال 2 : قوسین (بریکٹ) کے درمیان سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :
1- اس بات پر ایمان رکھنا واجب ہے کہ تمام انبیاء اس وصف سے متصف ہوتے ہیں :
(عقل کی تیزی - کثرت مال - بیمار کم ہونا)
2- اولو العزم رسولوں میں شامل ہیں :
(ابراہیم اور اسماعیل - نوح اور عیسی - آدم اور موسی)
3- ہم بیماری کی حالت میں صبر کے معاملے میں اس نبی کی اقتدا کریں گے :
(زکریا علیہ السلام - ایوب علیہ السلام - ادریس علیہ السلام)
4- قرآن کریم کو تمام آسمانی کتابوں پر یہ امتیاز حاصل ہے کہ وہ:
(اللہ کا کلام ہے - ایک ہزار سال سے باقی ہے - تحریف سے محفوظ ہے)
سوال 3 : آپ رسولوں کے بھیجے جانے اور کتابیں اتارے جانے کو انسان پر اللہ کی ایک عظیم ترین نعمت کیوں مانتے ہيں؟
سوال 4 : نیچے دیے کئے دونوں سوالوں کے جواب دیجیے :
1- نبیوں کے تین اوصاف بتائیے، جن کی پیروی کرنا آپ کے لیے ممکن ہے۔
2- قرآن کریم کے مقام و مرتبہ کو واضح کرنے کے لیے ایک دلیل پیش کیجیے۔
پانچواں سبق : آخرت کے دن پر ایمان اور اس کے اثرات
سبق کے مقاصد :
عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:
1- آخرت کے دن پر ایمان کا معنی بتا سکیں گے۔
2- آخرت کے دن کے منازل واضح کر سکیں گے۔
3- آخرت کے دن کی اہمیت کو محسوس کر سکیں گے۔
4- جنت حاصل کرنے اور جہنم سے بچنے کے لیے عمل کریں گے۔
ہماری دنیوی زندگی اس کھیت کی مانند ہے، جس میں ہم کھیتی کرتے ہيں۔ چنانچہ جو شخص دنیا میں خیر بوئے گا وہ آخرت میں خیر کاٹے گا۔ آخرت میں بدلے میں یا تو جنت ملے گی یا جہنم۔ اس درس میں ہم آخرت کے دن واقع ہونے والی اہم باتوں کو جانیں گے۔
ایک تختی پر بڑے بڑے اور واضح حروف میں اللہ تعالی کا یہ قول لکھا جائے:
"اور جو لوگ ایمان ﻻتے ہیں اس پر جو آپ کی طرف اتارا گیا اور جو آپ سے پہلے اتارا گیا، اور وه آخرت پر بھی یقین رکھتے ہیں۔" (سورۂ بقرہ : 4)۔
آخرت کے دن پر ایمان لانے کے معنی
آخرت کے دن کے منازل
آخرت کے دن پر ایمان لانے کے اثرات
اولا : آخرت کے دن پر ایمان لانے کے معنی :
آخرت کے دن پر ایمان لانا ایمان کا پانچواں رکن ہے۔ اس کے معنی ہیں : موت کے بعد واقع ہونے والی ان تمام باتوں کی تصدیق اور اقرار کرنا، جو اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بتائی ہیں۔
ثانیا : آخرت کے دن کے منازل :
آخرت کے دن پر ایمان کے اندر موت کے بعد واقع ہونے والی درج ذیل باتوں پر ایمان لانا بھی شامل ہے :
1) قبر کی آزمائش : اس سے مراد یہ ہے کہ : میت کو دفن کرنے کے بعد فرشتہ اس سے اس کے رب، اس کے دین اور اس کے نبی کے بارے میں پوچھے گا، تو مؤمن ان سوالوں کا صحیح صحیح جواب دے دے گا اور اس کے بعد قبر کے اندر دوبارہ اٹھائے جانے تک نعمتوں سے فیض یاب ہو گا۔ جب کہ کافر یا منافق ہر سوال کے جواب میں کہے گا کہ مجھے کچھ نہيں پتا۔ نتیجے کے طور پر دوبارہ اٹھائے جانے تک قبر کے اندر عذاب دیا جاتا رہے گا۔
2) دوبار زندہ کرکے اٹھایا جانا : اللہ تعالی اسرافیل علیہ السلام کو صور میں دوسری بار پھونک مارنے کا حکم دے گا اور لوگ اپنی قبروں سے اٹھ کر سارے جہانوں کے رب کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے۔ پھر اللہ ان کا حساب کرے گا اور ان کو ان کے اعمال کا بدلہ دیے گا۔
3) سب لوگوں کو ایک جگہ جمع کرنا : اس سے مراد یہ ہے کہ قبروں سے اٹھنے کے بعد حساب و کتاب کے لیے جمع ہونا۔
4- اعمال نامے اور میزان : اعمال نامے کھولے جائیں گے، بندوں کو ان کے اعمال سے باخبر کیا جائے گا اور ان اعمال کو وزن کرنے کے لیے ترازو لگائی جائے گی۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "اور جب نامہٴ اعمال کھول دیے جائیں گے۔" (سورۂ تکویر : 10)۔ ایک اور مقام پر اللہ تعالی نے کہا ہے : "اور قیامت کے دن ہم (لوگوں کے اعمال تولنے کے لیے) میزان عدل قائم کریں گے۔ پھر کسی پر کچھ بھی ﻇلم نہ کیا جائے گا۔" (سورۂ انبیاء : 47)۔
5) صراط (راستہ، گزرگاہ) : اس سے مراد جہنم کے اوپر لگایا جانے والا باريك پل ہے، جس کے اوپر سے لوگ اپنے اپنے اعمال کے حساب سے گزریں گے۔ جو اس سے گر جائے گا، وہ جہنم میں جائے گا اور جو اسے پار کر لے گا، وہ جنت میں داخل ہو گا۔
6) جنت اور جہنم : جنت وہ گھر ہے، جسے اللہ تعالی نے اپنے مؤمن بندوں کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے : (سورۂ حجر : 45)۔ "پرہیزگار جنتی لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔" جب کہ جہنم وہ گھر ہے، جسے اللہ تعالی نے کافروں اور منافقوں کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے : "یقیناً اللہ تعالیٰ تمام کافروں اور سب منافقوں کو جہنم میں جمع کرنے واﻻ ہے۔" (سورۂ نساء : 140)۔
ثالثا : آخرت کے دن پر ایمان لانے کے اثرات :
آخرت کے دن پر ایمان لانے کے بہت سے اچھے اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جن میں سے چند یہ ہیں :
1- آخرت پر ایمان انسان کو آخرت کی قیمت پر دنیا کی جانب جھکاؤ سے روکتا ہے۔
2- نیکی کے کاموں کی رغبت بڑھ جاتی ہے۔
3- گناہوں میں ملوث ہونے کے خوف میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
4- اپنے اقوال اور افعال کے بارے میں ذمے داری کا احساس ہونے لگتا ہے۔
5- مؤمن کو چوں کہ آخرت کی نعمت اور ثواب کی امید ہوتی ہے، اس لیے وہ دنیا کی کسی چیز کے نہ ملنے پر غم نہیں کرتا۔
سرگرمیاں
عملی کام (1) : میں جستجو کروں گا اور جواب دوں گا :
آخرت کے دن پر ایمان، ایمان کا وہ رکن ہے، جس کا ذکر قرآن کریم میں سب سے زیادہ ہوا ہے۔ اس دن کا ذکر اللہ نے کئی ناموں سے کیا ہے، جو اس کی سختی اور ہولناکی کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔
اپنی یاد داشت سے ایسی دلیل پیش کریں، جس سے یہ ثابت ہو کہ نیچے دیے گئے نام بھی آخرت کے دن کے نام ہیں :
نام / اس کی دلیل
قیامت کا دن
فیصلے کا دن
بدلے کا دن
کھڑکھڑا دینے والی
سرگرمی (2) : شرکت کروں گا اور جواب دوں گا :
اس قصے کو اپنے معلم کے ساتھ پڑھیں اور پھر نیچے دیے گئے سوالوں کے جواب دیں :
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے سرزمین حبشہ سے لوٹنے والے مہاجروں سے فرمایا تھا : "کیا تم مجھے سرزمین حبشہ میں دیکھی ہوئی کچھ عجیب و غریب چیزیں نہیں بتاؤگے؟" چنانچہ وہاں سے لوٹنے والے ایک نوجوان نے کہا : اے اللہ کے رسول! ہم ضرور بتائيں گے۔ ایک دن ہم بیٹھے ہوئے تھے کہ ہمارے پاس سے ایک بوڑھی راہبہ سر پر پانی کا گھڑا لے کر گزری۔ جب وہ ایک نوجوان کے پاس سے گزری، تو اس نے اس کے دونوں کندھوں کے بیچ ہاتھ رکھ کر اسے دھکا دے دیا، جس سے وہ گھٹنوں کے بل گر گئی اور اس کا گھڑا ٹوٹ گیا۔ جب وہ بوڑھی عورت کھڑی ہوئی، تو اس نوجوان سے مخاطب ہوئی اور بولی : اے دھوکے باز! جب اللہ کرسی رکھے گا اور پہلے اور بعد کے سبھی لوگوں کو جمع کرے گا اور انسان کے ہاتھ اور پیر اس کے کیے ہوئے کاموں کی گواہی دیں گے، تو اس وقت تجھے اللہ کے یہاں پتہ چل جائے گا کہ تونے میرے ساتھ جو کچھ کیا، وہ کتنا خطرناک ہے؟ اس کی بات سننے کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "اس بوڑھی عورت نے درست کہا ہے۔ اس بوڑھی عورت نے درست کہا ہے۔" (سنن ابن ماجہ : 4010)۔
1- اس حدیث کو ایک مناسب عنوان دیں :
2- اس قصے سے آخرت کے دن پر ایمان کا ایک اثر نکالیں۔
سرگرمی (3) : میں نتیجہ نکالوں گا :
قرآن کریم نے قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے کے بہت سے واضح عقلی دلائل پیش کیے ہیں۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے نیچے دی گئی ہر عقلی دلیل کو اس پر دلالت کرنے والی آیت سے جوڑیے :
آیت
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "اور وہی ہے جو اول بار مخلوق کو پیدا کرتا ہے، پھر اسے دوباره پیدا کرے گا اور یہ تو اس پر بہت ہی آسان ہے۔" (سورۂ روم : 27)۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "اس اللہ کی نشانیوں میں سے (یہ بھی) ہے کہ تو زمین کو دبی دبائی دیکھتا ہے، پھر جب ہم اس پر مینہ برساتے ہیں تو وه تر وتازه ہوکر ابھرنے لگتی ہے۔ جس نے اسے زنده کیا وہی یقینی طور پر مُردوں کو بھی زنده کرنے واﻻ ہے۔ بے شک وه ہر (ہر) چیز پر قادر ہے۔" (سورۂ فصلت : 39)۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "کیا وه نہیں دیکھتے کہ جس اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کے پیدا کرنے سے وه نہ تھکا، وه یقیناً مُردوں کو زنده کرنے پر قادر ہے؟ کیوں نہ ہو؟ وه یقیناً ہر چیز پر قادر ہے۔" (سورۂ احقاف : 33)۔ دلیل
بارش کے بعد مردہ زمین کا زندہ ہونا۔
آسمانوں اور زمین کی تخلیق۔
مرے ہوئے لوگوں کو دوبارہ زندہ کرنا ان کو پہلی بار پیدا کرنے سے آسان ہے۔
اندازۂ قدر
سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :
1- لوگ اپنے اعمال کے مطابق پل صراط کو پار کریں گے۔
2- صور میں دوسری بار پھونک مارے جانے کے بعد ساری مخلوقات مر جائیں گی۔
3- مؤمن قبر میں دوبارہ اٹھائے جانے کے دن تک نعمتوں سے فیض یاب ہوتا رہے گا۔
4- اعمال نامے دیے جانے کے بعد اعمال وزن کیے جائيں گے۔
سوال 2 : نیچے دیے گئے کلمات کو مناست عبارتوں کے سامنے رکھیں :
(حشر - قبر - بعث - صراط)
1- قبر : وہ آخرت کی پہلی منزل ہے۔
2- صراط : وہ جہنم کے اوپر نصب کیا جانے والا ایک پل ہے۔
3- حشر : حشر سے مراد لوگوں کو حساب و کتاب کے لیے جمع کرنا ہے۔
4- بعث : بعث سے مراد مردوں کو قبروں سے زندہ کرنا ہے۔
سوال 3 : نیچے دیے گئے دونوں سوالوں کے جواب دیں :
1- آخرت کے دن پر ایمان کیسے متحقق ہوگا؟
2- مسلمانوں کی استقامت پر آخرت کے دن کے اثر کو واضح کریں۔
چھٹا سبق : قضا و قدر پر ایمان اور اس کے اثرات
سبق کے مقاصد :
عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:
1- تقدیر پر ایمان کا معنی بتا سکیں گے۔
2- دلیل سے یہ سمجھا سکیں گے کہ تقدیر پر ایمان کا مطلب ترک عمل نہيں ہے۔
3- تقدیر پر ایمان کے ثمرات بیان کر سکیں گے۔
4- ایک مسلمان کی زندگی میں تقدیر پر ایمان کی اہمیت کو محسوس کر سکيں گے۔
5- اللہ کے قضا و قدر سے راضی رہيں گے۔
تمہیدی سرگرمی
میرے سیکھنے والے بھائی! ہم لوگ ایمان کے چھٹے اور آخری رکن کی بات کر رہے ہيں۔ ایک بار آپ سارے ارکان کو یاد کریں اور ان خاکوں میں لکھیں :
ایمان کے ارکان
اولا : تقدیر پر ایمان لانے کا معنی :
تقدیر پر ایمان لانے سے مراد : اس بات کی پختہ تصدیق ہے کہ اس کائنات میں بھلا برا جو کچھ بھی ہوتا ہے، سب اللہ کے علم میں ہے، سب کو اس نے لکھ رکھا ہے، سب اس کے ارادے سے ہوتا ہے اور سب کو اس نے پیدا کیا ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے : "بے شک ہم نے ہر چیز کو ایک (مقرره) اندازے پر پیدا کیا ہے۔" (سورۂ قمر : 49)۔
اسی طرح اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ان کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا تھا : "یہ بات جان لو کہ اگر ساری امت بھی جمع ہو کر تمھیں کچھ نفع پہنچانا چاہے تو وہ تمھیں اس سے زیادہ کچھ بھی نفع نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تمھارے لیے لکھ رکھا ہے، اور اگر وہ تمھیں کچھ نقصان پہنچانے کے لیے جمع ہو جائے تو اس سے زیادہ کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تمھارے لیے لکھ دیا ہے۔ قلم اٹھالیے گئے اور (تقدیر کے) صحیفے خشک ہوگئے ہیں۔" (مسند احمد : 2669، سنن ترمذی : 2516)۔
تقدیر پر ایمان اور اسباب اختیار کرنا :
تقدیر پر ایمان رکھنا، کوشش کرنے اور اسباب اختیار کرنے کے منافی نہیں ہے۔ کیوں کہ انسان عمل سے وہی حاصل کرتا ہے، جو اللہ نے اس کے حق میں لکھ رکھا ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : "تم میں سے ہر شخص کی جنت وجہنم میں منزل پہلے سے معلوم ہے؟" صحابہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! کیا ہم اس پر بھروسہ کرکے بیٹھ نہ جائیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے جواب دیا : "ایسا مت کرو۔ تم عمل کیا کرو۔ کیوں کہ ہر شخص کے لیے وہی آسان کر دیا جاتا ہے، جس کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے۔" (صحیح بخاری : 1362، صحیح مسلم : 2647)۔
چوں کہ انسان کو یہ پتہ نہيں ہے کہ اللہ نے اس کے بارے میں کیا فیصلہ کر رکھا ہے، تو وہ ایسی بات کو دلیل کیسے بنا سکتا ہے، جس کے بارے میں وہ کچھ جانتا ہی نہیں ہے؟ لہذا اسے اپنی لیے خیر حاصل کرنے کی خوب کوشش کرنی چاہیے۔
ثالثا : تقدیر پر ایمان لانے کے اثرات :
تقدیر پر ایمان کے بہت سے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جن میں سے چند یہ ہیں :
1- ثابت قدمی اور یقین کے ساتھ مشکل کاموں پر اقدام۔
2- بہت سے اجتماعی امراض، جیسے حقد اور حسد وغیرہ کا علاج۔
3- اللہ تعالی کے فیصلے پر راضی ہونا، صبر سے کام لینا اور ناراضگی و بے چینی سے گریز کرنا۔
4- تواضع، کیوں کہ تقدیر پر ایمان رکھنے والے مؤمن کو معلوم ہے کہ اس کے پاس جو بھی نعمتیں ہيں، سب اللہ کی دی ہوئی ہيں۔
سرگرمیاں
سرگرمی (1) : میں ایک نصیحت کرتا ہوں :
اگر آپ کے کسی دوست نے کوئی انعام (ایوارڈ) حاصل کرنے کے لیے خوب محنت کی اور وقت گزر گیا، لیکن پوری کوشش کے باوجود انعام (ایوارڈ) حاصل نہ کر سکا اور غم و اندوہ میں ڈوب گیا۔
تو اس درس میں پڑھی گئی باتوں کی روشنی میں آپ اس کے لیے ایک نصیحت لکھیں۔
سرگرمی (2) : میں غور و فکر کروں گا اور جواب دوں گا :
اللہ کے نبی نوح علیہ السلام نے ایک کشتی بنائی، جس کے ذریعے اللہ نے ان کو طوفان سے بچایا۔ اسی طرح اللہ کے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی مدینے کی جانب ہجرت کے لیے پورا پلان تیار کیا۔ حالاں کہ اللہ اس کے بغیر بھی دونوں کی مدد کر سکتا تھا۔
آپ یہ بتائيں کہ ان دونوں نبیوں نے اسباب کیوں اختیار کیے؟
اس سے کیا سبق ملتا ہے؟
اندازۂ قدر
سوال (1) : نیچے دیے گئے الفاظ میں سے صحیح الفاظ کا انتخاب کریں اور خالی جگہوں میں رکھ دیں :
1- تقدیر پر ایمان، ایمان کے ۔۔۔۔۔۔ میں سے ایک ہے۔
(مکملات - ارکان)
2- اللہ نے اپنے بندوں کے لیے ۔۔۔۔۔ کا فیصلہ کر رکھا ہے۔
(خیر و شر - شر نہيں، صرف خیر)
3- تقدیر پر ایمان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(اسباب اختیار کرنے کے منافی نہیں ہے - اسباب کو ترک کرنے کا تقاضا کرتا ہے)
سوال 2 : نیچے دیے گئے احوال میں مسلمان پر ایمان کے اثر کو واضح کریں :
1- جب اللہ کوئی نعمت عطا کرے۔
2- جب کوئی مصیبت آئے۔
3- جب اپنے پڑوسی کو خود سے زیادہ مال دار دیکھے۔
سوال 3 : بہادری اور اطمینان کا بھی تقدیر پر ایمان سے تعلق ہے۔ اس بات کو واضح کریں۔
اکائی : سنت اور شمائل
پہلا سبق : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا تعارف اور آپ کے اہم اوصاف :
سبق کے مقاصد :
عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ :
1- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا فضل و شرف بیان کر سکیں گے۔
2- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بیویوں، اولاد اور رشتے داروں کی تعداد بتا سکیں گے۔
3-اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے جسمانی اور اخلاقی اوصاف کے بارے میں کچھ لکھ سکیں گے۔
4- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اخلاق پر دلیل پیش کرسکیں گے۔
5- اخلاقِ نبوی سے خود کو آراستہ کریں گے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا تعارف
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا نسب
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی پیدائش
اللہ کی نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بیویاں
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بال بچے اور رشتے دار
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے جسمانی اور اخلاقی اوصاف
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا نسب اور نام :
اللہ تعالی نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ اعزاز بخشا کہ آپ کا تعلق عرب کے سب سے باعزت قبیلے سے تھا۔ آپ کے والد عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم اور والدہ آمنہ بنت وہب دونوں کا تعلق قریش سے تھا۔ اور قریش کا نسب اللہ کے نبی اسماعیل علیہ السلام تک پہنچتا ہے۔
آپ کے کئی نام تھے۔ جیسے احمد، حاشر اور عاقب۔
اللہ کے نبی کی پیدائش اور وفات :
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم مکہ میں عام الفیل سن 571 ء میں پیدا ہوئے۔ آپ کی وفات دوشنبہ 12 ربیع الاول سن 11ھ (633ء) کو مدینے میں 63 سال کی عمر میں ہوئی۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بیویاں :
اللہ تعالی نے خود اپنے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بیویوں کا انتخاب کیا اور ان کو مؤمنوں کی مائیں قرار دیا۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے : "نبی مومنوں پر خود ان سے بھی زیادہ حق رکھنے والے ہیں اور نبی کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں۔" (سورۂ احزاب : 6) آپ کی بیویوں کے نام کچھ اس طرح ہیں :
1- خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا۔
2- سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا۔
3- عائشہ بنت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہا۔
4- حفصہ بنت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما۔
5- زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا۔
6- ام سلمہ ہند بنت ابی امیہ رضی اللہ عنہا۔ 7- زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا۔ 8- جويریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا۔ 7- ام حبیبہ رملہ بنت ابو سفیان رضی اللہ عنہا۔ 10- صفیہ بنت حُيی بن اخطب رضی اللہ عنہا۔ 11- میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بال بچے اور رشتے دار :
1- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بیٹوں کے نام قاسم، عبد اللہ اور ابراہیم ہیں۔ تینوں کا انتقال بچپن میں ہی ہو گیا تھا۔ جب کہ آپ کی بیٹیوں کے نام زینب، رقیہ، ام کلثوم اور فاطمہ ہیں۔ ابراہیم کو چھوڑ کر باقی سب خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے تھے۔ ابراہیم ماریہ قبطیہ کے بطن سے تھے۔
2- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے کچھ مشہور ترین رشتے دار : آپ کے چچا حمزہ بن عبد المطلب، آپ کے چچا عباس، آپ کے چچا زاد بھائی علی بن ابو طالب اور آپ کے چچا زاد بھائی عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہم۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے جسمانی اوصاف :
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بڑے ہی خوب صورت انسان تھے۔ گورا رنگ، چمکتا چہرہ، ہونٹوں پر بکھری ہوئی مسکراہٹ، معتدل قد و قامت، کشادہ سینہ، بڑے بڑے کندھے اور گھنی داڑھی والے تھے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اخلاق :
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اخلاق کے اعتبار سے تمام لوگوں سے اچھے تھے۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے : "اور بے شک آپ بڑے (عمدہ) اخلاق کے حامل ہيں۔" (سورۂ قلم : 4)۔ اسى وجہ سے لوگوں کو آپ سے بڑی محبت تھی اور کشاں کشاں اسلام کی جانب کھنچے چلے آتے تھے۔ آپ کے اخلاق کی کچھ جھلکیاں پیش خدمت ہیں :
1- سخاوت اور شجاعت : انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : "اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سب سے زیادہ خوبصورت، سب سے زیادہ سخی اور سب سے زیادہ بہادر تھے۔" (صحیح بخاری : 2875)۔
2- بردباری اور نرمی : عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہيں : "اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے کبھی کسی کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا۔ نہ ہی کسی عورت کو، نہ ہی کسی خادم کو۔ اِلاّ یہ کہ آپ جہاد فی سبیل اللہ کر رہے ہوں۔ کبھی ایسے نہیں ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی نقصان پہنچایا گیا ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر انتقام لیا ہو مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ کی حدود کی خلاف ورزی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے لیے انتقام لیا کرتے تھے۔۔" (صحیح بخاری : 6853، صحیح مسلم : 2328)۔
3- تواضع : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک دوست، ایک بھائی اور ایک والد کی طرح زندگی گزاری۔ چھوٹے بڑے سب کے ساتھ رہتے۔ عام لوگوں کی طرح کھانا کھاتے، کپڑے پہنتے اور سواریوں پر سوار ہوتے۔
4- صبر : آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مکہ میں قریش کی اذیتوں اور مدینے میں یہودیوں اور منافقوں کے مکر و فریب اور خیانت پر صبر سے کام لیا اور بالآخر اللہ نے آپ کو ان تمام لوگوں سے نجات دے دی۔
آپ صلی اللہ علیہ و سلم پوری طاقت کے ساتھ دعوت، لوگوں کی تعلیم اور جہاد فی سبیل اللہ میں ڈٹے رہے۔
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے بیٹوں اور بیٹیوں کی اچانک وفات، فقر، مرض اور دنیا کی تمام مصیبتوں پر صبر سے کام لیا۔
5- عفو و درگزر : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم برا سلوک کرنے والوں کے ساتھ درگزر سے کام لیتے تھے۔ آپ نے فتح مکہ کے بعد اہل مکہ تک کو معاف کر دیا، جنھوں نے آپ کو بڑی تکلیفیں دی تھیں اور آپ سے کئی جنگیں کی تھیں۔
سرگرمیاں
سرگرمی (1) : جستجو کروں گا اور نتیجے نکالوں گا :
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ناموں میں آپ کے اوصاف بھی چھپے ہوئے ہيں۔ چنانچہ آپ کا ایک نام "المُقَفِّى" (نشانات قدم پر چلنے والا) تھا، کیوں کہ آپ نے توحید کی دعوت کے معاملے میں دیگر نبیوں کے نشانات قدم پر چل کر دکھایا ہے۔ اس بات کو دھیان میں رکھتے ہوئے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ہر نام کو مناسب معنی کے ساتھ جوڑیں :
نام
نبی رحمت
محمد
احمد
عاقب
نبی توبہ اس نام کو رکھے جانے کا سبب نبیوں کے بعد اور آخر میں آئے۔ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ کیوں کہ آپ کے اوصاف طیبہ کی وجہ سے اگلے اور پچھلے لوگوں نے آپ کی تعریف کی ہے۔ فضائل کے اعلی ترین درجہ پر فائز تھے۔ دوسری بات یہ ہے کہ آپ اپنے رب کی سب سے زیادہ تعریف کرنے والے تھے۔ آپ اللہ کے حضور بہت زیادہ توبہ کرنے والے تھے۔ اللہ نے آپ کو سارے جہانوں کے لیے رحمت بناکر بھیجا ہے۔
سرگرمی (1) : باہمی تعاون سے استنباط کروں گا :
اپنے ساتھی کی مدد سے نیچے دیے گئے نصوص سے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اخلاق مستنبط کیجیے :
نص
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "تمھارے پاس ایک ایسے رسول تشریف ﻻئے ہیں جو تمھاری جنس سے ہیں، جن کو تمھاری مضرت کی بات نہایت گراں گزرتی ہے، جو تمھاری منفعت کے بڑے خواہش مند رہتے ہیں، ایمان والوں کے ساتھ بڑے ہی شفیق اور مہربان ہیں۔" (سورۂ توبہ : 128)۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "اللہ تعالیٰ کی رحمت کے باعث آپ ان پر نرم دل ہیں اور اگر آپ بد زبان اور سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے پاس سے چھٹ جاتے۔" (سورۂ آل عمران : 159)۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہيں : "اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے (اسلام لانے پر) جب بھی کسی چیز کا سوال کیا گیا تو آپ نے وہ ضرور دی۔ (ایک دفعہ) آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس ایک آدمی آیا تو آپ نے اسے دو پہاڑوں کے درمیان موجود ساری بکریاں اسے دے دیں۔" (صحیح مسلم : 2312)۔
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہيں : "جب زور کا رن پڑتا اور دونوں فوجیں آپس میں بھڑ جاتیں، تو ہم بچنے کے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ کے پیچھے چھپ جاتے۔" (مسند احمد : 654)۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اخلاق رافت و رحمت رفق اور نرمی جود و سخا شجاعت
اندازۂ قدر
سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :
1- اللہ کے بنی صلی اللہ علیہ و سلم اکثر مسکرایا کرتے تھے۔ ()
2- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے دونوں کندھے بڑے بڑے تھے اور قد لمبا تھا۔
3- لوگوں کے قبول اسلام میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اخلاق کا بڑا اثر تھا۔
4- جنگوں کے دوران اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بہادری ظاہر ہوئی۔
سوال 2 : قوسین (بریکٹ) کے درمیان سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :
1- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی پیدائش کا سال ہے :
(517ٗء - 751ء - 571ء)
2- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ناموں میں سے ایک نام :
(عاقب - قاسم - عبد اللہ)
3- وفات کے وقت اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی عمر تھی :
(53 سال - 63 سال - 73 سال)
سوال (3) نیچے دیے گئے اخلاقی گوشوں پر دلالت کرنے والا ایک ایک واقعہ لکھیں :
1- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی سخاوت۔
2- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا عفو و درگزر۔
3- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی شجاعت۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اخلاق میں سے جو آپ کو سب سے زیادہ بھائے اس کا خلاصہ تیار کیجیے اور اسے اپنی کاپی میں لکھیے۔
دوسرا سبق : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے خصائص
سبق کے مقاصد :
عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:
1- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے دنیوی اور اخروی فضائل گنوا سکیں گے۔
2- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے فضائل مدلل انداز میں بیان کر سکيں گے۔
3- اپنی زندگی میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے مقام کے بارے میں اپنی جانکاری پیش کر سکیں گے۔
4- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی عظمت کا احساس کر سکیں گے۔
5- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے محبت رکھیں گے۔
آغاز :
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : "میں قیامت کے دن اولاد آدم کا سردار ہوں۔" (صحیح بخاری : 4712، صحیح مسلم : 2278)۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اس مقام کے مستحق کس بنیاد پر ہوئے؟
کیا آپ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے دوسرے خصائص سے بھی واقف ہيں؟
اس درس کے ذریعہ پتہ چلے گا۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے دنیوی اور اخروی خصائص
اللہ تعالی نے ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو کئی ایسے خصائص عطا کیے تھے، جو دوسرے نبییوں کو عطا نہیں ہوئے تھے۔ اس طرح کے کچھ خصائص کا ذکر اس حدیث میں ہوا ہے : "مجھ کو چھ باتوں کی وجہ سے دیگر پیغمبروں پر فضیلت دی گئی ہے : مجھے جامع ترین لفظوں میں بات کرنے کا ہنر دیا گیا ہے، رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی ہے، میرے لیے غنیمتیں حلال کی گئیں ہیں، میرے لیے ساری زمین پاک کرنے والی اور مسجد بنا دی گئی ہے، میں تمام مخلوقات کی طرف بھیجا گیا ہوں اور میرى نبوت کے ساتھ نبیوں کا سلسلہ ختم کردیا گیا ہے۔" (صحیح بخاری : 7013، صحیح مسلم : 523)۔
ایک اور حدیث میں ارشاد نبوي ہے : ’’میں قیامت کے دن اولاد آدم کا سردار ہوں گا اور سب سے پہلے میں ہی قبر سے نکلوں گا اور میں سب سے پہلا شافع ہوں گا اور سب سے پہلے میری ہی سفارش قبول کی جا ئے گی"۔ (صحیح بخاری : 4712، صحیح مسلم : 2278)۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے دنیوی فضائل
آپ صلى اللہ علیہ وسلم کی رسالت عام ہے
آپ صلى اللہ علیہ وسلم نبیوں کے سلسلے کی آخری کڑی ہیں
آپ صلى اللہ علیہ وسلم کو جامع ترین الفاظ میں بات کرنے کی صلاحیت دی گئی تھی
آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے لیے زمین کو مسجد اور پاکی حاصل کرنے کا ذریعہ بنایا گیا ہے
رعب کے ذریعے آپ صلى اللہ علیہ وسلم کی مدد کی گئی تھی
آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے لیے غنیمتوں کو حلال کیا گیا تھا
1- آپ صلى اللہ علیہ وسلم کو تمام لوگوں کی جانب نبی بناکر بھیجا گیا تھا : اللہ نے آپ صلى اللہ علیہ وسلم کو عرب اور غیر عرب سب کی طرف رسول بناکر بھیجا تھا۔ جب کہ آپ سے پہلے آنے والے ہر نبی کو صرف ان کی قوم کی جانب نبی بناکر بھیجا گیا تھا۔
2- نبیوں کے سلسلے کی آخری کڑی : آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے ذریعے آسمانی رسالت کے سلسلے کو ختم کر دیا گیا۔ آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔
3- آپ صلى اللہ علیہ وسلم کو جامع ترین الفاظ میں بات کرنے کی صلاحیت دی گئی تھی : آپ صلى اللہ علیہ وسلم قلیل ترین الفاظ میں بہت سے معانی ادا کر دیا کرتے تھے۔
سرگرمی (1) : میں اپنی رائے دوں گا :
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ایک وصف یہ تھا کہ آپ پوری فصاحت کے ساتھ عربی زبان بولتے تھے۔ اس پہلو کو مد نظر رکھتے ہوئے درست اختیار کے سامنے صحیح کا نشان (✓) لگائیں :
ایک مسلمان کے لیے عربی زبان سیکھنے کی بڑي اہمیت ہے۔ کیوں کہ عربی زبان اسے قدرت عطا کرتی ہے :
1- قرآن کریم کے معانی کو سمجھنے کی۔
2- عبادتوں کے احکام جاننے کی۔
3- صحیح طریقے سے دین کی تبلیغ کی۔
4- مذکورہ بالا سبھی۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے زمین کو مسجد اور پاکی حاصل کرنے کا ذریعہ بنایا گیا ہے۔ لہذا آپ کی شریعت میں کسی بھی پاک زمین پر نماز پڑھنا اور پانی نہ ملنے یا بیمار ہونے کی وجہ سے اس کے استعمال کی صلاحیت نہ رکھنے کی صورت میں وضو اور غسل کے بدلے میں مٹی سے تیمم کرنا جائز ہے۔
5- رعب کے ذریعے آپ صلى اللہ علیہ وسلم کی مدد کی گئی تھی۔ لہذا آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے دشمن جنگ کے وقت آپ صلى اللہ علیہ وسلم سے خوف کھاتے تھے۔
6- آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے لیے اموال غنیمت کو حلال کیا گیا ہے۔ یعنی آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے لیے جنگوں کے موقعوں پر دشمنوں سے حاصل شدہ اموال کو حلال کیا گیا ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اخروی فضائل
اولاد آدم کے سردار
سب سے پہلا شخص جس کی قبر کھلے گی
سب سے بڑے حوض والے
1- قیامت کے دن اولاد آدم کے سردار۔
2- سب سے پہلا شخص جس کی قبر کھلے گی : لوگوں کے دوبارہ زندہ کئے جانے کے بعد آپ ﷺ قبر سے سب سے پہلے نکلیں گے۔
3- (بروز قیامت) پہلے سفارشى اور پہلے مشفَّع: آپ پہلے شخص ہوں گے، جسے قیامت کے دن سفارش کی اجازت دی جائے گی اور پہلے شخص ہوں گے، جس کی سفارش قبول ہوگی۔
4- قیامت کے دن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا حوض دیگر نبیوں کے حوض سے بڑا ہوگا۔
5- آپ پہلے شخص ہوں گے، جس کے لیے جنت کا دروازہ کھولا جائے گا۔
عملی کام (2) : غور و فکر کروں گا اور نتائج اخذ کروں گا :
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہيں : "میرے حوض کا پھیلاؤ ایک مہینے کی مسافت ([1]) کے برابر ہوگا۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور اس کی خوشبو کستوری سے زیادہ عمدہ ہوگی۔ اور اس کے آبخورے([2]) (تعداد میں) آسمان کے ستاروں کی طرح ہوں گے۔ جو شخص اس حوض کا پانی پی لے گا، وہ کبھی پیاسا نہیں ہوگا۔“ (صحیح بخاری : 6579، صحیح مسلم : 2292)۔
اپنے استاد کی نگرانی میں اس حدیث سے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے حوض کے اوصاف اخذ کریں :
اندازۂ قدر
سوال 1 : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں وارد ہونے والی درج ذیل تعبیرات کا معنی واضح کیجیے : () مسافت : یعنی ایک سوار کو حوض کے آخر تک جانے کے لیے ایک مہینے کی ضرورت ہوگی۔ () كيزانه : 'کیزان' جمع ہے 'کوز' کی۔ ایسے برتن جن سے کچھ پیا جاتا ہے۔
1- "آپ صلى اللہ علیہ وسلم کو جامع ترین الفاظ میں بات کرنے کی صلاحیت عطا کی گئی تھی۔" : .....................................
2- "آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے لیے زمین کو مسجد بنایا گیا ہے۔" ؛ .....................................
3- "آپ صلى اللہ علیہ وسلم اولاد آدم کے سردار ہیں۔" : .....................................
4- "آپ کی مدد رعب عطا کرکے کی گئی تھی۔" : .....................................
سوال 2 : ’’پہلے شافع‘‘ اور ’’پہلے مُشَفَّع ‘‘ کے مابین فرق :
شافع وہ ہے جسے شفاعت کی اجازت ملے اور مشفع وہ ہے جس کی شفاعت قبول کی جائے۔ ()
شافع وہ ہے جسے شفاعت کا حق دیا جائے اور مشفع وہ ہے جسے یہ حق نہ دیا جائے۔ ()
سوال 3 : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے تین فضائل لکھیں اور اس درس کی روشنی میں اس کی دلیلیں پیش کریں :
تیسرا سبق : قرآن پڑھنے کی فضیلت
سبق کے مقاصد :
عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:
1- حدیث میں ائے ہوئے کلمات کے معانی واضح کر سکیں گے۔
2- حدیث کے راوی کا تعارف پیش کر سکیں گے۔
3- قرآن پڑھنے کی اہمیت بتا سکیں گے۔
4- قرآن پڑھنے میں دل چسپی لیں گے۔
5- اس درس میں آئی ہوئی حدیث کو یاد کر لیں گے۔
6- قرآن پڑھنے کی فضیلت محسوس کریں گے۔
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :
راوی حدیث کا تعارف :
ابو عبد الرحمن عبد اللہ بن مسعود ہذلى رضی اللہ عنہ۔
یہ ابتدائی دور میں اسلام قبول کرنے والے صحابہ میں سے ایک ہیں۔ انھوں نے خانۂ کعبہ میں سب سے پہلے بلند آواز سے قرآن پڑھا تھا۔
قرآن کا سب سے زیادہ علم رکھنے والے صحابہ میں سے ایک تھے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے قرآن کا علم حاصل کرنے کا حکم دیا تھا۔
سن 32ھ مدینے میں وفات پائی۔
الفاظ کے معانی :
الفاظ
دس گنا الم معانی دس گنا بڑھا دیا جائے گا۔
الم ان حروف مقطعات میں شامل ہیں، جن سے قرآن کی کچھ سورتوں کا آغاز ہوتا ہے۔
حدیث کا عام معنی :
اللہ کے یہاں قرآن پڑھنے کی بڑی اہمیت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن پڑھنے والے سے بہت بڑے ثواب اور بہت سے نیکیوں کا وعدہ کیا گیا ہے۔ جو شخص قرآن کا ایک حرف پڑھے گا اسے اللہ ایک نیکی عطا کرے گا۔ پھر اس کے حق میں دس نیکیاں لکھ دی جائيں گی۔ مثال کے طور پر جس نے سورۂ بقرہ کے شروع میں آئے ہوئے الفاظ 'الم' پڑھے، اس کے لیے تیس نیکیاں لکھی جائیں گی۔ پھر جیسے جیسے قاری زیادہ پڑھتا جائے گا، اس کی نیکیاں بڑھتی جائيں گی۔ یہ دراصل اللہ کا فضل و کرم ہے۔
فوائد اور توجیہات :
1- قرآن پڑھنے کی فضیلت اور اس کا عظیم اجر و ثواب۔
2- قرآن پڑھنے اور زیادہ سے زیادہ پڑھنے کی ترغیب۔
3- اس بات کا ثبوت کہ نیکیوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
4- اللہ کا فضل و کرم ہے کہ وہ تھوڑے سے عمل پر بڑا ثواب عطا کرتا ہے۔
سرگرمیاں
سرگرمی (1) : میں پڑھوں گا اور نتیجہ اخذ کروں گا :
قرآن پڑھنے کے بہت سے فضائل ہیں۔ اپنے استاد کی مدد سے نیچے دی گئی دونوں حدیثوں سے کچھ فضائل اخذ کریں :
نص
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے : "قرآن پڑھا کرو اس لیے کہ وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لیے سفارشی بن کر آئے گا"۔ (صحیح مسلم : 804)۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے : "صاحبِ قرآن سے کہا جائے گا کہ پڑھتا جا اور چڑھتا جا‘ اور اسی طرح ٹھہر ٹھہر کر پڑھ، جیسے کہ دنیا میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرتا تھا۔ جہاں آخری آیت ختم کرے گا، وہیں تیرا مقام ہوگا"۔ (سنن ابو داؤد : 1464، سنن ترمذی : 2914)۔ فضیلت قیامت کے دن قاری کے لیے قرآن سفارش کرے گا۔ قیامت کے دن صاحبِ قرآن کے درجات بلند کیے جائیں گے۔
سرگرمی (2) : باہمی تعاون سے تجویز پیش کروں گا :
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی اس حدیث کے ذریعے ہمیں قرآن کے اس حصے کا خیال رکھنے کا حکم دیا ہے، جو ہمیں یاد ہو : "تَعَاهَدُوا الْقُرْآنَ" ترجمہ : ’’قرآنِ مجید ہمیشہ پڑھتے رہو اور دَور کرتے رہو‘‘ (صحیح بخاری : 5033، صحیح مسلم : 791)۔ تاکہ قرآن کا حفظ کیا ہوا حصہ نسیان کا شکار نہ ہو جائے۔
اپنے ساتھیوں کی مدد سے ایسے وسائل کی تجویز پیش کریں، جو قرآن کے مراجعہ اور اسے یاد رکھنے میں مددگار ہو۔
نیچے دیے گئے لنک کے ذریعے آپ قرآن کی تلاوت اور مطالعے کے مراکز، جیسے حرمین مرکز تلاوت سے جڑ سکتے ہیں۔
https://maqraa.com/ar
سرگرمی (3) : میں شمار کروں گا اور موازنہ کروں گا :
سورۂ اخلاص کے حروف کی تعداد گنیں اور بتائیں کہ اسے پڑھنے والے کو کتنی نیکیاں ملیں گی؟ پھر اپنے نتیجے کو اپنے ساتھی کے نتیجے سے ملائیں۔
اندازۂ قدر
سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :
1- قرآن پڑھنے والے کو ثواب سات گنا تک بڑھا کر دیا جاتا ہے۔ (×)
2- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قرآن کا سب سے زیادہ علم رکھنے والے صحابہ میں سے ایک تھے۔ (√)
3- وقت کی بہتر ترتیب حفظِ قرآن میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ (√)
4- قراءتِ قرآن کے حلقوں میں حاضر لوگوں پر سکینت نازل ہوتی ہے۔ (√)
سوال 2 : قوسین (بریکٹ) کے درمیان سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :
1- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پہلے شخص تھے، جنھوں نے اس جگہ کے پاس بلند آواز سے قرآن پڑھا تھا :
(خانۂ کعبہ - اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا گھر - مسجدِ نبوی)
2- پابندی سے قرآن پڑھنے والا وہ ہے جو اسے پڑھتا رہتا ہے:
(ہر مہینے - ہر ہفتہ - ہر دن)
3- اس سبق میں شامل حدیث اللہ کے اس احسان کی دلیل پیش کرتی ہے کہ اس نے :
(قرآن اتارا - نیکی کے کاموں کا بدلہ بڑھا کر دیتا ہے - انسان کو پیدا کیا)
سوال 3 : اس درس میں شامل حدیث کو اپنی یاد داشت سے تین بار لکھیں :
سوال 4 : تلاوتِ قرآن کی اس فضیلت کو جاننے کے بعد آپ کو کیسا محسوس ہوا؟ بیان کریں :
چوتھا سبق : گناہوں کو مٹانے والے اعمال
سبق کے مقاصد :
عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ :
1- حدیث کے راوی کا مختصر تعارف پیش کر سکیں گے۔
اس حدیث میں آئے ہوئے مشکل الفاظ کے معنی بتا سکیں گے۔
3- حدیث کے اجمالی مفہوم کا خلاصہ پیش کر سکیں گے۔
4- اس حدیث کے فوائد بیان کر سکيں گے۔
5- اس حدیث میں بتائے گئے نیکی کے کام پابندی کے ساتھ کریں گے۔
6- اس حدیث کو زبانی یاد کر لیں گے۔
حدیث کے الفاظ :
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”پانچوں نمازیں، ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک اپنے مابین سرزد ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں، بشرط یہ کہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے“۔ (صحیح مسلم : 574)۔
الفاظ کے معانی :
الفاظ معانی
ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک
ایک رمضان دوسرے رمضان تک
گناہ مٹانے والے اعمال
کبیرہ گناہ ایک جمعہ کی نماز سے لے کر اس کے بعد والے جمعہ کی نماز تک۔ ایک رمضان کے روزے سے لے کر اس کے بعد والے رمضان کے روزے تک۔ گناہوں کی مغفرت کا سبب بڑے گناہ وہ ہیں جن کی شریعت نے دنیا میں کوئی حد یا آخرت میں کوئی سزا مقرر کیا ہو۔ جیسے زنا، چوری اور سود کھانا۔
راوی کا تعارف :
عبد الرحمن بن صخر دوسی رضی اللہ عنہ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو ابو ہریرہ کی کنیت دی تھی۔ کیوں کہ ساتھ میں بلی رکھتے تھے۔
سن 7ھ کو مسلمان ہوئے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات تک سایے کی طرح آپ کے ساتھ رہے۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے حق میں مضبوط حافظے اور مؤمن بندوں کے یہاں محبوب ہونے کی دعا کی تھی۔ چنانچہ سب سے زیادہ حدیثیں یاد رکھنے والے اور روایت کرنے والے صحابہ میں شمار ہوتے تھے۔ پانچ ہزار سے زیادہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی حدیثیں روایت کی ہیں۔
علم کے حامل اور دعوت و تعلیم کے میدان میں سرفہرست صحابہ میں شمار ہوتے تھے۔
سن 59ھ میں وفات پائی۔
حدیث کا عام معنی :
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ اللہ کی رحمت اور مغفرت کا دائرہ بڑا وسیع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس حدیث میں مذکور نیکیوں کے کام کرنے پر ان کا اجر و ثواب ملنے کے ساتھ ساتھ انسان کے گناہ بھی مٹا دیے جاتے ہيں۔
چنانچہ جن نیکی کے کاموں سے انسان کے گناہ مٹائے جاتے ہیں، ان میں ہر روز پانچ وقت کی نمازیں قائم کرنا، ہر ہفتہ جمعے کی نماز پڑھنا اور ہر سال ماہ رمضان کے روزے رکھنا شامل ہیں۔
ان اعمال سے انسان کے صغیرہ گناہ مٹا دیے جاتے ہیں۔ رہی بات کبیرہ گناہوں کی، جیسے زنا، چوری، عقوق والدین اور حرام مال کھانا، تو ان میں سے ہر ایک کے لیے خاص توبہ کی ضرورت ہے۔
توبہ اگر سچی ہو، تو اللہ تعالی ہر گناہ کی توبہ قبول کرتا ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "(میری جانب سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو جاؤ۔ بالیقین اللہ تعالیٰ سارے گناہوں کى مغفرت فرماتا ہے۔" (سورۂ زمر : 53)۔
فوائد اور توجیہات :
1- اللہ کی وسیع رحمت۔
2- اسلام میں نماز اور روزے کی اہمیت۔
3- نیکی کے کام پابندی کے ساتھ کرنے کی فضیلت۔
4- گناہوں کی دو قسمیں ہیں :
صغیرہ گناہ۔ نیکیاں ان گناہوں کو مٹاتی ہيں۔
کبیرہ گناہ۔ ان کے لیے خاص توبہ واجب ہے۔
5- کبیرہ گناہ کا ارتکاب کرنے کی سنگینی۔
سرگرمیاں
سرگرمی (1) : حل کروں گا اور نتیجہ نکالوں گا :
اللہ کے نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ”جو مسلمان فرض نماز کا وقت پائے، پھر اچھی طرح وضو کرے، دل لگا کر نماز پڑھے اور اچھی طرح رکوع (اور سجدہ) کرے، تو یہ نماز اس کے پچھلے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گی، جب تک کبیرہ گناہوں میں ملوث نہ ہو۔“ (صحیح مسلم : 228)۔
1- وہ فضیلت لکھیے، جس پر یہ حدیث دلالت کرتی ہے۔
2- اس فضلیت کا متعلقہ درس میں مذکور حدیث سے کیا ربط ہے، واضح کیجئے۔
سرگرمی (2) : حدیث سے نکالیں :
اس حدیث سے ایک جملہ پیش کریں، جو نیچے دی گئی ہر صورت کو بیان کرتا ہو :
سرگرمی (3) دوہراؤں گا اور یاد کروں گا :
اس حدیث کو اپنے ساتھی کے ساتھ اتنی بار دوہرائيں کہ یاد ہو جائے۔ پھر ایک دوسرے کو سنائیں اور دونوں ایک دوسرے کے حفظ پر اپنا اپنا عندیہ دیں، تاکہ حدیث اچھی طرح یاد ہو جائے۔
اندازۂ قدر
سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :
1- گناہوں کے مٹائے جانے کے لیے درس میں وارد تینوں عبادتوں کا یک جا ہونا شرط ہے۔
2- بڑے گناہ سچی توبہ سے مٹائے جاتے ہیں۔
3- زنا کبیرہ گناہ ہے، کیوں کہ اس میں ملوث ہونے والے پر حد جاری کی جاتی ہے۔
4- عبادتيں گناہوں کو مٹانے اور درجات کی بلندی کا سبب ہوا کرتی ہیں۔
سوال 2 : قوسین (بریکٹ) کے درمیان سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :
1- ہم ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے حرص رکھیں گے :
(علم سکھانے کا - مال جمع کرنے کا - مسجدیں بنانے کا)
2- حدیث میں آئے ہوئے الفاظ "مكفرات الذنوب" کے معنی ہیں :
(عذاب کم کرنے والی چیزيں - گناہ بخشوانے والی چیزيں - عیوب پر پردہ ڈالنے والی چیزیں)
3۔ پانچوں نمازوں کے ذریعے اللہ مٹاتا ہے :
(صغیرہ گناہوں کو - کبیرہ گناہوں کو - تمام گناہوں کو)
4- یہ حدیث جس روزے کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے، وہ ہے :
(عرفہ کے دن کا روزہ - عاشورا کے دن کا روزہ - ماہ رمضان کا روزہ)
سوال 3 : حدیث مکمل کریں :
«الصَّلَوَاتُ..........، وَالْجُمُعَةُ إِلَى..........، وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ مُكَفِّرَاتٌ مَا بَيْنَهُنَّ إِذَا اجْتَنَبَ .............».
سوال 4 : نیکیوں سے گناہوں اور برائیوں کا مٹایا جانا کس بات پر دلالت کرتا ہے؟
پانچواں سبق : اللہ سے حسنِ ظن
سبق کے مقاصد :
عزیز طالبِ علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:
1- جلیل القدر صحابی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا تعارف پیش کر سکيں گے۔
2- اس حدیث ميں آئے ہوئے مشکل الفاظ کے معنی بیان کر سکيں گے۔
3- حدیث کے اجمالی معنی کا خلاصہ بیان کر سکيں گے۔
4- اللہ سے اچھا گمان رکھنے کی فضیلت بیان کر سکيں گے۔
5- دوسرے لوگوں کو طاعت و استقامت کے راستے پر چلنے کی دعوت دیں گے۔
6- اس حدیث کو زبانی یاد کر لیں گے۔
تمہید :
احادیث کی ایک قسم کو احادیثِ قدسیہ کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ حدیثیں جنھیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اللہ تعالی سے روایت کرتے ہيں۔ لیکن ان میں قرآن کی طرح اعجاز کا پہلو نہيں ہوتا۔
اس سبق میں شامل حدیثِ قدسی ایمان والوں پر اللہ کے بے پایاں رحم و کرم پر دلالت کرتی ہے۔
حدیث کا متن :
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’اللہ تعالی فرماتا ہے : میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوتا ہوں۔ جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ اگر وہ مجھے اپنے نفس میں یاد کرے تو میں بھی اسے اپنے نفس میں یاد کرتا ہوں، اگر وہ مجھے بھری محفل میں یاد کرے تو میں اسے اس سے بہتر محفل میں یاد کرتا ہوں۔ اگر وہ میری طرف ایک بالشت آئے تو میں اس کی جانب ایک گز نزدیک ہوتا ہوں۔ اور اگر وہ ایک گز مجھ سے قریب ہو تو میں دو گز اس سے نزدیک ہوجاتا ہوں۔ اگر وہ میری طرف چلتا ہوا آئے تو میں دوڑتا ہوا اس کے پاس آتا ہوں۔‘‘ (صحیح بخاری : 7405، صحیح مسلم : 2675)۔
الفاظ کے معنی :
الفاظ : معنی :
ملأ جماعت (محفل)
بالشت دو انگلیوں؛ خنصر اور انگوٹھے کے کناروں کے بیچ کی دوری۔ (بالشت)
ذِرَاعًا کہنی اور انگلیوں کے کناروں کے بیچ کی دوری۔ (گز)
باعًا انسان کے دونوں ہاتھوں کی لمبائی کی مسافت۔
هرولة دوڑتا ہوا۔
راوی کا تعارف :
صحابی عبد الرحمن بن صخر۔ ان کا تعارف پیچھے گزر چکا ہے۔
یہاں مزید یہ جان لیں کہ وہ کثرت صیام و قیام، دنیا سے بے رغبتی اور ماں کے ساتھ حسن سلوک سے جانے جاتے ہيں۔
حدیث کا عام معنی :
یہ حدیث قدسی بتاتی ہے کہ مؤمن جب اللہ کو یاد کرتا ہے، تو اللہ اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ اسے توفیق دیتا ہے، اس پر رحم کرتا ہے اور اسے اس کے عمل سے زیادہ اور بڑا فضل و ثواب عطا کرتا ہے۔ جب مسلمان اللہ کو سری طور پر یاد کرتا ہے، تو اللہ بھی اسے سری طور پر یاد کرتا ہے اور جب وہ اللہ کو لوگوں کے درمیان یاد کرتا ہے تو اللہ بھی اسے اپنے مقرب فرشتوں کے بیچ یاد کرتا ہے۔ اگر مؤمن نیکی کے کام کے ذریعے اللہ سے قریب ہوتا ہے، تو اللہ قبولیت اور ثواب کے ذریعے اس سے قریب ہوتا ہے۔ مؤمن جتنی تیزی سے نیکی کے کام کرتا ہے اور عبادت میں آگے بڑھتا ہے، اس کا اجر و ثواب بڑھتا جاتا ہے اور اللہ کے ہاں اس کی قدر و وقعت بڑھ جاتی ہے۔
اس لیے مسلمان پر اپنے رب سے حسنِ ظن رکھنا واجب ہے۔ کیوں کہ اللہ اسے خیر عطا کرتا ہے، اس کے حق میں دنیا میں خیر کو یقینی بناتا ہے، اس کی توبہ قبول کرتا ہے اور آخرت میں عفو و درگزر سے کام لے گا۔
فوائد و توجیہات :
1- اللہ سے حسنِ ظن رکھنے اور اس کی عبادت اور اس کی قربت حاصل کرنے پر توجہ دینے کی اہیمت کا بیان ہے۔
2- اللہ کو سری و جہری طور پر یاد کرنا افضل ترین عبادت ہے۔
3- مخلوق پر اللہ کی بے پایاں رحمت اور بے انتہا فضل و کرم ہے۔
4- جو اللہ تعالی کی حکم برداری کرتا ہے، اللہ تعالی اسے بڑا اجر و ثواب عطا کرتا ہے۔
5- انسان کو اسی نوعیت کا بدلہ دیا جاتا ہے، جس نوعیت کا اس کا عمل رہتا ہے۔ جو اللہ تعالی سے اچھا گمان رکھتا ہے اور اچھا عمل کرتا ہے، وہ اچھا پاتا ہے۔
سرگرمیاں
سرگرمی (1) میں غور کروں گا اور جواب دوں گا :
نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: "تم میں سے ہر شخص کی موت بس اسی حالت میں آئے کہ وہ اللہ تعالی سے اچھا گمان رکھتا ہو۔" (صحیح مسلم : 2877)۔
ابراہیم نخعی کہتے ہیں : "سلف اس بات کو مستحب سمجھتے تھے کہ موت کے وقت بندے کو اس کے اچھے کام یاد دلائے جائیں، تاکہ وہ اپنے رب کے بارے میں اچھا گمان رکھے۔"
ان دونوں نصوص پر غور کریں، پھر اپنے ساتھیوں کی مدد سے نیچے دیے گئے سوالوں کے جواب دیں :
1- ان دونوں نصوص سے مستفاد باتوں کا خلاصہ لکھیں :
2- اس سبق کی حدیث سے ان دونوں کا کیا تعلق ہے؟
3- مسلمان کے لیے اپنے نیک اعمال کو کب یاد کرنا مستحب ہے؟
سرگرمی (2) : اپنی رائے دوں گا اور اس کا سبب بتاؤں گا :
نیچے دیے گئے مواقف ’اللہ سے حسن ظن رکھنے پر‘ کیسے دلالت کرتے ہیں، اس کے بارے میں اپنی رائے دیں اور اس کا سبب بیان کریں :
موقف
ایک جوان شخص نماز چھوڑتا ہے اور کہتا ہے کہ اللہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم والا ہے۔
ایک شخص پابندی سے نماز پڑھتا اور صلہ رحمی کرتا ہے۔
احمد اچھے سے اپنے کام کرتا ہے اور اپنے پڑوسیوں کی مدد کرتا ہے۔
ایک جوان شخص حرام کاموں میں ملوث رہتا ہے اور کہتا ہے کہ بوڑھا ہونے کے بعد توبہ کر لوں گا۔ آپ کی رائے سبب
(3) : میں اپنا جائزہ لوں گا :
تین نیکی کے کام بتائیں، جنھیں آپ پابندی سے کرتے ہيں اور اللہ سے ان پراجر عظیم کی امید رکھتے ہیں۔
اندازۂ قدر
سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کثرتِ عبادت کے ساتھ مشہور تھے۔ (✓)
اللہ کا ذکر سری طور پر بھی ہو سکتا ہے اور علانیہ طور پر بھی۔ (✓)
اللہ سے حسن ظن نیکی کے کاموں کو ترک کرنے کا باعث بنتا ہے۔ (×)
سوال 2 : قوسین (بریکٹ) کے درمیان سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :
حدیث قدسی منسوب ہوتی ہے :
(اللہ تعالی کی طرف - اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف - جبریل علیہ السلام کی طرف)
حدیث کے الفاظ "ذَكَرْتُهُ فِي مَلَأ هُمْ خَيْرٌ مِنْهُمْ" سے مراد ہیں :
(فرشتے - انبیاء - علماء)
اللہ سے حسن ظن رکھنا چاہیے :
(ترک عبادت کے وقت - گناہ ہو جانے پر - موت کے وقت)
سوال 3 : نیچے دی گئی حدیث پوری کریں :
اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے : «يَقُولُ اللهُ تعالى: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، وَأَنَا مَعَهُ حِينَ ............، إِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي ............، وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَأ ذَكَرْتُهُ فِي مَلَأ هُمْ خَيْرٌ ..........».
سوال 4 : نیچے دیے گئے دونوں سوالوں کے جواب دیجیے :
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو جزا اسی نوعیت کی ملتی ہے، جس نوعیت کا اس کا عمل رہتا ہے۔ اس کی وضاحت کریں :
یہ حدیث اللہ کی بے پایاں رحمت کو ثابت کرتی ہے۔ اس کی تشریح کریں :
چھٹا سبق : سات قسم کے لوگوں کو اللہ تعالی اپنے (عرش کے) سائے میں جگہ دے گا
سبق کے مقاصد :
عزیز طالبِ علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:
اس حدیث میں آئے ہوئے مشکل الفاظ کے معنی بتا سکیں گے۔
2- ان سات کاموں کو واضح کر سکیں گے، جن کے کرنے والوں کو اللہ اپنے (عرش کے) سائے میں جگہ د ے گا۔
3- جوانی ميں اللہ کی عبادت کی اہمیت کا اندازہ لگا سکیں گے۔
4- اس حدیث کے فوائد بیان کر سکيں گے۔
5- اس درس کی حدیث کو بلا غلطی سنا سکيں گے۔
6- صحابی جلیل ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی پیروی کریں گے۔
تمہید :
قیامت دن حشر کے میدان میں ساری مخلوق جمع ہوگی، بہت زیادہ بھیڑ ہوگی، کافی گرمی ہوگی اور لوگ لمبے وقت تک کھڑے ہونے کی وجہ سے تھک رہے ہوں گے۔ لیکن اس مشکل گھڑی میں بھی کچھ لوگوں کو سایہ اور سکون میسر ہوگا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون لوگ ہوں گے اور کون کون سے عمل کرکے پہنچیں گے کہ اس عذاب کے وقت ان کو اللہ کی یہ خاص رحمت حاصل ہوگی؟
جواب معلوم کرنے کے لیے اس حدیث کو پڑھیے :
حدیث کے الفاظ :
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "سات لوگوں کو اللہ اپنے (عرش کے) سائے میں اس دن جگہ دے گا، جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔ انصاف پرور حکمران، اللہ کی عبادت میں پروان چڑھنے والا جوان، ایسا شخص جس کا دل مساجد میں اٹکا ہوا ہو، دو ایسے اشخاص جو اللہ کے لیے آپس میں محبت رکھتے ہوں، اسی کی بنیاد پر یک جا ہوتے ہوں اور اسی کی بنیاد پر علاحدہ ہوتے ہوں، ایک وہ شخص جسے کوئی خوبرو اور معزز عورت بدکاری کی دعوت دے اور وہ یہ کہہ کر ٹھکرا دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں، ایک وہ شخص جو اس قدر پوشیدہ طور پر صدقہ دے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی پتہ نہ چلے کہ اس کا دایاں ہاتھ کیا خرچ کرتا ہے اور ایک وہ شخص جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے تو (بے ساختہ) اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جائیں۔" (صحیح بخاری : 660، صحیح مسلم : 1031)۔
الفاظ کے معانی :
الفاظ : ظِلِّهِ دعته خالياً فاضت عيناه معانی : مراد عرش کا سایہ ہے۔
اسے بدکاری کی دعوت دی۔ یعنی لوگوں سے دور اللہ کی تعظیم اور اس کے خوف سے اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے۔
وہ لوگ جن کو اللہ اپنے (عرش کے) سائے میں جگہ دے گا :
انصاف پرور حکمران
اللہ کی عبادت میں پروان چڑھنے والا جوان
ایسا شخص جس کا دل مسجد میں اٹکا ہوا ہو
دو ایسے اشخاص جو اللہ کی رضامندی کے حصول کے لیے آپس میں محبت رکھتے ہوں
ایسا شخص جو اللہ کے ڈر سے بدکاری سے گریز کرے
چھپاکر صدقہ کرنے والا
اللہ کے خوف سے رونے والا
راوی کا تعارف:
جلیل القدر صحابی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ۔ ان کا تعارف پیچھے گزر چکا ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اس بات کی پوری کوشش کرتے تھے کہ ہمیشہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ رہیں، آپ کے نقش قدم پر چلیں اور آپ کے اوامر اور وصیتوں کو نافذ کریں۔ اس کی ایک مثال ان کا یہ قول ہے : "میرے گہرے دوست نے مجھے تین باتوں کی وصیت فرمائی ہے۔ جب تک میں زندہ رہوں گا انھیں ترک نہیں کروں گا۔ وہ یہ ہیں : ہر مہینے کے تین روزے، چاشت کی نماز اور سونے سے پہلے وتر کی ادائیگی۔" (صحیح بخاری : 1178، صحیح مسلم : 721)۔
حدیث کا عام معنی
قیامت کے دن اپنی قبروں سے نکلنے کے بعد لوگ لمبے وقت تک حشر کے میدان میں کھڑے رہيں گے۔ اس دن سورج کی تپش بڑی سخت ہوگی اور سب لوگ اس کا سامنا کر رہے ہوں گے۔ البتہ کچھ ایمان والوں کو اللہ کے عرش کے سائے میں رہنے کی سعادت نصیب ہوگی۔
اس حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سات طرح کے لوگوں کا ذکر کیا ہے، جن کو اللہ تعالی اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا کرے گا۔ سات طرح کے لوگ یہ ہیں :
(1) انصاف پرور امام : مراد سارے حکام اور قضاۃ ہيں، جو انصاف کی راہ سے بھٹکتے نہیں ہیں۔
(2) اللہ کی عبادت میں پروان چرھنے والا جوان، جو پابندی سے نیکی کے کام، جیسے نماز اور والدین کی فرماں برداری کرتا ہو اور حرام کاموں سے بچتا ہو۔
(3) ایسا شخص جس کا دل مسجد میں اٹکا ہوا ہو۔ یعنی مسجدوں سے بہت زیادہ محبت رکھتا ہو اور پابندی سے جماعت کے ساتھ نماز پڑھتا ہو۔
(4) دو ایسے اشخاص جو اللہ کے لیے آپس میں محبت رکھتے ہوں؛ اسی کی بنیاد پر یک جا ہوتے ہوں اور اسی کی بنیاد پر علاحدہ ہوتے ہوں۔ یعنی دونوں میں سے ہر ایک اپنے ساتھی سے محبت اس لیے رکھتا ہے کہ وہ ایک صالح مؤمن ہے۔ اس کے پیچھے کوئی دنیوی غرض چھپا ہوا نہیں ہوتا۔ دونوں زندگی بھر اس محبت پر قائم رہتے ہیں۔
(5) ایک وہ شخص جسے کوئی خوبرو اور معزز عورت بدکاری کی دعوت دے اور وہ اللہ کے ڈر سے یہ کہہ کر ٹھکرا دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔
(6) ایک وہ شخص جو اس قدر پوشیدہ طور پر صدقہ دے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی پتہ نہ چلے کہ اس کا دایاں ہاتھ کیا خرچ کرتا ہے۔ یعنی اپنے اخلاص کی بنا پر اور اس ارادے سے کہ فقیر کو شرمندگی کا احساس نہ ہو اس لیے لوگوں کی نظروں سے چھپاکر صدقہ کرتا ہے۔
(7) اور ایک وہ شخص جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے تو (بے ساختہ) اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جائیں۔ ایسا اللہ کی رحمت کے لالچ اور اس سے ملنے کے شوق یا اس کی قدرت کی عظمت کو دھیان میں رکھتے ہوئے کرے۔
فوائد اور توجیہات :
1- قیامت کے دن اللہ کی جانب سے ساری مخلوق کے سامنے اطاعت گزار بندوں کے لیے عزت افزائی ہوگی۔
2- عدل دنیا میں محبوب اور آخرت میں بڑے اجر و ثواب کی حامل صفت ہے۔
3- جوانی کے دنوں کو اللہ کی عبادت میں صرف کرنے کا وجوب۔
4- صدقہ میں اخلاص اور مسجد آباد کرنے کی فضیلت۔
5- اللہ کے لیے محبت دنیا اور آخرت کی سعادت کا سبب ہے۔
6- حرام خواہشات سے دوری کا آخرت میں بڑا اجر ہے۔
سرگرمی
سرگرمی (1) : صفت اور اس کی دلیل کو جوڑیں :
نیچے دی گئی ہر صفت کو اس پر دلالت کرنے والے حدیث کے الفاظ کے ساتھ جوڑیں :
صفت
عبادت میں اخلاص
اللہ کی اطاعت پر استقامت
عفت
عدل
اللہ کا خوف اس پر دلالت کرنے والے الفاظ حدیث
عملی کام (2) : پڑھوں گا اور جواب دوں گا :
ایک صحابی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص گزرا۔ چنانچہ اس صحابی نے کہا : اے اللہ کے رسول! میں اس شخص سے محبت کرتا ہوں۔ لہذا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے پوچھا : "کیا تم نے اسے یہ بات بتائی ہے؟" اس صحابی نے جواب دیا : نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : "اسے یہ بات بتا دو۔" چنانچہ وہ اس کے پاس گئے اور بتایا کہ : میں اللہ کی خاطر تم سے محبت کرتا ہوں۔ اس پر اس شخص نے کہا : تم سے بھی وہ ذات محبت کرے، جس کی خاطر تم مجھ سے محبت کرتے ہو۔ (سنن ابو داؤد : 5125)۔
اپنے معلم کی نگرانی میں اللہ کے لیے محبت رکھنے کا اجر و ثواب واضح کیجیے، جیسا کہ اس حدیث اور اس سبق میں وارد حدیث میں آیا ہے۔
اندازۂ قدر
سوال 1 : نیچے دیے گئے بیانوں کا جواب "ہاں" یا "نہیں" میں دیجیے :
1- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے قول "ایسا شخص جس کا دل مسجد میں اٹکا ہوا ہو" سے مراد ہے مسجدوں سے محبت رکھنے والا۔ (ہاں - نہيں)
2- ’حج‘ اس حدیث میں وارد اعمال میں داخل ہے۔ (ہاں - نہيں)
3- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے قول "اس کی آنکھیں بھر آئيں" سے مراد آنکھوں کا بیمار ہو جانا ہے۔ (ہاں - نہیں)
4- اس حدیث سے اخلاص کی فضیلت معلوم ہوتی ہے۔ (ہاں - نہیں)
5- یہ حدیث اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر درود بھیجنے کی فضیلت کی جانب رہنمائی کرتی ہے۔ (ہاں - نہیں)
سوال 1 : قوسین (بریکٹ) کے درمیان سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :
1- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ارشاد : ’’الإِمَامُ الْعَادِلُ‘‘ (یعنی : انصاف پرور حکمران) میں شامل ہيں :
(مدرسین - قضاۃ - دعاۃ)
2- بدکاری سے انکار کرنے والا شخص متصف ہے :
(عفت کے وصف سے - سچائی کے وصف سے - عدل کے وصف سے)
3- رونا قیامت کے دن عرش کے سایے کا سبب اس وقت ہوگا، جب :
(لوگوں کے خوف سے آئے - اللہ کی خشیت سے آئے - بیماری کی وجہ سے آئے)
سوال 3 : اس سبق میں شامل حدیث کو اپنی یاد داشت سے اعراب اور حرکات کے ساتھ لکھیں :
سوال 4 : نیچے دیے گئے سوالوں کا جواب دیجیے :
1- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اس فرمان کو واضح کریں : "ایک وہ شخص جو اس طرح چھپاکر صدقہ کرے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی پتہ نہ چلے کہ اس کا دایاں ہاتھ کیا خرچ کر رہا ہے۔"
2- اس حدیث سے سیکھے ہوئے تین فوائد لکھیے :
4- صحابی رسول ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی زندگی کی کون سی بات آپ کو اچھی لگی؟
اکائی : فقہی احکام
پہلا سبق : طہارت اور وضو کا طریقہ
سبق کے مقاصد :
عزیز طالبِ علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:
1- مسلمان کی زندگی میں طہارت کی اہمیت بیان کر سکيں گے۔
2- وضو کے کاموں کو ترتیب وار بیان کر سکيں گے۔
3- طہارت اور وضو کے فضائل کو دلیل کے ساتھ بیان کر سکيں گے۔
4- صحیح طریقے سے وضو کریں گے۔
طہارت اور وضو کا طریقہ
طہارت کی اہمیت اور فضیلت
وضوء کا طریقہ
وضو کی فضیلت
طہارت کی اہمیت :
اسلام نے طہارت پر بہت توجہ دی ہے اور نیچے دی گئى کئی چیزوں کو نماز کے صحیح ہونے کے لیے شرط قرار دیا ہے :
جسم، کپڑے اور جگہ کی طہارت۔ اللہ تعالی نے اپنے نبی ﷺ سے کہا : "اور آپ اپنے کپڑے پاک رکھیے۔" (سورۂ مدثر : 4)۔
دونوں ناپاکیوں سے طہارت۔ دو ناپاکیاں ہيں :
1- بڑی ناپاکی : اس ناپاکی سے طہارت جن حالات میں غسل کرنا واجب ہے ان میں پورے جسم کو دھونے سے حاصل ہوتی ہے۔
2- چھوٹی ناپاکی : اس سے طہارت‘ وضو کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : "کوئی بھی نماز بغیر طہارت کے قبول نہيں ہوتی۔" (صحیح مسلم : 224)۔
طہارت کی فضیلت :
1- طہارت بندے سے اللہ کی محبت کا سبب ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : " اللہ توبہ کرنے والوں کو اور پاک رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔" (سورۂ بقرہ : 222)
2- طہارت آدھا ایمان ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : "طہارت نصف ایمان ہے۔" (صحیح مسلم : 223)۔ یہاں ایمان سے مراد نماز ہے۔
وضو گناہوں کی صفائی اور ان کے مٹائے جانے کا سبب ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : ”جس شخص نے وضو کیا اور وضو کو اچھی طرح سے وضو کیا، اس کے گناہ اس کے جسم سے نکل جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کے ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں“۔ (صحیح مسلم : 245)۔
وضو کا طریقہ
نیچے دیے گئے بیانوں سے آپ کے لیے وضو کا طریقہ واضح ہو جائے گا :
(1) مسلمان وضو کی نیت کرے اور بسم اللہ کہے۔
(2) دونوں ہتھیلیوں کو تین بار دھوئے۔
(3) تین بار کلی کرے اور تین بار ناک میں پانی ڈال کر بائیں ہاتھ سے ناک جھاڑے۔
(4) تین بار چہرہ دھوئے۔
(5) دونوں ہاتھوں، پہلے دائیں اور پھر بائیں ہاتھ کو انگلیوں کے کناروں سے کہنی تک تین بار دھوئے۔
(6) ایک بار سر کا مسح کرے۔
(7) دونوں کانوں کا سر کے ساتھ مسح کرے۔
(8) دونوں پیروں کو تین بار ٹخنوں سمیت دھوئے۔ پہلے دائیں پیر کو دھوئے اور اس کے بعد بائیں پیر کو۔ پیروں کو دھوتے ہوئے ایک شخص کی تصویر۔
وضو پورا کرنے کے بعد یہ دعا پڑھے : "أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا الله، وأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ"
سرگرمیاں
سرگرمی (1) : میں پوچھوں گا اور جواب دوں گا :
متعدد حالات میں وضو مشروع ہے، جن میں سے کچھ حالات میں وضو واجب ہے اور کچھ میں مستحب۔ اس کی روشنی میں :
1) دو حالتیں بیان کیجیے، جن میں وضو کرنا واجب ہے۔ (نماز سے پہلے - مصحف کو چھونے سے پہلے)
2) دو حالتیں بیان کیجیے، جن میں وضو مستحب ہے۔ (اللہ کا ذکر کرتے وقت - سوتے وقت)
سرگرمی (2) : میں ایک نصیحت پیش کرتا ہوں :
اپنے اہلِ خانہ کو اس طریقے کے مطابق وضو کرنے کا عادی بنائیں، جو آپ نے سیکھا ہے۔
اپنے گھر کے لوگوں کا طریقہ وضو غور سے دیکھیں اور اس کے بعد ان میں سے جن سے غلطی ہو رہی ہو، نرمی کے ساتھ ان کو وضو کا صحیح طریقہ بتلائیں:
سرگرمی (3) : میں فضیلت اخذ کرکے بتاؤں گا :
نیچے دیے گئے نص کو پڑھیں اور اسے وضو سے جوڑیں، پھر اس میں وارد فضیلت بیان کریں۔
نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ”تم میں سے جو کوئی بھی اچھی طرح وضو کرنے کے بعد یہ دعا پڑھتا ہے: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ» (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں) اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئے جاتے ہیں۔ جس میں سے چاہے داخل ہوجائے۔“ (صحیح مسلم : 234)۔
اندازۂ قدر
سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :
وضو نماز کے صحیح ہونے کے لیے شرط ہے۔ (✓)
وضو میں قدموں کے ساتھ ٹخنووں کو دھونا بھی واجب ہے۔ (✓)
وضو کے دوران ہاتھ دھوتے وقت ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونا ہے۔ (✓)
وضو کے دوران سر کو تین بار دھونا واجب ہے۔ (×)
سوال 2 : وضو کے درج ذیل اعمال کو صحیح جگہ پر نمبر لگا کر ترتیب دیں :
وضو کے اعمال ترتیب
چہرہ دھونا۔ 5
کلی کرنا۔ 3
ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونا۔ 6
ناک میں پانی ڈالنا اور ناک جھاڑنا 4
دونوں کانوں کا مسح کرنا۔ 8
دونوں قدموں کو دھونا۔ 9
سر کا مسح کرنا۔ 7
دونوں ہتھیلیوں کو دھونا۔ 2
نیت اور بسم اللہ کہنا۔ 1
سوال 3 : اس حدیث سے وضو کی فضیلت پر ایک دلیل لکھیں۔
سوال 4 : طہارت اور ایمان کے درمیان ایک تعلق ہے۔ اسے اپنے سبق کی روشنی میں واضح کریں :
دوسرا سبق : تیمم اور حائل چيزوں پر مسح
سبق کے مقاصد :
عزیز طالبِ علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:
1- وہ احوال بیان کر سکيں گے، جن میں تیمم مباح (جائز) ہیں۔
2- تیمم کے طریقے کو صحیح طریقے سے تطبیق دے سکیں گے۔
3- موزوں پر مسح کے طریقے کو صحیح طریقے سے تطبیق دے سکیں گے۔
4- موزوں پر مسح اور پٹی پر مسح کے درمیان فرق کر سکیں گے۔
5- معذور لوگوں کو شریعت کی جانب سے دی گئی آسانیوں کا اندازہ لگا سکیں گے۔
اول : تیمم
تیمم نام ہے پاک مٹی کے ساتھ طہارت کی نیت سے چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کا مسح کرنے کا۔ تیمم وضو یا غسل کے بدلے میں کیا جاتا ہے۔
وہ احوال جن میں تیمم مشروع ہے :
1- پانی موجود نہ ہونا۔
2- اگر پاس میں موجود پانی صرف پینے بھر کا ہو اور خود اپنے یا کسی دوسرے کے پیاسا رہ جانے کا ڈر ہو۔
3- جب مسلمان کسی ایسی بیماری میں مبتلا ہو جو پانی کے استعمال سے بڑھتا ہو۔
تیمم کا طریقہ :
مسلمان تیمم کی نیت کرے اور پھر بسم اللہ کہے۔
ایک بار پاک مٹی پر دونوں ہاتھ مارے۔
دونوں ہاتھوں سے چہرے کا مسح کرے۔
دونوں ہاتھوں سے ہتھیلیوں کے باہری حصوں کا مسح کرے۔
اس لنک کے ذریعے وضو کا طریقہ دیکھیں :
دوم : موزوں پر مسح کرنا
عربی کا لفظ 'خف' چمڑے یا اس جیسی کسی بھی چیز سے بنے ایسے لفافے کو کہتے ہيں، جسے قدموں میں پہنا جاتا ہے۔
موزوں پر مسح کے جواز کی شرطیں :
1- موزہ دونوں قدموں کو ٹخنو سمیت چھپائے رکھے۔
2- ان کو طہارت کی حالت میں پہنا جائے۔
موزوں پر مسح کا طریقہ :
مسلمان پانی سے بھیگی ہوئی انگلیوں کو دونوں پیروں کی انگلیوں پر رکھے، پھر ان کو پنڈلیوں تک پھیرے اور پیروں کے اوپری حصے کا ایک بار مسح کرے۔ موزوں کے نچلے حصے کا مسح نہ کرے۔
یہاں موزوں پر مسح کرنے کا طریقہ دیکھیں :
سوم : پٹی پر مسح
پٹی ان چیزوں کو کہتے ہیں، جن کو فریکچرز اور زخموں پر ان کے ٹھیک ہونے تک باندھ کر رکھا جائے۔ جیسے پلاسٹر اور لفافے وغیرہ۔
پٹی پر مسح ضرورت کے بہ قدر کیا جائے گا۔ یعنی جب پٹی فریکچر یا زخم پر بندھی ہو، تبھی اس پر مسح کیا جائے گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ وضو میں مسح صرف وضو کی جگہ پر کیا جائے گا۔ جب کہ غسل میں پوری پٹی پر کیا جائے گا۔
موزوں کے برخلاف پٹی پر مسح کے لیے اس کا طہارت کی حالت میں بندھا ہوا ہونا شرط نہيں ہے۔
اور پٹی پر مسح کا وقت بھی محدود نہيں ہے۔ اس پر مسح فریکچر کے ٹھیک ہونے یا زخم کے بھر جانے تک کیا جا سکتا ہے۔
یہاں پٹی پر مسح کرنے کا طریقہ دیکھیں:
سرگرمیاں
سرگرمی (1) : میں فرق کروں گا :
نیچے دی گئی دونوں تصویروں کو دیکھیں اور صحیح و غلط طریقہ بتائيں اور سبب بھی بیان کریں :
سرگرمی (2) : میں پڑھوں گا اور نتیجہ نکالوں گا :
علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ نے موزوں پر مسح کے بارے میں فرمایا ہے : "اللہ کے رسول ﷺ نے مسافر کے لیے (موزوں پر مسح کرنے کی مدت) تین دن اور تین راتیں اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات مقرر فرمائی ہے۔" (صحیح مسلم : 276) اس حدیث سے مقیم اور مسافر کے لیے موزوں پر مسح کرنے کی مدت معلوم کریں۔
مسافر کے لیے تین دن و تین رات اور مقیم کے لیے ایک دن و ایک رات۔
سرگرمی (3) : ایک دوسرے کے ساتھ مل کر سیکھوں گا :
اپنے اہل خانہ کے ساتھ مل کر موزوں اور پٹی پر مسح کرنے کا طریقہ دیکھیں اور ان کے ساتھ اسے عملی جامہ پہنانے کے بارے میں بات کریں :
اندازۂ قدر
سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :
موزوں پر مسح کے لیے موزوں کو طہارت کی حالت میں پہننا شرط ہے۔ ( ✓)
موزوں پر مسح اللہ تعالی کی جانب سے رخصت ہے۔ ( ✓)
تیمم کرتے وقت وضو کے سارے اعضاء کا مسح واجب ہے۔ (×)
پٹی پر مسح کا کوئی وقت متعین نہیں ہے۔ (✓ )
سوال 2 : ذیل میں وضو کے اعمال کو ترتیب دیں :
سوال 3 : نیچے دیے گئے چارٹ میں موزوں پر مسح اور پٹی پر مسح کے درمیان فرق لکھیں :
موازنہ کے پہلو مسح کی جگہ مسح کی کیفیت مسح کی مدت موزوں پر مسح پٹی پر مسح
سوال 4 : دو حالتیں بیان کریں، جن میں وضو اور غسل کے بدلے میں تیمم جائز ہے۔
تیسرا سبق : غسل
سبق کے مقاصد :
عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:
1- غسل کی تعریف بیان کر سکیں گے۔
2- غسل کے افعال کو ترتیب وار بیان کر سکیں گے۔
3- غسل واجب کرنے والے حالات بیان کر سکيں گے۔
4- صفائی پر شریعت کی توجہ کا اندازہ لگا سکیں گے۔
آغاز :
نماز کے لیے وضو کا حکم دینے کے بعد اللہ تعالی نے کہا ہے : "اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو غسل کر لو۔" (سورۂ مائدہ : 6)۔
(یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ) جنبی کے کیا معنی ہیں؟
اور اس پر کیا واجب ہے؟
غسل
غسل سے مراد
وہ حالات جن میں غسل کرنا واجب ہے
غسل کی اہمیت
غسل کا طریقہ
غسل سے مراد :
غسل نام ہے طہارت کی نیت سے پورے بدن پر پانی پہنچانے کا۔
وہ حالات جن میں غسل واجب ہے :
1) مرد یا عورت کا نیند کی حالت میں احتلام ہو جانا۔
2- بیداری کی حالت میں لذت کے احساس کے ساتھ منی نکلنا۔ اگر لذت کے احساس کے بغیر نکلے، جیسے بیماری کے سبب نکلے، تو غسل واجب نہيں ہوگا۔
3) جماع۔ جماع سے غسل اس وقت واجب ہوتا ہے، جب مرد کے ذکر کا سرا عورت کے فرج میں داخل ہو جائے۔
4) حیض یا نفاس کا خون بند ہونا۔ عورت پر حیض یا نفاس کا وقفہ ختم ہونے کے بعد غسل واجب ہوگا۔
5) غیر مسلم کا مسلمان ہونا۔
کن کاموں کے لیے غسل واجب ہے :
1) نماز۔ نماز کے لیے مسلمان کا بڑی ناپاکی سے پاک ہونا واجب ہے، جب ان حالتوں میں سے کوئی حالت سامنے آ جائے، جن میں غسل واجب ہوتا ہے، پھر اگر غسل سے پہلے نماز پڑھ لے، تو نماز صحیح نہیں ہوگی۔
2) مصحف کو چھونے اور قرآن پڑھنے کو مباح بنانا۔ جنبی شخص کے لیے غسل کیے بغیر مصحف کو چھونا اور قرآن پڑھنا جائز نہيں ہے۔
غسل کا طریقہ :
مسلمان کے لیے ناپاکی دور کرنے کی نیت سے پورے بدن میں پانی بہانا کافی ہے۔
جسے کامل غسل کرنا ہو، نیچے دیے گئے طریقے سے غسل کرنا چاہيے :
1- دل میں بڑی ناپاکی سے طہارت حاصل کرنے کی نیت کرے اور پھر بسم اللہ کہے۔
2- دونوں ہتھیلیوں کو تین بار دھوئے۔ پھر اپنی شرم گاہ کو صاف ہو جانے تک دھوئے۔ پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کرے۔
3- اپنے سر پر تین بار پانی ڈالے اور اپنے بالوں کو رگڑے، تاکہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے۔
4- اپنے پورے بدن پر پانی ڈالے۔ پہلے اپنے دائیں پہلو کو دھوئے اور اس کے بعد بائیں پہلو کو۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں : "اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب غسل جنابت فرماتے تو پہلے دونوں ہاتھ دھوتے اور نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے، پھر غسل کرتے، پھر ہاتھ (کی انگلیوں) سے بالوں کا خلال کرتے۔ جب اطمینان ہو جاتا کہ بالوں کے نیچے کی کھال تر ہوگئی ہے، تو سر پر تین مرتبہ پانی بہاتے اور اس کے بعد پورے جسم کو دھوتے۔" (صحیح بخاری : 248، صحیح مسلم : 316)۔
سرگرمیاں
سرگرمی (1) : دیکھوں گا اور موازنہ کروں گا :
آپ نے غسل کا جو طریقہ سیکھا ہے، اس کا موازنہ اس سے کیجیے جو اس کلپ میں کہا گیا ہے :
سرگرمی (2) : حل کروں گا اور جواب دوں گا :
اپنے معلم کی نگرانی میں آنے والے دونوں نصوص میں غسل کا سبب معلوم کریں :
اللہ تعالٰی فرماتا ہے: "اے ایمان والو! جب تم نشے میں مست ہو نماز کے قریب بھی نہ جاؤ، جب تک کہ اپنی بات کو سمجھنے نہ لگو اور جنابت کی حالت میں جب تک کہ غسل نہ کر لو۔ ہاں، اگر راه چلتے گزر جانے والے ہو تو اور بات ہے۔" (سورۂ نساء : 43)۔
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا : ام سلیم رضی اللہ عنہا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئیں اور کہنے لگيں کہ اے اللہ کے رسول! اللہ حق بات بیان کرنے سے حیا نہیں کرتا۔ آپ یہ بتائیں کہ جب عورت کو احتلام ہو جائے، تو کیا اس پر بھی غسل واجب ہوتا ہے؟ تو آپ نے جواب دیا : "ہاں، جب وہ پانی دیکھ لے۔" (صحیح بخاری : 282، صحیح مسلم : 313)۔
سرگرمی (3) : جستجو کروں گا اور جواب دوں گا :
یہ جان لینے کے بعد کہ کن حالات میں غسل واجب ہے، دو حالتیں بتائيے، جن میں غسل کرنا مستحب ہے۔
نمازِ جمعہ
نمازِ عیدین
اندازۂ قدر
سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :
نماز کا وقت آ جانے پر غسل کرنا واجب ہے۔ (✓ )
جنبی پر غسل سے پہلے مصحف کو چھونا حرام ہے۔ (✓ )
بیماری کے سبب منی نکلنے پر غسل واجب ہے۔ (×)
ذکر کا اگلا حصہ فرج میں داخل ہونے پر غسل واجب ہو جاتا ہے۔ (×)
سوال 2 : نیچے دیے گئے غسل کے کاموں کو ترتیب دیں :
(دونوں ہاتھوں کو تین بار دھونا - طہارت کی نیت - جسم پر پانی بہانا - فرج کو دھونا)
سوال 3 : نیچے دیے گئے سوالوں کا جواب دیجیے :
1- غسل کی تعریف کیا ہے؟
2- غسل واجب ہونے کی حالتوں میں سے دو حالتیں بتائیے۔
3- ایک مسلمان نے غسل کی نیت کی اور اس کے بعد سمندر میں تیرنے لگا، جس سے پورا بدن تر ہو گیا۔ اب بتائیں کہ اس غسل کا کیا حکم ہے؟
چوتھا سبق : نماز کا مقام و مرتبہ
سبق کے مقاصد :
عزیز طالبِ علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ :
1- قرآن و سنت کی روشنی میں نماز کا مقام و مرتبہ بیان کر سکیں گے۔
2- مسلمان کی دنیوی اور اخروی زندگی میں نماز کی اہمیت واضح کر سکیں گے۔
3- نماز چھوڑنے یا اس میں سستی و غفلت برتنے کی سنگینی کو محسوس کر سکیں گے۔
4- نماز کی اہمیت پر اپنے خیالات پیش کر سکیں گے۔
آغاز :
تمام عبادتیں اللہ نے اپنے نبی پر وحی کے ذریعے زمین میں فرض کی ہيں۔ لیکن اللہ نے اپنے نبی پر نماز اسرا اور معراج کی رات میں آسمان میں بلاواسطہ فرض کی ہے۔
آخر یہ کس بات پر دلالت کرتا ہے؟
اسلام میں نماز کا مقام ومرتبہ
نماز دین کا ستون ہے
نماز اسلام کی نشانی (علامت) ہے۔
نماز توحید کے بعد پہلا فریضہ ہے
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی آخری وصیت ہے۔
نماز کے بارے میں بندے سے حساب سب سے پہلے لیا جائے ہوگا۔
گناہوں کے مٹائے جانے کا سبب
اسلام میں نماز کا بہت بڑا مقام ہے۔ اس کا اندازہ درج ذیل باتوں سے ہوتا ہے :
1- نماز دین کا ستون ہے :
نماز دین کا ایسا ستون ہے، جس کے بغیر دین کی عمارت قائم نہيں رہ سکتی۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : "دین کی بنیاد اسلام ہے اور اس کا ستون نماز ہے۔" (سنن ترمذی : 2616)۔
2- نماز اسلام کی نشانی :
نماز کی پابندی دین پر استقامت کی علامت ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : ’’ہمارے اور کافروں کے درمیان فرق نماز کا ہے۔ لہذا جس نے نماز چھوڑدی اس نے کفر کیا‘‘۔ (سنن ترمذی : 2621)۔
3- توحید کے بعد پہلا فریضہ ہے :
اللہ تعالٰی فرماتا ہے: ’’انھیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں۔ اسی کے لیے دین کو خالص رکھیں یکسو ہو کر اور نماز کو قائم رکھیں اور زکوٰة دیتے رہیں۔ یہی ہے دین سیدھی ملت کا۔" (سورۂ بینہ : 5)۔
4- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی آخری وصیت :
نماز کی پابندی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی آخری وصیت تھی۔ آپ نے فرمایا تھا : "نماز، نماز"۔ (مسند احمد : 26483، سنن ابن ماجہ : 1625)۔ یعنی نماز کو لازم جاننا اور اس کی پابندی کرنا۔
5- نماز وہ پہلا عمل ہے، جس کے بارے میں بندے کو قیامت کے دن سب سے پہلے حساب دینا ہوگا :
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”بلا شبہ قیامت کے دن بندے کے اعمال میں سے سب سے پہلے اس کی نماز کا حساب ہو گا۔ اگر اس کی نماز صحیح رہی، تو پھر وہ کامیاب ہو گیا اور نجات پاگیا“۔ (سنن ترمذی : 413، سنن ابن ماجہ : 1425)۔
6۔ نماز کے ذریعے اللہ گناہوں کو مٹاتا ہے :
اللہ کے نبیﷺ کا فرمان ہے: "ذرا یہ بتاؤ کہ اگر تم میں سے کسی کے دروازے سے ندی بہہ رہی ہو اور وہ اس میں روزانہ پانچ بار نہاتا ہو، تو تمھارے خیال میں کیا اس کے بعد بھی اس کے بدن میں کچھ گندگی باقی رہ سکے گی؟" صحابہ نے جواب دیا : اس کے بدن میں کوئی گندگی باقی نہیں رہے گی۔ آپ ﷺ نے فرمایا : یہ دراصل پانچ نمازوں کی مثال ہے۔ اللہ اس کے ذریعے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔" (صحیح بخاری : 528، صحیح مسلم : 667)۔
سرگرمیاں
سرگرمی (1) میں اپنے احساسات بیان کروں گا :
نماز نفس کی راحت اور پریشانیوں کا مداوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو جب کوئی بات غم زدہ کرتی، تو نماز پڑھنے لگتے۔" (سنن ابو داؤد : 1319) اسی طرح اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا کرتے تھے : "اے بلال! نماز قائم کرو، اس کے ذریعے مجھے راحت پہنچاؤ۔" (سنن ابو داؤد : 4985)۔
اپنے ساتھ پیش آنے والا کوئی واقعہ بیان کریں، جو راحت قلب پر نماز کے اثر کی نشان دہی کرتا ہو اور اس کے بعد اپنے ساتھیوں کے سامنے اپنے احساسات کا اظہار کریں۔
سرگرمی (2) میں غور کروں گا :
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : ”جو کوئی مسلمان فرض نماز کا وقت پائے، پھر اس کے لیے اچھی طرح وضو کرے اور خشوع کے ساتھ (دل لگا کر) نماز پڑھے اور اچھی طرح رکوع (اور سجدہ) کرے، تو یہ نماز اس کے ماقبل کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گی جب تک کہ کوئی کبیرہ گناہ نہ کرے اور اور یہی معاملہ اس (نمازی بندے) کے ساتھ عمر بھر ہوگا“۔ (صحیح مسلم : 228)۔
1- یہ حدیث نماز کی کس فضیلت پر دلالت کرتی ہے؟
2- اس فضیلت کے حاصل ہونے کے لیے کون کون سی شرطیں ہیں؟
سرگرمی (3) : میں قصہ بیان کروں گا :
اپنے اہل خانہ کو کسی خطیب یا دینی پروگرام سے سنا ہوا کوئی قصہ سنائیں، جو نماز ترک کرنے یا اس میں سستی کرنے کی سنگینی کی جانب اشارہ کرتا ہو۔
اندازۂ قدر
سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :
1- نماز نفس کی راحت اور دل کے اطمینان کا سبب ہے۔ (✓ )
2- نماز کی فرضیت کی وحی مدینے میں اتری تھی۔ (×)
3- نماز پہلی عبادت ہے، جس کا حساب بندے کو دینا پڑے گا۔ (✓)
سوال 2 : نیچے دیے گئے نصوص نماز کے مقام و مرتبے پر کیسے دلالت کرتے ہیں؟
1- اللہ تعالی نے فرمایا ہے : "انھیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اس کے لیے دین کو خالص رکھتے ہوئے اور یکسو ہو کر اور نماز کو قائم رکھیں اور زکاة دیتے رہیں، یہی ہے دین سیدھی ملت کا۔"
2- اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : "دین کی بنیاد اسلام ہے اور اس کا ستون نماز ہے۔"
سوال 3 : نماز کے مرتبے اور اس پر اپنی توجہ کو تین سطروں میں بیان کریں :
پانچواں سبق : نماز پڑھنے کا طریقہ
سبق کے مقاصد :
عزیز طالبِ علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:
1- نماز کا طریقہ بیان کر سکيں گے۔
2- نمازیوں کے افعال میں پھیلی ہوئی غلطیوں کی نشان دہی کر سکیں گے۔
3- نماز میں خشوع کی اہمیت کا اندازہ لگا سکیں گے۔
4۔ نماز صحیح طریقے سے پڑھ سکیں گے۔
کچھ نمازیوں کی نماز کا طریقہ اس سے الگ ہوتا ہے۔ اس کا سبب شاید نماز کے صحیح طریقے سے واقف نہ ہونا ہے۔ لہذا اس سبق کو اچھی طرح پڑھیں، تاکہ اس میں بیان کیے گئے طریقۂ نماز کو عملی جامہ پہنا سکیں۔
نماز کا طریقہ
مسلمان طہارت کی حالت میں، ستر پوشی کرکے اور قبلہ رخ ہوکر کھڑا ہوگا۔ پھر نماز کے درج ذیل کام کرے گا :
دل میں نماز کا ارادہ کرے گا اور یہ طے کر لے گا کہ فرض نماز پڑھنی ہے یا نفل نماز۔
وہ "اللہ اکبر" کہتے ہوئے اور دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے ہوئے سیدھا کھڑا ہوگا۔ پھر اپنے دائیں ہاتھ کو بائيں ہاتھ پر سینے کے اوپر رکھے گا۔
سورہ فاتحہ اور قرآن کا جتنا حصہ پڑھ سکے، پڑھے گا۔
اپنے ہاتھوں کو اٹھاتے ہوئے اور تکبیر (اللہ اکبر) کہتے ہوئے رکوع کرے گا۔ پھر اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھے گا اور تین بار "سبحان ربي العظيم" کہے گا۔
اپنا سر اٹھائے گا اور "سمع اللهُ لمن حمده" کہے گا۔ پھر سیدھا کھڑے ہونے کے بعد "ربنا لك الحمد" کہے گا۔
تکبیر (اللہ اکبر) کہتے ہوئے سجدہ کرے گا اور تین بار "سبحان ربي الأعلى" کہے گا۔
تکبیر (اللہ اکبر) کہتے ہوئے سجدے سے اٹھے گا اور "ربَّ اغفر لي، ربَّ اغفر لي" کہتے ہوئے بیٹھے گا۔
پھر دوبارہ تکبیر (اللہ اکبر) کہتے ہوئے سجدے میں جائے گا اور تین بار "سبحان ربي الأعلى" کہے گا۔
دوسری رکعت کے بعد بیٹھے گا تشہد پڑھے گا۔ تشہد کے کلمات اس طرح ہیں : ’’ (میری) تمام قولی، فعلی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکات ہوں، ہم پر اور اللہ کے (دیگر) نیک بندوں پر بھی سلام ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔‘‘
آخری رکعت کے بعد بیٹھے گا، پہلے ذکر کردہ تشہد پڑھے گا اور اس کے بعد درود ابراہیمی پڑھے گا : ’اے اللہ! رحمت نازل فرما محمد ﷺ پر اور آلِ محمد ﷺ پر جیسے تو نے رحمت نازل فرمائی ابراہیم علیہ السلام پر اور آلِ ابراہیم علیہ السلام پر، یقینََا تو قابلِ تعریف، بڑی شان والا ہے۔ اے اللہ ! برکت نازل فرما محمد ﷺ پر اور آلِ محمد ﷺ پر جیسے تو نے برکت نازل فرمائی ابراہیم علیہ السلام پر اور آلِ ابراہیم علیہ السلام پر، یقینََا تو قابلِ تعریف، بڑی شان والا ہے۔‘‘
پھر "السلام عليكم ورحمة الله" کہتے ہوئے پہلے دائيں اور پھر بائیں سلام پھیرے گا۔
نماز میں اطمینان اور خشوع :
نمازی کو چاہیے کہ اپنے دل میں اللہ کی عظمت کا استحضار کرتے ہوئے نماز کے سارے کام اطمینان سے کرے، جسم کے اعضاء کو خشوع آمیز رکھے اور پڑھی جانے والی آیات قرآنیہ، اذکار اور دعاؤں پر غور و فکر کرے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "یقیناً ایمان والوں نے فلاح حاصل کرلی۔ (1) جو اپنی نماز میں خشوع کرتے ہیں۔" (2) (سورۂ مؤمنون : 1-2)۔
سرگرمیاں
سرگرمی (1) : دیکھوں گا اور مشق کروں گا :
اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ اس ویڈیو کے ذریعے نماز کا طریقہ دیکھیں اور اگر ان سے غلطی ہو رہی ہو، تو رہنمائی کریں۔
سرگرمی (2) : پڑھوں گا اور جواب دوں گا :
اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : "جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو تکبیر (اللہ اکبر) کہو۔ پھر جتنا قرآن پڑھ سکو، پڑھو۔ اس کے بعد اطمینان سے رکوع کرو۔ پھر سر اٹھا کر سیدھے کھڑے ہو جاؤ۔ اس کے بعد پورے اطمینان کے ساتھ سجدہ کرو۔ پھر سر اٹھاؤ اور اطمینان کے ساتھ بیٹھو۔ پھر پوری نماز میں ایسا ہی کرو۔" (صحیح بخاری : 793، صحیح مسلم : 397)۔
اس حدیث کو پڑھنے کے بعد نیچے دیے سوالات کے جواب دیجیے :
1- نماز کی ان باتوں کا ذکر کیجیے، جن کو آپ نے اس درس میں پڑھا ہے اور جو اس حدیث میں نہيں آئی ہيں۔
2- دیکھا یہ جا رہا ہے کہ اس حدیث میں اطمینان کو بڑی توجہ دی گئی ہے۔ لہذا اپنے معلم کے ساتھ اس بات پر چرچا کیجیے کہ نماز میں اطمینان کیسے پیدا کیا جائے؟
سرگرمی (3) : مجھے کیا کرنا چاہیے؟
نیچے دیے گئے حالات پر غور کیجیے اور اپنے معلم یا امامِ مسجد سے رابطہ کرکے معلوم کیجیے کہ ان میں سے ہر ایک حالت میں درست شرعی احکام کیا ہیں؟
1- آپ نماز میں سورۂ فاتحہ پڑھنا بھول گئے اور رکوع بھی کر لیا۔
2- آپ درمیانی تشہد بھول گئے اور دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہو گئے۔
3- آپ غلطی سے عصر کی نماز کی چوتھی رکعت کے بعد کھڑے ہو گئے۔
اندازۂ قدر
سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :
1- نیت کے الفاظ نماز سے پہلے زبان سے ادا کرنا واجب ہے۔ (×)
2- نماز کی ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ پڑھنا واجب ہے۔ (✓)
3- نمازی رکوع میں "سبحان ربي الأعلى" کہے گا۔ (×)
4- خشوع ایک قلبی عمل ہے، جس کا اظہار اعضائے جسم کے اطمینان سے ہوتا ہے۔ (✓)
5- نمازی سینے کے اوپر اپنا دایاں ہاتھ بائيں ہاتھ پر رکھے گا۔ (✓)
سوال 2 : نیچے دی گئی عبارتوں کو پورا کیجیے :
1- مسلمان رکوع میں یہ دعا پڑھے گا : .......................................................
2- مسلمان رکوع سے اٹھنے کے بعد یہ دعا پڑھے گا : .......................................................
3 - مسلمان دو سجدوں کے درمیان یہ دعا پڑھے گا : .......................................................
سوال 3 : نیچے دیےگئے دونوں سوالوں کے جواب دیجیے :
1- پہلے تشہد میں جو کچھ پڑھا جاتا ہے، اس کا موازنہ اس کے ساتھ کیجیے، جو دوسرے تشہد میں پڑھا جاتا ہے۔
2- خشوع نفس کا تزکیہ اور بندے کی کامیابی ہے۔ اس کی وضاحت کیجیے۔
اکائی : اخلاق
پہلا سبق : کھانے پینے کے آداب
سبق کے مقاصد :
عزیز طالبِ علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ :
1- کھانے پینے کے آداب گنوا سکیں گے۔
2- کھانے پینے کے آداب کی مشروعیت کے اسباب بتا سکیں گے۔
3- کھانے پینے کے آداب دلیل کے ساتھ بیان کر سکیں گے۔
4- کھانے پینے کے آداب کی تطبیق کر سکیں کے۔
اس سبق کے ذریعے آپ کے سامنے اسلامی شریعت کے بعض محاسن ظاہر ہوں گے، جس نے روز مرہ کے آداب اور ان آداب کے مسلمان کی دنیوی اور اخروی زندگی پر پڑنے والے اثرات کو بتانے پر خاص توجہ دی ہے۔
کھانے پینے کے آداب
مشروع آداب
کھانے سے پہلے دونوں ہاتھوں کو دھونا
دائیں ہاتھ سے کھانا اور پینا
بیٹھ کر کھانا
کھانے اور پینے سے پہلے بسم اللہ کہنا
اپنے سامنے سے کھانا
کھانے پینے سے فارغ ہونے کے بعد اللہ کی تعریف کرنا
کچھ ایسے کام جن سے منع کیا گیا ہے
ٹیک لگاکر کھانا پینا
پینے کے دوران پانی میں سانس لینا
بہت زیادہ پیٹ بھر کر کھانا
گرم کھانے میں پھونک مارنا
اول : مشروع آداب
1- کھانے سے پہلے دونوں ہاتھوں کو دھونا اور صاف کرنا۔
2- کھانے پینے سے پہلے بسم اللہ کہنا۔ اگر مسلمان شروع میں بسم اللہ کہنا بھول جائے، تو "بسم اللہ اولہ و آخرہ" کہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : ’’جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھانے لگے، تو ’’بسم اللہ‘‘ (اللہ کے نام کے ساتھ کھانا شروع کرتا ہوں) کہے۔ اگر شروع میں کہنا بھول جائے تو ’’بسم اللہ فی اولہ و آخرہ‘‘ (میں شروع اور آخر میں اللہ کا نام لیتا ہوں۔) کہے۔" (سنن ترمذی : 1858)
3- دائيں ہاتھ سے کھانا اور پینا۔ اگر کسی بیماری وغیرہ کی وجہ سے دائیں ہاتھ سے کھا نہ سکے، تو بائيں ہاتھ سے کھانا جائز ہے۔
4۔ اپنے سامنے سے کھانا۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عمر بن ابو سلمہ سے فرمایا : "اے بچے! (کھاتے وقت) بسم اللہ پڑھ لیا کرو، دائیں ہاتھ سے کھایا کرو اور اپنے سامنے سے کھایا کرو۔" (صحیح بخاری : 5376، صحیح مسلم : 5388)۔
5۔ بیٹھ کر کھانا۔ ضرورت کے پیش نظر کھڑے ہوکر کھانا کھانے میں کوئی حرج نہيں ہے۔
6۔ کچھ پیتے وقت برتن سے باہر تین بار سانس لینا۔ ایک ہی سانس میں پیا نہیں جائے گا۔ انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : "اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم تین سانس میں پیتے تھے۔" (صحیح مسلم : 2028)۔
7- کھانے پینے سے فارغ ہونے کے بعد اللہ تعالی کی تعریف کرنا، نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : ”اللہ تعالی بندے کی اس بات سے خوش ہوتا ہے کہ وہ کھانا کھائے تو اس پر اللہ کی تعریف کرے یا پانی پیے تو اس پر اللہ کی تعریف کرے“۔ (صحیح مسلم : 7108)۔
دوم : کچھ ممنوع کام
1- ٹیک لگاکر کھانا کھانا۔ کیوں کہ یہ گھمنڈی لوگوں کا شیوہ ہے۔
2- فضول خرچی اور حد سے زیادہ آسودہ ہوکر کھانا۔ کیوں کہ ایک تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس سے منع کیا ہے اور دوسرا اس کے موٹاپا اور اس طرح کے دیگر کئی نقصانات ہیں۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : " اور کھاؤ اور پیو اور حد سے مت نکلو۔ بےشک اللہ حد سے نکل جانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔" (سورۂ اعراف : 31)۔
3- گرم کھانے میں پھونک مارنا۔
4- پینے کے دوران پانی میں سانس لینا۔ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ "اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے برتن میں سانس لینے یا اس میں پھونک مارنے سے منع کیا ہے۔" (سنن ترمذی : 1888، سنن ابن ماجہ : 3288)۔
سرگرمیاں
سرگرمی (1) : میں پڑھوں گا اور جواب دوں گا :
اللہ کے نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ”کسی انسان نے اپنے پیٹ سے بُرا برتن کبھی نہیں بھرا۔ ابن آدم کے لیے چند نوالے کافی ہیں جو اس کی کمر سیدھی رکھیں اور اگر زیادہ کھانا ضروری ہو تو ایک تہائی حصہ (پیٹ) کھانے کے لیے، ایک تہائی پینے کے لیے اور ایک تہائی سانس لینے کے لیے مختص کر دے“۔ (سنن ترمذی : 2380، سنن ابن ماجہ : 3349)۔
یہ حدیث کس ادب پر دلالت کرتی ہے؟
سرگرمی (2) : مسائل اخذ کرنا :
نیچے دیے گئے فقرے کو پڑھیے اور اس سے درج ذیل باتیں اخذ کیجیے :
1- کھانے کے دو آداب جن کے بارے میں اس درس میں گفتگو نہيں ہوئی ہے۔
2- کھانے کے کچھ آداب کی حکمت۔
سرگرمی (3) : حقیقت حال کا پتہ لگاؤں گا اور پروگرام بناؤں گا :
1- کیا آپ اس درس میں بتائے گئے کھانے پینے کے سارے آداب پر پابندی کے ساتھ عمل کرتے ہيں؟
2- گھر کے لوگوں کو کھانے پینے کے آداب سکھانے کے لیے ایک پروگرام تیار کریں۔
اندازۂ قدر
سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :
1- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے پینے کے دوران برتن میں سانس لینے سے منع فرمایا ہے۔ (√)
2- مسلمان کے لیے دائیں اور بائیں ہاتھ دونوں سے کھانا جائز ہے۔ (×)
3- ٹیک لگاکر کھانا تواضع کی نشانی ہے۔ (×)
سوال 2 : قوسین (بریکٹ) کے درمیان سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :
1- ٹیک لگاکر کھانا کھانا ایک :
(مستحب چيز ہے - جائز چیز ہے - ممنوع چیز ہے)
2- کھانے پینے کی چیزوں میں پھونک مارنا :
(آداب میں سے ہے - واجبات میں سے ہے - ممنوع چیزوں سے ہے)
3- جس کا دایاں ہاتھ ٹوٹا ہوا ہو، اس کے لیے بائیں ہاتھ سے کھانا کھانا :
(جائز ہے - مکروہ ہے - حرام ہے)
سوال 3 : نیچے دیے گئے دونوں سوالوں کے جواب دیجیے :
1- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیں زیادہ کھانے یا پینے سے کیوں منع کیا ہے؟
2- جب کوئی شخص کھانے پینے سے پہلے بسم اللہ کہنا بھول جائے تو کیا کرے؟
دوسرا سبق : اجازت طلب کرنے کے آداب
سبق کے مقاصد :
عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:
1- اجازت طلب کرنے کے آداب گنوا سکيں گے۔
2- اجازت طلب کرنے کا حکم بتا سکيں گے۔
3- اجازت طلب کرنے کا طریقہ اور اس کی حمکت بیان کر سکیں گے۔
4- دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنے کی اہمیت محسوس کر سکيں گے۔
5- گھر کے اندر اور باہر اجازت طلب کرنے کے آداب پر عمل کریں گے۔
خالد سے ملنے کے لیے علی اس کے گھر گیا اور کئی بار کال بیل بجایا، لیکن کوئی جواب نہيں ملا۔ لہذا وہ ناراض ہوکر لوٹ گیا۔ بعد میں جب اس کی ملاقات خالد سے ہوئی تو دروازہ نہ کھولنے پر برا بھلا کہا۔ خالد نے اس کا سبب یہ بتایا کہ اس کا گھر اس لائق نہيں تھا کہ اس میں علی کا استقبال کیا جاتا۔
آپ کی رائے میں کیا علی کو ناراض ہونے اور ملامت کرنے کا کوئی حق ہے؟
گھر کے اندر اجازت طلب کرنے کے آداب
اجازت طلب کرنے کا حکم
اجازت طلب کرنے کی حکمت
اجازت طلب کرنے کے آداب
اجازت طلب کرنے کا حکم :
جب کوئی مسلمان خاص جگہوں، جیسے گھروں وغیرہ میں داخل ہونا چاہے، تو اجازت طلب کرنا واجب ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں نہ جاؤ جب تک کہ اجازت نہ لے لو اور وہاں کے رہنے والوں کو سلام نہ کرلو۔" (سورۂ نور : 27)۔
اجازت طلب کرنے کی حکمت :
اللہ تعالی نے اجازت طلب کرنے کو مشروع اس لیے قرار دیا ہے کہ گھروں کی حرمتيں محفوظ رہيں اور کوئی کسی چھپی ہوئی باتوں سے آگاہ نہ ہو سکے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : "اجازت طلب کرنے کا حکم آنکھ کی وجہ سے ہی دیا گیا ہے۔" (صحیح بخاری : 6241)۔
اجازت طلب کرنے کے آداب:
1- اجازت طلب کرنے والا پہلے سلام کرے گا اور اس کے بعد اندر آنے کی اجازت طلب کرے گا۔ اگر کوئی جواب نہ ملے، تو دوبارہ اور سہ بارہ اجازت طلب کرے گا۔ اب بھی اگر کوئی جواب نہ ملے، تو لوٹ جائے گا۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : "اجازت تین بار طلب کی جائے گی۔ پھر اگر تم کو اجازت ملتی ہے تو ٹھیک ہے، ورنہ تم واپس ہو جاؤ۔" (صحیح مسلم : 5753)۔
اجازت نہ ملنے پر ناراض ہونے کا حق نہیں ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "اگر وہاں تمھیں کوئی بھی نہ مل سکے تو پھر اجازت ملے بغیر اندر نہ جاؤ۔ اگر تم سے لوٹ جانے کو کہا جائے تو تم لوٹ ہی جاؤ، یہی بات تمھارے لیے پاکیزه ہے۔ جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔" (سورۂ نور : 28)۔
2- اجازت طلب کرنے والا اپنا نام بتا دے گا، تاکہ اہل خانہ پہچان لیں۔
3- اجازت طلب کرنے والا دروازے کے دائيں یا بائيں کھڑا ہوگا، تاکہ دروازہ کھلنے پر گھر کے اندر نظر نہ پڑے۔
4- محارم ، جیسے ماں اور بہن کے گھروں میں داخل ہونے سے پہلے بھی اجازت طلب کرنا واجب ہے۔
گھر کے اندر اجازت طلب کرنا :
اللہ نے کچھ متعینہ اوقات میں بچوں پر بھی والدین کے پاس جانے کے لیے اجازت طلب کرنے کو واجب قرار دیا ہے، تاکہ بچوں کی نظر ان کے رشتے داروں کے ان اعضاء پر نہ پڑ سکے، جن کا دیکھنا ان کے لیے مناسب نہيں ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "ایمان والو! تم سے تمھاری ملکیت کے غلاموں کو اور انھیں بھی جو تم میں سے بلوغت کو نہ پہنچے ہوں (اپنے آنے کی) تین وقتوں میں اجازت حاصل کرنی ضروری ہے۔ نماز فجر سے پہلے اور ظہر کے وقت جب کہ تم اپنے کپڑے اتار رکھتے ہو اور عشا کی نماز کے بعد‘ یہ تینوں وقت تمھاری (خلوت) اور پرده کے ہیں۔" (سورۂ نور : 58)۔
پردے کے تین اوقات اس طرح ہيں :
پہلا : فجر کی نماز سے پہلے۔
دوسرا : جب دوپہر کے وقت تم لوگ کپڑے اتار کر رکھ دیتے ہو۔ (یعنی قیلولہ کے وقت)
تیسرا : عشا کی نماز کے بعد۔
ان تین اوقات میں اجازت طلب کرنے کا حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ یہ دراصل سونے کی تیاری کرنے یا نماز کے لیے جاگنے کے اوقات ہیں۔ لہذا ان اوقات میں یا تو ہلکے پھلکے کپڑے پہنے جاتے ہیں یا کپڑے بدلے جاتے ہيں۔ اس کے دیگر اسباب بھی ہو سکتے ہيں۔
سرگرمی
سرگرمی (1) : واضح کروں گا اور تجویز پیش کروں گا :
اجازت طلب کرنے کے آداب کی بہت سی خلاف ورزیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ خاص طور سے رشتے داروں کے درمیان۔ کبھی کبھی اس کے بہت سے نقصانات بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ انہی باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نیچے دی گئی بات کی وضاحت کیجیے :
1- برائیاں جو اجازت طلب نہ کرنے کے نتیجے میں سامنے آتی ہیں۔
دوسروں کے جسم کی چھپانے لائق جگہوں کو دیکھ لینا۔
2- اجازت طلب کرنے کے آداب کو عام کرنے اور اس سلسلے میں سرزد ہونے والی خلاف ورزیوں کو درست کرنے کے تین وسائل پیش کریں۔
سرگرمی (2) : دیکھوں گا اور تشریح کروں گا :
نیچے دیے گئے لنک میں موجود ریکارڈنگ کو دھیان سے سنیں اور اپنے اہل خانہ اور دوستوں کے سامنے اس کے مشمولات کی تشریح کریں۔
اندازۂ قدر
سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :
1- اجازت لیے بغیر کسی کے گھر میں داخل ہونا حرام ہے۔ (✓)
2۔ اجازت طلب کرنے والا اپنا تعارف اپنا وصف بتاکر مثلا دوست یا ساتھی کے طور پر کرائے، تو کافی ہے۔ ×
3- قیلولہ کے اوقات میں بچوں پر اجازت طلب کرنا واجب ہے۔ ✓
4- بہن کے یہاں داخل ہوتے وقت بھائی کو اجازت طلب کرنے کی ضرورت نہيں ہے۔ ×
5- بچے فجر کی نماز سے پہلے بھی اجازت طلب کریں گے۔ ✓
سوال 2 : قوسین (بریکٹ) کے درمیان سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :
1- گھر کا مالک اگر اجازت طلب کرنے والے کو اجازت نہ دے، تو اجازت طلب کرنے والا :
(انتظار کرے - لوٹ جائے - دوبارہ اجازت طلب کرے)
2- بچے کس نماز کے بعد سے اجازت طلب کریں گے؟
(عصر کی نماز - مغرب کی نماز - عشا)
3- گھر کے اندر بھی اجازت طلب کرنا مشروع کیا گیا ہے درج ذیل سبب کى بنا پر:
(نابالغ کی سزا کو ترک کرنا - اسلام کی رواداری کا مظاہرہ - اہل خانہ کے شرم گاہوں کی حفاظت)
سوال 3 : آنے والی باتوں کا سبب بتائیں :
1- اجازت طلب کرنے والے کا دروازے کے دائيں یا بائیں کھڑا ہونا۔
2- اجازت طلب کرتے وقت اجازت طلب کرنے کے لیے اپنا نام بتانا ضروری ہے۔
تیسرا سبق : گفتگو اور مجلس کے آداب
سبق کے مقاصد :
عزیز طالبِ علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:
1- گفتگو اور مجلس کے آداب بیان کر سکیں گے۔
2- گفتگو اور مجلس کے آداب کی اہمیت کا اندازہ لگا سکیں گے۔
3- گفتگو اور مجلس کے آداب کی پابندی کریں گے۔
4- مجلس کے کفارہ والی حدیث کو زبانی یاد کر لیں گے۔
تمہید :
کچھ لوگ مجلس کے آداب کا خیال رکھے بغیر ہی مجلس شروع کرتے ہيں اور ختم کر دیتے ہيں، جو کہ اسلام کا طریقہ نہیں ہے۔ لہذا آپ آداب مجلس کی پابندی کریں، جنھیں آپ اس سبق میں سیھکيں گے۔
گفتگو اور مجلس کے آداب
گفتگو کے آداب
مجلس کے آداب
اول : گفتگو کے آداب
1- گفتگو سے پہلے سلام کرنا۔ سلام سننے والے پر جواب دینا واجب ہے۔
2- مسلمان کی زبان سے اچھی بات ہی نکلے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے : "جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اچھی بات کہے یا پھر خاموش رہے۔" (صحیح بخاری : 6018، صحیح مسلم : 47)۔
3- جھوٹ، غیبت، چغل خوری، گندی بات، راز فاش کرنے اور کسی کا مذاق اڑانے سے گریز کرنا۔
4- بے فائدہ باتوں سے گریز کرنا۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : ”آدمی کے اسلام کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ اس چیز کو چھوڑ دے جس سے اسے کوئی سروکار نہیں۔“ (سنن ابن ماجہ : 3976)۔
5۔ اگر تین لوگ موجود ہوں، تو ایک کو چھوڑ کر دو لوگوں کا چپکے چپکے بات کرنا جائز نہیں ہے۔ کیوں کہ اس سے تیسرے کو تکلیف ہوگی۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے: "جب تم تین ہو تو دو آدمی تیسرے کو الگ کر کے سرگوشی نہ کریں تا وقت یہ کہ تم دوسرے لوگوں کے ساتھ مل نہ جاؤ۔" (صحیح بخاری : 6290، صحیح مسلم : 2184)۔
دوم : مجلس کے آداب
1- داخل ہوتے اور نکلتے وقت سلام کرنا۔
2- جہاں مجلس ختم ہوتی ہو، وہیں بیٹھ جانا اور لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر مجلس کے اگلے حصے تک پہنچنے سے گریز کرنا۔
3۔ کشادگی پیدا کرنا، تاکہ سب کو بیٹھنے کے لیے جگہ مل جائے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں میں کشادگی پیدا کرو تو تم جگہ کشاده کر دو۔ اللہ تمہیں کشادگی دے گا۔" (سورۂ مجادلہ : 11)
4- کسی کو اٹھاکر اس کی جگہ میں بیٹھنے سے گریز کرنا۔ چاہے وہ چھوٹا بچہ یا غریب آدمی ہی کیوں نہ ہو۔
5- بلا اجازت دو لوگوں کے بیچ میں بیٹھ کر ان کو الگ کرنے سے گریز کرنا۔
6- حرام کھیل، باطل، لغو اور غلط چیزوں کے مشاہدہ کی مجلسوں سے دور رہنا۔
7- علم و فضل والے اور نیک لوگوں کی ہم نشینی اختیار کرنے کی کوشش کرنا۔
8- اس بات کی کوشش کرنا کہ مجلس اللہ کے ذکر سے خالی نہ رہے۔
9- اٹھنے سے پہلے کفارۂ مجلس کی دعا پڑھنا۔ دعا اس طرح ہے : ’اے اللہ! پاک ہےتو اپنی تعریفوں سمیت، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں تجھ سے مغفرت مانگتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں۔‘‘ (سنن ترمذی : 3762)۔
اخیر میں اس لنک کے ذریعے مجلس کے آداب کا مراجعہ کریں :
سرگرمیاں
سرگرمیاں (1) : ما حصل نکالوں گا اور جوڑوں گا :
1- نیچے دی گئی حدیث سے سلام کرنے کے درجے اور ہر درجے کا ثواب نکالیے :
ایک شخص اللہ کے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ”السلام علیکم“ کہا، تو آپ ﷺ نے کہا : "اسے دس نیکیاں ملیں گی"۔ پھر دوسرا شخص آیا اور ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ” کہا، تو آپ ﷺ نے کہا : "اسے بیس نیکیاں ملیں گی"۔ پھر تیسرا آدمی آیا اور ”السلام علیکم وحمۃ اللہ وبرکاتہ“ کہا، تو آپ ﷺ نے کہا : "اسے تیس نیکیاں ملیں گی"۔ (سنن ابو داؤد : 5195، سنن ترمذی : 2698)۔
2- پچھلی حدیث کو اللہ تعالی کے اس قول کے ساتھ جوڑیں : "اور جب تمھیں سلام کیا جائے تو تم اس سے اچھا جواب دو یا انھی الفاظ کو لوٹا دو‘ بلا شبہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا حساب لینے واﻻ ہے"۔ (سورۂ نساء : 86)۔
سرگرمی (2) : میں واضح کروں گا اور نصیحت کروں گا :
نیچے دیے گئے حالات میں صادر ہونے والے گناہ کو واضح کیجیے اور گناہ میں ملوث ہونے والے کو ایک نصیحت بھی کیجیے۔
حالت
ایک ملازم اپنے ساتھ کام کر رہے لوگوں کے درمیان جھگڑا لگانے کے ارادے سے ایک کی بات دوسرے کو پہنچاتا رہتا ہے۔
ایک اپنے پڑوسیوں کے عیب بیان کرتا رہتا ہے۔
ایک لڑکی اپنی غریب سہیلیوں کے لباس کا مذاق اڑاتی رہتی ہے۔
ایک ڈرائیور اپنے مینیجر کے گھر کے اسرار بیان کرتا پھرتا ہے۔ گناہ کی نوعیت نصیحت
اندازۂ قدر
سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :
1- سلام کا جواب دینا مستحب ہے۔ (×)
2- مسلمان پر غیبت، چغل خوری اور مذاق اڑانا حرام ہے۔ (✓)
3- مال دار آدمی‘ غریب آدمی کو مجلس سے اٹھاکر اس کی جگہ پر بیٹھ سکتا ہے۔ (×)
سوال 2 : نیچے دی گئی دعا کو مکمل کریں :
«سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَشْهَدُ ...................، أَسْتَغْفِرُكَ ................».
سوال 3 : نیچے دیے گئے سوالوں کا جواب دیجیے :
1- مجلس کے آداب میں سے ایک ادب یہ ہے کہ مسلمان صرف اچھی بات کہے۔ اس کی وضاحت کیجیے۔
2- مجلس کے تین آداب لکھیے۔
3- "السلام عليكم ورحمة الله وبركاته" کے ذریعے سلام کرنے کی فضیلت لکھیے۔
چوتھا سبق : قضائے حاجت کے آداب
سبق کے مقاصد :
عزیز طالبِ علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:
1- قضائے حاجت کے آداب گنوا سکیں گے۔
2- قضائے حاجت کی جگہ میں داخل ہونے اور اس سے نکلنے کے اذکار یاد کر لیں گے۔
3- قضائے حاجت کے آداب کی پابندی کرنے پر دھیان دیں گے۔
4- اس بات کا اندازہ لگا سکيں گے کہ اسلام شخصی نظافت کی اہمیت پر کتنا دھیان دیتا ہے۔
تمہیدی سرگرمی
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابی سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے کسی نے کہا کہ تمھارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے تم کو ہر چیز سکھائی ہے۔ یہاں تک کہ پیشاب اور پاخانہ کرنا بھی۔ اس پر سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے کہا : "تم صحیح کہتے ہو۔ آپ نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے کہ ہم قبلے کی جانب منہ کرکے پاخانہ یا پیشاب کريں، دائيں ہاتھ سے استنجا کریں، تین سے کم پتھروں سے استنجا کریں یا گوبر یا ہڈی سے استنجا کریں۔" (صحیح مسلم : 262)۔
اس حدیث سے اسلام کی عظمت، مسلمان کی زندگی اور اس کی دنیوی سعادت سے اس کی دل چسپی کے پہلو نکالیے اور یہ بتائيے کہ دینِ اسلام طہارت، نظافت اور صاف صفائی کا دین ہے۔
قضائے حاجت کے بہت سے آداب ہیں، جنھیں ہم کچھ اس طرح تقسیم کر سکتے ہیں :
قضائے حاجت کے آداب :
قضائے حاجت سے پہلے
قضائے حاجت کے دوران
قضائے حاجت کے بعد
اول : قضائے حاجت سے پہلے :
1- قضائے حاجت کی جگہ میں داخل ہوتے وقت پہلے بایاں پاؤں اندر رکھنا۔
2- یہ دعا پڑھنا : "اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں خبیثوں اور خبیثنیوں سے۔" (صحیح بخاری : 142، صحیح مسلم : 375)۔
دوم : قضائے حاجت کے دوران :
1- لوگوں کی نظروں سے پردہ کرنا اور بیت الخلا میں داخل ہونے کے بعد دروازہ بند کر لینا۔
2- لوگوں کے راستے، سایے اور پانی وغیرہ میں قضائے حاجت سے بچنا۔
3- قضائے حاجت کے دوران مصحف لے جانے، قرآن پڑھنے اور اللہ کا ذکر کرنے سے اجتناب کرنا۔
4۔ پانی، رومال یا پتھر سے نجاست دور کرتے وقت بائیں ہاتھ کا استعمال کرنا۔
5- کھلی جگہوں میں قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی جانب منہ یا پیٹھ کرکے بیٹھنے سے بچنا۔
سوم : قضائے حاجت کے بعد :
1- جگہ (جیسے حمام وغیرہ) کو صاف ستھرا چھوڑ کر نکلنا۔
2- دونوں ہاتھوں کو نجاست دور کرنے کے لیے اچھی طرح دھونا۔
3۔ قضائے حاجت کی جگہ سے نکلتے وقت پہلے دایا پاؤں باہر نکالنا۔
4- نکلنے کے بعد "غُفْرَانَكَ" کہنا۔
سرگرمی
سرگرمی (1) : دیکھوں گا اور واضح کروں گا :
نیچے دیے گئے لنک کے ذریعے ویڈیو کلپ دیکھیں اور اس کے بعد بیت الخلا میں داخل ہونے کے آداب کے ذریعے انسان کی عزت افزائی کے پہلووں کو واضح کجیے۔
سرگرمی (2) نتیجے کی توقع کروں گا :
درج ذیل حالات کے متوقع نتیجے لکھیں :
حالات
ایک شخص عام راستے میں قضائے حاجت کرتا ہے۔
ایک شخص نہر میں قضائے حاجت کرتا ہے۔
ایک شخص قضائے حاجت کے بعد پانی اور صابون سے ہاتھ دھوتا ہے۔
ایک شخص قضائے حاجت کے وقت ٹھیک سے کپڑا نہيں اٹھاتا۔ متوقع نتیجہ
اندازۂ قدر
سوال 1 : قوسین (بریکٹ) کے اندر دیے گئے الفاظ کے ذریعے خالی جگہوں کو بھریں :
(عورہ‘ (ستر) - حرام - قرآن - پھل دار درخت)
1- ۔۔۔۔۔۔ کے نیچے قضائے حاجت کرنا حرام ہے۔ (پھل دار درخت)
2- کھلی جگہ میں قبلے کی جانب منہ کرکے قضائے حاجت کرنا ۔۔۔۔۔۔۔ ہے۔ (حرام)
3- قضائے حاجت کے وقت لوگوں کی نگاہ سے ۔۔۔۔۔۔۔ کو چھپانا واجب ہے۔ (عورہ [ستر])
4- قضائے حاجت کی جگہ میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ پڑھنا حرام ہے۔ (قرآن)
سوال 2 : نیچے دی گئی دعا کو پورا کیجیے :
قضائے حاجت کی جگہ میں داخل ہوتے وقت ہم کہيں گے : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
سوال 3 : نیچے دی گئی عبارتوں میں موجود غلطیوں کو درست کر کے ان کو دوبارہ لکھیں :
1- قضائے حاجت کے بعد دائیں ہاتھ سے نجاست دور کروں گا۔
قضائے حاجت کے بعد بائیں ہاتھ سے نجاست دور کروں گا۔
قضائے حاجت کی جگہ سے نکلنے کے بعد "الحمد للہ" کہوں گا۔
قضائے حاجت کی جگہ سے نکلنے کے بعد "غفرانك" کہوں گا۔
3- قضائے حاجت کے وقت اذان سنائی دے، تو اس کے کلمات کو دوہراؤں گا۔
قضائے حاجت کے وقت اذان سنائی دے، تو اس کے کلمات کو نہیں دوہراؤں گا۔
پیش لفظ
ساری تعریف اللہ کی ہے، جس نے انسان کو پیدا کیا، اسے علم و بیان عطا کرکے مکرم کیا اور قرآن و سنت کے ذریعے اس پر حجت قائم کر دی۔
درود و سلام ہو ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم، آپ کے اہل بیت، معزز صحابہ اور قیامت کے دن تک ان کی پیروی کرنے والوں پر۔
اما بعد! اس بات میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہيں ہے کہ بندے پر عمل سے پہلے علم حاصل کرنا عظیم واجبات میں سے ایک ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے : "سو (اے نبی!) آپ یقین کر لیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگا کریں اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے حق میں بھی، اللہ تم لوگوں کی آمد ورفت کی اور رہنے سہنے کی جگہ کو خوب جانتا ہے"۔
(سورۂ محمد: 19)۔
دراصل شرعی علم اس امت کی اہم ترین امتیازات میں سے ایک امتیاز اور اسلامی شخصیت کے اہم ترین عناصر میں سے ایک عنصر ہے۔
علم کی اہمیت کے پیش نظر، جس کے چشمے سے جمعیۃ الدعوہ و توعیۃ الجالیات روضہ کا فیض جاری ہے اور وہ حکمت کے ساتھ اور تبلیغ کے بہترین طریقوں کو بروئے کار لاتے ہوئے لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے اور پردیسى کمیونٹیز کی تعلیم اور ان کو شرعی اعتبار سے اہل بنانے کے مقصد سے کیے گئے پروگراموں، جیسے "دین سے آگاہی" کا پروگروام، جو پردیسى کمیونٹیز کے لیے سات زبانوں میں شرعی کورسیز فراہم کرتا ہے، کے توسط سے مسلمانوں کے اندر دینی بیداری لانے کے کام میں مشغول ہے۔ اس پروجیکٹ کو تیار کرنے کے لیے جمعیہ مذکورہ نے "بصائر للاستشارات التربوية" نامی کمپنی سے رابطہ کیا، جو شرعی تعلیم کا نصاب تیار کرنے کا کام کرتی ہے۔ چنانچہ جمعیہ کی جانب سے فراہم کردہ مواد کی بنیاد پر اس نصابی دستاویز کو تیار کرنے پر اتفاق عمل میں آیا اور پھر درج ذیل مراحل کے مطابق طلبہ کے لیے کتابیں تالیف کی گئیں :
- پہلا مرحلہ، جس میں چالیس (40) درس شامل ہیں۔
-دوسرا مرحلہ، جس میں تیس (30) درس شامل ہیں۔
تیسرا مرحلہ، جس میں 30 درس شامل ہيں۔
متعلم کے لیے تیار کی گئی ہر کتاب کے مقابلے میں معلم کے لیے بھی ایک رہ نما کتاب تیار کی گئی ہے، جو اس کے لئے مؤثر تعلیمی اور تربیتی طریقے پر درس پیش کرنے میں معین و مددگار ہوگى۔ نصابی دستاویز مرتب کرنے، متعلمین کے لیے کتابیں تالیف کرنے اور معلمین کے لیے گائیڈ تیار کرنے کا عمل بڑے ہی علمی انداز میں انجام پایا ہے اور بڑی باریک بینی کے ساتھ مراجعہ کیا گیا ہے۔ یہ کام شرعی تعلیمی نصاب کے ماہرین کی ایک جماعت نے کیا ہے۔
اخیر میں دعا ہے کہ اللہ اس عمل کو اسلام اور مسلمانوں کے لیے نفع بخش بنائے اور اس میں شریک ہونے والے ہر شخص کو بہتر بدلہ عطا کرے اور جنت سے نوازے۔ اس نصاب تعلیم کے بارے میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور جمعیہ کے فون نمبروں کے ذریعہ موصول ہونے والی آپ کی کارآمد تجاویز اور آرا کا پرجوش خیر مقدم ہے۔
درود وسلام نازل ہو ہمارے نبی محمد ﷺ اور آپ ﷺ کے آل واصحاب پر۔
جعیۃ الدعوہ، روضہ
مقدِّمہ
ساری تعریفیں اللہ کی اور اسى کے لئے ہیں اور درود وسلام نازل ہو اللہ کے آخری نبی محمد بن عبد اللہ، آپ کے اہل و عیال، پاک ساتھیوں اور قیامت کے دن تک ان کا اتبارع کرنے والوں پر۔ میرے معلم بھائی! تعلیم کا کام ایک معزز ترین کام ہے۔ کیوں کہ یہ انبیا اور مصلحین کا کام ہے اور سماج اور امت اسلامیہ کی تعمیر و ترقی میں اس کا بہت بڑا کردار ہے۔
آپ کے اس غیر معمولی کردار کے پیش نظر ہم آپ کے لیے یہ رہ نما کتاب فراہم کر رہے ہیں، جو آپ کی ذمے داری کی ادائيگی میں مددگار ثابت ہوگی اور تدریس کا کام
زیادہ خوش گوار اور نتیجہ خیز ثابت ہوگا۔ کیوں کہ اس رہ نما کتاب میں اسباق کی ایسی منصوبہ بندی شامل ہے، جو طلبہ کی سطح اور ماحول سے مناسبت رکھتی ہو
اور طالبِ علم کے لیے فراہم کی گئی کتاب کے اہداف و مقاصد اور تدریس اور جانچنے کے طریقوں سے جڑی ہوئی ہو۔
رہ نما کتاب برائے معلم میں سبق کے عناصر
اس رہ نما کتاب کے صفحات اپنے ہر درس میں متعدد عناصر کو سموئے ہوئے ہيں، جو تعلیمی موقف کے نمایان ترین پہلوؤں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان میں سے درج ذیل عناصر زیادہ اہم ہیں :
ڈیٹا باکس :
اس میں سبق کے لیے تجویز کردہ دورانیہ، سیکھنے کے لیے نئے الفاظ، استعمال کردہ تعلیمی مواد، سبق کے لیے بروئے کار لائے جانے والے اقدار و رجحانات اور سبق کی تجویز کردہ حکمتِ عملی موجود ہے۔
ب- سبق کے مراحل :
سبق کے درج ذیل مراحل متعین کیے گئے ہیں :
(1) سبق کی تمہید : اس کا مقصد طالبِ علم کی توجہ سبق کی طرف مبذول کرانا ہوتا ہے اور اس کے لیے کئی طریقۂ کار اپنائے جاتے ہيں۔ مثلا ایسے چھوٹے چھوٹے سوالات جو سبق کے لئے نکتۂ آغاز بن سکتے ہيں، ایسی حقیقی کہانی جو سبق سے جڑی ہوئی ہو، آج کے سبق کو پچھلے سبق سے جوڑنا یا کوئی تعلیمی وسیلہ اختیار کرنا۔
(2) آموزشی تجربات : ان سے مراد موضوع کو پڑھنے کے بعد متعلم کے ذریعے حاصل کیے گئے معارف، مفاہیم، حقائق اور احکام ہیں۔ اس رہ نما کتاب میں متعلم حضرات کے آموزشی تجربات کی توقعات شامل ہیں۔ معلم کو ان پر زور دینا چاہیے اور اس بات کی تاکید کرنی چاہیے کہ متعلمین انھیں اپنے کاپیوں میں لکھ لیا کریں۔
(3) سرگرمیاں : ان کا مقصد متعلم کو زیر درس موضوع سے سیکھی ہوئی باتوں اور حاصل کیے ہوئے تجربات نئے حالات پر لاگو کرانے کی مشق کرانا ہوتا ہے۔ دراصل ان سرگرمیوں کا مقصد سبق کے مشمولات میں رہ جانے والے ممکنہ خلا کو پر کرنا ہوتا ہے۔ معلم کو چاہیے کہ طلبہ کو ان سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے پر ابھارے اور اس بات کو دھیان میں رکھے کہ ان میں سے ہر سرگرمی کسی معین ہدف کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، لہذا وہ اس ہدف کو حاصل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ ہم اساتذہ سے اس بات کی بھی امید رکھتے ہيں کہ وہ طلبہ کو ان اسباق سے سیکھے ہوئے معارف کو عملی طور پر ادا کرنے اور عمل میں لانے کی مشق کرانے پر بھی توجہ دیں۔
(4) اندازۂ قدر : اس کا مقصد اس بات کا اندازہ لگانا ہوتا ہے کہ متعلقہ سبق کے اہداف کس حد تک حاصل ہو سکے اور کس حد تک حاصل نہیں ہوئے۔ اسی بنا پر اس بات کا بھی خیال رکھا جاتا ہے کہ سبق کا ہر سوال اس کے کسی نہ کسی مقصد سے کتنا جڑا ہوا ہے۔ اس رہ نما کتاب کے اندر سبق کے بعض سوالات کے جوابات بھی دے دیے گئے ہيں، تاکہ معلم کو اپنا کام کرنے میں آسانی ہو۔
(5) توجہ طلب تربیتی اور وجدانی باتیں : ان کا مقصد سبق کے دوران سیکھی ہوئی اہم باتوں کو عملی جامہ پہنانا اور ان کو اپنے خاندان میں اور دوستوں اور سماج کے درمیان نافذ کرنا ہوتا ہے۔
وہ تربیتی بنیادیں، جن پر یہ رہ نما کتاب قائم ہے وہ یہ ہیں :
اول : مقاصد نصاب :
ہر سبق کے اہداف و مقاصد متعین کر دیے گئے ہیں، جن کو متعین کرتے وقت درج ذیل باتوں کا خیال رکھا گيا ہے :
- اہداف و مقاصد زیر درس مواد کے کارآمد اور مفید ہونے کا آئینہ دار ہوں۔
- تنوع کے حامل ہوں۔ جان کاری، وجدان اور مہارت تینوں پہلووں کو سمیٹے ہوئے ہوں۔
- حقیقت پر مبنی، ممکن الحصول اور طلبہ کی سطح سے مناسبت رکھنے والے ہوں۔
- جانکاری سے متعلق مقاصد کے مرحلوں (یاد کرنا - سمجھنا - تطبیق دینا - تجزیہ کرنا - مربوط کرنا - اندازۂ قدر کرنا) کو بہ تدریج عبور کیا جائے۔
- بہتر ہدف کے حصول کی شرطوں کو عملی جامہ پہنایا جائے۔
ہدف متعلم کے رویے پر مرکوز رہے اور اسی میں پورے تجربے کو جھونکا جائے۔
دوم : مشمولات کی تعمیر و ترتیب :
اس نصاب تعلیم کے مواد کا انتخاب سبق کے متعینہ اہداف کے مطابق عمل میں آیا ہے۔ مشمولات کو اہداف و مقاصد کا مکمل آئينہ دار, دستاویز میں شامل صلاحیتوں اور طلبہ کی سطح کے عین مطابق رکھا گیا ہے۔ مشمولات کی پیش کش میں کوشش کی گئی ہے کہ بسیط سے گہرائی کی جانب بہ تدریج آگے بڑھا جائے، فراہم کردہ معلومات کی صحت کو یقینی بنایا جائے، آیات قرآنی اور احادیث نبویہ سے دلیلیں پیش کی جائيں، طلبہ کی آسانی کے لیے مشمولات میں شامل آیتوں اور حدیثوں کی تشریح کر دی جائے اور قرآنی آیات کے حوالے دے دیے جائيں اور احادیث نبویہ کی تخریج کر دی جائے۔
سوم : تعلیمی سرگرمیوں کى پروسیسنگ:
تعلمی سرگرمیوں کو ترتیب دیتے وقت کچھ معیاروں کا خیال رکھا گیا ہے، جیسے :
- سرگرمیوں کو سبق کے اہداف و مقاصد سے مربوط کرنے کا لحاظ اور ان مقاصد کے حصول میں سرگرمیوں کا بھی حصہ ہونا۔
- طالب علم کے مزاج کا خیال رکھتے ہوئے کچھ سرگرمیاں معلم کی نگرانی میں اور کچھ ساتھیوں کے تعاون سے کرنے کى رعایت کو ملحوظ رکھنا۔
تعلیمی سرگرمیوں میں تنوع رکھنا۔ کچھ سرگرمیاں سمعی ہوں، کچھ سرگرمیوں میں معلم کی باتوں کو دوہرایا اور نقل کیا جائے، کچھ سرگرمیوں میں کسی موضوع سے متعلق کچھ معین چيزیں جمع کرنے کو کہا جائے، کچھ سرگرمیوں کا تعلق شرح، تلخیص، زمرہ بندی اور دوبارہ تشکیل سے ہو، کچھ سرگرمیاں یاد کرنے، سننے اور پڑھنے سے تعلق رکھتی ہوں، کچھ سرگرمیاں ترتیب دینے کے قبیل سے ہوں اور کچھ حساب پر مشتمل۔
چہارم : تعلیمی وسائل، جن کے دائرے میں درج ذیل چيزیں آتی ہيں:
نصابی کتاب اور اس میں موجود تصاویر اور نمونے۔
- کلاس روم میں آویزاں بڑے بڑے ڈسپلے بورڈ۔
گروپ سرگرمیوں کے لیے کچھ کارڈ۔
- ریکارڈنگ ڈیوائس۔
پنجم : اندازۂ قدر کے نوع بہ نوع اسالیب :
مشمولات کے اسباق کے سوالات تیار کرتے وقت خیال رکھا گیا ہے کہ سوالات سبق کے اغراض و مقاصد سے جڑے ہوئے ہوں اور معرفت کے پہلو کی پیمائش کرنے والے یہ سوالات تنوع کے حامل ہوں۔ کہیں صیح و غلط کی نشان دہی کرنے کو کہا جائے، کہیں جوڑ لگانے کے لئے کہا جائے، کہیں متعدد آپشنز میں سے ایک کا انتخاب کرنے کو کہا جائے، کہیں مکمل کرنے کو کہا جائے اور کہیں ترتیب دینے کے لئے کہا جائے۔ اسی طرح وجدان اور مہارت کے پہلو کی پیمائش کے سلسلے میں معارف کو ایسے رویوں میں بدلنے کی کوشش کی گئی ہے، جن کی پابندی طالب کے لئےضرورى ہے۔ یہاں ہم اس بات کی جانب اشارہ کر دینا چاہتے ہیں کہ وجدان اور مہارت کے پہلوؤں کی پیمائش کا ایک بہترین طریقہ کلاس میں مدرس کے ذریعے اور گھر میں والدین کے ذریعے مشاہدہ اور پیروی کا طریقہ ہے۔
ششم : تدریس کی حکمت عملیاں :
عزیز معلم! یہاں آپ کو کچھ تدریسی طریقے، جن کا استعمال اس رہ نما کتاب کو تیار کرنے میں کیا گیا ہے، اس سے آگاہ کرایا جاتا ہے، تاکہ آپ ان سے، ان کے طریقۂ کار سے اور ان کو عملی جامہ پہنانے کے مراحل سے آگاہ ہو جائيں۔
(1) باہمی تعاون سے سیکھنا:
یہ ایک ایسا طریقۂ تدریس ہے، جس کی بنیاد طلبہ کو چھوٹے چھوٹے گروہوں (2 : 6 طلبہ) میں تقسیم کر کے سیکھنے کے عمل کو انجام دینے پر قائم ہے۔ اس طریقۂ تعلیم کے تحت طلبہ کے ساتھ مل کر، ایکٹیو ہو کر اور ایک دوسرے کی مدد سے کام کرنے کا موقع دیا جاتا ہے، تاکہ گروہ میں شامل ہر طالب علم کی سطح بلند ہو اور مشترکہ تعلمیی ہدف حاصل ہو سکے۔ گروہ میں شامل طلبہ کے درمیان کام تقسیم کر دیا جاتا ہے اور ہر گروہ کا ایک قائد مقرر کر دیا جاتا ہے، جو اس میں شامل طلبہ کی کار کردگی پر نظر رکھے اور ان کے جوابات جمع کر کے استاد کے سامنے رکھے۔
(2) مسئلہ کے حل کے لئے ذہنی استعداد کو بروئے کار لانا - (برین اسٹورمنگ Brainstorming) :
اس طریقے کی بنیاد غور و فکر اور تخلیقی صلاحیتوں کو مہمیز کرنے پر استوار ہوئی ہے۔ برین اسٹورمنگ کا استعمال ذہنی صلاحیتوں اور سرگرمیوں میں اضافے کے مقصد سے بہت سی علمی دشواریوں اور زندگی سے متعلق مختلف مسائل کے حل کے بارے میں اجتماعی یا انفرادی غور و فکر کے ایک اسلوب کے طور پر کیا جاتا ہے۔ بہت بڑی مقدار میں تجاویز، حل یا معلومات پیش کرنا اور اس کے بعد صحیح حل یا رائے تک پہنچنے کے لیے ان کی تنقیح کرنا۔
(3) مسائل کے حل پر مبنی طریقہ کار:
یہ ایسا طریقہ ہے، جس میں سیکھنے والا کسی مسئلہ پر قابو پانے اور اس کے حل تک پہنچنے کے لیے, اپنی جانکاریوں اور مہارتوں کا استعمال, نئے انداز اور نامانوس طریقے سے کرتا ہے۔
اس طریقے کے تحت کیے جانے والے اقدامات میں مسئلے کو سمجھنا، اس کی تحدید، اس سے متعلق معلومات یک جا کرنا اور اس کے بعد مختلف حل پیش کرنا اور سب سے بہتر حل کے انتخاب کے لیے ان کا مطالعہ شامل ہے۔
(4) رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی :
انھیں معرفتی نقشے (Knowledge Maps)، ذہنی نقشے (Mind Maps)، تصوراتی نقشے (Concept Maps) اور معلوماتی نقشے بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے تحت موضوع کی تحلیل جزئیات میں کرنے کے بعد ان جزئیات کو ہندسی شکلوں، جسے جدولوں، دائروں یا مخروطی اشکال کے خاکوں کے ذریعے بیان کیا جاتا ہے۔ دراصل اس کا مقصد معلومات کا مطالعہ، ان کے درمیان ربط پیدا کرنا اور ان کو یاد کرنا ہوتا ہے۔
(5) ہم آہنگى کى حکمت عملی :
یہ حکمت عملی ذہنی صلاحیتوں کو فعال بنانے، عناصر اور اشیا کے درمیان ربط کو واضح کرنے‘ عقل کو کام میں لانے اور مشابہت اور اختلاف کے پہلؤوں کی تحدید پر کام کرتی ہے۔ اس طرح کے غور و فکر کے لیے اعلی ابداعی صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیوں کہ جواب دینے کے لیے ہمیشہ عناصر کے درمیان ایک نئے نقطۂ نظر کی ضرورت ہوتی ہے۔
(6) قصہ گوئی پر مبنی حکمت عملی :
طریقۂ قصہ گوئی کا امتیازی وصف اس کا جوش و خروش، جاذبیت اور طلبہ پر اثر انداز ہونا ہے۔ قصہ خیال کو پروان چڑھاتا ہے، جذبات کو ابھارتا ہے، مقدمات کو نتائج سے جوڑنے کی دعوت دیتا ہے اور مجرد مفہوم کو محسوس واقع میں بدلنے کا کام کرتا ہے۔ قصہ مختلف واقعات کو آپس میں جوڑنے کے ساتھ ساتھ طالب کو اس کے ساتھ تعامل کرنے اور جو وہ سیکھتا ہے اس کے ساتھ جڑنے کی ترغیب دیتا ہے۔ قصہ گوئی کے وقت اس کی زبان، اسلوب اور طلبہ کے لیے مناسب ہونے کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
(7) مسائل زندگى کى تطبیق پر مبنی حکمت عملی :
اس اسلوب کے پیش نظر اس بات کی کوشش ہوتی ہے کہ معلومات کو زندکی کے مسائل اور احوال سے جوڑ کر دیکھا جائے، تاکہ طالب علم کو مشمولات کے اسباق کو پوری توجہ سے پڑھنے میں مدد ملے۔ اس سے اسے کئی غلطیوں اور منفی باتوں کے علاج اور مثبت پہلووں کو پختہ کرنے کا راستہ ملے گا اور وہ انھیں اسلام کی جانب سے پیش کردہ شرعی احکام اور اخلاقی قواعد سے جوڑنے کی کوشش کرے گا، جس کے نتیجے میں اسے اس بات کا احساس ہوگا کہ اسلام اس کی زندگی کو نظم و ضبط کے دائرے میں لانے کا کام کرتا ہے۔
(8) غور و فکر کریں - تبادلۂ خیال کریں - شیئر کریں، پر مبنی حکمت عملی :
یہ حکمت عملی دراصل ایک بحث و مکالمہ اور باہمی تعاون پر مبنی حکمت عملی ہے، جو تین مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلے مرحلے ميں معلم طالب علم کو تنہا سوال کا جواب دینے یا سرگرمی انجام دینے کے بارے میں سوچنے کا موقع دیتا ہے۔ دوسرے مرحلے میں طالب علم اپنے جواب کے بارے میں اپنے کسی ساتھی سے تبادلۂ خیال کرتا ہے۔ تیسرے اور آخری مرحلے میں حاصل شدہ جوابات کے بارے میں اپنے گروپ کے افراد کے ساتھ تبادلۂ خیال کرتا ہے، تاکہ ایک ایسا مشترکہ جواب سامنے آئے، جو پورے گروپ کی رائے کی نمائندگی کرتا ہو۔
اس حکمت عملی کی سیکھنے کے عمل میں بڑی اہمیت ہے۔ کیوں کہ یہ فعال انداز میں معلومات کے ساتھ سروکار رکھنے میں طلبہ کی مدد کرتی ہے اور ان کے اندر اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کی صلاحیت کو پروان چڑھاتی اور غور و فکر کی صلاحیت کو پروان چڑھاتی ہے۔
(9) تمہیدی مواد کی پش کش پر مبنی حکمت عملی :
اس سے مراد یہ ہے کہ متعلمین کو سبق کے آغاز میں موضوع کی ساخت اور آگے پیش کی جانے والی معلومات سے متعلق ایک مقدمہ یا مختصر تمہیدی مواد فراہم کیا جائے، جس کا مقصد موضوع سے متعلقہ مفاہیم، افکار اور مسائل کو آسان بنا کر سکھانا اور متعلم کی سابقہ معلومات اور آگے اسے جو معلومات حاصل کرنے کی ضرورت ہے، دونوں کے درمیان ربط پیدا کرنا۔
تمہیدی مواد کو بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اول تحریری تمہیدی مواد اور دوم غیر تحریری تمہیدی مواد۔ پھر تحریری تمہیدی مواد کو بھی دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ وضاحتی مواد اور تقابلی مواد۔
جب کہ غیر مکتوبہ مواد کو سمعی مواد، بصری مواد اور سمعی بصری مواد میں تقسیم کیا گیا ہے۔ بیانیہ مواد میں ظواہر کے اجزا کو بیانیہ اشکال، جیسے بیانی جدول کی شکل میں سبق کے آغاز میں طلبہ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔
(10) فرضی تصورات قائم کرنے پر مبنی حکمت عملی :
اس طریقے کے تحت متعلم سے زیر درس موضوع کے سلسلے میں فرضی تصورات قائم کرنے یا توقعات کرنے کو کہا جاتا ہے، جس کی وجہ سے اس کے سامنے ایک ہدف آ جاتا ہے اور وہ مشمولات سے متعارف ہوتے وقت ایک جگہ دھیان مرکوز رکھتا ہے، تاکہ اس کی ان توقعات کی تصدیق یا تردید ہو جائے۔ اس طریقے کے تحت متعلم کو اس بات کا بھی موقع دیا جاتا ہے کہ وہ جدید معلومات کو قدیم معلومات کے ساتھ جوڑ سکے۔
اس طریقے کے تحت معلم اپنے طلبہ کو یہ اندازہ لگانے میں مدد کر سکتا ہے کہ زیر درس موضوع کن باتوں پر مشتمل ہے :
موضوع کے عنوان کو پڑھنا یا سبق کے اغراض و مقاصد کو جاننا یا سوالات سے مدد لینا۔
(11) ذاتی سوال (خود سے سوال پوچھنے) پر مبنی حکمت عملی:
اس طریقہ کا مقصد سیکھنے کے عمل سے پہلے، دوران اور بعد میں موضوع کے بارے میں سوالات پوچھ کر خود آگاہی پیدا کرنا، متن کے ساتھ تعامل کو آسان بنانا اور سمجھنے اور یاد کرنے کے عمل کو آسان بنانا ہے۔ اس کی اساس یہ ہے کہ متعلم زیر درس احادیث کے تعامل کے دوران خود اپنی ذات سے کچھ سوالات کرے۔ اس سے اس کی ان کے معلومات کے درمیان جو وہ حاصل کر رہا ہے اور اس علم کے درمیان جس تک اس کی رسائی ہو رہی ہو، زیادہ ربط پیدا ہوگا اور نتجے کے طور پر اس کے اندر غور و فکر کے عمل کے بارے میں آگاہی پیدا ہوگی۔
(12) میں جانتا ہوں - میں جاننا چاہتا ہوں - میں نے سیکھا (KWL) پر مبنی حکمت عملی :
یہ حکمت عملی طالب علموں کو موضوع میں موجود معلومات کا اندازہ لگانے اور اسے اپنے سابقہ علم سے مربوط کرنے میں مدد کرتی ہے۔ اسی طرح معلم اسے کسی مخصوص موضوع میں طلبہ کی دل چسپی پیدا کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے اور اس موضوع کے بارے میں طلبہ کی سمجھ اور ان کی تصوراتی غلطیوں کا جائزہ لے سکتا ہے۔
مختصرا اس طریقے کو KWL کہا جاتا ہے۔ یہ تین دراصل تین کلمات کی جانب اشارہ کرتے ہيں :
(K): Know ، (W): Want ،(L): Learned.
پہلا لفظ اس بات سے عبارت ہے کہ متعلم زیر درس موضوع کے بارے میں عملا کیا کچھ جانتا ہے۔ دوسرا لفظ اس بات سے عبارت ہے کہ وہ اس موضوع کے بارے میں کیا کچھ جاننا چاہتا ہے۔ اور تیسرا لفظ اس بات سے عبارت ہے کہ اس نے اس موضوع کے بارے میں کیا کچھ سیکھا۔
(13) نقطہ ہائے نظر کے تجزیے پر مبنی حکمت عملی :
یہ حکمت عملی متعلم کو اپنی آرا اور عقائد کے بارے میں سوچنے میں مدد دیتی ہے، مختلف حالات میں اسے اپنے نقطہ نظر، نظریات، اصولوں، اقدار، عقائد اور آرا کا اظہار کرنے کی ترغیب دیتی ہے، جو چیزوں کے بارے میں اس کے نقطۂ نظر اور واقعات کے ساتھ اس کے تعامل کو متاثر کرتی ہیں۔ دراصل یہ حکمت عملی طالبِ علم کے اپنے نقطۂ نظر کے تجزیہ پر منحصر ہے۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ اپنے نقطۂ نظر کے بارے میں اسے اپنی سوچ کو مزید گہرا کرنے، اس کا نقطۂ نظر کہاں تک صحیح اور صورت حال کے تقاضے کے مطابق ہے، اسے جاننے کے مواقع فراہم کیے جائيں۔ نقطۂ نظر کے تجزیہ کے نتیجے میں اس کی حمایت اور قبولیت (اگر مناسب اور درست ہو)، اس میں ترمیم (اگر ضروری ہو) یا اس کے رد (اگر نامناسب اور غلط ہو) ہو سکتا ہے۔
اے معلم ! اخیر میں عرض یہ ہے کہ:
آپ کے سامنے موجود یہ رہنما کتاب بہتر نتائج دے سکتی ہے اگر اس کا صحیح استعمال ہو۔ صحیح استعمال نہ ہونے کی صورت میں اس کا کوئی فائدہ نہيں ہے۔ اسے پیش کرنے سے ہمارا مقصد آپ کی صلاحیتوں کو بیڑی پہنانا یا آپ کی ہنرمندیوں پر روک لگانا ہرگز نہيں ہے۔
اکائی : قرآن اور تفسیر
پہلا سبق : قرآن کریم کا مقام و مرتبہ
سبق کا وقفہ : ایک گھنٹی
نئے کلمات : (قرآن کریم کا اعجاز - اہل قرآن)
تدریسی وسائل :
(بلیک بورڈ- کچھ تعلیمی کارڈ - کچھ تعلیمی بورڈ - کچھ قرآنی آیات کی آڈیو ریکارڈنگ)
تدریس کی حکمت عملیاں :
(باہمی تعاون سے سیکھنے پر مبنی حکمت عملی - بحث و مکالمہ کی حکمت عملی)
اقدار و رجحانات :
o قرآن کریم کے مقام و مرتبے کو پیش کرنا۔
o قرآن کریم کی تعظیم۔
o قرآن اور اہل قرآن کی محبت کی حرص۔
سبق کی تمہید :
میرے معلم بھائی! طلبہ کے لیے سبق کی راہ ہموار کرنے کی خاطر قرآن کریم کی کچھ آیتوں کی آڈیو ریکارڈنگ چلائيں، اسے اچھے سے سنیں اور اس کے بعد طلبہ کو ان کا مطلب بتائيں اور ساتھ ہی تلاوت قرآن کی فضیلت اور قرآن کا مقام و مرتبہ بھی واضح کریں۔
بعد ازاں بلیک بورڑ پر سبق کا عنوان لکھیں۔
سبق کی پیش کش :
مرحلہ نمبر (1)
آپ طلبہ کو سبق کی خاموش خواندگی کرنے کو کہہ سکتے ہیں۔
آپ کچھ طلبہ کا انتخاب بلند خواندگی کے لیے کریں گے۔ پھر ان میں سے کسی کو بلیک بورڈ پر سبق کے بنیادی عناصر لکھنے کو کہیں گے، تاکہ ہر عنصر کے بارے میں تفصیلی گفتگو ہو سکے۔
مرحلہ نمبر (2)
سبق کے نئے الفاظ تلاش کریں، انھیں بلیک بورڈ پر لکھیں اور طلبہ کے ساتھ ان کے مترادفات کے بارے میں تبادلۂ خیال کریں۔
پھر ان مترادفات کو بلیک بورڈ پر لکھیں۔
مرحلہ نمبر (3)
بہتر یہ ہوگا کہ آپ باہمی تعاون سے سیکھنے پر مبنی حکمت عملی کو بروئے کار لائيں اور طلبہ کو کچھ گروہوں میں بانٹ دیں۔
بعد ازاں ہر گروہ سے باہمی تعاون سے قرآنِ کریم کی اہم ترین فضائل کی تحدید کرنے کو کہیں۔
اس کے بعد گروہ میں شامل کسی ایک طالب علم کو حاصل شدہ نتائج کو بلیک بورڈ پر لکھنے کو کہیں۔
پھر ان کی کارکردگی پر تبصرہ کریں۔
مرحلہ نمبر (4)
آپسی تبادلۂ خیال کے ذریعے معلوم کریں کہ اہلِ قرآن کی تعظیم کے کیا مظاہر ہيں اور قرآن کریم کے حوالے سے ہمارا کیا فرض ہے؟
طلبہ کی جانب سے دیے گئے جوابوں کے توسط سے آپ انھیں سبق سے حاصل ہونے والے نتیجوں کی جانب لے جائيں گے اور اس کے بعد انھیں بلیک بورڈ پر لکھ دیں گے۔ اہم ترین نتائج درج ذیل ہوں گے :
نتائج :
1- قرآن کریم اللہ تعالی کا کلام اور اللہ کا عظیم ترین کلام ہے۔
2- قرآن کریم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا اہم ترین معجزہ ہے۔
3- قرآن کریم سارے جہان والوں کے لیے نور و ہدایت ہے۔
4- اللہ تعالی نے قرآن مجید کی حفاظت کا کام خود اپنے ذمے لے رکھا ہے۔
5- اللہ تعالی اہل قرآن کو دنیا میں بلند مقام اور آخرت میں کامیابی عطا فرماتا ہے۔
6- قرآن مجید کی عظمت سے واقف ہو جانے کے بعد ہمارے اوپر واجب ہو جاتا ہے کہ ہم اس کی سچی قدر کریں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ ہم اسے پڑھیں، اس پر غور و فکر کریں، اسے سیکھیں، یاد کریں، اس کے اندر جن باتوں کا حکم دیا گیا ہے ان پر عمل کریں اور جن باتوں سے منع کیا کيا ہے، ان سے دور رہیں۔
سرگرمیاں
بہتر یہ ہوگا کہ آپ نیچے دی گئی سرگرمیوں کے ذریعے طلبہ کو اس سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو تطبیق دینے کی ہدایت دیں :
سرگرمی 1 نوعیت اور ہدف انفرادی / اجتماعی۔ قرآن کریم کے مقام و مرتبہ کا بیان۔
ہدف نمبر 1
ہر طالب کو سرگرمی کا جواب ڈھونڈنے کا مکلف بنائيں۔
جواب ڈھونڈنے کا کام ختم ہونے کے بعد ہر ایک نے جو کچھ لکھا ہے، اس کے بارے میں تبالۂ خیال کریں اور صحیح جواب تک پہنچیں۔
بعد ازاں کسی ایک طالب علم کو بلیک بورڈ پر صحیح جواب لکھنے کو کہیں، تاکہ سب لوگ اپنی کاپی میں لکھ لیں۔
سرگرمی 1 :
نزولِ قرآن کا آغاز مقدس شہر مکہ میں ہوا۔
نزولِ قرآن کا آغاز ماہ رمضان میں ہوا۔
قرآن عربی زبان میں اترا، جو اہل جنت کی زبان ہے۔
قرآن کو لے کر جبریل علیہ السلام اترے۔
آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم ہیں۔
امت اسلامیہ، جو کہ سب سے بہترین امت ہے جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے۔
سرگرمی 2 : نوعیت اور ہدف اجتماعی۔ قرآن کریم کی تلاوت اور اسے سیکھنے کی فضیلت کا بیان۔
ہدف نمبر 3، 4
طلبہ کو گروہوں میں تقسیم کر دیا جائے اور انھیں حلقے بنا کر بیٹھنے کو کہا جائے، جیسا کہ سرگرمی کی تصویر میں دکھایا گیا ہے، ہر حلقہ باہمی تعاون سے سرگرمی کا جواب تیار کرے۔
ہر حلقہ اپنا تیار کردہ جواب سامنے رکھنے کے لیے ایک شخص کی تعیین کرے اور وہ اسے بلیک بورڈ پر لکھ دے۔ جہاں آپس میں اختلاف ہو جائے، وہاں آپ کے سامنے اور آپ کی نگرانی میں تبادلۂ خیال ہو، تاکہ صحیح جواب تک پہنچا اور اسے بلیک بورڈ پر لکھا جا سکے۔
سرگرمی 2 :
فرشتوں کا اترنا اور قرآن کی مجلسوں میں حاضر ہونا۔
قرآن پڑھنے والوں پر سکینت اور رحمت کا اترنا۔
اللہ کے ذریعے قرآن پڑھنے والوں کا ذکر آسمان میں کیا جانا۔
تلاوت کے وقت وضو کر لینا۔ پر سکون اور باوقار انداز میں بیٹھنا۔ خشوع کا مظاہرہ کرنا اور غور و فکر سے کام لینا۔
اندازۂ قدر
اندازۂ قدر کے مقصد سے دیے گئے سوالوں کا جواب دینے کے لیے آپ نیچے فراہم کردہ اقدامات پر عمل کر سکتے ہيں :
طلبہ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیں، تاکہ ایک دوسرے کی مدد سے سوالوں کا جواب دے سکيں۔
ہر گروہ بس ایک ہی سوال کا جواب دے۔
سارے گروہ سوالوں کا آپس میں تبادلہ کر لیں، تاکہ ان کا اندازۂ قدر ہو سکے۔ پھر آپ صحیح جواب دینے والے گروہ کی نشان دہی کریں۔
سوال 1: (×) - - - (×) -
* تربیتی و وجدانی تنبیہات :
طلبہ کو ہدایت دیں کہ وہ اس سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں درجِ ذیل طریقوں سے عمل میں لائيں :
قرآن پاک کو غور سے سننا، اس میں موجود احکام کو سمجھنا اور آس پاس کے لوگوں کو بھی ایسا کرنے کو کہنا۔
ناتوانی اور پریشانی کے وقت ہی نہیں، بلکہ ہر وقت اور ہر حالت میں اللہ سے لو لگانا۔
دوسرا سبق : سورۂ فاتحہ
سبق کا وقفہ : ایک گھنٹی
نئے الفاظ : (يوم الدين – الصراط المستقيم – الضالين).
وسائل تعلیم
(بلیک بورڈ- تعلیمی کارڈ - تعلیمی بورڈ - آڈیو جس میں
قرآنی آیات ریکارڈ ہوں)۔
تدریس کی حکمت عملیاں : (باہمی تعاون سے سیکھنے پر مبنی حکمت عملی - برین اسٹورمنگ - استنباط پر مبنی حکمت عملی)۔
اقدار و رجحانات :
o اسلامی عقیدے سے متعلق بنیادی باتوں کو مضبوطی سے پکڑے رہنا۔
o اللہ سے محبت، اس کی تعظیم اور اس کی خشیت۔
o سورۂ فاتحہ کی تعظیم۔
سبق کی تمہید :
سبق کی تمہید کے طور پر آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ سورۂ فاتحہ کی آڈیو ریکارڈنگ چلا دیں، دھیان سے سنیں، پھر قرآن کریم کی دیگر سورتوں کے درمیان سورۂ فاتحہ کا مقام و مرتبہ بیان کریں اور اس کے بعد بلیک بورڈ پر عنوان لکھیں۔
سبق کی پیش کش :
مرحلہ (1)
طلبہ کو یہ آیتیں دیکھنے اور اس کے بعد کسی آڈیو سے انھیں چلاکر ان کو خاموشی سے سننے کو کہیں۔
مرحلہ (2)
ان آیتوں کا اجمالی معنی بیان کریں اور اس کے بعد ان کی تفصلی تشریح کریں۔
کسی ترتیب کا خیال رکھے بغیر تین طلبہ کا انتخاب کريں اور ان میں سے ہر ایک کو ایک ایک آیت لینے اور اس کی تشریح کرنے کہیں۔
تین اور آیتوں کا انتخاب کریں، تاکہ پوری آیتيں شامل ہو جائيں۔
مرحلہ (3)
بہتر یہ ہوگا کہ باہمی تعاون سے سیکھنے پر مبنی حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے طلبہ کو مختلف گروہوں میں بانٹ دیں۔
اس کے بعد ہر گروہ سے باہمی تعاون سے سورۂ فاتحہ کے اندر شامل شرعی اوامر کو نکالنے کو کہیں۔
پھر گروہ میں شامل کسی طالب علم کو اخذ کردہ شرعی اوامر کوبلیک بورڈ پر لکھنے کہیں بعد ازاں ان کی کارکردگی پر تبصرہ کریں۔
نتائج اخذ کرنا:
سورۂ فاتحہ کی تدریس مکمل ہونے کے بعد ہر طالبِ علم کو ایک ایک نتیجہ بیان کرنے کو کہیں اور ان کے جوابات کو بلیک بورڈ پر لکھ کر ان پر تبصرہ کریں۔
سرگرمیاں
بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے سبق سے سیھکی ہوئی باتوں کو عملی طور پر سیکھنے کی ہدایت دیں :
سرگرمی نمبر 1 نوعیت اور ہدف انفرادی، سورہ فاتحہ کے مرتبہ وعظمت کی وضاحت۔
ہدف نمبر 3
طلبہ سے سرگرمی کی نصابی کتاب کھولنے کو کہیں، پھر برین اسٹورمنگ حکمت عملی کے تحت ان سے جواب سوچنے کو کہیں اور اس کے بعد انھوں نے جو کچھ سوچا ہے، اس کے بارے میں ان سے تبادلۂ خیال کریں۔
سرگرمی نمبر 2 نوعیت اور ہدف انفرادی، سورۂ فاتحہ کے معانی سے واقفیت۔
ہدف نمبر 2
معلم ہر طالبِ علم کو سرگرمی کا جواب دینے کی ہدایت دے گا، طلبہ کے پاس سے گزر کر ان کے جوابات سنے گا، پھر سب سے درست جواب کا انتخاب کرے گا اور اس کے بعد دو طلبہ کا انتخاب کرے گا۔ ان میں سے ایک ساتھیوں کے سامنے آیت کا ذکر کرے گا اور دوسرا اس سے کوئی غلطی سرزد ہونے پر اس کی نشان دہی کرے گا۔
اندازۂ قدر
طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالوں کا جواب درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے دینے کی ہدایت دیں :
ہر طالبِ علم کتاب میں دیے گئے سوالوں کا جواب انفرادی طور پر دے گا۔
ہر طالبِ علم اپنا جواب اپنے ساتھی کو دکھائے گا، تاکہ دونوں ایک دوسرے کے جواب کا جائزہ لے سکیں۔
آپ کچھ ایسے طلبہ کا انتخاب کریں، جو اپنے ساتھی کے جواب میں کے گئے ضبط و ترمیم کو آپ کے سامنے پیش کریں۔
طلبہ کو ایک دوسرے کی پیش کش پر تبصرہ کرنے کا موقع دیں اور اس کے بعد آپ تبصرہ کریں اور ان کو سوالوں کے جوابی نمونے دکھائیں۔
* تربیتی و وجدانی تنبیہات :
طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں پر اپنی زندگی اور معاملات میں عمل کرنے کی اہمیت پر توجہ دلائيں، جس کے لیے وہ درج ذیل اقدامات کریں گے :
اللہ تعالی کی حمد وثنا کرنے اور اس سے سیدھا راستہ دکھانے کی دعا کرنے کی حرص۔
نیکی کے کاموں میں مشغول ہوکر اور گناہوں سے دور رہ کر قیامت کے دن کی تیاری کرنے کی ضرورت۔
تیسرا درس : سورۂ کوثر اور سورۂ کافرون
درس کا وقفہ : ایک گھنٹی۔
نئے کلمات : (الكَوْثَرُ - شَانِئَكَ - الأَبْتَرُ - لَكُمْ دِينُكُمْ وَليَ دِينِ).
وسائل تعلیم :
(بلیک بورڈ- کمپیوٹر ڈیوائس - تعلیمی بورڈ - آڈیو میڈیم جس میں
دونوں سورتوں کی ریکارڈنک موجود ہو)۔
تدریس کی حکمت عملیاں :
(تعلیمی قصے - تعلیمی پہیلیاں - بحث و مکالمہ - دریافت وکھوج کے ذریعہ سکیھنے پر مبنی حکمت عملی)
اقدار و رجحانات :
o اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی فضیلت اور آپ کے دفاع کی دنیوی و اخروی فضیلت کا اندازہ۔
o کفر اور اہلِ کفر سے براءت کا اظہار۔
o اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو نہر کوثر عطا ہونے پر ایمان رکھنا۔
o مذہبِ اسلام سے نسبت سرمایۂ افتخار۔
o عبادت میں زیورِ اخلاص سے آراستہ ہونا۔
سبق کی تمہید :
طلبہ کو نیچے دی گئی پہیلی سنائیں اور ان کے جوابات جاننے کے بعد ان کو اس سورہ سے باخبر کریں اور اس کی آیتیں گنوائيں۔ (یہ ایک سورت ہے، جو جنت کی نہروں میں سے ایک نہر کے بارے میں بتا رہی ہے اور قربانی کا ایک حکم بیان کرتی ہے۔) وہ کون سی سورت ہے؟ پھر انھیں سبق کے موضوع کی طرف لے جائيں اور اسے بلیک بورڈ پر لکھیں۔
اسلوب قصہ گوئی کی مدد سے طلبہ کے سامنے سورۂ کافرون کا سبب نزول بیان کریں۔ سبب نزول بیان کرتے وقت قصہ گوئی کی صوتی، زبانی اور اسلوبی مہارتوں کو بھر پور استعمال کریں۔ پھر کسی طالبِ علم کو اپنے ساتھیوں کے سامنے سببِ نزول بیان کرنے کو کہیں، تاکہ واضح ہو جائے کہ طلبہ نے اس واقعے کو اچھے سے سمجھ لیا ہے۔ بعد ازاں بلیک بورڈ پر سورت کا نام لکھ دیں۔
سبق کی پیش کش :
مرحلہ نمبر (1)
معلم طلبہ کو شاملِ درس دونوں سورتیں کسی دوسرے آڈیو میڈیم سے سننے کی ہدایت دیں۔
معلم طلبہ میں سے دو کا انتخاب کرے، جو دونوں سورتیں اپنے ساتھیوں کے سامنے اچھی طرح پڑھ سکتے ہوں۔
مرحلہ (2)
معلم شاملِ درس دونوں سورتوں کو الگ الگ پیش کرے۔
طلبہ کے ساتھ ملکر ان کی تشریح اور وضاحت کرے۔
اس دوران نیچے دیے گئے سوالات سے مدد لیں۔ انھیں طلبہ کے سامنے رکھیں اور ان کے بارے میں طلبہ کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں :
سوال : اللہ نے آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو ہی نہر کوثر کیوں عطا کیا؟
سوال : کیا مسلمان پر کافروں کے معبودوں سے براءت کا اظہار واجب ہے؟ واضح کریں۔
سوال : مسلمان جب مذہبِ اسلام کو سرمایۂ افتخار سمجھتا ہے، تو اس کے کیا نتیجے مرتب ہوتے ہيں؟
نتائج :
ہر طالبِ علم کو ایک ایک فائدہ لکھنے کو کہیں، جسے انھوں نے ان دونوں سورتوں کی تفسیر سے سیکھا ہے، اس کے بعد تین طلبہ کا انتخاب کریں، جن میں ہر ایک سبق سے معلوم ہونے والے فوائد بیان کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بتائے کہ اسے وہ اپنی زندگی میں کیسے عملی جامہ پہنائے گا؟
سرگرمیاں
بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے سبق سے سیھکی ہوئی باتوں کو عملی طور پر سیکھنے کی ہدایت دیں :
سرگرمی نمبر 1 نوعیت اور مقصد اجتماعی، جنت اور اس کی نہروں کا بیان۔
ہدف نمبر 2
دو طلبہ کا انتخاب کریں اور دونوں کو ایک ایک تعلیمی کارڈ دیں، جن میں سے ایک میں سرگرمی کے ضمن میں درج حدیث موجود ہو، تو دوسرے میں ایسے لوگوں کی صفات درج ہوں، جن کو نہر کوثر کا پانی پینے کی سعادت حاصل ہوگی۔ ہر طالب اپنے کارڈ میں لکھی ہوئی باتیں، ساتھیوں کو پڑھ کر سنائے۔
اس کے بعد معلم پہلے طالبِ علم سے نہرِ کوثر کا وصف بیان کرنے کو کہے اور دوسرے سے نہر کوثر کا پانی پینے کی سعادت حاصل کرنے والے لوگوں کی صفات کی تحدید کرنے کو کہے۔
معلم دونوں طلبہ کے جوابوں کی تشریح کرے اور جوابوں کا جائزہ لینے اور تبصرہ کرنے کا موقع دے۔
سرگرمی نمبر 2 نوعیت اور مقصد انفرادی۔ اس بات کی جان کاری لیں کہ کافروں کے ساتھ کیسے پیش آنا ہے، چاہے وہ رشتے دار ہی کیوں نہ ہوں۔
ہدف نمبر 3، 4
کھوج ودریافت کے ذریعہ سکیھنے پر مبنی حکمت عملی کے تحت سرگرمی میں موجود نصوص کو طلبہ کے سامنے رکھیں۔
ان سے ان نصوص سے جڑے ہوئے سوالات کے جوابات کے بارے میں غور و فکر کرنے کو کہیں۔
پھر ان میں سے دو طالبِ علم کا انتخاب کریں اور اپنے جوابات پیش کرنے کہیں اور مناسب مدد بھی کریں۔
سرگرمی نمبر 3 نوعیت اور مقصد انفرادی۔ اعتقادات اور معاملات کے مقام ومرتبہ کے مابین فرق سے واقفیت۔ ہدف نمبر 3
ہر طالبِ علم کو ایک موقف لکھنے کو کہیں، جس کے توسط سے وہ اعتقادات اور معاملات کے مقام ومرتبہ کے مابین فرق کو بیان کر سکے۔
طلبہ کی تحریریں جمع کریں اور رینڈملی کچھ تحریروں کا انتخاب کریں، تاکہ ان کو پڑھا اور ان کے معنی و مفہوم کو سمجھا جا سکے۔
ان میں سے سب سے اچھی تحریر کا انتخاب کریں اور اسے کلاس روم میں ایک بورڈ پر آویزاں کر دیں۔
اندازۂ قدر
آپ طلبہ کو اندازۂ قدر کے سوالوں کا جواب درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے دینے کو کہہ سکتے ہیں :
سوالات کو یکے بعد دیگرے بلیک بورڈ پر لکھنے کی تجویز پیش کی جاتی ہے۔
بہتر ہوگا کہ آپ پاس بیٹھنے والے ہر دو طالب علم کو ساتھ مل کر سوالوں کا جواب دینے کو کہیں۔
کسی ترتیب کا خیال رکھے بغیر کچھ طلبہ کا انتخاب کریں، جو اپنے جوابات باقی طلبہ کے سامنے رکھیں گے۔
ایک تجویز یہ پیش کی جاتی ہے کہ غلطی کرنے والے طلبہ سے سبق کے مشمولات کو پڑھنے اور ان سے صحیح جواب نکالنے کو کہا جائے۔
سوال 1 : - - - .
تربیتی و وجدانی تنبیہات :
طلبہ کو سبق میں سیکھی ہوئی باتوں پر اپنی زندگی اور معاملات میں عمل کرنے کی اہمیت پر توجہ دلائيں، جس کے لیے وہ درج ذیل اقدام کریں گے :
ہر طالب سبق میں سیکھی ہوئی معلومات کو کسی بھی وسیلے سے، جسے وہ مناسب سمجھے، پھیلانے کی کوشش کرے، تاکہ اس کے اہل خانہ اور دوست احباب ان سے واقف ہو سکیں اور اپنی زندگی میں رہ نمائی حاصل کر سکیں۔
چوتھا درس : سورۂ نصر اور سورۂ مسد
درس کا وقفہ : ایک گھنٹی
نئے کلمات : (أَفْوَاجًا - حَبْلٌ مِنْ مَسَدٍ).
وسائل تعلیم
(بلیک بورڈ- کمپیوٹر ڈیوائس - تعلیمی بورڈ - آڈیو میڈیم جس میں
دونوں سورتوں کی ریکارڈنگ موجود ہو)۔
تدریس کی حکمت عملیاں :
(بحث اور تبادلۂ خیال - قصہ گوئی کا اسلوب - استنباط پر مبنی حکمت عملی)
اقدار و رجحانات :
اسلام اور مسلمانوں کے غلبہ پر خوشی۔
مسلمان کی زندگی میں تسبیح (اللہ کی پاکی بیان کرنے) اور استغفار (اللہ سے بخشش طلب کرنے) کی اہمیت کا اندازہ۔
عبادت میں اخلاص کے زیور سے آراستہ ہونا۔
اللہ تعالی پر ایمان اور نیکی کے کاموں کا جذبہ۔
سبق کی تمہید :
ایک ایسی عورت کی تصویر دکھائیے، جو ایک واضح اور سب کو دکھنے والی لمبی رسی سے بندھا ہوا لکڑیوں کا گٹھر اٹھائی ہوئی ہو، پھر طلبہ کو بتائيں کہ اس طرح کی ایک عورت کا قصہ قرآن کی ایک سورت میں بیان ہوا ہے، لہذا اس سورت کا نام کون بتا سکتا ہے؟ پھر وہ قصہ کون سنا سکتا ہے؟
بعد ازاں طلبہ کو بتائيں کہ ان سب باتوں کا جواب ہم اس سورت کی تفسیر سے جانیں گے۔
سبق کی پیش کش :
مرحلہ نمبر (1)
معلم طلبہ کو کسی آڈیو میڈیم کے توسط سے شاملِ درس دونوں سورتیں سننے کی ہدایت دے گا۔
دو طلبہ کا انتخاب کرے گا، جو دونوں سورتیں اپنے ساتھیوں کے سامنے اچھی طرح پڑھ سکیں۔
مرحلہ نمبر (2)
معلم کمپیوٹر کی مدد لے گا اور ہر سورہ کا علاحدہ علاحدہ درس پیش کرے گا۔
طلبہ کے ساتھ مل کر اس کی تشریح اور توضیح کرے گا۔
اس دوران درج ذیل سوالوں سے مدد لے گا۔ ان کو طلبہ کے سامنے رکھے گا اور ان کے بارے میں ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کرے گا۔
سوال : لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج کیوں داخل ہوئے؟
سوال : ابو لہب کے بارے میں آپ کیا جانتے ہيں؟
سوال : سورۂ نصر اور سورۂ مسد سے حاصل ہونے والے اہم فوائد کیا ہيں؟
استنباط:
دو طلبہ کا انتخاب کریں اور دونوں سے کہیں کہ اس سبق کے فوائد پیش کریں اور بتائيں کہ انھیں وہ اپنی زندگی میں کسے ڈھالیں گے؟ باقی طلبہ دھیان سے سنیں گے اور جائزہ لیں گے۔
سرگرمیاں
بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے سبق سے سیھکی ہوئی باتوں کو عملی طور پر سیکھنے کی ہدایت دیں :
سرگرمی نمبر 1 نوعیت اور ہدف اجتماعی، استغفار کی فضیلت اور اہمیت بیان کرنا۔
ہدف نمبر 3
آپ ہر دو طالب علموں کو آپسی تعاون سے پہلی سرگرمی کا جواب دینے کو کہہ سکتے ہیں۔
ہر گروہ کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ اپنی کھوجی صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے یہ معلوم کریں کہ سورۂ نصر سے یہ اندازہ کیسے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک مسلمان صرف گناہ سرزد ہونے پر ہی نہیں، بلکہ تمام حالات میں اللہ تعالی سے بخشش طلب کرتا ہے۔
ہر گروہ کا جواب جانیں۔ ہر گروہ کو موقع دیں کہ وہ دوسرے گروہوں کے پیش کردہ جوابات پر تبصرہ کر سکے اور بتا سکے کہ وہ اس سے کتنا متفق ہے اور کتنا اختلاف رکھتا ہے۔
طلبہ کو مناسب آرا فراہم کریں۔
سرگرمی نمبر 2 نوعیت اور ہدف انفرادی۔ اسلام میں عدل و انصاف کی اہمیت سے آگاہی۔
ہدف نمبر 3، 4
ہر طالبِ علم کو اس بات کا مکلف بنائیں کہ وہ اپنے دستیاب وسائل، جیسے امامِ مسجد سے دریافت کرنا وغیرہ، کے ذریعے اسلام میں عدل و انصاف کی وہ قدر و قیمت معلوم کریں، جو اس حدیث میں بیان ہوئی ہے، اور جو معلوم ہو اسے ایک خارجی کارڈ میں لکھے۔
سبھی کارڈوں کو جمع کریں، طلبہ کے بیانوں کا جائزہ لیں اور ان کی مناسب ہمت افزائی کریں۔
اندازۂ قدر
آپ طلبہ کو اندازۂ قدر کے سوالوں کا جواب درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے دینے کو کہہ سکتے ہیں :
سوالات کو یکے بعد دیگرے بلیک بورڈ پر لکھنے کی تجویز پیش کی جاتی ہے۔
بہتر ہوگا کہ آپ پاس بیٹھنے والے ہر دو طالب علم کو ساتھ مل کر سوالوں کا جواب دینے کو کہیں۔
کسی ترتیب کا خیال رکھے بغیر بعض طلبہ کا انتخاب کریں گے، جو باقی طلبہ کے سامنے اپنے جوابات رکھیں گے۔
ایک تجویز یہ پیش کی جاتی ہے کہ غلطی کرنے والے طلبہ سے سبق کے مشمولات کو پڑھنے اور ان سے صحیح جواب نکالنے کو کہا جائے۔
سوال 1 : - - - .
* تربیتی و وجدانی تنبیہات :
طلبہ کی توجہ سبق میں سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں اتارنے کی اہمیت پر مبذول کرائيں اور اس کے لیے درج ذیل طریقۂ کار پر عمل کریں :
طلبہ کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ اللہ کی پاکی بیان کرنے اور اس سے مغفرت طلب کرنے کو اپنا معمول بنا لیں، ان دونوں چیزوں کو عام کرنے کی کوشش کریں اور آس پاس کے لوگوں کو اس کی ترغیب دیں۔
پانچواں درس :
سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس کی تفسیر
درس کا وقفہ : دو گھنٹیاں
نئے کلمات : (الصَّمَدُ – كُفُوًا – الفَلَقِ – غَاسِقٍ – وَقَبَ – النَّفَّاثَاتِ –حاسدٍ – الوَسْوَاسِ – الخَنَّاسِ - الجِنَّة).
تعلیمی وسائل :
(بلیک بورڈ - کمپیوٹر ڈیوائس- کچھ تعلیمی بورڈ - آڈیو میڈیم جس میں سورتیں ریکارڈ ہوں)۔
تدریس کی حکمت عملیاں :
(برین اسٹورمنگ پر مبنى حکمت عملی- استنباط پر مبنی حکمت عملی - قصہ گوئی پر مبنی حکمت عملی - باہمی تعاون سے سیکھنىے پر مبنی حکمت عملی)
اقدار و رجحانات :
o اس بات پر ایمان کہ اللہ ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اس کی نہ بیوی ہے اور نہ اولاد۔
o اس بات کی کوشش کہ اللہ سے لو لگائی جائے۔
o اللہ سے مضبوط رشتہ استوار کرنا، جو تنہا رب، مالک اور معبود ہے۔
o شیاطین جن و انس سے بچنا۔
o سحر و حسد کی حقیقت اور ان کے وجود پر یقین رکھنا۔
اللہ تعالی کے ذکر کے ذریعہ اپنی حفاظتى تدبیر اختیار کرنا، کیوں کہ اللہ کا ذکر حسد اور شیطان سے محفوظ رکھتا ہے۔
سبق کی تمہید :
طلبہ کے سامنے درج ذیل صورت حال رکھیں : (یوسف نے اپنے والد سے کہا کہ وہ ہمیشہ نیند میں ڈراؤنے خواب دیکھتا ہے۔ لہذا اس کے والد نے اسے طہارت کے ساتھ اور سورۂ فلق اور سورۂ ناس پڑھ کر سونے کی وصیت کی۔ چنانچہ یوسف نے دل میں سوچا کہ ان دونوں سورتوں کی کیا فضیلت ہے اور انھیں دونوں سورتوں کو کیوں پڑھا جائے؟) بعد ازاں بتائیں طلبہ کو بتائیں کہ اس کا جواب انھیں دورانِ سبق ملے گا۔ عنوان اور آیتوں کی تعداد بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔
سبق کی پیش کش :
مرحلہ نمبر (1)
طلبہ کو آیتوں کی خاموش خواندگی کا حکم دیں، تاکہ ان کے اندر شامل افکار سے رو بہ رو ہو جائيں۔ بعد ازاں ہر طالب علم، آیتوں سے جو کچھ سیکھنا چاہتا ہے، اس کے تعلق سے کچھ سوالات رکھے۔
طلبہ کے سامنے آیتوں کی بلند خواندگی کریں اور کچھ طلبہ کو اپنے ساتھیوں کے سامنے پڑھنے کو کہيں۔
مشکل الفاظ کے معانی کی توضیح اور تبادلۂ خیال کریں۔
مرحلہ نمبر (2)
معلم کمپیوٹر ڈیوائس کی مدد سے ہر سورہ کو الگ الگ پیش کرے اور برین اسٹورمنگ حکمت عملی کا استعمال کرکے طلبہ کے ساتھ مل کر اس کی تشریح و توضیح کرے۔
بعد ازاں معلم کچھ طلبہ کا انتخاب کرے، جو نتائج کو پیش کریں۔
مرحلہ نمبر (3)
استنباطی حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے طلبہ سے اس بات کی کچھ مثالیں پیش کرنے کو کہيں کہ اللہ تعالی بندوں کی حفاظت کیسے کرتا ہے؟
ان میں سے کچھ مثالوں کو منتخب کر کے ان کو بلیک بورڈ پر لکھیں۔ ساتھ ہی اللہ سے لو لگانے کے معنی کو گہرائی عطا کرنے میں سورہ فلق اور سورہ ناس کے اثر کو مستنبط کریں اور اس سلسلے میں ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں۔
ان سورتوں کی آیتوں اور ان کے سبب نزول کے درمیان ربط معلوم کرنے پر توجہ دلائیں۔
استفاده:
آپ دو طلبہ کا انتخاب کر سکتے ہيں، تاکہ ان میں سے ہر ایک سبق سے اپنے اخذ کردہ معلومات کو پیش کرے اور بتائيں کہ ان کو اپنی زندگی میں کیسے منطبق کریں گے؟ باقی طلبہ ان کی باتوں کو دھیان سے سنیں گے اور جائزہ لیں گے۔
سرگرمیاں :
بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر سیکھنے کی ہدایت دیں :
سرگرمی نمبر 1 نوعیت اور ہدف انفرادی۔ سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس کو پابندی کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت سے متعارف ہونا۔
ہدف نمبر 4
ہر طالبِ علم سے الگ الگ کاغذ پر درجِ ذیل سرگرمی کا انفرادی طور پر جواب دینے کو کہیں۔
انھیں اتنا وقت دیں جو جواب دینے کے لیے کافی ہو اور جواب پورا ہونے کے بعد ان کے ساتھ زبانی چرچا کریں۔
ایک کے بعد ایک طالب علم کا انتخاب کریں، تاکہ ساتھیوں کے سامنے اپنا جواب رکھے اور آپ اس کی پیش کش کا جائزہ لیں۔
سرگرمی نمبر 2 نوعیت اور ہدف اجتماعی۔ جادو اور اس کے نقصانات سے تحفظ کے طریقے سے واقفیت۔
ہدف نمبر 3
طلبہ سے گروہوں میں کام کرکے مندرجہ ذیل سوالات کا جواب عملی طریقے سے دینے کو کہیں۔
ہر گروہ پڑوسی گروہ کے ساتھ اپنے کردار کا تبادلہ کرے، تاکہ آپ کی نگرانی میں اس کے اندازۂ قدر کا عمل انجام پا سکے۔
اندازۂ قدر
طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے دینے کی ہدایت دیں :
پہلے نیچے دیے گئے سوالوں کو کتابوں سے اچھی طرح پڑھا جائے، اس کے بعد طلبہ کو الگ کارڈوں میں ان کا جواب دینے کو کہا جائے، بعد ازاں ہر طالبِ علم اپنے ساتھی کے ساتھ اپنے کارڈ کا تبادلہ کر لے، تاکہ اس کے اندازۂ قدر کا عمل انجام پا سکے۔
آپ سارے کارڈوں کو جمع کریں اور کسی ترتیب کی رعایت کیے بغیر کچھ کارڈوں کا انتخاب کر لیں، تاکہ طلبہ کے سامنے ان کے اندازۂ قدر کا عمل انجام پا سکے۔
صحیح جوابات اور غلط جوابات کی نشان دہی کریں۔
کارڈ والے طالب اور اس کی تصحیح کرنے والے طالبِ علم کا نام بتائيں۔
سوال 1 : - - - - - .
* تربیتی و وجدانی تنبیہات :
طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں پر اپنی زندگی اور معاملات میں عمل کرنے کی اہمیت پر توجہ دلائيں، جس کے لیے وہ درج ذیل اقدامات کریں گے :
سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس کو صبح، شام، فرض نمازوں کے بعد اور سونے سے پہلے پابندی سے پڑھنا۔
مشکل اور پریشانی کے وقت ہی نہیں، بلکہ ہر وقت اور ہمیشہ اللہ کی پناہ میں رہنا چاہیے۔
اکائی : ایمان اور تزکیہ
پہلا درس : ایمان اور اس کی اہمیت
دورانیہ : ایک گھنٹی
نئے کلمات : (الإسلام – الإيمان – الإحسان).
تعلیمی وسائل :
(بلیک بورڈ- کمپیوٹر - تعلیمی بورڈ - تعلیمی کارڈ)
تدریس کی حکمت عملیاں : (باہمی تعاون سے سیکھنے پر مبنی حکمت عملی - برین وارمنگ اسٹورمنگ - خود سوالی پر مبنی حکمت عملی)۔
اقدار و رجحانات :
o دین اسلام کے مکمل ہونے پر فخر۔
o دونوں گواہیوں کی زبان سے ادائیگی کے ذریعے دل کے اعتقاد کا اظہار۔
o اس بات کا یقین کہ اسلامی دلائل و براہین کے علم کی کثرت سے دل میں ایمان زیادہ ہوتا ہے۔
o ایمان اور عملِ صالح کے درمیان مضبوط رشتے کا احساس۔
سبق کی تمہید :
میرے معلم بھائی! طلبہ کے سامنے درج ذیل صورت حال رکھیں : (محمد نے اپنے استاد سے اہل جنت کو حاصل نعمتوں میں تفاوت کا سبب پوچھا، تو معلم نے کہا : لوگ اپنے ایمان، اعمال اور مراتب دین کی تکمیل کے مطابق متفاوت ہوں گے۔ لہذا محمد نے پوچھا : دین کے مراتب کیا ہیں؟) پھر اس کے جواب کے بارے میں ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں، اس کے بعد بتائیں کہ اس سوال کا جواب دوران سبق ملے گا۔ بعد ازاں بلیک بورڈ پر عنوان لکھ دیں۔
سبق کی پیش کش :
مرحلہ نمبر (1)
سبق کے بنیادی عناصر کی توضیح و تشریح کے لیے انھیں بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔
اس کے بعد طلبہ کو مختلف گروہوں میں بانٹ دیں اور برین اسٹورمنگ حکمت عملی کے تحت ہر گروہ کو اسلام، ایمان اور احسان کے مفہوم کی تحدید کرنے کو کہیں۔
ہر گروہ جمع کردہ معلومات بلیک بورڈپ ر لکھ دے، تاکہ موازنہ ہو سکے۔ بعد ازاں آپ صحیح تعریف کی جانب رہ نمائی کریں۔
مرحلہ نمبر (2)
ہر گروہ باہمی تعاون سے سیکھنے پر مبنی حمکت عملی کا استعمال کرتے ہوئے پتہ کرے کہ ایمان کا عمل سے کیا ربط ہے؟
ہر گروہ اپنی جانب سے ایک طالبِ علم پیش کرے، جو اس کی کاوشوں کو سامنے رکھے اور اس کے اندازۂ قدر کے کام انجام پا سکے۔
پیش قدمی نمبر (3)
آپ خود سوالی پر مبنی حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے ہر گروہ کو ایک ایک سوال کرنے کو کہیں گے، جس کے جواب کا مقصد ایمان کے ارکان کی وضاحت کرنا ہو۔ پھر ان سوالات پر طلبہ کے ساتھ تبادلۂ خیال کرنے کے بعد ان کو بلیک بورڈ پر لکھ دیں گے۔
فوائد اخذ کرنا:
معلم طالب علم سے سبق کے ایک عنصر کا انتخاب کرنے اور یہ بتانے کو کہے گا کہ اس نے اس عنصر سے کیا فائدہ اخذ کیا ہے۔
معلم کچھ طلبہ کا انتخاب اپنے جوابات پیش کرنے کے لیے کرے گا اور ان کی مناسب مدد بھی کرے گا۔
سرگرمیاں :
بہتر یہ ہوگا کہ سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر سیکھنے کی ہدایت دیں :
سرگرمی نمبر 1 نوعیت اور ہدف انفرادی۔ دین کے مراتب کے درمیان تمیز۔
ہدف نمبر 3
ہر طالب علم کو انفرادی طور پر نیچے دی گئی سرگرمیوں کا جواب دینے کو کہیں۔
ان کو آپس میں جوابات کا تبادلہ کرنے کا حکم دیں، تاکہ ان کی تصحیح کی جا سکے۔
سرگرمی نمبر 2 نوعیت اور ہدف اجتماعی۔ طلبہ کو نصوص اور ان کے مدلول کے درمیان ربط معلوم کرنے کی مشق کرانا۔
ہدف نمبر 4
معلم طلبہ کے درمیان کچھ کارڈ بانٹ سکتا ہے، جن پر سرگرمی کے ضمن میں وارد نصوص کے دلائل لکھے ہوں۔ پھر ان میں سے تین طلبہ کا انتخاب کرے اور ان میں سے ہر ایک کو نص پر دلالت کرنے والا کارڈ اٹھانے کو کہے۔ غلطی کرنے کی صورت میں اس سے کارڈ لے کر کسی اور کو دے دیا جائے گا۔
سرگرمی نمبر 3 نوعیت اور ہدف انفرادی۔ طلبہ کو نصیحت کرنے کے طریقے کی مشق کرانا۔
ہدف نمبر 5
معلم ہر طالب علم کو ایسے شخص کے نام ایک نصیحت لکھنے کے لئے کہے گا، جو دعوی تو اس بات کا رکھتا ہو کہ اس کا دل ایمان سے آباد ہے، لیکن فرض عبادتیں تک ادا نہ کرتا ہو۔
بعد ازاں طلبہ کو تحریروں کا آپس میں تبادلہ کرنے کو کہے گا، تاکہ ان کے اندازۂ قدر کا کام انجام پا سکے۔
اندازۂ قدر
طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالوں کا جواب درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے دینے کی ہدایت دیں :
طلبہ کو مخلتف گروہوں میں بانٹ دیں اور ہر گروہ میں شامل طلبہ کو ایک دوسرے کی مدد سے سوالوں کا جواب دینے کو کہیں۔
دو دو گروہوں کے جوڑے بنائیں اور انھیں جواب پیش کرنے کو کہیں۔
دونوں گروہوں کے اندازۂ قدر کا کام انجام دیں، بہتر جواب والے گروہ کی تعیین کریں اور اسے مناسب نمبر دیں۔
سب سے زیادہ نمبر حاصل کرنے والے گروہ کی تعیین کریں اور اس میں شامل طلبہ کی ہمت افزائی کے لیے ان کو اپنے ساتھیوں کا لیڈر بناکر غلط جواب دینے والے گروہوں کی غلطیوں کی تصحیح کرنے کا کام سپرد کریں۔
سوال 1 : - - .
سوال 2 : چھ - احسان - دل
* تربیتی اور وجدانی تنبیہات :
طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں پر اپنی زندگی اور معاملات میں عمل کرنے کی اہمیت پر توجہ دلائيں، جس کے لیے وہ درج ذیل اقدامات کریں گے :
ایمان اور اس کے ارکان کے بارے میں مختلف مصادر، جیسے کتابوں، سمعى دروس یا الیکٹرانک مصادر وغیرہ کے ذریعے زیادہ وسیع پیمانے پر آگاہی حاصل کرنا۔
اعمال کو ایمان سے جوڑنے کی اہمیت محسوس کرنا اور عمل صالح کی راہ میں آگے بڑھنے کی کوشش کرنا۔
دوسرا سبق : اللہ پر ایمان اور اس کے آثار
سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی
نئے کلمات : (الفطرة - بَوَائِقَهُ - القهَّار - الكافي - الوكيل - الجوارح).
تعلیمی وسائل :
(کمپیوٹر ڈیوائس - ڈسپلے اسکرین - آڈیو میڈیم جس میں شاملِ درس قرآنی آیات ریکارڈ ہوں - مصحف - بلیک بورڈ - تعلیمی کارڈ)
تدریسی حکمت عملیاں:
(فرضی تصورات قائم کرنے پر مبنی حکمت عملی - ایک دوسرے سے سوال کرنے پر مبنی حکمت عملی - وضاحت پر مبنی حکمت عملی - تلخیص پر مبنی حکمت عملی - رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی - برین اسٹورمنگ)
اقدار و رجحانات :
o فرد اور سماج پر پڑنے والے اللہ پر ایمان کے آثار کا اندازہ۔
o اللہ کے اسما و صفات کی تعظیم۔
o اللہ سے اس کے اسما و صفات کے ذریعے دعا کرنے کی حرص۔
o اللہ کے اسما و صفات کے ذریعے عبادت کرنے کی اہمیت کا احساس۔
o مومنوں کے اخلاق و سلوک سے آراستہ ہونا۔
* سبق کی تمہید :
بلیک بورڈ پر درس کا عنوان لکھیں اور اس کے بعد طلبہ کو بتائيں کہ ایمان کے چھ ارکان ہیں۔ پہلا اور سب سے بڑا رکن اللہ تعالی پر ایمان رکھنا ہے اور یہی ہمارے آج کے سبق کا محور ہے۔ آگے طلبہ سے کہیں کہ ان باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ہر طالبِ علم ان فرعی عناصر کے بارے میں اپنی توقعات پیش کرے، جن کا احاطہ سبق کے مشمولات کر سکتے ہیں۔
* سبق کی پیشکش :
مرحلہ (1)
آپ رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی بروئے کار لا سکتے ہیں۔ ڈسپلے اسکرین کے ذریعے طلبہ کو ایک توضیحی شکل دکھائيں، جو سبق کے مواد میں شامل عمومی عناصر اور خیالات پر مشتمل ہو۔ پھر ہر دو طالب علم کو مختلف سوالات پیش کرنے کی ہدایت دیں کہ وہ ان عناصر کے بارے میں کیا جاننا چاہیں گے, بعد ازاں ان کے سؤالات کو جمع کرکے ان میں سے منفرد سؤالات کو بلیک بورڈ پر لکھ دیں تاکہ ان کے بارے میں اگلے مرحلہ میں چرچا کرسکیں۔
مرحلہ نمبر (2)
طلبہ کے ذریعے پیش کیے گئے سوالات پر ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں، تاکہ سبق کے مختلف عناصر کی توضیح و تشریح ہو سکے۔ سوالات کی شکل و صورت میں مناسب ترمیم بھی کریں اور اپنی طرف سے کچھ نئے سوالات بھی جوڑیں۔ نیچے دیے سوالات سے رہ نمائی حاصل کی جا سکتی ہے اور ان کے بارے میں طلبہ سے گفتگو کی جا سکتی ہے۔ سوالوں کا جواب دیتے وقت جوابات سے جڑی ہوئی قرآنی آیات کو کسی آڈیو میڈیم کے توسط سے سننے پر توجہ دلائيں اور ان میں غور وفکر کرنے اور ان کی تفسیر کرنے کی کوشش کرنے کی ترغیب دلائيں :
سوال : اللہ پر ایمان کے اندر چار چیزیں شامل ہیں، ان کی وضاحت کریں۔
سوال : اللہ کے وجود پر ایمان کی سب سے مضبوط دلیل کیا ہے؟
سوال : مسلمان کے اعمال پر پڑنے والے ایمان کے اثرات بیان کریں۔
سوال : عبادتوں کی ادائيگی پر پڑنے والے ایمان کے اثرات بیان کریں۔
سوال : بندوں کے حقوق کی ادائيگی پر پڑنے والے ایمان کے اثرات بیان کریں۔
مرحلہ نمبر (3)
آپ طلبہ کو برین اسٹورمنگ کے ذریعے اللہ تعالی پر ایمان کے ثمرات کی نشان دہی کرنے کی توجہ دلا سکتے ہیں۔ طلبہ کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں جواب دیں، ان کے ذریعے دیے گئے جوابات کو اندازۂ قدر کے مرحلے سے گزاریں اور ایمان کے صحیح ثمرات اخذ کریں۔ اس ضمن میں وارد شرعی دلائل کی تشریح بھی کریں۔
* فوائد اخذ کرنا:
معلم طلبہ کے سامنے دوبارہ رہ نما نقشے رکھے، جو سبق کے عمومی اور فرعی عناصر مربوط انداز میں بیان کرتے ہوں۔ اس کے بعد ہر طالبِ علم کو کسی ایک عنصر کا انتخاب کر کے اس کے بارے میں جو کچھ سمجھا ہے اس کا خلاصہ پیش کرنے کا حکم دے۔ جو طالبِ علم ان عناصر کی باریکیوں کو نہ سمجھ پائے، اسے کتاب میں دیے گئے عنصر کو پڑھنے اور خلاصہ پیش کرنے کو کہے۔
* سرگرمیاں :
بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر سیکھنے کی ہدایت دیں :
سرگرمی نمبر 1 نوعیت اور ہدف اجتماعی۔ اللہ پر ایمان کے آثار اور اس کے ثمرات۔
ہدف نمبر 2
آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ سرگرمی میں وارد شرعی دلیلوں میں سے ہر دلیل کو ایک ایک کارڈ پر لکھ دیں، پھر ان کو کسی ترتیب کا لحاظ کئے بغیر طلبہ میں تقسیم کر دیں، بعد ازاں ایک ایک دلیل اس طرح پڑھتے جائيں کہ جس دلیل کا کارڈ جس طالبِ علم کے پاس ہو، وہ اس میں بیان شدہ ایمان کے آثار اور ثمرات کی وضاحت کرتے جائے۔
طلبہ کے ذریعے دیے گئے جوابات کو دیکھیں، ان کا موازنہ کریں اور ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کرکے صحیح آثار و ثمرات کی نشان دہی کریں، تاکہ ان کو کتابوں میں مناسب جگہوں پر لکھ لیں۔
سرگرمی نمبر 2 نوعیت اور ہدف انفرادی۔ اللہ پر ایمان اور عقیدے کو مضبوط کرنے کی حرص۔
ہدف نمبر 4
آپ ہر طالبِ علم کو مندرجہ ذیل سرگرمیاں انفرادی طور پر کرنے کو کہہ سکتے ہیں۔
کچھ طلبہ کا انتخاب کرکے ان کو جوابات پیش کرنے کے لئے کہیں اور نمایاں جواب دینے والوں کی تعریف کریں۔
ہر طالبِ علم سے کہیں کہ وہ دوسرے طلبہ کے جوابات کی روشنی میں اپنا جواب مکمل کریں۔
* اندازۂ قدر :
طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالوں کا جواب درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے دینے کی ہدایت دیں :
تجویز پیش کی جاتی ہے کہ آپ ہر طالبِ علم کو کتاب میں درج سوالوں کا جواب انفرادی طور پر دینے کو کہیں۔
طلبہ کے سامنے سوالات رکھ دیں، ان کے ساتھ سوالات کے بارے میں تبادلۂ خیال کریں، ان کے جوابات دیکھیں اور ہر سوال پر مناسب نمبر دیں۔
ہر طالب کو اپنا جواب درست کرنے اور خود کو مناسب نمبر دینے کا مکلف بنائيں۔
کچھ طلبہ کا انتخاب کریں کہ وہ ان سے سرزد ہونے والی غلطیوں کی نشان دہی کریں اور درست کرنے کا طریقہ بتائيں۔
سب سے زیادہ نمبرات حاصل کرنے والے طالبِ علم کی نشان دہی کریں اور اس کی مناسب حوصلہ افزائی کریں۔
سوال 1 : (اللہ تعالی کا وجود) - (ایمان کا عمل سے جڑا ہونا) - (ہم اللہ تعالی کو اس کے ناموں کے ذریعے پکاریں)۔
سوال 2 :
بندہ اس وقت تک مسلمان نہيں ہوتا، جب تک اللہ کے وجود، اس کے رب اور معبود ہونے اور اسما و صفات پر ایمان نہ لائے۔
ایمان ایک قلبی عمل ہے، جس کا اثر جوارح پر ہونا ضروری ہے۔
* تربیتی اور وجدانی تنبیہات :
معلم طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں پر اپنی زندگی اور معاملات میں عمل کرنے کی اہمیت پر توجہ دلائے، جس کے لیے وہ درج ذیل اقدامات کریں گے :
اللہ کے اسما و صفات کے ذریعے اس کی خوب عبادت کرنا اور اہلِ خانہ اور دوستوں کو اس کی ترغیب دینا۔ ہر طالبِ علم ایک فولڈر لکھ کر تیار کرے، جس میں اللہ کے اسما و صفات پر مشتمل کچھ قرآنی آیات اور ان اسما کے ذریعے اللہ سے دعا کرنے کی کیفیت درج ہو۔
ہر طالبِ علم کو اس بات کی ترغیب دینا کہ وہ محبت، خوف، امید اور توکل کے ساتھ دل کو اللہ سے جوڑے رکھے اور اپنی زبان کو اللہ کے ذکر اور اس کی کتاب کی تلاوت میں مشغول رکھے اور اعضائے جسم کو نیکی کے کاموں میں منہمک کرے اور گناہوں سے بچائے۔ یہ ساری باتيں زندگی میں ہر آن اور ہر لمحہ نظر آنی چاہیے۔
تیسرا سبق : فرشتوں پر ایمان اور اس کے آثار
سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی
نئے کلمات : (الملائكة - مكين - معصومون).
تعلیمی وسائل :
(تعلیمی بورڈ - کمپیوٹر ڈیوائس - ڈسپلے اسکرین -بلیک بورڈ - ایک آڈیو میڈیم جس میں درس کے مشمولات سے متعلق وارد دلائل ریکارڈ ہوں)۔
سبق کی حکمت عملیاں :
(تناقضات پر مبنی حکمت عملی - ذہنی تصور پر مبنی حکمت عملی - استنباط پر مبنی حکمت عملی - فکر وسوچ پر مبنی نقشے "بلبلا نقشہ- Bubble Map" پر مبنی حکمت عملی - برین اسٹور منگ)۔
اقدار و رجحانات :
o فرشتوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اللہ کے احکام کی تعمیل کرنا۔
o اللہ کی حرام کی ہوئی چيزوں سے، اولا اللہ کے ڈر سے اور اس کے بعد فرشتوں سے حیا کی وجہ سے دور رہنا۔
o عمل پر فخر و غرور کرنے سے بچنا۔
* سبق کی تمہید :
طلبہ کے سامنے درج ذیل صورت حال رکھیں : (جب ہم کسی ملحد کے ساتھ فرشتوں پر ایمان کے بارے میں بات کرتے ہيں، تو وہ یہ کہہ کر ٹھکرا دیتا ہے کہ انھیں دیکھ نہيں سکتا، حالاں کہ وہ بہت سی ایسی چیزوں پر ایمان رکھتا ہے، جنھیں دیکھ نہیں سکتا۔)
اس کے بعد طلبہ سے کسی ایسی چیز کا نام لینے کہیں، جس پر نہ دیکھنے کے باوجود وہ ایمان رکھتے ہیں، تاکہ اس کے ذریعے ان کی تردید کی جا سکے۔ طلبہ کے جوابات سنیں، صحیح جواب کی تائید کریں اور اسے طلبہ کو سبق اور اس کے مشمولات سے متعارف کرانے کے لیے نقطۂ آغاز کے طور پر استعمال کریں۔
مثال کے طور پر ملحد زمینی کشش ثقل اور برقی رو کو دیکھے بغیر ان پر یقین رکھتا ہے، اسی طرح جن سائنسی حقائق کا تعین سائنس دانوں نے کیا ہے ان کے دلائل کا بذات خود لیبارٹری میں جانچ کئے بغیر وہ ان پر بھی یقین رکھتا ہے۔
* سبق کی پیش کش :
مرحلہ نمبر (1)
آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ تصور ذہنی حکمت عملی کے تحت طلبہ کو دو منٹ کے لیے آنکھیں بند کر لینے کو کہیں اور آپ فرشتوں کے اوصاف اور ان سے کیا مراد ہے، بیان کرتے رہیں، اس دوران وہ آڈیو میڈیم کے توسط سے فرشتوں کے اوصاف سے متعلق شرعی دلائل اور ان کی تشریح و توضیح سنتے رہيں، اس کے بعد ان میں سے دو طلبہ کا انتخاب کریں، جو اللہ تعالی کی قدرت اور فرشتوں کی عظمت کے بارے میں جو کچھ محسوس کیا ہے، اسے اپنے اسلوب میں بیان کریں۔
مرحلہ نمبر (2)
آپ ایسا کر سکتے ہيں کہ طلبہ کو نیچے دی گئی آیت اور حدیث سننے کی توجہ دلائيں اور دونوں نصوص کے فہم کی روشنی میں ان کے ساتھ فرشتوں پر ایمان کے حکم کے استنباط کے بارے میں تبادلۂ خیال کریں۔
اللہ تعالٰی فرماتا ہے : "رسول ایمان لایا اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے اتری اور مومن بھی ایمان ﻻئے، یہ سب اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان ﻻئے، اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے۔" (سورۂ بقرہ: 285)۔
اسی طرح جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے ایمان کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے کہا : "کہ تو ایمان لائے اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر اور آخرت کے دن پر، اور تو ایمان لائے اچھی اوربُری تقدیر پر۔" (صحیح مسلم : 102)۔
مرحلہ نمبر (3)
فکر وسوچ والے نقشوں پر مبنی حکمت عملی اور خاص طور سے (Bubble Map) کی مدد سے طلبہ کے سامنے فرشتوں کے اعمال رکھیں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ ڈسپلے اسکرین کے ذریعے ایک مرکزی دائرہ دکھایا جائے، جس کے اردگرد متعدد دائرے ہوں، جو فرشتوں کے اعمال دکھاتے ہوں اور ہر عمل کے ساتھ اس سے جڑی ہوئی شرعی دلیل پیش کی گئی ہو۔ طلبہ کے سامنے ان اعمال اور دلائل کی تفسیر اور توضیح کی جائے۔ طلبہ کو اس بات کی اجازت بھی دی جائے کہ وہ جو کچھ جاننا چاہتے ہیں، اس کے بارے میں سوال کر سکیں۔
مرحلہ نمبر (4)
برین اسٹورمنگ حکمت عملی کے تحت طلبہ سے فرشتوں پر ایمان کے اثرات کی نشان دہی کرنے کو کہیں۔ ان کی جانب سے ملنے والے جوابات کے بارے میں ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں اور صحیح جواب تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ اس کے بعد طلبہ سے کہیں کہ ان آثار سے متعلق ان کی کتابوں میں جو کچھ لکھا ہے، اسے دیکھیں اور ان کے ذریعے دیے گئے جوابات سے ان کا موازنہ کریں۔
* نتائج اخذ کرنا:
آپ ایسا کر سکتے ہيں کہ ہر دو طلبہ کے آپسی تعاون سے سبق کے تین مفید اور کار آمد پہلووں کو بیان کریں، ہر فریق کے جوابات پر نظر ڈالیں، ان پر نوٹ چڑھائیں اور ان کے اندر پائی جانے والی مطابقت اور اختلاف کی نشان دہی کریں۔
٭ سرگرمیاں :
بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر سیکھنے کی ہدایت دیں :
سرگرمی نمبر 1 نوعیت اور ہدف انفرادی / جوڑے پر مبنی۔ فرشتوں کے اعمال کی وضاحت۔
ہدف نمبر 4
آپ ایسا کر سکتے ہيں کہ ایک طالبِ علم کا انتخاب سرگرمی میں وارد آیت کو ساتھیوں کے سامنے پڑھنے کے لیے کریں، اس کے معنی اور رہ نمائیوں کے بارے میں ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں اور ہر طالب آیت سے اخذ کردہ معلومات کے مطابق فرشتوں کا عمل لکھے۔
ہر طالبِ علم کو اپنا جواب اپنے ساتھی کے ساتھ شیئر کرنے کو کہیں، تاکہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کے جواب کا جائزہ لے سکے۔ طلبہ کی کار کردگیوں کو دیکھتے رہيں اور ان کی رہ نمائی صحیح جواب کی جانب کریں۔
سرگرمی نمبر 2 نوعیت اور ہدف اجتماعی۔ طالب علم کے اندر فرشتوں کى عزت کا شعور پیدا ہونا۔
ہدف نمبر 4
آپ ایسا کر سکتے ہيں کہ طلبہ کو مختلف گروہوں میں بانٹ دیں، ہر گروہ کو دوسری سرگرمی کے جواب کی بحث میں حصہ لینے کی ہدایت دیں اور کہيں کہ ہر گروہ اپنا جواب ایک خارجی کارڈ میں لکھے۔
سبھی گروہوں کے جوابات جمع کرنے اور ان کا جائزہ لینے کے بعد اس گروہ کی نشان دہی کریں، جو طالبِ علم کے لیے فرشتوں کی عزت اور تکریم کے حوالے سے گروہ میں شامل افراد کے جذبات کا اظہار اچھے اور پر اثر انداز میں کرنے کام یاب رہا ہو۔ بعد ازاں ایک طالب علم کا انتخاب کریں، جو لکھی ہوئی باتیں ساتھیوں کو پڑھ کر سنائے۔
سرگرمی نمبر 3 نوعیت اور ہدف انفرادی / جوڑے پر مبنی۔ فرشتوں کے بارے میں ذمے داری کی وضاحت۔
ہدف نمبر 6
آپ ایسا کر سکتے ہيں کہ ایک طالبِ علم کا انتخاب تیسری سرگرمی کے ضمن میں وارد حدیث کو ساتھیوں کے سامنے پڑھنے کے لیے کریں، اس کے معنی اور رہ نمائیوں کے بارے میں ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں اور ہر طالبِ علم حدیث سے حاصل علم و معرفت کی بنیاد پر فرشتوں کے تئیں اپنی عملی ذمے داری لکھے۔
بعد ازاں ہر طالبِ علم اپنا جواب اپنے کسی ساتھی کے ساتھ شیئر کرے، تاکہ دونوں ایک دوسرے کے جواب کا جائزہ لے سکیں۔ آپ طلبہ کی کارکردگیوں پر نظر رکھیں اور صحیح جواب کی جانب ان کی رہ نمائی کریں۔
پیاز، لہسن، گندنا اور دیگر بدبودار چيزوں کو مسجد میں داخل ہوتے وقت کھانے سے گریز کرنا، تاکہ فرشتوں کو اذیت نہ ہو۔
٭ اندازۂ قدر :
طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالوں کا جواب درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے دینے کی ہدایت دے سکتے ہيں :
اس بات کی تجویز پیش کی جاتی ہے کہ آپ پہلے اور دوسرے سوال کو طلبہ کے سامنے رکھیں اور کچھ طلبہ کو جواب پیش کرنے اور باقی طلبہ کو ان کا جائزہ لینے اور سررذ ہونے والی غلطیوں کی تصحیح کرنے کے لئے کہيں۔
سوال 1 : - - - .
ایسا ہو سکتا ہے کہ آپ ہر طالبِ علم کو تیسرے سوال کا جواب الگ الگ دینے اور کسی ایک طالب کو ساتھیوں کے سامنے اپنا جواب پیش کرنے کو کہيں، جب کہ باقی طلبہ جواب کا جائزہ لیں گے اور بتائيں گے کہ وہ اس سے کتنا اتفاق رکھتے ہيں۔
* تربیتی و وجدانی تنبیہات :
معلم طلبہ کو ان ہدایات اور مفید باتوں کو اپنی زندگیوں اور معاملات میں لاگو کرنے کی ترغیب دے، جو انہوں نے سبق سے سیکھے ہیں۔ خاص طور پر فرشتوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے زیادہ سے زیادہ اللہ کی عبادت کریں اور عمل کے غرور اور تکبر میں مبتلا ہونے سے بچیں۔
اسی طرح اللہ تعالی سے ڈرتے ہوئے اور ہمیشہ انسان کے ساتھ رہنے والے فرشتوں سے حیا کرتے ہوئے اللہ کی حرام کی ہوئی چيزوں سے دور رہیں۔ اسی طرح طلبہ کو اس بات پر ابھاریں کہ وہ اپنے آس پاس کے لوگوں کو ان مفید اور کار آمد باتوں سے باخبر کرنے کی کوشش کریں۔
چوتھا سبق : کتابوں اور رسولوں پر ایمان اور اس کے آثار
سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی
نئے کلمات : (صحف إبراهيم - الزبور - التَّصديق - عصمهم الله - خطيئة).
تعلیمی وسائل :
(آڈیو میڈیم - تعلیمی بورڈ - بلیک بورڈ - تعلیمی کارڈ - مصحف)۔
سبق کی حکمت عملیاں:
(تمہیدی مواد کی پیش کش پر مبنی حکمت عملی - خود سوالی پر مبنی حکمت عملی - باہمی تعاون سے سیکھنے پرمبنی حکمت عملی)۔
اقدار و رجحانات :
o رسولوں سے محبت، ان کی تعظیم اور ان کی تعریف۔
o انبیا علیہم السلام کے اخلاق اور ان کی صفات سے آراستہ ہونا اور ان کی پیروی کرنا۔
o کتابیں اتارى جانے اور رسول بھیجے جانے کی نعمت کا احساس۔
o انبیا علیہم السلام کی صفات اور ان کے اعمال کی اقتدا۔
* سبق کی تمہید :
معلم طلبہ کو کسی آڈیو میڈیم کے توسط سے درج ذیل آیت سننے کی ہدایت دے گا۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "جس نے آپ پر حق کے ساتھ اس کتاب کو نازل فرمایا ہے، جو اپنے سے پہلے کی تصدیق کرنے والی ہے۔" (سورۂ آل عمران : 3)۔
اس کے بعد طلبہ سے پوچھے گا کہ تورات اور انجیل کن نبیوں پر اتاری گئیں تھیں؟ بعد ازاں واضح کرے گا کہ کتابوں اور رسولوں پر ایمان رکھنا ارکان ایمان کے دو بنیادی رکن ہیں۔ ان دونوں کے بغیر اسلام درست نہیں ہوگا۔
اس کے بعد ان سے یہ دو سوالات کرے گا۔ رسولوں اور کتابوں پر ایمان کو ہم کیسے عملی جامہ پہنائيں؟ اس کے آثار کیا ہیں؟
دونوں سوالوں کا جواب سبق کی تشریح مکمل ہونے پر دینے کی ہدایت دے گا۔
* سبق کی پیش کش :
مرحلہ نمبر (1)
آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ طلبہ کو سبق کے مشمولات دیکھنے اور اس کے عمومی اور فرعی عناصر کو تیزی سے چن لینے کو کہیں، پھر ان میں سے ہر دو طالب علم کو باہمی تعاون سے درس کے عناصر اور افکار سے ممکنہ ربط رکھنے والے سوالات پیش کرنے کی ہدایت دیں، جن کے جوابات کے توسط سے متعلقہ پوشیدہ باتیں کھل کر سامنے آ جائيں۔ آپ انھیں سوالات پیش کرنے کے لیے درسی کتاب میں موجود سبق کے اہداف و مقاصد سے بھی رہ نمائی حاصل کرنے کے لئے کہہ سکتے ہیں۔ ہر فریق کے سوالات دیکھیں اور ان کو بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔
مرحلہ نمبر (2)
طلبہ کے ذریعے پیش کردہ سوالات کو لکھنے کا کام پورا ہونے کے بعد معلم ان پر بحث کرے اور ان کے اندر پائے جانے والی کمی کو پورا کرنے کے لیے کچھ اضافی سوالات جوڑ دے۔ معلم سوالات پیش کرتے وقت طلبہ کو کچھ جوابات سے جڑے ہوئے شرعی دلائل سے متعارف کرا سکتا ہے، تاکہ ان کی تفسیر اور ان سے جڑی ہوئی رہ نمائیوں کی تحدید ہو جائے۔ پیش کردہ سوالات میں سے کچھ سوالات اس طرح ہو سکتے ہیں :
سوال : کتابوں پر ایمان کے کیا معنی ہیں؟
سوال : کیا اللہ کی اتاری ہوئی تمام کتابوں پر ایمان لانا واجب ہے؟
سوال : قرآن کریم اللہ کی سب سے عظیم اور آخری کتاب ہے۔ اس کی وضاحت کریں۔
سوال : رسولوں پر ایمان سے کیا مراد ہے؟
سوال : کیا اجمالی طور پر تمام نبیوں پر ایمان رکھنا واجب ہے؟ ہمیں ان کے نام اور تعداد معلوم نہ ہوں تب بھی؟
سوال : قرآن کریم میں کتنے نبیوں کے نام آئے ہیں؟
مرحلہ نمبر (3)
آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ باہمی تعاون سیکھنے پر مبنی حکمت عملی اختیار کریں اور ہر فریق کو ایک دوسرے کی مدد سے کتابوں اور رسولوں پر ایمان کے نتیجے میں سامنے آنے والے آثار کو بڑی تعداد میں سامنے لانے کی ذمے داری دیں۔ اس عمل کو انجام دیتے وقت آپ ہر گروہ کے پاس سے گزرتے رہيں، تاکہ ان کے تعاون اور جواب کی باریکیوں کی نشان دہی کر سکیں۔
٭ فائدۃ اخذ کرنا:
طلبہ ان دو سوالات کا مراجعہ کریں، جو سبق کی تمہید میں پیش کیے گئے تھے۔ ہر طالبِ علم انفرادی طور پر دونوں سوالات کا جواب تیار کرے۔ اس کے بعد کچھ طلبہ کا انتخاب کریں، جو اپنے جوابات پیش کریں اور ان کے اندازۂ قدر کا عمل میں انجام پاتا رہے۔ ساتھ ہی اس بات کی بھی تحدید ہوتی جائے کہ طلبہ نے اس سبق سے کتنا فائدہ اٹھایا ہے۔
* سرگرمیاں :
بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر سیکھنے کی ہدایت دیں :
سرگرمی نمبر 1 نوعیت اور ہدف انفرادی / جوڑے پر مبنی۔ قرآن کریم میں مذکور انبیاء کے ناموں کی تحدید۔
ہدف نمبر 2
ہر طالب کو مصحف نکالنے، سورۂ انعام کھولنے اور اس کی آیت (83) سے آیت (86) تک پڑھنے کو کہیں، جن کے اندر اٹھارہ نبیوں کا ذکر ہوا ہے۔ آپ دھیان سے دیکھیں کہ طلبہ نے صحیح اسما کی تحدید تک پہنچنے میں کتنی قدرت حاصل کی ہے، پھر کسی ایک طالبِ علم کو ان ناموں کو ساتھیوں کے سامنے پیش کرنے کو کہیں۔
اس کے بعد ہر دو طالب علموں کو ایک دوسرے کی مدد سے دوسرے سات نبیوں کے نام لکھنے کو کہیں، جن کا ذکر قرآنِ کریم میں ہوا ہے۔ بعد ازاں ان ناموں کو بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔ اب ہر فریق صحیح نام لکھنے پر خود کو ایک نمبر دے اور آپ ان کی مناسب ہمت افزائی بھی کریں۔
آدم، ادریس، ہود، شعیب، صالح، ذوالکفل اور محمد علیھم الصلاۃ والسلام۔
سرگرمی نمبر 2 نوعیت اور ہدف انفرادی / اجتماعی۔ انبیا کے صفات اور اعمال کی اقتدا۔
ہدف نمبر 5
آپ ایسا کر سکتے ہيں کہ طلبہ کو دوسری سرگرمی کو اچھی طرح پڑھنے کی توجہ دلائیں اور کسی ترتیب کا خیال رکھے بغیر کچھ طلبہ کا انتخاب کریں، جو ساتھ میں دیے گئے جدول کو پورا کر سکیں۔
طلبہ کے جوابات کے درمیان موازنہ کر کے زیادہ باریک بینی سے دیے گئے جواب کی نشان دہی کریں اور ان کو کتاب میں فراہم کی گئی جگہوں میں ان جوابات کو لکھنے کی ہدایت دیں۔
* اندازۂ قدر
طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالوں کا جواب درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے دینے کی ہدایت دے سکتے ہيں :
طلبہ کو مختلف گروہوں میں بانٹ دیں کہ ہر گروہ کتابوں میں دیے گئے سوالات کا جواب ایک دوسرے کی مدد سے اس طرح دے کہ ہر فرد کسی ایک سوال کا جواب دے اور اس کے ساتھی اس پر نظر رکھیں۔
اس دوران آپ سارے گروہوں کے پاس سے گزرتے رہيں، تاکہ پتہ چل سکے کہ وہ کہاں تک ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہيں اور جواب دینے اور اندازۂ قدر کا عمل انجام دینے کے بارے میں سنجیدہ ہیں۔
سارے گروہوں کے جوابات یک جا کریں، ان کے اندازۂ قدر کا عمل انجام دیں اور ان سے سرزد ہونے والی غلطیوں کی نشان دہی کریں اور ان کو درست کرنے کا طریقہ بتائيں۔
سب سے بہتر جواب دینے والے گروہ کی نشان دہی کریں اور اس میں شامل طلبہ کی مناسب حوصلہ افزائی کریں۔
سوال 1 : - - - .
سوال 2 : قوسین کے درمیان سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :
(عقل کی ذہانت) - (نوح اور عیسی) - (ایوب علیہم السلام) - (تحریف سے محفوظ)۔
* تربیتی اور وجدانی تنبیہات :
معلم طلبہ کی حوصلہ افزائی کرے کہ وہ سبق سے سیھکے ہوئے فوائد اور رہ نمائیوں کو بروئے کار لائیں۔ خاص طور سے انبیا علیہم السلام کی تعظیم، تعریف اور اپنی زندگی اور معاملات میں ان کی پیروی اور ان کے اخلاق و صفات سے آراستہ ہونے پر توجہ دیں۔
طلبہ اپنے آس پاس کے لوگوں کو بھی ان اخلاق و صفات کے بارے میں بتانے کی کوشش کریں۔ یہ کام ان اخلاق و صفات پر مشتمل قرآنی آیات کو سوشل میڈیا سائٹس پر مختصر اور دل کش پوسٹ کی صورت میں پیش کرکے بھی کیا جا سکتا ہے۔
پانچواں سبق : آخرت کے دن پر ایمان اور اس کے آثار
سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی۔
نئے کلمات : (اليوم الآخر - فتنة القبر - البعث - الحشر - الصراط).
تعلیمی وسائل :
(ایک آڈیو میڈیم جس میں شامل درس قرآن کی کچھ آیتیں ریکارڈ ہوں - بلیک بورڈ - تعلیمی بورڈ -مصحف)۔
تدریس کی حکمت عملیاں :
(فرضی تصورات قائم کرنے پر مبنی حکمت عملی - اکتشاف پر مبنی حکمت عملی - رہنما نقشوں پر مبنی حکمت عملی - برین اسٹورمنگ)۔
اقدار و رجحانات :
o آخرت کے دن پر ایمان کا احساس۔
o جنت حاصل کرنے اور جہنم سے نجات پانے کی کوشش کرنا۔
o آخرت کا ثواب حاصل کرنے کے لیے نیکی کے کاموں میں زیادہ دلچسپی لینا۔
o آخرت کی نعمتیں اور ثواب پیش نظر ہونے کی وجہ سے دنیا کی رغبت میں کمی۔
سبق کی تمہید :
نیچے دی گئی عبارت طلبہ کو پیش کریں، انھیں اس پر غور کرنے اور اس کے فہم کی روشنی میں یہ توقع کرنے کو کہیں کہ اس سبق کے مشمولات کیا ہو سکتے ہیں، پھر سبق کے عنوان کى وضاحت کریں اور اسے بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔
(ہماری زندگی اس کھیت کی مانند ہے، جس میں ہم کھیتی کرتے ہيں۔ لہذا جو دنیا میں خیر بوئے گا، وہ آخرت میں خیر کاٹے گا اور جو دنیا میں شر بوئے گا، وہ آخرت میں خیر کاٹے گا۔ آخرت کی جزا یا تو جنت ہوگی یا جہنم)۔
* سبق کی پش کش :
مرحلہ نمبر (1)
آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ بلیک بورڈ پر آخرت کے دن کے درج ذیل نام لکھ دیں : (قیامت کا دن، فیصلے کا دن، بدلے کا دن، کھڑکھڑا دینے والی ... وغیرہ) اور طلبہ سے ان کا مطلب بیان کرنے کو کہیں اور ان کی جانب سے ملنے والے جوابوں کو آخرت کے دن پر ایمان کی تعریف کا نقطۂ آغاز بنائيں۔
مرحلہ نمبر (2)
آپ ایسا کر سکتے ہيں کہ طلبہ کے سامنے ایک بورڈ پیش کریں، جس میں آخرت کے دن کے منازل کی ایک وضاحتی شکل موجود ہو۔ پھر ہر منزل کا ذکر قصہ گوئی کے طرز پر پرکشش انداز میں کریں، جس میں قصہ گوئی کی فنی مہارتوں، جیسے صوتی، اسلوبی، فکری اور تفہیمی حسن کا بھر پور استعمال کیا گیا ہو۔
اس پیش کش کے دوران آپ طلبہ کو ان منازل سے جڑے ہوئے اور ان پر دلالت کرنے والے شرعی نصوص کو سننے پر توجہ دلا سکتے ہیں، جنھیں تشریح اور تفسیر کے ساتھ پیش کیا جائے۔
مرحلہ نمبر (3)
آپ برین اسٹورمنگ کی حکمت عملی استعمال کرتے ہوئے طلبہ کو آخرت کے دن پر ایمان کے آثار تک پہنچـنے کی توجہ دلائيں اور بڑی تعداد میں آثار بیان کرنے پر ابھاریں۔ صحیح آثار تک پہنچنے کے لیے پیش کردہ آثار کو اندازۂ قدر کے مرحلے سے بھی گزاریں اور پھر ان سے متعلق ایک بورڈ پیش کریں، تاکہ طلبہ کو ان کا اجمالی علم ہو جائے۔
* نتیجہ نکالنا :
طالبِ علم کو ایک فقرہ لکھنے کی ہدایت دیں، جس میں اس بات کا ذکر ہو کہ اس نے سبق سے کیا سیکھا اور سیکھی ہوئی باتوں کو عمل میں کیسے لائے گا۔ اس کے بعد کچھ طلبہ کا انتخاب کریں، جو لکھی گئی باتوں کو ساتھیوں کے سامنے پڑھ کر سنائیں اور ان کی مناسب حوصلہ افزائی بھی کریں۔
* سرگرمیاں :
بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر سیکھنے کی ہدایت دیں :
سرگرمی نمبر 1 نوعیت اور ہدف اجتماعی۔ آخرت کے دن کے ناموں کی تحدید کرنا۔
ہدف نمبر 1
معلم ہر گروہ کو ایک دوسرے کی مدد سے اس طرح سرگرمی کرنے پر توجہ دلائے گا کہ طلبہ اپنے مصاحف نکالیں گے، سورۂ قارعہ کھولیں گے اور سرگرمی کے ضمن میں دیے گئے جدول کو پورا کریں گے۔
معلم جدول کے سارے عناصر کو یکے بعد دیگرے پیش کرے، ہر گروہ کے جواب سے واقف ہو، گروہ میں شامل طلبہ کو مناسب نمبر دے، سب سے زیادہ نمبر حاصل کرنے والے گروہ کی نشان دہی کرے، اس گروہ کے طلبہ کی مناسب حوصلہ افزائی کرے اور اس کے کسی فرد کو گروہ کا جواب ساتھیوں کے سامنے پڑھنے کی ذمے داری سونپے۔
سرگرمی نمبر 2 نوعیت اور ہدف اجتماعی۔ آخرت کے دن پر ایمان کے اثر کو محسوس کرنا۔
ہدف نمبر 3
آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ کسی طالبِ علم کا انتخاب دوسری سرگرمی میں وارد قصہ اپنے ساتھیوں کے سامنے پڑھنے کے لیے کریں اور اجتماعی تبادلۂ خیال کے توسط سے انھیں قصے کا کوئی عنوان قائم کرنے اور اس سے آخرت کے دن پر ایمان کا اثر معلوم کرنے کے لئے کہیں۔ طلبہ کے جوابات دیکھیں اور ان کے ساتھ مل کر صحیح جواب کی نشان دہی کریں، تاکہ وہ اسے اپنی کتاب کے اندر فراہم کی گئی جگہ پر لکھ لیں۔
سرگرمی نمبر 3 نوعیت اور ہدف انفرادی۔ قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے کے دلائل بیان کرنا۔
ہدف نمبر 2
معلم طلبہ کو کتاب سے درج ذیل سرگرمی کھولنے کو کہے۔
ایک طالبِِ علم کا انتخاب کرکے اسے اس سرگرمی کو ساتھیوں کے سامنے پڑھنے کے لئے کہے۔
ہر طالبِ علم کو اس سے جڑے ہوئے سوالات اور عملی کاموں کا جواب دینے کا حکم دے۔
طلبہ کے جوابات دیکھے اور ان کے اندازۂ قدر کا عمل انجام دے، تاکہ غلطیاں کرنے والے اپنی غلطیوں کو درست کر لیں۔
* اندازۂ قدر
طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالوں کا جواب درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے دینے کی ہدایت دیں :
معلم طلبہ کو کچھ کارڈ تقسیم کرے، جن میں سے نصف اول میں ایک علامت ہو جبکہ نصف ثانی دوسری علامت کا حامل ہو۔ اس کے بعد پہلے سوال کے ضمن میں درج عبارتوں کو یکے بعد دیگرے اس طرح پیش کرے کہ طلبہ عبارت سے مناسبت رکھنے والے کارڈ کو اٹھائيں۔ معلم غلطی کرنے والے طلبہ کو نظر میں رکھے، تاکہ ان سے سرزد ہونے والی غلطیوں کے بارے میں ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کیا جا سکے۔
سوال 1 : - - -.
معلم چار طلبہ کا انتخاب کرے، جن میں سے ہر ایک دوسرے سوال میں وارد کسی ایک عنصر کے بارے میں جواب دے۔ کسی سے کوئی غلطی سرزد ہونے کی صورت میں اسے سبق کے مشمولات سے رجوع کرنے اور بذات خود جواب نکالنے کو کہے۔
1- قبر آخرت کی پہلی منزل ہے۔
2- صراط : جہنم کے اوپر نصب کیا جانے والا ایک پل ہے۔
3- حشر سے مراد لوگوں کو حساب کتاب کے لیے جمع کرنا ہے۔
4- بعث سے مراد مردوں کو قبروں سے زندہ کرکے اٹھانا ہے۔
ہر طالب انفرادی طور پر تیسرے سوال کا جواب دے۔ اس کے بعد معلم دو طلبہ کا انتخاب کرے، جو اپنا اپنا جواب پیش کریں۔ معلم دونوں کا موازنہ کرے اور اس بات کی نشان دہی کرے کہ کون سا جواب زیادہ صحیح ہے۔
* تربیتی و وجدانی تنبیہات :
طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں پر اپنی زندگی اور معاملات میں عمل کرنے کی اہمیت پر توجہ دلائيں، جس کے لیے وہ درج ذیل اقدامات کریں گے :
ہر وہ کام کرنا، جو انسان کو جنت کا مستحق بنائے اور جہنم سے دور کرے۔ اسی طرح اپنی ذات اور دوسروں کو نیکی کے کام کرنے اور گناہوں سے دور رہنے کی ترغیب دینا۔ یہی آخرت کے دن پر ایمان کے ثمرات ہیں، جنھیں ہر مومن کو حاصل کرنا اور اپنی زندگی اور معاملات میں نافذ کرنا چاہیے۔
چھٹا درس : قضا و قدر پر ایمان اور اس کے آثار
سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی
نئے کلمات : (الإيمان بالقدر - المشيئة - السَّخط).
تعلیمی وسائل : (بلیک بورڈ - تعلیمی بورڈ)
تدریس کی حکمت عملیاں:
(استنباط پر مبنی حکمت عملی - رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی - غلط تصورات کی تصحیح پر مبنی حکمت عملی - تعلیمی مثلث پر مبنی حکمت عملی - استقصا پر مبنی حکمت عملی)
اقدار و رجحانات :
اللہ کے قضاء وقدر پر راضی رہنا، صبر سے کام لینا اور قضائے الہی سے ناخوش اور رنجیدہ رہنے سے گریز کرنا۔
ایک مسلمان کی زندگی میں تقدیر پر ایمان کی اہمیت کو محسوس کر سکيں گے۔
مضبوطی کے ساتھ بڑے کاموں کے لیے قدم آگے بڑھانا اور پوری تندہی سے اللہ کو راضی کرنے والے کام کرنا۔
سبق کی تمہید :
طلبہ کو بتائيں کے ہم ایمان کے آخری رکن کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ انھیں ایک بار سارے ارکان یاد کرنے اور اپنی کتابوں میں پیش کردہ شکلوں میں لکھنے کے لئے کہیں۔ وہ جب لکھیں تو آپ ان کے پاس سے گزرتے رہيں، تاکہ وہ جو کچھ لکھ رہے ہيں، اسے جان سکیں اور اس کا اندازۂ قدر کر سکیں۔
طلبہ سے آج کے سبق کے عنوان کا اندازہ کرنے کے لئے کہیں، ان کے جوابات کی شناخت کریں، کچھ جوابات کو بلیک بورڈ پر لکھیں اور ان کو سبق ختم ہونے کے بعد اپنے جوابات کا اندازۂ قدر کرنے کے لئے کہيں۔
* سبق کی پیش کش :
پیش قدمی (1)
دریافت پر مبنی حکمت عملی کے تحت معلم طلبہ کے سامنے درج ذیل جملہ رکھ سکتا ہے، اس کا مشار الیہ بیان کر سکتا ہے اور طلبہ کی جانب سے ملنے والے جوابات کو ان کو ایمان کے معنی سے روشناس کرنے کا نقطۂ آغاز بنا سکتا ہے۔
(اس بات کی پختہ تصدیق کہ اس کائنات میں بھلا برا جو کچھ بھی ہوتا ہے، اس کا علم اللہ کو ہے، اسے اللہ نے لکھ رکھا ہے اور وہ اللہ کے ارادے سے ہوتا ہے)۔
پیش قدمی (2)
آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ غور وفکر والے نقشوں پر مبنی حکمت عملی اختیار کر کے ان کے توسط سے طلبہ کے سامنے تقدیر پر ایمان کے مراتب رکھیں اور چار طلبہ کا انتخاب کریں، جن میں سے ہر طالب علم ایک ایک مرتبہ، اس سے مراد اور اس کی شرعی دلیل پڑھ کر سنائے۔ مزید وضاحت کے لیے آپ ان دلائل کے سلسلے میں طلبہ کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں۔
مرحلہ نمبر (3)
معلم طلبہ کے سامنے درج ذیل صورت حال رکھے، ان سے ان کے بارے میں رائے دینے کو کہے، ان کے جوابات کو طلبہ کو تقدیر پر ایمان اور اسباب اختیار کرنے کے درمیان ربط سمجھانے کے لیے نقطۂ آغاز بنائے اور طلبہ کے سامنے انبیا اور صالحین کی سیرت کی کچھ مثالیں بیانیہ انداز میں رکھے، جو اس کی تشریح و وضاحت کرتی ہوں۔
ایک شخص کے کچھ بچے ہیں اور وہ اس عقیدے کی وجہ سے کام میں سستی کرتا ہے کہ وہ کوشش نہ کرے تب بھی اللہ اس کے بچوں کو روزی دے گا۔
ایک عورت ڈاکٹر کے پاس جانے اور دوا علاج کرنے سے اس بنا پر منع کرتی ہے کہ اللہ شافی ہے اور وہ ڈاکٹر کے پاس گئے بغیر ہی اسے شفا عطا کرے گا۔
مرحلہ نمبر (4)
معلم یہاں استماع مثلث حکمت عملی کا استعمال کر سکتا ہے۔ وہ طلبہ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دے۔ ہر گروہ میں تین طالب علم ہوں۔ پہلا طالب علم تقدیر پر ایمان کے آثار کے بارے میں اپنی معلومات پیش کرے، دوسرا دھیان سے سنے اور اس سے ایسے سوالات کرے کہ اسے ان آثار کے بارے میں مزید معلومات پیش کرنے پڑیں، جب کہ تیسرا طالب علم اپنے دونوں ساتھیوں کی کارکردگیوں کو دھیان سے دیکھے اور ان کے درمیان ہونے والی بات چیت کو لکھ کر معلم کو پیش کرے۔
معلم سارے گروہوں کی کارگردگیوں پر نظر رکھے، ہر گروہ کی تحریریں اور جوابات دیکھے، تحریروں پر تبصرہ کرے، طلبہ کے ساتھ مل کر دقیق ترین جواب تک پہنچے اور سب سے بہتر مظاہرہ کرنے والے گروہ کی نشان دہی کرے۔
* نتائج اخذ کرنا:
- معلم کچھ طلبہ کا انتخاب کرے، جن میں سے ہر طالب علم متعلقہ عناصر میں سے کسی ایک عنصر کی تشریح اپنے خاص اسلوب میں سبق سے حاصل شدہ سمجھ کی روشنی میں کرے۔ عناصر اس طرح ہيں : (تقدیر پر ایمان کے معنی - تقدیر پر ایمان کے مراتب - تقدیر پر ایمان اور اسباب اختیار کرنا - تقدیر پر ایمان کے آثار) باقی طلبہ ان کے جوابات سنیں اور انھیں مزید بہتر بنانے کے لیے ان پر نوٹ چڑھائیں۔
* سرگرمیاں :
بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر سیکھنے کی ہدایت دیں :
سرگرمی نمبر 1 نوعیت اور ہدف انفرادی۔ اللہ کى قضا وقدر سے راضی ہونے کی ترغیب۔
ہدف نمبر 4، 5
ہر طالب سے کہیں کہ اپنے کسی دوست کے نام ایک نصیحت لکھے، جس نے کوئی ایوارڈ حاصل کرنے کے لیے جی جان لگا کر محنت کی، لیکن وقت گزر گیا اور ایوارڈ حاصل نہ ہو سکا، جس سے وہ بہت رنجیدہ اور ملول خاطر ہے۔
سبق سے حاصل شدہ معلومات کی روشنی میں نصیحت لکھے۔ معلم طلبہ کی تحریر کردہ نصیحتیں دیکھے اور سب سے بہتر ساخت، فکر اور تاثیر والی نصیحت کی نشان دہی کرے۔ بعد ازاں ایک فولڈر تیار کرے، جس میں سب سے اچھی نصیحتیں لکھنے والوں کے ناموں کے ساتھ شامل ہوں۔ اس فولڈر کو کلاس روم کی لائبریری میں محفوظ رکھا جائے۔
سرگرمی نمبر 2 نوعیت اور ہدف اجتماعی۔ اس بات کی دلیل پیش کرنا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کى تقدیر سے راضی رہا کرتے تھے۔
ہدف نمبر 2، 3
سرگرمی کے تحت وارد نص کی خواندگی کے لیے کسی طالب علم کا انتخاب کریں اور اس کے معنی کے سلسلے میں طلبہ کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں۔ گروپ سروے کے توسط سے ہر گروہ کو سرگرمی کے دونوں سوالوں کے بارے میں بحث و تحقیق کرنے کے لئے کہیں۔ اس کے لیے معرفت کے مختلف مصادر، جیسے الیکٹرانک، پرنٹ اور بشری مصادر کا استعمال کر سکتے ہیں۔ آپ طلبہ کے جوابات دیکھیں اور سب سے بہتر محنت اور پیش کش کے حامل گروہ کی تعریف کریں۔
* اندازۂ قدر
طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالوں کا جواب درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے دینے کی ہدایت دے سکتے ہيں :
نیچے دیے گئے سوالات کا جواب ہر طالب علم کو الگ الگ دینے کو کہیں اور جوابات کے بارے میں ان کے ساتھ اس طرح تبادلۂ خیال کریں کہ ہر طالب خود کو جواب صحیح ہونے پر ایک نمبر دے۔ طلبہ کے نمبروں کو دیکھیں اور ان کے درمیان موازنہ کریں۔
سوال 1 : ارکان - خیر و شر - اسباب اختیار کرنے سے متعارض نہيں ہے۔
* تربیتی و وجدانی تنبیہات :
طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں پر اپنی زندگی اور معاملات میں عمل کرنے کی اہمیت پر توجہ دلائيں، جس کے لیے وہ درج ذیل اقدامات کریں گے :
زندگی میں رو برو ہونے والے ایسے لوگوں کا سامنا کرنا، جو کہ ایمان بالقدر او اس سے راضى رہنے کے مخالف منفی طرز عمل کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ جیسے: حسد، حقد وکینہ، سستى کرنا، ناراض ہونا اور قلق وبے چینى۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ ان کو تربیت کے انداز میں سبق سے حاصل شدہ معلومات، معارف اور رہ نمائیوں سے متعارف کروایا جائے یا پھر مسجد کے امام کے پاس بھیجا جائے، جہاں کے اجتماعات اور دینی دروس سے انھیں پند و نصیحتیں حاصل ہوں۔
اکائی : سنت اور شمائل
پہلا سبق : اللہ کے نبی ﷺ کا تعارف اور اہم اوصاف
سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی
نئے کلمات : (الرسول - المعجزة - عام الفيل - معتدل القامة- واسع الصدر- عظيم المنكبين- كثيف اللحية).
تعلیمی وسائل :
(بلیک بورڈ - کمپیوٹر ڈیوائس - تعلیمی کارڈ - تعلیمی بورڈ)۔
سبق کی حکمت عملیاں:
(رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی - قصہ گوئی پر مبنی حکمت عملی- باہمی تعاون سے سیکھنے پر مبنی حکمت عملی - برین اسٹورمنگ - مسائل حل کرنے پر مبنی حکمت عملی)
اقدار و رجحانات:
o یہ عقیدہ کہ بنی نوع انساں کو رسولوں کی ضرورت ہے۔
o دعوت الی اللہ کے راستے میں صبر کے زیور سے آراستہ ہونا۔
o اللہ کے نبی ﷺ کے اسوہ کو سامنے رکھتے ہوئے آپ کے اخلاق سے آراستہ ہونا۔
o دعوت کے بار آور ہونے میں حسن اخلاق کی اہمیت کا اندازہ لگانا۔
o نبی ﷺ سے محبت کی حرص۔
درس کی تمہید :
قصہ گوئی پر مبنی حکمت عملی کے تحت طلبہ کے آگے واقعۂ فیل اور اس سال کے اہم واقعات رکھیں اور اس دوران قصہ گوئی کی مہارتوں، جیسے آواز، زبان اور اسلوب وغیرہ کا خیال رکھیں۔ بعد ازاں کسی طالب علم کو ان واقعات کو دوہرانے کے لئے کہیں، تاکہ اطمینان ہو جائے کہ طلبہ نے واقعات کو بہتر انداز میں سمجھا ہے۔ اس کے بعد بلیک بورڈ پر عنوان لکھ دیں۔
سبق کی پیش کش :
مرحلہ نمبر (1)
معلم رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی کے تحت طلبہ کے رو برو ایک بورڈ رکھے، جس میں اللہ کے نبی ﷺ کا تعارف اور آپ کے اہم اوصاف موجود ہوں۔ معلم طلبہ کو اس پر غور کرنے کہے۔
طلبہ اندازہ لگائيں کہ اس بورڈ میں کیا کیا جان کاریاں اور معانی ہو سکتے ہیں۔
طلبہ نے جو کچھ اندازہ لگایا ہے، اس کے بارے میں ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کیجیے۔
مرحلہ نمبر (2)
معلم طلبہ کے ساتھ نبی ﷺ کے تعارف اور نسب کے بارے میں گفتگو کرے۔
ان پہلووں کی تشریح و وضاحت کرے، ان کی دلیل پیش کرے اور ان سے جڑی ہوئی حدیثوں کی تشریح کرے۔
معلم نبی ﷺ کے تعارف کے لیے برین اسٹورمنگ کے تحت طلبہ سے درج ذیل سوالات کر سکتا ہے :
سوال : نبی ﷺ کے اہم نام کیا ہیں؟
سوال : نبی ﷺ کب پیدا ہوئے، آپ کى پرورش وپرداخت کہاں ہوئى، اور آپ نے کب وفات پائی؟
سوال : نبی ﷺ کی کچھ بیویوں اور بچوں کے نام بتائیے۔
سوال : نبی ﷺ کی کچھ صفات کے بارے میں دلیل کے ساتھ بات کیجیے۔
مرحلہ نمبر (3)
مشکلات کے حل پر مبنی حکمت عملی کے تحت معلم طلبہ کے سامنے درج ذیل صورت حال رکھے :
انھیں ان صورتوں کے بارے میں رائے دینے اور یہ بتانے کہے کہ ان سے کیسے نمٹا جائے اور کیا طرز عمل اپنایا جائے۔
ہر صورت حال کو نبی ﷺ کے اخلاقی اوصاف سے جوڑا جائے، جن کی جانب دوران سبق اشارہ کیا جا چکا ہے :
ایک سائل میرے دوست احمد کے پاس آیا اور اس کے سامنے اپنی ضرورت رکھی، تو اس نے اسے دھتکار دیا۔ لگ تو ایسا رہا تھا کہ کہیں اسے کوئى ایذا نہ دے دے۔
خالد کے والد کا انتقال ہوا، تو وہ غم سے نڈھال ہو گیا اور رو رو کر آنکھوں کی بینائی ختم کر لی۔
دو دوستوں کے درمیان کسی فقہی مسئلے پر بحث ہوئی۔ بحث نے طول پکڑا تو ایک نے دوسرے کو مار لگا دی۔
احمد نے ایک عمر دراز شخص کو غلطی سے گاڑی سے کچل کر مار دیا۔ اب مقتول کے بچے اس بات پر مصر ہیں کہ وہ احمد کی جان اسی طریقے سے لیں گے۔
نتیجہ نکالنا :
باہمی تعاون پر مبنی تعلیم کی حکمت عملی استعمال کرتے ہوئے طلبہ سے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر درج ذیل عناصر کی تمکیل سے رہ نمائی حاصل کرکے سبق کے فوائد اخذ کرنے کو کہیں۔
اللہ تعالی نے نبیوں کو اس لیے بھیجا تھا کہ وہ لوگوں کو نکال کر لے جائيں ................................
اللہ نے جتنے نبی بھیجے، سب کو ایک خاص انداز میں تیار کیا اور اس کی تائید کی ...................................
ہمارے رسول ﷺ کا نام ہے محمد بن عبد اللہ .........................................
اللہ کے نبی ﷺ ............. کے دن عام الفیل کو ............. میں پیدا ہوئے۔
عام الفیل وہ سال ہے ................................
نبی صلی اللہ علیہ و سلم بڑے ہی خوب صورت تھے۔ آپ گورے، ...............................، لوگوں سے ہنس کر ملنے والے، معتدل ...............................، بڑے ................................، گھنی داڑھی والے ............................. تھے۔
اللہ کے نبی ﷺ کے کچھ اخلاق : ................، ...................، ....................
سرگرمیاں
بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر سیکھنے کی ہدایت دیں :
سرگرمی نمبر 1 نوعیت اور ہدف انفرادی۔ اللہ کے نبی ﷺ کے ناموں اور ان کے معنی سے آگاہی۔
ہدف نمبر 1
ہر طالب کو ایک خارجی ورق میں درج ذیل سوالوں کے جواب دینے کو کہیں۔
جوابات جمع کریں، ان کی تصحیح کریں اور درست جواب دینے والے کو انعام دیں۔
سرگرمی 1 :
نام وجہ تسمیہ
محمد کیوں کہ پہلے اور بعد کے لوگوں نے آپ کی پاک صفات کی بنا پر آپ کی تعریف کی ہے۔
احمد کیوں کہ آپ فضائل کے اعلی درجات پر فائز ہيں، اور اپنے رب کی سب سے زیادہ حمد و ثنا کرنے والے انسان ہیں۔
توبہ والے نبی کیوں کہ آپ اللہ کے حضور بہت زیادہ توبہ کیا کرتے تھے۔
عاقب آپ نبیوں کے بعد آئے۔ آپ آخری نبی تھے۔ آپ کے بعد کوئی نبی نہيں آنے والا۔
رحمت والے نبی کیوں کہ اللہ تعالی نے آپ کو ساری کائنات کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔
سرگرمی نمبر 2 نوعیت اور ہدف اجتماعی۔ نبی ﷺ کے اخلاق کا استنباط۔
ہدف نمبر 4، 5
معلم چار طلبہ کا انتخاب کرے۔
ہر طالب علم سرگرمی کے تحت وارد ایک نص کو کمپیوٹر ڈیوائس کے توسط سے پڑھے گا۔
ہر طالب علم سے اس نص سے مستفاد نبی ﷺ کے اخلاق میں سے ایک خلق اخذ کرنے کو کہا جائے۔
پانچ دیگر طلبہ کا انتخاب ساتھیوں کے جوابات کے اندازۂ قدر کے لیے کرے۔
نبی ﷺ کے اخلاق
رحمت و رافت
رفق و نرمی
جود و سخا
شجاعت
اندازۂ قدر
درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :
پہلے سوال کا جواب دینے کے لیے معلم اس کے تحت دی گئی عبارتوں کو یکے بعد دیگرے پیش کرے اور ہر عبارت کا جواب دینے کے لیے کچھ طلبہ کا انتخاب کرے، تاکہ اس کے صحیح یا غلط ہونے کا پتہ چل سکے۔
سوال 1 : ( ) - - ( ) - ( )
دوسرے اور تیسرے سوال کا جواب معلم طلبہ سے انفرادی طور پر طلب کرے اور جوابات کو اپنی کتابوں میں لکھنے کو کہے۔
اس دوران طلبہ کی کارکردگیوں پر نظر رکھنے کے لیے معلم ان کے پاس سے گزرتا رہے اور مثالی جواب دینے والے ایک طالب علم کا انتخاب کرکے اسے اپنا جواب ساتھیوں کے سامنے پڑھنے کے لئے کہے۔
سوال 2 : (571) - (عاقب) - (63 سال)۔
* تربیتی و وجدانی تنبیہات :
طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :
سبق میں مذکور احادیث کے علاوہ دوسری ایسی احادیث ڈھونڈنے میں طلبہ کی حوصلہ افزائی کریں، جو نبی ﷺ کے نسبی شرف پر مشتمل ہوں۔ طلبہ کو اس بات کی بھی ترغیب دیں کہ ان احادیث پر وہ اپنی زندگی میں عمل پیرا ہوں۔
مختلف مصادر جیسے کتابوں، دینی لوگوں اور الیکٹرانک مصادر وغیرہ سے زیادہ وسیع پیمانے پر اور گہرائی کے ساتھ نبی ﷺ کے اخلاق سے آگاہی حاصل کرنا، ان کی اہمیت کو سمجھنا، ان سے آراستہ ہونے کی کوشش کرنا اور ان کو اپنے اہل خانہ اور معاشرے میں عام کرنے کی کوشش کرنا۔
دوسرا سبق : نبی ﷺ کے خصائص
سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی
نئے کلمات :
(سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ - فُضِّلْتُ- جَوَامِعَ الْكَلِمِ- وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ- وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ).
تعلیمی وسائل :
(بلیک بورڈ - کمپیوٹر ڈیوائس - تعلیمی بورڈ - تعلیمی کارڈ)
تدریسی حکمت عملیاں :
(رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی - خود سوالی پر مبنی حکمت عملی - غلط تصورات کی تصحیح پر مبنی حکمت عملی)
اقدار و رجحانات :
o نبی ﷺ کی عظمت۔
o نبی ﷺ سے محبت رکھنے کی حرص۔
o نبی ﷺ کے فضائل اور خصائص کا اندازہ۔
سبق کی تمہید :
طلبہ کو نیچے دی گئی حدیث پڑھ کر سنائیں : نبی ﷺ نے فرمایا : "میں قیامت کے دن اولاد آدم کا سردار ہوں گا۔" (صحیح بخاری : 4712، صحیح مسلم : 2278) اس کے بعد ان سے درج ذیل دو سوال پوچھیں :
نبی ﷺ اس مقام کے حق دار کس بنیاد پر ٹھہرے؟
کیا آپ نبی ﷺ کے دیگر خصائص سے واقف ہيں؟
یہ باتيں اس درس کے ذریعے جانیں اور اس کے بعد بلیک بورڈ پر سبق کا عنوان لکھیں۔
سبق کی پیش کش :
مرحلہ نمبر (1)
رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی کی مدد سے اور سبق کے عناصر کے بارے میں ذہنی معرفت کو ترتیب دینے کے لیے معلم ایک بورڈ کے توسط سے نبی ﷺ کے دنیوی خصائص اور فضائل کی ایک تنظیمی تصویر دکھائے۔
مرحلہ نمبر (2)
خود سوالی پر مبنی حکمت عملی کی مدد سے طلبہ سے ان فضائل کے متعلق ایسے سوالات پیش کرنے کو کہا جائے، جو وہ جاننا چاہتے ہیں۔ ان کے سوالات جمع کیے جائيں اور ان کو بلیک بورڈ پر لکھ دیا جائے۔ معلم سبق کے مختصر عناصر پر مشتمل کچھ اضافی سوالات بڑھا سکتا ہے، جو درج ذیل سوالات کے درمیان سے بھی ہو سکتے ہیں :
سوال : نبی ﷺ کو تمام لوگوں کی جانب کیوں مبعوث کیا گيا تھا؟
سوال : نبی ﷺ کو جامع ترین الفاظ میں بات کرنے کی صلاحیت کیسے عطا کی گئی تھی؟
سوال : مٹی سے تیمم کرنے کا کیا حکم ہے؟
سوال : نبی ﷺ کی مدد رعب کے ذریعے کیسے کی گئی تھی اور آپ کے لیے غنیمتیں کیسے حلال کی گئی تھیں؟
مرحلہ نمبر (3)
معلم نبی ﷺ کے اخروی فضائل کی توضیح و تشریح کرے۔ اس دوران معلم ڈسپلے اسکرین کے توسط سے نبی ﷺ کے اخروی فضائل پر دلالت کرنے والی احادیث اور دلائل پیش کرے اور طلبہ سے ساتھ مل کر ان کو پڑھنے، ان کے معنی حل کرنے اور فوائد اخذ کرنے کے لئے کہے۔
نتیجہ نکالنا :
معلم طلبہ کو سبق سے حاصل اہم فوائد پر مشتمل ایک پیراگراف لکھنے کی ہدایت کرے۔
معلم کچھ طلبہ سے کہے کہ اپنے تحریر کردہ فوائد ساتھیوں کے سامنے پڑھیں اور ان کی مناسب مدد کریں۔
سرگرمیاں
بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر سیکھنے کی ہدایت دیں :
سرگرمی نمبر 1 نوعیت و ہدف انفرادی۔ عربی زبان سیکھنے کے فوائد سے آگاہی۔
ہدف نمبر 3
ہر طالب علم کو ہدایت کریں کہ انفرادی طور پر پہلی سرگرمی ادا کرے، اسے ایک خارجی کارڈ میں لکھے، آپ طلبہ کے کارڈز جمع کریں ان کا اندازۂ قدر کرنے کے بعد سب سے زیادہ باریک بینی اور بہتر انداز میں دیے گئے جواب کی نشان دہی کریں، اور صحیح جواب دینے والے طالب علم کی حوصلہ افزائی کریں۔
1- پیچھے مذکور سبھی۔
ہدف نمبر 2 نوعیت و ہدف انفرادی۔ نبی ﷺ کے حوض کے اوصاف اخذ کرنا۔
ہدف نمبر 4
آپ ہر طالب علم کو نیچے دی گئی سرگرمی کا جواب ایک خارجی ورق میں دینے کے لئے کہیں۔
صحیح جوابات کو یک جا کریں، ان کی نوک پلک درست کريں اور بہتر جواب دینے والے کو ایک کارڈ میں اپنا جواب ڈیزائن کرکے اسے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر نشر کرنے کو کہیں۔
اندازۂ قدر
درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :
تجویز پیش کی جاتی ہے کہ سوالات بلیک بورڈ پر یکے بعد دیگرے لکھ دیے جائيں، اور اس کے بعد بہتر یہ ہوگا کہ آپ آس پاس بیٹھنے والے ہر دو طالب علموں سے نیچے دیے گئے سوالات میں سے ہر سوال کا جواب ساتھ مل کر دینے کو کہیں۔
کسی ترتیب کا خیال رکھے بغیر کچھ طلبہ کا انتخاب کرکے ان کو باقی ساتھیوں کے سامنے اپنے جوابات رکھنے کے لئے کہیں۔
تجویز یہ پیش کی جاتی ہے کہ غلط جواب دینے والے طلبہ کو سبق کے مشمولات پڑھنے کے لئے کہیں۔
ان سے صحیح جواب نکالنا۔
سوال 2 : شافع سے مراد وہ شخص ہے، جسے شفاعت کی اجازت ملے گی اور مُشَفّع سے مراد وہ شخص ہے، جس کی شفاعت قبول ہوگی۔ ( )
* تربیتی و وجدانی تنبیہات :
طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :
طلبہ کو اس بات کی ترغیب دیں کہ وہ سبق میں مذکور نصوص کے علاوہ نبی ﷺ کے خصائص اور فضائل بیان کرنے والی کچھ اور آیات اور احادیث نبویہ جمع کریں، انھیں ایک بورڈ پر لکھیں اور اسے مسجد میں لٹکا دیں۔
تیسرا سبق : قرآن کریم پڑھنے کی فضیلت
سبق کی تمہید :
طلبہ کے سامنے درج ذیل سوال رکھیں، ان کے جواب دیکھیں اور انھیں جواب، سبق کے عنوان اور سبق کے ہدف کے درمیان ربط معلوم کرنے کے لئے کہیں۔
سوال : قراءت قرآن فقط اس کے حروف اور کلمات کو زبان سے ادا کرنے کا نام نہیں ہے۔ ایسے میں بتائیے کہ قراءت کا حقیقی مفہوم کیا ہے؟
سبق کی پیش کش :
مرحلہ نمبر (1)
معلم کے لیے ممکن ہے کہ دریافت پر مبنی حکمت عملی سے مدد لیتے ہوئے طلبہ کے سامنے درج ذیل عبارت اور اس کے تحت دیا گیا سوال رکھے : (قرآن کریم اللہ تعالی کی کتاب ہے، جسے اس نے اپنے نبی محمد ﷺ پر لوگوں کو حق اور خیر کی راہ دکھانے کے لیے اتارا ہے۔ لہذا ہمیں اسے پڑھنے کی حرص رکھنی چاہیے۔ .... لہذا یہ بتائيے کہ اسے پڑھنے کی کیا فضیلت ہے؟)
پھر ان کے سامنے جواب سے متعلق کچھ اختیارات رکھے۔ مثلا : (جنت حاصل ہونا، ایک نیکی حاصل ہونا، نیکیوں میں گنا در گنا اضافہ)، اس کے بعد ان کو صحیح جواب سے باخبر کرے۔
مرحلہ نمبر (2)
معلم طلبہ کو قراءت قرآن کی فضیلت واضح کرنے والی حدیث سننے کی ہدایت کرے، جس کے لیے وہ متعینہ آڈیو میڈیم کا استعمال کرے اور اس کے بعد حدیث کے ہر جملے کے بارے میں طلبہ کے ساتھ تبادلۂ خیال کرے۔
مرحلہ نمبر (3)
برین اسٹورمنگ حکمت عملی کے تحت معلم طلبہ سے قراءت قرآن کریم کے بارے میں اپنی معلومات پیش کرنے کے لئے کہے اور ان کے جوابات سننے کے بعد ان کے سامنے اس کیفیت کی توضیحی شکل رکھے۔
مرحلہ نمبر (4)
قراءت قرآن کی سبق میں پیش کردہ فضیلتوں کا خلاصہ ایک رہ نما بورڈ کی صورت میں پیش کریں، جس میں ہر فضیلت سے متعلق فوائد کی تشریح موجود ہو، بعد ازاں دو طالب علموں کا انتخاب ان فضیلتوں پر نوٹ چڑھانے کے لیے کریں، تاکہ پتہ چل سکے کہ انھوں نے سبق کا کہاں تک احاطہ کیا ہے۔
نتیجہ نکالنا :
آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ ہر طالب علم کو ایک نتیجہ یا فائدہ بیان کرنے کے لئے کہیں، جو اسے اس سبق سے حاصل ہوا ہے۔ ساتھ ہی ان کے بیانات کو بلیک بورڈ پر لکھیں، ان پر نوٹ چڑھائیں اور اس بات کی وضاحت کریں کہ ان کا سبق سے کتنا تعلق ہے۔
سرگرمیاں
بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر سیکھنے کی ہدایت دیں :
سرگرمی نمبر 1 نوعیت و ہدف انفرادی۔ تلاوت قرآن کریم کی فضیلت کا بیان۔
ہدف نمبر 6
معلم ہر طالب علم کو پہلی سرگرمی کے ضمن میں وارد دونوں حدیثيں لکھنے کے لئے کہے، ان کے ساتھ مل کر دونوں حدیثوں میں وارد مفرد کلمات کی تفسیر کرے، ان کی ہمت افزائی کرے کہ سیاق کی روشنی میں معانی پیش کریں، پھر ان کے ساتھ ان کی تفسیر اور دلالت کے بارے میں تبادلۂ خیال کرے، بعد ازاں ہر حدیث سے قرآن کریم کی فضیلت کی نشان دہی کرنے کے لیے ایک طالب علم کا انتخاب کرے اور سارے فضائل کو بلیک بورڈ پر لکھ دے، تاکہ طلبہ ان کو اپنی کتابوں میں لکھ لیں۔
قرآن کریم کا قیامت کے دن قرآن پڑھنے والے کے حق میں سفارش کرنا۔
قیامت کے دن صاحب قرآن کے درجات کا بلند کیا جانا۔
سرگرمی نمبر 2 نوعیت و ہدف اجتماعی۔ ایسے وسائل تجویز کرنا، جو قرآن کریم کے مراجعہ اور اتقان میں مددگار ہوں۔
ہدف نمبر 4
ہر دو طالب علم کو ایک کارڈ دیں، جس میں سرگرمی کے ضمن میں وارد حدیث لکھی ہو۔ انھیں ایک دوسرے کی مدد سے ایسے وسائل تجویز کرنے کے لئے کہیں، جو قرآن کریم کے مراجعہ اور اتقان میں مددگار ہوں۔ سارے کارڈز جمع کریں، ان کو اندازۂ قدر کے مرحلے سے گزاریں اور سرزد ہونے والی غلطیاں طلبہ کے سامنے رکھ دیں، تاکہ وہ خود ہی ان کی تصحیح کر لیں، بعد ازاں ان طلبہ کی تعریف کریں، جن سے کوئی غلطی نہ ہوئی ہو۔
سرگرمی نمبر 3 نوعیت و ہدف اجتماعی۔ تلاوت قرآن کریم کی ترغیب۔
ہدف نمبر 4
ہر کارڈ میں چوتھی سرگرمی کے ضمن میں اعمال میں سے ایک ایک عمل لکھ دیں اور دو طلبہ کا انتخاب کریں، تاکہ دونوں ساتھیوں کے سامنے کھڑے ہوکر سرگرمی کو پڑھیں، ان کی تشریح و توضیح کرنے کی کوشش کریں، مطلوب کی نشان دہی کریں، باقی طلبہ ان کو سنیں اور ان کی کارکردگی کا جائزہ لیں۔
اندازۂ قدر
درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :
سبق کے ضمن میں وارد سوالات یکے بعد دیگرے طلبہ کے سامنے رکھیں۔
پھر ہر سوال کا جواب دینے کے لیے دو دو طلبہ کا انتخاب کریں، دونوں کے جوابات حاصل کرنے کے بعد ان کے درمیان موازنہ کریں اور باقی ساتھیوں کو ان کے جوابات کے اندازۂ قدر کا موقع دیں۔
جواب دینے کا کام پورا ہونے کے بعد طلبہ سے کہیں کہ انھیں اپنی کتابوں میں لکھ لیں اور کسی بھی سوال کے بارے میں پس و پیش ہونے کی حالت میں آپ سے رجوع کریں۔
سوال 1 : ۔۔۔۔
سوال 2 : کعبہ شریف - دن - نیکیوں میں اضافہ در اضافہ۔
* تربیتی و وجدانی تنبیہات :
سبق کے دوران پڑھی گئی باتوں کی روشنی میں طلبہ کو درج ذیل کاموں کی ہدایت کریں :
طلبہ قرآن کریم پڑھنے کے فضائل سے اسے دن رات پابندی سے پڑھنے کی رہ نمائی حاصل کریں۔
مختلف طرح کی سرگرمیاں انجام دینے کی کوشش جو اس مقصد کے حصول میں مدد گار ہوں۔
چوتھا سبق : گناہوں کو مٹانے والی چيزیں
سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی
نئے کلمات : (الجمعة إلى الجمعة - رمضان إلى رمضان – مُكفِّرات – الكبائر).
تعلیمی وسائل :
(آڈیو میڈیم - کمپیوٹر ڈیوائس - ڈسپلے اسکرین - بلیک بورڈ - تعلیمی بورڈ)۔
تدریسی حکمت عملیاں :
(تعمیر پر مبنی حکمت عملی - حل مشکلات پر مبنی حکمت عملی - غلط تصورات کی تصحیح پر مبنی حکمت عملی - حوض ماہی پر مبنی حکمت عملی - تجزیاتی غور و فکر پر مبنی حکمت عملی)۔
اقدار و رجحانات :
o نیکی کے کاموں کی پابندی۔
o اسلام میں نماز اور روزے کی اہمیت کا احساس۔
o کبیرہ گناہوں میں ملوث ہونے سے خبردار رہنا اور اس کى خطرناکی محسوس کرنا۔
* سبق کی تمہید :
طلبہ کو آڈیو میڈیم کے توسط سے درج ذیل آیت سننے اور قاری کے پیچھے پیچھے دوہرانے کے لئے کہیں۔ پھر اس کے معنی اور اس سے حاصل ہونے والی رہ نمائیوں کے بارے میں ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں اور سبق میں شامل حدیث سے اس کا ربط واضح کریں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "دن کے دونوں سروں میں نماز برپا رکھ اور رات کی کئی ساعتوں میں بھی۔ یقیناً نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں۔." (سورہ ہود : 114)
ان کے سامنے حدیث کے عنوان کى وضاحت کریں پھر اسے بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔
* سبق کی پیش کش :
مرحلہ نمبر (1)
ڈسپلے اسکرین کے توسط سے حدیث پیش کریں، پھر اسے ان کے سامنے پڑھیں اور ان کو اپنے پیچھے پیچھے دوہرانے کے لئے کہیں۔ اس کے بعد کچھ طلبہ کا انتخاب ساتھیوں کے سامنے پڑھنے کے لیے کریں اور اس بات کا دھیان رکھیں کہ خواندگی درست اور عمدہ ہو رہی ہے۔
مرحلہ نمبر(2)
تعمیر پر مبنی حکمت عملی پر انحصار کرتے ہوئے طلبہ کو اس بات کا موقع دیں کہ وہ راوی حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں اپنی معلومات کو کھنگالیں، ان کى پیش کردہ معلومات پر مناسب تبصرۃ کریں اور بعد ازاں ان کے بارے میں ان کی معلومات کو درج ذیل نکات پر مشتمل کچھ اضافی معلومات کے ذریعے توانائی بخشیں : (ان کا نام، کنیت کا سبب، دخول اسلام، فضائل اور وفات)، اس کے بعد دو طلبہ کا انتخاب کریں، جو یہ بتائيں کہ انھوں نے اس جلیل القدر صحابی کے بارے میں کیا کچھ جانا اور ان کی شخصیت کے کن پہلووں نے انھیں متاثر کیا۔
مرحلہ نمبر (3)
طلبہ کے سامنے درج ذیل صورت حال پیش کریں، جس میں ایک مشکل حالت کا ذکر ہے۔ طلبہ سے اس پر غور کرنے اور اپنی رائے دینے کے لئے کہیں، اور اس کے بعد ان کے جوابات کو حدیث کے معانی اور فوائد کے بیان کا نقطۂ آغاز بنائيں۔
(احمد ایک محنتی اور با ادب طالب علم ہے۔ نماز روزے کی پابندی کرتا ہے۔ ہمیشہ سچ بولتا ہے۔ لیکن ایک بار اس کے ساتھ ایک عجیب و غریب حادثہ ہو گیا۔ اسے فٹ بال کھیلنے کی وجہ سے گھر لوٹنے میں دیر ہوگئی اور جب اس کے والد نے دیر ہونے کی وجہ پوچھی، تو بتا دیا کہ آج مدرسے میں ایک اضافی گھنٹی لی ہے۔ اس نے پہلی بار جھوٹ بولا تھا۔ بہت شرمندہ ہوا۔ دوسرے دن دوست حسن سے ملاقات ہوئی، تو سب کچھ بتا دیا۔ بتایا کہ وہ اپنے اس گناہ کا کفارہ ادا کرنا چاہتا ہے۔ اس کے دوست نے کہا کہ جھوٹ بولنا ایک بہت بڑا گناہ ہے اور اس کے لیے خصوصى توبہ ضروری ہے۔)
مرحلہ نمبر (4)
طلبہ کے سامنے درج ذیل موقف رکھیں اور ان سے اس کے بارے میں رائے دینے اور یہ بتانے کے لئے کہیں کہ اس حدیث کی روشنی میں یہ موقف کتنا درست ہے اور کتنا غلط؟ طلبہ کی جانب سے حاصل ہونے والے جوابات کے بارے میں ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کرنے کے بعد اس حدیث کی روشنی میں صحیح جواب کی نشان دہی کریں :
(ایک ملازم رشوت لیتا ہے، سودی لین دین کرتا ہے اور اپنے ان کاموں کو صحیح ٹھہرانے کے لیے دلیل یہ پیش کرتا ہے کہ وہ ہر روز وقت پر نماز پڑھتا ہے اور جمعہ کے دن جمعہ کی نماز ادا کرتا ہے، تاکہ یہ نمازیں اس کے ان اعمال کا کفارہ بن جائيں۔)
* نتیجہ نکالنا :
معلم طلبہ کے سامنے ایک بورڈ رکھے اور اس پر ہر طالب علم کو حدیث کا ایک ایک فائدہ لکھنے کے لئے کہے۔ بعد ازاں ان کو کتاب کھول کر اس میں دیے ہوئے فوائد اور توجیہات دیکھنے کو کہے، تاکہ بورڈ پر لکھے گئے فوائد سے ان کا موازنہ کیا جا سکے۔
* سرگرمیاں :
بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر سیکھنے کی ہدایت دیں :
سرگرمی نمبر 1 نوعیت اور ہدف جوڑے پر مبنی۔ پانچ وقت کی نمازیں پابندی کے ساتھ پڑھنے کے ضروری ہونے کی اہمیت کا بیان۔
ہدف نمبر 4 - 5
معلم کسی محنتی طالب علم کا انتخاب کرے اور اسے سرگرمی کے تحت وارد حدیث طلبہ کے سامنے پڑھنے کے لئے کہے۔
طلبہ کے ساتھ حدیث کے معنی کے بارے میں تبادلۂ خیال کرنے کے بعد دو دو طلبہ کو ایک دوسرے کی مدد سے اس کے اہم فوائد بیان کرنے کی ہدایت کریں۔ ساتھ ہی اس حدیث اور سبق میں شامل حدیث کے درمیان ربط دکھانے کے لیے ان کی تجزیاتی اور استخراجی صلاحیتوں کو بروئے کار لائيں اور اسے واضح اور مختصر عبارت میں بیان کرنے کے لئے کہیں۔
طلبہ کے تین گروہ منتخب کریں، انھیں اپنی اپنی بات رکھنے کا موقع دیں، ان کے درمیان موازنہ کریں، سب سے درست جواب کی نشان دہی کریں اور درست جواب دینے والے طلبہ کی ہمت افزائی کریں۔
سرگرمی نمبر 2 نوعیت اور ہدف اجتماعی۔ مسلمان پر نیکی کے کاموں کے اثر کی نشان دہی۔
ہدف نمبر 3
سرگرمی کی انجام دہی کے لیے حوض ماہی حکمت عملی کو بروئے کار لایا جائے۔ معلم کچھ طلبہ کو حوض ماہی کی شکل میں ایک دائرے میں بیٹھنے اور باقی طلبہ کو دائرے کے باہر بیٹھنے کا حکم دے۔
معلم بند دائرے کے درمیان موجود طلبہ سے سرگرمی کے تحت وارد حدیث کے بارے میں اور نیکی کے کاموں کے مسلمان پر اثر کے بارے میں آپس میں بات کرنے کے لئے کہے۔ انھیں جوابات کے اندر انوکھاپن اور تنوع پیدار کرنے پر حوصلہ افزائی کرے اور گروہ میں شامل طلبہ کے جوابات کو لکھے، جب کہ بڑے دائرے میں موجود باقی طلبہ انھیں دھیان سے دیکھیں۔
دونوں دائروں میں بیٹھے طلبہ اپنی اپنی جگہ بدل لیں اور معلم اور ساتھیوں کی جانب سے ان کے ساتھ یہی عمل دوہرایا جائے۔ پھر سارے طلبہ یک جا ہو جائيں اور حاصل شدہ آثار کے بارے میں آپس میں تبادلۂ خیال کریں۔ معلم بھی ان کے ساتھ گفتگو کر کے ان کی کارکردگی پر تبصرہ کرے اور درست جواب تک پہنچے۔
سرگرمی نمبر 3 نوعیت اور ہدف انفرادی / جوڑے پر مبنی۔ حدیث کو دوہرانا اور یاد کرنا۔
ہدف نمبر 6
معلم طلبہ کو پہلے انفرادی طور پر حدیث دوہرانے کی ترغیب دے، پھر ہر دو طالب علم کو ایک دوسرے کو حدیث سنانے کی ہدایت کرے، دونوں کو اس بات کی بھی ہدایت کریں کہ وہ اپنے ساتھی کے حفظ اور سنانے کے بارے میں اپنے خیالات لکھیں، تاکہ دونوں ایک دوسرے کی رائے سے فائدہ اٹھا سکيں۔ اس دوران معلم ان کے آس پاس سے گزرتے رہے، تاکہ ان کی کارکردگی سے باخبر رہے۔ پھر کچھ طلبہ کا انتخاب کرکے انھیں اپنے ساتھیوں کے سامنے حدیث سنانے کے لئے کہے، تاکہ پتہ چل سکے کہ انھوں نے یاد کیا ہے یا نہيں۔
٭ اندازۂ قدر :
درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :
پہلے سوال کا جواب دینے کے لیے اس کے تحت وارد عبارتوں میں سے ہر عبارت کو طلبہ کے سامنے یکے بعد دیگرے پڑھیں۔ عبارت صحیح ہونے کی صورت میں طالب علم اپنا ہاتھ اوپر اٹھائے۔ ان کے جوابات کا اندازۂ قدر کریں اور صحیح جواب کی نشان دہی فرمائيں۔
سوال 1 : ۔ ۔ ۔
معلم کچھ طلبہ کا انتخاب کرے، تاکہ ان میں سے ہر ایک دوسرے سوال کے کسی ایک عنصر کا جواب دے۔ کسی سے کوئی غلطی ہونے کی صورت میں معلم اسے سبق کے مشمولات کو پڑھنے اور خود سے صحیح جواب نکالنے کے لئے کہے۔
سوال 2 : (علم سکھانا - گناہ معاف کرنا - چھوٹے گناہ - ماہ رمضان)
ایک طالب کا انتخاب کریں اور اسے بلیک بورڈ پر تیسرے سوال کا جواب لکھنے کے لئے کہیں۔ دراصل اسے پوری حدیث لکھنے کے کا حکم دیں۔ غلطی ہونے کی صورت میں اسے پوری حدیث کتاب میں دیکھنے اور اسے مکمل طور پر لکھنے کا طریقہ سمجھنے کے لئے کہیں۔
ہر طالب علم کو چوتھے سوال کا جواب انفرادی طور پر دینے کی ہدایت کریں۔ بعد ازاں کچھ طلبہ کا انتخاب کر کے اپنے جوابات پیش کرنے کے لئے کہیں، ان جوابات کا موازنہ کریں اور بتائيں کہ کون سا جواب سے زیادہ درست ہے۔
٭ تربیتی اور وجدانی تنبیہات :
طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :
ہر طالب علم کو ترغیب دیں کہ حدیث سے سیکھی ہوئی رہ نمائیوں کو اپنی عبادتوں پر نافذ کریں۔ بالخصوص عبادتوں اور نیکی کے کاموں کی پابندی اور بڑے گناہوں سے بچنے کے پہلو پر دھیان دیں۔
ہر طالب علم مختلف بشری یا الیکٹرانک یا پرنٹ مصادر سے رجوع کرے اور ان کے توسط سے نماز کی فضیلت واضح کرنے اور اس حدیث میں کہی گئی بات کو مضبوط کرنے والے بعض نصوص سے آگاہ ہو۔ بعد ازاں طلبہ سے کہیں کہ وہ جمع کردہ نصوص کو آپس میں بدل لیں، تاکہ ان کو اس طرح کے بہت سے نصوص سے آگاہ ہونے کا موقع ملے۔
پانچواں سبق : اللہ تعالى سے حسن ظن
سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی۔
نئے کلمات : (ملأ– الشبر– ذِرَاعًا– باعًا– هرولة).
تعلیمی وسائل :
(کمپیوٹر ڈیوائس - ڈسپلے اسکرین - بلیک بورڈ - تعلیمی بورڈ - تعلیمی تصویریں - تعلیمی کارڈ)
تدریسی حکمت عملیاں :
(تعلیمی پہیلیوں پر مبنی حکمت عملی - حل مشکلات پر مبنی حکمت عملی - وصف پر مبنی حکمت عملی - استماع مثلث پر مبنی حکمت عملی)۔
اقدار و رجحانات :
o اچھا کام کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ سے اچھا گمان رکھنا۔
o اللہ کا سری اور جہری ذکر کرنے کی حرص۔
o مخلوق پر اللہ کی بے پایاں رحمت اور فضل و کرم کا احساس۔
o اطاعت واستقامت کى طرف دعوت دینے میں کوشاں ہونا۔
* سبق کی تمہید :
معلم سے گزارش ہے کہ وہ بلیک بورڈ پر نیچے درج عبارت لکھے، طلبہ سے اس کا مطلب بیان کرنے کے لئے کہے اور پھر ان سے ملنے والے جوابات کو حدیث قدسی کی تعریف اور حدیث قدسی اور حدیث نبوی کے درمیان فرق سمجھانے کے لیے نقطۂ آغاز کے طور پر استعمال کرے۔
(وہ احادیث جنھیں نبی کریم ﷺ اللہ تعالی سے روایت کرتے ہیں۔ وہ قرآن بھی نہیں ہیں، .... اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تو پھر یہ کیا ہیں؟)
طلبہ کے سامنے حدیث کے عنوان کى وضاحت کریں اور پھر اسے بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔
* سبق کی پیش کش :
مرحلہ نمبر(1)
طلبہ کے سامنے بورڈ یا ڈسپلے اسکرین کے توسط سے حدیث پیش کریں، اسے پڑھ کر سنائیں، انھیں اپنے پیچھے پیچھے دوہرانے کے لئے کہيں اور اس کے بعد تین طلبہ کا انتخاب کریں، جو ساتھیوں کے سامنے اسے درست طریقے سے پڑھ سکيں۔
مرحلہ نمبر (2)
طلبہ سے حدیث کے راوی کا تعارف (نام، پرورش، ہجرت، فضائل اور وفات) ذہن و دماغ میں تازہ کرنے کے لئے کہیں، بعد ازاں دو طلبہ کا انتخاب کریں، جو اس جلیل القدر صحابی کے بارے میں اپنی معلومات کو مختصر انداز میں بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے ان اہم فضائل کو پیش کر سکیں، جو ان کی توجہ کھینچتے ہیں اور جنھیں اپنی زندگی میں اتارنا چاہتے ہيں۔
مرحلہ نمبر (3)
طلبہ کے سامنے درج ذیل صورت حال رکھیں، جس میں ایک ایسی مشکل حالت کا ذکر ہے، جس کا سامنا کئی لوگوں کو کرنا پڑتا ہے۔ طلبہ سے کہیں کہ اس صورت حال پر غور کریں، اس کے بارے میں اپنی رائے دیں اور بتائيں اسے کیسے حل کیا جائے؟ اب طلبہ سے جو جواب ملیں، انھیں طلبہ کو حدیث سے رو برو کرانے، اس کے مفرد کلمات کے معانی اور فوائد بیان کرنے کے لیے نقطۂ آغاز کے طور پر استعمال کریں :
(سعید نے ایک بار جھوٹی گواہی دے دی، لیکن جلد ہی اسے احساس ہو گیا کہ اس نے ایک بڑا گناہ کیا ہے، لہذا اللہ کے حضور توبہ کی اور یہ فیصلہ کیا کہ اب اللہ کو ناراض کرنے والا کوئی کام نہیں کرے گا، لیکن اس کے باوجود اسے ایسا لگتا ہے کہ اللہ اسے معاف نہیں کرے گا اور اس کی توبہ قبول نہیں کرے گا)۔
مرحلہ نمبر (4)
معلم حدیث میں پیش کردہ بندے کے اللہ کا ذکر کرنے، قربت حاصل کرنے اور بدلے میں اللہ کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کے مظاہر کو پرکشش اور اثر انگيز انداز میں بیان کرے اور اس دوران ایسی وضاحتی تصویریں پیش کرے، جو بالشت، ہاتھ اور گز کے مفہوم کی جانب اشارہ کرتے ہوں۔
اس کے بعد دو طلبہ کا انتخاب کرے، جو اس بیان سے پیدا ہونے والے احساسات کے ساتھ ساتھ یہ بھی بیان کریں کہ ان باتوں کو جاننے کے بعد ان پر کیا واجب ہوتا ہے۔
٭ نتیجہ نکالنا :
معلم ہر طالب علم سے سبق سے حاصل کردہ ایک ایک فائدہ یا رہ نمائی سامنے رکھنے کے لئے کہے، طلبہ کے جوابات دیکھے، ان کے ساتھ ديگر مفید باتیں جوڑے اور اس کے بعد ان کے سامنے ایک بورڈ رکھے، جس میں حدیث سے متعلق سبھی مفید باتیں لکھی ہوں۔
* سرگرمیاں :
بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر سیکھنے کی ہدایت دی جائے :
سرگرمی نمبر 1 نوعیت اور ہدف اجتماعی۔ موت کے وقت اللہ سے اچھا گمان رکھنے کی سعادت نصیب ہونے کے سبب اور اس کے وسیلہ کی معرفت۔
ہدف نمبر 4
معلم طلبہ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دے۔ ہر گروہ میں تین طلبہ ہوں۔ خود سرگرمی کے ضمن میں وارد دونوں نصوص کو بلیک بورڈ پر لکھے اور طلبہ کے سامنے پڑھے اور ان سے جڑے ہوئے سوالات کرے۔
(معلم) پہلے گروہ کو سوالات کے جوابات پیش کرنے کے لئے کہے اور دوسرے گروہ کو حکم دے کہ پہلے گروہ کے جوابات دھیان سے سنے، ان کے بارے میں تبصرہ کرے اور اپنى رائے پیش کرے، جس سے جوابات کى وضاحت ہوجائے ان کا بیان تفصیلى طور پر ہوجائے اور ان کى وجوہات سامنے آجائیں۔ جب کہ تیسرا گروہ اپنے دونوں ساتھی گروہوں کی کارکردگیوں کو دھیان سے دیکھے اور ان کے دوران ہونے والی سرگرمیوں کو تحریر کرے، تاکہ ان کو معلم کے سامنے پیش کیا جا سکے۔
معلم تینوں گروہوں کی کارکردگیوں پر نظر رکھے، تینوں گروہوں کی تحریر کردہ باتوں اور نتیجے کے طور پر سامنے آنے والے جواب کو دیکھے، سب پر نوٹ چڑھائے، طلبہ کے ساتھ مل کر درست ترین جواب تک پہنچے اور سب سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے گروہ کی نشان دہی کرے۔
سرگرمی نمبر 2 نوعیت اور ہدف انفرادی / اجتماعی۔ بعض موقفوں کے بارے میں رائے دینا اور یہ جاننا کہ وہ اللہ تعالی سے اچھا گمان رکھنے پر کتنا دلالت کرتے ہیں۔
ہدف نمبر 4 - 5
معلم سرگرمی کے تحت وارد موقفوں میں سے کسی موقف کو چند کارڈوں میں لکھ دے اور ان کو کسی ترتیب کا خیال رکھے بغیر طلبہ کے درمیان بانٹ دے۔
معلم ہر موقف کو یکے بعد دیگرے پڑھے، پیش کردہ موقف کا کارڈ رکھنے والے طلبہ کی پہچان کرے، اس کے بارے میں ان کی رائے اور رائے قائم کرنے کے سبب کا استقبال کرے، ان کے جوابات کے درمیان موازنہ کرے اور درست ترین جواب کی نشان دہی کرے۔ اس عمل کو اس وقت تک دوہراتے رہے، جب تک تمام موقفوں کے اندازۂ قدر کا کام پورا نہ ہو جائے۔
سرگرمی نمبر 3 نوعیت اور ہدف انفرادی۔ کچھ نیکی کے کاموں کی تحدید، جن کی پابندی کی جائے گی۔
ہدف نمبر 3 - 5
معلم ہر طالب علم سے ایک خاجی کارڈ میں تین تین نیکی کے کام لکھنے کے لئے کہے، جن کی وہ پابندی کرتے ہیں اور ان پر ثواب کی امید رکھتے ہیں۔ بعد ازاں سبھی کارڈوں کو جمع کر کے اندازۂ قدر کرے اور دیکھے کہ ان کے درمیان کس حد تک مشابہت ہے۔ ساتھ ہی طلبہ کو نیکی کے ان کاموں کی پابندی کرنے اور انھیں زیادہ سے زیادہ کرنے کی ترغیب دے۔
* اندازۂ قدر :
درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :
پہلے اور دوسرے سوال کا جواب دینے کے لیے ان کے تحت وارد عبارتوں کو یکے بعد دیگرے پڑھیے، طلبہ کے جوابات سے رو برو ہوں اور ہر طالب علم کو اس کے کسی ساتھی کے جواب کا اندازۂ قدر کرنے کا موقع دیں۔
سوال 1 : (✓) - (✓) - (✖)
سوال 2 : (اللہ تعالی - فرشتے - موت)
کسی طالب علم کو بلیک بورڈ پر تیسرے سوال کا جواب لکھنے کے لئے کہیے۔ غلطی ہونے کی صورت میں اسے کتاب سے حدیث پڑھنے اور صحیح طریقہ سے لکھنا سیکھنے اور دوبارہ بلیک بورڈ پر لکھنے کے لئے کہیے۔
ہر طالب علم کو انفرادی طور پر چوتھے سوال کا جواب دینے کے لئے کہیے۔ کچھ طلبہ کا انتخاب جواب پیش کرنے کے لیے کریں۔ ان کے درمیان موازنہ کریں اور درست ترین جواب کی نشان دہی کریں۔
* تربیتی و وجدانی تنبیہات :
طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :
ہر طالب علم کی کوشش ہو کہ حدیث سے سیکھی ہوئی باتوں پر عمل کرے۔ خاص طور سے اللہ سے اچھا گمان رکھنے، اچھے عمل کرنے اور اجر و ثواب حاصل کرنے کے لیے اللہ کا تقرب حاصل کرنے پر۔
ہر طالب علم اپنے گھر کے لوگوں کے ساتھ ان رویوں کے بارے میں تبادلۂ خیال کرے، جو اللہ سے اچھا گمان رکھنے کے منافی ہيں۔ ان رویوں کے اسباب اور ان افراد کو بیدار کرنے اور ان کی رہ نمائی کرنے کے طریقے کے بارے میں بھی گفتگو کرے۔
چھٹا سبق : سات طرح کے لوگوں کو اللہ قیامت کے دن اپنا سایہ فراہم کرے گا۔
سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی۔
نئے کلمات : (ظِلِّهِ - دعتْهُ - فاضت عيناه).
تعلیمی وسائل :
(کمپیوٹر ڈیوائس - ڈسپلے اسکرین - بلیک بورڈ - تعلیمی کارڈ)
تدریسی حکمت عملیاں :
(تمہیدی مواد کی پیش کش پر مبنی حکمت عملی - رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی - باہمی تعاون سے سیکھنے پر مبنی حکمت عملی)
اقدار و رجحانات :
o اس بات پر ایمان کہ اللہ تعالی قیامت کے دن اپنے اطاعت گزار بندوں کو امتیاز عطا کرے گا اور ساری مخلوقات کے سامنے ان کی عزت افزائی کرے گا۔
o اللہ کی اس نوازش کا احساس کہ اس نے ایمان والوں کو کچھ ایسے اعمال بتائے ہیں، جو قیامت کے دن کی ہول ناکیوں کو ہلکا کریں گے۔
o اس بات کی کوشش کہ جوانی کے مرحلے کو اللہ کی اطاعت میں لگایا جائے۔
o خلوص کے ساتھ صدقہ کرنے اور مسجد آباد کرنے کی فضیلت کا اندازہ لگانا۔
o حرام خواہشات سے اجتناب کہ آخرت میں اس کا بڑا اجر و ثواب ہے۔
درس کی تمہید :
تمہیدی مواد کی پیش کش پر مبنی حکمت عملی کی مدد سے معلم طلبہ کے سامنے درج ذیل موقف اور اس سے جڑے ہوئے سوالات رکھے، ان کے جوابات سنے، ان میں سے جداگانہ جوابات کو بلیک بورڈ پر لکھے اور انھیں دھیان سے سبق پڑھنے کے لئے کہے؛ کیوں کہ سبق کے توسط سے طلبہ خود ہی صحیح جواب تک پہنچ سکتے ہيں۔
(محمد پنجگانہ نمازیں مسجد میں ادا کرتا ہے اور غریبوں کے درمیان صدقات تقسیم کرنے ميں اہل شہر کی مدد کرتا ہے، چناں چہ امام مسجد نے اس سے کہا : محمد! تم اچھا کر رہے ہو۔ میں دعا گو ہوں کہ تم ان خوش نصیب لوگوں میں شامل ہونے کی سعادت حاصل کر سکو، جن کو اللہ تعالی قیامت کے دن اپنے عرش کے سایے میں جگہ عطا فرمائے گا۔ محمد نے پوچھا : امام صاحب! ذرا یہ بتائيں کہ آپ کی بات کا کیا مطلب ہے اور عرش کے کیا معنی ہیں؟)
معلم سبق کا عنوان بلیک بورڈ پر لکھے۔
درس کی پیش کش :
مرحلہ نمبر (1)
معلم طلبہ کو اس حدیث کو دیکھنے اور اس کی خاموش خواندگی کرنے کی ہدایت کرے۔
معلم کمپیوٹر ڈیوائس کے توسط سے حدیث پیش کرے، اسے طلبہ کے سامنے پڑھے اور اس کے مشکل الفاظ نکال کر ان کی وضاحت کرے۔
کچھ طلبہ منتخب کرکے انھیں اپنے ساتھیوں کے سامنے حدیث کی صحیح خواندگی کرنے کا حکم دے اور خود ان کی خواندگیوں میں ہونے والی غلطیوں کی تصحیح کرے۔
مرحلہ نمبر (2)
معلم طلاب کو راوی حدیث کا تعارف کرائے (ان کے نام، کنیت، زندگى، فضائل اور وفات) کو محور بنا کر۔
ایک طالب علم منتخب کرے، جو راوی حدیث کے بارے میں سکیھى ہوئى باتوں کو، اپنے الفاظ میں بیان کرے۔
مرحلہ نمبر (3)
رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی کے تحت معلم حدیث کی تشریح اور پیش کش کرے۔
معلم سبق کی بنیادی فکر پر مشتمل ایک توضیحی شکل پیش کرے اور اس کے بارے میں طلبہ سے تبادلۂ خیال کرے۔ وہ بنیادی فکر درج ذیل ہے : (وہ لوگ جن کو اللہ تعالی قیامت کے دن اپنا سایہ عطا کرے گا)۔
معلم طلبہ کے سامنے اس بنیادی خیال کی وضاحت کرے، حدیث سے اس کا ربط بتائے اور طلبہ جو کچھ جاننا چاہتے ہیں، اس کے بارے میں ان کے سوالات کا استقبال کرے۔
مرحلہ نمبر (4)
باہمی تعاون سے سیکھنے پر مبنی حکمت عملی کا استعمال کرتے ہوئے طلبہ کے ہر گروہ کو ان سات لوگوں کے اعمال و صفات کی نشان دہی کرنے کے لئے کہیں، جن کو اللہ تعالی سایہ عطا فرمائے گا۔ ان کی حوصلہ افزائی بھی کیجیے کہ وہ الگ الگ طرح کے بہت سے سوالات کریں۔
ہر گروہ کا لیڈر اس گروہ کی کارکردگیوں کو سامنے رکھے اور ہر گروہ کی اس بات پر حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ دوسرے گروہوں کے جوابات کی روشنی میں اپنے جوابات پورے کرے۔
نتیجہ نکالنا :
کچھ طلبہ کا انتخاب کریں اور ان میں ہر ایک سے کہیں کہ اپنے اسلوب ميں حدیث سے سیکھی ہوئی کوئی ایک کار آمد بات اور رہ نمائی اور اسے اپنی زندگی میں اتارنے کا طریقہ بیان کریں۔ بعد ازاں آپ ان کی مناسب حوصلہ افزائی کریں۔
سرگرمیاں
بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر کرنے کی ہدایت دیں :
سرگرمی نمبر 1 نوعیت و ہدف انفرادی۔ طلبہ کو صفات کے درمیان ربط پیدا کرنے کی مشق کرانا۔
ہدف نمبر 3
تمام طلبہ کو ذیل کی سرگرمی پر مشتمل ایک ایک تعلیمی کارڈ تقسیم کریں۔ طلبہ جواب دے دیں، تو کارڈوں کو جمع کر کے ان کی تصحیح کریں اور اس کے بعد سب سے عمدہ جواب کا انتخاب کر کے اسے طلبہ کے سامنے رکھیں، تاکہ ان کو اس سے مطلع کیا جا سکے۔
سرگرمی نمبر 2 نوعیت و ہدف اجتماعی۔ اللہ کے لیے محبت کرنے کی فضیلت کا بیان۔
ہدف نمبر 2، 3
طلبہ کو دو گروہوں میں تقسیم کر دیں اور پہلے گروہ کو حدیث پڑھنے اور دوہرانے کا مکلف بنائیں، جب کہ دوسرے گروہ کو زبانی طور پر سرگرمی کا جواب دینے کی ذمے داری سونپیں۔ دونوں گروہوں پر دھیان رکھیں اور رہ نمائی کرتے رہیں۔
پھر دونوں گروہ ذمہ داریاں بدل لیں۔ اب دوسرا گروہ حفظ کرے اور پہلا گروہ تصحیح کرے۔ جب کہ معلم دونوں پر دھیان رکھے اور رہ نمائی کرے۔
اندازۂ قدر
درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :
طلبہ کے درمیان کچھ کارڈ تقسیم کر دیں، جن میں سے کچھ میں (ہاں) اور کچھ میں (نہیں) درج ہوں۔ پھر پہلے سوال کے ضمن میں وارد عبارتوں کو یکے بعد دیگرے پیش کریں، طلبہ سے عبارت سے مناسبت رکھنے والا کارڈ اوپر اٹھانے کو کہیں اور غلطی کرنے والے طالب علم کی نشان دہی کریں، تاکہ اس کے ساتھ اس غلطی کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا جا سکے۔
چار طلبہ کا انتخاب کریں، تاکہ ہر طالب علم دوسرے سوال میں وارد کسی ایک عنصر کا جواب دے۔ کسی سے غلطی ہونے پر اسے کتاب سے صحیح جواب نکالنے کے لئے کہیں۔
ہر طالب علم انفرادی طور پر تیسرے اور چوتھے سوال کا جواب دے۔ اس کے بعد کچھ طلبہ سے اپنے جوابات پڑھنے، ساتھیوں کو ان کا اندازۂ قدر کرنے اور غلطی ہونے کی صورت میں صحیح جواب بتانے کے لئے کہیں۔
سوال 1 : (ہاں) - (نہيں) - (نہیں) - (ہاں) - (نہيں)
سوال 2 : قاضی - عفت - اللہ تعالی کی خشیت۔
* تربیتی اور وجدانی تنبیہات :
طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :
اس بات کی تنبیہ کہ عمر کو اللہ کی عبادت میں لگایا جائے، سبق کے دوران پیش کردہ وسائل سے مدد لی جائے اور اہل علم کی رہ نمائی میں ان کو انفرادی یا اجتماعی صورت میں عمل میں لانے کی کوشش کی جائے۔
اکائی : فقہ احکام
پہلا سبق : طہارت اور وضو کا طریقہ
دورانیہ : ایک گھنٹی
نئے کلمات : (الحدث الأكبر - الحدث الأصغر - شَطْرُ).
تعلیمی وسائل :
(بلیک بورڈ - کمپیوٹر ڈیوائس - تعلیمی بورڈ - تعلیمی کارڈ)
تدریسی حکمت عملیاں :
قصہ گوئی پر مبنی حکمت عملی - تمہیدی مواد کی پیش کش پر مبنی حکمت عملی - اکتشاف پر مبنی حکمت عملی - کردار کی ادائيگی پر مبنی حکمت عملی)
اقدار و رجحانات :
طہارت اور وضو کی فضیلت کا اندازہ۔
o مسلمان کی زندگی میں طہارت کی اہمیت کا شعور۔
نجاست کا سبب بننے والی تمام چیزوں سے اجتناب۔
درس کی تمہید :
سبق کی تمہید کے طور پر طلبہ کے سامنے درج ذیل موقف رکھ سکتے ہيں : (ابراہیم نے ایک کپڑا پہن کر نماز پڑھی، جو کپڑا اس کے تین سالہ بیٹے کے پیشاب لگنے کی وجہ سے ناپاک ہوگیا تھا۔ اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟)
پھر طلبہ کی جانب سے ملنے والے جوابات کے بارے میں ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں اور ان کے ساتھ سبق کے موضوع تک پہنچیں اور اسے بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔
سبق کی پش کش :
مرحلہ نمبر (1)
آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ تمہیدی مواد کی پیش کش پر مبنی حکمت عملی پر عمل کرتے ہوئے کمپیوٹر ڈیوائس کے توسط سے طلبہ کے سامنے درس کے فرعی عناصر پر مشتمل ایک توضیحی شکل پیش کریں۔
انھیں اس شکل پر غور کرنے اور اس کا ایک مناسب عنوان متعین کرنے کے لئے کہیں۔
طلبہ سے وضو کے ان اعمال کے بارے میں ان کی سابقہ معلومات دریافت کریں، جو توضیحی شکل کے ذریعے پیش کیے گئے ہیں۔ اب دیکھیں کہ کیا کسی نے اس سے پہلے ان اعمال کی ترتیب میں غلطی کی ہے؟ اس نے کیا کیا ہے؟
مرحلہ نمبر (2)
دریافت پر مبنی حکمت عملی کی مدد سے طلبہ کے سامنے درج ذیل عبارتیں رکھیں اور انھیں ان کو ایسے الفاظ کے ذریعے پورا کرنے کے لئے کہیں کہ مفہوم واضح ہو جائے۔
ان کے جوابات معلوم کرنے کے بعد انھیں طہارت کی اہمیت و فضیلت بتائيں :
معاشرتی اور صحت سے متعلق فوائد کے پیش نظر اسلام نے تمام احوال میں طہارت کی دعوت دی ہے اور نماز کی صحت کی شرطوں میں سے اس سے متعلق دو شرطیں رکھی ہیں ... وہ کیا ہیں؟
وہ گناہوں کے مٹائے جانے کا سبب اور آدھا ایمان ہے ... وہ کیا ہے؟
وہ پورے بدن کو دھونے (غسل) اور وضو سے عمل میں آتی ہے ... وہ کیا ہے؟
مرحلہ نمبر (3)
کردار کی ادائیگی پر مبنی حکمت عملی کی مدد سے طالب علم وضو کے اعمال کرکے دکھائے گا، جب کہ باقی طلبہ اسے دیکھیں گے اور اندازۂ قدر کریں گے۔
بعد ازاں معلم تمام طلبہ کی کار کردگیوں پر تبصرہ کرے، درآمد ہونے والی سلبی باتوں کو سامنے لائے اور اس کے بعد وضو کے صحیح طریقے پر مبنی ایک بورڈ کے توسط سے تمثیلی موقف کے ہدف کا خلاصہ پیش کرے۔
نتیجہ نکالنا :
معلم طلبہ کو سبق سے حاصل شدہ معلومات پر مبنی ایک پیراگراف لکھنے کی ہدایت دے۔
ان کی لکھی ہوئی باتوں کو آیات قرآنی اور احادیث نبویہ کے ذریعے مضبوطی عطا کی جائے۔ بعد ازاں معلم لکھی جاچکى باتوں کو پڑھنے کے لیے کچھ طلبہ کا انتخاب کرے اور ان پر یہ واضح کرنے کے لیے نوٹ لکھے کہ وہ باتیں کتنی صحیح ہیں اور طلبہ نے مشمولات کو کتنا سمجھا ہے۔
سرگرمیاں
بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر سیکھنے کی ہدایت دیں :
سرگرمی نمبر 1 نوعیت و ہدف انفرادی۔ وضو کے استحباب کے حالتوں کی تلاش۔
ہدف نمبر 2
معلم ایسا کر سکتا ہے کہ پہلی دونوں سرگرمیوں کو پڑھنے کے لیے کسی طالب علم کا انتخاب کرے۔
معلم ان کے معنی اور ان سے حاصل ہونے والی رہ نمائيوں کے بارے میں طلبہ کے ساتھ تبادلۂ خیال کرے اور پھر ہر دو طلبہ کو ایک دوسرے کی مدد سے ان کا جواب دینے کی ہدایت کرے۔
معلم ہر گروہ سے ایک ایک طالب علم کا انتخاب اس کے گروہ کا جواب پیش کرنے کے لیے کرے اور درست ترین جواب کی نشان دہی کرنے کے لیے ان کے درمیان موازنہ کرے۔
(نماز سے پہلے - مصحف چھونے سے پہلے)
(اللہ تعالی کے ذکر کے وقت - سوتے وقت)
سرگرمی نمبر 2 نوعیت و ہدف انفرادی۔ وضو کے صحیح طریقے کی مشق۔
ہدف نمبر 4
معلم سرگرمی کے ضمن میں وارد عبارتوں کو کچھ کارڈوں میں لکھے۔
ہر طالب علم سے کسی ترتیب کا خیال رکھے بغیر ایک کارڈ کا انتخاب کرنے کے لئے کہے۔
کارڈ میں درج عبارت کو طلبہ کے سامنے واضح اور قابل سماعت آواز میں پڑھے۔
عبارت کی تشریح کرے اور اس سے وضو کا صحیح طریقہ مستنبط کرے۔
اس کے ساتھیوں کو اس کا اندازۂ قدر کرنے کا موقع دیں، تاکہ صحیح جواب سامنے آ سکے۔
سرگرمی نمبر 3 نوعیت و ہدف انفرادی۔ طلبہ کو نصوص کے درمیان ربط پیدا کرنے کی مشق کرانا۔
ہدف نمبر 3
ہر طالب علم کو دوسری سرگرمی پر مشتمل ایک ایک تعلیمی کارڈ دیں۔ وہ جوابات تحریر کر لیں، تو کارڈوں کو جمع کر کے ان کی تصحیح کریں اور اس کے بعد سب سے بہتر جواب کا انتخاب کر کے طلبہ کے سامنے رکھیں، تاکہ وہ صحیح جواب سے واقف ہو جائيں۔
اندازۂ قدر
درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :
طلبہ سے اپنی کاپیوں میں سوالات کا جواب لکھنے کے لئے کہیں۔
طلبہ کی کاپیاں جمع کریں اور وہی سوالات زبانی پیش کر کے حل کرنے کے لئے کہیں۔
ان کی مناسب حوصلہ افزائی کریں اور اس کے بعد کاپیوں کی تصحیح کریں اور ہر سوال پر مناسب نمبر دیں۔
سوال 1 : - - - .
سوال 2 : وضو کے اعمال ترتیب چہرہ دھونا 5 کلی کرنا 3 دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونا 6 ناک میں پانی ڈالنا اور ناک جھاڑنا 4 دونوں کانوں کا مسح کرنا 8 دونوں قدموں کو دھونا 9 سر کا مسح کرنا 7 دونوں ہتھیلیوں کو دھونا 2 نیت کرنا اور بسم اللہ کہنا۔ 1
* تربیتی اور وجدانی تنبیہات :
طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :
ایک تجویز یہ ہے کہ ہر طالب علم کو دریافت شدہ اہم احکام کا خلاصہ لکھنے کے لئے کہیں اور یہ کہ وہ اس سے اپنے اہل خانہ اور آس پاس کے لوگوں کو رو شناس کرائے۔
دوسرا سبق : تیمم اور حائل چیزوں پر مسح
سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی۔
نئے کلمات : (التيمُّم - الخُفَّين - الجبيرة).
تعلیمی وسائل :
(بلیک بورڈ - کمپیوٹر ڈیوائس - تعلیمی بورڈ - تعلیمی کارڈ)۔
سبق کی حکمت عملیاں :
(قصہ گوئی پر مبنی حکمت عملی - سوالات نکالنے پر مبنی حکمت عملی - ایجابی مثالیں اور سلبی مثالیں پیش کرنے پر مبنی حکمت عملی)
اقدار اور رجحانات :
• اس بات کا اندازہ لگانا کہ شریعت نے اہل اعذار کو کتنی آسانیاں فراہم کی ہیں۔
• مسلمان کی زندگی میں پانی کی اہمیت کا احساس پیدا کرنا۔
• اسلام کی عظمت اور اس کی دعوتِ نظافت۔
• نجاست کا سبب بننے والی تمام چیزوں سے اجتناب۔
سبق کی تمہید :
سبق کی تمہید کے طور پر آپ طلبہ کے سامنے ایک تعلیمی کارڈ میں درج ذیل دو نمونے پیش کر سکتے ہیں :
(سخت ٹھنڈی کے موسم میں ابراہیم وضو کرتے وقت موزوں پر مسح کر لیا کرتا ہے)۔
(محمد کا ہاتھ ٹوٹ گیا۔ جب ڈاکٹر کے پاس گیا، تو ڈاکٹر نے اس کے ہاتھ کو ایسے مضبوط مادے سے ڈھانپ دیا، جو چمڑى تک پانی پہنچنے نہیں دیتا تھا۔ لہذا وضو کرتے وقت وہ ہر بار اس کے اوپر مسح کر لیا کرتا تھا۔) پھر ان سے پوچھیں کہ پہلے نمونے ميں ابراہیم نے جو کچھ کیا وہ کیسا ہے، دوسرے نمونے میں مذکور اس مادے کو کیا کہا جاتا ہے اور دونوں (موزے اور مضبوط مادے) پر مسح کا کیا حکم ہے؟ بعد ازاں ان کو سبق کے موضوع تک لے جائيں اور بلیک بورڈ پر اس کا عنوان لکھ دیں۔
سبق کی پیش کش :
مرحلہ نمبر (1)
طلبہ کو سبق کا مطالعہ کرنے اور اس کے عناصر اور مشمولات سے واقف ہونے کی ہدایت کریں، پھر ان میں سے دو دو طالب علموں کو ایک دوسرے کی مدد سے ایسے سوالات پیش کرنے کے لئے کہیں، جن کا جواب اس سبق کے مشمولات کی روشنی میں دیا جا سکتا ہے۔
طلبہ کے سوالات کا استقبال کریں، ان کو نئی شکل دیں اور سامنے آویزاں بورڈ میں لکھ دیں، تاکہ ان کی تشریح و توضیح کی جا سکے اور جواب دیا جا سکے۔
ان سوالات کے ساتھ کچھ اضافی سوالات بھی جوڑے جا سکتے ہیں۔ جیسے :
سوال : تیمم سے کیا مراد ہے؟
سوال : وہ کون سی چيزیں ہیں، جو مسلمان کے لیے تیمم مباح کرتی ہیں؟
سوال : تیمم کا صحیح طریقہ بیان کریں۔
سوال : شریعت نے وضو کے وقت دھونے کے بدلے میں موزوں اور پٹی پر مسح کرنے کی اجازت دی ہے۔ لیکن اس کے لیے کچھ شرطیں رکھی ہیں۔ ان کى وضاحت کریں۔
مرحلہ نمبر (2)
طلبہ کے ساتھ مل کر پچھلے سوالات کی تشریح و وضاحت کریں۔
اس کے لیے آپ ڈسپلے اسکرین کی بھی مدد لے سکتے ہیں۔ اس کے توسط سے تینوں رخصتوں (تیمم - موزوں پر مسح- پٹی پر مسح) کو یکے بعد ديگرے پیش کیا جا سکتا ہے۔
ان رخصتوں پر دلالت کرنے والی توضیحی تصویریں پیش کریں۔ ہر رخصت کو پیش کرتے وقت اس سے جڑے قرآن و سنت کے دلائل پیش کیے جائیں اور ان کی تشریح و توضیح کی جائے۔
طلبہ کو ان دلائل سے حاصل ہونے والی توجیہات بیان کرنے اور ان کو تشریعات اسلامی سے جوڑنے کی ہدایت کی جائے۔
مرحلہ نمبر (3)
معلم ایجابی مثالوں اور سلبی مثالوں پر مبنى حکمت عملی کی مدد لے سکتا ہے۔
معلم طلبہ کے سامنے درج ذیل مواقف رکھے، تاکہ ان کے درمیان فرق کیا جا سکے اور یہ بتایا جا سکے کہ یہ مواقف سبق میں بیان شدہ تیمم اور حائل چیزوں پر مسح سے متعلق احکام سے کتنے متفق ہیں اور کتنے مختلف۔ کچھ مواقف اس طرح ہیں :
ایک شخص کا ماننا ہے کہ تیمم ہاتھوں کو مٹی پر ایک سے زیادہ بار مارنے سے ہوتا ہے۔
ایک شخص نے عذر والے لوگوں کے حق میں آسانی کے لیے تیمم کی رخصت پر عمل پیرا ہونے کے ضرورى ہو نے کی نصیحت کی۔
کچھ لوگ موزوں پر مسح کو اس وجہ سے ٹھکرا دیتے ہیں کہ کہیں لوگ اس کے عادی نہ بن جائيں۔
انسان موزے پہن کر اس وقت تک مسح کر سکتا ہے، جب تک مسح کی مدت گزر نہ جائے۔
ایک شخص نے یہ کہہ کر پٹی پر مسح نہ کرنے کا مطالبہ کیا کہ پٹی بندھی ہونے کى صورت میں وضوء واجب نہیں ہے۔
نتیجہ نکالنا :
معلم طلبہ کو درس کے بارے میں متوقع عناصر کے مراجعہ کی ہدایت کرے گا۔
ہر طالب ایک مختصر سے جملے میں تبصرہ کرے کہ سبق نے ان عناصر کا کتنا احاطہ کیا اور انھوں نے کتنے نئے موضوعات اور عناصر سے آگاہی حاصل کی۔
معلم کچھ طلبہ کا انتخاب کرے، تاکہ ان میں سے ہر طالب علم تیمم اور حائل چیزوں پر مسح سے متعلق کسی ایک فائدہ کے بارے میں اپنی معلومات کا خلاصہ پیش کرے۔
سرگرمیاں
بہتر یہ ہو گا کہ آپ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر سیکھنے کی ہدایت کریں :
سرگرمی نمبر 1 نوعیت و ہدف انفرادی۔ طلبہ کو غور و فکر کرنے اور دو چیزوں کے درمیان فرق کرنے کی مشق کرانا۔
ہدف نمبر 3
معلم طلبہ کو کاپی کا سرگرمی والا صفحہ نکالنے کے لئے کہے اور کسی طالب علم کو اسے پڑھنے کے لیے منتخب کرے۔
ہر طالب کو سرگرمی کے ضمن میں وارد سوالوں کا جواب اپنی کاپی میں دینے کی ہدایت کریں۔
کچھ طلبہ کا انتخاب زبانی طور پر جوابات پیش کرنے کے لیے کریں اوے ان کے ساتھ جوابات کے بارے میں تبادلۂ خیال کریں پھر ان طلبہ کی تعریف کریں، جنھوں نے درست نقطۂ نظر کو بیان کرنے والا جواب دیا ہو اور صحیح سبب بیان کیا ہو۔
سرگرمی نمبر 2 نوعیت و ہدف انفرادی۔ طلبہ کو موزوں پر مسح کے طریقے کی مشق کرانا۔
ہدف نمبر 3
طلبہ کے سامنے سرگرمی کے ضمن میں وارد حدیث پیش کریں، اسے اچھے سے پڑھیں، پھر ہر طالب علم کو سرگرمی کا جواب تلاش کرنے کے لئے کہیں۔ طلبہ جوابات تلاش کر لیں، تو ان کے تحریر کردہ جوابات کے بارے میں ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں اور ان کے ساتھ مل کر صحیح جواب تک پہنچیں۔ بعد ازاں صحیح جواب بلیک بورڈ پر لکھ دیں، تاکہ طلبہ اسے اپنی کاپیوں میں نقل کر لیں۔
سرگرمی 2 : مسافر کے لیے تین دن تین رات اور مقیم کے لیے ایک دن ایک رات۔
سرگرمی نمبر 3 نوعیت و ہدف اجتماعی۔ موزوں اور پٹی پر مسح کى عملى مشق کرنا۔
ہدف نمبر 4
طلبہ کو مختلف گروہوں میں اس طرح تقسیم کر دیں کہ ہر گروہ اپنے درمیان سے ایک ایک فرد کو چن کر باقی لوگوں کے سامنے موزوں اور پٹی پر مسح کے افعال کر کے دکھانے کے لئے کہے۔
آپ ہر گروہ کا اندازۂ قدر کریں اور سب سے بہتر جواب دینے والے گروہ کو کام یاب گروہ قرار دیں۔
اندازۂ قدر
درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :
طلبہ کے سامنے پہلا سوال رکھیں اور کسی ترتیب کا خیال رکھے بغیر پانچ طلبہ کا انتخاب کر کے انھیں سوال کے کسی ایک عنصر کا جواب دینے اور باقی ساتھیوں کو ان کی کارکردگی کو غور سے دیکھنے اور ان کا اندازۂ قدر کرنے کے لئے کہیں۔
سوال 1 : - - -
ہر تین طالب علم ایک دوسرے کی مدد سے دوسرے سوال کا جواب دیں، بعد ازاں ہر گروہ اپنا جواب کسی دوسرے گروہ کے جواب سے بدل لے، تاکہ اندازۂ قدر ہو سکے۔ معلم ہر گروہ کو دوسرے گروہ کے جواب میں غلطیاں نکالنے کا موقع دے اور اس کے بعد طلبہ کو صحیح جواب سے آگاہ کرے۔
طلبہ کے سامنے تیسرا جواب رکھیں اور اس کا جواب دینے کے لیے تین طلبہ کا انتخاب کریں۔ ان سے غلطی ہونے یا موازنہ نہ کر پانے کی صورت میں انھیں سبق کے مشمولات سے جواب ڈھونڈ نکالنے کی ہدایت کریں۔
چوتھے سوال کا جواب دینے کے لیے دو طلبہ کا انتخاب کریں اور مزید دو طلبہ کا انتخاب اپنے دونوں ساتھیوں کے جواب کا اندازۂ قدر کرنے کے لیے کریں اور دونوں کی مناسب حوصلہ افزائی کریں۔
* تربیتی اور وجدانی تنبیہات :
طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :
ہر طالب علم ان حالات کی تفتیش کرے، جن میں تیمم مشروع ہے، تاکہ یہ حقیقت سامنے آ سکے کہ تیمم کا حکم واقعیت سے کس قدر مطابقت رکھتا ہے۔ کچھ منفی باتیں دریافت ہونے کی صورت میں وہ صحیح قواعد کی تطبیق کے طریقے تلاش کر سکتے ہیں۔ مثلا : سوشل میڈیا کے صفحات پر کچھ توجیہات لکھنا یا امام مسجد سے تیمم اور حائل چيزوں پر مسح کے مفہوم، شرطوں اور کیفیت کے بارے میں بات کرنے کا مطالبہ کرنا۔
طلبہ کو موزوں پر مسح کے احکام اور پٹی پر مسح کے احکام کے درمیان موجود فرق سے متنبہ کرنا۔
تیسرا سبق : غسل
سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی
نئے کلمات : (الغُسل- الحيض- النفاس - المنيّ)
تعلیمی وسائل :
(بلیک بورڈ - کمپیوٹر ڈیوائس - تعلیمی بورڈ - تعلیمی کارڈ)
تدریسی حکمت عملیاں :
(حل مسائل پر مبنی حکمت عملی - میں کیا جانتا ہوں پر مبنی حکمت عملی- میں کیا جاننا چاہتا ہوں پر مبنی حکمت عملی- میں نے کیا سیکھا (KWL) پر مبنی حکمت عملی- برین اسٹورمنگ)۔
اقدار و رجحانات :
• اس بات کا اندازہ لگانا کہ شریعت نے صفائی پر کتنی توجہ دی ہے۔
• ہمیشہ پاک رہنے کی کوشش کرنا۔
• نجاست کا سبب بننے والی تمام چیزوں سے دور رہنا۔
سبق کی تمہید :
سبق کی تمہید کے طور پر طلبہ کے سامنے درج ذیل سوال رکھ سکتے ہیں : جب آپ کسی گندے شخص کو دیکھیں گے، جس کے جسم سے بدبو آ رہی ہو، تو آپ کو کیسا لگے گا؟ بلاشبہ آپ کو اس سے اذیت محسوس ہوگی۔ چوں کہ اسلام اس بات کا حریص ہے کہ مسلمان پاک صاف رہے اور کسی کو اذیت نہ دے، لہذا اس نے غسل کو مشروع کیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ غسل کیا ہے؟ اور اس کے احکام کیا ہیں؟ انھیں باتوں کو ہم اس سبق کے ذریعے سیکھیں گے۔ اس کے بعد بلیک بورڈ پر سبق کا عنوان لکھ دیں۔
سبق کی پیش کش :
مرحلہ نمبر (1)
(میں کیا جانتا ہوں - میں کیا جاننا چاہتا ہوں - میں نے کیا سیکھا ) پر مبنی حکمت عملیوں سے مدد لینے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
ہر طالب علم سے کہیں کہ کاپی کے کسی ایک صفحے کو تین حصوں میں بانٹ لے۔
پہلے حصے میں غسل کی تعریف اور اس کے حالات سے متعلق اپنی معلومات قلم بند کرے، دوسرے حصے میں غسل کی اہمیت سے متعلق جو کچھ جاننا چاہتا ہے، اسے لکھے اور تیسرے حصے کو خالی چھوڑ دے۔
کچھ طلبہ کا انتخاب سابقہ معلومات اور سبق سے جو کچھ جاننا چاہتے ہیں، اسے پیش کرنے کے لیے کریں، ان پر نوٹ چڑھائیں اور واضح کریں کہ ان کے درمیان کیا کچھ اختلاف پایا جاتا ہے۔
بعد ازاں ان کے سامنے سبق کے عناصر رکھیں، تاکہ ان پر غور کریں اور انہوں نے جو کچھ لکھ رکھا ہے، اس سے ان عناصر کا موازنہ کریں۔
مرحلہ نمبر (2)
ایک تجویز یہ ہے کہ کچھ طلبہ کا انتخاب ساتھیوں کے سامنے سبق کی بلند خواندگی کے لیے کریں۔
ہر پیراگراف کی خواندگی کے بعد اس کی تشریح کی جائے اور اس میں وارد مشکل مفرد الفاظ کے معانی بیان کیے جائيں۔
برین اسٹورمنگ حکمت عملی کا استعمال کر کے ہر گروہ کو غسل کا طریقہ اور قسمیں بیان کرنے کا مکلف بنائیں۔
ہر گروہ سے ایک ایک طالب علم کا انتخاب اس کے ذریعے جمع شدہ معلومات پیش کرنے کے لیے کریں اور ان کی مناسب حوصلہ افزائی کریں۔
نتیجہ نکالنا :
ہر طالب علم کو اس کی کاپی کا تیسرا خانہ، جو سبق سے حاصل کردہ معلومات سے متعلق ہے، پر کرنے کا مکلف بنائيں۔
طالب علم سبق سے سیکھی ہوئی اور حاصل کردہ معلومات کو مختصر انداز میں لکھے۔
تین طلبہ کا انتخاب لکھی ہوئی باتوں کو ساتھیوں کے سامنے پڑھنے کے لیے کریں۔ ہر طالب علم تینوں خانوں میں ان کے ذریعے لکھی ہوئی باتوں پر تبصرہ کرے اور سبق پڑھنے سے پہلے اور سبق پڑھنے کے بعد کے ان کے جوابات کے ما بین موازنہ کرے۔
سرگرمیاں
بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر سیکھنے کی ہدایت دیں :
سرگرمی نمبر 1 نوعیت اور ہدف انفرادی۔ طلبہ کو غسل کے صحیح طریقے کی مشق کرانا۔
ہدف نمبر 2
طلبہ کے سامنے سرگرمی کے تحت موجود پیراگراف رکھیں، اس پر اچھے سے غور کريں، پھر ہر طالب علم کو سرگرمی کا جواب ڈھونڈنے کا مکلف بنائیں۔ جواب ڈھونڈنے کا عمل پورا ہونے کے بعد ان کی تحریر کردہ باتوں کے بارے میں ان کے ساتھ مناقشہ کریں اور ان کے ساتھ مل کر درست جواب تک پہنچیں۔ بعد ازاں صحیح جواب بلیک بورڈ پر لکھ دیں، تاکہ طلبہ اسے اپنی کاپی میں لکھ لیں۔
سرگرمی نمبر 2 نوعیت اور ہدف اجتماعی۔ غسل کے اسباب سے آگاہی۔
ہدف نمبر 3
ہر دو طالب علموں پر ایک کارڈ تقسیم کر دیں، جس میں سرگرمی کے ضمن میں وارد دونوں نصوص موجود ہوں۔ پھر انھیں آپسی تعاون سے دونوں نصوص کے فہم کی روشنی میں غسل کے اسباب اخذ کرنے کا حکم دیں۔ اس کے بعد کارڈوں کو جمع کریں، اندازۂ قدر کریں اور غلط جواب والے کارڈوں کو طلبہ کے سامنے رکھ دیں کہ وہ خود سے ان کی تصحیح کر دیں اور ان طلبہ کی تعریف کریں، جن سے جواب دینے میں کوئی غلطی نہیں ہوئی ہے۔
سرگرمی نمبر 3 نوعیت و ہدف انفرادی۔ غسل کے مستحب کاموں سے آگاہی۔
ہدف نمبر 4
اس سرگرمی کو طلبہ کے سامنے پڑھنے کے لیے کسی طالب علم کا انتخاب کریں۔ پھر ان کے ساتھ اس کے بارے میں تبادلۂ خیال کریں اور ہر طالب کو درس کے ذریعہ سیکھى ہوئى حالات میں سے دو ایسی حالتیں بیان کرنے کے لئے کہیں، جن میں غسل مستحب ہے۔
اندازۂ قدر
درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :
پہلے اور دوسرے سوال کا جواب ہر طالب علم انفرادی طور پر دے گا۔ پھر معلم بلیک بورڈ پر صحیح جواب لکھے گا اور اس کے بعد ہر طالب علم کو اپنے جواب کو مناسب نمبر دینے کے لئے کہے گا، بعد ازاں ان کے نمبرات دیکھے گا اور ان کی مناسب حوصلہ افزائی کرے گا۔
سوال 1 : - - - .
ہر طالب علم سے کہیں کہ وہ تیسرے سوال کا جواب اکیلے دے اور اپنا جواب اپنے ساتھی کے جواب سے بدل کر دونوں ایک دوسرے کے جواب کی تصحیح کریں۔ آپ ہر گروہ کی کارکردگی پر نظر رکھیں اور اس کی رہ نمائی کریں۔
* تربیتی اور وجدانی تنبیہات :
طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :
ذاتی صاف صفائی، غسل کرنے اور خوش بو لگانے پر توجہ دینا۔
ہر طالب علم کی کوشش رہے کہ غسل کے صحیح طریقے کو عملی جامہ پہنائے اور غسل کے استحباب کے حالات پر توجہ دے۔
چوتھا سبق : نماز کا مقام و مرتبہ
سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی
نئے کلمات : (العَهْدُ - دَرَنه - حَزَبَهُ).
تعلیمی وسائل :
(بلیک بورڈ - کمپیوٹر ڈیوائس - تعلیمی بورڈ - تعلیمی کارڈ)
تدریسی حکمت عملیاں :
(برین اسٹورمنگ - بحث و تبادلۂ خیال پر مبنی حکمت عملی - رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی)
اقدار و رجحانات :
• قرآن و سنت سے نماز کے مقام و مرتبہ کا اندازہ لگانا۔
• نماز وقت پر پڑھنے کا حریص ہونا۔
سبق کی تمہید :
آپ تمہید کے طور پر طلبہ کے سامنے درج ذیل صورت حال رکھ سکتے ہیں : (حمزہ نے اپنے معلم کو بتایا کہ وہ خود کو ہمیشہ غمگین محسوس کرتا ہے، لہذا اس کے معلم نے پوچھا کہ کیا وہ نماز کی پابندی کرتا ہے؟ اس نے نہیں میں جواب دیا، تو معلم نے اسے پابندی سے نماز پڑھنے کی نصیحت کی)۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نماز کا غم کے احساس سے کیا تعلق ہے؟ یہی بات ہم اس سبق سے جانیں گے۔ اس کے بعد سبق کا عنوان بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔
سبق کی پیش کش :
مرحلہ نمبر (1)
برین اسٹورمنگ کے تحت طلبہ کو مختلف گروہوں کو بانٹ دیں۔
طلبہ کے ہر گروہ کو نماز کا مقام و مرتبہ واضح کرنے کے لئے کہیں۔
ہر گروہ اپنے خیالات ایک خارجی ورق میں لکھے، تاکہ سارے گروہوں کے جوابات کا موازنہ کیا جا سکے۔
پیش قدمی (2)
نماز کی اہمیت بیان کرنے کے لیے معلم بلیک بورڈ پر درج ذیل عبارت لکھ سکتا ہے : (وہ نفس کی راحت اور غموں کے ازالے کا سبب ہے۔ بندہ جب اللہ تعالی کے سامنے کھڑا ہوتا ہے، تو اپنے غموں کو بھول جاتا ہے۔۔۔۔ وہ چیز کیا ہے؟)
معلم طلبہ سے پوچھے کہ یہ عبارت کس چیز کے بارے میں بات کر رہی ہے اور ان کے جوابات کو انھیں نماز کی اہمیت سے آگاہ کرنے کا نقطۂ آغاز بنا کر آگے بڑھے۔
مرحلہ (3)
معلم طلبہ کے سامنے ایک رہ نما نقشہ رکھے، جو نماز کی قدر و منزلت بتاتا ہو۔
معلم یکے بعد دیگرے نماز کی ہر منزلت کی وضاحت کرے اور اس سے متعلق احادیث نبویہ پیش کرکے ان کی تشریح کرے۔
معلم درج ذیل سوالات سے رہ نمائی حاصل کرے، ان کو طلبہ کے سامنے رکھے اور ان کے ساتھ ان سوالات کے بارے میں تبادلۂ خیال کرے، تاکہ نماز کا مقام و مرتبہ اور اسے چھوڑنے یا اس میں سستی کرنے کی سنگینی سامنے آ سکے :
سوال : اسلام پر استقامت کی کیا علامت ہے؟
سوال : ایک حدیث بیان کریں، جو یہ بتاتی ہو کہ نماز ہی وہ چيز ہے، جس کے بارے میں قیامت کے دن سب سے پہلے حساب و کتاب ہوگا۔
سوال : نماز مسلمان کو گناہوں سے دور کرتی ہے، اس کا مطلب بیان کریں۔
سوال : نماز نفس کی راحت کا سبب کیسے بنتی ہے؟
نتیجہ نکالنا :
ہر طالب علم کو اپنی کتاب سے سبق کے مشمولات سے مطلع ہونے کی ہدایت کریں۔
درس کے عناصر اور افکار پر ایک جستجو آمیز نظر ڈالنے کے لئے کہیں۔
ہر طالب علم کو سبق سے سیکھے ہوئے تین تین عناصر لکھنے کے لئے کہیں، ان کے جوابات دیکھیں اور الگ الگ طرح کے جوابات کو بلیک بورڈ پر لکھ دیں، تاکہ طلبہ اپنی کاپیوں میں اتار لیں۔
سرگرمیاں
بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر سیکھنے کی ہدایت دیں :
سرگرمی نمبر 1 نوعیت اور ہدف انفرادی۔ نفس کی راحت پر نماز کے اثر کا بیان۔
ہدف نمبر 2
ہر طالب کو دوسری سرگرمی کے جواب کے بارے میں غور کرنے کا مکلف بنائیں اور ہر طالب ایک الگ ورق میں اپنے اس موقف کو لکھے، جو اس کے لیے نماز کی پابندی کا سبب بنا۔
ایک طالب علم کا انتخاب کریں، جو ساتھیوں کے سامنے اپنا موقف رکھ سکے، اس کے ساتھی اس کے بارے میں اپنی رائے دیں اور اس کا سبب بھی بتائیں۔
معلم تبصرہ کرے اور اس عمل کو ان کے ساتھ دوہراتے رہے۔
سرگرمی نمبر 2 نوعیت اور ہدف انفرادی۔ نماز کی فضیلت اور اس فضیلت کے حصول کی شرطوں کا بیان۔
ہدف نمبر 2، 4
ہر طالب علم کو درج ذیل سرگرمی پر مشتمل ایک ایک تعلیمی کارڈ دیں، جب طلبہ جواب دے دیں، تو کارڈوں کو جمع کر کے جوابات کو درست کریں۔ بعد ازاں سب سے درست جواب کا انتخاب کر کے اسے طلبہ کے سامنے رکھیں اور طلبہ کو اس سے رو برو ہونے کا موقع دیں۔
سرگرمی نمبر 3 نوعیت اور ہدف انفرادی۔ نماز چھوڑنے یا اس کی ادائيگی میں سستی کرنے کی سنگینی کا بیان۔
ہدف نمبر 3
ہر طالب کو وسائل معرفت میں سے کسى ایک کى مدد سے ہوم ورک پورا کرنے کا مکلف بنائيں۔
پھر ان کے جوابات کے بارے میں اگلی ملاقات میں ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں، تاکہ درست جواب معلوم ہو، صحیح جواب دینے والے کی حوصلہ افزائی کی جا سکے اور غلط جواب دینے والے کا اندازۂ قدر کیا جا سکے۔
اندازۂ قدر
درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :
پہلے سوال کا جواب دینے کے لیے، اس کے تحت وارد عناصر میں سے ہر عنصر کو یکے بعد دیگرے طلبہ کے سامنے رکھیں۔ جواب صحیح ہونے کی صورت میں طالب علم اپنا ہاتھ اوپر اٹھائے۔ طلبہ کے جوابات کا اندازۂ قدر کریں اور ان کے ساتھ غلط اور درست عبارتوں کے بارے میں بات کریں۔
سوال 1 : - - .
ہر طالب علم سے کہیں کہ اکیلے دوسرے سوال کا جواب دے اور ہر طالب علم اپنا جواب اپنے ساتھی کے جواب سے بدل لے اور دونوں ایک دوسرے کے جواب کی تصحیح کریں۔ آپ ہر گروہ کی کارکردگیوں کو دھیان سے دیکھیں اور رہ نمائی کریں۔
بلیک بورڈ پر تیسرے سوال کے ضمن میں وارد عبارت لکھیں اور کچھ طلبہ سے ایک دوسرے کی مدد سے نماز کے مقام و مرتبہ اور اس کے اہتمام کے بارے میں تین تین سطریں لکھنے کے لئے کہیں، ان کی تحریروں پر نوٹ چڑھائيں اور سب سے اچھا جواب دینے والے کی عزت افزائی کریں۔
* تربیتی و وجدانی تنبیہات :
طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں پر اپنی زندگی اور معاملات میں عمل کرنے کی اہمیت کی طرف توجہ دلائيں، جس کے لیے وہ درج ذیل اقدامات کریں گے :
اللہ کے نبی ﷺ کے طریقے کی پیروی کرتے ہوئے نماز ادا کرنے کی حرص رکھنا اور اہل و عیال اور دوستوں کو نماز کی ادائيگی کی ترغیب دلانا۔
طلبہ کا ایک دوسرے کی مدد سے ایک بورڈ بنانے کی ترغیب دینا، جو نماز چھوڑنے یا اس میں سستی کرنے کے کچھ نقصانات پر مشتمل ہو۔
پانچواں سبق : نماز کا طریقہ
سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی۔
نئے کلمات : (العورة - الخشوع - التورُّك).
تعلیمی وسائل :
(بلیک بورڈ - کمپیوٹر ڈیوائس - تعلیمی بورڈ - تعلیمی کارڈ)
تدریسی حکمت عملیاں : (کردار ادا کرنے پر مبنی حکمت عملی - باہمی تعاون سے سیکھنے پر مبنی حکمت عملی - موازنہ پر مبنی حکمت عملی)۔
اقدار و رجحانات :
• نماز میں خشوع کی اہمیت کا اندازہ لگانا۔
• دل میں اللہ تعالی کی عظمت کا استحضار۔
• نماز میں کبھی کبھی سرزد ہونے والی غلطیوں سے اجتناب۔
سبق کی تمہید :
طلبہ کو بتائيں کہ نماز کی ادائیگی میں نمازیوں کی مختلف کیفیتیں ہوا کرتی ہیں۔ شاید اس کا ایک سبب نماز کا صحیح طریقہ نہ سیکھنا ہے۔ لہذا اس سبق کو اچھے سے پڑھیں، تاکہ اس میں بتائے گئے نماز کے طریقے پر عمل در آمد کر سکیں۔
اس کے بعد سبق کا عنوان بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔
درس کی پیش کش :
مرحلہ نمبر (1)
طلبہ کی سبق کے عنوان اور اس کے ہدف سے آگاہی کی روشنی میں انھیں اس کے ممکنہ عناصر اور افکار کے بارے میں اپنے اندازے پیش کرنے کے لئے کہیں۔
ان کے پیش کردہ جوابات کو دیکھیں اور کچھ الگ الگ جوابات کو بلیک بورڈ پر لکھیں۔
مرحلہ نمبر (2)
کردار ادا کرنے کی حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے کسی طالب علم کو نماز کی ایک رکعت پڑھ کر دکھانے کے لئے کہیں اور باقی طلبہ کو اس کی ادائيگی کا اندازۂ قدر کرنے کو کہيں اور اس کے بعد خود اس پر تبصرہ کريں۔
مرحلہ نمبر (3)
معلم طلبہ کے سامنے درج ذیل موقف رکھے اور موازنہ پر مبنی حکمت عملی کے توسط سے ان کے ساتھ ان موقفوں کے بارے میں تبادلۂ خیال کرے، تاکہ ان موقفوں میں سے ہر موقف کے مقابلے میں نماز کی صحیح کیفیت کی نشان دہی ہو سکے۔ پھر اسے اس کیفیت کو تفصیل سے طلبہ کے سامنے پیش کرنے کا نقطۂ آغاز بنائے۔
ایک شخص مشغولیت کا بہانہ بناکر جلدی جلدی نماز پڑھتا ہے۔
ایک شخص نماز میں رکوع کے دوران صحیح سے جھکتا نہیں ہے۔
ایک شخص نماز میں سجدے کے دوران پیشانی کو ٹھیک سے زمین پر نہیں رکھتا۔
احمد پابندی سے نماز تو پڑھتا ہے، لیکن قرآن اور اذکار کو تیزی سے پڑھتے ہوئے گزر جاتا ہے اور ان پر غور نہيں کرتا۔
نتیجہ نکالنا :
معلم کچھ طلبہ کا انتخاب کر کے ان میں سے ہر ایک سے اختصار سے نماز کا طریقہ پیش کرنے اور اس سے جڑی ہوئی مثال بیان کرنے کے لئے کہے۔ بعد ازاں طلبہ کو اس بات کا موقع دے کہ ایک دوسرے کے جواب پر نوٹ چڑھائيں۔
سرگرمیاں
بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر سیکھنے کی ہدایت دیں :
سرگرمی نمبر 1 نوعیت اور ہدف اجتماعی۔ طلبہ کو صحیح طریقے سے نماز ادا کرنے کی مشق کرانا۔ ہدف نمبر 4
آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ طلبہ کو اپنے اہل خانہ کے ساتھ مل کر گھر میں درج ذیل سرگرمی کا جواب الگ الگ تیار کرنے اور تیار شدہ جواب کو لکھنے کے لئے کہیں، پھر اگلی ملاقات میں ان جوابات کو آپ کے سامنے پیش کیا جائے، ان کے ساتھ ان جوابات کے بارے میں تبادلۂ خیال کریں اور بہتر جواب دینے والے کو ساتھیوں کے سامنے انعام و اکرام سے نوازیں۔
سرگرمی نمبر 2 نوعیت اور ہدف انفرادی۔ نماز کا طریقہ بیان کرنا۔
ہدف نمبر 1
ڈسپلے اسکرین کے توسط سے طلبہ کے سامنے سرگرمی کے ضمن میں وارد حدیث پیش کریں، کسی بہتر پڑھنے والے طالب علم کو اسے پڑھنے کے لئے کہیں، پھر ان کے ساتھ اس کے مفرد کلمات کی تشریح کریں اور اس سے حاصل رہنمائى کو نکالیں۔
سرگرمی کے تحت دیے گئے سوالات کو یکے بعد دیگرے لیں اور ان کے جواب کے بارے میں طلبہ کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں، تاکہ ہر طالب علم صحیح جواب سے آگاہ ہو جائے اور اسے اپنی کتاب میں لکھ لے۔ ساتھ ہی صحیح جواب دینے والوں سے کہیں کہ وہ اپنے جوابات کو سوشل میڈیا سائٹس پر نشر کریں۔
سرگرمی نمبر 3 نوعیت اور ہدف انفرادی۔ طلبہ کو نماز کی غلطیوں کو درست کرنے کے طریقوں کی مشق کرانا۔
ہدف نمبر 2
معلم سرگرمی کے ضمن میں وارد حالات میں سے ہر حالت کو ایک تعلیمی کارڈ میں لکھے اور کچھ طلبہ کا انتخاب کر کے انھیں کسی ترتیب کا خیال رکھے بغیر ایک ایک کارڈ لے لینے اور اس میں درج حالت کا جواب دینے کے لئے کہے۔ بعد ازاں ایک اور طالب علم کا انتخاب کرے اور اسے اپنے ساتھی کے جواب کا اندازۂ قدر کرنے کے لیے کہے۔ معلم طلبہ کی کارکردگی پر نظر رکھے اور ان کی رہ نمائی کرے۔
اندازۂ قدر
درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :
طلبہ کو مختلف گروہوں میں اس طرح تقسیم کر دیں کہ ہر گروہ اس میں شامل طلبہ کے آپسی تعاون سے کتابوں میں دیے گئے سوالات کا جواب دے۔ کوشش یہ ہو کہ ہر ہر فرد ایک ایک سوال کا جواب دے اور اس کے ساتھی اس کے اس کام پر توجہ مبذول کریں۔
آپ سبھی گروہوں کی کارکردگیوں پر نظر رکھیں، تاکہ اس بات کی یقین دہانی ہو جائے کہ جواب دینے اور اندازۂ قدر کرنے کے عمل میں تمام لوگ شریک ہو رہے ہیں۔
سبھی گروہوں کے جوابات جمع کریں، ان کے جوابات کی تصحیح کریں، سب سے درست جواب دینے والے گروہ کی نشان دہی کریں، اس میں شامل افراد کی تعریف کریں اور ان سے کہیں کہ غلطی کرنے والے گروہوں سے صادر ہونے والی غلطیوں کی نشان دہی کریں۔
سوال 1 : ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
* تربیتی اور وجدانی تنبیہات :
طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :
طلبہ کو نماز کی ان غلطیوں سے اجتناب کرنے کے بارے میں آگاہ کرنا، جنھیں وہ اپنے آس پاس کے لوگوں سے سرزد ہوتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ طلبہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ غلطیاں کرنے والے لوگوں کو نماز کا صحیح طریقہ بتائیں۔
اللہ کے نبی ﷺ کى اقتدا کرتے ہوئے آپ ﷺ کی طرح نماز پڑھنا اور اس میں خشوع و خضوع اختیار کرنا۔
پانچویں اکائی : اخلاق
پہلا سبق : کھانے پینے کے آداب
سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی
تعلیمی وسائل :
(کمپیوٹر ڈیوائس - ڈسپلے اسکرین - بلیک بورڈ - تعلیمی بورڈ - تعلیمی تصاویر)
تدریسی حکمت عملیاں :
( زندگى سے تعلق پر مبنی حکمت عملی - غلط تصورات کی تصحیح کی حکمت عملی - نوٹ تیار کرنے کی حکمت عملی)
اقدار و رجحانات :
- کھانے پینے کے آداب پر عمل پیرا ہونے کی کوشش۔
- پابندی کے ساتھ اذکار پڑھنے کی اہمیت کا احساس۔
- اس بات کا اندازہ کہ اسلام فرد کے تمام احوال پر توجہ دیتا ہے۔
* سبق کی تمہید :
زندگى سے تعلق پر مبنی حکمت عملی کی مدد سے ہر طالب علم کو کھانے پینے کے آداب پیش کرنے کو کہیں۔ ہر طالب علم کم سے کم دو آداب پیش کرے۔ اس کے بعد انہیں بتائيں کہ اس سبق کے توسط سے وہ زیادہ تعداد میں کھانے پینے کے آداب سیکھیں گے۔
طلبہ کو سبق کا عنوان بتائيں اور اسے بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔
سبق پیش کرنے کے مراحل :
مرحلہ نمبر (1)
آپ طلبہ کے سامنے کھانے پینے کی کچھ ایسی تعلیمی تصاویر پیش کر سکتے ہیں، جو کھانے پینے کے آداب سے متعارض ہوں, جیسے : (ایسے شخص کی تصویر جو کھانا کھا رہا ہو اور اس کا ہاتھ صاف نہ ہو - ایسے شخص کی تصویر جو بائیں ہاتھ سے کھانا کھاتا ہو - ایسے شخص کی تصویر جو کھانے کی چیز پر پھونک مار رہا ہو)۔
طلبہ سے ان تصویروں کے بارے میں اپنی رائے دینے کو کہیں اور ان کے جوابات کو کھانے پینے کے آداب اور اس سلسلے کے ممنوعہ کاموں سے ان کو آگاہ کرنے کو نقطۂ آغاز بنائيں، ساتھ ہی ان سے جڑے ہوئے شرعی دلائل پیش کریں اور ان کی وضاحت کریں۔
مرحلہ نمبر (2)
طلبہ کے ساتھ ان غلطیوں کے سلسلے میں تبادلۂ خیال کریں، جو کچھ لوگوں سے کھانے پینے کے آداب کو عملی جامہ پہنانے کے دوران سرزد ہو جاتی ہيں۔
پھر ان کے سامنے کھانے پینے کے آداب کے سلسلے میں ممنوعہ کاموں کا ذکر کریں اور دلیل کے طور پر شرعی نصوص پیش کریں۔
* نتیجہ نکالنا :
آپ ایسا کر سکتے ہيں کہ نوٹ لکھنے کی حکمت عملی کی مدد سے ہر طالب علم کو اپنی کتاب میں سبق سے متعلق نوٹ لکھنے کے لئے کہيں۔ طلبہ کے ذریعے لکھے جانے والے نوٹ، عناوین اور بنیادی افکار کے نیچے لکیر کھینچنے، کچھ ایسے سوالات مرتب کرنے جن کے جوابات مشمولات سے عیاں ہوں اور سبق سے حاصل ہونے والے اہم فائدوں پر، مشتمل ہوں۔ اس کے لیے کچھ طلبہ کا انتخاب کر کے انھیں اپنے تحریر کردہ نوٹ پڑھنے کو کہيں اور مناسب حوصلہ افزائی کریں۔
* سرگرمیاں :
بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر سیکھنے کی ہدایت دیں :
سرگرمی نمبر 1 نوعیت و ہدف انفرادی۔ کھانے پینے کے آداب سے آگاہی۔
ہدف نمبر 1
ایک تجویز یہ ہے کہ ہر طالب علم کو انفرادی طور پر پہلی سرگرمی انجام دینے کے لئے کہیں، اس کے بعد طلبہ اپنے جوابات ایک دوسرے سے بدل لیں، تاکہ وہ ان کو جانچیں اور یہ جان سکیں کہ ان سے کتنا اتفاق یا اختلاف رکھتے ہيں۔ بعد ازاں کچھ طلبہ کا انتخاب کر کے انھیں اپنے ساتھیوں کے جوابات پر تبصرہ کرنے اور یہ بتانے کے لئے کہيں کہ وہ ان سے کتنا اتفاق و اختلاف رکھتے ہيں اور انھوں نے ان سے کتنا استفادہ کیا ہے۔ اخیر میں سب سے بہتر جواب دینے والے طالب علم کی حوصلہ افزائی کریں۔
سرگرمی نمبر 2 نوعیت و ہدف اجتماعی۔ طلبہ کو آڈیو کلپ سے کھانے پینے کے آداب اخذ کرنے کے طریقے کی مشق کرانا۔
ہدف نمبر 3
طلبہ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیں اور ان سے حلقوں کی شکل میں بیٹھنے کے لئے کہیں۔ ہر گروہ باہمی تعاون سے دوسری سرگرمی کا جواب دے اور اس کے بعد اپنے ایک رکن کو اپنے گروہ کی کارکردگی پیش کرنے کے لئے کہے۔ اگر جواب پر تمام گروہ متفق ہوں تو کسی طالب کے ذریعے اسے بلیک بورڈ پر لکھ دیا جائے اور اگر اختلاف ہو، تو اس کے سلسلے میں آپ کے سامنے اور آپ کی نگرانی میں تبادلۂ خیال کیا جائے اور اخیر میں درست جواب نکال کر اسے بلیک بورڈ پر لکھ دیا جائے۔
سرگرمی نمبر 3 نوعیت و ہدف جوڑے پر مبنی۔ طلبہ کو کھانے پینے کے آداب کے التزام کے لیے ایک تعلیمی پروگرام تیار کرنے کی مشق کرانا۔
ہدف نمبر 4
ایک تجویز یہ ہے کہ ہر دو طالب علموں کو ایک دوسرے کی مدد سے تیسری سرگرمی انجام دینے کے لئے کہیں۔ اس دوران آپ ان کے پاس سے گزرتے رہیں، تاکہ دیکھ سکیں کہ وہ ایک دوسرے کی کتنی مدد کر رہے ہیں اور اپنے کام میں کس قدر سنجیدہ ہيں۔
طلبہ کے ہر دو گروہ کا انتخاب جواب دینے کے لیے کریں، ان کے درمیان موازنہ کریں اور زیادہ باریکی سے جواب دینے والے فریق کی نشان دہی کریں۔
زیادہ بہتر جواب دینے والے گروہ کی مناسب جوصلہ افزائی کریں، اسے "رہ نما" گروہ کا لقب دیں اور اسے باقی گروہوں کے جوابات درست کرنے کى نگرانى کى ذمہ دارى تفویض کریں۔
* اندازۂ قدر :
درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :
طلبہ سے انفرادی طور پر سوالوں کا جواب دینے کے لئے کہیں۔
ان کے جوابات جمع کریں اور اس کے بعد ان کے سامنے زبانی طور پر سوالات رکھیں، تاکہ وہ زبانی طور پر حل کر کے دکھائيں اور بعد ازاں ان کی مناسب حوصلہ افزائی کریں۔
جوابات کی تصحیح کریں اور ہر جواب پر مناسب نمبر دیں۔
سب سے زیادہ نمبر حاصل کرنے والے طالب علم کی نشان دہی کریں اور اس کی مناسب حوصلہ افزائی کریں۔
سوال 1 : (✓) - (×) - (×).
سوال 2 : (منع شدہ) - (منع شدہ چيزیں) - (جائز)۔
* تربیتی و وجدانی تنبیہات :
طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :
طلبہ کو کھانے پینے کے آداب کا التزام کرنے، انھیں صحیح طور پر عمل میں لانے، اذکار کی پابندی کرنے اور پریوار اور سماج میں ان آداب کو عام کرنے کی کوشش کرنے کی ترغیب دیں۔
ایسے رویوں کا مقابلہ کرنا، جو سبق میں متعارف کرائے گئے آداب سے متصادم ہوں۔ اس کے لیے اس طرح کے رویوں کے حامل افراد کو غلطی اور کوتاہی کے مظاہر سے آگاہ کریں اور ان کے علاج کا طریقہ بتائيں یا پھر کچھ ایسی توجہ مبذول کرانے والی چيزوں کا سہارا لیں، جنھیں ایسی جگہوں میں رکھا جائے کہ اس طرح کےلوگ انہیں دیکھ سکیں اور فالو کر سکیں، تاکہ خود ہی اپنی غلطیوں سے آگاہ ہو جائيں اور انھیں درست کر سکيں۔
دوسرا سبق : اجازت طلب کرنے کے آداب
سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی
نئے کلمات : (أَلِجُ - تستأنسوا - أزكى - يبلغوا الحلم - ثلاث عورات).
تعلیمی وسائل :
(آڈیو میڈیم جس پر دینی نصوص ریکارڈ ہوں - کمپیوٹر ڈیوائس - ڈسپلے اسکرین - تعلیمی بورڈ - تعلیمی کارڈ - بلیک بورڈ)۔
تدریسی حکمت عملیاں :
(قصہ گوئی پر مبنی تمہید کى حکمت عملی- تبادلہ پر مبنی تدریس "تصورات قائم کرنے" کى حکمت عملی - ایک دوسرے سے سوال کرنے پر مبنی حکمت عملی - وضاحت کرنے پر مبنی حکمت عملی- خلاصہ کرنے پر مبنی حکمت عملی - استقصا پر مبنی حکمت عملی)۔
اقدار و رجحانات :
- اجازت طلب کرنے کے آداب کی فضیلت کا احساس۔
- دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنے کی اہمیت کا احساس۔
- معاشرے کو بہتر بنانے میں اجازت مانگنے کے آداب کی اہمیت پر فخر۔
- کسی کے یہاں داخل ہونے سے پہلے اجازت طلب کرنے کا التزام۔
* سبق کی تمہید :
طلبہ کے سامنے درج ذیل بیانیہ موقف رکھیں، اس کے بارے میں ان کی رائے طلب کریں اور ان کے جوابات پر تبصرہ کریں : (علی خالد سے ملنے اس کے گھر گیا۔ کئی بار دروازے کی گھنٹی بجائی، لیکن کسی نے جواب نہیں دیا۔ لہذا ناراض ہوکر واپس ہو گیا۔ بعد میں خالد ملا، تو دروازہ نہ کھولنے پر اس کی سرزنش کی۔ اسے خالد نے بتایا کہ دراصل گھر اس کے آنے لائق نہيں تھا، اس لیے دروازہ نہیں کھولا۔ آپ کی نظر میں کیا علی کو ناراض ہونے اور سرزنش کرنے کا حق ہے؟)
طلبہ کو سبق کا عنوان بتائيں اور بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔
* سبق کی پیش کش :
مرحلہ نمبر (1)
سبق کے موضوع سے طلبہ کی واقفیت کی روشنی میں، ان سے ان عناصر کا اندازہ لگانے کے لئے کہیں، جو سبق میں شامل ہو سکتے ہیں اور ان کے جوابات بورڈ پر لکھیں، پھر ان کے سامنے ایک بورڈ رکھیں، جس میں سبق کے عمومی اور ذیلی عناصر شامل ہوں، تاکہ طلبہ ان پر غور کریں اور اپنے جوابات کا موازنہ بورڈ پر دکھائے جانے والے جوابات سے کریں۔
مرحلہ نمبر(2)
معلم طلبہ میں سے ہر دو کو ایک دوسرے کی مدد سے سبق سے متعلقہ سوالات پیش کرنے کا مکلف بنائے۔ سوالات ایسے ہوں کہ ان کے جوابات کے توسط سے سبق کے عناصر اور مشمولات واضح ہو جائيں۔ معلم ہر گروہ کے سوالات دیکھے، ان کو نئی شکل و صورت دے اور بلیک بورڈ پر لکھ دے، تاکہ طلبہ کے ساتھ ان کے بارے میں تبادلۂ خیال اور سبق کے مختلف عناصر کی تشریح ہو سکے۔ معلم سبق کے تمام عناصر کے احاطے کی خاطر اپنی جانب سے کچھ سوالات بھی کر سکتا ہے۔ وہ درج ذیل سوالات سے رہ نمائی حاصل کر سکتا ہے :
سوال : اجازت طلب کرنے کا حکم بیان کریں۔
سوال : اللہ تعالی نے اجازت طلب کرنے کا حکم ........ کی وجہ سے دیا ہے۔ (خالی جگہ کو پر کریں)۔
سوال : اللہ تعالی نے اجازت طلب کرنے کے مقصد کو پورا کرنے کے لیے کچھ آداب مشروع کیے ہیں۔ وہ آداب کیا ہیں؟
سوال : بتائيں کہ بچے گھروں میں اجازت کیسے طلب کریں؟
سوال : پردے کے تین اوقات کیا ہیں، بیان کریں اور بتائيں کہ اللہ تعالی نے ان تین اوقات میں اجازت طلب کرنے کا حکم کیوں دیا ہے؟
مرحلہ نمبر(3)
معلم مذکورہ سوالات کی وضاحت کے ساتھ ساتھ اس بات کی کوشش کرے کہ ان سے جڑے ہوئے نصوص پیش کر دیے جائيں۔ اس کے لیے وہ آڈیو میڈیم یا ڈسپلے اسکرین کی مدد لے سکتا ہے۔ بعد ازاں طلبہ سے انھیں پڑھنے کے لئے کہے اور ان کے بارے میں ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کرے، تاکہ طلبہ ان سے ان کے مقاصد اور فوائد اخذ کر سکیں۔
* نتیجہ نکالنا :
تبادلہ پر مبنی تدریس کی حکمت عملی کے چوتھے مرحلے، جس کا تعلق تلخیص سے ہے، کی تکمیل کے لیے معلم طلبہ سے سبق سے حاصل شدہ اہم رہ نمائیوں اور ان سے آگاہی کے سلسلے میں اپنے کردار پر مشتمل ایک پیراگراف لکھنے کے لئے کہے اور کچھ طلبہ کو ساتھیوں کے سامنے انھیں پڑھنے کے لیے کہے اور ان کی مناسب حوصلہ افزائی کرے۔
* سرگرمیاں :
بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر سیکھنے کی ہدایت دیں :
سرگرمی نمبر 1 نوعیت و ہدف انفرادی۔ اجازت طلب کرنے سے گريز کے مفاسد کی وضاحت اور اجازت طلب کرنے کے آداب کو عام کرنے کے وسائل کی تجویز۔
ہدف نمبر 2، 4
آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ ہر طالب علم کو سرگرمی کا جواب انفرادی طور پر دینے کے لئے کہیں، پھر اجازت طلب کرنے کی فضیلت کے مراجعہ کے توسط سے پہلے عنصر کے صحیح استنباط پر ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ اسی طرح اجازت طلب کرنے کے آداب کى نشر و اشاعت کو عملی جامہ پہنانے کے تعلق سے بڑی تعداد میں تجویزیں پیش کرنے کی خاطر ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو بہ روئے کار لائیں۔
تین طلبہ سے اپنے جوابات پیش کرنے کے لئے کہيں، ان کے درمیان موازنہ کریں، سب سے بہتر جواب کی نشان دہی کریں، اس کی وجہ بتائيں اور تمام طلبہ کو اس سے رہ نمائی حاصل کرنے کے لئے کہیں۔
دوسروں کی شرم گاہوں کو دیکھنا۔
سرگرمی نمبر 2 نوعیت و ہدف انفرادی۔ اجازت طلب کرنے کی مشروعیت کی حکمت تک رسائی حاصل کرنا۔
ہدف نمبر 5
بہتر یہ ہوگا کہ معلم طلبہ کو دوسری سرگرمی کے جواب تک پہنچنے کے لیے بحث و جستجو کرنے کی ہدایت کرے، طلبہ کی کارکردگیوں پر نظر رکھے، ان کی بحث و جستجو اور مختلف مصادر سے رجوع کرنے کی حوصلہ افزائی کرے، ان کے تجربات کے تبادلے کی ہمت افزائی کرے اور انھیں صحیح جوابات سے آگاہ کرے۔
* اندازۂ قدر :
درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں:
طلبہ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیں۔ ہر گروہ کو کتاب میں درج سوالات کا جواب ایک الگ کارڈ میں دینے کے لئے کہيں۔ اس بات کا خیال رہے کہ گروہ میں شامل ہر طالب علم ایک ایک سوال کا جواب دے اور باقی لوگ اس پر توجہ دیں اور اس کی رہ نمائی کریں۔
طلبہ سے سارے کارڈ لے لیں اور ان کی تصحیح کریں۔
بعد ازاں طلبہ کے سامنے سوالات رکھیں، ان کے جوابات حاصل کریں اور بتائيں کہ پیش کردہ جوابات اور ہر گروہ کے ذریعے دیے گئے جوابات میں کیا فرق ہے۔
سب سے بہتر جواب دینے والے گروہ کی نشان دہی کریں اور اس میں شامل طلبہ کی کارکردگی کی تعریف کریں۔
سوال 1 : . . . . .
سوال 2 : (واپس ہو جانا) - (عشا) - (گھر کے لوگوں کی عزت آبرو کی حفاظت)۔
تربیتی و وجدانی تنبیہات :
طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :
ہر طالب علم اپنے اہل خانہ کے طور طریقے کا جائزہ لے، تاکہ واضح ہو سکے کہ وہ اجازت طلب کرنے کے آداب کا کتنا خیال رکھتے ہيں؟ معلم ان کے ساتھ اس سلسلے میں پائی جانے والی کوتاہیوں کے بارے میں سبق سے حاصل کردہ معلومات کی روشنی میں تبادلۂ خیال کرے، تاکہ ان کوتاہیوں کو درست کیا جا سکے۔
طلبہ اجازت طلب کرنے کے آداب کو معاشرے میں عام کرنے کے لیے ان تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کریں، جن تک ان کی رسائی سبق کے توسط سے ہوئی ہے۔ اس مقصد کی تکمیل کے لیے کچھ اختصاص کے حامل افراد، جیسے امام مسجد یا خاندانوں اور پریواروں کے با اثر افراد کی مدد لی جا سکتی ہے۔
تیسرا سبق : گفتگو اور مجلس کے آداب
سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی
نئے کلمات : (إفشاء السلام - الغيبة - النميمة - يَتَنَاجَى - التفسُّح).
تعلیمی وسائل :
(کمپیوٹر ڈیوائس - ڈسپلے اسکرین - بلیک بورڈ - تعلیمی کارڈ - تعلیمی بورڈ - آڈیو میڈیم جس میں کچھ شرعی نصوص ریکارڈ ہوں)۔
تدریسی حکمت عملیاں :
(نقطہ ہائے نظر کے تجزیہ پر مبنی حکمت عملی - استنباطی طریقہ پر مبنی حکمت عملی- ذہنی نقشوں پر مبنی حکمت عملی - تعلم کے حلقوں پر مبنی حکمت عملی - استماع مثلث پر مبنی حکمت عملی - کرداروں کی ادائيگی پر مبنی حکمت عملی)۔
اقدار و رجحانات :
o گفتگو اور مجلس کے آداب کی پابندی۔
o معاشرے کی ترقی میں گفتگو اور مجلس کے آداب کی اہمیت کا اندازہ لگانا۔
o سلام عام کرنے کی فضیلت پر فخر۔
o حرام لہو ولعب کی مجلسوں سے اجتناب کی کوشش۔
* سبق کی تمہید :
نقطہ ہائے نظر کے تجزیے پر مبنی حکمت عملی کے تحت طلبہ کے سامنے درج ذیل موقف رکھیں اور اس کے بارے میں ان سے میں رائے طلب کریں : (کچھ لوگ مجلس کے آداب کا خیال رکھے بغیر ہی مجلس کا آغاز اور اختتام کر دیتے ہيں۔ یہ اسلامی طریقے کے مخالف رویہ ہے۔)
ان کے جوابات کا استقبال کریں، ان پر تعلیق چڑھائیں اور ان کو بتائيں کہ اس سبق کے توسط سے وہ گفتگو اور مجلس کے آداب سے واقف ہو سکتے ہیں۔ اس کے بعد طلبہ کو سبق کا عنوان بتائيں اور اسے بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔
* سبق کی پیش کش :
مرحلہ نمبر(1)
ایک تجویز یہ پیش کی جاتی ہے کہ طلبہ کے سامنے سبق کے عناصر پر مشتمل ایک رہ نما نقشہ پیش کریں اور اس کے بعد انھیں اس پر غور کرنے اور دس منٹ تک سبق کے مشمولات کو پڑھنے کے لئے کہیں، تاکہ ہر طالب علم اس سبق سے جو کچھ جاننا چاہتا ہے، اس کے بارے میں تین سوالات پیش کرے۔ طلبہ کے سوالات کا استقبال کریں اور انھیں بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔
مرحلہ نمبر (2)
آپ ایسا کر سکتے ہيں کہ طلبہ کے سامنے گفتگو کے آداب کے شرعی دلائل رکھیں، یکے بعد دیگرے ہر دلیل کی تشریح و وضاحت کریں، طلبہ کو ہر دلیل سے گفتگو کے آداب نکالنے کے لئے کہيں اور اس کے بعد ان کے جوابات کا موازنہ سبق کے مشمولات سے کریں۔
مرحلہ نمبر(3)
ایسا کیا جا سکتا ہے کہ تعلم کے دائروں پر مبنی تعلیمی حکمت عملی کے توسط سے طلبہ ایک دائرے کی شکل میں بیٹھ جائيں اور اجتماعی طور پر غور و فکر کر کے ان آداب مجلس تک پہنچيں، جن کا التزام ہر مسلمان پر واجب ہے۔ معلم دائرے کے بیچ میں کھڑے ہو کر ان کے جوابات کا استقبال کرے اور صحیح جواب کو شرعی دلائل سے مضبوطی عطا کرے اور غلط جواب کی نشان دہی کرے۔
٭ نتیجہ نکالنا :
آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ ہر طالب علم کو ان تین سوالات کا جواب دینے کی ہدایت کریں، جنھیں سبق کے پہلے مرحلہ کے دوران پیش کیا گیا تھا۔ پھر کچھ طلبہ کو منتخب کر کے اپنے سوالات اور ان کے جوابات پیش کرنے کے لئے کہیں اور بتائيں کہ ان کے سوال و جواب میں کتنی باریکی، محنت اور سیکھی ہوئی باتوں کا احاطہ پایا جاتا ہے۔
* سرگرمیاں :
بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :
سرگرمی نمبر 1 نوعیت و ہدف اجتماعی۔ سلام کرنے کے درجات اور ہر درجے کے ثواب کی نشان دہی۔ ہدف نمبر 1
معلم استماع مثلث کی حکمت عملی سے مدد لے سکتا ہے۔ اس کے لیے طلبہ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دے اور ہر گروہ میں تین تین طلبہ ہوں۔
پہلا طالب علم سرگرمی اور اس کے مطلوب کی تشریح کرے، دوسرا طالب علم اچھی طرح سنے اور پہلے طالب علم سے سرگرمی کے تعلق سے مزید تفصیل و وضاحت کے لیے کچھ سوالات کرے، جب کہ تیسرا طالب علم اپنے دونوں ساتھیوں کی کار کردگی پر مکمل توجہ دے، دونوں کو مفید مشورے دے اور طلبہ کے درمیان ہونے والے سوال و جواب کو لکھ کر معلم کے سامنے پیش کرے۔
معلم سارے گروہوں کی کار کردگیوں پر نظر رکھے، ہر گروہ کی تحریروں اور پیش کردہ جواب کو پڑھے، سب پر تبصرہ کرے اور غلط جواب دینے والے کی نشان دہی کرے، تاکہ اس کی کارکردگی کو درست کیا جا سکے۔
سرگرمی نمبر 2 نوعیت و ہدف انفرادی۔ مجالس سے متعلق کچھ غلط رویوں کا جائزہ۔ ہدف نمبر 3، 4
آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ سرگرمی کے ضمن میں وارد موقفوں کو کردار کے ذریعے ساتھیوں کے سامنے پیش کرنے کے لیے چار طلبہ کا انتخاب کریں۔
کچھ اور طلبہ کا انتخاب ان موقفوں کے بارے میں ان کے نقطۂ نظر اور ان کی جانب سے پیش کردہ نصیحت کے بارے میں ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کرنے کے لیے کریں۔
صحیح جواب دینے اور سبق سے حاصل شدہ معلومات کی روشنی میں نصیحت پیش کرنے والے کی تعریف کریں۔
* اندازۂ قدر :
درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :
ہر دو طالب باہمی تعاون سے پہلے اور دوسرے سوال کا جواب دیں، معلم ان کے جوابات سے واقف ہونے کے لیے ان کے پاس سے گزرتے رہے اور سب سے بہتر جواب دینے والے گروہ کا انتخاب کر کے اسے ساتھیوں کے سامنے صحیح جواب پڑھ کر سنانے کے لئے کہیں، تاکہ دیگر گروہ اس کی روشنی میں اپنے جوابات درس کر لیں۔
سوال 1 : . . .
ہر گروہ میں شامل طلبہ ایک دوسرے کی مدد سے تیسرے سوال کا جواب دیں۔ کوشش یہ ہو کہ گروہ میں شامل ہر طالب علم کسی ایک سوال کا جواب دے اور باقی طلبہ اس پر دھیان رکھیں۔ اس دوران آپ گروہوں کے پاس سے گزرتے رہيں، تاکہ ان کے جوابات سے واقف ہو سکيں۔ پھر سب سے بہتر جواب دینے والے گروہ کی نشان دہی کریں اور اس گروہ کے طلبہ اپنا جواب اپنے ساتھیوں کے سامنے رکھیں۔
* تربیتی و وجدانی تنبیہات :
طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :
'گفتگو اور مجلس کے آداب' اس سبق سے سیکھے ہوئے آداب کو صحیح طور پر عملی جامہ پہنانا اور آس پاس کے لوگوں کو ان سے متعارف کرانے کی کوشش کرنا کہ وہ بھی ان پر عمل کر سکیں۔
شریعت کے بیان کردہ سلام اور مجلس کے آداب سے متصادم افعال اور رویوں سے اجتناب کرنا اور الیکٹرانک سرچ کے ذرائع، دینی کتابوں اور اہل علم سے رجوع کر کے ان آداب سے جڑے ہوئے زيادہ سے زيادہ دلائل سے واقف ہونے کی کوشش کرنا۔
چوتھا سبق : قضائے حاجت کے آداب
سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی
نئے کلمات : (الغرور - الكبر).
تعلیمی وسائل : (بلیک بورڈ - تعلیمی بورڈ - تعلیمی کارڈ)۔
تدریسی حکمت عملیاں :
مشکلات کے حل پر مبنی حکمت عملی - تعلقات کےآن لائن تجزیہ پر مبنی حکمت عملی - مثبت اور منفی مثالوں پر مبنی حکمت عملی - فرضی تصورات قائم کرنے پر مبنی حکمت عملی - شخصی روابط پر مبنی حکمت عملی)۔
اقدار و رجحانات :
o قضائے حاجت کے آداب پر عمل کرنے کی کوشش۔
o دین اسلام پر ناز کرنا، جو نظافت کی تعلیم دیتا ہے۔
o شخصی نظافت کی اہمیت کا اندازہ لگانا۔
* سبق کی تمہید :
طلبہ کے سامنے درج ذیل موقف رکھیں، ان سے اس کے بارے میں رائے دینے کے لئے کہیں، ان کے جوابات کا استقبال کریں اور اس کے بعد انھیں بتائيں کہ ان کو اس کا جواب اس سبق کے توسط سے ملے گا۔
(ایک بچہ قضائے حاجت کے لیے بیت الخلا میں داخل ہوا اور جب اذان سنی تو اسے مؤذن کے ساتھ دوہرانے لگا۔)
طلبہ کو سبق کے مقاصد اور اس کے عنوان سے روبرو کریں اور اسے بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔
* سبق کی پیش کش :
مرحلہ نمبر (1)
آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ بلیک بورڈ پر قضائے حاجت کے مختلف قسموں کے آداب کی ایک شکل بنائيں اور طلبہ سے اس پر غور کرنے کے لئے کہيں اور ان آداب کے بارے میں اپنی سابقہ معلومات پیش کرنے کے لئے کہيں، تاکہ یہیں سے سبق کی تشریح کی جانب بڑھ سکيں۔
پیش قدمی (2)
ایسا کیا جا سکتا ہے کہ معلم درج ذیل مواقف میں سے ہر موقف کو مختلف کارڈوں پر لکھ دے۔ دراصل ان مواقف کے اندر قضائے حاجت کی مثبت اور منفی مثالیں موجود ہيں۔ بعد ازاں کارڈوں کو طلبہ کے درمیان تقسیم کر دے۔ اس کے بعد ہر طالب علم ایک ایک موقف کو پڑھے، اس کے بارے میں اپنی رائے رکھے اور معلم طلبہ کے جوابات کے بارے میں ان سے تبادلۂ خیال کرے، صحیح آداب کی نشان دہی کرے اور غلط طرز عمل کو درست کرے۔
ایک شخص مصحف ساتھ لے کر بیت الخلا میں داخل ہو گیا۔
ایک شخص نے بیت الخلا کے اندر اللہ تعالی کا ذکر کیا۔
ایک شخص نے پانی بہنے کی جگہ میں قضائے حاجت کی۔
ایک شخص نے دائيں ہاتھ سے استنجا کیا۔
ایک شخص نے قضائے حاجت کی جگہ کو گندہ چھوڑ دیا۔
مرحلہ نمبر (3)
معلم مفصل طور پر قضائے حاجت کے آداب پیش کرنے والا تخطیطی نیٹ ورک پر مشتمل ایک بورڈ پیش کرے اور طلبہ اس پر غور کریں، اسے پڑھیں اور اس میں درج آداب کا موازنہ ان آداب سے کریں، جن کى وضاحت پچھلے مرحلہ میں کى جا چکى ہے۔
* نتیجہ نکالنا :
معلم ہر طالب سے قضائے حاجت کا ایک ایک ادب، جسے اس سبق سے سیکھا ہے، اس طرح بیان کرنے کے لئے کہے کہ پہلا طالب علم پہلے ادب سے آغاز کرے اور اس کے ساتھی باقی آداب کا ذکر اسی ترتیب سے کریں اور تکرار بھی در نہ آئے۔
معلم ہر طالب علم سے اس بات پر غور کرنے کے لئے کہے کہ وہ قضائے حاجت کے آداب کی کتنی پابندی کرتا ہے اور ان آداب کی بھی نشان دہی کرنے کے لئے کہے، جن کا وہ خیال نہيں رکھتا، تاکہ ان کی پابندی کرنے کا عزم کرے۔
* سرگرمیاں :
بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :
سرگرمی نمبر 1 نوعیت و ہدف انفرادی۔ بیت الخلا میں داخل ہونے کے آداب کی روشنی میں انسان کی عزت افزائی کے مظاہر کی وضاحت کرنا۔ ہدف نمبر 1، 3
ایسا کیا جا سکتا ہے کہ معلم ویڈیو کلپ پیش کرے اور اس کے بعد کچھ طلبہ کا انتخاب کرے، جن میں سے ہر طالب علم بیت الخلا میں داخل ہونے کے آداب کے توسط سے انسان کی تکریم کے مظاہر کو واضح کرے۔
معلم دوسرے طالب علم سے سبق کی حاصل شدہ معلومات کی روشنی میں اپنے ساتھی کے جواب کا اندازۂ قدر کرنے کے لئے کہے۔
سرگرمی نمبر 2 نوعیت و ہدف انفرادی / اجتماعی۔ قضائے حاجت کرنے کے متوقع نتیجے کا بیان۔
ہدف نمبر 3، 4
معلم سرگرمی کے ضمن میں وارد عبارتوں کو مختلف کارڈوں میں لکھ دے، انھیں کسی ترتیب کا خیال رکھے بغیر طلبہ کے درمیان تقسیم کر دے اور اس کے بعد طلبہ کے سامنے سرگرمی کے ضمن میں وارد قضائے حاجت کے مواقف کو اس طرح یکے بعد دیگرے پیش کرے کہ ہر طالب علم موقف کے نتیجے پر غور و فکر کرے، اس سے مطابقت رکھنے والے کارڈ کی نشان دہی کرے اور اسے اوپر اٹھائے۔
معلم طلبہ کے جوابات دیکھے، غلط جواب دینے والے سے اس کا کارڈ لے لے، اسے صحیح جواب بتا دے اور اسے اپنے ساتھیوں کو فالو کرنے کے لئے کہے۔
* اندازۂ قدر :
درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :
ہر طالب علم اپنی کتاب میں دیے گئے سوالوں کا جواب علاحدہ علاحدہ دے۔
معلم طلبہ کے جوابات جمع کرے اور اندازۂ قدر کرے۔ ہر طالب کو مناسب نمبر دے اور سب سے زیادہ نمبر حاصل کرنے والے طالب علم کی نشان دہی کرے۔
معلم طلبہ کے جوابات دوبارہ ان کے درمیان تقسیم کر دے، ان کی غلطیوں پر تعلیق چڑھائے اور ان کو انھیں درست کرنے کا طریقہ بتائے، تاکہ ہر طالب علم اپنے غلط جواب کو درست کر لے۔
سوال 1 : (پھل دار درخت - حرام - شرمگاہ یعنی چھپائی جانے والی چیز - قرآن)۔
سوال 3 :
- میں قضائے حاجت کے بعد اپنے بائيں ہاتھ سے نجاست دور کرتا ہوں۔
- بیت الخلا سے نکلنے کے بعد (غُفرانَك) کہتا ہوں۔
- قضائے حاجت کے دوران جب اذان سنتا ہوں، تو اسے دوہراتا نہیں ہوں۔
* تربیتی و وجدانی تنبیہات :
طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :
ہر طالب ان غلط رویوں کو درست کر لے، جن کو وہ قضائے حاجت کے دوران روا رکھتا تھا۔
ہر طالب علم قضائے حاجت کے آداب کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرے اور اپنے اہل خانہ کو ان سے متعارف کرائے، تاکہ ان کی جانب سے بھی ان پر عمل کیا جا سکے۔
پیش لفظ
ساری تعریف اللہ کی ہے، جس نے انسان کو پیدا کیا، اسے علم و بیان کی دولت سے نوازا اور قرآن و سنت کے ذریعے اس پر حجت قائم کر دی۔
درود و سلام ہو ہمارے نبی محمد ﷺ پر، اور آپ کے اہل بیت، معزز ساتھیوں اور قیامت کے دن تک ان کی پیروی کرنے والوں پر۔
حمد و صلاۃ کے بعد! اس بات میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہيں ہے کہ بندے پر عمل سے پہلے علم حاصل کرنا بے حد ضروری ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے : (تو آپ اس کو جان لیں کہ بجز اللہ کے کوئی برحق معبود نہیں اور اپنی خطا کی معافی مانگتے رہیے اور سارے ایمان والوں اور ایمان والیوں کے لیے بھی۔ اور اللہ خوب خبر رکھتا ہے تم سب کے چلنے پھرنے اور رہنے سہنے کی)۔
(سورہ محمد : 19)
دراصل شرعی علم اس امت کی اہم ترین امتیازات میں سے ایک امتیاز اور اسلامی شخصیت کے اہم ترین عناصر میں سے ایک عنصر ہے۔
علم کی اہمیت کے پیش نظر، جس کے چشمے سے جمعیۃ الدعوہ و توعیۃ الجالیات روضہ کا فیض جاری ہے اور وہ لوگوں کو حکمت کے ساتھ اور تبلیغ کے بہترین طریقوں کو بروئے کار لاتے ہوئے لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے اور پردیسى کمیونٹیز کی تعلیم اور ان کو شرعی اعتبار سے اہل بنانے کے مقصد سے کیے گئے پروگراموں، جیسے ('فقهني في ديني' یعنی مجھے میرا دین سکھائیے) نامی پروگروام، جو پردیسى کمیونٹیز کے لیے سات زبانوں میں شرعی کورسیز فراہم کرتا ہے، کے توسط سے مسلمانوں کے اندر دینی بیداری لانے کے کام میں مشغول ہے۔
اس پروجیکٹ کو تیار کرنے کے لیے مذکورہ جمعیت نے "بصائر للاستشارات التربوية" نامی کمپنی سے رابطہ کیا، جو شرعی تعلیم کا نصاب تیار کرنے کا کام کرتی ہے۔ چنانچہ جمعیت کی جانب سے فراہم کردہ مواد کی بنیاد پر اس نصابی دستاویز کو تیار کرنے پر اتفاق عمل میں آیا اور پھر درج ذیل مراحل کے مطابق طالب علموں کے لیے کتابیں تالیف کی گئیں :
- پہلا مرحلہ، جس میں چالیس (40) درس شامل ہیں۔
-دوسرا مرحلہ، جس میں تیس (30) درس شامل ہیں۔
- تیسرا مرحلہ، جس میں تیس (30) درس شامل ہيں۔
متعلم کے لیے تیار کی گئی ہر کتاب کے مقابلے میں معلم کے لیے بھی ایک رہ نما کتاب تیار کی گئی ہے، تاکہ وہ اس کے لئے مؤثر تعلیمی اور تربیتی طریقے پر درس پیش کرنے میں معاون و مددگار ثابت ہو۔ نصابی دستاویز مرتب کرنے، متعلمین کے لیے کتابیں تالیف کرنے اور معلمین کے لیے گائیڈ تیار کرنے کا عمل بڑے ہی علمی انداز میں انجام پایا ہے اور بڑی باریک بینی کے ساتھ مراجعہ کیا گیا ہے۔ یہ کام شرعی تعلیمی نصاب کے ماہرین کی ایک جماعت نے کیا ہے۔
اخیر میں دعا ہے کہ اللہ اس عمل کو اسلام اور مسلمانوں کے لیے نفع بخش بنائے اور اس میں شریک ہونے والے ہر شخص کو بہتر بدلہ عطا کرے اور جنت سے نوازے۔ اس نصاب تعلیم کے بارے میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور جمعیت کے فون نمبروں کے ذریعہ موصول ہونے والی آپ کی کارآمد تجاویز اور آرا کا پرجوش خیر مقدم ہے۔
درود وسلام نازل ہو ہمارے نبی محمد ﷺ اور آپ ﷺ کے آل واصحاب پر۔
جعیۃ الدعوہ، روضہ
مقدِّمہ
ساری تعریف صرف اللہ کی ہے، درود و سلام ہو ہمارے نبی محمد بن عبداللہ ﷺ پر کہ جن کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، آپ کے اہل بیت، تمام ساتھیوں پر اور قیامت کے دن تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر۔
میرے معلم بھائی! تعلیم کا کام ایک معزز ترین کام ہے۔ کیوں کہ یہ انبیا اور مصلحین کا کام ہے اور سماج اور امت اسلامیہ کی تعمیر و ترقی میں اس کا بہت بڑا کردار ہے۔
آپ کے اس غیر معمولی کردار کے پیش نظر ہم آپ کے لیے یہ رہ نما کتاب فراہم کر رہے ہیں، جو آپ کی ذمے داری کی ادائيگی میں مددگار ثابت ہوگی۔
تاکہ تدریس کا کام زیادہ خوش گوار اور نتیجہ خیز ثابت ہو۔ کیوں کہ اس رہ نما کتاب میں اسباق کی ایسی منصوبہ بندی شامل ہے، جو طلبہ کی سطح اور ماحول سے مناسبت رکھتی ہے اور طالب علم کے لیے فراہم کی گئی کتاب کے اہداف و مقاصد اور تدریس و اندازۂ قدر کے طریقوں سے ربط رکھتی ہے۔
رہ نما کتاب برائے معلم میں سبق کے عناصر
اس رہ نما کتاب کے صفحات اپنے ہر درس میں متعدد عناصر کو سموئے ہوئے ہيں، جو تعلیمی موقف کے نمایاں ترین پہلوؤں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان میں سے درج ذیل عناصر زیادہ اہم ہیں :
ڈیٹا باکس (بیانات کا خانہ) :
اس میں سبق کے لیے تجویز کردہ دورانیہ، سیکھنے کے لیے نئے الفاظ، استعمال کئے جانے والے تعلیمی مواد، سبق کے دوران بروئے کار لائے جانے والے اقدار و رجحانات اور سبق کی تجویز کردہ حکمت عملیاں موجود ہیں۔
ب- سبق کے مراحل :
سبق کے درج ذیل مراحل متعین کیے گئے ہیں :
(1) سبق کی تمہید : اس کا مقصد ہوتا ہے طالب علم کی توجہ سبق پر مبذول کرانا اور اس کے لیے کئی طریقۂ کار اپنائے جاتے ہيں۔ مثلا ایسے چھوٹے چھوٹے سوالات جو نقطۂ آغاز بن سکتے ہيں، ایسی حقیقی کہانی جو سبق سے جڑی ہوئی ہو، آج کے سبق کو پچھلے سبق سے جوڑنا یا کوئی تعلیمی وسیلہ اختیار کرنا۔
(2) نتیجہ نکالنا : اس سے مراد موضوع کو پڑھنے کے بعد متعلم کے ذریعے حاصل کیے گئے معارف، مفاہیم، حقائق اور احکام ہیں۔ اس رہ نما کتاب میں سیکھنے والوں کے ذریعہ اخذ کئے جانے والے نتائج کی توقعات شامل ہیں۔ معلم کو ان پر زور دینا چاہیے اور اس بات کی تاکید کرنی چاہیے کہ متعلمین انھیں اپنی کاپیوں میں لکھ لیا کریں۔
(3) سرگرمیاں : ان کا مقصد متعلم کو زیر درس موضوع سے سیکھی ہوئی باتوں اور حاصل کیے ہوئے تجربات کو نئے حالات پر لاگو کرانے کی مشق کرانا ہوتا ہے۔ دراصل ان سرگرمیوں کا مقصد سبق کے مشمولات میں رہ جانے والے ممکنہ خلا کو پر کرنا ہوتا ہے۔ معلم کو چاہیے کہ طالب علموں کو ان سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے پر ابھارے اور اس بات کو دھیان میں رکھے کہ ان میں سے ہر سرگرمی کسی معین ہدف کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، لہذا وہ اس ہدف کو حاصل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ ہم اساتذہ سے اس بات کی بھی امید رکھتے ہيں کہ وہ طلبہ کو ان اسباق سے سیکھے ہوئے معارف کو عملی طور پر ادا کرنے اور عمل میں لانے کی مشق کرانے پر بھی توجہ دیں۔
(4) اندازۂ قدر : اس کا مقصد اس بات کا اندازہ لگانا ہوتا ہے کہ متعلقہ سبق کے اہداف کس حد تک حاصل ہو سکے اور کس حد تک حاصل نہیں ہوئے۔ اسی بنا پر اس بات کا بھی خیال رکھا جاتا ہے کہ سبق کا ہر سوال اس کے کسی نہ کسی مقصد سے کتنا جڑا ہوا ہے۔ اس رہ نما کتاب کے اندر سبق کے بعض سوالات کے جوابات بھی دے دیے گئے ہيں، تاکہ معلم کو اپنا کام کرنے میں آسانی ہو۔
(5) توجہ طلب تربیتی اور وجدانی باتیں : ان کا مقصد سبق کے دوران سیکھی ہوئی اہم باتوں کو عملی جامہ پہنانا اور ان کو اپنے خاندان میں اور دوستوں اور سماج کے درمیان نافذ کرنا ہوتا ہے۔
وہ تربیتی بنیادیں، جن پر یہ رہ نما کتاب قائم ہے :
اول : مقاصد نصاب :
ہر سبق کے اہداف و مقاصد متعین کر دیے گئے ہیں، جن کو متعین کرتے وقت درج ذیل باتوں کا خیال رکھا گيا ہے :
- اہداف و مقاصد زیر درس مواد کے کارآمد اور مفید ہونے کا آئینہ دار ہوں۔
- جان کاری، وجدان اور مہارت تینوں پہلووں کو سمیٹے ہوئے متنوع ہوں۔
- واقعیت پر مبنی، ممکن الحصول اور طلبہ کی سطح سے مناسبت رکھنے والے ہوں۔
- جانکاری سے متعلق مقاصد کے مرحلوں (یاد کرنا - سمجھنا - تطبیق دینا - تجزیہ کرنا - مربوط کرنا - اندازۂ قدر کرنا) کو بہ تدریج پورا کیا جائے۔
- بہتر ہدف کے حصول کی شرطوں کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ ہدف متعلم کے رویے کے پر مرکوز رہے اور اسی میں پورے تجربے کو صرف کیا جائے۔
دوم : مشمولات کی تعمیر و ترتیب :
اس نصاب تعلیم کے مواد کا انتخاب سبق کے متعینہ اہداف کے مطابق عمل میں آیا ہے۔ مشمولات کو اہداف و مقاصد کا مکمل آئينہ دار, دستاویز میں شامل صلاحیتوں اور طلبہ کی سطح کے عین مطابق رکھا گیا ہے۔ مشمولات کی پیش کش میں کوشش کی گئی ہے کہ آسان مواد سے گہرائی پر مبنی مواد کی جانب بہ تدریج آگے بڑھا جائے، فراہم کردہ معلومات کی صحت کو یقینی بنایا جائے، آیات قرآنی اور احادیث نبوی سے دلیلیں پیش کی جائيں، طلبہ کی آسانی کے لیے مشمولات میں شامل آیتوں اور حدیثوں کی تشریح کر دی جائے اور قرآنی آیات کے حوالے دے دیے جائيں اور احادیث نبویہ کی تخریج کر دی جائے۔
سوم : تعلیمی سرگرمیوں کا استعمال :
تعلیمی سرگرمیوں کو ترتیب دیتے وقت کچھ معیاروں کا خیال رکھا گیا ہے، جیسے :
- اس بات کى رعایت کہ سرگرمیاں سبق کے اہداف و مقاصد سے جڑی ہوئی ہوں اور ان مقاصد کے حصول میں سرگرمیوں کا بھی کردار رہے۔
- طالب علم کے مزاج کا خیال رکھتے ہوئے کچھ سرگرمیاں معلم کی نگرانی میں اور کچھ ساتھیوں کے تعاون سے کرنے کے لیے دی جائيں۔
تعلیمی سرگرمیوں میں تنوع رکھا جائے۔ کچھ سرگرمیاں سمعی ہوں، کچھ سرگرمیوں میں معلم کی باتوں کو دوہرایا اور نقل کیا جائے، کچھ سرگرمیوں میں کسی موضوع سے متعلق کچھ معین چيزیں جمع کرنے کو کہا جائے، کچھ سرگرمیوں کا تعلق شرح، تلخیص، زمرہ بندی اور دوبارہ تشکیل سے ہو، کچھ سرگرمیاں یاد کرنے، سننے اور پڑھنے سے تعلق رکھتی ہوں، کچھ سرگرمیاں ترتیب دینے کے قبیل سے ہوں اور کچھ حساب پر مشتمل۔
چہارم : تعلیمی وسائل، جن کے دائرے میں درج ذیل چيزیں آتی ہيں :
- نصابی کتاب اور اس میں موجود تصاویر اور ماڈل۔
- کلاس روم میں آویزاں بڑے بڑے ڈسپلے بورڈ۔
- اجتماعی سرگرمیوں کے لیے کچھ کارڈ۔
- ریکارڈنگ ڈیوائس۔
پنجم : اندازۂ قدر کے متنوع اسالیب :
اسباق کے سوالات تیار کرتے وقت خیال رکھا گیا ہے کہ سوالات سبق کے اغراض و مقاصد سے مربوط ہوں اور معرفت کے پہلو کی پیمائش کرنے والے یہ سوالات تنوع کے حامل ہوں۔ کہیں صیح و غلط کی نشان دہی کرنے کے لئے کہا جائے، کہیں ملان کرنے کے لئے کہا جائے، کہیں متعدد آپشنز میں سے ایک کا انتخاب کرنے کے لئے کہا جائے، کہیں مکمل کرنے کے لئے کہا جائے اور کہیں ترتیب دینے کے لئے کہا جائے۔ اسی طرح وجدان اور مہارت کے پہلو کی پیمائش کے سلسلے میں معارف کو ایسے رویوں میں بدلنے کی کوشش کی گئی ہے، جن کی پابندی طالب کے ذریعے کی جائے۔ یہاں ہم اس بات کی جانب اشارہ کر دینا چاہتے ہیں کہ وجدان اور مہارت کے پہلؤوں کی پیمائش کا ایک بہترین طریقہ کلاس میں مدرس کے ذریعے اور گھر میں والدین کے ذریعے مشاہدہ اور متابعت کا پہلو ہے۔
ششم : تدریس کی حکمت عملیاں :
عزیز معلم! یہاں آپ کو تدریس کے کچھ طریقوں، جن کا استعمال اس رہ نما کتاب کو تیار کرنے میں کیا گیا ہے، سے روبرو کرایا جاتا ہے، تاکہ آپ ان سے، ان کے طریقۂ کار سے اور ان کو عملی جامہ پہنانے کے مراحل سے آگاہ ہو جائيں۔
(1) باہمی تعاون سے سیکھنے پر مبنی حکمت عملی :
یہ ایک ایسا طریقۂ تدریس ہے، جس کی بنیاد طلبہ کو چھوٹے چھوٹے گروہوں (2 : 6 طلبہ) میں تقسیم کر کے سیکھنے کے عمل کو انجام دینے پر قائم ہے۔ اس طریقۂ تعلیم کے تحت طلبہ کو ساتھ مل کر، چاق و چوبند ہو کر اور ایک دوسرے کی مدد سے کام کرنے کی اجازت دی جاتی ہے، تاکہ گروہ میں شامل ہر طالب علم کی سطح بلند ہو اور مشترکہ تعلمیی ہدف حاصل ہو سکے۔ گروہ میں شامل طلبہ کے درمیان کام تقسیم کر دیا جاتا ہے اور ہر گروہ کا ایک قائد مقرر کر دیا جاتا ہے، جو اس میں شامل طلبہ کی کار کردگی پر نظر رکھتا ہے اور ان کے جوابات جمع کر کے استاد کے سامنے رکھتا ہے۔
(2) برین اسٹورمنگ (Brainstorming) :
اس طریقے کی بنیاد غور و فکر اور تخلیقی صلاحیتوں کو مہمیز کرنے پر استوار ہوئی ہے۔ برین اسٹورمنگ کا استعمال ذہنی صلاحیتوں اور سرگرمیوں میں اضافے کے مقصد سے بہت سی علمی دشواریوں اور زندگی سے متعلق مختلف مسائل کے حل کے بارے میں اجتماعی یا انفرادی غور و فکر کے ایک اسلوب کے طور پر کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے بہت بڑی مقدار میں تجاویز، حل یا معلومات پیش کرنے اور اس کے بعد صحیح حل یا رائے تک پہنچنے کے لیے ان کی تنقیح کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
(3) حل مسائل پر مبنی حکمت عملی :
یہ ایسا طریقہ ہے، جس میں سیکھنے والا اپنی جان کاریوں اور مہارتوں کا استعمال کسی نئے اور نامانوس طریقے سے کسی صورت پر قابو پانے اور اس کے حل تک پہنچنے کے لیے کرتا ہے۔
اس طریقے کے تحت کیے جانے والے اقدامات میں مسئلے کو سمجھنا، اس کی تحدید، اس سے متعلق معلومات یک جا کرنا اور اس کے بعد مختلف حل پیش کرنا اور سب سے بہتر حل کے انتخاب کے لیے ان کا مطالعہ شامل ہے۔
(4) رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی :
انھیں معرفتی نقشے (Knowledge Maps)، ذہنی نقشے (Mind Maps)، تصوراتی نقشے (Concept Maps) اور معلوماتی نقشے (Information maps) بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے تحت موضوع کی تحلیل جزئیات میں کرنے کے بعد ان جزئیات کو ہندسی شکلوں، جسے جدولوں، دائروں یا مخروطی اشکال کے خاکوں کے ذریعے بیان کیا جاتا ہے۔ دراصل اس کا مقصد معلومات کے مطالعہ، ان کے درمیان ربط پیدا کرنے اور ان کو یاد کرنے میں آسانی پیدا کرنا ہوتا ہے۔
(5) موازنہ پر مبنی حکمت عملی :
یہ حکمت عملی ذہنی صلاحیتوں کو فعال بنانے، عناصر اور اشیا کے درمیان ربط کو واضح کرنے کے لیے عقل کو کام میں لانے اور مشابہت اور اختلاف کے پہلؤوں کی تحدید پر کام کرتی ہے۔ اس طرح کے غور و فکر کے لیے اعلی ابداعی صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیوں کہ جواب دینے کے لیے ہمیشہ عناصر کے درمیان ایک نئے نقطۂ نظر کی ضرورت ہوتی ہے۔
(6) قصہ گوئی پر مبنی حکمت عملی :
قصہ گوئی کے طریقے کا امتیازی وصف اس کا جوش و خروش، جاذبیت اور طلبہ پر اثر انداز ہونا ہے۔ قصہ خیال کو پروان چڑھاتا ہے، جذبات کو ابھارتا ہے، مقدمات کو نتائج سے جوڑنے کی دعوت دیتا ہے اور مجرد مفہوم کو محسوس واقع میں بدلنے کا کام کرتا ہے۔ قصہ مختلف واقعات کو آپس میں جوڑنے کے ساتھ ساتھ طالب کو اس کے ساتھ تعامل کرنے اور جو وہ سیکھتا ہے اس کے ساتھ جڑنے کی ترغیب دیتا ہے۔ قصہ گوئی کے وقت اس کی زبان، اسلوب اور طلبہ کے مناسب حال ہونے کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
(7) زندگى سے متعلق تطبیق پر مبنی حکمت عملی :
اس اسلوب کے پیش نظر اس بات کی کوشش ہوتی ہے کہ معلومات کو زندگی کے مسائل اور احوال سے جوڑ کر دیکھا جائے، تاکہ طالب علم کو مشمولات کے اسباق کو پوری توجہ سے پڑھنے میں مدد ملے۔ اس سے اسے کئی غلطیوں اور منفی باتوں کے علاج اور مثبت پہلووں کو پختہ کرنے کا راستہ ملے گا اور وہ انھیں اسلام کی جانب سے پیش کردہ شرعی احکام اور اخلاقی قواعد سے جوڑنے کى کوشش کرے گا، جس کے نتیجے میں اسے اس بات کا احساس ہوگا کہ اسلام اس کی زندگی کو نظم و ضبط کے دائرے میں لانے کا کام کرتا ہے۔
(8) غور و فکر کریں - تبادلۂ خیال کریں - شیئر کریں، پر مبنی حکمت عملی :
یہ حکمت عملی دراصل باہمی تعاون والے بحث و مکالمہ پر مبنی حکمت عملی ہے، جو تین مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلے مرحلے ميں معلم طالب علم کو تنہا سوال کا جواب دینے یا سرگرمی انجام دینے کے بارے میں سوچنے کا موقع دیتا ہے۔ دوسرے مرحلے میں طالب علم اپنے جواب کے بارے میں اپنے کسی ساتھی سے تبادلۂ خیال کرتا ہے۔ تیسرے اور آخری مرحلے میں حاصل شدہ جوابات کے بارے میں اپنے گروپ کے افراد کے ساتھ تبادلۂ خیال کرتا ہے، تاکہ ایک ایسا مشترکہ جواب سامنے آئے، جو پورے گروپ کی رائے کی نمائندگی کرتا ہو۔
سیکھنے کے عمل میں اس حکمت عملی کی بڑی اہمیت ہے۔ کیوں کہ یہ فعال انداز میں معلومات کے ساتھ سروکار رکھنے میں طلبہ کی مدد کرتی ہے اور ان کے اندر اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کی صلاحیت کو پروان چڑھاتی اور غور و فکر کی صلاحیت کو ترقی دیتی ہے۔
(9) تمہیدی مواد کی پیش کش پر مبنی حکمت عملی :
اس سے مراد یہ ہے کہ متعلمین کو سبق کے آغاز میں موضوع کی ساخت اور آگے پیش کی جانے والی معلومات سے متعلق ایک مقدمہ یا مختصر تمہیدی مواد فراہم کیا جائے، جس کا مقصد ہو موضوع سے متعلقہ مفاہیم، افکار اور مسائل کو آسان بنا کر سکھانا اور متعلم کی سابقہ معلومات اور آگے اسے جو معلومات حاصل کرنے کی ضرورت ہے، دونوں کے درمیان ربط پیدا کرنا۔
تمہیدی مواد کو بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اول تحریری تمہیدی مواد اور دوم غیر تحریری تمہیدی مواد۔ پھر تحریری تمہیدی مواد کو بھی دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ وضاحتی مواد اور تقابلی مواد۔
جب کہ غیر مکتوبہ مواد کو سمعی مواد، بصری مواد اور سمعی بصری مواد میں تقسیم کیا گیا ہے۔ بیانیہ مواد کی بنیاد ظواہر کے اجزا کو بیانیہ اشکال کے طور پر پیش کرنے پر ہے، جیسے اسے بیانی جدول کی شکل میں سبق کے آغاز میں طلبہ کے سامنے پیش کیا جائے۔
(10) فرضی تصورات قائم کرنے پر مبنی حکمت عملی :
اس طریقے کے تحت متعلم سے زیر درس موضوع کے سلسلے میں فرضی تصورات قائم کرنے یا توقعات کرنے کو کہا جاتا ہے، جس کی وجہ سے اس کے سامنے ایک ہدف آ جاتا ہے اور وہ مشمولات سے متعارف ہوتے وقت ایک جگہ دھیان مرکوز رکھتا ہے، تاکہ اس کی ان توقعات کی تصدیق یا تردید ہو جائے۔ اس طریقے کے تحت متعلم کو اس بات کا بھی موقع دیا جاتا ہے کہ وہ جدید معلومات کو قدیم معلومات کے ساتھ جوڑ سکے۔
اس طریقے کے تحت معلم اس بات میں طلبہ کی مدد کر سکتا ہے کہ وہ درج ذیل طریقوں سے اندازہ لگائيں کہ زیر درس موضوع کن باتوں پر مشتمل ہے :
موضوع کے عنوان کو پڑھنا، سبق کے اغراض و مقاصد کو جاننا یا سوالوں سے مدد لینا۔
(11) سوال پر مبنی حکمت عملی :