مشروع منهاج زادك

مشروع منهاج زادك

منهاج "زادك" هو منهج تعليمي إسلامي متكامل يهدف إلى تعليم وتربية الأجيال على المبادئ الإسلامية الصحيحة، ويشمل جوانب متنوعة من العقيدة، والفقه، والتفسير، والسيرة النبوية، والأخلاق الإسلامية. عادةً ما يتضمن دروسًا ومواد تعليمية مصممة لتبسيط المفاهيم الدينية وتعميق فهم الطلاب للمبادئ الإسلامية وتطبيقها في حياتهم اليومية. يمكن أن يشمل أيضًا وسائل تعليمية متنوعة مثل الكتب، والدروس الصوتية والمرئية، والأنشطة التفاعلية.

Language: lang_ur
Prepared by:
Version: 1.0
Translations 4
Bengali Tamil Tagalog Urdu
Attachments 7
PDF
Audio
Video
+3

جمعیۃ الدعوہ والارشاد و توعیۃ الجالیات، روضہ

دین سے آگاہی

پہلا مرحلہ

پیش لفظ

سب تعریف اللہ تعالی کے لیے ہے، جس نے انسان کو پیدا کیا، اسے علم و بیان کے ذریعہ عزت بخشى اور قرآن و سنت کے ذریعے اس پر حجت قائم کر دی۔

درود و سلام ہو ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر، آپ کے اہل و عیال، صحابۂ کرام اور ہر اس شخص پر جو قیامت تک بحسن وخوبی ان کی اتباع کرے گا۔

امابعد! اس بات میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہيں ہے کہ بندے پر عمل سے پہلے علم حاصل کرنا عظیم واجبات میں سے ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے : "تو آپ اس کا یقین رکھیے کہ بجز اللہ کے کوئی معبود برحق نہیں اور اپنی خطا کی معافی مانگتے رہیے اور سارے ایمان والوں اور ایمان والیوں کے لیے بھی، اور اللہ خوب خبر رکھتا ہے تم (سب) کے چلنے پھرنے اور رہنے سہنے کی۔"

[سورۂ محمد : 19]

دراصل شرعی علم اس امت کی اہم ترین امتیازات میں سے ایک امتیاز اور اسلامی شخصیت کے اہم ترین عناصر میں سے ایک عنصر ہے۔

علم کی اہمیت کے پیش نظر، جس کے چشمے سے جمعیۃ الدعوہ و توعیۃ الجالیات روضہ کا فیض جاری ہے اور وہ لوگوں کو حکمت کے ساتھ اور تبلیغ کے بہترین طریقوں کو بروئے کار لاتے ہوئے لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے اورغيرملكي کمیونٹیز کی تعلیم اور ان کو شرعی اعتبار سے اہل بنانے کے مقصد سے کیے گئے پروگراموں، جیسے "دین سے آگاہی" کا پروگروام، جو غير ملكي کمیونٹیز کے لیے سات زبانوں میں شرعی کورسیز فراہم کرتا ہے، کے توسط سے مسلمانوں کے اندر دینی بیداری لانے کے کام میں مشغول ہے۔ اس پروجیکٹ (منصوبے) کو تیار کرنے کے لیے جمعیہ مذکورہ نے "بصائر للاستشارات التربوية" نامی کمپنی سے رابطہ کیا، جو شرعی تعلیم کے نصاب کو بہتر سے بہتر بنانے کا کام کرتی ہے۔ چنانچہ جمعیہ کی جانب سے فراہم کردہ مواد کی بنیاد پر اس نصابی دستاویز کو تیار کرنے پر اتفاق عمل میں آیا اور پھر درج ذیل مراحل کے مطابق طلبہ کے لیے کتابیں تالیف کی گئیں :

- پہلا مرحلہ، جو چالیس (40) اسباق پر مشتمل ہے۔

-دوسرا مرحلہ، جو تیس (30) اسباق پر مشتمل ہے۔

- تیسرا مرحلہ، جو تیس (30) اسباق پر مشتمل ہے۔

متعلم کے لیے تیار کی گئی ہر کتاب کے مقابلے میں معلم کے لیے بھی ایک رہنما کتاب تیار کی گئی ہے، جو مؤثر تعلیمی اور تربیتی طریقے پر درس پیش کرنے میں معین و مددگار ثابت ہو گی۔ نصابی دستاویز مرتب کرنے، متعلمین کے لیے کتابیں تالیف کرنے اور معلمین کے لیے گائیڈ تیار کرنے کا عمل بڑے ہی علمی انداز میں انجام پایا ہے اور بڑی باریک بینی کے ساتھ مراجعہ کیا گیا ہے۔ یہ کام شرعی تعلیمی نصاب کے ماہرین کی ایک جماعت نے کیا ہے۔

اخیر میں دعا ہے کہ اللہ اس عمل کو اسلام اور مسلمانوں کے لیے نفع بخش بنائے اور اس میں شریک ہونے والے ہر شخص کو بہتر بدلہ عطا کرے اور جنت سے نوازے۔ اس نصاب تعلیم کے بارے میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور جمعیہ کے فون نمبروں کے ذریعہ موصول ہونے والی آپ کی کارآمد تجاویز اور آرا کا پرجوش خیر مقدم ہے۔

درود وسلام نازل ہو ہمارے نبی محمد ﷺ اور آپ ﷺ کے آل واصحاب پر۔

جمعیۃ الدعوہ، روضہ

مقدمہ

سب تعریف اللہ کے لیے ہے، جو سارے جہانوں کا رب ہے۔ درود و سلام ہو ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم، آپ کے اہل بیت اور تمام ساتھیوں پر۔

اما بعد!

عزیز طالبِ علم! نصاب کی پہلی کتاب آپ کے سامنے ہے۔ اس تعلیمی نصاب کی پہلی کتاب، جس کا مقصد مسلمان کو دین سے متعلق ضروری باتیں سکھانا، ایک مضبوط اسلامی ثقافت کی بنیاد رکھنا اور اسلامی تربیت کے مطابق طالب علم کی شخصیت کی تعمیر کرنا ہے۔

اس کتاب کو شرعی علوم کے مختلف شعبوں کے مد نظر مختلف تعلیمی اکائیوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے، جو اس طرح ہيں :

- اکائی : قرآن اور تفسیر : اس اکائی کے اندر قرآن کریم کا مقام و مرتبہ، سورہ فاتحہ اور کچھ چھوٹی چھوٹی سورتوں کی مختصر تفسیر اور ان سورتوں کی آیتوں سے حاصل ہونے والے کچھ اہم ترین علمی اور تربیتی فوائد بیان کيے گئے ہيں۔

- اکائي : ایمان اور تزکیہ : اس میں ایمان کی اہمیت، اس کے ارکان اور اس کے ہر رکن کے ایک مسلمان کے عقیدے، برتاؤ اور زندگی کے بارے میں اس کے نظریے پر پڑنے والے اثرات کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے۔

- اکائی : سنت اور شمائل نبویہ : اس میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا مختصر تعارف اور آپ کے اہم اوصاف و خصائص کا ذکر کیا گيا ہے، تاکہ سیکھنے والے کے دل و دماغ میں آپ کے مقام و مرتبے کو بٹھایا جا سکے اور اسے آپ کے اتباع پر آمادہ کیا جا سکے۔ بعد ازاں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی چار حدیثوں کا مطالعہ پیش کیا گیا ہے، جو قرآن پڑھنے کی فضیلت، گناہوں کے مٹانے والے اہم اعمال، اللہ سے حسن ظن رکھنے کے آثار اور کچھ ایسے لوگوں کے بیان پر مشتمل ہے، جن پر اللہ قیامت کے دن کے ہولناک حالات میں ان پر رحم فرمائے گا۔

- اکائی : فقہ الاحکام : اس میں طہارت اور نماز سے متعلق وہ اہم ترین باتیں بیان کی گئی ہیں، جن کا سیکھنا ایک مسلمان پر فرض ہے۔ جیسے :

وضو، غسل اور نماز کا طریقہ۔

- اکائی : اسلامی آداب : اس میں شب و روز کے اہم آداب، جیسے کھانے پینے، اجازت طلبی، گفتگو، مجلس اور قضائے حاجت وغیرہ کے آداب بیان کیے گئے ہیں۔

ہم نے ان کتابوں کو علمی اصولوں اور جدید تربیتی معیاروں کے مطابق تیار کرنے کی کوشش کی ہے۔

ان کی تیاری میں ہم نے درج ذیل باتوں کا خاص خیال رکھا ہے :

طالبِ علم (متعلم) کی دل چسپی بڑھانے کے لیے -ضرورت محسوس ہونے پر- سبق کا آغاز ایک مختصر تمہید سے کیا گیا ہے۔

ایسی تصاویر اور مفہوم کو واضح کرنے والے نقشے دیے گئے ہيں، جو علمی مشمولات کے استیعاب میں مددگار ہوں۔

ہر سبق فعال انداز میں سیکھنے کی حکمت عملیوں کے مطابق تربیتی مقاصد کے حصول کے لیے تعلیمی سر گرمى پر مشتمل ہے۔

ان عملی کاموں کے سلسلے میں ہم نے درج ذیل باتوں کا خاص خیال رکھا ہے :

سبجیکٹ سے مربوط ہونے کے ساتھ ساتھ, یہ عملی کام سبق کے مقاصد کے حصول کے سلسلے میں مشمولات سے مکمل طور سے ہم آہنگ ہیں۔

شخصیت کے مختلف پہلؤوں کو پروان چڑھانا اور نوع بہ نوع صلاحیتوں کو فروغ دینا۔

انھیں کرنے کے طریقے میں بھی تنوع سے کام لیا گیا ہے۔ کچھ عملی کام انفرادی طور پر کرنے کے ہیں اور کچھ اجتماعی طور پر۔ انھیں کرنے کی جگہ میں بھی تنوع رکھا گیا ہے۔ کچھ کلاس روم میں کرنے کے ہیں، تو کچھ کلاس روم سے باہر۔

ان کی شکلوں اور صورتوں میں بھی تنوع رکھا گیا ہے۔ کچھ تحریر ہیں، کچھ زبانی ہيں، کچھ اشاراتی ہیں اور کچھ دماغی۔

ہر سبق کے آخر میں سوالات دیے گئے ہيں، تاکہ اس بات کا اندازہ لگایا جا سکے کہ سبق کا استیعاب کہاں تک ہوا اور اس کے مقاصد کہاں تک حاصل ہوئے؟

اس کتاب کو پیش کرتے ہوئے ہمیں امید ہے کہ یہ کتاب علمی مواد کو آسان اور واضح انداز میں سامنے رکھنے،

کارگر عملی کام ترتیب دینے اور جانچنے کا جامع انداز اپنانے کی اپنی کوشش میں کامیاب ہوئے ہيں۔

دعا ہے کہ اللہ تعالی ہماری اس کوشش کو طلبہ کے لیے مفید بنائے اور شرف قبول عطا کرے۔ بے شک وہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔

درود و سلام نازل ہو ہمارے نبی محمد ﷺ اور آپ ﷺ کے تمام اہل بیت اور ساتھیوں پر۔

بصائر للاستشارات التربوية والتعليمية

- اکائی : قرآن اور تفسیر :

پہلا سبق : قرآن کریم کا مقام و مرتبہ

سبق کے مقاصد:

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

1- قرآن کریم کے مقام و مرتبہ کی نشان دہی کر سکیں گے۔

2- اہل قرآن کی تکریم کے مظاہر کو گنوا سکیں گے۔

3- قرآن کریم کی تعظیم کريں گے۔

4- قرآن اور اہل قرآن سے محبت رکھيں گے۔

قرآن مقام و مرتبے کے لحاظ سے سب سے عظیم آسمانی کتاب ہے۔ یہ اللہ تعالی کا کلام ہے، در اصل اللہ تعالی نے قرآن مجید کو مخلوق کی ہدایت کے لیے ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر اتارا ہے۔ قرآن خود ایک معجزہ ہے۔ کوئی بھی اس جیسی کتاب تالیف نہيں کر سکتا۔

قرآن کریم کا مقام و مرتبہ :

قرآن کریم اللہ تعالی کا کلام ہے

قرآنِ کریم کا اعجاز

قرآن کریم نور و ہدایت ہے

اللہ تعالی کی جانب سے قرآن کریم کی حفاظت کا انتظام

دنیا اور آخرت میں اہل قرآن کی عزت افزائی

1- قرآن کریم اللہ کا کلام ہے :

یہی وجہ ہے کہ قرآن سب سے اشرف اور سب سے عظیم کلام ہے۔ اس کی عظمت کی ایک دلیل یہ ہے کہ قرآن سننے اور سمجھنے والے کے دل پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔

2- قرآن کریم کا اعجاز :

قرآن کریم، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا سب سے بڑا معجزہ ہے۔ اللہ تعالی نے جنوں اور انسانوں کو اس جیسی کتاب پیش کرنے کا چیلنج کیا تھا، لیکن وہ ایسا کرنے سے قاصر رہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے : "کہہ دیجیے کہ اگر تمام انسان اور کل جنات مل کر اس قرآن کے مثل ﻻنا چاہیں تو ان سب سے اس کے مثل ﻻنا نا ممکن ہے، گو وه (آپس میں) ایک دوسرے کے مددگار بھی بن جائیں"۔ (سورہ اسرا : 88)

بعد ازاں ان کو دس سورتیں پیش کرنے کا چیلنج کیا، لیکن کسی سے کچھ نہ ہو سکا۔ اخیر میں ایک ہی سورہ پیش کرنے کا چیلنج کیا، لیکن وہ اس کو بھى پورا نہ کرسکے۔

3- قرآنِ کریم سارے جہاں کے لوگوں کے لیے کتابِ ہدایت ہے :

اللہ نے قرآن کو اپنی شریعت بیان کرنے والی اور لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت پر مبنی کتاب بنا کر اتارا ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "اور ہم نے تجھ پر یہ کتاب نازل فرمائی ہے، جس میں ہر چیز کا شافی بیان ہے اور ہدایت اور رحمت اور خوش خبری ہے مسلمانوں کے لیے"۔ (سورہ نحل : 89)

4- اللہ کی جانب سے قرآن کریم کی حفاظت :

اللہ تعالی نے قرآن کریم کو یہ خصوصیت عطا کی ہے کہ تورات اور انجیل کی طرح اس میں تحریف نہيں ہو سکتی۔ اس کی ذمے داری اللہ نے خود لے رکھی ہے۔ اللہ کا فرمان ہے : "ہم نے ہی اس ذکر (قرآن) کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔" (سورہ حجر : 9)

5- دنیا اور آخرت میں اہلِ قرآن کی عزت افزائی :

اہل قرآن سے مراد قرآن پڑھنے اور حفظ کرنے والے، اس کی تفسیر اور اس کے علوم کے رمز شناس اور اس کے احکامات پر عمل کرنے والے لوگ ہيں۔ اللہ نے اہل قرآن کو دنیا میں اونچا مقام اور آخرت میں کامیابی عطا کی ہے۔

چنانچہ اہل قرآن اس امت کے سب سے بہتر لوگ ہيں۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : ”تم میں سب سے بہتر شخص وہ ہے، جو قرآن سیکھے اور اسے سکھائے“۔ (صحیح بخاری : 5027)

قرآن قیامت کے دن اہل قرآن کے حق میں شفارش کرے گا۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : "قرآن پڑھا کرو، کیوں کہ قرآن قیامت کے دن اہل قرآن کا سفارشی بن کر آئے گا۔" (صحیح مسلم : 804)

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : میں تلاش کروں گا اور چارٹ بناؤں گا :

قرآن میں شرف واعزاز کے تمام وجوہ اکٹھا ہیں, اپنے معلم کی نگرانی میں ان کو جمع کریں۔ بعد ازاں ان کو نیچے دیے گئے چارٹ میں درج کریں :

اعزاز

مکانی اعزاز

زمانی اعزاز

وہ زبان جس میں قرآن اترا ہے

قرآن ساتھ لے کر اترنے والا فرشتہ

وہ رسول جس پر قرآن اتارا گیا ہے

اس کی وضاحت قرآن اترنے کا آغاز اللہ کے حرمت والے شہر مکہ مکرمہ میں ہوا۔ قرآن اترنے کا آغاز ماہ رمضان میں ہوا۔ قرآن عربی زبان میں اترا، جو کہ اہل جنت کی زبان ہے۔ وہ فرشتہ (جو قرآن لے کر آئے) جبریل علیہ السلام ہیں۔ (جس رسول پر قرآن نازل ہوا وہ) آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم ہیں۔ امت اسلامیہ، جو کہ سب سے بہترین امت ہے اور جسے لوگوں کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔

سرگرمی (2) : میں غور کروں گا اور جواب دوں گا :

نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: "جو لوگ اللہ کے کسی گھر میں اللہ کی کتاب پڑھنے اور پڑھانے کے لیے جمع ہوتے ہیں، تو ان پر اللہ تعالیٰ کی سکینت اترتی ہے، رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا ذکر اپنے پاس رہنے والوں (یعنی فرشتوں) میں کرتا ہے"۔ (صحیح مسلم : 2699) حدیث پر غور کرنے کے بعد درج ذیل سوالوں کے جواب دیں :

1- اس حدیث سے قرآن کی تلاوت اور اسے سیکھنے کی فضیلت معلوم کیجیے۔

الف) فرشتوں کا اترنا اور قرآن کی مجلسوں میں حاضر ہونا۔

ب) قرآن پڑھنے والوں پر سکینت اور رحمت کا اترنا۔

ج) اللہ تعالی قرآن پڑھنے والوں کا ذکر آسمان میں کرتا ہے۔

2- اپنے ساتھی کے ساتھ تلاوت قرآن کے تین آداب اور اسے سیکھنے کی مجلسوں کے بارے میں چرچا کریں۔

تلاوت کے وقت وضو کر لینا۔ پرسکون اور باوقار انداز میں بیٹھنا۔ خشوع کا مظاہرہ کرنا اور غور و فکر سے کام لینا۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

1- قرآن کریم ماہ شعبان میں اترا۔ (×)

2- قرآن پڑھنے والوں پر سکینت اور رحمت اترتی ہے۔

3- قرآن قیامت کے دن اسے پڑھنے اور اس پر عمل کرنے والوں کے لیے سفارش کرے گا۔

4- جنات قرآن جیسی کتاب پیش کر سکتے ہيں۔ (×)

5- قرآن ہدایت اور خیر پر مشتمل ہے، کیوں کہ وہ اللہ کا کلام ہے۔

سوال 2 : نیچے دیے گئے دونوں نصوص کو پورا کریں:

1- اللہ تعالی کا فرمان ہے : "إِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا ٱلذِّكۡرَ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَٰفِظُونَ..................."۔

2- نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے : "خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ القُرْآنَ و................"

سوال 3 : قرآن کریم سے اپنی عقیدت اور اہل قرآن سے اپنی محبت کا تین فقروں میں اظہار کریں۔

دوسرا سبق : سورہ فاتحہ کی تفسیر

سبق کے مقاصد:

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ :

1۔ سورہ فاتحہ کی آیتوں کی مختصر تفسیر کر سکیں گے۔

2- سورہ فاتحہ کی آیتوں سے حاصل ہونے والے کچھ فوائد بتا سکیں گے۔

3- سورہ فاتحہ کی قدر و قیمت کو جان سکیں گے۔

سور ۂ فاتحہ

شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم واﻻ ہے۔ سب تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ بڑا مہربان نہایت رحم کرنے واﻻ۔ بدلے کے دن (یعنی قیامت) کا مالک ہے۔ ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔ ہمیں سیدھی راه دکھا۔ ان لوگوں کی راه جن پر تو نے انعام کیا، ان کی نہیں جن پر غضب کیا گیا (یعنی وه لوگ جنہوں نے حق کو پہچانا، مگر اس پر عمل پیرا نہیں ہوئے) اور نہ گمراہوں کی (یعنی وه لوگ جو جہالت کے سبب راه حق سے برگشتہ ہوگئے)۔ [سورہ فاتحہ : 1-7]

توضیح وتفسیر :

سورہ فاتحہ قرآن کریم کی عظیم ترین سورت ہے۔ اس میں توحید اور اللہ کی عبادت سے متعلق بنیادی باتیں بیان کی گئی ہیں۔

"بِسمِ ٱللَّهِ" میں اللہ کے نام سے قرآن کریم کی تلاوت کا آغاز کرتا ہوں۔ اللہ کی مدد طلب کرتے ہوئے اور اس کے نام کے ذکر کی برکت حاصل کرتے ہوئے۔

"ٱلرَّحمَٰنِ" تمام مخلوقات کو شامل عام رحمت کا حامل۔

"ٱلرَّحِيمِ" اپنے مؤمن بندوں کے ساتھ رحم و کرم کا معاملہ کرنے والا۔

"ٱلحَمدُ لِلَّهِ" شکر اور اچھی تعریف اللہ تعالی ہی کے لیے سزاوار ہے۔

"رَبِّ ٱلعَٰلَمِينَ" جو ہمارے اس جہان اور دیگر تمام جہانوں کی دیکھ بھال کرتا ہے۔

"مَٰلِكِ يَومِ ٱلدِّينِ" جو قیامت کے دن تنہا حساب لینے اور بدلہ دینے کا مالک ہوگا۔

"إِيَّاكَ نَعبُدُ وَإِيَّاكَ نَستَعِينُ" ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں، کسی کو تیرا شریک نہيں ٹھہراتے اور سارے کاموں میں تجھ ہی سے مدد طلب کرتے ہيں۔

"ٱهدِنَا ٱلصِّرَٰطَ ٱلمُستَقِيمَ" ہمیں صحیح راستہ دکھا۔ یعنی اسلام اور اس کی تعلیمات پر عمل کا راستہ۔

"صِرَٰطَ ٱلَّذِينَ أَنعَمتَ عَلَيهِم" ان لوگوں کا راستہ، جنھیں اللہ نے اسلام کی راہ دکھائی۔ یعنی نبیوں اور ان کے پیروکاروں کا راستہ۔

غَيرِ ٱلمَغضُوبِ عَلَيهِم" ان لوگوں کا راستہ نہیں، جنھوں نے حق کو پہجاننے کے باوجود اسے نہیں مانا۔ جیسے یہود۔

"وَلَا ٱلضَّآلِّينَ" اور نہ ہی ان لوگوں کا راستہ جو حق سے عدم واقفیت کی بنیاد پر گمراہ ہو گئے۔ جیسے نصاری۔

سورہ فاتحہ کے کچھ فضائل :

سورہ فاتحہ کو نماز میں پڑھنا واجب ہے۔ یہ قرآن کی سب سے عظیم اور سب سے زیادہ فضیلت والی سورت ہے۔ اس کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ آیا ہے، اس میں سے ایک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ فرمان ہے : "اللہ تعالی نے کہا ہے : میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان آدھا آدھا بانٹ دیا ہے اور میرے بندے کے لیے وہ سب کچھ ہے، جو وہ مانگے۔ جب بندہ {الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} کہتا ہے، تو اللہ تعالی کہتا ہے کہ میرے بندے نے میری حمد کی۔ جب بندہ {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} کہتا ہے، تو اللہ تعالی کہتا ہے کہ میرے بندے نے میری ثنا کی۔ جب بندہ {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} کہتا ہے، تو اللہ تعالی کہتا ہے کہ میرے بندے نے میری بڑائی بیان کی۔ اور ایک دفعہ فرمایا : میرے بندے نے اپنے سارے کاموں کو میرے حوالے کر دیا۔- جب بندہ {إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ} کہتا ہے تو اللہ تعالی کہتا ہے کہ یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے کے لیے وہ سب کچھ ہے، جو وہ مانگے۔ پھر جب بندہ {اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ، صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ} کہتا ہے، تو اللہ تعالی کہتا ہے کہ یہ میرے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ سب کچھ ہے، جو وہ مانگے۔" (صحیح مسلم : 395)

مذکورہ بالا آیتوں سے حاصل ہونے والے کچھ فوائد :

1- ہر اچھی چیز، جیسے پڑھنے، کوئی کام کرنے اور کھانے پینے وغیرہ کو اللہ کے نام سے شروع کرنا چاہیے۔

2-۔ اللہ کی رحمت سے اس کی ساری مخلوقات عمومی طور پر اور اس کے مؤمن بندے خصوصی طور پر فیض یاب ہوتے ہیں۔

3- قیامت کے دن کے لیے، جو کہ بدلے کا دن ہے، تیاری کرنا ضروری ہے۔

4- اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت جائز نہیں ہے۔

5۔ انبیا کی پیروی اور اہل کفر کے راستوں سے گریز کرنا واجب ہے۔

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : میں غور کروں گا اور جوڑوں گا :

آیت اور اس سے حاصل ہونے والے معنی کے مابین تعلق جوڑیں :

آیت

معنی

"ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ۔"

اللہ کے اچھے اچھے نام ہيں۔

"ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ"۔

اللہ ہی اکیلے عبادت کا مستحق ہے۔

"إِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَإِيَّاكَ نَسۡتَعِينُ۔"

اللہ ہی اکیلے ساری کائنات کا رب ہے۔

سرگرمی (2) : میں پڑھوں گا اور جوڑوں گا :

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھنے کی وصیت کی : ’’”اے اللہ! اپنے ذکر، شکر اور اپنی بہترین عبادت کے سلسلہ میں میری مدد فرما۔‘‘

سورہ فاتحہ کی کون سی آیت اس معنی پر دلالت کرتی ہے؟

اندازۂ قدر

سوال 1 : کالم (الف) میں دیے گئے ہر لفظ کو کالم (ب) میں دیے گئے اس کے معنی کے ساتھ جوڑیں :

کالم : (الف) "ٱلرَّحمَٰنِ" "ٱلرَّحِيمِ" "ٱلمَغضُوبِ عَلَيهِم" "ٱلضَّآلِّينَ" "ٱهدِنَا" کالم : (ب)

ایسے لوگ جنھوں نے حق کو جاننے کے باوجود اسے نہيں مانا۔

جو اپنے مؤمن بندوں پر رحم کرتا ہے۔

ہماری رہ نمائی فرما۔

وہ جس کی رحمت ساری مخلوقات کو محیط ہے۔

ایسے لوگ جنھوں نے اللہ تعالی کی عبادت جہالت اور گمراہی کے ساتھ کی۔

سوال 2 : درج ذیل معانی پر دلالت کرنے والی آیات کریمہ لکھیے :

1- اللہ کی وسیع رحمت۔

2۔ نبیوں اور اللہ کے نیک بندوں کے راستے پر چلنا واجب و ضروری ہے۔

سوال 3 : اللہ تعالی کے اس قول سے جو فائدہ حاصل ہوتا ہے، اسے بیان کریں : "إِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَإِيَّاكَ نَسۡتَعِينُ" ۵

تیسرا سبق : سورہ "الکوثر" اور سورہ " الکافرون" کی تفسیر

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

1- آپ ان دونوں سورتوں کی آیتوں کی مختصر تفسیر کر سکیں گے۔

2- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی فضیلت بیان کر سکیں گے۔

3- کفر اور اہل کفر سے براءت کا اظہار کریں گے۔

4- ان آیتوں سے حاصل ہونے والے فوائد کو بیان کر سکیں گے۔

سورۂ کوثر

شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم واﻻ ہے۔

"یقیناً ہم نے تجھے (حوض) کوﺛر (اور بہت کچھ) دیا ہے." ١ "پس تو اپنے رب کے لیے نماز پڑھ اور قربانی کر." ۲

"یقیناً تیرا دشمن ہی ﻻ وارث اور بے نام ونشان ہے." (سورۂ کوثر : 1-3)

توضیح وتفسیر :

سورۂ کوثر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی فضیلت اور دنیا و آخرت میں آپ کا مقام و مرتبہ بیان کرتی ہے۔

"إِنَّآ أَعطَينَكَ ٱلكَوثَرَ" اللہ تعالی نے ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو دنیا اور آخرت کی بہت سی اچھی اچھی چیزیں عطا کی ہیں، جن میں سے ایک بہت ہی اچھی چیز جنت کی نہر کوثر ہے۔

"فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَٱنحَر"۔ لہذا اس کے شکر کے طور پر اللہ کے لیے نماز قائم کریں اور اپنے ذبیحہ کو اللہ کے لیے ذبح کریں اور اس میں کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں۔

"إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ ٱلأَبتَرُ "۔ بلاشبہ آپ سے حسد اور بغض رکھنے والا ہی دنیا وآخرت میں بے نام و نشان اور خیر سے محروم ہے۔

سورۂ کافرون

شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم واﻻ ہے۔

"آپ کہہ دیجیے کہ اے کافرو! ۱ نہ میں عبادت کرتا ہوں اس کی جس کی تم عبادت کرتے ہو. ۲

اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کر رہا ہوں. ۳ اور نہ میں اس کی عبادت کروں گا جس کی تم عبادت کرتے ہو. ٤

اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کر رہا ہوں. ۵ تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین ہے. ٦ (سورۂ کافرون : 1-6)

توضیح وتفسیر :

قرآن کی یہ سورت اس بات کو بڑی مضبوطی کے ساتھ بیان کرتی ہے کہ عبادت صرف اللہ تعالی کی ہوگی اور کفر و اہل کفر سے براءت ضروری ہے۔

"آپ کہہ دیجیے کہ اے کافرو! ۱ نہ میں عبادت کرتا ہوں اس کی جس کی تم عبادت کرتے ہو. ۲ اے محمد! آپ کافروں سے کہہ دیں : میں ان بتوں کی عبادت نہيں کرتا، جن کی عبادت تم کرتے ہو۔

اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کر رہا ہوں. ۳ اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو، جس کی میں عبادت کر رہا ہوں۔ میں تو بس ایک اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو عبادت کا مستحق ہے اور کسی کو اس کا شریک نہیں ٹھہراتا۔

اور نہ میں عبادت کروں گا اس کى جس کی تم عبادت کرتے ہو. ٤ میں ہرگز ان بتوں کی پوجا نہیں کروں گا، جن کی پوجا تم لوگ کرتے ہو۔

اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کر رہا ہوں. ۵ تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین ہے. ٦ تمھارے لیے تمھارا دین ہے، جس پر تم کو اصرار ہے۔ میں اس سے بری ہوں۔ جب کہ میرے لیے میرا دین ہے، جسے اللہ نے مجھ پر اتارا ہے اور میں اس میں کوئی تبدیلی کرنے کا مجاز نہیں ہوں۔

مذکورہ بالا آیتوں سے حاصل ہونے والے کچھ فوائد :

1- اللہ تعالی کی بارگارہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا عظیم مقام و مرتبہ۔

2- اللہ دنیا میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا دفاع کرتا ہے۔

3- اللہ تعالی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو جنت میں نہر کوثر عطا کی ہے۔

4- ذبح کرنا ایک عبادت ہے، جسے صرف اللہ وحدہ کے لیے کرنا ضروری ہے۔

5- ایک مسلمان پر واجب ہے کہ وہ اسلام سے اپنی نسبت کو باعث افتخار سمجھے۔

6- ایک مسلمان پر واجب ہے کہ ان چیزوں سے اپنی براءت کا اعلان کر دے، جن کی عبادت کفار کرتے ہیں۔

7- ایک مسلمان پر واجب ہے کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرے۔

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : میں غور کروں گا اور توقع رکھوں گا :

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : "کوثر جنت کی ایک نہر ہے۔ اس کے دونوں کنارے سونے کے ہیں، اس کا پانی موتی اور یاقوت پر بہتا ہے، اس کی مٹی مشک سے زیادہ پاکیزہ ہے اور اس کا پانی شہد سے زیادہ میٹھا اور برف سے زیادہ سفید ہے۔" (سنن ترمذی : 3361، سنن ابن ماجہ : 4334)

اس حدیث پر اور اس میں بیان کی گئی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کی امت کی فضیلت پر غور کریں اور پھر ان لوگوں کى صفات کا توقع رکھیں، جن کو اللہ تعالی جنت میں واقع کوثر نامی نہر کا پانی پینے کا شرف عطا کرے گا۔

سرگرمی (2) : میں نص اور اس کے معنی کو جوڑوں گا :

نص اور اس سے حاصل ہونے والے معنی کو جوڑیں :

نص "جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی نہیں لڑی اور تمھیں جلاوطن نہیں کیا ان کے ساتھ سلوک و احسان کرنے اور منصفانہ بھلے برتاؤ کرنے سے اللہ تعالیٰ تمھیں نہیں روکتا، بلکہ اللہ تعالیٰ تو انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے." (سورۂ ممتحنہ : 8) اللہ تعالیٰ نے فرمایا : "نہ میں عبادت کرتا ہوں اس کی جس کی تم عبادت کرتے ہو." (سورۂ کافرون : 2) اسما بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ میری ماں جو کہ مشرکہ تھیں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے میں میرے یہاں آئیں۔ چنانچہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے مسئلہ دریافت کیا۔ میں نے پوچھا کہ کیا میں اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحمی کروں؟ تو آپ نے جواب دیا :

"ہاں! تم اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔" (صحیح بخاری : 2620) معنی

مشرک رشتے دار کے ساتھ صلہ رحمی جائز ہے۔

غیر محارب کافر کے ساتھ حسن سلوک جائز ہے۔

مشرکوں کے دین سے براءت ضروری ہے۔

سرگرمی (3) : میں چرچا (بحث و مباحثہ) کروں گا اور فرق سمجھوں گا :

سورہ "کافرون" اسلام مخالف مذاہب سے براءت کو ضروری قرار دیتی ہے، یہ الگ بات ہے کہ ہمارے اوپر اپنے سماج کے غیر مسلموں کے ساتھ اچھا سلوک بھی واجب ہے۔

اس نکتے پر اپنے استاد کے ساتھ چرچا کریں، تاکہ اعتقاد کے مقام اور معاملات کے مقام کے درمیان موجود فرق کو جان سکیں۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

1- مسلمان اپنے دین کو اپنے لیے فخر کا سرمایہ سمجھتا ہے اور اپنے عقیدے کو مضبوطی سے پکڑا رہتا ہے۔ ( ✓)

2- ذبح کرنا بھی حج اور نماز کی طرح ایک عبادت ہے۔ ()

3- نہر کوثر کا تعلق نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ خاص ہے، آپ کی امت کے ساتھ نہیں۔ (×)

4- اچھے اخلاق کا مظاہرہ صرف مسلمان کے ساتھ ہونا چاہیے۔ غیر مسلم کے ساتھ نہيں۔ (×)

سوال 2 : نیچے دی گئی دونوں آیتوں کا معنی اختصار کے ساتھ لکھیے :

"یقیناً تیرا دشمن ہی ﻻ وارث اور بے نام ونشان ہے." ۳

"تمھارے لیے تمھارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین ہے." ٦

سوال 3 : نیچے دی گئی باتوں پر دلالت کرنے والی آیت لکھیے :

1- صرف ایک اللہ کے لیے نماز پڑھنے اور ذبح کرنے کا حکم۔

2- معبودان کفار سے براءت ضروری ہے۔

چوتھا سبق : سورہ "نصر" اور سورہ "مسد" کی تفسیر :

طریقہ کار کے مقاصد:

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

1-ان دونوں سورتوں کی آیتوں کی مختصر تفسیر کر سکیں گے۔

2 - اللہ کی جانب سے اپنے نبی کے دفاع کی وضاحت کر سکیں گے۔

3- ان آیتوں سے حاصل ہونے والے فوائد کو بیان کر سکیں گے۔

4- اسلام اور مسلمانوں کی نصرت سے خوش ہوں گے۔

سورۂ نصر

شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم واﻻ ہے۔

جب اللہ کی مدد اور فتح آجائے. ۱ اور تو لوگوں کو اللہ کے دین میں جوق در جوق آتا دیکھ لے. ۲

تو اپنے رب کی تسبیح کرنے لگ حمد کے ساتھ اور اس سے مغفرت کی دعا مانگ۔ بے شک وه بڑا ہی توبہ قبول کرنے واﻻ ہے. ۳

(سورۂ نصر : 1-3)

تفسیر :

اس سورت میں ایمان والوں کے لیے فتح و نصرت اور عربوں کے بیچ اسلام کے پھیل جانے کی بشارت ہے۔

"إِذَا جَآءَ نَصرُ ٱللَّهِ وَٱلفَتحُ." ١ جب مسلمانوں کے حق میں مشرکین عرب کے خلاف اللہ کی مدد آ گئی اور اللہ نے تمھیں مکہ مکرمہ کو فتح کرنے کی توفیق عطا کر دی۔

"وَرَأيتَ ٱلنَّاسَ يَدخُلُونَ فِي دِينِ ٱللَّهِ أَفوَاجٗا" ٢ اور آپ نے لوگوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پر اسلام میں داخل ہوتے ہوئے دیکھ لیا۔

"فَسَبِّح بِحَمدِ رَبِّكَ وَٱستَغفِرهُ." لہذا اپنے رب کو کسی بھی شریک سے پاک رکہیے، فتح و نصرت کی نعمت پر اپنے رب کا شکر ادا کیجیے اور اس سے عفوو درگزر اور مغفرت طلب کیجیے۔

"إِنَّهُۥ كَانَ تَوَّابَا ." ۳ بلاشبہ اللہ اپنے بندے کی توبہ اور استغفار بہت زیادہ قبول کرتا ہے۔

سورۂ مسد

شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم واﻻ ہے۔

ابو لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وه (خود) ہلاک ہو گیا. ۱ نہ تو اس کا مال اس کے کام آیا اور نہ اس کی کمائی. ۲

وه عنقریب بھڑکنے والی آگ میں جائے گا. ۳ اور اس کی بیوی بھی (جائے گی،) جو لکڑیاں ڈھونے والی ہے.٤

اس کی گردن میں پوست کھجور کی بٹی ہوئی رسی ہوگی. ۵ (مسد : 1-5)

تفسیر :

یہ سورت اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے چچا ابو لہب کا انجام بیان کرتی ہے، جس نے آپ کو جھٹلایا اور ذیت دی۔

"تَبَّت يَدَآ أَبِي لَهَبٖ وَتَبَّ." ۱ ابو لہب خسارے میں پڑ گیا، شقی ونامراد ہوا اور عذاب سے دوچار ہوا، کیوں کہ اس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو اذیت پہنچائی۔

"مَآ أَغنَىٰ عَنهُ مَالُهُۥ وَمَا كَسَبَ." ۲ اس کا مال اور اس کی اولاد اسے اللہ کے عذاب سے ہرگز بچا نہیں سکے گی۔

"سَيَصلَىٰ نَارٗا ذَاتَ لَهَبٖ." ۳ وہ بہت جلد ایسی آگ میں داخل ہوگا، جس کی لپٹیں اٹھ رہی ہوں گی۔

"وَٱمرَأَتُهُۥ حَمَّالَةَ ٱلحَطَبِ." ٤ اور اس کے ساتھ اس کی بیوی (ام جمیل) بھی ہوگی، جو کانٹے اور تکلیف دہ چیزیں اٹھا کر لاتی اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے راستے میں رکھ دیا کرتی تھی۔

"فِي جِيدِهَا حَبل مِّن مَّسَدِ ." ۵ اس کی گردن میں پوست کھجور کی بٹی ہوئی کھردری رسی ڈال کر اسے جہنم کی جانب کھینچ کر لے جایا جائے گا۔

مذکورہ بالا آیتوں سے حاصل ہونے والے کچھ فوائد :

1- اللہ کی تسبیح اور اس کی حمد بیان کرنا اور توبہ و استغفار کرتے رہنا واجب ہے۔

2- اللہ بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔ وہ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے۔

3- اللہ تعالی اپنے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا دفاع کرتا ہے اور آپ کو اذیت دینے والے کو عذاب دیتا ہے۔

جو اللہ پر ایمان نہ لائے اور نیک عمل نہ کرے، اس کا مال اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے اس کی قرابت اس کے کچھ کام نہيں آسکتی۔

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : میں جستجو کروں گا اور جواب دوں گا :

اپنے معلم کی مدد سے یہ معلوم کریں کہ سورۂ نصر سے کیسے پتہ چلتا ہے کہ مسلمان صرف گناہ کے وقت ہی نہیں، بلکہ ہمیشہ اللہ سے بخشش طلب کرتا رہتا ہے۔

سرگرمی (2) : میں غور کروں گا اور واضح کروں گا :

قرآن کریم نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے چچا ابو لہب کو اس بنا پر عذاب کی دھمکی دی ہے کہ اس نے آپ کو جھٹلایا تھا اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکا تھا۔ خود اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی کہا ہے : "اے قریش کی جماعت! تم اپنی جانوں کو (اللہ کے عذاب سے) خرید لو، میں اللہ کی بارگاہ میں تمھارے کسی کام نہیں آؤں گا۔ اے بنو عبد مناف! میں اللہ کے ہاں تمھیں کوئی نفع نہیں دوں گا۔ اے عباس بن عبد المطلب! میں اللہ کی بارگاہ میں تمھارے کچھ کام نہیں آسکوں گا۔ اے صفیہ! جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی پھوپی ہیں٬ میں اللہ کے ہاں تمھیں کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکوں گا۔ اور اے فاطمہ بنت محمد! میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے طلب کرلو، میں اللہ کے ہاں تمھیں کوئی نفع نہیں دوں گا"۔ (صحیح بخاری : 4771، صحیح مسلم : 206)

یہ حدیث اسلام میں عدل کی اہمیت پر کیسے دلالت کرتی ہے؟ وضاحت کیجیے۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

1۔ مسلمان اسلام اور مسلمانوں کی فتح سے خوش ہوتا ہے۔ (✓)

2- استغفار گناہ میں ملوث ہونے کے بعد ہی مشروع ہے۔ (×)

3- اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے رشتے دار گناہوں سے معصوم ہیں۔ (×)

4- اسلام عدل و رحمت کا دین ہے۔ (✓)

سوال 2 : آنے والی دونوں آیتوں کا معنی اختصار کے ساتھ لکھیے :

"اور اس سے مغفرت کی دعا مانگ، بیشک وه بڑا ہی توبہ قبول کرنے واﻻ ہے."

"نہ تو اس کا مال اس کے کام آیا اور نہ اس کی کمائی."

سوال 3 : سورۂ نصر اور سورۂ مسد کی آیتوں کے دو فائدے بیان کیجیے۔

پانچواں سبق : سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس کی تفسیر

طریقہ کار کے مقاصد:

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

1- سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس کی آیتوں کی مختصر تفسیر کر سکیں گے۔

4- ان آیتوں سے حاصل ہونے والے فوائد کو بیان کر سکیں گے۔

3- سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس کی عظمت کو محسوس کر سکیں گے۔

4- سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس کو روزانہ پڑھیں گے۔

سورۂ اخلاص

شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم واﻻ ہے۔

آپ کہہ دیجیے کہ وه اللہ تعالیٰ ایک (ہی) ہے. ۱ اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے. ۲ نہ اس سے کوئی پیدا ہوا نہ وه کسی سے پیدا ہوا. ۳

اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے. ٤ (سورۂ اخلاص : 1-4)

تفسیر :

اس عظیم سورت کے اندر اللہ عز و جل کے کچھ صفات بیان کیے گئے ہیں۔

"قُل هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ." ۱ اے رسول! آپ کہہ دیں : بے شک اللہ ایک ہے اور ربوبیت و الوہیت میں اکیلا ہے۔

"ٱللَّهُ ٱلصَّمَدُ." ۲ اللہ ہی وہ برتر ہستی ہے، جس کى طرف بندے اپنی ضرورتیں پوری کروانے کے لیے متوجہ ہوتے ہيں۔

"لَم يَلِد وَلَم يُولَد۔" ۳ اللہ کی نہ کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔

"وَلَم يَكُن لَّهُۥ كُفُوًا أَحَدُ." ٤ اللہ کا نہ کوئی مشابہ ہے اور نہ کوئی نظیر۔

سورۂ فلق

شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم واﻻ ہے۔

آپ کہہ دیجیے کہ میں صبح کے رب کی پناه میں آتا ہوں. ۱ ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے. ۲ اور اندھیری رات کی تاریکی کے شر سے جب اس کا اندھیرا پھیل جائے. ۳

اور گره (لگا کر ان) میں پھونکنے والیوں کے شر سے (بھی). ٤

اور حسد کرنے والے کی برائی سے بھی جب وه حسد کرے. (سورۂ فلق : 1-5)

تفسیر :

یہ سورہ ہمیں مخلوق، جادو اور حسد کی برائی سے اللہ کی پناہ مانگنا سکھاتی ہے۔

"قُل أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلفَلَقِ" ۱ اے رسول! آپ کہہ دیں کہ میں صبح اور روشنی کے رب کی پناہ میں آتا ہوں۔

"مِن شَرِّ مَا خَلَقَ." ۲ ساری مخلوقات اور ان کی اذیتوں کی برائی سے۔

"اور اندھیری رات کى تاریکی کے شرسے جب اس کا ندھیرا چھا جائے" ۳ اور رات اور اس کی تاریکی، نیز اس میں موجود برائیوں اور اذیت ناک چیزوں سے۔

"وَمِن شَرِّ ٱلنَّفَّٰثَٰتِ فِي ٱلعُقَدِ" ٤ اور جادوگرنیوں کی برائی سے، جو جادو کرنے کے ارادے سے گرہ لگاکر اس میں پھونکتی ہیں۔

"وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ." ۵ اور حسد کرنے والے کی برائی سے، جو کسی کی نعمت کے زائل ہونے کی تمنا کرتا ہے۔

سورۂ ناس

شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم واﻻ ہے۔

آپ کہہ دیجیے کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناه میں آتا ہوں. ۱ لوگوں کے مالک کی (اور)۔ ۲ لوگوں کے معبود کی (پناه میں)۔ ۳

وسوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے۔ ٤ جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ ۵

(خواه) وه جن میں سے ہو یا انسان میں سے۔ ٦ (سورۂ ناس : 1-6)

تفسیر :

یہ سورت ہمیں شیطان کی برائی اور اس کے وسوسے سے اللہ کی پناہ مانگنا سکھاتی ہے۔

"قُل أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ" ۱ اے رسول! آپ کہہ دیں کہ میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں، جو لوگوں کا خالق، رازق اور اس کائنات کا مدبر ہے۔

"مَلِكِ ٱلنَّاسِ" ۲ جس کے ہاتھ میں لوگوں کے سارے کام ہیں اور وہ خود ان سے بے نیاز ہے۔

"إِلَٰهِ ٱلنَّاسِ" ۳ جو اکیلے ہر طرح کی عبادت کا حق دار ہے اور جس کے سوا کوئی معبود برحق نہيں ہے۔

"مِن شَرِّ ٱلوَسوَاسِ ٱلخَنَّاسِ" ٤ شیطان کی اذیت سے، جو اللہ کے ذکر سے غفلت دیکھتے ہی انسان کے دل میں برے خیالات ڈالنے لگتا ہے اور جیسے ہی اللہ کا ذکر ہونے لگتا ہے، چھپ جاتا ہے۔

"ٱلَّذِي يُوَسوِسُ فِي صُدُورِ ٱلنَّاسِ" ۵ جو لوگوں کے دلوں میں برے خیالات ڈالتا اور شکوک پیدا کرتا ہے۔

"مِنَ ٱلجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ" ٦ میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں ان جنوں سے جو چھپ چھپاکر وسوسے ڈالتے ہیں اور ان انسانوں سے جو غلط اور برے کاموں کا حکم دیتے ہيں۔

مذکورہ بالا آیتوں سے حاصل ہونے والے کچھ فوائد :

1- اللہ ایک اکیلا ہے۔ نہ اس کا کوئی شریک ہے، نہ اولاد ہے، نہ والد ہے، نہ مشابہ ہے اور نہ نظیر ہے۔

2- اللہ ہی معبود برحق اور ہر طرح کی عبادتوں کا مستحق ہے۔

مسلمان جب اللہ کی پناہ لے لیتا ہے، تو اللہ جنوں اور انسانوں کی برائیوں سے اس کی حفاظت فرماتا ہے۔

4- جادو اور حسد کے نقصانات حقیقی ہیں اور اللہ کی پناہ میں جانے اور اس پر بھروسہ کرنے سے ایک مسلمان کو اس سے تحفظ فراہم ہو جاتا ہے۔

5- اللہ تعالی کا ذکر، شیطان کے وسوسے سے مسلمان کی حفاظت کرتا ہے۔

سرگرمیاں

عملی کام (1) : میں سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس پڑھنے کا وقت متعین کروں گا :

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیں کچھ اوقات اور احوال میں سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس پڑھنے کی رہنمائی فرمائی ہے۔ اس وقت/حالت کے سامنے اشارہ رکھیے، جس میں ان سورتوں کو پڑھنا مشروع ہے۔

وقت/حالت پڑھنے کی مشروعیت

صبح کے وقت

شام کے وقت

مسجد میں داخل ہوتے وقت

مسجد سے نکلتے وقت

سونے سے پہلے کھانے سے فارغ ہونے کے بعد

عملی کام (2) : میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ چرچا کروں گا :

اللہ نے سورۂ فلق اور سورۂ ناس کو جادو اور شیطان سے پناہ حاصل کرنے کا وسیلہ بنایا ہے۔ لیکن اس کے باوجود کچھ لوگ جادو کھولنے کے غیر مشروع طریقوں، جیسے تعویذوں اور شیطان کا تقرب حاصل کرنے وغیرہ کو اپناتے ہیں۔

آپ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ان سلوکیات کی تشخیص اور مسلمانوں کے عقیدے پر پڑنے والے ان کے نقصان دہ اثرات کے بارے میں چرچا کریں۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

1- 'الأحد' سے مراد وہ ذات یکتا ہے، جو صفات الوہیت اور ربوبیت میں یگانہ ہو۔ (✓)

2- 'الصمد' سے مراد وہ ذات ہے، کہ بندے اپنی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے جس کى پناہ لیتے ہیں۔ (✓)

3- مسلمان کے لیے جادو کے ذریعے جادو کا علاج کرنا جائز ہے۔ (×)

4- پھونک مارنے والیوں سے مراد جادوگرنیاں ہیں، جو لوگوں پر جادو کرتی ہیں۔ (✓)

5- سورۂ فلق اور سورۂ ناس کا پڑھنا حسد سے بچاتا ہے اور شیطان کو دور بھگاتا ہے۔ (✓)

6- تعویذوں میں ملوث ہونا اور جنوں کا تقرب حاصل کرنا شرکیہ کام ہیں۔ (✓)

سوال 2 : وہ آیت کریمہ لکھیے، جو نیچے دیے گئے معنی سے مناسبت رکھتی ہو :

معنی

اللہ کا کوئی مشابہ اور نظیر نہيں ہے۔

ہم رات اور اس کی برائیوں سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں۔

ہم انسانوں اور جنوں کی برائیوں سے اللہ کی پناہ میں آتے ہيں۔ اس پر دلالت کرنے والی آیت

سوال 3 : سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس پڑھنے کے اوقات کی نشان دہی کریں۔

اکائی : ایمان اور تزکیہ

پہلا سبق : ایمان اور اس کی اہمیت

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

1- ایمان کی تعریف کر سکیں گے۔

2- ایمان کے ارکان گنوا سکیں گے۔

3- اسلام، ایمان اور احسان کے بیچ فرق کر سکیں گے۔

4- ایمان اور عمل صالح کے بیچ کے مضبوط رشتے کو محسوس کر سکیں گے۔

5- اپنے ایمان اور عمل کو درست کرنے کی فکر کریں گے۔

تمہید :

اللہ تعالی نے جبریل علیہ السلام کو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس بھیجا، تاکہ آپ صحابہ کو دین سکھائیں، جس کا ذکر اس حدیث میں موجود ہے :

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : ایک دن ہم اللہ کے رسول ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں ایک شخص آیا۔ اس کے کپڑے بہت زیادہ سفید اور بال بہت زیادہ کالے تھے۔ اس پر سفر کے آثار بھی نہیں دکھائی دے رہے تھے اور ہم میں سے کوئی اسے جانتا بھی نہیں تھا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر بیٹھا۔ اپنے گھٹنے کو آپ کے گھٹنے سے لگا لیا اور اپنی ہتھیلیاں اپنے رانوں پر رکھ لیں۔ پھر کہا : اے محمد (ﷺ)! مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "اسلام یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور محمد (ﷺ) اس کے رسول ہیں، نماز قائم کرو، زکاۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور اگر اللہ کے گھر تک جانے کی استطاعت ہو، تو اس کا حج کرو۔" وہ بولا : آپ نے سچ فرمایا۔ عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں اس پر تعجب ہوا کہ آپ سے سوال بھی کرتا ہے اور پھر خود ہی آپ کی تصدیق بھی کرتا ہے۔ پھر کہا : مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : "ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، آخرت کے دن پر اور ہر اچھی و بری تقدیر پر ایمان لاؤ"۔ وہ بولا : آپ نے سچ فرمایا ۔ پھر اس نے کہا : مجھے احسان کے بارے میں بتائیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "اللہ کی عبادت اس طرح کرو، گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ہو، تو وہ تو تمھیں دیکھ رہا ہے"۔

(صحیح مسلم : 8)۔

اس صحیح حدیث کے مطابق دین کے درج ذیل تین مراتب ہیں :

پہلا مرتبہ : اسلام۔ اس کے درج ذیل پانچ ارکان ہیں : دو گواہیاں، نماز قائم کرنا، زکاۃ دینا، رمضان کے روزے رکھنا اور حج کرنا۔

دوسرا مرتبہ : ایمان۔ یہ اسلام کے بعد کا مرتبہ ہے۔

ایمان نام ہے دل سے تصدیق کرنے، زبان سے اقرار کرنے اور اعضا سے عمل کرنے کا۔

لہذا یہ ضروری ہے کہ انسان اپنے دل میں عقیدہ رکھے اور دل کے عقیدے کا اظہار زبان سے دونوں گواہیوں کی ادائیگی کے ذریعے کرے۔ ایمان اعضا کے عمل کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اہل جنت کے وصف میں ایمان اور عمل صالح دونوں کا ذکر ہوا ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "اور جو لوگ ایمان ﻻئیں اور نیک کام کریں، وه جنتی ہیں، جو جنت میں ہمیشہ رہیں گے۔" (سورۂ بقرہ : 82)۔

لہذا ہر مؤمن کو دونوں جہان میں سرخ روئی حاصل کرنے کے لیے عمل صالح میں کوشاں ہونا چاہیے۔

ایمان کے چھ ارکان ہیں : اللہ پر ایمان، اس کے فرشتوں پر ایمان، اس کی کتابوں پر ایمان، اس کے رسولوں پر ایمان، آخرت کے دن پر ایمان اور بھلی بری تقدیر پر ایمان۔

تیسرا مرتبہ : احسان۔ اس میں بندہ اپنے سارے اقوال اور افعال میں اپنے رب کا اس طرح دھیان رکھتا ہے کہ گویا وہ اسے دیکھ رہا ہو۔ اگر اسے دیکھ نہ رہا ہو، تو یہ احساس ضرور ہو کہ اس کا رب اسے دیکھ رہا ہے۔

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : میں دین کے مراتب کے بیچ تمیز کروں گا :

ان آیتوں کا انتخاب کریں، جو بتاتی ہیں کہ اسلام کا مرتبہ ایمان کے مرتبے سے پہلے ہے :

"دیہاتی لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان ﻻئے۔ آپ کہہ دیجیے کہ در حقیقت تم ایمان نہیں ﻻئے، لیکن تم یوں کہو کہ ہم اسلام ﻻئے (مخالفت چھوڑ کر مطیع ہوگئے)، حاﻻں کہ ابھی تک تمھارے دلوں میں ایمان داخل ہی نہیں ہوا ہے۔" (سورۂ حجرات : 14)۔

"اپنے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر (قائم رہو۔) اسی اللہ نے تمھارا نام مسلمان رکھا ہے اس قرآن سے پہلے۔۔۔" (سورۂ حج : 78)۔

"یقیناً ایمان والوں نے فلاح حاصل کرلی۔'' (سورۂ مؤمنون : 1)۔

سرگرمی (2) : میں نص کو اس کے مدلول کے ساتھ جوڑوں گا :

نیچے دیے گئے ہر نص کو اس کے مدلول کے ساتھ جوڑیں :

نص

اللہ تعالی کا فرمان ہے: "اور جو بھی اس کے پاس ایمان کی حالت میں حاضر ہوگا اور اس نے اعمال بھی نیک کیے ہوں گے۔ اس کے لیے بلند وباﻻ درجے ہیں۔" (سورۂ طہ : 75)۔

اللہ کے نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: "مؤمن وہ ہے جس سے لوگ اپنے مال اور جان کے بارے میں خطرہ محسوس نہ کریں۔" (سنن ابن ماجہ : 3934)۔

اللہ کے نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے : "جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔'' (صحیح بخاری : 6135، صحیح مسلم : 48)۔ حدیث جس پر دلالت کرتی ہے۔

ایمان، انسان کو دوسروں کے ساتھ برا سلوک کرنے سے روکتا ہے۔

حسن اخلاق ایمان کا ایک ثمرہ ہے۔

ایمان آخرت میں قدر و منزلت میں اضافے کا باعث ہے۔

سرگرمی (3) : میں ایک نصیحت کروں گا :

کسی کسی کا دعوی رہتا ہے کہ اس کا دل ایمان سے آباد ہے، جب کہ وہ فرض عبادتیں بھی ادا نہیں کرتا۔

اس طرح کے لوگوں کے حق میں آپ ایک نصیحت لکھیں۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

1- نماز قائم کرنا احسان کا ایک رکن ہے۔

2- جنت اور جہنم پر ایمان، ایمان کا ایک رکن ہے۔

3- ایمان دین کا پہلا مرتبہ ہے۔

سوال 2 : درج ذیل میں صحیح جواب کا انتخاب کریں :

1- ایمان کے ارکان :

(پانچ ہيں ۔ چھ ہیں۔ سات ہيں)

2- اللہ کے دھیان رکھنے کے مرتبے کا نام ہے :

(اسلام - ایمان - احسان)

3- ایمان کے اندر اعتقاد رکھنا ضرورى ہىے :

(دل - زبان - اعضا) کے ساتھ

سوال 3 : نیچے دیے گئے سوالوں کا جواب دو :

1- ایمان کی تعریف لکیھں۔

2- عمل صالح ایمان سے جڑا ہوا ہے، اس کی دلیل پیش کریں۔

3- دین کے مراتب (احسان - اسلام - ایمان) کو ادنی سے اعلی تک ترتیب دیں۔

دوسرا سبق : اللہ پر ایمان اور اس کے اثرات

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ :

1۔ اللہ پر ایمان کا معنی بتا سکیں گے۔

2- فرد اور سماج پر پڑنے والے اللہ پر ایمان کے اثرات کو بتا سکیں گے۔

3- بندے کے سلوک ورویہ پر پڑنے والے ایمان کے اثرات کی اہمیت کو محسوس کریں گے۔

4- اہل ایمان کے اخلاق اور سلوکیات سے آراستہ ہوں گے۔

آپ نے یہ جانا کہ ایمان کے چھ ارکان ہيں، جن میں سے پہلا رکن اللہ پر ایمان لانا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ پر ایمان لانے کا کیا معنی ہے؟

اس سوال کا جواب ہم نیچے دیے گئے نقاط کے ذریعے جانیں گے:

اللہ تعالیٰ پر ایمان

اس کے وجود پر ایمان

اس کے رب ہونے پر ایمان

اس کے معبود ہونے پر ایمان

اس کے اسما و صفات پر ایمان

اولا : اللہ پر ایمان :

اللہ پر ایمان، ایمان کا پہلا اور سب سے بڑا رکن ہے۔ اس کے اندر درج ذیل چار باتیں شامل ہیں :

1- اللہ تعالی کے وجود پر ایمان۔ اس پر فطرت اور عقل سلیم بھی دلالت کرتی ہے۔

اللہ کے وجود کی ایک دلیل تخلیق کی دلیل ہے۔ کیوں کہ ہر مخلوق اپنے خالق کے وجود پر دلالت کرتی ہے اور وہ خالق اللہ تعالی ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "کیا یہ بغیر کسی (پیدا کرنے والے) کے خود بخود پیدا ہوگئے ہیں؟ یا یہ خود پیدا کرنے والے ہیں؟" (سورۂ طور : 35)۔

2- اس بات پر ایمان کہ اللہ ہی ہر چیز کا رب، خالق اور مالک ہے۔ وہی روزی دیتا ہے، وہی زندگی دیتا ہے اور وہی مارتا ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "پس اللہ کی تعریف ہے جو آسمانوں اور زمین اور تمام جہانوں کا رب ہے۔" (سورۂ جاثیہ : 36)۔

3- اس بات پر ایمان کہ اللہ کے اچھے اچھے نام اور اونچے صفات ہیں۔ اس جیسی کوئی چیز نہيں ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : " اس جیسی کوئی چیز نہیں۔ وه سننے اور دیکھنے واﻻ ہے۔" (سورۂ شوری : 11)۔

4- اس بات پر ایمان کہ اللہ ہی اکیلے عبادت کا مستحق ہے۔ کیوں کہ جس کے دل میں یہ بات بیٹھ جائے کہ اللہ ہی اس کا رب اور خالق ہے، تو وہ صرف اسی کی عبادت کرے گا اور کسی دوسرے کی عبادت سے دامن بچاکر رکھے گا۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "آسمانوں کا، زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، سب کا رب وہی ہے۔ تو اسی کی بندگی کر اور اس کی عبادت پر جم جا۔ کیا تیرے علم میں اس کا ہم نام ہم پلہ کوئی اور بھی ہے؟" (سورۂ مریم : 65)۔

ثانیا : مسلمان کے سلوک ورویہ پر، اللہ پر ایمان لانے کے اثرات :

1- اللہ پر ایمان مؤمن کے دل کو اللہ سے اس طرح معلق رکھتا ہے کہ وہ اس سے محبت رکھتا ہے، خوف کھاتا ہے، اور اسی پہ بھروسہ کرتا ہے۔ اس کی زبان پر اللہ کا ذکر جاری رہتا ہے، وہ اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتا ہے اور اپنے اعضاۓ جسم سے نیکی کے کام کرتا اور گناہوں سے بچتا ہے۔

2- اللہ پر ایمان، انسان کے دل سے غیر اللہ کا خوف نکال باہر کرتا ہے۔ اللہ تعانی نے کہا ہے : "یہ (خبر دینے واﻻ) صرف شیطان ہی ہے، جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے۔ تم ان کافروں سے نہ ڈرو اور میرا خوف رکھو، اگر تم مؤمن ہو۔" (سورۂ آل عمران : 175)۔

3- اللہ پر ایمان، مؤمن کو عبادتوں کی ادائیگی اور اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی خشیت اور اس پر بھروسہ کرنے کا حریص بناتا ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "بس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وه آیتیں ان کے ایمان کو اور زیاده کردیتی ہیں اور وه لوگ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔ جو نماز کی قائم کرتے ہیں اور ہم نے ان کو جو کچھ دیا ہے وه اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ یہی لوگ سچے مؤمن ہیں۔ ان کے لیے ان کے رب کے ہاں بڑے درجے ہیں اور مغفرت اور عزت کی روزی ہے۔" (سورۂ انفال : 2-4)۔

4- اللہ پر ایمان، مؤمن کو بندوں کے حقوق ادا کرنے کا حریص بناتا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : "مؤمن وہ ہے جس سے لوگ اپنے مال اور جان کے بارے میں خطرہ محسوس نہ کریں۔" (سنن ابن ماجہ : 3934)۔

اس طرح اللہ پر ایمان، ایک مسلمان کے طرز عمل و رویہ پر اثر انداز ہوتا ہے اور اسے اچھے اعمال کرنے اور گناہوں اور نافرمانیوں سے دور رہنے پر آمادہ کرتا ہے۔

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : میں غور و فکر سے کام لوں گا اور استنباط کروں گا :

نیچے دیے ہر نص کو اس کے مدلول کے ساتھ جوڑیں :

نص

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "اور نصیحت کرتے رہیں۔ یقیناً یہ نصیحت ایمان والوں کو نفع دے گی۔" (سورۂ ذاریات : 55)۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : "اہل جنت جنت میں داخل ہوں گے اور اہل جہنم جہنم میں داخل ہوں گے۔ پھر اللہ تعالی کہے گا : جہنم سے ہر اس شخص کو نکال لاؤ، جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو۔" (صحیح بخاری : 22، صحیح مسلم : 184)۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : ”اللہ کی قسم وہ ایمان والا نہیں، اللہ کی قسم وہ ایمان والا نہیں، اللہ کی قسم وہ ایمان والا نہیں، کہا گیا : اے اللہ کے رسول ﷺ ! کون ہے وہ ؟ آپ نے فرمایا : جس کا پڑوسی اس کی اذیتوں سے محفوظ نہ رہے“۔ (صحیح بخاری : 6016)۔ حدیث کا معنی (حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ :)

ایمان بندوں کے حقوق سے جڑا ہوا ہے۔

نصیحت سے فائدہ اٹھا پانا اللہ پر ایمان کا ایک ثمرہ ہے۔

ایمان قیامت کے دن جہنم کی آگ سے نجات کا سبب ہے۔

سرگرمی (2) میں غور کروں گا اور جواب دوں گا :

ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ہجرت کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : "چنانچہ سورج ڈھلنے کے بعد ہم نکل پڑے۔ اسی بیچ سراقہ بن مالک نے ہمارا پیچھا کیا۔ اسے دیکھ کر میں نے کہا : اے اللہ کے رسول! ہم تک پہونچ گئے ہیں! تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "فکر مت کرو۔ یقینا اللہ ہمارے ساتھ ہے۔" چنانچہ آپ نے سراقہ کے حق میں بد دعا کی اور اس کا گھوڑا پیٹ تک زمین میں دھنس گیا۔" (صحیح بخاری : 3615، صحیح مسلم : 7706)۔

مذکورہ قصے کو پڑھنے کے بعد نیچے دیے گئے سوالوں کے جواب دیں :

اس قصے سے ہم کیا سیکھتے ہيں؟

اس قصے کا متعلقہ درس کے موضوع سے کیا تعلق ہے؟

اندازۂ قدر

سوال 1 : بریکٹ کے درمیان سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

1- مخلوقات کا وجود دلالت کرتا ہے :

(اللہ تعالی کے وجود پر - اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی سچائی پر - قرآن کے اعجاز پر)

2- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے : "مؤمن وہ ہے جس سے لوگ اپنے مال اور جان کے بارے میں خطرہ محسوس نہ کریں۔" دلالت کرتا ہے :

(توحید ربوبیت پر - ایمان کے عمل سے جڑے ہوئے ہونے پر - سماج کے مامون ہونے کی اہمیت پر)

3- سچا مؤمن :

(اللہ کو اس کی کسی مخلوق کے مشابہ قرار نہیں دیتا - اپنے پڑوسی کو اذیت پہنچاتا ہے- گفتگو کے دوران سچ نہيں بولتا)

سوال 2 : نیچے دیے گئے جملوں میں موجود غلطیوں کو درست کر کے ان کو دوبارہ لکھیں :

1- انسان اس وقت اسلام میں داخل ہوتا ہے، جب اللہ کے وجود پر ایمان لائے۔

بندہ اس وقت تک مسلمان نہيں ہوتا، جب تک اللہ کے وجود اور اس کے رب اور معبود ہونے پر ایمان نہ لائے۔

2- ایمان ایک قلبی عمل ہے۔ اس کا جسم کے اعضا سے کوئی تعلق نہيں ہے۔

ایمان ایک قلبی عمل ہے، لیکن اس کا اثر زبان اور اعضاۓ جسم پر ظاہر ہوتا ہے۔

سوال 3 : نیچے دیے گئے ہر بیان کی ایک ایک دلیل لکھیں :

1- ایمان انسان کو اپنے پڑوسی کو اذیت دینے سے روکتا ہے۔

2- سچا مؤمن اللہ تعالی سے ڈرتا ہے۔

سوال 4 : ایک مسلمان جب چار باتوں کا اقرار کر لیتا ہے، تو اللہ پر اس کا ایمان حقیقت بن جاتا ہے۔ ان چار باتوں کو آپ چار سطروں میں اختصار کے ساتھ لکھیں۔

تیسرا سبق : فرشتوں پر ایمان اور اس کے اثرات

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

1- فرشتوں سے مراد کون ہيں، بتا سکیں گے۔

2- فرشتوں پر ایمان کا مطلب بتا سکیں گے۔

3- فرشتوں پر ایمان لانا واجب ہے، اس کو دلیل سے ثابت کر سکیں گے۔

4- کچھ فرشتوں کے کام بتا سکیں گے۔

5- آپ فرشتوں سے حیا کریں گے۔

تمہیدی سرگرمی

آپ فرشتوں کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟

"اللہ چنتا ہے فرشتوں میں سے پیغام پہنچانے والوں کو۔"

(سورۂ حج : 75)۔

اولا : فرشتوں سے مراد

ثانیا : فرشتوں پر ایمان کا معنی

ثالثا : فرشتوں کے کام

رابعا : فرشتوں پر ایمان لانے کے اثرات

فرشتوں پر ایمان رکھنا ہر مسلمان پر واجب ہے۔ یہ ارکان ایمان میں سے ایک رکن ہے۔ اس کے بغیر بندے کا ایمان درست نہيں ہو سکتا۔ اس کی دلیل :

ارشادِ باری تعالٰی ہے: "رسول اس چیز پر ایمان لایا جو اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے اتری اور مومن بھی ایمان ﻻئے۔ یہ سب اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان ﻻئے۔ اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے۔ انہوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں اے ہمارے رب! اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔" (سورۂ بقرہ : 285)۔

اسی طرح جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے ایمان کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے کہا : "اللہ پر ایمان لانا، اس کے فرشتوں پر ایمان لانا، اس کی کتابوں پر ایمان لانا، اس کے رسولوں پر ایمان لانا، قیامت کے دن پر ایمان لانا اور اچھی وبُری تقدیر پر ایمان لانا۔" (صحیح مسلم : 102)۔

اولا : فرشتوں سے مراد

فرشتے اللہ کی بہت بڑی مخلوق ہیں۔ اللہ نے ان کو نور سے پیدا کیا ہے۔ فرشتے اللہ کے حکم کی نافرمانی نہيں کرتے۔ وہی کرتے ہيں، جس کا حکم ان کو ملتا ہے۔

فرشتے اللہ کی عظیم مخلوق ہيں، اس کی دلیل جبریل علیہ السلام کے وصف میں اللہ تعالی کا یہ قول ہے: "جو قوت واﻻ ہے، عرش والے (اللہ) کے نزدیک بلند مرتبہ ہے"۔ (سورۂ تکویر : 20)۔

ثانیا : فرشتوں پر ایمان کے معنی :

فرشتوں پر ایمان درج ذیل باتوں سے متحقق ہوتا ہے :

ان کے وجود کی تصدیق۔

فرشتوں کے ان ناموں پر ایمان جو ہم جاتنے ہیں اور جو قرآن کریم اور صحیح حدیثوں سے ثابت ہیں۔

ان کے ان صفات اور اعمال پر ایمان، جنھیں ہم جاتنے ہيں اور جو قرآن کریم اور صحیح سنت میں وارد ہوئے ہيں۔

ثالثا : فرشتوں کے کام :

فرشتوں کے ذمے بہت سے کام ہيں۔ ان میں سے چند یہ ہیں :

1- وحی لے کر اترنا۔ یہ کام جبریل علیہ السلام انجام دیتے ہيں۔

2- بارش برسانا۔ یہ کام میکائیل علیہ السلام انجام دیتے ہيں۔

3- بندوں کے اعمال لکھنا۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "یقیناً تم پر نگہبان۔ 10 عزت والے لکھنے والے مقرر ہیں۔" 11 (سورۂ انفطار _ 10-11)۔

4- روح قبض کرنا۔ یہ کام موت کا فرشتہ انجام دیتا ہے۔

5- قیامت کے دن صور پھونکنا۔ یہ کام اسرافیل علیہ السلام کریں گے۔

فرشتے یہ اور اس طرح کے کچھ دوسرے کام بھی انجام دیتے ہیں، جن کا ذکر قرآن اور سنت نبوی میں ہوا ہے۔

رابعا : فرشتوں پر ایمان لانے کے اثرات :

ایک مسلمان کے رویہ پر فرشتوں پر ایمان لانے کے بڑے بڑے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ان میں کچھ اثرات یہ ہیں :

1- فرشتوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اللہ کے احکام کی تعمیل کرنا۔

2- عمل میں غرور و فخر سے دور رہنا، کیوں کہ فرشتے معصوم ہوتے ہیں اور اس کے باوجود وہ ہمشیہ عبادت میں لگے رہتے ہيں۔ لہذا کوتاہیوں میں رہنے والے اور گنہگار انسان کو تو کہیں زیادہ عبادت اور استغفار کرنا چاہیے۔

3- پہلے اللہ کا ڈر رکھتے ہوئے اور اس کے بعد اعمال لکھنے پر مامور فرشتوں سے حیا کرتے ہوئے اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے دور رہنے کی پوری کوشش کرنا۔

سرگرمیاں

سرگرمی (1) میں غور کروں گا اور جواب دوں گا :

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو۔" (سورۂ احزاب : 56)۔

اس آیت میں اللہ تعالی نے فرشتوں کا ایک کام بیان کیا ہے اور ایمان والوں کو ان کی پیروی کرنے کا حکم دیا ہے۔ آپ بتائیں کہ وہ کام کیا ہے؟

سرگرمی (2) : آپس میں چرچا کروں گا اور اپنے خیالات کا اظہار کروں گا :

اللہ کے نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے : "بے شک فرشتے طالب علم سے خوش ہو کر اپنے پر بچھا دیتے ہیں۔" (سنن ابو داؤد : 3643)۔

ایک طالب علم کی حیثیت سے آپ اپنے احساس کا اظہار کیجیے کہ جب آپ کو پتہ چلا کہ فرشتے طالب علم کی عزت کرتے ہیں، تو آپ کو کیسا لگا؟

سرگرمی (3) : میں واضح کروں گا :

اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے : ’’جو پیاز اور لہسن اور گندنا (ایک بدبودار قسم کی ترکاری) کھائے، وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے، کیوں کہ جس چیز سے اولادِ آدم کو اذیت پہنچتی ہے اُس چیز سے فرشتوں کو بھی اذیت پہنچتی ہے‘‘۔ (صحیح مسلم : 1282)۔

اس حدیث کے مد نظر آپ فرشتوں کے تئیں اپنی عملی ذمے داری واضح کیجیے۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

1- فرشتوں کو اللہ نے نور سے پیدا کیا ہے۔

2- اسرافیل کا کام نبیوں کو وحی پہنچانا ہے۔

3- اللہ نے جبریل علیہ السلام کے سپرد زمین میں بارش برسانے کا کام کر رکھا ہے۔

4- فرشتوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہمیں پوری تندہی کے ساتھ عبادت کرنی چاہیے۔

سوال 2 : نیچے دیے کئے بیانوں کی دلیل میں کوئی آیت یا حدیث پیش کیجیے۔

1- فرشتوں پر ایمان لانا واجب ہے۔

2- جبریل ایک عظیم الخلقت مخلوق ہيں۔

سوال 3 : نیچے دیے کئے دونوں سوالوں کے جواب دیجیے :

1- ایک مسلمان کا فرشتوں پر ایمان کیسے متحقق ہوگا؟

2- فرشتوں پر ایمان کا ایک اثر دل سے فخر و غرور کو دور کرنا ہے۔ اس کی وضاحت کیجیے :

چوتھا سبق : کتابوں اور رسولوں پر ایمان اور اس کے اثرات

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

1- کتابوں اور رسولوں پر ایمان کا معنی بتا سکیں گے۔

2- قرآن کریم کی روشنی میں کتابوں اور رسولوں کے نام گنوا سکیں گے۔

3- ديگر آسمانی کتابوں کے مقابلے میں قرآن کریم کے امتیازات کی نشان دہی کر سکیں گے۔

4- کتابیں اتارنے اور رسولوں کو بھیجنے کی نعمت کو محسوس کر سکیں گے۔

5- انبیا علیھم السلام کے اوصاف اور اعمال کی پیروی کریں گے۔

آسمانی کتابوں پر ایمان

رسولوں پر ایمان

دونوں پر ایمان کے اثرات

اولا : کتابوں پر ایمان :

1- کتابوں پر ایمان کا معنی اور حکم :

کتابوں پر ایمان کا مطلب : اس بات کی تصدیق اور ایمان ہے کہ اللہ نے لوگوں کی ہدایت اور ان کی دنیا و آخرت کی فلاح و کامرانی کے لیے اپنے رسولوں پر کتابیں اتاریں۔

لہذا اجمالی طور پر اللہ کی اتاری ہوئی ساری کتابوں پر ایمان رکھنا واجب ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ پر، اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اتاری ہے اور ان کتابوں پر جو اس سے پہلے اس نے نازل فرمائی ہیں، ایمان لاؤ!" (سورۂ نساء : 136)۔

جب کہ ان کتابوں پر تفصیلا ایمان رکھنا ضروری ہے، جن کا ذکر قرآن میں ہوا ہے۔ وہ کتابیں ہیں : ابراہیم علیہ السلام کے صحیفے، داؤد علیہ السلام پر اترنے والی کتاب زبور، موسی علیہ السلام پر اترنے والی کتاب تورات، عیسی علیہ السلام پر اترنے والی کتاب انجیل اور آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر اترنے والی کتاب قرآن۔

2- سب سے افضل کتاب :

ایک مسلمان کا اس بات پر ایمان ہونا چاہیے کہ قرآن :

اللہ کا کلام ہے اور اس میں بتائی گئی ساری باتیں صحیح ہيں۔

وہ تحریف اور تبدیلی سے محفوظ ہے۔ جب کہ پچھلی کتابیں تحریف کی شکار ہو گئيں۔ آج ہمارے پاس پچھلی کتابوں میں سے ایک بھی ایسی کتاب موجود نہیں ہے، جس کی نسبت ہم یقین کے ساتھ اللہ کی جانب کر سکیں۔

یہ اللہ کی سب سے عظیم اور سب سے آخری کتاب ہے نیز پچھلی کتابوں کو منسوخ کرنے والی کتاب ہے۔

قرآن خود معجزہ ہے کوئی اس جیسی کتاب لا نہيں سکتا۔

ثانیا : رسولوں پر ایمان لانا:

1) رسولوں پر ایمان کا معنی اور اس کا حکم :

رسولوں پر ایمان سے مراد اس بات کی تصدیق اور اقرار کرنا ہے کہ اللہ نے اپنی مخلوق کی جانب کچھ رسول بھیجے، جو ان کو صرف ایک اللہ کی عبادت کی جانب بلائیں اور اس سلسلے کی آخری کڑی ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم ہيں۔

اجمالی طور پر تمام نبیوں پر ایمان رکھنا واجب ہے۔ چاہے ہمیں ان کے نام اور تعداد معلوم نہ بھی ہوں۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے : "اور آپ سے پہلے کے بہت سے رسولوں کے واقعات ہم نے آپ سے بیان کیے ہیں اور بہت سے رسولوں کے نہیں بھی کیے اور موسیٰ (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر کلام کیا۔" (سورۂ نساء : 164)۔

جب کہ ان نبیوں پر تفصیلی ایمان رکھنا واجب ہے، جس کا ذکر قرآن کریم میں ہوا ہے۔ ان نبیوں کی تعداد پچیس ہے۔

اسی طرح اس بات پر ایمان رکھنا بھی ضروری ہے کہ انبیاء ہر گناہ اور بری صفت سے پاک ہوتے ہیں۔ ان کے بارے میں جھوٹ، خیانت اور کم عقلی وغیرہ جیسی بری باتوں اور کمیوں کا وہم و گمان بھی نہیں ہو سکتا۔

2- سب سے افضل رسول :

عزیز قاری! اس بات کو ذہن نشیں کرلیں کہ تمام رسولوں میں سب سے افضل رسول پانچ ہيں۔ انہی کو اولو العزم رسول کہا جاتا ہے۔ کیوں کہ انہوں نے اللہ کے دین کی دعوت کے لیے دیگر نبیوں اور رسولوں سے زیادہ صبر کیا ہے۔ ان کا ذکر اللہ تعالی نے اس آیت میں کیا ہے : "جب کہ ہم نے تمام نبیوں سے عہد لیا اور (بالخصوص) آپ سے اور نوح سے اور ابراہیم سے اور موسیٰ سے اور مریم کے بیٹے عیسیٰ سے، اور ہم نے ان سے (پکا اور) پختہ عہد لیا۔" (سورۂ احزاب : 7)۔

سب سے افضل رسول ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم ہیں، جو آخری رسول ہيں اور جن کی رسالت قیامت تک آنے والے تمام لوگوں کے لیے عام ہے۔

ثالثا : کتابوں اور رسولوں پر ایمان لانے کے اثرات :

کتابوں اور رسولوں پر ایمان لانے کے کئی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جن میں سے چند یہ ہیں :

1- اللہ کی رحمت پر یقین کہ اس نے ہماری ہدایت کے لیے رسول بھیجے اور کتابیں اتاریں۔

2) اللہ کی اتاری ہوئی کتابوں اور رسولوں کے بیان کے مطابق اللہ کی معرفت۔

3) کتابوں کی تعلیمات اور رسولوں کے عملی اسوہ کے مطابق بصیرت کے ساتھ اللہ کی عبادت۔

4) نبیوں کے اخلاق، اوصاف اور اعمال کی پیروی۔

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : نبیوں کے نام لکھو :

اللہ تعالی نے سورۂ انعام کی آیت 83 سے 86 تک 18رسولوں کے نام بیان کیے ہيں۔ ان آیتوں کو پڑھیں اور ان میں ذکر کیے گئے نبیوں کے نام نکال کر لکھیں۔

سرگرمی (2) : تلاش کروں گا اور جواب دوں گا :

نبیوں کی زندگی اور صفات کے بہت سے پہلو ہیں تاکہ ان کى پیروی کی جائے۔ انہی پہلؤوں میں سے ایک پہلو اخلاق ہے۔ اللہ نے اپنے نبیوں کے اعلی اخلاق کے کئی نمونے بیان کیے ہیں۔ نبیوں کے جو اخلاق یاد ہيں، انھیں آپ نیچے دیے گئے چارٹ میں لکھیں :

اخلاق / نبی

فیاضی / ابراہیم علیہ السلام

صبر / ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

1- اللہ کے نبی ابراہیم علیہ السلام سب سے افضل رسول ہيں۔ ()

2- زبور کتاب اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام پر اتاری گئی تھی۔ ()

3- قرآن کریم میں تمام نبیوں کا نام آیا ہے۔

4- انبیاء کے اعمال اور اخلاق کی پیروی محال ہے۔

سوال 2 : قوسین (بریکٹ) کے درمیان سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

1- اس بات پر ایمان رکھنا واجب ہے کہ تمام انبیاء اس وصف سے متصف ہوتے ہیں :

(عقل کی تیزی - کثرت مال - بیمار کم ہونا)

2- اولو العزم رسولوں میں شامل ہیں :

(ابراہیم اور اسماعیل - نوح اور عیسی - آدم اور موسی)

3- ہم بیماری کی حالت میں صبر کے معاملے میں اس نبی کی اقتدا کریں گے :

(زکریا علیہ السلام - ایوب علیہ السلام - ادریس علیہ السلام)

4- قرآن کریم کو تمام آسمانی کتابوں پر یہ امتیاز حاصل ہے کہ وہ:

(اللہ کا کلام ہے - ایک ہزار سال سے باقی ہے - تحریف سے محفوظ ہے)

سوال 3 : آپ رسولوں کے بھیجے جانے اور کتابیں اتارے جانے کو انسان پر اللہ کی ایک عظیم ترین نعمت کیوں مانتے ہيں؟

سوال 4 : نیچے دیے کئے دونوں سوالوں کے جواب دیجیے :

1- نبیوں کے تین اوصاف بتائیے، جن کی پیروی کرنا آپ کے لیے ممکن ہے۔

2- قرآن کریم کے مقام و مرتبہ کو واضح کرنے کے لیے ایک دلیل پیش کیجیے۔

پانچواں سبق : آخرت کے دن پر ایمان اور اس کے اثرات

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

1- آخرت کے دن پر ایمان کا معنی بتا سکیں گے۔

2- آخرت کے دن کے منازل واضح کر سکیں گے۔

3- آخرت کے دن کی اہمیت کو محسوس کر سکیں گے۔

4- جنت حاصل کرنے اور جہنم سے بچنے کے لیے عمل کریں گے۔

ہماری دنیوی زندگی اس کھیت کی مانند ہے، جس میں ہم کھیتی کرتے ہيں۔ چنانچہ جو شخص دنیا میں خیر بوئے گا وہ آخرت میں خیر کاٹے گا۔ آخرت میں بدلے میں یا تو جنت ملے گی یا جہنم۔ اس درس میں ہم آخرت کے دن واقع ہونے والی اہم باتوں کو جانیں گے۔

ایک تختی پر بڑے بڑے اور واضح حروف میں اللہ تعالی کا یہ قول لکھا جائے:

"اور جو لوگ ایمان ﻻتے ہیں اس پر جو آپ کی طرف اتارا گیا اور جو آپ سے پہلے اتارا گیا، اور وه آخرت پر بھی یقین رکھتے ہیں۔" (سورۂ بقرہ : 4)۔

آخرت کے دن پر ایمان لانے کے معنی

آخرت کے دن کے منازل

آخرت کے دن پر ایمان لانے کے اثرات

اولا : آخرت کے دن پر ایمان لانے کے معنی :

آخرت کے دن پر ایمان لانا ایمان کا پانچواں رکن ہے۔ اس کے معنی ہیں : موت کے بعد واقع ہونے والی ان تمام باتوں کی تصدیق اور اقرار کرنا، جو اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بتائی ہیں۔

ثانیا : آخرت کے دن کے منازل :

آخرت کے دن پر ایمان کے اندر موت کے بعد واقع ہونے والی درج ذیل باتوں پر ایمان لانا بھی شامل ہے :

1) قبر کی آزمائش : اس سے مراد یہ ہے کہ : میت کو دفن کرنے کے بعد فرشتہ اس سے اس کے رب، اس کے دین اور اس کے نبی کے بارے میں پوچھے گا، تو مؤمن ان سوالوں کا صحیح صحیح جواب دے دے گا اور اس کے بعد قبر کے اندر دوبارہ اٹھائے جانے تک نعمتوں سے فیض یاب ہو گا۔ جب کہ کافر یا منافق ہر سوال کے جواب میں کہے گا کہ مجھے کچھ نہيں پتا۔ نتیجے کے طور پر دوبارہ اٹھائے جانے تک قبر کے اندر عذاب دیا جاتا رہے گا۔

2) دوبار زندہ کرکے اٹھایا جانا : اللہ تعالی اسرافیل علیہ السلام کو صور میں دوسری بار پھونک مارنے کا حکم دے گا اور لوگ اپنی قبروں سے اٹھ کر سارے جہانوں کے رب کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے۔ پھر اللہ ان کا حساب کرے گا اور ان کو ان کے اعمال کا بدلہ دیے گا۔

3) سب لوگوں کو ایک جگہ جمع کرنا : اس سے مراد یہ ہے کہ قبروں سے اٹھنے کے بعد حساب و کتاب کے لیے جمع ہونا۔

4- اعمال نامے اور میزان : اعمال نامے کھولے جائیں گے، بندوں کو ان کے اعمال سے باخبر کیا جائے گا اور ان اعمال کو وزن کرنے کے لیے ترازو لگائی جائے گی۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "اور جب نامہٴ اعمال کھول دیے جائیں گے۔" (سورۂ تکویر : 10)۔ ایک اور مقام پر اللہ تعالی نے کہا ہے : "اور قیامت کے دن ہم (لوگوں کے اعمال تولنے کے لیے) میزان عدل قائم کریں گے۔ پھر کسی پر کچھ بھی ﻇلم نہ کیا جائے گا۔" (سورۂ انبیاء : 47)۔

5) صراط (راستہ، گزرگاہ) : اس سے مراد جہنم کے اوپر لگایا جانے والا باريك پل ہے، جس کے اوپر سے لوگ اپنے اپنے اعمال کے حساب سے گزریں گے۔ جو اس سے گر جائے گا، وہ جہنم میں جائے گا اور جو اسے پار کر لے گا، وہ جنت میں داخل ہو گا۔

6) جنت اور جہنم : جنت وہ گھر ہے، جسے اللہ تعالی نے اپنے مؤمن بندوں کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے : (سورۂ حجر : 45)۔ "پرہیزگار جنتی لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔" جب کہ جہنم وہ گھر ہے، جسے اللہ تعالی نے کافروں اور منافقوں کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے : "یقیناً اللہ تعالیٰ تمام کافروں اور سب منافقوں کو جہنم میں جمع کرنے واﻻ ہے۔" (سورۂ نساء : 140)۔

ثالثا : آخرت کے دن پر ایمان لانے کے اثرات :

آخرت کے دن پر ایمان لانے کے بہت سے اچھے اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جن میں سے چند یہ ہیں :

1- آخرت پر ایمان انسان کو آخرت کی قیمت پر دنیا کی جانب جھکاؤ سے روکتا ہے۔

2- نیکی کے کاموں کی رغبت بڑھ جاتی ہے۔

3- گناہوں میں ملوث ہونے کے خوف میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

4- اپنے اقوال اور افعال کے بارے میں ذمے داری کا احساس ہونے لگتا ہے۔

5- مؤمن کو چوں کہ آخرت کی نعمت اور ثواب کی امید ہوتی ہے، اس لیے وہ دنیا کی کسی چیز کے نہ ملنے پر غم نہیں کرتا۔

سرگرمیاں

عملی کام (1) : میں جستجو کروں گا اور جواب دوں گا :

آخرت کے دن پر ایمان، ایمان کا وہ رکن ہے، جس کا ذکر قرآن کریم میں سب سے زیادہ ہوا ہے۔ اس دن کا ذکر اللہ نے کئی ناموں سے کیا ہے، جو اس کی سختی اور ہولناکی کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔

اپنی یاد داشت سے ایسی دلیل پیش کریں، جس سے یہ ثابت ہو کہ نیچے دیے گئے نام بھی آخرت کے دن کے نام ہیں :

نام / اس کی دلیل

قیامت کا دن

فیصلے کا دن

بدلے کا دن

کھڑکھڑا دینے والی

سرگرمی (2) : شرکت کروں گا اور جواب دوں گا :

اس قصے کو اپنے معلم کے ساتھ پڑھیں اور پھر نیچے دیے گئے سوالوں کے جواب دیں :

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے سرزمین حبشہ سے لوٹنے والے مہاجروں سے فرمایا تھا : "کیا تم مجھے سرزمین حبشہ میں دیکھی ہوئی کچھ عجیب و غریب چیزیں نہیں بتاؤگے؟" چنانچہ وہاں سے لوٹنے والے ایک نوجوان نے کہا : اے اللہ کے رسول! ہم ضرور بتائيں گے۔ ایک دن ہم بیٹھے ہوئے تھے کہ ہمارے پاس سے ایک بوڑھی راہبہ سر پر پانی کا گھڑا لے کر گزری۔ جب وہ ایک نوجوان کے پاس سے گزری، تو اس نے اس کے دونوں کندھوں کے بیچ ہاتھ رکھ کر اسے دھکا دے دیا، جس سے وہ گھٹنوں کے بل گر گئی اور اس کا گھڑا ٹوٹ گیا۔ جب وہ بوڑھی عورت کھڑی ہوئی، تو اس نوجوان سے مخاطب ہوئی اور بولی : اے دھوکے باز! جب اللہ کرسی رکھے گا اور پہلے اور بعد کے سبھی لوگوں کو جمع کرے گا اور انسان کے ہاتھ اور پیر اس کے کیے ہوئے کاموں کی گواہی دیں گے، تو اس وقت تجھے اللہ کے یہاں پتہ چل جائے گا کہ تونے میرے ساتھ جو کچھ کیا، وہ کتنا خطرناک ہے؟ اس کی بات سننے کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "اس بوڑھی عورت نے درست کہا ہے۔ اس بوڑھی عورت نے درست کہا ہے۔" (سنن ابن ماجہ : 4010)۔

1- اس حدیث کو ایک مناسب عنوان دیں :

2- اس قصے سے آخرت کے دن پر ایمان کا ایک اثر نکالیں۔

سرگرمی (3) : میں نتیجہ نکالوں گا :

قرآن کریم نے قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے کے بہت سے واضح عقلی دلائل پیش کیے ہیں۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے نیچے دی گئی ہر عقلی دلیل کو اس پر دلالت کرنے والی آیت سے جوڑیے :

آیت

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "اور وہی ہے جو اول بار مخلوق کو پیدا کرتا ہے، پھر اسے دوباره پیدا کرے گا اور یہ تو اس پر بہت ہی آسان ہے۔" (سورۂ روم : 27)۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "اس اللہ کی نشانیوں میں سے (یہ بھی) ہے کہ تو زمین کو دبی دبائی دیکھتا ہے، پھر جب ہم اس پر مینہ برساتے ہیں تو وه تر وتازه ہوکر ابھرنے لگتی ہے۔ جس نے اسے زنده کیا وہی یقینی طور پر مُردوں کو بھی زنده کرنے واﻻ ہے۔ بے شک وه ہر (ہر) چیز پر قادر ہے۔" (سورۂ فصلت : 39)۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "کیا وه نہیں دیکھتے کہ جس اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کے پیدا کرنے سے وه نہ تھکا، وه یقیناً مُردوں کو زنده کرنے پر قادر ہے؟ کیوں نہ ہو؟ وه یقیناً ہر چیز پر قادر ہے۔" (سورۂ احقاف : 33)۔ دلیل

بارش کے بعد مردہ زمین کا زندہ ہونا۔

آسمانوں اور زمین کی تخلیق۔

مرے ہوئے لوگوں کو دوبارہ زندہ کرنا ان کو پہلی بار پیدا کرنے سے آسان ہے۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

1- لوگ اپنے اعمال کے مطابق پل صراط کو پار کریں گے۔

2- صور میں دوسری بار پھونک مارے جانے کے بعد ساری مخلوقات مر جائیں گی۔

3- مؤمن قبر میں دوبارہ اٹھائے جانے کے دن تک نعمتوں سے فیض یاب ہوتا رہے گا۔

4- اعمال نامے دیے جانے کے بعد اعمال وزن کیے جائيں گے۔

سوال 2 : نیچے دیے گئے کلمات کو مناست عبارتوں کے سامنے رکھیں :

(حشر - قبر - بعث - صراط)

1- قبر : وہ آخرت کی پہلی منزل ہے۔

2- صراط : وہ جہنم کے اوپر نصب کیا جانے والا ایک پل ہے۔

3- حشر : حشر سے مراد لوگوں کو حساب و کتاب کے لیے جمع کرنا ہے۔

4- بعث : بعث سے مراد مردوں کو قبروں سے زندہ کرنا ہے۔

سوال 3 : نیچے دیے گئے دونوں سوالوں کے جواب دیں :

1- آخرت کے دن پر ایمان کیسے متحقق ہوگا؟

2- مسلمانوں کی استقامت پر آخرت کے دن کے اثر کو واضح کریں۔

چھٹا سبق : قضا و قدر پر ایمان اور اس کے اثرات

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

1- تقدیر پر ایمان کا معنی بتا سکیں گے۔

2- دلیل سے یہ سمجھا سکیں گے کہ تقدیر پر ایمان کا مطلب ترک عمل نہيں ہے۔

3- تقدیر پر ایمان کے ثمرات بیان کر سکیں گے۔

4- ایک مسلمان کی زندگی میں تقدیر پر ایمان کی اہمیت کو محسوس کر سکيں گے۔

5- اللہ کے قضا و قدر سے راضی رہيں گے۔

تمہیدی سرگرمی

میرے سیکھنے والے بھائی! ہم لوگ ایمان کے چھٹے اور آخری رکن کی بات کر رہے ہيں۔ ایک بار آپ سارے ارکان کو یاد کریں اور ان خاکوں میں لکھیں :

ایمان کے ارکان

اولا : تقدیر پر ایمان لانے کا معنی :

تقدیر پر ایمان لانے سے مراد : اس بات کی پختہ تصدیق ہے کہ اس کائنات میں بھلا برا جو کچھ بھی ہوتا ہے، سب اللہ کے علم میں ہے، سب کو اس نے لکھ رکھا ہے، سب اس کے ارادے سے ہوتا ہے اور سب کو اس نے پیدا کیا ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے : "بے شک ہم نے ہر چیز کو ایک (مقرره) اندازے پر پیدا کیا ہے۔" (سورۂ قمر : 49)۔

اسی طرح اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ان کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا تھا : "یہ بات جان لو کہ اگر ساری امت بھی جمع ہو کر تمھیں کچھ نفع پہنچانا چاہے تو وہ تمھیں اس سے زیادہ کچھ بھی نفع نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تمھارے لیے لکھ رکھا ہے، اور اگر وہ تمھیں کچھ نقصان پہنچانے کے لیے جمع ہو جائے تو اس سے زیادہ کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تمھارے لیے لکھ دیا ہے۔ قلم اٹھالیے گئے اور (تقدیر کے) صحیفے خشک ہوگئے ہیں۔" (مسند احمد : 2669، سنن ترمذی : 2516)۔

تقدیر پر ایمان اور اسباب اختیار کرنا :

تقدیر پر ایمان رکھنا، کوشش کرنے اور اسباب اختیار کرنے کے منافی نہیں ہے۔ کیوں کہ انسان عمل سے وہی حاصل کرتا ہے، جو اللہ نے اس کے حق میں لکھ رکھا ہے۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : "تم میں سے ہر شخص کی جنت وجہنم میں منزل پہلے سے معلوم ہے؟" صحابہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! کیا ہم اس پر بھروسہ کرکے بیٹھ نہ جائیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے جواب دیا : "ایسا مت کرو۔ تم عمل کیا کرو۔ کیوں کہ ہر شخص کے لیے وہی آسان کر دیا جاتا ہے، جس کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے۔" (صحیح بخاری : 1362، صحیح مسلم : 2647)۔

چوں کہ انسان کو یہ پتہ نہيں ہے کہ اللہ نے اس کے بارے میں کیا فیصلہ کر رکھا ہے، تو وہ ایسی بات کو دلیل کیسے بنا سکتا ہے، جس کے بارے میں وہ کچھ جانتا ہی نہیں ہے؟ لہذا اسے اپنی لیے خیر حاصل کرنے کی خوب کوشش کرنی چاہیے۔

ثالثا : تقدیر پر ایمان لانے کے اثرات :

تقدیر پر ایمان کے بہت سے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جن میں سے چند یہ ہیں :

1- ثابت قدمی اور یقین کے ساتھ مشکل کاموں پر اقدام۔

2- بہت سے اجتماعی امراض، جیسے حقد اور حسد وغیرہ کا علاج۔

3- اللہ تعالی کے فیصلے پر راضی ہونا، صبر سے کام لینا اور ناراضگی و بے چینی سے گریز کرنا۔

4- تواضع، کیوں کہ تقدیر پر ایمان رکھنے والے مؤمن کو معلوم ہے کہ اس کے پاس جو بھی نعمتیں ہيں، سب اللہ کی دی ہوئی ہيں۔

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : میں ایک نصیحت کرتا ہوں :

اگر آپ کے کسی دوست نے کوئی انعام (ایوارڈ) حاصل کرنے کے لیے خوب محنت کی اور وقت گزر گیا، لیکن پوری کوشش کے باوجود انعام (ایوارڈ) حاصل نہ کر سکا اور غم و اندوہ میں ڈوب گیا۔

تو اس درس میں پڑھی گئی باتوں کی روشنی میں آپ اس کے لیے ایک نصیحت لکھیں۔

سرگرمی (2) : میں غور و فکر کروں گا اور جواب دوں گا :

اللہ کے نبی نوح علیہ السلام نے ایک کشتی بنائی، جس کے ذریعے اللہ نے ان کو طوفان سے بچایا۔ اسی طرح اللہ کے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی مدینے کی جانب ہجرت کے لیے پورا پلان تیار کیا۔ حالاں کہ اللہ اس کے بغیر بھی دونوں کی مدد کر سکتا تھا۔

آپ یہ بتائيں کہ ان دونوں نبیوں نے اسباب کیوں اختیار کیے؟

اس سے کیا سبق ملتا ہے؟

اندازۂ قدر

سوال (1) : نیچے دیے گئے الفاظ میں سے صحیح الفاظ کا انتخاب کریں اور خالی جگہوں میں رکھ دیں :

1- تقدیر پر ایمان، ایمان کے ۔۔۔۔۔۔ میں سے ایک ہے۔

(مکملات - ارکان)

2- اللہ نے اپنے بندوں کے لیے ۔۔۔۔۔ کا فیصلہ کر رکھا ہے۔

(خیر و شر - شر نہيں، صرف خیر)

3- تقدیر پر ایمان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(اسباب اختیار کرنے کے منافی نہیں ہے - اسباب کو ترک کرنے کا تقاضا کرتا ہے)

سوال 2 : نیچے دیے گئے احوال میں مسلمان پر ایمان کے اثر کو واضح کریں :

1- جب اللہ کوئی نعمت عطا کرے۔

2- جب کوئی مصیبت آئے۔

3- جب اپنے پڑوسی کو خود سے زیادہ مال دار دیکھے۔

سوال 3 : بہادری اور اطمینان کا بھی تقدیر پر ایمان سے تعلق ہے۔ اس بات کو واضح کریں۔

اکائی : سنت اور شمائل

پہلا سبق : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا تعارف اور آپ کے اہم اوصاف :

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ :

1- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا فضل و شرف بیان کر سکیں گے۔

2- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بیویوں، اولاد اور رشتے داروں کی تعداد بتا سکیں گے۔

3-اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے جسمانی اور اخلاقی اوصاف کے بارے میں کچھ لکھ سکیں گے۔

4- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اخلاق پر دلیل پیش کرسکیں گے۔

5- اخلاقِ نبوی سے خود کو آراستہ کریں گے۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا تعارف

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا نسب

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی پیدائش

اللہ کی نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بیویاں

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بال بچے اور رشتے دار

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے جسمانی اور اخلاقی اوصاف

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا نسب اور نام :

اللہ تعالی نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ اعزاز بخشا کہ آپ کا تعلق عرب کے سب سے باعزت قبیلے سے تھا۔ آپ کے والد عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم اور والدہ آمنہ بنت وہب دونوں کا تعلق قریش سے تھا۔ اور قریش کا نسب اللہ کے نبی اسماعیل علیہ السلام تک پہنچتا ہے۔

آپ کے کئی نام تھے۔ جیسے احمد، حاشر اور عاقب۔

اللہ کے نبی کی پیدائش اور وفات :

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم مکہ میں عام الفیل سن 571 ء میں پیدا ہوئے۔ آپ کی وفات دوشنبہ 12 ربیع الاول سن 11ھ (633ء) کو مدینے میں 63 سال کی عمر میں ہوئی۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بیویاں :

اللہ تعالی نے خود اپنے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بیویوں کا انتخاب کیا اور ان کو مؤمنوں کی مائیں قرار دیا۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے : "نبی مومنوں پر خود ان سے بھی زیادہ حق رکھنے والے ہیں اور نبی کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں۔" (سورۂ احزاب : 6) آپ کی بیویوں کے نام کچھ اس طرح ہیں :

1- خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا۔

2- سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا۔

3- عائشہ بنت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہا۔

4- حفصہ بنت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما۔

5- زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا۔

6- ام سلمہ ہند بنت ابی امیہ رضی اللہ عنہا۔ 7- زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا۔ 8- جويریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا۔ 7- ام حبیبہ رملہ بنت ابو سفیان رضی اللہ عنہا۔ 10- صفیہ بنت حُيی بن اخطب رضی اللہ عنہا۔ 11- میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بال بچے اور رشتے دار :

1- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بیٹوں کے نام قاسم، عبد اللہ اور ابراہیم ہیں۔ تینوں کا انتقال بچپن میں ہی ہو گیا تھا۔ جب کہ آپ کی بیٹیوں کے نام زینب، رقیہ، ام کلثوم اور فاطمہ ہیں۔ ابراہیم کو چھوڑ کر باقی سب خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے تھے۔ ابراہیم ماریہ قبطیہ کے بطن سے تھے۔

2- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے کچھ مشہور ترین رشتے دار : آپ کے چچا حمزہ بن عبد المطلب، آپ کے چچا عباس، آپ کے چچا زاد بھائی علی بن ابو طالب اور آپ کے چچا زاد بھائی عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہم۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے جسمانی اوصاف :

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بڑے ہی خوب صورت انسان تھے۔ گورا رنگ، چمکتا چہرہ، ہونٹوں پر بکھری ہوئی مسکراہٹ، معتدل قد و قامت، کشادہ سینہ، بڑے بڑے کندھے اور گھنی داڑھی والے تھے۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اخلاق :

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اخلاق کے اعتبار سے تمام لوگوں سے اچھے تھے۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے : "اور بے شک آپ بڑے (عمدہ) اخلاق کے حامل ہيں۔" (سورۂ قلم : 4)۔ اسى وجہ سے لوگوں کو آپ سے بڑی محبت تھی اور کشاں کشاں اسلام کی جانب کھنچے چلے آتے تھے۔ آپ کے اخلاق کی کچھ جھلکیاں پیش خدمت ہیں :

1- سخاوت اور شجاعت : انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : "اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سب سے زیادہ خوبصورت، سب سے زیادہ سخی اور سب سے زیادہ بہادر تھے۔" (صحیح بخاری : 2875)۔

2- بردباری اور نرمی : عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہيں : "اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے کبھی کسی کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا۔ نہ ہی کسی عورت کو، نہ ہی کسی خادم کو۔ اِلاّ یہ کہ آپ جہاد فی سبیل اللہ کر رہے ہوں۔ کبھی ایسے نہیں ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی نقصان پہنچایا گیا ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر انتقام لیا ہو مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ کی حدود کی خلاف ورزی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے لیے انتقام لیا کرتے تھے۔۔" (صحیح بخاری : 6853، صحیح مسلم : 2328)۔

3- تواضع : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک دوست، ایک بھائی اور ایک والد کی طرح زندگی گزاری۔ چھوٹے بڑے سب کے ساتھ رہتے۔ عام لوگوں کی طرح کھانا کھاتے، کپڑے پہنتے اور سواریوں پر سوار ہوتے۔

4- صبر : آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مکہ میں قریش کی اذیتوں اور مدینے میں یہودیوں اور منافقوں کے مکر و فریب اور خیانت پر صبر سے کام لیا اور بالآخر اللہ نے آپ کو ان تمام لوگوں سے نجات دے دی۔

آپ صلی اللہ علیہ و سلم پوری طاقت کے ساتھ دعوت، لوگوں کی تعلیم اور جہاد فی سبیل اللہ میں ڈٹے رہے۔

اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے بیٹوں اور بیٹیوں کی اچانک وفات، فقر، مرض اور دنیا کی تمام مصیبتوں پر صبر سے کام لیا۔

5- عفو و درگزر : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم برا سلوک کرنے والوں کے ساتھ درگزر سے کام لیتے تھے۔ آپ نے فتح مکہ کے بعد اہل مکہ تک کو معاف کر دیا، جنھوں نے آپ کو بڑی تکلیفیں دی تھیں اور آپ سے کئی جنگیں کی تھیں۔

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : جستجو کروں گا اور نتیجے نکالوں گا :

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ناموں میں آپ کے اوصاف بھی چھپے ہوئے ہيں۔ چنانچہ آپ کا ایک نام "المُقَفِّى" (نشانات قدم پر چلنے والا) تھا، کیوں کہ آپ نے توحید کی دعوت کے معاملے میں دیگر نبیوں کے نشانات قدم پر چل کر دکھایا ہے۔ اس بات کو دھیان میں رکھتے ہوئے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ہر نام کو مناسب معنی کے ساتھ جوڑیں :

نام

نبی رحمت

محمد

احمد

عاقب

نبی توبہ اس نام کو رکھے جانے کا سبب نبیوں کے بعد اور آخر میں آئے۔ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ کیوں کہ آپ کے اوصاف طیبہ کی وجہ سے اگلے اور پچھلے لوگوں نے آپ کی تعریف کی ہے۔ فضائل کے اعلی ترین درجہ پر فائز تھے۔ دوسری بات یہ ہے کہ آپ اپنے رب کی سب سے زیادہ تعریف کرنے والے تھے۔ آپ اللہ کے حضور بہت زیادہ توبہ کرنے والے تھے۔ اللہ نے آپ کو سارے جہانوں کے لیے رحمت بناکر بھیجا ہے۔

سرگرمی (1) : باہمی تعاون سے استنباط کروں گا :

اپنے ساتھی کی مدد سے نیچے دیے گئے نصوص سے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اخلاق مستنبط کیجیے :

نص

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "تمھارے پاس ایک ایسے رسول تشریف ﻻئے ہیں جو تمھاری جنس سے ہیں، جن کو تمھاری مضرت کی بات نہایت گراں گزرتی ہے، جو تمھاری منفعت کے بڑے خواہش مند رہتے ہیں، ایمان والوں کے ساتھ بڑے ہی شفیق اور مہربان ہیں۔" (سورۂ توبہ : 128)۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "اللہ تعالیٰ کی رحمت کے باعث آپ ان پر نرم دل ہیں اور اگر آپ بد زبان اور سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے پاس سے چھٹ جاتے۔" (سورۂ آل عمران : 159)۔

انس رضی اللہ عنہ کہتے ہيں : "اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے (اسلام لانے پر) جب بھی کسی چیز کا سوال کیا گیا تو آپ نے وہ ضرور دی۔ (ایک دفعہ) آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس ایک آدمی آیا تو آپ نے اسے دو پہاڑوں کے درمیان موجود ساری بکریاں اسے دے دیں۔" (صحیح مسلم : 2312)۔

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہيں : "جب زور کا رن پڑتا اور دونوں فوجیں آپس میں بھڑ جاتیں، تو ہم بچنے کے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ کے پیچھے چھپ جاتے۔" (مسند احمد : 654)۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اخلاق رافت و رحمت رفق اور نرمی جود و سخا شجاعت

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

1- اللہ کے بنی صلی اللہ علیہ و سلم اکثر مسکرایا کرتے تھے۔ ()

2- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے دونوں کندھے بڑے بڑے تھے اور قد لمبا تھا۔

3- لوگوں کے قبول اسلام میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اخلاق کا بڑا اثر تھا۔

4- جنگوں کے دوران اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بہادری ظاہر ہوئی۔

سوال 2 : قوسین (بریکٹ) کے درمیان سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

1- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی پیدائش کا سال ہے :

(517ٗء - 751ء - 571ء)

2- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ناموں میں سے ایک نام :

(عاقب - قاسم - عبد اللہ)

3- وفات کے وقت اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی عمر تھی :

(53 سال - 63 سال - 73 سال)

سوال (3) نیچے دیے گئے اخلاقی گوشوں پر دلالت کرنے والا ایک ایک واقعہ لکھیں :

1- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی سخاوت۔

2- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا عفو و درگزر۔

3- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی شجاعت۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اخلاق میں سے جو آپ کو سب سے زیادہ بھائے اس کا خلاصہ تیار کیجیے اور اسے اپنی کاپی میں لکھیے۔

دوسرا سبق : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے خصائص

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

1- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے دنیوی اور اخروی فضائل گنوا سکیں گے۔

2- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے فضائل مدلل انداز میں بیان کر سکيں گے۔

3- اپنی زندگی میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے مقام کے بارے میں اپنی جانکاری پیش کر سکیں گے۔

4- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی عظمت کا احساس کر سکیں گے۔

5- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے محبت رکھیں گے۔

آغاز :

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : "میں قیامت کے دن اولاد آدم کا سردار ہوں۔" (صحیح بخاری : 4712، صحیح مسلم : 2278)۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اس مقام کے مستحق کس بنیاد پر ہوئے؟

کیا آپ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے دوسرے خصائص سے بھی واقف ہيں؟

اس درس کے ذریعہ پتہ چلے گا۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے دنیوی اور اخروی خصائص

اللہ تعالی نے ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو کئی ایسے خصائص عطا کیے تھے، جو دوسرے نبییوں کو عطا نہیں ہوئے تھے۔ اس طرح کے کچھ خصائص کا ذکر اس حدیث میں ہوا ہے : "مجھ کو چھ باتوں کی وجہ سے دیگر پیغمبروں پر فضیلت دی گئی ہے : مجھے جامع ترین لفظوں میں بات کرنے کا ہنر دیا گیا ہے، رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی ہے، میرے لیے غنیمتیں حلال کی گئیں ہیں، میرے لیے ساری زمین پاک کرنے والی اور مسجد بنا دی گئی ہے، میں تمام مخلوقات کی طرف بھیجا گیا ہوں اور میرى نبوت کے ساتھ نبیوں کا سلسلہ ختم کردیا گیا ہے۔" (صحیح بخاری : 7013، صحیح مسلم : 523)۔

ایک اور حدیث میں ارشاد نبوي ہے : ’’میں قیامت کے دن اولاد آدم کا سردار ہوں گا اور سب سے پہلے میں ہی قبر سے نکلوں گا اور میں سب سے پہلا شافع ہوں گا اور سب سے پہلے میری ہی سفارش قبول کی جا ئے گی"۔ (صحیح بخاری : 4712، صحیح مسلم : 2278)۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے دنیوی فضائل

‏آپ صلى اللہ علیہ وسلم کی رسالت عام ہے

آپ صلى اللہ علیہ وسلم نبیوں کے سلسلے کی آخری کڑی ہیں

آپ صلى اللہ علیہ وسلم کو جامع ترین الفاظ میں بات کرنے کی صلاحیت دی گئی تھی

آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے لیے زمین کو مسجد اور پاکی حاصل کرنے کا ذریعہ بنایا گیا ہے

رعب کے ذریعے آپ صلى اللہ علیہ وسلم کی مدد کی گئی تھی

آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے لیے غنیمتوں کو حلال کیا گیا تھا

1- آپ صلى اللہ علیہ وسلم کو تمام لوگوں کی جانب نبی بناکر بھیجا گیا تھا : اللہ نے آپ صلى اللہ علیہ وسلم کو عرب اور غیر عرب سب کی طرف رسول بناکر بھیجا تھا۔ جب کہ آپ سے پہلے آنے والے ہر نبی کو صرف ان کی قوم کی جانب نبی بناکر بھیجا گیا تھا۔

2- نبیوں کے سلسلے کی آخری کڑی : آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے ذریعے آسمانی رسالت کے سلسلے کو ختم کر دیا گیا۔ آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔

3- آپ صلى اللہ علیہ وسلم کو جامع ترین الفاظ میں بات کرنے کی صلاحیت دی گئی تھی : آپ صلى اللہ علیہ وسلم قلیل ترین الفاظ میں بہت سے معانی ادا کر دیا کرتے تھے۔

سرگرمی (1) : میں اپنی رائے دوں گا :

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ایک وصف یہ تھا کہ آپ پوری فصاحت کے ساتھ عربی زبان بولتے تھے۔ اس پہلو کو مد نظر رکھتے ہوئے درست اختیار کے سامنے صحیح کا نشان (✓) لگائیں :

ایک مسلمان کے لیے عربی زبان سیکھنے کی بڑي اہمیت ہے۔ کیوں کہ عربی زبان اسے قدرت عطا کرتی ہے :

1- قرآن کریم کے معانی کو سمجھنے کی۔

2- عبادتوں کے احکام جاننے کی۔

3- صحیح طریقے سے دین کی تبلیغ کی۔

4- مذکورہ بالا سبھی۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے زمین کو مسجد اور پاکی حاصل کرنے کا ذریعہ بنایا گیا ہے۔ لہذا آپ کی شریعت میں کسی بھی پاک زمین پر نماز پڑھنا اور پانی نہ ملنے یا بیمار ہونے کی وجہ سے اس کے استعمال کی صلاحیت نہ رکھنے کی صورت میں وضو اور غسل کے بدلے میں مٹی سے تیمم کرنا جائز ہے۔

5- رعب کے ذریعے آپ صلى اللہ علیہ وسلم کی مدد کی گئی تھی۔ لہذا آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے دشمن جنگ کے وقت آپ صلى اللہ علیہ وسلم سے خوف کھاتے تھے۔

6- آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے لیے اموال غنیمت کو حلال کیا گیا ہے۔ یعنی آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے لیے جنگوں کے موقعوں پر دشمنوں سے حاصل شدہ اموال کو حلال کیا گیا ہے۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اخروی فضائل

اولاد آدم کے سردار

سب سے پہلا شخص جس کی قبر کھلے گی

سب سے بڑے حوض والے

1- قیامت کے دن اولاد آدم کے سردار۔

2- سب سے پہلا شخص جس کی قبر کھلے گی : لوگوں کے دوبارہ زندہ کئے جانے کے بعد آپ ﷺ قبر سے سب سے پہلے نکلیں گے۔

3- (بروز قیامت) پہلے سفارشى اور پہلے مشفَّع: آپ پہلے شخص ہوں گے، جسے قیامت کے دن سفارش کی اجازت دی جائے گی اور پہلے شخص ہوں گے، جس کی سفارش قبول ہوگی۔

4- قیامت کے دن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا حوض دیگر نبیوں کے حوض سے بڑا ہوگا۔

5- آپ پہلے شخص ہوں گے، جس کے لیے جنت کا دروازہ کھولا جائے گا۔

عملی کام (2) : غور و فکر کروں گا اور نتائج اخذ کروں گا :

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہيں : "میرے حوض کا پھیلاؤ ایک مہینے کی مسافت ([1]) کے برابر ہوگا۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور اس کی خوشبو کستوری سے زیادہ عمدہ ہوگی۔ اور اس کے آبخورے([2]) (تعداد میں) آسمان کے ستاروں کی طرح ہوں گے۔ جو شخص اس حوض کا پانی پی لے گا، وہ کبھی پیاسا نہیں ہوگا۔“ (صحیح بخاری : 6579، صحیح مسلم : 2292)۔

اپنے استاد کی نگرانی میں اس حدیث سے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے حوض کے اوصاف اخذ کریں :

اندازۂ قدر

سوال 1 : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں وارد ہونے والی درج ذیل تعبیرات کا معنی واضح کیجیے : () مسافت : یعنی ایک سوار کو حوض کے آخر تک جانے کے لیے ایک مہینے کی ضرورت ہوگی۔ () كيزانه : 'کیزان' جمع ہے 'کوز' کی۔ ایسے برتن جن سے کچھ پیا جاتا ہے۔

1- "آپ صلى اللہ علیہ وسلم کو جامع ترین الفاظ میں بات کرنے کی صلاحیت عطا کی گئی تھی۔" : .....................................

2- "آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے لیے زمین کو مسجد بنایا گیا ہے۔" ؛ .....................................

3- "آپ صلى اللہ علیہ وسلم اولاد آدم کے سردار ہیں۔" : .....................................

4- "آپ کی مدد رعب عطا کرکے کی گئی تھی۔" : .....................................

سوال 2 : ’’پہلے شافع‘‘ اور ’’پہلے مُشَفَّع ‘‘ کے مابین فرق :

شافع وہ ہے جسے شفاعت کی اجازت ملے اور مشفع وہ ہے جس کی شفاعت قبول کی جائے۔ ()

شافع وہ ہے جسے شفاعت کا حق دیا جائے اور مشفع وہ ہے جسے یہ حق نہ دیا جائے۔ ()

سوال 3 : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے تین فضائل لکھیں اور اس درس کی روشنی میں اس کی دلیلیں پیش کریں :

تیسرا سبق : قرآن پڑھنے کی فضیلت

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

1- حدیث میں ائے ہوئے کلمات کے معانی واضح کر سکیں گے۔

2- حدیث کے راوی کا تعارف پیش کر سکیں گے۔

3- قرآن پڑھنے کی اہمیت بتا سکیں گے۔

4- قرآن پڑھنے میں دل چسپی لیں گے۔

5- اس درس میں آئی ہوئی حدیث کو یاد کر لیں گے۔

6- قرآن پڑھنے کی فضیلت محسوس کریں گے۔

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :

”جس نے کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھا، اس کے لیے اس کے بدلے ایک نیکی ہے اور ایک نیکی کا اجر اسى کى طرح کی دس نیکیوں کے برابر ہوتا ہے۔ میں نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے؛ بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے۔“ (سنن ترمذی : 2910)۔

راوی حدیث کا تعارف :

ابو عبد الرحمن عبد اللہ بن مسعود ہذلى رضی اللہ عنہ۔

یہ ابتدائی دور میں اسلام قبول کرنے والے صحابہ میں سے ایک ہیں۔ انھوں نے خانۂ کعبہ میں سب سے پہلے بلند آواز سے قرآن پڑھا تھا۔

قرآن کا سب سے زیادہ علم رکھنے والے صحابہ میں سے ایک تھے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے قرآن کا علم حاصل کرنے کا حکم دیا تھا۔

سن 32ھ مدینے میں وفات پائی۔

الفاظ کے معانی :

الفاظ

دس گنا الم معانی دس گنا بڑھا دیا جائے گا۔

الم ان حروف مقطعات میں شامل ہیں، جن سے قرآن کی کچھ سورتوں کا آغاز ہوتا ہے۔

حدیث کا عام معنی :

اللہ کے یہاں قرآن پڑھنے کی بڑی اہمیت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن پڑھنے والے سے بہت بڑے ثواب اور بہت سے نیکیوں کا وعدہ کیا گیا ہے۔ جو شخص قرآن کا ایک حرف پڑھے گا اسے اللہ ایک نیکی عطا کرے گا۔ پھر اس کے حق میں دس نیکیاں لکھ دی جائيں گی۔ مثال کے طور پر جس نے سورۂ بقرہ کے شروع میں آئے ہوئے الفاظ 'الم' پڑھے، اس کے لیے تیس نیکیاں لکھی جائیں گی۔ پھر جیسے جیسے قاری زیادہ پڑھتا جائے گا، اس کی نیکیاں بڑھتی جائيں گی۔ یہ دراصل اللہ کا فضل و کرم ہے۔

فوائد اور توجیہات :

1- قرآن پڑھنے کی فضیلت اور اس کا عظیم اجر و ثواب۔

2- قرآن پڑھنے اور زیادہ سے زیادہ پڑھنے کی ترغیب۔

3- اس بات کا ثبوت کہ نیکیوں میں اضافہ ہوتا ہے۔

4- اللہ کا فضل و کرم ہے کہ وہ تھوڑے سے عمل پر بڑا ثواب عطا کرتا ہے۔

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : میں پڑھوں گا اور نتیجہ اخذ کروں گا :

قرآن پڑھنے کے بہت سے فضائل ہیں۔ اپنے استاد کی مدد سے نیچے دی گئی دونوں حدیثوں سے کچھ فضائل اخذ کریں :

نص

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے : "قرآن پڑھا کرو اس لیے کہ وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لیے سفارشی بن کر آئے گا"۔ (صحیح مسلم : 804)۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے : "صاحبِ قرآن سے کہا جائے گا کہ پڑھتا جا اور چڑھتا جا‘ اور اسی طرح ٹھہر ٹھہر کر پڑھ، جیسے کہ دنیا میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرتا تھا۔ جہاں آخری آیت ختم کرے گا، وہیں تیرا مقام ہوگا"۔ (سنن ابو داؤد : 1464، سنن ترمذی : 2914)۔ فضیلت قیامت کے دن قاری کے لیے قرآن سفارش کرے گا۔ قیامت کے دن صاحبِ قرآن کے درجات بلند کیے جائیں گے۔

سرگرمی (2) : باہمی تعاون سے تجویز پیش کروں گا :

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی اس حدیث کے ذریعے ہمیں قرآن کے اس حصے کا خیال رکھنے کا حکم دیا ہے، جو ہمیں یاد ہو : "تَعَاهَدُوا الْقُرْآنَ" ترجمہ : ’’قرآنِ مجید ہمیشہ پڑھتے رہو اور دَور کرتے رہو‘‘ (صحیح بخاری : 5033، صحیح مسلم : 791)۔ تاکہ قرآن کا حفظ کیا ہوا حصہ نسیان کا شکار نہ ہو جائے۔

اپنے ساتھیوں کی مدد سے ایسے وسائل کی تجویز پیش کریں، جو قرآن کے مراجعہ اور اسے یاد رکھنے میں مددگار ہو۔

نیچے دیے گئے لنک کے ذریعے آپ قرآن کی تلاوت اور مطالعے کے مراکز، جیسے حرمین مرکز تلاوت سے جڑ سکتے ہیں۔

https://maqraa.com/ar

سرگرمی (3) : میں شمار کروں گا اور موازنہ کروں گا :

سورۂ اخلاص کے حروف کی تعداد گنیں اور بتائیں کہ اسے پڑھنے والے کو کتنی نیکیاں ملیں گی؟ پھر اپنے نتیجے کو اپنے ساتھی کے نتیجے سے ملائیں۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

1- قرآن پڑھنے والے کو ثواب سات گنا تک بڑھا کر دیا جاتا ہے۔ (×)

2- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قرآن کا سب سے زیادہ علم رکھنے والے صحابہ میں سے ایک تھے۔ (√)

3- وقت کی بہتر ترتیب حفظِ قرآن میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ (√)

4- قراءتِ قرآن کے حلقوں میں حاضر لوگوں پر سکینت نازل ہوتی ہے۔ (√)

سوال 2 : قوسین (بریکٹ) کے درمیان سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

1- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پہلے شخص تھے، جنھوں نے اس جگہ کے پاس بلند آواز سے قرآن پڑھا تھا :

(خانۂ کعبہ - اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا گھر - مسجدِ نبوی)

2- پابندی سے قرآن پڑھنے والا وہ ہے جو اسے پڑھتا رہتا ہے:

(ہر مہینے - ہر ہفتہ - ہر دن)

3- اس سبق میں شامل حدیث اللہ کے اس احسان کی دلیل پیش کرتی ہے کہ اس نے :

(قرآن اتارا - نیکی کے کاموں کا بدلہ بڑھا کر دیتا ہے - انسان کو پیدا کیا)

سوال 3 : اس درس میں شامل حدیث کو اپنی یاد داشت سے تین بار لکھیں :

سوال 4 : تلاوتِ قرآن کی اس فضیلت کو جاننے کے بعد آپ کو کیسا محسوس ہوا؟ بیان کریں :

چوتھا سبق : گناہوں کو مٹانے والے اعمال

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ :

1- حدیث کے راوی کا مختصر تعارف پیش کر سکیں گے۔

اس حدیث میں آئے ہوئے مشکل الفاظ کے معنی بتا سکیں گے۔

3- حدیث کے اجمالی مفہوم کا خلاصہ پیش کر سکیں گے۔

4- اس حدیث کے فوائد بیان کر سکيں گے۔

5- اس حدیث میں بتائے گئے نیکی کے کام پابندی کے ساتھ کریں گے۔

6- اس حدیث کو زبانی یاد کر لیں گے۔

حدیث کے الفاظ :

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”پانچوں نمازیں، ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک اپنے مابین سرزد ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں، بشرط یہ کہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے“۔ (صحیح مسلم : 574)۔

الفاظ کے معانی :

الفاظ معانی

ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک

ایک رمضان دوسرے رمضان تک

گناہ مٹانے والے اعمال

کبیرہ گناہ ایک جمعہ کی نماز سے لے کر اس کے بعد والے جمعہ کی نماز تک۔ ایک رمضان کے روزے سے لے کر اس کے بعد والے رمضان کے روزے تک۔ گناہوں کی مغفرت کا سبب بڑے گناہ وہ ہیں جن کی شریعت نے دنیا میں کوئی حد یا آخرت میں کوئی سزا مقرر کیا ہو۔ جیسے زنا، چوری اور سود کھانا۔

راوی کا تعارف :

عبد الرحمن بن صخر دوسی رضی اللہ عنہ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو ابو ہریرہ کی کنیت دی تھی۔ کیوں کہ ساتھ میں بلی رکھتے تھے۔

سن 7ھ کو مسلمان ہوئے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات تک سایے کی طرح آپ کے ساتھ رہے۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے حق میں مضبوط حافظے اور مؤمن بندوں کے یہاں محبوب ہونے کی دعا کی تھی۔ چنانچہ سب سے زیادہ حدیثیں یاد رکھنے والے اور روایت کرنے والے صحابہ میں شمار ہوتے تھے۔ پانچ ہزار سے زیادہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی حدیثیں روایت کی ہیں۔

علم کے حامل اور دعوت و تعلیم کے میدان میں سرفہرست صحابہ میں شمار ہوتے تھے۔

سن 59ھ میں وفات پائی۔

حدیث کا عام معنی :

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ اللہ کی رحمت اور مغفرت کا دائرہ بڑا وسیع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس حدیث میں مذکور نیکیوں کے کام کرنے پر ان کا اجر و ثواب ملنے کے ساتھ ساتھ انسان کے گناہ بھی مٹا دیے جاتے ہيں۔

چنانچہ جن نیکی کے کاموں سے انسان کے گناہ مٹائے جاتے ہیں، ان میں ہر روز پانچ وقت کی نمازیں قائم کرنا، ہر ہفتہ جمعے کی نماز پڑھنا اور ہر سال ماہ رمضان کے روزے رکھنا شامل ہیں۔

ان اعمال سے انسان کے صغیرہ گناہ مٹا دیے جاتے ہیں۔ رہی بات کبیرہ گناہوں کی، جیسے زنا، چوری، عقوق والدین اور حرام مال کھانا، تو ان میں سے ہر ایک کے لیے خاص توبہ کی ضرورت ہے۔

توبہ اگر سچی ہو، تو اللہ تعالی ہر گناہ کی توبہ قبول کرتا ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "(میری جانب سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو جاؤ۔ بالیقین اللہ تعالیٰ سارے گناہوں کى مغفرت فرماتا ہے۔" (سورۂ زمر : 53)۔

فوائد اور توجیہات :

1- اللہ کی وسیع رحمت۔

2- اسلام میں نماز اور روزے کی اہمیت۔

3- نیکی کے کام پابندی کے ساتھ کرنے کی فضیلت۔

4- گناہوں کی دو قسمیں ہیں :

صغیرہ گناہ۔ نیکیاں ان گناہوں کو مٹاتی ہيں۔

کبیرہ گناہ۔ ان کے لیے خاص توبہ واجب ہے۔

5- کبیرہ گناہ کا ارتکاب کرنے کی سنگینی۔

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : حل کروں گا اور نتیجہ نکالوں گا :

اللہ کے نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ”جو مسلمان فرض نماز کا وقت پائے، پھر اچھی طرح وضو کرے، دل لگا کر نماز پڑھے اور اچھی طرح رکوع (اور سجدہ) کرے، تو یہ نماز اس کے پچھلے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گی، جب تک کبیرہ گناہوں میں ملوث نہ ہو۔“ (صحیح مسلم : 228)۔

1- وہ فضیلت لکھیے، جس پر یہ حدیث دلالت کرتی ہے۔

2- اس فضلیت کا متعلقہ درس میں مذکور حدیث سے کیا ربط ہے، واضح کیجئے۔

سرگرمی (2) : حدیث سے نکالیں :

اس حدیث سے ایک جملہ پیش کریں، جو نیچے دی گئی ہر صورت کو بیان کرتا ہو :

سرگرمی (3) دوہراؤں گا اور یاد کروں گا :

اس حدیث کو اپنے ساتھی کے ساتھ اتنی بار دوہرائيں کہ یاد ہو جائے۔ پھر ایک دوسرے کو سنائیں اور دونوں ایک دوسرے کے حفظ پر اپنا اپنا عندیہ دیں، تاکہ حدیث اچھی طرح یاد ہو جائے۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

1- گناہوں کے مٹائے جانے کے لیے درس میں وارد تینوں عبادتوں کا یک جا ہونا شرط ہے۔

2- بڑے گناہ سچی توبہ سے مٹائے جاتے ہیں۔

3- زنا کبیرہ گناہ ہے، کیوں کہ اس میں ملوث ہونے والے پر حد جاری کی جاتی ہے۔

4- عبادتيں گناہوں کو مٹانے اور درجات کی بلندی کا سبب ہوا کرتی ہیں۔

سوال 2 : قوسین (بریکٹ) کے درمیان سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

1- ہم ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے حرص رکھیں گے :

(علم سکھانے کا - مال جمع کرنے کا - مسجدیں بنانے کا)

2- حدیث میں آئے ہوئے الفاظ "مكفرات الذنوب" کے معنی ہیں :

(عذاب کم کرنے والی چیزيں - گناہ بخشوانے والی چیزيں - عیوب پر پردہ ڈالنے والی چیزیں)

3۔ پانچوں نمازوں کے ذریعے اللہ مٹاتا ہے :

(صغیرہ گناہوں کو - کبیرہ گناہوں کو - تمام گناہوں کو)

4- یہ حدیث جس روزے کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے، وہ ہے :

(عرفہ کے دن کا روزہ - عاشورا کے دن کا روزہ - ماہ رمضان کا روزہ)

سوال 3 : حدیث مکمل کریں :

«الصَّلَوَاتُ..........، وَالْجُمُعَةُ إِلَى..........، وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ مُكَفِّرَاتٌ مَا بَيْنَهُنَّ إِذَا اجْتَنَبَ .............».

سوال 4 : نیکیوں سے گناہوں اور برائیوں کا مٹایا جانا کس بات پر دلالت کرتا ہے؟

پانچواں سبق : اللہ سے حسنِ ظن

سبق کے مقاصد :

عزیز طالبِ علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

1- جلیل القدر صحابی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا تعارف پیش کر سکيں گے۔

2- اس حدیث ميں آئے ہوئے مشکل الفاظ کے معنی بیان کر سکيں گے۔

3- حدیث کے اجمالی معنی کا خلاصہ بیان کر سکيں گے۔

4- اللہ سے اچھا گمان رکھنے کی فضیلت بیان کر سکيں گے۔

5- دوسرے لوگوں کو طاعت و استقامت کے راستے پر چلنے کی دعوت دیں گے۔

6- اس حدیث کو زبانی یاد کر لیں گے۔

تمہید :

احادیث کی ایک قسم کو احادیثِ قدسیہ کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ حدیثیں جنھیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اللہ تعالی سے روایت کرتے ہيں۔ لیکن ان میں قرآن کی طرح اعجاز کا پہلو نہيں ہوتا۔

اس سبق میں شامل حدیثِ قدسی ایمان والوں پر اللہ کے بے پایاں رحم و کرم پر دلالت کرتی ہے۔

حدیث کا متن :

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’اللہ تعالی فرماتا ہے : میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوتا ہوں۔ جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ اگر وہ مجھے اپنے نفس میں یاد کرے تو میں بھی اسے اپنے نفس میں یاد کرتا ہوں، اگر وہ مجھے بھری محفل میں یاد کرے تو میں اسے اس سے بہتر محفل میں یاد کرتا ہوں۔ اگر وہ میری طرف ایک بالشت آئے تو میں اس کی جانب ایک گز نزدیک ہوتا ہوں۔ اور اگر وہ ایک گز مجھ سے قریب ہو تو میں دو گز اس سے نزدیک ہوجاتا ہوں۔ اگر وہ میری طرف چلتا ہوا آئے تو میں دوڑتا ہوا اس کے پاس آتا ہوں۔‘‘ (صحیح بخاری : 7405، صحیح مسلم : 2675)۔

الفاظ کے معنی :

الفاظ : معنی :

ملأ جماعت (محفل)

بالشت دو انگلیوں؛ خنصر اور انگوٹھے کے کناروں کے بیچ کی دوری۔ (بالشت)

ذِرَاعًا کہنی اور انگلیوں کے کناروں کے بیچ کی دوری۔ (گز)

باعًا انسان کے دونوں ہاتھوں کی لمبائی کی مسافت۔

هرولة دوڑتا ہوا۔

راوی کا تعارف :

صحابی عبد الرحمن بن صخر۔ ان کا تعارف پیچھے گزر چکا ہے۔

یہاں مزید یہ جان لیں کہ وہ کثرت صیام و قیام، دنیا سے بے رغبتی اور ماں کے ساتھ حسن سلوک سے جانے جاتے ہيں۔

حدیث کا عام معنی :

یہ حدیث قدسی بتاتی ہے کہ مؤمن جب اللہ کو یاد کرتا ہے، تو اللہ اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ اسے توفیق دیتا ہے، اس پر رحم کرتا ہے اور اسے اس کے عمل سے زیادہ اور بڑا فضل و ثواب عطا کرتا ہے۔ جب مسلمان اللہ کو سری طور پر یاد کرتا ہے، تو اللہ بھی اسے سری طور پر یاد کرتا ہے اور جب وہ اللہ کو لوگوں کے درمیان یاد کرتا ہے تو اللہ بھی اسے اپنے مقرب فرشتوں کے بیچ یاد کرتا ہے۔ اگر مؤمن نیکی کے کام کے ذریعے اللہ سے قریب ہوتا ہے، تو اللہ قبولیت اور ثواب کے ذریعے اس سے قریب ہوتا ہے۔ مؤمن جتنی تیزی سے نیکی کے کام کرتا ہے اور عبادت میں آگے بڑھتا ہے، اس کا اجر و ثواب بڑھتا جاتا ہے اور اللہ کے ہاں اس کی قدر و وقعت بڑھ جاتی ہے۔

اس لیے مسلمان پر اپنے رب سے حسنِ ظن رکھنا واجب ہے۔ کیوں کہ اللہ اسے خیر عطا کرتا ہے، اس کے حق میں دنیا میں خیر کو یقینی بناتا ہے، اس کی توبہ قبول کرتا ہے اور آخرت میں عفو و درگزر سے کام لے گا۔

فوائد و توجیہات :

1- اللہ سے حسنِ ظن رکھنے اور اس کی عبادت اور اس کی قربت حاصل کرنے پر توجہ دینے کی اہیمت کا بیان ہے۔

2- اللہ کو سری و جہری طور پر یاد کرنا افضل ترین عبادت ہے۔

3- مخلوق پر اللہ کی بے پایاں رحمت اور بے انتہا فضل و کرم ہے۔

4- جو اللہ تعالی کی حکم برداری کرتا ہے، اللہ تعالی اسے بڑا اجر و ثواب عطا کرتا ہے۔

5- انسان کو اسی نوعیت کا بدلہ دیا جاتا ہے، جس نوعیت کا اس کا عمل رہتا ہے۔ جو اللہ تعالی سے اچھا گمان رکھتا ہے اور اچھا عمل کرتا ہے، وہ اچھا پاتا ہے۔

سرگرمیاں

سرگرمی (1) میں غور کروں گا اور جواب دوں گا :

نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: "تم میں سے ہر شخص کی موت بس اسی حالت میں آئے کہ وہ اللہ تعالی سے اچھا گمان رکھتا ہو۔" (صحیح مسلم : 2877)۔

ابراہیم نخعی کہتے ہیں : "سلف اس بات کو مستحب سمجھتے تھے کہ موت کے وقت بندے کو اس کے اچھے کام یاد دلائے جائیں، تاکہ وہ اپنے رب کے بارے میں اچھا گمان رکھے۔"

ان دونوں نصوص پر غور کریں، پھر اپنے ساتھیوں کی مدد سے نیچے دیے گئے سوالوں کے جواب دیں :

1- ان دونوں نصوص سے مستفاد باتوں کا خلاصہ لکھیں :

2- اس سبق کی حدیث سے ان دونوں کا کیا تعلق ہے؟

3- مسلمان کے لیے اپنے نیک اعمال کو کب یاد کرنا مستحب ہے؟

سرگرمی (2) : اپنی رائے دوں گا اور اس کا سبب بتاؤں گا :

نیچے دیے گئے مواقف ’اللہ سے حسن ظن رکھنے پر‘ کیسے دلالت کرتے ہیں، اس کے بارے میں اپنی رائے دیں اور اس کا سبب بیان کریں :

موقف

ایک جوان شخص نماز چھوڑتا ہے اور کہتا ہے کہ اللہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم والا ہے۔

ایک شخص پابندی سے نماز پڑھتا اور صلہ رحمی کرتا ہے۔

احمد اچھے سے اپنے کام کرتا ہے اور اپنے پڑوسیوں کی مدد کرتا ہے۔

ایک جوان شخص حرام کاموں میں ملوث رہتا ہے اور کہتا ہے کہ بوڑھا ہونے کے بعد توبہ کر لوں گا۔ آپ کی رائے سبب

(3) : میں اپنا جائزہ لوں گا :

تین نیکی کے کام بتائیں، جنھیں آپ پابندی سے کرتے ہيں اور اللہ سے ان پراجر عظیم کی امید رکھتے ہیں۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کثرتِ عبادت کے ساتھ مشہور تھے۔ (✓)

اللہ کا ذکر سری طور پر بھی ہو سکتا ہے اور علانیہ طور پر بھی۔ (✓)

اللہ سے حسن ظن نیکی کے کاموں کو ترک کرنے کا باعث بنتا ہے۔ (×)

سوال 2 : قوسین (بریکٹ) کے درمیان سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

حدیث قدسی منسوب ہوتی ہے :

(اللہ تعالی کی طرف - اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف - جبریل علیہ السلام کی طرف)

حدیث کے الفاظ "ذَكَرْتُهُ فِي مَلَأ هُمْ خَيْرٌ مِنْهُمْ" سے مراد ہیں :

(فرشتے - انبیاء - علماء)

اللہ سے حسن ظن رکھنا چاہیے :

(ترک عبادت کے وقت - گناہ ہو جانے پر - موت کے وقت)

سوال 3 : نیچے دی گئی حدیث پوری کریں :

اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے : «يَقُولُ اللهُ تعالى: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، وَأَنَا مَعَهُ حِينَ ............، إِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي ............، وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَأ ذَكَرْتُهُ فِي مَلَأ هُمْ خَيْرٌ ..........».

سوال 4 : نیچے دیے گئے دونوں سوالوں کے جواب دیجیے :

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو جزا اسی نوعیت کی ملتی ہے، جس نوعیت کا اس کا عمل رہتا ہے۔ اس کی وضاحت کریں :

یہ حدیث اللہ کی بے پایاں رحمت کو ثابت کرتی ہے۔ اس کی تشریح کریں :

چھٹا سبق : سات قسم کے لوگوں کو اللہ تعالی اپنے (عرش کے) سائے میں جگہ دے گا

سبق کے مقاصد :

عزیز طالبِ علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

اس حدیث میں آئے ہوئے مشکل الفاظ کے معنی بتا سکیں گے۔

2- ان سات کاموں کو واضح کر سکیں گے، جن کے کرنے والوں کو اللہ اپنے (عرش کے) سائے میں جگہ د ے گا۔

3- جوانی ميں اللہ کی عبادت کی اہمیت کا اندازہ لگا سکیں گے۔

4- اس حدیث کے فوائد بیان کر سکيں گے۔

5- اس درس کی حدیث کو بلا غلطی سنا سکيں گے۔

6- صحابی جلیل ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی پیروی کریں گے۔

تمہید :

قیامت دن حشر کے میدان میں ساری مخلوق جمع ہوگی، بہت زیادہ بھیڑ ہوگی، کافی گرمی ہوگی اور لوگ لمبے وقت تک کھڑے ہونے کی وجہ سے تھک رہے ہوں گے۔ لیکن اس مشکل گھڑی میں بھی کچھ لوگوں کو سایہ اور سکون میسر ہوگا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون لوگ ہوں گے اور کون کون سے عمل کرکے پہنچیں گے کہ اس عذاب کے وقت ان کو اللہ کی یہ خاص رحمت حاصل ہوگی؟

جواب معلوم کرنے کے لیے اس حدیث کو پڑھیے :

حدیث کے الفاظ :

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "سات لوگوں کو اللہ اپنے (عرش کے) سائے میں اس دن جگہ دے گا، جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔ انصاف پرور حکمران، اللہ کی عبادت میں پروان چڑھنے والا جوان، ایسا شخص جس کا دل مساجد میں اٹکا ہوا ہو، دو ایسے اشخاص جو اللہ کے لیے آپس میں محبت رکھتے ہوں، اسی کی بنیاد پر یک جا ہوتے ہوں اور اسی کی بنیاد پر علاحدہ ہوتے ہوں، ایک وہ شخص جسے کوئی خوبرو اور معزز عورت بدکاری کی دعوت دے اور وہ یہ کہہ کر ٹھکرا دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں، ایک وہ شخص جو اس قدر پوشیدہ طور پر صدقہ دے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی پتہ نہ چلے کہ اس کا دایاں ہاتھ کیا خرچ کرتا ہے اور ایک وہ شخص جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے تو (بے ساختہ) اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جائیں۔" (صحیح بخاری : 660، صحیح مسلم : 1031)۔

الفاظ کے معانی :

الفاظ : ظِلِّهِ دعته خالياً فاضت عيناه معانی : مراد عرش کا سایہ ہے۔

اسے بدکاری کی دعوت دی۔ یعنی لوگوں سے دور اللہ کی تعظیم اور اس کے خوف سے اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے۔

وہ لوگ جن کو اللہ اپنے (عرش کے) سائے میں جگہ دے گا :

انصاف پرور حکمران

اللہ کی عبادت میں پروان چڑھنے والا جوان

ایسا شخص جس کا دل مسجد میں اٹکا ہوا ہو

دو ایسے اشخاص جو اللہ کی رضامندی کے حصول کے لیے آپس میں محبت رکھتے ہوں

ایسا شخص جو اللہ کے ڈر سے بدکاری سے گریز کرے

چھپاکر صدقہ کرنے والا

اللہ کے خوف سے رونے والا

راوی کا تعارف:

جلیل القدر صحابی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ۔ ان کا تعارف پیچھے گزر چکا ہے۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اس بات کی پوری کوشش کرتے تھے کہ ہمیشہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ رہیں، آپ کے نقش قدم پر چلیں اور آپ کے اوامر اور وصیتوں کو نافذ کریں۔ اس کی ایک مثال ان کا یہ قول ہے : "میرے گہرے دوست نے مجھے تین باتوں کی وصیت فرمائی ہے۔ جب تک میں زندہ رہوں گا انھیں ترک نہیں کروں گا۔ وہ یہ ہیں : ہر مہینے کے تین روزے، چاشت کی نماز اور سونے سے پہلے وتر کی ادائیگی۔" (صحیح بخاری : 1178، صحیح مسلم : 721)۔

حدیث کا عام معنی

قیامت کے دن اپنی قبروں سے نکلنے کے بعد لوگ لمبے وقت تک حشر کے میدان میں کھڑے رہيں گے۔ اس دن سورج کی تپش بڑی سخت ہوگی اور سب لوگ اس کا سامنا کر رہے ہوں گے۔ البتہ کچھ ایمان والوں کو اللہ کے عرش کے سائے میں رہنے کی سعادت نصیب ہوگی۔

اس حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سات طرح کے لوگوں کا ذکر کیا ہے، جن کو اللہ تعالی اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا کرے گا۔ سات طرح کے لوگ یہ ہیں :

(1) انصاف پرور امام : مراد سارے حکام اور قضاۃ ہيں، جو انصاف کی راہ سے بھٹکتے نہیں ہیں۔

(2) اللہ کی عبادت میں پروان چرھنے والا جوان، جو پابندی سے نیکی کے کام، جیسے نماز اور والدین کی فرماں برداری کرتا ہو اور حرام کاموں سے بچتا ہو۔

(3) ایسا شخص جس کا دل مسجد میں اٹکا ہوا ہو۔ یعنی مسجدوں سے بہت زیادہ محبت رکھتا ہو اور پابندی سے جماعت کے ساتھ نماز پڑھتا ہو۔

(4) دو ایسے اشخاص جو اللہ کے لیے آپس میں محبت رکھتے ہوں؛ اسی کی بنیاد پر یک جا ہوتے ہوں اور اسی کی بنیاد پر علاحدہ ہوتے ہوں۔ یعنی دونوں میں سے ہر ایک اپنے ساتھی سے محبت اس لیے رکھتا ہے کہ وہ ایک صالح مؤمن ہے۔ اس کے پیچھے کوئی دنیوی غرض چھپا ہوا نہیں ہوتا۔ دونوں زندگی بھر اس محبت پر قائم رہتے ہیں۔

(5) ایک وہ شخص جسے کوئی خوبرو اور معزز عورت بدکاری کی دعوت دے اور وہ اللہ کے ڈر سے یہ کہہ کر ٹھکرا دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔

(6) ایک وہ شخص جو اس قدر پوشیدہ طور پر صدقہ دے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی پتہ نہ چلے کہ اس کا دایاں ہاتھ کیا خرچ کرتا ہے۔ یعنی اپنے اخلاص کی بنا پر اور اس ارادے سے کہ فقیر کو شرمندگی کا احساس نہ ہو اس لیے لوگوں کی نظروں سے چھپاکر صدقہ کرتا ہے۔

(7) اور ایک وہ شخص جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے تو (بے ساختہ) اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جائیں۔ ایسا اللہ کی رحمت کے لالچ اور اس سے ملنے کے شوق یا اس کی قدرت کی عظمت کو دھیان میں رکھتے ہوئے کرے۔

فوائد اور توجیہات :

1- قیامت کے دن اللہ کی جانب سے ساری مخلوق کے سامنے اطاعت گزار بندوں کے لیے عزت افزائی ہوگی۔

2- عدل دنیا میں محبوب اور آخرت میں بڑے اجر و ثواب کی حامل صفت ہے۔

3- جوانی کے دنوں کو اللہ کی عبادت میں صرف کرنے کا وجوب۔

4- صدقہ میں اخلاص اور مسجد آباد کرنے کی فضیلت۔

5- اللہ کے لیے محبت دنیا اور آخرت کی سعادت کا سبب ہے۔

6- حرام خواہشات سے دوری کا آخرت میں بڑا اجر ہے۔

سرگرمی

سرگرمی (1) : صفت اور اس کی دلیل کو جوڑیں :

نیچے دی گئی ہر صفت کو اس پر دلالت کرنے والے حدیث کے الفاظ کے ساتھ جوڑیں :

صفت

عبادت میں اخلاص

اللہ کی اطاعت پر استقامت

عفت

عدل

اللہ کا خوف اس پر دلالت کرنے والے الفاظ حدیث

عملی کام (2) : پڑھوں گا اور جواب دوں گا :

ایک صحابی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص گزرا۔ چنانچہ اس صحابی نے کہا : اے اللہ کے رسول! میں اس شخص سے محبت کرتا ہوں۔ لہذا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے پوچھا : "کیا تم نے اسے یہ بات بتائی ہے؟" اس صحابی نے جواب دیا : نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : "اسے یہ بات بتا دو۔" چنانچہ وہ اس کے پاس گئے اور بتایا کہ : میں اللہ کی خاطر تم سے محبت کرتا ہوں۔ اس پر اس شخص نے کہا : تم سے بھی وہ ذات محبت کرے، جس کی خاطر تم مجھ سے محبت کرتے ہو۔ (سنن ابو داؤد : 5125)۔

اپنے معلم کی نگرانی میں اللہ کے لیے محبت رکھنے کا اجر و ثواب واضح کیجیے، جیسا کہ اس حدیث اور اس سبق میں وارد حدیث میں آیا ہے۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : نیچے دیے گئے بیانوں کا جواب "ہاں" یا "نہیں" میں دیجیے :

1- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے قول "ایسا شخص جس کا دل مسجد میں اٹکا ہوا ہو" سے مراد ہے مسجدوں سے محبت رکھنے والا۔ (ہاں - نہيں)

2- ’حج‘ اس حدیث میں وارد اعمال میں داخل ہے۔ (ہاں - نہيں)

3- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے قول "اس کی آنکھیں بھر آئيں" سے مراد آنکھوں کا بیمار ہو جانا ہے۔ (ہاں - نہیں)

4- اس حدیث سے اخلاص کی فضیلت معلوم ہوتی ہے۔ (ہاں - نہیں)

5- یہ حدیث اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر درود بھیجنے کی فضیلت کی جانب رہنمائی کرتی ہے۔ (ہاں - نہیں)

سوال 1 : قوسین (بریکٹ) کے درمیان سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

1- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ارشاد : ’’الإِمَامُ الْعَادِلُ‘‘ (یعنی : انصاف پرور حکمران) میں شامل ہيں :

(مدرسین - قضاۃ - دعاۃ)

2- بدکاری سے انکار کرنے والا شخص متصف ہے :

(عفت کے وصف سے - سچائی کے وصف سے - عدل کے وصف سے)

3- رونا قیامت کے دن عرش کے سایے کا سبب اس وقت ہوگا، جب :

(لوگوں کے خوف سے آئے - اللہ کی خشیت سے آئے - بیماری کی وجہ سے آئے)

سوال 3 : اس سبق میں شامل حدیث کو اپنی یاد داشت سے اعراب اور حرکات کے ساتھ لکھیں :

سوال 4 : نیچے دیے گئے سوالوں کا جواب دیجیے :

1- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اس فرمان کو واضح کریں : "ایک وہ شخص جو اس طرح چھپاکر صدقہ کرے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی پتہ نہ چلے کہ اس کا دایاں ہاتھ کیا خرچ کر رہا ہے۔"

2- اس حدیث سے سیکھے ہوئے تین فوائد لکھیے :

4- صحابی رسول ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی زندگی کی کون سی بات آپ کو اچھی لگی؟

اکائی : فقہی احکام

پہلا سبق : طہارت اور وضو کا طریقہ

سبق کے مقاصد :

عزیز طالبِ علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

1- مسلمان کی زندگی میں طہارت کی اہمیت بیان کر سکيں گے۔

2- وضو کے کاموں کو ترتیب وار بیان کر سکيں گے۔

3- طہارت اور وضو کے فضائل کو دلیل کے ساتھ بیان کر سکيں ‏گے۔

4- صحیح طریقے سے وضو کریں گے۔

طہارت اور وضو کا طریقہ

طہارت کی اہمیت اور فضیلت

وضوء کا طریقہ

وضو کی فضیلت

طہارت کی اہمیت :

اسلام نے طہارت پر بہت توجہ دی ہے اور نیچے دی گئى کئی چیزوں کو نماز کے صحیح ہونے کے لیے شرط قرار دیا ہے :

جسم، کپڑے اور جگہ کی طہارت۔ اللہ تعالی نے اپنے نبی ﷺ سے کہا : "اور آپ اپنے کپڑے پاک رکھیے۔" (سورۂ مدثر : 4)۔

دونوں ناپاکیوں سے طہارت۔ دو ناپاکیاں ہيں :

1- بڑی ناپاکی : اس ناپاکی سے طہارت جن حالات میں غسل کرنا واجب ہے ان میں پورے جسم کو دھونے سے حاصل ہوتی ہے۔

2- چھوٹی ناپاکی : اس سے طہارت‘ وضو کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : "کوئی بھی نماز بغیر طہارت کے قبول نہيں ہوتی۔" (صحیح مسلم : 224)۔

طہارت کی فضیلت :

1- طہارت بندے سے اللہ کی محبت کا سبب ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : " اللہ توبہ کرنے والوں کو اور پاک رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔" (سورۂ بقرہ : 222)

2- طہارت آدھا ایمان ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : "طہارت نصف ایمان ہے۔" (صحیح مسلم : 223)۔ یہاں ایمان سے مراد نماز ہے۔

وضو گناہوں کی صفائی اور ان کے مٹائے جانے کا سبب ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : ”جس شخص نے وضو کیا اور وضو کو اچھی طرح سے وضو کیا، اس کے گناہ اس کے جسم سے نکل جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کے ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں“۔ (صحیح مسلم : 245)۔

وضو کا طریقہ

نیچے دیے گئے بیانوں سے آپ کے لیے وضو کا طریقہ واضح ہو جائے گا :

(1) مسلمان وضو کی نیت کرے اور بسم اللہ کہے۔

(2) دونوں ہتھیلیوں کو تین بار دھوئے۔

(3) تین بار کلی کرے اور تین بار ناک میں پانی ڈال کر بائیں ہاتھ سے ناک جھاڑے۔

(4) تین بار چہرہ دھوئے۔

(5) دونوں ہاتھوں، پہلے دائیں اور پھر بائیں ہاتھ کو انگلیوں کے کناروں سے کہنی تک تین بار دھوئے۔

(6) ایک بار سر کا مسح کرے۔

(7) دونوں کانوں کا سر کے ساتھ مسح کرے۔

(8) دونوں پیروں کو تین بار ٹخنوں سمیت دھوئے۔ پہلے دائیں پیر کو دھوئے اور اس کے بعد بائیں پیر کو۔ پیروں کو دھوتے ہوئے ایک شخص کی تصویر۔

وضو پورا کرنے کے بعد یہ دعا پڑھے : "أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا الله، وأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ"

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : میں پوچھوں گا اور جواب دوں گا :

متعدد حالات میں وضو مشروع ہے، جن میں سے کچھ حالات میں وضو واجب ہے اور کچھ میں مستحب۔ اس کی روشنی میں :

1) دو حالتیں بیان کیجیے، جن میں وضو کرنا واجب ہے۔ (نماز سے پہلے - مصحف کو چھونے سے پہلے)

2) دو حالتیں بیان کیجیے، جن میں وضو مستحب ہے۔ (اللہ کا ذکر کرتے وقت - سوتے وقت)

سرگرمی (2) : میں ایک نصیحت پیش کرتا ہوں :

اپنے اہلِ خانہ کو اس طریقے کے مطابق وضو کرنے کا عادی بنائیں، جو آپ نے سیکھا ہے۔

اپنے گھر کے لوگوں کا طریقہ وضو غور سے دیکھیں اور اس کے بعد ان میں سے جن سے غلطی ہو رہی ہو، نرمی کے ساتھ ان کو وضو کا صحیح طریقہ بتلائیں:

سرگرمی (3) : میں فضیلت اخذ کرکے بتاؤں گا :

نیچے دیے گئے نص کو پڑھیں اور اسے وضو سے جوڑیں، پھر اس میں وارد فضیلت بیان کریں۔

نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ”تم میں سے جو کوئی بھی اچھی طرح وضو کرنے کے بعد یہ دعا پڑھتا ہے: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ» (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں) اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئے جاتے ہیں۔ جس میں سے چاہے داخل ہوجائے۔“ (صحیح مسلم : 234)۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

وضو نماز کے صحیح ہونے کے لیے شرط ہے۔ (✓)

وضو میں قدموں کے ساتھ ٹخنووں کو دھونا بھی واجب ہے۔ (✓)

وضو کے دوران ہاتھ دھوتے وقت ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونا ہے۔ (✓)

وضو کے دوران سر کو تین بار دھونا واجب ہے۔ (×)

سوال 2 : وضو کے درج ذیل اعمال کو صحیح جگہ پر نمبر لگا کر ترتیب دیں :

وضو کے اعمال ترتیب

چہرہ دھونا۔ 5

کلی کرنا۔ 3

ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونا۔ 6

ناک میں پانی ڈالنا اور ناک جھاڑنا 4

دونوں کانوں کا مسح کرنا۔ 8

دونوں قدموں کو دھونا۔ 9

سر کا مسح کرنا۔ 7

دونوں ہتھیلیوں کو دھونا۔ 2

نیت اور بسم اللہ کہنا۔ 1

سوال 3 : اس حدیث سے وضو کی فضیلت پر ایک دلیل لکھیں۔

سوال 4 : طہارت اور ایمان کے درمیان ایک تعلق ہے۔ اسے اپنے سبق کی روشنی میں واضح کریں :

دوسرا سبق : تیمم اور حائل چيزوں پر مسح

سبق کے مقاصد :

عزیز طالبِ علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

1- وہ احوال بیان کر سکيں گے، جن میں تیمم مباح (جائز) ہیں۔

2- تیمم کے طریقے کو صحیح طریقے سے تطبیق دے سکیں گے۔

3- موزوں پر مسح کے طریقے کو صحیح طریقے سے تطبیق دے سکیں گے۔

4- موزوں پر مسح اور پٹی پر مسح کے درمیان فرق کر سکیں گے۔

5- معذور لوگوں کو شریعت کی جانب سے دی گئی آسانیوں کا اندازہ لگا سکیں گے۔

اول : تیمم

تیمم نام ہے پاک مٹی کے ساتھ طہارت کی نیت سے چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کا مسح کرنے کا۔ تیمم وضو یا غسل کے بدلے میں کیا جاتا ہے۔

وہ احوال جن میں تیمم مشروع ہے :

1- پانی موجود نہ ہونا۔

2- اگر پاس میں موجود پانی صرف پینے بھر کا ہو اور خود اپنے یا کسی دوسرے کے پیاسا رہ جانے کا ڈر ہو۔

3- جب مسلمان کسی ایسی بیماری میں مبتلا ہو جو پانی کے استعمال سے بڑھتا ہو۔

تیمم کا طریقہ :

مسلمان تیمم کی نیت کرے اور پھر بسم اللہ کہے۔

ایک بار پاک مٹی پر دونوں ہاتھ مارے۔

دونوں ہاتھوں سے چہرے کا مسح کرے۔

دونوں ہاتھوں سے ہتھیلیوں کے باہری حصوں کا مسح کرے۔

اس لنک کے ذریعے وضو کا طریقہ دیکھیں :

دوم : موزوں پر مسح کرنا

عربی کا لفظ 'خف' چمڑے یا اس جیسی کسی بھی چیز سے بنے ایسے لفافے کو کہتے ہيں، جسے قدموں میں پہنا جاتا ہے۔

موزوں پر مسح کے جواز کی شرطیں :

1- موزہ دونوں قدموں کو ٹخنو سمیت چھپائے رکھے۔

2- ان کو طہارت کی حالت میں پہنا جائے۔

موزوں پر مسح کا طریقہ :

مسلمان پانی سے بھیگی ہوئی انگلیوں کو دونوں پیروں کی انگلیوں پر رکھے، پھر ان کو پنڈلیوں تک پھیرے اور پیروں کے اوپری حصے کا ایک بار مسح کرے۔ موزوں کے نچلے حصے کا مسح نہ کرے۔

یہاں موزوں پر مسح کرنے کا طریقہ دیکھیں :

سوم : پٹی پر مسح

پٹی ان چیزوں کو کہتے ہیں، جن کو فریکچرز اور زخموں پر ان کے ٹھیک ہونے تک باندھ کر رکھا جائے۔ جیسے پلاسٹر اور لفافے وغیرہ۔

پٹی پر مسح ضرورت کے بہ قدر کیا جائے گا۔ یعنی جب پٹی فریکچر یا زخم پر بندھی ہو، تبھی اس پر مسح کیا جائے گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ وضو میں مسح صرف وضو کی جگہ پر کیا جائے گا۔ جب کہ غسل میں پوری پٹی پر کیا جائے گا۔

موزوں کے برخلاف پٹی پر مسح کے لیے اس کا طہارت کی حالت میں بندھا ہوا ہونا شرط نہيں ہے۔

اور پٹی پر مسح کا وقت بھی محدود نہيں ہے۔ اس پر مسح فریکچر کے ٹھیک ہونے یا زخم کے بھر جانے تک کیا جا سکتا ہے۔

یہاں پٹی پر مسح کرنے کا طریقہ دیکھیں:

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : میں فرق کروں گا :

نیچے دی گئی دونوں تصویروں کو دیکھیں اور صحیح و غلط طریقہ بتائيں اور سبب بھی بیان کریں :

سرگرمی (2) : میں پڑھوں گا اور نتیجہ نکالوں گا :

علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ نے موزوں پر مسح کے بارے میں فرمایا ہے : "اللہ کے رسول ﷺ نے مسافر کے لیے (موزوں پر مسح کرنے کی مدت) تین دن اور تین راتیں اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات مقرر فرمائی ہے۔" (صحیح مسلم : 276) اس حدیث سے مقیم اور مسافر کے لیے موزوں پر مسح کرنے کی مدت معلوم کریں۔

مسافر کے لیے تین دن و تین رات اور مقیم کے لیے ایک دن و ایک رات۔

سرگرمی (3) : ایک دوسرے کے ساتھ مل کر سیکھوں گا :

اپنے اہل خانہ کے ساتھ مل کر موزوں اور پٹی پر مسح کرنے کا طریقہ دیکھیں اور ان کے ساتھ اسے عملی جامہ پہنانے کے بارے میں بات کریں :

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

موزوں پر مسح کے لیے موزوں کو طہارت کی حالت میں پہننا شرط ہے۔ ( ✓)

موزوں پر مسح اللہ تعالی کی جانب سے رخصت ہے۔ ( ✓)

تیمم کرتے وقت وضو کے سارے اعضاء کا مسح واجب ہے۔ (×)

پٹی پر مسح کا کوئی وقت متعین نہیں ہے۔ (✓ )

سوال 2 : ذیل میں وضو کے اعمال کو ترتیب دیں :

سوال 3 : نیچے دیے گئے چارٹ میں موزوں پر مسح اور پٹی پر مسح کے درمیان فرق لکھیں :

موازنہ کے پہلو مسح کی جگہ مسح کی کیفیت مسح کی مدت موزوں پر مسح پٹی پر مسح

سوال 4 : دو حالتیں بیان کریں، جن میں وضو اور غسل کے بدلے میں تیمم جائز ہے۔

تیسرا سبق : غسل

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

1- غسل کی تعریف بیان کر سکیں گے۔

2- غسل کے افعال کو ترتیب وار بیان کر سکیں گے۔

3- غسل واجب کرنے والے حالات بیان کر سکيں گے۔

4- صفائی پر شریعت کی توجہ کا اندازہ لگا سکیں گے۔

آغاز :

نماز کے لیے وضو کا حکم دینے کے بعد اللہ تعالی نے کہا ہے : "اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو غسل کر لو۔" (سورۂ مائدہ : 6)۔

(یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ) جنبی کے کیا معنی ہیں؟

اور اس پر کیا واجب ہے؟

غسل

غسل سے مراد

وہ حالات جن میں غسل کرنا واجب ہے

غسل کی اہمیت

غسل کا طریقہ

غسل سے مراد :

غسل نام ہے طہارت کی نیت سے پورے بدن پر پانی پہنچانے کا۔

وہ حالات جن میں غسل واجب ہے :

1) مرد یا عورت کا نیند کی حالت میں احتلام ہو جانا۔

2- بیداری کی حالت میں لذت کے احساس کے ساتھ منی نکلنا۔ اگر لذت کے احساس کے بغیر نکلے، جیسے بیماری کے سبب نکلے، تو غسل واجب نہيں ہوگا۔

3) جماع۔ جماع سے غسل اس وقت واجب ہوتا ہے، جب مرد کے ذکر کا سرا عورت کے فرج میں داخل ہو جائے۔

4) حیض یا نفاس کا خون بند ہونا۔ عورت پر حیض یا نفاس کا وقفہ ختم ہونے کے بعد غسل واجب ہوگا۔

5) غیر مسلم کا مسلمان ہونا۔

کن کاموں کے لیے غسل واجب ہے :

1) نماز۔ نماز کے لیے مسلمان کا بڑی ناپاکی سے پاک ہونا واجب ہے، جب ان حالتوں میں سے کوئی حالت سامنے آ جائے، جن میں غسل واجب ہوتا ہے، پھر اگر غسل سے پہلے نماز پڑھ لے، تو نماز صحیح نہیں ہوگی۔

2) مصحف کو چھونے اور قرآن پڑھنے کو مباح بنانا۔ جنبی شخص کے لیے غسل کیے بغیر مصحف کو چھونا اور قرآن پڑھنا جائز نہيں ہے۔

غسل کا طریقہ :

مسلمان کے لیے ناپاکی دور کرنے کی نیت سے پورے بدن میں پانی بہانا کافی ہے۔

جسے کامل غسل کرنا ہو، نیچے دیے گئے طریقے سے غسل کرنا چاہيے :

1- دل میں بڑی ناپاکی سے طہارت حاصل کرنے کی نیت کرے اور پھر بسم اللہ کہے۔

2- دونوں ہتھیلیوں کو تین بار دھوئے۔ پھر اپنی شرم گاہ کو صاف ہو جانے تک دھوئے۔ پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کرے۔

3- اپنے سر پر تین بار پانی ڈالے اور اپنے بالوں کو رگڑے، تاکہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے۔

4- اپنے پورے بدن پر پانی ڈالے۔ پہلے اپنے دائیں پہلو کو دھوئے اور اس کے بعد بائیں پہلو کو۔

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں : "اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب غسل جنابت فرماتے تو پہلے دونوں ہاتھ دھوتے اور نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے، پھر غسل کرتے، پھر ہاتھ (کی انگلیوں) سے بالوں کا خلال کرتے۔ جب اطمینان ہو جاتا کہ بالوں کے نیچے کی کھال تر ہوگئی ہے، تو سر پر تین مرتبہ پانی بہاتے اور اس کے بعد پورے جسم کو دھوتے۔" (صحیح بخاری : 248، صحیح مسلم : 316)۔

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : دیکھوں گا اور موازنہ کروں گا :

آپ نے غسل کا جو طریقہ سیکھا ہے، اس کا موازنہ اس سے کیجیے جو اس کلپ میں کہا گیا ہے :

سرگرمی (2) : حل کروں گا اور جواب دوں گا :

اپنے معلم کی نگرانی میں آنے والے دونوں نصوص میں غسل کا سبب معلوم کریں :

اللہ تعالٰی فرماتا ہے: "اے ایمان والو! جب تم نشے میں مست ہو نماز کے قریب بھی نہ جاؤ، جب تک کہ اپنی بات کو سمجھنے نہ لگو اور جنابت کی حالت میں جب تک کہ غسل نہ کر لو۔ ہاں، اگر راه چلتے گزر جانے والے ہو تو اور بات ہے۔" (سورۂ نساء : 43)۔

ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا : ام سلیم رضی اللہ عنہا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئیں اور کہنے لگيں کہ اے اللہ کے رسول! اللہ حق بات بیان کرنے سے حیا نہیں کرتا۔ آپ یہ بتائیں کہ جب عورت کو احتلام ہو جائے، تو کیا اس پر بھی غسل واجب ہوتا ہے؟ تو آپ نے جواب دیا : "ہاں، جب وہ پانی دیکھ لے۔" (صحیح بخاری : 282، صحیح مسلم : 313)۔

سرگرمی (3) : جستجو کروں گا اور جواب دوں گا :

یہ جان لینے کے بعد کہ کن حالات میں غسل واجب ہے، دو حالتیں بتائيے، جن میں غسل کرنا مستحب ہے۔

نمازِ جمعہ

نمازِ عیدین

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

نماز کا وقت آ جانے پر غسل کرنا واجب ہے۔ (✓ )

جنبی پر غسل سے پہلے مصحف کو چھونا حرام ہے۔ (✓ )

بیماری کے سبب منی نکلنے پر غسل واجب ہے۔ (×)

ذکر کا اگلا حصہ فرج میں داخل ہونے پر غسل واجب ہو جاتا ہے۔ (×)

سوال 2 : نیچے دیے گئے غسل کے کاموں کو ترتیب دیں :

(دونوں ہاتھوں کو تین بار دھونا - طہارت کی نیت - جسم پر پانی بہانا - فرج کو دھونا)

سوال 3 : نیچے دیے گئے سوالوں کا جواب دیجیے :

1- غسل کی تعریف کیا ہے؟

2- غسل واجب ہونے کی حالتوں میں سے دو حالتیں بتائیے۔

3- ایک مسلمان نے غسل کی نیت کی اور اس کے بعد سمندر میں تیرنے لگا، جس سے پورا بدن تر ہو گیا۔ اب بتائیں کہ اس غسل کا کیا حکم ہے؟

چوتھا سبق : نماز کا مقام و مرتبہ

سبق کے مقاصد :

عزیز طالبِ علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ :

1- قرآن و سنت کی روشنی میں نماز کا مقام و مرتبہ بیان کر سکیں گے۔

2- مسلمان کی دنیوی اور اخروی زندگی میں نماز کی اہمیت واضح کر سکیں گے۔

3- نماز چھوڑنے یا اس میں سستی و غفلت برتنے کی سنگینی کو محسوس کر سکیں گے۔

4- نماز کی اہمیت پر اپنے خیالات پیش کر سکیں گے۔

آ‏غاز :

تمام عبادتیں اللہ نے اپنے نبی پر وحی کے ذریعے زمین میں فرض کی ہيں۔ لیکن اللہ نے اپنے نبی پر نماز اسرا اور معراج کی رات میں آسمان میں بلاواسطہ فرض کی ہے۔

آخر یہ کس بات پر دلالت کرتا ہے؟

اسلام میں نماز کا مقام ومرتبہ

نماز دین کا ستون ہے

نماز اسلام کی نشانی (علامت) ہے۔

نماز توحید کے بعد پہلا فریضہ ہے

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی آخری وصیت ہے۔

نماز کے بارے میں بندے سے حساب سب سے پہلے لیا جائے ہوگا۔

گناہوں کے مٹائے جانے کا سبب

اسلام میں نماز کا بہت بڑا مقام ہے۔ اس کا اندازہ درج ذیل باتوں سے ہوتا ہے :

1- نماز دین کا ستون ہے :

نماز دین کا ایسا ستون ہے، جس کے بغیر دین کی عمارت قائم نہيں رہ سکتی۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : "دین کی بنیاد اسلام ہے اور اس کا ستون نماز ہے۔" (سنن ترمذی : 2616)۔

2- نماز اسلام کی نشانی :

نماز کی پابندی دین پر استقامت کی علامت ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : ’’ہمارے اور کافروں کے درمیان فرق نماز کا ہے۔ لہذا جس نے نماز چھوڑدی اس نے کفر کیا‘‘۔ (سنن ترمذی : 2621)۔

3- توحید کے بعد پہلا فریضہ ہے :

اللہ تعالٰی فرماتا ہے: ’’انھیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں۔ اسی کے لیے دین کو خالص رکھیں یکسو ہو کر اور نماز کو قائم رکھیں اور زکوٰة دیتے رہیں۔ یہی ہے دین سیدھی ملت کا۔" (سورۂ بینہ : 5)۔

4- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی آخری وصیت :

نماز کی پابندی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی آخری وصیت تھی۔ آپ نے فرمایا تھا : "نماز، نماز"۔ (مسند احمد : 26483، سنن ابن ماجہ : 1625)۔ یعنی نماز کو لازم جاننا اور اس کی پابندی کرنا۔

5- نماز وہ پہلا عمل ہے، جس کے بارے میں بندے کو قیامت کے دن سب سے پہلے حساب دینا ہوگا :

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”بلا شبہ قیامت کے دن بندے کے اعمال میں سے سب سے پہلے اس کی نماز کا حساب ہو گا۔ اگر اس کی نماز صحیح رہی، تو پھر وہ کامیاب ہو گیا اور نجات پاگیا“۔ (سنن ترمذی : 413، سنن ابن ماجہ : 1425)۔

6۔ نماز کے ذریعے اللہ گناہوں کو مٹاتا ہے :

اللہ کے نبیﷺ کا فرمان ہے: "ذرا یہ بتاؤ کہ اگر تم میں سے کسی کے دروازے سے ندی بہہ رہی ہو اور وہ اس میں روزانہ پانچ بار نہاتا ہو، تو تمھارے خیال میں کیا اس کے بعد بھی اس کے بدن میں کچھ گندگی باقی رہ سکے گی؟" صحابہ نے جواب دیا : اس کے بدن میں کوئی گندگی باقی نہیں رہے گی۔ آپ ﷺ نے فرمایا : یہ دراصل پانچ نمازوں کی مثال ہے۔ اللہ اس کے ذریعے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔" (صحیح بخاری : 528، صحیح مسلم : 667)۔

سرگرمیاں

سرگرمی (1) میں اپنے احساسات بیان کروں گا :

نماز نفس کی راحت اور پریشانیوں کا مداوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو جب کوئی بات غم زدہ کرتی، تو نماز پڑھنے لگتے۔" (سنن ابو داؤد : 1319) اسی طرح اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا کرتے تھے : "اے بلال! نماز قائم کرو، اس کے ذریعے مجھے راحت پہنچاؤ۔" (سنن ابو داؤد : 4985)۔

اپنے ساتھ پیش آنے والا کوئی واقعہ بیان کریں، جو راحت قلب پر نماز کے اثر کی نشان دہی کرتا ہو اور اس کے بعد اپنے ساتھیوں کے سامنے اپنے احساسات کا اظہار کریں۔

سرگرمی (2) میں غور کروں گا :

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : ”جو کوئی مسلمان فرض نماز کا وقت پائے، پھر اس کے لیے اچھی طرح وضو کرے اور خشوع کے ساتھ (دل لگا کر) نماز پڑھے اور اچھی طرح رکوع (اور سجدہ) کرے، تو یہ نماز اس کے ماقبل کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گی جب تک کہ کوئی کبیرہ گناہ نہ کرے اور اور یہی معاملہ اس (نمازی بندے) کے ساتھ عمر بھر ہوگا“۔ (صحیح مسلم : 228)۔

1- یہ حدیث نماز کی کس فضیلت پر دلالت کرتی ہے؟

2- اس فضیلت کے حاصل ہونے کے لیے کون کون سی شرطیں ہیں؟

سرگرمی (3) : میں قصہ بیان کروں گا :

اپنے اہل خانہ کو کسی خطیب یا دینی پروگرام سے سنا ہوا کوئی قصہ سنائیں، جو نماز ترک کرنے یا اس میں سستی کرنے کی سنگینی کی جانب اشارہ کرتا ہو۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

1- نماز نفس کی راحت اور دل کے اطمینان کا سبب ہے۔ (✓ )

2- نماز کی فرضیت کی وحی مدینے میں اتری تھی۔ (×)

3- نماز پہلی عبادت ہے، جس کا حساب بندے کو دینا پڑے گا۔ (✓)

سوال 2 : نیچے دیے گئے نصوص نماز کے مقام و مرتبے پر کیسے دلالت کرتے ہیں؟

1- اللہ تعالی نے فرمایا ہے : "انھیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اس کے لیے دین کو خالص رکھتے ہوئے اور یکسو ہو کر اور نماز کو قائم رکھیں اور زکاة دیتے رہیں، یہی ہے دین سیدھی ملت کا۔"

2- اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : "دین کی بنیاد اسلام ہے اور اس کا ستون نماز ہے۔"

سوال 3 : نماز کے مرتبے اور اس پر اپنی توجہ کو تین سطروں میں بیان کریں :

پانچواں سبق : نماز پڑھنے کا طریقہ

سبق کے مقاصد :

عزیز طالبِ علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

1- نماز کا طریقہ بیان کر سکيں گے۔

2- نمازیوں کے افعال میں پھیلی ہوئی غلطیوں کی نشان دہی کر سکیں گے۔

3- نماز میں خشوع کی اہمیت کا اندازہ لگا سکیں گے۔

4۔ نماز صحیح طریقے سے پڑھ سکیں گے۔

کچھ نمازیوں کی نماز کا طریقہ اس سے الگ ہوتا ہے۔ اس کا سبب شاید نماز کے صحیح طریقے سے واقف نہ ہونا ہے۔ لہذا اس سبق کو اچھی طرح پڑھیں، تاکہ اس میں بیان کیے گئے طریقۂ نماز کو عملی جامہ پہنا سکیں۔

نماز کا طریقہ

مسلمان طہارت کی حالت میں، ستر پوشی کرکے اور قبلہ رخ ہوکر کھڑا ہوگا۔ پھر نماز کے درج ذیل کام کرے گا :

دل میں نماز کا ارادہ کرے گا اور یہ طے کر لے گا کہ فرض نماز پڑھنی ہے یا نفل نماز۔

وہ "اللہ اکبر" کہتے ہوئے اور دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے ہوئے سیدھا کھڑا ہوگا۔ پھر اپنے دائیں ہاتھ کو بائيں ہاتھ پر سینے کے اوپر رکھے گا۔

سورہ فاتحہ اور قرآن کا جتنا حصہ پڑھ سکے، پڑھے گا۔

اپنے ہاتھوں کو اٹھاتے ہوئے اور تکبیر (اللہ اکبر) کہتے ہوئے رکوع کرے گا۔ پھر اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھے گا اور تین بار "سبحان ربي العظيم" کہے گا۔

اپنا سر اٹھائے گا اور "سمع اللهُ لمن حمده" کہے گا۔ پھر سیدھا کھڑے ہونے کے بعد "ربنا لك الحمد" کہے گا۔

تکبیر (اللہ اکبر) کہتے ہوئے سجدہ کرے گا اور تین بار "سبحان ربي الأعلى" کہے گا۔

تکبیر (اللہ اکبر) کہتے ہوئے سجدے سے اٹھے گا اور "ربَّ اغفر لي، ربَّ اغفر لي" کہتے ہوئے بیٹھے گا۔

پھر دوبارہ تکبیر (اللہ اکبر) کہتے ہوئے سجدے میں جائے گا اور تین بار "سبحان ربي الأعلى" کہے گا۔

دوسری رکعت کے بعد بیٹھے گا تشہد پڑھے گا۔ تشہد کے کلمات اس طرح ہیں : ’’ (میری) تمام قولی، فعلی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکات ہوں، ہم پر اور اللہ کے (دیگر) نیک بندوں پر بھی سلام ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔‘‘

آخری رکعت کے بعد بیٹھے گا، پہلے ذکر کردہ تشہد پڑھے گا اور اس کے بعد درود ابراہیمی پڑھے گا : ’اے اللہ! رحمت نازل فرما محمد ﷺ پر اور آلِ محمد ﷺ پر جیسے تو نے رحمت نازل فرمائی ابراہیم علیہ السلام پر اور آلِ ابراہیم علیہ السلام پر، یقینََا تو قابلِ تعریف، بڑی شان والا ہے۔ اے اللہ ! برکت نازل فرما محمد ﷺ پر اور آلِ محمد ﷺ پر جیسے تو نے برکت نازل فرمائی ابراہیم علیہ السلام پر اور آلِ ابراہیم علیہ السلام پر، یقینََا تو قابلِ تعریف، بڑی شان والا ہے۔‘‘

پھر "السلام عليكم ورحمة الله" کہتے ہوئے پہلے دائيں اور پھر بائیں سلام پھیرے گا۔

نماز میں اطمینان اور خشوع :

نمازی کو چاہیے کہ اپنے دل میں اللہ کی عظمت کا استحضار کرتے ہوئے نماز کے سارے کام اطمینان سے کرے، جسم کے اعضاء کو خشوع آمیز رکھے اور پڑھی جانے والی آیات قرآنیہ، اذکار اور دعاؤں پر غور و فکر کرے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "یقیناً ایمان والوں نے فلاح حاصل کرلی۔ (1) جو اپنی نماز میں خشوع کرتے ہیں۔" (2) (سورۂ مؤمنون : 1-2)۔

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : دیکھوں گا اور مشق کروں گا :

اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ اس ویڈیو کے ذریعے نماز کا طریقہ دیکھیں اور اگر ان سے غلطی ہو رہی ہو، تو رہنمائی کریں۔

سرگرمی (2) : پڑھوں گا اور جواب دوں گا :

اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : "جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو تکبیر (اللہ اکبر) کہو۔ پھر جتنا قرآن پڑھ سکو، پڑھو۔ اس کے بعد اطمینان سے رکوع کرو۔ پھر سر اٹھا کر سیدھے کھڑے ہو جاؤ۔ اس کے بعد پورے اطمینان کے ساتھ سجدہ کرو۔ پھر سر اٹھاؤ اور اطمینان کے ساتھ بیٹھو۔ پھر پوری نماز میں ایسا ہی کرو۔" (صحیح بخاری : 793، صحیح مسلم : 397)۔

اس حدیث کو پڑھنے کے بعد نیچے دیے سوالات کے جواب دیجیے :

1- نماز کی ان باتوں کا ذکر کیجیے، جن کو آپ نے اس درس میں پڑھا ہے اور جو اس حدیث میں نہيں آئی ہيں۔

2- دیکھا یہ جا رہا ہے کہ اس حدیث میں اطمینان کو بڑی توجہ دی گئی ہے۔ لہذا اپنے معلم کے ساتھ اس بات پر چرچا کیجیے کہ نماز میں اطمینان کیسے پیدا کیا جائے؟

سرگرمی (3) : مجھے کیا کرنا چاہیے؟

نیچے دیے گئے حالات پر غور کیجیے اور اپنے معلم یا امامِ مسجد سے رابطہ کرکے معلوم کیجیے کہ ان میں سے ہر ایک حالت میں درست شرعی احکام کیا ہیں؟

1- آپ نماز میں سورۂ فاتحہ پڑھنا بھول گئے اور رکوع بھی کر لیا۔

2- آپ درمیانی تشہد بھول گئے اور دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہو گئے۔

3- آپ غلطی سے عصر کی نماز کی چوتھی رکعت کے بعد کھڑے ہو گئے۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

1- نیت کے الفاظ نماز سے پہلے زبان سے ادا کرنا واجب ہے۔ (×)

2- نماز کی ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ پڑھنا واجب ہے۔ (✓)

3- نمازی رکوع میں "سبحان ربي الأعلى" کہے گا۔ (×)

4- خشوع ایک قلبی عمل ہے، جس کا اظہار اعضائے جسم کے اطمینان سے ہوتا ہے۔ (✓)

5- نمازی سینے کے اوپر اپنا دایاں ہاتھ بائيں ہاتھ پر رکھے گا۔ (✓)

سوال 2 : نیچے دی گئی عبارتوں کو پورا کیجیے :

1- مسلمان رکوع میں یہ دعا پڑھے گا : .......................................................

2- مسلمان رکوع سے اٹھنے کے بعد یہ دعا پڑھے گا : .......................................................

3 - مسلمان دو سجدوں کے درمیان یہ دعا پڑھے گا : .......................................................

سوال 3 : نیچے دیےگئے دونوں سوالوں کے جواب دیجیے :

1- پہلے تشہد میں جو کچھ پڑھا جاتا ہے، اس کا موازنہ اس کے ساتھ کیجیے، جو دوسرے تشہد میں پڑھا جاتا ہے۔

2- خشوع نفس کا تزکیہ اور بندے کی کامیابی ہے۔ اس کی وضاحت کیجیے۔

اکائی : اخلاق

پہلا سبق : کھانے پینے کے آداب

سبق کے مقاصد :

عزیز طالبِ علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ :

1- کھانے پینے کے آداب گنوا سکیں گے۔

2- کھانے پینے کے آداب کی مشروعیت کے اسباب بتا سکیں گے۔

3- کھانے پینے کے آداب دلیل کے ساتھ بیان کر سکیں گے۔

4- کھانے پینے کے آداب کی تطبیق کر سکیں کے۔

اس سبق کے ذریعے آپ کے سامنے اسلامی شریعت کے بعض محاسن ظاہر ہوں گے، جس نے روز مرہ کے آداب اور ان آداب کے مسلمان کی دنیوی اور اخروی زندگی پر پڑنے والے اثرات کو بتانے پر خاص توجہ دی ہے۔

کھانے پینے کے آداب

مشروع آداب

کھانے سے پہلے دونوں ہاتھوں کو دھونا

دائیں ہاتھ سے کھانا اور پینا

بیٹھ کر کھانا

کھانے اور پینے سے پہلے بسم اللہ کہنا

اپنے سامنے سے کھانا

کھانے پینے سے فارغ ہونے کے بعد اللہ کی تعریف کرنا

کچھ ایسے کام جن سے منع کیا گیا ہے

ٹیک لگاکر کھانا پینا

پینے کے دوران پانی میں سانس لینا

بہت زیادہ پیٹ بھر کر کھانا

گرم کھانے میں پھونک مارنا

اول : مشروع آداب

1- کھانے سے پہلے دونوں ہاتھوں کو دھونا اور صاف کرنا۔

2- کھانے پینے سے پہلے بسم اللہ کہنا۔ اگر مسلمان شروع میں بسم اللہ کہنا بھول جائے، تو "بسم اللہ اولہ و آخرہ" کہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : ’’جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھانے لگے، تو ’’بسم اللہ‘‘ (اللہ کے نام کے ساتھ کھانا شروع کرتا ہوں) کہے۔ اگر شروع میں کہنا بھول جائے تو ’’بسم اللہ فی اولہ و آخرہ‘‘ (میں شروع اور آخر میں اللہ کا نام لیتا ہوں۔) کہے۔" (سنن ترمذی : 1858)

3- دائيں ہاتھ سے کھانا اور پینا۔ اگر کسی بیماری وغیرہ کی وجہ سے دائیں ہاتھ سے کھا نہ سکے، تو بائيں ہاتھ سے کھانا جائز ہے۔

4۔ اپنے سامنے سے کھانا۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عمر بن ابو سلمہ سے فرمایا : "اے بچے! (کھاتے وقت) بسم اللہ پڑھ لیا کرو، دائیں ہاتھ سے کھایا کرو اور اپنے سامنے سے کھایا کرو۔" (صحیح بخاری : 5376، صحیح مسلم : 5388)۔

5۔ بیٹھ کر کھانا۔ ضرورت کے پیش نظر کھڑے ہوکر کھانا کھانے میں کوئی حرج نہيں ہے۔

6۔ کچھ پیتے وقت برتن سے باہر تین بار سانس لینا۔ ایک ہی سانس میں پیا نہیں جائے گا۔ انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : "اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم تین سانس میں پیتے تھے۔" (صحیح مسلم : 2028)۔

7- کھانے پینے سے فارغ ہونے کے بعد اللہ تعالی کی تعریف کرنا، نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : ”اللہ تعالی بندے کی اس بات سے خوش ہوتا ہے کہ وہ کھانا کھائے تو اس پر اللہ کی تعریف کرے یا پانی پیے تو اس پر اللہ کی تعریف کرے“۔ (صحیح مسلم : 7108)۔

دوم : کچھ ممنوع کام

1- ٹیک لگاکر کھانا کھانا۔ کیوں کہ یہ گھمنڈی لوگوں کا شیوہ ہے۔

2- فضول خرچی اور حد سے زیادہ آسودہ ہوکر کھانا۔ کیوں کہ ایک تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس سے منع کیا ہے اور دوسرا اس کے موٹاپا اور اس طرح کے دیگر کئی نقصانات ہیں۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : " اور کھاؤ اور پیو اور حد سے مت نکلو۔ بےشک اللہ حد سے نکل جانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔" (سورۂ اعراف : 31)۔

3- گرم کھانے میں پھونک مارنا۔

4- پینے کے دوران پانی میں سانس لینا۔ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ "اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے برتن میں سانس لینے یا اس میں پھونک مارنے سے منع کیا ہے۔" (سنن ترمذی : 1888، سنن ابن ماجہ : 3288)۔

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : میں پڑھوں گا اور جواب دوں گا :

اللہ کے نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ”کسی انسان نے اپنے پیٹ سے بُرا برتن کبھی نہیں بھرا۔ ابن آدم کے لیے چند نوالے کافی ہیں جو اس کی کمر سیدھی رکھیں اور اگر زیادہ کھانا ضروری ہو تو ایک تہائی حصہ (پیٹ) کھانے کے لیے، ایک تہائی پینے کے لیے اور ایک تہائی سانس لینے کے لیے مختص کر دے“۔ (سنن ترمذی : 2380، سنن ابن ماجہ : 3349)۔

یہ حدیث کس ادب پر دلالت کرتی ہے؟

سرگرمی (2) : مسائل اخذ کرنا :

نیچے دیے گئے فقرے کو پڑھیے اور اس سے درج ذیل باتیں اخذ کیجیے :

1- کھانے کے دو آداب جن کے بارے میں اس درس میں گفتگو نہيں ہوئی ہے۔

2- کھانے کے کچھ آداب کی حکمت۔

سرگرمی (3) : حقیقت حال کا پتہ لگاؤں گا اور پروگرام بناؤں گا :

1- کیا آپ اس درس میں بتائے گئے کھانے پینے کے سارے آداب پر پابندی کے ساتھ عمل کرتے ہيں؟

2- گھر کے لوگوں کو کھانے پینے کے آداب سکھانے کے لیے ایک پروگرام تیار کریں۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

1- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے پینے کے دوران برتن میں سانس لینے سے منع فرمایا ہے۔ (√)

2- مسلمان کے لیے دائیں اور بائیں ہاتھ دونوں سے کھانا جائز ہے۔ (×)

3- ٹیک لگاکر کھانا تواضع کی نشانی ہے۔ (×)

سوال 2 : قوسین (بریکٹ) کے درمیان سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

1- ٹیک لگاکر کھانا کھانا ایک :

(مستحب چيز ہے - جائز چیز ہے - ممنوع چیز ہے)

2- کھانے پینے کی چیزوں میں پھونک مارنا :

(آداب میں سے ہے - واجبات میں سے ہے - ممنوع چیزوں سے ہے)

3- جس کا دایاں ہاتھ ٹوٹا ہوا ہو، اس کے لیے بائیں ہاتھ سے کھانا کھانا :

(جائز ہے - مکروہ ہے - حرام ہے)

سوال 3 : نیچے دیے گئے دونوں سوالوں کے جواب دیجیے :

1- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیں زیادہ کھانے یا پینے سے کیوں منع کیا ہے؟

2- جب کوئی شخص کھانے پینے سے پہلے بسم اللہ کہنا بھول جائے تو کیا کرے؟

دوسرا سبق : اجازت طلب کرنے کے آداب

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

1- اجازت طلب کرنے کے آداب گنوا سکيں گے۔

2- اجازت طلب کرنے کا حکم بتا سکيں گے۔

3- اجازت طلب کرنے کا طریقہ اور اس کی حمکت بیان کر سکیں گے۔

4- دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنے کی اہمیت محسوس کر سکيں گے۔

5- گھر کے اندر اور باہر اجازت طلب کرنے کے آداب پر عمل کریں گے۔

خالد سے ملنے کے لیے علی اس کے گھر گیا اور کئی بار کال بیل بجایا، لیکن کوئی جواب نہيں ملا۔ لہذا وہ ناراض ہوکر لوٹ گیا۔ بعد میں جب اس کی ملاقات خالد سے ہوئی تو دروازہ نہ کھولنے پر برا بھلا کہا۔ خالد نے اس کا سبب یہ بتایا کہ اس کا گھر اس لائق نہيں تھا کہ اس میں علی کا استقبال کیا جاتا۔

آپ کی رائے میں کیا علی کو ناراض ہونے اور ملامت کرنے کا کوئی حق ہے؟

گھر کے اندر اجازت طلب کرنے کے آداب

اجازت طلب کرنے کا حکم

اجازت طلب کرنے کی حکمت

اجازت طلب کرنے کے آداب

اجازت طلب کرنے کا حکم :

جب کوئی مسلمان خاص جگہوں، جیسے گھروں وغیرہ میں داخل ہونا چاہے، تو اجازت طلب کرنا واجب ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں نہ جاؤ جب تک کہ اجازت نہ لے لو اور وہاں کے رہنے والوں کو سلام نہ کرلو۔" (سورۂ نور : 27)۔

اجازت طلب کرنے کی حکمت :

اللہ تعالی نے اجازت طلب کرنے کو مشروع اس لیے قرار دیا ہے کہ گھروں کی حرمتيں محفوظ رہيں اور کوئی کسی چھپی ہوئی باتوں سے آگاہ نہ ہو سکے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : "اجازت طلب کرنے کا حکم آنکھ کی وجہ سے ہی دیا گیا ہے۔" (صحیح بخاری : 6241)۔

اجازت طلب کرنے کے آداب:

1- اجازت طلب کرنے والا پہلے سلام کرے گا اور اس کے بعد اندر آنے کی اجازت طلب کرے گا۔ اگر کوئی جواب نہ ملے، تو دوبارہ اور سہ بارہ اجازت طلب کرے گا۔ اب بھی اگر کوئی جواب نہ ملے، تو لوٹ جائے گا۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : "اجازت تین بار طلب کی جائے گی۔ پھر اگر تم کو اجازت ملتی ہے تو ٹھیک ہے، ورنہ تم واپس ہو جاؤ۔" (صحیح مسلم : 5753)۔

اجازت نہ ملنے پر ناراض ہونے کا حق نہیں ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "اگر وہاں تمھیں کوئی بھی نہ مل سکے تو پھر اجازت ملے بغیر اندر نہ جاؤ۔ اگر تم سے لوٹ جانے کو کہا جائے تو تم لوٹ ہی جاؤ، یہی بات تمھارے لیے پاکیزه ہے۔ جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔" (سورۂ نور : 28)۔

2- اجازت طلب کرنے والا اپنا نام بتا دے گا، تاکہ اہل خانہ پہچان لیں۔

3- اجازت طلب کرنے والا دروازے کے دائيں یا بائيں کھڑا ہوگا، تاکہ دروازہ کھلنے پر گھر کے اندر نظر نہ پڑے۔

4- محارم ، جیسے ماں اور بہن کے گھروں میں داخل ہونے سے پہلے بھی اجازت طلب کرنا واجب ہے۔

گھر کے اندر اجازت طلب کرنا :

اللہ نے کچھ متعینہ اوقات میں بچوں پر بھی والدین کے پاس جانے کے لیے اجازت طلب کرنے کو واجب قرار دیا ہے، تاکہ بچوں کی نظر ان کے رشتے داروں کے ان اعضاء پر نہ پڑ سکے، جن کا دیکھنا ان کے لیے مناسب نہيں ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "ایمان والو! تم سے تمھاری ملکیت کے غلاموں کو اور انھیں بھی جو تم میں سے بلوغت کو نہ پہنچے ہوں (اپنے آنے کی) تین وقتوں میں اجازت حاصل کرنی ضروری ہے۔ نماز فجر سے پہلے اور ظہر کے وقت جب کہ تم اپنے کپڑے اتار رکھتے ہو اور عشا کی نماز کے بعد‘ یہ تینوں وقت تمھاری (خلوت) اور پرده کے ہیں۔" (سورۂ نور : 58)۔

پردے کے تین اوقات اس طرح ہيں :

پہلا : فجر کی نماز سے پہلے۔

دوسرا : جب دوپہر کے وقت تم لوگ کپڑے اتار کر رکھ دیتے ہو۔ (یعنی قیلولہ کے وقت)

تیسرا : عشا کی نماز کے بعد۔

ان تین اوقات میں اجازت طلب کرنے کا حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ یہ دراصل سونے کی تیاری کرنے یا نماز کے لیے جاگنے کے اوقات ہیں۔ لہذا ان اوقات میں یا تو ہلکے پھلکے کپڑے پہنے جاتے ہیں یا کپڑے بدلے جاتے ہيں۔ اس کے دیگر اسباب بھی ہو سکتے ہيں۔

سرگرمی

سرگرمی (1) : واضح کروں گا اور تجویز پیش کروں گا :

اجازت طلب کرنے کے آداب کی بہت سی خلاف ورزیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ خاص طور سے رشتے داروں کے درمیان۔ کبھی کبھی اس کے بہت سے نقصانات بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ انہی باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نیچے دی گئی بات کی وضاحت کیجیے :

1- برائیاں جو اجازت طلب نہ کرنے کے نتیجے میں سامنے آتی ہیں۔

دوسروں کے جسم کی چھپانے لائق جگہوں کو دیکھ لینا۔

2- اجازت طلب کرنے کے آداب کو عام کرنے اور اس سلسلے میں سرزد ہونے والی خلاف ورزیوں کو درست کرنے کے تین وسائل پیش کریں۔

سرگرمی (2) : دیکھوں گا اور تشریح کروں گا :

نیچے دیے گئے لنک میں موجود ریکارڈنگ کو دھیان سے سنیں اور اپنے اہل خانہ اور دوستوں کے سامنے اس کے مشمولات کی تشریح کریں۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

1- اجازت لیے بغیر کسی کے گھر میں داخل ہونا حرام ہے۔ (✓)

2۔ اجازت طلب کرنے والا اپنا تعارف اپنا وصف بتاکر مثلا دوست یا ساتھی کے طور پر کرائے، تو کافی ہے۔ ×

3- قیلولہ کے اوقات میں بچوں پر اجازت طلب کرنا واجب ہے۔ ✓

4- بہن کے یہاں داخل ہوتے وقت بھائی کو اجازت طلب کرنے کی ضرورت نہيں ہے۔ ×

5- بچے فجر کی نماز سے پہلے بھی اجازت طلب کریں گے۔ ✓

سوال 2 : قوسین (بریکٹ) کے درمیان سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

1- گھر کا مالک اگر اجازت طلب کرنے والے کو اجازت نہ دے، تو اجازت طلب کرنے والا :

(انتظار کرے - لوٹ جائے - دوبارہ اجازت طلب کرے)

2- بچے کس نماز کے بعد سے اجازت طلب کریں گے؟

(عصر کی نماز - مغرب کی نماز - عشا)

3- گھر کے اندر بھی اجازت طلب کرنا مشروع کیا گیا ہے درج ذیل سبب کى بنا پر:

(نابالغ کی سزا کو ترک کرنا - اسلام کی رواداری کا مظاہرہ - اہل خانہ کے شرم گاہوں کی حفاظت)

سوال 3 : آنے والی باتوں کا سبب بتائیں :

1- اجازت طلب کرنے والے کا دروازے کے دائيں یا بائیں کھڑا ہونا۔

2- اجازت طلب کرتے وقت اجازت طلب کرنے کے لیے اپنا نام بتانا ضروری ہے۔

تیسرا سبق : گفتگو اور مجلس کے آداب

سبق کے مقاصد :

عزیز طالبِ علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

1- گفتگو اور مجلس کے آداب بیان کر سکیں گے۔

2- گفتگو اور مجلس کے آداب کی اہمیت کا اندازہ لگا سکیں گے۔

3- گفتگو اور مجلس کے آداب کی پابندی کریں گے۔

4- مجلس کے کفارہ والی حدیث کو زبانی یاد کر لیں گے۔

تمہید :

کچھ لوگ مجلس کے آداب کا خیال رکھے بغیر ہی مجلس شروع کرتے ہيں اور ختم کر دیتے ہيں، جو کہ اسلام کا طریقہ نہیں ہے۔ لہذا آپ آداب مجلس کی پابندی کریں، جنھیں آپ اس سبق میں سیھکيں گے۔

گفتگو اور مجلس کے آداب

گفتگو کے آداب

مجلس کے آداب

اول : گفتگو کے آداب

1- گفتگو سے پہلے سلام کرنا۔ سلام سننے والے پر جواب دینا واجب ہے۔

2- مسلمان کی زبان سے اچھی بات ہی نکلے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے : "جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اچھی بات کہے یا پھر خاموش رہے۔" (صحیح بخاری : 6018، صحیح مسلم : 47)۔

3- جھوٹ، غیبت، چغل خوری، گندی بات، راز فاش کرنے اور کسی کا مذاق اڑانے سے گریز کرنا۔

4- بے فائدہ باتوں سے گریز کرنا۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : ”آدمی کے اسلام کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ اس چیز کو چھوڑ دے جس سے اسے کوئی سروکار نہیں۔“ (سنن ابن ماجہ : 3976)۔

5۔ اگر تین لوگ موجود ہوں، تو ایک کو چھوڑ کر دو لوگوں کا چپکے چپکے بات کرنا جائز نہیں ہے۔ کیوں کہ اس سے تیسرے کو تکلیف ہوگی۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے: "جب تم تین ہو تو دو آدمی تیسرے کو الگ کر کے سرگوشی نہ کریں تا وقت یہ کہ تم دوسرے لوگوں کے ساتھ مل نہ جاؤ۔" (صحیح بخاری : 6290، صحیح مسلم : 2184)۔

دوم : مجلس کے آداب

1- داخل ہوتے اور نکلتے وقت سلام کرنا۔

2- جہاں مجلس ختم ہوتی ہو، وہیں بیٹھ جانا اور لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر مجلس کے اگلے حصے تک پہنچنے سے گریز کرنا۔

3۔ کشادگی پیدا کرنا، تاکہ سب کو بیٹھنے کے لیے جگہ مل جائے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں میں کشادگی پیدا کرو تو تم جگہ کشاده کر دو۔ اللہ تمہیں کشادگی دے گا۔" (سورۂ مجادلہ : 11)

4- کسی کو اٹھاکر اس کی جگہ میں بیٹھنے سے گریز کرنا۔ چاہے وہ چھوٹا بچہ یا غریب آدمی ہی کیوں نہ ہو۔

5- بلا اجازت دو لوگوں کے بیچ میں بیٹھ کر ان کو الگ کرنے سے گریز کرنا۔

6- حرام کھیل، باطل، لغو اور غلط چیزوں کے مشاہدہ کی مجلسوں سے دور رہنا۔

7- علم و فضل والے اور نیک لوگوں کی ہم نشینی اختیار کرنے کی کوشش کرنا۔

8- اس بات کی کوشش کرنا کہ مجلس اللہ کے ذکر سے خالی نہ رہے۔

9- اٹھنے سے پہلے کفارۂ مجلس کی دعا پڑھنا۔ دعا اس طرح ہے : ’اے اللہ! پاک ہےتو اپنی تعریفوں سمیت، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں تجھ سے مغفرت مانگتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں۔‘‘ (سنن ترمذی : 3762)۔

اخیر میں اس لنک کے ذریعے مجلس کے آداب کا مراجعہ کریں :

سرگرمیاں

سرگرمیاں (1) : ما حصل نکالوں گا اور جوڑوں گا :

1- نیچے دی گئی حدیث سے سلام کرنے کے درجے اور ہر درجے کا ثواب نکالیے :

ایک شخص اللہ کے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ”السلام علیکم“ کہا، تو آپ ﷺ نے کہا : "اسے دس نیکیاں ملیں گی"۔ پھر دوسرا شخص آیا اور ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ” کہا، تو آپ ﷺ نے کہا : "اسے بیس نیکیاں ملیں گی"۔ پھر تیسرا آدمی آیا اور ”السلام علیکم وحمۃ اللہ وبرکاتہ“ کہا، تو آپ ﷺ نے کہا : "اسے تیس نیکیاں ملیں گی"۔ (سنن ابو داؤد : 5195، سنن ترمذی : 2698)۔

2- پچھلی حدیث کو اللہ تعالی کے اس قول کے ساتھ جوڑیں : "اور جب تمھیں سلام کیا جائے تو تم اس سے اچھا جواب دو یا انھی الفاظ کو لوٹا دو‘ بلا شبہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا حساب لینے واﻻ ہے"۔ (سورۂ نساء : 86)۔

سرگرمی (2) : میں واضح کروں گا اور نصیحت کروں گا :

نیچے دیے گئے حالات میں صادر ہونے والے گناہ کو واضح کیجیے اور گناہ میں ملوث ہونے والے کو ایک نصیحت بھی کیجیے۔

حالت

ایک ملازم اپنے ساتھ کام کر رہے لوگوں کے درمیان جھگڑا لگانے کے ارادے سے ایک کی بات دوسرے کو پہنچاتا رہتا ہے۔

ایک اپنے پڑوسیوں کے عیب بیان کرتا رہتا ہے۔

ایک لڑکی اپنی غریب سہیلیوں کے لباس کا مذاق اڑاتی رہتی ہے۔

ایک ڈرائیور اپنے مینیجر کے گھر کے اسرار بیان کرتا پھرتا ہے۔ گناہ کی نوعیت نصیحت

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

1- سلام کا جواب دینا مستحب ہے۔ (×)

2- مسلمان پر غیبت، چغل خوری اور مذاق اڑانا حرام ہے۔ (✓)

3- مال دار آدمی‘ غریب آدمی کو مجلس سے اٹھاکر اس کی جگہ پر بیٹھ سکتا ہے۔ (×)

سوال 2 : نیچے دی گئی دعا کو مکمل کریں :

«سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَشْهَدُ ...................، أَسْتَغْفِرُكَ ................».

سوال 3 : نیچے دیے گئے سوالوں کا جواب دیجیے :

1- مجلس کے آداب میں سے ایک ادب یہ ہے کہ مسلمان صرف اچھی بات کہے۔ اس کی وضاحت کیجیے۔

2- مجلس کے تین آداب لکھیے۔

3- "السلام عليكم ورحمة الله وبركاته" کے ذریعے سلام کرنے کی فضیلت لکھیے۔

چوتھا سبق : قضائے حاجت کے آداب

سبق کے مقاصد :

عزیز طالبِ علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

1- قضائے حاجت کے آداب گنوا سکیں گے۔

2- قضائے حاجت کی جگہ میں داخل ہونے اور اس سے نکلنے کے اذکار یاد کر لیں گے۔

3- قضائے حاجت کے آداب کی پابندی کرنے پر دھیان دیں گے۔

4- اس بات کا اندازہ لگا سکيں گے کہ اسلام شخصی نظافت کی اہمیت پر کتنا دھیان دیتا ہے۔

تمہیدی سرگرمی

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابی سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے کسی نے کہا کہ تمھارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے تم کو ہر چیز سکھائی ہے۔ یہاں تک کہ پیشاب اور پاخانہ کرنا بھی۔ اس پر سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے کہا : "تم صحیح کہتے ہو۔ آپ نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے کہ ہم قبلے کی جانب منہ کرکے پاخانہ یا پیشاب کريں، دائيں ہاتھ سے استنجا کریں، تین سے کم پتھروں سے استنجا کریں یا گوبر یا ہڈی سے استنجا کریں۔" (صحیح مسلم : 262)۔

اس حدیث سے اسلام کی عظمت، مسلمان کی زندگی اور اس کی دنیوی سعادت سے اس کی دل چسپی کے پہلو نکالیے اور یہ بتائيے کہ دینِ اسلام طہارت، نظافت اور صاف صفائی کا دین ہے۔

قضائے حاجت کے بہت سے آداب ہیں، جنھیں ہم کچھ اس طرح تقسیم کر سکتے ہیں :

قضائے حاجت کے آداب :

قضائے حاجت سے پہلے

قضائے حاجت کے دوران

قضائے حاجت کے بعد

اول : قضائے حاجت سے پہلے :

1- قضائے حاجت کی جگہ میں داخل ہوتے وقت پہلے بایاں پاؤں اندر رکھنا۔

2- یہ دعا پڑھنا : "اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں خبیثوں اور خبیثنیوں سے۔" (صحیح بخاری : 142، صحیح مسلم : 375)۔

دوم : قضائے حاجت کے دوران :

1- لوگوں کی نظروں سے پردہ کرنا اور بیت الخلا میں داخل ہونے کے بعد دروازہ بند کر لینا۔

2- لوگوں کے راستے، سایے اور پانی وغیرہ میں قضائے حاجت سے بچنا۔

3- قضائے حاجت کے دوران مصحف لے جانے، قرآن پڑھنے اور اللہ کا ذکر کرنے سے اجتناب کرنا۔

4۔ پانی، رومال یا پتھر سے نجاست دور کرتے وقت بائیں ہاتھ کا استعمال کرنا۔

5- کھلی جگہوں میں قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی جانب منہ یا پیٹھ کرکے بیٹھنے سے بچنا۔

سوم : قضائے حاجت کے بعد :

1- جگہ (جیسے حمام وغیرہ) کو صاف ستھرا چھوڑ کر نکلنا۔

2- دونوں ہاتھوں کو نجاست دور کرنے کے لیے اچھی طرح دھونا۔

3۔ قضائے حاجت کی جگہ سے نکلتے وقت پہلے دایا پاؤں باہر نکالنا۔

4- نکلنے کے بعد "غُفْرَانَكَ" کہنا۔

سرگرمی

سرگرمی (1) : دیکھوں گا اور واضح کروں گا :

نیچے دیے گئے لنک کے ذریعے ویڈیو کلپ دیکھیں اور اس کے بعد بیت الخلا میں داخل ہونے کے آداب کے ذریعے انسان کی عزت افزائی کے پہلووں کو واضح کجیے۔

سرگرمی (2) نتیجے کی توقع کروں گا :

درج ذیل حالات کے متوقع نتیجے لکھیں :

حالات

ایک شخص عام راستے میں قضائے حاجت کرتا ہے۔

ایک شخص نہر میں قضائے حاجت کرتا ہے۔

ایک شخص قضائے حاجت کے بعد پانی اور صابون سے ہاتھ دھوتا ہے۔

ایک شخص قضائے حاجت کے وقت ٹھیک سے کپڑا نہيں اٹھاتا۔ متوقع نتیجہ

اندازۂ قدر

سوال 1 : قوسین (بریکٹ) کے اندر دیے گئے الفاظ کے ذریعے خالی جگہوں کو بھریں :

(عورہ‘ (ستر) - حرام - قرآن - پھل دار درخت)

1- ۔۔۔۔۔۔ کے نیچے قضائے حاجت کرنا حرام ہے۔ (پھل دار درخت)

2- کھلی جگہ میں قبلے کی جانب منہ کرکے قضائے حاجت کرنا ۔۔۔۔۔۔۔ ہے۔ (حرام)

3- قضائے حاجت کے وقت لوگوں کی نگاہ سے ۔۔۔۔۔۔۔ کو چھپانا واجب ہے۔ (عورہ [ستر])

4- قضائے حاجت کی جگہ میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ پڑھنا حرام ہے۔ (قرآن)

سوال 2 : نیچے دی گئی دعا کو پورا کیجیے :

قضائے حاجت کی جگہ میں داخل ہوتے وقت ہم کہيں گے : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

سوال 3 : نیچے دی گئی عبارتوں میں موجود غلطیوں کو درست کر کے ان کو دوبارہ لکھیں :

1- قضائے حاجت کے بعد دائیں ہاتھ سے نجاست دور کروں گا۔

قضائے حاجت کے بعد بائیں ہاتھ سے نجاست دور کروں گا۔

قضائے حاجت کی جگہ سے نکلنے کے بعد "الحمد للہ" کہوں گا۔

قضائے حاجت کی جگہ سے نکلنے کے بعد "غفرانك" کہوں گا۔

3- قضائے حاجت کے وقت اذان سنائی دے، تو اس کے کلمات کو دوہراؤں گا۔

قضائے حاجت کے وقت اذان سنائی دے، تو اس کے کلمات کو نہیں دوہراؤں گا۔

پیش لفظ

ساری تعریف اللہ کی ہے، جس نے انسان کو پیدا کیا، اسے علم و بیان عطا کرکے مکرم کیا اور قرآن و سنت کے ذریعے اس پر حجت قائم کر دی۔

درود و سلام ہو ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم، آپ کے اہل بیت، معزز صحابہ اور قیامت کے دن تک ان کی پیروی کرنے والوں پر۔

اما بعد! اس بات میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہيں ہے کہ بندے پر عمل سے پہلے علم حاصل کرنا عظیم واجبات میں سے ایک ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے : "سو (اے نبی!) آپ یقین کر لیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگا کریں اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے حق میں بھی، اللہ تم لوگوں کی آمد ورفت کی اور رہنے سہنے کی جگہ کو خوب جانتا ہے"۔

(سورۂ محمد: 19)۔

دراصل شرعی علم اس امت کی اہم ترین امتیازات میں سے ایک امتیاز اور اسلامی شخصیت کے اہم ترین عناصر میں سے ایک عنصر ہے۔

علم کی اہمیت کے پیش نظر، جس کے چشمے سے جمعیۃ الدعوہ و توعیۃ الجالیات روضہ کا فیض جاری ہے اور وہ حکمت کے ساتھ اور تبلیغ کے بہترین طریقوں کو بروئے کار لاتے ہوئے لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے اور پردیسى کمیونٹیز کی تعلیم اور ان کو شرعی اعتبار سے اہل بنانے کے مقصد سے کیے گئے پروگراموں، جیسے "دین سے آگاہی" کا پروگروام، جو پردیسى کمیونٹیز کے لیے سات زبانوں میں شرعی کورسیز فراہم کرتا ہے، کے توسط سے مسلمانوں کے اندر دینی بیداری لانے کے کام میں مشغول ہے۔ اس پروجیکٹ کو تیار کرنے کے لیے جمعیہ مذکورہ نے "بصائر للاستشارات التربوية" نامی کمپنی سے رابطہ کیا، جو شرعی تعلیم کا نصاب تیار کرنے کا کام کرتی ہے۔ چنانچہ جمعیہ کی جانب سے فراہم کردہ مواد کی بنیاد پر اس نصابی دستاویز کو تیار کرنے پر اتفاق عمل میں آیا اور پھر درج ذیل مراحل کے مطابق طلبہ کے لیے کتابیں تالیف کی گئیں :

- پہلا مرحلہ، جس میں چالیس (40) درس شامل ہیں۔

-دوسرا مرحلہ، جس میں تیس (30) درس شامل ہیں۔

تیسرا مرحلہ، جس میں 30 درس شامل ہيں۔

متعلم کے لیے تیار کی گئی ہر کتاب کے مقابلے میں معلم کے لیے بھی ایک رہ نما کتاب تیار کی گئی ہے، جو اس کے لئے مؤثر تعلیمی اور تربیتی طریقے پر درس پیش کرنے میں معین و مددگار ہوگى۔ نصابی دستاویز مرتب کرنے، متعلمین کے لیے کتابیں تالیف کرنے اور معلمین کے لیے گائیڈ تیار کرنے کا عمل بڑے ہی علمی انداز میں انجام پایا ہے اور بڑی باریک بینی کے ساتھ مراجعہ کیا گیا ہے۔ یہ کام شرعی تعلیمی نصاب کے ماہرین کی ایک جماعت نے کیا ہے۔

اخیر میں دعا ہے کہ اللہ اس عمل کو اسلام اور مسلمانوں کے لیے نفع بخش بنائے اور اس میں شریک ہونے والے ہر شخص کو بہتر بدلہ عطا کرے اور جنت سے نوازے۔ اس نصاب تعلیم کے بارے میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور جمعیہ کے فون نمبروں کے ذریعہ موصول ہونے والی آپ کی کارآمد تجاویز اور آرا کا پرجوش خیر مقدم ہے۔

درود وسلام نازل ہو ہمارے نبی محمد ﷺ اور آپ ﷺ کے آل واصحاب پر۔

جعیۃ الدعوہ، روضہ

مقدِّمہ

ساری تعریفیں اللہ کی اور اسى کے لئے ہیں اور درود وسلام نازل ہو اللہ کے آخری نبی محمد بن عبد اللہ، آپ کے اہل و عیال، پاک ساتھیوں اور قیامت کے دن تک ان کا اتبارع کرنے والوں پر۔ میرے معلم بھائی! تعلیم کا کام ایک معزز ترین کام ہے۔ کیوں کہ یہ انبیا اور مصلحین کا کام ہے اور سماج اور امت اسلامیہ کی تعمیر و ترقی میں اس کا بہت بڑا کردار ہے۔

آپ کے اس غیر معمولی کردار کے پیش نظر ہم آپ کے لیے یہ رہ نما کتاب فراہم کر رہے ہیں، جو آپ کی ذمے داری کی ادائيگی میں مددگار ثابت ہوگی اور تدریس کا کام

زیادہ خوش گوار اور نتیجہ خیز ثابت ہوگا۔ کیوں کہ اس رہ نما کتاب میں اسباق کی ایسی منصوبہ بندی شامل ہے، جو طلبہ کی سطح اور ماحول سے مناسبت رکھتی ہو

اور طالبِ علم کے لیے فراہم کی گئی کتاب کے اہداف و مقاصد اور تدریس اور جانچنے کے طریقوں سے جڑی ہوئی ہو۔

رہ نما کتاب برائے معلم میں سبق کے عناصر

اس رہ نما کتاب کے صفحات اپنے ہر درس میں متعدد عناصر کو سموئے ہوئے ہيں، جو تعلیمی موقف کے نمایان ترین پہلوؤں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان میں سے درج ذیل عناصر زیادہ اہم ہیں :

ڈیٹا باکس :

اس میں سبق کے لیے تجویز کردہ دورانیہ، سیکھنے کے لیے نئے الفاظ، استعمال کردہ تعلیمی مواد، سبق کے لیے بروئے کار لائے جانے والے اقدار و رجحانات اور سبق کی تجویز کردہ حکمتِ عملی موجود ہے۔

ب- سبق کے مراحل :

سبق کے درج ذیل مراحل متعین کیے گئے ہیں :

(1) سبق کی تمہید : اس کا مقصد طالبِ علم کی توجہ سبق کی طرف مبذول کرانا ہوتا ہے اور اس کے لیے کئی طریقۂ کار اپنائے جاتے ہيں۔ مثلا ایسے چھوٹے چھوٹے سوالات جو سبق کے لئے نکتۂ آغاز بن سکتے ہيں، ایسی حقیقی کہانی جو سبق سے جڑی ہوئی ہو، آج کے سبق کو پچھلے سبق سے جوڑنا یا کوئی تعلیمی وسیلہ اختیار کرنا۔

(2) آموزشی تجربات : ان سے مراد موضوع کو پڑھنے کے بعد متعلم کے ذریعے حاصل کیے گئے معارف، مفاہیم، حقائق اور احکام ہیں۔ اس رہ نما کتاب میں متعلم حضرات کے آموزشی تجربات کی توقعات شامل ہیں۔ معلم کو ان پر زور دینا چاہیے اور اس بات کی تاکید کرنی چاہیے کہ متعلمین انھیں اپنے کاپیوں میں لکھ لیا کریں۔

(3) سرگرمیاں : ان کا مقصد متعلم کو زیر درس موضوع سے سیکھی ہوئی باتوں اور حاصل کیے ہوئے تجربات نئے حالات پر لاگو کرانے کی مشق کرانا ہوتا ہے۔ دراصل ان سرگرمیوں کا مقصد سبق کے مشمولات میں رہ جانے والے ممکنہ خلا کو پر کرنا ہوتا ہے۔ معلم کو چاہیے کہ طلبہ کو ان سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے پر ابھارے اور اس بات کو دھیان میں رکھے کہ ان میں سے ہر سرگرمی کسی معین ہدف کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، لہذا وہ اس ہدف کو حاصل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ ہم اساتذہ سے اس بات کی بھی امید رکھتے ہيں کہ وہ طلبہ کو ان اسباق سے سیکھے ہوئے معارف کو عملی طور پر ادا کرنے اور عمل میں لانے کی مشق کرانے پر بھی توجہ دیں۔

(4) اندازۂ قدر : اس کا مقصد اس بات کا اندازہ لگانا ہوتا ہے کہ متعلقہ سبق کے اہداف کس حد تک حاصل ہو سکے اور کس حد تک حاصل نہیں ہوئے۔ اسی بنا پر اس بات کا بھی خیال رکھا جاتا ہے کہ سبق کا ہر سوال اس کے کسی نہ کسی مقصد سے کتنا جڑا ہوا ہے۔ اس رہ نما کتاب کے اندر سبق کے بعض سوالات کے جوابات بھی دے دیے گئے ہيں، تاکہ معلم کو اپنا کام کرنے میں آسانی ہو۔

(5) توجہ طلب تربیتی اور وجدانی باتیں : ان کا مقصد سبق کے دوران سیکھی ہوئی اہم باتوں کو عملی جامہ پہنانا اور ان کو اپنے خاندان میں اور دوستوں اور سماج کے درمیان نافذ کرنا ہوتا ہے۔

وہ تربیتی بنیادیں، جن پر یہ رہ نما کتاب قائم ہے وہ یہ ہیں :

اول : مقاصد نصاب :

ہر سبق کے اہداف و مقاصد متعین کر دیے گئے ہیں، جن کو متعین کرتے وقت درج ذیل باتوں کا خیال رکھا گيا ہے :

- اہداف و مقاصد زیر درس مواد کے کارآمد اور مفید ہونے کا آئینہ دار ہوں۔

- تنوع کے حامل ہوں۔ جان کاری، وجدان اور مہارت تینوں پہلووں کو سمیٹے ہوئے ہوں۔

- حقیقت پر مبنی، ممکن الحصول اور طلبہ کی سطح سے مناسبت رکھنے والے ہوں۔

- جانکاری سے متعلق مقاصد کے مرحلوں (یاد کرنا - سمجھنا - تطبیق دینا - تجزیہ کرنا - مربوط کرنا - اندازۂ قدر کرنا) کو بہ تدریج عبور کیا جائے۔

- بہتر ہدف کے حصول کی شرطوں کو عملی جامہ پہنایا جائے۔

ہدف متعلم کے رویے پر مرکوز رہے اور اسی میں پورے تجربے کو جھونکا جائے۔

دوم : مشمولات کی تعمیر و ترتیب :

اس نصاب تعلیم کے مواد کا انتخاب سبق کے متعینہ اہداف کے مطابق عمل میں آیا ہے۔ مشمولات کو اہداف و مقاصد کا مکمل آئينہ دار, دستاویز میں شامل صلاحیتوں اور طلبہ کی سطح کے عین مطابق رکھا گیا ہے۔ مشمولات کی پیش کش میں کوشش کی گئی ہے کہ بسیط سے گہرائی کی جانب بہ تدریج آگے بڑھا جائے، فراہم کردہ معلومات کی صحت کو یقینی بنایا جائے، آیات قرآنی اور احادیث نبویہ سے دلیلیں پیش کی جائيں، طلبہ کی آسانی کے لیے مشمولات میں شامل آیتوں اور حدیثوں کی تشریح کر دی جائے اور قرآنی آیات کے حوالے دے دیے جائيں اور احادیث نبویہ کی تخریج کر دی جائے۔

سوم : تعلیمی سرگرمیوں کى پروسیسنگ:

تعلمی سرگرمیوں کو ترتیب دیتے وقت کچھ معیاروں کا خیال رکھا گیا ہے، جیسے :

- سرگرمیوں کو سبق کے اہداف و مقاصد سے مربوط کرنے کا لحاظ اور ان مقاصد کے حصول میں سرگرمیوں کا بھی حصہ ہونا۔

- طالب علم کے مزاج کا خیال رکھتے ہوئے کچھ سرگرمیاں معلم کی نگرانی میں اور کچھ ساتھیوں کے تعاون سے کرنے کى رعایت کو ملحوظ رکھنا۔

تعلیمی سرگرمیوں میں تنوع رکھنا۔ کچھ سرگرمیاں سمعی ہوں، کچھ سرگرمیوں میں معلم کی باتوں کو دوہرایا اور نقل کیا جائے، کچھ سرگرمیوں میں کسی موضوع سے متعلق کچھ معین چيزیں جمع کرنے کو کہا جائے، کچھ سرگرمیوں کا تعلق شرح، تلخیص، زمرہ بندی اور دوبارہ تشکیل سے ہو، کچھ سرگرمیاں یاد کرنے، سننے اور پڑھنے سے تعلق رکھتی ہوں، کچھ سرگرمیاں ترتیب دینے کے قبیل سے ہوں اور کچھ حساب پر مشتمل۔

چہارم : تعلیمی وسائل، جن کے دائرے میں درج ذیل چيزیں آتی ہيں:

نصابی کتاب اور اس میں موجود تصاویر اور نمونے۔

- کلاس روم میں آویزاں بڑے بڑے ڈسپلے بورڈ۔

گروپ سرگرمیوں کے لیے کچھ کارڈ۔

- ریکارڈنگ ڈیوائس۔

پنجم : اندازۂ قدر کے نوع بہ نوع اسالیب :

مشمولات کے اسباق کے سوالات تیار کرتے وقت خیال رکھا گیا ہے کہ سوالات سبق کے اغراض و مقاصد سے جڑے ہوئے ہوں اور معرفت کے پہلو کی پیمائش کرنے والے یہ سوالات تنوع کے حامل ہوں۔ کہیں صیح و غلط کی نشان دہی کرنے کو کہا جائے، کہیں جوڑ لگانے کے لئے کہا جائے، کہیں متعدد آپشنز میں سے ایک کا انتخاب کرنے کو کہا جائے، کہیں مکمل کرنے کو کہا جائے اور کہیں ترتیب دینے کے لئے کہا جائے۔ اسی طرح وجدان اور مہارت کے پہلو کی پیمائش کے سلسلے میں معارف کو ایسے رویوں میں بدلنے کی کوشش کی گئی ہے، جن کی پابندی طالب کے لئےضرورى ہے۔ یہاں ہم اس بات کی جانب اشارہ کر دینا چاہتے ہیں کہ وجدان اور مہارت کے پہلوؤں کی پیمائش کا ایک بہترین طریقہ کلاس میں مدرس کے ذریعے اور گھر میں والدین کے ذریعے مشاہدہ اور پیروی کا طریقہ ہے۔

ششم : تدریس کی حکمت عملیاں :

عزیز معلم! یہاں آپ کو کچھ تدریسی طریقے، جن کا استعمال اس رہ نما کتاب کو تیار کرنے میں کیا گیا ہے، اس سے آگاہ کرایا جاتا ہے، تاکہ آپ ان سے، ان کے طریقۂ کار سے اور ان کو عملی جامہ پہنانے کے مراحل سے آگاہ ہو جائيں۔

(1) باہمی تعاون سے سیکھنا:

یہ ایک ایسا طریقۂ تدریس ہے، جس کی بنیاد طلبہ کو چھوٹے چھوٹے گروہوں (2 : 6 طلبہ) میں تقسیم کر کے سیکھنے کے عمل کو انجام دینے پر قائم ہے۔ اس طریقۂ تعلیم کے تحت طلبہ کے ساتھ مل کر، ایکٹیو ہو کر اور ایک دوسرے کی مدد سے کام کرنے کا موقع دیا جاتا ہے، تاکہ گروہ میں شامل ہر طالب علم کی سطح بلند ہو اور مشترکہ تعلمیی ہدف حاصل ہو سکے۔ گروہ میں شامل طلبہ کے درمیان کام تقسیم کر دیا جاتا ہے اور ہر گروہ کا ایک قائد مقرر کر دیا جاتا ہے، جو اس میں شامل طلبہ کی کار کردگی پر نظر رکھے اور ان کے جوابات جمع کر کے استاد کے سامنے رکھے۔

(2) مسئلہ کے حل کے لئے ذہنی استعداد کو بروئے کار لانا - (برین اسٹورمنگ Brainstorming) :

اس طریقے کی بنیاد غور و فکر اور تخلیقی صلاحیتوں کو مہمیز کرنے پر استوار ہوئی ہے۔ برین اسٹورمنگ کا استعمال ذہنی صلاحیتوں اور سرگرمیوں میں اضافے کے مقصد سے بہت سی علمی دشواریوں اور زندگی سے متعلق مختلف مسائل کے حل کے بارے میں اجتماعی یا انفرادی غور و فکر کے ایک اسلوب کے طور پر کیا جاتا ہے۔ بہت بڑی مقدار میں تجاویز، حل یا معلومات پیش کرنا اور اس کے بعد صحیح حل یا رائے تک پہنچنے کے لیے ان کی تنقیح کرنا۔

(3) مسائل کے حل پر مبنی طریقہ کار:

یہ ایسا طریقہ ہے، جس میں سیکھنے والا کسی مسئلہ پر قابو پانے اور اس کے حل تک پہنچنے کے لیے, اپنی جانکاریوں اور مہارتوں کا استعمال, نئے انداز اور نامانوس طریقے سے کرتا ہے۔

اس طریقے کے تحت کیے جانے والے اقدامات میں مسئلے کو سمجھنا، اس کی تحدید، اس سے متعلق معلومات یک جا کرنا اور اس کے بعد مختلف حل پیش کرنا اور سب سے بہتر حل کے انتخاب کے لیے ان کا مطالعہ شامل ہے۔

(4) رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی :

انھیں معرفتی نقشے (Knowledge Maps)، ذہنی نقشے (Mind Maps)، تصوراتی نقشے (Concept Maps) اور معلوماتی نقشے بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے تحت موضوع کی تحلیل جزئیات میں کرنے کے بعد ان جزئیات کو ہندسی شکلوں، جسے جدولوں، دائروں یا مخروطی اشکال کے خاکوں کے ذریعے بیان کیا جاتا ہے۔ دراصل اس کا مقصد معلومات کا مطالعہ، ان کے درمیان ربط پیدا کرنا اور ان کو یاد کرنا ہوتا ہے۔

(5) ہم آہنگى کى حکمت عملی :

یہ حکمت عملی ذہنی صلاحیتوں کو فعال بنانے، عناصر اور اشیا کے درمیان ربط کو واضح کرنے‘ عقل کو کام میں لانے اور مشابہت اور اختلاف کے پہلؤوں کی تحدید پر کام کرتی ہے۔ اس طرح کے غور و فکر کے لیے اعلی ابداعی صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیوں کہ جواب دینے کے لیے ہمیشہ عناصر کے درمیان ایک نئے نقطۂ نظر کی ضرورت ہوتی ہے۔

(6) قصہ گوئی پر مبنی حکمت عملی :

طریقۂ قصہ گوئی کا امتیازی وصف اس کا جوش و خروش، جاذبیت اور طلبہ پر اثر انداز ہونا ہے۔ قصہ خیال کو پروان چڑھاتا ہے، جذبات کو ابھارتا ہے، مقدمات کو نتائج سے جوڑنے کی دعوت دیتا ہے اور مجرد مفہوم کو محسوس واقع میں بدلنے کا کام کرتا ہے۔ قصہ مختلف واقعات کو آپس میں جوڑنے کے ساتھ ساتھ طالب کو اس کے ساتھ تعامل کرنے اور جو وہ سیکھتا ہے اس کے ساتھ جڑنے کی ترغیب دیتا ہے۔ قصہ گوئی کے وقت اس کی زبان، اسلوب اور طلبہ کے لیے مناسب ہونے کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے۔

(7) مسائل زندگى کى تطبیق پر مبنی حکمت عملی :

اس اسلوب کے پیش نظر اس بات کی کوشش ہوتی ہے کہ معلومات کو زندکی کے مسائل اور احوال سے جوڑ کر دیکھا جائے، تاکہ طالب علم کو مشمولات کے اسباق کو پوری توجہ سے پڑھنے میں مدد ملے۔ اس سے اسے کئی غلطیوں اور منفی باتوں کے علاج اور مثبت پہلووں کو پختہ کرنے کا راستہ ملے گا اور وہ انھیں اسلام کی جانب سے پیش کردہ شرعی احکام اور اخلاقی قواعد سے جوڑنے کی کوشش کرے گا، جس کے نتیجے میں اسے اس بات کا احساس ہوگا کہ اسلام اس کی زندگی کو نظم و ضبط کے دائرے میں لانے کا کام کرتا ہے۔

(8) غور و فکر کریں - تبادلۂ خیال کریں - شیئر کریں، پر مبنی حکمت عملی :

یہ حکمت عملی دراصل ایک بحث و مکالمہ اور باہمی تعاون پر مبنی حکمت عملی ہے، جو تین مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلے مرحلے ميں معلم طالب علم کو تنہا سوال کا جواب دینے یا سرگرمی انجام دینے کے بارے میں سوچنے کا موقع دیتا ہے۔ دوسرے مرحلے میں طالب علم اپنے جواب کے بارے میں اپنے کسی ساتھی سے تبادلۂ خیال کرتا ہے۔ تیسرے اور آخری مرحلے میں حاصل شدہ جوابات کے بارے میں اپنے گروپ کے افراد کے ساتھ تبادلۂ خیال کرتا ہے، تاکہ ایک ایسا مشترکہ جواب سامنے آئے، جو پورے گروپ کی رائے کی نمائندگی کرتا ہو۔

اس حکمت عملی کی سیکھنے کے عمل میں بڑی اہمیت ہے۔ کیوں کہ یہ فعال انداز میں معلومات کے ساتھ سروکار رکھنے میں طلبہ کی مدد کرتی ہے اور ان کے اندر اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کی صلاحیت کو پروان چڑھاتی اور غور و فکر کی صلاحیت کو پروان چڑھاتی ہے۔

(9) تمہیدی مواد کی پش کش پر مبنی حکمت عملی :

اس سے مراد یہ ہے کہ متعلمین کو سبق کے آغاز میں موضوع کی ساخت اور آگے پیش کی جانے والی معلومات سے متعلق ایک مقدمہ یا مختصر تمہیدی مواد فراہم کیا جائے، جس کا مقصد موضوع سے متعلقہ مفاہیم، افکار اور مسائل کو آسان بنا کر سکھانا اور متعلم کی سابقہ معلومات اور آگے اسے جو معلومات حاصل کرنے کی ضرورت ہے، دونوں کے درمیان ربط پیدا کرنا۔

تمہیدی مواد کو بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اول تحریری تمہیدی مواد اور دوم غیر تحریری تمہیدی مواد۔ پھر تحریری تمہیدی مواد کو بھی دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ وضاحتی مواد اور تقابلی مواد۔

جب کہ غیر مکتوبہ مواد کو سمعی مواد، بصری مواد اور سمعی بصری مواد میں تقسیم کیا گیا ہے۔ بیانیہ مواد میں ظواہر کے اجزا کو بیانیہ اشکال، جیسے بیانی جدول کی شکل میں سبق کے آغاز میں طلبہ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔

(10) فرضی تصورات قائم کرنے پر مبنی حکمت عملی :

اس طریقے کے تحت متعلم سے زیر درس موضوع کے سلسلے میں فرضی تصورات قائم کرنے یا توقعات کرنے کو کہا جاتا ہے، جس کی وجہ سے اس کے سامنے ایک ہدف آ جاتا ہے اور وہ مشمولات سے متعارف ہوتے وقت ایک جگہ دھیان مرکوز رکھتا ہے، تاکہ اس کی ان توقعات کی تصدیق یا تردید ہو جائے۔ اس طریقے کے تحت متعلم کو اس بات کا بھی موقع دیا جاتا ہے کہ وہ جدید معلومات کو قدیم معلومات کے ساتھ جوڑ سکے۔

اس طریقے کے تحت معلم اپنے طلبہ کو یہ اندازہ لگانے میں مدد کر سکتا ہے کہ زیر درس موضوع کن باتوں پر مشتمل ہے :

موضوع کے عنوان کو پڑھنا یا سبق کے اغراض و مقاصد کو جاننا یا سوالات سے مدد لینا۔

(11) ذاتی سوال (خود سے سوال پوچھنے) پر مبنی حکمت عملی:

اس طریقہ کا مقصد سیکھنے کے عمل سے پہلے، دوران اور بعد میں موضوع کے بارے میں سوالات پوچھ کر خود آگاہی پیدا کرنا، متن کے ساتھ تعامل کو آسان بنانا اور سمجھنے اور یاد کرنے کے عمل کو آسان بنانا ہے۔ اس کی اساس یہ ہے کہ متعلم زیر درس احادیث کے تعامل کے دوران خود اپنی ذات سے کچھ سوالات کرے۔ اس سے اس کی ان کے معلومات کے درمیان جو وہ حاصل کر رہا ہے اور اس علم کے درمیان جس تک اس کی رسائی ہو رہی ہو، زیادہ ربط پیدا ہوگا اور نتجے کے طور پر اس کے اندر غور و فکر کے عمل کے بارے میں آگاہی پیدا ہوگی۔

(12) میں جانتا ہوں - میں جاننا چاہتا ہوں - میں نے سیکھا (KWL) پر مبنی حکمت عملی :

یہ حکمت عملی طالب علموں کو موضوع میں موجود معلومات کا اندازہ لگانے اور اسے اپنے سابقہ ​​علم سے مربوط کرنے میں مدد کرتی ہے۔ اسی طرح معلم اسے کسی مخصوص موضوع میں طلبہ کی دل چسپی پیدا کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے اور اس موضوع کے بارے میں طلبہ کی سمجھ اور ان کی تصوراتی غلطیوں کا جائزہ لے سکتا ہے۔

مختصرا اس طریقے کو KWL کہا جاتا ہے۔ یہ تین دراصل تین کلمات کی جانب اشارہ کرتے ہيں :

(K): Know ، (W): Want ،(L): Learned.

پہلا لفظ اس بات سے عبارت ہے کہ متعلم زیر درس موضوع کے بارے میں عملا کیا کچھ جانتا ہے۔ دوسرا لفظ اس بات سے عبارت ہے کہ وہ اس موضوع کے بارے میں کیا کچھ جاننا چاہتا ہے۔ اور تیسرا لفظ اس بات سے عبارت ہے کہ اس نے اس موضوع کے بارے میں کیا کچھ سیکھا۔

(13) نقطہ ہائے نظر کے تجزیے پر مبنی حکمت عملی :

یہ حکمت عملی متعلم کو اپنی آرا اور عقائد کے بارے میں سوچنے میں مدد دیتی ہے، مختلف حالات میں اسے اپنے نقطہ نظر، نظریات، اصولوں، اقدار، عقائد اور آرا کا اظہار کرنے کی ترغیب دیتی ہے، جو چیزوں کے بارے میں اس کے نقطۂ نظر اور واقعات کے ساتھ اس کے تعامل کو متاثر کرتی ہیں۔ دراصل یہ حکمت عملی طالبِ علم کے اپنے نقطۂ نظر کے تجزیہ پر منحصر ہے۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ اپنے نقطۂ نظر کے بارے میں اسے اپنی سوچ کو مزید گہرا کرنے، اس کا نقطۂ نظر کہاں تک صحیح اور صورت حال کے تقاضے کے مطابق ہے، اسے جاننے کے مواقع فراہم کیے جائيں۔ نقطۂ نظر کے تجزیہ کے نتیجے میں اس کی حمایت اور قبولیت (اگر مناسب اور درست ہو)، اس میں ترمیم (اگر ضروری ہو) یا اس کے رد (اگر نامناسب اور غلط ہو) ہو سکتا ہے۔

اے معلم ! اخیر میں عرض یہ ہے کہ:

آپ کے سامنے موجود یہ رہنما کتاب بہتر نتا‎ئج دے سکتی ہے اگر اس کا صحیح استعمال ہو۔ صحیح استعمال نہ ہونے کی صورت میں اس کا کوئی فائدہ نہيں ہے۔ اسے پیش کرنے سے ہمارا مقصد آپ کی صلاحیتوں کو بیڑی پہنانا یا آپ کی ہنرمندیوں پر روک لگانا ہرگز نہيں ہے۔

اکائی : قرآن اور تفسیر

پہلا سبق : قرآن کریم کا مقام و مرتبہ

سبق کا وقفہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (قرآن کریم کا اعجاز - اہل قرآن)

تدریسی وسائل :

(بلیک بورڈ- کچھ تعلیمی کارڈ - کچھ تعلیمی بورڈ - کچھ قرآنی آیات کی آڈیو ریکارڈنگ)

تدریس کی حکمت عملیاں :

(باہمی تعاون سے سیکھنے پر مبنی حکمت عملی - بحث و مکالمہ کی حکمت عملی)

اقدار و رجحانات :

o قرآن کریم کے مقام و مرتبے کو پیش کرنا۔

o قرآن کریم کی تعظیم۔

o قرآن اور اہل قرآن کی محبت کی حرص۔

سبق کی تمہید :

میرے معلم بھائی! طلبہ کے لیے سبق کی راہ ہموار کرنے کی خاطر قرآن کریم کی کچھ آیتوں کی آڈیو ریکارڈنگ چلائيں، اسے اچھے سے سنیں اور اس کے بعد طلبہ کو ان کا مطلب بتائيں اور ساتھ ہی تلاوت قرآن کی فضیلت اور قرآن کا مقام و مرتبہ بھی واضح کریں۔

بعد ازاں بلیک بورڑ پر سبق کا عنوان لکھیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

آپ طلبہ کو سبق کی خاموش خواندگی کرنے کو کہہ سکتے ہیں۔

آپ کچھ طلبہ کا انتخاب بلند خواندگی کے لیے کریں گے۔ پھر ان میں سے کسی کو بلیک بورڈ پر سبق کے بنیادی عناصر لکھنے کو کہیں گے، تاکہ ہر عنصر کے بارے میں تفصیلی گفتگو ہو سکے۔

مرحلہ نمبر (2)

سبق کے نئے الفاظ تلاش کریں، انھیں بلیک بورڈ پر لکھیں اور طلبہ کے ساتھ ان کے مترادفات کے بارے میں تبادلۂ خیال کریں۔

پھر ان مترادفات کو بلیک بورڈ پر لکھیں۔

مرحلہ نمبر (3)

بہتر یہ ہوگا کہ آپ باہمی تعاون سے سیکھنے پر مبنی حکمت عملی کو بروئے کار لائيں اور طلبہ کو کچھ گروہوں میں بانٹ دیں۔

بعد ازاں ہر گروہ سے باہمی تعاون سے قرآنِ کریم کی اہم ترین فضائل کی تحدید کرنے کو کہیں۔

اس کے بعد گروہ میں شامل کسی ایک طالب علم کو حاصل شدہ نتائج کو بلیک بورڈ پر لکھنے کو کہیں۔

پھر ان کی کارکردگی پر تبصرہ کریں۔

مرحلہ نمبر (4)

آپسی تبادلۂ خیال کے ذریعے معلوم کریں کہ اہلِ قرآن کی تعظیم کے کیا مظاہر ہيں اور قرآن کریم کے حوالے سے ہمارا کیا فرض ہے؟

طلبہ کی جانب سے دیے گئے جوابوں کے توسط سے آپ انھیں سبق سے حاصل ہونے والے نتیجوں کی جانب لے جائيں گے اور اس کے بعد انھیں بلیک بورڈ پر لکھ دیں گے۔ اہم ترین نتا‎ئج درج ذیل ہوں گے :

نتائج :

1- قرآن کریم اللہ تعالی کا کلام اور اللہ کا عظیم ترین کلام ہے۔

2- قرآن کریم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا اہم ترین معجزہ ہے۔

3- قرآن کریم سارے جہان والوں کے لیے نور و ہدایت ہے۔

4- اللہ تعالی نے قرآن مجید کی حفاظت کا کام خود اپنے ذمے لے رکھا ہے۔

5- اللہ تعالی اہل قرآن کو دنیا میں بلند مقام اور آخرت میں کامیابی عطا فرماتا ہے۔

6- قرآن مجید کی عظمت سے واقف ہو جانے کے بعد ہمارے اوپر واجب ہو جاتا ہے کہ ہم اس کی سچی قدر کریں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ ہم اسے پڑھیں، اس پر غور و فکر کریں، اسے سیکھیں، یاد کریں، اس کے اندر جن باتوں کا حکم دیا گیا ہے ان پر عمل کریں اور جن باتوں سے منع کیا کيا ہے، ان سے دور رہیں۔

سرگرمیاں

بہتر یہ ہوگا کہ آپ نیچے دی گئی سرگرمیوں کے ذریعے طلبہ کو اس سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو تطبیق دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی 1 نوعیت اور ہدف انفرادی / اجتماعی۔ قرآن کریم کے مقام و مرتبہ کا بیان۔

ہدف نمبر 1

ہر طالب کو سرگرمی کا جواب ڈھونڈنے کا مکلف بنائيں۔

جواب ڈھونڈنے کا کام ختم ہونے کے بعد ہر ایک نے جو کچھ لکھا ہے، اس کے بارے میں تبالۂ خیال کریں اور صحیح جواب تک پہنچیں۔

بعد ازاں کسی ایک طالب علم کو بلیک بورڈ پر صحیح جواب لکھنے کو کہیں، تاکہ سب لوگ اپنی کاپی میں لکھ لیں۔

سرگرمی 1 :

نزولِ قرآن کا آغاز مقدس شہر مکہ میں ہوا۔

نزولِ قرآن کا آغاز ماہ رمضان میں ہوا۔

قرآن عربی زبان میں اترا، جو اہل جنت کی زبان ہے۔

قرآن کو لے کر جبریل علیہ السلام اترے۔

آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم ہیں۔

امت اسلامیہ، جو کہ سب سے بہترین امت ہے جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے۔

سرگرمی 2 : نوعیت اور ہدف اجتماعی۔ قرآن کریم کی تلاوت اور اسے سیکھنے کی فضیلت کا بیان۔

ہدف نمبر 3، 4

طلبہ کو گروہوں میں تقسیم کر دیا جائے اور انھیں حلقے بنا کر بیٹھنے کو کہا جائے، جیسا کہ سرگرمی کی تصویر میں دکھایا گیا ہے، ہر حلقہ باہمی تعاون سے سرگرمی کا جواب تیار کرے۔

ہر حلقہ اپنا تیار کردہ جواب سامنے رکھنے کے لیے ایک شخص کی تعیین کرے اور وہ اسے بلیک بورڈ پر لکھ دے۔ جہاں آپس میں اختلاف ہو جائے، وہاں آپ کے سامنے اور آپ کی نگرانی میں تبادلۂ خیال ہو، تاکہ صحیح جواب تک پہنچا اور اسے بلیک بورڈ پر لکھا جا سکے۔

سرگرمی 2 :

فرشتوں کا اترنا اور قرآن کی مجلسوں میں حاضر ہونا۔

قرآن پڑھنے والوں پر سکینت اور رحمت کا اترنا۔

اللہ کے ذریعے قرآن پڑھنے والوں کا ذکر آسمان میں کیا جانا۔

تلاوت کے وقت وضو کر لینا۔ پر سکون اور باوقار انداز میں بیٹھنا۔ خشوع کا مظاہرہ کرنا اور غور و فکر سے کام لینا۔

اندازۂ قدر

اندازۂ قدر کے مقصد سے دیے گئے سوالوں کا جواب دینے کے لیے آپ نیچے فراہم کردہ اقدامات پر عمل کر سکتے ہيں :

طلبہ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیں، تاکہ ایک دوسرے کی مدد سے سوالوں کا جواب دے سکيں۔

ہر گروہ بس ایک ہی سوال کا جواب دے۔

سارے گروہ سوالوں کا آپس میں تبادلہ کر لیں، تاکہ ان کا اندازۂ قدر ہو سکے۔ پھر آپ صحیح جواب دینے والے گروہ کی نشان دہی کریں۔

سوال 1: (×) - - - (×) -

* تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو ہدایت دیں کہ وہ اس سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں درجِ ذیل طریقوں سے عمل میں لائيں :

قرآن پاک کو غور سے سننا، اس میں موجود احکام کو سمجھنا اور آس پاس کے لوگوں کو بھی ایسا کرنے کو کہنا۔

ناتوانی اور پریشانی کے وقت ہی نہیں، بلکہ ہر وقت اور ہر حالت میں اللہ سے لو لگانا۔

دوسرا سبق : سورۂ فاتحہ

سبق کا وقفہ : ایک گھنٹی

نئے الفاظ : (يوم الدين – الصراط المستقيم – الضالين).

وسائل تعلیم

(بلیک بورڈ- تعلیمی کارڈ - تعلیمی بورڈ - آڈیو جس میں

قرآنی آیات ریکارڈ ہوں)۔

تدریس کی حکمت عملیاں : (باہمی تعاون سے سیکھنے پر مبنی حکمت عملی - برین اسٹورمنگ - استنباط پر مبنی حکمت عملی)۔

اقدار و رجحانات :

o اسلامی عقیدے سے متعلق بنیادی باتوں کو مضبوطی سے پکڑے رہنا۔

o اللہ سے محبت، اس کی تعظیم اور اس کی خشیت۔

o سورۂ فاتحہ کی تعظیم۔

سبق کی تمہید :

سبق کی تمہید کے طور پر آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ سورۂ فاتحہ کی آڈیو ریکارڈنگ چلا دیں، دھیان سے سنیں، پھر قرآن کریم کی دیگر سورتوں کے درمیان سورۂ فاتحہ کا مقام و مرتبہ بیان کریں اور اس کے بعد بلیک بورڈ پر عنوان لکھیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ (1)

طلبہ کو یہ آیتیں دیکھنے اور اس کے بعد کسی آڈیو سے انھیں چلاکر ان کو خاموشی سے سننے کو کہیں۔

مرحلہ (2)

ان آیتوں کا اجمالی معنی بیان کریں اور اس کے بعد ان کی تفصلی تشریح کریں۔

کسی ترتیب کا خیال رکھے بغیر تین طلبہ کا انتخاب کريں اور ان میں سے ہر ایک کو ایک ایک آیت لینے اور اس کی تشریح کرنے کہیں۔

تین اور آیتوں کا انتخاب کریں، تاکہ پوری آیتيں شامل ہو جائيں۔

مرحلہ (3)

بہتر یہ ہوگا کہ باہمی تعاون سے سیکھنے پر مبنی حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے طلبہ کو مختلف گروہوں میں بانٹ دیں۔

اس کے بعد ہر گروہ سے باہمی تعاون سے سورۂ فاتحہ کے اندر شامل شرعی اوامر کو نکالنے کو کہیں۔

پھر گروہ میں شامل کسی طالب علم کو اخذ کردہ شرعی اوامر کوبلیک بورڈ پر لکھنے کہیں بعد ازاں ان کی کارکردگی پر تبصرہ کریں۔

نتائج اخذ کرنا:

سورۂ فاتحہ کی تدریس مکمل ہونے کے بعد ہر طالبِ علم کو ایک ایک نتیجہ بیان کرنے کو کہیں اور ان کے جوابات کو بلیک بورڈ پر لکھ کر ان پر تبصرہ کریں۔

سرگرمیاں

بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے سبق سے سیھکی ہوئی باتوں کو عملی طور پر سیکھنے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر 1 نوعیت اور ہدف انفرادی، سورہ فاتحہ کے مرتبہ وعظمت کی وضاحت۔

ہدف نمبر 3

طلبہ سے سرگرمی کی نصابی کتاب کھولنے کو کہیں، پھر برین اسٹورمنگ حکمت عملی کے تحت ان سے جواب سوچنے کو کہیں اور اس کے بعد انھوں نے جو کچھ سوچا ہے، اس کے بارے میں ان سے تبادلۂ خیال کریں۔

سرگرمی نمبر 2 نوعیت اور ہدف انفرادی، سورۂ فاتحہ کے معانی سے واقفیت۔

ہدف نمبر 2

معلم ہر طالبِ علم کو سرگرمی کا جواب دینے کی ہدایت دے گا، طلبہ کے پاس سے گزر کر ان کے جوابات سنے گا، پھر سب سے درست جواب کا انتخاب کرے گا اور اس کے بعد دو طلبہ کا انتخاب کرے گا۔ ان میں سے ایک ساتھیوں کے سامنے آیت کا ذکر کرے گا اور دوسرا اس سے کوئی غلطی سرزد ہونے پر اس کی نشان دہی کرے گا۔

اندازۂ قدر

طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالوں کا جواب درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے دینے کی ہدایت دیں :

ہر طالبِ علم کتاب میں دیے گئے سوالوں کا جواب انفرادی طور پر دے گا۔

ہر طالبِ علم اپنا جواب اپنے ساتھی کو دکھائے گا، تاکہ دونوں ایک دوسرے کے جواب کا جائزہ لے سکیں۔

آپ کچھ ایسے طلبہ کا انتخاب کریں، جو اپنے ساتھی کے جواب میں کے گئے ضبط و ترمیم کو آپ کے سامنے پیش کریں۔

طلبہ کو ایک دوسرے کی پیش کش پر تبصرہ کرنے کا موقع دیں اور اس کے بعد آپ تبصرہ کریں اور ان کو سوالوں کے جوابی نمونے دکھائیں۔

* تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں پر اپنی زندگی اور معاملات میں عمل کرنے کی اہمیت پر توجہ دلائيں، جس کے لیے وہ درج ذیل اقدامات کریں گے :

اللہ تعالی کی حمد وثنا کرنے اور اس سے سیدھا راستہ دکھانے کی دعا کرنے کی حرص۔

نیکی کے کاموں میں مشغول ہوکر اور گناہوں سے دور رہ کر قیامت کے دن کی تیاری کرنے کی ضرورت۔

تیسرا درس : سورۂ کوثر اور سورۂ کافرون

درس کا وقفہ : ایک گھنٹی۔

نئے کلمات : (الكَوْثَرُ - شَانِئَكَ - الأَبْتَرُ - لَكُمْ دِينُكُمْ وَليَ دِينِ).

وسائل تعلیم :

(بلیک بورڈ- کمپیوٹر ڈیوائس - تعلیمی بورڈ - آڈیو میڈیم جس میں

دونوں سورتوں کی ریکارڈنک موجود ہو)۔

تدریس کی حکمت عملیاں :

(تعلیمی قصے - تعلیمی پہیلیاں - بحث و مکالمہ - دریافت وکھوج کے ذریعہ سکیھنے پر مبنی حکمت عملی)

اقدار و رجحانات :

o اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی فضیلت اور آپ کے دفاع کی دنیوی و اخروی فضیلت کا اندازہ۔

o کفر اور اہلِ کفر سے براءت کا اظہار۔

o اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو نہر کوثر عطا ہونے پر ایمان رکھنا۔

o مذہبِ اسلام سے نسبت سرمایۂ افتخار۔

o عبادت میں زیورِ اخلاص سے آراستہ ہونا۔

سبق کی تمہید :

طلبہ کو نیچے دی گئی پہیلی سنائیں اور ان کے جوابات جاننے کے بعد ان کو اس سورہ سے باخبر کریں اور اس کی آیتیں گنوائيں۔ (یہ ایک سورت ہے، جو جنت کی نہروں میں سے ایک نہر کے بارے میں بتا رہی ہے اور قربانی کا ایک حکم بیان کرتی ہے۔) وہ کون سی سورت ہے؟ پھر انھیں سبق کے موضوع کی طرف لے جائيں اور اسے بلیک بورڈ پر لکھیں۔

اسلوب قصہ گوئی کی مدد سے طلبہ کے سامنے سورۂ کافرون کا سبب نزول بیان کریں۔ سبب نزول بیان کرتے وقت قصہ گوئی کی صوتی، زبانی اور اسلوبی مہارتوں کو بھر پور استعمال کریں۔ پھر کسی طالبِ علم کو اپنے ساتھیوں کے سامنے سببِ نزول بیان کرنے کو کہیں، تاکہ واضح ہو جائے کہ طلبہ نے اس واقعے کو اچھے سے سمجھ لیا ہے۔ بعد ازاں بلیک بورڈ پر سورت کا نام لکھ دیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

معلم طلبہ کو شاملِ درس دونوں سورتیں کسی دوسرے آڈیو میڈیم سے سننے کی ہدایت دیں۔

معلم طلبہ میں سے دو کا انتخاب کرے، جو دونوں سورتیں اپنے ساتھیوں کے سامنے اچھی طرح پڑھ سکتے ہوں۔

مرحلہ (2)

معلم شاملِ درس دونوں سورتوں کو الگ الگ پیش کرے۔

طلبہ کے ساتھ ملکر ان کی تشریح اور وضاحت کرے۔

اس دوران نیچے دیے گئے سوالات سے مدد لیں۔ انھیں طلبہ کے سامنے رکھیں اور ان کے بارے میں طلبہ کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں :

سوال : اللہ نے آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو ہی نہر کوثر کیوں عطا کیا؟

سوال : کیا مسلمان پر کافروں کے معبودوں سے براءت کا اظہار واجب ہے؟ واضح کریں۔

سوال : مسلمان جب مذہبِ اسلام کو سرمایۂ افتخار سمجھتا ہے، تو اس کے کیا نتیجے مرتب ہوتے ہيں؟

نتائج :

ہر طالبِ علم کو ایک ایک فائدہ لکھنے کو کہیں، جسے انھوں نے ان دونوں سورتوں کی تفسیر سے سیکھا ہے، اس کے بعد تین طلبہ کا انتخاب کریں، جن میں ہر ایک سبق سے معلوم ہونے والے فوائد بیان کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بتائے کہ اسے وہ اپنی زندگی میں کیسے عملی جامہ پہنائے گا؟

سرگرمیاں

بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے سبق سے سیھکی ہوئی باتوں کو عملی طور پر سیکھنے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر 1 نوعیت اور مقصد اجتماعی، جنت اور اس کی نہروں کا بیان۔

ہدف نمبر 2

دو طلبہ کا انتخاب کریں اور دونوں کو ایک ایک تعلیمی کارڈ دیں، جن میں سے ایک میں سرگرمی کے ضمن میں درج حدیث موجود ہو، تو دوسرے میں ایسے لوگوں کی صفات درج ہوں، جن کو نہر کوثر کا پانی پینے کی سعادت حاصل ہوگی۔ ہر طالب اپنے کارڈ میں لکھی ہوئی باتیں، ساتھیوں کو پڑھ کر سنائے۔

اس کے بعد معلم پہلے طالبِ علم سے نہرِ کوثر کا وصف بیان کرنے کو کہے اور دوسرے سے نہر کوثر کا پانی پینے کی سعادت حاصل کرنے والے لوگوں کی صفات کی تحدید کرنے کو کہے۔

معلم دونوں طلبہ کے جوابوں کی تشریح کرے اور جوابوں کا جائزہ لینے اور تبصرہ کرنے کا موقع دے۔

سرگرمی نمبر 2 نوعیت اور مقصد انفرادی۔ اس بات کی جان کاری لیں کہ کافروں کے ساتھ کیسے پیش آنا ہے، چاہے وہ رشتے دار ہی کیوں نہ ہوں۔

ہدف نمبر 3، 4

کھوج ودریافت کے ذریعہ سکیھنے پر مبنی حکمت عملی کے تحت سرگرمی میں موجود نصوص کو طلبہ کے سامنے رکھیں۔

ان سے ان نصوص سے جڑے ہوئے سوالات کے جوابات کے بارے میں غور و فکر کرنے کو کہیں۔

پھر ان میں سے دو طالبِ علم کا انتخاب کریں اور اپنے جوابات پیش کرنے کہیں اور مناسب مدد بھی کریں۔

سرگرمی نمبر 3 نوعیت اور مقصد انفرادی۔ اعتقادات اور معاملات کے مقام ومرتبہ کے مابین فرق سے واقفیت۔ ہدف نمبر 3

ہر طالبِ علم کو ایک موقف لکھنے کو کہیں، جس کے توسط سے وہ اعتقادات اور معاملات کے مقام ومرتبہ کے مابین فرق کو بیان کر سکے۔

طلبہ کی تحریریں جمع کریں اور رینڈملی کچھ تحریروں کا انتخاب کریں، تاکہ ان کو پڑھا اور ان کے معنی و مفہوم کو سمجھا جا سکے۔

ان میں سے سب سے اچھی تحریر کا انتخاب کریں اور اسے کلاس روم میں ایک بورڈ پر آویزاں کر دیں۔

اندازۂ قدر

آپ طلبہ کو اندازۂ قدر کے سوالوں کا جواب درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے دینے کو کہہ سکتے ہیں :

سوالات کو یکے بعد دیگرے بلیک بورڈ پر لکھنے کی تجویز پیش کی جاتی ہے۔

بہتر ہوگا کہ آپ پاس بیٹھنے والے ہر دو طالب علم کو ساتھ مل کر سوالوں کا جواب دینے کو کہیں۔

کسی ترتیب کا خیال رکھے بغیر کچھ طلبہ کا انتخاب کریں، جو اپنے جوابات باقی طلبہ کے سامنے رکھیں گے۔

ایک تجویز یہ پیش کی جاتی ہے کہ غلطی کرنے والے طلبہ سے سبق کے مشمولات کو پڑھنے اور ان سے صحیح جواب نکالنے کو کہا جائے۔

سوال 1 : - - - .

تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق میں سیکھی ہوئی باتوں پر اپنی زندگی اور معاملات میں عمل کرنے کی اہمیت پر توجہ دلائيں، جس کے لیے وہ درج ذیل اقدام کریں گے :

ہر طالب سبق میں سیکھی ہوئی معلومات کو کسی بھی وسیلے سے، جسے وہ مناسب سمجھے، پھیلانے کی کوشش کرے، تاکہ اس کے اہل خانہ اور دوست احباب ان سے واقف ہو سکیں اور اپنی زندگی میں رہ نمائی حاصل کر سکیں۔

چوتھا درس : سورۂ نصر اور سورۂ مسد

درس کا وقفہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (أَفْوَاجًا - حَبْلٌ مِنْ مَسَدٍ).

وسائل تعلیم

(بلیک بورڈ- کمپیوٹر ڈیوائس - تعلیمی بورڈ - آڈیو میڈیم جس میں

دونوں سورتوں کی ریکارڈنگ موجود ہو)۔

تدریس کی حکمت عملیاں :

(بحث اور تبادلۂ خیال - قصہ گوئی کا اسلوب - استنباط پر مبنی حکمت عملی)

اقدار و رجحانات :

اسلام اور مسلمانوں کے غلبہ پر خوشی۔

مسلمان کی زندگی میں تسبیح (اللہ کی پاکی بیان کرنے) اور استغفار (اللہ سے بخشش طلب کرنے) کی اہمیت کا اندازہ۔

عبادت میں اخلاص کے زیور سے آراستہ ہونا۔

اللہ تعالی پر ایمان اور نیکی کے کاموں کا جذبہ۔

سبق کی تمہید :

ایک ایسی عورت کی تصویر دکھائیے، جو ایک واضح اور سب کو دکھنے والی لمبی رسی سے بندھا ہوا لکڑیوں کا گٹھر اٹھائی ہوئی ہو، پھر طلبہ کو بتائيں کہ اس طرح کی ایک عورت کا قصہ قرآن کی ایک سورت میں بیان ہوا ہے، لہذا اس سورت کا نام کون بتا سکتا ہے؟ پھر وہ قصہ کون سنا سکتا ہے؟

بعد ازاں طلبہ کو بتائيں کہ ان سب باتوں کا جواب ہم اس سورت کی تفسیر سے جانیں گے۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

معلم طلبہ کو کسی آڈیو میڈیم کے توسط سے شاملِ درس دونوں سورتیں سننے کی ہدایت دے گا۔

دو طلبہ کا انتخاب کرے گا، جو دونوں سورتیں اپنے ساتھیوں کے سامنے اچھی طرح پڑھ سکیں۔

مرحلہ نمبر (2)

معلم کمپیوٹر کی مدد لے گا اور ہر سورہ کا علاحدہ علاحدہ درس پیش کرے گا۔

طلبہ کے ساتھ مل کر اس کی تشریح اور توضیح کرے گا۔

اس دوران درج ذیل سوالوں سے مدد لے گا۔ ان کو طلبہ کے سامنے رکھے گا اور ان کے بارے میں ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کرے گا۔

سوال : لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج کیوں داخل ہوئے؟

سوال : ابو لہب کے بارے میں آپ کیا جانتے ہيں؟

سوال : سورۂ نصر اور سورۂ مسد سے حاصل ہونے والے اہم فوائد کیا ہيں؟

استنباط:

دو طلبہ کا انتخاب کریں اور دونوں سے کہیں کہ اس سبق کے فوائد پیش کریں اور بتائيں کہ انھیں وہ اپنی زندگی میں کسے ڈھالیں گے؟ باقی طلبہ دھیان سے سنیں گے اور جائزہ لیں گے۔

سرگرمیاں

بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے سبق سے سیھکی ہوئی باتوں کو عملی طور پر سیکھنے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر 1 نوعیت اور ہدف اجتماعی، استغفار کی فضیلت اور اہمیت بیان کرنا۔

ہدف نمبر 3

آپ ہر دو طالب علموں کو آپسی تعاون سے پہلی سرگرمی کا جواب دینے کو کہہ سکتے ہیں۔

ہر گروہ کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ اپنی کھوجی صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے یہ معلوم کریں کہ سورۂ نصر سے یہ اندازہ کیسے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک مسلمان صرف گناہ سرزد ہونے پر ہی نہیں، بلکہ تمام حالات میں اللہ تعالی سے بخشش طلب کرتا ہے۔

ہر گروہ کا جواب جانیں۔ ہر گروہ کو موقع دیں کہ وہ دوسرے گروہوں کے پیش کردہ جوابات پر تبصرہ کر سکے اور بتا سکے کہ وہ اس سے کتنا متفق ہے اور کتنا اختلاف رکھتا ہے۔

طلبہ کو مناسب آرا فراہم کریں۔

سرگرمی نمبر 2 نوعیت اور ہدف انفرادی۔ اسلام میں عدل و انصاف کی اہمیت سے آگاہی۔

ہدف نمبر 3، 4

ہر طالبِ علم کو اس بات کا مکلف بنائیں کہ وہ اپنے دستیاب وسائل، جیسے امامِ مسجد سے دریافت کرنا وغیرہ، کے ذریعے اسلام میں عدل و انصاف کی وہ قدر و قیمت معلوم کریں، جو اس حدیث میں بیان ہوئی ہے، اور جو معلوم ہو اسے ایک خارجی کارڈ میں لکھے۔

سبھی کارڈوں کو جمع کریں، طلبہ کے بیانوں کا جائزہ لیں اور ان کی مناسب ہمت افزائی کریں۔

اندازۂ قدر

آپ طلبہ کو اندازۂ قدر کے سوالوں کا جواب درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے دینے کو کہہ سکتے ہیں :

سوالات کو یکے بعد دیگرے بلیک بورڈ پر لکھنے کی تجویز پیش کی جاتی ہے۔

بہتر ہوگا کہ آپ پاس بیٹھنے والے ہر دو طالب علم کو ساتھ مل کر سوالوں کا جواب دینے کو کہیں۔

کسی ترتیب کا خیال رکھے بغیر بعض طلبہ کا انتخاب کریں گے، جو باقی طلبہ کے سامنے اپنے جوابات رکھیں گے۔

ایک تجویز یہ پیش کی جاتی ہے کہ غلطی کرنے والے طلبہ سے سبق کے مشمولات کو پڑھنے اور ان سے صحیح جواب نکالنے کو کہا جائے۔

سوال 1 : - - - .

* تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کی توجہ سبق میں سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں اتارنے کی اہمیت پر مبذول کرائيں اور اس کے لیے درج ذیل طریقۂ کار پر عمل کریں :

طلبہ کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ اللہ کی پاکی بیان کرنے اور اس سے مغفرت طلب کرنے کو اپنا معمول بنا لیں، ان دونوں چیزوں کو عام کرنے کی کوشش کریں اور آس پاس کے لوگوں کو اس کی ترغیب دیں۔

پانچواں درس : سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس کی تفسیر

درس کا وقفہ : دو گھنٹیاں

نئے کلمات : (الصَّمَدُ – كُفُوًا – الفَلَقِ – غَاسِقٍ – وَقَبَ – النَّفَّاثَاتِ –حاسدٍ – الوَسْوَاسِ – الخَنَّاسِ - الجِنَّة).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - کمپیوٹر ڈیوا‎ئس- کچھ تعلیمی بورڈ - آڈیو میڈیم جس میں سورتیں ریکارڈ ہوں)۔

تدریس کی حکمت عملیاں :

(برین اسٹورمنگ پر مبنى حکمت عملی- استنباط پر مبنی حکمت عملی - قصہ گوئی پر مبنی حکمت عملی - باہمی تعاون سے سیکھنىے پر مبنی حکمت عملی)

اقدار و رجحانات :

o اس بات پر ایمان کہ اللہ ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اس کی نہ بیوی ہے اور نہ اولاد۔

o اس بات کی کوشش کہ اللہ سے لو لگائی جائے۔

o اللہ سے مضبوط رشتہ استوار کرنا، جو تنہا رب، مالک اور معبود ہے۔

o شیاطین جن و انس سے بچنا۔

o سحر و حسد کی حقیقت اور ان کے وجود پر یقین رکھنا۔

اللہ تعالی کے ذکر کے ذریعہ اپنی حفاظتى تدبیر اختیار کرنا، کیوں کہ اللہ کا ذکر حسد اور شیطان سے محفوظ رکھتا ہے۔

سبق کی تمہید :

طلبہ کے سامنے درج ذیل صورت حال رکھیں : (یوسف نے اپنے والد سے کہا کہ وہ ہمیشہ نیند میں ڈراؤنے خواب دیکھتا ہے۔ لہذا اس کے والد نے اسے طہارت کے ساتھ اور سورۂ فلق اور سورۂ ناس پڑھ کر سونے کی وصیت کی۔ چنانچہ یوسف نے دل میں سوچا کہ ان دونوں سورتوں کی کیا فضیلت ہے اور انھیں دونوں سورتوں کو کیوں پڑھا جائے؟) بعد ازاں بتائیں طلبہ کو بتائیں کہ اس کا جواب انھیں دورانِ سبق ملے گا۔ عنوان اور آیتوں کی تعداد بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

طلبہ کو آیتوں کی خاموش خواندگی کا حکم دیں، تاکہ ان کے اندر شامل افکار سے رو بہ رو ہو جائيں۔ بعد ازاں ہر طالب علم، آیتوں سے جو کچھ سیکھنا چاہتا ہے، اس کے تعلق سے کچھ سوالات رکھے۔

طلبہ کے سامنے آیتوں کی بلند خواندگی کریں اور کچھ طلبہ کو اپنے ساتھیوں کے سامنے پڑھنے کو کہيں۔

مشکل الفاظ کے معانی کی توضیح اور تبادلۂ خیال کریں۔

مرحلہ نمبر (2)

معلم کمپیوٹر ڈیوائس کی مدد سے ہر سورہ کو الگ الگ پیش کرے اور برین اسٹورمنگ حکمت عملی کا استعمال کرکے طلبہ کے ساتھ مل کر اس کی تشریح و توضیح کرے۔

بعد ازاں معلم کچھ طلبہ کا انتخاب کرے، جو نتائج کو پیش کریں۔

مرحلہ نمبر (3)

استنباطی حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے طلبہ سے اس بات کی کچھ مثالیں پیش کرنے کو کہيں کہ اللہ تعالی بندوں کی حفاظت کیسے کرتا ہے؟

ان میں سے کچھ مثالوں کو منتخب کر کے ان کو بلیک بورڈ پر لکھیں۔ ساتھ ہی اللہ سے لو لگانے کے معنی کو گہرائی عطا کرنے میں سورہ فلق اور سورہ ناس کے اثر کو مستنبط کریں اور اس سلسلے میں ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں۔

ان سورتوں کی آیتوں اور ان کے سبب نزول کے درمیان ربط معلوم کرنے پر توجہ دلائیں۔

استفاده:

آپ دو طلبہ کا انتخاب کر سکتے ہيں، تاکہ ان میں سے ہر ایک سبق سے اپنے اخذ کردہ معلومات کو پیش کرے اور بتائيں کہ ان کو اپنی زندگی میں کیسے منطبق کریں گے؟ باقی طلبہ ان کی باتوں کو دھیان سے سنیں گے اور جائزہ لیں گے۔

سرگرمیاں :

بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر سیکھنے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر 1 نوعیت اور ہدف انفرادی۔ سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس کو پابندی کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت سے متعارف ہونا۔

ہدف نمبر 4

ہر طالبِ علم سے الگ الگ کاغذ پر درجِ ذیل سرگرمی کا انفرادی طور پر جواب دینے کو کہیں۔

انھیں اتنا وقت دیں جو جواب دینے کے لیے کافی ہو اور جواب پورا ہونے کے بعد ان کے ساتھ زبانی چرچا کریں۔

ایک کے بعد ایک طالب علم کا انتخاب کریں، تاکہ ساتھیوں کے سامنے اپنا جواب رکھے اور آپ اس کی پیش کش کا جائزہ لیں۔

سرگرمی نمبر 2 نوعیت اور ہدف اجتماعی۔ جادو اور اس کے نقصانات سے تحفظ کے طریقے سے واقفیت۔

ہدف نمبر 3

طلبہ سے گروہوں میں کام کرکے مندرجہ ذیل سوالات کا جواب عملی طریقے سے دینے کو کہیں۔

ہر گروہ پڑوسی گروہ کے ساتھ اپنے کردار کا تبادلہ کرے، تاکہ آپ کی نگرانی میں اس کے اندازۂ قدر کا عمل انجام پا سکے۔

اندازۂ قدر

طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے دینے کی ہدایت دیں :

پہلے نیچے دیے گئے سوالوں کو کتابوں سے اچھی طرح پڑھا جائے، اس کے بعد طلبہ کو الگ کارڈوں میں ان کا جواب دینے کو کہا جائے، بعد ازاں ہر طالبِ علم اپنے ساتھی کے ساتھ اپنے کارڈ کا تبادلہ کر لے، تاکہ اس کے اندازۂ قدر کا عمل انجام پا سکے۔

آپ سارے کارڈوں کو جمع کریں اور کسی ترتیب کی رعایت کیے بغیر کچھ کارڈوں کا انتخاب کر لیں، تاکہ طلبہ کے سامنے ان کے اندازۂ قدر کا عمل انجام پا سکے۔

صحیح جوابات اور غلط جوابات کی نشان دہی کریں۔

کارڈ والے طالب اور اس کی تصحیح کرنے والے طالبِ علم کا نام بتائيں۔

سوال 1 : - - - - - .

* تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں پر اپنی زندگی اور معاملات میں عمل کرنے کی اہمیت پر توجہ دلائيں، جس کے لیے وہ درج ذیل اقدامات کریں گے :

سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس کو صبح، شام، فرض نمازوں کے بعد اور سونے سے پہلے پابندی سے پڑھنا۔

مشکل اور پریشانی کے وقت ہی نہیں، بلکہ ہر وقت اور ہمیشہ اللہ کی پناہ میں رہنا چاہیے۔

اکائی : ایمان اور تزکیہ

پہلا درس : ایمان اور اس کی اہمیت

دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (الإسلام – الإيمان – الإحسان).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ- کمپیوٹر - تعلیمی بورڈ - تعلیمی کارڈ)

تدریس کی حکمت عملیاں : (باہمی تعاون سے سیکھنے پر مبنی حکمت عملی - برین وارمنگ اسٹورمنگ - خود سوالی پر مبنی حکمت عملی)۔

اقدار و رجحانات :

o دین اسلام کے مکمل ہونے پر فخر۔

o دونوں گواہیوں کی زبان سے ادائیگی کے ذریعے دل کے اعتقاد کا اظہار۔

o اس بات کا یقین کہ اسلامی دلائل و براہین کے علم کی کثرت سے دل میں ایمان زیادہ ہوتا ہے۔

o ایمان اور عملِ صالح کے درمیان مضبوط رشتے کا احساس۔

سبق کی تمہید :

میرے معلم بھائی! طلبہ کے سامنے درج ذیل صورت حال رکھیں : (محمد نے اپنے استاد سے اہل جنت کو حاصل نعمتوں میں تفاوت کا سبب پوچھا، تو معلم نے کہا : لوگ اپنے ایمان، اعمال اور مراتب دین کی تکمیل کے مطابق متفاوت ہوں گے۔ لہذا محمد نے پوچھا : دین کے مراتب کیا ہیں؟) پھر اس کے جواب کے بارے میں ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں، اس کے بعد بتائیں کہ اس سوال کا جواب دوران سبق ملے گا۔ بعد ازاں بلیک بورڈ پر عنوان لکھ دیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

سبق کے بنیادی عناصر کی توضیح و تشریح کے لیے انھیں بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔

اس کے بعد طلبہ کو مختلف گروہوں میں بانٹ دیں اور برین اسٹورمنگ حکمت عملی کے تحت ہر گروہ کو اسلام، ایمان اور احسان کے مفہوم کی تحدید کرنے کو کہیں۔

ہر گروہ جمع کردہ معلومات بلیک بورڈپ ر لکھ دے، تاکہ موازنہ ہو سکے۔ بعد ازاں آپ صحیح تعریف کی جانب رہ نمائی کریں۔

مرحلہ نمبر (2)

ہر گروہ باہمی تعاون سے سیکھنے پر مبنی حمکت عملی کا استعمال کرتے ہوئے پتہ کرے کہ ایمان کا عمل سے کیا ربط ہے؟

ہر گروہ اپنی جانب سے ایک طالبِ علم پیش کرے، جو اس کی کاوشوں کو سامنے رکھے اور اس کے اندازۂ قدر کے کام انجام پا سکے۔

پیش قدمی نمبر (3)

آپ خود سوالی پر مبنی حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے ہر گروہ کو ایک ایک سوال کرنے کو کہیں گے، جس کے جواب کا مقصد ایمان کے ارکان کی وضاحت کرنا ہو۔ پھر ان سوالات پر طلبہ کے ساتھ تبادلۂ خیال کرنے کے بعد ان کو بلیک بورڈ پر لکھ دیں گے۔

فوائد اخذ کرنا:

معلم طالب علم سے سبق کے ایک عنصر کا انتخاب کرنے اور یہ بتانے کو کہے گا کہ اس نے اس عنصر سے کیا فائدہ اخذ کیا ہے۔

معلم کچھ طلبہ کا انتخاب اپنے جوابات پیش کرنے کے لیے کرے گا اور ان کی مناسب مدد بھی کرے گا۔

سرگرمیاں :

بہتر یہ ہوگا کہ سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر سیکھنے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر 1 نوعیت اور ہدف انفرادی۔ دین کے مراتب کے درمیان تمیز۔

ہدف نمبر 3

ہر طالب علم کو انفرادی طور پر نیچے دی گئی سرگرمیوں کا جواب دینے کو کہیں۔

ان کو آپس میں جوابات کا تبادلہ کرنے کا حکم دیں، تاکہ ان کی تصحیح کی جا سکے۔

سرگرمی نمبر 2 نوعیت اور ہدف اجتماعی۔ طلبہ کو نصوص اور ان کے مدلول کے درمیان ربط معلوم کرنے کی مشق کرانا۔

ہدف نمبر 4

معلم طلبہ کے درمیان کچھ کارڈ بانٹ سکتا ہے، جن پر سرگرمی کے ضمن میں وارد نصوص کے دلائل لکھے ہوں۔ پھر ان میں سے تین طلبہ کا انتخاب کرے اور ان میں سے ہر ایک کو نص پر دلالت کرنے والا کارڈ اٹھانے کو کہے۔ غلطی کرنے کی صورت میں اس سے کارڈ لے کر کسی اور کو دے دیا جائے گا۔

سرگرمی نمبر 3 نوعیت اور ہدف انفرادی۔ طلبہ کو نصیحت کرنے کے طریقے کی مشق کرانا۔

ہدف نمبر 5

معلم ہر طالب علم کو ایسے شخص کے نام ایک نصیحت لکھنے کے لئے کہے گا، جو دعوی تو اس بات کا رکھتا ہو کہ اس کا دل ایمان سے آباد ہے، لیکن فرض عبادتیں تک ادا نہ کرتا ہو۔

بعد ازاں طلبہ کو تحریروں کا آپس میں تبادلہ کرنے کو کہے گا، تاکہ ان کے اندازۂ قدر کا کام انجام پا سکے۔

اندازۂ قدر

طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالوں کا جواب درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے دینے کی ہدایت دیں :

طلبہ کو مخلتف گروہوں میں بانٹ دیں اور ہر گروہ میں شامل طلبہ کو ایک دوسرے کی مدد سے سوالوں کا جواب دینے کو کہیں۔

دو دو گروہوں کے جوڑے بنائیں اور انھیں جواب پیش کرنے کو کہیں۔

دونوں گروہوں کے اندازۂ قدر کا کام انجام دیں، بہتر جواب والے گروہ کی تعیین کریں اور اسے مناسب نمبر دیں۔

سب سے زیادہ نمبر حاصل کرنے والے گروہ کی تعیین کریں اور اس میں شامل طلبہ کی ہمت افزائی کے لیے ان کو اپنے ساتھیوں کا لیڈر بناکر غلط جواب دینے والے گروہوں کی غلطیوں کی تصحیح کرنے کا کام سپرد کریں۔

سوال 1 : - - .

سوال 2 : چھ - احسان - دل

* تربیتی اور وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں پر اپنی زندگی اور معاملات میں عمل کرنے کی اہمیت پر توجہ دلائيں، جس کے لیے وہ درج ذیل اقدامات کریں گے :

ایمان اور اس کے ارکان کے بارے میں مختلف مصادر، جیسے کتابوں، سمعى دروس یا الیکٹرانک مصادر وغیرہ کے ذریعے زیادہ وسیع پیمانے پر آگاہی حاصل کرنا۔

اعمال کو ایمان سے جوڑنے کی اہمیت محسوس کرنا اور عمل صالح کی راہ میں آگے بڑھنے کی کوشش کرنا۔

دوسرا سبق : اللہ پر ایمان اور اس کے آثار

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (الفطرة - بَوَائِقَهُ - القهَّار - الكافي - الوكيل - الجوارح).

تعلیمی وسائل :

(کمپیوٹر ڈیوائس - ڈسپلے اسکرین - آڈیو میڈیم جس میں شاملِ درس قرآنی آیات ریکارڈ ہوں - مصحف - بلیک بورڈ - تعلیمی کارڈ)

تدریسی حکمت عملیاں:

(فرضی تصورات قائم کرنے پر مبنی حکمت عملی - ایک دوسرے سے سوال کرنے پر مبنی حکمت عملی - وضاحت پر مبنی حکمت عملی - تلخیص پر مبنی حکمت عملی - رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی - برین اسٹورمنگ)

اقدار و رجحانات :

o فرد اور سماج پر پڑنے والے اللہ پر ایمان کے آثار کا اندازہ۔

o اللہ کے اسما و صفات کی تعظیم۔

o اللہ سے اس کے اسما و صفات کے ذریعے دعا کرنے کی حرص۔

o اللہ کے اسما و صفات کے ذریعے عبادت کرنے کی اہمیت کا احساس۔

o مومنوں کے اخلاق و سلوک سے آراستہ ہونا۔

* سبق کی تمہید :

بلیک بورڈ پر درس کا عنوان لکھیں اور اس کے بعد طلبہ کو بتائيں کہ ایمان کے چھ ارکان ہیں۔ پہلا اور سب سے بڑا رکن اللہ تعالی پر ایمان رکھنا ہے اور یہی ہمارے آج کے سبق کا محور ہے۔ آگے طلبہ سے کہیں کہ ان باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ہر طالبِ علم ان فرعی عناصر کے بارے میں اپنی توقعات پیش کرے، جن کا احاطہ سبق کے مشمولات کر سکتے ہیں۔

* سبق کی پیشکش :

مرحلہ (1)

آپ رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی بروئے کار لا سکتے ہیں۔ ڈسپلے اسکرین کے ذریعے طلبہ کو ایک توضیحی شکل دکھائيں، جو سبق کے مواد میں شامل عمومی عناصر اور خیالات پر مشتمل ہو۔ پھر ہر دو طالب علم کو مختلف سوالات پیش کرنے کی ہدایت دیں کہ وہ ان عناصر کے بارے میں کیا جاننا چاہیں گے, بعد ازاں ان کے سؤالات کو جمع کرکے ان میں سے منفرد سؤالات کو بلیک بورڈ پر لکھ دیں تاکہ ان کے بارے میں اگلے مرحلہ میں چرچا کرسکیں۔

مرحلہ نمبر (2)

طلبہ کے ذریعے پیش کیے گئے سوالات پر ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں، تاکہ سبق کے مختلف عناصر کی توضیح و تشریح ہو سکے۔ سوالات کی شکل و صورت میں مناسب ترمیم بھی کریں اور اپنی طرف سے کچھ نئے سوالات بھی جوڑیں۔ نیچے دیے سوالات سے رہ نمائی حاصل کی جا سکتی ہے اور ان کے بارے میں طلبہ سے گفتگو کی جا سکتی ہے۔ سوالوں کا جواب دیتے وقت جوابات سے جڑی ہوئی قرآنی آیات کو کسی آڈیو میڈیم کے توسط سے سننے پر توجہ دلائيں اور ان میں غور وفکر کرنے اور ان کی تفسیر کرنے کی کوشش کرنے کی ترغیب دلائيں :

سوال : اللہ پر ایمان کے اندر چار چیزیں شامل ہیں، ان کی وضاحت کریں۔

سوال : اللہ کے وجود پر ایمان کی سب سے مضبوط دلیل کیا ہے؟

سوال : مسلمان کے اعمال پر پڑنے والے ایمان کے اثرات بیان کریں۔

سوال : عبادتوں کی ادائيگی پر پڑنے والے ایمان کے اثرات بیان کریں۔

سوال : بندوں کے حقوق کی ادائيگی پر پڑنے والے ایمان کے اثرات بیان کریں۔

مرحلہ نمبر (3)

آپ طلبہ کو برین اسٹورمنگ کے ذریعے اللہ تعالی پر ایمان کے ثمرات کی نشان دہی کرنے کی توجہ دلا سکتے ہیں۔ طلبہ کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں جواب دیں، ان کے ذریعے دیے گئے جوابات کو اندازۂ قدر کے مرحلے سے گزاریں اور ایمان کے صحیح ثمرات اخذ کریں۔ اس ضمن میں وارد شرعی دلائل کی تشریح بھی کریں۔

* فوائد اخذ کرنا:

معلم طلبہ کے سامنے دوبارہ رہ نما نقشے رکھے، جو سبق کے عمومی اور فرعی عناصر مربوط انداز میں بیان کرتے ہوں۔ اس کے بعد ہر طالبِ علم کو کسی ایک عنصر کا انتخاب کر کے اس کے بارے میں جو کچھ سمجھا ہے اس کا خلاصہ پیش کرنے کا حکم دے۔ جو طالبِ علم ان عناصر کی باریکیوں کو نہ سمجھ پائے، اسے کتاب میں دیے گئے عنصر کو پڑھنے اور خلاصہ پیش کرنے کو کہے۔

* سرگرمیاں :

بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر سیکھنے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر 1 نوعیت اور ہدف اجتماعی۔ اللہ پر ایمان کے آثار اور اس کے ثمرات۔

ہدف نمبر 2

آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ سرگرمی میں وارد شرعی دلیلوں میں سے ہر دلیل کو ایک ایک کارڈ پر لکھ دیں، پھر ان کو کسی ترتیب کا لحاظ کئے بغیر طلبہ میں تقسیم کر دیں، بعد ازاں ایک ایک دلیل اس طرح پڑھتے جائيں کہ جس دلیل کا کارڈ جس طالبِ علم کے پاس ہو، وہ اس میں بیان شدہ ایمان کے آثار اور ثمرات کی وضاحت کرتے جائے۔

طلبہ کے ذریعے دیے گئے جوابات کو دیکھیں، ان کا موازنہ کریں اور ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کرکے صحیح آثار و ثمرات کی نشان دہی کریں، تاکہ ان کو کتابوں میں مناسب جگہوں پر لکھ لیں۔

سرگرمی نمبر 2 نوعیت اور ہدف انفرادی۔ اللہ پر ایمان اور عقیدے کو مضبوط کرنے کی حرص۔

ہدف نمبر 4

آپ ہر طالبِ علم کو مندرجہ ذیل سرگرمیاں انفرادی طور پر کرنے کو کہہ سکتے ہیں۔

کچھ طلبہ کا انتخاب کرکے ان کو جوابات پیش کرنے کے لئے کہیں اور نمایاں جواب دینے والوں کی تعریف کریں۔

ہر طالبِ علم سے کہیں کہ وہ دوسرے طلبہ کے جوابات کی روشنی میں اپنا جواب مکمل کریں۔

* اندازۂ قدر :

طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالوں کا جواب درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے دینے کی ہدایت دیں :

تجویز پیش کی جاتی ہے کہ آپ ہر طالبِ علم کو کتاب میں درج سوالوں کا جواب انفرادی طور پر دینے کو کہیں۔

طلبہ کے سامنے سوالات رکھ دیں، ان کے ساتھ سوالات کے بارے میں تبادلۂ خیال کریں، ان کے جوابات دیکھیں اور ہر سوال پر مناسب نمبر دیں۔

ہر طالب کو اپنا جواب درست کرنے اور خود کو مناسب نمبر دینے کا مکلف بنائيں۔

کچھ طلبہ کا انتخاب کریں کہ وہ ان سے سرزد ہونے والی غلطیوں کی نشان دہی کریں اور درست کرنے کا طریقہ بتائيں۔

سب سے زیادہ نمبرات حاصل کرنے والے طالبِ علم کی نشان دہی کریں اور اس کی مناسب حوصلہ افزائی کریں۔

سوال 1 : (اللہ تعالی کا وجود) - (ایمان کا عمل سے جڑا ہونا) - (ہم اللہ تعالی کو اس کے ناموں کے ذریعے پکاریں)۔

سوال 2 :

بندہ اس وقت تک مسلمان نہيں ہوتا، جب تک اللہ کے وجود، اس کے رب اور معبود ہونے اور اسما و صفات پر ایمان نہ لائے۔

ایمان ایک قلبی عمل ہے، جس کا اثر جوارح پر ہونا ضروری ہے۔

* تربیتی اور وجدانی تنبیہات :

معلم طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں پر اپنی زندگی اور معاملات میں عمل کرنے کی اہمیت پر توجہ دلائے، جس کے لیے وہ درج ذیل اقدامات کریں گے :

اللہ کے اسما و صفات کے ذریعے اس کی خوب عبادت کرنا اور اہلِ خانہ اور دوستوں کو اس کی ترغیب دینا۔ ہر طالبِ علم ایک فولڈر لکھ کر تیار کرے، جس میں اللہ کے اسما و صفات پر مشتمل کچھ قرآنی آیات اور ان اسما کے ذریعے اللہ سے دعا کرنے کی کیفیت درج ہو۔

ہر طالبِ علم کو اس بات کی ترغیب دینا کہ وہ محبت، خوف، امید اور توکل کے ساتھ دل کو اللہ سے جوڑے رکھے اور اپنی زبان کو اللہ کے ذکر اور اس کی کتاب کی تلاوت میں مشغول رکھے اور اعضائے جسم کو نیکی کے کاموں میں منہمک کرے اور گناہوں سے بچائے۔ یہ ساری باتيں زندگی میں ہر آن اور ہر لمحہ نظر آنی چاہ‏یے۔

تیسرا سبق : فرشتوں پر ایمان اور اس کے آثار

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (الملائكة - مكين - معصومون).

تعلیمی وسائل :

(تعلیمی بورڈ - کمپیوٹر ڈیوائس - ڈسپلے اسکرین -بلیک بورڈ - ایک آڈیو میڈیم جس میں درس کے مشمولات سے متعلق وارد دلائل ریکارڈ ہوں)۔

سبق کی حکمت عملیاں :

(تناقضات پر مبنی حکمت عملی - ذہنی تصور پر مبنی حکمت عملی - استنباط پر مبنی حکمت عملی - فکر وسوچ پر مبنی نقشے "بلبلا نقشہ- Bubble Map" پر مبنی حکمت عملی - برین اسٹور منگ)۔

اقدار و رجحانات :

o فرشتوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اللہ کے احکام کی تعمیل کرنا۔

o اللہ کی حرام کی ہوئی چيزوں سے، اولا اللہ کے ڈر سے اور اس کے بعد فرشتوں سے حیا کی وجہ سے دور رہنا۔

o عمل پر فخر و غرور کرنے سے بچنا۔

* سبق کی تمہید :

طلبہ کے سامنے درج ذیل صورت حال رکھیں : (جب ہم کسی ملحد کے ساتھ فرشتوں پر ایمان کے بارے میں بات کرتے ہيں، تو وہ یہ کہہ کر ٹھکرا دیتا ہے کہ انھیں دیکھ نہيں سکتا، حالاں کہ وہ بہت سی ایسی چیزوں پر ایمان رکھتا ہے، جنھیں دیکھ نہیں سکتا۔)

اس کے بعد طلبہ سے کسی ایسی چیز کا نام لینے کہیں، جس پر نہ دیکھنے کے باوجود وہ ایمان رکھتے ہیں، تاکہ اس کے ذریعے ان کی تردید کی جا سکے۔ طلبہ کے جوابات سنیں، صحیح جواب کی تائید کریں اور اسے طلبہ کو سبق اور اس کے مشمولات سے متعارف کرانے کے لیے نقطۂ آغاز کے طور پر استعمال کریں۔

مثال کے طور پر ملحد زمینی کشش ثقل اور برقی رو کو دیکھے بغیر ان پر یقین رکھتا ہے، اسی طرح جن سائنسی حقائق کا تعین سائنس دانوں نے کیا ہے ان کے دلائل کا بذات خود لیبارٹری میں جانچ کئے بغیر وہ ان پر بھی یقین رکھتا ہے۔

* سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ تصور ذہنی حکمت عملی کے تحت طلبہ کو دو منٹ کے لیے آنکھیں بند کر لینے کو کہیں اور آپ فرشتوں کے اوصاف اور ان سے کیا مراد ہے، بیان کرتے رہیں، اس دوران وہ آڈیو میڈیم کے توسط سے فرشتوں کے اوصاف سے متعلق شرعی دلائل اور ان کی تشریح و توضیح سنتے رہيں، اس کے بعد ان میں سے دو طلبہ کا انتخاب کریں، جو اللہ تعالی کی قدرت اور فرشتوں کی عظمت کے بارے میں جو کچھ محسوس کیا ہے، اسے اپنے اسلوب میں بیان کریں۔

مرحلہ نمبر (2)

آپ ایسا کر سکتے ہيں کہ طلبہ کو نیچے دی گئی آیت اور حدیث سننے کی توجہ دلائيں اور دونوں نصوص کے فہم کی روشنی میں ان کے ساتھ فرشتوں پر ایمان کے حکم کے استنباط کے بارے میں تبادلۂ خیال کریں۔

اللہ تعالٰی فرماتا ہے : "رسول ایمان لایا اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے اتری اور مومن بھی ایمان ﻻئے، یہ سب اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان ﻻئے، اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے۔" (سورۂ بقرہ: 285)۔

اسی طرح جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے ایمان کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے کہا : "کہ تو ایمان لائے اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر اور آخرت کے دن پر، اور تو ایمان لائے اچھی اوربُری تقدیر پر۔" (صحیح مسلم : 102)۔

مرحلہ نمبر (3)

فکر وسوچ والے نقشوں پر مبنی حکمت عملی اور خاص طور سے (Bubble Map) کی مدد سے طلبہ کے سامنے فرشتوں کے اعمال رکھیں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ ڈسپلے اسکرین کے ذریعے ایک مرکزی دائرہ دکھایا جائے، جس کے اردگرد متعدد دائرے ہوں، جو فرشتوں کے اعمال دکھاتے ہوں اور ہر عمل کے ساتھ اس سے جڑی ہوئی شرعی دلیل پیش کی گئی ہو۔ طلبہ کے سامنے ان اعمال اور دلائل کی تفسیر اور توضیح کی جائے۔ طلبہ کو اس بات کی اجازت بھی دی جائے کہ وہ جو کچھ جاننا چاہتے ہیں، اس کے بارے میں سوال کر سکیں۔

مرحلہ نمبر (4)

برین اسٹورمنگ حکمت عملی کے تحت طلبہ سے فرشتوں پر ایمان کے اثرات کی نشان دہی کرنے کو کہیں۔ ان کی جانب سے ملنے والے جوابات کے بارے میں ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں اور صحیح جواب تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ اس کے بعد طلبہ سے کہیں کہ ان آثار سے متعلق ان کی کتابوں میں جو کچھ لکھا ہے، اسے دیکھیں اور ان کے ذریعے دیے گئے جوابات سے ان کا موازنہ کریں۔

* نتائج اخذ کرنا:

آپ ایسا کر سکتے ہيں کہ ہر دو طلبہ کے آپسی تعاون سے سبق کے تین مفید اور کار آمد پہلووں کو بیان کریں، ہر فریق کے جوابات پر نظر ڈالیں، ان پر نوٹ چڑھائیں اور ان کے اندر پائی جانے والی مطابقت اور اختلاف کی نشان دہی کریں۔

٭ سرگرمیاں :

بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر سیکھنے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر 1 نوعیت اور ہدف انفرادی / جوڑے پر مبنی۔ فرشتوں کے اعمال کی وضاحت۔

ہدف نمبر 4

آپ ایسا کر سکتے ہيں کہ ایک طالبِ علم کا انتخاب سرگرمی میں وارد آیت کو ساتھیوں کے سامنے پڑھنے کے لیے کریں، اس کے معنی اور رہ نمائیوں کے بارے میں ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں اور ہر طالب آیت سے اخذ کردہ معلومات کے مطابق فرشتوں کا عمل لکھے۔

ہر طالبِ علم کو اپنا جواب اپنے ساتھی کے ساتھ شیئر کرنے کو کہیں، تاکہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کے جواب کا جائزہ لے سکے۔ طلبہ کی کار کردگیوں کو دیکھتے رہيں اور ان کی رہ نمائی صحیح جواب کی جانب کریں۔

سرگرمی نمبر 2 نوعیت اور ہدف اجتماعی۔ طالب علم کے اندر فرشتوں کى عزت کا شعور پیدا ہونا۔

ہدف نمبر 4

آپ ایسا کر سکتے ہيں کہ طلبہ کو مختلف گروہوں میں بانٹ دیں، ہر گروہ کو دوسری سرگرمی کے جواب کی بحث میں حصہ لینے کی ہدایت دیں اور کہيں کہ ہر گروہ اپنا جواب ایک خارجی کارڈ میں لکھے۔

سبھی گروہوں کے جوابات جمع کرنے اور ان کا جائزہ لینے کے بعد اس گروہ کی نشان دہی کریں، جو طالبِ علم کے لیے فرشتوں کی عزت اور تکریم کے حوالے سے گروہ میں شامل افراد کے جذبات کا اظہار اچھے اور پر اثر انداز میں کرنے کام یاب رہا ہو۔ بعد ازاں ایک طالب علم کا انتخاب کریں، جو لکھی ہوئی باتیں ساتھیوں کو پڑھ کر سنائے۔

سرگرمی نمبر 3 نوعیت اور ہدف انفرادی / جوڑے پر مبنی۔ فرشتوں کے بارے میں ذمے داری کی وضاحت۔

ہدف نمبر 6

آپ ایسا کر سکتے ہيں کہ ایک طالبِ علم کا انتخاب تیسری سرگرمی کے ضمن میں وارد حدیث کو ساتھیوں کے سامنے پڑھنے کے لیے کریں، اس کے معنی اور رہ نمائیوں کے بارے میں ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں اور ہر طالبِ علم حدیث سے حاصل علم و معرفت کی بنیاد پر فرشتوں کے تئیں اپنی عملی ذمے داری لکھے۔

بعد ازاں ہر طالبِ علم اپنا جواب اپنے کسی ساتھی کے ساتھ شیئر کرے، تاکہ دونوں ایک دوسرے کے جواب کا جائزہ لے سکیں۔ آپ طلبہ کی کارکردگیوں پر نظر رکھیں اور صحیح جواب کی جانب ان کی رہ نمائی کریں۔

پیاز، لہسن، گندنا اور دیگر بدبودار چيزوں کو مسجد میں داخل ہوتے وقت کھانے سے گریز کرنا، تاکہ فرشتوں کو اذیت نہ ہو۔

٭ اندازۂ قدر :

طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالوں کا جواب درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے دینے کی ہدایت دے سکتے ہيں :

اس بات کی تجویز پیش کی جاتی ہے کہ آپ پہلے اور دوسرے سوال کو طلبہ کے سامنے رکھیں اور کچھ طلبہ کو جواب پیش کرنے اور باقی طلبہ کو ان کا جائزہ لینے اور سررذ ہونے والی غلطیوں کی تصحیح کرنے کے لئے کہيں۔

سوال 1 : - - - .

ایسا ہو سکتا ہے کہ آپ ہر طالبِ علم کو تیسرے سوال کا جواب الگ الگ دینے اور کسی ایک طالب کو ساتھیوں کے سامنے اپنا جواب پیش کرنے کو کہيں، جب کہ باقی طلبہ جواب کا جائزہ لیں گے اور بتائيں گے کہ وہ اس سے کتنا اتفاق رکھتے ہيں۔

* تربیتی و وجدانی تنبیہات :

معلم طلبہ کو ان ہدایات اور مفید باتوں کو اپنی زندگیوں اور معاملات میں لاگو کرنے کی ترغیب دے، جو انہوں نے سبق سے سیکھے ہیں۔ خاص طور پر فرشتوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے زیادہ سے زیادہ اللہ کی عبادت کریں اور عمل کے غرور اور تکبر میں مبتلا ہونے سے بچیں۔

اسی طرح اللہ تعالی سے ڈرتے ہوئے اور ہمیشہ انسان کے ساتھ رہنے والے فرشتوں سے حیا کرتے ہوئے اللہ کی حرام کی ہوئی چيزوں سے دور رہیں۔ اسی طرح طلبہ کو اس بات پر ابھاریں کہ وہ اپنے آس پاس کے لوگوں کو ان مفید اور کار آمد باتوں سے باخبر کرنے کی کوشش کریں۔

چوتھا سبق : کتابوں اور رسولوں پر ایمان اور اس کے آثار

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (صحف إبراهيم - الزبور - التَّصديق - عصمهم الله - خطيئة).

تعلیمی وسائل :

(آڈیو میڈیم - تعلیمی بورڈ - بلیک بورڈ - تعلیمی کارڈ - مصحف)۔

سبق کی حکمت عملیاں:

(تمہیدی مواد کی پیش کش پر مبنی حکمت عملی - خود سوالی پر مبنی حکمت عملی - باہمی تعاون سے سیکھنے پرمبنی حکمت عملی)۔

اقدار و رجحانات :

o رسولوں سے محبت، ان کی تعظیم اور ان کی تعریف۔

o انبیا علیہم السلام کے اخلاق اور ان کی صفات سے آراستہ ہونا اور ان کی پیروی کرنا۔

o کتابیں اتارى جانے اور رسول بھیجے جانے کی نعمت کا احساس۔

o انبیا علیہم السلام کی صفات اور ان کے اعمال کی اقتدا۔

* سبق کی تمہید :

معلم طلبہ کو کسی آڈیو میڈیم کے توسط سے درج ذیل آیت سننے کی ہدایت دے گا۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "جس نے آپ پر حق کے ساتھ اس کتاب کو نازل فرمایا ہے، جو اپنے سے پہلے کی تصدیق کرنے والی ہے۔" (سورۂ آل عمران : 3)۔

اس کے بعد طلبہ سے پوچھے گا کہ تورات اور انجیل کن نبیوں پر اتاری گئیں تھیں؟ بعد ازاں واضح کرے گا کہ کتابوں اور رسولوں پر ایمان رکھنا ارکان ایمان کے دو بنیادی رکن ہیں۔ ان دونوں کے بغیر اسلام درست نہیں ہوگا۔

اس کے بعد ان سے یہ دو سوالات کرے گا۔ رسولوں اور کتابوں پر ایمان کو ہم کیسے عملی جامہ پہنائيں؟ اس کے آثار کیا ہیں؟

دونوں سوالوں کا جواب سبق کی تشریح مکمل ہونے پر دینے کی ہدایت دے گا۔

* سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ طلبہ کو سبق کے مشمولات دیکھنے اور اس کے عمومی اور فرعی عناصر کو تیزی سے چن لینے کو کہیں، پھر ان میں سے ہر دو طالب علم کو باہمی تعاون سے درس کے عناصر اور افکار سے ممکنہ ربط رکھنے والے سوالات پیش کرنے کی ہدایت دیں، جن کے جوابات کے توسط سے متعلقہ پوشیدہ باتیں کھل کر سامنے آ جائيں۔ آپ انھیں سوالات پیش کرنے کے لیے درسی کتاب میں موجود سبق کے اہداف و مقاصد سے بھی رہ نمائی حاصل کرنے کے لئے کہہ سکتے ہیں۔ ہر فریق کے سوالات دیکھیں اور ان کو بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔

مرحلہ نمبر (2)

طلبہ کے ذریعے پیش کردہ سوالات کو لکھنے کا کام پورا ہونے کے بعد معلم ان پر بحث کرے اور ان کے اندر پائے جانے والی کمی کو پورا کرنے کے لیے کچھ اضافی سوالات جوڑ دے۔ معلم سوالات پیش کرتے وقت طلبہ کو کچھ جوابات سے جڑے ہوئے شرعی دلائل سے متعارف کرا سکتا ہے، تاکہ ان کی تفسیر اور ان سے جڑی ہوئی رہ نمائیوں کی تحدید ہو جائے۔ پیش کردہ سوالات میں سے کچھ سوالات اس طرح ہو سکتے ہیں :

سوال : کتابوں پر ایمان کے کیا معنی ہیں؟

سوال : کیا اللہ کی اتاری ہوئی تمام کتابوں پر ایمان لانا واجب ہے؟

سوال : قرآن کریم اللہ کی سب سے عظیم اور آخری کتاب ہے۔ اس کی وضاحت کریں۔

سوال : رسولوں پر ایمان سے کیا مراد ہے؟

سوال : کیا اجمالی طور پر تمام نبیوں پر ایمان رکھنا واجب ہے؟ ہمیں ان کے نام اور تعداد معلوم نہ ہوں تب بھی؟

سوال : قرآن کریم میں کتنے نبیوں کے نام آئے ہیں؟

مرحلہ نمبر (3)

آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ باہمی تعاون سیکھنے پر مبنی حکمت عملی اختیار کریں اور ہر فریق کو ایک دوسرے کی مدد سے کتابوں اور رسولوں پر ایمان کے نتیجے میں سامنے آنے والے آثار کو بڑی تعداد میں سامنے لانے کی ذمے داری دیں۔ اس عمل کو انجام دیتے وقت آپ ہر گروہ کے پاس سے گزرتے رہيں، تاکہ ان کے تعاون اور جواب کی باریکیوں کی نشان دہی کر سکیں۔

٭ فائدۃ اخذ کرنا:

طلبہ ان دو سوالات کا مراجعہ کریں، جو سبق کی تمہید میں پیش کیے گئے تھے۔ ہر طالبِ علم انفرادی طور پر دونوں سوالات کا جواب تیار کرے۔ اس کے بعد کچھ طلبہ کا انتخاب کریں، جو اپنے جوابات پیش کریں اور ان کے اندازۂ قدر کا عمل میں انجام پاتا رہے۔ ساتھ ہی اس بات کی بھی تحدید ہوتی جائے کہ طلبہ نے اس سبق سے کتنا فائدہ اٹھایا ہے۔

* سرگرمیاں :

بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر سیکھنے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر 1 نوعیت اور ہدف انفرادی / جوڑے پر مبنی۔ قرآن کریم میں مذکور انبیاء کے ناموں کی تحدید۔

ہدف نمبر 2

ہر طالب کو مصحف نکالنے، سورۂ انعام کھولنے اور اس کی آیت (83) سے آیت (86) تک پڑھنے کو کہیں، جن کے اندر اٹھارہ نبیوں کا ذکر ہوا ہے۔ آپ دھیان سے دیکھیں کہ طلبہ نے صحیح اسما کی تحدید تک پہنچنے میں کتنی قدرت حاصل کی ہے، پھر کسی ایک طالبِ علم کو ان ناموں کو ساتھیوں کے سامنے پیش کرنے کو کہیں۔

اس کے بعد ہر دو طالب علموں کو ایک دوسرے کی مدد سے دوسرے سات نبیوں کے نام لکھنے کو کہیں، جن کا ذکر قرآنِ کریم میں ہوا ہے۔ بعد ازاں ان ناموں کو بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔ اب ہر فریق صحیح نام لکھنے پر خود کو ایک نمبر دے اور آپ ان کی مناسب ہمت افزائی بھی کریں۔

آدم، ادریس، ہود، شعیب، صالح، ذوالکفل اور محمد علیھم الصلاۃ والسلام۔

سرگرمی نمبر 2 نوعیت اور ہدف انفرادی / اجتماعی۔ انبیا کے صفات اور اعمال کی اقتدا۔

ہدف نمبر 5

آپ ایسا کر سکتے ہيں کہ طلبہ کو دوسری سرگرمی کو اچھی طرح پڑھنے کی توجہ دلائیں اور کسی ترتیب کا خیال رکھے بغیر کچھ طلبہ کا انتخاب کریں، جو ساتھ میں دیے گئے جدول کو پورا کر سکیں۔

طلبہ کے جوابات کے درمیان موازنہ کر کے زیادہ باریک بینی سے دیے گئے جواب کی نشان دہی کریں اور ان کو کتاب میں فراہم کی گئی جگہوں میں ان جوابات کو لکھنے کی ہدایت دیں۔

* اندازۂ قدر

طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالوں کا جواب درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے دینے کی ہدایت دے سکتے ہيں :

طلبہ کو مختلف گروہوں میں بانٹ دیں کہ ہر گروہ کتابوں میں دیے گئے سوالات کا جواب ایک دوسرے کی مدد سے اس طرح دے کہ ہر فرد کسی ایک سوال کا جواب دے اور اس کے ساتھی اس پر نظر رکھیں۔

اس دوران آپ سارے گروہوں کے پاس سے گزرتے رہيں، تاکہ پتہ چل سکے کہ وہ کہاں تک ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہيں اور جواب دینے اور اندازۂ قدر کا عمل انجام دینے کے بارے میں سنجیدہ ہیں۔

سارے گروہوں کے جوابات یک جا کریں، ان کے اندازۂ قدر کا عمل انجام دیں اور ان سے سرزد ہونے والی غلطیوں کی نشان دہی کریں اور ان کو درست کرنے کا طریقہ بتائيں۔

سب سے بہتر جواب دینے والے گروہ کی نشان دہی کریں اور اس میں شامل طلبہ کی مناسب حوصلہ افزائی کریں۔

سوال 1 : - - - .

سوال 2 : قوسین کے درمیان سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

(عقل کی ذہانت) - (نوح اور عیسی) - (ایوب علیہم السلام) - (تحریف سے محفوظ)۔

* تربیتی اور وجدانی تنبیہات :

معلم طلبہ کی حوصلہ افزائی کرے کہ وہ سبق سے سیھکے ہوئے فوائد اور رہ نمائیوں کو بروئے کار لائیں۔ خاص طور سے انبیا علیہم السلام کی تعظیم، تعریف اور اپنی زندگی اور معاملات میں ان کی پیروی اور ان کے اخلاق و صفات سے آراستہ ہونے پر توجہ دیں۔

طلبہ اپنے آس پاس کے لوگوں کو بھی ان اخلاق و صفات کے بارے میں بتانے کی کوشش کریں۔ یہ کام ان اخلاق و صفات پر مشتمل قرآنی آیات کو سوشل میڈیا سائٹس پر مختصر اور دل کش پوسٹ کی صورت میں پیش کرکے بھی کیا جا سکتا ہے۔

پانچواں سبق : آخرت کے دن پر ایمان اور اس کے آثار

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی۔

نئے کلمات : (اليوم الآخر - فتنة القبر - البعث - الحشر - الصراط).

تعلیمی وسائل :

(ایک آڈیو میڈیم جس میں شامل درس قرآن کی کچھ آیتیں ریکارڈ ہوں - بلیک بورڈ - تعلیمی بورڈ -مصحف)۔

تدریس کی حکمت عملیاں :

(فرضی تصورات قائم کرنے پر مبنی حکمت عملی - اکتشاف پر مبنی حکمت عملی - رہنما نقشوں پر مبنی حکمت عملی - برین اسٹورمنگ)۔

اقدار و رجحانات :

o آخرت کے دن پر ایمان کا احساس۔

o جنت حاصل کرنے اور جہنم سے نجات پانے کی کوشش کرنا۔

o آخرت کا ثواب حاصل کرنے کے لیے نیکی کے کاموں میں زیادہ دلچسپی لینا۔

o آخرت کی نعمتیں اور ثواب پیش نظر ہونے کی وجہ سے دنیا کی رغبت میں کمی۔

سبق کی تمہید :

نیچے دی گئی عبارت طلبہ کو پیش کریں، انھیں اس پر غور کرنے اور اس کے فہم کی روشنی میں یہ توقع کرنے کو کہیں کہ اس سبق کے مشمولات کیا ہو سکتے ہیں، پھر سبق کے عنوان کى وضاحت کریں اور اسے بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔

(ہماری زندگی اس کھیت کی مانند ہے، جس میں ہم کھیتی کرتے ہيں۔ لہذا جو دنیا میں خیر بوئے گا، وہ آخرت میں خیر کاٹے گا اور جو دنیا میں شر بوئے گا، وہ آخرت میں خیر کاٹے گا۔ آخرت کی جزا یا تو جنت ہوگی یا جہنم)۔

* سبق کی پش کش :

مرحلہ نمبر (1)

آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ بلیک بورڈ پر آخرت کے دن کے درج ذیل نام لکھ دیں : (قیامت کا دن، فیصلے کا دن، بدلے کا دن، کھڑکھڑا دینے والی ... وغیرہ) اور طلبہ سے ان کا مطلب بیان کرنے کو کہیں اور ان کی جانب سے ملنے والے جوابوں کو آخرت کے دن پر ایمان کی تعریف کا نقطۂ آغاز بنائيں۔

مرحلہ نمبر (2)

آپ ایسا کر سکتے ہيں کہ طلبہ کے سامنے ایک بورڈ پیش کریں، جس میں آخرت کے دن کے منازل کی ایک وضاحتی شکل موجود ہو۔ پھر ہر منزل کا ذکر قصہ گوئی کے طرز پر پرکشش انداز میں کریں، جس میں قصہ گوئی کی فنی مہارتوں، جیسے صوتی، اسلوبی، فکری اور تفہیمی حسن کا بھر پور استعمال کیا گیا ہو۔

اس پیش کش کے دوران آپ طلبہ کو ان منازل سے جڑے ہوئے اور ان پر دلالت کرنے والے شرعی نصوص کو سننے پر توجہ دلا سکتے ہیں، جنھیں تشریح اور تفسیر کے ساتھ پیش کیا جائے۔

مرحلہ نمبر (3)

آپ برین اسٹورمنگ کی حکمت عملی استعمال کرتے ہوئے طلبہ کو آخرت کے دن پر ایمان کے آثار تک پہنچـنے کی توجہ دلائيں اور بڑی تعداد میں آثار بیان کرنے پر ابھاریں۔ صحیح آثار تک پہنچنے کے لیے پیش کردہ آثار کو اندازۂ قدر کے مرحلے سے بھی گزاریں اور پھر ان سے متعلق ایک بورڈ پیش کریں، تاکہ طلبہ کو ان کا اجمالی علم ہو جائے۔

* نتیجہ نکالنا :

طالبِ علم کو ایک فقرہ لکھنے کی ہدایت دیں، جس میں اس بات کا ذکر ہو کہ اس نے سبق سے کیا سیکھا اور سیکھی ہوئی باتوں کو عمل میں کیسے لائے گا۔ اس کے بعد کچھ طلبہ کا انتخاب کریں، جو لکھی گئی باتوں کو ساتھیوں کے سامنے پڑھ کر سنائیں اور ان کی مناسب حوصلہ افزائی بھی کریں۔

* سرگرمیاں :

بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر سیکھنے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر 1 نوعیت اور ہدف اجتماعی۔ آخرت کے دن کے ناموں کی تحدید کرنا۔

ہدف نمبر 1

معلم ہر گروہ کو ایک دوسرے کی مدد سے اس طرح سرگرمی کرنے پر توجہ دلائے گا کہ طلبہ اپنے مصاحف نکالیں گے، سورۂ قارعہ کھولیں گے اور سرگرمی کے ضمن میں دیے گئے جدول کو پورا کریں گے۔

معلم جدول کے سارے عناصر کو یکے بعد دیگرے پیش کرے، ہر گروہ کے جواب سے واقف ہو، گروہ میں شامل طلبہ کو مناسب نمبر دے، سب سے زیادہ نمبر حاصل کرنے والے گروہ کی نشان دہی کرے، اس گروہ کے طلبہ کی مناسب حوصلہ افزائی کرے اور اس کے کسی فرد کو گروہ کا جواب ساتھیوں کے سامنے پڑھنے کی ذمے داری سونپے۔

سرگرمی نمبر 2 نوعیت اور ہدف اجتماعی۔ آخرت کے دن پر ایمان کے اثر کو محسوس کرنا۔

ہدف نمبر 3

آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ کسی طالبِ علم کا انتخاب دوسری سرگرمی میں وارد قصہ اپنے ساتھیوں کے سامنے پڑھنے کے لیے کریں اور اجتماعی تبادلۂ خیال کے توسط سے انھیں قصے کا کوئی عنوان قائم کرنے اور اس سے آخرت کے دن پر ایمان کا اثر معلوم کرنے کے لئے کہیں۔ طلبہ کے جوابات دیکھیں اور ان کے ساتھ مل کر صحیح جواب کی نشان دہی کریں، تاکہ وہ اسے اپنی کتاب کے اندر فراہم کی گئی جگہ پر لکھ لیں۔

سرگرمی نمبر 3 نوعیت اور ہدف انفرادی۔ قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے کے دلائل بیان کرنا۔

ہدف نمبر 2

معلم طلبہ کو کتاب سے درج ذیل سرگرمی کھولنے کو کہے۔

ایک طالبِِ علم کا انتخاب کرکے اسے اس سرگرمی کو ساتھیوں کے سامنے پڑھنے کے لئے کہے۔

ہر طالبِ علم کو اس سے جڑے ہوئے سوالات اور عملی کاموں کا جواب دینے کا حکم دے۔

طلبہ کے جوابات دیکھے اور ان کے اندازۂ قدر کا عمل انجام دے، تاکہ غلطیاں کرنے والے اپنی غلطیوں کو درست کر لیں۔

* اندازۂ قدر

طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالوں کا جواب درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے دینے کی ہدایت دیں :

معلم طلبہ کو کچھ کارڈ تقسیم کرے، جن میں سے نصف اول میں ایک علامت ہو جبکہ نصف ثانی دوسری علامت کا حامل ہو۔ اس کے بعد پہلے سوال کے ضمن میں درج عبارتوں کو یکے بعد دیگرے اس طرح پیش کرے کہ طلبہ عبارت سے مناسبت رکھنے والے کارڈ کو اٹھائيں۔ معلم غلطی کرنے والے طلبہ کو نظر میں رکھے، تاکہ ان سے سرزد ہونے والی غلطیوں کے بارے میں ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کیا جا سکے۔

سوال 1 : - - -.

معلم چار طلبہ کا انتخاب کرے، جن میں سے ہر ایک دوسرے سوال میں وارد کسی ایک عنصر کے بارے میں جواب دے۔ کسی سے کوئی غلطی سرزد ہونے کی صورت میں اسے سبق کے مشمولات سے رجوع کرنے اور بذات خود جواب نکالنے کو کہے۔

1- قبر آخرت کی پہلی منزل ہے۔

2- صراط : جہنم کے اوپر نصب کیا جانے والا ایک پل ہے۔

3- حشر سے مراد لوگوں کو حساب کتاب کے لیے جمع کرنا ہے۔

4- بعث سے مراد مردوں کو قبروں سے زندہ کرکے اٹھانا ہے۔

ہر طالب انفرادی طور پر تیسرے سوال کا جواب دے۔ اس کے بعد معلم دو طلبہ کا انتخاب کرے، جو اپنا اپنا جواب پیش کریں۔ معلم دونوں کا موازنہ کرے اور اس بات کی نشان دہی کرے کہ کون سا جواب زیادہ صحیح ہے۔

* تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں پر اپنی زندگی اور معاملات میں عمل کرنے کی اہمیت پر توجہ دلائيں، جس کے لیے وہ درج ذیل اقدامات کریں گے :

ہر وہ کام کرنا، جو انسان کو جنت کا مستحق بنائے اور جہنم سے دور کرے۔ اسی طرح اپنی ذات اور دوسروں کو نیکی کے کام کرنے اور گناہوں سے دور رہنے کی ترغیب دینا۔ یہی آخرت کے دن پر ایمان کے ثمرات ہیں، جنھیں ہر مومن کو حاصل کرنا اور اپنی زندگی اور معاملات میں نافذ کرنا چاہیے۔

چھٹا درس : قضا و قدر پر ایمان اور اس کے آثار

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (الإيمان بالقدر - المشيئة - السَّخط).

تعلیمی وسائل : (بلیک بورڈ - تعلیمی بورڈ)

تدریس کی حکمت عملیاں:

(استنباط پر مبنی حکمت عملی - رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی - غلط تصورات کی تصحیح پر مبنی حکمت عملی - تعلیمی مثلث پر مبنی حکمت عملی - استقصا پر مبنی حکمت عملی)

اقدار و رجحانات :

اللہ کے قضاء وقدر پر راضی رہنا، صبر سے کام لینا اور قضائے الہی سے ناخوش اور رنجیدہ رہنے سے گریز کرنا۔

ایک مسلمان کی زندگی میں تقدیر پر ایمان کی اہمیت کو محسوس کر سکيں گے۔

مضبوطی کے ساتھ بڑے کاموں کے لیے قدم آگے بڑھانا اور پوری تندہی سے اللہ کو راضی کرنے والے کام کرنا۔

سبق کی تمہید :

طلبہ کو بتائيں کے ہم ایمان کے آخری رکن کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ انھیں ایک بار سارے ارکان یاد کرنے اور اپنی کتابوں میں پیش کردہ شکلوں میں لکھنے کے لئے کہیں۔ وہ جب لکھیں تو آپ ان کے پاس سے گزرتے رہيں، تاکہ وہ جو کچھ لکھ رہے ہيں، اسے جان سکیں اور اس کا اندازۂ قدر کر سکیں۔

طلبہ سے آج کے سبق کے عنوان کا اندازہ کرنے کے لئے کہیں، ان کے جوابات کی شناخت کریں، کچھ جوابات کو بلیک بورڈ پر لکھیں اور ان کو سبق ختم ہونے کے بعد اپنے جوابات کا اندازۂ قدر کرنے کے لئے کہيں۔

* سبق کی پیش کش :

پیش قدمی (1)

دریافت پر مبنی حکمت عملی کے تحت معلم طلبہ کے سامنے درج ذیل جملہ رکھ سکتا ہے، اس کا مشار الیہ بیان کر سکتا ہے اور طلبہ کی جانب سے ملنے والے جوابات کو ان کو ایمان کے معنی سے روشناس کرنے کا نقطۂ آغاز بنا سکتا ہے۔

(اس بات کی پختہ تصدیق کہ اس کائنات میں بھلا برا جو کچھ بھی ہوتا ہے، اس کا علم اللہ کو ہے، اسے اللہ نے لکھ رکھا ہے اور وہ اللہ کے ارادے سے ہوتا ہے)۔

پیش قدمی (2)

آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ غور وفکر والے نقشوں پر مبنی حکمت عملی اختیار کر کے ان کے توسط سے طلبہ کے سامنے تقدیر پر ایمان کے مراتب رکھیں اور چار طلبہ کا انتخاب کریں، جن میں سے ہر طالب علم ایک ایک مرتبہ، اس سے مراد اور اس کی شرعی دلیل پڑھ کر سنائے۔ مزید وضاحت کے لیے آپ ان دلائل کے سلسلے میں طلبہ کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں۔

مرحلہ نمبر (3)

معلم طلبہ کے سامنے درج ذیل صورت حال رکھے، ان سے ان کے بارے میں رائے دینے کو کہے، ان کے جوابات کو طلبہ کو تقدیر پر ایمان اور اسباب اختیار کرنے کے درمیان ربط سمجھانے کے لیے نقطۂ آغاز بنائے اور طلبہ کے سامنے انبیا اور صالحین کی سیرت کی کچھ مثالیں بیانیہ انداز میں رکھے، جو اس کی تشریح و وضاحت کرتی ہوں۔

ایک شخص کے کچھ بچے ہیں اور وہ اس عقیدے کی وجہ سے کام میں سستی کرتا ہے کہ وہ کوشش نہ کرے تب بھی اللہ اس کے بچوں کو روزی دے گا۔

ایک عورت ڈاکٹر کے پاس جانے اور دوا علاج کرنے سے اس بنا پر منع کرتی ہے کہ اللہ شافی ہے اور وہ ڈاکٹر کے پاس گئے بغیر ہی اسے شفا عطا کرے گا۔

مرحلہ نمبر (4)

معلم یہاں استماع مثلث حکمت عملی کا استعمال کر سکتا ہے۔ وہ طلبہ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دے۔ ہر گروہ میں تین طالب علم ہوں۔ پہلا طالب علم تقدیر پر ایمان کے آثار کے بارے میں اپنی معلومات پیش کرے، دوسرا دھیان سے سنے اور اس سے ایسے سوالات کرے کہ اسے ان آثار کے بارے میں مزید معلومات پیش کرنے پڑیں، جب کہ تیسرا طالب علم اپنے دونوں ساتھیوں کی کارکردگیوں کو دھیان سے دیکھے اور ان کے درمیان ہونے والی بات چیت کو لکھ کر معلم کو پیش کرے۔

معلم سارے گروہوں کی کارگردگیوں پر نظر رکھے، ہر گروہ کی تحریریں اور جوابات دیکھے، تحریروں پر تبصرہ کرے، طلبہ کے ساتھ مل کر دقیق ترین جواب تک پہنچے اور سب سے بہتر مظاہرہ کرنے والے گروہ کی نشان دہی کرے۔

* نتائج اخذ کرنا:

- معلم کچھ طلبہ کا انتخاب کرے، جن میں سے ہر طالب علم متعلقہ عناصر میں سے کسی ایک عنصر کی تشریح اپنے خاص اسلوب میں سبق سے حاصل شدہ سمجھ کی روشنی میں کرے۔ عناصر اس طرح ہيں : (تقدیر پر ایمان کے معنی - تقدیر پر ایمان کے مراتب - تقدیر پر ایمان اور اسباب اختیار کرنا - تقدیر پر ایمان کے آثار) باقی طلبہ ان کے جوابات سنیں اور انھیں مزید بہتر بنانے کے لیے ان پر نوٹ چڑھائیں۔

* سرگرمیاں :

بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر سیکھنے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر 1 نوعیت اور ہدف انفرادی۔ اللہ کى قضا وقدر سے راضی ہونے کی ترغیب۔

ہدف نمبر 4، 5

ہر طالب سے کہیں کہ اپنے کسی دوست کے نام ایک نصیحت لکھے، جس نے کوئی ایوارڈ حاصل کرنے کے لیے جی جان لگا کر محنت کی، لیکن وقت گزر گیا اور ایوارڈ حاصل نہ ہو سکا، جس سے وہ بہت رنجیدہ اور ملول خاطر ہے۔

سبق سے حاصل شدہ معلومات کی روشنی میں نصیحت لکھے۔ معلم طلبہ کی تحریر کردہ نصیحتیں دیکھے اور سب سے بہتر ساخت، فکر اور تاثیر والی نصیحت کی نشان دہی کرے۔ بعد ازاں ایک فولڈر تیار کرے، جس میں سب سے اچھی نصیحتیں لکھنے والوں کے ناموں کے ساتھ شامل ہوں۔ اس فولڈر کو کلاس روم کی لائبریری میں محفوظ رکھا جائے۔

سرگرمی نمبر 2 نوعیت اور ہدف اجتماعی۔ اس بات کی دلیل پیش کرنا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کى تقدیر سے راضی رہا کرتے تھے۔

ہدف نمبر 2، 3

سرگرمی کے تحت وارد نص کی خواندگی کے لیے کسی طالب علم کا انتخاب کریں اور اس کے معنی کے سلسلے میں طلبہ کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں۔ گروپ سروے کے توسط سے ہر گروہ کو سرگرمی کے دونوں سوالوں کے بارے میں بحث و تحقیق کرنے کے لئے کہیں۔ اس کے لیے معرفت کے مختلف مصادر، جیسے الیکٹرانک، پرنٹ اور بشری مصادر کا استعمال کر سکتے ہیں۔ آپ طلبہ کے جوابات دیکھیں اور سب سے بہتر محنت اور پیش کش کے حامل گروہ کی تعریف کریں۔

* اندازۂ قدر

طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالوں کا جواب درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے دینے کی ہدایت دے سکتے ہيں :

نیچے دیے گئے سوالات کا جواب ہر طالب علم کو الگ الگ دینے کو کہیں اور جوابات کے بارے میں ان کے ساتھ اس طرح تبادلۂ خیال کریں کہ ہر طالب خود کو جواب صحیح ہونے پر ایک نمبر دے۔ طلبہ کے نمبروں کو دیکھیں اور ان کے درمیان موازنہ کریں۔

سوال 1 : ارکان - خیر و شر - اسباب اختیار کرنے سے متعارض نہيں ہے۔

* تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں پر اپنی زندگی اور معاملات میں عمل کرنے کی اہمیت پر توجہ دلائيں، جس کے لیے وہ درج ذیل اقدامات کریں گے :

زندگی میں رو برو ہونے والے ایسے لوگوں کا سامنا کرنا، جو کہ ایمان بالقدر او اس سے راضى رہنے کے مخالف منفی طرز عمل کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ جیسے: حسد، حقد وکینہ، سستى کرنا، ناراض ہونا اور قلق وبے چینى۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ ان کو تربیت کے انداز میں سبق سے حاصل شدہ معلومات، معارف اور رہ نمائیوں سے متعارف کروایا جائے یا پھر مسجد کے امام کے پاس بھیجا جائے، جہاں کے اجتماعات اور دینی دروس سے انھیں پند و نصیحتیں حاصل ہوں۔

اکائی : سنت اور شمائل

پہلا سبق : اللہ کے نبی ﷺ کا تعارف اور اہم اوصاف

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (الرسول - المعجزة - عام الفيل - معتدل القامة- واسع الصدر- عظيم المنكبين- كثيف اللحية).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - کمپیوٹر ڈیوائس - تعلیمی کارڈ - تعلیمی بورڈ)۔

سبق کی حکمت عملیاں:

(رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی - قصہ گوئی پر مبنی حکمت عملی- باہمی تعاون سے سیکھنے پر مبنی حکمت عملی - برین اسٹورمنگ - مسائل حل کرنے پر مبنی حکمت عملی)

اقدار و رجحانات:

o یہ عقیدہ کہ بنی نوع انساں کو رسولوں کی ضرورت ہے۔

o دعوت الی اللہ کے راستے میں صبر کے زیور سے آراستہ ہونا۔

o اللہ کے نبی ﷺ کے اسوہ کو سامنے رکھتے ہوئے آپ کے اخلاق سے آراستہ ہونا۔

o دعوت کے بار آور ہونے میں حسن اخلاق کی اہمیت کا اندازہ لگانا۔

o نبی ﷺ سے محبت کی حرص۔

درس کی تمہید :

قصہ گوئی پر مبنی حکمت عملی کے تحت طلبہ کے آگے واقعۂ فیل اور اس سال کے اہم واقعات رکھیں اور اس دوران قصہ گوئی کی مہارتوں، جیسے آواز، زبان اور اسلوب وغیرہ کا خیال رکھیں۔ بعد ازاں کسی طالب علم کو ان واقعات کو دوہرانے کے لئے کہیں، تاکہ اطمینان ہو جائے کہ طلبہ نے واقعات کو بہتر انداز میں سمجھا ہے۔ اس کے بعد بلیک بورڈ پر عنوان لکھ دیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

معلم رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی کے تحت طلبہ کے رو برو ایک بورڈ رکھے، جس میں اللہ کے نبی ﷺ کا تعارف اور آپ کے اہم اوصاف موجود ہوں۔ معلم طلبہ کو اس پر غور کرنے کہے۔

طلبہ اندازہ لگائيں کہ اس بورڈ میں کیا کیا جان کاریاں اور معانی ہو سکتے ہیں۔

طلبہ نے جو کچھ اندازہ لگایا ہے، اس کے بارے میں ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کیجیے۔

مرحلہ نمبر (2)

معلم طلبہ کے ساتھ نبی ﷺ کے تعارف اور نسب کے بارے میں گفتگو کرے۔

ان پہلووں کی تشریح و وضاحت کرے، ان کی دلیل پیش کرے اور ان سے جڑی ہوئی حدیثوں کی تشریح کرے۔

معلم نبی ﷺ کے تعارف کے لیے برین اسٹورمنگ کے تحت طلبہ سے درج ذیل سوالات کر سکتا ہے :

سوال : نبی ﷺ کے اہم نام کیا ہیں؟

سوال : نبی ﷺ کب پیدا ہوئے، آپ کى پرورش وپرداخت کہاں ہوئى، اور آپ نے کب وفات پائی؟

سوال : نبی ﷺ کی کچھ بیویوں اور بچوں کے نام بتائیے۔

سوال : نبی ﷺ کی کچھ صفات کے بارے میں دلیل کے ساتھ بات کیجیے۔

مرحلہ نمبر (3)

مشکلات کے حل پر مبنی حکمت عملی کے تحت معلم طلبہ کے سامنے درج ذیل صورت حال رکھے :

انھیں ان صورتوں کے بارے میں رائے دینے اور یہ بتانے کہے کہ ان سے کیسے نمٹا جائے اور کیا طرز عمل اپنایا جائے۔

ہر صورت حال کو نبی ﷺ کے اخلاقی اوصاف سے جوڑا جائے، جن کی جانب دوران سبق اشارہ کیا جا چکا ہے :

ایک سائل میرے دوست احمد کے پاس آیا اور اس کے سامنے اپنی ضرورت رکھی، تو اس نے اسے دھتکار دیا۔ لگ تو ایسا رہا تھا کہ کہیں اسے کوئى ایذا نہ دے دے۔

خالد کے والد کا انتقال ہوا، تو وہ غم سے نڈھال ہو گیا اور رو رو کر آنکھوں کی بینائی ختم کر لی۔

دو دوستوں کے درمیان کسی فقہی مسئلے پر بحث ہوئی۔ بحث نے طول پکڑا تو ایک نے دوسرے کو مار لگا دی۔

احمد نے ایک عمر دراز شخص کو غلطی سے گاڑی سے کچل کر مار دیا۔ اب مقتول کے بچے اس بات پر مصر ہیں کہ وہ احمد کی جان اسی طریقے سے لیں گے۔

نتیجہ نکالنا :

باہمی تعاون پر مبنی تعلیم کی حکمت عملی استعمال کرتے ہوئے طلبہ سے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر درج ذیل عناصر کی تمکیل سے رہ نمائی حاصل کرکے سبق کے فوائد اخذ کرنے کو کہیں۔

اللہ تعالی نے نبیوں کو اس لیے بھیجا تھا کہ وہ لوگوں کو نکال کر لے جائيں ................................

اللہ نے جتنے نبی بھیجے، سب کو ایک خاص انداز میں تیار کیا اور اس کی تائید کی ...................................

ہمارے رسول ﷺ کا نام ہے محمد بن عبد اللہ .........................................

اللہ کے نبی ﷺ ............. کے دن عام الفیل کو ............. میں پیدا ہوئے۔

عام الفیل وہ سال ہے ................................

نبی صلی اللہ علیہ و سلم بڑے ہی خوب صورت تھے۔ آپ گورے، ...............................، لوگوں سے ہنس کر ملنے والے، معتدل ...............................، بڑے ................................، گھنی داڑھی والے ............................. تھے۔

اللہ کے نبی ﷺ کے کچھ اخلاق : ................، ...................، ....................

سرگرمیاں

بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر سیکھنے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر 1 نوعیت اور ہدف انفرادی۔ اللہ کے نبی ﷺ کے ناموں اور ان کے معنی سے آگاہی۔

ہدف نمبر 1

ہر طالب کو ایک خارجی ورق میں درج ذیل سوالوں کے جواب دینے کو کہیں۔

جوابات جمع کریں، ان کی تصحیح کریں اور درست جواب دینے والے کو انعام دیں۔

سرگرمی 1 :

نام وجہ تسمیہ

محمد کیوں کہ پہلے اور بعد کے لوگوں نے آپ کی پاک صفات کی بنا پر آپ کی تعریف کی ہے۔

احمد کیوں کہ آپ فضائل کے اعلی درجات پر فائز ہيں، اور اپنے رب کی سب سے زیادہ حمد و ثنا کرنے والے انسان ہیں۔

توبہ والے نبی کیوں کہ آپ اللہ کے حضور بہت زیادہ توبہ کیا کرتے تھے۔

عاقب آپ نبیوں کے بعد آئے۔ آپ آخری نبی تھے۔ آپ کے بعد کوئی نبی نہيں آنے والا۔

رحمت والے نبی کیوں کہ اللہ تعالی نے آپ کو ساری کائنات کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔

سرگرمی نمبر 2 نوعیت اور ہدف اجتماعی۔ نبی ﷺ کے اخلاق کا استنباط۔

ہدف نمبر 4، 5

معلم چار طلبہ کا انتخاب کرے۔

ہر طالب علم سرگرمی کے تحت وارد ایک نص کو کمپیوٹر ڈیوائس کے توسط سے پڑھے گا۔

ہر طالب علم سے اس نص سے مستفاد نبی ﷺ کے اخلاق میں سے ایک خلق اخذ کرنے کو کہا جائے۔

پانچ دیگر طلبہ کا انتخاب ساتھیوں کے جوابات کے اندازۂ قدر کے لیے کرے۔

نبی ﷺ کے اخلاق

رحمت و رافت

رفق و نرمی

جود و سخا

شجاعت

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

پہلے سوال کا جواب دینے کے لیے معلم اس کے تحت دی گئی عبارتوں کو یکے بعد دیگرے پیش کرے اور ہر عبارت کا جواب دینے کے لیے کچھ طلبہ کا انتخاب کرے، تاکہ اس کے صحیح یا غلط ہونے کا پتہ چل سکے۔

سوال 1 : ( ) - - ( ) - ( )

دوسرے اور تیسرے سوال کا جواب معلم طلبہ سے انفرادی طور پر طلب کرے اور جوابات کو اپنی کتابوں میں لکھنے کو کہے۔

اس دوران طلبہ کی کارکردگیوں پر نظر رکھنے کے لیے معلم ان کے پاس سے گزرتا رہے اور مثالی جواب دینے والے ایک طالب علم کا انتخاب کرکے اسے اپنا جواب ساتھیوں کے سامنے پڑھنے کے لئے کہے۔

سوال 2 : (571) - (عاقب) - (63 سال)۔

* تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

سبق میں مذکور احادیث کے علاوہ دوسری ایسی احادیث ڈھونڈنے میں طلبہ کی حوصلہ افزائی کریں، جو نبی ﷺ کے نسبی شرف پر مشتمل ہوں۔ طلبہ کو اس بات کی بھی ترغیب دیں کہ ان احادیث پر وہ اپنی زندگی میں عمل پیرا ہوں۔

مختلف مصادر جیسے کتابوں، دینی لوگوں اور الیکٹرانک مصادر وغیرہ سے زیادہ وسیع پیمانے پر اور گہرائی کے ساتھ نبی ﷺ کے اخلاق سے آگاہی حاصل کرنا، ان کی اہمیت کو سمجھنا، ان سے آراستہ ہونے کی کوشش کرنا اور ان کو اپنے اہل خانہ اور معاشرے میں عام کرنے کی کوشش کرنا۔

دوسرا سبق : نبی ﷺ کے خصائص

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات :

(سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ - فُضِّلْتُ- جَوَامِعَ الْكَلِمِ- وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ- وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - کمپیوٹر ڈیوائس - تعلیمی بورڈ - تعلیمی کارڈ)

تدریسی حکمت عملیاں :

(رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی - خود سوالی پر مبنی حکمت عملی - غلط تصورات کی تصحیح پر مبنی حکمت عملی)

اقدار و رجحانات :

o نبی ﷺ کی عظمت۔

o نبی ﷺ سے محبت رکھنے کی حرص۔

o نبی ﷺ کے فضائل اور خصائص کا اندازہ۔

سبق کی تمہید :

طلبہ کو نیچے دی گئی حدیث پڑھ کر سنائیں : نبی ﷺ نے فرمایا : "میں قیامت کے دن اولاد آدم کا سردار ہوں گا۔" (صحیح بخاری : 4712، صحیح مسلم : 2278) اس کے بعد ان سے درج ذیل دو سوال پوچھیں :

نبی ﷺ اس مقام کے حق دار کس بنیاد پر ٹھہرے؟

کیا آپ نبی ﷺ کے دیگر خصائص سے واقف ہيں؟

یہ باتيں اس درس کے ذریعے جانیں اور اس کے بعد بلیک بورڈ پر سبق کا عنوان لکھیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی کی مدد سے اور سبق کے عناصر کے بارے میں ذہنی معرفت کو ترتیب دینے کے لیے معلم ایک بورڈ کے توسط سے نبی ﷺ کے دنیوی خصائص اور فضائل کی ایک تنظیمی تصویر دکھائے۔

مرحلہ نمبر (2)

خود سوالی پر مبنی حکمت عملی کی مدد سے طلبہ سے ان فضائل کے متعلق ایسے سوالات پیش کرنے کو کہا جائے، جو وہ جاننا چاہتے ہیں۔ ان کے سوالات جمع کیے جائيں اور ان کو بلیک بورڈ پر لکھ دیا جائے۔ معلم سبق کے مختصر عناصر پر مشتمل کچھ اضافی سوالات بڑھا سکتا ہے، جو درج ذیل سوالات کے درمیان سے بھی ہو سکتے ہیں :

سوال : نبی ﷺ کو تمام لوگوں کی جانب کیوں مبعوث کیا گيا تھا؟

سوال : نبی ﷺ کو جامع ترین الفاظ میں بات کرنے کی صلاحیت کیسے عطا کی گئی تھی؟

سوال : مٹی سے تیمم کرنے کا کیا حکم ہے؟

سوال : نبی ﷺ کی مدد رعب کے ذریعے کیسے کی گئی تھی اور آپ کے لیے غنیمتیں کیسے حلال کی گئی تھیں؟

مرحلہ نمبر (3)

معلم نبی ﷺ کے اخروی فضائل کی توضیح و تشریح کرے۔ اس دوران معلم ڈسپلے اسکرین کے توسط سے نبی ﷺ کے اخروی فضائل پر دلالت کرنے والی احادیث اور دلائل پیش کرے اور طلبہ سے ساتھ مل کر ان کو پڑھنے، ان کے معنی حل کرنے اور فوائد اخذ کرنے کے لئے کہے۔

نتیجہ نکالنا :

معلم طلبہ کو سبق سے حاصل اہم فوائد پر مشتمل ایک پیراگراف لکھنے کی ہدایت کرے۔

معلم کچھ طلبہ سے کہے کہ اپنے تحریر کردہ فوائد ساتھیوں کے سامنے پڑھیں اور ان کی مناسب مدد کریں۔

سرگرمیاں

بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر سیکھنے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر 1 نوعیت و ہدف انفرادی۔ عربی زبان سیکھنے کے فوائد سے آگاہی۔

ہدف نمبر 3

ہر طالب علم کو ہدایت کریں کہ انفرادی طور پر پہلی سرگرمی ادا کرے، اسے ایک خارجی کارڈ میں لکھے، آپ طلبہ کے کارڈز جمع کریں ان کا اندازۂ قدر کرنے کے بعد سب سے زیادہ باریک بینی اور بہتر انداز میں دیے گئے جواب کی نشان دہی کریں، اور صحیح جواب دینے والے طالب علم کی حوصلہ افزائی کریں۔

1- پیچھے مذکور سبھی۔

ہدف نمبر 2 نوعیت و ہدف انفرادی۔ نبی ﷺ کے حوض کے اوصاف اخذ کرنا۔

ہدف نمبر 4

آپ ہر طالب علم کو نیچے دی گئی سرگرمی کا جواب ایک خارجی ورق میں دینے کے لئے کہیں۔

صحیح جوابات کو یک جا کریں، ان کی نوک پلک درست کريں اور بہتر جواب دینے والے کو ایک کارڈ میں اپنا جواب ڈیزائن کرکے اسے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر نشر کرنے کو کہیں۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

تجویز پیش کی جاتی ہے کہ سوالات بلیک بورڈ پر یکے بعد دیگرے لکھ دیے جائيں، اور اس کے بعد بہتر یہ ہوگا کہ آپ آس پاس بیٹھنے والے ہر دو طالب علموں سے نیچے دیے گئے سوالات میں سے ہر سوال کا جواب ساتھ مل کر دینے کو کہیں۔

کسی ترتیب کا خیال رکھے بغیر کچھ طلبہ کا انتخاب کرکے ان کو باقی ساتھیوں کے سامنے اپنے جوابات رکھنے کے لئے کہیں۔

تجویز یہ پیش کی جاتی ہے کہ غلط جواب دینے والے طلبہ کو سبق کے مشمولات پڑھنے کے لئے کہیں۔

ان سے صحیح جواب نکالنا۔

سوال 2 : شافع سے مراد وہ شخص ہے، جسے شفاعت کی اجازت ملے گی اور مُشَفّع سے مراد وہ شخص ہے، جس کی شفاعت قبول ہوگی۔ ( )

* تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

طلبہ کو اس بات کی ترغیب دیں کہ وہ سبق میں مذکور نصوص کے علاوہ نبی ﷺ کے خصائص اور فضائل بیان کرنے والی کچھ اور آیات اور احادیث نبویہ جمع کریں، انھیں ایک بورڈ پر لکھیں اور اسے مسجد میں لٹکا دیں۔

تیسرا سبق : قرآن کریم پڑھنے کی فضیلت

سبق کی تمہید :

طلبہ کے سامنے درج ذیل سوال رکھیں، ان کے جواب دیکھیں اور انھیں جواب، سبق کے عنوان اور سبق کے ہدف کے درمیان ربط معلوم کرنے کے لئے کہیں۔

سوال : قراءت قرآن فقط اس کے حروف اور کلمات کو زبان سے ادا کرنے کا نام نہیں ہے۔ ایسے میں بتا‏ئیے کہ قراءت کا حقیقی مفہوم کیا ہے؟

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

معلم کے لیے ممکن ہے کہ دریافت پر مبنی حکمت عملی سے مدد لیتے ہو‏ئے طلبہ کے سامنے درج ذیل عبارت اور اس کے تحت دیا گیا سوال رکھے : (قرآن کریم اللہ تعالی کی کتاب ہے، جسے اس نے اپنے نبی محمد ﷺ پر لوگوں کو حق اور خیر کی راہ دکھانے کے لیے اتارا ہے۔ لہذا ہمیں اسے پڑھنے کی حرص رکھنی چاہیے۔ .... لہذا یہ بتائيے کہ اسے پڑھنے کی کیا فضیلت ہے؟)

پھر ان کے سامنے جواب سے متعلق کچھ اختیارات رکھے۔ مثلا : (جنت حاصل ہونا، ایک نیکی حاصل ہونا، نیکیوں میں گنا در گنا اضافہ)، اس کے بعد ان کو صحیح جواب سے باخبر کرے۔

مرحلہ نمبر (2)

معلم طلبہ کو قراءت قرآن کی فضیلت واضح کرنے والی حدیث سننے کی ہدایت کرے، جس کے لیے وہ متعینہ آڈیو میڈیم کا استعمال کرے اور اس کے بعد حدیث کے ہر جملے کے بارے میں طلبہ کے ساتھ تبادلۂ خیال کرے۔

مرحلہ نمبر (3)

برین اسٹورمنگ حکمت عملی کے تحت معلم طلبہ سے قراءت قرآن کریم کے بارے میں اپنی معلومات پیش کرنے کے لئے کہے اور ان کے جوابات سننے کے بعد ان کے سامنے اس کیفیت کی توضیحی شکل رکھے۔

مرحلہ نمبر (4)

قراءت قرآن کی سبق میں پیش کردہ فضیلتوں کا خلاصہ ایک رہ نما بورڈ کی صورت میں پیش کریں، جس میں ہر فضیلت سے متعلق فوائد کی تشریح موجود ہو، بعد ازاں دو طالب علموں کا انتخاب ان فضیلتوں پر نوٹ چڑھانے کے لیے کریں، تاکہ پتہ چل سکے کہ انھوں نے سبق کا کہاں تک احاطہ کیا ہے۔

نتیجہ نکالنا :

آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ ہر طالب علم کو ایک نتیجہ یا فائدہ بیان کرنے کے لئے کہیں، جو اسے اس سبق سے حاصل ہوا ہے۔ ساتھ ہی ان کے بیانات کو بلیک بورڈ پر لکھیں، ان پر نوٹ چڑھائیں اور اس بات کی وضاحت کریں کہ ان کا سبق سے کتنا تعلق ہے۔

سرگرمیاں

بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر سیکھنے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر 1 نوعیت و ہدف انفرادی۔ تلاوت قرآن کریم کی فضیلت کا بیان۔

ہدف نمبر 6

معلم ہر طالب علم کو پہلی سرگرمی کے ضمن میں وارد دونوں حدیثيں لکھنے کے لئے کہے، ان کے ساتھ مل کر دونوں حدیثوں میں وارد مفرد کلمات کی تفسیر کرے، ان کی ہمت افزائی کرے کہ سیاق کی روشنی میں معانی پیش کریں، پھر ان کے ساتھ ان کی تفسیر اور دلالت کے بارے میں تبادلۂ خیال کرے، بعد ازاں ہر حدیث سے قرآن کریم کی فضیلت کی نشان دہی کرنے کے لیے ایک طالب علم کا انتخاب کرے اور سارے فضائل کو بلیک بورڈ پر لکھ دے، تاکہ طلبہ ان کو اپنی کتابوں میں لکھ لیں۔

قرآن کریم کا قیامت کے دن قرآن پڑھنے والے کے حق میں سفارش کرنا۔

قیامت کے دن صاحب قرآن کے درجات کا بلند کیا جانا۔

سرگرمی نمبر 2 نوعیت و ہدف اجتماعی۔ ایسے وسائل تجویز کرنا، جو قرآن کریم کے مراجعہ اور اتقان میں مددگار ہوں۔

ہدف نمبر 4

ہر دو طالب علم کو ایک کارڈ دیں، جس میں سرگرمی کے ضمن میں وارد حدیث لکھی ہو۔ انھیں ایک دوسرے کی مدد سے ایسے وسائل تجویز کرنے کے لئے کہیں، جو قرآن کریم کے مراجعہ اور اتقان میں مددگار ہوں۔ سارے کارڈز جمع کریں، ان کو اندازۂ قدر کے مرحلے سے گزاریں اور سرزد ہونے والی غلطیاں طلبہ کے سامنے رکھ دیں، تاکہ وہ خود ہی ان کی تصحیح کر لیں، بعد ازاں ان طلبہ کی تعریف کریں، جن سے کوئی غلطی نہ ہوئی ہو۔

سرگرمی نمبر 3 نوعیت و ہدف اجتماعی۔ تلاوت قرآن کریم کی ترغیب۔

ہدف نمبر 4

ہر کارڈ میں چوتھی سرگرمی کے ضمن میں اعمال میں سے ایک ایک عمل لکھ دیں اور دو طلبہ کا انتخاب کریں، تاکہ دونوں ساتھیوں کے سامنے کھڑے ہوکر سرگرمی کو پڑھیں، ان کی تشریح و توضیح کرنے کی کوشش کریں، مطلوب کی نشان دہی کریں، باقی طلبہ ان کو سنیں اور ان کی کارکردگی کا جائزہ لیں۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

سبق کے ضمن میں وارد سوالات یکے بعد دیگرے طلبہ کے سامنے رکھیں۔

پھر ہر سوال کا جواب دینے کے لیے دو دو طلبہ کا انتخاب کریں، دونوں کے جوابات حاصل کرنے کے بعد ان کے درمیان موازنہ کریں اور باقی ساتھیوں کو ان کے جوابات کے اندازۂ قدر کا موقع دیں۔

جواب دینے کا کام پورا ہونے کے بعد طلبہ سے کہیں کہ انھیں اپنی کتابوں میں لکھ لیں اور کسی بھی سوال کے بارے میں پس و پیش ہونے کی حالت میں آپ سے رجوع کریں۔

سوال 1 : ۔۔۔۔

سوال 2 : کعبہ شریف - دن - نیکیوں میں اضافہ در اضافہ۔

* تربیتی و وجدانی تنبیہات :

سبق کے دوران پڑھی گئی باتوں کی روشنی میں طلبہ کو درج ذیل کاموں کی ہدایت کریں :

طلبہ قرآن کریم پڑھنے کے فضائل سے اسے دن رات پابندی سے پڑھنے کی رہ نمائی حاصل کریں۔

مختلف طرح کی سرگرمیاں انجام دینے کی کوشش جو اس مقصد کے حصول میں مدد گار ہوں۔

چوتھا سبق : گناہوں کو مٹانے والی چيزیں

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (الجمعة إلى الجمعة - رمضان إلى رمضان – مُكفِّرات – الكبائر).

تعلیمی وسائل :

(آڈیو میڈیم - کمپیوٹر ڈیوائس - ڈسپلے اسکرین - بلیک بورڈ - تعلیمی بورڈ)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(تعمیر پر مبنی حکمت عملی - حل مشکلات پر مبنی حکمت عملی - غلط تصورات کی تصحیح پر مبنی حکمت عملی - حوض ماہی پر مبنی حکمت عملی - تجزیاتی غور و فکر پر مبنی حکمت عملی)۔

اقدار و رجحانات :

o نیکی کے کاموں کی پابندی۔

o اسلام میں نماز اور روزے کی اہمیت کا احساس۔

o کبیرہ گناہوں میں ملوث ہونے سے خبردار رہنا اور اس کى خطرناکی محسوس کرنا۔

* سبق کی تمہید :

طلبہ کو آڈیو میڈیم کے توسط سے درج ذیل آیت سننے اور قاری کے پیچھے پیچھے دوہرانے کے لئے کہیں۔ پھر اس کے معنی اور اس سے حاصل ہونے والی رہ نمائیوں کے بارے میں ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں اور سبق میں شامل حدیث سے اس کا ربط واضح کریں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "دن کے دونوں سروں میں نماز برپا رکھ اور رات کی کئی ساعتوں میں بھی۔ یقیناً نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں۔." (سورہ ہود : 114)

ان کے سامنے حدیث کے عنوان کى وضاحت کریں پھر اسے بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔

* سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

ڈسپلے اسکرین کے توسط سے حدیث پیش کریں، پھر اسے ان کے سامنے پڑھیں اور ان کو اپنے پیچھے پیچھے دوہرانے کے لئے کہیں۔ اس کے بعد کچھ طلبہ کا انتخاب ساتھیوں کے سامنے پڑھنے کے لیے کریں اور اس بات کا دھیان رکھیں کہ خواندگی درست اور عمدہ ہو رہی ہے۔

مرحلہ نمبر(2)

تعمیر پر مبنی حکمت عملی پر انحصار کرتے ہوئے طلبہ کو اس بات کا موقع دیں کہ وہ راوی حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں اپنی معلومات کو کھنگالیں، ان کى پیش کردہ معلومات پر مناسب تبصرۃ کریں اور بعد ازاں ان کے بارے میں ان کی معلومات کو درج ذیل نکات پر مشتمل کچھ اضافی معلومات کے ذریعے توانائی بخشیں : (ان کا نام، کنیت کا سبب، دخول اسلام، فضائل اور وفات)، اس کے بعد دو طلبہ کا انتخاب کریں، جو یہ بتائيں کہ انھوں نے اس جلیل القدر صحابی کے بارے میں کیا کچھ جانا اور ان کی شخصیت کے کن پہلووں نے انھیں متاثر کیا۔

مرحلہ نمبر (3)

طلبہ کے سامنے درج ذیل صورت حال پیش کریں، جس میں ایک مشکل حالت کا ذکر ہے۔ طلبہ سے اس پر غور کرنے اور اپنی رائے دینے کے لئے کہیں، اور اس کے بعد ان کے جوابات کو حدیث کے معانی اور فوائد کے بیان کا نقطۂ آغاز بنائيں۔

(احمد ایک محنتی اور با ادب طالب علم ہے۔ نماز روزے کی پابندی کرتا ہے۔ ہمیشہ سچ بولتا ہے۔ لیکن ایک بار اس کے ساتھ ایک عجیب و غریب حادثہ ہو گیا۔ اسے فٹ بال کھیلنے کی وجہ سے گھر لوٹنے میں دیر ہوگئی اور جب اس کے والد نے دیر ہونے کی وجہ پوچھی، تو بتا دیا کہ آج مدرسے میں ایک اضافی گھنٹی لی ہے۔ اس نے پہلی بار جھوٹ بولا تھا۔ بہت شرمندہ ہوا۔ دوسرے دن دوست حسن سے ملاقات ہوئی، تو سب کچھ بتا دیا۔ بتایا کہ وہ اپنے اس گناہ کا کفارہ ادا کرنا چاہتا ہے۔ اس کے دوست نے کہا کہ جھوٹ بولنا ایک بہت بڑا گناہ ہے اور اس کے لیے خصوصى توبہ ضروری ہے۔)

مرحلہ نمبر (4)

طلبہ کے سامنے درج ذیل موقف رکھیں اور ان سے اس کے بارے میں رائے دینے اور یہ بتانے کے لئے کہیں کہ اس حدیث کی روشنی میں یہ موقف کتنا درست ہے اور کتنا غلط؟ طلبہ کی جانب سے حاصل ہونے والے جوابات کے بارے میں ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کرنے کے بعد اس حدیث کی روشنی میں صحیح جواب کی نشان دہی کریں :

(ایک ملازم رشوت لیتا ہے، سودی لین دین کرتا ہے اور اپنے ان کاموں کو صحیح ٹھہرانے کے لیے دلیل یہ پیش کرتا ہے کہ وہ ہر روز وقت پر نماز پڑھتا ہے اور جمعہ کے دن جمعہ کی نماز ادا کرتا ہے، تاکہ یہ نمازیں اس کے ان اعمال کا کفارہ بن جائيں۔)

* نتیجہ نکالنا :

معلم طلبہ کے سامنے ایک بورڈ رکھے اور اس پر ہر طالب علم کو حدیث کا ایک ایک فائدہ لکھنے کے لئے کہے۔ بعد ازاں ان کو کتاب کھول کر اس میں دیے ہوئے فوائد اور توجیہات دیکھنے کو کہے، تاکہ بورڈ پر لکھے گئے فوائد سے ان کا موازنہ کیا جا سکے۔

* سرگرمیاں :

بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر سیکھنے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر 1 نوعیت اور ہدف جوڑے پر مبنی۔ پانچ وقت کی نمازیں پابندی کے ساتھ پڑھنے کے ضروری ہونے کی اہمیت کا بیان۔

ہدف نمبر 4 - 5

معلم کسی محنتی طالب علم کا انتخاب کرے اور اسے سرگرمی کے تحت وارد حدیث طلبہ کے سامنے پڑھنے کے لئے کہے۔

طلبہ کے ساتھ حدیث کے معنی کے بارے میں تبادلۂ خیال کرنے کے بعد دو دو طلبہ کو ایک دوسرے کی مدد سے اس کے اہم فوائد بیان کرنے کی ہدایت کریں۔ ساتھ ہی اس حدیث اور سبق میں شامل حدیث کے درمیان ربط دکھانے کے لیے ان کی تجزیاتی اور استخراجی صلاحیتوں کو بروئے کار لائيں اور اسے واضح اور مختصر عبارت میں بیان کرنے کے لئے کہیں۔

طلبہ کے تین گروہ منتخب کریں، انھیں اپنی اپنی بات رکھنے کا موقع دیں، ان کے درمیان موازنہ کریں، سب سے درست جواب کی نشان دہی کریں اور درست جواب دینے والے طلبہ کی ہمت افزائی کریں۔

سرگرمی نمبر 2 نوعیت اور ہدف اجتماعی۔ مسلمان پر نیکی کے کاموں کے اثر کی نشان دہی۔

ہدف نمبر 3

سرگرمی کی انجام دہی کے لیے حوض ماہی حکمت عملی کو بروئے کار لایا جائے۔ معلم کچھ طلبہ کو حوض ماہی کی شکل میں ایک دائرے میں بیٹھنے اور باقی طلبہ کو دائرے کے باہر بیٹھنے کا حکم دے۔

معلم بند دائرے کے درمیان موجود طلبہ سے سرگرمی کے تحت وارد حدیث کے بارے میں اور نیکی کے کاموں کے مسلمان پر اثر کے بارے میں آپس میں بات کرنے کے لئے کہے۔ انھیں جوابات کے اندر انوکھاپن اور تنوع پیدار کرنے پر حوصلہ افزائی کرے اور گروہ میں شامل طلبہ کے جوابات کو لکھے، جب کہ بڑے دائرے میں موجود باقی طلبہ انھیں دھیان سے دیکھیں۔

دونوں دائروں میں بیٹھے طلبہ اپنی اپنی جگہ بدل لیں اور معلم اور ساتھیوں کی جانب سے ان کے ساتھ یہی عمل دوہرایا جائے۔ پھر سارے طلبہ یک جا ہو جائيں اور حاصل شدہ آثار کے بارے میں آپس میں تبادلۂ خیال کریں۔ معلم بھی ان کے ساتھ گفتگو کر کے ان کی کارکردگی پر تبصرہ کرے اور درست جواب تک پہنچے۔

سرگرمی نمبر 3 نوعیت اور ہدف انفرادی / جوڑے پر مبنی۔ حدیث کو دوہرانا اور یاد کرنا۔

ہدف نمبر 6

معلم طلبہ کو پہلے انفرادی طور پر حدیث دوہرانے کی ترغیب دے، پھر ہر دو طالب علم کو ایک دوسرے کو حدیث سنانے کی ہدایت کرے، دونوں کو اس بات کی بھی ہدایت کریں کہ وہ اپنے ساتھی کے حفظ اور سنانے کے بارے میں اپنے خیالات لکھیں، تاکہ دونوں ایک دوسرے کی رائے سے فائدہ اٹھا سکيں۔ اس دوران معلم ان کے آس پاس سے گزرتے رہے، تاکہ ان کی کارکردگی سے باخبر رہے۔ پھر کچھ طلبہ کا انتخاب کرکے انھیں اپنے ساتھیوں کے سامنے حدیث سنانے کے لئے کہے، تاکہ پتہ چل سکے کہ انھوں نے یاد کیا ہے یا نہيں۔

٭ اندازۂ قدر :

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

پہلے سوال کا جواب دینے کے لیے اس کے تحت وارد عبارتوں میں سے ہر عبارت کو طلبہ کے سامنے یکے بعد دیگرے پڑھیں۔ عبارت صحیح ہونے کی صورت میں طالب علم اپنا ہاتھ اوپر اٹھائے۔ ان کے جوابات کا اندازۂ قدر کریں اور صحیح جواب کی نشان دہی فرمائيں۔

سوال 1 : ۔ ۔ ۔

معلم کچھ طلبہ کا انتخاب کرے، تاکہ ان میں سے ہر ایک دوسرے سوال کے کسی ایک عنصر کا جواب دے۔ کسی سے کوئی غلطی ہونے کی صورت میں معلم اسے سبق کے مشمولات کو پڑھنے اور خود سے صحیح جواب نکالنے کے لئے کہے۔

سوال 2 : (علم سکھانا - گناہ معاف کرنا - چھوٹے گناہ - ماہ رمضان)

ایک طالب کا انتخاب کریں اور اسے بلیک بورڈ پر تیسرے سوال کا جواب لکھنے کے لئے کہیں۔ دراصل اسے پوری حدیث لکھنے کے کا حکم دیں۔ غلطی ہونے کی صورت میں اسے پوری حدیث کتاب میں دیکھنے اور اسے مکمل طور پر لکھنے کا طریقہ سمجھنے کے لئے کہیں۔

ہر طالب علم کو چوتھے سوال کا جواب انفرادی طور پر دینے کی ہدایت کریں۔ بعد ازاں کچھ طلبہ کا انتخاب کر کے اپنے جوابات پیش کرنے کے لئے کہیں، ان جوابات کا موازنہ کریں اور بتائيں کہ کون سا جواب سے زیادہ درست ہے۔

٭ تربیتی اور وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

ہر طالب علم کو ترغیب دیں کہ حدیث سے سیکھی ہوئی رہ نمائیوں کو اپنی عبادتوں پر نافذ کریں۔ بالخصوص عبادتوں اور نیکی کے کاموں کی پابندی اور بڑے گناہوں سے بچنے کے پہلو پر دھیان دیں۔

ہر طالب علم مختلف بشری یا الیکٹرانک یا پرنٹ مصادر سے رجوع کرے اور ان کے توسط سے نماز کی فضیلت واضح کرنے اور اس حدیث میں کہی گئی بات کو مضبوط کرنے والے بعض نصوص سے آگاہ ہو۔ بعد ازاں طلبہ سے کہیں کہ وہ جمع کردہ نصوص کو آپس میں بدل لیں، تاکہ ان کو اس طرح کے بہت سے نصوص سے آگاہ ہونے کا موقع ملے۔

پانچواں سبق : اللہ تعالى سے حسن ظن

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی۔

نئے کلمات : (ملأ– الشبر– ذِرَاعًا– باعًا– هرولة).

تعلیمی وسائل :

(کمپیوٹر ڈیوائس - ڈسپلے اسکرین - بلیک بورڈ - تعلیمی بورڈ - تعلیمی تصویریں - تعلیمی کارڈ)

تدریسی حکمت عملیاں :

(تعلیمی پہیلیوں پر مبنی حکمت عملی - حل مشکلات پر مبنی حکمت عملی - وصف پر مبنی حکمت عملی - استماع مثلث پر مبنی حکمت عملی)۔

اقدار و رجحانات :

o اچھا کام کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ سے اچھا گمان رکھنا۔

o اللہ کا سری اور جہری ذکر کرنے کی حرص۔

o مخلوق پر اللہ کی بے پایاں رحمت اور فضل و کرم کا احساس۔

o اطاعت واستقامت کى طرف دعوت دینے میں کوشاں ہونا۔

* سبق کی تمہید :

معلم سے گزارش ہے کہ وہ بلیک بورڈ پر نیچے درج عبارت لکھے، طلبہ سے اس کا مطلب بیان کرنے کے لئے کہے اور پھر ان سے ملنے والے جوابات کو حدیث قدسی کی تعریف اور حدیث قدسی اور حدیث نبوی کے درمیان فرق سمجھانے کے لیے نقطۂ آغاز کے طور پر استعمال کرے۔

(وہ احادیث جنھیں نبی کریم ﷺ اللہ تعالی سے روایت کرتے ہیں۔ وہ قرآن بھی نہیں ہیں، .... اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تو پھر یہ کیا ہیں؟)

طلبہ کے سامنے حدیث کے عنوان کى وضاحت کریں اور پھر اسے بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔

* سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر(1)

طلبہ کے سامنے بورڈ یا ڈسپلے اسکرین کے توسط سے حدیث پیش کریں، اسے پڑھ کر سنائیں، انھیں اپنے پیچھے پیچھے دوہرانے کے لئے کہيں اور اس کے بعد تین طلبہ کا انتخاب کریں، جو ساتھیوں کے سامنے اسے درست طریقے سے پڑھ سکيں۔

مرحلہ نمبر (2)

طلبہ سے حدیث کے راوی کا تعارف (نام، پرورش، ہجرت، فضائل اور وفات) ذہن و دماغ میں تازہ کرنے کے لئے کہیں، بعد ازاں دو طلبہ کا انتخاب کریں، جو اس جلیل القدر صحابی کے بارے میں اپنی معلومات کو مختصر انداز میں بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے ان اہم فضائل کو پیش کر سکیں، جو ان کی توجہ کھینچتے ہیں اور جنھیں اپنی زندگی میں اتارنا چاہتے ہيں۔

مرحلہ نمبر (3)

طلبہ کے سامنے درج ذیل صورت حال رکھیں، جس میں ایک ایسی مشکل حالت کا ذکر ہے، جس کا سامنا کئی لوگوں کو کرنا پڑتا ہے۔ طلبہ سے کہیں کہ اس صورت حال پر غور کریں، اس کے بارے میں اپنی رائے دیں اور بتائيں اسے کیسے حل کیا جائے؟ اب طلبہ سے جو جواب ملیں، انھیں طلبہ کو حدیث سے رو برو کرانے، اس کے مفرد کلمات کے معانی اور فوائد بیان کرنے کے لیے نقطۂ آغاز کے طور پر استعمال کریں :

(سعید نے ایک بار جھوٹی گواہی دے دی، لیکن جلد ہی اسے احساس ہو گیا کہ اس نے ایک بڑا گناہ کیا ہے، لہذا اللہ کے حضور توبہ کی اور یہ فیصلہ کیا کہ اب اللہ کو ناراض کرنے والا کوئی کام نہیں کرے گا، لیکن اس کے باوجود اسے ایسا لگتا ہے کہ اللہ اسے معاف نہیں کرے گا اور اس کی توبہ قبول نہیں کرے گا)۔

مرحلہ نمبر (4)

معلم حدیث میں پیش کردہ بندے کے اللہ کا ذکر کرنے، قربت حاصل کرنے اور بدلے میں اللہ کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کے مظاہر کو پرکشش اور اثر انگيز انداز میں بیان کرے اور اس دوران ایسی وضاحتی تصویریں پیش کرے، جو بالشت، ہاتھ اور گز کے مفہوم کی جانب اشارہ کرتے ہوں۔

اس کے بعد دو طلبہ کا انتخاب کرے، جو اس بیان سے پیدا ہونے والے احساسات کے ساتھ ساتھ یہ بھی بیان کریں کہ ان باتوں کو جاننے کے بعد ان پر کیا واجب ہوتا ہے۔

٭ نتیجہ نکالنا :

معلم ہر طالب علم سے سبق سے حاصل کردہ ایک ایک فائدہ یا رہ نمائی سامنے رکھنے کے لئے کہے، طلبہ کے جوابات دیکھے، ان کے ساتھ ديگر مفید باتیں جوڑے اور اس کے بعد ان کے سامنے ایک بورڈ رکھے، جس میں حدیث سے متعلق سبھی مفید باتیں لکھی ہوں۔

* سرگرمیاں :

بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر سیکھنے کی ہدایت دی جائے :

سرگرمی نمبر 1 نوعیت اور ہدف اجتماعی۔ موت کے وقت اللہ سے اچھا گمان رکھنے کی سعادت نصیب ہونے کے سبب اور اس کے وسیلہ کی معرفت۔

ہدف نمبر 4

معلم طلبہ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دے۔ ہر گروہ میں تین طلبہ ہوں۔ خود سرگرمی کے ضمن میں وارد دونوں نصوص کو بلیک بورڈ پر لکھے اور طلبہ کے سامنے پڑھے اور ان سے جڑے ہوئے سوالات کرے۔

(معلم) پہلے گروہ کو سوالات کے جوابات پیش کرنے کے لئے کہے اور دوسرے گروہ کو حکم دے کہ پہلے گروہ کے جوابات دھیان سے سنے، ان کے بارے میں تبصرہ کرے اور اپنى رائے پیش کرے، جس سے جوابات کى وضاحت ہوجائے ان کا بیان تفصیلى طور پر ہوجائے اور ان کى وجوہات سامنے آجائیں۔ جب کہ تیسرا گروہ اپنے دونوں ساتھی گروہوں کی کارکردگیوں کو دھیان سے دیکھے اور ان کے دوران ہونے والی سرگرمیوں کو تحریر کرے، تاکہ ان کو معلم کے سامنے پیش کیا جا سکے۔

معلم تینوں گروہوں کی کارکردگیوں پر نظر رکھے، تینوں گروہوں کی تحریر کردہ باتوں اور نتیجے کے طور پر سامنے آنے والے جواب کو دیکھے، سب پر نوٹ چڑھائے، طلبہ کے ساتھ مل کر درست ترین جواب تک پہنچے اور سب سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے گروہ کی نشان دہی کرے۔

سرگرمی نمبر 2 نوعیت اور ہدف انفرادی / اجتماعی۔ بعض موقفوں کے بارے میں رائے دینا اور یہ جاننا کہ وہ اللہ تعالی سے اچھا گمان رکھنے پر کتنا دلالت کرتے ہیں۔

ہدف نمبر 4 - 5

معلم سرگرمی کے تحت وارد موقفوں میں سے کسی موقف کو چند کارڈوں میں لکھ دے اور ان کو کسی ترتیب کا خیال رکھے بغیر طلبہ کے درمیان بانٹ دے۔

معلم ہر موقف کو یکے بعد دیگرے پڑھے، پیش کردہ موقف کا کارڈ رکھنے والے طلبہ کی پہچان کرے، اس کے بارے میں ان کی رائے اور رائے قائم کرنے کے سبب کا استقبال کرے، ان کے جوابات کے درمیان موازنہ کرے اور درست ترین جواب کی نشان دہی کرے۔ اس عمل کو اس وقت تک دوہراتے رہے، جب تک تمام موقفوں کے اندازۂ قدر کا کام پورا نہ ہو جائے۔

سرگرمی نمبر 3 نوعیت اور ہدف انفرادی۔ کچھ نیکی کے کاموں کی تحدید، جن کی پابندی کی جائے گی۔

ہدف نمبر 3 - 5

معلم ہر طالب علم سے ایک خاجی کارڈ میں تین تین نیکی کے کام لکھنے کے لئے کہے، جن کی وہ پابندی کرتے ہیں اور ان پر ثواب کی امید رکھتے ہیں۔ بعد ازاں سبھی کارڈوں کو جمع کر کے اندازۂ قدر کرے اور دیکھے کہ ان کے درمیان کس حد تک مشابہت ہے۔ ساتھ ہی طلبہ کو نیکی کے ان کاموں کی پابندی کرنے اور انھیں زیادہ سے زیادہ کرنے کی ترغیب دے۔

* اندازۂ قدر :

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

پہلے اور دوسرے سوال کا جواب دینے کے لیے ان کے تحت وارد عبارتوں کو یکے بعد دیگرے پڑھیے، طلبہ کے جوابات سے رو برو ہوں اور ہر طالب علم کو اس کے کسی ساتھی کے جواب کا اندازۂ قدر کرنے کا موقع دیں۔

سوال 1 : (✓) - (✓) - (✖)

سوال 2 : (اللہ تعالی - فرشتے - موت)

کسی طالب علم کو بلیک بورڈ پر تیسرے سوال کا جواب لکھنے کے لئے کہیے۔ غلطی ہونے کی صورت میں اسے کتاب سے حدیث پڑھنے اور صحیح طریقہ سے لکھنا سیکھنے اور دوبارہ بلیک بورڈ پر لکھنے کے لئے کہیے۔

ہر طالب علم کو انفرادی طور پر چوتھے سوال کا جواب دینے کے لئے کہیے۔ کچھ طلبہ کا انتخاب جواب پیش کرنے کے لیے کریں۔ ان کے درمیان موازنہ کریں اور درست ترین جواب کی نشان دہی کریں۔

* تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

ہر طالب علم کی کوشش ہو کہ حدیث سے سیکھی ہوئی باتوں پر عمل کرے۔ خاص طور سے اللہ سے اچھا گمان رکھنے، اچھے عمل کرنے اور اجر و ثواب حاصل کرنے کے لیے اللہ کا تقرب حاصل کرنے پر۔

ہر طالب علم اپنے گھر کے لوگوں کے ساتھ ان رویوں کے بارے میں تبادلۂ خیال کرے، جو اللہ سے اچھا گمان رکھنے کے منافی ہيں۔ ان رویوں کے اسباب اور ان افراد کو بیدار کرنے اور ان کی رہ نمائی کرنے کے طریقے کے بارے میں بھی گفتگو کرے۔

چھٹا سبق : سات طرح کے لوگوں کو اللہ قیامت کے دن اپنا سایہ فراہم کرے گا۔

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی۔

نئے کلمات : (ظِلِّهِ - دعتْهُ - فاضت عيناه).

تعلیمی وسائل :

(کمپیوٹر ڈیوائس - ڈسپلے اسکرین - بلیک بورڈ - تعلیمی کارڈ)

تدریسی حکمت عملیاں :

(تمہیدی مواد کی پیش کش پر مبنی حکمت عملی - رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی - باہمی تعاون سے سیکھنے پر مبنی حکمت عملی)

اقدار و رجحانات :

o اس بات پر ایمان کہ اللہ تعالی قیامت کے دن اپنے اطاعت گزار بندوں کو امتیاز عطا کرے گا اور ساری مخلوقات کے سامنے ان کی عزت افزائی کرے گا۔

o اللہ کی اس نوازش کا احساس کہ اس نے ایمان والوں کو کچھ ایسے اعمال بتائے ہیں، جو قیامت کے دن کی ہول ناکیوں کو ہلکا کریں گے۔

o اس بات کی کوشش کہ جوانی کے مرحلے کو اللہ کی اطاعت میں لگایا جائے۔

o خلوص کے ساتھ صدقہ کرنے اور مسجد آباد کرنے کی فضیلت کا اندازہ لگانا۔

o حرام خواہشات سے اجتناب کہ آخرت میں اس کا بڑا اجر و ثواب ہے۔

درس کی تمہید :

تمہیدی مواد کی پیش کش پر مبنی حکمت عملی کی مدد سے معلم طلبہ کے سامنے درج ذیل موقف اور اس سے جڑے ہوئے سوالات رکھے، ان کے جوابات سنے، ان میں سے جداگانہ جوابات کو بلیک بورڈ پر لکھے اور انھیں دھیان سے سبق پڑھنے کے لئے کہے؛ کیوں کہ سبق کے توسط سے طلبہ خود ہی صحیح جواب تک پہنچ سکتے ہيں۔

(محمد پنجگانہ نمازیں مسجد میں ادا کرتا ہے اور غریبوں کے درمیان صدقات تقسیم کرنے ميں اہل شہر کی مدد کرتا ہے، چناں چہ امام مسجد نے اس سے کہا : محمد! تم اچھا کر رہے ہو۔ میں دعا گو ہوں کہ تم ان خوش نصیب لوگوں میں شامل ہونے کی سعادت حاصل کر سکو، جن کو اللہ تعالی قیامت کے دن اپنے عرش کے سایے میں جگہ عطا فرمائے گا۔ محمد نے پوچھا : امام صاحب! ذرا یہ بتائيں کہ آپ کی بات کا کیا مطلب ہے اور عرش کے کیا معنی ہیں؟)

معلم سبق کا عنوان بلیک بورڈ پر لکھے۔

درس کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

معلم طلبہ کو اس حدیث کو دیکھنے اور اس کی خاموش خواندگی کرنے کی ہدایت کرے۔

معلم کمپیوٹر ڈیوائس کے توسط سے حدیث پیش کرے، اسے طلبہ کے سامنے پڑھے اور اس کے مشکل الفاظ نکال کر ان کی وضاحت کرے۔

کچھ طلبہ منتخب کرکے انھیں اپنے ساتھیوں کے سامنے حدیث کی صحیح خواندگی کرنے کا حکم دے اور خود ان کی خواندگیوں میں ہونے والی غلطیوں کی تصحیح کرے۔

مرحلہ نمبر (2)

معلم طلاب کو راوی حدیث کا تعارف کرائے (ان کے نام، کنیت، زندگى، فضائل اور وفات) کو محور بنا کر۔

ایک طالب علم منتخب کرے، جو راوی حدیث کے بارے میں سکیھى ہوئى باتوں کو، اپنے الفاظ میں بیان کرے۔

مرحلہ نمبر (3)

رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی کے تحت معلم حدیث کی تشریح اور پیش کش کرے۔

معلم سبق کی بنیادی فکر پر مشتمل ایک توضیحی شکل پیش کرے اور اس کے بارے میں طلبہ سے تبادلۂ خیال کرے۔ وہ بنیادی فکر درج ذیل ہے : (وہ لوگ جن کو اللہ تعالی قیامت کے دن اپنا سایہ عطا کرے گا)۔

معلم طلبہ کے سامنے اس بنیادی خیال کی وضاحت کرے، حدیث سے اس کا ربط بتائے اور طلبہ جو کچھ جاننا چاہتے ہیں، اس کے بارے میں ان کے سوالات کا استقبال کرے۔

مرحلہ نمبر (4)

باہمی تعاون سے سیکھنے پر مبنی حکمت عملی کا استعمال کرتے ہوئے طلبہ کے ہر گروہ کو ان سات لوگوں کے اعمال و صفات کی نشان دہی کرنے کے لئے کہیں، جن کو اللہ تعالی سایہ عطا فرمائے گا۔ ان کی حوصلہ افزائی بھی کیجیے کہ وہ الگ الگ طرح کے بہت سے سوالات کریں۔

ہر گروہ کا لیڈر اس گروہ کی کارکردگیوں کو سامنے رکھے اور ہر گروہ کی اس بات پر حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ دوسرے گروہوں کے جوابات کی روشنی میں اپنے جوابات پورے کرے۔

نتیجہ نکالنا :

کچھ طلبہ کا انتخاب کریں اور ان میں ہر ایک سے کہیں کہ اپنے اسلوب ميں حدیث سے سیکھی ہوئی کوئی ایک کار آمد بات اور رہ نمائی اور اسے اپنی زندگی میں اتارنے کا طریقہ بیان کریں۔ بعد ازاں آپ ان کی مناسب حوصلہ افزائی کریں۔

سرگرمیاں

بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر کرنے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر 1 نوعیت و ہدف انفرادی۔ طلبہ کو صفات کے درمیان ربط پیدا کرنے کی مشق کرانا۔

ہدف نمبر 3

تمام طلبہ کو ذیل کی سرگرمی پر مشتمل ایک ایک تعلیمی کارڈ تقسیم کریں۔ طلبہ جواب دے دیں، تو کارڈوں کو جمع کر کے ان کی تصحیح کریں اور اس کے بعد سب سے عمدہ جواب کا انتخاب کر کے اسے طلبہ کے سامنے رکھیں، تاکہ ان کو اس سے مطلع کیا جا سکے۔

سرگرمی نمبر 2 نوعیت و ہدف اجتماعی۔ اللہ کے لیے محبت کرنے کی فضیلت کا بیان۔

ہدف نمبر 2، 3

طلبہ کو دو گروہوں میں تقسیم کر دیں اور پہلے گروہ کو حدیث پڑھنے اور دوہرانے کا مکلف بنائیں، جب کہ دوسرے گروہ کو زبانی طور پر سرگرمی کا جواب دینے کی ذمے داری سونپیں۔ دونوں گروہوں پر دھیان رکھیں اور رہ نمائی کرتے رہیں۔

پھر دونوں گروہ ذمہ داریاں بدل لیں۔ اب دوسرا گروہ حفظ کرے اور پہلا گروہ تصحیح کرے۔ جب کہ معلم دونوں پر دھیان رکھے اور رہ نمائی کرے۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

طلبہ کے درمیان کچھ کارڈ تقسیم کر دیں، جن میں سے کچھ میں (ہاں) اور کچھ میں (نہیں) درج ہوں۔ پھر پہلے سوال کے ضمن میں وارد عبارتوں کو یکے بعد دیگرے پیش کریں، طلبہ سے عبارت سے مناسبت رکھنے والا کارڈ اوپر اٹھانے کو کہیں اور غلطی کرنے والے طالب علم کی نشان دہی کریں، تاکہ اس کے ساتھ اس غلطی کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا جا سکے۔

چار طلبہ کا انتخاب کریں، تاکہ ہر طالب علم دوسرے سوال میں وارد کسی ایک عنصر کا جواب دے۔ کسی سے غلطی ہونے پر اسے کتاب سے صحیح جواب نکالنے کے لئے کہیں۔

ہر طالب علم انفرادی طور پر تیسرے اور چوتھے سوال کا جواب دے۔ اس کے بعد کچھ طلبہ سے اپنے جوابات پڑھنے، ساتھیوں کو ان کا اندازۂ قدر کرنے اور غلطی ہونے کی صورت میں صحیح جواب بتانے کے لئے کہیں۔

سوال 1 : (ہاں) - (نہيں) - (نہیں) - (ہاں) - (نہيں)

سوال 2 : قاضی - عفت - اللہ تعالی کی خشیت۔

* تربیتی اور وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

اس بات کی تنبیہ کہ عمر کو اللہ کی عبادت میں لگایا جائے، سبق کے دوران پیش کردہ وسائل سے مدد لی جائے اور اہل علم کی رہ نمائی میں ان کو انفرادی یا اجتماعی صورت میں عمل میں لانے کی کوشش کی جائے۔

اکائی : فقہ احکام

پہلا سبق : طہارت اور وضو کا طریقہ

دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (الحدث الأكبر - الحدث الأصغر - شَطْرُ).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - کمپیوٹر ڈیوا‎ئس - تعلیمی بورڈ - تعلیمی کارڈ)

تدریسی حکمت عملیاں :

قصہ گوئی پر مبنی حکمت عملی - تمہیدی مواد کی پیش کش پر مبنی حکمت عملی - اکتشاف پر مبنی حکمت عملی - کردار کی ادائيگی پر مبنی حکمت عملی)

اقدار و رجحانات :

طہارت اور وضو کی فضیلت کا اندازہ۔

o مسلمان کی زندگی میں طہارت کی اہمیت کا شعور۔

نجاست کا سبب بننے والی تمام چیزوں سے اجتناب۔

درس کی تمہید :

سبق کی تمہید کے طور پر طلبہ کے سامنے درج ذیل موقف رکھ سکتے ہيں : (ابراہیم نے ایک کپڑا پہن کر نماز پڑھی، جو کپڑا اس کے تین سالہ بیٹے کے پیشاب لگنے کی وجہ سے ناپاک ہوگیا تھا۔ اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟)

پھر طلبہ کی جانب سے ملنے والے جوابات کے بارے میں ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں اور ان کے ساتھ سبق کے موضوع تک پہنچیں اور اسے بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔

سبق کی پش کش :

مرحلہ نمبر (1)

آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ تمہیدی مواد کی پیش کش پر مبنی حکمت عملی پر عمل کرتے ہوئے کمپیوٹر ڈیوائس کے توسط سے طلبہ کے سامنے درس کے فرعی عناصر پر مشتمل ایک توضیحی شکل پیش کریں۔

انھیں اس شکل پر غور کرنے اور اس کا ایک مناسب عنوان متعین کرنے کے لئے کہیں۔

طلبہ سے وضو کے ان اعمال کے بارے میں ان کی سابقہ معلومات دریافت کریں، جو توضیحی شکل کے ذریعے پیش کیے گئے ہیں۔ اب دیکھیں کہ کیا کسی نے اس سے پہلے ان اعمال کی ترتیب میں غلطی کی ہے؟ اس نے کیا کیا ہے؟

مرحلہ نمبر (2)

دریافت پر مبنی حکمت عملی کی مدد سے طلبہ کے سامنے درج ذیل عبارتیں رکھیں اور انھیں ان کو ایسے الفاظ کے ذریعے پورا کرنے کے لئے کہیں کہ مفہوم واضح ہو جائے۔

ان کے جوابات معلوم کرنے کے بعد انھیں طہارت کی اہمیت و فضیلت بتائيں :

معاشرتی اور صحت سے متعلق فوائد کے پیش نظر اسلام نے تمام احوال میں طہارت کی دعوت دی ہے اور نماز کی صحت کی شرطوں میں سے اس سے متعلق دو شرطیں رکھی ہیں ... وہ کیا ہیں؟

وہ گناہوں کے مٹائے جانے کا سبب اور آدھا ایمان ہے ... وہ کیا ہے؟

وہ پورے بدن کو دھونے (غسل) اور وضو سے عمل میں آتی ہے ... وہ کیا ہے؟

مرحلہ نمبر (3)

کردار کی ادائیگی پر مبنی حکمت عملی کی مدد سے طالب علم وضو کے اعمال کرکے دکھائے گا، جب کہ باقی طلبہ اسے دیکھیں گے اور اندازۂ قدر کریں گے۔

بعد ازاں معلم تمام طلبہ کی کار کردگیوں پر تبصرہ کرے، درآمد ہونے والی سلبی باتوں کو سامنے لائے اور اس کے بعد وضو کے صحیح طریقے پر مبنی ایک بورڈ کے توسط سے تمثیلی موقف کے ہدف کا خلاصہ پیش کرے۔

نتیجہ نکالنا :

معلم طلبہ کو سبق سے حاصل شدہ معلومات پر مبنی ایک پیراگراف لکھنے کی ہدایت دے۔

ان کی لکھی ہوئی باتوں کو آیات قرآنی اور احادیث نبویہ کے ذریعے مضبوطی عطا کی جائے۔ بعد ازاں معلم لکھی جاچکى باتوں کو پڑھنے کے لیے کچھ طلبہ کا انتخاب کرے اور ان پر یہ واضح کرنے کے لیے نوٹ لکھے کہ وہ باتیں کتنی صحیح ہیں اور طلبہ نے مشمولات کو کتنا سمجھا ہے۔

سرگرمیاں

بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر سیکھنے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر 1 نوعیت و ہدف انفرادی۔ وضو کے استحباب کے حالتوں کی تلاش۔

ہدف نمبر 2

معلم ایسا کر سکتا ہے کہ پہلی دونوں سرگرمیوں کو پڑھنے کے لیے کسی طالب علم کا انتخاب کرے۔

معلم ان کے معنی اور ان سے حاصل ہونے والی رہ نمائيوں کے بارے میں طلبہ کے ساتھ تبادلۂ خیال کرے اور پھر ہر دو طلبہ کو ایک دوسرے کی مدد سے ان کا جواب دینے کی ہدایت کرے۔

معلم ہر گروہ سے ایک ایک طالب علم کا انتخاب اس کے گروہ کا جواب پیش کرنے کے لیے کرے اور درست ترین جواب کی نشان دہی کرنے کے لیے ان کے درمیان موازنہ کرے۔

(نماز سے پہلے - مصحف چھونے سے پہلے)

(اللہ تعالی کے ذکر کے وقت - سوتے وقت)

سرگرمی نمبر 2 نوعیت و ہدف انفرادی۔ وضو کے صحیح طریقے کی مشق۔

ہدف نمبر 4

معلم سرگرمی کے ضمن میں وارد عبارتوں کو کچھ کارڈوں میں لکھے۔

ہر طالب علم سے کسی ترتیب کا خیال رکھے بغیر ایک کارڈ کا انتخاب کرنے کے لئے کہے۔

کارڈ میں درج عبارت کو طلبہ کے سامنے واضح اور قابل سماعت آواز میں پڑھے۔

عبارت کی تشریح کرے اور اس سے وضو کا صحیح طریقہ مستنبط کرے۔

اس کے ساتھیوں کو اس کا اندازۂ قدر کرنے کا موقع دیں، تاکہ صحیح جواب سامنے آ سکے۔

سرگرمی نمبر 3 نوعیت و ہدف انفرادی۔ طلبہ کو نصوص کے درمیان ربط پیدا کرنے کی مشق کرانا۔

ہدف نمبر 3

ہر طالب علم کو دوسری سرگرمی پر مشتمل ایک ایک تعلیمی کارڈ دیں۔ وہ جوابات تحریر کر لیں، تو کارڈوں کو جمع کر کے ان کی تصحیح کریں اور اس کے بعد سب سے بہتر جواب کا انتخاب کر کے طلبہ کے سامنے رکھیں، تاکہ وہ صحیح جواب سے واقف ہو جائيں۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

طلبہ سے اپنی کاپیوں میں سوالات کا جواب لکھنے کے لئے کہیں۔

طلبہ کی کاپیاں جمع کریں اور وہی سوالات زبانی پیش کر کے حل کرنے کے لئے کہیں۔

ان کی مناسب حوصلہ افزائی کریں اور اس کے بعد کاپیوں کی تصحیح کریں اور ہر سوال پر مناسب نمبر دیں۔

سوال 1 : - - - .

سوال 2 : وضو کے اعمال ترتیب چہرہ دھونا 5 کلی کرنا 3 دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونا 6 ناک میں پانی ڈالنا اور ناک جھاڑنا 4 دونوں کانوں کا مسح کرنا 8 دونوں قدموں کو دھونا 9 سر کا مسح کرنا 7 دونوں ہتھیلیوں کو دھونا 2 نیت کرنا اور بسم اللہ کہنا۔ 1

* تربیتی اور وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

ایک تجویز یہ ہے کہ ہر طالب علم کو دریافت شدہ اہم احکام کا خلاصہ لکھنے کے لئے کہیں اور یہ کہ وہ اس سے اپنے اہل خانہ اور آس پاس کے لوگوں کو رو شناس کرائے۔

دوسرا سبق : تیمم اور حائل چیزوں پر مسح

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی۔

نئے کلمات : (التيمُّم - الخُفَّين - الجبيرة).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - کمپیوٹر ڈیوائس - تعلیمی بورڈ - تعلیمی کارڈ)۔

سبق کی حکمت عملیاں :

(قصہ گوئی پر مبنی حکمت عملی - سوالات نکالنے پر مبنی حکمت عملی - ایجابی مثالیں اور سلبی مثالیں پیش کرنے پر مبنی حکمت عملی)

اقدار اور رجحانات :

• اس بات کا اندازہ لگانا کہ شریعت نے اہل اعذار کو کتنی آسانیاں فراہم کی ہیں۔

• مسلمان کی زندگی میں پانی کی اہمیت کا احساس پیدا کرنا۔

• اسلام کی عظمت اور اس کی دعوتِ نظافت۔

• نجاست کا سبب بننے والی تمام چیزوں سے اجتناب۔

سبق کی تمہید :

سبق کی تمہید کے طور پر آپ طلبہ کے سامنے ایک تعلیمی کارڈ میں درج ذیل دو نمونے پیش کر سکتے ہیں :

(سخت ٹھنڈی کے موسم میں ابراہیم وضو کرتے وقت موزوں پر مسح کر لیا کرتا ہے)۔

(محمد کا ہاتھ ٹوٹ گیا۔ جب ڈاکٹر کے پاس گیا، تو ڈاکٹر نے اس کے ہاتھ کو ایسے مضبوط مادے سے ڈھانپ دیا، جو چمڑى تک پانی پہنچنے نہیں دیتا تھا۔ لہذا وضو کرتے وقت وہ ہر بار اس کے اوپر مسح کر لیا کرتا تھا۔) پھر ان سے پوچھیں کہ پہلے نمونے ميں ابراہیم نے جو کچھ کیا وہ کیسا ہے، دوسرے نمونے میں مذکور اس مادے کو کیا کہا جاتا ہے اور دونوں (موزے اور مضبوط مادے) پر مسح کا کیا حکم ہے؟ بعد ازاں ان کو سبق کے موضوع تک لے جائيں اور بلیک بورڈ پر اس کا عنوان لکھ دیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

طلبہ کو سبق کا مطالعہ کرنے اور اس کے عناصر اور مشمولات سے واقف ہونے کی ہدایت کریں، پھر ان میں سے دو دو طالب علموں کو ایک دوسرے کی مدد سے ایسے سوالات پیش کرنے کے لئے کہیں، جن کا جواب اس سبق کے مشمولات کی روشنی میں دیا جا سکتا ہے۔

طلبہ کے سوالات کا استقبال کریں، ان کو نئی شکل دیں اور سامنے آویزاں بورڈ میں لکھ دیں، تاکہ ان کی تشریح و توضیح کی جا سکے اور جواب دیا جا سکے۔

ان سوالات کے ساتھ کچھ اضافی سوالات بھی جوڑے جا سکتے ہیں۔ جیسے :

سوال : تیمم سے کیا مراد ہے؟

سوال : وہ کون سی چيزیں ہیں، جو مسلمان کے لیے تیمم مباح کرتی ہیں؟

سوال : تیمم کا صحیح طریقہ بیان کریں۔

سوال : شریعت نے وضو کے وقت دھونے کے بدلے میں موزوں اور پٹی پر مسح کرنے کی اجازت دی ہے۔ لیکن اس کے لیے کچھ شرطیں رکھی ہیں۔ ان کى وضاحت کریں۔

مرحلہ نمبر (2)

طلبہ کے ساتھ مل کر پچھلے سوالات کی تشریح و وضاحت کریں۔

اس کے لیے آپ ڈسپلے اسکرین کی بھی مدد لے سکتے ہیں۔ اس کے توسط سے تینوں رخصتوں (تیمم - موزوں پر مسح- پٹی پر مسح) کو یکے بعد ديگرے پیش کیا جا سکتا ہے۔

ان رخصتوں پر دلالت کرنے والی توضیحی تصویریں پیش کریں۔ ہر رخصت کو پیش کرتے وقت اس سے جڑے قرآن و سنت کے دلائل پیش کیے جائیں اور ان کی تشریح و توضیح کی جائے۔

طلبہ کو ان دلائل سے حاصل ہونے والی توجیہات بیان کرنے اور ان کو تشریعات اسلامی سے جوڑنے کی ہدایت کی جائے۔

مرحلہ نمبر (3)

معلم ایجابی مثالوں اور سلبی مثالوں پر مبنى حکمت عملی کی مدد لے سکتا ہے۔

معلم طلبہ کے سامنے درج ذیل مواقف رکھے، تاکہ ان کے درمیان فرق کیا جا سکے اور یہ بتایا جا سکے کہ یہ مواقف سبق میں بیان شدہ تیمم اور حائل چیزوں پر مسح سے متعلق احکام سے کتنے متفق ہیں اور کتنے مختلف۔ کچھ مواقف اس طرح ہیں :

ایک شخص کا ماننا ہے کہ تیمم ہاتھوں کو مٹی پر ایک سے زیادہ بار مارنے سے ہوتا ہے۔

ایک شخص نے عذر والے لوگوں کے حق میں آسانی کے لیے تیمم کی رخصت پر عمل پیرا ہونے کے ضرورى ہو نے کی نصیحت کی۔

کچھ لوگ موزوں پر مسح کو اس وجہ سے ٹھکرا دیتے ہیں کہ کہیں لوگ اس کے عادی نہ بن جائيں۔

انسان موزے پہن کر اس وقت تک مسح کر سکتا ہے، جب تک مسح کی مدت گزر نہ جائے۔

ایک شخص نے یہ کہہ کر پٹی پر مسح نہ کرنے کا مطالبہ کیا کہ پٹی بندھی ہونے کى صورت میں وضوء واجب نہیں ہے۔

نتیجہ نکالنا :

معلم طلبہ کو درس کے بارے میں متوقع عناصر کے مراجعہ کی ہدایت کرے گا۔

ہر طالب ایک مختصر سے جملے میں تبصرہ کرے کہ سبق نے ان عناصر کا کتنا احاطہ کیا اور انھوں نے کتنے نئے موضوعات اور عناصر سے آگاہی حاصل کی۔

معلم کچھ طلبہ کا انتخاب کرے، تاکہ ان میں سے ہر طالب علم تیمم اور حائل چیزوں پر مسح سے متعلق کسی ایک فائدہ کے بارے میں اپنی معلومات کا خلاصہ پیش کرے۔

سرگرمیاں

بہتر یہ ہو گا کہ آپ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر سیکھنے کی ہدایت کریں :

سرگرمی نمبر 1 نوعیت و ہدف انفرادی۔ طلبہ کو غور و فکر کرنے اور دو چیزوں کے درمیان فرق کرنے کی مشق کرانا۔

ہدف نمبر 3

معلم طلبہ کو کاپی کا سرگرمی والا صفحہ نکالنے کے لئے کہے اور کسی طالب علم کو اسے پڑھنے کے لیے منتخب کرے۔

ہر طالب کو سرگرمی کے ضمن میں وارد سوالوں کا جواب اپنی کاپی میں دینے کی ہدایت کریں۔

کچھ طلبہ کا انتخاب زبانی طور پر جوابات پیش کرنے کے لیے کریں اوے ان کے ساتھ جوابات کے بارے میں تبادلۂ خیال کریں پھر ان طلبہ کی تعریف کریں، جنھوں نے درست نقطۂ نظر کو بیان کرنے والا جواب دیا ہو اور صحیح سبب بیان کیا ہو۔

سرگرمی نمبر 2 نوعیت و ہدف انفرادی۔ طلبہ کو موزوں پر مسح کے طریقے کی مشق کرانا۔

ہدف نمبر 3

طلبہ کے سامنے سرگرمی کے ضمن میں وارد حدیث پیش کریں، اسے اچھے سے پڑھیں، پھر ہر طالب علم کو سرگرمی کا جواب تلاش کرنے کے لئے کہیں۔ طلبہ جوابات تلاش کر لیں، تو ان کے تحریر کردہ جوابات کے بارے میں ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں اور ان کے ساتھ مل کر صحیح جواب تک پہنچیں۔ بعد ازاں صحیح جواب بلیک بورڈ پر لکھ دیں، تاکہ طلبہ اسے اپنی کاپیوں میں نقل کر لیں۔

سرگرمی 2 : مسافر کے لیے تین دن تین رات اور مقیم کے لیے ایک دن ایک رات۔

سرگرمی نمبر 3 نوعیت و ہدف اجتماعی۔ موزوں اور پٹی پر مسح کى عملى مشق کرنا۔

ہدف نمبر 4

طلبہ کو مختلف گروہوں میں اس طرح تقسیم کر دیں کہ ہر گروہ اپنے درمیان سے ایک ایک فرد کو چن کر باقی لوگوں کے سامنے موزوں اور پٹی پر مسح کے افعال کر کے دکھانے کے لئے کہے۔

آپ ہر گروہ کا اندازۂ قدر کریں اور سب سے بہتر جواب دینے والے گروہ کو کام یاب گروہ قرار دیں۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

طلبہ کے سامنے پہلا سوال رکھیں اور کسی ترتیب کا خیال رکھے بغیر پانچ طلبہ کا انتخاب کر کے انھیں سوال کے کسی ایک عنصر کا جواب دینے اور باقی ساتھیوں کو ان کی کارکردگی کو غور سے دیکھنے اور ان کا اندازۂ قدر کرنے کے لئے کہیں۔

سوال 1 : - - -

ہر تین طالب علم ایک دوسرے کی مدد سے دوسرے سوال کا جواب دیں، بعد ازاں ہر گروہ اپنا جواب کسی دوسرے گروہ کے جواب سے بدل لے، تاکہ اندازۂ قدر ہو سکے۔ معلم ہر گروہ کو دوسرے گروہ کے جواب میں غلطیاں نکالنے کا موقع دے اور اس کے بعد طلبہ کو صحیح جواب سے آگاہ کرے۔

طلبہ کے سامنے تیسرا جواب رکھیں اور اس کا جواب دینے کے لیے تین طلبہ کا انتخاب کریں۔ ان سے غلطی ہونے یا موازنہ نہ کر پانے کی صورت میں انھیں سبق کے مشمولات سے جواب ڈھونڈ نکالنے کی ہدایت کریں۔

چوتھے سوال کا جواب دینے کے لیے دو طلبہ کا انتخاب کریں اور مزید دو طلبہ کا انتخاب اپنے دونوں ساتھیوں کے جواب کا اندازۂ قدر کرنے کے لیے کریں اور دونوں کی مناسب حوصلہ افزائی کریں۔

* تربیتی اور وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

ہر طالب علم ان حالات کی تفتیش کرے، جن میں تیمم مشروع ہے، تاکہ یہ حقیقت سامنے آ سکے کہ تیمم کا حکم واقعیت سے کس قدر مطابقت رکھتا ہے۔ کچھ منفی باتیں دریافت ہونے کی صورت میں وہ صحیح قواعد کی تطبیق کے طریقے تلاش کر سکتے ہیں۔ مثلا : سوشل میڈیا کے صفحات پر کچھ توجیہات لکھنا یا امام مسجد سے تیمم اور حائل چيزوں پر مسح کے مفہوم، شرطوں اور کیفیت کے بارے میں بات کرنے کا مطالبہ کرنا۔

طلبہ کو موزوں پر مسح کے احکام اور پٹی پر مسح کے احکام کے درمیان موجود فرق سے متنبہ کرنا۔

تیسرا سبق : غسل

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (الغُسل- الحيض- النفاس - المنيّ)

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - کمپیوٹر ڈیوائس - تعلیمی بورڈ - تعلیمی کارڈ)

تدریسی حکمت عملیاں :

(حل مسائل پر مبنی حکمت عملی - میں کیا جانتا ہوں پر مبنی حکمت عملی- میں کیا جاننا چاہتا ہوں پر مبنی حکمت عملی- میں نے کیا سیکھا (KWL) پر مبنی حکمت عملی- برین اسٹورمنگ)۔

اقدار و رجحانات :

• اس بات کا اندازہ لگانا کہ شریعت نے صفائی پر کتنی توجہ دی ہے۔

• ہمیشہ پاک رہنے کی کوشش کرنا۔

• نجاست کا سبب بننے والی تمام چیزوں سے دور رہنا۔

سبق کی تمہید :

سبق کی تمہید کے طور پر طلبہ کے سامنے درج ذیل سوال رکھ سکتے ہیں : جب آپ کسی گندے شخص کو دیکھیں گے، جس کے جسم سے بدبو آ رہی ہو، تو آپ کو کیسا لگے گا؟ بلاشبہ آپ کو اس سے اذیت محسوس ہوگی۔ چوں کہ اسلام اس بات کا حریص ہے کہ مسلمان پاک صاف رہے اور کسی کو اذیت نہ دے، لہذا اس نے غسل کو مشروع کیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ غسل کیا ہے؟ اور اس کے احکام کیا ہیں؟ انھیں باتوں کو ہم اس سبق کے ذریعے سیکھیں گے۔ اس کے بعد بلیک بورڈ پر سبق کا عنوان لکھ دیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

(میں کیا جانتا ہوں - میں کیا جاننا چاہتا ہوں - میں نے کیا سیکھا ) پر مبنی حکمت عملیوں سے مدد لینے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

ہر طالب علم سے کہیں کہ کاپی کے کسی ایک صفحے کو تین حصوں میں بانٹ لے۔

پہلے حصے میں غسل کی تعریف اور اس کے حالات سے متعلق اپنی معلومات قلم بند کرے، دوسرے حصے میں غسل کی اہمیت سے متعلق جو کچھ جاننا چاہتا ہے، اسے لکھے اور تیسرے حصے کو خالی چھوڑ دے۔

کچھ طلبہ کا انتخاب سابقہ معلومات اور سبق سے جو کچھ جاننا چاہتے ہیں، اسے پیش کرنے کے لیے کریں، ان پر نوٹ چڑھائیں اور واضح کریں کہ ان کے درمیان کیا کچھ اختلاف پایا جاتا ہے۔

بعد ازاں ان کے سامنے سبق کے عناصر رکھیں، تاکہ ان پر غور کریں اور انہوں نے جو کچھ لکھ رکھا ہے، اس سے ان عناصر کا موازنہ کریں۔

مرحلہ نمبر (2)

ایک تجویز یہ ہے کہ کچھ طلبہ کا انتخاب ساتھیوں کے سامنے سبق کی بلند خواندگی کے لیے کریں۔

ہر پیراگراف کی خواندگی کے بعد اس کی تشریح کی جائے اور اس میں وارد مشکل مفرد الفاظ کے معانی بیان کیے جائيں۔

برین اسٹورمنگ حکمت عملی کا استعمال کر کے ہر گروہ کو غسل کا طریقہ اور قسمیں بیان کرنے کا مکلف بنائیں۔

ہر گروہ سے ایک ایک طالب علم کا انتخاب اس کے ذریعے جمع شدہ معلومات پیش کرنے کے لیے کریں اور ان کی مناسب حوصلہ افزائی کریں۔

نتیجہ نکالنا :

ہر طالب علم کو اس کی کاپی کا تیسرا خانہ، جو سبق سے حاصل کردہ معلومات سے متعلق ہے، پر کرنے کا مکلف بنائيں۔

طالب علم سبق سے سیکھی ہوئی اور حاصل کردہ معلومات کو مختصر انداز میں لکھے۔

تین طلبہ کا انتخاب لکھی ہوئی باتوں کو ساتھیوں کے سامنے پڑھنے کے لیے کریں۔ ہر طالب علم تینوں خانوں میں ان کے ذریعے لکھی ہوئی باتوں پر تبصرہ کرے اور سبق پڑھنے سے پہلے اور سبق پڑھنے کے بعد کے ان کے جوابات کے ما بین موازنہ کرے۔

سرگرمیاں

بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر سیکھنے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر 1 نوعیت اور ہدف انفرادی۔ طلبہ کو غسل کے صحیح طریقے کی مشق کرانا۔

ہدف نمبر 2

طلبہ کے سامنے سرگرمی کے تحت موجود پیراگراف رکھیں، اس پر اچھے سے غور کريں، پھر ہر طالب علم کو سرگرمی کا جواب ڈھونڈنے کا مکلف بنائیں۔ جواب ڈھونڈنے کا عمل پورا ہونے کے بعد ان کی تحریر کردہ باتوں کے بارے میں ان کے ساتھ مناقشہ کریں اور ان کے ساتھ مل کر درست جواب تک پہنچیں۔ بعد ازاں صحیح جواب بلیک بورڈ پر لکھ دیں، تاکہ طلبہ اسے اپنی کاپی میں لکھ لیں۔

سرگرمی نمبر 2 نوعیت اور ہدف اجتماعی۔ غسل کے اسباب سے آگاہی۔

ہدف نمبر 3

ہر دو طالب علموں پر ایک کارڈ تقسیم کر دیں، جس میں سرگرمی کے ضمن میں وارد دونوں نصوص موجود ہوں۔ پھر انھیں آپسی تعاون سے دونوں نصوص کے فہم کی روشنی میں غسل کے اسباب اخذ کرنے کا حکم دیں۔ اس کے بعد کارڈوں کو جمع کریں، اندازۂ قدر کریں اور غلط جواب والے کارڈوں کو طلبہ کے سامنے رکھ دیں کہ وہ خود سے ان کی تصحیح کر دیں اور ان طلبہ کی تعریف کریں، جن سے جواب دینے میں کوئی غلطی نہیں ہوئی ہے۔

سرگرمی نمبر 3 نوعیت و ہدف انفرادی۔ غسل کے مستحب کاموں سے آگاہی۔

ہدف نمبر 4

اس سرگرمی کو طلبہ کے سامنے پڑھنے کے لیے کسی طالب علم کا انتخاب کریں۔ پھر ان کے ساتھ اس کے بارے میں تبادلۂ خیال کریں اور ہر طالب کو درس کے ذریعہ سیکھى ہوئى حالات میں سے دو ایسی حالتیں بیان کرنے کے لئے کہیں، جن میں غسل مستحب ہے۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

پہلے اور دوسرے سوال کا جواب ہر طالب علم انفرادی طور پر دے گا۔ پھر معلم بلیک بورڈ پر صحیح جواب لکھے گا اور اس کے بعد ہر طالب علم کو اپنے جواب کو مناسب نمبر دینے کے لئے کہے گا، بعد ازاں ان کے نمبرات دیکھے گا اور ان کی مناسب حوصلہ افزائی کرے گا۔

سوال 1 : - - - .

ہر طالب علم سے کہیں کہ وہ تیسرے سوال کا جواب اکیلے دے اور اپنا جواب اپنے ساتھی کے جواب سے بدل کر دونوں ایک دوسرے کے جواب کی تصحیح کریں۔ آپ ہر گروہ کی کارکردگی پر نظر رکھیں اور اس کی رہ نمائی کریں۔

* تربیتی اور وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

ذاتی صاف صفائی، غسل کرنے اور خوش بو لگانے پر توجہ دینا۔

ہر طالب علم کی کوشش رہے کہ غسل کے صحیح طریقے کو عملی جامہ پہنائے اور غسل کے استحباب کے حالات پر توجہ دے۔

چوتھا سبق : نماز کا مقام و مرتبہ

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (العَهْدُ - دَرَنه - حَزَبَهُ).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - کمپیوٹر ڈیوائس - تعلیمی بورڈ - تعلیمی کارڈ)

تدریسی حکمت عملیاں :

(برین اسٹورمنگ - بحث و تبادلۂ خیال پر مبنی حکمت عملی - رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی)

اقدار و رجحانات :

• قرآن و سنت سے نماز کے مقام و مرتبہ کا اندازہ لگانا۔

• نماز وقت پر پڑھنے کا حریص ہونا۔

سبق کی تمہید :

آپ تمہید کے طور پر طلبہ کے سامنے درج ذیل صورت حال رکھ سکتے ہیں : (حمزہ نے اپنے معلم کو بتایا کہ وہ خود کو ہمیشہ غمگین محسوس کرتا ہے، لہذا اس کے معلم نے پوچھا کہ کیا وہ نماز کی پابندی کرتا ہے؟ اس نے نہیں میں جواب دیا، تو معلم نے اسے پابندی سے نماز پڑھنے کی نصیحت کی)۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نماز کا غم کے احساس سے کیا تعلق ہے؟ یہی بات ہم اس سبق سے جانیں گے۔ اس کے بعد سبق کا عنوان بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

برین اسٹورمنگ کے تحت طلبہ کو مختلف گروہوں کو بانٹ دیں۔

طلبہ کے ہر گروہ کو نماز کا مقام و مرتبہ واضح کرنے کے لئے کہیں۔

ہر گروہ اپنے خیالات ایک خارجی ورق میں لکھے، تاکہ سارے گروہوں کے جوابات کا موازنہ کیا جا سکے۔

پیش قدمی (2)

نماز کی اہمیت بیان کرنے کے لیے معلم بلیک بورڈ پر درج ذیل عبارت لکھ سکتا ہے : (وہ نفس کی راحت اور غموں کے ازالے کا سبب ہے۔ بندہ جب اللہ تعالی کے سامنے کھڑا ہوتا ہے، تو اپنے غموں کو بھول جاتا ہے۔۔۔۔ وہ چیز کیا ہے؟)

معلم طلبہ سے پوچھے کہ یہ عبارت کس چیز کے بارے میں بات کر رہی ہے اور ان کے جوابات کو انھیں نماز کی اہمیت سے آگاہ کرنے کا نقطۂ آغاز بنا کر آگے بڑھے۔

مرحلہ (3)

معلم طلبہ کے سامنے ایک رہ نما نقشہ رکھے، جو نماز کی قدر و منزلت بتاتا ہو۔

معلم یکے بعد دیگرے نماز کی ہر منزلت کی وضاحت کرے اور اس سے متعلق احادیث نبویہ پیش کرکے ان کی تشریح کرے۔

معلم درج ذیل سوالات سے رہ نمائی حاصل کرے، ان کو طلبہ کے سامنے رکھے اور ان کے ساتھ ان سوالات کے بارے میں تبادلۂ خیال کرے، تاکہ نماز کا مقام و مرتبہ اور اسے چھوڑنے یا اس میں سستی کرنے کی سنگینی سامنے آ سکے :

سوال : اسلام پر استقامت کی کیا علامت ہے؟

سوال : ایک حدیث بیان کریں، جو یہ بتاتی ہو کہ نماز ہی وہ چيز ہے، جس کے بارے میں قیامت کے دن سب سے پہلے حساب و کتاب ہوگا۔

سوال : نماز مسلمان کو گناہوں سے دور کرتی ہے، اس کا مطلب بیان کریں۔

سوال : نماز نفس کی راحت کا سبب کیسے بنتی ہے؟

نتیجہ نکالنا :

ہر طالب علم کو اپنی کتاب سے سبق کے مشمولات سے مطلع ہونے کی ہدایت کریں۔

درس کے عناصر اور افکار پر ایک جستجو آمیز نظر ڈالنے کے لئے کہیں۔

ہر طالب علم کو سبق سے سیکھے ہوئے تین تین عناصر لکھنے کے لئے کہیں، ان کے جوابات دیکھیں اور الگ الگ طرح کے جوابات کو بلیک بورڈ پر لکھ دیں، تاکہ طلبہ اپنی کاپیوں میں اتار لیں۔

سرگرمیاں

بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر سیکھنے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر 1 نوعیت اور ہدف انفرادی۔ نفس کی راحت پر نماز کے اثر کا بیان۔

ہدف نمبر 2

ہر طالب کو دوسری سرگرمی کے جواب کے بارے میں غور کرنے کا مکلف بنائیں اور ہر طالب ایک الگ ورق میں اپنے اس موقف کو لکھے، جو اس کے لیے نماز کی پابندی کا سبب بنا۔

ایک طالب علم کا انتخاب کریں، جو ساتھیوں کے سامنے اپنا موقف رکھ سکے، اس کے ساتھی اس کے بارے میں اپنی رائے دیں اور اس کا سبب بھی بتائیں۔

معلم تبصرہ کرے اور اس عمل کو ان کے ساتھ دوہراتے رہے۔

سرگرمی نمبر 2 نوعیت اور ہدف انفرادی۔ نماز کی فضیلت اور اس فضیلت کے حصول کی شرطوں کا بیان۔

ہدف نمبر 2، 4

ہر طالب علم کو درج ذیل سرگرمی پر مشتمل ایک ایک تعلیمی کارڈ دیں، جب طلبہ جواب دے دیں، تو کارڈوں کو جمع کر کے جوابات کو درست کریں۔ بعد ازاں سب سے درست جواب کا انتخاب کر کے اسے طلبہ کے سامنے رکھیں اور طلبہ کو اس سے رو برو ہونے کا موقع دیں۔

سرگرمی نمبر 3 نوعیت اور ہدف انفرادی۔ نماز چھوڑنے یا اس کی ادائيگی میں سستی کرنے کی سنگینی کا بیان۔

ہدف نمبر 3

ہر طالب کو وسائل معرفت میں سے کسى ایک کى مدد سے ہوم ورک پورا کرنے کا مکلف بنائيں۔

پھر ان کے جوابات کے بارے میں اگلی ملاقات میں ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں، تاکہ درست جواب معلوم ہو، صحیح جواب دینے والے کی حوصلہ افزائی کی جا سکے اور غلط جواب دینے والے کا اندازۂ قدر کیا جا سکے۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

پہلے سوال کا جواب دینے کے لیے، اس کے تحت وارد عناصر میں سے ہر عنصر کو یکے بعد دیگرے طلبہ کے سامنے رکھیں۔ جواب صحیح ہونے کی صورت میں طالب علم اپنا ہاتھ اوپر اٹھائے۔ طلبہ کے جوابات کا اندازۂ قدر کریں اور ان کے ساتھ غلط اور درست عبارتوں کے بارے میں بات کریں۔

سوال 1 : - - .

ہر طالب علم سے کہیں کہ اکیلے دوسرے سوال کا جواب دے اور ہر طالب علم اپنا جواب اپنے ساتھی کے جواب سے بدل لے اور دونوں ایک دوسرے کے جواب کی تصحیح کریں۔ آپ ہر گروہ کی کارکردگیوں کو دھیان سے دیکھیں اور رہ نمائی کریں۔

بلیک بورڈ پر تیسرے سوال کے ضمن میں وارد عبارت لکھیں اور کچھ طلبہ سے ایک دوسرے کی مدد سے نماز کے مقام و مرتبہ اور اس کے اہتمام کے بارے میں تین تین سطریں لکھنے کے لئے کہیں، ان کی تحریروں پر نوٹ چڑھائيں اور سب سے اچھا جواب دینے والے کی عزت افزائی کریں۔

* تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں پر اپنی زندگی اور معاملات میں عمل کرنے کی اہمیت کی طرف توجہ دلائيں، جس کے لیے وہ درج ذیل اقدامات کریں گے :

اللہ کے نبی ﷺ کے طریقے کی پیروی کرتے ہوئے نماز ادا کرنے کی حرص رکھنا اور اہل و عیال اور دوستوں کو نماز کی ادائيگی کی ترغیب دلانا۔

طلبہ کا ایک دوسرے کی مدد سے ایک بورڈ بنانے کی ترغیب دینا، جو نماز چھوڑنے یا اس میں سستی کرنے کے کچھ نقصانات پر مشتمل ہو۔

پانچواں سبق : نماز کا طریقہ

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی۔

نئے کلمات : (العورة - الخشوع - التورُّك).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - کمپیوٹر ڈیوائس - تعلیمی بورڈ - تعلیمی کارڈ)

تدریسی حکمت عملیاں : (کردار ادا کرنے پر مبنی حکمت عملی - باہمی تعاون سے سیکھنے پر مبنی حکمت عملی - موازنہ پر مبنی حکمت عملی)۔

اقدار و رجحانات :

• نماز میں خشوع کی اہمیت کا اندازہ لگانا۔

• دل میں اللہ تعالی کی عظمت کا استحضار۔

• نماز میں کبھی کبھی سرزد ہونے والی غلطیوں سے اجتناب۔

سبق کی تمہید :

طلبہ کو بتائيں کہ نماز کی ادائیگی میں نمازیوں کی مختلف کیفیتیں ہوا کرتی ہیں۔ شاید اس کا ایک سبب نماز کا صحیح طریقہ نہ سیکھنا ہے۔ لہذا اس سبق کو اچھے سے پڑھیں، تاکہ اس میں بتائے گئے نماز کے طریقے پر عمل در آمد کر سکیں۔

اس کے بعد سبق کا عنوان بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔

درس کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

طلبہ کی سبق کے عنوان اور اس کے ہدف سے آگاہی کی روشنی میں انھیں اس کے ممکنہ عناصر اور افکار کے بارے میں اپنے اندازے پیش کرنے کے لئے کہیں۔

ان کے پیش کردہ جوابات کو دیکھیں اور کچھ الگ الگ جوابات کو بلیک بورڈ پر لکھیں۔

مرحلہ نمبر (2)

کردار ادا کرنے کی حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے کسی طالب علم کو نماز کی ایک رکعت پڑھ کر دکھانے کے لئے کہیں اور باقی طلبہ کو اس کی ادائيگی کا اندازۂ قدر کرنے کو کہيں اور اس کے بعد خود اس پر تبصرہ کريں۔

مرحلہ نمبر (3)

معلم طلبہ کے سامنے درج ذیل موقف رکھے اور موازنہ پر مبنی حکمت عملی کے توسط سے ان کے ساتھ ان موقفوں کے بارے میں تبادلۂ خیال کرے، تاکہ ان موقفوں میں سے ہر موقف کے مقابلے میں نماز کی صحیح کیفیت کی نشان دہی ہو سکے۔ پھر اسے اس کیفیت کو تفصیل سے طلبہ کے سامنے پیش کرنے کا نقطۂ آغاز بنائے۔

ایک شخص مشغولیت کا بہانہ بناکر جلدی جلدی نماز پڑھتا ہے۔

ایک شخص نماز میں رکوع کے دوران صحیح سے جھکتا نہیں ہے۔

ایک شخص نماز میں سجدے کے دوران پیشانی کو ٹھیک سے زمین پر نہیں رکھتا۔

احمد پابندی سے نماز تو پڑھتا ہے، لیکن قرآن اور اذکار کو تیزی سے پڑھتے ہوئے گزر جاتا ہے اور ان پر غور نہيں کرتا۔

نتیجہ نکالنا :

معلم کچھ طلبہ کا انتخاب کر کے ان میں سے ہر ایک سے اختصار سے نماز کا طریقہ پیش کرنے اور اس سے جڑی ہوئی مثال بیان کرنے کے لئے کہے۔ بعد ازاں طلبہ کو اس بات کا موقع دے کہ ایک دوسرے کے جواب پر نوٹ چڑھائيں۔

سرگرمیاں

بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر سیکھنے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر 1 نوعیت اور ہدف اجتماعی۔ طلبہ کو صحیح طریقے سے نماز ادا کرنے کی مشق کرانا۔ ہدف نمبر 4

آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ طلبہ کو اپنے اہل خانہ کے ساتھ مل کر گھر میں درج ذیل سرگرمی کا جواب الگ الگ تیار کرنے اور تیار شدہ جواب کو لکھنے کے لئے کہیں، پھر اگلی ملاقات میں ان جوابات کو آپ کے سامنے پیش کیا جائے، ان کے ساتھ ان جوابات کے بارے میں تبادلۂ خیال کریں اور بہتر جواب دینے والے کو ساتھیوں کے سامنے انعام و اکرام سے نوازیں۔

سرگرمی نمبر 2 نوعیت اور ہدف انفرادی۔ نماز کا طریقہ بیان کرنا۔

ہدف نمبر 1

ڈسپلے اسکرین کے توسط سے طلبہ کے سامنے سرگرمی کے ضمن میں وارد حدیث پیش کریں، کسی بہتر پڑھنے والے طالب علم کو اسے پڑھنے کے لئے کہیں، پھر ان کے ساتھ اس کے مفرد کلمات کی تشریح کریں اور اس سے حاصل رہنمائى کو نکالیں۔

سرگرمی کے تحت دیے گئے سوالات کو یکے بعد دیگرے لیں اور ان کے جواب کے بارے میں طلبہ کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں، تاکہ ہر طالب علم صحیح جواب سے آگاہ ہو جائے اور اسے اپنی کتاب میں لکھ لے۔ ساتھ ہی صحیح جواب دینے والوں سے کہیں کہ وہ اپنے جوابات کو سوشل میڈیا سائٹس پر نشر کریں۔

سرگرمی نمبر 3 نوعیت اور ہدف انفرادی۔ طلبہ کو نماز کی غلطیوں کو درست کرنے کے طریقوں کی مشق کرانا۔

ہدف نمبر 2

معلم سرگرمی کے ضمن میں وارد حالات میں سے ہر حالت کو ایک تعلیمی کارڈ میں لکھے اور کچھ طلبہ کا انتخاب کر کے انھیں کسی ترتیب کا خیال رکھے بغیر ایک ایک کارڈ لے لینے اور اس میں درج حالت کا جواب دینے کے لئے کہے۔ بعد ازاں ایک اور طالب علم کا انتخاب کرے اور اسے اپنے ساتھی کے جواب کا اندازۂ قدر کرنے کے لیے کہے۔ معلم طلبہ کی کارکردگی پر نظر رکھے اور ان کی رہ نمائی کرے۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

طلبہ کو مختلف گروہوں میں اس طرح تقسیم کر دیں کہ ہر گروہ اس میں شامل طلبہ کے آپسی تعاون سے کتابوں میں دیے گئے سوالات کا جواب دے۔ کوشش یہ ہو کہ ہر ہر فرد ایک ایک سوال کا جواب دے اور اس کے ساتھی اس کے اس کام پر توجہ مبذول کریں۔

آپ سبھی گروہوں کی کارکردگیوں پر نظر رکھیں، تاکہ اس بات کی یقین دہانی ہو جائے کہ جواب دینے اور اندازۂ قدر کرنے کے عمل میں تمام لوگ شریک ہو رہے ہیں۔

سبھی گروہوں کے جوابات جمع کریں، ان کے جوابات کی تصحیح کریں، سب سے درست جواب دینے والے گروہ کی نشان دہی کریں، اس میں شامل افراد کی تعریف کریں اور ان سے کہیں کہ غلطی کرنے والے گروہوں سے صادر ہونے والی غلطیوں کی نشان دہی کریں۔

سوال 1 : ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

* تربیتی اور وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

طلبہ کو نماز کی ان غلطیوں سے اجتناب کرنے کے بارے میں آگاہ کرنا، جنھیں وہ اپنے آس پاس کے لوگوں سے سرزد ہوتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ طلبہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ غلطیاں کرنے والے لوگوں کو نماز کا صحیح طریقہ بتائیں۔

اللہ کے نبی ﷺ کى اقتدا کرتے ہوئے آپ ﷺ کی طرح نماز پڑھنا اور اس میں خشوع و خضوع اختیار کرنا۔

پانچویں اکائی : اخلاق

پہلا سبق : کھانے پینے کے آداب

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

تعلیمی وسائل :

(کمپیوٹر ڈیوائس - ڈسپلے اسکرین - بلیک بورڈ - تعلیمی بورڈ - تعلیمی تصاویر)

تدریسی حکمت عملیاں :

( زندگى سے تعلق پر مبنی حکمت عملی - غلط تصورات کی تصحیح کی حکمت عملی - نوٹ تیار کرنے کی حکمت عملی)

اقدار و رجحانات :

- کھانے پینے کے آداب پر عمل پیرا ہونے کی کوشش۔

- پابندی کے ساتھ اذکار پڑھنے کی اہمیت کا احساس۔

- اس بات کا اندازہ کہ اسلام فرد کے تمام احوال پر توجہ دیتا ہے۔

* سبق کی تمہید :

زندگى سے تعلق پر مبنی حکمت عملی کی مدد سے ہر طالب علم کو کھانے پینے کے آداب پیش کرنے کو کہیں۔ ہر طالب علم کم سے کم دو آداب پیش کرے۔ اس کے بعد انہیں بتائيں کہ اس سبق کے توسط سے وہ زیادہ تعداد میں کھانے پینے کے آداب سیکھیں گے۔

طلبہ کو سبق کا عنوان بتائيں اور اسے بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔

سبق پیش کرنے کے مراحل :

مرحلہ نمبر (1)

آپ طلبہ کے سامنے کھانے پینے کی کچھ ایسی تعلیمی تصاویر پیش کر سکتے ہیں، جو کھانے پینے کے آداب سے متعارض ہوں, جیسے : (ایسے شخص کی تصویر جو کھانا کھا رہا ہو اور اس کا ہاتھ صاف نہ ہو - ایسے شخص کی تصویر جو بائیں ہاتھ سے کھانا کھاتا ہو - ایسے شخص کی تصویر جو کھانے کی چیز پر پھونک مار رہا ہو)۔

طلبہ سے ان تصویروں کے بارے میں اپنی رائے دینے کو کہیں اور ان کے جوابات کو کھانے پینے کے آداب اور اس سلسلے کے ممنوعہ کاموں سے ان کو آگاہ کرنے کو نقطۂ آغاز بنائيں، ساتھ ہی ان سے جڑے ہوئے شرعی دلائل پیش کریں اور ان کی وضاحت کریں۔

مرحلہ نمبر (2)

طلبہ کے ساتھ ان غلطیوں کے سلسلے میں تبادلۂ خیال کریں، جو کچھ لوگوں سے کھانے پینے کے آداب کو عملی جامہ پہنانے کے دوران سرزد ہو جاتی ہيں۔

پھر ان کے سامنے کھانے پینے کے آداب کے سلسلے میں ممنوعہ کاموں کا ذکر کریں اور دلیل کے طور پر شرعی نصوص پیش کریں۔

* نتیجہ نکالنا :

آپ ایسا کر سکتے ہيں کہ نوٹ لکھنے کی حکمت عملی کی مدد سے ہر طالب علم کو اپنی کتاب میں سبق سے متعلق نوٹ لکھنے کے لئے کہيں۔ طلبہ کے ذریعے لکھے جانے والے نوٹ، عناوین اور بنیادی افکار کے نیچے لکیر کھینچنے، کچھ ایسے سوالات مرتب کرنے جن کے جوابات مشمولات سے عیاں ہوں اور سبق سے حاصل ہونے والے اہم فائدوں پر، مشتمل ہوں۔ اس کے لیے کچھ طلبہ کا انتخاب کر کے انھیں اپنے تحریر کردہ نوٹ پڑھنے کو کہيں اور مناسب حوصلہ افزائی کریں۔

* سرگرمیاں :

بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر سیکھنے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر 1 نوعیت و ہدف انفرادی۔ کھانے پینے کے آداب سے آگاہی۔

ہدف نمبر 1

ایک تجویز یہ ہے کہ ہر طالب علم کو انفرادی طور پر پہلی سرگرمی انجام دینے کے لئے کہیں، اس کے بعد طلبہ اپنے جوابات ایک دوسرے سے بدل لیں، تاکہ وہ ان کو جانچیں اور یہ جان سکیں کہ ان سے کتنا اتفاق یا اختلاف رکھتے ہيں۔ بعد ازاں کچھ طلبہ کا انتخاب کر کے انھیں اپنے ساتھیوں کے جوابات پر تبصرہ کرنے اور یہ بتانے کے لئے کہيں کہ وہ ان سے کتنا اتفاق و اختلاف رکھتے ہيں اور انھوں نے ان سے کتنا استفادہ کیا ہے۔ اخیر میں سب سے بہتر جواب دینے والے طالب علم کی حوصلہ افزائی کریں۔

سرگرمی نمبر 2 نوعیت و ہدف اجتماعی۔ طلبہ کو آڈیو کلپ سے کھانے پینے کے آداب اخذ کرنے کے طریقے کی مشق کرانا۔

ہدف نمبر 3

طلبہ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیں اور ان سے حلقوں کی شکل میں بیٹھنے کے لئے کہیں۔ ہر گروہ باہمی تعاون سے دوسری سرگرمی کا جواب دے اور اس کے بعد اپنے ایک رکن کو اپنے گروہ کی کارکردگی پیش کرنے کے لئے کہے۔ اگر جواب پر تمام گروہ متفق ہوں تو کسی طالب کے ذریعے اسے بلیک بورڈ پر لکھ دیا جائے اور اگر اختلاف ہو، تو اس کے سلسلے میں آپ کے سامنے اور آپ کی نگرانی میں تبادلۂ خیال کیا جائے اور اخیر میں درست جواب نکال کر اسے بلیک بورڈ پر لکھ دیا جائے۔

سرگرمی نمبر 3 نوعیت و ہدف جوڑے پر مبنی۔ طلبہ کو کھانے پینے کے آداب کے التزام کے لیے ایک تعلیمی پروگرام تیار کرنے کی مشق کرانا۔

ہدف نمبر 4

ایک تجویز یہ ہے کہ ہر دو طالب علموں کو ایک دوسرے کی مدد سے تیسری سرگرمی انجام دینے کے لئے کہیں۔ اس دوران آپ ان کے پاس سے گزرتے رہیں، تاکہ دیکھ سکیں کہ وہ ایک دوسرے کی کتنی مدد کر رہے ہیں اور اپنے کام میں کس قدر سنجیدہ ہيں۔

طلبہ کے ہر دو گروہ کا انتخاب جواب دینے کے لیے کریں، ان کے درمیان موازنہ کریں اور زیادہ باریکی سے جواب دینے والے فریق کی نشان دہی کریں۔

زیادہ بہتر جواب دینے والے گروہ کی مناسب جوصلہ افزائی کریں، اسے "رہ نما" گروہ کا لقب دیں اور اسے باقی گروہوں کے جوابات درست کرنے کى نگرانى کى ذمہ دارى تفویض کریں۔

* اندازۂ قدر :

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

طلبہ سے انفرادی طور پر سوالوں کا جواب دینے کے لئے کہیں۔

ان کے جوابات جمع کریں اور اس کے بعد ان کے سامنے زبانی طور پر سوالات رکھیں، تاکہ وہ زبانی طور پر حل کر کے دکھائيں اور بعد ازاں ان کی مناسب حوصلہ افزائی کریں۔

جوابات کی تصحیح کریں اور ہر جواب پر مناسب نمبر دیں۔

سب سے زیادہ نمبر حاصل کرنے والے طالب علم کی نشان دہی کریں اور اس کی مناسب حوصلہ افزائی کریں۔

سوال 1 : (✓) - (×) - (×).

سوال 2 : (منع شدہ) - (منع شدہ چيزیں) - (جائز)۔

* تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

طلبہ کو کھانے پینے کے آداب کا التزام کرنے، انھیں صحیح طور پر عمل میں لانے، اذکار کی پابندی کرنے اور پریوار اور سماج میں ان آداب کو عام کرنے کی کوشش کرنے کی ترغیب دیں۔

ایسے رویوں کا مقابلہ کرنا، جو سبق میں متعارف کرائے گئے آداب سے متصادم ہوں۔ اس کے لیے اس طرح کے رویوں کے حامل افراد کو غلطی اور کوتاہی کے مظاہر سے آگاہ کریں اور ان کے علاج کا طریقہ بتائيں یا پھر کچھ ایسی توجہ مبذول کرانے والی چيزوں کا سہارا لیں، جنھیں ایسی جگہوں میں رکھا جائے کہ اس طرح کےلوگ انہیں دیکھ سکیں اور فالو کر سکیں، تاکہ خود ہی اپنی غلطیوں سے آگاہ ہو جائيں اور انھیں درست کر سکيں۔

دوسرا سبق : اجازت طلب کرنے کے آداب

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (أَلِجُ - تستأنسوا - أزكى - يبلغوا الحلم - ثلاث عورات).

تعلیمی وسائل :

(آڈیو میڈیم جس پر دینی نصوص ریکارڈ ہوں - کمپیوٹر ڈیوائس - ڈسپلے اسکرین - تعلیمی بورڈ - تعلیمی کارڈ - بلیک بورڈ)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(قصہ گوئی پر مبنی تمہید کى حکمت عملی- تبادلہ پر مبنی تدریس "تصورات قائم کرنے" کى حکمت عملی - ایک دوسرے سے سوال کرنے پر مبنی حکمت عملی - وضاحت کرنے پر مبنی حکمت عملی- خلاصہ کرنے پر مبنی حکمت عملی - استقصا پر مبنی حکمت عملی)۔

اقدار و رجحانات :

- اجازت طلب کرنے کے آداب کی فضیلت کا احساس۔

- دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنے کی اہمیت کا احساس۔

- معاشرے کو بہتر بنانے میں اجازت مانگنے کے آداب کی اہمیت پر فخر۔

- کسی کے یہاں داخل ہونے سے پہلے اجازت طلب کرنے کا التزام۔

* سبق کی تمہید :

طلبہ کے سامنے درج ذیل بیانیہ موقف رکھیں، اس کے بارے میں ان کی رائے طلب کریں اور ان کے جوابات پر تبصرہ کریں : (علی خالد سے ملنے اس کے گھر گیا۔ کئی بار دروازے کی گھنٹی بجائی، لیکن کسی نے جواب نہیں دیا۔ لہذا ناراض ہوکر واپس ہو گیا۔ بعد میں خالد ملا، تو دروازہ نہ کھولنے پر اس کی سرزنش کی۔ اسے خالد نے بتایا کہ دراصل گھر اس کے آنے لائق نہيں تھا، اس لیے دروازہ نہیں کھولا۔ آپ کی نظر میں کیا علی کو ناراض ہونے اور سرزنش کرنے کا حق ہے؟)

طلبہ کو سبق کا عنوان بتائيں اور بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔

* سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

سبق کے موضوع سے طلبہ کی واقفیت کی روشنی میں، ان سے ان عناصر کا اندازہ لگانے کے لئے کہیں، جو سبق میں شامل ہو سکتے ہیں اور ان کے جوابات بورڈ پر لکھیں، پھر ان کے سامنے ایک بورڈ رکھیں، جس میں سبق کے عمومی اور ذیلی عناصر شامل ہوں، تاکہ طلبہ ان پر غور کریں اور اپنے جوابات کا موازنہ بورڈ پر دکھائے جانے والے جوابات سے کریں۔

مرحلہ نمبر(2)

معلم طلبہ میں سے ہر دو کو ایک دوسرے کی مدد سے سبق سے متعلقہ سوالات پیش کرنے کا مکلف بنائے۔ سوالات ایسے ہوں کہ ان کے جوابات کے توسط سے سبق کے عناصر اور مشمولات واضح ہو جائيں۔ معلم ہر گروہ کے سوالات دیکھے، ان کو نئی شکل و صورت دے اور بلیک بورڈ پر لکھ دے، تاکہ طلبہ کے ساتھ ان کے بارے میں تبادلۂ خیال اور سبق کے مختلف عناصر کی تشریح ہو سکے۔ معلم سبق کے تمام عناصر کے احاطے کی خاطر اپنی جانب سے کچھ سوالات بھی کر سکتا ہے۔ وہ درج ذیل سوالات سے رہ نمائی حاصل کر سکتا ہے :

سوال : اجازت طلب کرنے کا حکم بیان کریں۔

سوال : اللہ تعالی نے اجازت طلب کرنے کا حکم ........ کی وجہ سے دیا ہے۔ (خالی جگہ کو پر کریں)۔

سوال : اللہ تعالی نے اجازت طلب کرنے کے مقصد کو پورا کرنے کے لیے کچھ آداب مشروع کیے ہیں۔ وہ آداب کیا ہیں؟

سوال : بتائيں کہ بچے گھروں میں اجازت کیسے طلب کریں؟

سوال : پردے کے تین اوقات کیا ہیں، بیان کریں اور بتائيں کہ اللہ تعالی نے ان تین اوقات میں اجازت طلب کرنے کا حکم کیوں دیا ہے؟

مرحلہ نمبر(3)

معلم مذکورہ سوالات کی وضاحت کے ساتھ ساتھ اس بات کی کوشش کرے کہ ان سے جڑے ہوئے نصوص پیش کر دیے جائيں۔ اس کے لیے وہ آڈیو میڈیم یا ڈسپلے اسکرین کی مدد لے سکتا ہے۔ بعد ازاں طلبہ سے انھیں پڑھنے کے لئے کہے اور ان کے بارے میں ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کرے، تاکہ طلبہ ان سے ان کے مقاصد اور فوائد اخذ کر سکیں۔

* نتیجہ نکالنا :

تبادلہ پر مبنی تدریس کی حکمت عملی کے چوتھے مرحلے، جس کا تعلق تلخیص سے ہے، کی تکمیل کے لیے معلم طلبہ سے سبق سے حاصل شدہ اہم رہ نمائیوں اور ان سے آگاہی کے سلسلے میں اپنے کردار پر مشتمل ایک پیراگراف لکھنے کے لئے کہے اور کچھ طلبہ کو ساتھیوں کے سامنے انھیں پڑھنے کے لیے کہے اور ان کی مناسب حوصلہ افزائی کرے۔

* سرگرمیاں :

بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر سیکھنے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر 1 نوعیت و ہدف انفرادی۔ اجازت طلب کرنے سے گريز کے مفاسد کی وضاحت اور اجازت طلب کرنے کے آداب کو عام کرنے کے وسائل کی تجویز۔

ہدف نمبر 2، 4

آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ ہر طالب علم کو سرگرمی کا جواب انفرادی طور پر دینے کے لئے کہیں، پھر اجازت طلب کرنے کی فضیلت کے مراجعہ کے توسط سے پہلے عنصر کے صحیح استنباط پر ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ اسی طرح اجازت طلب کرنے کے آداب کى نشر و اشاعت کو عملی جامہ پہنانے کے تعلق سے بڑی تعداد میں تجویزیں پیش کرنے کی خاطر ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو بہ روئے کار لائیں۔

تین طلبہ سے اپنے جوابات پیش کرنے کے لئے کہيں، ان کے درمیان موازنہ کریں، سب سے بہتر جواب کی نشان دہی کریں، اس کی وجہ بتائيں اور تمام طلبہ کو اس سے رہ نمائی حاصل کرنے کے لئے کہیں۔

دوسروں کی شرم گاہوں کو دیکھنا۔

سرگرمی نمبر 2 نوعیت و ہدف انفرادی۔ اجازت طلب کرنے کی مشروعیت کی حکمت تک رسائی حاصل کرنا۔

ہدف نمبر 5

بہتر یہ ہوگا کہ معلم طلبہ کو دوسری سرگرمی کے جواب تک پہنچنے کے لیے بحث و جستجو کرنے کی ہدایت کرے، طلبہ کی کارکردگیوں پر نظر رکھے، ان کی بحث و جستجو اور مختلف مصادر سے رجوع کرنے کی حوصلہ افزائی کرے، ان کے تجربات کے تبادلے کی ہمت افزائی کرے اور انھیں صحیح جوابات سے آگاہ کرے۔

* اندازۂ قدر :

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں:

طلبہ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیں۔ ہر گروہ کو کتاب میں درج سوالات کا جواب ایک الگ کارڈ میں دینے کے لئے کہيں۔ اس بات کا خیال رہے کہ گروہ میں شامل ہر طالب علم ایک ایک سوال کا جواب دے اور باقی لوگ اس پر توجہ دیں اور اس کی رہ نمائی کریں۔

طلبہ سے سارے کارڈ لے لیں اور ان کی تصحیح کریں۔

بعد ازاں طلبہ کے سامنے سوالات رکھیں، ان کے جوابات حاصل کریں اور بتائيں کہ پیش کردہ جوابات اور ہر گروہ کے ذریعے دیے گئے جوابات میں کیا فرق ہے۔

سب سے بہتر جواب دینے والے گروہ کی نشان دہی کریں اور اس میں شامل طلبہ کی کارکردگی کی تعریف کریں۔

سوال 1 : . . . . .

سوال 2 : (واپس ہو جانا) - (عشا) - (گھر کے لوگوں کی عزت آبرو کی حفاظت)۔

تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

ہر طالب علم اپنے اہل خانہ کے طور طریقے کا جائزہ لے، تاکہ واضح ہو سکے کہ وہ اجازت طلب کرنے کے آداب کا کتنا خیال رکھتے ہيں؟ معلم ان کے ساتھ اس سلسلے میں پائی جانے والی کوتاہیوں کے بارے میں سبق سے حاصل کردہ معلومات کی روشنی میں تبادلۂ خیال کرے، تاکہ ان کوتاہیوں کو درست کیا جا سکے۔

طلبہ اجازت طلب کرنے کے آداب کو معاشرے میں عام کرنے کے لیے ان تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کریں، جن تک ان کی رسائی سبق کے توسط سے ہوئی ہے۔ اس مقصد کی تکمیل کے لیے کچھ اختصاص کے حامل افراد، جیسے امام مسجد یا خاندانوں اور پریواروں کے با اثر افراد کی مدد لی جا سکتی ہے۔

تیسرا سبق : گفتگو اور مجلس کے آداب

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (إفشاء السلام - الغيبة - النميمة - يَتَنَاجَى - التفسُّح).

تعلیمی وسائل :

(کمپیوٹر ڈیوائس - ڈسپلے اسکرین - بلیک بورڈ - تعلیمی کارڈ - تعلیمی بورڈ - آڈیو میڈیم جس میں کچھ شرعی نصوص ریکارڈ ہوں)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(نقطہ ہائے نظر کے تجزیہ پر مبنی حکمت عملی - استنباطی طریقہ پر مبنی حکمت عملی- ذہنی نقشوں پر مبنی حکمت عملی - تعلم کے حلقوں پر مبنی حکمت عملی - استماع مثلث پر مبنی حکمت عملی - کرداروں کی ادائيگی پر مبنی حکمت عملی)۔

اقدار و رجحانات :

o گفتگو اور مجلس کے آداب کی پابندی۔

o معاشرے کی ترقی میں گفتگو اور مجلس کے آداب کی اہمیت کا اندازہ لگانا۔

o سلام عام کرنے کی فضیلت پر فخر۔

o حرام لہو ولعب کی مجلسوں سے اجتناب کی کوشش۔

* سبق کی تمہید :

نقطہ ہائے نظر کے تجزیے پر مبنی حکمت عملی کے تحت طلبہ کے سامنے درج ذیل موقف رکھیں اور اس کے بارے میں ان سے میں رائے طلب کریں : (کچھ لوگ مجلس کے آداب کا خیال رکھے بغیر ہی مجلس کا آغاز اور اختتام کر دیتے ہيں۔ یہ اسلامی طریقے کے مخالف رویہ ہے۔)

ان کے جوابات کا استقبال کریں، ان پر تعلیق چڑھائیں اور ان کو بتائيں کہ اس سبق کے توسط سے وہ گفتگو اور مجلس کے آداب سے واقف ہو سکتے ہیں۔ اس کے بعد طلبہ کو سبق کا عنوان بتائيں اور اسے بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔

* سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر(1)

ایک تجویز یہ پیش کی جاتی ہے کہ طلبہ کے سامنے سبق کے عناصر پر مشتمل ایک رہ نما نقشہ پیش کریں اور اس کے بعد انھیں اس پر غور کرنے اور دس منٹ تک سبق کے مشمولات کو پڑھنے کے لئے کہیں، تاکہ ہر طالب علم اس سبق سے جو کچھ جاننا چاہتا ہے، اس کے بارے میں تین سوالات پیش کرے۔ طلبہ کے سوالات کا استقبال کریں اور انھیں بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔

مرحلہ نمبر (2)

آپ ایسا کر سکتے ہيں کہ طلبہ کے سامنے گفتگو کے آداب کے شرعی دلائل رکھیں، یکے بعد دیگرے ہر دلیل کی تشریح و وضاحت کریں، طلبہ کو ہر دلیل سے گفتگو کے آداب نکالنے کے لئے کہيں اور اس کے بعد ان کے جوابات کا موازنہ سبق کے مشمولات سے کریں۔

مرحلہ نمبر(3)

ایسا کیا جا سکتا ہے کہ تعلم کے دائروں پر مبنی تعلیمی حکمت عملی کے توسط سے طلبہ ایک دائرے کی شکل میں بیٹھ جائيں اور اجتماعی طور پر غور و فکر کر کے ان آداب مجلس تک پہنچيں، جن کا التزام ہر مسلمان پر واجب ہے۔ معلم دائرے کے بیچ میں کھڑے ہو کر ان کے جوابات کا استقبال کرے اور صحیح جواب کو شرعی دلائل سے مضبوطی عطا کرے اور غلط جواب کی نشان دہی کرے۔

٭ نتیجہ نکالنا :

آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ ہر طالب علم کو ان تین سوالات کا جواب دینے کی ہدایت کریں، جنھیں سبق کے پہلے مرحلہ کے دوران پیش کیا گیا تھا۔ پھر کچھ طلبہ کو منتخب کر کے اپنے سوالات اور ان کے جوابات پیش کرنے کے لئے کہیں اور بتائيں کہ ان کے سوال و جواب میں کتنی باریکی، محنت اور سیکھی ہوئی باتوں کا احاطہ پایا جاتا ہے۔

* سرگرمیاں :

بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر 1 نوعیت و ہدف اجتماعی۔ سلام کرنے کے درجات اور ہر درجے کے ثواب کی نشان دہی۔ ہدف نمبر 1

معلم استماع مثلث کی حکمت عملی سے مدد لے سکتا ہے۔ اس کے لیے طلبہ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دے اور ہر گروہ میں تین تین طلبہ ہوں۔

پہلا طالب علم سرگرمی اور اس کے مطلوب کی تشریح کرے، دوسرا طالب علم اچھی طرح سنے اور پہلے طالب علم سے سرگرمی کے تعلق سے مزید تفصیل و وضاحت کے لیے کچھ سوالات کرے، جب کہ تیسرا طالب علم اپنے دونوں ساتھیوں کی کار کردگی پر مکمل توجہ دے، دونوں کو مفید مشورے دے اور طلبہ کے درمیان ہونے والے سوال و جواب کو لکھ کر معلم کے سامنے پیش کرے۔

معلم سارے گروہوں کی کار کردگیوں پر نظر رکھے، ہر گروہ کی تحریروں اور پیش کردہ جواب کو پڑھے، سب پر تبصرہ کرے اور غلط جواب دینے والے کی نشان دہی کرے، تاکہ اس کی کارکردگی کو درست کیا جا سکے۔

سرگرمی نمبر 2 نوعیت و ہدف انفرادی۔ مجالس سے متعلق کچھ غلط رویوں کا جائزہ۔ ہدف نمبر 3، 4

آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ سرگرمی کے ضمن میں وارد موقفوں کو کردار کے ذریعے ساتھیوں کے سامنے پیش کرنے کے لیے چار طلبہ کا انتخاب کریں۔

کچھ اور طلبہ کا انتخاب ان موقفوں کے بارے میں ان کے نقطۂ نظر اور ان کی جانب سے پیش کردہ نصیحت کے بارے میں ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کرنے کے لیے کریں۔

صحیح جواب دینے اور سبق سے حاصل شدہ معلومات کی روشنی میں نصیحت پیش کرنے والے کی تعریف کریں۔

* اندازۂ قدر :

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

ہر دو طالب باہمی تعاون سے پہلے اور دوسرے سوال کا جواب دیں، معلم ان کے جوابات سے واقف ہونے کے لیے ان کے پاس سے گزرتے رہے اور سب سے بہتر جواب دینے والے گروہ کا انتخاب کر کے اسے ساتھیوں کے سامنے صحیح جواب پڑھ کر سنانے کے لئے کہیں، تاکہ دیگر گروہ اس کی روشنی میں اپنے جوابات درس کر لیں۔

سوال 1 : . . .

ہر گروہ میں شامل طلبہ ایک دوسرے کی مدد سے تیسرے سوال کا جواب دیں۔ کوشش یہ ہو کہ گروہ میں شامل ہر طالب علم کسی ایک سوال کا جواب دے اور باقی طلبہ اس پر دھیان رکھیں۔ اس دوران آپ گروہوں کے پاس سے گزرتے رہيں، تاکہ ان کے جوابات سے واقف ہو سکيں۔ پھر سب سے بہتر جواب دینے والے گروہ کی نشان دہی کریں اور اس گروہ کے طلبہ اپنا جواب اپنے ساتھیوں کے سامنے رکھیں۔

* تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

'گفتگو اور مجلس کے آداب' اس سبق سے سیکھے ہوئے آداب کو صحیح طور پر عملی جامہ پہنانا اور آس پاس کے لوگوں کو ان سے متعارف کرانے کی کوشش کرنا کہ وہ بھی ان پر عمل کر سکیں۔

شریعت کے بیان کردہ سلام اور مجلس کے آداب سے متصادم افعال اور رویوں سے اجتناب کرنا اور الیکٹرانک سرچ کے ذرائع، دینی کتابوں اور اہل علم سے رجوع کر کے ان آداب سے جڑے ہوئے زيادہ سے زيادہ دلائل سے واقف ہونے کی کوشش کرنا۔

چوتھا سبق : قضائے حاجت کے آداب

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (الغرور - الكبر).

تعلیمی وسائل : (بلیک بورڈ - تعلیمی بورڈ - تعلیمی کارڈ)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

مشکلات کے حل پر مبنی حکمت عملی - تعلقات کےآن لائن تجزیہ پر مبنی حکمت عملی - مثبت اور منفی مثالوں پر مبنی حکمت عملی - فرضی تصورات قائم کرنے پر مبنی حکمت عملی - شخصی روابط پر مبنی حکمت عملی)۔

اقدار و رجحانات :

o قضائے حاجت کے آداب پر عمل کرنے کی کوشش۔

o دین اسلام پر ناز کرنا، جو نظافت کی تعلیم دیتا ہے۔

o شخصی نظافت کی اہمیت کا اندازہ لگانا۔

* سبق کی تمہید :

طلبہ کے سامنے درج ذیل موقف رکھیں، ان سے اس کے بارے میں رائے دینے کے لئے کہیں، ان کے جوابات کا استقبال کریں اور اس کے بعد انھیں بتائيں کہ ان کو اس کا جواب اس سبق کے توسط سے ملے گا۔

(ایک بچہ قضائے حاجت کے لیے بیت الخلا میں داخل ہوا اور جب اذان سنی تو اسے مؤذن کے ساتھ دوہرانے لگا۔)

طلبہ کو سبق کے مقاصد اور اس کے عنوان سے روبرو کریں اور اسے بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔

* سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ بلیک بورڈ پر قضائے حاجت کے مختلف قسموں کے آداب کی ایک شکل بنائيں اور طلبہ سے اس پر غور کرنے کے لئے کہيں اور ان آداب کے بارے میں اپنی سابقہ معلومات پیش کرنے کے لئے کہيں، تاکہ یہیں سے سبق کی تشریح کی جانب بڑھ سکيں۔

پیش قدمی (2)

ایسا کیا جا سکتا ہے کہ معلم درج ذیل مواقف میں سے ہر موقف کو مختلف کارڈوں پر لکھ دے۔ دراصل ان مواقف کے اندر قضائے حاجت کی مثبت اور منفی مثالیں موجود ہيں۔ بعد ازاں کارڈوں کو طلبہ کے درمیان تقسیم کر دے۔ اس کے بعد ہر طالب علم ایک ایک موقف کو پڑھے، اس کے بارے میں اپنی رائے رکھے اور معلم طلبہ کے جوابات کے بارے میں ان سے تبادلۂ خیال کرے، صحیح آداب کی نشان دہی کرے اور غلط طرز عمل کو درست کرے۔

ایک شخص مصحف ساتھ لے کر بیت الخلا میں داخل ہو گیا۔

ایک شخص نے بیت الخلا کے اندر اللہ تعالی کا ذکر کیا۔

ایک شخص نے پانی بہنے کی جگہ میں قضائے حاجت کی۔

ایک شخص نے دائيں ہاتھ سے استنجا کیا۔

ایک شخص نے قضائے حاجت کی جگہ کو گندہ چھوڑ دیا۔

مرحلہ نمبر (3)

معلم مفصل طور پر قضائے حاجت کے آداب پیش کرنے والا تخطیطی نیٹ ورک پر مشتمل ایک بورڈ پیش کرے اور طلبہ اس پر غور کریں، اسے پڑھیں اور اس میں درج آداب کا موازنہ ان آداب سے کریں، جن کى وضاحت پچھلے مرحلہ میں کى جا چکى ہے۔

* نتیجہ نکالنا :

معلم ہر طالب سے قضائے حاجت کا ایک ایک ادب، جسے اس سبق سے سیکھا ہے، اس طرح بیان کرنے کے لئے کہے کہ پہلا طالب علم پہلے ادب سے آغاز کرے اور اس کے ساتھی باقی آداب کا ذکر اسی ترتیب سے کریں اور تکرار بھی در نہ آئے۔

معلم ہر طالب علم سے اس بات پر غور کرنے کے لئے کہے کہ وہ قضائے حاجت کے آداب کی کتنی پابندی کرتا ہے اور ان آداب کی بھی نشان دہی کرنے کے لئے کہے، جن کا وہ خیال نہيں رکھتا، تاکہ ان کی پابندی کرنے کا عزم کرے۔

* سرگرمیاں :

بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر 1 نوعیت و ہدف انفرادی۔ بیت الخلا میں داخل ہونے کے آداب کی روشنی میں انسان کی عزت افزائی کے مظاہر کی وضاحت کرنا۔ ہدف نمبر 1، 3

ایسا کیا جا سکتا ہے کہ معلم ویڈیو کلپ پیش کرے اور اس کے بعد کچھ طلبہ کا انتخاب کرے، جن میں سے ہر طالب علم بیت الخلا میں داخل ہونے کے آداب کے توسط سے انسان کی تکریم کے مظاہر کو واضح کرے۔

معلم دوسرے طالب علم سے سبق کی حاصل شدہ معلومات کی روشنی میں اپنے ساتھی کے جواب کا اندازۂ قدر کرنے کے لئے کہے۔

سرگرمی نمبر 2 نوعیت و ہدف انفرادی / اجتماعی۔ قضائے حاجت کرنے کے متوقع نتیجے کا بیان۔

ہدف نمبر 3، 4

معلم سرگرمی کے ضمن میں وارد عبارتوں کو مختلف کارڈوں میں لکھ دے، انھیں کسی ترتیب کا خیال رکھے بغیر طلبہ کے درمیان تقسیم کر دے اور اس کے بعد طلبہ کے سامنے سرگرمی کے ضمن میں وارد قضائے حاجت کے مواقف کو اس طرح یکے بعد دیگرے پیش کرے کہ ہر طالب علم موقف کے نتیجے پر غور و فکر کرے، اس سے مطابقت رکھنے والے کارڈ کی نشان دہی کرے اور اسے اوپر اٹھائے۔

معلم طلبہ کے جوابات دیکھے، غلط جواب دینے والے سے اس کا کارڈ لے لے، اسے صحیح جواب بتا دے اور اسے اپنے ساتھیوں کو فالو کرنے کے لئے کہے۔

* اندازۂ قدر :

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

ہر طالب علم اپنی کتاب میں دیے گئے سوالوں کا جواب علاحدہ علاحدہ دے۔

معلم طلبہ کے جوابات جمع کرے اور اندازۂ قدر کرے۔ ہر طالب کو مناسب نمبر دے اور سب سے زیادہ نمبر حاصل کرنے والے طالب علم کی نشان دہی کرے۔

معلم طلبہ کے جوابات دوبارہ ان کے درمیان تقسیم کر دے، ان کی غلطیوں پر تعلیق چڑھائے اور ان کو انھیں درست کرنے کا طریقہ بتائے، تاکہ ہر طالب علم اپنے غلط جواب کو درست کر لے۔

سوال 1 : (پھل دار درخت - حرام - شرمگاہ یعنی چھپائی جانے والی چیز - قرآن)۔

سوال 3 :

- میں قضائے حاجت کے بعد اپنے بائيں ہاتھ سے نجاست دور کرتا ہوں۔

- بیت الخلا سے نکلنے کے بعد (غُفرانَك) کہتا ہوں۔

- قضائے حاجت کے دوران جب اذان سنتا ہوں، تو اسے دوہراتا نہیں ہوں۔

* تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

ہر طالب ان غلط رویوں کو درست کر لے، جن کو وہ قضائے حاجت کے دوران روا رکھتا تھا۔

ہر طالب علم قضائے حاجت کے آداب کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرے اور اپنے اہل خانہ کو ان سے متعارف کرائے، تاکہ ان کی جانب سے بھی ان پر عمل کیا جا سکے۔

پیش لفظ

ساری تعریف اللہ کی ہے، جس نے انسان کو پیدا کیا، اسے علم و بیان کی دولت سے نوازا اور قرآن و سنت کے ذریعے اس پر حجت قائم کر دی۔

درود و سلام ہو ہمارے نبی محمد ﷺ پر، اور آپ کے اہل بیت، معزز ساتھیوں اور قیامت کے دن تک ان کی پیروی کرنے والوں پر۔

حمد و صلاۃ کے بعد! اس بات میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہيں ہے کہ بندے پر عمل سے پہلے علم حاصل کرنا بے حد ضروری ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے : (تو آپ اس کو جان لیں کہ بجز اللہ کے کوئی برحق معبود نہیں اور اپنی خطا کی معافی مانگتے رہیے اور سارے ایمان والوں اور ایمان والیوں کے لیے بھی۔ اور اللہ خوب خبر رکھتا ہے تم سب کے چلنے پھرنے اور رہنے سہنے کی)۔

(سورہ محمد : 19)

دراصل شرعی علم اس امت کی اہم ترین امتیازات میں سے ایک امتیاز اور اسلامی شخصیت کے اہم ترین عناصر میں سے ایک عنصر ہے۔

علم کی اہمیت کے پیش نظر، جس کے چشمے سے جمعیۃ الدعوہ و توعیۃ الجالیات روضہ کا فیض جاری ہے اور وہ لوگوں کو حکمت کے ساتھ اور تبلیغ کے بہترین طریقوں کو بروئے کار لاتے ہوئے لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے اور پردیسى کمیونٹیز کی تعلیم اور ان کو شرعی اعتبار سے اہل بنانے کے مقصد سے کیے گئے پروگراموں، جیسے ('فقهني في ديني' یعنی مجھے میرا دین سکھائیے) نامی پروگروام، جو پردیسى کمیونٹیز کے لیے سات زبانوں میں شرعی کورسیز فراہم کرتا ہے، کے توسط سے مسلمانوں کے اندر دینی بیداری لانے کے کام میں مشغول ہے۔

اس پروجیکٹ کو تیار کرنے کے لیے مذکورہ جمعیت نے "بصائر للاستشارات التربوية" نامی کمپنی سے رابطہ کیا، جو شرعی تعلیم کا نصاب تیار کرنے کا کام کرتی ہے۔ چنانچہ جمعیت کی جانب سے فراہم کردہ مواد کی بنیاد پر اس نصابی دستاویز کو تیار کرنے پر اتفاق عمل میں آیا اور پھر درج ذیل مراحل کے مطابق طالب علموں کے لیے کتابیں تالیف کی گئیں :

- پہلا مرحلہ، جس میں چالیس (40) درس شامل ہیں۔

-دوسرا مرحلہ، جس میں تیس (30) درس شامل ہیں۔

- تیسرا مرحلہ، جس میں تیس (30) درس شامل ہيں۔

متعلم کے لیے تیار کی گئی ہر کتاب کے مقابلے میں معلم کے لیے بھی ایک رہ نما کتاب تیار کی گئی ہے، تاکہ وہ اس کے لئے مؤثر تعلیمی اور تربیتی طریقے پر درس پیش کرنے میں معاون و مددگار ثابت ہو۔ نصابی دستاویز مرتب کرنے، متعلمین کے لیے کتابیں تالیف کرنے اور معلمین کے لیے گائیڈ تیار کرنے کا عمل بڑے ہی علمی انداز میں انجام پایا ہے اور بڑی باریک بینی کے ساتھ مراجعہ کیا گیا ہے۔ یہ کام شرعی تعلیمی نصاب کے ماہرین کی ایک جماعت نے کیا ہے۔

اخیر میں دعا ہے کہ اللہ اس عمل کو اسلام اور مسلمانوں کے لیے نفع بخش بنائے اور اس میں شریک ہونے والے ہر شخص کو بہتر بدلہ عطا کرے اور جنت سے نوازے۔ اس نصاب تعلیم کے بارے میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور جمعیت کے فون نمبروں کے ذریعہ موصول ہونے والی آپ کی کارآمد تجاویز اور آرا کا پرجوش خیر مقدم ہے۔

درود وسلام نازل ہو ہمارے نبی محمد ﷺ اور آپ ﷺ کے آل واصحاب پر۔

جعیۃ الدعوہ، روضہ

مقدِّمہ

ساری تعریف صرف اللہ کی ہے، درود و سلام ہو ہمارے نبی محمد بن عبداللہ ﷺ پر کہ جن کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، آپ کے اہل بیت، تمام ساتھیوں پر اور قیامت کے دن تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر۔

میرے معلم بھائی! تعلیم کا کام ایک معزز ترین کام ہے۔ کیوں کہ یہ انبیا اور مصلحین کا کام ہے اور سماج اور امت اسلامیہ کی تعمیر و ترقی میں اس کا بہت بڑا کردار ہے۔

آپ کے اس غیر معمولی کردار کے پیش نظر ہم آپ کے لیے یہ رہ نما کتاب فراہم کر رہے ہیں، جو آپ کی ذمے داری کی ادائيگی میں مددگار ثابت ہوگی۔

تاکہ تدریس کا کام زیادہ خوش گوار اور نتیجہ خیز ثابت ہو۔ کیوں کہ اس رہ نما کتاب میں اسباق کی ایسی منصوبہ بندی شامل ہے، جو طلبہ کی سطح اور ماحول سے مناسبت رکھتی ہے اور طالب علم کے لیے فراہم کی گئی کتاب کے اہداف و مقاصد اور تدریس و اندازۂ قدر کے طریقوں سے ربط رکھتی ہے۔

رہ نما کتاب برائے معلم میں سبق کے عناصر

اس رہ نما کتاب کے صفحات اپنے ہر درس میں متعدد عناصر کو سموئے ہوئے ہيں، جو تعلیمی موقف کے نمایاں ترین پہلوؤں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان میں سے درج ذیل عناصر زیادہ اہم ہیں :

ڈیٹا باکس (بیانات کا خانہ) :

اس میں سبق کے لیے تجویز کردہ دورانیہ، سیکھنے کے لیے نئے الفاظ، استعمال کئے جانے والے تعلیمی مواد، سبق کے دوران بروئے کار لائے جانے والے اقدار و رجحانات اور سبق کی تجویز کردہ حکمت عملیاں موجود ہیں۔

ب- سبق کے مراحل :

سبق کے درج ذیل مراحل متعین کیے گئے ہیں :

(1) سبق کی تمہید : اس کا مقصد ہوتا ہے طالب علم کی توجہ سبق پر مبذول کرانا اور اس کے لیے کئی طریقۂ کار اپنائے جاتے ہيں۔ مثلا ایسے چھوٹے چھوٹے سوالات جو نقطۂ آغاز بن سکتے ہيں، ایسی حقیقی کہانی جو سبق سے جڑی ہوئی ہو، آج کے سبق کو پچھلے سبق سے جوڑنا یا کوئی تعلیمی وسیلہ اختیار کرنا۔

(2) نتیجہ نکالنا : اس سے مراد موضوع کو پڑھنے کے بعد متعلم کے ذریعے حاصل کیے گئے معارف، مفاہیم، حقائق اور احکام ہیں۔ اس رہ نما کتاب میں سیکھنے والوں کے ذریعہ اخذ کئے جانے والے نتائج کی توقعات شامل ہیں۔ معلم کو ان پر زور دینا چاہیے اور اس بات کی تاکید کرنی چاہیے کہ متعلمین انھیں اپنی کاپیوں میں لکھ لیا کریں۔

(3) سرگرمیاں : ان کا مقصد متعلم کو زیر درس موضوع سے سیکھی ہوئی باتوں اور حاصل کیے ہوئے تجربات کو نئے حالات پر لاگو کرانے کی مشق کرانا ہوتا ہے۔ دراصل ان سرگرمیوں کا مقصد سبق کے مشمولات میں رہ جانے والے ممکنہ خلا کو پر کرنا ہوتا ہے۔ معلم کو چاہیے کہ طالب علموں کو ان سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے پر ابھارے اور اس بات کو دھیان میں رکھے کہ ان میں سے ہر سرگرمی کسی معین ہدف کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، لہذا وہ اس ہدف کو حاصل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ ہم اساتذہ سے اس بات کی بھی امید رکھتے ہيں کہ وہ طلبہ کو ان اسباق سے سیکھے ہوئے معارف کو عملی طور پر ادا کرنے اور عمل میں لانے کی مشق کرانے پر بھی توجہ دیں۔

(4) اندازۂ قدر : اس کا مقصد اس بات کا اندازہ لگانا ہوتا ہے کہ متعلقہ سبق کے اہداف کس حد تک حاصل ہو سکے اور کس حد تک حاصل نہیں ہوئے۔ اسی بنا پر اس بات کا بھی خیال رکھا جاتا ہے کہ سبق کا ہر سوال اس کے کسی نہ کسی مقصد سے کتنا جڑا ہوا ہے۔ اس رہ نما کتاب کے اندر سبق کے بعض سوالات کے جوابات بھی دے دیے گئے ہيں، تاکہ معلم کو اپنا کام کرنے میں آسانی ہو۔

(5) توجہ طلب تربیتی اور وجدانی باتیں : ان کا مقصد سبق کے دوران سیکھی ہوئی اہم باتوں کو عملی جامہ پہنانا اور ان کو اپنے خاندان میں اور دوستوں اور سماج کے درمیان نافذ کرنا ہوتا ہے۔

وہ تربیتی بنیادیں، جن پر یہ رہ نما کتاب قائم ہے :

اول : مقاصد نصاب :

ہر سبق کے اہداف و مقاصد متعین کر دیے گئے ہیں، جن کو متعین کرتے وقت درج ذیل باتوں کا خیال رکھا گيا ہے :

- اہداف و مقاصد زیر درس مواد کے کارآمد اور مفید ہونے کا آئینہ دار ہوں۔

- جان کاری، وجدان اور مہارت تینوں پہلووں کو سمیٹے ہوئے متنوع ہوں۔

- واقعیت پر مبنی، ممکن الحصول اور طلبہ کی سطح سے مناسبت رکھنے والے ہوں۔

- جانکاری سے متعلق مقاصد کے مرحلوں (یاد کرنا - سمجھنا - تطبیق دینا - تجزیہ کرنا - مربوط کرنا - اندازۂ قدر کرنا) کو بہ تدریج پورا کیا جائے۔

- بہتر ہدف کے حصول کی شرطوں کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ ہدف متعلم کے رویے کے پر مرکوز رہے اور اسی میں پورے تجربے کو صرف کیا جائے۔

دوم : مشمولات کی تعمیر و ترتیب :

اس نصاب تعلیم کے مواد کا انتخاب سبق کے متعینہ اہداف کے مطابق عمل میں آیا ہے۔ مشمولات کو اہداف و مقاصد کا مکمل آئينہ دار, دستاویز میں شامل صلاحیتوں اور طلبہ کی سطح کے عین مطابق رکھا گیا ہے۔ مشمولات کی پیش کش میں کوشش کی گئی ہے کہ آسان مواد سے گہرائی پر مبنی مواد کی جانب بہ تدریج آگے بڑھا جائے، فراہم کردہ معلومات کی صحت کو یقینی بنایا جائے، آیات قرآنی اور احادیث نبوی سے دلیلیں پیش کی جائيں، طلبہ کی آسانی کے لیے مشمولات میں شامل آیتوں اور حدیثوں کی تشریح کر دی جائے اور قرآنی آیات کے حوالے دے دیے جائيں اور احادیث نبویہ کی تخریج کر دی جائے۔

سوم : تعلیمی سرگرمیوں کا استعمال :

تعلیمی سرگرمیوں کو ترتیب دیتے وقت کچھ معیاروں کا خیال رکھا گیا ہے، جیسے :

- اس بات کى رعایت کہ سرگرمیاں سبق کے اہداف و مقاصد سے جڑی ہوئی ہوں اور ان مقاصد کے حصول میں سرگرمیوں کا بھی کردار رہے۔

- طالب علم کے مزاج کا خیال رکھتے ہوئے کچھ سرگرمیاں معلم کی نگرانی میں اور کچھ ساتھیوں کے تعاون سے کرنے کے لیے دی جائيں۔

تعلیمی سرگرمیوں میں تنوع رکھا جائے۔ کچھ سرگرمیاں سمعی ہوں، کچھ سرگرمیوں میں معلم کی باتوں کو دوہرایا اور نقل کیا جائے، کچھ سرگرمیوں میں کسی موضوع سے متعلق کچھ معین چيزیں جمع کرنے کو کہا جائے، کچھ سرگرمیوں کا تعلق شرح، تلخیص، زمرہ بندی اور دوبارہ تشکیل سے ہو، کچھ سرگرمیاں یاد کرنے، سننے اور پڑھنے سے تعلق رکھتی ہوں، کچھ سرگرمیاں ترتیب دینے کے قبیل سے ہوں اور کچھ حساب پر مشتمل۔

چہارم : تعلیمی وسائل، جن کے دائرے میں درج ذیل چيزیں آتی ہيں :

- نصابی کتاب اور اس میں موجود تصاویر اور ماڈل۔

- کلاس روم میں آویزاں بڑے بڑے ڈسپلے بورڈ۔

- اجتماعی سرگرمیوں کے لیے کچھ کارڈ۔

- ریکارڈنگ ڈیوائس۔

پنجم : اندازۂ قدر کے متنوع اسالیب :

اسباق کے سوالات تیار کرتے وقت خیال رکھا گیا ہے کہ سوالات سبق کے اغراض و مقاصد سے مربوط ہوں اور معرفت کے پہلو کی پیمائش کرنے والے یہ سوالات تنوع کے حامل ہوں۔ کہیں صیح و غلط کی نشان دہی کرنے کے لئے کہا جائے، کہیں ملان کرنے کے لئے کہا جائے، کہیں متعدد آپشنز میں سے ایک کا انتخاب کرنے کے لئے کہا جائے، کہیں مکمل کرنے کے لئے کہا جائے اور کہیں ترتیب دینے کے لئے کہا جائے۔ اسی طرح وجدان اور مہارت کے پہلو کی پیمائش کے سلسلے میں معارف کو ایسے رویوں میں بدلنے کی کوشش کی گئی ہے، جن کی پابندی طالب کے ذریعے کی جائے۔ یہاں ہم اس بات کی جانب اشارہ کر دینا چاہتے ہیں کہ وجدان اور مہارت کے پہلؤوں کی پیمائش کا ایک بہترین طریقہ کلاس میں مدرس کے ذریعے اور گھر میں والدین کے ذریعے مشاہدہ اور متابعت کا پہلو ہے۔

ششم : تدریس کی حکمت عملیاں :

عزیز معلم! یہاں آپ کو تدریس کے کچھ طریقوں، جن کا استعمال اس رہ نما کتاب کو تیار کرنے میں کیا گیا ہے، سے روبرو کرایا جاتا ہے، تاکہ آپ ان سے، ان کے طریقۂ کار سے اور ان کو عملی جامہ پہنانے کے مراحل سے آگاہ ہو جائيں۔

(1) باہمی تعاون سے سیکھنے پر مبنی حکمت عملی :

یہ ایک ایسا طریقۂ تدریس ہے، جس کی بنیاد طلبہ کو چھوٹے چھوٹے گروہوں (2 : 6 طلبہ) میں تقسیم کر کے سیکھنے کے عمل کو انجام دینے پر قائم ہے۔ اس طریقۂ تعلیم کے تحت طلبہ کو ساتھ مل کر، چاق و چوبند ہو کر اور ایک دوسرے کی مدد سے کام کرنے کی اجازت دی جاتی ہے، تاکہ گروہ میں شامل ہر طالب علم کی سطح بلند ہو اور مشترکہ تعلمیی ہدف حاصل ہو سکے۔ گروہ میں شامل طلبہ کے درمیان کام تقسیم کر دیا جاتا ہے اور ہر گروہ کا ایک قائد مقرر کر دیا جاتا ہے، جو اس میں شامل طلبہ کی کار کردگی پر نظر رکھتا ہے اور ان کے جوابات جمع کر کے استاد کے سامنے رکھتا ہے۔

(2) برین اسٹورمنگ (Brainstorming) :

اس طریقے کی بنیاد غور و فکر اور تخلیقی صلاحیتوں کو مہمیز کرنے پر استوار ہوئی ہے۔ برین اسٹورمنگ کا استعمال ذہنی صلاحیتوں اور سرگرمیوں میں اضافے کے مقصد سے بہت سی علمی دشواریوں اور زندگی سے متعلق مختلف مسائل کے حل کے بارے میں اجتماعی یا انفرادی غور و فکر کے ایک اسلوب کے طور پر کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے بہت بڑی مقدار میں تجاویز، حل یا معلومات پیش کرنے اور اس کے بعد صحیح حل یا رائے تک پہنچنے کے لیے ان کی تنقیح کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

(3) حل مسائل پر مبنی حکمت عملی :

یہ ایسا طریقہ ہے، جس میں سیکھنے والا اپنی جان کاریوں اور مہارتوں کا استعمال کسی نئے اور نامانوس طریقے سے کسی صورت پر قابو پانے اور اس کے حل تک پہنچنے کے لیے کرتا ہے۔

اس طریقے کے تحت کیے جانے والے اقدامات میں مسئلے کو سمجھنا، اس کی تحدید، اس سے متعلق معلومات یک جا کرنا اور اس کے بعد مختلف حل پیش کرنا اور سب سے بہتر حل کے انتخاب کے لیے ان کا مطالعہ شامل ہے۔

(4) رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی :

انھیں معرفتی نقشے (Knowledge Maps)، ذہنی نقشے (Mind Maps)، تصوراتی نقشے (Concept Maps) اور معلوماتی نقشے (Information maps) بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے تحت موضوع کی تحلیل جزئیات میں کرنے کے بعد ان جزئیات کو ہندسی شکلوں، جسے جدولوں، دائروں یا مخروطی اشکال کے خاکوں کے ذریعے بیان کیا جاتا ہے۔ دراصل اس کا مقصد معلومات کے مطالعہ، ان کے درمیان ربط پیدا کرنے اور ان کو یاد کرنے میں آسانی پیدا کرنا ہوتا ہے۔

(5) موازنہ پر مبنی حکمت عملی :

یہ حکمت عملی ذہنی صلاحیتوں کو فعال بنانے، عناصر اور اشیا کے درمیان ربط کو واضح کرنے کے لیے عقل کو کام میں لانے اور مشابہت اور اختلاف کے پہلؤوں کی تحدید پر کام کرتی ہے۔ اس طرح کے غور و فکر کے لیے اعلی ابداعی صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیوں کہ جواب دینے کے لیے ہمیشہ عناصر کے درمیان ایک نئے نقطۂ نظر کی ضرورت ہوتی ہے۔

(6) قصہ گوئی پر مبنی حکمت عملی :

قصہ گوئی کے طریقے کا امتیازی وصف اس کا جوش و خروش، جاذبیت اور طلبہ پر اثر انداز ہونا ہے۔ قصہ خیال کو پروان چڑھاتا ہے، جذبات کو ابھارتا ہے، مقدمات کو نتائج سے جوڑنے کی دعوت دیتا ہے اور مجرد مفہوم کو محسوس واقع میں بدلنے کا کام کرتا ہے۔ قصہ مختلف واقعات کو آپس میں جوڑنے کے ساتھ ساتھ طالب کو اس کے ساتھ تعامل کرنے اور جو وہ سیکھتا ہے اس کے ساتھ جڑنے کی ترغیب دیتا ہے۔ قصہ گوئی کے وقت اس کی زبان، اسلوب اور طلبہ کے مناسب حال ہونے کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے۔

(7) زندگى سے متعلق تطبیق پر مبنی حکمت عملی :

اس اسلوب کے پیش نظر اس بات کی کوشش ہوتی ہے کہ معلومات کو زندگی کے مسائل اور احوال سے جوڑ کر دیکھا جائے، تاکہ طالب علم کو مشمولات کے اسباق کو پوری توجہ سے پڑھنے میں مدد ملے۔ اس سے اسے کئی غلطیوں اور منفی باتوں کے علاج اور مثبت پہلووں کو پختہ کرنے کا راستہ ملے گا اور وہ انھیں اسلام کی جانب سے پیش کردہ شرعی احکام اور اخلاقی قواعد سے جوڑنے کى کوشش کرے گا، جس کے نتیجے میں اسے اس بات کا احساس ہوگا کہ اسلام اس کی زندگی کو نظم و ضبط کے دائرے میں لانے کا کام کرتا ہے۔

(8) غور و فکر کریں - تبادلۂ خیال کریں - شیئر کریں، پر مبنی حکمت عملی :

یہ حکمت عملی دراصل باہمی تعاون والے بحث و مکالمہ پر مبنی حکمت عملی ہے، جو تین مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلے مرحلے ميں معلم طالب علم کو تنہا سوال کا جواب دینے یا سرگرمی انجام دینے کے بارے میں سوچنے کا موقع دیتا ہے۔ دوسرے مرحلے میں طالب علم اپنے جواب کے بارے میں اپنے کسی ساتھی سے تبادلۂ خیال کرتا ہے۔ تیسرے اور آخری مرحلے میں حاصل شدہ جوابات کے بارے میں اپنے گروپ کے افراد کے ساتھ تبادلۂ خیال کرتا ہے، تاکہ ایک ایسا مشترکہ جواب سامنے آئے، جو پورے گروپ کی رائے کی نمائندگی کرتا ہو۔

سیکھنے کے عمل میں اس حکمت عملی کی بڑی اہمیت ہے۔ کیوں کہ یہ فعال انداز میں معلومات کے ساتھ سروکار رکھنے میں طلبہ کی مدد کرتی ہے اور ان کے اندر اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کی صلاحیت کو پروان چڑھاتی اور غور و فکر کی صلاحیت کو ترقی دیتی ہے۔

(9) تمہیدی مواد کی پیش کش پر مبنی حکمت عملی :

اس سے مراد یہ ہے کہ متعلمین کو سبق کے آغاز میں موضوع کی ساخت اور آگے پیش کی جانے والی معلومات سے متعلق ایک مقدمہ یا مختصر تمہیدی مواد فراہم کیا جائے، جس کا مقصد ہو موضوع سے متعلقہ مفاہیم، افکار اور مسائل کو آسان بنا کر سکھانا اور متعلم کی سابقہ معلومات اور آگے اسے جو معلومات حاصل کرنے کی ضرورت ہے، دونوں کے درمیان ربط پیدا کرنا۔

تمہیدی مواد کو بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اول تحریری تمہیدی مواد اور دوم غیر تحریری تمہیدی مواد۔ پھر تحریری تمہیدی مواد کو بھی دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ وضاحتی مواد اور تقابلی مواد۔

جب کہ غیر مکتوبہ مواد کو سمعی مواد، بصری مواد اور سمعی بصری مواد میں تقسیم کیا گیا ہے۔ بیانیہ مواد کی بنیاد ظواہر کے اجزا کو بیانیہ اشکال کے طور پر پیش کرنے پر ہے، جیسے اسے بیانی جدول کی شکل میں سبق کے آغاز میں طلبہ کے سامنے پیش کیا جائے۔

(10) فرضی تصورات قائم کرنے پر مبنی حکمت عملی :

اس طریقے کے تحت متعلم سے زیر درس موضوع کے سلسلے میں فرضی تصورات قائم کرنے یا توقعات کرنے کو کہا جاتا ہے، جس کی وجہ سے اس کے سامنے ایک ہدف آ جاتا ہے اور وہ مشمولات سے متعارف ہوتے وقت ایک جگہ دھیان مرکوز رکھتا ہے، تاکہ اس کی ان توقعات کی تصدیق یا تردید ہو جائے۔ اس طریقے کے تحت متعلم کو اس بات کا بھی موقع دیا جاتا ہے کہ وہ جدید معلومات کو قدیم معلومات کے ساتھ جوڑ سکے۔

اس طریقے کے تحت معلم اس بات میں طلبہ کی مدد کر سکتا ہے کہ وہ درج ذیل طریقوں سے اندازہ لگائيں کہ زیر درس موضوع کن باتوں پر مشتمل ہے :

موضوع کے عنوان کو پڑھنا، سبق کے اغراض و مقاصد کو جاننا یا سوالوں سے مدد لینا۔

(11) سوال پر مبنی حکمت عملی :

اس طریقہ کا مقصد سیکھنے کے عمل سے پہلے، دوران اور بعد میں موضوع کے بارے میں سوالات پوچھ کر خود آگاہی پیدا کرنا، متن کے ساتھ تعامل کو آسان بنانا اور سمجھنے اور یاد کرنے کے عمل کو آسان بنانا ہے۔ اس کی اساس یہ ہے کہ متعلم زیر درس حدیثوں کے تعامل کے دوران خود اپنی ذات سے کچھ سوالات کرے۔ اس سے اس کی ان معلومات کے درمیان جو وہ حاصل کر رہا ہے اور اس علم کے درمیان جس تک اس کی رسائی ہو رہی ہو، زیادہ ربط پیدا ہوگا اور نتیجے کے طور پر اس کے اندر غور و فکر کے عمل کے بارے میں آگاہی پیدا ہوگی۔

(12) میں جانتا ہوں - میں جاننا چاہتا ہوں - میں نے سیکھا (KWL) پر مبنی حکمت عملی :

یہ حکمت عملی طلبہ کو موضوع میں موجود معلومات کا اندازہ لگانے اور اسے اپنے سابقہ ​​علم سے مربوط کرنے میں مدد کرتی ہے۔

اسی طرح معلم اسے کسی مخصوص موضوع میں طلبہ کی دل چسپی پیدا کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے اور اس موضوع کے بارے میں طلبہ کی سمجھ اور ان کی تصوراتی غلطیوں کا جائزہ لے سکتا ہے۔

مختصرا اس طریقے کو KWL کہا جاتا ہے۔ یہ دراصل تین کلمات کا اختصار ہيں :

(K): Know, (W): Want, (L): Learned.

پہلا لفظ اس بات سے عبارت ہے کہ متعلم زیر درس موضوع کے بارے میں عملا کیا کچھ جانتا ہے۔ دوسرا لفظ اس بات سے عبارت ہے کہ وہ اس موضوع کے بارے میں کیا کچھ جاننا چاہتا ہے اور تیسرا لفظ اس بات سے عبارت ہے کہ اس نے اس موضوع کے بارے میں کیا کچھ سیکھا۔

(13) نقطہ ہائے نظر کے تجزیے پر مبنی حکمت عملی :

یہ حکمت عملی متعلم کو اپنی آرا اور عقائد کے بارے میں سوچنے میں مدد دیتی ہے، مختلف حالات میں اسے اپنے نقطہ نظر، نظریات، اصولوں، اقدار، عقائد اور آرا کا اظہار کرنے کی ترغیب دیتی ہے، جو چیزوں کے بارے میں اس کے نقطۂ نظر اور واقعات کے ساتھ اس کے تعامل کو متاثر کرتی ہیں۔ دراصل یہ حکمت عملی طالب علم کے اپنے نقطۂ نظر کے تجزیہ پر منحصر ہے۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ اپنے نقطۂ نظر کے بارے میں اسے اپنی سوچ کو مزید گہرا کرنے، اس کا نقطۂ نظر کہاں تک صحیح اور صورت حال کے تقاضے کے مطابق ہے، اسے جاننے کے مواقع فراہم کیے جائيں۔ نقطۂ نظر کے تجزیہ کے نتیجے میں اس کی حمایت اور قبولیت (اگر مناسب اور درست ہو)، اس میں ترمیم (اگر ضروری ہو) یا اس کا رد (اگر نامناسب اور غلط ہو) ہو سکتا ہے۔

اخیر میں عرض یہ ہے کہ:

آپ کے سامنے موجود یہ رہنما کتاب بہتر نتا‎ئج دے سکتی ہے اگر اس کا صحیح استعمال ہوا۔ صحیح استعمال نہ ہونے کی صورت میں اس کا کوئی فائدہ نہيں ہے۔ اسے پیش کرنے کے پیچھے ہمار مقصد آپ کی صلاحیتوں کو بیڑی پہنانا یا آپ کی ہنرمندیوں کو محدود کرنا ہرگز نہيں ہے۔

اکائی : قرآن اور تفسیر

پہلا سبق : تلاوت قرآن کے آداب

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (القرآن الكريم – السفرة الكرام – يتعتع).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - تعلیمی کارڈ - تعلیمی بورڈ - آڈیو میڈیم جس میں

کچھ قرآنی آیات ریکارڈ ہوں)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(باہمی تعاون سے سیکھنے پر مبنی حکمت عملی - بحث و مکالمہ پر مبنی حکمت عملی - برین اسٹورمنگ)۔

اقدار و رجحانات :

• قرآن کریم کے مقام و مرتبہ اور اس کے خصائص کی قدر شناسی۔

• قرآن کریم کی عظمت کا خیال رکھنا اور اس کے حقوق ادا کرنا۔

• قرآن اور اہل قرآن سے محبت۔

سبق کی تمہید :

ان طلبہ کی شناخت کریں، جو پابندی کے ساتھ روزانہ قرآن کریم کے ایک حصے کی تلاوت کرتے ہیں، ان سے اس ایک حصے کی تلاوت کے اسباب بیان کرنے کے لئے کہیں، ان کے جوابات کو تقویت بخشیں اور ان کو بتائيں اس معاملے میں وہ دوسرے لوگوں کے لیے اسوہ ہیں۔ بعد ازاں بلیک بورڈ پر سبق کا عنوان لکھ دیں۔

سبق کی پیش کش :

سرگرمی (1)

طلبہ سے سبق کی خاموش قراءت کرنے کے لئے کہيں اور اس کے بعد کچھ طلبہ کا انتخاب بلند قراءت کے لیے کریں۔

کچھ طلبہ سے بلیک بورڈ پر سبق کے بنیادی عناصر لکھنے کے لئے کہيں، تاکہ اس کے بعد ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کیا جا سکے۔

مرحلہ نمبر (2)

باہمی تعاون سے سیکھنے پر مبین حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے طلبہ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیں اور اس کے بعد ہر گروہ سے باہمی تعاون کو بروئے کار لاتے ہوئے قرآن کریم کی فضیلت واضح کرنے کے لئے کہیں۔

ہر گروہ کے ایک فرد کو اس بات کا مکلف بنائيں کہ وہ بلیک بورڈ پر اس گروہ کے ذریعے واضح کردہ قرآن کریم کی فضیلت کو لکھے اور اس کے بعد ان کی کارکردگی پر تبصرہ کریں۔

مرحلہ نمبر (3)

بحث و مکالمہ کے طریقے کو بروئے کار لاتے ہوئے طلبہ کے ساتھ درج ذیل دو سوالوں کے بارے میں تبادلۂ خیال کریں :

تلاوت قرآن کا کیا ثواب ہے؟

وہ کون سے آداب ہيں، جن کا لحاظ تلاوت قرآن کے وقت رکھنا چاہیے؟

ان کے جوابات کی روشنی میں ان کو حاصل شدہ نتائج تک لے جائيں، پھر ان کو بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔ کچھ اہم نتائج اس طرح ہیں :

نتیجہ نکالنا :

1- ہر مسلمان پر قرآن کا اتنا حصہ سیکھنا واجب ہے، جس سے نماز قائم کر سکے اور اپنے دین کو جان سکے۔

2- تلاوت قرآن افضل ترین ذکر ہے اور اللہ کے یہاں اس کی بڑی فضیلت ہے۔

3- ایک مسلمان کو تلاوت قرآن کے وقت کچھ آداب سے آراستہ ہونا چاہیے۔ جیسے باوضو ہونا، کپڑے اور جگہ کا پاک ہونا۔

سرگرمیاں

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر سیکھنے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر 1 نوعیت و ہدف اجتماعی۔ تلاوت قرآن کے آداب کو عملی جامہ پہنانا۔

ہدف نمبر 4

طلبہ کو مخلتف گروہوں میں تقسیم کر دیں اور ہر گروہ سے ایک دوسرے کی مدد سے پہلی سرگرمی کا جواب تیار کرنے کے لئے کہيں اور ہر گروہ اپنا جواب ایک خارجی کارڈ میں لکھ دے۔

معلم سبھی گروہوں کے جوابات یک جا کرے، ان کا اندازۂ قدر کرے، صحیح جواب تک پہنچنے اور تلاوت کے اہم آداب کی تحدید کرنے کی سب سے زیادہ قدرت رکھنے والے گروہ کی نشان دہی کرے، غلطی کرنے والے گروہ کو نام زد کرے اور باریک بینی کے ساتھ دیے گئے جوابات کا انتخاب کر کے جواب دینے والوں کو ساتھیوں کے سامنے پڑھنے کہیں۔

سرگرمی نمبر 2 نوعیت و ہدف اجتماعی۔ پابندی کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت کرنے کے اثر کی وضاحت کرنا۔ ہدف نمبر 1، 3

ہر دو طالب علموں کو ایک دوسرے کی مدد سے سرگرمی انجام دینے کا مکلف بنائيں۔

سبق کے تمام عناصر کا ذکر یکے بعد دیگرے کریں، ہر عنصر کے بارے میں ہر گروہ کا جواب جانیں، ہر گروہ کو مناسب نمبر دیں اور سب سے زیادہ نمبر حاصل کرنے والے گروہ کی نشان دہی کریں۔

اس کے جواب کی قدر کرتے ہوئے اسے باقی گروہوں کی غلطیوں کی اصلاح کا کام سونپیں۔

اندازۂ قدر

اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کے لیے آپ درج ذیل اقدامات کر سکتے ہيں :

1- طلبہ کو مختلف گروہوں میں بانٹ دیں، تاکہ ہر گروہ میں شامل طلبہ ایک دوسرے کی مدد سے سوالات کا جواب دیں۔

2- ہر گروہ کسی ایک سوال کا جواب کسی ایک تعلیمی کارڈ میں دے۔

3۔ ہر گروہ اپنا جواب دوسرے گروہ سے بدل لے اور اس کا اندازۂ قدر کرے۔

4- درست جواب دینے والے گروہ کی حوصلہ افزائی کریں۔

سوال 1 : ۔۔۔۔۔

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

قرآن کریم کی تلاوت کرنا، اسے تدبر کے ساتھ سننا اور آس پاس کے لوگوں کو بھی ایسا کرنے کى لئے کہنا۔

قرآن کے حلقوں وغیرہ سے جڑنے کی کوشش کرنا، تاکہ قرآن حفظ ہو جائے اور اچھی طرح پڑھنا آ جائے۔

دوسرا سبق : مصحف شریف اور اس کے ساتھ برتاؤ کے آداب

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (المصحف الشريف – وقَّرَ – استخفَّ).

تعلیمی وسائل :

(کمپیوٹر ڈیوائس - ڈسپلے اسکرین - تعلیمی بورڈ - بلیک بورڈ - تعلیمی کارڈ)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(دریافت پر مبنی حکمت عملی - تعمیری تعلیم پر مبنی حکمت عملی - غلط تصورات کی تصحیح پر مبنی حکمت عملی - نقطہ ہائے نظر کے تجزیہ پر مبنی حکمت عملی)۔

اقدار و رجحانات :

- مصحف کی تعظیم کرنا۔

- مصحف کی توہین سے خبردار کرنا۔

- مصحف کی عظمت کا احساس دلانا۔

٭ سبق کی تمہید :

بلیک بورڈ پر درج ذیل عبارت لکھیں اور اس کے معنی و مفہوم کے بارے میں طلبہ کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں : (مصحف کی عزت کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے، کیوں کہ اس میں اللہ تعالی کا کلام لکھا ہوا ہے۔ لہذا جس نے قرآن کریم کی عزت کی، اس نے دراصل اللہ کی عزت کی اور جس نے قرآن کریم کی توہین کی، اس نے اللہ تعالی کی توہین کی۔) بعد ازاں طلبہ کو سبق کا موضوع بتائیں اور بلیک بورڈ پر عنوان لکھ دیں۔

٭ سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر(1)

دریافت پر مبنی اسلوب کے توسط سے بلیک بورڈ پر نیچے دی گئی عبارت لکھیں، جس کے بارے میں غور و فکر کے بعد طلبہ اس کے معنى کی نشان دہی کریں گے۔

(یہ اس کتاب کا نام ہے، جو قرآن کریم کو یک جا کرتی ہے ... بتائيے کہ یہ تعریف کس کتاب کی ہے؟)

معلم ڈسپلے اسکرین کی مدد سے ایک بہت بڑے مصحف کی تصویر پیش کرے، تعمیرى تعلیم پر مبنی اسلوب کا سہارا لے، مصحف، اس کی سورتورں اور پاروں کی تعداد کے بارے میں طلبہ کی سابقہ معلومات کو ٹٹولے، ان عناصر کے بارے میں طلبہ کے جواب حاصل کرنے، ان کا اندازۂ قدر کرنے کے بعد ان کو واضح کرے اور انھیں ایک منظم وضاحتی نقشے کی شکل میں پیش کرے۔

مرحلہ نمبر(2)

بلیک بورڈ پر نیچے دی گئی عبارتیں لکھیں اور ایک طالب علم سے انھیں ساتھیوں کے سامنے پڑھنے اور تمام طلبہ کو ان پر اچھی طرح غور و فکر کرنے کے لئے کہیں، تاکہ ہر طالب علم ہر ایک عبارت کے بارے میں اپنے محسوسات کو ایک ایک جملے میں بیان کر سکے۔

مصحف کی عزت کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے۔

جس نے قرآن کریم کی عزت کی، اس نے اللہ کی عزت کی۔

جس نے قرآن کریم کی توہین کی، اس نے اللہ تعالی کی توہین کی۔

مرحلہ نمبر(3)

طلبہ کے سامنے نیچے دیے گئے موقفوں کو رکھیں اور ان سے ان کے اندر موجود غلطیاں دریافت کرنے اور انھیں درست کرنے کی کیفیت بیان کرنے کے لئے کہیں۔

ایک شخص بیت الخلا سے نکلا اور طہارت حاصل کیے بغیر ہی مصحف چھو لیا۔

ایک طالب علم کو بیت الخلا میں داخل ہوتے وقت اپنے مصحف کے گم ہونے کا اندیشہ ہوا، تو اسے اپنے ہاتھ میں لے لیا۔

ایک شخص مسجد میں سویا اور تکیہ کے طور پر مصحف کو سر کے نیچے رکھ لیا۔

فاطمہ نے اپنا مصحف اتنی دیر کے لیے زمین پر رکھ دیا کہ جب اٹھے گی، تو لائبریری میں رکھ دے گی۔

علی کی ماں نے اسے کھانے کی کوئی چيز دیتے وقت اسے ایسے اوراق میں لپیٹ دیا، جس میں قرآنی آیات لکھی تھیں۔

حسین کا مصحف تلف ہوگیا، تو اسے پرانی کتابوں کے درمیان ایک صندوق میں رکھ دیا۔

پھر ان سے بڑی تعداد میں مصحف کی تعظیم کی صورتیں پیش کرنے کے لئے کہيں، ان کے جوابات حاصل کریں، انھیں بلیک بورڈ پر لکھیں، اس کے بعد ان کے سامنے سبق کے مشمولات کے ذریعے تعظیم مصحف کى پیش کردہ صورتوں پر مشتمل ایک رہ نما نقشہ پیش کریں، تاکہ طلبہ اپنے پیش کردہ جوابات کا موازنہ سبق کے مشمولات سے کر سکيں۔

٭ نتیجہ نکالنا :

ہر طالب علم کو سبق کے توسط سے معلوم کردہ تعظیم مصحف کی صورتوں میں سے کوئی ایک صورت بیان کرنے کا مکلف بنائيں، ساتھ ہی اس کی تشریح کرنے اور کوئی ایسی صورت بیان کرنے کے لئے کہيں، جس کا سامنا اسے کرنا پڑا ہو اور جو ان صورتوں سے متصادم ہو۔

سرگرمیاں

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر سیکھنے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر 1 نوعیت و ہدف انفرادی۔ مصحف کی تعظیم کی صورتوں سے واقفیت۔ ہدف نمبر 4

طلبہ کے سامنے پہلی سرگرمی کے ضمن میں وارد تمام سوالات یکے بعد دیگرے رکھیں، ان کے جوابات سنیں، جوابات درست ہونے کی صورت میں انھیں اپنی کتابوں میں لکھ لینے کے لئے کہیں۔ جن سوالات کا جواب معلوم نہ ہو، ان کے درست جواب تک پہنچنے کے لیے انھیں مختلف بشری، الیکٹرانک یا کتابوں کی صورت میں موجود مصادر سے رجوع کرنے کا مکلف بنائيں اور اگلی ملاقات میں جوابات معلوم کر لیں۔

سرگرمی نمبر 2 نوعیت و ہدف انفرادی۔ الیکٹرانک مصحف کو چھونے کے لیے طہارت کے حکم سے واقفیت۔ ہدف نمبر 3

طلبہ کو بتائيں کہ آج کمپیوٹر اور موبائل کے توسط سے الیکٹرانک مصحف بہت زیادہ پھیل چکا ہے ۔ اس کے بعد ان کی رائے طلب کریں کہ کیا اس طرح کے مصحف کو چھونے کے لیے بھی کاغذ کے مصحف کی طرح طہارت وغیرہ شرط ہے؟ ان کے جوابات حاصل کرنے اور ان کا اندازۂ قدر کرنے کے بعد ان سے کہیں کہ کتاب میں دئے گئے لنک میں جاکر اس سرگرمی سے متعلق مزید معلومات حاصل کریں۔

سرگرمی نمبر 3 نوعیت و ہدف اجتماعی۔ مصحف کے بارے میں مزید جان کاری۔

ہدف نمبر 1، 2

معلم طلبہ کے ہر گروہ کو تیسری سرگرمی کا جواب دینے کی ہدایت کرے۔ گروہ میں شامل ہر طالب علم کسی ایک عنصر کا جواب دے اور اس کے ساتھی اس کا جواب دیکھیں اور اندازۂ قدر کریں۔

معلم سرگرمی کے عناصر میں سے ہر عنصر کو یکے بعد دیگرے سامنے رکھے اور اس کے بارے میں ہر گروہ کا جواب اور گروہ کے اندر اس کا جواب دینے والے طالب علم کو جانے اور ہر گروہ کو مناسب نمبر دے۔

معلم سب سے زیادہ نمبر حاصل کرنے والے گروپ کی نشان دہی کرے، اس میں شامل طلبہ کی حوصلہ افزائی کرے اور اسی طرح گروہ کے اندر صحیح جواب دینے والے طالب علم کی کارکردگی کو بھی سراہے۔

اندازۂ قدر

پہلے سوال کا جواب دینے کے لیے طلبہ کے درمیان کچھ تعلیمی کارڈ تقسیم کر دیں، جن میں نصف میں صحیح کی علامت (✓) اور نصف میں غلط کی علامت (×) درج ہو۔ اس کے بعد سوال کی عبارتیں یکے بعد دیگرے پڑھیں اور ہر طالب کو حکم دیں کہ وہ عبارت سے مناسبت رکھنے والا کارڈ اٹھائيں۔ پھر ان کا اندازۂ قدر کرنے کے ساتھ ساتھ ان کى مناسب حوصلہ افزائی کریں۔

سوال 1 : (✓) - (✓) - (×) - (✓) - (✓)

ہر طالب علم سے کہيں کہ تیسرے سوال کا جواب انفرادی طور پر دے اور اپنا جواب اپنے کسی ساتھی کے جواب سے بدل لے، تاکہ ان کا اندازۂ قدر کیا جا سکے۔ اس کے بعد کچھ طلبہ کا انتخاب کرکے ان سے کہیں کہ ان کے ذریعے اندازۂ قدر کیے گئے سوالات پر تبصرہ کریں۔

کچھ ایسے طلبہ کا انتخاب کریں، جو سبق میں بڑھ چڑھ کر حصہ نہيں لیتے۔ ان میں سے ہر طالب علم تیسرے سوال میں شامل کسی ایک فرعی سوال کا جواب دے۔ ان کے غلطی کرنے کی صورت میں صحیح جواب پیش کرنے کے لیے کچھ دوسرے طلبہ کا انتخاب کریں۔

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

سبق کے ذریعہ تعظیمِ مصحف کی سیکھی ہوئی صورتوں کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرنا اور آس پاس کے لوگوں کو ان صورتوں سے مطلع کرنا، تاکہ وہ بھی ان کا التزام کریں۔

بعض افراد کی جانب سے سامنے آنے والے ایسے مظاہر یا غلط رویوں کی تصحیح پر توجہ مبذول کرنا، جو مصحف کی توہین پر مشتمل ہوں یا اس کی تعظیم سے متصادم ہوں۔

تیسرا سبق : آیت الکرسی کی تفسیر

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (القيوم – السِّنة – لا يؤده حفظهما).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - تعلیمی کارڈ - تعلیمی بورڈ - آڈیو میڈیم جس میں

آیت الکرسی ریکارڈ ہو)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(باہمی تعاون سے سکیھنے پر مبنی حکمت عملی - ہاٹ سیٹ کی حکمت عملی)۔

اقدار و رجحانات :

• اللہ سے محبت، اس کی تعظیم اور اس کی خشیت۔

• آیت الکرسی کی بڑی فضیلت۔

سبق کی تمہید :

طلبہ کے سامنے خوب صورت خط میں آیۃ الکرسی تحریر شدہ ایک تعلیمی بورڈ رکھیں، اسے پڑھ کر سنائیں اور پوچھیں کہ یہ آیت کریمہ کس سورت میں موجود ہے؟ امید ہے کہ وہ سورہ بقرہ کا نام لیں گے۔ پھر اس آیت کا نام پوچھیں، ان کے جوابات سنیں اور اس کے بعد بتائيں کہ آج کے سبق میں ہم اسی آیت کے بارے میں بات کریں گے۔ اخیر میں بلیک بورڈ پر سبق کا عنوان لکھ دیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر(1)

طلبہ سے کہیں کہ اس آیت کریمہ کو دیکھیں اور کسی آڈیو میڈیم سے خاموشی کے ساتھ سنیں۔

مرحلہ نمبر (2)

ان آیتوں کا اجمالی معنی بیان کریں اور ان کے الفاظ کے تفصیلی معنی کے بارے میں طلبہ کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں۔

مرحلہ نمبر (3)

باہمی تعاون سے سیکھنے پر مبنی حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے طلبہ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیں اور ان سے کہیں کہ ایک دوسرے کی مدد سے آیۃ الکرسی میں آئی ہوئی اللہ کی صفات کو نکالیں۔

گروہ کے کسی ایک فرد کو اخذ کردہ صفات کو بلیک بورڈ پر لکھنے کا مکلف بنائيں اور اس گروہ میں شامل طلبہ کی کارکردگی پر نوٹ تحریر کریں۔

نتیجہ نکالنا :

ہر طالب علم کو حاصل شدہ ایک ایک نتیجہ بیان کرنے کے لئے کہیں۔

ان کے جوابات کو بلیک بورڈ پر لکھیں اور ان کے بارے میں اپنی رائے بھی دیں۔

اس کے بعد انھیں کتاب سے رجوع کرکے ان کے پیش کردہ جوابات اور کتاب میں تحریر شدہ مواد کے درمیان موازنہ کرنے کے لئے کہیں۔

سرگرمیاں

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر سیکھنے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر 1 نوعیت و ہدف انفرادی۔ اللہ کی صفات پر دلالت کرنے والے الفاظ کو مستنبط کرنا۔

ہدف نمبر 3

طلبہ سے مقررہ کتاب کی پہلی سرگرمی کھولنے کے لئے کہيں۔

پھر ان سے اس کے جوا ب کے بارے میں غور وفکر کرنے کے لئے کہیں اور پھر ان کے اخذ کردہ جواب کے بارے میں ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں۔

سرگرمی نمبر 2 نوعیت و ہدف اجتماعی۔ آیۃ الکرسی کی فضیلت اخذ کرنا اور اسے پڑھنے کے اوقات کی نشان دہی کرنا۔ ہدف نمبر 2، 4

طلبہ کو اس حدیث کو پڑھنے کی ہدایت دیں اور اس کے بعد درج ذیل طریقے سے کرسی پر مبنی حکمت عملی کا استعمال کریں :

طلبہ سے کہیں کہ ایک دائرے کی شکل میں بیٹھ جائيں اور دائرے کے مرکز میں ایک کرسی رکھ دیں۔

ایک طالب کو چن کر ہاٹ سیٹ پر بٹھا دیں۔

اس کے ساتھی اس سے کچھ سوالات پوچھیں۔ جیسے :

1۔ آیۃ الکرسی کی فضیلت اخذ کرو۔

2- ان اوقات کی نشان دہی کرو، جن میں آیۃ الکرسى پڑھنا مستحب ہے۔

طلبہ کو دھیان سے دیکھیں، ان کی رہ نمائی کریں اور سب سے زیادہ باریکی کے ساتھ دیے گئے جواب کی نشان دہی کریں۔

اندازۂ قدر :

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

ہر طالب علم کتاب میں دیے گئے سوالات کا جواب انفرادی طور پر دے۔

ہر طالب اپنا جواب اپنے کسی ساتھی کے جواب سے بدل لے، تاکہ دونوں ایک دوسرے کے جوابات کا اندازۂ قدر کر سکيں۔

کچھ طلبہ کا انتخاب کر کے انھیں ان نکات کو پیش کرنے کے لئے کہیں، جو انھوں نے اپنے ساتھی کے جواب کے تعلق سے تحریر کیے ہیں۔

طلبہ کو ایک دوسرے کے پیش کردہ جوابات پر تبصرہ کرنے کا موقع دیں اور اس کے بعد ان کی کارکردگی پر خود تبصرہ کریں اور انھیں سوالات کے مثالی جوابات بتائيں۔

سوال 1 : - - -۔

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

اس بات کی کوشش کرنا کہ نمازوں کے بعد، سونے سے پہلے اور صبح و شام آیۃ الکرسی پڑھی جائے۔

اپنے اہل خانہ اور آس پاس کے لوگوں کو آیۃ الکرسی اور اس میں آئی ہوئی اللہ کی صفات سے رو برو کرانا۔

سورہ تکاثر اور سورہ عصر کی تفسیر

چوتھا سبق :

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات :

(أَلْهَاكُمْ – التكاثر – خُسْر – تَواصَوا).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - تعلیمی بورڈ - آڈیو میڈیم جس میں دونوں سورتیں ریکارڈ ہوں)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(مناقشہ پر مبنی حکمت عملی - نظامہاۓ علامت پر مبنی حکمت عملی - باہمی امداد پر مبنی حکمت عملی)

اقدار و رجحانات :

• دنیا میں مست و مگن ہونے سے خبردار رہنا۔

• اللہ تعالی کی نعمت کی قدر کرنا۔

• قیامت کے دن کی عظمت کا احساس پیدا کرنا۔

• سورہ عصر کی اہمیت کا اندازہ لگانا۔

• اہل کفر و عصیاں کے اوصاف سے اجتناب کرنا۔

سبق کی تمہید :

طلبہ سے درج ذیل سوالات کریں : دنیوی زندگی کے ساز و سامانوں کے بارے میں ایک مسلمان کا کیا موقف ہونا چاہیے؟ کیا روزی روٹی کی تلاش میں مشغول ہو کر فرض عبادتوں کو چھوڑا جا سکتا ہے؟ ان سوالات کے بارے میں تبادلۂ خیال کے توسط سے سورہ تکاثر کے موضوع تک پہنچيں اور اس کے بعد بلیک بورڈ پر سبق کا عنوان لکھیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

معلم طلبہ کے سامنے خود سورہ تکاثر اور سورہ عصر پڑھے اور طلبہ سے ساتھ میں دوہرانے کے لئے کہے۔

دو بہتر پڑھنے والے طلبہ کا انتخاب کر کے انھیں ساتھیوں کے سامنے دونوں سورتیں پڑھنے اور باقی طلبہ کو غور سے سننے کے لئے کہے۔

مرحلہ نمبر (2)

طلبہ کے ساتھ سورہ تکاثر اور سورہ عصر کے مشکل الفاظ کے معانی کے بارے میں تبادلۂ خیال کریں اور پیچیدہ الفاظ کی تفسیر پر توجہ مبذول کریں۔

طلبہ کو کلمات کے معانی سیاق و سباق کے مطابق اخذ کرنے کا موقع دیں۔

مرحلہ نمبر(3)

معلم درج ذیل سوالات کے بارے میں طلبہ کے ساتھ تبادلۂ خیال کرے، طلبہ کو ان کا جواب بتائے، جوابات کو وارد شدہ آیتوں کے ساتھ جوڑ کر دکھائے، تاکہ ان کی تفسیر اور معنی کی وضاحت ہو جائے۔

سوال : سورہ عصر کے اندر جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے اور قسم کھانے کے بعد جو بات کہی گئی ہے، ان دونوں کے درمیان ربط بتائيں۔

سوال : سورہ عصر کی روشنی میں بتائيں کہ ایمان والوں کی کام یابی کے اسباب کیا ہیں؟

نتیجہ نکالنا :

معلم ان میں سے ہر دو طالب علموں کو ایک دوسرے کی مدد سے مذکورہ آیتوں کے فوائد اور رہ نمائیوں کی نشان دہی کرنے کی ہدایت کرے۔

طلبہ سے افادہ کے ان پہلووں سے آگاہ ہونے کے لئے کہے، جو ان کی کتابوں میں شامل ہیں۔

پھر دونوں کے درمیان موازنہ کرے اور طلبہ کی کارکردگیوں کی مناسب حوصلہ افزائی کرے۔

سرگرمیاں

سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی طلبہ کو ہدایت دے:

سرگرمی نمبر 1 نوعیت و ہدف اجتماعی۔ دنیا کے کچھ ایسے کام تلاش کرنا، جنھیں زیادہ سے زیادہ کرنا فضیلت کا کام ہے نیز کچھ ایسے کام تلاش کرنا، جنھیں کم سے کم کرنا بہتر ہے۔ ہدف نمبر 2

طلبہ کو دو گروہوں میں تقسیم کر دیں اور ہر گروہ سے سرگرمی کے دونوں اجزا کا جواب دینے کو کہیں۔

دونوں گروہوں کے جوابات دیکھیں، ان کی مناسب حوصلہ افزائی کریں، جوابات کے بارے میں ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں، تاکہ سبھی طلبہ کی جانب سے مناسب جوابات حاصل ہوں۔

سرگرمی نمبر 1 نوعیت و ہدف انفرادی۔ اللہ کی نعمتوں کے بارے میں ہماری ذمہ داریوں سے آگاہی۔ ہدف نمبر 3

ہر طالب علم کو انفرادی طور پر دوسری سرگرمی انجام دینے اور ایک خارجی کارڈ میں اپنا جواب لکھنے کی ہدایت دیں۔ پھر طلبہ سے سبھی کارڈ لے لیں، ان کا اندازۂ قدر کریں، سب سے زيادہ باریکی کے ساتھ دیے گئے جواب کی نشان دہی کریں اور اسے لکھنے والے کی حوصلہ افزائی کریں۔

سرگرمی نمبر 3 نوعیت و ہدف انفرادی۔ سورہ فاتحہ کی فضیلت کی وضاحت۔ ہدف نمبر 4

تیسری سرگرمی کو ایک بورڈ پر لکھ کر پیش کریں اور ایک طالب کا انتخاب اسے پڑھنے کے لیے کریں۔ باہمى چرچا کے توسط سے طلبہ کے سامنے سرگرمی کا سوال رکھیں، انھیں جواب دینے کا موقع دیں، ان طلبہ کی حوصلہ افزائی کریں، جو جواب دینے میں بڑھ چڑھ کر حصہ نہيں لیتے اور اس کے بعد سبھی طلبہ کو اپنی اپنى کتاب میں صحیح جواب لکھنے کا حکم دیں۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

ایک تجویز یہ ہے کہ سوالات یکے بعد دیگرے بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔

آس پاس بیٹھے ہوئے ہر دو طلبہ سے ایک دوسرے سے مل کر سوالات کا جواب دینے کے لئے کہیں۔

کسی ترتیب کا خیال رکھے بغیر کچھ طلبہ کا انتخاب باقی طلبہ کے سامنے اپنے جوابات رکھنے کے لیے کریں۔

غلط جواب دینے والے کو سبق کے مشمولات سے رجوع کرنے، انھیں پڑھنے اور صحیح جواب نکالنے کا حکم دیں۔

سوال 1 : (×) - (✓) - (×) - (✓)

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق میں سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں درج ذیل طریقوں سے عمل میں لانے پر توجہ دلائيں :

اس بات کی کوشش کہ اللہ تعالی کی نعمتوں کا شکر ادا کیا جائے۔

سورہ عصر میں دی گئی ایمان، عمل صالح، دعوت الی اللہ اور اس راہ میں صبر سے کام لینے کی تعلیمات پر عمل کیا جائے۔

پانچواں سبق : سورہ ہمزہ اور سورہ فیل کی تفسیر

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات :

(الهُمَزَة – اللمَزَة – يُنْبَذَنَّ – الْحُطَمَة – الأَفْئِدَة – مُؤْصَدَة – كَيْدهُمْ – أَبَابِيل – سِجِّيل – العَصْف – مَأْكُول – بِالدِّين – يَدُعُّ الْيَتِيمَ – يُرَاءُونَ – الْمَاعُون).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - کمپیوٹر ڈیوائس - تعلیمی بورڈ - آڈیو میڈیم جس میں دونوں سورتیں ریکارڈ ہوں)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(قصہ گوئی پر مبنی حکمت عملی - برین اسٹورمنگ - بحث و مکالمہ کی حکمت عملی - باہمی تعاون سے سیکھنے پر مبنی حکمت عملی)۔

اقدار و رجحانات :

• نفرت اور ناپسندیدگی کو بڑھاوا دینے کے لیے غیبت اور چغل خوری کرنے سے خبردار رہنا۔

• اللہ تعالی کے یہاں خانۂ کعبہ کے مقام و مرتبہ کا احساس پیدا کرنا۔

• اس بات کا احساس پیدا کرنا کہ اللہ تعالی اپنی حرمتوں کی پامالی کرنے والوں کو ہلاک کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔

سبق کی تمہید :

ہاتھی والے لشکر کے بارے میں طلبہ کی سابقہ معلومات، اس قصے کے فوائد اور بطور خاص اللہ تعالی کے یہاں خانۂ کعبہ کے مقام و مرتبہ کے بارے میں ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں، پھر ان کو سبق کا عنوان بتائيں اور اسے بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

معلم طلبہ کو زیر درس دونوں سورتیں کسی آڈیو میڈیم کے توسط سے سننے کی ہدایت کرے۔

عمدہ پڑھنے والے دو طلبہ کا انتخاب ان دونوں سورتوں کو طلبہ کے سامنے پڑھنے کے لیے کریں۔

مرحلہ نمبر (2)

معلم طلبہ کے ساتھ مشکل الفاظ کے معانی کے سلسلے میں تبادلۂ خیال کرے اور سیاق و سباق دیکھ معانی مستنبط کرنے پر ان کی حوصلہ افزائی کرے۔

کچھ طلبہ کا انتخاب مذکورہ آیات کے عناصر کو بلیک بورڈ پر لکھنے کے لیے کریں، تاکہ ان کی تشریح اور وضاحت کی جا سکے۔

مرحلہ نمبر (3)

اس بات کا اطمینان حاصل کرنے کے لیے کہ طلبہ نے سبق کے عناصر کو سمجھ لیا ہے، بحث و مکالمہ کا اسلوب بروئے کار لائيں۔ طریقہ یہ ہو :

ہاتھی والے لشکر کو کیا سزا ملی؟

ہاتھی والے لشکر کے قصے اور اللہ کے نبی ﷺ کی پیدائش کے درمیان ربط بیان کریں۔

سورہ ہمزہ کی روشنی میں مذاق اڑانے کی سزا واضح کریں۔

طلبہ سے گزرے ہوئے سوالات کے جوابات حاصل کریں، ان پر تبصرہ کریں اور درست جواب دینے والے کی حوصلہ افزائی کریں۔

نتیجہ نکالنا :

طلبہ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیں اور برین وارمنگ کی حکمت عملی بروئے کار لائيں۔

طلبہ کو دونوں سورتوں سے تربیتی اور سلوکی فوائد اخذ کرنے کا مکلف بنائيں، اس کے بعد ہر گروہ سے ایک ایک فرد کو اخذ کردہ فوائد پیش کرنے کے لیے منتخب کریں، تاکہ ان کا اندازۂ قدر کیا جا سکے اور ان کو صحیح جواب بتایا جا سکے۔

سرگرمیاں

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر کرنے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر 1 نوعیت و ہدف اجتماعی۔ کسی کا مذاق اڑانے کی ممانعت کے سبب سے واقف ہونا۔ ہدف نمبر 2، 3

طلبہ کے ہر گروہ کو ایک دوسرے کی مدد سے پہلی سرگرمی انجام دینے کی ہدایت دیں، دیکھتے رہيں کہ ہر گروہ کے افراد سرگرمی انجام دینے میں شریک ہو رہے ہیں یا نہیں، پھر ہر گروہ سے ایک ایک فرد کا انتخاب اپنے گروہ کی کارکردگی پیش کرنے کے لیے کریں، تمام گروہوں کے جوابات کا موازنہ کریں، سب سے زیادہ باریک بینی کے ساتھ دیے گئے جواب کی نشان دہی اور اس کی حوصلہ افزائی کریں۔

سرگرمی نمبر 2 نوعیت و ہدف انفرادی۔ ہاتھی والے لشکر کے واقعے سے درست طور پر واقفیت۔ ہدف نمبر 2، 4

ہر طالب علم کو اپنی کاپی میں درج ذیل سرگرمی کا جواب لکھنے کی ہدایت کریں۔

کچھ طلبہ کا انتخاب اپنے جوابات پیش کرنے کے لیے کریں۔

ان کے ساتھی ان کے جوابات پو نوٹ لگائیں، تاکہ جواب کے اندر رہ جانے والی کمی دور ہو سکے۔

درست، نمایاں اور عمل آوری کے لائق جوابات والے طلبہ کی حوصلہ افزائی کریں۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

طلبہ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیں اور ہر گروہ اس میں شامل طلبہ کے تعاون سے درج ذیل سوالات کا جواب دے۔

گروہ میں شامل ہر فرد کسی ایک سوال کا جواب دے، اس کے دونوں ساتھی اسے دھیان سے دیکھیں اور غلطی کرنے کی صورت میں درست بات کى طرف اس کى رہنمائى کریں۔

ہر دو گروہ کا انتخاب ایک جوڑے کی شکل میں کریں اور ان سے اپنے جوابات پیش کرنے کے لئے کہیں۔

دونوں کا اندازۂ قدر کریں اور اس بات کی نشان دہی کریں کہ کس کا جواب زیادہ بہتر ہے۔ اسے مناسب نمبر بھی دیں۔

سب سے زیادہ نمبر حاصل کرنے والے گروہ کی نشان دہی کریں اور اس میں شامل افراد کی ہمت افزائی کریں۔

سوال 1: () - () - ()

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

غیبت، چغل خوری اور مذاق اڑانے سے دور رہنا اور اہل خانہ اور ساتھیوں کو اس سے خبردار رکھنا۔

بیت اللہ (کعبہ) کے مقام و مرتبے اور بعثت نبوی کی قدر و قیمت کو پہچاننا۔

چھٹا سبق : سورہ قریش اور سورہ ماعون کی تفسیر

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (لِإِيلافِ قُرَيْشٍ– يَدُعُّ الْيَتِيمَ – يُرَاءُونَ– الْمَاعُون).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - کمپیوٹر ڈیوائس - تعلیمی بورڈ - آڈیو میڈیم جس میں

دونوں سورتیں ریکارڈ ہوں)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(قصہ گوئی پر مبنی حکمت عملی - برین اسٹورمنگ - بحث و مکالمہ پر مبنی حکمت عملی- باہمی تعاون سے سیکھنے پر مبنی حکمت عملی)۔

اقدار و رجحانات :

• پابندی سے اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا۔

• امن کی نعمت کی اہمیت کا اندازہ لگانا۔

• ریاکاری، نماز ترک کرنے یا کسی عذر کے بغیر اسے دیر سے پڑھنے کی سنگینی۔

• آخرت کو جھٹلانے اور اس سے غفلت میں رہنے والوں کی صفات سے اجتناب کرنا۔

• یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔

سبق کی تمہید :

طلبہ کے ساتھ اللہ تعالی کی نعمتوں، بطور خاص امن و استقرار کی نعمت کے بارے میں تبادلۂ خیال کریں اور اس کے بعد یہاں تک پہنچيں کہ قریش کو یہ نعمت دی گئی تھی، لیکن انہوں نے اس کی ناقدری کی۔ بعد ازاں ان کو سبق کے مشمولات کے بارے میں بتائيں اور بلیک بورڈ پر عنوان لکھ دیں۔

درس کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

معلم طلبہ کو کسی آڈیو میڈیم کے توسط سے زیر درس دونوں سورتیں سننے کی ہدایت دے۔

دو بہتر پڑھنے والے طلبہ کا انتخاب کر کے انھیں ساتھیوں کے سامنے دونوں سورتیں پڑھنے کے لئے کہے۔

معلم طلبہ کے ساتھ مشکل الفاظ کے معانی کے بارے میں تبادلۂ خیال کرے اور سیاق و سباق دیکھ کر ان کے معانی مستنبط کرنے کی ہمت افزائی کرے۔

مرحلہ نمبر (2)

برین اسٹورمنگ کی حکمت عملی بروئے کار لائيں اور کچھ طلبہ کا انتخاب بلیک بورڈ پر آیات کے اہم عناصر لکھنے کے لیے کریں، تاکہ اس کے بعد ان کی تشریح و توضیح کی جا سکے۔

آیتوں کی تفسیر اور بعض کلمات کے معانی کی وضاحت کے سلسلے میں طلبہ کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں۔

مرحلہ نمبر (3)

اس بات کا اطمینان حاصل کرنے کے لیے کہ طلبہ نے سبق کے عناصر کو سمجھ لیا ہے، بحث و مکالمہ کا اسلوب بروئے کار لائيں۔ طریقہ یہ ہو :

قریش کو ملنے والی اللہ کی اہم نعمتوں کا ذکر کریں۔

ایمان اور اللہ تعالی کی نعمتوں کے دائم رہنے کے درمیان کیا رشتہ ہے؟

اللہ تعالی کی جانب سے مقدس گھر کی حفاظت اور اس میں امن و رزق کی نعمتیں اتارے جانے کے درمیان ربط واضح کیجیے۔

سورہ ماعون کی وہ آیتیں بتائيے، جو جھٹلانے والوں کا حال بیان کرتی ہیں۔

طلبہ سے گزرے ہوئے سوالات کے جوابات حاصل کریں، ان پر تبصرہ کریں اور درست جواب دینے والے کی حوصلہ افزائی کریں۔

نتیجہ نکالنا :

ہر گروہ سے کہیں کہ وہ سبق کو اپنی کاپیوں میں عناصر و افکار کی شکل میں لکھ لیں، تاکہ مذاکرہ کے وقت ان سے مدد لی جا سکے۔

کچھ طلبہ سے ان آیات کے اہم فوائد بیان کرنے کے لئے کہیں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں۔

سرگرمیاں

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر 1 نوعیت و ہدف انفرادی۔ قریش کے اہم تجارتی اسفار اور اس نعمت کے تعلق سے ان کے رویے سے آگاہی۔ ہدف نمبر 1، 2

طلبہ سے پہلی سرگرمی کے تحت دیا گیا نقشہ دیکھنے کے لئے کہیں، دو طلبہ کا انتخاب اسے ساتھیوں کو پڑھ کر سنانے کی کوشش کرنے کے لیے کریں، اس کے بارے میں طلبہ کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں اور اس کے بعد ہر طالب علم سے قریش کے تجارتی اسفار کے مقامات کی نشان دہی کرنے اور ان نعمتوں کے بارے میں قریش کے موقف کی نشان دہی کرنے کو کہيں۔ ساتھ ہی درست جواب دینے والے طلبہ کی حوصلہ افزائی کریں۔

سرگرمی نمبر 2 نوعیت و ہدف انفرادی۔ سورہ ماعون سے استنباط کرتے ہوئے جھٹلانے والوں کا حال بیان کرنا۔

ہدف نمبر 3، 4

آڈیو میڈیم کے توسط سے طلبہ کے سامنے سورہ ماعون کی آیتیں پیش کریں، انھیں بہتر انداز میں پڑھنے والے ایک طالب علم کا انتخاب کریں اور اس کے بعد ان سے سورہ ماعون کی وہ آیتیں لکھنے کے لئے کہیں، جو جھٹلانے والوں کے احوال بیان کرتی ہیں۔

طلبہ کے جوابات کے بارے میں مناقشہ کرتے ہوئے انھیں درست جوابات تک لے جائيں اور اس کے بعد طلبہ ان جوابات کو سرگرمی کے جدول میں لکھ لیں۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

طلبہ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیں اور ہر گروہ باہمی تعاون سے درج ذیل سوالات کا جواب دے۔

گروہ میں شامل ہر فرد کسی ایک سوال کا جواب دے، اس کے دونوں ساتھی اس پر توجہ مبذول رکھیں اور غلطی کرنے کی صورت میں اس کی اصلاح کریں۔

ہر دو گروہ کا انتخاب ایک جوڑے کی شکل میں کریں اور ان سے اپنے جوابات پیش کرنے کے لئے کہیں۔

دونوں کا اندازۂ قدر کریں اور اس بات کی نشان دہی کریں کہ کس کا جواب زیادہ بہتر ہے۔ اسے مناسب نمبر بھی دیں۔

سب سے زیادہ نمبر حاصل کرنے والے گروہ کی نشان دہی کریں اور اس میں شامل افراد کی ہمت افزائی کریں۔

سوال 1 : () - () - () - ()

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

بیت اللہ (کعبہ) کی تعظیم اور اللہ کے یہاں اس کے مقام و مرتبہ کا شعور پیدا کرنا۔

نعمتوں پر لگاتار شکر ادا کرنا اور یتیموں و مسکینوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا۔

اپنے اہل خانہ اور آس پاس کے لوگوں کو اللہ کا شکر ادا کرنے اور یتیموں و مسکینوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کی ترغیب دینا۔

اکائی : ایمان اور تزکیہ

پہلا سبق : توحید کی فضیلت و اہمیت

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

ئنے کلمات : (التوحيد – حق الله تعالى – حق العباد).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - اسکرین ڈسپلے - تعلیمی بورڈ - تعلیمی تصاویر)

تدریس کی حکمت عملیاں :

(خود سے سوال پر مبنی حکمت عملی - رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی)

اقدار و رجحانات :

• توحید کے مقام ومرتبہ کا لحاظ کرنا

• توحید کی دعوت

• یہ عقیدہ کہ توحید ہی وہ مقصد ہے، جس کے لیے اللہ نے مخلوقات کی تخلیق کی ہے۔

سبق کی تمہید:

میرے معلم بھائی! درس کی تمہید کے طور پر طلبہ سے بتائيں کہ توحید ہی دین اسلام کی بنیاد ہے اور اسی کی دعوت اللہ کے آخری نبی محمد ﷺ اور آپ سے پہلے کے تمام انبیا علیہم السلام دیا کرتے تھے۔ اللہ نے جنت کو اہل توحید کا ثواب اور جہنم کو اہل شرک کا عقاب قرار دیا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک مسلمان توحید پر کاربند کیسے ہو؟

طلبہ کو بتائيں کہ آج کے سبق میں اسی کے بارے میں گفتکو ہوگی۔ اس کے بعد بلیک بورڈ پر سبق کا عنوان لکھ دیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

رہ نما نقشوں کی حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے اور سبق کے عناصر سے متعلقہ ذہنی معرفت کو منظم کرنے کی خاطر معلم توحید کی تعریف، فضیلت اور مقام و مرتبہ سے روشناس کرنے کے لیے ایک بورڈ کے ذریعے ایک تنظیمی شکل پیش کرے۔

مرحلہ نمبر(2)

خود سوالی پر مبنی حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے معلم طلبہ سے ایسے سوالات پیش کرنے کے لئے کہے، جو مذکورہ عناصر کے بارے میں ایسے پہلو سامنے لاتے ہوں، جنھیں وہ جاننا چاہتے ہیں۔ طلبہ کے سوالات یک جا کرکے ان کو بلیک بورڈ پر لکھ دے۔ سبق کے مختلف عناصر کے احاطے کے لیے معلم کچھ اضافی سوالات بھی کر سکتا ہے۔ یہ سوالات اس طرح کے ہو سکتے ہیں :

سوال : توحید سے کیا مراد ہے؟

سوال : توحید کی کیا اہمیت ہے؟

سوال : توحید کی کیا فضیلت ہے؟

سوال : توحید کا عمل صالح کی قبولیت کے ساتھ کیا تعلق ہے؟

مرحلہ نمبر (3)

معلم توحید کی فضیلت اور اس کے مقام و مرتبے کی وضاحت کرے۔ وضاحت میں گزشتہ سوالات کو بھی شامل کر لے۔ اس دوران ڈسپلے اسکرین کی مدد سے توحید کی فضیلت کے دلائل بھی پیش کرے اور طلبہ سے مفرد کلمات کے معنی و مطلب کی شرح و وضاحت میں شریک ہونے کے لئے کہے۔

نتیجہ نکالنا :

ہر گروہ سے کہیں کہ وہ سبق کو عناصر و افکار کی شکل میں اپنی اپنی کاپیوں میں لکھ لیں، تاکہ مذاکرہ کے وقت ان سے مدد لی جا سکے۔

طلبہ سے زبانی طور پر سبق کا خلاصہ پیش کرنے کے لئے کہیں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں۔

سرگرمیاں

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر کرنے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر 1 نوعیت اور ہدف انفرادی۔ توحید کی اہمیت کا بیان۔

ہدف نمبر 2

تمام طلبہ کو انفرادی طور پر پہلی سرگرمی انجام دینے کے لئے کہیں، انھیں سبق کے مشمولات سے رجوع کرنے کا حکم دیں، کچھ طلبہ کا انتخاب دیے گئے جوابات کو پیش کرنے کے لیے کریں اور ان جوابات کو باقی طلبہ کے ذریعے اندازۂ قدر کے مرحلے سے گزاریں۔

سرگرمی نمبر 2 نوعیت اور ہدف انفرادی۔ توحید کی فضیلت کی وضاحت۔

ہدف نمبر 2

ہر طالب علم کو انفرادی طور پر دوسری سرگرمی انجام دینے اور ایک خارجی کارڈ میں اپنا جواب لکھنے کے لئے کہيں۔ پھر سارے کارڈوں کو یک جا کریں، اندازۂ قدر کے مرحلے سے گزاریں، سب سے زیادہ باریکی کے ساتھ دیے گئے جواب اور جواب دینے والے طالب علم کی نشان دہی کریں۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

پہلے اور دوسرے سوال کا جواب دینے کے لیے ہر طالب علم دونوں سوالوں کا جواب انفرادی طور پر اپنی کتاب میں دے۔ اس دوران ان کے پاس سے گزرتے رہیں، تاکہ ان کے جوابات جان سکیں اور ان کا اندازۂ قدر کر سکیں۔

سوال 1 : () - () - ()

طلبہ کے ہر گروہ کو ایک دوسرے کی مدد سے تیسرے اور چوتھے سوال کا جواب دینے کی ہدایت دیں، تمام گروہوں کے جوابات یک جا کریں، انھیں اندازۂ قدر کے مرحلے سے گزاريں، ہر گروہ سے ہونے والی غلطی کی نشان دہی کرتے ہوئے اسے طلبہ کے سامنے رکھیں اور درست کرنے کے طریقہ بتائيں۔ اخیر میں سب سے بہتر گروہ کی نشان دہی کریں اور اس میں شامل طلبہ کی مناسب حوصلہ افزائی کریں۔

* تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

ہر طالب توحید کی اہمیت و فضیلت پر دلالت کرنے والے نصوص کو دوبارہ پڑھے اور دیگر مصادر سے اس کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرے، تاکہ توحید کی اہمیت و فضیلت پر عمل آوری کی اہمیت یقینی ہو جائے۔

توحید اور اس کی اہمیت سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے معارف کو ان کے اہل خانہ اور آس پاس کے لوگوں تک پہنچانا۔

دوسرا سبق : توحید ربوبیت

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی۔

نئے کلمات : (توحيد الربوبية – الإحياء – الإماتة).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - ڈسپلے اسکرین - تعلیمی بورڈ - تعلیمی تصاویر)

تدریسی حکمت عملیاں :

(فرضی تصورات قائم کرنے پر مبنی حکمت عملی - موازنہ پر مبنی حکمت عملی - تخیل پر مبنی حکمت عملی - برین اسٹورمنگ)۔

اقدار و رجحانات :

• پختہ عقیدہ کہ اللہ ہر چیز کا رب، مالک اور خالق ہے۔

• توحید ربوبیت پر عمل پیرا ہونے کی کوشش۔

• ربوبیت میں شرک کے نقصانات کا احساس۔

سبق کی تمہید :

میرے معلم بھائى! سبق کی تمہید کے طور پر طلبہ کو بتائيں کہ توحید کی تین قسمیں ہیں۔ توحید ربوبیت، توحید الوہیت اور توحید اسما و صفات۔ اس سبق میں توحید ربوبیت کے بارے میں گفتگو ہوگی۔ بعد ازاں بلیک بورڈ پر عنوان لکھ دیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

طلبہ سے سبق کے عنوان اور اس کے ہدف سے شناسائی کی روشنی میں اس بات کا مطالبہ کریں کہ وہ سبق کے عناصر اور افکار کے سلسلے ميں اپنی توقعات پیش کریں۔ ان کے پیش کردہ جوابات سنیں اورجدا گانہ جوابات کو بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔

مرحلہ نمبر (2)

بلیک بورڈ پر نیچے دیا گیا جملہ لکھیں :

اللہ تعالی کو اس کے خاص افعال جیسے پیدا کرنا، روزی دینا اور تدبیر کائنات وغیرہ میں ایک ماننا ... تو یہ کون سی توحید ہے؟

ان کے جوابات پر تبادلۂ خیال کرنے کے بعد ان کے سامنے توحید ربوبیت کا مفہوم واضح کريں اور بتائيں کہ اس پر عمل پیرا ہونے کا کیا طریقہ ہے؟

مرحلہ نمبر (3)

ایک تعلیمی بورڈ کی مدد سے طلبہ کے سامنے نواقض توحید ربوبیت سے مرتبط چیزوں کی مثالیں ان کے دلائل کے ساتھ پیش کریں۔ بعد ازاں ان کے ساتھ ان کے معنی و مفہوم کے بارے میں تبادلۂ خیال کریں اور طلبہ کو اس بات کا موقع دیں کہ وہ جو کچھ جاننا چاہتے ہيں، اس کے بارے میں اپنے سوالات پیش کریں۔

نتیجہ نکالنا :

ہر طالب علم کو سبق کے عناصر کا مراجعہ کرنے کا حکم دیں، اور کچھ طلبہ کا انتخاب اپنے جوابات پیش کرنے کے لیے کریں۔

طلبہ کے ساتھ سبق کے اہم افکار و عناصر کے بارے میں تبادلۂ خیال کریں اور ان کے خیالات کو دھیان سے سنیں۔

سرگرمیاں

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر 1 نوعیت اور ہدف انفرادی۔ توحید ربوبیت کے مظاہر کا بیان۔

ہدف نمبر 2، 4

ہر طالب علم کو انفرادی طور پر پہلی سرگرمی انجام دینے کا حکم دیں، انھیں سبق کے مشمولات سے رجوع کرنے کے لئے کہیں، کچھ طلبہ کا انتخاب جوابات پیش کرنے کے لیے کریں اور ان کے ذریعے پیش کردہ جوابات کا اندازۂ قدر کریں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (کیا تونے اسے نہیں دیکھا، جو سلطنت پا کر ابراہیم (علیہ السلام) سے اس کے رب کے بارے میں جھگڑ رہا تھا، جب ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کہ میرا رب تو وه ہے جو جِلاتا ہے اور مارتا ہے؟ وه کہنے لگا : میں بھی جِلاتا اور مارتا ہوں۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا : اللہ تعالیٰ سورج کو مشرق کی طرف سے لے آتا ہے، تو اسے مغرب کی جانب سے لے آ۔ اب تو وه کافر بھونچکا ره گیا۔ اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔)

(سورہ بقرہ: 285)

اس بادشاہ کا نام نمردو بن کنعان ہے۔ اس نے دعوی کیا تھا کہ وہی جلاتا اور مارتا ہے۔ لہذا اللہ کے برگزیدہ نبی ابراہیم علیہ السلام نے اسے یہ کہہ کر لاحواب کر دیا کہ اگر تمھارے پاس اتنی طاقت ہے، تو ذرا سورج کو اس کے غروب ہونے کی جگہ سے طلوع کر کے دکھاؤ۔

سرگرمی نمبر 2 نوعیت اور ہدف انفرادی۔ روزی حاصل کرنے کے طریقے سے روبرو ہونا۔

ہدف نمبر 3

طلبہ کو ہدایت کریں کہ انفرادی طور پر ہر طالب دوسری سرگرمی کو انجام دے اور اپنا جواب ایک خارجی کارڈ میں لکھے، پھر طلبہ سے کارڈوں کو لے کر یک جا کریں، ان کو اندازۂ قدر کے مرحلے سے گزاریں، سب سے زیادہ باریکی کے ساتھ دیے گئے جواب کی نشان دہی کریں اور اسے پیش کرنے والے طالب علم کی حوصلہ افزائی کریں۔

سرگرمی نمبر 3 نوعیت اور ہدف اجتماعی۔ شرک کی مختلف قسموں کے درمیان فرق کرنا اور ان کا سامنا کرنے کے طور طریقے۔

ہدف نمبر 5، 6

معلم ہر گروہ کو تیسری سرگرمی کا جواب دینے کی ہدایت کرے۔ جواب دینے کا طریقہ یہ ہو کہ ہر طالب علم اس کے ایک ایک عنصر کا جواب دے اور اس کے ساتھی اسے دیکھیں اور اس کا اندازۂ قدر کریں۔

معلم سرگرمی کے ہر عنصر کو یکے بعد دیگرے لے، اس کے بارے میں ہر گروہ کے جواب اور گروہ کے اندر جواب دینے والے طالب علم سے واقف ہو اور ہر گروہ کو مناسب نمبر دے۔

معلم سب سے زیادہ نمبر حاصل کرنے والے گروہ کی نشان دہی کرے، اس میں شامل طلبہ کی تعریف کرے اور ہر گروہ سے صحیح جواب دینے والے طالب علم کی حوصلہ افزائی کرے۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

پہلے اور دوسرے سوال کا جواب دینے کے لیے ہر طالب علم دونوں سوالوں کا جواب اپنی کتاب میں انفرادی طور پر دے۔ اس دوران معلم ان کے پاس سے گزرتے رہے، تاکہ ان کے جوابات سے آگاہ ہو سکے اور ان کو اندازۂ قدر کے مرحلے سے گزار سکے۔

سوال 1 : () - () - ()

سوال 2 : اپنے افعال کے ذریعے - اللہ تعالی اکیلے - علم غیب کا دعوی

طلبہ کے ہر گروہ کو ایک دوسرے کی مدد سے تیسرے سوال کا جواب دینے کا حکم دیں۔ سارے گروہوں کے جوابات جمع کریں۔ اندازۂ قدر کے مرحلے سے گزاریں۔ ہر گروہ سے سرزد ہونے والی غلطیوں کی نشان دہی کریں، تاکہ ان کو طلبہ کے سامنے پیش کر کے انھیں درست کرنے کا طریقہ بتایا جا سکے۔ ساتھ ہی سب سے بہتر جواب دینے والے گروہ کی نشان دہى کریں اور اس میں شامل طلبہ کی مناسب حوصلہ افزائی کریں۔

* تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

ہر طالب علم توحید ربوبیت کے دلائل کو دوبارہ پڑھے، تاکہ توحید ربوبیت پر عمل آوری کی اہمیت کا شعور پیدا ہو۔

ہر طالب علم اپنے آس پاس کے لوگوں کو توحید ربوبیت کے مظاہر سے خبردار کرے۔

تیسرا سبق : توحید الوہیت

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (توحيد الألوهية – العبادات القلبية).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - ڈسپلے اسکرین - تعلیمی بورڈ - تعلیمی تصاویر)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(تصور پر مبنی حکمت عملی - موازنہ پر مبنی حکمت عملی - تخیل پر مبنی حکمت عملی - برین اسٹورمنگ)۔

اقدار و رجحانات :

• اللہ تعالی کی الوہیت پر ایمان۔

• توحید الوہیت کو عملی جامہ پہنانے کی حرص۔

• توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کے درمیان ربط۔

• الوہیت میں شرک کے مظاہر سے خبردار رہنا۔

سبق کی تمہید :

محترم معلم! سبق کی تمہید کے طور پر طلبہ سے اس تعلق سے تبادلۂ خیال کریں کہ عرب کے لوگوں کے کفر کا سبب کیا تھا، جب کہ وہ مانتے تھے کہ اللہ ہی خالق و رازق ہے۔ پھر ان کو سبق کے موضوع تک لے جائیں اور بلیک بورڈ پر عنوان لکھ دیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

سبق کے موضوع سے طلبہ کی آگاہی ہو جانے کے بعد ان سے سبق کے عناصر اور افکار کے بارے میں اپنی توقعات پیش کرنے کے لئے کہیں، ان کے ساتھ اس سلسلے میں تبادلۂ خیال کریں اور اہم عناصر و افکار کو بلیک بورڈ پر لکھیں۔

مرحلہ نمبر (2)

برین اسٹورمنگ کی حکمت عملی کے تحت طلبہ سے توحید الوہیت کے معنی کی نشان دہی اور عبادت کی مختلف انواع کی وضاحت کرنے کے لئے کہیں اور صحیح جواب تک پہنچنے کے لیے طلبہ سے ان کے جوابات کے سلسلے میں تبادلۂ خیال کریں۔

طلبہ سے توحید الوہیت اور توحید ربوبیت کے درمیان موجود تعلق کی نشان دہی کرنے کے لئے کہیں اور امتیازی جوابات دینے والے طلبہ کی حوصلہ افزائی اور تعریف کریں۔

مرحلہ نمبر(3)

ایک تعلیمی بورڈ کی مدد سے طلبہ کے سامنے توحید الوہیت سے متصادم چیزوں کی مثالیں پیش کریں۔ کچھ طلبہ کا انتخاب ان کی قراءت، تفسیر اور معنی و مفہوم کے بیان کے لیے کریں اور طلبہ کو اس بات کا موقع دیں کہ وہ جو کچھ جاننا چاہتے ہيں، اس کے بارے میں اپنے سوالات پیش کریں۔

نتیجہ نکالنا :

ہر طالب علم کو تمہید میں دیے گئے سوال کے اپنے جواب سے رجوع کرنے اور سبق اس کے عناصر اور اس میں پیش کردہ نمونوں کی معرفت کی روشنی میں جواب پر غور کرنے کی ہدایت کریں اور اس کے بعد کچھ طلبہ کا انتخاب ان کے جوابات پیش کرنے کے لیے کریں اور ان جوابات پر اپنا عندیہ دیں۔

طلبہ سبق کے افکار و عناصر کے بارے ميں اپنی توقعات کا، جنھیں پہلی سرگرمی کے تحت پیش کیا تھا، جائزہ لیں اور بتائيں کہ انہوں نے سبق کو کتنا سمجھا ہے۔

سرگرمیاں

طبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر 1 نوعیت و ہدف اجتماعی۔ توحید الوہیت اور اہم عبادتوں سے واقفیت۔

ہدف نمبر 2، 3

معلم اس بات کی ہدایت دے کہ ہر دو طالب علم ایک دوسرے کی مدد سے پہلی سرگرمی انجام دیں۔ سرگرمی پوری ہونے کے بعد وہ ہر گروہ کے جواب سے آگاہ ہو اور اس کے بعد طلبہ کے سامنے ایک بورڈ رکھے، جسے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہو۔ پہلا حصہ توحید کی نوعیت پر مشتمل ہو اور دوسرا حصہ چار ایسی عبادتیں تحریر کرنے پر، جنھیں آپ اللہ کی رضا جوئی کی خاطر ادا کرتے ہیں۔

معلم صحیح جوابات لے کر انھیں بورڈ میں درج کر دے اور ہر طالب علم کو اس بات کا حکم دے کہ وہ اس کی ایک تصویر لے لے یا اسے محفوظ رکھنے اور اپنے آس پاس کے لوگوں کو بتانے کے لیے لکھ لے۔

سرگرمی نمبر 2 نوعیت و ہدف انفرادی۔ توحید کی مختلف قسموں کے درمیان فرق سمجھنا۔

ہدف نمبر 5

ہر طالب علم کو انفرادی طور پر دوسری سرگرمی انجام دینے کی ہدایت دیں اور سبق کے مشمولات سے رجوع کرنے کے لئے کہیں۔ اس کے بعد کچھ طلبہ کو، ان کی جانب سے دیے گئے جوابات پیش کرنے کے لیے منتخب کریں اور ان کے ساتھیوں کو ان کا اندازۂ قدر کرنے کے لئے کہیں۔

افعال توحید ربوبیت کی مثال توحید الوہیت کی مثال

محمد نے عصر کی نماز پڑھی : توحید الوہیت کی مثال

اس بات کا اقرار کہ سورج کی تخلیق اللہ نے کی ہے : توحید ربوبیت کی مثال

زید نے اپنے رب کو پکارا : توحید الوہیت کی مثال

اللہ نے جانوروں کو انسانوں کے لیے مسخر کر رکھا ہے : توحید ربوبیت کی مثال

حسن نے اللہ کی خوش نودی حاصل کرنے کے لیے ایک بکری ذبح کرنے کی نذر مانی : توحید الوہیت کی مثال

فاطمہ کا ایمان ہے کہ اللہ ہی ساری مخلوقات کو روزی دیتا ہے : توحید ربوبیت کی مثال

سرگرمی نمبر 3 نوعیت و ہدف اجتماعی۔ ان رویوں کی نشان دہی جو توحید الوہیت کے منافی ہيں ہدف نمبر 4

ہر دو طالب علموں کو ایک دوسرے کی مدد سے تیسری سرگرمی کا جواب دینے کی ہدایت دیں اور اس کے بعد ان میں سے دو گروہوں کو چن کر ان کى جانب سے دئے گئے جوابات پیش کرنے کے لئے کہیں اور باقی گروہوں کو حکم دیں کہ دونوں گروہوں کا موازنہ کریں۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

پہلے اور دوسرے سوال کا جواب دینے کے لیے ہر طالب علم انفرادی طور پر دونوں سوالوں کا جواب اپنی کتاب میں لکھے۔ اس دوران آپ ان کے پاس سے گزرتے رہیں، تاکہ ان کے جوابات دیکھ سکھیں اور ان کا اندازۂ قدر کر سکیں۔

سوال 1 : (محبت - مُردوں کو پکارنا - الوہیت)

طلبہ کے ہر گروہ کو ایک دوسرے کی مدد سے تیسرے سوال کا جواب دینے کی ہدایت کریں۔ بعد ازاں طلبہ کے جوابات یک جا کریں، ان کا اندازۂ قدر کریں، ہر گروہ سے سرزد ہونے والی غلطیوں کی نشان دہی کرنے کے بعد انھیں طلبہ کے سامنے رکھیں، انھیں درست کرنے کا طریقہ بتائيں اور اس کے بعد سب سے بہتر جواب دینے والے گروہ کی نشان دہی کریں اور اس میں شامل طلبہ کی مناسب ہمت افزائی کریں۔

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں پر اپنی زندگی اور معاملات میں عمل کرنے کی اہمیت پر توجہ دلائيں، جس کے لیے وہ درج ذیل اقدامات کریں گے :

طلبہ ایک دوسرے کی مدد سے توحید الوہیت کی مخالف دوسری صورتیں ڈھونڈ کر نکالیں اور انھیں معلم کے سامنے رکھیں، تاکہ مراجعہ اور اعتماد کا کام ہو سکے۔

ہر طالب علم اپنے آس پاس کے لوگوں کو توحید الوہیت کی مخالف چيزوں سے خبردار کرے۔

چوتھا سبق : توحید اسما و صفات

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (توحيد الأسماء والصفات – الصفات الثبوتية).

تعلیمی وسائل :

(کمپیوٹر ڈیوائس - ڈسپلے اسکرین - تعلیمی بورڈ - آڈیو میڈیم - بلیک بورڈ)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

( تمہیدی مواد کی پیش کش پر مبنی حکمت عملی - فرضی تصورات قائم کرنے پر مبنی حکمت عملی - رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی - خود سوالی پر مبنی حکمت عملی - تناقضات پر مبنی حکمت عملی - تکملہ پر مبنی حکمت عملی - ہاٹ سیٹ سے موسوم حکمت عملی)

اقدار و رجحانات :

- اللہ کے اسما و صفات پر ایمان۔

- اللہ کے اسما و صفات پر ایمان کی اہمیت کا احساس۔

* سبق کی تمہید :

بلیک بورڈ پر نیچے دیا گیا سوال لکھیں اور اسے ساتھیوں کو پڑھ کر سنانے کے لیے ایک طالب علم کا انتخاب کریں۔ باقی طلبہ سے کہيں کہ اس پر غور و فکر کریں اور اس کے بارے میں اپنے جوابات سامنے رکھیں۔ ساتھ ہی سبق کی سرگرمیوں سے گزرنے تک اس کا اندازۂ قدر کرتے رہیں۔

سوال : اللہ کے اچھے اچھے نام اور بلند و بالا صفات ہیں۔ اب یہ بتائيں کہ اللہ کے نام اور صفت میں کیا فرق ہے؟

پچھلی کارکردگی سے گزرنے کی روشنی میں طلبہ کو سبق کے عنوان اور متعلقہ باتوں کے بارے میں پیشین گوئی کرنے کی ہدایت کریں، ان کے جوابات سنیں، سبق کا عنوان بتائيں اور بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔

* سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر(1)

رہ نما نقشوں کی حمکت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے ڈسپلے اسکرین یا بورڈ کے توسط سے طلبہ کے سامنے سبق کے عناصر رکھیں اور اس کے بعد ہر دو طلبہ کو اپنے سوالات رکھنے کے لئے کہیں کہ ان عناصر کے بارے میں وہ کیا جاننا چاہتے ہیں۔

طلبہ کے سوالات سنیں اور ان میں سے الگ الگ طرح کے کچھ سوالات کو بلیک بورڈ پر لکھ کر ان کے بارے میں تبادلۂ خیال کریں اور ان کی وضاحت کریں۔ خود بھی طلبہ کے سامنے کچھ سوالات رکھیں، تاکہ ان کی رہ نمائی ہو سکے۔

مرحلہ نمبر (2)

طلبہ کے ساتھ ان کے ذریعے پیش کیے گئے سوالات کے بارے میں تبادلۂ خیال کریں، تاکہ سبق کے عناصر کی وضاحت ہو جائے۔ موضوع کے تمام عناصر کے احاطے کے لیے کچھ اضافی سوالات بھی جوڑیں۔ نیچے دیے گئے سوالات سے رہ نمائی حاصل کی جا سکتی ہے :

سوال : توحید اسما و صفات سے کیا مراد ہے؟

سوال : اللہ تعالی تعالی کے سارے اسما کے اچھے ہونے سے کیا مراد ہے؟

سوال : کیا اللہ کے اسما اس کے اوصاف پر دلالت کرتے ہیں؟ وضاحت کریں۔

سوال : اللہ کا نام غفور اس کی صفت ........ اور اس کا نام رحیم اس کی صفت ........ دلالت کرتا ہے۔

سوال : اللہ تعالی کی صفات سے کیا مراد ہے؟

جواب دینے کے دوران طلبہ کو اس بات کی ہدایت کریں کہ وہ آڈیو میڈیم کے توسط سے ان سے جڑے ہوئے شرعی نصوص سنیں۔ ساتھ ہی معلم ان کے ساتھ ان کی دلالت کے بارے میں تبادلۂ خیال کرے، تاکہ ان کا معنی و مفہوم واضح ہو جائے۔

مرحلہ نمبر(3)

طلبہ کے سامنے ایک تفکیری نقشہ (تقابلی شکل کا حامل نقشہ) رکھیں، جس سے اللہ تعالی کی ثبوتی صفات کے ساتھ ساتھ وہ صفات بھی واضح ہوتی ہوں، جن کی نفی اس نے اپنی ذات سے کی ہے۔ دونوں طرح کی صفات کی تشریح اور دونوں سے جڑے ہوئے نصوص بیان کرنے کے بعد طلبہ کو نقشے پر غور و فکر کرنے کی ہدایت دیں تاکہ دونوں کے درمیان فرق واضح ہو جائے۔

* نتیجہ نکالنا :

طلبہ کے سامنے درج ذیل عبارتیں رکھیں اور درس کے افکار و عناصر کے مطالعے کی روشنی میں انھیں پورا کرنے کا مطالبہ کریں:

توحید اسما و صفات سے مراد ہے ..................................

اللہ کی صفات کی دو قسمیں ہیں : ..............،....................

جن صفات کو اللہ تعالی نے اپنے لیے ثابت کیا ہے، ان میں سے ایک ہے ..................................

وہ اوصاف جن سے اللہ تعالی کو متصف نہيں کیا جائے گا، ان میں سے ایک ہے ..................................

سرگرمیاں

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر 1 نوعیت اور ہدف اجتماعی۔ آیۃ الکرسی سے اللہ کے اسما و صفات اخذ کرنا۔ ہدف نمبر 2، 3

طلبہ کو آڈیو میڈیم کے توسط سے سرگرمی کے ضمن میں وارد آیت قرآنی کو سننے کے لئے کہيں اور ان کے ساتھ اس کے معنی و مفہوم کے بارے میں تبادلۂ خیال کریں۔

ہر تین طلبہ کو ایک دوسرے کی مدد سے اپنی کتابوں میں دیے گئے جدول کو پورا کرنے اور آیت سے ثبوتی صفات کے ساتھ ساتھ ان صفات کی تحدید کرنے کے لئے کہیں، جن کی نفی اللہ تعالی نے اپنی ذات سے کی ہے۔

ہر زمرے سے ایک ایک فرد کا انتخاب کریں اور کہیں کہ وہ اپنے ساتھیوں کے سامنے صف باندھ کر کھڑے ہو جائيں، تاکہ وہ اپنے اپنے زمرے کے ذریعے جمع کردہ صفات کو پیش کریں۔ آپ ان کے درمیان موازنہ کرتے ہوئے سب سے زیادہ صحیح جواب سامنے لانے والے زمرے کی نشان دہی کریں۔

سرگرمی نمبر 2 نوعیت اور ہدف انفرادی۔ اللہ تعالی کے اسما و صفات کو لکھنا اور پھیلانا۔ ہدف نمبر 6

معلم ہر طالب کو اپنے اہل خانہ کے تعاون سے اللہ تعالی کے دس ناموں پر مشتمل ایک پینٹنگ تیار کرنے کا حکم دے، پرکشش پینٹنگ تیار کرنے پر ان کی حوصلہ افزائی کرے اور اس کے بعد اسے سوشل میڈیا سائٹس پر نشر کرنے کا حکم دے۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

پہلا اور دوسرا سوال طلبہ کے سامنے پڑھیں اور ہر دو طلبہ کا انتخاب ان کے کسی ایک عنصر کا جواب دینے کے لیے کریں اور باقی طلبہ کو دونوں کے جوابات کا موازنہ کرنے کے لئے کہیں، تاکہ درست جواب کی نشان دہی ہو سکے۔

سوال 1 : () - () - ()

سوال 2 : (قابض - موت - قدرت)

دو طلبہ کا انتخاب کریں، تاکہ دونوں تیسرے سوال کا ایک ایک عنصر پڑھیں نیز ان کے کسی ایک ساتھی کا انتخاب دونوں عناصر کا جواب دینے کے لیے کریں۔ بعد ازاں جواب کو اندازۂ قدر کے مرحلے سے گزارا جائے اور یہ سب کچھ معلم اور باقی ساتھی طلبہ کی معیت میں ہو۔

* تربیتی و وجدانی تنبیہات :

معلم طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں پر درج ذیل اقدامات کے ذریعے عمل کرنے کی توجہ دلائے :

ہر طالب علم کی کوشش ہو کہ اللہ تعالی کے اسما و صفات سے آگاہی حاصل کرے، ان پر ایمان رکھنے اور ان کی تصدیق کرنے کی اہمیت اور انسان کے اعمال اور اللہ کی قربت حاصل کرنے پر اس کے پڑنے والے اثر کو محسوس کرے۔

ہر طالب علم مختلف مصادر کی مدد سے اللہ کے ناموں پر مشتمل ایک شجرہ تیار کرے اور اسے تیار کرنے میں اپنی فنی مہارتوں کے جوہر دکھائے، جب کہ معلم طلبہ کى کارکردگیوں پر نظر رکھے اور سب سے بہتر کارکردگی والے طالب علم کی تعریف کرے۔

پانچواں سبق : عبادت اور اس کی قسمیں

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (العبادة – العبادة القولية – العبادة الفعلية – العبادة المالية).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - تعلیمی بورڈ - تعلیمی کارڈ)

تدریسی حکمت عملیاں :

(باہمی تعاون سے سیکھنے پر مبنی حکمت عملی - برین اسٹورمنگ والى حکمت والى)

اقدار و رجحانات :

- عبات کی اہمیت کا بیان۔

- عبادتیں ادا کرنے کی کوشش۔

عبادت کا دنیوی و اخروی اثر محسوس کرنا۔

سبق کی تمہید :

طلبہ کے ساتھ اس بات کے سلسلے میں تبادلۂ خیال کریں کہ نبی کریم ﷺ اللہ کی عبادت گزاری کے سلسلے ميں اسوۂ حسنہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ ﷺ کے اندر عبادت کی حرص بھی تھی اور اس میں مداومت کا جذبہ بھی۔ اعتدال بھی تھا اور لوگوں کے حقوق میں کوتاہی کو در نہ آنے دینے کا کمال بھی۔ سچ مچ آپ ساری کائنات میں اللہ کا سب سے زیادہ خوف رکھنے والے اور تقوی کے حامل انسان تھے۔ اس کے بعد طلبہ کو سبق کے موضوع تک لے جائيں اور درس کا عنوان بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

طلبہ کو کتاب کھولنے کا حکم دیں اور کسی ایک طالب علم کو بلند آواز سے سبق کی قراءت کرنے کے لئے کہیں۔ باقی طلبہ سے کہیں کہ وہ دھیان سے سنیں اور ان جگہوں کی نشان دہی کریں، جنھیں سمجھنے کی ان کو ضرورت ہے۔

ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں کہ کیا وہ ....... ؟؟؟

مرحلہ نمبر (2)

باہمی تعاون سے سیکھنے پر مبنی حکمت عملی کو بروئے کار لائيں اور طلبہ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیں۔

ہر گروہ کو عبادت کے معنی اور اس کی قسموں کی نشان دہی کرنے کی ذمہ داری سپرد کریں اور اس کے بعد ہر گروہ سے ایک ایک طالب علم کا انتخاب کر کے اسے عبادت کا معنی بیان کرنے اور ہر نوع کی تعریف کرنے کے لئے کہیں۔

ان کا اندازۂ قدر کریں اور ان کو درست جواب بتائیں۔

مرحلہ نمبر (3)

برین اسٹورمنگ کی حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے ہر گروہ کو ظاہری عبادتوں اور باطنی عبادتوں کے درمیان تعلق کی نشان دہی کرنے کے لئے کہیں۔

عبادت کے اہم ثمرات اخذ کرنے میں ان کی مدد کریں۔

کچھ طلبہ کو یہ ذمہ داری دیں کہ ان ثمرات کو بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔

نتیجہ نکالنا :

بہتر ہوگا کہ طلبہ سے عبادت کے کچھ عناصر مستنبط کروائيں اور اس کام میں سرزد ہونے والی غلطیوں کی اصلاح کریں۔

اس کے بعد انھیں بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔ اس میں درج ذیل باتیں شامل ہونی چاہئیں :

عبادت ایک جامع لفظ ہے، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب وپسندیدہ تمام ظاہری و باطنی اقوال و افعال کو شامل ہے۔

عبادت کی دو قسمیں ہیں : ظاہری عبادات اور باطنی عبادات۔

قولی عبادتيں زبان کے ذریعے ادا کی جاتی ہیں۔

فعلی عبادتیں جسم کے ذریعے ادا کی جاتی ہيں۔

مالی عبادتوں کا تعلق مال خرچ کرنے سے ہوتا ہے۔

باطنی عبادتوں کو قلبی عبادتيں بھی کہا جاتا ہے۔ کیوں کہ یہ قلب یعنی دل کے ساتھ خاص ہیں اور یہ سب سے عظیم اور سب سے اہم عبادتیں ہیں۔

ظاہری عبادتيں باطنی عبادتوں سے الگ نہيں ہوتیں۔

سرگرمیاں

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر 1 نوعیت و ہدف انفرادی۔ عبادت اور اس کی پابندی کرنے کی اہمیت کا بیان۔

ہدف نمبر 3

ہر طالب علم کو ہوم ورک کے تحت دوسری سرگرمی کا جواب دینے کا مکلف بنائيں۔

جوابات آپ کے سامنے اگلی مجلس میں رکھے جائيں، تاکہ آپ ان کو اندازۂ قدر کے مرحلے سے گزاريں اور بہتر جواب دینے والے کی حوصلہ افزائی کریں۔

سرگرمی نمبر 2 نوعیت و ہدف اجتماعی۔ عبادت کی مختلف قسموں اور صورتوں کے درمیان فرق۔

ہدف نمبر 2

طلبہ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیں اور ہر گروہ کو دوسری سرگرمی کا جواب ایک الگ روق میں دینے کا حکم دیں۔

جواب لکھنے کا کام پورا ہونے کے بعد ہر گروہ اس میں شامل کسی ایک طالب علم کا انتخاب سرگرمی کا جواب زبانی طور پر دینے کے لیے کرے۔

ہر گروہ کا اندازۂ قدر کیا جائے اور درست جواب دینے والے گروہ کو سب سے بہتر جواب دینے والا گروہ ہونے کا اعلان کیا جائے۔

عبادت دو لوگوں کے درمیان انصاف کرنا۔ قولی فعلی

سرگرمی نمبر 3 نوعیت اور ہدف انفرادی۔ تین وسائل تجویز کریں، جو وقت پر نماز کی ادائیگی میں ممد و معاون ہوں۔ ہدف نمبر 6

ہر طالب علم کو انفرادی طور پر تیسری سرگرمی انجام دینے اور اپنا جواب ایک خارجی کارڈ میں دینے کی ہدایت کریں، پھر طلبہ سے سارے کارڈ لے کر یک جا کریں، ان کو اندازۂ قدر کے مرحلے سے گزاریں، سب سے زیادہ باریک بینی کے ساتھ دیے گئے جواب کی نشان دہی کریں ساتھ ہی اس جواب والے طالب علم کو متعارف کرائیں۔

اندازۂ قدر

سبق کے اہداف کی تکمیل کے لیے آپ درج ذیل کام کر سکتے ہیں :

طلبہ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیں اور ہر گروہ کو ایک دوسرے کی مدد سے درج ذیل سوالات حل کرنے کا حکم دیں۔

ہر طالب علم اپنا کارڈ اپنے کسی ساتھی کے کارڈ سے بدل لے، تاکہ اس کا اندازۂ قدر کیا جا سکے۔

اس دوران طلبہ کے پاس سے گزرتے رہیں، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ وہ ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں۔

ہر گروہ اپنے ایک رکن کو اپنا جواب پیش کرنے کا مکلف بنائے اور اسے اندازۂ قدر کے مرحلے سے گزارا جائے۔

سوال 1 : (قلبی - مالی - عبادت کے ثمرات)

* تربیتی و وجدانی تنبیہات :

اس سبق میں پڑھی گئی باتوں کی روشنی میں بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو درج ذیل کام کرنے کی ہدایت کی جائے :

فرض عبادتوں کی ادائيگی کی حرص رکھیں اور مستحب عبادتوں کی ادائيگی کی کوشش کریں۔

زیادہ بڑے پیمانے پر عبادتوں کی قسموں اور ان کے دلائل سے واقفیت حاصل کریں، تاکہ اللہ کا تقرب زیادہ سے زیادہ حاصل ہو۔

چھٹا سبق : عبادت کی شرطیں اور ارکان

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (الإخلاص– المتابعة – الابتداع– المحبة – الرجاء – الخوف).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - تعلیمی کارڈ - تعلیمی بورڈ)

تدریسی حکمت عملیاں :

(استنباط پر مبنی حکمت عملی - برین اسٹورمنگ سے موسوم حکمت عملی- اجتماعی مناقشہ پر مبنی حکمت عملی)

اقدار و رجحانات :

- تمام اقوال اور ظاہری و باطنی عبادتوں میں اللہ کی رضا جوئی پیش نظر رکھنا۔

- اس بات کی کوشش کہ عبادات ذات، صفت اور وقت کے معاملے میں اللہ کے نبی ﷺ کے طریقے کے مطابق ہوں۔

- اللہ تعالی سے محبت کا شعور۔

- اللہ تعالی کی رحمت کی امید اور اس کے فضل و کرم کی آرزو رکھنا۔

- اللہ تعالی کا خوف اور اس کے عذاب کا ڈر رکھنا۔

سبق کی تمہید :

آپ درج ذیل صورت حال کی پیش کش کے توسط سے طلبہ کے لیے سبق کی راہ ہم وار کریں گے۔ (احمد مدرسہ گیا، تو دیکھا کہ اس کے سارے ساتھی اپنے ایک ساتھی خالد کی تعریف کر رہے ہیں، جو نماز پڑھتا اور قرآن کریم کی تلاوت کرتا ہے۔ جب کہ خالد ان کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے اور ان کی بات سن کر پھولے نہیں سماتا۔ وہ قسم کھا کھا کر کہہ رہا ہے کہ اس نے گزشتہ رات تہجد پڑھنے کی وجہ سے پلک تک نہیں جھپکی)۔

بعد ازاں طلبہ سے تبادلۂ خیال کریں کہ اس موقف کے بارے میں ان کی کیا رائے ہے؟ اس کے بعد ان کو سبق کے موضوع تک لے جائيں۔

سبق کی پش کش :

مرحلہ نمبر (1)

طلبہ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیں اور ہر گروہ کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر سبق کی قراءت کا حکم دیں اور کہیں کہ ہر گروہ سبق کے اہم افکار کے بارے میں تبادلۂ خیال کرے۔

مرحلہ نمبر (2)

اجتماعی مناقشے کی حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے طلبہ کے ساتھ عبادت کی شرطوں اور دلائل کے بارے میں تبادلۂ خیال کریں۔

اس کے بعد استنباطی حکمت عملی کو بروئے کار لائيں اور طلبہ سے ترک اخلاص کا اثر مستنبط کرنے کے لئے کہیں یا ان سے دھیان سے سننے کا مطالبہ کریں۔ اس عمل میں طلبہ کی مدد کریں اور درست جواب دینے والے طلبہ کی حوصلہ افزائی کریں۔

مرحلہ نمبر (3)

برین اسٹورمنگ حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے طلبہ سے عبادت کے تینوں ارکان (محبت، خوف اور امید) کے بارے میں غور کرنے کے لئے کہیں۔

بعد ازاں ان کے پیش کردہ امور پر ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں اور ارکان کے دلائل بھی بیان کریں۔

نتیجہ نکالنا :

سبق کے عناصر پر مشتمل ایک رہ نما نقشے کے توسط سے طلبہ کے سبق کے افکار کا مراجعہ کریں۔

سرگرمیاں

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر 1 نوعیت و ہدف انفرادی۔ جہنم میں ڈالے جانے کے اسباب مستنبط کریں اور اس طرح کےانجام سے بچنے کے لیے ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں ان کو اخذ کریں۔ ہدف نمبر 1

ہر طالب علم دوسری سرگرمی کا جواب انفرادی طور پر ایک خارجی ورق ميں دے اور اس کے بعد آپ جوابات کی تصحیح کریں۔

سب سے بہتر جواب دینے والے طالب علم سے ایک بڑے بورڈ پر سرگرمی کو پینٹ کرکے اسے کلاس روم میں لٹکا دینے کے لئے کہيں۔

اس نے اخلاص و للہیت کے ساتھ عبادت نہيں کی، اس لیے اس کی عبادت قبول نہیں ہوگی۔ کیونکہ اس نے قرآن اس لیے سیکھا اور پڑھا، تاکہ اسے عالم اور قاری کہا جائے۔

سرگرمی نمبر 2 نوعیت و ہدف انفرادی۔ عبادت کے ارکان پر استدلال۔

ہدف نمبر 2

طلبہ کے سامنے دوسری سرگرمی زبانی طور پر رکھیں اور اس کے بعد ہر طالب علم سے اس کے جواب کے بارے میں غور و فکر کرنے کے لئے کہیں۔

انھیں ایک معین وقت دیں اور سب سے پہلے صحیح جواب دینے والے کو کام یاب قرار دیں۔

اندازۂ قدر

سبق کے مقاصد کی تکمیل کے لیے آپ درج ذیل کام کر سکتے ہیں :

ایک تجویز یہ ہے کہ سوالات کو یکے بعد دیگرے بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔

آس پاس بیٹھے ہوئے ہر دو طالب علموں سے کہيں کہ ایک دوسرے کی مدد سے درج ذیل سوالات کا جواب دیں۔

کسی ترتیب کا خیال رکھے بغیر کچھ طلبہ کو ساتھیوں کے سامنے اپنے جوابات رکھنے کے لیے منتخب کریں۔

غلط جواب دینے والے طلبہ کو سبق کے مشمولات سے رجوع کرنے اور انھیں پڑھنے کے لئے کہیں، تاکہ وہاں سے صحیح جواب اخذ کر سکیں۔

سوال 1 : (X) - (✔) - (✔)

اضافی سرگرمی :

ہر طالب علم اخلاص و للہیت کے ساتھ اللہ کی عبادت کرنے کی کوشش کرے۔

ہر طالب علم اس سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنے آس پاس کے لوگوں تک پہنچائے۔

طلبہ ایک دوسرے کی مدد سے عبادت کی شرطوں اور ارکان پر مشتمل پینٹنگز تیار کریں۔

ساتواں سبق : ایمان کا بڑھنا اور گھٹنا

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (تفاضل– الكبائر).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - تعلیمی بورڈ - آڈیو میڈیم)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(نقطہ ہائے نظر کے تجزیے پر مبنی حکمت عملی - تمہیدی مواد کی پیش کش پر مبنی حکمت عملی - برین اسٹورمنگ والى حکمت عملی- رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی - معکوس غور و فکر پر مبنی حکمت عملی)۔

اقدار و رجحانات :

- ایمان کے بلند ترین درجات کے حصول کے لیے خوب نیکی اور بھلائی کے کام کرنا۔

- ایسے اعمال کی ترغیب جو ایمان میں اضافہ کرتے ہیں۔

- ایسے اعمال سے دور رہنا جو ایمان میں کمی لاتے ہیں۔

٭ سبق کی تمہید :

بلیک بورڈ پر درج ذیل جملہ لکھیں : (ایمان ایک ثابت چیز ہے۔ نہ بڑھتا ہے اور نہ گھٹتا ہے۔) اس کے بعد طلبہ سے اس کے بارے میں اپنی رائے دینے کو کہیں اور ہر طالب علم کو اس بات کا مکلف بنائيں کہ وہ اپنی کاپی میں اس جملے کے بارے میں اپنا نقطۂ نظر تحریر کرے۔ ان سے اس بات کی امید بھی رکھیں کہ سبق ختم ہونے کے بعد وہ اپنی آرا کا اندازۂ قدر کریں گے۔

طلبہ کے لیے سبق کا موضوع واضح کريں اور بلیک بورڈ پر سبق کا عنوان لکھ دیں۔

٭ سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

بلیک بورڈ پر درج ذیل دونوں عبارتيں لکھ دیں اور طلبہ سے کہیں کہ ان کے بارے میں اپنی معلومات بیان کریں۔ ساتھ ہی عبارت اور اس کے اشارات سے مطابقت رکھنے والی کچھ مثالیں بھی پیش کریں۔

(ایمان اعتقاد، قول اور عمل کا نام ہے) - (ایمان اطاعت سے بڑھتا اور معصیت سے گھٹتا ہے)۔

مرحلہ نمبر (2)

برین اسٹورمنگ کی حکمت عملی کا استعمال کرتے ہوئے طلبہ سے ایسے اعمال کا ذکر کرنے کو کہیں، جو ایمان کو بڑھاتے ہیں۔ تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے سلسلے میں ان کی حوصلہ افزائی کریں، وہ جو کچھ پیش کریں اس کا استقبال کریں اور اس کے بارے میں ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں۔ بعد ازاں ان کے سامنے مذکورہ اعمال پر مشتمل ایک رہ نما نقشہ رکھیں، ان اعمال کی تشریح کریں اور ان سے تعلق رکھنے والے نصوص کی تفسیر کریں۔

مرحلہ نمبر (3)

معکوس غور و فکر پر مبنی حکمت عملی کی مدد سے طلبہ کو ان اعمال تک پہنچنے کو کہیں، جو ایمان گھٹاتے ہیں۔ پھر ان اعمال کے بارے میں ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں، صحیح جوابات کی نشان دہی کریں اور ان سے جڑے ہوئے نصوص بیان کریں۔

٭ نتیجہ نکالنا :

معلم طلبہ کو ہدایت کرے کہ ان میں سے ہر فرد سبق کی تمہید کے دوران پیش کردہ جملے کے بارے میں اپنی رائے کا مراجعہ کرے اور پتہ لگانے کی کوشش کرے کہ سبق کے مشمولات سے آگاہ ہونے اور موضوع سے متعلقہ معلومات میں اضافے کے بعد اس کے جواب میں کیا تبدیلی آ رہی ہے؟ معلم طلبہ کے جوابات سے واقفیت حاصل کرے اور ان کی مناسب حوصلہ افزائی کرے۔

معلم طلبہ کو حکم دے کہ ہر طالب علم سبق سے سیھکی ہوئی باتوں کو تین تین مختصر جملوں میں پیش کرے، جو بتاتے ہوں کہ اس نے سبق سے کیا کچھ سیکھا اور اس کے بعد اس کی کیا ذمہ داری بنتی ہے۔ اس کے بعد کچھ طلبہ کا انتخاب اپنے جوابات پیش کرنے کے لیے کرے، ان کی جانب سے پیش کردہ جوابات کے بارے میں اپنا عندیہ دے اور ان کے درمیان موازنہ کرے۔

سرگرمیاں

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر 1 نوعیت و ہدف جوڑے پر مبنی۔ ایمان کے بڑھنے اور گھٹنے کی معرفت حاصل کرنے کی کیفیت۔

ہدف نمبر 1، 2

معلم بعض ممتاز طلبہ کو سرگرمی کے ضمن میں وارد اثر کو ساتھیوں کے سامنے پڑھنے کا حکم دے، اس کے معنی کے سلسلے میں ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کرے۔ طلبہ اپنی تجزیاتی اور استنباطی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اس اثر کی روشنی میں اس نکتے تک پہنچنے کی کوشش کریں کہ ایک مسلمان کیسے جانے کہ اس کا ایمان بڑھ رہا ہے یا گھٹ رہا ہے؟ معلم طلبہ کے جوابات کا استقبال کرے، ان کے بارے میں طلبہ کے ساتھ تبادلۂ خیال کرے اور ساتھ مل کر صحیح جواب تک پہنچے۔

سرگرمی نمبر 2 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ ایمان بڑھانے والے کچھ اعمال تک پہنچنا۔

ہدف نمبر 2

معلم ہر طالب علم سے کچھ ایسے نیک اعمال کا ذکر کرنے کو کہے، جن کی پابندی وہ اپنے ایمان میں اضافے کے لیے کرتا ہے۔ ہر طالب علم کے جواب کا استقبال کرے، ان کے درمیان موازنہ کرے اور سب سے زيادہ عام اور دوہرائے گئے عمل کی نشان دہی کرے۔ اسی طرح متفرد اور متمیز اعمال کی بھی نشان دہی کرے اور ان کا ذکر کرنے والے طلبہ کی تعریف کرے۔

سرگرمی نمبر 3 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ ایمان زیادہ ہونے کی کیفیت کی مشق کرانا۔

ہدف نمبر 5

ہر طالب کو انفرادی طور پر تیسری سرگرمی انجام دینے کی ہدایت کریں اور ان کو آڈیو کلپ کے مشمولات سے رجوع کرنے کا حکم دیں۔ بعد ازاں کچھ طلبہ کا انتخاب ان کے ذریعے دیے گئے جوابات کو پیش کرنے کے لیے کریں اور ان کا اندازۂ قدر کریں۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

ہر دو طالب علم کو ایک دوسرے کی مدد سے پہلے اور دوسرے سوال کا جواب دینے کا مکلف بنائيں۔ دو گروہوں کا انتخاب ان کے جوابات پیش کرنے کے لیے کریں۔ ان کے درمیان موازنہ کریں۔ سب سے زیادہ درست جواب کی نشان دہی کریں۔ ساتھ ہی ہر گروہ کو اس سے سرزد ہونے والی غلطیوں کی نشان دہی کرنے کی ہدایت کریں۔

سوال 1 : (×) - (✓) - (×) - (✓)

سوال 2 : بڑھتا اور گھٹتا ہے - کثرت استغفار - کبائر (بڑے گناہ)

کسی ترتیب کا خیال رکھے بغیر دو طلبہ کا انتخاب کریں اور دونوں کو تیسرے سوال کے ایک ایک عنصر کا جواب دینے کو کہیں۔ اس کے بعد دو اور طلبہ کا انتخاب کریں اور ان سے اپنے ایک ایک ساتھی کے جواب کا اندازۂ قدر کرنے کے لئے کہیں۔

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو درج ذیل طریقوں سے سبق سے سیکھی ہوئی باتوں پر عمل کرنے کی توجہ دلائيں :

طلبہ کی ایمان بڑھانے والے کام کرنے اور ایمان گھٹانے والے کاموں سے اجتناب کرنے کی حوصلہ افزائی اور اس کی تکمیل کے لیے منافست پیدا کرنے کی ترغیب۔

طلبہ اپنی تنظیمی اور تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ایمان بڑھانے اور ایمان گھٹانے والے اعمال پر مشتمل ایک فولڈر تیار کریں اور اسے اپنے دوستوں کو ہدیہ کریں، تاکہ وہ ان سے واقف ہو سکيں اور ان کا التزام کر سکیں۔

اکائی : سنت و شمائل

پہلا سبق : اپنے رشتے داروں کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا طریقہ

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (صِنْوُ – أُسَرُّ– وَلِيُّهُمْ)۔

تعلیمی وسائل :

(تعلیمی بورڈ - اسکرین ڈسپلے - بلیک بورڈ - تعلیمی کارڈ)

تدریسی حکمت عملیاں :

(میں کیا جانتا ہوں - میں کیا جاننا چاہتا ہوں - میں نے کیا سیکھا (KWL) پر مبنی حکمت عملی - قصہ گوئی پر مبنی حکمت عملی - برین اسٹورمنگ - مسائل کے حل پر مبنی حکمت عملی - ہاٹ سیٹ (HOT SEAT) کی حکمت عملی)

اقدار و رجحانات :

• اس بات کا اندازہ لگانا کہ اسلام نے رشتے داروں کے ساتھ حسن سلوک پر کتنی توجہ دی ہے۔

• رشتے داروں کے ساتھ حسن سلوک کے سلسلے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے طریقے کی پیروی۔

• رشتے داروں کے ساتھ نرمی بھرا سلوک کرنا۔

سبق کی تمہید :

معلم طلبہ کے سامنے درج ذیل عبارت پیش کرے : (رشتے داروں کے اسلام میں بہت سے حقوق ہيں اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان حقوق کو پوری طرح ادا کیا ہے۔) اس کے بعد طلبہ سے یہ نتیجہ اخذ کرنے کے لئے کہیں کہ اس سبق میں بطور خاص رشتے داروں کے ساتھ برتاؤ کے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے طریقے پر گفتگو کیوں کی گئی ہے؟

معلم طلبہ کے سامنے سبق کے عناصر کی ایک توضیحی شکل پیش کرے، تاکہ اس کے بارے میں ایک ذہنی تصویر بنائی جا سکے۔

درس کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

معلم ہر طالب علم کو تین حصوں میں بٹا ہوا ایک تعلیمی کارڈ دے :

پہلا حصہ حرف K (Know میں جانتا ہوں) پر مشتمل ہو۔

دوسرا حصہ حرف W (Want میں جاننا چاہتا ہوں) پر مشتمل ہو۔

اور تیسرا حصہ حرف L (Learn میں نے سیکھا) پر مشتمل ہو۔

معلم طلبہ کو ہر حصے کا مقصد سمجھائے، اس کے بعد ان سے رشتے داروں کے ساتھ اللہ کے نبی ﷺ کے برتاؤ کے بارے میں اپنی سابقہ معلومات پیش کرنے اور اسے پہلے حصے میں لکھنے کے لئے کہے، طلبہ کے ساتھ اس کے بارے میں تبادلۂ خیال بھی کرے، تاکہ ان کا معرفتی پس منظر سامنے آ جائے اور اس کے بعد انہیں اس خواہش کا اظہار کرنے اور اسے دوسرے حصے میں لکھنے کے لئے کہے کہ وہ اس سبق میں کیا کچھ جاننا پسند کریں گے۔

مرحلہ نمبر (2)

معلم بیانیہ اسلوب کی مدد سے مسلم رشتے داروں کے ساتھ اللہ کے نبی ﷺ کے برتاؤ کے مظاہر کو پیش کرے گا، اس پر دلالت کرنے والی حدیثیں سامنے رکھے گا، ان کی تشریح کرے گا اور مطالب بیان کرے گا۔

مرحلہ نمبر (3)

برین اسٹورمنگ حکمت عملی کے توسط سے طلبہ کو اس بات کا تصور کرنے کی ہدایت دیں کہ ایک مسلمان کا برتاؤ غیر مسلم رشتے داروں کے ساتھ کیسا ہونا چاہیے۔ ان کے جوابات سنیں اور اس کے بعد غیر مسلم رشتے داوروں کے ساتھ اللہ کے نبی ﷺ کے برتاؤ کے مظاہر واضح کریں اور اس سے جڑی ہوئی حدیثوں کی تشریح کریں۔

مرحلہ نمبر (4)

حل مشکلات کی حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے طلبہ کے سامنے درج ذیل مسئلہ رکھیں اور ان سے پوچھیں کہ اسے حل کرنے کا کیا طریقہ ہو سکتا ہے؟ ان کی جانب سے جو جوابات آئیں، انھیں اللہ کے نبی ﷺ کے طریقے کے مظاہر بیان کرنے کا نقطۂ آغاز بنا لیں : (ایک شخص کے چار چچا اور پھوپھیاں ہیں۔ وہ اپنے چچاؤں کے ساتھ تو صلہ رحمی کرتا ہے، لیکن پھوپھیوں کے ساتھ نہیں کرتا۔ اس طرز عمل کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ آپ اس شخص کو کیا نصیحت کریں گے؟)

نتیجہ نکالنا :

طلبہ کو ان کے پاس موجود کارڈ کا تیسرا حصہ پورا کرنے کی ہدایت دیں۔ دراصل وہ (L) کا حصہ ہے، جو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو عام عناصر کی شکل میں لکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ بعد ازاں کچھ کارڈوں کو منتخب کر کے ان کے بارے میں اپنا عندیہ اور طلبہ کی تحریروں کے بارے میں رائے دیں۔

سرگرمیاں

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ رشتے داروں کے ساتھ برتاؤ کے بارے میں اللہ کے رسول ﷺ کے طریقے کے مظاہر سامنے لانا۔

ہدف نمبر : 2

بہتر ہوگا کہ طلبہ کو دو زمروں میں تقسیم کر دیں۔ ہر زمرہ پہلی سرگرمی کے ضمن میں وارد حدیثوں میں سے ایک ایک حدیث ساتھیوں کو پڑھ کر سنائے، اس کے بعد ان کے ساتھ دونوں حدیثوں کے بارے میں تبادلۂ خیال کریں اور ہر زمرے کو دونوں حدیثوں کے معنی و مفہوم کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے الیکٹرانک مصادر کی طرف رجوع کر کے مکمل جان کاری حاصل کرنے کی ہدایت دیں اور اگلی ملاقات میں اس کا جائزہ لیں۔

حدیث کا معنی

غیر مسلم رشتے داروں کے ساتھ اللہ کے نبی ﷺ کا رحم و کرم کا برتاؤ۔

اللہ کے نبی ﷺ کے ذریعے مسلم رشتے داروں کے بال بچوں کا خیال رکھا جانا۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ غیر مسلموں کو دعوت دینے کے اہم وسائل سے آگاہی۔

ہدف نمبر : 4

ہاٹ سیٹ کی حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے طلبہ دائرے کی شکل بنا کر بیٹھ جائیں، دائرے کے مرکز میں ایک کرسی رکھی جائے اور معلم کسی طالب علم کو ہاٹ سیٹ پر بیٹھنے کا حکم دے۔

اس کے بعد اسے ساتھیوں کے سامن درج ذیل عبارت پڑھنے کی ہدایت دے۔ پھر وہ طالب علم مذکورہ عبارت کی توضیح و فہم کے سلسلے میں معلم اور ساتھی طلبہ کے سوالات کا خیر مقدم کرے، تاکہ اپنے سماج کے غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دینے کی تین تجویزوں تک پہنچا جا سکے۔

معلم اور ساتھی طلبہ پڑھنے والے کا جواب سنیں، اس کا اندازۂ قدر کریں اور صحیح جواب سے واقف ہونے کے لیے اس کے ساتھ معلومات اور افکار کا تبادلہ کریں۔

اندازۂ قدر :

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

پہلے سوال کا جواب دینے کے لیے اس میں وارد عناصر یکے بعد دیگرے طلبہ کو پڑھ کر سنائیں۔ عبارت صحیح ہونے کی صورت میں طالب علم ہاتھ اوپر اٹھائے۔ طلبہ کے جوابات کا اندازۂ قدر کریں۔ غلط اور صحیح عبارتوں پر رک کر ان کے ساتھ بات کریں۔

سوال 1 : (×) - (✓) - (✓) - (×) - (✓)

ہر طالب علم کو ہدایت دیں کہ انفرادی طور دوسرے سوال کا جواب دے، ہر طالب علم اپنا جواب اپنے کسی ساتھی سے بدل لے، دونوں ایک دوسرے کے جواب کا اندازۂ قدر کریں اور اس دوران آپ ہر زمرے کو دیکھتے اور اس کی رہ نمائی کرتے رہیں۔

سوال 2 : عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما - حمزہ

بلیک بورڈ پر تیسرے سوال کے ضمن میں وارد جملوں میں سے ہر جملہ لکھیں اور اس کا جواب دینے کے لیے تین طلبہ کا انتخاب کریں۔ کسی بھی طالب علم سے غلطی ہونے کی صورت میں اسے بذات خود صحیح جواب ڈھونڈ کر نکالنے کے لیے درس سے رجوع کرنے اور اسے دوبارہ پڑھنے کی ہدایت دیں۔

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق میں سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں درج ذیل طریقوں سے عمل میں لانے کی اہمیت پر توجہ دلائیں :

مسلم اور غیر مسلم رشتے داروں کے ساتھ برتاؤ کے سلسلے میں اللہ کے نبی ﷺ کے طریقے کی پیروی کرنا اور ان کے ساتھ حسن اخلاق کا مظاہرہ کرنا۔

رشتے داروں کے ساتھ برتاؤ کے اللہ کے نبی ﷺ کے طریقے سے موافقت نہ رکھنے والے مظاہر کا مقابلہ کرنا اور اس کے لیے ان منفی مظاہر کے حامل لوگوں کو نصیحت کرنا، ان کی خیرخواہی کرنا انھیں اس سلسلے میں اللہ کے نبی ﷺ کے طریقے کی پیروی کرنے کی ترغیب دینا۔

دوسرا درس : پڑوسیوں کےساتھ برتاؤ کا اللہ کے نبی ﷺ کا طریقہ

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (الجار – الوصیة – سَیُوَرِّثُهُ – فَأَصِبْهُمْ).

تعلیمی وسائل :

(تعلیمی بورڈ - ڈسپلے اسکرین - بلیک بورڈ - تعلیمی کارڈ)

تدریسی حکمت عملیاں :

(میں کیا جانتا ہوں - میں کیا جاننا چاہتا ہوں - میں نے کیا سیکھا (KWL) پر مبنی حکمت عملی - قصہ گوئی پر مبنی حکمت عملی - برین اسٹورمنگ - مسائل کے حل پر مبنی حکمت عملی)

اقدار و رجحانات :

• اللہ کے نبی ﷺ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔

• پڑوسیوں کے ساتھ برا سلوک کرنے سے بچنا۔

سبق کی تمہید :

معلم ڈسپلے اسکرین کے توسط سے طلبہ کے سامنے نیچے مذکور حدیث رکھے، ان کو اسے پڑھنے اور سمجھنے کی ہدایت دے اور اس کے بعد کسی ایک طالب علم کا انتخاب ان باتوں کو پیش کرنے کے لیے کرے، جن کی جانب یہ حدیث اشارہ کرتی ہے۔ بعد ازآں درس میں اس کا معنی واضح کرے : "جبرائیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے(حق کے) بارے میں اس قدر وصیت کرتے رہے کہ مجھے خیال ہونے لگا کہ وہ پڑوسی کو وارث بنادیں گے۔"

طلبہ کے سامنے سبق کے عناصر کی وضاحت کرنے والی ایک توضیحی شکل رکھیں، تاکہ ان کے ذہن و دماغ میں سبق کے مشمولات کی ایک عام تصویر بن سکے۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

معلم ہر طالب علم کو تین حصوں میں تقسیم شدہ ایک ایک تعلیمی کارڈ دے :

اس کے پہلے حصے میں حرف K (Know میں جانتا ہوں) لکھا ہو۔

دوسرے حصے میں حرف W (Want میں جاننا چاہتا ہوں) لکھا ہو.

اور تیسرے حصے میں حرف L (Learn میں نے سیکھا) لکھا ہو.

معلم طلبہ کو ہر حصے کا مطلب بتائے۔ اس کے بعد ان کو پڑوسیوں کے ساتھ اللہ کے نبی ﷺ کے برتاؤ کے سلسلے میں اپنی سابقہ معلومات پیش کرنے اور اسے پہلے حصے میں لکھنے کا حکم دے۔ پھر طلبہ کے ساتھ ان معلومات کے بارے میں تبادلۂ خیال کرے، تاکہ ان کے معرفتی پس منظر سے واقف ہو۔ اس کے بعد ان کو یہ بتانے کی اور اسے دوسرے حصے میں لکھنے کی ہدایت دے کہ وہ کیا کیا معلومات اور افکار جاننا چاہتے ہیں۔

مرحلہ نمبر (2)

معلم پڑوسیوں کے ساتھ اللہ کے نبی ﷺ کے سلوک کے مظاہر کو پیش کرنے کی خاطر بیانیہ اسلوب کو بروئے کار لائے، ایک ڈسپلے اسکرین کی مدد سے ان مظاہر سے تعلق رکھنے والے دلائل پیش کرے اور ان کا معنی و مفہوم بتائے۔

مرحلہ نمبر (3)

برین اسٹورمنگ کے توسط سے طلبہ کو اپنے تصورات پیش کرنے کی ہدایت دیں کہ ایک مسلمان کا برتاؤ اپنے پڑوسی کے ساتھ کیسا ہونا چاہیے؟ ان کے جوابات سنیں، اس سلسلے میں اللہ کے نبی ﷺ کا طریقہ پیش کریں اور اس سے جڑی ہوئی احادیث نبویہ کی تشریح کریں۔

مرحلہ نمبر (4)

حل مشکلات کے اسلوب کو بروئے کار لاتے ہوئے طلبہ کے سامنے درج ذیل صورت حال رکھیں، انھیں اس کے بارے میں اپنی رائے دینے، اسے حل کرنے کا طریقہ بتانے اور اسے سبق کے موضوع سے جوڑنے کا حکم دیں : (ایک مال دار شخص اپنے بچوں کے لیے عمدہ کھانوں اور میؤوں کا انتظام کرتا ہے، لیکن اس کے پڑوس میں ایک غریب شخص رہتا ہے، جو اپنے بچوں کے دو وقت کی روٹی کا انتظام نہیں کر پاتا۔ حد یہ تو یہ ہے کہ یہ مال دار شخص اپنے بچوں کو اس غریب کے بچوں کو کچھ دینے سے منع بھی کرتا ہے۔ اس صورت حال کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے اور آپ اس مال دار شحص کو کیا نصیحت کریں گے؟)

نتیجہ نکالنا :

طلبہ کو ان کے پاس موجود کارڈ کا تیسرا حصہ یعنی (L) کا حصہ پورا کرنے کی ہدایت دیں، جس کا تعلق سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو عام عناصر کی شکل میں لکھنے سے ہے۔ اس کے بعد کچھ کارڈوں کا انتخاب کر کے ان کے بارے میں اپنا عندیہ دیں اور ان میں طلبہ کے ذریعے لکھی گئی باتوں کے بارے میں اپنی رائے پیش کریں۔

سرگرمیاں

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک یا ان کی اذیت رسانی کی صورتوں سے آگاہی۔

ہدف نمبر : 3

طلبہ کے ہر زمرے کو ایک دوسرے کی مدد سے دیے گئے جدول کو بھرنے کی ہدایت دیں اور ہر زمرے سے ایک ایک فرد کا انتخاب کریں، جو اپنے ساتھیوں کی جانب منہ کر کے کھڑے ہو جائیں۔ اس کے بعد معلم یکے بعد دیگرے جدول کے عناصر پیش کرتا جائے اور ہر زمرے کا نمائندہ اپنے زمرے کی جانب سے ان کا جواب پیش کرتا جائے۔ آپ سبھی زمروں کی کارکردگی کے درمیان موازنہ کریں اور اس زمرے کی نشان دہی کریں، جس نے حقیقت کی سب سے بہتر ترجمانی اور تجزیہ کیا ہے۔

پڑوسیوں سے گالی گلوج اور بد کلامی کرنا۔

پڑوسیوں کو ان کی حاجات کی چیزیں ہدیہ کرنا۔

ان کی عزت و آبرو اور حرمتوں پر دست درازی کرنا۔

انھیں ان کے فائدہ اور مصلحت کے کام کرنے دینا۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ حسن سلوک کی کچھ صورتیں تجویز کرنا۔

ہدف نمبر : 2

ہر طالب علم کو ہدایت دیں کہ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ دوسری سرگرمی میں موجود صورتوں میں سے ہر صورت کے بارے میں احسان کی کچھ شکلیں تجویز کرنے کے سلسلے میں بحث میں حصہ لیں اور اس بات کی کوشش کریں کہ اگلی ملاقات میں ان کی کارکردگیوں اور ساتھیوں کے ساتھ کیےگکئے ان کے کام کو دیکھیں۔

سرگرمی نمبر : 3 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ پڑوسیوں کے ساتھ برتاؤ کی کیفیت کی مشق کرانا۔

ہدف نمبر : 3

معلم طلبہ کے درمیان کچھ کارڈ تقسیم کر دے، جن میں سے ہر کارڈ پر درج ذیل مفرد کلمات میں سے کوئی ایک کلمہ لکھا ہو : (ہمیشہ - کبھی کبھی - شاذ و نادر)۔ اس کے بعد سرگرمی کے ضمن میں دی گئی عبارتوں میں سے ہر عبارت کو یکے بعد دیگرے پڑھے، طلبہ کو اس سے مناسبت رکھنے والا کارڈ پڑھنے کے لئے کہے، ان کے جوابات سے آگاہ ہو اور ان کا اندازۂ قدر کرے۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

پہلے سوال کا جواب دینے کے لیے اس کے عناصر کو یکے بعد دیگرے پڑھیں۔ عبارت صحیح ہونے کی صورت میں طالب علم اپنا ہاتھ اوپر اٹھائے۔ طلبہ کے جوابات کا اندازۂ قدر کریں۔ غلط اور درست عبارتوں پر ان کے ساتھ ٹھہریں۔

سوال 1 : (✓) - (✓) - (×) - (×)

ہر طالب علم کو انفرادی طور پر دوسرے سوال کا جواب دینے کی ہدایت دیں۔ جواب لکھنے کے بعد ہر طالب علم اپنا جواب اپنے ساتھی کے جواب سے بدل لے اور دونوں ایک دوسرے کے جواب کی تصحیح کریں۔ اس دوران آپ ہر گروہ پر نظر رکھیں اور رہ نمائی کریں۔

سوال 2 : پڑوسیوں کے ساتھ برے سلوک کی حرمت - کھانے کے ذریعے - ان کی اذیت رسانی کے ذریعے

بلیک بورڈ پر تیسرا سوال لکھ دیں اور تین طلبہ کا انتخاب کریں، جن میں سے ہر طالب علم پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی ایک ایک صورت پیش کرے۔ کسی بھی طالب علم سے غلطی سرزد ہونے کی صورت میں درس کا مراجعہ کرنے اور دوبارہ پڑھنے کا حکم دیں، تاکہ وہ خود ہی درست جواب تک پہنچ سکے۔

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائیں :

پڑوسیوں کے ساتھ برتاؤ کے سلسلے میں اللہ کے نبی ﷺ کے طریقے کى اقتدا اور خوش اخلاقی کا مظاہرہ۔

اپنے سماج اور اس کے افراد کے پڑوسیوں کے ساتھ برتاؤ میں پائے جانے والے منفی مظاہر کا مقابلہ۔ بایں طور کہ اس طرح کے برے کام کرنے والے لوگوں کو نصیحت کی جائے اور اس سبق میں زیر درس آئی ہوئی باتوں سے واقف کرایا جائے۔

تیسرا سبق : بچوں کے ساتھ برتاؤ کا اللہ کے نبی ﷺ کا طریقہ

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (الْعِیَال – ضَمَّنِی – الأَشْیَاخ – الْقَزَع).

تعلیمی وسائل :

(آڈیو میڈیم - ڈسپلے اسکرین - تعلیمی بورڈ - تعلیمی کارڈ - بلیک بورڈ)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(باہمی امداد پر مبنی آموزش کا طریقہ - مشکلات کے حل پر مبنی طریقہ - برین اسٹورمنگ)۔

اقدار و رجحانات :

اس بات کا اندازہ لگانا کہ اللہ کے نبی ﷺ بچوں کا کتنا خیال رکھتے تھے۔

اللہ کے نبی ﷺ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بچوں کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرنا۔

بچوں کے ساتھ نرمی۔

سبق کی تمہید :

سبق کی راہ ہم وار کرنے کی خاطر طلبہ کے سامنے درج ذیل صورت حال رکھیں : (خالد اور اس کے بچے پکنک کے لیے باہر گئے۔ وہ بیٹھ کر بات کر رہے، کھیل رہے اور کھانا کھا رہے تھے کہ دیکھا کہ ان کا پڑوسی احمد بھی تفریح کے لیے آیا ہوا ہے۔ انھوں نے اسے سلام کیا۔ لیکن دیکھا کہ جب بھی اس کا کوئی بچہ کھیلنے کا ارادہ کرتا ہے، تو اسے پھٹکارنے لگتا ہے اور سب کے سامنے بے عزت کر دیتا ہے۔ پوری تفریح کے دوران یہ سلسلہ جاری رہا۔ اس سے تنگ آکر بچوں نے رو دیا اور ان کو نیند آنے لگی۔ یہ دیکھ کر وہ ان کو گالی گلوج اور لعن طعن کرنے لگا۔ بالآخر وہ پکنک کا لطف اٹھائے بغیر ہی واپس پو گئے۔ یہ سب کچھ دیکھ کر خالد اور اس کے بچوں کو غصہ آ گیا۔ خالد بار بار یہ حدیث دوہرانے لگا : (جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا)۔

پھر طلبہ کے ساتھ اس صورت حال کے بارے میں مناقشہ کریں، اپنی رائے اور تجویز پیش کرنے کے لئے کہیں اور اس طرح انھیں سبق کے موضوع کی جانب لے جائیں اور اسے بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

طلبہ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیں، باہمی تعاون سے سیکھنے پر مبنی طریقہ کار کو بروئے کار لائیں اور ہر گروہ کو رفق کا معنی اور اہمیت واضح کرنے کی ذمے داری سونپیں۔

ہر ایک زمرے سے ایک ایک فرد کا انتخاب تیار کردہ جواب پیش کرنے کے لیے کریں اور اس کے بعد ان کو سب سے زیادہ باریکی کے ساتھ دیے گئے جواب سے مطلع کریں۔

مرحلہ نمبر (2)

برین اسٹورمنگ کی حکمت عملی کو بروئے کار لائیے، طلبہ کو بچوں کے ساتھ برتاؤ کے سلسلے میں اللہ کے نبی ﷺ کا طریقہ مستنبط کرنے کا کام دیجئے، پھر ان کے مستنبط کردہ امور کو پیش کرنے اور انھیں بلیک بورڈ پر لکھنے کے لیے کچھ طلبہ کا انتخاب کریں۔

مرحلہ نمبر (3)

طلبہ کو مخلتف گروہوں میں تقسیم کر دیں اور ہر گروہ کو بچوں کی تعلیم و تربیت کی حرص کا طور طریقہ بیان کرنے اور اس کے لیے اللہ کے نبی ﷺ کے فرمودات سے استدلال کرنے کی ذمے داری سونپیں۔

ہر گروہ سے ایک ایک فرد کا انتخاب اس گروہ کی کارکردگی پیش کرنے کے لیے کریں اور ان کی مناسب حوصلہ افزائی کریں۔

نتیجہ نکالنا :

ہر گروہ کو سبق کو اپنی اپنی کاپیوں میں عناصر و افکار کی شکل میں لکھنے کا حکم دیں، تاکہ مذاکرہ کے وقت کام آئے۔

کچھ طلبہ سے کہیں کہ وہ لکھے ہوئے اوراق سے مدد لیے بغیر زبانی طور پر سبق کا خلاصہ پیش کریں اور بہتر کارکردگی والے طلبہ کی حوصلہ افزائی کریں۔

سرگرمیاں

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ بچوں کے ساتھ اللہ کے نبی کے برتاؤ کا طور طریقہ مستنبط کرنا۔

ہدف نمبر : 2، 3

ہر دو طلبہ کو ایک دوسرے کی مدد سے پہلی سرگرمی انجام دینے کی ہدایت دیں، پھر سرگرمی کے ضمن میں وارد موقفوں کو ڈسپلے اسکرین کی مدد سے یکے بعد دیگرے پیش کریں، یہ جانیں کہ ہر گروہ اس کا کیا جواب دیتا ہے، پھر اس گروہ کی نشان دہی کریں، جس نے یہ بتانے کی سب سے بہتر کوشش کی ہے کہ ہر موقف کس بات پر دلالت کرتا ہے اور اس کے بہترین الفاظ کا انتخاب کیا ہے اور اخیر میں سب سے عمدہ طریقے سے دیے گئے جواب کا انتخاب کریں، تاکہ طلبہ اپنی کاپیوں میں لکھ لیں۔

بچوں کو شفقت کے ساتھ اور ان سے محبت کے اظہار کے طور پر بوسہ دینا۔

بچوں کے ساتھ لطف و کرم کا برتاؤ اور ان کے ساتھ کھیلنا۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ رویے سے ظاہر ہونے والے شعور کو بیان کرنا۔

ہدف نمبر : 4، 5

ہر طالب علم کو انفرادی طور پر سرگرمی انجام دینے کی ہدایت دیں اور تمام طلبہ کو سبق کے مشمولات سے رجوع کرنے کو کہیں۔ اس کے بعد کچھ طلبہ کا انتخاب ان کے پیش کردہ احساسات کو بیان کرنے کے لیے کریں اور اندازۂ قدر بھی کریں۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

1۔ ہر طالب علم پہلے اور دوسرے سوال کا جواب اپنی کاپی میں دے۔

2- اپنی کاپی پاس بیٹھے ساتھی کے ساتھ بدل لے، تاکہ جواب کو اندازۂ قدر کے مرحلے سے گزارا جا سکے۔

3۔ ایک طالب علم کا انتخاب کریں، جو اپنا جواب باقی ساتھیوں کے سامنے رکھے اور اس کے جواب کو اندازۂ قدر کے مرحلے سے گزارا جائے۔

4- ہر طالب علم کو تیسرے سوال کا جواب ہوم ورک کے طور تیار کرکے لانے کا حکم دیں۔

5- سب سے بہتر جواب دینے والے طالب علم، جس نے جواب دوہرایا نہ ہو، کی عزت افزائی کریں۔

سوال 1 : () - () - () - () - ()

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائیں :

طلبہ ایک دوسرے کی مدد سے چھوٹوں کے ساتھ نرمی بھرے سلوک کی کچھ تصویریں جمع کریں اور ان کو کلاس روم کی لائبریری میں محفوظ رکھا جائے۔

چوتھا سبق : غیر مسلموں کے ساتھ برتاؤ کا اللہ کے نبی ﷺ کا طریقہ

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (الرشد – الغی – لعَّانًا – الأخشبان – تقسطوا – یبتغی).

تعلیمی وسائل :

(کمپیوٹر ڈیوائس - ڈسپلے اسکرین - تعلیمی بورڈ - تعلیمی کارڈ - بلیک بورڈ)

تدریسی حکمت عملیاں :

(خود سوالی پر مبنی حکمت عملی - غلط تصورات کی تصحیح کی حکمت عملی - رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی)۔

اقدار و رجحانات :

• اس بات کا احساس کہ اللہ کے نبی ﷺ محبت کے کتنے بڑے پیکر تھے۔

• غیر مسلموں کے ساتھ برتاؤ کے سلسلے میں اللہ کے نبی ﷺ کے نقش قدم پر چلنا۔

• اسلامی اقدار، اصول و مبادی اور رویوں کی عظمت کا احساس پیدا کرنا۔

٭ سبق کی تمہید :

طلبہ کے سامنے کچھ لوگوں کی غلط فہمی پر مشتمل نیچے دی گئی عبارت طلبہ کے سامنے رکھیں، انھیں اس پر غور کرنے اور یہ بتانے کے لئے کہیں کہ وہ اس سے کس حد تک اتفاق رکھتے ہیں اور کس حد تک اختلاف۔ پھر ان کی جانب سے ملنے والے جوابات کو درس اور اس کے اغراض و مقاصد سے رو برو کرنے کا نقطۂ آغاز بنائیں۔

(کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اختلاف دین وجہ سے مخالفوں کے ساتھ بدخلقی اور ان پر ظلم کرنا جائز ہو جاتا ہے۔)

٭ سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

معلم رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے اور سبق کے عناصر سے متعلق ذہنی معرفت کو منظم کرنے کے لیے ایک بورڈ کے ذریعے غیر مسلموں کے ساتھ اللہ کے نبی ﷺ طرز عمل کے مظاہر پیش کرے۔

معلم خود سوالی پر مبنی حکمت عملی کی مدد سے طلبہ سے ان مظاہر کے سلسلے میں کچھ ایسے سوالات پیش کرنے کو کہے، جن کا جواب وہ جاننا چاہتے ہیں۔ پھر ان کے سوالات جمع کرے اور ان کو بلیک بورڈ پر لکھ دے۔ وہ کچھ اضافی سوالات جوڑ بھی سکتا ہے، تاکہ سبق کے سارے عناصر شامل ہو جائیں۔ یہ سوالات درج ذیل سوالات کے درمیان سے بھی ہو سکتے ہیں :

سوال : عقیدے کی آزادی سے کیا مراد ہے؟

سوال : کیا اللہ کے نبی ﷺ نے کسی کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا ہے۔

سوال : کیا اللہ کے نبی ﷺ نے کافروں کے ساتھ رحم کا معاملہ کیا ہے؟

سوال : اللہ کے نبی ﷺ نے مشرکوں کی جانب سے سامنے آنے والی ایذا رسانیوں اور بد سلوکیوں کا مقابلہ کس طرح کیا؟

سوال : اللہ کے نبی ﷺ نے غیر محاربین پر دست درازی کو کبیرہ گناہ قرار دیا ہے، جو کہ جنت سے محرومی کا سبب بنتا ہے۔ اس کی وضاحت کریں۔

سوال : اللہ کے نبی ﷺ نے کس طرح اپنے عہد و پیمان کو پورا کیا؟

سوال : کیا اسلام نے غیر مسلموں کی زیارت، بیمار ہونے پر ان کی عیادت اور ان کو ہدیہ پیش کرنا مباح کیا ہے؟

سوال : وہ کون سے مواقف ہیں، جو غیر مسلموں کے ساتھ برتاؤ کے سلسلے میں اللہ کے نبی ﷺ کے طریقۂ کار کو واضح کرتے ہیں؟

مرحلہ نمبر (2)

معلم غیر مسلموں کے ساتھ اللہ کے نبی ﷺ کے طرز عمل کے مظاہر کو پوری وضاحت کے ساتھ بیان کرے اور اوپر مذکور سوالات کو بھی وضاحت میں شامل کر لے۔ اس دوران معلم ڈسپلے اسکرین کے ذریعے احادیث شریفہ اور ایسے دلائل پیش کرے، جو غیر مسلموں کے ساتھ اللہ کے نبی ﷺ کے حسن سلوک کی تصدیق کرتے ہوں۔ طلبہ کو ساتھ مل کر انھیں پڑھنے، ان کا تجزیہ کرنے اور ان کا معنی و مفہوم واضح کرنے کے لئے کہیں۔

مرحلہ نمبر (3)

غلط تصورات کی تصحیح پر مبنی حکمت عملی کی مدد سے نیچے دی گئی دونوں صورت حال طلبہ کے سامنے رکھیں اور انھیں ان کے بارے میں اپنی رائے دینے کے لئے کہیں۔ ان کے جوابات کے اندازۂ قدر کے توسط سے انھیں صحیح جواب بتائیں اور اسے غیر مسلموں کے ساتھ معاملہ کے سلسلے میں اللہ کے نبی ﷺ کے طرز عمل کے مظاہر سے جوڑیں۔

بعض مسلمان غیر مسلموں کے ساتھ معاملہ کرنے سے گریز کرتے ہیں اس بنا پر وہ ان کے تحفے قبول نہیں کرتے اور نہ ان کے ساتھ خرید وفروخت کا معاملہ کرنے ہیں۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ غیر مسلموں کے ساتھ انصاف کرنے اور انہیں ان کے حقوق دینے کا مطلب ان کے غلط عقائد کو تسلیم کرنا ہے۔

٭ نتیجہ نکالنا :

ہر طالب علم اس فقرے پر دو بارہ مطلع ہو، جسے سبق کے شروع میں پیش کیا گیا ہے، اس پر دوبارہ غور کرے اور خود سے پوچھے کہ کیا سبق کی تشریح پوری ہو جانے کے بعد اس عبارت کے سلسلے میں اس کا تصور بدلا ہے یا نہیں؟ بدلا ہے تو کیوں اور نہیں بدلا ہے تو کیوں؟ معلم کچھ طلبہ کا انتخاب ان کے جوابات پیش کرنے کے لیے کرے اور ان کی مناسب حوصلہ افزائی کرے۔

سرگرمیاں

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ غیر مسلموں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے معاملات پر دلیل پیش کرنا۔

ہدف نمبر : 2، 3

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

ہر ایک کارڈ میں پہلی سرگرمی کے ضمن میں وارد دلائل میں سے ایک ایک دلیل لکھ دیں اور طلبہ کو چن کر کسی ترتیب کا خیال رکھے بغیر ایک ایک کارڈ اٹھا لینے کے لئے کہیں۔ اس کے بعد ہر دو طالب علم کارڈ میں موجود ہر دلیل غیر مسلموں کے ساتھ معاملہ کرنے کی جن صورتوں پر دلالت کرتی ہے، انھیں پیش کرے۔ جب کہ ان کے ساتھی ان کے جوابات دیکھتے رہیں اور ان کی اور معلم کی جانب سے ان کو اندازۂ قدر کے مرحلے سے گزارا جائے۔

حدیث کا مدلول

ان کو سچا راستہ دکھانے اور بھلے طریقے سے اسلام کی دعوت دینے کی کوشش۔

عہد و پیمان کی پاس داری اور کسی غیر محارب پر دست درازی نہ کرنا۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ غیر مسلموں کے ساتھ معاملہ کرنے سے تعلق رکھنے والے موقفوں کے بارے میں اپنی رائے دینا۔

ہدف نمبر : 4، 5

معلم کچھ کارڈ تیار کرے، جن میں کچھ میں (موافقت رکھتا ہوں) اور کچھ میں (موافقت نہیں رکھتا ہوں) لکھا ہو۔ پھر طلبہ کے درمیان ان کارڈوں کو تقسیم کر دے۔

معلم سرگرمی کے ضمن میں وارد موقفوں کو یکے بعد دیگرے پیش کرے اور پڑھنے والا اس کارڈ کو اوپر اٹھائے جو اس موقف کے سلسلے میں اس کی رائے سے موافقت رکھتا ہو۔ اس کے بعد معلم کچھ طلبہ کا انتخاب ان کی آرا کا سبب بیان کرنے کے لیے کرے اور ان کی مناسب حوصلہ افزائی بھی کرے۔

موقف موافقت رکھتا ہوں موافقت نہیں رکھتا سبب کا بیان

آپ نے اپنے مسلمان پڑوسی کو دیکھا کہ وہ کسی غیر مسلم کو ناحق مار رہا ہے۔ کیوں کہ اسلام نے کسی پر ناحق دست درازی کو حرام قرار دیا ہے۔

ایک غیر مسلم ساتھی نے آپ کو ایک ہدیہ دیا، جس کا مقصد آپ کو اس کے دین سے متعارف کرانا ہے۔ کیوں کہ یہ ہدیہ اس مقصد سے دیا گیا ہے کہ میں اپنا دین چھوڑ دوں اور یہ میرے دل پر اثر بھی کر سکتا ہے۔

ایک ساتھی نے آپ کو اپنے کنیسہ (چرچ) یا عبادت خانے میں منعقد ہونے والی مذہبی تقریب میں شریک ہونے کی دعوت دی۔ کیوں کہ اس میں میرا شامل ہونا اس کے عقیدے کا اقرار ہے۔

آپ کے ساتھ کام کرنے والا ایک غیر مسلم ساتھی بیمار ہو گیا اور ایک شخص نے آپ کو ہاسپٹل جاکر اس کی عیادت کرنے کے لیے بلایا۔ کیوں کہ یہ غیر مسلموں کے ساتھ حسن سلوک کی ایک مثال اور انھیں اسلام کی ترغیب دینے کا ایک طریقہ ہے۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

ہر طالب علم اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب انفرادی طور پر دے۔

ہر طالب علم اپنا جواب اپنے ساتھی کے جواب سے بدل لے اور ایک دوسرے کے جواب کا اندازۂ قدر کرے اور غلطیوں کو سامنے لائے۔

معلم کچھ طلبہ سے سرزد ہونے والی غلطیوں کی پہچان کرے اور ان کو درست کرنے کا طریقہ بتائے۔

معلم ان طلبہ کا نام سامنے لائے، جن سے اندازۂ قدر کے دوران کوئی غلطی نہیں ہوئی ہے اور ان کی حوصلہ افزائی کرے۔

سوال 1 : (✓) - (✖) - (✖) - (✖)

سوال 2 :

غیر مسلموں کو دعوت دینا اور ماننے یا نہ ماننے کی آزادی بھی دینا۔

اسلام کے علاوہ سارے ادیان باطل ہیں۔

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو غیر مسلموں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے اور اس سلسلے میں اللہ کے نبی ﷺ کے طرز عمل کی پیروی کرنے پر توجہ دلانا۔

ہر طالب اپنے معاشرے میں را‎‎ئج غیر مسلموں کے ساتھ معاملات کو دیکھے اور ان کے اللہ کے نبی ﷺ کے طرز عمل کے مخالف ہونے کی صورت میں ان کا ارتکاب کرنے والوں کو نصیحت کرے۔

پانچواں سبق : مسلمان کے حقوق

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی۔

مکان : کلاس روم۔

نئے کلمات : (إجابة الدَّعْوة– تَشْمِیت الْعَاطِس)۔

مطلوبہ تعلیمی مواد :

(بلیک بورڈ - تعلیمی بورڈز - تعلیمی کارڈز)۔

اقدار و رجحانات :

• مسلمان کے حق کی قدر و قیمت سمجھنا۔

• مسلمانوں کے حقوق کی ادائیگی کے تعلق سے مثبت رویہ تعمیر کرنا۔

• شریعت کی نظر میں مسلمان کے حقوق کی اہمیت کو سمجھنا۔

تمہیدی سبق :

- طلبہ سے درج ذیل سوال کریں :

جب آپ کو پتہ چلے کہ آپ کا دوست یا پڑوسی گھر میں بیمار پڑا ہے یا اس پر کوئی مصیبت آئی ہوئی ہے، تو آپ کی کیا ذمے داری بنتی ہے؟ طلبہ کی جانب سے ملنے والے جوابات بلیک بورڈ پر لکھیں۔ ممکن ہے کہ جوابات کچھ اس طرح ہوں :

اس کی زیارت کی جائے، ٹھیک ہو جانے تک اس کے ساتھ رہا جائے اور مصیبت دور ہونے تک اس کا ساتھ دیا جائے۔

طلبہ کے جوابات کو ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر عائد ہونے والے حقوق کے بیان کے ذریعے مکمل کریں، انھیں بلیک بورڈ پر لکھ دیں اور اس کے بعد سبق کا عنوان لکھ دیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

طلبہ کو خاموشی کے ساتھ حدیث پڑھنے کا حکم دیں اور اس کا معنی و مقصود سمجھنے کی ترغیب دیں اور اس کے بعد ان مشکل کلمات کی نشان دہی کرنے کے لئے کہیں، جن کا وہ معنی جاننا چاہتے ہیں۔

مرحلہ نمبر (2)

طلبہ کو حدیث کے راوی سے متعارف کرائیں اور اس کے بعد ان کے ساتھ راوی کے کارناموں اور اس کی زندگی کے قابل تقلید پہلؤوں کے بارے میں تبادلۂ خیال کریں۔

طلبہ کو حدیث کا اجمالی معنی، مقصد عمومی اور اس کے مشکل الفاظ کا معنی بتائیں۔

مرحلہ نمبر (3)

طلبہ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیں اور ہر گروہ کو ایک دوسرے کی مدد سے سبق سے مستنبط حقوق نکالنے کا حکم دیں۔ پھر گروہ میں شامل کسی ایک طالب علم کو نکالے ہوئے حقوق کو بلیک بورڈ پر لکھنے کا مکلف بنائیں اور ان کی کارکردگی کے بارے میں اپنا عندیہ دیں۔

نتیجہ نکالنا :

- ہر دو طلبہ کو ایک دوسرے کی مدد سے حدیث سے مستفاد آداب و دروس کو مستنبط کرنے کی ذمے داری سونپیں۔ ہر گروہ اپنی کارکردگی سامنے رکھے اور اس کے بعد آپ سب سے باریک بینی اور اچھے انداز میں دیے گئے جواب کا انتخاب کریں اور اسے بلیک بورڈ پر لکھ دیں، تاکہ باقی طلبہ اپنی کاپیوں میں اتار لیں۔

سرگرمیاں

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ طلبہ کو مسلمان کے حقوق کے آگاہی کی مشق کرانا۔

ہدف نمبر : 3

ہر طالب علم کو سرگرمی پر مشتمل ایک ایک تعلیمی کارڈ دے دیں۔ جواب لکھنے کا عمل پورا ہونے کے بعد کارڈوں کو جمع کر لیں۔ ان کو درست کر لیں اور اس کے بعد سب سے بہتر جواب کا انتخاب کر کے طلبہ کے سامنے پیش کریں، تاکہ انھیں اس سے آگاہ کیا جا سکے۔

یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے یہ حدیث اس بات پر دلالت نہیں کرتی ہے

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ مسلمان کے حقوق پر استدلال۔

ہدف نمبر : 1، 4

طلبہ کے سامنے درج ذیل باتوں پر مشتمل ایک تعلیمی بورڈ رکھیں، پھر طلبہ کو نصوص پڑھ کر سنائیں، پھر بہتر پڑھنے والے کچھ طلبہ کو ساتھیوں کے سامنے پڑھنے کے لئے کہیں، پھر نصوص کے معنی واضح کریں اور طلبہ کو اس سرگرمی کا جواب اپنی کاپیوں میں لکھنے کے لئے کہیں، اس کے بعد کچھ طلبہ کا انتخاب جواب پڑھ کر سنانے کے لیے کریں اور ان کا اندازۂ قدر کریں۔

مسلمان کے حقوق

(4)

(2)

(1)

(3)

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

پہلے سوال کا جواب دینے کے لیے اس میں وارد عناصر میں سے ہر عنصر کو یکے بعد دیگرے طلبہ کو پڑھ کر سنائیں۔ عبارت صحیح ہونے کی صورت میں طالب علم اپنا ہاتھ اوپر اٹھائے۔ طلبہ کے جوابات کا اندازۂ قدر کریں اور ان کے ساتھ غلط اور صحیح عبارتوں پر رک کر بات کریں۔

سوال 1 : (×) - (✓) - (×) - (✓)

ہر طالب علم کو انفرادی طور پر دوسرے سوال کا جواب دینے کی ہدایت دیں۔ اس کے بعد ہر طالب علم اپنا جواب اپنے ساتھی کے جواب سے بدل لے اور دونوں ایک دوسرے کے جواب کو درست کریں۔ اس دوران آپ ہر گروہ کی کارکردگی پر نظر رکھیں اور اس کی رہ نمائی کریں۔

سوال 2 : بیمار ہونے پر اس کی عیادت کرنا - اسے ظلم سے بچانا - دونوں

بلیک بورڈ پر تیسرے سوال کے ضمن میں وارد جملوں میں سے ہر جملہ لکھیں۔ اس کے بعد تین طلبہ کا انتخاب کریں کہ وہ ان کا جواب دیں۔ کسی بھی طالب علم سے غلطی سرزد ہونے کی صورت میں اسے سبق کا مراجعہ کرنے اور اسے دوبارہ پڑھنے کا حکم دیں، تاکہ صحیح جواب تک پہنچا جا سکے۔

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائیں :

طلبہ اس سبق میں بیان شدہ حقوق کو ادا کرنے کی کوشش کریں۔

ہر طالب علم ایک ایک کارڈ تیار کرے، جس میں مسلمانوں کے حقوق بیان کرے۔

چھٹا سبق : صلہ رحمی کی فضیلت

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی۔

نئے کلمات : (یُبْسَطَ – یُنْسَأَ – وَصَلَنِی– أَثَرِه)۔

تعلیمی وسائل :

(آڈیو میڈیم - ڈسپلے اسکرین - تعلیمی بورڈ - تعلیمی کارڈ - بلیک بورڈ)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(اجتماعی مناقشہ - مشکلات کا حل - تعلیمی دائرے)۔

اقدار و رجحانات :

• صلہ رحمی کی فضیلت کا اندازہ لگانا۔

• قطع رحمی سے بچنا۔

• لوگوں کو صلہ رحمی کی ترغیب دینا۔

سبق کی تمہید :

طلبہ قرابت داروں کے حقوق کے بارے میں جو کچھ جانتے ہیں، اس کے سلسلے میں ایک اجتماعی مناقشہ کرائیں، اس کام میں انھیں مناسب تعاون دیں اور اس کے بعد ان کو آج کے سبق تک لے جائیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

طلبہ کو خاموشی کے ساتھ حدیث پڑھنے کا حکم دیں، اس کا معنی و مفہوم سمجھنے پر ابھاریں اور ان مشکل الفاظ کی نشان دہی کرنے کے لئے کہیں، جن کے معنی وہ جاننا چاہتے ہیں۔

مرحلہ نمبر (2)

طلبہ کو حدیث کے راوی سے متعارف کرائیں اور اس کے بعد ان کے ساتھ اس کے کارناموں اور زندگی کے قابل اقتدا پہلؤوں کے بارے میں تبادلۂ خیال کریں۔

طلبہ کو حدیث کا اجمالی معنی اور عمومی مقصد بتائیں اور مشکل مفرد کلمات کے معنی سے روشناس کریں۔

مرحلہ نمبر (3)

طلبہ کے سامنے درج ذیل صورت حال پیش کریں، ان سے اس کے بارے میں اپنی رائے دینے اور اس کا سامنے کرنے کا طریقہ بتانے کے لئے کہیں۔ ان کے جوابات کی روشنی میں صلہ رحمی کی فضیلت واضح کریں۔

(خالد کے والدین کی وفات ہو گئی، تو اس نے مشغولیتوں کی کثرت کا بہانہ بناکر اپنی بہنوں سے تعلقات ختم کر لیے۔ اب وہ ان کی کوئی خبر خیریت نہیں لیتا۔ عیدوں اور تقریبوں میں بھی نہیں)۔

مرحلہ نمبر (3)

آموزشی دائروں پر مبنی حکمت عملی کی مدد سے معلم طلبہ کو مختلف دائروں کی شکل میں بیٹھنے اور انھیں آپس میں لوگوں کو قطع رحمی کے انجام سے خبردار کرنے کے طریقے کے بارے میں تبادلۂ خیال کرنے کے لئے کہے۔

وہ طلبہ کی کارکردگی پر نظر رکھے، ہر دائرے کے ایک ایک فرد کو اس کے دائرے کے ذریعے دریافت کیے گئے طریقے بتانے کے لئے کہے اور ان کی جانب سے دیے گئے جواب کے بارے میں ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کرے۔

نتیجہ نکالنا :

ہر دو طلبہ کو آپسی تعاون سے اس درس سے حاصل ہونے والے تین تین فوائد بیان کرنے کی ہدایت دیں۔

ہر زمرے کے جوابات دیکھیں، اس کے بارے میں اپنا عندیہ دیں اور ان کے درمیان کتنی یکسانیت پائی جاتی ہے اور کتنا اختلاف۔

سرگرمیاں

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ صلہ رحمی اور قطع رحمی کے آثار کا بیان۔

ہدف نمبر : 1، 4

طلبہ کے سامنے آڈیو میڈیم کے ذریعے سرگرمی کے ضمن میں وارد نصوص رکھیں، کسی بہتر پڑھنے والے کو ان نصوص کو پڑھنے کا حکم دیں اور ان کے ساتھ مل کر اس کے مفرد کلمات کی تشریح و توضیح کریں۔

ہر دو طلبہ کو سرگرمی کے ضمن میں وارد نصوص میں سے ہر نص کو یکے بعد دیگرے لینے کا حکم دیں، طلبہ کو صحیح جواب سے رو برو کرنے کے لیے ان دونوں کے ذریعے دیے گئے جواب کے بارے میں دیگر طلبہ کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں اور اسے اپنی اپنی کتاب میں لکھ لینے کا حکم دیں۔

صلہ رحمی کی فضیلت : قطع رحمی کی سزا صلہ رحمی کرنے والے کا سرا اللہ ہر خیر سے جوڑ دیتا ہے۔ صدقہ کا اجر دو چند ہو جاتا ہے۔

جنت میں داخلے سے محرومی۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ صلہ رحمی کی صورتوں سے آگاہی۔

ہدف نمبر : 4

ہر طالب علم کو سرگرمی کا جواب انفرادی طور پر دینے کا مکلف بنائیں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں کہ جوابات ایسے ہوں کہ وہ دوسرے طلبہ سے ممتاز دکھیں۔

کچھ طلبہ کا انتخاب اس بات کے لیے کریں کہ ان میں سے ہر دو طالب علم اپنا اپنا جواب پیش کریں، تاکہ ان کے درمیان موازنہ اور بہتر جواب دینے والے کی نشان دہی اور حوصلہ افزائی کی جا سکے۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

طلبہ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیں اور ہر گروہ کو ہدایت کریں کہ اپنی کتابوں میں دیے گئے سوالات کا جواب آپسی تعاون سے دیں۔ کوشش یہ ہو کہ ہر طالب علم کسی ایک سوال کا جواب دے اور اس کے ساتھی اسے دھیان سے دیکھیں۔

سبھی گروہوں کی کارکردگی کو دھیان سے دیکھتے رہیں، تاکہ اس بات کا یقین ہو جائے کہ جواب دینے اور اندازۂ قدر کرنے کے کام میں سبھی طالب علم شریک ہو رہیں ہیں۔

سبھی گروہوں کے جوابات جمع کریں، ان کو تصحیح کے مرحلے سے گزاریں اور ان سے سرزد ہونے والی غلطیوں سے واقف ہوں، تاکہ ان کو طلبہ کے سامنے رکھ کر ان کی درستگی کا طریقہ بتایا جا سکے۔

سب سے بہتر جواب دینے والے گروہ کی نشان دہی کریں، ان میں شامل افراد کی تعریف کریں اور ان کو غلط جواب دینے والے گروہوں کی غلطیوں کو درست کرنے کا حکم دیں۔

سوال 1 : غلط - صحیح - صحیح - غلط

سوال 2 : روزی میں کشادگی - اس کی عمر طویل ہو جاتی ہے

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق میں سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں درج ذیل طریقوں سے عمل میں لانے پر توجہ دلائیں :

طلبہ ایک دوسرے کی مدد سے صلہ رحمی کے وسائل اور قطع رحمی سے آگاہ کرنے والے کچھ بورڈ ڈیزائن کر کے لائیں اور ان کو اگلی ملاقات میں آپ کو پیش کریں، تاکہ آپ ان میں سب سے بہتر بورڈ کا انتخاب کر کے اسے کلاس روم میں لٹکا دیں۔

طلبہ اپنے اہل خانہ کو قطع رحمی سے آگاہ کریں اور صلہ رحمی کی فضلیت و اہمیت بیان کریں۔

ساتواں سبق : رحمت و احترام

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (لَیْسَ مِنَّا).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - تعلیمی بورڈ - تعلیمی کارڈ)

تدریسی حکمت عملیاں :

(تمہیدی مواد کی پیش کش پر مبنی حکمت عملی - پیش گوئی پر مبنی حکمت عملی - مشکلات کے حل پر مبنی حکمت عملی - اجتماعی استقصا پر مبنی حکمت عملی)۔

اقدار و رجحانات :

• رحمت، بالخصوص چھوٹوں پر رحمت کی اہمیت کا شعور۔

• عمر دراز اور عالی مرتبت لوگوں کی عزت کرنے کا حریص ہونا۔

سبق کی تمہید :

طلبہ کے سامنے درج ذیل صورت حال رکھیں : آپ نے سڑک سے گزرتے ہوئے دیکھا کہ ایک نوجوان ایک عمر دراز شخص کو ڈانٹ رہا ہے۔ یہ دیکھ کر آپ اس نوجوان کو کیا نصیحت کریں گے؟ اس کے لیے آپ اس حدیث سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد بلیک بورڈ پر عنوان لکھ دیں۔

٭ سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

بلیک بورڈ پر حدیث لکھ دیں، طلبہ سے اس پر غور کرنے اور اس کے مشمولات کے بارے میں پیش گوئی کرنے کے لئے کہیں، ان کے سوالات سنیں اور ان کی مناسب حوصلہ افزائی کریں۔

مرحلہ نمبر (2)

معلم طلبہ کو حدیث کا اجمالی معنی، اس کا مقصد عمومی اور اس میں آئے ہوئے مشکل الفاظ کا معنی بتائے۔

مرحلہ نمبر (3)

طلبہ کو حدیث کے راوی سے متعارف کرائیں اور اس کے بعد ان کے ساتھ راوی کے کارناموں اور اس کی زندگی کے قابل تقلید پہلؤوں کے بارے میں تبادلۂ خیال کریں۔

مرحلہ نمبر (4)

معرفتی شجرے کے اسلوب کو اس طرح بروئے کار لائیں کہ طلبہ ایک ایسا معرفتی شجرہ تیار کریں، جو سبق سے حاصل شدہ معلومات پر مشتمل ہو۔ ہر طلبہ حدیث کا کوئی ایک فائدہ پیش کرے اور شجرہ کی کسی ایک فرع میں لکھ دے۔ اخیر میں سارے طلبہ شجرہ پر غور کریں اور دیکھیں کہ وہ کتنا مکمل ہے اور حدیث کے فوائد کا کس قدر احاطہ کرتا ہے۔

٭ نتیجہ نکالنا :

ہر طالب علم کو اس بات کا مکلف بنائیں کہ وہ اس سبق کو پڑھنے کے بعد حاصل کردہ کوئی نتیجہ اور فائدہ بیان کرے، اسے بلیک بورڈ پر لکھ دے اور یہ بتائے کہ مذکورہ حدیث سے اس کا کتنا ربط ہے۔

سرگرمیاں

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ سرگرمی کے ضمن میں وارد حدیث اور شامل درس حدیث کے درمیان ربط پیدا کیجیے۔

ہدف نمبر : 3، 4

طلبہ کے ہر گروہ کو ایک دوسرے کی مدد سے سرگرمی کے ضمن میں دی گئی شکل کو بھرنے کا حکم دیں اور ہر گروہ سے ایک ایک فرد کا انتخاب ساتھیوں کے سامنے کھڑے ہونے کے لیے کریں۔ اس کے بعد معلم شکل میں دیے گئے عناصر میں سے ہر عنصر پیش کرے اور ہر گروہ کا نمائندہ اس کا جواب دے۔ بعد ازاں معلم سارے گروہوں کی کارکردگیوں کا موازنہ کرے اور سب سے بہتر اور اصل صورت حال کی نشان دہی کرنے والے جواب کی نشان دہی کرے۔

یہ حسب ذیل باتوں میں شامل درس حدیث سے متفق ہے : رحمت کے زیور سے آراستہ ہونے کی تاکید اور ترغیب۔

یہ حسب ذیل باتوں میں شامل درس حدیث میں اضافہ ہے :

1- رحمت کے اجر و ثواب کا بیان۔

2۔ رحمت عام ہے اور بچوں کے ساتھ خاص نہیں ہے۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ چھوٹے پر رحم کرنے کی کیفیت کا بیان۔

ہدف نمبر : 5

ہر طالب علم کو انفرادی طور پر دوسری سرگرمی انجام دینے کی ہدایت دیں اور ان کے پاس سے گزرتے رہیں، تاکہ ان کے جوابات کا اندازۂ قدر ہوتا جائے۔ اس کے بعد درستگی، سلامتی اور عمل آوری کے امکان کے ناحیوں سے سب سے بہتر جواب کا انتخاب کریں، تاکہ اسے باقی ساتھیوں کے سامنے پیش کر دیا جائے اور وہ اس کی روشنی میں اپنے اپنے جوابات درست کر لیں۔

سرگرمی 2 : بچے کا ضعف اور ظلم کے دفاع کی طاقت نہ رکھنا۔

سرگرمی نمبر : 3 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ طلبہ کو طرزہائے عمل کی درجہ بندی کی مشق کرانا۔

ہدف نمبر : 5

معلم طلبہ کے درمیان کچھ کارڈ بانٹ دے، جن میں سے ہر کارڈ درج ذیل مفرد کلمات میں سے کسی ایک کلمے پر مشتمل ہو : (چھوٹے پر رحم کرنا - بڑے کا حق ادا کرنا)، اس کے بعد سرگرمی کے ضمن میں وارد عبارتوں میں سے ہر عبارت کو یکے بعد دیگرے پڑھے اور طلبہ کو اس سے مناسبت رکھنے والا کارڈ اوپر اٹھانے کے لئے کہے۔ معلم طلبہ کے جوابات دیکھے، ان کا اندازۂ قدر کرے، غیر درست جواب دینے والے کے ساتھ تبادلۂ خیال کرے اور اسے صحیح جواب بتائے۔

چھوٹے پر رحم کرنا بڑے کا حق ادا کرنا :

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو انداۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

بہتر ہوگا کہ طلبہ کے سامنے پہلا اور دوسرا سوال رکھیں اور کچھ طلبہ کا انتخاب اس مقصد سے کریں کہ دونوں سوالات کے ایک ایک عنصر کا جواب دے، جب کہ ساتھی طلبہ ان پر نظر رکھیں اور ان کے جوابات کا اندازۂ قدر کریں۔

سوال 1 : () - () - ()

سوال 2 : روزے - ہمارے آداب - رحمت

ہر طالب علم کو تیسرے اور چوتھے سوالات کا جواب انفرادی طور پر دینے کا حکم دیں، دو طلبہ کا انتخاب اپنا اپنا جواب رکھنے کے لیے کریں، ان دونوں کے درمیان موازنہ کریں، درست جواب دینے والے طالب علم کی حوصلہ افزائی کریں اور باقی طلبہ کو سنے ہوئے جواب کی روشنی میں اپنے اپنے جوابات درست کرنے کی رہ نمائی کریں۔

سوال 3 :

بڑے کے احترام میں داخل ہے

اس کے سامنے نہ چلنا

اس کے پاس جانے سے پہلے اجازت لینا

اس سے بات کرتے وقت ادب و احترام کا پاس و لحاظ رکھنا

اس کی رائے لینا

چھوٹے پر رحم کرنے میں داخل ہے :

اسے تکلیف سے بچانا

اسے تکلیف دینے اور مارنے سے گریز کرنا

اس کے ساتھ کھیلنا

اس کی تعلیم و تربیت کا بندوبست کرنا

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائیں :

اس بات کی کوشش کہ اس حدیث سے حاصل شدہ رہ نمائیوں پر عمل کیا جائے، عمر دراز اور اونچے مقام و مرتبہ والے لوگوں کی عزت و احترام کیا جائے اور ساتھ اپنے اہل خانہ اور آس پاس کے لوگوں کو ان رہ نمائیوں سے باخبر کیا جائے، تاکہ وہ بھی ان پر چل سکیں۔

آٹھواں سبق : پڑوسی اور مہمان کی عزت کرنا

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (لِیصْمُتْ– فَلْیُكْرِمْ جاره).

تعلیمی وسائل :

(تعلیمی بورڈ - ڈسپلے بورڈ - بلیک بورڈ - تعلیمی کارڈ)

تدریسی حکمت عملیاں :

(میں کیا جانتا ہوں - میں کیا جاننا چاہتا ہوں - میں نے کیا سیکھا (KWL) پر مبنی حکمت عملی - قصہ گوئی پر مبنی حکمت عملی - برین اسٹورمنگ).

اقدار و رجحانات :

• پڑوسی اور مہمان کے ساتھ برتاؤ کے سلسلے میں اللہ کے نبی ﷺ کے طریقے سے آگاہی حاصل کرنا۔

• پاکیزہ اور مفید بات کرنے کی ترغیب۔

• پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کی ضرورت۔

• مہمان نوازی کی فضیلت سے آگاہی۔

سبق کی تمہید :

طلبہ کے سامنے سبق کے عناصر کو پیش کرنے والی ایک توضیحی شکل رکھیں، تاکہ ذہن و دماغ کے اندر سبق کے مشمولات کا ایک عام خاکہ تیار ہو جائے۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

معلم ہر طالب علم کو تین حصوں میں تقسیم شدہ ایک ایک تعلیمی کارڈ دے :

اس کے پہلے حصے میں حرف K (Know میں جانتا ہوں) لکھا ہو۔

دوسرے حصے میں حرف W (Want میں جاننا چاہتا ہوں) لکھا ہو.

اور تیسرے حصے میں حرف L (Learn میں نے سیکھا) لکھا ہو.

معلم طلبہ کو پہلے حصے کا مقصود بتائے، پھر انھیں پڑوسیوں اور مہمانوں کے ساتھ اللہ کے نبی ﷺ کے برتاؤ کے متعلق سابقہ معلومات پیش کرنے اور اسے پہلے حصے میں لکھنے کے لئے کہے، پھر ان کے معرفتی پس منظر سے آگاہ ہونے کے لیے ان کے ساتھ اس سلسلے میں تبادلۂ خیال کرے اور انھیں یہ پیش کرنے اور دوسرے حصے میں لکھنے کے لئے کہے کہ وہ کن معلومات و افکار سے واقفیت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

مرحلہ نمبر (2)

معلم قصہ گوئى کے اسلوب کی مدد سے اللہ کے نبی ﷺ کے پڑوسی کے ساتھ سلوک اور مہمان کى عزت وتکریم کرنے کے مظاہر پیش کرے، ڈسپلے اسکرین کی مدد سے اس سے جڑی ہوئی حدیثیں بیان کرے اور ان سے حاصل ہونے والی رہ نمائیوں کو واضح کرے۔

مرحلہ نمبر (3)

برین اسٹورمنگ کے توسط سے طلبہ کو اپنے تصورات پیش کرنے کے لئے کہے کہ پڑوسی اور مہمان کے ساتھ ایک مسلمان کا سلوک کیسا ہونا چاہیے۔ ان کے جوابات سے آگاہ ہوں۔ اس کے بعد ان کے سامنے پڑوسیوں اور مہمانوں کے ساتھ اللہ کے نبی ﷺ کے سلوک کے مظاہر واضح کریں اور اس سے جڑی ہوئی احادیث کی تشریح فرمائیں۔

نتیجہ نکالنا :

طلبہ کو ہدایت دیں کہ وہ اپنے پاس موجود کارڈ کا تیسرا حصہ، یعنی (L) کا حصہ پورا کریں، جس کا تعلق سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو عام عناصر کی شکل میں لکھنے سے ہے۔ اس کے بعد کچھ کارڈوں کا انتخاب کریں اور ان کے اندر طلبہ نے جو کچھ تحریر کیا ہے، اس کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

سرگرمیاں

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ پڑوسی اور مہمان کی عزت کرنے کی صورتوں سے آگاہی۔

ہدف نمبر : 4

کسی ایک طالب علم کا انتخاب ساتھیوں کو سرگرمی پڑھ کر سنانے کے لیے کریں، پھر ان کے ساتھ اس کے بارے میں تبادلۂ خیال کریں اور ہر طالب علم کو جدول کی متعینہ جگہ پر سرگرمی میں مطلوبہ دلالت کی نشان دہی کرنے کے لئے کہیں۔

یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے :

یہ حدیث اس بات پر دلالت نہیں کرتی :

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ طلبہ کو ایک دوسرے کی مدد کرنے اور جوڑنے کی مشق کرانا۔

ہدف نمبر : 3

طلبہ کے ہر زمرے کو ایک دوسرے کی مدد سے جدول کو بھرنے کی ہدایت دیں اور ہر ایک زمرے سے ایک ایک فرد کو حکم دیں کہ اپنے ساتھیوں کی جانب رخ کر کے کھڑے ہو جائیں۔ اس کے بعد معلم سبق کے عناصر کو یکے بعد دیگرے پیش کرے اور ہر زمرے کا نمائندہ اپنے زمرے کی جانب سے تیار کردہ جواب پیش کرے۔ معلم سارے زمروں کی کارکردگیوں کا موازنہ کرے اور بتائے کس زمرے کا جواب سب سے زیادہ درست اور اصل صورت حال کا سب سے بہتر تجزیہ پیش کرنے والا ہے۔

اس سے مناسبت رکھنے والا حدیث کا ٹکڑا

وہ اچھی بات کرے یا خاموش رہے۔

وہ اپنے پڑوسی کی عزت کرے۔

وہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔

سرگرمی نمبر : 3 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ زبان کے نقصانات سے واقفیت۔

ہدف نمبر : 4

ہر طالب علم کو سرگرمی کے تحت دی گئی لنک سے فائدہ اٹھانے کی ہدایت دیں، تاکہ اس کے لئے زبان کا خطرہ واضح ہو جائے۔ پھر طلبہ کو اس سے مستفاد باتوں کا خلاصہ تیار کرنے کا حکم دیں اور اگلی ملاقات میں ان کا تیار کردہ خلاصہ دیکھیں۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

پہلے سوال کا جواب دینے کے لیے اس کے عناصر کو یکے بعد دیگرے پڑھیں۔ عبارت کے صحیح ہونے کی صورت میں طالب علم اپنا ہاتھ اوپر اٹھائے۔ طلبہ کے جوابات کا اندازۂ قدر کریں اور غلط اور صحیح عبارتوں پر ان کے ساتھ رک کر بات کریں۔

سوال 1 : (×) - (✓)- () - (✓) - (×)

ہر طالب علم کو انفرادی طور پر دوسرے سوال کا جواب دینے کی ہدایت دیں اور ہر طالب علم اپنا جواب اپنے ساتھی کے جواب سے بدل لے اور اس کے بعد دونوں ایک دوسرے کے جواب کو درست کریں۔ اس دوران آپ ہر زمرہ کى نگرانی اور رہ نمائی کرتے رہیں۔

م

رویہ :

پڑوسیوں کے راز سے واقف ہونے کی کوشش کرنا : غیر درست رویہ

پڑوسی کی عدم موجودگی میں اس کے بچوں کے بارے میں پوچھنا اور ان کی ضرورتیں پوری کرنا : درست رویہ

پڑوسی کی چھپی ہوئی باتوں کے بارے میں گفتگو کرنا اور اس کی پوشیدہ خصوصیات کو سامنے لانا : غیر درست رویہ

پڑوسیوں کے گھروں کے سامنے کوڑے ڈال دینا : غیر درست رویہ

مہمان پر خرچ کرتے وقت اللہ سے اجر و ثواب کی امید رکھنا : صحیح رویہ

اپنے ساتھی کو یہ بتانا کہ اس کے ایک دوسرے ساتھی نے اسے گالی دی ہے : غیر صحیح رویہ

پڑوسی پر ظلم ہونے کی صورت میں اسے ظلم سے بچانا : صحیح رویہ

ٹیلی ویژن کی آواز کو اس قدر بڑھا کر رکھنا کہ پڑوسی پریشان ہو جائیں : غیر صحیح رویہ

تیسرے سوال کا جواب دینے کے لیے معلم ہر طالب علم کو انفرادی طور جواب دینے کی ہدایت دے۔ اس دوران وہ ان کے پاس سے گزرتے رہے اور غلط جواب لکھنے والے کو صحیح جواب بتائے۔

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائیں :

اس بات کی کوشش کہ پڑوسیوں اور مہمانوں کے ساتھ سلوک کے سلسلے میں اللہ کے نبی ﷺ کے طریقے کی پیروی کی جائے۔ اور اس بات کا اہتمام کہ 'خاموش رہنا غلط بات کہنے سے بہتر ہے'۔

آس پاس کے سماج میں پائے جانے والے منفی مظاہر اور اس کے افراد کے پڑوسیوں اور مہمانوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے معاملات کا مقابلہ کرنا بایں طور کہ اس طرح کے برے اعمال کرنے والے افراد کو نصیحت اور ان کی رہ نمائی کرنا اور ان کو اس موضوع کے تعلق سے زیر مطالعہ آنے والی باتوں سے متعارف کرانا۔

نواں سبق : توازن و اعتدال

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (التوازن – الاعتدال).

تعلیمی وسائل :

(کمپیوٹر ڈیوائس - ڈسپلے اسکرین - بلیک بورڈ - تعلیمی کارڈ)

تدریسی حکمت عملیاں :

(تمہیدی کلمات کی پیش کش پر مبنی حکمت عملی - رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی - باہمی تعاون سے سیکھنے پر مبنی حکمت عملی)۔

اقدار و رججانات :

• حقوق میں توازن کی اہمیت کا شعور۔

• نفس پر اس قدر عبادت کا بوجھ ڈالنے سے گریز، جسے اٹھانے کی سکت اس کے پاس نہ ہو۔

• اس بات کا شعور کہ اسلام انسان کی فطرت اور روحانی اور بدنی ضرورتوں کا خیال رکھتا ہے۔

• اس بات کا صحیح اندازہ کہ صحابہ رضی اللہ عنہم اسلام کا کس قدر گہرا فہم رکھتے تھے۔

سبق کی تمہید :

تمہیدی مواد کی پیش کش پر مبنی حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے معلم طلبہ کے سامنے درج ذیل صورت حال اور اس کے ساتھ دیے گئے سوالات رکھے، ان کے جوابات سنے، ان میں سے کچھ الگ الگ جوابات کو بلیک بورڈ پر لکھے اور طلبہ کو دھیان سے سبق خوانی کا حکم دے، کیوں کہ اس کے ذریعے وہ بذات خود صحیح جواب تک پہنچ سکتے ہیں۔

(ایک عورت وقت پر نماز تو پڑھتی ہے، مگر اپنے شوہر کی بات نہیں مانتی اور اس کے حقوق ادا نہیں کرتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اللہ کے حقوق دوسرے حقوق سے اولی و اہم ہیں۔ اب بتائیں کہ اس کا کیا حکم ہے اور آپ اسے کیا نصیحت کریں گے؟)

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

طلبہ کو خاموشی کے ساتھ حدیث پڑھنے کا حکم دیں اور اس کا معنی و مقصود سمجھنے کی ترغیب دیں اور اس کے بعد ان مشکل کلمات کی نشان دہی کرنے کے لئے کہیں، جن کا وہ معنی جاننا چاہتے ہیں۔

مرحلہ نمبر (2)

طلبہ کو راوی حدیث (نام، کنیت، حیات، فضائل اور وفات) سے متعارف کرائیں۔

اس کے بعد کسی ایک طالب علم کو منتخب کر کے اسے اپنے انداز میں راوی حدیث کے بارے میں اپنی معلومات پیش کرنے کا حکم دے۔

مرحلہ نمبر (3)

رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی کے توسط سے حدیث کی پیش کش اور تشریح کا کام کریں۔

ایک بورڈ کی مدد سے درج ذیل افکار پر مشتمل ایک توضیحی شکل پیش کریں، تاکہ ان افکار کے بارے میں طلبہ کے ساتھ تبدلۂ خیال کیا جا سکے۔ یہ افکار ہیں : (اللہ تعالی کا حق - اہل و عیال کا حق - نفس کا حق)۔

طلبہ کے رو برو ان افکار کے ساتھ ساتھ حدیث سے ان کے ربط کو واضح کریں اور طلبہ کے سوالات کا جواب دیں۔

مرحلہ نمبر (4)

باہمی تعاون سے سیکھنے پر مبنی آحکمت عملی کو بروئے کار لائیں۔

طلبہ کے ہر زمرے کو دنیوی اور اخروی امور کے درمیان موازنہ کی کیفیت کی نشان دہی کا مکلف بنائیں اور ان کی اس بات کے لیے حوصلہ افزائی کریں کہ وہ بہت سارے اور الگ الگ طرح کے جوابات دیں۔

ہر زمرے کا قائد اپنے زمرے کی کارکردگی پیش کرے۔ کوشش یہ ہو کہ ہر زمرہ دوسرے زمروں کے جوابات سے حاصل شدہ معلومات کی روشنی میں اپنا جواب مکمل کرے۔

نتیجہ نکالنا :

کچھ طلبہ کا انتخاب کریں اور ہر طالب علم کو اس بات کا مکلف بنائیں کہ وہ اپنے انداز میں اس حدیث سے حاصل شدہ ایک فائدہ پیش کرے اور یہ بتائے کہ اس پر اپنی زندگی میں کیسے کاربند ہوگا؟ اس کے بعد طلبہ کی مناسب حوصلہ افزائی کریں۔

سرگرمیاں

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ مباح اور غیر مباح تفریح کی صورتیں سامنے لانا۔

ہدف نمبر : 3، 4

ہر طالب علم کو سرگرمی پر مشتمل ایک ایک تعلیمی کارڈ دے دیں۔ طلبہ جواب لکھ لیں، تو سبھی کارڈ لے کر جمع کریں اور ان کی تصحیح کریں، اس کے بعد سب سے بہتر جواب کا انتخاب کریں اور اسے طلبہ کے سامنے رکھیں، تاکہ ان کو اس سے آگاہ کیا جا سکے۔

سرگرمی نمبر : 3 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ بیویوں اور رشتے داروں کے ساتھ اللہ کے نبی ﷺ کے سلوک کا بیان۔

ہدف نمبر : 3

دوسری سرگرمی کو ایک بورڈ پر پیش کریں، ایک طالب علم کو اسے پڑھنے کا حکم دیں اور چرچا اور تبادلہ خیال کے توسط سے طلبہ کے سامنے سرگرمی کا سوال اس طرح رکھیں کہ طلبہ اس کا جواب دیں۔ نیز بڑھ چڑھ کر حصہ نہ لینے والے طلبہ کو جواب دینے کے عمل میں شریک ہونے کا حوصلہ دیں اور اس کے بعد ہر طالب علم کو صحیح جواب کا خلاصہ تیار کرنے اور اسے اپنی کاپی میں لکھنے کی ہدایت دیں۔

سرگرمی نمبر : 3 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ حقوق کے درمیان توازن رکھنے کی کیفیت کی مشق کرانا۔

ہدف نمبر : 4، 5

طلبہ کو دو زمروں میں تقسیم کر دیں، پہلے زمرے کو مذکورہ آیتوں کو پڑھنے اور دوہرانے اور دوسرے زمرے کو ان سے سرزد ہونے والی غلطیوں کا مراجعہ اور تصحیح کرنے کی ذمے داری دیں۔ اس دوران آپ دونوں زمروں کی کارکردگی پر نظر رکھیں اور ان کی رہ نمائی کرتے رہیں۔ اس کے بعد بتائیں کہ یہ آیتیں کن حقوق کے درمیان توازن رکھنے پر دلالت کرتی ہیں؟

آیت : (اور جو خرچ کرتے وقت بھی نہ تو اسراف کرتے ہیں نہ بخیلی، بلکہ ان دونوں کے درمیان معتدل طریقے پر گام زن رہتے ہیں.) (سورہ فرقان : 67)

مدلول : مال خرچ کرنے کے معاملے میں توازن۔

(اور جو کچھ اللہ تعالی نے تجھے دے رکھا ہے اس میں سے آخرت کے گھر کی تلاش بھی رکھ اور اپنے دنیوی حصے کو بھی نہ بھول اور جیسے کہ اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے تو بھی اچھا سلوک کر۔) (سورہ قصص : 77) آیت کا مدلول : آخرت کے لیے عمل کرنے اور دنیا کی پاک چیزوں سے لطف اندوز ہونے کے درمیان توازن۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

طلبہ کو مختلف زمروں میں تقسیم کر دیں، تاکہ وہ آپسی تعاون سے نیچے دیے گئے سوالات کا جواب دیں۔

ہر زمرہ کسی ایک سوال کا جواب دے۔

ہر زمرہ اپنا جواب کسی دوسرے زمرے کے جواب سے بدل لے، تاکہ اس کے اندازۂ قدر کا کام ہو سکے۔

درست جواب دینے والے زمرے کی حوصلہ افزائی کریں۔

سوال 1 : حقوق کے درمیان توازن - آپ حدیث کے کچھ حصے پر عمل کرتے ہیں - میں مسلمانوں کو نصیحت کرتا ہوں

سوال 2 :

1- نفس پر عبادت کا اس قدر بوجھ ڈالنا کہ وہ اسے اٹھا نہ سکے، مکروہ ہے۔

2- ایک مسلمان کی ذمے داری ہے کہ جہاں اللہ تعالی کا حق ادا کرے، وہیں بندوں کے حقوق بھی ادا کرے۔

3- اسلام روحانی اور جسمانی دونوں پہلووں پر ایک ساتھ توجہ دیتا ہے۔

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائیں :

اس بات کی کوشش ہو کہ ہر حق دار کو اس کا حق دیا جائے اور کسی کے حق کی ادائیگی میں کوتاہی نہ ہونے پائے۔

آپسی تعاون سے ایک فولڈر تیار کیا جائے، جس میں تمام حقوق اور واجبات کے درمیان توازن کی اہمیت واضح کی جائے۔ اسے نشر کرنے کی کوشش کی جائے، تاکہ دوسرے لوگوں کو زیر اثر لایا جا سکے اور ایسے کام کرنے کی ترغیب دی جا سکے، جو اہل تقوی کا صلہ حاصل کرنے میں مددگار ہو۔

اکائی : فقہ احکام

پہلا سبق : وضو کے احکام

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (الموالاة– سنن الوضوء– نواقض الوضوء– إسباغ الوضوء).

تعلیمی وسائل :

(کمپیوٹر - اسکرین ڈسپلے - تعلیمی بورڈ - تعلیمی کارڈ - بلیک بورڈ)

تدریسی حکمت عملیاں :

(مسائل کے حل پر مبنی حکمت عملی - K.W.L - عملی پیش کش پر مبنی حکمت عملی - برین اسٹورمنگ)

اقدار و رجحانات :

- طہارت کی اہمیت کا احساس دلانا۔

- صحیح طریقے سے وضو کرنے کی کوشش کرنا۔

- اس بات کا اندازہ لگانا کہ اسلام بدن اور جگہ کی طہارت پر کس قدر توجہ دیتا ہے۔

٭ سبق کی تمہید :

طلبہ کے سامنے درج ذیل صورت حال رکھیں اور ان سے اس کے بارے میں اپنی رائے پیش کرنے اور اس کے حل کا طریقہ بتانے کے لئے کہیں۔ ساتھ ہی ان کو بتائيں کہ وہ اس سبق کی روشنی میں صورت حال کا حل نکال سکتے ہیں۔

(علی نے وضو کیا، ظہر کی نماز پڑھی، اس کے بعد نیند آنے لگی، تو سو گیا اور پھر اٹھ کر عصر کی نماز کے لیے چل دیا۔ جب اس کے بھائی نے وضو کے بارے میں پوچھا، تو بتایا کہ اس نے سونے سے پہلے وضو کیا تھا اور اس کے بعد قضائے حاجت نہیں کی ہے۔)

اس کے بعد بلیک بورڈ پر سبق کا عنوان لکھ دیں۔

٭ سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر(1)

معلم ہر طالب علم کو تین حصوں میں بٹا ہوا ایک تعلیمی کارڈ دے : پہلا حصہ حرف K (Know میں جانتا ہوں) پر مشتمل ہو۔ دوسرا حصہ حرف W (Want میں جاننا چاہتا ہوں) پر مشتمل ہو۔ اور تیسرا حصہ حرف L (Learn میں نے سیکھا) پر مشتمل ہو۔

معلم طلبہ کو ہر حصے کا مقصد سمجھائے، اس کے بعد ان سے سبق کے بارے میں اپنی سابقہ معلومات اور سبق کے مقاصد پر غور و فکر کا خلاصہ پیش کرنے اور اسے پہلے خانے میں لکھنے کے لئے کہے، طلبہ کے ساتھ اس کے بارے میں تبادلۂ خیال بھی کرے، تاکہ سبق کے بارے میں ان کی سابقہ معلومات سامنے آ جائے اور اس کے بعد انھیں اس خواہش کا اظہار کرنے کے لئے کہے کہ وہ اس سبق کے ذریعہ کیا کچھ جاننا اور معلوم کرنا چاہتے ہیں اور اس بات کو دوسرے خانے میں قلم بند کرنے کے لئے کہے۔

مرحلہ نمبر (2)

معلم کچھ طلبہ کا انتخاب کرے، ان سے وضو کے ان فرائض و سنن کو جانے جو وہ وضو کے دوران ادا کرتے ہیں اور ان کو آگے بیان کی جانے والی باتوں کو دھیان سے سننے کا حکم دے، تاکہ ہر طالب علم وضو کے صحیح طریقے سے واقف ہو جائے۔

معلم طلبہ کو وضو کی جگہ پر لے جائے، ان کو وضو کے فرائض اور سنتوں پر عمل کر کے دکھائے، ہر عمل کو ادا کرتے وقت اس کی تشریح کرے اور اس کے بعد دو طلبہ کا انتخاب کر کے ان کو ان اعمال کو ادا کر کے دکھانے کے لئے کہے اور باقی ساتھیوں کو ان کا اندازۂ قدر کرنے کا حکم دے۔

مرحلہ نمبر (3)

برین اسٹورمنگ کی حکمت عملی کے تحت طلبہ کو وضو توڑ دینے والی چيزوں کی نشان دہی کرنے کا حکم دیں، ان کے جوابات سنیں اور ان کے جوابات کے بارے میں ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں، اس طرح صحیح جواب تک پہنچیں اور اس سے جڑے ہوئے شرعی نصوص بیان کریں۔

٭ نتیجہ نکالنا :

طلبہ کو ان کے سامنے موجود کارڈ کا تیسرا خانہ یعنی (L) کا خانہ پر کرنے کی ہدایت دیں، جس کا تعلق سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو عام عناصر کی شکل میں لکھنے سے ہے۔ پھر کچھ کارڈوں کا انتخاب کریں، ان پر نوٹ چڑھائیں اور ان کے اندر طلبہ نے جو کچھ لکھا ہے، اس کے بارے میں اپنا عندیہ دیں۔

سرگرمیاں

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ وضو کے فرائض اور سنتیں نکالنا۔

ہدف نمبر : 1

سرگرمی کے ضمن میں دی گئی حدیث کو ڈسپلے اسکرین کے توسط سے طلبہ کے سامنے رکھیں، اسے ساتھیوں کو پڑھ کر سنانے کے لیے ایک طالب علم کا انتخاب کریں اور طلبہ کے ساتھ اس کے معنی اور فوائد کے بارے میں مناقشہ کریں۔

ہر دو طلبہ کو حدیث کے ضمن میں دیے گئے سوالات کا ایک دوسرے کی مدد سے جواب دینے کا کام سپرد کریں، تمام سوالات کو یکے بعد دیگرے سامنے رکھیں، دیکھیں کہ ہر گروہ کس سوال کا کیا جواب دیتا ہے، سبھی گروہوں کے جوابات کا موازنہ کریں، سب سے بہتر جواب دینے والے گروہ کی نشان دہی کریں اور اخير میں سبھی گروہوں کو حکم دیں کہ وہ باقی گروہوں کے صحیح جوابات کی روشنی میں اپنے اپنے جوابات درست کر لیں۔

فرائض : چہرہ دھونا - دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونا - سر کا مسح کرنا - دونوں پیروں کو دھونا۔

سنتیں : دونوں ہتھیلیوں کو دھونا - کلی کرنا - ناک جھاڑنا - ہر عضو تین تین بار دھونا۔

سرگرمی نمبر 2 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ صحیح طریقے سے وضو کرنا۔

ہدف نمبر : 4

ایک طالب علم کا انتخاب کریں اور اسے وضو کی صحیح کیفیت بتانے کے لئے کہیں۔ جب کہ باقی طلبہ اسے دھیان سے دیکھیں اور اس کی کمیوں و کوتاہیوں کی نشان دہی کریں۔ کوئی کمی رہ جانے کی صورت میں کسی دوسرے طالب علم کو زيادہ بہتر طریقے سے وضو کو واضح کرنے کے لئے کہيں، تاکہ غلطی کا ازالہ ہو جائے اور صحیح طریقہ تمام طلبہ کے ذہن نشیں ہو جائے۔

سرگرمی نمبر : 3 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ نواقض وضو سے آگاہی۔

ہدف نمبر : 2، 4

ایک بورڈ کے توسط سے تیسری سرگرمی پیش کریں اور ایک طالب علم کو اسے پڑھنے کا حکم دیں۔ پھر چرچا اور بات چیت کے توسط سے یکے بعد دیگرے سرگرمی کے سوالات رکھیں اور طلبہ کو ان کا جواب دینے کے لئے کہیں۔ جواب دینے کے عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ نہ لینے والے طلبہ کی حوصلہ افزائی کریں۔ پھر کتاب میں دی گئی جگہ پر صحیح جواب لکھنے اور سبب بیان کرنے کی ہدایت دیں۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

طلبہ کے سامنے پہلا سوال رکھیں اور کسی ترتیب کا خیال رکھے بغیر دو طلبہ کا انتخاب کر کے انھیں سوال کے ایک ایک عنصر کا جواب دینے کے لئے کہيں۔ جب کہ باقی طلبہ انھیں دھیان سے دیکھیں اور ان کا اندازۂ قدر کریں۔

سوال 1 : () - ()

ہر دو طلبہ ایک دوسرے کی مدد سے دوسرے سوال کا جواب دیں اور ہر گروہ اپنا جواب کسی دوسرے گروہ کے جواب سے بدل لے۔ پھر معلم ہر گروہ کو دوسرے گروہ کے یہاں دریافت شدہ غلطیوں کو سامنے رکھنے اور انھیں درست کرنے کا طریقہ بتانے کا موقع دے۔

سوال 2 : (فرائض) - (سنت) - (پیشاب نکلنا)۔

طلبہ کے سامنے تیسرا سوال رکھیں اور تین طلبہ کا انتخاب ان کا جواب دینے کے لیے کریں۔ ان سے غلطی سرزد ہونے اور شرعی دلیل بیان نہ کر پانے کی صورت میں انھیں خود سبق کے مشمولات سے صحیح جواب اور شرعی دلیل ڈھونڈ کر نکالنے کا حکم دیں۔

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

طلبہ کو اس بات کی ترغیب دیں کہ وہ اس سبق کی روشنی میں صحیح طریقے سے وضو کے فرائض اور سنتیں انجام دیں۔ ساتھ ہی انھیں اس بات کے لیے ابھاریں کہ اپنے اہل خانہ کو ان سے روشناس کریں۔ طلبہ جب وضو کریں، تو ان کو دیکھتے رہيں، تاکہ ان سے سرزد ہونے والی غلطیوں کی نشان دہی ہو سکے۔

دوسرا سبق : نماز کی شرطیں

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (دَرَنِهِ – الْخَطَايَا – تزكِّي النفس – عورة – استقبال القبلة).

تعلیمی وسائل :

(تعلیمی تصاویر - بلیک بورڈ - تعلیمی بورڈ)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(تبادلے پر مبنی تدریس "پیش گوئی - ایک دوسرے سے سوال کرنا - وضاحت کرنا - خلاصہ کرنا" - عملی پیش کش - مثبت اور منفی مثالیں)۔

اقدار و رجحانات :

- نماز کے احکام سیکھنے کی اہمیت کا احساس پیدا کرنا۔

- نماز کی شرطوں کا خیال رکھنے کی کوشش۔

* سبق کی تمہید :

طلبہ کے سامنے یہ حدیث رکھیں : "تم لوگ نماز اسی طرح پڑھو، جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے" اور پھر انھیں اس پر غور کرنے اور نماز کا طریقہ اور اس کے احکام سیکھنے کی اہمیت اخذ کرنے کا حکم دیں۔ ہر طالب اپنا جواب اپنی کاپی میں لکھ لے۔ پھر ان کو بتایا جائے کہ سبق ختم ہونے کے بعد اپنے اس جواب کو اندازۂ قدر کے مرحلے سے گزاريں۔

طلبہ کو سبق کے مقاصد سے روشناس کریں اور ان کو اس کا عنوان اخذ کرنے کے لئے کہیں۔ بعد ازاں بلیک بورڈ پر سبق کا عنوان لکھ دیں۔

٭ سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

سبق کے مقاصد اور عنوان سے طلبہ کی آگاہی کی روشنی میں انھیں اس کے عناصر کی پیش گوئی کرنے کا حکم دیں۔ پھر ان کے سامنے سبق کے عناصر کا ایک وضاحتی نقشہ رکھیں، تاکہ طلبہ اپنے پیش کردہ عناصر اور واقعتا موجود عناصر کے درمیان موازنہ کر سکیں۔

مرحلہ نمبر (2)

عملی پیش کش پر مبنی حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے نماز کی شرطوں کو عملی صورت میں طلبہ کے سامنے رکھیں، ساتھ میں کچھ توضیحی تصویریں بھی پیش کریں, پھر دو طلبہ کا انتخاب کریں، اس بات کا یقین حاصل کر لیں کہ انھوں نے وضو کر رکھا ہے اور اس کے بعد انھیں حاصل کردہ معلومات کی روشنی میں نماز کی شرطیں ادا کرنے کا حکم دیں۔ جب کہ باقی طلبہ ان کی ادائیگی کو دھیان سے دیکھیں، تاکہ پتہ چل سکے کہ اس میں کتنی درستگی ہے۔

مرحلہ نمبر (3)

مثبت اور منفی مثالوں کی حکمت کو بروئے کار لاتے ہوئے معلم طلبہ کے سامنے درج ذیل موقفوں کو رکھے، تاکہ طلبہ ان کے درمیان فرق کر سکیں اور بتا سکیں کہ یہ موقف اس سبق میں مذکور نماز کی شرطوں کے متعلقہ احکام سے کتنی مواقفت رکھتے ہيں اور کتنا اختلاف۔

ایک شخص کا ماننا ہے کہ مجنون شخص پر نماز کی ادائيگی میں کوئی حرج نہيں ہے۔

کچھ مسلمان نماز کے اوقات کے سلسلے میں سستی سے کام لیتے ہیں اور تمام نمازوں کا التزام نہيں کرتے۔

کچھ نوجوان جو بھی کپڑا ملے، پہن لیتے ہيں، چاہے وہ نماز کے تقدس سے مطابقت نہ بھی رکھتے ہوں۔

٭ نتیجہ نکالنا :

معلم طلبہ کو نماز کے آثار سے تعلق رکھنے والے ان عناصر کا مراجعہ کرنے کا حکم دے، جن کی انھوں نے توقع کی تھی اور جن کو ان کی جانب سے مقدمہ میں پیش کیا جا چکا ہے۔ کچھ طلبہ کے جوابات سبق کی آموزش سے پہلے اور اس کے بعد حاصل کریں۔

ہر طالب علم سے ایک مختصر پیراگراف میں تبصرہ کرنے کے لئے کہیں کہ اس نے سبق سے کیا سیکھا اور اس علم کی روشنی میں اسے اپنی زندگیوں میں کیا نافذ کرنا چاہیے؟ طلبہ کی حوصلہ افزائی کریں کہ جوابات اچھے انداز میں دیں اور جواب دیتے وقت عملی تطبیق کے پہلو کو ملحوظ رکھیں۔

سرگرمیاں

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ نماز کی شرطوں پر عمل آوری۔

ہدف نمبر : 1

ایک بورڈ کے توسط سے پہلی سرگرمی پیش کریں اور ایک طالب علم کو اسے پڑھنے کا حکم دیں۔ پھر مناقشوں کے توسط سے یکے بعد دیگرے سرگرمی کے سوالات رکھیں اور طلبہ کو ان کا جواب دینے کے لئے کہیں۔ جواب دینے کے عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ نہ لینے والے طلبہ کی جواب دینے کى بابت حوصلہ افزائی کریں۔ پھر کتاب میں دی گئی جگہ پر صحیح جواب لکھنے کی ہدایت دیں۔

فعل درست غلط شرط

ایک شخص نے مؤذن کے اذان دینے سے پہلے ہی نماز پڑھ لی۔

ایک شخص نے قبلے کی جانب منہ کیا اور ظہر کی نماز کی نیت کی۔

ایک شخص نے قضائے حاجت کے بعد وضو کیے بغیر ہی نماز پڑھ لی۔

ایک شخص نے رکوع کے دوران قبلے کی مخالف سمت کی طرف رخ کر لیا۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ صحیح طریقے سے نماز ادا کی ادائيگی۔

ہدف نمبر : 3

طلبہ کو دو گروہوں میں تقسیم کر دیں اور پہلے گروہ کو سرگرمی کے پہلے حصے کا جب کہ دوسرے گروہ کو دوسرے حصے کا جواب دینے کی ذمے دارى سپرد کریں۔ اس دوران آپ دونوں گروہوں کی کارکردگی کو دھیان سے دیکھیں اور ان کی رہ نمائی کریں۔

سرگرمی نمبر : 3 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ قرآن اور وقت داخل ہونے کی شرط کے درمیان ربط۔

ہدف نمبر : 1، 2

ہر طالب علم کو سرگرمی پر مشتمل ایک ایک تعلیمی کارڈ دے دیں۔ جب وہ جواب دے دیں، تو کارڈ ان سے لے لیں اور انھیں درست کریں۔ پھر سب سے بہتر کارڈ کو چن کر اسے طلبہ کے سامنے رکھیں، تاکہ وہ صحیح جواب سے روشناس ہو جائيں۔

سرگرمی نمبر : 4 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ طلبہ کو صحیح حکم لکھنے کی مشق کرانا۔

ہدف نمبر : 5

معلم ہر طالب علم کو ایک خارجی کارڈ میں ایک ایسے شخص کا حکم لکھنے کی ہدایت دیں، جو اونچی آواز میں کہتا ہو : میں نیت کرتا ہوں اللہ تعالی کے لیے بطور ادا ظہر کی دو رکعت فرض نماز پڑھنے کی۔ پھر ہر طالب علم اپنا کارڈ اپنے کسی ساتھی کے کارڈ سے بدل لے، تاکہ دونوں ایک دوسرے کے جواب کا اندازۂ قدر کر سکیں اور ایک دوسرے سے سرزد ہونے والی غلطیوں سے واقف ہو سکیں۔ آپ طلبہ کی غلطیوں سے واقف ہوں اور ان کو صحیح حکم بتا دیں، تاکہ وہ بھی اس سے روشناس ہو جائيں اور اسے اپنی کتابوں میں لکھ لیں۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

طلبہ کو سوالات کے جواب ان کی کاپیوں میں لکھنے کا حکم دیں۔

طلبہ کی کاپیاں یک جا کر لیں، پھر ان سے زبانی طور پر سوالات کریں، تاکہ وہ انھیں حل کر لیں۔ ان کو مناسب مدد بھی فراہم کریں۔

کاپیوں کو درست کریں اور ہر سوال کا مناسب نمبر دیں۔

سب سے زیادہ نمبر لانے والے طالب علم کی نشان دہی کرنے کر ساتھ ساتھ اس کى مناسب حوصلہ ا‌فزائی بھى کریں۔

سوال 1 : (×) - (✓) - (✓) - (×)

سوال 2 : عقل - (شرطیں) - نجاست - غیر صحیح - غیر صحیح

* تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

نماز کی شرطوں کے صحیح اطلاق کے ساتھ نماز کی پابندی کرنا اور اہل خانہ نیز آس پاس کے لوگوں کو ان شرطوں سے روشناس کرنا، جس کے لیے ان شرطوں پر مشتمل ایک فولڈر تیار کیا جائے اور اسے علم کی زکاۃ کے طور پر لوگوں کو بانٹ دیا جائے۔

آس پاس کے لوگوں کے یہاں پائی جانے والی نماز سے متعلق غلط رویوں کو درست کریں، ایسے لوگوں کو غلطیوں سے متنبہ کريں اور صاف ستھرے تربیتی انداز میں ان کے علاج کا طریقہ بتائيں۔

تیسرا سبق : نماز کے ارکان و واجبات

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (الترتيب بين الأركان – الطمأنينة).

تعلیمی وسائل :

(تعلیمی تصاویر - بلیک بورڈ - تعلیمی بورڈ)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(تبادلے پر مبنی تدریس "پیش گوئی - ایک دوسرے سے سوال کرنا - وضاحت کرنا - خلاصہ کرنا" - عملی پیش کش - مثبت اور منفی مثالیں)۔

اقدار و رجحانات :

• نماز ارکان و واجبات کے ساتھ قائم کرنا۔

• فریضۂ نماز کی عظمت کا احساس دل میں جاگزیں رکھنا۔

٭ سبق کی تمہید :

بطور تمہید درج ذیل باتیں رکھیں :

نماز کے مشروع اعمال کی تین قسمیں ہيں : ارکان، واجبات اور سنن۔

ارکان وہ اعمال ہيں، جن کے بغیر نماز درست نہيں ہوتی۔ یہ نہ عمدا ساقط ہوتے ہيں اور نہ سہوا۔ نماز کے 14 رکن ہیں۔

واجبات نماز کے دائرے میں وہ اعمال آتے ہيں، جن کا کرنا ضروری ہے۔ ایک بھى واجب جان بوجھ کر چھوڑ دینے سے نماز باطل ہو جاتی ہے۔ جب کہ سہوا چھوٹ جانے سے سجدۂ سہو کرنا ہوگا۔ واجبات نماز 8 ہیں۔

سنن وہ اعمال ہيں، جنھیں کرنا مستحب ہے۔ انھیں چھوڑ دینے سے بھی نماز درست ہو جائے گی۔ سنن بہت زیادہ ہیں۔

٭ سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر(2)

طلبہ کو سبق پر سرسری نظر ڈالنے اور اس کے عناصر کو چننے کے لیے تین منٹ دیں، انھیں سبق کے مشمولات سے متعلق اپنے سوالات پیش کرنے کے لئے کہیں، ان کے سوالات کا استقبال کریں اور ان پر مناقشہ کریں۔ اس دوران جواب سے جڑے ہوئے شرعی نصوص کی تشریح کر دی جائے۔ پیش کردہ سوالات میں سے کچھ سوالات اس طرح ہوں :

سوال : نماز کے ارکان واضح کریں۔

سوال : نماز کے واجبات بیان کریں۔

مرحلہ نمبر (2)

عملی پیش کش پر مبنی حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے طلبہ کے سامنے عملی طور پر نماز کے ارکان پیش کریں۔ اس کے ساتھ کچھ توضیحی تصویریں بھی سامنے رکھیں۔ پھر دو طلبہ کا انتخاب نماز کے ارکان اسی طرح ادا کرنے کے لیے کریں، جس طرح انھوں نے آپ کو ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ساتھی طلبہ دونوں کی ادائيگی کو دھیان سے دیکھیں، تاکہ پتہ چل سکے کہ ان کی ادائیگی کس حد تک درست ہے۔

مرحلہ نمبر(3)

مثبت اور منفی مثالوں کی پیش کش پر مبنی حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے معلم طلبہ کے سامنے درج ذیل موقفوں کو رکھے، تاکہ ان کے درمیان فرق کیا جا سکے اور بتایا جا سکے کہ وہ اس سبق میں مذکور واجبات نماز سے متعلقہ احکام سے کتنی موافقت رکھتے ہیں اور کتنا اختلاف۔

ایک شخص کا ماننا ہے کہ جلدی جلدی نماز ادا کرنے میں کوئی حرج نہيں ہے۔

نمازی رکوع کے دوران اتنا جھکے کہ دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھ سکے۔

بعض باپ اپنے بچوں کو نماز پڑھنے پر مجبور کرتے ہيں۔

کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ دو سجدوں کے درمیان کا جلسہ نماز کے مستحبات میں سے ہے۔

کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ رکوع کی تکبیر نماز کا رکن ہے۔

٭ نتیجہ نکالنا :

ہر طالب علم سے ایک مختصر پیراگراف میں تبصرہ کرنے کے لئے کہیں کہ اس نے سبق سے کیا سیکھا اور اس علم کی روشنی میں اسے اپنی زندگیوں میں کیا نافذ کرنا چاہیے؟ طلبہ کی حوصلہ افزائی کریں کہ جوابات اچھے انداز میں دیں اور جواب دیتے وقت عملی تطبیق کے پہلو کو ملحوظ رکھیں۔

سرگرمیاں

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ نماز کے ارکان اخذ کرنا اور جلدی جلدی نماز پڑھنے والوں کو نصیحت کرنا۔

ہدف نمبر : 2، 5

طلبہ کى کتاب میں دی گئی حدیث ساتھیوں کو پڑھ کر سنانے کے لیے کسی طالب علم کا انتخاب کریں اور باقی طلبہ سے کہیں کہ حدیث کو دھیان سے پڑھیں اور اس کے معنی و مفہوم پر غور کریں۔ پھر ہر ایک طالب علم کو ہدایت دیں کہ وہ انفرادی طور پر اس حدیث میں وارد ارکان نماز کو نکالیں۔ بعد ازاں کسى ایک طالب علم سے کہيں کہ وہ صحیح جواب ساتھیوں کو پڑھ کر سنائے۔

تکبیر احرام - رکوع - رکوع سے اٹھنا - سجدہ - سجدے میں اعتدال- دو سجدوں کے درمیان بیٹھنا - اطمینان۔

ہر طالب علم کو ہدایت دیں کہ وہ اس حدیث میں ذکر کردہ باتوں کی روشنی میں جلدی جلدی نماز پڑھنے والے کو مخاطب کر کے کچھ باتیں لکھے۔ طلبہ جب لکھ رہے ہوں، تو آپ ان کے آس پاس سے گزرتے رہيں، تاکہ ان کی تحریروں سے آگاہ ہو سکیں۔ بعد ازاں سب سے بہتر اسلوب، فکر اور اثر کی حامل تحریروں کا انتخاب کریں اور انھیں لکھنے والے طلبہ کو ساتھیوں کو پڑھ کر سنانے کا حکم دیں اور طلبہ سے کہیں کہ ان کو نشر کرنے کے لیے انھیں آپس میں بدل لیں۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : انفرادی / جوڑے پر مبنی۔ صحیح طریقے سے نماز ادا کرنا۔

ہدف نمبر : 4، 5

کسی ایک طالب علم کا انتخاب کریں اور اس سے کہیں کہ وہ نماز کی پہلی رکعت پڑھ کر دکھائے۔ جب کہ باقی طلبہ اسے دھیان سے دیکھیں، تاکہ اس کی ادائيگی سے واقف ہو سکيں اور اس کی کمیاں بتا سکيں۔ اگر کوئی کمی پائی جائے تو کسی دوسرے طالب علم کا انتخاب صحیح طریقے سے ادا کرنے کے لیے کریں۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

طلبہ کو سوالات کے جواب ان کی کاپیوں میں لکھنے کا حکم دیں۔

طلبہ کی کاپیاں یک جا کر لیں، پھر ان سے زبانی طور پر سوالات کریں، تاکہ وہ انھیں حل کر لیں۔ ان کو مناسب مدد بھی فراہم کریں۔

کاپیوں کى تصحیح کریں اور ہر سوال کا مناسب نمبر دیں۔

سب سے زیادہ نمبر لانے والے طالب علم کی نشان دہی کرنے کے ساتھ اس کى مناسب حوصلہ ا‌فزائی کریں۔

سوال 1 : (×) - (✓) – (✓) - (×) - (✓)

سوال 2 : (نماز کے واجبات) - (ارکان) - (سات اعضا)۔

* تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

طلبہ کو اس بات کی ترغیب دیں کہ وہ نماز کی شرطوں، ارکان اور واجبات کی رعایت کرتے ہوئے نماز کی پابندی کریں، اپنے اہل خانہ نیز آس پاس کے لوگوں کو ان شرطوں، ارکان اور واجبات سے روشناس کرائيں اور اس کے لیے ان شرطوں، ارکان اور واجبات پر مشتمل ایک فولڈر تیار کریں اور اسے علم کی زکاۃ کے طور پر لوگوں کے درمیان بانٹ دیں۔

چوتھا سبق : نماز کی سنتیں اور اسے باطل کر دینے والی چيزیں

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (الاستفتاح - التعوُّذ - القهقهة).

تعلیمی وسائل :

(تعلیمی تصاویر - بلیک بورڈ - تعلیمی بورڈ)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(تبادلے پر مبنی تدریس "پیش گوئی - ایک دوسرے سے سوال کرنا - وضاحت کرنا - خلاصہ کرنا" - عملی پیش کش - مثبت اور منفی مثالیں)۔

اقدار و رجحانات :

• نماز اور اس کی سنتوں کی حفاظت۔

• نماز باطل کرنے والی چیزوں سے اجتناب۔

نماز میں اللہ کے نبی ﷺ کی پیروی۔

٭ سبق کی تمہید :

محترم معلم! تمہید کے طور پر پچھلے سبق کو آج کے سبق سے جوڑیں۔ طلبہ کو بتائيں کہ ہم نے پچھلے سبق میں نماز کے ارکان، واجبات اور شرطوں کے بارے میں بات کی تھی، لہذا کیا کوئی ہمیں ان کی یاد دہانی کرا سکتا ہے؟ طلبہ کے جوابات حاصل کریں اور اس کے بعد بتائيں کہ آج ہم نماز کی سنتوں اور اسے باطل کر دینے والی چیزوں کے بارے میں گفتگو کریں گے۔ پھر بورڈ پر عنوان لکھ دیں۔

٭ سبق کی پیش کش :

مرحلہ نبمر (1)

سبق کے مقاصد سے طلبہ کے آگاہی کی روشنی میں انھیں اس کے عناصر کی پیشین گوئی کرنے کے لئے کہیں اور اس کے بعد ان کے سامنے سبق کے عناصر اور افکار کا ایک توضیحی نقشہ رکھیں، تاکہ وہ اپنے پیش کردہ عناصر اور واقعتا شامل درس عناصر کے درمیان موازنہ کر سکيں۔

مرحلہ نمبر (2)

طلبہ کو سبق پر سرسری نظر ڈالنے اور اس کے عناصر چننے کے لیے تین منٹ کا وقت دیں۔ پھر ان سے کہيں کہ سبق کے مشمولات اور اس سبق کے توسط سے جن باتوں کا جواب وہ جاننا چاہتے ہیں، ان کے بارے میں اپنے سوالات پیش کریں۔ ان کے سوالات کا استقبال کریں۔ ان کو بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔ پھر ان پر مناقشہ شروع کریں اور اپنی جانب سے کچھ اضافی سوالات جوڑ دیں، تاکہ سبق کے سارے عناصر شامل ہو جائيں۔ اس دوران ان سوالات کے جوابات سے جڑے ہوئے شرعی نصوص کی تشریح بھی کرتے جائيں۔ پیش کردہ سوالات کچھ اس طرح ہو سکتے ہیں :

سوال : نماز کی سنتوں کے انواع بیان کریں۔

سوال : نماز کی کچھ قولی سنتیں :.......،.........،........،.........،........

سوال : نماز کی کچھ فعلی سنتيں :.......،.........،........،.........،........

سوال : نماز باطل کر دینے والی چيزیں بیان کریں۔

مرحلہ نمبر (3)

عملی پیش کش پر مبنی حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے نماز کی سنتوں کو عملی صورت میں طلبہ کے سامنے رکھیں، ساتھ میں کچھ توضیحی تصویریں بھی پیش کریں, پھر دو طلبہ کا انتخاب کریں، اس بات کا یقین حاصل کر لیں کہ انھوں نے وضو کر رکھا ہے اور اس کے بعد انھیں اسی طرح نماز کے ارکان ادا کرنے کا حکم دیں، جس طرح آپ کو ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ جب کہ باقی طلبہ ان کی ادائیگی کو دھیان سے دیکھیں، تاکہ پتہ چل سکے کہ اس میں کتنی درستگی ہے۔

مرحلہ نمبر(4)

مثبت اور منفی مثالوں کی حکمت کو بروئے کار لاتے ہوئے معلم طلبہ کے سامنے درج ذیل موقفوں کو رکھے، تاکہ طلبہ ان کے درمیان فرق کر سکیں اور بتا سکیں کہ یہ موقف اس سبق میں مذکور نماز کی صحت سے متعلقہ احکام سے کتنی مواقفت رکھتے ہيں اور کتنا اختلاف۔

ایک شخص کا ماننا ہے کہ دو سجدوں میں سے ایک پر اکتفا کیا جا سکتا ہے۔

کچھ مسلمان سبحان ربی العظیم، سبحان ربی الاعلی اور سمع اللہ لمن حمدہ کے بارے میں سستی سے کام لیتے ہوئے ان کو چھوڑ دیتے ہيں۔

کچھ نوجوان نماز کی حالت میں کھانے کا کچھ حصہ چباتے رہتے ہيں۔

٭ نتیجہ نکالنا :

معلم طلبہ کو نماز کے آثار سے تعلق رکھنے والے ان عناصر کا مراجعہ کرنے کا حکم دے، جن کی انھوں نے توقع کی تھی اور جن کو ان کی جانب سے مقدمہ میں پیش کیا جا چکا ہے۔ کچھ طلبہ کے جوابات سبق کی آموزش سے پہلے اور اس کے بعد حاصل کریں۔

ہر طالب علم سے ایک مختصر پیراگراف میں تبصرہ کرنے کے لئے کہیں کہ اس نے سبق سے کیا سیکھا اور اس علم کی روشنی میں اسے اپنی زندگیوں میں کیا نافذ کرنا چاہیے؟ طلبہ کی حوصلہ افزائی کریں کہ جوابات اچھے انداز میں دیں اور جواب دیتے وقت عملی تطبیق کے پہلو کو ملحوظ رکھیں۔

سرگرمیاں

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ طلبہ کو نماز باطل کر دینے والی چيزوں کے درمیان فرق کرنے کی مشق کرانا۔

ہدف نمبر : 4

طلبہ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیں اور ہر گروہ کو آپسی تعاون سے سرگرمی کی ادائيگی اور اس کا جواب دینے کی ہدایت دیں۔ جب سارے گروہوں کا جواب پورا ہو جائے، تو طلبہ کے سامنے افعال کی لسٹ رکھیں، ہر گروہ سے اس کا جواب حاصل کریں، سب سے بہتر جواب دینے والے گروہ کی نشان دہی کریں اور اس میں شامل افراد کی مناسب حوصلہ افزائی کریں۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ نماز باطل کر دینے والی چيزیں مستنبط کرنا۔

ہدف نمبر : 4، 5

ایک طالب علم کا انتخاب کر کے اسے نماز باطل کر دینے والی چيزيں مستنبط کرنے کے لیے دوسری سرگرمی کے ضمن میں دی گئی حدیث کو پڑھنے کا حکم دیں اور باقی طلبہ کو دھیان سے سننے کے لئے کہیں۔ کوئی غلطی ہونے کی صورت میں صحیح جواب مستنبط کرنے کے لیے دوسرے طالب علم کا انتخاب کریں۔

سرگرمی نمبر : 3 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ نماز کے کچھ افعال کا حکم بیان کرنا۔

ہدف نمبر : 2

ہر گروہ کو آپسی تعاون سے تیسری سرگرمی کو انجام دینے اور اس میں وارد افعال کا حکم بتانے کی ہدایت دیں۔ ایک ایک فعل کو سامنے رکھتے جائيں اور ہر فعل کے بارے میں ہر گروہ کا جواب معلوم کرتے جائيں۔

سارے گروہوں کے جوابات کا موازنہ کریں اور سب سے زیادہ صحیح جواب دینے کی صلاحیت رکھنے والے گروہ کی نشان دہی کریں۔

فعل شرط رکن سنت واجب

کپڑوں کا پاک ہونا

ربنا و لك الحمد کہنا۔

سورہ فاتحہ پڑھنا

آمین کہنا

سجدے میں سبحان ربي الأعلى کہنا

سجدے کی جگہ پر نظر رکھنا :

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

طلبہ کو سوالات کے جواب ان کی کاپیوں میں لکھنے کا حکم دیں۔

طلبہ کی کاپیاں یک جا کر لیں، پھر ان سے زبانی طور پر سوالات کریں، تاکہ وہ انھیں حل کر لیں۔ ان کو مناسب مدد بھی فراہم کریں۔

کاپیوں کو درست کریں اور ہر سوال کا مناسب نمبر دیں۔

سب سے زیادہ نمبر لانے والے طالب علم کی نشان دہی کرنے کے ساتھ ساتھ اس کى مناسب حوصلہ ا‌فزائی کریں۔

سوال 1 : (نہيں) - (ہاں) - (ہاں) - (ہاں).

سوال 2 : (رکعت) - (رفع الیدین) - (صحیح)۔

* تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

طلبہ کو اس بات کی ترغیب دیں کہ وہ نماز کی سنتوں پر عمل کرتے ہوئے اور اسے باطل کر دینے والی چيزوں سے آگاہی کے ساتھ نماز کی پابندی کریں، اپنے اہل خانہ نیز آس پاس کے لوگوں کو ان سنتوں اور باطل کرنے والی چيزوں سے روشناس کرائيں اور اس کے لیے ان سنتوں اور باطل کرنے والی چیزوں پر مشتمل ایک فولڈر تیار کریں اور اسے علم کی زکاۃ کے طور پر لوگوں کے درمیان بانٹ دیں۔

آس پاس کے لوگوں کے یہاں نماز سے متعلق پائے جانے والے غلط رویوں کو درست کریں، ایسے لوگوں کو غلطیوں پر متنبہ کريں اور صاف ستھرے تربیتی انداز میں ان کو درست کرنے کا طریقہ بتائيں۔

پانچواں سبق : باجماعت نماز

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (الجماعة – الفذ – غدا – وَحُطَّ).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - ڈسپلے اسکرین - تعلیمی کارڈز - تعلیمی بورڈ)

تدریسی حکمت عملیاں :

(دریافت پر مبنی حکمت عملی - رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی - آموزشی دائروں پر مبنی حکمت عملی)۔

اقدار و رجحانات :

• باجماعت نماز پڑھنے کی اہمیت کا احساس پیدا کرنا۔

• باجماعت نماز پڑھنے کی کوشش کرنا۔

• درجات کی بلندی اور گناہوں کے مٹائے جانے کی خواہش رکھنا۔

سبق کی تمہید :

پچھلے اسباق میں جو باتیں (نماز کی شرطیں، ارکان، سنتیں اور اسے باطل کر دینے والی چيزیں) پڑھی جا چکی ہيں، ان کو دوبارہ ذہن کے پردے پر لانے اور انھیں موجودہ سبق سے جوڑنے کے لیے ایک طالب علم کا انتخاب کریں، بورڈ پر کتاب میں مذکور تصویر پیش کریں، اس پر نوٹ لکھیں، پچھلے اسباق میں پڑھی گئی باتوں اور موجود سبق میں پڑھی جانے والی متوقع باتوں کی شناخت کریں اور اس کے بعد طلبہ کو بتائيں کہ باجماعت نماز دخول جنت کا ایک عظیم ترین وسیلہ ہے اور آج کے سبق میں ہم اس کے کچھ آثار اور فضائل بیان کرنے جا رہے ہیں۔ بعد ازاں بلیک بورڈ پر عنوان لکھ دیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

معلم دریافت پر مبنی آموزشی حکمت عملی کی مدد سے طلبہ کے سامنے درج ذیل حدیث اور اس سے جڑا ہوا سوال رکھے :

”جو شخص صبح کے وقت یا شام کے وقت مسجد جاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ضیافت تیار کرتا ہے جب بھی وہ صبح یا شام کے وقت (مسجد) جاتاہے“۔ چنانچہ اس کے اہم احکام کیا ہیں؟

اس کے بعد اس سوال کے جواب سے متعلق اختیارات کا ایک مجموعہ پیش کرے۔ جیسے : (باجماعت نماز عاقل اور بالغ مرد پر واجب ہے، باجماعت نماز کے انعقاد کے لیے قلیل ترین تعداد امام کے ساتھ دو لوگ ہیں)۔ طلبہ کی جانب سے صحیح جواب کے انتخاب کے بعد معلم ان کے سامنے باجماعت نماز کے صحیح احکام بیان کرے۔

مرحلہ نمبر (2)

معلم چار تعلیمی کارڈز پیش کرے۔ ہر کارڈ میں باجماعت نماز کی ایک ایک فضیلت لکھی ہو۔ پھر طلبہ کو چار گروہوں میں بانٹ دے۔ ہر گروہ ایک ایک کارڈ پر غور کرے اور اس کے بعد وہ فضیلت بیان کرے، جو اس کارڈ میں لکھی ہو۔

مرحلہ نمبر (3)

آموزشی حلقوں پر مبنی حکمت عملی کی مدد سے معلم طلبہ کو حلقوں کی صورت میں بیٹھنے اور آپس میں باجماعت نماز کی فضیلت پر مناقشہ کرنے کی ہدایت کرے اور خود ان کی کارکردگیوں کو دھیان سے دیکھے۔

بعد ازاں ہر حلقے سے ایک ایک فرد کو اپنے دائرے کے مناقشے کا نچوڑ پیش کرنے کی ذمے دارى سونپے اور ان کے جوابات پر ان کے ساتھ مناقشہ کرے۔ پھر ان کے سامنے اس ثواب کی حقیقت واضح کرے۔ اخیر میں کچھ طلبہ کا انتخاب ساتھیوں کے سامنے اس حقیقت کا ذکر زبانی طور پر کرنے کے لیے کرے۔

نتیجہ نکالنا :

معلم طلبہ کے سامنے سبق کے عناصر کا ایک خالی رہ نما نقشہ رکھے۔ پھر ایک ایک طالب علم کا انتخاب اس نقشے میں شامل متوقع عناصر میں سے ایک ایک عنصر لکھنے اور اس کی تشریح کرنے کے لیے کرے۔ اگر کوئی طالب علم عنصر تک پہنچ نہ سکے، تو کتاب کے مشمولات کی جانب رجوع کر کے آگاہی حاصل کرے۔

سرگرمیاں

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ مسجد سے جڑے ہوئے ہونے کی فضیلت واضح کرنا۔

ہدف نمبر : 4

معلم طلبہ کے ہرگروہ کو آپسی تعاون سے سرگرمی انجام دینے کی ہدایت کرے اور حدیث اور سبق کے درمیان ربط اور فوائد بتانے کے سلسلے میں اپنی کاوشات پیش کرنے کے لیے ہر گروہ سے ایک ایک فرد کا انتخاب کرے۔

معلم گروہوں کی کارکردگیوں پر نوٹ لکھے اور تجزیہ و تدقیق کی سب سے زیادہ صلاحیت رکھنے والے گروہ کی نشان دہی کرے۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ باجماعت نماز پڑھنے کی کوشش کرنا۔

ہدف نمبر : 3، 4

ہر طالب علم کو سرگرمی پر مشتمل ایک ایک تعلیمی کارڈ دے دیں۔ جب وہ جواب دے دیں، تو کارڈ ان سے لے لیں اور انھیں درست کریں۔ پھر سب سے بہتر کارڈ کو چن کر اسے طلبہ کے سامنے رکھیں، تاکہ وہ صحیح جواب سے روشناس ہو جائيں۔

سرگرمی نمبر : 3 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ جماعت کے ساتھ نماز نہ پڑھنے کے اسباب سے آگاہی۔

ہدف نمبر : 4

طلبہ کے ہر گروہ کو آپسی تعاون سے تیسری سرگرمی انجام دینے کی ہدایت کریں اور اس بات کی یقین دہانی کے لیے کہ ہر گروہ کے افراد سرگرمی کی انجام دہی میں شریک ہو رہے ہیں، سبھی گروہوں پر نظر رکھیں۔ پھر گروہ کی کارکردگی پیش کرنے کے لیے ہر گروہ سے ایک ایک فرد کا انتخاب کریں۔ ساتھ ہی سبھی گروہوں کے درمیان موازنہ کریں، سب سے بہتر جواب دینے اور باجماعت نماز سے گریز کا علاج کرنے کی سب سے زیادہ صلاحیت رکھنے والے گروہ کی نشان دہی کريں اور طلبہ کو علاج کے ان طریقوں سے لوگوں کو روشناس کرنے اور ان کو معاشرے میں عام کرنے کی کوشش کرنے کی ترغیب دیں۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

سبق میں دیے گئے سوالات کو یکے بعد دیگرے طلبہ کے سامنے رکھیں۔

ہر سوال کا جواب دینے کے لیے چند طلبہ کا انتخاب کریں، ان کے جوابات کا استقبال کریں، ان کے درمیان موازنہ کریں اور ان کے ساتھیوں کو ان کے جوابات کا اندازۂ قدر کرنے کا موقع دیں۔

جواب دینے کا عمل پورا ہونے کے بعد طلبہ کو ان جوابات کو اپنی کتابوں میں لکھ لینے اور کسی بھی سوال میں پس و پیش جیسی حالت پیدا ہونے کی صورت میں آپ سے رجوع کرنے کی ہدایت کریں۔

سوال 1 : (X) - (✓) - (X) - (✓)

سوال 2 : بچہ - واجب - آدھی رات

* تربیتی و وجدانی تنبیہات :

بہتر یہ ہوگا کہ اس سبق میں جو کچھ پڑھا گیا ہے، اس کی روشنی میں طلبہ کی توجہ درج ذیل باتوں پر مرکوز کرائی جائے :

ہر طالب علم سبق میں وارد باجماعت نماز کی فضیلت پر دلالت کرنے والے شرعی نصوص کو دوبارہ پڑھے اور مختلف مصادر، جیسے دینی کتابوں، اہل دین اور الیکٹرانک مصادر وغیرہ کی جانب رجوع کر کے دوسری دلیلوں سے بھی واقفیت حاصل کرے، تاکہ اس طرح کے نصوص کا احاطہ کر لے اور ان کے توسط سے باجماعت نماز کی اہمیت محسوس کر سکے۔ بعد ازاں اپنے آس پاس کے لوگوں کو ان کو مضبوطی سے پکڑے رہنے اور ان پر عمل کرنے کے سلسلے میں رہ نمائیاں فراہم کریں۔ اس طرع معرفت عام ہو سکے گی۔

چھٹا سبق : نماز جمعہ

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (التَّطيُّب – مَسَّ الْحَصَى– لَغَا).

تعلیمی وسائل :

(آڈیو میڈیم - ڈسپلے اسکرین - تعلیمی بورڈ - تعلیمی کارڈز - بلیک بورڈ)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(تمہیدی مواد کی پیش کش پر مبنی حکمت عملی - دریافت پر مبنی حکمت عملی - مثبت اور منفی مثالوں کی پیش کش پر مبنی حکمت عملی)

۔

اقدار و رجحانات :

نماز کی عظمت کا خیال رکھنا۔

نماز جمعہ ادا کرنے کا حریص ہونا۔

جمعے کے دن کے آداب کو بجا لانا۔

سبق کی تمہید :

طلبہ کو ایک مسجد کی تصویر دکھائيں، جس میں بیٹھ کر لوگ جمعے کے دن کا خطبہ سن رہے ہوں۔ پھر ان سے پوچھیں کہ کیا آپ نے کبھی جمعے کے دن خطبہ دینے کے بارے میں سوچا ہے؟ان کا جواب حاصل کریں اور پھر ان کو سبق کے موضوع تک لے جائيں اور سبق کا عنوان بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

تمہیدی مواد کی پیش کش پر مبنی حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے طلبہ کے سامنے ڈسپلے اسکرین کے ذریعے سبق کے عناصر پر مشتمل ایک توضیحی شکل رکھیں اور اس کے بعد طلبہ کو اس پر غور کرنے اور ہر عنصر کے مشمولات کی توقع کرنے کے لئے کہیں۔

طلبہ کے ساتھ جمعہ کی نماز اور اس کے احکام کے بارے میں ان کے پاس موجود معلومات کے سلسلے میں بات کریں اور پوچھیں کہ کیا ان میں سے کسی نے جمعہ کا خطبہ دیا ہے؟ اگر دیا ہے تو کس موضوع پر بات کی ہے اور اس سے جڑے ہوئے شرعی احکام کا کتنا خیال رکھا ہے؟

مرحلہ نمبر (2)

دریافت پر مبنی آموزشی حکمت عملی کے توسط سے معلم طلبہ کے سامنے نیچے دیا گیا جملہ رکھے، پھر انھیں اس کا مدلول واضح کرنے کے لئے کہے اور ان کے ساتھ جمعہ کی نماز کے طریقے کے بارے میں بات کرے۔

(ایک نماز جسے ظہر کے وقت میں ادا کیا جاتا ہے، اس میں امام پہلے دو خطبے دیتا ہے اور اس کے بعد جہری قراءت کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھتا ہے)۔

مرحلہ نمبر (3)

مثبت اور منفی مثالوں کی پیش کش پر مبنی حکمت عملی کی مدد سے طلبہ کے سامنے یکے بعد دیگرے درج ذیل موقفوں کو رکھیں، انھیں ان موقفوں کے بارے میں اپنی رائے دینے اور سبق کی حاصل شدہ معلومات کی روشنی میں یہ بتانے کے لئے کہيں کہ یہ کس حد تک جائز ہيں؟

اسامہ جمعہ کی نماز مسجد میں نہيں پڑھتا۔ وہ دلیل یہ دیتا ہے کہ اس کا گھر مسجد کے پڑوس میں ہے اور وہ جمعہ کی نماز اپنے گھر میں ہی امام کے پیچھے پڑھ لے گا۔

ایک ساتھی کا خیال ہے کہ جمعہ کا دن سونے اور آرام کرنے کا دن ہے۔

خالد نے جمعہ کے دن غسل کیا، خوش بو لگائی اور نماز پڑھنے اور خطبہ میں شامل ہونے کے لیے اچھے کپڑے پہنے۔

احمد بیٹھ کر جمعہ کا خطبہ سن رہا تھا کہ پاس بیٹھے شخص نے اسے سلام کیا اور اس نے سلام کا جواب بھی دیا اور مصافحہ بھی کیا۔

نتیجہ نکالنا :

ہر طالب علم کو ایک تنظیمی نقشہ بنانے کا کام دیں، جس کے ذریعے وہ اس سبق سے سیکھے ہوئے نماز جمعہ کے احکام اور آداب بیان کرے۔ اس دوران آپ طلبہ کے آس پاس سے گزرتے رہيں، تاکہ ان کی کارکردگی دیکھ سکیں۔ پھر سب سے بہتر باریکی کے ساتھ اور واضح و پرکشش انداز میں بنائے گئے نقشے کا انتخاب کر کے اسے تمام طلبہ کے سامنے پیش کریں۔

سرگرمیاں

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ جمعہ کے آداب کی وضاحت۔

ہدف نمبر : 1

معلم طلبہ کو کچھ کارڈ دے، جن میں سے ہر کارڈ میں درج ذیل باتوں میں سے کوئی ایک بات لکھی ہو : (میں اس کی پابندی کرتا ہوں - میں اسے کبھی کبھی کرتا ہوں - میں آگے اسے کروں گا)۔ پھر سرگرمی کے ضمن میں دی گئی عبارتوں میں سے ہر عبارت کو یکے بعد دیگرے پڑھے اور طلبہ کو عبارت سے مناسبت رکھنے والا کارڈ اوپر اٹھانے کے لئے کہے۔ طلبہ کے جوابات سے آگاہ ہو، ان کا اندازۂ قدر کرے اور مناسبت نہ رکھنے والا جواب دینے والے کے ساتھ تبادلۂ خیال کرے اور صحیج جواب بتائے اور اس کی وجہ بتائے۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ جمعہ کا خطبہ دینے کے طریقے سے آگاہی۔

ہدف نمبر : 3

طلبہ کو ان کی کتابوں میں دی گئی سرگرمی کو پڑھنے کی ہدایت دیں اور ان کے سامنے سرگرمی کے بعد آنے والے سوالات رکھیں۔

ایک طالب علم کا انتخاب ہر سوال کا جواب دینے کے لیے کریں اور اس کے جوابات حاصل کریں۔ پھر طلبہ کے جوابات کے درمیان موازنہ کریں، تاکہ صحیح جواب تک پہنچا جا سکے۔ اخیر میں تمام طلبہ کو حکم دیں کہ ان جوابات کو اپنی کتابوں میں دی گئی جگہوں میں لکھ لیں۔

سرگرمی نمبر : 3 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ جمعہ کی نماز نہ پڑھنے کا نقصان بیان کرنا اور اس کا علاج معلوم کرنا۔

ہدف نمبر : 4، 5

بہتر یہ ہوگا کہ بلیک بورڈ پر سرگرمی کے ضمن میں دی گئی حدیث لکھ دیں، کسی طالب علم کو اسے پڑھنے کا حکم دیں، پھر اس کے ساتھ اس پر مناقشہ کریں، پھر ہر طالب علم کو الیکٹرانک مصادر کی جانب رجوع کر کے جمعہ کی نماز نہ پڑھنے کے نقصان اور اس سلسلے میں بعض نوجوانوں کے اندر پائی جانے والی سستی کے علاج کے سلسلے میں مزید معلومات حاصل کر کے اس سرگرمی کے بارے میں پوری جان کار جٹانے کی ہدایت دیں اور اگلی ملاقات میں طلبہ کی کاوشوں کا جائزہ لیں۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

پہلے اور دوسرے سوال کا جواب ہر طالب علم انفرادی طور پر دے۔ پھر معلم طلبہ کے سامنے صحیح جواب رکھے اور ہر طالب علم سے کہے کہ وہ اپنے جواب کو مناسب نمبر دے۔ اس کے بعد معلم طلبہ کے نمبرات اور ان سے سرزد ہونے والی غلطیوں سے آگاہ ہو۔

سوال 1 : () - () - ()

سوال 2 : جمعہ - غسل کرنا اور خوش بو لگانا - نبی ﷺ پر درود بھیجنا

ہر دو طلبہ ایک دوسرے کی مدد سے تیسرے اور چوتھے سوالوں کا جواب دیں اور ہر گروہ اپنا جواب دوسرے گروہ سے بدل لے، تاکہ دونوں کے جوابات کا اندازۂ قدر ہو سکے۔ پھر ہر گروہ نے دوسرے گروہ کے یہاں جو غلطیاں نکالی ہیں اور ان کو درست کرنے کا جو طریقہ اپنایا ہے، معلم اس سے واقف ہو اور غلط جواب دینے والے گروہوں کو غلطی کی تلافی کے ساتھ دوبارہ جواب دینے کی ہدایت دے۔

* تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق میں سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل طریقوں سے عمل میں لانے کی اہمیت پر توجہ دلائيں :

ہر طالب علم اپنے سماج کا جائزہ لے کہ اس میں نماز جمعہ کے احکام و آداب کا کتنا خیال رکھا جاتا ہے اور ان پر کتنا عمل کیا جاتا ہے؟ اس سلسلے میں کیا ہونا چاہیے، اس پر اپنی رائے دے اور اس مسئلے پر اپنے کنبے کے لوگوں کے ساتھ مناقشہ کرے۔

ساتواں سبق : نفل نماز

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات :

(صلاة التطوع – التطوع المطلق– صلاة الوتر – صلاة التراويح – صلاة الضحى).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - ڈسپلے اسکرین - تعلیمی کارڈز - تعلیمی بورڈ)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(برین اسٹورمنگ - رہ نما نقشے - تلخیص کرنا)۔

اقدار و رجحانات :

o نفل نماز کی اہمیت اور فضیلت کو ذہن نشین کرنا۔

o مسنون نمازیں پابندی کے ساتھ ادا کرنا۔

o نوافل کے ذریعے اللہ کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرنا۔

o ظاہری اور باطنی نافرمانیوں اور گناہوں سے اجتناب کرنا۔

o نفل نماز کی فضیلت محسوس کرنا۔

سبق کی تمہید :

سبق کی تمہید کے طور پر طلبہ کے سامنے درج ذیل حدیث رکھیں :

اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : "قیامت کے دن لوگوں کے جس عمل کا حساب سب سے پہلے ہونا ہے، وہ نماز ہے۔ ہمارا رب عز و جل، جو سب سے بہتر علم رکھتا ہے، اپنے فرشتوں سے کہے گا : میرے بندے کی نماز دیکھو۔ اس نے نماز پوری پڑھی ہے یا ناقص؟ اگر پوری ہوگی تو اس کے لیے پوری لکھی جائے گی اور اگر اس میں کچھ کمی ہوگی، تو فرمائے گا : دیکھو، کیا میرے بندے کے پاس کچھ نوافل بھی ہيں؟ اگر اس کے پاس نفل نمازیں ہوں گی، تو فرمائے گا : میرے بندے کی فرض نماز میں موجود کمی کو اس کی نفل نماز کے ذریعے پورا کر دو۔ پھر بقیہ اعمال کو بھی اسی نہج پر لیا جائے گا۔" (سنن ابوداؤد : 864، سنن ترمذی : 413)

اور انھیں اس حدیث سے نفل نماز کی اہمیت مستنبط کرنے کے لئے کہيں۔ پھر ان کے جوابات پر مناقشہ کریں اور ان کو سبق کے موضوع تک لے جائيں اور اس کے بعد بلیک بورڈ پر سبق کا عنوان لکھ دیں :

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

برین اسٹورمنگ پر مبنی حکمت عملی کی مدد سے معلم طلبہ کو نفل نماز کی تعریف کرنے اور اس کی قسمیں بیان کرنے کی ہدایت دے۔ پھر ان کے جوابات کا استقبال کرے اور اس کے بعد ان کے سامنے ان قسموں پر مشتمل ایک رہ نما نقشہ رکھے، تاکہ طلبہ ان پر غور کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے جوابات اور پیش کردہ عناصر کے درمیان موازنہ کریں۔

مرحلہ نمبر (2)

معلم طلبہ کو سبق کے مشمولات پر سرسری نظر ڈالنے اور اس کے عناصر سے آگاہ ہونے کی ہدایت دے۔

پھر ہر دو طالب علم کو ایک دوسرے کی مدد سے سبق کے عناصر و افکار سے جڑے ہوئے سوالات پیش کرنے کی ذمے داری سونپے، جن کے جوابات کے توسط سے طلبہ کو سمجھنے میں ہو رہی دشواریاں ختم ہو جانے کى قوى امید ہے۔ معلم طلبہ کے سوالات سے آگاہ ہو اور ان کو بلیک بورڈ پر لکھ دے۔

مرحلہ نمبر (3)

معلم طلبہ کے سوالات کی نوک پلک درست کرے اور کچھ اضافی سوالات کے ذریعے ان کی معنویت کو دوچند کر دے، تاکہ سبق کے سارے عناصر کا استیعاب ہو جائے۔

پھر طلبہ کے ساتھ مل کر ان کی وضاحت اور ان کے بارے میں تبادلۂ خیال کرے اور بیچ بیچ میں ان پر دلالت کرنے والے شرعی نصوص پیش کرتا جائے۔ ان میں سے کچھ سوالات اس طرح ہو سکتے ہيں :

سوال : وتر کی نماز سے کیا مراد ہے؟

سوال : سنن رواتب سے کیا مراد ہے؟

سوال : مؤکدہ سنن رواتب کتنی رکعتیں ہیں؟

سوال : عصر کی نماز سے پہلے چار رکعت، مغرب سے پہلے دو رکعت اور عشا سے پہلے دو رکعت۔ ان رکعات کو کیا کہا جاتا ہے؟

سوال : تراویح کی نماز کب پڑھی جاتی ہے؟ اس کا حکم کیا ہے؟ اس کا طریقہ کیا ہے؟

سوال : مطلق تطوع کے کیا معنی ہيں؟

مرحلہ نمبر (4)

معلم بلیک بورڈ پر درج ذیل دونوں عبارتیں لکھے :

(یہ ایک نفل نماز ہے، جو سورج بلند ہونے کے بعد پڑھی جاتی ہے - سورج طلوع ہونے کے کچھ منٹ بعد پڑھی جاتی ہے)۔

(یہ ایک نماز ہے، جس کے ذریعے ایک مسلمان اللہ تعالی سے کسی ایسے کام میں خیر رکھنے کی دعا کرتا ہے، جس کے بارے میں اسے پتہ نہيں ہوتا کہ وہ کام اس کے حق میں اچھا ثابت ہوگا یا برا؟)

معلم طلبہ کو دونوں عبارتوں کا مقصود بیان کرنے کے لئے کہے اور ان کی جانب سے دیے گئے جوابات پر تبادلۂ خیال کرتے ہوئے صحیح جواب واضح کرے اور ان سے جڑے ہوئے شرعی نصوص پیش کرے۔

نتیجہ نکالنا :

معلم طلبہ کو سبق سے حاصل شدہ اہم رہ نمائیوں پر مشتمل ایک پیراگراف لکھنے کی ہدایت دے۔

معلم کچھ طلبہ کا انتخاب ان کی تحریريں طلبہ کو پڑھ کر سنانے کے لیے کرے اور ان کو مناسب تعاون فراہم کرے۔

سرگرمیاں :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ نفل نماز کی مشروعیت کی حکمت بیان کرنا۔

ہدف نمبر : 5

طلبہ کو پہلی سرگرمی کے ضمن میں وارد حدیث کو غور سے سننے کی ہدایت دیں، دو طلبہ کا انتخاب اسے ساتھیوں کو پڑھ کر سنانے کے لیے کریں، ان کے ساتھ اس کے معنی و مفہوم پر مناقشہ کریں، ہر طالب علم کو سرگرمی کے دونوں سوالات کا جواب دینے کے لئے کہیں اور بہتر جواب دینے والے کی عزت افزائی کریں۔

فرض نمازوں میں رہ جانے والی کمیوں کو پورا کرنا۔

انسان کی فرض نمازوں میں کمیاں اور کوتاہیاں رہ ہی جاتی ہیں۔ ایسے میں اللہ کی رحمت کا ایک مظہر یہ ہے کہ اس نے بندے کے لیے اس کمی کو پورا کرنے کا ایک راستہ مشروع کیا ہے۔ وہ راستہ نفل نماز کا راستہ ہے۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ نفل نماز چھوڑنے کے منفی نتائج معلوم کرنا۔

ہدف نمبر : 6

طلبہ کو سرگرمی کے ضمن میں دی گئی عبارت پڑھ کر سنائيں اور کسی بہتر عبارت خوانی کرنے والے طالب علم کو اسے پڑھنے کا حکم دیں اور پھر ان کے ساتھ مل کر اس کے مفرد کلمات کی تشریح و توضیح کریں، تاکہ اس کی رہ نمائیاں حاصل کی جا سکیں۔

سرگرمی کے ضمن میں دیے گئے سوال کو لیں، طلبہ کے ساتھ اس کے جواب پر مناقشہ کریں، تاکہ ان کو صحیح جواب سے روشناس کیا جا سکے اور تمام طلبہ کو حکم دیں کہ اسے اپنی کتاب میں لکھ لیں۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

سبق میں دیے گئے سوالات کو یکے بعد دیگرے طلبہ کے سامنے رکھیں۔

پہلے اور دوسرے سوال کا جواب دینے کے لیے کچھ طلبہ کا انتخاب کریں، ان کے جوابات حاصل کریں، ان کے درمیان موازنہ کریں اور ساتھی طلبہ کو ان کے جوابات کا اندازۂ قدر کرنے کا موقع دیں۔

سوال 1 : (✖) - (✓) - (X) - (✓)

سوال 2 : سنت مؤکدہ - آٹھ رکعت - گیارہ رکعت

طلبہ جواب دے کر فارغ ہو جائيں، تو انھیں جواب کو اپنی کتابوں میں لکھ لینے اور کسی سوال میں پس و پیش کی حالت پیدا ہونے کی صورت میں آپ کی جانب رجوع ہونے کی ہدایت دیں۔

ہر گروہ کو آپسی تعاون سے تیسرے اور چوتھے سوالوں کا جواب دینے کا کام سونپیں، سبھی گروہوں کے جوابات یک جا کریں، ان کا اندازۂ قدر کریں، سب سے بہتر جواب دینے والے گروہ کی نشان دہی کریں اور اس کے بعد اس کے کسی فرد سے کہيں کہ ساتھیوں کو صحیح جواب پڑھ کر سنائے، تاکہ غلط جواب دینے والے گروہ اپنے جوابات کی اصلاح کر لیں۔

* تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

طلبہ کی اس بات کے لیے حوصلہ افزائی کریں کہ وہ نفل نماز پڑھیں اور اپنے آس پاس کے لوگوں کو نفل نماز اور اس کی قسموں سے متعلق احکام و مسائل سے روشناس کرائيں۔

آٹھواں سبق : زکاۃ

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات :

(الزَّكاة – الحول – النِّصاب – بهيمة الأنعام – الوسق – صاع – المؤلَّفة قلوبهم – في الرِّقاب – الغارمين – ابن السَّبيل – صدقة التَّطوُّع).

تعلیمی وسائل :

(ایک آڈیو میڈیم جس میں سبق میں وارد قرآن کی کچھ آیتیں ریکارڈ ہوں - تعلیمی بورڈ - بلیک بورڈ - کچھ اناج اور پھل جیسے گیہوں، جو، چاول، کھجور اور کشمش - کچھ تعلیمی تصویریں)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(دریافت پر مبنی حکمت عملی - بیانیہ تمہید - پیش گوئی پر مبنی حکمت عملی)۔

اقدار و رجحانات :

• اس بات پر فخر کہ اسلام نے زکاۃ کے مستحق لوگوں کا خیال رکھا ہے۔

• نفل صدقے کی فضیلت کو سامنے لانا اور نفل صدقہ نکالنے کا حریص ہونا۔

• مال کی زکاۃ وقت پر ادا کرنے کا حریص ہونا۔

٭ سبق کی تمہید :

بلیک بورڈ پر درج ذیل عبارت لکھیں :

(یہ اسلام کا تیسرا رکن ہے۔ یہ اس شخص پر واجب ہے، جو شریعت کی جانب سے متعین کردہ مال کا مالک ہو۔)

طلبہ نے مذکورہ عبارت سے جو کچھ سمجھا، اس کی روشنی میں انھیں سبق کے عنوان اور اس کے عناصر کا اندازہ لگانے کے لئے کہیں۔ ان کے جوابات حاصل کریں۔ ان کو مناسب تعاون فراہم کریں اور اس کے بعد بلیک بورڈ پر عنوان لکھ دیں۔

٭ سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

اجتماعی مناقشے کی حکمت کو بروئے کار لاتے ہوئے طلبہ کے ساتھ زکاۃ کے حکم اور اسلام میں اس کے مقام و مرتبہ پر مناقشہ کریں۔ طلبہ کو اپنی بات رکھنے کا موقع دیں اور ان کو اپنا تعاون دیں اور ان کى حوصلہ افزائی کریں۔

مرحلہ نمبر (2)

طلبہ کے سامنے زکاۃ کی مشروعیت کی حکمتوں پر مشتمل ایک بورڈ رکھیں اور نتیجہ اخذ کرنے کی حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے ان کے ساتھ زکاۃ کے نظام کو نافذ کرنے کے مثبت نتائج اور سماج پر پڑنے والے اس کے اثرات کے بارے میں مناقشہ کریں۔

پھر ان کے سامنے کتاب میں دیے گئے پیراگراف کو رکھیں، تاکہ اہم نکات کو نکال سکیں۔

مرحلہ نمبر (3)

طلبہ کو آڈیو میڈیم کے توسط سے درج ذیل آیت سننے کی ہدایت دیں، اس میں آئے مشکل کلمات کے بارے میں ان کے ساتھ مناقشہ کریں اور ان کے سامنے زکاۃ کے حق دار لوگوں کی اسی طرح تشریح کریں، جس طرح اللہ تعالی کے اس قول میں ان کا ذکر آیا ہوا ہے۔ (صدقے صرف فقیروں کے لئے ہیں اور مسکینوں کے لئے اور ان کے وصول کرنے والوں کے لئے اور ان کے لئے جن کے دل پرچائے جاتے ہوں اور گردن چھڑانے میں اور قرض داروں کے لئے اور اللہ کی راه میں اور راہرو مسافروں کے لئے، فرض ہے اللہ کی طرف سے، اور اللہ علم وحکمت واﻻ ہے۔) (سورہ توبہ : 60)

٭ نتیجہ نکالنا :

طلبہ کے کچھ جوڑے بنائيں اور اس بات کا حکم دیں کہ جوڑے میں شامل ہر طالب علم اپنے ساتھی کے سامنے سبق کے مشمولات سے متعلق ایک سوال کرے، پھر دونوں ایک دوسرے کا جواب حاصل کریں اور اسے اندازۂ قدر کے مرحلے سے گزاریں۔ یہ سب کچھ آپ کی نگرانی میں ہو اور آپ ان کی کارکردگیوں کو دھیان سے دیکھیں۔ ساتھی طلبہ بھی ان کے جوابات دھیان سے سنیں۔

سرگرمیاں

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ شرعی نصوص سے زکاۃ کے وہ احکام اخذ کرنا، جن پر وہ دلالت کرتے ہیں۔

ہدف نمبر : 1، 3

سرگرمی کے ضمن میں دیے گئے فوائد میں سے ہر فائدے کو دو دو کارڈوں میں لکھیں اور انھیں کسی ترتیب کا خیال رکھے بغیر طلبہ کے درمیان تقسیم کر دیں۔ پھر یکے بعد دیگرے ان فوائد کا ذکر کرتے جائيں، ہر فائدے سے وابستہ کارڈ رکھنے والے دونوں طلبہ کے جوابات حاصل کرتے جائيں، جوابات کا اندازۂ قدر کرتے جائيں اور ساتھی طلبہ کو ان کا اندازۂ قدر کرنے اور انھیں کتابوں میں دیے گئے جدول میں درج کرنے کا موقع دیتے رہيں۔

فوائد ان پر دلالت کرنے والی آیتوں کے ٹکڑے۔

خرچ کرنے کے اجر و ثواب کو بڑھایا جانا : (ایک دانے کی مثال کی طرح ہے، جس نے سات بالیاں اگائيں، ہر بالی میں سو دانے ہيں۔)

اللہ کے راستے میں خرچ کرنے والوں کی صفات : (پھر انھوں نے جو خرچ کیا، اس کے بعد نہ کسی طرح کا احسان جتلاتے ہیں اور نہ کوئی اذیت دیتے ہيں۔)

قیامت کے دن خرچ کرنے والوں کا مقام و مرتبہ : (ان کے لیے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور انھیں نہ کوئی ڈر ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔)

سرگرمی نمبر : 3 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ فقہی مسائل کے اندر پنہاں حکمت معلوم کرنے کی مشق کرانا۔

ہدف نمبر 5

ساتھیوں کو سرگرمی پڑھ کر سنانے کے لیے ایک طالب علم کا انتخاب کریں، پھر اس پر ان کے ساتھ مناقشہ کریں اور ہر طالب کو اس بات کا اندازہ لگانے کی ہدایت دیں کہ اگر اسلام نے مال داروں کو زکاۃ نکالنے کا حکم نہ دیا ہوتا، تو` اسلامی معاشرے کا کیا حال ہوتا؟

ہر طالب علم کو ہدایت کریں کہ وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ تیسری سرگرمی کے ضمن میں وارد مسائل پر مناقشہ کرے۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ طلبہ کو اندازہ لگانے کی مشق کرانا۔

ہدف نمبر : 2

اگلی ملاقات میں یہ جاننے کی کوشش کریں کہ طلبہ نے سرگرمی کے بارے میں کیا کام کیا ہے اور اپنے اہل خانہ کے ساتھ مل کر کن باتوں تک پہنچے ہیں؟

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

طلبہ کو تین تین افراد پر مشتمل گروہوں میں تقسیم کر دیں اور ہر گروہ کو آپسی تعاون سے کتاب میں دیے گئے سوالات کا جواب دینے کے لئے کہيں۔ کوشش یہ رہے کہ گروہ میں شامل ہر طالب ایک سوال کا جواب دے اور باقی دونوں ساتھی اسے دھیان سے دیکھیں اور رہنمائی کریں۔

طلبہ کے دو گروہوں کا انتخاب اپنا جواب پیش کرنے کے لیے کریں اور باقی گروہ ان کے جوابات کا اندازۂ قدر کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات کی نشان دہی کریں کہ وہ ان کے ساتھ کس حد تک موافقت اور کس حد تک اختلاف رکھتے ہيں۔

ہر جواب کے لیے مناسب نمبر متعین کر دیں اور اس بات کی ہدایت کریں کہ ہر گروہ خود کو مناسب نمبر دے۔ اخیر میں سب سے زیادہ نمبر لانے والے گروہ کی نشان دہی کریں اور اس میں شامل افراد کی مناسب حوصلہ افزائی کریں۔

سوال 1 : (✓) - (✓) - (×) - (×)

سوال 2 : زکاۃ کی حکمت - فرض عین - قرض ادا کرنے کی طاقت نہ رکھنے والا شخص۔

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

طلبہ کو مال کی زکاۃ ادا کرنے پر توجہ دینے کی ترغیب دیں، کیوں کہ مستحقین کی دیکھ بھال میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔ اسی طرح نفل صدقات نکالنے کے زیادہ سے زیادہ طریقے جاننے کی کوشش کرنے پر ابھاریں، تاکہ اس کی فضیلت حاصل کی جا سکے۔

آس پاس کے لوگوں کو سبق میں مذکور معلومات سے روشناس کرنے کی کوشش کی جائے، تاکہ زکاۃ کی صحیح ادائیگی ممکن ہو سکے اور اس میں کوئی کمی نہ رہنے پائے۔

نواں سبق : روزہ

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (احتسابًا – المني – القيء – الاحتجام).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - تعلیمی کارڈز - تعلیمی بورڈز - ریکارڈنگ ڈیوائس)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(باہمی تعاون پر مبنی آموزش - برین اسٹورمنگ)۔

اقدار و رجحانات :

روزے کی اہمیت اور فضیلت معلوم کرنا۔

رمضان اور اس میں عبادت کرنے کی عظمت کا شعور۔

ماہ رمضان کی عبادتیں ادا کرنے کا حریص ہونا۔

سبق کی تمہید :

بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو کسی ریکارڈنگ ڈیوائس کے توسط سے اللہ تعالی کا یہ قول سننے کا حکم دیں: (ماه رمضان وه مہینہ ہے، جس میں قرآن اتارا گیا، جو لوگوں کو ہدایت کرنے واﻻ ہے اور جس میں ہدایت کی اور حق و باطل کی تمیز کی نشانیاں ہیں۔ تم میں سے جو شخص اس مہینہ کو پائے اسے روزه رکھنا چاہیے۔ ہاں جو بیمار ہو یا مسافر ہو، اسے دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا اراده تمہارے ساتھ آسانی کا ہے، سختی کا نہیں۔ وه چاہتا ہے کہ تم گنتی پوری کرلو اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی بڑائیاں بیان کرو اور اس کا شکر کرو۔) (سورہ بقرہ : 185)

پھر کچھ طلبہ کا انتخاب اس کی قراءت کے لیے کریں، پھر طلبہ کے ساتھ اس کے معنی پر مناقشہ کریں اور پھر ان کو سبق کے موضوع تک لے جائيں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

طلبہ کو مقررہ کتاب کھولنے کا حکم دیں، پھر کسی طالب علم کا انتخاب بلند آواز میں سبق کی قراءت کے لیے کریں، پھر ان سے کہيں کہ سبق کے ان عناصر کو قلم بند کریں، جن کی وضاحت کی ان کو ضرورت ہے۔

مرحلہ نمبر (2)

برین اسٹورمنگ کی حکمت عملی کو بروئے کار لائیں، طلبہ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیں اور ہر گروہ کو روزے کی فضیلت اور اس کی شرطوں کی نشان دہی کرنے کا کام دیں۔

ہر گروہ اپنی کاوش کو بلیک بورڈ پر لکھ دے، تاکہ ان کاوشوں کے درمیان موازنہ کیا جا سکے۔ پھر صحیح جوابات اور ان سے جڑے ہوئے دلائل پیش کیے جائيں۔

مرحلہ نمبر(3)

باہمی تعاون پر مبنی آموزشی حکمت عملی کو بروئے کار لائيں، طلبہ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیں اور ہر گروہ کو روزے کی سنتیں اور اسے باطل کر دینے والی چيزیں تلاش کرنے کا حکم دیں۔

پھر ہر گروہ اپنے کسی ایک فرد کا انتخاب اپنی کاوش کو سامنے رکھنے اور اسے اندازۂ قدر کے مرحلے سے گزارنے کے لیے کرے۔

نتیجہ نکالنا :

طلبہ کو اس بات کا حکم دیں کہ ہر طالب علم سبق کے سلسلے میں اپنے ملاحظات تحریر کرے، جو سبق کے بنیادی افکار اور اس سے سیکھی ہوئی باتوں پر مشتمل ہوں۔

کچھ طلبہ کو اپنی تحریریں پیش کرنے کے لئے کہیں اور اس میں موجود غلطیوں کو درست کر دیں۔

پھر کسی ایک طالب علم کو سبق کا خلاصہ زبانی پیش کرنے کے لئے کہیں اور اس کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

سرگرمیاں

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ ماہ رمضان میں کیے جانے والے نیکی کے کام مستنبط کرنا۔

ہدف نمبر : 4، 5

طلبہ کے ہر گروہ کو آپسی تعاون سے جدول کو بھرنے کی ہدایت دیں اور ہر گروہ سے ایک فرد کو ساتھی طلبہ کی جانب منہ کر کے کھڑے ہو جانے کی ہدایت دیں۔ اس کے بعد معلم جدول میں دیے گئے نصوص میں سے ہر نص کو سامنے رکھے اور ہر گروہ کا نمائندہ اس کا جواب دے۔ اخیر میں سبھی گروہوں کی کارکردگی کا موازنہ کریں اور حقیقت کی سب سے درست وضاحت اور تجزیہ کرنے والے گروہ کی نشان دہی کریں۔

سرگرمی 1 :

عمل

زیادہ سے زیادہ صدقہ کرنا۔

قرآن پڑھنا۔

قیام اللیل

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ روزہ باطل کرنے اور نہ کرنے والی چیزوں کے درمیان فرق کرنا۔

ہدف نمبر : 3، 4

طلبہ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیں اور ہر گروہ کو آپسی تعاون سے سرگرمی کا جواب دینے کی ہدایت کریں۔ سارے گروہوں کے جوابات دیکھیں اور سب سے بہتر جواب دینے والے گروہ کی مناسب حوصلہ افزائی کریں۔

فعل اس کے روزے کا حکم اس پر کیا واجب ہے۔

ایک شخص نے ماہ رمضان میں دن میں بھول کر جوس پی لیا۔

ایک شخص نے رگ میں غذا کا کام کرنے والا انجیکشن لگوایا۔

ایک شخص نے جانچ کے لیے تھوڑا سا خون نکلوایا۔

سرگرمی نمبر : 3 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ رمضان مہینے میں سرزد بری عادتوں کی ایک فہرست تیار کرنا۔ ہدف نمبر : 5

ہر طالب علم کو کچھ دوستوں کی جانب سے اپنے معاملات میں سرزد ہونے والی غلطیوں کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کی خاطر الیکٹرانک مصادر کی جانب رجوع کے توسط سے سرگرمی کے بارے میں پوری جان کاری حاصل کرنے کی ہدایت دیں اور اگلی ملاقات میں ان کی کارکردگی اور ان کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کو دیکھیں۔

اندازۂ قدر :

سبق کے مقاصد کی تکمیل کے لیے آپ درج ذیل اقدامات کر سکتے ہیں :

ایک تجویز یہ ہے کہ آپ سوالات کو یکے بعد دیگرے بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔

آس پاس بیٹھے ہوئے ہر دو طلبہ کو ایک دوسرے کی مدد سے سوالوں کا جواب دینے کے لئے کہیں۔

کسی ترتیب کا خیال رکھے بغیر کچھ طلبہ کا انتخاب باقی ساتھیوں کے سامنے ان کا جواب رکھنے کے لیے کریں۔

غلط جواب دینے والے کو سبق کے مشمولات کو دوبارہ پڑھنے اور وہاں سے صحیح جواب ڈھونڈ کر نکالنے کا حکم دیں۔

سوال 1 : نیت - سنگی لگوانا - کچھ تازہ کھجوریں کھاکر افطار کرنا

* تربیتی و وجدانی تنبیہات :

- طلبہ کو ماہ رمضان میں اور بطور خاص آخری عشرے میں زیادہ سے زیادہ عبادت کرنے اور لیلۃ القدر میں قیام کی ترغیب دی جائے، کیوں کہ لیلۃ القدر میں قیام کرنا ہزار مہینے کی عبادت سے بہتر ہے۔

دسواں سبق : حج

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (الفسوق – المحرم – الاستطاعة).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - تعلیمی کارڈز - تعلیمی بورڈز)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(باہمی تعاون پر مبنی آموزش - "میں جانتا ہوں - میں جاننا چاہتا ہوں - میں نے سیکھا" - برین اسٹورمنگ)۔

اقدار و رجحانات :

• حج و عمرہ کی عظمت کا احساس پیدا کرنا۔

• اسلام کی رواداری اور اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر رحمت کا احساس۔

• صاحب استطاعت افراد کو جلدی حج ادا کرنے کی ترغیب دلانا۔

سبق کی تمہید :

طلبہ کو خانۂ کعبہ کی تصویر دکھائيں اور ان سے پوچھیں کہ وہ اس کے بارے میں اپنے اندر کس طرح کے جذبات پا رہے ہیں؟ ان کے جوابات حاصل کریں، پھر انھیں سبق کے موضوع تک لے جائيں اور پھر بلیک بورڈ پر عنوان لکھ دیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

طلبہ کو خاموشی سے سبق پڑھنے کا حکم دیں۔ پیش نظر یہ ہو کہ وہ سبق کے بنیادی افکار سے آگاہ ہو جائيں۔

ہر پیراگراف کی قراءت کے بعد اس کی وضاحت اور اس میں آئے ہوئے مفرد کلمات کی تشریح کی جائے۔

مرحلہ نمبر (2)

آپ (میں جانتا ہوں - میں جاننا چاہتا ہوں- میں نے سیکھا) کی حکمت عملی کو بروئے کار لائيں۔

ہر طالب علم سے اپنی کاپی کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کہیں۔

پہلے حصے مں اسلام میں حج کا حکم اور اس کی فضیلت لکھے۔

دوسرے حصے میں یہ لکھے کہ وہ حج کی شرطوں کے بارے میں کیا جاننا چاہتا ہے؟

تیسرے حصے کا عنوان یہ ہو : حج کى سیکھی ہوئى شرطیں۔

تحریر شدہ باتوں کو بیان کرنے کے لیے کچھ طلبہ کا انتخاب کریں اور ان کی بیان کی ہوئی کچھ باتوں کو بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔

مرحلہ نمبر(3)

باہمی تعاون پر مبنی آموزش کی حکمت عملی کو بروئے کار لائیں اور طلبہ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیں۔

ہر گروہ کو حج کے ارکان کی وضاحت کرنے کا کام سونپیں۔

ہر گروہ سے ایک ایک فرد کا انتخاب ان کی کارکردگی کی پیش کش کے لیے کریں اور اس کے لیے ان کو مناسب تعاون فراہم کریں۔

نتیجہ نکالنا :

برین اسٹورمنگ کی حکمت عملی بروئے کار لائيں، طلبہ کو ایک دوسرے کی مدد سے اہم نتائج اخذ کرنے کا حکم دیں اور پھر انھیں بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔ کچھ اہم ترین نتائج اس طرح ہيں :

حج اسلام کا پانچواں رکن ہے۔ حج ہر صاحب استطاعت مکلف شخص پر عمر میں ایک بار فرض ہے۔

حج بڑے ثواب کا کام ہے۔ اللہ کے یہاں اس کا بڑا اجر ہے, چناںچہ حج کے فضائل میں سے ہے کہ اس سے فقر و فاقہ دور ہوتا ہے، گناہوں کی مغفرت ہوتی ہے اور جنت میں داخلہ نصیب ہوتا ہے۔

حج کی مشروعیت کے پیچھے جو حکمتیں پنہاں ہیں ان میں اللہ کے سامنے تذلل کا اظہار اور دنیا سے کنارہ کشى کو اختیار کرنا شامل ہیں۔

حج فتح مکہ سے ایک سال بعد سنہ 9ھ میں فرض ہوا۔

حج کے فرض ہونے کے لیے بالغ ہونا، عاقل ہونا، استطاعت رکھنا اور عورت کے لیے محرم موجود ہونا جیسی چیزیں شرط ہيں۔

حج احرام کے ساتھ مخصوص طریقے سے دس ذی الحجہ کی رات کو عرفہ میں رکنے، خانۂ کعبہ کا سات بار طواف کرنے اور صفا مروہ کے درمیان سات بار سعى کرنے کا نام ہے۔

سرگرمیاں

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ حج کی شرطوں کی وضاحت۔

ہدف نمبر : 3

طلبہ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیں اور پھر انھیں حلقوں کی شکل میں بیٹھنے کے لئے کہیں۔ ہر حلقہ باہمى تعاون سے پہلی سرگرمی کا جواب دے۔ پھر ہر حلقہ اپنے کسی ایک فرد کا انتخاب اپنی کارکردگی پیش کرنے کے لیے کرے۔ جن باتوں پر تمام طلبہ کا اتفاق ہو، انھیں کسی ایک طالب علم کے ذریعے بلیک بورڈ پر لکھ دیا جائے اور جن باتوں میں اختلاف واقع ہو جائے، ان کے بارے میں آپ کے سامنے اور آپ کی نگرانی میں مناقشہ ہو، تاکہ درست نکتے تک پہنچنے کے بعد اسے بلیک بورڈ پر لکھ دیا جائے۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ صاحب استطاعت افراد کو حج کی ترغیب دینا۔

ہدف نمبر : 5

معلم ڈسپلے اسکرین کے توسط سے دوسری سرگرمی کے ضمن میں وارد دونوں حدیثیں پیش کرے، پھر کچھ طلبہ کا انتخاب ان کی خواندگی کے لیے کرے اور پھر ان کے معنی و مقصود کے بارے میں ان کے ساتھ مناقشہ کرے۔

پھر معلم ہر طالب علم کو سرگرمی میں مطلوبہ پیغام لکھنے اور ایک خارجی کارڈ میں اپنا جواب لکھنے کی ہدایت دے۔ پھر آپ کارڈوں کو جمع کر لیں، ان کو اندازۂ قدر کے مرحلے سے گزاریں، دقیق ترین جواب کی نشان دہی کریں اور اسے تحریر کرنے والے طالب علم کی حوصلہ افزائی کریں۔

سرگرمی نمبر : 3 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ ایسے اعمال کا بیان جن کا ثواب حج و عمرہ کے ثواب کے مثل ہے۔

ہدف نمبر : 4

ہر طالب علم کو سرگرمی پر مشتمل ایک ایک تعلیمی کارڈ دے دیں اور جب طلبہ جواب دینے سے فارغ ہو جائيں، تو جوابات جمع کر لیں، ان کو درست کریں اور اس کے بعد سب سے بہتر جواب کا انتخاب کر کے اسے طلبہ کو دکھائيں۔

اندازۂ قدر

مقاصد درس کی تکمیل کے لیے آپ درج ذیل اقدامات کر سکتے ہیں :

طلبہ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیں اور ہر گروہ کو ساتھ مل کر سوالات حل کرنے کے لئے کہيں۔

اس دوران طلبہ کے آس پاس سے گزرتے رہيں، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ طلبہ ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں۔

ہر گروہ کو یہ ذمے داری سونپیں کہ وہ اپنے کسی ایک فرد کا انتخاب اپنا جواب پیش کرنے کے لیے کرے اور اسے اندازۂ قدر کے مرحلے سے گزارا جائے۔

سوال 1 : (✓) - (×) - (×)

سوال 2 : (گناہوں کی مغفرت) - (صحیح ہے، لیکن کافی نہیں ہے) - (محرم) - (اپنے وطن واپس ہونا)

* تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

لوگوں کو فریضۂ حج ادا کرنے کی ترغیب دینے کے لیے سبق میں سیکھے گئے ذرائع اور طریقوں کو فعال کیا جائے اور اس کے لیے مساجد اور مبلغین کے کردار کو مؤثر بنایا جائے۔ طلبہ ایک دوسرے کی مدد سے لوگوں کو اس فریضے کی فضیلت سے آگاہ کرنے کے لیے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس اور انٹرنیٹ پر خیالات اور نظریات پیش کریں اور رہنمائی کے الفاظ لکھیں۔

اکائی : آداب و اخلاق

پہلا سبق : حسن اخلاق

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات :

(حُسن الْخُلق – صَالِح الْأَخْلَاقِ – الْفَاحِش الْبَذِيء – تَدَابَرُوا).

تعلیمی وسائل

(بلیک بورڈ -کمپیوٹر ڈیوا‎ئس - تعلیمی بورڈ - تعلیمی کارڈ)

تدریسی حکمت عملیاں :

(رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی - خود سے سوال پر مبنی حکمت عملی - موازنہ پر مبنی حکمت عملی)

اقدار و رجحانات :

• حسن اخلاق کی اہمیت کا اندازہ لگانا۔

• یہ عقیدہ رکھنا کہ ایمان کے کامل ثبوت کے لیے بندوں کے ساتھ حسن اخلاق کا مظاہرہ ضروری ہے۔

• فرد اور معاشرے پر حسن اخلاق کے عظیم اثر کا احساس دلانا۔

• حسن اخلاق کے مظاہر کو عملی جامہ پہنانے کا حرص رکھنا۔

سبق کی تمہید :

طلبہ کو بتائيں کہ حسن اخلاق کے معاملے میں ہمارے نبی محمد ﷺ ہمارے لیے اسوہ اور نمونہ ہیں اور آپ ﷺ نے یہ کہہ کر ہمیں بھی لوگوں کے ساتھ حسن اخلاق کے التزام کی ترغیب دی ہے : "لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو۔" (سنن ترمذی : 1987) ان تمام باتوں پر ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں، اس طرح ان کو سبق کے موضوع تک لے جائيں اور بلیک بورڈ پر درس کا عنوان لکھ دیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے طلبہ کو ان باتوں کی ایک ذہنی تصویر عطا کريں، جو اس سبق میں سکھائی جانے والی ہیں۔

اس رہ نما نقشے میں سبق کے عناصر اور اس کا بنیادی عنوان (حسن خلق) لکھیں۔ اور وہ حسن خلق کے معنی، فضائل، ایمان اور حسن خلق کے رشتے، حسن خلق کے کچھ مظاہر اوردخول جنت کے ساتھ حسن خلق کے تعلق پر مشتمل ہو۔

مرحلہ نمبر (2)

خود سوالی پر مبنی حکمت عملی کے توسط سے معلم ہر دو طلبہ کو ایک دوسرے کی مدد سے ایسے سوالات پیش کرنے کی ہدایت دے، جن کا جواب وہ سبق کے مشمولات سے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

سوالات کو جمع کریں اور انھیں ایک بورڈ میں لکھ کر طلبہ کے سامنے لٹکا دیں۔

پھر ان سوالات کو کچھ اضافی سوالات کے ذریعے ثمر آور بنا دیں۔

حسن خلق سے کیا مراد ہے؟

اسلام میں حسن خلق کی اہمیت بیان کریں۔

ایمان اور حسن اخلاق کا تعلق واضح کریں۔

حسن اخلاق کے کچھ مظاہر گنوائيں۔

مرحلہ نمبر (3)

معلم موازنہ پر مبنی حکمت عملی کے توسط سے طلبہ کے سامنے حسن اخلاق کے درج ذیل مظاہر رکھے اور ان سے مظہر اور اس کی صورت کی تحدید کرنے کے لئے کہے۔

جو طالب علم اس کا صحیح جواب دے، وہ اس نوع کے بارے میں اپنی جان کاری کا ایک مختصر جملہ میں خلاصہ پیش کرے۔

ایک شخص اپنے ساتھیوں کا ہمیشہ ذکر خیر کرتا ہے۔ کسی کا ذکر بد نہيں کرتا۔

احمد ایک کمپنی میں ملازم ہے، جہاں اس کے ساتھی کو پرموشن ملا، لہذا اسے مبارک باد پیش کی اور برکت کی دعا دی۔

اسکول میں دو ہم جماعت ساتھیوں میں جھگڑا ہوا اور آپ سے گواہی کے لیے کہا گیا، تو آپ نے سچ کہا اور منافقت نہیں کی۔

محمد ہمیشہ اپنے دوستوں سے خوش مزاج، مسکراتے چہرے کے ساتھ ملتا ہے۔

ایک شخص نے اپنے ایک ہم جماعت کے بارے میں اچھی بات کہی۔

خالد فقیروں اور محتاجوں کو کھانا پیش کرنے کے لیے کوشاں رہتا ہے۔

نتیجہ نکالنا :

معلم طلبہ کے سامنے سبق کے عناصر کا ایک خالی رہ نما نقشہ دوبارہ رکھے اور اس کے بعد کسی ایک طالب علم کو کوئی ایک عنصر لکھنے اور اس کی تشریح کرنے کا حکم دے۔ اس کے ایسا نہ کر پانے کی حالت میں کوئی دوسرا طالب علم کھڑا ہو اور یہ کام کرے۔ یہ سلسلہ سبق کے عناصر مکمل ہونے تک جاری رہے۔ اس دوران معلم طلبہ کو مدد فراہم کرے اور ان کی حوصلہ افزائی کرتا رہے۔

سرگرمیاں

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ نصوص سے حسن اخلاق کے مظاہر نکالنا۔

ہدف نمبر : 2

معلم ہر طالب علم کو پہلی سرگرمی کے ضمن میں وارد نصوص کی قراءت، اس پر غور کرنے اور اس کے معنی سے آگاہ ہونے کی ہدایت دے۔ پھر ہر طالب علم کو ان نصوص سے حسن اخلاق کے مظاہر اخذ کرنے کی خاطر اپنی ذہنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا حکم دے۔ اس کے بعد کچھ طلبہ کا انتخاب ان کی تحریر کردہ باتوں کی پیش کش کے لیے کرے، ان کے درمیان موازنہ کرے اور سب سے باریکی کے ساتھ دیے گئے جواب کی نشان دہی کرے۔

اچھے اخلاق

نرمی

رحمت ومہربانی

بہادری اور سخاوت

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ طلبہ کو اچھے اقوال لکھنے کی مشق کرانا۔ ہدف نمبر : 3، 4

معلم ایک گروپ ڈسکشن سیشن کا انعقاد کرے، جس میں وہ طلبہ کو ایک دوسرے کی جانب منہ کر کے ایک دائرے کی شکل میں بیٹھنے کا حکم دے اور انھیں سیشن کے مقصد سے متعارف کرائے، جس کا تعلق سرگرمی کے ضمن میں وارد اقوال سے مناسبت رکھنے والا سب سے خوب صورت قول لکھنے سے ہے۔ پھر انھیں اس سلسلے میں اپنی رائے دینے کے لئے کہے اور ہر موقف کی شرح و وضاحت کرے۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

پہلے سوال کا جواب دینے کے لیے معلم طلبہ کے سامنے اس کے ضمن میں دی گئی عبارتوں کو یکے بعد دیگرے رکھے اور عبارت درست ہونے کی صورت میں طلبہ کو ہاتھ اوپر اٹھانے کے لئے کہے۔ اس دوران معلم ان کی کارکردگی پر نظر رکھے اور ان کی غلطیوں کی اصلاح کرے۔

سوال 1 : (✓) - (×) - (✓)

دوسرے سوال کا جواب دینے کے لیے معلم ہر طالب علم کو انفرادی طور پر اس کا جواب دینے کی ہدایت دے اور اس دوران طلبہ کے پاس سے گزرتا رہے، تاکہ ان کے جوابات سے باور ہو سکے۔ ساتھ ہی غلط جواب دینے والے کو صحیح جواب سے متعارف بھی کرائے۔

معلم طلبہ کے سامنے تیسرا سوال رکھے، تین طلبہ کا انتخاب عبارتوں کا جواب دینے کے لیے کرے اور ديگر تین طلبہ کا انتخاب ان کے جوابات کا اندازۂ قدر کرنے کے لیے کرے۔ اخیر میں ان کے ساتھ مل کر صحیح جواب نکالے، تاکہ طلبہ اس کو اپنی کتابوں میں لکھ لیں۔

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

ہر طالب ان احادیث کو دوبارہ پڑھے، جو حسن اخلاق کے مظاہر پر دلالت کرتى ہیں، مختلف مصادر جیسے دینی کتابوں، اہل دین اور الیکٹرانک مصادر کے حوالے سے ديگر حدیثوں سے واقف ہو، تاکہ اس طرح کی حدیثوں کا استیعاب کر سکے، ان کے توسط سے فرد اور سماج پر پڑنے والے حسن اخلاق کے اثر کو محسوس کر سکے اور اپنے آس پاس کے لوگوں کو اس اثر کے تعلق سے رہ نمائیاں فراہم کر سکے، تاکہ وہ ان کو دوسروں کو فراہم کریں اور اس طرح جان کاری عام ہو۔

دوسرا سبق : صفت صدق

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (الصدق – الشهداء – البر – الطمأنينة).

تعلیمی وسائل :

(آڈیو میڈیم - ڈسپلے اسکرین - تعلیمی بورڈ - تعلیمی کارڈ - بلیک بورڈ)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(میں کیا جانتا ہوں - میں کیا جاننا چاہتا ہوں - میں نے کیا سیکھا 'KWL' پر مبنی حکمت عملی - دریافت پر مبنی آموزش - ہاٹ سیٹ)

اقدار و رجحانات :

یہ عقیدہ کہ صدق دخول جنت کا سبب ہے۔

اقوال و اعمال میں صدق کے زیور سے آراستہ ہونا۔

صدق اور اہل صدق و صفا سے محبت کی حرص رکھنا۔

بچوں کو سچ بولنے کی تربیت دینے کی اہمیت کا اندازہ لگانا۔

سبق کی تمہید :

درس کی تمہید کے طور پر طلبہ کو بتائيں کہ اللہ نے جن اخلاق و اوصاف کے زیور سے آراستہ ہونے کا ہمیں حکم دیا ہے، صدق ان میں سے ایک اہم ترین خلق اور وصف ہے۔ پھر ان سے صدق کے ایمان سے تعلق اور مسلمانوں کی زندگی پر اس کے پڑنے والے اثر کے بارے میں پوچھیں، ان کے جوابات حاصل کریں اور پھر ان کو بتائيں کہ اس کا جواب ہمیں اس سبق کے توسط سے ملے گا۔ بعد ازاں بلیک بورڈ پر سبق کا عنوان لکھ دیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

معلم ہر طالب علم کو تین حصوں میں منقسم ایک ایک تعلیمی کارڈ دے، جس کا پہلا حصہ حرف (K)، دوسرا حصہ حرف (W) اور تیسرا حصہ حرف (L) پر مشتمل ہو۔

انھیں ہر حصے کا ہدف بتائے، پھر سبق کے اہداف پر غور و فکر کی روشنی میں صدق کے بارے میں اپنی سابقہ معلومات پیش کرنے کے لئے کہے اور پہلے حصے میں لکھ لینے کا حکم دے۔

پھر انھیں ان عناصر و معلومات کو پیش کرنے اور انھیں دوسرے حصے میں لکھ لینے کی ہدایت دے، جو وہ اس سبق کے ذریعے حاصل کرنا چاہتے ہيں۔ معلم ان کے تحریر کردہ عناصر و معلومات کے بارے میں اپنا عندیہ دے، تاکہ سبق کے بارے میں ان کے پچھلے تجربے سے واقف رہے۔

سرگرمی (2)

دریافت پر مبنی حکمت عملی کے توسط سے معلم طلبہ کے سامنے نیچے دیا گیا جملہ رکھے اور اس کا مدلول واضح کرنے كے لئے کہے۔ ان کے جوابات کے توسط سے صدق کا مفہوم و میدان واضح کرے۔

(قول کا فعل کے ساتھ، ظاہر کا باطن کے ساتھ اور کلام کا حقیقی صورت حال کے ساتھ ہم آہنگ ہونا)۔

مرحلہ نمبر (3)

ہاٹ سیٹ کی حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے طلبہ ایک دائرے کی شکل میں بیٹھ جائيں، دائرے کے بیچ میں ایک کرسی رکھ دی جائے اور معلم کسی ایک طالب علم کو ہاٹ سیٹ پر بیٹھنے کا حکم دے۔

معلم اسے نیچے دیے گئے فضائل کو ساتھیوں کو پڑھ کر سنانے کی ہدایت دے اور اس کے بعد وہ ان فضائل کی وضاحت اور فہم کے سلسلے میں معلم اور ساتھیوں کے سوالات کا سامنا کرے۔

معلم اور ساتھی اس کے جوابات پر توجہ مرکوز رکھیں، ان کا اندازۂ قدر کریں اور صحیح جواب حاصل کرنے کے لیے اس کے ساتھ معلومات اور افکار کا تبادلہ کریں۔

1- صدق دخول جنت کا ایک سبب ہے۔

2- صدق رسولوں کی ایک صفت ہے اور ہمیں اللہ تعالی نے ان کے نقش قدم پر چلنے کا حکم دیا ہے۔

3- صدق ایک مسلمان کو دل کا سکون اور نفس کا چین عطا کرتا ہے۔

4- صدق کردار کی مضبوطی اور ایمان داری کی علامت ہے۔

5- صدق ایک مسلمان کو سماج میں محبوب اور لوگوں کے درمیان بھلے انسان کی حیثیت سے معروف بناتا ہے۔

نتیجہ نکالنا :

معلم طلبہ کو اپنے پاس موجود کارڈ کا تیسرا حصہ بھرنے کی ہدایت دے، جو حرف (L) پر مشتمل ہے اور جس کا تعلق سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو عام اور فرعی عناصر کی صورت میں لکھنے سے ہے۔

اس کے بعد کچھ کارڈوں کو منتخب کیا جائے، تاکہ ان کے بارے میں اپنا عندیہ دیا جائے اور یہ بتایا جائے کہ وہ کس حد تک درست ہيں۔

سرگرمیاں

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ صدق کی تربیت دینے کی اہمیت کا بیان۔

ہدف نمبر : 3

پہلی سرگرمی کے ضمن میں وارد آیت قرآنی کو مختلف کارڈوں میں لکھ کر کسی ترتیب کا خیال رکھے بغیر طلبہ کے درمیان تقسیم کر دیں اور کسی طالب علم کو اسے پڑھنے کا حکم دیں۔ بعد ازاں اس کے معنی اور فوائد کے بارے میں طلبہ کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں، پھر ہر طالب علم کو آیت سے جڑے ہوئے سوالات کا جواب دینے کا حکم دیں، جوابات کو خود اپنی جانب سے اور ساتھیوں کی جانب سے اندازۂ قدر کے مرحلے سے گزاريں۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ صدق کے فضائل اخذ کرنا۔

ہدف نمبر : 2

طلبہ کے ہر گروہ کو دوسری سرگرمی انجام دینے کے لیے ایک دوسرے کی مدد کرنے کی ہدایت دیں اور ان کی کارکردگی کو دھیان سے دیکھتے رہيں، تاکہ یہ یقین دہانی ہو کہ ہر گروہ کے افراد سرگرمی انجام دینے کے عمل میں شریک ہو رہے ہيں۔ پھر ہر گروہ کی کارکردگی پیش کرنے کے لیے ہر گروہ سے ایک ایک فرد کا انتخاب کریں، ان کا موازنہ کریں اور سب سے ممتاز جواب کی نشان دہی کریں۔

صدق کی فضیلت

اہل صدق کا بڑا ثواب۔

صدق تقوی کی دلیل۔

صدق برکت کا ایک سبب۔

سرگرمی نمبر : 3 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ اللہ کے ساتھ صدق کا معاملہ روا رکھنے کی جزا۔

ہدف نمبر : 1

ہر طالب علم کو حکم دیں کہ وہ اپنے الفاظ میں، اللہ تعالی کے ساتھ سچے ہونے کا نتیجہ، جو اس نے سرگرمی کے تحت فراہم کردہ ریکارڈنگ سے سمجھا ہے، بیان کرے۔ پھر ہر طالب سے کہیں کہ وہ اپنی تحریر کردہ باتیں اپنے ساتھیوں کو پڑھ کر سنائے۔ سب سے بہتر اور پراثر تحریر کی تعریف کریں اور صبح کی اسمبلی میں اسے پڑھ کر سنانے کے لیے کسی طالب علم کو منتخب کر لیں۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

ہر طالب علم کتاب میں دیے گئے سوالات کا جواب انفرادی طور پر دے۔

ہر طالب علم اپنا جواب اپنے ساتھی کے جواب سے بدل لے، تاکہ دونوں ایک دوسرے کا اندازۂ قدر کریں۔

کچھ طلبہ کا انتخاب یہ بتانے کے لیے کریں کہ انھوں نے اپنے ساتھی کے جواب کا اندازۂ قدر کس طرح کیا ہے، اس میں کون کون سی غلطیاں ڈھونڈ نکالی ہيں اور ان کو کیسے درست کیا ہے۔

اخیر میں طلبہ کو ماڈل جواب دکھائيں، تاکہ وہ اپنی غلطیاں درست کر سکيں۔

سوال 1 : (×) - (✓) - (×) - (✓) - (✓)

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

بہتر یہ ہوگا کہ اس سبق میں جو کچھ پڑھا گیا ہے، اس کی روشنی میں طلبہ کی توجہ درج ذیل باتوں پر مرکوز کرائی جائے :

طلبہ صدق کے زیور سے آراستہ ہونے اور اس کے اس سبق سے سیکھے ہوئے فضائل پر اپنے پریوار کے اندر اور جائے عمل میں کاربند ہونے کے سلسلے میں اللہ کے نبی ﷺ کے طور طریقے پر عمل پیرا ہوں۔

تیسرا سبق : صفت امانت داری

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (صُبْرَةِ – أَصَابَتْهُ السَّمَاءُ– الغش– النفاق).

تعلیمی وسائل :

(آڈیو میڈیم - اسکرین ڈسپلے - تعلیمی بورڈ - تعلیمی کارڈ - بلیک بورڈ)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(تمہیدی مواد کی پیش کش پر مبنی حکمت عملی - مثبت اور منفی مثالوں کی پیش کش پر مبنی حکمت عملی - دریافت پر مبنی آموزش کی حکمت عملی)۔

اقدار و رجحانات :

o اس بات کا عقیدہ رکھنا کہ امانت داری انبیا و رسولوں کا اہم ترین وصف ہے۔

o امانت داری کے زیور سے آراستہ ہونا اور خیانت سے اجتناب کرنا۔

o امانت داری کے اٹھ جانے کے معاشروں پر پڑنے والے برے اثرات کو محسوس کرنا۔

سبق کی تمہید :

طلبہ کے سامنے درج ذیل حدیث رکھیں : ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ ایک غلے کے ڈھیر کے پاس سے گزرے اور اس کے اندر اپنا ہاتھ داخل کیا، تو آپ کی انگلیوں کو گیلاپن محسوس ہوا، تو آپ نے پوچھا : "غلہ والے! یہ کیا ہے؟" اس شخص نے جواب دیا : "اے اللہ کے رسول! یہ گیلاپن بارش کے پانی کی وجہ سے ہے۔" آپ نے کہا : "تم نے اسے غلے کے اوپر کیوں نہیں رکھ دیا کہ لوگ دیکھ سکيں۔ جس نے دھوکہ دیا، وہ مجھ میں سے نہيں ہے۔" (صحیح مسلم : 102)

اس کے بعد ان سے پوچھیں کہ ان میں سے کون مسلمان تاجر کے اہم اوصاف گنوا سکتا ہے؟ طلبہ کے جوابات حاصل کریں اور بلیک بورڈ پر سبق کا عنوان لکھ دیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر(1)

تمہیدی مواد کی پیش کش کی حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے ڈسپلے اسکرین کے توسط سے طلبہ کے سامنے سبق کے عناصر پر مشتمل ایک توضیحی شکل رکھیں اور اس کے بعد طلبہ کو اس پر غور کرنے اور اس کا ایک مناسب عنوان قائم کرنے کا حکم دیں۔

مرحلہ نمبر (2)

دریافت پر مبنی آموزشی حکمت عملی کی مدد سے طلبہ کے سامنے درج ذیل عبارتیں رکھیں اور انھیں ان کا معنی و مفہوم بیان کرنے کے لئے کہیں۔ ان کے جوابات سے واقف ہونے کے بعد ان کے سامنے مقصودہ صفت کی تشریح، اس کی تصویر کشی اور اس کے سلسلے میں شریعت کا موقف بیان کریں :

اللہ کے فرائض کی ادائیگی، عہد و پیمان، امانتوں اور اسرار و اعراض کی حفاظت اور اعضا و جوارح کو اللہ کی حرام کی ہوئی چيزوں سے بچانا .... اسے کیا کہتے ہیں؟

امانت کی بہت سی صورتیں ہیں۔ ان میں سے کچھ صورتیں گنوائيں۔

مرحلہ نمبر (3)

مثبت اور منفی مثالوں کی پیش کش پر مبنی حکمت عملی کی مدد سے طلبہ کے سامنے انسانی زندگی سے جڑے ہوئے درج ذیل موقفوں کو یکے بعد دیگرے رکھیں اور انھیں اس سبق سے حاصل شدہ معلومات کی روشنی میں ان کے بارے میں رائے دینے کے لئے کہیں :

ایک ملازم اپنے کام میں تو اچھا ہے، لیکن وہ جس کمپنی میں کام کرتا ہے، اس کے راز افشا کر دیتا ہے۔

ایک تاجر کھانے پینے کی ایسی چیزیں بیچتا ہے، جن کے درست رہنے کی میعاد ختم ہو چکی ہے۔

سعید اپنے رشتے داروں کی اجازت کے بغیر اپنے پاس رکھی ہوئی ان کی امانتوں کا کچھ حصہ خرچ کر دیتا ہے۔

نتیجہ نکالنا :

ہر طالب علم کو ایک تنظیمی نقشہ بنانے کا کام دیں، جس کے ذریعہ وہ اس سبق سے حاصل شدہ امانت داری کی صورتوں اور فضائل کو واضح کریں۔ اس دوران آپ طلبہ کے پاس سے گزرتے رہيں، تاکہ ان کی کارکردگی سے واقف رہيں۔ پھر سب سے باریکی کے ساتھ، دل کش اور واضح انداز میں تیار کیے گئے نقشے کو منتخب کر کے سب کے سامنے پیش کریں۔

سرگرمیاں

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ امانت داری کی صورتوں سے آگاہی۔

ہدف نمبر : 2

ہر طالب علم کو سرگرمی پر مشتمل ایک ایک تعلیمی کارڈ دے دیں۔ طلبہ جواب دے دیں، تو کارڈوں کو جمع کر لیں اور ان کو درست کر دیں۔ پھر سب سے بہتر جواب کا انتخاب کر کے اسے طلبہ کو دکھائيں۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ عمل میں امانت داری برتنے میں ممد و مددگار وسائل سے آگاہی۔

ہدف نمبر : 4، 5

طلبہ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیں اور حلقوں کى شکل میں بیٹھنے کا حکم دیں۔ ہر حلقہ ایک دوسرے کی مدد سے سرگرمی کا جواب دے اور اپنے کسی ایک فرد کی نشان دہی اپنی کاوشیں پیش کرنے کے لیے کرے۔ پھر ایک طالب علم ان کاوشوں کو بلیک بورڈ پر لکھ دے۔ جہاں اختلاف رو نما ہو جائے، وہاں آپ کے سامنے اور آپ کی رہ نمائی میں مناقشہ ہو، تاکہ درست جواب تک پہنچا اور اسے بلیک بورڈ پر لکھا جا سکے۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

طلبہ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیں اور حکم دیں کہ ہر گروہ کتابوں میں موجود سوالات کا جواب آپسی تعاون سے دے۔

سارے گروہوں کے جوابات یک جا کریں، تاکہ درست اور غلط کی پہچان ہو اور پیش کردہ سوالات کا جواب دینے میں گروہ میں شامل افراد میں سے ہر فرد کے کردار سے واقفیت ہو۔

ہر گروہ کی غلطیوں کے بارے میں اپنا عندیہ دیں اور ان کی تصحیح کریں۔

ہر گروہ کو اس کے اوراق لوٹا دیں، تاکہ وہ پیش کردہ معلومات کی روشنی میں ان کو درست کر لیں۔

سوال 1 : () - () - ()

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

اس سبق میں جو کچھ پڑھا گیا ہے، اس کی روشنی میں بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو درج ذیل باتوں سے آگاہ کیا جائے :

اللہ کے نبی ﷺ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خود کو امانت داری کی صفت سے متصف کرنے اور اس کی مختلف صورتوں کی پابندی کرنے کی حرص۔

اپنے معاشرے میں پائے جانے والے امانت داری مخالف مظاہر کا سامنا کرنا۔ وہ اس طرح کہ لوگوں کو نصیحت، ان کی رہ نمائی اور اس موضوع پر زیر مطالعہ آنے والے مواد سے ان کو روبرو کیا جائے۔

چوتھا سبق : صفت صبر

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (الصَّدْمَة الأُولَى).

تعلیمی وسائل :

(آڈیو میڈیم - ڈسپلے اسکرین - تعلیمی بورڈ - تعلیمی کارڈ - بلیک بورڈ)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(میں کیا جانتا ہوں - میں کیا جاننا چاہتا ہوں - میں نے کیا سیکھا 'KWL' پر مبنی حکمت عملی - دریافت پر مبنی آموزش - ہاٹ سیٹ)

اقدار و رجحانات :

• اس بات کا یقین کامل کہ صبر اللہ تعالی کی حرام کردہ چيزوں سے رکے رہنے کا نام ہے۔

• مشکلات کے وقت صبر کے زیور سے آراستہ ہونا۔

• اللہ تعالی کی اطاعت و بندگی پر ثابت قدم رہنے کی کوشش۔

• صبر کی فضیلت کا اندازہ لگانا۔

سبق کی تمہید :

طلبہ کو سبق سے پہلے بتائيں کہ مشکل حالات کے وقت صبر کرنے تک ہی صبر محدود نہيں ہے، بلکہ اس میں متعدد امور شامل ہيں اور انھیں امور کو ہم آج کے سبق میں سیکھنے جا رہے ہیں۔ اس کے بعد بلیک بورڈ پر سبق کا عنوان (صفت صبر) لکھ دیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر(1)

معلم ہر طالب علم کو تین تین حصوں میں منقسم ایک ایک تعلیمی کارڈ دے، جس کا پہلا حصہ حرف (K)، دوسرا حصہ حرف (W) اور تیسرا حصہ حرف (L) پر مشتمل ہو۔

انھیں ہر حصے کا ہدف بتائے اور اس کے بعد انھیں صبر سے متعلق اپنی پرانی معلومات پیش کرنے کا حکم دے۔ طلبہ اپنی پرانی معلومات سبق کے اہداف کے بارے میں غور و فکر کی روشنی میں کريں۔ اس کے بعد اسے پہلے حصے میں لکھ دیا جائے۔

معلم طلبہ کو وہ معلومات و عناصر پیش کرنے اور انھیں دوسرے حصے میں لکھ لینے کا حکم دے، جنھیں وہ اس سبق کے توسط سے جاننا چاہتے ہیں۔ معلم طلبہ کی تحریر کے بارے میں اپنا عندیہ بھی دے، تاکہ سبق کے سلسلے میں ان کے پچھلے تجربات سے آگاہی ہو جائے۔

مرحلہ نمبر (2)

دریافت پر مبنی آموزشی حکمت عملی کے توسط سے معلم طلبہ کے سامنے نیچے دیا گیا جملہ رکھے اور اس کے مدلول کی وضاحت کرنےکے لئے کہے۔ ان کی جانب سے آنے والے جوابات کی روشنی میں صبر کا مفہوم اور اس کی انواع واضح کرے۔

(صبر وجود پذیر ہوتا ہے اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے رکنے، اس کے عائد کردہ فرائض کی ادائیگی اور اس کے فیصلوں پر رضامندی کے اظہار سے)۔

مرحلہ نمبر (3)

ہاٹ سیٹ کی حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے طلبہ ایک دائرے کی شکل میں بیٹھ جائيں، دائرے کے بیچ میں ایک کرسی رکھ دی جائے اور معلم کسی ایک طالب علم کو ہاٹ سیٹ پر بیٹھنے کو کہے۔

پھر اسے اپنے ساتھیوں کو نیچے دی گئی صبر کی قسمیں پڑھ کر سنانے کے لئے کہے اور اس کے بعد ہاٹ سیٹ پر بیٹھا طالب علم ان قسموں اور ان کے بہتر فہم سے متعلق معلم اور اپنے ساتھیوں کے سوالات کا استقبال کرنا شروع کرے۔

معلم اور باقی ساتھی اس کے جوابات کو دھیان سے سنیں، ان کا اندازۂ قدر کریں اور صحیح جواب سے روشناس ہونے کے لیے ہاٹ سیٹ پر بیٹھے طالب علم کے ساتھ معلومات اور افکار کا تبادلہ کریں۔

اللہ تعالی کی اطاعت و بندگی پر ثابت قدم رہنا۔

اللہ کی نافرمانی سے گریزاں رہنا۔

مصیبت کے وقت صبر سے کام لینا۔

نتیجہ نکالنا :

معلم طلبہ کو ان کے پاس موجود کارڈ کا تیسرا حصہ پورا کرنے کی ہدایت دے، جو حرف (L) پر مشتمل ہے اور جس کا تعلق سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو عام اور فرعی عناصر کی شکل میں لکھنے سے ہے۔

کچھ کارڈوں کا انتخاب ان کے بارے میں اپنا عندیہ دینے اور یہ بتانے کے لیے کیا جائے کہ وہ کس حد تک درست ہیں۔

سرگرمیاں

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ طلبہ کو پڑھنے اور جوڑنے کی مشق کرانا۔

ہدف نمبر : 4

فراہم کردہ قرآنی آیات کو کچھ کارڈوں میں لکھ دیں اور انھیں کسی ترتیب کا لحاظ کیے بغیر طلبہ کے درمیان تقسیم کر دیں۔ پھر کسی طالب علم کا انتخاب انھیں پڑھنے کے لیے کریں اور ان کے معنی و مفہوم کے بارے میں طلبہ کے ساتھ مناقشہ کریں۔ پھر ہر طالب علم کو ان آیات سے جڑے ہوئے سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں اور خود آپ کی جانب سے اور ساتھی طلبہ کی جانب سے ان کے اندازۂ قدر کا کام کیا جائے۔

صبر میں مددگار وسائل

خیر کبھی کبھی ان چیزوں میں بھی ہوتی ہے، جو انسان کو پسند نہیں ہوتیں۔

صبر کی فضیلت

عبادتوں کی ادائیگی

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ اللہ کے نبی ﷺ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے صبر کے زیور سے آراستہ ہونا۔

ہدف نمبر 5، 6

ہر طالب علم کو انفرادی طور پر دوسری سرگرمی انجام دینے اور اپنا جواب ایک خارجی کارڈ میں لکھنے کی ہدایت دیں۔ پھر سارے کارڈوں کو جمع کریں، ان کا اندازۂ قدر کریں، سب سے بہتر جواب کی نشان دہی کریں اور جواب دینے والے طالب علم کی حوصلہ افزائی فرمائيں۔

سرگرمی نمبر : 3 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ طلبہ کو دوسروں کی اذیت رسانیوں پر صبر کرنے کی مشق کرانا۔ ہدف نمبر : 6

ہر طالب علم کو الیکٹرانک مصادر کی طرف رجو ع کرکے اپنی یاد داشت کے ذخیرے سے نکالے ہوئے کسی ایسے واقعے کے بارے میں، جہاں اس نے کسی ناخوش گوار بات پر صبر کیا ہو اور آخر میں اس کا انجام اچھا نکلا ہو، معلومات یک جا کر کے سرگرمی کے بارے میں معلومات مکمل کرنے کی ہدایت دیں۔ ساتھ ہی آپ ان کی کارکردگی پر نظر رکھیں اور اگلی ملاقات میں ان کی جمع کردہ معلومات کو دیکھیں۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

ہر طالب علم کتاب میں دیے گئے سوالات کا جواب انفرادی طور پر دے۔

ہر طالب علم اپنا جواب اپنے ساتھی کے جواب سے بدل لے، تاکہ دونوں ایک دوسرے کے جواب کا اندازۂ قدر کریں۔

کچھ طلبہ کا انتخاب کریں، جو یہ بتائيں کہ انھوں نے اپنے ساتھی کے جواب کا اندازۂ قدر کس طرح کیا ہے، اس میں کیا کیا غلطیاں دریافت کی ہیں اور ان کو کیسے درست کیا ہے۔

اخیر میں طلبہ کو ماڈل جواب دکھائیں، تاکہ ہر شخص اپنی غلطیوں کو درست کر لے۔

سوال 1 : (×) - (✓) - (✓)

سوال 2 : معصیت - شکر نعمت - وسائل صبر

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

بہتر یہ ہوگا کہ اس سبق میں جو کچھ پڑھا گیا ہے، اس کی روشنی میں طلبہ کی توجہ درج ذیل باتوں پر مرکوز کرائی جائے :

اپنے معاشرے میں پھیلی ہوئی صبر کی راہ سے فرار کی تمام صورتوں کو درکنار کرنا، سبق میں پیش کردہ وسائل کا سہارا لینا اور انفرادی یا اجتماعی طور پر یا اپنے آس پاس کے لوگوں یا اہل دین کی رہ نمائی میں ان کو عمل میں لانے کی کوشش کرنا، تاکہ صبر کی راہ سے فرار کی تمام صورتوں کو ختم کیا جا سکے اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جا سکے، جو صبر و شکیب کی راہ پر گام زن ہو۔

پانچواں سبق : صفت حیا

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (الحياء– وَمَا وَعَى– وَمَا حَوَى– وَالبِلَى– خَصْلَتَيْنِ– شُعْبَةٌ).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - ڈسپلے اسکرین - تعلیمی کارڈ - تعلیمی تصاویر)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(خود سوالی پر مبنی حکمت عملی - غلط تصورات کی تصحیح پر مبنی حکمت عملی - رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی)۔

اقدار و رجحانات :

• وصف حیا کے زیور سے آراستہ ہونا۔

• اللہ تعالی سے حیا کرنے کا احساس پیدا کرنا۔

• نفس اور لوگوں سے حیا کرنے کی حرص رکھنا۔

• حیا کرنے کے سلسلے میں اللہ کے نبی ﷺ کے نقش قدم پر چلنا۔

سبق کی تمہید :

عزیز معلم! سبق کی تمہید کے طور پر طلبہ کو درج ذیل حدیث پڑھ کر سنائيں۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : ”لوگوں کو پہلے نبیوں کی جو باتیں حاصل ہوئی ہیں، ان میں ایک یہ ہے کہ جب تمھیں شرم نہ آئے، تو تم جو جی میں آئے، کرو“۔ (صحیح بخاری : 6120)

پھر طلبہ کو حدیث پر غور کرنے اور سوچنے کے لئے کہیں کہ حیا کس طرح مسلمان کو گناہوں سے روکتی ہے؟ طلبہ کے جوابات حاصل کریں، ان کے بارے میں اپنا عندیہ دیں اور ان کو سبق کے موضوع تک لے جائیں اور بلیک بورڈ پر سبق کا عنوان لکھ دیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

معلم رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی کے توسط سے اور ذہنی معرفت کو منظم شکل دینے کے ارادے سے ایک تنظیمی شکل پیش کرے، جو حیا کے موضوع، یعنی اس کے مفہوم، انواع اور فضائل پر مشتمل ہو۔

معلم خود سوالی پر مبنی حکمت عملی کی مدد سے طلبہ کو ان فروع سے متعلق ایسے سوالات پیش کرے، جنھیں وہ جاننا چاہتے ہیں۔ پھر ان کے سوالات کو یک جا کرے اور انھیں بلیک بورڈ پر لکھ دے۔ معلم مذکورہ سوالات کو سبق کے مختلف عناصر پر مشتمل کچھ اضافی سوالات کے ذریعے معنی خیز بنا سکتا ہے۔ یہ اضافی سوالات درج ذیل سوالات کے درمیان سے ہو سکتے ہیں :

سوال : حیا کے کیا معنی ہیں؟

سوال : حیا کی کتنی قسمیں ہیں؟

سوال : اللہ سے حیا کی کیا صورت ہوگی؟

سوال : ایک فرد لوگوں سے اور اپنے نفس سے کیسے حیا کرے؟

مرحلہ نمبر (2)

معلم حیا کی قسموں کی تشریح و توضیح کرے اور سابقہ سوالات کے جوابات کو شرح میں شامل کر لے۔ اس دوران معلم ڈسپلے اسکرین کے توسط سے حیا کی فضیلت واضح کرنے والے دلائل پیش کرے اور طلبہ کو ساتھ مل کر مفرد کلمات کے معنی واضح کرنے کی ہدایت دے۔

مرحلہ نمبر (3)

غلط تصورات کی تصحیح کی حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے نیچے دی گئی دونوں صورت حال طلبہ کے سامنے پیش کریں اور انھیں ان کے بارے میں اپنی رائے دینے کے لئے کہیں۔ ان کے جوابات کے اندازۂ قدر کی روشنی میں صحیح جواب واضح کریں اور قلت حیا کے علاج کے کچھ وسائل تجویز کریں۔

کچھ عورتوں کا شرعی پردے کا لحاظ کیے بغیر باہر نکلنا۔

کچھ مردوں کا ازدواجی زندگی کے رازوں کو دوسروں کے سامنے بیان کرنا۔

نتیجہ نکالنا :

ہر گروہ سے کہیں کہ وہ سبق کو عناصر و افکار کی شکل میں اپنی کاپیوں میں لکھ لیں، تاکہ مذاکرہ کے وقت مدد لی جا سکے۔

کچھ طلبہ کو تحریر شدہ اوراق کی مدد لیے بغیر زبانی طور پر سبق کا خلاصہ تیار کرنے کا حکم دیں اور بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ کی حوصلہ افزائی کریں۔

سرگرمیاں

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ حیا کی صورتیں اخذ کرنا۔

ہدف نمبر : 2

طلبہ کے سامنے سرگرمی کے ضمن میں دیے گئے دونوں نصوص ڈسپلے اسکرین کے توسط سے رکھیں، بہتر عبارت خوانی کرنے والے دو طلبہ کا انتخاب ان کی قراءت کے لیے کریں، طلبہ کے ساتھ مل کر ان کے مفردات کی تشریح و توضیح کریں، تاکہ دونوں کے فوائد اخذ کیے جا سکیں۔

طلبہ کے ساتھ سرگرمی کے جواب کا مناقشہ کریں، تاکہ ان کے ساتھ صحیح جواب تک پہنچیں اور وہ انھیں اپنی کتابوں میں لکھ لیں۔

حیا کی صورت

عورت کا چال ڈھال اور تمام احوال میں حیا کا پاس و لحاظ رکھنا۔

ستر عورت کا خیال رکھنا، چاہے انسان اکیلے ہی میں کیوں نہ ہو۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ حیائے محمود اور حیائے مذموم کے درمیان موازنہ۔

ہدف نمبر : 2، 4

طلبہ کے ہر گروہ کو ایک دوسرے کی مدد سے دوسری سرگرمی انجام دینے کی ہدایت دیں اور سبھی گروہوں پر دھیان رکھیں، تاکہ یہ یقینی ہو جائے کہ ہر گروہ کے افراد ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ پھر ہر گروہ سے ایک ایک فرد کا انتخاب اس کی کارکردگی پیش کرنے کے لیے کریں۔ ساتھ ہی ان افراد کا موازنہ کریں اور سب سے بہتر اور محمود و مذموم حیا کا اچھا موازنہ کرنے والے جواب کی نشان دہی کریں۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

پہلے اور دوسرے سوالات کا جواب دینے کے لیے معلم طلبہ کے سامنے ان کے تحت دی گئی عبارتوں کو رکھے اور کچھ طلبہ کو ان کا جواب دینے کے لیے منتخب کرے۔ کسی ایک طالب علم سے غلطی ہونے کی صورت میں اسے درست کرنے کے لیے معلم دوسرے طالب علم کو منتخب کرے۔

سوال 1 : () - () - () - ()

طلبہ کے ہر گروہ کو تیسرے سوال کا جواب ایک دوسرے کی مدد سے دینے کی ہدایت دیں۔ سبھی گروہوں کے جوابات جمع کریں۔ ان کو اندازۂ قدر کے مرحلے سے گزاریں اور ہر گروہ کے یہاں پائی جانے والی غلطیوں کی نشان دہی کریں، تاکہ ان کو طلبہ کے سامنے رکھ کر درست کرنے کا طریقہ بتایا جا سکے۔ ساتھ ہی سب سے بہتر جواب دینے والے گروہ کی نشان دہی کریں اور اس میں شامل طلبہ کی مناسب حوصلہ افزائی کریں۔

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

طلبہ کی حوصلہ افزائی کرنا کہ وہ سبق سے سیکھی ہوئی باتوں، مثلا اللہ تعالی سے حیا کس طرح کی جائے، کو عملی زندگی میں اتاریں۔

اپنے رشتے داروں کو حیا کی فضیلت اور اس کی قسموں سے روبرو کرے۔

چھٹا سبق : صفت عدل

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (العدل – الظلم).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - تعلیمی بورڈ - تعلیمی کارڈ)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(برین اسٹورمنگ - رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی - چرجا اور مکالمہ پر مبنی حکمت عملی)۔

اقدار و رجحانات :

- عدل کی اہمیت کا شعور پیدا کرنا۔ بطور خاص معاملات میں۔

- وصف عدل کے زیور سے آراستہ ہونے کی حرص۔

- ظلم اور ظالموں سے اجتناب کرنا۔

٭ سبق کی تمہید :

سبق کی تمہید کے طور پر طلبہ کے سامنے درج ذیل صورت حال رکھیں : راستے سے گزرتے ہوئے تم نے دیکھا کہ تمھارا کوئی رشتے دار باہر سے آئے ہوئے ایک اجنبی شخص کو اذیت دے رہا ہے۔ ایسے میں تم کیا کروگے؟ اپنے رشتے دار کی حمایت میں کھڑے ہو جاؤگے یا اسے ایسا کرنے سے روکوگے؟ ان کے جوابات حاصل کریں، ان کے بارے میں اپنا عندیہ دیں، طلبہ کو سبق کے موضوع تک لے جائيں اور سبق کا عنوان (صفت عدل) بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

برین اسٹورمنگ پر مبنی حکمت عملی کی مدد سے معلم طلبہ کو عدل کا مفہوم اور اس کی صورتیں واضح کرنے کی ہدایت دے، طلبہ کے جوابات کا استقبال کرے اور اس کے بعد ان کے سامنے عدل کے مفہوم اور صورتوں پر مشتمل ایک ذہنی نقشہ رکھے، تاکہ وہ ان پر غور کریں اور اپنے جوابات اور پیش کردہ عناصر کے درمیان موازنہ کر سکیں۔

مرحلہ نمبر (2)

معلم طلبہ کو سبق کے مشمولات کو پڑھنے اور اس کے عناصر سے روشناس ہونے کی ہدایت دے۔

معلم ہر دو طلبہ کو ایک دوسرے کی مدد سے سبق کے عناصر اور افکار سے جڑے ہوئے سوالات پیش کرنے کی ذمے داری دے، جن کے جوابات کے توسط سے اس سبق کو سمجھنے میں ان کو ہونے والی پریشانیاں دور ہو جائيں گی۔ معلم ان کے جوابات دیکھے اور ان کو بلیک بورڈ پر لکھ دے۔

مرحلہ نمبر (3)

معلم طلبہ کے سوالات کی نوک پلک درست کرے اور اپنی جانب سے کچھ سوالات کے اضافے کے ذریعے انھیں مزید معنی خیز بنا دے، تاکہ سبق کے سارے عناصر شامل ہو جائيں۔

طلبہ کے ساتھ مل کر ان کی وضاحت اور ان کے بارے میں مناقشہ کرے اور بیچ بیچ میں ان پر دلالت کرنے والے شرعی نصوص بھی پیش کرتا رہے۔ ان میں کچھ سوالات اس طرح ہو سکتے ہیں :

سوال : عدل کیسے قائم ہو سکتا ہے؟

سوال : رنگ یا جنس کی بنیاد پر کسی کے ساتھ امتیازی سلوک کرنے کا حکم کیا ہے؟

سوال : قیام عدل کے کچھ وسائل بیان کریں۔

مرحلہ نمبر (4)

اجتماعی مناقشے کی حکمت عملی کے توسط سے طلبہ کو عدل و انصاف کے اہم فضائل پیش کرنے کی ہدایت دیں اور ان کے ذریعے پیش کردہ فضائل کے بارے میں اپنا عندیہ دیں۔

نتیجہ نکالنا :

معلم طلبہ کو سبق سے حاصل شدہ فوائد اور رہ نمائیوں پر مشتمل ایک پیراگراف لکھنے کی ہدایت دے۔

معلم کچھ طلبہ کا انتخاب تحریر کردہ باتوں کو ساتھیوں کو پڑھ کر سنانے کے لیے کرے ساتھ ہی ان کی مناسب حوصلہ ا‌فزائی کرے۔

سرگرمیاں

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ طلبہ کو عدل قائم کرنے اور ظلم سے بچنے کی مشق کرانا۔

ہدف نمبر : 1، 3

طلبہ کے سامنے سرگرمی کے ضمن میں وارد حدیث قدسی رکھیں اور بہتر عبارت خوانی کرنے والے کسی طالب علم کا انتخاب اس کی قراءت کے لیے کریں، پھر ان کے ساتھ مل کر اس کے مفرد کلمات کی تشریح و توضیح کریں، تاکہ اس کے فوائد اخذ کیے جا سکیں۔

سرگرمی کے سوالات سامنے رکھیں اور ان کے جوابات کے بارے میں طلبہ کے ساتھ مناقشہ کریں، تاکہ ان کو صحیح جواب سے روبرو کیا جا سکے اور انھیں وہ اپنی کتابوں میں لکھ لیں۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ عدل اور اس سے مستفید ہونے کی صورتوں سے آگاہی۔

ہدف نمبر : 2

معلم سرگرمی کے ضمن میں وارد حدیث کو ایک بورڈ میں لکھ کر سامنے رکھے اور کسی صحیح عبارت خوانی کرنے والے طالب علم کو اسے پڑھنے کے لئے کہے، پھر طلبہ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دے، ہر گروہ کو آپسی تعاون سے سرگرمی کا جواب دینے کی ہدایت دے، سارے گروہوں کے جوابات دیکھے اور سب سے بہتر جواب دینے والے گروہ کی حوصلہ افزائی کرے۔

سرگرمی نمبر : 3 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ طلبہ کو دوسروں پر ظلم کرنے والے کو ایک پیغام تحریر کرنے کی مشق کرانا۔ ہدف نمبر : 4، 5

معلم ہر طالب علم کو ایک مختصر پیغام لکھنے کی ہدایت دے، جس میں وہ خود کو ظلم نہ کرنے، کیے ہوئے ظلم پر شرمندہ ہونے اور اس سے توبہ کرنے کی ترغیب دے۔ اس دوران معلم طلبہ کے آس پاس سے گزرتا رہے، تاکہ سب سے بہتر زبان، اسلوب، فکر اور تاثیر کے حامل پیغام سے واقف ہو سکے۔ پھر سب سے بہتر پیغام کا انتخاب کرے اور تمام طلبہ کو حکم دے کہ اس پیغام کو سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم سے اپنے صفحات پر اس کے لکھنے والے کے نام کے ساتھ نشر کریں۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

پہلے سوال کا جواب دینے کے لیے ہر طالب علم کو انفرادی طور پر جواب تحریر کرنے کا حکم دیں۔ پھر طلبہ کے ساتھ جوابات کے بارے میں مناقشہ کریں۔ وہ اس طرح کہ ہر طالب خود کو جواب صحیح ہونے پر ایک نمبر دے۔ طلبہ کے نمبرات دیکھیں اور ان کے درمیان موازنہ کریں۔

سوال 1 : (عدل - ظلم - اللہ کا ڈر - میں اسے روکوں گا)۔

دوسرے سوال کا جواب ہر تین طلبہ ایک دوسرے کی مدد سے دیں۔ اس دوران معلم ان کے پاس سے گزرتا رہے، تاکہ ان کے جوابات سے روشناس ہو سکے۔ اس کے بعد سب سے بہتر جواب دینے والے گروہ کا انتخاب کرے، تاکہ وہ صحیح جواب اپنے ساتھیوں کو پڑھ کر سنائے اور ہر گروہ اپنا جواب درست کر لے۔

طلبہ کے سامنے تیسرا سوال رکھیں اور اس کا جواب دینے کے لیے دو طلبہ کا انتخاب کریں۔ ان سے غلطی ہونے یا ان کے جواب نہ دے پانے کی صورت میں انھیں خود ہی سبق کے مشمولات سے جواب ڈھونڈ کر نکالنے کی ہدایت دیں۔

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

سبق میں عدل و انصاف کے قیام اور ناانصافی سے گریز کے متعلق جو کچھ پڑھا گیا ہے، اسے نشر کرنا۔ بطور خاص (سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس، انٹرنیٹ سائٹس اور مساجد اور مبلغین کے ذریعے) عام کرنا۔ طلبہ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس اور انٹرنیٹ پر اپنی آرا، افکار اور رہ نما کلمات لکھیں، تاکہ لوگوں کو پتہ چل سکے کہ عدل و انصاف کیسے کرنا ہے، ظلم کی سزا کیا ہے اور اس کا خاتمہ کیسے کیا جا سکتا ہے؟

اکائی : دعوت

پہلا سبق : خیر خواہی کی اہمیت

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (النَّصيحة – المبايعة).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - تعلیمی کارڈ - تعلیمی بورڈ)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(امداد باہمی پر مبنی حکمت عملی - مشکلات کے حل پر مبنی حکمت عملی - رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی)۔

اقدار و رجحانات :

- سماج میں نصیحت کے اثر کا اندازہ لگانا۔

- نصیحت کی ضرورت و اہمیت کا شعور پیدا کرنا۔

- نبیوں اور اللہ کے نیک بندوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نصیحت کی حرص رکھنا۔

سبق کی تمہید :

طلبہ کو اللہ کے نبی ﷺ کی حدیث (دین خیر خواہی کا نام ہے) یاد دلائيں اور اس بات پر زور دیں کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کی خیر خواہی کرے۔ خیرخواہی ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر حق ہے، اور یہ اس سے محبت کی دلیل ہے اور اس کی خیر کی تمنا کرنا ہے۔ اس کا دین میں بڑا اونچا مقام اور سماج میں محبت عام کرنے اور لوگوں کے درمیان تعاون کی روح ڈالنے میں اس کا بڑا اہم رول ہے۔ اسی لیے ہم نے اس سبق کو نصیحت کی اہمیت اور اسلام میں اس کے مقام و مرتبہ کے ساتھ خاص کیا ہے۔ پھر آپ بلیک بورڈ پر سبق کا عنوان لکھیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

طلبہ کو مقررہ کتاب کھولنے، خاموشی سے سبق پڑھنے، اس کے بارے میں اپنے استفسارات پیش کرنے اور ان کے بارے میں تبادلۂ خیال کرنے کا حکم دیں، تاکہ سبق کے تمام عناصر واضح ہو جائيں۔

مرحلہ نمبر (2)

حل مشکلات پر مبنی حکمت عملی کو بروئے کار لائيں اور طلبہ کے سامنے درج ذیل صورت حال رکھیں : (تصور کریں کہ آپ نماز پڑھنے کے لیے مسجد جا رہے ہیں اور آپ کو آپ کا ساتھی کام کرتے ہوئے ملا۔ جب آپ نے اسے ساتھ میں مسجد چلنے کو کہا، تو اس نے جواب دیا : میں کام پورا ہونے کے بعد آؤں گا۔ ایسے میں آپ کا رد عمل کیا ہوگا؟)

طلبہ کے جوابات حاصل کریں اور ان کے ساتھ اس نکتے پر تبادلۂ خیال کریں کہ اس ساتھی کو دیا جانے والا سب سے بہتر رد عمل کیا ہو سکتا ہے؟

مرحلہ نمبر (3)

طلبہ کے سامنے سبق کے عناصر پر مشمل ایک رہ نما نقشہ رکھیں، ان عناصر کی وضاحت کریں اور ان سے جڑے ہوئے نصوص کی تشریح فرمائيں۔

نتیجہ نکالنا :

ہر طالب علم کو سبق کا خلاصہ تیار کرنے اور اس سے سامنے آنے والی اہم باتیں بیان کرنے کا حکم دیں۔

سرگرمیاں

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ اللہ تعالی، اس کی کتاب، اس کے رسول ﷺ، مسلم رہ نماؤں اور عام مسلمانوں کی خیر خواہی کیسے ہو، اس کا بیان۔

ہدف نمبر : 1، 3

پانچ طلبہ کا انتخاب کریں اور انھیں ایک ایک کارڈ دیں، جن میں اس سرگرمی کے ضمن میں وارد نصیحتوں میں سے ایک ایک نصیحت لکھی ہو۔ اس کے بعد پہلا طالب علم اپنے پاس موجود نصیحت اپنے ساتھیوں کو پڑھ کر سنائے اور اس کے بعد اپنے ایک ساتھی کا انتخاب پہلی کیفیت کا جواب دینے کے لیے کرے اور اس سلسلے میں اپنی رائے بھی دے۔ پھر دوسرا طالب علم اپنے ایک ساتھی کا انتخاب دوسری کیفیت کا جواب دینے کے لیے کرے اور اس طرح یہ سلسلہ چلتا رہے۔ اس دوران معلم سارے طلبہ کا اندازۂ قدر کرتا رہے۔

اللہ تعالی کی نصیحت کا مطلب ہے اس پر ایمان رکھنا، اس کے شریک ہونے کی نفی کرنا اور خالص اسی کے لیے عمل کرنا۔

اللہ کی کتاب کی نصیحت کا مطلب ہے قرآن کے اللہ کا کلام ہونے پر ایمان رکھنا، اس پر عمل کرنا، اسے سیکھنا اور سکھانا۔

اللہ کے رسول ﷺ کی نصیحت کا مطلب ہے آپ ﷺ کی لائی ہوئی باتوں پر ایمان رکھنا، آپ سے محبت رکھنا، آپ کی سنت پر عمل کرنا اور اسے لوگوں کے درمیان عام کرنا۔

مسلم رہ نماؤں کی نصیحت کا مطلب ہے حق پر ان کی مدد کرنا، حق کے معاملے میں ان کی اطاعت کرنا اور ان کو حق کی تلقین کرنا۔

عام مسلمانوں کی نصیحت کا مطلب ہے ان سےمحبت رکھنا، ان کے حقوق ادا کرنا اور ان کی خیرخواہی کرنا۔

سرگرمی نمبر 2 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ طلبہ کو جوڑنے، تجزیہ کرنے اور نتیجہ اخذ کرنے کی مشق کرانا۔

ہدف نمبر : 2، 4

ایک بورڈ میں لکھ کر دوسری سرگرمی پیش کریں، کسی طالب علم کا انتخاب اسے پڑھنے کے لیے کریں، مناقشوں کے توسط سے طلبہ کے سامنے سرگرمی کے دونوں سوالات یکے بعد دیگرے رکھیں، ان کو جواب دینے دیں، جواب دینے کے عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ نہ لینے والے طلبہ کی حوصلہ افزائی کریں اور ہر طالب علم کو اپنی کتاب میں صحیح جواب لکھنے کی ہدایت دیں۔

1- اللہ کے نبی نوح علیہ السلام نے کوشش کی کہ ان کا بیٹا بچ جائے۔ لہذا اسے کفر چھوڑ کر کشتی پر سوار ہو جانے کی نصیحت کی۔ ان کے بیٹے نے بات مان لی ہوتی، تو ہلاکت سے بچ جاتا۔ لیکن اس نے اپنے والد کی بات نہیں مانی اور ان کی نصیحت قبول نہیں کی، لہذا ڈوب گیا اور کافروں کے ساتھ ہلاک ہو گیا۔

2۔ لوگوں کو نصیحت کرنا، ان کے نجات پانے کا حریص ہونا- نصیحت قبول کرنا اور اسے ضائع ہونے نہ دینا۔

اندازۂ قدر

سبق کے اہداف کی تکمیل کے لیے درج ذیل کام کر سکتے ہیں :

طلبہ کو اپنی درسی کتاب میں درج ذیل سوالات کا جواب دینے کی ذمہ داری دیں۔

کچھ طلبہ کا انتخاب ان کا زبانی جواب دینے کے لیے کریں اور پھر صحیح جواب دینے والے طالب علم کی حوصلہ افزائی کریں۔

غلط جواب دینے والے طلبہ کو کسی بہتر کارکردگی کے حامل طالب کی مدد سے صحیح جواب دینے کی ہدایت دیں۔

سوال 1 : (✓) - (X) - (X) - (X) - (✓)

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

بہتر یہ ہوگا کہ اس سبق میں جو کچھ پڑھا گیا ہے، اس کی روشنی میں طلبہ کی توجہ درج ذیل باتوں پر مرکوز کرائی جائے :

ہر طالب علم کو معرفت کے مختلف مصادر کے حوالے سے دینی معاملوں میں نصیحت کی اہمیت اور اس کے مقام و مرتبہ معلوم کرنے اور اگلی ملاقات میں پیش کرنے کی ذمہ داری دیں اور سب سے بہتر تحریر کا انتخاب کر کے اسے تمام طلبہ کے سامنے پیش کریں۔

دوسرا سبق : خیر خواہی کے آداب

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (الإخلاص – الرفق – الفقه – الكِبْر).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - تعلیمی کارڈ - تعلیمی بورڈ)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(برین اسٹورمنگ - استنباطی طریقہ - باہمی امداد پر مبنی حکمت عملی)۔

اقدار و رجحانات :

خیر خواہی کے آداب کی اہمیت کا شعور۔

خیرخواہی کے آداب کا التزام۔

معاشرے کو صحیح رخ دکھانے اور اس کی اصلاح کرنے کی حرص۔

اخلاص اور خیرخواہی کرنے کے سلسلے میں صبر سے کام لینے کے زیور سے آراستہ ہونا۔

سبق کی تمہید :

عثمان اور عبداللہ نے دیکھا کہ ان کا ساتھی سعید کارخانے میں ہے اور کام چھوڑ کر فون سے بات کرنے میں مشغول ہے۔ اسے فون میں مشغول دیکھ کر عثمان اس پر زور زور سے چلانے لگا اور کہنے لگا کہ وہ اپنے کام پر دھیان دے۔ جب کہ عبداللہ اطمینان کے ساتھ سعید کے پاس گیا اور بڑے ہی نرم لہجے میں اسے سمجھایا کہ فون چھوڑ کر اپنا کام پورا کرے۔

عثمان اور عبداللہ کے اس طرز عمل، اس کے صحیح یا غلط ہونے اور نصیحت کے قبول ہونے پر نصیحت کے آداب کی اہمیت کے بارے میں اپنے طلبہ کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں۔ پھر ان کے جواب اور دونوں کے طرز عمل پر دی گئی ان کی رائے کے بارے میں اپنا عندیہ دیں، ان کو سبق کے موضوع تک لے جائيں اور بلیک بورڈ پر عنوان لکھ دیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

طلبہ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیں اور برین اسٹورمنگ کی حکمت عملی کے توسط سے ہر گروہ کو نصیحت کرنے والے کے کچھ آداب واضح کرنے کا مکلف بنائیں اور اس کے بعد ہر گروہ اپنے جمع کیے ہوئے آداب کو ایک ورق میں لکھ دے۔

پھر آداب کے بارے میں طلبہ کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں اور ان کے سامنے صحیح معلومات واضح کریں۔

مرحلہ نمبر (2)

باہمی امداد پر مبنی آموزشی حکمت عملی پر عمل کرتے ہوئے ہر گروہ منصوح (یعنی جس کو نصیحت کیا جائے) کے آداب تلاش کرے۔

اپنے تلاش کردہ آداب پیش کرنے اور انھیں اندازۂ قدر کے مرحلے سے گزارنے کے لیے ہر گروہ اپنے ایک فرد کا انتخاب کرے۔

پیش قدمی (3)

استنباطی طریقے کو بروئے کار لاتے ہوئے طلبہ کے سامنے درج ذیل قول پیش کریں :

فضیل بن عیاض رحمہ اللہ کہتے ہيں : (مومن پردہ پوشی اور نصحیت کرتا ہے اور فاجر پردہ چاک کرتا اور عار دلاتا ہے۔)

انھیں اسے پڑھنے اور اس کا مدلول مستنبط کرنے کے لئے کہيں اور اس کے بارے میں ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں۔

نتیجہ نکالنا :

طلبہ کو سبق کا خلاصہ افکار و عناصر کی شکل میں تیار کرنے کا حکم دیں۔

ان کی زبانی سبق کی مستفاد باتیں مستنبط کریں اور انھیں بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔

ایک طالب علم کا انتخاب اسے اجمالی طور پر ساتھیوں کو پڑھ کر سنانے کے لیے کریں۔

سرگرمیاں

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ نصیحت کے آداب سے آگاہی۔

ہدف نمبر : 1، 2

معلم طلبہ کے ہر گروہ کو آپسی تعاون سے پہلی سرگرمی انجام دینے کی ہدایت دے، پھر یکے بعد دیگرے سبق کے عناصر بیان کرے، ہر گروہ کا جواب دیکھے، صحیح جواب تک پہنچنے کے لیے طلبہ کے ساتھ اس کے بارے میں تبادلۂ خیال کرے اور اس کے بعد سب سے بہتر جواب دینے والے گروہ کی نشان دہی کرے اور اس میں شامل افراد کی مناسب حوصلہ ا‌فزائی کرے۔

خیر خواہی کے آداب

رفق اور نرمی۔

خیر کی دعوت اور منصوح کے ساتھ شقفت آمیز برتاؤ۔

اخلاص۔

پردہ پوشی اور رازداری۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ طلبہ کو غور سے سننے اور خلاصہ تیار کرنے کی مشق کرانا۔

ہدف نمبر : 4، 5

ہر طالب علم کو ویڈیو کلپ دیکھنے، اس پر غور کرنے اور اس سے معلوم ہونے والی باتیں بیان کرنے کی ہدایت دیں۔ پھر طلبہ حاصل شدہ باتوں کے بارے میں آپس میں تبادلۂ خیال کریں۔ بعد ازاں حکم دیں کہ طلبہ سرگرمی کو گھر سے پورا کر کے لائيں، تاکہ اپنے اہل خانہ کی جانب رجوع کریں اور ویڈیو کلپ سے معلوم ہونے والی باتیں لکھنے میں ان کی مدد حاصل کریں۔ اس کے بعد معلم کو دکھائيں، تاکہ وہ ان کو اندازۂ قدر کے مرحلے سے گزار سکے۔

اندازۂ قدر

سبق کے اہداف کی تکمیل کے لیے آپ درج ذیل کام کر سکتے ہیں :

طلبہ کو اپنی کتابوں سے درج ذیل سوالات اچھی طرح پڑھنے کا حکم دیں اور ان کو ہدایت دیں کہ ان کا جواب علاحدہ کارڈوں میں دیں۔

ہر طالب علم اپنا کارڈ اپنے ساتھی کے کارڈ سے اندازۂ قدر کے ارادے سے بدل لے اور اس کے بعد سارے کارڈوں کو جمع کر لیا جائے۔

کسی ترتیب کا خیال رکھے بغیر کچھ کارڈوں کا انتخاب ان کو طلبہ کے سامنے اندازۂ قدر کے مرحلے سے گزارنے کے لیے کریں، تاکہ ان کو صحیح اور غلط جوابات سے روبرو کیا جا سکے۔

کارڈ والے اور اس کی تصحیح کرنے والے دونوں طلبہ کا نام بتائیں۔

سوال 1 : (نصیحت کا مقصد) - (نصحیت میں رازداری) - (نصیحت کیے جانے پر اکڑ دکھانا)۔

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

ہر طالب علم اپنے قریبی افراد کے طرزہائے عمل کا جائزہ لے، تاکہ اندازہ ہو جائے کہ وہ اپنی زندگی میں ناصح اور منصوح کے آداب کو کتنا اتارتے ہیں۔ کوتاہی نظر آنے کی صورت میں کوتاہی کے شکار لوگوں کو مناسب نصیحت کرے، تاکہ وہ نصیحت کے آداب پر عمل کرنے لگیں۔

اس سبق میں مذکور آداب کو سوشل میڈیا سائٹس پر نشر کریں۔

پیش لفظ

ساری تعریف اللہ کی ہے، جس نے انسان کو پیدا کیا، اسے علم و بیان کی دولت سے نوازا اور قرآن و سنت کے ذریعے اس پر حجت قائم کر دی۔

درود و سلام ہو ہمارے نبی محمد ﷺ پر، آپ کے اہل بیت، معزز ساتھیوں اور قیامت کے دن تک ان کی پیروی کرنے والوں پر۔

امابعد! اس بات میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہيں ہے کہ عمل سے پہلے علم حاصل کرنا بندے پر سب سے عظیم واجبات وفرائض میں سےایک ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے : (تو آپ اس کا یقین رکھیے کہ بجز اللہ کے کوئی معبود برحق نہیں اور اپنی خطا کی معافی مانگتے رہیے اور سارے ایمان والوں اور ایمان والیوں کے لیے بھی۔ اور اللہ خوب خبر رکھتا ہے تم (سب) کے چلنے پھرنے اور رہنے سہنے کی)۔

(سورہ محمد : 19)

دراصل شرعی علم اس امت کی اہم ترین امتیازات میں سے ایک امتیاز اور اسلامی شخصیت کے اہم ترین عناصر میں سے ایک عنصر ہے۔

علم کی اہمیت کے پیش نظر، جس کے چشمے سے جمعیۃ الدعوہ و توعیۃ الجالیات روضہ کا فیض جاری ہے اور وہ حکمت کے ساتھ اور تبلیغ کے بہترین طریقوں کو بروئے کار لاتے ہوئے لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے اور اورسیز کمیونٹیز کی تعلیم اور ان کو شرعی اعتبار سے اہل بنانے کے مقصد سے کیے گئے پروگراموں، جیسے "دین سے آگاہی" کا پروگروام، جو اورسیز کمیونٹیز کے لیے سات زبانوں میں شرعی کورسیز فراہم کرتا ہے، کے توسط سے مسلمانوں کے اندر دینی بیداری لانے کے کام میں مشغول ہے۔ اس پروجیکٹ کو تیار کرنے کے لیے جمعیہ مذکورہ نے "بصائر للاستشارات التربوية" نامی کمپنی سے رابطہ کیا، جو شرعی تعلیم کا نصاب تیار کرنے کا کام کرتی ہے۔ چنانچہ جمعیہ کی جانب سے فراہم کردہ مواد کی بنیاد پر اس نصابی دستاویز کو تیار کرنے پر اتفاق عمل میں آیا اور پھر درج ذیل مراحل کے مطابق طلبہ کے لیے کتابیں تالیف کی گئیں :

- پہلا مرحلہ، جس میں چالیس (40) درس شامل ہیں۔

-دوسرا مرحلہ، جس میں تیس (30) درس شامل ہیں۔

- تیسرا مرحلہ، جس میں تیس (30) درس شامل ہيں۔

متعلم کے لیے تیار کی گئی ہر کتاب کے بالمقابل معلم کے لیے بھی، مؤثر تعلیمی اور تربیتی طریقے پر درس پیش کرنے میں معین و مددگار ایک رہ نما کتاب تیار کی گئی ہے۔ نصابی دستاویز مرتب کرنے، متعلمین کے لیے کتابیں تالیف کرنے اور معلمین کے لیے گائیڈ تیار کرنے کا عمل بڑے ہی علمی انداز میں انجام پایا ہے اور اس کا بڑی باریک بینی کے ساتھ مراجعہ کیا گیا ہے۔ یہ کام شرعی تعلیمی نصاب کے ماہرین کی ایک جماعت نے کیا ہے۔

اخیر میں دعا ہے کہ اللہ اس عمل کو اسلام اور مسلمانوں کے لیے نفع بخش بنائے اور اس میں شریک ہونے والے ہر شخص کو بہتر بدلہ عطا کرے اور جنت سے نوازے۔ اس نصاب تعلیم کے بارے میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور جمعیہ کے فون نمبروں کے ذریعہ موصول ہونے والی آپ کی کارآمد تجاویز اور آرا کا پرجوش خیر مقدم ہے۔

درود وسلام نازل ہو ہمارے نبی محمد ﷺ اور آپ ﷺ کے آل واصحاب پر۔

جعیۃ الدعوہ، روضہ

مقدِّمہ

ساری تعریف اللہ کی ہے، درود و سلام ہو ہمارے نبی محمد بن عبداللہ ﷺ پر، آپ کے اہل بیت پر، تمام ساتھیوں پر اور قیامت کے دن تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر۔ میرے معلم بھائی! تعلیم کا کام ایک معزز ترین کام ہے۔ کیوں کہ یہ انبیا اور مصلحین کا کام ہے اور اس کا سماج اور امت اسلامیہ کی تعمیر و ترقی میں بہت بڑا کردار ہے۔

آپ کے اس غیر معمولی کردار کے پیش نظر ہم آپ کے لیے یہ رہ نما کتاب فراہم کر رہے ہیں، جو آپ کی ذمہ داری کی ادائيگی میں مددگار ثابت ہوگی،

تدریس کا کام زیادہ خوش گوار اور نتیجہ خیز ثابت ہوگا۔ کیوں کہ اس رہ نما کتاب میں اسباق کی ایسی منصوبہ بندی شامل ہے،

جو طلبہ کی سطح اور ماحول سے مناسبت اور طالب علم کے لیے فراہم کی گئی کتاب کے اہداف و مقاصد اور تدریس و اندازۂ قدر کے طریقوں سے ربط رکھتی ہو۔

رہ نما کتاب برائے معلم میں سبق کے عناصر

اس رہ نما کتاب کے صفحات اپنے ہر درس میں متعدد عناصر کو سموئے ہوئے ہيں، جو تعلیمی موقف کے نمایاں ترین پہلوؤں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان میں سے درج ذیل عناصر زیادہ اہم ہیں :

ڈیٹا باکس :

اس میں سبق کے لیے تجویز کردہ دورانیہ، سیکھنے کے لیے نئے الفاظ، استعمال کردہ تعلیمی مواد، سبق کے دوران بروئے کار لائے جانے والے اقدار و رجحانات اور سبق کی تجویز کردہ حکمت عملیاں موجود ہوتی ہیں۔

ب- سبق کے مراحل :

سبق کے درج ذیل مراحل متعین کیے گئے ہیں :

(1) سبق کی تمہید : اس کا مقصد ہوتا ہے طالب علم کی توجہ سبق پر مبذول کرانا اور اس کے لیے کئی طریقۂ کار اپنائے جاتے ہيں۔ مثلا ایسے چھوٹے چھوٹے سوالات جو نقطۂ آغاز بن سکتے ہيں، ایسی حقیقی کہانی جو سبق سے جڑی ہوئی ہو، آج کے سبق کو پچھلے سبق سے جوڑنا یا کوئی تعلیمی وسیلہ اختیار کرنا۔

(2) نتیجہ نکالنا : اس سے مراد موضوع کو پڑھنے کے بعد متعلم کے ذریعے حاصل کیے گئے معارف، مفاہیم، حقائق اور احکام ہیں۔ اس رہ نما کتاب میں متعلم حضرات کے آموزشی تجربات کی توقعات شامل ہیں۔ معلم کو ان پر زور دینا چاہیے اور اس بات کی تاکید کرنی چاہیے کہ متعلمین انھیں اپنے نوٹ بک میں لکھ لیا کریں۔

(3) سرگرمیاں : ان کا مقصد متعلم کو زیر درس موضوع سے سیکھی ہوئی باتوں اور حاصل کیے ہوئے تجربات کو نئے حالات پر لاگو کرانے کی مشق کرانا ہوتا ہے۔ دراصل ان سرگرمیوں کا مقصد سبق کے مشمولات میں رہ جانے والے ممکنہ خلا کو پر کرنا ہوتا ہے۔ معلم کو چاہیے کہ طلبہ کو ان سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے پر ابھارے اور اس بات کو دھیان میں رکھے کہ ان میں سے ہر سرگرمی کسی معین ہدف کے ساتھ جڑی ہوئی ہے اور اسے حاصل کرنے میں معین ومدد گار ہو۔ ہم اساتذہ سے اس بات کی بھی امید رکھتے ہيں کہ وہ طلبہ کو ان اسباق سے سیکھے ہوئے معارف کو عملی طور پر ادا کرنے اور عمل میں لانے کی مشق کرانے پر بھی توجہ دیں۔

(4) اندازۂ قدر : اس کا مقصد اس بات کا اندازہ لگانا ہوتا ہے کہ متعلقہ سبق کے اہداف کس حد تک حاصل ہو سکے اور کس حد تک حاصل نہیں ہوئے۔ اسی بنا پر اس بات کا بھی خیال رکھا جاتا ہے کہ سبق کا ہر سوال اس کے کسی نہ کسی مقصد سے کتنا جڑا ہوا ہے۔ اس رہ نما کتاب کے اندر سبق کے بعض سوالات کے جوابات بھی دے دیے گئے ہيں، تاکہ معلم کو اپنا کام کرنے میں آسانی ہو۔

(5) توجہ طلب تربیتی اور وجدانی باتیں : ان کا مقصد سبق کے دوران سیکھی ہوئی اہم باتوں کو عملی جامہ پہنانا اور ان کو اپنے خاندان میں اور دوستوں اور سماج کے درمیان نافذ کرنا ہوتا ہے۔

وہ تربیتی بنیادیں، جن پر یہ رہ نما کتاب قائم ہے :

اول : مقاصد نصاب :

ہر سبق کے اہداف و مقاصد متعین کر دیے گئے ہیں، جن کو متعین کرتے وقت درج ذیل باتوں کا خیال رکھا گيا ہے :

- اہداف و مقاصد زیر درس مواد کے کارآمد اور مفید ہونے کا آئینہ دار ہوں۔

- جان کاری، وجدان اور مہارت میں تنوع کے حامل ہوں، اور تینوں پہلووں کو سمیٹے ہوئے ہوں۔

- واقعیت پر مبنی، ممکن الحصول اور طلبہ کی سطح سے مناسبت رکھنے والے ہوں۔

- جانکاری سے متعلق مقاصد کے مرحلوں (یاد کرنا - سمجھنا - تطبیق دینا - تجزیہ کرنا - مربوط کرنا - اندازۂ قدر کرنا) کو بہ تدریج عبور کیا جائے۔

- بہتر ہدف کے حصول کی شرطوں کو عملی جامہ پہنایا جائے، اس طور پر کہ یہ کچھ ایسے کاموں پر مشتمل ہوں جن کا اندازہ کرنا اور ملاحظہ کرنا ممکن ہو۔

ہدف متعلم کے رویے پر مرکوز رہے اور اسی میں پورے تجربے کو جھونکا جائے۔

دوم : مشمولات کی تعمیر و ترتیب :

اس نصاب تعلیم کے مواد کا انتخاب سبق کے متعینہ اہداف کے مطابق عمل میں آیا ہے۔ مشمولات کو اہداف و مقاصد کا مکمل آئينہ دار, دستاویز میں شامل صلاحیتوں اور طلبہ کی سطح کے عین مطابق رکھا گیا ہے۔ مشمولات کی پیش کش میں کوشش کی گئی ہے کہ بسیط سے گہرائی کی جانب بہ تدریج آگے بڑھا جائے، فراہم کردہ معلومات کی صحت کو یقینی بنایا جائے، آیات قرآنی اور احادیث نبویہ سے دلیلیں پیش کی جائيں، طلبہ کی آسانی کے لیے مشمولات میں شامل آیتوں اور حدیثوں کی تشریح کر دی جائے اور قرآنی آیات کے حوالے دے دیے جائيں اور احادیث نبویہ کی تخریج کر دی جائے۔

سوم : تعلیمی سرگرمیوں کا استعمال :

تعلیمی سرگرمیوں کو ترتیب دیتے وقت کچھ معیاروں کا خیال رکھا گیا ہے، جیسے :

- سرگرمیاں سبق کے اہداف و مقاصد سے جڑی ہوئی ہوں اور ان مقاصد کے حصول میں سرگرمیوں کا بھی کردار رہے۔

- طالب علم کے مزاج کا خیال رکھتے ہوئے کچھ سرگرمیاں معلم کی نگرانی میں اور کچھ ساتھیوں کے تعاون سے کرنے کے لیے دی جائيں۔

تعلیمی سرگرمیوں میں تنوع رکھا جائے۔ کچھ سرگرمیاں سمعی ہوں، کچھ سرگرمیوں میں معلم کی باتوں کو دوہرایا اور نقل کیا جائے، کچھ سرگرمیوں میں کسی موضوع سے متعلق کچھ معین چيزیں جمع کرنے کو کہا جائے، کچھ سرگرمیوں کا تعلق شرح، تلخیص، زمرہ بندی اور دوبارہ تشکیل سے ہو، کچھ سرگرمیاں یاد کرنے، سننے اور پڑھنے سے تعلق رکھتی ہوں، کچھ سرگرمیاں ترتیب دینے کے قبیل سے ہوں اور کچھ حساب پر مشتمل۔

چہارم : تعلیمی وسائل، جن کے دائرے میں درج ذیل چيزیں آتی ہيں :

- نصابی کتاب اور اس میں موجود تصاویر اور ماڈل۔

- کلاس روم میں آویزاں بڑے بڑے ڈسپلے بورڈ۔

- اجتماعی سرگرمیوں کے لیے کچھ کارڈ۔

- ریکارڈنگ ڈیوائس۔

پنجم : اندازۂ قدر کے متنوع اسالیب :

مشمولات کے اسباق کے سوالات تیار کرتے وقت خیال رکھا گیا ہے کہ سوالات سبق کے اغراض و مقاصد سے جڑے ہوئے ہوں اور معرفت کے پہلو کی پیمائش کرنے والے یہ سوالات تنوع کے حامل ہوں۔ کہیں صحیح و غلط کی نشان دہی کرنے کے لئے کہا جائے، کہیں ملان کرنے کو کہا جائے، کہیں متعدد آپشنز میں سے ایک کا انتخاب کرنےکا مطالبہ کیا جائے، کہیں مکمل کرنے کا حکم دیا جائے اور کہیں ترتیب دینے کے لئے کہا جائے۔ اسی طرح وجدان اور مہارت کے پہلو کی پیمائش کے سلسلے میں معارف کو ایسے رویوں میں بدلنے کی کوشش کی گئی ہے، جن کی پابندی طالب کے ذریعے کی جائے۔ یہاں ہم اس بات کی جانب اشارہ کر دینا چاہتے ہیں کہ وجدان اور مہارت کے پہلوؤں کی پیمائش کا ایک بہترین طریقہ کلاس میں مدرس کے ذریعے اور گھر میں والدین کے ذریعے مشاہدہ اور متابعت کا پہلو ہے۔

ششم : تدریس کی حکمت عملیاں :

عزیز معلم! یہاں آپ کو تدریس کے کچھ طریقوں، جن کا استعمال اس رہ نما کتاب کو تیار کرنے میں کیا گیا ہے، سے روبرو کرایا جاتا ہے، تاکہ آپ ان سے، ان کے طریقۂ کار سے اور ان کو عملی جامہ پہنانے کے مراحل سے آگاہ ہو جائيں۔

(1) باہمی امداد سے سیکھنے پر مبنی حکمت عملی :

یہ ایک ایسا طریقۂ تدریس ہے، جس کی بنیاد طلبہ کو چھوٹے چھوٹے گروہوں (2 : 6 طلبہ) میں تقسیم کر کے سیکھنے کے عمل کو انجام دینے پر قائم ہے۔ اس طریقۂ تعلیم کے تحت طلبہ کو ساتھ مل کر، ایکٹیو ہو کر اور ایک دوسرے کی مدد سے کام کرنے کی اجازت دی جاتی ہے، تاکہ گروہ میں شامل ہر طالب علم کی سطح بلند ہو اور مشترکہ تعلمیی ہدف حاصل ہو سکے۔ گروہ میں شامل طلبہ کے درمیان کام تقسیم کر دیا جاتا ہے اور ہر گروہ کا ایک قائد مقرر کر دیا جاتا ہے، جو اس میں شامل طلبہ کی کار کردگی پر نظر رکھے اور ان کے جوابات جمع کر کے استاد کے سامنے رکھے۔

(2) برین اسٹورمنگ (Brainstorming) :

اس طریقے کی بنیاد غور و فکر اور تخلیقی صلاحیتوں کو مہمیز کرنے پر استوار ہوئی ہے۔ برین اسٹورمنگ کا استعمال ذہنی صلاحیتوں اور سرگرمیوں میں اضافے کے مقصد سے بہت سی علمی دشواریوں اور زندگی سے متعلق مختلف مسائل کے حل کے بارے میں اجتماعی یا انفرادی غور و فکر کے ایک اسلوب کے طور پر کیا جاتا ہے۔

اس کے لیے بہت بڑی مقدار میں تجاویز، حل یا معلومات جمع پیش کیے جاتے ہیں، اور ان پیش کردہ تجاویز ، حل یا معلومات کی ضروری تنقیح و ترمیم کر کے صحیح حل یا رائے کو لیا جاتا ہے۔

(3) حل مسائل پر مبنی حکمت عملی :

یہ ایسا طریقہ ہے، جس میں سیکھنے والا اپنی جان کاریوں اور مہارتوں کا استعمال کسی نئے اور نامانوس طریقے سے کسی صورت پر قابو پانے اور اس کے حل تک پہنچنے کے لیے کرتا ہے۔

اس طریقے کے تحت کیے جانے والے اقدامات میں مسئلے کو سمجھنا، اس کی تحدید، اس سے متعلق معلومات یک جا کرنا اور اس کے بعد مختلف حل پیش کرنا اور سب سے بہتر حل کے انتخاب کے لیے ان کا مطالعہ شامل ہے۔

(4) رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی :

انھیں معرفتی نقشے (Knowledge Maps)، ذہنی نقشے (Mind Maps)، تصوراتی نقشے (Concept Maps) اور معلوماتی نقشے بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے تحت موضوع کی تحلیل جزئیات میں کرنے کے بعد ان جزئیات کو ہندسی شکلوں، جسے جدولوں، دائروں یا مخروطی اشکال کے خاکوں کے ذریعے بیان کیا جاتا ہے۔ دراصل اس کا مقصد معلومات کا مطالعہ، ان کے درمیان ربط پیدا کرنا اور ان کو یاد کرنا ہوتا ہے۔

(5) موازنہ پر مبنی حکمت عملی :

یہ حکمت عملی ذہنی صلاحیتوں کو فعال بنانے، عناصر اور اشیا کے درمیان ربط کو واضح کرنے کے لیے عقل کو کام میں لانے اور مشابہت اور اختلاف کے پہلؤوں کی تحدید پر کام کرتی ہے۔ اس طرح کے غور و فکر کے لیے اعلی ابداعی صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیوں کہ جواب دینے کے لیے ہمیشہ عناصر کے درمیان ایک نئے نقطۂ نظر کی ضرورت ہوتی ہے۔

(6) قصہ گوئی پر مبنی حکمت عملی :

طریقۂ قصہ گوئی کا امتیازی وصف اس کا جوش و خروش، جاذبیت اور طلبہ پر اثر انداز ہونا ہے۔ قصہ خیال کو پروان چڑھاتا ہے، جذبات کو ابھارتا ہے، مقدمات کو نتائج سے جوڑنے کی دعوت دیتا ہے اور مجرد مفہوم کو محسوس واقع میں بدلنے کا کام کرتا ہے۔ قصہ مختلف واقعات کو آپس میں جوڑنے کے ساتھ ساتھ طالب کو اس کے ساتھ تعامل کرنے اور جو وہ سیکھتا ہے اس کے ساتھ جڑنے کی ترغیب دیتا ہے۔ قصہ گوئی کے وقت اس کی زبان، اسلوب اور طلبہ کے مناسب حال ہونے کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے۔

(7) عملی تطبیق پر مبنی حکمت عملی :

اس اسلوب کے پیش نظر اس بات کی کوشش ہوتی ہے کہ معلومات کو زندگی کے مسائل اور احوال سے جوڑ کر دیکھا جائے، تاکہ اسباق کے مشمولات کو پوری توجہ سے پڑھنے میں طالب علم کو مدد ملے۔ اس سے اسے کئی غلطیوں اور منفی باتوں کے علاج اور مثبت پہلووں کو پختہ کرنے کا راستہ ملے گا اور وہ انھیں اسلام کی جانب سے پیش کردہ شرعی احکام اور اخلاقی قواعد سے جوڑنے کوشش کرے گا، جس کے نتیجے میں اسے اس بات کا احساس ہوگا کہ اسلام اس کی زندگی کو نظم و ضبط کے دائرے میں لانے کا کام کرتا ہے۔

(8) غور و فکر کریں - تبادلۂ خیال کریں - شیئر کریں، پر مبنی حکمت عملی :

یہ حکمت عملی دراصل ایک بحث و مکالمہ اور باہمی تعاون پر مبنی حکمت عملی ہے، جو تین مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلے مرحلے ميں معلم طالب علم کو تنہا سوال کا جواب دینے یا سرگرمی انجام دینے کے بارے میں سوچنے کا موقع دیتا ہے۔ دوسرے مرحلے میں طالب علم اپنے جواب کے بارے میں اپنے کسی ساتھی سے تبادلۂ خیال کرتا ہے۔ تیسرے اور آخری مرحلے میں حاصل شدہ جوابات کے بارے میں اپنے گروپ کے افراد کے ساتھ تبادلۂ خیال کرتا ہے، تاکہ ایک ایسا مشترکہ جواب سامنے آئے، جو پورے گروپ کی رائے کی نمائندگی کرتا ہو۔

سیکھنے کے عمل میں اس حکمت عملی کی بڑی اہمیت ہے۔ کیوں کہ یہ فعال انداز میں معلومات کے ساتھ سروکار رکھنے میں طلبہ کی مدد کرتی ہے اور ان کے اندر اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کی صلاحیت کو پروان چڑھاتی اور غور و فکر کی صلاحیت کو ترقی دیتی ہے۔

(9) تمہیدی مواد کی پیش کش پر مبنی حکمت عملی :

اس سے مراد یہ ہے کہ متعلمین کو سبق کے آغاز میں موضوع کی ساخت اور آگے پیش کی جانے والی معلومات سے متعلق ایک مقدمہ یا مختصر تمہیدی مواد فراہم کیا جائے، جس کا مقصد ہو موضوع سے متعلقہ مفاہیم، افکار اور مسائل کو آسان بنا کر سکھانا اور متعلم کی سابقہ معلومات اور آگے اسے جو معلومات حاصل کرنے کی ضرورت ہے، دونوں کے درمیان ربط پیدا کرنا۔

تمہیدی مواد کو بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اول تحریری تمہیدی مواد اور دوم غیر تحریری تمہیدی مواد۔ پھر تحریری تمہیدی مواد کو بھی دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ وضاحتی مواد اور تقابلی مواد۔

جب کہ غیر مکتوبہ مواد کو سمعی مواد، بصری مواد اور سمعی بصری مواد میں تقسیم کیا گیا ہے۔ بیانیہ مواد کے اندر ظواہر کے اجزا کو بیانیہ اشکال، جیسے بیانی جدول کی شکل میں سبق کے آغاز میں طلبہ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔

(10) فرضی تصورات قائم کرنے پر مبنی حکمت عملی :

اس طریقے کے تحت متعلم سے زیر درس موضوع کے سلسلے میں فرضی تصورات قائم کرنے یا توقعات کرنے کو کہا جاتا ہے، جس کی وجہ سے اس کے سامنے ایک ہدف آ جاتا ہے اور وہ مشمولات سے متعارف ہوتے وقت ایک جگہ دھیان مرکوز رکھتا ہے، تاکہ اس کی ان توقعات کی تصدیق یا تردید ہو جائے۔ اس طریقے کے تحت متعلم کو اس بات کا بھی موقع دیا جاتا ہے کہ وہ جدید معلومات کو قدیم معلومات کے ساتھ جوڑ سکے۔

اس طریقے کے تحت معلم اس بات میں طلبہ کی مدد کر سکتا ہے کہ وہ درج ذیل طریقوں سے اندازہ لگائيں کہ زیر درس موضوع کن باتوں پر مشتمل ہے :

موضوع کے عنوان کو پڑھنا، سبق کے اغراض و مقاصد کو جاننا یا سوالوں سے مدد لینا۔

(11) خود سوالى (سوال وضع کرنے) پر مبنی حکمت عملی :

اس طریقہ کا مقصد سیکھنے کے عمل سے پہلے، دوران اور بعد میں موضوع کے بارے میں سوالات پوچھ کر خود آگاہی پیدا کرنا، متن کے ساتھ تعامل کو آسان بنانا اور سمجھنے اور یاد کرنے کے عمل کو آسان بنانا ہے۔ اس کی اساس یہ ہے کہ متعلم زیر درس حدیثوں کے تعامل کے دوران خود اپنی ذات سے کچھ سوالات کرے۔ اس سے اس کی ان کے معلومات کے درمیان جو وہ حاصل رہا ہے اور اس علم کے درمیان جس تک اس کی رسائی ہو رہی ہو، زیادہ ربط پیدا ہوگا اور نتیجے کے طور پر اس کے اندر غور و فکر کے عمل کے بارے میں آگاہی پیدا ہوگی۔

(12) میں کیا جانتا ہوں - میں کیا جاننا چاہتا ہوں - میں نے کیا سیکھا (KWL) پر مبنی حکمت عملی :

یہ حکمت عملی طالب علموں کو موضوع میں موجود معلومات کا اندازہ لگانے اور اسے اپنے سابقہ ​​علم سے مربوط کرنے میں مدد کرتی ہے۔ اسی طرح معلم اسے کسی مخصوص موضوع میں طلبہ کی دل چسپی پیدا کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے اور اس موضوع کے بارے میں طلبہ کی سمجھ اور ان کی تصوراتی غلطیوں کا جائزہ لے سکتا ہے۔

مختصرا اس طریقے کو KWL کہا جاتا ہے۔ یہ تین حروف دراصل تین کلمات کی جانب اشارہ کرتے ہيں :

(K): Know ، (W): Want ،(L): Learned.

پہلا لفظ اس بات سے عبارت ہے کہ متعلم زیر درس موضوع کے بارے میں عملا کیا کچھ جانتا ہے۔ دوسرا لفظ اس بات سے عبارت ہے کہ وہ اس موضوع کے بارے میں کیا کچھ جاننا چاہتا ہے اور تیسرا لفظ اس بات سے عبارت ہے کہ اس نے اس موضوع کے بارے میں کیا کچھ سیکھا۔

(13) نقطہ ہائے نظر کے تجزیے پر مبنی حکمت عملی :

یہ حکمت عملی متعلم کو اپنی آرا اور عقائد کے بارے میں سوچنے میں مدد دیتی ہے، مختلف حالات میں اسے اپنے نقطہ نظر، نظریات، اصولوں، اقدار، عقائد اور آرا کا اظہار کرنے کی ترغیب دیتی ہے، جو چیزوں کے بارے میں اس کے نقطۂ نظر اور واقعات کے ساتھ اس کے تعامل کو متاثر کرتی ہیں۔ دراصل یہ حکمت عملی طالب علم کے اپنے نقطۂ نظر کے تجزیہ پر منحصر ہے۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ اپنے نقطۂ نظر کے بارے میں اسے اپنی سوچ کو مزید گہرا کرنے، اس کا نقطۂ نظر کہاں تک صحیح اور صورت حال کے تقاضے کے مطابق ہے، اسے جاننے کے مواقع فراہم کیے جائيں۔ نقطۂ نظر کے تجزیہ کے بعد میں اس کی حمایت اور قبولیت (اگر مناسب اور درست ہو)، اس میں ترمیم (اگر ضروری ہو) یا اس کا رد (اگر نامناسب اور غلط ہو) نتیجے کے طور پر سامنے آسکتا ہے۔

اخیر میں عرض یہ ہے کہ

آپ کے سامنے موجود یہ رہنما کتاب بہتر نتا‎ئج دے سکتی ہے اگر اس کا صحیح استعمال ہوا۔ صحیح استعمال نہ ہونے کی صورت میں اس کا کوئی فائدہ نہيں ہے۔ اسے پیش کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد آپ کی صلاحیتوں کو بیڑی پہنانا یا آپ کی ہنرمندیوں کو محدود کرنا ہرگز نہيں ہے۔

اکائی : قرآن و تفسیر

پہلا درس : قرآن سیکھنے اور سکھانے کی فضیلت

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات :

(القرآن الكريم- السَّفرة الكرام- يتتعتع).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - تعلیمی کارڈ - تعلیمی بورڈ - آڈیو میڈیم جس میں

کچھ قرآنی آیات ریکارڈ ہوں)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(باہمی تعاون سے سکیھنے پر مبنی حکمت عملی - بحث و مکالمہ کی حکمت عملی - برین اسٹورمنگ)

اقدار و رجحانات :

• قرآن کریم کا عظیم مقام و مرتبہ :

• قرآن کریم سیکھنے اور سکھانے کی حرص۔

• حاملین قرآن کا مقام و مرتبہ۔

• قرآن اور حاملین قرآن سے محبت۔

قرآن کریم کے معانی پر غور و فکر۔

سبق کی تمہید :

سبق کی تمہید کے طور پر مندرجہ ذیل حدیث نبوی ﷺ کی روشنی میں طلبہ کو قرآن کریم پڑھنے کی ترغیب دیں : ”جس نے کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھا، اس کے لیے ایک نیکی ہے اور ایک نیکی کا اجر اس طرح کی دس نیکیوں کے برابر ہوتا ہے۔ میں نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے؛ بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے“

اس کے بعد انھیں بتائيں کہ قرآن کریم سیکھنا اور سکھانا اس کی تلاوت سے عظیم کام ہے، پھر انھیں سبق کے موضوع تک لے جائيں اور اس کے بعد بلیک بورڈ پر عنوان لکھیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر(1)

طلبہ کو خاموشی سے سبق پڑھنے کا حکم دیں۔ بعد ازاں کچھ طلبہ کو بلیک بورڈ پر سبق کے بنیادی عناصر لکھنے کے لئے کہیں، تاکہ ہر عنصر کے بارے میں تفصیلی گفتگو ہو سکے۔

مرحلہ نمبر (2)

بہتر ہوگا کہ باہمی امداد پر مبنی آموزشی حکمت عملی کو بروئے کار لایا جائے اور طلبہ کو مختلف زمروں میں تقسیم کر دیا جائے۔

اس کے بعد ہر زمرے سے کہا جائے کہ آپسی تعاون سے تلاوت قرآن کریم کی فضیلت واضح کرے۔

بعد ازاں زمرے کے افراد میں سے ایک طالب علم کو ان فضائل کو بلیک بورڈ لکھنے کا کام سپرد کیا جائے۔

اخیر میں آپ ان کی کارکردگی پر اپنا عندیہ دیں۔

مرحلہ نمبر (3)

باہمی چرچا اور مکالمہ کے اسلوب کو بروئے کار لاتے ہوئے طلبہ کے ساتھ درج ذیل سوالات کے بارے میں تبادلۂ خیال کریں :

قرآن کریم سیکھنے اور دوسروں کو سکھانے کی کیا فضیلت ہے؟

قرآن کریم کی تلاوت کا کیا ثواب ہے؟

نتیجہ نکالنا :

طلبہ کے جوابات کے توسط سے انھیں سبق کے نتائج تک لے جائيں اور اس کے بعد انھیں بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔

1۔ ہر مسلمان پر سورہ فاتحہ پڑھنا سیکھنا واجب ہے، کیوں کہ اس کے بغیر نماز درست نہیں ہوتی۔

2۔ ہر مسلمان کو سورہ فاتحہ پڑھنا سیکھنے اور اس کے معانی سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

3۔ اللہ کے نبی ﷺ نے قرآن کریم سیکھنے اور پڑھنے پڑھانے کے لیے جمع ہونے والے لوگوں سے بڑی بڑی فضیلتوں کا وعدہ کیا ہے۔

4۔ اللہ تعالی نے قرآن کریم سیکھنے اور دوسروں کو سکھانے والوں کو بڑا اونچا مقام عطا کیا ہے۔

سرگرمیاں

بہتر ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں پر درج ذیل طریقوں سے عمل درآمد کرنے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف اجتماعی۔ تلاوت قرآن کریم سیکھنے کے دست یاب وسائل کی وضاحت۔ ہدف نمبر : 2

ہر طالب علم کو سبق کے مشمولات اور بطور خاص قرآن کریم کی تلاوت سیکھنے کے دست یاب وسائل سے متعلق حصے کی جانب رجوع کرتے ہوئے پہلی سرگرمی انفرادی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں۔ اس کے بعد کچھ طلبہ کا انتخاب اخذ کردہ نتائج پیش کرنے کے لیے کریں اور ان کو اندازۂ قدر کے مرحلے سے گزاریں۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ قرآن کریم سیکھنے کی بہتر تکنیکوں سے آگاہی۔ ہدف نمبر : 4

طلبہ کو انفرادی طور پر دوسری سرگرمی انجام دینے اور اپنا جواب ایک خارجی کارڈ میں لکھنے کا حکم دیں۔ بعد ازاں طلبہ سے سارے کارڈ لے لیں، ان کو اندازۂ قدر کے مرحلے سے گزاریں، سب سے زیادہ باریکی کے ساتھ دیے گئے اور درست ترین جواب کی نشان دہی کریں اور صحیح جواب دینے والے طالب علم کی حوصلہ افزائی کریں۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

1۔ ایک دوسرے کی مدد سے سوالات کا جواب دینے کے لیے طلبہ کو مختلف زمروں میں تقسیم کر دیں۔

2۔ ہر زمرہ کسی ایک سوال کا جواب ایک تعلیمی کارڈ میں دے۔

3۔ سارے زمرے اپنے جوابات ایک دوسرے سے بدل لیں، تاکہ ان کو اندازۂ قدر کے مرحلے سے گزارا جا سکے۔

4۔ درست جواب دینے والے گروہ کی حوصلہ افزائی کریں۔

سوال 1 : () - () - () - ()

سوال 2 : (دونوں - کثرت تلاوت - جس کی تلاوت کی گئی)

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

قرآن کریم سیکھنے اور سکھانے کے لیے حلقوں کا انعقاد۔

ہر طالب علم اپنے اہل خانہ کو قرآن پڑھنے کا طریقہ سکھائے اور اس کا کچھ حصہ حفظ کرائے۔

دوسرا سبق : سورہ بقرہ کی آخری چند آیتوں کی تفسیر

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات :

(لَا نُفَرِّقُ- الْمَصِيرُ- لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ- وُسْعَهَا- لَا تُؤَاخِذْنَا- إِصْرًا).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - ڈسپلے اسکرین - تعلیمی بورڈ - قرآنی آیات کی آڈیو ریکارڈ - مصحف - تعلیمی تصویریں)

تدریسی حکمت عملیاں :

(پیشین گوئى پر مبنی حکمت عملی - رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی - قصہ گوئی پر مبنی حکمت عملی - استنباطی طریقہ - مناقشہ پر مبنی حکمت عملی)

اقدار و رجحانات :

• اس نعمت کا شعور پیدا کرنا کہ مذہب اسلام ایک آسان مذہب ہے۔

• اللہ کے نبی ﷺ اور صحابۂ کرام کی عظمت کا خیال رکھنا۔

• تمام نبیوں اور رسولوں پر ایمان رکھنا۔

• شریعت اسلامی کے ایک آسان مذہب ہونے پر یقین رکھنا۔

سبق کی تمہید :

پیش گوئی پر مبنی حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے طلبہ کے سامنے سبق کی تمہید رکھیں۔ انھیں سورہ بقرہ کی آخری دو آیتوں کے مشمولات کا اندازہ لگانے کے لئے کہيں، ان کے جوابات کا استقبال کریں اور مناسب حوصلہ افزائی کریں۔

اس کے بعد بتائيں ان کے اندر دو باتیں بتائی گئی ہیں۔ پہلی : اس بات کی گواہی کہ اللہ کے نبی ﷺ اور آپ کے ساتھی ایمان کے ارکان کی گواہی دیتے ہیں۔ دوسری : اس بات کا بیان کہ اللہ تعالی کو کیسے پکارا جائے۔ بعد ازاں سبق کا عنوان بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

معلم طلبہ کو کسی آڈیو میڈیم کے توسط سے شامل درس آیتوں کو سننے کی ہدایت دے، اس کے بعد تین طلبہ کا انتخاب اس کی تلاوت کے لیے کرے اور اس بات کی کوشش کرے کہ ان سے سرزد ہونے والی غلطیوں کو درست کر دیا جائے۔

اس کے بعد طلبہ مذکورہ آیتوں کو خاموشی کے ساتھ پڑھیں، سامنے آنے والے مشکل الفاظ کی نشان دہی کریں، آیتوں کے سیاق و سباق پر غور کر کے ان کے معنی سمجھنے کی کوشش کریں اور انھیں صفحے کے حاشیے پر لکھ دیں۔

مرحلہ نمبر (2)

آپ ایسا کر سکتےہیں کہ مذکورہ آیتوں کی تشریح و توضیح کی تیاری کے طور پر ان کے افکار پر مشتمل ایک رہ نما نقشہ پیش کریں اور طلبہ کو ان پر غور کرنے کا حکم دیں۔

معلم اللہ کے رسول ﷺ کے ایمان کے ساتھ خاص آیتوں کی تشریح و توضیح کرے اور طلبہ کو اس بات کا موقع دے کہ وہ اس جز کے بارے میں جو کچھ جاننا چاہتے ہیں، اس سے متعلق اپنے سوالات رکھیں۔

مرحلہ نمبر (3)

قصہ گوئی کے اسلوب کو بروئے کار لاتے ہوئے مذکورہ آیتوں میں وارد اللہ سے دعا کرنے کی وضاحت کریں۔

نتیجہ نکالنا :

ہر تین طلبہ کو ایک دوسرے کی مدد سے مذکورہ آیتوں کے فوائد تک پہنچنے کی ہدایت دیں اور ہر زمرے سے کہیں کہ وہ اپنے اپنے اخذ کردہ فوائد بلیک بورڈ پر لکھ دے۔ اس کے بعد سارے زمروں کے جوابات کا موازنہ کر کے سب سے زیادہ باریک بینی کے ساتھ دیے گئے جواب کی نشان دہی کریں اور طلبہ کو اسے اپنی کاپیوں میں لکھ لینے کا حکم دیں۔

سرگرمیاں

بہتر ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر 1 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ سورہ بقرہ کی آخری آیتوں کی فضیلت سے آگاہی۔

ہدف نمبر : 2

پہلی سرگرمی کے ضمن میں وارد حدیث کو ایک بورڈ پر پیش کریں، ایک طالب کو اسے پڑھنے کا حکم دیں، تبادلۂ خیال کے توسط سے طلبہ کے سامنے سرگرمی کا سوال رکھیں، انھیں جواب دینے کے لئے کہیں، جواب دینے کے عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ نہ لینے والے طلبہ کو جواب دینے کی ترغیب دیں اور اس کے بعد ہر طالب علم کو کاپی پر جواب لکھ لینے کا حکم دیں۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ امت پر اللہ تعالی کے فضل و کرم اور اس کے درگزر کی وضاحت۔ ہدف نمبر : 4

طلبہ کو مختلف زمروں میں تقسیم کر دیں اور ہر گروہ کو آپسی تعاون سے سرگرمی انجام دینے کی ہدایت کریں۔ اس دوران آپ اس بات پر توجہ مرکوز رکھیں کہ سب لوگ ایک دوسرے کی مدد اور حدیث شریف کے اندر جواب ڈھونڈنے کا کام کر رہے ہیں یا نہیں؟

ہر زمرے کا جواب دیکھیں، ان کے درمیان موازنہ کریں اور سب سے درست جواب کی نشان دہی کر دیں، تاکہ ہر زمرہ اپنی غلطیوں کی اصلاح کر سکے۔ اخیر میں سب سے بہتر جواب دینے والے زمرے کی عزت افزائی کریں۔

سرگرمی نمبر : 3 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ شرعی احکامات میں آسانی کے بارے میں مناقشہ۔ ہدف نمبر : 4

آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ طلبہ کے علم کا سہارا لیں اور ان سے شریعت اسلامی کی آسانی اور سہولت کے بارے میں ان کی جان کاری کو ٹٹولنے اور نماز، روزہ اور حج کے احکامات سے اس کی مثالیں پیش کرنے کے لئے کہیں۔ ان کے جوابات کا استقبال کریں، ان کو اندازۂ قدر کے مرحلے سے گزاریں اور درست جواب واضح کریں۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

`پہلے سوال کا جواب ہر طالب علم کو انفرادی طور پر دینے کی ہدایت کریں اور پھر تمام طلبہ کے ساتھ جوابات کے بارے میں تبادلۂ خیال کریں اور کہیں کہ ہر طالب علم صحیح جواب پر خود کو ایک نمبر دے۔ طلبہ کے جوابات دیکھیں اور ان کے درمیان موازنہ کریں۔

سوال 1 : ۔ ۔

تین طلبہ کا انتخاب اس بات کے لیے کریں کہ ہر طالب علم بلیک بورڈ پر دوسرے سوال کا صحیح آپشن لکھے۔ ان کے ساتھیوں سے کہیں کہ ان کے جوابات کا اندازۂ قدر کریں اور صحیح جواب اپنی اپنی کتاب میں لکھ لیں۔

سوال 2 : نسیان - ان کا شدید ظلم - قیام اللیل

ہر دو طالب علم تیسرے اور چوتھے سوالات کا جواب دینے کے لیے ایک دوسرے کا تعاون کریں۔ اس دوران معلم ان کے سوالات سے آگاہی حاصل کرنے کے لیے ان کے پاس سے گزرتا رہے۔ اس کے بعد سب سے زیادہ صحیح جواب دینے والے زمرے کا انتخاب کرے، تاکہ وہ باقی ساتھیوں کو صحیح جواب پڑھ کر سنا دے اور ہر زمرہ اپنی غلطیوں کی اصلاح کر لے۔

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

فضائل صحابہ اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بات سننے اور ماننے کی ضرورت کے بارے میں معلومات میں وسعت پیدا کرنے کے لیے معرفت کے کسی مصدر کی جانب رجوع کرنا، اخذ کردہ معلومات کا خلاصہ تیار کرنا اور اسے اگلی ملاقات میں پیش کرنا۔

طلبہ ایک دوسرے کی مدد سے بڑی تعداد میں اسلامی شریعت کے ایک آسان اور سہل شریعت ہونے کی مثالیں جمع کریں اور ان سے تعلق رکھنے والے دلائل بھی پیش کریں۔

تیسرا سبق : سورہ ضحی، سورہ شرح اور سورہ تین کی تفسیر

سبق کا دورانیہ : دو گھنٹیاں

نئے کلمات :

(سَجَى- قَلَى- فَآوَى- فَهَدَى- فَأَغْنَى- أَنْقَضَ ظَهْرَكَ- ذِكْرَكَ- فَانْصَبْ- التين - الزيتون- وَطُور سِينِينَ- الْبَلَد الْأَمِينِ).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - تعلیمی کارڈ - تعلیمی بورڈ - آڈیو میڈیم جس میں

قرآنی سورتیں ریکارڈ ہوں)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(تبادلہ پر مبنی تدریس "پیشین گوئی پر مبنی حکمت عملی - خود سوالی پر مبنی حکمت عملی - توضیح پر مبنی حکمت عملی - تلخیص پر مبنی حکمت عملی")۔

اقدار و رجحانات :

• اللہ کے نبی ﷺ کی عظمت کا لحاظ رکھنا۔

• یتیموں، کمزوروں اور تنگ دستوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔

• اس بات کا یقین رکھنا کہ اللہ تعالی اپنی تمام مخلوقات پر بڑا رحیم و کریم ہے۔

• بلد حرام کی عظمت کا خیال رکھنا۔

سبق کی تمہید :

طلبہ کو اپنا اپنا مصحف نکالنے اور سورہ ضحی، سورہ شرح اور سورہ تین پڑھنے کے لئے کہیں۔ پھر ہر طالب علم کو تین تین ایسے افکار اخذ کرنے کی ہدایت دیں، جن کے بارے میں یہ سورہ بات کرتی ہے۔ ہر طالب علم اپنا جواب اپنی کاپی میں لکھے اور آپ ان سے یہ امید رکھیں کہ وہ سبق ختم ہونے کے بعد خود اپنا ہی اندازۂ قدر کریں گے۔ اس کے بعد بلیک بورڈ پر سبق کا عنوان لکھ دیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

طلبہ تینوں سورتیں آڈیو میڈیم کے ذریعے سنیں، ان پر غور و فکر کریں اور ان الفاظ کی نشان دہی کریں، جن کی تفسیر جاننے کی ضرورت ہے۔

مرحلہ نمبر (2)

طلبہ مذکورہ آیات سے متعلقہ سوالات پیش کریں اور معلم کچھ دوسرے سوالات کے ذریعے ان کو مزید معنی خيز بنائے۔ جیسے :

مذکورہ آیات کی روشنی میں اللہ تعالی کے یہاں نبی کریم ﷺ کا مقام و مرتبہ واضح کریں۔

سوال : سورہ ضحی میں کون کون سے ربانی اوامر وارد ہوئے ہیں؟

سوال : سورہ شرح کی روشنی میں اللہ کے نبی ﷺ کی فضیلت واضح کریں۔

سوال : اللہ کے نبی ﷺ کے بارے میں ایک مسلمان کی کیا ذمہ داری ہے؟

سوال : ان الفاظ سے کیا مراد ہے : (طور سنين– البلد الأمين– في أحسن تقويم)؟

پھر معلم حکمت عملی کے دوسرے مرحلے کی تکمیل کے لیے ان سوالات کی تشریح و توضیح کرے، سوالات کو قرآنی آیات سے جوڑے اور ان آیات کی تشفی بخش تفسیر کرے۔

نتیجہ نکالنا :

تبادلہ پر مبنی حکمت عملی کے چوتھے مرحلے، جس کا تعلق تلخیص سے ہے، کی تکمیل کے لیے معلم طلبہ کو مذکورہ آیات کے اہم فوائد اور رہ نمائياں لکھنے کی ہدایت دے۔

پھر کچھ طلبہ کا انتخاب کرے، جو تحریر شدہ فوائد کو پڑھیں اور ان کے بارے میں اپنا عندیہ دیں، تاکہ یہ واضح ہو جائے کہ مذکورہ آیتوں کے اہم فوائد زیر تحریر آ سکے ہيں یا نہيں؟

اس کے بعد معلم اور باقی طلبہ ان کے بارے میں اپنا اپنا عندیہ دیں اور اندازۂ قدر کریں۔

سرگرمیاں

بہتر ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ سورہ ضحی، سورہ شرح اور سورہ تین کے فوائد اخذ کرنا۔ ہدف نمبر 2

معلم پہلی سرگرمی کے ضمن میں وارد ہر آیت کو ایک ایک تعلیمی کارڈ میں لکھے۔

کچھ طلبہ کا انتخاب کرے اور ان میں سے ہر فرد کو کسی ترتیب کا خیال رکھے بغیر ایک ایک تعلیمی کارڈ اٹھانے اور اس میں دیے گئے سوال کا جواب دینے کے لئے کہے۔

اس کے بعد ایک اور طالب علم کا انتخاب اپنے ساتھی کے جواب کا اندازۂ قدر کرنے کے لیے کرے، اور خود اس کی نگرانی و رہ نمائی کرے۔

(نہ تو تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ وه بیزار ہوا ہے۔)

(یقیناً ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا۔)

(پس یتیم پر تو بھی سختی نہ کیا کر۔) (اور نہ ہی سوال کرنے والے کو ڈانٹ ڈپٹ۔)

(پس جب تو فارغ ہو تو عبادت میں محنت کر، اور اپنے پروردگار ہی کی طرف دل لگا۔

(اور اس امن والے شہر کی۔)

سرگرمی نمبر 2 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ اللہ تعالی کی خوش نودی کے حصول کے وسائل مستنبط کرنا۔ ہدف نمبر 2

معلم طلبہ کے ہر زمرے کو ایک دوسرے کی مدد سے دوسری سرگرمی انجام دینے کے لئے کہے۔ ہر زمرے کا جواب دیکھے اور صحیح جواب تک پہنچنے کے لیے ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کرے۔ بعد ازاں سب سے بہتر جواب دینے والے زمرے کی نشان دہی کرے اور اس میں شامل افراد کی مناسب حوصلہ افزائی کرے۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

پہلے اور دوسرے سوال کا جواب ہر طالب علم انفرادی طور پر دے۔

معلم بلیک بورڈ پر صحیح جواب لکھ دے۔

معلم ہر طالب علم کو خود کو اپنے جواب کا مناسب نمبر دینے کے لیے کہے۔

ان کے نمبرات دیکھے اور مناسب حوصلہ افزائی کرے۔

سوال 1 : () - () - ()۔

ہر دو طالب علم تیسرے اور چوتھے سوال کا جواب ایک دوسرے کی مدد سے دیں۔

ہر زمرہ کسی دوسرے زمرے سے اپنا جواب بدل لے، تاکہ اندازۂ قدر انجام پا سکے۔

معلم ہر زمرے کو صحیح جواب کے ساتھ ساتھ وہ غلطیاں پیش کرنے کا موقع دے، جو اس نے دوسرے فریق کے جواب میں دیکھی ہیں۔

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

کمزوروں پر رحم کرنے کی اہمیت کے بارے میں سوشل میڈیا سائٹس پر پوسٹ لکھنا۔

طلبہ کو مذکورہ سورتوں کے اہم فوائد اپنے اہل خانہ اور دوستوں تک پہنچانے کا مکلف بنانا۔

چوتھا سبق : سورہ علق اور سورہ قدر کی تفسیر

سبق کا دورانیہ : دو گھنٹیاں

نئے کلمات :

(العَلَق - الرُّجْعَى - لَنَسْفَعَنْ - نَادِيَهُ - لَيْلَة القَدْرِ - الرُّوحُ).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - کمپیوٹر ڈیوائس - تعلیمی بورڈ - تعلیمی کارڈ - آڈیو میڈیم جس میں

دونوں سورتیں ریکارڈ ہوں)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(چرچا اور مکالمہ - دریافت پر مبنی آموزش - باہمی امداد پر مبنی آموزش)۔

اقدار و رجحانات :

• علم کی قدر و قیمت کا اندازہ لگانا۔

• تواضع کی اہمیت و فضیلت کا شعور پیدا کرنا۔

• تلاوت قرآن کریم کی حرص رکھنا۔

• لیلۃ القدر کی عظمت اور اس کے مقام و مرتبے کی معرفت۔

سبق کی تمہید :

معلم طلبہ کو سورہ قدر اور سورہ علق اور ان کی آیتوں کی تعداد سے متعارف کرائے۔ دونوں سورتیں کمپیوٹر ڈیوائس کی مدد سے مکمل طور پر پیش کر سکتا ہے۔ بعد ازاں بلیک بورڈ پر سبق کا عنوان لکھ دے۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

معلم زیر تدریس سورتوں کو دو حصوں میں تقسیم کر سکتا ہے۔ ایک حصے میں سورۂ علق کی آیتیں ہوں اور دوسرے حصے میں سورۂ قدر کی آیتیں۔

معلم طلبہ کو کسی متعین آڈیو میڈیم کے ذریعے پہلے حصے کی آیتیں سننے کا حکم دے۔

دھیمی آواز میں ان کو ساتھ میں دوہرانے اور سمجھنے کی کوشش کرنے کا بھی حکم دے۔

مرحلہ نمبر (2)

طلبہ سے کسی ایسے شخص کے بارے میں جانیں، جو اپنی تخلیق اور اپنی زندگی کے مراحل کے بارے میں غور وفکر کرتا رہتا ہے، تاکہ ان سے نصحیت حاصل کرے اور اللہ عز و جل کی قدرت پر ایمان رکھے۔

ان کی کار کردگی کی حوصلہ افزائی کی جائے اور اسے مذکورہ آیتوں کی تفسیر کا نقطۂ آغاز بنایا جائے۔

آپ درج ذیل سوالات سے مدد حاصل کر سکتے ہیں، تاکہ ان کے ساتھ تعامل کریں اور مذکورہ آیتوں کے استیعاب کے توسط سے ان کا جواب دیں :

سوال : سورہ علق کے توسط سے واضح کریں کہ اللہ کے رسول ﷺ پر وحی کے نزول کا آغاز کیسے ہوا؟

سوال : نعمت تونگری کے تئيں انسان کے طغیان و تکبر اور سورہ علق میں مذکور جزا کے حصول کے لیے اپنے رب کی جانب لوٹنے کی ضرورت کے درمیان ربط بیان کریں۔

سوال : ابو جہل کے قصے اور اللہ کے رسول ﷺ سے اس کی سخت دشمنی کے بارے میں آپ کیا جانتے ہيں؟

مرحلہ نمبر (3)

دریافت پر مبنی آموزش والى حکمت عملی کے توسط سے طلبہ کے سامنے درج ذیل آیات رکھیں : (إنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ، لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ).

طلبہ کو ان آیات کے بارے میں اپنا عندیہ دینے کے لئے کہیں اور ان کے جوابات کو اس سورہ کی آیات کی تفسیر کا نقطۂ آغاز بنائیں۔

طلبہ کے سامنے ہر آیت کو الگ الگ رکھیں، مفرد کلمات کے معانی بیان کریں اور آیت کی تفسیر کریں۔

نتیجہ نکالنا :

ہر دو طلبہ کو ان آیات کے فوائد اور رہ نمائياں اخذ کرنے کے لیے ایک دوسرے کی مدد کرنے کی ہدایت دیں۔

طلبہ کے سامنے ایک بورڈ رکھیں اور کچھ طلبہ کا انتخاب کر کے بورڈ پر ایک ایک فائدہ لکھنے کا حکم دیں۔

سرگرمیاں

بہتر ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمیاں : 1 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ علم اور حصول علم کی اہمیت کا بیان۔ ہدف نمبر : 2

ہر طالب علم کو ہوم ورک کے طور پر دوسری سرگرمی کا جواب دینے کی ہدایت دیں۔

اگلی ملاقات میں کچھ طلبہ کا انتخاب اپنا تحریر کردہ جواب پیش کرنے کے لیے کریں۔

جب کہ دوسرے طلبہ سے کہیں کہ وہ آپ کی نگرانی میں ان کے جوابات کا اندازۂ قدر کریں۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ لیلۃ القدر میں کئے جانے بڑے بڑے کاموں سے واقفیت۔ ہدف نمبر : 4

معلم ہر طالب علم کو دوسری سرگرمی میں وارد حدیث پڑھنے کا حکم دے، طلبہ کے ساتھ مل کر حدیث کے مشکل الفاظ کی تشریح کرے، ان کو سیاق و سباق کی روشنی میں معانی پیش کرنے کی ترغیب دے اور اس کے بعد کچھ طلبہ کا انتخاب سرگرمی کے نقاط کا جواب یکے بعد دیگرے دینے کے لیے کرے، ان کی اصلاح کرے اور بعد ازاں انھیں بلیک بورڈ پر لکھ دے، تاکہ انھیں طلبہ اپنی کتابوں میں لکھ لیں۔

لیلۃ القدر کے اعمال

آخری دس راتوں میں لیلۃ القدر تلاش کر کے اس میں نیکی کے کام کرنا۔

لیلۃ القدر میں بہ کثرت یہ دعا پڑھنا : اللهمَّ إنك عفوٌّ تحبُّ العفوَ فاعف عني.

آخری دس راتوں میں اعتکاف کرنا، جن میں لیلۃ القدر شامل ہے۔

لیلۃ القدر کا قیام۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

کتابوں میں دیے گئے درج ذیل سوالات کو اچھے سے پڑھ کر الگ الگ کارڈوں میں ان کا جواب دینا۔

ہر طالب علم اپنا کارڈ اپنے ساتھی کے کارڈ سے بدل لے، تاکہ اندازۂ قدر کا کام ہو سکے۔

سبھی کارڈوں کو جمع کر لیں اور اس کے بعد کسی ترتیب کا خیال رکھے بغیر کچھ کارڈوں کا انتخاب کر کے ان کو طلبہ کے سامنے اندازۂ قدر کے مرحلے سے گزاریں۔

ان کو صحیح اور غلط جوابات سے رو برو کریں۔

کارڈ کے حامل اور اس کی تصحیح کرنے والے دونوں طالب علموں کا نام بتائيں۔

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق میں سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں درج ذیل طریقوں سے عمل میں لانے پر توجہ دلائيں :

علم سیکھنے اور سکھانے کی کوشش کرنا اور اہل خانہ اور آس پاس کے لوگوں کو اس کی ترغیب دینا۔

اللہ کا عفو و درگزر اور مغفرت حاصل کرنے کے لیے لیلۃ القدر میں زیادہ سے زیادہ عبادت اور استفغار کرنا۔

پانچواں سبق : سورہ بینہ اور سورہ زلزلہ کی تفسیر

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات :

(مُنْفَكِّينَ- البَيِّنَةُ- البَريَّة- أشتاتًا- مثقال ذرة).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - کمپیوٹر ڈیوائس - تعلیمی بورڈ - آڈیو میڈیم جس میں

دونوں سورتيں ریکارڈ ہوں)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(باہمی چرچا اور مکالمہ کی حکمت عملی- تصور پر مبنی حکمت عملی - رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی)

اقدار و رجحانات :

• عبادت میں اخلاص و للہیت پیدا کرنے کی حرص رکھنا۔

• قول و عمل میں صدق کے زیور سے آراستہ ہونا۔

• اچھے اعمال کرنے والے مومنوں کى اقتدا۔

• قیامت کے دن کے حساب کی تیاری کرنا۔

سبق کی تمہید :

طلبہ کے ساتھ تبادلۂ خیال کیجیے کہ اللہ کے نبی ﷺ کس بات کی دعوت دیتے تھے، آغاز میں اللہ کی عبادت کی دعوت کیسے دی، آپ کی دعوت کے بارے میں آپ کی قوم کا کیا رویہ رہا اور رسالت کا انکار کرنے والوں کا کیا انجام ہوا؟ طلبہ کے جوابات حاصل کریں، ان کے بارے میں اپنا عندیہ دیں اور ان کو سبق کے موضوع تک لے جائيں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

معلم طلبہ کو شامل درس آیات کو کسی آڈیو میڈیم کے توسط سے سننے کی ہدایت دے۔

طلبہ قاری کے پیچھے پیچھے آیات کو دوہرائيں اور اس کے بعد معلم کسی طالب علم کو انھیں اپنے ساتھیوں کے سامنے پڑھنے کے لئے کہے۔

مرحلہ نمبر(2)

کچھ طلبہ کا انتخاب کر کے ان کے ساتھ مذکورہ آیات کے اندر بیان کی گئی اہم باتوں کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا جائے اور ساری آیتوں کی تفسیر اور تشریح کے ساتھ اس سلسلے میں ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کیا جائے۔

مرحلہ نمبر (3)

طلبہ کے سامنے مذکورہ آیات میں وارد اوامر الہی کو واضح کرنے والا ایک رہ نما نقشہ رکھیں۔

طلبہ کے ساتھ اس کے بارے میں تبادلۂ خیال کریں، جس میں ہر امر الہی اور آیت کریمہ میں اس کی جگہ کے بارے میں بات ہو۔

نتیجہ نکالنا :

ہر طالب علم کو مذکورہ آیات پر دوبارہ غور کرنے اور اس کے فوائد اخذ کرنے کا حکم دیں۔ ہر طالب علم اپنے اخذ کردہ فوائد اپنی کتاب میں لکھے۔ آپ ان کے جوابات دیکھتے رہیں۔

طلبہ کے سامنے ایک بورڈ رکھیں، جس میں مذکورہ آیتوں کے سارے فوائد اور رہ نمائياں درج ہوں۔

اس کے بعد ہر طالب اپنے تحریر کردہ فوائد کا موازنہ بورڈ میں درج فوائد سے کرے۔

سرگرمیاں

بہتر ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ اہل ایمان اور اہل کفر کے درمیان موازنہ کا طریقہ۔

ہدف نمبر : 2

طلبہ کو اس بات کا مکلف بنائیں کہ کتاب میں دی گئی پہلی سرگرمی کو پڑھیں اور اس کا جواب ایک ورق میں تحریر کریں۔

جواب تحریر کرنے کا کام ختم ہو جائے، تو کچھ طلبہ کو چن کر ان کے ساتھ جوابات کے بارے میں تبادلۂ خیال کریں اور بلیک بورڈ پر درست جواب لکھ دیں۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ طبہ کو آیتوں کے درمیان ربط سمجھنے کی مشق کرانا۔

ہدف نمبر : 3، 4

طلبہ کے سامنے دوسری سرگرمی پر مشتمل ایک بورڈ رکھیں اور انھیں ساتھیوں کے سامنے یکے بعد دیگرے سرگرمی کے دونوں عناصر پڑھنے کا حکم دیں۔

طلبہ کے ساتھ ہر عنصر کی توضیح و تشریح کے سلسلے میں تبادلۂ خیال کریں، ہر طالب علم کو متعلقہ عنصر کے صحیح جواب تک پہنچنے کے لیے اپنی استنباطی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا حکم دیں، ان کے جوابات کا استقبال کریں، ان کے بارے میں اپنا عندیہ دیں، صحیح جواب واضح کریں اور اسے بلیک بورڈ پر لکھ دیں، تاکہ طلبہ اپنی کاپیوں میں اتار سکیں۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

طلبہ کو مختلف گروہوں میں بانٹ دیں اور بتائيں کہ ہر گروہ اپنی کتابوں میں درج اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کے لیے ایک دوسرے کا تعاون کرے۔

اس دوران طلبہ کے پاس سے گزرتے رہیں، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ہر گروہ میں شامل طلبہ جواب دینے کے عمل میں شریک ہو رہے ہیں۔

ہر دو گروہوں کو اپنے اپنے جوابات ایک دوسرے سے بدل لینے کا حکم دیں، تاکہ ہر گروہ دوسرے گروہ کے جواب کی تصحیح کا کام کرے۔

ہر گروہ کے ذریعے دوسرے گروہ کے جواب میں دریافت کی گئی غلطیوں کو دیکھیں اور ان کو درست کرنے کا طریقہ بتائیں۔

اخير میں طلبہ کے سامنے مثالی جواب رکھیں۔

سوال 1 : () - () - () - () - ()۔

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

طلبہ کو نیکی کے کاموں میں لگے رہنے پر ابھاریں، تاکہ ان کے مثبت اثرات حاصل کر سکيں اور زندگی میں ان کے ثمرات کی لذت محسوس کر سکیں۔

طلبہ کو فرد اور سماج پر پڑنے والے سبق سے سیکھے ہوئے ایمان اور عمل صالح کے اثرات کو اپنے پریوار اور معاشرے کی سطح پر عام کرنے کی ہدایت دیں۔

چھٹا سبق : سورہ عادیات اور سورہ قارعہ کی تفسیر

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی۔

نئے کلمات :

(العَادِيَات- ضَبْحًا- المُورِيَات- المُغِيرَات صُبْحًا- كَنُودٌ- القَارِعَةُ- المَبْثُوث- هَاوِيَةٌ).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - کمپیوٹر ڈیوائس - تعلیمی بورڈ - آڈیو میڈیم جس میں

دونوں سورتیں ریکارڈ ہوں)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(مناقشہ پر مبنی حکمت عملی - تخیل پر مبنی حکمت عملی - باہمی امداد سے سیکھنے پر مبنی حکمت عملی)۔

اقدار و رجحانات :

• اللہ تعالی کی نعمت کی قدر و قیمت جاننا۔

• قیامت کے دن کی عظمت کا احساس دلانا۔

• حق کو مضبوطی سے پکڑے رہنا اور اس کی دعوت دینا۔

• اہل کفر و عصیان کی صفات سے دور رہنا۔

سبق کی تمہید :

طلبہ سے درج ذیل سوالات کریں : آخرت کے دن کے کیا کیا نام ہیں؟ اس دن سامنے آنے والے واقعات کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟ سامنے آنے والے جوابات کی روشنی میں طلبہ کو سبق کے موضوع تک لے جائيں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

معلم طلبہ کے سامنے زیر درس دونوں سورتیں پڑھے اور طلبہ کو پیچھے پیچھے دوہرانے کے لئے کہے۔

بہتر پڑھنے والے دو طلبہ کو ساتھیوں کے سامنے دونوں سورتیں پڑھنے کے لئے کہے۔ باقی طلبہ کو دھیان سے سننے اور غور کرنے کا حکم دے۔

مرحلہ نمبر (2)

طلبہ کو مہمیز کرنے کے لیے ان کے سامنے درج ذیل سوال رکھیں اور ان کے جوابات کا استقبال کریں، جن میں ایک یہ ہو کہ سننے والے کے یہاں کسی چيز کی تاکید اور اسے ثابت کرنے کے لیے قسم کھائی جاتی ہے۔

سوال : اگر آپ کو کسی کے سامنے تاکید کے ساتھ کوئی بات کہنی ہو اور وہ آپ کی بات سے مطمئن نہ ہو، تو آپ کیا کریں گے۔

معلم سورہ عادیات کی تشریح و توضیح کرے۔

اس بات کی کوشش کرے کہ یکے بعد دیگرے ساری آیتيں پیش کی جائیں اور ان کے پیچیدہ معانی کی تفسیر کی جائے۔

معلم طلبہ کو پیش کردہ سیاق کے مطابق ان کے معنی کی وضاحت کے لیے موقع دے۔

مرحلہ نمبر (3)

معلم سورہ قارعہ کی طرف منتقل ہو اور اس میں شامل قیامت کے دن کی ہول ناکیوں کو تخیلاتی اسلوب کے ذریعے بیان کرے۔

نتیجہ نکالنا :

معلم طلبہ کے ساتھ ان کے ذریعے پیش کردہ سبق سے متعلقہ افکار کا شروع سے مراجعہ کرے۔

مذکورہ آیات کے اپنے مطالعے کی روشنی میں معلم ان سے ان افکار کا اندازۂ قدر کرنے کا مطالبہ کرے۔

معلم ہر دو طلبہ کو ایک دوسرے کی مدد سے مذکورہ آیات کے فوائد اور رہ نمائيوں کی نشان دہی کرنے کی ہدایت کرے۔

اس کے بعد انھیں ان کی کتابوں کے دیے گئے افادہ کے پہلووں کو دیکھنے کا حکم دے۔

دونوں کے درمیان موازنہ کرے اور طلبہ کی کارکردگیوں کی مناسب حوصلہ افزائی کرے۔

سرگرمیاں

بہتر ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ ان اچھے اعمال کی نشان دہی، جن کو ایک مسلمان اپنی نیکیوں کے میزان میں دیکھنا پسند کرے گا۔ ہدف نمبر 2

طلبہ کے سامنے پہلی سرگرمی پر مشتمل ایک بورڈ رکھیں اور ایک کے بعد ایک طالب علم کا انتخاب ساتھیوں کے سامنے عمل کی نوعیت کو پڑھنے کے لیے کریں۔

طلبہ کے ساتھ ہر نوع کی وضاحت کے لیے تبادلۂ خیال کریں، ہر طالب علم کو نیکیوں کے میزان کو بھاری کرنے والے ایک عمل تک پہنچنے کی خاطر اپنی استنباطی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا حکم دیں، ان کے جوابات کا استقبال کریں، ان کے بارے میں اپنا عندیہ دیں، صحیح جواب واضح کریں اور اسے بلیک بورڈ پر لکھ دیں، تاکہ طلبہ اپنی کاپیوں میں لکھ لیں۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ طلبہ کو آیتوں کے درمیان تطبیق دینے کی مشق کرانا۔

ہدف نمبر 2، 3

معلم ڈسپلے اسکرین کی مدد سے دوسری سرگرمی کے ضمن میں وارد نصوص پیش کرے، کچھ طلبہ کا انتخاب کر کے انھیں پڑھنے کا حکم دے اور پھر ان کے ساتھ ان نصوص کے معنی اور مقصد کے بارے میں تبادلۂ خیال کرے۔

اس کے بعد ہر طالب کو انفرادی طور پر سرگرمی کا دوسرا حصہ انجام دینے اور اپنا جواب ایک خارجی کارڈ میں لکھنے کی ہدایت دے۔ بعد ازاں ان کے کارڈ جمع کر لے، ان کو اندازۂ قدر کے مرحلے سے گزارے اور سب سے زیادہ باریک بینی کے ساتھ دیے گئے اور سب سے درست جواب کی نشان دہی کرے اور صحیح جواب دینے والے کے نام کى وضاحت کے ساتھ اس کی تعریف کرے۔

(اور یقیناً یہ مال کى محبت میں بھی بڑا سخت ہے)۔

(اور پہاڑ دھنے ہوئے رنگین اون کی طرح ہو جائیں گے۔)

(پھر جس کے پلڑے بھاری ہوں گے۔) (وه تو دل پسند آرام کی زندگی میں ہوگا۔) (اور جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے۔) (اس کا ٹھکانا ہاویہ ہے۔)

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

ایک تجویز یہ ہے کہ سوالات یکے بعد دیگرے بلیک بورڈ پر لکھ دیے جائيں۔

بہتر ہوگا کہ آس پاس بیٹھنے والے ہر دو طالب علموں سے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ہر سوال کا جواب دینے کے لئے کہا جائے۔

کسی ترتیب کا خیال رکھے بغیر کچھ طلبہ کا انتخاب باقی طلبہ کے سامنے اپنے جواب رکھنے کے لیے کریں۔

تجویز یہ ہے کہ غلط جواب دینے والے طلبہ کو سبق کے مشمولات پڑھنے اور ان سے صحیح جواب نکالنے کے لئے کہا جائے۔

سوال 1 : (✓) - (×) - (✓) - (✓) - (×)۔

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

انذار و وعید کی آیات کے ذکر میں مخفی مقصد قرآنی کو سامنے رکھتے ہوئے کثرت سے توبہ و استغفار کرنا اور نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا۔

اپنے اہل خانہ کو بتانا کہ قیامت کے دن لوگوں کی دو قسمیں ہوں گی؛ ایک قسم کے لوگوں کی نیکی کا پلڑا بھاری ہوگا اور انھیں جنت نصیب ہوگی۔ جب کہ دوسری قسم کے لوگوں کے گناہوں کا پلڑا بھاری ہوگا اور انھیں جہنم جانا پڑے گا۔ چنانچہ انھیں نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے اور گناہ کے کاموں سے دور رہنے کی ترغیب دینا۔

اکائی : ایمان اور تزکیہ

پہلا سبق : نواقض توحید (کفر و شرک)

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات :

(الكفر- الشرك- النفاق- الردة).

تعلیمی وسائل :

(آڈیو میڈیم جس میں شامل درس قرآنی آیات ریکارڈ ہوں - کمپیوٹر ڈیوائس - اسکرین ڈسپلے - بلیک بورڈ - تعلیمی کارڈ)

تدریسی حکمت عملیاں :

(غلط تصورات کی تصحیح پر مبنی حکمت عملی - رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی - خود سوالى پر مبنی حکمت عملی - موازنہ پر مبنی حکمت عملی - باہمی امداد سے سیکھنے پر مبنی حمکت عملی)

اقدار و رجحانات :

- کفر و شرک کی تمام صورتوں اور شکلوں کی مذمت۔

- مسلمان پر کفر و شرک کے خطرے کا احساس۔

- کفر و شرک کی تمام صورتوں سے اجتناب۔

* سبق کی تمہید :

بلیک بورڈ پر درج ذیل عبارت لکھیں : (کچھ لوگ سمجھتے ہيں کہ کفر کا دائرہ اللہ تعالی کے انکار تک ہی محدود ہے)۔ پھر طلبہ کو اس کے سلسلے میں اپنی رائے دینے اور یہ بتانے کے لئے کہيں کہ یہ بات کتنی صحیح ہے؟ پھر طلبہ کے جوابوں کو درس اور اس کے مقاصد کی تعریف کا نقطۂ آغاز بنائيں۔

* سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ سبق کے عناصر سے متعلق طلبہ کی جان کاری کو سبق کے عناصر یعنی کفر اکبر، کفر اصغر اور دونوں کی قسموں پر مشتمل ایک رہ نما نقشے کے توسط سے منظم کر کے پیش کریں اور انھیں اس نقشے پر غور کرنے کے لئے کہیں۔

مرحلہ نمبر (2)

معلم ایسا کر سکتا ہے کہ خود سوالی پر مبنی حکمت عملی کے توسط سے ہر دو طلبہ کو ایک دوسرے کی مدد سے ایسے سوالات پیش کرنے کے لئے کہے، جن کا جواب وہ اس سبق سے چاہتے ہیں۔

معلم ان سوالات کو جمع کر لے اور ان کو طلبہ کے سامنے آویزاں ایک بورڈ میں لکھ دے۔ معلم ان سوالات کی معنی خیزی میں اضافے کے لیے اپنی جانب سے کچھ سوالات جوڑ بھی سکتا ہے۔

س : کفر کا کیا مفہوم ہے؟

سوال ؛ کفر اکبر اور کفر اصغر کے درمیان فرق بیان کریں۔

سوال : کفر اکبر اور کفر اصغر کی کچھ مثالیں پیش کریں۔

سوال : کفر اکبر اور کفر اصغر کے آثار واضح کریں۔

سوال : شرک کی قسمیں بیان کریں، ہر قسم کی تعریف کریں اور اس کی مثال دیں۔

سوال : شرک اصغر کے کیا نتائج مرتب ہوتے ہیں؟

مرحلہ نمبر(3)

معلم کفر اکبر اور کفر اصغر کی تشریح کرے اور ساتھ میں دونوں سے جڑے ہوئے دلائل اور دینی شواہد پیش کرے۔ آڈیو ميڈیم کے توسط سے قرآنی آیات بھی پیش کرے، جنھیں طلبہ دھیان سے سنیں اور معلم ان کی توضیح و تشریح کرے اور ان کے معنی پر طلبہ کے ساتھ مناقشہ کرے، تاکہ ان کی رہ نمائی واضح ہو سکے اور یہ بات سامنے آسکے کہ کفر کی صورتوں کو واضح کرنے سے ان کا تعلق کس حد تک ہے؟

مرحلہ نمبر (4)

موازنہ پر مبنی حکمت عملی کے توسط سے معلم طلبہ کے سامنے شرک کے درج ذیل مظاہر رکھے اور انھیں شرک کی نوعیت و صورت کی نشان دہی کرنے کے لئے کہے۔ پھر صحیح جواب دینے والا طالب اس نوع کے بارے میں اپنی معلومات کا خلاصہ ایک جملے میں پیش کرے۔

ایک شخص اللہ کے غیب کا علم رکھنے پر شک ظاہر کرتا ہے۔

ایک عورت تکبر و عناد کی بنا پر اوامر الہیہ کی پیروی سے انکار کرتی ہے۔

ایک شخص نے اپنے بیٹے کی نسبت ایک لاولد شخص کی طرف کر دی۔

دو شخصوں کے درمیان جھگڑا ہو رہا تھا کہ ان میں ایک شخص نے غیراللہ کی قسم کھا لی۔

* نتیجہ نکالنا :

- معلم طلبہ کے سامنے سبق کے عناصر کا ایک خالی رہ نما نقشہ رکھے اور کسی طالب سے ایک عنصر لکھ کر اس کی تشریح کرنے کے لئے کہے۔ اس کے نہ کر پانے کی صورت میں دوسرا طالب علم کھڑا ہو اور تمام عناصر کا مراجعہ مکمل ہونے تک یہ سلسلہ چلتا رہے۔

سرگرمیاں

بہتر ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : اجتماعی، کفر اکبر و اصغر اور شرک اکبر و اصغر کے درمیان موازنہ۔ ہدف نمبر : 4

معلم طلبہ کو دو گروہوں میں تقسیم کر دے اور سرگرمی کے ضمن میں وارد وجہ موازنہ کو کچھ کارڈوں میں لکھ کر اسے کسی ترتیب کا خیال رکھے بغیر طلبہ کے درمیان تقسیم کر دے۔ پھر ان وجوہ کو ایک ایک کر کے پیش کرے اور پہلا گروہ، جس کے کارڈ میں یہ نوع ہے، درست موازنہ کا ذکر کرے اور دوسرا گروہ دوسرے موازنہ کا ذکر کرے اور اس کا اندازۂ قدر بھی کرے۔ اخیر میں معلم طلبہ کو اپنی کتابوں میں صحیح موازنہ لکھنے کی ہدایت دے۔

کفر اکبر و شرک اکبر وجہ موازنہ کفر اصغر اور شرک اصغر

رسولوں کو جھٹلانا اور دین کا مذاق اڑانا۔ کچھ صورتیں مسلمان سے جنگ کرنا اور نسب میں طعنہ زنی

یہ عمل انسان کو اسلام سے خارج کر دیتا ہے اس میں ملوث شخص کو اسلام سے خارج کردینا یہ عمل انسان کو اسلام سے باہر نہیں نکالتا

یہ عمل انسان کو ہمیشہ جہنم میں رہنے کا مستحق بنا دیتا ہے اس میں ملوث شخص کا جہنم میں ہمیشہ رہنا اس میں ملوث شخص ہمیشہ جہنم میں رہنے کا حق دار نہیں بنتا

اس میں ملوث شخص سے براءت کا اظہار واجب ہے اس میں ملوث شخص سے براءت اس میں ملوث شخص سے براءت واجب نہیں

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ شرک یا کفر کی قسم کی وضاحت۔

ہدف نمبر : 2

ہر طالب علم کو انفرادی طور پر دوسری سرگرمی انجام دینے اور اپنا جواب ایک خارجی کارڈ میں لکھنے کی ہدایت دیں۔ پھر طلبہ سے لے کر سارے کارڈ یک جا کر لیں اور ان کا اندازۂ قدر کر کے سب سے درست جواب کی نشان دہی کریں اور صحیح جواب دینے والے طالب علم کی عزت افزائی کریں۔

سرگرمی نمبر : 3 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ دین یا قرآن کریم کا مذاق اڑانے سے خبردار کرنا۔

ہدف نمبر : 5

ہر طالب علم کو اللہ کے دین کا مذاق اڑانے والوں کے نام ایک پیغام لکھنے کی ہدایت دیں۔ پھر انھیں پیغام کے ساتھ ایک کارڈ ڈیزائن کرنے کی ذمے داری دیں۔ پھر کارڈوں کو یک جا کر لیں، طلبہ کی کارکردگیوں کا جائزہ لیں اور ان کی مناسب حوصلہ افزائی کریں۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

پہلے سوال کا جواب دینے کے لیے معلم طلبہ کے سامنے اس کے تحت دی گئی عبارتوں میں سے ہر عبارت کو یکے بعد دیگرے رکھے اور ان سے کہے کہ عبارت صحیح ہونے کی صورت میں ہاتھ اوپر اٹھائیں، ان کی کارکردگی کو دھیان سے دیکھے اور ان کی غلطیوں کی اصلاح کرے۔

سوال 1 : (✖) - (✖) - (✓) - (✖) - (✓)

دوسرے سوال کا جواب معلم ہر طالب علم کو انفرادی طور پر دینے کی ہدایت دے اور ان کے جوابات سے آگاہ ہونے کے لیے ان کے آس پاس سے گزرتا رہے اور غلطی کرنے والوں کی صحیح رہ نمائی کرے۔

کفر انسان کے عمل کو ضائع کر دیتا ہے۔

تکبر کرنا۔

تعویذ لٹکانا۔

یہ عقیدہ کہ کاہن غیب کی بات جانتا ہے۔

عمل برباد کر دینا۔

معلم طلبہ کے سامنے تیسرا سوال رکھے، دو طلبہ کا انتخاب اس کے دونوں عناصر کا جواب دینے کے لیے کرے، دو اور طلبہ کا انتخاب ان کے ساتھیوں کے جواب کا اندازۂ قدر کرنے کے لیے کرے۔ اخیر میں طلبہ کے ساتھ مل کر صحیح جواب طے کرے، تاکہ اسے طلبہ اپنی کتابوں میں لکھ لیں۔

* تربیتی و وجدانی تنبیہات :

ہر طالب علم سبق میں دی گئی کفر اکبر اور کفر اصغر کی صورتوں کو سامنے لانے والی قرآنی آیات کو دوبارہ پڑھے اور مختلف مصادر کی جانب رجوع کر کے اس طرح کی دوسری آیتوں سے بھی واقف ہو، تاکہ اس طرح کی آیات کا احاطہ کر سکے اور کفر و شرک کے نقصانات کو محسوس کر سکے۔ پھر ان مظاہر کے سلسلے میں اپنے آس پاس کے لوگوں کی رہ نمائی کرنے کی کوشش کرے، تاکہ آگاہی عام ہو سکے۔

دوسرا سبق : نواقض توحید (نفاق و ارتداد)

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی۔

نئے کلمات : (النفاق- الرِّدَّة).

تعلیمی وسائل :

(تعلیمی بورڈز - ڈسپلے اسکرین - بلیک بورڈ - تعلیمی کارڈز - آڈیو میڈیم)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

تمہیدی کلمات کی پیش کش پر مبنی حکمت عملی - چرچا اور مکالمہ پر مبنی حکمت عملی- مثال اور لامثال پر مبنی حکمت عملی)

اقدار و رجحانات :

- نفاق اور ارتداد کی سنگینی کا احساس۔

- نفاق اور ارتداد کی ساری صورتوں اور شکلوں سے اجتناب۔

_ مدد صرف ایک اللہ سے مانگنا۔ کسی اور سے نہيں۔

سبق کی تمہید :

تمہیدی کلمات کی پیش کش پر مبنی حکمت عملی کے توسط سے معلم طلبہ کے سامنے درج ذیل موقف اور اس سے جڑے ہوئے سوالات رکھے، ان کے جوابات سے آگاہ ہو، ان میں کچھ الگ الگ طرح کے جوابات کو بلیک بورڈ پر لکھ دے اور انھیں سبق کو دھیان سے دیکھنے کی ہدایت دے، کیوں کہ اسی راہ سے وہ صحیح جواب تک پہنچ سکتے ہیں۔

(ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ شریعت کا مذاق اڑاتے ہیں، مسلمانوں کو حقیر سمجھتے ہیں اور دشمنان دین کی تعریف کرتے ہیں۔ شریعت کی نظر میں یہ کون لوگ ہيں اور قرآن و سنت میں ان کا کیا حکم ہے؟)

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

آپ ایسا کر سکتے ہيں کہ بلیک بورڈ پر درج ذیل عبارت لکھ دیں اور اس کے معنی و مفہوم پر طلبہ کے ساتھ تبادلہ خیال کریں۔ :

(انسان کا اندر کچھ رکھنا اور باہر کچھ اور دکھانا۔ اس کا تعلق اکر اسلامی عقیدے کےاساس سے ہو، تو یہ نفاق اکبر ہے اور اگر افعال سے ہو، تو نفاق اصغر)۔

طلبہ کے سامنے سبق کے عناصر کی ایک توضیحی شکل رکھیں اور ان سے کہیں کہ اس شکل کے درمیان اور پچھلی عبارت سے انھوں نے جو کچھ سمجھا ہے، اس کے درمیان ربط قائم کريں۔

مرحلہ نمبر (2)

مکالمہ اور مناقشہ پر مبنی حکمت عملی کے توسط سے معلم طلبہ کے سامنے درج ذیل سوالات رکھے اور ان پر ان کے ساتھ مناقشہ کرے۔ ہر سوال کا جواب پیش کرتے وقت اس سے جڑے ہوئے دلائل بھی پیش کرے :

سوال : اعتقادی نفاق کیا ہے؟

سوال : اعتقادی نفاق کی کچھ مثالیں پیش کریں۔

سوال : اعتقادی نفاق کا کیا حکم ہے؟

سوال : عملی نفاق کسے کہتے ہیں؟

سوال : اعتقادی نفاق اور عملی نفاق کے درمیان کیا فرق ہے؟

مرحلہ نمبر (3)

مثال اور لامثال پر مبنی حکمت عملی کے توسط سے معلم طلبہ کے سامنے ارتداد اور اس کی تعریف سے جڑے ہوئی درج ذیل مثالوں اور موقفوں کو رکھے، تاکہ طلبہ ان کے درمیان فرق کر سکیں:

ایک شخص نماز پڑھتا ہے اور روزہ بھی رکھتا ہے۔ لیکن وہ اللہ تعالی کا ساجھی و شریک ہونے کا عقیدہ رکھتا ہے۔

ایک شخص دین کو بہت زیادہ گالی دیتا ہے اور دلیل یہ پیش کرتا ہے کہ وہ ایسا جان بوجھ کر نہیں کرتا۔

ایک شخص نے جادو سیکھا اور دلیل یہ دی کہ وہ جادو کے ذریعے لوگوں کا علاج کرتا ہے۔

نتیجہ نکالنا :

معلم طلبہ کو حکم دے کہ ہر طالب علم اس سوال کے جواب میں کہ اسلام کی طرف نسبت رکھنے والے جو لوگ شریعت اسلامی کا مذاق اڑاتے ہیں، ان کو کیا نام دیا جائے گا، سبق کے آغاز میں جو کچھ لکھا گیا ہے، اس کا مراجعہ کرے۔ معلم اس سلسلے میں طلبہ کی آرا سنے، تاکہ معلوم ہو سکے انھوں نے سبق سے کتنا استفادہ کیا ہے۔

ہر طالب علم اپنی اپنی کاپی میں سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کے خلاصے کے طور پر ایک ایک پیراگراف اور نفاق اور ارتداد سے نفرت دلانے والی ایک ایک عبارت لکھے۔

سرگرمیاں

بہتر ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ نفاق کی قسموں سے باخبر ہونا۔

ہدف نمبر : 2

سرکرمی کے ضمن میں دیے گئے اعمال کو پڑھیں اور طلبہ کو ایک دوسرے کی مدد سے ان کا جواب دینے کے لئے کہیں۔ پھر ہر گروہ سے ایک ایک فرد کا انتخاب اس گروہ کی کاوشیں پیش کرنے کے لیے کریں۔ پیش کیے گئے جوابات کا موازنہ کریں اور صحیح جواب دینے، تجزیہ کرنے اور سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کی عملی تطبیق کی سب سے زیادہ صلاحیت رکھنے والے گروہ کی نشان دہی کریں۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ ان اعمال کی نشان دہی، جن میں ملوث ہونے والا شخص دائرۂ اسلام سے باہر نکل جاتا ہے۔ ہدف نمبر : 5

طلبہ سے کہیں کہ ان میں سے ہر کوئی درج ذیل سرگرمی کا جواب ایک خارجی ورق میں گھر میں تیار کرے اور اپنا جواب آپ کے سامنے آئندہ گھنٹی میں رکھے۔ آپ ان جوابات پر طلبہ کے ساتھ مناقشہ کریں اور بہتر جواب دینے والے کو انعام دینے کے ساتھ ساتھ باقی ساتھیوں کے سامنے اس کی عزت افزائی کریں۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

طلبہ کے درمیان کچھ تعلیمی کارڈ تقسیم کر دیں۔ نصف کارڈوں میں صحیح (✓) کی علامت اور نصف میں غلط (✖) کی علامت درج ہو۔ پھر پہلے سوال کے ضمن میں دی گئی عبارتوں کو یکے بعد دیگرے پیش کریں اور ہر طالب علم کو عبارت سے مناسبت رکھنے والا کارڈ اوپر اٹھانے کے لئے کہیں۔ اس میں کسی طالب علم سے غلطی ہونے پر اس کے ساتھ اس غلطى پر چرچا کریں۔

س1: (✓) - (×) - (×) - (✓) - (✓)

تین طلبہ کا انتخاب کریں اور ان میں سے ہر ایک کو دوسرے سوال کے ضمن میں وارد عناصر میں سے ایک ایک عنصر کا جواب دینے کے لئے کہیں۔ کسی سے کوئی غلطی ہونے کی صورت میں اسے کتاب سے صحیح جواب نکالنے کی ہدایت دیں۔

سوال 2 : اس کی صورتوں سے متنبہ کرنا - کسی بُت کو سجدہ کرنا - اعتقادی

ہر طالب علم تیسرے سوال کا جواب انفرادی طور پر دے۔ پھر کچھ طلبہ کو منتخب کر کے ان کے جوابات پڑھنے کے لئے کہیں۔ باقی ساتھی ان کا اندازۂ قدر کریں اور ان سے غلطی ہونے کی صورت میں ان کو صحیح جواب بتائيں۔

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

معاشرے میں نظر آنے والی ارتداد اور نفاق کی تمام صورتوں کو درکنار کریں اور لوگوں کو ان میں پڑنے سے آگاہ کریں۔ یہ کام انفرادی طور پر بھی ہو سکتا ہے، اجتماعی طور پر بھی ہو سکتا ہے۔ اس سلسلے میں آس پاس کے لوگوں یا شرعی علم کے حامل افراد کی رہ نمائی بھی لی جا سکتی ہے۔

تیسرا سبق : بدعت اور اس کی قسمیں

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات :

(البدعة- رَدٌّ- مُحْدَثَاتُهَا- ضَلَالَةٌ).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - ڈسپلے اسکرین - تعلیمی بورڈز - تعلیمی تصاویر)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(تمہیدی کلمات کی پیش کش پر مبنی حکمت عملی - پیش گوئی پر مبنی حکمت عملی - رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی - خود سوالی پر مبنی حکمت عملی - مناقشہ پر مبنی حکمت عملی)۔

اقدار و رجحانات :

- بدعت کی خطرناکی کا بیان۔

- غیر مشروع طریقے سے اللہ کی عبادت سے اجتناب۔

- دین میں بدعت اور بدعت ایجاد کرنے کی سنگینی کا احساس۔

- بدعت کی پہچان کے ضوابط کو مضبوطی سے پکڑے رہنے کی کوشش۔

سبق کی تمہید :

محترم معلم! آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ سبق کی تمہید کے لیے ڈسپلے اسکرین کی مدد لیں، طلبہ کے سامنے درج ذیل پیراگراف رکھیں، انھیں اس پر غور کرنے اور یہ بتانے کے لئے کہیں کہ وہ اس کے بارے میں کیا محسوس کرتے ہیں؟ طلبہ اپنی نتیجہ اخذ کرنے کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اس بات کی پیش گوئی کریں کہ آج کے سبق میں کس موضوع پر بات ہو سکتی ہے؟

(امام مالک سے مروی ہے کہ انھوں نے فرمایا : جس نے اچھا سمجھ کر اسلام میں کوئی بدعت ایجاد کی، اس نے دراصل یہ دعوی کیا اللہ کے نبی ﷺ نے اللہ کا پیغام پہنچانے میں خیانت سے کام لیا ہے۔ کیوں کہ اللہ تعالی کہتا ہے : (آج میں نے تمھارے لیے تمھارے دین کو مکمل کر دیا ہے۔) (سورہ مائدہ : 3) لہذا جو چیز اس دن دین کا حصہ نہيں تھی، وہ آج دین کا حصہ نہیں ہو سکتی۔ (اعتصام از شاطبی : 1/49)

رد بدعت کے سلسلے میں امام مالک کے اس قول کی کیا اہمیت ہے؟)

پھر طلبہ کو سبق کے موضوع سے آگاہی کی جانب لے چلیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی کی مدد سے معلم طلبہ کے سامنے بدعت کے مفہوم، انواع اور حکم پر مشتمل ایک بورڈ رکھے اور انھیں اس پر غور کرنے کے لئے کہے۔ پھر ہر طالب علم ہر عنصر کے بارے میں ایک ایک سوال پیش کرے، جس کے جواب کے توسط سے ان سے جڑی ہوئی معلومات واضح ہو جائيں گی۔

معلم طلبہ کے سوالات کا استقبال کرے اور ان کو بلیک بورڈ کے دو حصوں میں سے ایک حصے میں لکھے۔

مرحلہ نمبر (2)

معلم پچھلی پیش قدمی کے ضمن میں طلبہ کی جانب سے پیش کردہ سوالات سے مدد لے سکتا ہے اور اپنی جانب سے کچھ اضافی سوالات جوڑ کر ان کی معنویت کو دو چند کر سکتا ہے۔ ان سوالات کے جوابات کے توسط سے بدعت کی تعریف، انواع اور حکم سے جڑی ہوئی معلومات کھل کر سامنے آئيں گی۔ ان میں سے کچھ سوالات اس طرح ہو سکتے ہيں :

سوال : بدعت کی تعریف کریں۔

سوال : بدعت کے بہت سے انواع ہيں۔ کچھ انواع کی نشان دہی کریں۔

سوال : اس سبق سے آپ نے جو کچھ سمجھا ہے، اس کی روشنی میں بدعت کی مثال پیش کریں۔

سوال : بدعت کا حکم بیان کریں اور اس کی مثال پیش کریں۔

مرحلہ نمبر (3)

معلم طلبہ کے ساتھ مل کر اس بات کی وضاحت کرے کہ دین میں بدعت ایجاد کرنے سے خبردار کیسے کیا جائے؟ ساتھ بدعت کی شناخت کے ضوابط بیان کرے۔ ضوابط بیان کرنے کے لیے ڈسپلے اسکرین کی مدد لے۔ ان ضوابط کو بیان کرنے والی کچھ تصویریں بھی طلبہ کے سامنے رکھے۔

نتیجہ نکالنا :

معلم بلیک بورڈ پر ایک دائرہ بنائے، اس کے بیچ میں (فوائد اور رہ نمائیاں) لکھے اور اس سے کچھ تیر باہر نکالے۔ پھر کچھ طلبہ کا انتخاب کرے، تاکہ ہر تیر کے پاس اس سبق سے سیکھا ہوا ایک ایک فائدہ اور رہ نمائی لکھ دیں۔ فائدہ اور رہ نمائی ایسی ہو کہ طلبہ اسے اپنی زندگی میں اتاریں۔ بہتر اور پر تشفی انداز میں اپنی بات رکھنے پر معلم طلبہ کی حوصلہ افزائی کرے۔

سرگرمیاں

بہتر ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ طلبہ کو بدعت کی قسموں کے درمیان فرق کرنے کی مشق کرانا۔ ہدف نمبر : 4

معلم ڈسپلے اسکرین کے توسط سے پہلی سرگرمی کے ضمن میں دی گئی بدعتوں کو سامنے رکھے اور کچھ طلبہ کا انتخاب ان کو پڑھ کر سنانے کے لیے کرے۔ پھر ان کے معنی و مقصود پر ان کے ساتھ تبادلہ خیال کرے۔

پھر ہر طالب علم کو سرگرمی کے دوسرے حصے کو انفرادی طور پر انجام دینے اور ایک خارجی کارڈ میں اپنا جواب لکھنےکی ہدایت دے۔ تمام کارڈز کو یکجا کرلے اور ان کا اندازۂ قدر کرتے ہوئے سب سے درست جواب کی نشان دہی کرے اور اسے لکھنے والے طالب علم کی عزت افزائی کرے۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ بدعتوں اور دین میں بدعت ایجاد کرنے سے خبردار کرنا۔ ہدف نمبر : 2

ڈسپلے اسکرین کے توسط سے سرگرمی کے ضمن میں وارد حدیث کو طلبہ کے سامنے رکھیں اور ایک بہتر عبارت خوانی کرنے والے طالب علم کا انتخاب اسے پڑھنے کے لیے کریں۔ پھر طلبہ کے ساتھ مل کر سرگرمی کے ضمن میں دیے گئے دونوں سوالات کی تشریح کریں، تاکہ ان کا جواب دے دیا جا سکے۔ پھر درست جواب دینے والے کی عزت افزائی کریں۔

سرگرمی : 3 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ بدعت کے خطرے کی پہنچان کرنا۔

ہدف نمبر : 2، 5

معلم طلبہ کے ہر گروہ کو آپسی تعاون سے تیسری سرگرمی کا جواب دینے کی ہدایت دے۔ پھر یکے بعد دیگرے سبق کے عناصر کا ذکر کرے اور دیکھے کہ ہر گروہ کی جانب سے اس کا کیا کیا جواب سامنے آتا ہے؟ پھر صحیح جواب تک پہنچنے کے لیے ان کے ساتھ مناقشہ کرے اور سب سے بہتر جواب دینے والے گروہ کی نشان دہی کرنے کے ساتھ ساتھ اس میں شامل طلبہ کی حوصلہ افزائی کرے۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

ایک تجویز یہ ہے کہ سوالات کو یکے بعد دیگرے بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔

بہتر ہوگا کہ آس پاس بیٹھے ہوئے ہر دو طلبہ کو نیچے دیے گئے سوالات میں سے ہر سوال کا جواب ساتھ مل کر دینے کے لئے کہیں۔

کسی ترتیب کا خیال رکھے بغیر کچھ طلبہ کا انتخاب باقی ساتھیوں کے سامنے اپنے جوابات رکھنے کے لیے کریں۔

غلط جواب دینے والے طلبہ کو سبق کے مشمولات پڑھنے اور ان سے صحیح جواب نکالنے کے لئے کہيں۔

سوال 1 : (✓) - (×) - (✓)۔

سوال 2 : مردود - نئی چیز ایجاد کرنا - قبروں کو اونچا کرنا - نماز تراویح

٭تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

طلبہ نے جو کچھ سیکھا ہے، اسے اپنے اہل خانہ کے ساتھ شیئر کریں۔ ساتھ ہی سنتوں کو مضبوطی سے پکڑے رہنے اور اللہ تعالی کی عبادت میں کتاب و سنت کی جانب رجوع کرنے کی ضرورت پر توجہ دلائیں۔

چوتھا سبق : نفس کے تزکیہ کی فضیلت

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات :

(التزكية- الرشد- الرِّياء).

تعلیمی وسائل : (بلیک بورڈ - تعلیمی کارڈز - تعلیمی بورڈز)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(قصہ گوئی پر مبنی حکمت عملی - قیاسی حکمت عملی - آپسی تعاون سے سیکھنے پر مبنی حکمت عملی)۔

اقدار و رجحانات :

- نفس کے تزکیے کی اہمیت کو ذہن نشیں کرانا۔

- نفس کے تزکیے کی رغبت اور کوشش۔

- دل کی بیماریوں، جیسے شرک اور ریا وغیرہ سے اجتناب۔

- نفس کے تزکیہ کے سلسلے میں انبیا اور صالحین کے نقش قدم پر چلنا۔

سبق کی تمہید :

طلبہ کو بتائيں کہ سلف صالحین کے یہاں نفس کے تزکیہ، تنقیح اور تطہیر کا کتنا اہتمام تھا کہ انھوں نے زہد اور رقائق پر مستقل کتابیں لکھی ہيں۔ بلکہ اس سے دو قدم آگے ائمۂ سلف اہل سنت کی سلوکی اور اخلاقی صفات کو کتب عقیدہ کے اندر جگہ دیا کرتے تھے۔ پھر ان سے پوچھیں کہ اس کا کیا مستفاد ہے؟ اس پر ان کے ساتھ تبادلہ خیال کریں اور انھیں سبق کے موضوع تک لے جائيں۔ اخیر میں بلیک بورڈ پر عنوان لکھ دیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

باہمی تعاون سے سیکھنے پر مبنی حکمت عملی سے آغاز کریں اور طلبہ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیں۔ پھر طلبہ کے ہر گروہ کو تزکیہ کے معنی اور اس کے طریقے کی نشان دہی کرنے کا کام سونپیں۔

پھر ان کے نتیجۂ کاوش پر زبانی مناقشہ کریں، تاکہ ان کا اندازۂ قدر ہو سکے اور انھیں صحیح جواب سے روشناس کرایا جا سکے۔

مرحلہ نبمر (2)

قیاسی طریقے کو بروئے کار لائيں اور طلبہ کے ساتھ نفس کے تزکیہ کی اہمیت پر چرچا کریں، تاکہ نفس کے تزکیہ کے فوائد سامنے لائے جا سکیں۔

کچھ طلبہ کو اس بات کی ذمہ داری دیں کہ ان فوائد کو بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔

مرحلہ نمبر (3)

سبق کے اختتام پر سبق اور اس کے بنیادی عناصر کے سلسلے میں ایک کھلے مکالمے کا انعقاد کریں۔

مکالمے میں طلبہ ہی شریک ہوں۔ آپ کا کام بس انتظام و انصرام دیکھنا اور نگرانی کرنا ہے۔

نتیجہ نکالنا :

ایک تجویز یہ پیش کی جاتی ہے کہ طلبہ سبق کے کچھ بنیادی عناصر کو، جو پچھلے مکالمے کے نچوڑ کے طور پر سامنے آئے ہيں، بلیک بورڈ پر لکھیں۔ ان عناصر کو کچھ اس طرح لکھا جا سکتا ہے :

تزکیہ سے مراد نفس کو برائی اور گناہ سے پاک کرنا ہے۔

تزکیہ دو چیزوں سے وجود پذیر ہوتا ہے : نفس کو دل کی بیماریوں سے پاک کرنا اور اللہ تعالی کو ایک جاننا اور ایک ماننا۔

تزکیہ انبیائی مشن کا ایک حصہ ہے۔ تزکیہ کام یابی کا سبب ہے۔

نفس کے تزکیے سے بلند درجات حاصل ہوتے ہيں۔

سرگرمیاں

بہتر ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ طلبہ کو محاسبۂ نفس کی کیفیت کی مشق کرانا۔

ہدف نمبر : 4

معلم ہر طالب علم کو سرگرمی کے ضمن میں دی گئی حدیث کو پڑھنے کی ہدایت دے، طلبہ کے ساتھ مل کر اس میں آئے ہوئے مفرد کلمات کے معنی کی وضاحت کرے، طلبہ کو سیاق و سباق کی روشنی میں ان کلمات کا معنی پیش کرنے کی ہدایت دے، پھر اس حدیث کی توضیح و دلالت کے بارے میں ان کے ساتھ گفتگو کرے، بعد ازاں کچھ طلبہ کا انتخاب سرگرمی کے ضمن میں دیے گئے دونوں سوالات کا جواب دینے کے لیے کرے، ان سے ہونے والی غلطیوں کی اصلاح کرے، پھر ان کے ذریعے دیے گئے جوابات کو بلیک بورڈ پر لکھ دے، تاکہ طلبہ اپنی کاپیوں میں اتار لیں۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ طلبہ کو نفس کے تزکیہ کی مشق کرانا۔

ہدف نمبر : 3

ہر طالب علم کو سرگرمی پر مشتمل ایک ایک تعلیمی کارڈ دیں۔ وہ جواب دے دیں، تو ان سے کارڈ لے کر جمع کر لیں، جوابات کی اصلاح کریں اور اس کے بعد سب سے بہتر جواب منتخب کر کے اسے طلبہ کے سامنے رکھیں، تاکہ طلبہ صحیح جواب سے واقف ہو سکيں۔

اندازۂ قدر

سبق کے مقاصد کی تکمیل کے لیے آپ درج ذیل کام کر سکتے ہیں :

درج ذیل سوالات کو اچھی طرح پڑھیں۔ پھر الگ الگ کارڈز میں ان کا جواب دیں۔

ہر طالب علم اپنا کارڈ اپنے ساتھی کے کارڈ سے بدل لے، تاکہ اندازۂ قدر کا کام ہو سکے۔ پھر کارڈوں کو جمع کر لیا جائے۔

کسی ترتیب کا خیال رکھے بغیر کچھ کارڈوں کا انتخاب کر کے طلبہ کے سامنے ان کا اندازۂ قدر کریں، تاکہ انھیں صحیح جوابات اور غلط جوابات سے روشناس کیا جا سکے۔

کارڈ والے طالب علم اور اسے درست کرنے والے طالب علم کا نام بتائيں۔

سوال 1 : (ꓫ) - (✓) - (✓) - (✓) - (ꓫ)

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کتابوں، مقالوں یا محاضروں کے مطالعے کے توسط سے سبق کے عناصر کے بارے میں اپنی جان کاری میں اضافہ کریں، تاکہ ان افکار کا احاطہ کر سکیں اور ان کے توسط سے نفس کے تزکیہ کی اہمیت محسوس کریں۔ ساتھ ہی نفس کی آفتوں اور برائیوں سے محفوظ رہنے کی اللہ سے دعا کریں۔

پانچواں سبق : نفس کے تزکیہ کے طریقے

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات :

(التزكية- الرشد- الرياء).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - تعلیمی کارڈز - تعلیمی بورڈز)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(خود سوالی پر مبنی حکمت عملی - آپسی تعاون سے سیکھنے پر مبنی حکمت عملی)۔

اقدار و رجحانات :

- بشری نفس کے تزکیہ کی اہمیت کا شعور۔

- نفس کے عیوب کی اصلاح کی کوشش۔

- نفس کے تزکیہ کی راہ میں رکاوٹ بننے والی چيزوں سے اجتناب۔

سبق کی تمہید :

سبق کی تمہید کے طور پر طلبہ کے سامنے درج ذیل موقف رکھیں : (عبداللہ اور محمد نے بیٹھ کر معاشرے کی اصلاح کے بارے میں غور و فکر کیا، تو ان کو اللہ تعالی کے اس قول میں اس کا حل ملا : (حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا، جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی)۔ (سورہ رعد : 11) لہذا دونوں نے فیصلہ کیا کہ اصلاح کا آغاز خود اپنے نفس سے کریں گے۔ لیکن دونوں کے سامنے یہ سوال کھڑا ہوا کہ مسلمان اپنے نفس کو کیسے بدلے؟ طلبہ کو بتائيں کہ آج کا درس اسی نکتے کی وضاحت کرے گا۔ اس کے بعد بلیک بورڈ پر عنوان لکھ دیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

باہمی تعاون سے سیکھنے پر مبنی حکمت عملی سے آغاز کرتے ہوئے سبق کو مختلف اجزا و فروع میں تقسیم کر دیں اور طلبہ کے ہر گروہ کو اس کے لیے خاص کردہ حصے کو پڑھنے کا حکم دیں۔

اصلاح نفس کے کسی ایک طریقے کی تشریح کریں۔ ایسا ہی ہر گروہ کے لیے ہو۔

ان کے نتیجۂ کاوش کے سلسلے میں ان کے ساتھ گفتگو کریں اور بلیک بورڈ پر صحیح جواب لکھ دیں، تاکہ ذہن نشیں رہے۔

مرحلہ نمبر (2)

خود سوالی پر مبنی حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے کچھ طلبہ کو منتخب کریں، تاکہ ان میں سے ہر فرد دو دو سوالات پیش کرے کہ وہ اس سبق سے کیا کچھ جاننا چاہتا ہے۔

ان کے سوالات بلیک بورڈ پر لکھ دیں اور پھر ان سوالات کے جوابات کے بارے میں ان کے ساتھ گفتگو کریں۔

نتیجہ نکالنا :

ایک تجویز یہ ہے کہ ہر گروہ کو اپنی کاپیوں میں عناصر و افکار کی شکل میں سبق کو لکھ لینے کا حکم دیں، تاکہ مذاکرہ کے وقت مدد مل سکے۔

بہتر یہ ہوگا کہ کچھ طلبہ سے کہیں کہ وہ سبق کا خلاصہ مکتوبہ اوراق استعمال کیے بغیر زبانی طور پر پیش کریں اور بہتر کارکردگی کے حامل طلبہ کی ہمت افزائی بھی کریں۔

سرگرمیاں

بہتر ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ طلبہ کو تزکیہ کے وسائل معلوم کرنے کی مشق کرانا۔

ہدف نمبر : 1

طلبہ کے سامنے پہلی سرگرمی پر مشتمل ایک بورڈ رکھیں، طلبہ کے ساتھ سرگرمی میں شامل ہر قسم کے کارڈوں کی وضاحت پر گفتگو کریں، ہر طالب علم سے کہیں کہ اپنی استنباطی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کارڈ کے صحیح وسائل تزکیہ تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ پھر طلبہ کے جوابات کا استقبال کریں، ان پر نوٹ لکھیں، صحیح جواب واضح کریں اور اسے بلیک بورڈ پر لکھ دیں، تاکہ کاپیوں میں اتار لیا جا سکے۔

روزہ رکھنا۔

زکاۃ دینا۔

اللہ کا ذکر کرنا اور نماز پڑھنا۔

موت کو یاد کرنا۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ طلبہ کو تزکیہ کی راہ میں رکاوٹ بننے والی چیزوں کو جاننے کی مشق کرانا۔ ہدف نمبر : 4

معلم طلبہ کے ہر گروہ کو سرگرمی انجام دینے میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کی ہدایت دے، پھر سرگرمی کا عنصر بیان کرے، ہر گروہ سے اس کا جواب حاصل کرے اور صحیح جواب تک پہنچنے کے لیے ان کے ساتھ چرچا اور تبادلہ خیال کرے، پھر سب سے بہتر جواب دینے والے گروہ کی نشان دہی کرے اور اس میں شامل طلبہ کی حوصلہ افزائی کرے۔

گھمنڈ، سرکشی، ظلم، اللہ تعالی کی آیتوں کو جھٹلانا - حق کو ٹھکرانا اور اسے قبول نہ کرنا۔

اندازۂ قدر

سبق کے مقاصد کی تکمیل کے لیے آپ درج ذیل کام کر سکتے ہیں :

ایک تجویز یہ ہے کہ سوالات کو یکے بعد دیگرے بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔

بہتر ہوگا کہ آس پاس بیٹھے ہوئے ہر دو طلبہ کو نیچے دیے گئے سوالات میں سے ہر سوال کا جواب ساتھ مل کر دینے کے لئے کہیں۔

کسی ترتیب کا خیال رکھے بغیر کچھ طلبہ کا انتخاب باقی ساتھیوں کے سامنے اپنے جوابات رکھنے کے لیے کریں۔

غلط جواب دینے والے طلبہ کو سبق کے مشمولات پڑھنے اور ان سے صحیح جواب نکالنے کے لئے کہيں۔

سوال 1 : (✓) - (✓) - (ꓫ)

سوال 2 : (اللہ تعالی کو ایک جاننا اور ماننا) - (مجاہدہ) - (قبریں)

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

بہتر ہوگا کہ طلبہ کو گروہوں میں تقسیم کر دیں اور ہر گروہ کو ساتھ مل کر کاغذ کے بڑے بڑے بورڈ ڈیزائن کرنے کے لئے کہیں، جو اصلاح نفس کے طریقوں کی فہرست پر مشتمل ہو۔ ایک اور بورڈ ڈیزائن کرنے کے لئے کہيں، جو تزکيۂ نفس کے بعض موانع پر مشتمل ہو۔ پھر سب سے بہتر بورڈ کا انتخاب کر کے اسے کلاس روم میں آویزاں کر دیں۔

چھٹا سبق : دل کے اعمال

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات :

(المحبة- الرجاء- الخوف).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - تعلیمی کارڈز - تعلیمی بورڈز)

تدریسی حکمت عملیاں :

(قصہ گوئی پر مبنی حکمت عملی - برین اسٹورمنگ - آپسی تعاون سے سیکھنے پر مبنی حکمت عملی)۔

اقدار و رجحانات :

- دل کے اعمال کی اہمیت کا شعور۔

- تمام اعمال کے ذریعے اللہ کا تقرب حاصل کرنا۔

- اس بات کا یقین کہ اللہ تعالی ظاہر و باطن سے باخبر ہے۔

- اللہ تعالی کے فضل و کرم اور نعمتوں کا اعتراف۔

سبق کی تمہید :

طلبہ کے سامنے کتاب میں موجود تمہید پیش کریں اور ان کو بتائيں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے دل کو بڑی اہمیت دی ہے۔ فرمایا ہے : ”یاد رکھو! بے شک جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے۔ جب وہ صحیح سالم ہوتا ہے، تو پورا جسم صحیح سالم ہوتا ہے اور جب وہ خراب وفاسد ہو جاتا ہے، تو پورا جسم خراب وفاسد ہو جاتا ہے۔ سنو! وہ ٹکڑا دل ہے"۔ غور کرنے کا مقام یہ ہے کہ آپ ﷺ نے دل کو اتنی اہمیت کیوں دی ہے؟ طلبہ کی جانب سے جو جوابات سامنے آئيں، ان پر ان کے ساتھ چرچا اور تبادلہ خیال کریں۔ پھر ان کو نئے سبق کے موضوع تک لے جائیں اور بلیک بورڈ پر عنوان لکھ دیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

برین اسٹورمنگ پر مبنی حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے طلبہ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیں اور پھر ہر گروہ کو نیت کے معنی اور اس کے حکم کی نشان دہی کرنے کا کام سونپیں۔

ہر گروہ اپنے نتیجۂ کاوش کو ایک خارجی ورق میں لکھ دے، تاکہ موازنہ کیا جا سکے۔

مرحلہ نمبر (2)

کچھ طلبہ کو دل کے بعض اعمال پر مشتمل ایک بورڈ پیش کرنے کا کام سونپیں۔

ان اعمال پر ان کے ساتھ چرچا کریں اور اس کے بعد اس بورڈ کو کلاس روم کی دیوار پر لٹکا دیں۔

مرحلہ نمبر (3)

باہمی تعاون پر مبنی آموزشی حکمت عملی کو بروئے کار لائیں اور ہر گروہ کو سبق کے مراجعہ کی روشنی میں کچھ سوالات تیار کرنے کے لئے کہیں۔

طلبہ انھیں ایک خارجی ورق میں لکھ لیں۔ پھر ہر گروہ اپنا تیار کیا ہوا سوال دوسرے گروہ سے کرے۔ اس طرح مختلف گروہوں کے درمیان سوالات کا سلسلہ جاری رہے اور آپ دھیان سے ستنے اور اندازۂ قدر کرتے رہيں۔

ان کو دیگر مناقشوں کے لیے ایک بنیاد کے طور پر استعمال کریں۔ ان میں اہم سوالات اس طرح ہو سکتے ہيں :

محبت، خوف اور رجا کا کیا مفہوم ہے؟

خشیت کی تعریف کریں اور اس کی ایک دلیل پیش کریں۔

توکل اور انابت کے کیا معنی ہیں؟

اللہ کے شعائر کی تعظیم کی کیفیت بیان کیجیے۔

صبر اور شکر کے درمیان تعلق واضح کیجیے۔

طلبہ کے جوابات حاصل کریں اور ان پر ان کے ساتھ چرچا کریں، تاکہ سمجھ میں آ سکے کہ ان کو سمجھنے میں کہاں کہاں دشواری ہو رہی ہے اور پھر ان جگہوں کی تفسیر کی جا سکے۔

نتیجہ نکالنا :

بہتر ہوگا کہ طلبہ سے کہیں کہ ہر طالب سبق کے بارے میں اپنے ملاحظات پیش کرے۔

ملاحظات سبق کے بنیادی افکار پر اور اس سے سیکھی ہوئی باتوں پر مشتمل ہوں۔

کچھ طلبہ کو منتخب کر کے انھیں ان کے ذریعے تحریر شدہ باتیں پیش کرنے کے لئے کہیں۔

سرگرمیاں

بہتر ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ اس بات کی جان کاری حاصل کرنا کہ اللہ کا کتنا خوف رکھا جائے اور اس سے کتنی امید۔

ہدف نمبر : 1

ہر طالب علم کو سرگرمی پر مشتمل ایک ایک تعلیمی کارڈ دیں۔ جب وہ جواب دے لیں، تو کارڈوں کو یک جا کر لیں اور ان کی تصحیح کریں۔ پھر سب سے بہتر جواب کا انتخاب کریں اور اسے طلبہ کے سامنے رکھیں، تاکہ ان کو اس سے روشناس کیا جا سکے۔

سرگرمی 1 : امید سے عاری خوف اللہ کی رحمت سے مایوسی کا سبب بنتا ہے - خوف سے عاری امید غرور اور معصیتوں کے ارتکاب کی جانب لے جاتی ہے۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ دل کے اعمال معلوم کرنا۔

ہدف نمبر : 2

معلم سرگرمی کے ضمن میں وارد آیتوں کو کچھ کارڈوں میں لکھ کر ان کارڈوں کو طلبہ کے درمیان کسی ترتیب کا خیال رکھے بغیر تقسیم کر دے، تاکہ ہر طالب علم کارڈ میں لکھی ہوئی آیت کو یاد کر لے۔ معلم طلبہ کے جوابات حاصل کرے، ان کا اندازۂ قدر کرے اور ان کو اپنی کتابوں میں صحیح جواب لکھ لینے کی ہدایت دے۔

دل کے اعمال

صبر

شکر

اِخلاص

سرگرمی نمبر : 3 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ نماز میں خشوع کے وسائل کی جانکاری حاصل کرنا۔ ہدف نمبر : 3

ہر طالب علم کو نماز کے اندر خشوع پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہونے والے پانچ اہم وسائل کے سوچنے کی ہدایت دیں۔ پھر ہر طالب علم کو اپنی اپنی تحریر ساتھیوں کو پڑھ کر سنانے کے لئےکہیں۔ بعد ازاں سب سے بہتر اور پراثر انداز میں لکھی گئی تحریر کی تعریف کریں اور کسی طالب کو اسے صبح کی اسمبلی میں پڑھ کر سنانے کےلئے کہیں۔

اندازۂ قدر

سبق کے مقاصد کی تکمیل کے لیے آپ درج ذیل کام کر سکتے ہیں :

طلبہ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیں اور ہر گروہ کو ساتھ مل کر درج ذیل سوالات کو حل کرنے کا حکم دیں۔

اس دوران طلبہ کے آس پاس سے گزرتے رہيں، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ وہ جواب دینے کے عمل میں ایک دوسرے کا تعاون کر رہے ہیں۔

ہر گروہ سے کہیں کہ وہ اپنے ایک رکن کا انتخاب اپنا جواب پیش کرنے کے لیے کرے اور اس کے اندازۂ قدر کا کام کیا جائے۔

سوال 1 : (خوف) - (خشیت و انابت) - (شعائر کی تعظیم)۔

* تربیتی و وجدانی تنبیہات :

بہتر ہوگا کہ طلبہ کو گروہوں میں تقسیم کر دیں۔ ایک گروہ اللہ تعالی کے شعائر کی تعظیم کے طریقے کے بارے میں، دوسرا گروہ نماز میں خشوع کے بارے میں اور تیسرا گروہ خوف و رجا کے بارے میں ایک مکالمے میں شریک ہو۔ آپ سوالات اور طلبہ کے تیار کردہ جوابات دونوں کو دھیان سے دیکھیں اور دو بہترین گروہوں کا انتخاب صبح کی اسمبلی میں اس مکالمے کو پیش کرنے کے لیے کریں۔

اکائی : سنت اور شمائل

پہلا سبق : نبی ﷺ کے حقوق

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (إِلَّا مَنْ أَبَى- توقير النبي وإجلاله صلى اللہ علیہ وسلم).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - کمپیوٹر ڈیوا‎ئس - تعلیمی بورڈ - تعلیمی کارڈ)

تدریسی حکمت عملیاں :

(برین اسٹورمنگ - استنباط پر مبنی حکمت عملی - رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی)

اقدار و رجحانات :

• امت پر نبی ﷺ کے حقوق کى قدر شناسی۔

• رسول ﷺ کے حقوق ادا کرنے والے کے عظیم اجر و ثواب کا شعور۔

زندگی کے مختلف حالات میں نبی ﷺ کے حقوق ادا کرنے کی کوشش۔

سبق کی تمہید :

طلبہ سے آپ یہ مطالبہ کریں کہ وہ خصائص نبوی کے سلسلے میں اپنی سابقہ معلومات کو ذہن پر دوبارہ لائيں اور ان کی روشنی میں موجودہ سبق میں شامل عناصر کی پیشین گوئی کریں اور اس کے بعد آپ بلیک بورڈ پر سبق کا عنوان لکھ دیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر(1)

رہ نما نقشوں کی مدد لینا۔

طلبہ کے سامنے ایک بورڈ کے توسط سے سبق کے عناصر اور مشمولات کی تنظیمی شکل رکھیں۔

ان عناصر کے بار میں طلبہ کی سابقہ معلومات سے آگاہی حاصل کریں۔

طلبہ کے جوابات سے آگاہ ہوں اور ان کی مناسب حوصلہ افزائی کریں۔

مرحلہ نمبر (2)

برین اسٹورمنگ کے توسط سے طلبہ کے ساتھ بڑی تعداد میں نبی ﷺ کے حقوق پیش کرنے کے سلسلے میں تبادلۂ خیال کریں۔

طلبہ کے جوابات حاصل کریں۔ جوابات پر طلبہ کے ساتھ عمومی مناقشہ کریں۔ پھر طلبہ کو ان حقوق کی اجمالی پیش کش پر مبنی ایک بورڈ دکھائيں، تاکہ ان کی تشریح و تفصیل کی جانب قدم بڑھانے سے پہلے طلبہ ان پر غور کر لیں۔

مرحلہ نمبر (3)

استنباطی طریقہ بروئے کار لائيں اور کسی طالب علم کو ساتھیوں کے سامنے نبی ﷺ کے کچھ حقوق پیش کرنے کے لئے کہيں۔

ان حقوق کے فرد اور سماج پر پڑنے والے اثرات مستنبط کرنے میں طلبہ کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ ان پر ان کے ساتھ مناقشہ کریں۔

نتیجہ نکالنا :

ہر طالب علم اپنی کاپی میں تین تین عناصر لکھے، جو بتاتے ہوں کہ اس نے سبق سے کتنا استفادہ کیا ہے۔

معلم کچھ طلبہ کو ان کے تحریر کردہ عناصر پیش کرنے کا حکم دے۔

معلم ان میں سے ان عناصر کو بلیک بورڈ پر لکھے جو مختلف ہوں، تاکہ ہر طالب علم دوسرے طلبہ کے تحریر کردہ عناصر سے استفادہ کر کے اپنے تحریر کردہ عناصر کو مزید معنی خیز بنا سکے۔

طلبہ سبق کی تمہید کے دوران پیش کردہ سبق کے متوقع عناصر کا جائزہ لیں۔

پھر ان کا اندازۂ قدر کریں، تاکہ ان باتوں کی نشان دہی ہو سکے، جو وہ جاننا چاہتے ہيں اور سبق کے ذریعے ان پر روشنی ڈالی نہيں گئی ہے۔

بعد میں ان باتوں کی تفتیش کرنے اور ان سے واقف ہونے کی کوشش کریں۔

سرگرمیاں

بہتر ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ نبی ﷺ سے محبت اور قیامت کے دن آپ ﷺ سے محبت کرنے والوں کو ملنے والے بدلے کا بیان۔ ہدف نمبر : 2

ہر طالب علم کو درج ذیل سرگرمی انفرادی طور پر انجام دینے کی ذمہ داری سونپیں۔

انھیں تخلیقی انداز میں اور روانی کے ساتھ جواب دینے پر ابھاریں۔

ہر دو طالب علم اپنے جوابات کا تبادلہ کر لیں، تاکہ آموزشی تجربات کا تبادلہ ہو سکے۔

کچھ طلبہ کا انتخاب ان کی کاوشیں پیش کرنے کے لیے کریں اور بتائیں کہ انھوں نے ایک دوسرے کے جواب پر کیا نوٹ تحریر کیا ہے۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ طلبہ کو ساتھ مل کر کام کرنے اور تجاویز پیش کرنے کی مشق کرانا۔ ہدف نمبر : 4

طلبہ سے اگلی سرگرمی کے لیے نصابی کتاب کھولنے کو کہیں۔

انھیں کچھ طلبہ کے تعاون سے ایک علاحدہ ورق میں اس کا جواب دینے کی ذمہ داری دیں۔

دو طلبہ کا انتخاب کریں، تاکہ ایک طالب علم سرگرمی کو پڑھے اور دوسرا اس کا جواب دے۔

درست جواب دینے پر دونوں کی عزت افزائی کریں اور غلط جواب دینے پر دو اور طلبہ کا انتخاب کریں۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

طلبہ کو درج ذیل سوالات کا جواب اپنی کاپیوں میں دینے کے لئے کہیں۔

طلبہ کے آس پاس سے گزرتے رہيں، ان پر توجہ بنائے رکھیں اور ان کے سامنے سوالات رکھیں۔

ان کے جوابات حاصل کریں، مناسب حوصلہ افزائی کریں اور ہر سوال کا مناسب نمبر متعین کریں۔

ہر طالب علم کو اپنا جواب درست کرنے اور خود کو مناسب نمبر دینے کے لئے کہیں۔

دھیان سے دیکھیں کہ طلبہ کے جوابات کس حد تک درست ہیں۔

سوال 1 : () - () - () - () - ()

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

طلبہ کو یہ ذمہ داری دیں کہ لوگوں کو نبی ﷺ کے تمام اوامر کا اقتدا کرنے کی ترغیب دیں اور ایسا کرنے والے کو آخرت میں ملنے والے بہت بڑے اجر و ثواب سے آگاہ کریں۔

نبی ﷺ کے حقوق سے واقف ہونے، ان کا مطالعہ کرنے اور ان کو اپنے اہل خانہ اور سماج میں عام کرنے کی کوشش کریں۔

دوسرا سبق : آل بیت کے فضائل اور حقوق

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی۔

نئے کلمات :

(الرجس- الفواحش- الإفك- كِبْره- يقذف- الغلو).

تعلیمی وسائل :

(آڈیو میڈیم جس میں سبق کے تحت دی گئی قرآنی آیات ریکارڈ ہوں - کمپیوٹر ڈیوائس - ڈسپلے اسکرین - بلیک بورڈ - تعلیمی بورڈ)

تدریسی حکمت عملیاں :

(بیانیہ تمہید - مکالمہ اور مناقشہ - رہ نما نقشے - غلط تصورات کی تصحیح)۔

اقدار و رجحانات :

-نبی ﷺ کے آل بیت سے محبت۔

_ آل بیت کے کچھ خصوصی فضائل سے واقفیت۔

_ آل بیت کے حقوق کی ادائيگی کا التزام۔

_ آل بیت کے بارے میں غلو سے اجتناب۔

٭ سبق کی تمہید :

تمہید کے طور پر طلبہ کے سامنے درج ذيل صورت حال رکھیں : عمر نے مسجد کے امام کو نماز میں قرآن کریم کی یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا : (اے نبی کی گھر والو! اللہ تعالیٰ یہی چاہتا ہے کہ تم سے وه (ہر قسم کی) گندگی کو دور کردے اور تمہیں خوب پاک کردے۔) (سورہ احزاب : 33) تو امام سے نماز کے بعد پوچھا : حضرت! اہل بیت سے مراد کون لوگ ہيں؟ اللہ تعالی نے اس آیت میں بطور خاص ان کا ذکر کیوں کیا ہے؟ کیا ان کے کچھ خاص حقوق ہیں؟

بعد ازاں طلبہ کے جواب کا مناقشہ کریں اور ان کو سبق کے موضوع تک لے جائيں۔

٭ سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر(1)

بلیک بورڈ پر دو حصوں میں منقسم ایک توضیحی شکل بنائيں : پہلے حصے کا عنوان اہل بیت کی تعریف اور دوسرے حصے کا عنوان اہل بیت کے فضائل ہو۔ پھر دونوں موضوعات کی تشریح و وضاحت کریں۔

طلبہ سے کہیں کہ وہ آڈیو میڈیم کے توسط سے اہل بیت کے فضائل سے تعلق رکھنے والی قرآنی آیات سنیں۔ پھر ان کے ساتھ مذکورہ آیتوں کے معنی کا مناقشہ کریں، تاکہ ان کی دلالتوں سے واقف ہو جائيں۔

مرحلہ نمبر (2)

معلم رہ نما نقشوں پر مبنی اسلوب کے توسط سے طلبہ کے سامنے اہل بیت سے متعلقہ احکام اور حقوق کے نقشے پر مشتمل ایک بورڈ رکھے، انھیں اس پر غور کرنے کو کہے اور پھر ایک ایک کر کے ان احکام کی تشریح و و ضاحت کرے۔

معلم کچھ طلبہ کا انتخاب ان کی کتابوں میں موجود اہل بیت سے متعلقہ قرآنی شواہد اور احادیث نبوی کی قراءت کے لیے کرے اور ان کی تشریح و وضاحت کرے، تاکہ معنی و مفہوم واضح ہو جائے۔

مرحلہ نمبر (3)

غلط تصورات کی تصحیح پر مبنی حکمت عملی کے توسط سے معلم طلبہ کے سامنے درج ذیل صورتوں کو رکھ سکتا ہے، ان سے ان کے بارے میں رائے طلب کر سکتا ہے اور انھیں کیسے کیا جائے، اس سلسلے میں ان کی تجویز مانگ سکتا ہے :

کچھ لوگ اہل بیت کے مزاروں کی زیات کرنے جاتے ہیں۔ لیکن ان کے پیش نظر محبت و زیارت نہیں، بلکہ یہ اعتقاد ہوتا ہے کہ یہ زیارت ان کی قسمت میں اچھے بدلاؤ لائے گی۔

کچھ فرقے اہل بیت کو ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما سے بھی افضل قرار دیتے ہیں۔

٭ نتیجہ نکالنا :

- معلم ہر طالب علم سے کہے کہ وہ سبق کے کسی ایک عنصر کا انتخاب کر کے اپنے الفاظ میں بتائے کہ اس نے اس عنصر کے بارے کیا کیا جانا اور سیکھا۔ پھر کچھ طلبہ کا انتخاب تمام طلبہ کے سامنے اپنے جوابات رکھنے کے لیے کرے اور ان کی مناسب حوصلہ افزائی بھی کرے۔

سرگرمیاں

بہتر ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ اہل بیت کے فضائل کی نشان دہی اور ان کو دلائل سے اخذ کرنا۔

ہدف نمبر : 2

ایسا ہو سکتا ہے کہ آپ طلبہ کی سابقہ معلومات پر بھروسہ کرتے ہوئے ان سے کہیں کہ پہلی سرگرمی کے تحت درج حدیثوں میں وارد اہل بیت کے فضائل کو دوبارہ ذہن و دماغ کے پردے پر لائيں۔ پھر اہل بیت کے فضائل اور حقوق کے سلسلے میں ان کے شعور سے آگاہ ہوں اور ان کو صحیح جواب سے روشناس کریں۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ اہل بیت پر افترا پردازی کرنے والے کی تردید۔

ہدف نمبر : 6

ہر دو طلبہ کو سرگرمی کی انجام دہی میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کی ہدایت کریں، سرگرمی کے ضمن میں وارد نصوص کو ڈسپلے اسکرین کے توسط سے یکے بعد دیگرے رکھیں، ہر گروہ کا جواب لیں، سب سے بہتر اور سب سے اچھے انداز میں جواب دینے والے گروہ کی نشان دہی کریں اور سب سے اچھے اسلوب میں دیے گئے جواب کی بھی نشان دہی کر دیں، تاکہ طلبہ اپنی کتابوں میں لکھ لیں۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

پہلے اور دوسرے سوال کا جواب معلم ہر طالب علم کو انفرادی طور پر دینے کے لئے کہے۔ پھر طلبہ کو صحیح جواب سے روشناس کر دے اور ہر طالب علم کو ہر عبارت کے جواب کا ایک ایک نمبر دے۔ بعد ازاں طلبہ کو ان کے نمبرات اور ان سے سرزد ہونے والی غلطیاں بتا دے۔

سوال 1 : (✓) - (✖) - (✓)

سوال 2 : اللہ کے نبی ﷺ کی بیویاں - خدیجہ اور علی - انھیں صدقہ قبول کرنے سے روکنا۔

طلبہ کے سامنے تیسرا سوال رکھیں، تین طلبہ کا انتخاب سوال کے عناصر کا جواب دینے کے لیے کریں، دیگر دو طلبہ کا انتخاب ان کے جوابات کا اندازۂ قدر کرنے کے لیے کریں اور خود آپ دونوں گروہوں کا اندازۂ قدر کریں۔

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

بہتر یہ ہوگا کہ اس سبق میں جو کچھ پڑھا گیا ہے، اس کی روشنی میں طلبہ کی توجہ درج ذیل باتوں پر مرکوز کرائی جائے :

مختلف مصادر، جیسے دینی کتابوں، اہل علم سے رجوع اور الیکٹرانک مصادر کے توسط سے، اہل بیت کے فضائل سے گہری اور وسیع آگاہی حاصل کرنا، اپنے نہاں خانۂ دل میں ان کی محبت کو جاگزیں کرنا، ان کے حقوق ادا کرنے کی کوشش کرنا، ان کے فضائل کو عام کرنا اور اپنے اہل خانہ اور سماج کو ان کے حقوق سے آگاہ کرنا۔

تیسرا سبق : نبی ﷺ اور آل بیت کے بارے میں افراط و تفریط

سبق کا دورانیہ : دو گھنٹی۔

نئے کلمات :

(الغُلوّ- الجفاء- الاستغاثة- الوسطية- العصمة- الغيب).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - تعلیمی بورڈز - تعلیمی کارڈز - کمپیوٹر ڈیوائس)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(بحث و مکالمہ پر مبنی حکمت عملی - رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی - غلط تصورات کی تصحیح پر مبنی حکمت عملی)۔

اقدار و رجحانات :

• نبی ﷺ کی قدر شناسی۔

• تمام معاملوں میں وسطیت و اعتدال کی کوشش۔

• نبی ﷺ اور آپ کے اہل بیت کے بارے میں غلو اور جفا سے اجتناب۔

• اہل بیت اور صحابہ کی ہمیشہ عزت و احترام کرنا۔

سبق کی تمہید :

سبق کی تمہید کے طور پر طلبہ کے سامنے درج ذیل حدیث رکھیں : معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ جب شام سے واپس آئے، تو اللہ کے نبی ﷺ کو سجدہ کیا۔ تو اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : "معاذ! یہ کیا ہے؟" جواب دیا : میں شام گیا تو دیکھا کہ وہاں لوگ اپنے علما اور اللہ والے لوگوں کو سجدہ کرتے ہیں۔ سو میں نے چاہا کہ ہمیں آپ کے ساتھ بھی یہی رویہ روا رکھنا چاہیے۔ یہ سن کر اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : "تم ایسا مت کرو۔"

اس حدیث کو پڑھنے کے بعد اس کے معنی و مفہوم کا مناقشہ کیجیے اور طلبہ کو اس نتیجے تک لے جائيں کہ غلو ایک خطرناک چیز ہے اور یہ بہت سارے لوگوں کی گمراہی کا سبب رہا ہے۔ اس کے بعد بلیک بورڈ پر عنوان لکھ دیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

بلیک بورڈ پر دو حصوں میں منقسم ایک توضیحی شکل بنائيں، جس کا پہلا حصہ "غلو اور ناقدری" کے عنوان سے ہو اور دوسرا حصہ "اللہ کے نبی ﷺ اور اہل بیت کے حق میں غلو کے مظاہر" کے عنوان سے ہو۔ دونوں موضوعات کی تشریح و توضیح بھی کریں۔

مرحلہ نمبر (2)

معلم رہ نما نقشوں پر مبنی اسلوب کے توسط سے طلبہ کے سامنے "اللہ کے نبی ﷺ اور اہل بیت کی ناقدری کے مظاہر" کے نقشے پر مشتمل ایک بورڈ رکھے، انھیں اس پر غور کرنے کے لئے کہے اور پھر ایک ایک کر کے ان مظاہر کی تشریح و وضاحت کرے۔

معلم کچھ طلبہ کا انتخاب ان کی کتابوں میں موجود ان مظاہر سے متعلقہ قرآنی شواہد اور احادیث نبوی کی قراءت کے لیے کرے اور ان کی تشریح و وضاحت کرے، تاکہ معنی و مفہوم واضح ہو جائے۔

مرحلہ نمبر (3)

غلط تصورات کی تصحیح پر مبنی حکمت عملی کے توسط سے معلم طلبہ کے سامنے درج ذیل صورت ہائے حال رکھ سکتا ہے اور ان سے ان صورت ہائے حال کے بارے میں اپنی رائے طلب کرنے کے ساتھ ساتھ انھیں یہ بتانے کے لئے کہہ سکتا ہے کہ نبی ﷺ کے بارے میں غلو اور ناقدری کے پڑھے گئے مواد کی روشنی میں ان کو درست کیسے کیا جا سکتا ہے۔

کچھ لوگوں کا دعوی ہے کہ نبی ﷺ غیب کا علم رکھتے تھے اور ایک نوری مخلوق تھے۔

پڑوس میں رہنے والا ایک شخص بیماروں کی شفا کے لیے نبی ﷺ سے فریاد کرتا ہے۔

میں نے ایک بے وقوف شخص کو اہل بیت اور صحابہ کے بارے میں زبان درازی کرتے ہوئے سنا۔

نتیجہ نکالنا :

معلم ہر طالب علم کو سبق میں پیش کردہ ایک ایک عنصر کا انتخاب کرنے اور اپنے الفاظ میں یہ بتانے کے لئے کہے کہ اس نے اس درس سے کیا کچھ سیکھا اور اخذ کیا۔

پھر کچھ طلبہ کا انتخاب ان کے تحریر کردہ جوابات پیش کرنے کے لیے کرے اور ان کی مناسب حوصلہ افزائی کرے۔

سرگرمیاں

بہتر ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ نبی ﷺ اور اہل بیت کے بارے میں غلو اور ناقدری کے درمیان فرق کرنا۔ ہدف نمبر : 2

ہر طالب علم کو درج ذیل سرگرمی کا جواب اپنی کاپی میں دینے کے لئے کہیں۔

پھر ایک طالب علم کا انتخاب اپنے تحریر کردہ جواب کو پیش کرنے کے لیے کریں اور اس کی کارکردگی کا اندازۂ قدر کریں۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ قرآن سے نبی ﷺ کے ادب و احترام سے لبریز برتاؤ کے کچھ مظاہر اخذ کرنا۔

ہدف نمبر : 4

ہر دو طلبہ کو دوسری سرگرمی کی انجام دہی کے لیے ایک دوسرے کا تعاون کرنے کی ہدایت دیں۔

سرگرمی کے تحت دیے گئے نص کو کمپیوٹر اسکرین کے ذریعے پیش کریں۔

ہر گروہ سے جواب حاصل کریں اور نبی ﷺ کے ساتھ ادب و احترام کے مظاہر اخذ کریں۔ سب سے بہتر اخذ کرنے والے گروہ کی نشان دہی کریں۔

سب سے بہتر تحریر کی نشان دہی کریں، تاکہ طلبہ اپنی کاپیوں میں لکھ لیں۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

طلبہ کو درج ذیل سوالات کا جواب اپنی کاپیوں میں دینے کے لئے کہیں۔

طلبہ کے ساتھ ان سوالات پر تبادلۂ خیال کریں۔

کچھ طلبہ کا انتخاب ان کے جوابات پیش کرنے کے لیے کریں اور ہر سوال کا مناسب نمبر متعین کریں۔

ہر طالب علم کو اپنا جواب درست کرنے اور خود کو مناسب نمبر دینے کے لئے کہیں۔

طلبہ اپنی کاپیوں کا تبادلہ کر لیں، تاکہ پتہ چل سکے کہ جواب دینے اور درست کرنے کا کام کتنا اچھا ہوا ہے۔

سوال 1 : نبی ﷺ کے نام کی قسم کھانا - آپ کی سیرت سے ناواقفیت - بخیل - ایک اللہ کی عبادت۔

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

مختلف مصادر، جیسے دینی کتابوں، اہل علم سے رجوع اور الیکٹرانک مصادر کے توسط سے، اللہ کے نبی ﷺ کے حق میں غلو اور ناقدری سے گہری اور وسیع آگاہی حاصل کرنا، اپنے نہاں خانۂ دل میں آپ کی محبت کو جاگزیں کرنا، آپ کا حق ادا کرنے کی کوشش کرنا، ان مظاہر کو عام کرنا اور اپنے اہل خانہ اور سماج کو ان سے آگاہ کرنا۔

چوتھا سبق : صحابہ رضی اللہ عنہم کے فضائل اور حقوق

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی۔

نئے کلمات :

(الصحابي- يبتغون- سيماهم- قَرْنِي- قدح- يَلُونَهُمْ- تبوءوا- يؤثرون- خصاصة- يُوقَ- شُحَّ).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - تعلیمی بورڈ - آڈیو میڈیم جس میں اس سبق میں وارد کچھ آیتیں ریکارڈ ہوں)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(دریافت پر مبنی حکمت عملی - "میں جانتا ہوں - میں جاننا چاہتا ہوں - میں نے سیکھا " .K.W.L کی حکمت عملی - برین اسٹورمنگ)

اقدار و رجحانات :

- صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم سے متعلقہ معلومات اور ان کے حالات جاننے، ان کی سیرت پڑھنے اور لوگوں کے درمیان عام کرنے کی کوشش کرنا۔

- عمل صالح میں صحابہ رضی اللہ عنہم کى اقتدا کرنا۔

- صحابۂ کرام کی عظمت کا خیال رکھنا۔

٭ سبق کی تمہید :

معلم بلیک بورڈ پر درج ذیل جملہ لکھے : (اس سے مراد ہر وہ شخص ہے، جو اللہ کے نبی ﷺ سے ملا، آپ پر ایمان لایا اور اسلام کی حالت میں فوت ہوا۔) پھر کسی طالب علم کا انتخاب اسے پڑھنے کے لیے کرے، اس کے بعد طلبہ سے اس پر غور کرنے اور اس کا مدلول دریافت کرنے کے لئے کہے اور اخیر میں ان کے جوابات سے آگاہ ہو۔

٭ سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

معلم ہر طالب علم کو اپنی کاپی کے ایک صفحہ کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کے لئے کہے، جس کا پہلا حصہ حرف (K)، دوسرا حصہ حرف (W) اور تیسرا حصہ حرف (L) پر مشتمل ہو۔

پھر انھیں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں اپنی سابقہ معلومات پیش کرنے کے لئے کہے اور انھیں پہلے خانے میں لکھنے کا حکم دے اور ان پر مناقشہ بھی کرے۔

پھر انھیں ان معلومات و افکار کو قلم بند کرنے اور دوسرے خانے میں درج کرنے کی ہدایت دے، جنھیں وہ اس سبق کے توسط سے جاننا چاہتے ہیں۔

مرحلہ نمبر (2)

برین اسٹورمنگ کے توسط سے معلم طلبہ کے ساتھ صحابہ رضی اللہ عنہم کے زیادہ سے زیادہ فضائل اور حقوق پیش کرنے کے بارے میں تبادلۂ خیال کرے، ان کے جوابات سے روبرو ہو اور ان پر عمومی مناقشہ کرے۔

پھر ان کو ان فضائل اور حقوق کے اجمالی بیان پر مشتمل ایک بورڈ دکھائے، تاکہ ان کی شرح و تفصیل میں جانے سے پہلے ان پر غور کر لیں۔

مرحلہ نمبر (3)

معلم صحابہ کے فضائل اور حقوق کی تشریح سلسلہ وار بیان کرے اور اس دوران ان فضائل اور حقوق سے متعلق سبق میں درج آیات قرآنی طلبہ کو سناتے جائے۔

معلم طلبہ کے سامنے ان فضائل اور حقوق سے جڑی ہوئی احادیث بھی رکھے اور ان کے ساتھ مل کر ان احادیث کی تشریح اور ان کے بارے میں تبادلۂ خیال کرے اور ان کا مطلب واضح کرے۔

معلم ایسا کر سکتا ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے فضائل اور حقوق کی تشریح درج ذیل سوالات کی مدد سے کرے اور طلبہ کے ساتھ ان کے بارے میں تبادلۂ خیال بھی کرے :

سوال : اس بات کی دلیل پیش کیجیے کہ اللہ تعالی نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے اخلاق حمیدہ اور اعمال صالحہ کی تعریف کی ہے۔

سوال : صحابہ رضی اللہ عنہم کو اس امت کے افضل ترین لوگ کیوں شمار کیا جاتا ہے؟

سوال : جنت کی خوش خبری پانے والے دس لوگ ہيں : ....................... (پھر معلم طلبہ کے سامنے جنت کی خوش خبری پانے والے دس خوش نصیب لوگوں کے نام کی ایک توضیحی شکل پیش کرے۔)

سوال : صحابہ رضی اللہ عنہم سے محبت اور ان کی عزت و احترام کا خیال رکھنا کیوں واجب ہے؟

سوال : صحابہ رضی اللہ عنہم کو برا بھلا کہنے اور ان کی بے حرمتی کرنے کا کیا حکم ہے؟

سوال : صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بے حرمتی کو دین کی بے حرمتی کیوں سمجھا جاتا ہے؟

ۖ٭ نتیجہ نکالنا :

ایسا ہو سکتا ہے کہ آپ طلبہ کو اپنی کاپیوں کے تیسرے خانہ، جس کا تعلق سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو عام افکار و عناصر کی شکل میں لکھنے سے ہے، کو مکمل کرنے کی ہدایت دیں، پھر کچھ طلبہ کا انتخاب ان کے تحریر کردہ افکار و عناصر کو پیش کرنے کے لیے کریں، بعد ازاں ان پر نوٹ لکھیں اور انھیں تحریر کرنے والے طلبہ کی مناسب حوصلہ افزائی کریں۔

سرگرمیاں

بہتر ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ مہاجرین و انصار کی صفات و اعمال سے آگاہی۔ ہدف نمبر : 3

- ہر طالب علم کو سرگرمی پر مشتمل ایک ایک تعلیمی کارڈ دیں۔ جواب دینے کا عمل پورا ہونے کے بعد ان کو جمع کریں اور درست کر لیں۔ پھر سب سے بہتر جواب کو منتخب کر کے اسے طلبہ کے سامنے رکھیں، تاکہ اس سے رو برو ہو جائيں۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ صحابہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت اخذ کرنا۔

ہدف نمبر : 2، 3

طلبہ کو دوسری سرگرمی کے ضمن میں وارد نصوص کو پڑھنے کی ہدایت دیں، بعد ازاں دو طلبہ کا انتخاب انھیں ساتھیوں کو پڑھ کر سنانے کے لیے کریں، طلبہ کے ساتھ ان نصوص کے معنی و مفہوم پر مناقشہ کریں، پھر ان کے سامنے سرگرمی کا دوسرا حصہ یکے بعد دیگرے رکھیں، دو طلبہ کا انتخاب ہر نقطے کا جواب دینے کے لیے کریں، دونوں کے جوابات حاصل کریں اور صحیح جواب تک پہنچنے کے لیے دونوں کے درمیان موازنہ کریں۔ اخیر میں تمام طلبہ کو کتابوں کے اندر فراہم کی گئی جگہ میں صحیح جواب لکھ لینے کا حکم دیں۔

صحابہ کی فضیلت

معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے علم کی فضیلت

غزوۂ بدر میں شامل تمام لوگوں کی مغفرت

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

ہر طالب علم کتاب میں دیے گئے سوالات کا جواب انفرادی طور پر دے۔

ہر طالب علم اپنے جواب کا تبادلہ اپنے ساتھی کے جواب سے کر لے۔

کچھ طلبہ کا انتخاب کریں، جن میں سے ہر طالب علم بتائے کہ اس نے اپنے ساتھی کا اندازۂ قدر کس طرح کیا ہے، کون کون سی غلطیاں دریافت کی ہیں اور ان کو کیسے درست کیا ہے۔

اخیر میں طلبہ کو مثالی جواب بتائيں، تاکہ ہر طالب علم اپنی غلطیوں کو درست کر لے۔

سوال 1 : (✖) - (✓) - (✖) - (✓)

سوال 3 : (صحابہ کے حق میں دعا کا استحباب - امت پر صحابہ کی فضیلت)

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

صحابہ سے متعلقہ معلومات اور ان کے حالات جاننے کی کوشش کرنا، ان کی سیرت پڑھنا اور اسے اپنے اہل خانہ اور سماج میں عام کرنے کی کوشش کرنا۔

پانچواں سبق : نیت اور اس کی اہمیت

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی۔

نئے کلمات :

(الأَعْمَالُ- النِّيَّة- هِجْرَتُهُ- لِدُنْيَا يُصِيبُهَا).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - کمپیوٹر ڈیوائس - تعلیمی بورڈز - تعلیمی کارڈز)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(قیاسی طریقہ - برین اسٹورمنگ - باہمی تعاون پر مبنی آموزش)۔

اقدار و رجحانات :

• ہر عمل کے وقت اخلاص کی قیمت کا شعور۔

• ایک مسلمان کے دین کو بری نیت سے ہونے والے نقصان کا اندازہ۔

• اخلاص و للہیت پیدا کرنے کی کوشش۔

سبق کی تمہید :

تمہید کے طور پر طلبہ کے سامنے درج ذیل صورت حال رکھیں : (مسجد کے امام نے حفظ کا ادارہ کھولنے کے لیے لوگوں سے چندہ مانگا، تو آپ کے دو پڑوسیوں نے لوگوں کے سامنے بڑی بڑی رقوم چندے میں دیں۔ چندہ دیتے وقت دونوں میں سے ایک کے دل میں یہ بات تھی کہ لوگ اسے سخی کہیں، جب کہ دوسرے کے دل میں تھا کہ اسے دیکھ کر دیگر لوگ بھی چندہ دیں اور اس طرح ایک بڑی رقم جمع ہو جائے۔)

اس صورت حال کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ ایک ہی جیسے نیکی کے کام کرنے والے ان دونوں لوگوں کے درمیان کیا فرق ہے؟ طلبہ کے ساتھ اس پر مناقشہ کریں اور ان کو سبق کے موضوع تک لے جائيں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

طلبہ کو سبق اور اس کے بنیادی عناصر پر سرسری نظر دوڑانے کا حکم دیں۔

کچھ طلبہ سے سبق کے بنیادی عناصر کو بلیک بورڈ پر لکھنے کے لئے کہیں۔

طلبہ کے ساتھ ان عناصر اور ان کے معنی پر تبادلۂ خیال کریں۔

مرحلہ نمبر (2)

باہمی تعاون سے سیکھنے پر مبنی حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے سبق کے اجزا کو طلبہ کے کچھ گروہوں کے درمیان تقسیم کر دیں اور ہر گروہ کو اس کے لیے خاص کردہ حصے کو پڑھنے کا حکم دیں۔

ہر گروہ باقی گروہوں کے سامنے وہ باتیں رکھے، جو اس نے سمجھی ہیں۔

آپ ان کی ان کاوشوں کا اندازۂ قدر کریں اور ان میں درست کاوشوں کو بلیک بورڈ پر لکھ دیں، تاکہ وہ طلبہ کے ذہن و دماغ میں بیٹھ جائيں۔

مرحلہ نمبر (3)

قیاسی طریقے کو بروئے کار لاتے ہوئے طلبہ کو نیت اور اعمال پر پڑنے والے اس کے اثر سے تعلق رکھنے والے کچھ شرعی نصوص بیان کرنے کا کام سونپیں۔

ان کی یہ سمجھنے میں مدد کریں کہ بری نیت کا ایک مسلمان کے دین پر کیا اثر پڑتا ہے۔

کچھ طلبہ کو یہ ذمہ داری دیں کہ وہ ان باتوں کو بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔

نتیجہ نکالنا :

ہر گروہ سے کہیں کہ وہ سبق کو اپنی کاپی میں عناصر اور افکار کی شکل میں لکھیں، جو مذاکرہ کے وقت کام آئيں۔

کچھ طلبہ کو حدیث کے فوائد بیان کرنے کا حکم دیں۔

سرگرمیاں

بہتر ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ صحیح نیت کے ساتھ اعمال کو برتنے کا طریقہ۔

ہدف نمبر : 5

آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ ہر طالب علم کو درج ذیل سرگرمی انفرادی طور پر انجام دینے کی ذمہ داری دیں۔

کچھ طلبہ کا انتخاب ان کے تحریر کردہ جوابات پیش کرنے کے لیے کریں۔

انوکھے اور امتیازی شان کے حامل جواب دینے والے طلبہ کی تعریف کریں۔

ہر طالب علم سے کہیں کہ وہ دوسرے طلبہ کے جواب کی روشنی میں اپنا جواب مکمل کریں۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ طلبہ کو تجزیہ اور توسیع کی مشق کرانا۔

ہدف نمبر : 5، 6

بہتر ہوگا کہ آپ ہر گروہ سے دو دو طلبہ کو ایک دوسرے کی مدد سے درج ذیل سرگرمی کا جواب دینے کی ذمہ داری دیں۔

آپ سرگرمی کے عناصر میں سے ایک ایک عنصر کا ذکر کریں، ہر گروہ سے اس کا جواب لیں اور ہر گروہ کو مناسب نمبر دیں۔

سب سے زیادہ نمبر حاصل کرنے والے گروہ کی نشان دہی کریں اور دوسرے گروہوں سے کہیں کہ اس کی روشنی میں وہ اپنی غلطیوں کی اصلاح کر لیں۔

سرگرمی نمبر : 3 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ طلبہ کو پڑھنے اور نتیجہ نکالنے کى کیفیت کی مشق کرانا۔ ہدف نمبر : 6

طلبہ کو سرگرمی کو اچھی طرح پڑھنے، اس پر غور کرنے اور اس میں طلب کردہ بات کی باریکی سے نشان دہی کرنے کی ہدایت دیں۔ اس کے بعد طلبہ آپس میں تبادلۂ خیال کریں اور بعدہ ان سے کہیں کہ وہ سرگرمی کو گھر سے پورا کر کے لائیں، تاکہ ہر طالب علم ان امور کی تحدید و تعلیل میں اپنے اہل خانہ کی جانب رجوع کرے اور ان کی مدد لے۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

کتابوں میں دیے گئے درج ذیل سوالات کو اچھی طرح پڑھیں اور علاحدہ کارڈوں میں ان کا جواب دیں۔

ہر طالب علم اپنے کسی ساتھی سے کارڈ کا تبادلہ کر لے، تاکہ اندازۂ قدر کا کام ہو سکے۔

سارے کارڈوں کو جمع کریں اور کسی ترتیب کا خیال رکھے بغیر کچھ کارڈوں کا انتخاب کر کے طلبہ کے سامنے ان کا اندازۂ قدر کریں۔

ان کو صحیح اور غلط جوابات سے آگاہ کریں۔

کارڈ کے حامل طالب علم اور اسے درست کرنے والے طالب کا نام بتائيں۔

سوال 1 : فاروق - سارے اعمال - وہ گناہ گار ہوگا اور اس کا عمل قبول نہيں ہوگا۔

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

طلبہ کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ کسی فرد یا افراد کے مجموعے کے ساتھ کوئی عمل کرتے وقت نیک نیتی کی پابندی کریں، ساتھ ہی ان کو مباح کاموں کو انجام دیتے وقت اور غلط کاموں سے بچتے وقت بھی اخلاص نیت کا خیال رکھنے کی ضرورت پر توجہ دلائيں۔

چھٹا سبق : نبی ﷺ کے اتباع کا وجوب

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی۔

نئے کلمات : (أحدَثَ- أمرنا- ردٌّ).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - کمپیوٹر ڈیوائس - تعلیمی بورڈز - تعلیمی کارڈز)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(برین اسٹورمنگ پر مبنی حکمت عملی - آپسی تعاون سے سیکھنے پر مبنی حکمت عملی)

اقدار و رجحانات :

• سماج میں خرافات کے عام ہونے میں بدعات کے اثر کا شعور۔

• اس بات کی کوشش کہ عمل ہمیشہ نبی ﷺ کے طریقے کے مطابق ہو۔

• شریعت کی خلاف ورزی کی جسارت سے گریز۔

سبق کی تمہید :

آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ آج کے سبق کو پچھلے سبق سے مربوط کريں۔ طلبہ کو بتائيں کہ ہم نے پچھلے سبق میں قبولیت عمل کی پہلی شرط پڑھی تھی۔ وہ شرط تھی خالص اللہ کی رضامندی کو پیش نظر رکھنا۔ اب ہم اس سبق میں دوسری شرط پڑھنے جا رہے ہیں۔ دوسری شرط یہ ہے کہ عمل نبی ﷺ کے طریقے کے مطابق کیا گیا ہو۔ پھر بلیک بورڈ پر عنوان لکھ دیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

طلبہ کے ہر گروہ کو گھر میں کیے گئے مراجعہ کی یاد دہانی کے طور پر ساتھ مل کر سبق پڑھنے کا حکم دیں۔

سبھی گروہوں سے چرچا کریں کہ انھوں نے کیا کچھ سمجھا ہے، تاکہ گروہ میں شامل بیش تر افراد سبق کا مضمون سمجھ جائيں۔

مرحلہ نمبر (2)

آپ برین اسٹورمنگ کی حکمت عملی کو بروئے کار لا سکتے ہیں۔

اس کے تحت طلبہ بدعت اور سنت کا فرق مستنبط کریں۔

کچھ طلبہ کا انتخاب ان کی کاوشیں پیش کرنے اور انھیں بلیک بورڈ پر لکھنے کے لیے کریں۔

مرحلہ نمبر(3)

باہمی تعاون پر مبنی آموزشی حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے طلبہ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیں اور ہر گروہ کو سماج میں سنت نبوی کو عام کرنے کا ایک مثالی ذریعہ تلاش کرنے کا کام سونپیں۔

ہر گروہ اپنی کاوش پیش کرنے اور اسے اندازۂ قدر کے مرحلے سے گزارنے کے لیے اپنے ایک ایک فرد کا انتخاب کرے۔

نتیجہ نکالنا :

طلبہ کو حکم دیں کہ ہر طالب علم سبق کے بارے میں اپنے ملاحظات تحریر کرے۔ ملاحظات مشکل الفاظ کے معانی، سبق کے بنیادی افکار اور سبق سے سیکھی ہوئی باتوں پر مشتمل ہوں۔

کچھ طلبہ کا انتخاب درس کے بارے میں ان کے تحریر کردہ ملاحظات کو پیش کرنے کے لیے کریں اور ان کی نوک پلک درست کر دیں۔

سرگرمیاں

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ جان کاری میں گہرائی و گیرائی پیدا کرنے کی مشق کرانا۔ ہدف نمبر : 3

ایک مشورہ یہ ہے کہ آپ سرگرمی کے ضمن میں دی گئی حدیث کی صحیح قراءت کریں۔

ہر طالب علم کو سرگرمی پر مشتمل ایک ایک کارڈ دے دیں۔

کچھ طلبہ کا انتخاب ساتھیوں کے سامنے ان کے تحریر کردہ جوابات رکھنے کے لیے کریں۔

ساتھی طلبہ کے ذریعے کیے گئے اندازۂ قدر کی مدد سے آپ ان کا اندازۂ قدر کریں۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ طلبہ کی مشق کرانا کہ وہ سماج میں پھیلی ہوئی بدعات کو دھیان سے دیکھیں اور ان کے آثار سے آگاہ ہوں۔ ہدف نمبر : 6

طلبہ کے سامنے درج ذیل سرگرمی ایک بورڈ کے توسط سے رکھیں۔

طلبہ کو اس کا جواب دینے کے لیے گروہوں میں کام کرنے کے لئے کہيں۔

گروہوں سے کچھ طلبہ کا انتخاب بورڈ پر جواب دینے کے لیے کریں اور ان کی کارکردگی کا اندازۂ قدر کریں۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

درج ذیل سوالات کو یکے بعد دیگرے بلیک بورڈ پر لکھتے جائيں۔

آس پاس بیٹھے ہوئے ہر دو طلبہ سے کہیں کہ وہ درج ذیل سوالات میں ہر سوال کا جواب دینے کے لیے ساتھ مل کر کام کریں۔

کسی ترتیب کا خیال رکھے بغیر کچھ طلبہ کا انتخاب باقی ساتھیوں کے سامنے اپنے جوابات رکھنے کے لیے کریں۔

غلط جواب دینے والے طلبہ کو سبق کے مشمولات کا مراجعہ کرنے اور صحیح جواب نکالنے کی ہدایت دیں۔

سوال 1 : () - () - () - () - ()

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

طلبہ کو سبھی طرح کی بدعتوں سے بچنے کی ترغیب دیں۔ اگر کسی طالب علم کو کسی ایسی بدعت کا سامنا کرنا پڑے، جو اس سبق میں دی گئی تعلیمات سے مطابقت نہ رکھتی ہو یا پھر غلطی سے وہ اس میں ملوث ہو گیا ہو، تو اس معاملے کو حل کرنے اور غلطی کی اصلاح کرنے کی کوشش کرے۔

اس بات کے پیش نظر کہ سبق سے سیکھی ہوئی باتیں معاملات زندگی سے جڑی ہوئی ہيں، ہر طالب علم اس بات کی کوشش کرے کہ سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی نظر میں کسی بھی مناسب وسیلے سے عام کرے، تاکہ اس کے اہل خانہ اور دوست و احباب ان سے واقف ہو جائيں اور ان کی روشنی میں اپنی زندگی گزاریں۔

ساتواں سبق : نبی ﷺ کی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو وصیت

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی۔

نئے کلمات :

(احفظ اللهَ يحفظك- تجده تجاهك- رُفِعت الأقلام- جَفَّت الصحف).

تعلیمی وسائل :

(کمپیوٹر ڈیوائس - ڈسپلے اسکرین - بلیک بورڈ - تعلیمی کارڈز - آڈیو میڈیم)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(حل مشکلات - غلط تصورات کی تصحیح - "سوچیں - ملائيں - شیئر کریں")۔

اقدار و رجحانات :

- دعا کے ذریعے اللہ سے مانگنا اور اپنی ضرورتیں صرف اسی کے سامنے رکھنا۔

- اللہ پر توکل کرنے اور صرف اسی سے لو لگانے کا وجوب۔

- قضا و قدر پر ایمان رکھنے کا وجوب۔

- خیر حاصل کرنے اور شر سے دور رہنے کی کوشش۔

٭ سبق کی تمہید :

معلم طلبہ کے سامنے ایک شخص کا مسئلہ پیش کرے، جو صحت سے متعلق بڑی سخت پریشانی میں مبتلا تھا۔ ایسے میں اس کے دوست نے اسے کسی مزار پر جانے اور وہاں دعا کرنے کا مشورہ دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ اس سے اس کی پریشانی دور ہو جائے گی اور وہ صحت یاب ہو جائے گا۔

اس کے بعد معلم طلبہ کو اس کے بارے میں اپنی رائے دینے اور یہ بتانے کے لئے کہے کہ اس طرح کی صورت حال کا سامنا کیسے کیا جائے؟ طلبہ کے جوابات سے آگاہی حاصل کرے اور ان کو بتائے کہ ان جوابات کے اندازۂ قدر کا کام سبق ختم ہونے کے بعد کیا جائے گا۔

٭ سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

طلبہ کے سامنے مذکورہ حدیث کو ڈسپلے اسکرین کے توسط سے پیش کریں، پھر انھیں اس کی خاموش قراءت کرنے، اس کا معنی و مفہوم سمجھنے اور مشکل الفاظ کی نشان دہی کرنے کے لئے کہیں۔ بعد ازاں ان کو وہ حدیث پڑھ کر سنائیں اور دو طلبہ کا انتخاب ساتھیوں کو پڑھ کر سنانے کے لیے کریں۔

مرحلہ نمبر(2)

طلبہ کو راوی حدیث عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور ان کے فضائل سے رو برو کرائيں۔ پھر ان کو ان فضائل کے سلسلے میں اپنے احساسات کے اظہار کرنے کے لئے کہیں اور دو طلبہ کا انتخاب مختصر انداز میں اپنے احساسات کو سامنے رکھنے کے لیے کریں۔

مرحلہ نمبر (3)

حدیث کی اجمالی تشریح کریں اور طلبہ کو اس میں آئے ہوئے مشکل الفاظ کا معنی بتا دیں۔ کوشش یہ ہو کہ طلبہ ان الفاظ کے معنی کی تحدید سیاق و سباق کی روشنی میں کریں۔ دو طلبہ کا انتخاب یہ بتانے کے لیے کریں کہ انھوں نے آپ کی تشریح کی روشنی میں اس حدیث سے کیا کچھ جانا اور سمجھا ہے۔

طلبہ کو باہمی امداد پر مبنی عمل والے گروہوں کے توسط سے مذکورہ حدیث کے فوائد اور افادہ کے پہلوؤں تک پہنچنے کی ہدایت دیں۔ ان سے کہيں کہ ہر گروہ اپنی اپنی کاوشوں کو ایک ایک خارجی کارڈ میں تحریر کرے۔ پھر سارے کارڈوں کو جمع کر لیں اور کسی ایک طالب علم کا انتخاب کر کے اسے بلیک بورڈ کے سامنے کھڑا کر دیں۔ آپ اسے افادہ اور رہ نمائی کے الگ الگ پہلووں کو لکھواتے جائيں اور وہ لکھتا جائے، تاکہ تمام طلبہ ان پر غور و فکر کر سکيں۔

مرحلہ نمبر (4)

طلبہ کے سامنے یکے بعد دیگرے درج ذیل صورت ہائے حال رکھیں اوران کو بتائيں کہ یہ زندگی سے جڑی ہوئی صورت ہائے حال ہیں اور انھیں ان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پھر ان کو ان حالات کے بارے میں اپنی رائے دینے کے ساتھ ساتھ یہ بتانے کے لئے کہیں کہ یہ حالات مذکورہ حدیث کی رہ نمائی سے کس حد تک مطابقت یا اختلاف رکھتی ہیں۔

ایک مسجد کا امام لوگوں کو مذہب کی تعلیم دیتے ہوئے ان کے ساتھ تشدد سے پیش آتا ہے۔

ایک خاتوں چاہتی ہے کہ اس کے بیٹے کو شفا مل جائے اور اس کے لیے وہ ایک مزارپر جاکر وہاں دعا کرتی ہے۔

ایک طالب علم نماز پڑھتے ہوئے اور اللہ سے دعا کرتے ہوئے اسی وقت نظر آتا ہے، جب امتحان کا وقت قریب ہو۔

ایک تاجر کوئی بھی کام کرنے سے پہلے برکت حاصل کرنے کے ارادے سے ایک مزار کے پاس جاکر جانور ذبح کرتا ہے۔

ایک عورت ایک غیب کی بات جاننے کا دعوی کرنے والے شخص کے پاس جاتی ہے، تاکہ اس سے غیب کی بات جاننے اور اسے بدلنے کی کوشش میں مدد لے۔

٭ نتیجہ نکالنا :

معلم تمہید کے دوران پیش کردہ مسئلے کے سلسلے میں طلبہ کی رائے دوبارہ طلب کرے اور ان کے ساتھ مل کر اس بات کی نشان دہی کرے کہ مذکورہ حدیث کو سیکھنے سے پہلے اور بعد کی رائے میں کتنی تبدیلی واقع ہوئی؟

ایسا ہو سکتا ہے کہ آپ ہر طالب علم کو اس حدیث سے سیکھا ہوا ایک ایک ادب اور حکم، جسے وہ اپنی زندگی میں اتارنا چاہتا ہے، ایک مختصر جملے میں بیان کرنے کے لئے کہيں، پھر طلبہ کے جوابات دیکھيں اور سب سے بہتر استنباط کرنے اور اچھے انداز میں جواب دینے والے طالب علم کی تعریف کریں۔

سرگرمیاں

بہتر ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : انفرادی/جوڑے پر مبنی۔ غیراللہ سے دعا کرنے کی ممانعت میں وارد قرآن کریم کی آیتوں اور احادیث کے درمیان ربط پیدا کرنا۔

ہدف نمبر : 5

کسی ایک طالب علم کا انتخاب سرگرمی کے تحت دی گئی آیت کو ساتھیوں کو پڑھ کر سنانے کے لیے کریں۔ جب کہ باقی سارے طلبہ اس آیت اور حدیث سے سیکھی ہوئی بات کے درمیان ربط پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ اس کے بعد دو طلبہ کا انتخاب ان کے جوابات پیش کرنے کے لیے کریں۔ ان دونوں کا موازنہ اور صحیح جواب کی نشان دہی بھی کریں۔

اس آیت اور مذکورہ حدیث کے درمیان مشترک بات غیراللہ سے دعا کرنے کی ممانعت ہے۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : انفرادی/اجتماعی۔ اس حدیث کے اندر دی گئی تعلیم کو زندگی کے کچھ موقفوں پر تطبیق دینا۔ ہدف نمبر : 5، 6

بہتر یہ ہوگا دوسری سرگرمی کی انجام دہی کے لیے 'غور و فکر کریں - جوڑے بنائيں -شیئر کریں' اسلوب کی مدد لیں۔ ہر طالب سرگرمی کے ضمن میں دی گئی صورت ہائے حال سے خود رو برو ہو، ان کے بارے میں اپنی رائے دے اور یہ بتائے کہ یہ صورت ہائے حال مذکورہ حدیث کے اندر دی گئی رہ نمائيوں سے کس حد تک مطابقت رکھتی ہیں، پھر اپنی رائے کا اپنے ساتھی کی رائے سے تبادلہ کر کے دونوں ایک دوسرے کا اندازۂ قدر کریں، پھر تین طلبہ ایک دوسرے کے تعاون کے لیے تیار ہوں اور اپنے جوابات ایک دوسرے سے بدل لیں۔ اس دوران معلم طلبہ کو دھیان سے دیکھے، تاکہ واضح ہو سکے کہ ان کی کارکردگی کس حد تک درست ہے اور وہ صحیح جواب دینے کی کتنی صلاحیت رکھتے ہیں۔ معلم طلبہ کو مناسب تعاون بھی فراہم کرے۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

پہلے سوال کا جواب دینے کے لیے اس کے تحت دی گئی ہر عبارت کو یکے بعد دیگرے طلبہ کے سامنے پڑھیں۔ عبارت صحیح ہونے کی صورت میں طالب علم اپنا ہاتھ اوپر اٹھائے۔ طلبہ کے جوابات کا اندازۂ قدر کریں اور ان کے ساتھ مل کر صحیح اور غلط عبارتوں کی نشان دہی کریں۔

سوال 1 : (۔۔) (۔۔)

ہر طالب علم کو دوسرے سوال کا جواب انفرادی طور پر دینے کی ہدایت کریں۔ پھر ہر طالب علم اپنا جواب اپنے کسی ساتھی کے جواب سے بدل لے اور دونوں ایک دوسرے کے جواب کو درست کریں۔ اس دوران آپ ہر گروہ کی کارکردگی کو دھیان سے دیکھیں اور اس کی رہ نمائی بھی کریں۔

سوال 2 : (تقدیروں کا لکھا جانا) - (ترجمان القرآن) - (اللہ کے نبی ﷺ کو جامع ترین الفاظ میں بات کرنے کی صلاحیت دی گئی تھی۔)

ڈسپلے اسکرین کے توسط سے تیسرا سوال سامنے رکھیں اور کچھ طلبہ کا انتخاب اس میں دی گئی خالی جگہوں کو بھرنے کے لیے کریں۔ کسی طالب علم سے کوئی غلطی ہونے کی صورت میں اسے سبق سے رجوع کرنے کے لئے کہیں، تاکہ کتاب میں لکھی ہوئی حدیث کا باقی جز اچھی طرح جان سکے۔

ہر دو طلبہ کو چوتھے سوال کا جواب ایک دوسرے کی مدد سے دینے کی ہدایت دیں، اپنا جواب پیش کرنے کے لیے دو گروہوں کا انتخاب کریں، ان کا موازنہ کریں اور سب سے بہتر جواب کی نشان دہی کر دیں، تاکہ ہر گروہ اپنی غلطیوں کی اصلاح کر لے۔

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

تمام اعمال، بطور خاص دعا، ایک اللہ کے سامنے اپنی ضرورتیں رکھنے، اسی پر بھروسہ کرنے، قضا و قدر پر ایمان رکھنے اور مذکورہ حدیث نیز اس کی رہ نمائیوں کے منافی کاموں میں اس حدیث میں بتائی راہ پر چلنا۔

آس پاس کے لوگوں کے رویے کے اندر پائے جانے والے ایسے مظاہر کا مقابلہ کرنا، جو اس حدیث کے منافی ہیں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ انھیں نصیحت کی جائے، صحیح راستہ دکھایا جائے اور اس حدیث سے سیکھی ہوئی باتوں سے متعارف کرایا جائے۔

آٹھواں سبق : استقامت کی اہمیت

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی۔

نئے کلمات :

(النصيحة- أئمة المسلمين- عامَّتهم- آمنتُ بالله- استقم).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - کمپیوٹر ڈیوائس - تعلیمی بورڈز - تعلیمی کارڈز)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(استنباطی طریقہ - برین اسٹورمنگ - مکالمہ و مناقشہ)۔

اقدار و رجحانات :

• آخرت میں اللہ کی خوش نودی حاصل کرنے کے لیے استقامت کی راہ پر گامزن رہنے کی اہمیت کا شعور۔

• استقامت کے معنی اور اس پر عمل کرنے کی اہمیت کا اندازہ۔

• نفع بخش علم حاصل کرنے اور اس کے بارے میں پوچھنے کی حرص۔

• اللہ کی حرام کردہ تمام چیزوں سے اجتناب۔

سبق کی تمہید :

طلبہ کے سامنے درج ذیل جملہ رکھیں : (کہو کہ میں اللہ پر ایمان لایا، پھر اس پر ثابت قدم رہو۔) طلبہ کو اس جملے پر غور کرنے کے لئے کہیں اور کچھ طلبہ کا انتخاب یہ بتانے کے لیے کریں کہ انھوں نے پہلی بار یہ جملہ پڑھا تھا، تو ان کے ذہن میں کون سی بات آئی تھی؟ بعد ازاں ہر طالب علم کو اس بات کی ہدایت کریں کہ وہ مذکورہ جملے کے لب لباب کے فہم کی روشنی میں اپنی کاپیوں میں سبق کے متوقع عناصر و افکار کو قلم بند کریں۔ طلب کو یہ بھی بتا دیں کہ ان عناصر و افکار کا جائزہ سبق ختم ہونے کے بعد لیا جائے گا۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

طلبہ کو کمپیوٹر ڈیوائس کے توسط سے مذکورہ حدیث سننے کی ہدایت دیں :

پھر چند سطروں میں حدیث کا اجمالی معنی پیش کریں۔

مرحلہ نمبر (2)

سبق کو سوالات کی شکل میں پیش کریں۔ کچھ سوالات اس طرح ہوں :

سوال : حدیث کے راوی کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟

سوال : استقامت کے معنی بیان کریں۔

سوال : استقامت تک پہنچانے والے راستے کون کون سے ہیں؟

مرحلہ نمبر (3)

برین اسٹورمنگ کی حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے درج ذیل نتائج اخذ کریں :

راوی حدیث کی حیات سے کون کون سے فوائد حاصل ہوتے ہیں؟

اس حدیث سے مستفاد استقامت کی حصول یابی کے اہم وسائل۔

ایمان اور عمل صالح کی راہ میں استقامت کے ساتھ گام زن رہنے کی کچھ حکمتیں۔

انھیں مناسب معلومات وآراء فراہم کریں۔

مرحلہ نمبر (4)

نتیجہ نکالنا :

معلم طلبہ کو تمہید کے دوران پیش کردہ متوقع افکار کو ذہن و دما‏غ کے پردے پر دوبارہ لانے کا حکم دے۔

معلم طلبہ کے ذریعے سبق کے مشمولات سے واقفیت کی روشنی میں تحریر کردہ امور پر نوٹ تحریر کرنے کے لیے کچھ طلبہ کا انتخاب کرے۔

طلبہ کو سبق سے معلوم ہونے والی اہم ترین بات پر ایک ایک نوٹ تحریر کرنے کے لئے کہیں۔

کچھ طلبہ کے جملوں کو دیکھیں، ان کے بارے میں اپنا عندیہ دیں اور ان میں سب سے بہتر جملے کی نشان دہی کریں۔

سرگرمیاں

بہتر ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ طلبہ کو ربط پیدا کرنے اور نتیجہ اخذ کرنے کی مشق کرانا۔

ہدف نمبر : 5

طلبہ کے سامنے کمپیوٹر ڈیوائس کے توسط سے سرگرمی کے تحت دی گئی قرآنی آیت پیش کریں۔

کسی بہتر قراءت کرنے والے طالب علم کا انتخاب کریں۔

طلبہ کے ساتھ مل کر مفرد کلمات کی تشریح کریں، تاکہ اس کے فوائد اخذ کیے جا سکیں۔

سرگرمی کا سوال لیں اور طلبہ کے ساتھ اس کے جواب کا مناقشہ کریں، تاکہ انھیں صحیح جواب سے روبرو کیا جا سکے اور ہر طالب علم اسے اپنی کتاب میں لکھ لے۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ طلبہ کو حصول استقامت کے وسائل اخذ کرنے کی مشق کرانا۔

ہدف نمبر : 4

طلبہ کے ہر گروہ کو دوسری سرگرمی کی ادائيگی کے لیے ایک دوسرے کی مدد کرنے کی ہدایت دیں۔

سارے گروہوں کو دھیان سے دیکھتے رہيں، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ سارے گروہوں کے افراد سرگرمی میں ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

ہر گروہ سے ایک ایک فرد کا انتخاب اس مجموعے کی کاوش کو پیش کرنے کے لیے کریں۔

ان کا موازنہ کریں اور سب سے بہتر جواب دینے اور ان مفید کاموں کو چننے، منظم شکل دینے اور نافذ کرنے کی سب سے زیادہ قدرت رکھنے والے گروہ کی نشان دہی کریں۔

انھیں استقامت کے حصول کے وسائل تجویز کرنے کا ایک منصوبہ بنانے اور اسے سماج میں عام کرنے کی ترغیب دیں۔

استقامت حاصل کرنے کے وسائل

اللہ کی حرام کردہ چيزوں سے اجتناب۔

فرائض کی ادائيگی۔

اچھے لوگوں کے ساتھ رہنا۔

توبہ و استغفار کرتے رہنا۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

پہلے سوال کا جواب دینے کے لیے اس کے تحت دی گئی عبارتوں کو یکے بعد دیگرے پڑھیں اور طلبہ سے کہیں کہ جواب صحیح ہونے کی صورت میں ہاتھ اوپر اٹھائيں۔ اس دوران طلبہ کی کارکردگیوں کو دھیان سے دیکھیں، تاکہ پتہ چل سکے کہ وہ کہاں کہاں غلطیاں کر رہے ہیں اور انھیں تنبیہ بھی کی جا سکے۔

سوال 1 : - -

دو ایسے طلبہ کا انتخاب کریں، جو جواب دینے کے عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ نہ لیتے ہوں اور ان کے سامنے دوسرے سوال کے تحت وارد عنصر رکھیں، ان کے جواب دیکھیں اور باقی ساتھیوں کو ان کا اندازۂ قدر کرنے دیں۔

ہر تین طلبہ کو آپسی تعاون سے تیسرے سوال کا جواب دینے کی ہدایت دیں، تین گروہوں کا انتخاب ان کے جوابات پیش کرنے کے لیے کریں، ان کا موازنہ کریں اور صحیح جواب کی نشان دہی کر دیں، تاکہ ہر گروہ اپنی غلطیوں کی اصلاح کر لے۔

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

طلبہ کی حوصلہ افزائی کرنا کہ وہ استقامت حاصل کرنے کے سبق سے سیکھے ہوئے اسالیب اور وسائل کو عملی جامہ پہنائيں۔

اس بات کی کوشش کرنا کہ اپنے گھر کے لوگوں کی تربیت استقامت پر ہو اور اس سلسلے میں ان کی مدد کی جائے۔

نواں سبق : فضول چيزوں سے گریز

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی۔

نئے کلمات : (يَعْنِيهِ).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - تعلیمی بورڈ - تعلیمی کارڈز)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

نقطہ ہائے نظر کا تجزیہ - استنباطی طریقہ - ڈرامائی اسلوب - استماع مثلث - غلط تصورات کی تصحیح - توضیحی اشکال)۔

اقدار و رجحانات :

- انسان کو اسی بات پر توجہ دینی چاہیے جو اس کے کام کی ہو۔

- ایک مسلمان کی کوشش یہ ہو کہ وہ بے مطلب کی چیزوں سے گریزاں رہے۔

- وقت کو مفید کاموں میں لگانے کی ترغیب۔

٭ سبق کی تمہید :

طلبہ کے سامنے درج ذیل موقف رکھیں، ان کو اس سلسلے میں اپنی رائے دینے کے لئے کہيں، ان کے جوابات سے مطلع ہوں اور بتائيں کہ ان جوابات کے اندازۂ قدر کا عمل سبق سے گزرتے وقت انجام پذیر ہوگا۔

(ایک عورت نے دیکھا کہ اس کی پڑوسن گھر کی بالکنی میں بیٹھ کر اپنی بیٹی کے ساتھ اپنے داماد کے بارے میں بات کر رہی ہے۔ یہ دیکھتے ہی اس نے اپنی پڑوسن کے ساتھ رابطہ کیا اور اس کے داماد کے بارے میں پوچھنے لگی۔)

بلیک بورڈ پر حدیث کا عنوان لکھ دیں اور طلبہ کو اس پر غور کرنے کے لئے کہیں۔

٭ سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

طلبہ کو خاموشی سے حدیث پڑھنے کے لئے کہیں اور اس کا معنی و مفہوم سمجھنے کی کوشش کرنے کی ہدایت دیں۔

اس حدیث کو طلبہ کے سامنے مثالی اور واضح انداز میں پڑھیں اور اس کے بعد کچھ طلبہ کا انتخاب اسے ساتھیوں کو درست طور پر پڑھ کر سنانے کے لیے کریں۔

مرحلہ نمبر (2)

طلبہ کو راوی حدیث کے بارے میں اپنی سابقہ معلومات کو فعال بنانے لئے کے کہیں، ان کے جوابات سے مطلع ہوں اور ان کو مناسب مدد فراہم کریں۔

راوی حدیث کے بارے میں، خاص طور سے ان کے سنت نبوی کے حریص ہونے کی نبی ﷺ کی گواہی کے بارے میں طلبہ کی معلومات کو چند افزوں کریں۔ اس سلسلے میں جو بات رکھنی ہو، اسے پرکشش بیانیہ انداز میں رکھیں۔ پھر اس موقف کے بارے میں طلبہ کو اپنی رائے پیش کرنے اور یہ بتانے کا موقع دیں کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے فضائل کى اقتدا کے سلسلے میں ان کو کیا کرنا چاہیے۔

مرحلہ نمبر (3)

طلبہ کے سامنے حدیث کے مفرد کلمات کے معنی اور اس کی رہ نمائياں واضح کریں اور انھیں وہ قاعدہ مستنبط کرنے کے لئے کہیں، جو حدیث سے مستفاد ہوتا ہے اور جو فرد اور سماج پر مثبت اثر ڈالتا ہے۔ طلبہ کے جوابات سے مطلع ہوں اور ان کی مناسب حوصلہ افزائی کریں۔

مرحلہ نمبر (4)

طلبہ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیں۔ ہر گروہ تین تین طلبہ پر مشتمل ہو۔ ہر گروہ کے پہلے فرد کو یہ بتانے کی ہدایت دیں کہ انسان اگر اپنے آپ تک سمٹ کر رہ جائے، تو اس کے کیا نتائج مرتب ہوں گے۔ دوسرا طالب علم اپنے ساتھی کا جواب دھیان سے سنے اور اس سے ایسے سوالات کرے، جو اسے ان نتائج کے بارے میں مزید تفصیلات پیش کرنے پر مجبور کرے۔ جب کہ تیسرا طالب علم اپنے دونوں ساتھیوں کی کارکردگی کو دھیان سے دیکھے اور ان کے درمیان ہونے والی گفتگو کو لکھ کر معلم کے سامنے پیش کرے۔

٭ نتیجہ نکالنا :

طلبہ سے سبق کی تمہید کے دوران پیش کردہ صورت حال کو دوبارہ اپنے ذہن کے پردے پر لانے اور مذکورہ حدیث کی معرفت کی روشنی میں اس کے بارے میں اس وقت دیے گئے جواب کا اندازۂ قدر کرنے کے لئے کہیں۔ اس کے بعد کچھ طلبہ کا انتخاب سبق کی پیش قدمیوں سے گزرنے سے پہلے اور بعد میں دیے گئے جوابات کو پیش کرنے کے لیے کریں اور ان کے جوابات کے بارے میں اپنا عندیہ دیں اور مناسب حوصلہ افزائی بھی کریں۔

سرگرمیاں

بہتر ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : انفرادی/اجتماعی۔ سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کی روشنی میں نصیحت کرنا۔

ہدف نمبر : 4

بہتر یہ ہوگا یکے بعد دیگرے دو دو طلبہ کا انتخاب کریں اور ان کو اپنے ساتھیوں کے سامنے رخ کرکے کھڑے ہونے کا حکم دیں۔

پھر سرگرمی کے ضمن میں دی گئی صورت ہائے حال میں سے ایک ایک صورت حال کو پیش کرتے جائيں اور دو دو طلبہ پر مشتمل طلبہ کے ہر گروہ سے اس کا جواب لیتے جائيں۔ دراصل جواب میں وہ اس طرح کی صورت حال سے گزر رہے افراد کو سبق سے حاصل شدہ معلومات کی روشنی میں ایک ایک نصیحت کریں گے۔

طلبہ کے جوابات حاصل کریں، ان کا موازنہ کریں اور سب سے بہتر اور سب سے زیادہ پر اثر اور سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو بروئے کار لانے والے جواب کی نشان دہی نیز جواب پیش کرنے والے طلبہ کی حوصلہ افزائی کریں۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ انسان کے اعضا سے صادر ہونے والے غیر مفید اعمال کی نشان دہی کرنا۔ ہدف نمبر : 2، 3

طلبہ کے ہر گروہ کو ایک دوسرے کی مدد سے سرگرمی انجام دینے کی ہدایت دیں۔ ہر طالب علم سرگرمی کے تحت دیے گئے جدول کو ایک خارجی کارڈ میں ڈیزائن کرے اور اسی کارڈ میں اس کا جواب بھی دے۔

سارے کارڈوں کو جمع کریں اور سبھی گروہوں کی کارکردگیوں کا اس طرح اندازۂ قدر کریں کہ سب کے سامنے ہر گروہ کی مثبت اور منفی باتیں واضح ہو جائيں اور سارے گروہ ایک دوسرے کی کارکردگیوں سے مستفید بھی ہو سکیں۔

سرگرمی نمبر : 3 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ حدیث کے فوائد کی نشان دہی۔

ہدف نمبر : 2

معلم ہر طالب علم کو ویب سائٹ پر جاکر ویڈیو کلپ دیکھنے کے لئے کہے، اس کے فوائد کے بارے میں تبادلۂ خیال کرے اور انھیں بلیک بورڈ پر لکھ دے، تاکہ طلبہ اپنی کاپیوں میں اتار لیں۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

ہر طالب علم اپنی کتاب میں دیے گئے سوالات کا جواب انفرادی طور پر دے۔

ہر طالب علم اپنے جواب کا تبادلہ اپنے ساتھی کے جواب سے کر لے اور دونوں ایک دوسرے کا اندازۂ قدر کریں اور ایک دوسرے کی غلطیاں دریافت کریں۔ اندازۂ قدر کرنے کا کام آپ کی نگرانی میں ہو اور انھیں آپ اس کا صحیح طریقہ بھی بتائيں۔

کچھ طلبہ کا انتخاب یہ بتانے کے لیے کریں کہ ان کے اندازۂ قدر کی نوعیت کیا تھی، انھوں نے کون کون سی غطیاں دریافت کی ہیں اور انھوں نے غلطیوں کو درست کرنے کا کون سا طریقہ اپنایا؟

ان طلبہ کے نام سامنے رکھیں، جن کے جواب میں ان کے ساتھیوں نے کوئی غلطی دریافت نہيں کی ہے۔ اس طرح کے طلبہ کی مناسب حوصلہ افزائی بھی کریں۔

سوال 1 : (جو اس کے کام کا ہو - وقت کی حفاظت اور دین کی سلامتی - قوت حفظ - کمال اسلام - فن کاروں کی خبروں کی جستجو میں رہنا)۔

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

اس حدیث سے حاصل شدہ رہ نمائیوں کو، جن کا تعلق سروکار والے کاموں پر توجہ دینے، بنا سروکار والے کاموں سے گریز کرنے اور دوسرے کے ساتھ برتاؤ کرتے وقت لغو اور بے مطلب کی چيزروں سے دور رہنے سے ہے، اپنی زندگی اور معاملات پر لاگو کرنے کی کوشش کرنا۔

ہر طالب علم اپنے آس پاس کے لوگوں کا حقیقت پسندانہ جائزہ لے اور یہ جاننے کی کوشش کرے کہ لوگ اس حدیث کے اندر بتائی گئی بات پر کس حد تک عمل کرنے کی کوشش کرتے ہيں اور معاشرے میں اس کے مخالف کون کون سے مظاہر پائے جاتے ہیں؟ طالب علم اپنے مشاہدات اور اس کی بنیاد پر قائم ہونے والی رائے کے بارے میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ تبادلۂ خیال کرے۔

اکائی : فقہ احکام

پہلا سبق : حلال اور حرام کمائی

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات :

(الكسب الحلال- الكسب الحرام- الاحتكار- الغبن- الرشوة).

تعلیمی وسائل :

(کمپیوٹر ڈیوائس - اسکرین ڈسپلے - بلیک بورڈ - تعلیمی کارڈ)

تدریس کی حکمت عملیاں :

(قصہ گوئی پر مبنی حکمت عملی - استنباط پر مبنی حکمت عملی - برین اسٹورمنگ - باہمی امداد سے سیکھنے پر مبنی حکمت عملی)

اقدار و رجحانات :

- حلال کمانے کی کوشش کرنا۔

- حرام کمائی سے دور رہنا۔

- حرام کمائی کی تمام صورتوں سے دور رہنا اور ان سے نفرت دلانا۔

٭ سبق کی تمہید :

معلم طلبہ کو دو تاجر بھائیوں کا قصہ سنائے، جن میں سے ایک شرعا مباح طریقے سے مال کمانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ خرید و فروخت کرتے وقت اللہ کا ڈر رکھتا ہے اور اس کے حقوق ادا کرتا ہے۔ لہذا اللہ اس کی روزی، بیوی اور بال بچوں میں برکت دیتا ہے اور وہ خوشی اور اطمینان کی زندگی گزارتا ہے۔ جب کہ دوسرا بھائی تجارت کرتے وقت سود اور جمع خوری پر بھروسہ کرتا ہے، جس کی وجہ سے اس کی زندگی اور معیشت بدحالی کا شکار رہتی ہے۔ مال کی برکت کم ہو جاتی ہے۔ بالآخر اس کی تجارت بند ہو جاتی ہے اور اس کا دیوالیہ نکل جاتا ہے۔

معلم بہترین قصہ گوئی کا اسلوب اپنائے اور طلبہ کو مذکورہ قصے کے بارے میں اپنی رائے دینے اور اس بات کا اندازہ لگانے کے لئے کہے کہ آج کے سبق کا محور کیا ہو سکتا ہے۔

٭ سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ دریافت پر مبنی حکمت عملی کے توسط سے بلیک بورڈ پر نیچے دی گئی دونوں عبارتیں لکھ دیں اور طلبہ سے ان پر غور کرنے اور ہر عبارت کی مراد تک پہنچنے کے لئے کہیں۔

شرعا مباح طریقے سے مال جمع کرنے کو کیا کہتے ہیں؟

شرعا حرام طریقے سے مال جمع کرنے کو کیا کہتے ہیں؟

مرحلہ نمبر (2)

برین اسٹورمنگ کے توسط سے طلبہ کو حلال طریقے سے مال کمانے کے فضائل پیش کرنے کی ہدایت دیں۔ ان کے جوابات جاننے اور مناقشہ کرنے کے بعد ان کے سامنے ڈسپلے اسکرین کی مدد سے ان آثار کو یکے بعد دیگرے پیش کرسکتے ہیں۔ ساتھ میں ان پر دلالت کرنے والے کتاب و سنت کے دلائل بیان کرتے چلیں اور ان کا معنی و مفہوم بھی بتاتے جائيں۔

مرحلہ نمبر (3)

طلبہ کو مختلف گروہوں میں بانٹ دیں اور ہر زمرے کو آپسی تعاون سے حلال کمائی کی صورتیں بیان کرنے کی ہدایت دیں۔ ہر زمرہ اپنا اپنا جواب ایک کارڈ میں لکھ دے۔ کارڈوں کو جمع کر کے ان کو دیکھا جائے اور ان کے بارے میں عندیہ دیا جائے۔

طلبہ کے ساتھ ان کے دیے گئے جوابات کے بارے میں تبادلۂ خیال کریں اور اس کے بعد کچھ طلبہ کا انتخاب ان طریقوں کو پڑھنے اور ان کی تشریح و توضیح کرنے کے لیے کریں۔

٭ نتیجہ نکالنا :

- آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ ہر طالب علم کو درج ذیل عناصر پر مشتمل ایک کارڈ پورا کرنے کے لئے دیں۔ اس دوران ان کے آس پاس سے گزرتے رہيں، تاکہ ان کے جوابات سے واقف ہو سکیں اور غلط جواب لکھنے والے کو صحیح جواب معلوم کرنے کے لیے سبق کی مشمولات کی جانب رجوع کرنے کا حکم دے دیں :

کسب حلال سے مراد ہے .........................

کسب حلال کے فضائل اس طرح ہیں : .........................

کسب حرام سے مراد ہے .........................

حرام کمائی کے طریقے اس طرح ہیں : .........................

حلال کمائی اور حرام کمائی کے بارے میں جان لینے کے بعد آپ کا کردار یہ ہوگا کہ آپ .........................

سرگرمیاں

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ اس بات کا بیان کہ شریعت اسلامی نے کمانے، خرچ کرنے اور حلال طریقے سے مال کمانے پر کتنی توجہ دی ہے۔

ہدف نمبر : 4

معلم بلیک بورڈ پر سرگرمی کے ضمن میں وارد حدیث لکھے، پھر اسے پڑھنے کے لیے ایک طالب علم کا انتخاب کرے اور اس کے معنی و مفہوم کے بارے میں ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کرے۔

ہر طالب علم کو حدیث کے ذیلی سوالات کا جواب اپنی اپنی کاپی میں دینے کا حکم دیں، پھر کچھ طلبہ کا انتخاب ان کے جوابات سامنے رکھنے کے لیے کریں اور صحیح جواب دینے کی صلاحیت رکھنے والے طلبہ کی تعریف کریں۔

کیوں کہ مال کی دو جہتیں ہوتی ہیں : ایک کمانے کی جہت اور دوسری خرچ کرنے کی جہت۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ زندگی کے کچھ حالات میں مال کمانے کے حکم کو بیان کرنا اس کى تعلیل کے ساتھ۔

ہدف نمبر : 3

ہر دو طلبہ کو آپسی تعاون سے دوسری سرگرمی انجام دینے، اس میں پیش کردہ مثالوں میں سے ہر مثال میں کمائی کا حکم بیان کرنے اور اس کی وجہ بتانے کی ہدایت دیں۔

ان مثالوں میں سے ہر مثال کو یکے بعد دیگرے پڑھیں، ہر گروہ اس کا کیا جواب دیتا ہے دیکھیں اور ان کو مناسب نمبر دیں۔

سب سے بہتر جواب دینے والے گروہ کی نشان دہی کریں، اس میں شامل طلبہ کی تعریف کریں اور ان میں سے کسی ایک طالب علم کو اپنے ساتھیوں کو دوسری بار تمام جوابات پڑھ کر سنانے کا کام سپرد کریں، تاکہ غلطی کرنے والے ہر گروہ کو اپنی غلطیاں درست کرنے کا موقع مل جائے۔

کمائی کی مثال کمائی کا حکم تعلیل

ایک شخص کی وفات ہوئی، تو اس کے بیٹوں نے اس کا ترکہ آپس میں بانٹ لیا حلال کیوں کہ یہ میراث ہے۔

ایک شخص نے اپنے مال کی وصیت اپنے پڑوسی کے حق میں کر دی۔ حلال کیوں کہ یہ ایک جائز وصیت ہے۔

ایک شخص نے ہاسپٹل کے اوزار اپنے پرائیویٹ کلینک کے لیے لے لیے۔ حرام کیوں کہ یہ کھلم کھلا کسى چیز کو ھڑپ کرلینا ہے۔

ایک شخص نے زیادہ منافع کمانے کے لیے دودھ میں پانی ملا دیا۔ حرام کیوں کہ یہ دھوکہ ہے۔

ایک شخص جانور پالتا ہے اور اس کا دودھ بیچتا ہے۔ حلال کیوں کہ یہ فروخت ہے۔

ایک نوجوان نے کسی کا مال بزور لے لیا۔ حرام کیوں کہ یہ غصب ہے۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

پہلے سوال کا جواب دینے کے لیے معلم طلبہ کے سامنے اس کے ضمن میں دی گئی ساری عبارتوں کو یکے بعد دیگرے رکھے اور ان سے کہے کہ عبارت صحیح ہونے کی صورت میں اپنا ہاتھ اوپر اٹھائيں۔ معلم ان کی کارکردگی پر نظر رکھے اور غلطی کرنے والے کو درست سے واقف ہونے کی ہدایت دے۔

سوال 1 : (✖) - (✖) - (✓)

معلم ہر طالب علم کو دوسری سرگرمی کا جواب انفرادی طور پر دینے کی ہدایت دے اور اس دوران وہ ان کے پاس سے گزرتے رہے، تاکہ ان کے جوابات سے آگاہ ہو سکے اور غلط جواب لکھنے والے کو صحیح جواب سے روبرو کر سکے۔

تجارت -دھوکہ - غبن - رشوت

معلم دو طلبہ کا انتخاب کرے اور دونوں تیسرے سوال میں مطلوب شرعی دلائل میں سے ایک ایک دلیل بلیک بورڈ پر لکھیں۔ غلط لکھنے کی صورت میں کتاب سے صحیح جواب نکالنے کی کوشش کریں۔

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

معلم طلبہ کو حلال طریقے سے مال کمانے پر ابھارے، تاکہ اس کمائی کے مثبت اثرات اور فوائد حاصل ہوں اور زندگی میں اس کے ثمرات کی لذت محسوس کر سکيں۔

اسی طرح ان کو سبق سے سیکھے ہوئے حلال اور حرام کمائی کے فرد اور سماج پر پڑنے والے اثرات کو اپنے پریوار اور ماحول کے پیمانے پر عام کرنے کی ہدایت دے۔

دوسرا سبق : خرید و فروخت کے احکام

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی۔

نئے کلمات : (الغرر).

تعلیمی وسائل :

(کمپیوٹر ڈیوائس - ڈسپلے اسکرین - تعلیمی بورڈ - بلیک بورڈ - آڈیو میڈیم - تعلیمی تصاوير)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(افتراضی تفکیر - حل مشکلات - گرافک علامتیں - مثبت اور منفی مثالیں - اجتماعی مناقشے)۔

اقدار و رجحانات :

- خرید و فروخت کے احکام کی پابندی کرنے کی کوشش۔

- حلال کمانے کی ذمہ داری محسوس کرنا۔

- اسلام کی عظمت کا احساس کہ اس کی عطا کردہ شریعت نے لوگوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے خرید و فروخت کی شرطوں كو منظوری دی ہے۔

٭ سبق کی تمہید :

عزیز معلم! طلبہ کے سامنے درج ذیل آیت رکھیں۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : (اور اللہ نے خرید و فروخت کو حلال کیا ہے۔) پھر ان کو یہ فرض کرنے کے لئے کہیں کہ اللہ نے خرید و فروخت کو حلال نہیں کیا ہے۔ اب ذرا سوچیں کہ اس کا کیا نتیجہ نکلتا؟ طلبہ کے جوابات کا استقبال کریں، جوابات کے بارے میں ان کے ساتھ مناقشہ کریں اور ان کے ساتھ مل کر یہ واضح کریں کہ اللہ نے خرید و فروخت کو حلال کیوں کیا ہے؟

اس کے بعد بلیک بورڈ پر عنوان لکھ دیں :

٭ سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

طلبہ کے سامنے درج ذیل صورت حال رکھیں، انھیں اس کے بارے میں اپنی رائے دینے کے لئے کہیں اور ان کے جوابات کو انھیں بیع کے انعقاد کی کیفیت اور اس کی شرطوں سے متعارف کرانے کا نقطۂ آغاز بنائیں۔

(حسن نے ایک شخص سے ایک مکان خریدا اور اس کے بعد اسے پتہ چلا کہ وہ شخص نفسیاتی بیماری کا شکار ہے۔ لہذا اس کا اکیلا خریدنا اور بیچنا درست نہيں ہے۔ جب کہ اس گھر کی ملکیت میں اس کے ساتھ اس کے بھائی بھی شریک ہیں اور اس نے حسن سے مکان بیچتے وقت اپنے بھائیوں کو بتایا نہیں تھا۔ ایسے میں اس کے بھائی حسن کے پاس آئے اور اس بیع کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا)۔

مرحلہ نمبر(2)

معلم ڈسپلے اسکرین کے توسط سے بیع کی شرطوں سے جڑی ہوئی کچھ گرافک علامتیں پیش کرے : (ایک شخص کی تصویر جو دوسرے شخص کو کسی کام پر مجبور کر رہا ہو - ایک چھوٹے بچے کی تصویر جو کسی دکان میں سامان بیچ رہا ہو - شراب کی دکان کی تصویر - لاٹری ٹکٹ بیچنے والے ایک شخص کی تصویر)۔

طلبہ کے ساتھ ان کے جوابات کے سلسلے میں مناقشہ کریں اور ان کے ساتھ مل کر خرید و فروخت کی صحیح شرطوں تک پہنچیں۔ پھر طلبہ کے سامنے ان شرطوں کی تشریح کریں۔ تشریح کے دوران بورڈ یا آڈیو میڈیم کے توسط سے ان شرطوں سے جڑے ہوئے شرعی نصوص طلبہ کے سامنے رکھیں اور ان کے معنی و مفہوم کے بارے میں ان کے ساتھ مناقشہ کریں۔

مرحلہ نمبر (3)

آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ طلبہ کے سامنے درج ذیل صورتیں رکھیں اور انھیں ان صورتوں کے بارے میں اپنی رائے دینے، بیع کے درست ہونے یا نہ ہونے اور ان کے بیع کی مذکورہ شرطوں سے مطابقت رکھنے یا نہ کی نشان دہی کرنے کے لئے کہیں۔

ایک شخص خریداری کے لیے بازار گیا اور ایک سامان دیکھا، تو اسے لے لیا اور اس کی قیمت ادا کر دی۔ بیچنے والے کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی۔

ایک شخص سور کا گوشت خریدنے گیا۔

ایک شخص نے اپنے بھائی کی ملکیت بیچ دی، جب کہ اسے اس کی جانب سے وکیل بھی نہیں بنایا گیا تھا۔

ایک شخص نے اپنے والد سے اجازت لیے بغیر اپنی گاڑی بیچ دی۔

ایک شخص نے کھیت کی پیداوار کھیتی کرنے سے پہلے ہی بیچ دی۔

٭ نتیجہ نکالنا :

بلیک بورڈ یا کسی بورڈ پر بیع کی شرطوں کی ایک تنظیمی شکل بنائيں اور کچھ طلبہ کا انتخاب کر کے انھیں حکم دیں کہ ہر طالب اس شکل کے پاس جائے اور اس میں بیع کی ایک شرط لکھ کر اپنے ساتھیوں کے سامنے اس کی تشریح کرے اور اس سے جڑا ہوا شرعی نص بیان کرے۔ جب کہ ہر طالب علم ایک ایک مختصر جملے میں یہ بتائے کہ ان شرطوں سے واقفیت حاصل ہو جانے کے بعد خرید و فروخت کے وقت اس پر کیا کرنا واجب ہے۔

سرگرمیاں

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ بیع کے احکام نافذ کرنے کے نتائج معلوم کرنا۔ ہدف نمبر : 2

سرگرمی کے ضمن میں دیا گیا قول طلبہ کو پڑھ کر سنائیں، پھر طلبہ کو اس قول کے سبب سے آگاہ کرنے کے لیے ان کے ساتھ مناقشہ کا دروازہ کھولیں، بعد ازاں انھیں تجارت پیشہ لوگوں کے خرید و فروخت کے احکام سے واقف ہونے کے نتائج کا تصور کرنے کے لئے کہیں اور زیادہ سے زیادہ تعداد میں نتائج بیان کرنے کے لیے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی ترغیب دیں۔

طلبہ کے جوابات کا استقبال کریں، ان کے مکالمے اور جوابات کو منظم شکل دیں، ان کے جوابات کے سلسلے میں ان کے ساتھ مناقشہ کریں اور ان کے صحیح جوابات کا خلاصہ تیار کریں، تاکہ اپنی کتابوں کے اندر دی گئی جگہوں میں لکھ لیں۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : جوڑے پر مبنی۔ مختلف حالتوں میں خرید و فروخت کے باطل ہونے کے اسباب مستنبط کرنا۔

ہدف نمبر : 1

ہر دو طالب علموں کا انتخاب کریں، تاکہ وہ اپنے ساتھیوں کے سامنے کھڑے ہو جائيں۔

سرگرمی کے ضمن میں دی گئی حالتوں میں سے ہر حالت کو دونوں فریقوں کو پڑھ کر سنائیں اور ہر فریق کو آپسی تعاون سے اس حالت میں بیع کے باطل ہونے کا سبب بیان کرنے کے لئے کہیں۔

ہر فریق کے جواب کا استقبال کریں، باقی ساتھیوں کو اندازۂ قدر کرنے کا موقع دیں اور سب سے بہتر جواب کی نشان دہی کریں۔ اس عمل کو سرگرمی کے ضمن میں وارد تمام حالات کی پیش کش مکمل ہونے تک دوہراتے رہیں۔

کیوں کہ بیچنے والا سامان کا مالک نہیں ہے۔

کیوں کہ مبیع (سامان فروخت) معلوم نہیں ہے۔

کیوں کہ نشہ آور اشیا کی بیع حرام ہے اور سامان کا مباح ہونا واجب ہے۔

کیوں کہ بائع غیر ممیز ہے۔

سرگرمی نمبر : 3 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ خرید و فروخت کی شرطوں کو پورا کرنے سے تعلق رکھنے والی کچھ مثالوں کا بیان۔

ہدف نمبر : 2

ہر طالب علم کو انفرادی طور پر پہلی سرگرمی انجام دینے اور ایک خارجی کارڈ میں اپنا جواب تحریر کرنے کی ہدایت دیں۔ پھر سبھی کارڈوں کو یک جا کریں اور ان کا اندازۂ قدر کرتے ہوئے سب سے بہتر جواب کی نشان دہی کریں اور صحیح جواب دینے والے طلبہ کی حوصلہ افزائی کریں۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

ہر طالب اندازۂ قدر کے تحت دیے گئے سوالات کا جواب انفرادی طور پر دے۔

ہر طالب علم اپنا جواب اپنے ساتھی کے جواب سے بدل لے، دونوں ایک دوسرے کے جواب کا اندازۂ قدر کریں اور ایک دوسرے سے ہونے والی غلطیوں کو سامنے لائيں۔ ایک دوسرے کے جواب کا اندازۂ قدر کرنے کا یہ کام آپ کی رہ نمائی میں انجام پائے۔

کچھ طلبہ کا انتخاب یہ بتانے کے لیے کریں کہ انھوں نے اپنے ساتھیوں کے جوابات کا اندازۂ قدر کیسے کیا ہے، ان کے اندر کیا کیا غلطیاں دریافت کی ہیں اور ان کو کیسے درست کیا ہے؟

ان طلبہ کا نام سامنے لائیں، جن کے جواب میں کوئی غلطی سامنے نہيں آئی ہے اور ان کی مناسب حوصلہ افزائی کريں۔

سوال 1 : () - () - (صلى الله عليه وسلم)

سوال 2 : (مباح نفع کا حامل - عقل مند - طاہر)

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

بہتر یہ ہوگا کہ اس سبق میں جو کچھ پڑھا گیا ہے، اس کی روشنی میں معلم طلبہ کی توجہ درج ذیل باتوں پر مرکوز کرے :

معلم طلبہ کو سیکھے ہوئے احکامات کو اپنی خرید و فروخت میں نافذ کرنے کی ہدایت دے۔

طلبہ اس بات کا جائزہ لیں کہ ان کے یہاں خرید و فروخت کی کیا کیا صورتیں رائج ہیں اور ان کے اندر خرید و فروخت کی شرطیں کتنی پائی جاتی ہیں؟ اگر پائی نہ جاتی ہوں، تو اپنے اہل خانہ کے ساتھ ان کے حل کے سلسلے میں تبادلۂ خیال کریں۔

تیسرا سبق : سود اور حرام بیوع

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات :

(الربا- ربا الفضْل- ربا النسيئة- ربا الديون- الفوائد المصرفية).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - تعلیمی بورڈ - تعلیمی کارڈز - آڈیو میڈیم - کمپیوٹر ڈیوائس - ڈسپلے اسکرین)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(حل مشکلات کی حکمت عملی - استنباطی حکمت عملی - غور وفکر والے نقشوں پر مبنی حکمت عملی - گرافک علامتوں پر مبنی حکمت عملی - غلط تصورات کی تصحیح پر مبنی حکمت عملی - اجتماعی مناقشوں پر مبنی حکمت عملی)۔

اقدار و رجحانات :

- فرد اور سماج کے لیے سود کے نقصانات کا احساس دلانا۔

- سود کی سبھی صورتوں سے گریز کرنا۔

- حلال طریقے سے مال کمانے کی کوشش کرنا۔

- فرد اور سماج کو تحفظ دلانے میں شریعت اسلامیہ کے غیر معمولی کردار کا احساس دلانا۔

- سود اور خرید و فروخت کی ممنوعہ شکلوں سے اجتناب کرنا۔

٭ سبق کی تمہید :

ایک تجویز یہ ہے کہ حل مشکلات پر مبنی حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے طلبہ کے سامنے درج ذیل صورت حال رکھیں اور اس کے بارے میں انھیں اپنی رائے دینے اور یہ بتانے کے لئے کہیں کہ اگر خود ان کو اس طرح کی صورت حال کا سامنا ہو تو وہ کیا کریں گے؟ طلبہ کے جوابات کا استقبال کریں اور ان کو بتائیں کہ سبق کے مختلف مراحل سے گزرتے وقت اپنے جوابات کا اندازۂ قدر کرتے رہیں۔

(صالح معاشی تنگ دستی سے گزرا اور اپنے شہر کے ایک بڑے مال دار شخص سے قرض لینے گیا، جو بہت سے لوگوں کو قرض دینے کے لیے جانا جاتا ہے۔ تاہم اس شخص نے اسے بتایا کہ وہ قرض تو دے گا، لیکن واپسی کے وقت دس فی صد زیادہ وصول کرے گا۔ اب صالح اس الجھن میں پڑ گیا کہ کیا اپنی تنگ دستی سے چھٹکارا پانے کے لیے اس پیش کش کو قبول کرے یا اسے ٹھکرا دے؟!)

- طلبہ کو سبق کے موضوع کی طرف لے جائيں اور اسے بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔

٭ سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

درج ذیل عبارت کو بلیک بورڈ پر لکھ دیں اور طلبہ کو ایک لفظ میں یہ بتانے کے لئے کہیں کہ اس سے کیا مراد ہے؟ ان کے جوابات کے بارے میں ان سے مناقشہ کے بعد یہ واضح کریں کہ سود سے کیا مراد ہے؟

(ایک ایسا مالی اضافہ جو کچھ معاملات میں حرام ہے .... اسے کیا کہتے ہیں؟)

مرحلہ نمبر (2)

غور وفکر والے تقابلی رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی کی مدد سے طلبہ کے سامنے سود کی دونوں قسموں پر مشتمل ایک بورڈ رکھیں، ان کو دونوں قسموں سے متعارف کرائيں، ان کے درمیان موازنہ کریں اور ان کی کچھ مثالیں اور نمونے پیش کریں۔

مرحلہ نمبر (3)

طلبہ کو درج ذیل حدیث پڑھنے کی ہدایت دیں اور ان سے کہیں کہ اس کے معنی پر غور و فکر کے بعد سود کی دونوں قسموں میں سے ہر قسم کا حکم مستبط کریں اور اس سلسلے میں ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں۔

نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے : "سونا سونا کے عوض، چاندی چاندی کے عوض، گندم گندم کے عوض، جو جو کے عوض، کھجور کھجور کے عوض، نمک نمک کے عوض ایک دوسرے کی طرح، برابر برابر، نقد بہ نقد فروخت کیے جائيں۔ اگر ان اجناس میں اختلاف ہو تو جس طرح چاہو فروخت کرو، مگر قیمت کی ادا‏ئیگی نقد ہو۔"

مرحلہ نمبر (4)

آپ ایسے کچھ لوگوں کے بارے میں طلبہ کی رائے جان سکتے ہیں، جو اپنے اموال ایسے اضافے کے عوض بینک میں جمع کرنے کے خواہش مند رہتے ہیں، جو انٹرسٹ کہلاتا ہے۔ وہ سمجھتے ہيں کہ ایسا کرنا درست ہے اور اس میں شرعا کوئی برائی نہيں ہے۔ اس کے بارے میں طلبہ کی رائے کا استقبال کیجیے اور شریعت کا حکم واضح کیجیے۔

مرحلہ نمبر (5)

بلیک بورڈ پر درج ذیل حدیث لکھیں : "تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی خرید فروخت پر خرید فروخت نہ کرے۔" پھر طلبہ کو اس پر غور و فکر کرنے اور خرید و فروخت کی کچھ مشہور ترین صورتوں تک پہنچنے کا حکم دیجیے۔ اس دوران ڈسپلے اسکرین کے توسط سے اس سے متعلق کچھ گرافک علامتیں دکھائی جا سکتی ہیں، تاکہ طلبہ خرید و فروخت کی ممنوعہ شکلوں تک پہنچ سکیں۔

٭ نتیجہ نکالنا :

معلم طلبہ کے ساتھ مل کر تمہید کے دوران پیش کردہ صورت حال کے حل کے بارے میں سوچے اور ہر طالب علم کو اس بات کی ہدایت دے کہ وہ معلوم کردہ افکار و عناصر کی روشنی میں اپنے جواب کا اندازۂ قدر کرے۔

معلم ہر دو طلبہ کو ایک دوسرے کی مدد سے سبق کے فوائد اور سود اور اس کی شکلوں کے بارے میں حاصل شدہ معلومات کی نشان دہی کرنے کی ہدایت کرے اور بہتر انداز میں اپنی بات پیش کرنے کا حوصلہ دے، معلم ہر گروہ کے جواب سے واقف ہو اور مناسب حوصلہ افزائی کرے۔

سرگرمیاں

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ طلبہ کو غور و فکر کرنے اور نتیجہ اخذ کرنے کی مشق کرانا۔

ہدف نمبر : 5

آپ ایسا کر سکتے ہيں کہ طلبہ کی سابقہ معلومات پر بھروسہ کرتے ہوئے ان سے سود اور خرید و فروخت کی ممنوعہ شکلوں کے بارے میں اپنی معلومات ٹٹولنے کا حکم دیں، ان کے جوابات دیکھیں اور ان کا اندازۂ قدر کرتے ہوئے صحیح جواب واضح کر دیں۔

بہتر ہوگا کہ آپ ہر طالب علم کو معلومات میں اضافے کے لیے الیکٹرانک مصادر کی جانب رجوع کرکے سرگرمی کے بارے میں پوری جان کاری حاصل کرنے کی ہدایت دیں اور اگلی ملاقات میں طلبہ کی کارکردگی اور ان کی حاصل کردہ جان کاریوں کا جائزہ لیں۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ سودخوری کے اثرات اور اس سے توبہ کرنے کا طریقہ معلوم کرنا۔

ہدف نمبر : 4 - 5

طالب علموں کو ہدایت دیں کہ وہ سرگرمی میں مذکور دونوں آیات کو آڈیو میڈیم کے ذریعے سنیں، پھر ان کے ساتھ ایک گروپ ڈسکشن کا اہتمام کریں، تاکہ انہیں سود کھانے کے برے اثرات اور اس سے توبہ کرنے کے طریقے سے آگاہ کیا جا سکے. ساتھ ہی طلبہ کو دونوں آیتوں کا معنی و مفہوم اور فوائد پیش کرنے کے لئے کہیں۔ طلبہ کی اس بات کے لیے بھی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ ہوش مند استنباط اور بہترین وعمدہ پیش کش پر دھیان دیں اور ان میں سے ہر شخص مناقشہ میں اپنے کردار کو بخوبی نبھائے نیز دوسرے کی رائے سننے اور اس کى رائے کے احترام کا التزام کرے۔

1- سود روزی کی برکت ختم کر دیتا اور غربت و بے روزگاری کا باعث بنتا ہے۔

2- سود کھانے والا اگر توبہ کر لے، تو اپنا اصل سرمایہ ہی واپس لے، زیادہ لینا جائز نہيں ہے۔

سرگرمی نمبر : 3 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ سودی لین دین کرنے والوں کے حق میں وارد شدید وعید سے خبردار کرنا۔

ہدف نمبر : 3 - 4

ہر طالب علم کو سرگرمی کے ضمن میں وارد حدیث پڑھنے، اس کے معنی پر غور کرنے اور اس کے فوائد بیان کرنے کی ہدایت دیں۔ ساتھ ہی اس سلسلے میں ان کے ساتھ مناقشہ کریں اور ان کے استفسارات کا جواب دیں۔

اس کے بعد ہر طالب علم سے کہیں کہ وہ سودی لین دین کرنے والوں کو خبردار کرنے کے لیے مذکورہ حدیث کے مشمولات سے استشہاد کرتے ہوئے ایک ایک پیراگراف لکھے۔ طلبہ کی اس بات کے لیے حوصلہ افزائی کریں کہ ان کی تحریر تشفی بخش ہو اور اس سلسلے میں ان کا مناسب تعاون بھی کریں۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

بہتر ہوگا کہ طلبہ کے سامنے پہلا اور دوسرا سوال رکھیں اور کچھ طلبہ کا انتخاب اس مقصد سے کریں کہ ان میں سے ہر شخص دونوں سوالات کے ایک ایک عنصر کا جواب دے۔ جب کہ ان کے ساتھی ان کو دھیان سے دیکھیں اور ان کے جوابات کو اندازۂ قدر کے مرحلے سے گزاریں۔

سوال 1 : (صلى الله عليه وسلم) - () - () - ()

سوال 2 : (عداوت - تحریم - قرضوں میں پنہاں سود)

ہر طالب علم کو تیسرے سوال کا جواب انفرادی طور پر دینے کی ہدایت دیں، ان میں سے دو طلبہ کا انتخاب ان کے جوابات پیش کرنے کے لیے کریں، ان کا موازنہ کریں اور صحیح جواب دینے والے طالب علم کی مناسب حوصلہ افزائی بھی کریں۔

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

ہر طالب علم کی کوشش ہو کہ اس سبق میں مذکور احکام کو عملی زندگی میں اتارے، خاص طور پر ان احکام کو، جن کا تعلق بار آور کاموں میں محنت کرنے اور معصیت آمیز کمائی، جیسے سود اور اس کی مختلف صورتوں سے دور رہنے سے ہے۔

ہر طالب علم غور سے دیکھے کہ اس کے آس پاس کے لوگ، خواہ اس کے اہل خانہ ہوں یا باہر کے لوگ، کس طرح کے مالی لین دین کرتے ہیں۔ کہیں وہ آج کے دور میں رائج سودی لین کی کسی شکل میں تو مبتلا نہیں ہیں؟ ایسا ہونے کی صورت میں ان کے ساتھ اس طرح کے لین دین میں ملوث ہونے اور اس سے چھٹکارا پانے کی راہ کے بارے میں تبادلۂ خیال کریں۔

چوتھا سبق : عقد اجارہ

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی۔

نئے کلمات : (الإجارة- إجارة المنافع- خَصْمُهُمْ).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - تعلیمی بورڈ - تعلیمی کارڈز - کاغذی بینرز)۔

حکمت عملیاں :

(نقطہ ہائے نظر کے تجزیہ پر مبنی حکمت عملی - افکار کے خاکے پر مبنی حکمت عملی - خود سوالی پر مبنی حکمت عملی - مثبت مثالوں اور منفی مثالوں کی پیش کش پر مبنی حکمت عملی - ہاٹ سیٹ پر مبنی حکمت عملی)۔

اقدار و رجحانات :

- مزدور اور مزدوری کرانے والے دونوں کے حقوق کو تحفظ فراہم کرنے میں اسلام کے کردار کی عظمت محسوس کرنا۔

- حرام معاملات سے دور رہنا۔

- اجارہ کی شرطوں کا التزام کرنا۔

- فرد اور سماج کے لیے اجارے کی اہمیت کا شعور۔

٭ سبق کی تمہید :

طلبہ کے سامنے درج ذیل صورت حال رکھیں اور اس کے بارے میں ان سے رائے طلب کریں اور یہ بتانے کے لئے کہیں کہ ہم اس صورت حال پر کیسے قابو پاسکتے ہیں؟ ان کے جوابات دیکھیں اور سبق کے مراحل سے گزرتے وقت ان کے اندازۂ قدر کرنے کی امید رکھیں۔

(ایک کسان کھیتی باڑی میں بڑا ماہر ہے۔ لیکن اس کے پاس کھیتی کرنے کے لیے زمین نہيں ہے۔ آپ کی نظر میں عقد اجارہ اس کے اس مسئلے کا حل کیسے بن سکتا ہے؟)

طلبہ کو سبق کا عنوان بتائيں اور اسے بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔

٭ سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

آپ طلبہ کو ایک ایسا بورڈ دکھا سکتے ہیں، جس میں سبق کے عناصر کا خاکہ شامل ہو اور بورڈ میں درج عناصر کو واضح طور پر پڑھنے کے لیے ممتاز طلبہ میں سے کسی ایک طالب علم کا انتخاب کریں۔

مرحلہ نمبر (2)

خود سوالی پر مبنی حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے اور طلبہ کے ذریعے سبق کے عناصر پر غور و فکر کا کام پورا ہونے کے بعد ہر دو طلبہ کو ایک دوسرے کی مدد سے بڑی سے بڑی تعداد میں ایسے سوالات پیش کرنے کے لئے کہیں، جن کا جواب وہ جاننا چاہتے ہيں اور جن کا جواب سبق کے مشمولات کے اندر مل سکتا ہے۔ طلبہ کے سوالات کا استقبال کریں اور ان کو بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔

مرحلہ نمبر (3)

طلبہ کی جانب سے پیش کردہ سوالات اور اپنی جانب سے پیش کردہ اضافی سوالات، جنھیں سبق کے تمام افکار کو سوالات کے دائرے میں لانے کے لیے جوڑا گیا ہو، پر مناقشہ کی مدد سے سبق کے عناصر کی تشریح و وضاحت کریں اور سوالات و جوابات کے استعمال کی مہارتوں کا خیال رکھیں۔ اضافی سوالات کچھ اس طرح ہو سکتے ہیں :

سوال : اجارہ سے کیا مقصود ہے؟ واضح کریں۔

سوال : عقد اجارہ میں نفع اٹھانے والا کون ہوا کرتا ہے؟ اجارے پر دی گئی چیز کا مالک یا اجارے پر لینے والا؟

سوال : اجارہ کی قسمیں بیان کریں۔

سوال : منافع کے اجارے سے کیا مراد ہے؟

سوال : عقد اجارہ کی شرطیں کیا کیا ہیں؟

مرحلہ نمبر (1)

طلبہ کے سامنے سبق کے عناصر سے جڑی ہوئی درج ذیل عبارتیں رکھیں، طلبہ سے ان کے بارے میں رائے دینے اور یہ بتانے کے لئے کہيں کہ اجارے کے یہ عقد کس حد تک درست ہيں؟ ان کی جانب سے جو جوابات آئيں ان پر ان کے ساتھ مناقشہ کریں اور اجارہ کی شرطیں واضح کر دیں۔

ایک شخص نے شراب کی ایک دکان کرائے پر لی۔

حسین نے ایک بچے سے ایک گاڑی کرائے پر لی۔

حسین نے ایک کسان کو کھیتی کرنے کے لیے ایک زمین کرائے پر دی، جس کا وہ مالک نہيں ہے۔

سعید نے ایک شخص کو مزدوری طے کیے بغیر مزدور رکھا اور معمولی مزدوری دی۔

٭ نتیجہ نکالنا :

معلم طلبہ کو اس بات کی ہدایت دے کہ وہ سبق کے آغاز میں پیش کیے گئے تمہیدی سوال کا مراجعہ اور اپنے پیش کردہ جوابات کا اندازۂ قدر کریں۔ پھر کچھ طلبہ کا انتخاب ان کے جوابات پیش کرنے اور یہ بتانے کے لیے کرے کہ سبق سے حاصل شدہ تجربات سے گزرنے کے بعد ان جوابات میں کیا کیا بدلاؤ ہوئے۔ اس سلسلے میں ان کو مناسب تعاون بھی فراہم کیا جائے۔

سرگرمیاں

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : جوڑے پر مبنی۔ عقد اجارہ کی شرطوں کو پورا نہ کرنے کا حکم معلوم کرنا۔

ہدف نمبر : 4 - 5

طلبہ کے سامنے سرگرمی کے ضمن میں وارد حدیث رکھیں، کسی طالب کو اسے پڑھنے کے لیے چنیں اور طلبہ کے ساتھ اس کے معنی کے بارے میں مناقشہ کریں۔

ہر دو طلبہ کو ایک دوسرے کی مدد سے اس حدیث کے فوائد اخذ کرنے کی ہدایت دیں۔ کوشش یہ ہو کہ اپنی بات کو بہتراسلوب میں ہدف سے جوڑ کر رکھا جائے۔ طلبہ کے جوابات دیکھیں اور سب سے بہتر جواب دینے والے گروہ کی نشان دہی کریں۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : جوڑے پر مبنی۔ عقد بیع اور عقد اجارہ کے درمیان موازنہ۔ ہدف نمبر : 1

معلم طلبہ کے دو گروہ منتخب کرے۔ دونوں گروہوں میں دو دو طلبہ شامل ہوں۔ دونوں گروہوں کو باقی طلبہ کے سامنے کھڑے ہونے کے لئے کہے اور ہر گروہ کے ہاتھ میں ایک بینر دے۔ ایک میں "خرید و فروخت" لکھی ہو اور دوسرے میں "اجارہ" لکھا ہو۔

خرید و فروخت اور اجارہ کے درمیان کے موازنہ کے مختلف پہلووں کو یکے بعد دیگرے سامنے رکھیں اور ہر گروہ سے غور و فکر اور آپسی مشورے کے بعد صحیح جواب کی نشان دہی کرنے کے لئے کہیں۔ پھر ہر گروہ کے جوابات حاصل کریں، ان کے درمیان موازنہ کریں، باقی طلبہ کو بھی موازنہ کرنے کا حکم دیں اور آخر میں سب سے بہتر جواب دینے والے گروہ کی نشان دہی کریں۔

سرگرمی نمبر : 3 نوعیت و ہدف : انفرادی / اجتماعی۔ عقد اجارہ کی غلط صورتوں کا بیان۔

ہدف نمبر : 2

اس سرگرمی کی انجام دہی کے لیے ہاٹ سیٹ کی حکمت عملی اپنائی جا سکتی ہے۔ وہ اس طرح کہ طلبہ ایک دائرے کی شکل میں بیٹھ جائيں اور بیچ میں ایک کرسی (ہاٹ سیٹ) رکھ دی جائے۔

معلم چار طلبہ کو یکے بعد دیگرے کرسی پر بیٹھنے کا حکم دے اور ہر طالب علم کو اس سرگرمی کے ضمن میں دی گئی عقد اجارہ سے متعلق عبارتوں میں سے ایک ایک عبارت کو پڑھنے اور اس میں موجود غلطی کی پہچان کرنے کا حکم دے۔

معلم اور باقی طلبہ ان طلبہ کے جوابات حاصل کریں، ان کے بارے میں ان کے ساتھ مناقشہ کریں اور غلطی تک پہنچنے اور اسے درست کرنے کا طریقہ بتانے کے لیے ان کے بارے میں اپنا عندیہ دیں۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

معلم طلبہ کے سامنے پہلے اور دوسرے دونوں سوالات کے عناصر رکھے اور کچھ طلبہ کا انتخاب اس لیے کرے کہ ہر طالب علم ایک ایک عنصر کا جواب دے۔ کسی سے کوئی غلطی ہونے پر دوسرے کا انتخاب اپنے ساتھی کی غلطی درست کرنے کے لیے کرے۔

سوال 1 : (×) - (×) - ()

سوال 2 : (مباح - باطل - اجرت)

ہر دو طالب علم تیسرے سوال کا جواب ایک دوسرے کی مدد سے دیں۔ وہ اس طرح کہ دونوں اس کے ایک ایک عنصر کا جواب دیں۔ جب کہ دوسرا اسے غور سے دیکھے اور اس کا اندازۂ قدر کرے۔ اس کے بعد معلم طلبہ کے تین گروہوں کا انتخاب کرے، جو اپنے اپنے جوابات اور کارکردگی پیش کریں۔ بعد ازاں معلم ان کا موازنہ کرے اور درست ترین جواب کی نشان دہی کرے، تاکہ باقی گروہ اپنے جواب میں پائی جانے والی غلطیاں درست کر لیں۔

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

بہتر یہ ہوگا کہ اس سبق میں جو کچھ پڑھا گیا ہے، اس کی روشنی میں طلبہ کی توجہ درج ذیل باتوں پر مرکوز کرائی جائے :

ان کو اجارہ سے متعلق شرعی احکام کے التزام کی اہمیت کے سلسلے میں بیدار کرنا۔

ان کو اپنے سماج کی زمینی حقیقتوں کا جائزہ لینے، اپنے دوست و اقارب سے عقد اجارہ کے احکام کے سلسلے میں سرزد ہونے والی غلطیوں کا علاج ڈھونڈنے اور ان احکام و شرطوں کے بارے میں ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کرنے کی ترغیب دینا، تاکہ ان پر عمل درآمد ہو سکے۔

پانچواں سبق : کچھ معاصر معاملات

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی۔

نئے کلمات :

(بطاقة الحسم الفوري- بطاقة الائتمان والحسم الآجل- التأمين التجاري- التأمين التكافلي- البيع بالتقسيط- التجارة الرقمية).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - ڈسپلے اسکرین - تعلیمی بورڈز - تعلیمی تصاویر)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(پیش گوئی پر مبنی حکمت عملی - رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی - خود سوالی پر مبنی حکمت عملی - مناقشہ پر مبنی حکمت عملی)۔

اقدار و رجحانات :

- اس بات کا اندازہ لگانا کہ شریعت اسلامی نے نو پیش آمدہ حوادث و مسائل کا کس حد تک استیعاب کیا ہے۔

- حلال کمائی کی اہمیت سامنے لانا۔

- کسی کو دھوکہ دینے سے خبردار کرنا۔

- تمام معاملات میں حلال کا پہلو ڈھونڈنے کی کوشش کرنا۔

سبق کی تمہید :

سبق کی تمہید کے طور پر موجودہ سبق اور گذشتہ سبق کے درمیان درج ذیل طریقے سے ربط پیدا کریں : طلبہ کے ساتھ اعادہ کریں کہ پچھلے دونوں اسباق میں سود، خرید و فروخت کی ممنوعہ شکلوں اور اجارے کے احکام سے متعلق کیا کچھ پیش کیا گیا ہے؟ ان کے جوابات سنیں اور ان کو ان کے بیان کردہ مواد اور آج کے سبق میں آگے پیش کیے جانے والے مواد کے درمیان موازنہ کرنے کے لیے کچھ انتظار کرنے کے لئے کہيں۔

پھر انھیں بتائيں کہ جدید معاشی افق پر کئی معاشی نظام نمودار ہو چکے ہیں، جن کے بارے میں شریعت کا موقف جاننے کے لیے ان کا مطالعہ از حد ضروری ہے۔ اس سبق میں ہم اس طرح کے پانچ نظاموں سے واقف ہوں گے۔ پھر بلیک بورڈ پر سبق کا عنوان لکھ دیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

معلم رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی کی مدد سے طلبہ کے سامنے عصری معاملات کی اہم صورتوں کے نقشے پر مشتمل ایک بورڈ پیش کرے اور ان کو اس پر غور کرنے کا حکم دے۔ غور و فکر کے بعد ہر طالب ان میں سے ہر صورت کے بارے میں دو دو سوال سامنے رکھے، جن کے جواب کے توسط سے ان صورتوں سے تعلق رکھنے والی معلومات کھل کر سامنے آجائیں گی۔

معلم طلبہ کے سوالات حاصل کرے اور ان کو بلیک بورڈ کی ایک جانب لکھ دیے۔

مرحلہ نمبر(2)

معلم ایسا کر سکتا ہے کہ طلبہ کے ذریعے پچھلی سرگرمی کے ضمن میں پیش کردہ سوالات سے مدد حاصل کرے اور کچھ اضافی سوالات کے ذریعے ان کو معنی خیز بنائے۔ کچھ اضافی سوالات اس طرح ہو سکتے ہیں :

سوال : بینک کے ذریعے فراہم کردہ کارڈوں کے استعمال کا حکم بیان کریں۔

سوال : تجارتی انشورنس اور کوآپریٹو انشورنس کے حکم میں کیا فرق ہے، بیان کریں۔

سوال : قسطوں میں قیمت ادا کرنے پر مبنی بیع کا حکم بیان کریں۔

سوال : ڈیجیٹل تجارت کے اہم احکام بیان کریں۔

مرحلہ نمبر (3)

معلم طلبہ کے ساتھ مل کر حلال کمائی کی قدر و قیمت واضح کرے۔ ساتھ ہی ایسے نصوص پیش کرے، جو اس دعوے کو مضبوط کرتے ہیں کہ اسلام نے تمام واقعات اور نو پیش آمدہ مسائل کا استیعاب کر رکھا ہے، اور ان نصوص کی تشریح بھی کرے۔ اس کے لیے ڈسپلے اسکرین کی مدد حاصل کرے۔

نتیجہ نکالنا :

معلم بلیک بورڈ پر ایک دائرہ بنائے، اس کے بیچ میں (فوائد اور رہ نمائیاں) لکھے اور اس سے کچھ تیر باہر نکالے۔ پھر کچھ طلبہ کا انتخاب کرے، تاکہ ہر تیر کے پاس اس سبق سے سیکھا ہوا ایک ایک فائدہ اور رہ نمائی لکھ دیں۔ فائدہ اور رہ نمائی ایسی ہو کہ طلبہ اسے اپنی زندگی میں اتاریں۔ معلم طلبہ کی اس بات کے لیے حوصلہ افزائی کرے کہ بہتر اور پر تشفی انداز میں اپنی بات رکھیں۔

سرگرمیاں

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ طلبہ کو کچھ معاملات کا حکم اور علت معلوم کرنے کی مشق کرانا۔ ہدف نمبر : 1، 2، 3

ہر طالب علم کو انفرادی طور پر پہلی سرگرمی انجام دینے اور اسے ایک خارجی کارڈ میں تحریر کرنے کی ہدایت دیں۔ پھر سارے کارڈوں کو یک جا کریں، ان کو اندازۂ قدر کے مرحلے سے گزاریں، سب سے بہتر جواب کی نشان دہی کریں اور صحیح جواب دینے والے طالب علم کی حوصلہ افزائی کریں۔

حکم تعلیل

حرام کیوں کہ کمرشیل انشورنس کی ایک صورت ہے، جو کہ حرام ہے۔

جائز کیوں کہ قیمت کی قسط وار ادائیگی پر مبنی بیع ہے، جو کہ جائز ہے۔

جائز کیوں کہ یہ عطیہ کی ایک شکل ہے۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ ڈیبٹ کارڈ اور کریڈٹ کارڈ کا موازنہ۔ ہدف نمبر : 1

طلبہ کے سامنے سرگرمی پر مشتمل ایک بورڈ رکھیں، ان کے ساتھ اس سرگرمی کے ضمن میں درج ہر طرح کے کارڈ کی وضاحت کے سلسلے میں تبادلۂ خیال کریں، ہر طالب علم کو موازنہ کی صحیح وجہ تک پہنچنے کے لیے اپنی استنباطی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا حکم دیں، طلبہ کے جوابات حاصل کریں، ان جوابات کے بارے میں اپنی رائے دیں، صحیح جواب واضح کریں اور اسے بلیک بورڈ پر لکھ دیں، تاکہ طلبہ اپنی کاپیوں میں اتار لیں۔

ڈیبٹ کارڈ : یہ ایک بینک کارڈ ہے، جس میں مالک ایک رقم رکھتا ہے اور وہ جب چاہے اس رقم کو نکال سکتا ہے یا اس سے خریداری کرسکتا ہے، لیکن اسے قرض لینے کی سہولت فراہم نہيں ہوتی۔ اس سے مقصود وجہ موازنہ حکم : یہ جائز ہے۔

کریڈٹ کارڈ : یہ ایک بینک کارڈ ہے، جس کے ذریعے کارڈ ہولڈر اپنی جمع شدہ نقد رقم نکال سکتا ہے اور اسے کچھ وقت تک لیے قرض بھی فراہم کیا جاتا ہے۔

حکم : یہ نا جائز ہے۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ طلبہ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیں اور ہر گروہ کو ایک دوسرے کی مدد سے سوالات کا جواب دینے کا حکم دیں۔

طلبہ کی کارکردگی پر نظر رکھنے کے ارادے سے ان کے آس پاس سے گزرتے رہيں اور ان کے جوابات کو دھیان سے دیکھیں، تاکہ یہ یقینی ہو جائے کہ جواب دینے کے عمل میں سب لوگ شریک ہو رہے ہيں۔

طلبہ کے جوابات جمع کریں، ان کو اندازۂ قدر کے مرحلے سے گزاریں اور سب سے بہتر جواب کی نشان دہی کریں۔

طلبہ کے ساتھ ان سوالات کے بارے میں زبانی مناقشہ کریں، تاکہ ان کو صحیح جواب سے رو برو کیا جا سکے۔

سبھی گروہوں کو مناسب تعاون فراہم کریں اور انھیں مناقشہ سے حاصل شدہ معلومات کی روشنی میں اپنے اپنے جوابات درست کرنے کا حکم دیں۔

سوال 1 : (×) - - (×)۔

سوال 2 : کمرشیل انشورنس - عطیہ دینے کے لئے عقد۔

سوال 3 : کیوں کہ یہ اللہ تعالی کے اس قول کے عموم میں داخل ہے : (اللہ نے خرید و فروخت کو حلال اور سود کو حرام کیا ہے)۔ (سورہ بقرہ : 275)

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

بہتر یہ ہوگا کہ اس سبق میں جو کچھ پڑھا گیا ہے، اس کی روشنی میں طلبہ کی توجہ درج ذیل باتوں پر مرکوز کرائی جائے :

عصری لین دین کی انہی صورتوں پر عمل کرنا، جن کو شریعت اسلامی نے جائز قرار دیا ہے اور جو اس کے مطمح نظر سے ہم آہنگ ہیں۔ کبھی آس پاس کے لوگ اس سے الگ راہ پر گام زن نظر آئيں، تو ان کو حکمت کے ساتھ سجھانا۔

طلبہ کی حوصلہ افزائی کرنا کہ وہ اپنے دوستوں کو اس سبق کے ذریعے سیکھے گئے عصری لین دین کے احکام سے آگاہ کرنے کے ارادے سے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر اپنے صفحات پر بینرز یا ہدایات تیار کر کے شا‏ئع کریں، تاکہ صحیح دینی علم اور معلومات عام ہو سکیں۔

چھٹا سبق : شادی کے احکام

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی۔

نئے کلمات :

(مشروعية الزواج- فانكحوا- الوليّ- المهر- الشهادة).

تعلیمی وسائل :

(تعلیمی کارڈ - بلیک بورڈ - آڈیو میڈیم - تعلیمی کارڈز)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(پیش گوئی پر مبنی حکمت عملی - برین اسٹورمنگ ۔ استنباط پر مبنی حکمت عملی - حل مشکلات پر مبنی حکمت عملی - دماغی نقشوں پر مبنی حکمت عملی - ہاٹ سیٹ پر مبنی حکمت عملی)۔

اقدار و رجحانات :

- احکام اسلام کی عظمت کی یاد دلانا۔

- عقد زواج کی شرطوں کے التزام کی ترغیب دینا۔

- شادی بیاہ کے احکام میں پنہاں شرعی حکمتوں کو محسوس کرنا۔

٭ سبق کی تمہید :

بلیک بورڈ پر سبق کا عنوان لکھ دیں اور طلبہ سے اس بات کا مطالبہ کریں کہ وہ ایسے تین عناصر پیش کریں، جنھیں اس سبق کے توسط سے جاننا چاہتے ہیں۔ طلبہ ان عناصر کو اپنی اپنی کاپی میں لکھ لیں اور سبق کی پیش قدمیاں ختم ہونے کے بعد کوشش یہ ہو کہ ان کا جائزہ لیا جائے اور ان کو اندازۂ قدر کے مرحلے سے گزارا جائے۔

٭ سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

طلبہ کو آڈیو میڈیم کے توسط سے درج ذیل آیت سننے کی ہدایت دیں، اس پر غور و فکر کرنے اور اس کا مدلول اخذ کرنے کا حکم دیں اور ان کے جوابات کو انھیں شادی بیاہ کی مشروعیت سے متعارف کرانے کا نقطۂ آغاز بنائيں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "تو اور عورتوں میں سے جو بھی تمہیں اچھی لگیں تم ان سے نکاح کر لو، دو دو، تین تین، چار چار سے۔" (سورہ نساء : 3)

مرحلہ نمبر (2)

برین اسٹورمنگ کے سیشن کی مدد سے طلبہ شادی بیاہ کی مشروعیت کی حکمت تک پہنچیں۔ آپ ان کی تخلیقی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی کریں کہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں اور تنوع و انفرادیت کے حامل جوابات پیش کر سکیں۔ ان کے پیش کردہ جوابات کا مناقشہ کرنے کے بعد ان کو ایک بورڈ دکھائیں، جس میں شادی بیاہ کی مشروعیت کی حکمتیں درج ہوں۔

مرحلہ نمبر (3)

درج ذیل صورت حال کے بارے میں طلبہ کی رائے طلب کریں اور ان کے جوابات کو انھیں شادی بیاہ کی شرطوں سے متعارف کرانے کا نقطۂ آغاز بنائيں۔

(ایک والد نے اپنی بیٹی کا نکاح اس کے چچا زاد سے کرنے کا ارادہ کیا، تو لڑکی نے اس نکاح سے انکار کر دیا، کیوں کہ وہ اس لڑکے کو اپنے سگے بھائی کی طرح سمجھتی تھی۔ لیکن اس کے والد نے اپنے بھائی کی ناراضگی کے ڈر سے اسے اس نکاح پر مجبور کر دیا)۔

مرحلہ نمبر (4)

طلبہ کے سامنے شادی بیاہ کے صحیح ہونے کی شرطوں پر مشتمل ایک ذہنی نقشہ رکھیں، اس کی ہر شرط کی تشریح و وضاحت کریں اور طلبہ کو اس بات کا موقع دیں کہ جو باتیں ان کو سمجھ میں نہیں آ سکی ہیں، ان کے بارے میں سوال کر لیں۔

٭ نتیجہ نکالنا :

طلبہ کو ان کی جانب سے تمہید کے دوران پیش کردہ عناصر کا مراجعہ کرنے کی ہدایت دیں، جن کے بارے میں وہ جاننا چاہتے تھے۔ اس کے بعد اس بات کا اندازہ لگائیں کہ اس سبق میں ان عناصر کے بارے میں کس حد تک بات ہو سکی ہے؟ کچھ عناصر چھوٹ گئے ہوں، تو طلبہ کو ان سے واقفیت کے لیے کچھ مصادر بتا دیں۔

ہر طالب علم سے سبق کا ایک ایک عنصر منتخب کرنے کو کہیں اور اس کی مختصر تشریح کرنے کا مطالبہ کریں۔ پیش کش کے دوران طلبہ کی زبانی کارکردگی کی حوصلہ افزائی کریں اور ان کے اندر خود اعتمادی پیدا کریں۔

سرگرمیاں

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : انفرادی / اجتماعی۔ عقد زواج سے متعلقہ کچھ مسائل کا اندازۂ قدر۔ ہدف نمبر : 2

بہتر ہوگا کہ اس سرگرمی کی ادائيگی کے لیے ہاٹ سیٹ کی حکمت عملی کو بروئے کار لایا جائے۔ وہ اس طرح کہ طلبہ ایک دائرے کی شکل میں بیٹھ جائیں اور اس کے درمیان میں ایک کرسی رکھ دی جائے۔

معلم یکے بعد دیگرے تین طلبہ کو کرسی پر بیٹھنے کے لئے کہے اور ان میں سے ہر طالب علم کو سرگرمی کے ایک مسئلے کو دھیان سے سننے، اس کا حکم بیان کرنے اور اس کا سبب بتانے کی ہدایت دے۔

معلم اور طلبہ صحیح جواب تک پہنچنے کے لیے اپنے ساتھیوں کے جوابات کا مناقشہ کریں۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : انفرادی / اجتماعی۔ شادی کی شرطوں کے لئے استدلال کرنا۔

ہدف نمبر : 1، 2

سرگرمی کے ضمن میں دیے گئے نصوص میں سے ہر نص کو ایک ایک کارڈ میں لکھ دیں۔ پھر ہر طالب علم کو کسی ترتیب کا خیال رکھے بغیر ایک ایک کارڈ اٹھا لینے، اس میں تحریر شدہ نص کو پڑھنے اور اس سے ثابت ہونے والی شادی کی شرط اخذ کرنے کی ہدایت دیں۔

ایک اور طالب علم کا انتخاب اس کے ساتھی کے جواب کا اندازۂ قدر کرنے اور یہ بتانے کے لیے کریں کہ وہ اس سے کتنا اتفاق یا اختلاف رکھتا ہے؟ پھر طلبہ کے ساتھ صحیح جوابات کا مناقشہ کریں، تاکہ ان کو اپنی کتابوں میں دی گئی جگہوں میں لکھ لیں۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

طلبہ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیں، ہر گروہ کو ایک ایک نمبر دیں اور ہر گروہ سے جواب دینے کے عمل میں ایک دوسرے کا تعاون کرنے کا مطالبہ کریں۔ وہ اس طرح کہ گروہ کے اندر ہر فرد ایک ایک سوال کا جواب دے اور اس کے باقی دونوں ساتھی اسے دھیان سے دیکھیں اور اس کى مناسب رہ نمائی کریں۔

کسی ترتیب کا خیال رکھے بغیر دو گروہوں کا انتخاب کریں، جن میں سے ایک گروہ میں طاق عدد میں طلبہ ہوں اور ایک میں جفت عدد میں۔ دونوں گروہ اپنا اپنا جواب پیش کریں۔ آپ ان دونوں کا موازنہ کریں اور سب سے درست جواب کی نشان دہی کریں۔

سوال 1 : - (×) -

سوال 2 : (دو لوگ - اختلاف دین - باطل)

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

ہر طالب علم اپنے کنبے میں شادی بیاہ کے احکام پر عمل آوری کی صورت حال کا جائزہ لے، تاکہ یہ جان سکے کہ اس کے کنبے کے لوگ ان احکام پر کس حد تک عمل کرتے ہیں؟ پھر اپنے مشاہدات اور اخذ کردہ نتائج کے بارے میں کنبے والوں کے ساتھ تبادلۂ خیال کرے اور ان کی رائے جانے۔

ساتواں سبق : ازدواجی زندگی

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی۔

نئے کلمات :

(العِشْرة- القوامة- الصداق- النفقة).

تعلیمی وسائل :

(کمپیوٹر ڈیوا‎ئس - ڈسپلے اسکرین -بلیک بورڈ- تعلیمی کارڈز)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(تمہیدی مواد پر مبنی حکمت عملی - رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی - باہمی تعاون سے سیکھنے پر مبنی حکمت عملی)۔

اقدار و رجحانات :

- احکام اسلام کی عظمت محسوس کرنا۔

- شوہر کے حقوق ادا کرنے کی کوشش کرنا۔

- لغزشوں سے درگزر کرنے کی فضیلت محسوس کرنا۔

- اخلاق حسنہ پر پورا ایمان۔

- غلط اور کوتاہی آمیز حالات سے غلط طرح سے نمٹنے سے خبردار کرنا۔

سبق کی تمہید :

طلبہ کے ساتھ شادی بیاہ کے سبق سے سیکھے ہوئے اہم احکام کا مراجعہ کریں۔ پھر ان کو بتائيں کہ شادی کی کام یابی کے لیے ضروری ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے حقوق ادا کرتے رہیں۔ ہم آج کے درس میں انہی حقوق سے آگاہ ہونے جا رہے ہیں۔ پھر بلیک بورڈ پر عنوان لکھ دیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

رہ نما نقشوں کی مدد سے معلم طلبہ کے سامنے ایک بورڈ رکھے، جس میں بیوی پر شوہر کے اہم حقوق کا ایک نقشہ بنا ہوا ہو۔ معلم طلبہ کو اس بات کا حکم دے کہ ان حقوق پر غور کرنے کے ساتھ ساتھ ہر طالب علم ان میں سے ہر حق کے بارے میں ایک ایک سوال پیش کرے، ان سوالات کے جواب کے توسط سے ان حقوق سے متعلقہ معلومات کھل کر سامنے آ جائيں گی۔

معلم طلبہ کے سوالات حاصل کرے اور ان کو بلیک بورڈ کی ایک جانب لکھ دے۔

مرحلہ نمبر (2)

معلم ایسا کر سکتا ہے کہ طلبہ کے ذریعے پچھلی سرگرمی کے تحت پیش کردہ سوالات کی مدد لے اور اضافی سوالات کے ذریعے ان کو مزید بارآور بنائے، جن کے جواب کے توسط سے اہم حقوق سے تعلق رکھنے والی معلومات سامنے آ جائيں گی۔ یہ اضافی سوالات کچھ اس طرح ہو سکتے ہیں :

سوال : بیوی پر شوہر کے اہم حقوق کیا کیا ہیں؟

سوال : شوہر پر بیوی کے حقوق بیان کیجیے۔

سوال : میاں بیوی کے حقوق کے کچھ دلائل بیان کریں۔

مرحلہ نمبر (3)

معلم بہتر ازدواجی زندگی کے مظاہر واضح کرے اور اس کا مقام و مرتبہ اور دائرۂ کار بیان کرنے والے نصوص کی تشریح اور ان سے ملنے والی رہ نمائیاں بیان کرے۔ اس کے لیے ڈسپلے اسکرین کا سہارا لے۔

نتیجہ نکالنا :

معلم بلیک بورڈ پر ایک دائرہ بنائے، اس کے بیچ میں (فوائد اور رہ نمائیاں) لکھے اور اس سے کچھ تیر باہر نکالے۔ پھر کچھ طلبہ کا انتخاب کرے، تاکہ ہر تیر کے پاس اس سبق سے سیکھا ہوا ایک ایک فائدہ اور رہ نمائی لکھ دیا جائے۔ فائدہ اور رہ نمائی ایسی ہو کہ طلبہ اسے اپنی زندگی میں اتاریں۔ معلم طلبہ کی اس بات کى حوصلہ افزائی کریں کہ بہتر اور تشفی بخش انداز میں اپنی بات رکھیں۔

سرگرمیاں

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

رقم النشاط: 1 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ طلبہ کو نصیحت کرنے کے طور طریقے کی مشق کرانا۔

ہدف نمبر : 1

معلم طلبہ کے سامنے پچھلی سرگرمی پر مشتمل ایک بورڈ رکھے اور ساتھیوں کو سرگرمی پڑھ کر سنانے کے لیے یکے بعد دیگرے طلبہ کا انتخاب کرتا جائے۔

طلبہ کے ساتھ ہر صورت حال کی وضاحت کے سلسلے میں تبادلۂ خیال کریں اور ہر طالب علم کو درست نصیحت اور اس کے سبب تک پہنچنے کے لیے اپنی استنباطی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا حکم دیں۔ طلبہ کے جوابات کا استقبال کریں، ان کے بارے میں اپنا عندیہ دیں، صحیح جواب واضح کریں اور اسے بلیک بورڈ پر لکھ دیں، تاکہ طلبہ اپنی کاپیوں میں لکھ لیں۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : انفرادی / اجتماعی۔ میاں بیوی کے درمیان صلح کرانے کی اہمیت واضح کرنا۔

ہدف نمبر : 4

ہر طالب علم کو سبق سے حاصل شدہ معلومات کی روشنی میں میاں بیوی کے درمیان مصالحت، خاندان کے تحفظ و استحکام، دونوں کے حقوق اور ذمہ داریوں کے بیان اور ان سے جڑے ہوئے دلائل اور شرعی نصوص کی پیش کش سے متعلق ایک پیراگراف لکھنے کی ہدایت دینا اور کچھ طلبہ کا انتخاب اپنی تحریر ساتھیوں کے سامنے رکھنے کے لیے کریں اور بہتر انداز میں اپنی بات رکھنے والے طالب علم کی عزت افزائی کریں۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

ایک تجویز یہ ہے کہ بلیک بورڈ پر دونوں سوالات یکے بعد دیگرے لکھ دیے جائيں۔

بہتر ہوگا کہ پاس بیٹھے ہوئے ہر دو طلبہ کو دونوں سوالوں میں سے ہر سوال کا جواب دینے کے لیے ایک دوسرے کی مدد کرنے کا حکم دیں۔

کسی ترتیب کا خیال رکھے بغیر دو طلبہ کا انتخاب باقی ساتھیوں کے سامنے ان کے جوابات رکھنے کے لیے کریں۔

غلط جواب دینے والے کو سبق کے مشمولات پڑھنے اور ان سے صحیح جواب اخذ کرنے کی ہدایت دیں۔

سوال 1 : گھر میں رکے رہنا - شوہر کے مال کی حفاظت کرنا - شوہر اپنی بیوی کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

طلبہ شوہر پر بیوی کے حقوق اور بیوی پر شوہر کے حقوق پر مشتمل دو پوسٹر بنائيں اور ان کو سوشل میڈیا پر شا‏ئع کریں۔

آٹھواں سبق : طلاق کے احکام

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی۔

نئے کلمات :

(الطلاق الرجعي - الطلاق البائن - الطلاق الصريح - الطلاق الكنائي - الطلاق المُنجز - الطلاق المُعلَّق)۔

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - تعلیمی بورڈ - تعلیمی کارڈز)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(تعلیمی پہیلیوں پر مبنی حکمت عملی - پیش گوئی پر مبنی حکمت عملی - زندگى کے مواقف پر مبنی حکمت عملی - تضادات پر مبنی حکمت عملی - حل مشکلات پر مبنی حکمت عملی - تکملہ پر مبنی حکمت عملی - تعلقات کا نیٹ ورک تجزیہ پر مبنی حکمت عملی)۔

اقدار و رجحانات :

- طلاق کی مشروعیت کی حکمت سے واقفیت۔

- طلاق کے تعلق سے سرزد ہونے والی غلطیوں سے خبردار رہنا۔

- طلاق کے معاملے میں لاپرواہی سے اجتناب۔

٭ سبق کی تمہید :

طلبہ کے سامنے درج ذیل عبارتیں یکے بعد دیگرے رکھیں اور ہر عبارت کے بعد ان سے پوچھیں کہ اس سے کیا مراد ہے؟ واقفیت نہ ہونے کی صورت میں بعد والی عبارت کے بارے میں پوچھیں، یہاں تک کہ لفظ طلاق تک پہنچ جائیں۔

اللہ تعالی نے اسے اس وقت مشروع کیا ہے، جب میاں بیوی کے لیے ساتھ مل کر زندگی گزارنا محال ہو جائے۔

شریعت نے اسے شوہر کے ہاتھ میں رکھا ہے۔

بیوی اپنے سے رفع ضرر کے لیے شوہر سے اس کا مطالبہ کر سکتی ہے۔

طلبہ کو سبق کے عنوان سے روبرو کریں اور اس کے بعد اسے بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔

٭ سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

طلبہ کے تمہیدی مرحلے سے گزرنے کی روشنی میں ان سے سبق کے عناصر کی پیش گوئی کرنے کا مطالبہ کریں اور ان کے جوابات سے روشناس ہو جائيں۔ پھر ان کے سامنے سبق کے عام عناصر پر مشتمل ایک توضیحی بورڈ رکھیں، تاکہ اپنے پیش کردہ جوابات اور بورڈ کے مشمولات کا موازنہ کر سکيں۔

مرحلہ نمبر(2)

طلبہ کے سامنے درج ذیل دونوں صورت حال رکھیں اور یہ بتانے کے لئے کہیں کہ کس سے مراد طلاق رجعی ہے اور کس سے مراد طلاق بائن؟ دونوں قسموں کا مفہوم اور فرق بھی واضح کر دیں۔

ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور اس کے بعد ندامت دامن گیر ہوئی، تو اسے عقد جدید کے بغیر ہی واپس کر لیا۔

ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی لیکن وہ اسے اس وقت تک اپنی عصمت میں لوٹا نہيں سکتا، جب تک اس کا نکاح کسی دوسرے شخص سے نہ ہو جائے۔

مرحلہ نمبر (3)

طلبہ کے سامنے درج ذیل صورت حال رکھیں اور انھیں اس کے بارے میں غور و فکر کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات کی نشان دہی کرنے کے لئے کہیں کہ اس صورت حال میں کہاں تک طلاق واقع ہو سکتی ہے؟ ساتھ ہی انھیں طلاق صریح اور طلاق کنائی کا فرق بھی بتا دیں۔

(ایک شخص نے اپنی بیوی سے جھگڑا کر لیا اور اسے میکے جانے کے لئے کہہ دیا۔ عورت یہ سمجھ کر میکے چلی گئی کہ اس کے شوہر نے اسے طلاق دے دی ہے۔ ایسے میں اس کے والد نے اس سے کہا کہ اس کے شوہر نے جو الفاظ استعمال کیے ہیں، وہ صریح طلاق کے الفاظ نہیں ہیں)۔

مرحلہ نمبر (4)

طلبہ کے سامنے درج ذیل عبارت رکھیں، انھیں اسے درست طریقے سے پورا کرنے کے لئے کہيں اور پھر ان کے جوابات کا مناقشہ کرتے ہوئے ان کو نافذ طلاق اور معلق طلاق کے فرق تک لے جائيں۔

ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر تم بلا اجازت میکے گئیں تو تم کو طلاق۔ ایسے میں عورت اگر بلا اجازت میکے چلی گئی، تو وہ ............... اور اگر نہیں گئى تو وہ ...............۔

٭ نتیجہ نکالنا :

ہر طالب علم کو ایک ایک کارڈ دیں اور طلاق کی قسموں، جن کے بارے میں اس سبق میں معلومات حاصل ہو چکی ہیں، کا ایک نقشہ بنانے اور ہر قسم کی مختصر تعریف کرنے کا حکم دیں۔ اخیر میں سبھی کارڈوں کو جمع کر لیں، ان کو اندازۂ قدر کے مرحلے سے گزاریں اور سب سے درست کارڈ کی نشان دہی کریں۔

سرگرمیاں

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : انفرادی / اجتماعی۔ طلاق کی نوعیت کی تحدید۔

ہدف نمبر : 4

معلم طلبہ کے درمیان کچھ کارڈز تقسیم کرے، جن میں سے ہر کارڈ میں سرگرمی کا کوئی ایک مسئلہ درج ہو۔

سرگرمی کے تحت مذکور ہر مسئلے کا ذکر طلبہ کے سامنے کرے اور طلبہ مسئلے سے موافقت رکھنے والی طلاق کی قسم کی نشان دہی کریں اور وہ کارڈ اوپر اٹھائيں، جس میں طلاق کی وہ قسم لکھی ہو۔

معلم طلبہ کی کارکردگی کو دھیان سے دیکھے، اسے اندازۂ قدر کے مرحلے سے گزارے اور غلط جواب دینے والے طلبہ سے کارڈ لے لے۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ طلاق دینے کے بارے میں سوچنے والے کو نصیحت کرنا۔

ہدف نمبر : 5

معلم سرگرمی کے ضمن میں دی گئی حدیث پڑھے، اس کے معنی کے بارے میں طلبہ کے ساتھ تبادلۂ خیال کرے اور پھر انھیں ایسے لوگوں کو ایک نصیحت پیش کرنے کا حکم دے، جو بیوی کے ساتھ کوئی بھی ناخوش گوار بات پیش آنے پر طلاق دینے کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں۔ پھر پیش کردہ نصیحت کے بارے میں طلبہ کے ساتھ تبادلۂ خیال کرے اور ان کی مناسب حوصلہ افزائی کرے۔

سرگرمی نمبر : 3 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ طلبہ کے سامنے پیش کردہ مسائل میں طلاق کا حکم بیان کرنا۔ ہدف نمبر : 3 ، 4

طلبہ کو دو گروہوں میں تقسیم کر دیں اور پہلے گروہ کو سرگرمی کے ضمن میں دیے گئے مسئلے کو پڑھنے، جب کہ دوسرے گروہ کو اس مسئلے کا صحیح حکم واضح کرنے کا حکم دیں۔ آپ دونوں گروہوں کی کارکردگی کو دھیان سے دیکھیں اور دونوں کی رہ نمائی کریں۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

بہتر ہوگا کہ ہر دو طلبہ کا انتخاب پہلے سوال کے عناصر کا جواب دینے کے لیے کریں۔ اس کے بعد دونوں کے جوابات کا موازنہ کریں اور سب سے درست جواب کی نشان دہی فرمائيں۔

تین طلبہ کا انتخاب دوسرے سوال میں مذکور طلاق کی قسموں میں سے ہر قسم کی ایک ایک مثال پیش کرنے کے لیے کریں اور کسی سے غلطی سرزد ہونے کی صورت میں اسے اپنے کسی ساتھی سے صحیح جواب جاننے کی ہدایت دیں۔

ہر دو طلبہ کو دوسرے اور تیسرے سوال کا جواب دینے کی ہدایت دیں اور اس دوران ہر گروہ کے جواب کے مزاج سے آگاہ ہونے کے لیے ان کے آس پاس سے گزرتے رہیں۔ بعد ازاں کسی مثالی جواب دینے والے گروہ کا انتخاب باقی گروہوں کے سامنے اپنا جواب رکھنے کے لیے کریں۔

سوال 1 : - (×) - (×)

٭ توجہ طلب تربیتی اور وجدانی باتیں :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

ہر طالب علم اپنے خاندان کے لوگوں کے ساتھ اپنے سماج کے کچھ لوگوں کے ساتھ رو نما ہونے والے طلاق کےواقعات کے بارے میں تبادلۂ خیال کرے اور ان کے بارے میں ان کی رائے لے اور اس بات کی نشان دہی کرے کہ ان میں سے ہر واقعہ طلاق کی کس قسم کے ضمن میں درج ہوگا؟

نواں سبق : کھانے، پینے اور پہننے کی حرام چیزیں

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی۔

نئے کلمات :

(المُفَتِّر- الميتة- المُنخنقة- المَوقوذة- المُترَدِّيَة- النَّطِيحة- الدم المسفوح- إسبال الإزار).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - تعلیمی کارڈز - تعلیمی بورڈز)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(قصہ گوئی پر مبنی حکمت عملی - خود سوالی پر مبنی حکمت عملی - باہمی تعاون سے سیکھنے پر مبنی حکمت عملی)۔

اقدار و رجحانات :

- کھانے پینے کی حرام چیزوں سے اجتناب۔

- بندوں پر اللہ کی رحمت کا شعور۔

- اسلام کی آسانی اور مسلمانوں کے فائدے کی چیزوں سے اس کی دل چسپی کا شعور۔

-کھانے کی بعض چیزوں سے ممانعت کی حکمت کا اندازہ لگانا۔

- لباس اور پہناوے میں اللہ کے نبی ﷺ کى اقتدا کرنا۔

سبق کی تمہید :

سبق کی تمہید کے طور پر آپ طلبہ کے سامنے درج ذیل عبارت پڑھ سکتے ہيں : (کھانے، پینے اور پہننے کی چیزوں میں اصل حلال اور مباح ہونا ہے۔ اس سے بس وہی چیزیں الگ ہيں، جن کی حرمت شریعت سے ثابت ہو۔ کھانے، پینے اور پہننے کی وہ ساری چیزیں، جو روح اور بدن کے لیے نفع بخش ہیں، اللہ تعالی نے ان کو حلال کیا ہے، تاکہ ان کی مدد سے بندہ اللہ کی اطاعت و بندگی کرے۔ جب کہ اس کے بالمقابل تمام ضرر رساں چيزوں کو حرام قرار دیا ہے۔ اس حلت و اباحت پر قرآن کریم اور سنت نبویہ دونوں دال ہيں۔)

آپ کی جانب سے کی جانے والی وضاحت کے توسط سے طلبہ کو سبق کے موضوع تک لے جائيں اور اس کے بعد بلیک بورڈ پر عنوان لکھ دیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

طلبہ کو مقررہ کتاب کھولنے کا حکم دیں اور اس کے بعد ان کو سبق کی ورق گردانی کرنے اور اس کی خاموش قراءت کرنے کا حکم دیں، تاکہ سبق کے بنیادی افکار سے روشناس ہو سکيں۔

مرحلہ نمبر (2)

کچھ طلبہ کا انتخاب ساتھیوں کے سامنے سبق کی جہری قراءت کے لیے کریں۔

ان کلمات کی وضاحت کریں، جو ان کے لیے دشوار ہو سکتے ہيں۔

مرحلہ نمبر (3)

خود سوالی پر مبنی حکمت عملی کو بروئے کار لائيں اور کچھ طلبہ کا انتخاب اس مقصد سے کریں کہ ان میں سے ہر طالب علم ان امور سے متعلق دو دو سوالات کریے، جنھیں وہ سبق سے جاننا چاہتے ہيں۔

ان کے سوالات کو بلیک بورڈ پر لکھ دیں اور اپنی جانب سے کچھ ایسے سوالات کا اضافہ کریں، جو وہ کر نہيں سکتے اور جن کا جواب جاننا ضروری ہے۔

ان کے ساتھ ان سوالات کے بارے میں مناقشہ کریں۔ ان میں سے کچھ سوالات اس طرح ہو سکتے ہيں :

کھانے کی حرام چیزوں کے انواع گنوائيں اور ہر نوع کا حکم واضح کریں۔

ایسے جانوروں کی کچھ مثالیں دیں، جن کا کھانا حرام یا مکروہ ہے۔

کھانے کی کچھ چیزوں کی ممانعت کی حکمت واضح کریں۔

غیر مسلموں کے ذبیحوں کو کھانے کا کیا حکم ہے؟

شدید ضرورت کے وقت حرام چیزیں کھانے کا کیا حکم ہے؟

لباس اور زینت کی کون کون سی چیزیں حرام ہيں؟

نتیجہ نکالنا :

بہتر ہوگا کہ اپنے طلبہ کو اس بات کا حکم دیں کہ ان میں سے ہر طالب علم درس کے بارے میں اپنے ملاحظات تحریر کرے۔

ملحوظات سبق کے بنیادی افکار اور اس سے سیکھی ہوئی باتوں پر مشتمل ہوں۔

کچھ طلبہ کا انتخاب ان کی تحریر کردہ باتوں کو پیش کرنے کے لیے کریں۔

سرگرمیاں

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ کھانے کی کچھ چيزوں کے حکم کا بیان کہ وہ حلال ہیں یا حرام؟ ہدف نمبر : 2، 3

ہر طالب علم کو انفرادی طور پر پہلی سرگرمی ادا کرنے اور ایک خارجی کارڈ میں اس کا جواب لکھنے کی ہدایت دیں۔ پھر طلبہ سے سارے کارڈ لے کر یک جا کریں، ان کو اندازۂ قدر کے مرحلے سے گزاريں، سب سے بہتر جواب کی نشان دہی کریں اور درست جواب لکھنے والے طالب علم کی حوصلہ افزائی کریں۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ لباس اور زینت کی وہ چیزیں جن کا استعمال مردوں اور عورتوں پر حرام ہے۔ ہدف نمبر : 3

معلم طلبہ کے ہر گروہ کو ایک دوسرے کی مدد سے دوسری سرگرمی انجام دینے کی ہدایت دے۔ پھر یکے بعد دیگرے سرگرمی کے عناصر کا ذکر کرے، ہر گروہ کے جواب سے آگاہ ہو اور صحیح جواب تک پہنچنے کے لیے ان کے ساتھ مناقشہ کرے۔ پھر سب سے بہتر جواب دینے والے گروہ کی نشان دہی کرے اور اس میں شامل طلبہ کی مناسب حوصلہ افزائی کرے۔

ایسے کپڑے جن کا پہننا حرام ہے وہ لوگ جن پر پہننا حرام ہے :

ریشم - دیباج مرد لوگ

مردوں کا عورتوں کی اور عورتوں کا مردوں کی مشابہت اختیار کرنا مرد و عورت

کپڑا ٹخنوں سے نیچے لٹکا کر پہننا مرد

اندازۂ قدر

سبق کے اہداف کی تکمیل کے لیے آپ درج ذیل سرگرمیاں کروا سکتے ہيں :

طلبہ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیں اور ہر گروہ کو ساتھ مل کر درج ذیل سوالات حل کرنے کے لئے کہیں۔

اس دوران طلبہ کے آس پاس سے گزرتے رہيں، تاکہ اس بات کا یقین حاصل ہو جائے کہ وہ جواب دینے کے عمل میں ایک دوسرے کا تعاون کر رہے ہيں۔

ہر گروہ کو اس بات کا مکلف بنائيں کہ وہ اپنے ایک ایک رکن کا انتخاب اپنا اپنا جواب پیش کرنے کے لیے کرے اور اس کے بعد اندازۂ قدر کا عمل مکمل کریں۔

سوال 1 : (×) - (✓) - (×) - (✓) - (×)

سوال 2 : بجلی کے جھٹکے سے مارا ہوا جانور - مباح - وجوب - تحریم - تین دن

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

ہر طالب علم کھانے کی حرام چیزوں اور حرام ملبوسات سے دور رہے۔ جب کسی کو ان کا استعمال کرتا دیکھے، تو اسے نصیحت کرے۔ کیوں کہ مسلمان سب کا بھلا چاہتا ہے اور سب کی رہ نمائی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

دسواں سبق : شراب و نشہ آور اشیا اور ان کے تباہ کن اثرات

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (المُسْكِر- المُخدِّر- الخبائث).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - کمپیوٹر ڈیوا‎ئس - ڈسپلے اسکرین - تعلیمی کارڈز - تعلیمی بورڈ)۔

تدریسی حکمت عملیاں :

(شخصی روابط پر مبنی حکمت عملی - پیش گوئی پر مبنی حکمت عملی - غور وفکر والے نقشوں پر مبنی حکمت عملی - زمرہ بندی پر مبنی حکمت عملی - استنباطی طریقے پر مبنی حکمت عملی)۔

اقدار و رجحانات :

- شراب اور نشہ آور اشیا کے سماج پر پڑنے والے خطرناک اثرات کا ادراک۔

- شراب اور نشہ آور اشیا سے اجتناب۔

- نعمت عقل کی قدر دانی اور اس کی حفاظت کرنا۔

- حلال کاموں پر مال خرچ کرنے کی کوشش۔

سبق کی تمہید :

سبق کی تمہید کے طور پر طلبہ کے سامنے درج ذیل عبارت رکھیں : (بندوں پر اللہ تعالی کا ایک انعام یہ ہے کہ اس نے کچھ ایسی مشروبات کو چھوڑ کر، جن کے حرام ہونے کی دلیل موجود ہے، پینے کی تمام چيزیں حلال قرار دی ہیں۔ جن چيزوں کے حرام ہونے کی دلیل موجود ہے، ان میں ہر گندہ اور انسان کے لیے نقصان دہ مشروب شامل ہے۔ جیسے شراب اور نشہ پیدا کرنے والی چيزیں۔ ایک حدیث میں ہے : "اللہ کے رسول ﷺ نے نشہ اور فتور لانے والی ہر چیز سے منع کیا ہے")

اس کے بعد طلبہ کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں کہ وہ نشہ اور فتور لانے والی چیزوں کے بارے میں کیا کچھ جانتے ہیں؟ ان کو سبق کے موضوع تک لے جائيں اور بلیک بورڈ پر عنوان لکھ دیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

پیش گوئی پر مبنی حکمت عملی کی مدد سے اور طلبہ کی سبق سے آگاہی اور پیش کردہ تمہیدی عبارت کی روشنی میں انھیں سبق کے عناصر کے بارے میں پیش گوئی کرنے اور ہر طالب علم کو سبق کے متوقع مشمولات کے کچھ فرعی عناصر اور ان کے بارے میں کچھ ملاحظات اپنی اپنی کتاب میں لکھنے کے لئے کہیں۔ اس کے بعد طلبہ کے جوابات دیکھیں اور ان کو مناسب تعاون فراہم کریں۔

مرحلہ نمبر (2)

ڈسپلے اسکرین یا غور وفکر والے نقشوں کی مدد سے طلبہ کے سامنے سبق کے عام عناصر پیش کریں، جن کا تعلق حرام مشروبات سے ہے۔ پھر انھیں ان کے بارے میں اپنی معلومات پیش کرنے کے لئے کہیں اور یہ پوچھیں کہ کیا ان میں کوئی پہلے اس سے متعلق کسی صورت حال سے گزرا ہے؟ طلبہ کے جوابات حاصل کریں اور ان کے پیش کردہ جوابات کے سلسلے میں ان کے ساتھ مناقشہ کریں۔

مرحلہ نمبر (3)

آپ ایسا کر سکتے ہيں کہ طلبہ کے سامنے درج ذیل حالات پیش کریں اور انھیں غور وفکر والے نقشے کے ذریعے دکھائے جانے والے حرام مشروبات کے تحت ان کا حکم بیان کرنے کے لئے کہیں۔ صحیح حکم بیان کرنے کے بعد ان میں ہر مسئلے کی شرح و وضاحت شروع کر دیں۔

ایک شخص نے یہ سمجھ کر کچھ نبیذ پی لی کہ تھوڑی نبیذ پینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

ایک شخص ایک مجلس میں بیٹھا اور یہ سمجھ کر کوئی نشہ آور شے پی لی کہ یہ ایک چھوٹی سی بات ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

ایک شخص نے اپنے بہت سے اموال شراب اور نشہ آور چیزیں خریدنے میں خرچ کر دیے۔

ان مسائل کو پیش کرتے وقت آپ ڈسپلے اسکرین یا کمپیوٹر کے توسط سے ان مشروبات کی حرمت ثابت کرنے والے شرعی نصوص پیش کر سکتے ہیں، طلبہ کے ساتھ ان کی دلالت کے بارے میں تبادلہ خیال بھى کرسکتے ہیں اور انہیں ان نصوص کے فوائد مستنبط کرنے کی ہدایت بھى دے سکتے ہیں۔

نتیجہ نکالنا :

معلم بلیک بورڈ پر ایک دائرہ بنائے، اس کے بیچ میں (فوائد اور رہ نمائیاں) لکھے اور اس سے کچھ تیر باہر نکالے۔ پھر کچھ طلبہ کا انتخاب کرے، تاکہ ہر تیر کے پاس اس سبق سے سیکھا ہوا ایک ایک فائدہ اور رہ نمائی لکھ دیا جائے۔ فائدہ اور رہ نمائی ایسی ہو کہ طلبہ اسے اپنی زندگی میں اتاریں۔ معلم طلبہ کی اس بات کے لیے حوصلہ افزائی کرے کہ بہتر اور تشفی بخش انداز میں اپنی بات رکھیں۔

سرگرمیاں

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر 1 نوعیت و ہدف انفرادی۔ شراب اور نشہ آور اشیا کی حرمت پر استدلال۔

ہدف نمبر : 1

طلبہ کے سامنے پہلی سرگرمی پر مشتمل ایک بورڈ رکھیں اور ایک کے بعد ایک طالب علم کا انتخاب سرگرمی کے تحت دی گئی حدیث ساتھیوں کو پڑھ کر سنانے کے لیے کریں۔

ہر طالب علم سے اپنی استنباطی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے شراب اور نشہ آور اشیا کی حرمت کے صحیح استدلال تک پہنجنے کا مطالبہ کریں۔ پھر ان کے جوابات حاصل کریں، ان کے بارے میں اپنا عندیہ دیں، صحیح جواب واضح کریں اور اسے بلیک بورڈ پر لکھ دیں، تاکہ طلبہ اپنی کاپیوں میں اتار لیں۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ نشہ آور اشیا کے حکم اور نقصانات کی وضاحت۔

ہدف نمبر : 3

ہر طالب علم کو نشہ آور اشیا کا استعمال کرنے والوں کے نام ایک ایک نصیحت لکھنے کی ہدایت دیں، جس میں نشہ آور اشیا کا حکم اور فرد اور سماج کے حق میں ان کے نقصان دہ ہونے کو واضح کیا گیا ہو۔ اس بات کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کریں کہ تحریر زبان اور اسلوب کی غلطی سے پاک سے ہو اور اس میں سبق سے سیکھے ہوئے نصوص کو استعمال کیا گیا ہو۔

طلبہ کو ان کی لکھی ہوئی تحریر پڑھ کر سنانے کے لئے کہیں اور ساتھیوں کو ان کا اندازۂ قدر کرنے اور سب سے تشفی بخش جواب کی نشان دہی کرنے کا حکم دیں۔ جب کہ تشفی بخش جواب لکھنے والے طلبہ کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ انھیں اپنے سوشل میڈیا صفحات پر شائع کریں۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

آپ ایسا کر سکتے ہيں کہ طلبہ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیں اور اس کے بعد ہر گروہ کو نیچے دیے گئے دونوں سوالوں کا جواب دینے کا حکم دیں۔

طلبہ کی کارکردگی پر نظر رکھنے کے ارادے سے ان کے آس پاس سے گزرتے رہيں اور ان کے جوابات کو دھیان سے دیکھیں، تاکہ یہ یقینی ہو جائے کہ جواب دینے کے عمل میں سب لوگ شریک ہو رہے ہيں۔

طلبہ کے جوابات جمع کريں، ان کا اندازۂ قدر کريں اور سب سے باریک بینی کے ساتھ جواب دینے والے گروہ کی نشان دہی کریں۔

دونوں سوالات کے بارے میں طلبہ کے ساتھ مناقشہ کريں، تاکہ ان کو صحیح جواب سے روشناس کیا جا سکے۔

سبھی گروہوں کی مناسب حوصلہ افزائی کریں اور مناقشہ سے حاصل شدہ معلومات کی روشنی میں ان کے جوابات کو درست کرنے کا حکم دیں۔

سوال 1 : () () () ()

سوال 2 : عقل - شراب

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات:

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

حرام مشروبات، جیسے شراب اور نشہ آور اشیا کے سلسلے میں شرعی رہ نمائیوں پر عمل کرنا اور آس پاس کے جو لوگ ان کی مخالفت کرتے نظر آئيں، ان کو حکمت کے ساتھ سجھانا۔

طلبہ کی حوصلہ افزائی کرنا کہ وہ اپنے دوستوں کو اس سبق کے ذریعے سیکھے گئے احکام سے آگاہ کرنے کے ارادے سے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر اپنے صفحات پر بینرز یا ہدایات تیار کر کے شا‏ئع کریں، تاکہ صحیح دینی علم اور معلومات عام ہو سکیں۔

اکائی : دعوت

پہلا سبق : دعوت کی اہمیت و فضیلت

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی۔

نئے کلمات : (الدعوة إلى الله تعالى- هُدًى- تَبِعَهُ).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - اسکریں ڈسپلے - تعلیمی بورڈ - تعلیمی تصاوير)

تدریسی حکمت عملیاں :

(حل مسائل کی حکمت عملی - رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی - خود سوالی پر مبنی حکمت عملی - تبادلۂ خیال پر مبنی حکمت عملی)

اقدار و رجحانات :

- دعوت الی اللہ کی اہمیت کا اندازہ لگانا۔

- احساس دلانا کہ دعوت انبیا اور مصلحین کا کام ہے۔

- اسلامی اخلاق کو مضبوطی سے پکڑے رہنے کی حرص۔

سبق کی تمہید :

سبق کی تمہید کے طور پر طلبہ کے سامنے نیچے دیا گیا مسئلہ رکھیں، پھر اس کے بارے میں انھیں اپنی رائے دینے اور اسے حل کرنے کا طریقہ بتانے کے لئے کہیں :

کیا ہوگا اگر اللہ کی جانب بلانے والے لوگ نہ رہیں، جو شریعت اسلامی پہنچانے کا کام کرتے ہیں؟

پھر انھیں سبق کے عنوان کی طرف لے جائيں اور اسے بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

رہ نما نقشوں پر مبنی حکمت عملی کی مدد سے معلم طلبہ کے سامنے سبق کے عناصر پر مشتمل ایک بورڈ رکھے اور ان سے ہر عنصر کے بارے میں دو دو سوال کرنے کے لئے کہے۔ ان کے جوابات کے توسط سے ان عناصر سے متعلقہ معلومات طلبہ کے سامنے واضح ہو جائيں گی۔

معلم طلبہ کے سوالات کا استقبال کرے اور ان کو بلیک بورڈ کى ایک جانب لکھ دے۔

مرحلہ نمبر (2)

استاد پچھلی پیش قدمی میں طلبہ کی طرف سے پوچھے گئے سوالات کا استعمال کر سکتا ہے اور انہیں کچھ اضافی سوالات کے ذریعہ معنی خيز بنا سکتا ہے، جن کے جوابات سے اللہ تعالی کی طرف دعوت سے متعلق معلومات سامنے آئیں گی۔ ان میں درج ذیل سوالات بھی ہو سکتے ہیں:

سوال : دعوت الی اللہ کا مفہوم واضح کریں۔

سوال : دعوت الی اللہ کی کیا اہمیت ہے؟

مرحلہ نمبر (3)

معلم طلبہ کے ساتھ مل کر دعوت الی اللہ کی تشریح و توضیح کرے اور ڈسپلے اسکرین کے ذریعے متعلقہ نصوص پیش کرے اور ان کی تشریح و توضیح کرے۔

نتیجہ نکالنا :

معلم بلیک بورڈ پر ایک دائرہ بنائے اور اس کے اندر (فوائد اور رہ نمائياں) لکھ دے۔ پھر اس سے کچھ تیر باہر نکالے اور کچھ طلبہ کا انتخاب ہر تیر کے پاس سیق سے حاصل شدہ ایک ایک فائدہ اور رہ نمائی لکھنے کے لیے کرے، جسے اپنی زندگی میں اتارنا از بس ضروری ہے۔ بہتر کارکردگی دکھانے والے طلبہ کی ہمت افزائی بھی کی جائے۔

سرگرمیاں

بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ دعوت کے فضائل معلوم کرنا۔

ہدف نمبر : 3

معلم طلبہ کے ہر گروہ کو آپسی تعاون سے پہلی سرگرمی انجام دینے کی ہدایت دے، پھر سرگرمی کا عنصر بتائے اور دیکھے کہ ہر گروہ اس کا کیا جواب دیتا ہے، صحیح جواب تک پہنچنے کے لیے اس سلسلے میں طلبہ کے ساتھ تبادلۂ خیال بھی کرے، پھر سب سے بہتر جواب دینے والے گروہ کی نشان دہی اور اس میں شامل طلبہ کی مناسب حوصلہ افزائی کرے۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ دعوت الی اللہ کی ترغیب کے وسائل تجویز کرنا۔

ہدف نمبر : 2

معلم اجتماعی مناقشہ کا ایک نشست منعقد کرے۔ اس کا طریقہ یہ ہو کہ طلبہ کو ایک دوسرے کی جانب منہ کر کے ایک دائرے کی شکل میں بیٹھنے کے لئے کہے، ان کو اس نشست کا مقصد بتائے، جو کہ دراصل لوگوں کو دعوت الی اللہ کے کام میں توجہ دینے کی ترغیب دلانے کے وسائل تجویز کرنے کے لئے منعقد کیا گیا ہو نیز جس کا مقصد اس کام میں درست حصے داری نبھانے والے کی حوصلہ افزائی کرنا ہو۔

سرگرمی نمبر : 3 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ دعوت الی اللہ کے فوائد واضح کرنا۔

ہدف نمبر : 5

معلم ڈسپلے اسکرین کے توسط سے سرگرمی کے ضمن میں دیا گیا ویڈیو پیش کرے اور ہر طالب علم کو سرگرمی کا جواب دینے کا مکلف بنائے، طلبہ کے جوابات حاصل کرے اور ان کو اندازۂ قدر کے مرحلے سے گزارے۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

ایک تجویز یہ ہے کہ دونوں سوالات یکے بعد دیگرے بلیک بورڈ پر لکھ دیے جائيں۔

بہتر یہ ہوگا کہ پاس بیٹھے ہوئے ہر دو طالب علم کو ہر سوال کا جواب آپسی تعاون سے دینے کا حکم دیں۔

کسی ترتیب کا خیال رکھے بغیر دو طلبہ کا انتخاب باقی طلبہ کے سامنے اپنے جوابات رکھنے کے لیے کریں۔

غلط جواب دینے والے طلبہ کو سبق کے مشمولات کی جانب رجوع کرنے اور ان سے صحیح جواب نکالنے کا حکم دیں۔

سوال 1 : (✓) - (×) - (✓) - (✓) - (×)

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

طلبہ دعوت کے فضائل اور اہمیت کے بارے میں حاصل شدہ معلومات کا خلاصہ تیار کریں اور ان کو سوشل میڈیا وغیرہ کے ذریعے عام کریں۔

دوسرا سبق : اللہ کے نبی ﷺ کی مکی دعوت کا مختصر تعارف

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات :

(آثار النبوة- غار حراء- عام الحزن- بيعة العقبة).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - تعلیمی بورڈ - تعلیمی کارڈ)

تدریسی حکمت عملیاں :

(باہمی امداد سے سیکھنے پر مبنی حکمت عملی - برین اسٹورمنگ)

اقدار و رجحانات :

-اللہ کے نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے صبر و ثبات کا اندازہ لگانا۔

- کام کرنے اور ذمہ داری اٹھانے کے سلسلے میں اللہ کے نبی ﷺ کى اقتدا۔

- دعوت الی اللہ میں نبی ﷺ کی منہجیت اور اخلاق کا التزام۔

سبق کی تمہید :

آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ درس کی تمہید کے طور پر آج کے درس کو طلبہ کے پاس موجود سابقہ معلومات کے ساتھ جوڑیں اور ان کے ساتھ عربوں کو تبدیل کرنے اور بتوں کی پوجا سے دور کرنے میں نبی ﷺ کی دعوت کے اثر کے بارے میں مناقشہ کریں، پھر ان کو سبق کے موضوع تک لے جائيں اور بلیک بورڈ پر عنوان لکھ دیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

طلبہ کو داخل نصاب کتاب کھولنے اور سبق کی خاموش قراءت کا حکم دیں۔

انھیں سبق کے اندر موجود منصوبہ کو دیکھنے اور اس پر غور و فکر کرنے کی تاکید کریں۔

منصوبے کو سمجھانے اور اس کے عناصر کو نقاط کی شکل میں ڈھالنے کی کوشش کریں۔

مرحلہ نمبر (2)

برین اسٹورمنگ کی حکمت عملی بروئے کار لائيں اور طلبہ کو مخلتف گروہوں میں تقسیم کر دیں۔

ہر گروہ مجوزہ عناصر میں سے ایک ایک عنصر کا انتخاب کر کے اس کی تشریح و توضیح کرے۔

ہر گروہ سے ایک ایک فرد کا انتخاب اس کی کارکردگی پیش کرنے اور اس کے بارے میں بحث و مکالمہ کرنے کے لیے کریں۔

مرحلہ نمبر (3)

باہمی تعاون سے سیکھنے پر مبنی حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے ہر گروہ کو مکہ مکرمہ کے اندر دعوت کے نشو و نما کے مراحل بیان کرنے کا حکم دیں۔

ہر گروہ اپنے ایک ایک فرد کا انتخاب اس کی جانب سے تحریر کردہ باتوں کو پیش کرنے کے لیے کرے اور آپ اس کے بارے میں اپنا عندیہ دیں اور کا اندازۂ قدر کریں۔

مرحلہ نمبر (4)

- سبق کا اجمالی معنی واضح کریں۔

- طلبہ کو سبق سے سیکھے ہوئے فوائد اخذ کرنے کی ہدایت دیں۔

نتیجہ نکالنا :

- طلبہ کو عناصر اور نقاط کی شکل میں سبق کا خلاصہ تیار کرنے کا حکم دیں اور کچھ طلبہ کا انتخاب ان کو بلیک بورڈ پر لکھنے کے لیے کریں۔ ان کو کچھ اس طرح لکھا جا سکتا ہے :

اس کائنات کے افضل ترین انسان ہمارے نبی محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہاشمی مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔

نبی کریم ﷺ نے بچپن میں بکری چرانے کا کام کیا۔

نبی کریم ﷺ نے بارہ سال کی عمر میں اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ تجارت کی۔

نبی کریم ﷺ جوانی کے ایام ہی سے اچھے اخلاق اور بتوں کی پوجا سے گریز میں مشہور ہو گئے تھے۔

نبی کریم ﷺ جب چالیس سال کے آس پاس پہنچے، تو عبادت کی خاطر غار حرا میں گوشہ نشین رہنے لگے۔

تین سال تک سری دعوت جاری رہی۔

دعوت کا دائرہ وسیع ہوا اور اس کے اندر بنو ہاشم سے تعلق رکھنے والے اللہ کے نبی ﷺ کے سبھی رشتے دار آ گئے۔

دعوت سے ابتدائی دشمنی سامنے آنے لگی۔ خاص طور سے قریش کے یہ جاننے کے بعد کہ ایک تعداد اسلام قبول کرچکى ہے۔

نبی کریم ﷺ اپنے ساتھیوں سے ارقم بن ابى ارقم کے گھر میں قریش کی نظروں سے دور جاکر ملتے تھے۔

نبی کریم ﷺ نے جب مشرکین کے ہاتھوں اپنے ساتھیوں کی سخت اذیت رسانی دیکھی، تو ان کو حبشہ کی جانب ہجرت کرنے کا حکم دیا۔

سرگرمیاں

بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ دعوت الی اللہ کے مراحل سے آگاہی۔

ہدف نمبر : 3

معلم طلبہ کے ہر گروہ کو آپسی تعاون سے پہلی سرگرمی انجام دینے کا حکم دے۔ پھر سرگرمی کے دونوں عناصر کا ذکر کرے اور دیکھے کہ کون سا گروہ اس کا کیا جواب دیتا ہے۔ پھر صحیح جواب تک پہنچنے کے لیے ان کے ساتھ دونوں عناصر کے بارے میں تبادلۂ خیال کرے۔ پھر سب سے بہتر جواب دینے والے گروہ کی نشان دہی اور اس میں شامل طلبہ کی مناسب حوصلہ افزائی کرے۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ داعی کے اوصاف سے آگاہی۔

ہدف نمبر : 6

ہر طالب علم کو انفرادی طور پر دوسری سرگرمی انجام دینے اور ایک خارجی کارڈ میں اپنا جواب لکھنے کا حکم دیں۔ بعد ازاں طلبہ سے سارے کارڈ لے کر ان کا اندازۂ قدر کریں، سب سے باریک بینی کے ساتھ دیے گئے اور درست ترین جواب کی نشان دہی کریں اور صحیح جواب دینے والے طالب علم کی حوصلہ افزائی کریں۔

اس دوران ان کی نگرانی کریں، درست جواب سے آگاہی کے لیے ان کو دیکھتے رہیں، ان کا اندازۂ قدر کریں اور ان کی کارکردگی کی حوصلہ افزائی کریں۔

اندازۂ قدر

مقاصد سبق کی تکمیل کے لیے آپ درج ذیل اقدامات کر سکتے ہيں :

- طلبہ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیں اور ہر گروہ کو آپسی تعاون سے نیچے دیے گئے سوالات حل کرنے کا حکم دیں۔

- طلبہ کے پاس سے گزرتے رہیں، تاکہ یہ یقینی ہو جائے کہ وہ جواب دینے کے عمل میں ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہيں۔

- ہر گروہ کو اپنے کسی ایک عضو کو اپنا جواب پیش کرنے کے لیے منتخب کرنے کو کہیں اور جواب کا اندازۂ قدر کریں۔

سوال 1 : (×) - (✓) - (×) - (✓) - (✓)

سوال 2 : اہل مکہ کا عناد - عقبہ کی دونوں بیعتیں - بلال بن رباح رضي اللہ عنہ

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

ایک تجویز یہ ہے کہ ہر طالب کو معرفت کے مختلف ذرا‏ئع کا استعمال کر کے سبق میں مذکور دعوت کے مقدمات اور آغاز سے تعلق رکھنے والی باتوں کے علاوہ دیگر باتیں تلاش کرنے کے لئے کہیں، اور ان کو اگلی ملاقات میں آپ کے سامنے رکھنے کا پابند بنائیں اور سب سے بہترین تحریر کا انتخاب کر کے اسے باقی طلبہ کے سامنے رکھیں۔

طلبہ کو سیرت نبوی کے مکی دور سے تربیتی و شرعی فوائد اور رہ نمائیاں اخذ کرنے کی ہدایت دیں۔

تیسرا درس : اللہ کے نبی ﷺ کی مدنی دعوت کا مختصر تعارف

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات :

(الأوس- الخزرج- الغزوة)۔

تعلیمی وسائل :

بلیک بورڈ - تعلیمی کارڈ - تعلیمی بورڈ)

تدریسی حکمت عملیاں :

(باہمی تعاون سے سیکھنے پر مبنی حکمت عملی - "میں جانتا ہوں / میں جاننا چاہتاہوں / میں نے سیکھا" .K.W.L کی حکمت عملی)۔

اقدار و رجحانات :

- نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے جہاد کى اہمیت سے آگاہی۔

- اسلام میں مسجد کے مقام و مرتبہ اور اہمیت سے آگاہی۔

- دعوت کی نصرت اور سلطنت کے قیام میں انصار کے کردار کی اہمیت سے آگاہی۔

- سچے ایمان اور عزیمت کے زیور سے آراستہ ہونے کی کوشش۔

سبق کی تمہید :

برادر معلم! آپ ایسا کر سکتے ہيں کہ اس سبق کو سابقہ سبق سے جوڑيں اور طلبہ کے ساتھ نبی ﷺ کی ہجرت مدینہ اور اس کے اسباب کے بارے میں چرچا اور تبادلہ خیال کریں، ان کے جوابات حاصل کریں، ان کے بارے میں مناقشہ کریں اور بلیک بورڈ پر عنوان لکھ دیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

طلبہ کو مقررہ کتاب کھولنے اور خاموشی کے ساتھ سبق پڑھنے کا حکم دیں۔

پھر انھیں مشکل اور پیچیدہ الفاظ کے معنی بتائيں۔

انہیں ان الفاظ کو جملوں میں استعمال کرنے کا کام سونپیں، تاکہ ان کا معنی سمجھ میں آ جائے۔

مرحلہ نمبر (2)

باہمی تعاون سے سیکھنے پر مبنی حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے طلبہ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیں۔

ہر گروہ کو ان اعمال میں سے ایک ایک عمل ذکر کرنے کی ذمہ داری سونپیں، جنہیں نبی ﷺ نے مدینے میں داخل ہونے کے بعد کیا۔

ہر گروہ سے ایک ایک طالب علم کا انتخاب ان کے ذکر کردہ عمل کو بلیک بورڈ پر لکھنے کے لیے کریں۔

آپ ان کا اندازۂ قدر کریں اور ان کو صحیح جواب سے روشناس کريں۔

مرحلہ نمبر (3)

آپ K.W.L (میں جانتاہوں - میں جاننا چاہتا ہوں - میں نے سیکھا) کی حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے ہر طالب علم کو حکم دیں کہ وہ اپنی کاپی کو تین حصوں ميں تقسیم کر دے :

پہلے حصے میں مسجد نبوی کی تعمیر اور مشرکوں کے ساتھ ہونے والے غزوات کے بارے میں اپنی معلومات لکھے۔

دوسرے میں یہ لکھے کہ فتح مکہ کے بعد نبی ﷺ کے اہم کاموں کے بارے میں وہ کیا کچھ جاننا چاہتا ہے۔

جب کہ تیسرے حصے کا عنوان ہو : اس سبق سے سیکھی ہوئی باتیں۔

کچھ طلبہ کا انتخاب ان کی تحریر کردہ باتوں کا ذکر کرنے کے لیے کریں۔

طلبہ کی ذکر کردہ کچھ باتیں بلیک بورڈ پر لکھیں۔

نتیجہ نکالنا :

- طلبہ کو سبق کا خلاصہ عناصر اور نقاط کی شکل میں تیار کرنے کے لئے کہيں اور خود اس کی نوک پلک درست کریں۔

- سبق کے عناصر کا خلاصہ بلیک بورڈ پر لکھ دیں، تاکہ طلبہ اپنی کاپیوں میں نقل کر ليں۔

سرگرمیاں

بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ نبی ﷺ کی مکی اور مدنی دعوت کے طریقۂ کار سے آگاہی اور مسجد نبوی کے کردار اور ہماری مسجدوں کے کردار کے درمیان موازنہ کریں۔

ہدف نمبر : 1، 3

طلبہ کو ایک دوسرے کی مدد سے نیچے دی گئی سرگرمی کا جواب ساتھیوں کے سامنے دینے کے لیے دو گروہوں میں تقسیم کر دیں۔

ہر گروہ سے ایک ایک طالب علم کا انتخاب بلیک بورڈ پر اس گروہ کا جواب لکھنے کے لیے کریں اور لکھنے کا یہ کام آپ کی نگرانی اور دیکھ ریکھ میں ہو۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ طلبہ کو صحیح طریقے سے ما فی الضمیر ادا کرنے، استنباط کرنے اور مقالے لکھنے کی مشق کرانا۔

ہدف نمبر : 5

ہر طالب علم کو دوسری سرگرمی کا جواب ایک خارجی ورق میں گھر میں دینے کی ذمہ داری سونپیں۔

آپ کے سامنے جوابات اگلی ملاقات میں پیش کیے جائيں، تاکہ گفتگو اور مناقشہ کی شکل میں ان کی تصحیح کی جا سکے۔

درست جواب دینے والے طالب علم کی عزت افزائی کرتے ہوئے اس کے تحریر کردہ جواب کو صبح کی اسمبلی میں پیش کریں۔

اندازۂ قدر

مقاصد سبق کی تکمیل کے لیے آپ درج ذیل اقدامات کر سکتے ہيں :

طلبہ کو گروہوں میں تقسیم کر دیں۔

ہر گروہ کو آپس میں مل کر نیچے دیے گئے سوالات کا جواب دینے کا حکم دیں۔

طلبہ کے پاس سے گزرتے رہيں، تاکہ یہ یقینی ہو جائے کہ وہ جواب دینے کے عمل میں ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہيں۔

ہر گروہ کو اس بات کا مکلف بنائيں کہ وہ اپنے گروہ کے ایک ممبر کا انتخاب اپنا جواب پیش کرنے کے لیے کرے اور اس کے بعد جواب کا اندازۂ قدر ہو۔

سوال 1 : () - (×) - () - (×) - ()

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی اور معاملات میں عمل میں لانے کی اہمیت پر درج ذیل طریقوں سے توجہ دلائيں :

ایک تجویز یہ ہے کہ ہر طالب علم کو ایک ایک مقالہ لکھنے کے لئے کہیں، جس میں شرعی نصوص سے استدلال کرتے ہوئے مسجد نبوی کے فضائل واضح کیے گئے ہوں اور جس کا خاتمہ لوگوں کو بیت اللہ کی تعظیم کی ترغیب دلانے والی بعض نصیحتوں پر ہو۔

طلبہ کو سیرت نبوی کے مدنی دور میں رو نما ہونے والے واقعات سے بعض تربیتی و شرعی فوائد اور رہ نمائیاں حاصل کرنے کی ہدایت دیں۔

چوتھا سبق : اچھے کام کا حکم دینے اور برے کام سے روکنے کا مقام و مرتبہ

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (المعروف- المنكر- اللعن).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - تعلیمی کارڈ - تعلیمی بورڈ)

تدریسی حکمت عملیاں :

(باہمی امداد سے سیکھنے پر مبنی حکمت عملی - تعلیمی پہیلیاں - برین اسٹورمنگ)۔

اقدار و رجحانات :

- اچھی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے کی ذمہ داری سے دست بردار ہونے کی خطرناکی کا احساس۔

- افراد اور معاشروں کی درستگی کی اہمیت کا اندازہ لگانا، کیوں کہ یہ اسلامی پیغام کا ایک حصہ ہے۔

- اچھی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے کی کوشش کرنا۔

- فساد اور شر کو بڑھاوا دینے سے اجتناب کرنا۔

سبق کی تمہید :

برادر معلم! آپ سبق کا آغاز ایک پہیلی سے کر سکتے ہیں۔ مثلا آپ طلبہ سے پوچھ سکتے ہیں کہ کچھ لوگ ایسے ہیں، جن کے کھاتے میں اللہ تعالی کچھ ایسی نیکیاں لکھ دیتا ہے، جو انھوں نے نہيں کیے ہیں۔ جب کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں، جن کے کھاتے میں اللہ تعالی کچھ ایسے گناہ لکھ دیتا ہے، جو انھوں نے نہيں کیے ہیں۔ یہ کون کون لوگ ہيں؟پھر طلبہ کے ساتھ صحیح جواب تک پہنچیں اور اس کے بعد بلیک بورڈ پر عنوان لکھ دیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

طلبہ کو ساتھ مل کر سبق کی قراءت کرنے کے لئے کہیں۔ جیسے ان باتوں کی یاد دہانی کرنا، جن کا مراجعہ گھر میں کیا جا چکا ہو۔

درس کے افکار اخذ کرنا اور ان کو بلیک بورڈ پر لکھنا۔

مرحلہ نمبر (2)

اپنے طلبہ کے ساتھ ہر گروپ کے ذریعہ تیار کردہ اہم خیالات کی فہرست پر تبادلہ خیال کریں۔

ہر فکر پر تبادلۂ خیال کے بعد تجویز یہ پیش کی جاتی ہے کہ کسی ایک طالب علم کو اس کے ساتھ خاص فقرہ کو پڑھنے کا حکم دیں۔

مرحلہ نمبر (3)

اچھی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے کے فضائل تک پہنچنے کے مقصد سے برین اسٹورمنگ کی حکمت عملی کو بروئے کار لانے کے لیے طلبہ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیں۔

طلبہ زبانی طور پر جن باتوں تک پہنچے ہیں، ان پر تبادلۂ خیال کریں اور پھر یاد دہانی کے طور پر ان کو کاپی میں لکھ لینے کا حکم دیں۔

مرحلہ نمبر (4)

ہر گروہ کو اچھی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے کی ذمہ داری کو چھوڑ دینے کے برے اثرات معلوم کرنے کا حکم دیں۔

کچھ گروہوں کو جواب پیش کرنے کا حکم دیں اور اس کے بعد سبق کا ذہنی خاکہ تیار کر لیں۔

نتیجہ نکالنا :

ایک تجویز یہ ہے کہ ہر طالب کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو ایک خارجی ورق میں لکھ کر آپ کے سامنے اندازۂ قدر کے لیے پیش کرنے کی ذمہ داری سونپیں اور پھر طلبہ کے ساتھ سبق سے سیکھی باتوں پرتبادلۂ خیال کریں اور غلطی کی اصلاح فرمائيں۔

سرگرمیاں

بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ اچھی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے کے آثار کا بیان۔ ہدف نمبر : 2

معلم طلبہ کے ہر گروہ کو پہلی سرگرمی انجام دینے کے لیے ایک دوسرے کی مدد کرنے کی ہدایت دے۔ پھر سرگرمی کا عنصر بیان کرے۔ ہر گروہ کا جواب دیکھے۔ صحیح جواب تک پہنچنے کے لیے طلبہ کے ساتھ اس پر تبادلۂ خیال کرے۔ سب سے بہتر جواب دینے والے گروہ کی نشان دہی کے ساتھ ساتھ اس میں شامل طلبہ کی مناسب حوصلہ افزائی کرے۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ اچھی باتوں کا حکم دینے میں صحابہ کى اقتدا کرنا۔

ہدف نمبر : 3

دو طلبہ کا انتخاب سرگرمی کے ضمن میں وارد دونوں نصوص کی قراءت کے لیے کریں۔ دونوں میں سے جو طالب علم دونوں نصوص میں وارد کسی مفرد کلمہ سے واقف ہو، اسے تشریح و توضیح کے لیے آپ کے سامنے رکھے۔ پھر طلبہ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیں، تاکہ ہر گروہ سرگرمی کا جواب دینے کے عمل میں آپسی تعاون سے کام لے۔ اس کے بعد دو گروہوں کا انتخاب جوابات پیش کرنے کے لیے کریں اور باقی گروہوں کو دونوں کے جوابات کا موازنہ کرنے کا حکم دیں، تاکہ درست ترین جواب کی نشان دہی ہو سکے۔

جب انسان خود راہ راست پر چل رہا ہو اور نیکی کے کام کر رہا ہو، تو دوسرے لوگوں کو غلط راستے پر چلتا ہوا چھوڑ دینے اور بری باتوں سے نہ روکنے سے اس کا کچھ نہيں بگڑے گا۔

ان کو غلط فہمی کی نشان دہی کرائے اور بری باتوں سے نہ روکنے کی سزا کی ایک دلیل بتائے۔

اندازۂ قدر

سبق کے مقاصد کی تکمیل کے لیے آپ درج ذیل اقدامات کر سکتے ہيں :

بلیک بورڈ پر یکے بعد دیگرے درج ذیل سوالات لکھیں۔

کچھ طلبہ کا انتخاب کریں، جو گھنٹی میں زیادہ شریک نہيں ہوتے ہیں۔

انھیں بلیک بورڈ پر مذکورہ سوالات کا جواب لکھنے کا حکم دیں۔

ان کے جوابات کا اندازۂ قدر کریں اور ان کے باقی ساتھیوں کو آپ کے ساتھ اندازۂ قدر کے عمل میں شریک ہونے کا حکم دیں۔

سوال 1 : (واجب) - (عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إذَا اهْتَدَيْتمْ) - (ظالم حکم راں)۔

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

بہتر ہوگا کہ ہر طالب علم کو اچھی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے کے فضائل اور ان کے دلائل تحریر کرنے اور ان کو سوشل میڈیا پر نشر کرنے کا حکم دیں۔

پانچواں سبق : اچھے کام کا حکم دینے اور برے کام سے روکنے کا فقہ

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (المعروف- المنكر- المصالح والمفاسد).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - تعلیمی کارڈ - تعلیمی بورڈ)

تدریسی حکمت عملیاں :

(باہمی تعاون سے سیکھنے پر مبنی حکمت عملی - چرچا وتبادلہ خیال اورمکالمہ پر مبنی حکمت عملی - قصہ گوئی پر مبنی حکمت عملی)۔

اقدار و رجحانات :

- اچھی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے کی ضرورت کا شعور۔

- اچھی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے کا کام شرعی ضوابط کے مطابق کرنے کی کوشش۔

- اچھی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے میں نبی ﷺ کى اقتدا۔

- منکر اور اس کے اسباب کی جانب لے جانے والی تمام چیزوں سے اجتناب۔

سبق کی تمہید :

سبق کی تمہید کے طور پر نئے سبق کو پرانے سبق سے جوڑیں اور اچھی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے کے اہم فضائل و آثار کا جائزہ لیں۔ پھر طلبہ کو یہاں تک پہنچائيں کہ اچھی باتوں کا حکم دینے کا ثمرہ اس وقت تک سامنے نہیں آئے گا، جب تک اس کے شرعی ضوابط کو مد نظر نہ رکھا جائے۔ اس کے بعد بلیک بورڈ پر عنوان لکھ دیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

ایک تجویز یہ ہے کہ سبق کو تین اجزا میں تقسیم کر دیں اور ہر گروہ کو اس کا ایک ایک جز پڑھنے کا حکم دیں۔

طلبہ کو اچھی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے والے کے ضوابط اخذ کرنے میں ساتھ مل کر کام کرنے کی ہدایت دیں۔

ان ضوابط کی ایک تحریری فہرست تیار کریں اور اسے باقی طلبہ کے سامنے رکھیں۔

جواب کا اندازۂ قدر کریں اور اس کے بعد صحیح جوابات کو بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔

طلبہ کی خود آموزش پر حوصلہ افزائی کریں۔

مرحلہ نمبر (2)

اپنے طلبہ کے ساتھ سبق کے بارے میں مناقشہ کریں۔ ایسا بھی ممکن ہے کہ آپ ہر گروہ کا باقی کلاس سے مناقشہ کرائيں۔ وہ اس طرح کہ ہر گروہ اپنے پڑھے ہوئے حصے سے کچھ سوالات نکالے۔

آپ ان کو کلاس کے دیگر طلبہ کے سامنے رکھیں، پھر مناقشوں کو دھیان سے سنیں اورحسب ضرورت وضاحت کے لئے تدخل کریں۔

بلیک بورڈ پر کچھ احادیث لکھ دیں اور ان سے بری باتوں سے روکنے کے مراتب پر استدلال کریں۔

طلبہ کو نتیجہ اخذ کرنے کا طریقہ سکھائيں۔

نتیجہ نکالنا :

مناقشہ کے اسلوب کو بروئے کار لاتے ہوئے طلبہ کے ساتھ اچھی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے کے ضوابط کے بارے میں مناقشہ کریں۔

ہر طالب علم کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی کاپی کے تیسرے حصے میں لکھنے کی ذمہ داری سپرد کریں۔

کچھ طلبہ کا انتخاب کریں اور حکم دیں کہ وہ بلیک بورڈ پر ایک ایک آموزشی نتیجہ تحریر کریں۔

سرگرمیاں

بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ طلبہ کو درست تجزیے کے طور طریقے کی مشق کرانا۔

ہدف نمبر : 2

معلم ڈسپلے اسکرین کے توسط سے پہلی سرگرمی کے ضمن میں وارد جدول پیش کرے اور کچھ طلبہ کا انتخاب اس میں شامل باتوں کی قراءت کے لیے کرے اور اس کے بعد ان کے ساتھ اس سلسلے میں مناقشہ کرے۔

پھر ہر طالب علم کو سرگرمی کے دوسرے حصے کو انفرادی طور پر انجام دینے اور اپنا اپنا جواب ایک خارجی کارڈ میں تحریر کرنے کی ہدایت دے۔ پھر کارڈوں کو جمع کر لیں، ان کا اندازۂ قدر کریں، سب سے بہتر جواب کی نشان دہی کریں اور صحیح جواب دینے والے طالب علم کی حوصلہ افزائی کریں۔

ایک شخص نے اپنے پڑوسی کو ایک برا کام کرتے ہوئے دیکھا۔ ✓

احمد کا بیٹا 12 سال کا ہے اور وہ نماز نہ پڑھنے پر مصر ہے۔ ✓

مسجد کے امام نے ایک شخص کو غیر قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے دیکھا۔ ✓

ایک معلم نے کچھ طلبہ کو مدرسے کے اندر سگریٹ پیتے دیکھا۔ ✓✓

پولیس والوں نے کچھ مجرموں کو راستہ عبور کرتے ہوئے دیکھا۔ ✓

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ طلبہ کو مناقشہ کرنے اور نتیجہ نکالنے کى مشق کرانا۔

ہدف نمبر : 1، 5

ہر طالب علم کو سرگرمی کو اچھی طرح پڑھنے، اس پر غور و فکر کرنے اور اس کے معنی مراد کی نشان دہی کرنے کی ہدایت دیں۔ اس کے بعد طلبہ اپنے حاصل نتائج کے بارے میں آپس میں تبادلہ خیال کریں۔ پھر انھیں گھر میں سرگرمی پورا کرنے کا حکم دیں، تاکہ ہر طالب علم اپنے اہل خانہ سے رجوع کرے اور وہ لوگ ان امور کی تحدید و تعلیل میں اس کی مدد کریں۔

منکر دیکھنے والے انکار منکر واجب ہے، چاہے اسے یہ گمان غالب ہو کہ اس کی بات مانی نہيں جائے گی۔

اندازۂ قدر

مقاصد سبق کی تکمیل کے لیے آپ درج ذیل اقدامات کر سکتے ہيں :

ایک تجویز یہ ہے کہ ہر طالب علم کو نیچے دیے گئے سوالات کا جواب دینے کے لیے ایک دوسرے کی مدد کرنے کا حکم دیں۔

گروہ میں شامل ہر طالب علم کسی ایک سوال کا جواب دے اور ہر طالب علم دوسرے طالب علم کی کارکردگی کا معاینہ کرے۔

طلبہ کی کارکردگی کا معاینہ کرنے کے لیے ان کے پاس سے گزرتے رہيں اور ان کے ساتھ ان کے جوابات پر تبادلۂ خیال کرتے رہیں۔

سوال 1 : ✓ - X - ✓ - ✓ - ✓

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو بری باتوں سے روکنے کے مراتب اور اس کے ضوابط سے تعلق رکھنے والے شرعی احکام کے التزام اور اپنے آس پاس کے لوگوں کے اندر اس قسم کے شرعی ضوابط کا پاس و لحاظ نہ رکھنے سے متعلق کسی بھی غلطی کی اصلاح کرنے کی کوشش کرنے کی اہمیت سے آگاہ کرنا۔ وہ اس طرح کہ ان افراد کو ان احکام اور شرائط سے متعارف کرایا جائے، تاکہ ان پر صحیح طریقے سے عمل کیا جا سکے۔

چھٹا درس : اچھے کام کا حکم دینے اور برے کام سے روکنے کے آداب

سبق کا دورانیہ : ایک گھنٹی

نئے کلمات : (الإخلاص- الرفق- التدرُّج).

تعلیمی وسائل :

(بلیک بورڈ - تعلیمی کارڈ - تعلیمی بورڈ)

تدریسی حکمت عملیاں :

(باہمی تعاون سے سیکھنے پر مبنی حکمت عملی - چرچا وتبادلہ خیال اورمکالمہ پر مبنی حکمت عملی - قصہ گوئی پر مبنی حکمت عملی)۔

اقدار و رجحانات :

- اچھی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے میں رفق و نرمی کی اہمیت کا اندازہ لگانا۔

- اچھی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے والے کے آداب کا پاس و لحاظ رکھنا۔

- نبی ﷺ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سب کے سامنے نہيں، بلکہ چپکے سے نصیحت کرنا۔

- قطع تعلق اور قطع کلامی کا سبب بننے والی تمام چیزوں سے اجتناب کرنا۔

سبق کی تمہید :

نئے سبق کو پرانے سبق سے جوڑنے کے لیے طلبہ کے ساتھ اچھی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے کے فقہ اور اس کے اہم ضوابط کے بارے میں تبادلۂ خیال کریں اور اس کے بعد طلبہ کو مذکورہ دونوں کاموں کے شرعی آداب کے زیور سے آراستہ ہونے کی اہمیت تک لے جائیں۔ پھر بلیک بورڈ پر سبق کا عنوان لکھ دیں۔

سبق کی پیش کش :

مرحلہ نمبر (1)

ایک تجویز یہ ہے کہ سبق کو تین اجزا میں تقسیم کر دیں اور ہر گروہ کو ایک ایک جز پڑھنے کا حکم دیں۔

طلبہ کو اچھی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے والے آداب اخذ کرنے کے لیے ساتھ مل کر کام کرنے کا حکم دیں۔

ان آداب کی ایک فہرست تیار کریں اور انھیں باقی طلبہ کے سامنے رکھیں۔

جواب کا اندازۂ قدر کریں اور اس کے بعد صحیح جوابات بلیک بورڈ پر لکھ دیں۔

مرحلہ نمبر (2)

اپنے طلبہ کے ساتھ سبق کے بارے میں تبادلہ خیال اور چرچا کریں۔ ایسا بھی ممکن ہے کہ آپ ہر گروہ کا مناقشہ باقی درجے سے کرائيں۔ وہ اس طرح کہ ہر گروہ اپنے پڑھے ہوئے حصے سے کچھ سوالات نکالے۔

ان کو باقی درجے کے سامنے رکھیں، مناقشے سنیں اور بیچ بیچ میں وضاحت کرنے کا کام کریں۔

بلیک بورڈ پر کچھ احادیث لکھ دیں اور ان سے حدیث میں موجود ان آداب پر استدلال کریں۔

طلبہ کو نتیجہ اخذ کرنے کا طریقہ سکھائيں۔

نتیجہ نکالنا :

اسلوب مناقشہ کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے طلبہ کے ساتھ اچھی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے کے آداب پر تبادلۂ خیال کریں۔

ہر طالب علم کو اپنی کاپی کے آخری حصے میں سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو لکھنے کا حکم دیں۔

کچھ طلبہ کا انتخاب کریں اور حکم دیں کہ وہ بلیک بورڈ پر ایک ایک آموزشی نتیجہ تحریر کریں۔

سرگرمیاں

بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو سبق سے سیکھی ہوئی باتوں کو درج ذیل سرگرمیوں کے ذریعے عملی طور پر انجام دینے کی ہدایت دیں :

سرگرمی نمبر : 1 نوعیت و ہدف : اجتماعی۔ اچھی باتوں کا حکم دینے کے آداب کی وضاحت۔

ہدف نمبر : 1

معلم اجتماعی مناقشہ کی ایک مجلس منعقد کرے۔ طریقہ یہ ہو کہ طلبہ کو دائرہ کی شکل میں ایک دوسرے کی جانب منہ کر کے بیٹھنے کا حکم دے اور ان کو جلسہ کے ہدف سے روشناس کرے، جو کہ سرگرمی کے ضمن میں وارد نصوص سے اچھی باتوں کا حکم دینے کے آداب کی نشان دہی کرنا ہے۔

سرگرمی نمبر : 2 نوعیت و ہدف : انفرادی۔ طلبہ کو صحیح نصیحت کرنے کے طور طریقے کی مشق کرانا۔

ہدف نمبر : 3، 4

ہر طالب علم کو بیوی کو سزا دینے کے مراحل پر مشتمل ایک نصیحت لکھنے کی ہدایت دیں اور اس بات کی ترغیب دیں کہ تحریر میں زبانی اور اسلوبیاتی غلطیاں سرزد نہ ہوں اور سبق سے سیکھے ہوئے نصوص کو استعمال کیا گیا ہو۔

سارے طلبہ کو اپنی اپنی تحریریں ساتھیوں کو پڑھ کر سنانے کے لئے کہیں، سب سے اطمینان بخش تحریر کی نشان دہی کریں اور انھیں لکھنے والوں کو اپنی اپنی تحریر سوشل میڈیا سائٹس پر نشر کی ترغیب دیں۔

اندازۂ قدر

درج ذیل اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کو اندازۂ قدر پر مبنی سوالات کا جواب دینے کی ہدایت دیں :

آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ طلبہ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیں اور ہر گروہ سے نیچے دیے گئے دونوں سوالوں کا جواب دینے کے لیے ایک دوسرے کی مدد کرنے کا مطالبہ کریں۔

طلبہ کے پاس سے گزرتے رہيں اور ان کے جوابات دیکھتے رہیں، تاکہ ان کی کارکردگی نظر کے سامنے رہے اور اس بات کی یقین دہانی ہو سکے کہ جواب دینے کے عمل میں سب لوگ شریک ہو رہے ہيں۔

طلبہ کے جوابات جمع کریں، ان کو اندازۂ قدر کے مرحلے سے گزاریں اور سب سے باریکی کے ساتھ جواب دینے والے گروہ کی نشان دہی کریں۔

طلبہ کےساتھ دونوں سوالات کے بارے میں زبانی تبادلہ خیال اور چرچا کریں، تاکہ ان کو صحیح جواب سے روشناس کرایا جا سکے۔

سارے گروہوں کی مناسب حوصلہ افزائی کریں اور مناقشہ کے توسط سے حاصل شدہ معلومات کی روشنی میں ان کو اپنے اپنے جوابات درست کرنے کے لئے کہيں۔

سوال 1 : X - X - ✓۔

سوال 2 : صبر - واجب - غلطی کی نشان دہی۔

٭ تربیتی و وجدانی تنبیہات :

طلبہ کو اچھی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے کے آداب میں شریعت اسلامی کے آداب پر عمل کرنے کی اہمیت سے آگاہ کرنا، اور آس پاس کے لوگوں کے یہاں نظر آنے والی کسی بھی غلطی پر انہیں خبردار کرنے اور اس کی اصلاح کرنے کی کوشش کے مقام ومرتبہ سے بھى واقف کریں، تاکہ یہ لوگ انھیں درست طریقے سے عمل میں لا سکیں۔

پیش لفظ

ساری تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، جس نے انسان کو پیدا کیا، اسے علم و بیان کی دولت سے نوازا اور قرآن و سنت کے ذریعے اس پر حجت قائم کر دی۔

درود و سلام ہو ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر، آپ کے اہل بیت، معزز ساتھیوں اور قیامت کے دن تک ان کی پیروی کرنے والوں پر۔

امابعد! اس بات میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہيں ہے کہ عمل سے پہلے علم حاصل کرنا بندے پرنہایت عظیم واجبات میں سے ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے : ’’سو (اے نبی!) آپ یقین کر لیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگا کریں اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے حق میں بھی، اللہ تم لوگوں کی آمد ورفت کی اور رہنے سہنے کی جگہ کو خوب جانتا ہے‘‘۔ (سورۂ محمد : 19)

دراصل شرعی علم اس امت کی اہم ترین امتیازات میں سے ایک امتیاز اور اسلامی شخصیت کے اہم ترین عناصر میں سے ایک عنصر ہے۔

علم کی اہمیت کے پیش نظر، جس کے چشمے سے جمعیۃ الدعوۃ و توعیۃ الجالیات روضہ نے کسب فیض کیا ہے اور وہ حکمت کے ساتھ اور تبلیغ کے بہترین طریقوں کو بروئے کار لاتے ہوئے لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے اور اورسیز کمیونیٹیز کی تعلیم اور ان کو شرعی اعتبار سے اہل بنانے کے مقصد سے تیار کیے گئے پروگراموں، جیسے "دین سے آگاہی" کا پروگروام، جو اورسیز کمیونٹیز کے لیے سات زبانوں میں شرعی کورسیز فراہم کرتا ہے، کے توسط سے مسلمانوں کے اندر دینی بیداری لانے کے کام میں مشغول ہے۔ اس پروجیکٹ کو تیار کرنے کے لیے جمعیہ مذکورہ نے "بصائر للاستشارات التربوية" نامی کمپنی سے رابطہ کیا، جو شرعی تعلیم کا نصاب تیار کرنے کا کام کرتی ہے۔ چنانچہ جمعیہ کی جانب سے فراہم کردہ مواد کی بنیاد پر اس نصابی دستاویز کو تیار کرنے پر اتفاق عمل میں آیا اور پھر درج ذیل مراحل کے مطابق طالب علموں کے لیے کتابیں تالیف کی گئیں :

- پہلا مرحلہ، جس میں چالیس (40) اسباق شامل ہیں۔

-دوسرا مرحلہ، جس میں تیس (30) اسباق شامل ہیں۔

- تیسرا مرحلہ، جس میں تیس (30) اسباق شامل ہيں۔

متعلم کے لیے تیار کی گئی ہر کتاب کے مقابلے میں معلم کے لیے بھی ایک رہ نما کتاب تیار کی گئی ہے، تاکہ مؤثر تعلیمی اور تربیتی طریقے پر درس پیش کرنے میں اس کے لئے معین و مددگار ثابت ہو۔ نصابی دستاویز مرتب کرنے، متعلمین کے لیے کتابیں تالیف کرنے اور معلمین کے لیے گائیڈ تیار کرنے کا عمل بڑے ہی علمی انداز میں انجام پایا ہے اور بڑی باریک بینی کے ساتھ اس کا مراجعہ کیا گیا ہے۔ یہ کام شرعی تعلیمی نصاب کے ماہرین کی ایک جماعت نے کیا ہے۔

اخیر میں دعا ہے کہ اللہ اس عمل کو اسلام اور مسلمانوں کے لیے نفع بخش بنائے اور اس میں شریک ہونے والے ہر شخص کو بہتر بدلہ عطا کرے اور جنت سے نوازے۔ اس نصاب تعلیم کے بارے میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور جمعیہ کے فون نمبروں کے ذریعہ موصول ہونے والی آپ کی کارآمد تجاویز اور آرا کا پرجوش خیر مقدم ہے۔

درود وسلام نازل ہو ہمارے نبی محمد ﷺ پر اور آپ ﷺ کے آل واصحاب پر۔

جعیۃ الدعوہ، روضہ

مقدمہ

ساری تعریف اللہ کی ہے، جو سارے جہانوں کا رب ہے۔ درود و سلام ہو ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر، آپ کے اہل بیت اور تمام ساتھیوں پر۔

امابعد!

عزیز طالب علم! نصاب کی دوسری کتاب آپ کے سامنے ہے۔ ایسا تعلیمی نصاب، جس کا مقصد

مسلمان کو دین سے متعلق ضروری باتیں سکھانا، ایک مضبوط اسلامی ثقافت کی بنیاد رکھنا اور اسلامی منہج تربیت کے مطابق طالب علم کی شخصیت کی تعمیر کرنا ہے۔

اس کتاب کو شرعی علوم کے مختلف شعبوں کے مد نظر مختلف تعلیمی اکائیوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے، جو اس طرح ہيں :

- اکائی : قرآن اور تفسیر : اس اکائی کے اندر قرآن کریم کی تلاوت کے آداب، کچھ چھوٹی چھوٹی سورتوں کی مختصر تفسیر اور ان سورتوں کی آیتوں سے حاصل ہونے والے کچھ اہم ترین علمی اور تربیتی فوائد بیان کيے گئے ہيں۔

- اکائي : ایمان اور تزکیہ : اس اکائي میں توحید کی فضیلت اور اس کی قسموں، عبادت کی شرطوں اور ارکان کے ساتھ ساتھ ایمان کے گھٹنے اور بڑھنے کی بات بھی شامل ہے، تاکہ پڑھنے والا اصل ایمان اور اس کے ثمرات دونوں سے رو شناس ہو جائے۔

- اکائی : سنت اور شمائل نبویہ : اس کے اندر رشتے داروں، پڑوسیوں، چھوٹے بچوں اور غیر مسلموں کے ساتھ برتاؤ کے بارے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا طریقہ پیش کیا گیا ہے، تاکہ آپ ﷺ کی اقتدا علم و بصیرت کے ساتھ کی جا سکے۔ اس کے بعد چار حدیثیں پیش کی گئی ہیں، جن کے اندر مسلمانوں، بطور خاص رشتے داروں، عمر دراز لوگوں، بچوں، پڑوسیوں اور مہمانوں کے حقوق بیان کیے گئے ہيں۔ ساتھ ہی اللہ کے حقوق، بندوں کے حقوق اور نفس کے حقوق کی ادائیگی میں اعتدال سے کام لینے کی اہمیت بھی بتا دی گئی ہے۔

- اکائی : فقہی احکام : اس کے اندر اسلام کی چار عبادتوں (نماز، زکاۃ، روزہ اور حج) کے اہم احکام کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے اور ساتھ ہی ان احکام کے انسانی زندگی پر مرتب ہونے والے اثرات پر بھی توجہ دی گئی ہے۔

- اکائی : اخلاق : اس اکائی کے اندر اسلامی اخلاق کی ان بنیادوں کی نشان دہی کی گئی ہے، جن پر اسلامی شخصیت کی تعمیر عمل میں آتی ہے۔ وہ بنیادیں یہ ہیں :

حسن اخلاق، صدق، امانت داری، صبر، حیا اور عدل و انصاف۔

- اکائی : دعوت : اس اکائی کے اندر مسلمانوں کی خیرخواہی کی ترغیب دی گئی ہے، دین میں اس کی اہمیت واضح کی گئی ہے، ناصح اور منصوح کے آداب بیان کیے گئے ہیں، تاکہ نصیحت ثمر آور ثابت ہو اور خیر کو عام کرنے اور شر کو کم کرنے کا اس کا مقصد پورا ہو سکے۔

ہم نے ان کتابوں کو علمی اصولوں اور جدید تربیتی معیاروں کے مطابق تیار کرنے کی کوشش کی ہے۔ انھیں تیار کرتے وقت ہم نے درج ذیل باتوں کا خاص خیال رکھا ہے :

- ضرورت محسوس ہونے پر سبق کا آغاز ایک تمہید سے کرنا، جو سبق سے قاری متعلم کی دل چسپی بڑھانے کا کام کرے۔

ایسی تصاویر اور مفہوم کو واضح کرنے والے نقشے دینا، جو علمی مشمولات کے استیعاب میں مددگار ہوں۔

- اس میں فعال انداز میں سیکھنے کی حکمت عملیوں کے مطابق تربیتی مقاصد کے حصول کے لیے تعلیمی سرگرمیوں کو شامل کرنا۔

سرگرمیوں کے سلسلے میں ہم نے درج ذیل باتوں کا خیال رکھا ہے :

ان سرگرمیوں کا سبق کے مقاصد کے حصول کے سلسلے میں مشمولات سے مکمل طور سے ہم آہنگ ہونا, ساتھ ہی ان کا مواد کے مزاج سے مرتبط ہونا۔

- شخصیت کے مختلف پہلؤوں کی نشو و نما اور متنوع صلاحیتوں کو فروغ دینا۔

انھیں کرنے کے طریقے میں بھی تنوع سے کام لیا جائے۔ کچھ سرگرمیاں انفرادی طور پر کرنے کى ہوں اور کچھ اجتماعی طور پر۔ انھیں کرنے کی جگہ میں بھی تنوع رکھا جائے۔ کچھ کلاس روم میں کرنے کى ہوں، تو کچھ کلاس روم سے باہر۔ ان کی شکلوں اور صورتوں میں بھی تنوع رکھا جائے۔ کچھ تحریری ہوں، کچھ زبانی ہوں، کچھ اشاراتی ہوں اور کچھ دماغی۔

ہر سبق کے آخر میں اندازۂ قدر پر مبنی سوالات دیے جائيں، تاکہ اس بات کا اندازہ لگایا جا سکے کہ سبق کا استیعاب کہاں تک ہو سکا اور اس کے مقاصد کہاں تک حاصل ہو سکے؟

اس کتاب کو پیش کرتے ہوئے ہمیں امید ہے کہ ہم علمی مواد کو آسان اور واضح انداز میں سامنے رکھنے، کارگر سرگرمیاں ترتیب دینے اور اندازۂ قدر کا جامع انداز اپنانے کی اپنی کوشش میں کام یاب ہوئے ہيں۔

دعا ہے کہ ہماری اس کوشش کو اللہ تعالٰی طلبہ کے لیے مفید بنائے اور شرف قبولیت عطا کرے۔ بے شک وہ سب کچھ سننے اور سب کچھ جاننے والا ہے۔

درود و سلام نازل ہو ہمارے نبی محمد ﷺ اور آپ ﷺ کے تمام اہل بیت اور ساتھیوں پر۔

اکائی : قرآن و تفسیر

پہلا سبق : تلاوتِ قرآن کریم کے آداب

اغراض و مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

قرآنِ کریم پڑھنے کا ثواب دلیل کے ساتھ بیان کر سکیں گے۔

قرآنِ کریم کی تلاوت کے آداب بیان کر سکيں گے۔

قرآن کریم کی تلاوت کے احکام پر توجہ دیں گے۔

قرآن کریم کی تلاوت کے آداب کا پاس و لحاظ رکھیں گے۔

تمہیدی سرگرمی :

بہت سے مسلمان قرآن کریم کی تلاوت میں کوتاہی کرتے ہیں۔ کئی بار آپ کو مصحفوں کے اوپر دھول جمی ہوئی نظر آ جاتی ہے۔ اس سبق میں آپ جو کچھ پڑھیں گے، اس کی روشنی میں اس طرح کے لوگوں کو ایک نصیحت کریں۔

قرآنِ کریم کی تلاوت کی فضیلت :

قرآنِ کریم کی تلاوت ایک بہت بڑی عبادت ہے۔ یہ ذکر الہی کی افضل ترین شکل ہے۔ اللہ کے یہاں اس کا بہت بڑا ثواب بھی ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : ”جس نے کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھا، اس کے لیے ایک نیکی ہے اور ایک نیکی کا اجر اس طرح کی دس نیکیوں کے برابر ہوتا ہے۔ میں نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے؛ بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے“ (سنن ترمذی : 2910)۔

قرآن کریم کی تلاوت کے کچھ آداب :

قرآن کی تلاوت کا مقصد اللہ کی رضامندی کا حصول اور اس کی اطاعت گزاری ہونا چاہیے۔

وضو کرنا اور کپڑے اور جگہ کا پاک ہونا۔

جہاں تک ہو سکے قبلہ رخ ہونا۔

شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگنا۔ تلاوت سے پہلے "أعوذ بالله مِن الشَّيطان الرَّجيم" کہنا مستحب ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے : "سو جب تم قرآن پڑھو تو راندے ہوئے شیطان سے اللہ کی پناه طلب کرو۔" (سورۂ نحل : 98)۔

تلاوت قرآن کی مجلس کے حق میں احترام کا اظہار کرنا۔

تجوید کے احکام کا پاس و لحاظ رکھنا۔

خوب صورت آواز میں قرآن پڑھنا۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : "قرآن کو اپنی آوازوں سے مزین کیا کرو۔" (سنن ابو داؤد : 1470)۔

قرآن کریم کے معانی کو سمجھنے کی کوشش کرنا۔

قرآن کریم کے حلقے میں دوسری بات کرنے سے گریز کرنا۔ ہاں، ضرورت ہو، جیسے سلام کا جواب دینا ہو، چھینکنے والے کا جواب دینا ہو اور مؤذن کا جواب دینا ہو، تو بات الگ ہے۔

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : آداب کو عملی جامہ پہناؤں گا :

اپنے معلم کی نگرانی میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل جل کر قرآن کی چھوٹی سورتوں کی تلاوت کا ایک مجلس منعقد کریں، جس میں تلاوت کے آداب پر عمل کیا جائے اور غلطی کرنے والے کو تنبیہ بھی کی جائے۔

سرگرمی (2) : تجویز پیش کروں گا :

نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرمی ہے: "جو شخص قرآن کے پڑھنے میں ماہر ہو، وہ معزز اور نیک سفراء (فرشتوں) کے ساتھ ہو گا، اور جو شخص قرآن کو اٹک اٹک کر پڑھتا ہو اور اسے پڑھنے میں مشقت ہوتی ہو، اس کو دو گنا ثواب ملتا ہے"۔ (صحیح بخاری : 2856، صحیح مسلم : 30)۔

یہ حدیث قرآن پڑھنے والے ہر شخص کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے، لیکن قرآن پڑھنے میں مہارت رکھنے والے لوگ دوسرے لوگوں سے اونچے درجوں پر فائز ہوں گے۔ اس کی روشنی میں اپنے معلم اور ساتھیوں سے ایسے وسائل کی تجویز کے سلسلے میں مشورہ کریں، جو اچھی طرح تجوید سیکھنے میں معاون ثابت ہوں۔ جیسے :

مسجدوں کے اندر قائم ہونے والے قرآن کریم کی تلاوت اور حفظ کے حلقوں میں شامل ہونا۔

تجوید کے احکام سیکھنے کے لیے کسی ماہر استاد کے ساتھ اتفاق کرلینا۔

ایپلی کیشنز اور ای ریڈرز کی مدد لینا۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

ذکر قرآن کی تلاوت سے افضل ہے۔

تلاوت روک کر سلام کا جواب دینا جائز ہے۔

قرآن کی تلاوت کے لیے میں وضو کروں گا اور صاف ستھرا لباس پہنوں گا۔

تلاوت قرآن کا ثواب اسی کو ملے گا، جو اس کے احکام میں مہارت رکھتا ہو۔

سوال 2 : نیچے دی گئی حدیث پوری کریں :

نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے : ”جس نے کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھا، اس کے لیے ............، اور ایک نیکی کا اجر اس طرح کی دس ............ کے برابر ہوتا ہے۔“

سوال 3 : قرآن کریم کی تلاوت کے تین آداب لکھیں۔

دوسرا سبق : مصحف اور اس کے ساتھ برتاؤ کے آداب

اغراض و مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

مصحف کی تعریف کر سکيں گے۔

مصحف کی تعظیم کا حکم بتا سکيں گے۔

مصحف کے ساتھ برتاؤ کے آداب گنوا سکیں گے۔

مصحف کی تعظیم کریں گے۔

دوسروں کو مصحف کی اہانت سے خبردار کریں گے۔

مصحف کی تعریف

قرآن کریم اللہ کا کلام ہے۔

مصحف وہ کتاب ہے، جس میں قرآن کریم لکھا ہو۔

مصحف کے اندر 114 سورتیں ہیں۔

پہلی سورت سورۂ فاتحہ ہے اور آخری سورت سورۂ ناس ہے۔

مصحف کی تعظیم واجب ہے

مصحف کی تعظیم ہر مسلمان پر واجب ہے۔ کیوں کہ اس کے اندر اللہ کا کلام موجود ہے۔ لہذا جس نے مصحف کی تعظیم کی، اس نے اللہ کی تعظیم کی اور جس نے مصحف کی توہین کی، اس نے اللہ کی توہین کی۔

جان بوجھ کر مصحف کی توہین کرنا اللہ کے ساتھ کفر کرنا ہے۔ جیسے اسے کسی گندی جگہ میں پھینک دینا اور پاؤں سے ٹھوکر مارنا وغیرہ۔

مصحف کے ساتھ برتاؤ کے آداب

مصحف کی حفاظت کرنا اور اسے صاف ستھرا رکھنا۔

اسے اچھی طرح لینا اور دینا۔ کسی سے لینا ہو تو دائيں ہاتھ سے لیا جائے اور کسی کو دینا ہو تو دائیں ہاتھ سے دیا جائے۔

اس کی حفاظت کرنا اور اسے تلف ہونے سے بچانا واجب ہے، جیسے اسے پانی میں ڈال دینے یا چھوٹے بچوں کے ہاتھ میں دینے سے گریز کرنا۔

بلا طہارت مصحف کو چھونے سے گریز کرنا۔ بے وضو اور جنبی شخص کا قرآن مجید کو چھونا حرام ہے۔ کیوں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : ”مصحف کو صرف پاک شخص ہی چھو سکتا ہے۔“ (موطا مالک : 469)۔

مصحف کو بیت الخلا کے اندر لے جانا حرام ہے۔ البتہ اگر اس کے ضائع ہونے کا ڈر ہو تو اسے بیگ وغیرہ میں ڈال کر بیت الخلا کے اندر رکھا جا سکتا ہے۔

مصحف کی توہین حرام ہے اور اس کے اندر درج ذیل باتیں آتی ہيں :

اسے زمین پر پڑا چھوڑ دینا کہ قدموں کے نیچے آ جائے۔

مصحف پر ٹیک لگانا یا اس پر چڑھنا۔

مصحف کو پھینکنا۔

مصحف کے اوراق پر نامناسب الفاظ لکھنا یا غیر مناسب تصویر بنانا۔

مصحف کے اوراق کا استعمال صفائی وغیرہ کے لیے کرنا۔

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : غور فکر کروں گا اور اپنے موقف کی تحدید کروں گا :

اس سبق کی روشنی میں غور و فکر سے کام لیں اور نیچے دیے گئے مسائل میں اپنے موقف کی تعیین کریں اور اسے اپنے معلم کے سامنے رکھیں، تاکہ وہ اس کی جانچ کریں :

مصحف کے اوراق تلف ہو جائيں، تو ان کو دفن کرنا یا جلا دینا جائز ہے۔ (میں متفق ہوں / میں متفق نہیں ہوں)

دینی کتابوں کو ردی کی ٹوکری میں رکھنا حرام ہے۔ (میں متفق ہوں / میں متفق نہیں ہوں)

قرآنی آیات لکھے ہوئے اوراق سے کھانا پیک کرنا جائز ہے۔ (میں متفق ہوں / میں متفق نہیں ہوں)

سرگرمی (2) : غور و فکر کروں گا اور جواب دوں گا :

آج بہت سے کمپیوٹر اور موبائل میں الیکٹرانک مصحف ہوا کرتا ہے۔ ایسے میں کیا الیکٹرانک مصحف بھی ورقی مصحف کے حکم میں ہوگا اور ورقی مصحف کی طرح ان کو چھونے سے پہلے بھی طہارت ضروری ہوگی؟

اس لنک پر جائيں :

سرگرمی (3) : میں تلاش کروں گا اور جواب دوں گا :

مصحف کے بارے میں آپ کی معلومات بڑھانے کے لیے اپنے ساتھی کے ساتھ مل کر نیچے دی گئی عبارتوں کو پورا کریں :

قرآن کی سب سے لمبی سورت .................... ہے۔

سورہ ................ مصحف کے درمیان میں ہوا کرتی ہے اور جمعے کے دن اسے پڑھنا مستحب ہے۔

ہجرت سے پہلے اترنے والی سورتوں کو .................. کہتے ہیں۔

ہجرت کے بعد اترنے والی سورتوں کو ................. کہتے ہیں۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

پھٹے ہوئے مصحف کے اوراق کو جلا دینا جائز ہے۔ (✓)

مصحف کی تعظیم میں یہ بات بھی داخل ہے کہ اس کے اوپر کوئی چيز نہ رکھی جائے۔ ✓

سورۂ بقرہ مصحف کی پہلی سورت ہے۔ (×)

الیکٹرانک مصحف کو چھونے کے لیے طہارت کی ضرورت نہیں ہے۔ (✓)

دینی کتابوں کی بے ادبی و توہین حرام ہے۔ (✓)

سوال 2 : نیچے دی گئی حدیث کو پورا کریں :

نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : ”مصحف کو صرف ........... ہی چھو سکتا ہے۔“

سوال 3 : نیچے دیے گئے دونوں سوالوں کے جواب دیجیے :

قرآنِ کریم اور مصحف شریف کے درمیان کیا فرق ہے؟

مصحف شریف کی توہین کی تین صورتیں بیان کریں۔

تیسرا درس : آیت الکرسی کی تفسیر

اغراض و مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

آیت الکرسی کی مختصر تفسیر کر سکيں گے۔

آیت الکرسی کی فضیلت بیان کر سکیں گے۔

آیت الکرسی سے اللہ کى صفات نکال سکيں گے۔

آیت الکرسی سے حاصل ہونے والے فوائد بیان کر سکیں گے۔

آیت الکرسی کی قدر و منزلت بیان کر سکیں گے۔

آیتُ الکرسی

اللہ تعالٰی فرماتا ہے: "اللہ ہى ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، جو زنده اور سب کا تھامنے واﻻ ہے، جسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند، اس کی ملکیت میں زمین و آسمان کی تمام چیزیں ہیں۔ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے، وه جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وه اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جتنا وه چاہے، اس کی کرسی کی وسعت نے زمین و آسمان کو گھیر رکھا ہے اور ان دونوں کى حفاظت اللہ تعالیٰ کے لئے بھارى نہیں ہے، وه تو بہت بلند اور بہت بڑا ہے۔" (سورۂ بقرہ : 255)۔

تفسیر وتوضیح :

آیت الکرسی قرآن کریم کی عظیم ترین آیت ہے اور اسے پڑھنے کی بڑی فضیلت ہے۔ یہ بندے کو شیطان اور برائیوں سے محفوظ رکھتی ہے۔ درج ذیل میں اس کے معانی بیان کیے جاتے ہیں :

"ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ" اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے۔

"ٱلۡحَيُّ" وہ اپنی ذات کے شایان شان حیات کامل کے وصف سے متصف ہے۔

"ٱلۡقَيُّومُۚ" وہ اپنی مخلوقات سے متعلق ساری چيزوں کا انتظام کرتا ہے۔

"لَا تَأۡخُذُهُۥ سِنَةٞ وَلَا نَوۡمٞۚ" اسے نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔

"لَّهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۗ" ساری مخلوقات اس کی بادشاہت اور اس کے تصرف کے دائرے کے اندر ہے۔

"مَن ذَا ٱلَّذِي يَشۡفَعُ عِندَهُۥٓ إِلَّا بِإِذۡنِهِۦ" کوئی اس کی اجازت کے بغیر کسی کے لیے عفو و درگزر طلب نہیں کر سکتا۔

"يَعۡلَمُ مَا بَيۡنَ أَيۡدِيهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡۖ" اللہ کا علم تمام کائنات کو محیط ہے۔ زمانہ اور جگہ چاہے جو بھی ہو۔

"وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيۡءٖ مِّنۡ عِلۡمِهِۦٓ إِلَّا بِمَا شَآءَۚ" کوئی شخص اللہ کی مشیت کے بغیر کوئی علم حاصل نہیں کر سکتا۔

"وَسِعَ كُرۡسِيُّهُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَۖ" کرسی ایک عظیم مخلوق ہے، جو آسمانوں اور زمین کو محیط ہے۔

"وَلَا يَـُٔودُهُۥ حِفۡظُهُمَاۚ" اللہ آسمانوں اور زمین کی حفاظت سے عاجز نہیں ہوتا۔

"وَهُوَ ٱلۡعَلِيُّ ٱلۡعَظِيمُ" وہ اپنی ذات اور صفات کے ساتھ تمام مخلوقات سے بلند و بالا اور ملک و سلطنت میں عظیم ہے۔

مذکورہ بالا آیتوں سے حاصل ہونے والے کچھ فوائد :

آيۃ الکرسی قرآن کریم کی سب سے زیادہ فضیلت والی آیت ہے۔

اللہ ہر کمال سے متصف اور ہر نقص سے منزہ (پاک) ہے۔

اللہ کا علم ہر چیز کو محیط ہے۔

کرسی اللہ کی ایک بہت بڑی مخلوق ہے۔

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : فوائد مستنبط کروں گا :

آيۃ الکرسی سے وہ الفاظ نکالیں، جو اللہ تعالی کى درج ذیل صفات پر دلالت کرتے ہيں :

صفت اس پر دلالت کرنے والا آیۃ الکرسى میں وارد لفظ

اللہ تعالی ہر چيز کو سبھالنے والا اور اس کى نگہبانی کرنے والا ہے۔

اللہ تعالی کا علم ہر چيز کو محیط ہے۔

اللہ تعالی کو کوئی چيز عاجز نہیں کر سکتی۔

اللہ تعالی نہ آرام کرتا ہے اور نہ سوتا ہے۔

سرگرمی (2) : تحدید کروں گا اور فوائد نکالوں گا :

نمازوں کے بعد، سونے سے پہلے اور صبح و شام آيۃ الکرسی پڑھنا مستحب ہے۔ اس کی روشنی میں درج ذیل حدیث میں وارد وقت کی تعیین کریں اور اس وقت آيۃ الکرسی پڑھنے کا ثواب بیان کریں :

نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : "جس نے ہر فرض نماز کے بعد آيۃ الکرسی پڑھی، اسے موت کے سوا کوئی چیز جنت جانے سے روک نہيں سکتی۔" (سنن کبری از نسائی : 9848)۔

پڑھنے کا وقت : .............................ہے۔

پڑھنے کا ثواب :.............................ہے۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیں ہر نماز میں آيۃ الکرسی پڑھنے کا حکم دیا ہے۔

اللہ کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش قبول نہيں ہوگی۔

اللہ کا علم جنوں اور انسانوں کے احوال کے ساتھ خاص ہے۔ باقی چیزیں اس دائرے سے باہر ہیں۔

آيۃ الکرسی سونے سے پہلے اور نماز کے بعد پڑھنا سنت ہے۔

سوال 2 : آيۃ الکرسی کے نیچے دیے گئے اجزا کے معنی لکھیے :

"ٱلۡحَيُّ ٱلۡقَيُّومُ"

"لَا تَأۡخُذُهُۥ سِنَةٞ وَلَا نَوۡمٞۚ"

"وَلَا يَـُٔودُهُۥ حِفۡظُهُمَاۚ"

سوال 3 : آيۃ الکرسی قرآن کریم کی سب سے عظیم آیت ہے، اس کی وضاحت کیجیے۔

چوتھا درس : "سورۂ تکاثر" اور "سورۂ عصر" کی تفسیر

اغراض و مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

مذکورہ آیتوں کی مختصر تفسیر کر سکيں گے۔

ان آیتوں سے حاصل ہونے والے فوائد بیان کر سکیں گے۔

اللہ کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کریں گے۔

سورۂ تکاثر اور سورۂ عصر کی قدردانی کریں گے۔

سورۂ تکاثر

سورۂ تکاثر

شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم واﻻ ہے۔

کثرت کی چاہت نے تمھیں غافل کردیا۔ ۱ یہاں تک کہ تم نے قبرستان کى زیارت کرلى۔ ۲ ہرگز نہیں، تم عنقریب معلوم کر لو گے۔ ۳ ہرگز نہیں، پھر تمھیں جلد علم ہو جائے گا۔ ۴ ہرگز نہیں اگر تم یقینی طور پر جان لو۔ ۵ تو بے شک تم جہنم دیکھ لو گے۔ ۶

اور تم اسے یقین کی آنکھ سے دیکھ لو گے۔ ۷ پھر اس دن تم سے ضرور بالضرور نعمتوں کا سوال ہوگا۔ ۸ (سورۂ تکاثر : 1-8)

تفسیر وتوضیح:

اللہ تعالی دنیا اور متاع دنیا میں مشغول ہونے کی وجہ سے آخرت کے حساب اور جزا و سزا سے غافل ہو جانے سے خبر دار کر رہا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے :

أَلۡهَىٰكُمُ ٱلتَّكَاثُرُ حَتَّىٰ زُرۡتُمُ ٱلۡمَقَابِرَ اموال و اولاد پر فخر و مباہات نے تمھیں اللہ کی بندگی سے کاٹ (غافل) کر رکھ دیا۔ یہاں تک کہ تم موت سے ہمکنار ہوکر قبرستانوں میں دفن ہو گئے۔

كَلَّا سَوۡفَ تَعۡلَمُونَ ثُمَّ كَلَّا سَوۡفَ تَعۡلَمُونَ ۴ تم بالیقین قیامت کے دن دنیا میں اس طرح مشغول ہو جانے کا انجام جان لوگے اور تم کو سمجھ میں آ جائے گا کہ آخرت کی زندگی ہی تمھارے لیے بہتر اور باقی رہنے والی زندگی تھی۔

كَلَّا لَوۡ تَعۡلَمُونَ عِلۡمَ ٱلۡيَقِينِ ۵ اگر تم جان لیتے کہ اللہ تعالی آخرت کو چھوڑ کر دنیا میں تمھارے اس طرح مشغول ہو جانے کا حساب لے گا۔

لَتَرَوُنَّ ٱلۡجَحِيمَ ۶ ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيۡنَ ٱلۡيَقِينِ ۷ عنقریب تم قیامت کے دن جہنم کو دیکھ لوگے اور بار بار دیکھوں گے، تاکہ تم کو اس کا یقین ہو جائے۔

ثُمَّ لَتُسۡ‍َٔلُنَّ يَوۡمَئِذٍ عَنِ ٱلنَّعِيمِ ۸ اور اس کے بعد اللہ تم سے دنیا میں دی گئی تمام طرح کی نعمتوں کے بارے میں پوچھے گا۔

سورۂ عصر

شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم واﻻ ہے۔

زمانے کی قسم! ۱ بے شک انسان سراسر نقصان میں ہے! ۲ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان ﻻئے اور نیک عمل کیے اور (جنھوں نے) آپس میں ایک دوسرے کو حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی۔ ۲

(سورۂ عصر : 1-3)۔

تفسیر وتوضیح:

یہ چھوٹی سی سورت دنیا کے نفع اور نقصان کی حقیقت بیان کر رہی ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے :

وَٱلۡعَصۡرِ ۱ اللہ سبحانہ و تعالی عصر کے وقت کی یا پورے زمانے کی قسم کھاتا ہے۔

إِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ لَفِي خُسۡرٍ ۲ إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلۡحَقِّ وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلصَّبۡرِ ۳ اللہ تعالی قسم کھا کر بتا رہا ہے کہ چار قسم کے لوگوں کو چھوڑ کر سارے لوگ خسارے میں ہيں۔ چار قسم کے لوگ یہ ہيں :

اللہ پر ایمان رکھنے والے لوگ۔

عمل صالح کرنے والے لوگ۔

ایک دوسرے کو حق (دین اسلام) پر ثابت قدم رہنے کی تلقین کرنے والے لوگ۔

ایک دوسرے کو پچھلی تمام باتوں پر صبر کرنے کی تلقین کرنے والے لوگ۔

مذکورہ چار اوصاف کے حامل لوگ ہی آخرت میں فائدے میں رہیں گے۔

مذکورہ بالا آیتوں سے حاصل ہونے والے کچھ فوائد :

اللہ تعالی بندوں کو قیامت کے دن کی ہولناکیوں سے ڈرا رہا ہے، تاکہ عمل صالح کے ذریعے اس کی تیاری کر لیں۔

قیامت کے دن لوگوں سے اللہ کی نعمتوں کا حساب لیا جائے گا اور نجات کی راہ یہ ہے کہ نعمتوں کا شکر ادا کیا جائے اور ان کا اسعمال اللہ کی بندگی میں کیا جائے۔

عقل مند وہ ہے جو آخرت کا عذاب اپنی آنکھوں سے دیکھنے سے پہلے اللہ کی بندگی شروع کر دے۔

اللہ اپنی مخلوق میں سے جس چیز کی بھی قسم کھانا چاہے کھاتا ہے، لیکن بندے کے لیے اللہ کے علاوہ کسی اور کی قسم کھانا جائز نہيں ہے۔

سارے لوگ خسارے میں ہیں، سواے اس کے جو اللہ پر ایمان لائے، نیک عمل کرے، حق اور خیر کی دعوت دے اور اس راہ میں آنے والی پریشانیوں کا سامنا صبر کے ساتھ کرے۔

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : اپنے ساتھیوں کے ساتھ چرچا کروں گا :

طلبہ کو دو گروہوں میں بانٹ دیا جائے گا :

پہلا گروہ دنیا کی تین ایسی چيزوں کی تحدید کے سلسلے میں چرچا کرے گا، جنھیں زیادہ سے زیادہ حاصل کرنا قابل تعریف ہے۔

جب کہ دوسرا گروہ دنیا کی تین ایسی چيزوں کی تحدید کے سلسلے میں گفتگو کرے گا، جن کا زیادہ حاصل کرنا قابل مذمت ہے۔

پھر ہر گروہ اپنی اپنی لسٹ معلم کے سامنے حاضر کرے گا، تاکہ وہ جائزہ لے اور لکھی ہوئی چيزوں کے بارے میں دونوں گروہوں سے چرچا کرے۔

سرگرمی (2) : پڑھوں گا اور واضح کروں گا :

نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : ”اللہ تعالی بندے کی اس بات سے خوش ہوتا ہے کہ وہ کھانا کھائے اور اس پر اللہ کی تعریف کرے اور پانی پیے اور اس پر اللہ کی تعریف کرے“۔ (صحیح مسلم : 2734)۔

اس حدیث کی روشنی میں اللہ کی نعمتوں کے تئيں ہماری ذمے داریاں واضح کیجیے۔

سرگرمی (3) چرچا کروں گا اور واضح کروں گا :

امام شافعی رحمہ اللہ نے سورۂ عصر کے بارے میں فرمایا ہے : "اگر لوگ اس سورت پر غور کر لیں، تو یہی ان کے لیے کافی ہو۔"

سورۂ عصر کی اس غیر معمولی اہمیت کے بارے میں اپنے معلم کے ساتھ چرچا کریں۔ ساتھ ہی ساتھ اس سورت کے اندر بیان کیے گئے نیکی کے کاموں اور صفات کو بھی بیان کریں۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

ایک مسلمان کا اپنا پورا وقت مال جمع کرنے میں کھپانا جائز ہے۔ (×)

نعمتوں کے حساب کے لیے تیاری ضروری ہے۔ (✓)

زمانے کی قسم کھانا جائز ہے۔ کیوں کہ خود اللہ نے اس کی قسم کھائی ہے۔ (×)

حلال طریقے سے مال کمانے اور حلال راستے میں خرچ کرنے والوں کے علاوہ سارے لوگوں کے لیے مال عذاب ہے۔ (✓)

سوال 2 : اختصار کے ساتھ آیتوں کا معنی واضح کریں :

کثرت کی چاہت نے تمھیں غافل کردیا۔ ۱ یہاں تک کہ تم نے قبرستان کى زیارت کرلى۔

زمانے کی قسم۔ ۱

سوال 3 : نیچے دیے گئے دونوں سوالوں کے جواب دیجیے :

ہميں ملی ہوئی اللہ کی نعمتوں کے تئیں ہماری کیا ذمے داری ہے؟

سورۂ عصر کی تفسیر سے آپ نے کیا استفادہ کیا؟ واضح کریں۔

پانچواں سبق : ’’سورۂ ہمزہ" اور ’’سورۂ فیل" کی تفسیر :

اغراض و مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

مذکورہ آیتوں کی مختصر تفسیر کر سکيں گے۔

ان آیتوں سے حاصل ہونے والے فوائد کو بیان کر سکیں گے۔

اپنے اہل خانہ کو غیبت اور چغل خوری وغیرہ سے خبردار کریں گے۔

مکہ مکرمہ کی تعظیم کریں گے۔

سورۂ ہمزہ

سورۂ ہمزہ

شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم واﻻ ہے۔

بڑی خرابی ہے ہر ایسے شخص کی جو عیب ٹٹولنے واﻻ غیبت کرنے واﻻ ہو۔ ۱ جو مال کو جمع کرتا جائے اور گنتا جائے۔ ۲

وه سمجھتا ہے کہ اس کا مال اس کے پاس سدا رہے گا۔ ۳ ہرگز نہیں، یہ تو ضرور توڑ پھوڑ دینے والی آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ ۴

اور تجھے کیا معلوم کہ ایسی آگ کیا ہوگی؟ ۵ وه اللہ تعالیٰ کی سلگائی ہوئی آگ ہوگی۔ ۶ جو دلوں پر چڑھتی چلی جائے گی۔ ۷

وہ ان پر ہر طرف سے بند کی ہوئی ہوگی۔ ۸ بڑے بڑے ستونوں میں۔ ۹) (سورۂ ہمزہ : 1-9)۔

تفسیر وتوضیح:

اس سورت میں ایمان والوں کا مذاق اڑانے اور ان کو گھمنڈ دکھانے والوں کے لیے بڑی سخت وعید ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے :

(وَيۡلٞ لِّكُلِّ هُمَزَةٖ لُّمَزَةٍ 1)، اس آیت میں اللہ تعالی نے ان لوگوں کو ہلاکت اور عذاب کی دھمکی دی ہے، جو اپنے قول وفعل سے لوگوں کى عیب جوئى کرتا رہتا ہے جیسے ان کی غیبت کرتا ہو ان کی دین داری کو نشانہ بناتا ہو اور ان کى عزت و آبرو پر پھبتیاں کستا پھرتا ہو۔

(ٱلَّذِي جَمَعَ مَالٗا وَعَدَّدَهُۥ 2 يَحۡسَبُ أَنَّ مَالَهُۥٓ أَخۡلَدَهُ3)، جو ہمیشہ مال جمع کرنے اور اسے گننے میں مشغول رہتا ہو اور سمجھتا ہو کہ اس کا مال اسے موت اور اس کے بعد درپیش حساب اور جزا و سزا سے بچا لے گا۔

(كَلَّاۖ لَيُنۢبَذَنَّ فِي ٱلۡحُطَمَةِ 4)، حالاں کہ بات ویسی نہيں ہے، جیسا یہ شخص سمجھتا ہے۔ اس کا مال اسے عذاب سے ہرگز بچا نہیں سکتا۔ اسے ایسی آگ میں ڈالا جائے گا، جو اپن اندر ڈالی جانے والی ہر چيز کو توڑ پھوڑ دیتی ہے۔

(وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا ٱلۡحُطَمَةُ ۵ نَارُ ٱللَّهِ ٱلۡمُوقَدَةُ ۶ ٱلَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى ٱلۡأَفۡ‍ِٔدَةِ ۷)، تجھے بھلا کیا معلوم کہ اس آگ کی حقیقت کیا ہے؟ وہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے، جس کے برانگیختہ شعلے جسموں کو چیرتے ہوئے دلوں تک جا پہنچیں گے۔

(إِنَّهَا عَلَيۡهِم مُّؤۡصَدَةٞ ۸ فِي عَمَدٖ مُّمَدَّدَةِۢ ۹)، اس آگ (میں لوگوں کو داخل کرنے کے بعد اس) کے دروازے باہر سے بند کر دیے جائيں گے۔ اس کے اندر موجود لوگوں کو لمبى لمبى زنجیروں اور طوقوں میں قید کر دیا جائے گا۔ وہ کسی بھی حال میں باہر نکل نہیں سکیں گے۔

سورۂ فیل

شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم واﻻ ہے۔

کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟ 1 کیا ان کے مکر کو بےکار نہیں کردیا؟ 2

اور ان پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیے۔ 3

جو انھیں مٹى کى پتھریلی کنکریاں مار رہے تھے۔ 4 پس انھیں کھائے ہوئے بھوسے کی طرح کردیا۔ 5 (سورۂ فیل : 1-5)۔

تفسیر :

یہ سورت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کس طرح اللہ تعالی نے اپنے مقدس گھر کعبہ کو ہاتھی والے لشکر سے بچایا تھا۔ اللہ تعالی فرماتا ہے :

(أَلَمۡ تَرَ كَيۡفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصۡحَٰبِ ٱلۡفِيلِ 1)، کیا آپ کو نہیں معلوم کہ اللہ تعالی نے ابرہہ حبشی اور اس کے لشکر کا کیا حشر کیا، جو ہاتھیوں کے ساتھ کعبہ کو گرانے کے مقصد سے آیئے تھے؟

(أَلَمۡ يَجۡعَلۡ كَيۡدَهُمۡ فِي تَضۡلِيلٖ 2)، اللہ نے ان کی سب تدبیروں پر پانی پھیر دیا۔ وہ نہ کعبہ کو گرا سکے اور نہ لوگوں کو خانۂ کعبہ کی تعظیم سے روک سکے۔

(وَأَرۡسَلَ عَلَيۡهِمۡ طَيۡرًا أَبَابِيلَ 3)، اللہ نے ان پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیے۔

(تَرۡمِيهِم بِحِجَارَةٖ مِّن سِجِّيلٖ 4)، جو ان کے اوپر مٹى کى پتھریلی کنکریاں برسا رہے تھے۔

(فَجَعَلَهُمۡ كَعَصۡفٖ مَّأۡكُولِۢ 5)، لہذا وہ سوکھی کھیتی کے ان پتوں کی طرح ہو گئے، جنھیں جانوروں نے کھا کر اگل دیا ہو۔

مذکورہ بالا آیتوں سے حاصل ہونے والے کچھ فوائد :

غیبت، چغل خوری اور مذاق اڑانے جیسی چيزیں لوگوں کے اندر نفرت پھیلاتی ہیں۔

اس شخص کے لیے آخرت میں عذاب کی وعید ہے جو غیبت، چغل خوری اور مذاق اڑانے جیسی چیزوں میں ملوث ہوتا ہو۔

اللہ کے یہاں خانۂ کعبہ کی عظمت۔

اللہ تعالی کی حرمتوں کو پامال کرنے والے اللہ کی قدرت کے دائرے سے باہر نہيں ہيں۔

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : جوڑوں گا اور واضح کروں گا :

اللہ تعالٰی نے کہا ہے : "اے ایمان والو! کوئی قوم دوسری قوم سے مسخرا پن نہ کرے ممکن ہے کہ یہ اس سے بہتر ہو اور نہ عورتیں عورتوں سے، ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہوں، اور آپس میں ایک دوسرے کو عیب نہ لگاؤ اور نہ کسی کو برے لقب دو۔ ایمان کے بعد فسق برا نام ہے، اور جو توبہ نہ کریں وہی ظالم لوگ ہیں۔" (سورۂ حجرات : 11)۔

اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ان آیتوں کو پڑھیں اور اس کے بعد ان کی مدد سے نيچے دیے گئے سوالوں کے جواب دیں :

مومن مردوں اور عورتوں کا مذاق اڑانے سے منع کرنے کی وجہ کیا ہے؟

ان لوگوں کا کیا حکم ہے، جو ان اعمال پر مصر رہتے ہیں اور ان سے توبہ نہيں کرتے؟

سرگرمی (2) : تلاش کروں گا اور جواب دوں گا :

ہاتھی والے لشکر کے بارے میں کوئی لیکچر یا ویڈیو کلپ دیکھیں اور اس کے بعد نیچے دیے گئے سوالات کا جواب دیں :

ابرہہ کون تھا؟

ابرہہ نے مکہ پر فوج کشی کیوں کیا؟

اس لشکر کے تعلق سے اہل مکہ کا کیا موقف تھا؟

اس حادثہ کا عرب کے لوگوں کے اندر قریش کے مقام و مرتبے پر کیا اثر پڑا؟

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

ہاتھی والے لشکر کے مکہ پر حملہ کرنے کا واقعہ اللہ کی نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت سے کچھ مہینوں پہلے پیش آیا تھا۔

مذاق اڑانا اور طعنہ دینا ایمان والوں کا شیوہ نہیں ہے۔

غیبت اور چغل خوری صغیرہ گناہ ہیں۔

سوال 2 : نیچے دی گئی آيتوں کا معنی اختصار کے ساتھ لکھیں :

(بڑی خرابی ہے ہر ایسے شخص کی جو عیب ٹٹولنے واﻻ غیبت کرنے واﻻ ہو. 1 جو مال کو جمع کرتا جائے اور گنتا جائے۔3)

(جو انھیں مٹى سے بنے پتھریلى کنکریاں مار رہے تھے۔ پس انھیں کھائے ہوئے بھوسے کی طرح کردیا۔5)۔

سوال 3 : نیچے دیے کئے دونوں سوالوں کے جواب دیجیے :

اس سبق کی روشنی میں ہاتھی والے لشکر کے واقعے کا خلاصہ لکھیں۔

ایسے شخص کو کچھ نصیحت کریں، جو لوگوں کا مذاق اڑاتا اور ان کی عزت و آبرو پر حملہ کرتا ہو۔

چھٹا سبق : "سورۂ قریش" اور "سورۂ ماعون" کی تفسیر

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

مذکورہ آیتوں کی مختصر تفسیر کر سکیں گے۔

اللہ تعالی کی نعمتوں کے بارے میں قریش کا موقف بیان کر سکيں گے۔

ان آیتوں سے حاصل ہونے والے فوائد کو بیان کر سکیں گے۔

آخرت کو جھٹلانے والوں اور اس سے غفلت برتنے والوں کى صفات سے اجتناب کریں گے۔

سورۂ قریش

(شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم واﻻ ہے۔

قریش کے مانوس کرنے کے سبب۔ 2 (یعنی) انھیں جاڑے اور گرمی کے سفر سے مانوس کرنے کے سبب۔ (اس کے شکریہ میں)۔ 2

پس انھیں چاہیے کہ اسی گھر کے رب کی عبادت کرتے رہیں۔ 3 جس نے انھیں بھوک میں کھانا دیا اور خوف میں امن (وامان) دیا۔ 4)

(سورۂ قریش : 1-4)۔

تفسیر :

یہ سورت اہل مکہ پر اللہ کا فضل و کرم بیان کر رہی ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے :

(لِإِيلَٰفِ قُرَيۡشٍ 1 إِۦلَٰفِهِمۡ رِحۡلَةَ ٱلشِّتَآءِ وَٱلصَّيۡفِ 2)، قریش کے جاڑے کے موسم میں یمن کی جانب اور گرمی کے موسم میں شام کی جانب تجارتی اسفار کرنے کی عادت اور معمول کی وجہ سے۔

(فَلۡيَعۡبُدُواْ رَبَّ هَٰذَا ٱلۡبَيۡتِ 3)، ان کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ صرف اس مقدس گھر کے رب کی عبادت کریں، جس نے ان کے لیے ان اسفار کو آسان بنا دیا۔

(ٱلَّذِيٓ أَطۡعَمَهُم مِّن جُوعٖ وَءَامَنَهُم مِّنۡ خَوۡفِۢ 4)، جس نے ان کو ان کے علاقوں میں روزی دی اور امن و امان عطا فرمایا۔

سورۂ ماعون

شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم واﻻ ہے۔

’’کیا تو نے (اسے بھی) دیکھا جو (روزے) جزا کو جھٹلاتا ہے؟ 1 یہی وه ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے۔ 2

اور مسکین کو کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا۔ 3 ان نمازیوں کے لیے ہلاکت ہے۔ 4

جو اپنی نماز سے غافل ہیں۔ 5

جو ریاکاری کرتے ہیں۔ 6 اور برتنے کی (عام) چیز روکتے ہیں۔ 7) (سورۂ ماعون : 1-7)۔

تفسیر وتوضیح :

یہ سورت آخرت کو جھٹلانے والوں کے اخلاق بیان کر ہی ہے، تاکہ ہم ان سے خبردار رہيں اور ان کے قریب جانے سے بچیں۔ اللہ عز و جل نے کہا ہے :

(کیا تو نے (اسے بھی) دیکھا جو (روزے) جزا کو جھٹلاتا ہے؟ 1)، کیا آپ نے اسے نہیں جانا جو دوبارہ زندہ ہوکر اٹھنے اور قیامت کے دن جزا کے مرحلے سے گزرنے کو جھٹلاتا ہے؟

(یہی وه ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے۔ 2)، یہی ہے جو یتیم کو سختی کے ساتھ دور ہٹاتا ہے اور اس کے ساتھ اہانت آمیز رویہ روا رکھتا ہے۔

(اور مسکین کو کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا۔ 3)، اور مسکین کو کھانا کھلانے کا نہ تو حکم دیتا ہے اور نہ اس سلسلے میں کوئی تعاون کرتا ہے۔

(ان نمازیوں کے لیے ہلاکت ہے 4 جو اپنی نماز سے غافل ہیں 5)، لہذا ان لوگوں کے لیے سخت عذاب ہے، جو نماز میں سستی کرتے ہیں اور اسے وقت پر ادا نہیں کرتے۔

(جو ریاکاری کرتے ہیں 6)، جو لوگوں کے سامنے ریا و نمود کے لیے دکھا کر نیکی کے کام کرتے ہیں۔

اور برتنے کی (عام) چیز روکتے ہیں 7)، اور جو لوگوں کو فائدہ پہنچانے اور عام حاجت کی چیزیں، جیسے برتن وغیرہ عاریتََا دینے سے گریز کرتے ہیں۔ اس طرح وہ نہ تو اپنے رب کی اچھی طرح عبادت کرتے ہیں اور نہ مخلوق کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتے ہيں۔

مذکورہ بالا آیتوں سے حاصل ہونے والے کچھ فوائد :

امن و شانتی اور کھانے پینے کی چیزوں کی دست یابی بھی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔

نعمتوں کا شکر ادا کرنے سے نعمتوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے، جب کہ ناشکری اور ناقدری سے نعمتیں چھن جاتی ہیں۔

آخرت کو جھٹلانے والے اور اس سے غفلت برتنے والے نہ تو اللہ کا حق ادا کرتے ہیں اور نہ بندوں کا حق ادا کرتے ہیں۔ وہ لوگوں کا بھلا کرنے سے دست کش رہتے ہیں اور یتیموں اور ضعیفوں کی عزت نہیں کرتے۔

ریا کاری، نماز ترک کرنے اور بلاعذر دیر سے پڑھنے کی سنگینی۔

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : ملاحظہ کروں گا اور واضح کروں گا:

نيچے دیے گئے نقشے کو دیکھیں اور پتہ کریں کہ قریش کے لوگ کہاں کہاں تجارت کے لیے جایا کرتے تھے؟

ان نعمتوں کے سلسلے میں قریش کا موقف واضح کریں۔

سرگرمی (2) : پہچان کر الگ کروں گا :

سورۂ ماعون سے جدول کے تقاضوں کا خیال رکھتے ہوئے وہ آیتیں لکھیں، جو جھٹلانے والوں کا حال بیان کرتی ہیں :

یتیموں کے ساتھ ان کا حال : (فَذَٰلِكَ ٱلَّذِي يَدُعُّ ٱلۡيَتِيمَ2)

مسکینوں کے ساتھ ان کا حال : (وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ ٱلۡمِسۡكِينِ 3)

نماز کے ساتھ ان کا معاملہ : (فَوَيۡلٞ لِّلۡمُصَلِّينَ 4 ٱلَّذِينَ هُمۡ عَن صَلَاتِهِمۡ سَاهُونَ 5)

اخلاص کے بارے میں ان کا حال : (ٱلَّذِينَ هُمۡ يُرَآءُونَ 6)

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

مکہ اور اہلِ مکہ کا اسلام سے پہلے بڑا اونچا مقام تھا۔

آخرت پر ایمان مومن کو ضعیفوں کی مدد کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔

نماز چھوڑنا سچے ایمان کے منافی نہیں ہے۔

ریاکاری عمل کو ضائع کر دیتی ہے اور آخرت میں عذاب کا سبب بنتی ہے۔

سوال 2 : نیچے دی گئی آیتوں کا مختصر معنی لکھیں :

(اس کے شکریہ میں) پس انھیں چاہیے کہ اسی گھر کے رب کی عبادت کرتے رہیں۔ 3)۔

(جو ریاکاری کرتے ہیں۔ 6 اور برتنے کی (عام) چیز روکتے ہیں۔ 7)۔

سوال 3 : نیچے دیے گئے دونوں سوالوں کے جواب دیجیے :

قریش کو اللہ کی جانب سے ملنے والی نعمتیں بیان کریں اور بتائيں کہ ان کے بارے میں قریش کا کیا موقف تھا؟

سورۂ ماعون کی روشنی میں آخرت کو جھٹلانے والوں کے اعمال بیان کریں۔

اکائی : ایمان اور تزکیہ

پہلا سبق : توحید کی فضیلت اور مقام و مرتبہ

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

توحید کا مقصود واضح کر سکیں گے۔

توحید کے فضائل گنوا سکیں گے۔

توحید کی عظمت محسوس کریں گے۔

لوگوں کو توحید کی دعوت دیں گے۔

توحید :

تعریف :

فضیلت اور مقام و مرتبہ :

اللہ کا حق

تخلیق اور رسولوں کے بھیجے جانے کا مقصد

اعمال کے قبول ہونے کی شرط

گناہوں اور معاصى کا کفارہ بننا

توحید بندے پر پہلا واجب ہے اور اسی کے نشر و اشاعت کے لیے اللہ نے رسول بھیجے اور کتابیں اتاریں۔ اللہ نے جنت کو توحید کی راہ پر چلنے والوں کے لیے ثواب اور جہنم کو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے والوں کے لیے سزا قرار دیا ہے۔

اب یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ توحید کیا ہے اور اس کی فضیلت اور اہمیت کیا ہے؟

یہی وہ باتیں ہیں، جنھیں ہم اس سبق میں سیکھیں گے۔

اول : توحید کی تعریف :

توحید : اللہ کو اس کے ساتھ خاص چیزوں؛ ربوبیت، الوہیت اور اسما و صفات میں ایک ماننا۔

لہذا لازمی طور پر ایک مسلمان کا عقیدہ ہونا چاہیے کہ اللہ کے سوا کوئی خالق، رازق اور مدبر نہیں ہے، اللہ کے سوا کوئی برحق معبود نہيں ہے، اللہ ہر کمال سے متصف ہے اور ہر نقص سے منزہ ہے۔ اس کے اچھے اچھے نام اور اونچے اوصاف ہیں۔

دوم : توحید کی فضیلت اور اس کا مقام و مرتبہ :

توحید کی بڑی فضیلت اور بڑی اہمیت ہے، جس سے درج ذیل سطور سے رو بہ رو ہو سکتے ہیں۔

توحید بندوں پر اللہ کا حق ہے :

معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ نے مجھ سے فرمایا : "اے معاذ! کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کے کیا حقوق ہيں اور اللہ پر بندوں کے کیا حقوق ہيں؟" (معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہيں کہ) میں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول کو بہتر معلوم ہے۔ آپ نے کہا : "بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ بندے اس کی عبادت کریں اور کسی کو اللہ کا شریک نہ بنائیں، جب کہ اللہ پر بندوں کا حق یہ ہے کہ اللہ ایسے شخص کو عذاب نہ دے، جو کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو۔" (صحیح بخاری : 2856، صحیح مسلم : 30)

توحید ہی وہ مقصد ہے، جس کے لیے اللہ نے مخلوقات کو پیدا کیا ہے :

اللہ تعالٰی نے کہا ہے : "میں نے جنات اور انسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وه صرف میری عبادت کریں۔" (سورہ ذاریات : 56)

توحید کی دعوت ہی رسولوں کے بھیجے جانے کا مقصد ہے :

اللہ تعالٰی نے کہا ہے : "تجھ سے پہلے بھی جو رسول ہم نے بھیجا، اس کی طرف یہی وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے۔ پس تم سب میری ہی عبادت کرو۔" (سورہ انبیاء : 25)

توحید اعمال کے قبول ہونے کی شرط ہے :

اللہ تعالٰی نے کہا ہے : "اور جس کا اراده آخرت کا ہو اور جیسی کوشش اس کے لیے ہونی چاہیے، وه کرتا بھی ہو اور وه با ایمان بھی ہو، پس یہی لوگ ہیں جن کی کوشش کی اللہ کے ہاں پوری قدردانی کی جائے گی۔" (سورہ اسراء : 19)

اللہ تعالی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو بتایا ہے کہ شرک انسان کے اعمال کو ضائع کر دیتا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے : "یقیناً تیری طرف بھی اور تجھ سے پہلے (کے تمام نبیوں) کی طرف بھی وحی کی گئی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو بلاشبہ تیرا عمل ضائع ہو جائے گا اور بالیقین تو زیاں کاروں میں سے ہوجائے گا۔" (سورہ زمر : 65)

توحید گناہوں کے مٹائے جانے کا سبب ہے :

ایک حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالی کہتا ہے : "اے ابن آدم! اگر تو میرے پاس زمین بھر کر گناہ لائے، پھر اس حال میں تو مجھ سے ملاقات کرے کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، تو میں اسی قدر تیری طرف مغفرت و بخشش لے کر آؤں گا‘‘۔ (سنن ترمذی : 3540)

توحید کی اہمیت اور فضیلت کی اس کے علاوہ اور بھی بہت ساری دلیلیں ہیں، اس لیے ہمیں توحید کی دولت کو شرک اور ریاکاری وغیرہ کی آلائشوں سے پاک رکھنا ہوگا، تاکہ دنیا و آخرت میں کام یاب و کامران ہو سکیں۔

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : غور و فکر اور انتخاب کروں گا :

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا : "تم اہلِ کتاب کی ایک قوم کے پاس جارہے ہو۔ سوتم انہیں سب سے پہلے اس بات کی طرف دعوت دینا کہ وہ اللہ کى وحدانیت کا اعتقاد رکھیں..." (صحیح بخاری : 7372)

یہ حدیث توحید کی اہمیت پر دلالت کرتی ہے اور وہ یہ کہ (صحیح آپشن کا انتخاب کریں) :

گناہوں کو مٹاتی ہے۔

پہلی چيز ہے جس کی ہم لوگوں کو دعوت دیں۔

عمل کے قبول ہونے کے لیے شرط ہے۔

سرگرمی (2) : میں بیان کروں گا :

توحید کی فضیلت کے بیان میں تین سطریں لکھیں، جس میں اللہ تعالی کے اس قول سے استشہاد کیا گیا ہو : "یقیناً اللہ تعالٰی اپنے ساتھ شریک کیے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جس کے لئے چاہے بخش دیتاہے۔" (سورہ نساء : 48) اسی طرح اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اس قول سے بھی استشہاد کیا گیا ہو : "جو شخص اس حال میں مرا کہ کسی کو اللہ کا شریک نہ بنایا، وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو شخص کسی کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہوئے مرا وہ جہنم جائے گا۔" (صحیح مسلم : 93)

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

اللہ کے سوا کوئی عبادت کا حق دار نہیں ہے۔

لوگوں کی تخلیق کا مقصد دنیا سے لطف اندوز ہونا ہے۔

اللہ ایمان والوں اور کافروں کا صدقہ قبول فرماتا ہے۔

سوال 2 : نیچے دیے گئے جملوں میں موجود غلطیوں کو درست کر کے ان کو دوبارہ لکھیں :

نماز اللہ تعالی کا سب سے اہم حق ہے۔

اللہ تعالی نے لوگوں کو جانور چرانا اور صنعت کرنا سکھانے کے لیے انبیا بھیجے۔

اللہ تعالی قیامت کے دن تمام انسانوں کو معاف کر دے گا۔

سوال 3 : نیچے دیے کئے دونوں سوالوں کے جواب دیجیے :

توحید کی تعریف لکھیں :

اس بات کی ایک دلیل لکھیں کہ توحید دخول جنت کا سبب ہے۔

دوسرا سبق : توحید ربوبیت

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! آپ سے یہ توقع ہوگی کہ اس سبق کے بعد آپ :

توحید ربوبیت کا مقصود واضح کر سکيں گے۔

توحید ربوبیت کی دلیل پیش کر سکيں گے۔

تین ایسے کام بتا سکيں گے، جو اللہ تعالی کے ساتھ خاص ہيں۔

ایسے کاموں کی مثال پیش کر سکيں گے، جو توحید ربوبیت کے منافی ہيں۔

ربوبیت میں شرک کی سنگینی محسوس کریں گے۔

ربوبیت میں شرک کے مظاہر کا سامنا حکمت کے ساتھ کریں گے۔

تمہید :

جان لیں -اللہ آپ کوسیدھا راستہ دکھائے- کہ توحید کی تین قسمیں ہيں : توحید ربوبیت، توحید الوہیت اور توحید اسما و صفات۔ اس درس میں توحید ربوبیت کے بارے میں بات ہوگی۔

توحید کے ایک رمز کے طور پر

توحید کی قسمیں :

ربوبیت

الوہیت

اسما و صفات

اول : توحید ربوبیت کی تعریف :

توحید ربوبیت : اللہ تعالی کو اس کے ساتھ خاص افعال، جیسے پیدا کرنا، روزی دینا اور تدبیر کرنا وغیرہ میں ایک ماننا۔

اور اس کا مفہوم ہے اس بات کا پختہ عقیدہ رکھنا کہ اللہ تعالی ہر چيز کا رب، مالک، خالق اور رازق ہے اور ساری مخلوقات اس کى سلطنت، قہرمانیت اور قوت کے ماتحت ہیں۔

دوم : ربوبیت پر ایمان کو مکمل کرنے کا طریقہ :

ربوبیت پر ایمان کو پایہ تحقیق اور تکمیل تک پہونچانے کے لیے اس بات پر ایمان رکھنا ضروری ہے کہ درج ذیل باتیں اللہ تعالی کے ساتھ ہى خاص ہیں:

پیدا کرنا اور روزی دینا :

چنانچہ اللہ کے سوا نہ کوئی خالق ہے اور نہ رازق۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "اللہ ہر چیز کا خالق ہے۔" (سورہ زمر : 62)

نیز یہ ارشاد باری تعالی ہے: "زمین پر چلنے پھرنے والے جتنے جاندار ہیں سب کی روزیاں اللہ تعالیٰ پر ہیں۔" (سورہ ہود : 6)

ملک و تدبیر :

کائنات کی ہر چیز کا مالک اور اس کی تدبیر کرنے والا صرف اور صرف اللہ تعالی ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : " وہی ہے اللہ تم سب کا پالنے واﻻ۔ اسی کی سلطنت ہے۔" (سورہ فاطر : 13) اللہ تعالی نے یہ بھى فرمایا ہے : "وہی کام کی تدبیر کرتا ہے۔" (سورہ رعد : 2)

نفع و ضرر :

اللہ ہی مطلق نفع و ضرر کا مالک ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا تھا : "یہ بات جان لو کہ اگر ساری امت بھی جمع ہو کر تمہیں کچھ نفع پہنچانا چاہے، تو وہ تمہیں اس سے زیادہ کچھ بھی نفع نہیں پہنچا سکتی، جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے اور اگر وہ تمہیں کچھ نقصان پہنچانے کے لیے جمع ہو جائے، تو اس سے زیادہ کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی، جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے۔" (سنن ترمذی : 2516)

زندگى اور موت دینا:

زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : " اور اللہ تعالیٰ زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے۔" (سورہ آل عمران : 156)

سوم : توحید ربوبیت کے کچھ نواقض:

اللہ کے وجود کا انکار کرنا :

مثلا ملحدین اللہ کے وجود کا انکار کرتے ہیں اور دعوی کرتے ہیں کہ کائنات کا وجود ایک دھماکے کے نتیجے میں وجود میں آیا ہے۔

علم غیب کا دعوی کرنا :

جس نے علم غیب کا دعوی کیا، جیسے کاہن اور عراف وغیرہ، اس نے اللہ کے ساتھ کفر کیا۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے : "کہہ دیجیے کہ آسمانوں والوں میں سے اور زمین والوں میں سے سوائے اللہ کے کوئی غیب نہیں جانتا۔" (سورہ نمل : 65)

اس بات کا دعوی کرنا کہ اس کائنات میں غیراللہ کا بھی تصرف چلتا ہے یا وہ روزی دیتا ہے۔

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : پڑھوں گا اور جواب دوں گا :

مصحف سے رجوع کریں، سورہ بقرہ کی آیت نمبر(258) لکھیں اور اس کے بعد نیچے دیے گئے سوالوں کا جواب دیں :

اس ربوبیت کا مظہر کیا ہے، جس کا دعوی مذکورہ بادشاہ نے کیا تھا؟

اللہ کے نبی ابراہیم علیہ السلام نے مذکورہ بادشاہ کو اپنی دلیل سے کیسے خاموش کر دیا؟

اس موقف سے آپ نے کیا سیکھا؟

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "کیا تونے اسے نہیں دیکھا جو ابراہیم (علیہ السلام) سے اس کے رب کے بارے میں جھگڑ رہا تھا، جسے اللہ نے بادشاہت عطا کی تھی، جب ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کہ میرا رب تو وه ہے جو جِلاتا ہے اور مارتا ہے۔ وه کہنے لگا : میں بھی جِلاتا اور مارتا ہوں۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا : اللہ تعالیٰ سورج کو مشرق کی طرف سے لے آتا ہے، تو اسے مغرب کی جانب سے لے آ۔ اب تو وه کافر بھونچکا ره گیا۔ اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔" (سورہ بقرہ : 258)

مذکورہ بادشاہ کا نام نمرود بن کنعان تھا۔ اس نے دعوی کیا تھا کہ زندگی دینے اور مارنے کا کام وہی کرتا ہے۔ لہذا اللہ کے برگزیدہ نبی ابراہیم علیہ السلام نے مغرب سے سورج طلوع کروانے کی بات کہہ کر اسے خاموش کر دیا۔

سرگرمی (2) : دیکھوں گا اور جواب دوں گا :

روزی کا مسئلہ ان مسائل میں سے ہے، جو لوگوں کو الجھن میں ڈالے رکھتے ہیں۔ یہاں آپ نے جانا کہ روزی صرف اللہ ہی دیتا ہے۔ ایسے میں آپ بتائيں کہ اللہ سے روزی کیسے حاصل کی جائے؟

آپ اپنے ساتھیوں کے ساتھ روزی حاصل کرنے کے طریقوں پر گفتگو کریں، جن میں سے اہم ترین طریقے دعا اور اللہ پر توکل ہیں۔

سرگرمی (3) دیکھوں گا اور قدر کا اندازہ لگاؤں گا :

ربوبیت میں شرک کے کئی مظاہر ہو سکتے ہیں۔ نیچے دیے گئے مظاہر میں سے کون کون سے مظاہر آپ کے ماحول میں موجود ہيں اور آپ حکمت کے ساتھ ان کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہيں؟

یہ عقیدہ کہ اولیا اور نیک لوگوں کے پاس لوگوں کے زندگیوں سے متعلق تصرف کا حق ہے۔

جنات کا خوف، ان سے فریاد کرنا اور ان کے لیے نذر و نیاز کرنا۔

کہانت اور علم غیب کا دعوی۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : مندرجۂ ذیل میں صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) كا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

نمرود نے مردوں کو زندہ کرنے کے اپنے دعوی کو دلیل کے ذریعے ثابت کر دیا۔ (✖)

ڈاکٹر حضرات لوگوں کو امراض سے شفا دیتے ہیں۔ (✖)

الحاد توحید ربوبیت کے منافی ہے۔ (✓)

سوال 2 : قوسین کے درمیان سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

توحید ربوبیت نام ہے اللہ کو خاص ماننے کا:

(اطاعت گزاری کے ساتھ - عبادات کے ساتھ- اس کے افعال کے ساتھ خاص)

مومن روزی کے سلسلے میں توکل کرتا ہے :

(والدین پر - صرف اللہ تعالی پر - آفس کے مدیر پر)

توحید ربوبیت کے نواقض میں سے ہے:

(علم غیب کا دعوی - مُردوں کی زیارت - نیک لوگوں کا وسیلہ لینا)

سوال 3 : نیچے دیے گئے ہر بیان کی ایک ایک دلیل لکھیں :

نفع و ضرر صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

غیب کا دعوی کرنا حرام ہے۔

تیسرا سبق : توحید الوہیت

اغراض و مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

توحید الوہیت کا مقصود واضح کر سکیں گے۔

توحید الوہیت کی دلیل پیش کر سکیں گے۔

عبادتوں کے انواع گنوا سکيں گے۔

توحید الوہیت کے نواقض کی مثال پیش کر سکیں گے۔

توحید الوہیت اور توحید ربوبیت کے درمیان ربط پیدا کر سکيں گے۔

الوہیت میں شرک کی سنگینی محسوس کر سکیں گے۔

الوہیت میں شرک کے مظاہر کا سامنا حکمت کے ساتھ کریں گے۔

تمہید :

عرب کے لوگ بتوں کی پوجا تو کرتے تھے، لیکن اس بات کا اقرار بھی کرتے تھے کہ اللہ ہی خالق اور رازق ہے۔ ایسے میں ان کے کفر کا سبب کیا ہے؟

یہی وہ بات ہے، جسے ہم اس سبق کے توسط سے جانیں گے۔

توحید کی قسمیں :

ربوبیت

الوہیت

اسما و صفات

اول : توحید الوہیت کی تعریف :

توحید الوہیت نام ہے تمام طرح کی عبادتیں صرف اللہ کے لیے کرنے کا۔

يعني توحید الوہیت اس بات کا پختہ اعتقاد ہے کہ بس ایک اللہ ہی تمام طرح کی عبادتوں کا مستحق ہے اور غیراللہ کی کوئی بھی عبادت شرک ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "آپ فرما دیجیے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کا ہے، جو سارے جہان کا مالک ہے۔" (سورہ انعام : 162)

عبادت کی بہت سی قسمیں ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی قسم غیراللہ کے لیے بجا لانا جائز نہیں ہے۔ جیسے :

قلبی عبادتيں، جیسے خوف، رجا، توکل اور مدد مانگنا وغیرہ۔

قولی عبادتیں، جیسے دعا، ذکر، تسبیح اور قرآن پڑھنا وغیرہ۔

بدنی عبادتیں، جیسے نماز، روزہ، حج اور جہاد وغیرہ۔

دوم : توحید الوہیت اور توحید ربوبیت کے درمیان تعلق :

توحید الوہیت اور توحید ربوبیت کے درمیان کے تعلق کو درج ذیل نکات سے سمجھا جا سکتا ہے :

توحید ربوبیت توحید الوہیت کو لازم کرتی ہے :

پس جس نے اللہ کے رب ہونے کا اقرار کیا، اس پر صرف ایک اللہ کی عبادت کرنا لازم ہے۔ کیوں کہ عبادت اسی کی کی جائے گی، جو رب، خالق، مالک اور مدبر ہو۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "اے لوگو! اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے کے لوگوں کو پیدا کیا، یہی تمہارا بچاؤ ہے۔" (سورہ بقرہ : 21)

توحید ربوبیت کا اقرار توحید الوہیت سے بے نیاز نہيں کرتا :

جس نے توحید ربوبیت کا اقرار تو کیا، لیکن غیراللہ کی عبادت بھی کی، اس کے حق میں توحید ربوبیت کا اقرار ذرا بھی سود مند نہيں ہوگا، جب تک ساری عبادتیں صرف اللہ کے لیے نہ کرے۔

خود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے مشرکوں سے پوچھا کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا اور سورج اور چاند کو کس نے مسخر کیا تو انھوں نے جواب میں کہا کہ یہ سارا کام اللہ کا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ کافر ہی رہے، کیوں کہ انہوں نے غیراللہ کے لئے عبادتوں کو پھیر دیا اور اللہ کے ساتھ ساتھ اوروں کى پرستش کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "اور اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ زمین وآسمان کا خالق اور سورج چاند کو کام میں لگانے واﻻ کون ہے؟ تو ان کا جواب یہی ہوگا کہ اللہ تعالیٰ۔ پھر کدھر الٹے جا رہے ہیں؟" (سورہ عنکبوت : 61)

سوم : توحید الوہیت کے بعض نواقض کا تذکرہ:

غیراللہ کی عبادت۔ جیسے بتوں، گائے یا عیسی بن مریم علیہ السلام کی عبادت۔

غیراللہ سے دعا کرنا۔ جیسے قبروں میں دفن لوگوں سے شفا یا رزق وغیرہ کی دعا کرنا۔

غیراللہ کے لیے نذر ماننا یا جانور ذبح کرنا۔

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : باہمی تعاون سے نکتے نکالوں گا :

اللہ تعالی نے فرمایا ہے : "میں نے جنات اورانسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وه صرف میری عبادت کریں۔" (سورہ ذاریات : 56) اس آيت کریمہ کی روشنی میں نیچے دیے گئے سوالوں کے جواب دیجیے :

توحید کے اس قسم کی نشان دہی کیجیے، جس کی جانب مذکورہ آیت اشارہ کرتی ہے۔

آپ کے ذریعے اللہ کی خوش نودی کے لیے کی جانے والی چار عبادتوں کے نام لکھیے۔

سرگرمی (2) توحید کی دونوں قسموں کے درمیان فرق کروں گا :

مناسب کالم میں صحیح کا نشان (√) رکھ کر نیچے دیے گئے افعال کے درمیان فرق کریں :

افعال

محمد نے عصر کی نماز پڑھی۔

اس بات کا اقرار کہ اللہ نے سورج کو پیدا کیا ہے۔

زید نے اپنے رب کو پکارا۔

اللہ تعالی نے جانوروں کو انسان کے کام پر لگا رکھا ہے۔

حسن نے اللہ کی خوش نودی حاصل کرنے کے لیے ایک بکری ذبح کرنے کی منت کی۔

فاطمہ کا ایمان ہے کہ اللہ ہی ساری مخلوقات کو روزی دیتا ہے۔ توحید ربوبیت کی مثال توحید الوہیت کی مثال

سرگرمی (3) : دھیان سے دیکھوں گا اور تصحیح کروں گا :

اپنے ساتھی کے ساتھ اپنے معاشرہ میں کیے جانے والے تین ایسے کاموں کے بارے میں مناقشہ کریں، جو توحید الوہیت کے منافی ہیں اور پھر ان کی تصحیح کریں۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : قوسین کے درمیان سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

قلبی عبادت کی مثال ہے :

(محبت - تسبیح - روزہ)

توحید الوہیت کے نواقض میں سے ہے:

(نماز - علم غیب کا دعوی کرنا - مُردوں کو پکارنا)

اللہ کے لیے جانور ذبح کرنا مثال ہے :

(توحید الوہیت کی - توحید ربوبیت کی - توحید اسما و صفات کی)

سوال 2 : نیچے دیے گئے جملوں میں موجود غلطیوں کو درست کر کے ان کو دوبارہ لکھیں :

توحید ربوبیت نام ہے صرف ایک اللہ کی عبادت کرنے کا۔

مزاروں کا طواف توحید الوہیت کے منافی نہيں ہے۔

زکاۃ ان بدنی عبادتوں میں سے ہے، جو اللہ کے لیے واجب ہیں۔

توحید ربوبیت توحید الوہیت سے بے نیاز کر دیتی ہے۔

سوال 3 : نیچے دیے کئے دونوں سوالوں کے جواب دیجیے :

اس بات کی ایک دلیل لکھیں کہ ساری عبادتیں صرف اللہ کے لیے واجب ہیں۔

دو عمل لکھیں، جو توحید الوہیت کے منافی ہوں۔

چوتھا سبق : توحید اسما و صفات

اغراض و مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

توحید اسما و صفات کا مفہوم واضح کر سکیں گے۔

ان صفات کا استنباط کر سکیں گے، جن پر اللہ تعالی کے اسما دلالت کرتے ہیں۔

اللہ کى صفات کی قسموں کے درمیان فرق کر سکیں گے۔

توحید کی تینوں قسموں کے درمیان فرق کر سکيں گے۔

اللہ کے اسما و صفات پر ایمان کی اہمیت محسوس کر سکیں گے۔

اللہ تعالی کے اسما کی ایک تختی ڈیزائن کر سکيں گے۔

توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کو سیکھنے کے بعد اس سبق میں ہم توحید کی تیسری قسم یعنی توحید اسما و صفات کے بارے میں بات کریں گے۔

توحید کی قسمیں :

توحید ربوبیت

توحید الوہیت

توحید اسما و صفات

اول : توحید اسما و صفات کا معنی :

توحید اسما و صفات سے مراد ہے قرآن کریم اور سنت نبوی میں آئے ہوئے اللہ کے اسما و صفات پر ایمان رکھنا۔

اس کے اندر اس بات پر ایمان بھی شامل ہے کہ اللہ کے سارے نام اچھے اور کامل ترین ہیں۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "اور اچھے اچھے نام اللہ ہی کے لیے ہیں سو ان ناموں سے اللہ ہی کو موسوم کیا کرو۔" (سورہ اعراف : 180) اسی طرح اس کے اندر اس بات پر ایمان بھی داخل ہے کہ اللہ کى صفات مخلوقات کى صفات کے مشابہ نہيں ہیں۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "اس جیسی کوئی چیز نہیں۔ وه سننے اور دیکھنے واﻻ ہے."۔ (سورہ شوری : 11)

دوم : اللہ تعالی کے اسما :

تعریف :

اللہ تعالی کے اسما سے مراد وہ اسما ہیں، جن کو اللہ تعالی نے اپنے لیے خاص رکھا ہے۔ یہ سارے اسما مدح و ثنا پر مشتمل ہیں۔ جیسے اللہ تعالی کا قول ہے : "وہی اللہ ہے اندازہ تخلیق کرنے واﻻ، وجود بخشنے واﻻ، صورت بنانے واﻻ، اسی کے لیے (نہایت) اچھے نام ہیں۔" (سورہ حشر : 24)

اور نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: "بلاشبہ اللہ ہی پیدا کرنے والا، روزی میں تنگی لانے والا، کشادگی لانے والا اور روزی دینے والا ہے۔" (سنن ترمذی : 1314)

اللہ کے اسما اس کى صفات پر دلالت کرتے ہیں :

اللہ تعالی کا ہر نام اس صفت پر مشتمل ہے، جس پر وہ دلالت کرتا ہے۔ جیسے کہ اللہ تعالی کا نام "الغفور" اس کے معاف کرنے کی صفت پر دلالت کرتا ہے۔ اسی طرح اس کا نام "الرحمن" اس کی صفت رحمت پر دلالت کرتا ہے۔ یہی حال اس کے تمام ناموں کا ہے۔

سوم : اللہ تعالی کى صفات :

ان سے مراد اللہ کى وہ صفات ہیں، جنھیں اس نے اپنے لیے ثابت کیا ہے اور جو کمال پر دلالت کرتے ہيں۔ لہذا انھیں اللہ کے لیے اس کے شایان شان طریقے سے ثابت کرنا ضروری ہے۔ جیسے اللہ کی صفتِ حیات ہے، اللہ تعالی نے فرمایا ہے : "اللہ تعالیٰ وه ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، جو زنده اور سب کا نگہبان ہے۔" (سورہ بقرہ : 255)

وہ صفات جن کى اللہ سے نفی کی گئی ہے :

اللہ تعالی نے اپنے لئے ایسے اوصاف کی نفی کی ہے، جو کسی طرح کے نقص پر دلالت کرتے ہيں۔ جیسے مرنا اور سونا وغیرہ۔ ارشاد باری تعالی ہے : "اس ہمیشہ زنده رہنے والے اللہ تعالیٰ پر توکل کریں، جسے کبھی موت نہیں۔" (سورہ فرقان : 58)

جب کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : "اللہ تعالی سوتا نہیں ہے، اور سونا اس کے شایان شان بھی نہیں ہے۔" (صحیح مسلم : 179)

اللہ تعالی نے اپنے لئے وصف ظلم کی بھی نفی کی ہے۔ ارشاد ربانی ہے : "اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہيں کرتا۔" (سورہ کہف : 49)

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : اللہ کے نام نکالوں گا اور درجہ بندی کروں گا :

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "اللہ تعالیٰ ہی ہے، جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ جو زنده اور سب کا تھامنے واﻻ ہے۔ جسے نہ اونگھ آئے نہ نیند۔ اس کی ملکیت میں زمین اور آسمانوں کی تمام چیزیں ہیں۔ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے؟ وه جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وه اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جتنا وه چاہے۔ اس کی کرسی کی وسعت نے زمین و آسمان کو گھیر رکھا ہے اور ان دونوں (زمین و آسمان) کى حفاظت اللہ کے لئے بھارى نہیں ہے۔ وه تو بہت بلند اور بہت بڑا ہے۔" (سورہ بقرہ : 255)

اپنے دو ساتھیوں کی مدد سے اس آیت کریمہ سے اللہ تعالی کے اسما و صفات کے ساتھ ساتھ وہ صفات بھی نکالیں، جن کی اس نے اپنے لئے نفی کی ہے :

اللہ تعالی کے اسما

اللہ تعالی کى صفات

وہ صفات جن کی نفی کی گئی ہے

سرگرمی (2) : ایک دوسرے کی مدد سے پوسٹر بناؤں گا :

اپنے کسی ساتھی کی مدد سے ایک پوسٹر پر اللہ تعالی کے دس نام لکھیں اور اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

ہم اللہ کو کوئی بھی اچھا نام دے سکتے ہيں۔

اللہ تعالی کا نام "العلیم" اس کی صفت علم کو شامل ہے۔

اللہ تعالی کا قول "لاَ تَأْخُذُهُ سنةٌ وَلَا نومٌ" اللہ کی ثبوتی صفت پر دلالت کرتا ہے۔

سوال 2 : قوسین کے درمیان سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

سنت نبویہ سے ثابت اللہ تعالی کے کچھ نام :

(القابض یعنی تنگ کرنے والا - القيوم یعنى تھامنے والا- العظيم یعنى عظمت والا) )

اللہ تعالی کے بارے میں جن صفات کی نفی کی گئی ہے، ان میں ایک صفت ہے :

(سننا - مرنا - علم رکھنا)

اللہ تعالی کا ایک نام ہے :

(قدیم - البصير يعني دیکھنے والا - القدرة يعني قدرت رکھنا)

سوال 3 : نیچے دیے گئے دونوں سوالوں کے جواب دیجیے :

توحید اسما و صفات سے کیا مراد ہے؟

اس بات کی ایک دلیل لکھیں کہ اللہ تعالی کے جیسی کوئی چيز نہيں ہے۔

پانچواں سبق : عبادت اور اس کی قسمیں

اغراض و مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

عبادت کا مفہوم بیان کر سکیں گے۔

عبادت کی قسموں اور صورتوں کے درمیان فرق کر سکیں گے۔

عبادت کی اہمیت کی دلیل پیش کر سکيں گے۔

عبادت کے ثمرات کی دلیل دے سکيں گے۔

عبادت کی عظمت محسوس کریں گے۔

واجب عبادتیں ادا کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔

تمہید :

پچھلے سبق سے آپ نے جانا کہ توحید الوہیت نام ہے صرف اللہ تعالی کی عبادت کرنے کا۔ اب آپ بتائيں کہ عبادت سے کیا مراد ہے؟ اس کی کیا کیا قسمیں ہيں؟ اس کی اہمیت اور ثمرہ کیا ہے؟

اسی کا مطالعہ ہم درج ذیل نقاط کے تحت کریں گے :

عبادت

تعریف

قسمیں :

باطنی

ظاہری : قلبی، قولی، فعلی، مالی

اہمیت

ثمرہ

اول : عبادت کی تعریف :

عبادت: ان تمام باطنی و ظاہری اقوال اور افعال کو کہتے ہیں، جو اللہ تعالی کو محبوب اور پسند ہیں۔

دوم : عبادت کی قسمیں :

نمبر 1: باطنی عبادتیں :

انہیں قلبی عبادتیں بھی کہا جاتا ہے۔ کیوں کہ یہ دل کے ساتھ خاص ہیں۔ یہ عظیم ترین اور اہم ترین عبادتیں ہیں۔ کیوں کہ قلب ہی مقام تصدیق اور یقین ہے۔

اللہ سے محبت، اس سے امید، اس کی خشیت، خوف، اس پر توکل، اس سے فریاد اور انابت وغیرہ اس کی مثالیں ہیں۔ اللہ تعالی نے آل زکریا کے بارے میں کہا ہے : "یہ نیک کاموں کی طرف جلدی کرتے تھے اور ہمیں ﻻلچ طمع اور ڈر خوف سے پکارتے تھے اور ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے تھے۔" (سورہ انبیاء : 90)

نمبر ۲: ظاہری عبادتیں :

ظاہری عبادتوں کی تین قسمیں ہيں :

قولی عبادتیں۔ جیسے دونوں گواہیاں زبان سے ادا کرنا، ذکر کرنا، قرآن پڑھنا اور دعوت الی اللہ وغیرہ۔

فعلی عبادتیں۔ جیسے روزہ، نماز، حج، زکاۃ، جہاد، کم زور اور محتاج کی مدد اور مظلوم کو ظلم سے بچانا۔

مالی عبادتیں۔ جیسے زکاۃ، صدقہ، بال بچوں پر خرچ اور قربانی۔

سوم : عبادت کی اہمیت :

عبادت ہی وہ مقصد ہے، جس کے لیے انسان کو پیدا کیا گيا ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "میں نے جنات اورانسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وه صرف میری عبادت کریں۔" (سورہ ذاریات : 56)

عبادت ہی رسولوں کے بھیجے جانے کی غایت ہے۔ اللہ تعالی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو خطاب کرتے ہوئے کہا ہے: "تجھ سے پہلے بھی جو رسول ہم نے بھیجا، اس کی طرف یہی وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، پس تم سب میری ہی عبادت کرو"۔ (سورہ انبیاء : 25)

چہارم : عبادت کا ثمرہ :

عبادت دنیوی سعادت اور اخروی نعمتوں کے حصول کا سبب ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "جو شخص نیک عمل کرے، مرد ہو یا عورت، لیکن با ایمان ہو تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے۔ اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے۔" (سورہ نحل : 97)

ارشاد باری تعالی ہے: "اور جس نے نیکی کی ہے خواه وه مرد ہو یا عورت اور وه ایمان واﻻ ہو، تو یہ لوگ جنت میں جائیں گے اور وہاں بےشمار روزی پائیں گے۔" (سورہ غافر : 40)

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : غور کروں گا اور جواب دوں گا :

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "اور (ہاں) جو میری یاد سے روگردانی کرے گا، اس کی زندگی تنگی میں رہے گی" (سورہ طہ : 124)

یہ آیت کریمہ کس بات پر دلالت کرتی ہے؟

اس آیت کا سبق کے موضوع سے کیا تعلق ہے؟

سرگرمی (2) : الگ الگ کروں گا اور زمرہ بندی کروں گا :

نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ”ہر دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے، ہر آدمی کے ہر جوڑ پر صدقہ واجب ہوتا ہے؛ دو آدمیوں کے درمیان عدل کرنا صدقہ ہے، آدمی کو اس کی سواری پر سوار کرنا، اس کا سامان اٹھانا یا اس کے سامان کو سواری سے اتارنا صدقہ ہے، پاکیزہ بات کرنا صدقہ ہے، نماز کی طرف چل کر جانے میں ہر قدم صدقہ ہے اور راستے سے تکلیف دہ چیز کا ہٹا دینا بھی صدقہ ہے“۔ (صحیح بخاری : 2989، صحیح مسلم : 1009)

اپنے معلم کے ساتھ مل کر مناسب کالم میں صحیح کا نشان (√) لگا کر مذکورہ بالا حدیث میں وارد عبادتوں کی زمرہ بندی فعلی اور قولی عبادت میں کریں :

عبادت قولی فعلی

دو لوگوں کے درمیان عدل کرنا۔ قولی

سرگرمی (3) : وسائل تجویز کروں گا :

نماز ایک عظیم ترین عبادت ہے۔ یہاں تین وسائل تجویز کریں، جو وقت پر نماز کی ادائیگی میں معاون ثابت ہوں۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : قوسین سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

خوف و رجا مثال ہے :

(مالی عبادت کی - قلبی عبادت کی - فعلی عبادت کی)

قربانی مثال ہے :

(فعلی عبادت کی - قولی عبادت کی - مالی عبادت کی)

جنت میں داخل ہونے کی سعادت اور دل کا اطمینان ہے :

(عبادت کی ایک قسم - عبادت کا ایک ثمرہ - عبادت کا ایک واجب)

سوال 2 : نیچے دی گئی دونوں عبادتوں کو مکمل کریں :

عبادت ان تمام اقوال اور .............. کو کہتے ہیں، جو اللہ تعالی کو .............. اور پسند ہیں۔

عبادت ہی انسان کی تخلیق کی غرض و غایت ہے۔ کیوں کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :(.............................)"

سوال 3 : نیچے دیے گئے جملوں میں موجود غلطیوں کو درست کر کے ان کو دوبارہ لکھیں :

قولی عبادتیں باقی عبادتوں کے لیے اساس کی حیثیت رکھتی ہیں۔

عبادتوں کی پابندی تھکاوٹ اور پریشانی کا سبب بنتی ہے۔

راستے کو صاف ستھرا رکھنے کا ثواب نہيں ملے گا۔

چھٹا سبق : عبادت کی شرطیں اور ارکان

اغراض و مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

عبادت کی شرطیں واضح کر سکيں گے۔

عبادت کے ارکان گنوا سکيں گے۔

عبادت کی شرطوں اور ارکان کی دلیل پیش کر سکیں گے۔

عبادتوں کی شرطوں کے فقدان کا اثر واضح کریں گے۔

عبادت کی شرطوں اور ارکان کی حفاظت کی ضرورت محسوس کریں گے۔

اپنی عبادت میں اخلاص اور اتباع پر کاربند رہیں گے۔

خوف و رجا کے درمیان توازن برقرار رکھیں گے۔

اول : عبادت کی شرطیں

ہر مسلمان کی یہ تمنا ہوتی ہے کہ اللہ اس کی عبادت قبول کرے، لیکن اس کے لیے عبادت کے اندر دو بنیادی شرطوں کا پایا جانا ضروری ہے۔ عبادت خالص طور پر اللہ کے لیے کی جائے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق کی جائے۔

پہلی شرط : اخلاص :

اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اپنے تمام اقوال و اعمال میں اللہ کی رضا جوئی پیش نظر رکھے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اسی کے لئے دین کو خالص رکھتے ہوئے اور شرک کو چھوڑ کر توحید کو اختیار کرتے ہوئے۔" (سورہ بینہ : 5)

جیسے ہی غیراللہ کو خوش کرنے جیسی کوئی بات ہوگی، عبادت برباد ہو جائے گی اور انسان اس کے ثواب سے محروم ہو جائے گا۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "اگر تو نے شرک کیا تو بلاشبہ تیرا عمل ضائع ہو جائے گا اور بالیقین تو زیاں کاروں میں سے ہوجائے گا۔" (سورہ زمر : 65)

دوسری شرط : متابعت :

متابعت کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اللہ کی عبادت اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق کرے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : " اور تمہیں جو کچھ رسول دے لے لو، اور جس سے روکے رک جاؤ۔" (سورہ حشر : 7)

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بتائے ہوئے طریقے سے ہٹ کر کی گئی عبادت برباد ہو جاتی ہے اور انسان اس کے ثواب سے محروم ہو جاتا ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : ’’جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی، جو اس میں نہیں ہے، تو وہ مردود ہے۔" (صحیح بخاری : 2697)

دوم : عبادت کے ارکان

عبادت :

محبت

رجا (امید)

خوف

پہلا رکن : اللہ سے محبت :

محبت نام ہے محبوب کی جانب دل کے میلان کا۔ اللہ کی محبت سے مراد ہے اللہ کے یہاں ملنے والی چيزوں کو ترجیح دے اور نیکی کے کاموں میں مشغول رہ کر اور گناہوں سے دوری بناتے ہوئے اللہ کی رضاجوئی کے لیے کام کرنا۔

محبت ایمان سے وابستہ ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : "تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہيں ہو سکتا، جب تک اللہ اور اس کے رسول اس کے یہاں دیگر تمام چيزوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جائیں۔" (مسند احمد : 12739)

اللہ کی محبت کے ساتھ اس کے رسول کی محبت، قرآن کریم کی محبت، مسلمانوں کی محبت اور اسلام اور مسلمانوں کی خیر و بلندی سے جڑی ہوئی ہر چیز کی محبت وابستہ ہے۔

دوسرا رکن : رجا (امید):

رجا (امید) کے معنی ہیں، اللہ کی رحمت پر دل اٹکائے رکھنا، اس کے فضل و کرم پر نظر رکھنا، اس کے احسان و عطا کی طمع رکھنا، ساتھ ہی محنت و کوشش جاری رکھنا اور اللہ پر بہتر توکل رکھنا۔

ایک مومن اپنے رب سے گناہوں کی بخشش کی امید رکھتا ہے، جیسا کہ اللہ کے نبی ابراہیم علیہ السلام نے کہا ہے : "اور جس سے امید بندھی ہوئی ہے کہ وه جزا کے دن میرے گناہوں کو بخش دے گا۔" (سورہ شعراء : 82)

تیسرا رکن : خوف :

اس کے معنی ہيں اللہ کی خشیت، اس کے غضب و عذاب کا خوف اور ساتھ ہی اس کی تعظیم اور محبت۔ ایسے میں بندہ اللہ کے حکموں کی تعمیل اور اس کی منع کی ہوئی چیزوں سے اجتناب کی جانب تیزی سے دوڑتا ہے، جیسا کہ ایک حدیث میں ہے : "آپ کہہ دیجیے کہ میں اگر اپنے رب کا کہنا نہ مانوں تو میں ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔" (سورہ انعام : 15)

خوف و رجا کے درمیان توازن ہونا چاہیے۔ اللہ تعالی نے زکریا علیہ السلام اور ان کے گھر کے لوگوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے : "یہ لوگ نیک کاموں کی طرف جلدی کرتے تھے اور ہمیں ﻻلچ طمع اور ڈر خوف سے پکارتے تھے اور ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے تھے." (سورہ انبیا : 90)

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : غور کروں گا اور جواب دوں گا :

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے قیامت کے دن سب سے پہلے فیصلے کے مرحلے سے گزرنے والے شخص کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے : "دوسرا شخص وہ ہوگا، جس نے علم حاصل کیا اور اسے لوگوں کو سکھایا اور قرآن کریم پڑھا۔ اسے لایا جائے گا اور اسے اللہ کی نعمتوں کى پہچان کروائى جائیں گی۔ وہ انہیں پہچان لے گا، تو اللہ فرمائے گا کہ تو نے ان نعمتوں کو پاکر کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا کہ میں نے علم حاصل کیا، پھر اسے دوسروں کو سکھایا اور تیری رضا کے لیے قرآن مجید پڑھا۔ اللہ فرمائے گا کہ تو نے جھوٹ کہا ہے۔ تو نے علم اس لیے حاصل کیا تھا کہ تجھے عالم کہا جائے اور قرآن اس کے لیے پڑھا تھا، تاکہ تجھے قاری کہا جائے۔ سو تجھے ایسا (دُنیا میں) کہا جا چکا ہے۔ پھر حکم دیا جائے گا کہ اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے، یہاں تک کہ اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔" (صحیح مسلم : 1905)

اس حدیث پر غور کریں اور اس کے بعد درج ذیل سوالات کے جواب دیں :

اس حدیث کی روشنی میں بتائيں کہ اس شخص کے جہنم جانے کا سبب کیا ہے؟

اس نے عبادت خالص اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے نہيں کی، لہذا اس کی عبادت قبول نہیں ہوئی۔ دراصل اس نے علم حاصل اس لیے کیا تھا اور قرآن اس لیے پڑھا کہ اسے عالم و قاری کہا جائے۔

اس حدیث کو پڑھنے کے بعد اپنے جذبات و احساسات بیان کریں اور بتائيں کہ اس شخص کی طرح ہمارا انجام نہ ہو، اس کے لیے ہمیں کیا کرنا ہوگا؟

سرگرمی (2) : دیکھوں گا اور جواب دوں گا :

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "بھلا جو شخص راتوں کے اوقات سجدے اور قیام کی حالت میں (عبادت میں) گزارتا ہو، آخرت سے ڈرتا ہو اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتا ہو۔" (سورہ زمر : 9)

اس آیتِ کریمہ کے فوائد واضح کریں :

مندرجہ ذیل لنک پر ویڈیو کلپ دیکھیں، پھر اس کے اہم حصوں کا خلاصہ کریں:

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

ترک اخلاص سے ثواب گھٹ جاتا ہے۔ (X)

متابعت کے معنی ہیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق اللہ کی عبادت کرنا۔ (✓)

عبادت کی شرطوں کا پایا جانا اس کی صحت اور قبولیت کا باعث بنتا ہے۔ (✓)

سوال 2 : قوسین سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

مسلمان کو توازن رکھنا چاہیے خوف اور :

(خوشی کے درمیان - غم کے درمیان - رجا (امید) کے درمیان)

اللہ کا صرف خوف سبب بنتا ہے :

(مایوسی کا - کام یابی کا - نیک فال کا)

اللہ کی محبت سے جڑی ہوئی ہے :

(مسلمانوں کی محبت - نافرمان لوگوں کی محبت - کافروں کی محبت)

سوال 3 : نیچے دیے کئے دونوں سوالوں کے جواب دیجیے :

قرآن کی ایک آیت لکھیں، جو اللہ کے لیے نیت خالص رکھنے کے وجوب پر دلالت کرتی ہو۔

درج ذیل الفاظ میں سے ہر ایک کا مقصود اختصار کے ساتھ لکھیں : (محبت - رجا - خوف)

ساتواں سبق : ایمان کا بڑھنا اور گھٹنا

اغراض و مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

ایمان کے گھٹنے اور بڑھنے کو دلیل کے ساتھ بیان کر سکيں گے۔

ان کاموں کو گنوا سکيں گے، جن سے ایمان بڑھتا اور گھٹتا ہے۔

ایمان میں کمی بیشی کا سبب بیان کر سکیں گے۔

ایمان میں کمی کى خطورت کا اندازہ لگا سکیں گے۔

اپنا ایمان بڑھانے کی کوشش کریں گے۔

تمہیدی سرگرمی:

آپ کے ایک دوست نے کہا: کہ ایمان ایک ہی حالت میں رہنے والی چیز ہے، جو نہ گھٹتی ہے اور نہ بڑھتی ہے۔ ایسے میں یہ جان لینے کے بعد کہ ایمان عمل صالح سے جڑا ہوا ہے، آپ کا جواب کیا ہوگا؟

اس سبق کو پڑھنے کے بعد اپنے جواب کو جانچیں۔

ایمان کا زیادہ اور کم ہونا :

دلائل

ایمان گھٹانے والے کچھ اعمال

ایمان بڑھانے والے کچھ اعمال

ایمان والوں کا الگ الگ درجات کا حامل ہونا

اول : ایمان کے بڑھنے اور گھٹنے کے دلائل :

ایمان اعتقاد، قول اور عمل کا نام ہے۔ مومن کے دل کے اندر یقین کا سرمایہ جیسے جیسے بڑھتا جائے گا، ویسے ویسے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ اسی طرح اس کی زبان اور ديگر اعضائے جسم سے عبادتوں کا صدور جتنا زیادہ ہوگا، اس کے ایمان کی دولت بڑھتی جائے گی۔ اس طرح ایمان اطاعت سے بڑھتا اور معصیت سے گھٹتا ہے۔

دل کے اندر یقین اور ایمان میں اضافہ ہونے کی دلیل اللہ تعالی کا یہ قول ہے : "اور جب ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کہ اے میرے رب! مجھے دکھا دے کہ تو مُردوں کو کس طرح زنده کرے گا؟ (جناب باری تعالیٰ نے) فرمایا : کیا تمہیں ایمان نہیں؟ جواب دیا : ایمان تو ہے لیکن میرے دل کی تسکین ہو جائے گی۔" (سورۂ بقرہ : 260)

اطاعت کے کاموں سے ایمان میں اضافہ ہونے کی ایک دلیل اللہ تعالی کا یہ قول ہے : "بس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتیں ہیں تو وه آیتیں ان کے ایمان کو اور زیاده کردیتی ہیں اور وه لوگ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔" (سورہ انفال : 2)

دوم : ایمان بڑھانے والے کچھ اعمال :

ایمان نیکی کے کاموں سے بڑھتا ہے۔ مثال کے طور پر ایمان بڑھانے والا ایک عمل ہے :

اللہ کے بارے میں علم و معرفت : ایک مسلمان اللہ کے بارے میں علم و معرفت سے جتنا زیادہ بہرہ ور ہوتا جائے گا، وہ اتنا ہی ایمان و خشیت کی دولت سے بہرہ ور ہوتا چلا جائے گا۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔" (سورۂ فاطر : 28)

اللہ اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی محبت : اس کی دلیل اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ قول ہے : ’’تین باتیں جس شخص کے اندرہوں گی، وہی ایمان کی مٹھاس پا ئے گا۔ پہلی یہ کہ اللہ اور اس کا رسول اس کے نزدیک ان کے سوا تمام لوگوں سےزیادہ محبوب ہو جا ئیں۔ دوسری یہ کہ آدمی کسی آدمی سے محض اللہ کے لیے محبت رکھے۔ تیسری یہ کہ وہ کفر میں لوٹنا ایسے ہی نا پسند کرے، جیسے آگ میں ڈالے جانے کو نا پسند کرتاہے۔" (صحیح بخاری : 16، صحیح مسلم : 43)

حسن اخلاق : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہيں : ”سب سے کامل ایمان والا شخص وہ ہے، جو اخلاق میں سب سے اچھا ہو۔“ (سنن ترمذی : 1162)

سوم : ایمان گھٹانے والے کـچھ اعمال :

سارے گناہ کے کام ایمان گھٹاتے ہيں اور کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کچھ زیادہ ہی گھٹاتا ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : "کوئی زنا کرنے والا جب زنا کرتا ہے تو مومن نہيں ہوتا، کوئی شراب پینے والا جب شراب پیتا ہے تو وہ مومن نہيں ہوتا، کوئی چوری کرنے والا جب چوری کرتا ہے، تو وہ مومن نہيں ہوتا۔" (صحیح بخاری : 2475، صحیح مسلم : 57)

چہارم : ایمان والوں کے درجوں میں کمی بیشی :

ایمان والے اپنے اعمال اور اخلاص کے اعتبار سے الگ الگ درجوں کے حامل ہوتے ہيں۔ یہی وجہ ہے کہ جنت کے اندر بھی ایمان والوں کے منازل میں ان کے ایمان اور عمل کے مطابق فرق ہوگا۔

اس لیے ایک مسلمان کی ذمے داری ہے کہ وہ نیکی اور خیر کے کام خوب کرے، تاکہ ایمان کے اعلی درجوں پر فائز ہو سکے۔

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : چرچا کروں گا اور سمجھوں گا :

ابو دردا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : "بندے کے تفقہ کی ایک علامت یہ ہے کہ اسے پتہ ہو کہ اس کا ایمان کتنا بڑھا اور کتنا گھٹا۔" (السُّنة از خلال : 1585)

انپے معلم سے گفتگو کریں کہ ایک مسلمان کیسے یہ جانے کہ اس کا ایمان گھٹ رہا ہے یا بڑھ رہا ہے۔

سرگرمی (2) : غور و فکر اور تحدید کروں گا :

کچھ ایسے نیکی کے کاموں کے بارے میں سوچیں جو آپ کرتے ہیں اور اس کے بعد پانچ ایسے اعمال کی تعیین کریں، جن کے بارے میں آپ سمجھتے ہیں کہ وہ آپ کے ایمان کو بڑھاتے ہیں۔

سرگرمی (3) : دیکھوں گا اور خلاصہ کروں گا :

نیچے دیے گئے ویڈیو کلپ کو دیکھیں اور پانچ سطروں میں بتائيں کہ آپ نے اس سے کیا سمجھا :

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

ایمان نیکی کے کاموں سے بڑھتا تو ہے، لیکن گناہ کے کاموں سے گھٹتا نہیں ہے۔ (×)

حصول علم ایمان میں زیادتی کا سبب بنتا ہے۔ (✓)

جنت کی نعمتوں سے فیض یاب ہونے کے معاملے میں سارے ایمان والے برابر ہیں۔ (×)

لوگوں پر ظلم کرنا ایمان کی کم زوری کی دلیل ہے۔ (✓)

سوال 2 : قوسین سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

شرعی نصوص اس بات پر دلالت کرتے ہيں کہ ایمان :

(گھٹتا ہے، لیکن بڑھتا نہیں ہے - بڑھتا نہیں ہے، لیکن گھٹتا ہے - بڑھتا بھی ہے اور گھٹتا بھی ہے)

ایمان میں زیادتی کے عوامل میں سے ہے :

(بہ کثرت استغفار کرنا - بد خلقی - قرآن کو چھوڑ دینا)

ویسے تو سارے گناہ ایمان گھٹاتے ہیں، لیکن اس معاملے میں سب سے آگے ہيں :

(کبیرہ گناہ - صغیرہ گناہ - چھوٹی لغزشیں)

سوال 3 : نیچے دیے گئے دونوں نص کس بات پر دلالت کرتے ہيں، واضح کریں :

اللہ تعالی نے فرمایا ہے : "اور ہدایت یافتہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ ہدایت میں بڑھاتا ہے۔"

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : "سب سے کامل ایمان والا مومن وہ ہے، جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔"

اکائی : سنت اور شمائل

رشتے داروں کے ساتھ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا برتاؤ

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

رشتے داروں کے ساتھ برتاؤ کے سلسلے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا طریقہ واضح کر سکيں گے۔

رشتے داروں کے ساتھ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بہتر معاملے پر دلیل دے سکيں گے۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی اقتدا کرتے ہوئے صلہ رحمی کریں گے۔

رشتے داروں کے ساتھ احسان پر اسلام کی توجہ کا اندازہ لگا سکیں گے۔

نبى صلى اللہ علیہ وسلم کی نظر میں صبر اور عفو و درگزر کی قدر و قیمت محسوس کریں گے۔

اپنے مسلم رشتے داروں کے بارے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا طریقہ :

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا اپنے رشتے داروں کا احترام

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا خوشی اور غم میں اپنے رشتے داروں کے ساتھ رہنا

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ان کے بال بچوں کی دیکھ بھال کرنا

اسلام میں رشتے داروں کے بہت سے حقوق ہيں اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سارے حقوق کو بہترین انداز میں ادا کیا ہے۔ اس پر ہم مسلمان رشتے داروں کے ساتھ برتاؤ کے سلسلے میں آپ کا طریقہ بیان کرتے وقت روشنی ڈالیں گے۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی جانب سے رشتے داروں کا احترام :

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنے تمام رشتے داروں کا احترام کرتے تھے۔ اسى میں سے آپ کا اپنے چچا عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ باپ جیسا معاملہ کرنا تھا۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے آپ نے کہا ہے : "آدمی کا چچا اس کے باپ کے جیسا ہے۔" (صحیح مسلم : 983)

آپ نے سعد بن ابى وقاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں، جو آپ کی والدہ آمنہ بنت وہب کے چچازاد بھائی تھے، کہا تھا : "یہ میرے ماموں ہيں۔ کوئی شخص مجھے اپنا ماموں دکھائے۔" (سنن ترمذی : 3752)

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا رشتے داروں کے سکھ دکھ میں شریک رہنا :

جعفر بن ابوطالب جب حبشہ سے آئے، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو بوسہ دیا اور فرمایا : "مجھے نہيں معلوم کہ مجھے کس بات کی زیادہ خوشی ہے۔ فتح خیبر کی یا جعفر کے آنے کی۔" (مستدرک حاکم : 4249)

اسی طرح آپ کے چچا حمزہ رضی اللہ عنہ جب سنہ 3ھ میں جنگ احد کے موقعے پر شہید ہو گئے، تو آپ بہت زیادہ غمگین ہوئے۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا اپنے رشتے داروں کے بال بچوں کی دیکھ بھال کرنا:

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنے رشتے داروں کے بال بچوں کی دیکھ بھال کرتے تھے۔ آپ نے اپنے چچا زاد بھائی علی بن ابو طالب کی تربیت کی اور جب آپ کے چچا زاد بھائی جعفر بن ابوطالب سنہ 8ھ میں ‏غزوۂ موتہ کے موقعے پر شہید ہو گئے، تو ان کے بچوں کی کفالت کا ذمہ خود اٹھایا اور فرمایا : "میں دنیا و آخرت دونوں جگہ ان کا ولی ہوں۔" (مسند احمد : 1750)

غیر مسلم رشتے داروں کے ساتھ برتاؤ کے سلسلے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا طریقہ :

ان کو اسلام کے دائرے میں لانے کی کوشش

ان کی ایذا رسانیوں پر صبر

ان کے ساتھ رحم و کرم کا برتاؤ

ان کے ساتھ صلہ رحمی

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے غیر مسلم رشتے داروں کے ساتھ رحم و کرم پر مبنی اور خیرخواہانہ معاملہ کیا۔ اس کی وضاحت درج ذیل نکات پر غور کرنے سے ہو جاتی ہے :

ان کو اسلام کے دائرے میں لانے کی کوشش :

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنے غیر مسلم رشتے داروں کی ایذا رسانیوں کا سامنا صبر و تحمل کے ساتھ کرتے اور ان کے سامنے اسلام کے اصول اور احکام کی وضاحت کے لیے ان سے قریب ہونے کا موقع تلاش کرتے رہتے تھے۔

ایک مرتبہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کھانے کا اہتمام کیا اور اس میں میں بنو ہاشم کے چالیس لوگوں کو بلایا، جس میں آپ کے چچا ابو طالب، حمزہ، عباس اور ابو لہب شامل تھے۔ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد آپ نے ان کو اسلام کی دعوت دی۔

اپنے چچا ابو طالب کو آپ ان کی زندگی گے آخری دن تک اسلام کی دعوت دیتے رہے۔

ان کی ایذا رسانیوں پر آپ کا صبر :

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے غیر مسلم رشتے داروں کی ایذا رسانیوں کا سامنا نہایت ہی صبر و ضبط کے ساتھ کیا۔ مثلا اپنے چچا ابو لہب کی ایذا رسانیوں پر صبر کیا، جو آپ کے پیچھے پیچھے بازاروں میں چلتا، آپ کو جھٹلاتا اور آپ کی بات سننے سے ڈراتا تھا۔

ابو لہب کی بیوی ام جمیل آپ کو اذیت پہنچاتی، گالی دیتی اور آپ کے گھر کے سامنے کوڑے پھینکا کرتی تھی۔ آپ نے ان سارے حالات کا سامنا صبر و ضبط سے کیا۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا رشتے داروں کے ساتھ رحم و کرم کا معاملہ اور ان کے حق میں دعا کرنا:

غزوۂ احد کے موقعے پر جب آپ کے رشتے دار آپ کے قتل پر مصر تھے، اس وقت بھی آپ نے ان کے حق میں دعا کی۔ فرمایا: "اے اللہ ! تو میری قوم کو معاف کردے، کیونکہ یہ لوگ نہیں جانتے۔" (صحیح بخاری : 3477، صحیح مسلم : 1792)

رشتے داروں کے ساتھ صلہ رحمی :

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے غیر مسلم رشتے داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرتے تھے۔ صلہ رحمی کے بارے میں آپ نے کہا ہے : "ان سے میرا رشتہ ہے اور میں ان سے رشتہ داری کا حق ادا کرتا ہوں۔" (صحیح بخاری : 5990)

سرگرمیاں

سرگرمی (1) ایک دوسرے کی مدد سے نتیجہ اخذ کروں گا :

اپنے ساتھیوں کی مدد سے بتائیے کہ نیچے دی گئی حدیثیں رشتے داروں کے ساتھ برتاؤ کے معاملے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے کس طریقے پر دلالت کرتی ہیں :

حدیث حدیث کا مدلول

جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے حق میں قریش کی اذیت رسانی حد سے آگے بڑھ گئی، تو پہاڑوں کے فرشتے نے کہا : اے محمد! آپ چاہیں تو میں مکہ میں واقع دو پہاڑوں کو آپس میں ملاکر ان کو کچل ڈالوں! لیکن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "میں اس کی اجازت نہيں دوں گا۔ مجھے امید ہے کہ اللہ ان کے صلب سے ایسے لوگوں کو پیدا کرے گا، جو ایک اللہ کی عبادت کریں گے اور کسی کو اس کا شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔" (صحیح بخاری : 3231، صحیح مسلم : 1795) غیر مسلم رشتے داروں کے ساتھ رحم و کرم کا برتاؤ :

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا قول : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھ کو سینے سے لگایا اور فرمایا : "اے اللہ! اسے حکمت سکھا۔" (صحیح بخاری : 3756، صحیح مسلم : 2477)

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا مسلم رشتے داروں کے بال بچوں کی دیکھ بھال کرنا۔

سرگرمی (2) : چرچا کروں گا اور تجویز پیش کروں گا :

اپنے ساتھیوں اور معلم کے ساتھ مل کر اپنے معاشرے میں غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دینے کے تین وسائل تجویز کریں۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم صلہ رحمی صرف مسلم رشتے داروں کے ساتھ کرتے تھے۔ (✖)

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیں رشتے داروں کو خیر کی دعوت دینے پر توجہ دینا سکھایا ہے۔ (✓)

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنے رشتے داروں کے سکھ دکھ میں شریک رہا کرتے تھے۔ (✓)

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنے غیر مسلم رشتے داروں کے ساتھ معاملہ کرنے سے گریز کرتے تھے۔ (✖)

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنے رشتے داروں کے بچوں کی دینی اور دنیوی معاملات پر توجہ دیتے تھے۔ (✓)

سوال 2 : قوسین سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ....................... کے حق میں دعا فرمائی اور وہ قرآن پاک کے عالم بن گئے۔

(علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ - عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ - سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ)

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم غزوۂ احد کے موقعے پر اپنے چچا ....................... کی شہادت سے بہت رنجیدہ ہوئے۔

(حمزہ - عباس - ابو طالب)

سوال 3 : رشتے داروں کے ساتھ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے برتاؤ کا ایک نمونہ لکھیں، جو نیچے دی گئی باتوں پر دلالت کرتا ہو :

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کے ہدایت یاب ہونے کا حریص ہونا۔

اپنے رشتے داروں کی اذیت رسانیوں پر آپ کا صبر کرنا۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا اپنے خاندان کے چھوٹے بچوں کا خیال رکھنا۔

دوسرا درس : پڑوسیوں کے ساتھ برتاؤ کا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا طریقہ

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

پڑوسیوں کے ساتھ برتاؤ کے سلسلے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے طرز عمل کی اہم باتوں کو بیان کر سکيں گے۔

اسلام میں پڑوسیوں کے ساتھ اچھے سلوک کی اہمیت بیان کر سکيں گے۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا اقتدا کرتے ہوئے پڑوسیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں گے۔

پڑوسیوں کے ساتھ برے سلوک کی حرمت کو مدلل انداز میں واضح کر سکيں گے۔

تمہید :

اللہ تعالی نے ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو پڑوسی کے بارے میں وصیت کی ہے اور اس کے بہت سے حقوق واجب کیے ہیں۔ نبی صلى اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: "جبریل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے(حق کے) بارے میں اس قدر وصیت کرتے رہے کہ مجھے خیال ہونے لگا کہ وہ پڑوسی کو بھی وراثت کا حق دار بنا دیں گے۔" (صحیح بخاری : 6014، صحیح مسلم : 2625)

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس وصیت کی کامل ترین انداز میں تعمیل کی ہے، جس کی طرف ذیل کی باتیں دلالت کرتی ہیں:

پڑوسیوں کے ساتھ سلوک کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا طریقہ :

پڑوسیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا

پڑوسیوں کی مدد کرنا

پڑوسیوں کی خیر خواہی

پڑوسیوں کی خوشی اور غم میں شریک رہنا

پڑوسیوں کی اذیتیں برداشت کرنا

پڑوسیوں کو تکلیف دینے سے بچنا۔

پڑوسیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا :

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے پڑوسی کی عزت اور اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کا حکم دیا ہے اور اسے اللہ پر کامل ایمان ہونے کی علامت قرار دیا ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : ”جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے۔“ (صحیح مسلم : 48)

پڑوسیوں کی مدد کرنا اور ان کا بھلا چاہنا :

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنے پڑوسیوں کے احوال دریافت کرتے اور روز مرہ کی زندگی میں ان کی مدد کیا کرتے تھے۔ آپ کا فرمان ہے : "وہ شخص مومن نہیں جو خود پیٹ بھر کر کھانا کھائے اور بغل میں اس کا پڑوسی بھوکا رہے۔" (بیہقی : 20160) یعنی اسے معلوم ہو کہ اس کا پڑوسی بھوکا ہے اور وہ اس کی مدد بھی کر سکتا ہو، لیکن مدد نہ کرے۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے پڑوسی کا بھلا چاہنے کی وصیت بھی کی ہے۔ آپ نے کہا ہے : "تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا، جب تک اپنے پڑوسی کے لیے بھی وہی پسند نہ کرے، جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔" (صحیح مسلم : 45)

پڑوسیوں کے سکھ دکھ میں شریک ہونا :

پڑوسی کو ایسے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے، جو خوشی کی تقریبات، جیسے شادی، عقیقہ اور کام یابی میں اس کا ساتھ دیں اور مشکل وقت، جیسے بیماری اور کسی قریبی کی موت وغیرہ میں اس کے ساتھ میں کھڑے ہوں۔

ّپڑوسیوں کی اذیتیں برداشت کرنا :

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مکہ میں، خاص طور سے اعلانیہ دعوت کے آغاز میں، اپنے کافر پڑوسیوں کی جانب سے بہت سی اذیتوں کا سامنا کیا۔ مثلا ابو لہب آپ کو گالیاں بکتا اور جھٹلاتا پھرتا تھا، اس کی بیوی ام جمیل آپ کے گھر کے سامنے کانٹے ڈال دیا کرتی تھی۔ لیکن آپ نے کبھی ان کے اس برے سلوک کا بدلہ برے سلوک سے نہيں دیا۔

پڑوسیوں کو تکلیف پہنچانے سے بچنا :

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنے پڑوسیوں کو تکلیف دینے سے بچتے اور ان کو تکلیف نہ دینے کا حکم دیتے تھے۔ آپ نے فرمایا : "جو شخص اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے۔" (صحیح بخاری : 6018)

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : نکات نکالوں گا اور بیان کروں گا :

اپنے ساتھیوں کی مدد سے مندرجہ ذیل نصوص سے پڑوسیوں کے ساتھ احسان کرنے یا ان کو اذیت دینے کی صورتیں نکالیں :

نص احسان کى صورتیں یا اذیت دینے کی صورتیں

ایک شخص نے کہا : اے اللہ کے رسول! فلاں عورت کی نماز، روزے اور صدقے کی کثرت کے چرچے ہیں، لیکن وہ زبان کے ذریعے پڑوسیوں کو اذیت دیتی ہے۔ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "وہ جہنم میں ہے۔" (مسند احمد : 9675) پڑوسیوں کو گالی دینا اور ان کے ساتھ بد زبانی کرنا :

ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میرے جگری دوست محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے وصیت کرتے ہوئے کہا ہے : ”جب تم کوئی شوربے والی چیز پکاؤ، تو اس میں پانی زیادہ ڈال دیا کرو پھر اپنے ہمسایوں میں سے کسى گھرانے پر نگاہ دوڑاؤ اور ان کو بھى اس میں سے بھلائى کے ساتھ دے دیا کرو“۔ (صحیح مسلم : 2625)

پڑوسیوں کو ضرورت کی چیزیں ہدیہ کرنا :

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کبیرہ گناہوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : "اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ تمھارا زنا کرنا"۔ (صحیح بخاری : 4477، صحیح مسلم : 86)

اس کی عزت و آبرو اور حرمت پر حملہ آور ہونا۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : "کوئی شخص اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں لکڑی گاڑنے سے نہ روکے۔" (صحیح بخاری : 2463، صحیح مسلم : 1609)

اسے اس کی منفعت کا اور مصلحت والا کام کرنے دینا۔

سرگرمی (2) : ایک دوسرے کی مدد سے موازنہ کروں گا :

اپنے ساتھیوں کى مدد سے نیچے دی گئی صورتوں میں سے ہر صورت کے لیے احسان کی کچھ صورتیں تجویز کریں، جو آپ اپنے پڑوسی کے ساتھ کر سکتے ہیں :

سرگرمی (3) : میں اپنا جائزہ لوں گا :

پڑوسی کے ساتھ اپنے برتاؤ کے سلسلے خود اپنا جائزہ لیں۔ اس کے لیے اس آپشن کے سامنے علامت ڈالیں، جو آپ کے حال کے مناسب ہو۔ یاد رہے کہ کل نمبرات (15) ہیں، جن کو کچھ اس طرح تقسیم کیا گیا ہے : "ہمیشہ" کے لیے (3 نمبرات) "کبھی کبھی" کے لیے (2 نمبرات) اور "شاذ و نادر" کے لیے ایک نمبر۔

م عبارت جواب کی سطح

ہمیشہ کبھی کبھی شاد و نادر

1- میں اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتا ہوں۔

2- میں اپنے پڑوسیوں کا بھلا چاہتا ہوں۔

3- میں اپنے پڑوسیوں کو کچھ ہدیے دیتا ہوں۔

4- میں ضرورت کے وقت اپنے پڑوسیوں کی مدد کرتا ہوں۔

5- میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا اقتدا کرتے ہوئے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتا ہوں۔

کل نمبرات

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیں پڑوسیوں کے جذبات کا خیال رکھنے کا حکم دیا ہے۔ (✓)

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنے پڑوسیوں کی خوشی سے خوش اور ان کے غم سے غم زدہ ہوتے تھے۔ (✓)

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اس ڈر سے پڑوسیوں کے ساتھ تعلق رکھنے سے گریز کرتے تھے کہ کہیں ان کی اذیت رسانی نہ ہو۔ (✖)

پڑوسی کو ہدیہ کی نہیں، تکلیف دینے سے گریز کی ضرورت ہوتی ہے۔ (✖)

سوال 2 : قوسین سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

حدیث "جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے۔" دلالت کرتی ہے :

(پڑوسی کے ساتھ بدسلوکی کے حرام ہونے پر - پڑوسی کے ساتھ اچھے سلوک کے حکم پر - پڑوسی کی خیر خواہی کے حکم پر)

حدیث "وہ شخص مومن نہيں جو خود آسودہ ہو کر کھانا کھائے اور بغل میں اس کا پڑوسی بھوکا رہے۔" پڑوسیوں کی مدد کرنے کی ترغیب دیتی ہے :

(پانی کے ذریعے - کھانے کے ذریعے - غم کے ذریعے)

پڑوسیوں کے ساتھ سلوک کے سلسلے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا طریقہ یہ تھا کہ آپ :

(ان کے بوجھ اٹھا لیا کرتے تھے - ان کے ایمان کو برداشت کرتے تھے - ان کی اذیتوں کو برداشت کرتے تھے)

سوال 3 : پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کی تین صورتیں لکھیں :

تیسرا درس : بچوں کے ساتھ برتاؤ کے سلسلے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا طریقہ

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

بچوں کے ساتھ تعامل کے سلسلے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا طریقہ واضح کر سکيں گے۔

بچوں کے ساتھ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے حسن معاملہ کو بیان کر سکیں گے۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کى اقتدا کرتے ہوئے بچوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں گے۔

بچوں کی تربیت پر اسلام کی توجہ کا صحیح اندازہ لگا سکيں گے۔

بچوں کی صحیح تربیت کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔

بچوں کے ساتھ معاملہ کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا طریقہ :

ولادت سے ہی ان پر توجہ دینا

ان کے ساتھ نرمی اور رحمت ومہربانی کا برتاؤ کرنا

ان کی تعلیم و تربیت پر توجہ دینا

بچوں کو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بڑی توجہ حاصل تھی۔ آپ ان پر رحمت و شفقت فرماتے، ان کی تربیت پر پوری توجہ دیتے اور ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتے تھے۔ بچوں کے ساتھ آپ کے برتاؤ سے متعلق نمایاں باتیں درج ذیل نکات سے واضح ہو سکتی ہيں :

اول : ولادت سے ہی ان پر توجہ دینا :

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پیدا ہونے والے بچے کا خیال رکھتے تھے۔ اس کی کچھ مثالیں اس طرح ہیں :

اس کے کان میں اذان دینا؛ تاکہ اس کے ذہن و دماغ میں توحید راسخ ہو جائے اور وہ شیطان سے محفوظ رہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی ولادت کے بعد ان کے کان میں اذان دی۔

مولود کی تحنیک کرنا۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ ایک کھجور کو چبایا جائے اور پھر اس کا تھوڑا سا حصہ مولود کے تالو میں لگا دیا جائے۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما جب پیدا ہوئے تو آپ نے ان کے ساتھ یہی کیا تھا۔

بچوں پر رقیہ کرنا اور ان کو شیطان سے اللہ کی پناہ میں دینا۔ آپ حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو اللہ کی پناہ میں دیا کرتے تھے۔

دوم : ان کے ساتھ رحم و کرم، تواضع اور احترام کا معاملہ کرنا :

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : "میں نے کسی کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے زیادہ بال بچوں پر رحم دل نہیں پایا۔" (صحیح مسلم : 2316)

بچوں کے ساتھ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اچھے برتاؤ کے مظاہر درج ذیل نکات سے واضح ہو تے ہیں:

بچوں کو گود میں اٹھانا :

اس کی بہت سی مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے نواسوں حسن اور حسین رضی اللہ عنہما اور نواسی امامہ بنت ابی العاص رضی اللہ عنہما کو گود میں اٹھایا۔

بچوں کے ساتھ کھیلنا :

یہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے تواضع کی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔ آپ اپنے رشتے داروں کے بچوں کو ایک صف میں کھڑا کر دیتے اور اس کے بعد فرماتے : "جو میرے پاس پہلے آئے گا، اسے یہ اور یہ ملے گا۔"

چنانچہ وہ آپ کی طرف دوڑ پڑتے اور کوئی آپ کی پیٹھ پر گرتا اور کوئی آپ کے سینے پر۔ چنانچہ آپ ان کے بوسے دیتے... (مسند احمد : 1836)

بچوں کے ساتھ کھانا کھانا اور ان کو کھانے کے آداب سکھانا :

اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عمر بن ابی سلمہ سے فرمایا : "اے بچے! بسم اللہ پڑھ لیا کر، داہنے ہاتھ سے کھایا کر اور برتن میں وہاں سے کھایا کر، جو جگہ تجھ سے نزدیک ہو۔" (صحیح بخاری : 5376، صحیح مسلم : 2022)

بچوں کا احترام کرنا اور ان کے حقوق کا پاس و لحاظ رکھنا :

اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجلس میں تشریف فرما تھے اور آپ کے دائیں جانب ایک چھوٹا بچہ اور بائیں جانب عمر دراز لوگ موجود تھے۔ ایسے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چھوٹے بچے سے کہا : ”کیا تم مجھے اجازت دیتے ہو کہ میں یہ ان بڑے لوگوں کو دے دوں؟“۔ بچے نے کہا کہ اللہ کی قسم نہیں یا رسول اللہ!میں آپ سے ملنے والے اپنے حصے پر کسی اور کو ترجیح نہیں دے سکتا۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اس مشروب (کے برتن کو) اس لڑکے کے ہاتھ میں دے دیا۔ (صحیح بخاری : 2351، صحیح مسلم : 2030)

سوم : بچوں کی تعلیم و تربیت پر توجہ :

بچوں کو لکھنا اور پڑھنا سکھانا :

اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے غزوۂ بدر کے بعض قیدیوں کو، جن کے پاس فدیہ دینے کے لیے کچھ نہیں تھا، دس مسلم بچوں کو پڑھنا لکھنا سکھانے پر مکلف کیا۔ (طبقات ابن سعد : 2/22)

بچوں کو صحیح عقیدہ سکھانا :

اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا : "اے لڑکے! میں تمھیں کچھ باتیں سکھاتا ہوں؛ اللہ (کے حقوق) کی حفاظت کرو، اللہ تمھاری حفاظت کرے گا۔ تم اللہ (کے حقوق) کا خیال رکھو ، اللہ کو اپنے سامنے پاؤ گے اور جب مانگو، تواللہ ہی سے مانگو اور جب مدد طلب کرو، تو اللہ ہی سے مدد طلب کرو۔" (سنن ترمذی : 2516)

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا بچوں کو عبادتوں اور اخلاق کا عادی بنانے کا حکم :

نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے : "جب تمہارے بچے سات سال کے ہو جائیں تو انہیں نماز پڑھنے کا حکم دو اور جب وہ دس سال کے ہوجائیں تو نماز میں غفلت پر انہیں مارو اور ان کے بستر بھی الگ الگ کر دو۔" (ابوداؤد : 495)

اسی طرح بچوں کو اسلامی آداب، جیسے سچائی، امانت داری اور بڑوں کا احترام سکھانے کا حکم :

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بچوں کو کافروں کی مشابہت اختیار کرنے کی ممانعت :

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے زندگی کے ہر گوشے، یہاں تک کہ لباس اور ظاہری شکل و صورت بھی، بطور خاص بچوں کی تربیت میں غیر مسلموں کی مشابہت اختیار کرنے سے خبردار کیا ہے۔ مثلا آپ نے اس بات سے منع کیا ہے کہ بچے کے سر کے کچھ حصے کے بالوں کو حلق کر دیا جائے اور کچھ حصے کو چھوڑ دیا جائے۔ (صحیح بخاری : 5920، صحیح مسلم : 2120)

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : ایک دوسرے کی مدد سے نتیجے نکالوں گا :

اپنے ساتھیوں کی مدد سے بتائيں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بچوں کے ساتھ برتاؤ کی درج ذیل مثالیں کن باتوں پر دلالت کرتی ہیں :

موقف مدلول

اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو حسن رضی اللہ عنہ کو بوسہ دیتے ہوئے دیکھ کر کہا کہ میرے دس بچے ہيں اور میں نے کسی کو بوسہ نہيں دیا ہے، لہذا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو دیکھا اور فرمایا : "جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا!" (صحیح بخاری : 5997، صحیح مسلم : 2318) بچوں کو شفقت اور محبت کے ساتھ بوسہ دینا۔

انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بنی نوع انساں میں سب سے با اخلاق شخص تھے۔ میرا ایک بھائی تھا، جسے ابوعمیر کہا جاتا تھا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم جب تشریف لاتے اور اسے دیکھتے تو فرماتے : "اے ابو عمیر! نُغَیر نے کیا کیا؟" (صحیح بخاری : 6129، صحیح مسلم : 2150) نغیر ایک قسم کا چھوٹا سا پرندہ ہے۔ بچوں کے ساتھ لطف و کرم برتاؤ کرنا اور ان کے ساتھ کھیلنا۔

سرگرمی (2) پڑھوں گا اور تحدید کروں گا :

نیچے دیے گئے موقعوں کے لیے ان آپشنز کو نشان زد کریں، جو آپ کے برتاؤ اور احساس کو بیان کرتے ہوں :

م برتاؤ یا احساس برتاؤ یا احساس کی سطح

بہت زیادہ اوسط درجے کا کمزور

1- میں مسلم بچوں کو غیر مسلموں کی مشابہت اختیار کرتے ہوئے دیکھ کر غم زدہ ہوتا ہوں۔

2- میں چھوٹے بچوں کو قرآن پڑھتے ہوئے دیکھ کر خوش ہوتا ہوں۔

3- میں اپنی چھوٹی بہنوں پر توجہ نہیں دیتا۔

4- میں اپنے بچوں کو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ کا طریقہ اور آپ کے اخلاق سکھانے پر توجہ دیتا ہوں۔

5- میں خود نماز پڑھنے جاتا ہوں اور بچوں کو گھر میں ہی چھوڑ دیتا ہوں۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) كا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بچوں کے ساتھ کھیلنے كو کسر شان سمجھتے تھے۔ (×)

بچوں سے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی محبت کی ایک مثال یہ ہے کہ آپ ان کو کندھے پر اٹھا لیا کرتے تھے۔ (✓)

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بچوں پر سب سے زیادہ رحم کرنے والے انسان تھے۔ (✓)

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بچوں کو بوسہ دینے سے منع کیا ہے۔ (×)

بچوں کو جوان ہونے تک عقیدہ نہ سکھانا واجب ہے۔ (×)

سوال 2 : نیچے دیے گئے جدول کو پورا کرکے یہ بتائیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم مختلف عمر کے بچوں پر کس طرح توجہ دیتے تھے :

عمر کا مرحلہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کى جانب سے عمر کے مختلف مرحلوں پر توجہ دینے کی صورتیں

پیدائش کے وقت

سات سال یا اس سے پہلے کا مرحلہ

دس سال کا مرحلہ

س 3 : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے طریقے کا ایک عملی نمونہ پیش کریں، جو درج ذیل نکات پر دلالت کرتا ہو :

1- بچوں کے ساتھ کھیلنا۔

2- بچوں کو نفع بخش چیزيں سکھانا۔

چوتھا سبق : غیر مسلموں کے ساتھ برتاؤ کے سلسلے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا طریقہ

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

غیر مسلموں کے ساتھ برتاؤ کے منہج سے واقف ہو جائيں گے۔

غیر مسلموں کے ساتھ برتاؤ کے سلسلے میں نبوی طریقے کے اہم امتیازات بیان کر سکيں گے۔

مخالفوں کے ساتھ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اچھے برتاؤ کو بیان کر سکیں گے۔

غیر مسلموں کے ساتھ برتاؤ کے سلسلے میں اخلاقی اقدار کی اہمیت کو محسوس کر سکیں گے۔

غیر مسلموں کے ساتھ برتاؤ کے سلسلے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی پیروی کریں گے۔

کچھ لوگ سمجھتے ہيں کہ دین کا الگ الگ ہونا مخالفین کے ساتھ بدخلقی اور ان پر ظلم روا ہونے کا سبب ہے۔ لیکن جب ہم غیرمسلموں کے ساتھ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی جانب سے روا رکھے جانے والے برتاؤ کا مطالعہ کرتے ہیں، تو واضح ہو جاتا ہے کہ ایسا سمجھنا غلط ہے :

غیر مسلموں کے ساتھ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا برتاؤ :

ان کو اچھے انداز میں اسلام کی دعوت دینا۔

ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔

ان کے ساتھ انصاف کرنا اور ان پر ظلم کو حرام قرار دینا۔

ان کے شخصی حقوق ادا کرنا۔

ان پر دین کے معاملے میں زبردستی نہ کرنا۔

اول : دین کے معاملے میں زبردستی نہ کرنا :

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی کو مسلمان ہونے پر مجبور نہیں کیا۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے : "دین کے بارے میں کوئی زبردستی نہیں، ہدایت ضلالت سے روشن ہوچکی ہے۔" (سورہ بقرہ : 256) اگر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس کسی کو زبردستی مسلمان بنانے کا اختیار ہوتا، تو اس کا استعمال اپنے چچا ابو طالب اور گھر اور خاندان کے باقی لوگوں پر کرتے۔

لیکن عقیدے کی آزادی کا مطلب کسی کے غلط عقائد کا اقرار نہيں ہے۔ کیوں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت کے بعد اللہ لوگوں سے اسلام کے سوا کسی اور دین کو قبول نہيں کرتا۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "جو شخص اسلام کے سوا اور دین تلاش کرے، اس کا دین قبول نہ کیا جائے گا اور وه آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا۔" (سورہ آل عمران : 85)

دوم : ان کو اچھے انداز میں اسلام کی دعوت دینا :

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم لوگوں کو اچھی نصیحت اور دلیل کے ذریعے اسلام کی دعوت دیتے تھے۔ گفتگو کے دوران ادب اور احترام کا بھی خیال رکھتے تھے۔ اس کی مثالیں دیکھنی ہوں تو عتبہ بن ربیعہ قرشی سے آپ کی گفتگو اور مدینہ آنے والے نجران کے نصاری سے آپ کی بات چیت کو دیکھ سکتے ہیں۔

غیر مسلموں کو دعوت دینے کے سلسلے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے منہج کے امتیازی اوصاف نرمی اور وضاحت ہیں۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم مدینے کے یہودیوں کے یہاں گئے اور ان سے فرمایا : "اے یہودیو! اسلام قبول کر لو، محفوظ رہوگے۔" (آپ کی دعوت سننے کے بعد) یہودیوں نے کہا کہ اے ابوالقاسم! آپ نے اپنی بات پہنچا دی۔ (صحیح مسلم : 1765)

سوم : غیر مسلموں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا :

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے غیر محارب کفار کے ساتھ رحم و کرم پر مبنی برتاؤ کیا ہے۔ ایک بار آپ سے کہا گیا کہ آپ مشرکوں کے حق میں بد دعا کر دیں، تو آپ نے فرمایا : "مجھے لعنت کرنے والا بنا کر بھیجا نہيں گیا ہے۔ مجھے تو رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔" (صحیح مسلم : 2599)

اس کی ایک مشہور ترین مثال یہ ہے کہ آپ کے پاس پہاڑوں کا فرشتہ آیا اور عرض کیا : اے محمد! آپ چاہيں تو مکہ کے دونوں کناروں میں واقع دونوں پہاڑوں کو آپس میں ملاکر میں ان کو پیس ڈالوں۔ توآپ نے کہا : "مجھے امید ہے کہ اللہ ان کے صلب سے ایسے لوگوں کو پیدا کرے گا، جو ایک اللہ کی عبادت کریں گے اور کسی کو اس کا شریک نہیں بنائيں گے۔" (صحیح بخاری : 3231، صحیح مسلم : 1795)

جب فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے تو مکہ والوں کو معاف کر دیا۔

چہارم : غیر مسلموں کے ساتھ انصاف کرنا اور ان پر ظلم کرنے کو حرام قرارا دینا :

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے غیر مسلموں پر مال و دولت، خون، عزت و آبرو یا عہد و پیمان کے سلسلے میں کسی طرح کا کوئی ظلم نہیں کیا۔ آپ نے صلح حدیبیبہ (سنہ 6ھ) کے بعد قریش سے کیا ہوا اپنا وعدہ پورا کیا اور مکہ کو اسی وقت فتح کیا، جب اہل مکہ نے خیانت سے کام لیا۔ اسی طرح مدینے کے یہودیوں سے کيے گئے وعدوں کو بھی پورا کیا۔ ان کو بھی مدینے سے اسی وقت نکالا، جب وہ کھلی خیانت پر اتر آئے۔

پنجم : غیر مسلموں کے شخصی حقوق ادا کرنا :

جیسے : بیمار غیر مسلموں کی عیادت کرنا، ان کو ہدیہ پیش کرنا اور ان کے ساتھ خرید و فروخت کرنا۔ جب ایک یہودی بچہ بیمار ہوا، تو آپ اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے، اس کے سرہانے پر بیٹھے اور اس سے کہا : "اسلام قبول کر لو۔" آپ کی بعد سننے کے بعد اس بچے نے اپنے والد کی جانب دیکھا، تو اس نے کہا کہ ابو القاسم کی بات مان لو۔ چنانچہ وہ لڑکا مسلمان ہو گیا۔ بعد ازاں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم یہ فرماتے ہوئے کھڑے ہوئے : "ساری تعریف اللہ کی ہے، جس نے اس لڑکے کو جہنم کی آگ سے بچا لیا۔" (صحیح بخاری : 1356)

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : نکات اخذ کروں گا :

اپنے معلم کی نگرانی میں پتہ کریں کہ نیچے دی گئی آیت کریمہ غیر مسلموں کے ساتھ برتاؤ کی کن صورتوں پر دلالت کرتی ہے :

دلیل مدلول

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم مکہ میں مشرکوں کے پاس سے گزرتے اور فرماتے : "لوگو! لا الہ الا اللہ کہہ دو، کام یاب ہو جاؤ گے۔" (مسند احمد : 16023) غیر مسلموں کو اسلام کی راہ دکھانے اور اچھے طریقے سے اسلام کی دعوت دینے کی کوشش۔

نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: "جس نے کسی معاہد کو قتل کیا، وہ جنت کی بو تک نہیں پائے گا۔" (صحیح بخاری : 3166) عہد و پیمان پورا کرنا اور غیر محارب پر دست درازی نہ کرنا۔

سرگرمی (2) : موافقت کروں کا یا نہیں کروں گا :

غیر مسلم کے ساتھ اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرنے اور اس کے باطل دین کا اقرار کرنے کے درمیان ایک بڑا فرق ہے۔ اسی فرق کا لحاظ رکھتے ہوئے آپ بتائیں کہ نیچے دیے گئے حالات مین آپ کیا کریں گے :

موقف موافقت کروں گا موافقت نہیں کروں گا سبب

آپ نے اپنے مسلم پڑوسی کو کسی غیر مسلم کو ناحق مارتے ہوئے دیکھا۔ کیوں کہ اسلام نے کسی پر ناحق دست درازی سے منع کیا ہے۔

ایک غیر مسلم ساتھی نے آپ کو ہدیہ دیا، جو آپ کو اپنے دین سے متعارف کرنا چاہتا ہے۔ کیوں کہ یہ ہدیہ مجھے میرے دین سے الگ کرنے کے لیے دیا گیا ہے اورکبھى یہ میرے دل پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔

ایک ساتھی نے آپ کو اپنے کلیسا یا عبادت خانے میں منعقد ہونے والی ایک دینی تقریب میں دعوت دی۔ کیوں اس میں میرا شامل ہونا اس کے عقیدے کے تئیں اپنی رضامندی کا اظہار ہے۔

آپ کے ساتھ کام کرنے والا ایک غیر مسلم ساتھی بیمار ہو گیا اور ایک شخص نے اسپتال میں اس کی زیارت کے لیے آپ کو بلایا۔ کیوں کہ یہ حسن سلوک میں داخل ہے اور اس کے ذریعے ان کو اسلام سے قریب کیا جا سکتا ہے۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

انصاف مسلم اور غیر مسلم دونوں کے ساتھ واجب ہے۔ (✓)

عہد و پیمان پورا کرنا غیر محاربوں کے ساتھ خاص ہے۔ (✖)

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے پہاڑ کے فرشتے کی طرف سے مشرکوں کو تباہ و برباد کرنے کی پیش کش سے موافقت ظاہر کی۔ (✖)

مسلمان کے لیے کلیسا کے اندر منعقد ہونے والی مذہبی تقریبات میں شریک ہونا جائز ہے۔ (✖)

سوال 2 : درج ذیل عبارتوں میں درست کا انتخاب کریں :

ارشادِ باری تعالٰی : "دین کے بارے میں کوئی زبردستی نہیں، ہدایت ضلالت سے روشن ہوچکی ہے۔" رہ نمائی کرتا ہے :

غیر مسلموں کو دعوت دینے اور ان کو قبول کرنے یا نہ کرنے کی آزادی دینے کی طرف۔

عقیدے کی آزادی کے اصول پر عمل کرتے ہوئے غیر مسلموں کو دعوت دینے سے گریز کرنے کی طرف۔

اسلام کے عقائد بیان کرنے اور کفار کو ماننے پر مجبور کرنے کی طرف۔

ارشادِ باری تعالٰی : "جو شخص اسلام کے سوا اور دین اختیار کرے، اس کا دین قبول نہ کیا جائے گا۔" دلیل ہے :

روئے زمین پر اسلام کے علاوہ کسی دین کے موجود نہ ہونے کی۔

اسلام کے علاوہ سارے ادیان باطل ہیں۔

مسلمانوں کے علاوہ تمام لوگوں کو قتل کرنا واجب ہے۔

سوال 3 : غیر مسلم مریض کی زیارت کا کیا حکم ہے اور اس کی دلیل کیا ہے؟

پانچواں سبق : مسلمان کے حقوق

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ :

مسلمان کے حقوق گنوا سکیں گے۔

شامل درس حدیث کے کلمات کا معنی بتا سکیں گے۔

شامل درس حدیث سے ملنے والی سب سے اہم رہ نمائی کا خلاصہ پیش کریں گے۔

مسلمان کے حقوق ادا کریں گے۔

اس حدیث کو یاد کر لیں گے۔

تمہید :

نیچے دیے گئے مواقف میں سے ہر موقف کے بارے میں اپنے احساسات بیان کریں :

آپ نے اپنے پڑوسی کو سلام کیا اور اس نے سلام کا جواب نہيں دیا۔

آپ بیمار ہوکر اسپتال میں داخل ہوگئے اور آپ کا کوئی ساتھی عیادت کے لیے نہیں پہنچا۔

آپ نے اپنے دوستوں کو کھانے پر مدعو کیا، لیکن ان میں سے اکثر حاضر نہیں ہوئے۔

مذکورہ رویوں کا موازنہ اس حدیث میں وارد باتوں سے کریں :

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا ہے : ’’ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حقوق ہیں: سلام کا جواب دینا، بیمار کی عیادت کرنا ،جنازوں کے ساتھ جانا، دعوت قبول کرنا اور چھینکنے والے کوجواب دینا‘‘ (صحیح بخاری : 1240، صحیح مسلم : 2162)

کلمات کے معانی :

کلمات معانی

عِيَادَةُ الْمَرِيضِ بیمار شخص کا حال جاننے کے لیے جانا۔

إِجَابَةُ الدَّعْوَةِ جب کوئی مسلمان کھانے کی دعوت دے، تو اس کے یہاں جانا۔

تَشْمِيتُ الْعَاطِسِ چھینکنے والے کے حق میں يَرْحَمَكُمُ اللهُ کہہ کر دعا کرنا۔

حدیث کے راوی کا تعارف :

ان کا نام عبدالرحمن بن صخر دوسی رضی اللہ عنہ تھا۔

سنہ 7ھ میں مسلمان ہوئے اور اللہ کے نبی صلی اللہ کی وفات تک سایے کی طرح آپ کے ساتھ رہے۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے لیے مضبوط یاد داشت اور ان کو مومن بندوں کا محبوب بنانے کی دعا کی تھی۔ چنانچہ وہ سب سے زیادہ حدیث یاد رکھنے والے اور روایت کرنے والے صحابہ میں شامل تھے۔ 5000 سے زیادہ حدیثیں روایت کیں۔

اہل علم اور تعلیم وتبلیغ کے میدان میں سر فہرست صحابہ میں شمار ہوتے تھے۔

آپ رضی اللہ عنہ نے سنہ 59ھ میں وفات پائی۔

حدیث کا عام معنی :

اسلام ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا چاہتا ہے، جس کی کڑیاں آپس میں مضبوطی سے جڑی ہوئی ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر کچھ حقوق عائد کیے ہیں، جنھیں ادا کرنا ضروری ہے۔ اس حدیث کے اندر ان میں سے کچھ اہم حقوق بیان کیے گئے ہیں۔

فوائد و توجیہات :

شریعت کی نظر میں مسلمان کے حقوق کی اہمیت۔

مسلمان کے حقوق ادا کرنے کی ترغیب۔

مسلمانوں کے دلوں کو آپس میں جوڑنے والی چیزوں پر اسلام کی توجہ۔

ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر درج ذیل حقوق ہیں :

جب اس کا بھائی سلام کرے، اس کے سلام کا جواب دے۔

جب بیمار ہو تو اسے دیکھنے کے لیے جائے۔

جب وہ فوت ہو تو اس کے جنازے کے ساتھ چلے۔

جب اسے عقیقہ وغیرہ کی دعوت دے، تو اس کے یہاں جائے۔

جب چھینکنے کے بعد الحمد للہ کہے، تو اس کے جواب میں يرحمكَ الله کہے۔

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : غور کروں گا اور تحدید کروں گا :

اس سبق میں شامل حدیث کے فہم کی روشنی میں بتائيے کہ نیچے دی گئی باتوں میں سے کن کن باتوں پر یہ حدیث دلالت کرتی ہے اور کن کن پر دلالت نہيں کرتی :

معنی حدیث اس پر دلالت کرتی ہے حدیث اس پر دلالت نہیں کرتی

مسلمان کے حقوق مردوں کے ساتھ خاص ہيں۔

ان پانچ حقوق کے علاوہ مسلمان کے اور بھی دوسرے حقوق ہیں۔

مسلمان کا ایک حق یہ ہے کہ جب وہ اپنی تقریبات میں بلائے، تو آپ حاضر ہوں۔

سرگرمی (2) : میں پڑھوں گا اور جواب دوں گا :

مسلمان کے کچھ ایسے بھی حقوق ہيں، جن کا ذکر اس حدیث میں نہیں ہوا ہے۔ نیچے دیے گئے نصوص پر غور کریں، پھر مسلمان کے ان حقوق کا انتخاب کریں، جن پر یہ نصوص دلالت کرتے ہیں اور اس کے بعد نیچے دیے گئے جدول میں ان پر دلالت کرنے والی عدد درج کریں :

جب کسی مسلمان کو دشمن بندی بنا لے، تو اسے آزاد کرنے کی کوشش کرنا۔

مسلمان کی غیبت اور ٹوہ میں لگنے سے گریز کرنا۔

اس کے ساتھ رابطہ رکھنا اور اس سے جھگڑنے سے گریز کرنا۔

ناحق طریقے سے اس کا مال نہ لینا۔

م نص مسلمان کے حقوق

1- اللہ تعالی کا قول : "اے ایمان والو! اپنے آپس کے مال ناجائز طریقہ سے مت کھاؤ۔" (سورہ نساء : 29)

2- اللہ تعالی کا قول : " اور بھید نہ ٹٹوﻻ کرو اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔" (سورہ حجرات : 12)

3 - اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد : "قیدی کو آزاد کراؤ، بھوکے کو کھانا کھلاؤ اور مریض کی عیادت کرو۔" (صحیح بخاری : 3046)

4- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد : "کسی مسلمان کے لیے اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ مدت تک بات چیت بند رکھنا جائز نہيں ہے۔" (صحیح بخاری : 6065، صحیح مسلم : 2559)

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

اس سبق کى حدیث ميں ایک مسلمان کے سارے حقوق موجود ہيں۔ (×)

ایک مسلمان کو اپنے مسلمان بھائی کے جذبات کا خیال رکھنا چاہیے۔ (√)

چھینکنے والا الحمد للہ نہ کہے، تب بھی اس کا جواب دینا واجب ہے۔ (×)

میں اس حدیث کے راوی کى اقتدا کرتے ہوئے علم پر توجہ دوں گا۔ (√)

سوال 2 : قوسین سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

اس حدیث میں مسلمان کے جو حقوق بیان کيے گئے ہيں، ان میں سے ایک ہے :

(بوڑھا ہونے پر اس کی عزت کرنا - بیمار ہونے پر اس کی عیادت کرنا - اس کے بارے میں اچھا گمان رکھنا)

مسلمان کا ایک حق، جس کا ذکر اس حدیث میں نہیں ہوا ہے :

(بیمار ہونے پر اس کی زیارت کرنا - اس کے سلام کا جواب دینا - اس پر ہونے والے ظلم کو دور کرنا)

مسلمان جب فوت ہو جائے تو اس کا ایک حق ہے :

(اس کے جنازے کے ساتھ چلنا - اس کے لیے دعا کرنا - دونوں)

سوال 3 : مسلمان کے بعض حقوق سے واقفیت کی روشنی میں نیچے دیے گئے ہر مسئلے کا حل پیش کریں :

ایک غریب آدمی آپ کی مسجد میں نماز پڑھتا ہے اور معمولی تنخواہ پر کام کرتا ہے۔

کچھ نوجوان ایک آدمی کا مذاق اڑاتے ہیں، اس کی کمزوری اور پرانے کپڑوں کی وجہ سے۔

کچھ پڑوسی اپنے پڑوسی پر اس بنا پر زبان درازی کرتے ہیں کہ اس کا تعلق دوسرے ملک سے ہے۔

چھٹا سبق : صلہ رحمی کی فضیلت

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! آپ سے یہ توقع ہوگی کہ اس سبق کے بعد آپ :

صلہ رحمی کی فضیلت گنوا سکیں گے۔

شامل درس حدیث میں آئے ہوئے کلمات کے معنی بتا سکیں گے۔

شامل سبق حدیث کے عام معنی کا خلاصہ بیان کر سکيں گے۔

اس حدیث سے ملنے والی سب سے اہم رہ نمائی واضح کر سکيں گے۔

اس حدیث کو یاد کر لیں گے۔

صلہ رحمى کریں گے۔

اسلام نے والدین کے ساتھ حسن سلوک واجب کیا ہے۔ اب یہ بتائيں کہ کیا حسن سلوک کا دائرہ والدین تک ہی محدود ہے؟ کیا کچھ دوسرے لوگ بھی ہیں جن کے ساتھ حسن سلوک اور صلہ رحمی کرنا مسلمان سے مطلوب ہے؟ کیا مسلمان کو اس کا ثواب ملے گا؟

درس کی حدیث انہی نکات کی معرفت سے آپ کو رو بہ رو کراتی ہے۔

أنس رضي الله عنه روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں نے رسو ل اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ”جو اس بات کا خواہش مند ہو کہ اس کی روزی میں فراخی ہو اور اس کی عمر دراز کر دی جائے، اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کیا کرے“۔ (صحیح بخاری : 5986، صحیح مسلم : 2557)

راوئ حدیث کا تعارف :

کنیت ابو حمزہ اور نام انس بن مالک بن نضر انصاری رضی اللہ عنہ ہے۔

دس سال اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت کی۔

آپ نے ان کے حق میں دعا کرتے ہوئے کہا تھا : "اے اللہ! اسے بہ کثرت مال و دولت اور آل و اولاد عطا کر اور اس کے لیے اپنی دی ہوئی تمام چیزوں میں برکت دے۔" (صحیح بخاری : 6334، صحیح مسلم : 660) تو (اس دعا کی برکت سے) انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا شمار سب سے زیادہ مال و دولت اور آل و اولاد رکھنے والے صحابہ میں ہوتا تھا۔"

نماز میں بڑا لمبا قیام کرتے تھے۔ ان کا شمار اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے بہ کثرت حدیث روایت کرنے والے صحابہ میں ہے۔

سنہ 92ھ میں بصرہ میں وفات پائی۔

کلمات کے معانی

کلمات معانی

يُبْسَطَ بڑھا دی جائے۔

يُنْسَأَ لمبی کر دی جائے یا برکت دے دی جائے۔

أَثَرِه اس کی عمر

رَحِمَهُ پریوار اور رشتے دار۔

حدیث کا عام معنی :

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہمارے لئے صلہ رحمی کی اہمیت اور انسانی زندگی پر پڑنے والے اس کے مثبت اثرات واضح کر رہے ہيں۔ لہذا جو عمر میں برکت اور روزی میں اضافے کا طلب گار ہو، وہ صلہ رحمی کرے اور اپنے رشتے داروں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے۔

فوائد و توجیہات :

صلہ رحمی کی ترغیب۔

اجتماعی زندگی کے مختلف گوشوں پر اسلام کی توجہ۔

صلہ رحمی کے بہت سے فضائل اور غیر معمولی آثار ہيں، جو کچھ اس طرح ہيں :

صلہ رحمی عمر میں برکت کا سبب ہے۔

رزق میں اضافہ کا سبب ہے۔

انسان کے لئے موت کے بعد نیک نامی کا سبب بنتى ہے۔

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : ایک دوسرے کے ساتھ مل کر موازنہ کروں گا :

اپنے ساتھی کی مدد سے نیچے دیے گئے نصوص کی روشنی میں صلہ رحمی اور قطع رحمی کے آثار کے درمیان موازنہ کریں :

نص صلہ رحمی کی فضیلت قطع رحمی کی سزا

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان : "رشتے ناتے کو کاٹنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔" (صحیح بخاری : 5984، صحیح مسلم : 2556) جنت میں داخل ہونے سے محرومی۔

ایک حدیث قدسی میں اللہ تعالی کا فرمان : "۔۔۔ میں رحمن ہوں, اور یہ رحم (رشتہ داری) ہے۔ میں نے اپنے نام سے اس کا نام نکالا ہے۔ جو اسے جوڑے گا، میں اسے جوڑوں گا اور جو اسے کاٹے گا، میں اسے کاٹوں گا۔" (سنن ابوداؤد : 1696) اللہ اسے جوڑے گا جو اپنے رشتے ناتے کو بھلائی کے ساتھ جوڑے رکھتا ہو۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان : "مسکین پر کیا گیا صدقہ صرف صدقہ ہے۔ جب کہ کسی رشتے دار پر کئے گئے صدقہ کى دو حیثیت ہے: وہ صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی۔" (سنن نسائی : 2582) صدقے کے اجر و ثواب کا گنا در گنا بڑھایا جانا۔

سرگرمی (2) : پڑھوں گا اور تحدید کروں گا :

آپ کے سامنے صلہ رحمی کی کچھ صورتیں دی گئی ہیں۔ ان میں سے ان صورتوں کا انتخاب کریں، جن پر آپ عمل درآمد کرتے ہيں :

(رشتے داروں کی زیارت کرنا - رشتے داروں کی ضیافت - رشتے داروں کے بارے میں دریافت کرنا - رشتے داروں کی مالی مدد کرنا - بڑے رشتے داروں کی عزت کرنا - کمزور رشتے داروں پر رحم کرنا - ان کی خوشی اور غم میں شریک ہونا - بیمار رشتے داروں کی عیادت کرنا - ان کے جنازے کے ساتھ چلنا - ان کو صحیح راہ دکھانا - ان کو اچھے کاموں کا حکم دینا اور برے کاموں سے روکنا)۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : مندرجۂ ذیل میں درست جواب کو خط کشیدہ کریں :

حسن سلوک کے حکم کا دائرہ والدین تک محدود ہے۔ صحیح - غلط

صلہ رحمی نام ہے رشتے داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے اور ان تک خیر پہنچانے کا۔ صحیح - غلط

قطع رحمی کا ایک انجام دخول جنت سے محروم ہو جانا ہے۔ صحیح - غلط

صلہ رحمی کا روزی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ صحیح - غلط

سوال 2 : قوسین سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے حق میں دعا کی تھی :

(گہرے علم کی - روزی میں کشادگی کی - جسمانی قوت کی)

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے قول «يُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ» کے معنی ہیں :

(اس کی عمر بڑھ جاتی ہے - اس کے مال میں برکت دے دی جاتی ہے - اس کا ذکر خیر باقی رہتا ہے)

سوال 3 : اس حدیث کی تین توجیہات واضح کریں۔

ساتواں سبق : رحمت اور احترام

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

حدیث کے راوی کا مختصر تعارے پیش کر سکيں گے۔

اس درس میں وارد حدیث کے کلمات کا معنی بیان کر سکيں گے۔

اس درس میں وارد حدیث کے اجمالی معنی کا خلاصہ پیش کر سکيں گے۔

حدیث کے فوائد بیان کر سکیں گے۔

بڑوں کی عزت اور چھوٹوں پر رحم کریں گے۔

اس حدیث کو یاد کر لیں گے۔

تمہیدی سرگرمی :

سڑک سے گزرتے ہوئے آپ نے دیکھا کہ ایک نوجوان ایک عمر دراز شخص کےساتھ سختى اور غصہ کے ساتھ بات کررہا ہے۔ آپ اسے کیا نصیحت کرنا چاہیں گے؟

اس نصیحت کے بارے میں آپ اس حدیث سے استفادہ کر سکتے ہيں :

عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم فرمایا کرتے تھے : "وہ شخص ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹے پر شفقت نہیں کرتا اور ہمارے بڑے کے شرف وفضل کو نہیں پہچانتا۔" (سنن ابوداؤد : 4943، سنن ترمذی : 1920)

کلمات کے معنی :

کلمات معانی

لَيْسَ مِنَّا ہماری سنت کی پیروی کرنے والا اور ہمارے آداب کا التزام کرنے والا نہیں ہے۔

يرحم اس کے ساتھ نرمی و رحمت کا معاملہ کرے۔

راوی کا تعارف :

عبداللہ بن عمرو بن عاص قرشی رضی اللہ عنہ۔

سنہ 7ھ کے بعد مسلمان ہوئے اور ہجرت کی۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ کچھ غزوات میں شریک رہے۔

بڑے وسیع علم کے مالک تھے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے 700 سے زیادہ حدیثیں روایت کیں۔

بڑے عبادت گزار تھے۔ کثرت سے روزے رکھتے اور قرآن پڑھتے تھے۔

سنہ 63ھ میں وفات پائی۔

حدیث کا عام معنی :

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کچھ عظیم اخلاق بیان فرما رہے ہيں، جن کا مسلمانوں کے درمیان پھیلنا واجب ہے۔ مثلا ضعیفوں پر رحم کرنا، خصوصا کم سنوں پر، اور عمر دراز اور بلند مرتبے والوں کا احترام کرنا۔ جس نے ایسا نہيں کیا، اس نے مسلمانوں کے طریقے اور ان کے اخلاق کی خلاف ورزی کی۔

فوائد و توجیہات :

رحمت کی اہمیت۔ خصوصا چھوٹے بچوں کے ساتھ۔

عمر دراز اور اونچے مقام والے لوگوں کی عزت و احترام کی ضرورت۔

رحمت اور احترام مسلم معاشرے کے امتیازات میں سے ہیں۔

اچھے اخلاق اور اچھے طرز عمل میں مسلمانوں سے ہم آہنگ ہونے کی ضرورت۔

سرگرمیاں

سرگرمی (1) تجزیہ کروں گا اور نکتہ اخذ کروں گا :

نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ”رحم کرنے والوں پر رحمن رحم فرماتا ہے۔ تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا“۔ (سنن ابوداؤد : 4943، سنن ترمذی : 1924)

اپنے ساتھی کے ساتھ مل کر درس میں وارد حدیث کے ساتھ اس حدیث کا ربط بیان کریں۔

یہ حدیث درس میں وارد حدیث کے موافق ہے : وصف رحمت کی تاکید اور اس کی ترغیب دینے میں۔

جب کہ درس میں وارد حدیث میں اضافہ کرتی ہے :

1- رحمت کا اجر و ثواب بیان کرنے میں۔

2- رحمت عام ہے۔ بچوں کے ساتھ خاص نہيں ہے۔

سرگرمی (2) : دیکھوں گا اور جوڑوں گا :

اس تصویر کو دیکھ کر اور اسے مذکورہ حدیث سے جوڑ کر بتائيں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ کے چھوٹے پر رحم کرنے کی بات کہنے کی سب سے مناسب وجہ کیا ہو سکتی ہے :

چھوٹے کا کمزور ہونا اور ظلم کا دفاع کرنے کی طاقت نہ رکھنا۔

چھوٹے کا چھوٹا قد اور ضعف نمو۔

چھوٹے کا مال اور نفقہ کا ضرورت مند ہونا۔

سرگرمی (3) : درجہ بندی کروں گا :

صحیح جگہ میں نشان لگا کر درج ذیل رویوں کی مطلوبہ انداز میں درجہ بندی کریں :

تصویر چھوٹے پر رحمت بڑے کے حق کا لحاظ

ایک شخص اپنے پڑوسی کو کسی بچے کو مارنے سے روکتا ہے

ایک نوجوان ایک کرسی رکھتا ہے، تاکہ ایک بوڑھا شخص اس پر سڑک میں آرام کر سکے

ایک لڑکی مہمانوں کے لیے کھانا بنانے میں اپنی خالہ کا ہاتھ بٹاتی ہے

ایک نوجوان بس میں اپنی سیٹ سے اٹھ جاتا ہے، تاکہ ایک عمر دراز شخص بیٹھ سکے۔

ایک طالب علم اپنے استاذ کا بیگ اٹھاتا ہے۔

ایک ڈاکٹر ایک شیر خوار بچے کا علاج کرنے کے لیے رات میں بیدار ہو جاتا ہے۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

یہ حدیث بڑے پر رحم کرنے اور چھوٹے کا احترام کرنے کی تعلیم دیتی ہے۔

بڑے کی نصیحت قبول کرنا اس کا احترام کرنے کی دلیل ہے۔

ماں کا اچھے بچوں کی دیکھ بھال کرنا چھوٹوں پر رحم کرنے دائرے میں آتا ہے۔

سوال 2 : قوسین کے ما بین سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کى اقتدا کرتے ہوئے ہم :

(روزے کی حرص رکھیں گے - مال جمع کرنے کی حرص رکھیں گے - فقرا کی خبرگیری کرنے کی حرص رکھیں گے)

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے قول "ليسَ منًّا" کے معنی ہیں :

(وہ ہمارے دین پر چلنے والا نہيں ہے - وہ ہمارے آداب کا خیال رکھنے والا نہیں ہے - وہ ہماری جنس سے نہیں ہے)

اس حدیث میں دی گئی رہ نمائیوں کی پیروی سے معاشرے میں ماحول بنے گا :

(رحم و کرم کا - سچائی کا - عدل و انصاف کا)

سوال 3 : نیچے دی گئی عبارتوں کو مناسب کالم میں رکھ کر جدول کو مکمل کریں :

(اس کے ساتھ کھیلنا - اس کی رائے قبول کرنا - اس کے پاس جانے سے پہلے اجازت لینا - دوران گفتگو اس کے ادب کا لحاظ رکھنا - اس کی تعلیم و تربیت - اس کو اذیت دینے اور مارنے سے باز رہنا)

- بڑے کے احترام میں داخل ہے

اس کے سامنے نہ چلنا

اس کے پاس جانے سے پہلے اجازت طلب کرنا

گفتگو کے دوران اس کے ادب کا لحاظ رکھنا

اس کی رائے قبول کرنا - چھوٹے پر رحم کرنے میں داخل ہے اسے اذیت نہ پہنچنے دینا اسے اذیت دینے اور مارنے سے باز رہنا اس کے ساتھ کھیلنا اس کی تربیت کرنا اور تعلیم دینا

سوال 4 : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے درس میں وارد حدیث میں بطور خاص چھوٹے پر رحم کرنے کی بات کیوں کہی ہے؟

آٹھواں درس : پڑوسی اور مہمان کی عزت کرنا

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

حدیث کے راوی کا مختصر تعارف پیش کر سکیں گے۔

درس میں وارد حدیث کے کلمات کے معانی بیان کر سکیں گے۔

درس میں وارد حدیث کا اجمالی خلاصہ پیش کر سکيں گے۔

اس حدیث میں پڑوسی اور مہمان کے بارے میں دی گئی رہ نمائيوں کو عملی جامہ پہنائيں گے۔

حدیث کو یاد کر لیں گے۔

تمہیدی سرگرمی :

آپ ایک دوست کے ساتھ ایک شادی میں گئے اور دیکھا کہ وہ کسی کو بٹھانے کے لیے اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا اور گرم جوشی سے اس کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ خوش آمدید اے ابو محمد! آئیے یہاں تشریف رکھیے! آپ نے جب اپنے دوست سے اس آدمى کو اس قدر توجہ دیے جانے کی وجہ پوچھی تو آپ کے دوست نے بتایا کہ وہ شخص اس کا پڑوسی ہے۔ اب آپ بتائيے کہ آپ کے ساتھی کو ایسا کرنے کی ترغیب کہاں سے ملی؟

اس حدیث میں اس رویے کی تفسیر موجود ہے۔

حدیث کے الفاظ :

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ کو کہتے ہوئے سنا ہے : "جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اچھی بات کرے یا خاموش رہے، جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اپنے پڑوسی کی عزت کرے اور جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔" (صحیح مسلم : 47)۔

الفاظ کے معانی:

الفاظ معانی

"وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ"۔ جو شخص کامل ایمان رکھتا ہو جوکہ اللہ کے عذاب سے بچانے والا اور اس کی خوش نودی دلانے والا ہے۔

"لِيصْمُتْ" وہ خاموش رہے اور کچھ نہ بولے۔

"فَلْيُكْرِمْ جاره" وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور اس کے حقوق ضائع نہ کرے۔

راوی کا تعارف :

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا تعارف پیچھے گزر چکا ہے۔ ان کی زندگی سے مزید جڑی ہوئی ایک بات یہ ہے کہ:

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کی کنیت ابو ہریرہ رکھی تھی۔ وجہ یہ ہے کہ وہ ساتھ میں بلی لیے پھرتے تھے۔

انھوں نے زندگی میں بڑے فقر و فاقہ کا سامنا کیا۔ وہ خود اپنے بارے میں کہتے ہیں : "اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، میں بھوک کی شدت کی وجہ سے زمین سے چمٹ جایا کرتا تھا اور اپنے پیٹ سے پتھر باندھ لیا کرتا تھا۔"

لیکن بعد میں اللہ تعالی نے ان کو تونگری عطا کر دی اور مال و دولت، گھر بار اور اولاد ہر چیز سے سرفراز ہو گئے۔

حدیث کا عام معنی :

اس حدیث میں ایمان والوں کے تین اخلاق بیان کیے گئے ہيں۔ یہ تین اخلاق ہیں : بھلی بات کہنا یا خاموش رہنا، پڑوسیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اور مہمان کی عزت کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے حقوق ادا کرنا۔

فوائد و توجیہات :

بھلی بات کرنا، پڑوسی کی عزت کرنا اور مہمان کی خاطر داری کرنا ایمان کے لوازم میں سے ہیں۔

اچھی بات کرنے کی ترغیب۔

خاموش رہنا غلط بات کرنے سے بہتر ہے۔

برحق اور بھلی بات کرنا خاموش رہنے سے افضل ہے۔

پڑوسیوں کے ساتھ اچھے برتاؤ کا واجب ہونا اور ان کی اذیت رسانی کی حرام ہونا۔

مہمان کی خاطر داری کرنے کی فضیلت۔

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : زمرہ بندی کروں گا :

درج ذیل معانی کی حدیث کی دلالت کے مطابق مناسب کالم میں نشان لگا کر درجہ بندی کریں :

م معنی حدیث اس پر دلالت کرتی ہے حدیث اس پر دلالت نہيں کرتی

1/ مہمان کی عزت کرنا ایمان کی علامت ہے۔

2/ مہمان کی عزت کرنے کی اہمیت۔

3/ پڑوسیوں کےدرمیان کا تعلق ایک اجتماعی مسئلہ ہے۔ اس کا ایمان سے کوئی ربط نہيں ہے۔

4/ ایمان کے کچھ رویے ہوتے ہیں، جو اس کے موجود ہونے کی نشان دہی کرتے ہیں۔

سرگرمی (2) ایک دوسرے کی مدد سے جوڑوں گا :

اپنے دوستوں کی مدد سے اس حدیث میں آئی ہوئی باتوں کو نیچے دیے گئے مناسب نصوص سے جوڑیں :

نص اس مناسبت سے رکھنے والا حدیث کا ٹکڑا

اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی : "(انسان) منہ سے کوئی لفظ نکال نہیں پاتا مگر کہ اس کے پاس نگہبان تیار ہے۔" (سورہ ق : 18)

"وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔"

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان : "کوئی شخص اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں لکڑی گاڑنے سے نہ روکے۔" (صحیح بخاری : 2463، صحیح مسلم : 1609)

"وہ اپنے پڑوسی کی عزت کرے۔"

اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی : "کیا تجھے ابراہیم (علیہ السلام) کے معزز مہمانوں کی خبر بھی پہنچی ہے؟" (سورۂ ذاریات: 24) "وہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔"

سرگرمی (3) واقفیت حاصل کروں گا اور خلاصہ کروں گا :

آپ اس لنک کے توسط سے زبان کے خطرے سے آگاہ ہو سکتے ہيں۔ آگاہ ہونے کے بعد آپ نے جو کچھ سیکھا اس کا خلاصہ تیار کریں :

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

حدیث میں آئے ہوئے لفظ "فليصمت" کے معنی ہیں : وہ اپنی آوآز اونچی کرے۔

مومن جہاں اچھی بات کا حکم دینے کا موقع ہو، وہاں خاموش نہيں رہتا۔

مہمان کو کھانا کھلانا ایمان کے سچائى کى دلیل ہے۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فقر اور مشکل حالات پر صبر کیا۔

پڑوسی کی عزت کرنے کا ایمان سے کوئی تعلق نہيں ہے۔

سوال 2 : نيچے دیے گئے رویوں کا جائزہ مناسب کالم میں نشان لگا کر لیں :

م رویہ صحیح رویہ غلط رویہ

1- پڑوسیوں کے رازوں کو جاننے کی کوشش کرنا۔

2- غائب پڑوسی کے بچوں کا حال دریافت کرنا اور ان کی ضرورتیں پوری کرنا۔

3- پڑوسی کی چھپی ہوئی باتوں کے بارے میں گفتگو کرنا اور اس کی خصوصیات کو منکشف کرنا۔

4- پڑوسیوں کے گھروں کے سامنے کچرا پھینکنا۔

5- مہمان پر خرچ کرتے وقت اجر و ثواب کی امید رکھنا۔

6- ساتھی کو بتانا کہ دوسرے ساتھی نے اسے کل گالی دی تھی۔

7- مہمان پر جب کوئی دست درازی کرے، تو اس کا دفاع کرنا۔

8- ٹیلی ویزن کی آواز اتنی تیز رکھنا کہ پڑوسی پریشان ہو جائے۔

سوال 3 : اپنے ایک دوست کو نصیحت کریں، جو لوگوں کی عزت و آبرو سے کھلواڑ کرتا ہو۔

نواں سبق : توازن اور اعتدال

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

سبق میں وارد حدیث کے اجمالی معنی کی تشریح کر سکيں گے۔

سبق میں وارد حدیث کے فوائد بیان کر سکيں گے۔

دنیوی اور دینی امور کے درمیان موازنہ کی کیفیت بیان کر سکيں گے۔

حقوق میں توازن کی اہمیت محسوس کریں گے۔

اس حدیث کو زبانی یاد کر لیں گے۔

عزیز طالب علم! اس حدیث کو پڑھنے کے بعد نیچے دی گئی شکل میں خالی مقامات کو مناسب حقوق سے پر کریں :

اللہ تعالی کا حق :

نفس کا حق :

اہل و عیال کا حق :

سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے ابو دردا رضی اللہ عنہ سے کہا تھا : "بلاشبہ تمھارے رب کا تم پر حق ہے، تمھارے نفس کا تم پر حق ہے اور تمھارے اہل و عیال کا تم پر حق ہے۔ لہذا ہر حق والے کو اس کا حق دو۔ تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "سلمان نے صحیح کہا ہے۔" (صحیح بخاری : 1968)

حدیث کا عام معنی :

یہ حدیث ہمیں شریعت کی ایک بنیاد سکھاتی ہے۔ وہ بنیاد ہے حقوق کی ادائیگی میں توازن۔ ایسا نہ ہو کہ ہم ایک حق ادا کریں اور دوسرے حق میں کوتاہی کریں۔ یہی وجہ ہے کہ جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی بات سنی، تو ان کی تائید کی اور فرمایا : "سلمان نے صحیح کہا ہے۔" کیونکہ سلمان رضی اللہ عنہ نے حقوق کی تین قسمیں بیان کیں:

اول : اللہ کا حق۔ یہ سب سے اہم حق ہے۔ اس کے دائرے میں اوامر کی ادائيگی اور نواہی سے اجتناب آتا ہے۔

دوم : نفس کا حق۔ اس کے دائرے میں لباس، کھانا، پینا اور راحت وغیرہ کی وہ ساری چیزیں آتی ہيں، جن میں گناہ نہ ہوں۔

سوم : گھر والوں جیسے بیوى اور اولاد کا حق۔ ان کی دیکھ بھال کرنا اور ان سے جڑی ہوئی باتوں پر توجہ دینا ضروری ہے۔

فوائد اور توجیہات :

ہر حق والے کو اس کا حق دینا اور کسی حق میں کوتاہی نہ کرنا۔

نفس پر عبادت کا ایسا بوجھ ڈالنے سے گریز کرنا، جسے اٹھانے کی اس کے اندر سکت نہ ہو۔

حقوق اور واجبات کے درمیان توازں برقرار رکھنے کی اہمیت۔

اسلام کا انسان کى فطرت اور اس کی روحانی اور بدنی ضرورتوں کا خیال رکھنا۔

عبادت میں جد و جہد اور حلال تفریحوں کے درمیان توازن قائم رکھنے کی اہمیت۔

اسلام اور اس کے پیغام کے تئیں صحابہ کا عمیق فہم۔

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : ملاحظہ کروں گا اور جواب دوں گا :

نیچے دیے گئے جدول میں مباح تفریح کی تین اور غیر مباح تفریح کی تین صورتیں درج کریں :

مباح تفریح کی کچھ صورتیں

غیر مباح تفریح کی کچھ صورتیں

سرگرمی (2) : تلاش کروں گا اور خلاصہ کروں گا :

دعوت اور جہادی ذمے داریوں کے باوجود اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی بیویوں اور رشتے داروں کا حق ادا کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت سے اس کی نشان دہی کرنے والے دو موقعے ڈھونڈ کر نکالیں اور اپنی کاپی میں ان کا خلاصہ لکھیں۔

سرگرمی (3) : نکات اخذ کروں گا :

نیچے دی گئی آیتوں پر غور کریں اور اس کے بعد حقوق کے درمیان موازنہ کرنے کی ان صورتوں کو بیان کریں جن پر یہ آیتیں دلالت کرتی ہیں :

آیت / مدلول

"اور جو خرچ کرتے وقت بھی نہ تو اسراف کرتے ہیں نہ بخیلی، بلکہ ان دونوں کے درمیان معتدل طریقے پر خرچ کرتے ہیں." (سورہ فرقان : 67) مال خرچ کرنے میں موازنہ۔

"اور جو کچھ اللہ تعالی نے تجھے دے رکھا ہے اس میں سے آخرت کے گھر کی تلاش بھی رکھ اور اپنے دنیوی حصے کو بھی نہ بھول۔" (سورہ قصص : 77) آخرت کے لیے کام کرنے اور دنیا کی لذتوں سے لطف اندوز ہونے کے درمیان موازنہ۔

اضافي سرگرمی :

معلم اپنے طلبہ سے مشہور صحابی سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کے واقعہ کو ڈھونڈنے کو کہے۔ کیوں کہ اس واقعے کے اندر بہت سے دروس اور عبرتیں موجود ہیں۔ مثلا مثبت سوچ کے ساتھ کام کرنا، حق تلاش کرنے اور اس کی پیروی کرنے کا حریص ہونا۔

نوٹ : یہ پورا قصہ کتاب "سیر اعلام النبلاء (1/449) میں موجود ہے۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : قوسین کے مابین سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

اس حدیث کا سب سے بہتر عنوان ہو سکتا ہے :

(اللہ کے حقوق پر توجہ - حقوق کے درمیان موازنہ - پریوار کے حقوق)

ایک عورت وقت پر نماز پڑھتی ہے، لیکن شوہر کی اطاعت نہیں کرتی۔ وہ :

(اس حدیث پر عمل کرتی ہے - اس حدیث پر عمل نہیں کرتی - اس حدیث کے کچھ حصے پر عمل کرتی ہے)

میں نے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے موقف سے سیکھا کہ :

(مسلمانوں کی خیر خواہی کروں گا - چھپاکر صدقہ کروں گا - قرآن پڑھنا سیکھوں گا)

سوال 2 : نیچے دیے گئے جملوں میں موجود غلطیوں کو درست کر کے ان کو دوبارہ لکھیں :

نفس پر عبادت کا اتنا بوجھ ڈالنا، جسے وہ اٹھا نہ سکے، مستحب ہے۔

نفس پر عبادت کا اتنا بوجھ ڈالنا، جسے وہ اٹھا نہ سکے، مکروہ ہے۔

ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اللہ کے حقوق ادا کرے، اپنے بال بچوں پر توجہ نہ دے۔

ایک مسلمان پر واجب ہے کہ وہ اللہ کے حقوق بھی ادا کرے اور اپنے بال بچوں کے حقوق کا بھی خیال رکھے۔

اسلام صرف روحانی پہلووں پر توجہ دیتا ہے۔

اسلام روحانی اور جسمانی دونوں پہلووں پر توجہ دیتا ہے۔

سوال 3 : نیچے دی گئی حدیث پوری کریں :

ایک حدیث میں آیا ہے : "بلاشبہ تمھارے ....... کا تم پر حق ہے، تمھارے....... کا تم پر حق ہے اور تمھارے ....... کا تم پر حق ہے۔ لہذا ہر....... کو اس کا حق دو۔"

سوال 4 : نیچے دیے گئے دونوں سوالوں کے جواب دیجیے :

اس حدیث کی تین توجیہات بیان کریں۔

ایک مسلمان کی زندگی میں توازن کیسے پیدا ہو سکتا ہے؟ تین سطروں میں لکھیں۔

اکائی : فقہِ احکام

پہلا سبق : وضو کے احکام

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

وضو کے فرائض اور سنتیں گنوا سکیں گے۔

نواقضِ وضو (وضو توڑ دینے والی چیزیں) بیان کر سکیں گے۔

طہارت کی اہمیت محسوس کر سکيں گے۔

صحیح طریقے سے وضو کر سکیں گے۔

نماز دین کا ستون اور شہادتین (دونوں گواہیوں) کے بعد اسلام کا سب سے اہم رکن ہے۔ چوں کہ اس کے لیے طہارت شرط ہے، اس لیے نماز سے پہلے ہم طہارت کے بارے میں پڑھیں گے۔

اول : وضو کے فرائض

وضو کے فرائض چھ ہيں۔ ان کے بغیر نماز درست نہیں ہوگی۔ چھ فرائض درج ذیل ہیں :

پورے چہرے کو دھونا۔

چہرے کو دھونے کے اندر کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈال کر ناک جھاڑنا بھی شامل ہے۔ کسی نے اگر ان دونوں یا ان میں سے کسی ایک کو چھوڑ دیا، تو اس کا وضو درست نہيں ہوگا۔

دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونا۔

پورے سر کا مسح کرنا۔ سر کے مسح کا طریقہ یہ ہے کہ اپنے ہاتھ کو پانی سے تر کر کے سر پر پھیرا جائے۔ دونوں کان بھی سر میں داخل ہيں۔

دونوں پیروں کو ٹخنوں سمیت دھونا۔

اعضائے وضو کے درمیان ترتیب کا خیال رکھنا۔ یعنی پہلے چہرے کو اور اس کے بعد دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھویا جائے، پھر سر کا مسح کیا جائے اور اس کے بعد دونوں پیروں کو دھویا جائے۔

لگاتار کرنا۔ یعنی دو اعضا کو دھونے کے درمیان طویل زمنی فاصلہ نہ ہو۔

اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے : "اے ایمان والو! جب تم نماز کے لئے اٹھو تو اپنے منھ کو، اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھو لو اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھو لو۔" (سورۂ مائدہ : 6)

یہاں وضو کے فرائض دیکھیں :

دوم : وضو کی سنتیں

وضو کی سنتوں سے مراد وہ اعمال ہيں، جن کا وضو کے وقت کرنا ایک مسلمان پر مستحب ہے اور جن کے کرنے پر اجر و ثواب ملتا ہے۔ لیکن اگر کسی نے ان کو چھوڑ دیا، تب بھی وضو درست ہوگا۔

وضو کی سنتیں بہت ساری ہيں، جن میں سے کچھ اس طرح ہيں :

وضو کے شروع میں دونوں ہتھیلیوں کو تین بار دھونا۔

چہرے کو دھونے سے پہلے کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈال کر ناک جھاڑنا اور غیر روزے دار کے لیے دونوں میں مبالغہ سے کام لینا۔

مسواک کرنا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : "اگر اپنی امت کو مشقت میں ڈالنے جیسی بات نہ ہوتی، تو میں انھیں ہر وضو کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا۔" (مسند احمد : 7406)

اعضائے وضو کو تین تین بار دھونا۔ البتہ اس سے سر مستثنی ہے۔ اس کا مسح ایک ہی بار کیا جائے گا۔

دائیں سے شروع کرنا۔ ایک حدیث میں ہے : "رسول اللہ ﷺ جوتا پہننے، کنگھی کرنے، حصول طہارت اور اپنے تمام کاموں میں دائیں طرف سے آغاز کرنے کو پسند فرماتے تھے۔" (صحیح بخاری : 168، صحیح مسلم : 268)

سوم : وضو توڑنے والی چیزيں

وضو توڑنے والی چیزوں سے مراد وہ ساری چیزیں ہیں، جو وضو کو توڑ دیتی ہیں۔ یہ چیزیں ہیں :

پیشاب اور پاخانہ کے راستوں سے نکلنے والی ساری چیزیں۔ جیسے منی، مذی، پیشاب، پاخانہ اور ہوا۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : "انسان نماز چھوڑ کر اس وقت تک باہر نہ نکلے، جب تک آواز نہ سنے یا بدبو محسوس نہ کرے۔" (صحیح بخاری : 137، صحیح مسلم : 361)

ذکر (شرم گاہ) کو کسی حائل جیسے کپڑے وغیرہ کے بغیر چھونا۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : "جو اپنے آلۂ تناسل کو چھوئے تو اسے چاہیے کہ وہ وضو کرے۔" (سنن ابوداؤد : 181، سنن ترمذی : 82)

سو جانے، بے ہوش ہو جانے یا پاگل پن وغیرہ کی وجہ سے عقل کا زائل ہو جانا۔ تھوڑی بہت نیند آ جانے سے وضو نہيں ٹوٹتا۔

اونٹ کا گوشت کھانا۔ ایک حدیث میں ہے : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ سلم سے پوچھا گیا کہ کیا میں بکری کا گوشت کھانے کی وجہ سے وضو کروں؟ تو آپ نے جواب دیا : "چاہو تو کرو اور چاہو تو نہ کرو۔" پوچھنے والے نے پھر کہا کہ کیا میں اونٹ کا گوشت کھانے کی وجہ سے وضو کروں؟ تو آپ نے جواب دیا : "ہاں، اونٹ کا گوشت کھانے کی وجہ سے وضو کر لیا کرو۔" (صحیح مسلم : 360)

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : غور کروں گا اور مسائل اخذ کروں گا :

عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے وضو کا پانی منگوایا اوربرتن سے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈال کر تین دفعہ انھیں دھویا۔ پھر اپنے دائیں ہاتھ کو وضو کے پانی میں ڈالا اور کلی کی اور ناک میں پانی ڈال کر اسے جھاڑا۔ پھر اپنے چہرے کو تین دفعہ دھویا۔ پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت تین دفعہ دھویا۔ پھر اپنے سر کا مسح کیا۔ پھر اپنے دونوں پاؤں کو تین دفعہ دھویا اور فرمایا: "میں نے نبی ﷺ کو اپنے اس وضو کی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا اور پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا اور پھر دو رکعت نماز پڑھی، جس میں اس نے اپنے جی میں کوئی بات نہ کی، اس کے گزشتہ سب گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“ (صحیح بخاری : 164، صحیح مسلم : 226)

اس حدیث کی روشنی میں :

اس حدیث میں بیان کیے گئے وضو کے فرائض اور سنتوں کے ڈھونڈ کر الگ کریں۔

فرائض : چہرے کو دھونا - دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونا - سر کا مسح کرنا - دونوں پیروں کو دھونا۔

سنتیں : دونوں ہتھیلیوں کو تین بار دھونا - ناک جھاڑنا - ہر عضو کو تین تین بار دھونا۔

اس حدیث سے وضو کی ایک فضیلت سامنے آتی ہے۔ آپ بتائيں کہ وہ کیا ہے؟

سرگرمی (2) : میں طریقہ بیان کروں گا :

پڑھے گئے سبق کی روشنی ميں اپنے گھر والوں کو وضو کا پورا طریقہ سکھائیں۔ نیچے دیے گئے ویڈیو سے مدد بھی لیں :

سرگرمی (3) : فرق کروں گا اور جواب دوں گا :

نیچے دیے گئے موقفوں کے تعلق سے صحیح اور غلط کے درمیان فرق کریں اور سبب بھی بتائیں :

ایک شخص وضو کرتے وقت سر کے کچھ حصے کے مسح پر اکتفا کرتا ہے۔

ایک نوجوان نے پہلے اپنا چہرہ دھویا، پھر سر کا مسح کیا، پھر دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھویا، پھر دونوں پیروں کو دھویا۔

ایک لڑکی وضو کر رہی تھی۔ وضو کے دوران اس کے موبائل کی گھنٹی بجی، چنانچہ اس نے پہلے 20 منٹ گفتگو کی اور اس کے بعد وضو مکمل کیا۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

وضو میں دونوں پیروں کو ٹخنوں سمیت دھونا فرض ہے۔

وضو کے دوران کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈال کر ناک جھاڑنا سنت ہے۔

سوال 2 : قوسین سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

وضو لگاتار کرنا :

(فرض ہے - مستحب ہے - سنت ہے)

وضو کرتے وقت دائیں اور بائیں ہاتھ کے درمیان ترتیب کا خیال رکھنا :

(فرض ہے - سنت ہے - مباح ہے)

وضو توڑنے والی چیز ہے :

(تھوڑی بہت نیند - پیشاب نکلنا - بہت زیادہ ہنسنا)

سوال 3 : وضو توڑنے والی تین چیزیں لکھیں۔

دوسرا سبق : نماز کی شرطیں

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

نماز صحیح ہونے کی شرطیں گنوا سکيں گے۔

نماز صحیح ہونے کی شرطیں دلیلوں کے ساتھ بیان کر سکيں گے۔

نماز میں مرد اور عورت کے ستر کے درمیان فرق کر سکيں گے۔

نماز کے فریضے کی عظمت محسوس کر سکیں گے۔

نماز کی شرطوں کا التزام کریں گے۔

تمہید :

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : "تم اسی طرح نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔" (صحیح بخاری : 631)

اور اس کے لیے ہمیں نماز سیکھنے کی ضرورت پڑتی ہے، تاکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا اقتدا کرتے ہوئے اس کی شرطوں کو پورا کر سکیں، اس کے ارکان اور سنتوں کو ادا کر سکیں اور اسے باطل کر دینے والی چیزوں سے بچ سکیں۔ اس سبق میں ہم نماز کی شرطیں پڑھیں گے۔

نماز کی شرطیں

مسلمان ہونا۔ چنانچہ کسی کافر کے ذریعے پڑھی گئی نماز درست نہيں ہوگی۔ کیوں کہ اس کا عمل باطل ہے۔

عاقل ہونا۔ لہذا کسی پاگل کے ذریعے پڑھی گئی نماز درست نہيں ہوگی۔

حدثِ اکبر اور حدثِ اصغر سے پاک ہونا :

حدث اکبر جیسے جنابت، حیض اور نفاس سے پاکی غسل کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔

جب کہ حدث اصغر جیسے پیشاب، پاخانہ اور ریح خارج ہونے وغیرہ سے پاکی وضو کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : "کوئی بھی نماز طہارت کے بغیر قبول نہيں ہوتی۔" (صحیح مسلم : 224)

بدن اور کپڑوں کا پاک ہونا اور نماز کی جگہ کا پاک ہونا۔ لہذا نمازی کے بدن یا کپڑے میں نجاست لگی ہو یا نماز کی جگہ ناپاک ہو، تو نماز صحیح نہيں ہوگی۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "اپنے کپڑوں کو پاک رکھا کیجیے۔" (سورہ مدثر : 4)

نماز کا وقت داخل ہونا۔ سو نہ تو وقت سے پہلے نماز صحیح ہوگی اور نہ اس کے بعد۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "یقیناً نماز مومنوں پر مقرره وقتوں پر فرض ہے۔" (سورۂ نساء: 103) یعنی ایک معین وقت میں۔

ستر عورت : جو کہ مرد کے لئے ناف سے گھٹنوں تک ہے، اور عورت کے لئے پورا جسم، سوائے چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کے۔

قبلے کی جانب منہ کرنا۔ بنا بریں طاقت ہوتے ہوئے اس کے بغیر نماز درست نہيں ہوگی۔ "آپ اپنا منہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیں اور آپ جہاں کہیں ہوں اپنا منہ اسی طرف پھیرا کریں۔" (سورۂ بقرہ: 144)

نیت کرنا۔ نیت تمام عبادتوں میں شرط ہے۔ نیت کی جگہ دل ہے۔ نمازی اپنے دل میں یہ نیت کر لے کہ وہ کون سی نماز پڑھ رہا ہے۔ نیت کے الفاظ زبان سے ادا نہ کرے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : "اعمال (کی قبولیت) کا دار و مدار نیتوں پر ہے اور ہر آدمی کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔" (صحیح بخاری : 1، صحیح مسلم : 1907)

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : پڑھوں گا اور فیصلہ کروں گا :

یہ بتائیں کہ نیچے دیے گئے کام کہاں تک صحیح ہیں اور پھر پیچھے پڑھی ہوئی نماز کی شرطوں کی روشنی میں بتائيں کہ ان میں ہر کام سے کون سی شرط جڑی ہوئی ہے :

کام درست غلط شرط

ایک شخص نے مؤذن کے اذان دینے سے پہلے نماز پڑھ لی۔ وقت داخل ہونا۔

ایک شخص نے قبلہ کی جانب منہ کیا اور ظہر کی نماز کا ارادہ کر لیا۔ قبلہ کی جانب منہ کرنا اور نیت کرنا۔

ایک شخص نے قضائے حاجت کے بعد وضو کیے بغیر ہی نماز پڑھ لی۔ حدث سے پاک ہونا۔

ایک شخص دوران رکوع قبلہ کی مخالف سمت میں گھوم گیا۔ قبلے کی جانب منہ کرنا۔

سرگرمی (2) : چرچا کرنے کے بعد تجویز پیش کروں گا :

نیچے دیے گئے حالات کے بارے میں اپنے ساتھی سے گفتگو کریں، ان کا حکم بیان کریں اور بعض مناسب حل بھی پیش کریں :

کچھ نوجوانوں کا ایسے شفاف کپڑے پہن کر نماز پڑھنا، جن سے جسم کا واجب ستر حصہ بھی جھلکتا ہو۔

کچھ نمازیوں کی دوسروں کے ساتھ معاملات میں بدسلوکی۔

سرگرمی (3) : پڑھوں گا اور جوڑوں گا :

اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے : "نمازوں کی حفاﻇت کرو، بالخصوص درمیان والی نماز کی اور اللہ تعالیٰ کے لئے باادب کھڑے رہا کرو۔" (سورۂ بقرہ: 238)

آیت کریمہ کو پڑھنے کے بعد اسے دخول وقت کی شرط کے ساتھ جوڑیں۔

سرگرمی (4) : میں حکم لکھوں گا :

اس شخص کا حکم لکھیں، جو اونچی آواز میں کہتا ہو : میں نے ظہر کی نماز کی فرض چار رکعتیں بطور ادا اللہ کے لیے پڑھنے کا ارادہ کیا۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

دعائے استفتاح نماز کی شرطوں میں سے ایک شرط ہے۔ (×)

مرد کو اپنے جسم کے ناف سے گھٹنوں تک کے حصے کو چھپانا ہے۔ (✓)

طاقت نہ ہونے کی صورت میں غیر قبلہ کی طرف منہ کرکے بھی نماز درست ہو جائے گی۔ (✓)

غیر مسلم کی نماز بھی درست ہو جائے گی۔ (×)

سوال 2 : قوسین کے مابین سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

نماز کی ایک شرط ہے :

(عقل مند ہونا - اطمینان سے نماز پڑھنا - ترتیب کا خیال رکھنا)

جسم کا واجب ستر حصہ ڈھانپنا نماز کی ایک :

(شرط ہے - رکن ہے - سنت ہے)

اللہ تعالی کا قول "وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ" اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ نماز کی شرطوں میں سے ایک شرط پاک ہونا ہے :

(حدث اصغر سے - حدث اکبر سے - نجاست سے)

نماز کی جگہ میں نجاست موجود ہونے کی صورت میں نماز :

(صحیح ہوگی - صحیح نہيں ہوگی - مکروہ ہوگی)

مسافر کا قبلہ کے علاوہ کسی اور جانب منہ کرکے فرض نماز پڑھنا :

(جائز ہے - مکروہ ہے - صحیح نہيں ہے)

سوال 3 : یہ لکھیں کہ نیچے دیے گئے دونوں نصوص کس بات پر دلالت کرتے ہیں؟

"یقیناً نماز مومنوں پر مقرره وقتوں پر فرض ہے۔"

"کوئی بھی نماز بغیر طہارت کے قبول نہیں کی جاتی۔"

سوال 4 : نماز میں عورت کے واجب ستر حصہ اور مرد کے واجب ستر حصہ کے درمیان کیا فرق ہے؟

تیسرا سبق : نماز کے ارکان اور واجبات

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

نماز کے ارکان گنوا سکيں گے۔

نماز کے واجبات بیان کر سکیں گے۔

ارکان اور واجبات کے درمیان فرق کر سکيں گے۔

فریضۂ نماز کی عظمت محسوس کر سکيں گے۔

خشوع و خضوع اور اطمینان کے ساتھ نماڑ پڑھیں گے۔

تمہید :

نماز کے اندر مشروع اعمال کی تین قسمیں ہيں : ارکان، واجبات اور سنن۔

ارکان ان اعمال کو کہتے ہیں، جن کے بغیر نماز صحیح نہیں ہوتی۔ یہ اعمال نہ تو عمدا ساقط ہوتے ہیں اور نہ سہوا۔ نماز کے چودہ ارکان ہيں۔

واجبات سے مراد وہ اعمال ہيں، جن کا کرنا ضروری ہے۔ جان بوجھ کر کسی واجب کو چھوڑ دینے سے نماز باطل ہو جاتی ہے۔ البتہ سہوا چھوٹ جانے کی صورت میں سجدۂ سہو کیا جاتا ہے۔ واجبات نماز کی تعداد آٹھ ہے۔

سنتوں کو کرنا مستحب ہے۔ ان کو چھوڑ دینے کی صورت میں نماز صحیح ہو جائے گی۔ ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

اول : نماز کے ارکان

فرض نماز میں طاقت ہونے کی صورت میں کھڑے ہونا۔

اگر کسی مرض کی وجہ سے کھڑا ہونے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر یا پہلو کے بل جیسے ممکن ہو نماز ادا کی جائے گی۔

تکبیر احرام۔ اس سے مراد نمازی کا "اللہ اکبر" کہنا ہے۔

سورۂ فاتحہ پڑھنا۔

ہر رکعت میں رکوع۔ نمازی جھکے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو دونوں گھٹنوں پر رکھ لے۔

رکوع سے سیدھا کھڑا ہونا۔

سجدہ کرنا۔ سجدہ ان سات اعضا پر ہوتا ہے:۔ پیشانی ناک کے ساتھ، دونوں ہتھیلیاں، دونوں گھٹنے اور دونوں قدموں کی انگلیاں۔

سجدے میں اعتدال۔

دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا۔

آخری تشہد کے لیے بیٹھنا۔

آخری تشہد پڑھنا۔

آخری تشہد میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر درود بھیجنا۔

ارکان کے درمیان ترتیب کا خیال رکھنا۔

سلام پھیرنا۔ اس میں "السلام عليكم ورحمة الله" کہنا بہتر ہے۔

اطمینان کے ساتھ تمام ارکان ادا کرنا۔

یہاں نماز کے ارکان دیکھیں :

دوم: نماز کے واجبات

تکبیر احرام کے علاوہ تمام تکبیریں۔ جیسے رکوع کی تکبیر اور سجدے کی تکبیر۔

رکوع میں "سبحان ربي العظيم" کہنا۔

سجدے میں "سبحان ربي الأعلى" کہنا۔

امام اور اکیلے نماز پڑھنے والے کا رکوع سے اٹھتے وقت "سمع الله لمن حمده" کہنا۔

رکوع سے سیدھا کھڑا ہونے کى حالت میں "ربنا ولك الحمد" کہنا۔

دو سجدوں کے درمیان "رب اغفر لي" کہنا۔

پہلا تشہد اور اس کے لیے بیٹھنا۔ اس میں نمازی کہے گا : ’’(میری) تمام قولی، فعلی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکات ہوں، ہم پر اور اللہ کے (دیگر) نیک بندوں پر بھی سلام ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔‘‘

یہاں نماز کے واجبات دیکھیں :

https://www.youtube.com/watch?v=DcLXOhquuOQ

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : میں نتیجہ نکالوں گا اور بیان کروں گا :

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ مسجد میں تشريف لے گئے، تو ایک شخص مسجد ميں داخل ہوا۔ اس نے نماز پڑھی، پھر آکر نبی ﷺ کو سلام کیا، تو آپ ﷺنے فرمایا: ”لوٹ جاؤ، پھر نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی“۔ اس نے لوٹ کر (دوبارہ) نماز پڑھی جیسے پہلے پڑھی تھی، پھر آیا اور نبی ﷺ کو سلام کیا، تو آپ ﷺ نے (پھر) فرمایا: ”لوٹ جاؤ، پھر نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی“۔ (اسی طرح) تین مرتبہ (ہوا) تو اس شخص نے کہا: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اس سے بہتر (نماز) نہیں پڑھ سکتا ہوں۔ لہٰذا آپ مجھے سکھا دیجيے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو تکبیر کہو، پھر جتنا قرآن تم آسانی سے پڑھ سکتے ہو پڑھو، پھر رکوع کرو یہاں تک کہ رکوع میں تمھیں اطمینان حاصل ہو جائے، پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدہ ميں تمھیں اطمینان حاصل ہو جائے، پھر سر اٹھاؤ، یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ اور اپنی پوری نماز میں اسی طرح کرو“۔ (صحیح بخاری : 757، صحیح مسلم : 397)

اس حدیث میں وارد نماز کے ارکان نکالیں۔

تکبیر احرام - رکوع - رکوع سے اٹھنا - سجدہ - سجدے میں اعتدال- دونوں سجدوں کے بیچ بیٹھنا - اطمینان)

اس حدیث سے استشہاد کرتے ہوئے ایسے شخص کے لیے ایک کلمہ لکھیں، جو جلدی جلدی نماز پڑھتا ہو۔

سرگرمی (2) : ساتھ مل کر کام کروں گا اور اندازہ لگاؤں گا :

گھر کا ایک فرد نماز کی پہلی رکعت پڑھنے کا طریقہ بتائے اور باقی لوگ بتائيں کہ اس کا بتایا ہوا طریقہ کتنا صحیح ہے اور اس میں کتنی کمیاں ہیں؟

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

سورہ فاتحہ پڑھنا نماز کی ایک شرط ہے۔ (×)

دونوں سجدوں کے درمیان کا جلسہ نماز کا ایک رکن ہے۔ (√)

اطمینان نماز کا ایک رکن ہے۔ (√)

رکوع کی تکبیر نماز کا ایک رکن ہے۔ (×)

سجدے کی تسبیح واجب ہے۔ (√)

سوال 2 : قوسین کے مابین سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

پہلا تشہد :

(نماز کی ایک شرط ہے - نماز کا ایک رکن ہے - نماز کا ایک واجب ہے)

نماز کے آخر میں سلام پھیرنا :

(شرط ہے - رکن ہے - واجب ہے)

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا ہے :

(پانچ اعضا پر سجدہ کرنے کا - چھ اعضا پر سجدہ کرنے کا - سات اعضا پر سجدہ کرنے کا)

سوال 3 : نیچے دی گئی خالی جگہوں کو مناسب الفاظ کے ذریعے بھریں :

نماز میں تکبیر احرام .......... ہے۔

عربی لفظ تسمیع سے مراد .......... کہنا ہے۔

نماز میں دوسرا سجدہ .......... ہے۔

سوال 4 : واجبات نماز میں سے کسی واجب کو جان بوجھ کر چھوڑنے اور غلطی سے چھوڑنے کے حکم کا موازنہ کریں۔

چوتھا سبق : نماز کی سنتیں اور اسے باطل کرنے والی چیزیں

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

نماز کی قولی اور فعلی سنتوں کے درمیان فرق کر سکیں گے۔

نماز کی سنتوں کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کریں گے۔

نماز پڑھتے وقت اللہ کے نبی ﷺ کى اقتدا کریں گے۔

نماز باطل کرنے والی چیزوں کو گنوا سکيں گے۔

نماز باطل کرنے والی چيزوں سے دور رہيں گے۔

اول : نماز کی سنتیں

سنتوں سے مراد ایسے اعمال و اقوال ہيں، جو نمازی کا ثواب بڑھانے کا کام کرتے ہيں اور ان کے چھوڑ دینے پر کوئی گناہ نہيں ہوتا۔

سنتوں کی دو قسمیں ہیں : قولی سنتیں اور فعلی سنتیں :

اول : قولی سنتیں۔ جیسے :

دعائے استفتاح پڑھنا۔ یہ دعا تکبیر احرام کے بعد پڑھی جائے گی۔ یہ دعا اس طرح ہے : ’’اے اللہ ! میں تیری حمد کے ساتھ تیری پاکیزگی بیان کرتا ہوں اور تیرا نام بہت بابرکت ہے اور تیری شان بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے۔‘‘ (صحیح مسلم : 399)

قراءت سے پہلے "أعوذ بالله من الشيطان الرجيم" کہنا۔

سورہ فاتحہ کے بعد کوئی سورت یا کچھ آیتيں پڑھنا۔

سورہ فاتحہ پڑھنے کے بعد "آمین" کہنا۔

رکوع اور سجدے کی تسبیحیں ایک بار سے زیادہ کہنا۔

آخری تشہد پڑھنے کے بعد دعا کرنا۔

دوم : فعلی سنتيں۔ جیسے :

تکبیر احرام کے ساتھ، رکوع کے وقت، رکوع سے اٹھتے وقت اور پہلے تشہد سے کھڑے ہوتے وقت رفع یدین کرنا۔

قیام کے دوران دائيں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنا۔

رکوع کے دوران دونوں ہاتھوں کو دونوں گھٹنوں پر رکھنا۔

دونوں سجدوں کے مابین دائيں ہاتھ کو دائیں ران پر اور بائيں ہاتھ کو بائیں ران پر رکھنا۔

نظر سجدے کی جگہ پر رکھنا۔

یہاں نماز کی سنتیں دیکھیں :

دوم : نماز کو باطل کر دینے والی چیزیں

نماز کو باطل کر دینے والی کچھ چیزیں اس طرح ہیں :

نماز کا کوئی رکن، جیسے رکوع یا سجدہ، جان بوجھ کر چھوڑ دینا۔ اگر غلطی سے کوئی رکن چھوڑ دے اور دوسری رکعت شروع کرنے سے پہلے یاد آ جائے، تو اس رکن کو کر لے گا اور اس طرح نماز درست ہو جائے گی۔ لیکن اگر دوسری رکعت شروع کرنے کے بعد یاد آئے، تو وہ رکعت باطل ہو جائے گی اور بعد والی رکعت اس کی جگہ لے لے گی۔ ایسی صورت میں سجدۂ سہو کر لیا جائے گا۔

جان بوجھ کر نماز کے کسی واجب، جیسے تسبیح، تسمیع اور تحمید وغیرہ کو چھوڑ دینا۔

نماز کی کوئی شرط چھوڑ دینا۔ جیسے بلا وضو نماز پڑھنا۔

نماز میں کسی فعلی رکن، جیسے رکوع یا سجدے کا اضافہ جان بوجھ کر کرنا۔ اگر غلطی سے ہو گیا ہو، تو نماز باطل نہيں ہوگی۔

جان بوجھ کر کھانا پینا۔ کم ہو یا زیادہ۔

جان بوجھ کر کوئی ایسی بات کرنا جو نماز کی مصلحت کے دائرے میں نہ آتی ہو۔

جان بوجھ کر قہقہہ لگانا۔ یعنی اس طرح اونچی آواز میں ہنسنا کہ آس پاس کے لوگ سن سکيں۔

ایسا عمل کثیر جو نماز کی جنس کے اعمال سے تعلق نہ رکھتا ہو۔

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : فیصلہ کروں گا اور فرق کرو گا :

یہ بتائیں کہ نیچے دی گئی چیزوں میں سے کون سی چیز نماز کو باطل کرتی ہے اور کون سی چیز باطل نہيں کرتی :

فعل نماز باطل نہیں کرتی ہے نماز باطل کرتی ہے

امام کوئی آیت بھول گیا اور مقتدی نے اسے یاد دلایا۔

کسی نے غلطی سے نماز میں سورہ فاتحہ دو بار پڑھ لی۔

کسی نے جان بوجھ کر نماز کے دوران کچھ پی لیا۔

کوئی نماز کے دوران اونچی آواز میں ہنس پڑا۔

سرگرمی (2) : نکتہ نکالوں گا :

اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : "ایسی کوئی نماز کافی نہیں ہوگی، جس کے اندر انسان رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ کرے۔" (سنن ابوداؤد : 855، سنن ترمذی : 265)

اس حدیث سے نماز کو باطل کرنے والی چیزیں نکالیں۔

سرگرمی (3) : ایک دوسرے کی مدد سے درجہ بندی کروں گا :

نیـچے دیے گئے ہر فعل کی اپنے ساتھی کی مدد سے ذیل میں دیے گئے جدول کے مطابق درجہ بندی کریں :

فعل شرط رکن سنت واجب

کپڑوں کی طہارت

«ربنا ولك الحمد» کہنا۔

سورۂ فاتحہ پڑھنا۔

آمین کہنا۔

سجدے میں "سبحان ربي الأعلى" کہنا۔

سجدے کی جگہ پر نظر رکھنا۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : یہ بتائيں کہ نیچے دیے گئے حالات میں نماز ٹوٹے گی یا نہیں :

ایک شخص نماز کی حالت میں اللہ کے خوف سے رو پڑا۔ (ہاں - نہيں)

ایک شخص کو اس کی ماں نے پکارا تو اس نے یہ بتانے کے لیے کہ وہ نماز پڑھ رہا ہے، اونچی آواز میں تکبیر کہہ دی۔ (ہاں - نہيں)

کسی نے آخری تشہد کے دوران قہقہہ لگا دیا۔ (ہاں - نہيں)

کسی نے جان بوجھ کر دعائے استفتاح چھوڑ دی۔ (ہاں - نہيں)

سوال 2 : قوسین کے مابین سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

نماز باطل ہو جائے گی اگر کسی نے جان بوجھ کر بڑھا دی :

(ایک رکعت - ایک تسبیح - سورہ فاتحہ کے بعد دوسری سورہ)

نماز کی ایک فعلی سنت ہے :

(آمین کہنا - دونوں ہاتھوں کو اٹھانا - تسبیح پڑھنا)

جب کوئی مسلمان غلطی سے پہلا تشہد چھوڑ دے، تو اس کی نماز :

(باطل ہو جائے گی - درست ہوگی - اسے دوبارہ پڑھنا ضروری ہوگا)

سوال 3 : غلطی سے سجدہ چھوڑ دینے کا کیا حکم ہے؟

پانچواں سبق : باجماعت نماز

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

باجماعت نماز کے احکام بتا سکیں گے۔

باجماعت نماز کی فضیلت بتا سکیں گے۔

باجماعت نماز کا غیر معمولی ثواب محسوس کر سکیں گے۔

پابندی سے باجماعت نماز پڑھیں گے۔

تمہید :

اللہ تعالٰی فرماتا ہے: "ان گھروں میں جن کے بلند کرنے، اور جن میں اپنے نام کی یاد کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے، وہاں صبح وشام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔" (سورہ نور : 36)

اس آیت میں گھروں سے کیا مراد ہے؟

اول : باجماعت نماز کے احکام

باجماعت نماز عاقل و بالغ شخص پر فرض ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "جب تم ان میں ہو اور ان کے لیے نماز کھڑی کرو تو چاہیے کہ ان کی ایک جماعت تمہارے ساتھ کھڑی ہو۔" (سورہ نساء : 102)

کم سے کم دو لوگ ہوں، تو جماعت قائم ہو گی۔ ایک امام اور دوسرا مقتدی۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : "دو اور اس سے زیادہ لوگ جماعت ہیں۔" (سنن ابن ماجہ : 972)

دوم : باجماعت نماز کے فضائل

باجماعت نماز کی فضیلت :

باجماعت نماز تنہا نماز سے افضل ہے

جنت میں دخول

عشا اور فجر کی نماز باجماعت پڑھنے کی فضیلت

درجات کی بلندی اور گناہوں کا معاف کیا جانا

باجماعت نماز تنہا نماز سے افضل ہے :

اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : "باجماعت پڑھی گئی نماز اکیلے پڑھی گئی نماز سے 27 گنا افضل ہے۔" (صحیح بخاری : 645، صحیح مسلم : 650)

دخول جنت کا سبب :

اللہ تعالی نے مسجد جاکر باجماعت نماز پڑھنے والے کے لیے جنت میں ضیافت اور روزی تیار رکھی ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : ”جو شخص صبح کے وقت اور شام کے وقت مسجد جاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ضیافت تیار کرتا ہے جب بھی وہ صبح یا شام کے وقت (مسجد) جاتاہے“۔ (صحیح مسلم : 669)

باجماعت عشا اور فجر کی نماز کی فضیلت :

اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا : ”جس نے عشاء کی نماز جماعت سے پڑھی تو گویا آدھی رات تک نفل پڑھتا رہا (یعنی اس قدر ثواب پائے گا) اور جس نے صبح کی نماز جماعت سے پڑھی وہ گویا ساری رات نماز پڑھتا رہا۔“ (صحیح مسلم : 656)

درجات کی بلندی اور گناہوں کا معاف کیا جانا :

جو شخص گھر میں اچھی طرح وضو کرے گا اور اس کے بعد باجماعت نماز پڑھنے کے لیے مسجد نکل پڑے گا، تو اللہ تعالی ہر قدم کے بدلے میں اس کا ایک درجہ بلند فرماتا ہے اور ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے : "... جب ایک شخص وضو کے تمام آداب کو ملحوظ رکھ کر اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر مسجد کی راہ لیتا ہے اور سوائے نماز کے اور کوئی دوسرا ارادہ اس کا نہیں ہوتا، تو ہر قدم پر اس کا ایک درجہ بڑھتا جاتا ہے اور ایک گناہ معاف ہوتا جاتا ہے۔" (صحیح بخاری : 647، صحیح مسلم : 649)

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : ایک دوسرے کی مدد سے جواب دوں گا :

اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : "اللہ سات لوگوں کو اس دن اپنے (عرش کے) سایے میں جگہ دے گا، جس دن اس کے (عرش کے) سایہ کے سوا کوئی سایہ نہیں ہوگا ... ایک وہ شخص جس کا دل مسجد سے اٹکا ہوا ہو۔" (صحیح بخاری : 660، صحیح مسلم : 1031)

اپنے ساتھی کی مدد سے اس حدیث کو سبق کے موضوع کے ساتھ جوڑیں :

سرگرمی (1) : غور و فکر کروں گا اور جواب دوں گا :

اللہ کے نبی ﷺ کی خدمت میں ایک نابینا شخص حاضر ہوا اور پوچھا : اے الله كے رسول! میرے پاس کوئی آدمی نہيں ہے، جو مجھے مسجد تک لے آیا کرے۔ پس اس نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ اسے اس بات کی رخصت دی جائے کہ وہ اپنے گھر میں نماز پڑھ لیا کرے... تو آپ ﷺ نے اس سے پوچھا : "کیا تو نماز کی اذان سنتا ہے؟" اس نے كہا : جی ہاں، تو آپ ﷺ نےفرمایا : "پھر اس کا جواب دے (یعنی باجماعت مسجد میں نماز ادا کر)"۔ (صحیح مسلم : 653)

اس قصے سے کیا کیا فوائد حاصل ہوتے ہیں؟

اس قصے کی روشنی میں ان لوگوں کو ایک نصحیت کریں، جو باجماعت نماز میں سستی کرتے ہیں۔

سرگرمی (3) : دھیان سے دیکھوں گا اور جواب دوں گا :

آپ کے سامنے باجماعت نماز ترک کرنے کے کچھ اسباب رکھ دیے گئے ہيں، آپ ہر سبب کا کوئی مناسب علاج تجویز کریں :

نماز ترک کرنے کے کچھ اسباب تجویز شدہ علاج

سستی

عمل میں مشغولیت

باجماعت نماز کی فضیلت سے واقف نہ ہونا

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

اقل ترین تعداد جس سے باجماعت نماز قائم ہو جائے گی، امام کو ملاکر دو لوگ ہيں۔

باجماعت پڑھی گئی نماز اکیلے پڑھی گئی نماز سے 27 درجہ افضل ہے۔

باجماعت نماز عورت پر واجب ہے۔

باجماعت نماز اسلام کا ایک عظیم ترین شعار ہے۔

سوال 2 : قوسین کے مابین سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

ایسا شخص جس پر باجماعت نماز واجب نہيں ہے :

(تاجر - جوان - بچہ)

مردوں پر باجماعت نماز کا حکم :

(واجب - سنت مؤکدہ - مستحب)

عشا کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھنے والے کو اجر و ثواب ملتا ہے :

(ایک تہائی رات قیام کا - آدھی رات قیام کا - پوری رات قیام کا)

سوال 3 : یہ بتائيں کہ نیچے دی گئی حدیث کس بات پر دلالت کرتی ہے؟

”جو شخص صبح کے وقت اور شام کے وقت مسجد جاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ضیافت تیار کرتا ہے جب بھی وہ صبح یا شام کے وقت (مسجد) جاتاہے“۔

چھٹا درس : جمعہ کی نماز

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

جمعہ کی نماز کے احکام بیان کر سکیں گے۔

جمعہ کی نماز کی فضیلت بیان کر سکیں گے۔

جمعہ کی نماز کا طریقہ بیان کر سکیں گے۔

جمعہ کی نماز کی اہمیت محسوس کر سکيں گے۔

جمعہ کی نماز پابندی سے پڑھیں گے۔

تمہید :

جمعہ کا دن پورے ہفتے کا سب سے افضل دن ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : "بلاشبہ تمھارے افضل دنوں میں سے ایک دن جمعہ کا دن ہے۔" (سنن ابوداؤد : 1047، سنن نسائی : 1374)

جمعہ کی نماز :

نمازِ جمعہ کی فضیلت

جمعہ کی نماز کا حکم

جمعہ کی نماز کا طریقہ

جمعہ کی نماز کے آداب

جمعہ کی نماز کی فضیلت :

اللہ کے نبی ﷺ فرماتے ہیں : "جس نے خو ب اچھی طرح وضو کیا اور پھر جمعہ پڑھنے آیا اور خاموش ہو کر خطبہ سنا تو اس جمعہ سے اگلے جمعہ تک کے اور تین دن زیادہ کے گناہ معا ف کر دیے جاتے ہیں۔" (صحیح مسلم : 857)

جمعہ کی نماز کا حکم :

جمعہ کی نماز ہر عاقل، بالغ، مقیم اور غیر مریض مسلمان پر فرض ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "اے وه لوگو جو ایمان ﻻئے ہو! جمعہ کے دن نماز کی اذان دی جائے تو تم اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو اور خرید وفروخت چھوڑ دو۔ یہ تمہارے حق میں بہت ہی بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔" (سورہ جمعہ : 9)

جمعہ کی نماز کا طریقہ :

نماز سے پہلے امام دو خطبے دے گا، جو اللہ تعالی کی حمد و ثنا، دونوں گواہیوں، اللہ کے رسول ﷺ پر درود، اللہ سے ڈرنے کی وصیت اور قرآن کریم کی کچھ آیتوں کی تلاوت پر مشتمل ہوں گے۔

جمعہ کی نماز مسجد کے اندر دو رکعت، باجماعت، جہری قراءت کے ساتھ ادا کی جائے گی۔

امام کا پہلی رکعت میں سورۂ جمعہ اور دوسری رکعت میں سورہ منافقون یا پہلی رکعت میں سورہ اعلی اور دوسری رکعت میں سورہ غاشیہ پڑھنا سنت ہے۔

یہاں جمعہ کے احکام دیکھیں :

جمعہ کی نماز کے آداب :

غسل کرنا، خوش بو لگانا، سب سے اچھے دست یاب کپڑے پہننا اور نماز کے لیے جلدی نکلنا۔

اللہ کے نبی ﷺ پر بہ کثرت درود بھیجنا۔

بہ کثرت دعا کرنا۔ کیوں کہ جمعہ کے دن ایک گھڑی ایسی ہے، جس میں اللہ دعا قبول کرتا ہے۔

خاموشی کے ساتھ خطبہ سننا اور دوران خطبہ لغو کاموں سے گريز کرنا واجب ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ فرماتے ہیں : "جس نے خو ب اچھی طرح وضو کیا اور پھر جمعہ پڑھنے آیا اور خاموش ہو کر خطبہ سنا تو اس کے جمعہ سے جمعہ تک کے اور تین دن زیادہ کے گناہ معا ف کر دیے جاتے ہیں اور جس نے ( جمعہ کے دوران) کنکری کو چھوا اس نے لغو کام کیا۔" (صحیح مسلم : 857)

یہاں جمعہ کی نماز کے آداب دیکھیں :

سرگرمیاں

سرگرمی(1): اپنے کام کی قدر و قیمت متعین کروں گا :

جمعہ کے دن کے بہت سے آداب ہيں۔ ان آداب کے تعلق سے آپ کا رویہ کیسا ہے، اس کی تعیین نیچے دیے جدول میں کریں :

جمعہ کے دن کے آداب میں ان کی پابندی کرتا ہوں میں ان کا کبھی کبھی خیال رکھتا ہوں میں آئندہ ان کا خیال رکھوں گا

غسل کرنا۔

سب سے اچھا کپڑا زیب تن کرنا۔

جلدی مسجد جانا۔

خوش بو لگانا۔

بہ کثرت دعا کرنا۔

اللہ کے نبی ﷺ پر بہ کثرت درود بھیجینا۔

سرگرمی (2): یاد کروں گا اور جواب دوں گا :

جس آخری خطبے میں آپ شامل ہوئے ہيں، اس کا موضوع لکھیں۔

اگر آپ کو خطبہ دینے کا موقع ملے، تو آپ کس موضوع پر خطبہ دینا پسند کریں گے؟

سرگرمی (3) : نکتہ نکالوں گا اور علاج پیش کروں گا :

اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے : ”خبر دار! لوگ جمعہ چھوڑنے سے باز آجائیں، ورنہ اللہ تعالی ان کے دلوں پر مہر لگادے گا اور پھر وہ غافلوں میں سے ہو جائیں گے“ (صحیح مسلم : 865)

جمعہ کی نماز چھوڑنے کی خطرناکی بیان کریں اور بتائيں کہ اس کی ادائیگی میں بعض نوجوانوں کی جانب سے دکھائی جانے والی سستی کا علاج کیسے کیا جا سکتا ہے؟

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

جمعہ کی نماز مسافر پر واجب ہے۔

جمعہ کی نماز گھروں میں جائز ہے۔

جمعہ کا خطبہ خاموشی کے ساتھ سننا واجب ہے۔

سوال 2 : قوسین کے مابین سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

سنت یہ ہے کہ جمعہ کی نماز کی پہلی رکعت میں پڑھی جائے :

(سورہ جمعہ - سورہ غاشیہ - سورہ منافقون)

جمعہ کی نماز کا ایک ادب ہے :

(بچوں کو ساتھ لے جانا - غسل کرنا اور خوش بو لگانا - عورتوں کا شریک ہونا)

ایک مسلمان کو جمعہ کے دن بہ کثرت:

(روزہ رکھنا - اللہ کے نبی ﷺ پر درود بھیجنا - وعظ کرنا)

سوال 2 : نیچے دیے گئے جملوں میں موجود غلطیوں کو درست کر کے ان کو دوبارہ لکھیں :

جمعہ کی نماز سارے مسلمانوں پر واجب ہے۔

جمعہ کی نماز چار رکعت ہے اور اس میں سری قراءت کی جائے گی۔

نماز کے بعد جمعہ کا خطبہ مستحب ہے۔

سوال 4 : اس بات کی دلیل پیش کریں کہ جمعہ کی نماز گناہوں کی مغفرت کا سبب ہے۔

ساتواں سبق : نفل نماز

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

یہ بتا سکیں گے کہ نفل نماز سے کیا مراد ہے؟

تراویح اور چاشت کی نمازوں کی فضیلت بتا سکيں گے۔

سنن رواتب کی تعداد بنا سکیں گے۔

مخلتف طرح کی نفل نمازوں کے درمیان فرق کر سکيں گے۔

نفل نماز کی فضیلت سمجھ سکيں گے۔

نوافل اور سنن رواتب کی پابندی کریں گے۔

تمہید :

نفل نمازوں سے مراد پانچ وقت کی فرض نمازوں کے علاوہ دیگر مشروع نمازیں ہيں۔ جیسے :

وتر کی نماز

وتر کی نماز سنت مؤکدہ ہے، جس کا وقت عشا کی نماز کے بعد سے شروع ہوتا ہے اور طلوع فجر کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے۔

اسے کم سے کم ایک رکعت اور زیادہ سے زیادہ گیارہ یا تیرہ رکعت پڑھا جا سکتا ہے۔

اسے دو دو رکعت کرکے پڑھا جائے گا اور آخر میں ایک رکعت پڑھ کر پوری نماز کو وتر بنایا جائے گا۔

سننِ رواتب :

سننِ رواتب کی بارہ رکعتیں ہیں، جو فرض نمازوں سے پہلے یا بعد میں پڑھی جاتی ہیں۔ سننِ رواتب سنتِ مؤکدہ ہيں۔

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : میں نے اللہ کے نبی ﷺ سے دس رکعتیں ضبط کی ہیں : دو رکعت ظہر سے پہلے، دو رکعت ظہر کے بعد، دو رکعت مغرب کے بعد گھر میں، دو رکعت عشا کے بعد گھر میں اور دو رکعت صبح کی نماز سے پہلے۔" (صحیح بخاری : 1180)

تراویح کی نماز :

ماہ رمضان میں تراویح کی نماز سنت مؤکدہ ہے۔ اسے عشا کی نماز کے بعد اور وتر سے پہلے جماعت کے ساتھ ادا کرنا افضل ہے۔

اس کی تعداد گیارہ رکعت ہے۔ کوئی زیادہ بھی پڑھے تو حرج نہيں ہے۔ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرا جائے گا اور ہر چار رکعت کے بعد کچھ لمحہ آرام کیا جائے گا۔ اس کی فضیلت پر اللہ کے نبی ﷺ کا یہ قول دلالت کرتا ہے : ”جس نے ایمان کے ساتھ اور اجر وثواب کے حصول کی نیت سے رمضان کا قیام کیا اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جائیں گے۔“ (صحیح بخاری : 37، صحیح مسلم : 759)

چاشت کی نماز :

چاشت کی نماز سنت ہے۔ کم سے کم دو اور زیادہ سے زیادہ آٹھ رکعت پڑھی جا سکتی ہے۔ اس کا وقت سورج نکل کر کچھ اونچا ہونے سے سورج ڈھلنے (ظہر کی اذان کے وقت) تک رہتا ہے۔

اس کی فضیلت کی ایک دلیل ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ قول ہے : "میرے جگری دوست (یعنی نبی صلى اللہ علیہ وسلم) نے مجھے تین باتوں کی وصیت کی ہے، جنھیں میں مرتے دم تک نہيں چھوڑوں گا : ہر مہینے کے تین دن کے روزے، چاشت کی نماز اور وتر کی نماز پڑھ کر سونا۔" (صحیح بخاری : 1178، صحیح مسلم : 721)

مطلق نفل :

مطلق نفل نمازوں میں سب سے افضل نماز رات کی نماز ہے، کیوں کہ یہ اخلاص سے قریب تر ہے۔

تمام اوقات میں نفل نماز پڑھنا مستحب ہے، ان اوقات کو چھوڑ کر جن میں نماز پڑھنا منع ہے۔ اور وہ اوقات یہ ہیں :

فجر کی نماز سے سورج اونچا ہونے تک۔

سورج بیچ آسمان میں جانے سے اس کے ڈھلنے (ظہر کے وقت سے کچھ پہلے) تک۔

عصر کی نماز سے سورج غروب ہونے تک۔

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : نکتہ نکالوں گا اور بیان کروں گا :

اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے : "بندے کے جس عمل کا حساب سب سے پہلے ہوگا، وہ نماز ہے۔ اگر نماز اس نے پوری پڑھی ہے، تو پوری لکھی جائے گی اور اگر پوری نہيں پڑھی ہے، تو اللہ تعالی کہے گا : ذرا دیکھو کہ کیا تمھیں میرے بندے کی نفل نماز ملتی ہے کہ اس کے ذریعے اس کی فرض نماز پوری کر دو۔" (مسند احمد : 16614، سنن نسائی : 466)

اس حدیث کی روشنی میں :

نفل نمازوں کی مشروعیت کی حکمت بیان کریں۔

فرض نمازوں میں رہ جانے والی کمیوں کو پورا کرنا۔

اس حدیث سے بندوں پر اللہ کی رحمت ظاہر ہوتی ہے، اس کی وضاحت کریں۔

انسان سے فرض نماز میں کوتاہیاں ہو ہی جاتی ہيں۔ لہذا اللہ کی رحمت کا تقاضا یہ ہوا کہ اس نے ان کوتاہیوں کى بھرپائی کا راستہ نکال دیا۔ یہ راستہ ہے نفل نماز پڑھنے کا۔

سرگرمی (2) : غور و فکر کروں گا اور جواب دوں گا :

نماز ایک افضل ترین عبادت ہے جو بندے کو اللہ سے قریب کرتی ہے۔ اس سے اللہ کی محبت بھی حاصل ہوتی ہے۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے نفل نماز چھوڑنے کے منفی اثرات بیان کریں۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

وتر کی نماز کم سے کم تین رکعت ہے۔

سورج طلوع ہوتے وقت نفل نماز پڑھنا حرام ہے۔

چاشت کی نماز مردوں پر واجب ہے۔

افضل ترین مطلق نفل قیام اللیل ہے۔

سوال 2 : قوسین کے مابین سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

وتر کی نماز :

(سنت مؤکدہ ہے - مستحب ہے - فرض کفایہ ہے)

چاشت کی نماز زیادہ سے زیادہ :

(چار رکعت ہے - چھ رکعت ہے - آٹھ رکعت ہے)

تراویح کی نماز :

(آٹھ رکعت ہے - پندرہ رکعت ہے - گیارہ رکعت ہے)

سوال 3 : نیچے دیے گئے جدول کے مطابق چاشت کی نماز اور تراویح کی نماز کے درمیان موازنہ کریں :

وجہ موازنہ چاشت کی نماز تراویح کی نماز

حکم

وقت

سوال 4 : نیچے دیے کئے دونوں سوالوں کے جواب دیجیے :

تراویح کی نماز کی فضیلت بیان کریں۔

سنن رواتب اور اس کے مقامات گنوائیں۔

آٹھواں سبق : زکاۃ

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

اسلام میں زکاۃ کا حکم بیان کر سکيں گے۔

زکاۃ کی مشروعیت کی حکمت نکال سکیں گے۔

وہ اموال گنوا سکيں گے، جن میں زکاۃ فرض ہے۔

مصارف زکاۃ کے درمیان فرق کر سکيں گے۔

اسلام میں زکاۃ کی اہمیت بیان کر سکیں گے۔

اپنے مال کی زکاۃ ادا کریں گے۔

تمہید :

اللہ تعالی نے سورہ "مؤمنون" کے شروع میں ایمان والوں کے کام یاب ہونے کی بات کہی ہے اور ان کے اوصاف بیان کیے ہیں۔ آپ وہ آیت ذکر کیجیے جو زکاۃ کے بارے میں مومن کی صفت پر دلالت کرتی ہے۔

اللہ تعالٰی فرماتا ہے: "اور جو زکوٰة ادا کرنے والے ہیں." (سورۂ مؤمنون: 4)

زکاۃ کا حکم :

زکاۃ دین کا ایک فریضہ اور اسلام کا تیسرا رکن ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے : اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے اور محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، خانۂ کعبہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔“ (صحیح بخاری : 8، صحیح مسلم : 16)

زکاۃ کی مشروعیت کی حکمت :

زکاۃ دینے والے کے نفس کو برے اخلاق جیسے بخل اور اس کے اعمال کو گناہوں سے پاک کرنا۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : ”آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لیجیے، جس کے ذریعہ سے آپ ان کو پاک صاف کردیں۔“ (سوۂ توبہ: 103)

فقیروں اور مسکینوں کی ضرورتیں پوری کرکے اور ان کو دوسرے کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بے نیاز کر کے، جس سے ان کی عزت و آبرو کی حفاظت ہوتی ہے، ان کے نفوس کا تزکیہ کرنا۔

مال کو پاک کرنا اور تلف اور ضا‏ئع ہونے سے بچانا۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : "جس نے اپنے مال کی زکاۃ ادا کی، اس کی برائی دور ہو گئی۔" (مستدرک حاکم : 1439)

وہ اموال جن میں زکاۃ واجب ہے :

قیمتیں، جن میں سونا، چاندی اور نقود شامل ہيں۔

تجارت کے سامان۔ جیسے زمین، گاڑیوں اور تمام طرح کے سامانوں کی تجارت۔

اناج اور پھل۔ جیسے گیہوں، چاول، کھجور اور کشمش۔

چوپایے (جانور)، جس میں اونٹ، گائے اور بکری شامل ہیں۔

ان میں سے ہر ایک مال میں زکاۃ واجب ہونے کے لیے کچھ شرطیں ہیں، جن سے واقف ہونے کے لیے آپ اس کلپ کو سن لیجے:

زکاۃ کے مصارف :

اللہ تعالی نے بتایا ہے کہ آٹھ طرح کے لوگ زکاۃ کے مستحق ہيں۔ ارشاد باری تعالی ہے : "صدقے صرف فقیروں کے لئے ہیں اور مسکینوں کے لئے اور زکاۃ پر مامور لوگوں کے لئے اور ان کے لئے جن کے دل پرچائے جاتے ہوں اور گردن چھڑانے میں اور قرض داروں کے لئے اور اللہ کی راه میں اور راہرو مسافروں کے لئے۔ فرض ہے اللہ کی طرف سے، اور اللہ علم وحکمت واﻻ ہے۔" (سورہ توبہ : 60)

فقرا : ایسے لوگ جن کے پاس اتنی چیزیں نہ ہوں، جو ان کے لیے کافی ہوں یا جن کے پاس کافی چیزوں کا کچھ ہی حصہ ہو۔

مساکین : ایسے لوگ جن کے پاس کافی ہونے والی چیزوں کا آدھا سے زیادہ حصہ یا آدھا حصہ ہو۔ یہ لوگ فقرا سے زیادہ بہتر حالت میں ہوتے ہیں۔

زکاۃ پر مامور لوگ: وہ لوگ، جن کو حمکراں زکاۃ کا مال وصول کرنے اور مستحق حضرات کے درمیان بانٹنے کے کام پر مامور کرتے ہیں۔

مؤلفۃ القلوب (جن کے دل پرچائے جاتے ہوں): ان سے مراد ایسے لوگ ہیں، جن کو زکاۃ کا مال دینے کی صورت میں ان کے مسلمان ہونے کی امید رہتی ہے یا پھر ایسے لوگ جو نئے نئے مسلمان ہوئے ہوں اور ان کو اسلام پر ثابت قدم رکھنے کے لیے زکاۃ کا مال دیا جائے۔

گردن آزاد کرنا : غلاموں کو آزاد کرنا اور مسلمان قیدی کو فدیہ دے کر چھڑانا۔

مقروض لوگ : ان سے ایسے لوگ مراد ہیں، جو قرض ادا کرنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں۔

اللہ کے راستے میں : یعنی اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے لوگ۔

مسافر : ایسا مسافر جس کا سامان سفر تلف ہو گیا ہو یا ختم ہو گیا ہو۔

یہی لوگ زکاۃ کے حق دار ہیں۔ زکاۃ کا مال ان کے سوا کسی اور کو دینا جائز نہیں ہے۔ رفاہی مشروعات جیسے مساجد اور مدارس کی تعمیر وغیرہ میں زکاۃ کا مال خرچ کرنا جائز نہيں ہے۔

یہاں زکاۃ کے مصارف دیکھیں :

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : پڑھوں گا اور جواب دوں گا :

نیچے دی گئی آیتوں کو پڑھیے اور اس کے بعد ان سے یہ مسائل اخذ کیجیے: خرچ کرنے کے ثواب میں اضافہ، اللہ کے راستے میں خرچ کرنے والے لوگوں کے اوصاف اور قیامت کے دن ان کا مقام و مرتبہ۔

اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے : "جو لوگ اپنا مال اللہ تعالیٰ کی راه میں خرچ کرتے ہیں، اس کی مثال اس دانے جیسی ہے، جس میں سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ جسے چاہے بڑھا چڑھا کر دے اور اللہ تعالیٰ کشادگی واﻻ اور علم واﻻ ہے۔" جو لوگ اپنا مال اللہ تعالیٰ کی راه میں خرچ کرتے ہیں پھر اس کے بعد نہ تو احسان جتاتے ہیں نہ ایذا دیتے ہیں، ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے ان پر نہ تو کچھ خوف ہے نہ وه اداس ہوں گے۔" (سورہ بقرہ : 261، 262)

فوائد ان آیات سے مذکورہ مسائل پر دلالت کے مقامات

خرچ کرنے کے ثواب میں اضافہ "اس کی مثال اس دانے جیسی ہے، جس میں سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں۔"

اللہ کے راستے میں خرچ کرنے والوں کے اوصاف "پھراس کے بعد نہ تو احسان جتاتے ہیں نہ ایذا دیتے ہیں۔"

خرچ کرنے والوں کا قیامت کے دن مقام و مرتبہ "ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے ان پر نہ تو کچھ خوف ہے نہ وه اداس ہوں گے۔"

سرگرمی (2) : میں تصور کروں گا :

تصور کریں کہ اسلامی معاشرے کا کیا حال ہوتا، اگر اسلام نے مال داروں کو زکاۃ دینے کا حکم نہ دیا ہوتا؟

سرگرمی (3): میں سبب بیان کروں گا :

نیچے دیے گئے مسئلوں میں جو غلطی ہو رہی ہے، اس کا سبب بیان کریں:

ایک شخص زکاۃ کا مال مدارس کی تعمیر کے لیے دیتا ہے۔

ایک شخص اپنے مال دار بھائی کو زکاۃ کا مال دیتا ہے۔

ایک شخص اپنے والد کو زکاۃ کا مال دیتا ہے۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

ابن السبیل (راہرو مسافر) : یعنی ایسا مسافر جس کا سامانِ سفر ختم ہو گیا ہو۔ (√ )

مشروعیت زکاۃ کی ایک حکمت فقیر کی عزت نفس کا تحفظ ہے۔ (√ )

زکاۃ اسلام کا پانچواں رکن ہے۔ (×)

مسکین فقیر سے زیادہ ضرورت مند ہوتا ہے۔ (×)

سوال 2 : قوسین کے مابین سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

اللہ کے نبی ﷺ کا قول : "جس نے اپنے مال کی زکاۃ ادا کر دی، اس سے اس کی برائی دور ہو گئی۔" دلالت کرتا ہے :

(زکاۃ کی حکمت پر - زکاۃ کے حکم پر - زکاۃ کے مصارف پر)

نصاب کے مالک پر زکاۃ کا حکم :

(سنت مؤکدہ - فرض کفایہ - فرض عین)

زکاۃ کے مستحق لوگوں کی ایک صنف ہے :

(فقیر بیوی - قرض کا بوجھ اتارنے سے عاجز شخص - مال دار مریض)

سوال 3 : نیچے دیے گئے سوالوں کا جواب دیں :

اللہ تعالی کا یہ قول کس بات پر دلالت کرتا ہے : ”آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لیجیے، جس کے ذریعہ سے آپ ان کو پاک صاف کردیں۔“ (سوۂ توبہ: 103)

مؤلفۃ القلوب (جن کے دل پرچائے جاتے ہوں) سے مراد کون لوگ ہيں؟

اپنے معاشرے میں موجود زکاۃ کے مستحق لوگوں کی تین اصناف بتائے۔

ان اموال کا خلاصہ لکھیے، جن میں زکاۃ واجب ہے۔

نواں سبق : روزے

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

روزے کی شرطیں اور سنتیں بتا سکیں گے۔

روزے کے فضائل بیان کر سکیں گے۔

روزہ باطل کرنے والی چیزیں گنوا سکیں گے۔

رمضان کے روزے کی عظمت محسوس کریں گے۔

رمضان کے روزے پابندی سے رکھیں گے۔

تمہید :

ایک شخص رمضان میں کھانے، پینے اور جماع سے رکا رہتا ہے، لیکن دوسرے لوگوں کے بارے میں بری باتیں کرتا ہے۔ ایسے شخص کے بارے میں آپ کی رائے ہے؟

ماہ رمضان کے فضائل :

ماہ رمضان کے روزوں کے بہت سارے فضائل ہيں، جن میں سے ایک فضیلت گناہوں کی مغفرت اور برائيوں کا مٹایا جانا ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : ”جس نے ایمان کے ساتھ اور اجر و ثواب کے حصول کی نیت سے رمضان کا روزہ رکھا، اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جائیں گے۔“ (صحیح بخاری : 38، صحیح مسلم : 760)

یہاں رمضان مہینے کے روزوں کے فضائل دیکھیں :

روزے کی شرطیں :

مسلمان ہونا۔ روزہ کافر پر واجب نہيں ہے اور وہ رکھ لے تو درست بھی نہيں ہوگا۔

بالغ ہونا۔ روزہ بچے پر واجب نہيں ہے۔ لیکن باشعور بچہ روزہ رکھ لے، تو درست ہوگا اور اس کے حق میں نفل روزہ ہوگا۔

عقل مند ہونا : پاگل پر واجب نہیں ہوتا۔

روزہ رکھنے کی طاقت رکھنا۔ جس کے پاس روزہ رکھنے کی طاقت نہ ہو، اس پر روزہ فرض نہيں ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : " تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وه اور دنوں میں گنتی کو پورا کر لے اور اس کی طاقت رکھنے والے فدیہ میں ایک مسکین کو کھانا دیں۔" (سورۂ بقرہ: 184) جس کے پاس روزہ رکھنے کی طاقت نہ ہو، جیسے بہت زیادہ عمر دراز اور ایسا مریض جس کے شفایاب ہونے کی امید نہ ہو، وہ روزہ نہيں رکھے گا اور ہر دن کے بدلے میں ایک مسکین کو کھانا کھلا دے گا۔

عورتوں کا حیض اور نفاس کے خون سے پاک ہونا۔

نیت۔ طلوع فجر سے پہلے نیت کرنا ضروری ہے اور نیت کا محل دل ہے۔

روزے کی سنتیں :

غروب شمس کا یقین ہو جانے کے بعد افطار کرنے میں جلدی کرنا۔

سوکھی یا تر کھجوروں یا پانی سے افطار کرنا۔

سحری کو فجر سے کچھ پہلے تک مؤخر کرنا۔

زیادہ سے زیادہ نیکی کے کام، جیسے قرآن پڑھنا، ذکر کرنا اور صدقہ کرنا وغیرہ کرنا۔

افطار کے وقت دعا کرنا۔

روزے کو باطل کر دینے والی چیزیں :

ماہ رمضان میں دن میں جماع کرنا۔ اس سے قضا اور کفارہ دونوں واجب ہوتے ہیں۔ اس کا کفارہ ہے : ایک مومن غلام کو آزاد کرنا۔ اگر اس کی طاقت نہ ہو، تو لگاتار دو مہینے روزے رکھنا اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو تیس مسکینوں کو کھانا کھلانا۔

بوس و کنار، چھونے یا مشت زنی کی وجہ سے منی نکل آنا۔ اس سے روزہ فاسد ہو جاتا ہے اور قضا واجب ہوتی ہے۔

جان بوجھ کر کھانا یا پینا۔ البتہ بھول کر کھانے پینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

ناک کے راستے سے پیٹ میں پانی وغیرہ اور نس کے ذریعہ غذا کا کام کرنے والی چیزیں حاصل کرنا۔

جان بوجھ کر قے کرنا۔

پچھنا لگوانا۔

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : ایک دوسرے کی مدد سے نکتے نکالوں گا :

روزہ ماہ رمضان کا تنہا عمل خیر نہیں ہے۔ اپنے ساتھی کی مدد سے ایسے عمل خیر ڈھونڈ کر نکالو، جن پر درج ذیل نصوص دلالت کرتے ہیں :

نص عمل

حدیث : اللہ کے رسول ﷺ سب سے زیادہ سخی انسان تھے اور آپ کی سخاوت کا فیض سب سے زیادہ رمضان مہینے میں عام ہوتا تھا، جب جبریل آپ سے ملتے تھے۔" (صحیح بخاری : 6، صحیح بخاری : 2308)

زیادہ سے زیادہ صدقہ کرنا۔

حدیث : "جبریل آپ سے رمضان کی ہر رات میں ملتے تھے اور آپ کو قرآن کا دور کرایا کرتے تھے۔" (صحیح بخاری : 6، صحیح مسلم : 2308)

قرآن پڑھنا۔

حدیث : ”جس نے ایمان کے ساتھ اور اجر وثواب کے حصول کی نیت سے رمضان کا قیام کیا اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جائیں گے۔“ (صحیح بخاری : 37، صحیح مسلم : 759)

قیام اللیل۔

سرگرمی (2) : حکم واضح کروں گا :

روزے کی صحت پر نیچے دیے گئے افعال کے اثر کو واضح کریں اور بتائیں کہ روزے دار پر کیا واجب ہوگا :

فعل اس کے روزے کا حکم اس پر کیا واجب ہے

ایک دن ماہ رمضان میں دن میں بھول کر جوس پی لیا۔ صحیح اس پر کچھ نہيں ہے

ایک شخص نے رمضان مہینے میں دن میں غذا کا کام کرنے والا انجیکشن لے لیا۔ صحیح نہیں ہے اس پر قضا واجب ہے۔

ایک شخص نے بلڈ ٹیسٹ کے لیے تھوڑا سا خون نکلوایا۔ صحیح ہے اس پر کچھ نہيں ہے۔

سرگرمی (3) : غور و فکر کروں گا اور جواب دوں گا :

ایسی بری عادتوں کی لسٹ تیار کریں، آپ کی نظر میں ماہ رمضان جن سے پیچھا چھڑانے کا ایک موقع فراہم کرتا ہے۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : قوسین کے ما بین سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

روزے کی ایک شرط ہے :

(سحری کرنا - نیت کرنا - جلدی افطار کرنا)

روزے کو باطل کرنے والی ایک چیز ہے :

(پچھنا لگوانا - رات میں جماع کرنا - بھول کر کھانا کھا لینا)

روزے کی ایک سنت ہے :

(ماہ رمضان کے دن میں کھانے سے گریز کرنا - تر کھجوروں سے افطار کرنا - مبالغے کے ساتھ ناک میں پانی چڑھانا)

سوال 2 : نیچے دیے گئے جملوں میں موجود غلطیوں کو درست کر کے ان کو دوبارہ لکھیں :

روزے کا ایک واجب افطار میں جلدی کرنا ہے۔

رمضان کے مہینے کے دن میں جس کو خود سے قے ہو جائے، اس کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔

بچے پر روزہ واجب ہے۔

رمضان مہینے کے دن میں جان بوجھ کر جماع کرنے سے قضا واجب ہوتی ہے۔

سوال 3 : رمضان مہینے کا روزہ واجب ہونے کی ایک دلیل لکھیں۔

دسواں سبق : حج

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

حج کا حکم بیان کریں گے۔

حج کی فضیلت بیان کریں گے۔

حج واجب ہونے کی شرطوں اور اس کے ارکان کا خلاصہ بیان کریں۔

اسلام میں حج کا مقام ومرتبہ بیان کر سکيں گے۔

استطاعت ہونے پر فریضۂ حج ادا کریں گے۔

تمہید :

کعبہ دیکھنے کا موقع ملنے پر آپ کو کیسا لگے گا، بیان کریں۔

حج کا حکم :

حج اسلام کا ایک بہت بڑا فریضہ اور پانچواں رکن ہے۔ حج صاحب استطاعت پر عمر میں ایک بار فرض ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : " اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر جو اس کی طرف راه پا سکتے ہوں اس گھر کا حج فرض کر دیا ہے۔" (سورۂ آل عمران : 97)

حج کی فضیلت :

حج کی بہت ساری فضیلتیں ہیں۔ مثلا :

حج سے انسان کے گناہ مٹائے جاتے ہیں۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : ”جس شخص نے حج کیا اور اس نے (اس دوران) جماع اور اس کے مقدمات، فحش گوئی اور گناہ کے کاموں سے پرہیز کیا، تو وہ (حج کے بعد گناہوں سے پاک ہو کر اس طرح) لوٹتا ہے، جیسے اس دن تھا، جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا“۔ (صحیح بخاری : 1521، صحیح مسلم : 1350)

اس حدیث میں آئے ہوئے "رفث" لفظ کے معنی جماع اور اس کے مقدمات ہیں یا فحش بات کے ہیں۔ جب کہ "فسق" سے مراد نافرمانیاں اور برائیاں ہیں۔

حج دین کے افضل ترین اعمال میں سے ایک عمل ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ سے جب افضل ترین اعمال کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے بتایا : "اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھنا۔" پوچھا گيا کہ اس کے بعد کون سا عمل افضل ہے؟ تو فرمایا : "اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔" پوچھا گیا کہ اس کے بعد کون سا تو فرمایا : "حج مبرور۔" (صحیح بخاری : 26، صحیح مسلم : 83)

یہاں حج کی فضیلت دیکھیں :

حج کی شرطیں :

مسلمان ہونا۔ حج نہ تو کافر پر واجب ہے اور نہ اس کی جانب سے ادا کیا گيا حج کافی ہوگا۔

بالغ ہونا۔ حج بچے پر واجب نہیں ہے۔ لیکن اگر کوئی بچہ حج کرے، تو اس کا حج درست ہو گا اور نفل حج شمار ہوگا۔ اس کا یہ حج فرض حج کے بدلے میں کافی نہيں ہوگا۔

عقل مند ہونا۔ پاگل پر حج واجب نہیں ہے اور اس کا حج کرنا صحیح بھی نہیں ہوگا۔

طاقت رکھنا، یعنی حج اور اس کے اعمال انجام دینے کی مالی اور جسمانی طاقت ہونا۔

عورت کے ساتھ کسی محرم، جیسے شوہر، بھائی یا چچا وغیرہ کا ہونا۔

حج کے ارکان :

احرام، احرام نام ہے حج میں داخل ہونے کی نیت کرنے کا۔ اس کے بغیر حج درست نہيں ہوگا۔

عرفہ کے میدان میں ٹہرنا۔ یہ حج کا عظیم ترین رکن ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : "حج عرفہ ہی ہے۔" (سنن ترمذی : 889، سنن نسائی : 3016)

طواف افاضہ کے سات چکر۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے : ”اور لوگ اللہ کے قدیم گھر کا طواف کریں۔“ (سورہ حج : 29)

صفا اور مروہ کے دوران سعی کے سات چکر۔

یہاں حج کے ارکان دیکھیں :

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : استنباط کروں گا :

نیچے دیے گئے نصوص سے حج کی شرطیں نکالیں :

نص شرط

اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : "جب بچہ حج کرے تو یہ اس کے لیے حج ہے عقل مند ہونے تک۔ جب وہ عقل مند ہو جائے تو اس پر ایک اور حج ہے۔" (ابن خزیمہ : 3050)

اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : ”اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی کسی عورت کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے کسی محرم کو ساتھ لیے بغیر ایک دن اور ایک رات کی مسافت کا سفر طے کرے۔“ (صحیح بخاری : 1088، صحیح مسلم : 1339)

سرگرمی (2) : ایک پیغام لکھوں گا :

نیچے دی گئی حدیثوں کی روشنی میں ایسے شخص کے نام ایک پیغام لکھیں، جو طاقت ہونے کے باوجود حج اور عمرہ کی ادائیگی میں سستی کرتا ہو :

اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : ’’حج اور عمرہ کرنے والے اللہ تعالیٰ کے ملاقاتی (اور مہمان) ہیں۔ اگر وہ اللہ سے دعا کریں تو اللہ ان کی دعا قبول کرتا ہے اور اگر وہ بخشش مانگیں تو انھیں بخش دیتا ہے۔‘‘ (سنن نسائی : 2625، سنن ابن ماجہ : 2892)

اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : ”حج مبرور کا بدلہ صرف جنّت ہے۔“ (صحیح بخاری : 1773، صحیح مسلم : 1349)

سرگرمی (3) : تلاش کروں گا :

اللہ تعالی نے کئی ایسے اعمال مشروع کیے ہیں، جن کا ثواب حج ہی کی طرح بڑا عظیم ہے۔ مثلا اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے : "رمضان میں کیا گیا عمرہ حج کے برابر ہے۔ یا (آپ ﷺ نے فرمایا کہ) میرے ساتھ کئے گئے حج کے برابر ہے۔" (صحیح بخاری : 1863، صحیح مسلم : 1256) یعنی حج کے ثواب کے برابر ہے۔

- اپنی مسجد کے امام سے کوئی اور عمل دریافت کریں، جس کا ثواب حج یا عمرہ کے جیسا ہو۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

حج طاقت رکھنے والے پر عمر میں ایک بار فرض ہے۔ (√)

طواف حج کا سب سے عظیم رکن ہے۔ (×)

حج کافر پر واجب ہے۔ (×)

سوال 2 : قوسین کے مابین سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

حاجی کے بارے میں وارد اللہ کے رسول ﷺ کی یہ حدیث: "وہ (حج کے بعد گناہوں سے پاک ہو کر اس طرح) لوٹتا ہے، جیسے اس دن تھا، جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا“

دلالت کرتی ہے :

(کم سنی پر - ماں کے ساتھ اچھے سلوک پر - گناہوں کی مغفرت پر)

بچے کے حج کا حکم :

(بچے کا حج صحیح ہے اور کافی ہوگا - صحیح ہے اور کافی نہيں ہوگا - صحیح نہیں ہے)

عورتوں کے ساتھ جڑی ہوئی حج کی ایک خاص شرط ہے :

(ساتھ میں کسی محرم کا ہونا - شوہر کا ہونا - مستطیع ہونا)

حاجی کے ساتھ نفقہ کا موجود رہنا شرط ہے :

(مکہ پہنچنے تک - حج کے کام پورے ہونے تک - وطن واپس ہونے تک)

سوال 3 : نیچے دیے کئے دونوں سوالوں کے جواب دیجیے :

کسی حدیث سے حج کی فضیلت پر استدلال کریں۔

حج کے ارکان گنوائيں۔

اکائی : آداب اور اخلاق

پہلا سبق : حسن خلق

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

حسن خلق کا معنی اور اہمیت واضح کر سکيں گے۔

حسن خلق کی فضیلت بیان کر سکیں گے۔

حسن خلق کی قدر وقیمت کا احساس کر سکیں گے۔

اخلاق حسنہ کا التزام کریں گے۔

تمہید :

حسن خلق نام ہے لوگوں کا بھلا کرنے اور اپنے قول یا فعل کے ذریعے ان کو اذیت نہ دینے کا۔

اسلام نے ہمیں حسن اخلاق کے زیور سے آراستہ ہونے کا حکم دیا ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "تم جہاں کہیں بھی ہو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو۔ اور (اگر کوئی گناہ ہو جائے تو) گناہ کے بعد نیکی کرلیا کرو، جو اس کو مٹا دے گی اور لوگوں سے حُسنِ اخلاق سے پیش آیا کرو۔" (سنن ترمذی : 1987)

حسن خلق کے فضائل :

دخول جنت کا سبب :

درجات کی بلندی

کمال ایمان کی علامت

اللہ کے نبی ﷺ کى اقتدا

اللہ کے نبی ﷺ کی محبت کا حصول

لوگوں کی محبت کا حصول

دخول جنت کا سبب :

اللہ کے نبی ﷺ سے جب پوچھا گیا کہ کون سی چیزیں لوگوں کو سب سے زیادہ جنت لے جائیں گی، تو آپ نے جواب دیا : "اللہ کا تقوى اور اچھے اخلاق۔" (سنن ترمذی : 2004)

ایسا اس لیے کہ تقوى سے اللہ کا حق ادا ہوتا ہے اور اچھے اخلاق سے بندوں کا حق ادا ہوتا ہے۔ اب جس نے اللہ کا حق اور بندے کا حق دونوں ادا کیا، وہ جنت اور اس کی نعمتوں سے فیض یاب ہوگا۔

درجات کی بلندی :

حسن خلق سے اللہ کے یہاں بندے کے درجات بلند ہوتے ہیں اور اس کے اجر و ثواب میں اضافہ ہوتا ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ فرماتے ہیں : ”مومن اپنے حُسنِ اخلاق کے ذریعے روزے دار اور شب بیدار عبادت گزار کا درجہ حاصل کر لیتا ہے“۔ (سنن ابوداؤد : 4798)

کمالِ ایمان کی علامت :

ایمان کے مکمل ہونے کے لیے بندے کا اخلاقی اعتبار سے مکلمل ہونا ضروری ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : ”مومنوں میں سب سے کامل ایمان والا شخص وہ ہے، جو اخلاق میں سب سے اچھا ہو۔“ (سنن ابوداؤد : 4682، سنن ترمذی : 2612)

اللہ کے نبی ﷺ کى اقتدا اور آپ کے طریقے کی پیروی:

اللہ تعالی نے اپنے نبی ﷺ کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا ہے : "اور بے شک تو بہت بڑے (عمده) اخلاق پر ہے." (سورہ قلم : 4)

انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ کے نبی ﷺ سب سے زیادہ اچھے اخلاق والے انسان تھے۔ (سنن ابوداؤد : 6203، صحیح مسلم : 2310)

حسن اخلاق سے قیامت کے دن اللہ کے نبی ﷺ کی محبت اور آپ کی قربت حاصل ہوگی:

اللہ کے نبی ﷺ فرماتے ہیں : "میرے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ محبوب اور قیامت کے دن مجھ سے سب سے زیادہ قریب بیٹھنے والے وہ لوگ ہیں جو تم میں بہترین اخلاق والے ہیں۔" (سنن ترمذی : 2018)

لوگوں کی محبت اور ان کا احترام :

لوگ بااخلاق انسان سے محبت کرتے ہیں اور اس کی نصیحت قبول کرتے ہيں۔ اللہ کے نبی ﷺ فرماتے ہیں : "یقیناً تم اپنے مال ودولت کے ذریعے لوگوں کا دل نہیں جیت سکتے تاہم تمہارا اچھا اخلاق اور ملاقات کے وقت خندہ پیشانی سے ملنا ان کے دل جیت سکتا ہے۔" (مستدرک حاکم : 428)

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : غور و فکر اور جستجو کروں گا :

حسن خلق کی بہت سی صورتیں ہیں۔ نیچے دیے گئے نصوص پر غور کریں اور ان سے ان کے اندر موجود حسن خلق نکالیں :

نص اچھے اخلاق

اللہ کے نبی ﷺ فرماتے ہیں : ”یقیناً اللہ تعالیٰ نرمی کرنے والا ہے اور نرمی کو پسند کرتا ہے“ (صحیح بخاری : 6927، صحیح مسلم : 2593)

نرمی۔

نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرمی ہے: "رحم کرنے والوں پر رحمن رحم فرماتا ہے۔" (سنن ترمذی : 1847) رحمت

انس رضی اللہ عنہ کہتے ہيں : "اللہ کے نبی ﷺ سب سے اچھے اخلاق کے مالک، سب سے بہادر اور سب سے سخی انسان تھے۔" (صحیح بخاری : 2820، صحیح مسلم : 2307)

شجاعت و کرم :

سرگرمی (2) : ایک دوسرے کے ساتھ مل کر عملی جامہ پہناؤں گا :

اسلام اپنے ماننے والوں کو اخلاق کے بلند ترین منازل پر فائز کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اللہ تعالی نے اپنے نبی ﷺ سے کہا ہے : "اور میرے بندوں سے کہہ دیجیئے کہ وه بہت ہی اچھی بات منھ سے نکالا کریں۔" (سورہ اسرا : 53)

اپنے ساتھیوں کی مدد سے نیچے دیے گئے حالات کے لیے بہترین باتیں لکھیں :

ایک شخص نے آپ سے کہا : صبح بخیر۔

آپ نے اپنے ایک ساتھی کو اپنی جگہ پر بیٹھا ہوا پایا۔

آپ کے ساتھی نے آپ سے کہا : آپ جلدی سمجھتے نہیں ہیں۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

حسن خلق دخول جنت کا ایک سبب ہے۔ (√)

نرمی شخصیت کی کم زوری کی علامت ہے۔ (×)

حسن خلق لوگوں کے درمیان محبت پھیلانے کا کام کرتا ہے۔ (√)

سوال : نیچے دیے گئے دونوں نصوص کو پورا کریں :

اللہ تعالی نے اپنے نبی ﷺ سے کہا ہے : "و إنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ ............"

نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: "وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ .............."۔

سوال 3 : نیچے دیے گئے سوالوں کا جواب دیں :

حسن خلق سے مقصود کیا ہے؟

ایمان سے حسن خلق کے تعلق کو واضح کریں۔

تین ایسے اخلاق بتائيں، جن کے زیور سے آپ آراستہ ہونا چاہیں گے۔

دوسرا درس : صفت صدق (سچائی)

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

ہماری زندگی میں سچائی کی قدر و قیمت بتا سکیں گے۔

سچائی کی فضیلت بیان کر سکیں گے۔

بچوں کو سچائی کی تعلیم دینے کی اہمیت کا اندازہ لگا سکیں گے۔

اپنے قول و فعل میں سچائی کا دامن پکڑے رہيں گے۔

سچائی ایک عظیم ترین خُلق ہے، جس کا حکم اللہ تعالی نے ہمیں دیا ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے : "اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ کا تقوى اختیار کرو اور سچوں کے ساتھ رہو۔" (سورہ توبہ : 119)

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے ایمان والوں کو اہل صدق و صفا کے ساتھ رہنے کا حکم کیوں دیا ہے اور ایمان سے صدق کا کیا تعلق ہے؟

اسی بات کا جواب اس سبق کے توسط سے دیا جائے گا :

سچائی :

سچائی کا مفہوم

سچائی کے میدان

اللہ کے ساتھ دل کا سچا ہونا

زبان کا سچا ہونا

عمل کا سچا ہونا

سچائی کے فضائل

سچائی کا مفہوم :

سچائی یہ ہے کہ قول و فعل، ظاہر و باطن اور کلام اور واقعیت درمیان مطابقت ہو۔

سچائی نیتوں، اقوال اور اعمال میں پائی جاتی ہے۔

اول : سچائی کے میدان :

سچائی کے تین میدان ہیں۔ ایک مومن کو ان تینوں میدانوں میں کھرا ہونا چاہیے۔

دل کا اللہ کے ساتھ سچاہونا :

دل اللہ کے ساتھ سچ اس وقت ہوتا ہے جب کوئی کام کرتے وقت نیت درست ہو اور ارادہ اللہ کی خوش نودی کا حصول ہو۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے : "جو شخص سچے دل سے اللہ سے شہادت مانگے گا، اللہ اسے شہیدوں کے مرتبوں تک پہنچا دے گا، اگرچہ اس کی وفات اپنے بستر پر ہی ہوئی ہو"۔ (صحیح مسلم : 1909) سچائی کا ایک عظیم ترین مظہر یہ ہے کہ مسلمان اللہ پر ایمان، اس پر توکل اور اس کے محبت کے اپنے دعوے میں سچا ہو۔

زبان کا سچا ہونا :

زبان کے سچ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے منہ سے نکلی ہوئی بات واقع کے عین مطابق ہو۔ اس میں نہ جھوٹ ہو اور نہ مبالغہ۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : ''سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے اور نیکی جنت کی طرف۔ انسان مسلسل سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کا شمار صدیقوں (سچے لوگوں) میں ہو جاتا ہے"۔ (صحیح بخاری : 6094، صحیح مسلم : 2607)

عمل کا سچ ہونا :

عمل کے سچ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انسان ایسا کام نہ کرے کہ اس کے قول کے خلاف ہو۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "اے ایمان والو! تم وه بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں؟ تم جو کرتے نہیں اس کا کہنا اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے." (سورہ صف : 2-3)

صدق کے فضائل :

سچائی دخول جنت کا ایک سبب ہے۔

سچائی اللہ کے رسولوں کی صفت ہے اور اللہ نے ہمیں ان کے اقتدا کا حکم دیا ہے۔

سچائی مسلمان کے دل میں اطمینان اور اس کے نفس میں سکون لاتی ہے۔

سچائی شخصیت کے مضبوط ہونے اور دلیل اور نفس پر بھروسے کی علامت ہے۔

سچائی ایک مسلمان کو معاشرے میں محبوب بناتی ہے اور لوگوں کے درمیان اس کا ذکر خیر ہوتا ہے۔

سچائی معاشرے میں رہ رہے لوگوں کے درمیان محبت و الفت عام کرنے میں ممد و مددگار ثابت ہوتی ہے۔

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : پڑھوں گا اور حل کروں گا :

عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : ایک دن اللہ کے رسول ﷺ ہمارے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ میری ماں نے مجھے یہ کہہ کر بلایا کہ ذرا یہاں آؤ، میں تمھیں دیتی ہوں۔ چنانچہ اللہ کے رسول ﷺ نے ان سے پوچھا : "تم اسے کیا دینا چاہتی ہو؟" اس نے کہا : میں اسے کھجور دوں گی۔ لہذا اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : "اگر تم اسے کچھ نہ دیتی، تو تمھارے کھاتے میں اسے جھوٹ لکھا جاتا۔" (سنن ابو داؤد : 4991)

اس حدیث کی روشنی میں سچ بولنے کی تربیت دینے کی اہمیت اور معاشرے کی درستگی پر پڑنے والے اس کے اثر کو واضح کریں۔

سرگرمی (2) : میں استنباط کروں گا :

نیچے دیے گئے نصوص سے سچائی کے بعض فضائل مستنبط کریں:

نص سچائی کی فضیلت

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "اللہ ارشاد فرمائے گا کہ یہ وه دن ہے کہ جو لوگ سچے تھے، ان کا سچا ہونا ان کے کام آئے گا۔ ان کو باغ ملیں گے، جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، جن میں وه ہمیشہ ہمیشہ کو رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی اور خوش اور یہ اللہ سے راضی اور خوش ہیں۔ یہ بڑی (بھاری) کام یابی ہے۔" (سورہ مائدہ : 119)

سچے لوگوں کا عظیم ثواب۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "اور جو سچے دین کو ﻻئے اور جس نے اس کی تصدیق کی، یہی لوگ پارسا ہیں." (سورہ زمر : 33)

سچائی تقوے کی دلیل ہے۔

نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: "خریدنے اور بیچنے والے، دونوں کو اس وقت تک (بیع کو فسخ کرنے کا) اختیار رہتا ہے، جب تک ایک دوسرے سے الگ نہ ہو جائيں۔ اگر دونوں نے سچ کہا اور کھول کر بیان کر دیا، تو ان کے لیے ان کی خرید فروخت میں برکت دے دی جاتی ہے۔" (صحیح بخاری : 2082)

سچا‏‏ئی برکت کا ایک سبب ہے۔

سرگرمی (3) : میں بیان کروں گا :

درج ذیل لنک میں دیے گئے کلپ سے آپ جو کچھ سمج پائیں، اس کی روشنی میں اللہ کے ساتھ سچائی کے انجام کو اپنی زبان میں لکھیں :

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

سچائی کا مطلب بس اتنا ہے کہ انسان کا قول حقیقت کے مطابق ہو۔ (×)

سچائی شجاعت اور ایمانی قوت کی دلیل ہے۔ (✓)

اچھی نیت کا ثواب عمل کے بعد ہی ملتا ہے۔ (×)

جھوٹ برکت کے اٹھ جانے اور روزی کم ہو جانے کا سبب ہے۔ (✓)

سچائی جنت میں داخل ہونے کا ایک سبب ہے۔ (✓)

سوال 2 : نیچے دیے گئے سوالوں کا جواب دو :

سچائی کی تعریف کریں۔

اللہ کے ساتھ سچائی کا مطلب واضح کریں۔

اللہ کے نبی ﷺ نے اپنے صحابہ کی تربیت سچائی کے اساس پر کی تھی۔ اس کی وضاحت کریں :

تیسرا سبق : صفت امانت

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

امانت کا مفہوم واضح کر سکیں گے۔

امانت کی اہم صورتيں گنوا سکيں گے۔

امانت کی فضیلت بیان کر سکیں گے۔

امانت داری کے ختم ہونے سے معاشروں پر پڑنے والے خطرے کو محسوس کریں گے۔

اپنے تمام کاموں میں امانت داری کے زیور سے آراستہ ہوں گے۔

تمہید :

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ ایک دن غلے کے ایک ڈھیر کے پاس سے گزرے اور اس کے اندر اپنا ہاتھ ڈالا تو آپ کی انگلیوں کو گیلاپن محسوس ہوا۔ لہذا آپ نے پوچھا : "غلے والے! یہ کیا ہے؟" اس نے جواب دیا : اے اللہ کے رسول! اس پر بارش کے پانی کا اثر ہے۔" آپ نے کہا : "تم نے گیلے اناج کو اوپر کیوں نہيں رکھ دیا کہ لوگ دیکھ سکيں۔ جس نے دھوکہ دیا، وہ مجھ میں سے نہيں ہے۔" (صحیح مسلم : 102)

اس حدیث پر غور کرنے کے بعد مسلمان تاجر کے اہم صفات لکھیں۔

امانت داری :

مفہوم

صورتيں

فضائل

اول : امانت داری کا مفہوم :

امانت داری سے مراد ہے اللہ کے فرائض کی ادائيگی، عہد و پیمان، امانتوں، راز اور عزت کى حفاظت کرنا اور اعضا و جوارح کو اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے بچائے رکھنا۔

دوم : امانت داری کی صورتيں :

دین کے بارے میں امانت داری : اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مسلمان اپنے رب کی عبادت اس طرح کرے، جیسے وہ اسے دیکھ رہا ہو۔

عزت و آبرو کے بارے میں امانت داری : اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مسلمان کسی کی عزت و آبرو کے ساتھ کھلواڑ نہ کرے۔

مال و دولت کے بارے میں امانت داری : جیسے خرید و فروخت میں امانت داری اور ودیعتوں اور امانتوں کی حفاظت۔

عمل میں امانت داری : اس کا مطلب یہ ہے اس کے اسرار کی حفاظت کی جائے اور کام کو اچھے انداز میں کیا جائے۔

علم میں امانت داری : اس سے مراد یہ ہے کہ مسلمان نقل علم میں امانت دار ہو۔

اسرار اور عہد و پیمان میں امانت داری : مسلمان نہ تو کوئی راز فاش کرے اور نہ کوئی وعدہ توڑے۔

حواس اور اعضائے جسم میں امانت داری : اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا استعمال کسی حرام کام میں نہ کیا جائے۔ جیسے کی غیر محرم عورت کو دیکھنا۔

سوم : امانت داری کے فضائل :

امانت داری نبیوں اور رسولوں کا ایک اہم ترین وصف ہے۔ خود اللہ کے نبی ﷺ کو نبوت سے سرفراز ہونے سے پہلے امین کے لقب سے جانا جاتا تھا۔

امانت داری کامل ایمان کی دلیل ہے اور خیانت نفاق کی نشانی۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : "منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کہے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے"۔ (صحیح بخاری : 33، صحیح مسلم : 59)

امانت دار مسلمان سے اللہ بھی محبت رکھتا ہے اور لوگ بھی محبت رکھتے ہيں۔

امانت داری مال و دولت اور عزت و آبرو کو لٹنے سے بچاتی ہے اور معاشرے کو امن و امان کی گارنٹی دیتی ہے۔

اللہ تعالی نے امانت دار لوگوں سے کام یابی کا وعدہ کیا ہے۔ کام یاب لوگوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے اللہ تعالی نے کہا ہے : "اور جو اپنی امانتوں کا اور اپنے قول و قرار کا پاس رکھتے ہیں." (سورہ مومنون : 8)

امانت کا ضا‏ئع ہونا قیامت کی ایک نشانی ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : "جب امانت ضا‏ئع کر دی جائے، تو قیامت کا انتظار کرو۔" (صحیح بخاری : 6496)

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : میں پڑھوں گا اور جواب دوں گا :

اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے : "اے زبان سے ایمان کی بات کرنے والے اور دل میں ایمان کو جگہ نہ دینے والے لوگو! مسلمانوں کی غیبت نہ کرو اور ان کی چھپی ہوئی باتوں کے پیچھے نہ پڑو۔ کیوں کہ جو ان کی چھپی ہوئی باتوں کے پیچھے پڑے گا، اللہ اس کی چھپی ہوئی باتوں کے پیچھے پڑے گا اور جس کی چھپی ہوئی باتوں کے پیچھے اللہ پڑ جائے گا، اسے اس کے گھر میں رسوا کرکے چھوڑے گا۔" (سنن ابوداؤد : 4880)

اپنے معلم کے تعاون سے نیچے دیے گئے سوالوں کے جواب دیجیے :

اس حدیث سے ہم کیا سیکھتے ہیں؟

امانت کی صورتوں میں کس صورت میں یہ حدیث درج ہوگی؟

سرگرمی (2) : باہمی تعاون سے بیان کروں گا :

لوگ کام گاروں کی کار کردگی میں امانت داری کی کمی کی بات کرتے ہيں۔ اس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے نیچے دیے گئے سوالوں کے جواب دو :

کام میں امانت کے لیے کون کون سی چیزیں مددگار ہیں؟

پہلے اپنا کام بیان کیجیے اور اس کے بعد بتائيے کہ آپ اس میں امانت داری کا کیسے خیال رکھتے ہيں؟

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓)کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

افشائے راز امانت داری پر دلالت کرتا ہے۔ (×)

امانت دار شخص مسلمانوں کی عزت و آبرو پر حملہ نہيں کرتا۔ (√)

امانت دار معاشرے ہی امن و امان کے حامل معاشرے ہیں۔ (√)

سوال 2 : قوسین کے مابین سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

امانت کا ضا‏ئع ہونا علامت ہے :

(سچائی کی - بھلائی کی - قیامت کی)

اللہ تعالی نے جن کاموں کے لیے انسان کو پیدا کیا ہے، ان میں ایک کام ہے :

(دنیا سے لطف اندوز ہونا - امانت کی حفاظت کرنا - خواہشات پوری کرنا)

امانت دار مسلمان :

(عہد و پیمان کی حفاظت کرتا ہے - خاص مصلحت کے لیے جھوٹ بولتا ہے - افشائے راز کرتا ہے)

اللہ کا مراقبہ مددگار ہے :

(عمل کو اچھے ڈھنگ سے نہ کرنے پر - عمل کو اچھے انداز میں کرنے پر - ترک عمل پر)

سوال 3 : نیچے دیے گئے دونوں سوالوں کے جواب دیجیے :

امانت کی مختصر تعریف لکھیں۔

علم میں امانت کا مقصود واضح کیجیے۔

چوتھا سبق : صفت صبر

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

صبر کا مفہوم واضح کر سکیں گے۔

صبر کی فضیلت بیان کر سکیں گے۔

صبر کی قسمیں گنوا سکیں گے۔

صبر کی اہم معاون چیزیں بیان کر سکیں گے۔

صبر کی فضیلت کا اندازہ لگا سکیں گے۔

صبر کے زیور سے آراستہ ہوں گے۔

اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے : "صبر کرنے والوں ہی کو ان کا پورا پورا بےشمار اجر دیا جاتا ہے." (سورہ زمر : 10)

اس سبق کو پڑھنے کے بعد صفت صبر کے فضائل پر غور کریں، جس کا بدلہ اللہ بلا حساب دیتا ہے۔

صبر :

مفہوم

اقسام

اللہ کی اطاعت پر صبر (کے ساتھ قائم رہنا)

اللہ کی معصیت سے گریز کرنے پر صبر

مصیبت کے وقت صبر

فضائل

اول : صبر کا مفہوم :

صبر ایک عمدہ وصف ہے، جو ایک مسلمان کو اللہ کی اطاعت گزاری اور اس کے قضا و قدر سے رضامندی پر ثابت قدم رکھتا ہے اور اسے اللہ کی نافرمانی سے روکتا ہے۔

دوم : صبر کی قسمیں :

صبر کی تین قسمیں ہیں : اللہ کی اطاعت پر صبر (کے ساتھ قائم رہنا)، اللہ کی معصیت سے گریز کرنے پر صبر اور آزمائش پر صبر۔

اللہ کی اطاعت گزاری پر صبر (کے ساتھ قائم رہنا) :

یعنی اللہ کی اطاعت گزاری کی جائے اور اس پر قائم رہا جائے، جس کے لیے محنت اور صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے : "اپنے گھرانے کے لوگوں کونماز کا حکم دے اور خود بھی اس پر جما ره۔" (سورہ طہ : 132)

اللہ کی نافرمانی سے گریز پر صبر :

اس سے مراد ہے اللہ کی حرام کی ہوئی چيزوں سے نفس کو روکنا اور حرام خواہشات اور لذتوں کا مقابلہ کرنا۔

آزمائش پر صبر :

آزمائش شر کے ذریعے بھی ہوتی ہے اور خیر کے ذریعے بھی۔ "ہم بطریق امتحان تم میں سے ہر ایک کو برائی بھلائی میں مبتلا کرتے ہیں۔" (سورہ انبیا : 35)

شر کے ذریعے آزمائش پر صبر سے مراد ہے: نفس کو ناراضی، گھبراہٹ اور شکوہ شکایت سے روکنا۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : "صبر وہی ہے جو پہلے صدمہ کے وقت ہو۔" (صحیح بخاری : 1283)

جب کہ خیر کے ذریعے آزمائش سے مراد ہے نعمت کا شکر ادا کرنا، اللہ کی دی ہوئی خیر سے دھوکے میں نہ آنا اور اس بات کا دھیان رکھنا کہ نعمت دینے والا اللہ ہی ہے۔

سوم : صبر کے فضائل :

اللہ نے صبر کرنے والوں سے بلاحساب اجر و ثواب دینے کا وعدہ کیا ہے۔

صبر نبیوں اور رسولوں کا وصف ہے۔ کیوں کہ وہ سب سے زیادہ آزمائشوں کا سامنا کرنے والے اور سب سے زیادہ صبر کرنے والے لوگ تھے۔

اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "اللہ تعالی صبر والوں کا ساتھ دیتا ہے۔" (سورہ بقرہ: 153)

صبر دنیوی اور اخروی فوز و فلاح کا سبب ہے۔

نیکی کے کاموں میں استقامت اور معصیت سے دوری بنانے کا رویہ اللہ کی رضامندی اور محبت کا باعث ہے۔

سرگرمیاں

سرگرمی (2) : میں پڑھوں گا اور جوڑوں گا :

آزمائش پر صبر میں جو چیزیں معین و مددگار ہوتی ہيں، ان میں سے ایک چیز عبادتوں کی ادائیگی اور ذہن و دماغ میں یہ بات رکھنا کہ کبھی کبھی خیر ناگوار چیزوں میں بھی ہوتی ہے اور اس بات کی امید رکھنا ہے کہ اللہ صبر کرنے والوں کو اجر و ثواب عطا کرتا ہے اور اس طرح کے لوگوں کی بڑی فضیلت ہے۔

سابقہ معانی اور اس جدول میں موجود آیتوں کو آپس میں جوڑیں :

نص صبر کے معاون وسائل

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو بری جانو اور دراصل وہی تمہارے لئے بھلی ہو۔" (سورہ بقرہ: 216) خیر کبھی کبھی ناگوار چیزوں میں بھی ہوتی ہے

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : " اور صبر رکھو، یقیناً اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔" (سورہ انفال: 46)۔ صبر کی فضیلت۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعہ مدد چاہو، اللہ تعالی صبر والوں کے ساتھ ہے۔" (سورہ بقرہ: 153) عبادتوں کی ادائيگی۔

سرگرمی (2) : تلاش کروں گا اور بیان کروں گا :

اللہ کے نبی ﷺ نے اپنی زندگی میں بہت سی مصیبتوں پر صبر کیا اور آپ اس معاملے میں اسوۂ حسنہ تھے۔ آپ نے اللہ کى طرف دعوت دیتے وقت سامنے آنے والی اذیتوں پر صبر کیا، اہل و اولاد کی موت پر صبر کیا اور قلتِ مال پر صبر کیا۔

اس ویڈیو کو دیکھیں اور بتائیں کہ اس سے آپ کو کیا کیا فوائد حاصل ہوئے ؟

سرگرمی (3) : مراجعہ کروں گا اور بیان کروں گا :

اللہ تعالی صبر کرنے والوں کو بہترین بدلہ عطا کرتا ہے۔ اپنی یاد داشت سے ایسا موقع ڈھونڈھ کر نکالیں، جب آپ نے کسی ناگوار چیز پر صبر کیا ہو اور بعد میں اسے اپنے حق میں اچھا پایا ہو۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

اللہ کی اطاعت گزاری آسان ہے اور اس کے لیے صبر کی ضرورت نہيں ہے۔ (×)

ایک مسلمان کے ذریعے کیے گئے نیکی کے کام اس کے لیے صبر کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہيں۔ (√)

سچا صبر کرنے والا انسان شکایت اور گھبراہٹ کے اظہار سے گریز کرتا ہے۔ (√)

سوال 2 : قوسین کے مابین سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

خود کو فحش تصویروں اور اباحیت والے کلپس دیکھنے سے روکنا ایک مثال ہے :

(آزمائش پر صبر کرنے کی - نیکی کام پر صبر (استقامت) کی - معصیت سے صبر (گریز) کی)

خیر کے ذریعے آزمائش پر صبر کی ایک مثال ہے :

(شکوہ سے گریز کرنا - نعمت کا شکر ادا کرنا - مزید طلب کرنا)

صبر کرنے والوں کی فضیلت یاد کرنا :

(صبر کے وسائل میں سے ہے - صبر کی مشقتوں میں سے ہے - صبر کی قسموں میں سے ہے)

سوال 3 : نیچے دیے گئے سوالوں کا جواب دو :

صبر کی مختصر تعریف لکھیں۔

اللہ کے نبی ﷺ کے احوال مسلمانوں کو صبر سکھاتے ہيں۔ اس کی وضاحت کریں :

ایک آیت لکھیں، جو صبر کرنے والوں کا اجر عظیم بیان کرتى ہو۔

پانچواں سبق : صفت حیا

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

حیا کی تعریف کر سکیں گے۔

حیا کی مختلف قسموں کے درمیان فرق کر سکیں گے۔

حیا کی فضیلت بیان کر سکیں گے۔

حیا کے زیور سے آراستہ ہوں گے۔

تمہید :

اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : ”پہلے انبیا علیہم السلام کے کلام سے جو باتیں لوگوں نے حاصل کیں، ان میں سے یہ بھی ہے: کہ جب تو شرم و حیا نہیں کرتا تو جو چاہے کر۔“ (صحیح بخاری : 6120)

اس حدیث پر غور کریں اور اس کے بعد سوچیں کہ حیا ایک مسلمان کو معصیتوں سے کیسے روکتی ہے؟

حیا :

حیا کا مفہوم

حیا کے اقسام

اللہ سے حیا

نفس سے حیا

لوگوں سے حیا

حیا کے فضائل

اول : حیا کا مفہوم

حیا ایک وصف ہے، جو انسان کو اچھی باتیں کہنے اور اچھے کام کرنے اور بری باتیں کہنے اور برے کام کرنے سے بچنے کی ترغیب دیتا ہے۔

دوم : حیا کے اقسام:

اللہ سے حیا :

یہ حیا کی سب سے عظیم ترین شکل ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے : "اللہ سے اسی طرح حیا کرو، جس طرح حیا کرنی چاہيے۔" صحابہ نے کہا : اے اللہ کے رسول! اللہ کا شکر ہے کہ ہم حیا کرتے ہیں۔ آپ نے کہا : "یہ سچی حیا نہیں ہے۔ دراصل اللہ سے سچی حیا یہ ہے کہ تم سر اور اس کے اندر موجود اعضا و جوارح اور پیٹ اور اس سے متصل اعضا و جوارح کی حفاظت کرو۔ تم موت اور بوسیدگی کو یاد کرو۔ جو آخرت چاہتا ہے وہ دنیا کی زینت چھوڑ دے گا۔ جس نے یہ کام کیے، اس نے اللہ سے سچی حیا کی۔" (سنن ترمذی : 2458)

اللہ سے حیا کا مطلب ہے اس بات سے حیا کرنا کہ وہ تم کو کوئی گناہ کا کوئی کام کرتے ہوئے دیکھے، تم اس کی منع کی ہوئی چیزوں سے دور رہو اور یاد رکھو کہ تم کو قیامت کے دن حساب و کتاب کے لیے اس کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔

نفس سے حیا :

ایک شریف النفس مسلمان کوئی فحش بات کہنے یا برا کام کرنے سے حیا کرتا ہے، تاکہ اس کا نفس اور اس کی عزت و آبرو محفوظ رہے۔

لوگوں سے حیا :

مومن اس بات کو ناپسند کرتا ہے کہ لوگ اسے برا کرتے ہوئے دیکھیں اور اس بات کو پسند کرتا ہے کہ لوگ اسے اچھا کرتے ہوئے دیکھیں، تاکہ اپنے اہل و عیال اور ساتھیوں کے لیے آئیڈیل اور نمونہ بن کر سامنے آ سکے۔ کیوں کہ لوگوں سے حیا کرنے والا برے اخلاق اور برے اعمال سے دور رہتا ہے، جو لوگوں کی نظر میں اس کی وقعت کو گھٹانے کا کام کرتے ہیں۔

سوم : حیا کے فضائل :

حیا اللہ کے نزدیک ایک محبوب وصف ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے ایک ساتھی سے کہا تھا : "تمہارے اندر دو خصلتیں (خوبیاں) ایسی ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں: بردباری اور حیا"۔ (سنن ابن ماجہ : 4188)

حیا رسول کریم ﷺ کا ایک وصف ہے۔ ایک حدیث میں ہے : "رسول اللہ ﷺ پردہ دار کنواری لڑکی سے بھی زیادہ حیا دار تھے۔" (صحیح بخاری : 3562، صحیح مسلم : 2320)

حیا ایمان کی ایک شاخ ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : "حیا ایمان کی ایک شاخ ہے۔" (صحیح بخاری : 9، صحیح مسلم : 35)

حیا سے بھلا ہی ہوتا ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : "حیا تو خیر ہی لاتی ہے۔" (صحیح بخاری : 6117، صحیح مسلم : 37)

حیا ایک مسلمان کو اپنے سماج کا ایک بہترین نمونہ بناکر پیش کرتی ہے۔

سرگرمیاں

سرگرمی (1): مسائل مستنبط کروں گا :

نیچے دیے گئے نصوص سے حیا کی صورتیں مستنبط کریں:

نص حیا کی صورت

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "اتنے میں ان دونوں عورتوں میں سے ایک ان کی طرف شرم وحیا سے چلتی ہوئی آئی۔" (سورہ قصص : 25)

عورت کا چال ڈھال اور دیگر تمام احوال میں حیا کرنا۔

اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : "اپنی بیوی اور اپنی باندی کو چھوڑ کر دیگر لوگوں سے اپنے شرمگاہوں کو چھپایا کرو۔" کسی نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! جب لوگ ایک ساتھ ایک جگہ میں جمع ہوں؟ آپ نے جواب دیا : "اگر تمہارى استطاعت میں ہو کہ تمھارى شرمگاہ کو کوئی نہ دیکھے، تو اسے ہرگز کسی کو نہ دکھاؤ۔" کسی نے پوچھا کہ اے اللہ کے نبی! جب ہم میں سے کوئی اکیلا ہو؟ آپ نے جواب دیا : "لوگوں کے مقابلے میں اللہ اس بات کا کہیں زیادہ حق دار ہے کہ اس سے حیا کی جائے۔" (سنن ترمذی : 2794)

شرمگاہ کو چھپانا، چاہے انسان تنہا ہی کیوں نہ ہو۔

سرگرمی (2) : موازنہ کروں گا :

کچھ حالات میں حیا مذموم ہوتی ہے۔ جیسے اچھے کام کا حکم دینے اور برے کام سے روکنے سے حیا اور معلومات حاصل کرنے کے لیے سوال کرنے سے حیا وغیرہ۔

نیچے دیے گئے ویڈیو سے مدد لیتے ہوئے محمود حیا اور مذموم حیا کے درمیان موازنہ کریں :

لنک کو اس سے بدل دیا جائے گا، کیوں کہ یہ علامہ عثیمین کا ہے

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح کام کے سامنے صحیح (√) کا اور غلط کام کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

ایک شخص کا وضو ٹوٹ گیا اور وہ حیا کی وجہ سے نماز سے نہیں نکلا۔ (×)

ایک شخص نے گاڑی روکی اور راستے ہی میں قضائے حاجت کر ڈالی۔ (×)

ایک ملازم اپنے ساتھیوں کے سامنے لباس بدلنے سے حیا کرتا ہے۔

ایک طالب جو بات سمجھ نہيں پاتا، اسے اپنے معلم سے پوچھنےسے حیا کرتا ہے۔ (×)

سوال 2 : نیچے دیے گئے نصوص کو پورا کریں :

"حیا تو ۔۔۔۔ ہی لاتی ہے۔"

"حیا ۔۔۔۔ کی ایک شاخ ہے۔"

"جب تو شرم و حیا نہيں کرتا، تو ۔۔۔۔۔۔۔ کر۔"

سوال 3 : نیچے دیے گئے دونوں سوالوں کے جواب دیجیے :

حیا سے مقصود کیا ہے؟

ایک مسلمان اللہ سے حیا کیسے کرے؟

چھٹا سبق: صفت عدل

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

عدل کا مفہوم واضح کر سکیں گے۔

عدل کی اہم صورتيں گنوا سکيں گے۔

عدل کی فضیلت بتا سکیں گے۔

معاشروں سے عدل غائب ہونے کا خطرہ محسوس کر سکيں گے۔

آپ صفت عدل کے زیور سے آراستہ ہوں گے۔

تمہید :

اگر معلوم ہو جائے کہ آپ کے بیٹے نے آپ کے کسی پڑوسی پر ظلم کیا ہے، تو آپ کیا کریں گے؟

اس سبق کو پڑھنے کے بعد آپ اپنے موقف کا جائزہ لیجیے۔

عدل :

مفہوم

صورتیں

اسے عملی جامہ پہنانے کی کیفیت

فضائل

اول : عدل کا مفہوم :

عدل ظلم کی ضد ہے۔ عدل نام ہے ہر حق والے کو اس کا پورا حق دینے کا۔ اس کے اندر کوئی فرق کیے بغیر لوگوں کے درمیان معاملات میں انصاف کرنا بھی شامل ہے۔

دوم : عدل کی صورتیں :

(1) فرائض کی ادائيگی اور حقوق ادا کرنا :

اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے اوپر عائد ہونے والے حقوق کو ادا کرے اور کسی کا حق مارے بغیر اپنے حقوق حاصل کرے۔

(2) لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا :

جب لوگوں کے درمیان کوئی اختلاف ہو جائے یا کوئی کسی پر دست درازی کرے، تو ان کے بیچ انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا چاہیے۔ مظلوم کو اس کا حق دلایا جانا چاہیے اور ظالم کو سزا دی جانی چاہیے۔

ایک مسلمان مظلوم کو اس کا حق دلواتا ہے، چاہے ظالم اس کا رشتے دار یا دوست ہی کیوں نہ ہو۔ اللہ کے نبی ﷺ کے زمانے میں ایک مشہور قبیلے کی ایک عورت نے چوری کی اور کچھ صحابہ یہ گزارش لے کر آئے کہ آپ اس کا ہاتھ نہ کاٹیں، تو آپ نے کہا : "اگر فاطمہ بنت محمد نے بھی چوری کی ہوتی، تو میں اس کا ہاتھ کاٹ ڈالتا۔" (صحیح مسلم : 1688)

سوم : عدل قائم کرنے کا طریقہ :

عدل و انصاف چند چیزوں سے قائم ہوتا ہے، جن میں سے کچھ چيزیں اس طرح ہیں :

قرآن کریم اور سنت نبوی سے ثابت شرعی احکام کو عملی جامہ پہنانا۔

کسی امتیاز کے بغیر ہر حق والے کو اس کا حق دینا۔

جھگڑے کے وقت لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا۔

اللہ کا خوف رکھنا اور اس بات کو ذہن نشیں رکھنا کہ اللہ تعالی قیامت کے دن ظالم سے بدلہ ضرور لے گا۔

چہارم : عدل کے فضائل :

اللہ تعالی نے عدل و انصاف سے کام لینے کا حکم ہر چیز میں دیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے : "بلاشبہ اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔" (سورہ نحل: 90)

لوگوں کے درمیان فیصلہ بھی عدل و انصاف سے کرنے کا حکم دیا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے : "اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں انہیں پہنچاؤ! اور جب لوگوں کا فیصلہ کرو تو عدل وانصاف سے فیصلہ کرو! یقیناً وه بہتر چیز ہے جس کی نصیحت تمہیں اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔" (سورہ نساء : 58)

عدل و انصاف ظلم کے انجام سے نجات کا سبب ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے : "ظالموں کے اعمال سے اللہ کو غافل نہ سمجھ وه تو انہیں اس دن تک مہلت دیے ہوئے ہے جس دن آنکھیں پھٹی کی پھٹی ره جائیں گی." (سورہ ابراہیم : 42)

عدل و انصاف سماج میں امن و شانتی کے قیام اور پرسکون زندگی میسر ہونے کا سبب ہے۔

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : غور و فکر سے کام لوں گا اور منتخب کروں گا :

حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے : "اے میرے بندو! میں نے اپنے او پر ظلم کو حرام کر رکھا ہے اور اسے تمہارے درمیان بھی حرام کردیا ہے، لہذا تم آپس میں ایک دوسرے پرظلم نہ کرو۔" (صحیح مسلم : 2577)

نیچے حدیث کے مدلول کے سامنے صحیح کا نشان (√) لگائیں :

عدل اللہ تعالی کا ایک وصف ہے۔ ()

جو لوگوں پر ظلم نہيں کرے گا، اس پر ظلم کیا جائے گا۔ ()

اللہ تعالی کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا۔ ()

سرگرمی (2) : ایک دوسرے کے ساتھ مل کر جواب دوں گا :

نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : میرے ابو نے مجھے اپنا کچھ مال ہبہ کردیا، لہذا میری ماں عمرہ بنت رواحہ نے کہا : میں اس سے اس وقت تک مطمئن نہیں ہو سکتی، جب تک آپ اللہ کے رسول ﷺ کو گواہ نہ بنائيں۔ چنانچہ میرے ابو آپ کو مجھے دیے گئے مال کا گواہ بنانے کے لیے آپ کے پاس گئے، تو آپ نے ان سے پوچھا : "کیا تم نے ایسا اپنے تمام بچوں کے ساتھ کیا ہے؟" انھوں نے نہیں میں جواب دیا، تو آپ نے کہا : "اللہ سے ڈرو اور اپنے بچوں کے درمیان انصاف کرو۔" چنانچہ میرے ابو نے گھر آکر ہبہ کیا ہوا مال واپس لے لیا۔ (صحیح بخاری : 2587، صحیح مسلم : 1623)

اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس حدیث کو سمجھیں اور اس کے بعد نیچے دیے گئے سوالوں کے جواب دیں :

اس سبق کے موضوع سے اس حدیث کا تعلق بیان کریں۔

اس حدیث کے فوائد بیان کريں۔

سرگرمی (3) : میں بیان کروں گا :

کوئی انسان ایسا نہيں ہے جس نے کبھی کسی پر ظلم نہ کیا ہو یا کسی کے ظلم کا سامنا نہ کیا ہو۔ اپنی زندگی کا کوئی ایسا موقع یاد کریں، جب آپ کو کسی پر ظلم کرنے کی وجہ سے شرمندگی ہوئی ہو اور اس کے بعد اس شخص کے نام ایک پیغام دیں، جس پر آپ نے ظلم کیا ہے۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : قوسین کے مابین سے صحیح جواب کا انتخاب کریں:

ظالم کو سزا دینا ایک صورت ہے :

(عدل و انصاف کی - ظلم کی - باطل کی)

جنس یا رنگ کی بنیاد پر لوگوں کے درمیان امتیازی سلوک ایک صورت ہے :

(عدل و انصاف کی - حق کی - ظلم کی)

عدل قائم کرنے کا ایک ذریعہ ہے :

(اللہ کا خوف - شریعت کو ٹھکرانا - لوگوں کے درمیان تفریق کرنا)

جب میں اپنے بھائی کو اپنے ساتھی پر ظلم کرتے ہوئے دیکھوں، تو میں :

(اسے روکوں گا - اس کی مدد کروں گا - اسے نظر انداز کرکے آگے نکل جاؤں گا)

سوال 2 : نیچے دیے گئے جملوں میں موجود غلطیوں کو درست کر کے ان کو دوبارہ لکھیں :

رشتے داروں کے خطا پر ہونے کے باجود ان کے حق میں فیصلہ کرنا صلہ رحمی کے مظاہر میں سے ایک مظہر ہے۔

حدود کا نفاذ جرائم کے عام ہونے کا سبب ہے۔

عدل و انصاف صرف مسلمانوں کے ساتھ کرنا ہے، دوسرے لوگوں کے ساتھ نہيں۔

سوال 3 : نیچے دیے گئے دونوں سوالوں کے جواب دیجیے :

یہاں عدل کی مختصر تعریف لکھیں۔

لوگوں کے بیچ عدل کے واجب ہونے کی ایک دلیل لکھیں۔

اکائی : دعوت

پہلا سبق : خیر خواہی کا مقام و مرتبہ

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

خیر خواہی کا مفہوم واضح کر سکیں گے۔

خیر خواہی کا مقام و مرتبہ بیان کر سکيں گے۔

معاشرے پر پڑنے والے خیرخواہی کے اثر کو سامنے لا سکيں گے۔

خیر خواہی کی ضرورت محسوس کریں گے۔

خیرخواہی ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر عائد ہونے والے حقوق میں سے ایک حق ہے۔ یہ مسلمان بھائی سے محبت کی دلیل ہے۔ دین میں اس کا بڑا اونچا مقام ہے۔ معاشرے میں محبت و الفت اور باہمی تعاون کو عام کرنے میں بھی اس کا بڑا اثر ہے۔

اول : خیرخواہی کا مفہوم :

خیرخواہی نام ہے سامنے والے شخص کا بھلا چاہنے، اسے صلاح کی دعوت دینے اور فساد سے روکنے کا۔

دوم : خیرخواہی کا مقام و مرتبہ :

خیرخواہی کا مقام و مرتبہ :

دین خیر خواہی کا نام ہے

انبیا‎ء کرام کا کام

معاشرے کی اصلاح

سعادت و کام رانی کا راستہ

خیرخواہی جہاد ہے

عذاب سے حفاظت کا سبب ہے

دین خیر خواہی کا نام ہے :

اسلام نے خیرخواہی کو بڑی اونچی جگہ دی ہے۔ خیرخواہی دین کے قیام، بقا اور پھیلنے کا سبب ہے۔ یہی نہیں بلکہ اللہ کے نبی ﷺ نے اسے ہی دین قرار دے دیا ہے۔ ایک حدیث میں ہے : "دین خیر خواہی کا نام ہے"۔ ہم نے عرض کیا : کس کی خیر خواہی کا؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ”اللہ کی، اس کی کتاب کی، اس کے رسول کی، مسلم حکمرانوں کی اور عام مسلمانوں کی۔“ (صحیح مسلم : 55) نیچے اس کی تفصیل درج ہے :

خیرخواہی انبیا کا کام ہے :

انبیا اس کائنات کے سب سے رحم دل لوگ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اپنی اپنی قوموں کو ہر خیر کی راہ دکھائی اور ہر شر سے خبردار کیا۔ اللہ کے نبی ﷺ فرماتے ہيں : "ہر وہ چیز جو تم کو جنت سے قریب کرتی اور جہنم سے دور کرتی ہے، میں نے تم کو اس کا حکم دیا ہے اور ہر وہ چیز جو تم کو جہنم سے قریب کرتی اور جنت سے دور کرتی ہے، میں نے تم کو اس سے منع کر دیا ہے۔" (مصنف عبدالرزاق : 34332)

خیرخواہی معاشرے کی اصلاح کی راہ ہموار کرتی ہے :

خیرخواہی کا مقصد اللہ کے قرآن میں وارد نبی شعیب علیہ السلام کے اس قول سے واضح ہے : "میرا اراده تو اپنی طاقت بھر اصلاح کرنے کا ہی ہے۔" (سورہ ہود : 88)

خیرخواہی افرادِ معاشرہ کے درمیان اچھے اخلاق و اقدار کو پھیلانے اور بگاڑ کو روکنے کی راہ ہموار کرتی ہے۔

خیرخواہی دونوں جہانوں میں کام یابی اور کام رانی کے حصول کی راہ ہموار کرتی ہے۔

انسان کو خسارے سے بچانے کا کام ایک دوسرے کی خیرخواہی اور ایک دوسرے کو حق اور صبر کی تلقین کیے بغیر ممکن نہيں ہے۔ "زمانے کی قسم. بے شک انسان سراسر نقصان میں ہے. سوائے ان لوگوں کے جو ایمان ﻻئے اور نیک عمل کیے اور (جنہوں نے) آپس میں حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی. (سورہ عصر : 1-3)

نصیحت ایک قسم کا جہاد ہے :

جس کے اندر جہاد کرنے کی طاقت نہ ہو اور اس نے نصیحت کا فریضہ انجام دیا، اس نے ایک طرح سے جہاد کیا۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے : "ضعیفوں پر اور بیماروں پر اور ان پر جن کے پاس خرچ کرنے کو کچھ بھی نہیں کوئی حرج نہیں، بہ شرط یہ کہ وه اللہ اور اس کے رسول کی خیر خواہی کرتے رہیں۔ ایسے نیک کاروں پر الزام کی کوئی راه نہیں، اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت ورحمت واﻻ ہے۔ (سورہ توبہ : 91)

خیرخواہی عذاب سے تحفظ کا ذریعہ ہے :

خیرخواہی اصلاح کی ایک قسم ہے، جو اللہ کو پسند ہے اور جس کی وجہ سے آزمائش اور سزا کو اٹھا لیا جاتا ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "آپ کا رب ایسا نہیں کہ کسی بستی کو ظلم سے ہلاک کر دے اور وہاں کے لوگ نیکو کار ہوں." (سورہ ہود : 117)

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : ساتھ مل کر کام کروں گا اور جواب دوں گا :

اپنے معلم اور ساتھیوں کے ساتھ مل کر چرچا کریں کہ اللہ، اس کی کتاب، اس کے رسول ﷺ، مسلم حکمرانوں اور عام مسلمانوں کی خیرخواہی کیسے جا سکتی ہے؟

خیرخواہی کس کی کی جائے گی؟ خیر خواہی کیسے کی جائے گی؟

اللہ کی خیر خواہی : اس کا مطلب ہے اللہ پر ایمان رکھنا، اس کے شریک ہونے کی نفی کرنا اور خالص اسی کی رضامندی کے حصول کے لیے عمل کرنا۔

اللہ کی کتاب کی خیرخواہی اس کا مطلب ہے قرآن کریم کے اللہ کا کلام ہونے کا ایمان رکھنا، اس پر عمل کرنا، اسے سیکھنا اور اسے سکھانا۔

اللہ کے رسول ﷺ کی خیرخواہی اس کا مطلب ہے اللہ کے نبی ﷺ کے لائے ہوئے دین پر ایمان رکھنا، آپ سے محبت رکھنا، آپ کی سنت پر عمل کرنا اور اسے لوگوں کے درمیان پھیلانا۔

مسلم حکمرانوں کی خیرخواہی اس کا مطلب ہے حق پر ان کی مدد کرنا، حق کے معاملے میں ان کی اطاعت کرنا اور ان کو حق کا حکم دینا (یعنی حق کى نصیحت کرنا)۔

عام مسلمانوں کی خیرخواہی اس کا مطلب ہے ان سے محبت رکھنا، ان کے حقوق ادا کرنا اور ان کا بھلا چاہنا۔

سرگرمی (2) : تجزیہ کروں گا اور نتیجے سامنے لاؤں گا :

قرآن کریم میں اس نصیحت کا ذکر ہوا ہے، جو اللہ کے نبی نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو کی تھی۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "اور نوح (علیہ السلام) نے اپنے لڑکے کو جو ایک کنارے پر تھا، پکار کر کہا کہ اے میرے پیارے بیٹے ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں میں شامل نہ ره۔ اس نے جواب دیا کہ میں تو کسی بڑے پہاڑ کی طرف پناه میں آجاؤں گا جو مجھے پانی سے بچا لے گا۔ نوح ﴿علیہ السلام﴾ نے کہا کہ آج اللہ کے امر سے بچانے واﻻ کوئی نہیں۔ صرف وہی بچیں گے جن پر اللہ کا رحم ہوا۔ اسی وقت ان دونوں کے درمیان موج حائل ہوگئی اور وه ڈوبنے والوں میں سے ہوگیا۔" (سورہ ہود : 42-43)

ان آیتوں میں جس صورت حال کا ذکر ہوا ہے، اس کا تجزیہ کرتے ہوئے اور اسے اس سبق سے جوڑتے ہوئے نیچے دیے گئے سوالوں کا جواب دیجیے :

خیرخواہی کی اہمیت اور ضرورت محسوس کیجیے۔

اللہ کے نبی نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو بچانے کی کوشش کی۔ اسے سمجھایا کہ کفر چھوڑ دے اور کشتی پر سوار ہو جائے۔ ان کے بیٹے نے اگر ان کی بات مان لی ہوتی، تو بچ جاتا۔ لیکن وہ اپنے والد کے خلاف گیا اور ان کی نصیحت قبول نہيں کی۔ لہذا ڈوب گیا اور کافروں کے ساتھ ہلاک ہو گیا۔

اس قصے سے کیا کیا اسباق ملتے ہیں؟

لوگوں کی خیرخواہی کرنا اور ان کو بچانے کی کوشش کرنا۔

خیرخواہی قبول کرنا اور اسے بے کار نہ جانے دینا۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

خیرخواہی اسلام کی ایک بنیاد ہے۔ (√)

اللہ کے نبی نوح علیہ السلام کے بیٹے نے ان کی بات مان لی۔ (X)

خیرخواہی کا دائرہ دینی باتوں تک ہی محدود ہے۔ (X)

خیرخواہی دوسروں کے حقوق پر دست درازی سے عبارت ہے۔ (X)

خیرخواہی اللہ کی راہ میں جہاد ہے۔ (√)

سوال 2 : نیچے دی گئی حدیث پوری کریں :

نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے : "دین ......... کا نام ہے"۔ ہم نے عرض کیا : کس کی خیر خواہی کا؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ”اللہ کی، اس کی ......... کی، اس کے رسول کی، مسلم ......... کی اور عام مسلمانوں کی۔“

سوال 3 : نیچے دیے گئے سوالوں کا جواب دیں :

خیرخواہی کی تعریف کریں۔

عام مسلمانوں کی خیرخواہی کیسے ہو سکتی ہے؟

معاشرے میں خیر کی نشر و اشاعت میں خیرخواہی کی اہمیت سامنے لائیں۔

دوسرا سبق : خیرخواہی کے آداب

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

خیرخواہی کے آداب بیان کر سکيں گے۔

خیرخواہی اور اس کے آداب کے درمیان ربط پیدا کرسکیں گے۔

نصحیت کئے جانے والے کے آداب گنوا سکيں گے۔

خیرخواہی کے آداب کی ضرورت محسوس کریں گے۔

خیرخواہی کے آداب کا التزام کریں گے۔

کبھی کبھی خیرخواہی غلط طریقے سے کیے جانے یا غلط وقت کے انتخاب کی وجہ سے قبول نہیں کی جاتی۔ اس سبق میں ہم خیرخواہی کے آداب سیکھیں گے، تاکہ اس کے مقاصد پورے ہو سکيں اور فرد و سماج اس سے فیض یاب ہو سکے۔

اول : خیرخواہی کرنے والے سے متعلق خاص آداب :

خیرخواہی کرنے والے کے آداب :

اِخلاص

صبر

امانت داری

نرمی

راز داری

رحمت

عمل

علم

فقہ

اخلاص۔ خیرخواہی کرنے پر واجب ہے کہ اس کا ارادہ اللہ کی رضامندی کا حصول اور لوگوں کو فائدہ پہنچانا ہو۔

صبر۔ کیوں کہ اس بات کا امکان رہتا ہے کہ خیرخواہی کرنے والے کو اذیت کا سامنا کرنا پڑے یا باربار نصیحت کرنے اور نصیحت کئے جانے والے سے باربار اتصال کی ضرورت پڑے۔

امانت داری۔ یعنی اس بات کی پوری کوشش کرنا کہ خیرخواہی کا کام بہترین انداز میں انجام دیا جائے۔

نصیحت کئے جانے والے کے ساتھ نرمی بھرا برتاؤ کرنا اور سخت و ترش رویہ اپنانے سے احتراز کرنا۔ یہی اللہ کے رسول ﷺ کا طریقہ رہا ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "اللہ تعالیٰ کی رحمت کے باعث آپ ان پر نرم دل ہیں اور اگر آپ بد زبان اور سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے پاس سے چھٹ جاتے۔" (سورہ آل عمران: 159)

خیرخواہی کرنے کے کام میں رازدارانہ طریقہ اختیار کرنا، تاکہ نصیحت کئے جانے والے کو پریشانی یا رسوائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

نصیحت کئے جانے والے کے ساتھ رحمت وشفقت کا معاملہ اور اس کے دینی اور دنیوی مصالح کا خیال رکھنا۔

ناصح کا خود اس چیز پر عمل کرنا جس کی نصیحت وہ دوسرے کو کرتا ہو تاکہ نصیحت کئے جانے والے کے لئے عملی نمونہ بن سکے۔

جس چیز کی نصیحت کر رہا ہو، اس کا علم اور جان کاری ہونا، تاکہ نصیحت کئے جانے والے کے لئے بگاڑ یا نقصان کا سبب نہ بن جائے۔

نصیحت کئے جانے والے کے حال کا خیال رکھنا اور مناسب وقت کا انتخاب کرنا، تاکہ وہ نصیحت قبول کرنے پرآمادہ ہو سکے۔

دوم : نصیحت کئے جانے والے کے لئے خاص آداب :

نصیحت کئے جانے والے کے آداب :

نصیحت کے صحیح ہونے کی چھان بین کر لینا۔

نصیحت قبول کرنا

نصیحت پر عمل کرنا

ناصح کے کلام کے صحیح ہونے کی چھان بین کر لینا :

جب نصیحت سے کوئی خیر سامنے نہ آتی ہو، اس میں کوئی عجیب و غریب بات کہی گئی ہو یا نصیحت کرنے والا شخص قابل اعتماد نہ ہو، تو نصیحت کئے جانے والے کے لیے ضروری ہوگا کہ اس کے صحیح ہونے یا نہ ہونے کی چھان بین کر لے۔

نصحیت قبول کرنا اور تکبر نہ کرنا :

نصیحت کو ٹھکرانا گھمنڈ کی علامت ہے اور انسان کو خیر سے محروم کر دیتا ہے۔ ایک حدیث میں ہے : ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھا بائیں ہاتھ سے کھا رہا تھا۔ آپ ﷺ نے اسے فرمایا : "اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ"۔ اس نے جواب دیا کہ میں(دائیں ہاتھ سے) نہیں کھا سکتا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا : "تو ایسا کر بھی نہ سکے"۔ اس نے محض تکبر کی وجہ سے انکار کیا تھا چنانچہ پھر وہ کبھی اپنے ہاتھ کو (شل ہوجانے کی وجہ سے) اپنے منہ تک نہ اٹھا سکا۔ (صحیح مسلم : 2021)

نصیحت پر عمل کرنا : نصیحت کئے جانے والے کو چاہیے کہ نصیحت قبول کرنے کے بعد اسے عملی جامہ پہنائے۔

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : میں مستنبط کروں گا :

نیچے دیے گئے نصوص سے نصیحت کے آداب مستنبط کریں:

نص آداب نصیحت

لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے کہا : "اے میرے پیارے بیٹے! تو نماز قائم رکھ، اچھے کاموں کی نصیحت کرتے رہ، برے کاموں سے منع کیا کر اور جو مصیبت تم پر آجائے اس پر صبر کر۔" (سورہ لقمان : 17)

نرمی۔

آل فرعون سے تعلق رکھنے والے مومن نے کہا : "اے میری قوم! یہ کیا بات ہے کہ میں تمہیں نجات کی طرف بلا رہا ہوں اور تم مجھے دوزخ کی طرف بلا رہے ہو." (سورہ غافر : 41)

خیر کی دعوت اور نصیحت کئے جانے والے کے ساتھ شفقت۔

اللہ کے نبی نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا : "میری قوم والو! میں تم سے اس پر کوئی مال نہیں مانگتا۔ میرا ثواب تو صرف اللہ تعالیٰ کے ہاں ہے۔" (سورہ ہود : 29) اخلاص۔

فضیل بن عیاض رحمہ اللہ کہتے ہیں : (مومن ستر پوشی کرتا ہے اور نصیحت کرتا ہے - فاجر بے عزت کرتا ہے اور عار دلاتا ہے)۔

پردہ پوشی اور راز داری۔

سرگرمی (2) : سنوں گا اور خلاصہ تیار کروں گا :

اس کلپ کو سنیں اور اس کے فوائد کا خلاصہ پیش کریں :

اندازۂ قدر

سوال 1 : قوسین کے مابین سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

اللہ کے نبی شعیب علیہ السلام علیہ السلام کا قول : "میرا اراده تو اپنی طاقت بھر اصلاح کرنے کا ہی ہے۔" دلالت کرتا ہے :

(نصیحت کے ہدف پر - نصیحت کے وقت پر - نصیحت کے طریقے پر)

فضیل رحمہ اللہ کے قول (مومن ستر پوشی کرتا ہے اور نصیحت کرتا ہے...) سے معلوم ہوتا ہے کہ :

(برائیوں کو دیکھ کر خاموش رہنا چاہیے - فاجر کو نصیحت کرنی چاہیے - نصیحت میں راز داری سے کام لینا چاہیے)

اللہ تعالی کا قول : "اور جب اس سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈر تو تکبر اسے گناه پر آماده کر دیتا ہے۔" اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ :

(نصیحت کو سرمایۂ افتخار سمجھنا چاہیے - نصیحت کو گھمنڈ کے ساتھ ٹھکرا دینا چاہیے - نصیحت کو قبول کرنا چاہیے)

سوال 2 : نیچے دی گئی نصیحتوں کے نتیجے کا توقع کریں اور اس توقع کا سبب بھی بیان کریں :

نصیحت متوقع نتیجہ قبول کیا جائے گا قبول نہیں کیا جائے گا

سبب

ایک نوجوان اپنے ساتھی کو لوگوں کے سامنے اونچی آواز میں نشہ آور اشیا کے استعمال سے روکتا ہے۔

ایک مدرس اپنے شاگرد کو مذاکرہ میں محنت کرنے کی نصیحت کرتا ہے۔

سگریٹ پینے والا ایک ڈاکٹر ایک مریض کو سگریٹ نوشی ترک کرنے کی نصیحت کرتا ہے۔

اپنے والدین کا ایک فرماں بردار نوجوان اپنے بھائی کو والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی نصیحت کرتا ہے۔

ایک ملازم اپنے باس کو کارکنوں کے سامنے کام کے بارے میں نصیحت کرتا ہے۔

سوال 3 : نصیحت کئے جانے والے کے آداب کا خلاصہ کریں۔

پیش لفظ

ساری تعریف اللہ کی ہے، جس نے انسان کو پیدا کیا، اسے علم و بیان کی دولت سے نوازا اور قرآن و سنت کے ذریعے اس پر حجت قائم کر دی۔

درود و سلام ہو ہمارے نبی محمد ﷺ، آپ کے اہل بیت، معزز ساتھیوں اور قیامت کے دن تک ان کی پیروی کرنے والوں پر۔

امابعد! اس بات میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہيں ہے کہ عمل سے پہلے علم حاصل کرنا بندے پر عظیم واجبات میں سے ایک ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے : (تو آپ اس کا یقین رکھیے کہ بجز اللہ کے کوئی حقیقی معبود نہیں اور اپنی خطا کی معافی مانگتے رہیے اور سارے ایمان والوں اور ایمان والیوں کے لیے بھی، اور اللہ خوب خبر رکھتا ہے تم (سب) کے چلنے پھرنے اور رہنے سہنے کی)۔

(سورہ محمد: 19)

دراصل شرعی علم اس امت کی اہم ترین امتیازات میں سے ایک امتیاز اور اسلامی شخصیت کے اہم ترین عناصر میں سے ایک عنصر ہے۔

علم کی اہمیت کے پیش نظر، جس کے چشمے سے جمعیۃ الدعوہ و توعیۃ الجالیات روضہ کا فیض جاری ہے اور وہ حکمت کے ساتھ اور تبلیغ کے بہترین طریقوں کو بروئے کار لاتے ہوئے لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے اور اجنبى کمیونٹیز کی تعلیم اور ان کو شرعی اعتبار سے اہل بنانے کے مقصد سے کیے گئے پروگراموں، جیسے "دین سے آگاہی" کا پروگروام، جو اجنبى کمیونٹیز کے لیے سات زبانوں میں شرعی کورسیز فراہم کرتا ہے، کے توسط سے مسلمانوں کے اندر دینی بیداری لانے کے کام میں مشغول ہے۔ اس پروجیکٹ کو تیار کرنے کے لیے مذکورہ جمعیت نے "بصائر للاستشارات التربوية" نامی کمپنی سے رابطہ کیا، جو شرعی تعلیم کا نصاب تیار کرنے کا کام کرتی ہے۔ چنانچہ جمعیت کی جانب سے فراہم کردہ مواد کی بنیاد پر اس نصابی دستاویز کو تیار کرنے پر اتفاق عمل میں آیا اور پھر درج ذیل مراحل کے مطابق طالب علموں کے لیے کتابیں تالیف کی گئیں :

- پہلا مرحلہ، جس میں چالیس (40) اسباق شامل ہیں۔

-دوسرا مرحلہ، جس میں تیس (30) اسباق شامل ہیں۔

- تیسرا مرحلہ، جس میں تیس (30) اسباق شامل ہيں۔

متعلم کے لیے تیار کی گئی ہر کتاب کے مقابلے میں معلم کے لیے بھی ایک رہ نما کتاب تیار کی گئی ہے، تاکہ وہ اس کے لئے مؤثر تعلیمی اور تربیتی طریقے پر درس پیش کرنے میں معین و مددگار ثابت ہو۔ نصابی دستاویز مرتب کرنے، متعلمین کے لیے کتابیں تالیف کرنے اور معلمین کے لیے گائیڈ تیار کرنے کا عمل بڑے ہی علمی انداز میں انجام پایا ہے اور بڑی باریک بینی کے ساتھ مراجعہ کیا گیا ہے۔ یہ کام شرعی تعلیمی نصاب کے ماہرین کی ایک جماعت نے کیا ہے۔

اخیر میں دعا ہے کہ اللہ اس عمل کو اسلام اور مسلمانوں کے لیے نفع بخش بنائے اور اس میں شریک ہونے والے ہر شخص کو بہتر بدلہ عطا کرے اور جنت سے نوازے۔ اس نصاب تعلیم کے بارے میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور جمعیت کے فون نمبروں کے ذریعہ موصول ہونے والی آپ کی کارآمد تجاویز اور آرا کا پرجوش خیر مقدم ہے۔

درود وسلام نازل ہو ہمارے نبی محمد ﷺ اور آپ ﷺ کى آل اور آپ کے صحابہ پر۔

جعیۃ الدعوہ، روضہ

مقدِّمہ

ساری تعریف اللہ کی ہے، جو سارے جہانوں کا رب ہے۔ درود و سلام ہو ہمارے نبی محمد ﷺ، آپ کے اہل بیت اور تمام ساتھیوں پر۔

امابعد!

عزیز طالب علم! نصاب کی پہلی کتاب آپ کے سامنے ہے۔ اس تعلیمی نصاب کی پہلی کتاب، جس کا مقصد مسلمان کو دین سے متعلق ضروری باتیں سکھانا، ایک مضبوط اسلامی ثقافت کی بنیاد رکھنا اور اسلامی منہج تربیت کے مطابق طالب علم کی شخصیت کی تعمیر کرنا ہے۔

اس کتاب کو شرعی علوم کے مختلف شعبوں کے مدنظر مختلف تعلیمی اکائیوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے، جو اس طرح ہيں :

اکائی : قرآن اور تفسیر : اس میں قرآن سیکھنے کی فضیلت، سورہ بقرہ کی آخری آیتوں اور کچھ چھوٹی سورتوں کی تفسیر اور آیات سےماخوذ اہم علمی و تربیتی فوائد بیان کیے گئے ہیں۔

- اکائی : ایمان اور تزکیہ : اس میں نواقض توحید (کفر، شرک، نفاق اور ارتداد) اور ان کى اہم صورتیں بیان کی گئی ہیں، ان سے خبردار کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی تزکیۂ نفس کی اہمیت، تزکیہ کی حصول یابی کے طریقے اور قلوب کے اہم اعمال بھی بیان کیے گئے ہیں۔

-اکائی : سنت اور شمائل : اس میں اللہ کے نبی ﷺ اور آپ کے اہل بیت اور صحابہ کے حقوق بیان کیے گئے ہیں، ان کے بارے میں غلو اور ناروا سلوک سے خبر دار کیا گیا ہے اور اس کے بعد نیت کی اہمیت اور اس میں اخلاص کی ضرورت، اللہ کے نبی ﷺ کی سچی پیروی، اللہ کے حقوق کی حفاظت اور قضا و قدر پر ایمان کی ترغیب، اللہ تعالی کے احکام کی بجا آوری پر قائم و دائم رہنے اور فضول و غیر مفید چیزوں سے گریز کرنے پر مشتمل پانچ حدیثیں پڑھنے کے لیے دی گئی ہيں۔

- اکائی : فقہ احکام : اس میں معاملات، عائلی مسائل، کھانے پینے اور بطور خاص

خرید و فروخت، کرایہ داری، نکاح و طلاق اور حرام کھانے اور پینے کی چیزوں سے متعلق احکام کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے۔

- اکائی : دعوت : اس میں دعوت الی اللہ کا فریضہ انجام دینے کی ترغیب دی گئی ہے، اللہ کے نبی ﷺ کے دعوت کا کام کرنے کا طریقہ بتایا گیا ہے، اچھے کاموں کا حکم دینے اور برے کاموں سے روکنے کا مقام و مرتبہ اور اس کے آداب بیان کیے گئے ہیں، تاکہ پڑھنے والا اپنے پریوار اور سماج میں دعوت کا کام کرنے کے ضروری نظریاتی اور عملی گوشوں سے واقف ہو جائے۔

ہم نے ان کتابوں کو علمی اصولوں اور جدید تربیتی معیاروں کے مطابق تیار کرنے کی کوشش کی ہے۔

انھیں تیار کرتے وقت ہم نے درج ذیل باتوں کا خیال رکھا ہے :

ضرورت محسوس ہونے پر، درس کے تئیں متعلم کے اندر دلچسپى ابھارنے کے لئے، درس کا آغاز ایک تمہید سے کرنا۔

علمی مشمولات کے استیعاب میں مددگار، مفہوم کو واضح کرنے والے نقشے اور اشکال کا دیا جانا۔

فعال انداز سے سیکھنے کی حکمت عملیوں کے مطابق تربیتی مقاصد کے حصول کے لیے تعلیمی عملی کام کو شامل کرنا۔

ان عملی کاموں کے سلسلے میں ہم نے درج ذیل باتوں کا خیال رکھا ہے :

یہ عملی کام درس کے مقاصد کے حصول کے سلسلے میں مشمولات سے مکمل طور سے ہم آہنگ ہیں اور مواد کے مزاج سے بھی جڑاؤ رکھتے ہیں۔

شخصیت کے مختلف پہلؤوں کی ترقی اور نوع بہ نوع صلاحیتوں کا فروغ۔

انھیں کرنے کے طریقے میں بھی تنوع سے کام لیا گیا ہے۔ کچھ عملی کام انفرادی طور پر کرنے کے ہیں اور کچھ اجتماعی طور پر۔ انھیں کرنے کی جگہ میں بھی تنوع رکھا گیا ہے۔ کچھ کلاس روم میں کرنے کے ہیں، تو کچھ کلاس روم سے باہر۔

ان کی شکلوں اور صورتوں میں بھی تنوع رکھا گیا ہے۔ کچھ تحریری ہیں، کچھ زبانی ہيں، کچھ اشاراتی ہیں اور کچھ ذہنی۔

ہر درس کے آخر میں اندازہ قدر کے سوالات دیے گئے ہيں، تاکہ اس بات کا اندازہ لگایا جا سکے کہ درس کا استیعاب کہاں تک ہو سکا اور اس کے مقاصد کہاں تک حاصل ہو سکے؟

اس کتاب کو پیش کرتے ہوئے ہمیں امید ہے کہ ہم علمی مواد کو آسان اور واضح انداز میں سامنے رکھنے،

کارگر عملی کام ترتیب دینے اور اندازہ قدر کا جامع انداز اپنانے کی اپنی کوشش میں کام یاب ہوئے ہيں۔

دعا ہے کہ ہماری اس کوشش کو اللہ طلبہ علم کے لیے مفید بنائے اور شرف قبولیت عطا کرے۔ بے شک وہ سب کچھ سننے اور سب کچھ جاننے والا ہے۔

درود و سلام نازل ہو ہمارے نبی محمد ﷺ اور آپ ﷺ کے تمام اہل بیت اور ساتھیوں پر۔

بصائر للاستشارات التربوية والتعليمية

اکائی : قرآن اور تفسیر :

پہلا سبق : قرآن سیکھنے اور سکھانے کی فضیلت

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

قرآن کریم سیکھنے کی اہمیت واضح کر سکیں گے۔

قرآن کریم سیکھنے اور سکھانے کی فضیلت بیان کر سکیں گے۔

قرآن کریم سیکھنے کی فضیلت پر ایک حدیث یاد کر لیں گے۔

قرآن کریم سیکھنے اور سکھانے پر توجہ دیں گے۔

تمہید :

قرآن کریم کی تلاوت عبادت اور اللہ کی نزدیکی حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ اس میں بڑا ثواب بھی رکھا گيا ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : ”جس نے کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھا، اس کے لیے ایک نیکی ہے اور ایک نیکی کا اجر اس طرح کی دس نیکیوں کے برابر ہوتا ہے۔ میں نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے؛ بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے۔“ (سنن ترمذی : 2910)

جب قرآن پڑھنے کا اتنا ثواب ہے، تو اسے سیکھنے اور سکھانے کا ثواب کہیں زیادہ ہوگا۔ اسی کو ہم اس سبق میں سیکھیں گے۔

تلاوت قرآن کریم کے سیکھنے کی اہمیت :

ہر مسلمان پر سورہ فاتحہ کى تلاوت سیکھنا واجب ہے، کیوں کہ اس کے بغیر نماز درست نہیں ہوتی۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : "اس شخص کی نماز نہیں، جس نے سورہ فاتحہ نہیں پڑھی۔" (صحیح بخاری : 756، صحیح مسلم : 394)

ہر مسلمان کو تلاوت قرآن کو سیکھنے اور اس کے معانی سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "یہ کتاب جسے ہم نے آپ کی طرف نازل فرمایا ہے بابرکت ہے، کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور وفکر کریں اور عقل مند اس سے نصیحت حاصل کریں۔" (سورہ ص : 29)

کیوں کہ قرآن میں دیے گئے احکام کی بجا آوری اور قرآن پر عمل کرنا اس کى تلاوت سیکھے اور اس کے فہم و تدبر کے بغیر ممکن نہيں ہے۔

قرآن کى تلاوت سیکھنے کی فضیلت :

تلاوت قرآن سیکھنے کا آخرت میں بہت بڑا ثواب ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : "جو شخص قرآن کے پڑھنے میں ماہر ہو، وہ معزز اور نیک سفرا (فرشتوں) کے ساتھ ہو گا، اور جو شخص قرآن اٹک اٹک کر پڑھتا ہو اور اسے پڑھنے میں مشقت ہوتی ہو، تو اس کے لئے دو اجر ہے"۔ (صحیح مسلم : 798)

حدیث میں آئے ہوئے لفظ "السفرة" سے مراد فرشتے اور اس میں بیان کیے گئے دو اجر سے مراد تلاوت کا اجر اور مشقت کا اجر ہے۔

اللہ کے نبی ﷺ نے قرآن سیکھنے اور پڑھنے کے لیے جمع ہونے والوں سے بڑی بڑی فضیلتوں کا وعدہ کیا ہے۔ آپ ﷺ نے کہا ہے : "جو لوگ اللہ کے کسی گھر میں اللہ کی کتاب پڑھنے اور پڑھانے کے لیے جمع ہوں تو ان پر سکینت اترتی ہے، اور رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے، اور فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا ذکر اپنے پاس رہنے والوں (یعنی فرشتوں) میں کرتا ہے"۔ (صحیح مسلم : 2699)

قرآن سکھانے کی فضیلت :

اللہ تعالی نے قرآن سیکھنے اور دوسروں کو سکھانے والوں کو بڑا اونچا مقام عطا کیا ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے: ”تم میں سب سے بہتر شخص وہ ہے، جو قرآن سیکھے اور اسے سکھائے“۔ (صحیح بخاری : 5027)

ایک فضیلت یہ ہے کہ قرآن سکھانے والے کا اجر آخرت میں بڑھتا ہی جاتا ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : "جس نے اللہ کی کتاب کی ایک آیت سکھائی، اسے اس کا ثواب اس وقت تک ملتا رہے، جب تک وہ آیت پڑھی جاتی رہے گی۔" (کنز العمال : 28885)

لہذا آپ کی یہ ذمے داری ہے کہ آپ قرآن پڑھنے، اسے سیکھنے اور سکھانے کی کوشش کریں۔ کیوں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے صاحب قرآن کو قیامت کے دن ملنے والا مقام و مرتبہ بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے : "صاحب قرآن سے کہا جائے گا کہ پڑھتا جا اور چڑھتا جا اور اسی طرح ٹھہر ٹھہر کر پڑھ، جیسے کہ دنیا میں پڑھا کرتا تھا۔ کیونکہ جہاں آخری آیت ختم کرے گا، وہیں تیری منزل ہوگی"۔ (سنن ابوداؤد : 1464، سنن ترمذی : 2914)

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ چرچا کروں گا :

آج کے دور میں قرآن سیکھنے کے مختلف طرح کے وسائل فراہم ہيں۔ اپنے ساتھیوں کے ساتھ چرچا کرکے قرآن کى تلاوت سیکھنے کے دست یاب وسائل کی تعیین کیجیے:

سرگرمی (2) : غور کروں گا اور تجویز پیش کروں گا :

آج ٹکنالوجی کا دائرۂ کار وسیع ہو گیا ہے اور اس کے وسائل متنوع ہو گئے ہيں۔ ایسے میں قرآن سیکھنے کی سب سے بہتر ٹکنالوجی کیا ہے، یہ بتائيں اور ایک ایسا تکنیکی ذریعہ تجویز کریں، جسے آپ کی توقع میں ابھی تک استعمال میں لایا نہیں گیا ہے۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

سورہ فاتحہ سیکھنا ہر مسلمان پر واجب ہے۔

قرآن پڑھنے کا ثواب انہی لوگوں کو ملے گا، جو اچھی طرح پڑھ سکتے ہيں۔

اللہ تعالی یکجا ہو کر قرآن پڑھنے والوں کا ذکر خیر کرتا ہے۔

قرآن میں تدبر اس پر عمل آوری میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

سوال 2 : قوسین کے ما بین سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

جو لوگ قرآن سیھکنے کے لیے جمع ہوتے ہيں :

(وہ اللہ کی عام رحمت سے فيض یاب ہوتے ہیں - ان کے ساتھ فرشتے موجود ہوتے ہيں - دونوں)

صاحب قرآن جنت میں چڑھتا جاتا ہے:

(کثرت مال کے اعتبار سے - کثرت تلاوت کے اعتبار سے - طول عمر کے اعتبار سے)

نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: "جس نے اللہ کی کتاب کی کوئی آیت سکھائی، اسے اس وقت تک اس کا ثواب ملے گا ............." :

(جب تک اس آیت کو پڑھا جاتا رہے گا - جب تک وہ زندہ رہے گا - جب وہ اسے زبانی یاد کر لے گا)

سوال 3 : قرآن سیکھنے اور سکھانے کی فضیلت پر ایک حدیث لکھیں۔

دوسرا سبق : سورہ بقرہ کی آخری آیتوں کی تفسیر

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

اس سبق میں شامل آیتوں کی مختصر تفسیر کرلیں گے۔

اس سبق کے اہم فوائد بیان کر سکیں گے۔

اللہ کے نبی ﷺ اور صحابۂ کرام کی فضیلت بیان کر سکیں گے۔

اسلامی شریعت کے ایک آسان شریعت ہونے کی نعمت کو محسوس کر سکیں گے۔

اس سبق میں شامل آیتوں کی ہر رات تلاوت کریں گے۔

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔

"رسول ایمان ﻻیا اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے اتری اور مومن بھی ایمان ﻻئے، یہ سب اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان ﻻئے، اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے، انہوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی، ہم تیری مغفرت طلب کرتے ہیں اے ہمارے رب! اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیاده ذمہ دارى نہیں ڈالتا، جو نیکی وه کرے وه اس کے لئے اور جو برائی وه کرے وه اس پر ہے، اے ہمارے رب! اگر ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا، اے ہمارے رب! ہم پر وه بوجھ نہ ڈال جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈاﻻ تھا، اے ہمارے رب! ہم پر وه بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہ ہو اور ہم سے درگزر فرما! اور ہمارى مغفرت فرما اور ہم پر رحم کر! تو ہی ہمارا مالک ہے، سو ہمیں کافروں کی قوم پر غلبہ عطا فرما۔" (سورہ بقرہ : 285-286)

تفسیر :

ان دو آیتوں کے اندر دو باتيں بیان کی گئی ہیں :

پہلی : اس بات کی شہادت کہ نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ نے ایمان کے ارکان کی تصدیق کی تھی۔

دوسری : اللہ سے دعا کرنے کی کیفیت کا بیان۔

اللہ تعالٰی فرماتا ہے : "ءَامَنَ ٱلرَّسُولُ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيۡهِ مِن رَّبِّهِۦ وَٱلۡمُؤۡمِنُونَۚ"۔ یعنی رسول ﷺ نے اللہ تعالی کی جانب سے آپ پر اترنے والی وحی اور اس کے اندر شامل احکام کی تصدیق کی۔ اسی طرح صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی اس کی تصدیق کی۔

"كُلٌّ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَمَلَٰٓئِكَتِهِۦ وَكُتُبِهِۦ وَرُسُلِهِۦ لَا نُفَرِّقُ بَيۡنَ أَحَدٖ مِّن رُّسُلِهِ۔" ان سارے لوگوں نے اللہ کی الوہیت، فرشتوں، کتابوں کے اتارے جانے اور رسولوں کے بھیجے جانے پر ایمان رکھا اور اللہ کے رسولوں کے درمیان کوئی فرق نہيں کیا۔ یہی مسلمانوں کا امتیاز ہے۔ انھوں نے یہودیوں اور عیسائیوں جیسا کام نہيں کیا، جنھوں نے اللہ کے نبی ﷺ کو جھٹلا دیا۔

"وَقَالُواْ سَمِعۡنَا وَأَطَعۡنَاۖ غُفۡرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيۡكَ ٱلۡمَصِيرُ"۔ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت گزاری کا اعلان کر دیا اور اللہ سے گناہوں کی مغفرت طلب کی۔ کیوں کہ ساری مخلوقات کو آخرت میں اللہ ہی کی جانب لوٹنا ہے۔

"لَا يُكَلِّفُ ٱللَّهُ نَفۡسًا إِلَّا وُسۡعَهَاۚ لَهَا مَا كَسَبَتۡ وَعَلَيۡهَا مَا ٱكۡتَسَبَتۡۗ۔" اس کے بعد اللہ ہمیں اس بات کی خوش خبری دیتا ہے کہ اللہ کسی شخص پر اس کی طاقت سے زیادہ عمل کا بوجھ نہیں ڈالتا اور اسے اپنے بھلے برے عمل کا بدلہ ملنا ہے۔

بعد ازاں اللہ نے ہمیں سکھایا ہے کہ ہم اس سے دعا کیسے مانگیں؟ اس نے آٹھ دعاؤں کا ذکر کیا ہے، جو اس طرح ہیں :

"رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذۡنَآ إِن نَّسِينَآ أَوۡ أَخۡطَأۡنَاۚ۔" اے ہمارے رب! ہم بھول جائیں یا غلطی کر بیٹھیں تو ہمیں سزا نہ دینا۔

"رَبَّنَا وَلَا تَحۡمِلۡ عَلَيۡنَآ إِصۡرٗا كَمَا حَمَلۡتَهُۥ عَلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِنَاۚ"۔ اے ہمارے رب! ہمیں ایسی باتوں کا مکلف نہ بنا، جن پر عمل کرنا ہمارے اوپر دشوار ہو۔ جیسا کہ بعض سابقہ امتوں کے ساتھ ان کے عناد اور سرکشی کی وجہ سے ہوا۔

"رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلۡنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِۦۖ۔" اے ہمارے رب! ہمارے اوپر ایسی سزا اور فتنوں کا بوجھ نہ ڈال، جن کو اٹھانے کی طاقت ہمارے پاس نہیں ہے۔

"وَاعْفُ عنَّا۔" اے ہمارے رب! ہم سے جو کوتاہیاں ہوئی ہیں، ان کو معاف فرما۔

"وَاغْفِرْلَنَا"۔ اے ہمارے رب! ہم سے جو گناہ ہوئے ہیں، ان کو مٹا دے۔

"وَارْحَمْنَا۔" اے ہمارے رب! ہم ہر رحم و کرم فرما، تاکہ ہم کسی دوسرے گناہ میں نہ پڑیں۔

"أَنتَ مَوْلىنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِيْنَ۔" اے ہمارے رب! تو ہی ہمارا کارساز اور مدد گار ہے۔ لہذا ہمیں کافروں پر فتح عطا کر۔

ان دو آیتوں کے فوائد :

اللہ کے نبی ﷺ اور صحابۂ کرام کا عظیم مقام و مرتبہ۔

تمام نبیوں اور رسولوں پر ایمان رکھنے کا وجوب۔

اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت گزاری کا وجوب۔

شريعت اسلامیہ کا ایک آسان شریعت ہونا۔

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : غور کروں گا اور انتخاب کروں گا :

اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے : "سورہ بقرہ کی آخری دو آیتیں، جو ان کو رات کے وقت پڑھے گا، وہ اس کے لیے کافی ہو جائیں گی" (صحیح بخاری : 3707، صحیح مسلم : 1914)

اللہ کے نبی ﷺ کے قول «كَفَتَاه» کے کیا معنی ہیں؟

قیام اللیل کی جگہ پر کافی ہوں گی۔

ان دونوں پر عمل کرنا کافی ہوگا۔

ہر برائی اور شر سے کافی ہوں گی۔

پچھلی تمام باتیں۔

پـچھلی تمام باتیں۔

سرگرمی (2) : ایک دوسرے کی مدد سے جواب دوں گا :

نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے میری امت سے غلطی، بھول چوک اور جس پر انہیں مجبور کیا گیا ہو، اسے معاف کر دیا ہے۔“ (سنن ابن ماجہ : 2043)

اپنے ساتھی کی مدد سے نیچے دیے گئے دونوں سوالوں کے جواب دیجیے :

اس حدیث کا اس سبق میں مذکور آیتوں سے کیا تعلق ہے؟

وہ کون سی بات ہے، جس کا ذکر اس حدیث میں ہوا ہے، لیکن مذکورہ آیتوں میں نہیں؟

سرگرمی (3) : میں چرچا کروں گا :

اس سبق میں ہم نے سیکھا کہ شریعت اسلامی کا ایک وصف یہ ہے کہ وہ آسان شریعت ہے اور مسلمان کو مشقت میں نہيں ڈالتی۔

اپنے معلم سے چرچا کرکے نماز، زکاۃ اور روزے کے احکامات میں سے شریعت کى آسانی کی کچھ مثالیں پیش کریں۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

اس سبق میں شامل آیتوں میں منافقوں کى صفات بیان کی گئ ہيں۔ (×)

ایک مسلمان تمام نبیوں اور رسولوں پر ایمان رکھتا ہے۔ (✓)

احکام شریعت کو عملی جامہ پہنانا ایک دشوار کام ہے۔ (×)

سوال 2 : قوسین کے درمیان سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

ان آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مسلمان کا مؤاخذہ نہیں ہوگا :

(بالارادہ کیے گئے کام پر - یاد ہوتے ہوئے کیے گئے کام پر - بھول جانے کی وجہ سے کیے گئے کام پر)

کچھ شرعی کام سابقہ امتوں پر دشوار تھے۔ اس کی وجہ تھی :

(ان کا شدید ترین ظلم - ان کی جسمانی قوت - ان کی ایمانی قوت)

سورہ بقرہ کی آخری دو آیتوں کا پڑھنا ایک مسلمان کے لیے کافی ہوتا ہے:

(عشا کی نماز کے بدلے - وتر کے بدلے - قیام اللیل کے بدلے)

سوال 3 : نیچے دیے گئے کلمات کا معنی بتائیں :

(ما كسبتْ – ما اكْتَسَبَتْ - إصْراً)

سوال 4 : اس سبق میں شامل آیتوں سے ماخوذ فوائد میں سے دو فوائد لکھیں:

تیسرا سبق : سورہ ضحی، سورہ شرح اور سورہ تین کی تفسیر (دو گھنٹیاں)

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

اس سبق میں شامل سورتوں کی مختصر تفسیر کر سکیں گے۔

اس سبق میں شامل سورتوں کے فوائد بیان کر سکیں گے۔

اللہ کے نزدیک اللہ کے نبی ﷺ کا مقام و مرتبہ معلوم کر سکیں گے۔

اللہ کے نبی ﷺ کی عظمت معلوم کر سکيں گے۔

یتیموں اور مسکینوں کو صدقہ دیں گے۔

بلد حرام کا مقام و مرتبہ محسوس کر سکیں گے۔

سورہ ضحی

شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم واﻻ ہے

قسم ہے چاشت کے وقت کی. اور قسم ہے رات کی جب چھا جائے. نہ تو تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ وه بیزار ہوا ہے. یقیناً تیرے لئے انجام آغاز سے بہتر ہوگا. تجھے تیرا رب بہت جلد (انعام) دے گا اور تو راضی (وخوش) ہو جائے گا. کیا اس نے تجھے یتیم پا کر جگہ نہیں دی. اور تجھے راه بھوﻻ پا کر ہدایت نہیں دی. اور تجھے نادار پاکر تونگر نہیں بنا دیا؟ پس یتیم پر تو بھی سختی نہ کیا کر. اور سوال کرنے والے کو ڈانٹ ڈپٹ نہ کر. اور اپنے رب کی نعمتوں کو بیان کرتا ره.

(سورہ ضحی : 1-11)

تفسیر :

یہ سورت بتاتی ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے نبی ﷺ کا خیال رکھا ہے اور آپ کی شان بہت بڑی ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے :

وَٱلضُّحَىٰ وَٱلَّيۡلِ إِذَا سَجَىٰ اللہ تعالی چاشت کے وقت یعنی دن کے پہلے حصے کی اور رات کی قسم کھاتا ہے، جب اس کی تاریکی بہت بڑھ جائے۔

مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَىٰ وَلَلۡأٓخِرَةُ خَيۡرٞ لَّكَ مِنَ ٱلۡأُولَىٰ وَلَسَوۡفَ يُعۡطِيكَ رَبُّكَ فَتَرۡضَىٰٓ اللہ تعالی قسم کھا کر بتاتا ہے کہ اس نے اپنے نبی محمد ﷺ کو نہ تو چھوڑ دیا ہے اور نہ وہ آپ سے بے زار ہو گیا ہے، جیسا کہ کفار قریش کا دعوی ہے۔ آگے کہا ہے کہ آپ ﷺ کے لیے آخرت دنیا سے بہتر ہے اور اللہ آپ کو ایسی چيز عطا کرے گا، جو آپ خوش کر دے گی۔

أَلَمۡ يَجِدۡكَ يَتِيمٗا فَ‍َٔاوَىٰ وَوَجَدَكَ ضَآلّٗا فَهَدَىٰ وَوَجَدَكَ عَآئِلٗا فَأَغۡنَىٰ اللہ نے نبی ﷺ کو یتیم پایا، تو پناہ دی، دیکھ بھال کی اور رسالت کے نور کی راہ دکھائی۔ اسی طرح آپ کو تنگ دست پایا، تو رزق دیا اور لوگوں سے بے نیاز کر دیا۔

فَأَمَّا ٱلۡيَتِيمَ فَلَا تَقۡهَرۡ وَأَمَّا ٱلسَّآئِلَ فَلَا تَنۡهَرۡ وَأَمَّا بِنِعۡمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثۡ لہذا آپ کسی یتیم پر ظلم نہ کریں، کسی مانگنے والے کو نہ جھڑکيں اور اور اپنے شان جلالت والے رب کی نعمت بیان کرتے رہیں۔

سورہ شرح

شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم واﻻ ہے

کیا ہم نے تیرا سینہ نہیں کھول دیا؟ اور تجھ پر سے تیرا بوجھ ہم نے اتار دیا۔ جس نے تیری پیٹھ توڑ دی تھی- اور ہم نے تیرا ذکر بلند کر دیا۔ پس یقیناً مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے. پس جب تو فارغ ہو تو عبادت میں محنت کر. اور اپنے رب ہی کی طرف دل لگا.

(سورہ شرح : 1-8)

توضيح وتفسیر:

سورۂ ضحی میں اللہ کی جانب سے نبی کریم ﷺ کی جس عزت افزائی کا ذکر ہے، اس سورت میں اسی کی تکمیل کی گئی ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے :

أَلَمۡ نَشۡرَحۡ لَكَ صَدۡرَكَ اے نبی! کیا ہم نے آپ کے سینے کو دینی احکامات اور دعوت الی اللہ کے لیے کشادہ نہيں کر دیا؟

وَوَضَعۡنَا عَنكَ وِزۡرَكَ ٱلَّذِيٓ أَنقَضَ ظَهۡرَكَ اور ہم نے آپ کا بوجھ ہلکا کر دیا، جس نے آپ کی پیٹھ کو بوجھل کر دیا تھا۔

وَرَفَعۡنَا لَكَ ذِكۡرَكَ اور ہم نے آپ کے ذکر کو دونوں جہانوں میں بلند کر دیا۔ لہذا آپ کا نام اذان اور اقامت وغیرہ میں لیا جاتا ہے۔

فَإِنَّ مَعَ ٱلۡعُسۡرِ يُسۡرًا إِنَّ مَعَ ٱلۡعُسۡرِ يُسۡرٗا بلاشبہ تنگی اور شدت کے ساتھ اللہ کی جانب سے آسانی اور کشادگی ہے۔

فَإِذَا فَرَغۡتَ فَٱنصَبۡ وَإِلَىٰ رَبِّكَ فَٱرۡغَب لہذا جب کسی عمل صالح سے فارغ ہوں، تو دوسرے عمل صالح میں لگ جائیں، اللہ کے پاس ملنے والے اجر و ثواب کی رغبت رکھیں اور اس کی خوش نودی کے طلب گار رہيں۔

سورہ تین

شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم واﻻ ہے

قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی. اور طور سِینِین کی. اور اس امن والے شہر کی. یقیناً ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا. پھر اسے نیچوں سے نیچا کر دیا. لیکن جو لوگ ایمان ﻻئے اور (پھر) نیک عمل کیے تو ان کے لئے ایسا اجر ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا. پس تجھے اب روز جزا کے جھٹلانے پر کون سی چیز آماده کرتی ہے. کیا اللہ تعالیٰ (سب) حاکموں کا حاکم نہیں ہے.

(سورہ تین : 1-8)

توضيح وتفسیر :

یہ سورت ہمیں سکھاتی ہے کہ انسان کی قدر و قیمت اس کے ایمان اور عمل صالح سے مربوط ہے۔ چنانچہ اللہ تعالی کہتا ہے :

وَٱلتِّينِ وَٱلزَّيۡتُونِ وَطُورِ سِينِينَ وَهَٰذَا ٱلۡبَلَدِ ٱلۡأَمِينِ اللہ تعالی قسم کھاتا ہے انجیر اور زیتون کے درختوں کى اور طور پہاڑ کی جس پر اللہ تعالی نے موسی علیہ السلام سے بات کی تھی اور اس کے بعد مکہ مکرمہ کی قسم کھاتا ہے۔

لَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ فِيٓ أَحۡسَنِ تَقۡوِيمٖ ثُمَّ رَدَدۡنَٰهُ أَسۡفَلَ سَٰفِلِينَ اللہ تعالی مذکورہ چیزوں کی قسم کھاکر کہتا ہے کہ اس نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا ہے اور اس کے بعد انسان کے شرک اور گناہوں کے راستے پر چلنے کی وجہ سے وہ اسے جہنم کے برے انجام کی جانب لوٹا دیتا ہے۔

إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ فَلَهُمۡ أَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُونٖ البتہ جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے اچھے کام کیے، ان کے لیے جنت میں کبھی نہ ختم ہونے والا اور رسائی سے دور نہ رہنے والا اجر و ثواب ہے۔

فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعۡدُ بِٱلدِّينِ أَلَيۡسَ ٱللَّهُ بِأَحۡكَمِ ٱلۡحَٰكِمِينَ لہذا اے انسان! تجھے بھلا کون سی چیز موت کے بعد دوبارہ زندہ ہوکر اٹھائے جانے اور جزا و سزا کے جھٹلانے پر آمادہ کرتی ہے؟ جب کہ تم نے اللہ اور اس کی رسالتوں پر دلالت کرنے والی دلیلوں کو بھی جان لیا؟ کیا اللہ سب سے افضل حاکم نہیں ہے؟

مذکورہ تینوں سورتوں کے فوائد :

اللہ تعالی نے اپنے رسول ﷺ کو بڑی عزت عطا کی ہے اور اس نے آپ کا خیال رکھا ہے۔

یتیموں، کم زوروں اور فقیروں کے ساتھ اچھے سلوک کا واجب ہونا۔

اللہ کی نعمت بیان کرنا شکر گزار لوگوں کا وصف ہے۔

اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کو اونچا مقام عطا کیا ہے اور تمام جہانوں میں آپ کے ذکر کو بلند کر دیا ہے۔

اللہ اپنی مخلوق پر رحیم و کریم ہے، مشکل کے ساتھ آسانی لاتا ہے۔

اللہ نے انسان کی عزت افزائی کرتے ہوئے اسے بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا ہے۔

ایمان اور عمل صالح دنیا و آخرت میں انسان کے مقام و مرتبے کو بلند کرتے ہيں۔

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : آیتوں کو جوڑوں گا :

سورہ ضحی یا سورہ شرح یا سورہ تین کی آایسی آیات کا تذکرہ کریں، جو اس جدول میں وارد آیتوں کے معانی سے موافقت رکھتى ہوں :

آیتیں ان سے موافقت رکھنے والی سورہ ضحی، سورہ شرح یا سورہ تین کی آیات

"جب (یہ نبی) اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے." (سورہ توبہ : 40)

"نہ تو تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ وه بیزار ہوا ہے."

"جس (رب نے) تجھے پیدا کیا، پھر ٹھیک ٹھاک کیا، پھر (درست اور) برابر بنایا." (انفطار : 7)

"یقیناً ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا۔"

"بھلی بات کہنا اور معاف کردینا اس صدقہ سے بہتر ہے جس کے بعد ایذا رسانی ہو اور اللہ تعالیٰ بےنیاز اور بردبار ہے۔" (سورہ بقرہ : 263) "پس یتیم پر تو بھی سختی نہ کیا کر۔ اور نہ سوال کرنے والے کو ڈانٹ ڈپٹ۔ اور اپنے رب کی نعمتوں کو بیان کرتا ره"۔

اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہیں یہاں تک کہ آپ کو موت آجائے. (سورہ حجر : 99)

پس جب تو فارغ ہو تو عبادت میں محنت کر۔ اور اپنے رب ہی کی طرف دل لگا.

میں اس شہر کی قسم کھاتا ہوں. اور اس امن والے شہر کی۔

سرگرمی (2) : مل کر کام کروں گا اور معلوم کروں گا :

اپنے معلم کی مدد سے سورہ شرح اور سورہ ضحی میں بتائی گئی باتوں کی روشنی میں اللہ تعالی کی خوش نودی حاصل کرنے کے وسائل معلوم کریں :

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک نعمت کا شکر ادا کرنے کی دلیل ہے۔

تقوی عمل خیر کی توفیق کا سبب ہے۔

اللہ کے نبی ﷺ مکہ کے سب سے مال دار لوگوں میں سے تھے۔

سوال 2 : نیچے دیے گئے جملوں میں موجود غلطیوں کو درست کر کے ان کو دوبارہ لکھیں :

اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی : "اور تجھ پر سے تیرا بوجھ ہم نے اتار دیا". یعنی ہم نے آپ کے گناہ معاف کر دیے۔

سورہ شرح میں انسان کی تخلیق کے مراحل بیان کیے گئے ہیں۔

بلد امین سے مراد قدس شریف ہے۔

سوال 3 : نیچے دی گئی ہر بات پر دلالت کرنے والی ایک ایک آیت لکھیں :

مسلمان کو اللہ کی نعمتیں بیان کرنی چاہیے۔

مومن ہمیشہ منفعت بخش اعمال میں مشغول رہتا ہے۔

جنت کی نعمتیں کبھی ختم نہ ہوں گی۔

سوال 4 : سورہ ضحی اور سورہ شرح کی روشنی میں اللہ کے یہاں نبی کریم ﷺ کا مقام و مرتبہ بیان کریں۔

چوتھا سبق : سورہ علق اور سورہ قدر کی تفسیر

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

سورہ علق اور سوہ قدر کی مختصر تفسیر کر سکيں گے۔

علم کی قدر وقیمت مدلل انداز میں بتا سکیں گے۔

ان آیتوں سے حاصل ہونے والے فوائد کو بیان کر سکیں گے۔

لیلۃ القدر کی عظمت کا خیال رکھیں گے۔

سورہ علق

شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم واﻻ ہے۔

"پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ تو پڑھتا ره تیرا رب بڑے کرم واﻻ ہے۔ جس نے قلم کے ذریعے (علم) سکھایا۔ جس نے انسان کو وه سکھایا، جسے وه نہیں جانتا تھا۔ سچ مچ انسان آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔ اس لیے کہ وه اپنے آپ کو بے پروا (یا تونگر) سمجھتا ہے۔ یقیناً لوٹنا تیرے رب کی طرف ہے۔ (بھلا) اسے بھی تو نے دیکھا جو روکتا ہے بندے کو جب کہ وه بنده نماز ادا کرتا ہے؟ بھلا بتلا تو اگر وه ہدایت پر ہو؟ یا تقوى کا حکم دیتا ہو؟ بھلا دیکھو تو اگر یہ جھٹلاتا ہو اور منہ پھیرتا ہو تو؟ کیا اس نے نہیں جانا کہ اللہ تعالیٰ اسے خوب دیکھ رہا ہے؟ یقیناً اگر یہ باز نہ رہا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے۔ ایسی پیشانی جو جھوٹی خطا کار ہے۔ یہ اپنی مجلس والوں کو بلالے۔ ہم بھی (دوزخ کے) پیادوں کو بلالیں گے۔ خبردار! اس کا کہنا ہرگز نہ ماننا اور سجده کر اور قریب ہو جا"۔

(سورہ علق : 1-19)

توضیح وتفسیر:

یہ سورت اللہ کے نبی ﷺ پر اترنے والی سب سے پہلی آیات کے ساتھ شروع ہوتی ہے۔ اللہ تعالی کہتا ہے :

ٱقۡرَأۡ بِٱسۡمِ رَبِّكَ ٱلَّذِي خَلَقَ۔ اے رسول! آپ اس قرآن کریم کو پڑھیں، جو اللہ نے آپ پر اتارا ہے اور اپنی قراءت کا آغاز اپنے رب کے نام کے ساتھ کریں، جس نے ساری کائنات کو پیدا کیا ہے۔

خَلَقَ ٱلۡإِنسَٰنَ مِنۡ عَلَقٍ۔ جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ لوتھڑے سے مراد ہے جمے ہوئے خون کا ایک ٹکڑا، جو رحم مادر سے چپکا رہتا ہے۔

ٱقۡرَأۡ وَرَبُّكَ ٱلۡأَكۡرَمُ۔ ٱلَّذِي عَلَّمَ بِٱلۡقَلَمِ۔ عَلَّمَ ٱلۡإِنسَٰنَ مَا لَمۡ يَعۡلَمۡ۔ تو اپنے رب کے نام کے ساتھ پڑھتا رہ، جو بڑا صاحبِ احسان و کرم ہے، جس نے انسان کو قلم سے لکھنا سکھایا اور اسے دنیا و آخرت سے متعلق وہ باتیں سکھائیں، جو وہ نہیں جانتا تھا۔

كَلَّآ إِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ لَيَطۡغَىٰٓ۔ أَن رَّءَاهُ ٱسۡتَغۡنَىٰٓ۔ لیکن اس کے باوجود انسان اللہ کی حدوں کو تجاوز کر جاتا ہے، جب اسے صاحبِ مال یا صاحبِ سلطنت ہونے کی وجہ سے بے نیازی کا احساس ہوتا ہے۔

إِنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ ٱلرُّجۡعَىٰٓ۔ بلاشبہ انسان کو لوٹنا تو اللہ ہی کی طرف ہے، جو اسے اس کے ہر عمل کا بدلہ دے گا۔

أَرَءَيۡتَ ٱلَّذِي يَنۡهَىٰ۔ عَبۡدًا إِذَا صَلَّىٰٓ۔ کیا تم نے ابو جہل کو دیکھا، جو اللہ کے نبی ﷺ کو نماز سے روک رہا تھا؟

أَرَءَيۡتَ إِن كَانَ عَلَى ٱلۡهُدَىٰٓ۔ أَوۡ أَمَرَ بِٱلتَّقۡوَىٰٓ۔ جب کہ اللہ کے نبی ﷺ راہ حق پر چل رہے تھے اور اللہ کی اطاعت گزاری کا حکم دیتے تھے۔

أَرَءَيۡتَ إِن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰٓ۔ أَلَمۡ يَعۡلَم بِأَنَّ ٱللَّهَ يَرَىٰ۔ کیا آپ نے نہيں دیکھا کہ ابو جہل اللہ کے نبی ﷺ کی دعوت کو جھٹلا رہا تھا اور آپ سے اعراض کر رہا تھا؟ کیا اسے معلوم نہیں تھا کہ اللہ اس کی ایک ایک حرکت کو دیکھ رہا ہے؟

كَلَّا لَئِن لَّمۡ يَنتَهِ لَنَسۡفَعَۢا بِٱلنَّاصِيَةِ نَاصِيَةٖ كَٰذِبَةٍ خَاطِئَةٖ۔ اگر یہ مشرک اپنی ان حرکتوں سے باز نہیں آیا، تو ہم ذلت آمیز انداز میں اس کے سر کے بال پکڑ کر اسے آگ میں ڈال دیں گے۔ وہ سر جس کی باتیں جھوٹی اور جس کے افعال غلط ہوا کرتے ہیں۔

فَلۡيَدۡعُ نَادِيَهُۥ۔ سَنَدۡعُ ٱلزَّبَانِيَةَ۔ اس وقت وہ اپنے اہل و عیال اور کنبے والوں کو بلاکر دیکھ لے کہ وہ اس کے بلاوے پر آتے ہیں یا نہیں؟ سچائی یہ ہے کہ اس کے بلاوے پر کوئی نہيں آئے گا۔ آئیں گے تو بس ‏عذاب کے فرشتے۔

كَلَّا لَا تُطِعۡهُ وَٱسۡجُدۡۤ وَٱقۡتَرِب۔ لہذا اے اللہ کے رسول! آپ اس کی بات نہ مانیں، اپنے رب کو سجدہ کریں اور اس کی عبادت میں لگے رہيں۔

سورہ قدر

"شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم واﻻ ہے۔

یقیناً ہم نے اسے شب قدر میں نازل فرمایا۔ تم نے کیا سمجھا کہ شب قدر کیا ہے؟ شب قدر ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس (میں ہر کام) کے سر انجام دینے کو اپنے رب کے حکم سے فرشتے اور روح (جبرائیل) اترتے ہیں۔ یہ رات سراسر سلامتی کی ہوتی ہے اور فجر کے طلوع ہونے تک (رہتی ہے)"۔

(سورہ قدر : 1-5)۔

توضیح وتفسیر:

اس سورہ میں شب قدر کی فضیلت اور اس کا عظیم مقام و مرتبہ بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے :

إِنَّآ أَنزَلۡنَٰهُ فِي لَيۡلَةِ ٱلۡقَدۡرِ۔ وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا لَيۡلَةُ ٱلۡقَدۡرِ۔ ہم نے قرآن کریم کو آسمان دنیا پر اتارا ہے اور اسے اپنے نبی ﷺ پر اتارنے کا سلسلہ شروع کیا ہے ماہ رمضان کی ایک عظیم ترین رات میں۔ وہ رات، شب قدر ہے۔ اے نبی! کیا آپ جانتے ہیں کہ اس رات کے اندر کیا کچھ خیر و برکت رکھی ہے؟

لَيۡلَةُ ٱلۡقَدۡرِ خَيۡرٞ مِّنۡ أَلۡفِ شَهۡرٖ۔ اس مبارک رات میں عبادت کرنے کی فضیلت ایک ہزار راتوں میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے عبادت کرنے سے بہتر ہے۔

تَنَزَّلُ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ وَٱلرُّوحُ فِيهَا بِإِذۡنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمۡرٖ اس رات میں اس سال واقع ہونے والے اللہ کے ہر فیصلے کے ساتھ بڑی تعداد میں فرشتے اترتے ہیں، جن کے ساتھ میں جبریل علیہ السلام بھی ہوتے ہیں۔

سَلَٰمٌ هِيَ حَتَّىٰ مَطۡلَعِ ٱلۡفَجۡرِ۔ اللہ نے اس رات کو شروع سے طلوع فجر تک خیر اور سلامتی کی رات بنایا ہے۔

دونوں سورتوں کے فوائد :

اسلام میں علم کا بڑا مقام و مرتبہ ہے۔

مومن اللہ کی نعمتوں کے حصول پر تواضع اختیار کرتا ہے۔

قرآن کریم افضل ترین کلام ہے، جسے سب سے بہتر فرشتے نے سب سے بہتر رات میں سب سے بہتر انسان پر اتارا ہے۔

لیلۃ القدر ہمارے اوپر اللہ کی ایک نعمت ہے۔ لہذا اس رات کو ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے عبادت میں گزارنا چاہیے۔

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : سیکھوں گا اور لائحۂ عمل تیار کروں گا :

سورہ علق میں علم اور تعلم کی واضح دعوت دی گئی ہے۔ اس کی روشنی میں :

سورہ علق سے اسلام کے علم کی دعوت کے مظاہر نکالیں۔

تین چیزوں کی تعیین کریں، جو اس سال ان کے سیکھنے کا لائحۂ عمل پیش کرتی ہوں۔

سرگرمی (2) : مل جل کر تلاش کروں گا :

اللہ نے لیلۃ القدر میں کرنے کے لیے کئی بڑے بڑے اعمال مشروع کیے ہیں، جن کے کرنے کے بڑے بڑے ثواب ہیں۔ اس کی روشنی میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر نیچے دی گئی حدیثوں کا مطالعہ کریں اور ان اعمال کو تلاش کریں، جن پر یہ حدیثیں دلالت کرتی ہیں :

حدیثیں لیلۃ القدر کے اعمال

اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : ”شب قدر کو ماہِ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو“۔ (صحیح بخاری : 2020)

رمضان کے آخری دس دنوں میں نیکی کے کاموں کے ساتھ لیلۃ القدر تلاش کرنا۔

عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اے اللہ کے رسول! آپ ذرا یہ بتائیں کہ اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ کون سی رات لیلۃ القدر ہے، تو مجھے اس میں کیا کہنا چاہیے؟ آپ نے جواب دیا : "تم کہو گی : "اللهم إنك عفوٌّ تحبُّ العفوَ فاعف عني" اے اللہ! تو عفو و درگزر کرنے والا ہے، عفو و درگزر کو پسند کرتا ہے،اس لیے مجھے معاف کر دے۔" (سنن ترمذی : 3513)

لیلۃ القدر میں "اللهم إنك عفوٌّ تحبُّ العفوَ فاعف عني" کے ذریعے بہت زیادہ دعا کرنی چاہیے۔

حدیث : "اللہ کے نبی ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے تھے۔" (صحیح مسلم : 1172) رمضان المبارک کی آخری دس راتوں بشمول لیلۃ القدر کے اعتکاف کرنا۔

اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : "جس نے شبِ قدر میں حالتِ ایمان کے ساتھ ثواب کی امید کے سے قیام کیا اُس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔" (صحیح بخاری : 37، صحیح مسلم : 759) لیلۃ القدر میں قیام اللیل۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : نیچے دیے گئے جملوں میں موجود غلطیوں کو درست کر کے ان کو دوبارہ لکھیں :

سورہ قدر قرآن کریم کی وہ سورت ہے جو سب سے پہلے نازل ہوئی.

قرآن کریم رمضان مہینے کی پہلی رات میں اتری۔

مومن اللہ کی جانب سے ملنے والی نعمتوں کی کثرت پر فخر کرتا ہے۔

سوال 2 : نیچے دی گئی باتوں میں ہر ایک بات پر دلالت کرنے والی ایک ایک آیت لکھیں :

اسلام نے علم اور طلب علم کو اونچا مقام عطا کیا ہے۔

لیلۃ القدر کی عبادت ہزار راتوں کی عبادت سے بہتر ہے۔

ساری مخلوق قیامت کے دن اللہ کی جانب لوٹے گی۔

سوال 3 : نیچے دیے گئے دونوں سوالوں کے جواب دیجیے :

سورۂ علق میں اللہ کے نبی ﷺ کا دفاع کیا گیا ہے۔ اس کی وضاحت کریں :

لیلۃ القدر کے وصف کا خلاصہ پیش کریں اور اس کے بعد وہ عبادتیں بیان کریں، جو اس رات کسی مسلمان کے ذریعے کی جا سکتی ہیں۔

پانچواں سبق : سورہ بینہ اور سورہ زلزلہ کی تفسیر (دو گھنٹیاں)

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

دونوں سورتوں کی مختصر تفسیر کر سکیں گے۔

آخرت میں مومنوں اور کافروں کے احوال کا موازنہ کر سکیں گے۔

دونوں سورتوں کے فوائد بتا سکیں گے۔

قیامت کے دن حساب کی تیاری کریں گے۔

سورہ بینہ

"شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم واﻻ ہے۔

اہل کتاب کے کافر اور مشرک لوگ جب تک کہ ان کے پاس ظاہر دلیل نہ آجائے باز رہنے والے نہ تھے (وه دلیل یہ تھی کہ)۔ اللہ تعالیٰ کا ایک رسول جو پاک صحیفے پڑھے۔ جن میں صحیح اور درست احکام ہوں۔ اہل کتاب اپنے پاس ظاہر دلیل آجانے کے بعد ہی (اختلاف میں پڑ کر) متفرق ہوگئے۔ انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اسی کے لئے دین کو خالص رکھیں۔ ابراہیم حنیف کے دین پر اور نماز کو قائم رکھیں اور زکوٰة دیتے رہیں یہی ہے دین سیدھی ملت کا۔ بیشک جو لوگ اہل کتاب میں سے کافر ہوئے اور مشرکین سب دوزخ کی آگ میں (جائیں گے) جہاں وه ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے۔ یہ لوگ بدترین خلائق ہیں۔ بے شک جو لوگ ایمان ﻻئےاور نیک عمل کیے یہ لوگ بہترین خلائق ہیں۔ ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہمیشگی والی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وه ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا اور یہ اس سے راضی ہوئے۔ یہ ہے اس کے لئے جو خشیت الہی سے متصف ہو"۔

(سورہ بینہ : 1-8)۔

توضیح وتفسیر:

اس سورت میں رسالت محمدیہ کے مقام و مرتبہ، اس پر ایمان لانے والے کی فضیلت اور اس کا انکار کرنے والے کا انجام بتایا گیا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالی نے کہا ہے :

لَمۡ يَكُنِ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ وَٱلۡمُشۡرِكِينَ مُنفَكِّينَ حَتَّىٰ تَأۡتِيَهُمُ ٱلۡبَيِّنَةُ یہود ونصارى میں سے کفار اور مشرکین اپنے کفر سے اس وقت تک باز نہیں آئیں گے، جب تک اس کے بطلان کی کوئی واضح دلیل نہ آ جائے۔

رَسُولٞ مِّنَ ٱللَّهِ يَتۡلُواْ صُحُفٗا مُّطَهَّرَةٗ فِيهَا كُتُبٞ قَيِّمَةٞ اس دلیل سے مراد اللہ کے رسول ﷺ، آپ کے ذریعے پڑھی جانے والی قرآن پاک کی سورتيں اور ان کے اندر موجود حق کی رہ نمائی ہے۔

وَمَا تَفَرَّقَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ إِلَّا مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡهُمُ ٱلۡبَيِّنَةُ یہود و نصاری کا اس بات میں اختلاف نہيں تھا کہ اللہ آخری نبی ﷺ کو بھیجے گا۔ البتہ وہ سمجھتے تھے کہ ان کا ظہور انہی کے اندر ہوگا۔ لیکن جب عرب کے اندر مبعوث ہو گئے، تو متفرق ہو گئے۔ کچھ لوگ ایمان لائے اور کچھ نے کفر کی راہ لی۔

وَمَآ أُمِرُوٓاْ إِلَّا لِيَعۡبُدُواْ ٱللَّهَ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ حُنَفَآءَ وَيُقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤۡتُواْ ٱلزَّكَوٰةَۚ وَذَٰلِكَ دِينُ ٱلۡقَيِّمَةِ ٥ یہود و نصاری کو قرآن کریم میں وہی حکم دیا گیا ہے، جو ان کی کتابوں میں آیا ہے۔ مثلا خالص ایک اللہ کی عبادت، نماز قائم کرنا، زکاۃ دینا اور یہی مضبوط اسلام دین ہے۔

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ وَٱلۡمُشۡرِكِينَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَٰلِدِينَ فِيهَآۚ أُوْلَٰٓئِكَ هُمۡ شَرُّ ٱلۡبَرِيَّةِ بلاشبہ اہل کتاب میں سے کفار اور بتوں کی پوجا کرنے والوں کا ٹھکانہ جہنم کی آگ ہے اور وہ اللہ کی سب سے بد ترین مخلوق ہيں۔

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ أُوْلَٰٓئِكَ هُمۡ خَيۡرُ ٱلۡبَرِيَّةِ جَزَآؤُهُمۡ عِندَ رَبِّهِمۡ جَنَّٰتُ عَدۡنٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدٗاۖ رَّضِيَ ٱللَّهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُواْ عَنۡهُۚ ذَٰلِكَ لِمَنۡ خَشِيَ رَبَّهُ جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے اچھے اعمال کیے، وہ اللہ کی سب سے بہترین مخلوق ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ ان کو جنت میں داخل کرے گا اور وہ ابد تک وہاں کی نعمتوں سے فیض یاب ہوتے رہيں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوگا اور ان کو راضى کردے گا۔ نوازشات کی یہ بارش ہر اس شخص کے لیے ہے، جو اللہ سے ڈرتا ہو اور گناہوں سے اجتناب کرتا ہو۔

سورہ زلزلہ

"شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم واﻻ ہے.

جب زمین پوری طرح جھنجھوڑ دی جائے گی۔ اور اپنے بوجھ باہر نکال پھینکے گی۔ انسان کہنے لگے گا کہ اسے کیا ہوگیا؟

اس دن زمین اپنی سب خبریں بیان کردے گی۔ اس لیے کہ تیرے رب نے اسے حکم دیا ہوگا۔

اس روز لوگ مختلف جماعتیں ہو کر (واپس) لوٹیں گے تاکہ انہیں ان کے اعمال دکھا دیئے جائیں۔ پس جس نے ذره برابر نیکی کی ہوگی وه اسے دیکھ لے گا۔ اور جس نے ذره برابر برائی کی ہوگی وه اسے دیکھ لے گا"۔ (سورہ زلزلہ : 1-8)

توضیح وتفسیر:

یہ سورت قیامت کے دن رونما ہونے والے بعض واقعات اور اس سے پہلے سامنے آنے والی ہولناکیوں کو بیان کرتی ہے۔ اللہ تعالی کہتا ہے :

إِذَا زُلۡزِلَتِ ٱلۡأَرۡضُ زِلۡزَالَهَا۔ وَأَخۡرَجَتِ ٱلۡأَرۡضُ أَثۡقَالَهَا۔ یہاں اللہ قیامت کے دن کے بعض مشاہد بیان کر رہا ہے۔ مثلا یہ کہ اس دن زمین تیزی سے ہلنے لگے گی اور اپنے پیٹ میں دفن مردوں کو نکال باہر کر دے گی۔

وَقَالَ ٱلۡإِنسَٰنُ مَا لَهَا۔ يَوۡمَئِذٖ تُحَدِّثُ أَخۡبَارَهَا۔ بِأَنَّ رَبَّكَ أَوۡحَىٰ لَهَا۔

ایسے میں انسان روئے زمین میں رو نما ہونے والے حادثات سے تعجب کرے گا۔ خاص طور سے اس وقت جب زمین اپنے رب کا حکم پانے کے بعد اپنے اوپر کیے گئے اچھے برے کاموں کی اطلاع فراہم کرنے لگے گی۔

يَوۡمَئِذٖ يَصۡدُرُ ٱلنَّاسُ أَشۡتَاتٗا لِّيُرَوۡاْ أَعۡمَٰلَهُمۡ۔ اس وقت لوگ حساب و کتاب کے واسطے الگ الگ جماعتوں میں منقسم ہوکر نکلیں گے، تاکہ دنیا میں کیے ہوئے اپنے کاموں کو دیکھ سکیں۔

فَمَن يَعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَيۡرٗا يَرَهُ۔ وَمَن يَعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٖ شَرّٗا يَرَهُ۔ لہذا قیامت کے دن ہر انسان اپنے کیے ہوئے بھلے برے ہر عمل کو دیکھ لے گا اور اس کا بدلہ پا لے گا۔ چاہے وہ عمل چھوٹا سے چھوٹا ہی کیوں نہ رہا ہو۔

دونوں سورتوں کے فوائد :

خالص اللہ کے لیے عبادت کرنے کا واجب ہونا۔

اللہ کے نبی ﷺ کی سچائی اور قرآن کریم کی عظمت آپ ﷺ کے سچے نبی ہونے کی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔

نیک عمل کرنے والے مومن اللہ کی سب سے بہترین مخلوق ہيں اور ان کا بدلہ جنت ہے۔

قیامت کا دن بڑا ہیبت ناک دن ہوگا۔ اس دن انسان کو اس کے ہر عمل کا حساب دینا پڑے گا، چاہے وہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو۔

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : میں موازنہ کروں گا :

سورہ بینہ کے فہم کی روشنی میں سورہ مومنوں اور سورہ کافروں کے درمیان نیجے دیے گئے چارٹ کے مطابق موازنہ کریں:

وجہ موازنہ ان کو دیے گئے اللہ کے احکامات اللہ کے حکم کے تئیں ان کا رویہ آخرت میں ان کا حال

مومنین

کفار

سرگرمی (2): آیتوں کے ما بین ربط پیدا کروں گا :

تعلق واضح کریں اللہ تعالی کے اس قول: "انسان کہنے لگے گا کہ اسے کیا ہوگیا؟ اس دن زمین اپنی سب خبریں بیان کردے گی۔ اس لئے کہ تیرے رب نے اسے حکم دیا ہوگا"۔

اور اللہ کے اس کے قول درمیان: "جب کہ ان کے مقابلے میں ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ پاؤں ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔ (سورہ نور : 24)۔

قیامت کے دن یہ گواہیاں خلاف نہ جاکر حق میں جائيں، اس کے لیے ایک مسلمان کو کیا کرنا ہوگا؟

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

یہودیوں نے اللہ کے نبی محمد ﷺ کا کفر اس لیے کیا تھا کہ ان کو آپ کے سچے نبی ہونے میں شک تھا۔

جو دنیا میں اللہ سے ڈرے گا، اسے آخرت میں اللہ خوش کر دے گا۔

اللہ تعالی کے قول "دِينُ ٱلۡقَيِّمَةِ" سے مراد اہل کتاب کا دین ہے۔

خالص طور پر اللہ کے لیے کیا جانا اعمال صالحہ کے قبول ہونے کے لیے شرط ہے۔

زمین ایمان والوں کے جسموں کو ان کے جنت میں داخل ہونے تک محفوظ رکھے گی۔

سوال : نیچے دی گئی آیتوں کا مختصر معنی لکھیے :

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : وَمَآ أُمِرُوٓاْ إِلَّا لِيَعۡبُدُواْ ٱللَّهَ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ حُنَفَآءَ وَيُقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤۡتُواْ ٱلزَّكَوٰةَۚ وَذَٰلِكَ دِينُ ٱلۡقَيِّمَةِ

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : فَمَن يَعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَيۡرٗا يَرَهُۥ وَمَن يَعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٖ شَرّٗا يَرَهُۥ

سوال 3 : سورۂ بینہ اور سورۂ زلزلہ کے بیان کی روشنی میں آخرت میں ایمان والوں اور کافروں کے احوال کا موازنہ کیجیے۔

چھٹا سبق : سورہ عادیات اور سورہ قارعہ کی تفسیر

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

ان دونوں سورتوں کی مختصر تفسیر کر سکیں گے۔

ان دونوں سورتوں کے فوائد بیان کر سکيں گے۔

قیامت کی ہولناکیوں کے ذکر کی بعض حکمتیں مستنبط کر سکیں گے۔

اپنے اوپر اللہ کی نعمت کا ندازہ لگا سکیں گے۔

سورہ عادیات

"شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم واﻻ ہے۔

ہانپتے ہوئے دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم! پھر ٹاپ مار کر آگ جھاڑنے والوں کی قسم! پھر صبح کے وقت دھاوا بولنے والوں کی قسم!

پس اس وقت گرد وغبار اڑاتے ہیں۔ پھر اسی کے ساتھ فوجیوں کے درمیان گھس جاتے ہیں۔ یقیناً انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔ اور یقیناً وه خود بھی اس پر گواه ہے۔ یہ مال کی محبت میں بھی بڑا سخت ہے۔ کیا اسے وه وقت معلوم نہیں جب قبروں میں جو (کچھ) ہے نکال لیا جائے گا۔ اور سینوں کی پوشیده باتیں ظاہر کر دی جائیں گی۔ بیشک ان کا رب اس دن ان کے حال سے پورا باخبر ہوگا"۔ (سورہ عادیات : 1-11)

توضیح وتفسیر:

اس سورت میں انسان کے اوصاف اور اس کے اخروی انجام پر اس کے اثرات کو بیان کیا گيا ہے۔ یہ سورت قسم سے شروع ہوتی ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے :

وَٱلۡعَٰدِيَٰتِ ضَبۡحٗا۔ اللہ تعالی ان گھوڑے کی قسم کھاتا ہے، جو اس کے راستے میں دوڑتے ہوں اور تیز دوڑنے کی وجہ سے ان کی ایک خاص آواز سنائی دیتی ہو۔

فَٱلۡمُورِيَٰتِ قَدۡحٗا اور تیز دوڑنے کی وجہ سے ان کے کھروں سے چنگاریاں نکلتی ہیں۔

فَٱلۡمُغِيرَٰتِ صُبۡحٗا۔ اور صبح کے وقت اللہ کے دشمنوں پر حملہ کرتے ہيں۔

فَأَثَرۡنَ بِهِۦ نَقۡعٗا۔ اپنے ارد گرد غبار اڑاتے ہيں۔

فَوَسَطۡنَ بِهِۦ جَمۡعًا۔ اور اللہ کے سپاہی کو اپنی پیٹھ میں لے کر دشمنوں کی فوج میں گھس جاتے ہیں۔

إِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ لِرَبِّهِۦ لَكَنُودٞ۔ وَإِنَّهُۥ عَلَىٰ ذَٰلِكَ لَشَهِيدٞ۔ وَإِنَّهُۥ لِحُبِّ ٱلۡخَيۡرِ لَشَدِيدٌ۔ اللہ قسم کھانے کے بعد کہتا ہے کہ انسان اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے اور اسے اس ناشکری کا اعتراف بھی ہے۔ اسے مال سے شدید محبت ہوتی ہے، جس کی وجہ سے کنجوسی سے کام لیتا ہے۔

أَفَلَا يَعۡلَمُ إِذَا بُعۡثِرَ مَا فِي ٱلۡقُبُورِ۔ وَحُصِّلَ مَا فِي ٱلصُّدُورِ کیا مال کے دھوکے میں پڑے ہوئے انسان کو معلوم نہيں ہے کہ اس وقت کیا ہوگا، جب قیامت ہوگی، مردے قبروں سے نکلیں گے، ان کے اعمال کا حساب و کتاب ہوگا اور ان کے سینوں میں چھپا بھلا برا سامنے آ جائے گا۔

إِنَّ رَبَّهُم بِهِمۡ يَوۡمَئِذٖ لَّخَبِيرُۢ۔ بلاشبہ اللہ ان کے بارے میں ہر بات کو جانتا ہے اور اور قیامت کے دن ان کو اس کا بدلہ بھی دے گا۔

سورہ قارعہ

"شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم واﻻ ہے۔

کھڑکھڑا دینے والی۔ کیا ہے وه کھڑکھڑا دینے والی؟ تجھے کیا معلوم کہ وه کھڑ کھڑا دینے والی کیا ہے؟ جس دن انسان بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہو جائیں گے۔

اور پہاڑ دھنے ہوئے رنگین اون کی طرح ہو جائیں گے۔

پھر جس کے پلڑے بھاری ہوں گے۔ وه تو دل پسند آرام کی زندگی میں ہوگا۔

اور جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے۔ اس کا ٹھکانا ہاویہ ہے۔

تجھے کیا معلوم کہ وه کیا ہے؟ وه تند وتیز آگ (ہے)"۔ (سورہ قارعہ : 1-11)۔

توضیح وتفسیر:

اس سورہ میں قیامت کے دن کی کچھ ہولناکیاں بیان کی گئی ہیں اور بتایا گیا ہے کہ اعمال تولے جانے کے بعد لوگ گروہوں میں بٹ جائيں گے۔

ٱلۡقَارِعَةُ۔ مَا ٱلۡقَارِعَةُ۔ وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا ٱلۡقَارِعَةُ۔ اللہ اپنے بندوں کو قیامت کے دن کی ہولناکیوں کا خوف دلا رہا ہے، جو دلوں کو گھبراہٹ میں ڈال دیں گی۔ اس کے بعد پوچھ رہا ہے کہ کس چیز نے تمھیں اس کے اور اس کی ہولناکیوں کے بارے میں بتایا؟

يَوۡمَ يَكُونُ ٱلنَّاسُ كَٱلۡفَرَاشِ ٱلۡمَبۡثُوثِ۔ اس دن لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہو جائیں گے۔

وَتَكُونُ ٱلۡجِبَالُ كَٱلۡعِهۡنِ ٱلۡمَنفُوشِ۔ اور پہاڑ اس اون کى طرح ہوجائیں گے جس کو ہاتھوں سے دھن کر بکھیر دیا گیا ہو جس کى بنا پر وہ گرد وغبار کى شکل اخیتار کرگیا ہو اور آخر اس طرح ہوجاتا ہے کہ گویا اس کا وجود ہی نہ ہو۔

فَأَمَّا مَن ثَقُلَتۡ مَوَٰزِينُهُۥ۔ فَهُوَ فِي عِيشَةٖ رَّاضِيَةٖ۔ لوگوں کی اس وقت دو قسمیں ہوں گی۔ ایک قسم وہ، جس کی نیکیوں کے پلڑے اس کى برائیوں پر بھاری ثابت ہوں گے۔ اس قسم کے لوگ جنت کے اندر سعادت بخش زندگی جیئیں گے۔

وَأَمَّا مَنۡ خَفَّتۡ مَوَٰزِينُهُۥ۔ فَأُمُّهُۥ هَاوِيَةٞ ایسے میں جس کی نیکیوں کے پلڑے ہلکے ہوں گے اور گناہوں کے پلڑے بھارى ہوے گے، اس کا ٹھکانہ جہنم ہوگا، جس میں اسے گر جانا ہے۔

وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا هِيَهۡ۔ نَارٌ حَامِيَةُۢ۔ اس کے بعد اللہ پوچھ رہا ہے کہ تجھے کس نے بتایا کہ وہ ہاویہ کیا ہے؟ وہ ایک سخت تیز آگ ہے۔

دونوں سورتوں کے فوائد :

بہت سے لوگ اللہ کی نعمت کا انکار کرتے ہیں۔ سوائے اس کے جو اس پر اللہ کی تعریف کرتا ہے اور اس کا حق ادا کرتا ہے۔

باتوفیق وہ ہے جس نے اپنے دل کو ایمان، عمل صالح اور اللہ، اس کے رسول ﷺ اور ایمان والوں سے محبت کی بنیادوں پر درست کر لیا۔

اللہ اپنے بندوں کو قیامت کے دن کی ہولناکیوں سے خبردار کر رہا ہے، تاکہ عمل صالح کے ذریعے اس کی تیاری کریں۔

قیامت کے دن لوگوں کے دو گروہ ہوں گے۔ ایک گروہ وہ جن کی نیکیوں کے پلڑے بھاری ہوں گے اور جو جنت سے سرفراز ہوں گے اور دوسرا وہ گروہ جن کے گناہوں کے پلڑے بھاری ہوں گے اور وہ جہنم میں ڈالے جائیں گے۔

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : کچھ نیک اعمال لکھیں :

نیچے دیے گئے جدول کو ایسے اعمال کی کچھ مثالوں سے بھریں، جن کو ایک مسلمان اپنی نیکیوں کے پلڑے میں دیکھنا پسند کرے گا :

عمل کی نوعیت / ایسے عمل کی مثال جو نیکیوں کے پلڑے کو جھکا دے گا۔

لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنا۔

دل کا عمل۔

زبان کا عمل۔

ہاتھ کا عمل۔

آنکھ کا عمل۔

کان کا عمل۔

سرگرمی (2) : آیتوں کے درمیان ربط پیدا کروں گا :

سورہ عادیات اور سورہ قارعہ سے ایسی آیتيں پیش کریں، جو اس جدول میں وارد آیتوں کے معانی سے موافقت رکھتى ہوں :

آیتیں ان سے موافقت رکھنے والی سورہ عادیات اور سورہ قارعہ کی آیتیں

"اور مال کو جی بھر کر عزیز رکھتے ہو"۔ (فجر : 20) "یہ مال کی محبت میں بھی بڑا سخت ہے"۔

"اور پہاڑ بالکل ریزه ریزه کر دیے جائیں گے۔ پھر وه مثل پراگنده غبار کے ہو جائیں گے"۔ (سورہ واقعہ : 5-6)۔ "اور پہاڑ دھنے ہوئے رنگین اون کی طرح ہو جائیں گے"۔

"اورقیامت کے دن ہم درمیان میں ﻻ رکھیں گے ٹھیک ٹھیک تولنے والی ترازو کو۔ پھر کسی پر کچھ بھی ظلم نہ کیا جائے گا۔ اور اگر ایک رائی کے دانے کے برابر بھی عمل ہوگا ہم اسے ﻻ حاضر کریں گے، اور ہم کافی ہیں حساب کرنے والے." (انبیا : 47)۔

"پھر جس کے پلڑے بھاری ہوں گے۔ وه تو دل پسند آرام کی زندگی میں ہوگا۔ اور جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے۔ اس کا ٹھکانا ہاویہ ہے۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

رسالت کی بنیاد فرماں بردار کو خوش خبری دینے اور نافرمان کو خبردار کرنے پر قائم ہے۔

کھڑکھڑا دینے والی جنت اور اس کی نعمتوں پر دلالت کرتى ہے۔ (×)

گھوڑا اللہ تعالی کی ایک بڑی نشانی ہے۔

مسلمان اللہ کی نعمتوں کا اقرار اور شکریہ ادا کرتا ہے۔

ارشاد الہی "وَالْعَادِيَاتِ" سے مراد ہيں: تیز اڑنے والے پرندے۔ (×)

سوال 2 : نیچے دی گئی آیتوں کا مختصر معنی لکھیے :

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : أَفَلَا يَعۡلَمُ إِذَا بُعۡثِرَ مَا فِي ٱلۡقُبُورِ وَحُصِّلَ مَا فِي ٱلصُّدُورِ إِنَّ رَبَّهُم بِهِمۡ يَوۡمَئِذٖ لَّخَبِيرُۢ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : يَوۡمَ يَكُونُ ٱلنَّاسُ كَٱلۡفَرَاشِ ٱلۡمَبۡثُوثِ وَتَكُونُ ٱلۡجِبَالُ كَٱلۡعِهۡنِ ٱلۡمَنفُوشِ

سوال 3 : قرآن کریم کے اندر قیامت کے دن کی ہولناکیوں کو کثرت سے کیوں بیان کیا جاتا ہے؟

اکائی : ایمان اور تزکیہ

پہلا سبق : نواقض توحید (کفر اور شرک)

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

کفر اور شرک کا مفہوم بیان کر سکیں گے۔

کفر اور شرک کی قسمیں گنوا سکیں گے۔

چھوٹے بڑے کفر و شرک کی صورتیں پیش کر سکیں گے۔

چھوٹے کفر و شرک اور بڑے کفر و شرک کے درمیان فرق کر سکیں گے۔

مسلمان فرد کے لئے کفر و شرک کی خطرناکی کو محسوس کر سکيں گے۔

کفر و شرک کی ساری صورتوں سے دور رہيں گے۔

تمہید :

ایمان بندے کی دنیوی اور اخروی نجات کا راستہ ہے۔ اس لیے ایک مسلمان کو ایمان کو توڑنے والی چیزوں (نواقض وضو) سے خبردار رہنا چاہیے۔ اب یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ایمان کو توڑنے والی چیزیں کیا کیا ہیں؟

نواقض ایمان :

کفر

شرک

نفاق

ارتداد

اول : کفر

کفر کی تعریف :

کفر سے مراد ہر وہ عقیدہ، عمل یا قول ہے، جو اصل ایمان یا کمال ایمان کے منافی ہو۔

کفر کے اقسام :

کفر اکبر سے مراد ہر وہ چیز ہے، جو اصل ایمان کے منافی ہو۔

کفر اصغر سے مراد ہر وہ چیز ہے، جو کمال ایمان کے منافی ہو۔

کفر اکبر کی کچھ مثالیں :

اللہ کے وجود کا انکار کرنا یا عیسی علیہ السلام کے معبود ہونے کا عقیدہ رکھنا۔

رسولوں کو جھٹلانا یا ان کا استہزا کرنا۔

اللہ کے رسول ﷺ یا قرآن کریم کی سچائی کے بارے میں شک کرنا۔

اللہ کے اوامر کا انکار کرنا یا ان سے گھمنڈ دکھانا۔ جیسے ابلیس کا کفر۔

کفر اکبر کے برے آثار :

کفر اکبر انسان کے عمل کو ضائع کر دیتا ہے اور اسے ہمیشہ جہنم میں رہنے کا حق دار بنا دیتا ہے۔ کفر اکبر کے مرتکب انسان سے براءت کا اظہار کرنا واجب ہے اور اس سے محبت رکھنا اور اس کی نصرت کرنا حرام ہے۔ وہ اپنے مسلمان رشتے داروں کا وارث نہیں بن سکتا اور کسی مسلمان عورت سے شادی بھی نہیں کر سکتا۔ مرنے کے بعد اس کی نہ تو نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور نہ مسلمانوں کے قبرستان میں اس کو دفن کیا جائے گا۔

کفر اصغر کی کچھ مثالیں :

وہ سارے گناہ جن کو "کفر" کہا گيا ہے، لیکن وہ اپنے ارتکاب کرنے والے کو اسلام سے باہر نہیں کرتے۔ جیسے :

مسلمان سے لڑائی کرنا : اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے : "مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے لڑنا کفر ہے۔" (صحیح بخاری : 48، صحیح مسلم : 64) واضح رہے کہ یہاں کفر سے مراد کفر اصغر ہے۔

کسی کے نسب پر طعن و تشنیع کرنا اور میت پر نوحہ کرنا : اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : "لوگوں میں دو باتیں ایسی موجود ہیں، جو کفر ہیں: نسب کی بنیاد پر طعنہ دینا اور میت پر نوحہ کرنا۔" (صحیح مسلم : 67)

کفر اصغر کے برے آثار :

کفر اصغر انسان کو ملت سے باہر نہیں کرتا، لیکن کبائر گناہوں میں بھی جو گناہ زیادہ بڑے ہیں ان میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ اگر انسان اس سے توبہ نہ کرے، تو وہ اللہ کى مشیئت کے تحت ہوگا۔ چاہے تو عذاب دے اور چاہے تو معاف کردے۔

دوم : شرک

شرک اکبر : اس سے مراد ہے درج ذیل باتوں میں اللہ کا شریک ٹھہرانا :

اللہ تعالی کے افعال، جیسے پیدا کرنا اور روزی دینا۔

اس کى صفات، جییسے علم غیب۔

اس کی عبادت، جیسے بتوں کو سجدہ کرنا۔

لہذا جس نے یہ دعوی کیا کہ اللہ کے علاوہ دوسرا کوئی خالق ہے اور کوئی غیب کی بات جانتا ہے یا پھر غیراللہ کے لیے کوئی عبادت ذبح، نذر، دعا یا سجدہ وغیرہ کیا، تو اس نے شرک اکبر کیا۔ ایسا شخص ملت اسلام پر نہيں رہا اور اس پر کفر اکبر کے آثار مرتب ہوں گے۔

شرک اصغر : اس سے مراد ہر وہ گناہ ہے، جسے قرآن کریم یا سنت نبویہ میں شرک کہا گیا ہو، لیکن وہ شرک اکبر تک نہ پہنچتا ہو۔

شرک اصغر کی کچھ مثالیں : غیراللہ کی قسم کھانا، نیکی کا کام کرتے وقت ریا کاری سے کام لینا یا تعویذ باندھنا۔

شرک اصغر کے آثار : شرک اصغر کبیرہ گناہ ہے۔ شرک اصغر کرنے والا انسان اگر توبہ نہ کرے، تو قیامت کے دن اللہ کی مشیئت کے تحت ہوگا۔ چاہے تو عذاب دے اور چاہے تو معاف کر دے۔

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : میں موازنہ کروں گا :

درج ذیل میں کفر اکبر اور شرک اکبر کے مابین نیز کفر اصغر اور شرک اصغر کے درمیان موازنہ کریں :

کفر اکبر اور شرک اکبر موازنہ کا پہلو کفر اصغر اور شرک اصغر

رسولوں کو جھٹلانا اور دین کا مذاق اڑانا کچھ صورتیں مسلمان سے لڑائی کرنا اور نسب میں طعن و تشنیع کرنا۔

اس میں ملوث شخص ملت کے دائرے سے باہر ہو جاتا ہے اس میں ملوث شخص کا ملت کے دائرے سے باہر ہو جانا اس میں ملوث شخص ملت کے دائرے سے باہر نہيں ہوتا

اس میں ملوث ہونے والا جہنم میں ہمیشہ رہے گا اس میں ملوث شخص کا جہنم میں ہمیشہ رہنا اس میں ملوث شخص جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا

اس میں ملوث شخص سے براءت واجب ہو جاتی ہے اس میں ملوث شخص سے براءت اس میں ملوث شخص سے براءت واجب نہیں ہوتی

سرگرمی (2) : غور و فکر کروں گا اور جواب دوں گا :

اس شرک یا کفر کی نوعیت بتائيے، جس پر نیچے دیے گئے دونوں نصوص دلالت کرتے ہیں :

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "تو ابلیس کے سوا سب نے سجده کیا۔ اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور وه کافروں میں ہوگیا۔" (سورہ بقرہ : 34)

نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ”جس شخص نے غیر اللہ کی قسم کھائی اس نے شرک کیا۔“ (سنن ابوداؤد : 3251)

سرگرمی (3) : میں ایک پیغام دوں گا :

درج ذیل آیت کریمہ سے استشہاد کرتے ہوئے ان لوگوں کو ایک پیغام دیں، جو اللہ کے دین یا قرآن کریم کا مذاق اڑاتے ہیں :

"اگر آپ ان سے پوچھیں تو صاف کہہ دیں گے کہ ہم تو یوں ہی آپس میں ہنس بول رہے تھے۔ کہہ دیجیے کہ اللہ، اس کی آیتیں اور اس کا رسول ہی تمہارے ہنسی مذاق کے لیے ره گئے ہیں؟ "تم بہانے نہ بناؤ۔ یقیناً تم اپنے ایمان کے بعد کافر ہوگئے۔" (سورۂ توبہ : 65-66)

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

مسلمانوں کو گالی دینا اور ان پر لعنت بھیجنا بڑا کفر ہے۔ (×)

کافر مسلمان کا وارث تو بنے گا، لیکن مسلمان کافر کا وارث نہيں بنے گا۔ (×)

اللہ کے نبی ﷺ کا مذاق اڑانا اصل ایمان کے منافی ہے۔ (✓)

شرک اصغر تمام اعمال کو ضائع کر دیتا ہے۔ (×)

غیر اللہ کی قسم کھانا شرک اصغر ہے۔ (✓)

سوال 2 : قوسین کے مابین سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

اللہ تعالی کا قول : "منکرین ایمان کے اعمال ضائع اور اکارت ہیں۔" دلالت کرتا ہے :

(اس بات پر کہ کفر عمل کو ضائع کر دیتا ہے - کفر اصغر کے نقصان پر - کفار کے اعمال کی قلت پر)

ابلیس کا کفر مثال ہے :

(کفر تکذیب کی - کفر نفاق کی - کفر استکبار کی)

شرک اصغر کی ایک مثال ہے :

(غیر اللہ سے کچھ مانگنا - تعویذ باندھنا - غیر اللہ کو سجدہ کرنا)

شرک اکبر کی ایک مثال ہے :

(تعویذ باندھنا - کاہنوں کے غیب کی بات جاننے کا عقیدہ رکھنا - کسی مخلوق کی قسم کھانا)

کفر اکبر اور شرک اکبر کا ایک اثر ہے :

(عمل کا ضائع ہو جانا - توبہ کا قبول نہ ہونا - اجر و ثواب کا کم ہونا)

سوال 3 : نیچے دیے کئے دونوں سوالوں کے جواب دیجیے :

شرک اکبر اور شرک اصغر کے درمیان موازنہ کریں۔

کفر اصغر کی ایک مثال دیں۔

دوسرا سبق : نواقض توحید (نفاق اور ارتداد)

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

نفاق کی تعریف بیان کر سکیں گے۔

نفاق کی مختلف قسموں کے درمیان فرق کر سکیں گے۔

ارتداد کے مختلف مظاہر گنوا سکيں گے۔

مسلمانوں کی زندگی میں نفاق کے خطرے کو محسوس کر سکیں گے۔

نفاق اور ارتداد کے مظاہر سے اجتناب کریں گے۔

تمہید :

پچھلے سبق میں ہم نے سیکھا کہ کفر اور شرک ایمان کو توڑ دینے والی چیزیں ہیں۔ اس سبق میں ہم ایمان کو توڑنے والی باقی چیزوں کو سیکھیں گے۔ لیکن اس سبق کو شروع کرنے سے پہلے اپنے معلم کی نگرانی میں کفر اکبر و کفر اصغر کے ما بین اور شرک اکبر و شرک اصغر کے درمیان فرق کا خلاصہ تیار کریں:

نواقض ایمان :

کفر

شرک

نفاق

ارتداد

سوم : نفاق

نفاق کی تعریف :

نفاق نام ہے ایمان ظاہر کرنے اور کفر چھپائے رکھنے کا۔

نفاق ایک بہت ہی بری بیماری ہے، جو امت کی قوت کو توڑنے کا کام کرتی ہے۔ کیوں کہ منافق مومن ہونے کا ڈھونگ رچاتے ہیں، اس لیے ہمیں ان کے شر کا اندازہ نہيں ہو پاتا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے : "منافق تو یقیناً جہنم کے سب سے نیچے کے طبقہ میں جائیں گے۔ ناممکن ہے کہ تو ان کا کوئی مددگار پالے۔" (سورہ نساء: 145)

نفاق کی قسمیں :

اعتقادی نفاق :

اسے نفاق اکبر کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد ہے دل میں کفر چھپائے رکھنا اور مسلمان ہونے کا دکھاوا کرنا۔ اس سے انسان ملت کے دائرے سے باہر نکل جاتا ہے اور جہنم میں ہمیشہ رہنے کا حق دار بن جاتا ہے۔

اس کی کچھ مثالیں : اللہ کے نبی ﷺ، اسلام یا قرآن کو ناپسند کرنا، مسلمانوں کی فتح یابی کو ناپسند کرنا یا کافروں کی فتح یابی سے خوش ہونا۔

عملی نفاق :

اسے نفاق اصغر کہا جاتا ہے۔ یہ اس مسلمان کے اندر پایا جاتا ہے، جو منافقین کے اخلاق سے متصف ہو۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : "منافق کی تین نشانیاں ہیں : جب بات کہے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے"۔ (صحیح بخاری : 33، صحیح مسلم : 58)

نفاق عملی میں ملوث شخص اسلام کے دائرے سے باہر تو نہیں نکلتا، لیکن اس پر توبہ واجب ہے۔ توبہ نہ کرنے کی صورت میں قیامت کے دن اللہ کے عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔

چہارم : ارتداد

ارتداد کی تعریف :

ارتداد : اس سے مراد ہے کسی مسلمان شخص کا اپنے قول، فعل یا عقیدے کے ذریعے اسلام سے پھر جانا۔

ارتداد کے مظاہر :

اعتقادی ارتداد:

جیسے : اللہ کا کوئی شریک ہونے یا زنا، شراب اور سود کے حلال ہونے کا عقیدہ رکھنا، نماز کے واجب ہونے کا انکار کرنا یا کسی ايسی چیز کے حلال، حرام یا واجب ہونے کا انکار کرنا، جس کے حلال، حرام یا واجب ہونے پر مسلمانوں کا اجماع ہو۔

قولی ارتداد:

جیسے : اللہ، اس کے آخری رسول ﷺ، فرشتوں یا کسی بھى رسول کو برا کہنا، غیب کی بات جاننے کا دعوی کرنا، نبوت کا دعوی کرنا یا غیراللہ سے کوئی ایسی چیز مانگنا جسے دینے کی طاقت اللہ کے سوا کسی کے پاس نہ ہو۔ جیسے بیماری سے شفا وغیرہ۔

فعلی ارتداد: جیسے : کسی بت یا قبر کو سجدہ کرنا، جادو کرنا اور جادو سکھانا۔

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : باہمی تعاون سے کام کروں گا اور لکھوں گا :

نیچے دیے گئے اعمال میں نفاق کی نوعیت متعین کریں اور وجہ بھی بتائيں :

عمل نفاق کی نوعیت وجہ

نماز میں ہمیشہ سستی کرنا۔

اسلامی احکامات کا مذاق اڑانا۔

دوستوں کو دھوکہ دینا اور ان کے بھید کھولنا۔

مسلمانوں کے قتل سے خوش ہونا۔

نیکی کے کاموں میں ریاکاری سے کام لینا۔

سرگرمی (2) : پڑھوں گا اور تحدید کروں گا :

نیچے دیے گئے اعمال کو پڑھیے اور بتائيے کہ ان میں سے کون سے کام کرنے سے انسان مرتد ہو جاتا ہے :

ایک شخص نے گندی جگہ میں مصحف ڈال دیا۔

ایک شخص نے اپنے مسلمان پڑوسیوں کا مذاق اڑایا۔

ایک شخص دعوی کرتا ہے کہ اللہ نے شراب حرام نہيں کی ہے۔

ایک شخص کہانت کرتا ہے۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

ایمان کے اعمال کا مطالعہ انسان کو ارتداد سے دور کرتا ہے۔ (✓)

وعدہ خلافی نفاق اکبر کی ایک صورت ہے۔ (×)

ارتداد صرف اعمال سے ہوتی ہے، اقوال سے نہیں۔ (×)

نفاق امت کی قوت کو کم کرتا اور اس کے اندر انتشار پیدا کرتا ہے۔

جس نے قرآن کریم کی سچائی میں شک کیا، وہ مرتد ہے۔ (✓)

سوال 2 : قوسین کے ما بین سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

نفاق کے عام ہونے سے بچاؤ کا ایک وسیلہ ہے :

(اس کی صورتوں سے خبردار کرنا - منافقوں سے میل جول رکھنا - منافقوں کو قتل کرنا)

عملی ارتداد کا ایک مظہر ہے :

(روزہ ترک کرنا - بت کو سجدہ کرنا - دین کو گالی دینا)

جو نفاق انسان کو اسلام کے دائرے سے باہر کر دیتا ہے، وہ ہے :

(نفاق اصغر - نفاق عملی - نفاق اعتقادی)

سوال 3 : نفاق عملی کی تین علامتیں واضح کریں :

تیسرا سبق : بدعت اور اس کی قسمیں :

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

بدعت کی تعریف بیان کر سکيں گے۔

بدعتوں کی خطرناکی بیان کر سکیں گے۔

بدعت کے ضوابط بیان کر سکیں گے۔

بدعت کی قسمیں بیان کر سکيں گے۔

بدعت کا حکم بیان کر سکيں گے۔

غیر مشروع طریقے سے اللہ کی عبادت کرنے سے اجتناب کریں گے۔

تمہید :

امام مالک سے روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا : جس نے اسلام کے اندر دین کے نام پر کوئی نئی چیز نکالی اور اسے اچھا جانا، اس نے اپنے اس طرز عمل کے ذریعے دراصل اس بات کا دعوی کیا کہ محمد ﷺ نے اللہ کا پیغام پہنچانے میں خیانت سے کام لیا ہے۔ کیوں کہ اللہ تعالی نے کہا ہے : " آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو کامل کردیا۔" (سورہ مائدہ : 3)

اس لیے جو چیز اس دن دین اسلام کا حصہ نہیں تھی، وہ آج بھی دین کا حصہ نہیں ہو سکتی۔

الاعتصام از شاطبی : 1/49

امام مالک کا یہ قول بدعت کی سنگینی پر کیسے دلالت کرتا ہے؟

بدعت :

تعریف

معرفت بدعت کے ضوابط

بدعت کی قسمیں

بدعت کا حکم

دین کے نام پر نئی چیزیں ایجاد کرنے سے خبردار کرنا

اول : بدعت کی تعریف :

بدعت دین کے نام پر سامنے آنے والے ہر اس نئے عقیدے اور عبادت کو کہتے ہیں، جو قرآن، سنت یا سلفِ امت کے اجماع کے مخالف ہو۔

دوم : دین کے نام پر نئی چیزیں ایجاد کرنے سے خبردار کرنا :

اللہ کے نبی ﷺ نے دین کے نام پر نئی چیزیں ایجاد کرنے سے خبردار کیا ہے۔ آپ ﷺ نے کہا ہے : ”جس نے ایسا عمل کیا جس پر ہمارا حکم نہیں ہے، تو وہ مردود ہے۔“ (صحیح مسلم : 1718)

ایک دوسری روایت میں اس طرح آیا ہے: "جس نے ہمار ے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی، جو اس میں نہیں ہے تو وہ مردود ہے"۔

(صحیح بخاری : 2697)

نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: "۔۔۔ سب سے بری چیزیں نو ایجاد شدہ چیزیں ہيں، دین کے نام پر وجود میں آنے والی ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گم راہی ہے۔" (سنن نسائی : 1578)

سوم : بدعت کو جاننے کے ضوابط :

کسی عمل کے بدعت ہونے کا حکم لگانے کے لیے اس کا کچھ ضوابط کے دائرے میں آنا ضروری ہے۔ وہ ضوابط کچھ اس طرح ہیں :

"الإحداث" کے معنی ہیں، کسی نئی چیز کو وجود دینا۔

دین کے نام پر نئی چیزوں کو وجود دینا۔ لہذا بدعت کے اندر دنیوی چیزیں شامل نہیں ہوں گی۔

کوئی شرعی دلیل موجود نہ ہونا۔ لہذا جس عمل کی کوئی شرعی دلیل موجود ہو، اسے بدعت نہیں کہا جائے گا۔

چہارم : بدعت کی قسمیں :

اعتقادی بدعتیں۔ جیسے اللہ کے نبی ﷺ کے صحابہ پر طعن و تشنیع کرنا یا کبیرہ گناہ کے مرتکب پر کافر ہونے کا حکم لگانا۔

عملی بدعتیں۔ جیسے مساجد کے اندر مزار بنانا اور ان کے ارد گرد طواف کرنا۔

قولی بدعتیں۔ جیسے جنازے کے ساتھ چلتے وقت زور زور سے اللہ اکبر یا لا الہ الا اللہ کہنا۔

پنجم : بدعت کا حکم :

دین کے نام پر وجود میں آنے والى ہر نئی چیز حرام اور گم راہی ہے۔ لیکن حرمت کے درجے نیچے دی گئی تفصیل کے مطابق الگ الگ ہیں :

ایسی بدعتیں جن سے انسان اسلام کے دائرے سے باہر نکل جاتا ہے۔ جیسے غیر اللہ کے لیے ذبح اور نذر کرنا۔

ایسی بدعتیں جن سے انساق فاسق ہو جاتا ہے۔ جیسے خوارج کے آرا کا عقیدہ رکھنا۔

ایسی بدعتیں جن کی وجہ سے انسان گنہکار بنتا ہے۔ جیسے خود کو پوری طرح اللہ کی عبادت میں لگا دینے کے لیے رہبانیت اختیار کرنا اور شادی بیاہ سے الگ ہو جانا۔

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : غور و فکر کروں گا اور امتیاز کروں گا :

مناسب جگہ میں علامت رکھ کر بدعت کی قسموں کے درمیان امتیاز کریں :

بدعت عملی اعتقادی

خوارج کا کبیرہ گناہ کرنے والے کو کافر کہنا۔

ممنوعہ اوقات میں نماز پڑھنے کی چاہت رکھنا۔

اس بات کی نفی کرنا کہ اللہ انسان کے ذریعے کسی کام کے کیے جانے سے پہلے سے اسے جانتا ہے۔

سال کے سارے دنوں میں روزہ رکھنا۔

اولیا اور اہل بیت سے فریاد کرنا۔

سرگرمی (3) : غور و فکر سے کام لوں گا اور جواب دوں گا :

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : اللہ کے نبی ﷺ خطبہ دے رہے تھے کہ ایک آدمی کو دھوپ میں کھڑا دیکھا۔ اس کے بارے میں پوچھنے پر لوگوں نے کہا کہ یہ ابو اسرائيل ہیں۔ انھوں نے نذر مان رکھی ہے کہ کھڑے ہی رہیں گے۔ نہ بیٹھیں گے، نہ سایہ میں جائيں گے اور نہ بات کریں گے۔ ساتھ ہی روزہ بھی رکھیں گے۔ آپ ﷺ نے کہا : "اسے حکم دو کہ وہ بات کرے، سایہ میں جائے، بیٹھے اور روزہ پورا کرے۔" (سنن ابوداؤد : 3302)۔ اس حدث پر غور کریں اور اس کے بعد نیچے دیے گئے سوالوں کے جواب دیں :

اس حدیث سے ہم کیا سیکھتے ہیں؟

اس حدیث میں مذکور شخص سے جو بدعت سرزد ہوئی تھی، اس کی نوعیت کیا ہے؟

سرگرمی (3) : چـرچا کروں گا اور دوسروں کو خبردار کروں گا :

نیچے دی گئی حدیث کو سامنے رکھ کر اپنے معلم کے ساتھ بدعت کی سنگینی پر چرچا کریں : "جو شخص اسلام میں کوئي برا طریقہ جاری کرے گا، اسے اس کا گناہ ملے گا اور اس کے بعد اس پر عمل کرنے والے تمام لوگوں کے برابر گناہ ملے گا۔ جب کہ عمل کرنے والوں کے گناہ میں کوئی کمی نہیں کی جاۓ گی۔"

(صحیح مسلم : 1017)

اور اس کے بعد بدعت سے آگاہ کرنے کے لیے پانچ سطریں لکھیں۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

بدعت دینی اور شرعی معاملوں کے ساتھ خاص ہے۔

شیعہ اور خوارج کے افکار و نظریات عملی بدعت کی مثالیں ہیں۔

دین کے نام پر وجود میں آنے والی ہر بدعت حرام اور گمراہی ہے۔

سوال 2 : قوسین کے ما بین سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ”جس نے ایسا عمل کیا جس پر ہمارا حکم نہیں ہے تو وہ ۔۔۔۔“

(فرض ہے - مکروہ ہے - مردود ہے)

بدعت کو جاننے کا ایک ضابطہ ہے :

(نئی چیز کو سامنے لانا - علم - جہالت)

مذموم بدعت کی ایک مثال ہے :

(گاڑی میں سوار ہونا - قرآن کو ایک مصحف میں جمع کرنا - قبروں کو اونچا کرنا)

وہ اعمال جن کی شرعی دلیل موجود ہے اور جو بدعت کے دائرے میں نہیں آتے، ان کی ایک مثال ہے :

(تراویح کی نماز - ہمیشہ روزہ رکھنا - زانی کو کافر قرار دینا)

سوال 3 : بدعت کی تعریف لکھیں۔

چوتھا سبق : تزکیۂ نفس کی اہمیت

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

تزکیۂ نفس کا مقصد بیان کر سکيں گے۔

تزکیۂ نفس کی اہمیت اور فوائد دلائل کے ساتھ بیان کر سکیں گے۔

اپنے نفس کے تزکیے کی ضرورت محسوس کریں گے۔

اپنے نفس کے تزکیے کی کوشش کریں گے۔

انسان کا دھیان ظاہری خوب صورتی پر رہتا ہے، جو ایک اچھی بات ہے، لیکن اس سے اہم یہ ہے کہ نفس کے تزکیے پر دھیان دیا جائے۔ اس سبق کے اندر ہم تزکیۂ نفس کے معنی، اہمیت اور فوائد سے رو برو ہوں گے۔

اول : تزکیۂ نفس کا مفہوم :

تزکیۂ نفس سے مراد ہے، نفس کو برائی اور گناہ کی جانب میلان سے پاک کرنا اور اس کے اندر خیر کی فطرت کو فروغ دینا، جو اس کی استقامت اور اسے احسان اور اللہ کے مراقبے کے درجے تک پہنچانے کا سبب بنتا ہے۔

دوم : تزکیۂ نفس کی اہمیت :

تزکیہ انبیا کی ذمے داریوں میں سے ایک ذمے داری ہے :

انبیا کی دعوت صرف توحید تک محدود نہیں تھى، بلکہ ان کى دعوت تزکیہ نفوس پر لوگوں کی تربیت کرنے کو بھى شامل تھى۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے : "جس طرح ہم نے تم میں تمہی میں سے رسول بھیجا جو ہماری آیتیں تمہارے سامنے تلاوت کرتا ہے اور تمہیں پاک کرتا ہے اور تمہیں کتاب وحکمت اور وه چیزیں سکھاتا ہے جن سے تم بےعلم تھے"۔ (سورہ بقرہ : 151)

تزکیہ فلاح وکامرانی کا سبب ہے :

اللہ نے بندے کی اخروی کام یابی کو نفس کے تزکیے کے ساتھ مربوط رکھا ہے۔ اس کا ارشاد ہے : "جس نے نفس کو پاک کیا وه کامیاب ہوا"۔ (سورہ شمس : 9) ایک اور جگہ پر فرمایا ہے : "بے شک اس نے فلاح پالیا جو پاک ہوگیا۔" (سورہ اعلی : 14)

تزکیہ بندے کے ایمان میں اضافہ کرتا ہے :

جس نے اپنے نفس کے تزکیے کی راہ پر گام زن ہوکر نیکی کے کام کیے اور گناہوں سے اجتناب کیا، اس کے ایمان میں اضافہ ہوگا اور وہ ایمان کی حلاوت سے شاد کام ہوگا۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : "تین کام ایسے ہیں کہ جس نے ان تین کاموں کو کیا، اس نے ایمان کا مزہ چکھا : جس نے ایک اللہ کی عبادت کی، جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، خوش دلی کے ساتھ اپنے مال کی زکوۃ دی ۔۔۔ اور اپنے نفس کا تزکیہ کیا۔" یہ سننے کے بعد ایک شخص نے کہا : اے اللہ کے رسول! آدمی کے اپنے نفس کے تزکیے سے کیا مراد ہے؟ آپ نے جواب دیا : "وہ اس بات کا یقین رکھے کہ وہ جہاں بھی رہے، اللہ اس کے ساتھ ہے۔" السنن الکبرى للبیہقی : 7275)۔

نفس کے تزکیے پر اللہ کے رسول ﷺ کی توجہ :

اللہ کے نبی ﷺ نفس کے تزکیے کے حریص تھے اور اس کے لیے اللہ سے مدد بھی مانگا کرتے تھے۔ آپ جو دعائیں کیا کرتے تھے، ان میں سے ایک دعا یہ ہے : "اے اللہ! میرے نفس کو اس (کے حق) کا تقوی عطا کر اور اس کا تزکیہ فرما۔ تو ہی اس کا سب سے بہتر تزکیہ کرنے والا ہے۔ تو ہی اس کا ولی اور مولی ہے۔" (صحیح مسلم : 2722)

اللہ کے نبی ﷺ نفس کی برائی سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے۔ آپﷺ فرمایا کرتے تھے : "اے اللہ! مجھے میرے (حصے کی) ہدایت عطا فرما اور مجھے میرے نفس کی برائی سے بچا۔" (سنن ترمذی : 3483)

سوم : تزکیۂ نفس کا ثمرہ :

ایک مسلمان اپنے نفس کے تزکیے کے نتیجے میں اخروی زندگی میں جنت حاصل کر سکتا ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "ہاں جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا رہا ہوگا اور اپنے نفس کو خواہش سے روکا ہوگا. تو اس کا ٹھکانا جنت ہی ہے." (سورہ نازعات : 40-41)

اپنے نفس کے تزکیہ کے ذریعے انسان جنت میں اونچے درجات حاصل کرتا ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "اور جو بھی اس کے پاس ایمان کی حالت میں حاضر ہوگا اور اس نے اعمال بھی نیک کیے ہوں گے اس کے لیے بلند وباﻻ درجے ہیں۔ ہمیشگی والی جنتیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، جہاں وه ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے۔ یہی انعام ہے ہر اس شخص کا جو پاک ہوا." (سورہ طہ : 75-76)

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : پڑھوں گا اور چرچا کروں گا :

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہيں : "خود اپنے نفس کا جائزہ اس سے پہلے لو کہ تمھارا حساب لیا جائے اور بڑی پیشی کے لیے خود کو مزین کر لو۔ قیامت کے دن اس شخص کا حساب ہلکا ہوگا، جو دنیا میں اپنا محاسبہ کرتا رہے۔" (سنن ترمذی : 2459)

اس کی روشنی میں اپنے معلم اور ساتھیوں کے ساتھ درج ذیل باتوں پر چرچا کریں :

نفس کے تزکیہ میں محاسبۂ نفس کی اہمیت۔

جب کوئی مومن اپنے اندر کوئی کوتاہی یا معصیت دیکھے، تو کیا کرے؟

سرگرمی (2) : میں تفسیر کروں گا اور غور و فکر کروں گا :

اللہ کے نبی ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے : "اے اللہ! میرے نفس کو اس (کے حق) کا تقوی عطا کر اور اس کا تزکیہ فرما۔ تو ہی اس کا سب سے بہتر تزکیہ کرنے والا ہے۔ تو ہی اس کا ولی اور مولی ہے۔" (صحیح مسلم : 2722)

اس حدیث پر غور کریں اور پھر صحیح آپشن کے سامنے علامت رکھئے :

استنباط یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے یہ حدیث اس بات پر دلالت نہيں کرتی

ہر شخص کو تزکیۂ نفس کی ضرورت ہے۔

دعا نفس کے تزکیہ کا ایک وسیلہ ہے۔

نافرمانوں کو نفس کے تزکیے کی ضرورت نہيں ہے۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

تزکیہ کا مطلب یہ ہے کہ انسان لوگوں کے سامنے اپنی تعریف کرے۔ (×)

تزکیۂ نفس کے اندر اخلاق کا اچھا ہونا اور سچ بولنا بھی شامل ہے۔ (√)

اللہ تعالی کا قول : "قَدۡ أَفۡلَحَ مَن زَكَّىٰهَا" تزکیہ کی اہمیت پر دلالت کرتا ہے۔ (√)

اللہ کا شریک ٹھہرانا ایسى چیز ہے، جس سے سب سے پہلے نفس کا تزکیہ واجب ہے۔ (√)

دل کے امراض تزکیۂ نفس پر اثر انداز نہیں ہوتے۔ (×)

سوال 2 : نیچے دی گئی ہر بات کی ایک ایک دلیل پیش کریں :

نفس کا تزکیہ انبیائے کرام کے سپرد کاموں میں سے ایک کام ہے۔

نبی کریم ﷺ نے نفس کی برائی سے اللہ کی پناہ مانگی ہے۔

نفس کا تزکیہ جنت کی جانب لے جانے والے راستوں میں سے ایک راستہ ہے۔

سوال 3 : نفس کے تزکیہ کا مفہوم بیان کریں :

پانچواں سبق : تزکیۂ نفس کے طریقے

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

اصلاح نفس کے طریقے گنوا سکيں گے۔

نفس کے استدلال کے طریقے بیان کر سکیں گے۔

اصلاح نفس کی اہمیت محسوس کر سکيں گے۔

اپنے نفس کے عیوب کی اصلاح کریں گے۔

تمہید :

عبداللہ اور محمد نے بیٹھ کر اصلاح معاشرے کے بارے میں غور و فکر کیا اور اللہ تعالی کے اس قول میں حل پایا : "حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا، جب تک وہ خود اپنے اوصاف نہیں بدل دیتی۔" (سورہ رعد : 11)

لہذا دونوں نے اپنے نفس کی اصلاح کا فیصلہ لیا۔ لیکن ایک دوسرے سے پوچھا کہ مسلمان اپنے نفس کے اندر تبدیلی کیسے لائے گا؟ اسی کی وضاحت اس سبق میں کی جائے گی۔

اصلاح نفس کے طریقے :

اللہ تعالی کى توحید کو اپنانا

مدد طلب کرنا اور دعا کرنا

معصیتوں سے اجتناب کرنا

فرائض کی ادائيگی

ذکر اور قرآن کریم کی تلاوت

نفس کا محاسبہ

نیک لوگوں کی ہم نشینی

نفس کا تزکیہ ہر مسلمان پر واجب ہے اور اس کے کچھ اہم مددگار طریقے اس طرح ہیں :

اللہ تعالی کى توحید کو اپنانا:

نفس کے تزکیے کا پہلا طریقہ ہے اللہ تعالی کى توحید کو اپنانا اور محبت، خوف اور امید کے ساتھ بندے کا اپنے رب سے رابطہ استوار رکھنا۔ جسے اس کی توفیق مل گئی، اسے شرح صدر حاصل ہوتا ہے اور سعادت بخش زندگی نصیب ہوتی ہے۔

اللہ تعالی سے دعا مانگنا اور مدد طلب کرنا :

ایک مسلمان کو اصلاح اور تطہیر نفس کے لیے اللہ سے لو لگانی چاہیے، کیوں کہ نفس کا تزکیہ اور اس کی اصلاح اللہ کے ہاتھ میں ہے : اللہ تعالی نے فرمایا ہے : "اور اگر اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم تم پر نہ ہوتا تو تم میں سے کوئی کبھی بھی پاک صاف نہ ہوتا۔ لیکن اللہ تعالی جسے پاک کرنا چاہے، کر دیتا ہے۔ اور اللہ سب سننے واﻻ سب جاننے واﻻ ہے۔" (سورہ نور : 21)

گناہوں سے اجتناب :

ایک مسلمان پر تمام چھوٹے بڑے گناہوں سے بچنا واجب ہے۔ گناہ چاہے دل سے صادر ہونے والے ہوں یا اعضا و جوارح سے صادر ہونے والے۔ اللہ تعالی نے نامحرم عورتوں کو دیکھنے سے گریز کرنے کا اثر بتاتے ہوئے فرمایا ہے : "مومن مردوں سے کہہ دیں کہ اپنی نظریں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔ یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے۔" (سورہ نور : 30)

فرائض کی ادائيگی :

عبادتوں کی مشروعیت کا ایک اہم ترین سبب ان سے نفس کا تزکیہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالی نے زکوۃ کے بارے میں کہا ہے : ”آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لیجیے، جس کے ذریعہ سے آپ ان کو پاک صاف کردیں۔“ (سورہ توبہ : 103)

لہذا زکوۃ طمع، بخل، دنیا کی محبت اور اس کے حرص سے نفس کو پاک کرتی ہے۔

اللہ کا ذکر اور تلاوت قرآن کریم :

اللہ کے ذکر اور قرآن کریم کی تلاوت کا نفس پر بہت بڑا اثر پڑتا ہے۔ اللہ نے قرآن کو نفس کے امراض کی شفا اور قلب کی ہدایت کے لیے اتارا ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک ایسی چیز آئی ہے جو نصیحت ہے اور دلوں کے روگ کے لیے شفا ہے اور رہنمائی کرنے والی ہے اور رحمت ہے ایمان والوں کے لیے."

نفس کا محاسبہ اور اس کا وعظ :

تاکہ آپ وہ کام کرنے کی کوشش کریں، جس سے اللہ راضی ہوتا ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر شخص دیکھ (بھال) لے کہ کل (قیامت) کے واسطے اس نے (اعمال کا) کیا (ذخیره) بھیجا ہے۔ اور (ہر وقت) اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے." (سورہ حشر : 18)

نیک لوگوں کی ہم نشینی اور رفاقت :

اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے : "اور اپنے آپ کو انہیں کے ساتھ رکھا کر جو اپنے رب کو صبح شام پکارتے ہیں اور اسی کے چہرے کا ارادہ رکھتے ہیں (رضامندی چاہتے ہیں)۔" (سورہ کہف : 28)

چنانچہ نفس کے عیوب اور احوال سے واقف صالح انسان کی ہم نشینی نفس کے تزکیہ اور اس کی اصلاح کی کوشش کا ایک اہم ترین طریقہ ہے۔

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : میں ڈھونڈھ کر نکالوں گا :

نیچے دیے گئے نصوص سے نفس کے تزکیہ کے وسائل ڈھونڈھ کر نکالیے :

نص تزکیہ کے وسائل

اللہ تعالی نے فرمایا ہے : "اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا، تاکہ تم تقویٰ والے ہوجاؤ۔" (سورہ بقرہ : 183)

روزہ رکھنا۔

اللہ تعالی نے فرمایا ہے : "اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہو گا. جو پاکی حاصل کرنے کے لیے اپنا مال دیتا ہے." (سورہ لیل : 17-18)

زکوۃ دینا۔

اللہ تعالی نےفرمایا ہے : "بے شک اس نے فلاح پالی جو پاک ہوگیا. اور جس نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پڑھتا رہا." (سورہ اعلی : 14-15)

اللہ کا ذکر کرنا اور نماز ادا کرنا۔

اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : "لذتوں کو ختم کرنے والی چیز (موت) کو بہت زیادہ یاد کیا کرو۔" (سنن ترمذی : 2307) موت کو یاد کرنا۔

سرگرمی (2) : مل کر کام کروں گا اوراستنباط کروں گا :

جس طرح تزکیہ کے بہت سے راستے اور وسائل ہيں، اسی طرح اس کے بہت سے عوائق اور موانع بھی ہیں۔ ان میں سے کچھ چیزوں کا ذکر اللہ تعالی کے اس قول میں ہے : "میں ایسے لوگوں کو اپنے احکام سے برگشتہ ہی رکھوں گا، جو دنیا میں تکبر کرتے ہیں، جس کا ان کو کوئی حق حاصل نہیں اور اگر تمام نشانیاں دیکھ لیں، تب بھی وه ان پر ایمان نہ ﻻئیں، اور اگر ہدایت کا راستہ دیکھیں تو اس کو اپنا طریقہ نہ بنائیں اور اگر گم راہی کا راستہ دیکھ لیں، تو اس کو اپنا طریقہ بنالیں۔ یہ اس سبب سے ہے کہ انہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے غافل رہے۔" (سورہ اعراف : 146)

اپنے معلم کے ساتھ مل کر اس آیت میں وارد نفس کے تزکیہ کے موانع ڈھونڈھ کر نکالیں۔

کبر، سرکشی، ظلم، اللہ کی آیتوں کو جھٹلانا اور حق کو ٹھکرا دینا اور اسے قبول نہ کرنا۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

اتباع سنت نفس کے تزکیہ کا سبب ہے۔ (√)

اصلاح نفس معاشرے کی اصلاح کا سبب بنتا ہے۔ (√)

تزکیہ ایک داخلی امر ہے، جو خارجی عوامل سے متاثر نہیں ہوتا۔ (×)

سوال 2 : قوسین کے مابین سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

نفس کا تزکیہ کرنے والا ایک اہم ترین نیکی کا کام ہے :

(نفل نمازیں - فقیر کو صدقہ کرنا - اللہ کى توحید کو اپنانا)

نفس کے تزکیے کا ایک وسیلہ ہے :

(مجاہدہ - رخصتوں پر عمل کرنا - مال سے لطف اندوز ہونا چھوڑ دینا)

اصلاح نفس کا ایک طریقہ ہے موت کو یاد کرنا اور زیارت کرنا :

(رشتے داروں کی - دوستوں کی - قبروں کی)

سوال 3 : نفس کے تزکیے پر پڑنے والے نیچے دی گئی ہر عبادت کے اثر کی ایک ایک دلیل لکھیے :

نماز قائم کرنا۔

قرآن کریم کی تلاوت۔

گناہوں سے اجتناب۔

سوال 4 : نفس کے تزکیہ اور اس کے عیوب کی اصلاح پر پڑنے والے نیک لوگوں کی ہم نشینی کے اثرات کو واضح کریں :

چھٹا سبق : قلبی اعمال

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

اہم ترین قلبی اعمال کو گنوا سکيں گے۔

قلبی اعمال کو دلیل کے ساتھ بیان کر سکیں گے۔

قلبی اعمال کی اہمیت کو محسوس کریں گے۔

قلبی اعمال پر توجہ دیں گے۔

تمہید :

اللہ کے نبی ﷺ نے قلب کو بڑی اہمیت دی ہے۔ آپ نے کہا ہے : "سن لو! جسم کے اندر گوشت کا ایک ٹکڑا ہے۔ اگر وہ درست ہوگیا، تو پورا جسم درست ہو جائے گا۔ اگر وہ بگڑ گیا، تو پورا جسم بگڑ جائے گا۔ یاد رکھو! گوشت کا وہ ٹکڑا دل ہے۔" (صحیح بخاری : 52، صحیح مسلم : 1599)

اللہ کے نبی ﷺ نے دل کو یہ مقام کیوں دیا؟

سوال کا جواب دیجیے اور اس سبق کو ختم کرنے کے بعد اپنے جواب کا جائزہ لیجیے۔

کچھ قلبی اعمال :

1- نیت

2- اللہ اور اس کے رسول کی محبت

3- خوف اور امید

4- مراقبہ

5- انابت

6- توکل

7- اللہ کے شعائر کی تعظیم

قلب جسم انسانی کا اہم ترین عضو ہے۔ یہ قلوب کے اعمال کی جگہ ہے، جہاں سے اعضا کو نیکی کے کاموں کی تحریک ملتی ہے۔ اس کے درج ذیل کام ہوا کرتے ہيں :

نیت اور اخلاص :

نیت : نیت سے مراد ہے نیکی کے سارے کاموں کو کرتے وقت اللہ کا تقرب حاصل کرنے کا ارادہ کرنا۔ نیت تمام اعمال کے قبول ہونے کی شرط ہے۔ بندے پر تمام عبادتوں میں خالص اللہ کی رضاجوئی کی نیت رکھنا واجب ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : "اعمال (کی قبولیت) کا دار و مدار نیتوں پر ہے اور ہر آدمی کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔" (صحیح بخاری :1، صحیح مسلم: 1907)

اللہ اور اس کے رسول کی محبت :

اس کا اظہار ہوتا ہے اللہ کے یہاں ملنے والی نعمتوں کو ترجیح دینے، نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے کر اور گناہ کے کاموں سے دور رہ کر اللہ کی خوش نودی حاصل کرنے کی کوشش کرنے اور اللہ کے نبی ﷺ کا اتباع کرنے سے۔ اللہ اور اس کے رسول کی محبت ایمان کا لازمی عنصر ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ فرماتے ہیں : "تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہيں ہو سکتا، جب تک اس کے یہاں اللہ اور اس کے رسول دیگر تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جائیں۔" (مسند احمد : 12739)

اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت سے قرآن، مسلمانوں اور ہر اس چیز کی محبت وابستہ ہے، جس میں اسلام اور مسلمانوں کے لیے خیر و فلاح اور رفعت و سربلندی ہے۔

خوف و رجا :

خوف سے مراد ہے اللہ اور اس کے عذاب کا ڈر، اس کی تعظیم، اس سے محبت اور اس کی معصیت سے اجتناب۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "آپ کہہ دیجیے کہ میں اگر اپنے رب کا کہنا نہ مانوں تو میں ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔" (سورہ انعام : 15)

رجا سے مراد ہے: اللہ کی رحمت سے تعلق خاطر رکھنا، اس کے احسان کا طمع اور اس کی عبادت میں محنت کرنا۔ جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام نے کہا تھا : "اور جس سے میرى امید بندھی ہوئی ہے کہ وه روز جزا میرے گناہوں کو بخش دے گا." (سورہ شعرا : 82)

مراقبہ :

مراقبہ سے مراد: بندے کا یہ علم و یقین ہے کہ اللہ اس کے ظاہر و باطن سے واقف ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے۔" (سورہ نسا : 1)

انابت :

انابت سے مراد ہے توبہ کرنا، اللہ کی جانب لوٹنا اور زیادہ سے زیادہ نیکی کے کام کرنا۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "تم (سب) اپنے رب کی طرف جھک پڑو اور اس کی حکم برداری کیے جاؤ اس سے قبل کہ تمہارے پاس عذاب آ جائے اور پھر تمہاری مدد نہ کی جائے." (سورہ زمر: 54)

توکل :

اس سے مراد ہے اللہ پر بھروسہ کرنا، اس کی قدرت، حکمت اور کرم پر یقین رکھنا۔ ساتھ ہی اس بات پر بھروسہ کرنا کہ جو اللہ پر بھروسہ کرے گا اللہ اس کے لیے کافی ہوگا۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : " اور جو شخص اللہ پر توکل کرے گا اللہ اسے کافی ہوگا۔" (سورہ طلاق : 3)

شعائر اللہ کی تعظیم :

اللہ کے شعائر کی تعظیم کا مطلب ہے اللہ کی عظمت کا احساس ہونا، اس کی عبادت کرنا اور اس کے اوامر کو سر آنکھوں پر رکھنا۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "یہ سن لیا اب اور سنو! اللہ کی نشانیوں کی جو عزت وحرمت کرے اس کے دل کے تقوى کی وجہ سے یہ ہے." (سورہ حج : 32)

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : غور و فکر سے کام لوں گا اور جواب دوں گا :

اللہ تعالی نے اپنے نبی زکریا علیہ السلام اور ان کے اہل خانہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے: "یہ بزرگ لوگ نیک کاموں کی طرف جلدی کرتے تھے اور ہمیں ﻻلچ طمع اور ڈر خوف سے پکارتے تھے۔ اور ہمارے لئے خشوع اختیار کرنے والے تھے." (سورہ انبیاء : 90)

کیا ہوگا اگر انسان صرف اللہ کا خوف رکھے، امید نہ رکھے؟

کیا ہوگا اگر انسان اللہ سے صرف امید رکھے، خوف نہ رکھے؟

امید سے عاری اللہ کا خوف اس کی رحمت سے مایوسی کا سبب بنتا ہے۔

خوف چھوڑ کر اللہ سے صرف امید کرنا غرور اور معاصی کے ارتکاب کا سبب بنتا ہے۔

سرگرمی (2) : غور کروں گا اور استنباط کروں گا :

نیچے دیے گئے نصوص پر غور کریں اور ان اعمال قلوب کو ڈھونڈھ کر نکالیں جن پر یہ نصوص دلالت کرتے ہیں :

نص اعمال قلوب

اللہ تعالی نے کہا ہے : "اور صبر اور نماز کے ساتھ مدد طلب کرو یہ چیز شاق ہے، مگر خشوع اختیار کرنے والوں پر(نہیں)۔" (سورہ بقرہ : 45)

صبر

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : " ہم پر اور تمام اور لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا یہ خاص فضل ہے، لیکن اکثر لوگ ناشکری کرتے ہیں." (سورہ یوسف : 38)

شکر

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "آپ کہہ دیجیے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کروں کہ اسی کے لیے عبادت کو خالص کر لوں۔" (سورہ زمر : 11) اِخلاص

سرگرمی (3) : غور و فکر کروں گا، اور استنباط کروں گا :

نماز میں خشوع اور تلاوت قرآن کے وقت حضور قلب کو مسلمان کی زندگی میں سب سے زیادہ بالتکرار سامنے آنے والے اعمال میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کی روشنی میں سوچیں کہ وہ کون سے اہم ترین پانچ وسائل ہو سکتے ہیں، جو نماز میں خشوع پیدا کرنے میں ممد و مددگار ثابت ہوں۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : قوسین کے ما بین سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

امید عام طور پر ملی ہوئی ہوتی ہے :

(محبت سے- توکل سے- خوف سے)

اللہ تعالی کا قول : "جو رحمٰن کا غائبانہ خوف رکھتا ہو اور توجہ واﻻ دل ﻻیا ہو." اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ :

(خوف و امید پر- خشیت و انابت پر- خشوع اور استعانت پر)

وقت پر نماز ادا کرنا دلالت کرتا ہے :

(امید پر - شعائر کی تعظیم پر - توکل پر)

سوال 2 : نیچے دیے گئے ہر بیان کی ایک ایک دلیل لکھیں :

عبادت میں اخلاص کا واجب ہونا۔

ایمان سے محبت کا تعلق۔

خوف اور رجا کو یک جا کرنا۔

سوال 3 : واضح کریں کہ "انابت اور مراقبے" کا مقصود کیا ہے؟

اکائی : سنت اور شمائل

پہلا سبق : اللہ کے نبی ﷺ کے حقوق

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

امت پر اللہ کے نبی ﷺ کے حقوق گنوا سکيں گے۔

امت پر اللہ کے نبی ﷺ کے حقوق کو دلائل کے ساتھ بیان کر سکيں گے۔

اللہ کے نبی ﷺ کے حقوق ادا کرنے کی اہمیت کو محسوس کر سکیں گے۔

اللہ کے نبی ﷺ کے حقوق ادا کریں گے۔

تمہید :

ارشاد ربانی ہے: "نبی مومنوں پر خود ان سے بھی زیاده حق رکھنے والے ہیں۔" (سورہ احزاب : 6)

اس آیت کریمہ کے معنی کے بارے میں اپنے معلم سے گفتگو کریں۔

اللہ کے نبی ﷺ کے حقوق :

اللہ کے نبی ﷺ کی اطاعت

اللہ کے نبی ﷺ سے محبت

اللہ کے نبی ﷺ کی تعظیم

اللہ کے نبی ﷺ کی سنت کا اتباع

اللہ کے نبی ﷺ پر درود و سلام

اللہ کے نبی ﷺ کے بارے میں ہماری ذمے داری صرف ایمان تک محدود نہيں ہے۔ اس کے دائرے میں قرآن اور حدیث میں مذکور آپ کے تمام حقوق کی ادائیگی بھی شامل ہے۔ آپ کے کچھ اہم حقوق اس طرح ہیں :

اللہ کے نبی ﷺ کی اطاعت :

اللہ کے نبی ﷺ کی اطاعت خود اللہ کی اطاعت ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "اس رسول (ﷺ) کی جو اطاعت کرے اسی نے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی۔" (سورہ نساء: 80)

اللہ کے نبی ﷺ کی اطاعت دخول جنت کا ایک سبب ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : "میری امت کے سب لوگ جنت میں داخل ہوں گے، ما سوا ان لوگوں کے جنھوں نے انکار کیا۔" پوچھا گیا کہ اے اللہ کے رسول! انکار کرنے والے کون ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "جس نے میری اطاعت کی، وہ جنت میں داخل ہو گا اور جس نے میری نافرمانی کی، اس نے انکار کیا۔" (صحیح بخاری : 7280)

اللہ کے نبی ﷺ سے محبت :

اللہ کے نبی ﷺ سے محبت رکھنا واجب ہے۔ اس کے بغیر ایمان کا وجود ممکن نہیں ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : ”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں“۔ (صحیح بخاری : 15، صحیح مسلم : 44)

اللہ کے نبی ﷺ کی تعظیم :

اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کی تعظیم اور آپ سے محبت رکھنے کو واجب قرار دیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے : "اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے اوپر نہ کرو اور نہ ان سے اونچی آواز سے بات کرو، جیسے آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو۔ کہیں (ایسا نہ ہو کہ) تمہارے اعمال اکارت جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو." (سورہ حجرات : 2)

امام مالک بن انس رحمہ اللہ جب اللہ کے رسول ﷺ کی کوئی حدیث بیان کرتے، تو وضو کر لیتے اور اپنے سب سے اچھے کپڑے پہن لیتے۔ ایسا وہ حدیث رسول ﷺ کى تعظیم اور احترام میں کیا کرتے تھے۔

نبی ﷺ کى سنت کى اتباع:

اللہ کے نبی ﷺ کى اتباع دراصل اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے سچی محبت کی دلیل اور اللہ کی محبت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ ارشاد ربانی ہے : "کہہ دیجیے! اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابع داری کرو، خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناه معاف فرما دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے واﻻ بڑا مہربان ہے۔" (سورہ آل عمران: 31)

نبی ﷺ پر درود و سلام بھیجنا :

اللہ نے ہمیں نبی کریم ﷺ پر درود و سلام بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے : "اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو". (سورہ احزاب : 56)

اللہ کے نبی ﷺ پر درود بھیجنے کا بہت بڑا ثواب ہے اور کاموں کو آسان کرنے اور ضرورتوں کی تکمیل میں بڑا اثر ہے۔ اس کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے : ’’جو شخص مجھ پر ایک دفعہ درود پڑھتا ہے، اس کے بدلے اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے‘‘۔ (صحیح مسلم : 384)

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : میں پڑھوں گا اور جواب دوں گا :

ایک شخص اللہ کے رسول ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا : اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! آپ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں، اپنے اہل و عیال اور مال و دولت سے بھی زیادہ محبوب ہیں اور بال بچوں سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔ میں جب گھر میں ہوتا ہوں اور آپ کو یاد کرتا ہوں تو اس وقت تک چین نہیں ملتا، جب تک آپ کے پاس آکر آپ کا دیدار نہ کر لوں۔ جب میں اپنی اور آپ کی موت کو یاد کرتا ہوں، تو مجھے یقین ہو جاتا ہے کہ جنت میں داخل ہونے کے بعد آپ کو نبیوں کے ساتھ اونچا مقام عطا کر دیا جائے گا اور مجھے اس بات کا ڈر ستا رہا ہے کہ جنت میں داخل ہونے کے بعد بھی میں آپ کو دیکھ نہیں سکوں گا۔ اللہ کے نبی ﷺ نے ان کی بات سننے کے بعد ان کو کوئی جواب نہيں دیا، یہاں تک کہ جبریل علیہ السلام اس آیت کے ساتھ اترے : "اور جو بھی اللہ تعالیٰ کی اور رسول (ﷺ) کی فرماں برداری کرے، وه ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے، جیسے نبی اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ، یہ بہترین رفیق ہیں۔" ( طبرانی کی الاوسط : 477)

اس قصے کو غور سے پڑھیں اور اس کے بعد اس چارٹ میں دئے گئے قصے کی عبارتوں کو ان سے حاصل ہونے والے معانی کے ساتھ جوڑیں :

عبارت عبارت کا مدلول

آپ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں، اپنے اہل و عیال اور مال و دولت سے بھی زیادہ محبوب ہیں اور بال بچوں سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔

اللہ کے نبی ﷺ کو جنت میں حاصل ہونے والا اونچا مقام و مرتبہ۔

جنت میں داخل ہونے کے بعد آپ کو نبیوں کے ساتھ اونچا مقام عطا کر دیا جائے گا۔

اللہ کے نبی ﷺ سے شدید محبت۔

"اور جو بھی اللہ تعالیٰ کی اور رسول ﷺ کی فرماں برداری کرے، وه ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے۔ جیسے نبی اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ۔" ایک بات جو اس صحابی کو پریشان کرتی تھی اور ان کو لگتا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو جائے۔

اور میں اس بات سے ڈرا ہوا ہوں کہ جنت میں داخل ہونے کے بعد بھی آپ کو دیکھ نہيں سکوں گا۔

اللہ کے رسول ﷺ کی اطاعت کرنے والوں کا بدلہ۔

سرگرمی (2) : باہمی تعاون سے تجویز پیش کروں گا :

اپنے دوستوں کی مدد سے ایسے تجاويز پیش کریں، جن کے ذریعے اپنے پریوار اور دوستوں میں اللہ کے نبی ﷺ کے حقوق کے بارے میں بیداری پیدا کر سکیں۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

ہم اللہ کے نبی ﷺ سے محبت آپ کے خوب صورت اوصاف اور ہمارے اوپر آپ کے احسانات کی وجہ سے کرتے ہيں۔

اللہ کے نبی ﷺ پر درود بھیجنے کے کچھ متعین اوقات ہیں۔

اللہ کے نبی ﷺ کا اتباع آپ سے ہماری سچی محبت کی دلیل ہے۔

اللہ کے نبی ﷺ کی توقیر وتعظیم آپ کو دیکھنے والے صحابہ کے ساتھ خاص ہے۔

اللہ کے نبی ﷺ قابل اقتدا بشری کمال کے نمونہ تھے۔

سوال 2 : اللہ کے نبی ﷺ وہ حقوق بیان کریں، جن پر نیچے دی گئی باتیں دلالت کرتی ہيں :

اللہ کے نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے : "جس نے میری اطاعت کی، وہ جنت میں جائے گا اور جس نے میری نافرمانی کی، اس نے انکار کیا۔"

امام مالک بن انس رحمہ اللہ جب اللہ کے رسول ﷺ کی حدیث بیان کرتے، تو وضو کرتے اور اپنے اچھے کپڑے پہن لیتے۔

نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں“۔

سوال 3 : نیچے دیے گئے دونوں سوالوں کے جواب دیجیے :

اللہ کے نبی ﷺ کے تئیں مسلمانوں کی تین ذمے داریاں بیان کریں۔

ایک مسلمان کے ذریعے روزانہ کیے جانے والے تین اعمال لکھیں، جو اللہ کے نبی ﷺ کے حقوق کو پورا کئے جانے کے آئينہ دار ہوں۔

دوسرا سبق : اہل بیت کے فضائل اور حقوق

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

بتا سکیں گے کہ نبى ﷺ کے اہل بیت سے مراد کون لوگ ہيں؟

اہل بیت کی فضیلت مدلل انداز میں بیان کر سکیں گے۔

اہل بیت سے متعلقہ احکام بیان کر سکیں گے۔

اہل بیت کے حقوق گنوا سکیں گے۔

اہل بیت کے سلسلے میں اللہ کے نبی ﷺ کی وصیت کو نافذ کریں گے۔

اہل بیت کی عزت و احترام کا خیال رکھیں گے۔

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مسجد کے امام کو اللہ تعالى کا یہ قول پڑھتے ہوئے سنا : "اللہ تعالیٰ یہی چاہتا ہے کہ اے نبی کی گھر والیو! تم سے وه (ہر قسم کی) گندگی کو دور کردے اور تمہیں خوب پاک کردے." (سورہ احزاب : 33)

چنانچہ نماز ختم ہونے کے بعد امام سے پوچھا کہ جناب یہ بتائیں کہ اہل بیت کون لوگ ہیں، اللہ نے اس آیت کریمہ میں بطور خاص ان کا ذکر کیوں کیا ہے اور کیا ان کے کچھ خاص حقوق ہيں؟

عزیز متعلم! اس سبق میں آپ ان سوالات کے جواب سے روبرو ہوں گے۔

اول : آل بیت کون ہيں؟

لفظ "آل" کے معنی ہيں، آدمی کے گھر کے لوگ، بچے اور بیویاں۔

"آل" سے مراد بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب سے تعلق رکھنے والے اللہ کے نبی ﷺ کے پریوار کے وہ لوگ اور ان کی اولاد ہیں، جو آپ پر ایمان لائے۔ اسی طرح آپ کی بیویاں بھی اس میں داخل ہیں۔

دوم : اہل بیت کے فضائل :

اللہ کے نبی ﷺ کے اہل بیت آپ پر ایمان اور آپ سے نسبی رشتے کی وجہ سے عزت و احترام کے حق دار ہيں۔ ان کی کچھ خصوصیات درج کی جا رہی ہيں :

اللہ نے ان کو فواحش اور شیطان کی گندگی سے پاک کر دیا تھا۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے : "اللہ تعالیٰ یہی چاہتا ہے کہ اے نبی کی گھر والیو! تم سے وه (ہر قسم کی) گندگی کو دور کردے اور تمہیں خوب پاک کردے." (سورہ احزاب : 33)

اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کے احترام کو مد نظر رکھتے ہوئے ان سے محبت اور مودت رکھنے کا حکم دیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے : "کہہ دیجیے کہ میں اس پر تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتا مگر محبت رشتہ داری کی۔" (سورہ شوری : 23)

یعنی اے اللہ کے رسول! آپ ان سے کہہ دیں کہ اے لوگو! میں دعوت و تبلیغ کے کام کی تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ اگر مجھے کچھ چاہیے تو بس یہ کہ تم میرے اہل بیت سے محبت رکھو اور اچھا سلوک کرو۔

اللہ نے اپنے نبی ﷺ کی بیویوں کو مسلمانوں کی مائيں قرار دیا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے : "نبی مومنوں پر خود ان سے بھی زیادہ حق رکھنے والے ہیں اور نبی کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں۔" (سورہ احزاب : 6)

سوم : اہل بیت سے متعلقہ خاص احکامات :

ان کو صدقہ دینا حرام ہونا :

اہل بیت کے مقام و مرتبہ کا لحاظ رکھتے ہوئے اور ان کی اونچی شان کو برقرار رکھتے ہوئے ان کے کسی فرد کو صدقہ دینا حرام ہوگا۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : "یہ صدقے دراصل لوگوں کے میل کچیل ہیں۔ یہ محمد اور آل محمد کے لیے حلال نہيں ہیں۔" (صحیح مسلم : 1072)

اللہ کے نبی ﷺ پر درود بھیجتے وقت آپ کے آل پر بھی درود بھیجنا :

ایسا نماز میں تشہد کے بعد اور دیگر موقعوں پر کیا جاتا ہے۔ اس کے الفاظ ہيں : "اے اللہ! محمد پر اور آل محمد پر رحمت نازل فرما، جیسے تو نے ابراہیم پر اور آل ابراہیم پر رحمت نازل کی ہے۔ بے شک تو قابل تعریف اور بزرگی والا ہے۔ اسی طرح محمد پر اور آل محمد پر برکت نازل فرما، جیسے ابراہیم پر اور آل ابراہیم پر برکت نازل کی ہے۔ بے شک تو قابل تعریف اور بزرگی والا ہے۔" (صحیح بخاری : 3370)

ان کے بارے میں اللہ کے نبی ﷺ کی وصیت :

اللہ کے نبی ﷺ نے امت کو آل بیت کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا ہے۔ آپ ﷺ نے کہا ہے : "دیکھو، میرے اہل بیت کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔ میں تمھیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ کی یاد دلاتا ہوں۔ میں تمھیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ کی یاد دلاتا ہوں۔ میں تمھیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ کی یاد دلاتا ہوں۔" (صحیح مسلم : 2408)

چہارم : اہل بیت کے حقوق :

اہل بیت کے کچھ حقوق اس طرح ہیں :

اللہ کے نبی ﷺ کے اہل بیت سے محبت رکھنا، ان کی مدد کرنا اور ان سے قربت رکھنا واجب ہے۔

ان سے نفرت کرنا، دشمنی رکھنا یا ان کے برے کی تمنا رکھنا حرام ہے۔

ان کی عزت کرنا اور قرآن و حدیث میں وارد ان کے فضائل ماننا واجب ہے۔

ان کی اہانت، ان کے بارے میں الزام تراشی اور ان پر لعنت کرنا وغیرہ حرام ہے۔

اللہ کے نبی ﷺ کی بیویوں سے شادی کرنا حرام ہے۔ ایسا آپ کے عز و شرف کے لیے اور آپ کی عزت و آبرو کی حفاظت کے مد نظر ہے۔

قرآن میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی براءت نازل ہو جانے کے بعد بھی ان پر زنا کی تہمت لگانے والا کافر ہو جائے گا۔

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : پڑھوں گا اور بیان کروں گا :

نیچے دی گئی حدیثوں کو پڑھیے، ان سے معلوم ہونے والے اہل بیت کے فضائل اور حقوق کا خلاصہ تیار کیجیے اور اس کے بعد ان کے بارے میں اپنے احساسات بیان کیجیے :

اللہ کے نبی ﷺ نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا : "کیا تم اس بات سے مطمئن نہيں ہو کہ تم کو میرے یہاں وہی مقام حاصل ہو، جو ہارون علیہ السلام کو موسی علیہ السلام کے یہاں حاصل تھا؟ یہ اور بات ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔" (صحیح بخاری : 3706، صحیح مسلم : 2404)

اللہ کے نبی ﷺ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا تھا : "کیا تم اس بات سے خوش نہيں ہوگی کہ اہل جنت کی عورتوں کی سردار ہو؟" (صحیح بخاری : 3624، صحیح مسلم : 2450)

عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے اللہ کے نبی ﷺ سے پوچھا کہ آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون انسان ہے؟ فرمایا : "عائشہ"۔ میں نے پوچھا : مردوں میں سے؟ فرمایا : "ان کے والد۔" (صحیح بخاری : 3662، صحیح مسلم : 2384)

سرگرمی (2) : غور و فکر کے بعد استدلال کروں گا :

اللہ کے نبی ﷺ کے اہل بیت میں سے جو لوگ آپ پر ایمان نہیں لائے، کیا آپ سے رشتہ داری ان کے حق میں کچھ مفید ثابت ہوگی؟

اس سوال کا نیچے دی گئی آیتوں سے کیا جواب ملتا ہے؟

"ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وه (خود) ہلاک ہو گیا. نہ تو اس کا مال اس کے کام آیا اور نہ اس کی کمائی. وه عن قریب بھڑکنے والی آگ میں جائے گا." (سورہ مسد : 1-3)

"اور نوح (علیہ السلام) نے اپنے لڑکے کو جو ایک کنارے پر تھا، پکار کر کہا کہ اے میرے پیارے بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں میں شامل نہ ره۔ اس نے جواب دیا کہ میں تو کسی بڑے پہاڑ کی طرف پناه میں آ جاؤں گا جو مجھے پانی سے بچا لے گا۔ نوح (علیہ السلام) نے کہا کہ آج اللہ کے امر سے بچانے واﻻ کوئی نہیں۔ صرف وہی بچیں گے جن پر اللہ کا رحم ہوا۔ اسی وقت ان دونوں کے درمیان موج حائل ہوگئی اور وه ڈوبنے والوں میں سے ہوگیا۔" (سورہ ہود : 42-43)

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

عائشہ رضی اللہ عنہا اللہ کے رسول ﷺ کے اہل بیت میں شامل تھیں۔ (✓)

اہل بیت کی فضیلتیں فاطمہ رضی اللہ عنہا اور ان کی اولاد کے ساتھ خاص ہیں۔ (×)

اللہ کے نبی ﷺ کی بیویوں کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ آپ کی وفات کے بعد ان سے نکاح کرنا حرام ہے۔ (✓)

سوال 2 : قوسین کے مابین سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

اہل بیت میں شامل ہیں :

(اللہ کے نبی ﷺ کے ننہیال والے- اللہ کے نبی ﷺ کی بیویاں - اللہ کے نبی ﷺ کے پرکھے)

اللہ کے نبی ﷺ پر سب سے پہلے ایمان لانے والے لوگ ہيں :

(خدیجہ اور علی - خدیجہ اور عائشہ - خدیجہ اور فاطمہ)

اللہ کے نبی ﷺ کے اہل بیت کی شان بلند کرنے کی ایک صورت ہے:

(ان کی بیویوں سے شادی کرنا ممنوع ہونا - ان کو صدقہ قبول کرنے سے منع کرنا - ان کو لوگوں سے میل جول رکھنے سے منع کرنا)

سوال 3 : نیچے دیے گئے سوالوں کا جواب دیں :

اہل بیت کون ہیں؟

اہل بیت کے تین حقوق لکھیں۔

اہل بیت کی دو فضیلتیں لکھیں اور ان کی دلیل پیش کریں۔

تیسرا سبق : اللہ کے نبی ﷺ اور آپ کے اہل بیت کے حقوق میں افراط و تفریط

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

1- اللہ کے نبی ﷺ اور آپ کے اہل بیت کے بارے میں غلو اور جفا کا معنی واضح کریں گے۔

2- اللہ کے نبی ﷺ اور اہل بیت کے بارے میں غلو اور بد دیانتی کے مظاہر کو گنوا سکیں گے۔

3- اللہ کے نبی ﷺ اور اہل بیت کے بارے میں غلو اور بد دیانتی سے دور رہيں گے۔

4- اللہ کے نبی ﷺ اور اہل بیت کے بارے میں وسطیت اور اعتدال کی دعوت دیں گے۔

تمہید :

عبداللہ بن ابى اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ جب شام سے لوٹے، تو اللہ کے رسول ﷺ کو سجدہ کیا۔ چنانچہ اللہ کے رسول ﷺ نے پوچھا : "معاذ! یہ کیا ہے؟" انھوں نے جواب دیا : میں شام گیا، تو وہاں کے لوگوں کو اپنے علما اور عباد کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھا، لہذا مجھے اپنے دل میں یہ اچھا لگا کہ ہمیں بھی آپ کے ساتھ ایسا کرنا چاہیے۔ ان کی بات سن کر اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : "تم ایسا مت کرو۔" (سنن ابن ماجہ : 1853)

اس حدیث کے معنی کے سلسلے میں اپنے معلم سے گفتگو کریں اور اس کے بعد اللہ کے رسول ﷺ کے خود کو سجدہ کرنے سے ممانعت کی وجہ بیان کریں۔

اول : اللہ کے نبی ﷺ کے لیے غلو کے مظاہر

نبى ﷺ کے اوصاف کے بارے میں مبالغہ آرائی :

اللہ کے نبی ﷺ نے ہمیں اپنی مدح اور اوصاف میں مبالغہ آرائی سے کام لینے سے منع فرمایا ہے۔ کیوں کہ یہ غلو کا سبب بنتا ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : ”میری تعریف میں ایسے حد سے نہ گزرو، جیسے عیسائی لوگ عیسی ابن مریم علیہ السلام کی تعریف میں حد سے گزر گئے۔ میں تو محض اللہ کا بندہ ہوں۔ اس لیے مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہو“۔ (صحیح بخاری : 3445)

اس کی کچھ مثالیں : اس بات کا دعوی کہ اللہ کے نبی ﷺ غیب کی بات جانتے ہيں یا آپ ﷺ نور سے پیدا کیے گئے ہيں۔

اللہ کے نبی ﷺ سے استغاثہ (فریاد رسى) کرنا:

آپ صلى اللہ علیہ وسلم سے ایسی چیزیں مانگنا، جنھیں دینے کی طاقت اللہ کے سوا کسی کے پاس نہیں ہے۔ جیسے مریضوں کو شفا دینا یا گناہ معاف کرنا وغیرہ۔

اللہ کے نبی ﷺ نے ہمیں غیراللہ سے کجھ مانگنے سے منع فرمایا ہے۔ آپ نے کہا ہے : ’’تم جب مانگو تو صرف اللہ تعالی سے مانگو اور جب مدد چاہو تو صرف اللہ تعالی سے مدد چاہو‘‘۔ (سنن ترمذی : 2516)

اللہ کے نبی ﷺ کی قسم کھانا :

اللہ کے نبی ﷺ نے ہمیں غیراللہ کی قسم کی کھانے سے منع فرمایا ہے۔ چناں چہ آپ نے کہا ہے : ’’خبر دار! اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو اپنے باپ داداؤں کی قسم کھانے سے منع کرتا ہے۔ جس شخص کو قسم کھانی ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھائے، ورنہ خاموش ہی رہے‘‘۔ (صحیح بخاری : 6646)

دوم : اللہ کے نبی ﷺ کے بارے میں ناروا طرز عمل کے مظاہر

اللہ کے نبی ﷺ کی قلت تعظیم :

کچھ لوگ اللہ کے نبی ﷺ کا دل سے احترام نہیں کرتے، آپ کے طریقے کو عزت کی نظر سے نہيں دیکھتے اور آپ کے بارے میں بات کرتے وقت ادب کے تقاضوں کو پورا نہيں کرتے۔ کچھ لوگ سنت نبوی میں وارد بعض باتوں کا مذاق بھی اڑاتے ہیں۔

اللہ تعالی نے ہمیں اپنے ساتھ باقی لوگوں جیسا معاملہ کرنے یا آپ کے بارے میں باقی لوگوں ہی کی طرح بات کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "تم اللہ تعالیٰ کے نبی کے بلانے کو ایسا بلاوا نہ کرلو جیسا کہ تمہارا آپس میں ایک دوسرے کو ہوتا ہے۔" (سورہ نور : 63)

اللہ کے نبی ﷺ کی سنت کو ٹھکرانا اور آپ کى اقتدا سے گريز کرنا:

یعنی اللہ کے نبی ﷺ کی حدیثوں کو یہ کہہ کر ٹھکرا دینا کہ وہ عقل کے مخالف ہیں یا واقعیت سے مناسبت نہیں رکھتیں۔ اسی طرح آپ کے طریقے کو گھمنڈ میں آکر ٹھکرا دینا، خواہش نفس کا شکار ہوکر آپ کی پیروی سے گریز کرنا یا آپ کو چھوڑ کر دوسرے ہم عصر مشہور لوگوں کی تقلید کرنا۔

اللہ کے نبی ﷺ پر درود و سلام نہ بھیجنا :

اللہ کے نبی ﷺ پر درود بھیجنا آپ کے حقوق کى اقل ترین ادائیگى ہے، جسے ہم ادا کر سکتے ہیں۔ آپ فرماتے ہيں : "بخیل وہ شخص ہے جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ پڑھے۔" (سنن ترمذی : 3546)

اللہ کے نبی ﷺ کی سیرت اور فضائل سے عدم واقفیت :

اللہ کے نبی ﷺ کی سیرت، حیات اور فضائل سے واقفیت آپ سے ہماری محبت، احترام، ادب اور آپ کے اتباع کے جذبے کو دو چند کرنے کا کام کرتی ہے۔

سوم : اہل بیت کے بارے میں غلو اور ناروا سلوک

اہل بیت کی عزت اور ان کا احترام اللہ کے نبی ﷺ کی تعظیم کا ایک حصہ ہے۔ کسی مسلمان کے لیے اہل بیت کے کسی فرد پر طعن و تشنیع، گالی گلوج اور لعنت ملامت کرنا جائز نہيں ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ نے ہمیں اس سے منع فرمایا ہے۔

اسی طرح اہل بیت کے بارے میں بھی غلو کرنا جائز نہيں ہے۔ اس کی کچھ صورتیں اس طرح ہیں :

اہل بیت کے گناہوں سے پاک ہونے کى بات کہنا:

یہ قول قرآن اور سنت نبوی کے خلاف ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : "تمام بنی آدم خطا کار ہیں اور بہترین خطا کار وہ ہیں، جو کثرت سے توبہ کرتے ہیں۔" (سنن ترمذی : 2499، مسند احمد : 13049)

یہ دعوی کہ اہل بیت غیب کی بات جانتے ہيں :

یہ دعوی قرآن کریم کے خلاف ہے۔ غیب کی بات اللہ کے سوا کوئی نہيں جانتا۔ البتہ کچھ نبیوں کو وحی کے ذریعے غیب کی کچھ باتیں بتا دی جاتی تھیں۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے : "وه غیب کا جاننے واﻻ ہے اور اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا. سوائے اس رسول کے جسے وه پسند کرلے۔" (سورہ جن : 26- 27)

ان سے فریاد کرنا :

ان کو فائدہ حاصل کرنے یا نقصان سے بچنے کے لیے پکارنا۔ چوں کہ دعا عبادت ہے، اس لیے جو چیزیں اللہ کے علاوہ کوئی دے نہیں سکتا، ان کو کسی اور سے مانگنا شرک ہے۔

اہل بیت کی قبروں کے سامنے سجدہ ریزہونا اور ان کا طواف کرنا :

کیونکہ سجدہ عبادت ہے، اور عبادت اللہ کے علاوہ کسی اور کے لئے جائز نہیں ہے۔ جب کہ طواف کعبہ کے ساتھ خاص ہے۔

سرگرمیاں :

سرگرمی (1) اعمال کے درمیان فرق کروں گا :

نیچے دیے گئے ہر عمل کے سامنے وہ لفظ لکھیں، جو اس کے لیے مناسب ہو۔

عمل غلو ناروا سلوک سنت

"صلی اللہ علیہ و سلم" کی جگہ پر "ص" لکھنا۔ ناروا سلوک

بیت الخلا میں داخل ہونے کے اذکار کا استہزا۔ ناروا سلوک

کھانے، پینے اور پہناوے میں اللہ کے نبی ﷺ کے طریقے کا اتباع۔ سنت

یہ کہنا کہ اللہ تعالى نے تمام مخلوقات کو نبی ﷺ کی وجہ سے پیدا کیا ہے۔ غلو

صبح اور شام کے اذکار میں اللہ کے نبی ﷺ پر درود بھیجنا۔ سنت

یہ عقیدہ رکھنا کہ حسن اور حسین جنت کے جوانوں کے سردار ہیں۔ سنت

یہ عقیدہ کہ علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ غیب کی بات جانتےتھے۔ غلو

ایک نوجوان حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کو یاد کرکے خود کو زخمی کر لیتا ہے۔ غلو

سرگرمی (1) : میں استنباط کروں گا :

اپنے معلم اور گروپ کی مدد سے اللہ تعالی کے اس قول میں وارد اللہ کے نبی ﷺ کے ادب کے مظاہر کو نکالیں : "اے ایمان والے لوگو! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو(1) اور اللہ سے ڈرتے رہا کرو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے واﻻ، سب کچھ جاننے واﻻ ہے. اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے اوپر نہ کرو اور نہ ان سے اونچی آواز سے بات کرو، جیسے آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو۔ کہیں (ایسا نہ ہو کہ) تمہارے اعمال اکارت جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو." (سورہ حجرات : 1-2)

اندازۂ قدر

سوال 1 : قوسین کے مابین سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

نبی ﷺ کے بارے میں غلو کا ایک مظہر ہے :

(آپ سے شدید محبت - آپ کے نام کی قسم کھانا - صبح و شام آپ پر درود بھیجنا)

اللہ کے نبی ﷺ کے ساتھ ناروا سلوک کا ایک مظہر ہے :

(آپ کی سیرت سے عدم واقفیت - آپ کا نام پر نام رکھنا- آپ کو بشر کہنا)

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے استغاثہ (فریاد کرنا) جائز نہيں ہے, کیوں کہ :

(یہ اولیا کے ساتھ خاص ہے - یہ ایک بری عادت ہے - یہ ایک اللہ کی عبادت ہے)

سوال 2 : خالی جگہوں کو مناسب لفظوں سے پر کریں:

اللہ کے نبی ﷺ نے اپنی تعریف میں غلو کرنے سے منع کرتے ہوئے کہا ہے : ...............................

طواف ـ........................ کے ساتھ خاص ہے۔

سجدہ صرف ..................... کے لئے جائز ہے۔

اہل بیت کے بارے میں غلو کی مختلف شکلوں میں ............... اور ............... بھی داخل ہے۔

سوال 3 : ایک دلیل لکھیں جس سے معلوم ہوتا ہو کہ اللہ کے نبی ﷺ سے یا آپ کے بارے میں بات کرتے وقت آپ کی عزت و احترام کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

سوال 4 : نیچے دی گئی باتوں کا سبب بیان کریں :

اہل بیت گناہوں سے معصوم نہیں ہیں۔

اہل بیت سے ان چیزوں کے لیے استغاثہ (فریاد کرنا)، جنھیں کرنے کی طاقت اللہ کے علاوہ کسی کے پاس نہيں ہے، شرک ہے۔

چوتھا سبق : صحابہ رضی اللہ عنہم کے فضائل اور ان کے حقوق

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

اس بات کی تحدید کر سکيں گے کہ صحابی کسے کہتے ہيں۔

صحابہ کے فضائل بیان کر سکيں گے۔

کچھ صحابہ سے جڑے ہوئے خاص فضائل کا خلاصہ تیار کر سکیں گے۔

مسلمانوں پر صحابہ کے حقوق گنوا سکیں گے۔

صحابہ اور بطور خاص خلفاے راشدین کى اقتدا کریں گے۔

صحابہ کے مقام و مرتبے کا خیال رکھیں گے۔

تمہید :

صحابی سے مراد ہر وہ شخص ہے، جس نے نبى صلى اللہ علیہ سلم پر ایمان رکھتے ہوئے آپ سے ملاقات کی اور اسلام کی حالت میں فوت ہوا۔

صحابہ رضی اللہ عنہم کے فضائل

صحابہ کے بہت سے فضائل ہيں۔ جیسے :

صحابہ کے فضائل :

اللہ نے ان کو نبی کریم ﷺ کی صحبت سے شرف یاب کیا ہے اور انہیں جنت کی خوش خبری دی ہے

اللہ نے ان کے اخلاق و اعمال کی تعریف کی ہے

صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اس امت کے افضل ترین لوگ ہيں

انھوں نے ہم تک قرآن و سنت پہنچانے کا کام کیا ہے

انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی مدد کی ہے اور آپ کے ساتھ مل کر جہاد کیا ہے

اللہ نے ان کو نبی کریم ﷺ کی صحبت سے شرف یاب کیا ہے اور انہیں جنت کی خوش خبری دی ہے :

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں, اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وه سب اس سے راضی ہوئے اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں، جن کے نیچے نہریں جاری ہیں، جن میں یہ ہمیشہ رہیں گے یہ بڑی کامیابی ہے۔" (سورہ توبہ : 100)۔

اللہ نے صحابہ رضی اللہ عنہم کے اخلاق و اعمال کی تعریف کی ہے:

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں کافروں پر سخت ہیں، آپس میں رحم دل ہیں۔ تو انہیں دیکھے گا کہ رکوع اور سجدے کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں ہیں۔ ان کا نشان ان کے چہروں پر سجدوں کے اﺛر سے ہے۔" (سورہ فتح : 29)

صحابہ رضی اللہ عنہم اس امت کے افضل ترین لوگ ہیں :

اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : "سب سے اچھے لوگ میرے زمانے کے لوگ ہيں۔ پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے اور پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے"۔ (صحیح بخاری : 2652، صحیح مسلم : 2533)

صحابہ رضی اللہ عنہم نے ہی ہم تک قرآن کریم اور سنت نبوی پہنچانے کا کام کیا ہے۔ چنانچہ ان کے توسط سے ہی ہم نے اسلام سیکھا ہے۔

صحابہ رضی اللہ عنہم نے اللہ کے رسول ﷺ کی مدد کی، آپ کے ساتھ مل کر جہاد کیا اور دین کی حفاظت کے لیے بڑی شدید مصیبتوں اور مشکل حالات کا سامنا کیا۔

مسلمانوں پر صحابہ رضی اللہ عنہم کے حقوق

مسلمانوں پر صحابہ رضی اللہ عنہم کے بہت سے حقوق ہیں۔ ان میں سے کچھ اہم حقوق نیچے دیے جا رہے ہيں :

صحابہ کے حقوق :

ان سے محبت کرنے اور ان کی عزت وتوقیر کرنے کا واجب ہونا

ان کے لیے دعا و استغفار کرنا اور ان کا نام آنے پر ان سے رضا مندى کا اظہار کرنا یعنی رضی اللہ عنہم کہنا

ان کو گالی گلوج کرنے اور ان کی شان میں گستاخی کرنے کی حرمت

ان کے عام اور خاص فضائل کو ثابت کرنا

ان کا دفاع کرنا اور ا ن کی شان میں گستاخی کرنے والے کا رد کرنا۔

ان سے محبت رکھنے اور ان کی عزت وتکریم کرنے کا واجب ہونا:

کیوں کہ ان کو اسلام قبول کرنے، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے اور روئے زمین پر اسلام کی نشر و اشاعت میں اولیت حاصل ہے۔

ان کے لیے دعا و استغفار کرنا اور ان کا نام آنے پر ان سے رضا مندى کا اظہار کرنا یعنی رضی اللہ عنہم کہنا :

اللہ تعالی نے مہاجرین اور انصار کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے : "اور (ان کے لیے) جو ان کے بعد آئیں جو کہیں گے کہ اے ہمارے رب ! ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی، جو ہم سے پہلے ایمان ﻻچکے ہیں۔" (الحشر: ۱۰)

ان کو گالی گلوج کرنے یا ان کی شان میں گستاخی کرنے کی حرمت :

ایسا کرنا کبیرہ گناہ ہے۔ ایک حدیث میں ہے : "میرے صحابہ کو گالی مت دو ..." (صحیح بخاری : 3673، صحیح مسلم : 2540)

قرآن و سنت میں وارد ان کی فضیلتوں کو ماننا :

فضیلتیں چاہے عام ہوں یا خاص۔ اسی طرح ان کے حالات جاننے، ان کی سیرت پڑھنے، اسے مسلمانوں کے درمیان عام کرنے اور ان کے نیک اعمال کا اقتدا کرنے پر تو جہ دینی چاہیے۔

ان کا دفاع کرنا اور ان کے ساتھ گستاخی کرنے والے کا رد کرنا :

کیوں کہ ان کی تنقیص دراصل دین کی تنقیص ہے۔ کیوں کہ انھوں نے ہی ہم تک نبی ﷺ سے دین پہنچایا ہے۔

سرگرمیاں

سرگرمی نمبر (۱) پڑھوں گا اور جوڑوں گا :

اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے : "(فیء کا مال) ان مہاجر مسکینوں کے لیے ہے جو اپنے گھروں سے اور اپنے مالوں سے نکال دیے گئے ہیں۔ وه اللہ کے فضل اور اس کی رضامندی کے طلب گار ہیں اور اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں۔ یہی راست باز لوگ ہیں. اور (ان کے لیے) جنہوں نے اس گھر میں (یعنی مدینہ) اور ایمان میں ان سے پہلے جگہ بنالی ہے اور اپنی طرف ہجرت کرکے آنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور مہاجرین کو جو کچھ دے دیا جائے اس سے وه اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہیں رکھتے، بلکہ خود اپنے اوپر انہیں ترجیح دیتے ہیں، گو خود کو کتنی ہی سخت حاجت ہو۔ (بات یہ ہے) کہ جو بھی اپنے نفس کے بخل سے بچایا گیا وہی کامیاب (اور بامراد) ہے. اور (ان کے لیے) جو ان کے بعد آئیں جو کہیں گے کہ اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان ﻻچکے ہیں۔" (سورہ حشر : 8-10)

مذکورہ آیتوں کی روشنی میں گروپ (الف) میں دی گئی عبارتوں کو گروپ (ب) میں دی گئی مناسب عبارتوں سے جوڑیں :

عبارت (الف)

(ب) آیتوں میں آئی ہوئی اس سے مناسبت رکھنے والی بات

مہاجرین کے اوصاف اور ان کے اعمال

وہ مہاجروں سے محبت رکھتے ہيں - دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں۔

انصار کے اوصاف اور ان کے اعمال۔ "اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان ﻻچکے ہیں اور ایمان والوں کے بارے میں ہمارے دلوں میں کینہ میں نہ رکھ۔"

مسلمانوں کی مہاجرین و انصار کے حق میں دعا۔ وہ اللہ کے فضل اور اس کی رضامندی کے طلب گار ہيں۔ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مدد کرتے ہيں۔ سچائی۔

سرگرمی نمبر (2) ایک دوسرے کی مدد سے ڈھونڈھ نکالوں گا :

اپنے ساتھی کی مدد سے نیچے دی گئی آیتوں سے حاصل ہونے والی صحابہ کی فضیلت ڈھونڈھ کر نکالیں :

دلیل / صحابہ کی فضلیت

نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے : "حلال و حرام سے متعلق میری امت کا سب سے زیادہ واقف شخص معاذ بن جبل ہے۔" (مسند احمد : 12904) معاذ بن جبل کے علم کی فضیلت۔

اللہ کے نبی ﷺ کا فرمان ہے : "تحقیق کہ اللہ اہل بدر سے واقف ہوا اورر کہا: کہ تم جو چاہو کرو۔ پس تمھارے لیے جنت واجب ہو گئی۔ یا: میں نے تمہاری مغفرت کردی۔" (صحیح بخاری : 3983، صحیح مسلم : 2494)

غزوۂ بدر میں شامل لوگوں کی مغفرت۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

صحابہ سے مراد وہ لوگ ہیں، جو اللہ کے رسول ﷺ کے زمانے میں موجود تھے۔ (×)

اللہ نے مہاجروں کی یہ کہہ کر تعریف کی ہے کہ انھوں نے پورے اخلاص سے کام کیا اور دین کی مدد کی۔ (✓)

مسلمانوں پر صحابہ رضی اللہ عنہم کے معصوم ہونے کا عقیدہ رکھنا واجب ہے۔ (×)

اللہ تعالی نے انصار کی یہ کہہ کر تعریف کی ہے کہ انھوں نے ایثار دکھایا اور فلاح یاب ہوئے۔ (✓)

سوال 2 : نیچے دیے گئے نصوص جن باتوں پر دلالت کرتے ہيں، ان کا انتخاب کریں :

اللہ تعالی کا فرمان : "اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان ﻻچکے ہیں۔" دلالت کرتا ہے :

(صحابہ کی کثرت عبادت پر - صحابہ کے لیے دعا کے مستحب ہونے پر - صحابہ کو برا بھلا کہنے کے حرام ہونے پر)

اللہ کے نبی ﷺ کا فرمان : "سب سے اچھے لوگ میرے زمانے کے لوگ ہیں۔ پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے۔" دلالت کرتا ہے :

(صحابہ کی کثرت تعداد پر - صحابہ کو جنت کی خوش خبری دینے پر - صحابہ کو امت پر فضیلت دینے پر)

سوال 3 : صحابہ رضی اللہ عنہم کے تین حقوق کی تشریح کریں :

پانچواں سبق : نیت اور اس کی اہمیت

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

اس حدیث شریف کو یاد کر لیں گے۔

حدیث کے راوی کا تعارف پیش کر سکیں گے۔

حدیث کے کچھ الفاظ کے معنی بتا سکیں گے۔

حدیث کا عام معنی بتا سکیں گے۔

ہر عمل کو انجام دیتے وقت اخلاص کی قیمت محسوس کریں گے۔

دوسرے لوگوں کو دین کے تئیں بری نیت کے نقصان سے خبردار کریں گے۔

تمہید :

مسجد کے امام نے حفظ قرآن کا ایک مدرسہ قائم کرنے کے لیے چندہ مانگا اور آپ کے دو پڑوسیوں نے لوگوں کے سامنے بڑے بڑے چندے دیے۔ جب کہ دونوں میں سے ایک کی نیت یہ تھی کہ پڑوسی اسے سخی اور فیاض کہیں اور دوسرے کی نیت یہ تھی کہ اسے دیکھ کر لوگ چندہ دیں اور بڑی مقدار میں چندہ جمع ہو جائے۔

اس پس منظر میں آپ کا کیا موقف ہے اور ایک جیسے کام کرنے والے ان دونوں لوگوں میں کیا فرق ہے؟

حدیث کے الفاظ :

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : ’’یقینا اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے اور آدمی کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی ہے۔ جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہوگی، اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہوگی اور جس کی ہجرت دنیا پانے یا کسی عورت سے شادی کے لیے ہوگی، تو اس کی ہجرت اسی کے لیے ہوگی جس کے لیے اس نے ہجرت کی ہے۔" (صحیح بخاری : 1، صحیح مسلم : 1907)

مشکل الفاظ کے معنی :

الفاظ معانی

اعمال مسلمان کے ذریعے کہے جانے والے اقوال اور کیے جانے والے افعال

نیت عمل کو انجام دینے کى نیت اور اس کا محرک

هِجْرَتُهُ (اس کی ہجرت) : جس ہجرت کا ارادہ کیا ہو مکہ سے مدینے منتقل ہونا۔

لِدُنْيَا يُصِيبُهَا : کسی دنیوی نفع یا فائدے کے لیے۔

فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ : ہجرت کا نتیجہ اور ثواب اس مقصد پر موقوف ہوگا، جس نے اسے ہجرت پر آمادہ کیا تھا۔

حدیث کے راوی کا تعارف :

ابو حفص عمر بن خطاب عدوی قرشی۔ فاروق کے لقب سے جانے جاتے ہیں۔

بعثت کے چھٹے سال مسلمان ہوئے۔ بڑے مضبوط اور بہادر انسان تھے اور اپنی قوم میں اہم مقام رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اسلام لانے سے کمزور مسلمانوں کو بڑی مضبوطی ملی۔

دوسرے خلیفۂ راشد اور جنت کی خوش خبری پانے والے دس صحابہ میں سے ایک تھے۔

نماز کی حالت میں حملہ ہونے سے زخمی ہوئے اور اس کے بعد سن 23 ھ میں ماہ ذوالحجہ کے اواخر میں شہید ہو گئے۔

حدیث کا عام معنی :

یہ حدیث اس بات کی تاکید کرتی ہے کہ اعمال نیت سے جڑے ہوئے ہوں، اور اللہ اسی عمل کو قبول کرتا ہے، جو صرف اس کی رضامندی کے حصول کے لیے کیا جائے۔ لہذا ہجرت یا اس طرح کے کسی دوسرے نیک عمل کے پیچھے جس کى نیت اللہ کی خوش نودی ہوگی، اس کا عمل مقبول ہے اور وہ اللہ کے یہاں اجر و ثواب سے بہرہ ور ہوگا۔

اس کے برخلاف جب ہجرت یا اس طرح کے کسی دوسرے نیک عمل کے پیچھے نیت کسی عورت سے شادی کرنے، مال کمانے یا کسی اور صورت میں دنیا حاصل کرنے کی ہوگی، تو اس کی ہجرت اسی کام کے لیے شمار ہوگی، جس کے لیے اس نے ہجرت کی ہے۔ اسے اپنی اس ہجرت یا نیک عمل کا آخرت میں کوئی ثواب نہیں ملے گا۔

یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ جس شخص نے کوئی عبادت کی اور دل میں اللہ کی خوش نودی کے حصول کا ارادہ نہيں رکھا، اس نے خود کو اللہ کے غضب اور اس کے عذاب کا حق دار بنا لیا۔

حدیث کے فوائد :

اللہ کے لئے اخلاص نیت اعمال صالحہ کے قبول ہونے کے لیے شرط ہے۔

کوئی بھی کام کرتے وقت اچھی نیت کا استحضار واجب ہے۔

مسلمان اپنے عمل کے ثواب کا حق دار اخلاص نیت کے مطابق ہوتا ہے۔

صالح نیت عمل صالح کے اجر کو بڑھا دیتا ہے۔ چاہے عمل کم ہی کیوں نہ ہو۔

فاسد نیت عمل صالح کو فاسد کر دیتا اور اس کے ثواب کو ختم کر دیتا ہے۔

سچا مسلمان اپنے سارے اعمال میں اللہ کے لیے نیت خالص رکھتا ہے۔

سرگرمیاں

سرگرمی (1) : میں تجویز پیش کروں گا :

آپ نے یہ جانا کہ نیت اعمال کے قبول ہونے اور اس کے ثواب میں اضافے کی شرط ہے۔ آپ اس سچی نیت کى تجویز پیش کریں، جو نیچے دیے گئے اعمال کو کرتے وقت کی جا سکتی ہے۔

عمل نیت

بیوی اور اولاد پر خرچ کرنے کے ارادے سے کام کرنا۔

حفظ قرآن کے ایک مدرسے میں تعاون دینا۔

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی حیات پر ایک مقالہ لکھنا۔

غذا اور صحت پر انسان کی توجہ۔

سرگرمی نمبر (2) : تجزیہ کروں گا اور تفصیل ووسعت سے کام لوں گا :

اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : "ایک آدمی راستے کے بیچ میں پڑے درخت کی ایک شاخ کے پاس سے گزرا اور اس نے کہا : اللہ کی قسم! میں اسے ضرور ہٹاؤں گا، تاکہ یہ مسلمانوں کو تکلیف نہ دے۔ اس نیکی کی وجہ سے وہ جنت میں داخل کر دیا گیا۔" (صحیح مسلم : 1914)

اس حدیث کی روشنی میں :

اس آدمی نے کون سا عمل انجام دیا؟

اس عمل کے پیچھے محرک کیا ہے؟

اس عمل صالح کا صحیح نیت کے ساتھ جمع ہونے کا کیا نتیجہ ہوگا؟

سرگرمی نمبر (3) : پڑھوں گا اور نتیجہ اخذ کروں گا :

اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : "یہ دنیا بس چار قسم کے لوگوں کے لیے ہے :

ایک تو وہ بندہ جسے اللہ تعالیٰ نے مال و زر بھی عطا کیا اور علم کی دولت سے بھی نوازا۔ پس وہ اپنے مال ودولت کے بارے میں اللہ سے ڈرتا ہے، اس کے ذریعہ اپنے قرابت داروں اور عزیزوں کے ساتھ صلہ رحمی کرتا ہے اور اس میں اللہ کا حق ادا کرتا ہے۔ یہ شخص سب سے بلند مرتبے والا ہے۔

دوسرا وہ بندہ ہے، جسے اللہ نے علم دیا۔ لیکن مال و دولت سے محروم رکھا۔ مگر اس کی نیت سچی ہے۔ وہ کہتا ہے: اگر میرے پاس مال ہوتا، تو میں فلاں شخص جیسا کام کرتا۔ ایسے شخص کو اس کی نیت کے مطابق بدلہ ملے گا اور ان دونوں کا اجر برابر ہوگا۔

تیسرا بندہ وہ ہے، جسے اللہ نے صرف مال دیا لیکن علم سے محروم رکھا۔ وہ علم نہ ہونے کی وجہ سے اپنے مال کے بارے میں بے راہ روی کا شکار ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے مال کے سلسلے میں نہ تو اپنے رب سے ڈرتا ہے، نہ قرابت داروں سے صلہ رحمی کرتا ہے اور نہ ہی اس میں موجود اللہ کے حق کا پاس و لحاظ رکھتا ہے۔ یہ مرتبے کے لحاظ سے سب سے گھٹیا شخص ہے۔

چوتھا شخص وہ ہے، جسے اللہ نے نہ تو مال دیا اور نہ ہی علم۔ وہ کہتا ہے کہ اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں بھی فلاں (گناہ گار) شخص کی طرح کام کرتا۔ اس کا معاملہ اس کی نیت کے مطابق ہوگا اور ان دونوں کا گناہ برابر ہوگا۔ (مسند احمد : 18031، سنن ترمذی : 2325)

اس حدیث کے وہ ٹکڑے نکالیں، جن سے نیچے دی گئی باتیں ثابت ہوتی ہوں :

جس نے کسی اچھے کام کی پکی نیت کر لی اور اسے کر نہ کر سکا، اس کے لیے نیکی لکھی جائے گی۔

جس نے کسی برے کام کی پکی نیت کر لی اور اسے کر نہ سکا، اسے گناہ کا بوجھ اٹھانا پڑے گا۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : قوسین کے مابین سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا لقب تھا :

(صدیق - فاروق - عادل)

نیت نام ہے کسی عمل کے پیچھے چھپے ہوئے قصد وارادہ کا۔ اور نیت جڑی ہوئی ہے :

(واجبات سے - مستحبات سے - تمام اعمال سے)

جب کوئی مسلمان کوئی کام کرے اور مقصد اللہ کی خوش نودی کا حصول نہ ہو، تو وہ :

(گناہ گار ہوگا اور اس کا عمل قبول نہیں ہوگا - اس کے اس اچھے آثار کا ثواب ملے گا - نہ تو اس کا عمل قبول ہوگا اور نہ اسے اس کا گناہ اٹھانا پڑے گا)

سوال 2 : نیچے دی گئی حدیث کو مکمل کریں :

"اعمال کا دار و مدار نیت پر ہے اور ہر آدمی کو وہی ملے گا جس کی ..........۔ جس کی ہجرت .................... کے لیے ہو تو اس کی ہجرت اللہ تعالی اور اس کے رسول کے لیے ہے، اور جس کی ہجرت.......... کے لیے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہو تو اس کی ہجرت .......... ہے، جس کے لیے اس نے ہجرت کی۔"

سوال 3 : نیچے دی گئی ہر عبارت پر ایک ایک تعلیق لکھیں :

صرف نیت کی درستگی ہی عمل کے قبول ہونے کے لیے کافی نہیں ہے۔

فاسد نیت والا شخص دنیا میں دھوکے میں ہے اور قیامت کے دن نقصان اٹھانے والا ہے۔

اچھی نیت صالح عمل کے اجر و ثواب میں اضافہ کرتا ہے۔

چھٹا سبق : نبی ﷺ کے اتباع کا وجوب

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

راوی حدیث کا مختصر تعارف پیش کر سکیں گے۔

حدیث کے کچھ کلمات کے معنی بتا سکیں گے۔

دین میں بدعت کی راہ نکالنے کی سنگینی کو واضح کر سکيں گے۔

طرح طرح کی بدعتوں کی مثال پیش کر سکیں گے۔

معاشرے میں حدیث نبوی کو عام کرنے کی کوشش کریں گے۔

معاشرے میں خرافات کے عام ہونے میں بدعت کے کردار کو سمجھ سکیں گے۔

تمہید :

گزشتہ سبق میں اعمال کا دار و مدار نیت پر ہونے کی حدیث سے ہم نے جانا کہ اعمال کے قبول ہونے کے لیے پہلی شرط نیت ہے۔ اب اس سبق میں اعمال کے قبول ہونے کی دوسری شرط بیان کی جائے گی اور وہ یہ ہے کہ عمل اللہ کے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق کیا جائے۔

حدیث کے الفاظ :

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہيں کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا : ’’جس نے ہمار ے اس امر (دین) میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی، جو اس کا حصہ نہيں ہے، تو وہ مردود ہے۔" (صحیح بخاری : 2697، صحیح مسلم : 1718)

مشکل الفاظ کے معنی الفاظ معنی

أحدث کوئی نئی چیز ایجاد کی۔

أمرنا دین کا معاملہ۔ یعنی : عبادتیں، عقائد اور تشریعات۔

ردٌّ اس کے عمل کو اسی کے منہ پر مار دیا جائے گا۔ قبول نہیں کیا جائے گا اور ثواب نہیں دیا جائے گا۔

راروی حدیث کا مختصر تعارف :

ام المؤمنین عائشہ بنت ابى بکر صدیق۔ اللہ کے نبی ﷺ کی بیوی۔ انھیں صدیقہ کا لقب ملا تھا۔

ہجرت سے نو سال پہلے پیدا ہوئیں۔ بچپن ہی میں مسلمان ہو گئی تھیں۔ سنہ 58ھ میں فوت ہوئیں۔

عائشہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کی تنہا کنواری بیوی تھیں۔ اور وہ آپ ﷺ کے نزدیک آپ کى سب سےزیادہ محبوب بیویوں میں سے ایک تھیں۔

جود و سخا میں مشہور تھیں۔ فقیہ ترین بڑی صائب الرائے عورت تھیں۔ صحابہ رضی اللہ عنہم ان سے دین کے احکام پوچھا کرتے تھے۔

حدیث کا عام معنی :

اللہ کے رسول ﷺ ہمیں شرع حنیف پر جرى ہونے سے خبردار کر رہے ہیں، اور بتا رہے ہیں کہ جس نے اللہ کی عبادت کسی ایسے نئے کام کے ذریعے کی، جسے اللہ کے نبی ﷺ نے مشروع نہیں کیا ہے، تو اس کے اس عمل کو قبول نہیں کیا جائے گا، اور اسے اسی کے منہ پر مار دیا جائے گا۔

حدیث کے فوائد :

دین میں نئی چيز ایجاد کرنے کی حرمت۔

ایسے اعمال قبول نہيں ہوتے، جن کی شریعت میں کوئی اصل نہ ہو۔

بدعتوں اور ان کے نقصانات سے خبردار کرنا۔

نبی ﷺ کی سنت اور آپ کے طریقے کی پابندی کی ترغیب۔

سرگرمیاں

سرگرمی نمبر (1) : اپنی جان کاری میں گہرائی لاؤں گا :

اللہ کے نبی ﷺ خطبے کے دوران فرمایا کرتے تھے : "بلاشبہ سب سے سچا کلام اللہ کی کتاب ہے، سب سے اچھا طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے، سب سے بدترین چیزیں دین کے نام پر وجود میں آنے والی نئی چیزیں ہیں، دین کے نام پر وجود میں آنے والی ہر نئی چیز بدعت ہے، اور ہر بدعت گم راہی ہے۔" (سنن نسائی : 1578)

اس حدیث پر غور کرنے کے بعد :

اللہ کے نبی ﷺ نے حق کے راستے اور گمراہی کے راستے کے درمیان فرق کیسے کیا ہے؟ واضح کیجیے۔

اللہ کے نبی ﷺ نے بدعت کو گمراہی کیوں کہا ہے؟

سرگرمی نمبر (2) : ساتھ مل کر تجویز پیش کروں گا :

بدعت کے معاشرے پر کئی برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ بدعت خرافات اور جہالت کی ترویج و اشاعت کا سبب ہے۔ جب معاشرے میں کوئی بدعت ظاہر ہوتی ہے، تو لوگ اللہ کے نبی ﷺ کی کسی سنت کو چھوڑ دیتے ہيں۔ کسی عالم نے کہا ہے : "جب کوئی امت اپنے دین کے اندر کوئی بدعت ایجاد کرتی ہے، تو اس کے بدلے میں اللہ تعالی ایک سنت اٹھا لیتا ہے۔"

اپنے ساتھیوں کی مدد سے اپنے معاشرے میں پھیلی ہوئی کچھ بدعتوں کا جائزہ لیں، ان کے منفی اثرات کو بیان کریں اور ان کا خاتمہ کرنے کے لیے کچھ تجاویز پیش کریں۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

عائشہ رضی اللہ عنہا علم کی نشر و اشاعت کی بجائے عبادت میں مشغول رہیں۔

اسلام سائنسی اور جدید ٹکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھنے کی دعوت دیتا ہے۔

بدعتیں معاشرے میں جہالت اور خرافات کے عام ہونے کا سبب بنتی ہیں۔

اللہ کے نبی ﷺ کے قول «فِي أَمْرِنَا» سے مراد دینی امور ہیں۔

بدعتی کو اللہ کا تقرب حاصل کرنے کی اپنی اچھی نیت کا ثواب ملتا ہے۔

سوال 2 : اس سبق میں مذکور حدیث کو اپنی یاد داشت سے لکھیے۔

سوال 3 : بدعت اور اہل بدعت کا مقابلہ صحیح سنت نبوی کی نشر و اشاعت کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔ اس بات کی اہمیت واضح کریں اور اپنے معاشرے میں سنت نبوی کو عام کرنے کے وسائل تجویز کریں۔

ساتواں سبق : عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے لئے اللہ کے نبی ﷺ کی وصیت

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

اس سبق میں درج حدیث کو یاد کر لیں گے۔

اس میں آئے ہوئے مشکل الفاظ کے معانی بیان کر سکیں گے۔

راوی حدیث کا مختصر تعارف پیش کر سکيں گے۔

حدیث کا اجمالی معنی بیان کر سکيں گے۔

حدیث کے فوائد بیان کر سکیں گے۔

تقدیر پر ایمان کی اہمیت محسوس کریں گے۔

تمہیدی سرگرمی :

آپ کے ایک ساتھی کو زندگی میں بہت سی مشکلات کا سامنا ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ گناہوں میں ملوث رہتا ہے اور نیکی کے کاموں میں کوتاہی کرتا ہے۔ اس سبق کی روشنی میں اپنے اس ساتھی کو آپ ایک نصیحت کریں۔

حدیث کے الفاظ :

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک دن اللہ کے رسول ﷺ کے پیچھے سوار تھا کہ اسی درمیان آپ نے فرمایا : اے لڑکے! میں تمھیں کچھ باتیں سکھانا چاہتا ہوں۔ اللہ (کے حقوق) کی حفاظت کرو، اللہ تمھاری حفاظت کرے گا۔ تم اللہ (کے حقوق) کا خیال رکھو، اللہ کو اپنے سامنے پاؤ گے، اور جب مانگو تو اللہ ہی سے مانگو، اور جب مدد طلب کرو تو اللہ ہی سے مدد طلب کرو، اور اس بات کو جان لوکہ اگر تمام مخلوقات بھی تمھیں فائدہ پہنچانا چاہیں، تو تمھیں اتنا ہی فائدہ پہنچا سکتے ہیں، جتنا اللہ نے تمھارے لیے لکھ دیا ہے، اور اگر سب مل کر بھی تمھیں نقصان پہنچانا چاہیں، تو تمھیں اتنا ہی نقصان پہنچاسکتے ہیں، جتنا اللہ نے تمھارے لیے لکھ دیاہے۔ قلم اٹھا لیے گئے اور صحیفے خشک ہوگئے۔" (مسند احمد : 2669، سنن ترمذی : 2516)

مشکل الفاظ کے معانی :

الفاظ معنی

احفظ اللهَ يحفظك (اللہ (کے حقوق) کی حفاظت کرو، اللہ تمھاری حفاظت کرے گا)۔ اللہ کی حفاظت اس کی خوش نودی دلانے والے اعمال کے ذریعے کرو، دنیا و آخرت میں اللہ تمھاری حفاظت کرے گا۔

تجده تجاهك (اللہ کو اپنے سامنے پاؤ گے) نیکی کے کاموں میں تمھاری مدد کرے گا اور تم کو برائی سے بچائے گا۔

رُفِعت الأقلام، وجَفَّت الصحف (قلم اٹھا لیے گئے اور صحیفے خشک ہوگئے۔) تقدیریں لکھی جا چکی ہیں۔ اب ان کے اندر کوئی بدلاؤ نہیں ہو سکتا۔

راوی حدیث کا ترجمہ :

عبداللہ بن عباس بن عبدالمطلب۔ اللہ کے رسول ﷺ کے چچازاد بھائی۔

ہجرت سے تین سال پہلے پیدا ہوئے۔ اللہ کے رسول ﷺ کے انتقال کے وقت 13 سال کے تھے۔ اللہ کے نبی ﷺ نے ان کے حق میں یہ دعا فرمائی تھی : "الے اللہ! اسے دین کی سمجھ عطا فرما اور اسے تفسیر سکھا۔" (مسند احمد : 2397)

طلب علم کے راستے میں محنت کی یہاں تک کہ عالم بن گئے۔ علم اتنا وسیع تھا کہ بحر یعنی سمندر کہلائے۔ علم تفسیر میں مہارت کی وجہ سے ترجمان القرآن بھی کہلائے۔ قران کی سب سے زیادہ تفسیر کرنے والے صحابی تھے۔

طائف میں سنہ 68 میں فوت ہوئے۔ اس وقت عمر 70 سال تھی۔

حدیث کا عام معنی

اوامر کی پابندی اور نواہی سے اجتناب کے ذریعے اللہ کی حفاظت کرو، اللہ دنیا میں برائیوں سے اور آخرت میں عذاب سے تمھاری حفاظت کرے گا۔

جب کچھ مانگنا ہو تو صرف اللہ سے مانگو۔ کیوں کہ وہی اصل دینے والا ہے۔ اگر کسی مخلوق سے کوئی ایسی چیز مانگی، جسے دینے کی اس کے پاس طاقت ہو، تو دل میں یہ بات بیٹھا کر رکھو کہ وہ سبب ہے اور اللہ تعالی مسبب ہے۔

جب کسی مخلوق سے کسی ایسے کام میں مدد مانگو، جو اس کے بس کا ہو، تو یاد رکھو کہ وہ سبب ہے اور حقیقی مدد صرف اللہ کی جانب سے ہوتی ہے۔

ساری مخلوقات اگر ایک جگہ جمع ہو کر تم کو نفع پہنچانا چاہیں، تو تمھیں اتنی ہی مدد پہنچا سکتی ہیں، جتنی اللہ نے تمھارے لیے لکھ رکھی ہے۔ اسی طرح ساری مخلوقات اگر ایک جگہ جمع ہو کر تم کو نقصان پہنچانا چاہیں، تو تمھیں اتنا ہی نقصان پہنچا سکتی ہیں، جتنا اللہ نے تمھارے لیے لکھ رکھا ہے۔

حدیث کے فوائد :

اللہ کے نبی ﷺ کو جامع ترین الفاظ میں بات کرنے کی صلاحیت دی گئی تھی۔ آپ کم الفاظ میں بھی بہت زیادہ معانى کو بیان کردیا کرتے تھے۔

بچوں کو عقیدہ سکھانے کی اہمیت، کیوں کہ مسلمان کی شخصیت سازی میں اس کا بہت بڑا اثر رہتا ہے۔

دعا کے ساتھ صرف اللہ سے لو لگانے کی ضرورت۔

اسباب اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ پر بھروسہ کرنے کی ضرورت۔

قضا و قدر پر ایمان رکھنے اور نیکی کے کاموں میں سستی سے دور رہنے کا وجوب۔

سرگرمیاں

سرگرمی نمبر (1) : غور کروں گا اور جوڑوں گا :

اس سبق میں مذکور حدیث کو اللہ تعالی کے اس قول کے ساتھ جوڑیں : "اور یہ کہ مسجدیں صرف اللہ ہی کے لیے خاص ہیں، پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔ٍ" (سورہ جن : 18)

مذکورہ حدیث اور آیت کریمہ دونوں میں ایک مشترک بات غیراللہ کو پکارنے کی ممانعت ہے۔

سرگرمی نمبر(2) : غور کروں گا اور سبب بتاؤں گا :

حدیث میں جو بات کہی گئی ہے، کیا وہ ان لوگوں پر صحیح بیٹھتی ہے اور کیوں؟

ایک نوجوان بلا کسی عذر کے نماز دیر سے پڑھتا ہے۔

ایک شخص نیک لوگوں کی قبروں کے پاس جاکر ان سے ضرورت کی چیزیں مانگتا ہے۔

ایک شخص کوئی مصیبت آنے پر بے چینی اور ناراضگی کا اظہار کرتا ہے۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

ایک شخص مشکلات کے حل کے لیے جادو گر سے مدد مانگتا ہے۔

بچے کی تربیت عقیدے کی بنیادی باتوں کے ساتھ کرنا ضروری ہے۔

اسباب اختیار کرنا توکل کے مخالف ہے۔

دوا علاج قضا و قدر پر ایمان کے منافی نہیں ہے۔

مردوں کو پکارنا اور ان سے ضرورت کی چیزیں مانگنا شرک ہے۔

سوال 2 : قوسین کے مابین سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

اللہ کے نبی ﷺ کا فرمان : "قلم اٹھا لیے گئے ہیں اور صحیفے خشک ہو چکے ہیں۔" کنایہ ہے :

(تقدیریں لکھی ہونے کا - صرف اللہ سے مانگنے کا - مخلوقات کی مدد مانگنے سے گريز کرنے کا)

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا لقب تھا :

(فقیہ امت - حافظ حدیث - ترجمان القرآن)

سبق کے فوائد :

(حفظ قرآن کا واجب ہونا - اللہ کے نبی ﷺ کا جامع ترین الفاظ میں بات کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہونا - لوگوں کے اجتماع سے خوف)

سوال 3 : نیچے دی گئی حدیث میں خالی جگہوں کو بھریں :

"اللہ (کے حقوق) کی حفاظت کرو، ........................۔ تم اللہ (کے حقوق) کا خیال رکھو ، اللہ کو اپنے سامنے پاؤ گے اور جب مانگو................. اور جب مدد طلب کرو......................۔"

سوال 4 : نیچے دیے گئے دونوں سوالوں کے جواب دیجیے :

اس حدیث کے ان دو ٹکڑوں کے کیا معنی ہیں : "احْفَظِ اللهَ يَحْفَظْكَ" اور "تَجِدْهُ تُجَاهَكَ"۔

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نفع اور نقصان اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اس کی وضاحت کریں۔

آٹھواں سبق : استقامت کی اہمیت

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

اس حدیث کو یاد کر لیں گے۔

راوی حدیث کا مختصر تعارف پیش کر سکیں گے۔

استقامت کے معنی واضح کر سکیں گے۔

استقامت کو عملی جامہ پہنانے کے وسائل بتا سکیں گے۔

استقامت کو لازم جان کر آخرت میں اللہ کی خوش نودی حاصل کر سکیں گے۔

حدیث کے الفاظ :

سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام کے بارے میں ایک بات بتا دیں، جس کے بارے میں آپ کے بعد کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہ پڑے۔ آپ نے کہا : "کہو کہ میں اللہ پر ایمان لایا پھر اس پر استقامت اختيار كرو۔" (صحیح مسلم : 38)

مشکل الفاظ کے معانی :

الفاظ معنی

قولًا لا أسأل عنه أحدًا بعدك (ایسی بات، جس کے بارے میں آپ کے بعد کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہ پڑے۔ ) ایسی واضح اور کفایت بخش بات کہ کسی دوسرے سے پوچھنے کی ضرورت نہ پڑے۔

قل: آمنت بالله (کہو کہ میں اللہ پر ایمان لایا۔) اللہ پر ایمان کا اعلان کر دو، زبان سے اس کا ذکر کرو اور دل میں ایمان کے معانی کا استحضار رکھو۔

استقم (استقامت اختيار كرو۔) پابندی سے نیکی کے کام کرتے رہو اور گناہوں سے بچتے رہو۔

راوی حدیث کا تعارف :

ابو عمرہ سفیان بن عبداللہ ثقفی۔

اللہ کے نبی ﷺ کے پاس آنے والے طائف کے وفد میں شامل تھے۔

اللہ کے رسول ﷺ اور آپ کے بعض صحابہ جیسے عمر بن خطاب اور ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہم جیسے صحابہ سے حدیث روایت کی ہے۔

عمر بن خطاب کے دور خلافت میں طائف کے امیر رہے۔

حدیث کا عام معنی :

یہ حدیث اللہ کے رسول ﷺ کی جامع ترین حدیثوں میں سے ایک ہے، جس میں ایمان اور اسلام کے افعال بیان کیے گئے ہيں۔ جب ایک صحابی نے اللہ کے نبی ﷺ سے ایک ایسی بات پوچھی، جس میں اسلام کے کام بیان کیے گئے ہوں، تو آپ نے ان کو زبان سے اسلام کا اعلان کرنے، دل میں ایمان کی تجدید کرنے اور گناہوں سے اجتناب و نیکی کے کاموں میں دل چسپی کے توسط سے ایمان کے راستے پر قائم رہنے کا حکم دیا۔

اس حدیث کے فوائد :

نیکی کے کاموں کو لازم جان کر اور گناہوں سے اجتناب کے ذریعہ استقامت کا وجوب۔

استقامت کی فضیلت و اہمیت۔

علم نافع حاصل کرنے اور اس کے بارے میں پوچھنے کا حرص۔

اللہ پر ایمان اور اس کے دین اسلام کا اظہار ایک مسلمان کے لیے سرمایۂ افتخار ہے۔

عزم و سچائی کے ساتھ اور اللہ کی مدد حاصل کرتے ہوئے استقامت حاصل کرنے کی کوشش کرنا۔

سرگرمیاں

سرگرمی نمبر (1) : جوڑوں گا اور نتیجہ اخذ کروں گا :

ارشاد ربانی ہے: "(واقعی) جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے، پھر اسی پر قائم رہے، ان کے پاس فرشتے (یہ کہتے ہوئے) آتے ہیں کہ تم کچھ بھی اندیشہ اور غم نہ کرو، (بلکہ) اس جنت کی بشارت سن لو، جس کا تم وعده دیے گئے ہو۔" (سورہ فصلت : 30) اس آیت کے مطابق استقامت کا بدلہ کیا ہے؟

سرگرمی نمبر (2) : باہمی تعاون سے ڈھونڈھ کر نکالوں گا :

نیچے دی گئی حدیثوں میں بیان کردہ وسائل استقامت کو ڈھونڈھ کر نکالیں :

حدیثیں استقامت کو بھر پور انداز میں اختیار کرنے کے وسائل

نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: "حرام چیزوں سے بچو، سب سے بڑے عبادت گزار بن جاؤگے۔" (سنن ترمذی : 2305) اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے بچنا۔

اللہ کے نبی ﷺ نے رب عزت سے روایت کرتے ہوئے کہا ہے : "میرا بندہ جن چیزوں سے مجھ سے قریب ہوتا ہے ان میں سب سے محبوب وہ چیزیں ہیں جو میں نے اس پر فرض قرار دی ہیں۔" (صحیح بخاری : 6502) اللہ کی فرض کی ہوئی چیزوں کی ادائیگی۔

نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: ”آدمی اپنے دوست کے دین پر ہو تا ہے، لہٰذا تم میں سے ہر شخص کو یہ دیکھ لینا چاہیے کہ وہ کس سے دوستی کررہا ہے۔“ (سنن ترمذی : 2378) صالح صحبت

نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: "تمام بنی آدم خطا کار ہیں اور بہترین خطا کار وہ ہیں، جو کثرت سے توبہ کرتے ہیں"۔ (سنن ترمذی : 2499) پابندی سے توبہ و استغفار کرنا۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

شرعی اوامر کا علم استقامت کی بنیادوں میں سے ایک بنیاد ہے۔ (✓)

فرشتے اہل استقامت کو جنت کی خوش خبری دیتے ہيں۔ (✓)

صحبت اور استقامت کے درمیان کوئی تعلق نہيں ہے۔ (×)

سوال : اپنی یاد داشت سے اس سبق میں درج حدیث کو لکھیں۔

سوال 3 : اس حدیث کے فہم کی روشنی میں نیچے دیے سوالوں کے جواب دیں :

استقامت کا معنی واضح کریں۔

ایمان کا حکم استقامت کے حکم سے پہلے آيا ہے۔ اس کی کیا تفسیر کریں گے؟

اس حدیث کے دو فوائد لکھیں۔

نواں سبق : لا یعنی چیزوں کو چھوڑ دینا

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

حدیث کی مختصر تشریح کر سکیں گے۔

حدیث کے فوائد بیان کر سکیں گے۔

لایعنی چيزوں سے دور رہنے کے فوائد بیان کر سکیں گے۔

وہی کام کرنے کی کوشش کریں گے، جو مفید ہو۔

اس حدیث کو یاد کر لیں گے۔

تمہید :

اس موقف کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے : (سعید نے اپنے دوست احمد سے اس کے پریوار سے متعلق کچھ باتيں پوچھیں، تو احمد نے ناراض ہوکر سعید سے کہا: تم اپنے کام پر دھیان دو، اور ان چیزوں میں دخل نہ دو، جن سے تم کو سروکار نہ ہو۔)

دو دوستوں کے درمیان ہونے والی اس گفتگو کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ اس سبق کو پڑھنے کے بعد اپنے جواب کا جائزہ لیں۔

حدیث کے الفاظ :

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”آدمی کے اسلام کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ اس چیز کو چھوڑ دے جس سے اسے کوئی سروکار نہیں۔“ (سنن ترمذی : 2317، سنن ابن ماجہ : 3967)

راوی کا تعارف :

ان كا نام عبد الرحمن بن صخر دوسی تھا۔ اللہ کے نبی ﷺ نے ابو ہریرہ کنیت رکھی تھی۔ وجہ یہ تھی کہ وہ ساتھ میں بلی لیے پھرتے تھے۔

سنہ 7ھ میں مسلمان ہوئے۔ آپ ﷺ کی وفات تک ہمیشہ آپ کے ساتھ رہے۔

اللہ کے نبی ﷺ نے ان کے لیے دعا کی تھی کہ اللہ ان کو مضبوط حافظہ عطا کرے، اور مومن بندوں کا محبوب بنا دے۔ چنانچہ وہ سب سے زیادہ حدیث یاد رکھنے اور روایت کرنے والے صحابہ میں شامل تھے۔ انھوں نے اللہ کے رسول ﷺ سے پانچ ہزار سے زیادہ حدیثیں روایت کی ہیں۔

علما ئے صحابہ میں سے تھے اور دعوت و تبلیغ اور تعلیم و تربیت کے میدان میں سب سے زیادہ کام کرنے والے صحابہ میں شامل تھے۔

سنہ 59ھ میں وفات پائی۔

حدیث کا عام معنی :

ایک مسلمان کا برتاؤ دوسرے لوگوں کے ساتھ کیسا ہونا چاہیے، اس حدیث سے اس کا ایک اہم ترین اصول سامنے آتا ہے۔ اس حدیث میں اللہ کے رسول ﷺ نے ہماری رہ نمائی اس جانب فرمائی ہے کہ ایک مومن کے کمال ایمان کا ایک حصہ یہ ہے کہ وہ اپنے کاموں سے مطلب رکھے۔ انہی باتوں پر دھیان دے، جو اس کی دنیا و آخرت کے لیے مفید و کار آمد ہوں۔ دوسروں کے معاملات میں دخل نہ دے۔ اس حدیث میں امت اسلامیہ سے کہا گیا ہے کہ اس کا دھیان اس چیز پر رہے، جو اس کے لیے مفید ہو اور اسے اللہ سے قریب کرتی ہو۔

حدیث کے فوائد :

انسان کے کامل مومن ہونے کی ایک نشانی یہ ہے کہ وہ اپنے سروکار کی چیزوں سے مطلب رکھے۔

بے سروکار کی چیزوں کو ترک کرنے سے انسان کا دین محفوظ رہتا ہے۔

لغو اور فضول چیزوں سے دوری انسان کے کمال اسلام و کمال عقل کی دلیل ہے۔

وقت کو مفید کاموں میں لگانے کی ترغیب۔

یہ حدیث نہ تو اچھے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنے سے روکتی ہے، اور نہ رشتے داروں اور دوستوں سے ان کے احوال پوچھنے سے منع کرتی ہے، بلکہ اس کا مقصد بس دوسروں کے ذاتی معاملات میں دخل اندازی سے روکنا ہے۔

سرگرمیاں

سرگرمی نمبر (1) : میں ایک نصیحت کروں گا :

خود اپنے آپ میں مصروف رہنے سے وقت بچتا ہے، نیکی کے کاموں میں اضافہ ہوتا ہے، لگن اور عمل کا جذبہ عام ہوتا ہے، آپسی اختلافات اور جھگڑے کم ہوتے ہیں۔ مذکورہ باتوں کی روشنی میں نیچے مذکور لوگوں کے نام ایک ایک پیغام بھیجیں :

ایک لڑکی اپنی ہم جماعت لڑکیوں کے لباس دیکھتی اور ان کی پسند پر کمنٹ کرتی رہتی ہے۔

ایک شخص خود کو فٹ بال کھلاڑیوں سے متعلق خبریں جٹانے اور ان کی شخصی زندگی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں مشغول رکھتا ہے۔

ایک شخص سامنے رکھے جانے والے کسی بھی موضوع پر بحث میں حصہ لے لیتا ہے۔ چاہے جانتا ہو یا نہ جانتا ہو۔

ایک شخص اپنے پڑوسیوں سے پوچھتا ہے کہ اس نے دوپہر اور رات کے کھانے میں کیا کھایا ہے؟

سرگرمی نمبر(2) : غور کروں گا اور جواب دوں گا :

ہم نے اس حدیث سے غیر مفید چیزوں کو چھوڑنا سیکھا۔ اس میں سوچنا، بات کرنا اور سننا وغیرہ سب کچھ داخل ہے۔

اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر نیچے دیے گئے اعضا سے صادر ہونے والے غیر مفید کاموں کی کچھ مثالیں لکھیے :

عضو اس عضو سے صادر ہونے والا غیر مفید عمل

عقل

آنکھ

کان

زبان

سرگرمی نمبر (3) : دیکھوں گا اور چرچا کروں گا :

اس ویڈیو کو دیکھیں اور اس کے بعد اپنے معلم سے اس کے فوائد کے بارے میں چرچا کریں۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : قوسین کے مابین سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے : ”آدمی کے اسلام کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ اس چیز کو چھوڑ دے، .........۔“

(جس کا وہ ادراک نہ کر سکے - جس سے اسے سروکار نہ ہو - جسے وہ پسند نہ کرتا ہو)

سروکار نہ رکھنے والی چیزوں کو چھوڑ دینے سے مسلمان کو فائدہ یہ ہوگا کہ :

(وقت بچے گا - دین محفوظ رہے گا - وقت بھی بچے گا اور دین بھی محفوظ بھی رہے گا)

اللہ کے نبی ﷺ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے حق میں دعا کی تھی :

(مضبوط حافظے کی - کثرت مال کی - جہاد میں بہادری کی)

اللہ کے نبی ﷺ کے قول "حُسْنِ إِسْلَامِ المرْءِ" سے مراد ہے :

(اسلام کی معرفت - کمال اسلام -دخول اسلام)

لا یعنی چیزوں میں مشغول ہونے کی مثال ہے :

(فن کاروں کی خبروں سے دل چسپی - مریضوں کی عیادت - مسلمانوں کی خبریں معلوم کرتے رہنا)

سوال 2 : نیچے دیے گئے سوالوں کا جواب دو :

حدیث کی مختصر تشریح کریں : ”آدمی کے اسلام کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ اس چیز کو چھوڑ دے جس سے اسے کوئی سروکار نہیں۔“

اچھے کاموں میں باہمی امداد لایعنی چیزوں کو ترک کرنے کے مخالف نہیں ہے۔ اس کی وضاحت کریں۔

اس حدیث سے حاصل ہونے والے دو فوائد لکھیں۔

اکائی ؛ فقہ احکام

پہلا سبق : حلال کمائى اور حرام کمائی

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

حلال کمائی اور حرام کمائی کے درمیان فرق کر سکیں گے۔

حلال کمائی کی فضیلت دلیل کے ساتھ بیان کر سکیں گے۔

حلال کمائی اور حرام کمائی کے درمیان فرق کر سکیں گے۔

حرام کمائی سے دور رہيں گے۔

تمہید :

اسلام نے مال کمانے کی ترغیب دی ہے، کیوں کہ مال انسانی ضرورتوں کی تکمیل کا سبب ہے۔ انسان کے پاس مال ہو تو وہ باعزت زندگی گزار سکتا ہے اور اسے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے یا ان کے سامنے فروتنی وانکساری اختیار کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔

اول : حلال کمائی

حلال کمائی : حلال کمائی کا مطلب ہے شریعت کے مباح کردہ طریقوں اور ذرائع سے مال کمانا۔ جیسے تجارت، زراعت، ہنر، میراث اور وصیت وغیرہ کے ذریعے مال حاصل کرنا۔

حلال کمائی کی فضیلت :

دنیوی سعادت و اخروی کام رانی :

اللہ کے نبی ﷺ فرماتے ہیں : "”وہ شخص کامیاب ہو گیا جو اسلام لایا، اسے بقدر کفایت رزق مل گیا اور اللہ نے اسے جو کچھ دیا اس پر اسے قناعت دے دی“۔ (صحیح مسلم : 1054)

حدیث میں وارد لفظ "كفافًا" کا معنى ہے: اتنا رزق جو انسان کے لیے کافی ہو اور اسے کسی کے سامنے دست سوال دراز کرنے سے بچائے۔

روزی کمانے کی تگ و دو اللہ کی قربت کا ذریعہ ہے :

اسلام نے حلال کمائی کی تگ و دو کو عبادت قرار دیا ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : " بعض دوسرے زمین میں چل پھر کر اللہ تعالیٰ کا فضل (یعنی روزی بھی) تلاش کریں گے اور کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کی راه میں جہاد بھی کریں گے۔" (سورہ مزمل : 20)

حرام چیزوں سے بچنا :

جب انسان حلال طریقے سے مال کمانے میں مشغول ہو جاتا ہے، تو اس کی ضرورتیں پوری ہو جاتی ہیں اور حرام مال کے چکر میں پڑنے سے بچ جاتا ہے۔

دوم : حرام کمائی

حرام کمائی : حرام کمائی سے مراد ہے شریعت کے ذریعے حرام کردہ طریقوں اور ذرا‏ئع سے مال کمانا۔ جیسے دھوکہ، ذخیرہ اندوزی، رشوت، جوا، سود اور حرام تجارتوں کے ذریعے مال کمانا۔

کچھ غیر مشروع کمائی کے طریقے :

دھوکہ اور جعل سازی :

اس سے مراد یہ ہے کہ بائع سامان میں موجود کوئی عیب چھپائے یا اسے حقیقت کے برخلاف دکھائے۔ ایک بار ایسا ہوا کہ اللہ کے رسول ﷺ ایک غلہ بیچنے والے کے پاس سے گزرے اور اپنا ہاتھ غلے کے اندر گھسایا تو تری محسوس ہوئی، تو فرمایا : "غلے والے! یہ کیا ہے؟" اس نے جواب دیا : اے اللہ کے رسول! اس پر بارش کے پانی کا اثر ہے۔ اس کا جواب سننے کے بعد اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : "تم نے بھیگے ہوئے غلوں کو اوپر کیوں نہیں رکھا کہ لوگ دیکھ پاتے؟ جس نے دھوکہ دیا، وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔" (صحیح مسلم : 102)

دھوکے کی ایک بدترین صورت کام میں دھوکہ ہے۔ کام میں دھوکہ یہ ہے کہ انسان کو کام اچھے سے نہ آئے، اس میں جان بوجھ کر کوئی کمی چھوڑ دے یا کام کرانے والے کی عدم واقفیت کا فائدہ اٹھاکر کہہ دے کہ اس نے کسی چیز کو ٹھیک کر دیا ہے، جب کہ حقیقت میں ٹھیک نہیں کیا ہے۔

غبن :

اس سے مراد ہے سامان کو اس کی معتاد قیمت سے بہت زیادہ قیمت پر ایسے شخص سے بیچنا جو اس کی قیمت سے واقف نہ ہو۔ مثلا کسی کپڑے کی قیمت 100 درہم ہو اور اسے 200 درہم میں بیچ دے۔

ذخیرہ اندوزی :

اس سے مراد ہے ضروری سامانوں، جیسے کھانے پینے کی چیزوں کو ان کی قیمت میں نمایاں اضافے کے لیے لوگوں سے روکے رکھنا اور جب قیمت بہت زیادہ بڑھ جائے، تو بڑھی ہوئی قیمت پر بیچنا۔

رشوت :

رشوت سے مراد ہے کسی دوسرے کا حق حاصل کرنے کے لیے کسی کو مال دینا۔

مثلا کوئی شخص قاضی کو اس ارادے سے رشوت دے کہ وہ غلط فیصلہ کرے یا کسی ذمے دار کو اس نیت سے رشوت دے کہ اس سے کسی دوسرے کا حق حاصل کر لے۔ رشوت دینا اور لینا کبیرہ گناہ ہے۔ ایک حدیث ميں ہے : "اللہ کے رسول ﷺ نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی ہے۔" (سنن ابوداؤد : 3580، سنن ترمذی : 1337)

کسی حرام چیز کو بیچنا یا کوئی حرام کام کرنے کی اجرت حاصل کرنا :

مثلا کوئی شخص حرام چیزیں، جیسے شراب، نشہ آور اشیا یا فتنہ میں ڈالنے والى تصویریں اور کلپس بیچے یا ان کاموں کو کرنے کی اجرت لے۔

سرگرمیاں

سرگرمی نمبر (2) : میں غور کروں گا اور جواب دوں گا :

اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : ”قیامت کے دن کسی شخص کے قدم اس وقت تک اپنی جگہ سے نہ ہٹیں گے جب تک کہ اس سے اس کی عمر کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے كہ اس نے اسے کن چیزوں میں ختم کیا؟ اور اس کے علم کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے کہ اس نے اسے کن چیزوں میں استعمال کیا؟ اور اس کے مال کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے کہ اس نے اسے کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟ اور اس کے جسم کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے کہ اسے کن چیزوں میں بوسیدہ کیا؟“۔ (سنن ترمذی : 2417) اس حدیث پر غور کریں اور اس کے بعد نیچے دیے گئے سوالوں کا جواب دیں :

یہ بتائيں کہ قیامت کے دن مال کے بارے میں خاص طور سے دو سوال کیوں ہوں گے؟

کیوں کہ مال سے جڑے ہوئے دو پہلو ہیں؛ ایک مال کمانے کا پہلو اور دوسرا مال خرچ کرنے کا پہلو۔

سبق میں مذکور کاموں کے علاوہ تین کام بتائيں، جن سے آپ حلال مال کما سکتے ہیں؟

سرگرمی نمبر (2) : واضح کروں گا اور سبب بیان کروں گا :

نیچے دی گئی مثالوں میں کمائی کا حکم لکھیں اور وجہ بھی بیان کریں :

کمائی کی مثال کمائی کا حکم وجہ

ایک شخص کی وفات ہو گئی تو اس کے بیٹوں نے آپس میں اس کا ترکہ بانٹ لیا۔ حلال کیوں کہ وہ میراث ہے۔

ایک شخص نے اپنے مال کے ایک حصے کی وصیت اپنے پڑوسی کے حق میں کر دی۔ حلال کیوں کہ یہ جائز وصیت ہے۔

ایک ڈاکٹر نے اسپتال کے کچھ اوزار اپنے پرائیویٹ کلینک میں استعمال کے لیے لے لیے حرام کیوں کہ یہ غبن اور دھوکہ ہے۔

ایک شخص نے زیادہ نفع کمانے کے لیے دودھ میں پانی ملا دیا۔ حرام کیوں کہ یہ دھوکہ ہے۔

ایک شخص جانور پالتا ہے اور اس کا دودھ بیچتا ہے۔ حلال کیوں کہ یہ بیع ہے۔

ایک نوجوان نے طاقت کے بل پر لوگوں کا مال لے لیا۔ حرام کیوں کہ یہ غصب ہے۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) كا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

بیچتے وقت سامان کے کچھ عیوب چھپانا جائز ہے۔ (✖)

غبن نام ہے قیمت بڑھانے کے ارادے سے سامان روک کر رکھنے کا۔ (✖)

حرام چیزوں کی تجارت حرام ہے۔ (✓)

سوال 2 : قوسین کے مابین سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

حلال کمائی کی ایک مثال :

(تجارت - کہانت - ذخیرہ اندوزی)

حدیث : "جس نے دھوکہ دیا، وہ مجھ میں سے نہیں ہے" دلالت کرتی ہے :

(ذخیرہ اندوزی کے حرام ہونے پر - جوا کے حرام ہونے پر - دھوکہ کے حرام ہونے پر)

سامان کو معمول کى قیمت سے زیادہ قیمت پر قیمت سے ناواقف شخص کے ہاتھ پر بیچنا :

(دھوکہ ہے - غبن ہے - ذخیرہ اندوزی ہے)

جب کوئی شخص کسی دوسرے کا حق حاصل کرنے کے لیے کسی کو مال دے، تو یہ :

(رشوت ہے - غبن ہے - جعل سازی ہے)

سوال 3 : نیچے دیے گئے دونوں سوالوں کے جواب دیجیے :

حلال کمائی اور حرام کمائی کے درمیان فرق کیجیے۔

حلال کمائی کی فضیلت کی ایک دلیل لکھیے۔

دوسرا سبق : خرید و فروخت کے احکام

اغراض و مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

بیع منعقد ہونے کی کیفیت واضح کر سکیں گے۔

بیع کے صحیح ہونے کی شرطیں گنوا سکیں گے۔

حلال کمانے کے سلسلے میں اپنی ذمے داری محسوس کریں گے۔

اپنے معاملات میں خرید و فروخت کے احکام کی پابندی کریں گے۔

اول : بیع منعقد ہونے کی کیفیت

بیع ان دو چیزوں میں سے کسی ایک سے منعقد ہوتی ہے :

قول : مثلا بائع (بیچنے والا) کہے کہ میں نے یہ سامان تمھیں اتنی قیمت پر بیچ دیا، اور مشتری (خریدنے والا) کہے کہ میں نے قبول کر لیا یا خرید لیا۔

فعل (لین دین) : مثلا مشتری بائع کے سامنے سے سامان لے لے اور اسے سامان پر لکھی ہوئی قیمت ادا کر دے۔ دونوں کے درمیان کوئی بات چیت نہ ہو۔

دوم : بیع کی شرطیں :

پہلی شرط : دونوں سودا کرنے والوں کی رضامندی :

دونوں سودا کرنے والوں سے مراد خریدنے والا اور بیچنے والا ہے۔ کسی ایک کو سودا کرنے پر مجبور کیا جائے، تو بیع درست نہیں ہوگی۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "اے ایمان والو! اپنے آپس کے مال ناجائز طریقہ سے مت کھاؤ، مگر یہ کہ تمہاری آپس کی رضا مندی سے خرید وفروخت ہو۔" (سورہ نساء : 29)

دوسری شرط : دونوں سودا کرنے والوں کا عقل مند، بھلے برے کی تمیز رکھنے والا اور سن رشد کا حامل ہونا :

بیع کے صحیح ہونے کے لیے ضرری ہے کہ خریدنے اور بیچنے والے دونوں عقل مند، بھلے برے کی تمیز رکھنے والے اور سن رشد کو پہنچے ہوئے ہوں۔ پاگل، بچے یا بے وقوف کے ذریعے کی گئی خرید و فروخت درست نہيں ہوگی۔

تیسری شرط : جس سامان کا سودا ہو رہا ہو، اس کی ملکیت :

یعنی بیچنے والا بيچـے جا رہے سامان کا مالک ہو۔ دوسرے کی ملکیت میں موجود سامان کو بیچنا درست نہيں ہوگا۔ ہاں، مالک اجازت دے دے تو اور بات ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ نے حکیم بن حزام سے فرمایا : "اس چیز کو نہ بيچو جو تمھارے پاس نہ ہو۔" (سنن ابوداؤد : 3503، سنن ترمذی : 1232)

یعنی جس چیز کے تم مالک نہيں ہو، اسے مت بیچو۔

چوتھی شرط : سامان کا مباح ہونا :

حرام سامان، جیسے شراب اور سور وغیرہ کو بیچنا جائز نہيں ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : "اللہ جب کسی چیز کا کھانا حرام قرار دیتا ہے، تو اس کی قیمت کو بھی حرام کر دیتا ہے۔" (مسند احمد : 2678)

پانچویں شرط : سامان اور اس کی قیمت کا علم ہونا :

کوئی مجہول شی خریدنا جائز نہیں ہے۔ جیسے ایسی گاڑی خریدنا جسے خریدنے والے نے دیکھا نہ ہو یا وہ اس کے اوصاف سے واقف نہ ہو یا نامعلوم گنتى والے رقم سے گاڑی خریدنا۔

چھٹی شرط : بیچے ہوئے سامان اور قیمت کو سونپنے کی طاقت ہونا :

کیوں کہ جس چيز کو حوالہ کرنے کی طاقت نہ ہو، اسے بیچنا معدوم کو بیچنے کے حکم میں ہے اور معدوم کی بیع درست نہیں ہے۔ مثلا مچھلی کو شکار کرنے سے پہلے پانی ہى میں بیچ دینا۔

سرگرمیاں

سرگرمی نمبر (1) : مناقشہ کروں گا اور جواب دوں گا :

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : "ہمارے بازار میں صرف وہی کاروبار کر سکتا ہے جس کے پاس دین کا علم ہو"۔ (سنن ترمذی : 487)

اس بات کا مناقشہ کیجیے کہ اس قول کا سبب کیا ہے اور تاجروں کے بیع کے احکام سے واقف ہونے کے نتائج بیان کیجیے۔

سرگرمی نمبر(2) : غور و فکر کے بعد نتیجہ اخذ کروں گا :

نیچے دیے گئے حالات میں بیع کے باطل ہونے کے نتیجے بیان کیجیے :

حالات یہاں بیع کے باطل ہونے کا سبب ہے با‏ئع کا سامان کا مالک نہ ہونا۔

ایک شخص نے اپنے پڑوسی کا گھر اس کى اجازت کے بغیر بیچ دیا۔ کیوں کہ مبیع غیر معلوم ہے۔

ایک شخص نے گائے کے پیٹ میں موجود بچے کو بیچ دیا۔ کیوں کہ منشیات کی بیع حرام ہے اور سامان کا مباح ہونا ضروری ہے۔

ایک شخص نوجوانوں سے منشیات بیچتا ہے۔ کیوں کہ بیچنے والا بھلے برے کی تمیز نہیں رکھتا۔

ایک شخص نے ایک چھوٹے بچے سے ایک گاڑی خریدی۔

سرگرمی نمبر (3) : زمرہ بندی کروں گا :

بیع کی شرطوں سے وافقیت کی روشنی میں، ان شرطوں کو، دونوں سودا کرنے والوں سے متعلق شروط اور معقدود علیہ (سامان سودا) سے متعلق شروط کے تحت زمرہ بند کریں :

دونوں سودا کرنے والوں سے متعلق شروط اور معقود علیہ (سامان سودا) سے متعلق شروط

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

دوسرے کی ملکیت میں موجود چیز کو اس کی اجازت حاصل کرنے کے بعد بیچنا جائز ہے۔

بیع کے صحیح ہونے کے لیے مبیع (سامان یا قیمت) کو حوالہ کرنے کی قدرت شرط ہے۔

بائ‏ع کا عقد کے الفاظ (صلی اللہ علیہ و سلم) کا زبان سے بولنا ضروری ہے۔

سوال 2 : قوسین کےمابین سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

شراب کی بیع صحیح نہیں ہے۔ کیوں کہ بیع کے درست ہونے کے لیے مبیع کا :

(جامد ہونا شرط ہے - معلوم ہونا شرط ہے - مباح منفعت کا حامل ہونا شرط ہے)

پاگل کا بیچنا اور خریدنا صحیح نہیں ہے۔ کیوں کہ عقد کرنے والے کا :

(مسلمان ہونا شرط ہے - عاقل ہونا شرط ہے - بالغ ہونا شرط ہے)

شراب بیچنا جائز نہیں ہے، کیوں کہ مبیع کا :

(جان دار ہونا شرط ہے - پاک ہونا شرط ہے - معلوم ہونا شرط ہے)

سوال 3 : نیچے دیے گئے دونوں سوالوں کے جواب دیجیے :

قول کے بجائے صرف فعل سے ہی بیع کیسے صحیح ہو سکتی ہے؟

بیع کے صحیح ہونے کے لیے بائع اور مشتری کی رضامندی شرط ہے، اس کی وضاحت کیجیے :

تیسرا سبق : سود اور حرام خرید و فروخت

اغراض و مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

سود کے انواع بیان کر سکیں گے۔

خرید و فروخت کی حرام شکلوں کو گنوا سکیں گے۔

سود کے حرام ہونے کی دلیل پیش کر سکیں گے۔

سود اور حرام خرید و فروخت سے فرد اور معاشرے کو ہونے والے نقصانات بیان کر سکیں گے۔

سود اور خرید و فروخت کی ممنوع شکلوں سے اجتناب کریں گے۔

تمہیدی سرگرمی

احمد نے ایک تاجر سے ایک گاڑی کا سودا طے کیا۔ لیکن قبل اس کے کہ قیمت ادا کرتا ایک دوسرا شخص آیا اور خود لینے کے لیے قیمت بڑھا دی۔ کیا اس کا ایسا کرنا جائز ہے؟ اس کا جواب حالیہ سبق سے معلوم کیجئے۔

اول : سود

سود :

ربا الفضل (زیادتی پر مبنی سود)

ربا النسیئۃ (تاخیر پر مبنی سود)

ایک ہی جنس کے دو سامانوں کو قبضے میں تاخیر کے ساتھ بیچنا

قرضوں میں پنہاں سود

سود حرام ہے، اس پر اجماع ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال کیا اور سود کو حرام۔" (سورہ بقرہ : 275)

اللہ کے نبی ﷺ نے سود لینے والے اور دینے والے دونوں پر لعنت کی ہے۔ سود کی دو قسمیں ہیں :

اول : زیادتی پر مبنی سود (ربا الفضل): اس سے مراد اللہ کے نبی ﷺ کی درج ذیل حدیث میں مذکور چھ اصناف میں دونوں عوض میں سے کسی ایک میں زیادتی ہے۔ "سونا سونا کے عوض، چاندی چاندی کے عوض، گندم گندم کے عوض، جو جو کے عوض، کھجور کھجور کے عوض، نمک نمک کے عوض ایک دوسرے کی طرح، برابر برابر، نقد بہ نقد فروخت کیے جائيں۔ اگر یہ اجناس باہم مختلف ہوں تو جس طرح چاہیں فروخت کریں، جب قیمت کی ادا‏ئیگی نقد ہو۔" (صحیح مسلم : 1587)

لہذا 100 گرام نئے سونے کو 110 گرام پرانے سونے کے بدلے میں بیچنا حرام ہے۔

دوم : تاخیر پر مبنی سود (ربا النسیئۃ)۔ اس کی دو قسمیں ہیں :

أ۔ مذکورہ چھ اصناف میں سے کسی ایک ہی جنس سے تعلق رکھنے والی دو چیزوں کا معاملہ کرنا اور دونوں یا دونوں میں سے کسی ایک کے قبضے میں تاخیر کرنا۔ مثلا سونا کے عوض میں سونا قبضے میں تاخیر کے ساتھ بیچنا۔ کیوں کہ اللہ کے نبی ﷺ کا فرمان ہے : "ایک ہی طرح، برابر برابر، نقد بہ نقد"۔

ب- قرض میں پنہاں سود : اس کی صورت یہ ہے کہ قرض کی ادائیگی میں ہونے والی تاخير کے بدلے میں قرض میں کچھ اضافہ کر دیا جائے۔ مثلا کسی شخص پر قرض ہو اور ادائیگی کا وقت قریب ہو جانے کے باوجود اس کے پاس قرض ادا کرنے کی طاقت نہ ہو، ایسے میں قرض دینے والے سے کہے کہ ادائیگی کا وقت آگے بڑھا دو اور اس کے بدلے میں میں اتنے اضافے کے ساتھ قرض ادا کر دوں گا۔

سود عصر حاضر میں :

عصر حاضر میں سود کی بہت سی صورتیں ہیں، جن میں سب سے مشہور صورت ہے: بینک انٹرسٹ۔ چنانچہ یا تو بینک لوگوں کو سودی اضافے کے عوض میں قرض دیتے ہیں۔ اس اضافہ کو "فائدہ" کہا جاتا ہے۔ لیکن یہ حرام ہے۔

یا بینک میں نقود رکھنے کے عوض میں بینک شخص کو سودی فائدہ دیتے ہیں۔

دوم : خرید و فروخت کی ممنوع شکلیں

اپنے مسلمان بھائی کے فروخت پر فروخت کرنا :

نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: "تم میں سے کوئی کسی کے فروخت پر فروخت نہ کرے۔" (صحیح بخاری : 2150، صحیح مسلم : 1515)

اس کی صورت یہ ہے کہ بیچنے والا ایک شخص سے جو ایک سامان دس روپیے میں خرید رہا ہو، یہ کہے کہ: میں تمھیں اسی طرح کا سامان نو روپیے میں بیچوں گا۔

اپنے بھائی کی خریداری پر خریداری کرنا :

مثلا کوئی شخص کسى کو اپنا سامان نو روپیے میں بیچ رہا ہو، ایسے میں دوسرا خریدار اس سے جاکر کہے کہ میں تم سے یہ سامان دس روپیے میں خریدوں گا۔

مسلمان کے فروخت پر فروخت اور مسلمان کی خریداری پر خریداری کے حرام ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہ مسلمانوں کے اندر بغض و عدات پھیلنے کا ایک سبب ہے۔

جمعے کی اذان کے بعد خرید و فروخت کرنا :

اللہ تعالی نے جمعہ کی اذان کے بعد ایسے شخص پر خرید و فروخت کرنا حرام قرار دیا ہے، جس پر جمعہ کی نماز واجب ہے۔ یعنی ایسا مسلمان مرد جو بالغ، عاقل، مقیم اور تندرست ہو۔ یہاں اذان سے مراد دوسری اذان ہے، جو امام کے منبر پر چڑھنے کے بعد دی جاتی ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "اے وه لوگو جو ایمان ﻻئے ہو! جمعہ کے دن نماز کی اذان دی جائے تو تم اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو اور خرید وفروخت چھوڑ دو۔ یہ تمہارے حق میں بہت ہی بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔" (سورہ جمعہ : 9)

سرگرمیاں

سرگرمی نمبر (1) : غور و فکر کے بعد نتیجہ اخذ کروں گا :

درس کی روشنی میں درج ذیل باتوں کی دلیل پیش کریں :

واجب عبادت چھوڑ کر تجارت میں مشغول ہونا جائز نہیں ہے۔

شریعت نے ان تمام معاملات کو حرام قرار دیا ہے، جو مسلمانوں کے درمیان بغض و عداوت کا سبب بنتے ہیں۔

سرگرمی نمبر (2) : چرچا کروں گا اور نتیجہ نکالوں گا :

سود کے وہ احکام بتائیں، جن پر نیچے دیے گئے دونوں نص دلالت کرتے ہیں :

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔" (سورہ بقرہ : 276)

سود روزی کی برکت ختم کر دیتا ہے اور فقر و بے روزگارى کا سبب بنتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "ہاں اگر توبہ کرلو تو تمہارا اصل مال تمہارا ہی ہے، نہ تم ظلم کرو نہ تم پر ظلم کیا جائے گا۔" (سورہ بقرہ : 279)

اگر سود کھانے والا توبہ کر لے، تو صرف اپنا اصل مال واپس لے گا۔ اس سے زیادہ لینا جائز نہيں ہے۔

سرگرمی نمبر (3) : غور و فکر کے بعد بیان کروں گا :

سود میں ملوث لوگوں کے لیے سنائی گئی سخت وعید پر غور کریں اور پھر نیچے دی گئی حدیث سے استشہاد کرتے ہوئے سود سے خبردار کرنے کے لیے کچھ جملے لکھیں اور انھیں اپنے اہل خانہ کے سامنے رکھیں :

’’اللہ کے رسولﷺ نے سود کھانے والے، کھلانے والے، اس کے لکھنے والے اور اس کے دونوں گواہوں پر لعنت فرمائی ہے‘‘۔ (صحیح مسلم : 1598)

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

جمعہ کی اذان کے بعد عورت کا خرید و فروخت کرنا حرام ہے۔ (صلی الله عليہ وسلم)

بینک انٹرسٹ موجودہ دور میں سود کی شکلوں میں سے ایک شکل ہے۔

مسلمان کا اپنے بھائی کی خریداری پر خریداری کرنا حرام ہے۔

سود سماج میں ظلم و فقر عام کرتا ہے۔

سوال 2 : قوسین کے مابین سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

ایسے معاملات حرام ہیں، جو مسلمانوں کے درمیان :

(باہمی امداد عام کرتے ہیں - عداوت عام کرتے ہیں - مال عام کرتے ہیں)

خرید و فروخت کی جو شکلیں فرائض کو ضائع کرتی ہیں، وہ :

(حرام ہیں - مکروہ ہیں - جائز ہیں)

قرض میں اضافے کے مقابلے میں قرض کی ادائیگی کے وقت کو آگے بڑھا دینا :

(تاخیر کا جرمانہ ہے - تاخیر پر مبنی سود ہے - قرض میں پنہاں سود ہے)

سوال 3 : نیچے دیے گئے دونوں سوالوں کے جواب دیجیے :

سود کی حرمت پر ایک دلیل پیش کریں۔

زیادتی پر مبنی سود اور قرض میں پنہاں سود کے درمیان موازنہ کریں۔

چوتھا سبق : عقد اجارہ (اجرت، مزوردی اور کرایہ)

اغراض و مقاصد :

عزیز طالب علم! اس درس کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

یہ واضح کر سکیں گے کہ عقد اجارہ (اجرت، مزدوری اور کرایہ) سے کیا مراد ہے۔

اجارہ (اجرت، مزدوری اور کرایہ) کی شرطیں گنوا سکيں گے۔

اجارہ کی دونوں قسموں کے درمیان فرق کر سکيں گے۔

فرد اور سماج کے حق میں اجارہ کی اہمیت محسوس کریں گے۔

حرام معاملات سے اجتناب کریں گے۔

تمہیدی سرگرمیاں

آپ کے یہاں ایک ماہر کسان موجود ہے، لیکن اس کے پاس کھیتی کے لیے زمین نہيں ہے۔ آپ کی رائے میں عقد اجارہ اس کے مسئلے کا حل کیسے بن سکتا ہے؟

اجارہ ایک ایسا عقد ہے، جس کی ضرورت لوگوں کو پڑتی رہتی ہے۔ کیوں کہ اس سے انھیں وہ منافع دست یاب ہوتے ہیں، جن کے وہ مالک نہيں ہوتے۔ جیسے رہنے اور سوار ہونے کی منفعت۔ اجارہ کے ذریعے لوگوں کو آسانی فراہم کی گئی ہے۔ اس سبق میں اجارہ کے احکام بیان کیے جائيں گے۔

اجارہ (اجرت، مزدوری اور کرایہ) :

تعریف

حکم

قسمیں

شرطیں

اول : اجارہ (اجرت، مزدوری اور کرایہ) کی تعریف

اجارہ نام ہے کسی مباح منفعت سے معلوم (طے شدہ) مدت تک نفع حاصل کرنے یا معلوم (طے شدہ) اجرت کے عوض میں کسی معلوم (طے شدہ) کام کے سر انجام دینے کے عقد کا۔

مثال کے طور پر ابراہیم نے رہنے کے لیے 500 ریال ماہانہ کے عوض میں احمد سے ایک اپارٹمنٹ لیا۔ اب اپارٹمنٹ کا مالک تو احمد ہے، لیکن اجارے کی مدت تک اس سے نفع اٹھانے کا مالک ابراہیم ہے۔

دوم : اجارے کا حکم :

اجارہ جائز ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "اور اگر وه حمل سے ہوں تو جب تک بچہ پیدا ہولے انہیں خرچ دیتے رہا کرو۔" (سورہ طلاق : 6)

یعنی بچوں کو دودھ پلانے کی اجرت۔ اللہ کے نبی ﷺ نے عبداللہ بن اریقط کو ہجرت کے موقع پر مدینہ کا راستہ بتانے کے لیے اجرت پر ساتھ لیا تھا۔

سوم : اجارے کی قسمیں :

منافع کی کرایے داری، جیسے کسی کو متعینہ وقت تک رہنے کے لیے گھر یا استعمال کے لیے گاڑی کرایے پر دینا۔

کسی معلوم (طے شدہ) کام پر اجرت دینا، جیسے محمد نے کرسی بنوانے کے لیے ایک بڑھئى کو اجرت پر رکھا۔

چہارم : اجارے کی شرطیں :

عقد اجارہ کے صحیح ہونے کے لیے درج ذیل شرطیں ہیں :

کرایے پر دی گئی چیز مباح ہو یا جس کام کو کرنے کے لئے کسى کو اجرت پر رکھا گیا ہو، وہ کام مباح ہو۔ لہذا شراب بیچنے کے لیے دکان کرایے پر دینا یا نشہ آور اشیا بیچنے کے لیے کسی شخص کو مزدوری پر رکھنا جائز نہيں ہے۔

منفعت کی معرفت؛ چوں کہ منفعت ہی پر عقد (ایگریمنٹ) ہوتا ہے، اس لیے اس کی جان کاری شرط ہے۔

منفعت پر اجارے کی مدت معلوم ہونی چاہیے۔ مدت چاہے ایک دن کی ہو یا ایک مہینے کی یا کوئى بھى مدت ہواس پر طرفین کی رضامندی ہونی چاہیے۔

اجارے کا مبلغ معلوم ہو۔

سرگرمیاں

سرگرمی نمبر (1) : پڑھوں گا اور نتیجہ نکالوں گا :

اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : "اللہ تعالی نے فرمایا ہے : تین قسم کے لوگوں کا قیامت کے دن میں فریق مخالف ہوں گا..."۔ آپ نے ان تینوں میں سے ایک کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : "اور ایک ایسا شخص جس نے کسی کو مزدور کیا اور اس سے پورا کام لے لیا، لیکن اسے مزدوری نہیں دی۔" (صحیح بخاری : 2227)

اس حدیث کو اچھی طرح پڑھیں اور اس کے بعد اس کے فوائد اخذ کریں۔

سرگرمی نمبر (2) : موازنہ کروں گا :

نیچے دیے گئے جدول میں موجود وضاحتوں کی روشنی میں بیع اور اجارہ کے درمیان موازنہ کریں :

وجہ موازنہ بیع اجارہ

حکم

طرفین کے نام

سرگرمی نمبر (3) : چرچا کروں گا اور نقد کروں گا :

نیچے دی گئی اجارے کی شکلوں کے غلط ہونے کے سلسلے میں اپنے معلم کے ساتھ چرچا کریں :

غلط ہونے کی وجہ اجارے کی شکل

ایک شخص نے نائٹ کلب بنانے کے لیے ایک جگہ کرایے پر لی۔

ایک شخص نے کسى کو أجرت پر رکھا اور اس کے کام کا وقت متعین نہیں کیا۔

ایک شخص نے کسى کو اجرت پر رکھا اور مزدوری طے نہيں کی۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

عوض (اجرت) نامعلوم ہو تب بھی اجارہ درست ہوگا۔ (×)

غیرمباح (نا جائز) منفعت میں اجارہ جائز ہے۔ (×)

اجارہ صحیح ہونے کے لیے منفعت کی معرفت ضروری ہے۔

سوال 2 : قوسین کے مابین سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

اجارہ نام ہے فائدہ حاصل کرنے پر عقد اور ایگریمنٹ کا :

(مباح منفعت سے - مستحب منفعت سے - واجب منفعت سے)

جس نے غیر معلوم مدت کے لیے گھر کرایے پر دیا، اس کا عقد :

(مؤجل ہے - صحیح ہے - باطل ہے)

عقد اجارہ کے نتیجے میں مزدور مستحق ہو جاتا ہے :

(اجرت پر دی ہوئی چیز کا - اجرت کا - ترک عمل کا)

سوال 3 : نیچے دیے گئے دونوں سوالوں کے جواب دیجیے :

اجارے سے کیا مراد ہے؟

اجارے کی دونوں قسموں کے درمیان فرق کریں۔

پانچواں سبق : عصر حاضر کے کچھ معاملات

اغراض و مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

بینک کے ذریعے فراہم کیے جانے والے کارڈز کے استعمال کا حکم بتا سکیں گے۔

تجارتی انشورنس اور تعاونی انسورنش کے حکم کا فرق بیان کر سکیں گے۔

قمیت کی قسطوں میں ادائيگی والی بیع کا حکم بیان کر سکيں گے۔

ڈیجیٹل تجارت کے اہم احکام کا خلاصہ پیش سکیں گے۔

حلال کمائی پر توجہ دیں گے۔

اس بات کا اندازہ لگا سکیں گے کہ شریعت نے نو درپیش وقائع اور مسائل کا کس قدر استیعاب کیا ہے۔

آج اقتصادی منظر نامے پر بہت سے نئے اقتصادی نظام سامنے آ چکے ہیں۔ لہذا ہمیں ان کے بارے میں پڑھنا چاہیے، تاکہ ہم جان سکیں کہ ان کے بارے میں شریعت کا کیا موقف ہے۔ اس سبق میں ہم ان میں سے پانچ نظاموں کا مطالعہ کریں گے۔

اول : بینک کے ذریعے فراہم کیے جانے والے کارڈز

بینک کى جانب سے جاری کیے جانے والے کارڈ دو قسم کے ہوتے ہیں :

پہلی قسم : ڈیبٹ کارڈ

یہ ایک بینک کارڈ ہے، جس میں مالک ایک رقم رکھتا ہے اور وہ جب چاہے اس رقم کو نکال سکتا ہے يا اس سے شاپنگ سینٹرز میں اپنی خریداری کے لیے ادائیگی کرسکتا ہے، لیکن وہ صرف بینک میں اپنے اصل بیلینس (جمع شدہ پونجی) کی رقم کے بہ قدر ہی ادا کرسکتا ہے۔

ڈیبٹ کارڈ جائز ہے، کیوں کہ اس کا استعمال کرنے والا شخص اپنے جمع کئے ہوئے مال سے نکالتا ہے۔

دوسری قسم : کریڈٹ کارڈ

یہ ایک بینک کارڈ ہے، جس کے ذریعے کارڈ ہولڈر نقد رقم نکال سکتا ہے یا شاپنگ سینٹرز سے اپنی خریداریوں کے بالمقابل ادائیگی کر سکتا ہے، خواہ نکالى ہوئى رقم یا ادا کى ہوئى رقم اس کی جمع شدہ رقم سے زیادہ ہی کیوں نہ ہو۔ کارڈ ہولڈر کو ایک متعینہ وقت تک کی مہلت دی جاتی ہے اور مہلت ختم ہو جانے پر بینک اس سے سود وصول کرتا ہے۔

ڈیبٹ کارڈ کا استعمال جائز نہیں ہے۔ کیوں کہ یہ سود پر مشتمل ہوتا ہے۔ اگر کوئی مسلمان ضرورت کے تحت اس کا استعمال کر لیتا ہے، تو اسے قرض کی ادائيگی میں مقررہ وقت سے تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ لیکن بعض اسلامی بینکوں کی جانب سے جاری کردہ کارڈ جو سود پر مشتمل نہیں ہوتے، اس سے مستثنی ہیں۔

دوم : کمرشیل انشورنس

کمرشیل انشورنس دراصل ایک عقد ہے، جس کے تحت انشورنس پالیسی لینے والا انشورنس ایجینسی کو کچھ مال دینے کا التزام اس لئے کرتا ہے کہ حادثاتی نقصان ہونے کی صورت میں ایجنسی اسے معاوضہ دے گی۔

جیسے گاڑیوں کا انشورنس، جس میں پالیسی لینے والا ماہانہ قسطیں ادا کرتا ہے اور اس کا فائدہ اس وقت اٹھاتا ہے، جب گاڑی حادثے کی شکار ہو جائے۔ حادثہ ہو جانے پر کمپنی حادثے کا معاوضہ ادا کرتی ہے۔

یہ عقد شرعا حرام ہے۔ کیوں کہ یہ غیر یقینیت اور دھوکے پر مشتمل عقود میں سے ہے۔ کیوں کہ اس میں عقد کے وقت گاہک کو یہ معلوم نہيں ہوتا کہ اسے جو روپیہ جمع کرنا ہوگا، وہ واپس ملے گا بھی یا نہیں اور اگر ملے گا تو کتنا ملے گا۔

سوم : باہمی امداد پر مبنی انشورنس

یہ ایک ایسا عقد ہے، جس میں لوگوں کا ایک گروہ مل کر ایک معینہ رقم جمع کرتا ہے، تاکہ ان میں سے کسی کا نقصان ہو جانے کی صورت میں اس کی مدد کی جا سکے۔

یہ عقد شرعا جائز ہے۔ کیوں کہ یہ عطیوں پر مشتمل عقود میں سے ہے۔ یہاں شریک ہونے والا یہ رقم خوشى خوشى اس نیت سے ادا کرتا ہے کہ اس سے ان میں سے اس شخص کی مدد کی جائے، جسے ضرورت ہو۔

چہارم : قیمت کی قسط وار ادائیگی والی بیع

اس میں خریدنے والا سامان فوری طور پر حاصل کر لیتا ہے اور قیمت کی ادائیگی عقد کرنے والے دونوں فریقوں کے درمیان طے شدہ قسطوں میں ہوتی ہے۔

مثلا احمد نے دس ہزار درہم میں ایک گھر خریدا اور طے یہ پایا کہ وہ سالانہ ایک ہزار کے حساب سے دس سال کے اندر قیمت ادا کر دے گا۔

خرید و فروخت کی یہ شکل جائز ہے۔ کیوں کہ یہ اللہ تعالی کے اس قول کے عموم کے اندر داخل ہے : "اللہ نے خرید و فروخت کو حلال کیا ہے۔" (سورہ بقرہ : 275)

پنجم : ڈیجیٹل تجارت

ڈیجیٹل تجارت سے مراد ڈیجیٹل وسائل تواصل جیسے کمپیوٹر نیٹ ورکس، انٹرنیٹ اور الیکٹرانک ایپلی کیشنز، وغیرہ کے ذریعے, سامانوں اور خدمات کی لین دین سے متعلق سرگرمیاں ہیں۔

ڈیجیٹل تجارت کے انواع

ڈیجیٹل تجارت کے کئی انواع ہیں۔ جیسے :

مادی سامانوں اور مصنوعات، جیسے آلات وغیرہ کا اس طرح تبادلہ کہ خریدار الیکٹرانک ویب سائٹ کے ذریعے کمپنی کو قیمت ادا کر دے اور اس کے بعد کمپنی شپنگ کمپنیوں کے ذریعے مصنوعات بھیج دے۔

خدمات کا تبادلہ، جیسے مختلف طرح کی گاڑیاں بک کرانے، سفر کا ٹکٹ اور ہوٹل میں کمرے فراہم کرانے کے میدان میں کام کرنے والے ایپ۔

ڈیجیٹل مصنوعات، جیسے پروگرامز، ایپس اور فلموں وغیرہ کا تبادلہ، جہاں مشتری مصنوعات کی قیمت ادا کرتا ہے اور اس کے بعد انھیں اپنے ذاتی ڈیوائس پر انسٹال کرتا ہے یا ان کے استعمال کی اجازت (لائسینس) حاصل کر لیتا ہے۔

ڈیجیٹل تجارت کا حکم :

ڈیجیٹل تجارت جائز ہے۔ البتہ اس کے اندر کوئی حرام چيز پائی جائے تو بات الگ ہے۔ مثلا :

دھوکہ اور مکر و فریب۔

سامان اور خدمت کو اس کے اوصاف کی جان کاری حاصل کیے بغیر خریدنا۔

حقوق ملکیت کو پامال کرنا۔ جیسے ایسے پروگرامز اور کتابیں جن کے حقوق محفوظ ہوں، ان کو ان کے مالک کی اجازت کے بغیر استعمال کرلینا۔

سرگرمیاں

سرگرمی نمبر (1) : حکم لکھوں گا اور وجہ بتاؤں گا :

نیچے دیے گئے معاملات کا حکم لکھیے اور وجہ بتائیے :

معاملہ حکم وجہ

احمد نے ایک اسٹور خریدا اور آگ زنی اور چوری کے بالمقابل اس کا بیمہ کروایا، جس کے بدلے میں اسے بیمہ کمپنی کو سالانہ قسطیں ادا کرنی ہوں گی۔

حرام

کیوں کہ یہ تجارتی بیمہ کی ایک شکل ہے، جو کہ حرام ہے۔

محمد نے دس ہزار میں ایک گاڑی خریدی اور بائع کے ساتھ مل کر یہ طے کیا کہ وہ قیمت دس مہینوں میں ادا کرے گا۔

جائز

کیوں کہ یہ قیمت کی قسطوں میں ادائیگی والی بیع ہے، جو کہ جائز ہے۔

فاطمہ نے کمنپی میں کام کر رہی اپنی ساتھیوں سے مل کر ایک باہمی امداد پر مبنی فنڈ یک جا کرنے میں حصہ لیا۔ یہ جائز ہے۔ کیوں کہ یہ عطیوں پر مبنی عقد ہے۔

سرگرمی نمبر(2) : موازنہ کروں گا :

نیچے دیے گئے جدول کے مطابق ڈیبٹ کارڈ اور کریڈٹ کارڈ کے درمیان موازنہ کریں :

ڈیبٹ کارڈ وجہ موازنہ کریڈٹ کارڈ

ڈیبٹ کارڈ ایسا بینک کارڈ ہے، جس میں کارڈ ہولڈر کچھ بیلنس رکھتا ہے اور وہ جب چاہے اسے نکال سکتا ہے یا جب چاہے اس سے خریداری کر سکتا ہے۔ اس میں قرض ملنے کا کوئی امکان نہیں رہتا۔

کریڈٹ کارڈ سے مراد بینک کی جانب سے جاری کیا گيا ایسا کارڈ ہے، جس کا ہولڈر اپنا بیلنس بھی نکال سکتا ہے اور کچھ وقت کے لیے بینک سے قرض بھی لے سکتا ہے۔

جائز ہے حکم غیر جائز

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) كا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

تجارتی بیمہ جائز ہے۔ کیوں کہ یہ عطیہ پر مبنی عقد ہے۔ (×)

قیمت کی قسط وار ادائیگی والی بیع میں قسطوں کے ادائیگی کے اوقات کی تحدید شرط ہے۔ (✓)

ڈیجیٹل وسائل کے توسط سے خرید و فروخت مکروہ ہے۔ (×)

سوال 2 : قوسین کے مابین سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

حدیث : "اللہ کے نبی ﷺ نے دھوکے پر مبنی بیع سے منع کیا ہے۔" اس حدیث سے استدلال کیا جاتا ہے :

(بانڈز کے حرام ہونے پر - قیمت کی قسط وار ادائیگی والی بیع کے حرام ہونے پر - تجارتی بیمہ کے حرام ہونے پر)

تکافلی بیمہ کے جواز کی ایک دلیل ہے کہ وہ :

(عطیہ پر مبنی عقد ہے - غیر لازمی عقد ہے - لوگوں کے درمیان پھیلا ہوا عقد ہے)

ڈیجیٹل تجارت کا حکم :

(یہ جائز ہے - مکروہ ہے - جب تک کسی حرام چیز پر مشتمل نہ ہو جائز ہے)

سوال 3 : قسط وار قیمت کی ادائيگی والی بیع کے جواز کی تفسیر کیسے کی جائے گی؟

کیوں کہ یہ اللہ تعالی کے اس قول کے عموم میں داخل ہے : "اللہ نے بیع کو حلال اور سود کو حرام کیا ہے۔" (سورہ بقرہ : 275)

سوال 4 : اس سبق کو پڑھنے کے بعد آپ کیسے یہ استدلال کریں گے کہ شرعی احکام نے اپنے اندر مسلمانوں کی زندگی میں پیدا ہونے والے ہم عصر اور نئے نئے مسائل کا احاطہ کیا ہے؟

چھٹا سبق : شادی بیاہ کے احکام

اغراض و مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

شادی کی مشروعیت کی دلیل پیش کر سکیں گے۔

عقد نکاح کی شرطیں بیان کر سکیں گے۔

اسلام کے احکام اور تعلیمات کی تعظیم کریں گے۔

شادی کا ارادہ رکھنے والے ہر شخص پر شادی کے احکام سیکھنا واجب ہے۔ اس درس میں ہم شادی کے کچھ اہم احکام سیکھیں گے۔

اول : شادی کی مشروعیت

اللہ تعالی نے ہر چیز کو جوڑا جوڑا بنایا، اور ہر ایک کے اندر دوسرے کی محبت اور میلان رکھ دیا۔ ساتھ ہی شادی کا حکم بھی دیا۔ ارشاد باری تعالی ہے : "تو عورتوں میں سے جو بھی تمہیں اچھی لگیں تم ان سے نکاح کر لو، دو دو، تین تین، چار چار سے۔" (سورہ نساء : 3)

شادی کی مشروعیت کی حکمت : عزت و آبرو کی حفاظت، نوع انسانی کی حفاظت، سفر زندگی کا بوجھ اٹھانے میں آپسی تعاون اور پاک نسل سے روئے زمین کو آباد کرنا۔

نکاح کے صحیح ہونے کی شرطیں

پہلی شرط : رضامندی :

رضامندی: دولہا و دولہن دونوں کا عقد نکاح سے راضی ہونا۔ لہذا مرد یا عورت کو شادی پر مجبور کرنا صحیح نہيں ہے۔

دوسری شرط : دولہا و دولہن دونوں کی تعیین :

تعیین کے لیے شادی کرنے والے کی طرف اشارہ، اس کا نام لینا یا اس کا کوئی امتیازی وصف بیان کرنا کافی ہے۔

تیسری شرط : ولی کا موجود ہونا :

ولی: عورت کا کوئی ایسا مرد رشتے دار، جو اس کی نیابت کرتے ہوئے عقد نکاح کی سرپرستی کرتا ہے۔ عورت نہ خود اپنا نکاح کرسکتی ہے اور نہ کسی اور عورت کا۔ اس نے ایسا کیا، تو اس کا نکاح باطل ہوگا۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : ”جس کسى عورت نے از خود اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا، تو اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے۔“ (سنن ترمذی : 1102)

اسلام نے ولی کے موجود ہونے کی شرط عورت کی حفاظت اور اس کے حقوق کو پامالی سے بچانے کے لیے رکھی ہے۔ ولی کے لیے مرد، بالغ، عاقل، عادل اور سن رشد کا حامل ہونا شرط ہے۔

چوتھی شرط : دولہا و دولہن کا موانع سے خالی ہونا :

یہ واجب ہے کہ دولہا و دولہن کے اندر یا دونوں میں سے کسى کے اندر کوئی ایسی بات نہ ہو، جو شادی کے لیے مانع ہو۔ مثلاً :

نسب یا رضاعت کی بنا پر حرمت۔ جیسے دونوں حقیقی بھائی بہن ہوں یا رضاعی بھائی بہن ہوں۔

دین الگ الگ ہونے کی بنا پر حرمت۔ مثال کے طور پر عورت مسلمان ہو اور مرد عیسائی۔

کسی عارضی سبب کی بنا پر حرمت۔ مثلاً عورت طلاق یا وفات کی عدت کے اندر ہو۔

پانچویں شرط : گواہی :

شادی صحیح ہونے کے لیے دو عادل مردوں کا ہونا ضروری ہے جو عقد کی گواہی دیں۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے : "ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر نکاح نہيں ہوتا۔" (سنن دارقطنی : 3531)

سرگرمیاں

سرگرمی نمبر(1) : حکم بتاؤں گا اور سبب بیان کروں گا :

نیچے دیے گئے مسائل میں عقد زواج کا حکم بیان کریں اور وجہ بتائیں :

مسئلہ حکم وجہ

ایک مسلمان نے اپنی بیٹیوں میں سے ایک بیٹی کی شادی بلا تعیین کرا دی۔

ایک عورت نے وفات کی عدت کے دوران شادی کر لی۔

ایک لڑکی نے گھر والوں کو بتائے بغیر اپنے ایک ساتھی سے شادی کر لی۔

سرگرمی نمبر (2) مستنبط کروں گا :

نیچے دیے گئے دلائل شادی کی جن شرطوں پر دلالت کرتے ہيں، ان سے انھیں مستنبط کیجیے :

دلیل شرط

نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: "عورت عورت کی شادی نہ کرائے اور نہ عورت خود سے شادی کرے۔" (سنن ابن ماجہ : 1882)

نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: "شوہر دیدہ عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے، جب تک اس کا حکم نہ لے لیا جائے اور کنواری عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے، جب تک اس کی اجازت نہ لے لی جائے۔" (صحیح بخاری : 5136، صحیح مسلم : 1419)

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "اور شرک کرنے والی عورتوں سے تا وقت یہ کہ وه ایمان نہ ﻻئیں، تم نکاح نہ کرو۔" (سورہ بقرہ : 221)

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

دولہا و دولہن کی تعیین کرنے کے لیے شادی کرنے والے کی طرف اشارہ کر دینا بھی کافی ہے۔

باپ اپنی کنوارى بالغ بیٹی کو شادی پر مجبور کر سکتا ہے۔ (×)

مسلمان کتابی عورت سے شادی کر سکتی ہے۔

سوال 2 : قوسین کے مابین سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

شادی کے دونوں گواہوں کے لئے یہ شرط ہے کہ وہ:

(دو مرد ہوں - ایک مرد اور دو عورتیں ہوں -رشتے داروں میں سے دو مرد ہوں)

شادی کی راہ میں رکاوٹ بننے والی چيزوں میں سے ایک ہے :

(عمر کا الگ الگ ہونا - دین کا الگ الگ ہونا - وطن کا الگ الگ ہونا)

جب عورت عورت کا نکاح کرائے، تو نکاح :

(باطل ہے - مکروہ ہے - صحیح ہے)

سوال 3 : نیچے دیے گئے جملوں میں موجود غلطیوں کو درست کر کے ان کو دوبارہ لکھیں :

ولی بچہ ہو تو نکاح درست ہو جائے گا۔

مسلم عورت غیر مسلم مرد سے شادی کر سکتی ہے۔

سوال 4 : نیچے دیے گئے دونوں سوالوں کے جواب دیجیے :

شادی کی مشروعیت کی دلیل لکھیے۔

شادی کے صحیح ہونے کی ایک شرط میاں بیوی کا موانع سے خالی ہونا ہے، اس کی وضاحت کریں :

ساتواں سبق : ازدواجی زندگی

اغراض و مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

بتا سکیں گے کہ بیوی پر شوہر کا کیا حق ہے۔

بتا سکیں گے کہ شوہر پر بیوی کا کیا حق ہے۔

میاں بیوی کے حقوق دلیل کے ساتھ بیان کر سکیں گے۔

اسلام کے احکام کی تعظیم کریں گے۔

تمہید :

شوہر پر عائد ہونے والے بیوی کے تین حقوق بتائے اور پھر سبق کے آخر میں اپنے جواب کا جائزہ لیجیے۔

اول : شوہر پر بیوی کا حق

حق اطاعت گزاری :

اسلام نے بیوی کو شوہر کے حقوق اور پریوار کے حقوق سے متعلق چیزوں میں شوہر کی اطاعت کرنے کا حکم دیا ہے۔ کیوں کہ شوہر پورے پریوار کا رہبر ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ یہ اطاعت اللہ کی معصیت میں نہ ہو۔

گھر میں رہنا اور اس کی دیکھ بھال کرنا :

اسلام نے عورت پر شوہر کے گھر میں رہنا واجب کیا ہے اور اس کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر نکلنا اس پر حرام قرار دیا ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "اور اپنے گھروں میں ٹک کر رہو۔" (سورہ احزاب : 33) البتہ شوہر کو اس بات کا حق نہیں ہے کہ بیوی کو معروف طریقے سے اپنے والدین کی زیارت کرنے سے روکے۔

عورت پر گھر کی دیکھ بھال، شوہر کے مال کی حفاظت اور بال بچوں کی نگرانی واجب ہے۔

حق سرپرستی :

سرپرستی کا مطلب یہ ہے کہ شوہر گھر کا مالک اور اس کا اصل ذمے دار ہے۔ اس کے اوپر عورت پر خرچ کرنے، اسے پہننے کے لیے کپڑے اور رہنے کے لیے گھر فراہم کرنے کی ذمے داری عائد ہوتی ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "مرد عورتوں پر حاکم ہیں اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے کہ مردوں نے اپنے مال خرچ کیے ہیں۔" (سورہ نساء : 34)

دوم : شوہر پر بیوی کا حق :

مہر :

مہر مال کی وہ مقدار ہے، جسے عقد نکاح کے بہ موجب مرد کے لیے عورت کو ادا کرنا واجب ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے: "اور عورتوں کو ان کے مہر راضی خوشی دے دو۔" (سورہ نساء : 4)

مہر دراصل عورت کے اندر یہ احساس پیدا کرتا ہے کہ اس کی بھی عزت و احترام ہے۔

حق نفقہ :

نفقہ کے اندر کھانے، پینے، کپڑے اور رہائش کا انتظام شامل ہے۔ نفقہ دراصل شوہر کے حال کو سامنے رکھتے ہوئے عدل و انصاف کے ساتھ طے کیا جاتا ہے۔ "کشادگی والے کو اپنی کشادگی سے خرچ کرنا چاہیے اور جس پر اس کے رزق کی تنگی کی گئی ہو، اسے چاہیے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اسے دے رکھا ہے، اسی میں سے (اپنی حیثیت کے مطابق) دے۔ کسی شخص کو اللہ تکلیف نہیں دیتا مگر اتنی ہی جتنی طاقت اسے دے رکھی ہے۔" (سورہ طلاق : 7)۔

معروف طریقے سے بود و باش رکھنا :

اللہ تعالی نے شوہر کو اچھے طریقے کے ساتھ بود و باش رکھنے کا حکم دیا ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "ان کے ساتھ اچھے طریقے سے بودوباش رکھو، گو تم انہیں ناپسند کرو لیکن بہت ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو برا جانو، اور اللہ تعالیٰ اس میں بہت ہی بھلائی کر دے۔" (سورہ نساء : 19) شوہر پر بیوی کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا واجب ہے، خواہ اس کی کوئی بات ناپسند ہی کیوں نہ ہو۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : "تمھارے اندر سب سے اچھا انسان وہ ہے، جو اپنے گھر والوں کے حق میں سب سے اچھا ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے حق میں تمھارے اندر سب سے اچھا انسان ہوں۔" (سنن ترمذی : 3895، سنن ابن ماجه: 1977)

اچھی معاشرت کی کچھ صورتیں اس طرح ہیں :

نرم خوئی، مسکرانا اور ہنس مکھ رہنا۔

بیوی سے بات کرنا، اس کے سکھ دکھ میں شریک رہنا اور اسے کچھ وقت دینا۔

بہتر موقف اختیار کرنے اور اچھے ڈھنگ سے کام کرنے پر بیوی کی تعریف کرنا۔

لغزشوں سے تغافل برتنا اور درگزر کرنا۔

غلطی اور کوتاہی ہونے پر اچھے سے سمجھانا بجھانا اور طعن و تشنیع اور ترشی وغیرہ سے دور رہنا۔

سرگرمیاں

سرگرمی نمبر (1) : نصیحت کروں گا :

نیچے دیے گئے ہر شخص کو ایک ایک نصیحت کریں :

موقف وجہ

ایک باپ مال جمع کرتا ہے اور پریوار پر خرچ نہیں کرتا۔

ایک بیوی شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر نکل جاتی ہے۔

ایک باپ اپنے بچوں کو اسلامی آداب نہیں سکھاتا۔

سرگرمی نمبر (2) : میں کچھ باتیں رکھوں گا :

مان لیں کہ آپ کو میاں بیوی کے درمیان صلح کرانے کی ایک مجلس میں بلایا گیا اور آپ سے کہا گیا کہ ان کے درمیان صلح کرانے، پریوار کی حفاظت اور اسے مضبوط کرنے اور میاں بیوی میں سے ہر ایک کے حقوق اور واجبات بیان کرنے کے لیے کچھ باتیں رکھیں۔

اس موقعے پر آپ کیا کہیں گے، لکھیں اور اسے اپنے ساتھیوں کے سامنے رکھیں۔

سرگرمی نمبر (3) : اخذ کروں گا :

نیچے دیے گئے نصوص کو پڑھیں اور ان سے میاں بیوی کے حقوق اخذ کریں :

نص میاں بیوی کے حقوق

نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ”عورت اپنے شوہر کے گھر کی محافظ ونگہبان ہے، اور اس سے اس کی رعیت (اس ذمہ داری) کے بارے میں پوچھا جائے گا۔“ (صحیح بخاری : 893)

نبی ﷺ نے فرمایا ہے : ’’کوئی مسلمان مرد کسی مسلمان عورت سے متنفر نہ ہو۔ اگر اسے اس کی کوئی خصلت بری لگتی ہے تو اس کی کوئی عادت اسے پسند بھی ہو گی‘‘۔ (صحیح مسلم : 1469)

اندازۂ قدر

سوال 1 : قوسین کےمابین سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

اللہ تعالی کا قول "وَقَرْنَ فِيْ بُيُوْتِكُنَّ" شوہر کے ایک حق پر دلالت کرتا ہے، جو ہے :

(اطاعت کا واجب ہونا - گھر میں رہنا - نفقہ)

بیوی پر واجب ہے :

(اپنے والدین کی زیارت - شوہر کے مال کی حفاظت - بچوں کا نفقہ)

جب شوہر کو بیوی کی کوئی بات پسند نہ آئے، تو :

(اسے طلاق دے دے - اسے مارے - اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے)

سوال 2 : نیچے دیے گئے جملوں میں موجود غلطیوں کو درست کر کے ان کو دوبارہ لکھیں :

(شوہر کا ہر حکم ماننا واجب ہے۔

ماں پر بچوں کا نفقہ واجب ہے۔

سوال 3 : واضح کریں کہ نیچے دیا گیا ہر نص کس کس بات پر دلالت کرتا ہے :

1- "اور عورتوں کو ان کے مہر راضی خوشی دے دو۔"

2- "کشادگی والے کو اپنی کشادگی سے خرچ کرنا چاہیے۔"

سوال 4 : اسلام میں سرپرستی کے حق کے مفہوم کی تشریح کریں۔

آٹھواں سبق : طلاق کے احکام

اغراض و مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ :

طلاق کی تعریف کر سکیں گے۔

طلاق کی مشروعیت کی حکمت بیان کر سکیں گے۔

طلاق کا حکم بیان کر سکیں گے۔

طلاق کی مختلف قسموں کے درمیان فرق کر سکیں گے۔

طلاق کے معاملے میں لاپرواہی سے خبردار رہیں گے۔

طلاق کی تعریف : قید نکاح یا اس کے بعض حصے کا ازالہ۔ نکاح کے بعض حصے کا ازالہ طلاق رجعی میں ہوتا ہے۔

مشروعیت طلاق کی حکمت :

شریعت نے اس بات پر پوری توجہ دی ہے کہ عقد زوجیت پر کوئی آنچ نہ آئے اور آپ ﷺ نے بتایا ہے کہ "شیطان اپنے لشکروں کو بھیجتا ہے۔ چنانچہ مرتبے کے لحاظ سے اس کے نزدیک سب سے مقرب وہ ہوتا ہے، جو فتنہ ڈالنے میں سب سے بڑا ہو۔ ان میں سے ایک آتا ہے اور کہتا ہے : میں نے اس اس طرح کیا، تو شیطان کہتا ہے: تو نے کوئی (بڑا کام) سر انجام نہیں دیا۔ فرمایا : پھر ان میں سے ایک اور آتا ہے اور کہتا ہے : میں نے (فلاں آدمی) کو اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی نہ ڈال دی۔ فرمایا : چنانچہ شیطان اسے اپنے قریب کر لیتا ہے اور کہتا ہے: ہاں! تو (نے بڑا کام کیا) ہے“۔ (صحیح مسلم : 2813)

طلاق کے مفاسد کے پیش نظر شیطان اس بات کی پوری کوشش کرتا ہے کہ انسان طلاق دینے کی غلطی کرے۔ لہذا اصل یہ ہے کہ رشتۂ ازدواج کی حفاظت کی جائے اور مشکلات کا حل حکمت کے ساتھ کیا جائے۔ لیکن اگر اس سے فائدہ نہ ہو اور رشتے کو باقی رکھنے کے مفاسد اس کے مصالح سے بڑھ کر ہوں، تو ایسی حالت میں طلاق مشروع کی گئی ہے۔

طلاق کا حکم :

طلاق اس وقت مباح ہے، جب عورت کی بدخلقی اور اس سے مرد کو ہونے والے نقصان کے پیش نظر شوہر کو سچ مچ اس کی ضرورت ہو۔

اس وقت مکروہ ہوتی ہے، جب ازدواجی تعلقات صحیح رخ پر گام زن ہونے کے باوجود بلا ضرورت دی جائے۔

اس وقت حرام ہوتی ہے، جب حیض یا نفاس کی حالت میں یا ایسے طہر میں دی جائے، جس میں شوہر نے اس سے وطی کی ہو یا پھر ایک لفظ میں تین طلاق دے دی جائے۔

اس وقت مستحب ہوتی ہے جب دونوں کے درمیان لڑائی جھگڑے ہوتے ہوں اور بیوی شوہر کو پسند نہ کرے۔

جب کہ کچھ حالات میں واجب بھی ہوتی ہے۔ مثلا عورت زنا کا ارتکاب کر بیٹھے اور توبہ نہ کرے۔

طلاق کی قسمیں :

طلاق کی متعدد قسمیں ہيں۔ اس کی کچھ قسمیں نیچے درج کی جاتی ہيں :

طلاق رجعی اور طلاق بائن :

طلاق رجعی وہ طلاق ہے، جس میں شوہر اپنی بیوی کو لوٹا سکتا ہے۔ لوٹانے کا یہ حق پہلی یا دوسری طلاق کے بعد عدت کے درمیان ہے۔ اس کے لیے عقد جدید اور نئے مہر کی ضرورت نہیں ہے۔

طلاق بائن۔ اس کی دو قسمیں ہيں :

چھوٹی علاحدگی والی طلاق بائن : چھوٹی علاحدگی والی طلاق بائن یہ ہے کہ انسان اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاق دے اور عدت ختم ہونے تک چھوڑے رکھے۔ ایسے میں شوہر بیوی کی رضامندی اور نئے عقد اور نئے مہر کے بغیر اسے واپس نہیں لے سکتا۔

بڑی علاحدگی والی طلاق بائن : بڑی علاحدگی والی طلاق بائن تیسری طلاق کے بعد واقع ہوتی ہے۔ اس طلاق کے بعد عورت اپنے پہلے شوہر کے پاس لوٹ نہيں سکتی۔ الا یہ کہ کسی دوسرے شخص سے اس کا بہ رغبت نکاح ہو اور اس کےبعد نباہ نہ ہونے کی وجہ سے طلاق ہو جائے۔ حلالہ کی نیت سے نکاح نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "اب اگر اس کو (تیسری بار) طلاق دے دے، تو اب اس کے لئے حلال نہیں، جب تک وه عورت اس کے سوا دوسرے سے نکاح نہ کرے۔" (سورہ بقرہ : 230)

نافذ طلاق اور معلق طلاق :

نافذ طلاق وہ طلاق ہے، جس میں بیوی کو فوری طور پر طلاق دے دی جائے۔ جیسے شوہر اپنی بیوی سے کہے : تم کو طلاق دی جاتی ہے۔

معلق طلاق وہ طلاق ہے، جس میں طلاق مستقبل میں کسی چیز کے واقع ہونے پر معلق رکھی جائے۔ مثلا شوہر بیوی سے کہے : اگر تم فلاں کے گھر گئی، تو تم کو طلاق ہے۔ ایسے میں اس گھر میں جانے کے بعد طلاق واقع ہو جائے گی۔

طلاق کے انواع :

امکان رجعت کے اعتبار سے

بائن: چھوٹی علاحدگی والی طلاق، بڑی علاحدگی والی طلاق

رجعی

اس کے وقوع میں دیر کے اعتبار سے

معلق

نافذ

‎سرگرمیاں

سرگرمی نمبر (1) : تحدید کروں گا :

پڑھے گئے سبق کی روشنی میں نیچے دیے مسائل میں طلاق کی نوعیت متعین کریں :

مسئلہ طلاق کی نوع

ایک شخص نے اپنی بیوی کو ایک بار طلاق دی، پھر دوسری بار طلاق دی اور پھر تیسری بار طلاق دی۔

ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا : اگر تم نے میری بات نہیں مانی، تو تم کو طلاق ہے۔

ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا : تم کو طلاق ہے۔

سرگرمی نمبر (2) : میں نصیحت کروں گا :

اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : ’’کوئی مسلمان مرد کسی مسلمان عورت سے متنفر نہ ہو۔ اگر اسے اس کی کوئی خصلت بری لگتی ہے تو اس کی کوئی عادت اسے پسند بھی ہو گی‘‘۔ (صحیح مسلم : 1469)

اس حدیث کی روشنی میں ایسے لوگوں کو ایک نصیحت کریں، جو بیوی کے ساتھ کچھ بھی کھٹ پٹ ہونے کی صورت میں طلاق دینے کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں۔

سرگرمی نمبر (3) : میں چرچا کروں گا :

نیچے دیے گئے مسائل میں طلاق کے حکم کے بارے میں اپنے ساتھی کے ساتھ چرچا کریں :

مسئلہ طلاق کا حکم

بیوی اپنى عزت وآبرو کے بارے میں حد کو تجاوز کرگئى۔

ایک شخص نے اپنی بیوی کو حیض کے دوران طلاق دے دی۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

عورت اگر ترک صلاۃ پر مصر رہے، تو اسے طلاق دینا واجب ہے۔

نفاس کے دوران طلاق دینا مکروہ ہے۔ (×)

مرد کے لئے اپنى اس بیوی کو زوجیت میں لوٹانا جائز ہے جسے اس نے تین بار طلاق دے دیا ہو۔ (×)

سوال 2 : قوسین کے مابین سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

جب عورت اپنے شوہر کو ناپسند کرے، تو طلاق دینا :

(مباح ہوگا - مستحب ہوگا - مکروہ ہوگا)

جب شوہر اپنی بیوی کو دو طلاق دے دے اور اس کی عدت ختم ہو جائے، تو طلاق :

(رجعی ہوگی - چھوٹی علاحدگی والی بائن ہوگی - بڑی علاحدگی والی بائن ہوگی)

ایک لفظ میں تین طلاق دینا :

(مباح ہے - مکروہ ہے - حرام ہے)

سوال 3 : نیچے دیے گئے دونوں مسئلوں میں طلاق واقع ہونے کا حکم بیان کریں :

ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا : تم گھر سے نکلی تو تم کو طلاق۔ اس کے بعد اس کی بیوی گھر سے باہر نہيں نکلی۔

ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا : تم کو طلاق ہے۔

سوال 4 : طلاق کی مشروعیت کے پیچھے کون سی حکمت کار فرما ہے؟

نواں سبق : کھانے، پینے اور پہننے کی حرام چیزیں

اغراض و مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

کھانے اور پینے کی چیزوں میں اصل کیا ہے، یہ بیان کر سکیں گے۔

کھانے پینے کی حرام چیزیں گنوا سکیں گے۔

لباس اور زینت سے متعلق حرام چیزیں بیان کر سکیں گے۔

حرام کھانے، پینے کی چیزوں اور لباسوں سے اجتناب کریں گے۔

بندوں پر اللہ کی رحمت کا احساس کریں گے۔

عبدالرحمن دوستوں کے ساتھ شکار کے لیے نکلا۔ انھیں ایک خرگوش ملا۔ عبدالرحمن نے پتھر مارا اور خرگوش اس سے پہلے ہی مرگیا کہ اسے ذبح کیا جاتا۔ کیا اس خرگوش کو کھانا جائز ہے؟ اس سبق میں اسی کی وضاحت ملے گی۔

اول : کھانے پینے کی چیزوں کے احکام

کھانے پینے کی چیزوں کا اصل حکم :

اللہ تعالی نے کھانے پینے کی تمام چیزوں کو مباح قرار دیا ہے، سواے ان چیزوں کے جن کے حرام ہونے کی دلیل موجود ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "لوگو! زمین میں جتنی بھی حلال اور پاکیزه چیزیں ہیں انہیں کھاؤ پیو۔" (سورہ بقرہ : 168)

اسی طرح پینے کی تمام چیزوں کو مباح قرار دیا ہے، سواے ان مشروبات کے جو نشہ آور ہوں جیسے شراب، اور ان اشیا کے جو انسان کی عقل میں فتور ڈال دیں اور اسے کم زور کردیں جیسے منشیات، اور نقصان دہ اشیا کے جیسے سگریٹ نوشی وغیرہ۔

کھانے کی حرام چیزیں :

کھانے کی وہ چيزیں حرام ہیں جن کا انسان کے حق میں نقصان دہ ہونا ثابت ہو، اور جن کو قرآن کریم اور سنت نبویہ میں حرام قرار دیا گیا ہو۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "تم پر حرام کیا گیا مردار اور ( بہتا ہوا) خون اور خنزیر کا گوشت اور جس پر اللہ کے سوا دوسرے کا نام پکارا گیا ہو اور جو گلا گھٹنے سے مرا ہو اور جو کسی ضرب سے مر گیا ہو اور جو اونچی جگہ سے گر کر مرا ہو اور جو کسی کے سینگ مارنے سے مرا ہو اور جسے درندوں نے پھاڑ کھایا ہو سوائے اس کے جسے تم ذبح کر ڈالو اور جو آستانوں پر ذبح کیا گیا ہو۔" (سورہ مائدہ : 3)

اس کی تفصیل ملاحظہ ہو :

مردار : اس سے مراد ہر وہ جانور یا پرندہ ہے، جو شرعی طریقے سے ذبح کیے بغیر مر جائے۔ مردار جانوروں میں درج ذیل جانور شامل ہیں:

جسے غیر شرعی طریقے سے قتل کیا گیا ہو۔ جیسے بجلی کے جھٹکے سے یا پانی میں ڈباکر مارنا۔

جو جانور شرعی طور پر ذبح کئے گئے بغیر اچانک مر جائے۔

المنخنقة : جو گلا گھٹنے سے مر جائے۔

الموقوذة : جسے کسی بھاری چیز جیسے پتھر وغیرہ سے مارا جائے اور وہ اس کی چوٹ سے مر جائے۔

المترَدِّيَة : جو کسی اونچی جگہ سے گرنے کی وجہ سے مر جائے۔

النَّطِيحة : جو کسی دوسرے جانور کے سینگ مارنے کی وجہ سے مر جائے۔

ما أكل السبع : جسے کوئی چیر پھاڑ کرنے والا جانور قتل کر دے۔

الدم المسفوح : وہ خون جو کسی جانور کو ذبح کرتے وقت طاقت سے نکلے۔

سور۔ سور کے سارے اجزا حرام ہيں۔

وہ جانور یا پرندہ جسے ذبح کرتے وقت اللہ کے نام کے سوا کسی بت، ولی یا مخلوق کا نام لیا جائے۔

گھریلو (پالتو) گدھے۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : "بلاشبہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے تم کو گھریلو گدھے کا گوشت کھانے سے منع کیا ہے۔" (صحیح بخاری : 4119، صحیح مسلم : 1940)

کچلی کے دانت والا ہر شکاری جانور۔ خواہ وحشی (جنگلی) ہو، جیسے شیر یا گھریلو (پالتو)، جیسے کتا۔

پنجے سے شکار کرنے والا ہر پرندہ، جیسے باز وغیرہ۔ ایک حدیث میں ہے : "اللہ کے رسول ﷺ نے کچلی کے دانت والے ہر درندے اور پنجے سے شکار کرنے والے ہر پرندے کا گوشت کھانے سے منع کیا ہے۔" (صحیح مسلم : 1934)

جلّالہ : ایسا جانور جس کى زیادہ تر خوراک نجاست ہو۔ ایسے جانور کو تین دن روک کر رکھا جائے اور کھانے کو صرف حلال چیزیں دی جائے، تو اس کا کھانا حلال ہو جاتا ہے۔

ایسے حیوان جن کو شریعت نے قتل کرنے کا حکم دیا ہے، جیسے بچھو اور ایسے حیوان جن کے قتل سے شریعت نے منع کیا ہے، جیسے چیونٹی اور شہد کی مکھی۔

اضطراری حالت میں حرام چیزوں کا مباح ہو جانا :

اضطراری حالت میں، مثلا اگر کسی کو بھوک یا پیاس کی وجہ سے موت کا ڈر محسوس ہونے لگے، تو کھانے پینے کی حرام چیزیں مباح ہو جاتی ہيں۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "پھر جو اضطراری حالت میں ہوجائے اور وه حد سے بڑھنے واﻻ اور زیادتی کرنے واﻻ نہ ہو، اس پر ان کے کھانے میں کوئی گناه نہیں۔" (سورہ بقرہ : 173)

دوم : لباس اور زیب و زینت سے متعلق حرام چيزیں

ایسے لباس جو جسم کے ان حصوں کو سامنے لا دیتے ہوں، جن کو چھپانا ضروری ہے :

ایسا عام طور پر لباس کے تنگ، شفاف یا چھوٹا ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ مرد و عورت پر ایسے کپڑے پہننا ضروری ہے، جن سے جسم کے چھپائے جانے والے حصے چھپ جاتے ہوں اور وہ عیاں و بیاں نہ ہوتے ہوں۔

مردوں کا عورتوں یا عورتوں کا مردوں کی مشابہت اختیار کرنا :

مردوں پر لباس یا زیب و زینت کے معاملے میں عورتوں کی مشابہت اختیار کرنا اور عورتوں پر اس سلسلے میں مردوں کی مشابہت اختیار کرنا حرام ہے۔

مردوں کا ریشم کے کپڑے پہننا اور سونے کی بنی ہوئی چیز کا استعمال کرنا :

مردوں کے حق میں ریشم کے کپڑے پہننا اور سونے کے زیورات استعمال کرنا حرام ہے۔ ریشم اور سونا عورتوں کے حق میں مباح ہیں۔

مرد کا ٹخنے سے نیچے کپڑا لٹکاکر پہننا :

مرد پر ٹخنوں سے نیچے لٹکاکر کپڑا پہننا حرام ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : "تہبند ﮐﺎ ﺟﺘﻨﺎ ﺣﺼﮧ ﭨﺨﻨﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﮨﻮﮔﺎ ﻭﮦ ﺍٓﮒ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮔﺎ۔" (صحیح بخاری : 5787)

سرگرمیاں

سرگرمی نمبر(1) : پڑھوں گا اور مسئلہ اخذ کروں گا :

نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: "تمہارے لیے دو مردار اور دو قسم کے خون حلال کیے گئے ہیں۔ رہے دو مردار تو وہ مچھلی اور ٹڈی ہیں، جب کہ دو قسم کے خون جگر اور تلی ہیں۔" (سنن ابن ماجہ : 3314، مسند احمد : 5723)

یہ حدیث ......... اور ......... کے حرام ہونے اور ......... ، ......... اور ......... کے مباح ہونے پر دلالت کرتی ہے۔

سرگرمی نمبر (2) ڈھونڈوں گا :

نیچے دی گئی حدیثوں سے وہ لباس یا زینت کی چیزیں نکالیں، جو حرام ہيں۔ اس کے بعد بتائيں کہ ان میں کون کون سی چيزیں مردوں پر حرام ہیں، کون کون سی چيزیں عورتوں پر حرام ہیں اور کون کون سی چیزیں دونوں پر حرام ہیں۔

حدیث پہننے کی حرام چیزیں کس پر پہننا حرام ہے

حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : "اللہ کے نبی ﷺ نے ہمیں ریشم اور دیباج پہننے اور ان پر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔" (صحیح بخاری : 5837)

ریشم دیباج، ایک قسم کا دبیز منقش ریشمی کپڑا مرد حضرات

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: "اللہ کے نبی ﷺ نے عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں اور مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت کی ہے۔" (سنن ترمذی : 2785) مردوں کا عورتوں کی مشابہت اختیار کرنا اور عورتوں کا مردوں کی مشابہت اختیار کرنا مرد اور عورت

اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : ’’جو شخص غرور سے اپنا کپڑا نیچے گھسیٹ کر چلا، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا‘‘۔ (صحیح بخاری : 3665، صحیح مسلم : 2085)

کپڑا ٹخنوں سے نیچے لٹکانا مرد حضرات

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) كا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

اس چيز کا کھانا جائز ہے، جس کے قتل سے مسلمان کو منع کیا کيا ہے۔ (×)

المتردية : اس سے مراد وہ جانور ہے، جو اونچی جگہ سے گر جانے کی وجہ سے مر جائے۔ (✓)

المنخنقة : اس سے مراد وہ جانور ہے، جو چوٹ لگنے کی وجہ سے مر جائے۔ (×)

گھریلو گدھا کھانا حرام ہے۔ (✓)

باز کھانا جائز ہے۔ (×)

سوال 2 : قوسین کے مابین سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

کھانے کی ایک حرام چیز ہے :

(بجلی کے جھٹکے سے مارا گیا جانور - اہل کتاب کے کھانے - جنگلی گدھے)

عورتوں کے حق میں سونا پہننا :

(مستحب ہے - مباح ہے - حرام ہے)

جسم کے جن حصوں کو چھپانا ضروری ہے، ان کو چھپانے والے کپڑے پہننا :

(واجب ہے - مستحب ہے - مباح ہے)

مردوں کا ٹخنے سے نیچے لٹکا کر کپڑے پہننا :

(حرام ہے - مکروہ ہے - مباح ہے)

نجاست کھانے والا جانور اس وقت کھانا جائز ہے، جب وہ پاک چیز کھائے :

(نصف دن تک - ایک دن ایک رات تک - تین دنوں تک)

سوال 3 : نیچے دیے گئے دونوں سوالوں کے جواب دیجیے :

پہننے اور زیب و زینت کی ان چیزوں کی تحدید کریں، جو مردوں پر حرام ہيں۔

"کھانے پینے کی چیزیں اصلا مباح ہیں۔" اس عبارت کی تشریح کریں۔

دسواں سبق : شراب اور منشیات اور ان کے تباہ کن اثرات

اغراض و مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

شراب اور منشیات کا حکم بیان کر سکيں گے۔

شراب اور منشیات کے برے اثرات گنوا سکیں گے۔

شراب اور منشیات سے سماج کو ہونے والے نقصانات کو محسوس کر سکيں گے۔

شراب اور منشیات سے دور رہیں گے۔

تمہید :

اللہ کا بندوں پر بڑا احسان و کرم ہے کہ اس نے چند ایسی مشروبات کو چھوڑ کر، جن کے حرام ہونے کی دلیل موجود ہو، پینے کی تمام اشیا کو مباح قرار دیا ہے۔ ممنوع مشروبات میں ہر ناپاک اور ایسا مشروب شامل ہے، جس کے پینے سے انسان کو نقصان ہوتا ہو۔ جیسے شراب اور نشہ آور چیزیں۔

ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : "اللہ کے رسول ﷺ نے ہر نشہ آور اور عقل میں فتور لانے والی چیز سے منع فرمایا ہے۔" (مسند احمد : 26634، سنن ابوداؤد : 3686)

اس حدیث میں آئے ہوئے لفظ "مسکر" کی مثال شراب ہے اور "مفتر" سے مراد ہر وہ چیز ہے، جو عقل میں فتور اور کمزوری لانے کا کام کرے۔ جیسے منشیات۔

حرام مشروبات کی تفصیل ملاحظہ ہو :

شراب نوشی :

شراب شدید ترین حرمت والا مشروب ہے۔ اس کے اندر وہ ساری چیزیں شامل ہیں، جو عقل کو زائل کر دیتی ہوں یا اس پر اثر انداز ہوتی ہوں۔ چاہے وہ اپنے پرانے نام شراب سے جانی جاتی ہوں یا کسی نئے نام سے، جیسے الکحل والے مشروبات۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "اے ایمان والو! بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور تھان اور فال نکالنے کے پانسے کے تیر، یہ سب گندی باتیں، شیطانی کام ہیں۔ ان سے بالکل الگ رہو، تاکہ تم فلاح یاب ہو سکو۔" (سورہ مائدہ : 90)

اللہ تعالی نے شراب کو حرام قرار دیا ہے، کیوں کہ یہ انسان کے عقل و شعور کو زائل کر دیتی ہے اور اس کے پینے کے فرد اور معاشرے پر بہت سے برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اثرات کا تعلق چاہے دین سے ہو یا نفس سے یا عزت و آبرو سے یا عقل سے یا پھر مال سے۔

ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ کم ہو یا زیادہ۔ چاہے اس کی شکل اور رنگ جو بھی ہو۔ لوگوں نے اس کا جو بھی نام اور لقب رکھ لیا ہو۔

نشہ آور اشیا :

نشہ آور اشیا شراب کی طرح ہی عقل اور حواس کو متاثر کرتی ہیں۔ اور کبھی جوش و خروش اور فرحت و سرور بھی دیتی ہیں۔

نشہ آور چیزیں حرام ہیں۔ کم ہوں یا زیادہ۔ خواہ وہ نباتات ہوں، جیسے چرس اور افیون یا پھر مصنوعی دواؤں -جیسے مورفین، ہیروئن اور کوکین کى گولیوں اور انجکشنوں کی شکل میں۔

منشیات حرام ہیں۔ کیوں کہ یہ چیزیں گندی اور شریعت اسلامی کى مقاصد سے متصادم ہيں۔ "اور پاکیزه چیزوں کو حلال قرار دیتے ہیں اور گندی چیزوں کو ان پر حرام فرماتے ہیں۔" (سورہ اعراف : 157)

دوسری بات یہ ہے کہ منشیات شراب ہی کی طرح عقل کو زائل کرتی اور اس پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ بلکہ کبھی کبھی یہ شراب سے بھی زیادہ ضرر رساں ثابت ہوتی ہیں، کیوں کہ یہ انسان کو اپنا عادی بنا دیتی ہیں اور ان سے چھٹکارا پانا بڑا مشکل ہوتا ہے۔

شراب اور نشہ آور اشیا کے برے اثرات

عقل کا زائل ہونا، جو فرد اور سماج کے حق میں بڑا خطرناک ثابت ہوتا ہے۔

ان سے ان پانچ ضروریات کے اندر بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے، جن کی حفاظت کا حکم شریعت نے دیا ہے۔ چنانچھ نشہ آور چیزیں انسان کے دین، نفس، نسل، عقل اور مال سب کے حق میں زہر ہلاہل ہيں۔

نشہ آور چیزیں صحت سے متعلق بہت سی پریشانیوں کا سبب بنتی ہیں۔ جیسے یاد داشت کی کمزوری، نظام تنفس کی خرابی اور جسم کے مدافعتی نظام کی کمزوری وغیرہ۔

مال کا ضیاع اور اسے اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں میں خرچ کرنا۔

سرگرمیاں

سرگرمی نمبر (1) : استدلال کروں گا :

رسول ﷺ کا فرمان ہے : "نہ ابتداءً کسی کو نقصان پہنچانا جائز ہے اور نہ بدلے کے طور پر نقصان پہنچانا جائز ہے۔" (سنن ابن ماجہ : 2340)

اس حدیث سے شراب اور منشیات کی حرمت پر استدلال کی کیفیت بیان کیجیے۔

سرگرمی نمبر (2) : نصیحت کروں گا :

نشہ آور اشیا کا استعمال کرنے والوں کو ایک نصیحت کریں، جس میں نشہ آور اشیا کا حکم اور فرد اور سماج پر پڑنے والا اس کا نقصان بیان کیا گیا ہو۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) كا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

ہر گندہ مشروب حرام ہے۔

منشیات کم مقدار میں مباح ہیں۔

ضعف کا سبب بننے والی چیزیں پینا حرام ہے۔

منشیات معاشرے کے امن و امان کو چیلنج کرتی ہیں۔

سوال 2 : قوسین کے مابین سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

ہر نشہ آور چیز کا استعمال حرام ہے۔ نشہ آور چیز وہ ہے، جو :

(عقل کو زائل کر دے - حواس کو زائل کر دے - مال کو ضائع کر دے)

قرآن کریم کے اندر صراحت آئی ہے :

(شراب کی حرمت کی - منشیات کی حرمت کی - فتور لانے والی چیزوں کی حرمت کی)

سوال 3 : نیچے دیے گئے دونوں سوالوں کے جواب دیجیے :

اسلام نے شراب اور منشیات کو حرام کیوں قرار دیا ہے؟

شراب اور نشہ آور اشیا کے فرد اور سماج پر پڑنے والے تین اثرات بیان کریں۔

اکائی : دعوت

پہلا سبق : دعوت کی اہمیت اور فضیلت

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

دعوت الی اللہ کا مفہوم واضح کر سکیں گے۔

دعوت الی اللہ کی اہمیت بتا سکیں گے۔

دعوت الی اللہ کی فضیلت بتا سکیں گے۔

دعوت الی اللہ کی اہمیت کی قدر و قیت کا اندازہ لگا سکیں گے۔

اپنے آس پاس کی لوگوں تک دعوت الی اللہ کی فضیلت پہنچائيں گے۔

تمہید :

اگر دعوت الی اللہ کا فریضہ انجام دینے والے لوگ، جو شریعت اسلامیہ کی تبلیغ کا کام کرتے ہيں، موجود نہ ہوں، تو آپ کے خیال میں اس کے کیا نقصانات ہو سکتے ہیں؟

دعوت الی اللہ

مفہوم

اہمیت

فضیلت

دعوت رسولوں اور نبیوں کا مشن ہے

داعی سب سے اچھی بات کہنے والا انسان ہے

دعوت کام یابی وکامرانی کا راستہ ہے

داعی کے لیے بڑا عظیم اجر و ثواب ہے

دعوت ہلاکت سے نجات کا سبب ہے

اول : دعوت الی اللہ کا مفہوم :

دعوت الی اللہ کا مفہوم ہے اسلامی عقیدہ، شریعت اور اخلاق کو لوگوں تک پہنچانا۔

دوم : دعوت الی اللہ کی اہمیت :

اسلام میں دعوت کی بڑی اہمیت ہے، جس کى وضاحت درج ذیل نکات سے بخوبی ہوتی ہے:

دعوت اسلام پھیلنے کی بنیاد ہے۔ اسی کی وجہ سے آج مسلمانوں کی تعداد ڈیڑھ ارب سے تجاوز کر چکی ہے۔

دعوت سے صرف اللہ کی عبادت عام ہوگی، لوگوں کو ہدایت مل سکے گی اور انہیں توحید، عبادت اور حلال و حرام کی معرفت حاصل ہو سکے گی۔

دعوت سے لوگوں کے معاملات، جیسے خرید و فروخت اور نکاح وغیرہ درست ہو سکیں گے۔

دعوت سے لوگوں کے اجتماعی اور عائلی حالات درست ہو تے ہیں۔

دعوت سے لوگوں کے اخلاق بہتر ہوتے ہیں، اختلافات کم ہوتے ہیں اور حقد و کینہ جیسی چیزیں ختم ہوجاتی ہیں۔

سوم : دعوت الی اللہ کی فضیلت :

دعوت رسولوں اور نبیوں کا مشن ہے :

دعوت نبیوں، رسولوں، علما اور مصلحین کا مشن ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو۔" (سورہ نحل : 36)

داعی سب سے اچھی بات کرنے والا انسان ہے :

داعی سب سے اچھی بات کرنے والا انسان ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "اور اس سے زیاده اچھی بات واﻻ کون ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک کام کرے اور کہے کہ میں یقیناً مسلمانوں میں سے ہوں۔" (سورہ فصلت : 33)

دعوت کام یابی کی راہ ہے :

دعوت اخروی کام یابی اور فلاح کی راہ ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے، جو بھلائی کی طرف بلائے اور نیک کاموں کا حکم کرے اور برے کاموں سے روکے، اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔" (سورہ آل عمران: 104)

داعی کے اجر و ثواب کا بہت بڑا ہونا:

اللہ کی طرف دعوت دینے والے کو، اس کی دعوت سے فیض یاب ہوکر نیکی کے کام کرنے والے کے برابر اجر و ثواب ملتا ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : ”جس شخص نے ہدایت کی دعوت دی اسے اس ہدایت کی پیروی کرنے والوں کے برابر اجر ملے گا اور اس سے ان کے اجر میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی“۔ (صحیح مسلم : 2674)

دعوت ہلاکت سے نجات کا سبب ہے :

جب دعوت الی اللہ کا فریضہ انجام دینے والے لوگ اصلاح، دین کی تبلیغ، بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا کام کرتے ہیں، تو اللہ ان کے معاشروں کی ہلاکت اور دنیوی سزا سے حفاظت فرماتا ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "پس کیوں نہ تم سے پہلے زمانے کے لوگوں میں سے ایسے اہل خیر لوگ ہوئے، جو زمین میں فساد پھیلانے سے روکتے، سوائے ان چند کے جنہیں ہم نے ان میں سے نجات دی تھی۔ ظالم لوگ تو اس چیز کے پیچھے پڑ گئے جس میں انہیں آسودگی دی گئی تھی اور وه گنہ گار تھے۔" (سورہ ہود : 116)

مذکورہ بالا باتوں کے علاوہ دعوت الی اللہ کی اور بھی بہت سی فضیلتیں ہیں، جو ایک مسلمان کو اللہ کی جانب دعوت دینے اور ان کو سیدھا راستہ دکھانے کا حریص بناتی ہیں۔

سرگرمیاں

سرگرمی نمبر (1) : میں ساتھ مل کر کام کروں گا اور جواب دوں گا :

اپنے ساتھیوں کی مدد سے دعوت کے وہ فضائل بیان کریں، جن پر درج ذیل نصوص دلالت کرتے ہیں :

نص دعوت کے فضائل

اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے : "زمانے کی قسم. بے شک (بالیقین) انسان سراسر نقصان میں ہے. سوائے ان لوگوں کے جو ایمان ﻻئے اور نیک اعمال کیے اور (جنہوں نے) آپس میں حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی۔" (سورہ عصر : 1-3)

اللہ کے نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: "اللہ کی قسم! اگر تمہارے ذریعہ ایک شخص کو بھی ہدایت مل جائے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔" (سنن ابوداؤد : 2685)

آپﷺ نے مزید فرمایا ہے : ”اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اور آسمان اور زمین والے یہاں تک کہ چیونٹیاں اپنی سوراخ میں اور مچھلیاں (یہ سب کےسب) اس شخص پر صلاۃ بیھجتے ہیں، جو لوگوں کو نیکی و بھلائی کی تعلیم دیتا ہے“۔ (سنن ترمذی : 2685)

سرگرمی نمبر (2) : آپس میں چرچا کروں گا اور تجویز پیش کروں گا :

اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس بات پر گفتگو کریں کہ لوگوں کو دعوت الی اللہ کی ترغیب دینے کے کیا کیا وسائل ہو سکتے ہیں؟

سرگرمی نمبر (3) : میں مشاہدہ کروں گا اور جواب دوں گا :

اس آڈیو کلپ کو دیکھیں اور اس کے بعد اس سے دعوت الی اللہ کے بارے میں حاصل ہونے والے فوائد کو بیان کریں :

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

دعوت الی اللہ اسلام کی اشاعت کى بنیاد ہے۔

دعوت صرف عبادتی معاملات کے ساتھ خاص ہے۔ (×)

دعوت الی اللہ کا فریضہ انجام دینے والے کا ثواب بڑھتا رہتا ہے۔

دعوت الی اللہ کا فریضہ انجام دینے والے نبیوں کی راہ پر چلنے والے لوگ ہیں۔

معاشرے کی اصلاح کا کام صرف اہل سیاست کا ہے۔ (×)

سوال 2 : قوسین کے مابین سے سوالوں کے مطابق جواب دیں :

دعوت الی اللہ رسولوں کا سب سے بڑا مشن ہے۔ (اس عبارت کی تشریح کریں)

دعوت الی اللہ دنیوی و اخروی فلاح و کام رانی کا سبب ہے۔ (اس کے ثبوت میں کوئی شرعی نص پیش کریں)

اللہ ان معاشروں کی حفاظت فرماتا ہے، جو دعوت الی اللہ کا کام پوری مستعدی سے کرتے ہیں۔ (اس کا سبب بیان کریں)

دوسرا سبق : اللہ کے نبی ﷺ کے مکی دور کی دعوت کا مختصر تعارف

درس کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

مکہ میں دعوت کی ترقی کے مراحل کا مطالعہ کریں گے۔

دعوت کے تعلق سے مشرکین کے موقف کو واضح کر سکیں گے۔

مکی دور کی اسلامی دعوت کی منہجیت کو سمجھ سکیں گے۔

داعی کے لئے لازمی اہم اوصاف گنوا سکیں گے۔

اللہ کے نبی ﷺ اور صحابۂ کرام کے صبر و استقامت کا اندازہ لگا سکیں گے۔

دعوت الی اللہ کے سلسلے میں اللہ کے نبی ﷺ کی منہجیت اور اخلاق کا التزام کریں گے۔

ایک ایسے وقت میں جب عرب کے لوگ دینی بگاڑ، اجتماعی ظلم اور سیاسی انتشار کے شکار تھے، اللہ نے آخری نبی محمد عربی ﷺ کو مبعوث فرمایا، تاکہ لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی وسیع دنیا میں ڈال دیں۔ اس درس میں ہم اللہ کے نبی ﷺ کے مکی دور کی دعوت کے بارے میں مختصر جائزہ لیں گے۔

اللہ کے رسول ﷺ کے مکی دور کی دعوت کا مختصر بیان :

1- دعوت کى شروعات اور ابتدائى باتیں

2- سرّی دعوت

3- کھلے عام دعوت

4- دعوت کے بارے میں مشرکوں کا موقف

5- مشرکوں کی ایذا رسانی کے بارے میں نبی ﷺ کا موقف

6- طائف والوں کو دعوت

8- مدینے والوں کو دعوت

8- مدینے کی جانب ہجرت

دعوت کى شروعات اور ابتدائى باتیں:

اللہ کے نبی ﷺ بچپن اور جوانی میں اپنے اچھے اخلاق کی وجہ سے مشہور تھے۔ عمر جب چالیس سال ہونے لگی تو غار حرا میں عبادت اور غور و فکر میں مشغول رہنے لگے۔ پورے چالیس سال کے ہونے کے بعد ایک دن عبادت میں مشغول تھے کہ اللہ نے آپ ﷺ کو نبوت سے سرفراز کیا۔ چنانچہ جبریل علیہ السلام آپ کے پاس سورہ علق کی ابتدائی پانچ آیتوں کے ساتھ اترے۔

سرّی دعوت :

نبوت سے سرفراز ہونے کے بعد آپ ﷺ نے دعوت کا کام شروع کر دیا۔ آپ ﷺ کی دعوت سرّی یعنی خفیہ اور انفرادی ہوا کرتی تھی۔ اس مرحلے کی دعوت میں عقیدے کی اصلاح، لوگوں کو اسلام کی جانب بلانا اور مشرکوں کی ایذا رسانیوں پر صبر کی تلقین شامل تھی۔ ابتدائی دور میں اسلام قبول کرنے والوں میں آپ کی بیوی خدیجہ، چچیرے بھائی علی بن ابى طالب، دوست ابوبکر صدیق اور آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ رضی اللہ عنہم شامل تھے۔

کھلے عام دعوت :

اسی حالت میں تین سال گزر جانے کے بعد آپ ﷺ نے کھلے عام دعوت کا کام شروع کر دیا۔ آغاز اس طرح ہوا کہ ایک دن آپ ﷺ صفا پہاڑی پر چڑھ گئے، پورے قریش قبیلے کو بلایا اور اسلام کی دعوت دی۔ آپ ﷺ کے چچا ابو لہب اور زعماۓ قریش نے آپ ﷺ کو جھٹلا دیا۔ لیکن آپ ﷺ مایوس نہیں ہوئے اور اپنا کام جاری رکھا۔

دعوت کے بارے میں مشرکین کا موقف:

زعمائے قریش نے اللہ کے نبی ﷺ کو متعدد طریقوں سے دعوت کا کام جاری رکھنے سے روکا۔ مثلا :

آپ ﷺ کے چچا ابو طالب سے گزارش کی کہ آپ ﷺ کو دعوت کے کام سے روکیں۔ لیکن آپ ﷺ دعوت کام کام جاری رکھنے پر مصر رہے۔

آپ ﷺ کا مذاق اڑایا، تحقیر کی اور جھوٹے الزامات لگائے۔ جیسے مجنوں، جادوگر اور جھوٹا کہا۔

آپ ﷺ کو اور آپ کے ساتھیوں کو، بطور خاص کم زوروں اور غلاموں، جیسے بلال بن رباح، خباب بن ارت اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم وغیرہ کو جسمانی اذیتیں دیں۔

بنی ہاشم سے تعلق رکھنے والے آپ کے ان قرابت داروں کا بائیکاٹ کیا، جو آپ کی مدد کرتے تھے۔ کفار قریش نہ ان کو کوئی سامان بیچتے، نہ ان سے کچھ خریدتے، نہ شادی بیاہ کرتے اور نہ میل جول رکھتے تھے۔ بائیکاٹ کا یہ سلسلہ تین سال تک جاری رہا۔ اس کے بعد کچھ زعماۓ قریش کی مخالفت کی وجہ سے یہ بائیکاٹ ختم ہو گیا۔

مشرکوں کی ایذا رسانی کے بارے میں نبی ﷺ کا موقف:

اللہ کے نبی ﷺ اور آپ کے ساتھی اللہ کے دین پر قائم رہے اور اللہ کی جانب سے دیے گئے صبر کے حکم پر عمل پیرا ہوئے۔

آپ ﷺ کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ اپنے ساتھیوں سے ارقم بن ابى ارقم کے گھر میں قریش کی نظروں سے دور جاکر ملیں۔

جب دیکھا کہ قریش کی اذیتیں بڑھتی ہی جا رہی ہیں، تو سنہ 5 نبوت میں اپنے کم زور ساتھیوں کو حبشہ ہجرت کرنے کا حکم دے دیا۔ قریش نے ان کو مکہ واپس لانے کی کوشش بھی کی، لیکن ناکام رہے۔

غم کے سال اہل طائف کو دعوت :

سنہ 10 نبوت کو غم کے سال کے طور جانا گیا۔ کیونکہ اسی سال اللہ کے رسول ﷺ کی بیوی خدیجہ رضی اللہ عنہا اور آپ کے چچا ابو طالب کا انتقال ہوا۔ ان دونوں حادثوں کے بعد قریش والے نبی صلى اللہ علیہ وسلم کو ایذا پہونچانے پر جری ہوگئے۔ اسی سال آپ نے اہل طائف کو دعوت دینے کا فیصلہ کیا، لیکن انھوں نہ صرف ٹھکرایا، بلکہ آپ کو بڑی اذیت بھی دی۔ ان ساری مصبیتوں کی وجہ سے علما نے اس سال کو غم کا سال کہا ہے۔

لہذا اللہ نے آپ کی عزت افزائی، غموں کے بوجھ کو ہلکا کرنے اور دعوت کا کام جاری رکھنے کا حوصلہ دینے کے لیے آپ کو سفر اسرا و معراج کے لئے چنا۔ یہ سفر دراصل اللہ کے رسول ﷺ کے ایک بہت بڑے معجزے کی حیثیت رکھتا ہے۔

حج کے موسم میں اہل مدینہ کو دعوت :

اس دوران اللہ کے رسول ﷺ نے اپنی توجہ بیرونی علاقوں سے مکہ آنے والے لوگوں، بطور خاص موسم حج میں آنے والوں کی دعوت پر مرکوز رکھی۔ چنانچہ سنہ 11 نبوت میں مدینہ منورہ سے آئے ہوئے چھ جوانوں کو دعوت دی، جو مسلمان ہو گئے اور مدینہ لوٹ کے وہاں کے لوگوں کو اسلام کی دعوت دیتے رہے۔

اگلے سال 12 نبوت میں 12 لوگوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ اسے بیعت عقبہ اولی کے نام سے جانا جاتا ہے۔

بعد ازاں سنہ 13 نبوت کو 72 مردوں اور 2 عورتوں نے آپ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی اور اس بات کا عہد کیا کہ اگر آپ مدینہ ہجرت کر جاتے ہیں، تو وہ آپ کی حمایت و نصرت کریں گے۔ اسے بیعت عقبہ ثانیہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

ہجرت مدینہ :

بیعت عقبہ ثانیہ کے بعد اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے ساتھیوں کو مدینہ ہجرت کرنے کا حکم دے دیا۔ چنانچہ صحابہ یکے بعد دیگرے ہجرت کرتے رہے۔ جب اللہ نے اپنے نبی محمد عربی ﷺ کو بھی ہجرت کرنے کا حکم دے دیا، تو آپ ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ دونوں ایک ساتھ ہجرت کرنے والے ہیں۔ آپ نے قریش کی پکڑ سے بچنے کے لیے نکلنے کا ایک مضبوط لائحۂ عمل تیار کر لیا۔ قریش کی نظروں سے بچنے کے لیے دونوں تین دنوں تک غار ثور میں رکے رہے اور اس کے بعد ایک غیر معروف راستے سے مدینے کی جانب روانہ ہو گئے۔ راستہ دکھانے کا کام عبداللہ بن اریقط نام کا ایک مشرک شخص انجام دے رہا تھا۔ آٹھ دن بعد منزل مقصود تک پہنچے۔ اہل مدینہ نے دونوں کا بڑا پرجوش اور والہانہ استقبال کیا۔ ان کی آمد پر مدینہ والوں کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا۔

سرگرمیاں

سرگرمی نمبر (1) ساتھ مل کر غور و فکر کروں گا اور نتیجہ اخذ کروں گا :

اس سبق کی روشنی میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر درج ذیل سوالوں کا جواب دیجیے :

داعی دعوت کا کام کب سری طور پر کرے گا اور کب علی الاعلان؟

دعوت الی اللہ کی کام یابی میں لائحۂ عمل تیار کرنے کی کیا اہمیت ہے؟

سرگرمی نمبر (2) : پیغام دوں گا :

"صبر اور استقامت وہ اوصاف ہیں، جن کے زیور سے ہر داعی کو آراستہ ہونا چاہیے۔" اس کی روشنی میں :

اپنے سبق کی رہ نمائی میں اس عبارت کی صحت کو واضح کریں۔

ان داعیوں کو ایک پیغام دیں، جو پہلی ہی مصیبت پر دعوت الی اللہ کا فریضہ ترک کر دیتے ہیں۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

نبی ﷺ نے لوگوں کو دین کی دعوت دینے کا کام اجتماعی طریقے سے شروع کیا۔ (×)

اللہ تعالی نے اپنے نبی محمد عربی ﷺ کو اسرا و معراج کے شرف سے نوازا۔

مشرکوں نے اللہ کے نبی ﷺ کی دعوت کا مقابلہ چرچا اور آپسی بات چیت سے کیا۔ (×)

حبشہ کی طرف ہجرت نے کم زور مسلمانوں کى پریشانیوں کو کم کردیا۔

پلاننگ اور صبر دعوت الی اللہ کى کامیابی کے لیے بنیاد کی حیثیت رکھنے والی چیزیں ہیں۔

سوال 2 : قوسین کے مابین سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

اہل طائف کو دعوت دینے کے لیے اللہ کے نبی ﷺ کے نکلنے کا سبب تھا :

(اہل طائف کا اہل مکہ سے افضل ہونا - اہل مکہ کا عناد - اہل طائف کی دریادلی)

ہجرت مدینہ کا راستہ ہم وار کرنے والے واقعات میں سے ایک واقعہ ہے :

(عقبہ کی دونوں بیعتیں - طائف کا سفر - اسرا و معراج)

ابتدائی دور میں اسلام قبول کرنے والے افراد میں سے ہیں:

(بلال بن رباح رضی اللہ عنہ - خالد بن ولید رضی اللہ عنہ - معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہ)

سوال 3 : نیچے دیے گئے سوالوں کا جواب دو :

اس درس میں بیان ہونے والے سیرت نبوی کے واقعات سے تین فوائد نکالیں۔

اللہ کے نبی ﷺ کی مدینے کی جانب ہجرت کے کام یاب ہونے کے اسباب بیان کریں۔

سنہ 10 نبوت کو غم کا سال کیوں کہا گیا؟

تیسرا سبق : مدینہ میں نبی ﷺ کی دعوت کا مختصر بیان

درس کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

مدینہ منورہ میں اسلامی سلطنت کے قیام کی بنیادوں کو واضح کر سکیں گے۔

مدنی دور میں واقع ہونے والے اہم غزوات کے نام بتا سکیں گے۔

مکی دور اور مدنی دور کے دعوتی منہج کا موازنہ کر سکیں گے۔

نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے جہاد کی اہمیت کا اندازہ لگا سکیں گے۔

حجۃ الوداع کے موقعے پر سامنے آنے والی اہم باتوں کا خلاصہ پیش کر سکیں گے۔

ہم نے پچھلے سبق میں مکی دور کی دعوت کے اہم پہلووں کو پڑھا ہے۔ اس سبق میں ہم مدنی دور کی دعوت سے متعلق اہم باتوں سے رو برو ہوں گے۔ اس کے لیے مندرجہ ذیل نکات ملاحظہ ہوں :

مدنی دور میں نبی ﷺ کی دعوت کا مختصر بیان :

1- دعوت الی اللہ میں مسجد کا کردار

2- دعوت کی ماحول سازی۔

3- دعوت کی حمایت میں قائم ہونے والی جنگی محاذ آرائیوں کا کردار

5- جنگی محاذ میں کام یابی کے بعد دعوت کی نشر و اشاعت

5- اللہ کے نبی ﷺ کی وفات

دعوت الی اللہ میں مسجد کا کردار :

اللہ کے نبی ﷺ نے سرزمین مدینہ میں ربیع الاول کے مہینے میں قدم رکھا۔ یہاں پہنچنے کے بعد آپ کا سب سے پہلا کام تھا مسجد نبوی کی تعمیر۔ ایسا مسلمانوں کی زندگی میں مسجد کی اہمیت کے پیش نظر ہوا۔ مسجد نبوی صرف نماز پڑھنے کی جگہ نہیں تھی۔ وہ ایک ربانی مدرسے کی حیثیت رکھتی تھی، جس میں رہ کر تاریخ انسانی کی سب سے بہترین نسل نے تعلیم و تربیت حاصل کی۔ وہ شرعی فیصلوں، لوگوں کے درمیان صلح صفائی، عوامی معاملوں میں مشاورت، وفود کے استقبال اور اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے لشکروں کی روانگی کا مرکز تھی۔

دعوت کی ماحول سازی :

اللہ کے نبی ﷺ نے مدینے کے استحکام کے لیے کام کیا اور اس کے لیے درج ذیل اقدامات کیے :

اوس اور خزرج، جن کے درمیان اسلام سے پہلے عداوت اور جنگوں کا سلسلہ جاری تھا، کے درمیان صلح کرا دی۔ چنانچہ ان کے بیچ دشمنی ختم ہو گئی اور محبت اور اخوت اسلامی قائم ہو گئی۔

مہاجرین اور انصار کے درمیان اخوت قائم کر دی۔ اس طرح کی اخوت کہ ہر ایک کے لئے نسبی بھائی کی طرح حقوق ہوا کرتے تھے اور اسلام کی یہ اخوت خون اور نسب کی اخوت سے بھی مضبوط ثابت ہوئی۔

مدینے کے یہودیوں (بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ) سے معاہدہ کر لیا، تاکہ مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان رابطہ استوار ہو سکے، یہودیوں کے شر سے بچا جا سکے، مدینے کے اندر امن و سلامتی کا ماحول قائم ہو سکے اور مسلمان بے فکر ہو کر دعوت و تبلیغ کا کام کر سکیں۔

دعوت کی حمایت میں قائم ہونے والی جنگی محاذ آرائیوں کا کردار :

اہم غزوات

دعوت کا کام جاری رکھنے کے لیے ایک طاقت کی ضرورت ہوتی ہے، جو اسے تحفظ فراہم کرسکے۔ یہی وجہ ہے کہ جب مسلمان مدینہ منورہ کے اندر ایک طاقت بن گئے، تو اللہ نے ان کو دشمنوں سے جنگ کرنے کی اجازت دے دی۔ اس درمیان واقع ہونے والے اہم معرکے اور غزوے کچھ اس طرح ہیں :

- غزوۂ بدر

- غزوۂ بنی قینقاع

- غزوۂ احد

- غزوۂ بنی نضیر

- غزوۂ خندق

غزوۂ بنی قریظہ

- غزوۂ حدیبیہ

-غزوۂ خیبر

- فتح مکہ

- غزوۂ حنین

17 رمضان سنہ 2ھ کو غزوۂ بدر ہوا۔ یہ مسلمانوں کی پہلی بڑی جنگ تھی۔

اس میں اللہ نے ان کو کفار قریش پر فتح نصیب کی۔ جب کہ ان کی تعداد کفار کے مقابلے میں بہت کم تھی۔

شوال سنہ 3ھ میں غزوۂ احد ہوا۔ آغاز مسلمانوں کی جیت سے ہوا، لیکن آخر میں ہار کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ اللہ کے نبی ﷺ اور مسلمانوں کے لیے بڑا سخت دن تھا۔

شوال سنہ 5ھ میں غزوۂ احزاب ہوا۔ مسلمانوں نے اپنی حفاظت کے لیے مدینے کے اردگرد خندق کھود ڈالی تھی۔ پھر میں اللہ تعالى نے کفار بڑی تیز ہوا بھیجی، جس سے کفار شکست کھاکر لوٹ گئے۔

شوال سنہ 2ھ میں بنو قینقاع قبیلے کے یہودیوں نے معاہدہ توڑ دیا، تو ان کو مدینے سے جلاوطن کر دیا گیا۔ اسی طرح جب بنو نضیر قبیلے کے یہودیوں نے قریش کو مسلمانوں سے جنگ کرنے پر ابھارا، تو سنہ 4ھ میں ان کو بھی جلاوطن کر دیا گیا۔ جب کہ سنہ 5ھ کے آخر میں بنو قریظہ سے جنگ ہوئی، جوغزوۂ خندق کے موقعے پر مشرکین کے حلیف بن گئے تھے۔

ذی قعدہ سنہ 6ھ میں صلح حدیبیہ ہوئی۔ دراصل اللہ کے نبی ﷺ اور آپ کے ساتھی عمرہ کرنے کے ارادے سے مکہ جا رہے تھے۔ حدیبیہ نامی جگہ تک پہنچے تو قریش نے آگے بڑھنے سے روک دیا اور بعد میں صلح ہو گئی۔ صلح کے نکات میں سے ایک نکتہ یہ تھا کہ مسلمانوں اور قریش کے درمیان دس سالوں تک جنگ بند رہے گی۔

محرم سنہ 7ھ میں خیبر فتح ہوا۔ نبی ﷺ یہودیوں کی تادیب کے لیے نکلے، جنھوں نے عرب قبائل کو مسلمانوں سے جنگ کرنے پر ابھارا تھا۔ چناں چہ مسلمانوں نے ان کا محاصرہ کیا اور ان سے جنگ کی، یہاں تک کہ انھوں نے ہتھیار ڈال دیے۔

رمضان سنہ 8ھ میں قریش کے صلح حدیبیہ کی خلاف ورزی کرنے کے بعد مکہ فتح ہوگیا، جس کے نتیجے میں لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوئے۔

شوال سنہ 8ھ میں غزوۂ حنین ہوا۔ اس غزوے میں اللہ کے نبی ﷺ کا سامنا ہوازن اور ثقیف قبیلوں سے حنین وادی میں ہوا۔ آپ کے ساتھ 12 ہزار مسلمان تھے۔ مسلمانوں کو فتح ملی اور بہت سارے اموال غنیمت بھی حاصل ہوئے۔

جنگی محاذ میں کام یابی کے بعد دعوت کی نشر و اشاعت :

مشرکوں اور یہودیوں کے ساتھ ہونے والی جنگی محاذ آرائیوں میں کام یابی کے ساتھ ساتھ رسول ﷺ نے باقی جزیرۂ عرب اور بیرونی علاقوں میں اسلامی دعوت کو عام کرنے کا کام بھی جاری رکھا۔ جس کی ایک مثال نیچے دی جا رہی ہے :

اللہ کے رسول ﷺ نے جزیرۂ عرب کے ارد گرد واقع بڑی بڑی سلطنتوں کے بادشاہوں کو خط لکھ کر ان کو اسلام کی دعوت دی۔ آپ نے فارس کے بادشاہ کسری، روم کے بادشاہ قیصر، حبشہ کے بادشاہ نجاشی اور عظیمِ مصر مقوقس کو خطوط لکھے۔

فتح مکہ کے بعد سنہ 9ھ میں بڑی تعداد میں عرب سے وفود آئے اور اپنے اسلام کا اعلان کیا۔ زیادہ مشہور وفود میں ثقیف، نجران اور اشعریوں وغیرہ کے وفود شامل تھے۔

اللہ کے رسول ﷺ نے سنہ 10ھ میں حجۃ الوداع کیا۔ اس مبارک حج کے دوران آپ ﷺ نے لوگوں کو حج کے مناسک سکھائے اور عرفہ کے دن مشہور خطبۂ وداع پیش کیا۔

نبی ﷺ کی وفات :

اس طویل دعوتی سفر کے بعد رسول ﷺ بیمار ہوئے اور بیماری دن بہ دن بڑھتی چلی گئی۔ لہذا ابو بکر کو حکم دیا کہ امام بن کر لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ بالآخر سوم وار 12 ربیع الاول سنہ 11 ھ میں آپ کی وفات ہوگئی۔

دعا ہے کہ اللہ آپ کو ہماری جانب سے اور اسلام اور مسلمانوں کی جانب سے بہتر بدلہ عطا کرے۔ درود و سلام ہو اور برکتیں نازل ہوں آپ پر، آپ کى آل پر، آپ کے ساتھیوں پر اور قیامت کے دن تک ان کی پیروی کرنے والوں پر۔

سرگرمیاں

سرگرمی نمبر (1) : اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر موازنہ کروں گا :

اپنے سبق کی روشنی میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر نیچے دیے گئے کام کریں (نیچے دیے گئے چارٹ میں اپنے جوابات درج کریں) :

رسول ﷺ کے مکی دور کے دعوتی منہج اور مدنی دور کے دعوتی منہج کے درمیان موازنہ کریں۔

مسجد نبوی کے کردار اور موجودہ دور میں ہماری مسجدوں کے کردار کے بیچ موازنہ کریں۔

مکہ میں مدینہ میں

دعوتی منہج

مسجد نبوی موجودہ دور کے مساجد

مسجد کا کردار

سرگرمی نمبر (2) : غور و فکر کے بعد خلاصہ تیار کروں گا :

خطبۂ وداع کو غور سے پڑھیے اور اس کے بعد اس کی اہم باتوں کو شامل کرتے ہوئے اس کا خلاصہ تیار کیجیے :

اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : "بلاشبہ تمھارا خون اور تمھارے اموال تم پر اسی طرح حرام ہیں، جس طرح تمھارا یہ دن، تمھارے اس مہینے میں اور تمھارے اس شہر میں حرام ہے۔ سن لو! دور جاہلیت کی ہر چیز میرے قدموں کے نیچے رکھ دی گئی اور دور جاہلیت کے خون بے اعتبار ہو گئے اور پہلا خون جو میں اپنے خونوں میں سے معاف کرتا ہوں وہ ابن ربیعہ بن حارث کا خون ہے -وہ بنی سعد میں دودھ پیتا تھا اور اسے ہذیل نے قتل کر ڈالا۔ اسی طرح دور جاہلیت کا سود چھوڑ دیا گیا اور پہلا سود جو ہم اپنے یہاں کے سود میں سے چھوڑتے ہیں، وہ عباس بن عبدالمطلب کا سود ہے۔ اسے پورا کا پورا چھوڑ دیا گیا۔ تم لوگ عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو۔ میں تمھارے درمیان ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے پکڑے رہو، تو کبھی گمراہ نہ ہوگے۔ وہ چیز ہے اللہ کی کتاب۔ تم سے (قیامت کے دن) میرے بارے میں پوچھا جائے گا، تو پھر تم کیا کہوگے؟" صحابہ نے کہا : ہم گواہی دیں گے کہ آپ نے پہنچا دیا، اپنی ذمے داری ادا کر دی اور خیر خواہی سے کام لیا۔ چنانچہ آپ نے شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا۔ اسے آپ آسمان کی طرف اٹھاتے تھے اور لوگوں کی طرف جھکاتے اور فرماتے تھے : "اے اللہ! تو گواہ رہ۔ اے اللہ! تو گواہ رہ۔ آپ نے تین بار اسے دوہرایا"۔ (صحیح مسلم : 1218)

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

صلح حدیبیہ اسلامی دعوت کے لیے فتح مبین شمار کی جاتی ہے۔

غزوۂ خندق سنہ 3ھ میں ہوا۔ (×)

فوجی کام یابی کے بعد دعوتی کام یابی آتی ہے۔

دعوت پر اثر انداز ہونے کے معاملے میں فتح مکہ غزوۂ احد کے مشابہ ہے۔ (×)

اللہ سے جڑاؤ رکھنا داعی کا ایک اہم ترین وصف ہے۔

سوال 2 : نیچے دیے گئے غزوات کو وقوع پذیر ہونے کے سال کے اعتبار سے ترتیب دیں :

(غزوۂ حنین - غزوۂ بدر - غزوۂ بنی نضیر - غزوۂ بنی قینقاع - غزوۂ خیبر)

سوال 3 : نیچے دیے گئے جملوں میں موجود غلطیوں کو درست کر کے ان کو دوبارہ لکھیں :

اوس اور خزرج کی عداوت اللہ کے رسول ﷺ کی وفات تک قائم رہی۔

انصار نے مہاجرین کے لیے مدینے کے مضافات میں خاص رہائش گاہیں بنا دی تھیں۔

یہودیوں نے رسول ﷺ کے پاس کیے گئے عہد و پیمان کو نبھایا تھا۔

سوال 4 : نیچے دیے گئے اقدامات کے مقاصد واضح کریں :

مہاجرین اور انصار کے درمیان مواخات (بھائی چارگی)۔

مدینے میں مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان معاہدہ۔

چوتھا سبق : اچھی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے کی اہمیت

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

اچھی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے کا حکم واضح کر سکیں گے۔

اچھی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے کے فضائل گنوا سکیں گے۔

اچھی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے کا مقام و مرتبہ بیان کر سکیں گے۔

اچھی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے کا کام ترک کرنے کی سنگینی محسوس کر سکیں گے۔

آپ اچھی باتوں کا حکم دیں گے اور بری باتوں سے روکیں گے۔

اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے : "تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے کہ تم نیک باتوں کا حکم کرتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو اور اللہ تعالی پر ایمان رکھتے ہو۔" (سورہ آل عمران: 110)

اس آیت کریمہ پر غور کریں اور اس کے بعد جواب دیں:

اللہ تعالی نے امت اسلامیہ کی شان بلند کى ہے اور اسے سب سے بہترین امت اس لیے بنایا ہے کہ وہ دو عظیم باتوں کى بنا پر دوسری امتوں سے ممتاز ہے۔ وہ دو باتیں کیا ہیں؟

اچھی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے کا مقام و مرتبہ

صالح افراد اور معاشرے کی تشکیل اسلام کا ایک ہم ترین مقصد ہے اور اسی مقصد کی تکمیل کے لیے اللہ نے اچھی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے کا حکم دیا ہے۔ اچھی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے کے اہم فضائل اس طرح ہیں :

اچھی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے کا مقام و مرتبہ

1- یہ نبیوں اور رسولوں کا وظیفہ (کام) ہے

2- اللہ تعالی نے ان دونوں کاموں کا حکم دیا ہے

3- ان دوںوں کاموں کا اجر و ثواب بہت بڑا ہے

4- یہ ایمان والوں کے اوصاف ہیں

5- ان سے امت کو مضبوطی حاصل ہوتی ہے

6۔ یہ اللہ کے راستے میں جہاد میں شامل ہیں

7- ان سے نجات ملتی ہے اور عذاب دور ہوتا ہے

یہ نبیوں اور رسولوں کا کام ہے :

اللہ نے لوگوں کی صحیح رہ نمائی اور اچھی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے کے لیے رسول بھیجے۔ اس نے اپنے نبی محمد عربی ﷺ کے بارے میں کہا ہے : "جو لوگ ایسے رسول نبی اُمّی کا اتباع کرتے ہیں جن کو وه لوگ اپنے پاس تورات وانجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ وه ان کو نیک باتوں کا حکم دیتا ہے اور بری باتوں سے منع کرتا ہے۔" (سورہ اعراف : 157)

اللہ نے ان دونوں کاموں کا حکم دیا ہے :

اللہ تعالی نے ان دونوں کاموں کو اسلام کی ایک بنیادی چیز اور فرد مسلم کی ایک واجب ذمہ داری قرار دیا ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : "تم میں سے جو شخص کوئی غلط کام ہوتا ہوا دیکھے، وہ اسے اپنے ہاتھ (قوت) سے بدل دے۔ اگر اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنی زبان سے اس کی نکیر کرے۔ اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنے دل میں (اسے برا جانے) اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے"۔ (صحیح مسلم : 49)

ان دونوں کاموں کا عظیم اجر و ثواب :

اللہ نے اچھے کاموں کا حکم دینے اور برے کاموں سے روکنے والوں سے بہت بڑے اجر و ثواب کا وعدہ کیا ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "ان کے اکثر خفیہ مشوروں میں کوئی خیر نہیں۔ ہاں! مگر جو خیرات کا یا نیک بات کا یا لوگوں میں صلح کرانے کا حکم کرے اور جو شخص صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی حاصل کرنے کے ارادے سے یہ کام کرے، اسے ہم یقیناً بہت بڑا ثواب دیں گے۔" (سورہ نساء : 114)

اچھے کاموں کا حکم دینے اور برے کاموں سے روکنے والے کا اجر و ثواب بڑھتا جاتا ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : "جو شخص کسی اچھے کام کی دعوت دے گا، اسے اس کی دعوت سے متاثر ہوکر اس کام کو کرنے والے کے برابر ثواب ملے گا اور اس سے اس کام کو کرنے والے کے اجر و ثواب میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی۔" (صحیح مسلم : 2674)

ایمان والوں کے کچھ اوصاف :

اللہ تعالی نے جنتیوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے کہا ہے : "وه ایسے ہیں جو توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، حمد کرنے والے، روزه رکھنے والے (یا راه حق میں سفر کرنے والے) رکوع اور سجده کرنے والے، نیک باتوں کی تعلیم دینے والے، اور بری باتوں سے باز رکھنے والے، اور اللہ کی حدوں کا خیال رکھنے والے ہیں، اورمومنین کو آپ خوش خبری سنا دیجیے۔" (سورہ توبہ : 112)

اس آیت میں آئے ہوئے لفظ "السائحون" سے مراد روزے دار ہیں۔

اچھے کاموں کا حکم دینے اور برے کاموں سے روکنے سے امت کو مضبوطی حاصل ہوتی ہے :

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "یہ وه لوگ ہیں کہ اگر ہم زمین میں ان کے پاؤں جما دیں تو یہ پوری پابندی سے نمازیں قائم کریں اور زکوٰتیں دیں اور اچھے کاموں کا حکم کریں اور برے کاموں سے منع کریں۔ تمام کاموں کا انجام اللہ کے اختیار میں ہے۔" (سورہ حج : 41)

اچھے کاموں کا حکم دینا اور برے کاموں سے روکنا اللہ کے راستے میں جہاد کی ایک قسم ہے:

ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ سب سے افضل جہاد کیا ہے؟ تو آپ نے جواب دیا : "ظالم حکمراں کے سامنے حق بات کہنا۔" (سنن نسائی : 4209)

نجات کے حصول اور عذاب اٹھائے جانے کا راستہ :

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "پس کیوں نہ تم سے پہلے زمانے کے لوگوں میں سے ایسے اہل خیر لوگ ہوئے، جو زمین میں فساد پھیلانے سے روکتے، سوائے ان چند کے جنہیں ہم نے ان میں سے نجات دی تھی۔ ﻇالم لوگ تو اس چیز کے پیچھے پڑ گئے، جس میں انہیں آسودگی دی گئی تھی اور وه گنہگار تھے۔" (سورہ ہود : 116)

سرگرمیاں

سرگرمی نمبر (1) : چرچا کروں گا اور نتیجہ اخذ کروں گا :

فرد اور معاشرے پر اچھی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے کے بڑے اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس پر اپنے معلم اور ساتھیوں کے ساتھ چرچا کریں اور نیچے دی گئی آیت اور حدیث سے مدد لیں :

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "سو جب وه اس کو بھول گئے جو ان کو سمجھایا جاتا تھا، تو ہم نے ان لوگوں کو تو بچا لیا، جو اس بری عادت سے منع کیا کرتے تھے اور ان لوگوں کو جو کہ زیادتی کرتے تھے، ایک سخت عذاب میں پکڑ لیا؛ اس وجہ سے کہ وه حکم عدولی کیا کرتے تھے۔" (سورہ اعراف : 165)

نبی ﷺ نے فرمایا ہے : "اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم معروف (بھلائی) کا حکم دو اور منکر (برائی) سے روکو، ورنہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنا عذاب بھیج دے، پھر تم اللہ سے دعا کرو اور تمہاری دعا قبول نہ کی جائے۔" (سنن ترمذی : 2169)

سرگرمی نمبر (2) : اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر جواب دوں گا :

ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا قول ہے: لوگو! تم اس آیت کو پڑھتے ہو : "اے ایمان والو! اپنی فکر کرو۔ جب تم راه راست پر چل رہے ہو تو جو شخص گمراه رہے اس سے تمہارا کوئی نقصان نہیں۔" (سورہ مائدہ : 105) اور اس کا غلط مطلب نکالتے ہو۔ جب کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے : "لوگ جب غلط کام ہوتا ہوا دیکھیں اور اسے نہ روکیں، تو ہو سکتا ہے کہ اللہ سارے لوگوں کو عذاب کی چپیٹ میں لے لے۔" (مسند احمد : 16، سنن ابن ماجہ : 4005)

اپنے ساتھی کے ساتھ مل کر ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اس قول کی روشنی میں درج ذیل سوالوں کے جواب دیں :

اس آیت کو سمجھنے میں بعض لوگوں سے جو غلطی سرزد ہوئی، اسے واضح کریں :

اگر انسان خود نیکی کے کام کر رہا ہو، تو دوسرے لوگوں کو غلط کام کرتے ہوئے چھوڑ دینے سے اس کا کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ اس لیے وہ ان کو بری باتوں سے روکنے پر توجہ نہیں دیتا۔

اس غلط سوچ کو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کیسے دور کیا؟

پہلے ان کو بتایا کہ ان سے آیت کو سمجھنے میں کہاں غلطی ہو رہی ہے اور اس کے بعد بری باتوں سے روکنے کی ذمے داری ادا نہ کرنے کی سزا بتا دی۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : قوسین کے مابین سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

اللہ کے نبی ﷺ کا فرمان : "تم میں سے جو شخص کوئی غلط کام ہوتا ہوا دیکھے، وہ اسے اپنے ہاتھ سے بدل دے۔" اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ غلط کام کو روکنا :

(مستحب ہے - واجب ہے - مباح ہے)

وہ آیت جسے سمجھنے میں کچھ لوگوں سے غلطی سرزد ہونے کی بات ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہی ہے، اس طرح ہے :

"اے ایمان والو! اپنی فکر کرو۔ جب تم راه راست پر چل رہے ہو تو جو شخص گمراه رہے اس سے تمہارا کوئی نقصان نہیں۔"

"سو جب وه اس کو بھول گئے جو ان کو سمجھایا جاتا تھا، تو ہم نے ان لوگوں کو تو بچا لیا جو اس بری عادت سے منع کیا کرتے تھے۔"

"ان کے اکثر خفیہ مشوروں میں کوئی خیر نہیں۔ ہاں! مگر جو خیرات کا یا نیک بات کا یا لوگوں میں صلح کرانے کا حکم کرے۔"

اچھی باتوں کا حکم دینے کی ایک بہترین صورت حق بات کہنا ہے :

(لوگوں کے مجمع میں - خطبۂ جمعہ میں - ظالم حکم ران کے سامنے)

سوال 2 : نیچے دیے گئے سوالوں کا جواب دیں :

اللہ نے امت اسلامیہ کو سب سے بہترین امت کیوں بنایا ہے؟

اچھی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے کی تین فضیلتیں بیان کریں۔

بری باتوں سے روکنے سے گریز کرنا برائیوں میں اضافے کا سبب بنتا ہے, ایسا کیوں ہوتا ہے بیان کریں۔

پانچواں سبق : اچھی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے کى فقہ

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

اچھی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے کے اصول و ضوابط بیان کر سکیں گے۔

برائی کو بدلنے کے مراتب کا بیان کر سکیں گے۔

مصالح اور مفاسد کی رعایت کرنے کی اہمیت دلائل کے ساتھ بیان کر سکیں گے۔

اچھی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے کى فقہ کی ضرورت محسوس کریں گے۔

اچھی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے کا کام شرعی اصول و ضوابط کے مطابق کریں گے۔

تمہید :

اچھے کاموں کے حکم دینے اور برے کاموں سے روکنے کے لیے شرعی معرفت اور دعوت کا کام کرنے کی حکمت عملی سے واقف ہونے کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔ لہذا اس سبق میں آپ اچھے کاموں کا حکم دینے اور برے کاموں سےروکنے کى فقہ سے روبرو ہوں گے۔

اول : اچھی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے کے اصول و ضوابط

اچھی باتوں کا حکم دینے یا بری باتوں سے روکنے کے اصول و ضوابط

شریعت ہی یہ طے کرتی ہے کہ کون سا کام اچھا ہے اور کون سا کام برا۔

اجتہادی مسائل انکار منکر کے دائرے میں نہیں آتے۔

برے کام (منکر) کا سامنے آ جانا

برا کام (منکر) ہوا ہے، اس بات کی پختہ جان کاری ہونا

مصالح اور مفاسد کی رعایت

کسی کام کا حکم دینے یا کسی کام سے روکنے کے اہم اصول و ضوابط درج ذیل ہیں :

شریعت ہی یہ طے کرتی ہے کہ کون سا کام اچھا ہے اور کون سا کام برا :

لہذا اسے طے کرنے میں عادات، عرف یا شخصی آرا کا عمل دخل نہیں ہوتا۔

اجتہادی مسائل انکار منکر کے دائرے میں نہیں آتے۔

وہ مسائل جن کے حکم میں فقہا کے درمیان اختلاف ہو اور قرآن یا سنت کی کوئی واضح دلیل اس کا حکم بیان نہ کرتی ہو، یا پھر کوئی حدیث اس کا حکم بیان کرتی تو ہو، لیکن اس کے صحیح ہونے یا نہ ہونے یا دلالت کے بارے میں علما کے درمیان اختلاف ہو، تو اس طرح کے مسائل میں انکار منکر کا کام نہیں کیا جاتا۔

برے کام (منکر) کا سامنے آ جانا :

چنانچہ کسی مخفی یا چھپی ہوئی چیز، مثلاً گھر کے اندر ہونے والے غلط کام، کا انکار نہیں کیا جائے گا۔

برا کام (منکر) ہوا ہے، اس بات کی پختہ جان کاری ہونا :

تاکہ اچھے کاموں کا حکم دینے والے یا برے کاموں سے روکنے والے پر غلط رویے اختیار کرنے کا الزام نہ لگے۔ لہذا یہ ضروری ہے کہ غلط کام کا انکار اس کے سامنے آنے پر ہی کیا جائے۔ البتہ اگر پتہ چلے کہ ماضی میں کوئی غلط کام ہوا ہے یا مستقبل میں کوئی غلط کام ہونے کی توقع ہے، تو نصیحت کرنا ضروری ہے۔

مصالح اور مفاسد کی رعایت کرنا :

جب کسی برے کام کو روکنے کی وجہ سے اس سے بڑی برائی سامنے آنے کا اندیشہ ہو، تو اس صورت میں اس سے روکا نہیں جائے گا۔ مثلا جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے منافقوں کے سردار عبداللہ بن ابی بن سلول کا سر قلم کرنے کا ارادہ کیا، تو اللہ کے رسول ﷺ نے ان کو ایسا کرنے سے روک دیا اور فرمایا : "اسے چھوڑ دو، تاکہ لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد اپنے ساتھیوں کا قتل کرتا ہے۔" (صحیح بخاری : 3330، صحیح مسلم : 63)

یہاں رسول ﷺ نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو عبداللہ بن ابی بن سلول کا سر قلم کرنے سے روک دیا، تاکہ عرب کے باقی لوگ اسلام میں داخل ہونے سے خوف محسوس نہ کریں۔

برے کام (منکر) سے روکنے کے درجے :

برے کام سے روکنے کے تین درجے ہیں۔ اللہ کے نبی ﷺ نے ان کی تعیین کرتے ہوئے فرمایا ہے : "تم میں سے جو شخص منکر (غلط کام ) دیکھے، وہ اسے اپنے ہاتھ (قوت) سے بدل دے۔ اگر اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنی زبان سے اس کی نکیر کرے۔ اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنے دل میں (اسے برا جانے) اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے"۔ (صحیح مسلم : 49)

نیچے ان تینوں درجوں کی مختصر تفصیل دی جا رہی ہے :

پہلا درجہ : برے کام کو ہاتھ سے بدلنا :

یہ درجہ صاحب ولایت یا صاحب سلطنت کے ساتھ خاص ہے۔ جیسے ریاست کا حکم راں، عدالت کا قاضی، لشکر کا کمانڈر، آفس کا مدیر، گھر میں والد اور احتساب پر مامور لوگ، جنھیں حکم راں نے اسی کام پر مقرر کر رکھا ہو۔

دوسرا درجہ : برے کام کی زبان سے نکیر کرنا :

جب انسان صاحب ولایت یا صاحب سلطنت نہ ہو کہ جس بنا پر برے کام کو ہاتھ سے روکنے کی طاقت ہو تو ایسی صورت میں وہ منکر پر زبان سے نکیر کرے گا۔ زبان سے نکیر کرتے وقت اچھے الفاظ کے ذریعے اور خوش اسلوبی سے اپنا کام کرے گا۔

تیسرا درجہ : برے کام کو دل سے بدلنا (یعنی دل کو میں اس کو برا ماننا):

یہ سب سے کم ترین درجہ ہے۔ یہ ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے اور کسی بھی حالت میں ساقط نہیں ہوتا۔ دل سے منکر کو بدلنے سے مراد نظر آنے والے یا سنائی دینے والے برے کام کو ناپسند کرنا ہے۔

سرگرمیاں

سرگرمی نمبر (1) : حل کروں گا اور تحدید کروں گا :

آنے والے مواقف کو حل کیجیے اور پھر اس درجے کی تحدید کیجیے، جس کے تحت منکر کا انکار کرنا واجب ہے :

موقف برے کام سے روکنے کا درجہ

ہاتھ زبان

ایک شخص نے اپنے پڑوسی کو ایک برا کام کرتے ہوئے دیکھا۔ زبان

احمد کا 12 سال کا ایک لڑکا ہے، جو نماز چھوڑنے پر مصر رہتا ہے۔ ہاتھ

مسجد کے امام نے ایک شخص کو قبلے کی بجائے کسی اور جانب منہ کرکے نماز پڑھتے دیکھا۔ ہاتھ

معلم نے کچھ طلبہ کو مدرسے میں سگریٹ پیتے ہوئے دیکھا۔ ہاتھ اور زبان

پولس نے کچھ مجرموں کو سڑک بلاک کرتے دیکھا۔ ہاتھ

سرگرمی نمبر (2) : چرچا کروں گا اور نتیجہ اخذ کروں گا :

اچھے کام کا حکم دینے والے اور برے کام سے روکنے والے کو اگر لگے کہ اس کی بات کا کوئی اثر نہیں ہوگا، تو اسے کیا کرنا چاہیے؟ اچھے کام کا حکم دینا اور برے کام سے روکنا چاہیے یا نہیں؟

اس سلسلے میں اپنے معلم اور ساتھیوں سے اللہ تعالی کے اس قول کی روشنی میں گفتگو کیجیے : "اور نصیحت کرتے رہیں۔ یقیناً یہ نصیحت ایمان والوں کو نفع دے گی۔" (سورہ ذاریات: 56)

جسے کوئی برا کام نظر آئے، اس پر اس کا انکار واجب ہے، چاہے اسے یہ لگتا ہو کہ اس کی کوشش کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلے گا۔

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

برے کام کا دل سے انکار کرنا سارے مسلمانوں پر فرض عین ہے۔ (✓)

برے کام سے روکنے کے دائرے میں اجتہادی مسائل بھی آتے ہیں۔ (X)

ہاتھ سے برائی کو روکنا برے کام سے روکنے کا سب سے اعلی درجہ ہے۔ (✓)

منکر کا انکار کرتے وقت اس منکر کا سامنے آنا اور واقع ہونا شرط ہے۔ (✓)

منکر کے انکار کے نتیجے میں اگر اس سے بڑا منکر سامنے آنے کا خدشہ ہو، تو منکر کا انکار حرام ہوگا۔ (✓)

سوال 2 : نیچے دیے گئے دونوں سوالوں کا جواب دو :

برے کام سے روکنے میں مصالح اور مفاسد کی رعایت کو دلیل کے ساتھ بیان کیجیے اور مثال بھی دیجیے۔

غلط کام سے روکنے کے درجوں کی تشریح کیجیے اور ان لوگوں کا ذکر کیجیے، جن کے پاس ہاتھ سے روکنے کی طاقت ہوتی ہے۔

چھٹا سبق : اچھی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے کے آداب

سبق کے مقاصد :

عزیز طالب علم! اس سبق کے بعد آپ سے یہ توقع ہوگی کہ آپ:

اچھے کاموں کا حکم دینے اور برے کاموں سے روکنے کے آداب بیان کر سکیں گے۔

برے کاموں سے روکنے کا کام بہ تدریج انجام دینے کے درجے ترتیب وار بتا سکیں گے۔

اچھے کاموں کا حکم دینے اور برے کاموں سے روکنے میں نرمی سے کام لینے کی اہمیت کا اندازہ لگا سکیں گے۔

اچھے کاموں کا حکم دینے اور برے کاموں سے روکنے کے آداب کو عملی جامہ پہنا سکیں گے۔

اچھے کاموں کا حکم دینے اور برے کاموں سے روکنے کا عمل بار آور اسی وقت ہوسکے گا، جب شریعت کے ذریعے بتائے گئے اس کے آداب کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ اس کے کچھ اہم آداب نیچے دیے جا رہے ہیں :

اچھے کاموں کا حکم دینے اور برے کاموں سے روکنے کے آداب

اِخلاص

علم

عمل

نرمی

بہ تدریج آگے بڑھنا

اچھے کاموں کا حکم دینے والے اور برے کاموں سے روکنے والے کو نیچے دیے گئے اوصاف سے متصف ہونا چاہیے :

اللہ تعالیٰ کے لیے نیت خالص کرنا :

اخلاص ہی عمل کے قبول ہونے اور اجر و ثواب حاصل ہونے کی بنیاد اور اللہ کی توفیق سے بہرہ ور ہونے کا سبب ہے۔

اس کام کی حقیقت سے واقف ہونا، جس کا حکم دے رہا ہو یا جس سے منع کر رہا ہو :

یہی اللہ کے نبی ﷺ کے طریقے کی پیروی کا تقاضا ہے۔ اللہ تعالی نے اپنے نبی ﷺ کا طریقہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے : "آپ کہہ دیجیے کہ میری راه یہی ہے۔ میں اور میرے متبعین اللہ کی طرف بلا رہے ہیں، پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ۔" (سورہ یوسف : 108)

لہذا کسی کام کا حکم دینے والے کو اچھی طرح معلوم ہونا چاہیے کہ وہ جس کام کا حکم دے رہا ہے، وہ شرعا مطلوب ہے۔ اسی طرح کسی کام سے روکنے والے کو پتہ ہونا چاہیے کہ وہ جس کام سے روک رہا ہے، وہ شرعا ممنوع ہے۔

جس چیز کا حکم دے رہا ہے، اس پر خود عمل کرنا اور جس چیز سے روک رہا ہے، اس سے خود اجتناب کرنا :

یہ ایک اہم ترین ادب ہے، جس کا التزام ہر داعی کو کرنا چاہیے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "اے ایمان والو! تم وه بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں؟ تم جو کرتے نہیں اس کا کہنا اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے۔" (سورہ صف : 2-3) لیکن اگر داعی کسی نیکی کے کام میں کوتاہی کر رہا ہو یا کسی گناہ میں پڑ گیا ہو، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ اس نیکی کے کام کا حکم نہ دے یا اس گناہ کے کام سے منع نہ کرے۔

نرمی سے کام لینا اور غفلت سے دور رہنا :

تاکہ لوگ داعی سے بدک کر دور نہ بھاگیں۔ اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا ہے : " اور اگر آپ بد زبان اور سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے پاس سے چھٹ جاتے۔" (سورہ آل عمران : 159)

بہ تدریج آگے بڑھنا :

لہذا غلط کام کرنے والے سے فورا قطع تعلق نہ کر لے یا اسے فورا سزا نہ دے دے، بلکہ مرحلہ وار آگے بڑھتے ہوئے درج ذیل اقدامات کرے :

اول : غلطی سے واقف کرانا۔ خاص طور سے اس وقت جب غلط کرنے والا اس بات سے واقف نہ ہو کہ وہ غلط کر رہا ہے یا پھر وہ کم عمر ہو۔

دوم : تنہائی میں سمجھانا۔ سب کے سامنے نہیں۔

سوم : سخت لہجہ اپنانا اور سزا سے ڈرانا۔

چہارم : خطا کرنے والا اگر خطا پر مصر رہے، تو اس سے قطع تعلق کر لینا۔

پنجم : اگر خطا کار کو بھلائى کا حکم دینے والے کو خطار کار پر سیادت وحکمرانی حاصل ہو جیسے باپ یا شوہر تو خطار کو سزا دینا۔

سرگرمیاں

سرگرمی نمبر (1) باہمی تعاون سے نتیجہ اخذ کروں گا :

اپنے ساتھیوں کے تعاون سے نیچے دیے گئے نصوص سے اچھے کام کا حکم دینے اور برے کام سے روکنے کے آداب اخذ کرو :

لقمان نے اپنے بیٹے کو وصیت کرتے ہوئے کہا تھا : "اے میرے پیارے بیٹے! تو نماز قائم رکھنا، اچھے کاموں کی نصیحت کرتے رہنا، برے کاموں سے منع کیا کرنا اور جو مصیبت تم پر آجائے اس پر صبر کرنا۔" (سورہ لقمان : 17)

سفیان ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں : "اچھے کاموں کا حکم دینے اور برے کاموں سے روکنے کی ذمے داری اپنے کندھوں پر وہی شخص اٹھائے، جس کے اندر تین اوصاف موجود ہوں : اچھے کام کا حکم دینے اور برے کام سے روکنے میں نرمی اختیار کرے، اچھے کام کا حکم دینے اور برے کام سے روکنے میں انصاف سے کام لے، اچھے کام کا حکم دینے اور برے کام سے روکنے کا کام علم و بصیرت کے ساتھ کرے۔"

سرگرمی نمبر (2) میں ایک نصیحت لکھوں گا :

کچھ لوگ اللہ تعالی کے اس قول میں بیان کیے گئے اقدامات کیے بغیر فورا اپنی بیویوں کو سزا دینے لگتے ہیں : " اور جن عورتوں کی نافرمانی اور بددماغی کا تمہیں خوف ہو انہیں نصیحت کرو اور انہیں الگ بستروں پر چھوڑ دو اور انہیں مار کی سزا دو پھر اگر وه تابعداری کریں تو ان پر کوئی راستہ تلاش نہ کرو۔" (سورہ نسا : 34)

اس آیت اور پڑھے گئے سبق کی روشنی میں اس طرح کے لوگوں کو ایک نصیحت لکھیے :

اندازۂ قدر

سوال 1 : صحیح عبارت کے سامنے صحیح (✓) کا اور غلط عبارت کے سامنے غلط (×) کا نشان لگائیں :

آدمی اپنی بیوی کی اصلاح کے لیے پہلا کام یہ کرے گا کہ اپنی بیوی سے بات چیت بند کر دے گا۔ (X)

برے کاموں سے روکنے کے لئے شرط یہ ہے کہ روکنے والا گناہوں میں ملوث نہ ہو۔ (X)

اچھی باتوں کا حکم دینے سے پہلے اچھی باتوں کا حکم دینے کى فقہ سے واقفیت رکھنا ضروری ہے۔ (✓)

سوال 2 : قوسین کے مابین سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :

اللہ تعالیٰ کا قول : " اچھے کاموں کی نصیحت کرتے رہنا، برے کاموں سے منع کیا کرنا اور جو مصیبت تم پر آجائے تو اس پر صبر کرنا۔" دلالت کرتا ہے :

(قوت کی اہمیت پر - نرمی کی اہمیت پر - صبر کی اہمیت پر)

اچھے کاموں کا حکم دینے میں اخلاص :

(واجب ہے - مستحب ہے - مباح ہے)

اچھے کاموں کا حکم دینے کا پہلا قدم ہے :

(تنہائی میں نصیحت کرنا - غلطی کی نشان دہی کرنا - تین دنوں کے لیے تعلق توڑ لینا)

سوال 3 : نیچے دیے گئے دونوں سوالوں کے جواب دیجیے :

اچھے کاموں کا حکم دینے کے تین آداب واضح کیجیے۔

غلط کام کرنے والے کو بہ تدریج روکنے کے اقدامات لکھیں۔

پہلی اکائی : قرآن اور تفسیر

1- قرآن کریم کا مقام و مرتبہ :

قرآن کریم اللہ تعالی کا کلام ہے۔

قرآنِ کریم کا اعجاز۔

قرآن کریم سارے جہان کے لیے نور و ہدایت ہے۔

اللہ تعالی کی جانب سے قرآن کریم کی حفاظت کا انتظام۔

دنیا اور آخرت میں اہل قرآن کی عزت افزائی :

اہل قرآن سے مراد قرآن پڑھنے اور حفظ کرنے والے، اس کی تفسیر اور اس کے علوم کے رمز شناس لوگ ہيں۔

اہل قرآن اس امت کے سب سے بہتر لوگ ہيں۔

قرآن قیامت کے دن اہل قرآن کے لیے شفارش کرے گا۔

سورہ فاتحہ کی تفسیر

سورہ فاتحہ قرآن کریم کی عظیم ترین سورہ ہے۔

کلمات کے معانی :

الرحمن : ایسى عمومی رحمت والا جو سارى مخلوقات کو محیط ہو۔

الرحيم : اپنے مؤمن بندوں کے ساتھ رحمت کا معاملہ کرنے والا۔

يوم الدين : قیامت کا دن۔

المغضوب عليهم : وہ لوگ، جنھوں نے حق کو پہچاننے کے باوجود اسے نہیں مانا۔ جیسے یہودی۔

الضالين : وہ لوگ، جو حق سے عدم واقفیت کی بنیاد پر گمراہ ہو گئے۔ جیسے نصاری۔

2- سورہ فاتحہ کی تفسیر

سورہ فاتحہ کے کچھ فضائل :

سورہ فاتحہ کی خصوصیت یہ ہے کہ اسے نماز میں پڑھنا واجب ہے۔

یہ قرآن کی سب سے عظیم اور سب سے زیادہ فضیلت والی سورت ہے۔

وہ حدیث، جس میں اللہ تعالی نے کہا ہے کہ میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان آدھا آدھا بانٹ دیا ہے۔

مذکورہ بالا آیتوں سے حاصل ہونے والے کچھ فوائد :

قیامت کے دن کے لیے، جو کہ بدلے کا دن ہے، تیاری کرنا ضروری ہے۔

عبادت اللہ کے سوا کسی کے لیے جائز نہيں ہے۔

انبیا کی پیروی اور اہل کفر کے راستوں سے گریز کرنا واجب ہے۔

3- سورہ "الکوثر" اور سورہ " الکافرون" کی تفسیر

کلمات کے معانی :

الكوثر : دنیا اور آخرت کی خیر کثیر، جس میں جنت کی نہر کوثر بھی شامل ہے۔

وانحر : اپنے ذبیحے کو اللہ کے لیے ذبح کریں اور اس میں کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہرائیں۔

شانئك : آپ سے حسد اور بغض رکھنے والا۔

الأبتر : دنیا و آخرت میں بے نام و نشان اور خیر سے محروم۔

مذکورہ بالا آیتوں سے حاصل ہونے والے کچھ فوائد :

اللہ تعالی کی بارگارہ میں نبی کریم ﷺ کا عظیم مقام و مرتبہ۔

خالص توحید کی راہ پر گام زن رہنا اور تمام طرح کی عبادتيں صرف ایک اللہ کے لیے کرنا ضروری ہے۔

ایک مسلمان پر واجب ہے کہ وہ کافروں اور ان کے معبودوں سے براءت کا اعلان کرے۔

سورہ "نصر" اور سورہ "مسد" کی تفسیر

کلمات کے معانی :

تبّت : ناکام ہو گیا اور خسارے میں پڑ گیا۔

حمالة الحطب : جو کانٹے اٹھا کر لاتی اور اللہ کے رسول ﷺ کے راستے میں رکھ دیا کرتی تھی۔

جيدها : اس کی گردن۔

مسد: کھجور کی بٹی ہوئی کھردری رسی۔

مذکورہ بالا آیتوں سے حاصل ہونے والے کچھ فوائد :

اللہ کی تسبیح اور اس کی حمد بیان کرنا اور توبہ و استغفار کرتے رہنا واجب ہے۔

اللہ اپنے نبی ﷺ کا دفاع کرتا ہے اور آپ کو اذیت دینے والے کو عذاب دیتا ہے۔

جو اللہ پر ایمان نہ لائے اور نیک عمل نہ کرے، اس کا مال اور رسول اللہ ﷺ سے اس کی قرابت اس کے کچھ کام نہيں آ سکتی۔

سورہ الاخلاص اور معوذتین (یعنی سورہ الفلق اور سورہ الناس) کی تفسیر

کلمات کے معانی :

الصمد: وہ برتر ہستی، جس کے دربار میں بندے اپنی ضرورتیں پوری کروانے کے لیے حاضر ہوتے ہيں۔

كفوًا : شبیہ اور ہمسر۔

أعوذ : میں پناہ میں آتا ہوں۔

الفلق : صبح اور نور۔

غاسق إذا وقب : رات، جب وہ اپنی تاریکی کے ساتھ آ جائے۔

النفاثات : جادوگرنیاں، جو جادو کرنے کے ارادے سے گرہ لگا کر اس میں پھونکتی ہیں۔

حاسد : جو کسی کی نعمت کے زائل ہونے کی تمنا کرتا ہو۔

الخناس : اللہ کے ذکر کے وقت جو چھپ جاتا ہے۔

الجنة : جن۔

مذکورہ بالا آیتوں سے حاصل ہونے والے کچھ فوائد :

اللہ ہی برحق معبود اور ہر طرح کی عبادتوں کا مستحق ہے۔

مسلمان جب اللہ کی پناہ لے لیتا ہے، تو اللہ جنوں اور انسانوں کی برائیوں سے اس کی حفاظت فرماتا ہے۔

جادو اور حسد کے نقصانات حقیقی ہیں اور اللہ کی پناہ میں جانے اور اس پر توکل سے فرد مسلم کو ان سے تحفظ فراہم ہو جاتا ہے۔

دوسری اکائی : ایمان اور تزکیہ

1- ایمان اور اس کی اہمیت

حدیث جبریل کے اندر دین کے تین مراتب بیان کیے گئے ہیں :

پہلا مرتبہ : اسلام۔ اس کے پانچ ارکان ہیں۔

دوسرا مرتبہ : ایمان۔ اس کے چھ ارکان ہیں۔

تیسرا مرتبہ : احسان۔ اس کے دو درجے ہيں۔

1- اللہ پر ایمان اور اس کے آثار

اول : اللہ تعالی پر ایمان۔ اس کے اندر چار چیزیں آتی ہیں :

اللہ کے وجود پر ایمان۔

اللہ کے رب ہونے پر ایمان۔

اللہ کے معبود ہونے پر ایمان۔

اللہ کے اسما و صفات پر ایمان۔

دوم: اللہ پر ایمان لانے کے اثرات :

اللہ پر ایمان مؤمن کے دل کو اللہ تعالى سے جوڑ کر رکھتا ہے۔

اللہ پر ایمان انسان کے دل سے غیراللہ کا خوف نکال باہر کرتا ہے۔

اللہ پر ایمان مؤمن کو عبادتوں اور بندوں کے حقوق کی ادائيگی کا حریص بناتا ہے۔

2- فرشتوں پر ایمان اور اس کے آثار

اولا : ملائکہ (فرشتوں) سے مراد :

ملائکہ (فرشتے) : یہ اللہ کی بہت بڑی مخلوق ہیں۔ اللہ نے ان کو نور سے پیدا کیا ہے۔ فرشتے اللہ کے حکم کی نافرمانی نہيں کرتے۔ وہی کرتے ہيں، جس کا حکم ان کو ملتا ہے۔

دوم : فرشتوں پر ایمان کے معنی :

ان کے وجود کی تصدیق۔

فرشتوں کے ان ناموں پر ایمان جو ہم جاتنے ہیں۔

ان کے ان صفات اور اعمال پر ایمان، جنھیں ہم جاتنے ہيں ۔

2- فرشتوں پر ایمان اور اس کے آثار

سوم : فرشتوں کے بعض کام :

وحی لے کر اترنا۔ یہ کام جبریل علیہ السلام کا کام ہے۔

بندوں کے اعمال لکھنا۔

روح قبض کرنا۔ یہ کام موت کا فرشتہ انجام دیتا ہے۔

چہارم : فرشتوں پر ایمان کے آثار :

فرشتوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اللہ کے احکام کی تعمیل کرنا۔

عمل کے غرور و فخر سے دور رہنا۔

اللہ سے ڈرتے ہوئے اور اس کے بعد فرشتوں سے حیا کرتے ہوئے حرام کاموں سے بچنا۔

3- کتابوں اور رسولوں پر ایمان اور اس کے آثار

اول : کتابوں پر ایمان :

کتابوں پر ایمان کا مطلب اس بات پر ایمان ہے کہ اللہ نے لوگوں کی ہدایت کے لیے اپنے رسولوں پر کتابیں اتاری ہیں۔

سب سے افضل کتاب :

سب سے افضل کتاب قرآن مجید ہے، جو تحریف سے محفوظ ہے، معجزۃ ہے اور تمام آسمانی کتابوں کى تصدیق کرنے والى ان کى محافظ اور ان پر حاکم ہے۔

3- کتابوں اور رسولوں پر ایمان اور اس کے آثار

دوم : رسولوں پر ایمان :

رسولوں پر ایمان سے مراد اس بات کا اقرار ہے کہ اللہ نے صرف ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دینے کے لیے بہت سے رسول بھیجے۔

سب سے افضل رسول :

تمام رسولوں میں سب سے افضل رسول پانچ ہيں۔ انہی کو اولو العزم رسول کہا جاتا ہے۔ پھر ان کے اندر بھی سب سے افضل ہمارے نبی محمد ﷺ ہیں۔

3- کتابوں اور رسولوں پر ایمان اور اس کے آثار

سوم : کتابوں اور رسولوں پر ایمان کے آثار :

اللہ کی رحمت پر یقین کہ اس نے ہماری ہدایت کے لیے رسول بھیجے اور کتابیں اتاریں۔

کتابوں کی تعلیمات اور رسولوں کے عملی اسوہ کے مطابق بصیرت کے ساتھ اللہ کی عبادت۔

نبیوں کے اخلاق، اوصاف اور اعمال کی پیروی۔

4- آخرت کے دن پر ایمان اور اس کے آثار

اول : آخرت کے دن پر ایمان کے معنی :

آخرت کے دن پر ایمان کے معنی ہیں موت کے بعد واقع ہونے والی ان تمام باتوں کی تصدیق اور اقرار کرنا، جو اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ نے بتائی ہیں۔

دوم : آخرت کے دن کے منازل :

قبر کی آزمائش - دوبارہ زندہ ہوکر اٹھنا - میدان حشر میں جمع ہونا - اعمال نامے اور میزان - پُل صراط - جنت اور جہنم۔

سوم : آخرت کے دن پر ایمان کے آثار :

آخرت پر ایمان انسان کو آخرت کی قیمت پر دنیا کی جانب جھکاؤ سے روکتا ہے۔

نیکی کے کاموں کی رغبت بڑھ جاتی ہے او رمعاصى کے ارتکاب سے ڈر پیدا ہوتا ہے۔

چوں کہ مؤمن کو آخرت کی نعمت اور ثواب کی امید ہوتی ہے، اس لیے وہ دنیا کی کسی چیز کے نہ ملنے پر غم نہیں کرتا۔

5- قضا و قدر پر ایمان اور اس کے آثار

اول : تقدیر پر ایمان کا معنی :

تقدیر پر ایمان سے مراد اس بات کی پختہ تصدیق ہے کہ اس کائنات میں بھلا برا جو کچھ بھی ہوتا ہے، سب اللہ کے علم میں ہے، سب کو اس نے لکھ رکھا ہے، سب اس کے ارادے سے ہوتا ہے اور سب کو اس نے پیدا کیا ہے۔

دوم : تقدیر پر ایمان اور اسباب اختیار کرنا :

• تقدیر پر ایمان کوشش کرنے اور اسباب اختیار کرنے کے منافی نہیں ہے۔

حدیث "تم عمل کیا کرو۔ کیوں کہ ہر شخص کے لیے وہی آسان کر دیا جاتا ہے، جس کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے۔"

سوم : تقدیر پر ایمان کے آثار :

اللہ کے فیصلے پر راضی ہونا، صبر سے کام لینا اور تقدیر سے ناراضگی اور اس پر بے چین ہونے سے گریز کرنا۔

تواضع، کیوں کہ تقدیر پر ایمان رکھنے والے مؤمن کو پتہ ہے کہ اس کے پاس جو بھی نعمتیں ہيں، سب اللہ کی دی ہوئی ہيں۔

تیسری اکائی : سنت اور شمائل نبوی

1۔ اللہ کے نبی ﷺ کا تعارف اور آپ ﷺ کے اہم اوصاف :

اللہ کے نبی ﷺ کا تعارف :

نبی ﷺ کا نسب اور آپ کے نام:

آپ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم ہیں۔

احمد، حاشر اور عاقب بھی آپ کے نام ہیں۔

اللہ کے نبی ﷺ کی پیدائش اور وفات :

اللہ کے نبی ﷺ مکہ میں عام الفیل سنہ 571 عیسوی میں پیدا ہوئے اور 12 ربیع الاول سنہ 11ھ کو فوت ہوئے۔

اللہ کے نبی ﷺ کی بیویاں :

خدیجہ - سودہ - عائشہ - حفصہ - زینب بنت خزیمہ - ام سلمہ - زینب بنت حجش - جویریہ - ام حبیبہ - صفیہ -میمونہ۔

1- اللہ کے نبی ﷺ کا تعارف اور اہم صفات

اللہ کے نبی ﷺ کے بال بچے اور قرلبت دار :

آپ کے تین لڑکے تھے : قاسم، عبداللہ اور ابراہیم۔

جب کہ چار بیٹیاں تھیں : زینب، رقیہ، ام کلثوم اور فاطمہ رضی اللہ عنہن۔

آپ کے مشہور ترین قرابت دار: حمزہ، عباس، علی اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم۔

اللہ کے نبی ﷺ کے جسمانی اوصاف :

آپ صلى اللہ علیہ وسلم گورے رنگ، چمکتے چہرہ، معتدل قد و قامت، کشادہ سینہ، اور گھنی داڑھی والے تھے۔

اللہ کے نبی ﷺ کے اخلاق :

فیاضی و بہادری - حلم و رفق - تواضع - صبر - عفو ودرگزر۔

2- اللہ کے نبی ﷺ کے دنیوی و اخروی خصائص

اللہ کے نبی ﷺ کے دنیوی فضائل :

‏آپ کی رسالت تمام لوگوں کے لیے عام ہے - آپ نبیوں کے سلسلے کی آخری کڑی ہیں - آپ کو جامع ترین الفاظ میں بات کرنے کی صلاحیت دی گئی تھی - آپ کے لیے زمین کو مسجد اور پاکی حاصل کرنے کا ذریعہ بنایا گیا ہے - رعب کے ذریعے آپ کی مدد کی گئی تھی - آپ کے لیے غنیمتوں کو حلال کیا گیا تھا۔

اللہ کے نبی ﷺ کے اخروی فضائل :

قیامت کے دن اولاد آدم کے سردار - سب سے پہلا شخص جس کی قبر کھلے گی - آپ سب سے پہلے سفارش کرنے والے ہوں گے، اور پہلے شخص ہوں گے جس کی سفارش قبول ہوگی - سب سے بڑے حوض والے - آپ پہلے شخص ہوں گے جس کے لیے جنت کا دروازہ کھولا جائے گا۔

3- قرآن پڑھنے کی فضیلت

حدیث کے الفاظ :

”جس نے کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھا، اس کے لیے ایک نیکی ہے اور ایک نیکی کا اجر اس طرح کی دس نیکیوں کے برابر ہوتا ہے۔ میں نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے؛ بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے“

راوی :

ابو عبدالرحمن عبداللہ بن مسعود ہذلی رضی اللہ عنہ۔

کلمات کے معانی :

الم : الم ان حروف مقطعات میں شامل ہیں، جن سے قرآن کی کچھ سورتوں کا آغاز ہوتا ہے۔

3- قرآن پڑھنے کی فضیلت

حدیث کا عام معنی :

فوائد و توجیہات :

قرآن پڑھنے اور زیادہ سے زیادہ پڑھنے کی ترغیب۔

اس بات کا ثبوت کہ نیکیوں میں اضافہ ہوتا ہے۔

اللہ کا فضل و کرم کہ تھوڑے سے عمل کا بڑا ثواب عطا کرتا ہے۔

4- گناہ مٹانے والی چیزیں

حدیث کے الفاظ :

”پانچوں نمازیں، ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک اپنے مابین سرزد ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے“۔

کلمات کے معانی :

مكفرات : گناہ مٹانے کا سبب بننے والی چیزیں

الكبائر : وہ بڑے گناہ جن کی شریعت نے دنیا میں کوئی حد یا آخرت میں کوئی سزا مقرر کی ہے۔

راوی :

ابو ہریرہ عبدالرحمن بن صخر الدوسی۔

4- گناہوں کو مٹانے والی چيزیں

حدیث کا عام معنی :

فوائد و توجیہات :

نیکی کے کام پابندی کے ساتھ کرنے کی فضیلت۔

گناہوں کی دو قسمیں ہیں : صغیرہ گناہ۔ نیکی کے کام ان کو مٹانے کا کام کرتے ہيں۔ کبیرہ گناہ۔ ان کے لیے خاص توبہ ضروری ہے۔

کبیرہ گناہ کا ارتکاب کرنے کی سنگینی۔

5- اللہ کے ساتھ حُسنِ ظن رکھنا۔

حدیث کے الفاظ :

اللہ عز و جل فرماتا ہے : ’’میں اپنے بندے کے اس یقین کے مطابق ہوں جو وہ میری بابت رکھتا ہے، اور میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں جب وہ مجھے یاد کرتا ہے۔ اگر وہ مجھے اپنے نفس میں یاد کرتا ہے تو میں اسے اپنے نفس میں یاد کرتا ہوں، اور اگر وہ مجھے کسی محفل میں یاد کرتا ہے تو میں اسے ایسی محفل میں یاد کرتا ہوں جو اس کی محفل سے زیادہ بہتر ہے، اور اگر وہ ایک بالشت میرے قریب آتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب آتاہوں، اور اگر وہ ایک ہاتھ میرے قریب آتا ہے تو میں اس سے دونوں بازووں کے پھیلاؤ کے برابر قریب آتا ہوں، اور اگر وہ چلتا ہوا میرے پاس آتا ہے تو میں دوڑتا ہوا اس کے پاس آتا ہوں۔‘‘

کلمات کے معانی :

حدیث میں وارد لفظ "باعًا " کا معنى ہے: انسان کے دونوں بازووں کی لمبائی کی مسافت۔

حدیث میں وارد لفظ "هرولة" کا معنى ہے : دوڑتا ہوا۔

راوی :

ابو ہریرہ عبدالرحمن بن صخر دوسی رضی اللہ عنہ۔

5- اللہ سے حُسنِ ظن رکھنا۔

حدیث کا عام معنی :

فوائد و توجیہات :

اللہ سے حسن ظن رکھنے اور اس کی عبادت اور اس کی قربت حاصل کرنے پر توجہ دینے کی اہیمت کا بیان۔

اللہ کو سری و جہری طور پر یاد کرنا افضل ترین عبادت ہے۔

انسان کو بدلہ اسی نوعیت کا دیا جاتا ہے، جس نوعیت کا اس کا عمل رہا ہوتا ہے۔

6- سات لوگوں کو اللہ اپنے (عرش کے) سایہ میں جگہ دے گا

حدیث کے الفاظ :

"سات لوگوں کو اللہ اپنے (عرش کے) سایے میں اس دن جگہ دے گا، جس دن اس (کے عرش کے) سایہ کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔ انصاف پرور حکم راں، اللہ کی عبادت کے ساتھ پروان چڑھنے والا جوان، ایسا شخص جس کا دل مسجد میں اٹکا ہوا ہو، دو ایسے اشخاص جو اللہ کے لیے آپس میں محبت رکھتے ہوں؛ اسی کی بنیاد پر یک جا ہوتے ہوں اور اسی کی بنیاد پر علاحدہ ہوتے ہوں، ایک وہ شخص جسے کوئی منصب و جمال والی عورت بدکاری کی دعوت دے اور وہ یہ کہہ کر ٹھکرا دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں، ایک وہ شخص جو اس طرح چھپا کر صدقہ کرے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی پتہ نہ ہو کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا کچھ خرچ کیا ہے، اور ایک وہ شخص جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے اور اس کی آنکھیں بھر آئيں۔"

کلمات کے معانی :

حدیث میں وارد عربی لفظ "دعته" کا معنى: اس عورت نے اسے بدکاری کی دعوت دی۔

حدیث میں وارد عربی لفظ "خاليًا" کا معنى : یعنی لوگوں سے دور

6- سات لوگوں کو اللہ اپنے (عرش کے) سایہ میں جگہ دے گا

حدیث کا عام معنی :

فوائد و توجیہات :

عدل، عفت، اخلاص اور اللہ سے دل کا تعلق مومن کے اہم ترین اوصاف ہيں۔

اللہ کے لیے محبت دنیا اور آخرت کی سعادت کا سبب ہے۔

حرام خواہشات سے دوری کا آخرت میں بڑا اجر ہے۔

چوتھی اکائی : فقہ احکام

1- طہارت اور وضو کا طریقہ

طہارت نماز صحیح ہونے کے لیے شرط ہے۔

طہارت کی دو قسمیں ہیں :

جسم، کپڑے اور جگہ کی طہارت۔

حدث اکبر اور حدث اصغر سے طہارت۔

طہارت کی فضیلت :

طہارت بندے سے اللہ کی محبت کا سبب ہے۔

طہارت نصف ایمان ہے۔

وضو گناہوں کے مٹائے جانے کا سبب ہے۔

1- طہارت اور وضو کا طریقہ

وضو کا طریقہ :

مسلمان دل سے وضو کی نیت کرے - دونوں ہتھیلیوں کو تین بار دھوئے - تین بار کلی کرے اور تین بار ناک میں پانی ڈال کر ناک جھاڑے - چہرے کو تین بار دھوئے - دونوں ہاتھوں کو انگلیوں کے کناروں سے کہنی تک تین بار دھوئے - ایک بار سر کا مسح کرے - دونوں کانوں کا سر کے ساتھ مسح کرے - دونوں پیروں کو تین بار ٹخنوں سمیت دھوئے -

وضو پورا کرنے کے بعد یہ دعا پڑھے : "أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا الله، وأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ"

2- تیمم اور حائل چيزوں پر مسح

اول : تیمم :

تیمم نام ہے طہارت کی نیت سے پاک مٹی کے ساتھ چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کا مسح کرنے کا۔

وہ احوال جن میں تیمم مشروع ہے :

تیمم کا طریقہ :

2- تیمم اور حائل چيزوں پر مسح

دوم : خفین پر مسح :

عربی کا لفظ 'خف' چمڑے یا اس جیسی کسی چیز سے بنے ایسے لفافے کو کہتے ہيں، جسے قدموں میں پہنا جاتا ہے۔

موزوں پر مسح کے جواز کی شرطیں :

موزوں پر مسح کا طریقہ :

2- تیمم اور حائل چیزوں پر مسح

سوم : پٹی پر مسح :

پٹی : ان چیزوں کو کہتے ہیں، جن کو فریکچرز اور زخموں پر ان کے ٹھیک ہونے تک باندھ کر رکھا جائے۔

پٹی پر مسح حاجت کے بہ قدر کیا جائے گا۔

پٹی پر مسح کے لیے اس کا طہارت کی حالت میں باندھا جانا شرط نہيں ہے۔

پٹی پر مسح کا وقت بھی محدود نہيں ہے۔

3- غسل

غسل سے مراد :

غسل نام ہے طہارت کی نیت سے پورے بدن تک پانی پہنچانے کا۔

وہ حالات جن میں غسل واجب ہے :

کن کاموں کے لیے غسل واجب ہے :

غسل کا طریقہ :

4- نماز کا مقام و مرتبہ

نماز دین کا ستون ہے۔

نماز مسلمان ہونے کی نشانی ہے۔

توحید کے بعد پہلا فریضہ ہے۔

اللہ کے نبی ﷺ کی آخری وصیت ہے۔

نماز وہ پہلا عمل ہے، جس کے بارے میں بندے کو قیامت کے دن حساب دینا ہوگا۔

نماز کے ذریعے اللہ گناہوں کو مٹاتا ہے۔

5- نماز پڑھنے کا طریقہ

نماز پڑھنے کا طریقہ :

طہارت، ستر پوشى، قبلہ رخ ہونا۔

نیت، قیام، تکبیر اور قراءت۔

رکوع اور اس سے کھڑا ہونا۔

دو سجدے اور ان کے درمیان ایک جلسہ۔

دوسری رکعت کے بعد قعدہ اور تشہد۔

آخری رکعت ختم ہونے پر جلسہ، تشہد اور درود ابراہیمی۔

سلام پھیرنا۔

نماز کے سارے کاموں میں اطمینان۔

پانچویں اکائی : اخلاق

1- کھانے پینے کے آداب

اول : مشروع آداب :

کھانے پینے سے پہلے بسم اللہ کہنا۔

دائیں ہاتھ سے کھانا پینا۔

اپنے سامنے سے کھانا۔

کھانے پینے کے بعد اللہ کی تعریف کرنا۔

دوم : کچھ ایسے کام جن سے منع کیا گیا ہے :

ٹیک لگاکر کھانا پینا۔

اسراف اور بہت زیادہ پیٹ بھر کر کھانا۔

گرم کھانے میں پھونک مارنا۔

پینے کے دوران پانی میں سانس لینا۔

2- اجازت طلب کرنے کے آداب

اجازت طلب کرنے کا حکم :

اجازت طلب کرنے کی حکمت :

اجازت طلب کرنے کے آداب :

پہلے سلام کرنا اور اس کے بعد اندر آنے کی اجازت طلب کرنا۔

اجازت طلب کرنے والا اپنا نام بتائے گا اور درواز‌ کے دائيں یا بائيں جانب کھڑا ہوگا۔

2- اجازت طلب کرنے کے آداب

گھر کے اندر اجازت طلب کرنا :

درج ذیل اوقات میں گھر کے اندر بھی اجازت طلب کرنے کی ضرورت ہے : فجر کی نماز سے پہلے، دوپہر کے وقت، عشا کی نماز کے بعد۔

3- گفتگو اور مجلس کے آداب

اول : گفتگو کے آداب :

کلام سے پہلے سلام کرنا۔

صرف اچھی بات ہی بولنا، جھوٹ، غیبت، چغل خوری، اور فحش باتوں سے اجتناب کرنا۔

بے فائدہ باتوں سے گریز کرنا۔

اگر تین لوگ موجود ہوں، تو ایک کو چھوڑ کر دو لوگوں کا چپکے چپکے بات کرنا جائز نہیں ہے۔

مجلس کے آداب :

داخل ہوتے اور نکلتے وقت سلام کرنا۔

جہاں مجلس ختم ہوتی ہو، وہیں بیٹھ جانا۔

مجلس میں کشادگی پیدا کرنا۔

نیک لوگوں کے ساتھ بیٹھنا۔

لہو اور گناہوں کی مجلسوں سے پرہیز کرنا۔

اٹھنے سے پہلے مجلس کے کفارے والی دعا پڑھنا۔

4- قضائے حاجت کے آداب

اول : قضائے حاجت سے پہلے :

قضائے حاجت کی جگہ میں داخل ہوتے وقت پہلے بایاں پاؤں اندر رکھنا۔

یہ دعا پڑھنا : "اے اللہ! میں ناپاک جنّوں اور جنّیوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔"

دوم : قضائے حاجت کے دوران :

لوگوں کی نظروں سے پردہ کرنا۔

لوگوں کے راستے اور سایہ دار جگہوں وغیرہ میں قضائے حاجت سے بچنا۔

قبلہ کی جانب منہ یا پیٹھ کرکے بیٹھنے سے بچنا۔

4- قضائے حاجت کے آداب

سوم : قضائے حاجت کے بعد :

قضائے حاجت کى جگہ (ٹوائلٹ) کو صاف ستھرا چھوڑ کر نکلنا۔

ہاتھوں کو اچھی طرح دھونا۔

نکلتے وقت پہلے دایاں پیر باہر رکھنا۔

نکلنے کے بعد "غفْرَانَك" کہنا۔

پہلی اکائی : قرآن اور تفسیر

1- قرآن کریم کی تلاوت کے آداب

قرآن کریم کی تلاوت کی فضیلت :

قرآن کریم کی تلاوت کے کچھ آداب :

خالص اللہ کی رضا جوئی کی نیت۔

شیطان سے پناہ مانگنا۔

معانی پر غور و فکر کرنا۔

تجوید کے احکام کو عملی شکل دینا۔

اچھی آواز میں قرآن پڑھنا۔

2- مصحف شریف اور اس کے ساتھ برتاؤ کے آداب

مصحف کی تعریف :

مصحف : وہ کتاب جس میں قرآن کریم لکھا ہو۔

اس میں 114 سورتیں ہیں۔ یہ سورہ فاتحہ سے شروع ہوتا ہے اور سورہ ناس پر ختم ہوتا ہے۔

مصحف کی تعظیم کا وجوب :

مصحف کی تعظیم ہر مسلمان پر واجب ہے۔

مصحف کی توہین اللہ کے ساتھ کفر ہے۔

2- مصحف شریف اور اس کے ساتھ برتاؤ کے آداب

مصحف کے ساتھ برتاؤ کے آداب :

مصحف کی حفاظت کرنا، صاف ستھرا رکھنا اور کچھ ایسا نہ کرنا جو اس کے تلف ہونے کا سبب بنے۔

طہارت کے بغیر مصحف چھونے سے اجتناب کرنا۔

اس کی اہانت کی حرمت۔

3- آیۃ الکرسی کی تفسیر

کلمات کے معانی :

القیوم : مخلوقات سے جڑے ہوئے سارے امور کو انجام دینے والا۔

السِّنَة : ہلکی نیند۔

يؤوده : اسے عاجز کر دیتا ہے۔

آیت کریمہ کے فوائد :

آیۃ الکرسی قرآن کی عظیم ترین آیت ہے۔

یہ آیت کریمہ اللہ کے تمام اوصاف کمال سے متصف ہونے اور ہر نقص سے خالی ہونے پر دلالت کرتی ہے۔

کرسی ایک عظیم مخلوق ہے، جو آسمانوں اور زمین کو اپنی وسعت میں لیے ہوئے ہے۔

4- سورہ "التکاثر" اور سورہ "العصر" کی تفسیر

کلمات کے معانی

ألهاكم : تم کو مشغول کر دیا۔

التكاثر : مال و دولت اور آل و اولاد میں ایک دوسرے پر فخر کرنا۔

زرتم : تم نے وفات پائی اور دفن ہو گئے۔

مذکورہ بالا آیتوں سے حاصل ہونے والے کچھ فوائد :

اللہ اپنے بندوں کو قیامت کی ہول ناکیوں سے خبردار کر رہا ہے۔

اللہ بندوں سے ان نعمتوں کا حساب لے گا، جن کا انھوں نے شکر نہيں کیا۔

چار کام کرنے والوں کے علاوہ سارے لوگ خسارے میں رہیں گے۔ وہ چار کام ہيں : ایمان لانا - عمل صالح کرنا - دعوت الی اللہ کا فریضہ انجام دینا - صبر کرنا۔

5- سورہ "الھمزہ" اور سورہ "الفیل" کی تفسیر

کلمات کے معانی :

هُمَزة لُمَزة : لوگوں کی عیب جوئی اور غیبت کرنے والا۔

ليُنبذن : وہ ضرور پھینکا اور ڈالا جائے گا۔

الحطمة : ایسی آگ جو اپنے اندر ڈالی جانے والی ہر چیز کو توڑ پھوڑ ڈالے گی۔

مؤصدة : بند

طيرًا أبابيل : جھنڈ کے جھنڈ لگاتار آنے والے پرندے۔

سجيل : پتھر کی طرح سخت مٹی۔

كعصف : کھیتی کے ایسے سوکھے پتوں کی طرح، جنھیں جانوروں نے کھانے کے بعد اگل دیا ہو۔

5- سورہ "الهمزة " اور سورہ "الفيل" کی تفسیر

مذکورہ بالا آیتوں سے حاصل ہونے والے کچھ فوائد :

غیبت، چغل خوری اور مذاق اڑانا جیسی چیزیں لوگوں کے درمیان ایک دوسرے کو ناپسند کرنے کا جذبہ بڑھانے کا کام کرتی ہيں۔

برے اخلاق اخروی عذاب کا سبب ہیں۔

اللہ تعالی اس کی حرمتیں پامال کرنے والے کو سزا دینے پر قادر ہے۔

6- سورہ "قریش" اور سورہ "ماعون" کی تفسیر

کلمات کے معانی :

لإيلاف قريش : قریش کی عادت اور ان کے مانوس ہونے کی وجہ سے۔

يدع : سختی اور اہانت کے ساتھ ہٹانا۔

يراءون : ریاکاری کی وجہ سے دکھاکر نیکی کے کام کرتے ہیں۔

الماعون : لوگوں کی ضرورت کی چيزیں، جیسے برتن وغیرہ۔

مذکورہ بالا آیتوں سے حاصل ہونے والے کچھ فوائد :

امن اور کھانے پینے کی چیزوں کی فراہمی اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔

آخرت کو جھٹلانے والا نہ اللہ تعالی کا حق ادا کرتا ہے اور نہ بندوں کا حق۔

ریا کاری اور وقت گزرجانے کے بعد نماز پڑھنے کا نقصان۔

تیسری اکائی : ایمان اور تزکیہ

1- توحید کی فضیلت اور اس کا مقام و مرتبہ

اول : توحید کی تعریف :

توحید نام ہے اللہ کو اس کے ساتھ خاص چيزوں، جیسے ربوبیت، الوہیت اور اسما و صفات میں ایک ماننا۔

دوم : توحید کی فضیلت اور مقام :

توحید بندوں پر اللہ کا حق ہے :

توحید ہی وہ مقصد اصیل ہے، جس کے لیے اللہ نے مخلوقات کو پیدا کیا ہے :

توحید کی دعوت ہی رسولوں کے بھیجے جانے کا مقصد ہے :

توحید اعمال کے قبول ہونے کی شرط ہے :

توحید گناہوں کے مٹائے جانے کا سبب ہے :

2- توحید ربوبیت

اول : توحید ربوبیت کی تعریف :

اللہ تعالی کو اس کے ساتھ خاص افعال، جیسے پیدا کرنا، روزی دینا اور تدبیر کرنا وغیرہ میں ایک ماننے کو توحید ربوبیت کہتے ہیں۔

دوم : ربوبیت پر ایمان کو حقیقت کا روپ دینے کا طریقہ :

ہم اس بات پر ایمان رکھیں کہ درج ذیل باتیں اللہ کے ساتھ خاص ہيں :

پیدا کرنا اور روزی دینا - ملک و تدبیر - نفع و ضرر - جِلانا اور مارنا۔

سوم : توحید ربوبیت کے بعض نواقض:

اللہ کے وجود کا انکار کرنا۔

علم غیب کا دعوی کرنا۔

اس بات کا دعوی کرنا کہ اس کائنات میں غیر اللہ کا بھی تصرف چلتا ہے، مثلاً روزی دینے یا نفع و نقصان پہنچانے کو غیر اللہ سے بھی منسوب کرنا۔

3- توحید الوہیت

اول : توحید الوہیت کی تعریف :

توحید الوہیت: تمام طرح کی عبادتوں کو صرف ایک اللہ کے لیے کرنا۔ عبادت کی قسمیں کچھ اس طرح ہیں :

قلبی عبادتيں - قولی عبادتیں - بدنی عبادتیں۔

دوم : توحید الوہیت اور توحید ربوبیت کے درمیان تعلق :

توحید ربوبیت توحید الوہیت کو لازم کرتی ہے :

توحید ربوبیت کا اقرار توحید الوہیت سے بے نیاز نہيں کرتا :

3- توحید الوہیت

سوم : توحید الوہیت کے بعض نواقض:

غیر اللہ کی عبادت۔

غیر اللہ سے دعا کرنا۔

غیر اللہ کے لیے نذر ماننا یا جانور ذبح کرنا۔

4- توحید اسما و صفات

اول : توحید اسما وصفات کا معنی :

توحید اسما و صفات سے مراد ہے قرآن کریم اور سنت نبوی میں آئے ہوئے اللہ کے اسما و صفات پر ایمان رکھنا۔

دوم : اللہ تعالی کے اسما :

تعریف : اللہ تعالی کے اسما سے مراد وہ اسما ہیں، جن کو اللہ تعالی نے اپنے لیے خاص کر رکھا ہے۔

اللہ کے اسما اس کى صفات پر دلالت کرتے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالی کا ہر نام اس صفت کو شامل ہے، جس پر وہ دلالت کرتا ہے۔

سوم : اللہ تعالی کى صفات :

اس کے دائرے میں وہ صفات آتى ہيں، جن کو اللہ تعالی نے اپنے لیے ثابت کیا ہے اور جو اس کے ہر اعتبار سے کامل ہونے پر دلالت کرتى ہیں۔ انھیں اللہ کے لیے ثابت کرنا واجب ہے۔

وہ صفات جن کے اللہ کے اندر ہونے کی نفی کی گئی ہے۔ ان سے مراد وہ صفات ہیں، جو نقص پر دلالت کرتى ہیں، جیسے سونا اور ظلم کرنا وغیرہ۔

5- عبادت اور اس کی قسمیں

اول : عبادت کی تعریف :

عبادت ان تمام باطنی و ظاہری اقوال اور اعمال کو کہتے ہیں، جو اللہ تعالی کو محبوب اور پسند ہیں۔

دوم : عبادت کی قسمیں :

باطنی عبادتیں : ان سے مراد قلبی عبادتيں، جیسے محبت، خوف اور رجا وغیرہ ہیں۔

ظاہری عبادتیں : ان کی تین قسمیں ہیں :

قولی عبادتيں - فعلی عبادتیں - مالی عبادتيں۔

5- عبادت اور اس کی قسمیں

سوم : عبادت کی اہمیت :

عبادت ہی وہ مقصد ہے، جس کے لیے اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے۔

اسی کے لیے رسول بھیجے گئے۔

چہارم : عبادت کا ثمرہ :

عبادت دنیوی و اخروی سعادت کا سبب ہے۔

6- عبادت کی شرطیں اور اس کے ارکان

اول : عبادت کی شرطیں :

پہلی شرط : اخلاص :

اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اپنے تمام اقوال و اعمال میں اللہ کی رضا جوئی پیش نظر رکھے۔

دوسری شرط : متابعت :

متابعت کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اللہ کی عبادت اس کے نبی ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق کرے۔

6- عبادت کی شرطیں اور اس کے ارکان

دوم : عبادت کے ارکان :

پہلا رکن : اللہ سے محبت۔

دوسرا رکن : رجا۔

تیسرا رکن : خوف۔

7- ایمان کا زیادہ اور کم ہونا

اول : ایمان کے زیادہ اور کم ہونے کے دلائل :

دوم : ایمان بڑھانے والے کچھ اعمال :

اللہ کا علم و معرفت :

اللہ کی محبت۔

حسن اخلاق

سوم : ایمان گھٹانے والے کـچھ اعمال :

گناہ کے سارے کام ایمان گھٹاتے ہيں، اور کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کچھ زیادہ ہی گھٹاتے ہیں۔

چہارم : ایمان والوں کے درجوں میں کمی بیشی :

ایمان والے اپنے اعمال اور اخلاص کے اعتبار سے الگ الگ درجوں کے حامل ہوتے ہيں۔

تیسری اکائی : سنت اور شمائل نبوی

1- قرابت داروں کے ساتھ نبی ﷺ کا برتاؤ

اول : اپنے مسلم قرابت داروں کے ساتھ برتاؤ کے بارے میں اللہ کے نبی ﷺ کا طریقہ :

اللہ کے نبی ﷺ کا اپنے قرابت داروں کا احترام۔

اللہ کے نبی ﷺ کا خوشی اور غم میں اپنے رشتے داروں کے ساتھ رہنا۔

اللہ کے نبی ﷺ کا اپنے قرابت داروں کے بال بچوں کی دیکھ بھال کرنا۔

دوم : غیر مسلم قرابت داروں کے ساتھ اللہ کے نبی ﷺ کا طرز برتاؤ۔

ان کو اسلام کے دائرے میں لانے کی کوشش۔

ان کی ایذا رسانیوں پر صبر کرنا۔

اللہ کے نبی ﷺ کا ان پر رحم کرنا اور ان کے حق میں دعا کرنا۔

اللہ کے نبی ﷺ کا قرابت داورں کے ساتھ صلہ رحمى کرنا۔

2- پڑوسیوں کے ساتھ برتاؤ کا اللہ کے رسول ﷺ کا طریقہ

پڑوسیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔

پڑوسیوں کی مدد اور ان خیر خواہی کرنا۔

پڑوسیوں کی خوشی اور غم میں شریک رہنا۔

پڑوسیوں کی اذیتیں برداشت کرنا۔

پڑوسیوں کو تکلیف سے بچانا۔

3- بچوں کے ساتھ برتاؤ کے سلسلے میں اللہ کے نبی ﷺ کا طریقہ

اول : ولادت سے ہی ان پر توجہ دینا :

نومولود کے کان میں اذان دینا۔

نومولود کی تحنیک کرنا (تالو میں کھجور چباکر چپکانا)۔

چھوٹے بچوں پر رقیہ کرنا اور ان کو شیطان سے اللہ کی پناہ میں دینا۔

سوم : ان کے ساتھ رحم و کرم، تواضع اور احترام کا معاملہ :

آپ کا بچوں کو (گود میں یا کندھے پر) اٹھانا :

بچوں کے ساتھ کھیلنا۔

ان کے ساتھ کھانا کھانا اور ان کو کھانے کے آداب سکھانا۔

ان کا احترام کرنا اور ان کے حقوق کا پاس و لحاظ رکھنا :

3- بچوں کے ساتھ معاملے کے سلسلے میں اللہ کے رسول ﷺکا طریقہ

• سوم : ان کی تعلیم و تربیت پر توجہ :

ان کو لکھنا اور پڑھنا سکھانا۔

ان کو صحیح عقیدہ سکھانا۔

ان کو عبادتوں اور حسن اخلاق کا عادی بنانا۔

اللہ کے نبی ﷺ کا بچوں کو کافروں کی مشابہت اختیار کرنے سےمنع کرنا۔

4- غیر مسلموں کے ساتھ برتاؤ کے سلسلے میں اللہ کے نبی ﷺ کا طریقہ

اول : دین کے معاملے میں زبردستی نہ کرنا :

دوم : ان کو اچھے انداز میں اسلام کی دعوت دینا :

سوم : ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنا :

چہارم : ان کے ساتھ انصاف کرنا اور ان پر ظلم کو حرام قرار دینا:

پنجم : ان کے شخصی حقوق ادا کرنا :

5- مسلمان کے حقوق

حدیث کے الفاظ :

’’ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حقوق ہیں: سلام کا جواب دینا، بیمار کی عیادت کرنا، جنازوں کے ساتھ جانا، دعوت قبول کرنا اور چھینکنے والے کے دعائیہ کلمات کا جواب دینا‘‘

کلمات کے معانی :

حدیث میں وارد لفظ "عيادة" کا معنى ہے : بیمار شخص کا حال جاننے کے لیے جانا۔

حدیث میں وارد عربی لفظ "تَشْمِيتُ الْعَاطِسِ" کا معنى ہے : چھینکنے والے کے حق میں يَرْحَمَكُمُ اللهُ کہہ کر دعا کرنا۔

راوی :

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، ان کا نام عبدالرحمن بن صخر دوسی ہے۔

حدیث کا عام معنی :

5- مسلمان کے حقوق

فوائد و توجیہات :

شریعت کی نظر میں مسلمان کے حقوق کی اہمیت۔

مسلمانوں کو آپس میں جوڑنے والی چیزوں پر اسلام کی توجہ۔

یہ پانچ چیزیں اخوت اسلامیہ کے اہم ترین حقوق میں شمار ہوتی ہیں۔

صلہ رحمی کی فضیلت

حدیث کے الفاظ

”جو اس بات کا خواہش مند ہو کہ اس کی روزی میں فراخی ہو اور اس کی عمر دراز کر دی جائے، اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کیا کرے“۔

کلمات کے معانی :

حدیث میں وارد لفظ "ينسأ" کا معنى ہے : لمبی کر دی جائے یا برکت دے دی جائے۔

حدیث میں وارد لفظ "أثره" کا معنى ہے: اس کی عمر۔

راوی :

انس بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ۔

حدیث کا عام معنی :

6- صلہ رحمی کی فضیلت

فوائد و توجیہات :

صلہ رحمی کی ترغیب۔

اجتماعی زندگی کے مختلف گوشوں پر اسلام کی توجہ۔

صلہ رحمی عمر میں برکت، روزی میں کشادگی اور نیک نامی کا سبب ہے۔

7- رحمت اور احترام

حدیث کے الفاظ :

"وہ شخص ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹے پر شفقت نہیں کرتا اور ہمارے بڑے کے شرف وفضل کو نہیں پہچانتا۔"

کلمات کے معانی :

حدیث کے الفاظ "ليس منا" کا مفہوم ہے: ہماری سنت کی پیروی کرنے والا نہیں ہے۔

راوی :

عبداللہ بن عمرو بن عاص قرشی رضی اللہ عنہما۔

حدیث کا عام معنی :

7- رحمت و احترام

فوائد و توجیہات :

رحمت کی اہمیت۔ خصوصا چھوٹے بچوں کے ساتھ۔

عمر دراز اور اونچے مقام والے لوگوں کی عزت و احترام کی ضرورت۔

رحمت اور احترام مسلم معاشرے کے امتیازات میں سے ہیں۔

8- پڑوسی اور مہمان کی عزت کرنا

حدیث کے الفاظ :

"جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اچھی بات کرے یا خاموش رہے، جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اپنے پڑوسی کی عزت کرے اور جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔"

کلمات کے معانی :

حدیث میں وارد لفظ "ليصمت" کا معنى ہے: وہ خاموش رہے۔

حدیث میں وارد عبارت "فليكرم جاره" کا معنى: وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔

راوی :

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ۔

حدیث کا عام معنی :

8- پڑوسی اور مہمان کی عزت کرنا

فوائد و توجیہات :

اچھی بات کرنے اور لغو و باطل بات سے گریز کرنے کی ترغیب۔

پڑوسیوں کے ساتھ اچھا سلوک کمال ایمان کی دلیل ہے۔

مہمان کی عزت کرنے کی فضیلت۔

9- توازن اور اعتدال

حدیث کے الفاظ :

سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے ابو دردا رضی اللہ عنہ سے کہا تھا : "بلاشبہ تمھارے رب کا تم پر حق ہے، تمھارے نفس کا تم پر حق ہے اور تمھارے اہل و عیال کا تم پر حق ہے۔ لہذا ہر حق والے کو اس کا حق دو۔ تو نبی ﷺ نے فرمایا : "سلمان نے صحیح کہا ہے۔"

حدیث کا عام معنی :

فوائد و توجیہات :

ہر حق والے کو اس کا حق دینا اور کسی حق میں کوتاہی نہ کرنا۔

نفس پر عبادت کا ایسا بوجھ ڈالنے سے گریز کرنا، جسے اٹھانے کی اس کے اندر سکت نہ ہو۔

اسلام کا فطرتِ انسانی اور اس کی روحانی اور بدنی ضرورتوں کا خیال رکھنا۔

چوتھی اکائی : فقہ احکام

1- وضو کے احکام

وضو کے فرائض چھ ہيں :

پورے چہرے کو دھونا۔ چہرے کو دھونے کے اندر کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈال کر ناک جھاڑنا بھی شامل ہے۔

دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونا۔

پورے سر کا مسح کرنا۔

دونوں پیروں کو ٹخنوں سمیت دھونا۔

ترتیب۔

لگاتار کرنا۔

1- وضو کے احکام

دوم : وضو کی سنتیں

وضو کے شروع میں دونوں ہتھیلیوں کو تین بار دھونا۔

چہرے کو دھونے سے پہلے کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈال کر ناک جھاڑنا اور غیر روزے دار کے لیے اس میں مبالغہ سے کام لینا۔

مسواک کرنا۔

اعضائے وضو کو تین تین بار دھونا۔

دائیں سے شروع کرنا۔

1- وضو کے احکام

• سوم : وضو توڑنے والی چیزيں (نواقض وضو):

پیشاب اور پاخانہ کے راستوں سے نکلنے والی ساری چیزیں۔

ذکر کو بغیر کسی حائل کے چھونا۔

عقل کا زائل ہو جانا۔

اونٹ کا گوشت کھانا۔

2- نماز کی شرطیں

نماز کی شرطیں :

اسلام۔

عاقل ہونا۔

حدث اکبر اور حدث اصغر سے پاک ہونا۔

بدن اور کپڑوں کا پاک ہونا اور نماز کی جگہ کا پاک ہونا۔

نماز کے وقت کا داخل ہونا۔

ستر عورت۔

قبلے کی جانب منہ کرنا۔

نیت کرنا۔

3- نماز کے ارکان اور واجبات

• اول : نماز کے ارکان :

فرض نماز میں طاقت ہونے کی صورت میں کھڑے ہونا۔

تکبیر احرام۔

سورۂ فاتحہ پڑھنا۔

4- رکوع کرنا۔

5- رکوع سے سیدھا کھڑا ہونا۔

6- سجدہ کرنا۔

7- سجدے سے اٹھ کر سیدھا بیٹھنا۔

8- دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا۔

3- نماز کے ارکان و واجبات

• اول : نماز کے ارکان :

آخری تشہد کے لیے بیٹھنا۔

آخری تشہد پڑھنا۔

11- آخری تشہد میں اللہ کے نبی ﷺ پر درود بھیجنا۔

12- ارکان کے درمیان ترتیب کا خیال رکھنا۔

13- سلام پھیرنا۔

14- اطمینان کے ساتھ تمام ارکان ادا کرنا۔

3- نماز کے ارکان و واجبات

• دوم : نماز کے واجبات :

تکبیر احرام کے علاوہ تمام تکبیریں۔

رکوع میں "سبحان ربي العظيم" کہنا۔

سجدے میں "سبحان ربي الأعلى" کہنا۔

امام اور اکیلے نماز پڑھنے والے کا رکوع سے اٹھتے وقت "سمع الله لمن حمده" کہنا۔

رکوع سے سیدھا کھڑا ہونے کے بعد "ربنا ولك الحمد" کہنا۔

دو سجدوں کے درمیان "رب اغفر لي" کہنا۔

پہلا تشہد اور اس کے لیے بیٹھنا۔

4- نماز کی سنتیں اور اسے باطل کرنے والی چیزیں

اول : نماز کی سنتيں :

(1) قولی سنتیں۔ جیسے :

دعائے استفتاح پڑھنا - قراءت سے پہلے "أعوذ بالله من الشيطان الرجيم" کہنا - سورہ فاتحہ کے بعد کوئی سورہ یا کچھ آیتيں پڑھنا - سورہ فاتحہ پڑھنے کے بعد "آمین" کہنا - رکوع اور سجدے کی تسبیحیں ایک بار سے زیادہ کہنا - آخری تشہد پڑھنے کے بعد دعا کرنا۔

(2) فعلی سنتیں۔ جیسے :

تکبیر کے وقت دونوں ہاتھوں کو اٹھانا۔

قیام کے دوران دائيں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنا۔

رکوع کے دوران دونوں ہاتھوں کو دونوں گھٹنوں پر رکھنا۔

دائيں ہاتھ کو دائیں ران پر اور بائيں ہاتھ کو بائیں ران پر رکھنا۔

نظر سجدے کی جگہ پر رکھنا۔

4- نماز کی سنتیں اور اسے باطل کرنے والی چیزیں

دوم : نماز کو باطل کر دینے والی چیزیں :

نماز کو باطل کرنے والی کچھ چیزیں اس طرح ہيں : نماز کا کوئی رکن جان بوجھ کر چھوڑ دینا - جان بوجھ کر کوئی واجب چھوڑ دینا - جان بوجھ کر کوئی شرط چھوڑ دینا - جان بوجھ کر نماز میں کچھ کھانا پینا - جان بوجھ کر نماز کی مصلحت کے بغیر کچھ بولنا - جان بوجھ کر قہقہہ لگانا - نماز کے اعمال کے علاوہ کثیر اعمال۔

5- باجماعت نماز

اول : باجماعت نماز کے احکام :

باجماعت نماز عاقل و بالغ مرد پر فرض ہے۔

کم سے کم دو لوگ ہوں، تو جماعت قائم ہو گی۔

دوم : باجماعت نماز کے فضائل :

باجماعت نماز تنہا نماز سے افضل ہے۔

باجماعت نماز جنت میں داخلے کا سبب ہے۔

عشا اور فجر کی نماز باجماعت پڑھنے کی فضیلت۔

درجات کی بلندی اور گناہوں کا معاف کیا جانا۔

6- جمعہ کی نماز

نماز جمعہ کی فضیلت :

نماز جمعہ کا حکم :

نماز جمعہ کا طریقہ :

نماز سے پہلے امام دو خطبے دے گا۔

جمعہ کی نماز مسجد کے اندر دو رکعت، باجماعت، جہری قراءت کے ساتھ ادا کی جائے گی۔

سورہ جمعہ اور سورہ منافقون یا سورہ اعلی اور سورہ غاشیہ پڑھنا۔

6- جمعہ کی نماز

• نماز جمعہ کے آداب :

غسل کرنا، خوش بو لگانا، سب سے اچھے دست یاب کپڑے پہننا اور نماز کے لیے جلدی نکلنا۔

اللہ کے نبی ﷺ پر بہ کثرت درود بھیجنا۔

قبولیت کے وقت کو پانے کے لیے بہ کثرت دعا کرنا۔

خاموشی کے ساتھ خطبہ سننا اور دورانِ خطبہ لغو کاموں سے گريز کرنا۔

7- نفل نماز

وتر کی نماز :

سنن رواتب :

تراویح کی نماز :

چاشت کی نماز :

مطلق نفل :

• مطلق نفل نمازوں میں سب سے افضل نماز صلاۃ اللیل (رات کی نماز) ہے۔

7- نفل نماز

درج ذیل اوقات کو چھوڑ کر تمام اوقات میں نفل نماز پڑھنا مشروع ہے :

فجر کی نماز سے سورج اونچا ہونے تک۔

سورج بیچ آسمان میں جانے سے زوال (ظہر کے وقت کے کچھ پہلے) تک۔

عصر کی نماز سے سورج غروب ہونے تک۔

8- زکاۃ

زکاۃ کا حکم :

زکاۃ دین کا ایک فریضہ اور اسلام کا تیسرا رکن ہے۔

زکاۃ کی مشروعیت کی حکمت :

وہ اموال جن میں زکاۃ واجب ہے :

قیمتیں، جن میں سونا، چاندی اور نقود شامل ہيں۔

تجارت کے سامان۔ جیسے زمین سے جڑے کاروبار، گاڑیوں کى تجارت اور تمام طرح کے سامان تجارت۔

اناج اور پھل۔ جیسے گیہوں، چاول، کھجور اور کشمش۔

جانور، جس میں اونٹ، گائے اور بکری شامل ہیں۔

زکاۃ کے مصارف :

زکاۃ کے مصارف درج ذیل آٹھ ہیں : فقرا - مساکین - عاملین زکاۃ - مؤلفۃ القلوب - گردن (غلام) کو آزاد کرانا- مقروض لوگ - اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے لوگ - مسافر۔

9- صیام (روزہ)

ماہ رمضان کے فضائل :

ماہ رمضان کے بہت سارے فضائل ہيں، جن میں سے ایک فضیلت گناہوں کی مغفرت اور برائيوں کا مٹایا جانا ہے۔

روزے کی شرطیں :

مسلمان ہونا:

- بالغ ہونا۔

- عاقل ہونا۔

- روزے کی طاقت رکھنا۔

- عورتوں کا حیض اور نفاس کے خون سے پاک ہونا۔

- نیت کرنا۔

9- صیام (روزہ)

• روزے کی سنتیں :

افطار کرنے میں جلدی کرنا۔

سوکھی یا تر کھجوروں یا پانی سے افطار کرنا۔

سحری کو فجر سے کچھ پہلے تک مؤخر کرنا۔

زیادہ سے زیادہ نیکی کے کام کرنا۔

افطار کے وقت دعا کرنا۔

9- صیام (روزہ)

• روزے باطل کر دینے والی چیزیں :

1- جماع۔

2- منی کا انزال۔

- جان بوجھ کر کھانا یا پینا۔

پانی وغیرہ پیٹ تک پہنچانا۔

- جان بوجھ کر قے کرنا۔

- پچھنا لگوانا۔

10- حج

حج کا حکم :

حج اسلام کا ایک بہت بڑا فریضہ اور پانچواں رکن ہے۔ حج صاحب استطاعت پر عمر میں ایک بار فرض ہے۔

حج کی فضیلت :

حج سے انسان کے گناہ مٹائے جاتے ہیں۔ حج دین کے افضل ترین اعمال میں سے ہے۔

حج کی شرطیں :

مسلمان ہونا - بالغ ہونا - عاقل ہونا - استطاعت رکھنا - عورت کے ساتھ محرم کا موجود ہونا۔

10- حج

• حج کے ارکان :

احرام باندھنا۔

عرفہ کے میدان میں وقوف کرنا۔

طواف افاضہ۔

صفا اور مروہ کے درمیان سعى کرنا۔

پانچویں اکائی : آداب و اخلاق

1- اچھے اخلاق

اچھے اخلاق :

حسن خلق نام ہے لوگوں کا بھلا کرنے اور اپنے قول یا فعل کے ذریعے ان کو اذیت نہ دینے کا۔

حسن خلق کے فضائل :

دخول جنت کا سبب :

درجات کی بلندی :

کمال ایمان کی علامت :

اللہ کے نبی ﷺ کى اقتدا اور آپ کے طریقے کی پیروی :

حسن اخلاق سے قیامت کے دن اللہ کے نبی ﷺ کی محبت اور آپ کی قربت حاصل ہوگی۔

لوگوں کی محبت اور ان کے احترام کا حصول۔

2- صفت صدق

صدق کا مفہوم :

صدق (سچائی) نام ہے: قول کا فعل کے، ظاہر کا باطن کے اور کلام کا واقع کے مطابق ہونا۔

اول : سچائی کے میدان :

اللہ کے ساتھ دل کا سچا ہونا : نیت اور ارداے کی درستگی کے ذریعے۔

زبان کا سچا ہونا :اس طرح کہ اس سے نکلی ہوئی ہر بات واقع کے عین مطابق ہو۔

عمل کا سچا ہونا : اس طرح کہ انسان کا عمل اس کے قول کے مطابق ہو۔

2- صفت صدق

• صدق کے فضائل :

سچائی دخول جنت کا ایک سبب ہے۔

سچائی اللہ کے رسولوں کی صفت ہے اور اللہ نے ہمیں ان کے اقتدا کا حکم دیا ہے۔

سچائی معاشرے میں رہ رہے لوگوں کے درمیان محبت و الفت عام کرنے میں ممد و مددگار ثابت ہوتی ہے۔

3- امانت داری کی صفت

اول : امانت داری کا مفہوم :

امانت داری اللہ اور بندوں کے حقوق ادا کرنے کا نام ہے۔

دوم : امانت داری کی صورتيں :

دین کے بارے میں امانت داری - عزت و آبرو کے بارے میں امانت داری - مال و دولت کے بارے میں امانت داری - عمل میں امانت داری - علم میں امانت داری - اسرار اور عہد و پیمان میں امانت داری - حواس اور اعضائے جسم میں امانت داری۔

3- امانت داری کی صفت

• سوم : امانت داری کے فضائل :

امانت داری نبیوں اور رسولوں کا ایک اہم ترین وصف ہے۔

امانت داری ایمان کی ایک اہم ترین شاخ ہے۔

امانت کو ضائع کرنا قیامت کی نشانی ہے۔

4- صفت صبر

اول : صبر کا مفہوم :

صبر ایک وصف ہے، جو مسلمان کو اللہ کی اطاعت گزاری، معصیت سے اجتناب اور قضا و قدر سے رضا مندی پر ثابت قدم رکھتا ہے۔

دوم : صبر کی قسمیں :

اللہ کی اطاعت گزاری پر صبر (قائم رہنا)۔

اللہ کی نافرمانی سے صبر (گریز کرنا)۔

آزمائش پر صبر۔

4- صفت صبر

• سوم : صبر کے فضائل :

صبر کرنے والوں کو بلا حساب ان کا پورا پورا اجر دیا جائے گا۔

صبر نبیوں اور رسولوں کا وصف ہے۔

اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

5- صفت حیا

اول : حیا کا مفہوم :

حیا ایک وصف ہے، جو انسان کو اچھی باتیں کہنے اور اچھے کام کرنے اور بری باتیں کہنے اور برے کام کرنے سے بچنے کی ترغیب دیتا ہے۔

دوم : حیا کی قسمیں :

اللہ تعالى سے حیا۔

نفس سے حیا۔

لوگوں سے حیا۔

5- صفت حیا

سوم : حیا کے فضائل :

حیا اللہ کے نزدیک ایک محبوب وصف ہے۔

حیا رسول کریم ﷺ کا ایک وصف ہے۔

حیا سے بھلا ہی ہوتا ہے۔

6- صفت عدل

اول : عدل کا مفہوم :

عدل نام ہے ہر حق والے کو اس کا پورا حق دینا اور کوئی فرق کیے بغیر لوگوں کے درمیان معاملات میں انصاف کرنا۔

دوم : عدل کی صورتیں :

فرائض کی ادائيگی اور حقوق ادا کرنا۔

لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا۔

سوم : عدل قائم کرنے کا طریقہ :

شرعی احکام کو عملی جامہ پہنانا۔

کسی امتیاز کے بغیر ہر حق والے کو اس کا حق دینا۔

اللہ کا خوف رکھنا اور اس بات کو ذہن نشیں رکھنا کہ اللہ تعالی قیامت کے دن ظالم سے بدلہ ضرور لے گا۔

6- صفت عدل

چہارم : عدل کے فضائل :

اللہ تعالی نے عدل کا حکم دیا ہے۔

عدل و انصاف سماج میں امن و شانتی کے قیام اور پرسکون زندگی میسر ہونے کا سبب ہے۔

چھٹی اکائی : دعوت

1- خیرخواہی کا مقام و مرتبہ

اول : خیرخواہی کا مفہوم :

نصیحت (خیرخواہی) : سامنے والے شخص کا بھلا چاہنا، اسے بھلائى وصلاح کی دعوت دینا اور فساد سے روکنا۔

دوم : خیرخواہی کا مقام و مرتبہ :

دین خیرخواہی کا نام ہے۔ یہ دین کے قیام کا ایک سبب ہے۔

خیرخواہی انبیا کا کام ہے۔

خیرخواہی معاشرے کی اصلاح کی راہ ہم وار کرتی ہے۔

خیرخواہی دونوں جہانوں میں کام یابی اور کام رانی کے حصول کی راہ ہم وار کرتی ہے۔

نصیحت ایک قسم کا جہاد ہے۔

خیرخواہی عذاب سے تحفظ کا ذریعہ ہے۔

2- خیرخواہی کے آداب

• اول : خیرخواہی کرنے والے سے متعلق خاص آداب :

1- اخلاص۔

2- صبر۔

3- امانت داری۔

4- منصوح (جس کے ساتھ خیر خواہی کی جائے) کے ساتھ نرمی بھرا برتاؤ کرنا۔

5- خیرخواہی کرنے کے کام میں رازدارانہ طریقہ اختیار کرنا۔

6- منصوح (جس کے ساتھ خیر خواہی کی جائے) کے ساتھ رحم و کرم کا معاملہ۔

7- ناصح کا خود اس چیز پر عمل کرنا جس کی نصیحت وہ دوسرے کو کرتا ہو۔

8- جس چیز کی نصیحت کر رہا ہو، اس کا علم اور جان کاری ہونا۔

9- منصوح (جس کے ساتھ خیر خواہی کی جائے) کے حال کا خیال رکھنا

2- خیر خواہی کے آداب

• دوم : منصوح (جس کے ساتھ خیر خواہی کی جائے) کے ساتھ خاص آداب :

نصیحت کے صحیح ہونے کی چھان بین کر لینا۔

نصیحت قبول کرنا اور تکبر سے بچنا۔

نصیحت پر عمل کرنا۔

پہلی اکائی : قرآن و تفسیر

1- قرآن سیکھنے اور سکھانے کی فضیلت

قرآن پڑھنا سیکھنے کی اہمیت :

قرآن سیکھنے کی فضیلت :

قرآن سکھانے کی فضیلت :

قرآن سیکھنے کے لیے محنت کرنے کی فضیلت :

2- سورہ بقرہ کی آخری آيتوں کی تفسیر

تفسیر :

یہ دونوں آیتیں دو باتوں پر مشتمل ہیں :

نبی اور ان کے ساتھیوں کے ارکان ایمان کی تصدیق کرنے کی گواہی۔

اللہ سے دعا کرنے کی کیفیت کا بیان۔

ان دو آیتوں سے حاصل ہونے والے کچھ فوائد اس طرح ہیں :

تمام نبیوں اور رسولوں پر ایمان لانے کا واجب ہونا۔

اللہ اور اس کے رسول کی بات سننے اور ماننے کا واجب ہونا۔

شریعت اسلامی کا ایک آسان شریعت ہونا۔

3- سورہ ضحی، سورہ شرح اور سورہ تین کی تفسیر

کلمات کے معانی :

سجی : (رات) تاریک ہوئی۔

قلى : بیزار ہوا۔

عائلًا : فقیر۔

أنقض : بوجھل کیا۔

فانصب : نیک کام میں محنت کر۔

طور سينين : طور پہاڑ جہاں اللہ تعالی نے موسی علیہ السلام سے بات کی تھی۔

ممنون : جس کے سلسلے کو کاٹ دیا جائے۔

3- سورہ ضحی، سورہ شرح اور سورہ تین کی تفسیر

مذکورہ بالا آیتوں سے حاصل ہونے والے کچھ فوائد :

اللہ کی جانب سے رسول ﷺ کی عزت افزائی اور ان کی نگہ داشت۔

بندوں پر اللہ کی رحمت کہ اس نے ان کے کاموں کو آسان کر دیا۔

انسان پر اللہ کا فضل و کرم کہ اس نے اسے بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا۔

4- سورہ علق اور سورہ قدر کی تفسیر

کلمات کے معانی :

علق : جمے ہوئے خون کا ٹکڑا۔

لنسفعاً : ہم ضرور پکڑیں گے۔

الزبانية : عذاب کے فرشتے۔

الروح : جبریل علیہ السلام

مذکوہ بالا آیات سے حاصل ہونے والے کچھ فوائد :

اسلام میں علم کا بڑا اونچا مقام ہے۔

قرآن کریم کو سب سے بہترین فرشتے کے توسط سے، سب سے بہترین انسان پر، سب سے بہترین رات میں اتارا گیا ہے۔

شب قدر ہمارے اوپر اللہ کی ایک عظیم ترین نعمت ہے۔

5- سورہ بینہ اور سورہ زلزلہ کی تفسیر

کلمات کے معانی :

منفكين : اپنے کفر کو چھوڑنے والے۔

البينة : واضح دلیل۔ یہاں مراد رسول ہیں۔

البرية : مخلوق

أثقالها : زمین میں دفن مردے۔

مذکورہ بالا آیات سے حاصل ہونے والے کچھ فوائد :

قرآن کریم اللہ کے نبی ﷺ کے سچے نبی ہونے کی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔

نیک عمل کرنے والے مومن اللہ کی سب سے بہترین مخلوق ہيں۔

قیامت کا دن ایک بھیانک دن ہوگا، جس دن انسان کو ہر چیز کا حساب دینا پڑے گا۔

6- سورہ عادیات اور سورہ قارعہ کی تفسیر

کلمات کے معانی

العاديات : اللہ کی راہ میں دوڑنے والا گھوڑا۔

ضبحًا : دوڑتے وقت اونٹ کی آواز۔

الموريات قدحًا : تیز دوڑنے کی وجہ سے کھروں سے چنگاریاں نکالنے والے گھوڑے۔

المبثوث : بکھرے ہوئے۔

مذکورہ بالا آیات سے حاصل ہونے والے کچھ فوائد :

نعمتوں کا شکر ادا کرنا اور ان کے سلسلے میں اللہ کا حق ادا کرنا واجب ہے۔

مومن کو قیامت کے دن کی ہول ناکیوں سے خبردار کیا جاتا ہے، تو وہ عمل صالح کے ذریعے اس کی تیاری شروع کر دیتا ہے۔

دوسری اکائی : ایمان اور تزکیہ

1- کفر و شرک

اول : کفر :

کفر سے مراد ہر وہ اعتقاد، عمل یا قول ہے، جو اصل ایمان یا کمال ایمان کو ختم کردے۔

کفر کے انواع :

کفر اکبر : کفر اکبر سے مراد ہر وہ چیز ہے، جو اصل ایمان کو ختم کردے۔

کفر اصغر : کفر اصغر سے مراد ہر وہ چیز ہے، جو کمال ایمان کو ختم کردے۔

کفر اکبر کی کچھ مثالیں :

• اللہ تعالی کے وجود کا انکار کرنا۔

عیسی علیہ السلام کے معبود ہونے کی بات کہنا۔

کفر اکبر کے برے اثرات :

1- کفر و شرک

کفر اصغر کی کچھ مثالیں :

مسلمان سے لڑنا۔

کسی کے نسب پر طنز کرنا۔

کفر اصغر کے برے اثرات :

دوم : شرک :

شرک اکبر :

شرک اکبر : کسی کو اللہ کا شریک ٹھہرانا۔

شرک اصغر :

شرک اصغر سے مراد ہر وہ گناہ ہے، جسے قرآن یا حدیث میں شرک کہا گيا ہو، لیکن وہ شرک اکبر کے درجے تک نہ پہنچتا ہو۔

2- نفاق اور ارتداد

سوم : نفاق کی تعریف :

نفاق نام ہے باہر سے ایمان دکھانے اور اندر کفر چھپائے رکھنے کا۔

نفاق کے انواع :

اعتقادی نفاق۔

عملی نفاق

2- نفاق اورارتداد

چہارم : ارتداد (دین سے مرتد ہوجانا) :

ارتداد نام ہے کسی مسلمان کا کسى قول، فعل یا اعتقاد کى بنا پر ایمان سے کفر کی جانب چلے جانے کا۔

ارتداد کے مظاہر :

اعتقادی ارتداد۔

قولی ارتداد۔

فعلی ارتداد۔

3- بدعت اور اس کے انواع

اول : بدعت کی تعریف :

دوم : دین میں بدعت ایجاد کرنے سے ڈرانا :

سوم : بدعت کو پہچاننے کے ضوابط :

3- بدعت اور اس کے انواع

چہارم : دین میں بدعت ایجاد کرنے کے انواع :

اعتقادی بدعتیں۔

عملی بدعتیں۔

قولی بدعتیں۔

پنجم : بدعت کا حکم :

4- تزکیۂ نفس کی اہمیت :

اول : تزکیۂ نفس کا مفہوم :

دوم : تزکیۂ نفس کی اہمیت :

تزکیہ نبیوں کے سپرد کیا گيا ایک اہم ترین کام ہے۔

تزکیہ کام یابی کا زینہ ہے۔

تزکیہ بندے کے ایمان کو بڑھاتا ہے۔

تزکیۂ نفس پر اللہ کے نبی ﷺ کی توجہ۔

• سوم : تزکیۂ نفس کا ثمرہ۔

5- تزکیۂ نفس کے طریقے

اللہ کو ایک ماننا۔

اللہ سے مدد مانگنا اور دعا کرنا۔

گناہوں سے دور رہنا۔

فرائض کی ادائیگی۔

اللہ کا ذکر اور قرآن کی تلاوت۔

نفس کا محاسبہ کرنا اور اسے سمجھانا۔

نیک لوگوں کی ہم نشینی۔

6- دل کے اعمال

نیت اور اخلاص۔

اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت۔

خوف و رجا۔

مراقبہ۔

انابت الی اللہ۔

اللہ پر توکل۔

اللہ کے شعائر کی تعظیم۔

تیسری اکائی : سنت اور شمائل

1- اللہ کے نبیﷺ کے حقوق

اللہ کے نبی ﷺ کی اطاعت۔

اللہ کے نبی ﷺ سے محبت۔

اللہ کے نبی ﷺ کی تعظیم اور قدردانی۔

اللہ کے نبی ﷺ کا اتباع۔

اللہ کے نبی ﷺ پر درود و سلام۔

2- آل بیت کے فضائل اور حقوق

اول : آل بیت کی تعریف

دوم : آل بیت کے فضائل۔

سوم : آل بیت سے متعلق خاص احکام :

ان کو صدقہ دینا حرام ہے۔

اللہ کے نبی ﷺ پر درود بھیجتے وقت ان پر بھی درود بھیجا جائے گا۔

ان کے بارے میں اللہ کے نبی ﷺ کی وصیت۔

2- آل بیت کے فضائل اور ان کے حقوق

چہارم : آل بیت کے حقوق :

ان سے محبت اور ان کا احترام۔

ان کو برا بھلا کہنے اور ان پر لعنت کرنے کا حرام ہونا۔

عائشہ رضی اللہ عنہا پر زنا کی تہمت لگانے والا کافر ہو جاتا ہے۔

3- نبی ﷺ اور آل بیت کے حقوق کے بارے میں غلو اور کوتاہی

اول : اللہ کے نبی ﷺ کے بارے میں غلو کے مظاہر :

اللہ کے نبی ﷺ کے اوصاف بیان کرنے میں مبالغہ آرائی۔

نبی ﷺ سے استغاثہ (فریاد) کرنا۔

اللہ کے نبی ﷺ کی قسم کھانا۔

دوم : اللہ کے نبی ﷺ کے حق کی ادائيگی میں کوتاہی کے مظاہر۔

اللہ کے نبی ﷺ کی تعظیم میں کوتاہی۔

اللہ کے نبی ﷺ کی سنت کو ٹھکرانا اور آپ کى اقتدا سے گریز کرنا۔

اللہ کے نبی ﷺ پر درود و سلام نہ بھیجنا۔

اللہ کے نبی ﷺ کی سیرت اور آپ کے فضائل سے عدم واقفیت۔

3- اللہ کے نبی ﷺ اور آپ کے آل بیت کے حقوق کی ادائيگی میں افراط و تفریط

سوم : آل بیت کا حق ادا کرنے میں افراط و تفریط :

آل بیت کے گناہوں سے پاک ہونے کی بات کہنا۔

یہ دعوی کہ وہ غیب کی بات جانتے ہیں۔

ان سے استغاثہ (فریاد) کرنا۔

ان کی قبروں کا طواف کرنا اور ان کو سجدہ کرنا۔

4- صحابہ کے فضائل اور ان کے حقوق

اول : صحابہ کے فضائل :

اللہ نے ان کو اپنے نبی ﷺ کی صحبت کا شرف عطا کیا اور ان کو جنت کی خوش خبری دی۔

اللہ تعالی نے ان کے اخلاق و اعمال کی تعریف کی۔

صحابہ اس امت کے افضل ترین لوگ ہيں۔

انھوں نے ہمارے واسطے قرآن کریم اور سنت نبویہ کو نقل کیا۔

انھوں نے اللہ کے رسول ﷺ کی مدد کی اور آپ کے ساتھ جہاد کیا۔

4- صحابہ کے فضائل اور ان کے حقوق

• دوم : صحابہ کے حقوق :

ان سے محبت اور ان کی عزت و تکریم کرنے کا واجب ہونا۔

ان کے لیے دعا و استغفار کرنا اور ان کا نام آنے پر رضی اللہ عنہم کہنا۔

ان کو برا بھلا کہنے اور ان کی شان میں گستاخی کرنے کی حرمت۔

ان کے عام اور خاص فضائل کو تسلیم کرنا۔

ان کا دفاع کرنا اور ان کی شان میں گستاخی کرنے والے کا رد کرنا۔

5- نیت اور اس کی اہمیت

حدیث کے الفاظ :

"یقینا اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے اور آدمی کے لیے وہی ہے، جس کی اس نے نیت کی ہے۔ جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہوگی، اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہوگی اور جس کی ہجرت دنیا پانے یا کسی عورت سے شادی کے لیے ہوگی، تو اس کی ہجرت اسی کے لیے ہوگی، جس کے لیے اس نے ہجرت کی ہے۔"

کلمات کے معانی :

النية : ارادہ اور کسی کام کو انجام دینے کا محرک۔

نص حدیث میں وارد لفظ "يصيبها" کا معنى ہے: کسی دنیوی فائدہ یا نفع کے لیے۔

راوی :

ابو حفص عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ۔ دوسرے خلیفۂ راشد۔

5- نیت اور اس کی اہمیت

حدیث کا عام معنی :

حدیث کے فوائد :

اللہ کے لئے نیت کو خالص کرنا نیکی کے کاموں کے قبول ہونے کی شرط ہے۔

نیک نیت عمل صالح کا اجر بڑھا دیتی ہے۔ عمل چاہے کم ہی کیوں نہ ہو۔

فاسد نیت عمل صالح کو ضائع اور اس کے ثواب کا صفایا کر دیتی ہے۔

6- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اتباع کا وجوب :

حدیث کے الفاظ :

"جس نے ہمار ے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی، جو اس میں نہیں ہے، تو اسے اسی کے منہ پر مار دیا جائے گا"۔

کلمات کے معانی :

نص حدیث میں وارد لفظ "أحدث" کا معنى ہے: ایجاد کیا۔

نص حدیث میں وارد لفظ "أمرنا" کا معنى ہے: ہمارے دین۔

نص حدیث میں وارد لفظ "ردٌّ" کا معنى ہے: مردود، لوٹایا ہوا۔

راوی :

ام المؤمنین عائشہ بنت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہما۔ اللہ کے نبی ﷺ کی بیوی۔

6- اتباع نبی ﷺ کا واجب ہونا۔

حدیث کا عام معنی :

حدیث کے فوائد :

دین کے اندر کوئی نئی چيز ایجاد اور پیدا کرنے کی حرمت۔

ایسے اعمال کا قبول نہ ہونا، جن کی شریعت میں کوئی بنیاد نہ ہو۔

7- نبی ﷺ کی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو وصیت

حدیث کے الفاظ :

"اے لڑکے! میں تمھیں کچھ باتیں سکھانا چاہتا ہوں۔ اللہ (کے حقوق) کی حفاظت کرو، اللہ تمھاری حفاظت کرے گا۔ تم اللہ (کے حقوق) کا خیال رکھو ، اللہ کو اپنے سامنے پاؤ گے، اور جب مانگو، تواللہ ہی سے مانگو اور جب مدد طلب کرو، تو اللہ ہی سے مدد طلب کرو، اور اس بات کو جان لو کہ اگر تمام مخلوق بھی تمھیں فائدہ پہنچانا چاہے، تو تمھیں اتنا ہی فائدہ پہنچا سکتی ہے، جتنا اللہ نے تمھارے لیے لکھ دیا ہے اور اگر سب مل کر بھی تمھیں نقصان پہنچانا چاہیں، تو تمھیں اتنا ہی نقصان پہنچاسکتے ہیں، جتنا اللہ نے تمھارے لیے لکھ دیاہے۔ قلم اٹھالیے گئے اور صحیفے خشک ہوگئے۔"

کلمات کے معانی :

نص حدیث میں وارد لفظ "تجاهك" کا معنى ہے : خیر میں تمھاری مدد کرے گا۔

نص حدیث میں وارد لفظ "رفعت الأقلام" کا معنى ہے: تقدیریں لکھی جا چکی ہیں۔

راوی :

عبداللہ بن عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہما۔ اللہ کے نبی ﷺ کے چچا زاد بھائی۔

7- نبی ﷺ کی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو وصیت۔

حدیث کا عام معنی :

حدیث کے فوائد :

اللہ کے نبی ﷺ کو جامع ترین الفاظ میں بات کرنے کی صلاحیت عطا کی گئی تھی۔

بچوں کو عقیدہ سکھانے کی اہمیت۔

صرف اللہ سے دعا کرنے کی ضرورت۔

8- دین پر مضبوطی سے قائم رہنے کی اہمیت

حدیث کے الفاظ :

"تم کہو کہ میں اللہ پر ایمان لایا اور اس پر مضبوطی سے قائم رہو۔"

کلمات کے معانی :

نص حدیث میں وارد لفظ "استقم" کا معنى ہے: نیکی کے کام کرنے اور گناہوں سے دور رہنے کی روش پر ہمیشہ قائم رہو۔

راوی :

ابو عمرہ سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ۔

8- دین پر مضبوطی سے قائم رہنے کی اہمیت

حدیث کا عام معنی :

حدیث کے فوائد :

پابندی کے ساتھ نیکی کے کام کرنے اور گناہوں سے بچنے کی روش پر قائم رہ کر استقامت پر عمل آوری کی ضرورت

نفع بخش علم حاصل کرنے اور اس کے بارے میں سوال کرنے کی حرص

9- غیر ضروری کاموں سے گریز

حدیث کے الفاظ :

”آدمی کے اسلام کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ اس چیز کو چھوڑ دے جس سے اسے کوئی سروکار نہ ہو۔“

راوی :

ابو ہریرہ، عبدالرحمن بن صخر دوسی رضی اللہ عنہ۔

9- غیر ضروری چیزوں سے گریز

حدیث کا عام معنی :

حدیث کے فوائد :

غیر ضروری چیزوں سے گریز کرنے سے ایک مسلمان کا دین محفوظ رہتا ہے۔

لغویات اور غیر ضروری چیزوں سے گریز انسان کے اسلام اور عقل کی پختگی کی دلیل ہے۔

وقت کو نفع بخش کاموں میں صرف کرنے کی ترغیب۔

چوتھی اکائی : فقہ احکام

1- حلال کمائى اور حرام کمائی

اول : حلال کمائی

• حلال طریقے سے مال کمانے کی فضیلت :

دنیا میں سعادت و کام رانی اور آخرت میں فوز و فلاح۔

حلال طریقے سے مال کمانے کی کوشش اللہ کی قربت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔

حرام مال سے حفاظت۔

1- حلال کمائى اور حرام کمائی

دوم : حرام کمائی :

غیر مشروع کمائی کے کچھ طریقے :

دھوکہ اور فریب۔

غبن۔

جمع خوری۔

رشوت۔

حرام چیز کی خرید و فروخت یا اس پر اجرت لینا۔

2- خرید و فروخت کے احکام

اول : بیع منعقد ہونے کی کیفیت

قول کے ذریعے بیع کا منعقد ہونا۔

فعل (لین دین) کے ذریعے بیع منعقد ہونا۔

دوم : بیع کی شرطیں :

پہلی شرط : خریدنے اور بیچنے والے دونوں کی رضامندی۔

دوسری شرط : خریدنے اور بیچنے والے دونوں کا عاقل، بھلے برے کی تمیز اور سن رشد کو پہنچا ہوا ہونا۔

2- خرید و فروخت کے احکام

دوم : خرید و فروخت کی شرطیں :

تیسری شرط : بیچنے والے کا بیچے جا رہے سامان کا مالک ہونا۔

چوتھی شرط : سامان کا مباح ہونا۔

پانچویں شرط : سامان اور قیمت کا علم ہونا۔

چھٹی شرط : بیچے جا رہے سامان اور قیمت کو حوالہ کرنے کی طاقت ہونا۔

3- سود اور خرید و فروخت کی حرام شکلیں

اول : سود :

سود کے انواع :

ربا الفضل (زیادتی پر مبنی سود)۔

ربا النسیئۃ (تاخیر پر مبنی سود)۔ اس کی دو قسمیں ہيں :

قبضے میں تاخیر کے ساتھ ایک ہی جنس کے دو سامانوں کی خرید وفروخت۔

قرض میں پنہاں سود۔

3- سود اور خرید و فروخت کی حرام شکلیں

عصر حاضر میں سود :

دوم : خرید و فروخت کی ممنوع شکلیں :

مسلمان کا اپنے بھائی کے بیچنے پر بیچنا۔

مسلمان کا اپنے بھائی کی خرید پر خرید کرنا۔

جمعے کی اذان کے بعد خرید و فروخت کرنا۔

4- اجارہ (اجرت، مزدوری اور کرایہ)

اول : اجارہ کی تعریف :

• دوم : اجارہ کا حکم :

سوم : اجارہ کے انواع :

منافع کا اجارہ۔

معلوم (طے شدہ) عمل کی ادائیگی کا اجارہ۔

4- عقد اجارہ

• چہارم : اجارہ کی شرطیں :

اجرت پر دی گئی چيز مباح ہو اور عمل مباح ہو۔

منفعت کی معرفت۔

مدت معلوم ہو۔

اجرت معلوم ہو۔

5- عصر حاضر کے کچھ معاملات

اول : بینک کی جانب سے فراہم کیے جانے والے کارڈز (Bank cards):

ڈیبٹ کارڈ۔

کریڈٹ کارڈ۔

دوم : کمرشیل انشورنس :

سوم : تکافل انشورنس :

چہارم : قیمت کی قسط وار ادائيگی والی خرید وفروخت :

پنجم : ڈیجیٹل تجارت :

5- عصر حاضر کے کچھ معاملات

ڈیجیٹل تجارت کے انواع :

مادی سامانوں اور مصنوعات کا تبادلہ۔

خدمات کا تبادلہ۔

ڈیجیٹل مصنوعات کا تبادلہ۔

• ڈیجیٹل مصنوعات کا حکم :

6- شادی کے احکام

اول : شادی کی مشروعیت :

دوم : شادی کے صحیح ہونے کی شرطیں :

پہلی شرط : رضامندی۔

دوسری شرط : دولہا دولہن کی تعیین۔

تیسری شرط : ولی کا موجود ہونا۔

چوتھی شرط : دولہا دولہن کا موانع سے خالی ہونا :

نسب یا رضاعت کی بنا پر حرمت۔

دونوں کے مذاہب الگ ہونے کی بنا پر حرمت۔

کسی عارضی سبب کی بنا پر حرمت۔

پانچویں شرط : گواہی۔

7- ازدواجی زندگی

اول : بیوی پر شوہر کا حق :

حق اطاعت۔

بیوی کے گھر میں رکے رہنے کا حق۔

نگرانی وسرپرستی کا حق۔

دوم : شوہر پر بیوی کا حق :

مہر

حق نفقہ۔

معروف طریقے سے زندگی بسر کرنا۔

7- ازدواجی زندگی

• خوب صورت ازدواجی زندگی کی کچھ صورتیں :

نرم خوئی، مسکرانا اور ہنس مکھ رہنا۔

بیوی کے ساتھ بات کرنا، اس کے سکھ دکھ میں شریک رہنا اور اسے کچھ وقت دینا۔

بہترین موقف اختیار کرنے اور اچھا کام کرنے پر تعریف کرنا۔

لغزشوں پر درگزر کرنا اور چشم پوشی سے کام لینا۔

8- طلاق کے احکام

طلاق کی مشروعیت کی حکمت۔

طلاق کا حکم :

طلاق مباح ہوتی ہے، مکروہ ہوتی ہے - حرام ہوتی ہے - مستحب ہوتی ہے - واجب ہوتی ہے۔

طلاق کے انواع :

طلاق رجعی۔

طلاق بائن۔

طلاق بائن کی دو قسمیں ہیں : چھوٹی علاحدگی والی طلاق بائن - بڑی علاحدگی والی طلاق بائن۔

نافذ طلاق۔

معلق طلاق۔

9۔ کھانے، پینے اور پہننے کی چیزیں

اول : کھانے پینے کی چیزوں کے احکام :

کھانے اور پینے کی چیزوں کا اصل حکم :

کچھ حرام کھانے:

• مردار - دم گھٹ کر مرنے والا جانور - چوٹ لگنے کی وجہ سے مرنے والا جانور - اونچی جگہ سے گر کر مرنے والا جانور - کسی جانور کے سینگ مارنے کی وجہ سے مرنے والا جانور - درندوں کا پھاڑ کھایا ہوا جانور - بہتا ہوا خون - سور - وہ جانور جسے ذبح کرتے وقت غیراللہ کا نام پکارا گیا ہو - گھریلو گدھے - کچلی کے دانت والے درندے - پنجے سے شکار کرنے والے پرندے - گندگی کھانے والے جانور - ایسے جانور جن کے قتل کا حکم شریعت نے دیا ہو۔

9- کچھ حرام کھانے، پینے اور لباس

اضطراری کیفیت میں حرام چیزوں کا مباح ہونا :

دوم : حرام لباس اور زیب و زینت:

ایسے لباس جن سے چھپائے جانے والے اعضا دکھائی پڑتے ہوں - مردوں کا عورتوں اور عورتوں کا مردوں کی مشابہت اختیار کرنا - مردوں کے لیے ریشمی لباس اور سونے کا استعمال - مردوں کا کپڑا ٹخنے کے نیچے لٹکا کر پہننا۔

10۔ شراب اور منشیات اور ان کے تباہ کن اثرات

شراب پینا۔

نشہ آور اشیا۔

شراب اور نشہ آور اشیا کے برے اثرات :

عقل کا زائل ہونا، جو فرد اور سماج کے حق میں بڑا چیلنج ثابت ہوتا ہے۔

شراب اور نشہ آور اشیا انسان کی پانچ ضروری چيزوں کے اندر بگاڑ پیدا کرنے والی ہیں۔

شراب اور نشہ آور اشیا صحت سے متعلق بہت سے پریشانیوں کا سبب بنتی ہیں۔

مال کو ضائع کرنا اور اسے اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں میں خرچ کرنا۔

پانچویں اکائی : دعوت

دعوت

1- دعوت الی اللہ کی اہمیت اور اس کی فضیلت

اول : دعوت الی اللہ کا مفہوم۔

دوم : دعوت الی اللہ کی اہمیت۔

• سوم : دعوت الی اللہ کی فضیلت :

دعوت رسولوں کا مشن ہے۔

داعی سب سے خوب صورت بات کرنے والا انسان ہے۔

دعوت کام یابی و کام رانی کی راہ ہے۔

داعی کا اجر عظیم۔

دعوت ہلاکت سے نجات کا ذریعہ ہے۔

2- اللہ کے نبی ﷺ کی مکی دعوت کا خلاصہ

دعوت کے مقدمات اور اس کا آغاز۔

سری دعوت۔

جہری دعوت۔

دعوت کے تعلق سے مشرکین کا موقف۔

مشرکین کی ایذا رسانیوں کے تعلق سے اللہ کے نبی ﷺ کا موقف۔

طائف والوں کو دعوت۔

حج کے موسم میں اہل مدینہ کو دعوت۔

ہجرت مدینہ

3- اللہ کے نبی ﷺ کی مدنی دعوت کا خلاصہ

دعوت الی اللہ کے میدان میں مسجد کا کردار

دعوت کی ماحول سازی پر کام۔

دعوت کی حمایت میں فوجی مہمات کا کردار :

• (غزوۂ بدر - غزوۂ بنو قینقاع - غزوۂ احد - غزوۂ بنو نضیر - غزوۂ خندق - غزوۂ بنو قریظہ - غزوۂ حدیبیہ - غزوۂ خیبر - فتح مکہ - غزوۂ حنین)

فوجی مہمات کی کام یابی کے بعد دعوت کا منتشر ہونا۔

اللہ کے نبی ﷺ کی وفات۔

4- اچھے کاموں (معروف) کا حکم دینے اور برے کاموں (منکر) سے روکنے کا مقام و مرتبہ

نبیوں اور رسولوں کا مشن

اللہ نے ان دونوں کاموں کا حکم دیا ہے۔

ان دونوں کاموں کا عظیم اجر و ثواب۔

یہ مومنوں کا ایک وصف ہے۔

یہ امت کی مضبوطی کا ایک وسیلہ ہے۔

اللہ کی راہ میں جہاد کا ایک باب ہے۔

نجات اور رفع عذاب کی راہ ہے۔

5- اچھے کاموں (معروف) کا حکم دینے اور برے کاموں (منکر) سے روکنے کى فقہ

اول : اچھے کاموں کا حکم دینے اور برے کاموں سے روکنے کے ضوابط :

شریعت ہی معروف اور منکر کی تحدید کرتی ہے۔

اجتہادی مسائل میں نکیر کرنے سے اجتناب۔

منکر کا ظاہر ہونا۔

6- منکر کے واقع ہونے کا یقین ہو جانا۔

مصالح اور مفاسد کی رعایت۔

دوم : بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے مراتب :

اول : منکر کو ہاتھ سے روکنا۔

دوم : منکر کو زبان سے روکنا۔

سوم : منکر کو دل سے غلط جاننا۔

اچھے کاموں (معروف) کا حکم دینے اور برے کاموں (منکر) سے روکنے کے آداب

اللہ تعالیٰ کے لیے نیت خالص کرنا۔

جس چيز کا حکم دیا جا رہا ہو یا جس چیز سے روکا جا رہا ہو، اس کی حقیقت سے واقف ہونا۔

انسان جس چیز کا حکم دے، خود اس پر عمل کرے اور جس چيز سے منع کرے، خود اس سے دور رہے۔

7- اچھے کاموں (معروف) کا حکم دینے اور برے کام (منکر) سے روکنے کے آداب

نرمی سے کام لینا اور ترشی سے احتراز کرنا۔

نیچے دیے گئے اقدامات پر عمل کرتے ہوئے مرحلہ وار آگے بڑھنا :

اول : غلطی کی نشان دہی۔

دوم : تنہائی میں وعظ ونصیحت کرنا۔

سوم : سخت لہجے میں بات کرنا۔

بائیکاٹ کرنا اور تعلقات ختم کر لینا۔

پنجم : غلط کرنے والے کو سزا دینا۔