Skip to content

"”جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی، اس نے کفر کیا یا شرک کیا“۔

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انھوں نے ایک شخص کو "نہيں، کعبہ کی قسم" کہتے ہوئے سنا، تو فرمایا : غیراللہ کی قسم کھائی نہیں جائے گی، کیوں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا ہے :

"”جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی، اس نے کفر کیا یا شرک کیا“۔

«مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللهِ فَقَدْ كَفَرَ أَوْ أَشْرَكَ».

اسے ابوداود، ترمذی اور احمد نے روایت کیا ہے
حديث صحيح
شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جس نے اللہ، اس کے ناموں اور صفات کو چھوڑ کسی اور کی قسم کھائی اس نے اللہ کے ساتھ کفر کیا یا شرک کیا۔ کیوں کہ قسم سے اس چیز کی تعظیم لازم آتی ہے، جس کی قسم کھائی جاتی ہے۔ جبکہ ہر قسم کی تعظیم صرف اللہ کے لیے ہے۔ لہذا قسم صرف اللہ، اس کے ناموں اور اس کی صفات کی کھائی جائے گی۔ قسم کھانا چھوٹا شرک ہے۔ لیکن اگر قسم کھانے والے کے دل میں اس چیز کی عظمت جس کی وہ قسم کھا رہا ہے‘ اللہ کی تعظیم کی جیسی یا اس سے بھی زیادہ ہو ، تو اس کا یہ عمل بڑا شرک بن جائے گا۔

کلمات کے معانی

من حلف: الحلف: اليمين، وهي توكيد الحكم بذكر معظّم تطمئن له نفس المخاطب.

كفر أو أشرك: يحتمل أن يكون هذا شكًّا من الراوي، ويحتمل أن تكون "أو" بمعنى الواو فيكون كفر وأشرك.

حدیث کے بعض فوائد

قسم کے ذریعے تعظیم اللہ سبحانہ و تعالی کا حق ہے، لہذا اللہ اور اس کے اسماء و صفات کے علاوہ کسی اور کی قسم کھانا جائز نہيں ہے۔

صحابہ بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے حریص تھے۔ خاص طور سے جب برائی کا تعلق شرک یا کفر سے ہو۔

حوالہ جات

(9/ 275) (5375).

(10/ 249) (6072).

(1/ 343).

مزید (14)

سننِ ترمذی (3/ 194) (1535).

سننِ ابو داود (5/ 154- 155) (3251).

مُسنَد احمد (9/ 249) (5346).

فتح المجيد شرح كتاب التوحيد.

لعبد الرحمن التميمي (ص413).

القول المفيد على كتاب التوحيد.

لابن عثيمين (2/ 214).

الملخص في شرح كتاب التوحيد.

لصالح الفوزان (ص326).

الجديد في شرح كتاب التوحيد.

لمحمد القرعاوي (ص365).

التمهيد لشرح كتاب التوحيد.

لصالح آل الشيخ (ص452).

فتاوى اللجنة الدائمة.