"اے بلال! نماز قائم کرو، اس کے ذریعے مجھے راحت پہنچاؤ۔"
سالم بن ابو جعد سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ ایک شخص نے کہا: کاش میں نماز پڑھتا اور راحت حاصل کرتا، تو صحابہ نے ایک طرح سے ان کی بات کو برا جانا۔ لہذا اس نے بتایا کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے :
"اے بلال! نماز قائم کرو، اس کے ذریعے مجھے راحت پہنچاؤ۔"
«يا بلالُ، أقِمِ الصَّلاةَ، أرِحْنا بها».
ایک صحابی نے کہا : کاش میں نماز پڑھتا اور راحت حاصل کرتا، تو ان کے آس پاس کے لوگوں نے ایک طرح سے ان کی اس بات کو برا جانا، لہذا انھوں نے بتایا کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا: اے بلال! نماز کے لیے اذان دو اور جماعت کھڑی کرو، تاکہ ہم اس کے ذریعے راحت حاصل کریں۔ ایسا اس لیے کہ نماز میں اللہ سے سرگوشیاں ہوتی ہیں اور اس سے قلب و روح کو راحت ملتی ہے۔
...:
نماز سے راحتِ قلب حاصل ہوتی ہے، کیوں کہ نماز اللہ تعالی سے سرگوشی کرنے کا ذریعہ ہے۔
عبادت میں کوتاہی کرنے والے کی تردید۔
جس نے اپنا فرض ادا کر کے اپنا سر ہلکا کر لیا، اسے اس سے ایک طرح کی راحت ملتی ہے اور اطمینان کا احساس ہوتا ہے۔
مزید (5)
سننِ ابو داود (7/ 338) (4985).
الكاشف عن حقائق السُّنن (4/1217).
عون المعبود وحاشية ابن القيم (13/ 225).
مرقاة المفاتيح (3/939).
شرح سنن أبي داود للعباد (567/ 6).
کتابوں میں مذکور
5 کتابیںمزید (4)
- الحقيقة المُبْهِرَة في العلاقة بين الإسلام والإنسان(يا بلال، أقم الصلاة، أرِحنا بها)[233].
- مجموعة زاد السیرة النبوية (4)السيرة النبوية 4«يا بِلالُ، أَقِمِ الصَّلاةَ، أَرِحْنا بِها».
- نبراس طالب (1)1«يَا بِلَالُ، أَقِمِ الصَّلَاةَ، أَرِحْنَا بِهَا»
- نبراس طالب (1)1«يَا بِلَالُ، أَقِمِ الصَّلَاةَ، أَرِحْنَا بِهَا».