Skip to content

"لوگوں کے اندر پائی جانے والی دو باتیں کفر کی باتیں ہیں : حسب و نسب پر طعنہ کسنا اور میت پر نوحہ کرنا۔"

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا :

"لوگوں کے اندر پائی جانے والی دو باتیں کفر کی باتیں ہیں : حسب و نسب پر طعنہ کسنا اور میت پر نوحہ کرنا۔"

«اثْنَتَانِ فِي النَّاسِ هُمَا بِهِمْ كُفْرٌ: الطَّعْنُ فِي النَّسَبِ، وَالنِّيَاحَةُ عَلَى الْمَيِّتِ».

اسے مسلم نے روایت کیا ہے
حديث صحيح
شرح

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ لوگوں کے اندر پائی جانے والی دو باتوں کے بارے میں بتا رہے ہیں کہ وہ دراصل کفر کے اعمال اور جاہلیت کے اخلاق ہیں۔ یہ دونوں اعمال ہیں : 1- لوگوں کے نسب پر طعنہ کسنا، کمیاں نکالنا اور ان پر اپنا بڑکپن دکھانا۔ 2- مصیبت کے وقت تقدیر سے بیزار ہوکر اونچی آواز سے رونا یا جزع فزع کرتے ہوئے کپڑے پھاڑنا۔

حدیث کے بعض فوائد

تواضع اختیار کرنے اور غرور سے اجتناب کرنے کی ترغیب۔

مصیبت کے وقت صبر سے کام لینے اور ناراضگی کا اظہار نہ کرنے ضرورت۔

مذکورہ اعمال کا تعلق کفر اصغر سے ہے۔ اور جس کے اندر کفر اصغر کى کوئى خصلت پائى جائے تو وہ کافر اور ملت سے خارج نہیں ہوجاتا ہے, ایسا صرف کفر اکبر کى بنا پر ہوتا ہے۔

اسلام نے نسب پر طعنہ کسنے اور اس قسم کے تمام اعمال سے روکا ہے، جو مسلمانوں کے اندر تفرقہ ڈالتے ہیں۔

حوالہ جات
مزید (7)

صحیح مسلم (1/ 82) (67).

كتاب التوحيد.

للإمام محمد بن عبد الوهاب (ص96).

الملخص في شرح كتاب التوحيد.

لصالح الفوزان (ص279).

الجديد في شرح كتاب التوحيد.

للقرعاوي (ص315).