"تمھارا کیا خیال ہے کہ اگر تم میں سے کسی کے دروازے سے ایک نہر بہہ رہی ہو اور وہ اس میں ہر روز پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو، تو کیا اس کے بدن میں ذرا بھی میل کچیل باقی رہ سکے گا؟
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا :
"تمھارا کیا خیال ہے کہ اگر تم میں سے کسی کے دروازے سے ایک نہر بہہ رہی ہو اور وہ اس میں ہر روز پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو، تو کیا اس کے بدن میں ذرا بھی میل کچیل باقی رہ سکے گا؟" صحابہ نے عرض کیا : اس کے بدن میں میل کچیل ذرا بھی باقی نہيں رہے گا۔ لہذا آپ نے فرمایا : "یہی مثال ہے پانچ نمازوں کی۔ ان کے ذریعے اللہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔"
«أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهَرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا، مَا تَقُولُ ذَلِكَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ؟» قَالُوا: لَا يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ شَيْئًا، قَالَ: «فَذَلِكَ مِثْلُ الصَّلَوَاتِ الخَمْسِ، يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الخَطَايَا».
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے چھوٹے گناہوں کے ازالے کے معاملے میں دن اور رات میں پانچ بار پڑھی جانے والی نمازوں کی مثال انسان کے دروازے سے بہنے والی اس نہر سے دی ہے، جس میں وہ ہر روز پانچ بار غسل کرتا ہو اور جس کے نتیجے میں اس کے بدن میں میل کچیل بالکل باقی نہ رہتے ہوں۔
...:
یہ فضیلت صرف چھوٹے گناہوں کے ازالے کے ساتھ خاص ہے۔ بڑے گناہوں کے ازالے کے لیے توبہ ضروری ہے۔
پانچ وقت کی نمازوں کی ادائیگی اور ان کی شرطوں، ارکان، واجبات اور سنتوں کے ساتھ ان کی پابندی کرنے کی فضیلت۔
(1/ 282).
مزید (9)
صحیح بخاری (1/ 112) (528).
صحیح مسلم (1/ 462) (667).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين.
مجموعة من الباحثين (2/ 773).
تطريز رياض الصالحين.
لفيصل آل مبارك (ص610).
المعجم الوسيط.
النهاية في غريب الحديث والأثر.
لابن الأثير (2/ 115).
کتابوں میں مذکور
5 کتابیںمزید (4)
- الأربعون في تعظيم قدر الصلاةالأربعون في تعظيم قدر الصلاة «أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهَــــرًا بِبَابِ أَحَدِكُـــــمْ يَغْتَسِلُ فِيهِ كُـــــلَّ يَوْمٍ خَــــمْسًا، مَا تَقُولُ: ذَلِكَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ ([16])» قَالُوا: لاَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ شَيْئًا، قَالَ: «فَـذَلِكَ مِثْلُ الصَّلَوَاتِ
- الصلاة التي علمها النبي ﷺ الصحابة رضي الله عنهمالصلاة التي علمها النبي ﷺ الصحابة رضي الله عنهم«أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهَرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا، مَا تَقُولُ: ذَلِكَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ» قَالُوا: لاَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ شَيْئًا، قَالَ: «فَذَلِكَ مِثْلُ الصَّلَوَاتِ الخَمْسِ، يَمْحُو اللَّهُ
- الصلاة التي علمها النبي ﷺ الصحابة رضي الله عنهم«أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهَرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا، مَا تَقُولُ: ذَلِكَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ» قَالُوا: لَا يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ شَيْئًا، قَالَ: «فَذَلِكَ مِثْلُ الصَّلَوَاتِ الخَمْسِ، يَمْحُو اللَّهُ
- نبراس طالب (1)1«أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهَرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا، مَا تَقُولُ: ذَلِكَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ –أي وسخه-؟» قَالُوا: لاَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ شَيْئًا، قَالَ: «فَذَلِكَ مِثْلُ الصَّلَوَاتِ الخَمْسِ يَمْح