”اللہ تعالی نے فرمایا: تین قسم کے لوگ ہیں جن کا قیامت کے دن میں فریقِ مخالف ہوں گا
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا:
”اللہ تعالی نے فرمایا: تین قسم کے لوگ ہیں جن کا قیامت کے دن میں فریقِ مخالف ہوں گا: ایک وہ آدمی جس نے میرے نام سے عہد کیا، پھر اسے توڑ دیا، دوسرا وہ آدمی جس نے کسی آزاد آدمی کو بیچ کر اس کی قیمت کھا لی، اور تیسرا وہ آدمی جس نے کسی مزدور کو اجرت پر رکھا، اس سے پورا کام تو لے لیا لیکن اسے اس کی مزدوری نہیں دی۔“
«قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ثَلاَثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ يَوْمَ القِيَامَةِ: رَجُلٌ أَعْطَى بِي ثُمَّ غَدَرَ، وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّا فَأَكَلَ ثَمَنَهُ، وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَاسْتَوْفَى مِنْهُ وَلَمْ يُعْطِهِ أَجْرَهُ».
اللہ کے نبی ﷺ نے بتایا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: تین قسم کے لوگ ہیں جن سے قیامت کے دن میں خود جھگڑوں گا، اور جس سے میں جھگڑوں گا، میں اس پر غالب آ جاؤں گا: 1: جو اللہ کی قسم کھا کر کوئی معاہدہ کرے، پھر اسے توڑ ڈالے اور دھوکہ کر ڈالے۔ 2: جو شخص کسی آزاد آدمی کو غلام بنا کر بیچ دے، پھر اس کی قیمت کھا جائے اور اس میں تصرف کرے۔ 3: وہ شخص جو کسی مزدور کو اجرت پر رکھے اور اس سے پورا کام لے لے، لیکن اسے اس کی مزدوری نہ دے۔
یہ حدیث ان احادیث میں سے ہے، جن کو اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے رب سے روایت کیا ہے۔ اس طرح کی حدیث کو حدیث قدسی یا حدیث الہی کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد وہ حدیث ہے، جس کے لفظ اور معنی دونوں اللہ کے ہوں۔ البتہ اس کے اندر قرآن کی خصوصیات، جیسے اس کی تلاوت کا عبادت ہونا، اس کے لیے طہارت حاصل کرنا، اس کا معجزہ ہونا اور اس کے ذریعے چیلنج دیا جانا وغیرہ نہیں پائی جاتیں۔
سندھی کہتے ہيں: کہا گیا ہے کہ تین کا ذکر تخصیص کے لیے نہیں ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی تمام ظالموں کا فریق مخالف ہے، بلکہ یہ ان تینوں کی شدید نکیر کے لیے ہے۔
ابن الجوزی فرماتے ہیں: آزاد اللہ کا بندہ ہے، جس نے اس پر زیادتی کی تو اس کا فریقِ مخالِف اس کا آقا ہے، جو کہ اللہ ہے۔
خطابی کہتے ہیں: کسی آزاد کو غلام بنانا دو طرح سے ہوتا ہے: ایک یہ کہ اسے آزاد کر دے، پھر اس بات کو چھپا لے یا اس کا انکار کر دے۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ آزاد کرنے کے بعد اس سے زبردستی خدمت لے۔ ان دونوں میں پہلی صورت زیادہ سنگین ہے۔ میں کہتا ہوں: اس باب کی حدیث زیادہ سنگین ہے؛ کیوں کہ اس میں آزاد کرنے کی بات کو چھپانے یا اس کا انکار کرنے کے ساتھ ساتھ، اسے بیچ کر اس کی قیمت کھا جانے کا عمل بھی پایا جاتا ہے۔ اسی لیے اس پر وعید زیادہ سخت ہے۔
مزید (4)
صحیح بخاری (3/ 90) (2270).
فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام (4/ 252).
إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري (4/ 108).
مرشد ذوي الحجا والحاجة إلى سنن ابن ماجه والقول المكتفى على سنن المصطفى (14/ 211).
کتابوں میں مذکور
6 کتابیں- بعض حرام اشیاء جن کو بہت سارے لوگوں نے معمولى سمجھ رکھا ہے’’اللہ تعالی فرماتا ہے: تین قسم کے لوگ وہ ہیں جن کا قیامت کے دن میں فریق مخالف ہوں گا: ایک وہ آدمی جو میرے نام پر کسی کو پناہ دیتا ہے پھر غداری وعہد شکنی کرتا ہے، اور دوسرا وہ آدمی جو کسی آزاد کو بیچ دے اور اس کی قیمت کھائے، اور تیسرا وہ آد
- مشروع منهاج زادكزادك 3 طالب نهائي"اللہ تعالی نے فرمایا ہے : تین قسم کے لوگوں کا قیامت کے دن میں فریق مخالف ہوں گا..."۔
مزید (4)
- الحقيقة المُبْهِرَة في العلاقة بين الإسلام والإنسان(ثلاثةٌ أنا خصمهم يوم القيامة: رجل أعطى بي ثم غدَر، ورجل باع حُرًّا فأكل ثمنَه، ورجل استأجر أجيرًا فاستوفى منه ولم يُعطِه أجره)[112].
- رياض الصالحينرياض الصالحين مع فوائد وهدايات - 7«قَالَ اللهُ تَعَالىٰ: ثلاثةٌ أنا خَصْمُهُمْ يومَ القيامَة: رجُلٌ أعْطَىٰ بي ثُمَّ غَدَرَ، ورَجُلٌ بَاعَ حُرّاً فأكَلَ ثَمَنَهُ، ورَجُلٌ اسْتأجَرَ أجيراً فَاسْتَوْفَىٰ منْهُ، ولمْ يُعْطِهِ أجْرَهُ».
- قاموس الكبائرموسوعة الكبائر - المجموعة الثانية«قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ثَلَاثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: رَجُلٌ أَعْطَى بِي ثُمَّ غَدَرَ، وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّا فَأَكَلَ ثَمَنَهُ، وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَاسْتَوْفَى مِنْهُ وَلَمْ يُعْطِهِ أَجْرَهُ» [144].
- مجموعة زاد التربية الإسلامية (1)، والسيرة النبوبة (1)، والعقيدة (1)، والفقه (1)التربية الأسلامية 1«ثلاثةٌ أنا خصْمُهُم يوم القيامةِ، ومنهم: ورجلٌ استأجر أجِيرا فاستوفى منه ولم يُعْطِهِ أجْرهُ»