Skip to content

مجھے اسلام کے بارے میں کوئی ایسی بات بتا دیں کہ مجھے اس کے بارے میں آپ کے بعد کسی اور سے سوال کرنے کی ضرورت نہ رہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : "تم کہو: میں اللہ پر ایمان لایا، پھر اس پر ثابت قدم رہو۔“

سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں:

میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام کے بارے میں کوئی ایسی بات بتا دیں کہ مجھے اس کے بارے میں آپ کے بعد کسی اور سے سوال کرنے کی ضرورت نہ رہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : "تم کہو: میں اللہ پر ایمان لایا، پھر اس پر ثابت قدم رہو۔“

قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، قُلْ لِي فِي الْإِسْلَامِ قَوْلًا لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا غَيْرَكَ، قَالَ: «قُلْ: آمَنْتُ بِاللهِ، ثُمَّ اسْتَقِمْ».

اسے مسلم اور احمد نے روایت کیا ہے
حديث صحيح
شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ایک صحابی سفیان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے آپ سے گزارش کی کہ آپ ان کو ایک ایسی بات سکھا دیں، جس کے اندر پورے اسلام کا نچوڑ آ جائے، تاکہ وہ اسے مضبوطی سے پکڑ لیں اور اس کے بارے میں آپ کے علاوہ کسی دوسرے سے پوچھنے کی ضرورت نہ پڑے۔ چنانچہ آپ نے ان سے کہا: تم بس اتنا کہہ دو کہ میں نے اللہ کو ایک مانا اور اس کے رب، اکیلا برحق معبود اور خالق ہونے پر ایمان لایا۔ اور اس کے بعد اللہ کی فرض کی ہوئی چیزوں کو ادا کرتے ہوئے اور اس کی حرام کی ہوئی چیزوں سے دور رہتے ہوئے اس کی اطاعت گزاری کرو اور اسی پر کاربند رہو۔

کلمات کے معانی

...:

حدیث کے بعض فوائد

اصل دین اللہ کے رب اور برحق معبود ہونے پر اور اس کے اسما و صفات پر ایمان رکھنا ہے۔

ایمان کے بعد استقامت، تسلسل کے ساتھ عبادت اور اس پر ثابت قدم رہنے کی بڑی اہمیت ہے۔

اعمال کے قبول ہونے کے لیے ایمان شرط ہے۔

اللہ پر ایمان لانے میں ایمان سے جڑی ہوئی وہ بنیادی باتیں، جن پر ایمان رکھنا ضروری ہے اور وہ سارے قلبی اعمال اور باطنی و ظاہری اطاعت گزاری اور خود سپردگی شامل ہیں، جو اس کے تابع ہیں۔

استقامت نام ہے واجبات کی ادائیگی اور منہیات سے اجتناب کے ساتھ سیدھے راستے پر قائم رہنے کا۔

حوالہ جات
مزید (7)

صحیح مسلم (1/ 65) (38).

مُسنَد احمد (24/ 141) (15416).

المفهم (1/137).

جامع العلوم والحكم (1/507).

فتح القوي المتين للعباد (ص 76).

شرح الأربعين النووية لعبد الكريم الخضير (ص 285).

شرح الأربعين لصالح آل الشيخ (ص 305).