”یقیناً حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے
ابو عبداللہ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
”یقیناً حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ چیزیں مشتبہ ہیں، جن کو اکثر لوگ نہیں جانتے۔ چنانچہ جو شخص شبہ والی چیزوں سے بچ گیا، اس نے اپنے دین اور آبرو کو محفوظ کرلیا، اور جو شبہ والی چیزوں میں پڑ گیا، وہ حرام میں پڑ جائےگا۔ اس کی مثال اس چرواہے کی ہے جو کسی محفوظ چراہ گاہ کے اردگرد جانور چراتا ہے۔ ایسے میں اس بات کا امکان رہتا ہے کہ جانور اس چراگاہ میں سے بھی چر لے۔ سنو! ہر بادشاہ کی ایک محفوظ چراہ گاہ ہوتی ہے (جس میں کسی کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوتی)۔ آگاہ رہو! اللہ کی چراگاہ اس کى حرام کردہ چیزیں ہیں۔ سنو! جسم کے اندر گوشت کا ایک ٹکڑا ہے۔ جب وہ درست ہو جاتا ہے، تو سارا جسم درست رہتا ہے اور جب وہ بگڑ جاتا ہے، تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے۔ جان لو! وہ دل ہے۔“
«إنَّ الحَلَالَ بَيِّنٌ، وَإِنَّ الحَرَامَ بَيِّنٌ، وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ لَا يَعْلَمُهُنَّ كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ، فَمَنْ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ، وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِي الحَرَامِ، كَالرَّاعِي يَرْعَى حَوْلَ الحِمَى يُوشِكُ أَنْ يَرْتَعَ فِيهِ، أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى، أَلَّا وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَحَارِمُهُ، أَلَّا وَإِنَّ فِي الجَسَدِ مُضْغَةً إذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الجَسَدُ كُلُّهُ، وَإذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الجَسَدُ كُلُّهُ، أَلَا وَهِيَ القَلْبُ».
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم چیزوں کے بارے میں ایک عام قاعدہ بتا رہے ہیں۔ آپ نے بتایا کہ شریعت میں چیزیں تین طرح کی ہیں۔ واضح حلال، واضح حرام اور ایسی مشتبہ چیزیں جن کا حلال یا حرام ہونا واضح نہ ہو اور جن کے شرعی حکم سے بہت سے لوگ واقف نہ ہوں۔ ایسے میں جس نے ان مشتبہ چیزوں کو چھوڑ دیا، اس کا دین حرام چیزوں میں پڑنے سے محفوظ رہے گا اور اس کی عزت وآبرو اس مشتبہ چیز میں ملوث ہونے کی وجہ سے لوگوں کی چہ می گوئیوں سے محفوظ رہے گى۔ اس کے برخلاف جس نے ان مشتبہ چیزوں سے اجتناب نہيں کیا، اس نے اپنے نفس کو یا تو حرام چیز میں پڑنے یا لوگوں کی چہ می گوئیوں کا سامنا کرنے کے لیے آگے کر دیا۔ اس کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مشتبہ کاموں کا ارتکاب کرنے والوں کی حالت بیان کرنے کے لیے ایک مثال دی اور بتایا کہ ایسے شخص کی مثال اس چرواہے کے جیسی ہے جو کسی کی محفوظ چراگاہ کے آس پاس اپنا جانور چراتا ہو۔ ایسے میں اس بات کا امکان رہتا ہے کہ محفوظ چراگاہ کے آس پاس چرنے کی وجہ سے اس کا جانور چراگاہ کے اندر چرنے لگے۔ بالکل ایسے ہی جو شخص کوئی شبہ والا کام کرے گا، وہ اپنے اس کام کی وجہ سے حرام کے قریب ہو جائے گا اور اس بات کا امکان بنا رہے گا کہ وہ حرام میں پڑ جائے۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جسم کے اندر گوشت کا ایک ٹکڑا ہے (یعنی دل)، جس کے درست ہونے سے جسم درست رہتا ہے اور جس کے بگڑنے سے جسم بگڑ جاتا ہے۔
یہ حدیث مشتبہ چیزوں سے بچنے کے سلسلے میں ایک قاعدہ اور اصول کی حیثیت رکھتی ہے۔
ایسی مشتبہ چیزوں کو چھوڑنے کی ترغیب جن کا حکم واضح نہ ہو۔
مزید (9)
صحیح بخاری (1/ 20) (52).
صحیح مسلم (3/ 1219) (1599).
التحفة الربانية في شرح الأربعين حديثا النووية (ص18).
شرح الأربعين النووية.
لابن عثيمين (ص105).
فتح القوي المتين في شرح الأربعين وتتمة الخمسين.
للعباد (ص41).
فتح الباري لابن حجر (4/ 291).
شرح النووي على مسلم (11/ 28).
کتابوں میں مذکور
12 کتابیں- مشروع منهاج زادكزادك معلم 3”یاد رکھو! بے شک جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے۔ جب وہ صحیح سالم ہوتا ہے، تو پورا جسم صحیح سالم ہوتا ہے اور جب وہ خراب وفاسد ہو جاتا ہے، تو پورا جسم خراب وفاسد ہو جاتا ہے۔ سنو! وہ ٹکڑا دل ہے"۔
- مشروع منهاج زادكزادك 3 طالب نهائي"سن لو! جسم کے اندر گوشت کا ایک ٹکڑا ہے۔ اگر وہ درست ہوگیا، تو پورا جسم درست ہو جائے گا۔ اگر وہ بگڑ گیا، تو پورا جسم بگڑ جائے گا۔ یاد رکھو! گوشت کا وہ ٹکڑا دل ہے۔"
مزید (10)
- شرح الأربعين النووية«إنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ، وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ، وَبَيْنَهُمَا أُمُورٌ مُشْتَبِهَاتٌ لَا يَعْلَمُهُنَّ كَثِيرٌ مِنْ النَّاسِ، فَمَنْ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ فَقْد اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ، وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِي
- قاموس الكبائرموسوعة الكبائر - المجموعة الثانية«إِنَّ الحَلَالَ بَيِّنٌ، وَإِنَّ الحَرَامَ بَيِّنٌ، وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ لَا يَعْلَمُهُنَّ كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ، فَمَنِ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ، اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ، وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِي الحَرَامِ، كَ
- قاموس الكبائرموسوعة الكبائر - المجموعة الرابعة«إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ، وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ، وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ لَا يَعْلَمُهُنَّ كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ، فَمَنِ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ، اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ، وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ،
- قاموس الكبائرموسوعة الكبائر - المجموعة الرابعة«إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ، وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ، وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ لَا يَعْلَمُهُنَّ كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ، فَمَنِ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ، اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ، وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ،
- ما لا يسع أطفال المسلمين جهله«أَلَا وَإِنَّ فِي الجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الجَسَدُ كُلُّهُ، أَلَا وَهِيَ القَلْبُ»[77].
- مجموعة زاد التربية الإسلامية (4)التربية الإسلامية 4«أَلا وَإِنَّ في الجَسَدِ مُضْغَةً إِذا صَلَحَتْ صَلَحَ الجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذا فَسَدَتْ فَسَدَ الجَسَدُ كُلُّهُ، أَلا وَهِيَ القَلْبُ».
- مجموعة زاد الحديث(3)1(أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً)
- محاضرات تعظيم قدر الصلاةمحاضرات في تعظيم قدر الصلاة"وَإِنَّ فِي الجَسَدِ مُضْغَةً: إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الجَسَدُ كُلُّهُ، أَلاَ وَهِيَ القَلْبُ " [80].
- نبراس طالب (1)1«أَلَا وَإِنَّ فِي الجَسَدِ مُضْغَةً: إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الجَسَدُ كُلُّهُ، أَلَا وَهِيَ القَلْبُ»
- نبراس طالب (3)نبراس طالب 3«أَلَا وَإِنَّ فِي الجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الجَسَدُ كُلُّهُ، أَلاَ وَهِيَ القَلْبُ»