محرمات استهان بها كثير من الناس

محرمات استهان بها كثير من الناس

بعض حرام اشیاء جن کو بہت سارے لوگوں نے معمولى سمجھ رکھا ہے

Language: lang_ur
Prepared by:
Version: 1.0
Translations 6
Hindi Macedonian Malayalam Portuguese +2
Attachments 7
PDF
Audio
Video
+3

بعض حرام اشیاء جن کو بہت سارے لوگوں نے معمولى سمجھ رکھا ہے

محمد صالح المنجد

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے، جو بڑا مہربان، نہایت رحم کرنے والا ہے

مقدمہ

سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، ہم اسی کی تعریفیں کرتے ہیں، اپنے ہر کام میں اسی سے مدد مانگتے ہیں، اور اسى سے اپنے گناہوں کی بخشش چاہتے ہیں، نیز ہم اپنے نفس کی شرارتوں سے اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں، یقین مانیں کہ جسے اللہ تعالی سیدھی راہ دکھائے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا اور جسے وہ خود ہی اپنے در سے دھتکار دے،اس کے لیے کوئی راہبر نہیں ہو سکتا۔ اور میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ معبود ِبرحق صرف اللہ تعالی ہی ہے اور وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔اسی طرح میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔

حمد وثناء کے بعد:

اللہ تبارک وتعالی نے کچھ امور ہم پر فرض کیے ہیں جن سے غفلت برتنا جائز نہیں ہے،

اور اس نے کچھ حدود مقرر کئے ہیں جنہیں پار کرنا جائز نہیں ہے،

اور بعض چیزیں ہم پر حرام قرار دی ہیں جن کا ارتکاب کرنا کسی صورت میں جائز نہیں ہے۔ اور نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:

جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے اپنے کلامِ پاک میں حلال قرار دیا ہے وہ حلال ہے، اور جسے حرام فرمایا ہے وہ حرام ہے،اور جس کے بارے میں سکوت فرمایا وہ وعافیت ہے، لہذا اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس عافیت کو قبول کرو، بے شک تمھارا رب بھولنے والا نہیں،

پھر آپ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: ’’تمھارا رب بھولنے واﻻ نہیں‘‘۔ مستدرک حاکم 2/375، علامہ البانی رحمہ اللہ نے (غایۃ المرام) ص: 14 میں اسے حسن کہا ہے۔ امورِ محرّمات اللہ تعالی کی حدود ہیں:

"جو شخص اللہ کی حدوں سے آگے بڑھ جائے، اس نے یقینا اپنے اوپر ظلم کیا"

(سورۃ الطلاق:1) اللہ تعالی نے ان لوگوں کو دھمکی دی ہے جو اللہ کی حدود کو پار کریں یا اللہ کی حرمات کو پامال کریں، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’اور جو شخص اللہ تعالی اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی مقررہ حدوں سے آگے نکل جائے اسے وہ جہنم میں ڈال دے گا،جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، ایسوں ہی کے لیے رسوا کن عذاب ہے‘‘۔ (سورۃ النساء: 14) محرمات سے اجتناب وپرہیز کرنا فرض ہے، جیسا کہ نبیﷺ نے فرمایا: ’’جن اشیاء سے میں نے منع کیا ہے اُن سے پرہیز کرو، اور جن امور کا میں نے حکم دیا ہے اُن میں سے جتنا ہو سکتا ہے اس پر عمل کرو‘‘۔ مسلم،كتاب الفضائل حديث نمبر:130۔ طباعت عبد الباقی آج کل دیکھا جاتا ہے کہ بعض لوگ جو خواہشِ نفس کے پیچھے دوڑنے والے ہیں ہر طرح کا عمل کرگزنے والے،ضعیف نفسوں کے مالک اور کم علم والے ہیں وہ اگر محرمات کے بارے میں بار بار سنیں تو تنگ آجاتے ہیں اور اُف اُف کرتے اور کہتے ہیں کہ: ’’کیا سب کچھ ہی حرام ہے، تم نے کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جسے حرام نہ قرار دیا ہو، ہماری زندگی ملول ورنجیدہ کردی ہے، ہمارا جینا مشکل کردیا ہے اور ہمارے دلوں کو تنگ کردیا ہے؟ کیا تم لوگوں کے پاس حرام کے علاوہ کچھ نہیں ہے؟ جب کہ دینِ اسلام تو آسان ہے، اور اس میں بڑی وسعت وفراخی ہے، اور اللہ معاف کرنے والا رحم کرنے والا ہے‘‘۔ ان جیسے لوگوں کا اعتراضات کا جواب کرتے ہوئے ہم یہ کہتے ہیں: ’’بے شک اللہ تعالی جو چاہے حکم وفیصلہ کر سکتا ہے، اس کے حکم کو روکنے والا کوئی نہیں اور وہ حکمت والا اور ہر چیز سے آگاہ ہے، وہ جسے چاہے حلال کرے اور جسے چاہے حرام قرار دے، اس کی ذات ہر نقص وعیب سے پاک ہے اور ہماری عبادت وبندگی کے قواعد میں سے ہی یہ بھی ہے کہ اللہ تعالی کے تمام أحکام وفیصلوں پر رضامند رہیں اور انھیں تسلیم کریں‘‘۔ اللہ تعالی کے أحکام اس کے علم وحکمت اور عدل وانصاف سے صادر ہوئے ہیں- وہ فضول وبےفائدہ اور لغو وکھیل تماشا نہیں ہیں, جیسا کہ خود اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے : ’’اور تمھارے رب کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہیں۔ اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور وہ سنتا اور جانتا ہے‘‘۔ الأنعام/115 اللہ تعالی نے تحلیل وتحریم کے ضابطہ کو بیان کرتے ہوئے نبیٔ اکرم ﷺ کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے: ’’اور آپ پاکیزہ چیزوں کو حلال بتاتے ہیں اور گندی چیزوں کو ان پر حرام فرماتے ہیں‘‘۔ الأعراف/157. سو ہر پاکیزہ چیز حلال ہے اور ہر گندی چیز حرام ہے۔ اور حلال وحرام قرار دینا فقط اللہ تعالی کا حق ہے جس نے اس حق کو اپنی طرف منسوب کرنے کا دعوی کیا یا کسی دوسرے کو اس کا حق دار قرار دیا تو اس نے بڑے کفر کا ارتکاب کیا اور دائرۂ اسلام سے باہر ہو گیا۔ ارشادِ الٰہی ہے : ’’کیا ان لوگوں نے اللہ کے ایسے شریک مقرر کر رکھے ہیں جنھوں نے ایسے احکامِ دین مقرر کردیے ہیں جو اللہ کے فرمائے ہوئے نہیں ہیں‘‘۔ الشورى/21 اور پھر ویسے بھی کسی کو کوئی حق نہیں کہ وہ حلال یا حرام کے بارے میں بات کرے سوائے اہلِ علم وفضل کے جو کتاب وسنت کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ اور جو لوگ بغیر علم کے حلال اور حرام کے فیصلے دیتے ہیں ان کے لیے سخت وعید آئی ہے، اللہ تعالی کا ارشادِ گرامی ہے: ’’اور یوں ہی جھوٹ جو تمھاری زبان پر آجائے مت کہہ دیا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اللہ پر جھوٹ بہتان باندھنے لگو‘‘۔ سورة النحل/116 جو چیزیں قطعی حرام ہیں وہ قرآنِ کریم اور وأحادیثِ نبویہ میں مذکور ہیں جیسا کہ اللہ تعالی کے اس ارشاد میں ہے : ’’کہہ دو کہ (لوگو!) آؤ میں تمھیں وه چیزیں پڑھ کر سناؤں جو تمھارے رب نے تم پر حرام کی ہیں(ان کی نسبت اس نے اس طرح ارشاد فرمایا) کہ کسی چیز کو اللہ کا شریک نہ بنانا اور ماں باپ سے (بد سلوکی نہ کرنا بلکہ اچھا) سلوک کرتے رہنا اور ناداری (کے اندیشے) سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرنا کیوں کہ تمھیں اور انھیں ہم ہی رزق دیتے ہیں‘‘۔ سورۂ أنعام:151 اسی طرح أحادیثِ شریفہ میں بھی بہت سے محرمات کا ذکر ہے جیساکہ نبیٔ اکرمﷺ کا ارشاد ہے: ’’بے شک اللہ تعالی نےشراب، مردار، خنزیر اور بتوں(کی خرید وفروخت) کو حرام قرار دیا ہے‘‘۔ سنن أبو داود 3486، اور دیکھئے صحيح أبي داود 977- اور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: ’’اللہ تعالی نے جس چیز کو حرام قرار دیا ہے اس کی قیمت کو بھی حرام قرار دیا ہے‘‘۔ دارقطني 3/7، یہ حدیث صحیح ہے۔ قرآن وسنت کی کچھ نصوص میں بعض خاص قسم کے محرمات کا ذکر بھی آیا ہے، جیساکہ اللہ تعالی نے کھانے پینے سے متعلقہ محرمات کا ذکر کیا اور فرمایا ہے: ’’تم پر مرا ہوا جانور اور (بهتا) لہو اور سور کا گوشت اور جس چیز پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے اور جو جانور گلا گھٹ کر مرجائے اور جو چوٹ لگ کر مرجائے اور جو گر کر مرجائے اور جو سینگ لگ کر مرجائے یہ سب حرام ہیں اور وہ جانور بھی جس کو درندے پھاڑ کھائیں مگر جس کو تم (مرنے سے پہلے) ذبح کر لو اور وہ جانور بھی جو آستانوں پر ذبح کیا جائے اور یہ بھی کہ قرعہ کے تیروں کے ذریعے فال گیری کرو‘‘۔ (سورۂ مائدۃ: 3) اور نکاح کے سلسلے میں اللہ تعالی نے محرمات کا ذکر کیا اور فرمایا ہے: ’’تم پر تمھاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور وہ مائیں جنہوں نے تمھیں دودہ پلایا ہو اور رضاعی بہنیں اور ساسیں حرام کردی گئی ہیں اور جن عورتوں سے تم مباشرت کر چکے ہو اُن کی لڑکیاں جن کی تم پرورش کرتے ہو (وہ بھی تم پر حرام ہیں ) ہاں اگر اُن کے ساتھ تم نے مباشرت نہ کی ہو تو (اُن کی لڑکیوں کے ساتھ نکاح کرلینے میں) تم پر کچھ گناہ نہیں اور تمھارے صلبی بیٹوں کی عورتیں بھی اور دو بہنوں کا اکٹھا کرنا بھی (حرام ہے) مگر جو ہو چکا (سو ہو چکا) بے شک اللہ بخشنے والا (اور) رحم والا ہے‘‘۔ النساء/23 ذرائعِ آمدنی اور کمائی وبزنس سے تعلق رکھنے والے محرمات کا بھی ذکر کیا گیا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے‘‘۔ ’’تجارت کو اللہ نے حلال کیا ہے اور سود کو حرام‘‘۔ البقرة/275 اور پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحم فرماکر بہت سی پاکیزہ چیزیں تمھارے لیے حلال فرمائی ہیں جن کے زیادہ اور مختلف قسم کے ہونے کی وجہ سے ان کی گنتی ہی نہیں کی جاسکتی، اسی لیے مباح اور حلال چیزوں کی تفصیل بیان نہیں فرمائی کیوں کہ وہ بہت ہی زیادہ ہیں جبکہ محرمات کی تفصیل بیان کردی ہے کیوں کہ وہ محصور ومحدود ہیں تاکہ ہم انھیں جان سکیں اور ان سے پرہیز کر سکیں۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’حالاں کہ جو چیزیں اس نے تمھارے لیے حرام ٹہھرادی ہیں وہ ایک ایک کر کے بیان کردی ہیں (بے شک اُن کو نہیں کھانا چاہیے) مگر اس صورت میں کہ اُن کے (کھانے کے) لیے ناچار ہوجاؤ‘‘۔ الأنعام/119 چنانچہ کھانے کى حلال چیزوں کى اباحت کو اللہ تعالی نے مجمل طور پر بیان کیا ہے بشرطیکہ وہ پاکیزہ ہوں لیکن ان کی تفصیل بیان نہیں فرمائی . اللہ کا ارشاد ہے : ’’لوگو! جو چیزیں زمین میں حلال و طیب ہیں وہ کھاؤ اور شیطانی راہ پر نہ چلو، وہ تمھارا کھلا ہوا دشمن ہے‘‘۔ البقرة/168. یہ اُس ذاتِ الہی کی رحمت ہے کہ اس نے ہر چیز میں اصل اس کے حلال ومباح ہونے کو قرار دیا ہے جب تک کہ تحریم کی دلیل نہ ہو ، اور یہ اللہ تعالی کا ہم پر فضل و کرم ہے اور اپنے بندوں کے لیے وسعت ہے لہذا ہمیں چاہیےکہ اس کی اطاعت کریں اور اس کی تعریفیں بیان کریں اور شکر ادا کریں۔ بعض لوگوں کو اگر بار بار حرام کے بارے میں بتایا جائے یا وہ خود پڑھیں یا دیکھیں تو وہ شریعتِ اسلامیہ کے ان احکام ومحرمات سے تنگ آجاتے ہیں۔ یہ ان کی ایمانی کمزوری اور دینی تعلیم کی کمی کی نشانی ہے۔

کیا وہ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اُن کے سامنے صرف حلال چیزوں کی قسمیں گنی جائیں تاکہ وہ اس بات پر آمادہ ہوں اور اُسے تسلیم کریں کہ دینِ اسلام سہولت و آسانی کا دین ہے؟

کیا وہ یہ چاہتے ہیں کہ اُن کے سامنے صرف پاکیزہ چیزوں کی قِسمیں ذکر کی جائیں اور صرف انہیں کی لسٹ پیش کی جائے تاکہ وہ مطمئن ہوں کہ دینِ اسلام واقعی آسان ہے اور شریعتِ اسلامیہ ان کا جینا مشکل نہیں کر رہی؟

! کیا وہ چاہتے ہیں کہ انھیں بتایا جائے کہ:اونٹ، گاے، بکری، خرگوش، ہرنی، پہاڑی بکری، مرغی، کبوتر، بطخ و مرغابی، شترمرغ جیسے جانورروں کو ذبح کرلیں تو ان کا گوشت حلال ہے اور مچھلی وٹڈی کا مردار بھی حلال ہے۔

تمام سبزیاں، ترکاریاں، ہر طرح کے خشک میوہ جات نیز ۔ہر قسم کے غلے اور تمام فائدہ مند پھل حلال ہیں۔

پانی، دودھ، شہد، تیل اور سرکہ حلال ہے۔

نمک، اور مصالحہ جات حلال ہیں۔

لکڑی، لوہا، ریت وبجرى، پلاسٹک و شیشہ اور ربڑ کا استعمال حلال و جائز ہے۔

جانوروں، گاڑیوں، ٹرینوں، کشتیوں اور ہوائی جہازوں پر بیٹھنا حلال و جائز ہے ۔

ائیرکنڈیشن، فریج، واشنگ مشین، کپڑے سُکھانے والی مشین، آٹا پیسنے والی چکی، آٹا گوندھنے والی مشین، قیمہ تیار کرنے والی مشین اور جوس نکالنے والی مشین کا استعمال جائز ہے۔ طب، حساب، ہندسہ، علومِ فلکی اور فن تعمیر سے متعلق، اور پانی، پٹرول اور معدنیات کو نکالنے کے لئے نیز پانى کى صفائی اور اسے میٹھا بنانے اور پرنٹںگ وطباعت میں استعمال ہونے والے آلات واوزار، ساتھ ہى الکٹرونک کلکولیٹر کا استعمال کرنا حلال و جائز ہے ۔

روئی، کاٹن، ریشم، بھیڑ وبکرى اور اونٹ کے اون، جانوروں کے بال، مباح چمڑوں، نائیلن اور پولیسٹر کے کپڑے پہننا حلال ہے۔

نکاح بیاہ، خرید وفروخت، ضمانت دینا، کفالت کرنا، کرایہ پر دینا، مختلف پیشے جیسے بڑھئى اور لکڑہارے کا کام، مشینوں کے اصلاح کا پیشہ اور بکریاں چرانا، ان تمام کاموں میں اصل حلال و جائز ہے۔

کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ ہم ان اشیاء کا تذکرہ جاری رکھیں اور ان کی گنتی کرتے جائیں تو کیا یہ سب ختم ہو جائیں گی،

کیا یہ بےجا اعتراض کرنے والے لوگ بات کو سمجھ نہیں سکتے ؟

ان کی یہ حجت کہ’’دین اسلام میں آسانی ہے‘‘۔ یہ بات تو ٹھیک ہے لیکن اس سے مراد باطل لی جارہی ہے جو کہ قابلِ مذمت ہے،

کیوں کہ دینِ اسلام میں آسانی لوگوں کی مرضی یا رائے کے مطابق نہیں بلکہ شرعی دلائل کی بنیاد پر ہے

شرعی رخصتوں پر عمل کر نے کے لیے یہ دلیل بنانا کہ " دین میں آسانی ہے اور حرام کام کا ارتکاب کر نے کے لیے بھی اسی آسانی کو بنیاد بنالینا، ان دونوں باتوں میں بڑا فرق ہے ’’دین میں تنگی نہیں‘‘یہ بات تو بجا ہے لیکن اس جملے کو غلط کام کے لیے دلیل بنالینا ٹھیک نہیں اور نہ ہی اسے محرمات کے لیے دلیل بنانا روا ہے۔ دین واقعی آسان ہے جس میں کوئی شک نہیں اور یہ کہ شرعی آسانیاں اپنائی جائیں جیساکہ نماز میں جمع و قصر کرنا ، سفر میں روزہ قضاء کرنا، جوتوں اور جرابوں پر مسح کرنا، مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات اور مسافر کےلیے تین دن اور تین راتیں، پانی کے ڈر سے یا نہ ملنے کی صورت میں تیمم کرنا، بیمار کے لیے اور بارش کے وقت دو نمازیں جمع کرنا اور منگنی کے وقت اجنبی عورت کو ایک نظر دیکھنا جائز ہے، اور قسم کے کفارے میں اختیار کا ملنا غلام آزاد کرنا یا کھانا کھلانا یا کپڑے دینا، اور ضرور کے وقت مردار کو کھالینا اور اس کے علاوہ بھی کئی شرعی تخفیفات اور آسانیاں موجود ہیں۔ گذشتہ باتوں کے ساتھ یہ بات بھى مد نظر رہے کہ ہر مسلمان کو جاننا چاہیے کہ محرمات کو حرام قرار دینے میں کچھ حکمتیں پنہاں ہیں مثلا : اللہ تعالی اپنے بندوں کو ان محرمات کے ذریعے آزمائش میں ڈالتا اور دیکھتا ہے کہ میرے بندے کیا کرتے ہیں؟ اہلِ جنت اور اہلِ جہنم میں فرق کی یہ نشانی ہے کہ اہلِ جہنم اپنے نفس کی ان خواہشات میں ڈوب چکے ہیں جن سے کہ جہنم کو گھیر دیا گیا ہے، اور اہلِ جنت نے ان نا پسندیدہ باتوں پر صبر کیا جن سے کہ جنت کو گھیر دیا گیا ہے-

اور اگر یہ آزمائش نہ ہوتی تو فرماں بردار اور عاصی ونافرمان کا پتہ نہ چلتا۔

اہلِ ایمان تکلیف کى مشقت کو حصولِ اجر وثواب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اللہ کا حکم مانتے ہیں تا کہ اس کی رضا پا سکیں، یوں ان کے لیے مشقت وآزمائش آسان ہو جاتی ہے،

اور منافق لوگ اس تکلیف کى مشقت کو درد وتکلیف اور محرومیت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں تو ان پر مشقت ومصیبت مزید بڑھ جاتی ہے اور ان کے لیے اللہ کی فرماں برداری مشکل ہو جاتی ہے۔

محرمات کو چھوڑنے سے فرماں بردار شخص حلاوت ومٹھاس پاتا ہے کیوں کہ: ’’ جس نے اللہ کی خاطر کوئی چیز چھوڑ دی اللہ تعالیٰ اُسے اُس سے بہتر عطا کرے گا، اور وہ ایمان کا اصلی مزہ اپنے دل میں محسوس کرے گا‘‘۔

اس رسالے کو پڑھنے والے حضراتِ کرام یہ دیکھیں گے کہ بہت سے محرمات ہیں جن کی حرمت (تحریم) شریعتِ اسلامیہ میں ثابت ہے، اور ان کی تحریم کا ثبوت کتاب و سنت کی روشنی میں موجود ہے۔ بعض علماء کرام نے محرمات کے موضوع پر یا محرمات کے بعض انواع جیسے کبیرہ گناہ کو جمع کرنے کے لیے کتب تصنیف کی ہیں، اور اس موضوع پر بہترین کتابوں میں سے کتاب تنبيه الغافلين عن أعمال الجاهلين ہے جس کے مؤلف علامہ ابن النحاس الدمشقی رحمہ اللہ ہیں۔

اور یہ وہ ممنوع کام ہیں جن کا ارتکاب مسلمانوں میں عام ہو چکا ہے ۔ انھیں ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ نصیحت وخیر خواہی ہو اور وضاحت بھی ہو جاۓ۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مجھے اور میرے مسلمان بھائیوں کو ہدایت کا راستہ دکھلاۓ، توفیق و کامیابی سے نوازے، اس کی مقرر کردہ حدوں کے اندر ہی رک جانے میں ہماری مدد کرے، محرمات سے دور رکھے اور برائیوں سے بچاۓ اور اللہ تعالی سب سے بہتر بچانے والا اور سب سے رحم کرنے والاہے۔

اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا : بے شک یہ على الاطلاق سب سے بڑا گناہ ہے۔ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کے مطابق نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’کیا میں تم سب کو سب سے بڑا کبیرہ گناہ نہ بتاؤں [یہ آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا] تو ہم نے کہا : کیوں نہیں، آپ ہمیں ضرور بتائیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالی کے ساتھ کسی چیز کو شریک کرنا‘‘۔ متفق علیہ، البخاری2511،تحقیق د۔البغا

ہر گناہ اللہ تعالی چاہے تو معاف کردیتا ہے سوائے شرک کے، اس کے لیے خصوصی توبہ کی ضرورت ہے :

اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ”اللہ تعالی اس گناہ کو نہیں بخشےگا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا دوسرے گناہ جس کو چاہے معاف کردے“۔ (النساء: 48)

بعض شرک انسان کو ملتِ اسلامیہ سے خارج کردیتا ہے اور اس کا مرتکب اگر اسی حالت میں مرجائے تو وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا ۔

شرک کی چند مروجہ شکلیں : شرکِ اکبر کی کئی شکلیں مسلمانوں کے ملکوں میں پائی جاتی ہیں جن میں سے بعض درجِ ذیل ہیں :

قبروں کی پوجا کرنا ، اس بات کا اعتقاد رکھنا کہ مردہ اولیاء ہماری حاجتیں پوری کرتے ہیں اور مشکلات آسان کرتے ہیں، ان سے مدد طلب کرنا اور ان سے فریاد رسى کرنا-

اللہ تعالی فرماتا ہے : ’’اور تمھارے رب نے فیصلہ فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو‘‘۔ (الإسراء‘ 23) اور اسی طرح شفاعت و سفارش طلب کرنے کے لیے یا شدت و پریشانی دور کروانے کے لیے، مردوں کو پکارنا اور انبیاء کرام اور نیک لوگوں کو پکارنا بھی شرک ہے اور اللہ تعالی کا فرمان ہے: ’’بھلا کون بے جو قرار کی التجا قبول کرتا ہے؟ جب وہ اس سے دعا کرتا ہے اور (کون اس کی) تکلیف کو دور کرتا ہے؟ اور (کون ) تمھیں زمین میں( اگلوں کا) جانشین بناتا ہے (یہ سب کچھ اللہ کرتا ہے ) تو کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے ؟ (ہرگز نہیں)‘‘۔ [النمل: 62] بعض لوگ کسی پیر وشیخ یا ولی کے نام کا ذکر کرنے کو اپنی عادت اور اس کے نام کو تکیہ کلام بنالیتے ہیں اور اسی کو ہر وقت پکارتے ہیں جب بھی کوئی کھڑا ہو یا بیٹھا ہو اور چاہے وہ پھسل جائے، اور جب بھی وہ کسی مصیبت یا پریشانی میں مبتلا ہوجاتا ہے تو کوئی کہتا ہے : یا محمدﷺ، کوئی کہتا ہے : یا علی رضی اللہ عنہ، کوئی کہتا ہے : اے حسین رضی اللہ عنہ، تو کوئی اے بدوی کہتا ہے، کوئى اے جیلانی کہتا ہے، کوئى اے شاذلی کہتا ہے، کوئى اے رفاعی کہتا ہے، کوئى اے عیدروس کہتا ہے تو کوئی سیدہ زینب کو پکارتا ہے اور کوئی ابن علوان کو جب کہ اللہ تعالی تو کہتا ہے: ’’(مشرکو!) جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تو تمھاری طرح کے بندے ہی ہیں سو تم انہیں پکارو اور اگر تم سچے ہو تو انہیں تمہارى پکار کا جواب بھى دینا چاہئے‘‘۔ (الأعراف‘ 194) بعض قبروں کی عبادت کرنے والے ان کا طواف بھی کرتے ہیں، اور قبر کے درودیوار کو چھوتے ہیں، چوکھٹ کو بوسہ دیتے ہیں، قبر کی مٹی اپنے چہرے پر ملتے ہیں، اور اگر کوئی قبر دیکھ لیں تو اسے سجدہ کرتے، اور اس کے سامنے عاجزی و خاکساری کے ساتھ کھڑے ہوکر اپنی اپنی غرض اور حاجت طلب کرتے ہیں جیسے بیمار کے لئے شفا دینا، لڑکا مانگنا، یا حاجت کشائى طلب کرنا، اور کچھ لوگ تو قبر کے پاس جاکر یہ کہتے ہیں : اے میرے آقا! میں بہت دور کے شہر سے آیا ہوں تو مجھے ناامید مت کرنا، اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہو سکتا ہے جو ایسے کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہ دے سکے اور ان کو ان کے پکارنے ہی کی خبر نہ ہو‘‘۔ سورة الأحقاف/5 اور نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:

’’جو شخص غیر اللہ کو پکارتا اور اس سے دعا و پکار کرتا مرجائے تو وہ جہنم میں جاےگا‘‘۔

(بخاری مع فتح الباری8/176) بعض لوگ تو قبروں پر جاکر سر منڈواتے ہیں اور بعض لوگوں کے پاس بعض ایسی کتابیں ہوتی ہیں جن کا عنوان ہوتا ہے:( مناسک حج المشاہد) یعنى مزاروں کا حج کرنے کا طریقہ، اور’’مشاہد‘‘کا مطلب ہے قبریں اور ولیوں کے مزار اور بعض لوگ یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ اولیاء اللہ دنیا کے کاموں میں دخل دیتے ہیں اور وہ نفع و نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں جب کہ اللہ کا ارشاد ہے : ’’اور اگر اللہ تم کو کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا اس کا کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر تم سے بھلائی کرنی چاہے تو اس کے فضل کو کوئی روکنے والا نہیں‘‘۔ (سورۂ یونس : 107)

غیر اللہ کی نذر ونیاز : اللہ تعالی کے علاوہ کسی کی نذر و نیاز بھی شرکِ اکبر ہی کی ایک شکل ہےمثلا بعض لوگ قبروں پر چراغ و موم بتیاں اور اگر بتیاں جلانے اور پھولوں کی چادر چڑھانے کی نذر مان لیتے ہیں۔

غیر اللہ کے لیے ذبح کرنا : اللہ تعالی کے علاوہ کسی دوسرے کے نام پر جانور ذبح کرنا بھی شرکِ اکبر کی ہی ایک قسم ہے۔ اور اللہ تعالی فرما تا ہے: ”اپنے پروردگار کے لیے نماز پڑھا کرو اور قربانی کیا کرو“۔ سورۂ کوثر:2. یعنی جس طرح اللہ کے لیے نماز پڑھیں اسی طرح صرف اور صرف اللہ کے لیے اور اسی کے نام سے ذبح کریں اور نبی ﷺ کا ارشاد ہے: ”جس شخص نے غیر اللہ کے لیے ذبح کیا، اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے‘‘۔ صحیح مسلم نمبر:1978،ط. عبد الباقي. اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک ہی قربانی میں کئی محرمات اکٹھے ہو جائیں وہ یوں کہ غیر اللہ کے لیے ذبح کرنا ،اور اللہ کے نام کے بغیر ذبح کرنا، یہ دونوں ہى ذبیحہ کے کھانے کو منع وحرام کردیتے ہیں، جاہلیت کے زمانے والی قربانیاں جو کہ آج کل اس دور میں بھی عام ہیں، وہ جنات کے لیے قربانیاں تھیں وہ اس طرح کہ اگر وہ لوگ گھر خریدتے یا بناتے تو جن کی اذیت ونقصان سے بچنے کے لیے یا کنواں کھودتے تو وہاں یا گھر کے دروازے پر جانور ذبح کرتے تھے تاکہ جنوں کو خوش کر کے ان کے شر سے محفوظ رہ سکیں ۔ یہ بھی شرک کی ایک قسم ہے۔۔ نیز دیکھئے تیسیر العزیز الحمید،ط،دار الافتاء ص:158 شرک اکبر کى مثالوں میں سے یہ بھى ہى کہ جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے اسے حلال کر لینا اور حلال کردہ چیز کو حرام ٹھہرا لینا یا اس بات کا اعتقاد رکھنا کہ اللہ کے علاوہ تحلیل وتحریم میں کسی دوسرے کو بھی حق حاصل ہے، یا کورٹ کچہری میں اپنی مرضی سے جاہلیت کے یا وضعی قوانین نافذ کرنا اور اُس کے جائز ہونے کا اعتقاد رکھنا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کفرِ اکبر کو یوں ذکر کیا ہے: ’’انھوں نے اپنے علماء اور مشائخ کو اللہ کے سوا رب بنا لیا‘‘۔ [سورہ التَّوْبَہ: 31]. جب حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے یہ آیت سنی تو کہا "وہ لوگ ان کی عبادت تو نہیں کرتے تھے‘‘، تو آپ ﷺ نے فرمایا:’’ہاں، مگر وہ لوگ جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے اسے حلال کردیتے تو وہ اسے حلال مان لیتے تھے اور جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال کیا ہے اسے حرام قرار دیتے تو اسے حلال مان لیتے تھے تو یہی ان کی عبادت تھی‘‘۔ بیھقی،سنن کبریٰ10/116،ترمذی نمبر 3095،حسنه الألباني في غاية المرام ص: 19 اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں مشرکوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے: ’’اللہ اور رسول کی حرام کردہ شے کو حرام نہیں جانتے نہ دینِ حق کو قبول کرتے ہیں‘‘۔ (سورۂ توبہ: 29) نیز اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’کہو کہ بھلا دیکھو تو اللہ نے تمھارے لیے جو رزق نازل فرمایا تو تم نے اُس میں سے (بعض کو) حرام ٹھہرایا اور (بعض کو) حلال (ان سے) پوچھو: کیا اللہ نے تمھیں اس کا حکم دیا ہے یا تم اللہ پر افتراء کرتے ہو؟‘‘۔ (سورۂ یونس : 59)

جادو وکہانت اور غیبی خبریں جاننے کا دعویٰ کرنا بھی شرک ہے جبکہ یہ تمام شرکیہ امور بھی ہمارے زمانے میں بھت عام ہیں.

سحر(جادو)تو کفر ہے وہ سات ہلاک کردینے والى چیزوں میں سے ہے اور وہ صرف نقصان ہی دیتا ہے فائدہ نہیں، اور اللہ تعالٰی نے جادو سیکھنے والوں کے بارے میں فرمایا ہے: ’’یہ لوگ وہ سیکھتے ہیں جو انھیں نقصان پہنچائے اور نفع نہ پہنچا سکے‘‘۔ [سورہ البقرہ: 102]. اور فرمایا: ’’اور جادوگر جھاں بھی جائے فلاح نہیں پائے گا‘‘۔ طه/69 اور جو لوگ جادو کرتے ہیں وہ کافر ہیں، اللہ تعالٰی فرماتا ہے: ’’اور سلیمان نے مطلق کفر کی بات نہیں کی بلکہ شیطان ہی کفر کرتے تھے کہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے اور اُن باتوں کے بھی(پیچھے لگ گئے تھے)جو شہرِ بابل میں دو فرشتوں(یعنی) ہاروت اور ماروت پر اتری تھیں اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہیں سکھاتے تھے جب تک یہ نہ کہہ دیتے کہ ہم تو(ذریعۂ) آزمائش ہیں تم کفر میں نہ پڑو‘‘۔ [سورۂ بقرہ: 102]. جادوگر کی سزا قتل ہے اور اس کی کمائی حرام وخبیث ہے۔ جاہل وظالم اور ایمان وعقیدہ کے کمزور لوگ کسی پر جادو کروانے کے لیے یا کسی سے بدلہ لینے کے لیے جادو گروں کے ہاں جاتے ہیں اور کچھ لوگ کسی جادو گر کے ہاں جاکر جادو کا توڑ چاہتے ہیں تو یہ بھى حرام کام کا ارتکاب کرتے ہیں ، اور فرض تو یہ ہے کہ صرف اللہ کی طرف رجوع کریں اور اللہ سے دعا مانگیں اور اُس کے کلام کے ذریعے سے شفا حاصل کریں جیساکہ معوذات وغیرہ ۔ کاہن اور فال نکالنے والے دونوں ہی اللہ تعالی سے شدید کفر کرنے والے ہیں کیوںکہ دونوں ہى غیب جاننے کا دعویٰ کرتے ہیں جب کہ غیب اللہ تعالی کے سوا کوئی نہیں جانتا-

ان میں سے بہت سارے لوگوں کے بھولے پن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے پیسے لوٹتے ہیں۔ اور بہت سے وسیلوں (طریقوں) کا استعمال کرتے ہیں جیسےکہ ریت پر لکیر کھینچنا یا سیپی وگھونگا بجانا یا ہاتھ کی ریکھاؤں پیالی کرسٹل بال اور آئینہ کو پڑھنا اور ان کے علاوہ بھی کئی کرتوت کرتے ہیں،

اور اگر وہ اتفاق سے ایک سچ بولیں تو ننانوے جھوٹ بولتے ہیں، مگر بے خبر تو صرف اس ایک مرتبہ کو یاد رکھتے ہیں جب وہ جھوٹے لوگ سچ بولتے ہیں، اور ننانوے جھوٹوں کو بھلا دیتے ہیں چنانچہ اُن کے پاس مستقبل، خوشی یا تنگی اور کسی شادی یا تجارت میں فائدہ جاننے کے لیے جاتے ہیں یا کھوئی ہوئی چیز کو ڈھونڈنے کے لیے یا اسى طرح کے کسى اور کام کے لئے۔ اور جو لوگ ان کے پاس جاتے ہیں اور ان کی بات کو سچ بھی مانتے ہیں اُن کا شرعی حکم یہ ہے کہ وہ کافر اور ملتِ اسلامیہ سے خارج ہیں اور اس کی دلیل نبی ﷺکا یہ ارشادِ گرامی ہے: ’’جو شخص کسی نجومی یا فال نکالنے والے کاہن کے پاس جائے اور اُس کی تصدیق کرے تو اُس شخص نے نبی ﷺ پر جو اترا اس سے کفر کیا ( یعنى دینِ اسلام سے خارج ہو گیا )‘‘۔ امام احمد نے اس کی روایت مسند (2/429) میں کی ہے، اور یہ صحیح الجامع (5939)میں بھی ہے لیکن جو شخص کسی نجومی وغیرہ کے پاس جائے اور اسے اس بات کا یقین ہو کہ وہ علم الغیب نہیں جانتے، مگر وہ محض تجربہ وغیرہ کے لیے جائے، تو اُس نے کفر نہیں کیا لیکن چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہوگی اور اس بات کی دلیل نبی ﷺکے اس ارشادِ گرامی میں ہے: ’’جو شخص نجومی یا فال نکالنے والے کاہن کے پاس جائے اور اُس سے غیب کی بات پوچھے تو چالیس راتوں تک اُس کی نماز قبول نہیں ہوتی‘‘۔ صحيح مسلم 4/1751. اس شخص پر ادائیگیٔ نماز تو واجب ہے اور اسے اپنے اس فعل سے توبہ بھی کرنی چاہیے۔ لوگوں کی زندگی اور حوادثِ زمانہ میں ستاروں کی تاثیر کا عقیدہ رکھنا: حضرت زید بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ’’نبی ﷺ نے مقامِ حدیبیہ پر ہمیں صبح کی نماز پڑھائی، اس رات خوب بارش برسی تھی۔ نمازِ فجر سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: کیا تم جانتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا کہا؟ صحابہ نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ نے فرمایا ہے: میرے بندوں میں سے کچھ مجھ پر ایمان رکھنے والے اور کچھ میرے ساتھ کفر کرنے والے ہوگئے ہیں،وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ اللہ کے فضل ورحمت سے بارش ہوئی ہے وہ مجھ پر ایمان لانے والے اور ستاروں کے ساتھ کفر کرنے والے ہیں اور جس نے کہا کہ ہمیں فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ملی ہے اُس شخص نے مجھ سے کفر کیا اور ستاروں پر ایمان رکھا‘‘۔ صحیح البخاری مع:( فتح الباری 2/333) ایسی ہی ایک صورت یہ ہے کہ لوگ نیوز پیپرز اور میگزین و ڈائجسٹ میں شائع ہونے والے آسمانی برجوں کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اپنی قسمت کا حال معلوم کرنا چاہتے ہیں ان نیوز پیپرز اور میگزین و ڈائجسٹ میں یہ بات بیان کہ جاتی ہے کہ ستاروں اور آسمانوں میں تاثیر ہے اور وہ مؤثر ہیں تو جس شخص نے اس کا عقیدہ رکھا وہ مشرک ہے، اور جس شخص نے ان نیوز پیپرز اور میگزین و ڈائجسٹ کو محض وقت گزاری اور دل بہلانے کے لیے پڑھا تو وہ بھی گناہگار ہے،کیوں کہ شرکیہ باتوں کو محض وقت گزاری کے لیے بھی پڑھنا جائز نہیں اور اس کے ساتھ ہی شیطان ان نیوز پیپرز اور میگزین و ڈائجسٹس میں موجود باتوں پر اعتقاد رکھنے کےلئے اس کے دل میں وسوسہ ڈالتا ہے اور اس طور پر اس کا ان نیوز پیپرز اور میگزین و ڈائجسٹ کو پڑھنا شرک کی طرف لے جانے والا ایک راستہ ہے۔ جن چیزوں کو اللہ تعالی نے مفید نہیں بنایا اُن کے فائدہ کا اعتقاد رکھنا شرک ہے: جیسا کہ بعض لوگ مشرکانہ تعویذوں گنڈوں اور مختلف قسم کے پتھروں کے نگینے، سمندری سیپیوں، نیز معدنی کڑوں اور چھلوں وغیرہ کے بارے میں عقیدہ رکھتے ہیں- اور وہ یہ تمام کام کسی کاہن یا جادوگر کے اشارے پر کرتے ہیں یا ان کا یہ فعل وراثتا چلے آرہے کسى اعتقاد کى بنا پر ہوتا ہے- چنانچہ وہ یہ تمام چیزیں اپنے یا اپنے بچوں کے گلے میں نظرِ بد کو دور کرنے کے لیے لٹکادیتے ہیں، یا ان چیزوں کو اپنے جسم پر باندھ لیتے ہیں، یا اُنھیں گاڑی یا گھر میں لٹکادیتے ہیں، یا مختلف قسم کی نگینے والی انگوٹھیاں پہنتے ہیں جن کے بارے میں بعض خصا امور کا اعتقاد رکھتے ہیں مثلا مصیبت کو دور کرنا یا پریشانیوں کا خاتمہ وغیرہ، اور یہ بے شک اللہ پر توکل کرنے کے منافی ہے اور یہ سب انسان کو سوائے مشکلات میں اضافہ کے اور کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتا، اور اس کا تعلق حرام اشیاء سے علاج کے قبیل سے ہے۔ اور یہ جو تعویذ لٹکائے جاتے ہیں ان میں سے بعض تو واضح شرک ہوتے ہیں اور جنوں اور شیاطین سے ان میں استغاثہ ہوتا ہے، یا ان میں مبہم نقشے ہوتے ہیں یا ان میں غیر مفہوم عبارتیں لکھى ہوتى ہیں- اور بعض جادوگر قرآن کی بعض آیات لکھ کر کسی شرکیہ لکھائی میں ملادیتے ہیں، اور بعض جادوگر یا کاہن قرآنی آیات کو نجاست وگندگی، یا حیض کے خون سے لکھتے ہیں، اور تمام مذکورہ سابقہ چیزوں کا گلے میں لٹکانا یا جسم پر باندھنا حرام ہے، کیونکہ نبیﷺ کا ارشاد ہے: ’’جس شخص نے کسى بھى قسم کا تعویذ لٹکایا،تو اس نے شرک کیا‘‘۔ مسند احمد 4/156،السلسلۃالصحیحۃ نمبر77492- یہ سب کچھ کرنے والا اگر اس بات کا اعتقاد رکھے کہ اللہ کی مدد کے بغیر بذاتِ خود ان چیزوں سے فائدہ یا نقصان ہوگا تو یہ مشرک ہے جو شرکِ اکبر میں واقع ہوگیا، اور اگر وہ اس بات پر اعتقاد رکھے کہ یہ سب کسی فائدہ یا نقصان کا محض ایک ذریعہ و سبب ہے جبکہ اللہ تعالٰی نے اسے ذریعہ نہیں بنایا،تو وہ شخص بھی مشرک ہے اور اس کا یہ شرک شرکِ اصغر ہے اور یہ’’ذرائع و اسباب میں شرک‘‘کی ایک قسم ہے۔

عبادتوں میں ریاکاری ودکھلاوا :

عملِ صالح کی شرائط میں سے یہ ہے کہ وہ ہر قسم کے دکھلاوے سے خالی اور سنتِ نبویہ ﷺ کے مطابق ہو، اور جو دوسرے لوگوں کو دکھانے کے لیے عبادت کرتے ہیں وہ مشرک ہیں اور یہ شرکِ اصغر ہے اور انکا یہ عمل بیکار ہو جائے گا، جیسے کہ کسی شخص نے لوگوں کو دکھانے کے لیے نماز پڑھی، اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے: ’’بے شک منافق اللہ سے چالبازیاں کررہے ہیں اور وہ انھیں اس چالبازی کا بدلہ دینے والا ہے، اور جب نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو بڑی کاہلی کی حالت میں کھڑے ہو تے ہیں،صرف لوگوں کو دکھاتے ہیں اور یادِ الٰہی تو یون ہی سی برائے نام کرتے ہیں‘‘۔ النساء/ 142 اسی طرح اگر کوئی نیکی اس لیے کرے تا کہ اس کی خبر پھیلے اور لوگ اس کو سنیں اور سنائیں تو وہ شخص شرک میں مبتلا ہو گیا، جس نے اس طرح کا کام کیا اس شخص کے لیے سخت وعید وعذاب ہے، جیسا کہ حدیثِ ابن عباس رضی اللہ عنہما میں مذکور ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص لوگوں کو سنانے کے لیے عمل کرے گا اللہ تعالی اس کے عیب دوسروں کو سنائے گا،اور جو شخص لوگوں کو دکھانے کے لیے کوئی کام کرے گا تو اللہ اُس شخص کی اصلیت سب کو دکھائے گا‘‘۔ صحیح مسلم:4/2289. اور جس شخص نے کوئی عبادت کی جس میں اللہ اور ساتھ ہی دوسرے لوگوں کا بھی قصد کیا تو اُس کا وہ عمل بیکار ہو جائے گا جیساکہ حدیثِ قدسی میں آیا ہے: ’’میں شریکوں کے مابین شرک سے سب سے زیادہ بے نیاز ہوں, جس نے کوئى عمل کیا اور اس میں میرے ساتھ کسى اور کو شریک کرلیا تو میں اس کو اور اس کے شرک کو چھوڑ دیتا ہوں‘‘۔ صحیح مسلم (حدیث نمبر:2985) کوئی اللہ کے لیے نیک عمل کرے پھر اس کے اندر ریاکاری پیدا ہو جائے پھر اگر ریا کو نا پسند کیا اور اس کو دور کرنے کى کوشش کے تو اس کا عمل درست ہے, اور اگر ریا پر مستمر رہا اور اس کا دل اس پر مطمئن ہو جائے تو اکثر اہلِ علم اس کے عمل کو بطلان قرار دیتے ہیں۔

بدشگونی ونحوست وبد فالی لینا :

اللہ تعالی کا ارشادِ گرامی ہے: ’’جب ان پر خوش حالی آجاتى تو کہتے کہ یہ تو ہمارے لیے ہونا ہی چاہیے اور اگر ان کو کوئی بد حالی پیش آتی تو موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کی نحوست بتلاتے‘‘۔ الأعراف/131- عرب لوگوں میں سے اگر کوئی سفر یا کسى اور کام کا ارادہ کرتا تو کسی پرندے کو پکڑ کر ہوا میں اڑا دیتا، اگر وہ پرندہ دائیں طرف جائے تو وہ شخص خوش ہو کر اپنے کام کو چل دیتا۔ اور اگر پرندہ بائیں طرف کو اُڑتا تو نحوست سمجھ کر اپنا ارادہ ختم کردیتا۔ نبی اکرم ﷺ نے اس فعل کا حکم اپنے ارشاد میں یوں بیان فرمایا ہے : ’’بد شگونی لینا شرک ہے‘‘۔ مسندِ امام احمد (1/389) ،صحیح الجامع (3955)۔ بدشگونی جو توحید کے منافی اور حرام عقیدہ ہے اسى میں سے مہینون سے بد شگونی لینا ہے، جیسے کہ ماہِ صفر میں نکاح ترک کرنا۔ اور بعض دنوں سے بد شگونى لینا جیسے کہ اس بات کا عقیدہ رکھنا کہ ہر ماہ کے آخری بدھ کا دن ہمیشہ منحوس رہتا ہے ، یا نمبروں سے بدشگونى لینا جیسے کہ نمبر[13] کو منحوس قرار دینا، یا بعض ناموں اور معذوروں کو منحوس سمجھنا، جیسے کہ کوئی شخص اپنی دکان کھولنے کے لیے جاۓ اور راستے میں کسی کانے آدمی کو دیکھ لے تو بد شگونی لے اور واپس لوٹ آئے وغیرہ وغیرہ ۔ یہ سارے اعتقاد حرام اور شرک میں سے ہیں ۔ نبی ﷺ نے ایسے لوگوں سے براءت ولا تعلقی کا اعلان فرمایا ہے، حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے ایک مرفوع حدیث میں ارشاد نبوی ﷺ ہے: ’’وہ ہم میں سے نہیں جس نے بد شگونی لی ہو یا اس کے لیے بد شگونی لی گئی ہو ، اور جس نے کہانت کی ہو یا اُس کے لیے کہانت کی گئی ہو [اور میرا گمان غالب ہے کہ آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا]: یا اس نے کوئی جادو کیا ہو یا اس کے لیے کسی نے جادو کیا ہو‘‘۔ المعجم الکبیر للطبرانی 18/162، نیز دیکھیےصحيح الجامع 5435۔ اور جو شخص اس طرح کے امور میں مبتلا ہو جائے تو اسے توبہ کرنا چاہیے اور اس کا کفارہ اس طرح ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی حدیث میں وارد ہوا ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ’’جس شخص کو بد شگونی نے اس کی کسی حاجت کو پورا کرنے سے روکا تو اس نے شرک کیا ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ﷺ ! اس کا کفارہ کیا ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ان میں سے کوئی یہ کہے: [یا اللہ !تیری خیر و بھلائی کے سوا کوئی بھلائی نہیں ، اور تیرے شگون کے سوا کوئی شگون نہیں اور تیرے سِوا کوئی معبودِ برحق نہیں]‘‘۔ مسند امام احمد 2/220،السلسلة الصحيحة 1065. بد شگون لینا لوگوں کی فطرت میں داخل ہے یہ کسی میں کم ہوتا ہے اور کسی میں زیادہ،

اور اس کا سب سے اہم علاج اللہ تعالیٰ پر توکل کرنا ہے

جیساکہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما کے ارشاد میں ہے: ’’اور ہم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں جو کہ [یعنی : اس کے دل میں اس طرح کی کوئی بات نہ آتی ہو] مگر اللہ تعالیٰ اسے توکل کى وجہ سے دور کردیتا ہے‘‘۔ أبو داود:3910،السلسلة الصحيحة 430.

غیر اللہ کی قسم کھانا :

اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات میں سے چاہے کسی چیز کی بھی قسم کھاۓ اسے اختیار ہے مگر مخلوق کو غیر اللہ کی قسم کھانا بالکل جائز نہیں، جب کہ آج کل زیادہ تر لوگوں کی زبان پر غیر اللہ کی قسم ہی آتی ہے حالاں کہ قسم کھانا ایک قسم کی تعظیم ہے اور یہ تعظیم واجلال صرف اللہ کی ذات کے ہی لائق ہے۔ حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنھما کی مرفوع حدیث میں ارشادِ نبوی ﷺ ہے: ’’خبر دار! اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو اپنے باپ داداوں کی قسم کھانے سے روکتا ہے، جس شخص کو قسم کھانی ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھاۓ ورنہ خاموش ہی رہے‘‘۔ صحیح البخاری مع:( فتح الباری 11/530) حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنھما کی ایک اور مرفوع حدیث میں ارشادِ نبوی ﷺ ہے: ”جس شخص نے غیر اللہ کی قسم کھائی اس نے شرک کیا۔“ مسندِ امام احمد(2/125) نیز دیکھیےصحیح الجامع (6204)۔ اور نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ’’جس شخص نے امانت کی قسم کھائی، تو وہ ہم میں سے نہیں‘‘۔ سنن ابو داود:3253،السلسلة الصحيحة رقم.94. لہذا کعبہ شریفہ کی قسم نہیں کھانی چاہیے اور نہ ہی امانت کی، نہ شرافت وبزرگی کی ، نہ مدد کی،نہ کسی کی برکت کی ،اور نہ کسی کی زندگی کی ،نہ نبی ﷺ کے جاہ وجلال کی،نہ کسی ولی کی جاہ و منزلت کی ، اور نہ ہی ماں باپ اور نہ ہی اپنے بچوں کے سر کی۔ یہ سب حرام ہے، اور جو شخص اس طرح کی چیز میں مبتلا ہو جائے تو اُس کا کفارہ یہ ہے کہ وہ کہے [لا الہ الا اللہ]’’اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں‘‘۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں آیا ہے: ’’جس شخص نے قسم کھائی اور اپنی قسم میں کہا:’’لات اور عزّیٰ کی قسم‘‘،تو وہ یہ کہے:[ لا الہ الا اللہ]’’اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے‘‘۔ صحیح البخاری مع:( فتح الباری 11/536) اسی قسم میں داخل ہیں چند دیگر شرکیہ اور حرام کلمات جو کہ بعض مسلمان بھی کہ دیتے ہیں اور اس طرح کے الفاظ کى مثالوں میں سے یہ سب کہنا ہے: :پناہ چاہتا ہوں اللہ سے اور تم سے۔ میرا توکل و بھروسا اللہ پر اور آپ پر ہے۔ یہ سب اللہ اور آپ کی وجہ سے ہے۔ اللہ اور آپ کے سوا میرا کوئی سہارا نہیں۔ آسمان پر میرا سہارا اللہ ہے اور زمین پر میرے سہارے آپ ہیں۔ اگر اللہ اور فلاں نہ ہوتا (تو یوں اور یوں ہو جاتا)۔ میں اسلام سے بری و دستبردار ہوں۔ ہائے زمانے کی ناکامی اور اسی طرح ہر وہ جملہ حرام ہے جس میں زمانے کو گالی دی جاتی ہے مثلاً یہ کہنا: ’’یہ برا زمانہ ہے‘‘۔ ’’یہ منحوس گھڑی،( برا وقت)ہے‘‘، ’’زمانہ غدار و بےوفاہے‘‘اور اسی طرح کے دیگر کلمات، اور یہ سب کہنا اس لیے حرام ہے کیونکہ وقت کو گالی دینا اللہ کی ذات پر پلٹ جاتی ہے جس نے وقت و زمانے کو بنایا ہے، (اسى طرح حرام الفاظ میں سے یہ کہنا ہے): اگر فطرت نے چاہا۔ اسی طرح وہ سب نام جو کسی غیر اللہ کے لئے بندہ ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہیں حرام ہیں: جیسے کہ عبد المسیح(مسیح کا بندہ)، عبد النبی(نبی کا بندہ)، عبد الرسول(رسول کا بندہ)، عبد الحسین(حسین کا بندہ)۔ اسی طرح نئے اصطلاحات اور جملے جو توحید کے مخالف ہیں وہ بھی حرام ہیں مثلاً: اسلامی اشتراکیت، اسلامی جمہوریت، عوام کی مرضی اللہ کی مرضی سے ہے، دین اللہ کے لیے اور وطن سب کے لیے، عربیت کے نام پر، انقلاب کے نام پر۔ اور حرام الفاظ میں سے: ملک الملوک یعنى شہنشاہ (بادشاہوں کے بادشاہ) کا کہنا ہے اور اسى طرح سے جو بھى الفاظ اس لفظ کى طرح ہوں ان کا بھى کہنا حرام ہے جیسے: کسى کے لئے قاضی القضاہ یعنی ججوں کے جج کہنا، کسی منافق یا کافر کو سید یا اس معنی کے الفاظ کہنا، چاہے عربی زبان میں یا کسی اور زبان میں ہو۔ لفظ(اگر) کا استعمال کرنا، جو کہ مقدر پر ناراضگی و افسوس، اسی طرح حسرت و ندامت کو بیان کرتا ہو، - اور شیطانی وسوسہ کا دروازہ کھولتا ہو۔ یہ کہنا: یا اللہ ! اگر تو چاہے تو میری مغفرت فرما۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے:معجم المناهي اللفظية: للشیخ بكر أبو زيد۔

منافق و فاسق لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ان سے دل لگانے یا ان کا دل بہلانے کے لیے:

بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جن کے دل میں ایمان مکمل نہیں بلکہ کمزور ہے۔وہ جان بوجھ کر بعض اہلِ نفاق اور فاسق لوگوں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں بلکہ بعض ایسے لوگوں کے ساتھ مصاحبت رکھتے ہیں جو کہ اللہ کی شریعت پر طعن ( طنز و تنقید) کرتے اور اس پر عیب لگاتے ہیں اور اس کے دین اور اولیاء اللہ کا مذاق اڑاتے ہیں۔ بے شک یہ کام حرام ہے جو کہ عقیدے کو داغ دار کرتا ہے، اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے: ’’اور جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیتوں کے بارے میں بیہودہ بکواس کررہے ہوں تو اُن سے الگ ہوجاؤ یہاں تک کہ وہ دوسری باتوں میں مصروف ہوجائیں اور اگر (یہ بات )شیطان تمھیں بھلادے تو یاد آنے پر ظالم لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو‘‘۔ (الانعام: 68) سو اس حالت میں ان لوگوں کے ساتھ بیٹھنا جائز نہیں اگر چہ وہ کتنے ہی قریبی رشتے دار ہوں،یا اچھے سلوک والے اور میٹھی زبان والےہوں،یہ فقط اس کے لیے روا ہے کہ جس نے انھیں بھلائی اور حق کی طرف دعوت دینی ہو یا ان کے جھوٹ و باطل کا جواب دینا یا ان کے فساد کا انکار کرنا ہو اگر ان کے باطل و فساد پر رضامندی اور خاموشی اختیار کرنی ہو تو پھر ہرگز جائز نہیں، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’یہ تمھارے آگے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم اُن سے خوش ہوجاؤ۔ اگر تم اُن سے خوش ہوجاؤ گےتو اللہ تو نافرمان لوگوں سے خوش نہیں ہوتا۔‘‘ التوبة/96

نماز میں اطمینان ترک کرنا:

چوری کے بڑے جرائم میں سے نماز میں چوری کرنا ہے، نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ’’سب سے بدترین چوری نماز میں چوری ہے،صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ!کوئی نماز میں کیسے چوری کرتا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: وہ نماز کے ارکان رکوع و سجود کو اچھی طرح اطمینان اور آہستگی سے ادا نہ کرے‘‘۔ مسندِ امام احمد (5/310) ،صحیح الجامع (997)۔ نماز میں اطمینان ترک کردينا، رکوع وسجدہ میں کمر کو برابر نہ رکھنا، رکوع سے سر اٹھانے کے بعد سہى ڈھنگ سے کھڑے نہ ہونا اور دونوں سجدوں کے درمیان درست طریقے سے نہ بیٹھنا، اس کا مشاہدہ اکثر نمازیوں میں برابر کیا جاتا ہے اور ان سب کا صدور ان سے ہونا مشہور ومعروف ہے،

اور شاید کوئی بھی ایسی مسجد نہیں پائی جاتی ہو جہاں نماز میں عدمِ اطمینان والے نہ پائے جاتے ہوں

حالاں کہ نماز میں سکون و وقار اور اطمینان اس کا ایک رکن ہے جس کے بغیر نماز صحیح نہیں ہوسکتی اور یہ بے اطمینانی بہت ہی خطرناک چیز ہے،

نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ’’کسی بھی آدمی کی نماز صحیح نہیں ہوتی جب تک کہ وہ رکوع اور سجود میں اپنی کمر کو سیدھا نہ کرے‘‘۔ سنن أبو داود 1/533، صحيح الجامع 7224.

بےشک یہ کام غلط ہے اور اسے کرنے والا ڈانٹ اور وعید وسزا کا مستحق ہے،

حضرت ابو عبد اللہ الأشعری فرماتے ہیں : ایک مرتبہ نبی ﷺ نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو نماز پڑھائی،پھر صحابہ کی ایک جماعت میں بیٹھ گئے تو ایک آدمی داخل ہوا اور نماز پڑھنے لگا،جلدی جلدی رکوع کیا اور سجدے میں کوے کی طرح ٹھونگے مارا تو نبی ﷺ نے فرمایا: ’’کیا تم اسے دیکھ رہے ہیں؟ جو شخص اس حالت میں مرجائے تو وہ ملتِ محمد ﷺ سے خارج کسی دوسرے طریقے پر مرا۔ نماز میں یوں ٹھونگے مارتا ہے جیسا کہ کوا خون میں چونچ مارتا ہے،بے شک جو شخص نماز کے سجدوں میں یوں ٹھونگے مارتا ہے اُس کی مثال اس بھوکے شخص کی طرح ہے جو کہ صرف ایک یا دو کھجوریں کھاتا ہے بھلا وہ اُن سے شکم سیر ہوسکتا ہے؟‘‘۔ صحیح ابن خزیمۃ1/332، نیز دیکھیے صفة صلاة النبي للألباني 131۔ حضرت زید بن وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کسی آدمی کو دیکھا جو رکوع اور سجود کو اچھی طرح ادا نہیں کررہا تھا تو فرمایا: ’’تو نے نماز نہیں پڑھی۔ اور اگر اسی حالت میں تو مرجائے تو جس فطرت پر اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو بنایا،اُس فطرت کے علاوہ پر مرے گا‘‘۔ صحیح البخاری مع:( فتح الباری 2/274 جس شخص نے نماز میں اطمینان چھوڑ رکھا ہو اسے جب اس کے حکم کا پتہ چلے تو اسے چاہیے کہ وہ اس وقت کی نماز کو دوبارہ ادا کرے اور جس نماز کا وقت گزر گیا اُس کی توبہ کرے اور اللہ سے معافی مانگے۔ سابقہ نمازیں دوبارہ ادا کرنا اس پر لازم نہیں ہے۔ جس کی دلیل [مسیٔ الصلوت والی اس] حدیث میں ہے: ’’واپس لوٹ جاؤ اور نماز پڑھو کیوں کہ تم نے نماز نہیں پڑھی‘‘۔

نماز کے دوران فضول کام یا بہت زیادہ حرکت کرنا:

یہ ایک ایسی بیماری و آفت ہے جس سے اکثر نمازی نہیں بچ پاتے ہیں؛

کیوں کہ وہ اللہ کا یہ حکم نہیں مانتے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اور اللہ کے آگے ادب سے کھڑے رہا کرو‘‘۔ البقرة/238

اور وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے اس ارشادِ گرامی کو بھی نہیں سمجھتے:

’’بے شک ایمان والے فلاح پاگئے۔جو نماز میں خشوع وخضوع اختیار کرتے ہیں‘‘۔ (المؤمنون: 1-2) جب نبی ﷺ سے سجدے کی حالت میں ریت برابر کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’نماز میں زمین پر ہاتھ نہ پھیریں اور اگر ضرور ہی کرنا ہے تو صرف ایک بار سامنے پڑی کنکریوں کو برابر کرلو‘‘۔ سنن أبو داود 1/581، صحيح الجامع 7452- اہلِ علم نے ذکر کیا ہے کہ بغیر کسی حاجت و ضرورت کے نماز میں مسلسل زیادہ حرکت کرنا نماز کو باطل کردیتا ہے، اب ان لوگوں کا کیا ہوگا جو نماز میں لغو حرکات اور کھیل کود کرتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہوکر کوئی اپنی گھڑی دیکھتا ہے، یا کپڑے ٹھیک کرتا ہے، یا اپنى اںگلى کو ناک میں ڈالتا ہے یا دائیں بائیں اور آسمان کی طرف دیکھتا ہے، اور وہ اس بات سے نہیں ڈرتا کہ کہیں اس کی نظر ہی نہ چھین لی جائے اور کہیں شیطان اس کی نماز سے کچھ چوری نہ کرلے۔

نماز میں جان بوجھ کر امام سے آگے بڑھنا:

جلد بازی انسانی فطرت میں شامل ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اور انسان جلد باز(پیدا ہوا) ہے‘‘۔ الإسراء/11 اور نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ’’سکون و سلیقے سے کام سر انجام دینا اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہوتی ہے‘‘۔ السنن الكبرى للبيهقي 10/104،السلسلة الصحیحة 1795. انسان با جماعت نماز پڑھ رہا ہو تو اکثر مشاہدہ کرتا ہے کہ اس کے دائیں بائیں نماز پڑھ رہے نمازیوں کى ایک تعداد رکوع و سجود اور تکبیرات انتقال حتی کہ نماز سے سلام پھیرنے میں امام سے سبقت کر جاتى ہے، بلکہ بسا اوقات وہ اپنے بارے میں بھى یہى چیزیں نوٹ کرتا ہے- اور یہ کام لوگوں کے نزدیک کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا حالاں کہ اس میں زبردست وعید نبی ﷺ نے اپنے اس ارشاد سے کیا ہے: ’’جو شخص امام سے پہلے سر اٹھالیتا ہے کیا اُسے اس بات کا ڈر نہیں کہ اللہ کہیں اس کے سر کو گدھے کا سر نہ بنا دے؟‘‘۔ صحیح مسلم 1/320-321.

اگر نمازی سے نماز کی طرف سکون اور وقار سے آنے کا مطالبہ ہے تو پھر نماز میں کیسا سکون و وقار مطلوب ہو گا؟

بعض لوگ امام سے سبقت لے جانے اور پیچھے رہ جانے کے مفہوم میں اختلاط کا شکار ہو جاتے ہیں- تو نھیں معلوم ہونا چاہیے کہ فقہاء کرام رحمہم اللہ علیھم نے اس سلسلے میں ایک اچھے ضابط کا ذکر کیا ہے وہ یہ کہ جب امام کی تکبیر ختم ہو جائے تب نمازیوں کو چاہیے کہ وہ حرکت شروع کریں۔ یعنی جب امام [اللہ اکبر] کے [ر] سے فارغ ہو تب نمازی قیام و رکوع اور سجدے کے لیے حرکت شروع کرے۔اس سے پہلے ہو اور نہ ہی اس کے بعد دیر سے ہو، اس طرح بات معاملہ منضبط رہتا ہے۔ نبی ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس بات کے بہت حریص تھے کہ وہ نبی اکرم ﷺ سے سبقت نہ کریں ،

چنانچہ ان میں سے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

’’وہ نبی ﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے تھے،جب نبی ﷺ رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو اس کے بعد میں نے کسی کو بھی سجدے کی طرف جاتے نہیں دیکھا جب تک کہ نبی ﷺ اپنی پیشانی زمین پر سجدے کے لیے نہ رکھ دیتے، پھر آپ ﷺ کے بعد سب نمازی سجدے کے لیے جھکتے‘‘۔

صحیح مسلم : 474۔ط. عبد الباقي.

جب نبی ﷺ بڑھاپے کی عمر کو پہنچے اور آپ ﷺ کی جسمانی حرکات میں آہستگی وڈھیل پیدا ہو گئی تو اپنے پیچھے والے نمازیوں کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا :

’’اے لوگو! رکوع وسجود میں جلدی کر کے مجھ سے پہلے مت جایا کرو کیوں کہ میں اب بھاری جسم والا ہو گیا ہوں‘‘۔

السنن الکبرى للبيهقي 2/93، وحسَّنه الالبانی في إرواء الغليل 2/ 290. امام کو چاہیے کہ جب نماز پڑھاۓ تو تکبیر کہنے میں سنت پر عمل کرے ۔ ایک حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ذکر کی ہے جس میں وہ بیان کرتے ہیں: ’’نبی ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر جب رکوع میں جاتے تو اللہ اکبر کہتے ، پھر سجدے کے لیے جھکتے تو اللہ اکبر کہتے ، پھر سر اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر سجدے کے لیے جھکتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر سر اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے،پھر ساری نماز میں اسی طرح کرتے حتی کہ نماز مکمل کرلیتے، اور دو رکعتوں کے بعد تشہد سے اٹھتے ہوئے بھی اللہ اکبر کہتے‘‘۔ صحیح البخاري: 756 ط. البغا.

اگر امام نے اپنی تکبیر کو اپنی حرکت کے ساتھ موافق کیا اور نمازی نے بھی سابقہ ذکر کردہ کیفیت پر عمل کیا تو اہل جماعت کا معاملہ ان کى نماز کے بارے میں درست ہوگا۔

پیاز، لہسن، یا کوئی بدبودار چیز کھا کر مسجد میں آنا :

اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے: ’’اے بنی آدم! ہر نماز کے وقت اپنے آپ کو مزین کیا کرو‘‘۔ الأعراف/31 حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں نبیﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ’’جس شخص نے لہسن یا پیاز کھایا تو وہ ہم سے علیحدہ رہے - یا فرمایا: وہ ہماری مسجدوں سے علیحدہ ودور رہے اور اپنے گھر میں بیٹھا رہے‘‘۔ صحیح البخاری مع:( فتح الباری 2/339)- صحیح مسلم کى ایک روایت یوں ہے: ’’جس شخص نے پیاز اور لہسن اور گندنا [ایک بدبودار قسم کی ترکاری] کھایا وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آۓ کیوں کہ جس چیز سے اولادِ آدم کو اذیت پہنچتی ہے اُس چیز سے فرشتوں کو بھی اذیت پہنچتی ہے‘‘۔ صحیح مسلم 1/395- حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرمایا اور کہا : اے لوگو!تم دو پودوں پیاز اور لہسن کو کھاتے ہو جو میری نظر میں خبیث[بدبودار] پودے ہیں، ’’میں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ ﷺ کسی شخص سے ان دونوں کی بو سونگھتے تو اس شخص کو حکم دیتے کہ وہ بقیع کی طرف نکل جائے، جو شخص انھیں کھاۓ تو وہ انھیں اچھی طرح پکا لے‘‘۔ صحیح مسلم 1/396-

اور اسی باب میں یہ بھی شامل ہے کہ بعض لوگ اپنے کام کاج کے بعد فوراً مسجد میں داخل ہو جاتے ہیں اور گندی بد بو ان کی بغلوں اور جرابوں سے پھوٹ رہی ہوتی ہے اور باعثِ اذیت ہوتی ہے۔

اور اس سے بھی برے سگریٹ نوشی کرنے والے ہیں جو کہ حرام سگریٹ نوشی کرنے کے بعد مسجد میں داخل ہو جاتے ہیں اور اللہ کے بندوں یعنى فرشتوں اور نمازیوں کو تکلیف واذیت پہنچاتے ہیں۔

زناکاری:

شریعتِ اسلامیہ کے عظیم مقاصد میں سے ایک مقصد عزت و آبرو اور نسل کی حفاظت بهی ہے اس لیے زنا کو حرام قرار دیا گیا ہے، اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے: ’’اور زنا کے پاس بهی نہ جانا کہ وہ بے حیائی اور بری راہ ہے‘‘۔ [الإسراء/32]- بلکہ شریعتِ اسلامیہ نے زنا تک پہنچانے والے سب ذریعے اور راستے بند کردئے ہیں. پردے اور نگاہیں نیچے رکھنے کا حکم دے کر اور اجنبی عورت کے ساتھ خلوت میں اکیلے بیٹھنے کو حرام کر کے زنا تک پہنچانے والے سب ذریعہ اور راستے بند کردیے ہیں۔ شادی شدہ زانی کو زبردست اور بھیانک سزادی جائے گی، اور وہ ہے اسے اس وقت تک سنگسار کرنا جب تک کہ وہ مر نہیں جاتا تا کہ وہ اپنى کرتوت کی سزا کا مزہ چکھ لے، اور اس کے جسم کے ہر حصے کو تکلیف ہو جیسا کہ اُس نے حرام کاری میں اپنے سارے جسم کو لطف اندوز کیا تها. اور وہ زانی جس نے ابھی تک صحیح نکاح کے ذریعے جماع نہیں کیا ہے تو اُسے شرعی حدود میں سب سے زیادہ جو کوڑے ہوتے ہیں یعنی سو(100) کوڑے مارے جاتے ہیں، نیز اس کے ساتھ ہى وہ فضیحت ورسوائى بھى اس کے حصے میں آتى ہے جو مومنین کے ایک گروہ کے اس کى سزا پر موجود رہنے سے حاصل ہوتى ہے- پھر وطن اور مقام جرم سے اس کو ایک سال تک جلاوطن کردیا جانا بھى اس کے لئے باعث رسوائى ہوتا ہے۔ زانی اور زانیہ کا عذاب برزخ میں اس طرح ہوگا کہ وہ لوگ تندور میں ہونگے جو کہ اوپر سے تنگ اور نیچے سے کهلا ہوگا اور اس میں آگ جل رہی ہوگی جہاں وہ لوگ ننگے ہونگے، جب آگ جلائی جائے گی تو وہ چیختے چلاتے اوپر پہهنچیں گے حتی کہ وہ باہر نکلنے کو ہو نگے، اور جب آگ بجهادی جائے گی تو وہ واپس لوٹ جائیں گے۔یہ اسی طرح قیامت تک ان کے ساتھ کیا جائے گا۔ اگر کوئی عمر رسیدہ شخص جو قبر کے کنارے پر پہنچ چکا ہو اور اللہ کی طرف سے اسے لمبی عمر بھی ملی لیکن اس بڑھاپے میں بھی وہ زنا کاری سے باز نہ رہے تو اس کا معاملہ نہایت ہی بدترین اور قابلِ مذمت ہوجاتا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ’’تین ایسے لوگ ہیں جن سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نہ تو بات کرے گا نہ انھیں پاک کرے گا اور نہ ہی ان کی طرف نظرِ کرم سے دیکھے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے: بوڑھا زانی،جھوٹا بادشاہ اور مغرور و متکبر فقیر‘‘۔ صحیح مسلم 1/102-103- سب سے بُری کمائیوں میں سے فاحشہ عورت کا وہ معاوضہ ہےجو وہ زنا کے بدلے میں لیتی ہے۔ حدیث میں ہے:’’زانیہ عورت جو اپنے شرمگاہ کی کمائی کھاتی ہے،جب آدھی رات کو دعا قبول ہونے کے لیے آسمان کے دروازے کھلتے ہیں تو قبولِ دعا کے شرف سے وہ محروم کردی جاتی ہے‘‘۔

صحيح الجامع 2971-

تنگ دستی اور غربت کوئی ایسا شرعی عذر نہیں کہ اسے بنیاد بناکر اللہ کی حدود کو توڑا جائے۔ پرانے زمانے میں کسی نے سچ ہی کہا تھا: ’’آزاد عورت بھوکی تو رہ سکتی ہے مگر اپنے سینے (پستانوں کی کمائی)نہیں کھاتی، چہ جائے کہ وہ شرمگاہ کی کمائی کھائے‘‘۔ ہمارے زمانے میں تو بےحیائی کے سب دروازے کھلے ہیں، اور شیطان نے اپنے مکر و فریب اور اپنے چیلوں تابعداروں کے ذریعے زنا کے راستے آسان کردیے ہیں اور عاصی اور فاجر لوگ شیطان کے پیچھے چل پڑے ہیں نتیجۃ عورتوں کا مردوں کے سامنے آراستہ ہوکر بے پردہ نکلنا اور اکیلے بغیر محرم کے سفر کرنا عام ہوگیا ہے۔ حرام اور بری نظر سے دیکھنا اور مرد وزن کا میل جول بہت ہوگیا ہے، گندے رسالے اور فحش فلمیں رائج ہوگئیں، گناہوں میں لت پت ملکوں کی طرف سفر زیادہ ہوگیا، جسم فروشی کی تجارت کے بازار گرم ہوگئے، عزت وآبرو کى پامالی بہت زیادہ ہوگئى، اور حرام کے بچوں کی تعداد بڑھ گئی نیز جنین (پیٹ کے بچے) کو ساقط کرنے اور ابارشن کروانے کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔

یا اللہ! ہم تیری رحمت و لطف،ستر و پردہ پوشی اور پناہ کا سوال کرتے ہیں کہ ہمیں ان فواحش و بے حیائیوں سے بچا،

اور پاکدامنی و دل کی پاکیزگی اور شرمگاہ کی حفاظت کا سوال کرتے ہیں، اور ہمارے اور حرام کاموں کے درمیان رکاوٹیں پیدا فرمادے۔

لواطت یا اغلام بازی:

قومِ لوط علیہ السلام کا جرم یہ تھا کہ وہ لڑکوں سے اپنی جنسی خواہش پوری کرتے تھے، اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے: ’’اور لوط (کو یاد کرو) جب انھوں نے اپنی قوم سے کہا تم عجب بےحیائی کے مرتکب ہوتے ہو تم سے پہلے اہلِ عالم میں سے کسی نے ایسا کام نہیں کیا۔ تم کیوں (لذت کے ارادے سے) لونڈوں کی طرف مائل ہو تے اور راستے بند کرتے ہو اور اپنی مجلسوں میں ناپسندیدہ کام کرتے ہو‘‘۔ (العنکبوت: 29) اس جرم کی قباحت اور خطرناکی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو چار قسم کی سزائیں دیں جو کہ اس قوم کے علاوہ کسی کے لیے اکھٹی نہیں دی گئیں اور ان کى تفصیل یہ ہے کہ: ان کی آنکھوں کو بے نور کردیا۔ ان کى بستی کے اوپر کا حصہ نیچے کردیا یعنی اسے الٹادیا۔ ان پر تہہ بہ تہہ پتھروں کی بارش کی۔ ان پر چیخ کا عذاب نازل کر کے انھیں غارت کردیا۔ شریعتِ اسلامیہ مین -راجح قول کے مطابق- اس فعل کے کرنے اور کروانے والے کی سزا تلوار سے قتل کرنا ہے۔بشرط یہ کہ یہ کام اختیاری اور رضاء ورغبت سے ہو، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی مرفوع حدیث میں ارشادِ نبویﷺ ہے: ’’جسے تم لوگ دیکھو کہ وہ قومِ لوط والا فعل کر رہا ہے تو فاعل[کرنے والے] اور مفعول[کروانے والے] دونوں کو قتل کردو‘‘۔ مسندِ امام احمد (1/300) ،صحیح الجامع (6565)۔

ہمارے زمانے میں یہ جو طاعون کى وبائیں اور مختلف قسموں کی بیماریاں ظاہر ہوئی ہیں جو پہلے لوگوں میں نہیں تھیں یہ سب فحش اعمال کی وجہ سے ہیں جیسے کہ ایڈز جیسی قاتل بیماری، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس بدکاری کی سخت ترین سزا کی تعیین میں اللہ کی کس قدر حکمتیں پوشیدہ ہیں۔

بغیر شرعی عذر کے بیوی کا ہمبستری سے انکار کرنا:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’’اگر شوہر اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ انکار کردے جس سے وہ اُس پر ناراض ہو کر رات گزاردے تو صبح ہونے تک فرشتے اُس عورت پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں‘‘۔ صحیح البخاری مع:( فتح الباری 6/314)- بہت سی ایسی عورتیں بھی ہوتی ہیں کہ اگر ان کے اور ان کے شوہر کے درمیان کوئی اختلاف ہو جائے تو وہ اپنے شوہر کو -اپنے گمکان میں- یہ سزا دیتی ہیں کہ اپنے شوہر کو ہمبستری سے روک دیتى ہیں۔ اس سے بہت خرابی ونقصان ہوسکتا ہے مثلاً شوہر حرام کاری میں مبتلا ہوسکتا ہے اور یہ امور اس بیوی پر بھی الٹ سکتے ہیں کہ وہ شوہر دوسرى بیوى لانے کے بارے میں سنجیدہ ہو سکتا ہے۔۔ بیوی کو چاہیے کہ اگر اس کا شوہر اسے طلب کرے تو وہ فوراً اس کی بات مانے اور نبی ﷺ کے اس ارشاد کو مدِنظر رکھے جس میں آپ ﷺ نے فرمایا ہے: ’’اگر کسی آدمی نے اپنی بیوی کو اپنے بستر پر طلب کیا تو وہ اُس کی بات مانے،چاہے وہ اونٹ پر بندھے ہوئے پالان پر ہو‘‘۔ دیکھیے زوائد البزار 2/181،.صحيح الجامع 547-

حدیث میں آئے لفظ (قتب) کا معنى ہے:اونٹ پر بیٹھنے کے لیے باندھا جانے والا پالان۔

اور شوہر کو چاہیےکہ وہ اپنی بیوی کا خیال رکھے خصوصاََ اگر وہ بیمار یا حاملہ یا کسی تکلیف و پریشانی میں ہو، تاکہ ان میں سلوک و اتفاق اور الفت و محبت برقرار رہے اور آپس میں اختلاف نہ ہونے پائے۔

بغیر شرعی عذر کے عورت کا اپنے شوہر سے طلاق مانگنا:

بعض عورتیں اپنے شوہر سے ذرا ذرا سے جھگڑے پر طلاق طلب کرنے میں جلد بازی کرتی ہیں، خصوصا اگر شوہر اس کے لیے پیسوں کی طلب پوری نہ کرے، یا پھر وہ اپنے کچھ رشتہ داروں یا بعض دوسروں کا خانہ خراب کرنے والی پڑوسیوں یا سہیلیوں کی طرف سے بہکاوے میں آکر ایسا کرتی ہیں، اور کبھی اپنے شوہر کے مقابلہ میں آکر اسے غصہ دلانے والی اور اعصاب کو برانگیختہ کرنے والے باتیں کرتی ہیں

مثلاً یہ کہ: اگر تم واقعی مرد ہو تو مجھے طلاق دے دو

اور جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ طلاق پر بہت سے عظیم مفاسد مرتب ہوتے ہیں جیسے خاندان کا بکھرجانا،اور بچوں کا آوارہ وضائع ہو جانا وغیرہ، اور پھر طلاق کے بعد وہ عورت اس بات پر نادم ہوتی ہے مگر تب شرمندگی کسی کام نہیں آتی، ان ہی اسباب کی بناء پر شریعت نے بلا عذر طلاق طلب کرنے کو حرام قرار دیا ہے جس سے شریعت کی حکمت ظاہر ہوتی ہے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کی مرفوع حدیث میں ارشادِ نبوی ﷺ ہے: ’’جس عورت نے بغیر کسی عذر و سبب کے اپنے شوہر سے طلاق مانگی تو اس پر جنت کی خوشبو تک حرام ہے‘‘۔ مسندِ امام احمد 5/277، صحیح الجامع میں(2703 )- حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ایک مرفوع حدیث میں ارشادِ نبوی ﷺ ہے: ’’بے شک خلع طلب کرنے والی عورتیں اور اپنے خاوندوں سے پیچھا چھڑانے والی عورتیں منافق ہیں‘‘۔ الطبراني في الكبير 17/339، صحيح الجامع 1934- لیکن اگر کوئی شرعی عذر ہو:جیسے کہ شوہر تارکِ نماز ہو، یا منشیات کا عادی ہو، یا شوہر اپنی بیوی کو کسی حرام کام پر مجبور کرتا ہو، یا سزائیں دے کر اس پر ظلم وستم کرتاہے، یا پھر مثال کے طور پر اسے کسی شرعی حق سے محروم کرتا ہے، اور اُسے نصیحت کرنے کا بھی کوئی فائدہ نہ ہو،اور اصلاح کی تمام کوششیں بھی نا کام ہو جائیں تو اس وقت عورت اگر طلاق طلب کرتی ہے تاکہ وہ اپنے آپ اور اپنے دین کو بچا سکے تو اس میں کوئی گناہ وحرج نہیں۔

ظہار:

زمانۂ جاہلیت میں رواج پژیر الفاظ جو اس امت میں پھیل چکے ہیں ان ہی میں سے: ظہار میں واقع ہونا ہے- کہ شوہر اپنی بیوی کو کہے :تمھاری پیٹھ میرے لیے میری ماں کی پیٹھ جیسی ہے، یا تم میرے لیے میری بہن کی طرح حرام ہو، اور اسی طرح کے دیگر قبیح الفاظ جنھیں شریعتِ اسلامیہ نے قبیح، معیوب اور ناپسندیدہ سمجھا ہے کیوں کہ ان الفاظ سے عورت پر ظلم ہوتا ہے اور اللہ تعالی نے اس کی مذمت اپنے اس ارشاد سے یوں کی ہے: ’’جو لوگ تم میں سے اپنی عورتوں کو ماں کہہ دیتے ہیں وہ ان کی مائیں نہیں ہوجاتیں ان کی مائیں تو وہی ہیں جن کے بطن سے وہ پیدا ہوئے بے شک وہ نا معقول اور جھوٹی بات کہتے ہیں اور اللہ بڑا معاف کرنے والا (اور) بخشنے والا ہے‘‘۔ سورۃ المجادلة/2 شریعتِ اسلامیہ نے اس کا کفارہ غلطی سے قتل کردینے اور رمضان کے دن میں جماع کرلینے کے کفارے جیسا سخت مقرر کیا ہے، اور ظہار کرنے والے کے لیے کفارہ ادا کرنے سے پہلے اپنی بیوی کے قریب جانا جائز نہیں چنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’اور جو لوگ اپنی بیویوں کو ماں کہہ بیٹھیں پھر اپنے قول سے رجوع کرلیں تو(ان کو) ہمبستر ہونے سے پہلے ایک غلام آزاد کرنا (ضروری) ہے (مومنو!) اس (حکم ) سے تمھیں نصیحت کی جاتی ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے خبردار ہے۔ جس کو غلام نہ ملے وہ مجامعت سے پہلے متواتر دو مہینے کے روزے رکھے، جس کو اس کا بھی مقدورنہ ہو(اسے) ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا (چاہیے) یہ (حکم) اس لیے (ہے) کہ تم اللہ اور اس کے رسول کے فرماں بردار ہو جاؤ اور یہ اللہ کی حدیں ہیں اور نہ ماننے والوں کے لیے درد دینے والا عذاب ہے‘‘۔ سورۃ المجادلة/3-4

حیض کی حالت میں بیوی سے جماع کرنا:

اللہ تعالی کا ارشادِ گرامی ہے: ”اور تم سے حیض کے بارے میں دریافت کرتے ہیں، کہہ دو کہ وه تو نجاست ہے، سوا ایامِ حیض میں عورتوں سے کنارہ کش رہو اور جب تک وه پاک نہ ہوجائیں ان سے مقاربت نہ کرو، ہاں جب پاک ہوجائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے اللہ نے تمہیں اجازت دى ہے، اللہ توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے‘‘۔ البقرة/222 سو جب تک عورت پاک ہوکر غسل نہیں کرلیتی تب تک شوہر کے لیے جائز نہیں کہ وہ اُس سے جماع کرے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’ہاں جب پاک ہوجائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے اللہ نے تمہیں اجازت دى ہے‘‘۔ البقرة/222 اور اس گناہ کی قباحت کا نبیﷺ کے اس ارشاد سے پتا چلتا ہے: ’’جس شخص نے حائضہ سے جماع کیا یا عورت کی دبر کا استعمال کیا یا کاہن کے پاس گیا تو اُس شخص نے نبی ﷺ پر جو دین اُترا اُس سے کفر کیا‘‘۔ الترمذي عن أبي هريرة 1/243، صحيح الجامع 5918. اور جو شخص لا علمی میں غلطی سے یہ کام کر بیٹھے اُس پر کوئی مؤاخذہ نہیں، اور جو شخص جان بوجھ کر کرے تو اس پر اُن بعض اہلِ علم کے اقوال کی رو سے کفارہ ہے جنہوں نے اس بابت کفارے کی حدیث کو صحیح کہا ہے اور وہ ہے دینار یا نصف دینار، اور بعض نے کہا کہ وہ ان دونوں مقدار میں اختیار رکھتا ہے، اور بعض نے کہا : کہ اگر وہ شروع حیض میں جماع کرے تو اُس پر ایک دینار ہے، اور اگر حیض کے آخر میں ہو یا حیض کا غسل کرنے سے پہلے ہو تو اُس پر نصف دینار ہے، اور دینار موجودہ حساب سے 254 گرام سونے کے برابر ہے سونے کى اس مقدار کو صدقہ کرے گا یا نقدى اوراق کى شکل میں اس مقدار کی قیمت صدقہ کرے گا۔

عورت کی دبر کا استعمال کرنا:

بعض بیمار ذہنیت، ضعیف وکمزور ایمان اور منحرف قسم کے لوگ اپنی بیوی کی دبر کو استعمال کرنے (غیر فطری جماع) سے باز نہیں آتے جبکہ یہ فعل کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ اور نبیٔ اکرم ﷺ نے اس فعل کا ارتکاب کرنے والے پر لعنت بھیجی ہے، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوع حدیث میں ارشادِ نبوی ہے: ’’عورت کی دبر کا استعمال کرنے والا ملعون ہے‘‘۔ مسندِ امام احمد (2/479) ،صحیح الجامع (5865)۔ بلکہ نبی ﷺ نے تو یہاں تک ارشاد فرما یا ہے: ’’جس شخص نے حائضہ سے جماع کیا یا عورت کی دبر کا استعمال کیا یا کاہن کے پاس گیا تو اُس شخص نے محمد -ﷺ- پر جو دین اُترا اُس سے کفر کیا‘‘۔

الترمذي عن أبي هريرة بر1243، صحيح الجامع 5918-

بہت سی عورتیں تو اچھی فطرت کی مالک وپاکباز ہوتی ہیں جو اس کام کا انکار کردیتی ہیں لیکن بعض شوہر فرماں برداری نہ کرنے پر طلاق کی دھمکی دے دیتے ہیں، اور بعض شوہر جن کی بیویاں اہلِ علم سے سوال کرنے سے شرماتی ہیں وہ انھیں دھوکا دے کر یہ باور کروادیتے ہیں کہ یہ کام حلال وجائز ہے اور اللہ کے اس ارشاد کو بطورِ دلیل پیش کردیتے ہیں: ’’تمھاری عورتیں تمھاری کھیتی ہیں تو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو آؤ‘‘۔ سورۃ البقرة/223 اور یہ بات معروف ہے کہ حدیث،قرآن کو واضح کرتی ہے اور حدیث میں یہ ہے کہ نبی ﷺ نے شوہر کو یہ اجازت دی ہے کہ وہ جس طرف سے چاہے جماع کرے آگے سے یا پیچھے سے بشرط یہ کہ وہ بچے کی ولادت والی جگہ میں ہو اور یہ بات کسی سے مخفی نہیں کہ دبر ولادت کی جگہ نہیں۔

اس جرم وگناہ کے کئی اسباب ہیں جن میں سے ہی

ازدواجی زندگی میں صاف ستھرے داخل ہونے سے پہلے حرام و شاذ قسم کے جنسی تجربات

یا فحش فلموں کے مناظر سے بھر پور دماغ والا ہونا ہے اور پھر اللہ کے سامنے سچی توبہ کا نہ ہونا ہے، اور جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ یہ فعلِ لواط حرام ہے اگر چہ دونوں طرف سے رضامندی سے ہی کیوں نہ ہو کیوں کہ کسی کا کسی فعلِ حرام پر راضی ہوجانا اسے حلال نہیں کردیتا۔

بیویوں میں وعدل وانصاف نہ کرنا:

اللہ تعالی نے اپنی مبارک کتاب میں ہمیں وصیت کی ہے کہ بیویوں میں انصاف کریں، اللہ تعالٰی کا ارشادِ گرامی ہے: ’’اور تم خواہ کتنا ہی چاہو عورتوں میں ہرگز برابری نہیں کر سکو گے تو ایسا بھی نہ کرنا کہ ایک ہی کی طرف ڈھل جاؤ اور دوسری کو(ایسی حالت میں) چھوڑ دو کہ گویا درمیان میں لٹک رہی ہے اور اگر آپس میں درستی موافقت کرلو اور[ظلم وزیادتی سے] پرہیزگاری کرو تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے‘‘۔ سورۃ النساء/129 سو شریعت میں عدل وانصاف مطلوب ہے کہ وہ رات گزارنے میں عدل کرے اور ہر بیوى کا حق اداکرے،خرچہ میں اور کپڑوں میں۔ اور عدل سے دلی محبت میں عدل مقصود نہیں کیوں کہ یہ انسان کی ملکیت واختیار میں نہیں اور بعض لوگ ایسے ہیں کہ اگر ان کے پاس ایک سے زیادہ بیویاں ہوجائیں تو وہ کسی ایک کی طرف مائل ہو کر دوسری کو نظر انداز کردیتے ہیں، کسی ایک کے ساتھ زیادہ رہتے ہیں، یا اُس پر خرچہ زیادہ کرتا ہیں اور دوسری کو نظر انداز کردیتے ہیں- جب کہ یہ حرام ہے اور قیامت کے دن وہ اس حال میں ہوگا جس کا ذکر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروى اس حدیث میں نبیﷺ نے بیان فرمایا ہے: ”جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور وہ ایک کی طرف مائل ہو [یعنی دوسری کو نظر انداز کیے رکھے] تو قیامت کے دن وہ اس طرح آئے گا کہ اس کے جسم کا ایک حصہ ساقط وفالج زدہ ہوگا‘‘۔ سنن أبو داود 2/601، صحيح الجامع 6491-

کسی نامحرم عورت کے ساتھ خلوت میں هونا:

شیطان اس بات کی کوشش کرتا ہے کہ لوگوں کو فتنہ میں ڈالے اور انھیں حرام کاری میں مبتلا کرے، اسی لیے اللہ تعالی نے ہمیں اس سے خبردار کیا اور محتاط رہنے کا حکم دیا ہے چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: ’’اے مومنو! شیطان کے قدموں پر نہ چلنا اور جو شخص شیطان کے قدموں پر چلے گاتو شیطان تو بے حیائی[کی باتیں]اور بُرے کام ہی بتاۓ گا‘‘۔ سورۃ النور/21 شیطان آدم کی اولاد کے جسم میں خون کی طرح دوڈ رہا ہے، نامحرم عورت کے ساتھ اکیلے بیٹھنا انسان کو فحاشی اور بے حیائی میں مبتلا کرنے کا شیطان کا ایک راستہ ہے، اس لیے شریعتِ اسلامیہ نے اس کا راستہ ہی بند کردیا ہے جیسا کہ نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ’’کوئی شخص جب کسی نامحرم عورت کے ساتھ خلوت میں بیٹھتا ہے تو اُن کا تیسرا شیطان ہوتا ہے‘‘۔ سنن الترمذي 3/474، نیز دیکھیے مشكاة المصابيح 3118-. اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’آج کے بعد کوئی آدمی خاوند کی عدمِ موجودگی میں کسی عورت کے پاس نہ جائے جب تک کہ اس کے ساتھ ایک یادو آدمی نہ ہوں‘‘۔ صحیح مسلم:4/1711- کسی آدمی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی غیر محرم عورت جیسے بھابی ہو یا خادمہ[ملازمہ] کے ساتھ گھر، کمرے یا گاڑی میں اکیلے بیٹھے، یہى حکم ڈاکٹر اور بیمار عورت کے بارے میں بھی ہے، اور بہت سے لوگ اسے معمولی سمجھتے ہیں، یا تو اپنے آپ پر بھروسہ یا دوسوں پر حد سے زیادہ خیر کا یقین ہوتا ہے جب کہ اس سے فحاشی وبے حیائی پیدا ہوتی ہے یا اس کی شروعات میں مبتلا ہونا یقینی ہوتا ہے اور نسب میں ملاوٹ یا حرام کی اولاد کى مصیبت مزید بڑھ جاتی ہے۔

کسی غیر محرم عورت سے مصافحہ کرنا :

بعض معاشروں اور لوگوں میں بعض غلط عادات ورواج حد سے تجاوز کر چکے ہیں۔ ان کے سامنے اللہ کے حکم کی بات کریں یا حجت قائم کریں اور دلیل بیان کریں تو قدامت پرستی, الجھاؤ پیدا کرنے اور قطع رحمی کی تہمت لگاتے ہیں اور نیک نیتی میں شک کرنے لگتے ہیں۔ آج کل چچا کی بیٹی، پھوپھی کی بیٹی، ماموں کی بیٹی، خالہ کی بیٹی، بھابی، چچا کی بیوی اور ماموں کی بیوی سے مصافحہ ہمارے معاشروں میں پانی پینے سے زیادہ آسان ہے، اور اگر وہ اس کام کو بصیرت کی نظر سے دیکھیں کہ یہ بات شرعی طور پر خطرناک ہے تو وہ ایسا کبھی نہ کریں، نبیﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ’’کسی کو اس کے سر میں لوہے کی سوئی چبھونا اس سے بہتر ہو گا کہ وہ کسی ایسی عورت کو چھوۓ جو اس پر حلال نہیں‘‘۔ الطبراني 20/212، صحيح الجامع 4921- اور بے شک غیر محرم عورت کو چھونا ہاتھ کا زنا ہے جیسا کہ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’’آنکھیں زنا کرتی ہیں، ہاتھ زنا کرتے ہیں, پاؤں زنا کرتے ہیں اور فرج[شرمگاہ] زنا کرتی ہے‘‘۔ مسندِ امام احمد (1/412) ،صحیح الجامع (4126)۔ کیا نبیﷺ کے دل سے زیادہ پاک صاف بھی کسی کا دل ہو سکتا ہے؟ اس کے باوجود نبی ﷺ نے فرمایا ہے:

” میں غیر محرم عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا“۔

مسندِ امام احمد (6/357) ،صحیح الجامع (2509)۔ اور فرمایا: میں غیر محرم عورتوں کے ہاتھوں کو نہیں چھوتا“۔ االمعجم الکبیر للطرانی 24/342، صحيح الجامع 7054- نیز دیکھیے الإصابة 4/354 ط. دار الكتاب العربي- حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ”اللہ کی قسم االلہ کے رسول ﷺ نے کبھی کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں چھوا حتٰی کہ آپﷺ عورتوں سے بیعت بھی صرف زبانی ہی لیا کرتے تھے‘‘۔ صحیح مسلم:3/1489- کیا ان لوگوں کو اللہ تعالی کا تقویٰ اور خوف نہیں کھانا چاہیے جو اپنی بیویوں کو اگر وہ شوہر کے بھائی سے مصافحہ نہ کریں تو طلاق تک کی دھمکی دے دیتے ہیں، یہ بھی جاننا چاہیے کہ کپڑے کے پیچھے سے یا بلا حائل مصافحہ کرنا کوئی دوسری بات نہیں بلکہ یہ دونوں حالات میں ہی حرام ہے۔

عورت کا گھر سے نکلتے وقت خوشبو لگانا اور اس حالت میں مردوں کے پاس سے گزرنا:

یہ جرم ہمارے زمانے میں بہت پھیل گیا ہے نبیﷺ کے خبردار کرنے کے باوجود اپنے اس فرمان کے ذریعے: ’’کسی بھی عورت نے اگر خوشبو یا عطر لگایا پھر وہ مردوں کی جماعت کے پاس سے گزری تاکہ وہ لوگ اس کی خوشبو سونگھیں تو وہ زانیہ و بدکار ہے‘‘۔ مسندِ امام احمد(4/418) نیز دیکھیےصحیح الجامع (105)۔ بعض عورتیں غفلت کی بناء پر خوشبو لگا کر ڈرائیور کے ساتھ باہر جانے،یا بازار میں نکلنے یا اسکول کے گیٹ کیپر کے ساتھ کھڑے ہونے کو معمولی سمجھتی ہیں، جب کہ شریعتِ اسلامیہ نے خوشبو لگانے والی عورت کے لیے اتنی سختی کی ہے اور کہا ہے کہ اگر وہ باہر جانا چاہے تو غسل جنابت جیسا غسل کرے،اگر چہ وہ مسجد میں ہی کیوں نہ جارہی ہو، نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ’’کسی بھی عورت نے عطر یا خوشبو لگائی پھر وہ مسجد کی طرف گئی تاکہ اس کی خوشبو دوسروں تک جائے تو اس کی نماز قبول نہ ہوگی جب تک کہ وہ غسلِ جنابت جیسا مکمل غسل نہ کرے‘‘۔ مسندِ امام احمد(2/444) نیز دیکھیےصحیح الجامع (2703)۔ اللہ تعالیٰ سے ہی ہم فریاد کناں ہیں کہ آج کل شادیوں اور دعوتوں میں شرکت کے لیے بکثرت عورتیں گھر سے نکلنے سے پہلے بخور کرتی اور عُود کے عطر لگاتی ہیں، اور ان عطریات کا استعمال جن کی خوشبو بہت تیز ہوتی ہے بازاروں میں، ذرائع مواصلات (یعنی بسوں ویگنوں وغیرہ میں) اور اجتماعی میل جول کے مقامات میں حتیٰ کے رمضان کی راتوں کو مسجدوں میں آتے ہوئے بھی, عام ہو چکا ہے، جب کہ شریعت نے یہ حکم دیا ہے کہ عورتوں کی خوشبو اس طرح کی ہو جس کا رنگ نظر آئے اور مہک چھپ جائے، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی ناراضگی سے بچائے، اور نیک صالح مردوں اور عورتوں کا احمق مردوں اور عورتوں کے افعال کی وجہ سے مؤاخذہ نہ کرے، اور ہم سب کو سیدھے راستے کی طرف ہدایت دے [آمین]۔

بغیر محرم کے عورتوں کا سفر کرنا:

نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے کسی محرم کو ساتھ لیے بغیر ایک دن اور ایک رات کی مسافت کا سفر طے کرے۔“ صحیح مسلم 2/977- اور عورت کا بغیر محرم کے سفر کرنا فاسقوں کو بھڑکاتا ہے اور وہ اسکی عزت پر ہاتھ ڈالنے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں، اور وہ کمزور صنف ہے لہذا کبھى بہکاوے میں آسکتی ہے اور کم سے کم یہ بات تو پیش آتى ہى ہے کہ وہ اپنى عزت وشرف کے بارے میں اذیت کا شکار ہوتى ہے- اس کا جہاز میں سفر کرنا بھی اسی طرح ہے چاہے اسے محرم ہی چھوڑنے آیا ہو اور آگے محرم لینے آیا ہو،کیوں کہ نہیں معلوم اس کے ساتھ والی کرسی پر کون بیٹھے گا ؟

اور اگر کوئی خرابی ہوجانے کی وجہ سے جہاز کو کسی دوسرے ایئر پورٹ پر اترنا پڑجائے،یا کوئی تاخیر ہوجائے اور ٹائم بدل جائے، تو اب پھر اکیلی عورت کا کیا حال ہوگا ؟

اور بہت سے واقعات اور کہانیاں موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ بلا محرم سفر کرنے میں کتنے نقصانات ہیں؟

محرم میں چار شرائط پائی جانی چاہیے اور وہ یہ ہیں: (1) وہ مسلمان ہو (2 ) بالغ ہو (3) عقل مند ہو (4) مرد ہو- حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس عورت کا اللہ تعالی اور قیامت کے دن پر ایمان ہو، اس کے لئے کوئی سفر کرنا حلال نہیں، خواہ تین دن کا ہو، یا تین دن سے زائد کا، الا یہ کہ اس کے ساتھ اس کا باپ ہو، یابیٹا ہو، ہاشوہر ہو، یابھائی ہو، یا اس کے ساتھ کوئی بھی ایسا شخص ہو جس سے اس کا نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہو‘‘۔ صحیح مسلم 2/977-

کسی غیر محرم عورت کی طرف جان بوجھ کر دیکھنا:

اللہ تعالٰی کا ارشادِ گرامی ہے: ’’(اے نبی!) مومن مردوں سے کہ دو کہ اپنی نظریں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کیا کریں۔ یہ ان کے لیے بڑی پاکیزگی کی بات ہے اور جو کام یہ لوگ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سے خبردار ہے‘‘۔ (النور: 30) اور نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ’’آنکھ کا زنا ہے دیکھنا‘‘ یعنی جس کو دیکھنا اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔ صحیح البخاری مع فتح الباری 11/26- البتہ شرعی حاجت و ضرورت سے دیکھنا مذکورہ حکم سے مستثنیٰ ہے جیسے کہ منگیتر کو دیکھنا اور ڈاکٹر کا بیمار عورت کو بغرضِ علاج دیکھنا۔ اسی طرح عورت کا فتنہ کی نگاہ سے کسی غیر محرم مرد کی طرف دیکھنا بھی حرام ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "اور(اے نبی!) مومن عورتوں سے بھی کہہ دو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کیا کریں"۔ اسی طرح بے داڑھی کے نو عمر و نوجوان اور حسین و خوبرو لڑکے کو شہوت کی نگاہ سے دیکھنا بھی حرام ہے، ایسے ہی کسى مرد کا دوسرے مرد کى شرمگاہ اور کسى عورت کا دوسری عورت کی شرمگاہ کو دیکھنا بھی حرام ہے، اور جس بھى شرمگاہ کا دیکھنا جائز نہ ہو تو اسے چھونا چاہے یہ آڑ کے پیچھے سے ہو جائز نہیں،

اور بعض لوگوں کے ساتھ شیطان کے کھلواڑ میں سے ہے کہ

وہ ان تصویروں کو دیکھتے ہیں جو کہ اخباروں،رسالوں، میگزینوں،ڈائجسٹوں میں شائع ہوتی ہیں اور وہ بطور حجت کہتے ہیں کہ یہ تو محض تصویریں ہیں کونسے حقیقی مرد یا عورتیں ہیں۔اسی طرح ہی ان کا فحش و عریاں فلمیں دیکھنا بھی ہے کہ یہ حقیقت نہیں محض تصویریں ہوتی ہے- جب کہ ان سے جو گندگی و بے حیائی پھیلتی اور شہوت بھڑک اٹھتی ہے وہ اچھی طرح واضح ہے کسی سے پوشیدہ نہیں۔

دیوثی و بے غیرتی:

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ایک مرفوع حدیث میں نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: "تین ایسے لوگ ہیں جن پر اللہ نے جنت حرام قرار دی ہے:شراب کا نشہ کرنے والا,ماں باپ کا نافرمان اور دیوث جو کہ اپنے گھر والوں میں خباثت و فحاشی کو برداشت و گوارا کرتا ہے"۔ مسندِ امام احمد (2/69) ،صحیح الجامع 3047۔

ہمارے اس زمانے میں بے غیرتی کی بعض صورتیں:

-گھر میں لڑکی یا عورت سے چشم پوشى کرنا دراں حالکہ وہ کسی اجنبی و غیر محرم مرد کے ساتھ عشقیہ اور پیار ومحبت کى باتیں کررہی ہوتى ہے- -اپنے گھر کی کسی بھی عورت کے کسی اجنبی آدمی کے ساتھ بیٹھنے پر راضی ہونا- -گھر کی کسی عورت کو کسی اجنبی ڈرائیور وغیرہ کے ساتھ گاڑى میں بیٹھنے دینا-

-بغیر شرعی پردے کے اپنى عورتوں اور لڑکیوں کو باہر جانے کی اجازت دینا

اور صورت حال یہ ہوتی ہے کہ ہر آنے جانے والا ان کو دیکھ کر اپنا دل بہلاتا ہے-، -ایسی فلمیں یا فحش رسالے گھر پر لانا جو کہ فحاشی و فساد پھیلاتے ہیں۔

بیٹے کا اپنے باپ کى نسبت چھوڑ کر کسى اور کى طرف اپنے کو نسبت کرنا،اور باپ کا اپنے بیٹے کا اپنا فرزند ہونے سے انکار کرنا-

کسی مسلمان کے لیے یہ شرعاً جائز نہیں کہ وہ اپنے باپ کے علاوہ کسى اور کى طرف اپنے کو منسوب کرے- یا وہ اپنے آپ کو اس قوم سے لاحق و منسوب کرے جن میں سے وہ نہیں ہے- بعض لوگ مادی اغراض اور دنیوی فوائد کے حصول کے لیے ایسا کرتے ہیں، اور اپنا نقلی وجھوٹا نسب نامہ سرکاری کاغذات میں ثابت کردیتے ہیں، اور بعض لوگ اپنے باپ سے ناراض ہو کر انتقام و بدلہ لینے کے لیے ا یسا کرتے ہیں کیوں کہ اس نے انھیں بچپن میں چھوڑ دیا تھا، جب کہ یہ سب شکلیں حرام ہیں،

اور اس سے مختلف مسائل میں بہت بڑے بڑے مفاسد مرتب ہوتے ہیں،

جیسے کہ محرم کا مسئلہ اور نکاح و وراثت وغیرہ کے امور،

جب کہ صحیح بخاری شریف میں

حضرت سعد اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہما سے مرفوع حدیث مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے:

’’جس شخص نے اپنے آپ کو اپنے باپ کی بجائے کسی اور کی طرف منسوب کیا یہ جانتے ہوئے کہ یہ جھوٹ ہے تو اس پر جنت حرام ہے‘‘۔ صحیح البخاری مع:( فتح الباری 8/45)- شریعتِ اسلامیہ میں ہر وہ کام حرام ہے جس میں نسب کے ساتھ کوئى کھلواڑ یا تزویر کاری ہو۔ بعض لوگوں کا اگر بیوی کے ساتھ اعلانیہ کوئى جھگڑا ہو جائے تو وہ اس پر فحاشی (بدکاری) کا الزام لگادیتے ہیں اور بغیر کسی ثبوت کے اپنے بیٹے سے بری و دست بردار ہو جاتے ہیں حالاں کہ وہ اس کے بستر پر ہی اس دنیا میں آیا تھا، اور بعض بیویاں بھی امانت میں خیانت کرتی ہیں اور اگر کسی بدکاری سے حمل ہوجائے تو وہ اسے اپنے شوہر کے نسب میں ڈال دیتی ہیں جو کہ در حقیقت اس سے نہیں ہوتا، جب کہ اس پر بہت بڑى وعید آئی ہے جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب لعان کی آیت اتری تو انہوں نے نبی ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا: "کسی بھی عورت نے اگر کسی قوم میں کسی دوسرے کے بچے کو داخل کیا جو کہ در اصل ان میں سے نہیں ہے تو اللہ کی نگاہ میں اس کے لیے کوئی مقام نہیں اور اللہ تعالیٰ اسے اپنی جنت میں بھی داخل نہیں کرے گا،اور اگر کسی آدمی نے اپنے بیٹے کو جھٹلایا اور وہ اسے دیکھ رہا ہو(کہ اُسی کا ہے) تو اللہ تعالیٰ اس سے پردہ کرلیں گے اور اُسے اولین سے لے کر آخرین تک تمام بنی آدم کے سامنے ذلیل و رسوا کردیں گے"۔ سنن أبو داود 2/695، نیز دیکھیے مشكاة المصابيح 3316.

سود کھانا:

اللہ تعالی نے اپنی کتاب قرآن کریم میں سوائے سودخوروں کے کسی سے اعلانِ جنگ نہیں کیا۔

اللہ تعالی کا ارشاد ہے: "مومنوں!اللہ سے ڈرو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو جتنا سود باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو۔ اگر ایسا نہ کرو گے تو خبردار ہوجاؤ(کہ تم )اللہ اور رسول سے جنگ کرنے کے لیے تیار ہوجاو"۔ البقرة / 278-279 اللہ تعالی کے نزدیک اس جرم کے بھیانک ہونے کا پتا اسی بات سے چل رہا ہے کہ سودخوروں کے ساتھ اعلانِ جنگ کیا گیا ہے۔ افراد اور ملکوں کى سطح پر نظر رکھنے والا ہر شخص سودی لین دین کى تباہ کاریوں کو غریبی کساد بازاری اور تجارتوں کے ماند پڑنے، قرضوں کى ادائیگى میں لاچارى، اقتصادیات کا مفلوج ہونے، بےروزگاری کى شرح میں اضافے، بہت سی کمپنیوں اور کارپوریٹ گھرانوں کے برباد اور دیوالیہ ہوجانے سارے دن کی محنت مزدوری کے پیسوں کا نہ ختم ہونے والے سود کى ادائیگى میں چلے جانے، اور مال کے بہت بڑے مقدار کو چند لوگوں کے ہاتھوں میں دے کر معاشرے میں طبقاتى نظام کو فروغ دینے، کى شکلوں دیکھتا ہے- اور شاید یہی جنگ یا لڑائی کی صورتیں ہیں جن کا وعدہ اللہ نے ان لوگوں کے ساتھ کیا ہے جو سود لیتے اور دیتے ہیں۔ اور ہر وہ شخص جو سود کے رواج دینے میں شریک ہوتا ہے چاہے وہ سود لین دینے میں اصل ہوں یا اس میں واسطہ کا کام کرنے والے ہوں یا مدد گار ومعین ہوںا، سب نبى اکرم ﷺ کی زبان سے ملعون ہیں، حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے : ’’نبیﷺ نے سود کھانے والے، کھلانے والے، اس کے لکھنے والے اور اس کے دونوں گواہوں پر لعنت فرمائی ہے‘‘۔ اور فرمایا: ’’یہ سب برابر کے شریکِ گناہ ہیں‘‘۔ صحیح مسلم:3/1219-

غرض سود لکھنے اور اس کو محرر وضبط کرنے کا کام کرنا جائز نہیں، نہ ہی سود کا اندراج کرنا، اور نہ سودی پیسے کی وصولی وسپردگی کرنا اور سنبھال کر رکھنا، اور نہ ہى اس کى نگرانی وچوکیداری کرنا، عام طورع پر اس میں کسی بھی طرح شرکت کرنا اور اس میں کوئی بھی مدد کرنا چاہے کسی بھی طرح سے ہو حرام ہے۔

نبی ﷺ اس سود جیسے کبیرہ گناہ کی قباحت کو بیان کرنے کے بہت حریص وفکر مند تھے، چناں چہ حضرت عبداللہ بن مسعود-رضي الله عنہ ۔ سے مروی مرفوع حدیث میں ارشادِ نبوی ﷺ ہے: ’’سود کے تہتر[۷۳] درجے ہیں جن میں سے سب سے کم تر درجہ ایسے ہے کہ کوئی آدمی اپنی ماں کے ساتھ نکاح کرلے اور سب سے بڑا سود کسی مسلمان کی عزت پر حملہ کرنا ہے‘‘۔ الحاكم في المستدرك/37، وصحيح الجامع 3533- حضرت عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک مرفوع حدیث میں ارشادِ نبوی ﷺ ہے : " آدمی جان بوجھ کر اگر سود کا ایک درہم بھی کھاتا ہے تو وہ چھتیس (36)مرتبہ زنا کاری کرنے سے زیادہ سخت گناہ ہے"۔ مسندِ امام احمد(5/225) نیز دیکھیےصحیح الجامع (3375)۔ سود کی حرمت کسی امیر یا غریب کے لیے خاص نہیں جیسا کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں بلکہ یہ سب کے لیے عام ہے،یہ ہر شخص کے لیے حرام اور ہر حال میں حرام ہے۔ اور اسی سود کی وجہ سے کتنے مالدار لوگ اور بڑے بڑے تاجر مفلس ہوگئے اور حقائق اس بات کے گواہ ہیں۔ یہ سود کم از کم مال ودولت کی برکت ختم کردیتا ہے چاہے کتنا بھی مال ہو، نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: "سود سے مال بظاہر چاہے کتنا ہی بڑھ جائے مگر اس کا انجام قلّت و کمی کی طرف ہی آتا ہے"۔ مستدرک الحاكم 2/37، وصحيح الجامع 3542- اور حدیث میں وارد لفظ (قِلّ) کا معنی ہے: مال میں کمی ہونا۔

اسی طرح سود کی حرمت اس کی شرح فیصد کے ساتھ بھی خاص نہیں کہ اس کی نسبت بہت اونچی ہے یا نیچی،کم ہے یا زیادہ بلکہ یہ ہر صورت میں ہی حرام ہے :

"سود خور قیامت کے دن جب قبر سے نکالا جائے گا تو وہ اس طرح کھڑا ہوگا جیسے کہ وہ شخص کھڑا ہوتا ہے کہ جسے شیطان نے مس ومرگى کے ذریعہ ہواس باختہ بنا دیا ہو"۔

اس گناہ اور جرم کے فاحش و خطرناک ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اس سے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے اور اس کی کیفیت بھی بیان کی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے سود خوروں سے مخاطب ہو کر فرمایا ہے : " اور اگر توبہ کر لو گے (اور سود چھوڑ دو گے) تو تم کو اپنی اصل رقم لینے کا حق ہے جس میں نہ اوروں کا نقصان ہو اور نہ تمھارا نقصان"۔ اور یہ سراسر عدل وانصاف ہے۔ ہر مومن ومسلمان کو چاہے کہ وہ اس کبیرہ گناہ سے نفرت وپرہیز کرے اور اس سے دور رہے،اور اس کبیرہ گناہ کی قباحت کو محسوسکرے، حتٰی کہ وہ لوگ جو مجبورًا گم ہوجانے یا چوری کے ڈر سے سود والے بنکوں میں اپنا مال رکھتے ہیں، انھیں بھی چاہے کہ وہ اس بات کا اس بابت اضطرای کیفیت کا احساس کریں اور وہ سودی بنکوں میں پیسہ رکھنے کو ایسے ہی سمجھیں جیسے کسی مجبوری کے تحت مردے کا گوشت کھا یا جائے بلکہ اس سے بھى بڑھ کر سمجھیں۔ ساتھ ہى اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کریں اور اس کے بدلے دوسرا راستہ ڈھونڈیں۔ بنک سے سود کا مطالبہ کرنا بالکل جائز نہیں بلکہ سود اگر ان کے اکاونٹ میں ڈال بھی دیا جائے تو وہ اسے صدقہ سمجھ کر نہیں بلکہ اس سے پیچھا چھڑانے کے لئے کسی جائز راہ میں خرچ کریں، کیوں کہ اللہ تعالی پاکیزہ ہے اور صرف پاک چیزیں ہی قبول کرتا ہے۔ اور اس سے کسی طرح کا بھی فائدہ اٹھانا جائز نہیں نہ کھانے پینے میں نہ لباس وپوشاک میں،نہ سواری یا گھر کے لیے، نہ ہی بیوی بچوں یا ماں باپ پر واجب خرچے میں نہ زکوٰۃ ادا کرنے میں اور نہ ہى ٹیکس کى ادائیگى میں اور نہ ہی اپنے اوپر سے کسی مصیبت کو ہٹانے میں بلکہ اللہ تعالٰی کے عذاب کے ڈر سے اس سے پیچھا چھڑا نے کی کوشش کریں۔

سامانِ فروخت کرتے وقت اس کے عیب کو چھپا کر اُسے بیچنا:

نبیﷺ ایک غلہ کے ڈھیر کے پاس سے گزرے، اس میں اپنا ہاتھ ڈالا تو آپ ﷺ کی انگلیاں گیلی ہوگئیں، اس پر آپ ﷺ نے فرمایا:’’اے غلّے والے ! یہ کیا ہے؟ اُس نے کہا : اے اللہ کے رسولﷺ! اسے بارش نے بھگو دیا تھا، اس پر نبی ﷺ نے فرمایا : تم نے اسے اوپر کیوں نہیں کردیا تاکہ اسے لوگ دیکھ سکیں ؟ جس نے دھوکا کیا وہ ہم میں سے نہیں ہے‘‘۔ صحیح مسلم 1/99- آج کل بہت سے سامان بیچنے والے جو اللہ سے نہیں ڈرتے، وہ اپنے سامان کے عیب کو چھپانے کى کوشش کرتے ہیں، کبھى سامان پر کوئى چیز چپکا دیتے ہیں، یا خراب مال سامان کی پیٹی کے سب سے نیچلے حصے میں رکھ دیتے ہیں، یا اس پر کیمیکل وغیرہ استعمال کرتے ہیں، تاکہ اس کى صورت خوشنما ہوجائے یا تاکہ مشین کى خرابی کى آواز اول وحلہ میں چھپى رہے پھر جب خریدار لوٹ کر اپنے گھر آتا ہے تو وہ سامان جلد خراب ہوجاتا ہے، اور بعض لوگ سامان کے ختم ہونے کی تاریخ [EXPIRY DATE] کو بدل دیتے ہیں، یا خریدار کو سامان کا معاینہ نہیں کرنے دیتے، اور بہت سے لوگ جو گاڑیاں یا ان کے پرزے بیچتے ہیں وہ اس کی خامیاں بیان نہیں کرتے جبکہ یہ حرام ہے، نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ’’مسلمان مسلمان کا بھائی ہے اور کسی مسلمان بھائی کے لیے اپنا مال فروخت کرنا اس وقت تک حلال نہیں ہے جب تک کہ وہ اسے اس سامان کا عیب وخامی بتا نہ دے‘‘۔ سنن ابن ماجة 2/754، وصحيح الجامع 6705- کاروں کے بعض تاجر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جب وہ نیلامی میں خریدار کو یہ کہیں کہ میں لوہے کا ڈھیر بیچتا ہوں تو ان کے سر سے عیب بتانے کی زمہ داری کا بوجھ اتر جاتا ہے، حالاں کہ اس تجارت سے برکت ختم ہوجاتی ہے، جیسا کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : "بائع اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا )دونوں کو اس وقت تک اختیار ہے (چاہیں تو معاملہ رکھیں اور چاہیں تو توڑ ڈالیں گو ایجاب و قبول ہوچکا ہو) جب تک ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں،اور اگر ان دونوں نے سچ کہا اور عیب وغیرہ بیان کیا تو اُس بیع میں برکت ڈالی جائے گی،اور اگر انھوں نے جھوٹ سے کام لیا اور عیب کو چھپایا تو اُن کی بیع اور خرید و فروخت میں بے برکتی ہو جائے گی"۔ صحیح البخاری مع:( فتح الباری 4/328)-

صرف بھاؤ بڑھانے کے لیے بولی لگانا:

اس کا مطلب یہ کہ کوئی شخص کسی چیز کو خریدنا تو نہ چاہتا ہو لیکن محض دوسروں کو دھوکا دینے کے لیے اور ان سے زیادہ پیسے نکلوانے کے لیے بولی میں اس چیز کی قیمت بڑھادے، اس کے بارے میں نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے : ’’ارادہ خریداری کے بغیر کسی چیز کی محض قیمت بڑھانے کے لیے بولی میں حصہ نہ لو‘‘۔ صحیح البخاری مع:( فتح الباری 10/484)- اور بے شک یہ دھوکے کی ایک قسم ہے-

اور نبئ اکرم ﷺ کا ارشاد ہے :

’’مکّاری اور دھوکہ جہنم میں ہے‘‘۔ دیکھیے سلسلة الأحاديث الصحيحة 1057- بہت سے نیلام گھروں،منڈیوں اور گاڑیاں سیل کرنے والے شورومز میں بولیاں لگانے والوں (دلالوں) کی کمائی خبیث و ناپاک اور حرام ہے اور یہ ان کے کئی حرام اعمال کے ارتکاب کی وجہ سے ہے، ان ہی میں سے: ان کا سامان کى قیمت بڑھانے پر متفق ہونا ہے،

نیز مال کے مالک کو دھوکے میں رکھ کر اس کے سامان کی قیمت کو کم کرنے پر متفق ہوتا ہے،

جب کہ وہی چیز اگر خود ان کی ہو تو اس کے برعکس کرنا کہ ایسے میں وہ خریداروں میں گھس جاتے اور نیلامی میں قیمتیں بڑھا دیتے ہیں۔ یوں وہ اللہ کے بندوں کو دھوکا دیتے اور انھیں نقصان پہنچاتے ہیں۔

جمعہ کی دوسری اذان کے بعد خرید و فروخت کرنا :

اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے: ’’مومنو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کی یاد (خطبہ و نماز )کے لیے جلدی کرو اور(خرید و)فروخت ترک کردو اگر سمجھو تو یہ تمھارے حق میں بہتر ہے‘‘۔ الجمعة/9 بعض دکانوں والے دوسری اذان کے بعد بھی اپنی دکانوں میں یا مسجدوں کے سامنے چیزیں بیچنا جاری رکھتے ہیں اور ان کے ساتھ وہ بھی گناہ میں شریک ہو جاتے ہیں جو ان سے خریدتے ہیں چاہے مسواک ہی کیوں نہ ہو اور یہ خريد وفروخت راجح قول کے مطابق باطل ہے، اور بعض بیکری والے، ہوٹلوں کے مالک، اور کارخانے والے اپنے عملے کو اس بات پر مجبور کرتے ہیں کہ وہ جمعہ کی نماز کے وقت کام جاری رکھیں، اگر چہ اس طرح کے لوگوں کو بظاہر منافعہ زیادہ ہوتا ہے لیکن حقیقت میں یہ صرف اور صرف گھاٹا ہى اٹھانے والے ہیں۔ اور خود ان کے عملے کو بھی نبی ﷺ کے اس ارشاد پر عمل کرنا چاہیے : ’’اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت واجب نہیں ہے ‘‘۔ مسند امام احمد 1/129، علامہ أحمد شاكر نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے دیکھیے حدیث 1065۔

جوا بازى:

اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے: ’’اے ایمان والوں شراب اور جوا اور بت اور پانسے(یہ سب )ناپاک کام اعمالِ شیطان سے ہیں سو ان سے بچتے رہنا تاکہ نجات پاؤ‘‘۔

المائدة/90

عہدِ جاہلیت میں لوگ جوا بہت کھیلتے تھے

جس کی ایک سب سے مشہور شکل یہ تھی کہ

ایک ہی اونٹ کی خریداری میں دس اشخاص برابر میں حصہ دار ہوتے،

اور پھر تیروں کے ذریعے ایک قسم کی قرعہ اندازی و قسمت آزمائی ہوتی جس میں سات افراد کو تو کچھ قیمت مل جاتی لیکن ان کا حصہ برار نہیں ہوتا تھا اور تین افراد کو کچھ نہیں ملتا تھا۔ آج ہمارے اس زمانے میں جوئے کی بہت سی شکلیں ہیں مثلاً : لاٹری:ان شکلوں میں سے پہلی تو آج کل لاٹری نام سے معروف ہے جس کی بہت سی صورتیں موجود ہیں اور سب سے معمولی صورت یہ ہے کہ لوگ پیسے دے کر نمبر یا ٹکٹ خریدتے ہیں جس پر قرعہ اندازی ہوتی ہے

اور پہلے دوسرے نمبر پر آنے والے کو انعام دیا جاتا ہے اور اسى طرح دیگر فائزین کو بھى بالترتیب انعامات دئے جاتے ہیں، اور یہ انعامات قیمت میں کم وزیادہ ہوتے ہیں-

اور یہ سب حرام ہیں اگر چہ لوگ اسے فائدہ مند کہتے اور خدمتِ خلق قرار دیتے ہیں یا پھر اس میں رفاہِ عامہ اور بھلائی کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن درحقیقت یہ حرام ہے۔ اسی طرح کوئی چیز ایسی خریدیں جس کے پیکٹ یا لفافے میں ایک مجہول (نا معلوم )چیز ہو، یا کوئی سامان خریدنے کے وقت اس کے ساتھ ایک نمبر دیاجائے جس پر قرعہ اندازی کی جائےتاکہ جیتنے والوں کی نشاندہی کی جائے تو یہ سب بھی لاٹری کی ہی اقسام ہیں۔

اور ہمارے زمانے میں بے جوے کی شکلوں میں سے:

جان، گھر، گاڑی اور دیگر اشیاء کا بیمہ کروانا ہے، نیز آتشزدگی سے بچنے کے لیے، فریق مخالف کے تئیں اور فل انشورنس کرواناہے۔ اس طرح انشورنس کى مختلف صورتیں مروّج ہیں-

حتٰی کہ آج کل تو بعض گانے والے[سنگر] اپنی آوازوں کی بھی انشورنس کرواتے ہیں۔

یہ سب شکلیں اور ان کى ہم مثل تمام مشکلیں جوئے میں داخل ہیں- اور ہمارے زمانے میں تو جوئے کے لیے خاص کلب پائے جاتے ہیں جن میں جوا کھلنے کے بعض اڈے[سبز ٹیبل] کے نام سے پہچانے جاتے ہیں جو کہ خاص طور پر اس عظیم گناہ کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے ہی مخصوص ہوتے ہیں، اسی طرح یہ جو فٹ بال میچ یا ٹورنامنٹ کے دوران بازیاں اور شرطیں لگتی ہیں یہ بھی جوئے کی ہی ایک قسم ہے، کھلونوں کے بعض سنٹرز اور سیر وتفریح کے بعض مراکز میں جوئے کى فکر پر مبنى بعض کھیل پائے جاتے ہیں ان ہى میں سے وہ کھیل ہیں جنھیں[فلیپرز] کا نام دیا جاتا ہے۔

اور جوئے کی صورتوں میں سے:

وہ مسابقے اور مقابلے بھی شامل ہیں جن میں مسابقے میں شریک طرفین یا مختلف اطراف کى جانب سے انعامات مقرر ہوں جیسا کہ اہلِ علم کى ایک جماعت نے اس کى تصریح کى ہے۔

چوری کرنا :

اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’اور جو چوری کرے مرد ہو یا عورت اُن کے ہاتھ کاٹ ڈالو یہ اللہ تعالٰی کی طرف سے اُن کے فعلوں کی سزا ہے اور اللہ زبردست حکمت والا ہے‘‘۔ المائدة / 38

جرمِ چوری کے سب سے عظیم جرائم میں سے ایک یہ ہے کہ

حج وعمرہ کرنے والوں کی چوری کی جائے اور اس قسم کے بدترین چور دنیا کى سب سے افضل جگہ اور اللہ کے کھر کے ارد گرد بھی اللہ تعالی کی حدود کا لحاظ نہیں رکھتے۔

نبی ﷺ نے نمازِ کسوف کے قصے میں ارشاد فرمایا ہے :

’’[دورانِ نمازِ کسوف] میرے سامنے جہنم کی آگ کو لایا گیا جبکہ تم لوگوں نے دیکھا کہ میں تھوڑا پیچھے کی طرف ہٹا تھا اس ڈر سے کہ کہیں وہ آگ مجھے جھلسانہ دے، حتی کہ میں نے ٹیڑھے منہ والے ڈنڈے کے مالک کو دیکھا کہ وہ اپنی آنتیں آگ میں گھسیٹ رہا تھا کیوں کہ وہ حاجیوں کو اپنے ٹیڑھے سر والے ڈنڈے سے لوٹتا تھا، اگر حاجی کو خبر ہو جاتی تو وہ اپنی صفائی میں کہتا تھا: کہ تمہارا سامان خود ہی ٹیڑھے منہ والے ڈنڈے سے لٹک گیا تھا، اور اگر پتا نہ چلے تو وہ اُسے لے جاتا تھا‘‘۔ صحیح مسلم (حدیث نمبر:904)- اور سب سے بڑی چوریوں میں سے یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کے مشترکہ وسرکاری و قومی املاک ومالِ عام سے کی جائے اور بعض لوگ جو یہ چوری کرتے ہیں وہ اپنی اس حرکت کو جائز کرنے کے لیے کہتے ہیں کہ جیسے دوسرے بہت لوگ چوری کرتے ہیں اسی طرح ہی ہم بھی کر تے ہیں کوئی ہم ہی اکیلے تو نہیں لیکن وہ یہ نہیں سوچتے کہ یہ چوری تمام مسلمانوں کی چوری شمار ہوتی ہے، کیوں کہ عام سرکاری و قومی مال تمام مسلمانوں کی مشترکہ ملکیت ہوتى ہے، اور جو لوگ بغیر اللہ کے ڈر کے اس کام کا ارتکاب کرتے ہیں ان کی اس بری عادت کو اپنے لیے حجت نہیں بنایا جا سکتا۔ بعض لوگ کافروں کے مال سے چوری کو گناہ شمار نہیں کر تے ہیں اور یہ اس حجت سے کہ وہ تو کافر ہیں جب کہ یہ بھی سرا سر غلط ہے، کیوں کہ صرف ان کفار کا مال چھیننا لوٹنا جائز ہے جو کہ مسلمانوں سے جنگ کررہے ہوں، باقی کفار کے افراد یا ان کی کمپنیاں اس میں داخل نہیں۔

چوری کی شکلوں میں سے ایک شک :

دوسروں کی جیبوں پر چپکے سے ہاتھ صاف کرلینا ہے- بعض لوگ دوسروں کے گھروں میں ان کی زیارت کے لیے مہمان بن کر جاتے ہیں اور میزبان کے گھر سے چوری کرلیتے ہیں، اور بعض لوگ اس کے برعکس اپنے مہمانوں کے بیگوں پر ہاتھ صاف کرلیتے ہیں، جبکہ بعض لوگ تجارتی مراکز یا دکانوں میں گھس کر اپنی جیبوں اور کپڑوں میں چیزیں چھپا لیتے ہیں، اسی طرح بعض عورتیں اپنے کپڑوں کے نیچے کچھ چھپالیتی ہیں، اور بعض لوگ سستی یا کم قیمت چیزوں کی چوری کو تو بالکل ہی معمولی سمجھتے ہیں جب کہ نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ’’چور پر اللہ تعالی کی لعنت ہو وہ انڈا چوری کرتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے اور اگر رسی چوری کرتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے‘‘۔ صحیح البخاری مع:( فتح الباری 1281)- اور جو شخص کوئی چوری کربیٹھے اُسے چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے سچی توبہ کرنے کے بعد وہ چیز اس کے مالک کو لوٹادے، چاہیے وہ اسے مالک کو سر ِعام لوٹائے یا چوری چھپے، خواہ اسى کو لوٹائے یا کسی دوسرے کے ذریعے، اور اگر اُس چیز کے مالک تک یا اس کے وارثوں تک زبردست کوشش کے بعد بھی پہنچانا مشکل ہو جائے تو وہ اس نیت کے ساتھ اس کا صدقہ کردے کہ اس کا ثواب اس کے مالک کو ہو۔

رشوت لینا اور دینا :

حق کو ختم کرنے یا باطل کو نافذ ورائج کرنے کے لیے قاضی یا حاکم کو رشوت دینا بہت بڑا جرم ہے، کیوں کہ اس کا انجام فیصلے میں ظلم، حق دار پر زیادتی، اور فساد و بگاڑ پھیلانے کی شکل میں سامنے آتا ہے، اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے: ’’اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ اس کو (رشوۃً) حاکموں کے پاس پہنچاؤ تاکہ لوگوں کے مال کا کچھ حصّہ نا جائز طور پر کھا جاؤ اور (اسے)تم جانتے بھی ہو‘‘۔ سورۃ البقرة/ 188 حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک مرفوع حدیث میں ارشادِ نبوی ہے: ’’فیصلہ کے لیے رشوت دینے اور لینے والے پر اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے‘‘۔ مسندِ امام احمد (2/387) ،صحیح الجامع (5069)۔ لیکن اگر یہ اپنے جائز حق تک پہنچنے کے لیے یا کوئی ظلم و پریشانی دور کرنے کے لیے ہو جس میں رشوت کے علاوہ کوئی راستہ و چارہ ہی نہ رہا ہو تو وہ مجبوری ہے اور ایسا شخص وعید ودھمکی میں شامل نہیں ہے۔ ہمارے دور میں رشوت کھلے عام پھیل گئی ہے حتیٰ کہ بعض ملازمین کی رشوت سے حاصل ہونے والی آمدنی ان کی اصل تنخواہ سے بڑھ کر ہے، بلکہ رشوت بہت سی کمپنیوں میں مختلف ناموں سے ان کے بجٹ کا ایک بند اور دفعہ بن چکی ہے، اور بہت سے معاملے ایسے ہوگئے ہیں کہ رشوت کے بغیر نہ شروع ہوتے ہیں اور نہ ہی ختم۔ اور اس سے غریبوں کو بہت بڑا نقصان ہوتا ہے، اور اس کی وجہ سے بہت سی ذمہ داریاں فساد کا شکار ہوچکى ہیں، نیز رشوت ملازمین و کارکنوں کى جانب سے صاحب عمل کو نقصان پہونچانے کا سبب بن گئی ہے۔

اچھی سروس (ملازمت) صرف اسے دی جاتی ہے جو رشوت دے،اور جو شخص رشوت نہ دے تو اس کے لیے کاروائی ہی بری یا خراب ہوتی ہے ورنہ لاپرواہی کر کے اس کا کام لیٹ کردیا جاتا ہے،اور رشوت دینے والے جو اس کے بعد آئے تھے وہ اُس سے عرصہ قبل فارغ ہوچکے ہوتے ہیں،

اور رشوت کی وجہ سے بہت سے پیسے جو مالکوں کے ہوتے ہیں مگر خرید و فروخت کے ایجنٹوں کی جیبوں میں چلے جاتے ہیں، اس لیے اور اس کے علاوہ ایسے ہی دیگر اسباب کے پیشِ نظر اس بات پر تعجب نہیں کرنا چاہیے کہ نبیٔ اکرم ﷺ نے اس جرم کا ارتکاب کرنے اور اس میں شریک ہونے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہونے کی بددعا فرمائی ہے کہ وہ لعنتِ الہی کے مستحق ٹھہریں، حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ’’رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے‘‘۔ سنن ابن ماجة 2313، وصحيح الجامع 5114-

کسی کی زمین پر قبضہ کرلینا:

اگر دلوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف نہ رہے تو پھر طاقت وقوت انسان کے لیے وبالِ جان بن جاتی ہے وہ اسے ظلم کرنے میں استعمال کرتا ہے جیسے کہ دوسروں کے اموال پر قبضہ کرنا اور زبردستی ان کی زمین چھیننا وغیرہ۔ اور اس کے لیے شریعت میں زبردست سزا وارد ہوئی ہے، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ایک مرفوع حدیث میں ارشادِ نبوی ﷺ ہے: ’’جس شخص نے بغیر حق کے کسی کی زمین لے لى تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے ساتوں زمینوں کے نیچے تک دھنسا دے گا‘‘۔ صحیح البخاری مع:( فتح الباری 5/103)- حضرت یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک مرفوع حدیث میں نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ’’کسی شخص نے اگر کسی کی زمین میں سے بالشت برابر بھی غصب کیا تو قیامت کے دن اللہ تعالٰی اُسے سات زمینوں کے آخر تک کھودنے کا حکم دے گا[اور طبرانی میں ہے : ’’کہ وہ اُسے لے کر آئے‘‘] پھر اسے اس وقت تک اُس کے گلے کے اردگرد طوق بنادیا جائے گا جب تک کہ تمام لوگوں میں اللہ کا فیصلہ نہ ہو جائے‘‘۔ المعجم الکبیر للطبراني 22/270، صحيح الجامع 2719- غاصبانہ قبضہ میں زمین کے حدود ونشانات کو بدل کر پڑوسى کى زمیں میں در اندازی کرنا بھى شامل ہے- اسى کا اشارہ نبی ﷺ کے اس ارشاد میں ہے : ’’جس شخص نے زمین کے نشان وعلامات کو بدلا، اس پر اللہ کی لعنت ہے‘‘۔ صحیح مسلم مع شرح نووی13/141-

سفارش کے عوض تحفہ قبول کرنا :

لوگوں کے مابین عزت، اثر ورسوخ اور بلند مرتبہ کاحصول انسان پر اللہ کی نعمت ہے بشرط یہ کہ وہ اس کا شکر ادا کرے، اور جو شخص اس نعمت کا شکر ادا کرنا چاہے تو اس کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ وہ اسے دوسرے مسلمانوں کے فائدے کے لیے استعمال کرے، اور یہ نبیﷺ کے اس قولِ شریف کے عموم میں داخل ہے : ’’جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کو فائدہ پہنچا سکتا ہو تو وہ ایسا ضرور کرے‘‘۔ صحیح مسلم:4/1726- جس شخص نے اپنی دولت یا اثر ورسوخ سے اپنے کسی مسلمان بھائی سے ظلم دور کیا یا بغیر کسی حرام فعل کے ارتکاب اور کسى پر ظلم کئے بنا کسى کو فائدہ پہونچایا تو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اجر و ثواب کا مستحق ہے بشرط یہ کہ اس کی نیت خالص رضائے الہٰی کا حصول ہو جیسا کہ نبیٔ اکرم ﷺ نے اس حدیث میں ارشاد فرمایا ہے : ’’شفاعت و سفارش کرو تاکہ تم اجر و ثواب حاصل کرو‘‘۔ سنن أبو داود 5132، اور صحيحين میں بھی یہ حدیث موجود ہے، فتح الباري 10/450،كتاب الأدب، باب:مومنوں کا آپس میں تعاون۔ اس شفاعت یا سفارش کے عوض کچھ لینا جائز نہیں جس کی دلیل حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک مرفوع حدیث میں وارد ہونے والا یہ ارشادِ نبوی ﷺ ہے : ’’جس شخص نے کسی کے لیے سفارش کی، تو اُس شخص نے اس سفارش کے عوض اُسے تحفہ دیا اور اُس نے قبول کرلیا،تو وہ سود کے ایک بہت بڑے دروازے میں داخل ہوگیا‘‘۔ مسندِ امام احمد (5/261) ،صحیح الجامع (6292)۔ بعض لوگ اپنی جاہ و منزلت، اپروچ یا پہنچ، اثر ونفوذ یا سفارش کو کسی مالی قیمت کے عوض میں استعمال کرتے ہیں ایک رقم کی شرط پر کسی شخص کو نوکری یا ملازمت دلانے یا کسی ادارے یا کسی علاقہ سے دوسرے علاقے یا ادارے میں تبدیلی (ٹرانسفر)یا کسی مریض کا علاج وغیرہ کرانے کے لیے سفارش کرتے ہیں جبکہ راجح قول کی رو سے یہ معاوضہ حرام ہے جس کى دلیل حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کی سابقہ حدیث ہے، بلکہ اس حدیث کے ظاہر سے واضح ہو رہا ہے کہ یہ معاوضہ لینا حرام ہے چاہے سابق شرط کے ساتھ بھی ہو۔ مذکورہ باتیں شيخ عبد العزيز بن باز رحمہ اللہ سے بالمشافہ میں نے استفادہ کیا تھا۔

کسی کے ساتھ نیکی و بھلائی کرنے والا قیامت کے دن اللہ تعالٰی سے ثواب پائے گا،اسے ہر وقت اسی پر نظر رکھنی چاہیے،

ایک آدمی حضرت حسن بن سہلؒ کے پاس کسی کام کی سفارش کے لیے آیا جو انھوں نے کردی، تو وہ آدمی شکریہ ادا کرنے کے لیے ان کے پاس آیا، حضرت حسن بن سہلؒ نے فرمایا:کس بات کا شکریہ ادا کررہے ہو؟ہماری نظر میں عزت و شہرت کی بھی زکوٰۃ ہوتی ہے جیسا کہ مال ودولت کی زکوٰۃ ہے۔ الآداب الشرعية لابن مفلح 2/176-

یہاں اس بات کی طرف اشارہ کردینا بہتر معلوم ہوتا ہےکہ

کسی کام کو سر انجام دینے، اس کی دیکھ بھال کروانے اور کاروائی مکمل کروانے کے لیے کسی شخص کو اجرت پر رکھنا جائز ہے کیوں کہ یہ اجارہ شرعی شرائط کے ساتھ جائز ہے، لیکن اپنی عزت،اثر و رسوخ اور سفارش کو پیسوں کے عوض استعمال کرنا منع ہے اور ان دونوں میں بہت فرق ہے۔

مزدور سے مکمل کام لینا لیکن اُس کی مزدوری پوری ادا نہ کرنا:

نبی ﷺ نے مزدور کا حق جلد ادا کردینے کی ترغیب دلائی ہے چناںچہ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے : ’’مزدور کا پسینہ سوکھنے سے پہلے اس کا حق ادا کردو‘‘۔ skk ابن ماجة 2/817، وصحيح الجامع 1493- مسلمانوں کے معاشرے میں جو ظلم عام ہو رہے ہیں ان میں سے یہ بھی ہے کہ مزدوروں اور ملازموں کو ان کے حقوق نہیں دیے جاتے اور اس کی کئی صورتیں ہیں جن میں سے چند درجِ ذیل ہیں: (۱) مالک مزدور کو اس کا حق بالکل ہی ادا نہ کرے بلکہ مکمل انکار کردے اور مزدور کے پاس اپنا حق ثابت کرنے کی کوئی دلیل بھی نہ ہو تو یوں یہ مزدور اگر چہ دنیا میں اپنا حق کھودیتا ہے لیکن قیامت کے دن اللہ کے نزدیک نہیں کھوئے گا، قیامت کے دن جب ظالم کولایا جائے گا تو اس نے مظلوم کا جتنا مال کھایا ہوگا اس کے بدلے میں اُسے وہ اپنی نیکیاں دے گا اور اگر نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو مظلوم کی بُرائیاں ظالم کے کھاتے میں ڈال دی جائیں گی پھر اسے جہنم میں دھکیل دیا جائے گا۔ (۲) مزدوروں کو ان کا حق پورا نہ دینا بلکہ بغیر کسی وجہ کے اس میں کمی کرنا، حالانکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’ناپ اور تول میں کمی کرنے والوں کے لیے خرابی ہے‘‘۔ سورۃ المطففين/1-

جس کی ایک واضح مثال یہ ہے کہ

آج کل بعض کام والے دوسرے ممالک میں ویزے بھیج کر وہاں سے مزدوروں کو منگواتے ہیں اور ان کے ساتھ مزدوری کی مقدار کا معاہدہ کر کے لاتے ہیں، جب وہ کام پر آجاتے ہیں تو جان بوجھ کر اس معاہدے کو بدل کر تنخواہ یا مزدوری کم کردیتے ہیں،

اب وہ مزدور مجبورًا وہاں کام کرتے ہیں اور بعض اوقات یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنا حق بھی ثابت نہ کر سکیں، تو پھر وہ اللہ سے اپنی شکایت کرتے ہیں،

اور اگر ظالم مالک مسلمان ہو جب کہ مزدور کافر ہو تو وہ اس کی تنخواہ میں کمی بیشی کر کے اس کے اسلام لانے کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے لہذا اُسے اس کا گناہ بھی ہو گا۔

(۳) اُس ملازم پر طے شدہ اتفاق سے زیادہ کاموں کا بوجھ ڈالے یا اس کی ڈیوٹی کا ٹائم کچھ لمبا کردے اور اسے فقط اصلی کام کی تنخواہ دے اور زیادہ کام(اوورٹائم) کی تنخواہ نہ دے۔

(۴) تنخواہ دینے میں ٹال مٹول کرے اور اس کى ادائیگى صرف بہت محنت وبھاگ دوڑ، شکوہ وشکایت اور کوٹ کچہری کے چکروں کے بعد ہى کرے- اور کبھی مالک مزدور کی تنخواہ لیٹ اس لیے کرتا ہے تاکہ وہ مزدور کو مایوس کردے کہ وہ اکتاکر اپنا حق چھوڑ دے اور اس کا مطالبہ ہی نہ کرے، یا پھر مالک کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مزدوروں کے پیسوں کو اپنے کسی کام میں لگا دے، اور بعض مالک تو بہت زیادہ ظلم کرتے ہیں اور مزدوروں کے پیسے دینے کی بجائے وہ رقم سود پر اٹھا دیتے اور فائدہ حاصل کرتے رہتے ہیں اور مزدور بیچارے کو دن کا کھانا بھى نہیں ملتا ہے اور نہ ہی پیسے ملتے ہیں جوکہ اپنے بیوی بچوں کے لیے خرچہ بھیج سکے جن کی خاطر وہ پردیس میں آیا تھا، ایسے ظالم مالکوں کے لیے قیامت کے دن ہلاکت اور دردناک عذاب ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبیٔ اکرم ﷺ سے روایت بیان کی ہے جس میں آپ ﷺ فرماتے ہیں: ’’اللہ تعالی فرماتا ہے: تین قسم کے لوگ وہ ہیں جن کا قیامت کے دن میں فریق مخالف ہوں گا: ایک وہ آدمی جو میرے نام پر کسی کو پناہ دیتا ہے پھر غداری وعہد شکنی کرتا ہے، اور دوسرا وہ آدمی جو کسی آزاد کو بیچ دے اور اس کی قیمت کھائے، اور تیسرا وہ آدمی جو کسی مزدور کو اجرت پر رکھتا ہے اور اس سے پورا کام لیتا ہے مگر اس کی مزدوری نہیں دیتا‘‘۔ صحیح البخاری دیکھیے:( فتح الباری 4/447)-

اولاد کو عطیہ دینے میں ناانصافی کرنا:

بعض لوگ جان بوجھ کر اپنے بعض بچوں کو انعام وعطیہ وغیرہ دیتے ہیں جبکہ بعض بچوں کو اس سے محروم رکھتے ہیں- اور راجح قول کے مطابق یہ حرام ہےاگر اس کی کوئی شرعی وجہ نہ ہو ، جیسا کہ کسی بچے کو ایسی ضرورت پڑجائے جو دوسروں کو نہ ہو، جیسے کوئی بیمار ہو یا اُس پر کوئی قرض ہو تو اسے عطیہ دیا جاسکتا ہے، یا مثال کے طور پر اسے قرآن حفظ کرنے پر انعام دینا ہو، یا اسے کوئی ذریعہ معاش اور کام کاج نہیں مل رہا ہو، یا بہت بڑا خاندان اس کی زیرِ کفالت ہو، یا وہ طالبِ علم ہو جس نے اپنے آپ کو صرف تعلیم کے لئے خاص کر رکھا ہو۔ یا انہى اسباب کى طرح کوئى اور شرعى سبب ہو-

اور باپ کو چاہیے کہ وہ اگر کسی بچے کو کسی شرعی وجہ سے کچھ دیتا ہے تو یہ نیت کرے کہ اگر کسی دوسرے بچے کو حاجت ہو تو پہلے کی طرح اسے بھی دےگا،

اور اس کی عام دلیل اللہ کا یہ ارشاد ہے : ’’انصاف کیا کرو کہ یہی پرہیز گاری کی بات ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو‘‘۔ اور اس کی خاص دلیل یہ حدیث ہے کہ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ: ان کے والد انھیں نبیٔ اکرم ﷺ کے پاس لے گئے اور کہا :’’میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام دیا ہے، تو نبی ﷺ نے پوچھا : کیا تم نے اپنے سارے بچوں کو نعمان کى طرح غلام دیا ہے؟ انہوں نے کہا : نہیں، تب نبی ﷺ نے فرمایا : اس غلام کو واپس لوٹالو‘‘۔ صحیح البخاری دیکھیے:( فتح الباری 5/211)- ایک روایت میں ہے کہ نبیٔ اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’اللہ سے ڈرو اور اپنے بچوں میں انصاف کرو‘‘۔ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ان کے والد نے گھر آنے کے بعد ان کو دیا ہوا عطیہ لوٹا لیا- الفتح 5/211- ایک روایت میں ہے کہ نبیٔ اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’تو پھر مجھے گواہ مت بناؤ کیوں کہ میں ظلم پر گواہی نہیں دیتا‘‘۔ صحيح مسلم 3/1243- اور لڑکے کو تقسیمِ میراث کی طرح دو لڑکیوں کے برابر کا حصہ دیا جائے گا، اور یہ امام أحمد رحمه الله کا قول ہے- مسائل الإمام أحمد لأبي داود 204- امام ابن القیم رحمہ اللہ نے سنن أبو داود پر اپنے حاشیے میں اس مسئلہ کی بہت ہی عمدہ تحقیق کی ہے۔ بعض خاندانوں کے حالات دیکھنے اور جائزہ لینے والا بعض ایسے آباء و اجداد کو پاتا ہے جو کہ اللہ سے نہیں ڈرتے اور اپنے بعض بچوں کو عطیہ و انعام دینے میں کمی بیشی کرتے ہیں، ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت ڈال کر انھیں باہم بھڑکا دیتے ہیں اور ان کے درمیان نفرت و دشمنی کے بیج بودیتے ہیں، ایسا شخص شاید اپنے کسی بچے کو اس لیے زیادہ دیتا ہے کہ اس کی شکل اپنے چچاؤں سے ملتی ہے اور دوسرے کو محروم کردیتا ہے کیوں کہ اس کی شکل اپنے مامؤں سے ملتی ہے، یا کسی ایک بیوی کے بچوں کو دیتا ہے اور دوسری کے بچوں کو نہیں، یا کسی ایک بیوی کے بچوں کو پرائیویٹ اسکولوں میں اعلیٰ تعلیم دلاتا ہے اور دوسری بیوی کے بچوں کو نہیں، اس کا پھل اس باپ کو عنقریب ملے گا، کیوں کہ زیادہ تر شفقتِ پدری سے محرومی پانے والے بچے مستقبل میں اپنے باب کے فرماں بردار نہیں ہوتے، اور وہ شخص جس نے اپنے بچوں میں ترجیح کا رویہ اختیار کیا تھا اس کے بارے میں نبی ﷺ نے فرمایا ہے : ’’کیا تمھیں اس بات کی خوشی نہیں کہ تمھارے سب بچے تیری فرماں برداری میں برابر ہوں‘‘۔

مسند أحمد 4/269، صحيح مسلم نمبر 1623-

بلا ضرورت لوگوں سے مال کا سوال کرنا (گداگری کرنا ) :

حضرت سہل بن الحنظلیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے : ’’جس نے لوگوں سے سوال کیا جب کہ اس کے پاس کفایت کے لیے موجود بھی ہو تو وہ شخص بے شک جہنم کے انگارے اکٹھے کرتا ہے،صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ ! وہ کیا کفایت ہے جس کے ہوتے ہوئے سوال نہ کیا جائے ؟ نبیﷺ نے فرمایا:’’جو اس کے دوپہر اور رات کے کھانے کا انتظام کرنے کے لیے کافی ہو‘‘۔ سنن أبو داود 2/281، صحيح الجامع 6280- اور حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ: نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’جس شخص نے لوگوں سے مال طلب کیا جب کہ اس کے پاس کفایت کے لیے کافی ہو تو قیامت کے دن یہ بھیک اس کے چہرے پر خراش و زخم بن کے آئےگی‘‘۔

مسندِ امام احمد(1/388) نیز دیکھیےصحیح الجامع (6255)۔ بعض گداگر مسجدوں میں اللہ کی مخلوق کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی شکایات سنانے کی وجہ سے لوگوں کی تسبیح و ذکر الٰہی کا موقع خراب کرتے ہیں، اور بعض جھوٹ بولتے اور نقلی کاغذات بنا کر من گھڑت کہانیاں پیش کرتے ہیں، اور بعض گداگر اپنے خاندان کے لوگوں کو مختلف مسجدوں میں بانٹ دیتے ہیں پھر وہاں سے چندہ اکٹھا کرکے کسی دوسری مسجدوں میں منتقل ہو جاتے ہیں، اور وہ اتنے مالدار ہوتے ہیں کہ جسے اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور جب وہ مرجاتے ہیں تب جاکر ان کی دولت ظاہر ہوتی ہے۔ ان کے برعکس کچھ دوسرے لوگ جو حقیقی محتاج ہوتے ہیں مگر وہ شرم و عفت کے مارے ہاتھ نہیں پھیلاتے اور حقیقت سے ناواقف ان کی عفت کی وجہ سے انھیں مال دار سمجھتا ہے کیوں کہ وہ لوگوں سے چمٹ کر سوال نہیں کرتے اور نہ ہی ان کی نشاندہی کی جاسکتی ہے کہ ان پر صدقہ کیا جائے۔ تبھی تو ان پر صدقہ وخیرات کرنے والوں کی نظر نہیں پڑتی۔

وہ قرض لینا جسے ادا کرنے کی نیت نہ ہو:

حقوق العباد اللہ کے نزدیک بہت اہم ہیں، اور اللہ کے حقوق میں کمی بیشی سے تو انسان توبہ کر کے بچ سکتا ہے، مگر حقوق العباد کو ادا کرنے کے علاوہ اس وقت کے آنے سے پہلے کوئی چارہ نہیں کہ جبدینار ودرہم سے کسی کا حق ادا نہ ہوگا بلکہ نیکیوں یا برائیوں سے ہو گا، اور اللہ تعالی فرماتا ہے : ’’اللہ تم کو حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں اُن کے حوالے کردیا کرو‘‘۔ النساء /58

معاشرے میں جو باتیں عام پھیلی ہوئی ہیں ان میں سے ہی ایک یہ ہے کہ قرض لینے کو آسان ومعمولی سمجھا جاتا ہے،

اور بعض لوگ کسی سخت ضرورت کے لیے نہیں قرض لیتے بلکہ اس لیے لیتے ہیں تاکہ وہ اپنا کاروبار بڑھاسکیں یا نئی گاڑی اور گھر کا سازوسامان نیا خریدیں اور لوگوں کی تقلید کرتے ہوئے ان کے ساتھ ساتھ چلیں وغیرہ، اور بہت سے لوگ قسطوں پر بکتی چیزوں کے چکر میں آجاتے ہیں جس کی زیادہ تر شکلیں شبہ یا حرام سے خالی نہیں۔ بغیر شدید ضرورت کے قرض لینے میں جلد بازی کا نتیجہ ادائیگی قرض میں ٹال مٹول، یا لوگوں کے مال کو برباد کرنے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، اور نبی ﷺ نے اس کام کے برے انجام سے ڈراتے ہوئے فرمایا ہے : ’’جس شخص نے لوگوں سے مال [قرضہ] لیا اور وہ اسے ادا کرنا چاہتا ہو تو اللہ تعالی اسے اس کی ادائیگى کى توفیق دیتا ہے، اور جس شخص نے ضائع وبرباد کرنے کے لیے قرض لیا تو اللہ تعالی اُسے ضائع کردیتا ہے‘‘۔ صحیح البخاری، دیکھیے:( فتح الباری 5/54)- لوگ قرض کو بہت آسان ومعمولی سمجھتے ہیں اور اس کے بارے میں تساہل برتنا عام ہو چکا ہے ورنہ یہ اللہ کے نزدیک بہت اہمیت کے حامل ہے جب کہ شہید جو اتنی عظیم خوبیوں، ثوابِ عظیم اور اونچے مرتبہ والا ہے وہ بھی قرض کے انجامِ بد سے نہیں بچ سکتا جس کی دلیل نبی ﷺکا یہ ارشادِ گرامی ہے: ’’سبحان اللہ ! قرض میں اللہ تعالی نے کتنی تشدید وسختی نازل فرمائی ہے، قسم ہے مجھے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، اگر کوئی آدمی اللہ کی راہ میں قتل کردیا جائے، پھر زندہ کیا جائے، پھر قتل کردیا جائے، پھر زندہ کیا جائے، پھر قتل کردیا جائے اور اس پر قرض ہو تو جب تک اس کا قرض ادانہ کیا جائے وہ جنت میں داخل نہ ہو گا‘‘۔ سنن النسائي، دیکھیے :المجتبى 7/314، و صحيح الجامع 3594-

کیا اس حدیث کو سن لینے کے بعد بھی قرض لینے کو آسان سمجھنے والے اپنی اس جہالت سے باز آئیں گے یا نہیں؟۔

حرام کھانا:

جو اللہ سے نہیں ڈرتا وہ اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ وہ پیسے کہاں سے کماتا ہے اور کہاں پر خرچ کرتا ہے، بلکہ اسے تو صرف اپنے بنک کا بیلنس زیادہ کرنے کی فکر ہوتی ہے چاہیے وہ حرام ہی سے کیوں نہ ہو،چوری یا رشوت سے ہو، یا غصب کرکے ہو یا جعل سازى کے ذریعہ ہو، یا حرام کاروبار یا سودی لین دین سے بڑھا کر ہو، یا یتیم کا مال کھاکر ہو، یا کسی حرام کام کی مزدوری لے کر ہو جیسے کہ کہانت کرنا، عصمت فروشی، اور گانا بجانا، یا مسلمانوں کے بیت المال اور عام املاک میں خرد برد کرکے ہو، یا پھر کسى دوسرے کا مال اس کو حرج میں ڈال کر لینا ہو، یا بغیر ضرورت کے لوگوں سے سوال [گداگری] کرنا وغیرہ، پھر وہ ان میں سے ہی کھاتا پیتا، لباس پہنتا، سواری کرتا اور نیا گھر بنواتا یا کرائے پر گھر لے کر اس مین سازوسامان بھرتا ہے اور اپنے پیٹ میں حرام غذا ڈالتا ہے، جب کہ نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:

’’ہر وہ گوشت جو کہ حرام سے بنا ہے تو آگ اُس کی زیادہ حقدار ہے‘‘۔

المعجم الکبیر للطبراني 19/136، صحيح الجامع 4495-

قیامت کے دن اس سے اس کے مال کے بارے میں سوال کیا جائے گا کہ اُسے کہاں سے کمایا ہے اور کہاں خرچ کیا ہے اور پھر وہاں ہلاکت اور خسارہ و نقصان ہوگا،

جس کے پاس کسی کا حرام طریقے سے لیا ہوا مال بچا ہو تو وہ اس سے جلد سے جلد پیچھا چھڑائے اور اگر کسی آدمی کا حق غصب کیا ہو تو وہ اُسے جلدی سے لوٹادے اور اس سے معافی مانگ لے اس سے پہلے کہ قیامت کا وہ دن آجائے جب دینار و درہم سے قرض نہیں اتارا جائے گا بلکہ نیکیوں اور برائیوں سے حساب کتاب ہوگا۔

شراب نوشی(چاہے ایک قطرہ ہی کیوں نہ ہو) :

اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے: ’’اے ایمان والوں شراب اور جوا اور بُت اور قرعہ کے تیر یہ سب گندی باتیں اور شیطانی کام ہیں ان سے بالکل الگ رہو تاکہ تم فلاح یاب ہوسکو‘‘۔ المائدة/90 ان اشیاء سے بچنے اور پرہیز کرنے کا حکم دینا ان کے حرام ہونے کا سب سے بڑا ثبوت ہے اور شراب کو بتوں کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے جس سے اس کی قباحت مزید واضح ہو جاتی ہے، لہذا جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ شراب سے صرف اجتناب و پرہیز کا حکم آیا ہے حرام ہونے کا نہیں، ان کا یہ قول ان کے لیے کوئی حجت نہیں ہے !! نبی ﷺ کی احادیث میں بھی ان لوگوں کے لیے زبردست وعید آئی ہے جو کہ شراب پیتے ہیں۔ چناںچہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ایک مرفوع حدیث میں ارشادِ نبوی ﷺ ہے : ’’اللہ تعالیٰ کا ان لوگوں سے عہد ہے جو شراب پیتے ہیں کہ انھیں طينة الخبال پلائے گا۔صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ﷺ !یہ طينة الخبال کیا ہے ؟تو نبیٔ اکرم ﷺ نے فرمایا : کہ جہنم والوں کا پسینہ یا اہلِ جہنم کے جسم سے خارج ہونے والا فاسد مواد(خون و پیپ وغیرہ) ہے‘‘۔ صحیح مسلم:3/1587- اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک مرفوع حدیث میں ارشادِ نبوی ﷺ ہے : ’’جو شراب کا نشہ کرتا مرجائے تو وہ اللہ سے اس طرح ملے گا جیسے کوئی بتوں کا پجاری ہو‘‘۔ اسے طبراني نے روایت کیا ہے 12/45، صحيح الجامع 6525- ہمارے موجودہ زمانے میں شراب اور نشہ آور چیزوں کی مختلف قسمیں ایجاد ہوگئی ہیں، اور ان کے متعدد عربی و عجمی نام معروف ہو چکے ہیں،مثلاً بیر (BEER)، جعہ (HEER) ، الکحل(ALCOHOL)، عرق (ARRACK)، وودکا (VODKA) اور شیمپئین (CHAMPAGNE) وغیرہ جیسے نام رکھ دیے گئے ہیں، اور اس امت میں اس قسم کے لوگ ظاہر ہوچکے ہیں جن کے بارے میں نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا : ’’میری امت کے کچھ لوگ شراب پئیں گے مگر اُسے کسی دوسرے نام سے پکاریں گے‘‘۔ مسندِ امام احمد (5/342) ،صحیح الجامع (5453)۔ وہ اسے شراب کے بدلے روحانی مشروب کا نام دیتے ہیں جو حیقیت پر پردہ ڈالنے اور اپنے آپ کو اور دوسروں کو دھوکہ دینے کے سوا کچھ اور نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ’’یہ(اپنے طور پر) اللہ تعالیٰ کو اور مومنوں کو چکما و دھوکہ دیتے ہیں مگر (در حقیقت) اپنے سوا کسی کو چکما نہیں دیتے مگر وہ اس کا شعور نہیں رکھتے‘‘۔ شریعتِ اسلامیہ ایک زبردست ضابطہ و قاعدہ لائی ہے جو کہ اس معاملہ میں فیصلہ کن اور دین کے ساتھ کھلواڑ کرنے کے فتنہ کى بیخ کنى کرتى ہے، اور وہ قاعدہ نبی ﷺ کے اس ارشادِ گرامی میں آیا ہے : ’’ہر نشہ آور چیز شراب ہے، اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے‘‘۔ صحیح مسلم:3/1587- چناںچہ ہر چیز جو عقل کو زائل کر دے وہ چاہے کم ہو یا زیادہ،ہر صورت میں ہی حرام ہے۔ ایک حدیث میں وارد ہے: ’’جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ کا سبب بنے اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے‘‘۔ سنن أبو داود:3681 صحيح أبي داود:3128- شراب کے چاہے جتنے بھی نام پڑجائیں اور وہ کتنے بھی مختلف ہوں لیکن ان کی اصل و حقیقت تو ایک ہی ہے اور اس کا حکم بھی معلوم و معروف ہے کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ اور آخر میں شراب پینے والوں کے لیے نبی ﷺ کی یہ وعید ذکر کی جاتی ہے کہ نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے : ’’جس شخص نے شراب پی اور نشہ کیا تو چالیس دن اُس کی نماز قبول نہیں ہوگی، اور اگر اسی حالت میں مرجائے تو جہنم میں داخل ہوگا، اگر توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرلے گا، اور اگر اس نے دوبارہ شراب پی اور نشہ کیا تو چالیس دن اُس کی نماز قبول نہیں ہوگی، اگر مرجائے توجہنم میں داخل ہوگا، اور اگر توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرلے گا، اور اگر اس نے تیسری مرتبہ شراب پی اور نشہ کیا تو چالیس دن اس کی نماز قبول نہیں ہوگی، اگر مرجائے توجہنم میں داخل ہوگا، اگر توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرلے گا اور اگر وہ پھر پینے کی طرف لوٹ آئے تو اللہ کا حق ہے کہ اُسے قیامت کے دن ردغۂ خبال پلائے،صحابہ رضی اللہ عنھم نے پوچھا:اے اللہ کے رسول ﷺ ! یہ ردغۂ خبال کیا ہے؟نبی ﷺ نے فرمایا:کہ وہ جہنم والوں کا فاسد مادہ (ان کے جسموں سے بہنے والا خون و پیپ وغیرہ) ہے‘‘۔ سنن ابن ماجة 3377، وصحيح الجامع6313-

کھانے پینے کے لیے سونے چاندی کے برتنوں کا استعمال کرنا :

آج کل گھریلو سامان والی دکانیں سونے چاندی سے بنے یا سونے چاندی سے پالش کیے ہوئے برتنوں سے خالی نہیں، اسی طرح امیروں یا مال داروں کے گھروں اور بعض ہوٹلوں میں بھی ایسے برتن ہوتے ہیں، بلکہ اس قسم کے برتن تو لوگ مختلف مناسبات میں ایک دوسرے کو قیمتی تحفہ کے طور پر بھی دیتے ہیں، اور بعض لوگ اپنے گھروں میں تو ایسے برتن نہیں رکھتے لیکن دوسروں کے ہاں جاکر یا کھانے پینے کی تقریبات میں ان برتنوں کا آزادانہ استعمال کرتے ہیں جب کہ اسلامی شریعت میں یہ حرام امور میں سے ہے، اور نبی ﷺ سے ان برتنوں کو استعمال کرنے پر سخت وعید و سزا آئی ہے، چناںچہ ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے ایک مرفوع حدیث میں مروی ارشادِ نبوی ﷺ ہے : ’’جو شخص سونے یا چاندی کے برتن میں کھاتا پیتا ہے بے شک وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھرتا ہے‘‘۔ صحیح مسلم:3/1634-

اور یہ حکم برتنوں اور کھانا بنانے اور کھانے والی تمام چیزوں کو شامل ہے جیسا کہ طباق، چمچے،کانٹے، چھریاں اور مہمانوں کے لیے کھانا پیش کرنے والے برتن اور شادیوں وغیرہ پر مٹھائیاں پیش کرنے والے ڈبے وغیرہ،

اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم سونے کے یہ برتن استعمال تو نہیں کرتے شیشے کی الماریوں یا شوکیس میں سجانے کے لیے ڈیکوریشن پیس کے طور پر رکھتے ہیں، جب کہ حرام کا سدِ باب کرنے کے لیے یہ بھی جائز نہیں کیوںکہ یہ کبھی استعمال کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔

مذکورہ باتیں شيخ عبد العزيز بن باز رحمہ اللہ کى افادات میں سے ہیں جنکو میں نے ان سے بالمشافہ حاصل کیا ہے۔

جھوٹی گواہی دینا:

اللہ تعالٰی کا ارشادِ گرامی ہے: ’’بتوں کی پلیدی سے بچو اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو‘‘۔ الحج/30-31 حضرت عبد الرحمان ابن ابی بکرہ رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم سب نبی ﷺ کے پاس بیٹھے تھے کہ آپ ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمایا :’’کیا میں تم کو سب سے بڑے کبیرہ گناہ کے بارے میں نہ بتاؤں ؟(یہ بات آپ ﷺ نے تین مرتبہ دہرائی ): اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کرنا اور ماں باپ کی نافرمانی کرنا، آں حضرت ﷺ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، آپ سیدھے ہوکر بیٹھ گئے اور پھر فرمایا : خبردار! جھوٹی بات کہنا۔آپ ﷺ اس بات کو اتنی مرتبہ دہراتے رہے حتی کہ ہم نے کہا : کاش آپ ﷺ خاموش ہوجائیں‘‘۔ صحیح البخاری دیکھیے:( فتح الباری 5/261)- جھوٹی گواہی پر بار بار تنبیہ اس لیے کی گئی ہے کیوں کہ لوگوں نے اسے معمولی سمجھا ہوا ہے اور اس لیے اتنا دہرایا گیا ہے کیوں کہ اس سے دشمنی اور حسد بڑھتا ہے اور بہت بڑے نقصان ہوتے اور بڑی خرابیاں وجود میں آتی ہیں، اور اسی جھوٹی گواہی کی وجہ سے لوگوں کے بہت سے حقوق ضائع ہوتے ہیں، اور اسی کی وجہ سےبہت زیادہ بے گناہوں پر ظلم ہوتے ہیں، یا جو لوگ جس چیز کے مستحق نہیں وہ اُن کو مل جاتی ہے، یا جھوٹی گواہی سے انھیں کوئی دوسرا نسب نامہ دے دیا جاتا ہے جو اصلا ان کا نہیں ہوتا، اسی لیے نبی ﷺ نے اس جملے کو بار بار دہرایا تھا۔ اس سلسلہ میں تساہل برتنے کی ایک صورت یہ ہے کہ آج کل لوگ کچہریوں میں یوں کرتے ہیں کہ کسی آدمی سے مل کر کہتے ہیں کہ تم میرے لیے گواہی دو اور میں تمھارے لیے گواہی دوں گا، تو اُسے جس بات کے لیے گواہی چاہیے وہ کسی حقیقت یا حالات کے بارے میں کچھ نہ جانتے ہوئے بھی گواہی دے دیتا ہے، جیسا کہ کسی زمین کی ملکیت کی گواہی ہو، یا گھر کی، یا کسی تنازعہ میں تزکیہ و بے گناہی کی ہو، جب کہ وہ اُس سے کچہری کے دروازے یا دہلیز پر ہی ملا تھا اس سے قبل وہ ایک دوسرے کو جانتے بھی نہ تھے، یہ گواہی سراسر جھوٹ ہے لہذا واجب ہے کہ گواہی اس طرح ہونی چاہیے جیسے قرآن میں آیا ہے : ’’اور ہم نے وہی گواہی دی تھی جو ہم جانتے تھے‘‘۔ سورۃ یوسف / 81

گانے بجانے کے آلات اور میوزک سُننا :

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اس بات کی قسم کھایا کرتے تھے کہ اللہ کے اس قول: ’’اور لوگوں میں کوئی ایسا ہے جو لغو باتیں خریدتا ہے تاکہ (لوگوں کو) بے سمجھے اللہ کے راستے سے گمراہ کرے‘‘۔ سے مراد: گانے گانا اور سُننا ہے۔ تفسير ابن كثير 6/333 حضرت ابی عامر اور ابی مالک الاشعری رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نےارشاد فرمایا: ”میری امت میں سے کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو کہ زنا، ریشم، شراب اور گانے بجانے کے آلات کو جائز کرلیں گے۔“ صحیح البخاری مع:( فتح الباری 10/51)- حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک مرفوع حدیث میں نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے : ’’میری اُمت پر زمیں میں دھنسنے، آسمان سے پتھر برسنے اور شکل وصورت مسخ ہونے والے جیسے عذاب آئیں گے اور یہ تب ہوگا جب وہ لوگ شراب پیئیں گے اور گانے والی کنیزیں رکھیں گے اور گانے بجانے کے آلات [موسیقی] بجائیں گے‘‘۔ دیکھیے السلسلة الصحيحة 2203، اس کے علاوہ علامہ البانی نے اسے ابن ابی الدنیا کی کتاب ذم الملاهي کی طرف بھی منسوب کیا ہے، یہ حدیث سنن الترمذي2212 میں بھی ہے۔ نبی ﷺ نےکوبہ سے منع کیا ہے اور وہ ڈھول ہے2212 اور بِین وبانسری کی آواز کو احمق اور فاجر کی آواز کہا ہے، اور متقدمین علماء جیسا کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ وغیرہ ہیں انہوں نے گانے بجانے اور موسیقی کے آلات جیسے سارنگی، طنبور، بانسری، باجہ اور جھانجھ وغیرہ کو بجانا حرام قرار دیا ہے جب کہ بے شک گانے بجانے کے نئے آلات بھی نبی ﷺ کی حدیث میں شامل ہیں جس میں انھیں بجانے سے نہى آئى ہے، جیساکہ وایلن، ہارمونیم، اورگ، پیانو [PIANO]، اور گیٹار[GUITAR] وغیرہ، بلکہ یہ نئے آلات مدہوش ومست کرنے میں پرانے اُن آلات سے بھی زیادہ اثر رکھتے ہیں کہ جن کی حرمت کا ذکر بعض احادیث میں وارد ہوا ہے، اور میوزک کا نشہ شراب کے نشے سے بہت بڑھ کر ہے، جیساکہ اہلِ علم مہں سے علامہ ابن قیمؒ وغیرہ نے یہ بات ذکر کی ہے، اور کوئى شک نہیں کہ جب موسیقى کے ساتھ گانا او رآواز طرب بھى شامل ہو جیسے گانے والی فنکارہ عورتوں کی آوازیں، اور یہ گناہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب گانے کے بول عشق وپیار اور محبت والفت پر مشتمل ہوں اور جب حسن کی تعریف میں ہوں۔ اسی لیے علماء نے کہا ہے کہ گانا زنا کی طرف پہنچانے والا ایلچی ہے،اور یہ دل میں نفاق پیدا کرتا ہے،

اور آج گانا اور میوزک ہمارے زمانے کا علیٰ الاطلاق سب سے بڑا فتنہ ہے،

اور ہمارے زمانے میں یہ بلا اس لئے بہت زیادہ بڑھ گئی ہے کہ میوزک کا استعمال بہت سی چیزوں میں ہونے لگا ہے جیسے کہ گھڑیاں، بچوں کے کھلونے، کمپیوٹر اور بعض ٹیلیفون سیٹ ہیں، لہذا اس میوزک سے بچنے کے لیے بڑا حوصلہ وہمت چاہیے اور اللہ ہى مددگار ہے۔

غیبت:

مسلمانوں کی برائی وغیبت کرنا اور ان کی عزت کو نشانہ بنانا بہت سی مجلسوں کی زینت اور خوش طبعی کا ذریعہ بن چکی ہے، حالاںکہ اس بات سے اللہ تعالیٰ نے منع اور اپنے بندوں کو اس سے نفرت دلائى ہےاور اسے بہت بھیانک وناپسندیدہ صورت سے تشبیہ دی ہے جس سے کہ لوگ گھن محسوس کرتے ہیں۔ اللہ تعالی کا ارشادِ گرامی ہے: ’’اور کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے اس سے تو تم ضرور نفرت کروگے (تو غیبت بھی نہ کرو)‘‘۔ سورۃ الحجرات:12. اور نبیﷺنے غیبت کا معنیٰ اپنے اس ارشاد میں بیان کیا ہے : ’’کیا تم جانتے ہیں کہ غیبت کیا ہے؟،کہا گیا: اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہی بہتر جانتے ہیں۔ آں حضرت ﷺ نے فرمایا: تمھارا بھائی جس بات سے نفرت کرے اس کا اس کی عدمِ موجودگی میں ذکر کرنا غیبت ہے،صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے کہا: میں نے اپنے بھائی کے بارے میں جو کہا ہے اگر اس میں وہ بات موجود ہو ؟فرمایا:اگر وہ بات اس میں پائی گئی ہے تو تم نے اس کی غیبت کی ہے اور اگر اس میں نہ پائی جائے تو تم نے اس پر بہتان لگایا ہے“۔ صحیح مسلم:4/2001- غیبت کسی مسلمان کی عدمِ موجودگی میں یا پیٹھ پیچھے اس کی بد گوئی کرنا ہے،چاہے وہ عیب و نقص کسی کے جسم میں ہو یا دین یا دنیا میں یا چاہے اس کی شخصیت، اخلاق یا خلقت میں ہو، اور اس کی بہت سی صورتیں ہیں، جن میں سے ہی کسی کے عیب لوگوں کے سامنے ذکر کرنا ہے، یا کسی کی کسی حرکت پر اس کا مذاق اڑانے کے ارادے سے اس کی نقلیں اتارنا وغیرہ بھی ہے۔ لوگوں نے غیبت کو آسان بات سمجھا ہوا ہے حالاںکہ یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت ہی قبیح وبری ہے، چناںچہ نبیٔ اکرم ﷺ کا ارشاد ہے: ’’سود کے بہتر [۷۲] دروازے [درجے] ہیں جن میں سے سب سے کم درجے کا سود اپنی ماں کے ساتھ زنا کرنے کے برابر ہے اور سب سے بڑا سود اپنے کسی مسلمان بھائی کی عزت پر ہاتھ ڈالنا ہے‘‘۔ السلسلة الصحيحة 1871 اگر کوئی شخص کسی ایسی مجلس میں موجود ہو جہاں کسی کی غیبت کی جارہی ہو تو اسے چاہیے کہ اس منکر کو روکے اور غیبت کیے جانے والے بھائی کا دفاع کرے، اور یہ اس پر واجب ہے۔ نبی ﷺ نے اپنے اس ارشاد میں اسی بات کی ترغیب دلائی ہے : ”جس شخص نے اپنے کسی بھائی کی عزت کا دفاع کیا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کے چہرے سے جہنم کی آگ دور ہٹائے گا“۔ مسندِ امام احمد 6/450، صحیح الجامع : (6238 -

چغلی کرنا :

لوگ ایک دوسرے کی باتیں ادھر سے ادھر نقل کرتے ہیں تاکہ ان میں فساد پھیلائیں اور یہ چغل خوری لوگوں میں رشتے ناطے توڑنے اور ان میں بغض و دشمنی اور حقد و عداوت کی آگ بھڑکانے کا سب سے بڑا سبب ہے،

اور اللہ تعالیٰ نے اس کام کے مرتکب کو بہت برا قرار دیا ہے ، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’اور کسی ایسے شخص کے کہے میں نہ آجانا جو بہت قسمیں کھانے والا ذلیل ہے۔ طعن آمیز اشارے کرنے والا چغلیاں لیے پھرنے والا ہے‘‘۔ القلم/11.10- حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں ارشادِ نبوی ﷺ ہے : ’’قّتات (چغل خور) جنت میں داخل نہیں ہوگا‘‘۔ صحیح البخاری دیکھیے:( فتح الباری 10/472)- النهاية في غريب الحديث لابن الأثير 4/11 میں لکھا ہے : کہا گیا ہے کہ: قتات اسے کہتے ہیں جو دوسرے لوگوں کی باتیں چوری چھپے سنے پھر دوسروں کے سامنے بیان کرے‘‘۔ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ نبیٔ اکرم ﷺ مدینہ منورہ کے کسی باغ میں سے گزرے۔ تو آپ ﷺ نے دو آدمیوں کی آوازیں سنیں جنھیں قبر میں عذاب ہورہا تھا، تو نبی ﷺ نے فرمایا : ’’انھیں عذاب دیا جارہا ہے، اور انھیں کسی بڑے گناہ کی سزا نہیں دی جارہی، پھر فرمایا : بلکہ کسی کبیرہ گناہ کی ہی سزا ہے (اور ایک روایت میں ہے: بلکہ یہ کبیرہ گناہ کی ہی سزا ہے) ان میں سے ایک تو پیشاب کرتے وقت چھینٹوں سے پرہیز نہیں کیا کرتا تھا اور دوسرا لوگوں کی چغلیاں کیا کرتا تھا‘‘۔

صحیح البخاری دیکھیے :( فتح الباری 1/317)-

اور اس چغلی کی بری صورتوں میں سے ہی ایک یہ ہے کہ

شوہر کو بیوی کے خلاف اور بیوی کو شوہر کے خلاف اکسائے اور بھڑکائے، اور یہ اس لیے تا کہ ان دونوں کے باہمی رشتے کو خراب کردے، اسی طرح بعض ملازمین ایک دوسرے کی باتیں مدیر یا ذمہ دار تک پہنچاتے ہیں جو کہ چغلخورى کى ہى کى ایک قسم ہے اور بلا شبہ یہ کام انھیں نقصان پہنچانے میں داخل ہے، اور یہ سب کام حرام ہیں۔

بلا اجازت لوگوں کے گھروں میں جھانکنا :

اللہ تعالی کا ارشادِ گرامی ہے: ’’مومنو ! اپنے گھروں کے سوا دوسرے (لوگوں کے) گھروں میں گھر والوں سے اجازت لیے اور ان کو سلام کیے بغیر داخل نہ ہوا کرو‘‘۔ النور/27 اور گھر والوں سے اجازت لینے کی وجہ بتاتے ہوئے نبیٔ اکرم ﷺ نے فرمایا کہ بلا اجازت گھر میں جانے سے کہیں گھر والوں کی قابلِ ستر چیزوں پر تمھاری نگاہ نہ پڑجائے چناںچہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’طلبِ اجازت نگاہ ہى کى وجہ سے بنائی گئی ہے‘‘۔ صحیح البخاری دیکھیے : فتح الباری 11/24- اور آج کل گھروں کے باہم قریب ہونے، عمارتوں کے باہم جڑے ہونے، اور کھڑکیوں دروازوں کے قریب قریب ہونے کی وجہ سے پڑوسیوں کا ایک دوسرے کے گھروں میں جھانکنے کا احتمال وامکان زیادہ ہو گیا ہے، اور بہت سے لوگ نظریں نیچی نہیں کرتے، بلکہ بعض لوگ جو اوپر رہتے ہیں وہ جان بوجھ کر اپنی چھتوں اور کھڑکیوں سے نیچے والے گھروں میں جھانکتے ہیں، یہ خیانت اور پڑوسیوں کی حرمت کی حد کو پار کرنا اور حرام کاری وزنا کی طرف لے جانے والا راستہ وذریعہ ہے،اور اسی کی وجہ سے بہت سی بلائیں اور فتنہ وفسادات رونما ہوچکے ہیں، اور اس بات کے خطرناک ہونے کے لیے یہ ثبوت ہی کافی ہے کہ شریعت نےٹوہ میں رہنے والے شخص کی آنکھ ضائع کرنے پر کوئی دیت وقصاص مقرر نہیں کیا ہے- چناںچہ نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ’’جس شخص نے بغیر اجازت کے دوسرے لوگوں کے گھروں میں جھانکا تو ان کے لیے حلال ہے کہ وہ اس کی آنکھ پھوڑدیں‘‘۔ صحیح مسلم:3/1699- اور ایک روایت میں ہے : ’’اگر گھر والوں نے اس کی آنکھ ضائع کردی تو نہ اس کی دیت و خون بہا ہوگی اور نہ ہی قصاص ہے‘‘۔ مسندِ امام احمد (2/385) ،صحیح الجامع (6022)۔

کسی مجلس میں بیٹھ کر دو آدمیوں کا تیسرے کے ہوتے ہوئے آپس میں سرگوشی کرنا :

یہ ایسی آفت ہے جو کہ مجلسوں میں عام پھیلی ہوئی ہے اور یہ شیطان کی چال ہے تاکہ مسلمانوں میں تفرقہ ڈال سکے اور ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے نفرت پیدا کرے، نبی ﷺ نے سرگوشی کا حکم اور اس کا سبب بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے : ’’اگر مجلس میں تین شخص بیٹھے ہوں تو دو آدمی آپس میں تیسرے کے علاوہ باتیں نہ کریں جب تک کہ دوسرے لوگوں سے مل نہ جائیں کیوںکہ اس سرگوشی سے اسے دکھ پہنچتا اور پریشانی ہوتی ہے‘‘۔ صحیح البخاری حدیث 6290، دیکھیے : فتح الباری 11/83- تین آدمی اگر چوتھے کو چھوڑ کر سرگوشى کریں او اسى طرح جو بھى صورت اس طرح بنے (جیسے چار آدمی پانچویں کو چھوڑ کر سرگوشی کریں) تو یہ بھی مذکورہ حکم میں داخل ہے، اسی طرح دو آدمی آپس میں اس زبان میں بات کریں جو تیسرا نہ سمجھ سکے تو یہ بھی حرام سرگوشی میں شامل ہے، اور بے شک اس طرح کی بات چیت میں تیسرے کے لیے حقارت ظاہر ہوتی ہے یا اُسے اس بات کے وہم میں ڈالا جاتا ہے کہ وہ اُس کا بُرا سوچ رہے ہیں تبھی تو انھوں نے اسے شریکِ گفتگو نہیں کیا۔

کپڑا ٹخنوں سے نیچے تک لٹکانا :

اسے لوگ آسان سمجھتے ہیں حالاںکہ اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑا گناہ ہے کہ کپڑے کو ٹخنوں سے نیچے تک لٹکایا جائے- اور بعض لوگوں کا لباس تو زمین کو چھورہا ہوتا ہے، اور بعض لوگ اپنے کپڑوں کو اپنے پیچھے زمین پر گھسیٹتے چلے آتے ہیں۔ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے ایک مرفوع حدیث میں ارشادِ نبوی ﷺ ہے : ’’تین ایسے اشخاص ہیں جن سے اللہ قیامت کے دن بات نہیں کرےگا اور نہ ان کی طرف نظر رحمت سے دیکھے گا اور نہ ہی انھیں گناہوں سے پاک کرےگا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے: (1) کپڑے کو ٹخنوں سے نیچے تک لمبا کرنے والا (اور ایک روایت میں ہے: تہہ بند کو لمبا کرنے والا)۔ (2) منّان (احسان جتانے والا) (اور ایک روایت میں ہے : وہ شخص جو دوسروں کو احسان جتائے بغیر کوئی چیز نہ دے)۔ (3)وہ شخص جو اپنے مال و سامان کو جھوٹی قسموں سے بیچنے والا ہے ‘‘۔ صحیح مسلم 1/102- جو شخص یہ کہتا ہے کہ میرا کپڑے کو لٹکانا تکبر سے نہیں ہوتا ، وہ اپنے آپ کی پاکدامنی پیش کرتا ہے جو کہ غیر مقبول ہے ، اور کپڑا ٹخنوں سے نیچے تک لٹکانا چاہے تکبر کی نیت سے ہو یا اس نیت سے نہ ہو اس کے لیے نبی کی طرف سے عذاب کی خبر آئی ہے ، جس کا ثبوت نبی ﷺ کا یہ ارشاد ہے : ’’تہبند کا وہ حصہ جو ایڑی کے نیچے ہے وہ جہنم کی آگ میں ہوگا‘‘- مسندِ امام احمد (6/254) ،صحیح الجامع (5571)۔ پس جو شخص غرور سے کپڑا ٹخنوں سے نیچے تک لمبا کرے تو اس کی سزا بہت ہی سخت و شدید ہوگی، اور اس سزا کا ذکر نبی ﷺ کے اس ارشاد میں ہے : ’’جس شخص نے غرور سے اپنے کپڑا پیچھے گھسیٹا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا‘‘۔

صحیح البخاري نمبر: 3465 ط: البغا-

یہ اس لیے کہ اس نے دو حرام کاموں کو جمع کیا ، ایک تکبر اور دوسرا کپڑے کو ٹخنوں سے نیچے تک لٹکانا اور یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ کپڑے کو ٹخنوں سے نیچے تک لٹکانا ہر قسم کےلباس میں حرام ہے، جس کی دلیل حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی نبیﷺ کی وہ مرفوع حدیث ہے جس میں ارشادِ نبوی ﷺ ہے : ’’اسبال (یعنى کپڑے کو ٹخنوں سے نیچے تک لمبا کرنا) قمیص اور پگڑی سب میں ہے، جو شخص ان کپڑوں میں سے ان کا کچھ حصہ بھى غرور سے گھسیٹے گا تو قیامت کے دن اللہ تعالٰی اس کی طرف دیکھے گا بھی نہیں‘‘۔ سنن أبو داود 4/353، صحيح الجامع 2770- البتہ عورت کو یہ اجازت ضرور دی گئی ہے کہ وہ احتیاطاً زیادہ سے زیادہ ایک بالشت یا دو بالشت لباس لمبا کرسکتی ہے تاکہ وہ اپنے پاؤں کو ڈھانپے رکھے تاکہ ہوا سے اس کے جسم کا کوئی حصہ ننگا نہ ہو، مگر اس حد کو پار کرنا اس کے لیے بھی جائز نہیں، جیسا کہ آج کل دلہنوں کے کپڑوں میں ہوتا ہے جو کہ کئی بالشت بلکہ کئی میٹر تک زمین پر گھسیٹ رہے ہوتے ہیں اور کئی لوگوں کی مدد لے کر انھیں پیچھے سے اٹھایا جاتا ہے تاکہ دلہن آسانی سے چل سکے۔

مردوں کا کسی بھی صورت میں سونا پہننا :

حضرت ابو موسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ایک مرفوع حدیث میں ارشادِ نبوی ﷺ ہے : ’’میری امت کى عورتوں کے لئے ریشم اور سونا حلال ہے اور مردوں پر حرام ہے‘‘۔ مسندِ امام احمد(4/393) نیز دیکھیےصحیح الجامع (207)۔ آج کل بازاروں اور مارکیٹوں میں مختلف کیرٹ کے سونے کی تیار کردہ چیزیں موجود ہیں جو کہ مردوں کے لیے بنائی گئی ہیں جیسے کہ گھڑیاں،چشمے، بٹن، قلم، زنجیر، چابی کی رِنگ اور تمغے، یا وہ چیزیں جو مکمل طور پر سونے کے پانی سے پالش کی گئی ہوں، اور سونے کی مردانہ گھڑی بھی منکرات میں سے ہے جسے بعض مقابلوں میں جیتنے والوں کو بطور انعام دیا جاتا ہے۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے کسی آدمی کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو اسے اتار پھینکا اور فرمایا : ’’تم میں سے کوئی جان بوجھ کر آگ کا انگارہ اپنے ہاتھ میں پہنتا ہے؟!‘‘۔ جب نبی ﷺ چلے گئے تو اس آدمی سے کہا گیا : تم اپنی انگوٹھی لےلو اور اس سے فائدہ اٹھاؤ، تو اس نے کہا : ’’ اللہ کی قسم! میں اسے ہرگز نہیں لوں گا جسے اللہ کے رسول ﷺ نے پھینکا ہو‘‘۔ صحیح مسلم:3/1655-

عورتوں کا چھوٹے، باریک اور تنگ کپڑے پہننا :

موجودہ زمانے میں ہمارے دشمنوں نے ہم پر ایک یلغار یہ بھی کی ہے کہ انہوں نے نئے نئے ڈیزائنوں اور فیشنوں کے لباس بنائے ہیں جو مسلمانوں میں رائج ہوگئے ہیں، اور وہ چھوٹے یا باریک و تنگ ہونے کی وجہ سے واجب ستر کو بھی نہیں چھپاتے، اور ان میں بہت سے لباس ایسے ہیں کہ جنھیں عورتوں یا محارم میں بھی پہننا جائز نہیں۔ نبی ﷺ نے اس قسم کے کپڑے آخری زمانے کی عورتوں میں مروج ہونے کی پیشن گوئی کی تھی، جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوع حدیث میں وارد ارشادِ نبوی ﷺ ہے : ’’اہلِ جہنم کی دو قسمیں ایسی ہیں جو میں نے نہیں دیکھیں : ایک وہ قوم جن کے پاس کوڑے ہوں گے جو گائے کی دموں جیسے ہوں گے جن سے وہ لوگوں کو ماریں گے اور دوسری قسم بظاہر کپڑوں میں ملبوس مگر حقیقتاً ننگی عورتیں جو سیدھی راہ سے بہکنے والی اور دوسروں کو بہکانے والی ہوں گی، جن کے سر بختی اونٹوں کی کوہانوں کی طرح ہوں گے وہ جنت میں داخل نہ ہوں گی اور نہ ہی اس کی خوشبو پائیں گی حالاںکہ اس کی خوشبو تواتنے اور اتنے دور سے پائی جاتی ہے‘‘۔ صحیح مسلم:3/1680- بخت : یہ لمبی گردنوں والے اونٹ ہیں۔ اس ممانعت میں وہ لباس بھی شامل ہیں جو عورتیں پہنتی ہیں جن کے نیچے سے دائیں بائیں لمبا چاک بنا ہو یا مختلف جگہوں پر کٹ ہوں،جب وہ بیٹھتی ہے تو اس کا ستر نظر آتا ہے اس میں ایک تو کافروں کی مشابہت ہے دوسرے ان کے بنائے ہوئے کپڑوں کے ڈیزائن اور بے پردگی میں ان کی پیروی وتابعداری ہے، اللہ تعالیٰ سے سلامتی کی دعا ہے، اسی طرح کی خطرناک باتون میں سے: وہ قبیح تصویریں ہیں جو کپڑوں پر بنی ہوتی ہیں، جیسے کہ مغنیوں، میوزک ٹیم، شراب کی بوتلوں کىتصویریں، اور ان جان داروں کی تصویریں جو شرعا حرام ہیں، اور اسى قبیل سے کپڑوں پر صلیب کى تصویر بھى ہے اور خبیث جمیعات اور کلبوں کے لوگو بھى، اور ان ہى کے ہم مثل عزت وعفت کے منافی ایسے خراب جملے بھى ہیں جو کپڑوں پر پرنٹ ہوتے ہیں، اور ایسے جلمے زیادہ تر اجنبی زبانوں میں لکھے ہوتے ہیں۔

مردوں یا عورتوں کا کسی انسان وغیرہ کے مصنوعی بال جوڑنا (وِگ لگانا) :

حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں کہ ایک عورت نبی ﷺ کے پاس آئی اور اس نے کہا اے اللہ کے رسول ! میری ایک بیٹی ہے جس کی شادی ہونے والی ہے خسرہ کی وجہ سے اس کے بال گرگئے ہیں، تو کیا میں اسے مصنوعی بال جوڑدوں؟ تو نبی ﷺ نے فرمایا : ’’اللہ تعالیٰ نے مصنوعی بال جوڑنے والی اور جُڑوانے والی پر لعنت فرمائی ہے‘‘۔ صحیح مسلم:3/1676- حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’نبی ﷺ نے عورت کو اپنے سر پر کچھ بھی مصنوعی جوڑنے سے منع فرمایا ہے‘‘۔ صحیح مسلم:3/1679- ہمارے زمانے میں اس کی مثال (وِگ)ہے، اور اس وقت بال جوڑنے والے ہیئر ڈریسرز ہیں کہ ان کے پارلر طرح طرح کے منکرات سے بھرے ہوئے ہیں۔ اس حرام فعل کی مثالیں یہ وِگیں ہیں جو کہ بدکردار اداکار اور اداکارائیں فلموں اور ڈراموں وغیرہ میں لگاتے ہیں۔

مردوں کا عورتوں سے اور عورتوں کا مردوں سے لباس یا گفتگو یا ظاہری حالت میں مشابہت اختیار کرنا :

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے جو فطرت بنائی ہے اس کی بناء پر مرد کو چاہیے کہ وہ اپنی اس مردانگی پر برقرار رہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا کیا ہے، اور عورت کو چاہیے کہ وہ اس نسوانیت پر قائم رہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اسے بنایا ہے، اور یہ ان اسباب میں سے ہے جن کے بغیر لوگوں کی زندگی درست و سیدھی نہیں رہ سکتی، اور مردوں کا عورتوں سے اور عورتوں کا مردوں سے مشابہت اختیار کرنا فطرت کى مخالفت، فساد کے دروازے کھولنا، اور معاشرے میں اباحیت و بے شرمی کو کھلے عام پھیلانا ہے، اور شرعاً اس کام کا حکم یہ ہے کہ یہ حرام ہے، کیوں کہ اگر کسی شرعی نص میں کسی کام کے مرتکب پر لعنت کی گئی ہو تو وہ اس کے حرام ہونے کی دلیل ہوتی ہے ، چناںچہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ایک مرفوع حدیث میں ہے : ’’اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ نے عورتوں سے مشابہت کرنے والے مردوں اور مردوں سے مشابہت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے‘‘۔ صحیح البخاری دیکھیے:( فتح الباری 10/332)- حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہی مروی ایک اور مرفوع حدیث میں ہے : ’’اللہ کے رسول ﷺ نے زنخے بننے والے مردوں اور مردانہ چال ڈھال دکھانے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے‘‘۔ صحیح البخاری مع:( فتح الباری 10/333)- مشابہت کبھی تو حرکات و سکنات اور چال چلن میں ہوتی ہے جیسے مرد کا اپنے جسم کی شکل وصورت کو عورتوں کے مشابہ بنانا، اور اندازِ گفتگو اور چال میں زنانہ پن ظاہر کرنا، اور اسى طرح مرد وعورت ہر ایک کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ لباس یا کسى اور خصوصیت میں ایک دوسرے کى مشابہت اختیار کریں، لہذا مرد کے لیے ہار، کنگن، پازیب اور بالیاں وغیرہ پہننا جائز نہیں جس طرح کى بعض گھٹیا قسم کے بچگانہ عقل والے لوگوں کے ہاں یہ چیزیں عام ہیں۔ اسی طرح عورت کے لیے مردوں کے مخصوص کپڑے قمیص وغیرہ پہننا جائز نہیں بلکہ عورت پر یہ لازم ہے کہ وہ ایسا لباس پہنے جو ڈیزائن، سلائی اور ظاہری شکل و صورت میں مرد کے لباس سے مختلف ہو۔ مرد اور عورت کا لباس ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہو اس کے وجوب کی دلیل: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کى روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’زنانہ طرز کا لباس پہننے والے مرد پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو، اور مردانہ طرز کا لباس پہننے والی عورت پر اللہ تعالیٰ لعنت کرے‘‘۔ سنن أبو داود 4/355، صحيح الجامع 5071-

بالوں کو کالا رنگ (سیاہ خضاب) لگانا :

صحیح بات تو یہ ہے کہ یہ حرام ہے کیوں کہ نبی ﷺ کے ارشاد میں اس پر زبردست عذاب مذکور ہے چناںچہ ارشادِ نبوی ﷺ ہے : ’’آخر زمانے میں ایسے لوگ ہوں گے جو کبوتروں کی پوٹ جیسا کالا رنگ کریں گے وہ جنت کی خوشبو تک نہ سونگھ پائیں گے‘‘۔ سنن أبو داود 4/419، صحيح الجامع 8153- یہ فعل آج کل ان لوگوں میں عام پھیلا ہوا ہے جن میں بڑھاپا ظاہر ہو گیا ہے وہ کالا رنگ لگاکر اسے بدل دیتے ہیں جس سے کئی خرابیاں اور بہت فساد پھیلتا ہے، جن میں سے ہی اللہ تعالیٰ کے بندوں کو دھوکا و فریب دینا، اپنی اصلی حالت کو چھپانا اور جھوٹی صورت سے اپنے دل کو بہلانا وغیرہ بھی ہے۔ اور بے شک اس کا انسانی سلوک و کردار پر بُرا اثر پڑتا ہے، اور کبھى اس سے خود فریبی بھی پیدا ہوسکتى ہے، اور نبی ﷺ سے صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ آپ ﷺ سفید بالوں کو ایسے مہندی وغیرہ سے بدلتے تھے جس میں پیلے یا سرخ یا براؤن رنگ کی طرف مائل ہو نے والے رنگ ہوں، اور فتح مکہ کے دن جب (حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے والد) حضرت ابو قحافہ رضی اللہ عنہ کو نبی ﷺ کی خدمت میں لایا گیا تو ان کا سر اور داڑھی سفیدی کی وجہ سے سفید پھولوں کے پودے جیسے لگ رہے تھے، اس موقعہ پر نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا : ’’ان کے بڑھاپے کے رنگ کو کسی دوسری چیز (مہندی وغیرہ) سے بدل دو، اور کالے رنگ سے پرہیز کرو‘‘۔ صحیح مسلم:3/1663- اور صحیح قول کے مطابق عورت بھی مرد کی طرح ہے، اگر اس کے سر میں کالے بال نہیں تو اُسے بھی سفید بالوں کو کالا رنگ لگانا جائز نہیں۔

کپڑوں، دیواروں یا کاغذوں وغیرہ پر زندہ چیزوں کی تصویر بنانا :

حضرت عبداللہ بن مسعود-رضي الله عنہ ۔ سے ایک مرفوع حدیث میں مروی ہے کہ نبویٔ اکرم ﷺ نے ارشاد فریا : ’’قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عذاب تصویر بنانے والوں کو ہوگا ‘‘۔ صحیح البخاری مع:( فتح الباری 10/382)- حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک مرفوع حدیثِ قدسی میں نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالی کا ارشادِ گرامی ہے: ’’اور ان سے بڑا ظالم کون ہوگا جو میری طرح ہی مخلوقات بنانے کی کوشش کرتا ہے (میرا چیلنج ہے کہ یہ) میری طرح ایک دانہ تو پیدا کریں ایک ذرہ ہی پیدا کر کے دکھائیں۔۔۔‘‘۔ صحیح البخاری دیکھیے : فتح الباری 10/385- حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک مرفوع حدیث میں مروی ارشادِ نبوی ﷺ ہے: ’’ہر مصوّر (تصویر بنانے والا) آگ میں داخل ہوگا، اُس کی ہر بنائی ہوئی تصویر میں جان ڈالی جائے گی اور انھیں کے ہاتھوں اسے جہنم میں عذاب دیا جائے گا‘‘۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما( نے کسی مصور کو اس کام سے روکا تو اس نے یہ عذر پیش کیا کہ میں دوسرا کوئی کام جانتا ہی نہیں ہوں، اس پر وہ اسے )کہتے ہیں : ’’اگر تمھیں ضرور یہی کام کرنا ہے تو درخت بناؤ اور ان چیزوں کی تصویریں بناؤ جن میں جان نہیں‘‘۔ صحیح مسلم:3/1671- مذکورہ احادیث میں جاندار کی تصویریں چاہے وہ انسانوں کی ہوں یا جانوروں کی اور ان کا سایہ ہو یا نہ ہو ، ان کے حرام ہونے کا ثبوت ہے،اگر چہ وہ تصویر چھپی ہو یا ہاتھ سے بنی ہو یا کھود کر بنائی گئی ہو یا نقش کی گئی ہو یا تراشی گئی ہو یا ڈائیوں سانچوں میں تیار کی گئی ہو اور اسی طرح ہی کئی دیگر طریقے بھی ہیں، جب کہ تصویر گرى کى حرمت ثابت کرنے کرنے والی احادیث ان سب کو شامل ہیں۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ شرعی نصوص کے آگے سر تسلیم خم کردے اور بحث و کٹ حجتی نہ کرے اور یہ نہ کہے : کہ میں اس کی عبادت نہیں کرتا اور نہ ہی اس کو سجدہ کرتا ہوں میں تو صرف فوٹو اتارتا ہوں اور بس!! اگر عقل مند شخص غور سے ہمارے اس زمانے میں تصویر بنانے کے عام ہونے کے صرف ایک ہی برائی پر نظر ڈالے تو شریعت کے تصویر بنانے کی حرمت کے حکم میں اسے بعض حکمتوں کا ضرور پتہ چل جائے گا، اور وہ حکمت یہ ہے کہ تصویریں جنسی اشتعال اور شہوت کو برانگیختہ کرنے کا موجب ہیں، بلکہ تصوریں فواحش میں پڑنے کا ایک اہم سبب ہیں، مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے گھروں میں جاندار چیزوں کی تصویریں نہ رکھے تاکہ وہ فرشتوں کے گھر میں نہ داخل ہونے کا سبب نہ بنیں، کیوں کہ نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے : ’’فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کتا یا تصویریں ہوں‘‘۔ صحیح البخاری مع:( فتح الباری 10/380)- بعض گھروں میں مجسمے رکھے ہوتے ہیں جن میں سے بعض تو کافروں کے معبود ہوتے ہیں وہ اس بنا پر گھروں میں رکھے رہتے ہیں کہ ان کا شمار میں نوادرات اور زینت میں ہوتا ہے، ان مجسموں کى حرمت دوسری چیزوں کی نسبت سخت حرام ہے، اسی طرح لٹکائی ہوئی تصویروں کی حرمت نہ لٹکائى ہوئى تصاویر سے زیادہ سخت ہے، چنانچہ ان لٹکائی ہوئی تصویروں کیا ہى تعظیم کى گئى؟ اور انہوں نے کتنے غم ودکھ تازہ کردئے، اور نہ پوچھو یہ تصاویر کتنا فخر ومباہات کا سبب بنیں؟ اور یہ حیلہ روا نہیں ہے کہ یہ تصویریں یادگار کے لیے ہیں؛ کیونکہ اصل یاد تو کسی عزیز یا قریبی مسلمان کی دل میں ہوتی ہے، اور اسى بناء پر ان کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا کی جاتی ہے، لہذا ہر تصویر کو گھر سے نکال دیا جائے یا اسے ختم کر دیا جائے، البتہ وہ جن کے مٹانے میں حد سے زیادہ مشقت مطلوب ہو؛ جیسے کہ وہ تصویریں جو کھانے کے ڈبوں پر ہوتی ہیں اور وہ تصویریں جو نفع بخش ڈکشنریوں اور کتب ومراجع میں ہوتى ہیں، جہاں تک ممکن ہو ان کو مٹانے کى کوشش کى جائے گى ساتھ ان میں سے بعض میں موجود فحش وبری تصاویر سے متنبہ رہنا چاہئے، البتہ ان تصویروں کو محفوظ رکھا جاسکتا ہے جن کی ضرورت ہوتی ہے جیسے کہ جو تصوریں شناخت کے لئے ہوں، اور بعض اہلِ علم نے ان تصویروں کی اجازت دی ہے جن کى تحقیر کى جاتی ہے جیسے کہ وہ تصویریں جو قدموں تلے روندی جاتی ہوں۔ "سو جہاں تک ہوسکے اللہ سے ڈرتے رہو"۔ التغابن/16

بیانِ خواب میں جھوٹ بولنا :

بعض لوگ جان بوجھ کر من گھڑت خواب جو انہوں نے نہیں دیکھے ہوتے بتاتے پھرتے ہیں تاکہ دوسروں پر برتری اور سستی شہرت پاسکیں، یا لوگوں سے مالی منافع حاصل کریں، یا اگر کسی سے دشمنی ہو تو انھیں ڈرانے کے لیے ایسا کرتے ہیں، اور دگر اغراض کے لئے بھى یہ کام انجام دیتے ہیں، عوام کى ایک بڑى تعداد خوابوں کی سچائی پر شدید اعتقاد رکھتى ہے اور اسے ان خوابوں سے بہت لگاؤ ہوتا ہے لہذا وہ ان جھوٹے خوابوں سےدھوکا کھاجاتے ہیں، جب کہ جھوٹے خواب بیان کرنے والے کے لیے زبردست وعید آئی ہے، نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے : ’’سب سے عظیم جھوٹ یہ ہے کہ کوئی بیٹا اپنے آپ کو اپنے باپ کی بجائے کسی دوسرے کی طرف منسوب کرے یا اس کی آنکھ نے جو خواب نہ دیکھا ہو وہ اسے دکھائے (جھوٹا خواب بیان کرے) اور جو نبی ﷺ نے نہ کہا ہو وہ آ پ ﷺ کی طرف منسوب کرے‘‘۔ صحیح البخاری دیکھیے:( فتح الباری 6/540)- اور نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے : ’’جس شخص نے خواب تو نہ دیکھا مگر جھوٹ گھڑ کر بتادیا، قیامت کے دن اسے حکم دیا جائے گا کہ وہ جَو کے دو دانوں کو باہم گرہ لگائے مگر وہ ہرگز ایسا نہ کر سکے گا‘‘۔ صحیح البخاری مع:( فتح الباری 12/427)- جَو کے دودانوں میں گرہ لگانا مستحیل ہے، چنانچہ سزا عمل ہى کے مطابق ہوگى۔

قبر پر بیٹھنا اور چلنا اور قبرستان میں قضائے حاجت کرنا :

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے : ’’اگر کوئی کسی انگارے پر بیٹھے اور اس کے کپڑے جل جائیں حتٰی کہ آگ کا اثر اس کی جلد تک پہنچ جائے تو وہ اس کے لیے قبر پر بیٹھنے سے بہتر ہے‘‘۔ صحیح مسلم 2/667- قبروں پر چلنا بعض لوگوں میں عام ہے ، عموماً دیکھا جاتا ہے کہ لوگ جب اپنی میت کو دفناتے ہیں تو وہ پڑوس کی قبروں پر چلنے پر توجہ نہیں دیتے (اور کبھی کبھی جوتوں سمیت روندتے ہیں) اور ساتھ والی قبروں کے مردوں کی بے حرمتی کرتے ہیں، حالاںکہ اس گناہ کے عظیم ہونے کے بارے میں نبی ﷺ فرماتے ہیں : اگر میں انگارے یا تلوار کے تیز دھارے پر چلوں یا اپنے پاؤں کو اپنے جوتے کے ساتھ سی لوں تو یہ مجھے کسی مسلمان کی قبر پر چلنے سے زیادہ پسند ہے‘‘۔ ابن ماجة 1/499، وصحيح الجامع 5038- جب صرف قبروں پر چلنا اتنا بڑا گناہ ہے تو اس کا کیا ہوگا جو کسی قبرستان کی زمین پر قبضہ کرلے اور اس پر کاروباری یا رہائشی عمارتیں بنالے۔ اسی طرح قبرستان میں قضائے حاجت کرنا بھی سخت گناہ ہے جب کہ بعض بدنصیب لوگوں کا کام یہ ہے کہ اگر ضرورت پڑے تو وہ قبرستان میں گھس کر قضائے حاجت کرلیتے اور مردوں کو اپنی بدبو ونجاست سے تکلیف دیتے ہیں، نبی ﷺ کا ارشادِ گرمی ہے: ’’مجھے کوئی پرواہ نہیں قبرستان کے وسط میں قضائے حاجت کرلوں یا بازار کے عین وسط میں (دونوں کام قباحت میں برار ہیں)‘‘۔ سابقہ تخریج- یعنی قبرستان میں قضائے حاجت کی قباحت، بازار میں لوگوں کے سامنے قضائے حاجت کرنے اور اپنا ستر ظاہر کرنے کے برابر ہے، اور جو لوگ جان بوجھ کر قبرستان میں گندگی پھینکتے ہیں (خاص طور پر جو قبرستان پرانے ہوں اور جن کی چادر دیواری ٹوٹ گئی ہو) یہ بھى سابقہ وعید کے حقدار ہیں، قبرستان کى زیارت کے کچھ لازمى آداب میں سے یہ بھى ہے کہ: قبروں کے درمیان سے گزرنا ہو تو جوتے اتار کر چلنا چاہیے۔

پیشاب کرتے وقت پیشاب سے نہ بچنا :

شریعتِ اسلامیہ کے اچھے اوصاف وامتیازات اور خوبیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس میں ہر وہ حکم موجود ہے جس سے انسان کی حالت بہتر ہو مثلاً نجاست کو دور کرنا، اور اس کے لیے استنجا کرنا مشروع ہوا ہے، اور وہ کیفیت بتائی گئی ہے جس سے صفائی و پاکیزگی حاصل کی جاسکتی ہے اور اس کا طریقہ بیان کیا گیا ہے، بعض لوگ نجاست کو دور کرنے میں سستی کرتے ہیں جس سے ان کے کپڑے یا بدن پر گندگی لگ سکتی ہے اور یوں ان کی نماز بھی صحیح نہیں ہوتی۔ نبی ﷺ نے بتایا ہے کہ یہ سستی ولاپرواہی قبر کے عذاب کے اسباب میں سے ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ مدینہ منورہ کے باغوں میں سے ایک باغ کے پاس سے گزرے تو دو انسان جنھیں قبر میں عذاب ہو رہا تھا ان کی آواز سنی تو نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’انھیں عذاب دیا جارہا ہے ، اور کسی کبیرہ گناہ پر نہیں، پھر فرمایا: بے شک (اور ایک روایت میں ہے : واقعی کسی کبیرہ گناہ پر ہی عذاب دیا جارہا ہے) اِن میں سے ایک تو پیشاب کرتے وقت اس کے چھینٹوں سے پرہیز نہیں کرتا تھا اور دوسرا چلتے پھرتے لوگوں کی غیبت وبدگوئی کرتا تھا‘‘۔ صحیح البخاری دیکھیے : فتح الباری 1/317- جب کہ نبی ﷺ نے تو یہاں تک ارشاد فرما یا ہے: ’’قبر میں اکثر طور پر لوگوں کو عذاب پیشاب کے چھینٹوں سے نہ بچنے کی وجہ سے ہوگا‘‘۔ مسندِ امام احمد (2/326) ،صحیح الجامع (1213)۔ یشاب کے چھینٹوں سے پرہیز نہ کرنے میں یہ بھی شامل ہے کہ کوئی شخص پیشاب رُکنے سے پہلے ہی جلدی سے اٹھ جاتا ہے، یا جان بوجھ کر اس طریقے یا اس جگہ پر پیشاب کرے جہاں اس کے پیشاب کے چھینٹے اس پر واپس آپڑیں، یا پانی اور ڈھیلے استعمال کرنا چھوڑ دے یا اس میں لاپرواہی کرے، موجودہ زمانوں میں کافروں سے مشابہت ونقالی یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ مردوں والے بعض پیشاب خانے دیواروں پر لگے ہوئے ہیں نیز یہ پیشانے خانے کھلے میں بنا کسى آڑ کے ہوتے ںجہاں کوئی شخص آتا ہے اور بے پردگی سے پیشاب کرتا ہے، پھر کپڑا صاف کیے بغیر ہی پہن لیتا ہے۔ اس طرح وہ لوگ بیک وقت دو حرام وقبیح کاموں کو اِکٹھا کرتے ہیں: پہلا یہ کہ اس نے لوگوں کی نظروں سے اپنا ستر نہیں چھپایا۔ اور دوسرا یہ کہ اس نے اپنے آپ کو پیشاب کے چھینٹوں سے پاک نہیں رکھا۔

دوسروں کی باتیں سننا حالانکہ انہیں یہ ناپسند ہو:

اللہ تعالٰی کا ارشادِ گرامی ہے: ’’اور ایک دوسرے کے حال کا تجسّس (جاسوسی) نہ کیا کرو‘‘۔ الحجرات/11 حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک مرفوع حدیث میں مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’جس شخص نے دوسرے لوگوں کی چپکے سے باتیں سُنیں جبکہ وہ اُسے ناپسند کرتے ہوں تو قیامت کے دن اُس کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ ڈالا جائے گا‘‘۔ المعجم الكبير للطبرانی 11/248--249، صحيح الجامع6004-

حدیث میں وارد لفظ (الآنُك) کا معنى: پگھلا ہوا سکّہ سیسہ ہے۔

اگر وہ چپکے سے ان کی باتیں اس لیے سنتا اور آگے نقل کرتا ہے تاکہ وہ انھیں نقصان پہنچائے تو وہ جاسوسی کے گناہ میں اضافہ کرتا ہے اور وہ نبی ﷺ کی اس حدیث کے تحت آجاتا ہے جس میں آپ ﷺ نے فرمایا ہے : ’’جنت میں چغل خور داخل نہ ہو گا‘‘۔ صحیح البخاری مع:( فتح الباری 10/472-

حدیث میں وارد لفظ (القتَّات) کا معنى: وہ شخص جو لوگوں کی باتیں چپکے سے سنتا ہے پھر ادھر اُدھر نقل بھی کرتا ہے۔

پڑوسیوں کے ساتھ برا سلوک کرنا:

اللہ تعالیٰ نے اپنے کلامِ پاک میں پڑوسیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تاکید فرمائی ہے، اللہ تعالی نے فرمایا: ’’اور اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کس چیز کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ اور قرابت والوں اور یتیموں اور محتاجوں اور رشتہ دار ہمسایوں اور اجنبی ہمسایوں اور رفقائے پہلو (یعنی پاس بیٹھنے والوں) اور مسافروں اور جو لوگ تمھارے قبضے میں (غلام) ہوں سب کے ساتھ احسان کرو کہ اللہ تعالیٰ (احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور) تکبر کرنے والے بڑائی مارنے والے کو دوست نہیں رکھتا‘‘۔ النساء/36 پڑوسیوں کا حق بہت عظیم ہے اس لیے انھیں تکلیف دینا محرَّمات میں سے ہے، حضرت ابو شریح رضی اللہ عنہ سے ایک مرفوع حدیث میں مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : ”اللہ کی قسم وہ ایمان والا نہیں، اللہ کی قسم وہ ایمان والا نہیں، اللہ کی قسم وہ ایمان والا نہیں، کہا گیا : اے اللہ کے رسول ﷺ ! کون ہے وہ ؟ فرمایا: جس کا پڑوسی اس کی اذیتوں سے محفوظ نہیں“۔ صحیح البخاری دیکھیے : فتح الباری 10/443- نبی ﷺ نے ایک پڑوسی کا دوسرے پڑوسی کی تعریف کرنا یا اسے بُرا بھلا کہنا حسن سلوک اور بد سلوکى کا پیمانہ قرار دیا ہے، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں :کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ ! میں یہ کیسے جان سکتا ہوں کہ میں نے اپنے پڑوسی پر احسان کیا ہے یا اُسے تکلیف دی ہے، تو نبی ﷺ نے فرمایا : ’’اگر تم اپنے پڑوسی کو یہ کہتے ہوئے سنو : کہ تم نے اچھا کیا ہے تو پھر اچھا ہی کیا، اور اگر یہ کہتے سنو : کہ تم نے برا کیا تو پھر برا ہی کیا‘‘۔ مسندِ امام احمد (1/402) ،صحیح الجامع (623)۔

پڑوسیوں کو تکلیف دینے کی متعدد صورتیں ہیں ان میں سے چند یہ ہیـں:

(1)مشترک دیوار میں لکڑی گاڑنے سے پڑوسی کو روکنا۔ (2) پڑوسى کے اجازت کے بغیر اپنا گھر اُونچا کرنا اور اس سے سورج کو چھپانا اور ہوا کو روکنا۔ (3) اس کے گھر کی طرف اپنی کھڑکیاں کھولنا اور ان سے اس کے گھر کى طرف اسکے ڈھکے چھپے کو ظاہر کرنے کے لئےجھانکنا۔ (4) ناگوار آوازوں سے اسے تنگ کرنا، جیسے دروازہ کھٹکھٹانا اور چیخنا چلانا خاص طور پر نیند اور آرام کے اوقات میں- (5) اپنے پڑوسی کے بچوں کو مارنا۔ (6) اس کے گھر کے دروازے کے سامنے کچرا پھینکنا۔ اگر کوئی اپنے ساتھ والے پڑوسی کو تکلیف دے تو یہ گناہ عظیم ہوجاتا ہے اور اس کا گناہ بڑھ جاتا ہے۔ جیسا کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’اگر کوئی آدمی دس (10) عورتوں کے ساتھ زنا کا ارتکاب کرے تو یہ اس کے لیے اپنے پڑوسی کی عورت کے ساتھ زنا کا ارتکاب کرنے سے ہلکا ہوگا، اگر کوئی آدمی دس (10) گھروں سے چوریاں کرے تو وہ اس کے لیے اپنے پڑوسی کے گھر سے چودی کرنے سے ہلکا ہوگا‘‘۔ اسے بخارى نے الأدب المفرد 103 میں روایت کیا ہے، اور یہ حدیث السلسلة الصحيحة 65 میں بھى موجود ہے- بعض خائن وغدّار اپنے پڑوسی کی رات کی ڈیوٹی ہونے کی وجہ سے اس کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاکر شر وفساد پھیلا نے کے لیے اس کے گھر میں گھس جاتے ہیں۔ سو ایسے شخص کے لئے قیامت کے دن ہلاکت وبربادی ہے۔

وصیت میں کسی کو نقصان پہنچانا :

اسلامی شریعت ککے قواعد میں سے ایک قاعدہ یہ ہے کہ: نہ خود کو نقصان پہونچانا ہے اور نہ دوسروں کو، جس کی ایک مثال یہ ہے کہ اپنے تمام شرعی وارثوں کو نقصان دینا یا ان میں سے بعض کو ضرر پہنچانا حرام ہے، اور جو اس کام کا ارتکاب کرے تو وہ نبی ﷺ کے اس ارشاد کے تحت ڈرایا دھمکایا گیا ہے اور اسے یہ بددعا سنائی گئی ہے : ’’جو شخص کسی کو نقصان پہنچائے اللہ تعالیٰ اُسے نقصان پہنچائے، اور جو دوسروں پر سختی کرے اللہ تعالیٰ اس پر سختی کرے‘‘۔ مسندِ امام احمد(3/453) نیز دیکھیےصحیح الجامع (6348)۔ وصیت میں نقصان دینے کی متعدد صورتوں میں سے ہی بعض یہ ہیں : (1) کسی وارث کو اس کے شرعی حق سے محروم کرنا۔ (2) کسی وارث کے لیے شریعت کے مقرر کردہ حق کے برخلاف وصیت کرنا۔ (3)ایک تہاہے سے زیادہ کی وصیت کرےنا۔ جس جگہ لوگ شرعی عدالتوں کے ماتحت زندگی نہ گزار رہے ہوں تو وہاں صاحبِ حق کے لئے نا ممکن ہوجاتا ہے کہ وہ اپنا وہ حق لے سکے جو کہ اسے اللہ نے دیا ہے کیوںکہ وہاں ان کورٹس کی وجہ سے مشکل پیش آتی ہے جو شریعت کے خلاف فیصلے کرتے ہیں، اور جو ظالمانہ وصیت وکیل کے پاس لکھی ہوئی ہو اُسے ہی نافذ کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ ہلاکت ہے ان کے لیے اس کى بنا پر جو ان کے ہاتھوں نے یہ ظلم لکھا اور ہلاکت ہے ان کے لئے اس کمائى کى بنا پر جو انہوں نے اس راہ سے کمایا۔

نردشیر (چوسر) کھیلنا:

لوگوں میں رائج بہت سے کھیلوں میں سے کئی حرام امور پائے جاتے ہیں جن میں سی ہی نردشیر (چوسر) بھی ہے (جو کہ الزھر کے نام سے بھی معروف ہے ) جس سے ابتداء کرکے لوگ بہت سے حرام کھیلوں کی طرف منتقل ہوجا تے ہیں، اور نبی ﷺ نے اس نَردشِیر كھیل سے منع کیا ہے جو کہ جوئے کے دروازے کھولتا ہے، چناںچہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے : ’’جس نے نَردشیر (چوسر)کھیلا تو وہ اس طرح ہے جیسے کہ کوئی اپنے ہاتھوں کو خنزیر کے گوشت اور خون سے رنگتا ہے‘‘۔ صحیح مسلم:4/1770- حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے ایک مرفوع حدیث میں ارشادِ نبوی ﷺ ہے : ”جس شخص نے چوسر کھیلا تو گویا اس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کی۔“ مسندِ امام احمد (4/394) ،صحیح الجامع (6505)-

کسی مؤمن پر لعنت بھیجنا یا جو لعنت کا مستحق نہ ہو اُس پر لعنت کرنا :

ہت سے لوگ ایسے بھی ہیں کہ جنھیں غصہ آجائے تو ان کی زبان ان کے قابو میں نہیں رہتی۔وہ لعنت کرنے میں جلد بازی کرتے ہیں اور انسانوں، حیوانوں، نباتات، بےجان چیزوں، دن، اوقات اور گھڑیوں پر لعنت کرتے ہیں، بلکہبسا اوقات یہ ہوتا ہے کہ لوگ اپنے آپ پر اور اپنے بچوں پر بھی لعنت کرنے لگتے ہیں، اور شوہر بیوی پر لعنت کرتا ہے اور بیوى شوہر پر لعنت کرتى ہے- جب کہ یہ بات خطرناک حد تک منکر و منع ہے، حضرت ابو زید ثابت بن ضحاک الانصاری رضي الله عنه سے ایک مرفوع حدیث میں ارشادِ نبوی ﷺ ہے : ’’اور جس شخص نے کسی مؤمن پر لعنت بھیجی تو وہ اس کے قتل کےبرابر ہے‘‘۔ صحیح البخاری دیکھیے : فتح الباری 10/465- چوں کہ لعن طعن کرنا عموماً عورتوں میں بکثرت پایا جاتا ہے اس لیے نبی ﷺ نے بیان فرمایا ہے کہ جہنم میں عورتوں کے بکثرت داخل ہونے کے اسباب میں سے یہ فعل بھی ہے، اسی طرح لعنت کرنے والوں کی طرف سے قیامت کے دن کسی کی شفاعت نہ ہوسکے گی، اور اس سے بھی زیادہ خطرے کی بات یہ ہے کہ اگر کوئی کسی غیر مستحق پر لعنت بھیجے تو وہ اُس بھیجنے والے پر واپس لوٹ جاتی ہے اِس طرح اُس نے گویا خود اپنے آپ کو بددعا دی اور اللہ کی رحمت سے دور ہوگیا۔

نوحہ خوانی(بَین کرنا) :

عظیم منکرات میں سے ہی یہ ہے کہ: بعض عورتیں اپنے کسی عزیز کی میت پر اُونچی آواز میں چیختی، روتی اور بَین کرتی ہیں، نیز خود کو طمانچے مارتی ہیں اپنے کپڑے پھاڑتى ہین، اور بال منڈوالیتى ہیں یا بال کو نوچتى ہیں یا بال کاٹ لیتى ہیں، یہ سب قضائے الٰہی سے راضى نہ ہونے اور مصیبت پر صبر نہ کرنے کی دلیل ہے، اور نبی ﷺ نے ان امور کا ارتکاب کرنے والے پر لعنت فرمائی ہے، حضرت ابو امامہ رضي الله عنه سے مروی ہے کہ : ’’نبی ﷺ نے چہرے کو نوچنے والی اور کپڑے اور گریبان چاک کرنے والی اور ویل و ہلاکت کی بددعا مانگنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے‘‘۔ سنن ابن ماجة 1/505، وصحيح الجامع 5068- حضرت عبداللہ بن مسعود رضي الله عنه سے مروی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ وسلم نے فرمایا : ”وہ شخص ہم میں سے نہیں جو اپنے رخسار پیٹے، گریبان و:کپڑے چاک کرے اور جو جاہلیت کے بول بولے‘‘۔ صحیح البخاری دیکھیے:( فتح الباری 3/163)- اور نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ’’نوحہ و بَین کرنے والی اگر موت سے پہلے توبہ نہ کرے تو قیامت کے دن اسے اس حال میں کھڑا کیا جائے گا کہ اس پر تارکول کی قمیص اور خارش والا کُرتا ہوگا‘‘۔ صحیح مسلم (حدیث نمبر:934)-

چہرے پر مارنا اور نشان بنانا:

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ’’رسول اللہ ﷺ نے چہرے پر مارنے اور نشان بنانے سے منع فرمایا ہے‘‘۔ صحیح مسلم:3/1673- یہ جو چہرے پر مارنا ہے تو کتنے ہی باپ اور مدرسین ایسے ہیں جو بچوں کو سزا دینے کے لیے جان بوجھ کر ہاتھ وغیرہ سے چہرے پر مارتے ہیں، اسی طرح بعض لوگ اپنے خادموں یا نوکروں کے ساتھ کرتے ہیں، اس میں اس چہرے کی توہین ہے کہ جس کی وجہ سے ہی اللہ تعالیٰ نے انسان کو باعزت بنایا ہے، دوسرا یہ کہ اس کی وجہ سے چہرے پر موجود بعض اہم ترین حواس(آنکھ وغیرہ) بھی ضائع ہو سکتے ہیں جس کی وجہ سے مارنے والے کو بعد میں شرمندگی ہوسکتی ہے بلکہ اس سے قصاص (بدلہ) بھی طلب کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح کسی خاص نشان کے ساتھ جانور کے چہرے کو اس غرض سے داغ دینا کہ جانور کا مالک اُسے پہچان لے یا اگر وہ گُم ہو جائے تو اس نشان کی وجہ سے وہ اُسے مل جائے، یہ بھی حرام ہے کیوں کہ اس میں جانور کے لیے اذیت و تکلیف ہے اور چہرا مسخ و بگڑ جاتا ہے، اور اگر بعض لوگ یہ دلیل پیش کریں کہ یہ تو ان کے قبیلے کا رواج ہے اور ان کی خاص نشانی ہے، تو ہم عرض کریں گے کہ یہ نشان چہرے کے علاوہ کسی دوسری جگہ بنا سکتے ہیں، ضروری تو نہیں کہ چہرے پر ہی ہو۔

بغیر شرعی عذر کے مسلمان کا تین دن سے زیادہ قطع تعلق کرنا :

مسلمانوں میں قطع تعلق پیدا کرنا شیطان کی چالوں میں سے ہے، اور بہت سے ایسے لوگ ہیں جو شیطان کی تابعداری کرتے ہوئے بغیر کسی شرعی عذر کے اپنے مسلمان بھائی سے قطع تعلق کرلیتے ہیں۔ اور یہ یا تو کسی مادی اختلاف کی بناء پر ہوتا ہے، یا کسى معمولی ونامعقول وجہ سے ہوتا ہے، اور یہ قطع تعلق ہمیشہ کے لئےجاری رکھتا ہے، اور کبھى یہ قسم کھا لیتا ہے کہ اس سے بات نہیں کرے گا، اور کبھى یہ نذر مان لیتا ہے کہ اس کے گھر میں داخل نہیں ہوگا، اور اگر وہ اُسے راستے میں دیکھ لیتا ہے تو اعراض وروگردانی کرتا ہے، اور اگر اسے کسی مجلس میں دیکھ لے تو اس سے پہلے اور بعد والے آدمی سے سلام کر کے اسے نظر انداز کردیتا ہے، یہ چیز اسلامی معاشرے کی کمزوری کے اسباب میں سے ہے، اسی لیے اس بارے میں شرعی حکم اٹل اور وعید بہت سخت ہے، چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک مرفوع حدیث میں ارشادِ نبوی ﷺ ہے: ’’کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلقی کرے۔ جس شخص نے تین دن سے زیادہ قطع تعلق کیا اور وہ اسی حال میں مرجائے تو وہ جہنم میں داخل ہوگا‘‘۔ سنن أبو داود 5/215، صحيح الجامع 7635- حضرت ابو خراش اسلمی رضی اللہ عنہ سے ایک مرفوع حدیث میں ارشاد نبوی ﷺ ہے : ’’جس شخص نے ایک سال تک اپنے مسلمان بھائی سے قطع تعلق کیا تو وہ اس کے قتل کے برابر ہو گا ‘‘۔ اس حدیث کو بخاري نے الأدب المفرد 406 میں روایت کیا ہے، اور یہ صحيح الجامع 6557 میں بھى موجود ہے۔ مسلامنوں میں قطع تعلقی کے نقصانات میں سے یہی کیا کم ہے کہ وہ شخص اللہ تعالیٰ کی رحمت ومغفرت سے محروم ہو جاتا ہے، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک مرفوع حدیث میں ارشادِ نبوی ﷺ ہے : ’’ہر ہفتہ مہں دوبار لوگوں کے اعمال (اللہ کے حضور) پیش کیے جاتے ہیں، سوموار اور جمعرات کو، ہر مؤمن بندے کی مغفرت ہو جاتی ہے سوائے اس بندے کے جس کا کسی کے ساتھ بغض وکینہ یا دشمنی وجھگڑا ہو، تو کہا جاتل ہے : ان دونوں کو چھوڑ دو (یا انھیں مؤخر کردو) جب تک کہ یہ اپنی باہمی ناراضگی ختم نہ کرلیں‘‘۔ صحیح مسلم:4/1988- جن دونوں کا جھگڑا ہوا ہو ان میں سے کوئی توبہ کرلے تو اسے چاہیے کہ وہ وہ اپنے بھائی کی طرف رجوع کرے اور اس کو سلام کرے،اگر یہ سلام کرے اور دوسرا انکار کرے تو برئ الذمہ ہوجائے گا اور جس نے انکار کیا ہو اُسے ہی نقصان ہوگا، حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے ایک مرفوع حدیث میں ارشادِ نبوی ﷺ ہے : ’’کسی آدمی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے کسی مسلمان بھائی سے تین راتوں سے زیادہ مدت تک قطعِ تعلق کرے، دونوں ملیں تو یہ اِدھر منہ پھیر لے اور وہ اُدھر کو، اور ان دونوں میں سے جو پہلے سلام کرے گا وہ بہتر ہے‘‘۔ صحیح البخاری دیکھیے : فتح الباری 10/492- ہاں البتہ اگر قطع تعلق کا کوئى شرعی سبب پایاجائے جیسے کہ ترکِ نماز،یا کسی برائی پر اصرار، تو اگر قطع تعلق کرنے سے خطاکار کو فائدہ ہو اور یہ اُسے اچھائی کی طرف لوٹادے یا اُسے اُس کی غلطی کا احساس دلادے تو ایسے میں قطع تعلق نہ صرف جائز بلکہ واجب ہے۔ اور اگر اس قطع تعلقی کى وجہ سے گنہگار زیادہ اعرض کرے، مزید ضد کرے اور زیادہ سرکشی وانحراف اور غرور وگناہ کرے تو اُس وقت قطعِ تعلق نہیں کرنا چاہیے؛ کیوںکہ اس میں کوئی شرعی مصلحت نظر نہیں آتی بلکہ یہ فساد کو بڑھاتا ہى ہے، لہذا زیادہ صحیح یہی ہوگا کہ اُسے مسلسل حسنِ سلوک ونصیحت اور خیرخواہی ویاد دہانی کراتے رہیں تاکہ وہ گناہ میں مزید آگے نہ بڑھے۔ اور آخر میں عرض ہے کہ لوگوں میں منتشر محرمات میں سے انہی کو جمع کرنا میسر ہوا ہے۔ یہ موضوع بہت طویل ہے، اور میں نے مناسب پایا کہ فائدہ کی تکمیل کے لیے کتاب وسنت میں مذکور منہیات وممنوعات کو یکجا کرنے کے لئے ایک فصل الگ سے خاص کردوں اور جن کا بیان -ان شاء اللہ- ایک مستقل رسالے میں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنٰی کے ساتھ دعا ہے کہ وہ ہمارے دلوں میں اپنا اتنا ڈر پیدا کردے جو ہمارے اور گناہوں کے درمیان حائل ہوجائے، ہمیں اتنى اطاعت کى توفیق دے دے کہ جس سے ہم جنت میں داخل ہو سکیں، نیز یہ کہ ہمارے گناہوں کی مغفرت کردے، ہماری زیادتیوں سے درگزر فرمالے، ہمیں حلال عطا کرکے حرام سے بے نیاز کردے، ہمیں اپنے فضل وکرم نواز کر سب لوگوں سے مستغنی کردے، ہماری توبہ قبول کرلے اور ہمارے گناہ دھوڈالے، بے شک وہ دعا سُننے اور قبول کرنے والا ہے۔ وصلَّى وسلَّم على النبي الأمي محمدٍ وآله وصحبه أجمعين، والحمدُ لله رب العالمين.