"رشتے ناتے کو کاٹنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔"
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا:
"رشتے ناتے کو کاٹنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔"
«لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعُ رَحِمٍ».
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جس نے اپنے رشتے داروں سے ان کے واجب حقوق روک دیے، ان کو تکلیف دی یا ان کے ساتھ برا سلوک کیا، وہ اس بات کا حق دار ہے کہ جنت میں کبھی داخل نہ ہو۔
.....:
رشتے ناتے کو کاٹنا کبیرہ گناہ ہے۔
صلہ رحمی عام عرف کے مطابق کی جائے گی۔ اس کی نوعیت جگہ، وقت اور اشخاص کے بدلنے کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہے۔
صلہ رحمی زیارت، صدقہ، اچھے برتاؤ، بیمار کی مزاج پرسی، بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے وغیرہ سے ہوتی ہے۔
قطع رحمی جس قدر قریبی رشتے دار کی ہوگی، گناہ اتنا ہی زیادہ ہوگا۔
مزید (7)
صحیح مسلم (4/ 1981) (2556).
صحیح بخاری (8/ 5) (5984).
شرح النووي على مسلم (16/ 113).
منحة العلام في شرح بلوغ المرام.
لعبد الله الفوزان (10/ 90).
فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام.
لابن عثيمين (6/ 277).
کتابوں میں مذکور
12 کتابیںمزید (11)
- الحقيقة المُبْهِرَة في العلاقة بين الإسلام والإنسان(لا يدخل الجنة قاطع رحم)[42].
- رسالة موجزة عن الإسلام كما جاء في القرآن الكريم والسنة النبوية (مشتملة على الأدلة)رِسَالَةٌُ مُوجَزَةٌُ عَنِ الْإِسْلَامِ كَمَا جَاءَ فِي الْقُرْآنِ الْكَرِيمِ وَالسَّنَةِ النَّبَوِيَّة-مشتملة على الأدلة -للحرمين-«لَا يَدْخُلُ الجَنَّةَ قَاطِعُ رَحِمٍ» [57].
- رياض الصالحينرياض الصالحين مع فوائد وهدايات - 2«لا يَدْخُلُ الجَنَّةَ قَاطِعٌ».
- قاموس الكبائر موسوعة الكبائر - المجموعة الأولى«لَا يَدْخُلُ الجَنَّةَ قَاطِعٌ» [4].
- قاموس الكبائر موسوعة الكبائر - المجموعة الأولى«لَا يَدْخُلُ الجَنَّةَ قَاطِعٌ» [130].
- قاموس الكبائر موسوعة الكبائر - المجموعة الأولى«لَا يَدْخُلُ الجَنَّةَ قَاطِعٌ» [134].
- قاموس الكبائر«لَا يَدْخُلُ الجَنَّةَ قَاطِعٌ» [4].
- قاموس الكبائر«لَا يَدْخُلُ الجَنَّةَ قَاطِعٌ» [130].
- قاموس الكبائر«لَا يَدْخُلُ الجَنَّةَ قَاطِعٌ» [134].
- ما لا يسع أطفال المسلمين جهله«لَا يَدْخُلُ الجَنَّةَ قَاطِعُ رَحِمٍ»[85].
- مجموعة زاد التربية الإسلامية (1)، والسيرة النبوبة (1)، والعقيدة (1)، والفقه (1)التربية الأسلامية 1«لا يدْخُلُ الْجنّة قاطِعُ رحِمٍ»