الدعاء ويليه العلاج بالرقى من الكتاب والسنة
کتاب و سنت کی دعائیں اور شرعی رُقیہ کے ذریعے علاج
کتاب و سنت کی دعائیں اور شرعی رُقیہ کے ذریعے علاج
کتاب و سنت کی دعائیں
تالیف
اللہ کا محتاج بندہ ڈاکٹر سعید بن علی بن وہَف القحطانی
اور اچھے اچھے نام اللہ ہی کے لیے ہیں سو ان ناموں سے اللہ ہی کو موسوم کیا کرو اور ایسے لوگوں سے تعلق بھی نہ رکھو جو اس کے ناموں میں کج روی کرتے ہیں، ان لوگوں کو ان کے کئے کی ضرور سزا ملے گی۔ [الأعراف : 180]۔
اللہ (معبود) ۔الاول (سب سے پہلا)، الآخر (سب سے آخر)، الظاھر (سب پر غالب)، الباطن (باطن کی ساری باتوں سے با خبر)، العليّ (بلند)، الأعلى (بلند ترین)
المتعال (سب سے بلند وبالا)، العظيم (عظمت والا)، المجيد (بزرگی والا)، الكبير(بڑا)، السميع (سننے والا)، البصير(دیکھنے والا)، العليم (جاننے والا)
الخبير(خبر رکھنے والا)، الحميد (تعریف کا سزاوار)، العزيز(غالب)، القدير(قدرت والا)، القادر (قدرت والا)، المقتدر(سب سے بڑی قدرت والا)، القويُّ (طاقت ور)
المتين (مضبوط)، الغني (تونگر وبے نیاز)، الحكيم (حکمت والا)، الحليم (بردبار)، العفوُّ(معاف کرنے والا)، الغفور(درگزر کرنے والا)، الغفار (بہت زیادہ بخشنے والا)
التوَّاب (بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا)، الرقيب (نگہبان)، الشهيد (تمام چیزوں پر مطلع)، الحفيظ (حفاظت کرنے والا)، اللطيف (باریک بيں)، القريب (قریب)، المجيب (دعا قبول کرنے والا)
الودود (محبت کرنے والا)، الشاكر (قدردان)، الشكور(بڑا قدردان)، السيد (سردار)، الصمد (بے نیاز)، القاهر(غالب)، القهار (سب کو مغلوب کرنے والا)
الجبار (زبردست)، الحسيب (حساب لینے والا)، الهادي (ہدایت دینے والا)، الحكم (فیصلہ کرنے والا)، القدوس (ہر نقص وعیب سے پاک)، السلام (سلامتی والا)، البَرُّ (بھلائی کرنے والا)
الوهَّاب (بہت زیادہ عطا کرنے والا)، الرحمن (بڑا مہربان)، الرحيم (نہایت رحم والا)، الكريم (سخی)، الأكرم (بڑا سخی)، الرءوف (بہت ہی شفیق)، الفتّاح (رحمت کے دروازے کھولنے والا)
الرَّازق (روزی دینے والا)، الرَّزَّاق (بہت زیادہ روزی دینے والا)، الحي (زندہ)، القَيُّوم (سب کو تھامنے والا)، الربّ (پالنے والا)، الملك (بادشاہ)، المليك (قدرت والا باد شاہ)
الواحد (ایک)، الأحد (اکیلا)، المتكبِّر(بڑائی والا)، الخالق (پیدا کرنے والا)، الخلاّق (بہت زیادہ ایجاد کرنے والا)، البارئ (وجود میں لانے والا)، المصوِّر (تصویر بنانے والا)
المؤمن (امن دینے والا)، المهيمن (محافظ)، المحيط (احاطہ کرنے والا)، المقيت (طاقت و قدرت رکھنے والا)، الوكيل (کارساز)، الكافي (کافی)، الواسع (وسعت والا)
الحق (حق)، الجميل (خوب صورت)، الرفيق (نرمی سے کام لینے والا)، الحيي (حیا کرنے والا)، الستير (پردہ ڈالنے والا)، الإله (معبود)، القابض (تنگی کرنے والا)
الباسط (کشادگی کرنے والا)، المعطي (دینے والا)، المقدِّم (آگے کرنے والا)، المؤخِّر(پیچھے کرنے والا)، المبين (واضح کرنے والا)، المنان (بہت زیادہ احسان کرنے والا)، الوليّ (ولی)
الموْلى (مولی) - النصير (مدد گار) – الشافي (شفا دینے والا) - مالك الملك (تمام جہان کا مالک)- جامع الناس (لوگوں کو یکجا کرنے والا)
نور السماوات والأرض (آسمانوں اور زمین کا نور) - ذو الجلال والإكرام (عزت و جلال والا) - بديع السماوات والأرض (آسمانوں اور زمین کو بنا کسی نمونے کے پیدا کرنے والا) [1] [1] ان ناموں کو کتاب وسنت کے دلائل کے ساتھ دیکھنے کے لیے مؤلف ہی کی کتاب "شرح أسماء الله الحسنى في ضوء الكتاب والسنة" کی طرف رجوع کریں۔
بسم الله الرحمن الرحيم
مقدّمہ
إنَّ الحَمْدَ لِلَّهِ، نَحْمَدُهُ، وَنَسْتَعِينُهُ، وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلاَ مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلاَ هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهَ وَمَنْ تَبِعَهُمْ بِإِحْسَانٍ إِلَى يَوْمِ الدِّينِ، وَسَلَّمَ تَسْلِيمَاً كَثِيرَاً۔ أمّا بعد:
یہ میری کتاب "الذَّكْرُ وَالدُّعَاءُ وَالعِلاَجُ بِالرُّقَى مِنَ الكِتَابِ وَالسُّنَّةِ" [2] کا اختصار ہے۔ اس میں میں نے اس کے دعا والے حصے کا اختصار کیا ہے، تاکہ اس سے استفادہ کرنا آسان ہو جائے۔ اس میں کچھ دعاؤں اور مفید فوائد کا اضافہ بھی کر دیا گیا ہے، ان شاء اللہ تعالی۔ اللہ سے، اس کے اسمائے حسنی اور بلند وبالا صفات کے واسطے سے دعا ہے کہ اس عمل کو اپنی رضا وخوشنودی کا ذریعہ بنائے۔ وہی اس کا مالک ہے اور اسی کے پاس اس کی طاقت ہے۔ [2] الحمد للہ، مذکورہ اصل کتاب، اس میں موجود احادیث کی تفصیلی تخریج کے ساتھ چار جلدوں میں چھپ چکی ہے۔ پہلی اور دوسری جلد میں اذکار (حصن المسلم) ہیں، تیسری جلد میں دعائیں ہیں اور چوتھی جلد میں رقیہ کے ذریعے علاج کا بیان ہے۔
اللہ تعالی ہمارے نبی محمد ﷺ پر، آپ کی آل واصحاب پر اور قیامت تک آپ کی پیروی کرنے والوں پر ڈھیروں درود وسلام اور برکت نازل فرمائے۔
تحریر کردہ سعید بن علی بن وہَف القحطانی
شعبان 1408ھ
دعا کی فضیلت
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اور تمہارے رب کا فرمان (سرزد ہوچکا ہے) کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا۔ یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خودسری کرتے ہیں وه عنقريب ذلیل ہوکر جہنم میں پہنچ جائیں گے۔ [غافر: 60] ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا: اور جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں ہر پکارنے والے کی پکار کو جب کبھی وه مجھے پکارے، قبول کرتا ہوں۔ اس لئے لوگوں کو بھی چاہئے کہ وه میری بات مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں، یہی ان کی بھلائی کا باعث ہے۔ [بقرۃ : 186]، اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "دعا ہی عبادت ہے۔ تمہارے رب کا فرمان ہے: مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا"۔ [3] نیز آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک تمھارا رب با حیا اور سخی ہے۔ وہ اپنی بارگاہ میں اٹھے ہوئے اپنے بندے کے ہاتھوں کو خالی لوٹاتے ہوئے حیا کرتا ہے۔“ [4] آپ ﷺ نے مزید فرمایا: ”جو مسلمان کوئی دعا کرتا ہے، جس میں گناہ اور قطع رحمی نہ ہو، اسے اللہ تین چیزوں میں سے کوئی ایک چیز عطا کرتا ہے۔ یا تو اس کی دعا کو اسی دنیا میں قبول کر لیتا ہے یا اسے اس کی آخرت کے لیے جمع رکھ لیتا ہے یا پھر اس سے اسی کے مثل برائی دور کر دیتا ہے۔“ صحابۂ کرام نے کہا: تب تو ہم خوب دعائیں کیا کریں گے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تو کہیں زیادہ دینے والا ہے۔“ [5] [3] ابوداؤد: 2/78، حدیث نمبر: 1481، ترمذی: 5/211، حدیث نمبر 2959، ابن ماجہ: 2/1258، حدیث نمبر: 3828۔ البانی رحمہ اللہ نے صحیح الجامع الصغیر 3/150 میں اور ابن خزیمہ نے اپنی صحیح 2/324 میں اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ [4] ابوداود: 2/78، حدیث نمبر: 1488، ترمذی: 5/557، حدیث نمبر: 3556، ابن ماجہ: 2/1271، حدیث نمبر: 3865۔ ابن حجر کہتے ہيں: ”اس کی سند جید ہے۔“ البانی نے صحیح الترمذی: 3/179 میں اسے صحیح کہا ہے۔ [5] ترمذی: 5/566، 5/462، حدیث نمبر: 3573، احمد 3/18، حدیث نمبر: 11150۔ البانی نے صحیح الجامع الصغیر: 5/116 اور صحیح الترمذی: 3/140 میں اسے صحیح کہا ہے۔
دعا کے آداب اور اس کی قبولیت کے اسباب [6]: [6] ان آداب اور قبولیت کے اسباب کو دلائل کے ساتھ دیکھنے کے لیے اصل کتاب: 975- 3/927 کی طرف رجوع کریں۔
1- اللہ کے لیے اخلاص
2۔ سب سے پہلے اللہ کی حمد و ثنا کرے اور اس کے بعد نبی ﷺ پر درود بھیجے۔ اختتام بھی درود سے ہی کرے۔
3۔ پورے یقین سے دعا کرنا اور قبولیت کا يقين رکھنا۔
4۔ دعا کرتے وقت رونا، گِڑگِڑانا اور جلد بازی سے کام نہ لینا۔
5۔ دل ودماغ حاضر رکھ کر دعا کرنا۔
6۔ خوش حالی اور تنگ حالی دونوں میں دعا کرنا۔
7۔ صرف اور صرف اللہ سے مانگنا۔
8۔ بیوی، مال ودولت اور اپنے بچوں اور خود اپنے لیے بد دعا نہ کرنا۔
9۔ ہلکی آواز میں دعا کرنا۔ نہ چلّا کر دعا کی جائے اور نہ من ہی من میں۔
10۔ اللہ کے سامنے اپنے گناہ کا اعتراف کرنا اور بخشش طلب کرنا۔ اس کی نعمتوں کا اعتراف کرتے ہوئے اس کا شکر بجا لانا۔
11۔ دعا میں پر تکلف مسجع عبارت استعمال نہ کرنا۔
12۔ تضرع، خشوع، رغبت اور خشیت کے ساتھ دعا کرنا۔
13۔ توبہ کرنے کے ساتھ، اگر کسی بندے کا حق مار رکھا ہو تو اسے اس کا حق واپس کرنا۔
14- تین بار دعا دہرانا۔
15۔ قبلہ کی جانب رخ کرنا۔
16۔ دعا کرتے وقت دونوں ہاتھوں کو اٹھانا۔
17۔ ہو سکے تو دعا سے پہلے وضو کرنا۔
18۔ دعا میں حد سے تجاوز نہ کرنا۔
19۔ دوسرے کے لیے دعا کرتے وقت پہلے اپنے لیے دعا کرنا۔ [7] [7] اللہ کے نبی ﷺ سے جہاں یہ ثابت ہے کہ کسی اور کے لیے دعا کرتے وقت پہلے اپنے لیے دعا کی، وہیں یہ بھی ثابت ہے کہ پہلے اپنے لیے دعا نہیں بھی کی۔ انس، عبداللہ بن عباس اور ام اسماعیل رضی اللہ عنہم کے لیے دعا کرتے وقت آپ نے پہلے اپنے لیے دعا نہیں کی۔ اس مسئلے کی تفصیل کے لیے دیکھیں: صحیح مسلم پر امام نووی کی شرح: 15/144، ترمذی کی شرح تحفۃ الاحوذی: 9/328 اور صحیح بخاری کی شرح فتح الباری: 1/281۔
20۔ اللہ کے اسمائے حسنی اور بلند وبالا صفات، یا اپنے کسی نیک عمل یا کسی زندہ اور موجود نیک انسان کی دعا کو وسیلہ بنانا۔
21۔ کھان پان اور لباس کا حلال ہونا۔
22۔ کسی گناہ کی یا رشتے ناتے کو توڑنے کی دعا نہ کرنا۔
23۔ بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔
24۔ تمام گناہوں سے دور رہنا۔
وہ اوقات، حالات اور جگہیں جہاں دعا قبول ہوتی ہے [8] : [8] ان اوقات‘ احوال اور مقامات کو دلائل کے ساتھ دیکھنے کے لئے اصل کتاب 3/ 975-1117کی طرف رجوع کریں۔
1۔ شب قدر۔
2- رات کا آخری حصہ۔
3- فرض نمازوں کے بعد کا وقت۔
4- اذان اور اقامت کے درمیان۔
5- ہر رات کی ایک (خاص) گھڑی۔
6۔ فرض نمازوں کی اذان کے وقت۔
7۔ بارش ہوتے وقت۔
8۔ اللہ کے راستے میں صفوں کا جنگ کے لیے آگے بڑھتے وقت۔
9۔ جمعہ کے دن کی ایک (خاص) گھڑی۔
اس کے بارے میں راجح ترین قول یہ ہے کہ یہ جمعہ کے دن عصر کے بعد کی سب سے آخری گھڑی ہے۔ یہ خطبہ اور نماز کا وقت بھی ہو سکتا ہے۔
10۔ سچی نیت کے ساتھ زمزم کا پانی پیتے وقت۔
11۔ سجدے میں۔
12۔ رات میں نیند ٹوٹ جانے پر، اور اس وقت کے اللہ کے نبی ﷺ سے وارد دعا پڑھنے پر۔
13- طہارت کی حالت میں سونے کے بعد رات میں جاگنے پر دعا کرتے وقت۔
14۔ دعا کرتے وقت : ”لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ“ پڑھ کر دعا کرنا۔
15- میت کی وفات کے بعد لوگوں کا دعا کرنا۔
16۔ آخری تشہد میں اللہ کی حمد وثنا اور محمد ﷺ پر درود بھیجنے کے بعد دعا کرنا۔
17۔ اللہ سے اس کے اسم اعظم کے ذریعے دعا کرنا کہ جس کے ذریعے دعا کرنے پر وہ قبول کرتا ہے اور مانگنے پر وہ نوازتا ہے۔ [9] اللہ کا اسم اعظم اس کتاب کی حدیث نمبر 203، 104 اور 105 میں دیکھیے۔
18۔ ایک مسلمان کا اپنے مسلمان بھائی کے لیے غائبانہ دعا کرنا۔
19۔ میدان عرفہ میں کی جانے والی دعا۔
20۔ ماہ رمضان میں دعا کرنا۔
21۔ مسلمانوں کے ذکر کی مجلسوں میں کی جانے والی دعا۔
22۔ مصیبت کے وقت اس دعا کے ذریعے دعا کرنا: ”إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ أجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا۔“
23۔ اس وقت کی جانے والی دعا جب دل کامل اخلاص کے ساتھ اللہ کی جانب متوجہ ہو۔
24۔ ظالم کے خلاف مظلوم کی بد دعا۔
25۔ والد کا اپنے بچوں کے حق میں کی گئی دعا یا ان کے خلاف کی گئی بد دعا۔
26۔ مسافر کی دعا۔
27۔ روزے دار کی دعا، جب تک افطار نہ کر لے۔
28۔ روزے دار کی دعا جو افطار کے وقت کی جائے۔
29۔ پریشان حال کی دعا۔
30- انصاف پرور حاکم کی دعا۔
31۔ نیک اولاد کی دعا جو والدین کے حق میں کی گئی ہو۔
32۔ وضو کے بعد، جب نبی ﷺ سے ماثور دعاؤں کے ذریعے مانگے۔
33۔ جمرہ صغری کو پتھر مارنے کے بعد کی جانے والی دعا۔
34۔ جمرہ وسطی کو پتھر مارنے کے بعد کی جانے والی دعا۔
35۔ کعبہ کے اندر کی گئی دعا۔ جس نے حطیم کے اندر نماز پڑھی اس نے کعبہ کے اندر نماز پڑھی۔
36۔ صفا پہاڑی پر کی گئی دعا۔
37۔ مروہ پہاڑی پر کی گئی دعا۔
38۔ مشعر حرام کے پاس کی گئی دعا۔
اور مسلمان جہاں بھی ہو ہمیشہ اپنے رب سے دعا کرے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے: اور جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں۔ ہر پکارنے والے کی پکار کو جب کبھی وه مجھے پکارے، قبول کرتا ہوں۔ اس لئے لوگوں کو بھی چاہئے کہ وه میری بات مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں، یہی ان کی بھلائی کا باعث ہے۔ [البقرۃ : 186] البتہ ان اوقات، احوال اور اماکن کو زیادہ خصوصیت حاصل ہے۔
کتاب وسنت کی دعائیں
الْحَمْدُ لِلهِ وَحْدَهُ، وَالصَّلاةُ وَالسَّلاَمُ عَلَى مَنْ لاَ نَبِيَّ بَعْدَهُ.
1- ((شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ * سب تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے واﻻ ہے۔ * بڑا مہربان نہایت رحم کرنے واﻻ ہے۔ * بدلے کے دن (یعنی قیامت) کا مالک ہے۔ * ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔ * ہمیں سیدھا (اور سچا) راستہ دکھا۔ * ان لوگوں کی راه جن پر تو نے انعام کیا ان کی نہیں جن پر غضب کیا گیا اور نہ گمراہوں کی۔)) [الفاتحة : 1-7]
2- ((ہمارے پروردگار! تو ہم سے قبول فرما، تو ہی سننے واﻻ اور جاننے واﻻ ہے۔ )) [البقرۃ : 127]
3- "اور ہماری توبہ قبول فرما، تو توبہ قبول فرمانے واﻻ اور رحم وکرم کرنے واﻻ ہے"۔ [البقرۃ : 128]
4- ((اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا۔)) [البقرۃ : 201]
5- ((ہم نے سنا اور اطاعت کی، ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں اے ہمارے رب! اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔)) [البقرۃ : 285]
6- "اے ہمارے رب! اگر ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا، اے ہمارے رب! ہم پر وه بوجھ نہ ڈال جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈاﻻ تھا، اے ہمارے رب! ہم پر وه بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہ ہو اور ہم سے درگزر فرما! اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر! تو ہی ہمارا مالک ہے، ہمیں کافروں کی قوم پر غلبہ عطا فرما"۔ [البقرۃ : 286]
7- ((اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کردے اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، یقیناً تو ہی بہت بڑی عطا دینے واﻻ ہے۔)) [آل عمران : 8]
8- ((اے ہمارے رب! ہم ایمان لا چکے۔ اس لیے ہمارے گناہ معاف فرما دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے۔)) [آل عمران : 16]
9- ((اے میرے رب! مجھے اپنے پاس سے پاکیزہ اولاد عطا کر۔ بے شک تو دعا سننے والا ہے۔)) [آل عمران : 38]
10- ((اے ہمارے پالنے والے معبود! ہم تیری اتاری ہوئی وحی پر ایمان ﻻئے اور ہم نے تیرے رسول کی اتباع کی، پس تو ہمیں گواہوں میں لکھ لے۔)) [آل عمران : 53]
11- ((اے پروردگار! ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہم سے ہمارے کاموں میں جو بے جا زیادتی ہوئی ہے اسے بھی معاف فرما اور ہمیں ﺛابت قدمی عطا فرما اور ہمیں کافروں کی قوم پر مدد دے۔)) [آل عمران : 147]
12- ((اے ہمارے پروردگار! تو نے یہ بے فائده نہیں بنایا، تو پاک ہے۔ پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے۔ ٭ اے ہمارے پروردگار! بے شک جسے تو دوزخ میں ڈال دے، اسے یقیناً تو نے رسوا کر دیا، اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔ ٭ اے ہمارے رب! ہم نے سنا کہ منادی کرنے واﻻ بآواز بلند ایمان کی طرف بلا رہا ہے کہ لوگو! اپنے رب پر ایمان لاؤ، پس ہم ایمان ﻻئے۔ یا الٰہی اب تو ہمارے گناه معاف فرما اور ہماری برائیاں ہم سے دور کر دے اور ہماری موت نیکوں کے ساتھ کر۔ ٭ اے ہمارے پالنے والے معبود! ہمیں وه دے جس کا وعده تو نے ہم سے اپنے رسولوں کی زبانی کیا ہے اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کر، یقیناً تو وعده خلافی نہیں کرتا۔)) [آل عمران : 191-194]
13- ((اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے۔ پس تو ہم کو بھی ان لوگوں کے ساتھ لکھ لے جو تصدیق کرتے ہیں۔)) [13] [المائدۃ : 83]
14- ((اے ہمارے رب! ہم نے اپنا بڑا نقصان کیا اور اگر تو ہماری مغفرت نہ کرے گا اور ہم پر بارانِ رحمت کا نزول نہیں فرمائے گا، تو واقعی ہم نقصان پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔)) [الاعراف : 23]
15-((اے ہمارے رب! ہم کو ان ﻇالم لوگوں کے ساتھ شامل نہ کر۔)) [الاعراف : 47]
16۔ اے اللہ! ((تو ہی تو ہمارا کارساز ہے۔ پس ہم پر مغفرت اور رحمت فرما اور تو سب معافی دینے والوں سے زیاده اچھا ہے۔* اور ہمارے لیے اس دنیا میں بھی بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی۔)) [الاعراف : 155-156]
17- ((میرے لیے اللہ کافی ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وه عرش عظیم کا رب ہے۔)) [التوبۃ : 129]
18- ((اے ہمارے رب! ہمیں ظالم لوگوں کے لیے آزمائش نہ بنا۔* اور ہم کو اپنی رحمت سے ان کافر لوگوں سے نجات دے۔)) [یونس : 85-86]
19- ((اے میرے پالنہار! میں تیری ہی پناه چاہتا ہوں اس بات سے کہ تجھ سے وه مانگوں جس کا مجھے علم ہی نہ ہو۔ اگر تو مجھے نہ بخشے گا اور تو مجھ پر رحم نہ فرمائے گا، تو میں خساره پانے والوں میں ہو جاؤں گا۔)) [ھود : 47]
20۔ اے اللہ! اے ((آسمان وزمین کے پیدا کرنے والے! تو ہی دنیا وآخرت میں میرا ولی (دوست) اور کارساز ہے، تو مجھے اسلام کی حالت میں فوت کر اور نیکوں میں ملا دے۔)) [یوسف : 101] [10] [10] دیکھیں: کتاب الفوائد لابن القيم، ص 436-437۔
21- ((اے میرے پروردگار! اس شہر کو امن واﻻ بنادے اور مجھے اور میری اوﻻد کو بت پرستی سے محفوظ اور دور رکھ۔)) [ابراہیم : 35]
22- ((اے میرے پالنے والے! مجھے نماز کا پابند رکھ اور میری اوﻻد سے بھی۔ اے ہمارے رب! میری دعا قبول فرما۔)) [ابراہیم : 40]
23- ((اے ہمارے پروردگار! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو بھی بخش اور دیگر مؤمنوں کو بھی بخش جس دن حساب ہونے لگے۔)) [ابراہیم : 41]
24- ((اے ہمارے پروردگار! ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما اور ہمارے کام میں ہمارے لئے راه یابی کو آسان کردے۔)) [الکہف : 10]
25- ((اے میرے پروردگار! میرا سینہ میرے لئے کھول دے۔* اور میرے کام کو مجھ پر آسان کر دے۔* اور میری زبان کی گره بھی کھول دے تاکہ وه میری بات سمجھیں۔)) [طہٰ : 25-28]
26- ((اے میرے پروردگار! میرا علم بڑھا۔)) [طہٰ : 114]
27۔ ((تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ظالموں میں ہو گیا۔)) [الانبياء : 87]
28- ((اے میرے پروردگار! مجھے تنہا نہ چھوڑ، اور تو سب سے بہتر وارث ہے۔)) [الانبیاء : 89]
29- ((اے میرے پروردگار! میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناه چاہتا ہوں۔* اور اے رب! میں تیری پناه چاہتا ہوں کہ وه میرے پاس آجائیں۔)) [مومنون : 97-98]
30۔ ((اے ہمارے پروردگار! ہم ایمان ﻻچکے ہیں۔ تو ہمیں بخش اور ہم پر رحم فرما۔ تو سب مہربانوں سے زیاده مہربان ہے۔)) [مومنون : 109]
31- ((اے میرے رب! تو بخش دے اور رحم فرما، تو سب مہربانوں سے بڑھ کر مہربانی کرنے والا ہے۔)) [المومنون : 118]
32- ((اے ہمارے پروردگار! ہم سے دوزخ کا عذاب پرے ہی پرے رکھ، کیونکہ اس کا عذاب چمٹ جانے واﻻ ہے۔* بے شک وه ٹھہرنے اور رہنے کے لحاظ سے بدترین جگہ ہے۔)) [الفرقان : 65-66]
33- ((اے ہمارے رب! تو ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا۔) [الفرقان : 74]
34- ((اے میرے رب! مجھے حکم عطا کر اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملا۔* اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔* مجھے نعمتوں والی جنت کے وارﺛوں میں سے بنادے۔)) [الشعراء : 83-85]
35- ((اور مجھے رسوا نہ کر، جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے۔* جس دن کہ مال اور اوﻻد کچھ کام نہ آئے گی۔* لیکن فائده واﻻ وہی ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے سامنے بے عیب دل لے کر جائے۔)) [الشعراء : 87-89]
36- ((اے پروردگار! تو مجھے توفیق دے کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر بجا ﻻؤں جو تو نے مجھ پر انعام کی ہیں اور میرے ماں باپ پر اور میں ایسے نیک اعمال کرتا رہوں جن سے تو خوش رہے۔ اور مجھے اپنی رحمت سے نیک بندوں میں شامل کر لے۔)) [النمل : 19]
37- ((اے پروردگار! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا، تو مجھے بخش دے۔)) [القصص : 16]
38- ((اے میرے پروردگار! مجھے ظالموں کے گروه سے بچا لے۔)) [القصص : 21]
39- ((مجھے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھی راه لے چلے گا۔)) [القصص :22]
40- ((اے پروردگار! تو جو کچھ بھلائی میری طرف اتارے میں اس کا محتاج ہوں۔)) [القصص : 24]
41- ((اے میرے پروردگار! مفسد قوم پر میری مدد فرما۔)) [العنکبوت: 30]
42- ((اے میرے رب! مجھے نیک بخت اوﻻد عطا فرما۔)) [الصافات: 100]
43- ((اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر بجا لاؤں، جو تونے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام کی ہے اور یہ کہ میں ایسے نیک اعمال کروں، جن سے تو خوش ہو جائے اور تو میری اولاد بھی صالح بنا۔ میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔)) [الاحقاف: 15]
44- ((اے ہمارے پروردگار! ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان ﻻچکے ہیں اور ایمان داروں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ اور دشمنی نہ ڈال۔ اے ہمارے رب! بے شک تو شفقت ومہربانی کرنے والا ہے۔)) [الحشر: 10]
45- ((اے ہمارے پروردگار تجھی پر ہم نے بھروسہ کیا ہے اور تیری ہی طرف رجوع کرتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔)) [الممتحنہ : 4]
46- ((اے ہمارے رب! تو ہمیں کافروں کی آزمائش میں نہ ڈال اور اے ہمارے پالنے والے! ہماری خطاؤں کو بخش دے۔ بے شک تو ہی غالب، حکمت واﻻ ہے۔)) [الممتحنہ : 5]
47- ((اے میرے پروردگار! تو مجھے اور میرے ماں باپ اور جو بھی ایمان کی حالت میں میرے گھر میں آئے اور تمام مؤمن مردوں اور عورتوں کو بخش دے۔)) [نوح : 28]
48۔ ((اے ہمارے رب ہمیں کامل نور عطا فرما اور ہمیں بخش دے۔ یقیناً تو ہر چیز پر قادر ہے۔)) [التحریم : 8]
49- ((اے اللہ! تو اس اختلاف میں ہمیں حق کی طرف اپنے حکم سے رہبری کر، بے شک تو جس کی چاہے سیدھی راه کی طرف رہبری کرتا ہے۔)) [11] [11] یہ دعا سورہ بقرہ کی آیت 213 سے مستفاد ہے۔
50۔ ((اے اللہ! مجھے حکمت عطا کر کہ جسے حکمت اور دانائی دی گئی اسے بہت ساری بھلائی دی گئی۔)) [12] [12] یہ دعا سورہ بقرہ کی آیت 269 سے مستفاد ہے۔
51- ((اے اللہ! مجھے پکی بات کے ساتھ مضبوط رکھ۔ دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی۔)) [13] [13] یہ دعا سورہ ابراہیم کی آیت 27 سے مستفاد ہے۔
52- ((اے اللہ! ایمان کو ہمارے لیے محبوب بنا دے اور اسے ہمارے دلوں میں زینت دے اور کفر کو اور گناه کو اور نافرمانی کو ہماری نگاہوں میں ناپسندیده بنا دے اور ہمیں راہ یافتہ لوگوں میں سے بنا دے۔)) [14] [14] یہ دعا سورہ حجرات کی آیت 7 سے مستفاد ہے۔
53- ((اے اللہ! مجھے اپنے نفس کی حرص سے محفوظ رکھ اور کامیاب لوگوں میں سے بنا۔)) [15] [15] یہ دعا سورہ تغابن کی آیت 16 سے مستفاد ہے۔
54- ((اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا۔)) [16] [16] صحیح بخاری: 4522 و 6389، صحیح مسلم: 2690۔
55- ((اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں جہنم کے فتنے اور جہنم کے عذاب سے، قبر کے فتنے اور قبر کے عذاب سے، تونگری کے فتنے کی برائی اور مفلسی کے فتنے کی برائی سے۔ اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں مسیح دجال کے فتنے کی برائی سے۔ اے اللہ! میرے دل کو برف اور اولے کے پانی سے دھو دے اور اسے گناہوں سے اسی طرح صاف ستھرا کر دے جس طرح سفید کپڑے کو میل کچیل سے صاف ستھرا کیا ہے۔ میرے اور میرے گناہوں کے بیچ اتنی دوری بنا دے جتنی دوری مشرق اور مغرب کے درمیان رکھی ہے۔ اے اللہ! میں سستی، گناہ اور قرض سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔)) [17] [17] صحیح بخاری : 832، صحیح مسلم : 589۔
56- ((اے اللہ! میں عاجزی، سستی، بزدلی، انتہائی بڑھاپے اور بخل سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور میں قبر کے عذاب اور زندگی اور موت کی آزمائشوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔)) [18] [18] صحیح بخاری : 2823، صحیح مسلم : 2706۔
57- ((اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں آزمائش کی مشقت، بدبختی میں پڑنے، برے فیصلے اور دشمنوں کو ہنسنے کا موقع ملنے سے۔)) [19] [19] صحیح بخاری : 6347، صحیح مسلم : 2707۔ صحیح مسلم کے الفاظ اس طرح ہیں : ((اللہ کے رسول ﷺ آزمائش کی مشقت، بدبختی میں پڑنے، برے فیصلے اور دشمنوں کو ہنسنے کا موقع ملنے سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے۔))
58- ((اے اللہ! میرے لیے میرے دین کو درست کردے، جو میرے حالات کے تحفظ کا ضامن ہے۔ میری دنیا کو درست کردے، جس میں میری گزر بسر ہے۔ میری آخرت کو درست کردے، جہاں لوٹ کر مجھے جانا ہے۔ میری زندگی کو ہر خیر میں زیادتی کا سبب بنادے اور موت کو میرے لیے ہر شر سے راحت کا ذریعہ بنادے۔)) [20] [20] صحیح مسلم : 2720۔
59- ((اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، تقویٰ، پاک دامنی، اور لوگوں سے بے نیازی کا سوال کرتا ہوں۔)) [21] [21] صحیح مسلم : 2721۔
60- ((اے اللہ! میں عاجزی، سستی، بزدلی، بخل، سخت بڑھاپے اور عذابِ قبر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اے اللہ! میرے نفس کو تقوی عطا فرما اور اسے پاکیزہ کر دے۔ تو ہی اسے بہتر پاکیزگی دینے والا ہے۔ تو ہی اس کا ولی ومالک ہے۔ اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ایسے علم سے جو نفع نہ دے، ایسے دل سے جس میں تیرا خوف نہ ہو، ایسے نفس سے جو کبھی آسودہ نہ ہو اور ایسی دعا سے جو قبول نہ ہو۔)) [22] [22] صحیح مسلم : 2722۔
61- ((اے اللہ! مجھے ہدایت دے اور راہ راست پر چلا۔ اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت اور راہ راست پر چلنے کی توفیق مانگتا ہوں۔)) [23] [23] صحیح مسلم : 2725۔
62- ((اے اللہ! میں تیری نعمت کے زائل ہونے سے، تیری دی ہوئی عافیت کے پھر جانے سے، تیرى ناگہانی گرفت سے، اور تیری ہر قسم کی ناراضی سے تيری پناہ مانگتا ہوں۔)) [24] [24] صحیح مسلم : 2739۔
63- ((اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس کی برائی سے جو میں نے کیا ہے اور اس کی برائی سے بھی جو میں نے نہیں کیا ہے۔)) [25] [25] صحیح مسلم : 2716۔
64- ((اے اللہ! میرے مال واولاد کو بڑھا دے، مجھے جو کچھ دیا ہے اس میں میرے لیے برکت دے۔)) [26] (([ اپنی اطاعت کے ساتھ میری زندگی دراز فرما اور مجھے اچھے عمل کی توفیق دے۔] اور میرے گناہ معاف کر دے۔)) [27] [26] اس پر اللہ کے نبی ﷺ کی وہ دعا دلالت کرتی ہے، جو آپ نے انس رضی اللہ عنہ کے لیے کی تھی۔ دعا اس طرح ہے : ((اے اللہ! اس کے مال و اولاد کو بڑھا دے اور اسے جو کچھ دیا ہے اس میں اس کے لیے برکت دے۔)) صحیح بخاری : 1982، صحیح مسلم : 660۔ [27] امام بخاری کی الادب المفرد : 653۔ البانی نے اسے سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ : 2241 اور صحیح الادب المفرد ص 244 میں صحیح کہا ہے۔ قوسین میں مذکور دعا پر وہ حدیث دلالت کرتی ہے، جس میں ہے کہ جب اللہ کے نبی ﷺ سے پوچھا گیا کہ لوگوں کے اندر سب سے اچھا آدمی کون ہے؟ تو آپ ﷺ نے جواب دیا: ((جسے لمبی عمر ملے اور اچھے عمل کی توفیق ملے۔)) سنن ترمذی: 2/271، حدیث نمبر: 2329 ، مسند احمد : 17716۔ البانی نے اسے صحیح سنن ترمذی: 2/271 میں صحیح کہا ہے۔ جب کہ میں نے اپنے شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا یہ دعا کرنا سنت ہے؟ تو انہوں نے ہاں میں جواب دیا۔
65- ((اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں جو عظمت والا اور بردبار ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں جو عرش عظیم کا رب ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں جو آسمانوں، زمین اور عرش کریم کا رب ہے۔)) [28] [28] صحیح بخاری : 6345، صحیح مسلم : 2730۔
66- ((اے اللہ! میں تیری رحمت کی امید رکھتا ہوں، سو پلک جھپکنے بھر بھی مجھے میرے نفس کے حوالے نہ کر اور میرے تمام معاملات کو سدھار دے۔ تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔)) [29] [29] سنن ابو داود: 5090، مسند احمد: 5/ 42، البانی نے صحیح ابو داود: 3/ 250 اور صحیح الادب المفرد، حدیث نمبر: 260 میں اسے حسن کہا ہے۔ علامہ ابن باز نے بھی تحفۃ الاخیار ص 24 میں اس کی سند کو حسن کہا ہے۔
67۔ ((تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ظالموں میں ہو گیا۔)) [30] [30] سنن ترمذی: 3505، مستدرك حاکم : 1/505۔ حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان سے موافقت ظاہر کی ہے۔ البانی نے بھی صحیح سنن ترمذی : 3/ 168 میں صحیح کہا ہے۔ اس کے الفاظ ہيں: ((مچھلی والے نبی کی دعا، جب اس نے مچھلی کے پیٹ سے اپنے رب کو پکارا، یہ ہے : ”لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ۔“ (انبياء: 87) جو بھی مسلمان کسی مصیبت کے وقت اس دعا کے ذریعے اپنے رب کو پکارے گا، اللہ اس کی پکار ضرور سنے گا۔))
68- ((اے اللہ! میں تیرا بندہ ہوں، تیرے بندے اور تیری بندی کا بیٹا ہوں۔ میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے۔ مجھ پر تیرا ہی حکم چلتا ہے۔ میرے بارے میں تیرا ہر فیصلہ انصاف پر مبنی ہے۔ میں تجھ سے تیرے ہر اس نام کے واسطے سے مانگتا ہوں، جو تیرا ہے، جس سے تونے خود کو موسوم کیا ہے، یا اپنی کتاب میں اتارا ہے، یا اپنی کسی مخلوق کو سکھایا ہے، یا اپنے لیے اسے علمِ غیب کے طور پر خاص کر رکھا ہے کہ قرآن کو میرے دل کی بہار، سینے کا نور اور رنج وغم سے چھٹکارے کا ذریعہ بنا دے۔)) [31] [31] مسند احمد : 1/ 391، 452، مستدرک حاکم : 1/ 509۔ حافظ ابن حجر نے اسے تخریج الاذکار میں حسن کہا ہے اور البانی نے الکلم الطیب کی تخریج ص 73 میں صحیح کہا ہے۔
69- ((اے اللہ! دلوں کے پھیرنے والے! ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی جانب پھیر دے۔)) [32] [32] صحیح مسلم : 2654۔
70- ((اے دلوں کو پھیرنے والے، میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔)) [33] [33] سنن ترمذی : 3522، مسند احمد : 4/ 182، مستدرك حاکم: 1/ 525، 528۔ حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان سے موافقت ظاہر کی ہے۔ البانی نے بھی اسے صحیح الجامع : 6/309 اور صحیح ترمذی : 3/ 171 میں صحیح کہا ہے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا ہے کہ یہ اللہ کے رسول ﷺ کی سب سے زیادہ کی جانے والی دعا تھی۔
71- ((اے اللہ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں عافیت مانگتا ہوں۔)) [34] [34] سنن ترمذی : 3514 ، امام بخاری کی الادب المفرد : 726۔ ترمذی کے الفاظ ہیں : ((اللہ سے دنیا وآخرت کی عافیت مانگو۔)) جب کہ دوسری روایت کے الفاظ ہيں: ((اللہ سے بخشش اور عافیت مانگو۔ کیوں کہ کسی انسان کو یقین کے بعد عافیت سے بڑھ کر کوئی اچھی چیز نہیں دی گئی۔)) البانی نے اسے صحیح ابن ماجہ : 3/ 180، 3/ 185 اور 3/ 170 میں صحیح کہا ہے۔ اس کے کچھ شواہد بھی ہيں۔ دیکھیں: مسند امام احمد، احمد شاکر کی ترتیب کے ساتھ : 1/ 156-157۔
72- ((اے اللہ! ہمارے تمام معاملات کو حسن انجام عطا فرما اور ہمیں دنیا کی نامرادی اور آخرت کے عذاب سے بچا۔)) [35] [35] مسند احمد : 4/ 181، طبرانی کی الکبیر : 2/ 33/ 1169، اور الدعاء : 1436، صحیح ابن حبان : 2424 و 2425 (موارد)۔ ہیثمی مجمع الزوائد : 10/178 میں کہتے ہیں : ((احمد کے رجال اور طبرانی کی ایک سند کے رجال ثقہ ہیں۔))
73- ((اے میرے رب! میری مدد کر، میرے خلاف کسی کی مدد نہ کر، میری تائید کر، میرے خلاف کسی کی تائید نہ کر، میرے حق میں تدبیر فرما، میرے خلاف تدبیر نہ کر۔ میری رہنمائی فرما اور ہدایت کو میرے لیے آسان فرما دے۔ جو مجھ پر زیادتی کرے اس کے مقابلے میں میری مدد فرما۔ اے اللہ! مجھے تو اپنا شکر گزار، اپنا ذکر کرنے والا اور اپنی ذات سے ڈرنے والا بنا، اپنا اطاعت گزار اور اپنے سامنے گِڑگڑانے والا بنا۔ اے میرے پروردگار! میری توبہ قبول کر، میرے گناہ دھو دے، میری دعا قبول فرما، میری دلیل مضبوط کر، میرے دل کو سیدھی راہ دکھا، میری زبان کو درست کر اور میرے دل سے میل کچیل نکال دے۔)) [36] [36] بخاری کی الادب المفرد : 664 و 665، سنن ابوداود : 1510 و 1511، سنن ترمذی : 3551، سنن ابن ماجہ : 3830، مسند احمد : 1/ 127، مستدرک حاکم : 1/ 127۔ حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے 1/ 519 میں ان سے موافقت ظاہر کی ہے۔ البانی نے بھی اسے صحیح ابوداود : 1/ 414 اور صحیح ترمذی : 3/ 178 میں صحیح کہا ہے۔
74- ((اے اللہ! ہم تجھ سے وہ بھلائی مانگتے ہیں جو تیرے نبی محمد ﷺ نے تجھ سے مانگی ہے اور ہم تیری پناہ چاہتے ہیں اس شر سے جس سے تیرے نبی محمد ﷺ نے پناہ مانگی ہے۔ مدد تجھ سے ہی مانگی جا سکتی ہے اور تیرا ہی کام پہنچانا ہے۔ اللہ کی توفیق کے بنا نہ انسان ایک حالت سے دوسری حالت میں جا سکتا ہے اور نہ اس کے پاس کوئی طاقت ہی ہے۔)) [37] [37] سنن ترمذی : 3521 اور سنن ابن ماجہ : 3846 میں یہ روایت اسی معنی کے ساتھ موجود ہے۔ ترمذی کہتے ہيں : ((یہ حدیث حسن غریب ہے۔)) جب کہ البانی نے اسے ضعیف سنن ترمذی ص 387 میں ضعیف کہا ہے۔
75- ((اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اپنے کان کی برائی سے، اپنی آنکھ کی برائی سے، اپنی زبان کی برائی سے، اپنے دل کی برائی سے اور اپنی شرم گاہ کی برائی سے۔)) [38] [38] ابوداود : 1551، ترمذی : 3492، نسائی : 5470 وغیرہ۔ البانی نے اسے صحیح ترمذی : 3/ 166 اور صحیح نسائی : 3/ 1108 میں صحیح کہا ہے۔
76- ((اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں سفید داغ، جنون، کوڑھ اور بری بیماریوں سے۔)) [39] [39] سنن ابی داود : 1554، سنن نسائی : 5493 اور مسند احمد : 3/ 192۔ البانی نے اسے صحیح نسائی : 3/ 1116 اور صحیح ترمذی : 3/ 184 میں صحیح کہا ہے۔
77- ((اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ناپسندیدہ اخلاق، اعمال اور خواہشات سے۔)) [40] [40] سنن ترمذی : 3591، صحیح ابن حبان : 2422 (موارد)، مستدرك حاکم : 1/ 532 اور طبرانی کی الکبیر: 19/ 19/ 36۔ البانی نے اسے صحیح ترمذی : 3/ 184 میں صحیح کہا ہے۔
78- ((اے اللہ! تو سراپا عفو ودرگزر ہے، کرم کرنے والا ہے، عفو ودرگزر کو پسند کرتا ہے، اس لیے مجھے معاف کر دے۔)) [41] [41] سنن ترمذی : 3513 اور نسائی کی الکبری : 7712۔ البانی نے اسے صحیح ترمذی : 3/ 170 میں صحیح کہا ہے۔
79- ((اے اللہ! میں تجھ سے نیکیوں پر عمل کرنے، برائیوں کو چھوڑنے اور مساکین سے محبت کرنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، (میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ) تو مجھے معاف کر دے، مجھ پر رحم فرما اور جب تو کسی قوم کو فتنہ میں مبتلا کرنا چاہے تو مجھے فتنے ميں مبتلا کیے بغير موت دے دینا۔ میں تجھ سے تیری محبت، ہر اس شخص کی محبت جو تجھ سے محبت کرتا ہے اور ہر اس عمل سے محبت کی توفیق طلب کرتا ہوں جو تیری محبت سے قريب کردے۔)) [42] [42] احمد : 5/ 243 نے اسے انہی الفاظ کے ساتھ اور ترمذی نے حدیث نمبر: 3235 میں ان سے ملتے جلتے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ترمذی نے اسے حسن کہتے ہوئے آگے کہا : ((میں نے محمد بن اسماعیل -یعنی امام بخاری- سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا، تو انھوں نے کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔)) اس حدیث کے آخر میں ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا : ((یہ حق ہے۔ لہذا اسے پڑھ لو اور سیکھ لو۔)) اسی طرح اس حدیث کو حاکم نے بھی روایت کیا ہے اور البانی نے صحیح سنن ترمذی : 3/ 318 میں صحیح کہا ہے۔
80- ((اے اللہ! میں تجھ سے دنیا وآخرت کی ساری بھلائی مانگتا ہوں، جو مجھ کو معلوم ہے اور جو نہیں معلوم، اور دنیا اور آخرت کی تمام برائیوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں، جو مجھ کو معلوم ہیں اور جو نہیں معلوم۔ اے اللہ! میں تجھ سے اس بھلائی کا طلب گار ہوں، جو تیرے بندے اور تیرے نبی ﷺ نے طلب کی، میں اس برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں، جس سے تیرے بندے اور تیرے نبی ﷺ نے پناہ مانگی۔ اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا طلب گار ہوں اور ہر اس قول وعمل کا بھی، جو جنت سے قریب کر دے، میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم سے اور ہر اس قول وعمل سے، جو جہنم سے قریب کر دے، اور میں تجھ سے یہ بھی مانگتا ہوں کہ میرے حق میں لیے گئے اپنے ہر فیصلے کو بہتر کر دے۔)) [43] [43] سنن ابن ماجہ : 3846 مذکورہ الفاظ کے ساتھ۔ مسند احمد : 6/ 134۔ دوسرے اضافے کے الفاظ احمد کے ہيں۔ مستدرک حاکم : 1/ 521۔ انھوں نے اسے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان سے موافقت ظاہر کی ہے۔ پہلے اضافے کے الفاظ حاکم کے ہیں۔ البانی نے اسے صحیح ابن ماجہ : 2/ 327 میں صحیح کہا ہے۔
81- ((اے اللہ! اسلام کے ساتھ کھڑے ہونے کی حالت میں میری حفاظت فرما، اسلام کے ساتھ بیٹھنے کی حالت میں میری حفاظت فرما، اسلام کے ساتھ سونے کی حالت میں میری حفاظت فرما، کسی حسد کرنے والے کو اور کسی دشمن کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دے۔ اے اللہ! میں تجھ سے ہر وہ بھلائی مانگتا ہوں، جس کے خزانے تیرے ہاتھ میں ہیں اور ہر اس برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں، جس کے خزانے تیرے ہاتھ میں ہیں۔)) [44] [44] مستدرک حاکم : 1/ 525۔ حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان سے موافقت ظاہر کی ہے۔ جب کہ البانی نے اسے صحیح الجامع : 2/ 398 اور سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ : 4/ 54 حدیث نمبر: 1540 میں صحیح کہا ہے۔
82- ((اے اللہ! تو ہمیں اپنا ایسا ڈر عطا فرما، جو ہمارے اور تیری نافرمانیوں کے بیچ آڑ بن جائے، ایسی فرماں برداری کا جذبہ عطا فرما جس کے ذریعے تو ہمیں اپنی جنت تک پہنچا دے اور ایسا یقین عطا فرما جس کے ذریعے تو ہمارے لیے دنیا کی مصیبتوں کو جھیلنا آسان کر دے۔ اے اللہ! جب تک تو ہمیں زندہ رکھ ہمیں ہمارے کانوں، آنکھوں اور قوتوں سے مستفید ہونے کا موقع عنایت کر اور انھیں ہمارا وارث بنا، ہمیں ظلم کرنے والوں سے بدلہ لینے کی طاقت عنایت کر، دشمنوں کے خلاف ہماری مدد فرما، ہمارے دین کے معاملے میں ہمیں کسی مصیبت میں نہ ڈال، دنیا کو ہمارا سب سے بڑا مقصد اور علم کی انتہا نہ بننے دے اور ہمارے اوپر کسی ایسے شخص کو مسلط نہ کر جو ہم پر رحم نہ کرے۔)) [45] [45] سنن ترمذی : 3502، مستدرك حاکم : 1/ 528۔ حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔ ابن السنی : 446۔ البانی نے اسے صحیح ترمذی : 3/ 168 اور صحیح الجامع : 1/ 400 میں حسن کہا ہے۔
83- ((اے اللہ! میں بزدلی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، بخل سے تیری پناہ مانگتا ہوں، بے بسی کی عمر کی جانب لوٹائے جانے سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور دنیا کے فتنے وقبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔)) [46] [46] صحیح بخاری : 2822۔
84- ((اے اللہ! مجھ سے میرے گناہ، نادانی، حد سے تجاوز اور ان تمام باتوں کو جنھیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، بخش دے۔ اے اللہ! مجھ سے مذاق میں ہونے والے گناہوں، سنجیدگی سے ہونے والے گناہوں، غلطی سے ہونے والے گناہوں اور جان بوجھ کر ہونے والے گناہوں کو معاف کردے۔ (مجھے اس بات کا اعتراف بھی ہے کہ) ان میں سے ہر طرح کے گناہ مجھ سے ہوئے ہیں۔)) [47] [47] متفق علیہ: صحیح بخاری : 6398، صحیح مسلم : 2719۔
85- ((اے اللہ! میں نے اپنے نفس پر بہت ظلم کیا ہے اور تیرے سوا کوئی گناہوں کو معاف نہیں کرتا۔ لہٰذا اپنی مہربانی سے مجھے معاف کردے اور مجھ پر رحم فرما۔ بے شک تو ہی معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔)) [48] [48] متفق علیہ: صحیح بخاری : 834، صحیح مسلم : 2705۔
86- ((اے اللہ! میں تیرے لیے فرماں بردار ہو گیا، تجھ پر ایمان لایا، تجھ پر بھروسہ کیا، تیری طرف رجوع کیا اور تیری مدد سے (کفر کے ساتھ) مخاصمت کی۔ اے اللہ! میں تیری عزت کی پناہ مانگتا ہوں، تیرے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں، کہ تو مجھے گمراہ کرے۔ تو ہی ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے جس کو موت نہیں آ سکتی، جبکہ جن اور انسان سب مرنے والے ہیں۔)) [49] [49] متفق علیہ: صحیح بخاری : 6398 اور صحیح مسلم : 2719۔
87- ((اے اللہ! ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں تیری رحمت کو واجب کرنے والی چیزوں کا اور ان اسباب کا جو تیری مغفرت کو (ہمارے لیے) لازمی بنا دیں اور ہر گناہ سے سلامتی کا اور ہر نیکی سے فائدہ اٹھانے کا اور جنت سے بہرہ ور ہونے کا نیز دوزخ سے نجات پانے کا۔)) [50] [50] مستدرک حاکم : 1/ 525 اور بیہقی کی الدعوات : 206۔ حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔ دیکھیے: نووی کی الاذکار ص 340۔ اس کے محقق عبدالقادر ارناؤوط نے اسے حسن کہا ہے۔
88- ((اے اللہ! ایمان والے مردوں اور عورتوں کو معاف کر دے۔)) [51] [51] اس کی دلیل عبادہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ہے، جس میں وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ((جس نے مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کے لیے مغفرت طلب کی، اللہ اس کے لیے ہر مؤمن مرد اور مؤمن عورت کے مقابلے میں ایک نیکی لکھ دیتا ہے۔)) طبرانی کی الکبیر : 5/ 202 حدیث نمبر: 5092 و 3/ 334 حدیث نمبر: 2155۔ اس کی سند کو ہیثمی نے مجمع الزوائد : 10/ 210 میں جید کہا ہے اور البانی نے اسے صحیح الجامع : 5/ 242 حدیث نمبر: 5902 میں حسن کہا ہے۔
89- ((اے اللہ! میرے گناہ بخش دے، میرے لیے میرے گھر میں وسعت پیدا فرما اور مجھے جو چیزیں دی ہيں، ان میں میرے لیے برکت دے۔)) [52] [52] أحمد : 16599، 23114 اور 23188 ، سنن ترمذی : 3500۔ مسند احمد کے محققین (27/ 144، 38/ 197 اور 38/ 145) نے اسے حسن لغیرہ کہا ہے۔
90- ((اے اللہ! میں تجھ سے تیرا فضل اور رحمت مانگتا ہوں۔ کیوں کہ اس کا مالک صرف تو ہے۔)) [53] [53] اسے طبرانی نے روایت کیا ہے۔ ہیثمی مجمع الزوائد : 10/ 159 میں کہتے ہيں : ((اس کے رجال صحیح کے رجال ہيں، سوائے محمد بن زیاد کے۔ لیکن وہ بھی ثقہ ہے۔)) البانی نے بھی اسے صحیح الجامع : 1/ 404 حدیث نمبر: 1278 میں صحیح کہا ہے۔
91- ((اے اللہ! میں لاچاری والے بڑھاپے، لڑھک کر مرنے، مکان یا دیوار وغیرہ گرنے کی وجہ سے مرنے، غم، ڈوب کر مرنے اور جل کر مرنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ موت کے وقت شیطان مجھے پاگل بنا دے۔ اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ جنگ کے میدان سے بھاگ کر مروں اور اس بات سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ کسی زہریلے کیڑے کے ڈسنے کی وجہ سے مروں۔)) [54] [54] سنن ابى داود : 1552 اور سنن نسائی : 5531 و 5532۔ البانی نے اسے صحیح سنن نسائی : 3/ 1123 اور صحیح سنن ابى داود : 1/ 425 میں صحیح کہا ہے۔
92- ((اے اللہ! میں بھوک سے تیری پناہ چاہتا ہوں، یہ بہت بری ہم نشیں ہے اور میں خیانت سے تیری پناہ کا طلب گار ہوں، یہ بہت بری ہم راز ہے۔)) [55] [55] سنن ابى داود : 1547، سنن نسائی : 5483۔ البانی نے اسے صحیح سنن نسائی : 3/ 1112 میں حسن کہا ہے۔
93- ((اے اللہ! میں بے بسی، سستی، بزدلی، بخل، لاچاری والے بڑھاپے، دل کی سختی، غفلت، محتاجی، ذلت اور بے چارگی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں فقر، کفر، فسق، اختلاف، نفاق، شہرت اور ریا سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں بہرے پن، گونگے پن، جنون، کوڑھ، سفید داغ اور بری بیماریوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔)) [56] [56] سنن نسائی : 5493 اور مستدرك حاکم : 1/ 530۔ البانی نے اسے صحیح الجامع : 1/ 406 اور ارواء الغلیل : 852 میں صحیح کہا ہے۔
94- ((اے اللہ! میں فقر، قلت اور ذلت سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں اس بات سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں کسی پر ظلم کروں یا مجھ پر کوئی ظلم کرے۔)) [57] [57] سنن ابى داود : 1544 و سنن نسائی : 5475۔ البانی نے اسے صحیح سنن نسائی : 3/ 1111 اور صحیح الجامع : 1/ 407 میں صحیح کہا ہے۔ قوسین میں مذکور الفاظ ابن حبان (موارد) میں ہیں اور البانی نے اسے صحیح موارد الظمآن : 2/ 455 میں صحیح کہا ہے۔
95- ((اے اللہ! میں مستقل قیام کی جگہ کے برے پڑوسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں کیونکہ سفر کا پڑوسی تو بدل جایا کرتا ہے۔)) [58] [58] امام بخاری کی الادب المفرد : 117 اور مستدرک حاکم : 1/ 532۔ حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔ نسائی نے بھی اسے حدیث نمبر: 5517 کے تحت روایت کیا ہے اور البانی نے صحیح الجامع : 1/ 408 اور صحیح سنن نسائی : 3/ 1118 میں صحیح کہا ہے۔
96- ((اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ایسے دل سے جو خوف نہ کھاتا ہو، ایسی دعا سے جو سنی نہ جاتی ہو، ایسے نفس سے جو آسودہ نہ ہوتی ہو اور ایسے علم سے جو فائدہ نہ دیتا ہو۔ میں ان چار چیزوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔)) [59] [59] سنن ترمذی : 3482 و سنن ابی داود : 1549۔ علامہ البانی نے اسے صحیح الجامع : 1295 اور صحیح سنن نسائی : 3/ 1113 میں صحیح کہا ہے۔
97- ((اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں برے دن سے، بری رات سے، برے وقت سے، برے ساتھی سے اور مستقل قیام کی جگہ کے برے پڑوسی سے۔)) [60] [60] اسے طبرانی نے روایت کیا ہے اور ہیثمی مجمع الزوائد : 10/ 144 میں کہتے ہيں: ((اس کے رجال صحیح کے رجال ہيں۔)) جب کہ البانی نے اسے صحیح الجامع : 1/ 411 حدیث نمبر: 1290 میں حسن کہا ہے۔
98- ((اے اللہ میں تجھ سے جنت مانگتا ہوں اور جہنم سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔)) (تین مرتبہ) [61] [61] سنن ترمذی : 2572، سنن ابن ماجہ : 3340 اور سنن نسائی : 5536۔ البانی نے اسے صحیح سنن ترمذی : 2/ 319 اور صحیح سنن نسائی : 3/ 1121 میں صحیح کہا ہے۔ نسائی کے الفاظ ہيں : ((جس نے اللہ سے تین مرتبہ جنت مانگی، جنت کہتی ہے: اے اللہ! اسے جنت میں داخل فرما اور جس نے تین بار جہنم سے پناہ مانگی، جہنم کہتی ہے: اے اللہ! اسے جہنم سے پناہ دے دے۔))
99- ((اے اللہ! مجھے دین کی سمجھ عطا فرما۔)) [62] [62] اس کی دلیل بخاری ومسلم کی وہ روایت ہے، جس میں آپ ﷺ نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں دعا فرمائی۔ دیکھیے: صحیح بخاری : 143 اور صحیح مسلم : 2477۔
100- ((اے اللہ! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ جان بوجھ کر کسی کو تیرا شریک ٹھہراؤں اور جو کچھ ان جانے میں ہو جائے اس کے لیے تیری بخشش چاہتاہوں۔)) [63] [63] مسند احمد : 4/ 403، مصنف ابن ابی شیبہ : 10/ 337 اور طبرانی کی المعجم الاوسط : 4/ 284۔ البانی نے اسے صحیح الترغیب والترھیب : 1/ 19 میں صحیح کہا ہے۔
101۔ ((اے اللہ! تو نے مجھے جو علم عطا فرمايا ہے اس سے مجھے نفع پہنچا، اور مجھے وہ علم عطا فرما جو مجھے نفع دے اور میرے علم میں اضافہ عطا فرما۔)) [64] [64] سنن ترمذی : 3599، سنن ابن ماجہ : 259۔ البانی نے اسے صحیح سنن ابن ماجہ : 1/ 47 میں صحیح کہا ہے۔
102- ((اے اللہ! میں تجھ سے نفع بخش علم، پاک روزی اور قبول ہونے والا عمل مانگتا ہوں۔)) [65] [65] سنن ابن ماجہ : 925، نسائی کی عمل الیوم و اللیلۃ : 102، مسند احمد: 6/ 294 و 305۔ البانی نے اسے صحیح ابن ماجہ : 1/ 152 میں صحیح کہا ہے۔
103- ((اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں، اے اللہ! (میں تجھ ہی سے مانگتا ہوں، کیوں کہ) تو واحد ہے، یکتا ہے، بے نیاز ہے، جس نے نہ کسی کو جنا ہے اور نہ کسی نے اسے جنا ہے اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے کہ میرے گناہوں کو معاف کر دے۔ یقینًا تو ہی گناہوں کو معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔)) [66] [66] سنن نسائی : 1300، نسائی کی الکبری : 7665، سنن ابی داود : 985۔ مذکورہ الفاظ سنن نسائی کے ہيں۔ البانی نے اسے صحیح سنن نسائی : 1/ 147 میں صحیح کہا ہے۔
104- ((اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں کہ ساری تعریف تیرے لئے ہے، تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے، [تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں ہے] تو بن مانگے دینے والا ہے۔ [اے] آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے! اے جاہ وجلال اور عزت واکرام والے! اے زندہ ذات اور ساری کائنات کو سنبھالنے والے! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں [جنت کا اور تیری پناہ مانگتا ہوں جہنم سے۔])) [67] [67] ابوداود : 1495، ابن ماجہ : 3858، نسائی : 1299، ترمذی : 3544۔ البانی نے اسے صحیح نسائی : 1/ 279 اور صحیح ابن ماجہ : 2/ 329 میں صحیح کہا ہے۔
105- ((اے اللہ! میں تجھ سے اس بنا پر مانگتا ہوں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو اللہ ہے، تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے، تو اکیلا ہے، ایسا بے نیاز ہے کہ نہ تو کسی کی اولاد ہے اور نہ تیری کوئی اولاد ہے اور نہ کوئی تیرا ہمسر ہے۔)) [68] [68] ابوداود : 985، ترمذی : 3475، ابن ماجہ : 3857 ، احمد : 5/ 360۔ البانی نے اسے صحیح سنن ترمذی : 3/ 163 میں صحیح کہا ہے۔
106- ((اے میرے رب ! میرى مغفرت فرما اور میری توبہ قبول فرما، بے شک تو بہت توبہ قبول کرنے والا انتہائی مغفرت فرمانے والا ہے۔)) [69] [69] ابوداود : 1518، ترمذی : 3434، نسائی کی الکبری : 10292 ، ابن ماجہ : 3814۔ البانی نے اسے صحیح ابن ماجہ : 2/ 321 اور صحیح ترمذی : 3/ 153 میں صحیح کہا ہے۔
107- ((اے اللہ! چوں کہ تو غیب کا علم رکھتا ہے اور مخلوق پر تجھے قدرت حاصل ہے، اس لیے میں تجھ سے فریاد کرتا ہوں کہ مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک میرا زندہ رہنا تیرے علم کے مطابق میرے لیے اچھا ہو اور مجھے اس وقت وفات دے دے جب میرا وفات کر جانا تیرے علم کے مطابق میرے لیے اچھا ہو۔ اے اللہ! میں تجھ سے غیب اور شہادت (ظاہر) میں تیرے خوف کا سوال کرتا ہوں۔ میں تجھ سے رضامندی اور ناراضگی کی حالت میں حق بات کہنے کی توفیق مانگتا ہوں، تونگری اور مفلسی کی حالت میں اعتدال پر قائم رہنے کی توفیق مانگتا ہوں، ایسی نعمت مانگتا ہوں جو ختم نہ ہو، آنکھ کی ایسی ٹھنڈک مانگتا ہوں جو منقطع نہ ہو، قضا کے بعد رضا چاہتا ہوں، موت کے بعد پرسکون زندگی چاہتا ہوں، تیرے چہرے کے دیدار کی لذت چاہتا ہوں، تجھ سے ملنے کا شوق چاہتا ہوں، کسی نقصان دہ مصیبت اور گمراہ کن فتنے میں پڑے بنا۔ اے اللہ! ہمیں ایمان کی زینت سے مزین کر دے اور ہدایت کی راہ بتانے والوں اور اس پر چلنے والوں میں کردے ۔)) [70] [70] نسائی : 1305، مسند احمد : 4/ 264۔ البانی نے اسے صحیح نسائی : 1/ 280 و 1/ 281 میں صحیح کہا ہے۔
108- ((اے اللہ! مجھے اپنی محبت عطا کر اور ایسے لوگوں کی محبت عطا کر جن کی محبت تیرے پاس مجھے فائدہ پہنچائے۔ اے اللہ! مجھے میرے پسند کی جو چیزیں تو نے دی ہیں انھیں میرے لیے تیرے پسند کی چیزوں کے حصول کا سبب بنا۔ اے اللہ! میرے پسند کی جو چیزیں تو نے مجھے نہيں دی ہيں، انھیں میرے لیے تیرے پسند کی چیزوں میں مشغول ہونے کا سبب بنا دے۔)) [71] [71] ترمذی: 3491۔ امام ترمذی نے اسے حسن کہا ہے اور شیخ عبدالقادر ارنؤوط نے ان کی تصدیق کی ہے۔ دیکھیے: جامع الاصول ان کی تحقیق کے ساتھ : 4/ 341۔
109- ((اے اللہ! مجھے گناہوں سے پاک کر دے۔ اے اللہ! مجھے گناہوں سے اسی طرح صاف ستھرا کر دے، جس طرح سفید کپڑے کو میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے۔ اے اللہ! مجھے برف، اولے اور ٹھنڈے پانی کے ذریعے پاک کر دے۔)) [72] [72] صحیح مسلم : 476 ، سنن نسائی : 400۔
110- ((اے اللہ! میں بخل، بزدلی، بری عمر، سینے کے فتنے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔)) [73] [73] سنن نسائی: 5469۔ اس کے الفاظ ہیں: ((اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پانچ چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے: بخیلی، بزدلی، بری عمر، سینے کے فتنے اور قبر کے عذاب سے۔)) اسے ابوداود نے بھی حدیث نمبر: 1539 کے تحت روایت کیا ہے اور ارناؤوط نے جامع الاصول کی تخریج: 4/ 363 میں اسے حسن کہا ہے۔
111- ((اے اللہ! اے جبریل، میکائیل اور اسرافیل کے رب! میں جہنم کی تپش اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔)) [74] [74] سنن نسائی : 1344، احمد : 6/ 61 ، بیہقی کی الدعوات : 109۔ البانی نے اسے صحیح سنن نسائی : 3/ 1121 اور سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ : 1544 میں صحیح کہا ہے۔
112- ((اے اللہ! مجھے راہ ہدایت دکھا اور مجھے میرے نفس کے شر سے محفوظ فرما۔)) [75] [75] سنن ترمذی : 5/ 519 حدیث نمبر: 3483 اور مسند احمد : 33/ 197 حدیث نمبر: 19992۔ مذکورہ الفاظ ترمذی کے ہیں۔ حاکم: 1/ 510 نے تقریباً انہی الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے اور اسے صحیح کہا اور امام ذهبي نے ان کی موافقت کی ہے۔ مسند احمد کے محققین نے : 33/ 197 کہا کہ اس کی سند امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ لیکن ترمذی کے الفاظ کو البانی نے ضعیف سنن ترمذی ص 397 میں ضعیف کہا ہے۔
113- ((اے اللہ! میں تجھ سے نفع بخش علم مانگتا ہوں اور غیر نفع بخش علم سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔)) [76] [76] نسائی کی الکبری : 7867 اور ابن ماجہ : 3843۔ البانی نے اسے صحیح سنن ابن ماجہ : 2/ 327 میں حسن کہا ہے۔ الفاظ ہیں: ((اللہ سے نفع بخش علم طلب کرو اور غیر نفع بخش علم سے اس کی پناہ مانگو۔))
114- ((اے اللہ! [ساتوں] آسمانوں کے رب، زمین کے رب اور عظیم عرش کے رب! ہمارے رب اور ہرچیز کے رب! دانا اور گٹھلی کو پھاڑ کر پودا نکالنے والے! تورات، انجیل اور فرقان کو اتارنے والے! میں ہر اس چیز کی برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں جس کی پیشانی کو تو پکڑے ہوئے ہے۔ اے اللہ! تو پہلا ہے، تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں۔ تو آخری ہے، تیرے بعد کوئی چیز نہیں۔ تو اوپر ہے، تیرے اوپر کوئی چیز نہیں اور تو باطن ہے، تجھ سے مخفی کوئی چیز نہیں۔ ہمارے قرض کو اتار دے اور ہمیں فقر سے بچا لے۔)) [77] [77] صحیح مسلم : 2713، راوی: ابو ہریرۃ رضی الله عنہ۔
115- ((اے اللہ! ہمارے دلوں کے درمیان الفت پیدا کر دے، ہمارے اختلافات کو ختم کر دے، ہمیں سلامتی کے راستے دکھا، ہمیں تاریکیوں سے روشنی کی طرف لے آ، ہمیں ظاہری اور باطنی تمام بے حیائیوں سے بچا، ہمارے کانوں، آنکھوں، دلوں، بیویوں اور بچوں میں برکت دے اور ہماری توبہ قبول فرما۔ یقینا تو ہی توبہ قبول کرنے والا اور رحمت والا ہے۔ اور ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والا، ان پر تیری تعریف کرنے والا اور انھیں قبول کرنے والا بنا اور انھیں ہم پر پوری فرما۔)) [78] [78] ابوداود : 969 اور حاکم : 1/ 265۔ الفاظ حاکم کے ہیں۔ انھوں نے اسے امام مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔ البانی نے بھی اسے صحیح الادب المفرد : 630 میں صحیح کہا ہے۔
116- ((اے اللہ! میں تجھ سے بہترین سوال، بہترین دعا، بہترین کامیابی، بہترین عمل، بہترین ثواب، بہترین زندگی اور بہترین موت مانگتا ہوں۔ (میں اس بات کی توفیق مانگتا ہوں کہ) تو مجھے ثابت قدم رکھ، میری نیکیوں کے پلڑے کو بھاری کر دے، میرے ایمان کو مکمل کر دے، میرے درجات بلند فرما، میری نماز قبول کر اور میرے گناہ معاف کر دے۔ میں تجھ سے جنت کے اونچے درجات مانگتا ہوں۔ اے اللہ! میں تجھ سے خیر کی ابتدا، خیر کی انتہا، خیر کا کمال، خیر کا آغاز، خیر کا ظاہر، خیر کا باطن اور جنت کے اونچے درجات مانگتا ہوں۔ آمین۔ اے اللہ! میں تجھ سے ان تمام چیزوں اور کاموں کی بھلائی مانگتا ہوں جنھیں میں لاتا ہوں، جنھیں میں کرتا ہوں، جن کو میں عملی جامہ پہناتا ہوں، جو پوشیدہ ہیں اور جو ظاہر ہيں۔ اسی طرح میں تجھ سے جنت کے اونچے درجات مانگتا ہوں۔ آمین۔ اے اللہ! میں تجھ سے فریاد کرتا ہوں کہ تو میرے ذکر کو اونچا کر دے، میرے گناہ کو ختم کر دے، میرے حال کو درست کر دے، میرے دل کو پاک کر دے، میری شرم گاہ کی حفاظت فرما، میرے دل کو منور کر دے، میرے گناہ معاف کر دے اور میں تجھ سے جنت کے اونچے درجات مانگتا ہوں۔ آمین۔ اے اللہ! میں تجھ سے فریاد کرتا ہوں کہ تو میرے نفس، میرے کان، میری آنکھ، میری روح، میری بناوٹ، میرے اخلاق، میرے اہل وعیال، میری زندگی، میری موت، میرے عمل میں برکت دے اور میری نیکیوں کو قبول فرما۔ میں تجھ سے جنت کے اونچے درجات مانگتا ہوں۔ آمین۔)) [79] [79] حاکم نے: 1/ 520 اسے ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا روایت کرتے ہوئے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔ جب کہ بیہقی نے الدعوات: 225 اور طبرانی نے الکبیر : 23/ 326 میں اسے حدیث نمبر 717 کے تحت روایت کیا ہے۔
117- ((اے اللہ! مجھے ناپسندیدہ اخلاق، خواہشات، اعمال اور بیماریوں سے محفوظ رکھ۔)) [80] [80] مستدرک حاکم : 1/ 523۔ حاکم نے اسے مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے اور ذہبی نے 1/ 532 ان کی موافقت کی ہے۔ طبرانی نے بھی اسے المعجم الکبیر 19/19 میں حدیث نمبر 36 کے تحت روایت کیا ہے اور البانی نے ظلال الجنۃ : 13 میں صحیح کہا ہے۔
118- ((اے اللہ! تو نے مجھے جو کچھ دیا ہے اس پر مجھے قناعت کرنے والا بنا اور ہر غائب چیز کو میرے لیے بھلائی کے ساتھ لوٹا۔)) [81] [81] مستدرک حاکم : 1/ 532 بروایت: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما۔ حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے 1/ 510 ان کی موافقت کی ہے۔ دیکھیں: بیہقی کی الآداب : 1084 اور الدعوات : 211۔ حافظ ابن حجر نے اسے الفتوحات الربانیۃ : 4/ 383 میں حسن کہا ہے۔
119- ((اے اللہ! میرے حساب کتاب کا مرحلہ آسان فرما۔)) [82] [82] مسند احمد : 6/ 48، مستدرک حاکم : 1/ 255۔ حاکم نے اسے امام مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے اور ذہبی نے 1/ 255 ان کی موافقت کی ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوگئے تو میں نے کہا : اے اللہ کے نبی! اس حساب کتاب کے مرحلے کے آسان کرنے کا کیا مطلب ہے؟ تو آپ نے جواب دیا : "اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ بندے کے نامہ اعمال کو دیکھے اور اسے در گزر کردے۔ عائشہ تم یاد رکھو کہ اس دن جس سے سختی سے حساب لیا جائے گا، وہ ہلاک ہو جائے گا۔ اسی طرح یہ بھی جان لو کہ ایک مؤمن کو پہنچنے والی ہر مصیبت کے ذریعہ اللہ مؤمن کے گناہ کو مٹاتا ہے۔ یہاں تک کہ اسے ایک کانٹا بھی چبھے (تو وہ اس کے لیے کفارہ ہے)۔" اس کے بارے میں علامہ البانی مشکاۃ المصابیح میں کہتے ہيں کہ اس کی سند جید ہے۔
120- ((اے اللہ! ہماری مدد فرما کہ ہم تیرا ذکر کر سکیں، تیرا شکر بجا لا سکیں اور تیری اچھی طرح عبادت کر سکیں۔)) [83] [83] مسند احمد : 2/ 299 اور حاکم : 1/ 499۔ حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان سے موافقت کی ہے۔ دونوں کی بات درست بھی ہے۔ یہ حدیث ابوداود : 1524 اور نسائی کی الکبری : 9973 میں بھی ہے۔ البانی نے اسے صحیح الادب المفرد : 534 میں صحیح کہا ہے۔
121- ((اے اللہ! میں تجھ سے ایسا ایمان مانگتا ہوں جو پیچھے نہ ہٹتا ہو، ایسی نعمت مانگتا ہوں جو ختم نہ ہوتی ہو اور ہمیشگی کی جنت کے اونچے مقام میں محمد ﷺ کا ساتھ مانگتا ہوں۔)) [84] [84] ابن حبان نے (موارد) ص 604، حدیث نمبر 2436 میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے موقوفا روایت کیا ہے۔ احمد : 1/ 386، 400 نے بھی اسے ایک دوسرے طریق سے روایت کیا ہے۔ اسی طرح نسائی نے بھی عمل الیوم واللیلۃ : 869 میں روایت کیا ہے اور البانی نے سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ میں : 2301 روایت کیا ہے۔
122- ((اے اللہ! مجھے میرے نفس کی برائی سے بچا اور میرے لیے سب سے مناسب ہدایت کے پیمانے پر کھری اترنے والی حالت کا فیصلہ فرما۔ اے اللہ! میرے ان تمام گناہوں کو معاف کر دے جو میں نے چھپا کر کیے، جو میں نے دکھا کر کیے، جو میں نے غلطی سے کیے، جو میں نے جان بوجھ کر کیے، جنھیں میں جانتا ہوں اور جنھیں میں نہیں جانتا۔)) [85] [85] نسائی کی السنن الکبری : 6/ 246 ، 10830 ، مستدرك حاکم : 1/ 510۔ حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔ اسی طرح امام احمد نے بھی اسے مسند : 4/ 444 میں روایت کیا ہے۔ دیکھیے تحقیق شدہ مسند : 33/ 197 ، 19992۔ حافظ ابن حجر عسقلانی نے الاصابۃ میں اس کی سند کو صحیح کہا ہے اور البانی نے بھی تخریج ریاض الصالحین میں حدیث نمبر 1495 کی تعلیق میں اسے صحیح کہا ہے۔
123- ((اے اللہ! میں قرض کے غلبے، دشمن کے غلبے اور مصیبت میں دشمنوں کی خوشی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔)) [86] [86] سنن نسائی : 5475 اور مسند احمد : 2/ 173۔ البانی نے اسے صحیح سنن نسائی : 3/ 1113 میں صحیح کہا ہے۔
124- ((اے اللہ! مجھے بخش دے، ہدایت عطا فرما، روزی عنایت کر اور عافیت سے رکھ۔ میں قیامت کے دن مقام کی تنگی سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔)) [87] [87] سنن نسائی : 1617 اور سنن ابن ماجہ : 1356۔ البانی نے اسے صحیح سنن نسائی : 1/ 356 اور صحیح سنن ابن ماجہ : 1/ 226 میں صحیح کہا ہے۔
125- ((اے اللہ! مجھے میرے کان اور آنکھ سے مستفید ہونے کا موقع عنایت کر، ان دونوں کو میرا وارث بنا، مجھ پر ظلم کرنے والے کے خلاف میری مدد فرما اور اس سے میرا بدلہ لے۔)) [88] [88] سنن ترمذی : 3681، بخاری کی الادب المفرد : 650 اور مستدرک حاکم : 1/ 523۔ حاکم نے اسے صحیح کہا ہے، ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے اور البانی نے صحیح سنن ترمذی : 3/ 188 میں اسے حسن کہا ہے۔
126- ((اے اللہ! میں تجھ سے صاف ستھری زندگی، معتدل موت اور غیر رسوا کن وغیر ذلت آمیز موت مانگتا ہوں۔)) [89] [89] حاکم : 1/ 541، زوائد مسند بزار : 2/ 442، 2177 اور طبرانی کی الدعاء : 1435۔ ہیثمی مجمع الزوائد : 10/ 179 میں کہتے ہیں : "طبرانی کی سند جید ہے"۔
127- ((اے اللہ! ساری تعریفیں تیرے لئے ہیں۔ اے اللہ! جسے تو کشادہ کرے اسے کوئی تنگ کرنے والا نہیں اور جسے تو تنگ کرے اسے کوئی کشادہ کرنے والا نہیں، جسے تو گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور جسے تو ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں، جسے تو روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں اور جسے تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں، جسے تو دور کرے اسے کوئی قریب کرنے والا نہیں اور جسے تو قریب کرے اسے کوئی دور کرنے والا نہیں۔ اے اللہ! ہم پر اپنی برکتیں، رحمت، فضل اور روزی کشادگی کے ساتھ اتار۔ اے اللہ! میں تجھ سے ایسی دائمی نعمت کا طلب گار ہوں، جو نہ بدلے اور نہ زائل ہو۔ اے اللہ! میں تجھ سے محتاجی کے دن نعمت مانگتا ہوں اور خوف کے دن امن مانگتا ہوں۔ اے اللہ! میں تیری دی ہوئی اور نہ دی ہوئی چیزوں کی برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اے اللہ! ہمارے لیے ایمان کو محبوب بنا دے اور اسے ہمارے دلوں میں سجا دے۔ اسی طرح ہمارے لیے کفر، فسق اور نافرمانی کو ناپسندیدہ بنا دے اور ہمیں ہدایت یاب لوگوں میں شامل فرما۔ اے اللہ! ہمیں اسلام کے ساتھ وفات دے، اسلام کے ساتھ زندہ رکھ اور نیک لوگوں سے ملادے۔ کسی طرح کی رسوائی کا منہ نہ دکھا اور فتنے کا شکار نہ بنا۔ اے اللہ! ان کافروں کو ہلاک وبرباد کر جو تیرے رسولوں کو جھٹلاتے ہیں اور تیرے راستے سے روکتے ہیں۔ انھیں اپنی سزا اور عذاب میں گرفتار کر۔ اے اللہ! ان کافروں کو ہلاک وبرباد کر، جنھیں کتاب دی گئی ہے۔ اے برحق معبود! [قبول فرما]۔)) [90] [90] مسند احمد : 3/ 424 اور 24/ 246 حدیث نمبر 15492۔ قوسین کے اندر کا حصہ مستدرک حاکم 1/ 507، 3/ 23-24 سے لیا گیا ہے۔ بخاری نے بھی اسے الادب المفرد : 699 میں روایت کیا ہے۔ البانی نے اسے فقہ السیرۃ کی تخریج ص 284 اور صحیح الادب المفرد : 538 ص 259 میں صحیح کہا ہے۔
128- ((اے اللہ! میرى مغفرت فرما، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت دے، مجھے عافیت دے اور مجھے رزق عطا کر۔)) [91] [91] صحیح مسلم : 2696 و 2697۔ مسلم کی ایک روایت میں ہے : ((ان الفاظ کے اندر تیری دنیا اور آخرت دونوں آ گئی۔)) جب کہ سنن ابوداود : 850 میں ہے: راوی کہتے ہیں:جب وہ دیہاتی جانے لگے تو اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا : ((اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کو خیر سے بھر لیا۔))
((...میری کمیوں کی بھرپائی کر اور مجھے اونچا مقام عطا کر۔)) [92] [92] دیکھیے: سنن ابن ماجہ : 898، سنن ترمذی : 284، صحیح ابن ماجہ: 1/ 148، اور صحیح ترمذی : 1/ 90۔
129- ((اے اللہ! ہمیں زیادہ دے اور کمی نہ کر، ہمیں عزت دے اور ذلیل نہ کر، ہمیں عطا کر اور محروم نہ رکھ، ہمیں ترجیح دے اور ہمارے اوپر کسی کو ترجیح نہ دے، ہمیں راضی رکھ اور ہم سے راضی رہ۔)) [93] [93] سنن ترمذی : 5/ 326 حدیث نمبر 3173 اور مستدرک حاکم : 2/ 98۔ حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور شیخ عبد القادر ارناؤوط نے جامع الاصول کی تحقیق : 11/ 282 حدیث نمبر 8847 میں اسے حسن کہا ہے۔
130- ((اے اللہ! تونے مجھے اچھی ساخت عطا کی ہے، لہذا مجھے اچھے اخلاق عنایت کر۔)) [94] [94] مسند احمد : 6/ 68، 155 اور 1/ 403۔ ابن حبان : 2423 (موارد)۔ طیالسی : 374 اور مسند ابویعلی : 5075۔ البانی نے اسے ارواءالغلیل : 1/ 115 حدیث نمبر 74 میں صحیح کہا ہے۔
131- ((اے اللہ! مجھے ثابت قدم رکھ اور راہ راست بتانے والا و راہ راست پر چلنے والا بنا۔)) [95] [95] اس کی دلیل وہ دعا ہے جو اللہ کے نبی ﷺ نے جریر رضی اللہ عنہ کے لیے کی تھی۔ دیکھیے: صحیح بخاری : 6333، 3020 اور 3036 وغیرہ۔
132- ((اے اللہ! میں تجھ سے دین پر ثابت قدمی اور راہ راست پر عزیمت مانگتا ہوں۔ میں تجھ سے تیری رحمت کو واجب کرنے والی چیزیں اور تیری مغفرت کے اسباب مانگتا ہوں۔ میں تجھ سے تیری نعمت کا شکر اور تیری عبادت کا حسن مانگتا ہوں۔ میں تجھ سے قلب سلیم اور سچی زبان مانگتا ہوں۔ میں تجھ سے وہ بھلائیاں مانگتا ہوں جنھیں تو ہی جانتا ہے، میں تیری ان برائیوں سے پناہ مانگتا ہوں جنھیں تو ہی جانتا ہے اور تجھ سے ان گناہوں کی مغفرت طلب کرتا ہوں جنھیں تو ہی جانتا ہے۔ یقینا تو سب غیب کی باتوں کو جاننے والا ہے۔)) [96] [96] مسند احمد : 28/ 338 حدیث نمبر 17114 و 28/ 356 حدیث نمبر 17133، سنن ترمذی : 3407، طبرانی کی المعجم الکبیر : 7135، 7157، 7175، 7176، 7177، 7178، 7179، 7180 اور صحیح ابن حبان : 3/ 215 حدیث نمبر 935 و 5/ 310 حدیث نمبر 1974۔ الفاظ طبرانی کے ہیں۔ اسے شعیب ارناؤوط نے صحیح ابن حبان : 5/ 312 میں حسن کہا ہے اور مسند احمد کے محققین نے : 28/ 338 میں اسے اس کے طرق کی بنیاد پر حسن کہا ہے۔ اسی طرح البانی نے بھی اسے سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ، جلد ہفتم، حدیث نمبر 3228 اور صحیح موارد الظمآن : 2416 و 2418 میں ذکر کیا ہے اور صحیح لغیرہ کہا ہے۔
133- ((اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا اعلی ترین حصہ فردوس مانگتا ہوں۔)) [97] [97] یہ دعا اللہ کے نبی ﷺ کے اس فرمان سے لی گئی ہے : ((... جب تم اللہ سے مانگو تو فردوس مانگو۔ کیوں کہ وہ جنت کے بیچوں بیچ میں ہے اور جنت کا اعلی ترین حصہ ہے۔ اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے اور وہیں سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں۔)) صحیح بخاری : 2790 و 7423۔
134- ((اے اللہ! میرے دل میں ایمان کو نیا کر دے۔)) [98] [98] یہ دعا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی اس حدیث سے ماخوذ ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا : ((تمھارے دل میں ایمان اسی طرح پرانا ہو جاتا ہے، جس طرح کپڑا پرانا ہوتا ہے۔ لہذا اللہ سے دعا کرو کہ ایمان کو تمھارے دلوں میں نیا کر دے۔)) مستدرک حاکم : 1/ 4۔ حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔ جب کہ ہیثمی نے مجمع الزوائد : 1/ 52 میں کہا: ((اسے طبرانی نے الکبیر میں روایت کیا ہے اور اس کی سند حسن ہے۔)) البانی نے بھی اسے سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ : 4/ 113 حدیث نمبر 1585 میں حسن کہا ہے۔
135- ((اے اللہ! میں ایسی نماز سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو نفع بخش نہ ہو۔)) [99] 136- ((اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں برے پڑوسی سے، ایسی بیوی سے جو مجھے بڑھاپے سے پہلے بوڑھا بنا دے، ایسی اولاد سے جو میرا مالک بن بیٹھے، ایسی دولت سے جو میرے لیے عذاب ثابت ہو، ایسے مکار دوست سے جس کی آنکھ مجھے دیکھ رہی ہو اور جس کا دل میرے ٹوہ میں لگا ہوا ہو، اگر کوئی اچھی بات دیکھے تو اسے دفن کر دے اور اگر کوئی بری بات دیکھے تو اسے خوب پھیلائے۔)) [100] [99] سنن ابی داود : 1549۔ البانی نے اسے صحیح سنن ابوداود : 1/ 424 میں صحیح کہا ہے۔ [100] طبرانی کی الدعاء : 3/ 1425۔ البانی سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ : 7/ 377 حدیث نمبر 3137 میں کہتے ہيں: ((میں کہتا ہوں: یہ ایک جید سند ہے۔ اس کے سارے رجال التھذیب کے رجال ہیں۔۔۔)
137- ((اے اللہ! مجھے قیامت کے دن رسوا نہ کرنا۔)) [101] [101] مسند احمد : 29/ 596 حدیث نمبر 18056۔ مسند کے محققین نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔ جب کہ طبرانی نے اسے المعجم الکبیر : 3/ 20 حدیث نمبر 2524 میں ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے : ((اے اللہ! مجھے قیامت کے دن اور مشکلات کے دن رسوا نہ کرنا۔))
138- ((اے اللہ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں عافیت مانگتا ہوں۔)) [102] [102] سنن ابن ماجہ : 3851۔ البانی نے اسے صحیح ابن ماجہ : 3/ 259 اور سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ : 1138 میں صحیح کہا ہے۔
139- ((اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ایسے علم سے جو نفع بخش نہ ہو، ایسے عمل سے جو قبول نہ ہو، ایسے دل سے جو خوف نہ کھاتا ہو اور ایسے قول سے جو سنا نہ جائے۔)) [103] [103] صحیح ابن حبان : 2440 (موارد)۔ البانی نے اسے صحیح موارد الظمآن : 2/ 454 حدیث نمبر 2066 میں صحیح کہا ہے۔
140- ((اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں فکر اور حزن وملال سے، عاجزی اور کاہلی سے، بزدلی اور بخل سے، قرض کے بوجھ اور لوگوں کے تسلط سے۔)) [104] [104] صحیح بخاری : 6363۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہيں : اللہ کے رسول ﷺ جب بھی گھر پر ہوتے تو میں آپ کی خدمت کیا کرتا تھا۔ اس دوران میں دیکھتا کہ آپ اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے: ((اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں۔۔۔۔))
141- ((اے اللہ! میں جہنم کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں، قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں، تمام ظاہری وباطنی فتنوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور دجال کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔)) [105] [105] صحیح مسلم : 2867۔ اس میں ہے : ((اللہ کی پناہ مانگو جہنم کے عذاب سے)) ...، [اللہ کی پناہ مانگو قبر کے عذاب سے...] اخیر تک۔
142- ((اے اللہ! میں تجھ سے تیری راہ میں شہادت کا سوال کرتا ہوں۔)) [106] [106] صحیح مسلم : 1909۔ یہ دعا اللہ کے رسول ﷺ کے اس فرمان سے ماخوذ ہے : ((جو اللہ سے سچے دل سے شہادت مانگے گا، اسے اللہ شہیدوں کے درجات عطا کرے گا، اگرچہ اس کی موت بستر پر ہی کیوں نہ ہوئی ہو۔))
143- ((اے اللہ! مجھے بخش دے، قیامت کے دن اپنی مخلوقات میں سے بہت سے لوگوں پر مجھے فوقیت عطا کر۔ اے اللہ! میرے گناہوں کو معاف کر دے اور مجھے قیامت کے دن باعزت مقام میں داخلہ عنایت کر۔)) [107] [107] صحیح بخاری : 4323 اور صحیح مسلم : 2498۔ یہ دعا اللہ کے نبی ﷺ کی ان دعاؤں سے ماخوذ ہے، جو آپ ﷺ نے عبید بن عامر اور ابو بردہ رضی اللہ عنہما کے حق میں کی تھی۔
144- ((اے اللہ! مجھے ان لوگوں میں شامل کرتے ہوئے ہدایت دے جنھیں تو نے ہدایت دی ہے، مجھے ان لوگوں میں شامل کرتے ہوئے عافیت عنایت کر جنھیں تو نے عافیت عنایت کی ہے، مجھے ان لوگوں میں شامل کرتے ہوئے میری ذمے داری لے لے جن کی ذمے داری تو نے لے رکھی ہے، مجھے جو کچھ دیا ہے اس میں برکت دے اور مجھے اپنے فیصلوں کی برائی سے بچا۔ یقینا وہ رسوا نہیں ہوگا جس سے تو دوستی رکھے۔ اے ہمارے رب! تو برکت والا اور بلند وبرتر ہے۔)) [108] [108] مسند احمد : 3/ 249 حدیث نمبر 1723۔ مسند کے محققین نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔ یہ ایک مطلق روایت ہے اور اس میں ایک دوسری روایت کی طرح وتر کی قید نہیں ہے۔ کیوں کہ اس روایت میں انس رضی اللہ عنہ کہتے ہيں: ((آپ ﷺ ہمیں یہ دعا سکھایا کرتے تھے...))
145- ((اے میرے رب ! بدلے کے دن میرے گناہ بخش دینا۔)) [109] [109] صحیح مسلم : 214۔ اللہ کے نبی ﷺ سے کہا گیا کہ اے اللہ کے رسول! ابن جدعان جاہلیت کے زمانے کا ایک شخص تھا، جو رشتے داروں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتا تھا اور مسکینوں کو کھانا کھلاتا تھا۔ کیا اسے اس کا کچھ فائدہ ہوگا؟ آپ نے جواب دیا: ((اسے اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس نے کبھی یہ نہیں کہا کہ اے میرے پروردگار! مجھے بدلے کے دن میرے گناہ بخش دینا۔))
146- ((میں عظمت والے اللہ سے معافی کا خواست گار ہوں، جس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ ہمیشہ زندہ رہنے والا، سب کو تھامنے والا ہے اور میں اسی سے توبہ کرتا ہوں۔)) [110]. [110] سنن ترمذی : 3577۔ البانی نے اسے صحیح ترمذی: 3/ 469 میں صحیح کہا ہے: ((جس نے یہ دعا پڑھی اسے اللہ بخش دے گا، اگر چہ وہ میدان جنگ سے بھاگ کر آیا ہو۔))
147- ((اے اللہ! میرے گناہ بخش دے، میرے دل کا غیظ وغضب دور کر دے اور مجھے گمراہ کرنے والے فتنوں سے بچا۔)) [111] [111] یہ دعا اللہ کے نبی ﷺ کی اس دعا سے ماخوذ ہے، جو آپ ﷺ نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے حق میں کی تھی: ((اے اللہ! اس کے گناہ بخش دے، اس کے دل کا غیظ وغضب دور فرما اور اسے گمراہ کرنے والے فتنوں سے بچا۔)) اسے ابن عساکر نے اپنی کتاب ((الأربعين في مناقب أمهات المؤمنين)) کے صفحہ 85 میں اپنی سند سے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے اور فرمايا: ((یہ حدیث بقیہ بن ولید کی روایت سے صحیح حسن ہے۔)) ابن السنی نے بھی اسے عمل الیوم و اللیلۃ : 457 میں اس سے ملتے جلتے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔ جب کہ ابن السنی کے ایک نسخے میں ((گمراہ کن فتنوں سے بچا)) کی جگہ پر ((شیطان سے بچا)) موجود ہے۔ اس کی تخریج کے لیے دیکھیے الضعیفۃ حدیث نمبر 4207۔ اس کا ایک شاہد مسند احمد: 2/ 44 حدیث نمبر 26576 میں اس سے ملتے جلتے الفاظ کے ساتھ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔ اس کے الفاظ ہیں: ((تم کہو: اے اللہِ، نبی محمد ﷺ کے پروردگار! میرے گناہ بخش دے، میرے دل کا غیظ وغضب دور کر دے اور جب تک میں زندہ رہوں مجھے گمراہ کن فتنوں سے بچائے رکھ۔)) ہیثمی نے مجمع الزوائد : 10/ 27 میں اسے حسن کہا ہے۔ یہ حدیث طبرانی کی المعجم الکبیر: 23/ 338 حدیث نمبر 785 میں بھی ہے۔ لیکن اس میں ((جب تک میں زندہ رہوں)) کے الفاظ نہیں ہیں۔ اس کا ایک شاہد ام ہانی رضی اللہ عنہا سے بھی مروی ہے۔ اس میں ہے کہ انھوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی دعا سکھائیے جو میں کرتی رہا کروں، تو آپ نے کہا: ((تم کہو: اے اللہ! میرے گناہ بخش دے۔۔۔۔)) اسے خرائطی نے اعتلال القلوب: 52 اور مساوئ الاخلاق : 323 میں روایت کیا ہے۔
148- ((اے اللہ! مجھے اپنے نبی ﷺ کی سنت پر زندہ رکھ، ان کی ملت پر ہی وفات دے اور گمراہ کن فتنوں سے بچا۔)) [112] [112] اسے بیہقی نے السنن الکبری : 5/ 95 میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی دعا کے طور پر موقوفاً روایت کیا ہے۔ ابن الملقن نے بھی اسے البدر المنیر : 6/ 309 میں نقل کیا ہے اور ضیاء مقدسی سے نقل کرتے ہوئے کہا: ((اس کی سند جید ہے۔)) جب کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہيں: ((تم میں سے کوئی نہ کہے کہ اے اللہ! میں فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ کیوں کہ ہر آدمی کے اندر فتنہ پایا جاتا ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالی فرماتا ہے: "تمھارے مال اور اولاد تو سراسر تمہاری آزمائش (فتنہ) ہیں" [التغابن: 15] لہذا جسے اللہ کی پناہ مانگنی ہو وہ گمراہ کرنے والے فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگے۔)) تفسیر ابن جریر : 13/ 475، حدیث نمبر 15912۔ ابن بطال نے بھی اسے اپنی شرح صحیح بخاری: 4/ 13 میں ذکر کیا ہے۔
149- ((اے اللہ! رحمت نازل فرما محمد ﷺ پر اور آلِ محمد ﷺ پر جیسے تو نے رحمت نازل فرمائی ابراہیم علیہ السلام پر اور آلِ ابراہیم علیہ السلام پر، بے شک تو قابلِ تعریف، بڑی شان والا ہے۔ اور برکت نازل فرما محمد ﷺ پر اور آلِ محمد ﷺ پر جیسے تو نے برکت نازل فرمائی ابراہیم علیہ السلام پر اور آلِ ابراہیم علیہ السلام پر، بے شک تو قابلِ تعریف، بڑی شان والا ہے۔)) [113] [113] صحیح بخاری : 3370۔ قوسین کے بیچ کا حصہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث سے لیا گیا ہے، جو صحیح مسلم : 405 میں ہے۔
ساری تعریف اللہ کے لئے ہے، اس کی جلالت شان اور عظیم سلطنت کے شایان شان۔ اے اللہ! درود وسلام نازل کر ہمارے نبی محمد ﷺ، آپ کی آل، آپ کے اصحاب اور قیامت کے دن تک پوری ایمان داری سے آپ کی اتباع کرنے والوں پر۔
جھاڑ پھونک کے ذریعے علاج ومعالجہ
کتاب وسنت کی روشنی میں
اللہ کا محتاج بندہ
ڈاکٹر سعید بن علی بن وہَف القحطانی
بسم الله الرحمن الرحيم
مقدمہ: قرآن وسنت کے ذریعے علاج کی اہمیت
إنَّ الْحَمْدَ للِّهِ نَحْمَدُهُ، وَنَسْتَعِينُهُ، وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللهُ فَلاَ مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلاَ هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ، وَعَلَى آلِهِ، وَأصْحَابِهِ، وَمَنْ تَبِعَهُمْ بِإحْسَانٍ إلَى يَوْمِ الدِّينِ، وَسَلَّمَ تَسْلِيمَاً كَثِيرَاً. أَمَّا بَعْدُ:
بے شک، قرآن کریم اور نبی ﷺ سے ثابت شدہ رقیہ کے ذریعے علاج نفع بخش اور مکمل شفا ہے، جیسا کہ اللہ عز وجل نے فرمایا: یہ تو ایمان والوں کے لیے ہدایت و شفا ہے۔ [فصلت : 44] نیز اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا: یہ قرآن جو ہم نازل کر رہے ہیں، مومنوں کے لئے تو سراسر شفا اور رحمت ہے۔ ہاں ﻇالموں کو بجز نقصان کے اور کوئی زیادتی نہیں ہوتی۔ [الاسراء : 82] اس آيت میں (مِن) جنس کی وضاحت کے لئے آیا ہے؛ کیونکہ قرآن مجید مکمل طور پر شفا ہے جیسا کہ پچھلی آیت میں ذکر ہوا [1]، فرمان باری تعالى ہے: اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک ایسی چیز آئی ہے جو نصیحت ہے اور دلوں میں جو روگ ہیں ان کے لیے شفا ہے اور رہنمائی کرنے والی ہے اور رحمت ہے ایمان والوں کے لیے۔ [یونس : 57] [1] دیکھیں: ابن قیم کی کتاب الجواب الكافي لمن سأل عن الدواء الشافي، ص 20۔
چنانچہ قرآن تمام قلبی، جسمانی، دنیاوی اور اخروی بیماریوں کے لئے کامل شفا ہے، ہر شخص کو قرآن سے شفا حاصل کرنے کی توفیق نہیں ملتی اور نہ ہر شخص اس کا اہل ہوتا ہے، جب بیمار شخص قرآن کے ذریعے اچھے طریقے سے اپنا علاج کرتا ہے، اپنے مرض کا علاج صدق وایمان، مکمل قبولیت اور پختہ اعتقاد کے ساتھ کرتا اور اس کے تمام شرائط کو پورا کرتا ہے، تو کوئی بیماری اس کے سامنے کبھی بھی ٹھہر نہیں پاتی۔ بیماریاں اللہ رب العالمین کے کلام کا مقابلہ بھلا کیسے کر سکتی ہیں، جو اگر پہاڑوں پر نازل ہوتا تو انہیں ریزہ ریزہ کر دیتا، یا زمین پر نازل ہوتا تو اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا، دلوں اور جسموں کی کوئی بیماری ایسی نہیں ہے جس کے علاج کی رہنمائی، سبب اور اس سے حفاظت کا طریقہ قرآن میں موجود نہ ہو، ان لوگوں کے لئے جنہیں اللہ نے اپنی کتاب کی فہم عطا کیا ہے۔ اللہ عزوجل نے قرآن میں دلوں اور جسموں کی بیماریوں کا ذکر کیا ہے، اور دلوں اور جسموں کی دوا کا بھی۔
چنانچہ دل کے امراض دو قسم کے ہیں: شبہ اور شک کا مرض، شہوت اور گمراہی کا مرض، اللہ سبحانہ وتعالیٰ دل کے امراض کو تفصیل سے بیان فرماتا ہے، اور ان کے اسباب اور علاج کا ذکر کرتا ہے، [2] جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا انہیں یہ کافی نہیں؟ کہ ہم نے آپ پر کتاب نازل فرما دی جو ان پر پڑھی جا رہی ہے، اس میں رحمت (بھی) ہے اور نصیحت (بھی) ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان والے ہیں۔ [العنكبوت : 51] علامہ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ((پس جسے قرآن شفا نہ دے، اللہ تعالیٰ اسے شفا نہیں دیتا اور جسے قرآن کافی نہ ہو، اللہ تعالیٰ اسے کافی نہیں ہوتا۔)) [3] [2] زاد المعاد از ابن القيم : 4/ 6 و 4/ 352۔ [3] زاد المعاد : 4 / 352۔
رہی بات جسمانی امراض کی تو قرآن نے ان کے طبی اصولوں، ان کے مجموعے اور قواعد کی طرف رہنمائی فرمائی ہے۔ جسمانی طب کے تمام اصول قرآن عظیم میں موجود ہیں اور وہ تین ہیں: صحت کی حفاظت، ضرر رساں چیزوں سے پرہیز، اور فاسد اور ضرر رساں مواد کا اخراج، ان اصولوں کی روشنی میں ان اقسام کے دیگر افراد پر استدلال کیا جا سکتا ہے۔ [4] [4] زاد المعاد : 4/ 352، و4/ 6۔
اگر بندہ قرآن کے ذریعے بہتر طریقے سے اپنا علاج کرے تو وہ فوری شفا کے حصول میں اس کے عجیب اثرات دیکھے گا۔
امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ((مکہ میں ایک وقت ایسا آیا کہ میں بیمار ہوگیا، مجھے نہ کوئی طبیب ملا اور نہ کوئی دوا، تو میں سورہ فاتحہ سے اپنا علاج کرتا اور اس کا عجیب اثر دیکھتا تھا: میں زمزم کا پانی لیتا اور اس پر بار بار سورہ فاتحہ پڑھتا، پھر اسے پیتا تو اس سے مکمل شفا حاصل ہوتی۔ پھر میں نے اسے بہت سی تکالیف میں استعمال کرنا شروع کیا اور اس سے بہت زیادہ فائدہ اٹھایا۔ میں یہ طریقہ ان لوگوں کو بھی بتاتا جو کسی درد کی شکایت کرتے، اور ان میں سے بہت سے لوگ جلدی شفایاب ہو جاتے))۔ [5] [5] دیکھیں: زاد المعاد : 4/ 178 اور الجواب الكافي ص 21۔
اسی طرح ثابت شدہ نبوی رقیہ کے ذریعے علاج مفید ترین دواؤں میں سے ہے، دعا جب موانع سے خالی ہو تو یہ دفعِ مکروہ اور حصولِ مطلوب کا ایک نہایت ہی مفید سبب ہے، یہ ایک مفید ترین دوا ہے، خاص طور پر جب اس میں الحاح وزاری شامل ہو، یہ بلا کا دشمن ہے، اس کا مقابلہ کرتا ہے، اس کا علاج کرتا ہے، اور اس کے نزول کو روکتا ہے، یا اگر نازل ہو جائے تو اس کو ہلکا کر دیتا ہے؛ [6] جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: «دعا نازل شدہ اور غیر نازل شدہ دونوں میں نفع دیتی ہے، اس لیے اے اللہ کے بندو! دعا کو لازم پکڑو۔» [7] نیز اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے: «قضا کو دعا کے سوا کوئی چیز رد نہیں کرتی، اور نیکی کے سوا کوئی چیز عمر میں اضافہ نہیں کرتی۔» [8] لیکن یہاں ایک بات ہے جس پر توجہ دینا ضروری ہے اور وہ یہ کہ آیات، اذکار، دعائیں اور تعوذات جو شفا کے لیے پڑھی جاتی ہیں اور جن سے رقیہ کیا جاتا ہے، وہ اپنی ذات میں نفع بخش اور شفا دینے والی ہیں، لیکن ان کے لیے فاعل کی قبولیت، قوت اور تاثیر کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب شفا نہیں ہوتی تو یہ فاعل کی تاثیر کی کمزوری، یا منفعل کی عدم قبولیت، یا اس میں موجود کسی قوی مانع کی وجہ سے ہوتا ہے جو دوا کے اثر کو روک دیتا ہے؛ کیونکہ رقیہ کے ذریعے علاج دو چیزوں پر مشتمل ہوتا ہے: [6] دیکھیں: الجواب الكافي، ص 22- 25۔ [7] جامع الترمذي: 3548، مستدرک حاکم : 1/ 670، مسند احمد : 22044، البانی نے اسے حسن کہا ہے۔ دیکھیے: صحيح الجامع : 3/ 151، حدیث : 3403۔ [8] مستدرک حاکم : 1/ 670، سنن ترمذی: 2139۔ البانی نے اسے سلسلة الأحاديث الصحيحة : 1/ 76 حدیث نمبر 154 میں حسن کہا ہے۔
پہلا امر: مریض کی جانب سے ہے، اور یہ اس کی قوت ارادی، اللہ تعالیٰ کی طرف خلوص کے ساتھ رجوع اور اس پختہ اعتقاد پر مبنی ہے کہ قرآن مومنوں کے لیے شفا اور رحمت ہے، اور یہ کہ دل وزبان کی یک سوئی کے ساتھ درست انداز میں پناہ طلب کرے؛ کیونکہ یہ ایک قسم کی جنگ ہے اور دشمن پر فتح حاصل کرنے کے دو طریقے ہیں:
یہ کہ اسلحہ فی نفسہ صحیح اور عمدہ ہو، اور یہ کہ ہتھیار اٹھانے والا ہاتھ بھی مضبوط ہو۔ جب کبھی ان دونوں میں سے ایک چیز مفقود ہوگی، تو ہتھیار زیادہ مفید نہ ہوگا۔ تو (آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ) اس وقت کیا حال ہوگا جب دونوں ہی باتیں مفقود ہوں: دل توحید، توکل، تقوی اور انابت سے ویران ہو، اور ہاتھ میں ہتھیار بھی نہ ہو۔
دوسرا امر: قرآن وسنت کے ذریعہ علاج کرنے والے کے اندر بھی ان دو چیزوں کا پایا جانا ضروری ہے[9]؛ اسی لیے ابن التین رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ((معوذات اور اللہ کے اسماء کے ذریعہ رقیہ کرنا روحانی علاج ہے، جب یہ نیک لوگوں کی زبان سے ہو تو اللہ تعالیٰ کی اجازت سے شفا حاصل ہوتی ہے۔)) [10] [9] دیکھیں: زاد المعاد: 4/ 68 اور الجواب الكافي: ص21۔ [10] فتح الباری از ابن حجر: 10/ 196۔
علما کا اس پر اجماع ہے کہ جھاڑ پھونک جائز ہے، بشرطیکہ اس میں تین شرطیں پائی جائیں:
پہلی شرط: اللہ تعالیٰ کے کلام، یا اس کے اسما وصفات، یا رسول ﷺ کے کلام کے ذریعہ ہو۔
دوسری شرط: عربی زبان میں ہو، یا غیر عربی میں ہو تو اس کا معنی معلوم ہو۔
تیسری شرط: یہ اعتقاد ہو کہ رقیہ بذات خود اثر نہیں کرتا بلکہ اللہ تعالی کی قدرت سے اثر کرتا ہے[11]، اور رقیہ تو بس ایک سبب ہے۔ [11] دیکھیں: فتح الباري : 10/ 195 اور فتاوى العلامة ابن باز : 2/ 384۔
اسی اہمیت کے پیش نظر میں نے اپنی کتاب ’’الذِّكْرُ وَالدُّعَاءُ وَالْعِلاَجُ بِالرُّقَى مِنَ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ‘‘ کے رقیہ والے حصے کا اختصار کیا ہے، اور اس میں کچھ مفید فوائد کا اضافہ بھی کر دیا ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ میں اللہ عزوجل کے اسماء حسنی اور صفات علیا کے واسطہ سے دعا گو ہوں کہ وہ اس عمل کو اپنی رضا کے لیے خالص بنائے، اس سے مجھے اور ہر اس شخص کو فائدہ پہنچائے جو اس کتاب کو پڑھے یا شائع کرے یا اس کی اشاعت کا ذریعہ بنے اور تمام مسلمانوں کے لیے اسے فائدہ مند بنائے، بے شک اللہ سبحانہ ہی اس کا مالک اور اس پر قادر ہے۔ وصلى الله وسلم وبارك على نبينا محمد، وعلى آله وأصحابه، ومن تبعهم بإحسان إلى يوم الدين۔
اللہ کا محتاج بندہ
ڈاکٹر سعید بن علی بن وہَف قحطانی
18 / 6 / 1414 ھ
1- جادو کا علاج
جادو کا الٰہی علاج، اس کی دو قسمیں ہیں:
پہلی قسم: وہ امور جن کے ذریعہ جادو واقع ہونے سے پہلے اس سے بچا جا سکتا ہے:
1- تمام واجبات کو ادا کرنا، تمام محرمات کو ترک کرنا، اور تمام گناہوں سے توبہ کرنا۔
2- قرآن کریم کی زیادہ سے زیادہ تلاوت، اس طرح کہ ہر روز اس کا ایک مقرر حصہ تلاوت کرے۔
3- دعا، تعوذات اور مشروع اذکار کے ذریعہ تحفظ حاصل کرنا، ان میں سے چند دعائیں یہ ہیں: "بِسْمِ اللهِ الَّذِي لا يَضُرُّ مَعَ اِسْمِهِ شَيْءٌ في الأرضِ وَلا في السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ العَلِيمُ"۔ صبح وشام تین تین بار پڑھنا، [12]، ہر نماز کے بعد، سونے کے وقت اور صبح وشام آیت الکرسی کی تلاوت کرنا، سورہ اخلاص پڑھنا، معوذتین کو صبح وشام اور سوتے وقت تین بار پڑھنا، اور ہر سو بار یہ دعا پڑھنا : "لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك، وله الحمد، وهو على كل شيء قدير"، صبح وشام کے اذکار کی پابندی کرنا، فرض نمازوں کے بعد کے اذکار، سونے اور جاگنے کے اذکار، گھر میں داخل ہونے اور نکلنے کے اذکار، سواری پر چڑھنے کے اذکار، مسجد میں داخل ہونے اور نکلنے کے اذکار، بیت الخلاء میں داخل ہونے اور نکلنے کی دعا، مصیبت زدہ کو دیکھنے کی دعا، اور دیگر اذکار کی پابندی کرنا۔ میں نے ان میں سے بہت سی باتیں ((حصن المسلم)) میں حالات، مواقع، مقامات اور اوقات کے مطابق ذکر کردی ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی پابندی کرنا ان اسباب میں سے ہے جو اللہ تعالیٰ کے اذن سے جادو، نظر بد اور جنات کے اثرات سے تحفظ فراہم کرتے ہیں، اور یہ ان عظیم ترین علاجوں میں سے بھی ہیں جو ان آفات اور دیگر بیماریوں کے شکار ہونے کے بعد بھی کارگر ثابت ہوتے ہیں۔ [15] [12] جامع الترمذی : 3388، سنن ابوداود : 5088، سنن ابن ماجہ : 3869۔ البانی نے اسے صحیح ابن ماجہ : 2/ 332 میں صحیح کہا ہے۔ [13] مستدرک حاکم : 1/ 562۔ حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔ البانی نے بھی اسے صحیح الترغيب والترهيب : 1/ 273 حدیث نمبر 658 میں صحیح کہا ہے۔ [14] صحیح بخاری : 4/ 95، حدیث : 3293، صحیح مسلم : 4/ 2071، حدیث : 2691۔ [15] دیکھیے: زاد المعاد : 4/ 126، مجموع فتاوى العلامة ابن باز: 3/ 277، اور دیکھیے اس کتاب کے تیسرے حصے میں نظر بد کے تحت حاسد اور جادوگر کے شر کو دور کرنے کے دس اسباب۔
4۔ اگر ممکن ہو تو صبح خالی پیٹ سات عجوہ کھجوریں کھانا؛ کیوں کہ نبی ﷺ کا فرمان ہے: «جس نے صبح کو سات عجوہ کھجوریں کھائیں، اسے اس دن کوئی زہر اور جادو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔» [16] کامل ترین طریقہ یہ ہے کہ مدینہ کی کھجوروں میں سے ہو، جو مدینہ کے مشرقی ومغربی علاقے کے درمیان پھلتی ہیں، جیسا کہ مسلم کی روایت میں ہے۔ ہمارے شیخ علامہ عبدالعزیز بن عبداللہ ابن باز رحمہ اللہ کی رائے ہے کہ مدینہ کی تمام کھجوروں میں یہ خوبی پائی جاتی ہے؛ نبی ﷺ کی یہ حدیث اس کی دلیل ہے: «جس نے صبح کے وقت مدینہ کی دونوں کناروں[17] (سیاہ پتھریلی زمینوں) [17] کے درمیان کی سات کھجوریں کھائیں...» پوری حدیث [18] [16] صحیح بخاری مع فتح الباری : 10/ 247، حدیث : 5445، صحیح مسلم : 3/ 1618، حدیث : 2047۔ [17] لابتیھا: لابہ کی تثنیہ ہے، اس سے مراد حَرَّہ ہے، یعنی ایسی زمین جو سیاہ پتھروں سے بھری ہوئی ہو گویا آگ سے جلی ہو، یہاں اس سے مراد دو حَرّے (سیاہ پتھریلی مقامات) ہیں جو مدینہ نبویہ کے اطراف میں واقع ہیں، دیکھیے: فیض القدیر از مناوی : 2/ 514۔ [18] صحیح مسلم : 3/ 1618، حدیث : 2047۔
نیز شیخ رحمہ اللہ کی رائے ہے کہ یہ امید اس شخص کے لیے بھی کی جا سکتی ہے جو مدینہ کی کھجوروں کے علاوہ کہیں اور کی سات کھجوریں کھائے۔
دوسری قسم: جادو لگ جانے کے بعد اس کا علاج۔ اس کی کئی قسمیں ہیں:
پہلی قسم: جب جادو کی جگہ شرعی طور پر جائز طریقوں سے معلوم ہو جائے تو جادو کو نکالنا اور اسے باطل کرنا، یہ جادو زدہ شخص کے علاج کے لیے ایک مؤثر ترین طریقہ ہے۔ [19] [19] دیکھیں: زاد المعاد : 4/ 124، صحیح بخاری مع فتح الباری : 10/ 132، حدیث : 5765، صحیح مسلم : 4/ 1917، حدیث : 2189، مجموع فتاویٰ ابن باز : 3/ 228۔
دوسری قسم: شرعی جھاڑ پھونک، جن میں سے بعض یہ ہیں [20]: [20] دیکھیے: فتح الحق المبين في علاج الصرع والسحر والعين، ص 138۔
پہلا: ((سبز بیری کے سات پتے دو پتھروں یا اسی قسم کی کسی اور چیز کے درمیان کوٹ لے، پھر ان پر اتنا پانی ڈالے جو غسل کے لیے کافی ہو، اور اس پر پڑھے:
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ (اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ زندہ ہے، سب کا تھامنے والا، اسے نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند، اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے حضور سفارش کرے، وہ جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے، اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے مگر جتنا وہ چاہے، اس کی کرسی آسمانوں اور زمین کو گھیرے ہوئے ہے، اور ان کی حفاظت اسے تھکاتی نہیں، اور وہ بلند و برتر ہے۔) [البقرۃ : 255]۔
{اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی پھینک، تو اچانک وہ ان چیزوں کو نگلنے لگی جو وہ جھوٹ موٹ بنا رہے تھے۔ پس حق ثابت ہوگیا اور باطل ہوگیا جو کچھ وہ کر رہے تھے۔ تو اس موقع پر وہ مغلوب ہو گئے اور ذلیل ہو کر واپس ہوئے۔ اور جادو گر سجدے میں گرا دیے گئے۔ انھوں نے کہا ہم جہانوں کے رب پر ایمان لائے۔ جو موسیٰ اور ہارون کا بھی رب ہے۔} [الاعراف : 117-122]۔
{اور فرعون نے کہا میرے پاس ہر ماہرِ فن جادوگر لے کر آؤ۔ تو جب جادوگر آگئے تو موسیٰ نے ان سے کہا پھینکو جو کچھ تم پھینکنے والے ہو۔ تو جب انھوں نے پھینکا، موسیٰ نے کہا تم جو کچھ لائے ہو یہ تو جادو ہے، یقینا اللہ اسے جلدی باطل کر دے گا۔ بے شک اللہ مفسدوں کا کام درست نہیں کرتا۔ اور اللہ تعالیٰ حق کو اپنے فرمان سے ﺛابت کردیتا ہے گو مجرم کیسا ہی ناگوار سمجھیں۔} [یونس : 79-82]
{انھوں نے کہا اے موسیٰ! یا تو یہ کہ تو پھینکے اور یا یہ کہ ہم پہلے ہوں جو پھینکیں۔ جواب دیا کہ نہیں تم ہی پہلے ڈالو۔ اب تو موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ خیال گزرنے لگا کہ ان کی رسیاں اور لکڑیاں ان کے جادو کے زور سے دوڑ بھاگ رہی ہیں۔ تو موسیٰ نے اپنے دل میں ایک خوف محسوس کیا۔ ہم نے کہا خوف نہ کر، یقینا تو ہی غالب ہے۔ اور پھینک جو تیرے دائیں ہاتھ میں ہے، وہ نگل جائے گا جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، بے شک انھوں نے جو کچھ بنایا ہے وہ جادوگر کی چال ہے اور جادوگر کامیاب نہیں ہوتا جہاں بھی آئے۔ اب تو تمام جادوگر سجدے میں گر پڑے اور پکار اٹھے کہ ہم تو ہارون اور موسیٰ (علیہما السلام) کے رب پر ایمان ﻻئے۔} [طہ : 65-70]
بسم الله الرحمن الرحيم {کہہ دو، اے کافرو! نہ میں عبادت کرتا ہوں اس کی جس کی تم عبادت کرتے ہو۔ اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کر رہا ہوں۔ اور نہ میں عبادت کروں گا جس کی تم عبادت کرتے ہو۔ اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کر رہا ہوں۔ تمھارے لیے تمھارا دین اور میرے لیے میرا دین ہے۔}
بسم الله الرحمن الرحيم {آپ کہہ دیجیے کہ وه اللہ تعالیٰ ایک (ہی) ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ نہ اس سے کوئی پیدا ہوا نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔ اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے۔}
بسم الله الرحمن الرحيم {تو کہہ میں مخلوق کے رب کی پناہ پکڑتا ہوں۔ ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے۔ اور اندھیری رات کی تاریکی کے شر سے جب اس کا اندھیرا پھیل جائے۔ اور گره (لگا کر ان) میں پھونکنے والیوں کے شر سے (بھی)۔ اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے}۔
بسم الله الرحمن الرحيم {آپ کہہ دیجیے کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناه میں آتا ہوں۔ لوگوں کے مالک کی۔ لوگوں کے معبود کی (پناه میں)۔ وسوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے۔ جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ جنوں اور انسانوں میں سے۔}
مذکورہ آیتوں کو پانی میں پڑھنے کے بعد تین چلو پانی پی لے اور باقی پانی سے غسل کر لے۔ اس طرح بیماری دور ہوجائے گی، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ بیماری دور ہونے تک دو یا اس سے زائد مرتبہ بھی پانی استعمال کرنے کی ضرورت پڑے، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس کا تجربہ بہت دفعہ کیا گیا اور اللہ نے اس کے ذریعہ فائدہ پہنچایا ہے۔ یہ ان لوگوں کے لئے بھی مفید ہے جنہیں اپنی بیوی سے روک دیا گیا ہو۔[21] [21] دیکھیے: فتاوی ابن باز: 3/ 279، فتح المجيد : ص 346، الصارم البتار في التصدي للسحرة والأشرار از وحيد عبدالسلام : ص 109-117، یہاں ایک مفید اور طویل رقیہ موجود ہے ان شاء اللہ تعالی، مصنف عبد الرزاق: 11/ 13، فتح الباري از ابن حجر : 10/ 233۔
دوسرا: سورہ فاتحہ، آیت الکرسی، سورہ بقرہ کی آخری دو آیات، سورۃ اخلاص اور معوذتین کو تین یا زیادہ مرتبہ پڑھا جائے، ساتھ ہی پھونک مار کر دائیں ہاتھ سے تکلیف کی جگہ پر مسح کیا جائے۔ [22] [22] دیکھیے: صحیح بخاری مع فتح الباری: 9/ 62، حدیث : 5016، صحیح مسلم : 4/ 1723، حدیث : 2192، صحیح بخاری مع فتح الباری : 10/ 208۔
ثالثاً: معوذات، رقیہ اور جامع دعائیں:
1- أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ رَبَّ العَرْشِ العَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ۔ یعنی: میں اللہ سے سوال کرتا ہوں جو عظمت اور بڑائی والا اور عرش عظیم کا رب ہے کہ تجھے شفاء عنایت فرمائے۔ (سات بار) [23]۔ [23] سنن ابی داود: 3/ 187، حدیث : 3106، جامع الترمذي: 2/ 410، حدیث : 2083، امام الباني نے صحيح الجامع : 5/ 180، و322 اور صحيح سنن ابي داود : 2/ 276 میں اسے صحیح کہا ہے۔
مریض اپنے جسم کے اس حصے پر ہاتھ رکھے جہاں درد ہو رہا ہو اور تین مرتبہ کہے: "بسم اللہ"۔ پھر سات مرتبہ یہ دعا پڑھے: ((أَعُوذُ بِالله وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ۔)) یعنی: میں جو (تکلیف بھی) محسوس کر رہا ہوں اور جس سے ڈر رہا ہوں‘ اس سے اللہ اور اس کی قدرت کی پناہ طلب کرتا ہوں۔ [24] [24] صحیح مسلم : 4/ 1728، حدیث: 2202
3- «اے اللہ! اے لوگوں کے رب! پریشانی دورکردے اور شفا عطا فرما۔ تو ہی شفا دینے والا ہے۔ تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں ہے۔ ایسی شفا عطا کر، جو بیماری کو باقی نہ چھوڑے۔» [25] [25] صحیح بخاری مع فتح الباری : 10/ 206 حدیث : 5750، صحیح مسلم : 4/ 1721، حدیث : 2191۔
4- «میں اللہ کے مکمل کلمات کے ساتھ (اللہ) کى پناہ طلب کرتا ہوں ہر شیطان اور زہریلے جانور سے اور ہر نظرِ بد سے۔» [26] [26] صحیح بخاري مع الفتح : 6/ 408، حدیث: 3371۔
5- «میں اللہ کے مکمل کلمات کی پناہ میں آتا ہوں، اس کی مخلوق کے شر سے۔» [27] [27] صحیح مسلم : 4/ 1728، حدیث : 2709۔
6- «میں اللہ کے مکمل کلمات کے ساتھ (اللہ کی) پناہ مانگتا ہوں: اس کی ناراضی، اس کی سزا، اس کے بندوں کے شر، شیطانوں کے وسوسہ ڈالنے (گناہوں پر ابھارنے) سے اور اس بات سے کہ وہ (شیطان) میرے پاس آئیں۔» [28] [28] ابوداود : 3893، ترمذی : 3528۔ البانی نے اسے صحیح سنن ترمذی: 3/ 171 میں حسن کہا ہے۔
7- «میں اللہ تعالی کے ان مکمل کلمات کے ساتھ (اللہ کى) پناہ میں آتا ہوں جن سے کوئی نیک اور کوئی برا آگے نہیں گزرسکتا، اس چیز کے شر سے جسے اس نے پیدا فرمایا اور پھیلایا اور وجود عطا کیا اور اس چیز کے شر سے جو آسمان سے اترتی ہے اور اس چیز کے شر سے جو اس میں چڑھتی ہے اور اس چیز کے شر سے جسے اس نے زمین میں پھیلایا اور اس چیز کے شر سے جو اس سے نکلتی ہے اور رات اور دن کے فتنوں کے شر سے اور رات کے وقت ہر آنے والے کے شر سے، سوائے ایسے رات کو آنے والے کے جو خیر کے ساتھ آئے، اے نہایت رحم کرنے والے! (پروردگار) » [29] [29] مسند أحمد : 3/ 119، حدیث : 15461، بسند صحيح، ابن السني : 637، اور دیکھیے : مجمع الزوائد : 10/ 127، امام البانی نے سلسلة الأحاديث الصحيحة میں اسے صحیح کہا ہے : 7/ 196۔
8- «اے اللہ! ساتوں آسمانوں کے رب، زمین کے رب اور عرشِ عظیم کے رب! ہمارے رب اور ہر چیز کے رب! دانے اور گٹھلی کو پھاڑ کر پودا نکالنے والے! تورات، انجیل اور قرآن کو نازل کرنے والے! میں ہر اس چیز کی برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں جس کی پیشانی کو تو پکڑے ہوئے ہے۔ تو ہی اول ہے، تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں۔ تو ہی آخر ہے، تیرے بعد کوئی چیز نہیں۔ تو ہی ظاہر ہے، تیرے اوپر کوئی چیز نہیں اور تو ہی باطن ہے، تجھ سے پوشیدہ کوئی چیز نہیں ...» [30] [30] صحیح مسلم : 4/ 2084، حدیث : 2713۔
9- "اللہ کے نام سے میں آپ پر دم کرتا ہوں، ہر اس چیز سے جو آپ کو اذیت پہنچائے، ہر جان دار اور حسد کرنے والی نگاہ کے شر سے، اللہ تعالیٰ آپ کو شفا دے، میں اللہ کے نام سے آپ پر دم کرتا ہوں۔" [31] [31] مسلم : 4/ 1718، حدیث : 2186، راوی: ابو سعيد رضی اللہ عنہ۔
10- «اللہ کے نام سے میں آپ کو شفا دیتا ہوں، ہر بیماری سے اللہ آپ کو شفا دے، حسد کرنے والے کے حسد کے شر سے، اور ہر نظر بد کے شر سے۔» [32] [32] صحیح مسلم: 4/ 1718، حدیث : 2185۔ راوی: عائشہ رضی اللہ عنہا
11- «اللہ کے نام سے میں آپ پر دم کرتا ہوں، ہر اس چیز سے جو آپ کو اذیت پہنچائے، حسد کرنے والے کے حسد سے، اور ہر نظر بد سے، اللہ تعالیٰ آپ کو شفا دے۔» [33] [33] سنن ابن ماجہ : 3527، راوی: عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ، اسے البانی نے صحیح ابن ماجہ : 2/ 268 میں صحیح قرار دیا ہے۔
یہ معوذات، دعائیں اور رقیہ جادو، نظر بد، جنات کے اثرات اور تمام بیماریوں کے علاج کے لیے مؤثر ہیں؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ جامع اور نفع بخش رقیہ ہیں۔
تیسری قسم: اگر ممکن ہو تو پچھنا لگوا کر جسم کے اس مقام یا عضو سے زہریلے اثرات کو نکالنا جہاں جادو کا اثر ظاہر ہوا ہو اور اگر ممکن نہ ہو تو اللہ تعالیٰ کی حمد کے ساتھ مذکورہ علاج کافی ہے۔ [34] دیکھیں: زاد المعاد : 4 / 125، جادو کے علاج کی کچھ دیگر قسمیں بھی ہیں جو واقع ہونے کے بعد اگر آزمائی جائیں اور فائدہ مند ثابت ہوں تو ان میں کوئی حرج نہیں۔ دیکھیں: مصنف ابن أبي شيبة : 7/ 386-387، فتح الباری: 10/ 233-234، مصنف عبد الرزاق : 11/ 13، الصارم البتار، ص 194-200، اور السحر حقيقته وحكمه از ڈاکٹر مسفر دميني، ص 64-66۔
چوتھی قسم: قدرتی دوائیں۔ کچھ قدرتی دوائیں ایسی ہیں جو فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں، جن کی طرف قرآن مجید اور سنت مطہرہ نے رہنمائی کی ہے۔ اگر انسان انہیں یقین، صدق اور توجہ کے ساتھ استعمال کرے اور یہ عقیدہ رکھے کہ نفع اللہ کی طرف سے ہے، تو اللہ تعالیٰ ان سے فائدہ پہنچائے گا، ان شاء اللہ۔ اسی طرح کچھ مرکب دوائیں بھی ہیں جو جڑی بوٹیوں وغیرہ سے تیار کی جاتی ہیں، اور یہ تجربے پر مبنی ہوتی ہیں، تو شرعاً ان سے فائدہ اٹھانے میں کوئی حرج نہیں جب تک کہ وہ حرام نہ ہوں۔ [35] [35] دیکھیں: فتح الحق المبين في علاج الصرع والسحر والعين، ص 139۔
اللہ تعالیٰ کے حکم سے مفید قدرتی علاجوں میں سے چند یہ ہیں: شہد [36]، کلونجی [37]، زم زم کا پانی [38]، اور بارش کا پانی؛ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اور ہم نے آسمان سے بابرکت پانی برسایا} [ ق : 9]۔ نیز زیتون کا تیل؛ کیونکہ نبی ﷺ کا ارشاد ہے: «زیتون کا تیل کھاؤ اور اسے (جسم پر) لگاؤ، اس لیے کہ یہ مبارک درخت کا تیل ہے۔» [39] تجربے، استعمال اور مطالعے سے ثابت ہوا ہے کہ یہ سب سے بہترین تیل ہے [40]، بعض قدرتی ادویات یہ بھی ہیں: غسل کرنا، صفائی کرنا، اور خوشبو لگانا۔ [41] [36] دیکھیں: فتح الحق المبين، ص140، اس کتاب میں شہد سے علاج کا ذکر آئے گا۔ [37] دیکھیں: فتح الحق المبين، ص141، اس کتاب میں کلونجی سے علاج کا ذکر آئے گا۔ [38] دیکھیے: فتح الحق المبين، ص 144، اس کتاب میں زمزم کے پانی سے علاج کا ذکر آئے گا۔ [39] مسند احمد : 3/ 497، حدیث : 16055، جامع ترمذی : 1851، سنن ابن ماجہ : 3319، امام البانی نے صحيح الترمذي : 2/ 166 میں اسے صحیح کہا ہے۔ [40] دیکھیں: فتح الحق المبين في علاج الصرع والسحر والعين، ص 142۔ [41] دیکھیں: سابقہ حوالہ، ص 145۔
2- نظر بد کا علاج۔
نظر بد کے علاج کی مختلف قسمیں ہیں:
پہلی قسم: نظر لگنے سے قبل، اس کی بھی چند اقسام ہیں:
1- اذکار، دعاؤں اور مشروع معوذات کے ذریعہ اپنی اور ان کی حفاظت کرنا جن کے بارے میں خوف ہو، جیسا کہ جادو کے علاج کے پہلے حصے میں آیا ہے۔ [42] [42] دیکھیے: اس کتاب میں جادو کے علاج کے بارے میں جو پہلے ذکر ہوا۔
2- جب کوئی شخص اپنی نظر لگ جانے کا اندیشہ کرے - جب وہ اپنے نفس، مال، اولاد، بھائی یا کسی اور چیز میں کچھ ایسا دیکھے جو اسے پسند آئے - تو برکت کی دعا کرے، اور کہے: "مَا شَاءَ اللَّهُ لاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَيْهِ"؛ کیونکہ نبی ﷺ کا فرمان ہے: ((جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی میں خوش کن چیز دیکھے تو اسے برکت کی دعا کرنی چاہیے۔)) [43] [43] مؤطا مالك : 2/ 938، ابن ماجہ : 2/ 1160، حدیث : 3509، احمد : 4/ 447، حدیث : 15700۔ البانی نے اسے صحیح ابن ماجہ : 2/ 265 میں صحیح کہا ہے۔ نیز دیکھیے : زاد المعاد : 4/ 170، الصارم البتار في التصدي للسحرة والأشرار از للشيخ وحيد عبد السلام، ص 229- 252۔
3- جسے نظرِ بد لگنے کا اندیشہ ہو، اس کی خوبیوں کو چھپانا۔ [44] [44] دیکھیے: شرح السنة للبغوي، 13/ 116، اور زاد المعاد، 4/ 173۔
دوسری قسم: نظر لگنے کے بعد، اس کی بھی چند قسمیں ہیں:
1- اگر نظر لگانے والا معلوم ہو جائے تو اسے وضو کرنے کا حکم دیا جائے، پھر جسے نظر لگی ہو وہ اس (وضو کے پانی) سے غسل کرے۔ [45] [45] دیکھیے : سنن ابی داود : 4/ 9، حدیث : 5056، اسے البانی نے سلسلة الأحاديث الصحيحة : 6/ 61 میں صحیح قرار دیا ہے، زاد المعاد : 4/ 163، نیز دیکھیے : الوقاية والعلاج من الكتاب والسنة از محمد بن شايع، ص 144-147۔
2- زیادہ سے زیادہ تلاوت کرنا: سورہ اخلاص معوذتین، سورہ فاتحہ، آیۃ الکرسی، سورہ بقرہ کی آخری آیات، اور رقیہ سے متعلق مشروع دعائیں پڑھ کر دائیں ہاتھ سے درد کی جگہ پر پھونک مارنا اور مسح کرنا، جیسا کہ جادو کے علاج کی دوسری قسم میں فقرہ ((ج)) نمبر 1-11 میں مذکور ہے۔[46] [46] دیکھیں: اس کتاب میں جادو کے علاج کی دوسری قسم میں جو پہلے بیان ہوا ہے۔
3- ((پانی میں پڑھ کر اس پر پھونک مارے، پھر مریض اس میں سے کچھ پی لے اور باقی پانی جسم پر ڈال دے، [47] یا تیل میں پڑھ کر اس سے مالش کرے۔)) [48] اگر میسر ہو تو زم زم کے پانی میں پڑھا جائے۔ یہ زیادہ کامل ہوگا [49] یا بارش کے پانی میں۔ [50] [47] سنن ابی داود : 4/ 10، حدیث : 3885، یہ عمل نبی کریم ﷺ نے ثابت بن قیس کے لیے کیا۔ امام البانی نے ضعيف ابی داود : 836 میں اسے ضعیف کہا ہے۔ [48] مسند احمد : 3/ 497، حدیث : 16055، امام البانی نے سلسلة الأحاديث الصحيحة : 1/ 108، حدیث نمبر 379 میں اسے صحیح کہا ہے۔ [49] دیکھیں: اس کتاب میں جادو کے علاج کی چوتھی قسم میں جو پہلے بیان ہوا۔ [50] دیکھیے: اس کتاب میں جادو کے علاج کی چوتھی قسم میں جو پہلے بیان ہوا۔
4- مریض کے لیے قرآن کی آیات لکھ کر انہیں دھو کر پینا جائز ہے، [51] جیسے سورہ فاتحہ، آیت الکرسی، سورہ بقرہ کی آخری دو آیات اور سورہ اخلاص معوذتین، اور دم کی دعائیں جیسا کہ جادو کے علاج کی دوسری قسم میں ہیں، فقرة ((ب))، اور ((ج))، نمبر 1-11 [52]۔ [51] دیکھیں: زاد المعاد از ابن القيم، 4/ 170، اور فتاوى ابن تیمیہ، 19/64۔ [52] دیکھیے: اس کتاب میں جادو کے علاج کی دوسری قسم۔
تیسری قسم: حاسد کی نظر بد کو دفع کرنے والے اسباب اختیار کرنا، جو کہ درج ذیل ہیں:
1- اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگی جائے۔
2- اللہ تعالی کا تقویٰ اور اس کے احکام کی پابندی اور اس کی منع کردہ چیزوں سے اجتناب: «تم اللہ کے احکام کی حفاظت کرو، وہ تمہاری حفاظت فرمائے گا۔» [53] [53] جامع ترمذی: 2516، الباني رحمہ اللہ نے صحيح الترمذي: 2/ 309 میں اس کو صحیح قرار دیا ہے۔
3- حاسد پر صبر کرنا، اسے معاف کرنا، نہ اس سے لڑائی کرنا، نہ اس کی شکایت کرنا، اور نہ ہی اسے نقصان پہنچانے کا ارادہ کرنا۔
4- اللہ پر توکل، جو شخص اللہ پر توکل کرے گا، اللہ اس کے لیے کافی ہوگا۔
5- حسد کرنے والے سے نہ ڈرے، اور نہ ہی اس کی فکر میں غلطاں رہے، یہ ایک مفید ترین علاج ہے۔
6- اللہ کی جانب متوجہ ہونا، اس کے لیے اخلاص پیدا کرنا، اور اس کی رضا طلب کرنا۔
7- گناہوں سے توبہ کرنا؛ کیونکہ یہ انسان پر اس کے دشمنوں کو مسلط کر دیتے ہیں: تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وه تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کا بدلہ ہے، اور وه تو بہت سی باتوں سے درگزر فرما دیتا ہے۔ [شوریٰ: 30]۔
8- جہاں تک ممکن ہو صدقہ اور احسان کرنا؛ کیونکہ آفت، نظر بد اور حاسد کے شر کو دور کرنے میں اس کی عجیب تاثیر ہوتی ہے۔
9- حسد کرنے والے، ظالم اور اذیت دینے والے کی آگ کو احسان کے ذریعہ بجھانا، چنانچہ وہ آپ کے ساتھ جتنا زیادہ اذیت، شر، ظلم اور حسد کرے، آپ اس پر احسان، نصیحت اور شفقت میں اضافہ کرتے جائیے، اور اس کی توفیق صرف اسے ملتی ہے جس کا اللہ کے ہاں بڑا مقام ہوتا ہے۔
10- توحید کو خالص کرنا اور اسے عزیز وحکیم اللہ کے لیے خاص کرنا، جس کی اجازت کے بغیر کوئی چیز نقصان یا فائدہ نہیں پہنچا سکتی، اور وہی ان سب کا جامع ہے اور اسی پر ان اسباب کا دار ومدار ہے، معلوم ہوا کہ توحید اللہ کا سب سے بڑا قلعہ ہے، جو اس میں داخل ہوا وہ مامون ہوگیا۔
یہ دس اسباب ہیں جن سے حاسد، نظر لگانے والے اور جادوگر کی برائی دور ہوتی ہے۔ [54] [54] دیکھیے: بدائع الفوائد لابن القيم : 2/ 238-245۔
3- انسانی ذہن پر جنات کے اثر کا علاج۔
جن کے اثر سے متاثر شخص کا علاج دو قسم کا ہوتا ہے:
پہلی قسم : متاثر ہونے سے پہلے:
اس سے بچنے کے لیے تمام فرائض اور واجبات کی پابندی کرنا، تمام محرمات سے دور رہنا، تمام گناہوں سے توبہ کرنا، اذکار، دعاؤں اور مشروع معوذات کے ذریعے تحفظ حاصل کرنا۔
دوسری قسم: جن کے داخل ہونے کے بعد علاج:
یہ اس مسلمان کے پڑھنے (دَم کرنے) سے ہوتا ہے جس کا دل؛ اس کی زبان ور اس کی رقیہ سے ہم آہنگ ہو، اور سب سے بڑا علاج سورہ فاتحہ [55]، آیت الکرسی، اور سورہ بقرہ کی آخری دو آیتوں کے ذریعے رقیہ ہے، اور سورہ اخلاص اور سورہ فلق اور سورہ ناس پڑھ کر متاثر شخص پر پھونک مارنا، اس عمل کو تین یا اس سے زیادہ بار دہرانا، نیز دیگر قرآنی آیات بھی پڑھی جائیں؛ کیونکہ قرآن میں دلوں کے ہر مرض کے لیے شفا ہے، اور قرآن مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے[56]‘ ساتھ ہی رقیہ کی دعاؤں کا بھی اہتمام کرے جیسا کہ جادو کے علاج کی دوسری قسم میں فقرہ ((ب)) اور ((ج)) کے تحت آیا ہے[57]، اس علاج میں دو امور کا ہونا ضروری ہے: [55] دیکھیے: سنن ابی داود : 4/ 13-14، حدیث: 3896، مسند احمد: 5/ 210، حدیث: 21835۔ البانی نے اسے سلسلة الأحاديث الصحيحة: 2028 میں صحیح کہا ہے۔ [56] دیکھیے: الفتح الرباني ترتيب مسند الإمام أحمد: 17/ 183۔ [57] دیکھیے: اسی کتاب میں جادو کے علاج کی دوسری قسم۔
پہلا تعلق متاثر شخص سے ہے کہ وہ اپنی قوت ارادی سے کام لے، خلوص کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کرے اور دل وزبان کی یکسوئی کے ساتھ درست انداز میں رب کی پناہ طلب کرے۔
اور دوسری بات معالج کے حوالے سے ہے کہ وہ بھی ایسا ہی ہو، کیونکہ اسلحہ اپنے استعمال کرنے والے کی مہارت پر منحصر ہوتا ہے۔ [58] [58] دیکھیں: الصارم البتار میں مفید طویل رقیہ، ص 109-117، شیخ وحید عبد السلام کی تصنیف، اور دیکھیں: زاد المعاد، 4/ 66-69، اور علامہ عبد العزیز بن عبد اللہ ابن باز کی تصنیف إيضاح الحق في دخول الجني بالإنسي والرد على من أنكر ذلك، ص 14، اور فتاوی ابن تیمیہ: 19/ 9-65، اور 24/ 276، اور محمد بن شایع کی تصنیف الوقاية والعلاج من الكتاب والسنة، ص 66-69، اورمحمد بن شایع کی اسی کتاب میں دیکھیں: گھر سے جن کو نکالنے کا طریقہ، ص59، اور الأشقر کی تصنیف عالم الجن والشیاطین، ص130۔
اور اگر متاثر شخص کے کان میں اذان دی جائے تو یہ اچھا ہے؛ کیونکہ شیطان اس سے بھاگتا ہے۔ [59] [59] دیکھیے: فتح الحق المبين في علاج الصرع والسحر والعين، ص112، اور صحیح بخاری: 574۔
4- نفسیاتی بیماریوں کا علاج:
نفسیاتی امراض [60] اور دل کی تنگی کا سب سے بڑا علاج مختصراً درج ذیل ہے: [60] دیکھیے: أسباب شرح الصدر في زاد المعاد: 2/ 23-28، الوسائل المفيدة للحياة السعيدة للعلامة عبد الرحمن بن ناصر السعدي رحمه الله۔
1- ہدایت اور توحید، جیسا کہ گمراہی اور شرک دل کی تنگی کے عظیم ترین اسباب میں سے ہیں۔
2- سچے ایمان کا نور جو اللہ بندے کے دل میں ڈالتا ہے، عمل صالح کے ساتھ۔
3- علم نافع، جتنا زیادہ علم بندے کو حاصل ہوتا ہے، اس کا سینہ اتنا ہی کشادہ ہوتا ہے۔
4- اِنابت، اللہ سبحانہ کی طرف رجوع کرنا، پورے دل سے اس سے محبت کرنا، اس کی طرف متوجہ ہونا، اور اس کی عبادت سے لطف اندوز ہونا۔
۵- ہر حال میں اور ہر مقام پر اللہ کے ذکر پر ہمیشگی برتنا: ذکر کا شرح صدر، قلب کی نعمت، اورپریشانی وغم کے ختم ہونے میں عجیب وغریب اثر ہوتا ہے۔
6- مخلوق کے ساتھ احسان کرنا اور ان کو ہر ممکن طریقے سے نفع پہنچانا، کیونکہ احسان کرنے والا سخی انسان لوگوں میں سب سے زیادہ کشادہ دل، سب سے زیادہ خوش نفس اور سب سے زیادہ نرم دل ہوتا ہے۔
7- شجاعت، کیونکہ بہادر کا سینہ کھلا اور دل وسیع ہوتا ہے۔
دل کے دغل [61] سے یعنی ان مذموم صفات سے پاک رکھنا جو اسے تنگ کرتی اور اس کی اذیت کا سبب بنتی ہیں: جیسے حسد، بغض، کینہ، دشمنی، عداوت اور ظلم۔ یہ ثابت ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے بہترین شخص کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ((ہروہ شخص جو مخموم القلب اور صدوق اللسان ہو۔)) صحابہ نے عرض کیا: ہم صدوق اللسان کو تو جانتے ہیں، مخموم القلب کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ((یہ وہ شخص ہے جو متقی اور پاک باز ہو، جس میں نہ کوئی گناہ ہو، نہ بغاوت، نہ کینہ اور نہ حسد۔)) [62] [61] دَغَلُ الشَّيْءِ: کسی چیز کا ایسا عیب جو اسے خراب کر دے۔ [62] سنن ابن ماجہ: 4216۔ علامہ البانی نے اسے صحیح ابن ماجہ : 2/ 411 میں صحیح کہا ہے۔
9- زیادہ تاک جھانک کرنے، زیادہ بولنے، زیادہ سننے، زیادہ میل جول رکھنے اور زیادہ کھانے پینے سے گریز کرنا؛ کیونکہ ان چیزوں سے گریز دل کی وسعت، قلبی سکون اور حزن وملال کو دور کرنے کا سبب ہے۔
10- عمل صالح کی انجام دہی یا علم نافع کے حصول میں لگے رہنا؛ کیونکہ یہ دل کو بے چینی پیدا کرنے والے امور سے دور رکھتا ہے۔
11- آج کے عمل پر توجہ مرکوز کرنا، مستقبل کی فکر سے خود کو آزاد کرنا اور گزرے ہوئے وقت پر افسوس نہ کرنا، بندہ دین ودنیا میں جو اس کے لئے مفید ہو اس کی کوشش کرتا ہے، اپنے رب سے اپنے مقصد کی کامیابی کی دعا کرتا ہے اور اس میں اس کی مدد طلب کرتا ہے؛ کیونکہ یہ چیز رنج وغم سے نجات دلاتی ہے۔
12- اس کو دیکھو جو تم سے کم تر ہے، اور اس کو مت دیکھو جو تم سے برتر ہے: صحت وعافیت اور اس کے متعلقات میں، اور رزق اور اس کے متعلقات میں۔
13- ماضی میں جو نا پسندیدہ حالات پیش آئے اور جنہیں دور کرنا ممکن نہ ہو، ان کے بارے میں بالکل بھی نہ سوچنا۔
14- جب بندہ کو کسی مصیبت کا سامنا ہو تو اسے چاہئے کہ وہ اس مصیبت کے اثر کو کم کرنے کی کوشش کرے، اس طرح کہ وہ اس بدترین امکانی صورت حال کا اندازہ لگائے جہاں تک یہ معاملہ پہنچ سکتا ہے اور اپنی قدرت وصلاحیت کے بقدر اس کا مقابلہ کرے۔
15- دل کی قوت، اوہام اور خیالات کی وجہ سے جو برے افکار پیدا ہوتے ہیں ان سے متاثر نہ ہونا، غصہ نہ کرنا، محبوب چیزوں کے زوال اور ناپسندیدہ حالات کے وقوع پذیر ہونے کی توقع نہ رکھنا؛ بلکہ اللہ عزوجل کے سپرد کرنا اور مفید اسباب کے ساتھ ساتھ اللہ سے عفو وعافیت کی دعا کرنا۔
16- دل سے اللہ پر اعتماد کرنا، اس پر توکل کرنا، اور اس سے حُسنِ ظن رکھنا؛ کیونکہ جو اللہ پر توکل کرتا ہے اس پر اوہام اثر نہیں کرتے۔
17- عقلمند انسان یہ جانتا ہے کہ اس کی اصل زندگی اطمینان اور بے فکری کی زندگی ہے اور یہ زندگی بہت مختصر ہے، لہذا بلا وجہ کے تفکرات اور زندگی کے چین وسکون کو غارت کرنے والے عوامل کو ڈھیل دے کر زندگی کے خوشگوار لمحات کو مزید مختصر کرنا صحیح نہیں ہے، کیونکہ یہ صحت مند زندگی کے برخلاف ہے۔
18- جب کسی کو کوئی مصیبت یا نا پسندیدہ صورت حال کا سامنا ہو تو اسے دستیاب دینی ودنیاوی نعمتوں اور درپیش نا موافق صورت حال کے درمیان موازنہ کرنا چاہئے، اس سے یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اسے جو نعمتیں حاصل ہیں وہ بہت زیادہ ہیں۔ اسی طرح وہ ان نقصانات کے خدشات کا موازنہ کرے جو اسے لاحق ہو سکتے ہیں اور ایسے بہت سے امکانات کا جو سلامتی کی طرف اشارہ کرتے ہیں، چنانچہ وہ کمزور امکان کو قوی اور کثیر امکانات پر غالب نہ آنے دے، اس طرح اس کے غم و خوف دور ہو جائیں گے۔
19- وہ یہ جانتا ہے کہ لوگوں کی اذیت، خاص طور پر ان کی بری باتیں اسے نقصان نہیں پہنچاسکتیں بلکہ خود ان کے کہنے والوں کو نقصان پہنچاتی ہیں، لہذا وہ ان باتوں پر کوئی توجہ نہ دے اور نہ ہی ان کے بارے میں سوچے تاکہ وہ اسے نقصان نہ پہنچا سکیں۔
20- اپنی فکر کو دینی ودنیاوی اعتبار سے مفید کاموں میں مشغول رکھے۔
21- بندہ اپنی کی ہوئی نیکی اور احسان پر سوائے اللہ تعالی کے کسی اور سے شکر نہ طلب کرے، اور یہ جان لے کہ یہ اس کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ ہے، لہذا جس پر احسان کیا ہے اس کی شکرگزاری کی پرواہ نہ کرے۔ ہم تو تمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے لیے کھلاتے ہیں نہ تم سے بدلہ چاہتے ہیں نہ شکر گزاری۔ [الانسان: 9]
22- نفع بخش چیزوں کو اپنی نگاہوں کے سامنے رکھیں اور انہیں حاصل کرنے کے لئے کوشش کریں، نقصان دہ چیزوں کی طرف مڑ کر بھی نہ دیکھیں تاکہ آپ کا ذہن اور فکر ان میں مشغول نہ ہو۔
23- کاموں کو وقت پر نمٹانا اور مستقبل کے لئے فارغ رہنا تاکہ آنے والے کاموں کو انجام دینے کے لئے آپ کے پاس نئی قوت فکر اور نیا جوش وجذبہ موجود رہے۔
24- انسان کو چاہیے کہ وہ مفید کاموں اور مفید علوم میں سب سے زیادہ اہم امور کو ترجیح دے، خاص طور پر ان کاموں کو ترجیح دے جن میں اس کی شدید رغبت ہو، اور اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرے، پھر باہم مشورہ کرے، جب اس کی افادیت ثابت ہو جائے اور وہ عزم کر لے تو اللہ عزوجل پر بھروسہ کرے۔
25- اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ظاہری اور پوشیدہ نعمتوں کا اظہار اور زبان سے ان کا تذکرہ کرنے کی وجہ سے اللہ تعالى اس کے غم وہم کو دور کر دیتا ہے، اور اس سے بندہ کے اندر شکر گزاری کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
26- بیوی، رشتہ دار، ساتھی، اور ہر وہ شخص جس کا آپ سے کوئی تعلق ہے، ان کے ساتھ برتاؤ کرتے وقت اگر آپ کو ان میں کوئی عیب نظر آئے تو ان کی خوبیوں سے اس عیب کا موازنہ کریں، ان خوبیوں پر نظر رکھنے سے تعلقات کو دوام حاصل ہوتا ہے اور دل کو سکون ملتا ہے؛ اسی لئے نبی ﷺ نے فرمایا: ((کوئی مسلمان مرد کسی مسلمان عورت سے متنفر نہ ہو۔ اگر اسے اس کی کوئی خصلت بری لگتی ہے تو اس کی کوئی عادت اسے پسند بھی ہو گی۔)) [63] [63] صحیح مسلم: 2/ 1091، حدیث: 1469۔
27- تمام امور کی اصلاح کے لئے دعا، اور اس میں سب سے عظیم یہ دعا ہے: ((اے اللہ! میرے لیے میرے دین کو درست کردے، جو میرے حالات کے تحفظ کا ضامن ہے۔ میری دنیا کو درست کردے، جس میں میری گزر بسر ہے۔ میری آخرت کو درست کردے، جہاں لوٹ کر مجھے جانا ہے۔ میری زندگی کو ہر خیر میں زیادتی کا سبب بنادے اور موت کو میرے لیے ہر شر سے راحت کا ذریعہ بنادے۔)) [64] اسی طرح یہ دعا: ((اے اللہ! میں تیری رحمت کی امید رکھتا ہوں، تو آنکھ جھپکنے کے برابر بھی مجھے میرے اپنے نفس کے سپرد نہ کرنا اور میرے لیے میرے سب کام سنوار دے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔)) [65] [64] صحیح مسلم: 4/ 2087، حدیث: 2720۔ [65] سنن ابو داود: 4/ 324، حدیث: 5090، مسند احمد: 5/ 42، حدیث: 0430، امام البانی نے صحيح الجامع: 3388 میں اسے صحیح کہا ہے اور صحيح سنن ابو داود: 3/ 251 میں حسن کہا ہے۔
28- اللہ کی راہ میں جہاد؛ نبی ﷺ کے اس فرمان کے مطابق: ((اللہ کی راہ میں جہاد کرو؛ بلاشبہ اللہ کی راہ میں جہاد جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے، جس کے ذریعے اللہ غم وپریشانی سے نجات دیتا ہے۔))[66] [66] مسند احمد: 5/ 314، 316، 319، 326، 330، حدیث: 21624، 22680، 22732، اسے حاکم نے صحیح کہا اور امام ذهبي نے ان کی موافقت کی ہے: 2/ 75، اور امام البانی نے سلسلة الأحاديث الصحيحة : 2/ 274 میں اسے صحیح کہا ہے۔
یہ اسباب و وسائل نفسیاتی امراض کے لئے مفید علاج ہیں، اور جو شخص ان پر غور وفکر کرے اور صدق واخلاص کے ساتھ ان پر عمل پیرا ہو، اس کے لئے نفسیاتی اضطراب کا عظیم ترین علاج ہیں، بعض علماء نے ان کے ذریعے بہت سی نفسیاتی حالات اور امراض کا علاج کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعے بڑا فائدہ پہنچایا۔ [67] [67] دیکھیں: مقدمة الوسائل المفيدة، پانچویں طباعت، ص 6۔
5- پھوڑا اور زخم کا علاج
جب کوئی شخص بیمار ہوتا، یا اس کے جسم پر کوئی پھوڑا یا زخم ہوتا، تو رسول اللہ ﷺ اپنی انگلی سے ایسے کرتے اور سفیان (راوی) نے اپنی انگشت شہادت زمین پر رکھی، پھر اسے اٹھایا اور کہا: ((اللہ کے نام سے، یہ ہمارے زمین کی مٹی ہے، اس کے ساتھ ہم میں سے کسی کا لعاب لگا ہوا ہے اور اس کی وجہ سے ہمارے رب کی اجازت سے ہمارا مریض شفایاب ہوگا۔)) [68] [68] صحیح بخاری مع فتح الباری: 10/ 206، حدیث: 5745، صحیح مسلم: 4/ 1724، حدیث: 2194۔
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی شہادت کی انگلی پر اپنا کچھ لعاب مبارک لگاتے، پھر اسے مٹی پر رکھتے، یوں اس کے ساتھ کچھ مٹی لگ جاتی۔ پھر اسے زخمی یا بیمار جگہ پر پھیرتے اور مسح کے دوران یہ کلمات کہتے۔ [69] [69] دیکھیے: شرح النووي على صحيح مسلم، 14/ 184، فتح الباري از ابن حجر، 10/ 208، نیز حدیث کی مکمل شرح کے لیے دیکھیے زاد المعاد: 4/ 186-187۔
6- مصیبت کا علاج
نہ کوئی مصیبت دنیا میں آتی ہے نہ (خاص) تمہاری جانوں میں، مگر اس سے پہلے کہ ہم اس کو پیدا کریں وه ایک خاص کتاب میں لکھی ہوئی ہے، یہ (کام) اللہ تعالیٰ پر (بالکل) آسان ہے۔ تاکہ تم اپنے سے فوت شده کسی چیز پر رنجیده نہ ہو جایا کرو اور نہ عطا کرده چیز پر اترا جاؤ ، اور اترانے والے شیخی خوروں کو اللہ پسند نہیں فرماتا۔ [الحدید: 22-23]-
2- کوئی مصیبت اللہ کی اجازت کے بغیر نہیں پہنچ سکتی ، جو اللہ پر ایمان ﻻئے اللہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے واﻻ ہے۔ [التغابن : 11]-
3- ((کوئی بندہ ایسا نہیں کہ اس کو مصیبت پہنچے اور وہ یہ کہے: «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا» مگر اللہ تعالیٰ اس کو اس کی مصیبت میں اجر دیتا ہے اور اس کے بدلہ میں اس سے بہتر عنایت فرماتا ہے۔)) [70] [70] صحیح مسلم: 2/ 633، حدیث: 918۔
4- ((جب بندے کا بچہ فوت ہو جاتا ہے تو اللہ تعالی اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے: تم نے میرے بندے کے بچے کی روح قبض کر لی؟ وہ کہتے ہیں: ہاں۔ اللہ تعالی پھر فرماتا ہے: تم نے اس کے دل کا پھل لے لیا؟ وہ کہتے ہیں: ہاں۔ تو اللہ فرماتا ہے: تب میرے بندے نے کیا کہا؟ وہ کہتے ہیں کہ اس نے تیری حمد کی اور انا لله وإنا إليه راجعون پڑھا۔ چنانچہ اللہ تعالی فرماتا ہے: میرے بندے کے لیے جنت میں گھر بنا دو اور اس کا نام بیت الحمد رکھو۔)) [72] [71] حَمِدَكَ وَاسْتَرْجَعَ: یعنی اس نے کہا: الحمد للہ، إنا لله وإنا إليه راجعون۔ [72] سنن ترمذی: 1021، امام البانی نے صحيح ترمذی: 1/ 298 میں اسے حسن کہا ہے۔
5- ((اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے کہ جب میں اپنے کسی مومن بندے سے، اہل دنیا میں سے اس کا کوئی عزیز لے لیتا ہوں اور وہ اس پر صبر کرتا ہے، تو اس کے لیے سوائے جنت کے میرے پاس کوئی اجر نہیں ہے۔)) [73] [73] صحیح بخاری مع الفتح: 11/ 242، حدیث: 6424۔
6- نبی ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا جس کا بیٹا فوت ہو گیا تھا: ((کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ جب بھی جنت کے دروازوں میں سے کسی دروازے پر آؤ تو وہ تمہارا منتظر ہو؟)) [74]- [74] مسند احمد: 15595، سنن نسائی: 4/ 23، کتاب الجنائز، باب الأمر بالاحتساب والصبر عند نزول المصيبة، حدیث: 1870، اس کی سند صحیحین کی شرط پر صحیح ہے۔ ابن حبان نے: 8/ 209 اور البانی نے صحيح الترغيب والترهيب: 2007 میں اسے صحیح کہا ہے۔ نیز دیکھیے: فتح الباری: 11/ 243۔
7- ((اللہ عزوجل فرماتا ہے: جب میں اپنے بندے کو اس کی دو پیاری چیزوں یعنی آنکھوں کے ذریعے سے آزماؤں اور وہ صبر کرے [اور ثواب کی نیت رکھے] تو میں اس کے بدلے میں اسے جنت عطا کرتا ہوں۔)) [75] [75] صحیح بخاری مع فتح الباری: 10/ 116، حدیث: 5653، اور قوسین کا لفظ سنن ترمذی: 2400 کا ہے، دیکھیں: صحیح ترمذی: 2/ 286۔
8- ((کوئی ایسا مسلمان نہیں جس کوبیماری کی یا کوئی اور تکلیف پہنچتی مگر اللہ تعالیٰ اس کے عوض اس کے گناہ گرا دیتا ہے جیسے درخت اپنے پتے گرا دیتا ہے۔)) [76] [76] صحیح بخاری مع فتح الباری: 10/ 120، حدیث: 5648، صحیح مسلم: 4/ 1991، حدیث: 2571۔
9- ((کسی مسلمان کو کوئی کانٹا چبھتا ہے یا اس سے بڑی کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اس کے بدلے میں اس کے لیے ایک درجہ لکھا جاتا ہے اور اس کا ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے۔)) [77] [77] صحیح مسلم: 4/ 1991، حدیث: 2572۔
10- ((مومن کو جو بھی بیماری [78]، تھکن [79]، مرض یا رنج پہنچتا ہے، یہاں تک کہ فکر جو اسے لاحق ہوتی ہے [80]، اللہ تعالی اس کے ذریعہ اس کے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے۔)) [81] [78] الوصب: دائمی درد، جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: (وَلَهُمْ عَذَابٌ وَاصِبٌ) یعنی لازم وثابت۔ دیکھیں شرح النووی: 16/ 130۔ [79] النصب: تھکن۔ [80] کہا گیا ہے کہ ’يَهُمُّه‘ میں یاء کو زبر اور ہاء کو پیش دیا جائے اور کہا گیا ہے کہ ’يُهَمه‘ میں یاء کو پیش اور ہاء کو زبر دیا جائے، یعنی: یہ اسے غمگین کرتا ہے اور دونوں صحیح ہیں، دیکھیں: شرح النووی علی صحیح مسلم: 16/ 130۔ [81] صحیح مسلم: 4/ 1993، حدیث: 2573۔
11- ((آزمائش جتنی بڑی ہوتی ہے اسی حساب سے اس کا بدلہ بھی بڑا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو پسند فرماتا ہے تو اس کو آزمائش سے دوچار فرماتا ہے۔ جو کوئی اس سے راضی وخوش رہے تو وہ اس سے راضی رہتا ہے اور جو کوئی اس سے خفا ہو تو وہ بھی اس سے خفا ہو جاتا ہے۔)) [82] [83] [82] سنن ترمذی: 2396، سنن ابن ماجہ: 4031، الباني نے صحيح ترمذی: 2/286 میں اسے حسن کہا ہے۔ [83] کہا جاتا ہے: السُّخْط اور السَّخَط: رضامندی کے خلاف ہیں۔ اور سَخِطَ یعنی غصہ ہوا، وہ ساخِطٌ (ناراض) ہے۔ اور أَسْخَطَهُ یعنی اسے غضب ناک کیا۔ کہا جاتا ہے: تَسَخَّطَ عطاءه، یعنی اس نے اس کو کم سمجھا اور اس سے مطمئن نہ ہوا۔ سَخِط سَخَطًا باب تعب سے ہے اور ضمہ کے ساتھ (السُّخْطُ) اس کا اسم ہے، ...اور سَخِطْتُهُ اور سخطت عليه اور أَسْخَطْتُهُ فسَخِطَ یعنی میں نے اسے ناراض کیا تو وہ ناراض ہو گیا۔ جیسے أغضبته فغضب وزن اور معنی میں یہ دونوں ہم مثل ہیں۔ دیکھیں: الصحاح، مادہ سخط، اور المصباح المنير، مادہ سخط۔
12- ((..بندے [84] پر مصیبتیں آتی رہتی ہیں یہاں تک کہ وہ زمین پر اس حال میں چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔)) [85] [84] یعنی: مسلمان شخص ۔ [85] سنن ترمذی: 2698، سنن ابن ماجہ : 4023، شیخ الباني نے صحيح ترمذی: 2/ 286 میں اسے حسن کہا ہے۔
7- فکر مندی اور حزن وملال کا علاج
1- جب کسی بندے کو کوئی غم یا پریشانی لاحق ہو اور وہ کہے: اے اللہ! میں تیرا بندہ ہوں، تیرے بندے اور تیری بندی کا بیٹا ہوں۔ میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے۔ مجھ پر تیرا ہی حکم چلتا ہے۔ میرے بارے میں تیرا ہر فیصلہ انصاف پر مبنی ہے۔ میں تجھ سے تیرے ہر اس نام کے واسطے سے مانگتا ہوں، جو تیرا ہے، جس سے تونے خود کو موسوم کیا ہے، یا اپنی کسی مخلوق کو سکھایا ہے، یا اپنی کتاب میں اتارا ہے یا اپنے لیے اسے علمِ غیب کے طور پر خاص کر رکھا ہے کہ قرآن کو میرے دل کی بہار، سینے کا نور اور رنج وغم سے چھٹکارے کا ذریعہ بنا دے۔ (جب یہ دعا پڑھے تو اللہ اس کے غم وحزن کو دور کر دے گا اور اس کی جگہ خوشی عطا فرمائے گا)) [86] [86] مسند احمد: 1/ 391، حدیث : 3712، اور البانی نے اسے صحيح الترغيب والترهيب : 182 میں صحیح کہا ہے۔
2- ((اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں فکر اور حزن وملال سے، عاجزی اور کاہلی سے، بزدلی اور بخل سے، قرض کے بوجھ اور لوگوں کے تسلط سے۔)) [87] [87] صحیح بخاری: 7/ 158، حدیث: 2893، رسول ﷺ یہ دعا کثرت سے کیا کرتے تھے۔ دیکھیں: صحیح بخاری مع الفتح: 11/ 173۔
8- بے قراری وبے چینی کا علاج
1- ((اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں جو عظمت والا اور بردبار ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں جو عرش عظیم کا رب ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں جو آسمانوں، زمین اور عرش کریم کا رب ہے۔)) [88] [88] صحیح بخاری: 7/ 154، حدیث: 6346، صحیح مسلم: 4/ 2092، حدیث: 2730۔
2- ((اے اللہ! میں تیری رحمت ہی کی امید رکھتا ہوں، چنانچہ تو آنکھ جھپکنے کے برابر بھی مجھے میرے نفس کے سپرد نہ کرنا اور میرے لیے میرے سب کام سنوار دے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔)) [89] [89] سنن ابو داود: 4/ 324، حدیث: 5092، مسند احمد: 5/ 42، حدیث: 20430، البانی نے اسے إرواء الغليل: 3/ 357 میں حسن کہا ہے، اور ارناؤوط نے مسند احمد کی تحقیق 34/ 75 میں حسن کہا ہے۔
3- ((تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ظالموں میں ہو گیا۔)) [90] [90] سنن ترمذی: 5/ 529، حدیث: 3505، مستدرک حاکم: 1/ 505، اسے حاکم نے صحیح کہا اور ذهبی نے ان کی موافقت کی ہے، اور البانی نے اسے صحيح ترمذی: 3/ 168 میں صحیح کہا ہے۔
4- ((اللہ، اللہ میرا رب ہے، میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔)) [91] [91] سنن ابو داود: 2/ 87، حدیث: 1525، البانی نے صحيح ابن ماجہ : 2/ 335 اور صحيح ترمذی: 4/ 196 میں اسے صحیح کہا ہے۔
9- مریض کا اپنے لیے علاج
((جسم کے جس حصے میں تکلیف ہو اس پر اپنا ہاتھ رکھو اور تین دفعہ کہو: ’’بسم اللہ‘‘۔ اور سات دفعہ کہو: ”أَعُوذُ بِاللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ“ (یعنی: میں اللہ تعالی اور اس کی قدرت کی پناہ میں آتا ہوں اس چیز کے شر سے جو میں محسوس کرتا ہوں اور جس کا مجھے اندیشہ ہے۔)) [92] [92] صحیح مسلم : 4/ 1728، حدیث : 2202۔
10 ـ بیمار پرسی کے وقت مریض کا علاج
((کوئی مسلمان بندہ کسی ایسے مریض کی عیادت کرے، جس کی موت کا وقت ابھی قریب نہ آیا ہو اور سات مرتبہ یہ دعا پڑھے: ”أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ، رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ“ (یعنی: میں عظمت والے اللہ جو عرش عظیم کا مالک ہے، سے دعا کرتا ہوں کہ تم کو شفا دے)، تو اسے عافیت مل جاتی ہے))۔ [93] [93] سنن ترمذی: 2083 اورسنن ابوداود : 3893۔ البانی نے اسے صحیح ترمذی: 2/ 210 اور صحیح الجامع : 5/ 180 میں صحیح کہا ہے۔
11- نیند میں گھبراہٹ اور ڈر کا علاج
((میں اللہ کے مکمل کلمات کے توسل سے پناہ مانگتا ہوں اس کی ناراضی، اس کی سزا، اس کے بندوں کے شر، شیطانوں کے وسوسوں سے اور اس بات سے کہ شیاطین میرے پاس آئیں۔)) [94] [94] سنن ابو داود : 4/ 12، حدیث: 3893، البانی نے صحيح ترمذی: 3/171 میں اسے حسن کہا ہے۔
12- بخار کا علاج
اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ((بخار جہنم کی بھاپ سے ہوتا ہے‘ اس کو پانی سے ٹھنڈا کرو۔)) [95] [95] صحیح بخاری مع فتح الباری: 10/ 174، حدیث: 3264، صحیح مسلم : 4/ 1733، حدیث: 2210۔
13- ڈسنے اور ڈنک مارنے کا علاج
1- سورۂ فاتحہ کو تھوک جمع کر کے ڈنک پر پڑھا جائے اور اس پر پھونک ماری جائے۔ [96]۔ [96] صحیح بخاری مع الفتح : 10/ 208، کتاب الطب، باب رقیة النبي ﷺ۔
2- اس پر پانی اور نمک سے مسح کیا جائے، اور سورہ اخلاص، اور معوذتین پڑھے۔ [97] [97] اسے طبرانی نے المعجم الصغیر: 2/ 830 میں روایت کیا ہے اور ہیثمی نے مجمع الزوائد : 5/ 111 میں اس کی سند کو حسن کہا ہے، البانی نے سلسلة الأحاديث الصحيحة: 548 میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔
14- غصہ کا علاج
غصہ کا علاج دو طریقوں سے ہوتا ہے:
پہلا طریقہ: پر ہیز
غصے کے اسباب سے اجتناب کرنے سے یہ حاصل ہوتا ہے، غصہ کے چند اسباب یہ ہیں: تکبر، خودپسندی، فخر، مذموم حرص، نا مناسب موقع پر مزاح، مذاق، اور اس جیسی دیگر چیزیں۔
دوسرا طریقہ: جب غصہ آئے تو اس کا علاج
اس کی چار قسمیں ہیں:
شیطان مردود کے شر سے اللہ کی پناہ مانگنا۔ (أعوذ بالله من الشيطان الرجيم) پڑھنا۔
وضو کرنا
اس حالت کو تبدیل کرنا جس پر غصہ آیا ہو: بیٹھ جانا، لیٹ جانا، باہر نکل جانا، خاموشی اختیار کرنا یا اس کے علاوہ کچھ اور۔
غصہ پی جانے سے جو ثواب حاصل ہوتا ہے اور غصہ کے نتیجیے میں جو رسوائی حاصل ہوتی ہے، اسے یاد کرنا۔ [98] [98] دیکھیں: اس تفصیل کو اس کی صحیح دلیلوں کے ساتھ اس کتاب کے مصنف ہی کی تالیفات آفات اللسان، ص 110-112، اور الحكمة في الدعوة إلى الله، ص 64-66 میں۔
15- کلونجی سے علاج
اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ((کلونجی میں ہر بیماری سے شفا ہے، سوائے موت کے۔)) ابن شہاب نے کہا: السَّامُ سے مراد موت اور الحبہ السوداء سے مراد شونیز یعنی کلونجی ہے [99]، اور کلونجی کے بے شمار فوائد ہیں اور اس کے بارے میں آپ ﷺ کا فرمان: ((ہر بیماری سے شفا ہے)) اللہ کے اس فرمان کی طرح ہے: جو اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو ہلاک کر دے گی۔ [الاحقاف : 25]، یعنی: ہر چیز تباہی اور اس جیسی حالت کو قبول کرتی ہے۔ [100] [99] صحیح بخاری مع فتح الباری: 10/ 143، حدیث: 5688، صحیح مسلم: 1735، حدیث: 2215۔ [100] دیکھیے: زاد المعاد: 4/ 297، اورالطب من الكتاب والسنة از علامہ موفق الدین عبد اللطیف بغدادی، ص 88۔
16- شہد کے ذریعہ علاج
1- اللہ عزوجل نے سورۂ نحل میں فرمایا: ان کے پیٹ سے رنگ برنگ کا مشروب نکلتا ہے، جس کے رنگ مختلف ہیں اور جس میں لوگوں کے لیے شفا ہے، غوروفکر کرنے والوں کے لیے اس میں بھی بہت بڑی نشانی ہے۔ [النحل : 69]
2- اور اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ((شفا تین چیزوں میں ہے: پچھنہ لگوانے میں، یا شہد پینے میں، یا آگ سے داغنے میں، اور میں اپنی امت کو داغنے سے منع کرتا ہوں۔)) [101] [101] صحیح بخاری مع الفتح : 10/ 137، حدیث : 5681، شہد کے فوائد کے لیے دیکھیں: زاد المعاد : 4/ 50-62، الطب من الكتاب والسنة از علامہ موفق الدین عبد اللطیف بغدادی: ص 129-136۔
17- زمزم پانی سے علاج۔
1- نبی ﷺ نے آبِ زمزم کے بارے میں فرمایا: ((بے شک یہ بابرکت ہے، یہ غذا کے قائم مقام ہے۔ [اور بیماری کے لیے شفا ہے۔])) [102] [102] صحیح مسلم : 4/ 1922، حدیث : 2473، قوسین کے درمیان کے الفاظ بزار : 2/ 86، السنن الكبرى للبيهقي : 5/ 147، المعجم الأوسط للطبراني : 3/ 247 میں ہیں، اور اس کی سند صحیح ہے، دیکھیے: مجمع الزوائد : 3/ 286۔
2- جابر رضی اللہ عنہ کی مرفوع روایت ہے: ((آب زمزم جس نیت سے پیا جائے، وہ پوری ہوتی ہے))۔[103] [103] سنن ابن ماجہ: 3062، وغيره، امام البانی نے صحيح ابن ماجہ: 2/ 183، اور إرواء الغليل: 4/ 320 میں اس کو صحیح قرار دیا ہے۔
3- نبی ﷺ سے ثابت ہے کہ: ((آپ ﷺ زمزم کا پانی برتنوں [104] اور مشکیزوں میں لے جاتے تھے، اور اسے مریضوں پر ڈالتے اور انہیں پلاتے تھے۔)) [105] ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ((میں نے اور دوسروں نے آب زمزم سے شفا حاصل کرنے کے لیے کئی عجیب وغریب تجربات کیے ہیں، اور میں نے اس سے کئی بیماریوں کا علاج کیا، اور اللہ کی اجازت سے شفا پائی))۔ [106] [107] [104] اِدَاوَةُ: پاکی اختیار کرنے کے لیے مستعمل پانی کا برتن، اور اس کی جمع اَدَاوَى ہے۔ مختار الصحاح، 1/11۔ [105] جامع ترمذی: 1/ 180، حدیث : 963، سنن بیہقی : 5/ 202، امام البانی نے صحيح الترمذي: 1/ 284، اور سلسلة الأحاديث الصحيحة : 2/ 572، حدیث : 883 میں اسے صحیح کہا ہے، نیز دیکھیں: زاد المعاد : 4/ 392۔ [106] اہل حجاز کے علاوہ دوسرے لوگ کہتے ہیں: "فَبَرِئْتُ" (کسرہ کے ساتھ) ۔ دیکھیں: النہایہ في غريب الحديث، 1/ 111۔ [107] زاد المعاد : 4/ 393، اور 178۔
18- دل کے امراض کا علاج
دل تین قسم کے ہیں:
1- قلبِ سلیم: وہی شخص قیامت کے دن نجات پائے گا جو قلب سلیم کا مالک ہوگا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جس دن نہ کوئی مال فائدہ دے گا اور نہ بیٹے۔ لیکن فائده واﻻ وہی ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے سامنے بے عیب دل لے کر جائے۔ [الشعراء : 88-89]
قلبِ سلیم وہ دل ہے جو ہر ایسی خواہش سے پاک ہو جو اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی ممانعت کے خلاف ہو، اور ہر ایسے شبہ سے پاک ہو جو اس کی خبر کے مخالف ہو، چنانچہ وہ اللہ کے سوا ہرکسی کی بندگی سے محفوظ ہو، اور اس کے رسول ﷺ کے علاوہ کسی اور کو اپنا فیصل نہ مانتا ہو۔
خلاصہ یہ کہ سلیم (پاکیزہ) اور صحیح دل وہ ہے جو کسی بھی صورت میں غیر اللہ کی شرکت سے محفوظ ہو؛ بلکہ اس کی مکمل بندگی اللہ کے لیے خالص ہو: نیت، محبت، توکل، رجوع، عاجزی، خشیت اور امید کے اعتبار سے۔ اس کا عمل اللہ کے لیے خالص ہو۔ چنانچہ اگر وہ محبت کرے تو اللہ کے لیے محبت کرے، اگر بغض رکھے تو اللہ ہی کے لیے بغض رکھے، اگر کچھ دے تو اللہ کے لیے دے، اور اگر روکے تو اللہ ہی کے لیے روکے۔ اس کی تمام فکر اللہ کے لیے ہو، اس کی تمام محبت اللہ کے لیے ہو، اس کا قصد وارادہ االلہ کے لیے ہو، اس کا بدن اللہ کے لیے ہو، اس کے اعمال اللہ کے لیے ہوں، اس کی نیند اللہ کے لیے ہو، اس کی بیداری اللہ کے لیے ہو، اللہ کی گفتگو اور اللہ کے بارے میں گفتگو اس کے لیے ہر گفتگو سے زیادہ لذیذ ہو۔ اس کے افکار اللہ کی رضا مندیوں اور محبوب چیزوں کے گرد گھومتے ہوں۔ [108] ہم اللہ تعالیٰ سے اسی دل کا سوال کرتے ہیں۔ [108] دیکھیں: إغاثة اللهفان من مصائد الشيطان از ابن القيم رحمه الله : 1/ 7، اور 73۔
2- دلِ مردہ: یہ پہلے کے برعکس ہے، یعنی وہ دل ہے جو اپنے رب کو نہیں پہچانتا، نہ ہی اس کے حکم کے مطابق اس کی عبادت کرتا ہے، اور نہ ہی اس چیز کو پسند کرتا ہے جو اللہ کو پسند ہو اور جس سے وہ راضی ہو؛ بلکہ وہ اپنی خواہشات اور لذتوں کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، چاہے ان میں اس کے رب کی ناراضگی اور غضب ہی کیوں نہ ہو، چنانچہ وہ غیر اللہ کی عبادت کرتا ہے: محبت میں، خوف میں، امید میں، رضا میں، ناراضگی میں، تعظیم میں، اور ذلت میں، اگر وہ نفرت کرتا ہے تو اپنی خواہش کے لئے کرتا ہے، اگر محبت کرتا ہے تو اپنی خواہش کے لئے کرتا ہے، اگر دیتا ہے تو اپنی خواہش کے لئے دیتا ہے، اگر روکتا ہے تو اپنی خواہش کے لئے روکتا ہے، خواہش اس کا امام ہے، شہوت اس کا قائد ہے، جہالت اس کا راہنما ہے، اور غفلت اس کی سواری ہے۔ [109] اس دل سے ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ [109] دیکھیں: إغاثة اللهفان من مصايد الشيطان : 1/ 9۔
3- بیمار دل: یہ وہ دل ہے جس میں زندگی بھی ہے اور بیماری بھی، اس کے پاس دو قسم کی قوتیں ہیں‘ کبھی ایک غالب آتی ہے اور کبھی دوسری، وہ ان میں سے جس پر غالب آتی ہے، اس کے مطابق ہوتا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی محبت، ایمان، اخلاص اور توکل کی وہ قوت ہے جو اس کی زندگی کا ذریعہ ہے، اور اس میں شہوات کی محبت، ان کے حصول کی حرص، حسد، تکبر، خود پسندی، بلندی کی محبت، زمین میں فساد، ریاست، نفاق، ریاکاری، بخل اور کنجوسی کی وہ قوت ہے جو اس کی ہلاکت اور بربادی کا ذریعہ ہے۔ [110] ہم ایسے دل سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ [110] دیکھیں: إغاثة اللهفان: 1/ 9۔
دل کی تمام بیماریوں کا علاج قرآن کریم میں موجود ہے۔
اللہ تعالی نے فرمایا: اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک ایسی چیز آئی ہے جو نصیحت ہے اور دلوں میں جو روگ ہیں ان کے لیے شفا ہے اور رہنمائی کرنے والی ہے اور رحمت ہے ایمان والوں کے لیے۔ [یونس: 57]۔ نیز اللہ عزیز وبرتر نے فرمایا: یہ قرآن جو ہم نازل کر رہے ہیں مومنوں کے لئے تو سراسر شفا اور رحمت ہے۔ ہاں ﻇالموں کو بجز نقصان کے اور کوئی زیادتی نہیں ہوتی۔ [الاسراء : 82]۔
دل کے امراض کی دو قسمیں ہیں:
ایک قسم ایسی ہے جس سے اس دل والے کو فوری طور پر تکلیف محسوس نہیں ہوتی، اور یہ جہالت، شبہات اور شکوک کا مرض ہے، یہ دونوں اقسام میں سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے، لیکن دل کی خرابی کی وجہ سے اس کا احساس نہیں ہوتا۔
اور ایک قسم کی بیماری وہ ہے جو فی الفور تکلیف دہ ہوتی ہے: جیسے غم، پریشانی، دکھ اور غصہ۔ یہ بیماری قدرتی دواؤں سے یا اس کے اسباب کو دور کرنے سے اور اس کے علاوہ دیگر طریقوں سے زائل ہو سکتی ہے۔ [111] [111] دیکھیے: إغاثة اللهفان: 1/ 44۔
دل کا علاج چار امور کے ذریعہ ہوتا ہے:
پہلا امر: قرآن کریم کے ذریعہ؛ کیونکہ یہ سینوں میں موجود شک کے لئے شفا ہے، اور اس میں موجود شرک، کفر کی گندگی، شبہات اور شہوات کی بیماریوں کو دور کرتا ہے، یہ ان لوگوں کے لئے ہدایت ہے جو حق کو جانتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں، اور یہ مومنوں کے لئے رحمت ہے کیونکہ اس کے ذریعے انہیں دنیوی اور اخروی ثواب حاصل ہوتا ہے، جیسا کہ اللہ عزوجل نے فرمایا: ایسا شخص جو پہلے مرده تھا پھر ہم نے اس کو زنده کردیا اور ہم نے اس کو ایک ایسا نور دے دیا کہ وه اس کو لئے ہوئے آدمیوں میں چلتا پھرتا ہے۔ کیا ایسا شخص اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے؟ جو تاریکیوں سے نکل ہی نہیں پاتا ۔ اسی طرح کافروں کو ان کے اعمال خوش نما معلوم ہوا کرتے ہیں۔ [الانعام : 122]
دوسرا امر: دل کو تین چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے:
1- اس کی قوت کو محفوظ رکھنے کا ذریعہ: جو کہ ایمان، عمل صالح اور عبادتوں کے اذکار سے حاصل ہوتا ہے۔
2- نقصان دہ چیزوں سے پرہیز: یہ تمام گناہوں اور مختلف خلاف ورزیوں سے اجتناب کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔
3- ہر نقصان دہ چیز سے خلاصی: یہ توبہ و استغفار کے ذریعہ ہوتا ہے۔
تیسرا امر: دل کی ایسی بیماری کا علاج جو نفس کے غلبے سے پیدا ہوتی ہے:
اس کے دو علاج ہیں: نفس کا محاسبہ اور اس کی خلاف ورزی۔ محاسبہ کی دو قسمیں ہیں:
پہلی قسم: عمل سے پہلے محاسبہ، اس کے چار مقامات ہیں:
1- کیا یہ عمل اس کے لیے ممکن ہے؟
2- کیا اس عمل کو انجام دینا اسے چھوڑنے سے بہتر ہے؟
3- کیا یہ عمل اللہ کی رضا کے لئے کیا جا رہا ہے؟
4- کیا یہ عمل کسی کی مدد سے انجام دیا جا رہا ہے، اگر عمل میں مددگاروں کی ضرورت ہے تو کیا اس کے لیے مددگار موجود ہیں جو اس کی مدد اور نصرت کرسکیں؟ اگر جواب موجود ہو تو آگے بڑھیں ورنہ کبھی بھی اس کا اقدام نہ کریں۔
دوسری قسم : عمل کے بعد محاسبہ اور اس کی تین قسمیں ہیں:
1- اس نیکی پر اپنے نفس کا محاسبہ کرنا جس میں اللہ تعالیٰ کے حق میں کوتاہی ہوئی ہو اور اسے مطلوبہ طریقے سے انجام نہ دیا ہو۔ اللہ تعالیٰ کے حقوق میں درج ذیل امور شامل ہیں: اخلاص، نصیحت، پیروی، احسان کے مقام کا مشاہدہ، اپنی ذات پر للہ کی نعمت کا مشاہدہ، اور ان سب کے بعد کوتاہی کا اعتراف۔
2- ہر اس کام پر نفس کا محاسبہ جس کا چھوڑ دینا کرنے سے بہتر تھا۔
3- کسی جائز یا ایسے معمول کے کام پر نفس کا محاسبہ جو اس نے نہیں کیا، اور یہ کہ کیا اس نے اسے اللہ اور آخرت کی فلاح کے لئے چھوڑا؟ تو وہ کامیاب ہو گا، یا دنیا کی خاطر چھوڑا؟ تو وہ ناکام رہے گا۔
اس کا خلاصہ یہ ہے کہ سب سے پہلے فرائض پر اپنے نفس کا محاسبہ کرے، پھر اگر ان میں کوئی کمی ہو تو اسے پورا کرے، پھر مناہی پر اپنے نفس کا محاسبہ کرے، اگر معلوم ہو کہ اس نے ان میں سے کچھ منہیات کا ارتکاب کیا ہے تو توبہ واستغفار کے ذریعے اس کا تدارک کرے، پھر اپنے اعضاء کے اعمال پر محاسبہ کرے، پھر غفلت پر۔ [112] [112] دیکھیے: إغاثة اللهفان : 1/ 136۔
چوتھا امر: شیطان کے تسلط سے دل میں پیدا ہونے والی بیماری کا علاج:
شیطان انسان کا دشمن ہے، اور اس سے نجات کا راستہ وہی ہے جو اللہ نے استعاذہ کے ذریعے مقرر فرمایا ہے۔ نبی ﷺ نے نفس کی برائی اور شیطان کی برائی سے پناہ مانگنے کو ایک ساتھ ذکر کیا ہے، آپ ﷺ نے ابو بکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ((کہو: اے اللہ! اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، اے غیب اور حاضر کے جاننے والے، ہر چیز کے رب اور مالک! میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں تیری پناہ میں آتا ہوں اپنے نفس کے شر سے اور شیطان کے شر اور اس کے شرک سے، اور اس بات سے کہ میں اپنے نفس پر برائی کا ارتکاب کروں یا اسے کسی مسلمان کی طرف کھینچ لاؤں۔ یہ دعا صبح کے وقت، شام کے وقت اور جب تم اپنے بستر پر جاؤ، پڑھا کرو۔)) [113] [113] جامع ترمذی: 3392، سنن ابو داود : 5058، امام البانی نے صحيح ترمذی: 3/ 142 میں اس کو صحیح قرار دیا ہے۔
استعاذہ، توکل اور اخلاص شیطان کے تسلط کو روکنے کا باعث بنتے ہیں۔ [114] [114] دیکھیں: إغاثة اللهفان: 1/ 145-162۔
اللہ تعالی درود وسلام نازل فرمائے اپنے بندے اور رسول محمد ﷺ پر، آپ کی آل واصحاب پر اور قیامت تک بھلائى کے ساتھ آپ کے اصحاب کی پیروی کرنے والوں پر۔
کتاب و سنت کی دعائیں اور شرعی رقیہ کے ذریعے علاج
سعید بن علی بن وہَف القحطانی
کتاب "الدعاء ويليه العلاج بالرقى من الكتاب والسنة" ڈاکٹر سعيد بن علی بن وہف قحطانی کی تالیف ہے جو دعا اور شرعی رقیہ کے ذریعے بیماریوں کے علاج کے موضوع پر ایک معتبر علمی مرجع ہے ۔ یہ کتاب قرآن کریم اور سنت نبویہ سے مستنبط دعائیں پیش کرتی ہے اور روحانی اور جسمانی امراض کے شفا کے لیے ان سے استفادہ کرنے کا طریقہ بیان کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، یہ کتاب رقیہ کے ذریعے علاج پر بھی روشنی ڈالتی ہے، نیز شفا کی طلب میں اللہ تعالیٰ پر گہرے ایمان اور خالص توجہ وانابت کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔ یہ کتاب ہر قسم کی تکلیف اور بیماری سے بچاؤ اور علاج کے مؤثر وسائل پیش کرتی ہے۔