Skip to content

”ولی کے بغیر نکاح نہیں ہے“۔

ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ نے فرمایا:

”ولی کے بغیر نکاح نہیں ہے“۔

«لا نِكَاحَ إِلّا بِوَليٍّ».

اسے ابوداود، ترمذی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے
حديث صحيح
شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ عورت کی شادی صحیح ہو، اس کے لیے ضروری ہے کہ کوئی ولی ہو، جو نکاح کرائے۔

کلمات کے معانی

لا نكاح : لا نكاح صحيح ومعتبر شرعًا.

الوَلِيُّ : هو أقرب الرجال إلى المرأة من عصبتها الذين يرثونها، كالأب والأخ.

حدیث کے بعض فوائد

نکاح کے صحیح ہونے کے لیے ولی کا ہونا شرط ہے۔اگر ولی کی عدم موجودگی میں نکاح ہو جائے یا عورت خود ہی شادی کر لے، تو اس کی شادی صحیح نہیں ہوگی۔

ولی سے مراد عورت کا سب سے قریبی رشتے والا مرد ہے۔ لہذا قریب کے ولی کے ہوتے ہوئے دور کا ولی عورت کى شادى نہیں کراسکتا۔

ولی بننے کے لیے مکلف ہونا، مرد ہونا، مصالحِ نکاح سے واقفیت کی عمر میں ہونا، ولی اور زیر ولایت عورت کا ہم مذہب ہونا شرط ہے۔ جس کے اندر یہ اوصاف نہیں پائے جائیں گے، وہ نکاح کے لیے ولی بننے کا اہل نہیں ہوگا۔

حوالہ جات
مزید (14)

سننِ ابو داود (3/ 427) (2085).

سننِ ترمذی (2/ 392) (1101).

سننِ ابن ماجہ (3/ 79) (1881).

مُسنَد احمد (32/ 280) (19518).

البدرُ التمام شرح بلوغ المرام.

للمَغرِبي (7/ 57).

إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل.

للألباني (6/ 237).

توضِيح الأحكام من بلوغ المَرَام.

للبسام (5/ 262).

منحة العلام في شرح بلوغ المرام.

لعبد الله الفوزان (7/ 222).

فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام.

لابن عثيمين (4/ 469).