”مومن اپنے حُسنِ اخلاق کے ذریعے روزے دار اور شب بیدار عبادت گزار کا درجہ حاصل کر لیتا ہے“۔
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا:
”مومن اپنے حُسنِ اخلاق کے ذریعے روزے دار اور شب بیدار عبادت گزار کا درجہ حاصل کر لیتا ہے“۔
«إنَّ المُؤْمِنَ ليُدرِكُ بِحُسْنِ خُلُقِهِ دَرَجَةَ الصَّائِمِ القَائِمِ».
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ حسن اخلاق انسان کو ہمیشہ روزہ رکھنے والے اور پابندی کے ساتھ تہجد پڑھنے والے انسان کے برابر لا کھڑا کر دیتا ہے۔ دراصل حسن اخلاق نام ہے دوسروں کا بھلا کرنے، اچھی بات کرنے، ہنس کر ملنے، کسی کو اذیت دینے سے بچنے اور تحمل سے کام لینے کا۔
....:
اسلام نے اخلاق کو سنوارنے اور با کمال اخلاق پر بڑی توجہ دی ہے۔
حسن اخلاق کی فضیلت اس قدر ہے کہ بندہ حسن اخلاق کے ذریعے کبھی روزہ نہ توڑنے والے روزے دار اور کبھی نہ تھکنے والے تہجد گزار کی صف میں جا کھڑا ہوتا ہے۔
دن میں روزہ رکھنا اور رات میں قیام کرنا دو بہت بڑے اعمال ہيں، جن کے لیے نفس کو بڑی مشقت اٹھانی پڑتی ہے۔ لیکن حسن اخلاق کا حامل انسان ان دونوں اعمال کو کرنے والے انسان کر برابر جا کھڑا ہوتا ہے، کیوں کہ حسن معاملہ کے لیے انسان کو اپنے نفس سے لڑنا پڑتا ہے۔
مزید (8)
سننِ ابو داود (7/ 176) (4798).
مُسنَد احمد (40/ 414) (24355).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين.
لسليم الهلالي (1/ 675).
تطرز رياض الصالحين.
لفيصل آل مبارك (ص411).
مشكاة المصابيح.
لمحمد العمري (3/ 1409).
کتابوں میں مذکور
6 کتابیںمزید (5)
- الحقيقة المُبْهِرَة في العلاقة بين الإسلام والإنسان(إن المؤمن ليدرك بحُسْن خُلُقه درجة الصائم القائم)[132].
- رياض الصالحينرياض الصالحين مع فوائد وهدايات - 3«إنَّ المُؤْمِنَ لَيُدْرِكُ بِحُسْنِ خُلُقِهِ دَرَجَةَ الصَّائِمِ القَائِمِ».
- نبراس طالب (2)نبراس طالب (2) «إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيُدْرِكُ بِحُسْنِ خُلُقِهِ دَرَجَةَ الصَّائِمِ الْقَائِمِ»
- وثيقة منهج نبراس لمدارس نهاية الأسبوع1"إن المؤمن ليدرك بحسن خلقه درجة الصائم القائم"
- وثيقة منهج نبراس لمدارس نهاية الأسبوع1"إن المؤمن ليدرك بحسن خلقه درجة الصائم القائم"