Skip to content

میں تم کو وصیت کرتا ہوں کہ ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھنا ہرگز نہ چھوڑنا : اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ۔ (اے اللہ! اپنا ذکر کرنے، شکر کرنے اور بہتر انداز میں اپنی عبادت کرنے میں میری مدد فرما۔)

معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا : "اے معاذ! اللہ کی قسم، میں تم سے محبت رکھتا ہوں"۔ آگے فرمایا : "اے معاذ! میں تم کو وصیت کرتا ہوں کہ ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھنا ہرگز نہ چھوڑنا : اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ۔ (اے اللہ! اپنا ذکر کرنے، شکر کرنے اور بہتر انداز میں اپنی عبادت کرنے میں میری مدد فرما۔)

أَنَّ رَسُولَ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِهِ، وَقَالَ: «يَا مُعَاذُ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ»، فَقَالَ: «أُوصِيكَ يَا مُعَاذُ لَا تَدَعَنَّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ تَقُولُ: اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ».

اسے ابوداؤد، نسائی اور احمد نے روایت کیا ہے۔
حديث صحيح
شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور ان سے فرمایا : اے معاذ! میں تم سے محبت رکھتا ہوں اور وصیت کرتا ہوں کہ ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھنا ہرگز نہ چھوڑنا : (اللهم أَعِنّي على ذكرك) یعنی اے اللہ! طاعت گزاری سے قریب کرنے والے ہر قول و عمل میں تیرا ذکر کرنے، (وشُكْرِك) نعمتیں حاصل ہونے اور نقمتیں زائل ہونے پر تیرا شکر ادا کرنے، (وحُسْن عبادتك) اور اخلاص و اتباع نبوی کے مطابق بہتر انداز میں اللہ کی عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔

حدیث کے بعض فوائد

کسی انسان کو یہ بتانا مشروع ہے کہ وہ اس سے اللہ کی خاطر محبت رکھتا ہے۔

ہر فرض نماز کے بعد یہ دعا پابندی سے پڑھنا مستحب ہے۔

ان چند الفاظ میں جو دعا سکھائی گئی ہے، اس میں دنیا و آخرت کے تمام مطالب سمٹ آئے ہیں۔

محبت جب اللہ کی خاطر ہو، تو انسان ایک دوسرے کو حق کی وصیت کرتا ہے، ایک دوسرے کی خیرخواہی کرتا ہے اور نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرتا ہے۔

طیبی کہتے ہیں : اللہ کا ذکر انشراح صدر کا پیش خیمہ ہے اور اس کا شکر مزید نعمتوں کے حصول کا سبب ہے۔ جب کہ حسن عبادت سے مطلوب ایسی تمام چیزوں سے دست کش ہو جانا ہے، جو انسان کو اللہ کے ذکر سے غافل کر دیں۔

حوالہ جات
مزید (13)

سننِ ابو داود (2/ 630) (1522).

سننِ نسائی (3/ 53) (1303).

مُسنَد احمد (36/ 429) (22119).

بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين.

لسليم الهلالي (1/ 450).

تطريز رياض الصالحين.

لفيصل آل مبارك (ص259).

شرح رياض الصالحين.

لابن عثيمين (3/ 264).

كنوز رياض الصالحين.

لمجموعة من الباحثين (6/ 284).

نزهة المتقين شرح رياض الصالحين.

لمجموعة من الباحثين (1/ 353).