نبذة في العقيدة الإسلامية (شرح أصول الإيمان)

نبذة في العقيدة الإسلامية (شرح أصول الإيمان)

رسالة لطيفة تتناول أصول العقيدة الإسلامية بأسلوب مبسط وميسر. تبدأ بمقدمة حول أهمية علم التوحيد، كونه أشرف العلوم وأجلّها، ثم تتناول مفهوم الدين الإسلامي وأركانه الخمسة: الشهادتان، والصلاة، والزكاة، والصوم، والحج. كما يشرح الإيمان بالله، وملائكته، وكتبه، ورسله، واليوم الآخر، ويؤكد على أهمية التوحيد في بناء دين المسلم بشكل سليم. الكتاب يهدف إلى تعزيز الفهم الصحيح للعقيدة الإسلامية وتطبيقها في حياة المسلم اليومية.

Language: lang_ur
Prepared by: محمد بن صالح العثیمین
Version: 1.2
Translations 41
Afrikanns Bulgarian Bengali Jola +37
Attachments 7
PDF
Audio
Video
+3

اسلامى عقيده كا مختصر تعارف (شرح اصولِ ایمان)

تالیف:فضیلۃ الشیخ علّامہ

محمد بن صالح العثیمین

اللہ تعالیٰ ان کی، ان کے والدین اور تمام مسلمانوں کی مغفرت فرمائے

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان، نہایت رحم کرنے والا ہے۔

مقدّمہ

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی تعریف بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد چاہتے ہیں، اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں اور اسی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، اور ہم اپنے نفسوں کی شرارتوں اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں، جسے اللہ تعالی ہدایت دے دے، اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں، اور جسے وہ گمراہ کر دے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالیٰ درود وسلام نازل فرمائے آپ پر، آپ کے اہلِ خانہ اور اولاد پر، آپ کے اصحاب پر، اور بھلائی کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں پر۔

أما بعد: ’’علمِ توحید‘‘ یقینا تمام علوم میں انتہائی عالی مرتبت، سب سے جلیل القدر اور حد درجہ مرغوب و مطلوب علم ہے، کیونکہ اس سے اللہ تعالیٰ، اس کے اسماء وصفات اور بندوں پر اس کے حقوق کی پہچان ہوتی ہے اور اس لیے بھی کہ ’’علمِ توحید‘‘ ہی اللہ تعالیٰ تک پہنچنے والے راستہ کی چابی اور اس کی تمام شریعتوں کی بنیاد ہے،

چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ متفقہ طور پر تمام رسولوں نے اسی چیز کی دعوت دی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’تجھ سے پہلے بھی جو رسول ہم نے بھیجا اس کی طرف یہی وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، پس تم سب میری ہی عبادت کرو۔‘‘ [سورۂ انبیاء: 25]۔

اللہ تعالیٰ نے خود اپنی وحدانیت کی گواہی دی ہے، اللہ تعالیٰ کے فرشتوں اور اہلِ علم حضرات نے بھی اس امر کی گواہی دی ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اللہ‘ فرشتے اور اہل علم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور وه عدل کے ساتھ دنیا کو قائم رکھنے واﻻ ہے، اس غالب اور حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے ﻻئق نہیں۔‘‘ [سورۂ آل عمران: 18]۔

توحید کے اس بلند وبالا مقام و مرتبے کی وجہ سے ہر مسلمان پر اس کا سیکھنا، دوسروں کو سکھانا، اس میں تدبر کرنا، اور اس کا عقیدہ رکھنا لازم اور ضروری ہے، تاکہ وہ اپنے دین کو اطمینان، تسلیم ورضا اور صحیح بنیاد پر استوار کر سکے اور تاکہ وہ اس کے ثمرات و نتائج سے بہرہ ور ہو سکے۔

واللہ ولی التوفيق

مؤلف

دینِ اسلام

دینِ اسلام وہ دین ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا‘ اس کے ذریعہ سابقہ ادیان کا خاتمہ کیا‘ اسے اپنے بندوں کے لیے مکمل ترین دین بنایا‘ اس کے ذریعے ان پر اپنی نعمت کو مکمل فرمایا اور ان کے لیے اسے بطور دین پسند کیا، لہذا اس کے نزدیک اس کے سوا کوئی اور دین مقبول نہیں۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: "(لوگو) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ محمد ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ نہیں لیکن آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے، اور اللہ تعالی ہر چیز کا (بخوبی) جاننے واﻻ ہے۔" [سورۂ احزاب: 40]۔

ارشاد باری تعالی ہے: ’’... آج میں نے تمھارے لیے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا اور تمھارے لیے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا...۔‘‘ [سورۂ مائدہ: 3]۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’بے شک اللہ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے...‘‘ [سورۂ آل عمران: 19]۔

نیز ارشاد باری تعالی ہے: ’’جو شخص اسلام کے سوا اور دین تلاش کرے، اس کا دین قبول نہ کیا جائے گا اور وه آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا۔‘‘ [سورۂ آل عمران: 85]۔

اللہ تعالٰی نے تمام انسانوں پر اپنے اسی دین کو اختیار کرنا فرض قرار دیا ہے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے اللہ تعالی نے فرمایا: ’’آپ کہہ دیجیے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا رسول ہوں، جس کی بادشاہی تمام آسمانوں اور زمین میں ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کے ﻻئق نہیں، وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے، سو اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول نبی امی پر جو خود بھی اللہ پر اور اس کے احکام پر ایمان رکھتا ہے اور اس کا اتباع کرو تاکہ تم ہدایت پاؤ۔‘‘ [سورۂ اعراف: 158]۔

صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے! اس امت کا کوئی بھی شخص چاہے وہ یہودی ہو یا نصرانی، اسے میری بعثت کی اطلاع ہوئی ہو اور وہ اس دین پر ایمان لائے بغیر مرجائے جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا ہے، تو وہ یقینًا اہلِ جہنم میں سے ہوگا‘‘۔ [1] [1] صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب وجوب الإيمان برسالة نبینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم إلى جمیع الناس ونسخ الملل بملته، حدیث نمبر : 153۔

دینِ اسلام پر ایمان: دین اسلام پر ایمان کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر جو کچھ بطورِ دین نازل ہوا ہے نہ صرف اس کی تصدیق کی جائے بلکہ (دل سے) اسے قبول کیا جائے اور اس کی پیروی کی جائے۔ اسى لیے ابو طالب رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے والوں میں سے نہ ہو سکے، جبکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے لائے ہوئے دین کى تصدیق کرتے تھے، اور اس بات کی گواہی بھى دیتے تھے کہ یہ دین تمام دینوں سے بہتر ہے۔

دینِ اسلام ان تمام مصلحتوں کا ضامن ہے جن کی ضمانت سابقہ ادیان میں موجود تھی۔ اس دین کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ یہ ہر زمانہ، ہر جگہ اور ہر امت کے لیے مناسب اور قابلِ عمل ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول (ﷺ) کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے: ’’اور ہم نے آپ کی طرف حق کے ساتھ یہ کتاب نازل فرمائی ہے جو اپنے سے اگلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور ان کی محافظ ہے...‘‘ [سورۂ مائدہ: 48]۔

دینِ اسلام کے ہر دور، ہر جگہ اور ہر امت کے لیے مناسب ہونے سے مراد یہ ہے کہ اس دین پر قائم رہنا کسی بھی زمانہ، مقام اور قوم کی مصلحتوں کے منافی نہیں ہو سکتا بلکہ یہ تو ان کے عین مطابق ہے۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ یہ دین ہر دور، ہر جگہ اور ہر قوم کا تابع اور فرمانبردار ہے، جیسا کہ بعض کج فہم لوگ سمجھتے ہیں۔

دینِ اسلام ایک سچا اور برحق دین ہے، جو اس کے دامن کو کما حقہ تھام لے، اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی نصرت اور غلبہ کی ضمانت دی ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا تاکہ اسے دیگر تمام مذاہب پر غالب کر دے اگر چہ مشرکین نا خوش ہوں۔‘‘ [سورۂ صف: 9]۔

اور ایک مقام پر ارشاد باری تعالی ہے: ’’تم میں سے ان لوگوں سے جو ایمان ﻻئے ہیں اور نیک اعمال کیے ہیں اللہ وعده فرما چکا ہے کہ انھیں ضرور ملک کا خلیفہ بنائے گا جیسے کہ ان لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا جو ان سے پہلے تھے اور یقیناً ان کے لیے ان کے دین کو مضبوطی کے ساتھ محکم کرکے جما دے گا جسے ان کے لیے وه پسند فرما چکا ہے اور ان کے خوف وخطر کو وه امن وامان سے بدل دے گا، وه میری عبادت کریں گے میرے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ ٹھہرائیں گے۔ اس کے بعد بھی جو لوگ ناشکری اور کفر کریں وه یقیناً فاسق ہیں۔‘‘ [سورۂ نور: 55].

دینِ اسلام عقیدہ اور احکام کے اعتبار سے ایک مکمل دین ہے جو کہ مندرجہ ذیل احکامات پر مبنی ہے :

1- اللہ تعالیٰ کی توحید کا حکم دیتا ہے اور شرک سے منع کرتا ہے۔

2- صدق اور راست بازی کا حکم دیتا ہے اور کذب بیانی سے منع کرتا ہے۔

3- عدل کا حکم دیتا ہے اور ظلم و جور سے منع کرتا ہے۔ عدل کا معنی ایک جیسی چیزوں کے درمیان برابری اور باہم اختلاف رکھنے والی چیزوں کے درمیان فرق کرنا ہے۔ لہٰذا عدل سے مراد محض برابری نہیں جیساکہ بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ دینِ اسلام صرف برابری کا مذہب ہے کیونکہ مختلف اشیاء کے درمیان برابری واضح ظلم ہے جس کی اسلام میں قطعا گنجائش نہیں اور نہ ہی ایسا کرنے والا قابل ستائش ہے۔

4- امانت کا حکم دیتا ہے، اور خیانت سے روکتا ہے۔

5- وعدہ پورا کرنے کا حکم دیتا ہے اور دھوکہ دہی اور بد عہدی سے منع کرتا ہے۔

6- والدین کے ساتھ احسان اور بھلائی کا حکم دیتا ہے اور ان کی نافرنی سے منع کرتا ہے۔

7- عزیزوں اور رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے اور قطع رحمی سے روکتا ہے۔

8- پڑوسیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیتا ہے اور بد خوئی وبد خواہی سے منع کرتا ہے۔

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ ’’اسلام‘‘ جملہ تمام اخلاقِ حسنہ کا حکم دیتا ہے اور تمام برے اخلاق سے روکتا ہے، ہر اچھے عمل کا حکم دیتا ہے اور تمام برے اعمال سے روکتا ہے۔

اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے: ’’بے شک اللہ تم کو انصاف اور احسان کرنے اور قرابت داروں کو امداد دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی کے کاموں، ناشائستہ حرکتوں اور ﻇلم وزیادتی سے روکتا ہے، وه خود تمھیں نصیحتیں کر رہا ہے کہ تم نصیحت حاصل کرو۔‘‘ [سورۂ نحل: 90]۔

ارکانِ اسلام

ارکانِ اسلام سے مراد وہ پانچ بنیادیں ہیں جن پر اسلام کی عمارت قائم ہے: ان کا تذکرہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں موجود ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: اللہ کی توحید پر (اور ایک روایت میں ہے: پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے:) اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور حج کرنا۔‘‘ ایک شخص نے ’’حج‘‘ کو مقدم اور ’’رمضان کے روزوں‘‘ کو مؤخر کرتے ہوئے یوں روایت بیان کی: ’’الْحَجُّ، وَصِيَامُ رَمَضَانَ‘‘ تو عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما  نے فرمایا : ’’یوں نہیں بلکہ: ’’صِيَامُ رَمَضَانَ، وَالْحَجُّ‘‘ ہے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی ترتیب کے ساتھ فرماتے ہوئے سنا۔ [2] [2] صحیح بخاری، كتاب الإيمان، حدیث نمبر: 8, صحیح مسلم، كتاب الإيمان، باب: قول النبي صلى الله عليه وسلم بني الإسلام على خمس، حدیث نمبر: 16۔

۱- اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی گواہی دینا: پختہ اعتقاد کے ساتھ گواہی دینا کہ ’’اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے اور محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں‘‘ تو اس کا معنى یہ ہے: اس گواہی کا مکمل اور یقینی اعتقاد رکھنا اور زبان سے اس گواہی کو ادا کرنا یعنی گواہی دینے والے کى گواہی میں اس قدر پختگی اور یقین محکم ہونا چاہیے کہ گویا وہ اس کا مشاہدہ کر رہا ہو۔ اس شہادت میں ایک سے زائد امور کی گواہی شامل ہے‘ لیکن اسے ایک ہی رکن قرار دیا گیا ہے‘ اس کی وجہ:

یا تو یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ، اللہ تعالی کے پیغمبر ہیں، اس لیے آپ ﷺ کے لیے اللہ تعالی کے بندے اور رسول ہونے کی گواہی دینا شہادتِ لا الہ الا اللہ کے کمال کا حصہ ہے۔

یا پھر اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ دونوں شہادتین اعمال کی صحت اور ان کی قبولیت کی بنیاد ہیں کیونکہ اللہ تعالی کے لیے اخلاص اور اس کے رسول اللہ ﷺ کی پیروی کے بغیر کوئی عمل درست و مقبول نہیں ہو سکتا۔

لہٰذا معلوم ہوا اخلاص سے لا الہ الا اللہ کی شہادت مکمل ہوتی ہے اور رسول اللہ کی پیروی سے محمد کے بندہ ورسول ہونے کی شہادت مکمل ہوتی ہے۔

اس عظیم شہادت کے ثمرات: دل وجان کو مخلوقوں کی غلامی سے اور انبیاء ورسل کے علاوہ کسی اور کی اتباع وفرمانبرداری سے آزادی دلانا۔

2- اقامتِ نماز: یہ اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے جو مقررہ اوقات میں, ثابت قدمی اور خاص کیفیات کے ساتھ ادا کی جاتی ہے۔

نماز کے ثمرات: شرح صدر، آنکھوں کی ٹھنڈک کا حصول، حیا سوز اور بری عادات سے حفاظت۔

3- زکوٰۃ کی ادائیگی: یہ بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے جو زکاۃ کے مستحق اموال میں سے واجب مقدار کی ادائیگی سے پوری ہوتی ہے۔

زکوۃ کے ثمرات: بری عادات (مثلا بخل وغیرہ) سے دلوں کی پاکیزگی اور اسلام اور مسلمانوں کی ضرورتوں کی تکمیل۔

4- رمضان کے روزے: یہ بھی ایک عبادتِ الٰہی ہے جو ماہِ رمضان کے دنوں میں کھانے پینے کی چیزوں اور دیگر روزہ توڑنے والی چیزوں سے اپنے آپ کو روکے رکھنے سے پوری ہوتی ہے۔

روزے کے ثمرات: اللہ عز وجل کی رضا کی طلب میں اپنے نفس کو محبوب چیزوں کو ترک کرنے کا عادی بنانا‘ اس کے جملہ فوائد میں سے ہے۔

5- بیت اللہ کا حج : یہ بھی اللہ تعالیٰ کی ایک عبادت ہے جو حج کے شعائر کی ادائیگی کی غرض سے بیت اللہ الحرام کی زیارت سے پوری ہوتی ہے۔

حج کے ثمرات: اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری کے لیے جہاں تک ہو سکے اپنے دل کو مالی اور جسمانی جد وجہد کا عادی بنانا، چنانچہ ’’حج‘‘ بھی جہاد فی سبیل اللہ ہی کی ایک قسم ہے۔

یاد رہے کہ اوپر ہم نے جن ’’ثمرات‘‘ کا ذکر کیا ہے، ان کا تعلق اسلام کی بنیادی (تعلیمات) سے ہے، اور جو چیزیں ہم ذکر نہیں کر پائے ان میں سے بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو ایک امت کو پاک وصاف، اللہ تعالیٰ کے دینِ حق پر ثابت قدم اور مخلوق کے ساتھ عدل و سچائی کا معاملہ کرنے والی اسلامی امت بنا دیتی ہیں۔ کیونکہ ان کے علاوہ جو بھی شرائع اسلام ہیں ان کی درستی بھی انھی بنیادوں پر منحصر ہے۔ کسی امت کے حالات اس کے دینی امور کی درستی سے ہی ٹھیک ہوتے ہیں۔ چنانچہ جس امت کے دینی معاملات میں جس قدر بگاڑ موجود ہوگا، اسی قدر اس کے احوال میں کمی وبگاڑ پایا جائے گا۔

جو شخص اس بات کی وضاحت چاہتا ہو، اسے چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کو پڑھ لے: ’’اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے لیکن انھوں نے جھٹلایا تو ہم نے ان کے اعمال کی وجہ سے ان کو پکڑ لیا۔ کیا پھر بھی ان بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بے فکر ہوگئے ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب رات کے وقت آپڑے جس وقت وه سوتے ہوں۔ اور کیا ان بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بے فکر ہوگئے ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے آپڑے جس وقت کہ وه اپنے کھیلوں میں مشغول ہوں۔ کیا پس وه اللہ کی اس پکڑ سے بے فکر ہوگئے۔ سو اللہ کی پکڑ سے بجز ان کے جن کی شامت ہی آگئی ہو اور کوئی بے فکر نہیں ہوتا۔‘‘ [سورۂ اعراف : 96-99]۔

اگر تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو اس میں عقل وخرد والوں کے لیے عبرت اور جن کے دلوں پر پردے نہیں پڑے ہوئے ہیں، ان کے لیے بصیرت کا بہت سا سامان موجود ہے۔ والله المستعان.

اسلامی عقیدے کی بنیاد

’’دینِ اسلام‘‘ جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے ’’عقیدہ اور شریعت‘‘ کا نام ہے اور گزشتہ صفحات میں ہم نے دینِ اسلام کے بعض احکام کی طرف اشارہ کیا اور اس کے بنیادی ارکان کا ذکر کیا۔ اب ہم ’’اسلامی عقیدہ ‘‘ کا ذکر کریں گے۔

’’اسلامی عقیدہ‘‘ اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، آخرت کے دن اور اچھی وبری تقدیر پر ایمان جیسی بنیادوں پر قائم ہے۔

قرآن کریم اور رسول اللہ ﷺ کی سنت میں ان بنیادوں کے دلائل موجود ہیں،

چنانچہ قرآنِ کریم میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’ساری اچھائی مشرق ومغرب کی طرف منہ کرنے میں ہی نہیں بلکہ حقیقتاً اچھا وه شخص ہے جو اللہ پر، قیامت کے دن پر، فرشتوں پر، کتاب اللہ پر اور نبیوں پر ایمان رکھنے واﻻ ہو...‘‘ [سورۂ بقرة: 177]، اور تقدیر کے متعلق ارشاد ہے: ’’بے شک ہم نے ہر چیز کو ایک (مقرره) اندازے پر پیدا کیا ہے۔ اور ہمارا حکم صرف ایک دفعہ ہی ہوتا ہے جیسے آنکھ کا جھپکنا۔‘‘ [سورۂ قمر: 49-50]۔

احادیث میں موجود ہے کہ نبی ﷺ نے ایمان کے متعلق جبریل علیہ السلام کے سوال کے جواب میں فرمایا: ’’ایمان یہ ہے کہ تو اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، آخرت کے دن پر اور اچھی وبری تقدیر پر ایمان لائے۔‘‘ [3] [3] صحیح مسلم، کتاب الایمان، حدیث نمبر: 8، اور سنن ابو داود‘ کتاب السنۃ، باب في القدر، حدیث نمبر: 4695۔

اللہ تعالیٰ پر ایمان

اللہ تعالیٰ پر ایمان چار اصولوں پر مشتمل ہے:

پہلا اصول: وجودِ باری تعالیٰ پر ایمان:

اللہ تعالیٰ کے وجود پر عقل، فطرت، حس اور شریعت سبھی چیزیں دلالت کرتی ہیں۔

وجودِ باری تعالیٰ کے فطری دلائل: چونکہ ہر مخلوق کا اپنے خالق پر ایمان کی حالت میں پیدا ہونا ایک ایسا فطری وصف ہے جو غور وفکر اور علم کے بغیر اس کی جبلت میں داخل ہوتا ہے، لہٰذا وہ اس فطرت کے تقاضے سے ہرگز نہیں پھرتا الا یہ کہ کوئی اس کے دل پر ایسے نقوش بٹھا دے جو اسے اس فطرت سے پھیر دیں۔ جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے واضح ہے: ’’ہر بچہ فطرت ہی پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔‘‘ [4] [4] صحیح بخاری: کتاب الجنائز، باب إذا أسلم الصبي فمات، هل يصلى عليه، وهل يعرض على الصبي الإسلام، حدیث نمبر: 1292، صحیح مسلم: کتاب القدر، باب معنى كل مولود يولد على الفطرة، وحكم موت أطفال الكفار وأطفال المسلمين، حدیث نمبر: 2658۔

2- وجودِ باری تعالیٰ کے عقلی دلائل: تمام مخلوقات سے پہلے خالق اور موجد کا ہونا از حد ضروری ہے کیونکہ کسی چیز کا از خود اتفاقی یا حادثاتی طور پر وجود میں آ جانا قطعا ناممکن ہے۔

کسی نفس کا از خود وجود میں آجانا اس لیے ناممکن ہے کہ کوئی چیز خود کو پیدا نہیں کر سکتی کیونکہ وہ اپنے وجود سے پہلے معدوم ہوتی ہے، چنانچہ جو چیز معدوم ہو وہ خالق کس طرح ہو سکتی ہے؟

اسی طرح کسی چیز کا اتفاقیہ یا حادثاتی طور پر وجود میں آنا بھی ناممکن ہے کیونکہ ہر حادث (یعنی نئی چیز) کے لیے کسی محدث (یعنی وجود بخشنے والے) کا ہونا لازمی ہے۔ اس لیے بھی کہ بے مثال نظام، مناسب وہم آہنگ ترتیب، اسباب ومسببات اور کائنات کی تمام چیزوں کے درمیان مضبوط باہمی تعلق وارتباط کے ساتھ اس حادث کا وجود قطعی طور پر اس بات کی نفی کرتا ہے کہ اس کا وجود ایک حادثہ یا اتفاق ہے۔ اگر موجودات اپنے وجود کی اصل میں کسی نظام کی پابند نہیں بلکہ محض اتفاق کا نتیجہ ہوتیں تو اب تک ان کی بقا اور ارتقاء کیوں کر باقاعدہ اور منظّم ہوتی؟

جب ان مخلوقات کا از خود یا محض اتفاقیہ اور حادثاتی طور پر پیدا ہو جانا ناممکن ہے تو یہ چیز ثابت ہو گئی کہ ان سب چیزوں کا کوئی موجِد ضرور ہے، اور وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اس عقلی اور قطعی دلیل کا تذکرہ ’’سورۂ طور‘‘ میں یوں فرمایا ہے: ’’کیا یہ بغیر کسی (پیدا کرنے والے) کے خود بخود پیدا ہوگئے ہیں ؟ یا یہ خود پیدا کرنے والے ہیں؟‘‘ [سورۂ طور: 35]۔ یعنی وہ بغیر خالق کے پیدا نہیں ہوئے، اور نہ انھوں نے اپنے آپ کو پیدا کیا ہے، تو ثابت ہوا کہ ضرور ان کا کوئی خالق ہے، اور وہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے جب رسول اللہ ﷺ کو ’’سورۃ الطور‘‘ کی ان آیات کی تلاوت کرتے ہوئے سنا: ’’کیا یہ بغیر کسی (پیدا کرنے والے) کے خود بخود پیدا ہوگئے ہیں ؟ یا یہ خود پیدا کرنے والے ہیں؟ کیا انھوں نے ہی آسمان وزمین کو پیدا کیا ہے؟ بلکہ یہ یقین نہ کرنے والے لوگ ہیں۔ یا کیا اُن کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں ؟ یا (اُن خزانوں کے) یہ داروغہ ہیں؟‘‘ [سورۂ طور: 35-37]۔

تو اس وقت حالت شرک میں ہونے کے باوجود وہ بے ساختہ بول اُٹھے: ’’میرا دل اڑ سا گیا، اور یہ پہلی بار تھا جب ایمان نے میرے دل میں گھر کر لیا تھا۔‘‘ [5] [5] صحیح بخاری، سورۃ والطور، حدیث نمبر: 4854۔

مزید وضاحت کے لیے ہم یہاں ایک مثال پیش کرتے ہیں: اگر کوئی شخص آپ کو کسی ایسے مضبوط اور بلند وبالا محل کے متعلق بتائے جس میں چاروں طرف باغات ہوں، اور ان کے درمیان نہریں جاری ہوں، تخت پوشوں، نرم ونازک بچھونوں سے پر اور ہر قسم کی تزئین وآرائش سے آراستہ وپیراستہ ہو، اور اس کے متعلق یہ بتائے کہ یہ محل اور جو کچھ اس میں موجود ہے بغیر کسی موجد کے خود بخود وجود میں آگیا ہے تو آپ نہ صرف اس کا انکار کریں گے اور اسے جھٹلادیں گے بلکہ اس کی بات کو کسی بے عقل کا قول قرار دیں گے۔ کیا اس مثال کے بعد بھی اس بات کا کوئی جواز باقی رہ جاتا ہے کہ یہ وسیع کائنات اور اس میں موجود زمین و آسمان، فلک وستارے، کائنات کا روشن اور بے مثال نظام بغیر کسی موجد کے از خود یا محض اتفاق یا حادثہ کی بناء پر وجود میں آگئے ہوں؟

(3) وجودِ باری تعالیٰ کے شرعی دلائل: بلاشبہ تمام آسمانی کتابیں اللہ تعالیٰ کے وجود پر شاہد ہیں اور مخلوق کی مصلحتوں کے ضمن میں جو احکام ان کتبِ سماویہ میں وارد ہیں، وہ تمام اس بات کی دلیل ہیں کہ بلاشبہ یہ کتابیں ایک نہایت حکیم اور اپنی مخلوق کی مصلحتوں کو خوب جاننے والے رب کی طرف سے ہیں۔ ان آسمانی کتابوں میں وارد جن تکوینی باتوں کی امر واقع نے تصدیق کی ہے وہ بھی اس بات کی دلیل ہیں کہ بلاشبہ یہ تمام چیزیں ایک ایسے رب کی طرف سے ہیں جو ان تمام چیزوں کو وجود بخشنے پر پوری قدرت رکھتا ہے جن کے بارے میں اس نے خبر دی ہے۔

4- وجودِ باری تعالیٰ کے حسی دلائل، حسی دلائل دو قسم کے ہیں:

(اول) ہم دعا کرنے والوں کی دعاؤں کو پورا ہوتے ہوئے دیکھتے اور سنتے ہیں، اسی طرح انتہائی دکھ اور تکلیف میں مبتلا لوگوں کی فریاد رسی بھی ہم سے پوشیدہ نہیں ہے۔ یہ چیزیں قطعی طور پر اللہ تعالیٰ کے وجود پر دلالت کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’نوح کے اس وقت کو یاد کیجیے جبکہ اس نے اس سے پہلے دعا کی، ہم نے اس کی دعا قبول فرمائی...‘‘ [سورۂ انبياء: 76]۔ ایک اور مقام پر ارشاد ہے: ’’اس وقت کو یاد کرو جب کہ تم اپنے رب سے فریاد کررہے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے تمھاری سن لی...‘‘ [سورۂ انفال: 9]۔

صحیح بخاری میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: ’’جمعہ کے دن ایک اعرابی اس وقت (مسجد نبوی میں) داخل ہوا جب نبی ﷺ جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے، اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! (بارش نہ ہونے کی وجہ سے) تمام مال ومتاع تباہ ہو گیے اور اہل و عیال بھوکے ہیں، اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے (بارش کی) دعا فرمائیں۔ آپ ﷺ نے ہاتھ اٹھائے اور دعا فرمائی۔ چنانچہ چاروں طرف سے پہاڑوں کے مانند بادل امڈ آئے، آپ اپنے منبر سے نیچے بھی نہ اُتر پائے تھے کہ میں نے بارش کی بوندیں آپ کی داڑھی مبارک پر پڑتی دیکھیں۔"[6] [6] صحیح بخاری، ’كتاب الجمعة‘ باب الاستسقاء في الخطبة يوم الجمعة، حدیث نمبر: 891۔

دوسرے جمعہ میں وہی یا کوئی دوسرا اعرابی کھڑا ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! (بارش کی کثرت سے) ہمارے گھر منہدم ہو گئے ہیں اور مال ومتاع (پانی میں) غرق ہو گیا ہے، لہذا آپ اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے (بارش تھمنے) کی دعا فرمائیں، رسول اللہ ﷺ نے دست مبارک اٹھائے اور یہ دعا فرمائی: ’’اے اللہ! ہمارے اردگرد نازل فرما، ہم پر نہ برسا۔‘‘ پھر آپ نے جوں ہی ادھر ادھر اطراف میں اشارہ فرمایا، بادلوں میں شگاف پڑگیا اور وہ فورا چھٹ گئے۔ [7]۔ [7] صحیح بخاری، کتاب الجمعۃ، باب الاستسقاء في الخطبة يوم الجمعة، حدیث نمبر: 891، صحیح مسلم، کتاب صلاة الاستسقاء، باب الدعاء في الاستسقاء، حدیث نمبر: 897۔

دعاؤں کی مقبولیت کا سلسلہ امر مشاہَد ہے یہ کبھی بند نہیں ہوا، بلکہ جو لوگ صدق دلی اور قبولیت کی شرائط کے ساتھ اللہ سے التجا کرتے ہیں ان کے لیے دعاؤں کی قبولیت کا یہ سلسلہ آج بھی اسی طرح قائم ہے۔

(دوم) بہت سے لوگوں نے انبیاء علیہم السلام کی نشانیوں (جنھیں معجزات کہا جاتا ہے) کا خود مشاہدہ کیا یا (معتبر ذرائع سے) ان کے بارے میں سنا ہے۔ یہ معجزات ان رسولوں کے بھیجنے والے اللہ تعالیٰ کی ذات کے وجود کی قطعی دلیل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ نیز یہ حقائق انسانی قوتِ فہم سے بالا تر ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی تائید ونصرت کے لیے جاری فرمایا تھا۔

اس کی مثال: حضرت موسی علیہ السلام کا یہ معجزہ کہ جب اللہ تعالیٰ نے انھیں سمندر پر اپنی لاٹھی مارنے کا حکم فرمایا تو جونہی موسی علیہ السلام نے فرمانِ الٰہی کی تعمیل کی، سمندر میں بارہ خشک راستے پھٹ گئے، اور ان راستوں کے درمیان پانی پہاڑوں کے مانند کھڑا ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر اپنا عصا مارو، پس اسی وقت دریا پھٹ گیا اور ہر ایک حصہ پانی کا مثل بڑے پہاڑ کے ہوگیا.‘‘ [سورۂ شعراء: 63]۔

دوسری مثال: حضرت عیسی علیہ السلام کے مُردوں کو زندہ کرنے اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے انھیں قبروں سے باہر نکالنے کا معجزہ، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’... اور مرددوں کو زندہ کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے حکم سے... ۔‘‘ [سورۂ آل عمران: 49]۔ اور ایک مقام پر ارشاد فرمایا: ’’...اور جب کہ تم مُردوں کو نکال کر کھڑا کرلیتے تھے میرے حکم سے...‘‘ [سورۂ مائدہ: 110]۔

تیسری مثال: جب قریش نے آپ سے معجزے کا مطالبہ کیا تو آپ نے چاند کی طرف اشارہ فرمایا، اور وہ دو حصوں میں بٹ گیا اور تمام لوگوں نے اپنی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کیا۔ اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’قیامت قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا۔ یہ اگر کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ یہ پہلے سے چلا آتا ہوا جادو ہے.‘‘ [سورۂ قمر: 1-2]۔

یہ سارے حسی معجزات ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنے رسولوں کی تائید ونصرت کے لیے جاری فرمایا تھا، جو قطعی طور پر اللہ تعالیٰ کے وجود پر دلالت کرتے ہیں۔

دوسرا اصول: اللہ تعالیٰ کی ربوبیت پر ایمان: یعنی (اس بات پر ایمان) کہ وہ اکیلا اور تن تنہا پروردگار ہے۔ نہ اس کا کوئی شریک ہے اور نہ مددگار۔

رب سے مراد وہ ہستی ہے جو پوری مخلوق اور بادشاہی کی مالک ہو, اور حکم بھی صرف اسی کا چلتا ہو، چنانچہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ نہ کوئی دوسرا خالق ہے، نہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا مالک ہے، اور نہ ہی اس کے سوا کوئی دوسرا حاکم ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’۔۔۔یاد رکھو ،اللہ ہی کے لیے خاص ہے خالق ہونا اور حاکم ہونا۔۔۔‘‘ [سورۂ اعراف: 54]۔ اور ایک مقام پر یوں ارشاد ہوا: ’’۔۔۔یہی ہے اللہ تم سب کا پالنے واﻻ اُسی کی سلطنت ہے۔ جنھیں تم اُس کے سوا پکار رہے ہو، وه تو کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے بھی مالک نہیں۔‘‘ [سورۂ فاطر: 13]۔

مخلوق میں سے کسی نے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ربوبیت کا انکار نہیں کیا، سوائے ان لوگوں کے جن کو تکبر کا عارضہ لاحق ہو گیا لیکن وہ بھی جو کچھ کہتے تھے خود اس كا عقیدہ نہ رکھتے تھے، جیسا کہ فرعون کے اس خطاب سے ظاہر ہے جو اس نے اپنی قوم سے کیا تھا: ’’کہ تمھارا سب سے بڑا رب میں ہی ہوں۔‘‘ [سورۂ نازعات: 24]، اور ایک مقام پر کہا: ’’۔۔۔اے درباریو! میں تو اپنے سوا کسی کو تمھارا معبود نہیں جانتا۔۔۔‘‘ [سورۂ قصص: 38]، لیکن فرعون کا یہ دعویٰ عقیدہ کی بنیاد پر نہیں تھا۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’صرف ﻇلم اور تکبر کی بنا پر انھوں نے انکار کردیا، حالانکہ ان کے دل یقین کر چکے تھے۔۔۔‘‘ [سورۂ نمل: 14]۔ اسی طرح حضرت موسی علیہ السلام نے فرعون سے جو کچھ کہا تھا قرآن کریم میں اس کی حکایت یوں ذکر ہوئی ہے: ’’۔۔۔یہ تو تجھے علم ہوچکا ہے کہ آسمان وزمین کے پروردگار ہی نے یہ معجزے دکھانے، سمجھانے کو نازل فرمائے ہیں، اے فرعون! میں تو سمجھ رہا ہوں کہ تو یقیناً ہلاک زدہ ہے۔‘‘ [سورۂ اسراء: 102]، اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ مشرکینِ عرب بھی اللہ تعالیٰ کی الوہیت میں شرک کے باوجود اس کی ’’ربوبیت‘‘ کا اقرار کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’پوچھیے تو سہی کہ زمین اور اس کی کل چیزیں کس کی ہیں؟ بتلاؤ اگر جانتے ہو؟ فورا جواب دیں گے کہ اللہ کی۔ کہہ دیجیے کہ پھر تم نصیحت کیوں نہیں حاصل کرتے۔ دریافت کیجیے کہ ساتوں آسمانوں کا اور بہت باعظمت عرش کا رب کون ہے؟ وہ لوگ جواب دیں گے کہ اللہ ہی ہے۔ کہہ دیجیے: پھر تم کیوں نہیں ڈرتے؟ پوچھیے کہ تمام چیزوں کا اختیار کس کے ہاتھ میں ہے؟ جو پناہ دیتا ہے اور جس کے مقابلے میں کوئی پناہ نہیں دیا جاتا، اگر تم جانتے ہو تو بتلادو؟ یہی جواب دیں گے کہ اللہ ہی ہے۔ کہہ دیجیے: پھر تم کدھر سے جادو کردیے جاتے ہو؟‘‘ [سورۂ مؤمنون: 84- 89]۔

اور ایک جگہ یوں ارشاد ہے: ’’اگر آپ اُن سے دریافت کریں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو یقیناً اُن کا جواب یہی ہوگا کہ انھیں غالب ودانا (اللہ) ہی نے پیدا کیا ہے۔‘‘ [سورۂ زخرف: 9]۔

ایک اور جگہ اللہ پاک نے فرمایا: ’’اگر آپ اُن سے دریافت کریں کہ اُنھیں کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یقیناً یہ جواب دیں گے کہ اللہ نے، پھر یہ کہاں الٹے جاتے ہیں؟‘‘ [سورۂ زخرف: 87]۔

اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا امر (حکم)، امرِ کونی وشرعی پر مشتمل ہے, جس طرح وہ کائنات کا مدبرِ ہے جو اپنی بہترین حکمتِ عملی کے تقاضے کے مطابق جو کچھ چاہتا ہے اس کا فیصلہ فرماتا ہے۔ اسی طرح وہ اس کائنات کا حاکم بھی ہے، چنانچہ عبادت، احکام اور معاملات میں اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق شریعت کے احکام نافذ فرماتا ہے۔ لہٰذا جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو عبادت میں شریعت ساز، یا معاملات میں حاکم بنا لے وہ مشرک ہے اور اس کا ایمان غیر معتبر ہے۔

تیسرا اصول: اللہ تعالیٰ کی ’’الوہیت‘‘ پر ایمان: یعنی صرف وہی تنہا حقیقی معبود ہے، کوئی اس کا شریک نہیں ہے، اور ’’الہ‘‘ بمعنی ’’مالوہ‘‘, یعنی ’’معبود‘‘ کے ہیں۔ اس سے مراد وہ ہستی ہے جس کی محبت اور تعظیم کے ساتھ عبادت کی جائے۔

اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے: ’’تم سب کا معبود ایک ہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔ وه بہت رحم کرنے واﻻ اور بہت بڑا مہربان ہے۔‘‘ [سورۂ بقرۃ: 163]۔ نیز ارشاد باری تعالى ہے: ’’اللہ، فرشتے اور اہل علم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور وه عدل کے ساتھ دنیا کو قائم رکھنے واﻻ ہے، اس غالب اور حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے ﻻئق نہیں۔‘‘ [سورۂ آل عمران: 18]۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ جس کسی کو معبود سمجھ کر پوجا گیا‘ اس کی الوہیت غلط اور باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’یہ سب اس لیے کہ اللہ ہی حق ہے اور اس کے سوا جسے بھی یہ پکارتے ہیں وه باطل ہے اور بے شک اللہ ہی بلندی واﻻ، کبریائی واﻻ ہے.‘‘ [سورۂ حج: 62]۔ اگر کوئی شخص کسی کو ’’الہ‘‘ یا ’’معبود‘‘ پکارنے لگے تو اس سے اس کو ’’حق الوہیت‘‘ حاصل نہیں ہو جاتا۔ چنانچہ ’’لات‘‘، ’’عزی‘‘ اور ’’مناة‘‘ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’دراصل یہ صرف نام ہیں جو تم نے اور تمھارے باپ دادوں نے ان کے رکھ لیے ہیں، اللہ نے ان کی کوئی دلیل نہیں اتاری۔۔۔۔‘‘ [سورۂ نجم: 23]۔

اور اللہ کا ارشاد ہے کہ ہود علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا: ’’کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے بارے میں جھگڑتے ہو جن کو تم نے اور تمھارے باپ دادوں نے ٹھہرا لیا ہے؟ اُن کے معبود ہونے کی اللہ نے کوئی دلیل نہیں بھیجی۔۔۔‘‘ [سورۂ اعراف: 71]۔

حضرت یوسف علیہ السلام نے جیل کے اپنے دونوں ساتھیوں سے جو فرمایا تھا وہ قرآنِ مجید میں یوں مذکور ہے: ’’اے میرے قید خانے کے ساتھیو! کیا متفرق کئی ایک پروردگار بہتر ہیں یا ایک اللہ زبردست طاقتور؟ اس کے سوا تم جن کی پوچا پاٹ کر رہے ہو، وہ سب نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے خود ہی گھڑ لیے ہیں۔ اللہ نے ان کی کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی...۔‘‘ [سورۂ يوسف: 39-40]۔

اسی لیے تمام پیغمبر علیھم السلام اپنی اپنی قوم سے یہی کہتے رہے: ’’۔۔۔تم اللہ کی عبادت کرو، اُس کے سوا کوئی تمھارا معبود ہونے کے قابل نہیں۔۔۔‘‘ [سورۂ اعراف: 59]۔ لیکن مشرکین نے اس حقیقت سے انکار کیا اور اللہ کے علاوہ کچھ دوسرے الہ (معبود) بنا کر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے ساتھ ان کی بھی پرستش کرنے لگے اور (بوقت ضرورت) ان سے مدد کے طالب ہوتے اور انہیں سے استغاثہ وفریاد کیا کرتے تھے۔

مشرکین کی طرف سے انھیں معبود بنا لینے کا رد اللہ تعالیٰ نے دو عقلی دلیلوں سے فرمایا ہے:

پہلی دلیل: جن کو لوگوں نے معبود بنا رکھا ہے ان میں ’’الوہیت‘‘ کی صفات نہیں پائی جاتیں بلکہ وہ خود مخلوق ہیں، کسی بھی چیز کو پیدا کرنا ان کے بس میں نہیں، وہ اپنی پرستش کرنے والوں کو نہ کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ ان سے کسی تکلیف کو دور کر سکتے ہیں، نہ وہ ان کے لیے زندگی کے مالک ہیں اور نہ موت کے، نہ آسمانوں کی کوئی چیز ان کی ملکیت میں ہے اور نہ وہ اس میں شریک ہیں۔

چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’ان لوگوں نے اللہ کے سوا جنھیں اپنے معبود ٹھہرا رکھا ہے وه کسی چیز کو پیدا نہیں کرسکتے بلکہ وه خود پیدا کئے جاتے ہیں، یہ تو اپنی جان کے نفع ونقصان کا بھی اختیار نہیں رکھتے اور نہ موت وحیات کے اور نہ دوباره جی اٹھنے کے  مالک ہیں"۔ [سورۂ فرقان: 3]۔

ایک اور جگہ ارشاد باری تعالی ہے: ’’کہہ دیجییے کہ اللہ کے سوا جن جن کا تمھیں گمان ہے۔ (سب) کو پکار لو، نہ ان میں سے کسی کو آسمانوں اور زمینوں میں سے ایک ذرے کا اختیار ہے نہ اُن کا اُن میں کوئی حصہ ہے‘ نہ اُن میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے‘ شفاعت بھی اس کے پاس کچھ نفع نہیں دیتی بجز ان کے جن کے لیے اجازت ہوجائے۔۔۔۔‘‘ [سورۂ سبا: 22-23]۔ نیز ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’کیا وہ ایسوں کو شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کر سکتے اور وه خود پیدا کیے جاتے ہیں۔ وہ نہ تو ان کی مدد کر سکتے ہیں اور نہ خود اپنی ہی مدد کر سکتے ہیں۔‘‘ [سورۂ اعراف: 191-192]۔

جب ان معبودانِ (باطلہ) کا یہ حال ہے تو پھر ان کو حقیقی معبود بنالینا بہت بڑا فریب اور پرلے درجہ کی بے وقوفی ہے۔

دوسری دلیل: ان مشرکین کو بھی اس بات کا یقین اور اقرار تھا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا رب اور خالق ہے، اسی کے ہاتھ میں ہر چیز کا اختیار ہے، وہ پناہ دیتا ہے۔ لیکن اس کے مقابلے میں کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا، غرض یہ کہ کوئی اس کا ہم پلہ نہیں ہے۔ نیز اس میں ’’ربوبیت کی یکتائی‘‘ کی طرح اس کی ’’الوہیت کی یکتائی‘‘ بھی شامل ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اے لوگو! اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمھیں اور تم سے پہلے کے لوگوں کو پیدا کیا، یہی تمھارا بچاؤ ہے۔ جس نے تمھارے لیے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے پانی اتار کر اس سے پھل پیدا کر کے تمھیں روزی دی، خبردار باوجود جاننے کے اللہ کے شریک مقرر نہ کرو۔‘‘ [سورۂ بقرۃ: 21-22]۔

اور ایک مقام پر یوں ارشاد ہوا: ’’اگر آپ اُن سے دریافت کریں کہ اُنھیں کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یقیناً یہ جواب دیں گے کہ اللہ نے، پھر یہ کہاں الٹے جاتے ہیں؟‘‘ [سورۂ زخرف: 87]۔

نیز فرمایا: "آپ کہہ دیجیے کہ وه کون ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق پہنچاتا ہے یا وه کون ہے جو کانوں اور آنکھوں پر پورا اختیار رکھتا ہے اور وه کون ہے جو زندے کو مردے سے نکالتا ہے اور مردے کو زندے سے نکالتا ہے اور وه کون ہے جو تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے؟ ضرور وه یہی کہیں گے کہ ’’اللہ‘‘۔  تو ان سے کہیے کہ پھر کیوں نہیں ڈرتے؟ سو یہ ہے اللہ جو تمھارا حقیقی رب ہے، پھر حق کے بعد اور کیا رہ گیا بجز گمراہی کے، پھر کہاں پھیرے جاتے ہو؟" [سورۂ یونس: 31-32]۔

چوتھا اصول: اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات پر ایمان

اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے لیے خود اپنی کتاب، یا اپنے رسول ﷺ کی سنت میں جن اسماء و صفات کا اثبات فرمایا ہے، ان کی تحریف وتعطیل اور تکییف و تمثیل کے بغیر جس طرح اس کی ذات کے شایان شان ہے، اسی طرح ان کا اثبات کرنا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ’’اور اللہ کے اچھے نام ہیں، سو تم اللہ کو انھی ناموں کے ساتھ پکارو، اور ایسے لوگوں سے تعلق ہی نہ رکھو جو اس کے ناموں میں کج روی کرتے ہیں، ان لوگوں کو ان کے کیے کی ضرور سزا ملے گی۔‘‘ [سورۂ اعراف: 180]۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’۔۔۔۔اسی کی بہترین اور اعلیٰ صفت ہے، آسمانوں میں اور زمین میں بھی اور وہی غلبے واﻻ حکمت واﻻ ہے۔‘‘ [سورۂ روم: 27]۔ نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’۔۔۔اس جیسی کوئی چیز نہیں وه سننے اور دیکھنے واﻻ ہے۔‘‘ [سورۂ شوریٰ: 11]۔

اس مسئلے میں دو گروہ گمراہی کا شکار ہوئے ہیں:

پہلا گروہ (معطّلہ) کا ہے: یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات، یا ان میں سے بعض کے منکر ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے ان اسماء وصفات کو ثابت کرنے سے تشبیہ لازم آتی ہے جو اللہ تعالیٰ کو اس کی مخلوق کے مشابہ بنا دیتی ہے۔ لیکن یہ دعویٰ درجِ ذیل وجوہات کی بناء پر بالکل لغو اور باطل ہے:

پہلی وجہ: یہ دعوی اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے کلام میں باہمی تضاد جیسے جھوٹے الزامات پر مشتمل ہے اور یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے لیے ان اسماء وصفات کا اثبات کرنے کے ساتھ ساتھ کسی چیز کے اللہ کے ہم مثل ہونے کی نفی فرمائی ہے۔ لہٰذا اگر یہ مان لیا جائے کہ ان اسماء وصفات کو ثابت کرنے سے تشبیہ لازم آتی ہے تو اس سے کلام اللہ میں تضاد اور بعض آیات کی بعض سے تردید و تکذیب لازم آتی ہے۔

دوسری وجہ: اسم یا صفت میں سے کسی بھی دو چیز کے اتفاق سے ان کا باہم ایک جیسا ہونا لازم نہیں آتا جیسا کہ آپ دیکھتے ہیں کہ دو شخصوں کے درمیان اس لحاظ سے اتفاق پایا جاتا ہے کہ وہ دونوں انسان ہیں، سنتے، دیکھتے اور بولتے ہیں لیکن اس سے یہ ہر گز لازم نہیں آتا کہ وہ انسانی مزاج، یا سننے، دیکھنے اور بولنے کے اعتبار سے بھی ایک دوسرے کے ساتھ کُلی یکسانیت اور موافقت رکھتے ہوں۔

اسی طرح جانوروں کی مثال لے لیجیے، ان کے پاس ہاتھ، پاؤں اور آنکھیں ہوتی ہیں، لیکن ان کے اس اتفاق سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان کے ہاتھ، پاؤں اور آنکھیں حقیقت میں ایک جیسی ہوں۔

چنانچہ جب مخلوقات کے درمیان اسماء وصفات میں اتفاق کے باوجود بھی اختلاف واضح ہے، تو خالق ومخلوق کے درمیان اختلاف تو اس سے کہیں زیادہ واضح اور بڑا ہوا۔

دوسرا گروہ (مشبّہہ) کا ہے: یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات کا اثبات تو کرتے ہیں لیکن اللہ کو مخلوق کے مشابہ قرار دیتے ہیں، ان کا گمان ہے کہ یہی نصوص کی دلالت کا تقاضا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالی اپنے بندوں سے اسی طرح مخاطب ہوتا ہے جس طرح کہ وہ سمجھ سکیں۔ لیکن یہ گمان بھی مندرجہ ذیل وجوہات کی وجہ سے باطل وبے بنیاد ہے :

پہلی وجہ۔: اللہ تعالیٰ کی اپنی مخلوق کے ساتھ مشابہت ایک ایسا امر ہے جو عقل و شریعت دونوں کے رو سے یکسر باطل اور مردود ہے جب کہ یہ بات قطعا ناممکن ہے کہ کتاب و سنت کی دلالت اور تقاضا غلط اور باطل ہو۔

دوسری وجہ : بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے اسی طرح خطاب فرمایا ہے جس طرح کہ وہ اسے اصل معنی کی حیثیت سے سمجھتے ہیں، لیکن اس کے خطاب کے معانی کا جو حصہ اس کی ذات یا صفات سے متعلق ہے، اس کی حقیقت کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔

چنانچہ اگر اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے ’’سمیع‘‘ ہونے کا اثبات فرمایا ہے تو’’سمع‘‘ اپنے اصل معنی کے اعتبار سے تو معلوم ہے (یعنی آوازوں کا ادراک) لیکن اللہ تعالیٰ کی ’’سماعت‘‘ کی نسبت سے اس کے ’’سمیع‘‘ ہونے کی اصل حقیقت معلوم نہیں ہے۔ ’’سمع ‘‘ کی حقیقت چونکہ مخلوقات میں بھی مختلف ہوتی ہے، لہذا خالق و مخلوق کے درمیان اس کا مختلف ہونا اور بھی زیادہ واضح اور بڑا ہے۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اگر اپنے متعلق اس بات کی خبر دی ہے کہ وہ اپنے عرش پر مستوی ہے تو ’’استوا‘‘ اپنے اصل معنی کے اعتبار سے اگرچہ معلوم ہے لیکن عرش پر اللہ تعالیٰ کے مستوی ہونے کی نسبت سے اس ’’استوا‘‘ کی حقیقت مجہول ہے۔ اس لیے کہ ’’استوا‘‘ کی حقیقت مخلوق کے حق میں بھی مختلف ہوتی ہے، چنانچہ کسی جمی ہوئی کرسی پر مستوی ہونا (بلند ہونا) بے قابو اونٹ کے کجاوے پر مستوی ہونے کی مانند نہیں ہے۔ چنانچہ یہ چیز جب مخلوق کے حق میں مختلف ہے تو خالق و مخلوق کے درمیان یہ اختلاف کہیں زیادہ واضح اور بڑا ہے۔

مذکورہ وصف کے ساتھ اللہ پر ایمان لانے کے بہت سے عظیم الشان ثمرات ہیں:

اول: اللہ تعالیٰ کی توحید کو بروئے عمل لانا: اس طرح کہ بندہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی دوسرے سے اُمیدیں وابستہ نہ رکھے، نہ کسی دوسرے سے خوفزدہ ہو اور نہ ہی کسی اور کی عبادت کرے۔

دوم: ’’اسمائے حسنی‘‘ (یعنی اچھے ناموں) اور ’’صفات علیا‘‘ (بلند صفات) کے تقاضوں کے مطابق اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور اس سے کمالِ محبت کرنا۔

سوم : ’’عبادت کی بجا آوری‘‘ یعنی جن چیزوں کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے ان کو بجا لانا، اور جن چیزوں سے منع فرمایا ہے ان سے اجتناب کرنا۔

*

فرشتوں پر ایمان

’’ملائکہ‘‘ یعنی فرشتے ایک غیبی اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والی مخلوق ہیں، ان میں ’’ربوبیت‘‘ اور ’’الوہیت‘‘ کی کوئی خصوصیت موجود نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے انھیں نور سے پیدا فرمایا ہے اور ان کو تمام احکام الٰہی پوری طرح بجا لانے کی قدرت اور انہیں نافذ کرنے کی قوت عطا فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’۔۔اور جو اس کے پاس ہے وه اس کی عبادت سے نہ سرکشی کرتے ہیں اور نہ تھکتے ہیں۔ وہ دن رات تسبیح بیان کرتے ہیں اور ذرا سی بھی سستی نہیں کرتے۔‘‘ [سورۂ انبیاء: 19-20]

فرشتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ان کی صحیح تعداد نہیں جانتا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی قصۂ معراج والی حدیث میں ثابت ہے: ’’نبی ﷺ جب آسمان میں ’’بیتِ معمور‘‘ پر پہنچے تو دیکھا کہ اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے نماز پڑھتے ہیں اور جو اس میں سے ایک بار (نماز پڑھ کر) نکل جائے تو دوبارہ اس میں لوٹ کر نہیں آتا، (یعنی دوبارہ پھر کبھی اس کی باری نہیں آتی)‘‘۔

فرشتوں پر ایمان لانا چار امور پر مشتمل ہے:

(1) فرشتوں کے وجود پر ایمان۔

(2) جن فرشتوں کے نام ہمیں معلوم ہیں (جیسے جبریل علیہ السلام) ان پر مفصل ایمان لانا اور جن فرشتوں کے نام ہمیں معلوم نہیں ہیں ان سب پر اجمالا ایمان لانا۔

(3) فرشتوں کی جن صفات کا ہمیں علم ہے ان پر ایمان لانا، جیساکہ حضرت جبریل علیہ السلام کی صفت کے متعلق نبی ﷺ نے بیان فرمایا: ’’میں نے جبریل علیہ السلام کو ان کی اصل شکل وصورت میں دیکھا، ان کے چھ سو پر تھے اور انھوں نے افق کو بھر رکھا تھا۔ یعنی پوری فضا میں چھائے ہوئے تھے۔‘‘

کبھی فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انسانی شکل و صورت میں بھی ظاہر ہوتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت جبریل علیہ السلام کے متعلق معروف ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے انھیں حضرت مریم علیھا السلام کے پاس بھیجا تو وہ ان کے پاس ایک عام انسان کی شکل میں آئے تھے۔ اسی طرح ایک مرتبہ حضرت جبریل علیہ السلام نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس وقت آپ ﷺ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے درمیان تشریف فرما تھے۔ وہ ایک ایسے شخص کی شکل میں آئے کہ ان کے کپڑے انتہائی سفید اور سر کے بال غیر معمولی طور پر سیاہ تھے، اور ان پر سفر کے آثار بھی نمایاں نہ تھے، صحابہ میں سے کوئی بھی انھیں نہیں پہچانتا تھا۔ وہ اپنے گھٹنے نبی ﷺ کے گھٹنوں سے ملا کر بیٹھ گئے اور اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر رکھ لیے۔ انھوں نے نبی ﷺ سے اسلام، ایمان، احسان، قیامت کی گھڑی اور اس کی نشانیوں کے بارے میں سوال کیا۔ اور نبی ﷺ انھیں جواب دیتے رہے۔ پھر نبی ﷺ نے (صحابہ کرام سے مخاطب ہو کر) فرمایا: ’’یہ جبریل تھے جو تمھیں تمھارا دین سکھانے آئے تھے۔‘‘[8]۔ [8] صحیح مسلم، کتاب الإیمان، باب بيان الإيمان والإسلام والإحسان ووجوب الإيمان بإثبات قدر الله سبحانه وتعالى، حدیث نمبر: 8۔

اسی طرح وہ فرشتے جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم اور حضرت لوط علیھما السلام کے پاس بھیجا تھا وہ بھی انسان ہی کی شکل میں آئے تھے۔

(4) فرشتوں کے ان اعمال پر ایمان لانا جو ہمیں معلوم ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے انجام دیتے ہیں، مثلا اللہ عز وجل کی تسبیح بیان کرنا اور دن رات مسلسل بغیر تھکاوٹ اور اکتاہٹ کے اس کی عبادت کرنا وغیرہ۔

بعض فرشتے مخصوص اعمال کے لیے مقرر ہیں۔

جیسے جبریل امین: اللہ تعالیٰ کی وحی پہنچانے پر مامور ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی لے کر انھیں اپنے نبیوں اور رسولوں کے پاس بھیجا۔

میکائیل: ان کے ذمہ بارش اور نباتات (یعنی روزی) پہنچانے کا کام ہے۔

اسرافیل: قیامت کی گھڑی اور مخلوق کو دوبارہ زندہ کیے جانے کے وقت صور پھونکنے پر مامور ہیں۔

موت کا فرشتہ: موت کے وقت روح قبض کرنے پر مامور ہے۔

مالک: جہنم پر مامور بلکہ داروغہ جہنم ہے۔

جنین پر مامور فرشتے: اس سے مراد وہ فرستے ہیں جو شکمِ مادر میں جنین (یعنی بچے) پر مامور ہیں: چنانچہ جب انسان ماں کے رحم میں چار ماہ کی مدت پوری کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے پاس ایک فرشتہ بھیجتا ہے اور اسے اس کی روزی، اس کی مدتِ زندگی، اس کے عمل اور اس کے بدبخت یا سعادت مند ہونے کو قلم بند کرنے کا حکم دیتا ہے۔

بنی آدم کے اعمال کی حفاظت پر مامور فرشتے: ہر شخص کے اعمال کی حفاظت اور انھیں لکھنے کے لیے دو فرشتے مقرر ہیں جن میں سے ایک انسان کے دائیں جانب اور دوسرا بائیں جانب رہتا ہے۔

مُردوں سے سوال کرنے پر مامور فرشتے: جب میت کو قبر میں رکھ دیا جاتا ہے تو اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں جو اس سے اس کے رب، اس کے دین اور اس کے نبی کی بابت سوال کرتے ہیں۔

فرشتوں پر ایمان لانے کے ثمرات:

اول: اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی، اس کی قوت اور اس کی سلطنت کا علم۔ یاد رہے مخلوق کی عظمت خالق کی عظمت کی دلیل ہے۔

دوم: بنی آدم پر عنایات کرنے پر اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنا کہ اس نے ان فرشتوں کو بنی آدم کی حفاظت، ان کے اعمال لکھنے اور دیگر مصلحتوں پر مامور فرمایا ہے۔

سوم: فرشتوں سے محبت کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اپنے سپرد کردہ فرائض کی انجام دہی میں مصروف ہیں۔

گمراہوں کی ایک جماعت نے فرشتوں کے مجسم مخلوق ہونے کا انکار کیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ فرشتے دراصل مخلوقات میں موجود خیر و برکت کی (پوشیدہ) قوتوں کا نام ہے لیکن یہ دعویٰ کتاب اللہ، سنتِ رسول اللہ ﷺ اور تمام مسلمانوں کے اجماع کو صریحاً جھٹلانے کے مترادف ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’اس اللہ کے لیے تمام تعریفیں سزاوار ہیں جو (ابتداءً) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے واﻻ اور دو دو تین تین چار چار پروں والے فرشتوں کو اپنا پیغمبر (قاصد) بنانے واﻻ ہے...‘‘ [سورۂ فاطر: 1]۔

اور ایک جگہ ارشاد فرمایا: ’’کاش کہ تو دیکھتا جب کہ فرشتے کافروں کی روح قبض کرتے ہیں ان کے منہ پر اور سرینوں پر مارتے ہیں...‘‘ [سورۂ انفال: 50]۔

اور ایک جگہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’...اور اگر آپ اُس وقت دیکھیں جب کہ یہ ﻇالم لوگ موت کی سختیوں میں ہوں گے اور فرشتے اپنے ہاتھ بڑھا رہے ہوں گے کہ ہاں اپنی جانیں نکالو...‘‘ [سورۂ انعام: 93]۔

ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالی ہے: ’’۔۔یہاں تک کہ جب اُن کے دلوں سے گھبراہٹ دُور کردی جاتی ہے تو پوچھتے ہیں، تمھارے پروردگار نے کیا فرمایا؟ جواب دیتے ہیں کہ حق فرمایا اور وه بلند وباﻻ اور بہت بڑا ہے۔‘‘ [سورۂ سبا: 23]۔

اہلِ جنت کے متعلق اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ’’۔۔۔ان کے پاس فرشتے ہر ہر دروازے سے آئیں گے۔ (کہیں گے کہ) تم پر سلامتی ہو، صبر کے بدلے، کیا ہی اچھا (بدلہ) ہے اس دارِ آخرت کا۔‘‘ [سورۂ رعد: 23-24]۔

صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کو پسند فرماتا ہے تو جبریل علیہ السلام کو پکارتا ہے اور ان سے کہتا ہے کہ بے شک اللہ فلاں بندے کو محبوب رکھتا ہے، اس لیے تم بھی اس سے محبت کرو، تو جبریل علیہ السلام بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔ پھر جبریل علیہ السلام آسمان والوں کو پکارتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فلاں بندے کو محبوب رکھتا ہے، تم لوگ بھی اس سے محبت رکھو، تو تمام آسمان والے بھی اس بندے سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ پھر اس کو زمین پر بھی شرف قبولیت سے نوازا جاتا ہے۔‘‘ [9] [9] صحیح بخاری: كتاب بدء الخلق، باب ذكر الملائكة، حدیث نمبر: 3037، صحیح مسلم : كتاب البر والصلة والآداب، باب إذا أحب الله عبدا، حببه إلى عباده، حدیث نمبر: 2637۔

اور صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک دوسری حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جمعہ کے دن مسجد کے تمام دروازوں پر فرشتے کھڑے ہو جاتے ہیں اور مسجد میں آنے والے نمازیوں (کے ناموں) کا ترتیب وار اندراج کرتے ہیں، پھر جب امام (خطبہ کے لیے منبر پر) بیٹھ جاتا ہے تو وہ بھی اپنے اپنے رجسٹر بند کر کے (اللہ تعالیٰ کا ذکر) سننے کے لیے (مسجد میں) آ جاتے ہیں۔‘‘ [10] [10] صحیح بخاری: كتاب الجمعة، باب الاستماع إلى الخطبة، حدیث نمبر: 887، صحیح مسلم، کتاكتاب الجمعة، باب فضل التهجير يوم الجمعة، حدیث نمبر: 850۔

کتاب و سنت پر مشتمل مذکورہ بالا تمام نصوص اس بات کی صراحت کرتی ہیں کہ فرشتے مجسم مخلوق ہیں، پوشیدہ اور معنوی قوتیں نہیں جیسا کہ بعض گمراہ لوگوں کا کہنا ہے، نیز ان تمام نصوص کے تقاضوں پر تمام مسلمانوں کا اجمع ہے۔

*

کتابوں پر ایمان

کتب: کتاب کی جمع ہے جس کے معنی مکتوب (نوشتہ) کے ہیں۔

یہاں ’’کتب‘‘ سے مراد وہ کتابیں ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی ہدایت ورحمت کے لیے رسولوں پر نازل فرمایا تاکہ ان کے ذریعہ وہ دنیا وآخرت کی سعادت سے بہرہ ور ہو سکیں۔

کتابوں پر ایمان چار امور پر مشتمل ہے:

اول : اس بات پر ایمان کہ ان کتابوں کا اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل ہونا، حق ہے۔

دوم : ان کتابوں میں سے جن کے نام ہمیں معلوم ہیں، مثلا قرآنِ کریم جو کہ حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوا، اور ’’تورات‘‘ کا نزول موسی علیہ السلام پر ہوا۔ ’’انجیل‘‘ عیسی علیہ السلام پر نازل ہوئی اور ’’زبور‘‘ داود علیہ السلام کو دی گئی۔ ان سب پر ایمان لانا نیز ان کے علاوہ جن صحیفوں اور کتابوں کے نام ہمیں معلوم نہیں ان سب پر ہم مجمل ایمان رکھتے ہیں۔

سوم : ان کتابوں کی جو خبریں صحت کے درجہ کو پہنچتی ہیں مثلا قرآن کریم کی تمام اور سابقہ کتابوں کی وہ خبریں جن میں تحریف یا تغیر وتبدل نہیں ہوا، ان کی تصدیق کرنا۔

چہارم : ان کتابوں کے ان جملہ احکام پر برضا و رغبت عمل کرنا جو منسوخ نہیں ہوئے، خواہ ہم ان احکام کی حکمت کا ادراک کر سکے ہوں، یا ہم ایسا کرنے سے قاصر رہے ہوں۔ یاد رہے کہ سابقہ تمام کتابیں قرآنِ کریم کے ذریعہ منسوخ ہو چکی ہیں۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’اور ہم نے آپ کی طرف حق کے ساتھ یہ کتاب نازل فرمائی ہے جو اپنے سے اگلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور ان کی محافظ ہے۔۔۔‘‘ [سورۂ مائدہ: 48]۔ یعنی: ان پر حاکم ہے۔

لہٰذا پہلی کتابوں کے احکام میں سے کسی حکم پر عمل کرنا جائز نہیں ہے الا یہ کہ صحت کے درجہ کو پہنچ جائے، نیز قرآنِ کریم نے اسے منسوخ نہ کیا ہو بلکہ (پہلی حالت پر) برقرار رکھا ہو۔

کتابوں پر ایمان لانے کے چند ثمرات:

اول : بندوں کے تئیں اللہ تعالیٰ کی عنایت کا علم کہ اس نے ہر قوم کی ہدایت کے لیے ایک کتاب نازل فرمائی۔

دوم : شریعت سازی میں اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ کا پتہ چلتا ہے کہ اس نے ہر قوم کے لیے ان کے احوال کے مطابق شریعت مقرر کى۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’۔۔۔تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے ایک دستور اور راه مقرر کردی ہے۔۔۔‘‘ [سورۂ مائدہ: 48]۔

سوم : اس بارے میں اللہ تعالی کی نعمت کا شکر۔

*

رسولوں پر ایمان

’’رسل‘‘ رسول کی جمع ہے۔ اس کے معنی ’’مرسَل‘‘ یعنی ’’پیغمبر‘‘، ’’مبعوث‘‘ اور ’’فرستادہ‘‘ کے ہیں۔ جو کسی شے کو پہنچانے کے لیے بھیجا گیا ہو۔

یاد رہے کہ یہاں ’’رسل‘‘ سے مراد: بشر میں سے وہ ہستیاں ہیں جن کی طرف بذریعہ وحی شریعت نازل کی گئی اور انھیں اس کی تبلیغ کا حکم بھی دیا گیا۔

سب سے پہلے رسول حضرت نوح علیہ السلام، اور آخری رسول حضرت محمد ﷺ ہیں۔

اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’یقیناً ہم نے آپ کی طرف اسی طرح وحی کی ہے جیسے کہ نوح (علیہ السلام) اور ان کے بعد والے نبیوں کی طرف کی...‘‘ [سورۂ نساء: 163]۔

صحیح بخاری میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’(قیامت والے دن) لوگ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے تاکہ وہ ان کے لیے شفاعت کریں لیکن وہ عذر پیش کریں گے اور کہیں گے کہ آپ لوگ نوح علیہ السلام کے پاس جائیں جو پہلے رسول ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے۔‘‘ پھر انھوں نے پوری حدیث بیان کی‘‘۔[11] [11] صحیح بخاري: كتاب التوحيد، باب قَوْلِ اللهِ تَعَالَى: ﴿لِمَا خَلَقۡتُ بِيَدَيَّۖ﴾، حدیث نمبر: 7410۔ صحیح مسلم: كتاب الإيمان، باب أدنى أهل الجنة منزلة فيها، حدیث نمبر: 193۔

اور حضرت محمد ﷺ کے متعلق اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’(لوگو!) محمد تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن آپ اللہ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے...‘‘ [سورۂ احزاب: 40]۔

کوئی بھی اُمت ایسی نہیں گزری جس کی طرف رسول یا نبی نہ آیا ہو بلکہ اللہ تعالیٰ نے یا تو کسی رسول کو ان کی قوم کی طرف مستقل شریعت کے ساتھ مبعوث فرمایا، یا پھر کسی نبی کو ان سے پہلے رسول کی شریعت کی تجدید کے لیے بذریعہ وحی احکامِ شریعت بھیجے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو۔۔۔‘‘ [سورۂ نحل: 36]۔

ایک اور جگہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’...اور کوئی امت ایسی نہیں ہوئی جس میں کوئی ڈر سنانے واﻻ نہ گزرا ہو۔‘‘ [سورۂ فاطر: 24]۔

نیز فرمایا: ’’ہم نے تورات نازل فرمائی ہے جس میں ہدایت ونور ہے، یہودیوں میں اسی تورات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ماننے والے انبیاء (علیہم السلام) فیصلے کرتے تھے...‘‘ [سورۂ مائدہ : 44]۔

تمام رسول بشر اور مخلوق ہیں، ان میں سے کسی میں بھی ربوبیت اور الوہیت کی خصوصیات نہیں پائی جاتیں، حتی کہ حضرت محمد ﷺ, جو کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام رسولوں کے سردار اور مرتبہ کے اعتبار سے سب سے بڑے ہیں، کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ’’آپ فرما دیجیے کہ میں خود اپنی ذات کے لیے بھی کسی نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتا مگر جو اللہ چاہے۔ اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو اپنے لیے بہت سے منافع حاصل کر لیتا اور کوئی نقصان مجھ کو نہ پہنچتا، میں تو محض ڈرانے واﻻ اور بشارت دینے واﻻ ہوں، ان لوگوں کو جو ایمان لائیں۔‘‘ [سورۂ اعراف: 188]۔ ۔

ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’کہہ دیجیے کہ مجھے تمھارے کسی نفع  نقصان کا اختیار نہیں۔ کہہ دیجیے کہ مجھے ہرگز کوئی اللہ سے بچا نہیں سکتا اور میں ہرگز اس کے سوا کوئی جائے پناہ بھی نہیں پا سکتا۔‘‘ [سورۂ جن: 21-22]۔

رسولوں کے ساتھ بھی تمام بشری خصوصیات، مثلا مرض، موت اور کھانے پینے کی حاجت وغیرہ لگی ہوئی تھیں، چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بشری اوصاف کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنے رب تعالیٰ کے متعلق جو کچھ فرمایا تھا، اس کی حکایت قرآنِ کریم میں یوں ہوئی ہے: ’’وہی ہے جو مجھے کھلاتا پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاؤں تو مجھے شفا عطا فرماتا ہے اور وہی مجھے مار ڈالے گا، پھر زندہ کردے گا۔‘‘ [سورۂ شعراء: 79-81]۔

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’میں تو تم جیسا ہی بشر ہوں، جس طرح تم بھولتے ہو اسی طرح میں بھی بھولتا ہوں، پس جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلا دیا کرو۔‘‘ [12]۔ [12] صحیح بخاری: أبواب القبلة، باب التوجه نحو القبلة حيث كان، حدیث نمبر: 392، صحیح مسلم: كتاب المساجد ومواضع الصلاة‘ باب السهو في الصلاة، والسجود له، حدیث نمبر: 572۔

اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی عبودیت کے بلند ترین مقامات سے نوازا ہے، چنانچہ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر ان کى تعریف و ثنا بیان فرمائی، مثال کے طور پر حضرت نوح علیہ السلام کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’۔۔۔وه ہمارا بڑا ہی شکرگزار بنده تھا۔‘‘ [سورۂ اسراء: 3]۔ حضرت محمد ﷺ کے متعلق ارشاد فرمایا: ’’بہت بابرکت ہے وه اللہ جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا تاکہ وه تمام لوگوں کے لیے آگاه کرنے واﻻ بن جائے۔‘‘ [سورۂ فرقان: 1]۔

اسی طرح حضرت ابراہیم اور اسحاق ویعقوب علیھم السلام کے متعلق ارشاد فرمایا: ’’ہمارے بندوں ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کا بھی لوگوں سے ذکر کرو جو بڑی قوت اور بصیرت والے تھے۔ ہم نے اُنھیں ایک خاص بات یعنی آخرت کی یاد کے ساتھ مخصوص کر دیا تھا۔ یہ سب ہمارے نزدیک برگزیدہ اور بہترین لوگ تھے۔‘‘ [سورۂ ص: 45- 47]۔

اور حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے متعلق ارشاد فرمایا: ’’عیسی بھی صرف بنده ہی ہے جس پر ہم نے احسان کیا اور اُسے بنی اسرائیل کے لیے نشانِ (قدرت) بنایا۔‘‘ [سورۂ زخرف: 59]۔

رسولوں پر ایمان چار امور پر مشتمل ہے:

اول : اس بات پر ایمان کہ ان کی رسالت برحق اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے تھی، چنانچہ جس نے ان رسولوں میں سے کسی کی بھی رسالت کا انکار کیا، تو اس نے ان سب کا انکار کیا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے واضح ہے: ’’قومِ نوح نے بھی نبیوں کو جھٹلایا۔‘‘ [سورۂ شعراء: 105] غور کیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ اسلام کی قوم کو تمام رسولوں کو جھٹلانے والی قوم قرار دیا، حالانکہ جس وقت انھوں نے تکذیب کی تھی اس وقت تک حضرت نوح علیہ السلام کے سوا کوئی دوسرا رسول ان کے ہاں نہ آیا تھا۔ بنا بریں جن عیسائیوں نے حضرت محمد ﷺ کو جھٹلایا اور ان کی پیروی نہیں کی، تو انھوں نے حضرت عیسی بن مریم کو بھی جھٹلا دیا اور وہ ان کی اتباع کرنے والوں میں سے بھی نہ رہے، کیوں کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے ان عیسائیوں کو حضرت محمد ﷺ کی آمد کی بشارت دی تھی۔ ان کو اس امر کی بشارت دیئے جانے کا مطلب اس کے سوا اور کچھ نہ تھا کہ حضرت محمد ﷺ ان کی طرف اللہ کے بھیجے ہوئے رسول ہوں گے، اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کے ہاتھوں ان لوگوں کو گمراہیوں سے محفوظ فرمائے گا اور انھیں سیدھی راہ دکھائے گا۔

دوم : ان رسولوں پر ایمان لانا جن کے نام ہمیں معلوم ہیں، مثلا حضرت محمد، ابراہیم، موسی، عیسی اور نوح علیھم الصلاۃ والسلام۔ یہ پانچ اولو العزم رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں دو مقامات پر ان کا تذکرہ فرمایا ہے۔ ارشاد باری تعالٰی ہے: ’’جب کہ ہم نے تمام نبیوں سے عہد لیا اور (بالخصوص) آپ سے اور نوح سے اور ابراہیم سے اور موسیٰ سے اور مریم کے بیٹے عیسیٰ سے اور ہم نے ان سے پختہ عہد لیا۔‘‘ [سورۂ احزاب: 7]۔ مزید ارشادِ الٰہی ہے: ’’اللہ نے تمھارے لیے وہی دین مقرر کردیا ہے جس کے قائم کرنے کا اُس نے نوح کو حکم دیا تھا اور جو (بذریعہ) وحی ہم نے تیری طرف بھیج دیا ہے اور جس کا تاکیدی حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا تھا کہ اس دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا، جس چیز کی طرف آپ انھیں بلا رہے ہیں وه تو مشرکین پر گراں گزرتی ہے، اللہ جسے چاہتا ہے اپنا برگزیده بناتا ہے اور جو بھی اس کی طرف رجوع کرے وه اُس کی صحیح راہنمائی کرتا ہے۔‘‘ [سورۂ شوری: 13]۔

ان برگزیدہ رسولوں کے علاوہ جن انبیاء کرام علیھم السلام کے اسمائے گرامی کا ہمیں علم نہیں‘ ان پر بھی اجمالا ایمان لانا ہم پر لازم ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’یقیناً ہم آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیج چکے ہیں جن میں سے بعض کے (واقعات) ہم آپ کو بیان کر چکے ہیں اور اُن میں سے بعض کے (قصے) تو ہم نے آپ کو بیان ہی نہیں کیے...‘‘ [سورۂ غافر : 78]۔

سوم : ان کی جو خبریں صحیح اور ثابت ہوں‘ ان کی تصدیق کرنا۔

چہارم : ان رسولوں میں سے جو رسول ہمارے پاس تشریف لائے، ان کی شریعت پر عمل کرنا، اور بلاشبہ وہ خاتم الرسل حضرت محمد ﷺ ہیں جو تمام انسانوں کی طرف بھیجے گئے پیغمبر ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! وہ ایماندار نہیں ہو سکتے، جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں اور کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں۔‘‘ [سورۂ نساء: 65]۔

رسولوں پر ایمان لانے کے ثمرات:

اول: بندوں پر اللہ تعالیٰ کی عنایت ورحمت کا علم کہ اس نے اپنے بندوں کی طرف اپنے رسولوں کو محض اس لیے بھیجا کہ وہ انھیں اللہ تعالٰی کے راستے کی طرف رہنمائی کریں اور اللہ کی عبادت کرنے کا طریقہ بیان کریں، کیونکہ صرف عقل انسانی کے ذریعہ ان چیزوں کی معرفت ناممکن ہے۔

دوم : اس بڑی نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے۔

سوم : تمام رسل علیھم السلام کے شایان شان ان کی تعظیم، محبت اور ثنا کرنا کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ رسول ہیں، نیز اس لیے بھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عبادت گزار بندے تھے، اس کی رسالت کی تبلیغ کی اور اس کے بندوں کے ساتھ خیر خواہی کی۔

منکرین رسالت کا نظریہ اور اس کا رد: معاندین نے اس دعوے سے اپنے رسولوں کو جھٹلایا کہ بشر اللہ تعالیٰ کے رسول نہیں ہو سکتے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے ان کے اس زعم کا تذکرہ کرتے ہوئے یوں رد فرمایا: ’’لوگوں کے پاس ہدایت پہنچ چکنے کے بعد ایمان سے روکنے والی صرف یہی چیز رہی کہ انھوں نے کہا: کیا اللہ نے ایک بشر کو رسول بنا کر بھیجا ہے؟ آپ کہہ دیں کہ اگر زمین میں فرشتے چلتے پھرتے اور رہتے بستے ہوتے تو ہم بھی ان کے پاس کسی آسمانی فرشتے ہی کو رسول بنا کر بھیجتے۔‘‘ [سورۂ اسراء: 94-95]۔

اس گمان کا رد کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ چونکہ زمین کے باشندے بشر ہیں، اور رسول انھی کی طرف بھیجے گئے ہیں، لہذا ان رسولوں کا بشر ہونا ضروری ہے اور اگر زمین کے باشندے فرشتے ہوتے تو اللہ تعالیٰ یقینا ان پر آسمان سے کسی فرشتے ہی کو رسول بنا کر نازل فرماتا تاکہ وہ ان جیسا ہی ہو۔ اسى طرح قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو جھٹلانے والوں کا قول یوں نقل فرمایا ہے: ’’۔۔تم تو ہم جیسے ہی انسان ہو تم چاہتے ہو کہ ہمیں ان خداؤں کی عبادت سے روک دو جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے رہے۔ اچھا تو ہمارے سامنے کوئی کھلی دلیل پیش کرو۔ ان کے پیغمبروں نے ان سے کہا کہ یہ تو سچ ہے کہ ہم تم جیسے ہی انسان ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنا فضل کرتا ہے۔ اللہ کے حکم کے بغیر ہماری مجال نہیں کہ ہم کوئی معجزہ تمھیں لا دکھائیں۔۔۔‘‘ [سورۂ ابراہیم: 10-11]۔

*

یومِ آخرت پر ایمان

’’یومِ آخرت‘‘ سے مراد روزِ قیامت ہے۔ جس دن لوگوں کو ان کے اعمال کے حساب وجزا کے لیے دوبارہ اٹھایا جائے گا۔

اس دن کا نام ’’یومِ آخرت‘‘ اس لیے ہے کہ اس کے بعد کوئی دوسرا دن نہ ہوگا، کیونکہ تمام اہلِ جنت اور اہلِ جہنم اپنے اپنے ٹھکانوں میں قرار پا چکے ہوں گے۔

آخرت کے دن پر ایمان تین امور پر مشتمل ہے:

اول: دوبارہ اٹھائے جانے پر ایمان لانا۔ دوبارہ اٹھائے جانے سے مراد دوسری بار صور پھونکتے وقت مردوں کو زندہ کرنا ہے، چنانچہ تمام لوگ بغیر جوتوں کے ننگے پاؤں، بغیر لباس کے ننگے جسم، اور بغیر ختنوں کے اللہ رب العالمین کے حضور کھڑے ہو جائیں گے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’۔۔۔جیسے کہ ہم نے اول دفعہ پیدائش کی تھی اسی طرح دوباره کریں گے۔ یہ ہمارے ذمے وعده ہے اور ہم اسے ضرور کر کے (ہی) رہیں گے۔‘‘ [سورۂ انبیاء: 104]۔

دوبارہ اٹھایا جانا بر حق اور ثابت ہے، کتاب اللہ، سنتِ رسول اور مسلمانوں کا اجماع سب اس کے ثبوت پر دلالت کرتے ہیں۔

اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے: ’’اس کے بعد پھر تم سب یقیناً مر جانے والے ہو. پھر قیامت کے دن بلاشبہ تم سب اٹھائے جاؤ گے.‘‘ [سورۂ مؤمنون: 15-16]۔

نبی ﷺ نے فرمایا: ’’قیامت کے دن لوگوں کو ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بغیر ختنے کے جمع کیا جائے گا۔‘‘ متفق علیہ۔ [13] صحیح مسلم، كتاب الجنة، وصفة نعيمها وأهلها، باب فناء الدنيا، وبيان الحشر يوم القيامة، حدیث نمبر: 2859۔

اس کے ثبوت پر مسلمانوں کا اجماع ہے، اور حکمت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی اس مخلوق کو دوبارہ زندہ کرے اور اپنے رسولوں کے ذریعے اس نے ان پر جو فرائض عائد کیے تھے، ان کی انھیں جزاء دے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’کیا تم یہ گمان کیے ہوئے ہو کہ ہم نے تمھیں یوں ہی بیکار پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹائے ہی نہ جاؤ گے۔‘‘ [سورۂ مؤمنون: 115]۔ اور اپنے پیغمبر ﷺ سے فرمایا: ’’جس اللہ نے آپ پر قرآن نازل فرمایا ہے وه آپ کو دوباره پہلی جگہ ﻻنے واﻻ ہے۔۔۔‘‘ [سورۂ قصص: 85]۔

دوم: حساب وجزا پر ایمان لانا، یعنی بندے کے تمام اعمال کا حساب ہو گا اور اس کے مطابق اسے پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اس کے ثبوت پر بھی کتاب وسنت اور مسلمانوں کا اجماع دلالت کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’بے شک ہماری طرف ان کا لوٹنا ہے۔ پھر بے شک ہمارے ذمہ ہے ان سے حساب لینا ہے"۔ [سورۂ غاشیہ: 25-26]۔ ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالى ہے: ’’جو شخص نیک کام کرے گا، اُس کو اُس کے دس گنا ملیں گے اور جو شخص برا کام کرے گا، اس کو اس کے برابر ہی سزا ملے گی اور ان لوگوں پر ﻇلم نہ ہوگا۔‘‘ [سورۂ انعام: 160]۔ ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اور قیامت کے دن ہم (لوگوں کے اعمال تولنے کے لیے) میزانِ عدل قائم کریں گے۔ پھر کسی پر کچھ بھی ﻇلم نہ کیا جائے گا۔ اور اگر ایک رائی کے دانے کے برابر بھی عمل ہوگا ہم اسے ﻻ حاضر کریں گے، اور ہم کافی ہیں حساب کرنے والے۔‘‘ [سورۂ انبیاء: 47]۔

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’قیامت کے روز اللہ تعالیٰ مومن شخص کو اپنے قریب بلا کر اپنے پردے سے ڈھانپ لے گا اور اس سے پوچھے گا کہ کیا تو یہ اور یہ گناہ جانتا ہے؟ وہ جواب دے گا، ہاں، اے میرے رب! یہاں تک کہ جب وہ اپنے گناہوں کے اقرار کے بعد یہ سمجھ لے گا کہ وہ تو تباہ و برباد ہو گیا ہے، تو اللہ فرمائے گا: میں نے دنیا میں تیرے ان گناہوں کی پردہ پوشی کی تھی، آج میں تیرے ان گناہوں کو معاف کرتا ہوں، چنانچہ اس کو اس کی نیکیوں کا اعمال نامہ دے دیا جائے گا، لیکن کفار اور منافقین کو علی الاعلان تمام مخلوق کے سامنے بلا کر یہ کہا جائے گا: ’’یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب کو جھٹلایا، خبردار ظالموں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔‘‘ [14] متفق علیہ۔ [14] صحیح بخاری: كتاب المظالم، باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: ﴿أَلَا لَعۡنَةُ ٱللَّهِ عَلَى ٱلظَّٰلِمِينَ﴾، حدیث نمبر: 2309، صحیح مسلم: كتاب التوبة، باب قبول توبة القاتل، وإن كثر قتله، حدیث نمبر: 2768۔

اور نبی ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا: ”جس کسی نے نیکی کا ارادہ کرنے کے بعد اس پر عمل کیا تو اللہ تعالیٰ اس ایک نیکی کو اپنے ہاں دس گنا سے سات سو گنا، بلکہ اس سے بھی کئی گنا زیادہ نیکیاں لکھ دیتا ہے، اور جب کوئی کسی بدی کا ارادہ کر کے اس پر عمل بھی کر گزرے، تو اللہ تعالیٰ (اس کے نامہ اعمال میں) صرف ایک ہی بدی لکھتا ہے۔‘‘ [15] [15] صحیح مسلم، كتاب الإيمان، باب إذا هم العبد بحسنة كتبت وإذا هم بسيئة لم تكتب، حدیث نمبر: 131۔

قیامت کے روز تمام انسانی اعمال کے حساب وکتاب اور ان کی جزا وسزا کے اثبات پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے اور حکمت کا تقاضا بھی یہی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کتابیں نازل کیں اور رسول بھیجے، جو احکامِ شریعت وہ لائے تھے انھیں قبول کرنا اور ان میں سے جن احکام پر عمل کرنا واجب ہے، ان پر عمل کرنا بندوں پر فرض کیا۔ جو لوگ اس کی شریعت کے مخالف ہیں، اُن کے ساتھ قتال کو واجب قرار دیا، ان کے خون، ان کی اولاد، ان کی عورتوں اور ان کے مالوں کو حلال قرار دیا۔ تو اگر ان تمام اعمال کا حساب کتاب ہی نہ ہو اور نہ ان کے مطابق جزا وسزا دی جائے تو یہ تمام احکام بے کار اور مہمل قرار پاتے حالانکہ تمام جہانوں کا پروردگار تو ہر عبث چیز سے منزہ ہے، چنانچہ اس حقیقت کی طرف اللہ تعالیٰ نے یوں اشارہ فرمایا ہے: ’’پھر ہم اُن لوگوں سے ضرور پوچھیں گے جن کے پاس پیغمبر بھیجے گئے تھے اور ہم پیغمبروں سے بھی ضرور پوچھیں گے۔ پھر یقینا ہم اپنے علم سے (ان کے حالات) اُن کے روبرو بیان کردیں گے۔ اور ہم کچھ بے خبر نہ تھے۔‘‘ [سورۂ اعراف: 6- 7]۔

سوم: جنت اور جہنم پر ایمان لانا، یعنی یہ دونوں مخلوق کے ابدی ٹھکانے ہیں۔

سو جنت نعمتوں کا گھر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے تقوی اختیار کرنے والے ان مومنوں کے لیے بنایا ہے جو ان چیزوں پر ایمان لائے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے ان پر واجب ٹھہرایا، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کی، اور اللہ تعالیٰ کے لیے مخلص اور اس کے رسول کے پیروکار ٹھہرے۔ ان کے لیے جنت میں طرح طرح کی نعمتیں ہیں۔ ایک حدیث میں ہے: ’’جسے نہ تو کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال تک گزرا۔‘‘ [16] اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’بے شک جو لوگ ایمان ﻻئے اور نیک عمل کیے یہ لوگ بہترین خلائق ہیں۔ ان کا بدلہ ان کے رب کے ہاں ہمیشگی والی جنت ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اس سے راضی ہوئے۔ یہ اس کے لیے ہے جو اپنے پروردگا سے ڈرے۔‘‘ [سورۂ بینہ: 7-8]۔ اللہ تعالى کا فرمان ہے: ’’کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لیے پوشیده کر رکھی ہے، جو کچھ وہ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے۔‘‘ [سورۂ سجدہ: 17]۔ [16] صحیح بخاری: كتاب التفسير، باب قوله: ﴿فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٞ مَّآ أُخۡفِيَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعۡيُنٖ﴾، حدیث نمبر: 4501، صحیح مسلم: كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها، حدیث نمبر: 2824۔

’’جہنم‘‘ عذاب کا گھر ہے، اسے اللہ تعالیٰ نے ان ظالم کافروں کے لیے بنایا ہے جنھوں نے اس کے ساتھ کفر کیا اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی۔ جہنم میں طرح طرح کا عذاب اور سامان عبرت ہے، کوئی دل ان ہولناکیوں کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’اور اس آگ سے ڈرو جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔‘‘ [سورۂ آل عمران: 131]۔ ایک جگہ یوں فرمایا: ’’اور اعلان کردے کہ یہ سراسر برحق قرآن تمھارے رب کی طرف سے ہے۔ اب جو چاہے ایمان ﻻئے اور جو چاہے کفر کرے۔ ﻇالموں کے لیے ہم نے وه آگ تیار کر رکھی ہے جس کی قناتیں انھیں گھیر لیں گی۔ اگر وه فریاد رسی چاہیں گے تو ان کی فریاد رسی اس پانی سے کی جائے گی جو تیل کی تلچھٹ جیسا ہوگا جو چہرے بھون دے گا، بڑا ہی برا پانی ہے اور بڑی بری آرام گاه، یعنی دوزخ  ہے۔‘‘ [سورۂ کھف: 29]۔ ایک اور مقام پر ارشادِ باری تعالی ہے: ’’اللہ نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے، جس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔ وہ کوئی حامی ومددگار نہ پائیں گے۔ اس دن ان کے چہرے آگ میں اُلٹ پلٹ کئے جائیں گے۔ (حسرت و افسوس سے) کہیں گے کہ کاش! ہم اللہ اور رسول کی اطاعت کرتے۔‘‘ [سورۂ احزاب: 64 -66]۔

یومِ آخرت پر ایمان کے ثمرات:

اول: اس دن کے اجر وثواب کی امید وطلب میں اطاعت وفرمانبرداری کی رغبت اور اس کی حرص۔

دوم: اس دن کے عذاب سے بچنے کے لیے نافرمانی سے بے تعلقی اور بے زاری۔

سوم: آخرت کی نعمتوں اور ثواب کی امید پر مومنوں کے لیے دنیاوی نعمتوں سے محرومی پر تسلی۔

کافروں نے موت کے بعد دوباره اٹھائے جانے کا انکار کیا، ان کا خیال ہے کہ موت کے بعد دوبارہ زندہ کیا جانا ناممکن ہے۔

لیکن ان کا یہ گمان قطعا باطل ہے، شریعت، حس اور عقل اس کے بطلان پر دلالت کرتی ہیں۔

شرعی نصوص سے منکرینِ بعث کا رد: اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے : ’’ان کافروں نے خیال کیا ہے کہ دوباره زنده نہ کیے جائیں گے۔ آپ کہہ دیجیے کہ کیوں نہیں اللہ کی قسم! تم ضرور دوباره اٹھائے جاؤ گے، پھر جو تم نے کیا ہے اس کی خبر دیے جاؤ گے اور اللہ پر یہ بالکل ہی آسان ہے۔‘‘ [سورۂ تغابن: 7]۔ نیز تمام آسمانی کتابیں اس امر پر متفق ہیں۔

حسی دلیل سے منکرین بعث کا رد: اللہ تعالیٰ نے اسی دنیا میں مُردوں کو دوبارہ زندہ کرکے اپنے بندوں کو اس چیز کا مشاہدہ کروادیا ہے، چنانچہ سورۃ البقرۃ میں اس کی پانچ مثالیں مذکور ہیں، جو کہ درج ذیل ہیں :

پہلی مثال: قوم موسی نے جب ان سے کہا کہ اے موسیٰ! ’’۔۔۔ جب تک ہم اپنے رب کو سامنے نہ دیکھ لیں ہرگز ایمان نہ ﻻئیں گے۔۔۔‘‘ [سورۂ بقرہ: 55] چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو مار ڈالا، پھر اُن کو دوبارہ زندگی بخشی۔ چنانچہ اسی واقعہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: ’’اور (تم یاد کرو) جب تم نے موسیٰ سے کہا تھا کہ جب تک ہم اپنے رب کو سامنے نہ دیکھ لیں ہرگز ایمان نہ ﻻئیں گے (جس گستاخی کی سزا میں) تم پر تمھارے دیکھتے ہوئے بجلی گری۔ پھر اس لیے کہ تم شکر گزاری کرو، اس موت کے بعد بھی ہم نے تمھیں زندہ کر دیا۔‘‘ [سورۂ بقرہ: 55-56]۔

دوسری مثال: اس ’’مقتول‘‘کی ہے جس کے ناحق مارے جانے کی ذمہ داری بنی اسرائیل میں سے کسی نے قبول نہ کی، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انھیں گائے ذبح کرنے اور اس کے ایک ٹکڑے کو میت پر مارنے کا حکم دیا تاکہ وہ انھیں اپنے قاتل کی خبر دے۔ اس قصہ کو اللہ تعالیٰ نے یوں بیان فرمایا ہے: ’’جب تم نے ایک شخص کو قتل کر ڈاﻻ، پھر اس میں اختلاف کرنے لگے اور جو کچھ تم چھپاتے تھے اللہ اس کو ﻇاہر کرنے واﻻ تھا۔ ہم نے کہا کہ اس گائے کا ایک ٹکڑا مقتول کے جسم پر لگادو، (وہ جی اٹھے گا) اسی طرح اللہ مردوں کو زندہ کر کے تمھیں تمھاری عقل مندی کے لیے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے۔‘‘ [سورۂ بقرہ: 72-73]۔

تیسری مثال: اس قصے کی ہے جس میں بنی اسرائیل کی کئی ہزار افراد پر مشتمل ایک قوم موت کے خوف سے اپنی بستیوں کو چھوڑ کر بھاگ کھڑی ہوئی تھی، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے (ان پر یہ واضح کرنے کے لیے کہ موت سے کسی کو فرار حاصل نہیں ہے) ان سب کو موت کی نیند سلا دیا، پھر ان کو زندہ فرمایا۔ اس واقعہ کا تذکرہ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا ہے: ’’کیا تم نے انھیں نہیں دیکھا جو ہزاروں کی تعداد میں تھے اور موت کے ڈر کے مارے اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے تھے، اللہ نے انھیں فرمایا: مرجاؤ، پھر انھیں زنده کردیا، بے شک اللہ لوگوں پر بڑے فضل واﻻ ہے، لیکن اکثر لوگ ناشکرے ہیں۔‘‘ [سورۂ بقرہ: 243]۔

چوتھی مثال: اس قصے کی ہے جس میں ایک شخص کا گزر کسی ویران اور تباہ شدہ بستی سے ہوا، بستی کی حالت دیکھ کر اسے یہ حیرت ہوئی کہ اللہ تعالیٰ اس بستی والوں کو (روز قیامت) کس طرح زندہ فرمائے گا؟ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کی روح بھی قبض کر لی اور اسے سو سال تک مردہ رکھا، پھر اس کو زندہ فرمایا۔ قرآنِ کریم میں اس واقعہ کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا ہے: ’’یا اس شخص کے مانند کہ جس کا گزر اس بستی پر ہوا جو چھت کے بل اوندھی پڑی ہوئی تھی، وه کہنے لگا: اس کی موت کے بعد اللہ تعالیٰ اسے کس طرح زنده کرے گا؟ تو اللہ تعالی نے اسے مار دیا سو سال کے لیے، پھر اسے اٹھایا، پوچھا کتنی مدت تجھ پر گزری؟ کہنے لگا ایک دن یا دن کا کچھ حصہ، فرمایا بلکہ تو سو سال تک رہا، اب تو اپنے کھانے پینے کو دیکھ کہ بالکل خراب نہیں ہوا اور اپنے گدھے کو بھی دیکھ، ہم تجھے لوگوں کے لیے ایک نشانی بناتے ہیں تو دیکھ کہ ہم ہڈیوں کو کس طرح اٹھاتے ہیں، پھر ان پر گوشت چڑھاتے ہیں، جب یہ سب ﻇاہر ہو چکا تو کہنے لگا: میں جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ [سورۂ بقرہ: 259]۔

پانچویں مثال: حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے اس قصہ کی ہے جس میں انھوں نے اللہ تعالیٰ سے مردوں کو زندہ کرنے کی قدرت کا مشاہدہ کرنے کی درخواست کی تھی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں چار پرندوں کو ذبح کر کے ان کے جسم کے ٹکڑے (آپس میں ملا کر) آس پاس کے پہاڑوں پر منتشر کر دینے اور پھر ان کو آواز دینے کا حکم دیا، چنانچہ تمام ٹکڑے ایک دوسرے سے جڑ کر دوڑتے ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آگئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کا تذکرہ قرآنِ کریم میں ان الفاظ میں فرمایا ہے: ’’اور جب ابراہیم  نے کہا کہ اے میرے پروردگار! مجھے دکھا تو مُردوں کو کس طرح زنده کرے گا؟ (جناب باری تعالیٰ نے) فرمایا: کیا تمھیں ایمان نہیں؟ جواب دیا: ایمان تو ہے لیکن میرے دل کی تسکین ہو جائے گی، فرمایا: چار پرندے لو، ان کے ٹکڑے کر ڈالو، پھر ہر پہاڑ پر ان کا ایک ایک ٹکڑا رکھ دو، پھر انھیں پکارو، وہ تمھارے پاس دوڑتے ہوئے آجائیں گے اور جان رکھو کہ اللہ غالب ہے حکمتوں واﻻ ہے۔‘‘ [سورۂ بقرہ: 260]۔

یہ چند ایسی حسی اور حقيقی مثالیں ہیں جو مردوں کے دوبارہ زندہ کیے جانے پر واضح طور پر دلالت کرتی ہیں۔ ان واقعات سے پہلے ہم اللہ تعالیٰ کی جانب سے عیسی ابن مریم علیہ السلام کو عطا کردہ نبوت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی (یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم سے مردوں کو زندہ کرنے اور انھیں قبروں سے نکالنے) کی طرف بھی اشارہ کر چکے ہیں۔

عقلی دلائل دو قسم کے ہیں:

اول: بے شک اللہ تعالیٰ نے آسمانوں وزمین اور جو کچھ ان میں ہے، سب کو پہلی بار (یعنی بغیر کسی سابقہ مثال کے) پیدا کیا۔ ظاہر ہے کہ جو ہستی مخلوق کو پہلی مرتبہ پیدا کرنے پر قادر ہو، وہ اس کو دوبارہ زندہ کرنے سے عاجز نہیں ہو سکتی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اور وہی ہے جو اول بار مخلوق کو پیدا کرتا ہے، پھر اسے دوباره پیدا کرے گا اور یہ تو اس پر بہت ہی آسان ہے۔۔۔‘‘ [سورۂ روم: 27]۔ نیز فرمان باری تعالى ہے: ’’... جیسے کہ ہم نے اول دفعہ پیدائش کی تھی اسی طرح دوباره کریں گے۔ یہ ہمارے ذمے وعده ہے اور ہم اسے ضرور کر کے (ہی) رہیں گے۔‘‘ [سورۂ انبیاء: 104]۔ جن لوگوں نے بوسیدہ اور گلی سڑی ہڈیوں کے دوبارہ زندہ ہونے کا انکار کیا تھا ان کا رد کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’آپ جواب دیجیے کہ اُنھیں وه زنده کرے گا جس نے اُنھیں اول مرتبہ پیدا کیا ہے، اور وہ سب طرح کی پیدائش کا بخوبی جاننے واﻻ ہے۔‘‘ [سورۂ یس: 79]۔

دوم: زمین سخت بنجر اور مردار ہوتی ہے جس میں کوئی ہرا بھرا درخت نہیں ہوتا لیکن اللہ تعالیٰ اس پر بارش برساتا ہے تو اس پر خوش وخرم اور شادماں جوڑوں کی شکل میں سبزہ لہلہا اُٹھتا ہے ۔تو جو بنجر ہونے کے بعد اس زمین کو زندہ کرنے پر قادر ہے وہ مردوں کو دوبارہ زندگی بخشنے پر بھی قدرت رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اُس اللہ کی نشانیوں میں سے (یہ بھی) ہے کہ تو زمین کو دبی دبائی دیکھتا ہے، پھر جب ہم اُس پر مینہ برساتے ہیں تو وه تر وتازه ہوکر اُبھرنے لگتی ہے۔ جس نے اسے زنده کیا وہی یقینی طور پر مُردوں کو بھی زنده کرنے واﻻ ہے، بے شک وه ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ [سورۂ فصلت: 39]۔ ایک اور جگہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’اور ہم نے آسمان سے بابرکت پانی برسایا اور اُس سے باغات اور کٹنے والے کھیت کے غلے پیدا کیے۔ اور کھجوروں کے بلند و بالا درخت جن کے خوشے تہ بہ تہ ہیں۔ بندوں کی روزی کے لیے اور ہم نے پانی سے مردہ شہر کو زندہ کردیا۔ اسی طرح (قبروں سے) نکلنا ہے۔‘‘ [سورۂ ق: 9-11]۔

موت کے بعد پیش آنے والی تمام کیفیات پر ایمان لانا یومِ آخرت پر ایمان لانے میں شامل ہے‘ مثلا:

(1) فتنۂ قبر: یعنی تدفین کے بعد میت سے اس کے رب، اس کے دین اور اس کے نبی کے متعلق سوال کیا جائے گا، تو اہلِ ایمان کو اللہ تعالیٰ صحیح اور مضبوط بات کے ساتھ ثابت قدم رکھے گا، چنانچہ فوت ہونے والا جواب دے گا: ’’میرا رب اللہ ہے، میرا دین اسلام ہے اور محمد ﷺ میرے نبی ہیں۔‘‘ اس کے برعکس ظالموں کو اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے گا، چنانچہ کافر کہے گا: ’’افسوس ہائے افسوس! میں کچھ نہیں جانتا‘‘۔ اور منافق یا دین میں شک کرنے والا کہے گا: ’’میں نہیں جانتا، میں نے لوگوں کو کچھ کہتے ہوئے سُنا تو میں نے بھی کہہ دیا۔‘‘

قبر کا عذاب اور اس کی نعمتیں: ظالموں یعنی منافقین اور کافروں کے لیے ’’عذابِ قبر‘‘ مقرر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’...اور اگر آپ اس وقت دیکھیں جب کہ یہ ﻇالم لوگ موت کی سختیوں میں ہوں گے اور فرشتے اپنے ہاتھ بڑھا رہے ہوں گے کہ ہاں اپنی جانیں نکالو۔ آج تم کو ذلت کی سزا دی جائے گی، اس سبب سے کہ تم اللہ کے ذمہ جھوٹی باتیں لگاتے تھے، اور تم اللہ کی آیات سے تکبر کرتے تھے۔‘‘ [سورۂ انعام: 93]۔

آلِ فرعون کے متعلق ارشاد باری تعالى ہے: ’’آگ ہے جس کے سامنے یہ ہر صبح شام ﻻئے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہوگی (فرمان ہوگا کہ) فرعونیوں کو سخت ترین عذاب میں ڈالو۔‘‘ [سورۂ غافر: 46]۔

صحیح مسلم میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "اگر میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں کہ تمھیں عذابِ قبر میں سے وہ سنا دے جو کہ میں نے سنا ہے تو تم (ایک دوسرے کو) ہرگز دفن نہ کرو گے"۔ پھر آپ نے اپنا رخ پھیر کر فرمایا: ’’عذابِ جہنم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو‘‘۔ صحابہ  نے کہا: ہم جہنم کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’عذابِ قبر سے اللہ کی پناہ مانگو۔‘‘ صحابہ  نے کہا: ہم قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تم ظاہری اور باطنی تمام آزمائشوں سے اللہ کی پناہ مانگو۔‘‘ صحابہ نے کہا: ہم ظاہری اور باطنی تمام فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’دجال کے فتنہ سے اللہ کی پناہ مانگو۔‘‘ صحابہ نے کہا: ہم دجال کے فتنہ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ [17] [17] صحیح مسلم: كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها، باب عرض مقعد الميت من الجنة أو النار عليه وإثبات عذاب القبر والتعوذ منه، حدیث نمبر: 2867۔

جہاں تک ’’قبر کی نعمتوں‘‘ کا تعلق ہے تو یہ صرف سچے مومنوں کے لیے مقرر ہے۔ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’(واقعی) جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے، پھر اسی پر قائم رہے۔ اُن کے پاس فرشتے (یہ کہتے ہوئے) آتے ہیں کہ تم کچھ بھی اندیشہ اور غم نہ کرو (بلکہ) اُس جنت کی بشارت سن لو جس کا تم وعده دیے گئے ہو۔‘‘ [سورۂ فصّلت: 30]۔

ایک اور جگہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’پس جب کہ روح نرخرے تک پہنچ جائے اور تم اُس وقت دیکھ رہے ہو تے ہو۔ ہم اُس شخص سے بہ نسبت تمھارے بہت زیادہ قریب ہوتے ہیں۔ لیکن تم نہیں دیکھ سکتے۔ پس اگر تم کسی کے زیر فرمان نہیں اور اس قول میں سچھ ہو تو (ذرا) اُس روح کو تو لوٹاؤ۔ پس جو کوئی بارگاہِ الٰہی سے قریب کیا ہوا ہوگا۔ اُسے تو راحت ہے اور غزائیں ہیں اور آرام والی جنت ہے۔‘‘ [سورۂ واقعۃ: 83-89]۔

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ایک طویل حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے مومن کے متعلق فرمایا کہ جب وہ اپنی قبر میں فرشتوں کے سوالات کا جواب دے چکے گا: ’’تو آسمان سے ایک پکارنے والا پکارے گا کہ سچ کہا میرے بندے نے، لہذا اس کے لیے جنت کا فرش بچھاؤ، اسے جنت کا لباس پہناؤ، اور اس کے لیے جنت کی طرف دروازہ کھول دو، چنانچہ اس کے پاس جنت کی ہوا اور خوشبو آنے لگے گی اور اس کی قبر جہاں تک نگاہ جائے گی (وہاں تک) کشادہ کر دی جائے گی۔‘‘ اسے امام احمد اور ابو داؤد نے ایک طویل حدیث میں روایت کیا ہے۔ [18] [18] ابو داود، كتاب السنة، باب المسألة في القبر وعذاب القبر، حدیث نمبر: 4753،  احمد، مسند الکوفيين، حدیث نمبر: 18534، حدیث براء بن عازب رضی اللہ عنہ۔

بدنیت اور منحرف لوگوں کا ایک گروہ گمراہی کا شکار ہوا۔ چنانچہ انھوں نے اس زعم میں قبر کے عذاب اور اس کی راحتوں کا انکار کیا کہ یہ ایک خلاف واقعہ اور ناممکن امر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر قبر کھول کر مُردے کی حالت ديكهى جائے تو وہ اسی حالت میں پایا جاتا ہے جس میں وہ دفن کیا گیا تھا، نیز قبر میں کشادگی یا تنگی جیسی کوئی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آتی۔

گمان شریعت، حس اور عقل کی رو سے باطل ہے۔

شریعت کی رو سے اس کا رد: ’’عذاب قبر اور اس کی نعمتوں‘‘ پر دلالت کرنے والے شرعی دلائل کا ذکر ہو چکا ہے۔

اور صحیح بخاری میں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: ’’نبی ﷺ مدینہ منورہ کے کسی باغ سے نکلے، تو آپ نے دو انسانوں کی آوازیں سنیں جن کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جا رہا تھا۔‘‘ پھر پوری حدیث ذکر کی، جس میں آیا ہے: ’’ان میں سے ایک تو پیشاب کرتے وقت چھینٹوں سے پرہیز نہیں کرتا تھا۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے: "اپنے پیشاب سے"۔ ’’اور دوسرا شخص چغل خور تھا۔‘‘ صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے: ’’پیشاب سے بچنے کا اہتمام نہیں کرتا تھا‘‘ [19]. [19] صحیح بخاری: کتاب الوضوء، باب ما جاء في غسل البول، حدیث نمبر: 215۔

حسی اعتبار سے اس کا رد: سونے والا شخص کبھی خواب میں دیکھتا ہے کہ وہ بہت وسیع، پر فضا اور خوش کن مقام پر ہے اور وہاں طرح طرح کی نعمتوں اور راحتوں سے لطف اندوز ہو رہا ہے (تو وہ اپنے اندر فرحت و شادمانی محسوس کرتا ہے) اور اگر وہ یہ دیکھتا ہے کہ وہ وحشت ناک اور تنگ وتاریک جگہ پر ہے اور اس سے تکلیف محسوس کر رہا ہے (تو وہ غمگین اور رنجیدہ ہو جاتا ہے۔) کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ خواب دیکھنے والا شخص اپنے خواب سے چونک کر بیدار ہوجاتا ہے، حالانکہ وہ اپنے گھر کے کمرے میں اپنے ہی بستر پر لیٹا ہوتا ہے, اور نیند تو موت کی بہن ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس کا نام "وفات" رکھا ہے، اللہ تعالی فرماتا ہے: ’’اللہ ہی روحوں کو ان کی موت کے وقت اور جن کی موت نہیں آئی، انھیں ان کی نیند کے وقت قبض کر لیتا ہے، پھر جن پر موت کا حکم لگ چکا ہے۔ انھیں تو روک لیتا ہے اور دوسری (روحوں) کو ایک مقرر وقت تک کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔۔۔‘‘ [سورۂ زمر: 42]۔

عقلی اعتبار سے اس کا رد: سونے والا کبھی اپنے خواب میں واقع کے مطابق سچے خواب بھی دیکھتا ہے اور کبھی اصلی شکل وصورت میں نبی ﷺ کی زیارت بھی کر لیتا ہے، اور جس نے رسول اللہ ﷺ کو آپ کے اوصاف کے مطابق دیکھا بلاشبہ اس نے آپ ہی کو دیکھا، حالانکہ سونے والا جسے خواب میں دیکھتا ہے، اس سے بہت دور اپنے کمرے کے بستر پر محو خواب ہوتا ہے۔ اگر یہ تمام چیزیں دنیاوی حالات میں ممکن ہیں تو احوال آخرت میں کیسے ناممکن ہو سکتی ہیں؟

جہاں تک ان کے اپنے اس دعوے پر اعتماد کا تعلق ہے کہ اگر قبر کو کھول کر مُردے کی حالت کو دیکھا جائے تو وہ اسی حالت میں نظر آتا ہے جس میں وہ دفن کیا گیا تھا، نیز قبر میں کسی قسم کی کشادگی یا تنگی بھی نظر نہیں آتی، تو اس کا جواب کئی ایک طرح سے دیا جا سکتا ہے:

اول: شریعت میں جو کچھ وارد ہوا ہے اس کا اس طرح کے باطل اور گمراہ کن شبہات کے ذریعہ مقابلہ کرنا ہر گز جائز نہیں ہے۔ ان شبہات کے ذریعہ شریعت پر اعتراض کرنے والا شخص اگر شریعت میں وارد نصوص و دلائل میں کما حقہ غور وفکر کرے تو اس پر ان شبہات کا بطلان واضح ہو جائے گا۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:

کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو اپنے بیمار فہم وادراک کی وجہ سے صحیح باتوں میں

طعن و تشنیع اور عیب جوئی کرتے ہیں۔

دوم: عالمِ برزخ کے احوال کا تعلق غیبی امور سے ہے، حس سے ان کا ادراک ممکن نہیں۔ اگر حس کے ذریعے سے ان کی حقیقت کا جاننا ممکن ہوتا تو ’’ایمان بالغیب‘‘کا سرے سے کوئی فائدہ ہی باقی نہیں رہتا بلکہ اس طرح تو غیب پر ایمان لانے والے اور اس کا انکار کرنے والے، دونوں ہی برابر ہو جاتے۔

سوم: قبر میں عذاب وراحت یا کشادگی وتنگی کی کیفیات صرف میت ہی محسوس کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی دوسرا شخص ان کیفیات کا ادراک نہیں کر سکتا۔ اس کی مثال بالکل اس شخص کے خواب کی سی ہے جو نیند کی حالت میں کوئی بے حد تنگ وتاریک اور وحشت ناک مقام، یا نہایت دلفریب اور کشادہ جگہ دیکھتا ہے، (اور خواب کے احوال کے مطابق غمگین یا خوش ہوتا ہے) لیکن اس کے برعکس اس کے آس پاس کا ہر شخص ان تمام تر کیفیات سے پر بے خبر رہتا ہے۔ اس کی ایک اور واضح مثال یہ بھی ہے کہ نبی ﷺ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی نازل ہوتی تھی اور آپ اپنے صحابہ کے درمیان موجود ہوا کرتے تھے لیکن وحی کو صرف آپ ﷺ ہی سن پاتے تھے جب کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو وہ وحی سنائی ہی نہیں دیتی تھی۔ کبھی تو فرشتہ انسانی شکل میں حاضر ہو کر آپ ﷺ سے گفتگو بھی کرتا تھا لیکن صحابہ کرام نہ اس فرشتے کو دیکھ پاتے تھے اور نہ ہی اس کی باتیں سن پاتے تھے۔

چہارم: مخلوق کی قوتِ ادراک محدود ہے۔ چنانچہ انسان صرف اسی قدر کسی چیز کی حقیقت کو پاسکتا ہے جس قدر کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں قوتِ ادراک ودیعت فرمائی ہے۔ اس کے لیے ہر موجود شے کی حقیقت کو پانا ناممکن ہے۔ مثلاً ساتوں آسمان، زمین اور جو جو چیزیں ان میں موجود ہیں وہ سب حقیقی طور پر اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کی تعریف بیان کرتی ہیں، اور کبھی کبھار اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا ہے ان کی تسبیح وتحمید سنا دیتا ہے، اس کے باوجود یہ سب کچھ ہماری نظروں سے پوشیدہ ہے۔ اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یوں بیان فرمایا ہے: ’’ساتوں آسمان اور زمین اور جو بھی ان میں ہے اسی کی تسبیح کر رہے ہیں۔ ایسی کوئی چیز نہیں جو اسے پاکیزگی اور تعریف کے ساتھ یاد نہ کرتی ہو۔ ہاں یہ صحیح ہے کہ تم ان کی تسبیح سمجھ نہیں سکتے۔۔۔۔‘‘ [سورۂ اسراء: 44]۔ اسی طرح شیاطین وجن زمین پر ادھر اُدھر چلتے پھرتے ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ جنوں کی ایک جماعت رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں حاضر ہوئی، خاموشی سے آپ کی قراءت سنی اور مبلغ کی حیثیت سے اپنی قوم کی طرف لوٹ گئی اور وہ جماعت ان تمام چیزوں کے باوجود ہم سے پوشیدہ تھی، اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اے اوﻻد آدم! شیطان تم کو کسی خرابی میں نہ ڈال دے جیسا کہ اُس نے تمھارے ماں باپ کو جنت سے باہر کرا دیا ایسی حالت میں کہ اُن کا لباس بھی اتروا دیا تاکہ وه ان کو ان کی شرم گاہیں دکھائے۔ وه اور اس کا لشکر تم کو ایسے طور پر دیکھتا ہے کہ تم ان کو نہیں دیکھ سکتے۔ ہم نے شیطانوں کو اُن ہی لوگوں کا رفیق بنایا ہے جو ایمان نہیں ﻻتے۔‘‘ [سورۂ اعراف: 27]۔ چنانچہ جب مخلوق ہر موجود شے کی اصل حقیقت کو نہیں سمجھ سکتی تو اس کے لیے غیب کے ثابت شدہ اور ناقابلِ ادراک امور کا انکار کرنا بالکل جائز نہیں ہے۔

*

تقدیر پر ایمان

’’قدر‘‘ (دال کے فتحہ کے ساتھ): تقدیر سے مراد اللہ تعالیٰ کا اپنے علم اور حکمت کے مطابق ساری کائنات کا ان کے وجود سے پہلے اندازہ اور فیصلہ کرنا ہے۔

تقدیر پر ایمان چار امور پر مشتمل ہے:

اول: اس بات پر ایمان کہ اللہ تعالیٰ ازل سے ابد تک ہر چیز سے اجمالا اور تفصیلا واقف ہے، چاہے اس کا تعلق خود اپنے افعال سے ہو، یا اپنے بندوں کے افعال واعمال سے۔

دوم: اس بات پر ایمان کہ اللہ تعالیٰ نے سب کچھ لوح محفوظ (یعنی نوشتہ تقدیر) میں لکھ رکھا ہے۔ انھی دو امور کے متعلق اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’کیا آپ نے نہیں جانا کہ آسمان وزمین کی ہر چیز اللہ کے علم میں ہے۔ یہ سب (لکھی ہوئی) کتاب میں (محفوظ) ہے۔ اللہ پر تو یہ امر بالکل آسان ہے۔‘‘ [سورۂ حج : 70]۔

صحیح مسلم میں عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کی تقدیریں آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے  ہی لکھ دی تھیں۔‘‘ [20]۔ [20] صحیح مسلم، كتاب القدر، باب حجاج آدم وموسى عليهما السلام، حدیث نمبر: 2653.

سوم: اس بات پر ایمان کہ پوری کائنات صرف اللہ تعالیٰ کی مشیئت ہی سے وقوع پزیر ہے، خواہ اس کا تعلق خود باری تعالیٰ کے اپنے فعل سے ہو یا مخلوقات کے افعال واعمال سے۔ اللہ تعالیٰ اپنے فعل کے متعلق فرماتا ہے: ’’اور آپ کا رب جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور چن کر مختار کر لیتا ہے...‘‘ [سورۂ قصص: 68]۔ ایک مقام پر یوں ارشاد ہوا: ’’۔۔اور اللہ جو چاہے کر گزرے۔‘‘ [سورۂ ابراھیم: 27]۔ ایک اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’وه ماں کے پیٹ میں تمھاری صورتیں جس طرح چاہتا ہے بناتا ہے۔۔۔‘‘ [سورۂ آل عمران: 6]۔ مخلوقات کے افعال و اعمال کے متعلق اللہ تعالى فرماتا ہے: ’’...اور اگر اللہ چاہتا تو انھیں تم پر مسلط کر دیتا اور وه تم سے یقیناً جنگ کرتے...‘‘ (سورۂ نساء: 90)۔ نیز فرمان باری تعالى ہے: ’’۔۔۔اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو یہ ایسے کام نہ کرسکتے سو اُن لوگوں کو اور جو کچھ یہ افترا پردازی کر رہے ہیں، اُس کو آپ رہنے دیجیے۔‘‘ [سورۂ انعام: 112]۔

چہارم: اس بات پر ایمان کہ پوری کائنات بشمول اپنی ذات، صفات اور حرکات سب اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے واﻻ ہے اور وہی ہر چیز پر نگہبان ہے۔‘‘ [سورۂ زمر: 62]۔ ایک اور مقام پر اللہ پاک کا فرمان ہے: ’’۔۔۔اور ہر چیز کو اس نے پیدا کرکے ایک مناسب اندازه ٹھہرا دیا ہے۔‘‘ [سورۂ فرقان: 2]۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ابراہیم علیہ السلام کی بابت فرمایا کہ انھوں نے اپنی قوم سے کہا: ’’حاﻻنکہ تمھیں اور تمھاری بنائی ہوئی چیزوں کو اللہ ہی نے پیدا کیا ہے۔‘‘ [سورۂ صافات: 96]۔

پیچھے ہم نے ’’تقدیر پر ایمان‘‘ کا جو وصف بیان کیا ہے وہ بندوں کے اختیاری افعال پر ان کو حاصل شدہ قدرت اور مشیت کے منافی نہیں ہے، کیونکہ شریعت اور حقیقت دونوں ہی بندے کے لیے اس کے ثبوت پر دلالت کرتی ہیں۔

شریعت سے ثبوت: مشیت کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’۔۔۔اب جو چاہے اپنے رب کے پاس (نیک اعمال کر کے) ٹھکانا بنالے۔‘‘ [سورۂ نبا: 39]۔ اور ایک جگہ ارشادِ الٰہی ہے: ’’۔۔۔۔اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو آؤ...‘‘ [سورۂ بقرہ: 223]۔ اور مخلوق کی قدرت کے متعلق ارشاد باری تعالى ہے: ’’پس جہاں تک تم سے ہوسکے اللہ سے ڈرتے رہو اور سنتے اور مانتے چلے جاؤ...‘‘ [سورۂ تغابن: 16]۔ نیز ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’اللہ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیاده تکلیف نہیں دیتا، جو نیکی وه کرے وه اس کے لیے اور جو برائی وه کرے وه اس پر ہے...‘‘ [سورۂ بقرة: 286]۔

امر واقع سے ثبوت: ہر انسان جانتا ہے کہ اسے کچھ نہ کچھ مشیت اور قدرت ضرور حاصل ہے جس کی وجہ سے کسی کام کو کرنے یا چھوڑنے کا اسے اختیار ہے، اور وہ کسی فعل کے ”ارادی“ مثلاً چلنے اور ”غیر ارادی“ مثلاً کانپنے، میں فرق کرتا ہے، لیکن بندے کی مشیت اور قدرت، اللہ تعالیٰ کی مشیت اور قدرت کے ہی تابع ہوتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’(بالخصوص) اُس کے لیے جو تم میں سے سیدھی راه پر چلنا چاہے۔ اور تم کچھ بھی نہیں چاہ سکتے مگر وہی جو رب العالمین چاہے۔‘‘ [سورۂ تکویر: 28-29]۔ چونکہ پوری کائنات اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے ۔لہذا اس کے دائرہ ملکیت میں کوئی چیز اس کے علم اور اس کی مشیت کے بغیر رُونما نہیں ہو سکتی۔

’’تقدیر پر ایمان‘‘ کی جو تعریف ہم نے بیان کی ہے وہ کسی بندے کے لیے فرائض کو چھوڑنے یا نافرمانی کا ارتکاب کرنے کی دلیل نہیں بن سکتی، چنانچہ اس سے دلیل پکڑنا کئی اعتبار سے باطل ہے:

اوّل: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’یہ مشرکین (یوں) کہیں گے کہ اگر اللہ کو منظور ہوتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم کسی چیز کو حرام کہہ سکتے۔ اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے ہو چکے ہیں اُنھوں نے بھی تکذیب کی تھی یہاں تک کہ اُنھوں نے ہمارے عذاب کامزه چکھا۔ آپ کہہ دیجیے: کیا تمھارے پاس کوئی دلیل ہے تو اُس کو ہمارے روبرو ظاہر کرو۔ تم لوگ محض خیالی باتوں پر چلتے ہو اور تم بالکل قیاس آرائی سے باتیں بناتے ہو۔‘‘ [اسورۂ انعام: 148]۔ اگر ’’تقدیر‘‘ ان کے لیے حجت ہوتی تو اللہ تعالیٰ کفار ومشرکین کو اپنے عذاب کا مزا نہ چکھاتا۔

دوم  اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’ہم نے انھیں رسول بنایا ہے، خوشخبریاں سنانے والے اور آگاه کرنے والے تاکہ لوگوں کی کوئی حجت اور الزام رسولوں کے بھیجنے کے بعد اللہ پر ره نہ جائے۔ اللہ بڑا غالب اور بڑا با حکمت ہے۔‘‘ [سورۂ نساء: 165]۔ اسی طرح اگر مخالفین کے لیے ’’تقدیر‘‘ دلیل ہوتی تو رسولوں کو بھیج کر ان کی ’’حجت‘‘ کو باطل نہ ٹھہرایا جاتا کیونکہ پیغمبروں کو بھیجنے کے بعد اگر کوئی مخالفت واقع ہوئی تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ تقدیر کی بنیاد پر ہی واقع ہوئی۔

سوم: امام بخاری اور امام مسلم نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے اور یہ الفاظ بخاری کے روایت کردہ ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے ہر شخص کا ٹھکانا اللہ تعالیٰ نے جنت یا جہنم میں لکھ دیا ہے۔‘‘ یہ سن کر صحابہ میں سے ایک شخص نے سوال کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم اسی پر بھروسا نہ کر لیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’نہیں، عمل کرو کیوں کہ ہر ایک کے لیے وہ کام آسان بنادیا گیا ہے جس کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ’’جس نے دیا (اللہ کی راه میں) اور ڈرا (اپنے رب سے)۔‘‘ [سورۂ ليل: 5]۔ اور صحیح مسلم کے الفاظ یہ ہیں: ’’ہر ایک کے لیے وہ کام آسان بنا دیا گیا ہے، جس کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے۔‘‘ [21] چنانچہ معلوم ہوا کہ نبی ﷺ نے عمل کرنے کا حکم دیا ہے اور عمل کو چھوڑ کر صرف تقدیر ہی پر بھروسا کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [21] صحیح بخاری: كتاب القدر، باب وكان أمر الله قدرا مقدورا، حدیث نمبر: 6605، صحیح مسلم كتاب القدر، باب كيفية خلق الآدمي في بطن أمه وكتابة رزقه وأجله وعمله وشقاوته وسعادته، حدیث نمبر: 2647۔

چہارم: بے شک اللہ تعالیٰ نے بندے کو اوامر پر عمل کرنے اور نواہی سے اجتناب کرنے کا حکم دیا ہے لیکن اس کو اس کی طاقت سے بڑھ کر کسی چیز کا ’’مکلّف‘‘ نہیں ٹھہرایا ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’پس جہاں تک تم سے ہوسکے اللہ سے ڈرتے رہو اور سنتے اور مانتے چلے جاؤ...‘‘ [سورۂ تغابن: 16]۔ اور ایک مقام پر ارشاد فرمایا: ’’اللہ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیاده تکلیف نہیں دیتا...‘‘ [سورۂ بقرة: 286]۔ اگر بندہ کسی فعل کے انجام دہی پر مجبور ہوتا تو وہ ہر اس فعل کو انجام دینے کا بھی مکلف ہوتا کہ جس سے چھٹکارا پانے کی اس میں استطاعت نہیں ہے۔لیکن یہ چیز باطل ہے، لہذا اگر کسی سے لا علمی، بھول چوک اور زور زبردستی کے سبب کسى معصیت کا کام سرزد ہوجائے تو اس پر کوئی گناہ نہ ہو گا، کیونکہ وہ معذور ہے۔

پنجم: اللہ تعالیٰ نے ’’نوشتہ تقدیر‘‘ کو انتہائی پوشیدہ اور صیغہ راز میں رکھا ہے، چنانچہ جو چیز پہلے سے اندازہ کی جا چکی ہے اس کے رونما ہونے کے بعد ہی اس کا علم ہوتا ہے۔ لیکن جب بندہ کوئی کام کرتا ہے تو وہ پہلے سے جانتا ہے کہ وہ کس کام کا ارادہ رکھتا ہے، چنانچہ اس کے فعل کا ارادہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے متعلق اس کے علم پر مبنی نہیں ہوتا۔ یہ چیز نافرمانی کے کاموں پر تقدیر کو حجت بنانے کی نفی کرتی ہے، کیونکہ جس چیز کا علم ہی نہ ہو وہ کسی امر کے لیے دلیل کیسے بن سکتی ہے؟

ششم: ہم دیکھتے ہیں کہ انسان دنیاوی معاملات میں ہر پسندیدہ اور نفع بخش شے کا حریص ہوتا ہے، اور جب تک وہ اسے پا نہ لے اس کا متمنی ومتلاشی رہتا ہے۔ جب کہ نا پسندیدہ یا بے سود چیزوں کی طرف ہرگز نہیں پلٹتا، پھر اپنی اس روش پر ’’تقدیر‘‘ سے دلیل پکڑتا ہے تو سوال یہ ہے کہ دینی امور میں اس کے لیے جو چیزیں نفع بخش ہو سکتی ہیں ان کو چھوڑ کر تکلیف دہ چیزوں کی طرف اس کا پلٹنا اور پھر اس پر ’’تقدیر‘‘ سے استدلال کرنا کیوں کر درست ہو سکتا ہے؟ کیا ان دونوں (دینی اور دنیاوی) امور کا معاملہ یکساں نہیں ہے؟

اس چیز کی مزید وضاحت کے لیے ہم یہاں دو مثالیں پیش کرتے ہیں:

مثال (1): اگر کسی انسان کے سامنے دو راستے ہوں، جس میں سے ایک راستہ کسی ایسے شہر کی طرف نکلتا ہو جہاں بد نظمی، قتل و غارت گری، لوٹ مار، عصمت دری، خوف وہراس اور بھوک کا رواج ہو، اور دوسرا راستہ کسی ایسے شہر کی طرف جاتا ہو جہاں ہر طرف نظم وضبط، امن وامان، عیش و آرام، آسودہ حالی، جان ومال اور عزت وآبرو کی حفاظت ہو، تو وہ کون سا راستہ اختیار کرے گا؟

ظاہر ہے کہ وہ دوسرا راستہ ہی اختیار کرے گا جو ایک ایسے شہر پر جا کر ختم ہوتا ہے جہاں چاروں طرف امن و امان اور نظم وضبط قائم ہو۔ کوئی بھی عقل مند شخص ’’تقدیر‘‘کو حجت بنا کر کسی ایسے شہر کا راستہ ہرگز نہیں اختیار کر سکتا جہاں بد نظمی، خوف وہراس اور لوٹ مار ہو۔ تو جو شخص اخروی امور میں خود جنت کا راستہ چھوڑ کر جہنم کا راستہ اختیار کرے تو وہ کس طرح ’’نوشتۂ تقدیر‘‘ کو دلیل بنا سکتا ہے؟

مثال (2): ہم دیکھتے ہیں کہ جب ڈاکٹر کسی مریض کو دوا پینے کا حکم دیتا ہے تو وہ اسے نہ چاہنے کے با وجود بھی پی لیتا ہے، اسی طرح جب وہ اسے کسی نقصان دہ غذا کے کھانے سے منع کرتا ہے تو وہ اسے چاہنے کے باوجود وہ غذا چھوڑ دیتا ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ مریض اپنی سلامتی اور شفا ہی کے لیے ہی ایسا کرتا ہے، چنانچہ ’’نوتشۂ تقدیر‘‘ کو دلیل بنا کر ایسا ہرگز نہیں کرتا کہ اس نا پسندیدہ دوا کو پینے سے باز رہے یا ان غذاؤں کو استعمال کرتا رہے جو کہ اس کے لیے نقصان دہ ہیں۔ چنانچہ یہ کیسے درست ہو سکتا ہے کہ انسان اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کو چھوڑ کر جن چیزوں سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے منع فرمایا ہے، انھیں اپنائے اور پھر اس پر ’’تقدیر‘‘ سے دلیلیں لیتا پھرے؟

ہفتم: ’’نوشتۂ تقدیر‘‘ کو دلیل بنا کر واجبات کو چھوڑنے، یا معصیت کے کام کرنے والے شخص پر اگر کوئی دوسرا شخص ظلم وزیادتی کرے اور اس کے مال و اسباب چھین لے، یا اس کی عزت کو پامال کرے، اور پھر ’’تقدیر‘‘ سے دلیل پکڑتے ہوئے یہ کہے کہ مجھے ملامت مت کرو کیونکہ میرا ظلم وزیادتی تو محض اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر مبنی ہے، تو وہ اس کی اس دلیل کو قطعا قبول نہیں کرے گا۔ چنانچہ جب وہ ’’تقدیر‘‘ کی دلیل کو اپنے اوپر کیے جانے والے کسی دوسرے شخص کے ظلم وزیادتی کے لیے قبول نہیں کرتا، تو پھر وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق وفرائض میں اپنی کوتاہی اور زیادتی پر کس طرح اسے دلیل بناتا ہے؟!

اس سلسلے میں ایک واقعہ یوں بیان کیا گیا ہے کہ امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک چور کا مقدمہ پیش ہوا تو عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ اس نے عرض کیا: اے امیر المومنین! ٹھہر جاییے، کیونکہ میں نے یہ چوری صرف اللہ تعالیٰ کی ’’قضا وقدر‘‘ کی بنیاد پر کی ہے۔ یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ہم بھی تو تیرا ہاتھ اللہ تعالیٰ کی ’’قضا وقدر‘‘ سے ہی کاٹ رہے ہیں‘‘۔

تقدیر پر ایمان کے ثمرات:

اول: کسی ’’سبب‘‘ کو اختیار کرتے وقت اس سبب کے بجائے صرف اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا، کیونکہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کی ’’قضاو قدر‘‘ سے ہی ہوتی ہے۔

دوم: کسی مراد کے حصول کے وقت خودپسندی میں مبتلا نہ ہونا، کیونکہ مراد کا حاصل ہونا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نعمت ہے جسے باری تعالیٰ نے خیر وکامیابی کے اسباب کے نتیجے میں مقدر فرمایا ہے، چنانچہ انسان کا خود پسندی میں مبتلا ہونا اسے نعمت کے حاصل ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے سے غافل کر دیتا ہے۔

سوم: اللہ تعالیٰ کی قضا وقدر کے مطابق جو کچھ بھی انسان پر گزرے اس پر مطمئن اور خوش رہنا، چنانچہ وہ کسی پسندیدہ چیز کے چھن جانے، یا کسی سختی سے دو چار ہونے، یا کسی نا پسندیدہ چیز کے واقع ہونے پر قلق واضطراب کا شکار نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ وہ جانتا ہے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قضا وقدر ہے جو کہ آسمانوں اور زمین کا مالک اور خالق ہے اور جو کچھ ’’مقدر‘‘ ہو چکا ہے وہ بہر صورت ہو کر رہے گا۔ چنانچہ اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’نہ کوئی مصیبت دنیا میں آتی ہے نہ (خاص) تمھاری جانوں میں، مگر اس سے پہلے کہ ہم اس کو پیدا کریں وه ایک خاص کتاب میں لکھی ہوئی ہے، یہ (کام) اللہ تعالیٰ پر (بالکل) آسان ہے۔ تاکہ تم اپنے سے فوت شدہ کسی چیز پر رنجیدہ نہ ہوجایا کرو اور نہ عطا کردہ چیز پر اترا جاؤ، اور اترانے والے شیخی خوروں کو اللہ پسند نہیں فرماتا۔‘‘ [سورۂ حدید: 22-23]، نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ’’مومن کا معاملہ کتنا عجیب ہے۔ یقینا مومن کے ہر معاملہ میں خیر ہی خیر ہے، اور یہ سعادت مومن کے سوا اور کسی کو میسر نہیں ہے۔ چنانچہ اگر اسے کوئی خوش حالی نصیب ہوتی ہے تو اس پر وہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ خوش حالی اس کے لیے باعثِ برکت و بھلائی بن جاتی ہے۔ اور اگر وہ کسی بد حالی اور تنگ دستی میں گرفتار ہوتا ہے تو اس پر صبر کرتا ہے تو وہ بد حالی اس کے لیے باعث خیر وبرکت بن جاتی ہے۔‘‘ [22] [22] صحیح مسلم: كتاب الزهد والرقائق، باب المؤمن أمره كله خير، حدیث نمبر: 2999۔

تقدیر کے بارے میں دو گروہ گمراہی کے شکار ہیں:

(1) جبریہ: جو اس بات کے قائل ہیں کہ بندہ اپنے ہر عمل پر مجبور ہے، اس میں اس کے اپنے ارادہ اور قدرت کا کوئی دخل نہیں۔

(2) قدریہ: جو اس بات کے قائل ہیں کہ بندہ اپنے ارادے اور قدرت کے ساتھ عمل میں خود مختار ہے اور اس کے عمل میں اللہ تعالیٰ کی مشیت اور قدرت کا کوئی اثر نہیں۔

جبریہ کا نظریہ شریعت اور امر واقع دونوں اعتبار سے مسترد ہے:

شرعی اعتبار سے: اللہ تعالیٰ نے بندے کے لیے ارادے اور مشیئت کا اثبات کیا ہے نیز عمل کی نسبت بھی اسی کی طرف کی ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’۔۔۔تم میں سے بعض دنیا چاہتے تھے اور بعض کا اراده آخرت کا تھا۔۔۔‘‘ [سورۂ آل عمران: 152]، ایک مقام پر ارشاد باری تعالی ہے: ’’اور اعلان کردے کہ یہ سراسر برحق قرآن تمھارے رب کی طرف سے ہے۔ اب جو چاہے ایمان ﻻئے اور جو چاہے کفر کرے۔ ﻇالموں کے لیے ہم نے وه آگ تیار کر رکھی ہے جس کی قناتیں انھیں گھیر لیں گی۔۔۔‘‘ [سورۂ کھف: 29]، اور ایک جگہ ارشاد باری تعالی ہے: ’’جو شخص نیک کام کرے گا تو اپنے نفع کے لیے اور جو برا کام کرے گا اس کا وبال بھی اسی پر ہے۔ اور آپ کا رب بندوں پر ﻇلم کرنے واﻻ نہیں۔‘‘ [سورۂ فصلت: 46]۔

جبریہ کی تردید امر واقع کی روشنی میں: ہر انسان اپنے ’’اختیاری افعال‘‘جن کو وہ اپنے ارادے سے کرتا ہے، مثلا: کھانا پینا اور خرید وفروخت کرنا وغیرہ ،اور ’’غیر اختیاری افعال‘‘ جو اس پر بغیر ارادہ کے واقع ہو جاتے ہیں، مثلا: بخار کی شدت سے اس کے جسم کا کانپنا، اور اوپر سے نیچے کی طرف گرنا‘ وہ ان دونوں کے درمیان فرق سے خوب اچھی طرح واقف ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ پہلی قسم کے افعال کی بجا آوری میں فاعل اپنے ارادے میں خود مختار ہوتا ہے اور اس پر کسی قسم کا کوئی جبر نہیں ہوتا، لیکن دوسری قسم کے افعال میں کسی کام کے وقوع پذیر ہوتے وقت بندہ نہ مختار ہوتا ہے ور نہ ہی اس میں اس کے ارادے کا کوئی دخل ہوتا ہے۔

قدریہ کا نظریہ شریعت اور عقل دونوں اعتبار سے مردود ہے:

بے شک اللہ تعالیٰ ہر شے کا خالق ہے اور ہر شے اسی کی مشیت سے واقع ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان فرمایا ہے کہ بندوں کے افعال صرف اسی کی مشیت سے واقع ہوتے ہیں، چنانچہ ارشاد ہے: ’’۔۔۔اگر اللہ چاہتا تو ان کے بعد والے اپنے پاس دلیلیں آجانے کے بعد ہرگز آپس میں لڑائی بھڑائی نہ کرتے، لیکن ان لوگوں نے اختلاف کیا، ان میں سے بعض تو مومن ہوئے اور بعض کافر، اور اگر اللہ چاہتا تو یہ آپس میں نہ لڑتے، لیکن اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔‘‘ [سورۂ بقرۃ: 253]، ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو ہدایت نصیب فرما دیتے، لیکن میری یہ ہی بات بالکل حق ہو چکی ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو انسانوں اور جنوں سب سے پر کردوں گا۔‘‘ [سورۂ سجدہ: 13]۔

قدریہ کی تردید عقل کی روشنی میں: بے شک ساری کائنات اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے، چونکہ انسان بھی اسی کائنات کا ایک حصہ ہے، لہذا وہ بھی اللہ تعالیٰ کا غلام اور اُس کی ملکیت قرار پایا۔ چنانچہ نتیجہ یہ نکلا کہ کسی ’’مملوک‘‘ کے لیے مالک کے دائرہ ملکیت میں اس کی مرضی اور اجازت کے بغیر کسی قسم کا تصرف کرنا نا ممکن ہے۔

*

اسلامی عقیدے کے اہداف ومقاصد

ہدف: لغت کے اعتبار سے ’’ہدف‘‘ کا اطلاق مختلف معانی پر ہوتا ہے جن میں دو حسب ذیل ہیں: 1. وہ چیز جو سطح زمین سے بلند ہو اور نشانہ بازی کے لیے نصب کی جائے۔ 2. ہر وہ شے جو مطلوب ومقصود ہو۔

اسلامی عقیدے کے اہداف ومقاصد: اسلامی عقیدے پر قائم رہنے کے نتیجے میں حاصل ہونے والے مہتم بالشان اغراض ومقاصد کثیر تعداد میں ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف اقسام پر مشتمل ہیں جن میں سے چند حسب ذیل ہیں:

اول: نیت و عبادت کو اللہ تعالیٰ کے لیے خاص کرنا، کیونکہ وہی خالق ہے، اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ لہذا ضروری ہے کہ صرف اسی سے لو لگائی جائے، اور صرف اسی کی عبادت کی جائے۔

دوم: اسلامی عقیدے سے خالی دل میں پیدا ہونے والی ہر قسم کی بے راہ روی سے عقل وفکر کی آزادی, کیونکہ جس کا دل اس سے خالی ہو وہ یا تو ہر عقیدے سے محروم ہوتا ہے اور صرف حسی ومادی چیزوں کی ہی پرستش کرتا ہے یا پھر عقائد کی گمراہیوں اور خرافات کا شکار ہو جاتا ہے۔

سوم: نفسیاتی اور فکری سکون، اسلامی عقیدے کا حامل شخص کسی نفسیاتی اور فکری بے چینی کا شکار نہیں ہوتا، کیونکہ یہ عقیدہ اُس کے اور اس کے خالقِ حقیقی کے درمیان ایک مضبوط تعلق اور رابطہ ہے۔ چنانچہ وہ اپنے خالق کے رب، مدبّر، حاکم اور قانون ساز ہونے پر راضی ہوتا ہے؛ لہٰذا اس کا دل اپنے رب کی قضا وقدر سے مطمئن ہوتا ہے اور اسے اسلام کی حقانیت کے بارے میں انشراحِ صدر حاصل ہو جاتا ہے، بناریں وہ اسلام کا بدل تلاش نہیں کرتا۔

چہارم: اللہ تعالیٰ کی عبادت یا مخلوق کے معاملے میں ارادہ وعمل کے انحراف سے سلامتی اور حفاظت‘  کیونکہ رسولوں پر ایمان لانا اسلامی عقیدے کی ایک ایسی اساس ہے جو ارادہ وعمل میں انحراف سے محفوظ انبیاء ورسل کے طریقے کی پیروی کو شامل ہے۔

پنجم: جملہ امور میں پختگی، سنجیدگی اور خوش بختی کیونکہ مومن ثواب حاصل کرنے کے لیے عملِ صالح کا کوئی بھی موقع ضائع نہیں کرتا۔ اسی طرح عذاب کے خوف سے وہ اپنے آپ کو گناہ کے مواقع سے بھی دور رکھتا ہے، کیونکہ اس عقیدے کی ایک بنیاد یہ بھی ہے کہ انسان کے دوبارہ زندہ کیے جانے اور ہر اچھے برے اعمال کی جزا پانے پر ایمان لایا جائے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’اور ہر ایک کو اس کے اعمال کے سبب درجے ملیں گے اور آپ کا رب ان کے اعمال سے بے خبر نہیں ہے۔‘‘ [سورۂ انعام: 132]۔ اس مقصد کے حصول کے لیے نبی ﷺ نے کس قدر ترغیب دی ہے‘ ملاحظہ کریں: ’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک مضبوط مومن، کمزور مومن سے زیادہ بہتر اور پیارہ ہے۔ اور ہر مومن میں بہتری اور بھلائی ہے، اس چیز کی حرص کرو جو تجھ کو نفع دے اور (اس کے لیے) اللہ تعالیٰ سے مدد مانگو، اور عاجز نہ بنو۔ اور اگر تم کو کوئی چیز حاصل ہو تو یوں مت کہو کہ اگر میں نے فلاں کام یوں کیا ہوتا تو اس سے مجھے فلاں فلاں فائدہ حاصل ہوتا بلکہ یوں کہو کہ اللہ تعالیٰ نے (یوں ہی) مقدر کیا تھا اور جو چاہا کر دکھایا۔ کیونکہ   ’’اگر‘‘ کا لفظ شیطان کے کام (کا دروازہ) کھولتا ہے۔‘‘ اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔[23] [23] صحیح مسلم: كتاب القدر، باب في الأمر بالقوة، وترك العجز، والاستعانة بالله، وتفويض المقادير لله، حدیث نمبر: 2664۔

ششم: دینِ اسلام اور اس کے ستونوں کو پختہ اور ٹھوس بنانے کے لیے ایک ایسی مضبوط امت کی تشکیل کرنا جو اس کی خاطر ہر قسم کی قربانی پیش کرے اور اس کی راہ میں جو مصیبتیں بھی آئیں ان کی قطعا پرواہ نہ کرے ۔اس بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’مومن تو وه ہیں جو اللہ پر اور اس کے رسول پر (پکا) ایمان ﻻئیں پھر شک وشبہ نہ کریں اور اپنے مالوں اور جانوں سے اللہ کی راه میں جہاد کرتے رہیں، (اپنے دعوائے ایمان میں) یہی سچے اور راست گو ہیں۔‘‘ [سورۂ حجرات: 15]۔

ہفتم: انفرادی اور اجتماعی اصلاح کے ذریعے دنیا وآخرت کی سعادت، اجر وثواب اور (اللہ تعالیٰ) سے انعام واکرام حاصل کرنا، اس سلسلے میں اللہ تعالی فرماتا ہے: ’’جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن با ایمان ہو تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انھیں ضرور ضرور دیں گے۔‘‘ [سورۂ نحل: 97]۔

یہ اسلامی عقیدہ کے چند اہداف ومقاصد ہیں، ہم اللہ تعالیٰ کے حضور دعا گو ہیں کہ وہ ہمیں اور تمام مسلمانوں ان مقاصد سے بہرہ ور فرمائے۔ وہ نہایت کرم و بخشش والا اور بہت ہی سخی ہے۔تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو سارے جہانوں کا رب ہے۔

درود وسلام نازل ہو ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر، آپ کی آل اور آپ کے تمام صحابہ پر۔

یہ کتاب مولف کے قلم سے پایہ تکمیل کو پہنچی

محمد بن صالح العثیمین