مجالس تدارس القرآن للمبتدئين (سورة الفاتحة وقصار المفصّل)
الكتاب يهدف لتعليم القراءة والتدبر في القرآن الكريم، خاصة للمبتدئين والأطفال، من خلال تدارس سورة الفاتحة وقصار المفصل، يتضمن تعليمات لإدارة جلسات التدارس بطرق مختلفة مثل استخدام المواقف الواقعية وطرح الأسئلة التحفيزية لتعميق فهم المتعلمين وتحفيزهم على التفاعل. الكتاب يعرض كيفية التفسير والتدبر للآيات بطريقة مبسطة، مع التركيز على استخلاص الدروس والعبر بطريقة تتناسب مع المستوى الفكري للمبتدئين.
مبتدی طلبہ کے لیے قرآنی مطالعہ کی مجلسیں (سورۃ فاتحہ اور قصار مفصل)
مقدمہ
کتاب اللہ کی خدمت اور اس کی ہدایت کی نشر واشاعت کی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے‘ معاشرہ کے مختلف طبقات پر مشتمل زیادہ سے زیادہ لوگوں کی ضرورت کے پیش نظر‘ بطور خاص حفظ قرآن کے حلقات اور مدارس کے ابتدائی درجات میں پڑھنے والے طلبہ کو سامنے رکھتے ہوئے...
(مؤسسۃ وقف النبأ العظیم) یہ سہل اور آسان کورس منظر عام پر لا رہا ہے‘ جس کا مقصد (مبتدی طلبہ کو سورۃ فاتحہ اور قصار مفصل) کا درس دینا ہے‘ تاکہ اس سنت مبارکہ کو امت کی زندگی میں اعلی پیمانے پر زندہ کرنے کے لیے یہ پپش رفت ایک روشن منارہ ثابت ہو‘ (قرآنی محفلوں) کو قائم کرنے کا یہ ایک عمدہ ترین وسیلہ ہے‘ جس کے فوائد وثمرات بے شمار ہیں‘ کیوںکہ ان محفلوں میں درس لینے والے حضرات بیش بہا اجر وثواب سے ہمکنار ہوتے ہیں‘ اور ان کے سامنے ایسے معانی ومفاہیم اور قرآنی تجلیات نمایاں ہوتی ہیں جو انہیں عظیم ترین مقصد تک پہنچاتی ہیں‘ وہ یہ کہ انسان قرآن مجید کی آیتوں سے عفت وپاکیزگی حاصل کرے۔
اللہ تعالی ہمیں اور آپ کو اپنی کتاب کی خدمت کرنے کی توفیق دے اور ہمیں اس کی دعوت دینے والا اور اس کے تقاضوں پر عمل کرنے والا بنائے۔
علمی کمیٹی برائے مؤسسہ وقف النبأ العظیم
مبتدی طلبہ کے لیے درس وتدریس کی محلفلیں قائم کرنے سے متعلق گائیڈ لائن
تمہید - اس کامقصددلچسپ تمہید کے ذریعہ مجلس کا آغاز کرنا ہے‘ مثال کے طور پر اس کے درج ذیل طریقے ہیں جن میں سے کسی ایک کو اختیار کیا جا سکتا ہے:
۱- کوئی ایسا مبنى بر حقیقت موقف ذکر کرنا جس کو آیتوں سے جوڑا جا سکے‘ یا ماضى قریب میں وقوع پذیر کسى پریشانی یا مسئلہ کو پیش کیا جائے جس کا حل ان آیتوں میں بیان کیا گیا ہو۔
۲- حوصلہ افزا سوالات پوچھے جائیں‘ یا کسى ایسے مسئلہ پر گفتگو کی جائے جس کی طرف اس سورت میں اشارہ کیا گیا ہو۔
۳- سورہ کا تعارف: بایں طور کہ سورہ کے اسماء سے واقفیت حاصل کی جائے‘ اس کی جائے نزول‘ موضوع‘ فضیلت‘ سبب نزول... اور اس سے متعلق تمام ضروری باتوں سے آگاہی حاصل کی جائے۔
(تنبیہ): "اس بات کا خیال رکھا جائے کہ لکچر دینے کے بجائے باہمی گفتگو اوربحث ومباحثہ کے انداز میں درس ہو"۔
پہلی مجلس - مجلس کا موضوعاتی عنوان
تلاوت - مجلس کا استاد ترتیل وتجوید کے ساتھ آیتوں کی تلاوت کرے‘ پھر کسی ایسے شخص سے تلاوت کرنے کو کہے جو تجوید کے ساتھ تلاوت کر سکتا ہو‘ اس کے بعد تمام حاضرین سے تلاوت کروائے۔
تفسیر - کتاب میں موجود مواد کی روشنی میں آیتوں کی مختصر تفسیر پیش کرے۔
تدبر وتزکیہ - یہ ایک جدول ہے جس میں "تدبر" کے ذریعہ درس وتدریس کا طریقہ واضح کیا گیاہے‘ "تزکیہ" سے متعلق پیغامات مستنبط کیے گئے ہیں اور ان سے اپنے اخلاق کو مزین کرنے کی دعوت دی گئی ہے‘ بایں طور کہ مختلف قسم کے سوالات پیش کیے گئے ہیں جن میں ہدایت کا پہلو اجاگر کیا گیا ہے‘ اس سے اپنے اخلاق کو آراستہ کرنے کی کیفیت پوچھی گئی ہے اور اس کے بعد دلیل کے بارے میں سوال کیا گیا ہے‘ اسی طرح دلیل ذکر کی گئی ہے‘ اخلاق کو آراستہ کرنے کی کیفیت بیان کی گئی ہے اور ہدایت کے بارے میں سوال کیا گیا ہے‘ اور دلیل وہدایت ذکر کرنے کے بعد اخلاق کو آراستہ کرنے کی کیفیت پوچھی گئی ہے‘ طلبہ کے اندر استنباط اور استدلال کی مہارت پیدا کرنے کے لیے استاد مختلف طریقوں سے سوال کرے۔
ہر سورت کے اخیر میں استاد طلبہ سے یہ مطالبہ کرے کہ (کتاب میں) مذکور ہدایات کے علاوہ نئی ہدایات مستنبط کریں اور آیتوں سے ان کی دلیل پیش کریں اور ان کے ذریعہ اخلاق کو آراستہ کرنے کی کیفیت بیان کریں۔
اس سورہ کو سیکھنے کے بعد ہم اس پر عمل کیسے کریں؟ - استاد طلبہ سے یہ مطالبہ کرے کہ وہ ان آیتوں سے ایسے عملی پہلو مستنبط کریں جن کا تعلق افراد اور معاشرہ سے ہو۔
گائیڈ لائن ختم ہوا
سورۃ الفاتحہ
تمہید
شوق آمیز مقدمہ: اس کے بہت سے طریقے ہیں‘ مثلا:
۱- طلبہ سے یہ سوال کرنا کہ سورۃ الفاتحہ کی وجہ تسمیہ کیا ہے۔
۲- اس سورۃ کی فضیلت۔
سورہ کا تعارف:
۱- سورۃ الفاتحہ کے کون کون سے نام ہیں؟
(فاتحة الكتاب)، (ام الكتاب)، (ام القرآن)، (سبع مثانی)، (القرآن العظيم)، سورة (الحمد)، اور سورة (الصلاة)، نیز اس کے اور بھی بہت سے نام ہیں جو تفسیر کی کتابوں میں مذکور ہیں جیسے سورة (الشفاء)، (الشافية)، (الرقية)، اور (الأساس)، وغیرہ[1]. [1] الكشف والبيان (1/126-129)، الجامع لأحكام القرآن (1/111-114)، أسماء سور القرآن وفضائلها (ص: 98- 128)۔
۲- سورۃ الفاتحہ کہاں نازل ہوئی؟
جمہور کی رائے یہ ہے کہ سورۃ الفاتحہ مکہ میں نازل ہوئی[2]‘ ایک قول یہ ہے کہ یہ سورت دو مرتبہ نازل ہوئی: ایک دفعہ مکہ میں اور دوسری دفعہ مدینہ میں[3]۔ [2] اسباب النزول للواحدی (ص: 20)، الكشف والبيان (1/89-90)، الجامع لاحكام القرآن (1/115)۔ [3] الكشف والبيان (1/90)، تفسير السمعاني (1/31)، الجامع لاحكام القرآن (1/115)۔
سورۃ الفاتحہ کا موضوع کیا ہے؟
سورۃ الفاتحہ قرآن مجید کی سب سے بڑی سورت ہے‘ کیوں کہ یہ توحید کی تمام قسموں پر مشتمل ہے‘ اس میں اللہ کی صفت کمال کا ذکر ہے اور سب سے نفع بخش دعا بھی اس میں شامل ہے۔[4] [4] دیکھیں: مصاعد النظر للإشراف بمقاصد السور (1/210)، مقاصد سور المفصل (ص:1)
۴- سورۃ الفاتحہ کی کیا فضیلتیں ہیں؟
یہ قرآن کی سب سے بڑی سورت ہے‘ اس کی دلیل یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سعید بن المعلی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کیا مسجد سے نکلنے سے پہلے پہلے میں تجھے قرآن کریم کی ایک عظیم سورت کی تعلیم نہ دوں؟...آپ نے فرمایا: ﴿ٱلْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ﴾ یہی سورت سبع مثانی ہے اور یہی قرآن عظیم ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔[5] [5] اس حدیث کو بخاری نے اپنی صحیح (6/17) (4474) میں روایت کیا ہے۔
- یہ ایک نور ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل کسی نبی کو نہیں دیا گیا‘ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے (آپﷺ کو دو نور ملنے کی خوشخبری ہو جو آپﷺ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیے گئے: (ایک ) فاتحہ الکتاب (سورۃ الفاتحہ) اور (دوسری) سورۃ البقرۃ کی آخری آیات) ۔[6] [6] اس حدیث کو امام مسلم نے اپنی صحیح (1/554) (806). میں روایت کیا ہے۔
- یہ ایک رقیہ ہے جو اللہ کی اجازت سے شفابخش ثابت ہوتا ہے‘ جیسا کہ حدیث میں ہے: (اسے کیسے پتہ چلا کہ وہ رقیہ ہے)[7] [7] اس حدیث کو بخاری نے اپنی صحیح(6/187) (5007) میں روایت کیا ہے۔
پہلی مجلس: اللہ تعالی کے لئے عبودیت کو پورا بجا لانا
تلاوت:
- اللہ تعالیٰ نے فرمایا: شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ساری تعریف اللہ کے لیے ہے جو سارے جہان کا رب ہے۔ وہ بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے، بدلے کے دن کا مالک ہے۔ ہم بس تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور بس تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔ ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت عطا فرما، ان لوگوں کا راستہ جن پر تونے انعام کیا ہے، نہ کہ ان لوگوں کا (راستہ) جن پر تیرا غضب نازل ہوا اور نہ ان کا جو گمراہ ہوئے۔ سورۃ الفاتحہ: 1-7
تفسیر:
(1) {بِسْمِ اللهِ}... اللہ کے نام سے مدد طلب کرتے ہوئے میں تلاوت کا آغاز کرتا ہوں۔
(1) {الرَّحْمنِ}... جس کی رحمت تمام مخلوقات کو شامل ہے۔
(1) {الرَّحِيمِ}... جو مومنوں پر خصوصی رحمت کرتا ہے۔
(2) {الحمد لله}... ہر قسم کی تعریفات اور عظمت وکمال کی صفات صرف اسی ایک اللہ کے لیے لائق وزیبا ہیں‘ اس کے سوا کسی اور کے لیے نہیں۔
(2) {رَبِّ} ...وہ ہر چیز کا پالنہار‘ خالق اور مدبر ہے‘ رب کے معنی ہیں: اپنی نعمتوں کے ذریعہ اپنی مخلوق کی تربیت کرنے والا۔
(2) {الْعَالَمِينَ} ... اللہ تعالی کے سوا ہر چیز۔
(4) {مالك} ... یہ اللہ تعالی کی تعریف ہے کہ وہ قیامت کے دن ہر چیز کا مالک ہوگا بایں طور کہ کسی بھی جان کو کسی بھی جان کے لیے کسی بھی چیز کی ملکیت حاصل نہیں ہوگی۔
(4) {يَوْمِ الدِّينِ}... جزا وسزا اور حساب وکتاب کا دن۔
(5) {إِيَّاكَ نَعْبُدُ} ... ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں۔
(5) {وإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ} ... اپنی ضروریات کی تکمیل کے لیے تیرے سوا کسی اور سے مدد طلب نہیں کرتے۔
(6) { اهدنا}... ہمیں صراط مستقیم کی ہدایت عطا فرما‘اور ہمیں اس راہ پر چلا‘ اس پر ثابت قدم رکھ اور ہماری ہدایت میں اضافہ فرما۔
(6) {الصِّرَاطَ المُستَقِيمَ} ... ’’صراط مستقیم‘‘ سے مراد ایسا واضح راستہ ہے، جس میں کوئی ٹیڑھا پن نہ ہو۔ در اصل وہ مذہب اسلام ہی ہے، جسے دے کر اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہﷺ کو مبعوث فرمایا۔
(7) {صراط الذين أنعمت عليهم}... ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام کیا۔
(7) {غَيرِ المَغضُوبِ عَلَيهِمْ} ... ( نہ کہ ان لوگوں کی راہ جن پر تیرا غضب نازل ہوا) یعنی یہود اور علم پر عمل نہ کرنے میں ان کی مشابہت اختیار کرنے والے لوگ۔
(7) {الضَّالِّينَ} ... (اور نہ گمراہ ہونے والوں کی راہ) یعنی نصاری اور بغیر علم کے عمل کرنے میں ان کی مشابہت اختیار کرنے والے لوگ۔ [8] [8] المختصر في تفسير القرآن الكريم (ص: 1)
تدبر (غور وفکر) اور تزکیہ (نفس کی پاکیزگی):
تدبر
تزکیہ
ہم اس سورہ سے کیا سیکھتے ہیں؟
کونسی آیت اس پر دلالت کرتی ہے؟
ہم اس سورہ کی آیتوں سے اپنے اخلاق کو کیسے مزین کریں؟
سب سے بڑی اور بابرکت کتاب کا آغاز بسم اللہ سے کیا گیا ہے‘ بنابریں اس کے علاوہ دیگر امور کا آغاز بدرجہ اولی اللہ کے نام سے ہونا چاہئے۔
(شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے، جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے)
یعنی ہم اپنے تمام امور کی ابتدا اللہ کے ذکر سے کریں۔
تمام تعریفات اپنی تمام تر قسموں اور اجناس کے ساتھ صرف ایک اللہ پاک کے لیے زیبا ہیں‘ جس کے سوا نہ کوئی رب ہے اور نہ کوئی معبود برحق۔
(سب تعریف اللہ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے)
یعنی کہ اللہ کے اسماء وصفات میں ہم اس کے کمال کو محسوس کریں اور اس کی عظیم نعمتوں پر اس کی تعریف کریں اور ان میں سب سے بڑی نعمت قرآن ہے۔
اللہ پاک کی ربوبیت اور بادشاہت اس کی رحمت سے مربوط ہیں‘ چنانچہ وہ اپنی کامل ربوبیت کے باوجود اپنے بندوں پر ان کی ماؤں سے بھی زیادہ مہربان ہے۔
(بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے)
- ہم اس کی رحمت کی مدد طلب کریں‘ بطور خاص اپنی مشکل گھڑیوں میں‘ مثلا ان حالات میں جن میں ہم آج زندگی گزار رہے ہیں۔
آخرت كی زندگی میں اللہ تعالی مومنوں پر جو فضل واحسان کرے گا اس سے ہم خوش ہوں۔
اللہ پاک ہی مالک حقیقی ہے‘ اس کے سوا کوئی مالک نہیں‘ یہ حقیقت قیامت کے دن مخلوقات کے سامنے عیاں ہوجائے گی‘ جب ان کی ساری ملکیتیں ختم ہوجائیں گی۔
(بدلے کے دن (یعنی قیامت) کا مالک ہے)
ہم جزا وسزا اور حساب وکتاب کے دن کی تیاری کریں‘ بایں طور کہ نیک اعمال کریں اور برائیوں سے دور رہیں۔
عبادت الہی کی بجا آوری میں ہم اسی وقت کامیاب ہوسکتے ہیں جب اللہ سے مدد طلب کریں اور اسی پر بھروسہ رکھیں۔
(ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد طلب کرتے ہیں)
ہم اپنی زندگی میں صرف ایک اللہ کی عبادت بجا لائیں اور اس کے لیے اسی سے مدد طلب کریں۔
ہدایت اللہ پاک کی جانب سے ملتی ہے‘ رہنمائی اور رہبری صرف اللہ پاک ہی کرتا ہے‘ صرف وہی یکتا پروردگار دلوں کو ہدایت دیتا ہے۔
(ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت عطا فرما)
ہم اللہ پاک سے ہدایت کی دعا کریں‘ کہ وہ ہمیں حق وراستی‘ خیر وبھلائی اور فلاح وکامرانی کے راستے کی رہنمائی فرمائے‘ جو ہمیں اس کی خوشنودی اور جنت سے سرفرازی تک پہنچا سکے‘ اور یہ بھی دعا کرتے ہیں کہ ہمیں اس راہ پر ثابت قدم رکھے۔
حق کا راستہ افراط وتفریط کے درمیان کا راستہ ہے‘ وہ دو گمراہیوں کے درمیان راہ ہدایت ہے‘ اس کا دار ومدار علم اور عمل کو بجا لانے پر ہے۔
(ان لوگوں کا راستہ جن پر تونے انعام کیا ہے، نہ کہ ان لوگوں کا (راستہ) جن پر تیرا غضب نازل ہوا اور نہ ان کا جو گمراہ ہوئے)
- یعنی ہم ہدایت کی رہنمائی کرنے والے ہدایت یافتگان اور عمل کرنے والے اہل علم کی راہ پر چلیں۔
- گمراہی کے دونوں راستوں سے ہوشیار رہیں‘ یعنی بغیر عمل کے علم کی راہ اور بغیر علم کے عمل کی راہ سے۔
اس سورت سے ہدایت کی اور بھی باتیں مستنبط کریں‘ ساتھ ہى جو آیت اس پر دلالت کرتی ہے اس کو بیان کریں‘ نیز اس میں جو اخلاقی پہلو پنہاں ہے اس پر بھی روشنی ڈالیں۔
اس سورت کو سیکھنے کے بعد ہم اس پر عمل کیسے کریں؟
اپنی ذات کے تئیں:
- میں اللہ تعالی کے اسمائے گرامی کو سیکھنے کی پوری کوشش کروں گا تاکہ اس کی روشنی میں اپنی تربیت کروں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دخول جنت کا جو وعدہ فرمایا ہے‘ اس سے سرفراز ہوسکوں‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ کے ننانوے یعنی ایک کم سو نام ہیں، جو ان کو شمار کرے گا، وہ جنت میں داخل ہوگا"[9]. [9] اس حدیث کو بخاری نے اپنی صحیح (3/198) (2736) میں، اور مسلم نے اپنی صحیح(4/2063) (2677). میں نقل کیا ہے۔
...
اپنے معاشرہ کے تئیں:
- میں اپنے اہل خانہ اور بھائیوں کو راہ مستقیم پر چلنے کی دعوت دوں گا‘ بایں طور کہ اللہ کی کتاب اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو مضبوطی سے تھامے رہیں اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کریں‘یہ سب کچھ بدلے کے دن کی تیاری کے طور پر کریں گے‘ جس دن کہ مال اور اولاد کچھ کام نہ آئے گی لیکن فائدہ والا وہی ہوگا جو اللہ تعالی کے سامنے بے عیب دل لے کر جائے‘ اور اس بات کى دعوت دون گا کہ ہم ان یہودیوں کی طرح نہ ہوجائیں جنہوں نے علم حاصل کرنے کے بعد عمل کرنا چھوڑ دیا اور نہ ان نصاری کی طرح ہوجائیں جنہوں نے بغیر علم کے عمل کیا‘ بلکہ ہم ان لوگوں کی صف میں شامل ہو جائیں جن پر اللہ نے انعام فرمایا‘ ان کے بارے میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: "اور جو بھی اللہ تعالیٰ کی اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی فرماں برداری کرے وه ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے، جیسے نبی اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ۔ یہ بہترین رفیق ہیں"۔[النساء: 69]
...
سورۃ الضحیٰ
تمہید
شوق آمیز مقدمہ: اس کے بہت سے طریقے ہیں‘ مثلا:
۱- طلبہ سے ان واقعات کے بارے میں سوال کرنا جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تئیں اللہ تعالی کی توجہ اور عنایت ظاہر ہوئی۔
۲- سورت کا سبب نزول
سورت کا تعارف:
۱- سورۃ الضحى کہاں نازل ہوئی؟
سب کا اتفاق ہے کہ سورۃ الضحى مکہ میں نازل ہوئی [10] [10] دیکھیں: المحرر الوجيز (5/493)، زاد المسير (4/456)، الجامع لاحكام القرآن (20/91)
۲- سورۃ الضحى کا سبب نزول کیا ہے؟
صحیح بخاری میں ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے اور دو یا تین راتیں نہ اٹھ سکے تو ایک عورت آئی اور کہنے لگی: اے محمد! میرا خیال ہے کہ تجھے تیرے شیطان نے چھوڑ دیا ہے، کیونکہ دو یا تین راتوں سے میں نے اسے تمہارے پاس نہیں دیکھا ہے، اس پر اللہ تعالٰی نے یہ آیات نازل فرمائیں: قسم ہے چاشت کے وقت کی اور قسم ہے رات کی جب چھا جائے نہ تو تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ وه بیزار ہو گیا ہے [الضحى] [11]. [11] اس حدیث کو بخاری نے اپنی صحیح (6/172) (4959) میں، اور مسلم نے اپنی صحیح (3/1422) (1797) میں روایت کیا ہے۔
۳- سورۃ الضحى کا موضوع کیا ہے؟
اللہ تعالی نے اس عظیم سورہ میں چاشت کے وقت اور رات کے وقت کی قسم کھائی ہے تاکہ ولادت کے وقت سے ہی مکہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر رب تعالی کی جو کامل عنایت اور توجہ تھی‘ اسے ظاہر کرسکے‘ بایں طور کہ اللہ نے آپ کی کفالت کی‘ آپ کو پناہ دیا‘ آپ کو ہدایت سے نوازا اور آپ پر یہ انعامات کیے‘ قسم کھانے کی وجہ یہ ہے کہ اس سورت کی تمام آیتوں میں نبى صلى اللہ علیہ وسلم اللہ کی عنایت وتوجہ اسی طرح نمایاں ہوسکے جس طرح چاشت کے روشن ترین وقت میں سورج روشن وتاباں ہوتا ہے‘ سورت کے اخیر میں اللہ تعالی نے آپ سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ ان نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کیا کریں۔[12] [12] دیکھیں: مصاعد النظر للاشراف بمقاصد السور (3/207)، اسماء سور القرآن وفضائلها (ص:558)
دوسری مجلس: نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر رب تعالی کی عنایت وتوجہ
تلاوت:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: قسم ہے چاشت کے وقت کی اور قسم ہے رات کی جب چھا جائے نہ تو تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ وه بیزار ہو گیا ہے یقیناً تیرے لئے آخرت کی زندگی دنیا سے بہتر ہوگى تجھے تیرا رب بہت جلد (انعام) دے گا اور تو راضی (وخوش) ہوجائے گا۔ کیا اس نے تجھے یتیم پاکر جگہ نہیں دی اور تجھے راہ بھولا پاکر ہدایت نہیں دی اور تجھے نادار پاکر تونگر نہیں بنا دیا؟ پس یتیم پر تو بھی سختی نہ کیا کر اور نہ سوال کرنے والے کو ڈانٹ ڈپٹ اور اپنے رب کی نعمتوں کو بیان کرتا ره۔ سورۃ الضحیٰ
تفسیر:
(1) {والضحى} اللہ نے قسم کھائى ہے دن کے ابتدائی حصہ کی۔
(2) {والليل إذا سجى } اور اللہ نے قسم کھائى ہے رات کی جب وہ تاریک ہوجائے اور لوگ حرکت وعمل چھوڑ کر پرسکون ہوجائیں۔
(3) {ما ودّعك ربك وما قلى } اے رسول! نہ تیرے رب نے تجھے چھوڑا اور نہ تجھ سے بیزار ہوا‘ جیسا کہ وحی رکنے کے وقفہ میں مشرکین کہا کرتے تھے۔
(4) {وللآخرة خير لك من الأولى} آخرت کی زندگی آپ کے لیے دنیا سے بہتر ہے‘ کیوں کہ اس میں ہمیشہ رہنے والی نعمت ہوگی جو کبھی ختم نہ ہوگی۔
(5) {ولسوف يعطيك ربك فترضى } آپ کا رب آپ کو اور آپ کی امت کو اس قدر اجر عظیم سے نوازے گا کہ آپ اور آپ کی امت اپنے رب کی نوازش سے خوش ہوجائے گی۔
(6) {ألم يجدك يتيما فآوى} آپ کو بچپن میں یتیم پایا تو آپ کو ماوی وملجا عطا کیا‘ بایں طور کہ آپ کے دادا عبد المطلب کو آپ پر شفیق ومہربان بنادیا‘ اور ان کی وفات کے بعد آپ کے چچا ابو طالب آپ پر مہربان ہوگئے۔
(7) {ووجدك ضالا فهدى } آپ کو کتاب اور ایمان سے نا آشنا پایا تو آپ کو کتاب اور ایمان کی ایسی تعلیم دی جو آپ نہیں جانتے تھے۔
(8) {ووجدك عائلا فأغنى } آپ کو فقیر ونادار پایا تو آپ کو مالدار وبے نیاز کردیا۔
(9) { فأما اليتيم فلا تقهر } بنابریں جو شخص بچپن میں والد کے سایہ سے محروم ہو گیا ہو اس کے ساتھ برا سلوک نہ کریں اور نہ اسے ذلیل وخوار کریں۔
(10) { وأما السائل فلا تنهر } ضرورت مند سائل کو ڈانٹ ڈپٹ نہ کریں۔
(11) {وأما بنعمة ربك فحدّث } آپ پر اللہ کی جو نعمتیں ہیں‘ ان کا شکریہ ادا کریں اور انہیں بیان کریں- [13] [13] مختصر تفسير القرآن الكريم (ص:596)-
تدبر اور تزکیہ:
تدبر
تزکیہ
ہم اس سورت سے کیا سیکھتے ہیں؟
کونسی آیت اس پر دلالت کرتی ہے؟
ہم اس سورہ کی آیتوں سے اپنے اخلاق کو کیسے مزین کریں؟
اللہ تعالی اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہے‘ اللہ تعالی نے نہ آپ کو ترک کیا اور نہ کبھی ترک کرے گا‘ بلکہ اللہ آپ کی مدد ضرور کرے گا اور آپ کے دین کو غلبہ عطا کرے گا۔
(نہ تو تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ وه بیزار ہو گیا ہے)
ہمیں اللہ کے وعدہ پر یقین رکھنا چاہئے کہ وہ اپنے بندوں اور ولیوں کو بے یار ومددگار نہیں چھوڑے گا‘ بلکہ وہ ان کے ساتھ ہے‘ ان کی تائید اور مدد کرتا ہے‘ اگرچہ یہ تائید ونصرت ان کے لئے دیر سے ہو۔
دنیا وآخرت میں بہتر انجام اللہ کے رسولوں اور اس کے مومن بندوں کے لیے ہی ہے۔
(یقیناً آخرت کی زندگی تمہارے کے لیے دنیا سے بہتر ہے)
- ہمیں اللہ کے اس وعدہ پر یقین ہونا چاہئے کہ بہتر انجام متقیوں کا ہی ہے نصرت ومدد اور عزت وتمکین کی شکل میں۔
- ہم اپنے دلوں کو آخرت سے وابستہ رکھیں کیوں کہ آخرت دنیا اور اس کے مظاہر سے بہتر ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ کی نوازش دنیا سے آخرت تک پھیلی ہوئی ہے جو آپ کو راضی اور خوش کرنے والى ہے‘ اس نوازش میں اللہ تعالی کا آپ کی امت کو عزت واکرام سے نوازنا بھی شامل ہے۔
(تجھے تیرا رب بہت جلد (انعام) دے گا اور تو راضی (وخوش) ہوجائے گا)
- ہم اللہ تعالی سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں اپنے وسیع فضل واحسان سے نوازے اور ہمیں اپنی دی ہوئی روزی سے خوش کردے۔
- ہمیں رضائے الہی کی حصولیابی کے لیے تگ ودو کرنی چاہئے تاکہ قیامت کے دن ہم سعادت سے بہرہ ور ہوں۔
یتیم کی پرورش اور کفالت کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر یتیم کے لیے اسوہ ونمونہ اور باعث تسلی ہیں۔
(کیا اس نے تجھے یتیم پاکر جگہ نہیں دی)
ہمیں یقین رکھنا چاہئے کہ یتیموں کو اللہ تعالی کی عنایت حاصل ہوتی ہے اور اللہ پاک ان کے لیے پرورش وپرداخت کے اسباب مہیا فرما دیتا ہے۔
یتیم کو مغلوب وبےبس بنانا‘ اسے حقیر جاننا اور اس کے ساتھ بد سلوکی کرنا حرام ہے۔
(پس یتیم پر تو بھی سختی نہ کیا کر)
ہمیں یتیم کی عزت اور اس پر رحم وکرم کرنا چاہئے‘ اس کے ساتھ بھلائی اور حسن سلوک روا رکھنا چاہئے او اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کے لئے باہم ایک دوسرے کو نصیحت کرنا چاہئے ۔
سائل کو سوال کرنے کا حق ہے‘ خواہ علم کا سوال ہو یا مال کا سوال‘ اس لیے اسے ڈانٹنا یا اس پر سختی برتنا جائز نہیں ہے۔
(اور نہ سوال کرنے والے کو ڈانٹ ڈپٹ)
سائل کو بری بات کہہ کر ڈانٹ ڈپٹ نہیں کرنی چاہئے (نرم بات کہنا اور معاف کردینا اس صدقہ سے بہتر ہے جس کے بعد ایذا رسانی ہو)[البقرة: 263]
مالداری وبے نیازی دینے والا اللہ تعالی ہے‘ اللہ نے اپنی نبی کو بے نیاز کردیا بایں طور کہ آپ کے لیے اس شخص کو مسخر فرمایا جو آپ کے لیے کافی ہو جیسے خدیجہ رضی اللہ عنہا‘ اور اللہ نے آپ کو قرآن کے ذریعہ بے نیازی عطا کی اور آپ کو اس کے ذریعہ حقیقی بے نیازی کے عظیم ترین درجہ پر فائز کیا۔
(اور تجھے نادار پاکر تونگر نہیں بنا دیا؟)
ہمیں اس بات پر ایمان رکھنا چاہئے کہ اللہ پاک ہی ہمیں بے نیازی عطا کرتا ہے‘ اس کی بے نیازی صرف مال ودولت کی کثرت سے نہیں بلکہ علم سے ملتی ہے اور یہ سب سے بڑی بے نیازی ہے۔
تمام تر نعمتیں اللہ کی جانب سے حاصل ہوتی ہیں اور ان کا شکر ادا کرنا واجب ہے‘ نعمتِ قرآن کا شکر یہ ہے کہ ہم اس کی نشر واشاعات اور اس کی تبلیغ کریں۔
(اور اپنے رب کی نعمتوں کو بیان کرتا ره)
ہمارے اوپر اللہ کی جو نعمتیں ہیں ان کا شکر ادا کرتے ہوئے انہیں بیان کریں‘ بطور خاص نعمتِ قرآن کا شکر ادا کریں‘ چنانچہ لوگوں کو اس کی تعلیم دیں اور اس کی ہدایت کو نشر کریں۔
اس سورت سے ہدایت کی اور بھی باتیں مستنبط کریں‘ ساتھ ہی جو آیت اس پر دلالت کرتی ہے اس کو بیان کریں‘ نیز اس میں جو اخلاقی پہلو پنہاں ہے اس پر بھی روشنی ڈالیں۔
اس سورت کو سیکھنے کے بعد ہم اس پر عمل کیسے کریں؟
اپنی ذات کے تئیں:
- میرے اوپر اللہ کی جو نعمتیں ہیں ان کا شکر ادا کرنے میں سبقت کروں‘ چنانچہ اگر میں مالدار ہوں تو یتیمیوں اور فقیروں میں اپنامال صدقہ کروں اور اگر میں ذی علم ہوں تو لوگوں کے درمیان علم پھیلاؤں‘ کیوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے: "حسد صرف دو صورتوں میں جائز ہے، ایک تو یہ کہ کسی شخص کو اللہ نے دولت دی ہو اور اس نے اس کو راہ حق میں خرچ کرنے پر لگا دیا ہو اور دوسرا یہ کہ کسی شخص کو اللہ نے حکمت ( کی دولت ) سے نوازا ہو اور وہ اس کے ساتھ فیصلہ کرتا ہو اور ( لوگوں کو) اس حکمت کی تعلیم دیتا ہو"۔[14] [14] اس حدیث کو بخاری نے اپنی صحیح (1/25) (73)میں، اور مسلم نے اپنی صحیح(1/559) (816) میں روایت کیا ہے۔
...
اپنے معاشرہ کے تئیں:
اپنے دوستوں کے ساتھ اللہ تعالی کے کسی گھر میں بیٹھ کر سورۃ الضحى کی تلاوت کروں گا اور اس پر غور وفکر کروں گا‘ اور انہیں اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی رغبت دلاؤں گا (اور اس کا طریقہ بتاؤں گا کہ) یتیم کی عزت کریں‘ سائل کو نوازیں اور انہیں ڈانٹ ڈپٹ نہ کریں‘ کیوں کہ اللہ نے اس شخص کی مذمت بیان کی ہے جو نہ یتیم کی عزت کرتا ہے اور نہ مسکین کو نوازتا ہے‘ فرمان باری تعالی ہے: (ایسا ہرگز نہیں بلکہ (بات یہ ہے) کہ تم (ہی) لوگ یتیموں کی عزت نہیں کرتے. اور مسکینوں کے کھلانے کی ایک دوسرے کو ترغیب نہیں دیتے)۔ سورۃ الفجر
...
سورۃ الشرح
تمہید
شوق آمیز مقدمہ:
اس کے مختلف طریقے ہیں‘ مثلا:
۱- طلبہ سے ان نوازشوں کے بارے میں سوال کرنا جن سے اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نوازا۔
۲- سورت کا سبب نزول
سورت کا تعارف:
۲- سورۃ الشرح کہاں نازل ہوئی؟
سب کا اتفاق ہے کہ سورۃ الشرح مکہ میں نازل ہوئی [15] [15] النكت والعيون (6/296)، المحرر الوجيز (5/496)، زاد المسير (4/460)
۲- سورۃ الشرح کا سبب نزول کیا ہے؟
جب مشرکوں نے مسلمانوں کو فقر ومحتاجگی کی عار دلائی تو یہ سورت نازل ہوئی۔[16] [16] الكشف والبيان (10/232)، لباب النقول في أسباب النزول (ص: 213)
۳- سورۃ الشرح کے کون کون سے نام ہیں؟
(سورة الشرح)[17]، (ألم نشرح) [18]، (الانشراح)[19]۔ [17] الكشف والبيان (10/232)، النكت والعيون (6/296) [18] صحيح بخاری(6/172)، كتاب تفسير القرآن، باب "ما ودّعك ربك وما قلى"، جامع البيان (24/491)، مفاتيح الغيب (32/205) [19] مفاتيح الغيب (31/201)، تفسير الايجي (4/506)، مزید دیکھیں: أسماء سور القرآن وفضائلها (ص: 562)
4- سورۃ الشرح کا موضوع کیا ہے؟
اللہ کی ان نوازشوں کی وضاحت جنہیں اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر مکمل فرمائی‘ وہ رب جس نے آپ پر نعمت کا آغاز کیا وہ آپ سے اپنے فضل کو روکنے والا نہ تھا‘ سورۃ الضحى میں جب اللہ نے آپ کو نعمتوں پر شکر ادا کرنے کا حکم دیا تو اس کے بعد آپ کے صدر مبارک کو کھول دیا۔
تیسری مجلس: نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نعمتوں کا اتمام
تلاوت:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: کیا ہم نے تیرا سینہ نہیں کھول دیا. اور تجھ پر سے تیرا بوجھ ہم نے اتار دیا. جس نے تیری پیٹھ توڑ دی تھی. اور ہم نے تیرا ذکر بلند کر دیا. پس یقیناً مشکل کے ساتھ آسانی ہے. پس یقیناً مشکل کے ساتھ آسانی ہے. پس جب تو فارغ ہو تو عبادت میں محنت کر. اور اپنے رب ہی کی طرف دل لگا۔ سورۃ الشرح: ١ - ٨
تفسیر:
(1) {ألم نشرح لك صدرك} اللہ تعالی نے آپ کا دل کھول دیا اور آپ کے لیے وحی کو حاصل کرنا محبوب بنا دیا۔
(2) {ووضعنا عنك وزرك} اور ہم نےآپ کے کندھوں سے گناہ کا بوجھ اتار دیا۔
(3) {الذي أنقض ظهرك} جس نے آپ کو تھکا دیا یہاں تک کہ قریب تھا کہ آپ کی پیٹھ ٹوٹ جائے۔
(4) {ورفعنا لك ذكرك} ہم نے آپ کا ذکر بلند کردیا‘ چنانچہ اذان اور اقامت وغیرہ میں آپ کا ذکر ہونے لگا۔
(5) {فإن مع العسر يسرا} تنگی اور سختی کے ساتھ آسانی اور کشادگی ہے۔
(6) {إن مع العسر يسرا} تنگی کے ساتھ آسانی اور فراخی ہے‘ جب آپ کو اس بات کا یقین ہے تو آپ اپنی قوم کی ایذا رسانی سے خائف نہ ہوں اور نہ اس کی وجہ سے دعوت الى اللہ کو ترک کریں۔
(7) {فإذا فرغت فانصب} جب اپنے اعمال سے فارغ ہوجائیں تو اپنے رب کی عبادت میں محنت کریں۔
(8) {وإلى ربك فارغب} اور اپنی رغبت اور ارادہ کو ایک اللہ کی طرف ہی مرکوز رکھیں[20] [20] المختصر في تفسيرالقرآن الكريم (ص:596-597).
تدبر اور تزکیہ:
تدبر
تزکیہ
ہم اس سورہ سے کیا سیکھتے ہیں؟
کونسی آیت اس پر دلالت کرتی ہے؟
ہم اس سورہ کی آیتوں سے اپنے اخلاق کو کیسے مزین کریں؟
اللہ پاک کا اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ احسان ہے کہ اللہ نے آپ کو شرح صدر سے نوازا۔
(کیا ہم نے تیرا سینہ نہیں کھول دیا).
ہم اللہ سے دعا کریں کہ اللہ تعالی اپنے اوپر ایمان لانے‘ اپنی اطاعت کرنے اور اپنی مرضی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے لیے ہمارا دل کھول دے۔
اللہ پاک کا اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ احسان ہے کہ اللہ نے آپ کے کندھے سے بوجھ اتاردیا۔
(اور تجھ پر سے تیرا بوجھ ہم نے اتار دیا جس نے تیری پیٹھ توڑ دی)
ہمیں گناہوں سے دور رہنا چاہئے کیوں کہ گناہ دل کی تنگی اور زندگی کی کدورت کا سبب ہے۔
اللہ پاک کا اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ احسان ہے کہ اللہ نے آپ کا ذکر بلند فرمایا۔
(اور ہم نے تیرا ذکر بلند کر دیا)
ہمیں علمی اور عملی طور پر ہمیشہ اللہ پاک کا ذکر کرتے رہنا چاہئے تاکہ اللہ پاک کے نزدیک بلند مقام سے سرفراز ہوں اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت سے بہرہ ور ہوسکیں۔
اللہ تعالی اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے‘ تنگی کے بعد فراخی اور سختی کے بعد آسانی سے نوازتا ہے۔
(یقینا مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے)
- ہمیں اللہ تعالی پر بھروسہ اور توکل رکھنا چاہئے اور اس کی رحمت وفراخی سے مایوس نہیں ہونا چاہئے۔
- ہمیں یہ یقین رکھنا چاہئے کہ اللہ پاک ہر غم کے بعد آسانی اور ہر تنگی کے بعد فراخی عطا کرتا ہے‘ اس لیے ہمیں ان حالات سے مایوس نہیں ہونا چاہئے جو ہمیں یا ہماری امت کو لاحق ہیں‘ کیوں کہ مشكل كشائى بہت قریب ہے۔
- خالی اوقات کو اچھے کاموں میں استعمال کرنا ایک بڑی نعمت ہے‘ اس لیے ہمیں ان اوقات کو اللہ پاک کی اطاعت میں لگانا چاہئے۔
(پس جب تو فارغ ہو تو عبادت میں محنت کر)
ایسا نہ ہو کہ ہم توکل کے نام پر دنیاوی امور سے غافل ہوجائیں‘ بلکہ ہمارے اوپر واجب ہے کہ ہم اپنے اوقات کا صحیح استعمال کریں‘ باعزت زندگی گزارنے اور روئے زمین کو اللہ کے پسندیدہ کاموں سے آباد کرنے کی کوشش کریں۔
اللہ تعالی کی طرف راغب ہونا ایک عظیم ترین عبادت اور مہتم بالشان اطاعت ہے‘ اللہ پاک تن تنہا تمام تر عبادتوں کا مستحق ہے۔
(اور اپنے پروردگار ہی کی طرف دل لگا)
ہمیں اپنی تمام عبادتوں کو صرف اللہ پاک کے لیے خالص رکھنا چاہئے‘ اسی کی رضا کی طلب ہونى چاہئے اور اسی کے اجر وثواب کی امید کرنی چاہئے۔
اس سورت سے ہدایت کی اور بھی باتیں مستنبط کریں‘ ساتھ جو آیت اس پر دلالت کرتی ہے اس کی وضاحت کریں‘ نیز اس میں جو اخلاقی پہلو پنہاں ہے اس پر بھی روشنی ڈالیں۔
اس سورت کو سیکھنے کے بعد ہم اس پر عمل کیسے کریں؟
اپنی ذات کے تئیں:
- میں اپنے خالی اوقات کو اللہ کی عبادت میں لگاؤں گا‘ اس کی اطاعت کو راحت وآرام پر ترجیح دوں گا‘ کیوں کہ وقت ضائع کرنا بندہ کے لیے گھاٹے کا سودہ ہے جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "دونعمتیں ہیں جن میں اکثر لوگ (ان کے غلط استعمال کی وجہ سے) خسارے اور گھاٹے میں رہیں گے: صحت اور فراغت"[21]. [21] اس حدیث کو بخاری نے اپنی صحیح (8/88) (6412) میں روایت کیا ہے۔
...
اپنے معاشرہ کےتئیں:
- لوگوں کو اللہ تعالی کی رحمت ومہربانی کی بشارت دوں گا‘ انہیں صبر کی تلقین کروں گا‘ اور یہ بتاؤں گا کہ سارے معاملات اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں‘ وہ خوف کو امن میں اور فقیری کو امیری میں بدل دیتا ہے‘ آزمائش خواہ جس قدر بھی طویل ہو اور مصیبت خواہ جس قدر بھی بڑی ہو‘ اللہ کی مشکل کشائى بہت قریب ہے‘ اس لیے ہمیں اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہئے کیوں کہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہونا کافروں کی علامت ہے جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے: (یقینا رب کی رحمت سے نا امید وہی ہوتے ہیں جو کافر ہوتے ہیں) سورۃ یوسف
...
سورۃ التین
تمہید
شوق آمیز مقدمہ: اس کے بہت سے طریقے ہیں‘ مثلا:
۱- طلبہ سے ان خصوصیات کے بارے میں سوال کرنا جن سے اللہ نے انسان کو معزز مخلوق بنایا۔
۲- ایسے بعض مقامات کے بارے میں سوال کرنا جنہیں اللہ نے رسالت اور رسولوں سے مشرف کیا۔
وہ کونسی آسمانی کتابیں ہیں جن کا ذکر اللہ نے قرآن میں کیا ہے؟
سورت کا تعارف:
۱- سورۃ التین کے کون کون سے نام ہیں؟
یہ سورت سورۃ (التین) کے نام سے جانی جاتی ہے‘ اس کا ایک نام (والتین) بھی ہے‘ جوکہ ابن عباس سے منقول ہے[22]۔ [22] دیکھیں: الهداية الى بلوغ النهاية (12/8339)، الجامع لاحكام القرآن (20/110)، الدر المنثور (8/553).
4- سورۃ التین کہاں نازل ہوئی؟ اکثر علمائے تفسیر کے مطابق سورۃ التین مکہ میں نازل ہوئی[23]۔ [23] النكت والعيون (6/300)، زاد المسير (4/463)، الجامع لاحكام القرآن (20/110).
4-سورۃ التین کا موضوع کیا ہے؟
اس سورت میں اللہ تعالی نے ذکر کیا ہے کہ اس نے انسان کو سب سے خوبصورت اور معتدل شکل میں پیدا کیا‘ انسان کو ایمان اور عمل صالح سے رفعت وبلندی ملتی ہے اور ان دونوں کو ترک کرنے سے وہ پستی کا شکار ہوجاتا ہے۔
چوتھی مجلس: اللہ کے دین پر (عمل کرنے سے ہی) انسان کو بلند مقام ومرتبہ ملتا ہے
تلاوت:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی۔ اور طور سینین کی۔ اور اس امن والے شہر کی۔ یقیناً ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا. پھر اسے نیچوں سے نیچا کر دیا. لیکن جو لوگ ایمان ﻻئے اور (پھر) نیک عمل کیے تو ان کے لئے ایسا اجر ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا۔ پس تجھے اب روز جزا کے جھٹلانے پر کون سی چیز آماده کرتی ہے. کیا اللہ تعالیٰ (سب) حاکموں کا حاکم نہیں ہے۔ سورۃ التين 1-8
تفسیر:
(1) {والتين والزيتون} اللہ نے قسم کھائى انجیر اور اس کی جائے پیداوار کی‘ اور زیتون کی اور اس کی جائے پیداوار کی جو کہ فلسطین میں ہے جہاں اللہ تعالی نے عیسی علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔
(2) {وطور سنين} اللہ تعالی نے طور پہاڑ کی بھی قسم کھائی جس پر اللہ سے اپنے نبی موسی علیہ السلام کے ساتھ کلام کیا تھا۔
(3) {وهذا البلد الأمين} اللہ نے شہر حرام مکہ کی قسم بھی کھائی‘ جس شہر میں داخل ہونے والا مامون ہو جاتا ہے۔
(4) {لقد خلقنا الإنسان في أحسن تقويم} اللہ نے انسان کو سب سے معتدل اور افضل شکل وصورت میں پیدا کیا۔
(5) {ثم رددناه أسفل سافلين} پھر ہم نے اسے بڑھاپے اور نا عقلی میں لوٹا دیا چنانچہ وہ اپنے جسم سے فائدہ اٹھانے کے قابل نہیں رہ پاتا‘ اسی طرح وہ اپنے جسم سے اس وقت بھی فائدہ نہیں اٹھا پائے گا جب اپنی فطرت کو بگاڑنے کی وجہ سے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
(6 {إلا الذين آمنوا وعملوا الصالحات فلهم أجر غير ممنون} سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کیے‘ یہ لوگ اگر بڑھاپے میں بھی پہنچ جائیں تو ان کی نیکی جاری وساری رہتی ہےجوکہ جنت کی شکل میں ملنے والی ہے‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی فطرت کا تزکیہ کیا۔
(7) {فما يكذبك بعد بالدين} اے انسان! جب تونے اللہ کی قدرت پر دلالت کرنے والی بیش بہا نشانیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تو کونسی چیز جزا وسزا کے دن کو جھٹلانے پر تجھے آمادہ کرتی ہے؟
(8){أليس الله بأحكم الحاكمين} کیا اللہ تعالی -قیامت کے دن کو جزا وسزا کا دن بنا کر- سب حاکموں سے بڑا اور منصف حاکم نہیں ہے؟ کیا یہ معقول بات ہے کہ اللہ تعالی اپنے بندوں کو یوں ہی بے کار چھوڑ دے‘ ان کے درمیان فیصلہ نہ کرے کہ نیکو کار کو اس کی نیکی کا اور بدکار کو اس کی بدی کا بدلہ دے؟! [24] [24] المختصر في تفسير القرآن الكريم(ص:597).
تدبر اور تزکیہ:
تدبر
تزکیہ
ہم اس سورت سے کیا سیکھتے ہیں؟
کونسی آیت اس پر دلالت کرتی ہے؟
ہم اس سورت کی آیتوں سے اپنے اخلاق کو کیسے مزین کریں؟
اللہ تعالی نے کچھ مقامات کو یہ شرف بخشا کہ وہاں اپنی وحی نازل فرمائی‘ یعنی توریت‘ انجیل اور قرآن نازل فرمایا‘ ان جگہوں کے لئے یہ نہایت فضیلت اور شرف کی بات ہے!!
(قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی اور طور سینین کی اور اس امن والے شہر کی)
- ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالی نے مخلوق کی ہدایت ورہبری اور انہیں گمراہیوں سے بچانے کے لیے رسولوں اور پیغامات کو بھیج کر بڑا انعام کیا۔
- ہم اپنے دلوں کو وحی سے آباد رکھیں‘ تاکہ ہر طرح کی خیرات وبرکات سے بہرہ ور ہوسکیں اور اللہ پاک کی جانب سے عزت ومرتبت پاسکیں-
اللہ تعالی نے ابن آدم کو یہ اعزاز بخشا کہ اسے سب سے کامل شکل وصورت میں پیدا کیا‘ پاک ہے پیدا کرنے والا اللہ!!
(یقیناً ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا)
ہم صرف اپنے جسم اور ظاہری شکل وصورت کی حفاظت کرنے پر اکتفا نہ کریں‘ بلکہ اس فطرت سلیمہ کی حفاظت کریں جس پر اللہ نے ہمارے باطن کو پیدا فرمایا اور ہم باطل عقائد سے اس فطرت کو مکدر نہ کریں۔
یہ انسان جسے اللہ نے پیدا کیا اور خوبصورت شکل وصورت سے نوازا‘ اگر اللہ اسے ہدایت نہ دے تو وہ چوپایوں سے بھی بدتر حالت میں چلا جاتا ہے‘ جیسا کہ اللہ پاک نے حدیث قدسی میں ارشاد فرمایا:
(میرے بندو! تم سب کے سب گمراہ ہو، سوائے اس کے جسے میں ہدایت دے دوں، اس لیے مجھ سے ہدایت مانگو میں تمہیں ہدایت دوں گا) [25] [25] اس حدیث کو مسلم نے اپنی صحیح (4/1994) (2577) میں روایت کیا ہے۔
(پھر اسے نیچوں سے نیچا کر دیا)
میں ہدایت کے اسباب تلاش کروں گا تاکہ تاریکیوں سے نکل کر روشنی کی طرف جا سکوں‘ پستی کی کھائی سے نکل کر بلند مقام تک پہنچ سکوں جوکہ اللہ پاک کی بندگی کا مقام ہے۔
اللہ کے نزدیک رفعت ومرتبت حاصل کرنے اور لا متناہی نوازش سے بہرہ ور ہونے کا واحد راستہ ایمان اور عمل ہے‘ نہ کہ حسب ونسب وغیرہ۔
(لیکن جو لوگ ایمان ﻻئے اور (پھر) نیک عمل کیے تو ان کے لئے ایسا اجر ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا)
ہمیں جنت اور اس کی دائمی نعمت سے فیض یاب ہونے کے لیے جد وجہد کرنی چاہئے‘ یہ نعمت صرف ایمان لانے سے حاصل نہیں ہوسکتی‘ بلکہ اعمال صالحہ بھی ضروری ہیں جن سے ایمان میں بڑھوتری اور تقویت آتی ہے‘ کیوں کہ اطاعت سے ایمان میں اضافہ ہوتا اور گناہ سے اس میں کمی آتی ہے۔
مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کی بہت سی دلیلیں اللہ نے قائم کی ہیں‘ ان دلائل میں انسان کی تخلیق اور پیدائش بھی شامل ہے‘ اس لیے وہ بندہ جو کچھ نہ تھا لیکن اللہ نے اسے وجود بخشا‘ اسے یہ زیب نہیں دیتا کہ قیامت کے دن کو جھٹلائے۔
(پس تجھے اب روز جزا کے جھٹلانے پر کون سی چیز آماده کرتی ہے)
جن عقلوں کے ذریعہ اللہ نے ہمیں ممتاز کیا ہے انہیں استعمال میں لاکر ہمیں اس کی قدرت کی ان نشانیوں پر غور وفکر کرنا چاہئے جو ایجاد کرنے والے خالق کی عظمت پر دلالت کرتی ہیں‘ یہ غور وفکر ہمیں جزا وسزا کے دن پر ایمان لانے کی رہنمائی کرے گا۔
اللہ پاک تمام حاکموں سے بڑا حاکم ہے‘ اس کی حکمت ہی ہے کہ اس نے لوگوں کے لیے ایک ایسا دن مقرر فرمایا جس میں لوگ اس کی طرف لوٹ کر جائیں گے‘ جہاں وہ ان کے اچھے برے تمام اعمال کا بدلہ دے گا۔
(کیا اللہ تعالیٰ (سب) حاکموں کا حاکم نہیں ہے)
ہمیں اس بات پر ایمان رکھنا چاہئے کہ اللہ نے اپنے عدل اور حکمت کی بنا پر جزا وسزا کے لیے قیامت کا دن مقرر فرمایا ہے‘ جہاں وہ نیکو کار کو اس کى نیکی کا اور بدکار کو اس کى بدی کا بدلہ دے گا
اس سورت سے ہدایت کی اور بھی باتیں مستنبط کریں‘ ساتھ ہی جو آیت اس پر دلالت کرتی ہے اس کو بیان کریں‘ نیز اس میں جو اخلاقی پہلو پنہاں ہے اس پر بھی روشنی ڈالیں۔
اس سورہ کو سیکھنے کے بعد ہم اس پر عمل کیسے کریں؟
اپنی ذات کے تئیں:
- میں دخول جنت کو اپنا نصب العین بنا کر رکھوں گا‘ اس کی خاطر کثرت سے نیک اعمال کروں گا تاکہ میرے ایمان میں اضافہ ہو‘ جنت میں ایسی نعمتیں ہیں جنہیں نہ کسی کی آنکھوں نے دیکھا‘ نہ کانوں نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا خیال ہی گزرا [26] جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے‘ اس کی تصدیق اللہ تعالی کے اس فرمان سے بھی ہوتی ہے: (کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لئے پوشیده کر رکھی ہے، جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے) [سورة: السجدة]- [26] اس حدیث کو بخاری نے اپنی صحیح (4/11) (3244) میں اور مسلم نے اپنی صحیح (4/2174) (2824) میں روایت کیا ہے۔
...
اپنے معاشرہ کے تئیں:
میں صحیح عقیدہ کا علم حاصل کروں گا جس کا اللہ نے اپنی کتاب میں اور رسول نے اپنی حدیث میں حکم دیا ہے اور اپنے اہل خانہ کو اس کی تعلیم دوں گا‘ نیز انہیں ان باطل عقائد سے خبردار کروں گا جو ہماری فطرت کو بگاڑ دیتے ہیں‘ تاکہ ہم ان عقائد کے سبب ہلاک نہ ہوں‘اللہ تعالی کے اس فرمان پر عمل کرتے ہوئے کہ: (اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر جس پر سخت دل مضبوط فرشتے مقرر ہیں جنہیں جو حکم اللہ تعالیٰ دیتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو حکم دیا جائے بجا ﻻتے ہیں). سورۃ التحریم
...
سورۃ العلق
تمہید
شوق آمیز مقدمہ:
اس کے مختلف طریقے ہیں‘ مثلا:
۱- طلبہ سے یہ سوال کرنا کہ سب سے پہلے کون سورت نازل ہوئی۔
۲- سورت کا سبب نزول
سورت کا تعارف:
۳- سورۃ العلق کے کون کون سے نام ہیں؟
سورة (العلق)، سورۃ (اقرأ باسم ربك)، (اقرأ باسم ربك الذي خلق)[27]، اور مفسرین نے اس سورت کو سورة (القلم)، اور سورة (اقرأ) سے بھی موسوم کیا ہے [28]- [27] دیکھیں: صحيح بخاری (6/173)، كتاب تفسير القرآن، باب "ما ودّعك ربك وما قلى"- [28] دیکھیں: الكشف والبيان (10/242)، زاد المسير (4/466)، التحرير والتنوير (30/433)-
۲- سورۃ العلق کہاں نازل ہوئی؟
اس پر اجماع ہے کہ سورۃ العلق مکہ میں نازل ہوئی[29]۔ [29] المحرر الوجيز (5/501)، الجامع لاحكام القرآن (20/117)-
۳- سورۃ العلق کا سبب نزول کیا ہے؟
صحیحین میں آغاز وحی کے قصہ میں ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے‘ وہ فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ پر وحی کی ابتدا سچے خوابوں کی صورت میں ہوئی، آپ جو کچھ خواب میں دیکھتے وہ سپیدہ صبح کی طرح نمودار ہو جاتا، پھر آپ کو تنہائی محبوب ہو گئی، چنانچہ آپ غار حرا میں خلوت اختیار فرماتے اور کئی کئی رات گھر تشریف لائے بغیر مصروف عبادت رہتے، آپ کھانے پینے کا سامان گھر سے لے جا کر وہاں چند روز گزارتے، پھر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس واپس آتے اور تقریباً اتنے ہی دنوں کے لیے پھر توشہ لے جاتے،یہاں تک کہ ایک روز جبکہ آپ غار حرا میں تھے، (یکایک) آپ کے پاس حق آگیا اور فرشتے نے آ کر آپ سے کہا: پڑھو! آپ نے فرمایا:’’میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔‘‘ آپ کا کہنا ہے: اس پر فرشتے نے مجھے پکڑ کر خوب بھینچا، یہاں تک کہ میری قوت برداشت جواب دینے لگی، پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا: پڑھو! میں نے کہا: ’’میں تو پڑھا ہوا نہیں ہوں۔‘‘ اس نے دوبارہ مجھے پکڑ کر دبوچا، یہاں تک کہ میری قوت برداشت جواب دینے لگی، پھر چھوڑ کر کہا: پڑھو! میں نے پھر کہا: ’’میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔‘‘ اس نے تیسری بار مجھے پکڑ کر بھینچا، پھر چھوڑ کر کہا: ’’پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا، جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا، پڑھو! اور تمہارا رب تو نہایت کریم ہے۔‘‘[30] الحدیث۔ [30] اس حدیث کو بخاری نے اپنی صحیح(1/7) (3). میں روایت کیا ہے۔
مسند احمد اور سنن ترمذی وغیرہ میں ابن عباس سے مروی ہے‘ وہ فرماتے ہیں: نبی اکرم ﷺنماز پڑھ رہے تھے کہ ابوجہل آ گیا،اس نے کہا:میں نے تجھے اس (نماز) سے منع نہیں کیا تھا؟ کیا میں نے تجھے اس (نماز) سے منع نہیں کیا تھا؟ نبی اکرم ﷺ نے نماز سے سلام پھیرا اوراسے ڈانٹا، ابوجہل نے کہا: تجھے خوب اچھی طرح معلوم ہے کہ مجھ سے زیادہ کسی کے ہم نشیں نہیں ہیں،اس پراللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ﴿فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ﴾ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: "قسم اللہ کی! اگر وہ اپنے ہم نشینوں کو بلا لیتا تو عذاب پر متعین اللہ کے فرشتے اسے دھر دبوچتے[31]. [31] اس حدیث کو ترمذی نے اپنے سنن (5/444) (3349) میں، اور احمد نے اپنی مسند(4/165) (2322) میں روایت کیا ہے اور البانی نے السلسلة الصحيحة (1/557) (275) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔
4- سورۃ العلق کا موضوع کیا ہے؟
اس سورہ میں بیان کیا گیا ہے کہ انسان کو اسی وقت کمال حاصل ہوتا ہے جب وہ وحی اور علم سے وابستہ رہے [32]، اس میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ انسان کی تخلیق کس چیز سے ہوئی تاکہ وہ سرکشی کرنے اور اللہ سے روگردانی سے بچتا رہے‘ کیوں کہ جس اللہ نے اسے پیدا کیا وہی اسے دوبارہ زندہ کرے گا اور اسے اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔ [32] دیکھیں: مقاصد سور المفصل (ص: 9)
پانچویں مجلس: پڑھائى اور علم میں بہترى پیدا کرنا
تلاوت:
اللہ تعالی کا فرمان ہے: "پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ تو پڑھتا ره تیرا رب بڑے کرم واﻻ ہے۔ جس نے قلم کے ذریعے (علم) سکھایا۔ ’’انسان کو وہ باتیں سکھائیں جو وہ نہیں جانتا تھا۔‘‘ (العلق:1-5)۔
تفسیر:
(اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ) اے رسول! آپ پڑھیے وہ (قرآن) جسے اللہ آپ کی طرف وحی کیا کرتا ہے‘ اپنے اس رب کے نام سے آغاز کرتے ہوئے جس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا۔
(خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ) اللہ نے انسان کو خون کے جمے ہوئے لوتھڑے سے پیدا کیا‘ جو لوتھڑا پہلے نطفہ تھا۔
(اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ) اے رسول! جو (قرآن) اللہ تعالی آپ کی طرف وحی کرتا ہے‘ آپ اسے پڑھتے رہیے‘ آپ کا رب بڑا کرم والا ہے‘ کوئی بھی سخی اس کی کرم فرمائی کا مقابلہ نہیں کرتا‘ وہ نہایت فیاض اور بڑا محسن ہے
(الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ) جس نے قلم کے ذریعہ تحریر کرنا اور لکھنا سکھایا۔
(عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ) انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن سے وہ نا آشنا تھا۔
تدبر اور تزکیہ:
تدبر
تزکیہ
ہم اس سورہ سے کیا سیکھتے ہیں؟
کونسی آیت اس پر دلالت کرتی ہے؟
ہم اس سورہ کی آیتوں سے اپنے اخلاق کو کیسے مزین کریں؟
اللہ پاک نے انسان کو کمزوری کی حالت میں پیدا کیا‘ پھر وحی کی تلاوت اور علم کے ذریعہ اسے رفعت وبلندی عطا کی اور اسے علم حاصل کرنے کے وسائل کی رہنمائی فرمائی۔
(پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا‘ جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا)
میں ربانی علم کو کتاب وسنت سے حاصل کروں گا تاکہ تاریکیوں سے نکل کر روشنی میں جا سکوں اور کمزوری سے نکل کر قوت حاصل کرسکوں۔
خود بھی علم حاصل کرو اور (دوسروں کو بھی) علم سکھاؤ‘ منتشر علوم کو وسائل علم کے ذریعہ ضبط میں لاؤ‘ کیوں کہ تیرا رب بڑا کرم والا ہے‘ اگر تو اس کے لیے مخلص بن کر رہے گا تو وہ تیرے علم اور اجر وثواب میں مزید اضافہ فرمائے گا۔
(تو پڑھتا رہ تیرا رب بڑے کرم والا ہے جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا)۔
- ہمیں اللہ کی یہ نعمت یاد رکھنی چاہئے کہ اس نے ہمیں قلم سے لکھنے کا اعزاز بخشا‘ تحریر وکتابت کے ذریعے ہی علم وحکمت کو مدون کیا گیا‘ اسی کے ذریعے سابقہ قوموں کی خبریں‘ حالات اور سیرتیں ہمیں معلوم ہوئیں۔
- جو علوم ومعارف ہم سیکھتے ہیں‘ انہیں ذہن نشیں کرنے کے لیے ہمیں کتابت کا استعمال کرنا چاہئے تاکہ نہ ہم اسے بھول سکیں اور نہ وہ ہم سے ضائع ہوسکے۔
علم اللہ پاک کی جانب سے حاصل ہوتا ہے‘ وہ (العلیم) خوب جاننے والا ہے‘ توحید پرست مومن اللہ پاک سے ہی علم طلب کرتا ہے‘ بایں طور کہ اس پر توکل کرتا ہے اور اس کی کتاب اوراس کے نبی کی سنت سے علم حاصل کرتا ہے۔
(انسان کو وہ باتیں سکھائیں جو وہ نہیں جانتا تھا)
نہ میں اپنے علم پر فخر کروں گا‘ نہ اس علم میں کسى عالم کو نیچا دکھاؤں گا‘ نہ کسی جاہل سے بحث ومباحثہ کروں گا‘ اور نہ کسی طالب علم سے اسے چھپاؤں گا‘ کیوں کہ وہ اللہ تعالی کی نعمت ہے جس سے اللہ نے مجھے نوازا ہے‘ اس میں میری قوت وطاقت کا کوئی عمل دخل نہیں۔
چھٹی مجلس: جہالت اور وحی سے روگردانی کرنے کا انجام
تلاوت:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (سچ مچ انسان آپے سے باہر ہوجاتا ہے۔ اس لیے کہ وہ اپنے آپ کو بے پروا (یا تونگر) سمجھتا ہے۔ یقیناً لوٹنا تیرے رب کی طرف ہے۔ (بھلا) اسے بھی تونے دیکھا جو بندے کو روکتا ہے۔ جبکہ وہ بندہ نماز ادا کرتا ہے۔ بھلا بتلا تو اگر وه ہدایت پر ہو۔ یا پرہیزگاری کا حکم دیتا ہو۔ بھلا دیکھو تو اگر یہ جھٹلاتا ہو اور منہ پھیرتا ہو۔ کیا اس نے نہیں جانا کہ اللہ تعالیٰ اسے خوب دیکھ رہا ہے۔ یقیناً اگر یہ باز نہ رہا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے۔ ایسی پیشانی جو جھوٹی خطا کار ہے۔ یہ اپنی مجلس والوں کو بلا لے۔ ہم بھی (دوزخ کے) پیادوں کو بلالیں گے۔ خبردار! اس کا کہنا ہرگز نہ ماننا اور سجده کر اور قریب ہو جا۔ سورۃ العلق: 6-19
تفسیر:
(كَلَّا إِنَّ الْإِنسَانَ لَيَطْغَىٰ) سچ مچ فاجر انسان جو ابو جہل کی طرح ہو‘ وہ حدود الہی کو پھلانگنے میں حد سے تجاوز کرجاتا ہے۔
(أَن رَّآهُ اسْتَغْنَىٰ) اس لیے کہ اپنے پاس مال ودولت دیکھتا ہے۔
(إِنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ الرُّجْعَىٰ) اے انسان! یقینا قیامت کے دن تجھے اپنے رب کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے‘ جہاں وہ ہر انسان کو وہ بدلہ دے گا جس کا وہ مستحق ہوگا۔
(أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَىٰ) کیا آپ نے ایسى بات دیکھى ہے جو ابو جہل جو کہ روکتا ہے کی بات سے بھی زیادہ تعجب خیز ہو-
(عَبْدًا إِذَا صَلَّىٰ) بندے کو جب وہ اللہ کی خاطر نماز پڑھتا ہے؟ جسے روکتا ہے وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
(أَرَأَيْتَ إِن كَانَ عَلَى الْهُدَىٰ) بھلا بتلا تو کہ جسے روکا جا رہا ہے وہ اگر اپنے رب کی دی ہوئی بصیرت اور ہدایت پر ہو؟
(أَوْ أَمَرَ بِالتَّقْوَىٰ) یا وہ لوگوں کو یہ حکم دیتا ہو کہ اللہ کے احکام کو بجا لاکر اور اس کی منہیات سے اجتناب کرکے اللہ کا تقوی اختیار کریں‘ کیا جس کی شان اور پہچان ایسی ہو اسے روکا جانا چاہئے؟
(أَرَأَيْتَ إِن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ) بھلا دیکھو تو کہ اگر روکنے والا یہ شخص رسول کی لائی ہوئی شریعت کو جھٹلاتا ہو اور اس سے اعراض برتتا ہو‘ کیا اسے اللہ کا ڈر اور خوف نہیں؟
(أَلَمْ يَعْلَم بِأَنَّ اللَّهَ يَرَىٰ) اس بندے کو نماز سے روکنے والا یہ شخص جانتا نہیں کہ اللہ تعالی اس کی بدعملی کو دیکھ رہا ہے‘ اس سے کوئی بھی چیز مخفی نہیں؟
(كَلَّا لَئِن لَّمْ يَنتَهِ لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِيَةِ) معاملہ ویسا نہیں ہے جیسا کہ اس جاہل نے سوچ رکھا ہے‘ اگر ہمارے بندے کو اذیت دینے اور جھٹلانے سے وہ باز نہیں آیا تو ہم سختی کے ساتھ پیشانی کے بل گھسیٹ کر اسے جہنم میں پھینک دیں گے۔
(نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ) وہ پیشانی اپنے قول میں جھوٹی اور فعل میں بدکار ہے۔
(فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ) جس وقت اسے سر کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈالا جائے گا‘ اس وقت وہ اپنے ہمنواؤں اور مجلس والوں کو بلالے اور ان سے مدد طلب کرے کہ وہ اسے عذاب سے بچالیں۔
(سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ) ہم بھی دوزخ کے پیادوں بلا لیں گے یعنی ان سخت جان فرشتوں کو جو حکم الہی کی نافرمانی نہیں کرتے‘ جو حکم دیا جاتا ہے اسے بجا لاتے ہیں‘ اس لیے وہ دیکھ لے کونسا فریق زیادہ طاقت ور اور تونگر ہے۔
(كَلَّا لَا تُطِعْهُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِب ۩) معاملہ ویسا نہیں ہے جیسا اس ظالم نے گمان کر رکھا ہے کہ وہ آپ کو نقصان پہنچادے گا‘ آپ کسی بھی حکم اور ممانعت میں اس کی اطاعت نہ کریں‘ بلکہ صرف اللہ کے سامنے سجدہ کریں اور اطاعتوں کے ذریعہ اس کی قربت حاصل کرتے رہیں‘ اطاعتیں اللہ سے قریب کردیتی ہیں[33]۔ [33] المختصر في التفسير (ص: 597-598)-
تدبر اور تزکیہ:
تدبر
تزکیہ
ہم اس سورہ سے کیا سیکھتے ہیں؟
کونسی آیت اس پر دلالت کرتی ہے؟
ہم اس سورہ کی آیتوں سے اپنے اخلاق کو کیسے مزین کریں؟
مالداری بندہ کو سرکشی اور حد سے تجاوز کرنے پر آمادہ کرتی ہے‘ اس لیے بندہ کو چاہیے کہ آخرت کو یاد کرکے اپنے نفس کو قابو میں رکھے۔
(سچ مچ انسان تو آپے سے باہر ہو جاتا ہے‘ اس لیے کہ وہ اپنے آپ کو بے پروا (یا تونگر) سمجھتا ہے‘ یقینا لوٹنا تیرے رب کی طرف ہے)۔
- ہمیں ذہن نشیں رکھنا چاہئے کہ مالداری وفراخی‘ ہمنواؤں کی کثرت اور بے انتہا جاہ وحشمت کی حالت میں ہمیں سب سے زیادہ اللہ کی اور اس کی توفیق ومدد کی ضرورت ہوتی ہے۔
- ہمیں اپنے انجام پر غور وفکر کرنا چاہئے‘ کیوں کہ اس سے ہمارے اندر یہ داعیہ پیدا ہوگا کہ ہم حدود الہی سے تجاوز نہ کریں اوراللہ نے ہمارے اوپر مال ودولت کا جو انعام کیا ہے اس سے دھوکا نہ کھائیں۔
اللہ کی راہ سے روکنا دشمنان الہی کا وطیرہ ہے‘ اس لیے مسلمان کو اس سے ہوشیار رہنا چاہئے!!
(بھلا اسے بھی تونے دیکھا جو بندے کو روکتا ہے جبکہ وہ بندہ نماز ادا کرتا ہے)
ہم رسولوں کی راہ پر چلیں گے‘ بھلائی کا حکم دیں گے اور برائی سے روکیں گے اور لوگوں کے اندر دینی بصیرت پیدا کریں گے۔
بندہ کے لیے سب سے بڑا محرک یہ ہے کہ وہ اس بات کو ہمیشہ ذہن نشیں رکھے کہ وہ اللہ کی نگرانی میں ہے‘ اور یہ احسان کا مرتبہ ہے: (اللہ کی عبادت ایسے کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو‘ اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے)[34]- [34] اس حدیث کو بخاری نے اپنی صحیح (1/19) (50)میں، اور مسلم نے اپنی صحیح(1/36) (88) میں روایت کیا ہے۔
(کیا اس نے نہیں جانا کہ اللہ تعالیٰ اسے خوب دیکھ رہا ہے)
ہمیں اپنے تمام اقوال واعمال میں اللہ کی نگرانی کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہئے‘ کیوں کہ جو شخص اللہ کی نگرانی کو یاد رکھتا ہے وہ اس کے حکم کو بجا لاتا اور اس کی نافرمانی سے دور رہتا ہے‘ اللہ پاک ہمارے اعمال کو دیکھتا اور ہماری باتوں کو سنتا ہے۔
خالق کی معصیت کر کے مخلوق کی اطاعت کرنا جائز نہیں‘ بلکہ ظالم لوگ بندوں کو جب اللہ کی اطاعت سے روکتے ہیں تو مومنوں کے اندر اللہ پاک کی عبادت اور قربت کا جذبہ مزید بڑھ جاتا ہے۔
(خبردار! اس کا کہنا ہرگز نہ ماننا اور سجده کر اور قریب ہو جا)
اللہ تعالی کی خوشنودی سے قریب ہونے کی ہم بھر پور کوشش کریں گے‘ اللہ پر بھروسہ اور توکل رکھیں گے‘ جو لوگ ہمیں دینی شعائر کو قائم کرنے سے روکنے کی کوشش کریں گے‘ ہماری جانب سے اللہ تعالی ان لوگوں سے انتقام لے گا۔
اس سورہ سے ہدایت کی اور بھی باتیں مستنبط کریں‘ ساتھ جو آیت اس پر دلالت کرتی ہے اس کو بیان کریں‘ نیز اس میں جو اخلاقی پہلو پنہاں ہے اس پر بھی روشنی ڈالیں۔
اس سورہ کو سیکھنے کے بعد ہم اس پر عمل کیسے کریں؟
اپنی ذات کے تئیں:
میں علم حاصل کرنے اور اس پر عمل کرنے کی پوری کوشش کروں گا‘ کیوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے: (جو شخص علم کی تلاش میں کسی راہ پر چل پڑے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کے ذریعہ جنت کی راہ آسان فرما دیتا ہے)[35]- یہ دنیا میں نجات حاصل کرنے اور آخرت میں کامیاب ہونے کا راستہ ہے۔ [35] اس حدیث کو مسلم نے اپنی صحیح (4/2074) (2699) میں روایت کیا ہے۔
...
اپنے معاشرہ کے تئیں:
میں علم حاصل کرنے اور اسے لوگوں میں عام کرنے کی کوشش کروں گا‘ یہ امت کے لیے رفعت اور عزت وسربلندی کی راہ ہے‘ انسان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس حدیث میں اس کا حکم بھی دیا ہے: "میرا پیغام لوگوں کو پہنچاؤ اگرچہ وہ ایک آیت پر مشتمل ہو"[36]- [36] اس حدیث کو بخاری نے اپنی صحیح (4/170) (3461) میں روایت کیا ہے۔
...
سورۃالقدر
تمہید
شوق آمیز مقدمہ:
اس کے مختلف طریقے ہیں‘ مثلا:
۱- طلبہ سے یہ سوال کرنا کہ سورۃ القدر کی فضیلت کیا ہے۔
۲- قرآن کی صحبت کے اثرات پر بحث ومباحثہ کرنا۔
۳- طلبہ سے اس سورہ کے ناموں کے بارے میں سوال کرنا۔
سورت کا تعارف:
۱- سورۃ القدر کہاں نازل ہوئی؟
علمائے تفسیر کا اس سورت کی جائے نزول کے بارے میں اختلاف ہے‘ کچھ مفسرین کہتے ہیں کہ: مکی ہے[37]‘ اور کچھ مفسرین کہتے ہیں کہ: مدنی ہے[38]۔ [37] النكت والعيون (6/311)، المحرر الوجيز (5/504)، زاد المسير (4/469)- [38] الكشف والبيان (10/247)، المحرر الوجيز (5/504)، زاد المسير (4/469)-
۲- اس سورہ کے کون کون سے نام ہیں؟
سورۃالقدر-
سورۃ (إنا أنزلناه في ليلة القدر) [39] [39] اسماء سور القرآن وفضائلها (ص: 572)
سورة (ليلة القَدْر)[40]- [40] المحرر الوجيز (5/504)، احكام القرآن للجصاص (5/373)، التحرير والتنوير (30/455)۔
سورة (إنا أنزلناه) [41]- [41] دیکھیں: صحيح بخاری (6/175)، كتاب تفسير القرآن، باب "كلا لئن لم ينته لنسفعن بالناصية ناصية كاذبة خاطئة"۔
3-سورۃ القدر کا موضوع کیا ہے؟
اس سورہ میں شب قدر کی عظمت پر روشنی ڈالی گئی ہے اور یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے‘ اللہ تعالی نے اس رات میں ہمارے اوپر یہ انعام کیا کہ لوح محفوظ سے آسمان دنیا میں پورا قرآن نازل فرمایا‘ اللہ تعالی نے قرآن کو یہ اعزاز بخشا کہ اسے نازل کرنے کی نسبت اپنی ذات پاک کی طرف کی۔
ساتویں مجلس: شب قدر کی (ایک) فضیلت یہ ہے کہ اس میں قرآن نازل ہوا
تلاوت:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (یقیناً ہم نے اسے شب قدر میں نازل فرمایا۔ تو کیا سمجھا کہ شب قدر کیا ہے؟ شب قدرہزار مہینے سے بہتر ہے۔ اس (میں ہر کام) کے سر انجام دینے کو اپنے رب کے حکم سے فرشتے اور روح (جبرائیل) اترتے ہیں۔ یہ رات سراسر سلامتی کی ہوتی ہے اور فجر کے طلوع ہونے تک (رہتی ہے)۔ سورۃ القدر 1-5-
تفسیر:
(إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ) ماہ رمضان کی شب قدر میں ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل کرنے کا آغاز کیا۔
(وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ) اے نبی! کیا آپ جانتے ہیں کہ اس رات میں کتنی خیرات وبرکات پنہاں ہیں؟
(لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ) یہ رات انتہائی خیر وبرکت والی رات ہے‘ جو شخص ایمان اور ثواب کی نیت سے اس رات میں قیام کرے‘ اس کے لیے یہ رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔
(تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍ) اس رات میں فرشتے اور جریل علیہ السلام اپنے پاک رب کے حکم سے ہر اس کام کو سر انجام دینے کے لیے اترتے ہیں جو اللہ تعالی نے اس سال کے لیے مقدر کر دیا ہے خواہ رزق کا معاملہ ہو یا موت کا یا ولادت کا یا کوئی اور۔
(سَلَامٌ هِيَ حَتَّىٰ مَطْلَعِ الْفَجْرِ) یہ مبارک رات آغاز سے انجام تک سراسر سلامتی کی ہوتی ہے اور طلوع فجر تک رہتی ہے[42]- [42] المختصر في التفسير (ص:598)-
تدبر اور تزکیہ:
تدبر
تزکیہ
ہم اس سورہ سے کیا سیکھتے ہیں؟
کونسی آیت اس پر دلالت کرتی ہے؟
ہم اس سورہ کی آیتوں سے اپنے اخلاق کو کیسے مزین کریں؟
یہ عظیم قرآن جو اس عظیم ماہ کی عظیم رات میں نازل ہوئی‘ یہ حق رکھتا ہے کہ ہم اس کی تعظیم کریں۔
(یقیناً ہم نے اسے شب قدر میں نازل فرمایا)
ہمیں اس قرآن کی عظمت شان کو محسوس کرنا چاہئے جسے اللہ تعالی نے ہمارے اوپر نازل فرمایا‘ اللہ نے یہ قرآن ہمارے اوپر اس لیے نازل فرمایا تاکہ ہمیں اس کے ذریعہ رفعت وبلندی عطا کرے اور ہمیں دنیا وآخرت میں عظیم مقام ومرتبہ سے سرفراز فرمائے۔
یہ بڑی عظیم الشان اور عالی مرتبت رات ہے‘ اس رات کو اللہ نے تمام راتوں سے زیادہ شرف ومنزلت اور اہمیت وفضیلت عطا کی‘ اس کے ذریعہ ہمارے اوپر احسان کیا‘ سو اسی کے لیے ہر طرح کی تعریف اور اسی کا فضل واحسان ہے۔
(تو کیا سمجھا کہ شب قدر کیا ہے؟)
ہمیں اس رات کی تعظیم کرنی چاہئے جس کے ذریعہ اللہ نے ہمارے اوپر احسان کیا اور ہمیں اس کی عظیم فضیلت سے باخبر کیا۔
لمبی زندگی کا اعتبار نہیں ہوتا بلکہ حسن اعمال کا اعتبار ہوتا ہے...یہ ایسی رات ہے جو اپنی فضیلت میں ہزار مہینوں سے بہتر ہے‘ پاک ہے رب کریم!!
(شب قدرہزار مہینے سے بہتر ہے)
ہمیں قیام‘ دعا اور اعمال صالحہ کے ذریعہ شب قدر کی تلاش کرنی چاہئے‘ کیوں کہ یہ بڑا بیش بہا موقع ہے۔
فرشتے اللہ تعالی کی ایک مخلوق ہیں جو اپنے رب کی نگرانی میں رہتے ہیں‘ وہ اللہ کے معزز بندے ہیں‘ کسی بات میں اللہ پر پیش دستی نہیں کرتے اور اس کے فرمان پر کاربند رہتے ہیں۔
(اس میں ہر کام کے سر انجام دینے کو اپنے رب کے حکم سے فرشتے اور روح (جبرائیل) اترتے ہیں)
ہمیں اللہ کے معزز فرشتوں سے شرم کرنی چاہئے‘ چنانچہ وہ ہمیں ایسی حالت میں نہ دیکھیں جس سے ہمارا پاک رب ناراض ہوتا ہے۔
یہ ایسی رات ہے جسے اللہ نے تمام عیوب سے پاک کردیا‘ چنانچہ اس میں کوئی شر اور برائی نہیں‘ وہ رات خیر وبھلائی والے مہینہ (رمضان میں) ہوتی ہے‘ (نیکیوں کے لیے) یہ سب سے افضل اور بہتر موسم بہار ہے‘ جو شخص اسے ضائع کردے وہ محروم ہے۔
(یہ رات سراسر سلامتی کی ہوتی ہے اور فجر کے طلوع ہونے تک رہتی ہے)۔
ہمیں اس رات کو اللہ کے پسندیدہ کاموں سے آباد کرنا چاہئے‘ کسی مومن کو ہم سے تکلیف نہ پہنچے اور ہم اپنے قول وعمل سے کسی کو اذیت نہ دیں۔
اس سورت سے ہدایت کی اور بھی باتیں مستنبط کریں‘ ساتھ ھى جو آیت ان پر دلالت کرتی ہے اس کو ذکر کریں‘ نیز اس میں جو اخلاقی پہلو پنہاں ہے اس پر بھی روشنی ڈالیں۔
اس سورت کو سیکھنے کے بعد ہم اس پر عمل کیسے کریں؟
اپنی ذات کے تئیں:
- رمضان کے آخری عشرے میں قیام کرکے شب قدر کی تلاش وجستجو کروں گا‘ تاکہ اس کی فضیلت سے بہرہ ور ہو سکوں‘ کیونکہ اس رات کو قیام کرنے سے گناہ معاف ہوتے ہیں‘ جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: (جس نے شبِ قدر میں حالتِ ایمان کے ساتھ ثواب کی غرض سے قیام کیا اُس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں)۔[43] [43] اس حدیث کو بخاری نے اپنی صحیح (3/26) (1901) میں روایت کیا ہے۔
...
اپنے معاشرہ کے تئیں:
میں اپنے گاؤں محلہ میں قرآن مجید کی تعلیم کے لیے حلقہ قائم کروں گا‘ تاکہ صحبت قرآن کا شرف حاصل کر سکوں‘ اور خیر وبھلائی سے ہمکنار ہونے والوں میں شامل ہوسکوں‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے کہ: (تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور اسے سکھلائے)۔[44]- [44] اس حدیث کو امام مسلم نے اپنی صحیح(6/192) (5027).میں روایت کیا ہے۔
...
سورۃ البینہ
تمہید
شوق آمیز مقدمہ:
اس کے مختلف طریقے ہیں‘ مثلا:
1- طلبہ سے اس سورت کے ناموں کے بارے میں سوال کرنا۔
۲- اس سورت کے تعلق سے ابی بن کعب کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا-
انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی سے فرمایا: ’’اللہ تعالٰی نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں ﴿لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾ سناؤں۔‘‘ حضرت ابی بن کعب نے عرض کیا: اللہ تعالٰی نے میرا نام لیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’ہاں۔‘‘ یہ سن کر حضرت ابی بن کعب (فرط مسرت سے) رونے لگے۔ [45] [45] اس حدیث کو بخاری نے اپنی صحیح (4/170) (3461) میں روایت کیا ہے۔
سورت کا تعارف:
۱- سورۃ البینۃ کہاں نازل ہوئی؟
۲- اکثر علماء کا قول ہے کہ سورۃ البینۃ مدینہ میں نازل ہوئی۔[46] [46] النكت والعيون (6/315)، المحرر الوجيز (5/507)، زاد المسير (4/475)-
۳- اس سورت کے کون کون سے نام ہیں؟
-سورۃ البینہ-
-سورۃ (لم يكن الذين كفروا)-
-سورة (لم يكن) [47]- [47] دیکھیں: صحيح بخاری (6/175)، كتاب تفسير القرآن، باب "كلا لئن لم ينته لنسفعن بالناصية ناصية كاذبة خاطئة"۔
- سورة (القَيِّمَة)-
- سورة (البريّة)-
- سورة (المنفكّين)-
- سورة (أهل الكتاب)[48]- [48] دیکھیں: محاسن التاويل (9/520)، التحرير والتنوير (30/467)، اسماء سور القرآن وفضائلها (ص: 573-579)-
4-سورۃ البینۃ کا موضوع کیا ہے؟
اس سورہ کا موضوع گفتگو خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو ثابت کرنا اور اس تعلق سے اہل کتاب کا موقف بیان کرنا ہے‘ اس سورت میں تمام تر عبادتوں کو اللہ کے لیے خالص کرنے پر زور دیا گیا ہے اور نیک بخت اور بد بخت لوگوں کے انجام کو واضح کیا گیا ہے۔
آٹھویں مجلس: محمدی رسالت کا کمال اور اس رسالت کی وضاحت
تلاوت:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (اہل کتاب کے کافر اور مشرک لوگ جب تک کہ ان کے پاس ظاہر دلیل نہ آجائے باز رہنے والے نہ تھے (وه دلیل یہ تھی کہ) اللہ تعالیٰ کا ایک رسول جو پاک صحیفے پڑھے۔ جن میں صحیح اور درست احکام ہوں۔ اہل کتاب اپنے پاس ظاہر دلیل آجانے کے بعد ہی (اختلاف میں پڑ کر) متفرق ہوگئے۔ انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں، اسی کے لیے دین کو خالص کرکے اور یکسو ہو کر، نماز قائم رکھیں اور زکوٰة دیتے رہیں، یہی ہے دین سیدھی ملت کا) [5]- سورۃ البينة 1-5
تفسیر:
آيت (۱): کفر کرنے والے لوگ یعنی یہود ونصاری اور مشرکین بغیر واضح دلیل اور روشن حجت کے کفر پر اپنے باہمی اتفاق اور اجماع کو ترک کرنے والے نہیں تھے۔
آیت (۲): یہ واضح دلیل اور روشن حجت اللہ کی جانب سے مبعوث کردہ رسول ہو جو ایسے پاک صحیفے پڑھے جنہیں صرف پاک صاف لوگ ہی چھو سکتے ہیں۔
آیت (۳): ان صحیفوں میں سچی خبریں اور منصفانہ احکام ہوں جو لوگوں کو خیر وبھلائی کی رہنمائی کریں۔
آیت (4): وہ یہود جنہیں توریت دی گئی اور وہ نصاری جنہیں انجیل دیا گیا‘ ان میں اختلاف اسی وقت ہوا جب اللہ نے ان کے پاس اپنا نبی مبعوث فرمایا‘ چنانچہ ان میں سے کچھ لوگوں نے اسلام قبول کیا اور کچھ نبی کی صداقت کو جاننے کے باوجود کفر وسرکشی پر ڈٹے رہے۔
آیت (۵): یہود ونصاری کا جرم اور عناد اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں اس قرآن میں ان باتوں کا ہی حکم دیا گیا جن کا حکم ان کی کتابوں میں دیا گیا تھا یعنی ایک اللہ کی عبادت‘ شرک سے اجتناب‘ نماز کا قیام اور زکاۃ کی ادائگی‘ انہیں جس چیز کا حکم دیا گیا وہی دین حق ہے جس میں کوئی کجی نہیں۔
تدبر اور تزکیہ:
تدبر
تزکیہ
ہم اس سورت سے کیا سیکھتے ہیں؟
کونسی آیت اس پر دلالت کرتی ہے؟
ہم اس سورہ کی آیتوں سے اپنے اخلاق کو کیسے مزین کریں؟
عالم اگر کفر کرے تو دوسروں کے مقابلہ میں وہ زیادہ قابل مذمت ہے اور جو شخص علم رکھنے کے باوجود اس پر عمل نہ کرے‘ سب سے پہلے اسی کی ملامت کی جاتی ہے‘ جیسا کہ اہل کتاب کی صورت حال ہے کہ ان کی کتابوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی بشارت دی گئی اور انہیں آپ پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا‘ اس کے باوجود انہوں نے آپ کا انکار کیا۔
(اہل کتاب کے کافر اور مشرک لوگ جب تک کہ ان کے پاس ظاہر دلیل نہ آجائے باز رہنے والے نہ تھے)
بغیر علم کے عمل کرنے سے ہمیں ہوشیار رہنا چاہئے‘ کیوں کہ یہ ان لوگوں کا طریقہ ہے جن پر غضب نازل ہوا‘ لیکن ہمیں اپنے علم پر عمل ضرور کرنا چاہئے تاکہ ہمارے علم میں برکت ہو اور ہم ثواب سے ہمنکار ہوسکیں۔
ہمارے دین کی سلامتی اس میں ہے کہ ہم (کتاب وسنت کی) پیروی کریں اور ان دونوں کو مضبوطی سے تھامے رہیں‘ دونوں ہی واضح دلیلیں ہیں‘ یعنی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ تعالی کا کلام۔
(اللہ تعالی کا ایک رسول جو پاک صحیفے پڑھے جن میں صحیح اور درست احکام ہوں)
ہمیں وحی الہی یعنی کتاب وسنت کو پڑھنے کا خوب اہتمام کرنا چاہئے‘ انہیں یاد کرنا‘ سمجھنا اور ان میں غور وفکر کرنا چاہئے‘ یہی کامیابی کی راہ ہے۔
بندہ کے لیے سب سے بڑے خسارے کی بات یہ ہے کہ اللہ کی کتاب اس کے حق میں دلیل بننے کے بجائے اس کے خلاف حجت بن جائے‘ اور جو چیز باہمی اتحاد اور یکجہتی کا سبب ہے وہ آپسی اختلاف اور منافرت کی وجہ بن جائے۔
(اوراہل کتاب اپنے پاس ﻇاہر دلیل آجانے کے بعد ہی (اختلاف میں پڑ کر) متفرق ہوگئے)۔
ہمیں خواہشات نفس کی پیروی نہیں کرنی چاہئے کہ ہم اس کی وجہ سے حق واضح ہونے اور حجت قائم ہوجانے کے بعد بھی آپسی اختلاف کے شکار ہوجائیں۔
رب ایک اور دین ایک ہے‘ تو آخر یہ اختلاف کیوں؟!
(حالاں کہ انھیں یہی حکم ہوا تھا کہ اللہ کی ہی عبادت اس طرح کریں کہ دین کو اسی کے لیے خالص رکھیں، یکسو ہوکر، اور نماز کی پابندی کریں اور زکوۃ دیں، اور یہی درست دین ہے)
ہمیں اللہ کی عبادت میں مخلص ہونا چاہئے‘ اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہیں ٹھہرانا چاہئے‘ کیوں کہ عبادت کی قبولیت کے لیے اخلاص کا پایا جانا شرط ہے۔
نویں مجلس: بہترین مخلوق اور بدترین مخلوق
تلاوت:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (بیشک جو لوگ اہل کتاب میں کافر ہوئے اور مشرکین سب دوزخ کی آگ میں (جائیں گے) جہاں وه ہمیشہ رہیں گے، یہ لوگ بدترین خلائق ہیں﴿6﴾ بیشک جو لوگ ایمان ﻻئےاور نیک عمل کیے یہ لوگ بہترین خلائق ہیں۔ (7) ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہمیشگی والی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وه ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا اور یہ اس سے راضی ہوئے۔ یہ ہے اس کے لئے جو اپنے رب سے ڈرے(8))۔ سورۃ البينة 6-8
تفسیر:
آیت (6): یہود ونصاری اور مشرکین میں سے جنہوں نے کفر کیا وہ قیامت کے دن جہنم میں داخل ہوں گے جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے‘ وہ بدترین خلائق ہیں‘ کیوں کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا اور رسول کو جھٹلایا۔
آیت (7):بیشک جو لوگ ایمان ﻻئےاور نیک عمل کیے یہ لوگ بہترین خلائق ہیں۔
آیت (۸): ان کا ثواب ان کے رب کے پاس یہ ہوگا: ایسی جنت جس کے محلوں اور درختوں کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی‘ وہ ہمیشہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے‘ اللہ پر ایمان لانے اور اس کی اطاعت کرنے کی وجہ سے اللہ تعالی ان سے راضی ہوا اور وہ اپنے رب سے راضی ہوئے کیوں کہ انہیں اللہ کی رحمت حاصل ہوئی‘ یہ رحمت اسی شخص کو حاصل ہوتی ہے جو اپنے رب سے ڈرتا ہے‘ چنانچہ اس کے حکم پر عمل کرتا اور اس کی منع کردہ چیزوں سے باز رہتا ہے[49]۔ [49] المختصر في تفسير القرآن الكريم (ص:598)-
تدبر اور تزکیہ:
تدبر
تزکیہ
ہم اس سورہ سے کیا سیکھتے ہیں؟
کونسی آیت اس پر دلالت کرتی ہے؟
ہم اس سورہ کی آیتوں سے اپنے اخلاق کو کیسے مزین کریں؟
جس شخص کی فطرت پلٹ چائے اور عقل ماؤف ہوجائے‘ جس کے نتیجے میں وہ اپنے خالق کا انکار کر بیٹھے اور اس کی کتاب کو جھٹلانے لگے‘ تو ایسا شخص بے عقل چوپایوں سے بھی بدتر ہے‘ گرچہ عقلمندوں کے بھیس میں ہی کیوں نہ نظر آئے۔
(بیشک جو لوگ اہل کتاب میں کافر ہوئے اور مشرکین سب دوزخ کی آگ میں (جائیں گے) جہاں وه ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے۔ یہ لوگ بدترین خلائق ہیں)
اپنی اپنی گردنوں کو جہنم سے آزاد کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے‘ بایں طور کہ اللہ پر‘ اس کی کتاب اور اس کے رسول پر ایمان لائیں اور اس کے تقاضے کے مطابق عمل کریں۔
جیسا عمل ہوتا ہے بدلہ بھی اسی جنس سے ملتا ہے‘ چنانچہ جو شخص اس دنیا میں اللہ کو اپنا رب اور معبود تسلیم کرتا ہے‘ اسے آخرت میں اللہ تعالی یہ اجر وثواب دے گا کہ اس سے راضی ہوگا اور اسے بھی راضی کردے گا‘ یہ کتنا بڑا اعزاز ہے!!
(ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہمیشگی والی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وه ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا اور یہ اس سے راضی ہوئے یہ ہے اس کے لئے جو اپنے پروردگار سے ڈرے)
اللہ کے پاس جو اجر وثواب ہے اسے عمل کے ذریعہ ہی حاصل کیا جا سکتا ہے‘ اس لیے ہمیں نیک اعمال کا اہتمام کرنا چاہئے تاکہ ہم اجر عظیم سے بہرہ ور ہوسکیں۔
اس سورت سے ہدایت کی اور بھی باتیں مستنبط کریں‘ ساتھ جو آیت ان پر دلالت کرتی ہے اس کو بیان کریں‘ نیز اس میں جو اخلاقی پہلو پنہاں ہے اس پر بھی روشنی ڈالیں۔
اس سورت کو سیکھنے کے بعد ہم اس پر عمل کیسے کریں؟
اپنی ذات کے تئیں:
- اللہ نے ہمارے لیے جو روشن دلیل بھیجی میں اس کی پیروی کروں گا تاکہ توحید باری تعالی کو بروئے عمل لاسکوں اور نماز وزکاۃ جیسی عبادتوں کو اخلاص کے ساتھ ادا کر سکوں‘ اور اللہ کی جنت اور خوشنودی سے فیض یاب ہوسکوں‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے: (جو شخص اس حال ميں مرے كہ وه اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں جائے گا)۔[50]. [50] اس حدیث کو بخاری نے اپنی صحیح (2/71) (1237) میں روایت کیا ہے۔
...
اپنے معاشرہ کے تئیں:
- لوگوں کے سامنے خشیت الہی کی عظمت ومرتبت کو واضح کروں گا‘ وہ اس طرح کہ کبھی انہیں یہ بتاکر ڈراؤں گا کہ کفر اور اعراض کرنے والوں کے لیے جہنم کی آگ اور عذاب ہے‘ اور کبھی یہ بتاکر انہیں ترغیب دلاؤں گا کہ ایمان لانے اور عمل صالح کرنے والوں کے لیے اللہ کے یہاں جنتیں‘ نعمتیں اور دائمى خوشنودی ہے۔ اللہ تعالی کے اس فرمان پر عمل کرتے ہوئے کہ: (ہم نے اس کی دعا کو قبول فرما کر اسے یحيٰ (علیہ السلام) عطا فرمایا اور ان کی بیوی کو ان کے لئے درست کر دیا، یہ بزرگ لوگ نیک کاموں کی طرف جلدی کرتے تھے اور ہمیں ﻻلچ طمع اور ڈر خوف سے پکارتے تھے، اور ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے تھے) سورۃ الانبیاء
...
سورۃ الزلزلہ
تمہید
شوق آمیز مقدمہ:
اس کے مختلف طریقے ہیں‘ مثلا:
۳- طلبہ سے اس سورت کے ناموں کے بارے میں سوال کرنا۔
۲- اس سورت کے ساتھ ابو بکر رضی اللہ عنہ کا قصہ
سورت کا تعارف:
۲- سورۃ الزلزلۃ کہاں نازل ہوئی؟
جمہور کے نزدیک سورۃ الزلزلۃ مدینہ میں نازل ہوئی[51] [51] النكت والعيون (6/318))، المحرر الوجيز (5/510)، زاد المسير (4/477)-
۲- اس سورہ کے کون کون سے نام ہیں؟
سورۃ الزلزلہ-
سورہ (إذا زُلْزِلَت الأرض زلزالها) [52]- [52] دیکھیں: صحيح بخاری (6/175)، كتاب تفسير القرآن، باب "كلا لئن لم ينته لنسفعن بالناصية ناصية كاذبة خاطئة"۔
سورة (إذا زُلْزِلَت)-
سورة (الزِّلْزال)-
سورہ (زُلْزِلَت) [53]- [53] دیکھیں: التحرير والتنوير (30/489)، اسماء سور القرآن وفضائلها (ص: 580-583)-
۳- اس سورہ کے ساتھ ابو بکر رضی اللہ عنہ کاکیا قصہ ہے؟
طبری نے اپنی تفسیر میں عبد اللہ بن عمرو بن العاص سے روایت کیا ہے‘ وہ فرماتے ہیں: جب سورہ (إذا زلزلت الأرض زلزالها) نازل ہوئی تو ابو بکر صدیق بیٹھے ہوئے تھے‘ جب یہ سورہ نازل ہوئی تو وہ رونے لگے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اے ابو بکر ! آپ کیوں رو رہے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: اس سورت نے مجھے رلا دیا‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: "اگر تم سے غلطی اور گناہ نہ ہوتا جس پر اللہ تمہاری مغفرت فرماتا تو اللہ تعالی ایک ایسی قوم کو پیدا کرتا جو غلطی اور گناہ کرتی اور اللہ تعالی اس کی مغفرت فرماتا"[54]۔ [54] اسے طبری نے اپنی تفسیر (24/553) میں اور بیقہی نے شعب الإیمان (5/41017) (7103) میں روایت کیا ہے، اور "المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية" لابن حجر (15/443) (237) میں مجموعی طرق کو سامنے رکھتے ہوئے اسے حسن قرار دیا گیا ہے۔
4-سورۃ الزلزلۃ کا موضوع کیا ہے؟
یہ سورہ اس بات سے متنبہ کرتی ہے کہ بندوں پر ایک نہایت ہولناک دن آنے والا ہے جس دن زمین میں زلزلہ پیدا ہوگا اور روئے زمین پر جو بھی بھلائی یا برائی ہوگی اسے زمین بیان کرے گی‘ اس دن بندوں سے ذرہ ذرہ کا حساب لیا جائے گا۔
دسویں مجلس: آخرت اور اس دن کے باریک ترین محاسبہ کی یاد دہانی
تلاوت:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (جب زمین پوری طرح جھنجھوڑ دی جائے گی- اور اپنے بوجھ باہر نکال پھینکے گی- انسان کہنے لگے گا کہ اسے کیا ہوگیا؟ اس دن زمین اپنی سب خبریں بیان کردے گی- اس لیے کہ تیرے رب نے اسے حکم دیا ہوگا- اس روز لوگ مختلف جماعتیں ہو کر (واپس) لوٹیں گے تاکہ انہیں ان کے اعمال دکھا دیے جائیں۔ سو جو کوئی ذرہ بھر بھی نیکی کرے گا اسے دیکھ لے گا- اور جس کسی نے ذرہ بھر بھی بدی کی ہوگی اسے بھی دیکھ لے گا۔ سورۃ الزلزلۃ: ۱-۸
تفسیر:
آیت (۱): جب قیامت کے دن زمین میں سخت بھونچال پیدا ہوگا۔
آیت (۲): زمین اپنے اندر سے مردوں کو باہر کردے گی۔
آیت (۳): انسان حیرانی کے ساتھ کہے گا: زمین کو کیا ہوا کہ وہ حرکت کرنے لگی اور اپنی جگہ سے ہلنے لگی؟
آیت (4): وہ بڑا ہولناک دن ہوگا جب زمین بتائے گی کہ اس کے اوپر کیا بھلائی اور کیا برائی کی گئی۔
آیت (۵): کیوں کہ اللہ تعالی اسےعلم عطا کرے گا اور بولنے کا حکم دے گا۔
آیت (6): اس ہولناک دن میں جب زمین میں زلزلہ برپا ہوجائےگا‘ لوگ حساب وکتاب کی جگہ سے جوق در جوق نکلیں گے تاکہ دنیا میں کیے ہوئے اعمال کا مشاہدہ کر سکیں۔
آیت (7): چنانچہ جس نے رائی کے دانے کے برابر بھی کوئی نیک اور بھلا کام کیا ہوگا وہ اسے اپنے سامنے دیکھے گا۔
آیت (۸): اور جس نے رائی کے دانے کے برابر بھی کوئی برائی اور گناہ کیا ہوگا وہ اسے اپنے سامنے دیکھے گا[55]. [55] المختصر في تفسير القرآن الكريم (ص:599)-
تدبر اور تزکیہ:
تدبر
تزکیہ
ہم اس سورہ سے کیا سیکھتے ہیں؟
کونسی آیت اس پر دلالت کرتی ہے؟
ہم اس سورہ کی آیتوں سے اپنے اخلاق کو کیسے مزین کریں؟
وہ اللہ پاک جس نے اس کائنات کو توازن کے ساتھ قائم فرمایا اور استقرار عطا کیا‘ وہیقیامت کے دن اس میں حرکت اور زلزلہ پیدا کردے گا۔
(جب زمین پوری طرح جھنجھوڑ دی جائے گی)
ہمیں اس وحی پر توجہ مرکوز رکھنی چاہئے جو دلوں پر دستک دیتی اور انہیں اس دن کی تیاری کرنے پر آمادہ کرتی ہے جس دن زلزلہ برپا ہوگا-
اس دن زمین اپنے پاک رب کے سامنے کسی کو نہیں چھپائے گی‘ اے ابن آدم! حساب وکتاب سے بچنے کا کوئی بھی راستہ نہیں ہوگا!!
(اور زمین اپنے بوجھ باہر نکال پھینکے گی)
ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ ہمیں ایسے دن کا سامنا کرنا ہے جس دن ہمیں حساب وکتاب کے لیے قبروں سے اٹھایا جائے گا‘ ہمیں نیک عمل کے ذریعہ اس دن کی تیاری کرنی چاہئے۔
اے ابن آدم! ارد گرد کی مخلوقات تمہارے اوپر گواہ ہیں‘ یہاں تک کہ وہ زمین بھی جس پر تونے زندگی گزر بسر کی اور اسے آباد کیا‘ اس لیے اپنے رب سے شرم محسوس کراور اس کی نافرمانی سے گریز کیا کر۔
(اس دن زمین اپنی سب خبریں بیان کردے گی‘ اس لیے کہ تیرے رب نے اسے حکم دیا ہوگا)
روئے زمین پر نیک اعمال انجام دے کر اور ہلاکت خیز گناہوں سے بچ کر ہمیں زمین کو اپنے حق میں گواہ بنانا چاہئے نہ کہ اپنے خلاف۔
ہر انسان قیامت کے دن اپنا عمل دیکھ لے گا‘ جد وجہد کرنے والوں کی فرحت ومسرت کا کیا عالم ہوگا!! اور ناکارہ وبد عمل لوگوں کی حسرت وندامت کی کیا حالت ہوگی!!
(اس روز لوگ مختلف جماعتیں ہو کر (واپس) لوٹیں گے تاکہ انہیں ان کے اعمال دکھا دیے جائیں)
ہمیں اس دنیاوی زندگی کو غنیمت سمجھنا چاہئے بایں طور کہ ہم باقی رہنے والی نیکیوں سے اپنے دامن مراد کو بھر لیں‘ کیوںکہ آج عمل کا موقع ہے اور حساب وکتاب نہیں‘ اور کل حساب وکتاب ہوگا اور عمل کا موقع نہیں۔
عمل ہی معیار ہے‘ حسب ونسب اور جاہ وحشمت کا کوئی مقام نہیں‘ ایک ایسے میزان (میں ہمارے اعمال وزن کئے جائیں گے) جو ذرہ ذرہ کو وزن کرے گا‘ اے اللہ! ہمیں محفوظ رکھنا!!
(سو جو کوئی ذرہ بھر بھی نیکی کرے گا اسے دیکھ لے گا اور جس کسی نے ذرہ بھر بھی بدی کی ہوگی اسے بھی دیکھ لے گا)
ہم اللہ تعالی کے عدل وانصاف پر اس کی حمد بیان کرتے ہیں‘ وہ پاک رب نیک عمل کرنے کا اجر ضائع نہیں کرتا خواہ معمولی نیکی ہی کیوں نہ ہو‘ نیز کسی گناہ کو حقیر نہ جانیں ممکن ہے کہ وہی گناہ قیامت کے دن ہماری ہلاکت کا سبب بن جائے۔
اس سورت سے ہدایت کی اور بھی باتیں مستنبط کریں‘ ساتھ ہی جو آیت اس پر دلالت کرتی ہے اس کی وضاحت کریں‘ نیز اس میں جو اخلاقی پہلو پنہاں ہے اس پر بھی روشنی ڈالیں۔
اس سورہ کو سیکھنے کے بعد ہم اس پر عمل کیسے کریں؟
اپنی ذات کے تئیں:
- میں اس دنیاوی زندگی میں اللہ تعالی کی طرف رجوع وانابت کروں گا بایں طور کہ اطاعت اور نیکی کے کاموں سے اپنے دامن مراد کو بھروں گا‘ تاکہ بڑے خوف کے دن امن وامان سے بہرہ ور ہوسکوں‘ اس عظیم دن میں مومنوں کی جو حالت ہوگی‘ اسے بیان کرتے ہوئے اللہ تعالی نے فرمایا: (اور وه اس دن کی گھبراہٹ سے بےخوف ہوں گے) [النمل: ٨٩]
...
اپنے معاشرہ کے حق میں:
- میں اپنے دوستوں اور اہل خانہ کو یہ نصیحت کروں گا کہ کسی بھی نیکی کو حقیر سمجھ کر ترک نہ کریں‘ اور نہ کسی برائی کو معمولی جان کر کر بیٹھیں‘ کیوں کہ ابن آدم کے نامہ اعمال میں ذرے ذرے کا حساب شمار کیا جاتا ہے جیسا کہ لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایاتھا‘ جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے: (پیارے بیٹے! اگر کوئی چیز رائی کے دانے کے برابر ہو پھر وه (بھی) خواه کسی چٹان میں ہو یا آسمانوں میں ہو یا زمین میں ہو اسے اللہ تعالیٰ ضرور ﻻئے گا اللہ تعالیٰ بڑا باریک بین اور خبردار ہے) [سورۃ لقمان]
...
سورۃ العادیات
تمہید
شوق آمیز مقدمہ:
اس کے مختلف طریقے ہیں‘ مثلا:
۱- طلبہ سے العادیات کا معنی پوچھنا۔
۲- گھوڑے کے بارے میں بات کرنا اور اس کی فضیلت پر تبصرہ کرنا۔
سورۃ کا تعارف:
۱- سورۃ العادیات کہاں نازل ہوئی؟
اس کے نزول کے سلسلے میں مفسرین کے دو اقوال ہیں[56]. [56] النكت والعيون (6/323)، المحرر الوجيز (5/513)، زاد المسير (4/480)-
۲- سورۃ العادیات کے کون کون سے نام ہیں؟
(العاديات) [57]، (والعاديات) واو کے ساتھ[58]- [57] بصائر ذوي التمييز (1/537)، التحرير والتنوير (30/497)، اسماء سور القرآن وفضائلها (ص: 585-586)- [58] دیکھیں: صحيح بخاری(6/176) باب تفسير القرآن، باب "ومن يعمل مثقال ذرة شرا يره"، التحرير والتنوير (30/497)، اسماء سور القرآن وفضائلها (ص: 585-586)-
۳- سورۃ العادیات کا موضوع کیا ہے؟
اس سورہ میں اللہ تعالی نے دوڑنے والے گھوڑوں کی رفعت شان کو بیان کرنے کی غرض سے ان کی قسم کھائی ہے‘ یہ گھوڑے اپنے مالک کی اطاعت کرتے اور اس کے دشمنوں کے درمیان گھس جاتے ہیں‘ اس کے بعد اللہ تعالی نے انسان کى حقیقت کے بارے میں جب وہ ایمانی اقدار وروایات سے دامن کش ہو جاتا ہے بیان فرمایا‘ چنانچہ وہ ایسى حالت میں اپنے رب کی بے شمار نعمتوں کا انکار کرنے لگتا ہے‘ وہ اپنے مال کا بڑا حریص ہوجاتا ہے‘ مال کی اتنی محبت رکھتا ہے کہ خرچ کرنے میں بخالت سے کام لیتا ہے۔
گیارہویں مجلس: اپنے مقصد اور آخرت سے انسان کی غفلت
تلاوت :
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ہانپتے ہوئے دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم! پھر ٹاپ مار کر آگ جھاڑنے والوں کی قسم! پھر صبح کے وقت دھاوا بولنے والوں کی قسم! پس اس وقت گرد وغبار اڑاتے ہیں- پھر اسی کے ساتھ فوجیوں کے درمیان گھس جاتے ہیں- یقیناً انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے- اور یقیناً وه خود بھی اس پر گواه ہے- یہ مال کی محبت میں بھی بڑا سخت ہے۔ کیا اسے وه وقت معلوم نہیں جب قبروں میں جو کچھ ہے نکال لیا جائے گا- اور سینوں کی پوشیده باتیں ظاہر کر دی جائیں گی- بیشک ان کا رب اس دن ان کے حال سے پورا باخبر ہوگا۔ العاديات: ١ - ١١
تفسیر:
(1)اللہ تعالی نے اس گھوڑے کی قسم کھائی ہے جو اتنی تیزی سے دوڑتا ہے کہ اس کے ہانپنے کی آواز سنائی دیتی ہے۔
(2) نیز اس گھوڑے کی بھی قسم کھائی ہے جو اتنے زور سے پتھروں پر ٹاپ مارتا ہے کہ چنگاری نکل آتی ہے۔
(3) اور اس گھوڑے کی قسم کھائی ہے جو صبح دم دشمنوں پر دھاوا بولتا ہے۔
(4) گرد وغبار اڑاتے ہوئے دوڑتا ہے۔
(5) اپنے شہسوار کے ساتھ دشمنوں کے غول میں گھس جاتا ہے۔
(6) انسان اس خیر کو اپنے پاس روک کر رکھتا ہے جو اس کا رب اس سے چاہتا ہے۔
(6) اس خیر کو روکنے پر وہ خود بھی گواہ ہے‘ یہ اتنا واضح معاملہ ہے کہ وہ خود بھی اس کا انکار نہیں کرسکتا۔
(8) مال سے وہ اس قدر شدید محبت رکھتا ہے کہ اسے خرچ کرنے میں بخالت سے کام لیتا ہے۔
(9) دنیاوی زندگی سے فریب کھانے والا یہ انسان نہیں جانتا کہ جب اللہ تعالی قبروں سے مردوں کو زندہ کرے گا اور حساب وکتاب نیز جزا وسزا کے لیے انہیں زمین سے باہر نکالے گا تو اس وقت معاملہ ایسا نہیں ہوگا جیسا وہ گمان کرتا ہے۔
(10) دلوں میں جو ارادے اور عقیدے وغیرہ مخفی ہوں گے‘ وہ سب ظاہر کردیے جائیں گے۔
(11) اس دن ان کا پروردگار ان کے حال سے پوری طرح باخبر ہوگا‘ اس سے بندوں کی کوئی بھی چیز مخفی نہیں ہوگی‘ اور اللہ تعالی انہیں اس کا بدلہ دے گا[59]- [59] المختصر في تفسير القرآن الكريم (ص:599)-
تدبر اور تزکیہ:
تدبر
تزکیہ
ہم اس سورت سے کیا سیکھتے ہیں؟
کونسی آیت اس پر دلالت کرتی ہے؟
ہم اس سورت کی آیتوں سے اپنے اخلاق کو کیسے مزین کریں؟
اللہ تعالی نے جہاد کوبڑا بلند مقام دیا ‘ چنانچہ اللہ پاک نے مجاہدوں کے گھوڑوں کی قسم کھائی اور ان کے تیز دوڑنے اور حملہ آور ہونے کی صفت بیان فرمائی۔
(ہانپتے ہوئے دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم!)
ہمیں نیک کاموں میں جلدی کرنی چاہئے اور ان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے۔
عزم وہمت‘ طاقت وقوت اور پیش قدمی خیرات وبرکات سے فیض یاب ہونے اور ان سے دامن مراد کو بھرنے کی راہیں ہیں۔
(پھر ٹاپ مار کر آگ جھاڑنے والوں کی قسم!)
ہمیں عزم وہمت اور طاقت وقوت کے ساتھ حق کی راہ پر چلنا چاہئے اور اس پر عمل کرنا چاہئے۔
صبح کا وقت مبارک وقت ہے‘ بندہ کو چاہئے کہ اس وقت کو غنیمت جانے۔
(پھر صبح کے وقت دھاوا بولنے والوں کی قسم)
ہمیں اپنے اعمال کو انجام دینے کے لیے صبح کے اوقات کو غنیمت سمجھنا چاہئے۔
جنگ کے میدان میں گھوڑے کی خاص تاثیر ہوتی ہے اور وہاں ان کى موجودگى کا بالکل الگ ہى رنگ ہوتا ہے-
(پس اس وقت گرد وغبار اڑاتے ہیں)
معاشرہ کے اندر خیر وبھلائی کے کاموں میں ہمارے اثرات ونقوش ہونے چاہئے۔
دین میں بلند مقام حاصل کرنا اس انسان کا مطمح نظر ہوتا ہے جو اپنی جان کی نجات دلانے اور لوگوں کو خیر کی دعوت دینے کا فکر مند ہو۔
(پھر اسی کے ساتھ فوجیوں کے درمیان گھس جاتے ہیں)
ہمیں لوگوں کے درمیان اپنی پہچان بنانے اور بلند مقام حاصل کرنے کی فکر کرنی چاہئے تاکہ خیر کے کاموں میں ہم ان کی رہنمائی ورہبری کر سکیں۔
نفس کی بات سننا اور اس کی پیروی کرنا درست نہیں‘ کیوں کہ اس کے اندر حقیقت میں خیر سے روکنے کا داعیہ ہوتا ہے۔
(یقیناً انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے)
ہر طرح کے مذموم اخلاق سے اپنے نفوس کو پاک وصاف کرنے اور حکمت اور مضبوطی کے ساتھ ان کی اصلاح کرنے کی ہمیں کوشش کرنی چاہئے۔
مال کی محبت اور اسے خرچ کرنے میں بخالت انسان کی فطرت میں داخل ہے‘ اسی لیے صدقہ کرنا ایمان کی واضح دلیل ہے۔
(یہ مال کی محبت میں بھی بڑا سخت ہے)
ہمارے اوپر اللہ کی جو نعمتیں ہیں‘ انہیں اللہ پاک کی رضا کے لیے ہمیں استعمال کرنا چاہئے‘ ورنہ یہ نعمتیں ہمارے لیے وبال جان‘ باعث فتنہ اور دھوکہ بن جائیں گی۔
جب بندہ کو قبر سے دوبارہ اٹھایا جائے گا تو وہ یقینی طور پر جان جائے گا کہ دنیا اس لائق نہیں کہ اس کی حرص کی جائے اور اس سے دھوکا کھایا جائے‘ لیکن اس وقت یہ جاننا فائدہ نہ دے گا۔
(کیا اسے وه وقت معلوم نہیں جب قبروں میں جو کچھ ہے نکال لیا جائے گا)
ہمیں آخرت کو یاد کرتے رہنا چاہئے تاکہ اپنے نفوس کا تزکیہ کرنے میں مدد ملے‘ کیوں کہ یہ دلوں کی بیماریوں کے لیے علاج اور دوا ہے۔
راز قیامت کے دن راز نہیں رہے گا‘ بلکہ ظاہر ہوجائے گا۔
(اور سینوں کی پوشیده باتیں ظاہر کر دی جائیں گی)
ہمیں اس بات پر ایمان رکھین کہ ہمارے دلوں کے پوشیدہ رازوں اور نیتوں سے اللہ تعالی باخبر ہے‘ ہمیں اپنے دلوں کو ایمان کی محبت اور اللہ سے حسن ظن کے ذریعہ مزین کرنا چاہیے‘ کیوں کہ ہر راز اللہ کے نزدیک کھلا اور ظاہر ہے۔
اللہ پاک بندوں کے دلوں کے بھید سے بھی مکمل واقف ہے‘ اس سے کوئی بھی راز مخفی نہیں‘ نہ ہی دنیا میں اور نہ آخرت میں۔
(بیشک ان کا رب اس دن ان کے حال سے پورا باخبر ہوگا)
ہمیں اللہ سے شرم کرنا چاہئے بایں طور کہ ہم اس بات پر حریص ہوں کہ اللہ تعالی ہمیں کسی گناہ میں مبتلا نہ دیکھے‘ تاکہ ہم اللہ کے نیک بندوں میں شامل ہوسکیں۔
اس سورہ سے ہدایت کی اور بھی باتیں مستنبط کریں‘ ساتھ ہی جو آیت ان پر دلالت کرتی ہے اس کی وضاحت کریں‘ نیز اس میں جو اخلاقی پہلو پنہاں ہے اس پر بھی روشنی ڈالیں۔
اس سورہ کو سیکھنے کے بعد ہم اس پر عمل کیسے کریں؟
اپنی ذات کے تئیں:
- میں خوب تگ ودو کروں گا تاکہ اپنے نفس کو خواہش نفس کی اور اپنی چاہت کو ترجیح دینے کی جو فطرت اس کے اندر ودیعت ہے‘ اس کی مخالفت کرنے کا عادی بنا سکوں‘ اسی سے ایمان مکمل ہوتا ہے۔ جیسا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کیا جب کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو اپنی جان سے زیادہ عزیز بنانے کے لیے اپنے نفس سے مجاہدہ کیا‘ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اب اے عمر" [60]- [60] اس حدیث کو بخاری نے اپنی صحیح (8/129) (6632) میں روایت کیا ہے۔
...
اپنے معاشرہ کے حق میں:
- میں اپنے آپ کو اور مومنوں کو راہ الہی میں جہاد کرنے اور اس کے لیے تیاری کرنے پر آمادہ کروں گا‘ اللہ تعالی کے اس حکم پر عمل کرتے ہوئے جو اس کے اس فرمان میں مذکور ہے: ( تم ان کے مقابلے کے لئے اپنی طاقت بھر قوت کی تیاری کرو اور گھوڑوں کے تیار رکھنے کی، کہ اس سے تم اپنے اور اللہ کے دشمنوں کو خوف زده رکھ سکو) [الانفال: 60]
...
سورۃ القارعہ
تمہید
شوق آمیز مقدمہ:
اس کے مختلف طریقے ہیں‘ مثلا:
۱- طلبہ سے ان سورتوں کے بارے میں سوال کرنا جو روز قیامت کے ناموں سے موسوم ہیں۔
۲- القارعۃ کا معنی ومطلب۔
سورت کا تعارف:
۱- سورۃ القارعہ کہاں نازل ہوئی؟
اس پر اجماع ہے کہ سورۃ القارعہ مکہ میں نازل ہوئی۔[61] [61] النكت والعيون (6/327)، المحرر الوجيز (5/516)، زاد المسير (4/483)-
۳- سورۃ القارعۃ کا موضوع کیا ہے؟
یہ سورت قیامت کے ان ہولناک مناظر کے بارے میں گفتگو کرتی ہے جو دلوں پر دستک دیتے ہیں‘ لوگ پروانوں کی طرح بکھرے ہوں گے اور پہاڑ اون کی طرح ہو جائیں گے‘ جس کے پلڑے بھاری ہوں گے وہ نجات پائے گا اور جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے وہ ہلاک ہوجائے گا۔
بارہویں مجلس: آخرت کے دن اعمال وزن کیے جائیں گے
تلاوت:
اللہ تعالی کا فرمان ہے: کھڑکھڑا دینے والی۔ کیا ہے وه کھڑکھڑا دینے والی۔ تجھے کیا معلوم کہ وه کھڑ کھڑا دینے والی کیا ہے؟ جس دن انسان بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہو جائیں گے- اور پہاڑ دھنے ہوئے رنگین اون کی طرح ہو جائیں گے- پھر جس کے پلڑے بھاری ہوں گے- وه تو دل پسند آرام کی زندگی میں ہوگا- اور جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے- اس کا ٹھکانا ہاویہ ہے۔ تجھے کیا معلوم کہ وه کیا ہے۔ وه تند وتیز آگ (ہے)- القارعة 1-11
تفسیر:
(1) وہ قیامت جو اپنی عظیم ہولناکی کے سبب دلوں پر دستک ڈالے گی۔
(2) وہ قیامت کیا ہے جواپنی عظیم ہولناکی کے سبب دلوں پر دستک ڈالے گی؟
(3) اے رسول! تجھے کس نے بتایا کہ وہ قیامت کیا ہے جو اپنی عظیم ہولناکی کے سبب دلوں پر دستک ڈالے گی؟ یقینا وہ قیامت کا دن ہے۔
(4) جس دن قیامت دلوں پر دستک دے گی اس دن لوگ پروانوں کی طرح یہاں وہاں بکھرے ہوئے ہوں گے۔
(5) پہاڑ اپنی ہلکی چال اور حرکت میں دھنے ہوئے اون کی طرح ہلکے ہو جائیں گے۔
(6) جس کی نیکیوں کے پلڑے برے اعمال پر بھاری ہوں گے
(7) وہ جنت کے اندر من پسند خوشگوار زندگی میں ہوگا۔
(8) اور وہ شخص جس کے گناہوں کے پلڑے نیک اعمال سے بھاری ہوں گے
(9) قیامت کے دن اس کا ٹھکانہ جہنم ہوگا-
(10) اے رسول! آپ کو کس نے بتایا کہ وہ جہنم کیا ہے؟
(11) وہ سخت دہکتی ہوئی آگ ہے[62]- [62] المختصر في تفسير القرآن الكريم (ص:600)-
تدبر اور تزکیہ:
تدبر
تزکیہ
ہم اس سورت سے کیا سیکھتے ہیں؟
کونسی آیت اس پر دلالت کرتی ہے؟
ہم اس سورت کی آیتوں سے اپنے اخلاق کو کیسے مزین کریں؟
اللہ پاک نے قیامت کی عظمت کو بیان کیا اور بار بار اس کی سنگینی کى نشاندہی ہے۔
(کھڑکھڑا دینے والی۔ کیا ہے وه کھڑکھڑا دینے والی)-
اس دن کے ڈر سے ہمارے دل میں لرزہ طاری ہونا چاہئے‘ ہمیں اللہ کی طرف دوڑنا چاہئے اور اسی سے اپنے دل وابستہ رکھنا چاہئے‘ اللہ کے سوا کوئی بھی اس دن کی ہولناکیوں سے آگاہ نہیں‘ وہی اللہ ہمیں ان ہولناکیوں سے بچا سکتا ہے۔
لوگ اس دن خوف کے عالم میں نہایت کمزور وبے بس ہوں گے۔
(جس دن لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہو جائیں گے)-
ہمیں اللہ کی عظمت وقدرت کو محسوس کرنا چاہئے کہ وہ بیک وقت بندوں کو زندہ بھی کرے گا اور انہیں ان کی بوسیدہ قبروں سے باہر بھی نکالے گا۔
اس دن بڑے بڑے فلک بوس پہاڑ نہایت کمزور ہوجائیں گے۔
(اور پہاڑ دھنے ہوئے رنگین اون کی طرح ہو جائیں گے)
ہمیں اللہ کی عظمت وقدرت کو محسوس کرنا چاہئے کہ وہ زمین میں گڑے ہوئے پہاڑوں کو اڑتے ہوئے اون کی طرح بنادے گا۔
اس دن نہ حسب ونسب کام آئے گا اور نہ جاہ وحشمت‘ بلکہ اس دن عدل اور عمل (کا میزان قائم ہوگا)۔
(جس کے پلڑے بھاری ہوں گے وه تو دل پسند آرام کی زندگی میں ہوگا)-
حزن وملال اور تھکان سے خالی پاکیزہ زندگی سے فیض یاب ہونے کے لیے ہمیں جد وجہد کرنا چاہئے‘ بایں طور کہ ہم کثرت سے ایسی نیکیاں کریں جو ہمارے میزان (ترازو) کو بھاری کردیں۔
جو شخص حقیر چیز اور دنیا پر راضی رہے اور عبودیت کی عزت سے گر کر نافرمانی کی ذلت میں چلا جائے وہ قیامت کے دن جہنم میں جائے گا۔
(ور جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے۔ اس کا ٹھکانا ہاویہ ہے)-
ہمیں ہر قسم کے گناہوں کو ترک کرنے کے لیے جد وجہد کرنا چاہئے‘ اسی طرح ان اعمال سے بھی دور رہنے کی کوشش کرنی چاہئے جو اعمال کو غارت کردیتے ہیں جیسے ریا ونمود‘ خود پسندی اور احسان جتانا ...وغیرہ۔
ابن آدم کو یہ طاقت نہیں کہ دنیاوی آگ کی جھلس برداشت کرسکے‘ جوکہ جہنم کی آگ کا سترواں حصہ ہے‘ تو بھلا وہ مستقل طور پر جہنم میں کیسے رہ سکتا ہے؟!
(تجھے کیا معلوم کہ وه کیا ہے وه تند وتیز آگ (ہے))-
ہمیں آگ (جہنم) سے بچنے کی فکر کرنی چاہیے خواہ معمولی عمل کے ذریعہ ہی کیوں نہ ہو‘ جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: (جہنم سے بچو خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعہ ہی کیوں نہ ہو)[63]- [63] اس حدیث کو بخاری نے اپنی صحیح (2/109) (1417) میں اور مسلم نے اپنی صحیح (2/704) (1016) میں روایت کیا ہے۔
اس سورہ سے ہدایت کی اور بھی باتیں مستنبط کریں‘ ساتھ ہی جو آیت ان پر دلالت کرتی ہے اس کی وضاحت کریں‘ نیز اس میں جو اخلاقی پہلو پنہاں ہے اس پر بھی روشنی ڈالیں۔
اس سورت کو سیکھنے کے بعد ہم اس پر عمل کیسے کریں؟
اپنی ذات کے تئیں:
- عام طور پر ہر قسم کی اطاعت کے ذریعہ میں اپنے میزان کو بھاری بنانے اور بطور خاص میزان کو بھاری کرنے والے اعمال کو انجام دینے کی کوشش کروں گا‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے اعمال کی خبر دی ہے‘ جو کہ یہ ہیں: توحید کا حصول اور شہادتین: "میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ علاوہ کوئى حقیقی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد -صلى اللہ علیہ وسلم- اللہ کے رسول ہیں" کے تقاضوں پر عمل کرنا‘ اللہ تعالی کا ذکر کرنا‘ جیسے تسبیح‘ تحمید‘ تہلیل اور تکبیر‘ حسن اخلاق کا مظاہرہ کرنا اور جنازہ کے پیچھے چلنا یہاں تک کہ اس کی تدفین مکمل ہوجائے۔
...
اپنے معاشرہ کے تئیں:
- میں اپنی ذات کو ‘ قرابت داروں اور اہل خانہ کو یہ رغبت دلاؤں گا کہ اللہ کی کتاب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے میزان پر تول کر ہی کوئی بات بولیں اور کوئی کام کریں‘ کیوں کہ ہمیں نہیں معلوم کہ کونسی بات ہماری ہلاکت کا سبب بن جائے‘ جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس حدیث میں اس کی خبر دی ہے: "بندہ ایک بات زبان سے نکالتا ہے اور اس کے متعلق سوچتا نہیں جس کی وجہ سے وہ دوزخ میں اتنی دور جاگرتا ہے جتنا مغرب سے مشرق دور ہے"[64]- [64] اس حدیث کو بخاری نے اپنی صحیح (8/100) (6477) میں اور مسلم نے اپنی صحیح (4/2290) (2988) میں روایت کیا ہے۔
...
سورۃ التکاثر
تمہید
شوق آمیز مقدمہ:
اس کے مختلف طریقے ہیں‘ مثلا:
۱- طلبہ سے اس سورت کے ناموں اور معانی کے بارے میں سوال کرنا۔
۲- سورت کے نزول کا واقعہ۔
سورت کا تعارف:
۱- سورۃ التکاثر کہاں نازل ہوئی؟
اس پر مفسرین کا اجماع ہے کہ یہ سورت مکہ میں نازل ہوئی[65]- [65] دیکھیں: المحرر الوجيز (5/518)، زاد المسير (4/485)، الجامع لاحكام القرآن (20/168)-
۲- سورۃ التکاثر کا سبب نزول کیا ہے؟
یہ سورت قریش کے دو قبیلوں بنی بد مناف اور بنی سہم‘ کے بارے میں نازل ہوئیں, یہ دونوں قبیلے ایک دوسرے پر فخر جتایا کرتے تھے یہاں تک کہ مُردوں کی گنتی میں بھی فخر کرتے تھے[66]- [66] الكشف والبيان (10/276)، النكت والعيون (6/331)، اسباب النزول للواحدي (ص: 464)-
۳- اس سورت کے کون کون سے نام ہیں؟
- سورۃ التکاثر
- سورة (أَلْهَاكُمُ) [67]. [67] دیکھیں: صحيح بخاری (6/176)، كتاب تفسير القرآن، باب "ومن يعمل مثقال ذرة شرا يره"-
- سورة (أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ) [68] [68] اسماء سور القرآن وفضائلها (ص: 590)-
- سورة (المقبرة)[69] [69] روح المعاني (15/451)، التحرير والتنوير (30/517)، اسماء سور القرآن وفضائلها (ص: 590)-
4-سورۃ التکاثر کا موضوع کیا ہے؟
اس سورہ کا موضوع گفتگو یہ ہے کہ لوگ دنیا داری اور آل واولاد میں اس قدر مشغول ہوتے ہیں کہ اللہ کی اطاعت سے غافل ہوجاتے ہیں‘ یہاں تک کہ اچانک ان کی موت آجاتی ہے‘ انہیں حتمی طور پر حساب دینا ہوگا اور ان نعمتوں کے بارے میں ان سے سوال کیاجائے گا جن سے وہ دنیا میں محظوظ ہوتے ہیں‘ کہ کیا انہوں نے ان نعمتوں کو تقرب الہی کا ذریعہ بنایا؟
تیرہویں مجلس: دنیا داری میں مصروف رہنے کی مذمت اور منعم کا شکر ادا کرنے کی یاد دہانی
تلاوت:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: زیادتی کی چاہت نے تمہیں غافل کردیا- یہاں تک کہ تم قبرستان جا پہنچے- ہرگز نہیں تم عنقریب معلوم کر لو گے- ہرگز نہیں پھر تمہیں جلد علم ہو جائے گا- ہرگز نہیں اگر تم یقینی طور پر جان لو.- تو بیشک تم جہنم دیکھ لو گے- اور تم اسے یقین کی آنکھ سے دیکھ لو گے- پھر اس دن تم سے ضرور بالضرور نعمتوں کا سوال ہوگا- التكاثر 1-8
تفسیر:
(1) اے لوگو! مال ودولت اور آل واولاد پر فخر ومباہات نے تم کو اطاعت الہی سے غافل کردیا۔
(2) یہاں تک کہ موت کے شکار ہوکر قبروں میں داخل ہوگئے۔
(3) تمہارے لیے مناسب نہ تھا کہ فخر ومباہات تمہیں اطاعت الہی سے غافل کیے رکھے‘ عنقریب تم اس غفلت کا برا انجام دیکھ لوگے۔
(4) پھر تم عنقریب اس کا برا انجام دیکھ لوگے۔
(5) حقیقت میں اگر تم یقینی طور پر جان لیتے کہ تمہیں دوبارہ زندہ ہوکر اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے اور وہ تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دے گا‘ تو تم مال ودولت اور آل واولاد پر فخر ومباہات کرنے میں مشغول نہ رہتے۔
(6) اللہ کی قسم! تم قیامت کے دن جہنم کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے۔
(7) پھر تم اسے یقین کی آنکھ سے دیکھ لوگے جس میں کوئی شک نہ ہوگا
(8) پھر اس دن تم سے اللہ تعالی نعمتوں کا سوال کرے گا جیسے صحت وعافیت اور مالداری وغیرہ[70]- [70] المختصر في تفسير القرآن الكريم (ص:600)-
تدبر اور تزکیہ:
تدبر
تزکیہ
ہم اس سورت سے کیا سیکھتے ہیں؟
کونسی آیت اس پر دلالت کرتی ہے؟
ہم اس سورت کی آیتوں سے اپنے اخلاق کو کیسے مزین کریں؟
زیادہ زیادہ سے دنیا حاصل کرنا اور اس پر فخر ومباہات کرنا شیطان کا ایک عظیم ترین اسلحہ ہے‘ جس میں مشغول ہوکر بندہ اللہ اور آخرت کے دن سے غافل ہوجاتا ہے۔
(زیادتی کی چاہت نے تمہیں غافل کردیا یہاں تک کہ تم قبرستان جا پہنچے)۔
دنیا میں ہماری فکر کا محور دولت اور بیٹوں کی کثرت اور اس پر فخر کرنا نہ ہو‘ کیوں کہ ہمارے پاک وبرتر پروردگار نے اس کی مذمت بیان کی ہے۔
اگر دنیانوی چیزوں میں زیادتی کی طلب کى غفلت سے بندہ بیدار ہوکر اپنے رب کے سامنے توبہ نہ کرے تو وہ موت کے وقت ضرور بیدار ہوجائے گا جبکہ اس وقت اس کی بیداری کچھ فائدہ نہ دے گی‘ وہ اس وقت جان لے گا کہ مقصد تخلیق سے غافل رہنے کا انجام کتنا برا ہوتا ہے۔
(ہرگز نہیں تم عنقریب معلوم کر لو گے ہرگز نہیں پھر تمہیں جلد علم ہو جائے گا)۔
ہمیں اپنے عمل کے انجام پر غور وفکر کرنا چاہئے اور یقین رکھنا چاہئے کہ یہ دنیا فانی ہے‘ یہ فکر انسان کو آمادہ کرتی ہے کہ وہ دنیا کو آخرت کے لیے سواری کے طور پر استعمال کرے اور دنیا میں غرق نہ ہوجائے۔
اللہ کی کونی اور شرعی نشانیوں پر غور کرنے سے بندہ کے دل میں اللہ کا اور اس کی ملاقات کا یقین پیدا ہوتا ہے‘ چنانچہ وہ اطاعت پر آمادہ ہوتا اور گناہ سے باز رہنے لگتا ہے۔
(ہرگز نہیں اگر تم یقینی طور پر جان لو)
ہمیں ہر حال میں بعث بعد الموت اور حشر ونشر کو یاد کرتے رہنے سے اپنے یقین کو پختہ کرتے رہنا چاہئے‘ اس کے ذریعہ نفس غفلت سے باز رہتا اور دنیا اور اس کی لذتوں پر فخر ومباہات نہیں کرتا۔
زیادتی کی چاہت میں مشغول رہنے سے انسان کے اندر غفلت پیدا ہوتی ہے،
اور دل گناہ کے انجام بد کو دیکھنے سے اعراض کرنے لگتا ہے‘ آخرت میں بندہ اس انجام کو اپنے سامنے دیکھے گا‘ اس کا مشاہدہ کرے گا اور اسے یقین ہوجائے گا۔
(تو بیشک تم جہنم دیکھ لو گے اور تم اسے یقین کی آنکھ سے دیکھ لو گے)۔
ہمیں عذاب الہی سے ڈرتے رہنا چاہئے جو بے شک اس شخص کو لاحق ہونے والا ہے جو اس کی راہ سے اعراض برتے اور اس کے حکم کی خلاف ورزی کرے‘ ہمیں اس حقیقت کو اپنی آنکھوں کے سامنے رکھنا چاہئے تاکہ ہم اللہ کی راہ پر استقامت کے ساتھ گامزن رہیں۔
صرف گناہوں کے بارے میں ہی سوال نہیں ہوگا‘ بلکہ ان نعمتوں کے بارے میں بھی سوال کیا جائے گا جن پر لوگ فخر ومباہات کرتے اور اس میں مشغول ہوکر آخرت سے بے خبر رہتے ہیں۔
(پھر اس دن تم سے ضرور بالضرور نعمتوں کا سوال ہوگا)
ہمارا ایمان ہے کہ ہم سے ان تمام نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا جو نعمتیں اللہ نے ہم پر کیں‘ کیا ہم نے ان نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کیا اور ان نعمتوں کو اللہ کی اطاعت میں استعمال کیا؟
اس سورت سے ہدایت کی اور بھی باتیں مستنبط کریں‘ ساتھ ہی جو آیت ان پر دلالت کرتی ہے اس کی وضاحت کریں‘ نیز اس میں جو اخلاقی پہلو پنہاں ہے اس پر بھی روشنی ڈالیں۔
اس سورت کو سیکھنے کے بعد ہم اس پر عمل کیسے کریں؟
اپنی ذات کے تئیں:
- موت اور فنا کو یاد کرنے کے لیے میں قبروں کی زیارت کروں گا‘ عذاب قبر سے اللہ کی پناہ طلب کروں گا‘ اور میرے اس یقین میں اضافہ ہوگا کہ اللہ کی اطاعت کے علاوہ ہر وہ چیز جس کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے میں لوگ لگے ہوئے ہیں‘ اس کا انجام وبال اور بربادی ہے‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: " میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا ، چنانچہ اب ان کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ تمہیں آخرت کی یاد دلاتی ہے"[71]- [71]اس حدیث کو احمد نے اپنی مسند (2/398) (1237) میں، اور ابن ابی شیبۃ نے اپنی مصنف(1/212) (312) میں روایت کیا ہے نیز دیگر ائمہ نے بھى اس کو روایت کیا ہے، اور البانی نے اسے ارواء الغلیل (3/224) (772) میں صحیح قرار دیا ہے۔
...
اپنے معاشرہ کے تئیں:
- میں اپنے بھائیوں اور رشتہ داروں اور اپنے تعلق میں آنے والے تمام لوگوں کو قبروں کی زیارت کرنے کی نصیحت کروں گا‘ بطور خاص ان ایام میں جن سے ہم گزر رہے ہیں‘ جبکہ مادہ پرستی کا دور دورہ ہے اور لوگ دنیا اور اس کی چمک دمک میں مشغول ہیں۔
...
سورۃ العصر
تمہید
شوق آمیز مقدمہ:
اس کے مختلف طریقے ہیں‘ مثلا:
۱- طلبہ سے ان اوقات کے بارے میں سوال کرنا جن کی اللہ تعالی نے قسم کھائی ہے۔
۲- امام شافعی نے اس سورت کے متعلق کیا فرمایا؟
امام شافعی فرماتے ہیں: (اگر لوگ اس سورت پر غور کریں تو یہ ان کے لیے کافی ہوگی) [72]- [72] تفسير ابن كثير (1/203)-
سورت کا تعارف:
۱- سورۃ العصر کہاں نازل ہوئی؟
جمہور کا قول ہے کہ سورۃ العصر مکہ میں نازل ہوئی[73]- [73] النكت والعيون (6/333)، زاد المسير (4/487)، الجامع لاحكام القرآن (20/178)
۱- اس سورہ کے کون کون سے نام ہیں؟
اس کا نام سورۃ العصر ہے‘ بعض مفسرین نے اسے سورۃ (والعصر) سے بھی موسوم کیا ہے یعنی واو کے ساتھ [74]- [74] دیکھیں: صحيح بخاری (6/177)، كتاب تفسير القرآن، باب "ومن يعمل مثقال ذرة شرا يره"، الهداية إلى بلوغ النهاية (12/8423)، الجامع لاحكام القرآن (20/178)، اسماء سور القرآن وفضائلها (ص: 592-593)-
۲-سورۃ العصر کا موضوع کیا ہے؟
یہ سورت اس بات پر متنبہ کرتی ہے کہ وقت انسان کے پاس سب سے قیمتی چیز ہے‘ اسی لیے اگر وہ آخرت کے لیے اپنے وقت کی حفاظت نہ کرے اور اپنے بھائیوں کو حق پر قائم رہنے اور صبر کرنے کی وصیت نہ کرے تو وہ خسارے میں ہے۔
چودہویں مجلس: دنیا وآخرت میں منافع کے اسباب
تلاوت:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: زمانے کی قسم! بے شک انسان سرتا سر نقصان میں ہے۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان ﻻئے، نیک عمل کیے اور (جنھوں نے) آپس میں حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی)۔ (سورۃ العصر:1-3)
تفسیر:
(1) اللہ پاک نے عصر کے وقت کی قسم کھائی۔
(2) بے شک انسان نقصان اور گھاٹے میں ہے۔
(3) سوائے ان لوگوں کے، جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان ﻻئے، نیک اعمال کیے اور (جنھوں نے) آپس میں حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو حق کی راہ میں صبر کرنے کی نصیحت کی‘ جو لوگ ان صفات سے متصف ہوں گے وہی لوگ نقصان اور خسارے سے محفوظ رہیں گے[75]- [75] المختصر في تفسير القرآن الكريم (ص:601)-
تدبر اور تزکیہ:
تدبر
تزکیہ
ہم اس سورت سے کیا سیکھتے ہیں؟
کونسی آیت اس پر دلالت کرتی ہے؟
ہم اس سورت کی آیتوں سے اپنے اخلاق کو کیسے مزین کریں؟
عصر کا وقت‘ امت محمدیہ کے لیے عمل کا پہلا وقت ہے‘ جیسا کہ صحیح بخاری میں ابن عمر سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تمہارا زمانہ پہلی امتوں کے مقابلے میں ایسا ہے جیسے عصر سے مغرب کا وقت ہے)[76]‘ چنانچہ اللہ پاک نے اس وقت کی اہمیت پر تنبیہ کی ہے۔ [76] اس حدیث کو بخاری نے اپنی صحیح (4/170) (3459) میں روایت کیا ہے۔
(زمانے کی قسم!)
ہمیں تمام وقتوں کی قیمت جاننا چاہئے بطور خاص عصر کے وقت کی فضیلت سے واقف رہناچاہئے اور اسے اللہ کی اطاعت میں گزارنا چاہئے۔
ابن آدم کی حقیقت یہ ہے کہ وہ خسارے سے دوچار ہونے والا ہے سوائے اس کے جسے اللہ تعالی خیر کی توفیق عطا کرے۔
(بے شک انسان سرتا سر نقصان میں ہے)
ہمیں اپنی ذات کو خسارے سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے بایں طور کہ اپنے اوقات کی حفاظت کریں اور رضائے الہی کے کاموں میں انہیں استعمال کریں۔
نجات پانے کے لیے کچھ شرطیں ہیں‘ جو شخص ان شرطوں کو بروئے کار لائے گا وہ نجات سے بہرہ ور ہوگا‘ وہ ۔شروط یہ ہیں: علم وعمل اور دعوت وصبر-
(سوائے ان لوگوں کے، جو ایمان ﻻئے، نیک عمل کیے اور جنہوں نے آپس میں حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی)
ہمیں نجات کی شرطیں بروئے کار لانے کی کوشش کرنی چاہئے‘ بایں طور کہ علم حاصل کریں‘ دوسروں کو علم سکھائیں‘ اس کی دعوت دیں‘ پھر اس راہ میں آنے والی اذیت پر صبر کریں۔
علم عمل کی دعوت دیتا ہے‘ اگر اس دعوت کو قبول کیا وہ تو باقی رہتا ہے ورنہ کوچ کر جاتا ہے۔
(اور نیک اعمال کیے)
ہمیں اپنے علم پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ ہمارا علم نفع بخش ثابت ہو‘ بندے کا علم سے مستفید ہونے کی علامت یہ ہے کہ: اس پر عمل اور اتباع کے اثرات ظاہر ہوں-
علم اور عمل کافی نہیں‘ یہاں تک انسان دوسرے کو بھلائی کا حکم دے اور برائی سے روکے۔
(اور جنہوں نے آپس میں حق کی وصیت کی)
ہمیں اللہ پاک کے حکم پر عمل کرنا چاہئے بایں طور کہ ہم بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں۔
بندہ کو یہ گمان نہیں رکھنا چاہئے کہ دعوت کی راہ پر پھول بچھے ہوئے ہیں‘ بلکہ وہ ابتلا وآزمائش کی راہ ہے...جس میں رسول اور انبیاء ہمارے سلف چلے ہیں‘ جنہیں اللہ کی راہ میں اذیت دی گئی اور انہوں نے اس پر صبر کیا۔
(اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی)
ہمیں صبر کی صفت سے متصف ہونے کی کوشش کرنی چاہئے‘ کسی اذیت کی وجہ سے خیر کا کام نہیں چھوڑنا چاہئے‘ کیوں کہ صبر کا انجام قابل ستائش ہوتا ہے۔
اس سورت سے ہدایت کی اور بھی باتیں مستنبط کریں‘ ساتھ ہی جو آیت ان پر دلالت کرتی ہے اس کی وضاحت کریں‘ نیز اس میں جو اخلاقی پہلو پنہاں ہے اس پر بھی روشنی ڈالیں۔
اس سورت کو سیکھنے کے بعد ہم اس پر عمل کیسے کریں؟
اپنی ذات کے تئیں:
- اپنے اوقات کی حفاظت کروں گا‘ اطاعت وعبادت اور اپنی زندگی کے معاملات درست رکھنے میں ان کا استعمال کروں گا‘ کیوں کہ اسی کے ذریعہ خسارے اور ہلاکت سے ہم بچ سکتے ہیں‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں وقت کا درست استعمال کرنے کی وصیت کی اور فرمایا: "پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو" ان میں آپ نے یہ بھی شمار فرمایا: "مشغولیت سے پہلے فراغت کو" [77] [77] اس حدیث کو نسائی نے اپنے سنن (10/400) (11832) میں، اور حاکم نے اپنے مستدرک (4/341) (7846) میں روایت کیا ہے نیز دیگر ائمہ نے بھى اسے روایت کیا ہے، اور البانی نے صحيح الجامع (1/244) (1078) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔
...
اپنے معاشرہ کے تئیں:
- میں اپنے اہل خانہ اور معاشرہ کے افراد کو ایسے امور کی وصیت کروں گا جن سے ہمارے حالات درست ہوسکتے ہیں‘ جیسے نفع بخش علم‘ نیک عمل‘ روئے زمین پر اللہ کی بندگی کو بجالانا اور اس کی جاں نشینی کرنا‘ کیوں کہ مشترکہ مقصد تک پہنچنے کے لیے افراد کے درمیان باہمی تعاون اور آپسی وصیت کی ضرورت ہوتی ہے‘ (روایت میں) آیا ہے کہ مومن اپنی ذات کے ساتھ (تنہا) کمزور ہوتا ہے لیکن اپنے بھائیوں کے ساتھ مضبوط وقوی ہوتا ہے۔
...
سورۃ الھمزة
تمہید
شوق آمیز مقدمہ:
اس کے مختلف طریقے ہیں‘ مثلا:
۱- طلبہ سے اس سورت کے ناموں کے بارے میں سوال کرنا۔
۲- جہنم کے مختلف ناموں کا ذکر اور الحطمۃ کے معنی ومفہوم سے واقفیت-
۳- سورت کا سبب نزول-
سورت کا تعارف:
۱- سورۃ الہمزۃ کہاں نازل ہوئی؟
اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ سورۃ الہمزۃ مکہ میں نازل ہوئی[78]- [78] دیکھیں: المحرر الوجيز (5/521)، زاد المسير (4/488))، الجامع لاحكام القرآن (20/181)-
۲- سورۃ الہمزۃ کا سبب نزول:
ایک قول ہے کہ: یہ سورت امیہ بن خلف کے بارے میں نازل ہوئی‘جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تو آپ کو طعنہ دیتا اور آپ کی عیب جوئی کرتا‘ اس پر اللہ نے یہ مکمل سورت نازل فرمائی: (بڑی خرابی ہے ہر ایسے شخص کے لئے جو عیب ٹٹولنے واﻻ غیبت کرنے واﻻ ہو.)[79]، ایک قول یہ بھی ہے کہ: یہ سورت کسی ایک شخص کے ساتھ خاص نہیں بلکہ یہ سورت ہر اس شخص کے بارے میں ہے جس کے اندر بھی یہ صفت پائی جاتی ہو[80]- [79] الكشف والبيان (10/286)، الجامع لاحكام القرآن (20/183)- [80] الكشف والبيان (10/286)، النكت والعيون (6/336)، زاد المسير (4/488)-
۳- اس سورت کے کون کون سے نام ہیں؟
- سورۃ (الھُمزة)
- سورة (ويل لكل همزة) [81] [81] دیکھیں: صحيح بخاری (6/177)، كتاب تفسير القرآن، باب "ومن يعمل مثقال ذرة شرا يره"-
- سورة(الحُطَمَة)[82] [82] دیکھیں: بصائر ذوي التمييز (1/543)، التحرير والتنوير (30/535)، اسماء سور القرآن وفضائلها (ص: 595-596)-
4-سورۃ الہمزۃ کا موضوع کیا ہے؟
اس سورت میں اس شخص کے خلاف سخت وعید آئی ہے جو عیب جوئی ‘ غیبت اور تکبر کرتا ہے‘ مال ودولت کو بٹورنے میں اس قدر مصروف رہتا ہے گویا وہ دنیا میں ہمیشہ باقی رہنے والا ہو‘ کبھی فنا نہ ہونے والا ہو‘ پھر مال ودولت اور جاہ وحشمت کی بدولت بندوں پر فخر وغرور کا مظاہرہ کرے...اس سورت میں اس پر زور دیا گیا ہے کہ جس کی یہ حالت ہو وہ قیامت کے دن نجات نہیں پا سکتا‘ بلکہ اس کے عمل کے پاداش میں جہنم اس کا منتظر ہے۔
پندرہویں مجلس: دین کا مذاق اڑانے کی سزا
تلاوت :
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (بڑی خرابی ہے ہر ایسے شخص کی جو عیب ٹٹولنے واﻻ غیبت کرنے واﻻ ہو- جو مال کو جمع کرتا جائے اور گنتا جائے۔ وه سمجھتا ہے کہ اس کا مال اس کے پاس سدا رہے گا۔ ہرگز نہیں یہ تو ضرور توڑ پھوڑ دینے والی آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ اور تجھے کیا معلوم کہ ایسی آگ کیا ہوگی؟ وه اللہ تعالیٰ کی سلگائی ہوئی آگ ہوگی. جو دلوں پر چڑھتی چلی جائے گی۔ وہ ان پر ہر طرف سے بند کی ہوئی ہوگی۔ بڑے بڑے ستونوں میں۔ الهمزة: ١ - ٩
تفسیر:
(1) جو شخص لوگوں کی غیبت اور طعنہ وتشنیع میں لگا رہتا ہے اس کے لیے وبال اور سخت عذاب ہے۔
(2) جس شخص کا مقصد مال جمع کرنا اور گن گن کر رکھنا ہوتا ہے‘ اسے اس کے علاوہ کسی چیز کی فکر نہیں رہتی۔
(3) وہ اس گمان میں رہتا ہے کہ جو مال وہ جمع کر رہا ہے‘ وہ اسے موت سے بچا لے گا اور وہ دنیا میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔
(4) حقیقت ایسی نہیں جیسا یہ نادان تصور کرتا ہے‘ بلکہ اسے جہنم کی اس آگ میں پھینکا جائے گا جس کا عذاب اتنا سخت ہوگا کہ ہر چیز کو چکنا چور کر کے رکھ دے گا۔
(5) اے رسول! تجھے کس نے بتایا کہ وہ آگ کیسی ہے جو اپنے اندر پھینکى گئى ہر چیز کو چکنا چور کر دے گی۔
(6) وہ اللہ کی سلگائی ہوئی آگ ہوگی۔
(7) جو لوگوں کے جسموں میں سرایت کرتی ہوئی ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی۔
(8) جنہیں اس آگ میں عذاب دیا جائے گا ان پر ہر طرف سے بند کی ہوئی ہوگی۔
(9) بڑے بڑے لمبے ستونوں کے ذریعہ تاکہ وہ اس سے باہر نہ نکل سکیں[83]- [83] المختصر في تفسير القرآن الكريم (ص:601)-
تدبر اور تزکیہ:
تدبر
تزکیہ
ہم اس سورت سے کیا سیکھتے ہیں؟
کونسی آیت اس پر دلالت کرتی ہے؟
ہم اس سورت کی آیتوں سے اپنے اخلاق کو کیسے مزین کریں؟
لوگوں کو طعنہ دینا اور ان کی عیب جوئی کرنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے‘ اللہ نے اس پر عذاب کی وعید سنائی ہے۔
(بڑی خرابی ہے ہر ایسے شخص کی جو عیب ٹٹولنے واﻻ غیبت کرنے واﻻ ہو)۔
ہمیں یہ جان لینا چاہئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم‘ مومنوں‘ نیکو کاروں اور مجاہدوں کی شان میں طعنہ زنی کرنا‘ ان کی عیب جوئی اور غیبت کرنا مومنوں کی صفت نہیں‘ بلکہ ہر زمانے میں کافروں اور منافقوں کی صفت رہی ہے۔
مال ودولت جمع کرنے میں مشغول رہنا اور اس کے بل پر فخر ومباہات کرنا انسان کی سرکشی اور لوگوں پر اس کے ظلم وتعدی کا سبب ہے۔
(جو مال کو جمع کرتا جائے اور گنتا جائے)۔
دنیا میں ہمارا مقصد صرف مال جمع کرنا‘ اسے گن گن کر رکھنا اور اس پر فخر ومباہات کرنا نہیں ہونا چاہئے‘ کیوں کہ یہ ہلاکت کا سبب ہے‘ ہماری فکر مندی کا مرکز آخرت اور اللہ پاک کی اطاعت ہونی چاہئے۔
مال ودولت جس شخص کی بصیرت پر پردہ ڈال دیتا ہے اس کے سامنے حقائق پلٹ جاتے ہیں‘ چنانچہ وہ گمان کرنے لگتا ہے کہ اس کا مال اسے دنیا میں ہمیشگی عطا کردے گا‘ اور اپنے ماقبل کے ان مالداروں سے غافل ہو جاتا ہے جو ہلاک ہوگئے جیسے قارون وغیرہ۔
(وه سمجھتا ہے کہ اس کا مال اسے ہمیشہ زندہ رکھے گا)۔
ہمیں یہ ایمان رکھنا چاہئے ہمیں اپنے تمام اعمال کا حساب دینا ہے‘ اور وہ مال جسے ہم ذخیرہ کرکے رکھتے ہیں وہ ہمیں دنیا میں ہمیشگی کی ضمانت نہیں دے سکتا یا ہمیں قیامت کے دن حساب وکتاب سے نہیں بچا سکتا۔
جو شخص (دنیا میں) اپنے حواریوں اور خادموں کے ہجوم میں رہتا ہے‘ اور یہ گمان رکھتا ہے کہ اس کا مال اسے ہر قسم کی اذیت سے بچالے گا‘ اسے اس جہنم میں ڈال کر سزا دی جائے گی جو ہر ایک چیز کو چکنا چور کردے گا۔
(ہرگز نہیں یہ تو ضرور توڑ پھوڑ دینے والی آگ میں پھینک دیا جائے گا)۔
ہمیں توڑ پھوڑ دینے والی آگ سے بچنے کی فکر کرنی چاہئے بایں طور کہ دنیا سے اپنا تعلق کم کریں اور آخرت کی تیاری میں لگے رہیں۔
آخرت کی آگ بڑی سنگین ہوگی‘ وہ دنیاوی آگ کی طرح نہیں ہوگی جو صرف جسم کو جلاتی ہے‘ پھر بجھ کر راکھ ہوجاتی ہے‘ بلکہ وہ آگ ہمیشہ بھڑکتی رہے گی‘ بجھے گی نہیں‘ اور اس کی سوزش دلوں اور جسموں کو جلا کر رکھ دے گی۔
( اور تجھے کیا معلوم کہ ایسی آگ کیا ہوگی؟وه اللہ تعالیٰ کی سلگائی ہوئی آگ ہوگی جو دلوں پر چڑھتی چلی جائے گی)
ہمیں جہنم کو‘ اس کے حالات اور سخت عذاب کو یاد کرکے نصیحت حاصل کرنی چاہیے‘ اور اوامر پر عمل کرنا چاہئے اور نواہی سے دور رہنا چاہئے۔
جہنمیوں کے لیے جہنم سے نکلنے کی کوئی آس وامید نہ ہوگی‘ کیوں کہ وہ ان پر ہر طرف سے بند ہوگا!!
(وہ ان پر ہر طرف سے بند کی ہوئی ہوگی‘ بڑے بڑے ستونوں میں)
ہمیں ایمان رکھنا چاہئے کہ جہنم ہمیشہ باقی رہے گى اور اس میں جانے والے کفار کبھی بھی اس سے باہر نہیں نکل سکیں گے۔
اس سورت سے ہدایت کی اور بھی باتیں مستنبط کریں‘ ساتھ ہی جو آیت ان پر دلالت کرتی ہے اس کی وضاحت کریں‘ نیز اس میں جو اخلاقی پہلو پنہاں ہے اس پر بھی روشنی ڈالیں۔
اس سورت کو سیکھنے کے بعد ہم اس پر عمل کیسے کریں؟
اپنی ذات کے تئیں:
- میں مذموم صفات اور گھٹیا حرکات سے دور رہوں گا‘ جیسے گفتار یا کردار کے ذریعہ لوگوں کی طعنہ زنی کرنا‘ کیوں کہ اسلام میں باہمی برتری کا معیار صرف تقوی ہے‘ فرمان باری تعالی ہے: (اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک (ہی) مرد وعورت سے پیدا کیا ہے اور اس لئے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو کنبے اور قبیلے بنا دیئے ہیں، اللہ کے نزدیک تم سب میں باعزت وه ہے جو سب سے زیاده ڈرنے واﻻ ہے، یقین مانو کہ اللہ دانا اور باخبر ہے)۔ (سورۃ الحجرات)
...
اپنے معاشرہ کے حق میں:
میں اپنے اہل خانہ‘ دوستوں اور ارد گرد کے لوگوں کو یہ بتاؤں گا کہ ان مذموم صفات پر آمادہ کرنے والی چیز دنیا کی محبت اور چاہت ہے‘ اس کا انجام اللہ تعالی کی ناراضگی اور جہنم کی سزا ہے‘ اسی لیے اس سے بچنا واجب ہے‘ اللہ تعالی کا فرمان ہے: (اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر جس پر سخت دل مضبوط فرشتے مقرر ہیں جنہیں جو حکم اللہ تعالیٰ دیتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو حکم دیا جائے بجا ﻻتے ہیں) [سورة : التحريم]
...
سورۃ الفیل
تمہید
شوق آمیز مقدمہ:
اس کے مختلف طریقے ہیں‘ مثلا:
۱- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل کے واقعات کے بارے میں طلبہ سے سوال کرنا-
۲- سورت کا سبب نزول-
سورت کا تعارف:
۱- سورۃ الفیل کہاں نازل ہوئی؟
اس پر اجماع ہے کہ سورۃ الفیل مکہ میں نازل ہوئی[84]۔ [84] المحرر الوجيز (5/523)، زاد المسير (4/437)، الجامع لاحكام القرآن (20/187)-
۲- سورۃ الفیل کا سبب نزول کیا ہے؟
یہ سورت ہاتھی والوں کے بارے میں نازل ہوئی جو کعبہ کو منہدم کرنے کی نیت سے (مکہ آئے)‘ اللہ تعالی نے انہیں ہلاک وبرباد کرکے بیت اللہ تک پہنچنے سے انہیں روک دیا‘ یہ قصہ معروف ومشہور ہے[85]- [85] سيرة ابن هشام (1/52-54)، اساب النزول للواحدي (ص: 464)-
۳- اس سورت کے کون کون سے نام ہیں؟
سورة (الفيل)، سورة ألم تر [86]، سورة ألم تر کیف [87]۔ [86] دیکھیں: صحيح بخاری (6/177)، كتاب تفسير القرآن، باب "ومن يعمل مثقال ذرة شرا يره"، التحرير والتنوير (30/543)۔ [87] الجامع لاحكام القرآن (20/200)، اسماء سور القرآن وفضائلها (ص: 599)-
4-سورۃ الفیل کا موضوع کیا ہے؟
یہ سورت یہ قصہ بیان کرتی ہے کہ اللہ تعالی نے اس قوم کو ہلاک وبرباد کردیا جو بیت اللہ کو منہدم کرنے کا ارادہ رکھتی تھی‘ اس سورت سے واضح ہوتا ہے کہ کعبہ مشرفہ کو کس قدر اللہ کی عنایت حاصل ہے۔
سولہویں مجلس: کعبہ کا ایک رب ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے
تلاوت :
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (کیا تو نے نہ دیکھا کہ تیرے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟ کیا ان کے مکر کو بےکار نہیں کردیا؟ اور ان پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیے- ان پر تہہ بہ تہہ پتھروں کی بارش کی۔ پس انہیں کھائے ہوئے بھوسے کی طرح کردیا- سورۃ الفيل 1-5
تفسیر:
(1) اے رسول! کیا آپ کو نہیں معلوم کہ آپ کے پروردگار نے ابرہہ اور اس کے ہاتھی والے ساتھیوں کے ساتھ کیا کیا جب وہ کعبہ کو منہدم کرنے کی غرض سے (مکہ) آرہے تھے؟
(2) اللہ نے کعبہ کو منہدم کرنے کی ناپاک تدبیر کو ناکام کردیا‘ چنانچہ ان کی یہ آرزو پوری نہ ہوسکی کہ لوگوں کو کعبہ سے پھیر دیں‘ اور نہ وہ کعبہ کا کچھ بگاڑ سکے۔
(3) اللہ تعالی نے ان پر پرندوں کے جھنڈ در جھنڈ بھیج دیے۔
(4) ان پرندوں نے ان پر تہہ بتہہ پتھروں کی بارش کی۔
(5) انہیں اللہ نے اس پودے کے پتے کی طرح کردیا جسے کیڑوں نے کھاکر بھوسا کردیا ہو[88]- [88] المختصر في تفسير القرآن الكريم (ص:601)-
تدبر اور تزکیہ:
تدبر
تزکیہ
ہم اس سورت سے کیا سیکھتے ہیں؟
کونسی آیت اس پر دلالت کرتی ہے؟
ہم اس سورت کی آیتوں سے اپنے اخلاق کو کیسے مزین کریں؟
۔ نصیحت اور عبرت کے لیے اللہ تعالی سابقہ قوموں کے قصے اور خبریں بیان کرتا ہے۔
- اللہ تعالی کی قدرت غالب اور اس کی مشیت نافذ ہوکر رہتی ہے‘ چنانچہ جب اللہ تعالی کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو وہ ہوجاتی ہے۔
(کیا تو نے نہ دیکھا کہ تیرے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟)
- ہمیں سابقہ قوموں کے واقعات سے نصیحت حاصل کرنی چاہئے۔
- ہمیں بیت اللہ کی تعظیم کرنی چاہئے اور اس کی قدر ومنزلت سے واقف رہنا چاہئے۔
- کافروں کی سازش اور مکر وفریب خواہ جتنی بھی بڑی ہو اللہ اسے ضرور بے کار کردے گا۔
کیا ان کے مکر کو بےکار نہیں کردیا؟)
ہمیں کسی مسلمان کے خلاف اور ناحق کسی غیر مسلم کے خلاف بھی سازش نہیں کرنی چاہئے‘ کیوں کہ اہل باطل کی سازش بے کار ہوجاتی ہے۔
اللہ کے لشکروں کو صرف اللہ ہی جانتا ہے‘ اللہ تعالی سب سے بڑی اور مضبوط ترین مخلوق پر سب سے کمزور مخلوق کو مسلط کردیتا ہے‘ پھر کوئی بھى مخلوق اسے دور نہیں کر پاتى۔
(اور ان پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیے)
ہمیں اللہ کے غضب اور عذاب سے بچنا چاہئے‘ کیوں کہ بسا اوقات وہ اس جگہ سے آتا ہے جہاں سے ہمیں گمان بھی نہیں ہوتا۔
جب اللہ پاک کسی قوم کو ہلاک کرنا چاہتا ہے تو ان کی قوت انہیں کوئی فائدہ نہیں دیتی اور نہ وہ ہلاکت کے اسباب کو دور کرنے پر قادر ہوتے ہیں۔
(ان پر تہہ بہ تہہ پتھروں کی بارش کی)۔
ہمیں بیت اللہ کی حرمت کا لحاظ رکھنا چاہئے اور اس میں ظلم وجور نہیں کرنا چاہئے کہ اس کی حرمت کو پامال کرنے کے سبب اللہ ہمیں سزا سے دوچار کردے۔
اللہ کے نزدیک کافر کی نہ کوئی قدر وقیمت ہے اور نہ کوئی عزت وکرامت۔
(پس انہیں کھائے ہوئے بھوسے کی طرح کردیا)
ہمیں اللہ پاک کی اطاعت کے ذریعہ اپنے نفوس کو عزت دینا چاہئے اور اللہ کی نافرمانی کے ذریعہ اپنے نفوس کو ذلیل وخوار کرنے سے بچنا چاہئے۔
اس سورت سے ہدایت کی اور بھی باتیں مستنبط کریں‘ ساتھ ہی جو آیت اس پر دلالت کرتی ہے اس کی وضاحت کریں‘ نیز اس میں جو اخلاقی پہلو پنہاں ہے اس پر بھی روشنی ڈالیں۔
اس سورت کو سیکھنے کے بعد ہم اس پر عمل کیسے کریں؟
اپنی ذات کے تئیں:
- میں اللہ پر اپنے ایمان اور یقین کو بڑھانے کی کوشش کروں گا‘ میرا ایمان ہے کہ اللہ پاک کی تدبیر میں بڑی حکمت پوشیدہ ہوتی ہے‘ گرچہ میری امید پوری ہونے میں تاخیر ہی کیوں نہ ہو۔
...
اپنے معاشرہ کے تئیں:
- سابقہ قوموں کے واقعات اور حکم الہی کی خلاف ورزی کے سبب ان پر نازل ہونے والے عذاب کو مسجد کے نمازیوں کے سامنے ذکر کروں گا‘ کیوں کہ ان واقعات میں عبرت ونصیحت پوشیدہ ہے‘ نیز یہ بھی واضح کروں گا کہ معاشرہ جب اللہ کی حرمتوں کا اور اس کے دین کا دفاع کرتا ہے تو اسے رفعت وبلندی اور اللہ پاک کی توفیق ملتی ہے‘ اللہ پاک تو اس بات سے بے نیاز ہے کہ آپ اس کے دین کی مدد کریں‘ بلکہ ہم پر اللہ کا شکر ادا کرنا واجب ہے کہ اس نے ہمیں اپنے دین کی خدمت کے لیے مسخر فرمایا‘ فرمان باری تعالی ہے: ان کے بیان میں عقل والوں کے لئے یقیناً نصیحت اور عبرت ہے، یہ قرآن جھوٹ بنائی ہوئی بات نہیں بلکہ یہ تصدیق ہے ان کتابوں کی جو اس سے پہلے کی ہیں، کھول کھول کر بیان کرنے واﻻ ہے ہر چیز کو اور ہدایت اور رحمت ہے ایمان والوں کے لئے) [سورة: يوسف]
...
سورۃ قریش
تمہید
شوق آمیز مقدمہ:
اس کے مختلف طریقے ہیں‘ مثلا:
۱- قریش کا تعارف اور عربوں کے درمیان ان کے مقام ومرتبہ کى وضاحت-
۲- تجارت میں قریش کا امتیاز اور ان کے تجارتی اسفار۔
سورت کا تعارف:
۱- سورہ قریش کہاں نازل ہوئی؟
اکثر علماء کا قول ہے کہ سورہ قریش مکہ میں نازل ہوئی[89]- [89] النكت والعيون (6/345)، زاد المسير (4/493)، الجامع لاحكام القرآن (20/200)-
۲- اس سورت کے کون کون سے نام ہیں؟
سورہ (قريش)، سورہ لإیلاف قریش [90]، سورہ لإیلاف [91]۔ [90] دیکھیں: صحيح بخاری (6/177)، كتاب تفسير القرآن، باب "ومن يعمل مثقال ذرة شرا يره"- [91] دیکھیں: روح المعاني (15/470)، التحرير والتنوير (30/543)، اسماء سور القرآن وفضائلها (ص: 601-603)-
۳- سورہ قریش کا سبب نزول کیا ہے؟
ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اللہ نے قریش کو سات ایسی خصلتوں سے نوازا جو ان سے قبل کسی اور کو نہیں دیا‘ ان میں آپ نے یہ بھی ذکر فرمایا...ان کے سلسلے میں قرآن کی ایک سورت نازل ہوئی جس میں ان کے علاوہ کسی اور کا ذکر نہیں کیا گیا‘ وہ سورت ہے (لإیلاف قریش) )[92]- [92] اس حدیث کو طبرانی نے المعجم الأوسط (9/76) (9173) میں، اور حاکم نے المستدرک (2/584) (3975) میں روایت کیا ہے نیز دیگر ائمہ نے بھى اس حدیث کو روایت کیا ہے اور البانی نے السلسلة الصحيحة (4/585) (1944) میں اسے حسن قرار دیا ہے۔
4- سورۃ قریش کا موضوع کیا ہے؟
اللہ تعالی قریش کو ان نعمتوں کی یاد دہانی کرا رہا ہے جو اللہ نے ان پر کیے‘ بطور خاص بھوک سے بچانے اور خوف سےبچا کر امن وسکون دینے کی نعمت‘ کیوں کہ انسانی زندگی اور معاشرہ کی بہتری میں اس کا بڑا اہم کردار ہے‘ نیز یہ سورت اس بات پر بھی زور دیتی ہے کہ اللہ کی نعمتوں کے تئیں ان پر واجب ہے کہ وہ اللہ کا شکر ادا کریں اور اس کے فضل واحسان کا اعتراف کرتے رہیں۔
سترہویں مجلس: عبادت وشکر اور امن وسکون اور خوش حال زندگی پر ان دونوں کے اثرات
تلاوت:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (قریش کے مانوس کرنے کے لئے ۔ (یعنی) انہیں جاڑے اور گرمی کے سفر سے مانوس کرنے کے لئے۔ (اس کے شکریہ میں) انہیں چاہئے کہ اسی گھر کے رب کی عبادت کرتے رہیں۔ جس نے انہیں بھوک میں کھانا دیا اور ڈر (اور خوف) میں امن (وامان) دیا۔ سورہ قریش: 1-4
تفسیر:
(1) قریش کی عادت اور ان کی مانوسیت کی وجہ سے۔
(2) امن وامان کے ساتھ جاڑے میں یمن کا سفر اور گرمی میں شام کا سفر۔
(3) انہیں صرف بیت اللہ کے رب کی عبادت کرنی چاہئے‘ جس نے ان کے لیے یہ سفر میسر فرمایا اور انہیں اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہیں ٹھہرانا چاہئے۔
(4) جس نے انہیں بھوک میں کھانا دیا اور ڈر اور خوف میں امن وامان دیا‘ بایں طور کہ اہل عرب کے دلوں میں حرم اور اس کے باشندوں کی تعظیم ڈال دی[93]- [93] المختصر في تفسير القرآن الكريم (ص:602)-
تدبر اور تزکیہ:
تدبر
تزکیہ
ہم اس سورت سے کیا سیکھتے ہیں؟
کونسی آیت اس پر دلالت کرتی ہے؟
ہم اس سورت کی آیتوں سے اپنے اخلاق کو کیسے مزین کریں؟
اللہ پاک کے کمالِ فضل واحسان کا حصہ ہے کہ وہ اپنی جس نعمت کو چاہتا ہے باعث انس بنا دیتا ہے اور بندہ پھر اس کا عادی ہوجاتا ہے‘ سو پاک ہے وہ رب عظیم۔
(قریش کے مانوس کرنے کے لئے(یعنی) انہیں جاڑے اور گرمی کے سفر سے مانوس کرنے کے لئے۔)
ہمیں اللہ کی نعمتوں پر اس کا شکریہ ادا کرنا چاہئے‘ بطورخاص ان نعمتوں پر جو ہمیشہ جاری وساری رہتی ہیں‘ نیز ہمیشہ ہمیں اپنے آپ کو یہ یاد دلاتے رہنا چاہئے کہ یہ نعمتیں اللہ کی جانب سے ہیں‘ ہمارا اس میں کوئی عمل دخل نہیں‘ یہ اس لیے کہ بندہ جب نعمت کا عادی ہوجاتا ہے تو بعض دفعہ منعم ومحسن سے غافل ہوجاتا ہے۔
نعمتوں پر شکر ادا کرنے کا اصل طریقہ یہ ہے کہ اللہ کی توحید کو بروئے عمل لاکر اس کا شکریہ ادا کیا جائے‘ چنانچہ جو شخص توحید میں کمی کرتا ہے وہ نعمت کا شکر ادا کرنے میں کوتاہی کرتا ہے‘ گرچہ اس کی زبان پر شکر کے کلمات جاری وساری کیوں نہ ہوں۔
(انہیں چاہئے کہ اسی گھر کے رب کی عبادت کرتے رہیں)۔
ہمیں ظاہری وباطنی ہر دو طرح سے اللہ کے حرمت والے گھر کی تعظیم کرنی چاہیے‘ بایں طور کہ ہم اپنے دلوں میں اسے عظیم جانیں اور اس کی قدر ومنزلت کو پہچانیں‘ حرم میں گناہ کرنے سے باز رہیں‘ اس میں کوئی بدعت نہ کریں اور نہ کسی بدعتی کو وہاں پناہ دیں۔
سب سے بڑی نعمت رزق اور امن وامان ہے‘ اسی لیے اس مقام پر ان دونوں کے ذریعہ احسان جتلایا گیا ہے۔
(جس نے انہیں بھوک میں کھانا دیا اور ڈر (اور خوف) میں امن (وامان) دیا)۔
ہمیں ایمان رکھنا چاہئے کہ صرف ایک اللہ کے ہاتھ میں ہی بندوں کی روزیاں اور امن وامان ہیں‘ اس لیے ہمیں اللہ پاک سے ہی روزی اور امن کی دعا کرنی چاہئے اور انہیں حاصل کرنے کے اسباب اختیار کرنا چاہئے۔
اس سورت سے ہدایت کی اور بھی باتیں مستنبط کریں‘ ساتھ ہی جو آیت ان پر دلالت کرتی ہے اس کی وضاحت کریں‘ نیز اس میں جو اخلاقی پہلو پنہاں ہے اس پر بھی روشنی ڈالیں۔
اس سورت کو سیکھنے کے بعد ہم اس پر عمل کیسے کریں؟
اپنی ذات کے تئیں:
- اشیائے خورد ونوش اور امن وامان کی نعمت پر میں اللہ تعالی کا شکر ادا کروں گا اور اس کے لیے اللہ تعالی کی بندگی کو بروئے عمل لاؤں گا‘ کیوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے: "تم میں سے جو شخص اس حال میں صبح کرے کہ وہ اپنی جان کی طرف سے بے خوف ہو، جسمانی اعتبار سے صحت مند ہو، ایک دن کی خوراک کا سامان اس کے پاس ہو، تو گویا اس کے لیے ساری دنیا جمع کردی گئی"[94]۔ [94] اس حدیث کو ترمذی نے اپنی سنن (4/574) (2346) میں، اور ابن ماجہ نے اپنی سنن (5/253) (3975) میں روایت کیا ہے نیز دیگر ائمہ نے بھى اسے روایت کیا ہے، اور البانی نے اسے السلسلة الصحيحة (5/408) (2317) میں حسن قرار دیا ہے۔
...
اپنے معاشرہ کے تئیں:
- میں اپنے بھائیوں کو سکھاؤں گا کہ وہ امن وامان اور روزی کی قدر کریں‘ ان کی حفاظت کی ضرورت کو جانیں‘ ان میں کوئی کوتاہی نہ کریں‘ (اور جان رکھیں کہ) ان نعمتوں کی بقا اور ان میں اضافہ کے لیے اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا واجب ہے‘ کیوں کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: (اور جب تمہارے پروردگار نے تمہیں آگاه کر دیا کہ اگر تم شکر گزاری کرو گے تو بیشک میں تمہیں زیاده دوں گا اور اگر تم ناشکری کرو گے تو یقیناً میرا عذاب بہت سخت ہے) [سورہ إبراهيم]
...
سورۃ الماعون
تمہید
شوق آمیز مقدمہ:
اس کے مختلف طریقے ہیں‘ مثلا:
۱- طلبہ سے الماعون کا معنی پوچھنا۔
۲- سورت کے نزول کا قصہ-
سورۃ کا تعارف:
۲- سورۃ الماعون کہاں نازل ہوئی؟
جمہور کا قول ہے کہ سورۃ الماعون مکہ میں نازل ہوئی[95]- [95] النكت والعيون (6/350)، زاد المسير (4/495)، الجامع لاحكام القرآن (20/210)-
۳- سورۃ الماعون کا سبب نزول کیا ہے؟
اس کے سبب نزول سے متعلق مفسرین کے مختلف اقوال ہیں‘ ایک قول ہے کہ یہ سورت ابو سفیان کے بارے میں نازل ہوئی‘ وہ ہر ہفتے دو اونٹ ذبح کیا کرتے تھے‘ ان کے پاس ایک یتیم آیا اور ان سے گوشت مانگا تو انہوں نے اسے ڈنڈے مار کر بھگایا۔ دوسرا قول ہے کہ عاص بن وائل سہمی کے بارے میں یہ سورت نازل ہوئی‘ وہ قیامت کے دن کو جھٹلانے کے ساتھ ساتھ برے برے کام بھی کیا کرتا تھا‘ تیسرا قول ہے کہ ابو جہل کے بارے میں نازل ہوئی‘ وہ کسی یتیم کا ولی تھا‘ اس کے پاس وہ یتیم آیا جبکہ وہ عریاں تھا‘ اور اس سے اپنا کچھ مال طلب کیا‘ اس پر اس نے یتیم کو دھکے دیکر بھگادیا۔
ابن عباس سے مروی ہے کہ یہ سورت اس منافق کے بارے میں نازل ہوئی جو بخیل کے ساتھ ساتھ جھگڑا لو بھی ہو[96]- [96] دیکھیں: النكت والعيون (6/350)، زاد المسير (4/495)، مفاتيح الغيب (32/302)-
4- اس سورت کے کون کون سے نام ہیں؟
سورة (الماعون)، سورةأرأيت[97]، سورة (الدِّين)، سورة (اليتيم)، اور سورة (التكذيب) [98]- [97] دیکھیں: صحيح بخاری (6/177)، كتاب تفسير القرآن، باب "ومن يعمل مثقال ذرة شرا يره"، جامع البيان (24/629)، زاد المسير (4/495)- [98] دیکھیں: روح المعاني (15/474)، التحرير والتنوير (30/563)، اسماء سور القرآن وفضائلها (ص: 604-608)
۲-سورۃ الماعون کا موضوع کیا ہے؟
اس سورت میں بہت سی مذموم صفات کی نکیر کی گئی ہے: دین کو جھٹلانا‘ یتیم کو ڈانٹ ڈپٹ کرنا اور اس کے ساتھ سخت رویہ برتنا‘ اپنے آپ کو اور دوسروں کو خیر کا کام کرنے اور فقیروں کو کھانا کھلانے پر نہ ابھارنا‘ اس کے بعد اس شخص کے بارے میں وعید آئی ہے جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کردیتا اور نماز میں ریاکاری سے کام لیتا ہے۔
اٹھارہویں مجلس: قیامت کے دن کا انکار کرنے والوں کی صفات
تلاوت:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (کیا تو نے (اسے بھی) دیکھا جو (روز) جزا کو جھٹلاتا ہے؟ یہی وه ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے۔ اور مسکین کو کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا- سو بڑی خرابی ہے ایسے نمازیوں کے لیے- جو اپنی نماز سے غافل ہیں- جو ریاکاری کرتے ہیں۔ اور برتنے کی چیز روکتے ہیں)۔ سورۃ الماعون 1-7
تفسیر:
(1) کیا آپ اس شخص کو جان گئے جو روز جزا کو جھٹلاتا ہے؟
(2) یہ وہ شخص ہے جو یتیم کی حاجت پوری نہیں کرتا بلکہ اسے زور سے دھکے دیتا ہے۔
(3) وہ خود کو اور غیروں کو فقیر کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا۔
(4) ہلاکت اور عذاب ہے ایسے نمازیوں کے لیے۔
(5) جو اپنی نماز سے غافل رہتے اور اس کی ذرا بھی فکر نہیں کرتے یہاں تک کہ اس کا وقت جاتا رہتا ہے۔
(6) جو اپنی نماز میں اور اپنے اعمال میں ریاکاری کرتے ہیں‘ اور اللہ کے لیے عمل کو خالص نہیں کرتے ہیں۔
(7) اور ایسی چیز کے ذریعہ بھی دوسروں کی مدد نہیں کرتے جس کے ذریعہ مدد کرنے میں ان کا کوئی نقصان نہیں[99]- [99] المختصر في تفسير القرآن الكريم (ص:602)-
تدبر اور تزکیہ:
تدبر
تزکیہ
ہم اس سورت سے کیا سیکھتے ہیں؟
کونسی آیت اس پر دلالت کرتی ہے؟
ہم اس سورت کی آیتوں سے اپنے اخلاق کو کیسے مزین کریں؟
اللہ کی ملاقات پر ایمان رکھنا وہ عظیم ترین شے ہے جو بندے کو خیر کے کاموں میں مدد کرتی ہے‘ اور جو شخص دوبارہ زندہ کیے جانے کا انکار کرتا ہے اس کے سامنے خیر کے دروازے بند ہوجاتے ہیں۔
(کیا تو نے (اسے بھی) دیکھا جو (روز) جزا کو جھٹلاتا ہے؟)
ہمیں خود کو ہمیشہ اللہ پاک کی ملاقات کی یاد دلاتے رہنا چاہئے‘ اس سے ہمارے اندر نیک کاموں کی رغبت پیدا ہوتی ہے۔
یتیم اور مسکین کا حق بڑا عظیم ہے‘ حسی حق یہ ہے کہ: مال کے ذریعہ ان کی مدد کی جائے اور ان کا دفاع کیا جائے‘ معنوی حق یہ ہے کہ ان کے ساتھ احسان‘ شفقت اور نرمی کا معاملہ کیا جائے۔
(یہی وه ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کو کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا)
ہمیں یتیمیوں اور مسکینوں جیسے کمزور لوگوں کا حق ادا کرنا چاہیے‘ مسلم معاشرہ میں کمزور طبقہ کا بڑا حق ہوتا ہے‘ اللہ تعالی نے مختلف مقامات پر اس حق کو پرزور انداز میں بیان کیا ہے‘ چنانچہ سورۃ الضحى میں فرمایا:(پس یتیم پر تو سختی نہ کیا کر [9] اور نہ سوال کرنے والے کو ڈانٹ ڈپٹ [10]) چنانچہ ان آیتوں میں اللہ تعالى نے اس حق کو پر زور انداز میں بیان فرمایا۔
اللہ پاک نے ان لوگوں کو وعید سنائی ہے جو نماز کو مؤخر کرتے اور اس سے غافل رہتے ہیں‘ تو بھلا اس شخص کی وعید کیسی ہوگی جو کلی طور پر نماز کو ترک کردیتا ہے؟!
(ان نمازیوں کے لئے افسوس اور ویل ہے جو اپنی نماز سے غافل ہیں)
حکم الہی کی بجا آوری کرتے ہوئے ہمیں وقت کی پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنا چاہئے اور اس سے غفلت نہیں برتنا چاہئے‘ بلکہ اپنی ترجیحات میں اسے اولین درجہ دینا چاہئے۔
جماعت کے ساتھ وقت پر نماز ادا کرنے سے ریا ونمود کا خدشہ اذن الہی سے ختم ہوجاتا ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے: "جس نے اللہ کی رضا کے لیے چالیس دن تک تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ با جماعت نماز پڑھی تو اس کے لیے دو قسم کی براءت لکھ دى جاتى ہے: ایک آگ سے براءت، دوسری نفاق سے براءت" [100]- [100] اس حدیث کو ترمذی نے اپنی سنن (1/321) (241) میں، اور بیہقی نے شعب الإیمان (4/354) (2612) میں روایت کیا ہے نیز دیگر ائمہ نے بھى اس حدیث کو روایت کیا ہے، اور البانی نے السلسلة الصحيحة (4/628) (1979) میں اسے حسن قرار دیا ہے۔
(جو ریاکاری کرتے ہیں)۔
ہمیں اللہ تعالی کے لیے اخلاص کو بروئے عمل لانا چاہئے کیوں کہ ہمارا دین ظاہری مظاہر اور روایات پر مبنی نہیں ہے۔
اگر معاشرہ اس قدر پستی کا شکار ہوجائے کہ ایسی چیزیں بھی ہدیہ میں یا عاریۃً دینے سے انکار کرنے لگے جنہیں دینے سے ان کا کوئی نقصان نہیں‘ تو اس معاشرے کو سزا کی وعید سنائی گئی ہے۔
(اور برتنے کی چیز روکتے ہیں)
ہمیں لوگوں کی ضروریات پوری کرکے ان کے ساتھ احسان کا معاملہ کرنا چاہئے‘ بطور خاص ایسی چیزیں دینے سے انکار نہیں کرنا چاہئے جنہیں دینا عرف عام میں مشہور ہو اور ان سے انکار کرنا مروت کے خلاف ہو۔
اس سورت سے ہدایت کی اور بھی باتیں مستنبط کریں‘ ساتھ ہی جو آیت اس پر دلالت کرتی ہے ان کی وضاحت کریں‘ نیز اس میں جو اخلاقی پہلو پنہاں ہے اس پر بھی روشنی ڈالیں۔
اس سورت کو سیکھنے کے بعد ہم اس پر عمل کیسے کریں؟
اپنی ذات کے تئیں:
- میں اللہ تعالی کے لیے اخلاص کو بروئے کار لانے اور روز آخرت کے تعلق سے اپنے ایمان ویقین میں اضافہ کرنے کی کوشش کروں گا‘ اس سے مجھے خیر کا کام کرنے اور برائی سے رکنے کی تحریک ملے گی۔
...
اپنے معاشرہ کے تئیں:
- میں اپنے بھائیوں کے سامنے یتیم ومسکین کے حقوق کی اہمیت بیان کروں گا‘ کیوں کہ ان کی حاجت روائی میں افراد اور معاشرہ کی بہتری پنہاں ہے‘ یہ نصرت اور رزق کا ذریعہ ہے‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے: "یہ تم میں سے کمزور لوگ ہی تو ہیں، جن کی وجہ سے تمھاری مدد کی جاتی ہے اور تمھیں رزق دیا جاتا ہے"[101]- [101] اس حدیث کو بخاری نے اپنی صحیح (4/36) (2896) میں روایت کیا ہے۔
...
سورۃ الکوثر
تمہید
شوق آمیز مقدمہ:
اس کے مختلف طریقے ہیں‘ مثلا:
۱- طلبہ سے ان نعمتوں کے بارے میں سوال کرنا جو اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کیں-
۲- سورت کے نزول کا واقعہ۔
سورت کا تعارف:
۱- سورۃ الکوثر کہاں نازل ہوئی؟
اکثر علماء کے مطابق سورۃ الکوثر مکہ میں نازل ہوئی[102]- [102] زاد المسير (4/497)، الجامع لاحكام القرآن (20/216)-
۲- سورۃ الکوثر کا سبب نزول کیا ہے؟
ایک قول ہے کہ: عاص بن وائل کے بارے میں نازل ہوئی‘ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد سے نکلتے ہوئے دیکھا اور وہ داخل ہو رہا تھا‘ باب بنی سہم کے پاس دونوں آمنے سامنے ہوگئے اور آپس میں کچھ باتیں کی‘ مسجد میں قریش کے کچھ سربرآوردہ لوگ بیٹھے تھے‘ جب عاص داخل ہوا تو انہوں نے پوچھا: تم کس سے بات کر رہے تھے؟ اس نے کہا: اسی لا وارث سے‘ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کومراد لے رہا تھا۔ اس سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند عبد اللہ وفات پا گئے تھے جو خدیجہ سے تھے‘ جس کے پاس بیٹا نہ ہوتا وہ اسے ابتر (یعنی لا وارث ) کہا کرتے تھے‘ اس پر اللہ تعالی نے یہ سورہ نازل فرمائی [103]- [103] اسباب النزول للواحدي (ص: 466)، زاد المسير (4/497)، الجامع لاحكام القرآن (20/222)-
۳- اس سورت کے کون کون سے نام ہیں؟
سورة (الكوثر)، سورة (إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ) [104]، سورة (النحر) [105]- [104] دیکھیں: صحيح بخاری ((6/178)، كتاب تفسير القرآن، باب "ومن يعمل مثقال ذرة شرا يره"- [105] دیکھیں: السراج المنير للشربيني (4/595)، الحاشية الشهاب على تفسير البيضاوي (8/401)، اسماء سور القرآن وفضائلها (ص: 609-611)۔
4- سورۃ الکوثر کی کیا فضیلت ہے؟
انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: ایک روز رسول اللہﷺ ہمارے درمیان تھے جب اسی اثناء میں آپﷺ کچھ دیر کے لیے نیند جیسی کیفیت میں چلے گئے، پھر آپﷺ نے مسکراتے ہوئے اپنا سر اٹھایا تو ہم نے کہا: اللہ کے رسولﷺ! آپﷺ کس بات پر ہنسے؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’ابھی مجھ پر ایک سورت نازل کی گئی ہے۔‘‘ پھر آپﷺ نے پڑھا:﴿بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ ﴾ ’’بلاشبہ ہم نے آپﷺ کو کوثر عطا کی۔ پس آپﷺ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیں اور قربانی کریں، یقیناً آپﷺ کا دشمن ہی جڑ کٹا ہے۔‘‘ پھر آپﷺ نے کہا: ’’کیا تم جانتے ہو کوثر کیا ہے؟‘‘ ہم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’وہ ایک نہر ہے جس کا میرے رب عزوجل نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے، اس میں بہت بھلائی ہے اور وہ ایک حوض ہے جس پر قیامت کے دن میری امت پانی پینے کےلیے آئے گی، اس کے برتن ستاروں کی تعداد میں ہیں۔ ان میں سے ایک شخص کو کھینچ لیا جائے گا تو میں عرض کروں گا: اے میرے رب! یہ میری امت سے ہے، تو وہ فرمائے گا: آپﷺ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپﷺ کے بعد کیا نئی باتیں ایجاد کیں‘‘[106]۔ [106] اس حدیث کو امام مسلم نے اپنی صحیح (1/300) (400) میں روایت کیا ہے۔
۲-سورۃ الکوثر کا موضوع کیا ہے؟
اس سورت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیص کرنے والے کا رد کیا گیا ہے اور آپ کو یہ تسلی دی گئی ہے کہ اللہ پاک نے آپ پر بڑے بیش بہا انعامات کیے‘ اور آپ کو خاص نوازشوں سے بہرہ ور فرمایا‘ جن میں سر فہرست حوض کوثر ہے‘ اس سورت میں آپ کو یہ ترغیب دی گئی ہے کہ ان نعمتوں کے شکرانے کے طور پر کثرت سے خرچ کریں اور ہمیشہ اللہ پاک سے قریب رہیں۔
انیسویں مجلس: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیا جانا اور آپ کا دفاع کرنا
تلاوت:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (یقیناً ہم نے تجھے (حوض) کوﺛر دیا ہے۔ اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔ یقیناً تیرا دشمن ہی ﻻوارث اور بے نام ونشان ہے)۔ سورۃ الكوثر 1-3
تفسیر:
(1) اے رسول! ہم نے آپ کو بہت سی بھلائیوں سے نوازا‘ ان میں کوثر نامی نہر بھی ہے جو جنت میں ہے۔
(2) اس لیے آپ اس نعمت پر اللہ کا شکر ادا کیجئے‘ صرف اسی کی عبادت کیجئے اور اسی کے لیے قربانی کیجئے‘ برخلاف مشرکوں کے جو کہ بتوں کے نام پر قربانی کرکے ان کی قربت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
(3) آپ سے نفرت کرنے والا ہی در اصل ہر قسم کی بھلائی سے محروم ہے‘ اسے بے نام ونشاں کردیا جائے گا اور یاد بھی کیا جائے گا تو برائی کے ساتھ[107]- [107] المختصر في تفسير القرآن الكريم (ص: 602)-
تدبر اور تزکیہ:
تدبر
تزکیہ
ہم اس سورت سے کیا سیکھتے ہیں؟
کونسی آیت اس پر دلالت کرتی ہے؟
ہم اس سورت کی آیتوں سے اپنے اخلاق کو کیسے مزین کریں؟
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی کی مکمل عنایت اور توجہ حاصل تھی اور اللہ نے آپ کے دفاع کی ذمہ داری لی ہے۔
- اللہ تعالی نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام نبیوں پر فضیلت وبرتری عطا فرمائی اور ایسی خصوصیات سے نوازا جو دیگر نبیوں کو نہیں نوازا‘ ان میں کوثر کی نہر بھی سر فہرست ہے جو جنت میں بہتی ہے۔
(یقیناً ہم نے تجھے (حوض) کوﺛر دیا ہے)۔
- ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قدر ومنزلت کو جاننا چاہئے اور ہر ممکن طریقہ سے آپ کا دفاع کرنا چاہئے‘ آپ کی روشن سیرت کو نمایاں کرنا چاہئے اور آپ کی رحم دل اور عظیم شخصیت کو متعارف کرانا چاہئے۔
- ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی کرنی چاہئے تاکہ ہم اس حوض پر کامیابی کے ساتھ حاضر ہوسکیں جس میں پانى نہر کوثر سے آئے گا۔
نماز اور قربانی کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے‘ یہ وہ نمایاں ترین عبادتیں ہیں جن کے ذریعہ نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کیا جاتا ہے۔
(اپنے رب کے لیے نماز پڑھا کرو اور قربانی کیا کرو)۔
- ہمیں اپنی نماز میں اللہ تعالی کے لیے مخلص ہونا چاہئے اور اسی کے لیے قربانی کرنی چاہئے اور ذبح کرتے ہوئے اس کا نام لینا چاہئے۔
- جب بھی اللہ تعالی کی کوئی نعمت ہمیں حاصل ہو‘ اس پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے ہمیں کوئی نہ کوئی عبادت ضرور کرنی چاہئے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بغض ونفرت رکھنے والا بالآخر فنا ہوجاتاہے اور خسارہ وہلاکت کا شکار ہوتا ہے۔
(یقیناً تیرا دشمن ہی ﻻوارث اور بے نام ونشان ہے)۔
ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرکے آپ کی محبت کو بروئے عمل لانا چاہئے‘ کیوں کہ آپ سے نفرت رکھنے والا ہر قسم کی خیر وبھلائی سے محروم رہتا ہے۔
اس سورت سے ہدایت کی اور بھی باتیں مستنبط کریں‘ ساتھ ہی جو آیت ان پر دلالت کرتی ہے اس کی وضاحت کریں‘ نیز اس میں جو اخلاقی پہلو پنہاں ہے اس پر بھی روشنی ڈالیں۔
اس سورت کو سیکھنے کے بعد ہم اس پر عمل کیسے کریں؟
اپنی ذات کے تئیں:
- میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے کی پوری کوشش کروں گا تاکہ آپ کے اس حوض پر حاضر ہونے کا شرف حاصل کرسکوں جس میں پانى نہر کوثر سے آئے گا‘ کیوں کہ جو شخص (آپ کے دین میں) کوئی تبدیلی کرتا ہے‘ اسے حوض سے واپس کردیا جائے گا جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے: ”میں حوض پر تمہارا انتظار کروں گا جو کوئی وہاں آئے گا، وہ اس سے پانی پیے گا اور جس نے اس (حوض) سے پانی پی لیا اس کے بعد وہ کبھی پیاسا نہیں ہوگا۔ میرے پاس وہاں ایسے لوگ بھی آئیں گے جنہیں میں پہچانتا ہوں گا اور وہ مجھے پہچانتے ہوں گے پھر میرے اور ان کے درمیان پردہ حائل کر دیا جائے گا، میں کہوں گا: یہ لوگ مجھ سے ہیں، آپ سے کہا جائے گا: تم نہیں جانتے کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا تبدیلیاں کر دی تھیں، اس وقت میں کہوں گا: دوری ہو، دوری ہو ان کے لیے جنہوں نے میرے بعد (دین میں) تبدیلیاں کر دیں"[108]۔ [108] اس حدیث کو بخاری نے اپنی صحیح (9/46) (7050) میں روایت کیا ہے اور مذکورہ الفاظ بخاری کے روایت کردہ ہیں ، اور مسلم نے اسے اپنی صحیح (4/1793-1794) (2290-2291) میں روایت کیا ہے۔
...
اپنے معاشرہ کے تئیں:
- میں مسجد میں نمازیوں کے سامنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قدر ومنزلت بیان کروں گا اور اللہ نے آپ کو جو فضیلت وبرتری عطا فرمائی ہے‘ اس پر روشنی ڈالوں گا اور بتاؤں گا کہ جو شخص آپ کی شان میں گستاخی کرتا ہے اس کا انجام یہ ہے کہ وہ (پانی میں نمک کی طرح) گھل کر فنا ہوجاتا ہے‘ نیز یہ کہ لوگ جب کسی سے محبت کرتے ہیں تو اس کی پیروی کرتے ہیں‘ بلکہ محبت کی شرط ہی یہی ہے کہ اتباع کی جائے‘ فرمان باری تعالی ہے: (آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرنے لگے گا اور تمھارے گناہ بخش دے گا، اللہ بڑا بخشنے والا بڑا مہربان ہے)۔ [آل عمران: 31]
...
سورۃ الکافرون
تمہید
شوق آمیز مقدمہ: اس کے بہت سے طریقے ہیں‘ مثلا:
۱- طلبہ سے اس سورت کے ناموں کے بارے میں سوال کرنا۔
۲- سورت کے نزول کا قصہ
سورت کا تعارف:
۱- سورۃ الکافرون کہاں نازل ہوئی؟
جمہور کا قول ہے کہ سورۃ الکافرون مکہ میں نازل ہوئی[109]- [109] النكت والعيون (6/357)، زاد المسير (4/499)، الجامع لاحكام القرآن (20/224)-
۲- سورۃ الکافرون کا سبب نزول کیا ہے؟
یہ سورت قریش کی ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ پیش کش رکھی کہ ایک سال وہ آپ کے رب کی عبادت کریں گے اور ایک سال آپ ان کے معبودوں کی عبادت کریں‘ اس پر اللہ تعالی نے یہ سورت نازل فرمائی[110]- [110] الكشف والبيان (10/315)، اسباب النزول للواحدي (ص: 467)، المحرر الوجيز (5/531)-
۳- اس سورت کے کون کون سے نام ہیں؟
سورة (الكافرون)، سورة (قل يا أيها الكافرون)[111]، سورة (المُقَشْقِشَة) [112]، سورة (الإخلاص) [113]، سورة (العبادة) [114]، سورة (المُنابِذَة) [115]، سورة (الدِّين) [116]- [111] دیکھیں: صحيح بخاری ((6/178)، كتاب تفسير القرآن، باب "ومن يعمل مثقال ذرة شرا يره"- [112] الكشاف (4/808)، مفاتيح الغيب (32/323)، الدر المنثور (8/655)۔ [113] تفسر السمعاني (6/303)، مفاتيح الغيب (32/323)، التحرير والتنوير (30/579)۔ [114] التحرير والتنوير (30/579)، اسماء سور القرآن وفضائلها (ص: 616)- [115] مفاتيح الغيب (32/323)، غرائب القرآن ورغائب الفرقان (6/581)، اسماء سور القرآن وفضائلها (ص: 617)- [116] بصائر ذوي التمييز (1/548)، التحرير والتنوير (30/579)، اسماء سور القرآن وفضائلها (ص: 617)۔
4- سورۃ الکافرون کی کیا فضیلت ہے؟
ترمذی نے فروۃ بن نوفل رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! مجھے کوئی ایسی چیز بتایئے جسے میں جب اپنے بستر پر جانے لگوں تو پڑھ لیا کروں، آپﷺ نے فرمایا: ’’﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ پڑھ لیا کرو، کیوں کہ اس سورت میں شرک سے براءت کا اظہار ہے‘‘۔[117] [117] اس حدیث کو ترمذی نے اپنے سنن (5/345) (3403) میں، اور نسائی نے السنن الكبرى(9/295) (10569) میں روایت کیا ہے نیز دیگر ائمہ نے بھى اسے روایت کیا ہے، اور البانی نے اسے صحيح الجامع (1/115) (288) میں حسن قرار دیا ہے۔
۵-سورۃ الکافرون کا موضوع کیا ہے؟
یہ سورت توحید الوہیت کو ثابت کرنے اور شرک اور مشرکوں سے براءت ظاہر کرنے پر زور ڈالتی ہے‘ شرک اور ایمان کے درمیان مکمل تفریق قائم رکھنا واجب ہے‘ بھلا یہ کیوں کر ممکن ہے کہ مومن کسی بھی قول یا عمل میں مشرک سے اتفاق رکھے؟!
بیسویں مجلس: ولاء وبراء (دوستى وبیزارى) اور دین پر فخر
تلاوت:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (آپ کہہ دیجئے کہ اے کافرو! نہ میں عبادت کرتا ہوں اس کی جس کی تم عبادت کرتے ہو۔ اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کر رہا ہوں۔ اور نہ میں عبادت کروں گا جس کی تم عبادت کرتے ہو۔ اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کر رہا ہوں۔ تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین ہے)۔ سورۃ الكافرون: ١ - ٦
تفسیر:
(1) اے رسول آپ کہہ دیجئے: اے اللہ کے ساتھ کفر کرنے والو!
(2) نہ میں حال میں تمہارے بتوں کی عبادت کرتا ہوں اور نہ مستقبل میں ان کی عبادت کرنے والا ہوں۔
(3) اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کر رہا ہوں‘ یعنی ایک اللہ کی عبادت۔
(4) اور نہ میں ان بتوں کی عبادت کروں گا جن کی تم عبادت کرتے ہو۔
(5) اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کر رہا ہوں‘ یعنی ایک اللہ کی عبادت۔
(6) تمہارے لیے تمہارا دین ہے جسے تم نے اپنے لیے ایجاد کر رکھا ہے‘ اور میرے لیے میرا دین ہے جسے اللہ نے میرے اوپر نازل فرمایا[118]- [118] المختصر في تفسير القرآن الكريم (ص: 603)-
تدبر اور تزکیہ:
تدبر
تزکیہ
ہم اس سورت سے کیا سیکھتے ہیں؟
کونسی آیت اس پر دلالت کرتی ہے؟
ہم اس سورت کی آیتوں سے اپنے اخلاق کو کیسے مزین کریں؟
اللہ پاک نے اپنے نبی کو یہ سکھایا کہ مشرکوں کو کیسے جواب دیں‘ معلوم ہوا کہ اللہ کی کتاب میں مخالفوں کی تردید بھی موجود ہے۔
(آپ کہہ دیجئے کہ اے کافرو!)
ہمیں قرآنی دلائل کی روشنی میں حق کو ثابت کرنے اور دشمنوں پر رد کرنے کی کوشش کرنی چاہئے‘ یہ سب سے واضح اور سب سے سچے دلائل ہیں۔
شرک اور مشرکوں سے براءت کا اعلان اور اظہار کرنا شرعی طور پر مطلوب ومقصود ہے۔
(نہ میں عبادت کرتا ہوں اس کی جس کی تم عبادت کرتے ہو)۔
ہمیں شرک اور مشرکوں سے مکمل براءت کا اظہار کرنا چاہئے۔
مسلمانوں کے ساتھ کافروں کے عہد وپیمان اور بھاؤ تاؤ سے ہوشیار رہنا چاہئے‘ کیوں کہ وہ اپنے باطل دین کی ہدایات کے مطابق تصرف کرتے ہیں۔
(اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کر رہا ہوں۔ اور نہ میں ان بتوں کی عبادت کروں گا جن کی تم عبادت کرتے ہو)۔
ہمیں كوئى سوده اپنے دین وعقیدہ كى قيمت پر قبول نہیں کرنا چاہئے بلکہ اپنے دین حق کو مضبوطی سے تھامے رہنا چاہئے۔
دین اسلام اور مشرکانہ ادیان کے درمیان تفریق کا اعلان کرنا‘ اسلام کو ہر قسم کی تحریف وتبدیلی سے محفوظ رکھنے کا راستہ ہے۔
(تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین ہے)۔
ہمیں وحدت ادیان اور تقارب ادیان کے دعوی کو ٹھکرا دینا چاہئے‘ کیوں کہ شریعت کے میزان میں یہ دعوی باطل اور بے بنیاد ہے‘ اور عقل اور حقیقت بھی اسے قبول نہیں کرتى۔
اس سورت سے ہدایت کی اور بھی باتیں مستنبط کریں‘ ساتھ ہی جو آیت ان پر دلالت کرتی ہے اس کی وضاحت کریں‘ نیز اس میں جو اخلاقی پہلو پنہاں ہے اس پر بھی روشنی ڈالیں۔
اس سورت کو سیکھنے کے بعد ہم اس پر عمل کیسے کریں؟
اپنی ذات کے تئیں:
- میں کافروں سے (لوگوں کو) ہوشیار کروں گا اور ان سے براءت کا اظہار کرنے کی دعوت دوں گا یہاں تک کہ یہ کفار دین اسلام میں داخل ہوجائیں‘ کیوں کہ اسلام ہی اللہ کا وہ دین ہے جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لیے پسند فرمایا ہے‘ فرمان باری تعالی ہے: (اور جو کوئی اسلام کے سوا کسی اور دین کو تلاش کرے گا سو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا، اور وہ شخص آخرت میں تباہ کاروں میں سے ہوگا)۔ [سورہ آل عمران]
...
اپنے معاشرہ کے تئیں:
- ميں اپنے بھائیوں کے سامنے یہ ذکر کروں گا کہ ہمارے معاشرے کے لیے کافروں کی سازش بڑا خطرہ ہے‘ وہ مختلف وسائل کے ذریعہ ہمیں اپنے دین سے برگشتہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں‘ ہم ایک دوسرے کو دین پر ثابت قدم رہنے کی وصیت کریں گے اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازش کرنے والے عام مسلمانوں کے لیے کس قدر خطرہ ہیں‘ اس سے انہیں متنبہ کریں گے‘ یہ کفار چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کی نظر میں دین کو مشکوک کردیں اور ان کے درمیان گمراہیاں اور الحاد پھیلائیں۔
...
سورۃ النصر
تمہید
شوق آمیز مقدمہ:
اس کے مختلف طریقے ہیں‘ مثلا:
۱- طلبہ سے اس سورت کے ناموں کے بارے میں سوال کرنا۔
۲- سورت کے نزول کا وقت۔
سورت کا تعارف:
۱- سورۃ النصر کہاں نازل ہوئی؟
اس پر اجماع ہے کہ سورۃ النصر مدینہ میں نازل ہوئی[119]۔ [119] المحرر الوجيز (5/532)، زاد المسير (4/501)، الجامع لاحكام القرآن (20/229)۔
۲- اس سورہ کے کون کون سے نام ہیں؟
- سورۃ النصر
- سورةإذا جاء نصر الله ﱠ [120] [120] دیکھیں: صحيح بخاری ((6/178)، كتاب تفسير القرآن، باب "ومن يعمل مثقال ذرة شرا يره"-
- سورة (التوديع)[121] [121] النكت والعيون (6/362)، مفاتيح الغيب (32/939)، الجامع لاحكام القرآن (20/229)-
- سورة (الفتح) [122] [122] سنن ترمذی (5/450) (3362)، باب ومن سورة الفتح، التحرير والتنوير (30/587)، اسماء سور القرآن وفضائلها (ص: 622)-
۳-سورۃ النصر کا موضوع کیا ہے؟
اس سورت میں اللہ تعالی نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے نصرت وغلبہ کا وعدہ فرمایا ہے اور یہ بیان کیا ہے کہ نصرت وغلبہ کے وقت بندے کا رد عمل کیسا ہونا چاہئے۔
اکیسویں مجلس: نصرت وغلبہ کے وقت ہماری ذمہ داری
تلاوت:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: جب اللہ کی مدد اور فتح آپہنچے۔ اور آپ لوگوں کو اللہ کے دین میں جوق در جوق داخل ہوتے دیکھ لیں۔ تو اپنے رب کی تسبیح کرنے لگ جائیں حمد کے ساتھ اور اس سے مغفرت کی دعا مانگیں، بے شک وه بڑا ہی توبہ قبول کرنے واﻻ ہے۔ [سورۃ النصر:1-3]
تفسیر:
(1) اے رسول! جب اللہ تعالی آپ کے دین کو نصرت وفتح کرکے اسے سرخرو کردے اور مکہ فتح ہوجائے۔
(2) اور آپ دیکھ لیں کہ لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہو رہے ہیں۔
(3) تو آپ جان لیں کہ یہ اس مشن کے اختتام کی علامت ہے جس کے لیے آپ کو مبعوث کیا گیا‘ اس لیے آپ اپنے رب کی تسبیح بیان کریں حمد کے ساتھ‘ نصرت وفتح کی نعمت پر شکرانے کے طور پر‘ اور اللہ سے مغفرت کی دعا کریں‘ یقینا وہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا ہے‘ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا اور انہیں اپنی مغفرت سے نوازتا ہے[123]- [123] المختصر في تفسير القرآن الكريم (ص: 603)-
تدبر اور تزکیہ:
تدبر
تزکیہ
ہم اس سورت سے کیا سیکھتے ہیں؟
کونسی آیت اس پر دلالت کرتی ہے؟
ہم اس سورت کی آیتوں سے اپنے اخلاق کو کیسے مزین کریں؟
نصرت ومدد صرف اللہ کی جانب سے آتی ہے اور اسی وقت آتی ہے جب اللہ چاہتا اور مقدر فرماتا ہے‘ کیوں کہ نصرت صرف اللہ پاک کے ہاتھ میں ہے۔
(جب اللہ کی مدد اور فتح آپہنچے)۔
ہمیں نصرت سے ہمکنار ہونے کے لیے اس کے اسباب اختیار کرنے چاہئے‘ کیوں کہ اللہ پاک نے نصرت کو اس کے اسباب سے مربوط کر رکھا ہے۔
نصرت وغلبہ صرف اللہ کے دین کے لیے ہے‘ دین الہی میں لوگوں کا داخل ہونا جاری وساری رہے گا خواہ کافروں کو ناگوار ہی کیوں نہ ہو۔
(اور آپ لوگوں کو اللہ کے دین میں جوق در جوق داخل ہوتے دیکھ لیں)۔
- ہمیں قولی اور فعلی ہر دو طرح سے اپنی زندگی میں اسلام کو بروئے عمل لانے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ لوگوں کے سامنے اسلام کی روشن صورت ظاہر ہوسکے۔
- ہمیں لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے کی کوشش کرنی چاہئے۔
تاکہ وہ اس عظیم دین میں داخل ہو سکیں۔
بندہ جب بھی کوئی اطاعت کا کام کرے اور اس کی خاطر (اللہ کی) قربت اختیار کرے تو اس کے لیے مشروع ہے کہ وہ از سر نو توبہ واستغفار کرے‘ تاکہ اس (کے عمل میں) جو کوئی کمی رہ گئی ہو وہ دور ہوجائے۔
(تو اپنے رب کی تسبیح کرنے لگ حمد کے ساتھ اور اس سے مغفرت کی دعا مانگ‘ بے شک وہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا ہے)۔
- ہمیں اللہ کی نعمتوں پر شکر ادا کرتے ہوئے اس کی تسبیح وتحمید کرنی چاہئے اور تمام امور میں استغفار کو لازم پکڑنا چاہئے۔
- ہر اطاعت کا اختتام اللہ تعالی کی حمد وثنا سے اور اس میں در آئی کوتاہی اور نا پختگی پر مغفرت طلبی سے کرنی چاہئے۔
اس سورت سے ہدایت کی اور بھی باتیں مستنبط کریں‘ ساتھ ہی جو آیت ان پر دلالت کرتی ہے اس کی وضاحت کریں‘ نیز اس میں جو اخلاقی پہلو پنہاں ہے اس پر بھی روشنی ڈالیں۔
اس سورت کو سیکھنے کے بعد ہم اس پر عمل کیسے کریں؟
اپنی ذات کے تئیں:
- دین الہی کی نصرت کے لیے میں ہر قیمتی چیز کی قربانی پیش کروں گا‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو اذیتیں دی گئیں‘ انہوں نے اپنی جانوں کی قربانی پیش کی تاکہ ہم تک یہ دین پہنچ سکے‘ اگر ہم دین کی مدد کریں گے تو اللہ تعالی ہماری مدد فرمائے گا جیسا کہ اللہ تعالی نے اپنے اس فرمان میں اس کا وعدہ کیا ہے: (اے ایمان والو! اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وه تمھاری مدد کرے گا اور تمھیں ﺛابت قدم رکھے گا) [سورہ محمد]
...
اپنے معاشرہ کے تئیں:
- میں اپنے بھائیوں‘ اہل خانہ اور قرابت داروں سے یہ عہد وپیمان لوں گا کہ ہم اپنے اندر تبدیلی لائیں‘ اللہ کی کتاب اور نبی کی سنت کو حرز جاں بنائیں‘ اور جو گنہگار ہو وہ اللہ سے توبہ واستغفار کرے‘ جو کوتاہی کا شکار ہو وہ اپنی ذات کا محاسبہ کرے‘ اس کے ذریعہ ہم اپنے دشمنوں کے خلاف اللہ کی مدد طلب کر سکتے ہیں‘ جیسا کہ فرمان باری تعالی: (حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی)۔ [سورۃ الرعد]
...
سورۃ المسد
تمہید
شوق آمیز مقدمہ:
اس کے مختلف طریقے ہیں‘ مثلا:
۱-طلبہ سے ان واقعات کے بارے میں سوال کرنا جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچی-
۲- سورت کے نزول کا واقعہ۔
سورت کا تعارف:
۱- سورۃ المسد کہاں نازل ہوئی؟
متفقہ طور پر سورۃ المسد مکہ میں نازل ہوئی [124]- [124] المحرر الوجيز (5/534)، زاد المسير (4/502)، الجامع لاحكام القرآن (20/234)-
۲- سورۃ المسد کا سبب نزول کیا ہے؟
جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے علانیہ طور پر دعوت دی تو ابو لہب نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت دینی شروع کردی‘ اسی پر یہ سورہ نازل ہوئی[125]- [125] دیکھیں: الكشف والبيان (10/323)، اسباب النزول للواحدی (ص: 469-470)، الجامع لاحكام القرآن (20/234-235)-
۳- اس سورت کے کون کون سے نام ہیں؟
سورة (المسد)، سورة (تبت) [126]، سورة (أبي لهب) [127]، سورة (اللهب) [128]، سورة (تبت يدا أبي لهب) [129]- [126] جامع البيان (24/673)، الكشف والبيان (10/323)، الجامع لاحكام القرآن (20/234)- [127] مفاتيح الغيب (32/348)، بصائر ذوي التمييز (1/552)، محاسن التأويل (9/563)- [128] البحر المحيط (21/515)، تفسير الإيجي (4/541)، التحرير والتنوير (30/599)- [129] صحيح بخاری (6/179)، كتاب تفسير القرآن، باب قوله: {فسبح بحمد -ربك واستغفره إنه كان توابا}-
۴-سورۃ المسد کا موضوع کیا ہے؟
اس میں اللہ کے دشمن ابو لہب اور اس دین کے تمام دشمنوں اور مخالفوں کو سخت وعید سنائی گئی ہے‘اور اس بات سے ڈرایا گیا ہے کہ اللہ تعالی دردناک عذاب میں مبتلا کرکے ان سے انتقام لے گا‘ اس عذاب کو نہ ان کا ذخیرہ کردہ مال ٹال سکتا ہے اور نہ ان کی جاہ وحشمت دور کرسکتی ہے‘ سرکش کافروں کو اللہ تعالی اس لیے مہلت دیتا ہے کہ ان کی سرکشی میں مزیدہ اضافہ ہو تاکہ آخرت میں انہیں زیادہ سے زیادہ سزا سے دوچار کیا جائے۔
بائیسویں مجلس: دین الہی سے روکنے والوں کی سزا
تلاوت:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وه (خود) ہلاک ہو گیا۔ نہ تو اس کا مال اس کے کام آیا اور نہ اس کی کمائی۔ وه عنقریب بھڑکنے والی آگ میں جائے گا۔ اور اس کی بیوی بھی (جائے گی،) جو لکڑیاں ڈھونے والی ہے۔ اس کی گردن میں پوست کھجور کی بٹی ہوئی رسی ہوگی)۔ (المسد:1-5)
تفسیر:
(1) ابو لہب بن عبد المطلب کے دونوں ہاتھ اس کی بدعملی کی وجہ سے ہلاک ہوگئے ‘ کیوں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچاتا تھا‘ وہ اپنی کوشش میں ناکام ونامراد ہوا۔
(2) اس کے مال اور اولاد نے اسے کس چیز سے بے نیاز کیا؟ نہ تو عذاب کو اس سے ٹال سکے اور نہ اس کے لیے رحمت ومہربانی کا باعث بن سکے۔
(3) ابو لہب قیامت کے دن جہنم میں داخل ہوگا اور اس کی سوزش وحرارت کو جھیلے گا۔
(4) اس کی بیوی ام جمیل بھی جہنم میں جائے گی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں کانٹے ڈال کر آپ کو اذیت دیتی تھی۔
(5) اس کی گردن میں مضبوطی سے بٹی گئی رسی ہوگی جس کے ذریعہ گھسیٹ کر اسے جہنم میں ڈالا جائے گا[130]- [130] المختصر في تفسير القرآن الكريم (ص: 603)-
تدبر اور تزکیہ:
تدبر
تزکیہ
ہم اس سورت سے کیا سیکھتے ہیں؟
کونسی آیت اس پر دلالت کرتی ہے؟
ہم اس سورت کی آیتوں سے اپنے اخلاق کو کیسے مزین کریں؟
رسول اور رسول کی دعوت سے دشمنی کرنے والے کو ہلاکت کی وعید سنائی گئی ہے۔
(ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وه (خود) ہلاک ہو گیا)۔
ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنے سے بچنا چاہئے اور (دوسروں کو بھی) مغرب پرستی کی دعوت دینے والوں سے خبردار کرنا چاہئے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو ترک کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔
اللہ کے نزدیک مال ودولت اور حسب ونسب کی کوئی قدر وقیمت نہیں‘ بلکہ ایمان اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی ہی معتبر معیار ہے۔
(نہ تو اس کا مال اس کے کام آیا اور نہ اس کی کمائی)۔
ہمیں ایمان اور تقوی کی فکر کرنی چاہئے کیوں کہ یہی دونوں فوز وفلاح کے معیار ہیں۔
بری صبحت کا نتیجہ بہت سنگین ہوتا ہے...ابو لہب اور اس کی بیوی نے گناہ اور سرکشی میں ایک دوسرے کی مدد کی جس کے نتیجے میں اللہ تعالی ان دونوں کو منہ کے بل جہنم میں ڈالے گا۔
(وه عنقریب بھڑکنے والی آگ میں جائے گا اور اس کی بیوی بھی (جائے گی،) جو لکڑیاں ڈھونے والی ہے اس کی گردن میں پوست کھجور کی بٹی ہوئی رسی ہوگی)۔
- ہمارا ایمان ہے کہ ابو لہب اور اس کی بیوی دین الہی سے اعراض کرنے‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کرنے اور آپ کو اذیت دینے کی وجہ سے جہنم میں جائیں گے‘ اور جو شخص بھی ان کی طرح کام کرے گا اسے بھی یہی بدلہ ملے گا۔
- ہمیں نیک صحبت میں رہنے کی پوری کوشش کرنی چاہئے جو اللہ تعالی کی یاد دلائے اور اس کی اطاعت میں مدد کرے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دینے سے اللہ کی سزا لازم آتی ہے‘ آپ کو ایذا پہنچانے کی ایک عظیم ترین شکل یہ ہے کہ: آپ کی سنت سے روکا جائے‘ جس نے آپ کی سنت سے روکا اس نے اپنے آپ کو اللہ کی سزا سے دوچار کیا۔
(وه عنقریب بھڑکنے والی آگ میں جائے گا اور اس کی بیوی بھی (جائے گی،) جو لکڑیاں ڈھونے والی ہے اس کی گردن میں پوست کھجور کی بٹی ہوئی رسی ہوگی)۔
ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی کرنے اور لوگوں کے دلوں میں اس کی محبت ڈالنے کی کوشش کرنی چاہئے اور لوگوں کو سنت سے روکنے کی جو سنگینی ہے‘ اس سے خبردار کرنا چاہئے۔
اس سورت سے ہدایت کی اور بھی باتیں مستنبط کریں‘ ساتھ ہی جو آیت ان پر دلالت کرتی ہے اس کی وضاحت کریں‘ نیز اس میں جو اخلاقی پہلو پنہاں ہے اس پر بھی روشنی ڈالیں۔
اس سورت کو سیکھنے کے بعد ہم اس پر عمل کیسے کریں؟
اپنی ذات کے تئیں:
- میں اللہ سے اپنا رشتہ اور اس پر اپنا توکل مضبوط کروں گا اور یہ یقین رکھوں گا کہ امت اسلامیہ سے دشمنی رکھنے والا ہلاک وبرباد ہوگا‘ میں رحمت الہی سے مایوس نہیں ہوں گا‘ کیوں کہ اللہ کا دین ضرور پھیلے گا اور فتح یاب ہوگا‘ نبی علیہ الصلاۃ والسلام کی حدیث ہے: "یہ ضرور بالضرور دین ہر اس جگہ تک پہنچ کر رہے گا جہاں دن اور رات کا چکر چلتا ہے اور اللہ کوئی کچا پکا گھر ایسا نہیں چھوڑے گا جہاں اس دین کو داخل نہ کر دے، خواہ اسے عزت کے ساتھ قبول کر لیا جائے یا اسے رد کر کے (دنیا و آخرت کی) ذلت قبول کرلی جائے، عزت وہ ہوگی جس سے اللہ اسلام اور اہل اسلام کو سر بلند کرے گا اور ذلت وہ ہوگی جس سے اللہ کفر کو ذلیل کر دے گا"۔ [131] اسے احمد نے اپنے مسند (28/154) (16957) میں اور بیہقی نے السنن الکبرى (9/305) (18619) میں روایت کیا ہے نیز اس حدیث کو دیگر ائمہ نے بھى روایت کیا ہے اور البانی نے السلسلة الصحيحة (1/32) (3) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔
...
اپنے معاشرہ کے تئیں:
- میں اپنے بھائیوں کو بتاؤں گا کہ ابو لہب اور اس کی بیوی کو یہ سزا کیوں ملی‘ اس واقعہ میں لوگوں کے لیے بڑی عبرت اور تنبیہ موجود ہے‘ اللہ کی سنت باقی رہنے والی ہے‘ گرچہ جھٹلانے والے اس کے دین کی تکذیب کیوں نہ کرتے رہیں‘ فرمان باری تعالی ہے: (یقیناً تیرا دشمن ہی ﻻوارث اور بے نام ونشان ہے)۔ [سورۃ الکوثر]- یہ اس شخص کی سزا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بغض ونفرت رکھتا ہے‘ تو بھلا اس شخص کی کیا سزا ہوگی جس نے آپ علیہ الصلاۃ والسلام کے جسد اطہر کو اذیت دی ہو۔
...
سورۃ الاخلاص
تمہید
شوق آمیز مقدمہ: اس کے بہت سے طریقے ہیں‘ مثلا:
۱- طلبہ سے اس سورت کے فضائل کے بارے میں سوال کرنا۔
۲-سورت کے نزول کا واقعہ۔
سورت کا تعارف:
۱- سورۃ الاخلاص کہاں نازل ہوئی؟
مفسرین کے ایک قول کے مطابق سورۃ الاخلاص مکہ میں نازل ہوئی[132]- [132] النكت والعيون (6/369)، المحرر الوجيز (5/536)، زاد المسير (4/505)-
۲- سورۃ الاخلاص کا سبب نزول کیا ہے؟
احمد اور ترمذی نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ: "مشرکین نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: آپﷺ اپنے رب کا نسب ہمیں بتائیے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ * اللَّهُ الصَّمَدُ * لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ * وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ) نازل فرمائی۔([الإخلاص : 1-4] [133]۔ [133] اس حدیث کو ترمذی نے اپنے سنن (5/308) (3364) میں، اور احمد نے اپنے مسند (35/143) (21219) میں روایت کیا ہے نیز دیگر ائمہ نے بھى اسے روایت کیا ہے، اور البانی نے صحیح وضعیف سنن ترمذی (7/364) (3364) میں اسے حسن قرار دیا ہے۔
۳- اس سورت کے کون کون سے نام ہیں؟
سورة (الإخلاص)، سورة (قل هو الله أحد) [134]، سورة (الأساس)[135]، سورة (التوحيد) [136]، سورة (الصمد)[137]، رازی نے اس سورت کے ناموں پر مشتمل مستقل ایک فصل قائم کیا ہے اور اس میں بیس نام ذکر کیے ہیں [138]۔ [134] صحيح بخاری (6/180)، كتاب تفسير القرآن، باب قوله: {وامرأته حمّالة الحطب}- [135] الكشاف (4/819)، مفاتيح الغيب (32/357)، اللباب في علوم الكتاب (20/567)۔ [136] مفاتيح الغيب (32/357)، اللباب في علوم الكتاب (6/369)، السراج المنير للشربينی (4/611)- [137] مفاتيح الغيب (32/357)، السراج المنير للشربينی (4/611)، روح المعانی (15/503)۔ [138] دیکھیں: مفاتيح الغيب (32/357-358)، اسماء سور القرآن وفضائلها (ص: 628-634)۔
4- سورۃ الاخلاص کی کیا فضیلتیں ہیں؟
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ: "نبی ﷺ جب اپنے بستر پر آرام فرما ہوتے تو اپنی دونوں ہتھیلیوں كو جمع فرما کر ان پر سورہ اخلاص، سورة الفلق اور سورة الناس پڑھ کر دم کرتے، پھر انہیں حتی المقدور اپنے سارے بدن پر پھیرتے آپ اپنے سر اور چہرہ اور جسم كے سامنے کے حصے سے شروع کرتے، غرض تین دفعہ ایسا ہی کرتے"[139]- [139] اس حدیث کو بخاری نے اپنی صحیح(6/190) (5017) میں روایت کیا ہے۔
بخاری نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ: "ایک آدمی نے دوسرے آدمی سے سنا کہ وہ ﴿ قُل ھُوَ اللہُ أَحَد﴾ بار بار پڑھ رہا ہے، جب صبح ہوئی تو اس نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اس واقعے کا ذکر کیا گویا وہ اس عمل میں کوئی بڑا ثواب نہ خیال کرتا تھا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ سورت، قرآن کے ایک تہائی حصے کے برابر ہے‘‘[140]- [140] اس حدیث کو بخاری نے اپنی صحیح(6/189) (5013) میں روایت کیا ہے۔
۵-سورۃ الاخلاص کا موضوع کیا ہے؟
پوری سورت میں اللہ تعالی کی وحدانیت کو ثابت کیا گیا ہے‘ اس پاک رب کا نہ باپ ہے نہ بیٹا‘ کیونکہ وہ باپ اور اولاد سے بے نیاز ہے‘ وہی اول ہے اور وہی آخر‘ تمام مخلوقات اس کی محتاج ہیں‘ اور وہ پاک وبرتر رب اپنی تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے۔
تئیسویں مجلس: اللہ تعالی الوہیت میں منفرد ہے اور تمام مخلوق اس کی محتاج ہے
تلاوت:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (آپ کہہ دیجیے کہ وه اللہ تعالیٰ ایک (ہی) ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا۔ اور نہ کوئی اس کے برابر کا ہے۔ [الإخلاص 1-4]
تفسیر:
(1) اے رسول! آپ کہہ دیجیے کہ اللہ اپنی الوہیت میں منفرد ویکتا ہے‘ اس کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں۔
(2) وہ ایسا آقا ہے کہ کمال وجمال کی صفات میں تمام برتری وسرداری اس تک جاکر ختم ہوجاتی ہے۔
(3) جس نے نہ کسی کو جنم دیا اور نہ اسے کسی نے جنم دیا‘ چنانچہ اس پاک رب کی نہ کوئی اولاد ہے نہ والد۔
(4) اورنہ اس کی مخلوقات میں کوئی اس کا ہمسر ہے[141]۔ [141] المختصر في تفسير القرآن الكريم (ص: 604)-
تدبر اور تزکیہ:
تدبر
تزکیہ
ہم اس سورت سے کیا سیکھتے ہیں؟
کونسی آیت اس پر دلالت کرتی ہے؟
ہم اس سورت کی آیتوں سے اپنے اخلاق کو کیسے مزین کریں؟
اللہ پاک اپنی وحدانیت میں یکتا ومنفرد ہے‘ وہ پاک رب اپنی ذات اور اسماء وصفات میں اکیلا ہے۔
(آپ کہہ دیجئے کہ وه اللہ تعالیٰ ایک (ہی) ہے)۔
ہمیں اللہ پاک کی وحدانیت پر قائم رہنے اور اس کی عبادت کو بجالانے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے اور شرک سے ہوشیار وخبردار رہنا چاہئے۔
اللہ یکتا ومنفرد وہ ہے کہ تمام مخلوقات جس کی محتاج ہیں‘ وہ اپنی ضرورتیں اسی کے سامنے پیش کرتی ہیں اور وہ ان کی ضرورتیں پوری کرتا ہے‘ وہ پاک رب ان سب سے بے نیاز ہے۔
(اللہ بے نیاز ہے)۔
ہمیں اپنے دلوں کو ایک پروردگار سے وابستہ رکھنا چاہئے‘ ہر بھلائی کو طلب کرنے اور ہر قسم کے شر سے بچنے کے لیے اسی سے رجوع کرنا چاہئے۔
اللہ تعالی کی نہ کوئی اولاد ہے اور نہ والد‘ وہ کمال عظمت کے سبب اس سے بے نیاز ہے۔
(اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے)۔
ہمیں اللہ پاک کی ذات سے ہر قسم کے نقص اور برائی کی نفی کرنی چاہئے‘ وہ پاک رب ہر اعتبار سے کامل ہے۔
اللہ کی مخلوق میں اس کا نہ کوئی ہمسر ہے اور نہ کوئی ہم مثل‘ نہ اس کی ذات میں‘ نہ اس کے افعال میں‘ اور نہ اس کے اسماء وصفات میں۔
(اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے).
ہمیں اللہ کی ذات سے مماثلت اور ہمسری کی نفی کرنی چاہئے‘ اور اس عقیدہ کو اپنے دلوں میں راسخ کرنے کی بھر پور کوشش کرنی چاہئے۔
اس سورت سے ہدایت کی اور بھی باتیں مستنبط کریں‘ ساتھ ہی جو آیت ان پر دلالت کرتی ہے اس کی وضاحت کریں‘ نیز اس میں جو اخلاقی پہلو پنہاں ہے اس پر بھی روشنی ڈالیں۔
اس سورہ کو سیکھنے کے بعد ہم اس پر عمل کیسے کریں؟
اپنی ذات کے تئیں:
- میں اللہ تعلی کی تعظیم بجا لاؤں گا‘ اس کی قدر ومنزلت کو دل وجان میں بساؤں گا اور اللہ پاک نے جس طرح اس سورت میں بیان فرمایا ہے اسی طرح اس کی توحید کو بروئے عمل لاؤں گا‘ کیوں کہ اللہ کا فرمان ہے: ( میں نے جنات اور انسانوں کو محض اس لیے پیدا کیا ہے تا کہ وہ صرف میری عبادت کریں) [سورہ الذاريات] اگر توحید میں خلل اور کمی ہو تو عبادت نہ تو درست ہوگی اور نہ قبول۔
...
اپنے معاشرے کے تئیں:
- میں اپنے بھائیوں کو لکچرز میں شرکت کرنے‘ مجلسوں میں حاضر ہونے‘ اور ان اداروں میں پڑھنے کے ترغیب دوں گا جو اسلامی عقیدہ کی تعلیم دیتے ہیں‘ کیوں کہ دین عقیدہ پر مبنی ہے‘ زبان کا بیان دل کے عقیدہ کا ترجمان ہوتا ہے‘ ایمان یہ ہے کہ زبان سے اقرار کرے‘ دل سے اعتقاد رکھے اور اعضا وجوارح سے عمل کرے‘ عقیدہ کی تعلیم علم کی تمام قسموں پر فائق ہے‘ اللہ تعالی کا فرمان ہے: (تو آپ اس کا یقین رکھئے کہ بجز اللہ کے کوئی معبود برحق نہیں اور اپنی خطا کی معافی مانگتے رہئے اور سارے ایمان والوں اور ایمان والیوں کے لیے بھی، اور اللہ خوب خبر رکھتا ہے تم (سب) کے چلنے پھرنے اور رہنے سہنے کی)۔ [سورہ محمد]
...
سورۃ الفلق
تمہید
شوق آمیز مقدمہ:
اس کے مختلف طریقے ہیں‘ مثلا:
۱- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جادو کیے جانے سے متعلق طلبہ سے سوال کرنا-
۲- سورت کے نزول کا واقعہ۔
سورۃ کا تعارف:
۱- سورۃ الفلق کہاں نازل ہوئی؟
جمہور کے نزدیک سورۃ الفلق مدینہ میں نازل ہوئی[142]- [142] النكت والعيون (6/373)، المحرر الوجيز (5/538)، زاد المسير (4/507)-
۲- سورۃ الفلق کا سبب نزول کیا ہے؟
ایک قول ہے کہ یہ سورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جادو کیے جانے اور جبریل کا آپ کو دم کرنے کے پس منظر میں نازل ہوئی[143]- [143] الكشف والبيان (10/338-339)، اسباب النزول للواحدی (ص: 473)، زاد المسير (4/507)-
۳- اس سورت کے کون کون سے نام ہیں؟
سورة (الفلق)، سورة (قل أعوذ بربّ الفلق) [144]، نيز سورة الناس کے ساتھ اس سورت کو : (معوِّذَتَین) [145]، (مُشَقْشِقَتين) [146]، اور ( مُقَشْقِشَتين) سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔ [147] [144] صحيح بخاری (6/181)، كتاب تفسير القرآن، باب قوله: {الله الصمد}- [145] الكشف والبيان (10/337)، النكت والعيون (6/373)، الجامع لاحكام القرآن (20/251)- [146] النكت والعيون (6/373)، الكشاف (4/824)، الجامع لاحكام القرآن (20/251)- [147] التحرير والتنوير (30/623-624)، اسماء سور القرآن وفضائلها (ص: 640-641)-
3-سورۃ الفلق کا موضوع کیا ہے؟
یہ سورت اس بابت ہماری رہنمائی کرتی ہے کہ ہر قسم کے شرور وفتن سے محفوظ رہنے کے لیے اللہ تعالی کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہنا چاہئے‘ وہ عظیم ترین شرور وفتن جن سے بچنے کے لیے اللہ تعالی کی پناہ طلب کرنا بندے پر واجب ہے‘ ان میں حسد‘ نظر بد اور جادو کا شر سر فہرست ہے۔
چوبیسویں مجلس: ہر قسم کے شرور وفتن سے اللہ کی پناہ میں آنا
تلاوت:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (آپ کہہ دیجئے کہ میں صبح کے رب کی پناہ لیتا ہوں۔ ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے۔ اور اندھیری رات کی تاریکی کے شر سے جب اس کا اندھیرا پھیل جائے۔ اور گره (لگا کر ان) میں پھونکنے والیوں کے شر سے (بھی)۔ اور حسد کرنے والے کی برائی سے بھی جب وه حسد کرے۔ [الفلق: ١ - ٥]
تفسیر:
(1) اے رسول! آپ کہہ دیجئے کہ میں صبح (کو روشن کرنے والے) رب کے سہارے کو مضبوطى سے تھامتا ہوں اور اس کی پناہ طلب کرتا ہوں۔
(2) مخلوقات کو اذیت دینی والی چیزوں سے۔
(3) میں ان شرور سے اللہ کی پناہ میں آتا ہو جو رات کی تاریکی میں ظاہر ہوتی ہیں جیسے (نقصاندہ) جانور اور کیڑے مکوڑے۔
(4) ان جادوگرنیوں کے شر سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں جو گرہوں میں پھونک مارتی ہیں۔
(5) اور اللہ کی پناہ میں آتا ہوں حاسد کے حاسدانہ عمل سے جس پر اس کا حسد اسے ابھارتا ہے[148]- [148] المختصر في تفسير القرآن الكريم (ص: 604)-
تدبر اور تزکیہ:
تدبر
تزکیہ
ہم اس سورت سے کیا سیکھتے ہیں؟
کونسی آیت اس پر دلالت کرتی ہے؟
ہم اس سورت کی آیتوں سے اپنے اخلاق کو کیسے مزین کریں؟
جو اپنے پاک رب کی پناہ طلب کرتا ہے‘ وہ اسے پناہ دیتا ہے‘ جو اس کی رسی کو تھام لیتا ہے‘ وہ اسے اپنی حفاظت میں رکھتا اور اس کی مصیبت کو دور کردیتا ہے‘ بالکل اسی طرح جس طرح صبح نو کی روشنی سے رات کی تاریکی چھٹ جاتی ہے۔
(آپ کہہ دیجیے کہ میں صبح کے رب کی پناه میں آتا ہوں)۔
ہمیں ایک اللہ سے اپنا رشتہ استوار رکھنا چاہئے جو ہر چیز کا رب اور مالک ہے‘ رات کی تاریکی اور تنگی سے خیر اور روشنی کو پیدا کرتا ہے۔
اللہ پاک ہر چیز کا خالق ہے‘ اسی کے ہاتھ میں ہر چیز کی ملکیت ہے‘ اس کے اجازت کے بغیر نہ کوئی چیز نفع دے سکتی ہے نہ نقصان۔
(اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی)
تمام ظاہری وباطنی شرور وفتن سے محفوظ رہنے کے لیے ہمیں صرف ایک اللہ تعالی کی پناہ طلب کرنی چاہئے۔
تاریکی میں کیڑے مکوڑے کے شرور کا واقع ہونا متوقع ہوتا ہے‘ اسی طرح جب وحی کی روشنی سے دل محروم رہتا ہے تو اس کے اندر بھی نقصاندہ امور کا گھر کرنا ممکن ہوجاتا ہے۔
(اور اندھیرا کرنے والی (رات) کے شر سے جب وہ چھا جائے)
- ہمیں اپنے رب کی کتاب اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ تاریکی اور شرور وفتن سے محفوظ رہ سکیں۔
- ہمیں معوِّذتین کے ذریعہ اللہ کی پناہ طلب کرنی چاہئے اور اذکار کے ذریعہ (اللہ کی) حفاظت میں رہنا چاہئے‘ تاکہ ہم بد نگاہ‘ جادوگر اور حاسد کے شر سے محفوظ رہ سکیں۔
جادو حق ہے‘ جادو کے کچھ مذموم اور قبیح طریقے ہیں جن کے ذریعہ (جادوگر) جادو کرتا ہے‘ جادو کے ذریعہ شیطان سب سے زیادہ جس پر غالب ہونے میں کامیاب ہوتا ہے وہ عورتیں ہیں کیوں کہ وہ عقل کی کمزور اور مکاری میں بڑی تیز ہوتی ہیں۔
اور گرہوں میں پھونکنے والیوں کے شر سے۔
ہمیں جادو اور جادوگروں سے اللہ کی پناہ طلب کرنی چاہئے‘ اور لوگوں کے سامنے یہ واضح کرنا چاہئے کہ معاشرہ کے لیے یہ لوگ کتنے نقصاندہ ہیں۔
حسد ایک بڑی بیماری ہے‘ جس میں اچھے لوگ بھی مبتلا ہوجاتے ہیں‘ جب بھی حسد واقع ہو‘ اسے (حاسد کے) غسل وغیرہ کے ذریعہ محسود سے دور کرنا واجب ہے۔
(اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے)
اللہ کی عطا کردہ نعمتوں پر لوگوں سے حسد کرنے سے ہمیں باز رہنا چاہئے‘ کیوں کہ یہ نعمتیں اللہ کی جانب سے حاصل ہوتی ہیں اور اللہ ہی انہیں مقدر فرماتا ہے۔
اس سورت سے ہدایت کی اور بھی باتیں مستنبط کریں‘ ساتھ ہی جو آیت اس پر دلالت کرتی ہے اس کی وضاحت کریں‘ نیز اس میں جو اخلاقی پہلو پنہاں ہے اس پر بھی روشنی ڈالیں۔
اس سورت کو سیکھنے کے بعد ہم اس پر عمل کیسے کریں؟
اپنی ذات کے تئیں:
- ہر مراد کو حاصل کرنے اور ہر ناگوار چیز کو دور کرنے کے لیے صرف اللہ سے لو لگاؤں گا‘ وہ پاک رب ہی نفع ونقصان کا مالک ہے‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا: (یہ بات جان لو کہ اگر ساری امت بھی جمع ہو کر تمہیں کچھ نفع پہنچانا چاہے تو وہ تمہیں اس سے زیادہ کچھ بھی نفع نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، اور اگر وہ تمہیں کچھ نقصان پہنچانے کے لیے جمع ہو جائے تو اس سے زیادہ کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، قلم اٹھالیے گئے اور (تقدیر کے) صحیفے خشک ہوگئے ہیں)[149]- [149] اس حدیث کو ترمذی نے اپنے سنن(4/248) (2516) میں، اور احمد نے اپنے مسند (4/410) میں روایت کیا ہے نیزدیگر ائمہ نے بھى اسے روایت کیا ہے اور البانی نے صحیح الجامع (2/1317) (7957) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔
...
اپنے معاشرہ کے تئیں:
- میں اپنے بھائیوں کویہ بتاؤں گا کہ معاشرہ کے لیے حسد اور جادو کس قدر خطرناک ہیں‘ اور ان سے نپٹنے اور بچنے کے کیا طریقے ہیں‘ کیوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حسد سے منع کیا اور فرمایا: "ایک دوسرے سے حسد نہ کرو" [150] ، نیز آپ نے جادو کو سات ہلاکت خیز گناہوں میں شمار فرمایا[151]- [150] اس حدیث کو مسلم نے اپنی صحیح (4/1986) (2564) میں روایت کیا ہے۔ [151] ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”سات مہلک گناہوں سے اجتناب کرو، صحابہ کرام نے پوچھا: اللہ کے رسول! وہ کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا:اللہ کے ساتھ شرک کرنا جادو کرنا، ناحق کسی کی جان لینا جسے اللہ نے حرام کیا ہے‘ سود کھانا، یتیم کا مال ہڑپ کرنا‘ جنگ کے دن پیٹھ پھیرنا اور پاک دامن بھولی بھالی مومن عورتوں پر تہمت لگانا۔اس حدیث کو بخاری نے اپنی صحیح (4/10) (2766) میں اور مسلم نے اپنی صحیح (1/92) (89) میں روایت کیا ہے۔
...
سورۃ الناس
تمہید
شوق آمیز مقدمہ:
اس کے مختلف طریقے ہیں‘ مثلا:
۱- طلبہ سے یہ سوال کرنا کہ وہ کونسا نام ہے جس میں سورۃ الفلق اور سورۃ الناس دونوں شامل ہیں۔
۲-سورت کے نزول کا واقعہ۔
سورت کا تعارف:
۱- سورۃ الناس کہاں نازل ہوئی؟
جمہور کا قول ہے کہ سورۃ الناس مکہ میں نازل ہوئی[152] [152] المحرر الوجيز (5/540)، زاد المسير (4/510)
۲- سورۃ الناس کا سبب نزول کیا ہے؟
یہ سورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جادو کیے جانے اور جبریل کا آپ کو دم کرنے کے پس منظر میں نازل ہوئی[153]- [153] الكشف والبيان (10/338-339)، اسباب النزول للواحدی (ص: 473)، زاد المسير (4/507)-
۳- اس سورت کے کون کون سے نام ہیں؟
سورة (الناس)، سورة (قل أعوذ بربّ الناس) [154]، اورسورۃ الفلق کے ساتھ اس سورت کے اور بھی دیگر نام ہیں جیسا کہ گزر چکا ہے[155]- [154] صحيح بخاری (6/181)، كتاب تفسير القرآن، باب قوله: {الله الصمد}- [155] دیکھیں: سورۃ الفلق کے نام-
۴- معوِّذتین کی کیا فضیلتیں ہیں؟
۱- عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کیا تمہیں نہیں معلوم کہ جو آیات آج رات نازل ہوئی ہیں ان جیسی آیات پہلے کبھی نازل نہیں ہوئیں، یہ آیات ’’قل أعوذ بربّ الفلق‘‘ اور ’’قل أعوذ بربّ الناس‘‘ ہیں۔[156] [156] اس حدیث کو امام مسلم نے اپنی صحیح (1/558) (814) میں روایت کیا ہے۔
۲- ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ: "رسول اللہ ﷺ جنوں اور انسانوں کی نظر بد سے پناہ ملنے کی دعا کیا کرتے تھے۔ جب معوذتین (سورۃ فلق اور سورۃ الناس ) نازل ہوئیں تو نبی ﷺ نے انہیں اختیار فرما لیا اور ان کے علاوہ دوسری چیزیں چھوڑ دیں"۔[157] [157] اس حدیث کو ابن ماجہ نے اپنے سنن (4/544) (3511) میں، اور نسائی نے السنن الكبرى (7/224) (7877) میں روایت کیا ہے نیز دیگر علما نے اس کو روایت کیا ہے، اور البانی نے صحيح الجامع (2/882) (4901) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔
۳- عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ: "رسول اللہ ﷺ جب بیمار ہوتے تو معوذات پڑھ کر اپنے آپ پر دم کرتے پھر جب آپ کی تکلیف زیادہ ہوگئی تو میں ان سورتوں کو پڑھ کر آپ کے ہاتھوں کو برکت کی امید سے آپ کے جسد اطہر پر پھیرتی تھی"۔[158] [158] اس حدیث کو بخاری نے اپنی صحیح (6/190) (5016) میں اور مسلم نے اپنی صحیح (4/1723) (2192) میں روایت کیا ہے۔
۵-سورۃ الناس کا موضوع کیا ہے؟
اس سورت میں اللہ تعالی نے ہمیں یہ رہنمائی فرمائی ہے کہ شیطانوں اور انسانوں کے شر اور وسوسے سے ہم اللہ کی پناہ طلب کریں‘ تاکہ بندے جنوں اور ان کے معاون انسانوں کے شر سے اللہ کی حفاظت میں رہیں۔
پچیسویں مجلس: شیطان اور اس کے وسوسے سے حفاظت
تلاوت:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (آپ کہہ دیجیے کہ میں پناه میں آتا ہوں لوگوں کے رب کی۔ لوگوں کے مالک کی۔ لوگوں کے معبود کی۔ وسوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے۔ جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ (خواه) وه جن میں سے ہو یا انسان میں سے۔ [سورة الناس: 1-6]
تفسیر:
(1) اے رسول! آپ کہہ دیجئے کہ میں لوگوں کے رب کے سہارے کو مضبوطی سے پکڑتا ہوں اور اس کی پناہ چاہتا ہوں۔
(2) جو تمام لوگوں کا مالک ہے‘ اپنی مشیت سے ان میں تصرف کرتا ہے‘ اس کے سوا لوگوں کا کوئی مالک نہیں۔
(3) وہ لوگوں کا حقیقی معبود ہے‘ اس کے سوا ان کوئی معبود برحق نہیں۔
(4) اس شیطان کے شر سے (اپنے رب کی پناہ طلب کرتا ہوں) جو انسان کے دل میں وسوسہ ڈالتا ہے جب وہ ذکر الہی سے غافل ہوجاتا ہے اور جیسے ہی اللہ کا ذکر کرتا ہے تو شیطان پیچھے کھسک جاتا ہے۔
(5) یہ شیطان لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔
(6) جس طرح جنوں میں سے شیطان ہوتے ہیں اسی طرح انسانوں میں بھی شیطان ہوتے ہیں[159]- [159] المختصر في تفسير القرآن الكريم (ص: 604)-
تدبر اور تزکیہ:
تدبر
تزکیہ
ہم اس سورت سے کیا سیکھتے ہیں؟
کونسی آیت اس پر دلالت کرتی ہے؟
ہم اس سورت کی آیتوں سے اپنے اخلاق کو کیسے مزین کریں؟
اللہ پاک ہی تمام لوگوں کا رب‘ مالک اور معبود ہے‘ تو بھلا اس کے سوا کسی اور کى پناہ کیوں کر طلب کى جائے؟!
(آپ کہہ دیجئے! کہ میں پناه میں آتا ہوں لوگوں کے رب کی, لوگوں کے مالک کی (اور) لوگوں کے معبود کی)-
ہم صرف ایک اللہ کی پناہ طلب کرتے اور اپنے دلوں کو صرف اسی سے وابستہ رکھتے ہیں‘ وہی پاک رب ہر قسم کے نفع ونقصان کا مالک ہے۔
شیطان کی سازش کمزور ہوتی ہے‘ وہ غفلت کے وقت انسان کے اندر وسوسہ ڈالتا ہے‘ اور جب وہ اللہ کا ذکر کرتا ہے تو اس سے پیچھے کھسک جاتا ہے‘ کیوں کہ اللہ کے نیک بندوں پر اس کا زور نہیں چلتا۔
(اس شیطان کے شر سے جو وسوسہ ڈالنے والا کھسک جانے والا ہے)
ہمیں اپنی ذات سے شیطانی وساوس کو دور رکھنے کے لیے ہمیشہ اللہ کے ذکر میں مصروف رہنا چاہئے اور پابندی کے ساتھ اذکار کا اہتمام کرنا چاہئے۔
شیطان کا وسوسہ جاری وساری رہتا ہے‘ اس کے ختم ہونے کی امید نہیں کی جاسکتی۔
(جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے)
ہمیں ہر وقت از سر نو اللہ سے لو لگاتے رہنا چاہئے‘ کیوں کہ ہمارا دشمن گھات میں لگا رہتا ہے‘ نہ اکتاتا ہے اور نہ تھکتا ہے!!
شر كا صدور صرف جنوں میں محصور نہیں ہے‘ بلکہ جس طرح جنوں سے شر کے کاموں کا صدور ہوتا ہے اسى طرح انسانوں سے بھى شر کے کاموں کا صدور ہوتا ہے‘ اور جس طرح جنوں میں شیاطین ہوتے ہیں اسی طرح انسانوں میں بھی شیاطین ہوتے ہیں۔
((خواه) وه جن میں سے ہو یا انسان میں سے)
شیطانوں کی مدد کرنے والے فسادی انسانوں کے شر سے ہمیں اللہ کی پناہ طلب کرنی چاہئے۔
اس سورت سے ہدایت کی اور بھی باتیں مستنبط کریں‘ ساتھ جو آیت ان پر دلالت کرتی ہے اس کی وضاحت کریں‘ نیز اس میں جو اخلاقی پہلو پنہاں ہے اس پر بھی روشنی ڈالیں۔
اس سورت کو سیکھنے کے بعد ہم اس پر عمل کیسے کریں؟
اپنی ذات کے تئیں:
- میں اپنے پاک رب کی پناہ میں آتا ہوں تاکہ وہ مجھ سے شیطان اور اس کے معاونوں کی سازش کو دور کردے‘ اور پابندی کے ساتھ معوِّذتین کی تلاوت کرکے اپنی ذات کی حفاظت کروں گا۔ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، جنوں سے پناہ مانگا کرتے تھے اور انسانوں کی نظر بد سے بھى، یہاں تک کہ معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) نازل ہوئیں، جب یہ سورتیں نازل ہو گئیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو اختیار کر لیا اور ان کے علاوہ دوسری چیزوں کے ذریعہ سے پناہ مانگنا چھوڑ دیا"[160]- [160] اس حدیث کو بخاری نے اپنی صحیح (6/190) (5016) میں اور مسلم نے اپنی صحیح (4/1723) (2192) میں روایت کیا ہے۔
...
اپنے معاشرہ کے تئیں:
- میں حتی المقدور مسلمانوں کے سامنے یہ واضح کروں گا کہ شیطان کا نقصان ان کے لیے کتنا سنگین ہے‘ وہ ان کے خون میں دوڑتا ہے‘ انسان کے ساتھ شیطان کی معرکہ آرائی قدیم زمانے سے چلی آرہی ہے اور چلتى رہے گى‘ انسان سے شیطان کی دشمنی روز روشن کی طرح عیاں ہے‘ اسی لیے قرآن مجید نے ہمیں یہ تنبیہ کی ہے کہ ہم شیطان کو اپنا دشمن سمجھیں‘ فرمان باری تعالی ہے: (یاد رکھو! شیطان تمہارا دشممن ہے‘ تم اسے دشمن جانو) [سورۃ فاطر]- نیز فرمایا: (شیطان تو انسان کا کھلا دشمن ہے) [سورۃ یوسف]-
...