”پہلے کے انبیا علیہم السلام کے کلام سے جو باتیں لوگوں نے حاصل کیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب تیرے اندر شرم و حیا نہ رہے، تو جو چاہے کر۔“
ابو مسعود عقبہ بن عمرو انصاری بدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”پہلے کے انبیا علیہم السلام کے کلام سے جو باتیں لوگوں نے حاصل کیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب تیرے اندر شرم و حیا نہ رہے، تو جو چاہے کر۔“
«إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلاَمِ النُّبُوَّةِ الأُولَى: إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ».
نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ پچھلے انبیا کی کی ہوئی جو وصیتیں لوگوں میں رائج رہی ہیں اور نسل در نسل منتقل ہوتی ہوئی اس امت کی پہلی نسل تک آئی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ: جو کام تم کرنا چاہتے ہو، پہلے اسے دیکھ لو، کام اگر ایسا ہو کہ اسے کرنے میں حیا نہیں کی جاتی ہے، تو کر ڈالو۔ لیکن کام اگر ایسا ہو کہ اسے کرتے ہوئے حیا کی جاتی ہے، تو چھوڑ دو۔ کیوں کہ برے کاموں سے روکنے والی چيز حیا ہی ہے۔ جس کے اندر حیا نہ ہو، وہ ہر فحش اور غلط کام میں ملوث ہو جائے گا۔
حیا اچھے اخلاق کی اساس ہے۔
حیا انبیا کے اوصاف میں سے ایک وصف اور انھیں سے منقول ہے۔
حیا ایسی چيز ہے، جو ایک مسلمان کو ایسے کاموں پر آمادہ کرتی ہے، جو اس کی شخصیت کو خوب صورت بناتی اور ایسے کاموں سے دور رکھتی ہے جو اس کی شخصیت کو مجروح کرتے ہوں۔
نووی کہتے ہيں : یہاں حکم اباحت پر محمول ہے۔ مطلب یہ ہےکہ جب تم کوئی کام کرنے کا ارادہ کرو، تو کام اگر ایسا ہو کہ اسے کرتے وقت اللہ اور لوگوں سے حیا نہ آتی ہو، تو کر ڈالو۔ لیکن اگر حیا آتی ہو، تو مت کرو۔ اسی پر اسلام کا دار و مدار ہے۔ اسے اس طرح سمجھیں کہ جن واجب اور مستحب کاموں کا حکم ہو، انھیں چھوڑنے میں حیا کی جاتی ہے اور جن حرام اور مکروہ چیزوں سے منع کیا گیا ہو، انھیں کرنے میں حیا کی جاتی ہے۔ جب کہ مباح کام کو کرنے میں حیا کرنا بھی جائز ہے اور چھوڑنے میں حیا کرنا بھی جائز ہے۔ اس طرح اس حدیث کے دائرے میں پانچوں احکام آ گئے۔ جب کہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس حدیث میں دیا گیا حکم تہدید آمیز ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ جب تم سے حیا کی دولت چھن جائے، تو جو جی میں آئے کرو، اللہ تم کو ضرور اس پر سزا دے گا۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہاں حکم خبر کے معنی میں ہے۔ یعنی جسے حیا مانع نہ ہو، وہ جو چاہتا ہے، کرتا پھرتا ہے۔
مزید (7)
صحیح بخاری (8/ 29) (6120).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين.
لمجموعة من الباحثين (2/ 1252).
تطريز رياض الصالحين.
لفيصل آل مبارك (ص1045).
شرح رياض الصالحين.
لابن عثيمين (6/ 656).
کتابوں میں مذکور
5 کتابیں- مشروع منهاج زادكزادك معلم 2”لوگوں کو پہلے نبیوں کی جو باتیں حاصل ہوئی ہیں، ان میں ایک یہ ہے کہ جب تمھیں شرم نہ آئے، تو تم جو جی میں آئے، کرو“۔
- مشروع منهاج زادكزادك 2 طالب نهائي”پہلے انبیا علیہم السلام کے کلام سے جو باتیں لوگوں نے حاصل کیں، ان میں سے یہ بھی ہے: کہ جب تو شرم و حیا نہیں کرتا تو جو چاہے کر۔“
مزید (3)
- الله -جل جلاله- أنيس المحبين وملاذ القاصدين«إِنَّ مِـمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلاَمِ النُّـبُوَّةِ الأُولَى: إِذَا لَمْ تَسْتَحِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ»
- رياض الصالحينرياض الصالحين مع فوائد وهدايات - 8«إنَّ ممَّا أدْرَكَ النَّاسُ من كَلام النُّبُوَّة الأولىٰ: إذَا لَمْ تَسْتَحِ فَاصْنَعْ مَا شئْتَ».
- مجموعة زاد الحديث(3)1«إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلاَمِ النُّبُوَّةِ الأولى: إِذَا لَمْ تَسْتَحِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ»