حِصن المسلم کتاب وسنت کے منتخب اذکار
اس کتاب میں کتاب وسنت کے اذکار اور دعائیں جمع کی گئی ہیں تاکہ مختلف اوقات اور حالات میں آسانی کے ساتھ ان کا ورد کیا جا سکے۔ اس میں بیدار ہونے، وضو، نماز، سفر اور دیگر مواقع کی دعائیں شامل ہیں، جو مسلمان کو اپنی حفاظت کرنے میں مدد دیتی ہیں تاکہ وہ اللہ کے حفظ وامان میں رہے۔
These files are generated automatically from the book's text; their layout may differ from the printed edition.
حصن المسلم کتاب و سنت کے منتخب اذکار
اللہ تعالیٰ کا محتاج بندہ
ڈاکٹر سعید بن علی بن وہَف القحطانی
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے، جو بڑا مہربان، نہایت رحم کرنے والا ہے۔
مقدمہ
یقیناً تمام تعریفیں اللہ کے لیے سزاوار ہیں، ہم اس کی تعریف بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد طلب کرتے ہیں اور اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں، ہم اپنے نفسوں اور بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ تعالی ہدایت دے، اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی راہ نہیں دکھا سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں۔ وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ تعالی ڈھیروں درود وسلام نازل فرمائے آپ پر، آپ کے اہل خانہ اور اولاد پر، آپ کے اصحاب پر اور قیامت تک بھلائى کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں پر ۔ امّا بعد:
یہ مختصر کتاب میری ایک دوسری کتاب ’’الذِّكْرُ وَالدُّعَاءُ وَالعِلاَجُ بِالرُّقَى مِنَ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ‘‘ [1] کی تلخیص ہے جس کے اندر میں نے صرف ذکر اور دعا کی قسم کو مختصرََا پیش کیا ہے تاکہ اسے سفر میں ساتھ رکھنا آسان ہو۔ [1] مذکورہ اصل کتاب اس میں درج احادیث کی تفصیلی تخریج کے ساتھ الحمد اللہ چار جلدوں میں چھپ چکی ہے، حصن المسلم (اذکار) پہلی اور دوسری جلد میں ہے۔
اس کتاب میں میں نے ذکر اور دعا کے متن پر اکتفا کیا ہے اور اصل کتاب میں موجود حوالہ جات میں سے صرف ایک یا دو حوالوں کو ذکر کیا ہے، جسے صحابی (راوی) کا نام جاننے یا مزید تخریج کی ضرورت ہو وہ اصل کتاب کی طرف رجوع کرلے۔ میں اللہ عزو جل کے اسماء حسنی اور صفات علیا کے واسطہ سے اس سے دعا گو ہوں کہ وہ اس عمل کو اپنے شرف وعزت والے چہرہ کے لیے خالص بنائے، اس سے مجھے میری زندگی میں اور میرے مرنے کے بعد بھی فائدہ پہنچائے، اور جو بھی اس کتاب کو پڑھے یا شائع کرے یا اس کی اشاعت کا ذریعہ بنے اسے اس کے لیے فائدہ مند بنائے، بے شک اللہ سبحانہ ہی اس کا مالک اور اس پر قادر ہے۔ اللہ تعالی درود و سلام نازل فرمائے ہمارے نبی محمد ﷺ پر، آپ کے اہل خانہ اور اولاد پر، آپ کے صحابہ پر اور قیامت تک بھلائى کے ساتھ آپ کے صحابہ کی پیروی کرنے والوں پر۔
مؤلف
تحریر کردہ : ماہ صفر 1409هـ
ذکر کی فضیلت
اللہ تعالی نے فرمایا : ’’تم مجھے یاد کرو، میں تمھیں یاد کروں گا اور تم میرا شکر کرو اور میری ناشکری نہ کرو۔‘‘[2] [2] سورة البقرة، آیت: 152۔
”اے ایمان والو! تم اللہ کو کثرت سے یاد کرو۔‘‘[3] [3] سورة الأحزاب، آیت: 41۔
’’...اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے مرد اور بہت یاد کرنے والی عورتیں، اللہ نے ان کے لیے بخشش اور بہت بڑا اجر تیار کیا ہے۔‘‘[4] [4] سورة الأحزاب، آیت: 35۔
’’اور (اے نبی!) اپنے رب کو صبح وشام اپنے دل میں یاد کیجیے، عاجزی سے اور ڈرتے ہوئے، پست اور ہلکی آواز سے، اور آپ غافلوں میں (شامل) نہ ہوں۔‘‘[5] [5] سورة الأعراف، آیت: 205۔
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اس شخص کی مثال جو اپنے رب کا ذکر کرتا ہے اور (اس کی) جو اپنے رب کا ذکر نہیں کرتا ایسے ہے جیسے زندہ اور مردہ شخص۔“[6] [6] صحیح بخاری مع فتح الباری : 11/ 208، حدیث: 6407، صحیح مسلم : 1/ 539، حدیث: 779، میں یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ وارد ہے: ’’اس گھر کی مثال جس میں اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے اور جس میں اللہ کا ذکر نہیں کیا جاتا، زندہ اور مردہ کی طرح ہے۔‘‘: 1/539۔
نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”کیا میں تمھیں ایسا عمل نہ بتاؤں جو تمھارے سب اعمال سے بہتر ہے اور تمھارے بادشاہ کے ہاں سب سے زیادہ پاکیزہ ہے اور تمھارے درجات میں سب سے زیادہ بلند ہے اور تمھارے لیے سونا اورچاندی صدقہ کرنے سے زیادہ بہتر ہے اور تمھارے لیے اس سے بھی زیادہ بہتر ہے کہ تمھارا مقابلہ تمھارے دشمن کے ساتھ ہو اور تم ان کی گردنیں اڑاؤ اور وہ تمھاری گردنیں اڑائیں؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا : کیوں نہیں! (ایسا عمل تو ضرور بتائیے) آپ نے فرمایا : ”(وہ ہے) اللہ تعالیٰ کا ذکر۔“[7] [7] جامع ترمذی: 5/ 459، حدیث: 3377، سنن ابن ماجہ : 2/ 124، حدیث : 3790، نیز دیکھیے: صحيح سنن ابن ماجہ: 2/ 316، اور صحيح جامع ترمذی: 3/ 139۔
نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اللہ تعالی فرماتا ہے : میں اپنے بندے کے اس یقین کے مطابق ہوں جو وہ میری بابت رکھتا ہے اور میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں جب وہ مجھے یاد کرتا ہے، اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے کسی محفل میں یاد کرتا ہے تو میں اسے ایسی محفل میں یاد کرتا ہوں جو اس کی محفل سے زیادہ بہتر ہے اور اگر وہ ایک بالشت میرے قریب آئے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب آتاہوں اور اگر وہ ایک ہاتھ میرے قریب آئے تو میں اس کے دونوں بازؤں کے پھیلاؤ کے برابر قریب آتا ہوں اور اگر وہ چلتا ہوا میرے پاس آتا ہے تو میں دوڑتا ہوا اس کے پاس آتا ہوں۔‘‘[8] [8] صحیح بخاری: 8/ 171، حدیث : 7405، صحیح مسلم : 4/ 2061، حدیث : 2675، مذکورہ الفاظ بخاری کے ہیں۔
عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اللہ کے رسولﷺ! اسلام کے احکام وقوانین تو میرے لیے بہت ہیں، کچھ تھوڑی سی چیزیں مجھے بتا دیجئے جن پر میں (مضبوطی) سے جما رہوں، آپﷺ نے فرمایا: ’’تمھاری زبان ہمیشہ اللہ کے ذکر سے تر رہے۔‘‘[9] [9] جامع ترمذی: 5/ 458، حدیث : 3375، سنن ابن ماجہ : 2/ 1246، حدیث : 3793، امام البانی رحمہ اللہ نے صحيح ترمذی : 3/139، اور صحيح سنن ابن ماجہ : 2/317 میں اس کو صحیح قرار دیا ہے۔
نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جو شخص اللہ کی کتاب (قرآن) سے ایک حرف پڑھے تو اس کے لیے اس کے بدلے ایک نیکی ہے اور ایک نیکی (کا اجر) اس جیسی دس نیکیوں کے برابر ہے، میں نہیں کہتا کہ الٓمٓ ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے اور لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے۔‘‘[10] [10] جامع ترمذی: 5/ 75، حدیث : 2910، امام البانی رحمہ اللہ نے صحيح ترمذی: 3/9، اور صحيح الجامع الصغير : 5/340 میں اس کو صحیح قرار دیا ہے۔
عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ گھر سے نکل کر تشریف لائے۔ ہم صفہ (چبوترے) پر موجود تھے، آپﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے کون یہ پسند کرتا ہے کہ وہ ہر روز صبح بطحان یا عقیق کی طرف جائے اور وہاں سے بڑے بڑے کوہانوں والى دو اونٹنیاں لے آئے، اس کے لیے نہ وہ کسی جرم کا ارتکاب کرے اور نہ قطع رحمی کرے؟‘‘ ہم نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! ہم (سب ہی) یہ پسند کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : ’’کیا تم میں سے کوئی شخص صبح سویرے مسجد کی طرف نہیں جاتا کہ وہ اللہ عز وجل کی کتاب کی دو آیتیں سیکھ لے یا پڑھ لے، یہ اس کے لیے دو اونٹنیوں سے بہتر ہیں اور تین (آیتیں) اس کے لیے تین (اونٹنیوں) سے بہتر ہیں اور چار (آیتیں) اس کے لیے چار (اونٹنیوں) سے بہتر ہیں اور (جتنی بھی آیتیں ہوں) اپنی تعداد کے اونٹوں سے (بہتر ہیں۔)‘‘[11]۔ [11] صحیح مسلم : 1/553، حدیث نمبر: 803
نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جو شخص کسی ایسی جگہ بیٹھا جس میں اس نے اللہ تعالی کو یاد نہ کیا تو وہ (نشست) اس کے لیے اللہ تعالی کی طرف سے باعثِ نقصان ہوگی اور جو شخص کسی ایسی جگہ لیٹا جہاں اس نے اللہ تعالی کو یاد نہ کیا تو وہ (لیٹنا) اس کے لیے اللہ تعالی کی طرف سے باعثِ نقصان ہوگا۔‘‘ [12] [12] سنن ابی داود : 4/ 264، حدیث : 4856، وغيرہ، اور دیکھیے : صحيح الجامع 5/342۔
نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’لوگ جب کسی ایسی محفل میں بیٹھیں جس میں وہ نہ اللہ کو یاد کریں اور نہ اپنے نبی پر درود بھیجیں تو وہ (محفل) ان کے لیے باعثِ نقصان ہوگی, پھر اگر (اللہ تعالی) چاہے تو انھیں عذاب دے اور اگر چاہے تو انھیں معاف کردے۔‘‘ [13] [13]جامع ترمذی: 5/ 461، حدیث : 3380، اور دیکھیے: صحيح ترمذی، 3/140۔
نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جو لوگ کسی مجلس سے اٹھتے ہیں جس میں وہ اللہ کا ذکر نہیں کرتے تو وہ مردہ گدھے کی بدبودار لاش جیسی چیز سے اٹھتے ہیں اور (یہ عمل) ان کے لیے حسرت کا باعث ہو گا۔‘‘ [14] [14] سنن ابی داود : 4/ 264، حدیث : 4855، مسند أحمد : 2/389، حدیث : 10680، اور دیکھیے : صحيح الجامع : 5/176۔
1۔ نیند سے بیدار ہونے کے اذکار
’’ہر قسم کی تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے ہمیں زندہ کیا بعد اس کے کہ اس نے ہمیں ماردیا تھا اور اسی کی طرف اٹھ کرجانا ہے۔‘‘ [15] [15] صحیح بخاری مع فتح الباری : 11/ 113، حدیث : 6314، صحیح مسلم : 4/ 2083، حدیث : 2711۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَحْیَانَا بَعْدَ مَا اَمَاتَنَا وَ اِلَیْہِ النُّشُوْرُ
(اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے ہر قسم کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھنے والا ہے، اللہ پاک ہے اور سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے اور اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے، اور (برائی سے بچنے کی) ہمت ہے نہ (نیکی کرنے کی) طاقت مگر بلندی اور عظمت والے اللہ ہی کی توفیق سے، اے میرے رب! مجھے بخش دے۔‘‘ [16] [16] جو شخص یہ کلمات کہے اسے بخش دیا جاتا ہے،اگر کوئی دعا کرے تو وہ قبول ہوتی ہے، پھر اگر وضو کر کے نماز پڑھے تو اس کی نماز قبول ہوتی ہے۔ صحیح بخاری مع فتح الباری 3/ 39، حدیث : 1154، وغيره، الفاظ ابن ماجہ کے ہیں، دیکھئے : صحيح ابن ماجہ، 2/335 ۔
لا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لا شَرِیکَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ، وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ، سُبْحَانَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَلا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ اَکْبَرُ، وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ، رَبِّ اغْفِرْ لِی
’’ہر قسم کی تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے مجھے جسمانی عافیت دی اور مجھ پر میری روح لوٹادی اور مجھے اپنی یاد کی اجازت دی۔‘‘ [17] [17] جامع ترمذی: 5/ 473، حدیث : 3401، اور دیکھیے: صحيح ترمذی: 3/144۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ عَافَانِیْ فِیْ جَسَدِیْ، وَرَدَّ عَلَیَّ رُوْحِیْ، وَاَذِنَ لِیْ بِذِکْرِہٖ
’’بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات دن کے بدل بدل کر آنے جانے میں (ان لوگوں کے لیے) عظیم نشانیاں ہیں جو صاحبِ عقل ودانش ہیں۔ وہ لوگ جو اٹھتے بیٹھتے اور لیٹے (ہر حال میں) اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں غور وفکر کرتے ہیں (اور کہتے ہیں) اے ہمارے رب! تو نے اس (سب کچھ) کو بے فائدہ نہیں بنایا۔ تو پاک ہے، پس تو ہمیں عذابِ دوزخ سے بچانا۔ اے ہمارے پروردگار! بے شک جسے تو دوزخ میں ڈال دے، اسے یقیناً تو نے رسوا کر دیا، اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔ اے ہمارے رب! بے شک ہم نے ایک منادی کو ایمان کا اعلان کرتے ہوئے سنا کہ تم اپنے رب پر ایمان لاؤ، تو ہم ایمان لے آئے۔ اے ہمارے رب! پس تو ہمارے گناه معاف فرمادے اور ہم سے ہماری سب برائیاں دور کر دے اور ہمیں نیک بندوں کے ساتھ موت دے۔ یا رب! ہمیں وہ کچھ عنایت فرما جس کا تو نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے ہم سے وعدہ فرمایا تھا اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کرنا، بے شک تو اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ پس ان کے پروردگار نے ان کی دعا قبول فرمالى کہ میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کا عمل ضائع نہیں کرتا، مرد ہو یا عورت، تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس ہو، لٰہذا جنھوں نے ہجرت کی اور جنھیں ان کے گھروں سے نکال دیا گیا اور انھیں میری راه میں تکلیف دی گئی اور وہ لڑے اور قت کردیے گئے تو میں ضرور ان سے ان کی برائیاں دور کروں گا اور یقینََا انھیں ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، (یہ سب کچھ) اللہ کی طرف سے صلے کے طور پر ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کے پاس بہترین صلہ ہے۔ تمھیں کافروں کا شہروں میں گھومنا پھرنا ہرگز دھوکا نہ دے۔ یہ فائدہ تو معمولی ہے، اس کے بعد ان کا ٹھکانا تو جہنم ہے اور وہ برى جگہ ہے۔ تاہم جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے، ان کے لیے ایسے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے (یہ سب کچھ) اللہ کی طرف سے مہمانی کے طور پر ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے، وہ نیکوں کے لیے بہت بہتر ہے۔ اور یقینََا کچھ اہلِ کتاب ایسے ہیں جو اللہ پر اور جو کچھ تمھاری طرف نازل کیا گیا اور جو کچھ ان کی طرف نازل کیا گیا، اس پر ایمان لاتے ہیں، وہ اللہ کے سامنے جھکنے والے ہیں، وہ اللہ تعالی کی آیتوں کو معمولی قیمت کے عوض نہیں بیچتے۔ یہی لوگ ہیں جن کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہے، بے شک اللہ تعالی جلد حساب لینے والا ہے۔ اے ایمان والو! صبر کرو، (مقابلے کے وقت) ثابت قدم رہو اور مورچہ بند ہوکر تیار رہو اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔‘‘ [18] [آل عمران‘ آیت: 190-200] [18]۔ [18] صحیح بخارى مع الفتح : 8/ 337، حدیث : 4569، اور صحيح مسلم : 1/ 530، حدیث : 256۔
2 ـ لباس پہننے کی دعا
’’ہر قسم کی تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے مجھے یہ (لباس) پہنایا اور مجھے میری ذاتی قوت اور طاقت کے بغیر یہ عطا کیا۔‘‘ [19] [19] نسائی کے علاوہ تمام اصحابِ سنن نے اس کو روایت کیا ہے: سنن ابو داود، حدیث : 4023، جامع ترمذی، حدیث : 3458، سنن ابن ماجہ، حدیث : 3285، اور إرواء الغليل : 7/47 میں امام البانی نے اس کو حسن قرار دیا ہے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ کَسَانِیْ ہٰذَا الثَّوْبَ وَرَزَقَنِیْہِ مِنْ غَیْرِ حَوْلٍ مِّنِّیْ وَلَا قُوَّۃٍ
3 ـ نیا لباس پہننے کی دعا
’’اے اللہ ! تیرے ہی لیے ہر قسم کی تعریف ہے، تجھی نے مجھے یہ پہنایا، میں تجھی سے سوال کرتاہوں اس کی بھلائی کا اور اس کام کی بھلائی کا جس کے لیے اسے بنایا گیا ہے اور میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس کے شر سے اور اس کام کے شر سے جس کے لیے اسے بنایا گیا ہے۔‘‘ [20] [20] سنن ابو داود، حدیث : 4020، جامع ترمذی: حدیث : 1767، بغوی: 12/ 40، اور دیکھیے: مختصر شمائل الترمذي از البانی، ص47۔
اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ کَسَوْتَنِیْہِ، اَسْاَلُکَ مِنْ خَیْرِہٖ وَخَیْرِ مَا صُنِعَ لَہٗ، وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّہٖ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَہٗ
4 ـ نیا لباس پہننے والے کے لیے دعا
’’تم اسے بوسیدہ کرو اور اللہ تعالی (تمھیں) اس کے عوض اور دے۔‘‘[21] [21] سنن ابی داود 4/ 41، حدیث : 4020، اور دیکھیے: صحيح ابی داود : 2/760۔
تُبْلِیْ وَ یُخْلِفُ اللّٰہُ تَعَالٰی
’’نیا لباس پہنو اور قابلِ تعریف زندگی بسر کرو اور تم شہید بن کر فوت ہو۔‘‘ [22] [22] ابن ماجہ 2/ 1178، حدیث : 3558، بغوی: 12/41، اور دیکھیے : صحيح ابن ماجہ 2/275 ۔
اِلْبَسْ جَدِیْدًا، وَ عِشْ حَمِیْدًا، وَ مُتْ شَہِیْدًا
5 ـ لباس اتارتے وقت کیا پڑھے ؟
’’اللہ تعالی کے نام کے ساتھ۔‘‘ [23] [23] جامع ترمذی: 2/ 505، حدیث : 606، وغيره، دیکھیے : إرواء الغليل، حدیث : 50، اور صحيح الجامع : 3/203۔
بسم اللہ
6 ـ بیت الخلا میں داخل ہونے کی دعا
’’[اللہ کے نام کے ساتھ] اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں خبیثوں اور خبیثنیوں سے۔‘‘ [24] [24] صحیح بخاری: 1/ 45، حدیث : 142، صحیح مسلم: 1/ 283، حدیث: 375، اس دعا کے شروع میں : ((بسم الله)) کا اضافہ سعيد بن منصور نے روایت کیا ہے، دیکھیے : فتح الباری: 1/244۔
[بِسْمِ اللّٰہِ] اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْخُبْثِ وَ الْخَبَائِثِ
7 ـ بیت الخلا سے نکلنے کی دعا
’’(اے اللہ ! میں) تیری بخشش (چاہتاہوں۔)‘‘ [25] [25] نسائی کے علاوہ تمام اصحابِ سنن نے اس کو روایت کیا ہے، اور نسائی نے عمل الیوم واللیلۃ میں اس کو روایت کیا ہے، حدیث : 79، سنن ابو داود، حدیث : 30، جامع ترمذی، حدیث : 7، سنن ابن ماجه، حدیث : 300، اور البانی نے صحیح سنن ابی داود : 1/ 19 میں اس کو صحیح قرار دیا ہے۔
غُفْرَانَک
8 ـ وضوع سے پہلے کا ذکر
’’اللہ تعالی کے نام کے ساتھ۔‘‘ [26] [26] سنن ابو داود، حدیث : 101، سنن ابن ماجہ، حدیث :397، مسند احمد، حدیث :9418، اور دیکھیے : إرواء الغليل 1/122۔
بسم اللہ
9 ـ وضو کے بعد کا ذکر
’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اوراس کے رسول ہیں۔‘‘ [27] [27] صحیح مسلم: 1/209، حدیث نمبر: 234
اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ
’’اے اللہ! مجھے بہت توبہ کرنے والوں میں سے بنادے اور مجھے بہت پاک صاف رہنے والوں میں سے کردے۔‘‘ [28] [28] جامع ترمذی: 1/ 78، حدیث : 55، اور دیکھیے: صحيح ترمذی، 1/18۔
اَللّٰہُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنَ التَّوَّابِیْنَ وَاجْعَلْنِیْ مِنَ الْمُتَطَہِّرِیْن
’’پاک ہے تو اے اللہ! اپنی تعریفوں کے ساتھ، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں۔‘‘ [29] [29] نسائی، عمل الیوم واللیلۃ، ص 173‘ دیکھیں: ارواء الغلیل: 1/135، 3/94۔
سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَ بِحَمْدِکَ، اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ، اَسْتَغْفِرُکَ وَ اَتُوْبُ اِلَیْک
10 ـ گھر سے نکلتے وقت کا ذکر
’’(میں اس گھر سے ) اللہ کے نام کے ساتھ (نکل رہاہوں)، میں نے اللہ پر بھروسہ کیا اور گناہ سے بچنے کی ہمت ہے نہ نیکی کرنے کی طاقت مگر اللہ ہی کی توفیق سے۔‘‘ [30] [30] سنن ابو داود : 4/ 325، حدیث : 5095، جامع ترمذی: 5/ 490، حدیث : 3426، اور دیکھیے : صحيح ترمذی:3/151۔
بِسْمِ اللّٰہِ، تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ
’’اے اللہ ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں (اس بات سے) کہ میں گمراہ ہو جاؤں یا مجھے گمراہ کردیا جائے، يا میں پھسل جاؤں یا مجھے پھسلا دیا جائے، يا میں ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے، يا میں کسی سے جہالت سے پیش آؤں یا میرے ساتھ جہالت سے پیش آیا جائے۔‘‘ [31] [31] اصحابِ سنن : سنن ابو داود، حدیث : 5094، جامع ترمذی، حدیث : 3427، نسائی، حدیث : 5501، ابن ماجہ، حدیث : 3884، اور دیکھیے: صحيح ترمذی: 3/152، صحيح ابن ماجہ : 2/336 ۔
اللّٰہُمَّ اِنِّی اَعُوْذُ بِکَ اَنْ اَضِلَّ، اَوْ اُضَلَّ، اَوْ اَزِلَّ، اَوْ اُزَلَّ، اَوْ اَظْلِمَ، اَوْ اُظْلَمَ، اَوْ اَجْہَلَ، اَوْ یُجْہَلَ عَلَیَّ
11 ـ گھر میں داخل ہوتے وقت کا ذکر
’’اللہ کےنام کےساتھ ہم ( گھرمیں) داخل ہوئے اور اللہ ہی کے نام کے ساتھ ہم نکلے اور اپنے رب ہی پر ہم نے توکل کیا، پھر اپنے اہل خانہ کو سلام کرے۔‘‘ [32] [32] سنن ابو داود : 4/ 325، حدیث : 5096، علامہ ابن باز نے تحفة الأخيار ص28 میں اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے، اور صحیح مسلم میں ہے: ((جب آدمی اپنے گھر میں داخل ہوتا ہے اور داخل ہوتے اور کھانا کھانے کے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیتا ہے تو شیطان کہتا ہے: تمہارے لیے یہاں رات گزارنے کی جگہ نہیں ہے اور نہ رات کا کھانا ہے۔))، صحیح مسلم، حدیث : 2018۔
بِسْمِ اللّٰہِ وَلَجْنَا، وَبِسْمِ اللّٰہِ خَرَجْنَا، وَعَلٰی اللّٰہِ رَبِّنَا تَوَکَّلْنَا
12 ـ مسجد کی طرف جانے کی دعا
’’اے اللہ ! میرے دل میں نور پیدا فرمادے اور میری زبان میں بھی نور، میرے کانوں میں بھی نور اور میری نگاہ میں بھی نور، میرے اوپر بھی نور اور میرے نیچے بھی نور، میرے دائیں بھی نور اور میرے بائیں بھی نور، میرے سامنے بھی نور اور میرے پیچھے بھی نور، اور میرے نفس میں بھی نور پیدا فرمادے اور میرے نور کو خوب زیادہ کر، مجھے بہت زیادہ نور عطا کر اور میرے لیے (ہر طرف) نور کردے اور مجھے نور بنادے، اے اللہ ! مجھے نور عطا کر اور میرے پٹھے میں نور کردے اور میرے گوشت میں بھی اور میرے خون میں بھی اور میرے بالوں میں بھی اور میری جلد میں بھی نور کردے۔‘‘ [33] [33] دیکھیے یہ تمام الفاظ صحیح بخاری میں: 11/ 116، حدیث : 3166، اور صحیح مسلم میں : 1/ 526، و529، و530، حدیث : 763۔ .
اللّٰہمَّ اجْعَلْ فِیْ قَلْبِیْ نُوْرًا، وَ فِیْ لِسَانِیْ نُوْرًا، وَ فِیْ سَمْعِیْ نُوْرًا، وَ فِیْ بَصَرِیْ نُوْرًا، وَ مِنْ فَوْقِیْ نُوْرًا، وَمِنْ تَحْتِیْ نُوْرًا، وَ عَنْ یَّمِیْنِیْ نُوْرًا، وَ عَنْ شِمَالِیْ نُوْرًا، وَ مِنْ اَمَامِیْ نُوْرًا، وَ مِنْ خَلْفِیْ نُوْرًا، وَاجْعَلْ فِیْ نَفْسِیْ نُوْرًا، وَ اَعْظِمْ لِیْ نُوْرًا، وَ عَظِّمْ لِیْ نُوْرًا، وَاجْعَلْ لِیْ نُوْرًا، وَاجْعَلْنِیْ نُوْرًا، اللّٰہمَّ اَعْطِنِیْ نُوْرًا، وَاجْعَلْ فِیْ عَصَبِیْ نُوْرًا، وَ فِیْ لَحْمِیْ نُوْرًا، وَ فِیْ دَمِیْ نُوْرًا، وَ فِیْ شَعْرِیْ نُوْرًا، وَ فِیْ بَشَرِیْ نُوْرًا
’’اے اللہ ! میرے لیے میری قبر میں نور کردے... اور میری ہڈیوں میں بھی۔‘‘ [34] ’’اور مجھے اور نور عطا کر، میرے نور میں زیادتى عطا فرما، مجھ کو زیادہ سے زیادہ نور عطا فرما۔‘‘ [35] ’’اور مجھے نور پر نور عطا فرما۔‘‘ [36] [34] سنن ترمذی، 5/483، حدیث نمبر: 3419 [35] بخاری نے اسے الأدب المفرد میں روایت کیا ہے، حدیث : 695، ص258 اور البانی نے صحيح الأدب المفرد میں اس کو صحیح کہا ہے، حدیث :536۔ [36] اسے ابن حجر نے فتح الباری میں ذکر فرمایا اور اسے ابن ابی عاصم کی طرف منسوب کیا ہے کہ انہوں نے اسے کتاب الدعا میں ذکر فرمایا ہے۔ دیکھیے فتح الباری: 118/11، اور فرمایا: مختلف روایات سے پچیس خصلتیں جمع ہو گئیں ہیں۔
اللّٰہمَّ اجْعَلْ لِیْ نُوْرًا فِیْ قَبْرِیْ... وَ نُوْرًا فِیْ عِظَامِیْ، وَ زِدْنِیْ نُوْرًا، وَ زِدْنِیْ نُوْرًا، وَ زِدْنِیْ نُوْرًا، وَ ہَبْ لِیْ نُوْرًا عَلٰی نُوْر
13 ـ مسجد میں داخل ہونے کی دعا
20- (پہلے دایاں پاؤں اندر رکھیں) [37] اور کہیں : ’’ میں عظمت والے اللہ کی، اس کے عزت وشرف والے چہرے اور اس کی قدیم سلطنت کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود سے‘‘[38] [37] ایسا اس لئے کیا جائے گا کیونہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : ’’رسول اللہ ﷺ کی سنتوں میں سے ایک سنت یہ ہے کہ جب تم مسجد میں داخل ہونے لگو تو پہلے دایاں پاؤں اندر رکھو اور باہر نکلنے لگو تو پہلے بایاں پاؤں باہر رکھو۔‘‘ حاکم 1/ 218، حاکم نے اسے مسلم کی شرط پر صحیح کہا اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے، بیہقی نے بھى (2/ 442) اسے روایت کیا ہے، اور البانی نے سلسلة الأحاديث الصحيحة میں اس کو حسن قرار دیا ہے : 5/ 624، حدیث : 2478۔ [38] سنن ابو داود، حدیث : 466، اور دیکھیے : صحيح الجامع، حدیث : 4591۔
اَعُوْذُ بِاللّٰہِ الْعَظِیْمِ، وَ بِوَجْہِہِ الْکَرِیْمِ، وَ سُلْطَانِہِ الْقَدِیْمِ، مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ ’’اللہ کے نام کے ساتھ، اور درود‘‘ [39] ’’اور سلام ہو رسول اللہ ﷺ پر۔‘‘ [40] [39] ابن السنی، حدیث : 88، اور البانی نے الثمر المستطاب میں اس کو حسن قرار دیا ہے، ص 607۔ [40] سنن ابو داود : 1/ 126، حدیث : 465، اور دیکھیے : صحيح الجامع : 1/528۔
بِسْمِ اللّٰہِ، وَالصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ’’اے اللہ، میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔‘‘ [41] [41] صحیح مسلم : 1/ 494، حدیث : 713، سنن ابن ماجہ میں فاطمہ رضی الله عنها سے یہ دعا مروی ہے : ’’اے اللہ ! میرے گناہوں کى مغفرت فرما اور میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔‘‘ البانی نے اس کے شواہد کی وجہ سے اسے صحیح کہا ہے۔ دیکھیے : صحيح ابن ماجہ 1/128-129۔
14 ـ مسجد سے نکلنے کی دعا
"پہلے اپنا بایاں پاؤں باہر رکھے" [42] اور یہ دعا پڑھے: ’’شروع اللہ کے نام سے اور درود وسلام ہو اللہ کے رسول پر، [42] حاكم : 1/ 218، بيهقی: 2/ 442، اور البانی نے سلسلة الأحاديث الصحيحة میں اس کو حسن قرار دیا ہے: 5/ 624، حدیث : 2478۔ اس کی تخریج گزرچکی ہے۔
بِسْمِ اللّٰہِ وَ الصَّلَاۃُ وَ السَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل وکرم کا سوال کرتا ہوں،
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِك اے اللہ ! مجھے شیطان مردود سے محفوظ رکھ۔‘‘ [43]۔ [43] اس حدیث کى روایات کى تخریج کو حاشیہ نمبر 20 میں مسجد میں داخل ہونے کی دعا کے تحت ملاحظہ فرمائیں، اور ’’اے اللہ ! مجھے شیطان مردود سے بچا کے رکھ۔‘‘ کا اضافہ سنن ابن ماجہ میں ہے، دیکھیے : صحيح سنن ابن ماجہ، 1/129۔
15 ـ اذان کے اذکار
22- (1) اذان سن کر وہی الفاظ کہے جو مؤذن کہتا ہے۔ البتہ ((حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ اور حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ)) ’’آؤ ! نماز کی طرف آؤ ! آؤ کامیابی کی طرف‘‘ کے جواب میں کہے : «اللہ کے بغیر نہ کوئی (نیک کام کرنے کی) طاقت ہے اور نہ کسی (برائی سے بچنے کی) قوت۔»[44] [44] صحیح بخاری: 1/ 152، حدیث : 611، حدیث : 613، صحیح مسلم : 1/ 288، حدیث : 383۔
(جواب میں) کہے: ’’اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ اکیلے کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد (ﷺ) اس کے بندے اور رسول ہیں، میں اللہ کے رب ہونے پر، محمد (ﷺ) کے رسول ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوا۔‘‘[45] [45] صحیح مسلم، 1/290، حدیث نمبر: 386
وَأَنَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًَّا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، وَبِالإِسْلَامِ دِينًَا (یہ دعا مؤذن کے شہادتین کہنے کے بعد پڑھے۔) [46] [46] ابن خزيمۃ : 1/220۔
24-(3) مؤذن کا جواب دینے کے بعد نبی کریم ﷺ پر درود بھیجے۔ [47] [47] صحیح مسلم، 1/288، حدیث نمبر: 384.
یہ دعا پڑھے: ’’اے اللہ ! اس دعوتِ کامل اور قائم ہونے والی نماز کے رب، تو محمدﷺ کو خاص تقرب اور خاص فضیلت عطا کر اور انھیں اس مقامِ محمود پر فائز فرما جس کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے، یقینََا تو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔‘‘ [48] [48] صحیح بخاری: 1/ 152، حدیث : 614، قوسین کے درمیان جو الفاظ ہیں وہ بیہقی: 1/410 کے ہیں۔ اس کى سند کو ابن باز رحمہ اللہ نے تحفة الأخيار ص38 میں حسن قرار دیا ہے۔
اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلَاةِ القَائِمَةِ، آتِ مُحَمَّدًا الوَسِيلَةَ وَالفَضِيلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامًَا مَحمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ، [إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ المِيعَاد]
(اذان اور اقامت کے درمیان اپنے لیے دعا کرے کیوں کہ اس وقت دعا رد نہیں ہوتی۔) [49] [49] جامع ترمذی، حدیث: 3594، حدیث: 3595، سنن ابو داود، حدیث: 525، مسند احمد، حدیث: 12200، اور دیکھیے: إرواء الغليل، 1/262۔
16 ـ استفتاح (نماز شروع کرنے) کی دعا
’’اے اللہ ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان دوری کر دے جیسے تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان دوری پیدا فرمائی ہے۔ اے اللہ ! مجھے میرے گناہوں سے صاف کر دے جس طرح سفید کپڑا میل سے صاف کیا جاتا ہے۔ اے اللہ ! مجھ سے میرے گناہ برف، پانی اور اولوں کے ساتھ دھو دے۔‘‘ [50] [50] صحیح بخاری: 1/ 181، حدیث : 744، صحیح مسلم : 1/ 419، حدیث: 598۔
’’اے اللہ ! میں تیری حمد کے ساتھ تیری پاکیزگی بیان کرتا ہوں اور تیرا نام بہت بابرکت ہے اور تیری شان بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے۔‘‘ [51] [51] صحیح مسلم، حدیث: 399، اصحاب سنن اربعہ: سنن ابو داود، حدیث : 775، جامع ترمذی، حدیث: 243، سنن ابن ماجه، حدیث: 806، سنن نسائی، حدیث: 899، دیکھیے: صحيح ترمذی: 1/77، اور صحيح ابن ماجہ : 1/135۔
سُبْحانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُك
میں نے یکسو ہو کر اپنا چہرہ اس ہستی کی طرف پھیر دیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ یقینََا میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لیے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی بات کا حکم ہوا ہے اور میں اللہ کے فرماں برداروں میں سے ہوں۔ اے اللہ ! تو ہی بادشاہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں، میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور میں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کیا، لہذا تو میرے سب گناہ معاف فرمادے، تیرے سوا کوئی گناہ معاف نہیں کرسکتا اور بہترین اخلاق کی طرف میری رہنمائی فرما، تیرے سوا کوئی بھی بہترین اخلاق کی طرف رہنمائی نہیں کرسکتا اور مجھ سے سارے برے اخلاق ہٹا دے، تیرے سوا کوئی بھی مجھ سے برے اخلاق نہیں ہٹا سکتا، میں حاضر اور تابع فرمان ہوں، تمام تر بھلائی تیرے ہاتھوں میں ہے اور برائی تیری طرف منسوب نہیں ہو سکتی، میری توفیق تیری ہی وجہ سے ہے، التجا بھی تیری طرف ہے، تو بہت بابرکت اور بڑا بلند ہے، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں۔‘‘ [52] [52] مسلم : 1/ 534، حدیث : 771۔
وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًَا وَمَا أَنَا مِنَ المُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي، وَنُسُكِي، وَمَحْيَايَ، وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ العَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ المُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ أَنْتَ المَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبي جَمِيعًَا إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الأَخْلاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِها إِلَّا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا، لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالخَيْرُ كُلُّهُ بِيَـدَيْكَ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتوبُ إِلَيْك
’’اے اللہ ! جبریل، میکائیل اور اسرافیل کے رب! آسمانوں اور زمین کے پیدا کر نے والے! غیب اور حاضر کے جاننے والے! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان اس چیز کا فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کرتے رہے تھے۔ مجھے اپنے حکم کے ساتھ حق کی باتوں میں ہدایت دے جن میں اختلاف ہو گیا ہے، یقینََا تو ہی جسے چاہے صراطِ مستقیم کی طرف ہدایت دیتا ہے۔‘‘ [53] [53] مسلم : 1/ 534، حدیث : 770۔
اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرَائِيلَ، وَمِيْكَائِيلَ، وَإِسْرَافِيلَ، فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، عَالِمَ الغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الحَقِّ بِإِذْنِكَ إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقيم
’’اللہ سب سے بڑا ہے بہت بڑا، اللہ سب سے بڑا ہے بہت بڑا، اللہ سب سے بڑا ہے بہت بڑا۔ ہر قسم کی تعریف اللہ ہی کے لیے ہے بہت زیادہ، ہر قسم کی تعریف اللہ ہی کے لیے ہے بہت زیادہ، ہر قسم کی تعریف اللہ ہی کے لیے ہے بہت زیادہ۔ اور میں صبح وشام اللہ کی پاکیزگی بیان کرتا ہوں۔‘‘
اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًَا، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالحَمْدُ لِلَّهِ كَثيرًا، وَالحَمْدُ لِلَّهِ كَثيرًا، وَالحَمْدُ لِلَّهِ كَثيرًا، وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا تین مرتبہ «میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان سے: اس کے تکبر سے، اس کی پھونک سے، اور اس کے وسوسے سے» [54]. [54] سنن ابو داود : 1/ 203، حدیث : 764، سنن ابن ماجہ : 1/ 265، حدیث : 807، مسند احمد : 4/ 85، حدیث: 16739، اور شعيب الارناؤوط نے مسند احمد کی تحقیق میں اسے ”حسن لغيره“ کہا ہے، اور عبد القادر الارناؤوط نے امام ابن تیمیہ کی کتاب الكلم الطيب کى تخریج میں کہا: ”یہ حدیث شواہد کی بنیاد پر صحیح ہے“ حدیث : 78، البانی نے صحیح الكلم الطيب میں اسے ذکر کیا ہے حدیث : 62، اور مسلم نے اسی طرح کی حدیث ابن عمر رضي الله عنهما سے روایت کى ہے اور اس سے متعلق ایک قصہ ہے۔ 1/ 420، حدیث :601۔
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ: مِنْ نَفْخِهِ، وَنَفْثِهِ، وَهَمْزِه
’’اے اللہ ! تیرے ہی لیے ساری تعریف ہے[55]، تو نور ہے آسمانوں اور زمین کا اور (ان چیزوں کا) جو ان میں ہیں، اور تیرے ہی لیے ہر قسم کی تعریف ہے، تو منتظم ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ بھی ان میں ہے اور تیرے ہی لیے ہر قسم کی تعریف ہے، تو ہی رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور ان میں موجود چیزوں کا اور تیرے ہی لیے ساری تعریف ہے۔ تیرے لیے بادشاہت ہے آسمانوں اور زمین کی اور جو ان میں ہے اور تیرے ہی لیے ساری تعریف ہے، تو بادشاہ ہے آسمانوں اور زمین کا اور تیرے ہی لیے ساری تعریف ہے، تو حق ہے اور تیرا وعدہ حق ہے، تیری بات حق ہے، تیری ملاقات حق ہے، جنت حق ہے، آگ حق ہے، انبیاء حق ہیں، محمد ﷺ حق ہیں اور قیامت حق ہے۔ اے اللہ ! تیرے ہی لیے میں تابع ہوا اور تجھی پر میں نے توکل کیا، تجھی پر میں ایمان لایا اور تیری ہی طرف میں نے رجوع کیا، تیری ہی مدد کے ساتھ میں نے (تیرے دشمنوں سے) مقابلہ کیا اور تیری ہی طرف میں فیصلہ کے لئے آیا، لہذا تو میری مغفرت فرمادے ان سب (گناہوں) سے جو میں نے پہلے کیا ہے اور جو میں نے بعد میں کیا، جو میں نے پوشیدہ کیا اور جو کچھ سرِ عام کیا، [اور جو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے]، تو ہی (ہر چیز کو اس کے مقام تک) آگے کرنے والا ہے اور تو ہی (اس سے) پیچھے کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تو ہی میرا معبود ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، برائی سے بچنے کی ہمت ہے نہ نیکی کرنے کی طاقت مگر اللہ ہی کی توفیق سے۔‘‘ [56] [55] نبی کریم ﷺ جب رات میں تہجد کے لیے اٹھتے، تو یہ دعا پڑھتے تھے۔ [56] صحیح بخاری مع الفتح : 3/ 3، و11/ 116، و13/ 371، حدیث نمبر: 423، 465، 1120، 6317، 7385، 7442، 7499، مسلم نے اسی طرح مختصراً روایت کیا ہے، 1/ 532، حدیث : 769۔
اللَّهُمَّ لَكَ الحَمْدُ، أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، [وَلَكَ الحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ] [وَلَكَ الحَمْدُ لَكَ مُلْكُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ] [وَلَكَ الحَمْدُ أَنْتَ مَلِكُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ] [وَلَكَ الحَمْدُ] [أَنْتَ الحَقُّ، وَوَعْدُكَ الحَقُّ، وَقَوْلُكَ الحَقُّ، وَلِقاؤُكَ الحَقُّ، وَالجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ، وَمحَمَّدٌ ﷺ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ] [اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حاكَمْتُ. فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ، وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ، وَمَا أَعْلَنْتُ] [وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي] [أَنْتَ المُقَدِّمُ، وَأَنْتَ المُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ] [أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ] [وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّه]
17 ـ رکوع کی دعا
«پاک ہے میرا رب، عظمت والا»۔
سُبْحانَ رَبِّیَ العَظِیم تین دفعہ پڑھے [57]۔ [57] اسے اصحابِ سنن اور امام احمد نے روایت کیا ہے، سنن ابو داود، حدیث : 870، جامع ترمذی، حدیث : 262، سنن نسائی، حدیث : 1007، سنن ابن ماجہ، حدیث : 897، مسند احمد، حدیث : 3514۔ نیز دیکھیے: صحيح ترمذی، 1/83۔
’’پاک ہے تو اے اللہ ! اے ہمارے رب! اپنی تعریف کے ساتھ، اے اللہ ! میرى مغفرت فرما دے۔‘‘ [58] [58] صحیح بخاری: 1/ 99، حدیث : 794، صحیح مسلم : 1/ 350، حدیث : 484۔
’’بہت ہی پاکیزہ، انتہائی مقدس، فرشتوں اور روح (جيرائیل)کا رب۔‘‘[59] [59] مسلم : 1/ 353، حدیث : 487، سنن ابو داود : 1/ 230، حدیث : 872۔
سُبُّوُحٌ، قُدُّوسٌ، رَبُّ المَلَائِكَةِ وَالرُّوح
’’اے اللہ ! میں تیرے ہی واسطے جھکا اور تجھی پر ایمان لایا اور میں تیرا ہی فرماں بردار بنا،اور میرے کانوں نے، میری آنکھوں نے، میرے دماغ نے، میری ہڈیوں نے،اور میرے پٹھوں نے [اور جسے میرے قدموں نے اٹھایا ہوا ہے] تیرے لئے اظہار عاجزی کیا۔‘‘ [60] [60] مسلم : 1/ 534، حدیث : 771، سنن اربعہ سوائے ابن ماجہ : سنن ابو داود، حدیث : 760، حدیث : 761، جامع ترمذی، حدیث : 3421، نسائی، حدیث : 1049، قوسین کے درمیان مذکور الفاظ ابن خزيمة کے ہیں، حدیث : 607، اور ابن حبان، حدیث : 1901۔
اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي، وَبَصَرِي، وَمُخِّي، وَعَظْمِي، وَعَصَبِي، [وَمَا استَقَلَّتْ بِهِ قَدَمِي]
’’پاک ہے بہت بڑی قدرت وطاقت والا اور بہت بڑی بادشاہت والا اور بڑائی اور عظمت والا۔‘‘ [61] [61] سنن ابو داود : 1/ 230، حدیث : 873، نسائی، حدیث : 1131، احمد، حدیث : 23980، اس کی سند حسن ہے۔
سُبْحَانَ ذِي الجَبَرُوتِ، وَالمَلَكُوتِ، وَالكِبْرِيَاءِ، وَالعَظَمَة
18 ـ رکوع سے اٹھنے کی دعا
’’اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی۔‘‘ [62] [62] صحیح بخاری مع الفتح : 2/ 282، حدیث : 796۔
سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَه
’’اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے ہر قسم کی تعریف ہے، بہت زیادہ اور پاکیزہ تعریف جس میں برکت کی گئی ہے۔‘‘ [63] [63] صحیح بخاری مع الفتح : 2/ 284، حدیث : 796۔
رَبَّنَا وَلَكَ الحَمْدُ، حَمْدًا كَثيرًا طَيِّبًا مُبارَكًا فِيه
’’(اے اللہ! ہمارے پرودگار ! تیرے ہی لیے ہر قسم کی تعریف ہے) اتنی کہ جس سے آسمان بھر جائیں اور جس سے زمین بھر جائے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے وہ بھر جائے اور اس کے بعد ہر وہ چیز بھر جائے جسے تو چاہے۔ اے تعریف اور بزرگی کے لائق ! سب سے سچی بات جو بندے نے کہی جب کہ ہم سب تیرے ہی بندے ہیں (یہ ہے کہ): اے اللہ ! جو تو عطا فرمائے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو تو روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں۔ اور کسی صاحبِ حیثیت کو اس کی حیثیت تیرے ہاں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔‘‘ [64] [64] صحیح مسلم: 1/ 346، حدیث نمبر: 477
مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الأَرْضِ، وَمَا بَيْنَهُمَا، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيءٍ بَعْدُ. أَهلَ الثَّناءِ وَالمَجْدِ، أَحَقُّ مَا قَالَ العَبْدُ، وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الجَدِّ مِنْكَ الجَد
19 ـ سجدے کی دعا
«پاک ہے میرا پروردگار جو سب سے بلند ہے»
سُبْحَانَ رَبِّيَ الأَعْلَى تین دفعہ پڑھے [65]۔ [65] اسے اصحابِ سنن اور امام احمد نے روایت کیا ہے، سنن ابو داود، حدیث : 870، جامع ترمذی، حدیث: 262، سنن نسائی، حدیث : 1007،سنن ابن ماجہ، حدیث : 897، مسند احمد، حدیث : 3514، دیکھیے: صحيح ترمذی: 1/83۔
’’پاک ہے تو اے اللہ ! اے ہمارے رب! اپنی تعریف کے ساتھ، اے اللہ! میرى مغفرت فرمادے۔‘‘ [66] [66] صحیح بخاری‘ حدیث : 794، صحیح مسلم‘ حدیث : 484، دیکھیے: دعا نمبر :34۔
’’بہت ہی پاکیزہ، انتہائی مقدس، فرشتوں اور روح (جيرائیل)کا رب۔‘‘[67] [67] مسلم: 1/ 533، حدیث : 487، سنن ابو داود، حدیث : 872، دیکھیے: دعا نمبر :35۔
سُبُّوحٌ، قُدُّوسٌ، رَبُّ المَلَائِكَةِ وَالرُّوح
’’اے اللہ ! میں نے تیرے ہی لیے سجدہ کیا، تجھی پر ایمان لایا اور تیرا ہی فرماں بردار ہوا، میرا چہرہ اس ہستی کے لیے سجدہ ریز ہوا جس نے اسے پیدا کیا، اسے شکل وصورت دی اور اس کے کانوں اور آنکھوں کے شگاف بنائے، بڑا بابرکت ہے اللہ جو سب سے بہتر انداز میں مقدار مقرر کرنے والا اور صورت گرى کرنے والا ہے۔‘‘ [68] [68] مسلم : 1/ 534، حدیث : 771 وغيره۔
اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْهِيَ لِلَّذِي خَلَقَهُ، وَصَوَّرَهُ، وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الخَالِقِين
’’پاک ہے انتہائی غلبے اور بڑی بادشاہت والا اور بڑائی اور عظمت والا۔‘‘ [69] [69] سنن ابو داود : 1/ 230، حدیث : 873، سنن نسائی، حدیث : 1131، مسند احمد، حدیث: 23980، البانی نے صحيح ابی داود میں اس کو صحیح کہا ہے، 1/ 166، اس کی تخریج دعا نمبر :37 میں گزر چکی ہے۔
سُبْحَانَ ذِي الجَبَرُوتِ، وَالمَلَكُوتِ، وَالكِبْرِيَاءِ، وَالعَظَمَة
’’اے اللہ! میرے تمام گناہوں کى مغفرت فرمادے، چھوٹے اور بڑے، پہلے اور بعد والے، ظاہر اور پوشیدہ۔‘‘ [70] [70] صحیح مسلم، 1/ 230، حدیث نمبر: 483
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ: دِقَّهُ وَجِلَّهُ، وَأَوَّلَهُ وَآخِرَهُ، وَعَلَانِيَّتَهُ وَسِرَّه
’’اے اللہ! میں (تیرى) پناہ مانگتا ہوں تیری ناراضگی سے تیری رضا کے توسط سے، تیری سزا سے تیری معافی کے توسط سے اور میں تیرى پناہ مانگتا ہوں تجھ سے (يعنی تیرے عذاب سے)، میں تیری پوری تعریف نہیں کر سکتا، تو اسی طرح ہے جیسے تو نے خود اپنے آپ کی تعریف کی ہے۔‘‘ [71] [71] صحیح مسلم، 1/352، حدیث نمبر: 486
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِك
20 ـ دو سجدوں کے درمیان کی دعا
’’اے میرے رب ! میرى مغفرت فرمادے، اے میرے رب ! میرى مغفرت فرمادے۔‘‘ [72] [72] سنن ابو داود: 1/ 231، حدیث: 874، سنن ابن ماجہ، حدیث: 897، دیکھیے: صحيح ابن ماجہ : 1/ 148۔
’’اے اللہ! میرى مغفرت فرمادے، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت دے، میرا نقصان پورا کردے، مجھے عافیت دے، مجھے رزق دے اور مجھے بلندی عطا فرما۔‘‘ [73] [73] سنن نسائی کے علاوہ تمام اصحابِ سنن نے اس کو روایت کیا ہے، سنن ابو داود : 1/ 231، حدیث :850، جامع ترمذی، حدیث : 284، و285، سنن ابن ماجه، حدیث: 898، نیز دیکھیے: صحيح ترمذی: 1/90، اور صحيح ابن ماجہ : 1/148۔
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَاهْدِنِي، وَاجْبُرْنِي، وَعَافِنِي، وَارْزُقْنِي، وَارْفَعْنِي
21 ـ سجدۂ تلاوت کی دعا
’’میرے چہرے نے اس ذات کو سجدہ کیا جس نے اسے پیدا فرمایا اور اس نے اپنی طاقت اور قوت کے ذریعے سے اس کے کان اور آنکھ کے سوراخ بنائے، [بڑا بابرکت ہے اللہ تعالی جو سب سے بہتر انداز میں مقدار مقرر کرنے والا اور صورت گرى کرنے والا ہے]۔‘‘ [74]
سَجَدَ وَجْهِيَ لِلَّذِي خَلَقَهُ، وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ بِحَوْلِهِ وَقُوَّتِهِ، فَتَبارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الخَالِقِين [المؤمنون، آیت: 14] [74]۔ [74] جامع ترمذی: 2/ 474، حدیث: 3425، مسند احمد: 6/ 30، حدیث: 24022، حاكم نے اسے روایت کیا اور اسے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے 1/220 اور زائد الفاظ بھی حاکم کے ہیں۔
’’اے اللہ ! میرے لیے اس (سجدے) کے عوض اپنے ہاں اجر لکھ دے اور اس کی وجہ سے مجھ سے (گناہوں کا) بوجھ اتار دے اور اسے میرے لیے اپنے ہاں ذخیرہ بنادے اور اس (سجدے) کو میری طرف سے قبول فرما جیسے تو نے یہ (سجدہ) اپنے بندے داود علیہ السلام کی طرف سے قبول کیا تھا۔‘‘ [75] [75] جامع ترمذی: 2/ 473، حدیث :579، حاکم نے اسے روایت کیا اور اسے صحیح قرار دیا ہے اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے، 1/219۔
اللَّهُمَّ اكْتُبْ لِي بِهَا عِنْدَكَ أَجْرًا، وَضَعْ عَنِّي بِهَا وِزْرًا، وَاجْعَلْهَا لِي عِنْدَكَ ذُخْرًا، وَتَقَبَّلْهَا مِنِّي كَمَا تَقَبَّلْتَهَا مِنْ عَبْدِكَ دَاوُد
22 ـ تشہد
’’(میری) تمام قولی، فعلی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکات ہوں، ہم پر اور اللہ کے (دیگر) نیک بندوں پر بھی سلام ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔‘‘ [76] [76] صحیح بخاری مع الفتح : 2/ 311، حدیث :831، صحیح مسلم : 1/ 301، حدیث : 402۔
23 ـ تشہد کے بعد نبی ﷺ پر درود وسلام
’’اے اللہ! رحمت نازل فرما محمد پر اور آلِ محمد پر جیسے تو نے رحمت نازل فرمائی ابراہیم پر اور آلِ ابراہیم پر، یقینََا تو قابلِ تعریف بڑی شان والا ہے، اے اللہ ! برکت نازل فرما محمد پر اور آلِ محمد پر جیسے تو نے برکت نازل فرمائی ابراہیم پر اور آلِ ابراہیم پر، یقینََا تو قابلِ تعریف، شان والا ہے۔‘‘ [77] [77] صحیح بخاری مع الفتح : 6/ 408، حدیث : 3370، صحیح مسلم، حدیث : 406۔
’’اے اللہ! رحمت نازل فرما محمد پر اور آپ کی ازواجِ مطہرات اور آپ کی اولاد پر جیسے تو نے رحمت نازل فرمائی آلِ ابراہیم پر اور برکت نازل فرما محمد پر اور آپ کی ازواجِ مطہرات اور آپ کی اولاد پر جیسے تو نے برکت نازل فرمائی آلِ ابرہیم پر، یقینََا تو قابلِ تعریف بڑی شان والا ہے۔‘‘ [78] [78] صحیح بخاری مع الفتح : 6/ 407، حدیث : 3369، صحیح مسلم 1/ 306، حدیث : 407، الفاظ مسلم کے روایت کردہ ہیں۔
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَزْواجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيد
24 ـ آخری تشہد کے بعد سلام پھیر نے سے پہلے کی دعائیں
’’اے اللہ! بلا شبہ میں عذابِ قبر سے، عذابِ جہنم سے، زندگی اور موت کے فتنے سے اور مسیح دجال کے فتنے کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘ [79] [79] صحیح بخاری: 2/ 102، حدیث : 1377، صحیح مسلم : 1/ 412، حدیث : 588، الفاظ مسلم کے روایت کردہ ہیں۔
’’اے اللہ ! بے شک میں عذاب قبر سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور مسیح دجال کے فتنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں، اے اللہ ! یقیناً میں گناہ اور قرض سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘ [80] [80] صحیح بخاری: 1/ 202، حدیث : 832، صحیح مسلم : 1/ 412، حدیث : 587۔
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ القَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ المَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ المَحْيَا وَالمَمَاتِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ المَأْثَمِ وَالمَغْرَم
’’اے اللہ ! بلاشبہ میں نے اپنی جان پر بہت زیادہ ظلم کیا اور تیرے سوا کوئی گناہوں کو معاف نہیں کر سکتا، لہذا تو اپنی خاص بخشش سے میرى مغفرت فرمادے اور مجھ پر رحم فرما، یقینََا تو بہت مغفرت کرنے والا، انتہائی مہربان ہے۔“ [81] [81] صحیح بخاری: 8/ 168، حدیث : 834، صحیح مسلم : 4/ 2078، حدیث : 2705۔
اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ وَارْحَمْنِي، إِنَّكَ أَنْتَ الغَفُورُ الرَّحِيم
’’اے اللہ! تو میرے لئے معاف فرما دے ان (گناہوں) کو جو میں نے پہلے کیا اور جو بعد میں کیا، جو میں نے چھپ کر کیا اور جو میں نے سرِ عام کیا اور اس زیادتى کو بھى جو مجھ سے سرزد ہوئی اور اسے بھى جسے تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، تو ہی (ہر چیز کو اس کے مقام تک) آگے کرنے والا ہے اور تو ہی (اس سے) پیچھے کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے۔‘‘ [82] [82] صحیح مسلم، 1/534، حدیث نمبر: 771
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ، وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ، وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ المُقَدِّمُ، وَأَنْتَ المُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْت
’’اے اللہ! تو اپنے ذکر پر میری مدد فرما اور اپنے شکر پر اور اچھے طریقے سے اپنی عبادت بجالانے پر۔‘‘ [83] [83] سنن ابو داود : 2/ 86، حدیث : 1522، نسائی: 3/ 53، حدیث : 2302، البانی نے اسے صحيح ابی داود میں صحیح کہا ہے، 1/284۔
اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ، وَشُكْرِكَ، وَحُسْنِ عِبادَتِك
’’اے اللہ! بلاشبہ میں بخل سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور بزدلی سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور اس بات سے تیری پناہ میں آتا ہوں کہ میں عمر کے ناکارہ ترین حصے کی طرف لوٹایا جاؤں اور میں دنیا کے فتنے اور عذابِ قبر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘[84] [84] صحیح بخاری مع الفتح : 6/ 35، حدیث : 2822، 6390۔
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ البُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ العُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ القَبْر
’’اے اللہ! بے شک میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور جہنم سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘[85] [85] سنن ابی داود، حدیث : 792، ابن ماجہ، حدیث: 910، دیکھیے: صحيح ابن ماجہ : 2/328۔
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّار
’’اے اللہ! اپنے غیب جاننے اور مخلوق پر قدرت رکھنے کے باعث مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک تیرے علم کے مطابق میرے لیے زندگی بہتر ہو اور مجھے اس وقت موت دینا جب تیرے علم کے مطابق میرے لیے موت بہتر ہو، اے اللہ ! بے شک میں حاضر اور غائب (دونوں حالتوں) میں تجھ سے تیری خشیت کا سوال کرتا ہوں، میں تجھ سے خوشنودی اور ناراضگی (دونوں حالتوں) میں کلمۂ حق کی توفیق کا سوال کرتا ہوں، میں تجھ سے مالداری اور تنگ دستی میں میانہ روی کا سوال کرتا ہوں، میں تجھ سے ایسی نعمت کا سوال کرتا ہوں جو ختم نہ ہو اور تجھ سے آنکھوں کی ایسی ٹھنڈک کا سوال کرتا ہوں جو ختم نہ ہو، تجھ سے تیرے فیصلوں پر راضی رہنے کا سوال کرتا ہوں، میں تجھ سے موت کے بعد زندگی کی ٹھنڈک مانگتا ہوں، میں تجھ سے تیرے چہرے کے دیدار کی لذت کا سوال کرتا ہوں اور تیری ملاقات کے شوق کا (جو) بغیر کسی تکلیف دہ مصیبت اور گمراہ کن فتنے کے (حاصل) ہو، اے اللہ ! ہمیں ایمان کی زینت سے مزین فرما اور ہمیں ہدایت یافتہ رہنما بنادے۔‘‘ [86] [86] نسائی: 3/ 54، 55، حدیث : 1304، احمد: 4/ 364، حدیث : 21666، اور البانی نے صحيح نسائی میں اسے صحیح کہا ہے: 1/281۔
اللَّهُمَّ بِعِلْمِكَ الغَيْبَ وَقُدْرَتِكَ عَلَى الخَلقِ أَحْيِنِي مَا عَلِمْتَ الحَيَاةَ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا عَلِمْتَ الْوَفَاةَ خَيْرًا لِي، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَشْيَتَكَ فِي الغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، وَأَسْأَلُكَ كَلِمَةَ الحَقِّ فِي الرِّضَا وَالغَضَبِ، وَأَسْأَلُكَ القَصْدَ فِي الغِنَى وَالفَقْرِ، وَأَسْأَلُكَ نَعِيمًا لَا يَنْفَدُ، وَأَسْأَلُكَ قُرَّةَ عَيْنٍ لَا تَنْقَطِعُ، وَأَسْأَلُكَ الرِّضَا بَعْدَ القَضَاءِ، وَأَسْـأَلُكَ بَرْدَ العَيْشِ بَعْدَ المَوْتِ، وَأَسْأَلُكَ لَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ، وَالشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ فِي غَيرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ، وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ، اللَّهُمَّ زَيِّنَا بِزِينَةِ الإِيمَانِ، وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مُهْتَدِين
’’اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، اے اللہ ! اس لیے کہ تو واحد ہے، یکتا ہے، بے نیاز ہے جس کی کوئی اولاد نہیں ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ اس کا کوئی ہم پلہ ہے، اس بات کى کہ تو میرے لئے میرے گناہوں کى مغفرت فرمادے، یقینََا تو بہت زیادہ مغفرت کرنے والا، بڑا مہربان ہے۔‘‘ [87] [87] ان الفاظ کے ساتھ اسے نسائی نے روایت کیا ہے: 3/ 52، حدیث : 1300، احمد: 4/ 338، حدیث : 18974، اور البانی نے صحيح نسائی میں اسے صحیح کہا ہے: 1/280۔
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ يَا أَللَّهُ بِأَنَّكَ الوَاحِدُ الأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ، أَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي إِنَّكَ أَنْتَ الغَفُورُ الرَّحِّيم
’’اے اللہ ! یقینََا میں تجھ سے اس لیے سوال کر رہا ہوں کہ ہر قسم کی تعریف تیرے ہی لیے ہے، تجھ اکیلے کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، تیرا کوئی ساجھى نہیں، (تو) بے حد احسان کرنے والا ہے، اے آسمانوں اور زمین کو بے مثل پیدا کرنے والے، اے صاحبِ جلال اور عزت والے ! اے زندۂ جاوید! اے قائم ودائم ! بے شک میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور آگ سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘[88] [88] اصحابِ سنن : سنن ابی داود، حدیث : 1495، جامع ترمذی، حدیث : 3544، سنن ابن ماجہ، حدیث : 3858، سنن نسائی، حدیث : 1299، دیکھیے: صحيح ابن ماجہ : 2/329۔
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الحَمْدَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، المَنَّانُ، يَا بَدِيعَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ يَا ذَا الجَلَالِ وَالإِكْرَامِ، يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ إِنِّي أَسْأَلُكَ الجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّار
’’اے اللہ ! بلا شبہ میں تجھ سے اس لیے سوال کر رہا ہوں کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تو یکتا ہے، بے نیاز ہے جس کی کوئی اولاد نہیں ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور کوئی بھی اس کا ہم پلہ نہیں۔‘‘[89] [89] سنن ابی داود : 2/ 62، حدیث : 1493، جامع ترمذی: 5/ 515، حدیث : 3475، سنن ابن ماجہ : 2/ 1267، حدیث : 3857، سنن نسائی، حدیث : 1300، مسند احمد، حدیث : 18974، لفظ سنن نسائی کے ہیں، البانی نے صحيح نسائی: 1/280میں اسے صحیح کہا ہے ، دیکھیے: صحيح ابن ماجہ : 2/ 329، اور صحيح ترمذی: 3/ 163۔
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَد
25 ـ سلام پھیرنے کے بعد کے اذکار
"میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں"
أَسْتَغْفِرُ اللّٰہ (تین مرتبہ) ’’اے اللہ ! تو ہی سلامتی والا ہے اور تیری ہی طرف سے سلامتی ہے، تو بہت با برکت ہے اے بڑی شان اور عزت والے!۔‘‘ [90] [90] مسلم : 1/ 414، حدیث :591۔
اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الجَلَالِ وَالإِكْرَام
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ، لَہٗ الْمُلْکُ وَ لَہٗ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ [تین مرتبہ] "اے اللہ! جو تو عطا کرے اسے کوئی روکنے والا نہیں، جو تو روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں، اور کسی مالدار کو اس کی مالداری تیرے مقابلے میں نفع نہیں دے سکتی"[91]۔ [91] صحیح بخاری: 1/ 255، حدیث : 844، صحيح مسلم : 1/ 414، حدیث : 593، قوسین کے درمیان مذکور الفاظ بخاری کے ہیں، حدیث: 6473۔
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ، لَہٗ الْمُلْکُ، وَ لَہٗ الْحَمْدُ، وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ، لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، وَ لَا نَعْبُدُ اِلَّا اِیَّاہُ، لَہٗ النِّعْمَۃُ وَ لَہٗ الْفَضْلُ وَ لَہٗ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُخْلِصِیْنَ لَہٗ الدِّیْنَ وَ لَوْ کَرِہَ الْکَافِرُوْنَ "اللہ پاک ہے، اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اور اللہ سب سے بڑا ہے"
سُبْحَانَ اللَّہِ، وَالحَمْدُ لِلَّہِ، وَاللَّہُ أَكْبَر (تینتیس مرتبہ) "اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے" [93]۔ [93] صحيح مسلم ؛ 1/ 418، حدیث : 597، صحیح مسلم کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: ’’جو شخص ہر نماز کے بعد یہ ذکر کرے، اس کے گناہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں تب بھی ان کى مغفرت ہو جاتی ہے۔‘‘
”آپ کہہ دیجیے کہ وه اللہ ایک (ہی) ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔ اور نہ ہی اس کا کوئی ہم پلہ ہے۔‘‘ [الإخلاص: 1-4]۔
”آپ کہہ دیجیے کہ میں پناه میں آتا ہوں صبح کے رب کی۔ اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی۔ اور اندھیرا کرنے والی (رات) کے شر سے جب وہ چھا جائے۔ اور ان کے شر سے جو پھونکنے والی ہیں گرہوں میں۔ اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔‘‘ (الفلق : 1-5)۔
”آپ کہہ دیجیے کہ میں پناه میں آتا ہوں لوگوں کے رب کی۔ لوگوں کے بادشاہ کی لوگوں کے معبود کی۔ اس شیطان کے شر سے جو وسوسہ ڈالنے والا کھسک جانے والا ہے۔ جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ جنوں میں سے اور انسانوں میں سے۔‘‘ [الناس: 1-6]۔
ہر نماز کے بعد۔ [94] [94] سنن ابو داود : 2/ 86، حدیث : 1523، جامع ترمذي، حدیث : 2903، سنن نسائی: 3/ 68، حدیث : 1335، دیکھیے: صحيح ترمذی: 2/8. تینوں سورتوں کو معوذات کہا جاتا ہے۔ دیکھیے : فتح الباری: 9/ 62۔
’’ اللہ (وہ ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ زندہ اور قائم ودائم اور سب کو تھامنے والا ہے، اسے اونگھ آتی ہے نہ نیند، اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اورجو کچھ زمین میں ہے، کون ہے وہ جو اس کے ہاں سفارش کرسکے مگر اس کی اجازت سے؟ وہ جانتا ہے جو کچھ لوگوں کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے، اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جس قدر وہ خود چاہے، اس کی کرسی نے آسمانوں اور زمین کو گھیر رکھا ہے اور اسے ان دونوں کی حفاظت نہیں تھکاتی اور وہ بلند تر، نہایت عظمت والا ہے۔‘‘ [ البقرة: 255]۔ ہر نماز کے بعد۔ [95] [95] جو شخص ہر نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھے، اسے جنت میں داخل ہونے سے موت کے سوا کوئی چیز نہیں روکے گی۔ نسائی، عمل اليوم والليلة، حدیث : 100، ابن سنی‘ حدیث : 121، البانی نے صحيح الجامع 5/339، اور سلسلة الأحاديث الصحيحة: 2/697، حدیث : 972 میں اس کو صحیح کہا ہے۔
«اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، وہی زندہ کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے۔»
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ، لَہٗ الْمُلْكُ وَ لَہٗ الْحَمْدُ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ فجر اور مغرب کی نماز کے بعد دس مرتبہ یہ دعا پڑھے۔ [96] [96] جامع ترمذی: 5/ 515، حدیث : 3474، احمد: 4/ 227، حدیث : 17990، تخریج کے لیے دیکھیے: زاد المعاد : 1/300۔
«اے اللہ! بے شک میں تجھ سے نفع بخش علم، پاکیزہ رزق اور قبول ہونے والا عمل مانگتا ہوں۔»
اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ عِلْمًا نَّافِعًا، وَ رِزْقًا طَیِّبًا، وَ عَمَلًا مُّتَقَبَّلًا فجر کی نماز کے بعد یہ دعا پڑھے۔ [97] [97] ابن ماجہ حدیث : 925، نسائی، عمل اليوم والليلة، حدیث : 102، دیکھیے: صحيح ابن ماجہ: 1/152، اور مجمع الزوائد : 10/111۔ اس کا ذکر آگے 95 نمبر کے تحت آئے گا-
26 ـ نماز استخارہ کی دعا
74- حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں تمام کاموں میں استخارہ کرنے کی ایسے ہی تعلیم دیتے جیسے قرآن کریم کی کسی سورت کی تعلیم دیتے۔ آپ فرماتے: "جب تم میں سے کسی کو کوئی اہم معاملہ درپیش ہو، تو وہ دو رکعت نفل نماز ادا کرے، پھر یہ دعا پڑھے: اے اللہ! بے شک میں تجھ سے تیرے علم کے ساتھ بھلائی طلب کرتا ہوں اور تجھ سے تیری قدرت کے ساتھ طاقت طلب کرتا ہوں اور میں تجھ سے تیرے فضل عظیم کا سوال کرتا ہوں کیونکہ تو قدرت رکھتا ہے اور میں قدرت نہیں رکھتا، تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا اور تو غیبوں کو خوب جانتا ہے، اے اللہ ! اگر تو جانتا ہے کہ بے شک یہ کام -اور اپنى حاجت کا نام لے- میرے لیے میرے دین، میرے معاش اور میرے انجام کار -یا فرمایا: جلدى یا دیر- کے لحاظ سے بہتر ہے تو اس کا میرے حق میں فیصلہ کردے اور اسے میرے لیے آسان کردے، پھر میرے لیے اس میں برکت ڈال دے اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لیے میرے دین، میرے معاش اور میرے انجام کار -یا فرمایا: جلدى یا دیر- کے لحاظ سے برا ہے تو اسے مجھ سے دور کردے اور مجھے اس سے دور کردے اور میرے لیے بھلائی کا فیصلہ کردے جہاں بھی وہ ہو، پھر مجھے اس پر راضی کردے۔‘‘ [98] [98] صحیح بخاری، 7/ 162، حدیث نمبر: 1162
اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْتَخِیْرُکَ بِعِلْمِکَ، وَ اَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ، وَاَسْاَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیْمِ؛ فَاِنَّکَ تَقْدِرُ وَ لَا اَقْدِرُ، وَ تَعْلَمُ وَ لَا اَعْلَمُ، وَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ، اَللّٰہُمَّ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ اَنَّ ہٰذَا الْاَمْرَ خَیْرٌ لِّیْ فِیْ دِیْنِیْ وَ مَعَاشِیْ وَ عَاقِبَۃِ اَمْرِیْ – اَوْ قَالَ: عَاجِلِہٖ وَ آجِلِہٖ – فَاقْدُرْہُ لِیْ وَ یَسِّرْہُ لِیْ ثُمَّ بَارِکْ لِیْ فِیْہِ، وَ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ اَنَّ ہٰذَا الْاَمْرَ شَرٌّ لِّیْ فِیْ دِیْنِیْ وَ مَعَاشِیْ وَ عَاقِبَۃِ اَمْرِیْ – اَوْ قَالَ: عَاجِلِہٖ وَ آجِلِہٖ – فَاصْرِفْہُ عَنِّیْ وَاصْرِفْنِیْ عَنْہُ وَاقْدُرْ لِیَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ، ثُمَّ اَرْضِنِیْ بِہٖ
جو شخص اللہ تعالیٰ سے استخارہ کرے اور مومن مخلوق سے مشورہ کرے اور پھر ثابت قدمی سے وہ کام سرانجام دے تو اسے ندامت نہیں ہوتی، فرمانِ باری تعالی ہے : ’’...اور ان سے اہم کام میں مشورہ کریں، پھر جب آپ پختہ ارادہ کرلیں تو اللہ پر توکل کری...۔‘‘ [99] [99] سورة آل عمران، آیت : 159۔
27 ـ صبح و شام کے اذکار
"تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو یکتا ہے اور درود وسلام ہو اس پر جس کے بعد کوئی نبی نہیں"۔ [100] [100] انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’مجھے ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے چار غلاموں کو آزاد کرنے سے زیادہ پسند ہے جو نمازِ فجر سے طلوعِ آفتاب تک اللہ کا ذکر کرتے ہیں، اور مجھے ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھنا چار (غلام) آزاد کرنے سے زیادہ پسند ہے جو نمازِ عصر سے غروب آفتاب تک اللہ تعالی کا ذکر کریں’’- سنن ابی داود، حدیث : 3667، امام البانی نے صحيح ابی داود میں اس حدیث کو حسن کہا ہے، 2/698۔
75-(1)’’میں پناہ چاہتا ہوں اللہ کی شیطان مردود سے۔‘‘
’’ اللہ (وہ ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ زندہ اور قائم ودائم اور سب کو تھامنےوالا ہے، اسے اونگھ آتی ہے نہ نیند، اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، کون ہے وہ جو اس کے ہاں سفارش کرسکے مگر اس کی اجازت سے؟ وہ جانتا ہے جو کچھ لوگوں کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے، اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جس قدر وہ خود چاہے، اس کی کرسی نے آسمانوں اور زمین کو گھیر رکھا ہے اور اسے ان دونوں کی حفاظت نہیں تھکاتی اور وہ بلند تر اور نہایت عظمت والا ہے۔‘‘ [101] [البقرۃ‘ آیت: 255][101]. [101] "جو شخص صبح کے وقت آیۃ الکرسی پڑھے وہ شام تک جنوں سے محفوظ رہتا ہے اور جو اسے شام کے وقت پڑھے وہ صبح تک ان سے محفوظ رہتا ہے، حاكم : 1/562، البانی نے صحيح الترغيب والترهيب میں اسے صحیح کہا ہے، 1/273، اور اسے نسائی اور طبرانی کی طرف منسوب کیا ہے اور کہا کہ اس کی سند جید ہے۔
”آپ کہہ دیجیے کہ وه اللہ ایک (ہی) ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔ اور نہ ہی اس کا کوئی ہم پلہ ہے۔‘‘ [الاخلاص‘ آیت: 1-4]۔
”آپ کہہ دیجیے کہ میں پناه میں آتا ہوں صبح کے رب کی۔ اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی۔ اور اندھیرا کرنے والی (رات) کے شر سے جب وہ چھا جائے۔ اور ان کے شر سے جو پھونکنے والی ہیں گرہوں میں۔ اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔‘‘ (الفلق‘ آیت : 1-5)۔
”آپ کہہ دیجیے کہ میں پناه میں آتا ہوں لوگوں کے رب کی۔ لوگوں کے بادشاہ کی۔ لوگوں کے معبود کی۔ اس شیطان کے شر سے جو وسوسہ ڈالنے والا کھسک جانے والا ہے۔ جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ جنوں میں سے اور انسانوں میں سے۔‘‘ [الناس‘ آیت: 1-6]۔ (تین دفعہ پڑھے) [102]۔ [102] "جو شخص انہیں تین دفعہ صبح اور تین دفعہ شام کے وقت پڑھے یہ اس کے لیے دنیا کی ہر چیز سے کافی ہوجاتی ہیں"۔ سنن ابو داود : 4/ 322، حدیث : 5082، جامع ترمذی: 5/ 567، حدیث : 3575، اور دیکھیے : صحيح ترمذی: 3/182۔
’’ہم نے صبح کی اور اللہ کے سارے ملک نے صبح کی اور ساری تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے ساری تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے، اے میرے رب! میں تجھ سے اس دن کی بہتری کا سوال کرتا ہوں اور اس دن کی بہتری کا جو اس کے بعد آنے والا ہے اور میں اس دن کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور اس کے بعد آنے والے دن کے شر سے، اے میرے رب! میں کاہلی اور بڑھاپے کی خرابی سے تیری پناہ میں آتا ہوں، اے میرے رب! میں آگ کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘ [103] [103] صحیح مسلم: 4/2088، حدیث نمبر: 2723۔
اَصْبَحْنَا وَ اَصْبَحَ الْمُلْکُ لِلّٰہِ، وَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ، لَہٗ الْمُلْکُ وَ لَہٗ الْحَمْدُ وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ، رَبِّ اَسْاَلُکَ خَیْرَ مَا فِیْ ہٰذَا الْیَوْمِ وَ خَیْرَ مَا بَعْدَہٗ، وَ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا فِیْ ہٰذَا الْیَوْمِ وَ شَرِّ مَا بَعْدَہٗ، رَبِّ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْکَسَلِ وَ سُوْٓءِ الْکِبَرِ، رَبِّ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابٍ فِی النَّارِ وَ عَذَابٍ فِی الْقَبْرِ
اور جب شام ہو تو یہ دعا پڑھے: «ہم نے شام کی اور اللہ کی ساری بادشاہی نے شام کی، اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اے میرے رب! میں تجھ سے اس رات کی بھلائی اور اس کے بعد آنے والی بھلائی کا سوال کرتا ہوں، اور میں اس رات کے شر اور اس کے بعد آنے والے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اے میرے رب! میں سستی اور بڑھاپے کی خرابی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اے میرے رب! میں جہنم کے عذاب اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں» [104]۔ [104] سابقہ حوالہ۔
اَمْسَیْنَا وَاَمْسَی الْمُلْکُ لِلّٰہِ، وَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ، لَہٗ الْمُلْکُ وَ لَہٗ الْحَمْدُ وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ، رَبِّ اَسْاَلُکَ خَیْرَ مَا فِیْ ہٰذِہِ اللَّیْلَۃِ، وَ خَیْرَ مَا بَعْدَہَا، وَ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا فِیْ ہٰذِہِ اللَّیْلَۃِ، وَ شَرِّ مَا بَعْدَہَا، رَبِّ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْکَسَلِ وَ سُوْءِ الْکِبَرِ، رَبِّ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابٍ فِی النَّارِ وَ عَذَابٍ فِی الْقَبْرِ
’’ اے اللہ! تیری ہی حفاظت میں ہم نے صبح کی اور تیری ہی حفاظت میں شام کی اور تیرے ہی نام پر ہم زندہ ہوتے ہیں اور تیرے ہی نام پر ہم مرتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔‘‘[105] [105]جامع ترمذی: 5/ 466، حدیث :3391، اور دیکھیے : صحيح ترمذی: 3/142۔
اَللّٰہُمَّ بِکَ اَصْبَحْنَا، وَبِکَ اَمْسَیْنَا، وَبِکَ نَحْیَا، وَبِکَ نَمُوْتُ وَ اِلَیْکَ النُّشُوْرُ
اور جب شام ہو تو یہ دعا پڑھے: «اے اللہ! ہم نے تیری ہی مدد سے شام کی، اور تیری ہی مدد سے ہم نے صبح کی، اور تیرے ہی سہارے ہم جیتے ہیں، اور تیرے ہی حکم سے ہم مرتے ہیں، اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے۔» [106] [106] سابقہ حوالہ۔
اَللّٰہُمَّ بِکَ اَمْسَیْنَا، وَ بِکَ اَصْبَحْنَا، وَ بِکَ نَحْیَا، وَ بِکَ نَمُوْتُ، وَ اِلَیْکَ الْمَصِیْرُ
’’اے اللہ! تو ہی میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تو نے مجھے پیدا فرمایا اور میں تیرا بندہ ہوں اور میں اپنی طاقت کےمطابق تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوں، میں تجھ سے اس چیز کے شر سے پناہ مانگتا ہوں جس کا میں نے ارتکاب کیا، میں تیرے سامنے تیرے انعام کا اقرار کرتا ہوں [107] جو مجھ پر ہوا اور میں اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہوں، لہذا تو میرى مغفرت فرمادے، حق یہ ہے کہ تیرے سوا کوئی گناہوں کى مغفرت نہیں کرسکتا۔‘‘[108] [107] یہاں حدیث میں وارد لفظ (أَبُوءُ) کا معنى ہے: اقرار کرتا ہوں، اعتراف کرتا ہوں۔ [108] "جو شخص یقین کی حالت میں شام کے وقت یہ دعا پڑھے اور اسی رات فوت ہوجائے تو وہ شخص جنت میں جائے گا اور اسی طرح (حالتِ یقین میں) جو شخص صبح کے وقت یہ دعا پڑھ لے اور شام تک فوت ہوجائے تو وہ بھی جنت میں جائے گا۔‘‘ صحیح بخاري 7/ 150، حدیث : 6306۔
(اے ﷲ! میں نے صبح کی، تجھے گواہ بناتا ہوں اور تیرے حاملین عرش، دوسرے فرشتوں اور تیری ساری مخلوق کو گواہ بناتا ہوں کہ بے شک تو ہی ﷲ ہے، تیرے ایک اکیلے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، تیرا کوئی ساجھی نہیں اور بے شک محمد (ﷺ) تیرے بندے اور رسول ہیں)۔
اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَصْبَحْتُ اُشْہِدُکَ، وَ اُشْہِدُ حَمَلَۃَ عَرْشِکَ، وَمَلٰٓئِکَتَکَ، وَ جَمِیْعَ خَلْقِکَ، اَنَّکَ اَنْتَ اللّٰہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ وَحْدَکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ، وَ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُوْلُکَ چار مرتبہ [109] [109] "جو شخص یہ دعا صبح یا شام چار مرتبہ پڑھے گا اللہ تعالی اسے آگ سے آزاد کردے گا"۔ سنن ابو داود : 4/ 317، حدیث : 5071، الأدب المفرد، بخاری، حدیث : 1201، عمل اليوم والليلة، نسائی، حدیث : 9، ابن سنی، حدیث : 70۔ شيخ ابن باز –رحمه الله- نے نسائی اور ابو داود کی سند کو حسن قرار دیا ہے، دیکھیے: تحفة الأخيار، ص23۔
اور جب شام ہو تو یہ دعا پڑھے: «اے اللہ! میں نے اس حال میں شام کی کہ میں تجھے گواہ بناتا ہوں، اور تیرے عرش اٹھانے والوں کو، تیرے فرشتوں کو، اور تیری تمام مخلوق کو کہ بے شک تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں، اور بے شک محمد تیرے بندے اور رسول ہیں»
اللَّهُمَّ إِنِّي أَمْسَيْتُ أُشْهِدُكَ، وَأُشْهِدُ حَمَلَةَ عَرْشِكَ، وَمَلَائِكَتِكَ، وَجَمِيعَ خَلْقِكَ، أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُك چار مرتبہ [110] [110] سابقہ حوالہ۔
’’اے اللہ ! صبح کے وقت مجھ پر یا تیری مخلوق میں سے کسی پر جو بھی انعام ہوا ہے، وہ تیری ہی طرف سے ہے، تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، چنانچہ تیرے ہی لیے ساری تعریف ہے اور تیرے ہی لیے شکر ہے۔‘‘ [111] [111] "جس نے یہ دعا صبح کے وقت پڑھی تو اس نے دن کا شکر ادا کر دیا اور جس نے یہ دعا شام کے وقت پڑھی تو اس نے رات کا شکر ادا کر دیا"۔ سنن ابو داود: 4/ 318، حدیث : 5075، عمل اليوم والليلة، نسائی، حدیث : 7، ابن سنی، حدیث :41، ابن حبان، ((موارد)) حدیث : 2361۔ شیخ ابن باز –رحمه الله- نے اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے۔ دیکھیے: تحفة الأخيار، ص24۔
اَللّٰہُمَّ مَا اَصْبَحَ بِیْ مِنْ نِّعْمَۃٍ اَوْ بِاَحَدٍ مِّنْ خَلْقِکَ فَمِنْکَ وَحْدَکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ، فَلَکَ الْحَمْدُ وَلَکَ الشُّکْرُ
اور جب شام ہو تو یہ دعا پڑھے: «اے اللہ! اس شام مجھ پر یا تیری مخلوق میں سے کسی پر جو بھی نعمت ہوئی، وہ اکیلے تیری ہی طرف سے ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، چنانچہ تیرے ہی لیے ساری تعریفیں ہیں اور تیرے ہی لیے شکر ہے۔»[112] [112] حوالہ سابق۔
اللَّهُمَّ مَا أَمْسَى بِي مِنْ نِعْمَةٍ أَوْ بِأَحَدٍ مِنْ خَلْقِكَ فَمِنْكَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، فَلَكَ الحَمْدُ وَلَكَ الشُّكْر
(اے اللہ مجھے اپنے بدن میں عافیت عطا فرما، اے اللہ مجھے اپنی سماعت میں عافیت عطا فرما، اے اللہ مجھے اپنی بصارت میں عافیت عطا فرما، تیرے علاوہ کوئی اور معبود برحق نہیں ہے۔ اے اللہ میں کفر اور فقر سے تیری پناہ میں آتاہوں، اے اللہ میں عذاب قبر سے تیری پناہ میں آتاہوں اور تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے )
اَللّٰہُمَّ عَافِنِیْ فِیْ بَدَنِیْ، اَللّٰہُمَّ عَافِنِیْ فِیْ سَمْعِیْ، اَللّٰہُمَّ عَافِنِیْ فِیْ بَصَرِیْ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ، اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْکُفْرِ، وَالْفَقْرِ، وَ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ تین دفعہ پڑھے [113]۔ [113] سنن ابو داود : 4/ 324، حدیث : 5092، مسند احمد: 5/ 42، حدیث : 20430، عمل اليوم والليلة، نسائی، حدیث : 22، ابن سنی، حدیث : 69، الأدب المفرد، بخاری، حدیث : 701، علامہ ابن باز –رحمه الله- نے اس حدیث کی سند کو حسن کہا ہے، دیکھیے: تحفة الأخيار، ص26۔
«مجھے اللہ ہی کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور وہ عرشِ عظیم کا رب ہے۔»
حَسْبِیَ اللّٰہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَ ہُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ سات مرتبہ [114] [114] "جو شخص یہ دعا صبح اور شام سات مرتبہ پڑھے گا تو اس شخص کی دنیا وآخرت کے ہر غم کے لیے اللہ تعالیٰ کافی ہو جائے گا"۔ اسے ابن سنی نے مرفوعا روایت کیا ہے، حدیث : 71، ابو داود نے موقوفاً روایت کیا ہے : 4/ 321، حدیث : 5081، شعيب اور عبد القادر أرناؤوط نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔ دیکھیے: زاد المعاد : 2/376۔
”اے اللہ! بے شک میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کرتا ہوں، اے اللہ! بے شک میں تجھ سے اپنے دین، اپنی دنیا اور اپنے اہل ومال میں معافی اور عافیت کا سوال کرتا ہوں۔ اے اللہ! میرے عیبوں پر پردہ ڈال دے اور میری گھبراہٹوں میں امن دے۔ اے اللہ! تو میری حفاظت فرما میرے سامنے سے، میرے پیچھے سے، میری دائیں طرف سے، میری بائیں طرف سے اور میرے اوپر سے، اور میں تیری عظمت کے ساتھ اس بات سے پناہ مانگتاہوں کہ ناگہاں اپنے نیچے سے اچک لیاجاؤں۔‘‘ [115] [115] سنن ابو داود، حدیث : 5074، ابن ماجہ، حدیث : 3871، اور دیکھیے : صحيح ابن ماجہ : 2/332۔
’’اے اللہ ! غیب اور حاضر کے جاننے والے! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے! ہر چیز کے رب اور اس کے مالک! میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں تیری پناہ میں آتاہوں اپنے نفس کے شر سے اور شیطان کے شر سے اور اس کے شرک سے اور اس بات سے کہ اپنے ہی خلاف کسی برائی کا ارتکاب کروں یا اسے کسی مسلمان کی طرف کھینچ لاؤں۔‘‘ [116] [116] جامع ترمذی، حدیث : 3392، سنن ابی داود، حدیث : 5067،. اور دیکھیے : صحيح ترمذی: 3/142۔
اَللّٰہُمَّ عَالِمَ الْغَیْبِ وَ الشَّہَادَۃِ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ، رَبَّ کُلِّ شَیْءٍ وَّ مَلِیْکَہٗ، اَشْہَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ، اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ، وَ مِنْ شَرِّ الشَّیْطٰنِ وَ شِرْکِہٖ، وَ اَنْ اَقْتَرِفَ عَلٰی نَفْسِیْ سُوْٓءًا اَوْ اَجُرَّہٗٓ اِلٰی مُسْلِمٍ
(اللہ کے نام سے، وہ ذات کہ اس کے نام کے ساتھ کوئی چیز زمین میں ہو یا آسمان میں، نقصان نہیں دے سکتی اور وہ خوب سنتا ہے اور خوب جانتا ہے۔)
بِسْمِ اللّٰہِ الَّذِیْ لَا یَضُرُّ مَعَ اسْمِہٖ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ وَ ہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ (تین دفعہ پڑھے) [117] [117] "جو شخص یہ دعا صبح اور شام تین تین مرتبہ پڑھے گا، اسے کوئی چیز تکلیف نہیں دے گی"۔ ابو داود: 4/ 323، حدیث : 5088، جامع ترمذی: 5/ 465، حدیث : 3388، ابن ماجہ، حدیث : 3869، مسند احمد، حدیث :446. دیکھیے: صحيح ابن ماجہ : 2/332، اور علامہ ابن باز -رحمه الله- نے اس کی سند کو حسن کہا ہے۔ دیکھیے : تحفة الأخيار، ص39۔
(میں اللہ کے رب ہونے پر‘ اسلام کے دین ہونے پر‘ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہوں)
رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا، وَبِالْاِسْلَامِ دِیْنًا، وَبِمُحَمَّدٍﷺ نَبِیًّا تین دفعہ پڑھے [118]۔ [118] "جو شخص یہ دعا تین دفعہ صبح اور تین دفعہ شام کے وقت پڑھے گا، اللہ تعالی اسے قیامت کے دن ضرور خوش کرے گا"۔ احمد 4/ 337، حدیث : 18967، عمل اليوم والليلة، نسائی، حدیث : 4، ابن سنی، حدیث : 68، ابو داود : 4/ 318، حدیث : 1531، جامع ترمذی: 5/ 465، حدیث : 3389، ابن باز -رحمه الله- نے اسے حسن کہا ہے، دیکھیے : تحفة الأخيار: ص39۔
’’اے زندۂ جاوید! اے قائم ودائم اور سب کو تھامنے والا! میں تیری رحمت کے توسل سے فریاد کرتا ہوں، تو میرا ہر کام سنوار دے اور آنکھ جھپکنے کے برابر بھی مجھے میرے نفس کے سپرد نہ کرنا۔‘‘[119] [119] حاکم نے روایت کر کے صحیح کہا اور ذہبی نے ان کی موافقت کی 1/545، اور دیکھیے : صحيح الترغيب والترهيب : 1/273۔
یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ بِرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیْثُ اَصْلِحْ لِیْ شَاْنِیْ کُلَّہٗ وَلَا تَکِلْنِیْ اِلٰی نَفْسِیْ طَرْفَۃَ عَیْنٍ
’’ہم نے صبح کی اور اللہ رب العالمین کے سارے ملک نے صبح کی ۔ اے اللہ! میں تجھ سے اس دن کی بہتری مانگتا ہوں، اس کی فتح ونصرت، اس کا نور، اس کی برکت اور اس کی ہدایت اور میں اس دن کے شر اور اس کے بعد کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔‘‘[120] [120] سنن ابو داود : 4/ 322، حدیث: 5084، شعيب وعبد القادر ارناؤوط نے اس کی سند کو حسن کہا ہے، دیکھیے: تحقیق زاد المعاد: 2/373۔
اَصْبَحْنَا وَ اَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ، اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ خَیْرَ ہٰذَا الْیَوْمِ: فَتْحَہٗ، وَ نَصْرَہٗ، وَ نُوْرَہٗ، وَ بَرَکَتَہٗ، وَہُدَاہُ، وَ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا فِیْہِ وَ شَرِّ مَا بَعْدَہٗ
اور جب شام ہو تو یہ کہے: «ہم نے شام کی اور اللہ رب العالمین کے لیے تمام بادشاہی نے شام کی، اے اللہ! بے شک میں تجھ سے اس رات کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں: اس کی فتح، اس کی مدد، اس کے نور، اس کی برکت اور اس کی ہدایت کا، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس برائی سے جو اس میں ہے اور اس برائی سے جو اس کے بعد ہے۔» [121] [121] سابقہ حوالہ۔
اَمْسَیْنَا وَ اَمْسَی الْمُلْکُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ، اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ خَیْرَ ہٰذِہِ اللَّیْلَۃِ: فَتْحَہَا، وَ نَصْرَہَا، وَ نُوْرَہَا، وَ بَرَکَتَہَا، وَ ہُدَاہَا، وَ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا فِیْہَا، وَ شَرِّ مَا بَعْدَہَا
’’ہم نے فطرتِ اسلام، کلمۂ اخلاص، اپنے نبی حضرت محمد ﷺ کے دین اور اپنے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام، جو یک رخ (اور) فرماں بردار تھے، کی ملت پر صبح کی اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھے۔‘‘ [122] [122] احمد: 3/ 406، و407، حدیث : 15360، اور حدیث : 15563، عمل اليوم والليلة، ابن سنی، حدیث : 34، اور دیکھیے : صحيح الجامع : 4/209۔
أَصْبَحْنا عَلَى فِطْرَةِ الإِسْلَامِ، وَعَلَى كَلِمَةِ الإِخْلاَصِ، وَعَلَى دِينِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ ﷺ، وَعَلَى مِلَّةِ أَبِينَا إِبْرَاهِيمَ، حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ المُشرِكِين
اور جب شام ہو تو یہ دعا پڑھے: «ہم نے فطرتِ اسلام پر، کلمہ اخلاص پر، اپنے نبی محمد ﷺ کے دین پر اور اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی ملت پر شام کی، جو یکسو مسلمان تھے اور مشرکوں میں سے نہیں تھے۔» [123] [123] سابقہ حوالہ۔
اَمْسَیْنَا عَلٰی فِطْرَۃِ الْاِسْلَامِ، وَ عَلٰی کَلِمَۃِ الْاِخْلَاصِ، وَعَلٰی دِیْنِ نَبِیِّنَا مُحَمَّدٍ ﷺ، وَعَلٰی مِلَّۃِ اَبِیْنَا اِبْرَاہِیْمَ، حَنِیْفًا مُّسْلِمًا وَّمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ
«اللہ پاک ہے اور اسی کی تعریف ہے»
سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہ سو مرتبہ [124] [124] "جو شخص یہ دعا سو مرتبہ صبح اور سو مرتبہ شام کو پڑھے گا، قیامت کے دن کوئی شخص اس کے عمل سے افضل عمل لے کر نہیں آئے گا۔ تاہم اگر کوئی شخص اس کے برابر یا اس سے زیادہ دفعہ کہے (تو وہ اس سے بہتر ہو سکتا ہے)" مسلم : 4/ 2071 حدیث : 2692۔
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ، لَہٗ الْمُلْکُ وَ لَہٗ الْحَمْدُ، وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ یہ دعا دس مرتبہ پڑھے، [125] اگر سستی لاحق ہو تو ایک بار پڑھ لے۔ [126] [125] نسائی، عمل اليوم والليلة، حدیث : 24، دیکھیے: صحيح الترغيب والترهيب : 1/272، تحفة الأخيار لابن باز -رحمه الله- ، ص44، اور اس کی فضیلت دیکھیے: صفحہ : 146، حديث نمبر : 255۔ [126] ابو داود : حدیث : 5077، ابن ماجہ، حدیث : 3798، احمد، حدیث : 8719، دیکھیے : صحيح الترغيب والترهيب : 1/270، صحيح ابی داود : 3/957، صحيح ابن ماجہ : 2/331، اور زاد المعاد : 2/377۔
«اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے»
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ، لَہٗ الْمُلْکُ وَ لَہٗ الْحَمْدُ وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ صبح کے وقت سو مرتبہ پڑھے [127] [127] "جو شخص سو مرتبہ ایک دن کے اندر یہ ذکر پڑھے گا، اسے دس غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا، ایک سو نیکیاں اس کے نام لکھی جائیں گی اور اس کے ایک سو گناہ مٹادیے جائیں گے اور ان الفاظ کی برکت سے اس دن شام تک وہ شیطان سے محفوظ رہے گا اور کوئی شخص اس سے افضل عمل لے کر نہیں آئے گا، تاہم اگر کوئی شخص زیادہ دفعہ کہے (تو وہ اس سے بہتر ہو سکتا ہے)"۔ صحیح بخاری: 4/ 95، حدیث : 3293، صحیح مسلم : 4/ 2071، حدیث : 2691۔
(اللہ کی پاکیزگی ہے اس کی تعریفوں کے ساتھ، اس قدر جتنی کہ اس کی مخلوق ہے اور اتنی کہ اس سے وہ راضی ہو جائے اور اس کے عرش کے وزن کے برابر اور اس قدر جتنی کہ اس کے کلمات کی روشنائی ہے)
سُبْحٰنَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہٖ: عَدَدَ خَلْقِہٖ، وَ رِضَا نَفْسِہٖ، وَ زِنَۃَ عَرْشِہٖ، وَ مِدَادَ کَلِمَاتِہٖ صبح کے وقت تین مرتبہ [128] [128] صحیح مسلم: 4/2090، حدیث نمبر: 2726
(اے اللہ میں تجھ سے علم نافع‘ رزق حلال اور عمل مقبول کا سوال کرتا ہوں)
اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ عِلْمًا نَّافِعًا، وَّ رِزْقًا طَیِّبًا، وَّ عَمَلًا مُّتَقَبَّلًا صبح کے وقت [129] [129] ابن سنی، عمل اليوم والليلة، حدیث : 54، ابن ماجہ، حدیث : 925، عبد القادر اور شعيب أرناؤوط نے اس کی سند کو حسن کہا ہے۔ دیکھیے : تحقيق زاد المعاد : 2/375۔ یہ پہلے بھی گزر چکا ہے‘ دیکھیے دعا نمبر: 73
«میں اللہ سے مغفرت مانگتا ہوں اور اسی کی طرف توبہ کرتا ہوں»
اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَ اَتُوْبُ اِلَیْہِ دن میں سو مرتبہ پڑھے [130] [130] صحیح بخاری مع الفتح : 11/ 101، حدیث : 6307، صحیح مسلم: 4/2075، حدیث : 2702۔
اَعُوْذُ بِکَلِمٰاتِ اللّٰہِ التَّامّٰاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ شام کے وقت تین مرتبہ [131] [131] "جو شخص شام کے وقت تین دفعہ یہ دعا پڑھے، اسے اس رات زہریلے جانور کا ڈسنا نقصان نہیں پہنچائے گا"۔ احمد، 2/ 290، حدیث : 7898، عمل اليوم والليلة، نسائی، حدیث : 590، ابن سنی، حدیث : 68، اور دیکھیے : صحيح ترمذی، 3/187، صحيح ابن ماجہ : 2/266، اور تحفة الأخيار لابن باز، ص45۔
«اے اللہ ! رحمت نازل فرما ہمارے نبى محمد ﷺ پر۔»
اَللّٰہُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ عَلٰی نَبِیِّنَا مُحَمَّدٍ دس مرتبہ [132] [132] (نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ’’جو شخص دس دفعہ صبح اور دس دفعہ شام کے وقت مجھ پر درود بھیجے گا اسے قیامت کے دن میری شفاعت نصیب ہوگی۔) اسے طبرانی نے دو سندوں سے ذکر کیا جن میں سے ایک جید ہے۔ دیکھیے : مجمع الزوائد، 10/120، اور صحيح الترغيب والترهيب، 1/273۔
28 ـ سونے کے وقت کے اذکار
99-(1) نبی (ﷺ) دونوں ہتھیلیاں ساتھ ملا کر ان میں پھونکتے اور ان میں یہ سورتیں پڑھتے : ”آپ کہہ دیجیے کہ وه اللہ ایک (ہی) ہے۔ اللہ بے نیاز ہے. اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔ اور نہ ہی اس کا کوئی ہم پلہ ہے۔‘‘ [الاخلاص‘ آیت: 1-4]۔
”آپ کہہ دیجیے کہ میں پناه میں آتا ہوں صبح کے رب کی۔ اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی۔ اور اندھیرا کرنے والی (رات) کے شر سے جب وہ چھا جائے۔ اور ان کے شر سے جو پھونکنے والی ہیں گرہوں میں۔ اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔‘‘ (الفلق‘ آیت : 1-5)۔
”آپ کہہ دیجیے کہ میں پناه میں آتا ہوں لوگوں کے رب کی۔ لوگوں کے بادشاہ کی۔ لوگوں کے معبود کی۔ اس شیطان کے شر سے جو وسوسہ ڈالنے والا کھسک جانے والا ہے۔ جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ جنوں میں سے اور انسانوں میں سے۔‘‘ [الناس‘ آیت: 1-6]۔
پھر ان دونوں ہاتھوں کو جہاں تک ممکن ہوتا اپنے جسم پر پھیرتے تھے۔ سر اور چہرہ اور جسم کے سامنے کے حصے سے شروع فرماتے))۔ اس طرح آپ ﷺ تین مرتبہ یہ عمل کرتے تھے۔[133]. [133] صحیح بخاری مع الفتح : 9/ 62، حدیث : 5017، صحیح مسلم، حدیث : 2192۔
’’ اللہ (وہ ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ زندہ جاوید اور قائم ودائم اور سب کو تھامنے والا ہے، اسے اونگھ آتی ہے نہ نیند، اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، کون ہے وہ جو اس کے ہاں سفارش کرسکے مگر اس کی اجازت سے؟ وہ جانتا ہے جو کچھ لوگوں کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے۔ اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جس قدر وہ خود چاہے، اس کی کرسی نے آسمانوں اور زمین کو گھیر رکھا ہے اور اسے ان دونوں کی حفاظت نہیں تھکاتی اور وہ بلند تر، نہایت عظمت والا ہے۔‘‘ [136] [البقرۃ‘ آیت: 255][134]۔ [134] "جو شخص بستر پر پہنچے اور آیۃ الکرسی پڑھے تو اللہ کی طرف سے ایک محافظ مقرر ہو جائے گا اور شیطان صبح تک اس کے قریب بھی نہ آسکے گا"۔ صحیح بخاری مع الفتح : 4/ 487، حدیث : 2311۔
’’رسول (ﷺ) اس پر ایمان ﻻئے ہیں جو ان کے رب طرف سے نازل کی گئی ہے اور سارے مومن بھی، سب اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان ﻻئے ہیں۔ (وہ کہتے ہیں) ہم اس کے رسولوں میں سے کسی ایک میں بھی فرق نہیں کرتے اور وہ کہتے ہیں : ہم نے (حکم) سنا اور اطاعت کی، اے ہمارے رب! ہم تیری مغفرت چاہتے ہیں اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ اللہ کسی جان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا، کسی شخص نے جو نیکی کمائی اس کا پھل اسی کے لیے ہے اور جو اس نے برائی کی اس کا وبال بھی اسی پر ہے، اے ہمارے رب! اگر ہم سے بھول چوک ہوجائے تو ہماری گرفت نہ کر، اے ہمارے رب! ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جو تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈاﻻ تھا، اے ہمارے رب! جس بوجھ کو اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں وہ ہم سے نہ اٹھوا اور ہم سے درگزر فرما اور ہمارى مغفرت فرما اور ہم پر رحم فرما، تو ہی ہمارا کارساز ہے، پس تو کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔‘‘ [137] [البقرۃ‘ آیت: 285-286][135]۔ [135] "جو شخص یہ دو آیات رات کے وقت پڑھتا ہے تو یہ اس کے لیے کافی ہوجاتی ہیں"۔ صحیح بخاری مع الفتح : 9/ 94، حدیث : 4008، صحیح مسلم : 1/ 554، حدیث : 807۔
’’اے میرے رب ! تیرے ہی نام کے ساتھ میں نے اپنا پہلو (بستر پر) رکھا اور تیرے ہی نام کے ساتھ اسے اٹھاؤں گا، لہذا اگر تو میری روح روک لے تو اس پر رحم فرمانا اور اگر تو اسے چھوڑ دے تو اس کی ایسے حفاظت فرمانا جیسے تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے۔‘‘ [137] [136] "جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بستر سے اٹھے اور پھر دوبارہ اس کی طرف آئے تو اسے اپنی چادر کے دامن سے تین مرتبہ جھاڑے اور بسم اللہ کہے، کیا معلوم اس کے بعد اس پر کیا چیز آگئی ہے، اور جب لیٹے تو یہ دعا پڑھے۔ ۔ الحدیث ۔ ۔ ۔ [حدیث میں وارد لفظ "بصَنِفة إزاره" کا معنی ہے : چادر کا دامن۔] النهاية في غريب الحديث والأثر۔ [137] صحیح بخاری مع فتح الباری : 11/ 126، حدیث :6320، صحیح مسلم : 4/ 2084، حدیث : 2714۔
بِاسْمِکَ رَبِّیْ وَضَعْتُ جَنْبِیْ، وَ بِکَ اَرْفَعُہٗ، فَاِنْ اَمْسَکْتَ نَفْسِیْ فَارْحَمْہَا، وَ اِنْ اَرْسَلْتَہَا فَاحْفَظْہَا، بِمَا تَحْفَظُ بِہٖ عِبَادَکَ الصَّالِحِیْنَ
’’اے اللہ ! تو نے میری روح پیدا فرمائی اور تو ہی اسے فوت کرے گا، تیرى ہی ملکیت میں اس کی موت اور حیات ہے اگر تو اسے زندہ رکھے تو اس کی حفاظت فرمانا اور اگر تو اسے موت دے تو اس کى مغفرت فرمانا۔ اے اللہ ! بلا شبہ میں تجھ سے عافیت کا سوال کرتا ہوں۔‘‘ [138] [138] صحیح مسلم : 4/ 2083، حدیث : 2712، اور مسند احمد بالفاظ مذکور، 2/ 79، حدیث : 5502۔
اَللّٰہُمَّ اِنَّکَ خَلَقْتَ نَفْسِیْ وَ اَنْتَ تَوَفَّاہَا، لَکَ مَمَاتُہَا وَمَحْیَاہَا، اِنْ اَحْیَیْتَہَا فَاحْفَظْہَا، وَ اِنْ اَمَتَّہَا فَاغْفِرْ لَہَا، اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ الْعَافِیَۃَ
’’اے اللہ ! مجھے اس دن [139] اپنے عذاب سے بچا لینا جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا۔‘‘[140] [139] "جب رسول اللہ ﷺ سونا چاہتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے دائیں رخسار کے نیچے رکھتے اور یہ دعا پڑھتے ۔ ۔ ۔" الحديث۔ [140]سنن ابو داود بالفاظ مذکور : 4/ 311، حدیث : 5045، جامع ترمذی، حدیث : 3398، اور دیکھیے : صحيح ترمذی: 3/143، اور صحيح ابی داود : 3/ 240۔
اَللّٰہُمَّ قِنِیْ عَذَابَکَ یَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَکَ
’’تیرے ہی نام کے ساتھ اے اللہ ! میں مرتا اور زندہ ہوتا ہوں۔‘‘[141] [141] صحیح بخاری مع فتح الباری : 11/ 113، حدیث : 6324، صحیح مسلم : 4/ 2083، حدیث : 2711۔
بِاسْمِکَ اَللّٰہُمَّ اَمُوْتُ وَاَحْیٰا
"سبحان اللہ"
سُبحانَ اللّٰہ (تینتیس مرتبہ) اور تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں
وَالحَمْدُ لِلّٰہ (تینتیس مرتبہ) اور اللہ سب سے بڑا ہے۔
وَاللّٰہُ أَكْبَر (چونتیس مرتبہ)۔ [142] [142] "جو شخص بستر پر لیٹتے ہوئے یہ کلمات کہے، تو یہ اس کے لیے ایک نوکر سے بہتر ہیں"۔ صحیح بخاری مع الفتح : 7/ 71، حدیث : 3705، صحیح مسلم : 4/ 2091، حدیث : 2726۔
’’اے اللہ! ساتوں آسمانوں کے رب ! زمین کے رب ! اور عرشِ عظیم کے رب ! اے ہمارے اور ہرچیز کے رب ! اے دانے اور گٹھلیوں کو پھاڑنے والے! اور اے تورات وانجیل اور فرقان (قرآن) کو نازل کرنے والے! میں ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس کی پیشانی کو تو پکڑے ہوئے ہے، اے اللہ! تو ہی اول ہے، تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں اور تو ہی آخر ہے، تیرے بعد کوئی چیز نہیں اور تو ہی ظاہر ہے، تیرے اوپر کوئی چیز نہیں اور تو ہی باطن ہے، تجھ سے پوشیدہ کوئی چیز نہیں ہے، ہم سے (ہمارا) قرض ادا کردے اور ہمیں فقر سے نکال کر غنی بنادے۔‘‘[143] [143] صحیح مسلم، 4/2084، حدیث نمبر: 2713
اَللّٰہُمَّ رَبَّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَرَبَّ الْاَرْضِ، وَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ، رَبَّنَا وَ رَبَّ کُلِّ شَیْءٍ، فَالِقَ الْحَبِّ وَ النَّوٰی، وَمُنْزِلَ التَّوْراۃِ وَ الْاِنْجِیْلِ، وَ الْفُرْقَانِ، اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ کُلِّ شَیْءٍ اَنْتَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِہٖ، اَللّٰہُمَّ اَنْتَ الْاَوَّلُ فَلَیْسَ قَبْلَکَ شَیْءٌ، وَ اَنْتَ الْاٰخِرُ فَلَیْسَ بَعْدَکَ شَیْءٌ، وَ اَنْتَ الظَّاہِرُ فَلَیْسَ فَوْقَکَ شَیْءٌ، وَ اَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَیْسَ دُوْنَکَ شَیْءٌ، اِقْضِ عَنَّا الدَّیْنَ وَ اَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ
’’ہر قسم کی تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں کھلایا اور پلایا اور ہمیں کافی ہوگیا اور ہمیں ٹھکانا دیا، (ورنہ) کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن کی نہ کوئی کفایت کرنے والا ہے اور نہ ٹھکانا دینے والا۔‘‘[144] [144] صحیح مسلم، 4/2085، حدیث نمبر: 2715
الحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا، وَكَفَانَا، وَآوَانَا، فَكَمْ مِمَّنْ لَا كَافِيَ لَهُ وَلَا مُؤْوِي
’’اے اللہ ! اے غیب اور حاضر کے جاننے والے! اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے! اے ہر چیز کے رب اور اس کے مالک! میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں اپنے نفس کے شر سے اور شیطان کے شر اور اس کے شرک سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور اس بات سے بھی کہ اپنے ہی نفس کے خلاف کسی برائی کا ارتکاب کروں یا اسے کسی مسلمان کی طرف کھینچ لاؤں۔‘‘ [145] [145] سنن ابی داود : 4/ 317، حدیث :5067، جامع ترمذی، حدیث : 3629، دیکھیے : صحيح ترمذی: 3/142۔
اَللّٰہُمَّ عَالِمَ الْغَیْبِ وَ الشَّہَادَۃِ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ، رَبَّ کُلِّ شَیْءٍ وَّ مَلِیْکَہٗ، اَشْہَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ، اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ، وَ مِنْ شَرِّ الشَّیْطَانِ وَ شِرْکِہٖ، وَ اَنْ اَقْتَرِفَ عَلٰی نَفْسِیْ سُوْٓءًا اَوْ اَجُرَّہٗٓ اِلٰی مُسْلِمٍ
"سورت الم تَنْزِيلَ السَّجْدَةِ اور سورت تَبَارَكَ الَّذي بِيَدِهِ الْمُلْكُ پڑھے"۔ [146] [146] جامع ترمذی، حدیث : 3404، عمل اليوم والليلة، نسائی، حدیث : 707، اور دیکھیے : صحيح الجامع : 4/255۔
’’اے اللہ ! [147] میں نے اپنا نفس تیرے تابع کردیا اور اپنا معاملہ تجھے سونپ دیا اور میں نے اپنا چہرہ تیری طرف متوجہ کیا اور اپنی پشت تیری طرف جھکائی رغبت کرتے ہوئے اور ڈرتے ہوئے، تجھ سے دور ہوکر نہ کوئی پناہ گاہ ہے اور نہ جائے نجات تیری بارگاہ کے سوا، میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا جسے تو نے نازل فرمایا اور تیرے اس نبی پر جسے تو نے (ہماری طرف) بھیجا۔‘‘ [148] [147] "جب تم بستر پر جاؤ تو نماز والا وضو کرو پھر اپنے دائیں پہلو پر لیٹ جاؤ پھر کہو : ۔ ۔ ۔"(الحدیث)۔ [148] رسول اللہ ﷺ نے اس دعا پڑھنے والے سے فرمایا : "اگر تو (یہ دعا پڑھنے کے بعد) فوت ہوجائے تو تیری موت فطرت پر ہوگی"۔ صحیح بخاری مع الفتح : 11/ 113، حدیث : 6313، صحیح مسلم : 4، 2081، حدیث : 2710۔
اَللّٰہُمَّ اَسْلَمْتُ نَفْسِیْ اِلَیْکَ، وَ فَوَّضْتُ اَمْرِیْ اِلَیْکَ، وَ وَجَّہْتُ وَجْہِیْ اِلَیْکَ، وَ اَلْجَاْتُ ظَہْرِیْ اِلَیْکَ، رَغْبَۃً وَّ رَہْبَۃً اِلَیْکَ، لَا مَلْجَأَ وَ لَا مَنْجَا مِنْکَ اِلَّا اِلَیْکَ، اٰمَنْتُ بِکِتَابِکَ الَّذِیْ اَنْزَلْتَ، وَ بِنَبِیِّکَ الَّذِیْ اَرْسَلْتَ
29 ـ رات کو کروٹ بدلتے وقت کی دعا
’’اللہ کے سوا کوئی معبودبرحق نہیں، وہ یکتا ہے، زبردست ہے، رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور ان کا جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، بہت غالب، بہت مغفرت کرنے والا ہے۔‘‘ [149] [149] آپ (ﷺ) جب رات میں پہلو بدلتے تو یہ کلمات کہتے۔ اسے حاکم نے روایت کیا ہے اور صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے 1/540، عمل اليوم والليلة، نسائی، حدیث : 202، ابن سنی، حدیث : 757، اور دیکھیے : صحيح الجامع : 4/213۔
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ الْوَاحِدُ الْقَہَّارُ، رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَہُمَا الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ
30 ـ وحشت اور نیند میں گھبراہٹ کے وقت کی دعا
’’میں اللہ کے مکمل کلمات كى پناہ مانگتا ہوں اس کی ناراضی اور اس کی سزا اور اس کے بندوں کے شر اور شیطانوں کے وسوسہ ڈالنے (گناہوں پر ابھارنے اور اکسانے) سے اور اس بات سے کہ وہ (شیطان) میرے پاس آئیں (اور مجھے بہکائیں۔)‘‘[150] [150] سنن ابو داود : 4/ 12، حدیث :3893، جامع ترمذی‘ حدیث : 3528 اور دیکھیے : صحيح ترمذی: 3/171۔
اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّآمَّاتِ مِنْ غَضَبِہٖ وَ عِقَابِہٖ، وَ شَرِّ عِبَادِہٖ، وَ مِنْ ہَمَزَاتِ الشَّیَاطِیْنِ وَ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ
31 ـ برا خواب آئے تو کیا کرے
114-(1) برا خواب آئے تو [تین دفعہ اپنی بائیں طرف تھوکے۔] [151] [151] صحیح مسلم، 4/1772، حدیث نمبر: 2261
(2) [شیطان اور اپنے اس خواب کی برائی سے تین دفعہ اللہ کی پناہ مانگے۔] [152] [152] مسلم : 4/ 1772، 1773، حدیث : 2261، اور حدیث : 2262۔
اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ
(3) [یہ خواب کسی کو نہ سنائے۔] [153] [153] مسلم : 4/ 1772، برقم، حدیث : 2261، اور حدیث : 2263۔
(4) [جس پہلو لیٹا ہو اسے بدل دے۔] [154] [154] صحیح مسلم، 4/1773 حدیث نمبر: 2261
115-(5) [اگر چاہے تو اٹھ کر نماز پڑھے۔] [155] [155] صحیح مسلم، 4/1773، حدیث نمبر: 2263
32 ـ قنوتِ وتر کی دعائیں
’’اے اللہ! تو مجھے ہدایت دے کر ان میں (داخل کر) جنھیں تو نے ہدایت دی اور مجھے عافیت دے کر ان میں (شامل کر) جنھیں تو نے عافیت دی اور میری سرپرستی فرما ان لوگوں میں جن کی تو نے سرپرستی فرمائی اور میرے لیے ان چیزوں میں برکت فرما جو تونے عطا کیں اور مجھے ان فیصلوں کے شر سے بچا جو تو نے کیے، اس لیے کہ تو ہی فیصلے کرتا ہے اور تیرے (فیصلے کے) خلاف کوئی فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ واقعہ یہ ہے کہ وہ ذلیل نہیں ہو سکتا جس کا تو دوست بن جائے [اور وہ معزز نہیں ہو سکتا جس سے تو دشمنی کرے]، اے ہمارے رب ! تو بہت بابرکت اور نہایت بلند ہے۔‘‘ [156] [156] اصحاب سنن اربعہ، احمد، دارمی اور بیھقی نے اسے روایت کیا ہے : سنن ابو داود، حدیث : 1425، جامع ترمذی، حدیث : 464، سنن نسائی، حدیث : 1744، سنن ابن ماجہ، حدیث : 1178، مسند احمد، حدیث : 1718، سنن دارمی، حدیث : 1592، مستدرک حاكم : 3/ 172، بیہقی: 2/ 209، قوسین کے درمیان کے الفاظ بيهقی کے ہیں، دیکھیے : صحيح ترمذی: 1/144، صحيح ابن ماجہ : 1/194، اور إرواء الغليل للالبانی: 2/172۔
اَللّٰہُمَّ اہْدِنِیْ فِیْمَنْ ہَدَیْتَ، وَ عَافِنِیْ فِیْمَنْ عَافَیْتَ، وَ تَوَلَّنِیْ فِیْمَنْ تَوَلَّیْتَ، وَ بَارِکْ لِیْ فِیْمَا اَعْطَیْتَ، وَ قِنِیْ شَرَّ مَا قَضَیْتَ؛ فَاِنَّکَ تَقْضِیْ وَ لَا یُقْضٰی عَلَیْکَ، اِنَّہٗ لَا یَذِلُّ مَنْ وَّالَیْتَ، [وَ لَا یَعِزُّ مَنْ عَادَیْتَ]، تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَ تَعَالَیْتَ
’’اے اللہ! میں پناہ مانگتا ہوں تیری رضا کے توسل سے تیری ناراضگی سے اور تیری معافی کے توسل سے تیری سزا سے اور میں پناہ مانگتا ہوں تیرے توسل سے تجھ سے، میں تیری تعریف نہیں کر سکتا، تو اسی طرح ہے جیسے تو نے خود اپنے آپ کی تعریف کی۔‘‘ [157] [157] اصحاب سنن اربعہ اور احمد نے اسے روایت کیا ہے : سنن ابو داود، حدیث : 1427، جامع ترمذی، حدیث : 3566، سنن نسائی، حدیث : 1746، سنن ابن ماجہ، حدیث : 1179، مسند احمد، حدیث : 751 . دیکھیے :صحيح ترمذی: 3/180، صحيح ابن ماجہ : 1/194، اور ارواء الغلیل: 2/175۔
اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ، وَ بِمُعَافَاتِکَ مِنْ عُقُوْبَتِکَ، وَ اَعُوْذُ بِکَ مِنْکَ، لَا اُحْصِیْ ثَنَاءً عَلَیْکَ، اَنْتَ کَمَا اَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ
’’اے اللہ ! ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں، اور تیرے لیے ہی نماز پڑھتے اور سجدہ کرتے ہیں، اور تیری طرف ہی کوشش اور جلدی کرتے ہیں، ہم امید رکھتے ہیں تیری رحمت کی اور ڈرتے ہیں تیرے عذاب سے، بے شک تیرا عذاب کافروں کو ملنے والا ہے۔ اے اللہ ! بے شک ہم تجھ سے مدد مانگتے ہیں اور تجھ سے مغفرت مانگتے ہیں اور تیری بہترین تعریف کرتے ہیں، اور ہم تیری ناشکری نہیں کرتے اور ہم ایمان لاتے ہیں تجھ پر اور عاجزی کا اظہار کرتے ہیں تیرے سامنے اور علحیدگی اختیار کرتے ہیں ہم اس سے جو تجھ سے کفر کرے۔‘‘ [158] [158] سنن کبری للبیھقی: 2/211 اور بیھقی نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے اور شیخ البانی نے ارواء الغلیل میں فرمایا: "یہ سند صحیح ہے 2/170، اور یہ عمر رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے"۔
اللَّهُمَّ إِيَّاكَ نعْبُدُ، وَلَكَ نُصَلِّي وَنَسْجُدُ، وَإِلَيْكَ نَسْعَى وَنَحْفِدُ، نَرْجُو رَحْمَتَكَ، وَنَخْشَى عَذَابَكَ، إِنَّ عَذَابَكَ بِالكَافِرِينَ مُلْحِقٌ، اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ، وَنَسْتَغْفِرُكَ، وَنُثْنِي عَلَيْكَ الخَيْرَ، وَلَا نَكْفُرُكَ، وَنُؤْمِنُ بِكَ، وَنَخْضَعُ لَكَ، وَنَخْلَعُ مَنْ يَكْفرُك
33 ـ نمازِ وتر سے سلام پھیرنے کے بعد کی دعا
«پاک ہے وہ بادشاہ جو نہایت مقدس ہے»
سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ تین مرتبہ اور تیسری بار بلند آواز سے پڑھے اور اپنی آواز کو کھینچ کر کہے: «فرشتوں اور روح (جبریل) کا رب»۔ [159] [159] نسائی: 3/ 244، حدیث : 1734، دارقطنی 2/ 31، وغيرهما، قوسین کے درمیان جو اضافی الفاظ ہیں‘ انہیں دارقطنی نے روایت کیا ہے:2/31، حدیث :2، اس کی سند صحيح ہے، دیکھیے : زاد المعاد‘ تحقيق شعيب ارناؤوط اور عبدالقادر ارناؤوط: 1/337ْ۔
رَبِّ الۡمَلَائِکَۃِ وَالرُّوح
34 ـ فکر مندی اور حزن وملال کے وقت کی دعائیں
’’اے اللہ! یقیناََ میں تیرا بندہ ہوں اور تیرے ہی بندے کا بیٹا ہوں اور تیری ہی کنیز کا بیٹا ہوں، میری پیشانی تیرے ہی ہاتھ میں ہے، مجھ میں تیرا ہی حکم جاری وساری ہے، میرے بارے میں تیرا فیصلہ مبنی بر انصاف ہے، میں تیرے ہر اس خاص نام کے ذریعے سے تجھ سے درخواست کرتا ہوں جو تو نے خود اپنا نام رکھا ہے یا اسے اپنی کتاب میں نازل فرمایا ہے یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا ہے یا تو اپنے علمِ غیب میں اپنے پاس (رکھنے کو) خاص کیا ہے (میں درخواست کرتا ہوں) کہ تو قرآنِ مجید کو میرے دل کی بہار، میرے سینے کا نور، میرے غموں کا علاج اور میری فکروں کا تریاق بنا دے۔‘‘ [160] [160] احمد : 1/ 391، حدیث : 3712، اور امام البانی نے اسے سلسلة الأحاديث الصحيحة میں صحیح کہا ہے، 1/ 337۔
اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ عَبْدُکَ، اِبْنُ عَبْدکَ، اِبْنُ اَمَتِکَ، نَاصِیَتِیْ بِیَدِکَ، مَاضٍ فِیَّ حُکْمُکَ، عَدْلٌ فِیَّ قَضَاؤُکَ، اَسْاَلُکَ بِکُلِّ اسْمٍ ہُوَ لَکَ، سَمَّیْتَ بِہٖ نَفْسَکَ، اَوْ اَنْزَلْتَہٗ فِیْ کِتٰبِکَ، اَوْ عَلَّمْتَہٗ اَحَدًا مِّنْ خَلْقِکَ، اَوِ اسْتَاْثَرْتَ بِہٖ فِیْ عِلْمِ الْغَیْبِ عِنْدَکَ، اَنْ تَجْعَلَ الْقُرْاٰنَ رَبِیْعَ قَلْبِیْ، وَ نُوْرَ صَدْرِیْ، وَ جَلَاءَ حُزْنِیْ، وَ ذَہَابَ ہَمِّیْ
’’اے اللہ! میں تیرى پناہ چاہتا ہوں فکر اور حزن وملال سے، عاجزی اور کاہلی سے، بزدلی اور بخل سے، قرض کے بوجھ اور لوگوں کے تسلط سے۔‘‘ [161] [161] صحیح بخاری: 7/ 158، حدیث : 2893، رسول -صلى الله عليه وسلم- یہ دعا کثرت سے کیا کرتے تھے۔ دیکھیے : صحیح بخاری مع الفتح : 11/173۔ اس کا ذکر (173) نمبر کے تحت آنے والا ہے۔
اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْہَمِّ وَ الْحَزَنِ، وَ الْعَجْزِ وَ الْکَسَلِ، وَ الْبُخْلِ وَ الْجُبْنِ، وَ ضَلَعِ الدَّیْنِ وَ غَلَبَۃِ الرِّجَالِ
35 ـ بے قراری اور اضطراب کے وقت کی دعائیں
"اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ بہت عظمت والا، بڑا بُردبار ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وہ عرشِ عظیم کا رب ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور عرشِ کریم کا رب ہے۔‘‘ [162] [162] صحیح بخاری: 7/ 154، حدیث : 6345، صحیح مسلم : 4/ 2092، حدیث : 2730۔
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ الْعَظِیْمُ الْحَلِیْمُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَ رَبُّ الْاَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیْمِ
’’اے اللہ! میں تیری رحمت ہی کی امید رکھتا ہوں، لہذا تو آنکھ جھپکنے کے برابر بھی مجھے میرے اپنے نفس کے سپرد نہ کرنا اور میرے لیے میرے سب کام سنوار دے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔‘‘ [163] [163] سنن ابو داود : 4/ 324، حدیث : 5090، مسند احمد: 5/ 42، حدیث : 20430، اور البانی نے اسے صحيح ابي داود میں حسن کہا ہے، 3/959۔
اَللّٰہُمَّ رَحْمَتَکَ اَرْجُوْ، فَلَا تَکِلْنِیْ اِلٰی نَفْسِیْ طَرْفَۃَ عَیْنٍ، وَاَصْلِحْ لِیْ شَاْنِیْ کُلَّہٗ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ
’’تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تو پاک ہے، یقینََا میں ظالموں میں سے ہوں۔‘‘ [164] [164] جامع ترمذی: 5/ 529، حدیث : 3505، اور حاكم نے اسے صحیح کہا ہے اور ذهبی نے ان کی موافقت کی ہے : 1/505، اور دیکھیے : صحيح ترمذی: 3/168۔
لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِين
’’اللہ، اللہ میرا رب ہے، میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔‘‘ [165] [165] سنن ابی داود، حدیث : 2/ 87، حدیث : 1525، سنن ابن ماجہ، حدیث : 3882، اور دیکھیے : صحيح ابن ماجہ، 2/335۔
اَللّٰہُ اَللّٰہُ رَبِّیْ لَا اُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا
36 ـ دشمن اور صاحبِ سلطنت سے ملتے وقت کی دعائیں
’’اے اللہ! ہم تجھے ہی ان کے مقابلے میں کرتے ہیں اور ان کی برائیوں سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔‘‘ [166] [166] سنن ابو داود : 2/ 89، حدیث : 1537، حاكم نے اسے صحیح کہا ہے اور ذهبی نے ان کی موافقت کی ہے : 2/142۔
اَللّٰہُمَّ اِنَّا نَجْعَلُکَ فِیْ نُحُوْرِہِمْ، وَ نَعُوْذُ بِکَ مِنْ شُرُوْرِہِمْ
’’اے اللہ! تو ہی میرا ناصر وحامی ہے اور تو ہی میرا مددگار ہے۔ تیری ہی توفیق سے میں دشمنوں کے مکر وفریب کا سد باب کرتا ہوں اور تیری ہی مدد کے ساتھ میں دشمنوں پر حملہ کرتا ہوں اور تیرى ہى توفیق ومدد سے (دشمن سے) لڑتا ہوں۔‘‘ [167] [167] سنن ابی داود : 3/ 42، حدیث : 2632، جامع ترمذی: 5/ 572، حدیث : 3584، اور دیکھیے : صحيح ترمذی: 3/183۔
اَللّٰہُمَّ اَنْتَ عَضُدِیْ، وَ اَنْتَ نَصِیْرِیْ، بِکَ اَحُوْلُ وَ بِکَ اَصُوْلُ، وَ بِکَ اُقَاتِلُ
’’ہمیں اللہ ہی کافی ہے اور (وہ) بہترین کار ساز ہے۔‘‘ [168] [168] صحیح بخاری، 5/172، حدیث نمبر: 4563
حَسْبُنَا اللّٰہُ وَ نِعْمَ الْوَکِیْلُ
37 ـ بادشاہ کے ظلم سے ڈرنے والے کی دعائیں
’’اے اللہ ! ساتوں آسمانوں اور عرشِ عظیم کا رب ! تو میرے لیے فلاں بن فلاں سے اور تیری مخلوق میں سے اس کے تمام حامیوں اور مددگاروں سے پناہ دینے والا بن جا، اس بات سے کہ ان میں سے کوئی ایک شخص بھی مجھ پر زیادتی یا سرکشی کرے، تیری پناہ مضبوط ہے اور تیری تعریف عظیم ہے اور تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔‘‘ [169] [169] بخاری نے اسے الأدب المفرد میں روایت کیا ہے، حدیث : 707، اور البانی نے صحيح الأدب المفرد میں اس کو صحیح کہا ہے، حدیث : 545۔
اَللّٰہُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ، وَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ، کُنْ لِّیْ جَارًا مِّنْ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ، وَ اَحْزَابِہٖ مِنْ خَلَائِقِکَ، اَنْ یَّفْرُطَ عَلَیَّ اَحَدٌ مِّنْہُمْ اَوْ یَطْغٰی، عَزَّ جَارُکَ، وَ جَلَّ ثَنَاؤُکَ، وَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْت
’’اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ اپنی تمام مخلوق سے زیادہ زور اور غلبے والا ہے، اللہ ان سے کہیں زیادہ طاقت والا ہے جن سے میں خوف کھاتا اور ڈرتا ہوں، میں اس اللہ کی پناہ میں آتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، جو ساتوں آسمانوں کو روکے ہوئے ہے اس بات سے کہ وہ زمین پر گرجائیں ، مگر اس کی اجازت سے، تیرے فلاں بندے کے شر سے، اس کے لشکروں کے شر سے، اس کے پیروکاروں اور اس کے ساتھیوں کے شر سے، خواہ جنوں میں سے ہوں یا انسانوں میں سے، اے اللہ ! تو ان کے شر سے میرا پشت پناہ بن جا، تیری تعریف عظیم ہے اور تیری پناہ مضبوط ہے اور تیرا نام بہت بابرکت ہے اور تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔‘‘
اَللّٰہُ اَکْبَرُ، اَللّٰہُ اَعَزُّ مِنْ خَلْقِہٖ جَمِیْعًا، اَللّٰہُ اَعَزُّ مِمَّا اَخَافُ وَ اَحْذَرُ، اَعُوْذُ بِاللّٰہِ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ، الْمُمْسِکِ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ اَنْ یَّقَعْنَ عَلَی الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِہٖ، مِنْ شَرِّ عَبْدِکَ فُلَانٍ، وَ جُنُوْدِہٖ وَ اَتْبَاعِہٖ وَ اَشْیَاعِہٖ، مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ، اَللّٰہُمَّ کُنْ لِّیْ جَارًا مِّنْ شَرِّہِمْ، جَلَّ ثَنَاؤُکَ وَعَزَّ جَارُکَ، وَ تَبَارَکَ اسْمُکَ، وَ لَا اِلٰہَ غَیْرُکَ (تین مرتبہ پڑھے) [170]۔ [170] بخاری نے اسے الأدب المفرد میں روایت کیا ہے، حدیث : 708، اور البانی نے صحيح الأدب المفرد میں اس کو صحیح کہا ہے، حدیث : 546۔
38 ـ دشمن پر بد دعا
’’اے اللہ ! کتاب نازل کرنے والے، جلد حساب لینے والے، (مخالف) گروہوں کو شکست سے دو چار فرما، اے اللہ! انھیں شکست دے اور انھیں ہلاکر رکھ دے۔‘‘ [171] [171] صحیح مسلم، 3/1362، حدیث نمبر: 1742
اَللّٰہُمَّ مُنْزِلَ الْکِتَابِ، سَرِیْعَ الْحِسَابِ، اِہْزِمِ الْاَحْزَابَ، اَللّٰہُمَّ اْہزِمْہُمْ وَ زَلْزِلْہُمْ
39 ـ لوگوں سے ڈرے تو یہ دعا مانگے
’’اے اللہ ! تو مجھے ان سے کافی ہوجا، جس طرح تو چاہے۔‘‘ [172] [172] صحیح مسلم، 4/2300، حدیث نمبر: 3005
اَللّٰہُمَّ اکْفِنِیْہِمْ بِمَا شِئْتَ
40 ـ جسے ایمان میں وسوسہ لا حق ہوجائے اس کے لیے دعائیں
[اللہ تعالی کی پناہ مانگے۔] [173] کہے: (میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔) [173] صحیح بخاری مع الفتح : 6/ 336، حدیث : 3276، صحیح مسلم : 1/ 120، حدیث : 134۔
أَعُوذُ بِاللَّہِ مِنَ الشَّيطَانِ الرَّجِيم
([اس چیز یا کام سے رک جائے جس میں وسوسہ لاحق ہوا ہو۔) [174] [174] صحیح بخاری مع الفتح : 6/ 336، حدیث : 3276، صحیح مسلم : 1/ 120، حدیث : 134۔
(یہ دعا پڑھے : (میں اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا۔))[175] [175] صحیح مسلم، 1 /119-120، حدیث نمبر: 134
آمَنْتُ بِاللَّہِ وَرُسُلِہ
[اللہ تعالی کا یہ فرمان پڑھے : ’’وہی اول ہے، وہی آخر ہے، وہی ظاہر ہے، وہی باطن ہے۔ اور وہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔‘‘ [178] [الحدید‘ آیت: 3 ] [176]۔ [176] سنن ابی داود : 4/ 329، حدیث : 5110، البانی نے صحيح ابی داود میں اسے حسن کہا ہے، 3/962۔
41 ـ قرض کی ادائیگی کی دعا
’’اے اللہ ! تو مجھے اپنے حلال کردہ چیزوں کے ساتھ اپنی حرام کردہ چیزوں سے کافی ہوجا اور مجھے اپنے فضل سے، اپنے ماسوا سے بے نیاز کردے۔‘‘ [177] [177]جامع ترمذی: 5/ 560، حدیث : 3563، اور دیکھیے : صحيح ترمذی: 3/180۔
’’اے اللہ! یقینََا میں تیری پناہ میں آتا ہوں فکر اور حزن وملال سے، عاجز ہو جانے اور کاہلی سے، بزدلی اور بخل سے اور قرض کے بوجھ اور لوگوں کے تسلط سے۔‘‘ [178] [178] صحیح بخاری : 7/ 158، حدیث : 2893۔ اور یہ ص83 پر 121 کے تحت گزر چکا ہے۔
اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْہَمِّ وَ الْحَزَنِ، وَ الْعَجْزِ وَالْکَسَلِ، وَ الْبُخْلِ وَ الْجُبْنِ، وَ ضَلَعِ الدَّیْنِ وَ غَلَبَۃِ الرِّجَالِ
42 ـ قرآن اور نماز میں وسوسے سے بچنے کی دعا
«میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں،
أَعُوذُ بِاللَّہِ مِنَ الشَّيطَانِ الرَّجِيم اور اپنی بائیں جانب تھتکاریں۔ (تین مرتبہ)»[179] [179] مسلم : 4/ 1729، حدیث : 2203، بروایت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ، اور اس روایت میں ہے کہ میں نے ایسا ہی کیا تو اللہ تعالی نے اسے مجھ سے دور کردیا۔
43 ـ مشکل کام کی آسانی کے لیے دعا
’’اے اللہ ! کوئی کام آسان نہیں ہے مگر وہی جسے تو آسان کردے اور تو مشکل کام جب چاہے، آسان کردیتا ہے۔‘‘ [180] [180] صحيح ابن حبان، حدیث نمبر : 2427 (موارد)، ابن سنی، حدیث: 351، حافظ نے فرمایا : یہ حدیث صحیح ہے، اور عبد القادر ارناؤوط نے بھی اسے صحیح کہا ہے، دیکھیے : الأذكار للنووي، ص106۔
اَللّٰہُمَّ لَا سَہْلَ اِلَّا مَا جَعَلْتَہٗ سَہْلًا، وَ اَنْتَ تَجْعَلُ الْحَزْنَ اِذَا شِئْتَ سَہْلًا
44 ـ گناہ کر بیٹھے تو کیا کہے اور کیا کرے؟
"جو شخص کوئی گناہ کرے تو وہ اچھی طرح وضو کرے، پھر کھڑا ہو کر دو رکعت نماز پڑھے، اللہ تعالی سے مغفرت کا طلب گار ہو تو اللہ تعالی اس کى مغفرت فرمادیتا ہے" [181]۔ [181] سنن ابی داود : 2/ 86، حدیث : 1521، جامع ترمذی: 2/ 257، حدیث : 406، ، البانی نے صحيح ابی داود میں اسے صحیح کہا ہے: 1/283۔
45 ـ شیطان اور اس کے وسوسوں کو دور کرنے کی دعا
شیطان سے اللہ کی پناہ مانگی جائے۔ [182] [182] سنن ابو داود : 1/ 203، حدیث : 775، سنن ابن ماجہ : 1/ 265، حدیث : 807، اس کی تخریج گزرچکی ہے : 31، اور دیکھیے : سورة المؤمنون، آیت : 97-98 ۔
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيطَانِ الرَّجِيم
(اذان)۔ [183] [183] صحیح مسلم : 1/ 291، حدیث : 389، صحیح بخاری: 1/ 151، حدیث : 608۔
مسنون اذکار اور قرآنِ مجید کی تلاوت۔
«اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ، بے شک شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے جس میں سورۃ البقرہ پڑھی جاتی ہے۔»[184] [184] صحیح مسلم (1/539)، حدیث نمبر : 780۔
اسی طرح جو چیزیں شیطان کو دور کرتی ہیں ان میں صبح وشام کی دعائیں، سونے اور جاگنے کی دعائیں، گھر میں داخل ہونے اور گھر سے باہر نکلنے کی دعائیں، مسجد میں داخل ہونے اور مسجد سے باہر نکلنے کی دعائیں اور ایسی تمام دعائیں شامل ہیں جو شریعتِ میں ثابت ہیں، مثلا : سوتے وقت آیۃ الکرسی اور سورۂ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھے، اور جو شخص اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ، لَہٗ الْمُلْکُ وَ لَہٗ الْحَمْدُ، وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ سو مرتبہ پڑھے، تو وہ پورے دن شیطان سے محفوظ رہے گا [185]، اسی طرح اذان شیطان کو بھگاتی ہے۔ [185] صحیح بخاری: (4/126)، حدیث نمبر : 3293۔
46 ـ ناپسندیدہ واقعہ کے رونما ہونے اورمغلوب ہوجانے کے وقت کی دعا
’’اللہ تعالی نے مقدر فرمایا اور اس نے جو چاہا کیا۔‘‘ [186] [186] ’’اللہ تعالی کے نزدیک طاقتور مومن کمزور مومن سے بہتر اور زیادہ محبوب ہے جبکہ دونوں میں اچھائی موجود ہے، جو چیز تمھیں فائدہ پہنچا سکتی ہے اسے حاصل کرنے کی کوشش کرو اور اللہ سے مدد مانگو، بے بس ہوکر نہ بیٹھو، اگر تمھیں کوئی نقصان پہنچ جائے تو یہ نہ کہو : ’’کاش! میں اس طرح کرلیتا تو اس طرح ہوجاتا۔‘‘ بلکہ یہ کہو کہ ’’اللہ تعالی نے مقدر فرمایا اور اس نے جو چاہا کیا۔‘‘ کیوں کہ ’’کاش‘‘ کا لفظ شیطان کو دخل اندازی کا موقع دیتا ہے۔‘‘ مسلم: 4/ 2052، حدیث: 2664۔
47 ـ جس کے یہاں نو مولود کى ولادت ہوئى ہو اس کو مبارکبادى اور اس کا جواب
«اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اس عطا کردہ (بچے) میں برکت دے، تم عطا کرنے والے کا شکر ادا کرو، وہ اپنی جوانی کو پہنچے، اور تمہیں اس کی فرمانبرداری نصیب ہو۔»[187] [187] یہ حسن بصری کے کلام سے نقل کیا گیا ہے۔ دیکھیے : تحفة المودود لابن القيم، ص 20، ابن القیم نے اسے الاوسط لابن منذر کى طرف منسوب کیا ہے۔
بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي المَوْهُوبِ لَكَ، وَشَكَرْتَ الوَاهِبَ، وَبَلَغَ أَشُدَّهُ، وَرُزِقْتَ بِرَّه جسے مبارکباد دی جائے وہ اسے جواب میں کہے: «اللہ آپ کے لیے برکت دے اور آپ پر برکت نازل فرمائے، اللہ آپ کو جزائے خیر دے، اللہ آپ کو اس کی مثل عطا فرمائے، اور آپ کے ثواب کو بڑھا دے۔»[188] [188] الأذكار للنووی : ص349، دیکھیے : صحیح الأذكار، سلیم الہلالی : 2/713، اس کی مکمل تخریج مؤلف کی کتاب : الذكر والدعاء والعلاج بالرقى : 1/ 416 میں موجود ہے۔
بَارَکَ اللّٰہُ لَکَ وَ بَارَکَ عَلَیْکَ، وَ جَزَاکَ اللّٰہُ خَیْرًا، وَ رَزَقَکَ اللّٰہُ مِثْلَہٗ، وَ اَجْزَلَ ثَوَابَکَ
48 ـ بچوں کو کن الفاظ کے ساتھ اللہ کی پناہ میں دیا جائے
146- رسول اللہ ﷺ حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو ان الفاظ کے ساتھ اللہ کی پناہ میں دیتے تھے : ’’میں تم دونوں کو اللہ تعالی کے مکمل کلمات کے پناہ میں دیتا ہوں ہر شیطان اور زہریلے جانور سے اور ہر لگ جانے والی نظر سے۔‘‘ [189] [189] صحیح بخاری: 4/ 119، حدیث : 3371، بروایت ابن عباس –رضي الله عنهما-۔
اُعِیذُکُمَا بِکَلِمَاتِ اللہِ التَّامَّۃِ مِن کُلِّ شَیْطَانٍ وَّہَامَّہ، وَمِن کُلِّ عَیْنٍ لَّامَّہ
49 ـ بیمار پرسی کے وقت مریض کے لیے دعائیں
’’کوئی حرج نہیں اگر اللہ نے چاہا تو یہ بیماری (گناہوں سے) پاک کرنے والی ہے۔‘‘ [190] [190] صحیح بخاری مع الفتح : 10/118، حدیث : 3616۔
لَا بَاْسَ طَہُوْرٌ اِنْ شَاءَ اللّٰہُ
اَسْاَلُ اللّٰہَ الْعَظِیْمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ اَنْ یَّشْفِیَکَ سات مرتبہ۔ [191] [191] رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’کوئی مسلمان کسی ایسے مریض کی بیمار پرسی کرے جس کی موت کا وقت نہ آیا ہو اور سات دفعہ یہ دعا پڑھے تو اسے عافیت مل جاتی ہے۔ ‘‘جامع ترمذی، حدیث : 2083، سنن ابی داود، حدیث : 3106، دیکھیے : صحيح ترمذی، 2/210، اور صحيح الجامع، 5/180۔
50 ـ بیمار پرسی کی فضیلت
نبی ﷺ نے فرمایا : ’’جب کوئی آدمی اپنے مسلمان بھائی کی بیمار پرسی کے لیے جاتا ہے تو وہ بیٹھنے تک جنت کے میووں میں چلتا ہے، جب وہ بیٹھتا ہے تو رحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے، اگر صبح کا وقت ہو تو شام تک ستر ہزار فرشتے اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں اور اگر شام کا وقت ہو تو صبح تک ستر ہزار فرشتے اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں۔‘‘ [192] [192] جامع ترمذی، حدیث : 969، سنن ابن ماجہ، حدیث : 1442، مسند احمد، حدیث : 975، دیکھیے : صحيح ابن ماجہ : 1/244 اور صحيح ترمذی: 1/286، أحمد شاكر نے بھی اسے صحیح کہا ہے۔
51 ـ زندگی سے ناامید مریض کی دعائیں
’’اے اللہ ! ميرى مغفرت فرما، مجھ پر رحم فرما اور مجھے اعلى ساتھیوں کے ساتھ ملا دے۔‘‘[193] [193] صحیح بخاری: 7/ 10، حدیث : 4435، صحیح مسلم : 4/ 1893، حدیث : 2444۔
اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِیْ، وَ ارْحَمْنِیْ، وَ اَلْحِقْنِیْ بِالرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی
’’نبی کریم ﷺ وفات کے وقت اپنے ہاتھوں کو پانی میں ڈال کر اپنے چہرہ مبارک پر پھیرتے ہوئے یہ دعا پڑھ رہے تھے : «اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں
لَا إِلٰہ إِلَّا اللّٰہ بے شک موت کی سختیاں ہیں۔»[194] [194] صحیح بخاری مع الفتح : 8/ 144، حدیث : 4449، اس حدیث میں مسواک کا بھی ذکر ہے۔
’’اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبودبرحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اسی کی بادشاہت ہے، اسی کے لیے ہر قسم کی تعریف ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، گناہ سے بچنے کی ہمت ہے نہ نیکی کرنے کی طاقت مگر اللہ کی توفیق ہی سے۔‘‘ [195] [195] جامع ترمذی، حدیث : 3430، سنن ابن ماجہ، حدیث : 3794، البانی نے اسے صحیح کہا ہے، دیکھیے : صحيح ترمذی: 3/152، اور صحيح ابن ماجہ : 2/317۔
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اللّٰہُ اَکْبَرُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ لَہٗ الْمُلْکُ وَ لَہٗ الْحَمْدُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ
52 ـ قریب الموت کو تلقین
«جس کا آخری کلام یہ ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں
لَا إِلٰہ إِلَّا اللّٰہ وہ جنت میں داخل ہوگا۔»[196] [196] سنن ابو داود : 3/ 190، حدیث : 3116، اور دیکھیے : صحيح الجامع : 5/432۔
53 ـ مبتلائے مصیبت کی دعا
’’یقیناََ ہم اللہ ہی کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں، اے اللہ ! مجھے میرى مصیبت میں اجر دے اور مجھے بدلے میں اس سے زیادہ بہتر دے۔‘‘ [197] [197] صحیح مسلم: 2/632، حدیث نمبر: 918
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًَا مِنْهَا
54 ـ میت کی آنکھیں بند کرتے وقت کی دعا
’’اے اللہ ! فلاں (نام لے کر کہے) کى مغفرت فرما اور ہدایت یافتہ لوگوں میں اس کا درجہ بلند فرما اور اس کے بعد اس کے پیچھے رہ جانے والوں میں اس کا جانشین بن اور ہمارى اور اس کى مغفرت فرما اے رب العالمین! اور اس کے لیے اس کی قبر میں کشادگی فرما اور روشنی کردے۔‘‘ [198] [198] صحیح مسلم، 2/634، حدیث نمبر: 920
اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِفُلَانٍ (اس کا نام لے) وَ ارْفَعْ دَرَجَتَہٗ فِی الْمَہْدِیِّیْنَ، وَ اخْلُفْہٗ فِیْ عَقِبِہٖ فِی الْغَابِرِیْنَ، وَ اغْفِرْ لَنَا وَلَہٗ یَا رَبَّ الْعَالَمِیْنَ، وَ افْسَحْ لَہٗ فِیْ قَبْرِہٖ، وَ نَوِّرْ لَہٗ فِیْہِ
55 ـ میت کے لیے نمازِ جنازہ کے دوران کی دعائیں
’’اے اللہ ! اسى کى مغفرت فرما دے ، اس پر رحم فرما، اسے عافیت دے، اسے معاف فرمادے، اس کی مہمان نوازی اچھی کر، اس کی قبر فراخ کر دے، (اس کے گناہوں کو) دھودے پانی، برف اور اولوں کے ساتھ اور اسے گناہوں سے اس طرح صاف کردے جیسے تو نے سفید کپڑے کو میل کچیل سے صاف کر دیا، اسے بدلے میں ایسا گھر دے جو اس کے گھر سے زیادہ بہتر ہو اور ایسے گھر والے جو اس کے گھر والوں سے زیادہ بہتر ہوں اور ایسی بیوی جو اس کی بیوی سے زیادہ بہتر ہو اور اسے جنت میں داخل فرما اور قبر کے عذاب اور آگ کے عذاب سے بچا۔‘‘ [199] [199] صحیح مسلم، 2/663 حدیث نمبر: 963
اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لَہٗ وَ ارْحَمْہٗ، وَ عَافِہٖ، وَ اعْفُ عَنْہٗ، وَ اَکْرِمْ نُزُلَہٗ، وَ وَسِّعْ مُدْخَلَہٗ، وَ اغْسِلْہُ بِالْمَاءِ وَ الثَّلْجِ وَ الْبَرَدِ، وَنَقِّہٖ مِنَ الْخَطَایَا کَمَا نَقَّیْتَ الثَّوْبَ الْاَبْیَضَ مِنَ الدَّنَسِ، وَ اَبْدِلْہُ دَارًا خَیْرًا مِّنْ دَارِہٖ، وَ اَہْلًا خَیْرًا مِّنْ اَہْلِہٖ، وَ زَوْجًا خَیْرًا مِّنْ زَوْجِہٖ، وَ اَدْخِلْہُ الْجَنَّۃَ، وَ اَعِذْہُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ [وَ عَذَابِ النَّارِ]
’’اے اللہ! ہمارے زندہ اور فوت شدہ کو، ہمارے حاضر اور غائب کو، ہمارے چھوٹے اور بڑے کو، ہمارے مرد اور ہماری عورتوں کو معاف فرما دے، یا الٰہی ! ہم میں سے جسے تو زندہ رکھے، اسے اسلام پر زندہ رکھ اور ہم میں سے جسے تو فوت کرے، اسے ایمان پر فوت کر، اے اللہ ! ہمیں اس ( میت) کے اجر سے محروم نہ کرنا اور ہمیں اس کے بعد گمراہ نہ کرنا۔‘‘ [200] [200] سنن ابو داود، حدیث :3201، جامع ترمذی، حدیث : 1024، سنن نسائی، حدیث : 1985، سنن ابن ماجہ : 1/ 480، حدیث : 1498، مسند احمد : 2/ 368، حدیث : 8809، اور دیکھیے : صحيح ابن ماجہ : 1/251۔
اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِحَیِّنَا وَ مَیِّتِنَا، وَ شَاہِدِنَا وَ غَائِبِنَا، وَ صَغِیْرِنَا وَکَبِیْرِنَا، وَ ذَکَرِنَا وَ اُنْثَانَا، اَللّٰہُمَّ مَنْ اَحْیَیْتَہٗ مِنَّا فَاَحْیِہٖ عَلَی الْاِسْلَامِ، وَ مَنْ تَوَفَّیْتَہٗ مِنَّا فَتَوَفَّہٗ عَلَی الْاِیْمَانِ، اَللّٰہُمَّ لَا تَحْرِمْنَا اَجْرَہٗ، وَ لَا تُضِلَّنَا بَعْدَہٗ
’’اے اللہ! بلا شبہ فلاں بن فلاں تیرے ذمے اور تیری پناہ میں ہے، لہذا تو اسے فتنۂ قبر اور آگ کے عذاب سے بچا اور تو وفا اور حق والا ہے، چنانچہ تو اس کى مغفرت فرمادے اور اس پر رحم فرما، یقینا تو بہت زیادہ مغفرت اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ [201] [201] سنن ابن ماجہ، حدیث : 1499، دیکھیے : صحيح ابن ماجہ : 1/251، سنن ابی داود : 3/ 211، حدیث : 3202۔
اَللّٰہُمَّ اِنَّ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ فِیْ ذِمَّتِکَ، وَ حَبْلِ جِوَارِکَ، فَقِہٖ مِنْ فِتْنَۃِ الْقَبْرِ، وَ عَذَابِ النَّارِ، وَ اَنْتَ اَہْلُ الْوَفَاءِ وَ الْحَقِّ، فَاغْفِرْ لَہٗ وَ ارْحَمْہٗ اِنَّکَ اَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ
’’اے اللہ! تیرا (یہ) بندہ اور تیری کنیز کا بیٹا، تیری رحمت کا محتاج ہے اور تو اسے عذاب دینے سے بے نیاز ہے، اگر یہ نیک تھا تو اس کی نیکیوں میں اضافہ فرما اور اگر یہ گناہ گار تھا تو اس سے درگزر فرما۔‘‘ [202] [202] حاكم نے اسے روایت کیا اور صحیح کہا ہے، اور ذهبی نے ان کی موافقت کی ہے : 1/359، دیکھیے: احكام الجنائز للالبانی، ص125۔
اَللّٰہُمَّ عَبْدُکَ وَابْنُ اَمَتِکَ احْتَاجَ اِلٰی رَحْمَتِکَ، وَ اَنْتَ غَنِیٌّ عَنْ عَذَابِہٖ، اِنْ کَانَ مُحْسِنًا فَزِدْ فِیْ حَسَنَاتِہٖ، وَ اِنْ کَانَ مُسِیْئًا فَتَجَاوَزْ عَنْہُ
56 ـ بچے کی نمازِ جنازہ کی دعائیں
’’اے اللہ ! اسے عذاب قبر سے بچا۔‘‘ [203] [203] (حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے ایک ایسے بچے کی نمازِ جنازہ ادا کی جس نے کسى بھى غلطى کا ارتکاب نہیں کیا تھا، میں نے انھیں کہتے ہوئے سنا...) موطا امام مالک : 1/288، مصنف ابن ابی شيبۃ : 3/217، بيهقی: 4/9، اور شعيب ارناؤوط نے اس کی سند کو اپنی تحقیق شرح السنة للبغوی: 5/357۔ میں صحیح کہا ہے۔
اللَّہُمَّ أَعِذْہُ مِنْ عَذَابِ القَبْر
اور اگر وہ کہے : «اے اللہ! اسے اس کے والدین کے لیے آگے بھیجا ہوا سامان اور ذخیرہ بنا دے، اور ایسا سفارش کرنے والا بنا جس کی سفارش قبول کی جائے۔ اے اللہ! اس کے ذریعے ان دونوں کے ترازو کو بھاری کردے، اس کے ذریعے ان کے اجر کو بڑھا دے، اسے نیک مومنوں کے ساتھ ملا دے، اسے ابراہیم (علیہ السلام) کی کفالت میں رکھ، اپنی رحمت سے اسے جہنم کے عذاب سے بچا لے، اسے اس کے گھر کے بدلے بہتر گھر، اور اس کے اہل وعیال کے بدلے بہتر اہل وعیال عطا فرما۔ اے اللہ! ہمارے اسلاف، ہمارے پیش روؤں اور ہم سے پہلے ایمان لانے والوں کی مغفرت فرما۔»
اَللّٰہُمَّ اجْعَلْہُ فَرَطًا وَذُخْرًا لِّوَالِدَیْہِ، وَ شَفِیْعًا مُّجَابًا، اَللّٰہُمَّ ثَقِّلْ بِہٖ مَوَازِیْنَہُمَا، وَ اَعْظِمْ بِہٖ اُجُوْرَہُمَا، وَ اَلْحِقْہُ بِصَالِحِ الْمُؤْمِنِیْنَ، وَ اجْعَلْہُ فِیْ کَفَالَۃِ اِبْرَاہِیْمَ، وَ قِہٖ بِرَحْمَتِکَ عَذَابَ الْجَحِیْمِ، وَ اَبْدِلْہُ دَارًا خَیْرًا مِّنْ دَارِہٖ، وَ اَہْلًا خَیْرًا مِّنْ اَہْلِہٖ، اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِاَسْلَافِنَا، وَ اَفْرَاطِنَا، وَ مَنْ سَبَقَنَا بِالْاِیْمَانِ تو اچھی بات ہے۔ [204] [204] دیکھیے : المغنی لابن قدامة : 3/416، الدروس المهمة لعامة الامة، للشيخ عبد العزيز بن عبد الله بن باز -رحمه الله- ، ص15۔
«اے اللہ! اس (بچے) کو ہمارے لیے آگے پہنچ کر انتظام کرنے والا، ذخیرۂ آخرت اورباعثِ اجر بنا دے۔»[205] [205] حسن (بصری) بچے پر سورۂ فاتحہ پڑھتے اور کہتے : ۔ ۔ ۔ الحدیث۔ شرح السنة للبغوی: 5/357، مصنف عبدالرزاق، حدیث : 6588، امام بخاری نے اسے تعلیقاً ذکر کیا ہے، كتاب الجنائز، 65، باب قراءة فاتحة الكتاب على الجنازة : 2/ 113، حدیث نمبر: 1335 سے پہلے۔
اللَّہُمَّ اجْعَلْہُ لَنَا فَرَطًا، وَسَلَفًا، وَأَجْرًا
57 ـ تعزیت کی دعائیں
’’یقیناََ اللہ ہی کا ہے جو اس نے لے لیا اور اسی کا ہے جو اس نے دیا، اور اس کے پاس ہر چیز وقتِ مقررہ کے ساتھ ہے...اس لیے چاہیے کہ تم صبر کرو اور اس صبر میں اجر وثواب کی نیت رکھو۔‘‘ [206] [206] صحیح بخاری: 2/ 80، حدیث : 1284، صحیح مسلم : 2/ 636، حدیث : 923۔
اِنَّ لِلّٰہِ مَا اَخَذَ، وَ لَہٗ مَا اَعْطٰی، وَ کُلُّ شَیْءٍ عِنْدَہٗ بِاَجَلٍ مُّسَمًّی... فَلْتَصْبِرْ وَ لْتَحْتَسِبْ
اور اگر ساتھ میں یہ بھى کہے: ’’اللہ تعالی تیرا اجر بڑھائے اور تمھیں اچھے طریقے سے تسلی دے اور تمھارے فوت شدہ کى مغفرت فرمادے۔‘‘
اَعْظَمَ اللّٰہُ اَجْرَکَ، وَ اَحْسَنَ عَزَاءَکَ، وَ غَفَرَ لِمَیِّتِکَ تو اچھی بات ہے۔ [207] [207] الأذكار للنووی، ص126۔
58 ـ میت کو قبر میں اتارتے وقت کی دعا
’’اللہ کے نام کے ساتھ اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مطابق (تمھیں دفن کرتے ہیں)۔‘‘ [208] [208] سنن ابو داود صحیح سند کے ساتھ : 3/ 314، حدیث : 3215، مسند احمد، حدیث : 5234، حدیث : 4812 مسند احمد کے الفاظ یہ ہیں : ’’اللہ کے نام کے ساتھ اور رسول اللہ ﷺ کی ملت پر۔‘‘ اور اس کی سند بھی صحيح ہے۔
بِسْمِ اللَّہِ وَعَلَى سُنَّۃِ رَسُولِ اللَّہ
59 ـ میت کو دفن کرنے کے بعد کی دعا
’’اے اللہ ! اس کى مغفرت فرمادے، اے اللہ ! اسے ثابت قدم رکھ۔‘‘ [209] [209] نبی کریم ﷺ میت دفن کرنے سے فارغ ہوتے تو اس کے پاس ٹھہر کر فرماتے : ’’اپنے بھائی کے لیے استغفار کرو اور اس کے لیے ثابت قدمی کی دعا کرو کیوں کہ اب اس سے سوالات ہوں گے۔‘‘ ابو داود : 3/ 315، حدیث : 3223، حاكم نے اسے روایت کر کے صحیح کہا ہے اور ذهبی نے ان کی موافقت کی ہے : 1/370۔
اَللّٰہُمَّ اغۡفِرۡ لَہُ، اَللّٰہُمَّ ثَبِّتہُ
60 ـ زیارتِ قبور کی دعا
’’ان گھروں (قبروں ) کے مومن اور مسلمان مکینو ! تم پر سلام ہو اور بلا شبہ اگر اللہ نے چاہا تو ہم بھی تم سے ضرور ملنے والے ہیں، [اور ہم میں سے پہلے جانے والوں پر اور بعد میں جانے والوں پر اللہ رحم فرمائے۔] میں اللہ تعالیٰ سے اپنے اور تمھارے لیے عافیت کا سوال کرتا ہوں۔‘‘ [210] [210] مسلم : 2/ 671، حدیث : 975، ابن ماجہ : 1/ 494، حدیث : 1547، ابن ماجہ کی روایت بریدہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، اور قوسین کے درمیان مذکور الفاظ مسلم (2/ 671، حدیث 975.) نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ اَہْلَ الدِّیَارِ، مِنَ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُسْلِمِین، وَاِنَّا اِنْ شَاءَ اللّٰہُ بِکُمْ لَاحِقُون، وَ یَرْحَمُ اللّٰہُ الْمُسْتَقْدِمِینَ مِنَّا وَالْمُسْتَاْخِرِین، اَسْاَلُ اللّٰہَ لَنَا وَ لَکُم الْعَافِیَہ
61 ـ آندھی کی دعائیں
’’اے اللہ! میں تجھ سے اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور اس کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘ [211] [211] سنن ابی داود، حدیث : 4/ 326، حدیث :5099، ابن ماجہ: 2/ 1228، حدیث: 3727، اور دیکھیے : صحيح ابن ماجہ : 2/305۔
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا
’’اے اللہ ! میں تجھ سے اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور اس چیز کی بھلائی کا جو اس میں ہے اور اس چیز کی بھلائی کا جس کے ساتھ اسے بھیجا گیا ہے اور میں اس کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور اس چیز کے شر سے جو اس میں ہے اور اس چیز کے شر سے جس کے ساتھ اسے بھیجا گیا ہے۔‘‘ [212] [212] صحیح مسلم : 2/ 666، حدیث : 899، الفاظ مسلم کے ہیں، صحیح بخاری: 4/ 76، حدیث : 3206، حدیث : 4829۔
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا، وَخَيْرَ مَا فِيهَا، وَخَيْرَ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا، وَشَرِّ مَا فِيهَا، وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِه
62 ـ بادل گرجنے کے وقت کی دعا
’’پاک ہے وہ ذات کہ گرج اس کی حمد کے ساتھ تسبیح پڑھتی ہے اور فرشتے اس کے ڈر سے (تسبیح کرتے ہیں)۔‘‘ [213] [213] حضرت عبد اللہ بن زبیر –رضي الله عنهما- جب بادل کی گرج سنتے تو باتیں چھوڑ دیتے اور یہ دعا پڑھتے ۔ ۔ ۔الحديث، موطأ : 2/992، الباني نے صحيح الكلم الطيب : 157میں فرمایا : صحابی تك اس کی سند صحیح ہے۔
سُبْحَانَ الَّذِیْ یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِہٖ وَالْمَلَائِکَۃُ مِنْ خِیْفَتِہْ
63 ـ بارش طلب کرنے کی چند دعائیں
’’اے اللہ ! تو ہمیں ایسی بارش سے سیراب کر جو مددگار، خوش گوار، سرسبز کرنے والی، مفید ہو نقصان دہ نہ ہو، جلد ہو، نہ کہ دیر سے آنے والی۔‘‘ [214] [214] سنن ابو داود : 1/ 303، حدیث : 1171، البانی نے صحيح ابی داود : 1/216 میں اسے صحیح کہا ہے۔
اَللّٰہُمَّ اسْقِنَا غَیْثًا مُّغِیْثًا مَّرِیْئًا مَّرِیْعًا، نَافِعًا غَیْرَ ضَارٍّ، عَاجِلًا غَیْرَ آجِلٍ
’’اے اللہ ! ہمیں بارش دے، اے اللہ ! ہمیں بارش دے، اے اللہ ! ہمیں بارش دے۔‘‘ [215] [215] صحیح بخاری: 1/ 224، حدیث : 1014، اور صحیح مسلم : 2/ 613، حدیث :897۔
’’اے اللہ ! اپنے بندوں اور اپنے چوپایوں کو پانی پلا اور اپنی رحمت عام کردے اور اپنے مردہ شہر کو زندہ کردے۔‘‘ [216] [216] سنن ابی داود : 1/ 305، حدیث : 1178، البانی نے صحيح ابی داود : 1/218 میں اسے حسن کہا ہے۔
اللَّهُمَّ اسْقِ عِبَادَكَ، وَبَهَائِمَكَ، وَانْشُرْ رَحْمَتَكَ، وَأَحْيِ بَلَدَكَ المَيِّت
64 ـ بارش نازل ہوتے وقت کی دعا
’’اے اللہ ! اسے نفع بخش بارش بنا۔‘‘ [217] [217] صحیح بخاری مع الفتح : 2/ 518، حدیث : 1032۔
اَللّٰہُمَّ صَیِّبًا نَافِعًا
65 ـ بارش نازل ہونے کے بعد کی دعا
’’ہم اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کے ساتھ بارش سے نوازے گئے۔‘‘ [218] [218] صحیح بخاری: 1/ 205، حدیث :846، صحیح مسلم : 1/ 83، حدیث : 71۔
مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَرَحْمَتِه
66 ـ مطلع صاف ہونے کے لیے دعا
’’اے اللہ! ہمارے اردگرد بارش برسا اور (اب) ہم پر نہ (برسا)۔ اے اللہ! ٹیلوں پر، پہاڑیوں پر، اور وادیوں میں نیز درختوں کے اگنے کی جگہوں پر (بارش برسا)۔‘‘ [219] [219] صحیح بخاری: 1/ 224، حدیث : 933، صحیح مسلم : 2/ 614 حدیث :897۔
67 ـ چاند دیکھنے کی دعا
’’اللہ سب سے بڑا ہے، اے اللہ ! تو اسے امن، ایمان، سلامتی، اسلام اور اس چیز کی توفیق کے ساتھ جسے تو پسند کرتا ہے، ہم پر طلوع فرما، اے ہمارے رب ! اور (جس سے) تو راضی ہوتا ہے۔ (اے چاند!) ہمارا اور تمھارا رب اللہ ہے۔‘‘ [220] [220] جامع ترمذی: 5/ 504، حدیث :3451، دارمی: 1/336، الفاظ دارمی کے ہیں، اور دیکھیے : صحيح ترمذی: 3/157 ۔
اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالأَمْنِ وَالإِيمَانِ، وَالسَّلَامَةِ وَالإِسْلَامِ، وَالتَّوْفِيقِ لِمَا تُحِبُّ رَبَّنَا وَتَرْضَى، رَبُّنَا وَرَبُّكَ اللَّه
68 ـ افطار کے وقت کی دعائیں
’’پیاس چلی گئی اور رگیں تر ہوگئیں اور اگر اللہ نے چاہا تو اجر ثابت ہو گیا۔‘‘ [221] [221] سنن ابی داود : 2/ 306، حدیث : 2359، وغيرہ، اور دیکھیے : صحيح الجامع : 4/209۔
ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ العُرُوقُ، وَثَبَتَ الأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّه
’’اے اللہ ! بے شک میں تیری اس رحمت کے ذریعے سے جس نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے بخش دے۔‘‘ [222] [222] ابن ماجہ : 1/ 557، حدیث : 1753 یہ دعا حضرت عبد الله بن عمرو –رضي الله عنهما- پڑھتے تھے، حافظ نے الأذكار کی تخريج میں اسے حسن کہا ہے۔ دیکھیے : شرح الأذكار : 4/342 ۔
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِرَحْمَتِكَ الَّتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ أَنْ تَغْفِرَ لِي
69 ـ کھانا کھانے سے پہلے کی دعا
’’جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھانے لگے تو اسے کہنا چاہیے: بسم اللہ
بسم اللہ اگر شروع میں کہنا بھول جائے تو یوں کہے: اللہ کے نام سے اس کے شروع اور آخر میں»[223]. [223] سنن ابو داود : 3/ 347، حدیث : 3767، جامع ترمذی: 4/ 288، حدیث : 1858، اور دیکھیے : صحيح ترمذی: 2/167۔
بِسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ وَآخِرِه
’’جسے اللہ تعالی کھانا کھلائے، اسے کہنا چاہیے : اے اللہ ! ہمارے لیے اس میں برکت عطا کر اور ہمیں اس سے زیادہ بہتر کھلا۔
اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَأَطْعِمْنَا خَيْرًا مِنْه اور جسے اللہ تعالی دودھ پلائے، اسے کہنا چاہیے : اے اللہ! ہمارے لیے اس میں برکت عطا فرما اور ہمیں اس سے زیادہ نواز» [224]۔ [224] جامع ترمذی: 5/ 506، حدیث : 3455، اور دیکھیے : صحيح ترمذی: 3/158۔
اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَزِدْنَا مِنْه
70 ـ کھانے سے فراغت کے بعد کی دعائیں
’’ہر قسم کی تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے یہ (کھانا) مجھے کھلایا اور مجھے یہ (کھانا) عطا کیا بغیر میری کسی طاقت کے اور بغیر میری کسی قوت کے۔‘‘ [225] [225] اسے اصحابِ سنن نے روایت کیا ہے سوائے نسائی کے: سنن ابی داود : حدیث : 4025، جامع ترمذی، حدیث : 3458، سنن ابن ماجہ، حدیث : 3285، اور دیکھیے : صحيح ترمذی: 3/159۔
الحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا، وَرَزَقَنِيهِ، مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّة
’’ہر قسم کی تعریف اللہ ہی کے لیے ہے بہت زیادہ، پاکیزہ اور با برکت، نہ (یہ کھانا) کفایت کیا گیا (کہ مزید کی ضرورت نہ رہے) ، نہ اسے چھوڑا گیا ہے اور نہ اس سے بے نیاز ہوا جاسکتا ہے، اے ہمارے رب۔‘‘ [226] [226] صحیح بخاری: 6/ 214، حدیث : 5458، جامع ترمذی: 5/ 507، الفاظ ترمذی کے ہیں، حدیث : 3456۔
الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، غَيْرَ [مَكْفِيٍّ وَلَا] مُوَدَّعٍ، وَلَا مُسْتَغْنَىً عَنْهُ رَبَّنَا
71 ـ میزبان کے حق میں مہمان کی دعا
’’اے اللہ ! ان کے لیے ان چیزوں میں برکت عطا فرما جو تو نے ان کو دیں اور ان کى مغفرت فرما اور ان پر رحم فرما۔‘‘ [227] [227] صحیح مسلم: 3/1615، حدیث نمبر: 2042
اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُم، وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُم
72 ـ کھانا یا پانی طلب کرنے کے لئے بطور تعریض دعا دینا۔
’’اے اللہ ! اسے کھلا جس نے مجھے کھلایا اور اسے پلا جس نے مجھے پلایا۔‘‘ [228] [228] صحیح مسلم: 3/1626، حدیث نمبر: 2055
اَللّٰہُمَّ اَطْعِمْ مَنْ اَطْعَمَنِیْ، وَ اسْقِ مَنْ سَقَانِیْ
73 ـ کسی کے ہاں افطاری کرنے کے وقت کى دعا
”روزے دار تمھارے ہاں افطار کرتے رہیں، نیک لوگ تمھارا کھانا کھاتے رہیں اور اللہ کے فرشتے تمھارے لیے دعائیں کرتے رہیں۔‘‘ [229] [229] سنن ابی داود : 3/ 367، حدیث: 3856، سنن ابن ماجہ : 1/ 556، حدیث : 1747، سنن نسائی‘ عمل اليوم والليلة، حدیث: 296-298، اور بیان کیا کہ نبی ﷺ جب کسى کے ہاں افطار کرتے تو یہ دعا پڑھتے، البانی نے صحيح ابی داود میں اسے صحیح کہا ہے: 2/730 ۔
أَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ، وَأَكَلَ طَعَامَكُمُ الأَبْرَارُ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ المَلَائِكَة
74 ـ روزہ دار کى دعا کہ جب کھانا حاضر ہو اور روزہ دار کھانا تناول نہ کرے
”جب تم میں سے کسی کو (کھانے کی) دعوت دی جائے تو اسے قبول کرنی چاہیے, اگر وہ روزہ دار ہو تو اسے (صاحب خانہ کے لیے) دُعا کرنی چاہیے، اور اگر وہ روزہ سے نہ ہو تو اسے کھانا چاہیے۔‘‘ [230] حدیث میں وارد لفظ ’’فَلْيُصَلِّ‘‘ کے معنے دعا کرنے کے ہیں۔ [230] صحیح مسلم: 2/1054، حدیث نمبر: 1150
75 ـ روزے دار کو کوئی گالی دے تو کیا کہے؟
’’بلاشبہ میں روزے سے ہوں، بلاشبہ میں روزے سے ہوں۔‘‘ [231] [231] صحیح بخاری مع فتح الباری : 4/ 103، حدیث : 1894، صحیح مسلم : 2/ 806، حدیث : 1151۔
76 ـ پہلا پھل دیکھنے کے وقت کی دعا
’’اے اللہ ! ہمارے لیے ہمارے پھل میں برکت فرما، ہمارے لیے ہمارے شہر میں برکت فرما، ہمارے لیے ہمارے صاع میں برکت فرما اور ہمارے لیے ہمارے مُد میں برکت فرما۔“ [232] [232] صحیح مسلم: 2/1000، حدیث نمبر: 1373
اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي ثَمَرِنَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا
77 ـ چھینک کی دعا
«جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو اسے کہنا چاہیے: تمام تعریفیں صرف اللہ کے لئے ہیں،
الحمد للہ اور جو اسے سنے وہ کہے: اللہ آپ پر رحم فرمائے،
یَرْحَمُکَ اللّٰہ پھر جب وہ اسے یَرْحَمُکَ اللّٰہ کہے تو چھینکنے والا جواب میں کہے: اللہ تمھیں ہدایت دے اور تمھارا حال درست کرے۔» [233] [233] صحیح بخاری: 7/125، حدیث نمبر: 5870
يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُم
78 ـ اگر کافر چھینک آنے پر الحمد للہ کہے تو کیا کہا جائے
’’اللہ تمھیں ہدایت دے اور تمھارا حال درست کرے۔‘‘ [234] [234] جامع ترمذی: 5/ 82، حدیث : 2741، مسند احمد: 4/ 400، حدیث : 19586، سنن ابی داود : 4/ 308، حدیث : 5040، دیکھیے : صحيح ترمذی: 2/354۔
یَہْدِیْکُمُ اللّٰہُ وَ یُصْلِحُ بَالَکُمْ
79 ـ شادی کرنے والے کے لیے دعا
’’اللہ تیرے لیے برکت کرے اور تجھ پر برکت کرے اور تم دونوں کو خیر میں جمع کرے۔‘‘ [235] [235] اسے اصحابِ سنن نے روایت کیا ہے سوائے نسائی کے: سنن ابی داود، حدیث : 2130، سنن ترمذی، حدیث: 1091، سنن ابن ماجہ، حدیث : 1905، سنن نسائی، عمل اليوم والليلة، حدیث : 259۔ دیکھیے : صحيح ترمذی: 1/316۔
بَارَكَ اللَّهُ لَكَ، وَبَارَكَ عَلَيْكَ، وَجَمَعَ بَيْنَكُمَا فِي خَيْر
80 ـ شادی کرنے اور سواری خرید نے والے کی دعا
جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت سے شادی کرے یا خادم خریدے تو اس چاہیے کہ یہ دعا پڑھے: «اے اللہ ! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے اس کی بھلائی کا اور اس چیز کی بھلائی کا جس پر تونے اس کو پیدا کیا اور میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس کے شر سے اور اس چیز کے شر سے جس پر تو نے اسے پیدا کیا،
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا، وَخَيْرَ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا، وَشَرِّ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْه اور جب کوئی اونٹ خریدے تو اس کے کوہان کی چوٹی پکڑے اور یہی دعا پڑھے۔»[236] [236] سنن ابی داود، حدیث : 2/ 248، حدیث : 2160، ابن ماجہ، حدیث : 1/ 617، حدیث : 1918، اور دیکھیے: صحيح ابن ماجہ : 1/324۔
81 ـ بیوی کے پاس آنے سے پہلے کی دعا
’’اللہ کے نام کے ساتھ، اے اللہ ! ہمیں شیطان (مردود) سے بچا اور اس (اولاد) کو بھی شیطان سے بچا جو تو ہمیں عطا فرمائے۔‘‘ [237] [237] صحیح بخاری: 6/ 141، حدیث : 141، صحیح مسلم : 2/ 1028، حدیث : 1434۔
بِسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ، وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا
82 ـ غصہ کے وقت کی دعا
’’میں اللہ کی پناہ میں آتاہوں شیطانِ مردود سے۔‘‘ [238] [238] صحیح بخاری: 7/ 99، حدیث : 3282، صحیح مسلم : 4/ 2015، حدیث : 2610۔
أَعُوذُ بِاللَّہِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيم
83 ـ مصیبت زدہ کو دیکھنے کے وقت کی دعا
’’ہر قسم کی تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے اس چیز سے عافیت دی جس میں تجھے مبتلا کیا ہے اور مجھے اپنی مخلوق میں سے بہتوں پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔‘‘ [239] [239] جامع ترمذی: 5/ 494، و5/ 493، حدیث : 3432، اور دیکھیے : صحيح ترمذی: 3/153 ۔
الحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي مِمَّا ابْتَلَاكَ بِهِ، وَفَضَّلَنِي عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلًا
84 ـ دورانِ مجلس کی دعا
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے لئے ایک ہى مجلس میں مجلس سے اٹھنے سے پہلے سو مرتبہ یہ دعا شمار کی جاتی تھی: ’’اے میرے رب ! میرى مغفرت فرما اور میری توبہ قبول فرما، بے شک تو بہت توبہ قبول کرنے والا اور انتہائی مغفرت فرمانے والا ہے۔‘‘[240] [240] جامع ترمذی، حدیث : 3434، سنن ابن ماجہ، حدیث : 3814، اور دیکھیے : صحيح ترمذی: 3/153، صحيح ابن ماجہ : 2/321، الفاظ ترمذی کے ہیں۔
رَبِّ اغْفِرْ لِي، وَتُبْ عَلَيَّ، إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الغَفُور
85 ـ مجلس کا کفارہ
’’اے اللہ! پاک ہے تو اپنی تعریفوں سمیت، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں۔‘‘ [241] [241] اصحابِ سنن نے اسے روایت کیا ہے: سنن ابو داود، حدیث : 4858، جامع ترمذی، حدیث : 3433، نسائی، حدیث : 1344، دیکھیے : صحيح ترمذی: 3/153۔ ’’ یہ ثابت ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بیان کیا کہ: "رسول اللہ ﷺ کسی مجلس میں تشریف رکھتے یا قرآن کریم کی تلاوت فرماتے یا نماز پڑھتے تو اس کا اختتام ان الفاظ پر کرتے تھے...‘‘ حدیث، نسائی: عمل اليوم والليلة، حدیث : 308، مسند احمد : 6/ 77، حدیث : 24486، ڈاکٹر فاروق حمادہ نے عمل اليوم والليلة للنسائی کی تحقیق میں اسے صحیح کہا ہے، ص273۔
سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْك
86 ـ اس شخص کے لئے دعا جو یہ کہے اللہ آپ کى مغفرت فرمائے
’’اور اللہ آپ کى بھى مغفرت فرمائے۔‘‘ [242] [242] مسند احمد، 5/82، حدیث : 20778، نسائی: عمل اليوم والليلة، ص218، حدیث : 421، تحقيق ڈاکٹر فاروق حمادة۔
وَلَک
87 ـ حسن سلوک کرنے والے کے لیے دعا
’’اللہ تمھیں (اس سے) زیادہ بہتر بدلہ دے۔‘‘ [243] [243] جامع ترمذی، حدیث : 2035، اور دیکھیے : صحيح الجامع : 6244 اور صحيح ترمذی: 2/200۔
جَزاکَ اللہُ خَیراً
88 ـ وہ اذکار جن کے اختیار کرنے کى وجہ سے اللہ تعالے دجال سے محفوظ رکھے گا
199-"جو شخص سورۂ کہف کی شروع کی دس آیتیں حفظ کرے گا وہ دجال سے محفوظ ہوجائے گا۔‘‘ [244]۔ اور ہر نماز کے آخری تشہد میں دجال کے فتنے سے اللہ کى پناہ مانگنا بھی اس سے تحفظ کا باعث ہے۔ [245] [245] دیکھیے اسی کتاب میں: حديث نمبر : 55 اور 56، صفحہ نمبر: 41۔ [244] مسلم : 1/555، حدیث : 809، ایک دوسری روایت میں ہے: سورۂ كهف کی آخری دس آیتیں: 1/556، حدیث : 809۔
89 ـ مجھے تم سے اللہ کے لیے محبت ہے، کہنے والے کو دعا۔
’’وہ ہستی (اللہ تعالی) تم سے محبت کرے جس کی خاطر تم نے مجھ سے محبت کی۔‘‘ [246] [246] سنن ابو داود، : 4/ 333، حدیث : 5125، اور البانی نے صحيح ابی داود میں اسے حسن کہا ہے : 3/965۔
أَحَبَّكَ الَّذِي أَحْبَبْتَنِي لَه
90 ـ اس شخص کے حق میں دعا جو آپ کے سامنے اپنال مال پیش کرے
’’اللہ تعالی تیرے لئے تیرے اہل وعیال اور مال ودولت میں برکت عطا فرمائے۔‘‘ [247] [247] صحیح بخاری مع الفتح : 4/288، حدیث : 2049۔
بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِك
91 ـ قرض کی ادائیگی کے وقت قرض دینے والے کے لیے دعا
’’اللہ تعالی تیرے اہل وعیال اور مال ودولت میں برکت عطا فرمائے، قرض کا صلہ تو صرف اور صرف شکریہ اور ادائیگی ہی ہے۔‘‘ [248] [248] نسائی: عمل اليوم والليلة، ص300، سنن ابن ماجہ : 2/ 809، حدیث : 2424، اور دیکھیے : صحيح ابن ماجہ : 2/55۔
بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِك
92 ـ شرک سے خوف کى دعا
’’اے اللہ! بے شک مَیں تیری پناہ میں آتا ہوں کہ جان بوجھ کر (کسی کو) تیرا شریک ٹھہراؤں، اور میں تجھ سے ان غلطیوں کی مغفرت طلب کرتا ہوں جنھیں میں نہیں جانتا۔‘‘ [249] [249] مسند احمد : 4/ 403، حدیث : 19606، الأدب المفرد : بخاری، حدیث : 716، اور دیکھیے : صحيح الجامع : 3/233، صحيح الترغيب والترهيب للالبانی: 1/19۔
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أُشْرِكَ بِكَ وَأَنَا أَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَا أَعْلَم
93 ـ برکت کی دعا دینے والے کے حق میں دعا
’’اور اللہ تعالی تجھے بھی برکت عطا کرے۔‘‘[250] [250] ابن سنی، ص138، حدیث : 278، اور دیکھیے : الوابل الصيب لابن القيم، ص304، تحقيق بشير محمد عيون۔
وَ فِیْکَ بَارَکَ اللّٰہُ
94 ـ بد شگونی سے ناپسندیدگی کی دعا
’’اے اللہ ! نہیں ہے کوئی بدشگونی، مگر تیری ہی بدشگونی (یعنى تیرے ہی حکم سے) اور نہیں ہے کوئی بھلائی مگر تیری ہی بھلائی (یعنى تیری ہی مشیت سے) اور تیرے سوا کوئی برحق معبود نہیں۔‘‘ [251] [251] مسند احمد: 2/ 220، حدیث : 7045، ابن سنی، حدیث : 292، البانی نے سلسلة الاحادیث الصحيحة میں اسے صحیح کہا ہے : 3/54، حدیث :1065، نیک فال کو نبی ﷺ نے پسند فرمایا ہے، اسی لیے ایک موقع پر ایک شخص سے آپ نے اچھا کلمہ سنا تو آپ کو اچھا لگا اور فرمایا : ’’تیری فال ہم نے تیرے منہ ہی سے لی ہے۔‘‘ سنن ابو داود، حدیث : 3719، مسند احمد، حدیث: 9040، البانی نے سلسلة الأحاديث الصحيحة میں اسے صحیح کہا ہے : 2/363، أخلاق النبي -صلى الله عليه وسلم از ابو الشیخ، ص270۔
اَللّٰہُمَّ لا طَیرَ اِلّا طَیرُکَ، وَلا خَیرَ اِلّا خَیرُکَ، وَلا اِلٰہَ غَیرُک
95 ـ سواری پر بیٹھنے کی دعا
206- ’’اللہ تعالی کے نام سے، ہر قسم کی تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔
بِسْمِ اللَّہِ، وَالحَمْدُ لِلّٰہ ’’پاک ہے وہ ذات جس نے اسے (سواری کو) ہمارے تابع کردیا ورنہ ہم اسے قابو میں کرلینے والے نہیں تھے۔
سُبْحَانَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا ہٰذَا وَ مَا کُنَّا لَہٗ مُقْرِنِیْنَ اور بے شک ہم اپنے رب ہی کی طرف واپس جانے والے ہیں۔‘‘
وَ اِنَّا اِلیٰ رَبِّنا لَمُنْقَلِبُوْن ’’سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اے اللہ ! تو پاک ہے ! یقیناََ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے، تو میرى مغفرت فرمادے، بے شک تیرے سوا کوئی گناہوں کى مغفرت نہیں کرسکتا۔‘‘ [252] [252] سنن ابو داود : 3/ 34، حدیث : 2602، جامع ترمذی: 5/ 501، حدیث : 3446، دیکھیے : صحيح ترمذی: 3/156، اور سورة الزخرف کی دو آیتیں : 13- 14۔
الحَمْدُ لِلَّهِ، الحَمْدُ لِلَّهِ، الحَمْدُ لِلَّهِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي؛ فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْت
96 ـ سفر کی دعا
207- ’’اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے،
اللہُ اکبر، اللہُ اکبر، اللہُ اکبر ’’پاک ہے وہ ذات جس نے اسے (سواری کو) ہمارے تابع کردیا ورنہ ہم اسے قابو میں کرلینے والے نہیں تھے۔
سُبْحَانَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا ہٰذَا وَ مَا کُنَّا لَہٗ مُقْرِنِیْنَ اور بے شک ہم اپنے رب ہی کی طرف واپس جانے والے ہیں۔‘‘
وَ اِنّا اِلیٰ رَبِّنا لَمُنقَلِبُون ’’اے اللہ ! ہم تجھ سے اپنے اس سفر میں نیکی، تقویٰ اور ایسے عمل کا سوال کرتے ہیں جسے تو پسند فرمائے، اے اللہ ! ہم پر ہمارا یہ سفر آسان کردے اور اس کی لمبی مسافت ہم سے لپیٹ دے،اے اللہ ! اس سفر میں تو ہی (ہمارا) ساتھی ہے اور (تو ہی ہمارا) جانشین ہے گھر والوں میں، اے اللہ ! سفر کی مشقت، (اس کے) تکلیف دہ منظر اور مال اور گھر والوں میں بری تبدیلی سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘
اللَّهُمَّ إِنّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا البِرَّ وَالتَّقْوَى، وَمِنَ العَمَلِ مَا تَرْضَى، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالخَليفَةُ فِي الأَهْلِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ المَنْظَرِ، وَسُوءِ المُنْقَلَبِ فِي المَالِ وَالأَهْل سفر سے واپسی پر بھی یہی الفاظ کہتے اور ان میں یہ اضافہ کرے: ’’(ہم) واپس لوٹنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں اور اپنے رب ہی کی تعریف کرنے والے ہیں۔‘‘ [253] [253] صحیح مسلم: 2/978، حدیث نمبر: 1342
آئِبُوْنَ، تَائِبُوْنَ، عَابِدُوْنَ، لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ
97 ـ کسی شہر یا بستی میں داخل ہونے کی دعا
’’اے اللہ ! ساتوں آسمانوں اور ان چیزوں کے رب جن پر یہ سایہ کیے ہوئے ہیں، اور ساتوں زمینوں اور ان چیزوں کے رب جنھیں یہ اٹھائے ہوئے ہیں، شیطانوں کے اور ان کے رب جن کو انھوں نے گمراہ کیا، ہواؤں اور ان چیزوں کے رب جو انھوں نے اڑائی ہیں، میں تجھ سے اس بستی، اس کے باشندوں اور اس (بستی) میں موجود چیزوں کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس کے شر سے اور اس کے باسیوں کے شر سے اور (ان چیزوں کے) شر سے جو اس میں ہیں۔‘‘ [254] [254] حاكم نے اسے روایت کر کے صحیح کہا ہے اور ذهبی نے ان کی موافقت کی ہے 2/100، ابن سنی، حدیث : 524، حافظ نے الأذكار کی تخریج میں اسے حسن کہا ہے: 5/154، علامة ابن باز –رحمه الله- نے فرمایا کہ اسے نسائی نے حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ دیکھیے : تحفة الأخيار، ص37۔
اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظْلَلْنَ، وَرَبَّ الأَرَضِينَ السَّبْعِ وَمَا أَقْلَلْنَ، وَرَبَّ الشَّياطِينِ وَمَا أَضْلَلْنَ، وَرَبَّ الرِّيَاحِ وَمَا ذَرَيْنَ، أَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ القَرْيَةِ، وَخَيْرَ أَهْلِهَا، وَخَيْرَ مَا فِيهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا، وَشَرِّ أَهْلِهَا، وَشَرِّ مَا فِيهَا
98 ـ بازار میں داخل ہونے کی دعا
’’اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور سب تعریف اسی کے لیے ہے، وہی زندگی دیتا اور وہی مارتا ہے اور وہ زندہ ہے مرتا نہیں، اسی کے ہاتھ میں سب بھلائی ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔‘‘ [255] [255] جامع ترمذی، حدیث : 3428، ابن ماجہ : 5/ 291، حدیث : 3860، حاكم : 1/538، البانی نے صحيح ابن ماجہ: 2/21، اور صحيح ترمذی: 3/152 میں اسے حسن کہا ہے۔
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ، وَلَهُ الحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ، وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ، بِيَدِهِ الخَيْرُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِير
99 ـ سواری پھسلنے کے وقت کی دعا
’’اللہ کے نام کے ساتھ۔‘‘ [256] [256] سنن ابی داود : 4/ 296، حدیث : 4982، امام البانی نے صحيح ابی داود : 3/941 میں اسے صحیح کہا ہے۔
بسم اللہ
100 ـ مقیم کے حق میں مسافر کی دعا
’’میں تمھیں اس اللہ کے سپرد کرتا ہوں جس کے سپرد کی ہوئی چیزیں ضائع نہیں ہوتیں۔‘‘ [257] [257] أحمد : 2/ 403، حدیث : 9230، ابن ماجہ : 2/ 943، حدیث : 2825، اور دیکھیے : صحيح ابن ماجہ : 2/133۔
أَسْتَوْدِعُكُمُ اللَّهَ الَّذِي لَا تَضِيعُ وَدَائِعُه
101 ـ مسافر کے حق میں مقیم کی دعائیں
’’میں تمھارا دین، تمھاری امانت اور تمھارا آخری عمل اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔‘‘ [258] [258] احمد : 2/ 7، حدیث : 4524، جامع ترمذی: 5/ 499، حدیث : 3443، البانی نے صحيح سنن ترمذی میں اسے صحیح کہا ہے : 3/ 419۔
أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكَ، وَأَمَانَتَكَ، وَخَوَاتِيمَ عَمَلِك
’’اللہ تمھیں تقویٰ کا زادِ راہ عطا فرمائے، تمھارے گناہ بخش دے اور تم جہاں بھی رہو تمھارے لیے بھلائی آسان کردے۔‘‘ [259] [259] جامع ترمذی، حدیث : 3444، اور دیکھیے : صحيح ترمذی: 3/155۔
زَوَّدَكَ اللَّهُ التَّقْوَى، وَغَفَرَ ذَنْبَكَ، وَيَسَّرَ لَكَ الخَيْرَ حَيْثُ ما كُنْت
102 ـ دورانِ سفر تسبیح وتکبیر
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ: «جب ہم بلندی پر چڑھتے تو تکبیر (اللہ اکبر) کہتے، کہتے: (اللہ سب سے بڑا ہے۔)
اللہ اکبر اور جب نیچے اترتے تو سبحان اللہ کہتے۔»[260] کہتے: (اللہ پاک ہے) [260] صحیح بخاری مع الفتح : 6/135، حدیث : 2993۔
سُبْحَانَ اللَّه
103 ـ دورانِ سفر صبح کے وقت کی دعا
’’ایک سننے والے نے اللہ کی تعریف سنی اور ہم پر اس کے جو اچھے انعامات ہوئے (ان کا تذکرہ بھی سنا) اے ہمارے رب ! ہمارا ساتھی بن جا اور ہم پر مہربانی فرما، (ہم یہ دعا کرتے ہیں) اللہ کی پناہ میں آتے ہوئے آگ (کے عذاب) سے۔‘‘ [261] [261] مسلم : 4/ 2086، حدیث : 2718، حدیث میں وارد لفظ "سَمِعَ سامِعٌ" کا معنی: اللہ کی نعمتوں پر جب ہم نے حمد وثنا کی تو گواہی دینے والے نے گواہی دی۔ اور "سمَّع سامِعٌ" کا معنی : سننے والے نے ہماری بات کو دوسروں تک پہنچایا، اس جيسى بات سحر کے وقت ذکر اور دعا کے اہتمام کرنے کے لئے بطور تنبیہ فرمائى۔ شرح النووی علی صحیح مسلم : 17/39۔
سَمَّعَ سَامِعٌ بِحَمْدِ اللَّهِ، وَحُسْنِ بَلَائِهِ عَلَيْنَا، رَبَّنَا صاحِبْنَا، وَأَفْضِلْ عَلَيْنَا، عَائِذًا بِاللَّهِ مِنَ النَّار
104 ـ دورانِ سفر یا سفر کے بغیر کسی جگہ ٹھہر نے کی دعا
’’میں اللہ کے مکمل کلمات کى پناہ طلب کرتا ہوں اس کی مخلوق کے شر سے۔‘‘ [262] [262] صحیح مسلم: 4/2080، حدیث نمبر: 2709
105 ـ سفر سے واپسی کی دعا
«ہر بلندی پر تین مرتبہ تکبیر (اللہ اکبر) کہے، پھر کہے: اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور ساری تعریف اسی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔ ہم واپس لوٹنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں، اور اپنے رب ہی کی تعریف کرنے والے ہیں، اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اور اپنے بندے کی مدد فرمائی اور اس اکیلے نے تمام (مخالف) گروہوں کو شکست دے دی۔‘‘ [263] [263] جب رسول اللہ ﷺ کسی جنگ یا حج سے واپس تشریف لاتے تو یہ کہتے۔ صحیح بخاری: 7/ 163، حدیث:1797، صحیح مسلم : 2/ 980، حدیث : 1344۔
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ، وَلَهُ الحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، آيِبُونَ، تَائِبُونَ، عَابِدُونَ، لِرَبِّنا حَامِدُونَ، صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الأَحْزابَ وَحْدَه
106 ـ خوشخبری یا نا پسندیدہ بات سننے والا کیا کہے؟
218- رسول اللہ ﷺ کے پاس اگر کوئی خوش کن خبر آتی تو آپ فرماتے : ’’سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس کے انعام کے باعث ہی نیک کام مکمل ہوتے ہیں۔‘‘
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ بِنِعْمَتِہٖ تَتِمُّ الصَّالِحَات اگر کوئی ناپسندیدہ معاملہ سامنے آتا تو فرماتے : ’’سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے ہر حال میں۔‘‘ [264] [264] عمل اليوم والليلة لابن سنی، حدیث : 377، حاكم نے اسے روایت کر کے صحیح کہا ہے : 1/499، البانی نے صحيح الجامع میں اسے صحیح کہا ہے : 4/201۔
اَلحَمدُ لِلّٰہِ عَلیٰ کُلِّ حال
107 ـ رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجنے کی فضیلت
نبی ﷺ نے فرمایا : ’’جو شخص مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجے گا، اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا۔‘‘ [265] جیسے کہے: (اے اللہ! ہمارے نبی محمد ﷺ پر درود وسلام نازل فرما۔) [265] مسلم : 1/ 288، حدیث : 384۔
اَللّٰہُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ عَلٰی نَبِیِّنَا مُحَمَّدٍ
نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”میری قبر کو میلہ گاہ نہ بناؤ اور مجھ پر درود بھیجو، تم جہاں بھی ہو تمھارا درود مجھے پہنچ جاتا ہے۔“ [266] [266] سنن ابی داود : 2/ 218، حدیث : 2044، احمد : 2/ 367، حدیث : 8804، اور البانی نے صحيح ابی داود میں اسے صحیح کہا ہے: 2/383۔
نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’بخیل وہ ہے جس کے پاس میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔‘‘ [267] [267] جامع ترمذی: 5/ 551، حدیث : 3546، وغيره، نیز دیکھیے : صحيح الجامع : 3/25، اور صحيح ترمذی: 3/177۔
نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو روئے زمین میں چلتے پھرتے ہیں، وہ میری امت کا سلام مجھے پہنچاتے ہیں۔‘‘ [268] [268] نسائی: 3/ 43، حدیث : 1282، حاكم : 2/421، البانی نے صحيح نسائی میں اسے صحیح کہا ہے : 1/274۔
نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’کوئی شخص (جب) بھی مجھے سلام کہتا ہے، اللہ تعالی میری روح مجھے واپس لوٹا دیتا ہے تاکہ میں اسے سلام کا جواب دوں۔‘‘ [269] [269] سنن ابی داود، حدیث : 2041، البانی نے صحيح ابی داود میں اسے حسن کہا ہے : 1/383۔
108 ـ سلام کو پھیلانا
224-(1) رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے : ’’تم جنت میں داخل نہیں ہوگے جب تک کہ تم مومن نہیں ہوگے اور تم مومن نہیں ہوگے جب تک کہ تم باہم محبت نہ کرو گے، کیا میں تمھیں ایسا کام نہ بتاؤں جس کے کرنے سے تم ایک دوسرے سے محبت کرو گے ! آپس میں سلام کثرت سے کہو۔‘‘ [270] [270] مسلم : 1/ 74، حدیث : 54، أحمد، حدیث : 1430، الفاظ مسند احمد کے ہیں، اور صحیح مسلم کے الفاظ یہ ہیں : ((لا تدخلون...))۔
"تین خصلتیں ایسى ہیں کہ جس نے انہیں اپنے اندر جمع کر لیا، اس نے ایمان کو اکٹھا کر لیا: اپنے نفس سے انصاف کرنا، دنیا میں سلام کو عام کرنا، اور تنگدستی کے باوجود خرچ کرنا۔"[271] [271] صحیح بخاری مع الفتح : 1/ 82، حدیث : 28، حضرت عمار -رضي الله عنه- کا قول ہے ( جو موقوف اور معلق ہے)۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، ایک آدمی نے نبی ﷺ سے سوال کیا، کون سا اسلام بہتر ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ’’تم کھانا کھلاؤ، اور سلام کہو اسے جسے تم پہچانتے ہو اور اسے بھی جسے نہیں پہچانتے ہو۔‘‘[272] [272] صحیح بخاری مع الفتح : 1/ 55، حدیث : 12، مسلم : 1/ 65، حدیث : 39۔
109 ـ کافر کے سلام کا جواب
نبی ﷺ کا فرمان ہے :’’جب اہلِ کتاب (یہودی اور عیسائی) تمھیں سلام کہیں تو تم کہو : وعلیکم (اور تم پر بھی۔)‘‘ [273] [273] صحیح بخاری مع فتح الباری : 11/ 42، حدیث : 6258، صحیح مسلم : 4/ 1705، حدیث : 2163۔
وَعَلَيْكُم
110 - مرغ کے بولنے اور گدھا کے رینکنے کے وقت کی دعا
«جب تم مرغ کی پکار سنو تو اللہ تعالی سے اس کا فضل مانگو کیوں کہ اس نے فرشتہ دیکھا ہے، جیسے یہ کہے: (اے اللہ، میں تجھ سے تیرے فضل وکرم کا سوال کرتا ہوں۔)
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِك اور جب تم گدھے کے رینکنے کی آواز سنو تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو، اس لیے کہ اس نے شیطان کو دیکھا ہے۔» [274] جیسے یہ کہے: (میں شیطان مردود کے شر سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔) [274] صحیح بخاری مع فتح الباری : 6/ 350، حدیث : 3303، صحیح مسلم : 4/ 2092، حدیث : 2729۔
أَعُوذُ بِاللَّہِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيم
111 ـ رات کو کتوں کے بھونکنے کے وقت کی دعا
"جب تم رات کے وقت کتوں کے بھونکنے اور گدھوں کے رینکنے کی آواز سنو تو ان سے اللہ کی پناہ میں آنے کی دعا کرو کیوں کہ یہ ایسی چیزیں دیکھتے ہیں جنھیں تم نہیں دیکھ پاتے۔‘‘ [275] جیسے یہ کہے: (میں شیطان مردود کے شر سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔) [275] سنن ابو داود : 4/ 327، حدیث : 5105، احمد : 3/ 306، حدیث : 14283، اور امام الباني نے صحيح أبي داود میں اسے صحیح کہا ہے : 3/961۔
أَعُوذُ بِاللَّہِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيم
112 ـ ایسے شخص کے لیے دعا جسے تم نے گالی دی ہو
نبی ﷺ نے فرمایا : ’’اے اللہ ! جس کسی مومن کو میں نے برا بھلا کہا، تو اسے اس (مومن) کے لیے قیامت کے دن اپنی قربت کا ذریعہ بنادے۔‘‘ [276] [276] صحیح بخاری مع الفتح : 11/ 171، حدیث : 6361، مسلم، 4/ 2007، حدیث : 396، مسلم کے الفاظ یہ ہیں : ’’اسے اس کے لیے پاکیزگی اور رحمت کا ذریعہ بنادے۔‘‘
113 ـ مسلمان دوسرے مسلمان کی تعریف میں کیا کہے؟
نبی ﷺ نے فرمایا: "اگر تم میں سے کسی کے لیے اپنے ساتھی کی تعریف کرنا ناگزیر ہو جائے تو اسے کہنا چاہیے: میں فلاں کو ایسا سمجھتا ہوں اور اللہ ہی اس کا حساب لینے والا ہے اور میں اللہ کے سامنے کسی کو پاک نہیں ٹھہراتا۔ میں اسے ایسا اور ایسا سمجھتا ہوں، اگر وہ اسے ویسا ہی جانتا ہو۔" [277] [277] مسلم : 4/ 2296، حدیث : 3000۔
114 ـ جب مسلمان اپنی تعریف سنے تو کیا کہے؟
’’اے اللہ ! میری اس کی وجہ سے گرفت نہ فرمانا جو یہ لوگ کہہ رہے ہیں اور میرے لئے ان (گناہوں) کى مغفرت فرما دے جو یہ نہیں جانتے [اور مجھے اس سے زیادہ بہتر بنادے جو یہ (میرے بارے میں) گمان رکھتے ہیں]۔‘‘ [278] [278] بخاری: الأدب المفرد، حدیث : 761، البانی نے صحيح الأدب المفرد میں اس کی سند کو صحیح کہا ہے، حدیث : 585، اور قوسین والے الفاظ کو بیہقی نے شعب الإيمان 4/228 میں دوسری سند سے روایت کیا ہے۔
اللَّهُمَّ لَا تُؤَاخِذْنِي بِمَا يَقُولُونَ، وَاغْفِرْ لِي مَا لَا يَعْلَمُونَ، [وَاجْعَلْنِي خَيْرًا مِمَّا يَظُّنُّون]
115 ـ حج یا عمرے کا احرام باندھنے والا لبیک کیسے کہے؟
’’اے اللہ ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، بلاشبہ ہر تعریف اور نعمت تیرے ہی لیے ہے اور تیری ہی بادشاہت ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔‘‘ [279] [279] صحیح بخاری مع فتح الباری : 3/ 408، حدیث : 1549، صحیح مسلم : 2/ 841، حدیث : 1184۔
لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الحَمْدَ، وَالنِّعْمَةَ، لَكَ وَالمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَك
116 ـ حجرِ اسود کے قریب جاکر اللہ اکبر کہنا
"نبی کریم ﷺ نے اونٹ پر سوار ہوکر بیت اللہ کا طواف کیا، جب آپ حجرِ اسود کے پاس آتے تو اس کی طرف، اپنے پاس موجود کسی چیز کے ذریعے سے اشارہ کرتے اور ’’اللہ اکبر‘‘ کہتے۔" [280] [280] صحیح بخاری مع الفتح : 3/ 476، حدیث : 1613، حدیث میں وارد لفظ "کسى چیز" سے مراد خم دار چھڑی ہے۔ دیکھیے : صحیح بخاری مع الفتح : 3/472۔
117 ـ رکنِ یمانی اور حجرِ اسود کے درمیان کی دعا
’’اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔‘‘[281] [281] سنن ابی داود : 2/ 179، حدیث : 1894، احمد: 3/ 411، حدیث : 15398، شرح السنة للبغوی: 7/128، البانی نے صحيح ابي داود میں اسے حسن کہا ہے : 1/354، سورة البقرة: 201۔
رَبَّنَآ ءَاتِنَا فِي ٱلدُّنۡيَا حَسَنَةٗ وَفِي ٱلۡأٓخِرَةِ حَسَنَةٗ وَقِنَا عَذَابَ ٱلنَّار
118 ـ صفا اور مروہ پر ٹھہرنے کے وقت کى دعا
رسول اللہ ﷺ جب صفا کے قریب ہوئے تو تلاوت کیا: ’’(بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں...) میں اسی سے ابتدا کرتا ہوں جس سے اللہ تعالیٰ نے ابتدا فرمائی ہے۔‘‘
إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآئِرِ اللَّهِ...، أَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِه پھر نبی ﷺ نے ’’صفا‘‘ سے آغاز فرمایا۔ اس کے اوپر چڑھتے گئے یہاں تک کہ بیت اللہ کو دیکھا، پھر قبلہ کی طرف رخ کیا اور اللہ تعالی کی توحید اور کبریائی بیان کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے: ’’اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے، تمام تعریف اسی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس نے اپنا وعدہ پورا فرمایا اور اپنے بندے کی مدد فرمائی اور اس اکیلے ہی نے (مخالف) گروہوں کو شکست دی۔‘‘
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ وَلَهُ الحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ، أَنْجَزَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَه پھر اس کے درمیان دعا کی، آپ ﷺ نے اسی طرح تین بار فرمایا۔» پورى حدیث۔ اس کے اندر یہ اضافہ بھی ہے: اور پھر مروہ پر ویسا ہی کیا جیسا صفا پر کیا تھا [282]۔ [282] مسلم : 2/ 888، حدیث : 1218، سورة البقرة، آیت: 158
119 ـ یوم عرفہ کی دعا
نبی ﷺ نے فرمایا : سب سے بہتر دعا یومِ عرفہ کی دعا ہے۔ اور (اس دن) جو کچھ میں نے اور مجھ سے پہلے نبیوں نے کہا ہے اس میں سب سے افضل یہ ہے : اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہی اسی کی ہے اور تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے» [283]۔ [283] جامع ترمذی، حدیث : 3585، البانی نے صحيح ترمذی: (3/184) اور سلسلة الاحادیث الصحيحة : 4/6 میں اسے حسن کہا ہے ۔
120 ـ مشعرِ حرام کے پاس ذکر
"نبی ﷺ قصواء (اونٹنی) پر سوار ہوگئے۔ جب مشعرِ حرام پہنچے تو قبلہ رخ ہوکر اللہ تعالی سے دعا کی، اللہ کى تکبیر وتہلیل میں لگے رہے اور کلماتِ توحید کہتے رہے۔ پھر خوب روشنی ہونے تک یہیں ٹھہرے رہے، اس کے بعد سورج نکلنے سے پہلے یہاں سے روانہ ہوگئے۔" [284] [284] صحیح مسلم: 2/891، حدیث نمبر: 1218
121 ـ رمیٔ جمرات کے وقت ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہنا
"رسول اللہ ﷺ تینوں جمرات کے پاس جب بھی کنکری پھینکتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر آگے بڑھتے اور پہلے اور دوسرے جمرے کے بعد قبلہ رخ ہوتے اور دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا بھی فرماتے، تاہم جمرہ عقبہ کو رمی کرتے ہوئے ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے اور اس کے پاس ٹھہرے بغیر واپس ہوجاتے۔" [285] [285] صحیح بخاری مع الفتح : 3/ 583، حدیث :1751، اس کے الفاظ وہیں ملاحظہ کیجیے۔ نیز دیکھیے: صحیح بخاری مع الفتح : 3/ 583، و3/ 584، و3/ 581، حدیث : 1753، مسلم نے بھی اسے روایت کیا ہے، حدیث : 1218۔
122 ـ تعجب اور خوشی کے وقت کی دعائیں
’’اللہ پاک ہے۔‘‘ [286] [286] صحیح بخاری مع الفتح : 1/ 210، 390، 414، حدیث : 115، 3599، 6218، صحیح مسلم : 4/ 1857، حدیث : 1674۔
سُبْحَانَ اللَّه
’’اللہ سب سے بڑا ہے۔‘‘ [287] [287] صحیح بخاری مع الفتح : 8/ 441، حدیث : 4741، 3062، جامع ترمذی، حدیث : 2180، نسائی في الكبرى، حدیث : 11185، اور دیکھیے : صحيح ترمذی: 2/103، و2/235، اور مسند احمد: 5/ 218، حدیث : 21900۔
اللّٰہُ أَكْبَر
123 ـ خوشخبری ملنے پر کیا کرے
"نبی ﷺ کو کسی خوش کن چیز کی اطلاع ملتی تو آپ اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہوئے سجدہ ریز ہوجاتے۔" [288]َ [288] اسے نسائی کے علاوہ تمام اصحابِ سنن نے روایت کیا ہے : سنن ابی داود، حدیث :2774، جامع ترمذی، حدیث :1578، سنن ابن ماجہ، حدیث :1394، نیز دیکھیے : صحيح ابن ماجہ : 1/233، اور إرواء الغليل : 2/226۔
124 ـ جسم میں تکلیف محسوس ہو تو کیا کرے اور کیا کہے؟
’’جسم کے جس حصے میں تکلیف ہو اس پر اپنا ہاتھ رکھو اور کہو : اللہ کے نام سے
بِسْمِ اللّٰہ (تین مرتبہ) اور سات مرتبہ یہ دعا پڑھو: میں اللہ اور اس کی قدرت کی پناہ میں آتا ہوں، اس تکلیف کے شر سے، جو میں محسوس کرتا ہوں اور جس سے میں ڈرتا ہوں۔»[289] [289] صحیح مسلم: 4/1728، حدیث نمبر: 2202
125- خود اپنی نظر لگ جانے کا اندیشہ ہو تو کیا کہے؟
’’جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی یا اپنے نفس میں یا اپنے مال میں کوئی خوش کن چیز دیکھے تو اسے اس کے لئے برکت کی دعا کرنی چاہیے کیوں کہ نظر (لگ جانا) حق ہے۔" [290] [290] مسند احمد: 4/447، حدیث : 15700، ابن ماجہ، حدیث : 3508، مؤطا مالك : 3/ 118-119، البانی نے صحيح الجامع میں اسے صحیح کہا ہے : 1/212، نیز دیکھیے : تحقيق زاد المعاد للأرناؤوط : 4/170۔
126 ـ گھبراہٹ کے وقت کیا کہا جائے ؟
’’اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔‘‘ [291] [291] صحیح بخاری مع فتح الباری : 6/ 381، حدیث : 3346، صحیح مسلم : 4/ 2208، حدیث : 2880۔
127 ـ عام جانور یا اونٹ ذبح کرتے وقت کیا کہے؟
’’(میں) اللہ تعالی کے نام سے (ذبح کرتاہوں) اور اللہ سب سے بڑا ہے، اے اللہ ! یہ تیری ہی طرف سے اور تیرے ہی لیے ہے، اے اللہ ! تو (اسے) میری طرف سے قبول فرما۔‘‘ [292] [292] مسلم : 3/ 1557، حدیث : 1967، بيهقی: 9/287، قوسین والے الفاظ سنن بيهقی: 9/287 وغيره میں ہیں، آخری جملہ مسلم سے روایت بالمعنی ماخوذ ہے۔
بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ [اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ] اللَّهُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّي
128 ـ سرکش شیطانوں کے مکر وفریب سے بچنے کی دعا
’’میں اللہ تعالی کے ان مکمل کلمات کے پناہ میں آتا ہوں جن سے کوئی نیک اور کوئی برا آگے نہیں گزر سکتا، اس چیز کے شر سے جسے اس نے پیدا فرمایا اور پھیلایا اور وجود عطا کیا اور اس چیز کے شر سے جو آسمانوں سے اتری ہے اور اس چیز کے شر سے جو اس میں چڑھتی ہے اور اس چیز کے شر سے جسے اس نے زمین میں پھیلایا اور اس چیز کے شر سے جو اس سے نکلتی ہے اور رات اور دن کے فتنوں کے شر سے اور رات کے وقت ہر آنے والے کے شر سے، سوائے رات کو ایسے آنے والے کے جو خیر کے ساتھ آئے، اے نہایت رحم کرنے والے!‘‘ [293] [293] احمد : 3/ 419، حدیث : 15461، بسندِ صحيح، ابن سنی، حدیث :637، ارناؤوط نے طحاوية کی تخریج ص133، میں اس کی سند کو صحیح کہا ہے، نیز دیکھیے : مجمع الزوائد : 10/127۔
أَعُوذُ بكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ: مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، وَبَرَأَ وَذَرَأَ، وَمِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ، وَمِنْ شَرِّ مَا يَعْرُجُ فيهَا، وَمِنْ شَرِّ مَا ذَرَأَ فِي الأَرْضِ، وَمِنْ شَرِّ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا، وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ طَارِقٍ إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَن
129 ـ توبہ واستغفار
224-(1) رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے : ’’اللہ کی قسم! میں دن میں ستر مرتبہ سے زیادہ اللہ تعالی سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس کے سامنے توبہ کرتا ہوں۔‘‘ [294] [294] صحیح بخاری مع الفتح : (11/101)، حدیث : 6307۔
نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اے لوگو! اللہ تعالی کے حضور توبہ کرو، میں دن میں سو دفعہ اس کے حضور توبہ کرتا ہوں۔‘‘ [295] [295] صحیح مسلم: 4/2076، حدیث نمبر: 2702
نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «جس نے یہ دعا پڑھی: میں عظمت والے اللہ سے مغفرت کا خواستگار ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ہمیشہ زندہ رہنے والا اور سب کو تھامنے والا ہے اور میں اسی کے حضور توبہ کرتا ہوں،
أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ العَظيمَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الحَيُّ القَيُّوُمُ وَأَتُوبُ إِلَيه اللہ اسے بخش دے گا، اگرچہ وہ میدانِ جنگ سے بھاگا ہی کیوں نہ ہو۔» [296] [296] سنن ابی داود : 2/ 85، حدیث : 1517، جامع ترمذی: 5/ 569، حدیث : 3577، حاكم نے اسے صحیح کہا ہے اور ذهبی نے ان کی موافقت کی ہے : 1/511، البانی نے اسے صحیح کہا ہے، دیکھیے : صحيح ترمذی: 3/182، اور جامع الأصول لأحاديث الرسول صلى الله عليه وسلم: 4/389-390 بتحقيق أرناؤوط ۔
نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ربِ تعالی بندے کے سب سے نزدیک رات کے آخری حصے میں ہوتا ہے، اگر تم ان لوگوں میں شامل ہو سکتے ہو جو اس وقت اللہ تعالی کو یاد کرتے ہیں تو ہو جاؤ۔‘‘ [297] [297] جامع ترمذی، حدیث : 3579، نسائی: 1/ 279، حدیث : 572، حاكم : 1/ 309، نیز دیکھیے : صحيح ترمذی: 3/183، اور جامع الأصول بتحقيق أرناؤوط : 4/144۔
نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ نزدیک سجدہ کرتے ہوئے ہوتا ہے، لہٰذا (سجدے میں) زیادہ سے زیادہ دعا کیا کرو۔‘‘ [298] [298] صحیح مسلم: 1/350 حدیث نمبر: 482
نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”میرے دل پر پردہ سا آجاتا ہے اور میں دن میں سو دفعہ اللہ تعالی سے مغفرت کا سوال کرتا ہوں۔“ [299] [299] مسلم : 4/ 2075، حدیث : 2702، ابن الأثير نے فرمایا : ’’پردہ سا آنے‘‘ سے مراد سہو (بھول) ہے، کیوں کہ آپ ہمیشہ زیادہ سے زیادہ ذکر، قربت اور مراقبے میں رہتے، جب بعض اوقات ان میں سے کسی عمل میں کچھ غفلت ہوجاتی یا آپ بھول جاتے تو اسے اپنا گناہ شمار کرتے اور فورََا استغفار شروع کردیتے۔ دیکھیے : جامع الأصول : 4/386۔
130 ـ تسبیح، حمد وثنا، لا الہ الا اللہ اورتکبیر کی فضیلت
رسول اللہ نے فرمایا : «جس نے کہا: میں اللہ کی پاکیزگی بیان کرتا ہوں اس کی تعریف کے ساتھ۔
سُبْحَانَ اللَّہِ وَبِحَمْدِہ دن میں سو بار، اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔» [300] [300] صحیح بخاری: 7/ 168، حدیث : 6405، مسلم : 4/ 2071، حدیث :2691، اور دیکھیے : اس کتاب کے ص 65 پر: اس شخص کی فضیلت جو اسے سو مرتبہ صبح اور سو مرتبہ شام کو پڑھے۔
نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «جس نے یہ دعا پڑھی: اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور ساری تعریف اسی کی ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ، وَلَهُ الحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِير دس دفعہ، تو وہ اس شخص کی طرح ہوگا جس نے اولادِ اسماعیل علیہ السلام میں سے چار غلام آزاد کیے۔»[301] [301] صحیح بخاری: 67 / 7، حدیث : 6404، الفاظ مسلم کے ہیں : 2071/4 ، حدیث : 2693۔ نیز اس دعا کو سو دفعہ پڑھنے والے کی فضیلت کے بابت اس کتاب میں وارد دعا نمبر 93، ص 66 ملاحظہ کیجئے۔
نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «دو کلمے ایسے ہیں جو زبان پر بڑے ہلکے ہیں، میزان میں بڑے وزنی ہیں اور رحمان کو بڑے محبوب ہیں: پاک ہے اللہ اپنی خوبیوں سمیت، پاک ہے اللہ بہت عظمت والا۔» [302] [302] صحیح بخاری: 7/ 168، حدیث :6404، مسلم : 4/ 2072، حدیث :2694۔
سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہٖ، سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ
نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «میرا یہ کہنا: اللہ پاک ہے، ساری تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے،
سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَر مجھے ان تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جن پر سورج طلوع ہوتا ہے۔» [303] [303] صحیح مسلم: 4/2072، حدیث نمبر: 2695
نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’کیا تم میں سے کوئی شخص روزانہ ایک ہزار نیکی کرنے سے عاجز ہے ؟‘‘ آپ ﷺ کے ہم نشینوں میں سے کسی نے دریافت کیا کہ ہم میں سے کوئی شخص ایک ہزار نیکی کیسے کما سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ سو مرتبہ سبحان اللہ کہے تو اس کے لیے ایک ہزار نیکی لکھ دی جاتی ہے یا اس کے ایک ہزار گناہ مٹادیے جاتے ہیں۔“ [304] [304] صحیح مسلم: 4/2073 حدیث نمبر: 2698
سُبْحَانَ اللّٰہ
«جس نے کہا: میں اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں جو بہت بڑا ہے، اس کی تعریف کے ساتھ۔
سُبْحَانَ اللَّہِ العَظِيمِ وَبِحَمْدِہ اس کے لیے جنت میں کھجور کا ایک درخت لگا دیا جاتا ہے۔» [305] [305] جامع ترمذی: 5/ 511، حدیث : 3464، حاكم : 1/501 نے اسے صحیح کہا اور ذهبی نے ان کی موافقت کی ہے، نیز دیکھیے : صحيح الجامع: 5/531، اور صحيح ترمذی: 3/160۔
نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اے عبد اللہ بن قیس! کیا میں تمہیں جنت کے ایک خزانہ کے بارے میں نہ بتادوں؟ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ ! کیوں نہیں ! (ضرور بتائیے) آپ نے فرمایا : «آپ کہہ دیجیے: اللہ کے بغیر نہ (نیکی کرنے کی) کوئی طاقت ہے اور نہ (برائی سے رکنے کی) کوئی قوت»[306]۔ [306] صحیح بخاری مع فتح الباری : 11/ 213، حدیث : 4206، صحیح مسلم : 4/ 2076، حدیث : 2704۔
نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «اللہ کے نزدیک سب سے محبوب کلام چار ہيں: اللہ پاک ہے، ساری تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے،
سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَر تم ان کلمات میں سے جسے چاہو پہلے ذکر کرو، اس میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔» [307] [307] صحیح مسلم: 3/1685، حدیث نمبر: 2137
ایک دیہاتی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: مجھے کچھ کلمات سکھائیے جنہیں میں (بطور ذکر) کہا کروں۔ آپﷺ نے فرمایا: «آپ یہ دعا پڑھا کیجیے: ’’اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اللہ سب سے بڑا، بہت بڑا ہے اور سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے بہت زیادہ، پاک ہے اللہ جو ساری کائنات کا رب ہے، برائی سے بچنے کی ہمت ہے نہ نیکی کرنے کی قوت مگر اللہ غالب (اور) حکمت والے ہی کی توفیق سے۔‘‘
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ العَالَمِينَ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ العَزِيزِ الحَكِيم اعرابی کہنے لگا کہ یہ تو میرے رب کے لیے ہیں، میرے لیے کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : «آپ یہ دعا پڑھا کیجیے: اے اللہ! میری مغفرت فرمادے، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت دے، اور مجھے رزق دے۔» [308] [308] مسلم : 4/ 2072، حدیث : 2696، اور ابو داود : 1/ 220، حدیث : 832 نے یہ الفاظ زائد بیان کیے ہیں کہ جب اعرابی واپس مڑا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’یقینََا اس آدمی نے اپنا ہاتھ خیر سے بھر لیا۔‘‘
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَاهْدِنِي، وَارْزُقْنِي
263-(10) جب کوئی شخص اسلام قبول كرتا تو نبی ﷺ اسے نماز سکھاتے، پھر اسے حکم فرماتے کہ ان کلمات کے ساتھ دعا کرے: ’’اے اللہ! میرى مغفرت فرمادے، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت دے، مجھے عافیت دے اور مجھے رزق دے۔‘‘ [309] [309] مسلم : 4/ 2073، حدیث : 3697۔ مسلم کی ایک روایت میں ہے: "یہ کلمات تیرے لیے تیری دنیا اور آخرت جمع کردیں گے"۔
اللَّهُمَّ اغْفِرِ لِي، وَارْحَمْنِي، وَاهْدِنِي، وَعَافِنِي وَارْزُقْنِي
«سب سے افضل دعا یہ ہے: تمام تعریفیں صرف اللہ کے لئے ہیں،
الحَمْدُ لِلَّه اور سب سے افضل ذکر یہ ہے: اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔» [310] [310] جامع ترمذی: 5/ 462، حدیث : 3383، سنن ابن ماجہ : 2/ 1249، حدیث : 3800، حاكم : 1/503، حاکم نے اسے صحیح کہا اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے، نیز دیکھیے : صحيح الجامع : 1/362۔
«الباقیات الصالحات (باقی رہنے والے اعمال) یہ ہیں: اللہ پاک ہے، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اللہ سب سے بڑا ہے، اور اللہ کی مدد کے بغیر نہ (نیکی کرنے کی) کوئی طاقت ہے اور نہ (برائی سے بچنے کی) کوئی قوت۔»[311] [311] احمد، حدیث : 513، بہ ترتيب احمد شاكر، دیکھیے : مجمع الزوائد : 1/297، حافظ ابن حجر نے بلوغ المرام میں اسے ابو سعيد کی روایت سے بحوالہ نسائی [السنن الكبرى] حدیث : 10617 کے تحت نقل کیا ہے اور فرمایا کہ اسے ابن حبان، [حدیث :840]، اور حاكم [حدیث : 1/ 541] نے صحیح کہا ہے۔
سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّه
131 ـ نبی کریم ﷺ تسبیح کیسے پڑھتے تھے؟
266- عبد اللہ بن عمرو رضي الله عنہما فرماتے ہیں: ’’میں نے نبی کریم ﷺ کو تسبیح شمار کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ اور ایک روایت میں یہ اضافہ ہے: "اپنے داہنے ہاتھ سے"۔ [312] [312] ان الفاظ کے ساتھ ابو داود نے روایت کیا ہے: 2/ 81، حدیث : 1502، جامع ترمذی: 5/ 521، حدیث : 3486، نیز دیکھیے : صحيح الجامع : 4/271، حدیث : 4865، البانی نے صحيح سنن ابي داود میں اسے صحیح کہا ہے : 1/ 411۔
132 ـ نوع بہ نوع خیر اور جامع آداب
نبی ﷺ نے فرمایا : ’’جب رات کا اندھیرا چھا جائے یا فرمایا: جب شام ہوجائے تو اپنے بچوں کو روک لیا کرو کیوں کہ اس وقت شیطان پھیلتے ہیں، جب رات کا کچھ وقت گزر جائے تو انہیں چھوڑ دو، بسم اللہ پڑھ کر دروازے بند کردیا کرو، کیوں کہ شیطان بند دروازے نہیں کھولتا، اللہ کا نام لے کر اپنے مشکیزے کے تسمے بند کردیا کرو، اور اللہ تعالی کا نام لے کر برتن ڈھانپ دیا کرو خواہ ان پر کوئی چیز ہی رکھ دیا کرو اور اپنے چراغ بجھا دیا کرو۔‘‘ [313] [313] صحیح بخاری مع فتح الباری : 10/ 88، حدیث : 5623، صحیح مسلم : 3/ 1595، حدیث : 2012۔
درود وسلام اور برکت نازل ہو ہمارے نبی محمد ﷺ ، آپ کے آل بیت اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین پر۔
Related books
All books
صبح وشام کے اذکار57 زبانیںصبح وشام کے اذکار
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔ (اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں جو زنده اور سب کا تھامنے والا ہے، جسے نہ اونگھ آتى ہے نہ نیند، اس کی ملکیت میں زمین اور آسمانوں کی تمام چیزیں ہیں۔ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے، وه جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وه اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جتنا وه چاہے، اس کی کرسی کی وسعت نے زمین و آسمان کو گھیر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لئے ان دونوں کی حفاظت بھارى نہیں ہے، وه تو بہت بلند اور بہت بڑا ہے۔) آیۃ الکرسی: 255 (رسول ایمان لایا اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ…
نو مسلموں کے لیے مختصر اور مفید معلومات32 زبانیںنو مسلموں کے لیے مختصر اور مفید معلومات
تالیف محمد الشهري 1441 – 2020 شروع اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان، نہایت رحم والا ہے مقدّمہ
مسلمانوں کے لیے مختصر اور مفید معلومات54 زبانیںمسلمانوں کے لیے مختصر اور مفید معلومات
یہ کتاب دین اسلام کے اصول کو مختصر اور جامع انداز میں بیان کرتی ہے، قارئین کے لیے صحیح عبادت کی بنیادیں اور اللہ پر، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یومِ آخرت اور تقدیر پر ایمان لانے کے معانی کو واضح کرتی ہے۔ کتاب کا آغاز نعمتِ اسلام کے بیان اور اللہ تعالیٰ، اس کی صفات اور اسمائے حُسنیٰ کی معرفت کی اہمیت سے ہوتا ہے، پھر اس کے بعد اسلام کے ارکانِ خمسہ اور ارکانِ ایمان کا بیان آتا ہے، اسی طرح احسان کا مفہوم اور مومن پر اس کے اثرات بھی زیرِ بحث آتے ہیں۔ اس کتاب کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ وحی کے دونوں سرچشموں یعنی قرآن وحدیث کے دلائل پر مبنی ہے، اسی بنا پر یہ ایک اہم مرجع کی حیثیت اختیار کر…
میں مسلمان ہوں31 زبانیںمیں مسلمان ہوں
اس مضمون میں اسلام کا مفہوم، مسلمان کون ہے، اور حقیقی مسلمان کیسے بنا جا سکتا ہے، ان تمام امور کی وضاحت کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، اسلام کی خوبیاں، بعض اعلیٰ آداب واخلاق، عورت کا مقام ومرتبہ، نیز قریبی رشتہ داروں، پڑوسیوں اور معاشرے کے حقوق کا ذکر بھی شامل ہے۔ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اسلام ہر اچھے کام کا حکم دیتا ہے اور ہر برے کام سے روکتا ہے۔