"جس نے مؤذن کی اذان سن کر کہا : ’’اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے‘ اس کا کوئی شریک نہیں اور بے شک محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ میں راضی ہوگیا اللہ کے رب ہونے پر اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر۔‘‘ تو اس کے گناہ بخش دیے جاتے ہيں۔"
سعد بن ابي وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :
"جس نے مؤذن کی اذان سن کر کہا : ’’اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے‘ اس کا کوئی شریک نہیں اور بے شک محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ میں راضی ہوگیا اللہ کے رب ہونے پر اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر۔‘‘ تو اس کے گناہ بخش دیے جاتے ہيں۔"
«مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ».
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا ہے کہ جس نے مؤذن کی اذان سن کر کہا : "أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له" یعنی میں اس بات کا اقرار و اعتراف کرتا ہوں اور خبر بھی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہيں ہے اور اس کے علاوہ ہر معبود باطل ہے۔ "وأن محمدًا عبده ورسوله" یعنی ممحد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے بندے ہیں، لہذا ان کی عبادت نہيں ہو سکتی اور رسول ہیں، لہذا جھوٹ نہيں بول سکتے۔ "رضيت بالله ربًّا" یعنی میں اللہ کی ربوبیت، الوہیت اور اسما و صفات سے پورے طور پر راضی ہوں۔ "وبمحمد رسولًا" یعنی جن تعلیمات کے ساتھ آپ بھیجے گئے اور جنھیں آپ نے ہم تک پہنچایا، ہم ان سے بھی راضی ہیں۔ "و بالإسلام" یعنی اوامر و نواہی کی شکل میں موجود اسلام کے تمام احکام سے راضی ہیں۔ "دينًا" یعنی اعتقاد اور انقیاد کے طور پر۔ "غفر له ذنبه" یعنی اس کے صغیرہ گناہ معاف کر دیے جائيں گے۔
...:
اذان کی آواز سنتے وقت اس دعا کو دہرانا گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔
مزید (9)
صحیح مسلم (1/ 290) (386).
شرح رياض الصالحين.
لابن عثيمين (5/ 39).
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح.
لملا علي القاري (2/ 562).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين.
لسليم الهلالي (2/ 254).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين.
مجموعة من الباحثين (2/ 771).
کتابوں میں مذکور
13 کتابیں- مؤذن، امام، خطیب اور مساجد کے احکام سے متعلق ایک مختصر اور مفید کتاب"جس نے مؤذن کی اذان سن کر کہا: ”أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا“ اس کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں
- منتخب شدہ چیزیں عمل صالح کے ثواب کے لئے نفع بخش محل سےالمنتقى من المتجر الرابح في ثواب العمل الصالح"جو شخص اذان کے جواب میں کہے : ’’اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ اکیلے کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں اور بے شک حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ میں راضی ہوگیا اللہ کے رب ہونے پر اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پر اور اسلام کے
- صفة الوضوء والصلاة (مرئي)صفة الوضوء «أشْهَدُ أنْ لا إلهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، وأشهدُ أنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ». (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں
مزید (10)
- الصلاة التي علمها النبي ﷺ الصحابة رضي الله عنهمالصلاة التي علمها النبي ﷺ الصحابة رضي الله عنهم«مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ»[
- الصلاة التي علمها النبي ﷺ الصحابة رضي الله عنهم«مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ»[
- المناهج التعليمية - الصف الرابعالمناهج التعليمية - الصف الرابع - الفقه«أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّـهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ»[8]،
- تحفة الأخيار تحفة الأخيار (ببيان جملة نافعة مما ورد في الكتاب والسنة من الأدعية والأذكار)«مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللهِ رَبًّا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، وَبِالإِْسْلَامِ دِينًا، غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ»
- حصن المسلم من أذكار الكتاب والسنةحصن المسلم«أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ..»[27].
- رسالة في الأذكار1«مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ المُؤَذِّنَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللهِ رَبًّا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ».
- رياض الصالحينرياض الصالحين مع فوائد وهدايات - 5«مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَع المُؤَذِّنَ: أَشْهَدُ أَنْ لا إلهَ إلَّا اللهُ وحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بالله ربّاً، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولاً، وَبالإسْلامِ دِيناً، غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ».
- ما لا يسع أطفال المسلمين جهلهج: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ»[218].
- مجموعة زاد التربية الإسلامية (2)1«مَنْ قَالَ حِيْنَ يَسْمَعُ المُؤَذِّنَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا ﷲ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بالله رَبًّا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا؛ غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ».
- مشروع المنهج التعليميمادة الفقه مستوى 1«أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ»