كيفية صلاة النبي - صلى الله عليه وسلم -

كيفية صلاة النبي - صلى الله عليه وسلم -

نبی ﷺ کی نماز کا طریقہ

Language: lang_ur
Prepared by: سماحۃ الشیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ
Version: 2.1
Translations 74
Afrikanns Amharic Assamese Azerbaijani +70
Attachments 7
PDF
Audio
Video
+3

نبی ﷺ کی نماز کا طریقہ

سماحۃ الشیخ

عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

تمام تعریفیں صرف اللہ کے لئے ہیں، اور درود وسلام نازل ہو اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہمارے نبی محمد پر، اور ان کى آل اور ان کے صحابہ پر، أما بعد:-

نبی کریم ﷺ کی نماز کے طریقے کی وضاحت کے لیے یہ مختصرباتیں ہیں، جو میں نے ہر مسلمان مرد اور عورت کے سامنے پیش کرنے کا ارادہ کیا ہے تاکہ جو بھی اس کو پڑھے وہ اس میں نبى ﷺ کی پیروی کرنے کی کوشش کرے۔ کیوں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: "تم اسی طرح نماز پڑھو جس طرح مجھے پڑھتے دیکھا ہے"([1]) اب نماز نبوی کا طریقہ قارئین کی خدمت میں پیش ہے: () صحیح بخاری (605)۔

1- اچھی طرح وضو کرے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی نے جس طرح وضو کرنے کا حکم دیا ہے اسی طرح وضو کرے، اللہ پاک وبرتر کا ارشاد ہے: "اے ایمان والو! جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنے منہ کو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھو لو اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھو لو" [المائدۃ: 6] پورى آیت۔

اور نبی ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: "وضو کے بغیر نماز قبول نہیں ہوتی" ([3])۔ () صحیح مسلم (224)۔

اور نبی کا ﷺ فرمان اس شخص کے لیے جس نے غلط طریقے سے نماز پڑھی : (جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو اچھی طرح وضو کرو۔) ([4]) () صحیح بخاری (5782)۔

2- نمازی اپنے پورے جسم کے ساتھ جہاں کہیں بھی ہو قبلہ یعنی کعبہ کی طرف ہوجائے، اپنے دل میں جو نما ز پڑھنا چاہتا ہے اس کى ادائیگى کی نیت کرے ، خواہ فرض ہو یا نفل، اور زبان سے نیت کے الفاظ ادا نہ کرے؛ کیوں کہ زبان سے نیت کرنا جائز نہیں ہے، بلکہ بدعت ہے، کیوں کہ رسول اللہ ﷺ نے زبان سے نیت نہیں کی ہے، اور نہ ہی آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے زبان سے نیت کی ہے، اور اپنے سامنے ایک سترہ رکھ لے چاہے وہ امام ہو یا منفرد ، اور قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا شرط ہے سوائے چند جانی پہچانی صورتوں کے، جس کی وضاحت اہل علم کی کتابوں میں موجود ہے۔

3- اللہ اکبر کہتے ہوئے تکبیر تحریمہ کہے اور اپنی نگاہ سجدہ کی جگہ پر رکھے۔

4- تکبیر تحریمہ کہتے وقت اپنے ہاتھوں کو مونڈھوں تک یا کانوں کی لو تک اٹھائے۔

5- اپنے دونوں ہاتھ اپنے سینے پر رکھے، دائیں ہاتھ کو، بائیں ہاتھ کى ہتھیلی، گٹے اور کلائی پر رکھے، کیوں کہ یہ نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے۔

6- اس کے بعد نمازی کے لیے مسنون ہے کہ دعائے استفتاح پڑھے، جوکہ یہ ہے: (اے اللہ! مجھے میرے گناہوں سے دور رکھ جیسا کہ تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ پیدا کر دیا ہے۔ اے اللہ! مجھے گناہوں سے ایسے پاک کر جس طرح سفید کپڑے کو گندگی سے پاک کر دیا جاتا ہے۔ اے اللہ! میرے گناہ پانی، برف اور اولوں سے دھل دے(۔ ([5]) [4] صحیح بخاری : 744، صحیح مسلم : 598۔

اگر چاہے تو اس کے بجائے یہ دعا پڑھے: (اےاللہ!، تواپنی حمد کے ساتھ پاک ہے، اور تیرا نام بابرکت ہے، اور تیری شان بلند ہے، اور تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔) ([6])، اگر وہ ان دونوں دعاؤں کے علاوہ کوئی اوردعائے ثنا پڑھے جو نبی کریم ﷺ سے ثابت ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اور اس کے لیے بہتر ہے کہ کبھی یہ دعائے ثنا پڑھ لے اور کبھی وہ۔ کیوں کہ یہ اتباع میں زیادہ مکمل ہے، پھر کہے: "میں اللہ کى پناہ طلب کرتا ہو شیطان مردود سے، شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، اورپھر سورہ فاتحہ پڑھے، کیوں کہ نبی ﷺ کا فرمان ہے: (جس نےسورہ فاتحہ نہ پڑھی اس کی نماز نہیں۔) ([7]) سورہ فاتحہ کے بعد جہری نمازوں میں بلند آواز سے اور سری نمازوں میں پست آواز سے "آمین" کہے، پھر قرآن کا جو حصہ یاد ہو اس میں سے پڑھے، افضل یہ ہے کہ اس بابت وارد احادیث پر عمل کرتے ہوئے، ظہر، عصر اور عشاء کی نمازوں میں سورہ فاتحہ کے بعد اوساط مفصل سے پڑھے، فجر میں طوال مفصل سے اور مغرب میں کبھی طوال مفصل سے اور کبھی قصار مفصل سے۔ () صحیح مسلم (399)۔ () صحیح بخاری (756)۔

7- "اللہ اکبر" کہتا ہوا اور اپنے ہاتھوں کو مونڈھوں تک یا کانوں کی لو تک اٹھاتا ہوا رکوع کرے، رکوع میں سر کو پیٹھ کی برابری میں کر لے اور ہاتھوں کو گھٹنوں پر اس طرح رکھے کہ انگلیاں پھیلی ہوئی ہوں، رکوع اطمینان سے کرے اور یہ دعا پڑھے: (اے اللہ! تواپنی حمد کے ساتھ پاک ہے، اے اللہ!مجھے بخش دے۔) ([8]) () صحیح بخاری (817)، صحیح مسلم (484)۔

9- رکوع سے سر اٹھاتے وقت دونوں ہاتھوں کو مونڈھوں تک یا کانوں تک بلند کرے، اور کہے: (اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی)۔ بہ شرط یہ کہ وہ امام یا منفرد ہو۔ اور قومہ میں یہ دعا پڑھے: "اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے ہرقسم کی حمد وثنا ہے ، بہت زیادہ پاکیزہ اور برکت والی حمد وثنا جس سے آسمان و زمین بھر جائیں اوراس کے بعد جوتو چاہے بھر جائے"۔ () صحیح بخاری (711)، صحیح مسلم (598)۔

نمازی اگر مقتدی ہے تو رکوع سے سر اٹھاتے وقت صرف "اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے ہرقسم کی حمد وثنا ہے" آخر تک کہے۔ اور اگر نمازی - خواہ امام ہو یا مقتدی یا منفرد - مذکورہ بالا دعا کے بعد درج ذیل دعا بھی پڑھ لے تو بہتر ہے، کیوں کہ نبی ﷺ سے اس کا پڑھنا ثابت ہے: (اے عظمت وثنا کے سزا وار! سب سے درست بات جو بندے نے کہى، اور ہم سب تیرے بندے ہیں، وہ یہ ہے: اے اللہ! جو تو دے اس کو کوئی روکنے والا نہیں اور جو تو روک لے اسے کوئی بھی دینے والا نہیں اور نہ ہی کسی مرتبے والے کو تیرے سامنے اس کا مرتبہ نفع دے سکتا ہے([10])“ ۔ تو ایسا کرنا بہتر ہوگا، کیوں کہ یہ آپ ﷺ سے ثابت ہے۔ () صحیح مسلم (477)۔

اورمستحب ہے کہ ان میں سے ہر ایک یعنی امام، مقتدی اور منفرد (اکیلے نماز پڑھنے والا) اپنے سینے پر ہاتھ رکھے جیسا کہ رکوع سے پہلے قیام میں رکھا تھا، کیوں کہ یہ وائل بن حجر اور سہل بن سعد رضي الله عنهما کی احادیث سے ثابت ہے۔

9- "اللہ اکبر" کہتا ہوا سجدے میں جائے، اور اگر ہو سکے تو ہاتھوں سے پہلے گھٹنوں کو زمین پر رکھے، لیکن اگر اس میں مشقت ہو تو گھٹنوں سے پہلے ہاتھوں کو زمین پر رکھے۔ سجدے میں دونوں پیر اور دونوں ہاتھ کی انگلیوں کو قبلہ رخ رکھے اور ہاتھوں کی انگلیوں کو باہم ملا کر سیدھى کر لے۔ سجدہ سات اعضاء پر ہونا چاہیے: پیشانی ناک سمیت، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پیر کی انگلیوں کا اندرونی حصہ اور سجدے میں یہ دعا پڑھے: "پاک ہے میرا بلند وبرتر رب" اس دعا کو تین بار یا اس سے زیادہ بار کہنا مسنون ہے، اور اس دعا کے ساتھ یہ دعا پڑھنا بھی مستحب ہے: (اے اللہ، ہمارے رب، تو پاک ہے اپنی حمد کے ساتھ، اے اللہ مجھے بخش دے)، اور نبی کریم ﷺ کے اس فرمان کے مطابق بہ کثرت دعا کرے: "رکوع میں تو رب کی عظمت اور بڑائی بیان کرو، لیکن سجدے میں زیادہ سے زیادہ دعا کرو، کیوں کہ یہ (حالت سجود) اس بات کے زیادہ لائق ہے کہ تمہاری دعا قبول ہو جائے" ([11]) () صحیح مسلم (479)۔

وہ اپنے رب سے دنیا اور آخرت کی بھلائی طلب کرے۔ نماز خواہ فرض ہو یا نفل، اسے چاہیے کہ اپنے اوپری بازوؤں کو اطراف سے اور پیٹ کو اپنی رانوں سے، اور رانوں کو ٹانگوں سے دور رکھے، اور اپنے بازو زمین سے اٹھائے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: "سجدے اطمینان سے کرو، اور تم میں سے کوئی شخص اپنی بازوؤں کو کتے کی طرح (زمین پر) نہ بچھائے۔" ([12]) () صحیح بخاری (788)، صحیح مسلم (493)۔

10- "اللہ اکبر" کہتا ہوا سجدے سے سر اٹھائے اور بائیں پیر کو بچھا کر اسی پر بیٹھ جائے، اور دائیں پیر کو کھڑا رکھے، اور اپنے ہاتھوں کو رانوں اور گھٹنوں پر رکھ لے اور یہ دعا پڑھے: "اے میرے رب! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت دے، مجھے روزی عطا کر، مجھے عافیت میں رکھ اور میرے نقصان پورے فرما۔" ([13]) یہ جلسہ بھی بالکل اطمینان سے کرے۔ () جامع ترمذی (284)، سنن ابوداد (850)، سنن ابن ماجہ (898)۔

11- پھر "اللہ سب سے بڑا ہے" کہتا ہوا دوسرا سجدہ کرے اور اس میں بھی وہی سب کرے جو پہلے سجدہ میں کیا تھا۔

12- "اللہ سب سے بڑا ہے" کہتا ہوا سجدہ سے سر اٹھائے اور جس طرح دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھا تھا اسی طرح تھوڑی دیر کے لیے بیٹھ جائے، اس بیٹھک کو جلسہ استراحت کہتے ہیں، جو مستحب ہے اور اگر اسے چھوڑ دے تو کوئی حرج کی بات نہیں، جلسہ استراحت میں کوئی ذکر اور دعا نہیں ہے۔ پھر اگر دشوار نہ ہو تو اپنے گھٹنوں پر ورنہ زمین پر ٹیک لگا کر دوسری رکعت کے لیے کھڑا ہو جائے، کھڑا ہونے کے بعد سورہ فاتحہ اور فاتحہ کے بعد قرآن کا جو حصہ یاد ہو اس میں سے پڑھے، پھر جس طرح پہلی رکعت میں کیا تھا دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرے۔

13- اگر نماز دو رکعت ہو مثلاً فجر، جمعہ اورعیدین کی نماز تو دوسرے سجدے سے اٹھنے کے بعد دائیں پیر کو کھڑا کر کے، بائیں پیر کو بچھا کر اور داہنا ہاتھ دائیں ران پر رکھ کر بیٹھے، شہادت کی انگلی کو کھلا رکھے اور باقی انگلیوں کو ایک ساتھ پکڑ کر رکھے، اور شہادت کی ایک انگلی سے اللہ کی وحدانیت کا اشارہ کرے، اگر وہ اپنے دائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی اور اس کے بغل والی انگلی کو پکڑے، اور انگوٹھے کو درمیانی انگلی سے ملا کرحلقہ بنائے اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کرے تو بھی ٹھیک ہے، کیوں کہ رسول اللہ ﷺ سے دونوں طریقے ثابت ہیں، اس لیے بہتر ہے کہ کبھی ایسا کرے اور کبھی ویسا کرے، اور بائیں ہاتھ کو بائیں ران اور گھٹنے پر رکھے، پھر اس نشست میں تشہد پڑھے، جو یہ ہے: "ساری حمد وثنا، تمام دعائیں اور ہر طرح کے اچھے اعمال اور اقوال اللہ کے لئے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکت نازل ہو، سلام ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ بے شک محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔" پھر کہے: (اے اللہ رحمت نازل فرما محمد اور آل محمد پر جیسا کہ تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر رحمت نازل فرمائی، تو قابل تعریف اور بزرگی والا ہے، اور محمد اور آل محمد پر رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم پر اور آل ابراہیم پر برکتیں نازل فرمائیں، بے شک تو قابل تعریف اور بزرگی والا ہے۔) ([14]) () صحیح بخاری (797)، صحیح مسلم (402)۔

اس کے بعد چار چیزوں سے اللہ تعالی کی پناہ طلب کرے، چناں چہ یہ دعا پڑھے: (اے اللہ ! میں جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، زندگی اور موت کے فتنہ سے اور مسیح دجال کے فتنہ کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔) ([15]) () صحیح بخاری (1311)، صحیح مسلم (588)۔

پھر وہ دنیا اور آخرت میں جو بھلائی چاہتا ہے اس کے لیے دعا کرے، اور اگر اپنے والدین یا دوسرے مسلمانوں کے لیے دعا کرے تو کوئی حرج نہیں -خواہ نماز فرض ہو یا نفل-؛ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میں رسول اللہ ﷺ کے عام ارشاد کی روشنی میں جب آپ نے ان کو تشہد کی تعلیم دی: (پھر وہ ایسى دعا کا انتخاب کرے جو اسے پسند ہو اور دعا کرے) ([16])۔ اور ایک دوسرے لفظ میں ہے: (پھر وہ سوال میں سے جو چاہے چن لے) ([17])۔ () سنن نسائی (1298)۔ () صحیح مسلم (402)۔

اور یہ بندے کو دینا اور آخرت میں فائدہ دینے والى تمام چیزوں کو شامل ہے۔ پھر اپنے دائیں بائیں سلام کرتے ہوئے کہے: تم پر اللہ کی سلامتی اور رحمت ہو۔ تم پر اللہ کی سلامتی اور رحمت ہو۔

14- اگر تین رکعت والی نماز ہو، جیسے مغرب، یا چار رکعت والی نماز، جیسے ظہر، عصر، اور عشاء، وہ ابھى ابھى ذکر کئے گئے تشہد کے ساتھ نبی کریم ﷺ پر درود پڑھے، پھر اپنے گھٹنوں پر ٹیک لگا کر کھڑا ہو اور اپنے ہاتھوں کو کانوں اور کندھوں کے برابر اٹھاتے ہوئے کہے: اللہ سب سے بڑا ہے، اور وہ ہاتھوں کو گذرى ہوئى صورت کے مطابق اپنے سینے پر رکھے، اور صرف سورہ فاتحہ پڑھے اور اگر وہ ظہر کی نماز کی تیسری اور چوتھی رکعت میں کبھی کبھار سورہ فاتحہ کے بعد کوئی اور سورہ پڑھ لے تو اس میں کوئی حرج نہیں، کیوں کہ یہ ابو سعید رضی اللہ عنہ کی روایت سے نبی ﷺ سے ثابت ہے، اور اگر وہ پہلے تشہد کے بعد نبی کریم ﷺ پر درود نہ پڑھے تو کوئی حرج نہیں، کیوں کہ پہلے تشہد میں درود پڑھنا مستحب ہے، واجب نہیں ہے۔ پھر مغرب کی تیسری رکعت کے بعد اور ظہر، عصر اور عشاء کی چوتھی رکعت کے بعد تشہد پڑھے جیسا کہ اوپر دو رکعت والی نماز میں گزر چکا ہے، پھر اپنے دائیں بائیں سلام پھیرے، اور تین بار اللہ سے استغفار کرے، پھر کہے: (اے اللہ! تو سلامتی والا ہے اور تجھ سے سلامتی ہے، تو بابرکت ہے اے بزرگی اور عزت کے مالک۔) ([18]) اگر امام ہو تو مقتدیوں کی طرف رخ کرنے سے پہلے تین مرتبہ استغفر اللہ اور مذکورہ دعا پڑھ لے۔ پھر یہ دعا پڑھے: (اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں،وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے، اور اسی کی تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اے اللہ جو تو دے اس سے روکنے والا کوئی نہیں اور جو تو نہ دے اسے کوئی دینے والا کوئی نہیں اور کسی مالدار کو اس کی دولت و مال تیری بارگاہ میں کوئی نفع نہ پہنچا سکیں گے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور ہم اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے، اور اسی کے کے لئے نعمت اور فضل ہے، اور اسی کے لیے بہترین تعریف ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اس کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے، خواہ کافروں کویہ چیز بری لگے) ([19])، () صحیح مسلم (591)۔ () صحیح مسلم (402)۔

وہ تینتیس مرتبہ سبحان اللہ کہے اور تینتیس مرتبہ الحمد للہ کہے اور تینتیس مرتبہ ’’اللہ اکبر‘‘ کہے، اور سویں بار یہ کہے : اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اسی کے لئے سب تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اور وہ ہر نماز کے بعد آیت الکرسی، قل أعوذ برب الفلق، قل أعوذ برب الناس اور قل هو اللّه أحد پڑھے، اور فجر اور مغرب کی نماز کے بعد ان تینوں سورتوں کا تین بار پڑھنا مستحب ہے، کیوں کہ اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے احادیث مروى ہیں، یہ تمام اذکار سنت ہیں فرض نہیں۔

ہر مسلمان مرد اور عورت کے لئے ظہر کی نماز سے پہلے چار رکعتیں، ظہر کے بعد دو رکعتیں، اور مغرب کی نماز کے بعد دو رکعتیں، عشاء کی نماز کے بعد دو رکعتیں، اور فجر کی نماز سے پہلے دو رکعتیں پڑھنی مشروع ہے، یہ سب بارہ رکعتیں ہیں جنہیں سنن رواتب (سنت مؤکدہ) کہا جا تا ہے، کیوں کہ نبی ﷺ حالت اقامت میں ان کی پابندی کرتے تھے۔ جہاں تک سفر کا تعلق ہے تو آپ فجر اور وتر کی سنتوں کے علاوہ دیگر سنتوں کو نہیں پڑھتے تھے، کیوں کہ آپ ﷺ چاہے مقیم ہوں یا مسافر فجر اور وتر کی سنتوں کی پابندی کیا کرتے تھے۔ سنن رواتب اور وتر کی نماز گھر میں پڑھنا افضل ہے، لیکن اگر کوئی مسجد میں پڑھے تو کوئی حرج نہیں۔ کیوں کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (آدمی کے لیے سب سے افضل نماز اس کے گھر میں ہے، سوائے فرض نمازوں کے۔) ([20]) () صحیح بخاری (6860)۔

ان رکعات کی پابندی کرنا جنت میں داخل ہونے کے اسباب میں سے ایک سبب ہے، کیوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: (جس نے دن اور رات میں بارہ رکعتیں پڑھیں، اس کے لیے ان رکعتوں کی وجہ سے جنت میں ایک گھر بنایا جائے گا۔) ([21]) () صحیح مسلم (728)۔

اور اگر عصر کی نماز سے پہلے چار رکعت، مغرب کی نماز سے پہلے دو رکعت اور عشاء کی نماز سے پہلے دو رکعت پڑھے تو اچھا ہے۔ کیوں کہ رسول اللہ ﷺ سے اس کا ثبوت موجود ہے۔ اور اگر وہ ظہر سے پہلے چار رکعت اور ظہر کے بعد چار رکعت پڑھے تو یہ اچھی بات ہے۔ کیوں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: (جس نے ظہر سے پہلے چار رکعتوں اور اس کے بعد چار رکعتوں پر محافظت کی، تو اللہ تعالیٰ اس کو جہنم پر حرام کر دے گا۔) ([22]) مطلب یہ ہے کہ وہ ظہر کے بعد والی سنت راتبہ (مؤکدہ) کو دو رکعت مزید پڑھے، کیوں کہ سنت راتبہ ظہر سے پہلے چار رکعت اور اس کے بعد دو رکعت ہے۔ اس کے بعد اگر اس میں دو کا اور اضافہ ہو جائے تو وہی ہو جاتا ہے جو ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں آیا ہے۔ () مسند احمد (25547)، جامع ترمذی (393)، سنن ابو داود (1077)۔

اللہ ہی توفیق دینے والا ہے، اور درود وسلام نازل ہو ہمارے نبی محمد بن عبداللہ پر اور آپ کی آل، آپ کے صحابہ اور تا قیامت بھلائی کے ساتھ آپ کی پیروی کرنے والوں پر۔