المختصر المفيد للمسلم
مسلموں کے لیے مختصر اور مفید معلومات
مسلموں کے لیے مختصر اور مفید معلومات
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مقدمہ
سب تعریفیں اللہ کے لیے سزاوار ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے اور درود وسلام ہو نبیوں اور رسولوں میں سب سے افضل واشرف ہمارے نبی محمد ﷺ پر اور آپ کی آل واولاد اور آپ کے تمام صحابہ پر۔
اما بعد:
انسان پر اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ اسے اسلام کی راہ دکھائے اور اس پر مضبوطی سے جمے رہنے اور اس کے احکام وشرائع پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ اس کتاب میں مسلمان ایسے اصول سیکھتا ہے جن سے اس کا دین قائم ہو، یہ کتاب مختصر اسلوب میں اس کے لیے اس دینِ عظیم کی بنیادی باتوں کو واضح کرتی ہے؛ تاکہ اپنے رب تعالی، اپنے دین اسلام اور اپنے نبی محمد ﷺ کے بارے میں اس کی معرفت بڑھے؛ لہذا علم و بصیرت کی روشنی میں وہ اللہ تعالی کی عبادت کرے۔
بندوں کی تخلیق کی حکمت
اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک عظیم حکمت کے تحت پیدا کیا ہے، اور وہ یہ کہ ہم خالص اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا: "میں نے جنات اورانسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وه صرف میری عبادت کریں"۔ [الذاریات: 56] یعنی: تاکہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں جس کا کوئی شریک نہیں، اسی مقصدِ عظیم کے ارد گرد اس دنیا میں ہمارے تمام اعمال ومقاصد گردش کرتے ہیں، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "کیا تم یہ گمان کئے ہوئے ہو کہ ہم نے تمہیں یوں ہی بیکار پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹائے ہی نہ جاؤ گے۔ اللہ تعالیٰ سچا بادشاه ہے وه بڑی بلندی واﻻ ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی بزرگ عرش کا مالک ہے"۔ [المؤمنون: 115-116]۔
میرا رب اللہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے لوگو! اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے کے لوگوں کو پیدا کیا، یہی تمہارا بچاؤ ہے۔ [البقرۃ: ۲۱]
نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ [الحشر: 22]۔
فرمان باری تعالى ہے: اس جیسی کوئی چیز نہیں وه سننے اور دیکھنے واﻻ ہے۔ [ الشوریٰ: 11]۔
اللہ تعالی میرا اور تمام چیزوں کا رب ہے، وہ ہر چیز کا مالک، رازق اور کار ساز ہے۔
وہی تن تنہا عبادت کا مستحق ہے، اس کے سوا کوئی سچا رب نہیں اور اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔
اللہ تعالی ان تمام اسمائے حسنی سے موسوم اور صفات علیا سے متصف ہے جنھیں اللہ تعالی نے خود اپنی کتاب میں اپنے لیے اور نبی محمد ﷺ اپنے رب کے لیے ثابت کیا ہے، یہ ایسے اسما وصفات ہیں جو جمال اور کمال کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہیں، اللہ کے جیسی کوئی چیز ہی نہیں، وہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔
اللہ تعالی کے بعض اسماے حسنی:
الرزاق، الرَّحْمن، القدير، المَلِك، السميع، السَّلَام، البصير، الوكيل، الخَالق، اللطيف، الكافي، الغفور۔
الرزاق (بہت زیادہ روزی دینے والا): وہ جس نے بندوں کو روزی دینے کا ذمہ لے رکھا ہے، جو ان کے جسمانی اور روحانی نشو ونما کے لیے بے حد ضروری ہے۔
الرحمن: لامحدود اور بے پناہ رحمتوں والا جس کی رحمت کے دائرے سے کوئی چیز باہر نہیں۔
القدیر (قدرت والا): وہ ذات جو کامل قدرت کی مالک ہے اور اس کے اندر بے بسی اور سستى کا شائبہ تک نہیں ہے۔
المَلِك (بادشاہ) : جو عظمت، غلبہ اور تدبیر کی صفات سے متصف ہے، تمام چیزوں کا مالک اور ان میں تصرف کرنے والا ہے۔
السَّمِيْع (سننے والا) : وہ جو مخفی وظاہر ہر قسم کی مسموعات کو سنتا ہے، اپنے بندوں کی دعائیں اور ان کی گریہ وزاری کو بھی سنتا ہے۔
السَّلَام: وہ ذات جو ہر نقص، کمی اور عیب سے پاک ہے۔
البَصِيرُ (دیکھنے والا): وہ ذات جس کی بصارت کے دائرے سے کوئی چھوٹی سی چھوٹی چیز بھی باہر نہیں، جو ہر چیز کی خبر رکھتی ہے اور اس کی اندرونی باتوں سے بھی واقف ہے۔
الوَكِيْل (کارساز): مخلوقات کی روزی کا کفیل، ان کے مصالح کو پورا کرنے والا، ساتھ ہی اپنے اولیا کا حامی وناصر بن کر ان کے لیے آسانیوں کی راہ ہموار کرنے والا اور سارے معاملوں میں ان کی طرف سے کافی ہونے والا۔
الخالق (پیدا کرنے والا): وہ ذات جس نے کسی سابقہ نمونے کے بنا چیزوں کو وجود بخشا ہے۔
اللطيف (مہربان): وہ لطیف ذات جو اپنے بندوں کا اکرام واحترام کرتی، ان پر رحم کرتی اور ان کی مرادیں پوری کرتی ہے۔
الكَافِي (کافی): وہ جو بندوں کی تمام ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے اور جس کی مدد کے بعد کسی اور کے سہارے کی ضرورت نہیں رہتی اور جس کا ساتھ ملنے کے بعد دوسروں سے بے نیازی حاصل ہوجاتی ہے۔
الغَفُوْر (بخشنے والا): وہ ذات جو اپنے بندوں کو ان کے گناہوں کے شر سے بچاتی ہے اور اس پر انہیں سزا نہیں دیتی۔
میرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تمہارے پاس ایک ایسے پیغمبر تشریف ﻻئے ہیں جو تمہاری جنس سے ہیں۔ جن کو تمہاری مضرت کی بات نہایت گراں گزرتی ہے۔ جو تمہاری منفعت کے بڑے خواہش مند رہتے ہیں۔ ایمان والوں کے ساتھ بڑے ہی شفیق اور مہربان ہیں۔ [التوبہ : 128]۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کے لئے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے. [ الانبياء: 107]۔
محمد صلی اللہ علیہ و سلم سراپا رحمت تھے اور بطور تحفہ عطا ہوئے تھے:
آپ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم ہیں۔ ہاشم قریش میں سے ہیں اور قریش عرب میں سے ہیں۔
آپ ﷺ کی والدہ آمنہ بنت وہب تھیں، آپ کو دودھ پلانے والی حلیمہ سعدیہ تھیں، آپ ﷺ کی گیارہ بیویاں تھیں، اور آپ ﷺ کی وفات کے وقت ان میں سے نو با حیات تھیں۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی سات اولاد تھیں: تین بیٹے اور چار بیٹیاں۔ بیٹوں کے نام قاسم، عبد اللہ اور ابراہیم ہیں، اور بیٹیوں کے نام زینب، رقیہ، ام کلثوم اور فاطمہ ہیں۔
آپ ﷺ کے حکم کی تعمیل کرنا، آپ کی بتائی ہوئی باتوں کی تصدیق کرنا، آپ کی منع کی ہوئی باتوں سے اجتناب کرنا اور صرف آپ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق اللہ کی عبادت کرنا واجب ہے۔
آپ کا اور آپ سے پہلے کے تمام نبیوں کا مشن تھا: اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کی دعوت دینا۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: تجھ سے پہلے بھی جو رسول ہم نے بھیجا اس کی طرف یہی وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ پس تم سب میری ہی عبادت کرو۔ [الأنبیاء: 25]۔
آپ ﷺ اللہ کے نبیوں اور رسولوں کے سلسلۂ زریں کی آخری کڑی ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (لوگو) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ محمد ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ نہیں لیکن آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے، اور اللہ تعالی ہر چیز کا (بخوبی) جاننے واﻻ ہے۔ [الاحزاب: 40]
اللہ تعالی نے رسول اللہ ﷺ کو دینِ اسلام کے ساتھ تمام لوگوں کے لیے مبعوث فرمایا، جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لئے خوشخبریاں سنانے واﻻ اور ڈرانے واﻻ بنا کر بھیجا ہے۔ ہاں مگر (یہ صحیح ہے) کہ لوگوں کی اکثریت بےعلم ہے۔ [سبا: 28]
اللہ کے نبی ﷺ کے ہر مسلمان پر بڑے حقوق ہیں، ان میں سے چند یہ ہیں:
1- آپ ﷺ کی نبوت اور صداقت پر ایمان لانا، آپ ﷺ کے لائے ہوئے عظیم شریعت کو معصوم ومحفوظ ماننا، اور آپ ﷺ کی اطاعت اور اتباع کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور نہ وه اپنی خواہش سے کوئی بات کہتے ہیں۔ وه تو صرف وحی ہے جو اتاری جاتی ہے۔ [نجم: 3-4]
2- اللہ کے رسول ﷺ سے محبت رکھنا اور آپ کی محبت کو اپنی جان، اولاد اور تمام مخلوق کی محبت پر مقدم رکھنا واجب ہے، اس محبت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ ﷺ کے طریقہ وسنت کی پیروی کی جائے، آپ کے احکام کی تعمیل کی جائے اور آپ کی منع کی ہوئی چیزوں سے دور رہا جائے۔
3- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی توقیر، تائید، تعظیم اور احترام واجب ہیں۔
4- نبی ﷺ پر درود بھیجنا، یعنی: نبی ﷺ کی ثنا کرنا، اللہ سے دعا کرنا کہ وہ آپ کا ذکر بلند کرے اور آپ کی تعظیم و تکریم میں اضافہ فرمائے، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص مجھ پر ایک دفعہ درود پڑھتا ہے، اس کے بدلے اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے‘‘۔ صحیح مسلم۔
5- اللہ کے نبی ﷺ کے حق میں غلو کرنا اور آپ کو اس مقام سے بلند تر سمجھنا جو اللہ نے انہیں عطا فرمایا ہے، ممنوع ہے۔ اس سے اللہ کے نبی ﷺ نے نہایت سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے، چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری تعریف میں اس طرح حد سے نہ گزرو، جیسے عیسائی لوگ عیسی ابن مریم علیہ السلام کی تعریف میں حد سے گزر گئے۔ میں تو محض اللہ کا بندہ ہوں، اس لیے مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہو“۔ (صحیح بخاری)
آپ کے کچھ اوصاف اس طرح ہیں:
سچائی، رحمت، بردباری، صبر، شجاعت، سخاوت، حسن اخلاق، عدل وانصاف، تواضع اور عفو ودرگزر۔
قرآن کریم میرے رب کا کلام ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے سند اور دلیل آپہنچی اور ہم نے تمہاری جانب واضح اور صاف نور اتار دیا ہے۔ [ النساء : 174]۔
قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا وہ کلام ہے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے حقیقت میں کلام فرمایا اور اللہ نے اسے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر نازل فرمایا تاکہ آپ لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی جانب لے آئیں اور انہیں سیدھی راہ دکھا دیں۔ اس کی تلاوت کرنے والے کو بڑا اجر وثواب ملتا ہے اور اس کے بتائے ہوئے راہ ہدایت پر عمل کرنے والا ہی دراصل سچائی کی راہ پر گامزن ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”جس نے کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھا، اس کے لیے اس کے بدلے ایک نیکی ہے اور ایک نیکی (کا اجر) اس جیسی دس نیکیوں کے برابر ہے۔ میں نہیں کہتا کہ الٓمٓ ایک حرف ہے؛ بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے۔“ یہ حدیث امام ترمذی نے روایت کی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اسے ہر قسم کی تحریف اور تبدیلی سے محفوظ رکھا اور اسے قیامت تک کے لیے ایک دائمی نشانی بنا دیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہم نے ہی اس قرآن کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔ [الحجر: ۹] ہر وہ شخص جو یہ دعویٰ کرے کہ قرآن ناقص ہے یا اس میں تحریف واقع ہوئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو جھٹلانے والا ہے اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔
قرآنِ کریم میں وہ سب کچھ موجود ہے جو سابقہ کتابوں میں تھا، بلکہ الہی اغراض ومقاصد اورنفیس اخلاق وآداب کے باب میں اس میں مزید باتیں موجود ہیں۔ وہ ان کتابوں میں بیان کردہ حق کی تصدیق کرنے والا ہے۔ اس زمانے میں سوائے قرآنِ کریم کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی پیروی اور احترام کرنا لازم ہو اور جس کی تلاوت عبادت ہو اور جس پر عمل کرنا واجب ہو۔
میرا دین اسلام ہے
دین کے تین مراتب ہیں: اسلام، ایمان اور احسان
پہلا مرتبہ: اسلام
اسلام یہ ہے: توحید کے ذریعہ اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کرنا، اطاعت کے ذریعہ اس کی پیروی کرنا اور شرک اور مشرکوں سے براءت کا اظہار کرنا۔
ارکانِ اسلام
اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "اسلام کی بنیاد پانچ ارکان پر رکھی گئی ہے، اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں اور محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکاۃ دینا، رمضان کے روزے رکھنا اور بیت اللہ کا حج کرنا"۔ متفق علیہ۔
ارکان اسلام سے مراد ایسی عبادتیں ہیں جو ہر مسلمان پر لازم ہيں، ان کے وجوب کا عقیدہ رکھے اور ان پر عمل کیے بنا کسی انسان کا اسلام صحیح نہیں ہو سکتا، کیوں کہ اسلام کی عمارت انھیں ستونوں پر قائم ہے، اسی بنا پر انھیں ارکان اسلام سے موسوم کیا گیا ہے۔
یہ ارکان اس طرح ہیں:
پہلا رکن: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: سو (اے نبی!) آپ یقین کر لیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں۔ [محمد: ۱۹]
ارشاد باری تعالی ہے: تمہارے پاس ایک ایسے پیغمبر تشریف ﻻئے ہیں جو تمہاری جنس سے ہیں۔ جن کو تمہاری مضرت کی بات نہایت گراں گزرتی ہے۔ جو تمہاری منفعت کے بڑے خواہش مند رہتے ہیں۔ ایمان والوں کے ساتھ بڑے ہی شفیق اور مہربان ہیں۔ [التوبہ : 128]۔
لا الہ الا اللہ کی شہادت کا معنی ہے: اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔
محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے اللہ کے رسول ہونے کی گواہی دینے کا مطلب ہے: آپ کے احکام کی تعمیل کرنا، آپ کی بتائی ہوئی باتوں کو سچ جاننا، آپ کى منع کی ہوئی چیزوں سے دور رہنا اور آپ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ہی اللہ کی عبادت کرنا۔
دوسرا رکن: نماز قائم کرنا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: نماز کی پابندی کرو۔ [البقرۃ : 110]۔
نماز اسی وقت درست ہو سکتی ہے جب اسے اللہ کے بتائے ہوئے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے سکھائے ہوئے طریقے کے مطابق ادا کیا جائے۔
تیسرا رکن: زکاۃ ادا کرنا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: زکوٰة دو۔ [ البقرۃ : 110]۔
اللہ تعالی نے زکاۃ اس لیے فرض کیا ہے تاکہ یہ آزما سکے کہ بندہ اپنے ایمان میں کتنا سچا ہے، وہ اپنے رب کی جانب سے ملنے والی نعمتِ مال پر اس کا کتنا شکر ادا کرتا ہے اور اس کے ساتھ ہی محتاجوں اور ضرورت مندوں کی مدد بھی ہو جائے۔
زکاۃ ادا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اسے مستحق لوگوں کے حوالے کیا جائے۔
مال جب ایک متعین مقدار کو پہنچ جائے تو زکاۃ اس میں ایک واجبی حق ہے، جسے آٹھ قسم کے لوگوں کو دیا جائے گا، جن کا اللہ تعالی نے قرآن کریم میں ذکر کیا ہے اور جن میں فقیر اور مسکین بھی داخل ہیں۔
زکاۃ ادا کرنا اللہ کی مخلوق پر رحمت ومہربانی کی علامت، مسلمان کے اخلاق واموال کی پاکیزگی کا سامان، فقیروں اور مسکینوں کے دلوں کو راضی کرنے کا ذریعہ اور مسلم سماج کے افراد کے درمیان محبت واخوت کے جذبے کو فروغ دینے کا سبب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک نیک مسلمان خوشی خوشی زکاۃ ادا کرتا ہے اور اس عمل کو اپنی سعادت سمجھتا ہے، کیوں کہ اس سے دوسرے لوگوں کی زندگی میں خوشیاں آتی ہیں۔
زکاۃ کی مقدار: سونا، چاندی، نقد اور منافع کی خاطر خرید وفروخت کے لیے تیار تجارتی سامانوں میں ڈھائی فی صد ہے، بشرطیکہ ان کی قیمت ایک متعین مقدار کو پہنچ جائے اور ان پر پورا سال گزر جائے۔
اسی طرح ایک متعین تعداد میں چوپایے (اونٹ، گائے اور بکری) رکھنے والے پر بھی زکاۃ فرض ہے، جب وہ سال کا بیشتر حصہ چر کر گزارتے ہوں اور ان کا مالک ان کو باندھ کر چارہ نہ دیتے ہوں۔
اسی طرح زمین سے نکلنے والی چیزوں میں زکاۃ واجب ہے جیسے رکاز — یعنی جاہلیت کے دفینوں میں پایا جانے والا خزانہ —، اسی طرح غلے، پھل اور معدنیات‘ جب وہ ایک متعین مقدار کو پہنچ جائیں تو ان میں بھی زکوۃ فرض ہے۔
چوتھا رکن: ماہ رمضان کے روزے رکھنا
اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔ [ البقرۃ : 110]۔
رمضان ہجری سال کا نواں مہینہ ہے، یہ مسلمانوں کے یہاں ایک عظیم مہینہ ہے اور سال کے باقی مہینوں میں اسے ایک خاص مقام حاصل ہے، اس پورے مہینے کا روزہ رکھنا اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک ہے۔
ماہ رمضان کے روزوں سے مراد ہے: رمضان المبارک کے پورے مہینے کے دنوں میں طلوع فجر سے غروب آفتاب تک کھانے، پینے، جماع اور دیگر سارے روزہ توڑ دینے والے کاموں سے بطور عبادت بچے رہنا۔
پانچواں رکن: اللہ کے مقدس گھر کا حج کرنا
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر جو اس کی طرف راه پا سکتے ہوں اس گھر کا حج فرض کر دیا ہے۔ [آل عمران: 97]
حج طاقت رکھنے والے شخص پر عمر میں ایک بار فرض ہے، حج نام ہے متعین وقت کے اندر متعین عبادتوں کو ادا کرنے کے لیے، مکہ میں واقع اللہ کے مقدس گھر اور دیگر مقدس مشاعر کا قصد کرنے کا۔ اللہ کے آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی حج کیا اور آپ سے پہلے کے دیگر نبیوں نے بھی حج کیا، اللہ نے ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا تھا کہ لوگوں میں حج کا اعلان کر دیں، جس کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالی نے قرآن پاک کے اندر فرمایا: اور لوگوں میں حج کی منادی کر دے لوگ تیرے پاس پا پیاده بھی آئیں گے اور دبلے پتلے اونٹوں پر بھی اور دور دراز کی تمام راہوں سے آئیں گے۔ [الحج: 27]
دوسرا مرتبہ: ایمان
ایمان: یعنی ان تمام امور کا پختہ اقرار وتصدیق اور کامل اعتراف جن پر ایمان لانے کا اللہ اور رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا ہے، نیز ظاہری وباطنی ہر طرح سے اطاعت وتابعداری۔ چنانچہ ایمان دل کی تصدیق اور اس اعتقاد کا نام ہے جو دل کے اعمال اور اعضا وجوارح کے اعمال کو شامل ہو‘ جس میں پورے دین پرعمل کرنا شامل ہے، یہ اطاعت سے بڑھتا اور معصیت سے گھٹتا ہے۔
ارکانِ ایمان
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ایمان کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، قیامت کے دن پر اور اچھی وبُری تقدیر پر ایمان لانا۔
ارکان ایمان سے مراد وہ قلبی عبادات ہیں جو ہر مسلمان پر لازم ہیں، اور جن کا عقیدہ رکھے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیے بغیر کسی مسلمان کا اسلام درست نہیں ہوسکتا، اسی لیے انھیں ارکان ایمان کہا گیا ہے۔ ارکان ایمان کے اور ارکان اسلام کے درمیان فرق یہ ہے کہ ارکان اسلام سے مراد ایسی ظاہری عبادتیں ہیں جنہیں انسان اپنے اعضائے جسم کے ذریعے ادا کرتا ہے، جیسے شہادتین کا اقرار کرنا، نماز قائم کرنا اور زکاۃ دینا وغیرہ، ارکانِ ایمان سے مراد ایسی قلبی عبادتیں ہیں جنھیں انسان اپنے دل سے ادا کرتا ہے، جیسے اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لانا۔
پہلا رکن: اللہ پر ایمان لانا
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: مومن تو وه ہیں جو اللہ پر ایمان ﻻئیں۔ [ النور : 62]۔
ہم اللہ تعالیٰ کے وجود پر ایمان رکھتے ہیں، اس کی ربوبیت، الوہیت اور اسماء وصفات میں اس کی وحدانیت کا عقیدہ رکھتے ہیں، اللہ پر ایمان کے اندر درج ذیل باتیں شامل ہیں:
- اللہ پاک کے وجود پر ایمان۔
- اس کے رب اور ہر چیز کے مالک، خالق، رازق اور مدبر ہونے پر ایمان۔
- اس کے معبود ہونے پر اور اس بات پر ایمان کہ وہ تمام عبادتوں کا تن تنہا مستحق ہے اور نماز، دعا، نذر، ذبح، فریاد، پناہ طلبی اور دیگر ساری عبادتوں میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔
- اس کے اچھے اچھے ناموں اور بلند وبالا صفات پر ایمان جنھیں خود اس نے اپنے لیے یا اس کے نبی نے اس کے لیے ثابت کیا ہے، اور ان ناموں اور صفات کی نفی کرنا جن سے خود اللہ نے اپنے آپ کو یا اس کے رسول نے اسے پاک قرار دیا ہے، ساتھ ہی اس بات پر ایمان کہ اس کے سارے نام وصفات حد درجہ کمال اور حسن کے حامل ہیں اور اللہ کے جیسی کوئی چیز نہیں ہے۔ وہ سننے اور دیکھنے والا ہے۔
دوسرا رکن: فرشتوں پر ایمان لانا
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس اللہ کے لئے تمام تعریفیں سزاوار ہیں جو (ابتداءً) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے واﻻ اور دو دو تین تین چار چار پروں والے فرشتوں کو اپنا پیغمبر (قاصد) بنانے واﻻ ہے، مخلوق میں جو چاہے زیادتی کرتا ہے اللہ تعالیٰ یقیناً ہر چیز پر قادر ہے۔ [فاطر: ۱]
ہمارا ایمان ہے کہ فرشتے عالم غیبی کا حصہ اور اللہ کے بندے ہيں، جنھیں اس نے نور سے پیدا کیا ہے اور ان کی فطرت میں اپنی فرماں برداری اور عاجزی ودیعت کر دی ہے۔
فرشتے اللہ کی ایک عظیم مخلوق ہیں جن کی قوت اور تعداد کا علم اللہ کے علاوہ کسی کے پاس نہیں ہے، ہر فرشتے کو اللہ نے کچھ اوصاف، نام اور ذمے داریاں دے رکھی ہیں، ان میں سے ایک فرشتے کا نام جبریل ہے جن کے ذمے رسولوں کو اللہ کی وحی پہنچانا ہے۔
تیسرا رکن: کتابوں پر ایمان لانا
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے مسلمانو! تم سب کہو کہ ہم اللہ پر ایمان ﻻئے اور اس چیز پر بھی جو ہماری طرف اتاری گئی اور جو چیز ابراہیم‘ اسماعیل‘ اسحاق‘ یعقوب (علیہم السلام) اور ان کی اوﻻد پر اتاری گئی اور جو کچھ اللہ کی جانب سے موسیٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) اور دوسرے انبیا (علیہم السلام) دیئے گئے۔ ہم ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے، ہم اللہ کے فرمانبردار ہیں۔ [البقرۃ: 136]۔
ہم ایمان رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں پر کچھ کتابیں نازل فرمائیں تاکہ تمام جہانوں کے لیے حجّت اور عمل کرنے والوں کے لیے دستورِ حیات ثابت ہوں۔
وہ ان کتابوں کی روشنی میں لوگوں کو حکمت کی باتیں سکھاتے اور ان کا تزکیہ کرتے تھے۔
اللہ نے پورے بنی نوع انسانی کی جانب اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو بھیجا، آپ کی شریعت کے ذریعے سابقہ ساری شریعتوں کو منسوخ کر دیا، قرآن پاک کو ساری آسمانی کتابوں کا نگراں‘ ان پر گواہ اور ان کا ناسخ بنایا اور قرآن مجید کو ہر قسم کی تبدیلی یا تحریف سے محفوظ رکھنے کی ذمے داری اپنے ذمہ لے لی۔ چنانچہ فرمان باری تعالى ہے: ہم نے ہی اس قرآن کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔ [الحجر: 9]؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن بنی نوع انسانی کی جانب اترنے والی اللہ کی آخری کتاب ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری رسول ہیں اور اسلام قیامت تک آںے والے سارے انسانوں کے لیے اللہ کا منتخب کردہ مذہب ہے۔اللہ تعالى کا فرمان ہے: بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے۔ [آل عمران: 19]۔
اللہ تعالی نے اپنی کتاب قرآن پاک میں جن آسمانی کتابوں کا ذکر کیا ہے وہ درج ذیل ہیں:
قرآن کریم: اسے اللہ نے اپنے آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر اتارا۔
تورات: اسے اللہ نے اپنے نبی موسی علیہ السلام پر اتارا۔
انجیل: اسے اللہ نے اپنے نبی عیسی علیہ السلام پر اتارا۔
زبور: اسے اللہ نے اپنے نبی داود علیہ السلام پر اتارا۔
ابراہیم کے صحیفے: انھیں اللہ نے اپنے نبی ابراہیم علیہ السلام پر اتارا۔
چوتھا رکن: رسولوں پر ایمان لانا
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو۔ [ النحل: 36]۔
ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی طرف رسول بھیجے، جو انہیں یہ دعوت دیں کہ صرف اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کریں اور اللہ کے علاوہ جس کی بھی عبادت کی جاتی ہے‘ اس کا انکار کریں۔
یہ سارے نبی، انسان، مرد اور اللہ کے بندے تھے، سچ بولتے تھے، لوگ انھیں سچا مانتے تھے، متقی تھے، امانت دار تھے، خود اللہ کی راہ پر چلتے تھے اور لوگوں کو اللہ کی راہ کی جانب بلاتے تھے، اللہ نے انھیں ایسی نشانیاں عطا کیں جو ان کی سچائی پر دلالت کرتی تھیں، انھوں نے اللہ کے پیغام کو ہوبہو پہنچا دیا، یہ سارے انبیاء واضح حق اور روشن ہدایت پر گامزن تھے۔
شروع سے آخر تک تمام رسولوں کی دعوت بنیادی طور پر ایک تھی، ان کی اصل دعوت تھی: صرف ایک اللہ کی عبادت کرنا اور کسی کو اس کا شریک نہ بنانا۔
پانچواں رکن : یومِ آخرت پر ایمان لانا
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اللہ وه ہے جس کے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں۔ وه تم سب کو یقیناً قیامت کے دن جمع کرے گا، جس کے (آنے) میں کوئی شک نہیں، اللہ تعالیٰ سے زیاده سچی بات واﻻ اور کون ہوگا۔ [ النساء: 87]۔
ہم یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، اور وہ قیامت کا دن ہے جس کے بعد کوئی دن نہ ہوگا۔ ہم اس سے متعلق ہر اس بات پر ایمان رکھتے ہیں جس کی خبر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں دی ہے یا ہمارے نبی محمد ﷺ نے ہمیں بتائی ہے، جیسے انسان کی موت، قیامت کے دن دوبارہ اٹھایا جانا، میدانِ حشر میں جمع کیا جانا، شفاعت، میزان، حساب وکتاب، اور جنت وجہنم، نیز ہر وہ چیز جس کا تعلق یومِ آخرت سے ہے۔
چھٹا رکن: تقدیر کے خیر وشر پر ایمان لانا
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بیشک ہم نے ہر چیز کو ایک (مقرره) اندازے پر پیدا کیا ہے۔ [ القمر: 49]
ہم اچھی اور بُری تقدیر پر ایمان رکھتے ہیں، اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے سابقہ علم اور حکمت کے مطابق کائنات کی ہر چیز کا (اس کے وجود سے قبل ہی) اندازہ مقرر فرمایا، اور یہ کہ مخلوقات کو اس دنیا میں جتنے بھی حوادث کا سامنا ہوتا ہے، وہ اللہ وحدہ لا شریک لہ کے علم، اس کے فیصلے اور اس کی تدبیر سے ہوتا ہے، یہ سارے فیصلے انسان کی تخلیق سے پہلے ہی لکھ دیے گئے تھے، نیز یہ کہ انسان کے پاس بھى ارادہ ومشیت ہے اور وہ اپنے افعال کو حقیقی طور پر انجام دیتا ہے، البتہ اس کا ارادہ، اس کی مشیت نیز اس کے افعال اللہ کے علم، ارادے اور مشیت سے خارج نہیں ہوتے۔
تقدیر پر ایمان لانے کے چار مراتب ہیں:
پہلا مرتبہ: اللہ کے ہمہ گیر علم پر ایمان۔
دوسرا مرتبہ : اس بات پر ایمان کہ اللہ نے قیامت کے دن تک واقع ہونے والی تمام باتوں کو لکھ رکھا ہے۔
تیسرا مرتبہ: اللہ کے نافذ ہونے والے ارادے اور قدرت تامہ پر ایمان کہ وہ جو چاہے گا ہوگا اور جو نہیں چاہے گا نہیں ہوگا۔
چوتھا مرتبہ: اس بات پر ایمان کہ اللہ ہر چیز کا خالق ہے اور اس کام میں اس کا کوئی شریک نہيں ہے۔
تیسرا مرتبہ: احسان
احسان یہ ہے کہ آپ اللہ کی عبادت اس طرح کریں گویا آپ اسے دیکھ رہے ہیں، اگر آپ اسے نہیں دیکھ رہے ہیں تو بلاشبہ وہ آپ کو دیکھ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں اور نیک کاروں کے ساتھ ہے. [النحل: ۱۲۸]
طہارت
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بیشک اللہ توبہ کرنے والوں کو اور پاک رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ [ البقرۃ : 22]۔
اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: جس نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا اور پھر دو رکعت نماز پڑھی، جس میں اس نے اپنے جی میں کوئی بات نہ کی، اس کے گزشتہ سب گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ (صحیح بخاری)۔
نماز کی عظمتِ شان کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اللہ نے اس سے پہلے طہارت حاصل کرنے کا حکم دیا ہے اور اسے صحتِ نماز کی شرط قرار دیا ہے، طہارت نماز کی کنجی ہے اور اس کی فضیلت کا احساس دل کے اندر نماز ادا کرنے کا شوق پیدا کرتا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "پاکیزگی نصف ایمان ہے، الحمد للہ میزان کو بھر دیتا ہے، سبحان اللہ اور الحمد للہ — یا (ان میں سے ہر ایک) — آسمان وزمین کے درمیانی خلا کو بھر دیتے ہیں۔ نماز نور ہے، صدقہ دلیل ہے، صبر روشنی ہے، اور قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف حجت ہے۔ ہر شخص صبح کے وقت نکلتا ہے اور اپنے نفس کا سودا کرتا ہے، چنانچہ وہ اسے آزاد کرنے والا ہے یا اسے ہلاک کرنے والا"۔ (صحیح مسلم)
ایک اور حدیث میں انبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ”جو شخص اچھی طرح سے وضو کرے، اس کے گناہ اس کے جسم سے نکل جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کے ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں“۔ (صحیح مسلم)
بندہ اپنے رب کے سامنے طہارت کی حالت میں حاضر ہوتا ہے، وضو کے ذریعہ حسی طہارت کے ساتھ اور اس عبادت کو اخلاص کے ساتھ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ادا کرکے معنوی طہارت کے ساتھ۔
وہ اعمال جن کے لیے وضو واجب ہے:
1- ہر طرح کی نماز کے لیے، فرض ہو یا نفل۔
2- کعبے کے طواف کے لیے۔
3- مصحف کو چھونے کے لیے۔
میں وضو اور غسل پاک پانی سے کرتا ہوں:
پاک پانی سے مراد ہر وہ پانی ہے جو آسمان سے برسے یا زمین سے نکلے، پھر اپنی اصلی حالت میں موجود رہے، پانی کی پاکی کو سلب کرنے والی کسی چیز کی وجہ سے اس کے تین اوصاف یعنی رنگ، مزہ اور بو میں سے کوئی وصف تبدیل نہ ہوا ہو۔
وضوء
مرحلہ ۱: نیت کرنا، اس کی جگہ دل ہے۔ نیت کے معنی ہیں: اللہ تعالی کا تقرب حاصل کرنے کے لیے عبادت کو انجام دینے کا دل میں ارادہ کرنا۔
مرحلہ ۲: (بسم اللہ) کہنا۔
مرحلہ ۳ : دونوں ہتھیلیوں کو تین مرتبہ دھونا۔
مرحلہ ۴: تین دفعہ کلی کرنا۔
کلی کرنے کا مطلب ہے: منہ میں پانی ڈال کر اسے گھمانا اور پھر باہر نکال دینا۔
مرحلہ ۵: تین مرتبہ ناک میں پانی ڈال کر ناک جھاڑنا؛ ناک میں پانی ڈالنے کا مطلب ہے: سانس کے ذریعہ پانی کھینچ کر ناک کے آخری حصے تک لے جانا۔
ناک جھاڑنا: یعنی ناک کے اندر موجود گندگیوں کو سانس کے ذریعے باہر نکالنا۔
مرحلہ ۶: چہرے کو تین بار دھونا۔
چہرے کی حد:
چہرے کے لیے عربی میں مستعمل لفظ "الوجہ" کے معنی جسم انسانی کے اس حصے کے ہیں جو کسی سے ملتے وقت سامنے ہوتا ہے۔
چوڑائی میں اس کی حد ایک کان سے دوسرے کان تک ہے۔
جب کہ لمبائی میں اس کی حد سر کے بال اگنے کی جگہ سے ٹھڈی کے آخری حصے تک ہے۔
چہرے کو دھونے میں اس کے ہلکے بالوں‘ کنپٹیوں اور کنپٹیوں وکانوں کے بیچ کے حصوں کا دھونا بھی شامل ہے۔
یہاں اصل کتاب میں آئے ہوئے لفظ 'البیاض' کے معنی ہيں کنپٹی اور کان کی لو کے بیچ کا حصہ۔
جب کہ اس میں آئے ہوئے 'العذار' لفظ کے معنی ہیں: وہ بال جو کان کے سوراخ کے سامنے واقع ابھری ہوئی ہڈی پر نکلے ہوں، جو سر کے اندر کی طرف جاتی ہے اور اس سے نیچے اتر کر کان کے نچلے حصے تک پہنچتی ہے۔
اسی طرح چہرے کو دھونے میں داڑھی کے گھنے بالوں کے ظاہری حصے اور لٹکے ہوئے بالوں کو دھونا بھی شامل ہے۔
مرحلہ ۷: دونوں ہاتھوں کو انگلیوں کے کناروں سے دونوں کہنیوں تک تین بار دھونا۔
دونوں کہنیوں کو دھونا بھی فرض ہے۔
مرحلہ ۸: دونوں ہاتھوں سے سر کا دونوں کانوں سمیت ایک بار مسح کرنا۔
آغاز سر کے اگلے حصے سے ہوگا، اس کے بعد دونوں ہاتھوں کو گدی تک لے جایا جائے گا اور پھر انھیں سر کے اگلے حصے تک لایا جائے گا۔
شہادت کی دونوں انگلیوں کو دونوں کانوں میں ڈالا جائے گا، اور دونوں انگوٹھوں کو دونوں کانوں کے باہری حصوں پر پھیرا جائے گا؛ اس طرح کان کے ظاہری اور باطنی دونوں حصوں کا مسح کیا جائے گا۔
مرحلہ ۹: دونوں پیروں کو انگلیوں سے لے کر ٹخنوں تک تین بار دھونا، دونوں ٹخنوں کو دھونا بھی فرض ہے۔
ٹخنوں سے مراد وہ ہڈیاں ہیں جو پنڈلی کے نیچے ابھری ہوئی ہوتی ہیں۔
مرحلہ 10: وضو مکمل کرنے کے بعد یہ دعا پڑھنا مسنون ہے: "أشهَدُ أن لا إلهَ إلَّا اللهُ وحدَه لا شريكَ له، وأشهَدُ أنَّ مُحمَّدًا عبدُه ورسولُه، اللَّهمَّ اجعَلْني مِن التَّوَّابِينَ، واجعَلْني مِن المُتطهِّرِينَ" کیونکہ نبیٔ اکرم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اچھی طرح وضو کیا، پھر کہا: «أشهَدُ أن لا إلهَ إلَّا اللهُ وحدَه لا شريكَ له، وأشهَدُ أنَّ مُحمَّدًا عبدُه ورسولُه، اللَّهمَّ اجعَلْني مِن التَّوَّابِينَ، واجعَلْني مِن المُتطهِّرِينَ» تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں، وہ جس میں سے چاہے داخل ہو جائے۔“ (سنن ترمذی)
ان امور سے وضو باطل ہو جاتا ہے:
1- پیشاب اور پاخانے کے راستے سے پیشاب، پاخانہ، ہوا، مذی اور منی وغیرہ کسی چیز کا نکلنا۔
2- گہری نیند، یا بے ہوشی، یا نشہ آور اشیا کے استعمال یا پاگل پن کی وجہ سے عقل کا زائل ہو جانا۔
3- غسل واجب کرنے والی ساری چیزیں جیسے جنابت، حیض اور نفاس وغیرہ۔
جب انسان قضائے حاجت سے فارغ ہو تو لازمی طور پر نجاست کو یا تو پاک پانی سے دور کرے، جو کہ افضل ہے، یا پھر پانی کے علاوہ پتھر، کاغذ اور کپڑے جیسے نجاست زائل کرنے والی چیزوں سے نجاست دور کرے، بشرطیکہ وہ طاہر ہوں، تین یا اس سے زیادہ بار اس طرح صاف کرے کہ نجاست دور ہو جائے۔
خف اور جورب (چمڑے اور کپڑے کے موزوں) پر مسح
چمڑے یا کپڑے کے موزے پہننے کی صورت میں انھیں اتار کر پاؤں دھونے کی بجائے ان پر مسح کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے لیے درج ذیل شرطیں ہیں:
1- انھیں حدث اصغر اور حدث اکبر سے مکمل طہارت حاصل کرنے کے بعد پہنا گیا ہو۔
2- دونوں پاؤں پاک ہوں، گندے نہ ہوں۔
3- مسح اس کے مقررہ وقت کے اندر کیا گیا ہو۔
4- دونوں موزے حلال ہوں، چرائے ہوئے یا غصب کیے ہوئے نہ ہوں۔
'خف' سے مراد پیروں میں پہنے جانے والے پتلے چمڑے وغیرہ کے موزے ہیں، اسی کے حکم میں وہ جوتے بھی آجاتے ہيں جو دونوں قدموں کو ڈھانک کر رکھتے ہيں۔ جب کہ لفظ 'جورب' سے مراد کپڑے وغیرہ کے موزے ہیں، جو پیروں میں پہنے جاتے ہیں، اور اسی کے ضمن میں وہ بھی داخل ہیں جنہیں 'شرّاب' کہا جاتا ہے۔
موزوں پر مسح کرنے کی مشروعیت کی حکمت: موزوں پر مسح کی حکمت ہے ان مسلمانوں کے لیے آسانی فراہم کرنا جنھیں موزے اتار کر پیروں کو دھونے میں پریشانی ہوتی ہے خاص طور سے جاڑے اور سخت ٹھنڈی کے وقت اور سفر کی حالت میں ۔
مسح کی مدت: مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات (24 گھنٹے)، اور مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں (72 گھنٹے)۔
مسح کی مدت کی شروعات وضو ٹوٹنے کے بعد موزوں پر کیے جانے والے پہلے مسح سے ہوتی ہے۔
چمڑے یا کپڑے وغیرہ سے بنے موزوں پر مسح کرنے کا طریقہ:
1- دونوں ہاتھوں کو بھگویا جائے۔
2- ہاتھ کو پاؤں کے ظاہری حصے پر پھیرا جائے۔ (انگلیوں کے کناروں سے پنڈلی کے آغاز تک)۔
3- دائیں پاؤں کا دائیں ہاتھ سے اور بائیں پاؤں کا بائیں ہاتھ سے مسح کیا جائے۔
مسح کو باطل کرنے والی چیزیں: 1- غسل کو واجب کرنے والی ساری چیزیں۔ 2- مسح کی مدت کا ختم ہونا۔
غسل
جب مرد یا عورت ہم بستری کرے، اگرچہ منی خارج نہ ہو، یا دونوں میں سے کسی سے بیداری میں شہوت کے ساتھ منی نکل جائے، یا نیند کی حالت میں منی نکل آئے، تو ان دونوں پر نماز ادا کرنے یا دوسرے کسی ایسے عمل سے پہلے جس کے لیے طہارت ضروری ہے‘ غسل کرنا واجب ہے، اسی طرح جب کوئی عورت حیض اور نفاس سے پاک ہو تو نماز پڑھنے یا کوئی اور ایسے عمل کرنے سے پہلے جس کے لیے طہارت ضروری ہے‘ غسل کرنا واجب ہے۔
غسل کا طریقہ کچھ اس طرح ہے:
پورے بدن کو‘ چاہے جیسے بھی ہو‘ پانی سے دھویا جائے، اس میں کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈال کر ناک جھاڑنا بھی شامل ہے، جب انسان اپنے پورے بدن کو پانی سے دھو لے تو اس کا حدث اکبر دور ہو جاتا ہے اور اس کی طہارت مکمل ہو جاتی ہے۔
غسل کا ایک دوسرا طریقہ بھی ہے جو زیادہ کامل ہے، اور اسی پر نبی ﷺ عمل کیا کرتے تھے، اس کی تفصیل حسبِ ذیل ہے:
1- ناپاکی دور کرنے اور طہارت حاصل کرنے کی نیت۔
2- بسم اللہ پڑھنا، دونوں ہاتھوں کو تین بار دھونا، پھر شرمگاہ کو دھونا۔
3- مکمل وضو کرنا، جس طرح مسلمان نماز کے لیے وضو کرتا ہے۔
4- سر پر تین بار پانی ڈالنا، تاکہ بالوں کی جڑیں اچھی طرح تر ہو جائیں۔
5- پورے بدن پر پانی ڈالنا، پہلے اپنے دائیں پہلو کو دھوئے پھر بائیں پہلو کو، پانی جسم کے تمام حصوں تک پہنچانے کے لیے دونوں ہاتھوں سے مَلے۔
جنبی شخص کے لیے غسل کرنے سے پہلے درج ذیل کام ممنوع ہیں:
1- نماز۔
2- کعبے کا طواف۔
3- مسجد میں ٹھہرنا، البتہ بغیر رکے ہوئے صرف گزرنا جائز ہے۔
4- مصحف کو چھونا۔
5- قرآن پڑھنا۔
تیمم
جب کسی کو طہارت حاصل کرنے کے لیے پانی نہ مل سکے یا بیماری وغیرہ کی وجہ سے پانی استعمال نہ کر سکتا ہو اور نماز کا وقت نکل جانے کا خوف ہو تو مٹی سے تیمم کرے گا۔
تیمم کا طریقہ یہ ہے کہ اپنے ہاتھوں کو ایک بار مٹی پر مارے اور ان سے اپنے چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کا مسح کرے، اس کے لیے مٹی کا پاک ہونا شرط ہے۔
ان باتوں سے تیمم باطل ہو جاتا ہے:
1- تیمم ان تمام چیزوں سے باطل ہو جاتا ہے جن سے وضو باطل ہوتا ہے۔
2- جس عبادت کے لیے تیمم کیا گیا ہو‘ اسے شروع کرنے سے پہلے پانی مل جائے تو تیمم باطل ہو جاتا ہے۔
نماز
اللہ نے ایک مسلمان پر دن ورات میں پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں۔ یہ پانچ اوقات اس طرح ہیں: فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشا۔
نماز کی تیاری
جب نماز کا وقت آئے تو مسلمان حدث اصغر سے پاکی حاصل کرے اور اگر اسے حدث اکبر لاحق ہو تو اس سے بھی پاکی حاصل کر لے۔
یاد رہے کہ حدث اکبر وہ ناپاکی ہے جس سے مسلمان پر غسل واجب ہوتا ہے۔
جب کہ حدث اصغر سے مراد وہ ناپاکی ہے جس سے وضو واجب ہوتا ہے۔
مسلمان پاک لباس پہن کر‘ پاک جگہ پر‘ ستر پوشی کے ساتھ نماز پڑھے۔
نماز کے وقت مناسب لباس سے زیب وزینت اختیار کرے اور اس سے اپنے جسم کو ڈھانپ کر رکھے۔ مرد کے لیے نماز کی حالت میں ناف سے گھٹنے کے درمیان کا کوئی بھی حصہ کھولنا جائز نہيں ہے۔
جب کہ عورت پر نماز کی حالت میں چہرے اور ہتھیلیوں کو چھوڑ کر پورے جسم کو ڈھانپنا واجب ہے۔
مسلمان نماز کی حالت میں ان اقوال کے علاوہ کوئی بات زبان سے نہ نکالے جو نماز کے ساتھ خاص ہیں۔ امام کی قراءت غور سے سنے اور ادھر اُدھر نہ دیکھے، اگر نماز کے اذکار یاد کرنے سے عاجز ہو تو نماز کے آخر تک اللہ کے ذکر اور اس کی تسبیح میں مشغول رہے، لیکن اس پر لازم ہے کہ جلد سے جلد نماز اور اس کے اذکار کو سیکھ لے۔
صحیح طریقے سے نماز ادا کرنے کے لیے، باذن الہی ہم ان اعمال کو انجام دیں گے اور ان کی پابندی کریں گے:
پہلا عمل : جس فریضے کی ادائیگی کا ارادہ ہو اس کے لیے نیت کرنا، نیت کی جگہ دل ہے۔
وضو کرنے کے بعد میں قبلے کی جانب رخ کروں گا اور طاقت ہونے پر کھڑے ہوکر نماز پڑھوں گا۔
دوسرا عمل : دونوں ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اٹھاؤں گا اور نماز میں داخل ہونے کی نیت سے 'اللہ اکبر' کہوں گا۔
تیسرا عمل : میں نماز کے آغاز کی کوئی ایک ماثور دعا پڑھوں گا، مثلاً یہ دعا: اے اللہ! تو پاک ہے، تیری ہی تعریف ہے، تیرا نام با برکت ہے، تیری شان سب سے اونچی ہے اور تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے۔
چوتھا عمل : میں دھتکارے ہوئے شیطان سے اللہ کی پناہ مانگتے ہوئے کہوں گا: میں شیطان مردود کے شر سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔
پانچواں عمل : میں ہر رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھوں گا، سورہ فاتحہ اس طرح ہے: سب تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے واﻻ ہے۔ بڑا مہربان نہایت رحم کرنے واﻻ۔ بدلے کے دن (یعنی قیامت) کا مالک ہے۔ ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔ ہمیں سیدھی (اور سچی) راه دکھا۔ ان لوگوں کی راه جن پر تو نے انعام کیا ان کی نہیں جن پر غضب کیا گیا اور نہ گمراہوں کی۔
پھر میں کہوں گا: (آمین) یعنی: اے اللہ قبول فرما۔
ہر نماز کی صرف پہلی اور دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد قرآن کا کچھ حصہ پڑھوں گا، یہ گرچہ واجب نہيں ہے لیکن بڑے اجر وثواب کا کام ہے۔
چھٹا عمل : میں 'اللہ اکبر' کہہ کر رکوع کروں گا، رکوع کی حالت میں میری پیٹھ سیدھی ہوگی، دونوں ہاتھ دونوں گھٹنوں پر ہوں گے اور ہاتھ کی انگلیاں ایک دوسرے سے الگ رہیں گی، پھر میں رکوع میں یہ دعا تین مرتبہ پڑھوں گا: "سبحان ربی العظیم"۔
ساتواں مرحلہ : میں "سمع اللہ لمن حمدہ" کہتے ہوئے اور دونوں ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اٹھاتے ہوئے رکوع سے اٹھوں گا۔ جب میرا جسم سیدھا کھڑا ہو جائے گا تو میں کہوں گا: "ربنا و لک الحمد"۔
آٹھواں عمل : میں 'اللہ اکبر' کہوں گا اور دونوں ہاتھوں، دونوں گھٹنوں، دونوں پاؤں، پیشانی اور ناک کے بل سجدہ کروں گا، سجدے میں تین دفعہ یہ دعا پڑھوں گا: "سبحان ربي الاعلی"۔
نواں عمل : میں 'اللہ اکبر' کہہ کر سجدے سے سر اٹھاؤں گا یہاں تک کہ پیٹھ سیدھی کرکے بائیں قدم پر بیٹھ جاؤں گا اور دائيں قدم کو کھڑا رکھوں گا، اس حالت میں تین دفعہ یہ دعا پڑھوں گا: "ر اغفر لی"۔
دسواں عمل : میں 'اللہ اکبر' کہہ کر پہلے سجدے کی طرح ہی دوسرا سجدہ کروں گا۔
گیارہواں عمل : سجدے سے "اللہ اکبر" کہتے ہوئے اٹھوں گا اور بالکل سیدھا کھڑا ہو جاؤں گا ۔اس کے بعد نماز کی باقی رکعتوں میں وہ سارے کام کروں گا جو پہلی رکعت میں کیے تھے۔
ظہر، عصر، مغرب اور عشا کی دوسری رکعت کے بعد پہلا تشہد پڑھنے کے لیے بیٹھ جاؤں گا، پہلا تشہد کچھ اس طرح ہے: "ساری حمد وثنا، تمام دعائیں اور ہر طرح کے اچھے اعمال اور اقوال اللہ کے لئے ہیں، اے نبی! آپ پر سلامتی اور اللہ کی رحمت وبرکت نازل ہوں، سلام ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ بے شک محمد (ﷺ) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں"۔ پھر اس کے بعد تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو جاؤں گا۔
ہر نماز کی آخری رکعت کے بعد آخری تشہد پڑھنے کے لیے بیٹھ جاؤں گا، جو اس طرح ہے: "ساری حمد وثنا، تمام دعائیں اور ہر طرح کے اچھے اعمال اور اقوال اللہ کے لئے ہیں، اے نبی! آپ پر سلامتی اور اللہ کی رحمت وبرکت نازل ہوں، سلام ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ بے شک محمد (ﷺ) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اے اللہ! تو محمد اور آل محمد پر درود بھیج، جس طرح تو نے ابراہیم اور ان کی آل پر بھیجا، تو حمد وستائش کے لائق اور بزرگی والا ہے۔ اے اللہ! تو محمد اور آل محمد پر برکت نازل فرما، جس طرح تو نے ابراہیم اور ان کی آل پر برکت نازل فرمائی، تو حمد وستائش کے لائق اور بزرگی والا ہے"۔
بارہواں عمل : اس کے بعد میں نماز سے نکلنے کی نیت سے دائیں جانب سلام پھیرتے ہوئے کہوں گا: "السلام علیکم و رحمۃ اللہ" اور بائیں جانب سلام پھیرتے ہوئے کہوں گا: "السلام علیکم و رحمۃ اللہ"۔ اس طرح میری نماز ادا ہو جائے گی۔
مسلمان عورت کا حجاب
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے نبی! اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وه اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں، اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جایا کرے گی پھر نہ ستائی جائیں گی، اور اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے۔ [ الاحزاب : 59]۔
اللہ نے مسلمان عورت پر حجاب، ستر پوشی اور پورے بدن کو اپنے علاقے میں رائج لباس کے ذریعے اجنبی مردوں سے چھپانے کو واجب قرار دیا ہے، اس کے لیے اپنے شوہر اور محارم کے علاوہ کسی اور کے سامنے حجاب اتارنا جائز نہيں ہے، یاد رہے کہ محارم سے مراد وہ لوگ ہیں جن سے کسی عورت کا ابدی طور پر شادی کرنا حرام ہو، محارم درج ذیل لوگ ہيں: (باپ خواہ کتنا ہی اوپر ہو، بیٹا خواہ کتنا ہی نیچے ہو، چچا اور ماموں، بھائی، بھتیجا اور بھانجا، ماں کا شوہر، شوہر کا باپ خواہ کتنا ہی اوپر ہو، شوہر کی اولاد خواہ کتنی ہی نیچے ہو، رضاعی بھائی، رضاعی ماں کا شوہر، اور رضاعت سے بھی وہی رشتے حرام ہوتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں)۔
ایک مسلمان عورت کو اپنے لباس کے سلسلے میں درج ذیل اصول وضوابط کا خیال رکھنا چاہیے :
1- اس کا پورا بدن ڈھکا ہوا ہو۔
2- لباس ایسا نہ ہو کہ اسے اجنبی مردوں کے سامنے عورت زینت کے لیے پہنتی ہو۔
3- وہ اتنا باریک نہ ہو کہ بدن جھلکے۔
4- لباس ڈھیلا ڈھالا ہو، اتنا تنگ نہ ہو کہ بدن کے نشیب وفراز ظاہر ہوں۔
5- اگر اسے اجنبی مردوں کے پاس سے گزرنا ہو جہاں وہ اس کی خوشبو سونگھ سکتے ہوں، تو ایسی صورت میں اس کا لباس معطر نہ ہو۔
6- مرد کے لباس جیسا نہ ہو۔
7- لباس اس طرح کا نہ ہو جس طرح کا لباس غیر مسلم عورتیں اپنی عبادتوں کے وقت اور تہواروں میں پہنتی ہیں۔
8- شہرت کا لباس نہ ہو۔
مومن کے بعض اوصاف
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وه آیتیں ان کے ایمان کو اور زیاده کردیتی ہیں اور وه لوگ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔ [ الانْفَال: 2]۔
- وہ سچ بولتا ہے، جھوٹ نہیں بولتا۔
- وہ عہد وپیمان اور وعدے کا پابند ہوتا ہے۔
- کسی سے جھگڑتے وقت بد زبانی نہيں کرتا۔
- امانت ادا کرتا ہے۔
- اپنے مسلمان بھائی کے لیے وہی پسند کرتا ہے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔
- وہ سخی ہوتا ہے۔
- لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے۔
- صلہ رحمی کرتا ہے۔
- اللہ کے ہر فیصلے سے مطمئن رہتا ہے، خوش حالی کے وقت اس کا شکر ادا کرتا ہے اور پریشانی کے وقت صبر سے کام لیتا ہے۔
- حیا کے وصف سے متصف ہوتا ہے۔
- اللہ کی مخلوق پر رحم کرتا ہے۔
- اس کا دل کینہ کپٹ سے پاک اور اس کے اعضا دوسرے پر زیادتی کرنے سے محفوظ رہتے ہیں۔
- درگزر سے کام لیتا ہے۔
- سود نہیں کھاتا اور سودی لین دین نہيں کرتا۔
- زنا نہيں کرتا۔
- شراب نہیں پیتا۔
- پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہے۔
- ظلم نہيں کرتا اور دھوکہ نہیں دیتا۔
- چوری اور مکاری نہيں کرتا۔
- والدین کی فرماں برداری کرتا ہے، چاہے وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہوں اور اچھے کاموں میں ان کی بات مانتا ہے۔
- وہ اپنی اولاد کو اچھے کاموں کی تربیت دیتا ہے، انھیں شرعی واجبات کی ادائيگی کا حکم دیتا ہے اور گندی باتوں اور حرام چیزوں سے روکتا ہے۔
- وہ غیر مسلموں کے دینی خصائص اور ایسی عادات میں جو ان کے شعار اور خصوصى پہچان کی حیثیت رکھتے ہوں، ان کی مشابہت اختیار نہيں کرتا۔
- اللہ کے حضور توبہ کرتا اور اپنی کوتاہیوں اور گناہوں کی مغفرت اللہ سے طلب کرتا ہے۔
مسلمان کے عقیدے سے متعلق بعض اہم قواعد
01- اللہ ہی ہمارا رب ہے، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں؛ اس کے سوا کوئی رب نہیں اور نہ اس کے سوا کوئی معبود برحق ہے، اس کی مثل کوئی چیز نہیں، کوئی چیز اسے عاجز نہیں کر سکتی، اور وہ خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا ہے۔
02- اللہ سبحانہ وتعالیٰ آسمان کے اوپر اپنی تمام مخلوقات سے بلند ہے، ان سے بالکل الگ ہے، اور اس کے لیے مطلق بلندی ورفعت ہے: ذات کی بلندی، قدر ومنزلت کی بلندی، غلبہ وقہاری کی بلندی؛ اور وہ پاک پروردگار ہر چیز کو محیط ہے۔
03- ہم ان اسماء وصفات کا اثبات کرتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے لیے ثابت فرمایا ہے یا جنہیں اللہ کے نبی محمد ﷺ نے اس کے لیے ثابت کیا ہے، اور ان اسماء وصفات کی نفی کرتے ہیں جن سے خود اللہ نے اپنے آپ کو یا جن سے نبی ﷺ نے اللہ کو پاک قرار دیا ہے۔
04- اللہ تعالی لوگوں کی دعائیں قبول فرماتا ہے، ضرورتیں پوری کرتا ہے، وہ تمام چیزوں کا مالک ہے، نفع ونقصان پہنچانے والا صرف وہی ہے، اور پلک جھپکنے کے برابر وقت کے لیے بھی کوئی اس سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔ مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ عبادت کی کسی بھی قسم میں اللہ تعالی کے سوا کسی اور کو مقصود ومحور بنائے، جیسے دعا، نماز، نذر ونیاز، ذبح، خوف، امید ورجا، توکل اور اس کے علاوہ دیگر ظاہری یا باطنی عبادات۔ جو شخص اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور کے لیے کوئی بھی عبادت انجام دے تو وہ مشرک ہے۔
05- سب سے بڑا گناہ اور عظیم ترین کبیرہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے۔ جو شخص شرک پر مرے، اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ یہ وہ گناہ ہے کہ اگر بندہ بغیر توبہ کے اس پر مر جائے تو اسے اللہ تعالیٰ نہیں بخشے گا۔
06- جو چیز بندے كو نہیں مل سکی، وہ اسے پہنچنے والی نہ تھی، اور جو چیز اسے مل گئی، وہ اس سے چوکنے والی نہ تھی۔ مسلمان پر واجب ہے کہ قضا وقدر پر ایمان رکھے، اللہ تعالیٰ کی تقدیروں پر راضی رہے، اپنے رب کی حمد و ثنا اور ہر حال میں اس کا شکر ادا کرے۔
07- ہمارے نبی محمد ﷺ سب سے افضل انسان اور خاتم الانبیاء ہیں، اور قیامت کے دن آپ شافعِ مُشفَّع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اپنا خلیل بنایا، جس طرح ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا تھا۔
08- ہماری کتاب قرآن کریم ہے، جو خود ایک معجزہ ہے، جس کی حقانیت قطعی اور جس کی تلاوت عبادت ہے۔ اللہ تعالى نے اسے سب سے بہتر فرشتے جبرائیل علیہ السلام کے ذریعہ ہمارے نبی محمد صلى اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا، اور اللہ تعالى نے اسے هر قسم کی تحریف اور تبدیلی سے محفوظ رکھا ہے، جیسا کہ اللہ تعالى نے فرمایا: ہم نے ہی اس قرآن کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔ [الحجر: ۹]
09- اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ مقرب وہ لوگ ہیں جو اس کے سب سے زیادہ اطاعت گزار ہوں اور اس کی شریعت کی سب سے زیادہ پیروی کرتے ہوں۔ کسی عربی کو کسی عجمی پر فضیلت وفوقیت حاصل نہیں، نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر، نہ کسی گورے کو کسی کالے پر اور نہ کسی کالے کو کسی گورے پر، مگر تقویٰ کی بنیاد پر۔ سب لوگ آدم کی اولاد ہیں، اور آدم مٹی سے پیدا کئے گئے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اللہ کے نزدیک تم سب میں باعزت وه ہے جو سب سے زیاده ڈرنے واﻻ ہے۔ (الحجرات: 13)۔
10- مسلمان کراماً کاتبین یعنی لکھنے والے معزز فرشتوں پر عقیدہ رکھتا اور ان کے وجود پر ایمان لاتا ہے، نیز یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندے اور مخلوق ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں نور سے پیدا فرمایا۔ ان ہی میں جبریل ہیں جو وحی لانے پر مامور ہیں، میکائیل ہیں جو بارش پر مامور ہیں، اسرافیل ہیں جو صور میں پھونک مارنے پر مامور ہیں، اور ملک الموت ہیں جو لوگوں کی روح قبض کرنے پر مامور ہیں۔
11- مسلمان قیامت کی نشانیوں پر، مسیح دجال کے ظہور پر، آخری زمانے میں آسمان سے عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کے نزول پر، اور مغرب سے سورج کے طلوع ہونے پر ایمان رکھتا ہے۔
12- مسلمان کا عقیدہ ہے کہ جو عذاب کا مستحق ہو اس کے لیے قبر کا عذاب ہے، اور جو انعام واکرام کے مستحق ہو اس کے لیے قبر کی نعمتیں ہیں، نیز یہ کہ قبر میں منکر ونکیر اس سے اس کے رب، اس کے دین اور اس کے نبی کے بارے میں سوال کرتے ہیں، اور یہ کہ قبر یا تو جنت کی کیاری ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا۔
13- قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے اور اعمال کے مطابق جزا وسزا پر ایمان رکھتا ہے، نیز یہ کہ جنت اور جہنم دونوں مخلوق ہیں اور کبھی فنا نہیں ہوں گے۔
14- جادو اللہ کے ساتھ کفر ہے؛ جادو سیکھنا جائز نہیں اور نہ جادوگروں اور فریب کاروں کے پاس جانا جائز ہے، مسلمان کے لیے نہ کسی کاہن کی تصدیق کرنا جائز ہے اور نہ کسی عرّاف کی؛ چنانچہ جس نے ان دونوں کی تصدیق کی اس نے محمد ﷺ پر نازل کردہ دین کا انکار کیا۔
15- مسلمان رسول اللہ ﷺ کے صحابہ سے محبت رکھتا ہے، اور جو ان سے محبت کرے اس سے بھی محبت رکھتا ہے اور جو ان سے بغض رکھے اس سے بغض رکھتا ہے، کیونکہ ان کی محبت دین واحسان ہے اور ان سے بغض کفر ونفاق ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "میرے صحابہ کو گالی نہ دو"۔ (صحیح مسلم) چنانچہ جو شخص بھی کسی صحابی رضی اللہ عنہ کے خلاف زبان درازی کرے یا ان کی شان میں گستاخی کرے، تو وہ گمراہ بدعتی ہے۔
16- مسلمان رسول اللہ ﷺ کے بعد خلافت کو اس ترتیب سے ثابت مانتے ہیں: سب سے پہلے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ، کیوں کہ وہ پوری امت میں سب سے افضل اور سب پر مقدم ہیں؛ پھر حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ، پھر حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ۔ یہی رشد وہدایت کے علمبردار خلفا وائمہ ہیں۔
17- عبادات توقیفی ہیں، لہٰذا اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی عبادت اسی وقت مشروع ہوگی جب وہ کتاب اللہ تعالیٰ یا سنتِ رسول ﷺ میں ثابت ہو۔ نبی ﷺ کی وفات کے بعد لوگوں کی جانب سے ایجاد کی جانے والی ہر وہ عبادت جو آپ ﷺ کے طریقے پر نہ ہو، وہ بدعت اور مردود ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس نے ہمارے دین میں کوئی نئی بات ایجاد کی جو اس میں سے نہیں ہے تو وہ مردود ہے“۔ (صحیح بخاری)
18- عبادت کی قبولیت دو بنیادی شرطوں پر معلق ہے: پہلی یہ کہ عبادت اللہ تعالیٰ کے لیے خالص ہو، اور دوسری یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مطابق ہو ؛ چنانچہ اگر عبادت خالص اللہ کے لیے نہ ہو تو مقبول نہیں، اور اگر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق نہ ہو تو بھی مقبول نہیں۔
میری سعادت میرے دین اسلام میں پنہاں ہے
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن با ایمان ہو تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے۔ [ النحل: 97]۔
ایک مسلمان کو حاصل ہونے والی دلی خوشی، مسرت اور سعادت کا ایک بہت بڑا سبب اس کا اپنے رب سے ایسا براہ راست تعلق ہے، جس میں زندوں، مردوں اور بتوں کا واسطہ نہ ہو، چنانچہ خود اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے کہ وہ اپنے بندوں سے ہمیشہ قریب رہتا ہے، ان کی فریاد سنتا ہے اور ان کی دعائیں قبول کرتا ہے، اللہ تعالی نے فرمایا: اور جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں ہر پکارنے والے کی پکار کو جب کبھی وه مجھے پکارے، قبول کرتا ہوں۔ اس لئے لوگوں کو بھی چاہئے کہ وه میری بات مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں، یہی ان کی بھلائی کا باعث ہے۔ [البقرة: 186] اللہ تعالی نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم اس سے دعا کریں اور دعا کو ان اہم عبادات میں سے قرار دیا ہے جن کے ذریعہ بندہ اللہ کی قربت حاصل کرتا ہے، اللہ کا فرمان ہے: اور تمہارے رب کا فرمان (سرزد ہوچکا ہے) کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا۔ یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خود سری کرتے ہیں وه عنقريب ذلیل ہوکر جہنم میں پہنچ جائیں گے۔ [غافر: 60]۔ ایک نیکوکار مسلمان ہمیشہ اپنے رب سے لو لگاتا ہے، اسی سے دعا کرتا ہے اور نیک اعمال کے ذریعے اسی کا تقرب حاصل کرتا ہے۔
اس کائنات میں اللہ تعالی نے ایک عظیم حکمت کے تحت ہماری تخلیق کی ہے، ہمیں بے کار پیدا نہيں کیا ہے، وہ حکمت یہ ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے اور کسی کو اس کا شریک نہ بنایا جائے، اس نے ہمیں ایک ایسا ربانی اور ہمہ گیر دین دیا ہے جو ہماری خاص اور عام زندگی کے تمام معاملات کو منظم کرتا ہے، اس نے اس عادلانہ شریعت کے ذریعے زندگی کی ضرورتوں یعنی ہمارے دین، ہماری جان، ہماری عزت وآبرو، ہماری عقل اور ہمارے اموال کو تحفظ فراہم کیا ہے، جس نے شریعت کے احکام کی پیروی کرتے ہوئے اور حرام چیزوں سے بچتے ہوئے زندگی گزاری‘ یقینا اس نے ان ضروریات کی حفاظت کی اور سعادت بخش اور اطمینان کی زندگی گزاری۔
مسلمان کا اپنے رب سے مضبوط تعلق اسے قلبی راحت وسکون، خوشی ومسرت، اپنے رب کی معیت، اس کی توجہ اور نظر کرم کا احساس دلاتا ہے، اللہ تعالی نے فرمایا: ایمان ﻻنے والوں کا کارساز اللہ تعالیٰ خود ہے، وه انہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لے جاتا ہے۔ [ البقرۃ : 257]۔
یہ عظیم تعلق در اصل ایک وجدانی حالت ہے، جو اللہ کی عبادت سے لطف اندوزی اور اس کی ملاقات کا شوق عطا کرتی ہے، بندے کے دل کو آسمانِ سعادت کی سیر کراتی ہے اور اسے ایمان کی چاشنی کا احساس دلاتی ہے۔
وہ چاشنی جسے وہی بیان کر سکتا ہے جو اطاعت گزاری میں منہمک ہوکر اور برائیوں سے بچ کر اس سے شاد کام ہوا ہو، یہی وجہ ہے کہ اللہ کے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "جس نے اللہ کو رب مانا، اسلام کو دین مانا اور محمد کو رسول مانا اس نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا"۔ صحیح مسلم۔
جب انسان اپنے خالق کے سامنے ہمیشہ رہنے کا احساس اپنے دل میں رکھتا ہے، اسے اس کے اسما وصفات کے ذریعے پہچانتا ہے، اس کی عبادت ایسے کرتا ہے جیسے اسے دیکھ رہا ہو، عبادت خالص اللہ کے لئے انجام دیتا ہے اور عبادت کے ذریعہ غیر اللہ سے کوئى بھى آرزو اور امید نہیں رکھتا تو دنیا میں سعادت سے بھری ہوئی زندگی گزارتا ہے اور آخرت میں بہتر انجام کا حق دار بنتا ہے۔
یہاں تک کہ وہ مصائب جو مومن کو دنیا میں لاحق ہوتے ہیں، ان کی گرمی، یقین کی ٹھنڈک، اللہ کی تمام اچھی وبری تقدیر پر رضامندی اور ہر حال میں اس کی حمد و ثنا سے زائل ہو جاتی ہے۔
خوشی اور اطمینان کے حصول کے لیے ایک مسلمان کو چاہیے کہ اللہ کے ذکر اور قرآن کی تلاوت میں زیادہ سے زیادہ مشغول رہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: جو لوگ ایمان ﻻئے ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں۔ یاد رکھو اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو تسلی حاصل ہوتی ہے۔ [الرعد : 28]۔ مسلمان جتنا زیادہ اللہ کے ذکر اور قرآن کی تلاوت میں مشغول ہوتا جائے گا اللہ سے اس کے تعلق اور اس کے نفس کی پاکی میں اتنا ہی اضافہ ہوتا جائے گا اور اس کا ایمان اتنا ہی مضبوط ہوتا جائے گا۔
اسی طرح ایک مسلمان کی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ وہ اپنے دین کو اس کے صحیح مصادر سے سیکھے تاکہ اللہ کی عبادت علم وبصیرت کے ساتھ کر سکے، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔‘‘ اس حدیث کو ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ اسے چاہیے کہ اللہ کے اوامر کو جس نے اسے پیدا کیا ہے، بجا لائے، چاہے ان کی حکمت سے واقف ہو یا نہ ہو۔ کیوں کہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں فرمایا: اور (دیکھو) کسی مومن مرد وعورت کو اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ کے بعد اپنے کسی امر کا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا ، (یاد رکھو) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی جو بھی نافرمانی کرے گا وه صریح گمراہی میں پڑے گا۔ [الأحزاب : 36]۔
درود وسلام ہو ہمارے نبی محمد صلی اللہ عليہ وسلم، آپ کی اولاد اور تمام صحابہ کرام پر۔