الأذكار التي تقال صباحًا ومساءً

الأذكار التي تقال صباحًا ومساءً

الأذكار التي تقال صباحًا ومساءً كتبها بخط يده فضيلة الشيخ العلامة محمد بن صالح العثيمين من صحيح الأذكار الثابتة عن النبي -صلى الله عليه وسلم-

Language: lang_ur
Prepared by:
Version: 2.0
Translations 56
Amharic Assamese Azerbaijani Bengali +52
Attachments 7
PDF
Audio
Video
+3

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔ صبح وشام کے اذکار

(اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں جو زنده اور سب کا تھامنے والا ہے، جسے نہ اونگھ آتى ہے نہ نیند، اس کی ملکیت میں زمین اور آسمانوں کی تمام چیزیں ہیں۔ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے، وه جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وه اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جتنا وه چاہے، اس کی کرسی کی وسعت نے زمین و آسمان کو گھیر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لئے ان دونوں کی حفاظت بھارى نہیں ہے، وه تو بہت بلند اور بہت بڑا ہے۔) آیۃ الکرسی: 255

(رسول ایمان لایا اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے اتری اور مومن بھی ایمان لائے، یہ سب اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ، اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے، انہوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی، ہم تیری مغفرت طلب کرتے ہیں اے ہمارے رب! اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے* اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیاده مکلف نہیں بناتا، جو نیکی وه کرے وه اس کے لئے اور جو برائی وه کرے وه اس پر ہے، اے ہمارے رب! اگر ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا، اے ہمارے رب! ہم پر وه بوجھ نہ ڈال جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا، اے ہمارے رب! ہم پر وه بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہ ہو اور ہم سے درگزر فرما! اور ہمارى مغفرت فرما اور ہم پر رحم کر! تو ہی ہمارا مالک ہے، ہمیں کافروں کی قوم پر غلبہ عطا فرما)۔ سورۃ البقرۃ: 285-286

سورہ (قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) سورہ (قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ) سورہ (قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ)۔ مذکورہ تینوں سورتیں پوری کی پوری تین دفعہ پڑھے۔

میں اللہ تعالی کے مکمل کلمات کے ذریعہ ان تمام چیزوں کے شر سے پناہ چاہتا ہوں جو اس نے پیدا کی ہیں۔ (تین مرتبہ)

اس اللہ کے نام کے ساتھ جس کے نام کے ساتھ زمین وآسمان میں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچاتی، اور وہ خوب سننے والا سب کچھ جاننے والا ہے۔ (تین مرتبہ)

میں راضی ہو گیا اللہ کے رب ہونے پر اور اسلام کو دین اختیار کرنے پر اور محمدﷺ کو نبی تسلیم کرنے پر۔ (تین مرتبہ)

ہم نے صبح کی اور اللہ کے مُلک (بادشاہت) نے صبح کی، اور تمام تعریف اللہ کے لئے ہے، اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لئے ملک (بادشاہت) ہے، اور اسی کے لئے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے میرے رب! اس دن میں جو خیر ہے اور جو اس کے بعد میں خیر ہے میں تجھ سے اس کا سوال کرتا ہوں، اور اس دن کے شر سے اور اس کے بعد کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ اے میرے رب! میں سستی، انتہائى بڑھاپے اور بڑھاپے کی برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اے میرے رب! میں جہنم کے عذاب اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ اور شام کے وقت کہے: (ہم نے شام کی اور اللہ کے مُلک (بادشاہت) نے شام کی) نیز کہے: (اے میرے رب! اس رات میں جو خیر ہے...میں اس کا سوال کرتا ہوں) اخیر تک‘ (ہم نے صبح کی اور اللہ کے مُلک (بادشاہت) نے صبح کی) اور (اس دن) کی جگہ مذکورہ بالا کلمات کہے۔

اے اللہ! تیرے ہی حکم سے ہم نے صبح کی اور تیرے ہی حکم سے ہم نے شام کی، اور تیرے ہی حکم سے ہم جیتے ہیں، اور تیرے ہی حکم سے ہم مریں گے، اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ اور شام کے وقت کہے: اے اللہ! تیرے ہی حکم سے ہم نے شام کی اور تیرے ہی حکم سے ہم نے صبح کی، اور تیرے ہی حکم سے ہم جیتے ہیں، اور تیرے ہی حکم سے ہم مریں گے، اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

اے اللہ! مجھ پر یا تیری مخلوق میں سے کسی پر جس نعمت نے بھی صبح کی ہے وہ صرف تیری طرف سے ہے، تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، تیرے ہی لئے حمد اور تیرے ہی لئے شکر ہے۔ اور شام کے وقت: (...جس نعمت نے بھی شام کی ہے..)

(تین مرتبہ)

اے اللہ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں عافیت کا سوال کرتا ہوں، اے اللہ! میں اپنے دین، اپنی دنیا، اپنے اہل وعیال اور اپنے مال میں تجھ سے معافی اور عافیت کا سوال کرتا ہوں، اے اللہ! میری پردہ والی چیزوں پر پردہ ڈال دے اور میری گھبراہٹوں کو امن میں رکھ، اے اللہ! میرے سامنے سے، میرے پیچھے سے، میری دائیں طرف سے، میری بائیں طرف سے اور میرے اوپر سے میری حفاظت کر، اور میں اس بات سے تیری عظمت کی پناہ چاہتا ہوں کہ اچانک اپنے نیچے سے ہلاک کیا جاؤں۔

اے اللہ! تو ہی میرا رب ہے، تیرے علاوہ کوئی برحق معبود نہین ہے، تو نے مجھے پیدا کیا، اور میں تیرا بندہ ہوں، اور میں تیرے عہد وپیمان پر قائم ہوں جس قدر طاقت رکھتا ہوں، میں نے جو کچھ کیا اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اپنے آپ پر تیری نعمت کا اقرار کرتا ہوں، اور اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں، پس میرى مغفرت فرمادے، کیوں کہ تیرے سوا کوئی گناہوں کى مغفرت نہیں کرسکتا۔

اے اللہ! آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے‘ اے غیب اور حاضر کے جاننے والے، ہر چیز کے رب اور مالک! میں شہادت دیتا ہوں کہ تیرے علاوہ کوئی برحق معبود نہیں، میں تیری پناہ مانگتا ہوں اپنے نفس کے شر سے اور شیطان کے شر اور اس کے شرک سے، اور اس بات سے کہ میں اپنے نفس پر برائی کا ارتکاب کروں یا کسی مسلمان کے لئے برائی کا سبب بنوں۔

اے اللہ! میں نے اس حال میں صبح کی کہ میں تجھے گواہ بناتا ہوں اور تیرا عرش اٹھانے والوں کو، تیرے فرشتوں کو، تیرے انبیا کو اور تیری تمام مخلوق کو گواہ بناتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور بے شک محمد [ﷺ] تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں۔ اور شام کے وقت کہے: اے اللہ! میں نے شام کی.. اخیر تک (چار مرتبہ)۔

اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ وہ ایک ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے۔ اور وہ ہر بات پر قادر ہے۔ صبح میں یا شام میں (سو مرتبہ) پڑھے۔

میرے لیے اللہ کافی ہے‘ اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں‘ میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وہ عرشِ عظیم کا مالک ہے۔ (سات بار)۔

میں اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں، اور اس کی تعریف کرتا ہوں۔ (سو مرتبہ) صبح میں یا شام میں ‘ یا صبح وشام دونوں اوقات میں کہے-

میں اللہ سے مغفرت کا طلب گار ہوں اور اس کے حضور توبہ کرتا ہوں۔ (سو مرتبہ)

یہ وہ دعائیں ہیں جنہیں تحریر میں لانے کی توفیق ملی‘ اللہ سے دعا ہے کہ اسے (لوگوں کے لیے) نفع بخش بنائے۔

تحریر: محمد الصالح العثیمین مورخہ: ۲۰-۱-۱۴۱۸ھ