"جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو، تو یہ دعا پڑھے : "اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ" (اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔) اور جب مسجد سے نکلے تو یہ دعا پڑھے : "اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ" (اے اللہ! میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں۔)
ابو حُمَید یا ابو اُسَید سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :
"جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو، تو یہ دعا پڑھے : "اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ" (اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔) اور جب مسجد سے نکلے تو یہ دعا پڑھے : "اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ" (اے اللہ! میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں۔)
«إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ، وَإِذَا خَرَجَ فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ».
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی امت کو اس بات کی تعلیم دی ہے کہ مسجد میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھے : "اللَّهُمَّ افْتَحْ لي أَبْوابَ رَحْمَتِكَ"۔ دراصل اس کے ذریعے وہ اللہ سے اپنی رحمت کے اسباب مہیا کرنے کی درخواست کرتا ہے۔ اسی طرح آپ نے تعلیم دی ہے کہ مسجد سے نکلتے وقت یہ دعا پڑھے: "اللَّهُمَّ إني أَسْأَلُك مِن فَضْلِكَ" اور اس کے ذریعے اللہ سے اس کا فضل اور روز افزوں احسان، جیسے حلال روزی وغیرہ مانگے۔
مسجد میں داخل ہوتے وقت اور مسجد سے نکلتے وقت ان دونوں دعاؤں کو پڑھنا مستحب ہے۔
مسجد میں داخل ہوتے وقت رحمت اور مسجد سے نکلتے وقت فضل کا ذکر بطور خاص اس لیے کیا گیا ہے کہ داخل ہونے والا ایسے کاموں میں مشغول ہونے جا رہا ہے، جو اسے اللہ اور اس کی جنت سے قریب کرنے والے ہیں، اس لیے رحمت کا ذکر مناسب ہوا، جب کہ مسجد سے نکلنے کے بعد انسان اللہ کا فضل، جیسے روزی وغیرہ کی تلاش میں نکل جاتا ہے، اس لیے فضل کا ذکر مناسب ہوا۔
ان اذکار کو مسجد میں داخل ہونے اور مسجد سے نکلنے کا ارادہ کرتے وقت پڑھا جائے گا۔
مزید (4)
صحیح مسلم (1/ 494) (713).
الكاشف عن حقائق السُّنن (3/935).
فيض القدير (1/ 336).
ذخيرة العقبى (9/153).
کتابوں میں مذکور
10 کتابیںمزید (9)
- الذكر والدعاء والعلاج بالرقي من الكتاب والسنة"إذا دخل أحدكم المسجد فليقل: اللهم افتح لي أبواب رحمتك. وإذا خرج فليقل: اللهم إني أسألك من فضلك".
- المختصر في آداب السفر وصفة الحج والعمرة وآداب الزيارة والأدعية الجامعة مع ملحق بالفتاوى والمخالفات2- المختصر في صفة الحج وأحكامه (للحرمين)«اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ»[2]،
- المختصر في صفة الحج وأحكامهالمختصر في صفة الحج والعمرة«اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ»[2]،
- حصن المسلم من أذكار الكتاب والسنةحصن المسلماللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِك
- رسالة في الأذكار1«إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ المَسْجِدَ فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ، وَإِذَا خَرَجَ فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ».
- ما لا يسع أطفال المسلمين جهله«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ»[150].
- ما لا يسع أطفال المسلمين جهلهج: «اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ»[221].
- ما لا يسع أطفال المسلمين جهلهج: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ»[222].
- مجموعة زاد التربية الإسلامية (3)، والسيرة النبوية (3)التربية الإٍسلامية -3- «اللهم إني أسألك من فضلك»