"مضبوط مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن سے بہتر اور محبوب ہے۔ تاہم خیر تو دونوں ہی میں ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا :
"مضبوط مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن سے بہتر اور محبوب ہے۔ تاہم خیر تو دونوں ہی میں ہے۔ جو چیز تمہارے لیے فائدے مند ہو، اس کی حرص رکھو اور اللہ سے مدد مانگو اور عاجز نہ بنو۔ اگر تم پر کوئی مصیبت آ جائے، تو یہ نہ کہو کہ اگر میں ایسا کر لیتا، تو ایسا ہوجاتا۔ بلکہ یہ کہو کہ یہ اللہ کی تقدیر ہے اور وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ کیوں کہ ”اگر“ شیطان کے عمل دخل کا دروازہ کھول دیتا ہے“۔
«الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ، خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ، وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ، احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ، وَاسْتَعِنْ بِاللهِ وَلَا تَعْجَزْ، وَإِنْ أَصَابَكَ شَيْءٌ، فَلَا تَقُلْ لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَانَ كَذَا وَكَذَا، وَلَكِنْ قُلْ قَدَرُ اللهِ وَمَا شَاءَ فَعَلَ، فَإِنَّ (لَوْ) تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ».
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ ویسے تو ہر مومن میں خیر ہوتی ہے، لیکن ایمان، عزیمت اور مال وغیرہ طاقت کے پہلوؤں میں قوی مومن اللہ عز و جل کے یہاں کمزور مومن سے بہتر اور زیادہ محبوب ہے۔ اس کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مومن کو ایسے اسباب اختیار کرنے کی وصیت فرمائی جن سے دنیا وآخرت کی بھلائی حاصل ہو سکے‘ ساتھ ہی اللہ پر اعتماد، اس سے مدد مانگنے کا جذبہ اور اس پر بھروسہ شامل حال ہوں۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عاجزی، سستی اور دونوں جہانوں میں نفع پہنچانے والی چيزوں سے پیچھے رہنے سے منع فرمایا ہے۔ جب مومن پوری تندہی سے عمل کرے، اسباب اختیار کرے، اللہ سے مدد اور خیر طلب کرتا رہے، تو اس کے بعد بس اتنا بچ جاتا ہے کہ اپنا معاملہ اللہ کے حوالے کر دے اور اس بات کا یقین رکھے کہ اللہ جو کرے گا، وہ خیر ہی ہوگا۔ اس کے بعد اگر کوئی مصیبت لاحق ہو، تو یہ نہ کہے : "اگر میں ایسا کر لیتا، تو ایسا اور ایسا ہوتا۔" "کیوں کہ لفظ (اگر) شیطان کے عمل کے راستے کھول دیتا ہے۔" یعنی انسان تقدیر پر اعتراض اور فوت شدہ چيز پر افسوس کرنے لگتا ہے۔ انسان کو راضی بہ رضا رہتے ہوئے اور خود سپردگی کا ثبوت دیتے ہوئے بس اتنا کہنا چاہیے : "یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اللہ جو چاہتا ہے، کرتا ہے۔" لہذا جو کچھ ہوا، وہ اللہ کے ارادے کے مطابق ہوا۔ کیوں کہ وہ جو چاہتا ہے، کر گزرتا ہے۔ اس کے فیصلے کو کوئی ٹال نہيں سکتا اور اس کے حکم کو کوئی روک نہیں سکتا۔
قَدّر الله: قدر: بتشديد الدال وفتح القاف، أي قدَّر الله هذا الشيء وقضاه، ورويت بفتح الدال مخففة، والمعنى هذا الحاصل قَدَر الله وقضائه.
ایمان میں لوگوں کا تفاوت۔
اعمال میں قوت کا استحباب، کیوں کہ قوت سے وہ وہ فوائد حاصل ہو سکتے ہيں، جو ضعف سے حاصل نہيں ہو سکتے۔
انسان کو چاہیے کہ نفع بخش چیزوں کا اہتمام کرے اور نقصان دہ امور سے اجتناب کرے۔
مومن پر واجب ہے کہ اپنے تمام معاملات میں اللہ سے مدد طلب کرے اور اپنی ذات پر بھروسہ کرکے نہ بیٹھے۔
قضا اور قدر کا ثبوت۔ قضا و قدر پر ایمان اسباب اختیار کرنے اور خیر كی کوشش کرنے سے متصادم نہیں ہے۔
مصیبتوں کے وقت ناراضگی کے طور پر لفظ "اگر" کہنے کی ممانعت اور قضا و قدر پر اعتراض کرنے کی حرمت۔
مزید (7)
صحیح مسلم (4/ 2052) (2664).
توضيح الأحكام من بلوغ المرام.
لعبد الله البسام (7/ 492).
منحة العلام في شرح بلوغ المرام.
لعبد الله الفوزان (10/ 338).
فتح ذي الجلال والإكرام.
لابن عثيمين (6/ 430).
کتابوں میں مذکور
19 کتابیں- خوشگوار زندگی کے مفید وسائلجو چیز تمہیں نفع پہنچانے والی ہو، اس کی حرص رکھو، اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرو اور عاجز نہ بنو۔ اگر تمہیں کوئی مصیبت آن پہنچے تو یوں نہ کہو کہ اگر میں نے ایسا کیا ہوتا تو ایسا اور ایسا ہوجاتا، بلکہ یوں کہو: "قَدَرُ اللهِ وَمَا شَاءَ فَعَلَ" ی
- ایمان جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض کیا ہے، جیسا کہ کتاب وسنت میں وارد ہے۔’’الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ، خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ، وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ، وَاسْتَعِنْ بِاللهِ وَلَا تَعْجَزْ، وَإِنْ أَصَابَكَ شَيْءٌ، فَلَا تَقُلْ لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَانَ ك
- اسلامى عقيده كا مختصر تعارف (شرح اصولِ ایمان)نبذة في العقيدة الإسلامية’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک مضبوط مومن، کمزور مومن سے زیادہ بہتر اور پیارہ ہے۔ اور ہر مومن میں بہتری اور بھلائی ہے، اس چیز کی حرص کرو جو تجھ کو نفع دے اور (اس کے لیے) اللہ تعالیٰ سے مدد مانگو، اور عاجز نہ بنو۔ اور اگر تم کو کوئی چیز حاصل ہو تو ی
مزید (16)
- الخطب المنبريةموسوعة الخطب المنبرية (القسم الأول)«المُؤْمِنُ القَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنَ المُؤْمِنِ الضَّعِيفِ، وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ، احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ، وَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ، وَلَا تَعْجِزَنَّ، وَإِنْ أَصَابَكَ شَيْءٌ فَلَا تَقُلْ: لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ لَكَانَ
- الذكر والدعاء والعلاج بالرقي من الكتاب والسنة"المؤمن القوي خير وأحب إلى الله من المؤمن الضعيف، وفي كلٍّ خير، احرص على ما ينفعك، واستعن بالله ولا تعجز، وإن أصابك شيء فلا تقل: لو أني فعلت كان كذا وكذا ولكن قل: قَدرَ الله. وما شاء فعل. فإن لو تفتح عمل الشيطان" .
- المناهج التعليمية - الصف السادسالمناهج الدراسية - الحديث - الصف السادس - الفصل الثاني«الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ، وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ. احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ، وَاسْتَعِنْ بِاللهِ وَلَا تَعْجِزْ، وَإِنْ أَصَابَكَ شَيْءٌ فَلَا تَقُلْ: لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَانَ كَذَا و
- المناهج التعليمية - الصف السادسالمناهج الدراسية - الحديث - الصف السادس - الفصل الثاني«احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ، وَاسْتَعِنْ بِاللهِ وَلَا تَعْجِزْ»؟
- المناهج التعليمية - الصف السادسالمناهج الدراسية - الحديث - الصف السادس - الفصل الثاني«فَإِنَّ «لَوْ» تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ».
- حصن المسلم من أذكار الكتاب والسنةحصن المسلم«قَدَرُ اللَّهُ وَمَا شَاءَ فَعَلَ»[186].
- حصن المسلم من أذكار الكتاب والسنةحصن المسلمقَدَرُ اللَّهُ وَمَا شَاءَ فَعَل
- رياض الصالحينرياض الصالحين مع فوائد وهدايات - 1 «المُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إلىٰ الله مِنَ المُؤْمِنِ الضَّعِيفِ، وَفي كُلٍّ خَيْرٌ. احْرِصْ عَلىٰ مَا يَنْفَعُكَ، وَاستَعِنْ بِالله وَلاَ تَعْجِزْ. وَإنْ أَصَابَكَ شَيْءٌ فَلاَ تَقُلْ: لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَانَ كَذَا وَكَذَا،
- فتاوى المرضىفتاوى المرضى «احرص على ما ينفعك، واستعن بالله ولا تعجز»
- فتاوى المرضىفتاوى المرضى «احرص على ما ينفعك، واستعن بالله ولا تعجز، وإن أصابك شيء، فلا تقل: لو أني فعلت كذا؛ لكان كذا وكذا، ولكن قل: قدر الله وما شاء فعل، فإن لو تفتح عمل الشيطان»
- ما لا يسع أطفال المسلمين جهله«المُؤْمِنُ القَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنَ المُؤْمِنِ الضَّعِيفِ، وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ»[206].
- مادة العقيدة الإسلامية(الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ، خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ، وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ، احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ، وَاسْتَعِنْ بِاللهِ وَلَا تَعْجَزْ، وَإِنْ أَصَابَكَ شَيْءٌ، فَلَا تَقُلْ لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَانَ كَذَا
- متن اصول الإيمانمتن أصول الإيمان{المؤمن القوي خير وأحب إلى اللَّه من المؤمن الضعيف، وفي كل خير، احرص على ما ينفعك، واستعن باللَّه ولا تعجزن، فإنْ أصابك شيء فلا تقل: لو أني فعلت كذا كان كذا وكذا! ولكن قل: قدر اللَّه وما شاء فعل؛ فإن (لو) تفتح عمل الشيطان}.
- مجموعة زاد الحديث (1)الحديث 1«الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى الله مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ، وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ، احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ، وَاسْتَعِنْ بِالله وَلَا تَعْجَزْ، وَإِنْ أَصَابَكَ شَيْءٌ، فَلَا تَقُلْ: لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَانَ كَذَا وَ
- مطوية الرقيةالرقية الشرعية - 1(( احرص على ما ينفعك، واستعن بالله ولا تعجز، وإن أصابك شيء فلا تقل لو أنِّي فعلت كان كذا وكذا، ولكن قل قدَّر الله وما شاء فعل، فإنَّ لو تفتح عمل الشيطان))"
- منهج إعداد الدعاةالمفردة الخامسة - أركان الإيمان"احرص على ما ينفعك، واستعن بالله ولا تعجز"