”بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت ميں ہوتا ہے، لہٰذا تم (سجدے میں) خوب دعا کیا کرو“۔
ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
”بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت ميں ہوتا ہے، لہٰذا تم (سجدے میں) خوب دعا کیا کرو“۔
«أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ وَهُوَ سَاجِدٌ، فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ».
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ نزدیک اس وقت ہوتا ہے، جب وہ سجدے میں ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سجدے کی حالت میں بندہ اپنے جسم کے سب سے اعلی و اشرف عضو کو زمین پر رکھ کر اللہ کے سامنے خشوع وخضوع اور عاجزی وانکساری کا اظہار کرتا ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے سجدے کی حالت میں زیادہ سے زیادہ دعا کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس طرح یہاں قول و فعل دونوں کے ذریعے اللہ کے آگے اپنی بے مائگی کا اظہار ہوتا ہے۔
نیک کام اللہ سے بندے کی قربت کو بڑھاتا ہے۔
سجدے کی حالت میں زیادہ سے زیادہ دعا کرنا مستحب ہے۔ کیوں کہ سجدہ دعا قبول ہونے کی جگہوں میں سے ایک جگہ ہے۔
مزید (7)
صحیح مسلم (1/ 350) (482).
شرح رياض الصالحين.
لابن عثيمين (5/ 509).
تطريز رياض الصالحين.
لفيصل المبارك (ص780).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين.
لسليم الهلالي (2/ 506).
کتابوں میں مذکور
8 کتابیںمزید (7)
- الذكر والدعاء والعلاج بالرقي من الكتاب والسنة"أقرب ما يكون العبد من ربه وهو ساجد؛ فأكثروا الدعاء" .
- الله -جل جلاله- أنيس المحبين وملاذ القاصدين«أَقْرَبُ مَا يَكُوْنُ العَبْدُ مِنْ رَبِّهِ وَهُوَ سَاجِدٌ؛ فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ»
- الله -جل جلاله- أنيس المحبين وملاذ القاصدين«أَقْرَبُ مَا يَكُوْنُ العَبْدُ مِنْ رَبِّهِ وَهُوَ سَاجِدٌ؛ فَأَكْثِرُوا الدُّعَاء»
- رسالة في الأذكار1«أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ وَهُوَ سَاجِدٌ، فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ».
- رياض الصالحينرياض الصالحين مع فوائد وهدايات - 7«أقرَبُ مَا يَكُونُ العَبْدُ من ربِّه وهُوَ ساجدٌ، فأكثرُوا الدُّعاءَ».
- رياض الصالحينرياض الصالحين مع فوائد وهدايات - 7«أقرَبُ ما يكُونُ العَبْدُ من ربِّه وهُوَ ساجدٌ، فأكثرُوا الدُّعاءَ».
- مجموعة زاد التربية الإسلامية (3)، والسيرة النبوية (3)التربية الإٍسلامية -3- «أقربُ ما يكونُ العبدُ من ربِّه وهو ساجدٌ، فأكثروا الدعاءَ»