موسوعة الإيمان

موسوعة الإيمان

كتاب "الإيمان الذي فرضه الله على عباده مما ورد في القرآن الكريم والسنة النبوية" من تأليف أ.د. محمد بن عبد الله السحيم ود. سامي بن محمد الخليل، هو كتاب شامل لجميع أصول ومهمات الاعتقاد ومسائله. يتميز الكتاب بربط المسائل العقدية بالكتاب الكريم والسنة النبوية المطهرة، ويحرص على تأسيس العقيدة بطريقة مختصرة وشاملة باستخدام عبارات ميسرة. يتناول الكتاب مسائل الاعتقاد بعيداً عن المباحث الكلامية والفلسفية، ويهدف إلى تقديم موضوعات الاعتقاد بأسلوب يسهل على جميع المستويات العلمية فهمها واستيعابها.

Language: lang_ur
Prepared by:
Version: 3.0
Translations 8
Bengali English Spanish Persian +4
Attachments 7
PDF
Audio
Video
+3

ایمانی انسائکلوپیڈیا جسے اللہ نے اپنے بندوں پر فرض قرار دیا ہے جیسا کہ قرآن کریم اور سنت نبویہ میں وارد ہوا ہے۔

(عقیدہ کے تمام بنیادی اور اہم معلومات اور مسائل کا ایک جامع انسائیکلوپیڈیا جس کی امتیازی خوبی یہ ہے کہ اس میں اعتقادی مسائل کو قرآن کریم اور سنت نبویہ سے جوڑ کر واضح کیا گیا ہے، ساتھ ہی عقیدہ کو اختصار اور شمولیت کے انداز میں راسخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اعتقادی مسائل کی وضاحت کے دوران آسان اور سہل عبارتیں اختیار کی گئی ہیں، نیز انسائیکلوپیڈیا کو علم کلام اور فلسفیانہ مباحث سے پاک رکھا گیا ہے، اور اس کا مقصد عقائد کے موضوعات کو اس طرح پیش کرنا ہے کہ تمام علمی طبقوں کے لیے ان کا سمجھنا آسان ہو سکے)۔

انسائکلوپیڈیا کا تعارف

شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم واﻻ ہے۔

تمام تعریفیں اسی اللہ کے لئے سزاوار ہیں جس نے اپنے بندے پر یہ قرآن اتارا اور اس میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، وہ تنہا اور اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لئے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے حمد و ثنا ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بند ے اور اس کے رسول اور اس کی وحی کے امین ہیں، درود و سلام ہو آپ ﷺ پر۔

اما بعد ! دنیا کا سب سے با عزت اور عظیم علم ’’عقیدہ کا علم‘‘ ہے؛ کیوں کہ یہ علم سب سے زیادہ معزز ہستی کے بارے میں گفتگو کرتا ہے اور وہ ہے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ذات۔ اورسب سے عظیم مقصد کے بارے میں گفتگو کرتا ہے اور وہ ہے اللہ کوایک جاننا اور اس پر ایمان لانا ہے۔ اور سب سے عظیم نتیجہ کے بارے میں گفتگو کرتا ہے اور وہ ہے جنت میں اللہ کے دیدار سے محظوظ ہونا- نیز نبی ﷺ کی متابعت اور صراط مستقیم پر چلنے کے بارے میں گفتگو کرتا ہے۔ اس لیے ہم نے ایک ایسی کتاب تصنیف کرنے کا ارادہ کیا جو عقیدہ کے تمام مسائل کو شامل ہو، جس میں ہم اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے نبی ﷺ کی سنت سے رہنمائی حاصل کریں، متکلمین کی وضع کردہ اصطلاحات وتعریفات‘ اور ارکان وشروط سے دور رہیں اور اس کتاب کو ہم تمام لوگوں کے لیے قابل استفادہ بنائیں؛ بایں طور کہ اس سے علماء، اور یونیورسٹیز وغیرہ کے طلبہ اور عام مسلمان فائدہ اٹھا سکیں۔

سبب تالیف:

در حقیقت ہمارے سلف صالحین نے صحیح عقیدہ کی وضاحت کرنے اور اس کےمخالف امور اور مخالفین کی تردید کرنےمیں بڑی محنت کی ہے اور اس کتاب کا مقصد بھی یہی ہے کہ طلبہ اور تمام مسلمان سلف صالحین کی تصانیف سے قریب ہو جا ئیں، اس لیے ہم نے عقیدہ کے تمام مسائل کا تذکرہ ایک ہی کتاب میں کردیا اورجس طرح ہم نے اسے آسان اور سہل بنانے کےلیے آسان عبارتوں کا استعمال کیا اورعناوین کی صحیح ترتیب کاخیال کیا ہے اسی طرح شکوک و شبہات اور ردود میں پڑے بغیر ہم نےصحیح عقیدہ کے بیان پر اکتفا کیاہے۔ اور ہمیں امید ہے کہ ایسا کرنے سے ہمارے دو مقصد پورے ہوگئے: (۱) علوم سلف کو قریب کرنے میں ساجھیداری (۲) عقیدے سے متعلق لا ئبریری میں شدید ضرورت کی تکمیل یعنی عقیدہ کے تمام معاملات پر ایسی کتاب کو تیار کرلینا جو آسان عبارت میں ہے اور جملہ عقیدہ کے تمام مباحث پر مشتمل ہے۔

ہمارا تالیفی منہج:

1- عقیدہ کے ہر موضوع سے متعلق آیات اور احادیث کا جائزہ لے کر ان سے نتیجہ اخذ کرنا۔

۲۔ کتب عقائد کے تمام موضوعات کا جا ئزہ لینا، چاہے وہ سند والی کتاب ہو یا صرف متن پر مشتمل ہو یا متن کی شرح ہو؛ یہ یقینی بنا نے کے لئے کہ آیات و احادیث سے ہمارے عقید ے کا ماخذ اور استدلال ان تمام چیزوں کو شامل ہے جیسا کہ کتب عقائد کے مصنفین نے تدوین کیا ہے۔

۳۔ اگر عقید ے کا کوئی مسئلہ کتاب و سنت میں کسی ایک ہی وجہ پر وارد ہواہے تو ہم نے ایک یا دو دلیلوں ہی پر اکتفا کیا ہے جن میں عقید ے کے اس مسئلہ کا ذکر ہوتا ہے۔ لیکن اگر کوئی مسئلہ کتاب و سنت میں متعدد وجوہ سے وارد ہوا ہے، جیسے صفت کلام، صفت علو، صفت ید، مومنوں کا اپنے رب کو بروزِ قیامت اور جنت میں دیکھنا تو ہم نے ایسے مسئلے کے ہر ایک وجہ کے مطابق دلیل ذکر کرنے کا التزام کیا ہے لیکن باب میں وارد شدہ تمام دلیلوں کے بیان کرنے کى پابندى نہیں کى ہے۔

۴۔ کبھی کبھی مجبوری میں ایک مسئلہ کے بعض پہلوؤں کو ایک باب میں بیان کردیا گیا ہے لیکن دوسرے باب میں اسے دوبارہ بیان کرنے کے ساتھ ساتھ مکمل بھى کیا گیا ہے۔ جیسے باب الخلق میں تخلیق ملائکہ کے حوالے سے گفتگو کی گئی ہے لیکن ان پر گفتگو کو مکمل کتاب الإیمان بالملائکۃ میں کیا گیا ہے، اسی طرح اللہ کے وجود پر ایمان کے باب میں اللہ کے وجود پر دلالت کرنے والے کچھ آیتیں بیان کى گئى ہیں, لیکن اس باب اور ربوبیت کے باب کے مابین قربت کی بنا پر وہی آیتیں دولارہ ربوبیت کے باب میں بھی وارد ہوئی ہیں، در اصل اللہ کے وجود پر ایمان کے باب سے مقصود اللہ کے وجود پر دلالت کرنے والى ان دلائل کو بارز کرنا ہے جن کا انکار ملاحدہ کرتے ہیں۔ اور ربوبیت کے باب میں ان دلیلوں کو لانے کا مقصد ربوبیت کو ثابت کرنا ہے، جو کہ اس الوہیت کو مستلزم ہے، جس کے سلسلے میں مشرکین بحث و مباحثہ کرتے تھے، اسی طرح ہم نے ایک ہی آیت یا ایک ہی حدیث کا ذکرکئی مقام پر کیا ہےلیکن ہر مقام پر حاجت و ضرورت اور استدلال الگ الگ ہے۔

۵۔ حسب ضرورت ہم نے کہیں کہیں آیات و احادیث کی توضیح میں سلف صالحین کا قول بھی ذکر کیا ہے اور کسی شبہے اور مخالف قول میں جا ئے بغیر ہم نے صرف وہی قول ذکر کیا ہے جو حق بات واضح کرد ے؛ تاکہ سیکھنے والا شبہے میں نہ پڑے، یا اس علم صحیح کو اپنے دل و دماغ میں بٹھا ئے بغیر مخالفین کے اقوال سے متاثر ہو جا ئے، اور مجھے امید ہے کہ اس کتاب کا قاری اس مسئلہ میں گمراہی کا شکار نہیں ہوگا؛ کیوں کہ اس نے عقید ے کے تمام مشہور اختلافی مسائل کا احاطہ کر لیا ہے، جیسے اسماء و صفات اور قدر کے مسائل وغیرہ۔

ابن ابی زَمَنین مالکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: (آپ نے جو مسئلہ مجھ سے پوچھا ہے اور اس کے علاوہ جو بھی ایسے مسائل پوچھے جاتے ہیں جن کا تعلق بنیادی عقائد سے ہے اور جن میں گمراہ کن ہوا پستوں نے کتاب الہی‘ سنت رسول اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خلاف ورزی کی ہے‘ میں نے ان تمام مسائل کے بارے میں آپ کو اہل علم اور ہدایت کے علمبردار ائمہ کرام کے اقوال سے باخبر کر دیا‘ اگر کبار علما کو یہ بات نا گوار نہ ہوتی کہ ان کا کلام تحریر میں لایا جائے اور کتاب میں اسے ہمیشہ کے لیے ضبط کر دیا جائے‘ تو میں ان ہوا پرستوں کی ایسی ایسی گمراہیوں سے پردہ اٹھاتا کہ آپ ان سے مزید بیزار ہوجاتے‘ ہم ان کے فتنوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں‘ اللہ پاک ہمیں اور آپ کو گمراہ کن فتنوں سے محفوظ رکھے‘ ہمیں ایسے قول وعمل کی توفیق دے جس سے اللہ راضی ہو اور ہمیں خود سے قریب کر لے)- اصول السنۃ لابن ابی زمنین (۳۰۹-۳۱۰)

۶۔ ہم نے عمدا اہل کلام کی جدید اصطلاحات اور تعریفات سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے کیوں کہ ان پر من جانب اللہ کوئی دلیل نازل نہیں ہوئی ہے۔

ہم نے اس کتاب کو کتابوں اور ابواب کی شکل میں تقسیم کیا ہے، جیسا کہ پہلے کے مصنفین معزز شرعی علم کے باب میں کیا کرتے تھے، ہم نے مبحث اور مطلب جیسی عصری تقسیمات کا استعمال نہیں کیا ہے۔ ہم نے اسے اصولِ ایمان پر ترتیب دیا ہے۔ امام ابو العز حنفی رحمہ اللہ فر ماتے ہیں: ’’اصول دین پر مشتمل کتاب کی سب سے بہترین ترتیب وہی ترتیب ہے جو آپ ﷺ نے جبرائیل علیہ السلام کے سوال کے جواب میں کہا تھا، جب فرشتے نے آپ سے ایمان کے متعلق پوچھا، تو آپ نے فرمایا: ’’یہ کہ تم اللہ اور اس کے فرشتوں پر ایمان لاؤ...‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ سب سے پہلے توحید بارى اور صفات الہى اور ان کے متعلقات کا ذکر کیا جائے، پھر فرشتوں پر گفتگو کی جائے، پھر اسى حدیث کے مطابق بالترتیب عقیدہ کى دوسری باتوں کا تذکرہ کیا جائے۔ (العقیدۃ الطحاویۃ کی شرح: 2/ 689)

۸۔ ہم نے شروع ہی میں ہر کتاب کاخلاصہ ذکرکردیا ہے جس میں دلائل کے بغیر تمام مسائل کا احاطہ کردیا گیا ہے۔

۹۔ رہی بات تخریجِ احادیث کی تو ہم نے مختصرا احادیث کی تخریج بھی کردی ہے، معروف ترتیب کے حساب سے ہم نے سب سے پہلے کتب ستہ کا حوالہ دیا، پھر حسب وفات ترتیب دیا، اور کتاب کی ضخامت کو کم کرنے کى خاطر ہم نے چند محدود حالات کو چھوڑ کر احادیث پر کلام کئے بغیر صرف تخریج پر اکتفا کیا ہے۔

اس کتاب کی خصوصیات:

1۔ عقیدہ کے مسائل اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآنِ کریم اور اللہ کے رسول ﷺ کی سنتِ مطہرہ کے ساتھ مربوط کر دیے گئے ہیں، تاکہ طالب علم پر ان مسائل کا ماخذ واضح ہو جائے۔

2۔ یہ کتاب عقیدہ کے تمام ابواب سے متعلق اہم مسائل کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔

3۔ عقیدہ کے مسائل کے بیان اور وضاحت کے دوران آسان عبارت کے ساتھ مختصر اورجامع انداز میں عقیدہ کی بنیاد قائم کی گئی ہے؛ تاکہ یہ زیادہ قابل فہم اور قابل استیعاب ہو۔

4۔ یہ کتاب علم کلام اور فلسفہ کے مباحث اور ان کی عبارتوں کو راہ دینے سے پاک ہے، اوران الفاظ کے استعمال سے اجتناب کیا گیا ہے جو بدعات کے ظہور ہونے کے بعد عقیدہ کی بعض کتابوں میں وارد ہوئے ہیں۔

ہم یہ نہیں کہتے ہیں کہ ہم نےاس کتاب میں عقید ے کے تمام مسائل کا استیعاب کر لیا ہے لیکن حتی الامکان ہم نےاس کی پوری کوشش کی ہے، ہم اس کتاب میں پائی جانے والی کمیوں، کوتاہیوں، غلطیوں یا استدراک سے آگاہی کے منتظر ہیں تاکہ اگلے ایڈیشن میں اسے صحیح کر سکیں، اپنے حساب سے ہم نے اسے منبع وحی پر وارد کیا ہے اور اس میں ہم نے اچھے اچھے مسائل اور عناوین کا استنباط کیا ہے، ہم نے اسے اس فن سے دلچسپی رکھنے والے طلبہ کے سامنے پیش کیا ہے اورہر مسئلے کی تائید میں کوئی آیت یا کوئی حدیث یا دونوں ایک ساتھ پیش کی ہے۔ اورہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ اسے خالص اپنی رضا مندی کا ذریعہ اور اپنے نبی، اپنے خلیل اور وحی کے امین کی سنت کے موافق بنا ئے، اپنے بندوں کے لئے نفع بخش اور اپنے رب سے ملاقات کے دن اسے ہمارے لئے حجت اور گواہ بنا ئے ۔ آمین !

اس موقع پر ہم اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے شکر گزار ہیں کہ جس نے ہمارے لئے یہ علم آسان کیا اور ہمیں خدمتِ دین، ایمان باللہ کے ارکان کی وضاحت اور کتاب و سنت کے دلائل کے بیان کا موقع عطا کیا۔

ہم ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ہمارے ساتھ حسن سلوک کیا اور لوگوں میں حسن سلوک کے سب سے زیادہ حق دار ہمارے والدین ہیں اللھم اغفر لھم وارحمھم واجزھم عنا خیر ما جزیت والدا عن ولد۔ہ۔

ہم ان معزز حضرات کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے کتاب کا جائزہ لیا اور اپنی مبارک آراء اور مفید تبصروں سے نوازا‘ اور وہ ہیں: شہزادہ ڈاکٹر سعود بن سلمان بن محمد آل سعود‘ ایسوسیٹ پروفیسر برائے عقیدہ‘ شاہ سعود یونیورسٹی۔ ڈاکٹر سہل بن رفاع العتیبی‘ ایسوسیٹ پروفیسر برائے عقیدہ‘ شاہ سعود یونیورسٹی۔ پروفیسر ڈاکٹر عبد اللہ بن صالح البراک (جامعۃ الملک سعود میں عقیدہ کے پروفیسر)۔ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد العزیز العنقری (جامعۃ الملک سعود میں عقیدہ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر)۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ ہماری طرف سے اور علم اور اہل علم کی طرف سے انھیں ان کے مخلصانہ خیر خواہی اور صحیح رائے کا بہترین بدلہ عطا فرمائے۔

تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں جو سارے جہان کا رب ہے، اور درود و سلام ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ کے تمام اہل و عیال اور تمام صحابہ کرام پر۔

مکہ مکرمہ

۸، ذو الحجۃ

1439ھ

مقدمہ

شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم واﻻ ہے۔

اور ہم اسی سے مدد طلب کرتے ہیں، اور برائى سے پھرنے اور نیکى کرنے کى توفیق صرف اللہ کى مدد ہی سے ممکن ہے جو بلند و بالا اور عظیم ہے۔

تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جیسا کہ اس کے چہرے کے جلال اور اس کی سلطنت وحکمرانی کى عظمت کو لائق وزیبا ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، وہ تنہا اور اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لئے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے ہر قسم کی حمد و ثنا ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اور ڈھیروں درود و سلام نازل ہوں آپ ﷺ پر، أما بعد !

اس کتاب میں ہم کتاب و سنت میں وارد ان چیزوں کا ذکر کریں گے جن پر ہر ایک مسلمان کے لیے ایمان لانا ضروری ہے۔ اور بعض اوقات ہم صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین کے بعض اقوال کا ذکر کریں گے یا تو کسی آیت یا حدیث کی وضاحت کے لیے یا کسى آیت یا کسى حدیث کے معنى کى تحدید کے لئے۔ ہم نے اسے کتابوں اور ابواب کی شکل میں تقسیم کیا ہے، اور حتی الامکان اس میں اختصار سے کام لینے اور ضروری مسائل پر اکتفا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسی طرح ہم نے ان تمام اصطلاحات سے اجتناب کیا ہے جنہیں متاخرین نے ذکر کیا ہے، اور جو کتاب و سنت میں وارد نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی پیروی کرنے، اپنی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے اور اپنے رسول ﷺ کی سیرت پر چلنے کی تاکید کرتے ہوئے فرماتا ہے: {وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ} ’’اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور جدا جدا نہ ہوجاؤ اور اپنے اوپر اللہ کی نعمت یاد کرو، جب تم دشمن تھے تو اس نے تمھار ے دلوں کے درمیان الفت ڈال دی تو تم اس کی نعمت سے بھائی بھائی بن گئے اور تم آگ کے ایک گڑھے کے کنار ے پر تھے تو اس نے تمھیں اس سے بچا لیا۔ اس طرح اللہ تمھار ے لیے اپنی آیات کھول کر بیان کرتا ہے، تاکہ تم ہدایت پاؤ۔‘‘ [آل عمران: 103] اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {وَاتَّبِعُوا أَحْسَنَ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ} ’’اور اس سب سے اچھی بات کی پیروی کرو جو تمھار ے رب کی جانب سے تمھاری طرف نازل کی گئی ہے، اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تم سوچتے بھی نہ ہو۔" [الزمر: ۵۵]

چنانچہ ہم کہتے ہیں -اور توفیق اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے-:

کتاب: مخلوق کی پیدائش کے بیان میں

اس کتاب کا خلاصہ

٭ ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ تھا اور اس کے سوا کوئی چیز نہیں تھی، اور نہ اس سے پہلے کوئی چیز تھی، اور اس کا عرش پانی پر تھا، اور اس نے آسمان اور زمین کو پیدا کرنے سے پہلے پانی کو پیدا کیا، پھر اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور وہ دونوں آپس میں ملے ہوئے تھے تو اس نے ان دونوں کو الگ کر دیا۔

٭ ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مخلوق کو اپنی ربوبیت کا گواہ بنایا ہے اور اس کى یہ ربوبیت اس کی الوہیت کو مستلزم ہے، کیوں کہ وہی حقیقی خالق ہے، اور اس کے علاوہ ہر چیز اس کی مخلوق ہے، اور وہی حقیقی معبود ہے اور اس کے علاوہ سب مربوب (پروردہ) ہیں، کوئی اس لائق نہیں کہ اس کی عبادت کی جائے، یا اس سے امید کی جائے یا اس کا قصد کیا جائے۔

٭ ہمارا ایمان ہے کہ عرش کریم اللہ تعالیٰ کی ایک بڑی مخلوق ہے، بلکہ اس کی سب سے بڑی مخلوق ہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ فرشتے رحمٰن کے عرش کو گھیر ے ہوئے ہیں، اور اللہ بابرکت اور برگزیدہ اپنے عرش کے اوپر، اپنے آسمانوں کے اوپر ہے، اپنی مخلوق سے ممتاز اور الگ ہے۔

٭ ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کی تقدیرلکھنے والا قلم بھی پیدا کیا ہے اور تقدیر لکھنے والے قلم متعدد ہیں۔

٭ ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کرسی کو پیدا کیا ہے، اور وہ عرش کے بعد سب سے بڑی مخلوق ہے۔

٭ ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان اورزمین اوران کے درمیان کی تمام چیزوں کو چھ دنوں میں پیدا کیا، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو بغیر ستونوں کے بلند کیا، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان عظیم مخلوقات کو عظیم حکمت کے لیے پیدا کیا جس کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بہت مضبوط و پائدار بنایا ہے۔

٭ ہمارا ایمان ہے کہ روزِ قیامت یہ کائنات اپنے آسمانوں، زمین، پہاڑوں اور اس میں موجود ہر چیز سمیت ایک دگر گوں حالت میں ہو جائے گی۔

٭ ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے اور ان دونوں کو اپنے حکم کے تابع کردیا ہے اور اس نے ستاروں اور سیاروں کو عظیم حکمتوں کے لیے پیدا کیاہے، اور یہ کہ ستارے اور سیار ے نہ فائدہ پہنچاتے ہیں اور نہ نقصان پہنچاتے ہیں اور نہ ہی آسمانی اور زمینی واقعات پراثر انداز ہوتے ہیں، اگر کوئی یہ مانتا ہے کہ وہ بذات خود واقعات پر اثر انداز ہوتے ہیں، تو اس نے کفر یا شرک کا ارتکاب کیا۔

٭ ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو نور سے پیدا کیا اور انہیں تخلیق میں باهم متفاوت بنایا ہے۔

٭ ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جِنٓات کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا اور جِنٓات کی تخلیق آدم کی تخلیق سے پہلے ہوئی، اور شیاطین کا سرغنہ ابلیس ہے، اور وہی ہے جس نے آدم و حوا علیہما السلام کو بہکایا یہاں تک کہ اس نے انہیں جنت سے نکال دیا۔

٭ ہمارا ایمان ہے کہ ابلیس نے آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے تکبر کیا، تو اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہوا اور اسے ملعون قرار د ے کر اللہ تعالیٰ نے دھتکار دیا۔ اور جِن بھی شریعت کے مخاطب اور مکلف ہیں۔

٭ ہمارا یہ ایمان ہے کہ اللہ تعالی نے پہلے فرشتوں کو خبر دیا کہ عبادت کے لئے وہ زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہے اور اس بات کی بھی وضاحت کردی کہ وہ آدم ہوں گے، انہیں وہ مٹی سے پیدا کر ے گا اور اس مٹی کو اللہ تعالی نے پہلے گارا کی شکل دیا پھر اسے کئی حالات سے گزارا۔

٭ ہمارا ایمان ہے کہ آدم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے با برکت اور شریف ہاتھوں سے پیدا کیا، فرشتوں سے ان کا سجدہ کروایا اور ان کے لئے انہیں کے نفس سے ان کے سکون و اطمینان کے لئے ان کی بیوی حوا کو پیدا کیا اور دونوں کو جنت میں داخل کیا پھر دونوں کو زمین پر اتاردیا۔

٭ ہمارا ایمان ہےکہ تمام انسان آدم کی اولاد ہیں، اور آدم مٹی سے پیدا کئے گئے ہیں اس لئے کسی کو کسی پر فوقیت حاصل نہیں ہے مگر تقوى کى بیناد پر۔

٭ ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو فطرت پر پیدا کیا ہے۔

٭ ہمارا ایمان ہے کہ روح اللہ کے حکم سے ہے، روح کی بابت انسان صرف وہی جانتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نےانہیں بتایا ہے، روحیں بھی اللہ کی مخلوق ہیں۔

٭ ہمارا ایمان ہے کہ روحیں بھی موت سے دو چار ہوں گی اورجسم سے جدا ہونا ہی دراصل اس کا مرنا ہے۔

٭ ہمارا ایمان ہے کہ زمین پر رینگنے والے کیڑے مکوڑے بھی ہماری طرح ایک امت ہیں۔

٭ ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چوپا ئے کو پانی سے پیدا کیا ہے اور ہر چیز کا جوڑا بنایا ہے اور تمام مخلوقات ہلاک ہونے والی ہیں، سوائے اس کے جسے اللہ تعالیٰ نے مستثنی کردیا۔

باب: اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا خالق ہے

ہم گواہی دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی ہرچیز کا خالق ہے، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ ۚ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۚ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ فَاعْبُدُوْهُ} "یہ اللہ تعالیٰ تمہارا رب ہے۔ اس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے پس تم اس کی عبادت کرو۔" [الأنعام : ۱۰۲] اللہ تعالیٰ نے ایک اور جگہ فرمایا: {اَللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ ۡ وَّهُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ وَّكِيْلٌ } "اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی ہر چیز پر نگہبان ہے۔" [الزمر: ۶۲] اوراللہ تعالیٰ نے فر مایا: {وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ} "وہی ہے جو اول بار مخلوق کو پیدا کرتا ہے پھر سے دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ تو اس پر بہت ہی آسان ہے"۔ [الروم: ۲۷]

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ پہلے سے تھا اور اس کے سوا اس سے پہلے کوئی چیز نہیں تھی، جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا: {هُوَ الْأَوَّلُ وَ الْآخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ} "وہی پہلے ہے اور وہی پیچھے ہے، وہی ﻇاہر ہے اور وہی مخفی ہے، اور وہ ہر چیز کو بخوبی جاننے والا ہے۔" [الحدید: ۳]

اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’اللهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ‘‘ "اے اللہ ! تو ہی سب سے پہلا ہے پس تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں، تو ہی سب سے آخر ہے پس تیرے بعد کوئی چیز نہیں، توہی ظاہر (بلند) ہے پس تیرے اوپر کوئی چیز نہیں، اور توہی باطن (قریب) ہے پس تجھ سے زیادہ قریب کوئی چیزنہیں"۔ (صحیح مسلم: ۲۷۱۳، سنن أبی داؤد: ۵۰۵۱، جامع الترمذی: ۳۴۰۰، سنن ابن ماجہ: ۳۸۳۱)

اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس تھا کہ آپ ﷺ کے پاس بنی تمیم کے کچھ لوگ آئے تو آپ نے فرمایا: "اے بنی تمیم ! خوش خبری قبول کرو"، انہوں نے کہا کہ آپ نے ہمیں بشارت دی ہے تو ہمیں کچھ عطا کیجئے، اس کے بعد یمن کے کچھ لوگ آئے تو آپ نے کہا: "اے اہل یمن! خوش خبری قبول کرو کیوں کہ اسے بنو تمیم نے قبول نہیں کیا"‘ تو ان سب نے کہا کہ ہم نے قبول کیا، ہم آپ کے پاس دینی فہم حاصل کرنے اور اس دنیا کی ابتداء کے متعلق پوچھنے کے لئے آئے ہیں کہ یہ کیسے ہوئی؟ آپ نے فرمایا: "اللہ تھا اور اس کے پہلے کوئی چیز نہیں تھی اور اس کا عرش پانی پر تھا‘ پھر اس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا اور ہر چیز کو اس نے ذکر(لوح محفوظ) میں لکھ دیا ہے"۔ (صحیح بخاری : ۷۴۱۸، جامع الترمذی: ۳۹۵۱) دوسری روایت میں بایں الفاظ آیا ہے: «كَانَ اللَّهُ وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ غَيْرُهُ، وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى المَاءِ». "اللہ تعالیٰ تھا اس کے پہلےاس کے علاوہ کوئی چیز نہیں تھی اور اس کا عرش پانی پر تھا"۔ (صحیح بخاری: ۳۱۹۱)

ہمارا ایمان ہے کہ زمین پرچلنے پھر نے والے جاندار بھی ہماری طرح امت ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ} "اور جتنے قسم کے جاندار زمین پر چلنے والے ہیں اور جتنے قسم کے پرند ہیں جو کہ اپنے دونوں بازؤں سے اڑتے ہیں ان میں کوئی قسم ایسی نہیں جو کہ تمہاری طرح کے گروہ نہ ہوں ہم نے دفتر میں کوئی چیز نہیں چھوڑی پھر سب اپنے رب کے پاس جمع کئے جائیں گے"۔ [الأنعام : ۳۸] اور ہمیں یہ بات بھی معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہرجاندار کو پانی سے پیدا کیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَاللَّهُ خَلَقَ كُلَّ دَابَّةٍ مِنْ مَاءٍ فَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي عَلَى بَطْنِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي عَلَى رِجْلَيْنِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي عَلَى أَرْبَعٍ يَخْلُقُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ } "تمام کے تمام چلنے پھرنے والے جانداروں کو اللہ تعالیٰ ہی نے پانی سے پیدا کیا ہے۔ ان میں سے بعض تو اپنے پیٹ کے بل چلتے ہیں، بعض دو پاؤں پر چلتے ہیں۔ بعض چار پاؤں پر چلتے ہیں، اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ بےشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے"۔ [النور: 45] اور اس نے ہر چیز کا جوڑا بنایا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} "ہم نے ہر چیز کا جوڑا پیدا کیا تاکہ تم لوگ نصیحت حاصل کرو"۔ [الذاریات: ۴۹] اور اللہ عز وجل نے فر مایا: {وَأَنَّهُ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثَى} "اور یہ کہ اسی نے جوڑا یعنی نر مادہ پیدا کیا ہے"۔ [النجم: 45]

اور ہمارا ایمان ہے کہ یہ مخلوقات - اپنے تنوع اور کثرت کے باوجود - متوازن اور ایک تناسب میں ہیں، ان میں سے کوئی ایک دوسرے پر غالب آنے کی کوشش نہیں کرتا اور نہ کوئی قسم دوسری قسم پر ظلم کرتی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: { وَالْأَرْضَ مَدَدْنَاهَا وَأَلْقَيْنَا فِيهَا رَوَاسِيَ وَأَنْبَتْنَا فِيهَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَوْزُونٍ} "اور زمین کو ہم نے پھیلادیا ہے اور اس میں پہاڑ ڈال دیئے ہیں، اور اس میں ہم نے ہر نفع بخش اور سہارا بننے والى چیز اگا دی ہے"۔ [الحجر: ۱۹]

اورہرمخلوق فنا ہونے والی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ*۔ "زمین پر جو ہیں سب فنا ہونے والے ہیں"۔ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ } "صرف تیرے رب کا روئے (مبارک) جو عظمت اور عزت والا ہے باقی رہ جائے گا۔ [الرحمن: ۲۶- ۲۷] مگر یہ کہ جسے اللہ تعالیٰ بے ہوشی سے مستثنی کرد ے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ } "اور صور پھونک دیا جائے گا پس آسمانوں اور زمین والے سب بے ہوش ہو کر گرپڑیں گے مگر جسے اللہ چاہے پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا پس وہ ایک دم کھڑے ہو کر دیکھنے لگ جائیں گے"۔ [الزمر: ۶۸ ]

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسی مخلوق کو اپنی اس ربوبیت پر گواہ بنایا ہے جو الوہیت کو مستلزم ہے،اور اس کے ثبوت میں بطور دلیل اللہ گاہے بگاہے اپنی خلقت ہی کا تذکرہ کرکے اسے اپنی الوہیت کی دلیل بناتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {هَذَا خَلْقُ اللَّهِ فَأَرُونِي مَاذَا خَلَقَ الَّذِينَ مِنْ دُونِهِ بَلِ الظَّالِمُونَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ} "یہ ہے اللہ کی مخلوق اب تم مجھے اس کے سوا دوسرے کسی کی کوئی مخلوق تو دکھاؤ (کچھ نہیں) بلکہ یہ ظالم کھلی گمراہی میں ہیں"۔ [لقمان: ۱۱] اور کبھی کبھاراپنی سب سے بڑی مخلوق یعنی عرش کا تذکرہ کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ} "اس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں وہی عظمت والے عرش کا مالک ہے"۔ [النمل: ۲۶] نیز آپﷺ نے ارشاد فرمایا: «سُبْحَانَ اللهِ عَدَدَ خَلْقِهِ، سُبْحَانَ اللهِ رِضَا نَفْسِهِ، سُبْحَانَ اللهِ زِنَةَ عَرْشِهِ، سُبْحَانَ اللهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ»۔ "میں اللہ تعالیٰ کی پاکی بیا ن کرتا ہوں اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر، میں اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں اس کی رضامندی کے برابر، میں اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں اس کے عرش کے وزن کے برابر، میں اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں اس کے کلمات کی روشنائی کے برابر"۔ (صحیح مسلم: ۲۷۲۶، سنن النسائی: ۱۳۵۱/۱، جامع الترمذی: ۳۵۵۵، سنن ابن ماجۃ: ۳۸۰۸) تو عرش مخلوق میں وزن کے اعتبار سے سب سے بھاری ہے۔ اور کبھی کبھی بطور دلیل تمام بڑی بڑی مخلوقات کا تذکرہ کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ فَسَوَّاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ} "وہ اللہ جس نے تمہار ے لئے زمین کی تمام چیزوں کو پیدا کیا، پھر آسمان کی طرف قصد کیا اور ان کو ٹھیک ٹھاک سات آسمان بنایا اور وہ ہر چیز کو جانتا ہے"۔ [البقرۃ: ۲۹] اور کبھی کبھی بطور دلیل کسی ایک ہی مخلوق کا تذکرہ کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجْنَا بِهِ ثَمَرَاتٍ مُخْتَلِفًا أَلْوَانُهَا وَمِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌ بِيضٌ وَحُمْرٌ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُهَا وَغَرَابِيبُ سُودٌ } "کیا آپ نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی اتارا پھر ہم نے اس کے ذریعہ سے مختلف رنگتوں کے پھل نکالے اور پہاڑوں کے مختلف حصے ہیں سفید اور سرخ کہ ان کی بھی رنگتیں مختلف ہیں اور بہت گہرے سیاہ۔ [فاطر: ۲۷]

اور کبھی کبھی بطور دلیل سب سے کمزور اور حقیر مخلوق کا تذکرہ کرتا ہے، جیسا کہ اللہ عزوجل نے فرمایا: { إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي أَنْ يَضْرِبَ مَثَلًا مَا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّهِمْ وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَيَقُولُونَ مَاذَا أَرَادَ اللَّهُ بِهَذَا مَثَلًا} "یقیناً اللہ تعالیٰ کسی مثال کے بیان کرنے سے نہیں شرماتا، خواہ مچھر کی ہو، یا اس سے بھی ہلکی چیز کی، ایمان والے تو اسے اپنے رب کی جانب سے صحیح سمجھتے ہیں اور کفار کہتے ہیں کہ اس مثال سے اللہ نے کیا مراد لی ہے؟" [البقرۃ: ۲۶] تو وہی حقیقی خالق ہے، اس کے علاوہ سب مخلوق ہیں، ہمارا رب بلند و بالا اور برکت والاہے، وہی حقیقی معبود ہے، اس کے علاوہ سب مربوب ہیں، کوئی عبادت کا حق دار ہے نہ قابل امید اور قابل قصد۔

باب: عرش عظیم کی تخلیق کا بیان

ہمارا ایمان ہے کہ عرش بھی اللہ تعالیٰ کی عظیم مخلوق ہے، اور جب ذاتِ عظیم نے اس کی صفت عظیم بتلائی ہے تو وہ حقیقت میں عظیم ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ} "اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وہی عظمت والے عرش کا مالک ہے"۔ [النمل: ۲۶] اور عرش کی ایک صفت مجید (شان وبلندی والا ) ہے، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: { ذُو الْعَرْشِ الْمَجِيدُ } عظمت وشان والے عرش کا مالک ہے۔ [البروج: ۱۵] ابن جریر رحمہ اللہ اپنی تفسیر میں رقم طراز ہیں: ( اللہ کے فرمان: (المجید) کے بارے میں قراء کا اختلاف ہے‘ چنانچہ مدینہ‘ مکہ اور بصرہ کے عام قراء اور کوفہ کے بعض قراء نے اسے ضمہ کے ساتھ پڑھا‘ یعنی یہاں (المجید) اللہ کی صفت ہے, اور اس میں اس قول کى تردید ہے جس کے مطابق المجید (ذو العرش) کی صفت ہے۔ جب کہ کوفہ کے عام قراء نے اسے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے‘ اس طور پر کہ یہاں (المجید) عرش کی صفت ہے۔ اور ہماری نظر میں صحیح رائے یہ ہے کہ یہ دونوں معروف قرائتیں ہیں‘ جس انداز میں قاری پڑھے وہ درست ہوگا)۔ جامع البیان (۲۴/۳۴۶) لیکن اتنا عظیم ہونے کے باوجود وہ مربوب اور مخلوق ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {قُلْ مَنْ رَبُّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ } "کہہ دیجئے کہ ساتوں آسمان اور عرش عظیم کا رب کون ہے؟" [المؤمنون: ۸۶] اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: «وَخَلَقَ عَرْشَهُ عَلَى المَاءِ»۔ "اور اس نے اپنا عرش پانی پر پیدا کیا۔" (جامع الترمذی: ۳۱۰۹، سنن ابن ماجۃ: ۱۸۲، مسند الطیالسی: ۱۱۸۹ ، مسند أحمد: ۱۶۱۸۸، السنۃ لإبن أبی عاصم: ۶۲۵) اور عرش کے ستون ہیں؛ جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: «النَّاسُ يَصْعَقُونَ يَوْمَ القِيَامَةِ، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ، فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ العَرْشِ»۔ "لوگ بروزِ قیامت بے ہوش ہو جا ئیں گے تو میں ہی سب سے پہلے ہوش میں آؤنگا، اچانک میں دیکھوں گا کہ موسیٰ عرش کا ایک پایہ پکڑ ے ہوئے ہوں گے"۔ (صحیح بخاری: ۳۳۹۸، صحیح مسلم: ۲۳۷۴، سنن أبی داؤد: ۴۶۶۸)

اور عرش آسمانوں کے اوپر ہے، اور اللہ تعالیٰ عرش کے اوپر (مستوی) ہے، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: «إِنَّ عَرْشَهُ عَلَى سَمَاوَاتِهِ لَهَكَذَا وَقَالَ بِأَصَابِعِهِ مِثْلَ الْقُبَّةِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَيَئِطُّ بِهِ أَطِيطَ الرَّحْلِ بِالرَّاكِبِ»۔ اس کا عرش اس کے آسمانوں پر اس طرح ہے -اور اپنی انگلیوں سے اشارہ کیا کہ عرش آسمانوں کے اوپر مثل گنبد کے ہے- اور بلا شک وہ رب کى وجہ سے چرمراتاہے جیسے سوار کی وجہ سے کجاوہ چرمراتا ہے۔" (سنن أبی داؤد: ۴۷۲۶، الرد علی الجھمیۃ لعثمان بن أبی سعید الدارمی: ۲۴، السنۃ لابن أبی عاصم: ۵۸۷، کتاب التوحید لابن حزیمۃ: ۱۴۷) ایک دوسری روایت میں اس طرح آیا ہے: ’’إِنَّ اللَّهَ فَوْقَ عَرْشِهِ، وَعَرْشُهُ فَوْقَ سَمَاوَاتِهِ‘‘۔ "اللہ اپنے عرش کے اوپر ہے اور اس کا عرش اس کے آسمانوں کے اوپر ہے"۔ (سنن أبی داؤد: ۴۷۲۶، الرد علی الجھمیۃ لعثمان بن أبی سعید الدارمی: ۲۴، السنۃ لابن أبی عاصم: ۵۸۸، کتاب التوحید لابن حزیمۃ: ۱۴۷)

اور ہمارا ایمان ہے کہ عرش کے نیچے اتنا رباني خزانے ہیں جن کا صحیح اندازہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کر سکتا ہے۔ جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’وَأُعْطِيتُ هَذِهِ الْآيَاتِ مِنْ آخِرِ الْبَقَرَةِ مِنْ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ، لَمْ يُعْطَهَا نَبِيٌّ قَبْلِي‘‘۔ "مجھے عرش کے نیچے کےخزانوں سے البقرۃ کی یہ آخری آیتیں دی گئی ہیں، اور مجھ سے پہلے یہ کسی نبی کو نہیں دی گئیں"۔ (صحیح مسلم: ۵۲۲، مسند الطیالسی: ۴۱۸، مصنف لابن أبی شیبۃ: ۳۲۳۰۶، مسند أحمد: ۲۳۲۵۱، اور لفظ بھی اسی کے ہیں، و غیرہم)

اور ابوذر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے فرمایا: میرے خليل اللہ کے رسول ﷺ نے مجھے سات چیزوں کا حکم دیا، اور ان میں سے چند کا ذکر کیا: ’ ’وَأَمَرَنِي أَنْ أُكْثِرَ مِنْ قَوْلِ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، فَإِنَّهُنَّ مِنْ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ‘‘۔ اس نےمجھے ’’ لاحول ولا قوۃ الا باللہ ‘‘ زیادہ سے زیادہ کہنے کا حکم دیا کیوں کہ ان کا تعلق عرش کے نیچے کے خزانہ سے ہے۔ ( مسند البزار: ۳۹۶۶، المصنف لابن أبی شیبۃ :۳۵۴۹۱، الزھد لھناد ابن السری: ۱۰۱۳، مسند أحمد : ۲۱۴۱۵، اور لفظ بھی اسی کے ہیں، الزھد لأحمد بن حنبل:۴۰۱)

اور ہمارا ایمان ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ قیامت کے دن عرش کے نیچے سجدہ ریز ہوں گے یہاں تک کہ وہ شفاعت عظمیٰ کے لیے شفاعت کریں گے، جیسا کہ شفاعت کى طویل حدیث میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’ ’فَأَنْطَلِقُ فَآتِي تَحْتَ العَرْشِ، فَأَقَعُ سَاجِدًا لِرَبِّي عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيَّ مِنْ مَحَامِدِهِ وَحُسْنِ الثَّنَاءِ عَلَيْهِ شَيْئًا، لَمْ يَفْتَحْهُ عَلَى أَحَدٍ قَبْلِي، ثُمَّ يُقَالُ: يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ سَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَرْفَعُ رَأْسِي، فَأَقُولُ: أُمَّتِي يَا رَبِّ، أُمَّتِي يَا رَبِّ، أُمَّتِي يَا رَبِّ.........‘‘۔ "پھر میں چلوں گا تو عرش کے نیچے آکر اللہ عزوجل کے لئے سجدہ میں گر جا ؤں گا پھر اللہ تعالیٰ مجھ پر اپنی حمد و ثنا کے کچھ راستے کھول د ے گا جو اس نے مجھ سے پہلے کسی کے لئے نہیں کھولا ہوگا پھر کہا جا ئے گا : اے محمد ! اپنا سر اٹھا اور مانگ تجھے دیا جا ئے گا، تو سفارش کر تیری سفارش قبول کی جا ئے گی، تو میں اپنا سر اٹھا ؤں گا اور کہوں گا : اے رب !میری امت ، اے رب ! میری امت، اے رب! میری امت"۔ (صحیح بخاری: ۴۷۱۲، صحیح مسلم: ۱۹۴، جامع الترمذی: ۲۴۳۴، سنن ابن ماجۃ: ۳۳۰۷)

اور ہمارا ایمان ہے کہ شہداء کی روحیں عرش کے سایے میں لٹکی ہوئی قندیلوں میں بسیرا کرتی ہیں، چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے كہ اللہ کے رسولﷺ فرمایا: ’’ لَمَّا أُصِيبَ إِخْوَانُكُمْ بِأُحُدٍ جَعَلَ اللَّهُ أَرْوَاحَهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ، تَرِدُ أَنْهَارَ الْجَنَّةِ، تَأْكُلُ مِنْ ثِمَارِهَا، وَتَأْوِي إِلَى قَنَادِيلَ مِنْ ذَهَبٍ مُعَلَّقَةٍ فِي ظِلِّ الْعَرْشِ‘‘۔ "جب تمہار ے بھا ئی احد میں شہید کر دیئے گئے تو اللہ نے ان کی روحیں سبز پرندوں کے پیٹ میں رکھ دیا، جو جنت کی نہروں پر وارد ہوتی ہیں، وہ ان کا پھل کھاتی ہیں اور عرش کے سایے میں لٹکی ہوئی سونے کی قندیلوں میں بسیرا کرتی ہیں"۔ (سنن أبی داؤد: ۲۵۲۰، الجھاد لإبن المبارک: ۶۲، مصنف لابن أبی شیبۃ: ۱۹۶۷۸ ، مسند أحمد: ۲۳۸۸)

ابن مبارک سے پوچھا گیا کہ ہمیں اپنے رب کا پتہ کیسے چلے گا ؟ فرمایا : "وہ ساتوں آسمانوں کے اوپر اپنی مخلوق سے الگ عرش پر ہے"۔ (الرد علی الجھمیۃ للدارمی: ص:۴۷، الأسماء والصفات للبیہقی: ۲/۳۳۶، الفتوی الحمویۃ الکبری: ص: ۳۳۳ ، شرح الطحاویۃ -ط دار السلام -ص: ۲۱۹)

امام دارمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اللہ تعالیٰ عرش اور آسمانوں کے اوپرہے اور اپنی مخلوق سے الگ ہے، جو اسے اس طرح سے نہیں جان سکا وہ اس معبود کو نہیں جان پائے گا جس کی وہ عبادت کرتا ہے، اس کا علم عرش کے اوپر سے اس کی دور اور قریب کی مخلوق کے لئے یکساں ہے، اس سے کو ئی چیز دور نہیں ہے {لَا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِي السَّمَوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ} "آسمان و زمین کی ذرہ بھر چیز بھی اس سے مخفی نہیں، اس کی ذات ان تمام عیوب سے بہت ہی پاک اور بلندو بالا ہے جواس کی صفات کے منکرین بیان کرتے ہیں"۔ (الرد علی الجھمیۃ للدارمی، ص: ۴۷)

ہمارا ایمان ہے کہ فرشتے عرش کو اٹھا ئے ہوئے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُوا وَاتَّبَعُوا سَبِيلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ} "عرش کے اٹھانے والے اور اس کے پاس کے فرشتے اپنے رب کی تسبیح حمد کے ساتھ ساتھ کرتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کے لئے استغفار کرتے ہیں، (کہتے ہیں کہ) ا ے ہمارے رب ! تو نے ہر چیز کو اپنی بخشش اور علم سے گھیر رکھا ہے، پس ان کى مغفرت فرما دے جو توبہ کریں اور تیری راہ کی پیروی کریں اور تو انہیں دوزخ کے عذاب سے بھی بچا لے"۔ [غافر: ۷] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَالْمَلَكُ عَلَى أَرْجَائِهَا وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَمَانِيَةٌ} "اس کے کناروں پر فرشتے ہونگے اور تیرے رب کا عرش اس دن آٹھ (فرشتے) اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہونگے"۔ [الحاقۃ: ۱۷]

اور اللہ کے نبی ﷺ نے عرش اٹھانے والے فرشتوں کی کچھ صفات کے بار ے میں خبر دیتے ہوئے فرمایا: ’’أُذِنَ لِي أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ مَلَكٍ مِنْ مَلَائِكَةِ اللَّهِ مِنْ حَمَلَةِ الْعَرْشِ، إِنَّ مَا بَيْنَ شَحْمَةِ أُذُنِهِ إِلَى عَاتِقِهِ مَسِيرَةُ سَبْعِ مِائَةِ عَامٍ‘‘۔ "مجھے اجازت ملی ہے کہ میں عرش کے اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایک فرشتے کا حال بیان کروں۔ اس کے کان کی لو سے اس کے کاندھے تک کا فاصلہ سات سو برس (کی مسافت کے برابر) ہے۔ (سنن أبی داؤد: ۴۷۲۷، الأوسط للطبرانی: ۱۷۰۹، العظمة لأبی الشیخ: ۴۷۶، الفوائد لإبن شاھین: ۱۹)

ہمارا ایمان ہے کہ فرشتے عرش الہی کو گھیرے ہو ئے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَتَرَى الْمَلَائِكَةَ حَافِّينَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَقِيلَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} "اور تو فرشتوں کو اللہ کے عرش کے ارد گرد حلقہ باندھے ہوئے اپنے رب کی حمد و تسبیح کرتے ہوئے دیکھے گا اور ان میں انصاف کا فیصلہ کیا جائے گا اور کہہ دیا جائے گا کہ ساری خوبی اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے"۔ [الزمر: ۷۵]

اورعرش اس کتاب کے ساتھ ہے جس کا ذکر اللہ کے نبی ﷺ کے اس فرمان میں ہے: ’’لَمَّا قَضَى اللَّهُ الخَلْقَ كَتَبَ فِي كِتَابِهِ فَهُوَ عِنْدَهُ فَوْقَ العَرْشِ إِنَّ رَحْمَتِي غَلَبَتْ غَضَبِي‘‘۔ "جب اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوق پیدا کر لی تو اپنی اس کتاب میں‘ جو عرش کے اوپر اس کے پاس ہے‘ لکھا کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے"۔ (صحیح بخاری: ۳۱۹۴، صحیح مسلم: ۲۷۵۱، جامع الترمذی: ۳۵۴۳، سنن ابن ماجہ: ۱۸۹، ۴۲۹۰) اور وہ دونوں تمام مخلوقات میں سب سے بلند و بالا ہیں، اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَسَلُوهُ الفِرْدَوْسَ، فَإِنَّهُ أَوْسَطُ الجَنَّةِ، وَأَعْلَى الجَنَّةِ، وَفَوْقَهُ عَرْشُ الرَّحْمَنِ، وَمِنْهُ تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الجَنَّةِ‘‘۔ "جب تم اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو فردوس کا سوال کرو، کیوں کہ وہ جنت کا درمیانی اور سب سے اعلیٰ حصہ ہے، اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے، اور اسی سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں"۔ (صحیح بخاری: ۷۴۲۳)

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش پر پوری شان و شوکت اورعظمت کے ساتھ مستوی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ} "بے شک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے سب آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کیا ہے، پھر عرش پر مستوى ہوا"۔ [الأعراف: ۵۴] ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ الرَّحْمَنُ فَاسْأَلْ بِهِ خَبِيرًا } "جو وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین اوران کے درمیان کی سب چیزوں کو چھ دن میں پیدا کردیا ہے پھر عرش پر مستوی ہوا، وہ رحمٰن ہے، آپ اس کے بارے میں کسی خبردار سے پوچھ لیں"۔ [الفرقان: ۵۹]

ربیعہ الرأی سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: {الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى} [طه: 5] (جو رحمٰن ہے، عرش پر مستوی ہے) کے بارے میں پوچھا گیا کہ اللہ تعالیٰ کس طرح عرش پر مستوی ہے؟ تو انہوں نے کہا: " کیفیت مجھول ہے، اور استواء كا معنى معلوم ہے، اور میرے اور تمام لوگوں کے لئے اس پر ایمان لانا واجب ہے"۔ (الأسماء و الصفات للبیہقی: ۳۰۶/ ۲ ، شرح أصول إعتقاد أھل السنۃ والجماعۃ: ۵۸۲/ ۳)

اور ایک شخص مالک بن انس کے پاس آیا اور کہا: اے ابو عبداللہ: {الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى} [طه: 5] (جو رحمٰن ہے، عرش پر قائم ہے) اللہ تعالیٰ کس طرح عرش پر مستوی ہے؟ اس نے کہا: ہم نے مالک کو اس کى بات سے جس کیفیت میں پایا ویسا کبھی کسی بات سے نہیں پایا اور آپ کو پسینہ آنے لگا‘ آپ نے سوچتے ہوئے نیچے دیکھا، اور ہم انتظار کر رہے تھے کہ آپ ہم کو اس کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں، پھر آپ پر سکون ہو گئے اور کہنے لگے: "کیفیت نہیں معلوم کى جاسکتى ہے، اور رب کے استواء کا معنى نامعلوم نہیں ہے، اور رب کے استوا پر ایمان لانا واجب ہے، اور اس کے استوا کے بارے میں پوچھنا بدعت ہے۔ اور مجھے ڈر ہے کہ تم گمراہ ہو جاؤ۔" پھر حکم دیا کہ اسے نکال دیا جائے تو نکال دیا گیا۔ " (الرد على الجهمية للدارمی: ص: ۶۶، شرح أصول اعتقاد أھل السنۃ والجماعۃ: ۳/۴۴۱، حلیۃ الأولیاء و طبقات الأصفیاء: ۳۲۵ /۶، الاعتقاد للبیہقی: ص: ۱۱۶، شرح السنۃ للبغوی: ۱/۱۷۱، الأسماء والصفات للبیہقی: ۲/۳۰۶)

امام احمد نے استواء کی بابت فرمایا: "اس کا معنى رفعت و بلندی ہے۔ اور اللہ تعالى عرش کو پیدا کرنے سے پہلے ہی بلند وبرترہے، پس وہ ہر چیز کے اوپر ہے، اور ہر چیز پر بلند ہے، اللہ نے عرش کو ایسے معنی کے لئے خاص کیا ہے جس میں تمام چیزوں کی مخالفت ہے اور عرش تمام چیزوں میں سب سے افضل اور سب سے بلند ہے، اسی لئے اللہ نے اپنا تعارف اسی کے ذریعہ کیا ہے کہ وہ عرش پر مستوی ہے یعنی اس پروہ بلند ہے۔ ...اور عبد الرحمن بن مہدی کے واسطے امام مالک کے حوالے سے بیان کیا جاتاہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے عظیم عرش پر اسی طرح مستوی ہے جس طرح اس نے خبر دی ہے اور اس کا علم ہر مقام پر ہے"۔ (العقيدة رواية أبي بكر الخلال: ص: ۱۰۸)

اور عرش کے تئیں اللہ کی ربوبیت اس بات پر دلیل ہے کہ وہی عبادت کے لا ئق ہے، اس کے سوا کوئی اور عبادت کے لا ئق نہیں ہے، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا فَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ} "اگر ان دونوں ( آسمان و زمین) میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کو ئی اور معبود ہوتا تو دونوں درہم برہم ہوجا تے پس اللہ، عرش کے رب کی ذات پاک ہےان تمام باتوں سے جو وہ لوگ بیان کرتے ہیں"۔ [الأنبیاء: ۲۲] اور ارشاد باری تعالیٰ ہے: {قُلْ مَنْ رَبُّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ } "کہہ دیجئے کہ ساتوں آسمانوں کا رب اور عرش عظیم کا رب کون ہے؟" [المؤمنون: ۸۶] اور اللہ عز وجل نے فر مایا: {قُلْ لَوْ كَانَ مَعَهُ آلِهَةٌ كَمَا يَقُولُونَ إِذًا لَابْتَغَوْا إِلَى ذِي الْعَرْشِ سَبِيلًا} "کہہ دیجئے کہ اگر اللہ کے ساتھ اور معبود بھى ہوتے تو ضرور اب تک یہ مالک عرش کى جانب راہ ڈھوںڈھ لیتے"۔ [الإسراء: ۴۲]

باب: پانی کی تخلیق کا بیان

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کے پیدا کرنے سے پہلے پانی پیدا کیا، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’كَانَ اللَّهُ وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ قَبْلَهُ، وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى المَاءِ، ثُمَّ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ‘‘۔ "اللہ تعالیٰ تھا اور اس کے علاوہ کوئی چیز نہیں تھی اور اس کا عرش پانی پر تھا، پھر اس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا"۔ (صحیح مسلم: ۲۷۱۳، سنن أبی داود: ۵۰۵۱، جامع الترمذي:۳۴۰۰، سنن ابن ماجه: ۳۸۳۱) اللہ تعالیٰ نے پانی ہی سے ہر زندہ چیز کو پیدا کیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ} "اور ہر زندہ چیز کو ہم نے پانی سے پیدا کیا"۔ [الأنبیاء: ۳۰] اوراللہ تعالیٰ نے پانی کو ربوبیت و الوہیت کی ایک نشانی قرار دیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: { الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فِرَاشًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَكُمْ فَلَا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَنْدَادًا وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ } "جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے پانی اتار کر اس سے پھل پیدا کرکے تمہیں روزی دی، خبردار! باوجود جاننے کے اللہ تعالیٰ کے شریک مقرر نہ کرو"۔ [البقرۃ: ۲۲]

اور اللہ عزو جل نے فر مایا: { وَفِي الْأَرْضِ قِطَعٌ مُتَجَاوِرَاتٌ وَجَنَّاتٌ مِنْ أَعْنَابٍ وَزَرْعٌ وَنَخِيلٌ صِنْوَانٌ وَغَيْرُ صِنْوَانٍ يُسْقَى بِمَاءٍ وَاحِدٍ وَ نُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ فِي الْأُكُلِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ } "اور زمین میں مختلف ٹکڑ ے ایک دوسر ے سے لگتے لگاتے ہیں اور انگوروں کے باغات ہیں اور کھیت ہیں اور کھجوروں کے درخت ہیں، شاخ دار اور بعض ایسے ہیں جو بے شاخ ہیں سب ایک ہی پانی پلائے جاتے ہیں پھر بھی ہم ایک کو دوسرے پر ذائقے میں برتری دیتے ہیں اس میں عقل مندوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں"۔ [الرعد: ۴] اور ارشاد باری تعالیٰ ہے: {وَهُوَ الَّذِي مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ هَذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَهَذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَحِجْرًا مَحْجُورًا} "اور وہی ہے جس نے دو سمندروں کو آپس میں ملارکھا ہے، یہ ہے میٹھا اور مزیدار اور یہ ہے کھاری کڑوا ان دونوں کے درمیان ایک حجاب اور مضبوط اوٹ کردی"۔ وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرًا فَجَعَلَهُ نَسَبًا وَصِهْرًا وَكَانَ رَبُّكَ قَدِيرًا} "وہ ہے جس نے پانی سے انسان کو پیدا کیا، پھر اسے نسب والا اور سسرالی رشتوں والاکردیا، بلاشبہ آپ کا رب [ہر چیز پر] قادر ہے"۔ [الفرقان: ۵۳- ۵۴] سو اللہ تعالی نے پانی سے دو مختلف دریا بنائے اور ان دونوں کے مابین آڑ اور برزخ بنادیا، تو ان دونوں میں سے کوئی کسی پر چڑھ نہیں جاتا ہے، اسى طرح پانی سے انسان بنایا، اور انسان سے نسب اور سسرالی رشتہ بنایا، اس لئے اللہ تعالیٰ کی ذات با برکت اور سب سے بہتر اندازہ مقرر کرنے والى ہے، اور اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔

اوراسی طرح اللہ تعالیٰ نے موت کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے پر بھی پانی کو دلیل بنایا ہے، جیسا کہ اللہ عز وجل نے فرمایا: {وَمِنْ آيَاتِهِ أَنَّكَ تَرَى الْأَرْضَ خَاشِعَةً فَإِذَا أَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ إِنَّ الَّذِي أَحْيَاهَا لَمُحْيِ الْمَوْتَى إِنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ} "اور اس اللہ کی نشانیوں میں سے (یہ بھی) ہے کہ تو زمین کو دبی دبائی دیکھتا ہے پھر جب ہم اس پر مینہ برساتے ہیں تو وہی ترو تازہ ہو کر ابھرنے لگتی ہے جس نے اسے زندہ کیا وہی یقینی طور پر مردوں کو بھی زندہ کرنے والا ہے یقینا وہ ہر چیز پر قادر ہے"۔ [فصلت: ۳۹]

پانی اللہ کے لشکروں میں سے ایک لشکر ہے، اسی کے ذریعہ وہ اپنے اولیاء کی مدد کرتا ہے، جیسا کہ اللہ عز وجل نے فرمایا: {إِذْ يُغَشِّيكُمُ النُّعَاسَ أَمَنَةً مِنْهُ وَ يُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً لِيُطَهِّرَكُمْ بِهِ وَيُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّيْطَانِ وَلِيَرْبِطَ عَلَى قُلُوبِكُمْ وَيُثَبِّتَ بِهِ الْأَقْدَامَ } "اس وقت کو یاد کرو جب کہ اللہ تم پر اونگھ طاری کر رہا تھا اپنی طرف سے چین دینے کے لیے اور تم پر آسمان سے پانی برسا رہا تھا کہ اس پانی کے ذریعہ سے تم کو پاک کر د ے اور تم سے شیطانی وسوسہ کو دفع کر د ے اور تمہار ے دلوں کو مضبوط کر د ے اور تمہار ے پاؤں جما د ے"۔ [الأنفال: ۱۱] اور اس پانی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دشمنوں کو رسوا بھی کیا ہے، تمام تعریفات کا مستحق اور سب کا حامی ونگہبان اللہ تعالى فرماتا ہے: {فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرْ*۔ "پس اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ میں بے بس ہوں، تو میری مدد کر"۔ فَفَتَحْنَا أَبْوَابَ السَّمَاءِ بِمَاءٍ مُنْهَمِرٍ*۔ "پس ہم نے آسمان کے دروازوں کو زور کے مینہ کے ساتھ کھول دیا۔ وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُونًا فَالْتَقَى الْمَاءُ عَلَى أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ } اور زمین سے چشموں کو جاری کر دیا پس اس کام کے لیے جو مقدر کیا گیا تھا (دونوں) پانی جمع ہو گئے"۔ [القمر: ۱۰ - ۱۲] ان کے علاوہ اور بھی واقعات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے دشمنوں کو پانی کے ذریعہ رسوا کیا یا اپنے اولیاء کی مدد کی۔

باب: قلم کی تخلیق کا بیان

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالى نے تقدیر لکھنے والا قلم پیدا فرمایا جیسا کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: "سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم پیدا کیا اور اسے کہا کہ لکھ، تو اس نے کہا کہ اے میرے رب ! میں کیا لکھو ں؟ کہا کہ قیامت قائم ہونے تک ہر چیز کی تقدیر لکھ"۔ (سنن أبی داود: ۴۷۰۰، جامع الترمذی: ۲۱۵۵، ۳۳۱۹، مسند الطيالسي: ۵۷۸، مسند أحمد: ۲۲۷۰۵، ۲۲۷۰۷، السنة لابن أبي عاصم: ۱۱۵)

اور ہمارا ایمان ہے کہ قلم کئی ایک ہیں‘ جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نےاسراء و معراج کی خبر دیتے ہوئے فرمایا: ’’پھر مجھے لے جایا گیا یہاں تک کہ میں اس بلندی پر پہونچا جہاں میں قلموں کی آواز سن رہا تھا۔" (صحیح بخاری: ۳۴۹، صحیح مسلم: ۱۶۳)

اور قرآن و سنت میں یہ بات کئی بار آئی ہے کہ فرشتے بندوں کے افعال لکھ رہے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَافِظِينَ*۔ "یقیناً تم پر نگہبان عزت والے"۔ كِرَامًا كَاتِبِينَ *۔ "عزت والے لکھنے والے مقرر ہیں"۔ يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ} " جو کچھ تم کرتے ہو وہ جانتے ہیں"۔ [الانفطار: ۱۰-۱۲]

اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {إِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيَانِ عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيدٌ *۔ "جس وقت دو لینے والے جا لیتے ہیں ایک دائیں طرف اور ایک بائیں طرف بیٹھا ہوا ہے"۔ مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ } "(انسان) منہ سے کوئی لفظ نکال نہیں پاتا مگر اس کے پاس نگہبان تیار ہے"۔ [ق: ۱۷-۱۸]

اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {وَإِذَا أَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِنْ بَعْدِ ضَرَّاءَ مَسَّتْهُمْ إِذَا لَهُمْ مَكْرٌ فِي آيَاتِنَا قُلِ اللَّهُ أَسْرَعُ مَكْرًا إِنَّ رُسُلَنَا يَكْتُبُونَ مَا تَمْكُرُونَ} "اور جب ہم لوگوں کو اس امر کے بعد کہ ان پر کوئی مصیبت پڑ چکی ہو کسی نعمت کامزہ چکھا دیتے ہیں تو وہ فوراً ہی ہماری آیتوں کے بارے میں چالیں چلنے لگتے ہیں، آپ کہہ دیجئے کہ اللہ چال چلنے میں تم سے زیادہ تیز ہے، بالیقین ہمارے فرشتے تمہاری سب چالوں کو لکھ رہے ہیں"۔ [یونس: ۲۱]

اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: { أَمْ يَحْسَبُونَ أَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوَاهُمْ بَلَى وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُونَ} "کیا ان کا یہ خیال ہے کہ ہم ان کی پوشیدہ باتوں کو اور ان کی سرگوشیوں کو نہیں سن سکتے (یقیناً ہم برابر سن رہے ہیں) بلکہ ہمارے بھیجے ہوئے ان کے پاس ہی لکھ رہے ہیں"۔ [الزخرف: ۸۰]

اور ’’الصحیح‘‘ میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’نہیں ہےتم میں کا کوئی شخص اور نہیں ہےسانس لینے والی کو ئی جان مگریہ کہ اس کا جنت اور جہنم کا ٹھکانہ اور اس کی بد بختی و نیک بختی لکھی جا چکی ہے"۔ (صحیح بخاری: ۴۹۴۸، صحیح مسلم: ۲۶۴۷، سنن أبی داود: ۴۶۹۴، جامع الترمذی: ۲۱۳۶، ۳۳۴۴، سنن ابن ماجۃ: ۷۸)

اور مزید فر مایا: ’’جب تم میں کا کوئی اپنا اسلام بہتر بنا لیتاہے تو اس کے کئے گئے ہر نیکی کا بدلہ دس گنا سے سات سو گنا تک لکھا جاتا ہےاور اس کے کئے ہوئے ہر برائی کا بدلہ اسی کے مثل لکھا جاتا ہے"۔ (صحیح بخاری: ۴۲، ۷۵۰۱، صحیح مسلم: ۱۲۸، ۱۲۹، ۱۳۰، جامع الترمذی: ۳۰۷۳)

باب: کرسی کی تخلیق کا بیان

ہمارا ایمان ہے کہ عرش کے بعد سب سے بڑی مخلوق کرسی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اس کی عظمت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: {وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضَ} "اس کی کرسی آسمانوں اور زمین کو گھیرے ہوئے ہے"۔ [البقرۃ: ۲۵۵]

اور کرسی عرش کے سامنے ہے، اور وہ اللہ کے دونوں قدموں کی جگہ ہے۔ چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مذکورہ آیت کی تفسیر میں فرمایا: ’’کرسی اللہ کے دونوں قدم رکھنے کی جگہ ہے، اور عرش کے قدر کا اندازہ کوئى نہیں کرسکتا"۔ (امام دار قطنی نے اس حدیث کی تخریج ’’ کتاب الصفات (۳۶) میں مرفوعا اور موقوفا کی ہے۔ اور دیکھئے: الرد علی بشر المریسی لعثمان بن زید الدارمی: ۸۴، ۸۹، کتاب السنۃ لعبد اللہ بن أحمد: ۵۸۶، کتاب التوحید لإبن خزیمۃ: ۱۵۴، العظمۃ لأبی الشیخ: ۲۱۶، ۲۱۷) اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’کرسی کے سامنے ساتوں آسمان کی حیثیت چٹیل میدان میں پڑ ے ہوئے کڑ ے کی طرح ہے، اور کرسی پر عرش کی فضیلت ایسے ہی ہے جیسے چٹیل میدان کی فضیلت کڑ ے پر ہے"۔ (صحیح ابن حبان: ۳۶۱، المجروحین لابن حبان: ۳۱۳۰، معجم الکبیر للطبرانی: ۱۶۵۱، المکارم: ۱، الأربعین للآجری: ۴۰ ، العظمۃ لأبی الشیخ: ۲۵۹ ، حلیۃ الأولیاء لأبی نعیم: ۱۱۸، ۱۶۶-۱۶۸، الأسماء والصفات للبیہقی: ۸۶۲، ۵۱۰-۵۱۱، شعب الإیمان: ۴۳۲۵، ۷۶۶۸، التمہید لابن عبد البر: ۹/۱۹۹۔اور یہ حدیث لمبی ہے اور یہاں ذکر کى ہوئى ہماری حدیث اس کا ایک حصہ ہے۔ اور اس حدیث کے کئی طرق ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی صحیح نہیں ہے بلکہ سب ضعیف ہیں. ۱۔ اور عقیلی نے ان طریقوں میں سے کچھ کا ذکر کیا ہے، اور ان کی ضعف کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ابن عدی نے بھی ان طرق کا تذکرہ کیا ہے اور کہا ہے کہ: "یہ حدیث اس طریق سے عن ابن جريج عن عطاء عن عبيد بن عمير عن أبي ذر حدیث منکر ہے، اور اس حدیث کا کوئی طرق نہیں ہے سوائے ابوذر سے ابو ادریس الخولانی اور القاسم ابن محمد کی روایت سے، اور تیسرا طریق ابن جریج کی حدیث ہے اور یہ سب سے منکر ترین روایت ہے"۔ لیکن یہ حدیث بہت مشہور ہے۔ اور ابو ذکر کے علاوہ کسی نے کرسی میں مرفوعا نہیں روایت کیا ہے۔ اسی لئے ہم نے اس کو اس کی ضعف اور نکارت کے باوجود ذکر کیا ہے۔)

اسی طرح امام بیہقی رحمہ اللہ نے عباس بن محمد سے روایت کرتے ہوئے فرمایا: کہ میں نے ابو عبید کو کہتے ہو ئے سنا: ’’یہ احادیث جس میں نبی صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ہمارا رب اپنے بندوں کے مایوس ہونے اور اس كى حالت میں تبدیلى کے قریب ہونے پر ہنستا ہے، اور جہنم نہیں بھر سکتی ہے حتی کہ آپ کا رب اس میں اپنا قدم رکھ د ے اور کرسی رب کے دونوں قدموں کی جگہ ہے، اور روایت کے سلسلے میں یہ احادیث ہمارے نزدیک حق ہیں، اسے بعض راویوں نے بعض سے روایت کیا ہے، لیکن اگر کو ئی ہم سے اس کی تفسیر پوچھتا ہے تو نہیں بتاتے کیوں کہ ہم نے کسی کو اس کی تفسیر کرتے ہو ئے نہیں پایا"۔ (الأسماء والصفات للبیہقی: ۱۹۸/۲)

باب: آسمان اور زمین کی تخلیق کا بیان

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزو ں کو چھ دنوں میں پیدا کیا، لیکن اسے تھکاوٹ کا احساس نہیں ہوا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَمَا مَسَّنَا مِنْ لُغُوبٍ } "یقیناً ہم نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے سب کو (صرف) چھ دن میں پیدا کردیا اور ہمیں تکان نے چھوا تک نہیں"۔ [ق: ۳۸] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: { أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا} "کیا کافر لوگوں نے یہ نہیں دیکھا کہ آسمان وزمین باہم ملے جلے تھے پھر ہم نے انہیں جدا کردیا"۔ [الأنبیاء: ۳۰] ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "آپ کہہ دیجئے! کہ کیا تم اس [اللہ] کا انکار کرتے ہو اور تم اس کے شریک مقرر کرتے ہو جس نے دو دن میں زمین پیدا کردی، سارے جہانوں کا رب وہی ہے۔ اور اس نے زمین میں اس کے اوپر سے پہاڑ گاڑ دیے اوراس میں برکت رکھ دی اوراس میں [رہنے والوں کی] غذاؤں کی تجویز بھی اسی میں کر دی [صرف] چار دن میں، ضرورت مندوں کے لیے یکساں طور پر"۔ ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْأَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا قَالَتَا أَتَيْنَا طَائِعِينَ* پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں (سا) تھا پس اس سے اور زمین سے فرمایا کہ تم دونوں خوشی سے آؤ یا ناخوشی سے دونوں نے عرض کیا ہم بخوشی حاضر ہیں۔ فَقَضَاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ فِي يَوْمَيْنِ وَأَوْحَى فِي كُلِّ سَمَاءٍ أَمْرَهَا وَزَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَحِفْظًا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ} پس دو دن میں سات آسمان بنا دیے اور ہر آسمان میں اس کے مناسب احکام کی وحی بھیج دی اور ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں سے زینت دی اور نگہبانی کی، یہ تدبیر اللہ غالب و دانا کی ہے"۔ [فصلت: ۹- ۱۲]

اوراللہ عز وجل نے فر مایا: "کیا تمہارا پیدا کرنا زیادہ دشوار ہے یا آسمان کا؟ اللہ تعالیٰ نے اسے بنایا۔ اس کی بلندی اونچی کی پھر اسے ٹھیک ٹھاک کر دیا۔ اس کی رات کو تاریک بنایا اور اس کے دن کو نکالا۔ اور اس کے بعد زمین کو [ہموار] بچھا دیا۔ اس میں سے پانی اور چارہ نکالا۔ اور پہاڑوں کو [مضبوط] گاڑدیا۔ یہ سب تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائد ے کے لئے (ہیں)"۔ [النازعات: ۲۷-۳۳]

ہمارا اس بات پر بھی ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو بغیر ستون کے بلند کیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: "اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں کو بغیر ستونوں کے بلند کر رکھا ہے کہ تم اسے دیکھ رہے ہو پھر وہ عرش پر قرار پکڑ ے ہوئے ہے، اسی نے سورج اور چاند کو ماتحتی میں لگا رکھا ہے، ہر ایک میعاد معین پر گشت کر رہا ہے، وہی کام کی تدبیر کرتا ہے وہ اپنے نشانات کھول کھول کر بیان کر رہا ہے کہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کر لو"۔ [الرعد: ۲] اور ارشاد باری تعالیٰ ہے: "اسی نے آسمانوں کو بغیر ستون کے پیدا کیا ہے تم انہیں دیکھ رہے ہو اور اس نے زمین میں پہاڑوں کو ڈال دیا تاکہ وہ تمہیں جنبش نہ د ے سکے اور ہر طرح کے جاندار زمین میں پھیلا دیئے اور ہم نے آسمان سے پانی برسا کر زمین میں ہر قسم کے نفیس جوڑے اگا دیئے"۔ [لقمان : ۱۰]

ہمارا اس بات پر بھی ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو اِدھر اُدھر ہونے سے روک رکھا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ وہ ٹل نہ جائیں اور اگر ٹل جائیں تو پھر اللہ کے سوا اور کوئی ان کو تھام بھی نہیں سکتا وہ حلیم غفور ہے"۔ [فاطر: ۴۱]

اور ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو زمین پر گرنے سے روک رکھا ہے، بغیر اللہ کی اجازت کے زمین پر آسمان ہر گز نہیں گر سکتا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "وہی آسمان کو تھامے ہوئے ہے کہ زمین پر اس کی اجازت کے بغیر نہ گر پڑے"۔ [الحج : ۶۵]

ہم گواہی دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان مخلوقات کے معاملات میں تدبیر اپناتا ہے اور ان کی حفاظت کرتا ہے، لیکن اس کے باوجود اسے کوئی چیز نہیں تھکا سکتی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ } "اس کی کرسی زمین و آسمان کو گھیرے ہو ئے ہے اور ان دونوں کی حفاظت اسے تھکا نہیں سکتی، وہ بلند و بالا اور عظیم ہے"۔ [البقرة: 255].

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام مخلوقات کو عظیم حکمتوں کے تحت بنایا ہے جس کا احاطہ کرنا نا ممکن ہے اور اس نے اپنی تمام مخلوق اور ان کی بناوٹ کو مضبوط کیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَهِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ صُنْعَ اللَّهِ الَّذِي أَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ إِنَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَفْعَلُونَ } "اور پہاڑوں کو دیکھ کر اپنی جگہ جمے ہوئے خیال کرتے ہو لیکن وہ بھی بادل کی طرح اڑتے پھریں گے یہ ہے اللہ تعالیٰ کی تخلیق جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا ہے جو کچھ تم کرتے ہو اس سے وہ باخبر ہے"۔ [النمل: ۸۸] اوراللہ تعالیٰ نے فر مایا: {وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لَاعِبِينَ} "ہم نے آسمان اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزیں کھیل کے لئے نہیں پیدا کیا"۔ [ الدخان: ۳۸] ایک اور مقام پراللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَالْأَرْضَ مَدَدْنَاهَا وَ أَلْقَيْنَا فِيهَا رَوَاسِيَ وَأَنْبَتْنَا فِيهَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَوْزُونٍ*۔ "اور زمین کو ہم نے پھیلادیا ہے اور اس پر (اٹل) پہاڑ ڈال دیئے ہیں، اوراس میں ہم نے ہر چیز ایک معین مقدار سے اگا دی ہے۔ وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيهَا مَعَايِشَ وَمَنْ لَسْتُمْ لَهُ بِرَازِقِينَ * اور اسی میں ہم نے تمہاری روزیاں بنا دی ہیں اور جنہیں تم روزی دینے والے نہیں ہو۔ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنَا خَزَائِنُهُ وَمَا نُنَزِّلُهُ إِلَّا بِقَدَرٍ مَعْلُومٍ} اور جتنی بھی چیزیں ہیں ان سب کے خزانے ہمارے پاس ہیں، اور ہم ہر چیز کو اس کے مقررہ انداز سے اتارتے ہیں"۔ [الحجر: ۱۹-۲۱]

اللہ تعالی نے آسمان اور زمین کے اپنے پیدا کرنے کو اپنی ربوبیت کی دلیل بنادیا جوکہ اس کى الوہیت کو مستلزم ہے جیسا کہ اللہ عز و جل نے فرمایا: {أَمَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَأَنْزَلَ لَكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَنْبَتْنَا بِهِ حَدَائِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ مَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تُنْبِتُوا شَجَرَهَا أَإِلَهٌ مَعَ اللَّهِ بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَعْدِلُونَ} "بھلا بتاؤ تو؟ کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا؟ کس نے آسمان سے بارش برسائی؟ پھر اس سے ہرے بھرے بارونق باغات اگا دیئے؟ ان باغوں کے درختوں کو تم ہر گز نہ اگا سکتے، کیا اللہ کے ساتھ اور کوئی معبود بھی ہے؟ بلکہ یہ لوگ ہٹ جاتے ہیں (سیدھی راہ سے)"۔ [النمل: ۶۰] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ فَأَنَّى يُؤْفَكُونَ } "اگر آپ ان سب سے پوچھیں کہ زمین اور آسمان کو کس نے پیدا کیا اور سورج و چاند کو کس نے مسخر کیا ؟ تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ پھر تم کہاں بہکے جا رہے ہو"۔ [العنکبوت: ۶۱] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ مِنْ بَعْدِ مَوْتِهَا لَيَقُولُنَّ اللَّهُ قُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ} "اور اگر آپ ان سے سوال کریں کہ آسمان سے پانی اتار کر زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کس نے کیا؟ تو یقیناً ان کا جواب یہی ہوگا اللہ تعالیٰ نے۔ آپ کہہ دیں کہ ہر تعریف اللہ تعالیٰ ہی کے لئے سزاوار ہے، بلکہ ان میں سے اکثر بے عقل ہیں"۔ [العنکبوت: ۶۳]

ہمارا ایمان ہےکہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو ابتلاء و آزمائش کا مقام بنایا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَ كَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا } "اللہ ہی وہ ہے جس نے چھ دن میں آسمان و زمین کو پیدا کیا اور اس کا عرش پانی پر تھا تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے عمل والا کون ہے"۔ [ھود: ۷] اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو جا ئے قرار، جا ئے معاش اور سمیٹنے والی بنایا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: { مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى} "اسی سے ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے اور اسی میں ہم تمہیں لوٹا ئیں گے اور اسی سے ہم تمہیں دوبارہ نکا لیں گے"۔ [طہ: ۵۵] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: { أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتًا * "کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنایا ؟ أَحْيَاءً وَأَمْوَاتًا} زندوں کو بھی اور مردوں کو بھی"۔ [المرسلات: ۲۵-۲۶]

ہمارا ایمان ہے کہ یہ عظیم کائنات اللہ رب العالمین کی بزرگی بیان کرتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: { تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَنْ فِيهِنَّ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا} "ساتوں آسمان اور زمین اور جو بھی ان میں ہے اسی کی تسبیح کر رہے ہیں۔ ایسی کوئی چیز نہیں جو اسے پاکیزگی اور تعریف کے ساتھ یاد نہ کرتی ہو۔ ہاں یہ صحیح ہے کہ تم ا کنی تسبیح سمجھ نہیں سکتے، وہ بڑا بُرد بار اور بخشنے والا ہے"۔ [الإسراء: ۴۴] اور اس کی عظمت کے آگے جھکی ہوئی ہے، جیسا کہ فرمان الہی ہے: {ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْأَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا قَالَتَا أَتَيْنَا طَائِعِينَ} "پھر آسمانوں کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں (سا) تھا پس اسے اور زمین سے فرمایا کہ تم دونوں خوشی سے آؤ یا ناخوشی سے دونوں نے عرض کیا بخوشی حاضر ہیں"۔ [فصلت: ۱۱]

بندوں کے رب کے خلاف ڈھٹائی کرنے پر یہ کائنات ڈرتی اور گھبراتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: { تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا* "قریب ہے کہ اس قول کی وجہ سے آسمان پھٹ جائیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں۔ أَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمَنِ وَلَدًا} کہ وہ رحمٰن کی اولاد ثابت کرنے بیٹھے". [مریم : ۹۰-۹۱]

باب: چاند اور سورج کی تخلیق کا بیان

ہمارا ایمان ہے کہ سورج اور چاند بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ} "وہی اللہ ہے جس نے رات اور دن، سورج اور چاند کو پیدا کیا ہے ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے مدار میں تیرتے پھرتے ہیں"۔ [ الأنبیاء : ۳۳ ]

ہمارا ایمان اس بات پر بھی ہے کہ سورج اور چاند دو نوں چلتے ہیں، جیسا کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ*۔ "اور سورج کے لئے جو مقررہ راہ ہے وہ اسی پر چلتارہتا ہے۔ یہ ہے مقرر کردہ، غالب باعلم اللہ تعالیٰ کا۔ وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَاهُ مَنَازِلَ حَتَّى عَادَ كَالْعُرْجُونِ الْقَدِيمِ*۔ اور چاند کی ہم نے منزلیں مقرر کر رکھی ہیں کہ وہ لوٹ کر پرانی ٹہنی کی طرح ہوجاتا ہے۔ لَا الشَّمْسُ يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَ كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ}۔ نہ آفتاب کی یہ مجال ہے کہ چاند کو پکڑ ے اور نہ رات دن پر آگے بڑھ جانے والی ہے اور سب کے سب آسمان میں تیرتے پھرتے ہیں"۔ [یس : ۳۸-۴۰] برکتوں واﻻ ہے وه اللہ جو بہترین پیدا کرنے واﻻ ہے۔

اور یہ دونوں اللہ تعالیٰ کے حکم سےچلتے ہیں، ان دونوں کےچلنے میں بندوں ہی کا فائدہ ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کے لئے بہت بڑی رحمت ہے، جیسا کہ قرآن کہتا ہے: { وَسَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَائِبَيْنِ وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ} "اسی نے تمہارے لئے سورج چاند کو مسخر کردیا ہے کہ برابر ہی چل رہے ہیں اور رات دن کو بھی تمہارے کام میں لگا رکھا ہے"۔ [ابراھیم : ۳۳] اوراللہ تعالیٰ نے فر مایا: {وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ} "اور سورج اور چاند اور دوسرے ستاروں کو پیدا کیا ایسے طور پر کہ سب اس کے حکم کے تابع ہیں"۔ [الأعراف : ۵۴]

اور اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کو ایک عظیم حکمت کے لیے پیدا کیا جس کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا ہے، اور انہی حکمتوں میں سے چند کا ذکر اللہ عز وجل کے اس فرمان میں ہوا ہے: فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ } "وہ صبح کا نکالنے والا اس نے رات کو راحت کی چیز بنایا ہے اور سورج اور چاند کو حساب سے رکھا ہے یہ ٹھہرائی بات ہے ایسی ذات کی جو قادر ہے بڑے علم والا ہے"۔ [الأنعام: ۹۶] اور’’حُسْبَانًا ‘‘ کی تفسیر میں ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ’’حُسْبَانًا ‘‘ سے مراد یہاں دن، مہینے اور سال ہیں۔ (تفسیر الطبری :558/11) اورخود اللہ تعالیٰ نے بھی بعض مقام پر سورج اور چاند کی پیدائش کی حکمتیں بیان کی ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ مَا خَلَقَ اللَّهُ ذَلِكَ إِلَّا بِالْحَقِّ يُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ} "وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے جس نے آفتاب کو چمکتا ہوا بنایا اور چاند کو نورانی بنایا اور اس کے لیے منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کرلیا کرو، اللہ تعالیٰ نے یہ چیزیں بے فائدہ نہیں پیدا کیں، وہ یہ دلائل ان کو صاف صاف بتلارہا ہے جو دانش رکھتے ہیں"۔ [ یونس: ۵]

ہمارا ایمان ہے کہ ان دونوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی عظیم نشانیوں میں سے ایسی نشانی قرار دیا جواس کى ربوبیت پر دلالت کرتى ہے, اور اس کى یہ ربوبیت اس کى الوہیت کو مستلزم ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ فَأَنَّى يُؤْفَكُونَ} "اگر آپ ان سب سے پوچھیں کہ زمین اور آسمان کو کس نے پیدا کیا اور سورج و چاند کو کس نے مسخر کیا؟ تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ پھر تم کہاں بہکے جا رہے ہو؟" [العنکبوت: ۶۱] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَمِنْ آيَاتِهِ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ } "اور دن رات اور سورج چاند بھی (اسی کی) نشانیوں میں سے ہیں، تم سورج کو سجدہ نہ کرو نہ چاند کو، بلکہ سجدہ اس اللہ کے لئے کرو جس نے سب کو پیدا کیا ہے اگر تمہیں اس کی عبادت کرنی ہے تو"۔ [فصلت: ۳۷] اور ’’الصحیح‘‘ میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’إِنَّ الشَّمْسَ وَالقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، لاَ يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُخَوِّفُ بِهَا عِبَادَهُ‘‘۔ "سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سےدو نشانیاں ہیں، کسی کے موت و حیات پر وہ دونوں گرہن زدہ نہیں ہوتے، لیکن اللہ تعالیٰ ان نشانیوں کے ذریعہ اپنے بندو ں کو ڈراتا ہے"۔ (صحیح بخاری :۱۰۴۸، سنن النسائی :۱۴۵۹)

ہمارا ایمان ہے کہ دیگر مخلوقات کی طرح سورج چاند بھی اللہ کے لئے سجدہ کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: { أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَسْجُدُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَكَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ وَكَثِيرٌ حَقَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ وَمَنْ يُهِنِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ مُكْرِمٍ إِنَّ اللَّهَ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ} "کیا تو نہیں دیکھ رہا کہ اللہ کے سامنے سجدے میں ہیں سب آسمانوں والے اور سب زمینوں والے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے انسان بھی ہاں بہت سے وہ بھی ہیں جن پر عذاب کا مقولہ ثابت ہوچکا ہے، جسے اللہ تعالیٰ ذلیل کر دے اسے کوئی عزت دینے والا نہیں، اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے"۔ [ الحج : ۱۸]

ہمارا ایمان ہے کہ سورج روزانہ عرش کے نیچے سجدہ کرتا ہے، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے اس کی خبر دیا ہے۔ ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سورج غروب ہوگیا تو اللہ کے رسول ﷺ نے ان سے فرمایا : ’’أَتَدْرِي أَيْنَ تَذْهَبُ؟ قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:فَإِنَّهَا تَذْهَبُ حَتَّى تَسْجُدَ تَحْتَ العَرْشِ، فَتَسْتَأْذِنَ فَيُؤْذَنُ لَهَا وَيُوشِكُ أَنْ تَسْجُدَ، فَلاَ يُقْبَلَ مِنْهَا، وَتَسْتَأْذِنَ فَلاَ يُؤْذَنَ لَهَا يُقَالُ لَهَا: ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ، فَتَطْلُعُ مِنْ مَغْرِبِهَا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا ذَلِكَ تَقْدِيرُ العَزِيزِ العَلِيمِ} [يس: ۳۸]‘‘۔ کیا تم جانتے ہو کہ وہ کہاں جا رہا ہے؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں، فرمایا: وہ عرش کے نیچے سجدہ کرنے جا رہا ہے پھر وہ اجازت طلب کرے گا تو اسے اجازت مل جا ئے گی اورممکن ہے کہ وہ سجدہ کرے تو قبول نہ کیا جا ئے اور اجازت طلب کرے تو اسے اجازت نہ دی جا ئے اور کہا جا ئے کہ تو جہاں سے آیا ہے وہیں لوٹ جا تو وہ مغرب سے طلوع ہوگا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا ذَلِكَ تَقْدِيرُ العَزِيزِ العَلِيمِ}[يس: ۳۸] سورج اپنے قرار گاہ پر چلتا ہے اور یہ مقرر کردہ ہے غالب اور سب کچھ جننے والا کا"۔ (صحیح بخاری: ۳۱۹۹، صحیح مسلم: ۱۵۹، سنن أبی داود: ۴۰۰۲، جامع الترمذي: ۲۱۸۶، ۳۲۲۷)

باب: ستاروں کی تخلیق کا بیان

ہم ایمان رکھتے ہیں کہ اور ستارے بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں اور انہیں بھی اللہ نے کسی عظیم حکمت کے تحت پید کیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں اپنے اس قول میں فرمایا: {وَعَلَامَاتٍ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ} "اور بھی بہت سی نشانیاں مقرر فرمائیں اور ستاروں سے بھی لوگ راہ حاصل کرتے ہیں"۔ [النحل: 16] ابو قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ’’والعلامات: النجوم، وإن الله تبارك وتعالى إنما خلق هذه النجوم لثلاث خصلات: جعلها زينة للسماء، وجعلها يهتدي بها، وجعلها رجوما للشياطين. فمن تعاطى فيها غير ذلك، فقد رأيه وأخطأ حظه و أضاع نصيبه وتكلَّف ما لا علم له به‘‘ "علامات سےمراد: ستارے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے تین کاموں کے لئےستاروں کو پیدا کیا (۱) انہیں آسمان کی زینت بنایا۔ (۲) انہیں رہنمائی کا ذریعہ بنایا۔(۳) انہیں شیطانوں کے مارنے کا ذریعہ بنایا۔ اب ان کے علاوہ اگر کوئی اور کو ئی سبب بتاتا ہے تو اس کی بات غلط تسلیم کی جا ئے گی اور اس کا حصہ برباد ہو جا ئے گا، کیوں کہ اس نے اپنے آپ کو ایسی بات کا مکلف بنایا ہے جس کا اس کے پاس علم نہیں ہے"۔ (تفسیر الطبری: ۱۷/ ۱۸۵)

اور ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ: ’’صَلَّيْنَا الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قُلْنَا: لَوْ جَلَسْنَا حَتَّى نُصَلِّيَ مَعَهُ الْعِشَاءَ قَالَ فَجَلَسْنَا، فَخَرَجَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: مَا زِلْتُمْ هَاهُنَا؟قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّيْنَا مَعَكَ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ قُلْنَا: نَجْلِسُ حَتَّى نُصَلِّيَ مَعَكَ الْعِشَاءَ، قَالَ أَحْسَنْتُمْ أَوْ أَصَبْتُمْ، قَالَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، وَكَانَ كَثِيرًا مِمَّا يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَالَ: النُّجُومُ أَمَنَةٌ لِلسَّمَاءِ، فَإِذَا ذَهَبَتِ النُّجُومُ أَتَى السَّمَاءَ مَا تُوعَدُ، وَأَنَا أَمَنَةٌ لِأَصْحَابِي، فَإِذَا ذَهَبْتُ أَتَى أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ، وَأَصْحَابِي أَمَنَةٌ لِأُمَّتِي، فَإِذَا ذَهَبَ أَصْحَابِي أَتَى أُمَّتِي مَا يُوعَدُونَ‘‘۔ "ہم نے اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز ادا کی۔ پھر ہم نے سوچا کہ کاش ہم بیٹھے رہتے تا کہ ہم آپ ﷺکے ساتھ عشاء کی نماز بھی پڑھ لیں۔ فرماتے ہیں کہ: ہم بیٹھ گئے، پھر آپ ہمارے پاس آئے اور کہا کہ ابھی تم سب یہیں ہو؟ ہم نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! ہم نے آپ کے ساتھ مغرب کی نماز ادا کی تو سوچے کہ بیٹھے رہیں یہاں تک کہ عشاء کی نماز بھی آپ ہی کے ساتھ ادا کرلیں، تو آپ نے کہا کہ تم سب نے اچھا کیا یا تم سب نے صحیح کیا، فرماتے ہیں کہ پھر آپ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور اکثر آپ اپنا سر آسمان ہی کی طرف اٹھاتے تھے پھر کہا ستارے آسمان کے امین ہیں، جب ستارے ختم ہوجائیں گے تو آسمان کے پاس وہ تمام چیزیں آئیں گی جن کا اس سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ اور میں صحابہ کا امین ہوں، جب میں چلے جاؤں گا تو صحابہ کے پاس وہ تمام چیزیں آئیں گی جن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ اور میرے صحابہ میری امت کے امین ہیں، جب میرے صحابہ چلے جا ئیں گے تو میری امت کے پاس وہ تمام چیزیں آئیں گی جن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے"۔ (صحیح مسلم: ۲۵۳۱)

ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَجَعَلْنَاهَا رُجُومًا لِلشَّيَاطِينِ} "یقینا ہم نے آسمانِ دنیا کو ستاروں سے مزین کیا اور ہم نے اسے شیطانوں کے مارنے کا ذریعہ بنایا"۔ [الملک: ۵]

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ: ’’ أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَنْصَارِ، أَنَّهُمْ بَيْنَمَا هُمْ جُلُوسٌ لَيْلَةً مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُمِيَ بِنَجْمٍ فَاسْتَنَارَ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَاذَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، إِذَا رُمِيَ بِمِثْلِ هَذَا؟ قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، كُنَّا نَقُولُ وُلِدَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ عَظِيمٌ، وَمَاتَ رَجُلٌ عَظِيمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَإِنَّهَا لَا يُرْمَى بِهَا لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنْ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى اسْمُهُ، إِذَا قَضَى أَمْرًا سَبَّحَ حَمَلَةُ الْعَرْشِ، ثُمَّ سَبَّحَ أَهْلُ السَّمَاءِ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، حَتَّى يَبْلُغَ التَّسْبِيحُ أَهْلَ هَذِهِ السَّمَاءِ الدُّنْيَا ثُمَّ قَالَ: الَّذِينَ يَلُونَ حَمَلَةَ الْعَرْشِ لِحَمَلَةِ الْعَرْشِ: مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ فَيُخْبِرُونَهُمْ مَاذَا قَالَ: قَالَ فَيَسْتَخْبِرُ بَعْضُ أَهْلِ السَّمَاوَاتِ بَعْضًا، حَتَّى يَبْلُغَ الْخَبَرُ هَذِهِ السَّمَاءَ الدُّنْيَا، فَتَخْطَفُ الْجِنُّ السَّمْعَ فَيَقْذِفُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ، وَيُرْمَوْنَ بِهِ، فَمَا جَاءُوا بِهِ عَلَى وَجْهِهِ فَهُوَ حَقٌّ، وَلَكِنَّهُمْ يَقْرِفُونَ فِيهِ وَيَزِيدُونَ‘‘۔ "مجھے ایک انصاری صحابی نے بتایا کہ وہ رات کو اللہ کے رسول ﷺکے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ایک ستارہ ٹوٹا اور چمکا تو اللہ کے رسول ﷺنے فرمایا: تم دورجاہلیت میں اسے کیا کہتے تھے جب اس طرح کوئى ستارا ٹوٹتا تھا؟ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں لیکن ہم یوں کہتے: آج کی رات کوئی بڑا شخص پیدا ہوا ہے یا مرا ہے، تواللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: یہ کسی کے مرنے یا پیدا ہونے کی وجہ سے نہیں ٹوٹتا، لیکن ہمارا وہ رب جو با برکت ہے اور جس کا نام بلند وبرتر ہے وہ جب کسی کام کا فیصلہ کرتاہے تو عرش کے اٹھانے والے فرشتے اس کی پاکی بیان کرتے ہیں پھر ان کے پاس والے آسمان کے فرشتے پاکی بیان کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ تسبیح پہلے آسمان والوں تک پہنچتی ہے پھر جو لوگ عرش اٹھانے والے فرشتوں سے قریب ہیں وہ ان سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا کہا؟ وہ انہیں وہ بات بتاتے ہیں جو اس نے کہا ہے، اسی طرح آسمان والے ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں یہاں تک کہ وہ خبر پہلے آسمان والوں تک آتی ہے تو جِن چپکے چپکے سنتے ہیں (اور ان سے وہ خبر اچک لیتے ہیں) اور اپنے دوستوں کو آ کر سناتے ہیں، تو ان کو (اس وقت) ان ستاروں سے مارا جاتا ہے۔ پھر جو خبر وہ ان کے پاس لاتے ہیں وہ صحیح ہوتی ہے لیکن وہ اس میں جھوٹ ملاکر زیادہ کردیتے ہیں"۔ (صحیح مسلم: ۲۲۲۹)

نبی ﷺ کی آمد سے پہلے جن و شیاطین آسمان کی باتیں چپکے چپکے سنتے تھے لیکن نبی ﷺ کى بعثت کے بعد انہیں روک دیا گیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرمایا: {وَأَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ فَمَنْ يَسْتَمِعِ الْآنَ يَجِدْ لَهُ شِهَابًا رَصَدًا} "اور یقینا اس سے پہلے ہم باتیں سننے کے لئے آسمان میں جگہ جگہ بیٹھ جایا کرتے تھے، اب جو بھی کان لگاتا ہے وہ ایک شعلے کو اپنی تاک میں پاتا ہے"۔ [الجن : 9] اور ارشاد باری تعالیٰ ہے: {إِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِزِينَةٍ الْكَوَاكِبِ*۔ "ہم نے آسمانِ دنیا کو ستاروں کی زینت سے آراستہ کیا۔ وَحِفْظًا مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ مَارِدٍ*۔ اور حفاظت کی سرکش شیطان سے۔ لَا يَسَّمَّعُونَ إِلَى الْمَلَإِ الْأَعْلَى وَ يُقْذَفُونَ مِنْ كُلِّ جَانِبٍ*۔ عالمِ بالا کے فرشتوں (کی باتوں) کو سننے کے لئے وہ کان بھی نہیں لگا سکتے بلکہ ہر طرف سے وہ مارے جاتے ہیں۔ دُحُورًا وَلَهُمْ عَذَابٌ وَاصِبٌ*َ۔ بھگانے کے لئے اور اُن کے لئے دائمی عذاب ہے۔ إِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ ثَاقِبٌ} مگر جو کوئی ایک آدھ بات اچک لے بھاگے تو (فوراً ہی) اس کے پیچھے دہکتا ہوا شعلہ لگ جاتا ہے"۔ [الصافات : 6-10]

اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ:’’كَانَ الجِنُّ يَصْعَدُونَ إِلَى السَّمَاءِ يَسْتَمِعُونَ الوَحْيَ، فَإِذَا سَمِعُوا الكَلِمَةَ زَادُوا فِيهَا تِسْعًا، فَأَمَّا الكَلِمَةُ فَتَكُونُ حَقًّا، وَأَمَّا مَا زَادُوهُ فَيَكُونُ بَاطِلًا، فَلَمَّا بُعِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنِعُوا مَقَاعِدَهُمْ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِإِبْلِيسَ، وَ لَمْ تَكُنِ النُّجُومُ يُرْمَى بِهَا قَبْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُمْ إِبْلِيسُ: مَا هَذَا إِلَّا مِنْ أَمْرٍ قَدْ حَدَثَ فِي الأَرْضِ، فَبَعَثَ جُنُودَهُ فَوَجَدُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا يُصَلِّي بَيْنَ جَبَلَيْنِ أُرَاهُ قَالَ: بِمَكَّةَ، فَلَقُوهُ فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ: هَذَا الْحَدَثُ الَّذِي حَدَثَ فِي الْأَرْضِ‘‘۔ "جن آسمان کی طرف چڑھ کر وحی سنتے تھے، اگر وہ ایک بات سنتے تو اس میں نو کا اضافہ کردیتے، رہی بات اس کلمے کی جو وہ سنتے تھے تو وہ حق ہوتا تھا لیکن جو بات وہ اس کے ساتھ ملاتے تھے وہ باطل ہوتی تھی۔ لیکن جب اللہ کے رسولﷺ مبعوث کئے گئے تو انہیں ان کی نشستوں سے روک دیا گیا تو انہوں نے اس کا تذکرہ ابلیس سے کیا: اس سے پہلے انہیں ستاروں کے ذریعہ نہیں مارا جاتا تھا، ابلیس نے ان سے کہا:زمین میں کوئی حادثہ رونما ہوا ہے، اس نے(پتا لگانے کے لیے) اپنے لشکر بھیجا، انہیں اللہ کے رسول ﷺ دو پہاڑوں کے درمیان کھڑے نماز پڑھتے ہوئے ملے، راوی فرماتے ہیں کہ: میرے خیال سے یہ واقعہ مکہ میں پیش آیا۔ تو یہ افراد ابلیس سے ملے اور واقعہ کی تفصیل سے آگاہ کیا تو اس نے کہا یہی وہ واقعہ ہے جو زمین میں رونما ہواہے"۔ (جامع الترمذی : ۳۳۲۴، مسند أحمد :۲۴۸۲، سنن النسائی الکبری :۱۱۵۶۲، مسند أبی یعلی :۲۵۰۲)

ہمارا یہ ایمان ہے کہ ستارے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں اور نہ ہی کسی آسمانی اور ارضی حادثے میں ان کا کچھ اثر ہوتا ہے۔ اور جو یہ عقیدہ رکھے کہ یہ ستارے بذات خود اثر انداز ہوتے ہیں تو وہ مشرک ہے یا کافر۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ: ’’مُطِرَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَصْبَحَ مِنَ النَّاسِ شَاكِرٌ وَمِنْهُمْ كَافِرٌ، قَالُوا: هَذِهِ رَحْمَةُ اللهِ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَقَدْ صَدَقَ نَوْءُ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ: فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ} [الواقعة: ۷۵]، حَتَّى بَلَغَ: {وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ} [الواقعة: ۸۲]‘‘۔ نبی ﷺ کے عہد میں لوگوں پر بارش نازل کی گئی تو نبی ﷺ نے فرمایا: لوگوں میں سے بعض نے شکر گزار ہو کر صبح کی اور بعض نے نا شکری کی حالت میں اور( بعض) لوگو ں نے کہا کہ یہ اللہ کی رحمت ہے اور انہیں میں سے بعض نے کہا کہ فلاں اور فلاں نوء نچھتر سچے نکلے۔ فرماتے ہیں کہ تب یہ آیت نازل ہوئی {فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ} "میں ستاروں کے گرنے کی جگہوں کی قسم کھاتا ہوں"، سے {وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ} "تم اسے جھٹلا کر اپنی روزی حاصل کرتے ہو"، تک نازل ہو ئی۔(الواقعہ: ۷۲۔ ۸۲) (صحیح مسلم: ۷۳)

اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’أَخْوَفُ مَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي فِي آخِرِ زَمَانِهَا إِيمَانٌ بِالنُّجُومِ، وَتَكْذِيبٌ بِالْقَدَرِ، وَحَيْفُ السُّلْطَانِ‘‘۔ "مجھے اپنی امت پر آخری زمانے میں سب سے زیادہ خوف ستاروں پر ایمان لانے، تقدیر کے جھٹلانے اور بادشاہوں کے ظلم کا ہے"۔ (منسد الرویانی : ۱۲۴۵، معجم الطبرانی فی الکبیر : ۸۱۱۳)

اللہ کے نبی ﷺ نے علم نجوم حاصل کرنے سے منع فرمایا ہے۔ جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’مَنْ اقْتَبَسَ عِلْمًا مِنَ النُّجُومِ، اقْتَبَسَ شُعْبَةً مِنَ السِّحْرِ زَادَ مَا زَادَ‘‘۔ "جس نے علم نجوم کا کوئی حصہ اخذ کیا تو اس نے جادو کا ایک حصہ اخذ کیا، وہ جتنا اضافہ کرے گا اتنا ہی اضافہ ہو گا"۔ ( سنن آبی داود : ۳۹۰۵، سنن ابن ماجہ : ۳۷۲۶، مصنف ابن أبی شیہ ۲۶۱۵۹، مسند أحمد : ۲۰۰۰، المنتخب من مسند عبد بن حميد: ۷۱۴)۔

ستارو ں کی بابت صرف اتنا علم حاصل کرنا جائز ہے کہ جتنے سے آپ کو خشکی یا تری میں رہنمائی مل جا ئے کیوں کہ علم اس سے زیادہ علم نجوم کا سیکھنا کہانت کا سبب بنتا ہے۔ سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ: ’ ’جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ أَوْصِنِي، فَقَالَ: أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَإِيَّاكَ وَذِكْرَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا سَبَقَ لَهُمْ مِنَ الْفَضْلِ، وَإِيَّاكَ وَعَمَلَ النُّجُومِ إِلَّا مَا يُهْتَدَى بِهِ فِي بَرٍّ أَوْ بَحْرٍ، فَإِنَّهَا تَدْعُوا إِلَى كَهَانَةٍ، وَإِيَّاكَ وَمُجَالَسَةَ الَّذِينَ يُكَذِّبُونَ بِالْقَدَرِ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ تُسْتَجَابَ دَعْوَتُهُ وَأَنْ يُزَكَّى عَمَلُهُ وَيُقْبَلَ مِنْهُ فَلْيُصْدِقْ حَدِيثَهُ، وَلْيُؤَدِّ أَمَانَتَهُ وَلْيُسْلِمْ صَدْرَهُ لِلْمُسْلِمِينَ‘‘۔ ایک آدمی عبد اللہ بن عباس کے پاس آیا اور کہا کہ اے ابو عباس ! مجھے وصیت کیجئے تو انہوں نے کہا کہ میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں، صحابہ کا (غلط انداز میں ) تذکرہ کرنے سے بچو کیوں کہ ان کے جو فضائل ہیں وہ آپ نہیں جانتے، خشکی و تری میں رہنمائی حاصل کرنے کے علاوہ نجوم کے عمل و دخل سے بچو کیوں کہ وہ کہانت کا سبب ہے، تقدیر کو جھٹلانے والوں کی ہم نشینی سے بچو۔ جو چاہتا ہے کہ اس کی دعا قبول ہو، اس کے عمل کا تزکیہ کیا جا ئے اور اسے قبول کیا جائے وہ سچ بولے، امانت ادا کردے اور اپنا سینہ مسلمانوں کے لئے صاف رکھے"۔ (الإبانۃ الکبری لإبن بطۃ :۱۹۸۷)

باب: فرشتوں کی تخلیق کا بیان

ہمارا ایمان ہے کہ فرشتوں کو اللہ نے نور سے پیدا ہے، جیسا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’خُلِقَتِ الْمَلَائِكَةُ مِنْ نُورٍ، وَ خُلِقَ الْجَانُّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ، وَخُلِقَ آدَمُ مِمَّا وُصِفَ لَكُمْ‘‘۔ "فرشتے نور سے پیدا کئے گئے ہیں، جِن آگ کی لپٹ سے پیدا کئے گئے ہیں اور آدم اس چیز سے پیدا کئے گئے ہیں جو تمہارے لئے بیان کی گئی ہے (یعنی مٹی سے)۔ (صحیح مسلم: ۲۹۹۶)

اور اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو الگ الگ طرح بنایا ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {الْحَمْدُ لِلَّهِ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ جَاعِلِ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا أُولِي أَجْنِحَةٍ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ يَزِيدُ فِي الْخَلْقِ مَا يَشَاءُ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ} "اس اللہ کے لئے تمام تعریفیں سزاوار ہیں جو (ابتداء) آسمانوں اور زمینوں کا پیدا کرنے والا اور دو دو تین تین چار چار پروں والے فرشتوں کو اپنا پیغمبر (قاصد) بنانے والا ہے، مخلوق میں جو چاہے زیادتی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ یقیناً ہر چیز پر قادر ہے"۔ [فاطر: ۱]

آپ ﷺ نےخود بتایا ہے کہ آپ ﷺ نے جبرائیل علیہ السلام کا دیدار کیا ہے، ان کے پاس چھ سو پر ہیں اور وہ عظیم مخلوق ہیں۔ ابو اسحاق شیبانی فرماتے ہیں کہ میں نے زر بن حبیش سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: {فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى(۹) فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى(۱۰)} "پس وہ دو کمانوں کے بقدر فاصلہ پر رہ گیا بلکہ اس سے بھی کم (۹) پس اس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی جو بھی پہنچائی (۱۰)"۔ [النجم: ۹-۱۰] کی بابت پوچھا تو فرمایا ک:ہ مجھے ابن مسعود نے بتایا ہےکہ: ’’ أَنَّهُ رَأَى جِبْرِيلَ، لَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاحٍ‘‘ نبی صلى اللہ علیہ وسلم نے جبرئیل کو دیکھا ہے اس حال میں کہ ان کے پاس چھ سو پر تھے"۔ (صحیح بخاری :۳۲۳۲، صحیح مسلم :۱۷۴، جامع الترمذی : ۳۲۷۷) اور عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ’’مَنْ زَعَمَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَأَى رَبَّهُ فَقَدْ أَعْظَمَ، وَلَكِنْ قَدْ رَأَى جِبْرِيلَ فِي صُورَتِهِ وَخَلْقُهُ سَادٌّ مَا بَيْنَ الأُفُقِ‘‘ "جس نے یہ گمان کیا کہ محمد نے اپنے رب کو دیکھا ہےتو اس نے بہت بڑا بہتان باندھا، لیکن انہوں نے جبرئیل کو ان کی اصلی صورت اور خلقت میں دیکھا تھا، اس حال میں کہ انہوں (جبرئیل )نے اُفق کے درمیان کی تمام چیزوں کو ڈھانپ رکھا تھا"۔ (صحیح بخاری :۳۲۳۴، صحیح مسلم :۱۷۷، جامع الترمذی : ۳۰۶۸)

اس باب میں ہم اتنے ہی پر اکتفا کرتے ہیں ان شاء اللہ ایمان بالملائکہ والے بیان میں اس پر تفصیلی بحث کریں گے۔

باب: جِن و شیاطین کی تخلیق کا بیان

ہمارا ایمان ہے کہ جِنوں کو اللہ تعالیٰ نے آگ کی لپٹ سے پیدا کیا ہے، جیسا کہ اللہ عز وجل نے فرمایا: {وَالْجَانَّ خَلَقْنَاهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَارِ السَّمُومِ } "اس سے(انسانوں کی تخلیق سے ) پہلے جِنات کو ہم نے لُو والی آگ سے پیدا کیا"۔ [الحجر: ۲۷) اور یہ بھی فر مایا: {وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ } "اور جِنات کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا"۔ [الرحمن : ۱۵] اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’خُلِقَتِ الْمَلَائِكَةُ مِنْ نُورٍ، وَخُلِقَ الْجَانُّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ، وَخُلِقَ آدَمُ مِمَّا وُصِفَ لَكُمْ‘‘۔ "فرشتے نور سے پیداکئے گئے، جِن آگ کی لپٹ سے پیدا کئے گئے اور آدم اس چیز سے پیدا کئے گئے ہیں جو تمہارے لئے بیان کی گئی ہے (یعنی مٹی سے)"۔ (صحیح مسلم: ۲۹۹۶)

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جِن و انس کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ} "میں نے جِنات اور انسانوں کو محض اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں"۔ (الذاریات : ۵۶) اور جِنوں میں صرف ڈرانے والے تھے لیکن رسول کوئی نہیں تھا، جیسا کہ فرمان الہی ہے: {وَإِذْ صَرَفْنَا إِلَيْكَ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ فَلَمَّا حَضَرُوهُ قَالُوا أَنْصِتُوا فَلَمَّا قُضِيَ وَلَّوْا إِلَى قَوْمِهِمْ مُنْذِرِينَ} "اور یاد کرو ! جبکہ ہم نے جِنوں کی ایک جماعت کو تیری طرف متوجہ کیا کہ وہ قرآن سنیں، پس جب (نبی کے) پاس پہنچ گئے تو (ایک دوسرے سے) کہنے لگے خاموش ہوجاؤ پھر جب پڑھ کر ختم ہوگیا تو اپنی قوم کو خبردار کرنے کے لئے واپس لوٹ گئے"۔ [الأحقاف: ۲۹] اورابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ: ’’الرُّسُلُ مِنْ بَنِي آدَمَ، وَمِنَ الْجِنِّ نُذُر‘‘۔ " سارے رسول انسانوں ہی میں سے تھے، اور جِنوں میں صرف ڈرانے والے آئے ہیں"۔ ( تفسیر ابن کثیر :3/340)

رہی بات اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی کہ { يَامَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِنْكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِي} اے جِن واِنس کی جماعت ! کیا تمہارے پاس تم ہی میں سےرسول نہیں آئے جو تم پر میری آیتیں بیان کرتے؟۔ (الأنعام : ۱۳۰) تو یہاں کل بول کر جز مراد لیا گیا ہے ، یہاں صرف انسان مخاطب ہیں، اس خطاب میں جن شامل نہیں ہیں جیسا کہ اللہ تعالی یہ فرمان { وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا} اور چاند کو ان میں روشن بنایا۔ [نوح :۱۶] اور جیسےکہ اس فرمان {فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا } "تو انہوں (قوم ثمود) نے اسے (صالح علیہ السلام کو) جھٹلایا اور اسے (اونٹنی کو) ذبح کردیا"۔ (الشمس :۱۴) میں پورى قوم ثمود کو بولا گیا ہے جب کہ ان میں اونٹنی کو مارنے والا صرف ایک ہی تھا۔

ہمارا ایمان ہے کہ جِنوں کو اللہ تعالیٰ نے انسانوں سے پہلے پیدا کیا ہے، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {وَالْجَانَّ خَلَقْنَاهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَارِ السَّمُومِ } "اس سے پہلے جِنات کو ہم نے لُو والی آگ سے پیدا کیا"۔ [الحجر: ۲۷] شیطانوں کا سردار ابلیس ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کے شر سے محفوظ رکھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے دوسرے جنوں اور شیطانوں کی طرح آگ سے پیدا کیا۔ ابلیس کے بارے میں خبر دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: { أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ } "میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا اور اس کو تو نے خاک سے پیدا کیا"۔ [الأعراف: ۱۲] اور ابلیس جِنوں میں سے تھا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ أَمْرِ رَبِّهِ } "اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ تم آدم کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سِوا سب نے سجدہ کیا، یہ جِنوں میں سے تھا اس نے اپنے رب کی نافرمانی کی"۔ [ الکھف:۵۰]

ابلیس ہی نے آدم و حوا علیہما السلام کودھوکہ د ے کر گمراہ کیا یہاں تک کہ اس نےجنت سے نکلوادیا، چونکہ اس نے ان دونوں کے دل و دماغ میں وسوسہ ڈال کر شجرئہ ممنوعہ کی طرف مائل کردیا اور قسم کھا کر بولا کہ میں تم دونوں کا خیر خواہ ہوں، اب وہ دونوں اس کی باتوں میں آگئےاورشجرئہ ممنوعہ کا پھل کھا لئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: { وَيَاآدَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ *۔ "اور ہم نے حکم دیا کہ اے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو۔ پھر جس جگہ سے چاہو دونوں کھاؤ، اوراس درخت کے پاس مت جاؤ ورنہ تم دونوں ﻇالموں میں سے ہوجاؤ گے۔ فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّيْطَانُ لِيُبْدِيَ لَهُمَا مَا وُورِيَ عَنْهُمَا مِنْ سَوْآتِهِمَا وَقَالَ مَا نَهَاكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ إِلَّا أَنْ تَكُونَا مَلَكَيْنِ أَوْ تَكُونَا مِنَ الْخَالِدِينَ *۔ پھر شیطان نے ان دونوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالا تاکہ ان کی شرمگاہیں جو ایک دوسرے سے پوشیدہ تھیں دونوں کے روبرو بے پردہ کردے اور کہنے لگا کہ تمہارے رب نے تم دونوں کو اس درخت سے اور کسی سبب سے منع نہیں فرمایا، مگر محض اس وجہ سے کہ تم دونوں کہیں فرشتے ہوجاؤ یا کہیں ہمیشہ زندہ رہنے والوں میں سے ہوجاؤ۔ وَقَاسَمَهُمَا إِنِّي لَكُمَا لَمِنَ النَّاصِحِينَ*۔ اور ان دونوں کے روبرو قسم کھالی کہ یقین جانیئے میں تم دونوں کا خیر خواہ ہوں۔ فَدَلَّاهُمَا بِغُرُورٍ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْآتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَرَقِ الْجَنَّةِ وَنَادَاهُمَا رَبُّهُمَا أَلَمْ أَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَأَقُلْ لَكُمَا إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُبِينٌ*۔ سو ان دونوں کو فریب سے نیچے لے آیا پس ان دونوں نے جب درخت کو چکھا دونوں کی شرمگاہیں ایک دوسرے کے روبرو بے پردہ ہوگئیں اور دونوں اپنے اوپر جنت کے پتے جوڑ جوڑ کر رکھنے لگے اور ان کے رب نے ان کو پکارا کیا میں تم دونوں کو اس درخت سے منع نہ کرچکا تھا اور یہ نہ کہہ چکا کہ شیطان تمہارا صریح دشمن ہے؟ ۔ قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ} دونوں نے کہا اے ہمارے رب! ہم نے اپنا بڑا نقصان کیا اور اگر تو ہماری مغفرت نہ کرے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو واقعی ہم نقصان پانے والوں میں سے ہوجائیں گے"۔ [الأعراف: ۱۹۔۲۳]

ہمارا ایمان ہے کہ جب شیطان نے آدم کا سجدہ کرنے سے انکار کردیا تو اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوا، اللہ تعالی نے اسے ملعون قرار دیا اور اسے ہمیشگی والی جنت سے بھگا دیا اور جب اس نے اللہ تعالی سے قیامت تک کے لئے مہلت طلب کی تو من جانب اللہ اسے مہلت مل گئی، مہلت ملتے ہی اس نے اللہ تعالی کی عزت کی قسم کھا کر کہا کہ میں سوائے مخلص اور نیک بندوں کے تمام انسانوں کو فتنے میں مبتلا کروں گا جیسا کہ اللہ تعالی نے اس کے مکرو فریب اور چال بازی کا تذکرہ کرتے ہو ئے فرمایا: {إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِنْ طِينٍ *۔ "جبکہ آپ کے رب نے فرشتوں سے ارشاد فرمایا کہ میں مٹی سے انسان کو پیدا کرنے والا ہوں۔ {فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ*۔ تو جب میں اسے پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے لیے سجدے میں گر پڑنا۔ فَسَجَدَ الْمَلَائِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ *۔ چنانچہ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا ۔ إِلَّا إِبْلِيسَ اسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ* مگر ابلیس نے (نہ کیا)، اس نے تکبر کیا اور وہ تھا کافروں میں سے۔ قَالَ يَاإِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ أَسْتَكْبَرْتَ أَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِينَ *۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے ابلیس! تجھے اسے سجدہ کرنے سے کس چیز نے روکا، جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا، کیا تو کچھ گھمنڈ میں آگیا ہے؟ یا تو بڑے درجے والوں میں سے ہے۔ قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ *۔ اس نے جواب دیا کہ میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے بنایا، اور اسے مٹی سے بنایا ہے۔ قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَإِنَّكَ رَجِيمٌ*۔ ارشاد ہوا کہ تو یہاں سے نکل جا تو مردود ہوا ۔ وَإِنَّ عَلَيْكَ لَعْنَتِي إِلَى يَوْمِ الدِّينِ *۔ اور تجھ پر قیامت کے دن تک میری لعنت وپھٹکار ہے۔ قَالَ رَبِّ فَأَنْظِرْنِي إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ*۔ کہنے لگا میرے رب مجھے لوگوں کے اٹھ کھڑے ہونے کے دن تک مہلت دے ۔ قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِينَ*۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تو مہلت پانے والوں میں سے ہے۔ إِلَى يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ * متعین وقت کے دن تک۔ قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ *۔ کہنے لگا پھر تو تیری عزت کی قسم! میں ان سب کو یقیناً بہکا دوں گا ۔ إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ } بجز تیرے ان بندوں کے جو چیدہ اور پسندیدہ ہوں"۔ [ ص: ۷۱- ۸۳] اور شیطان بولا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا: { قَالَ فَبِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ *۔ "اس نے کہا بسبب اس کے کہ تو نے مجھ کو گمراہ کیا ہے میں قسم کھاتا ہوں کہ میں ان کے لئے تیری سیدھی راہ پر بیٹھوں گا۔ ثُمَّ لَآتِيَنَّهُمْ مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وَعَنْ شَمَائِلِهِمْ وَلَا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ } پھر ان پر حملہ کروں گا ان کے آگے سے بھی اور ان کے پیچھے سے بھی اور ان کی داہنی جانب سے بھی اور ان کی بائیں جانب سے بھی اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا"۔ [الأعراف: 16، 17].

جِن بھی شریعت کے مخاطب اور احکامِ شریعت کے مکلف ہیں، کیوں کہ انہیں بھی ڈرانے والوں اور رسولوں سے وحی کی باتیں سننے اور اس کو سمجھنے کی طاقت و قوت حاصل ہے؛ اسی لئےانہوں نے قرآن سن کر جو کہا تھا، اسے اللہ تعالیٰ نے بایں الفاظ بیان کیا: {وَإِذْ صَرَفْنَا إِلَيْكَ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ فَلَمَّا حَضَرُوهُ قَالُوا أَنْصِتُوا فَلَمَّا قُضِيَ وَلَّوْا إِلَى قَوْمِهِمْ مُنْذِرِينَ*۔ "اور یاد کرو! جبکہ ہم نے جِنوں کی ایک جماعت کو تیری طرف متوجہ کیا کہ وہ قرآن سنیں، پس جب )(نبی کے) پاس پہنچ گئے تو (ایک دوسرے سے) کہنے لگے خاموش ہو جاؤ پھر جب پڑھ کر ختم ہوگیا تو اپنی قوم کو خبردار کرنے کے لئے واپس لوٹ گئے۔ قَالُوا يَاقَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا كِتَابًا أُنْزِلَ مِنْ بَعْدِ مُوسَى مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ وَإِلَى طَرِيقٍ مُسْتَقِيمٍ} کہنے لگے اے ہماری قوم! ہم نے یقیناً وہ کتاب سنی ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد نازل کی گئی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے جو سچے دین کی اور راہ راست کی طرف رہنمائی کرتی ہے"۔ [الأحقاف : ۲۹-۳۰]

ہم انسانوں کی طرح جِنوں میں بھی کچھ اچھے لوگ تو کچھ برے لوگ ہیں، کچھ نیک ہیں تو کچھ بد ہیں، اُن میں سے ایمان لانے والا بھی جنت میں جائے گا، اور کفر کرنے والا جہنم میں جا ئے گا، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {وَأَنَّا مِنَّا الصَّالِحُونَ وَمِنَّا دُونَ ذَلِكَ كُنَّا طَرَائِقَ قِدَدًا} "اور یہ کہ (بیشک) بعض تو ہم میں نیکوکار ہیں اور بعض اس کے برعکس بھی ہیں، ہم مختلف طریقوں سے بٹے ہوئے ہیں"۔ [الجن: ۱۱] ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {وَأَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُونَ وَمِنَّا الْقَاسِطُونَ فَمَنْ أَسْلَمَ فَأُولَئِكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا*۔ "ہاں ہم میں بعض تو مسلمان ہیں اور بعض بےانصاف ہیں پس جو فرمانبردار ہوگئے انہوں نے تو راہ راست کا قصد کیا۔ وَأَمَّا الْقَاسِطُونَ فَكَانُوا لِجَهَنَّمَ حَطَبًا} اور جو ظالم ہیں وہ جہنم کا ایندھن بن گئے"۔ [الجن: ۱۴-۱۵]

فرشتے بھی روز قیامت فاجرو فاسق اور سرکش انسان کو سرزنش کریں گے، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {يَامَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِنْكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِي وَيُنْذِرُونَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَذَا قَالُوا شَهِدْنَا عَلَى أَنْفُسِنَا وَغَرَّتْهُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَشَهِدُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَنَّهُمْ كَانُوا كَافِرِينَ} "اے جنات اور انسانوں کی جماعت ! کیا تمہارے پاس تم میں سے پیغمبر نہیں آئے تھےجو تم سے میرے احکام بیان کرتے اور تم کو آج کے دن کی خبر دیتے؟ وہ سب عرض کریں گے کہ ہم اپنے اوپر اقرار کرتے ہیں اور ان کو دنیاوی زندگی نے بھول میں ڈالے رکھا اور یہ لوگ اقرار کرنے والے ہوں گے کہ وہ کافر تھے"۔ [الأنعام: ۱۳۰] اوردوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا: {قَالَ ادْخُلُوا فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ فِي النَّارِ} "(اللہ تعالیٰ) کہے گا کہ جو فرقے تم سے پہلے گزر چکے ہیں جنات میں سے بھی اور آدمیوں میں سے بھی ان کے ساتھ تم بھی دوزخ میں جاؤ"۔ [الأعراف: ۳۸]

اور اللہ تعالیٰ نے یہ واضح کردیا ہے کہ ان کے جہنم میں جانے کا سبب ہدایت کا نہ سننا اوراسے نہ قبول کرنا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًا مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ لَهُمْ قُلُوبٌ لَا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لَا يَسْمَعُونَ بِهَا } "اور ہم نے ایسے بہت سے جن اور انسان دوزخ کے لئے پیدا کئے ہیں جن کے دل ایسے ہیں جن سے نہیں سمجھتے اور جن کی آنکھیں ایسی ہیں جن سے نہیں دیکھتے اور جن کے کان ایسے ہیں جن سے نہیں سنتے"۔ [الأعراف: ۱۷۹] یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جنوں کے پاس بھی سمجھنے کے لئے دل، دیکھنے کے لئے آنکھ اورسننے کے لئے کان ہیں۔ انہیں زور دار آواز بھی عطا کی گئی ہے جس کے ذریعہ مخلوق میں یہ وحشت پیدا کرتے اور ڈراتےہیں، جیسا کہ اس کی وضاحت کرتے ہو ئےکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَ أَجْلِبْ عَلَيْهِمْ بِخَيْلِكَ وَرَجِلِكَ} "ان میں سے تو جسے بھی اپنی آواز سے بہکا سکے گا بہکا لے اور ان پر اپنے سوار اور پیادے چڑھالے"۔ [الإسراء: ۶۴]

اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندو ں کو نصیحت کردیا ہے تاکہ شیطان انہیں دھوکہ نہ د ے سکے جیسا کہ اس نے ان کے ماں باپ یعنی آدم و حوا کو دھوکہ دیا تھا، شیطانی شکنجے سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {يَابَنِي آدَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ كَمَا أَخْرَجَ أَبَوَيْكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ يَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوْآتِهِمَا إِنَّهُ يَرَاكُمْ هُوَ وَقَبِيلُهُ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ إِنَّا جَعَلْنَا الشَّيَاطِينَ أَوْلِيَاءَ لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ} "اے اولاد آدم ! شیطان تم کو کسی خرابی میں نہ ڈال د ے جیسا کہ اس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے باہر کردیا ایسی حالت میں ان کا لباس بھی اتروا دیا تاکہ وہ ان کو ان کی شرم گاہیں دکھائے، وہ اور اس کا لشکر تم کو ایسے طور پر دیکھتا ہے کہ تم ان کو نہیں دیکھتے ہو ہم نے شیطانوں کو ان ہی لوگوں کا دوست بنایا ہے جو ایمان نہیں لاتے"۔ [الأعراف: ۲۷]

اور ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ بندگان الہیہ کو گمراہ کرنے، انہیں بگاڑنےاورراہ راست سے بھٹکانے میں شیطان اپنے لاؤلشکر سمیت لگا ہوا ہے لیکن اس کے باوجود وہ اللہ کے مخلص بندوں کو گمراہ نہیں کر پائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ} "اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن بہت سے شیطان پیدا کئے تھے کچھ آدمی اور کچھ جِن جن میں سے بعض بعضوں کو چکنی چپڑی باتوں کا وسوسہ ڈالتے رہتے تھے تاکہ ان کو دھوکا میں ڈال دیں اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو یہ ایسے کام نہ کرسکتے سو ان لوگوں کو اور جو کچھ یہ الزام تراشی کر رہے ہیں اس کو آپ رہنے دیجئے"۔ [الأنعام: ۱۱۲] اور رسول صلى اللہ علیہ وسلم کى حدیث ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الجِنِّ تَفَلَّتَ عَلَيَّ البَارِحَةَ - أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا - لِيَقْطَعَ عَلَيَّ الصَّلاَةَ، فَأَمْكَنَنِي اللَّهُ مِنْهُ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي المَسْجِدِ حَتَّى تُصْبِحُوا وَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ، فَذَكَرْتُ قَوْلَ أَخِي سُلَيْمَانَ: رَبِّ هَبْ لِي مُلْكًا لاَ يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي ، قَالَ رَوْحٌ: فَرَدَّهُ خَاسِئًا‘‘۔ "گذشتہ رات ایک سرکش جن اچانک میرے پاس آیا (یا اسی طرح کی کوئی بات آپ نے فرمائی) تاکہ وہ میری نماز میں خلل ڈالے، لیکن اللہ نے مجھے اس پر قابو د ے دیا اور میں نے سوچا کہ مسجد کے کسی ستون کے ساتھ اسے باندھ دوں تاکہ صبح کو تم سب بھی اسے دیکھو، پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان کی یہ دعا یاد آ گئی (اے میرے رب! مجھے ایسی بادشاہت عطا کر جو میرے بعد کسی کو حاصل نہ ہو)۔ رَوْح فرماتے ہیں کہ: آپ نے اسے ذلیل کر کےبھگا دیا"۔ (صحیح بخاری:۴۱۶، صحیح مسلم: ۵۱۴) اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے کوئی شخص بھی نہیں مگر اللہ نے اس کے ساتھ جنوں میں سے اس کا ایک ساتھی مقرر کردیا ہے (جو اسے برائی کی طرف مائل رکھتا ہے۔)" انھوں (صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین) نے کہا: اللہ کے رسول اللہ ﷺ ! آپ کے ساتھ بھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "اور میرے ساتھ بھی لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے مقابلے میں میری مدد فرمائی ہے اور وہ مسلمان ہوگیا، اس لیے (اب) وہ مجھے خیر کے سوا کوئی بات نہیں کہتا۔" (صحیح مسلم: ۲۸۱۴)

سبرہ بن ابو فاکہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ’’إِنَّ الشَّيْطَانَ قَعَدَ لِابْنِ آدَمَ بِأَطْرُقِهِ، فَقَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ: تُسْلِمُ وَتَذَرُ دِينَكَ وَدِينَ آبَائِكَ وَآبَاءِ أَبِيكَ، فَعَصَاهُ فَأَسْلَمَ، ثُمَّ قَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْهِجْرَةِ، فَقَالَ: تُهَاجِرُ وَتَدَعُ أَرْضَكَ وَسَمَاءَكَ، وَإِنَّمَا مَثَلُ الْمُهَاجِرِ كَمَثَلِ الْفَرَسِ فِي الطِّوَلِ، فَعَصَاهُ فَهَاجَرَ، ثُمَّ قَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْجِهَادِ، فَقَالَ: تُجَاهِدُ فَهُوَ جَهْدُ النَّفْسِ وَالْمَالِ، فَتُقَاتِلُ فَتُقْتَلُ، فَتُنْكَحُ الْمَرْأَةُ، وَيُقْسَمُ الْمَالُ، فَعَصَاهُ فَجَاهَدَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَ مَنْ قُتِلَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَإِنْ غَرِقَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، أَوْ وَقَصَتْهُ دَابَّتُهُ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ‘‘۔ "شیطان انسان (کو گمراہ کرنے کے لیے) اس کے سارے راستوں پر بیٹھا، وہ اس کے لیے اسلام کے راستے پر بیٹھا اور کہا: کیا تو اسلام لا کر اپنے اور اپنے آباء و اجداد کے دین کو چھوڑ د ے گا؟ لیکن انسان اس کی نافرمانی کرکے مسلمان ہوجاتا ہے، پھر وہ اس کے لئے ہجرت کے راستے پر بیٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ کیا تو ہجرت کرکے اپنی زمین اور آسمان چھوڑ دے گا؟ جب کہ مہاجر کی مثال رسی میں گھوڑے کی طرح ہے لیکن وہ اس کی نافرمانی کرکے ہجرت کرلیتا ہے، پھر وہ اس کے لئے جہاد کے راستے پر آکر بیٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ تو جہاد کرے گا؟ یہ تو جان ومال کی مشقت ہے اور تو لڑائی کرے گا تو تو مارا جائے گا اور تیری عورت کا نکاح کردیا جا ئے گا، تیرا مال تقسیم کردیا جائے گا لیکن وہ اس کی نافرمانی کرکے جہاد کرتا ہے، پھر اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: جو شخص یہ سب کچھ کرے تو اللہ عزوجل پر لازم ہے کہ اسے جنت میں داخل فرمائے اور اگر کوئی قتل کر دیا جائے تو اللہ عزوجل پر لازم ہے کہ اسے جنت میں داخل فرمائے اور اگر وہ غرق ہوجائے تو بھی اللہ پر لازم ہے کہ اسے جنت میں داخل فرمائے یا اسے اس کا چوپایہ گرا دے تو بھی اللہ پر لازم ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل فرمائے"۔ (سنن النسائی : ۳۱۳۴، السنن الکبری للنسائی :۴۳۲۷، مصنف ابن أبی شیبہ :۱۹۶۷۵، مسند أحمد :۱۵۹۵۸، صحیح ابن حبان :۴۵۹۳)

اب یہیں سے اندازہ لگاؤ کہ شیطان نے جب انبیاء کو نہیں چھوڑا تو ان کے علاوہ کو تو بدرجۂ اولی نہیں چھو ڑے گا، جب اس کے شر و فتن سے انبیاء تک نہیں بچے تو ہم کہاں سے بچیں گے، ابو علاء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عثمان بن ابو العاص نبی ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: ’’ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ حَالَ بَيْنِي وَبَيْنَ صَلَاتِي وَقِرَاءَتِي يَلْبِسُهَا عَلَيَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اے اللہ کے رسول ! شیطان میرے، میری نماز اور میری قرأت کے در میان حائل ہو کر اسے مجھ پر خلط ملط کردیتا ہے تو اللہ کے رسول ﷺ نے فر مایا: ذَاكَ شَيْطَانٌ يُقَالُ لَهُ خَنْزَبٌ، فَإِذَا أَحْسَسْتَهُ فَتَعَوَّذْ بِاللهِ مِنْهُ، وَاتْفِلْ عَلَى يَسَارِكَ ثَلَاثًا، قَالَ: فَفَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَذْهَبَهُ اللهُ عَنِّي‘‘۔ وہ ایک شیطان ہے جسے خنزب کہا جاتا ہے، جب تمہیں اس کا احساس ہو تو اس سے اللہ کی پناہ طلب کرو، اور اپنے با ئیں جانب تین بار تھو کو، آپ فر ماتے ہیں: کہ میں نے ایسا کیا تو اسے اللہ تعالیٰ نے مجھ سے دور کردیا"۔ (صحیح مسلم: ۲۲۰۳)

اور ’’صحیح بخاری‘‘ میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّمِ‘‘۔ "شیطان انسانی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے"۔ (صحیح بخاری : ۷۱۷۱ ، ۲۰۳۸) امام ابن بطہ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’الإبانة الكبرى‘‘میں ایک باب اسی مفہوم پر قائم کیا ہے۔ ’’بَابُ الْإِيمَانِ بِأَنَّ الشَّيْطَانَ مَخْلُوقٌ مُسَلَّطٌ عَلَى بَنِي آدَمَ يَجْرِي مِنْهُمْ مَجْرَى الدَّمِ إِلَّا مَنْ عَصَمَهُ اللَّهُ مِنْهُ وَمَنْ أَنْكَرَ ذَلِكَ فَهُوَ مِنَ الْفِرَقِ الْهَالِكَةِ‘‘۔ یعنی باب ہے اس بات پر ایمان سے متعلق کہ شیطان مخلوق ہے، بنی آدم پر مسلط ہے، ان کے خون کے رگوں میں دوڑ رہا ہے، اس سے صرف وہی بچے گا جسے اللہ تعالیٰ بچا لے اور جس نے اس کا انکار کیا وہ ہلاک ہونے والے فرقوں میں سے ہے۔ (الإبانة الكبرلابن بطہ: 4/61)

اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ ابن آدم پر فرشتے بھی آتے ہیں اور شیطان بھی لیکن ہمارے رسول ﷺ نے شیطانی اثرات سے بچنے کا راستہ ہمیں بتا دیا ہے، عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’ إِنَّ لِلشَّيْطَانِ لَمَّةً بِابْنِ آدَمَ وَلِلْمَلَكِ لَمَّةً فَأَمَّا لَمَّةُ الشَّيْطَانِ فَإِيعَادٌ بِالشَّرِّ وَتَكْذِيبٌ بِالحَقِّ، وَأَمَّا لَمَّةُ المَلَكِ فَإِيعَادٌ بِالخَيْرِ وَتَصْدِيقٌ بِالحَقِّ،فَمَنْ وَجَدَ ذَلِكَ فَلْيَعْلَمْ أَنَّهُ مِنَ اللَّهِ فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ وَمَنْ وَجَدَ الأُخْرَى فَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، ثُمَّ قَرَأَ {الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الفَقْرَ وَيَأْمُرُكُمْ بِالفَحْشَاءِ} [البقرة: ۲۶۸] الآيَةَ‘‘۔ "انسان پر شیطان کا بھی وسوسہ ہوتا ہے اور فرشتوں کا بھی وسوسہ ہوتا ہے، رہی بات شیطانی وسوسے کی تو وہ برا ئی کا وعدہ اور حق کی تکذیب کرتا ہے اور رہی بات فرشتوں کے وسوسے کی تو وہ اچھائی کا وعدہ اورحق کی تصدیق کرتا ہے، بنا بریں جو اسے پا ئے وہ اللہ کی تعریف کرے اور دوسرا پا ئے تو شیطان رجیم سے اللہ کی پناہ طلب کرے، پھر آپ نے یہ آیت پڑھى {الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الفَقْرَ وَ يَأْمُرُكُمْ بِالفَحْشَاءِ} شیطان تم سے فقر کا وعدہ کرتا ہے اور تمہیں بے حیائی کا حکم دیتا ہے۔[البقرة: ۲۶۸] الآيَةَ"۔ (جامع الترمذی: ۲۹۸۸، الزهد لابن المبارك: ۱۴۳۵، کتاب الزهد لأحمد بن حنبل: ۸۵۴، کتاب الزهد لأبی داود: ۱۶۴)

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مومن بندے جب تک استغفار کرتے رہیں گے تب تک شیطانی مکرو فریب اور چال بازیوں سےاللہ ان کی حفاظت کرتا رہے گا، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فر مایا: ’’إِنَّ الشَّيْطَانَ قَالَ: وَعِزَّتِكَ يَا رَبِّ، لَا أَبْرَحُ أُغْوِي عِبَادَكَ مَا دَامَتْ أَرْوَاحُهُمْ فِي أَجْسَادِهِمْ، قَالَ الرَّبُّ: وَعِزَّتِي وَجَلَالِي لَا أَزَالُ أَغْفِرُ لَهُمْ مَا اسْتَغْفَرُونِي‘‘۔ "شیطان بولا کہ اے میرے رب ! تیرے عزت کی قسم میں تیرے بندوں کو بہکاتا رہوں گا جب تک ان کی روحیں ان کے جسموں میں موجود رہیں گی، رب نے کہا میرے عزت و جلال کی قسم میں انہیں تب تک معاف کرتا رہوں گا جب تک وہ مجھ سے مغفرت طلب کرتے رہیں گے"۔ (مسند أحمد: ۱۱۲۳۷، المنتخب من مسند عبد بن حميد: ۹۳۲، مسند أبی یعلی: ۱۲۷۳، ۱۳۹۹، المعجم الأوسط: ۸۷۸۸، الدعاء للطبرانی: ۱۷۷۹)

ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ شیطان انسان اور دیگر تمام مخلوق کا روپ دھار سکتا ہے۔ چنانچہ’’صحیح بخاری‘‘ میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ: ’’وَكَّلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِفْظِ زَكَاةِ رَمَضَانَ فَأَتَانِي آتٍ فَجَعَلَ يَحْثُو مِنَ الطَّعَامِ فَأَخَذْتُهُ، فَقُلْتُ لَأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ الحَدِيثَ -، فَقَالَ: إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ فَاقْرَأْ آيَةَ الكُرْسِيِّ، لَنْ يَزَالَ عَلَيْكَ مِنَ اللَّهِ حَافِظٌ، وَلاَ يَقْرَبُكَ شَيْطَانٌ حَتَّى تُصْبِحَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ مجھے اللہ کے رسول ﷺ رمضان کی زکوۃ کی حفاظت پر مامور کیا کہ اچانک میرے پاس ایک آنے والا آیا اور اناج بھرنے لگا لیکن میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا کہ میں تجھے اللہ کے رسول کے پاس لے چلوں گا پھر انہوں نے آخر تک حدیث بیان کی-تو اس نے کہا کہ جب آپ بستر پر جا ئیں تو آیۃ الکرسی پڑ ھ لیں، اللہ کی طرف سے آپ کے لئے ایک محافظ آپ کے پاس مقرر ہو جائے گا اور صبح تک شیطان آپ کے قریب نہیں آ ئے گا (ساری باتیں سن کر ) نبی ﷺ نے فرمایا: صَدَقَكَ وَهُوَ كَذُوبٌ ذَاكَ شَيْطَانٌ‘‘ کہ اس نے تم سےسچ کہا ہے لیکن وہ جھوٹا ہے، کیوں کہ وہ شیطان تھا۔ (صحیح بخاری: ۳۲۷۵، ۵۰۱۰، اسے امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنے استاد عثمان بن ہیثم سے دو جگہوں پر معلقا روایت کیا ہے)

دور جاہلیت میں لوگ -اپنی شدید جہالت کی وجہ سے- جنات کے سرداروں سے پناہ مانگتے تھے جس سے ان کے خوف اور بوجھ (تھکن) میں مزید اضافہ ہوتا تھا۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ ہمیں اطلاع دیتے ہوئے فرمایا: {وَأَنَّهُ كَانَ رِجَالٌ مِنَ الْإِنْسِ يَعُوذُونَ بِرِجَالٍ مِنَ الْجِنِّ فَزَادُوهُمْ رَهَقًا} "بات یہ ہے کہ چند انسان بعض جنات سے پناہ طلب کیا کرتے تھے جس سے جنات اپنی سرکشی میں اور بڑھ گئے"۔ [الجن: ۶]

ہم اس پر بھی ایمان رکھتے ہیں کہ بت پرست جنوں ہی کی عبادت کرتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان بت پرستوں کے معبودوں کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرمایا: {وَ يَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ يَقُولُ لِلْمَلَائِكَةِ أَهَؤُلَاءِ إِيَّاكُمْ كَانُوا يَعْبُدُونَ*۔ "اور ان سب کو اللہ اس دن جمع کرکے فرشتوں سے دریافت فرمائے گا کہ کیا یہ لوگ تمہاری عبادت کرتے تھے۔ قَالُوا سُبْحَانَكَ أَنْتَ وَلِيُّنَا مِنْ دُونِهِمْ بَلْ كَانُوا يَعْبُدُونَ الْجِنَّ أَكْثَرُهُمْ بِهِمْ مُؤْمِنُونَ } وہ کہیں گے تیری ذات پاک ہے اور ہمارا ولی تو تو ہے نہ کہ یہ بلکہ یہ لوگ جنوں کی عبادت کرتے تھے، ان میں کے اکثر کا ان ہی پر ایمان تھا"۔ [سبأ : ۴۰-۴۱]

ہمیں یہ بات بھی معلوم ہے کہ شیطان انسان سے اسی طرح کفریہ کام لےکراس سے برأت کا اظہار کرلیتا ہے، اسے تنہا اور اکیلا چھوڑ دیتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: {كَمَثَلِ الشَّيْطَانِ إِذْ قَالَ لِلْإِنْسَانِ اكْفُرْ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِنْكَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ} "شیطان کی طرح کہ اس نے انسان سے کہا کفر کر، جب وہ کفر کر چکا تو کہنے لگا میں تو تجھ سے بری ہوں، میں تو اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں"۔ [الحشر: ۱۶] اسی طرح شیطان انہیں جادو کے ذریعہ دھوکہ میں مبتلا کرتا ہے اور سیکھنے کی بھی تلقین کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَلَكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ} "لیکن شیطانو ں نے کفر کیا اس حال میں کہ وہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ [البقرۃ: ۱۰۲]

اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آخرت میں شیطان اپنے تمام ساتھیوں سے براءت کا اظہار کرلے گا، انہیں بروزِ قیامت تنہا چھوڑ د ے گا بلکہ وہ اس وقت انہیں اپنی اس اتباع پر ملامت بھی کرے گا، اللہ تعالیٰ نے شیطان کے بارے میں خبر دیاہےکہ وہ جہنم کی دہکتی ہوئی آگ میں کھڑا ہو کر اپنے ساتھیوں سے کہے گا: { وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْتُكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِنْ سُلْطَانٍ إِلَّا أَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنْفُسَكُمْ مَا أَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنْتُمْ بِمُصْرِخِيَّ إِنِّي كَفَرْتُ بِمَا أَشْرَكْتُمُونِ مِنْ قَبْلُ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ} "جب اور کام کا فیصلہ کردیا جائے گا شیطان کہے گا کہ اللہ نے تمہیں سچا وعدہ دیا تھا اور میں نے تم سے جو وعدے کئے تھے ان کے خلاف کیا میرا تو تم پر کوئی دباؤ تو تھا نہیں، ہاں میں نے تمہیں پکارا اور تم نے میری مان لی، پس تم مجھے الزام نہ لگاؤ بلکہ خود اپنے آپ کو ملامت کرو، نہ میں تمہارا فریاد رس اور نہ تم میری فریاد کو پہنچنے والے میں تو سرے سے مانتا ہی نہیں کہ تم مجھے اس سے پہلے اللہ کا شریک مانتے رہے یقیناً ظالموں کے لئے دردناک عذاب ہے"۔ [ابراھیم: ۲۲]

باب: انسانوں کی تخلیق کا بیان

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا کہ وہ اس روئے زمین کواپنی عبادت سے معمور کرنے کے لئے ایک خلیفہ بنا نے والا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ} "اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں خلیفہ بنانے والا ہوں تو انہوں نے کہا کہ ایسے شخص کو کیوں پیدا کرتا ہے جو زمین میں فساد کرے اور خون بہائے ہم تیری تسبیح اور پاکیزگی بیان کرنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا، جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے"۔ [البقرۃ: ۳۰] اوراللہ تعالیٰ نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ آدم علیہ السلام کی تخلیق مٹی سے ہوئی ہے، جیسا کہ فرمان الہی ہے: { إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ} "اللہ تعالیٰ کے نزدیک عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثال ہو بہو آدم (علیہ السلام) کی مثال ہے جسے مٹی سے بنا کر کے کہہ دیا کہ ہوجا، پس وہ ہوگیا"۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: «إِنَّ اللَّهَ عز وجل خَلَقَ آدَمَ مِنْ قَبْضَةٍ قَبَضَهَا مِنْ جَمِيعِ الْأَرْضِ، فَجَاءَ بَنُو آدَمَ عَلَى قَدْرِ الْأَرْضِ. جَاءَ مِنْهُمُ الْأَبْيَضُ وَالْأَحْمَرُ وَالْأَسْوَدُ وَبَيْنَ ذَلِكَ، وَالْخَبِيثُ وَالطَّيِّبُ، وَالسَّهْلُ وَالْحَزْنُ، وَبَيْنَ ذَلِكَ». "اللہ تعالیٰ نے آدم کو ایک مٹھی مٹی سے پیدا کیا، اسے اس نے زمین کے تمام حصوں سے لیا تھا، اسی لئے تمام بنی آدم مٹی ہی کے بقدر آئے، کوئی سرخ ہے، کوئی سفید، کوئی سیاہ ، کوئی ان کے درمیان، کوئی نرم، کوئی سخت، کوئی خبیث اور کوئی پاک باز"۔ (سنن أبی داود: ۴۶۹۳، جامع الترمذی: ۲۹۵۵، تفسیر عبد الرزاق :۴۱، مسند أحمد :۱۹۵۸۲، مسند البزار : ۳۰۲۵، ۳۰۲۶) اللہ تعالی نے اس مٹی کا پہلے گارا بنایا پھر اس کی کئی ادوار میں تخلیق کی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ *۔ "یقیناً ہم نے انسان کو کالی اور سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا فرمایا ہے۔ وَالْجَانَّ خَلَقْنَاهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَارِ السَّمُوم*۔ اور اس سے پہلے جِنات کو ہم نے لو والی آگ سے پیدا کیا۔ وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ*۔ اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں ایک انسان کو کالی اور سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کرنے والا ہوں۔ فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ*۔ تو جب میں اسے پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے لیے سجدے میں گر پڑنا۔ فَسَجَدَ الْمَلَائِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ} چنانچہ تمام فرشتوں نے سب کے سب نے سجدہ کر لیا"۔ [الحجر: ۲۶-۳۰] اور اللہ تعلیٰ نے فر مایا: {وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ طِينٍ} "یقیناً ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا"۔ [المؤمنون: ۱۲] اوراللہ عز و جل نے فر مایا: {فَاسْتَفْتِهِمْ أَهُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمْ مَنْ خَلَقْنَا إِنَّا خَلَقْنَاهُمْ مِنْ طِينٍ لَازِبٍ} "ان کافروں سے پوچھو تو کہ آیا ان کا پیدا کرنا زیادہ دشوار ہے یا (ان کا) جنہیں ہم نے ان کے علاوہ پیدا کیا ہے؟ ہم نے (انسانوں) کو لیسدار مٹی سے پیدا کیا ہے"؟۔ [الصآفات: ۱۱]

آدم علیہ السلام کی تخلیق کے سلسلے میں وارد شدہ آیات ذکر کرنے کے بعد امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فر ماتے ہیں: ’’نقول: هذا بدء خلق آدم، خلقه الله أول بدء من تراب، ثم من طينة حمراء وسوداء وبيضاء، ومن طينة طيبة وسبخة، فكذلك ذريته طيب، وخبيث، أسود وأحمر و أبيض. ثم بلَّ ذلك التراب فصار طينًا، فذلك قوله: من طين، فلما لصق الطين بعضه ببعض، فصار طينًا لازبًا، بمعنى لاصقًا، ثم قال: {مِنْ سُلالَةٍ مِنْ طِينٍ} يقول: مثل الطين إذا عصر انسل من بين الأصابع، ثم نتن فصار حمأ مسنونًا، فخلق من الحمأ، فلما جفَّ صار صلصالاً كالفخار، يقول: صار له صلصلة كصلصلة الفخار، له دوي كدوي الفخار.فهذا بيان خلق آدم، وأما قوله: {مِنْ سُلالَةٍ مِنْ مَاءٍ مَهِينٍ} [السجدة: ۸]فهذا بدء خلق ذريته، من سلالة يعني النطفة إذا انسلت من الرجل، فذلك قوله: {مِنْ مَاءٍ} ، يعني النطفة، {مَهِينٍ} يعني ضعيف‘‘۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ آدم کی سب سے پہلی تخلیق ہے، سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے انہیں مٹی سے پھرسرخ، کالے، سفید ،عمدہ اورکھارے و نمکین گارے سےبنایا، اسی لئے ان کی اولاد میں پاک، خبیث، کالے، گورے اور سرخ ہیں پھر وہ مٹی گیلی ہو کر تو گارا ہوگئی، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {من طين} کا یہی معنی ہے، پھرجب وہ مٹی باہم ایک دوسرے سے چپک گئی تو وہ جمی ہوئی یعنی چپکنے والی مٹی ہوگئی۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {مِنْ سُلالَةٍ مِنْ طِينٍ} کے بارے میں فرمایا کہ: مثل مٹى کے کہ نچوڑتے وقت گارا انگلیوں کے درمیان سے گرجائے پھراس سے بد بو آنے لگی تو وہ سڑی ہوئی مٹی کی طرح ہو گئی اور وہ سڑی ہوئی مٹی سے بنائے گئے پھر جب وہ سوکھ گئی تووہ کھنکھناتی ہوئی مٹی کی طرح مضبوط ہوگئی۔ یہی آدم علیہ السلام کی خلقت کا بیان ہے۔ اور رہی بات اللہ تعالیٰ کے اس فرمان{مِنْ سُلالَةٍ مِنْ مَاءٍ مَهِينٍ} [السجدة: ۸] کی تو یہ ان کے ذریت کی ابتدائی تخلیق کا بیان ہے، انہیں (سُلالَةٍ) یعنی نطفہ سے پیدا کیا گیا ہے کیوں کہ وہ آدمی سے ٹپکتا ہے، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے کہا {مِنْ مَاءٍ} یعنی نطفہ اور {مَهِينٍ} یعنی حقیرو ضعیف قطرہ"۔ (کتاب الرد علی الجہمیۃ والزنادقۃ: ص : ۱۷۹-۱۸۰، ط :دغش العجمی۔)

ہمارا ایمان ہے کہ آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اپنے با برکت اور با عزت ہاتھوں سے پیدا کیا، اور فرشتوں سے ان کا سجدہ کرایا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: {فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ *۔ "تو جب میں اسے پورا بنا چکوں اوراس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے لیے سجد ے میں گر پڑنا۔ فَسَجَدَ الْمَلَائِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ} چنانچہ سب کے سب تمام فرشتوں نے سجدہ کر لیا"۔ [الحجر: ۲۹-۳۰] اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’يَجْتَمِعُ المُؤْمِنُونَ يَوْمَ القِيَامَةِ، فَيَقُولُونَ: لَوِ اسْتَشْفَعْنَا إِلَى رَبِّنَا، فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ: أَنْتَ أَبُو النَّاسِ، خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ، وَأَسْجَدَ لَكَ مَلاَئِكَتَهُ‘‘۔ بروزِ قیامت سارے مومن جمع ہو کر کہیں گے کاش اپنے رب کے حضور ہم کوئی سفارشی بنا لیتے تو وہ آدم کے پاس آکرکہیں گے: کہ آپ لوگوں کے باپ ہیں، اللہ نے آپ کو اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے اور اپنے فرشتوں کو آپ کا سجدہ کروایا ہے۔ (صحیح بخاری: ۴۴۷۶، صحیح مسلم :۱۹۳، سنن ابن ماجہ : ۴۳۱۲۔)

اور ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اپنی شکل و صورت پر پیدا کیا ہے، جیسا کہ ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ’’خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ، طُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیاہے، اور ان کی لمبائی ساٹھ گز ہے۔ (صحیح بخاری:۶۲۲۷، صحیح مسلم: ۲۸۴۱) اور ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ، فَلْيَجْتَنِبِ الْوَجْهَ، فَإِنَّ اللهَ خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ‘‘ اگر تم میں کا کوئی اپنے بھا ئی سے قتال کر ے تو چہرے سے بچے، کیوں کہ آدم کو اللہ نے اپنی صورت پر پیدا کیا ہے۔ (صحیح بخاری : ۲۵۵۹، صحیح مسلم: ۲۶۱۲، اور یہ مسلم کے الفاظ ہیں۔) اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فر مایا: ’’إِذَا ضَرَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَجْتَنِبِ الْوَجْهَ، وَلَا يَقُولَنَّ: قَبَّحَ اللَّهُ وَجْهَكَ، وَوَجْهَ مَنْ أَشْبَهُ وَجْهَكَ؛ فَإِنَّ اللَّهُ خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ‘‘۔ جب تم میں کا کوئی مارے تو چہر ے سے بچے اور ہرگز یہ نہ کہے کہ اللہ تعالیٰ تیر ے اور اس کے چہر ے کو بگاڑ د ے جس کا چہرہ تیر ے چہر ے کی طرح ہو، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے۔ (مصنف عبد الرزاق :۱۷۹۵۲، مسند الحمیدی : ۱۱۵۳، مسند أحمد ۷۴۲۰ ، الأدب المفرد: ۱۷۳، السنۃ لابن عاصم :۵۳۱)

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم ہی سے ان کی بیوی حوا کو بھی پیدا کیا ہے تاکہ وہ اس سے سکون حاصل کریں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا} "اور اللہ تعالیٰ ایسا ہے جس نے تم کو ایک تن واحد سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ وہ اس سے سکون حاصل کرے"۔ [الأعراف: ۱۸۹] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً } "اے لوگو ! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا، اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کر کے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلادیں"۔ [النساء:۱]

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم و حواء کو پیدا کرنے کے بعد دونوں کو جنت میں رہائش عطا کیا، جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَقُلْنَا يَاآدَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا} "اور ہم نے کہہ دیا کہ اے آدم تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور جہاں کہیں سے چاہو با فراغت کھاؤ پیو"۔ [البقرۃ: ۳۵] اور دونوں کو ایک درخت کا پھل کھانے سے روک دیا لیکن شیطان نے انہیں بہکایا اور دونوں نے اس ممنوعہ شجر کا پھل کھا لیا نتیجے میں اللہ تعالی نے دونوں کو جنت سے نکال کر زمین پر بھیج دیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: { وَيَاآدَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ* ۔ "اور ہم نے حکم دیا کہ اے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو۔ پھر جس جگہ سے چاہو دونوں کھاؤ، اور اس درخت کے پاس مت جاؤ ورنہ تم دونوں ﻇالموں میں سے ہوجاؤ گے۔ فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّيْطَانُ لِيُبْدِيَ لَهُمَا مَا وُورِيَ عَنْهُمَا مِنْ سَوْآتِهِمَا وَقَالَ مَا نَهَاكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ إِلَّا أَنْ تَكُونَا مَلَكَيْنِ أَوْ تَكُونَا مِنَ الْخَالِدِينَ*۔ پھر شیطان نے ان دونوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالا تاکہ ان کی شرمگاہیں جو ایک دوسرے سے پوشیدہ تھیں دونوں کے روبرو بے پردہ کرد ے اور کہنے لگا کہ تمہارے رب نے تم دونوں کو اس درخت سے اور کسی سبب سے منع نہیں فرمایا، مگر محض اس وجہ سے کہ تم دونوں کہیں فرشتے ہوجاؤ یا کہیں ہمیشہ زندہ رہنے والوں میں سے ہوجاؤ۔ وَقَاسَمَهُمَا إِنِّي لَكُمَا لَمِنَ النَّاصِحِينَ*۔ اور ان دونوں کے روبرو قسم کھالی کہ یقین جانیئے میں تم دونوں کا خیر خواہ ہوں۔ فَدَلَّاهُمَا بِغُرُورٍ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْآتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَرَقِ الْجَنَّةِ وَنَادَاهُمَا رَبُّهُمَا أَلَمْ أَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَأَقُلْ لَكُمَا إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُبِينٌ*۔ سو ان دونوں کو فریب سے نیچے لے آیا پس ان دونوں نے جب درخت کو چکھا دونوں کی شرمگاہیں ایک دوسرے کے روبرو بے پردہ ہوگئیں اور دونوں اپنے اوپر جنت کے پتے جوڑ جوڑ کر رکھنے لگے اور ان کے رب نے ان کو پکارا کیا میں تم دونوں کو اس درخت سے منع نہ کرچکا تھا اور یہ نہ کہہ چکا کہ شیطان تمہارا صریح دشمن ہے؟۔ قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ*۔ دونوں نے کہا اے ہمارے رب! ہم نے اپنا بڑا نقصان کیا اور اگر تو ہماری مغفرت نہ کرے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو واقعی ہم نقصان پانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔ قَالَ اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ*۔ حق تعالیٰ نے فرمایا کہ نیچے ایسی حالت میں جاؤ کہ تم باہم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے اور تمہارے واسطے زمین میں رہنے کی جگہ ہے اور نفع حاصل کرنا ہے ایک وقت تک۔ قَالَ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ } فرمایا تم کو وہاں ہی زندگی بسر کرنا ہے اور وہاں ہی مرنا ہے اور اسی میں سے پھر نکالے جاؤ گے"۔ [الأعراف: ۱۹۔ ۲۵]

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو زمین میں خلیفہ بنایا ہے۔ {وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ} "اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں خلیفہ بنانے والا ہوں تو انہوں نے کہا کہ ایسے شخص کو کیوں پیدا کرتا ہے جو زمین میں فساد کرے اور خون بہائے ہم تیری تسبیح اور پاکیزگی بیان کرنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا، جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے"۔ [البقرۃ: ۳۰]

اور اللہ تعالیٰ نے جب انہیں آزمایا تو وہ بھول گئے اور اس کی نافرمانی کر بیٹھے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کا انتخاب کیا اور انہیں ہدایت دی: {وَلَقَدْ عَهِدْنَا إِلَى آدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًا} "ہم نے آدم کو پہلے تاکیدی حکم دے دیا تھا لیکن وہ بھول گیا اور ہم نے اس میں کوئی عزم نہیں پایا"۔ [طہ: ۱۱۵] پھر آدم علیہ السلام نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھا، اور وہی ان کے توبہ و مغفرت کا سبب بنا، جیسا کہ اللہ عزوجل نے فرمایا: { فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ*۔ "آدم (علیہ السلام) نے اپنے رب سے چند باتیں سیکھ لیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی، بے شک وہی توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ قُلْنَا اهْبِطُوا مِنْهَا جَمِيعًا فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مِنِّي هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ} ہم نے کہا تم سب یہاں سے چلے جاؤ، جب کبھی تمہارے پاس میری ہدایت پہنچے تو اس کی تابعداری کرنے والوں پر کوئی خوف وغم نہیں"۔ [البقرۃ: ۳۸،۳۷]

ہمارا ایمان ہے کہ آدم علیہ السلام کو پیدا کرنے سے چالیس سال پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے سب کچھ لکھ دیا تھا، جیسا کہ صحیح حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ”آدم اور موسی علیہما السلام میں مباحثہ ہوا۔ موسی علیہ السلام نے ان سے کہا: اے آدم! آپ ہمارے باپ ہیں۔ آپ ہی ہماری محرومی کا سبب بنے اور آپ نے ہمیں جنت سے نکلوا دیا۔ (اس پر) آدم علیہ السلام نے ان سے کہا: اے موسی! آپ کو اللہ تعالیٰ نے ہم کلامی کے لیے منتخب كيا اور آپ کے لیے اپنے ہاتھ سے تورات کو لکھا۔ کیا آپ مجھے ایک ایسی بات پر ملامت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مجھے پیدا کرنے سے چالیس سال پہلے میری تقدیر میں لکھ دیا تھا؟ چنانچہ آدم علیہ السلام (دلیل میں) موسی علیہ السلام پر غالب آگئے۔ آدم علیہ السلام (دلیل میں) موسی علیہ السلام پر غالب آگئے“ آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین بار دہرائى۔ (صحیح بخاری : ۳۴۰۹، صحیح مسلم : ۱۵، سنن أبو داود: ۴۷۰۱، جامع الترمذي: ۲۱۳۴، ابن ماجه: ۸۰).

ہمارا ایمان ہے کہ اولاد آدم کى تخلیق کى ابتدا بالکل ویسى تھی جیسا کہ اس کے بارے میں خبر دیتے ہوئے اللہ تعالی نے فرمایا: {يَاأَيُّهَا النَّاسُ إِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِنَ الْبَعْثِ فَإِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُضْغَةٍ مُخَلَّقَةٍ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ لِنُبَيِّنَ لَكُمْ وَنُقِرُّ فِي الْأَرْحَامِ مَا نَشَاءُ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوا أَشُدَّكُمْ وَمِنْكُمْ مَنْ يُتَوَفَّى وَمِنْكُمْ مَنْ يُرَدُّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِنْ بَعْدِ عِلْمٍ شَيْئًا} "لوگو! اگر تمہیں مرنے کے بعد جی اٹھنے میں شک ہے تو سوچو ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ سے پھر خون بستہ سے پھر گوشت کے لوتھڑے سے جو صورت دیا گیا تھا اور بے نقشہ تھا، یہ ہم تم پر ﻇاہر کر دیتے ہیں، اور ہم جسے چاہیں ایک ٹھہرائے ہوئے وقت تک رحم مادر میں رکھتے ہیں پھر تمہیں بچپن کی حالت میں دنیا میں ﻻتے ہیں پھر تاکہ تم اپنی پوری جوانی کو پہنچو، تم میں سے بعض تو وہ ہیں جو فوت کر لئے جاتے ہیں اور بعض بے غرض عمر کی طرف پھر سے لوٹا دیئے جاتے ہیں کہ وہ ایک چیز سے باخبر ہونے کے بعد پھر بے خبر ہو جائے"۔ [الحج: ۵] ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ طِينٍ *۔ "یقیناً ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا۔ ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَكِينٍ *۔ پھر اسے نطفہ بنا کر محفوظ جگہ میں قرار دے دیا۔ ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا فَكَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا ثُمَّ أَنْشَأْنَاهُ خَلْقًا آخَرَ فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ} پھر نطفہ کو ہم نے جما ہوا خون بنا دیا، پھر اس خون کے لوتھڑے کو گوشت کا ٹکڑا کردیا۔ پھر گوشت کے ٹکڑے کو ہڈیاں بنا دیں، پھر ہڈیوں کو ہم نے گوشت پہنا دیاپھر دوسری بناوٹ میں اس کو پیدا کردیا، برکتوں والاہے وہ اللہ جو سب سے بہترین پیدا کرنے والاہے"۔ [المؤمنون: ۱۲-۱۴] اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسول ﷺ جو صادق و مصدوق ہیں نے ہم سے بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’’إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ مَلَكًا فَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ، وَيُقَالُ لَهُ: اكْتُبْ عَمَلَهُ، وَ رِزْقَهُ، وَ أَجَلَهُ، وَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ الرُّوحُ‘‘۔ تمہاری پیدائش کی تیاری تمہاری ماں کے پیٹ میں چالیس دنوں تک (نطفہ کی صورت) میں کی جاتی ہے پھر وہ اسی کے مثل خون کا لوتھڑا ہو جاتا ہے پھر وہ اسی کے مثل گوشت کا ٹکڑا ہو جاتا ہے، پھر اللہ ایک فرشتہ بھیجتا ہے تو اسے چار باتوں کا حکم دیا جاتا ہے، اس سے کہا جاتا ہے کہ اس کے عمل، اس کی روزی، اس کی مدت زندگی اور یہ کہ وہ بد ہے یا نیک، لکھ لے پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے۔ (صحیح بخاری: ۳۲۰۸، صحیح مسلم: ۲۶۴۳، سنن أبو داود: ۴۷۰۸، جامع الترمذي: ۲۱۳۷، سنن ابن ماجه: ۷۶)۔

اللہ کے رسول ﷺ نے یہ بھی بتا دیا ہے کہ بچہ کیسے اپنے باپ یا ماں کی شکل اختیار کرتا ہے‘ یہ اس وقت کی بات ہے جب عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کو اللہ کے رسول ﷺ کے مدینہ آنے کی خبر ہوئی تو وہ آپ سے چند سوال کرنے کے لیے آئے اور عرض کیا: ’’إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ ثَلاَثٍ لاَ يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا نَبِيٌّ، مَا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ؟ وَمَا أَوَّلُ طَعَامٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الجَنَّةِ؟ وَمَا بَالُ الوَلَدِ يَنْزِعُ إِلَى أَبِيهِ أَوْ إِلَى أُمِّهِ؟، قَالَ: أَخْبَرَنِي بِهِ جِبْرِيلُ آنِفًا، قَالَ ابْنُ سَلاَمٍ: ذَاكَ عَدُوُّ اليَهُودِ مِنَ المَلاَئِكَةِ، قَالَ: أَمَّا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ فَنَارٌ تَحْشُرُهُمْ مِنَ المَشْرِقِ إِلَى المَغْرِبِ، وَأَمَّا أَوَّلُ طَعَامٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الجَنَّةِ فَزِيَادَةُ كَبِدِ الحُوتِ، وَأَمَّا الوَلَدُ فَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ المَرْأَةِ نَزَعَ الوَلَدَ، وَإِذَا سَبَقَ مَاءُ المَرْأَةِ مَاءَ الرَّجُلِ نَزَعَتِ الوَلَدَ، قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ‘‘۔ کہ میں آپ سے تین چیزوں کی بابت پوچھوں گا (کیوں کہ ) انہیں سوائے نبی کے کوئی نہیں جانتا ہے، قیامت کی سب سے پہلی شرط کیا ہے؟ جنتی سب سے پہلے کون سا کھانا کھا ئیں گے؟ اور اس لڑکے کی کیا حالت ہے جو اپنے باپ یا ماں کی طرف کھنچ جاتا ہے؟ فرمایا کہ اس کے بارے میں جبرائیل نے مجھے ابھی ابھی بتایا ہے، عبد اللہ بن سلام نے کہا کہ یہ فرشتوں میں یہودیوں کے دشمن ہیں، فرمایا رہی بات قیامت کی سب سے پہلی نشانی کی تو وہ ایسی آگ ہے جو مشرق سے مغرب تک لوگوں کو جمع کرے گی اور جنتی سب سے پہلے مچھلی کے کلیجے کا بڑھا ہوا ٹکڑا کھا ئیں گے اور رہی بات اولاد کی تو اگر مرد کا پانی عورت کے پانی سے سبقت کر جاتا ہے تو مرد لڑکے کو کھینچ لیتا ہے اور اگر عورت کا پانی مرد کے پانی پر سبقت کر جاتا ہے تو عورت لڑکے کو کھینچ لیتی ہے تو (عبد اللہ بن سلام نے) فر مایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اور آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں"۔ (صحیح بخاری :۳۹۳۸)

ہمارا ایمان ہے کہ سب آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں، اور آدم کی پیدائش مٹی سے ہو ئی ہے، اس لئے کسی کو کسی پر فوقیت حاصل نہیں ہے سوائے تقوی کے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: { يَاأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ } "اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک (ہی) مرد وعورت سے پیدا کیا ہے اور اس لئے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو کنبے اور قبیلے بنا دیئے ہیں، اللہ کے نزدیک تم سب میں باعزت وہ ہے جو سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے، یقین مانو کہ اللہ دانا اور باخبر ہے"۔ [الحجرات: ۱۳] اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَذْهَبَ عَنْكُمْ عُبِّيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ، وَفَخْرَهَا بِالْآبَاءِ مُؤْمِنٌ تَقِيٌّ، وَفَاجِرٌ شَقِيٌّ، أَنْتُمْ بَنُو آدَمَ وَآدَمُ مِنْ تُرَابٍ.......‘‘۔ اللہ عزوجل نے جاہلیت کا عیب اور عہد جاہلیت میں آباء واجداد پر فخرو غرور کو تم سے مٹا دیا ہے، متقی مومن اور بد بخت فاجر تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سےپیدا کئے گئے ہیں۔ (سنن أبی داود: ۵۱۱۶، جامع الترمذی: ۳۹۵۶، الزهد للمعافى بن عمران الموصلي: ۱۴۷، الجامع في الحديث لابن وهب: ۳۰، مسند أحمد: ۸۷۳۶)

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو مٹی سے اور ان کی زوجہ محترمہ حوا علیہا السلام کو خود نفس آدم سے پیدا کیا، اورسوائے عیسی علیہ السلام کےدنیا کی تمام انسانیت کو حقیر پانی سے پیدا کیا، عیسی علیہ اسلام کو اللہ تعالیٰ نے بغیر ماں باپ کے پیدا کیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {إِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَامَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ *۔ "جب فرشتوں نے کہا اے مریم! اللہ تعالیٰ تجھے اپنے ایک کلمے کی خوشخبری دیتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہے جو دنیا اور آخرت میں ذی عزت ہے اور وہ میرے مقربین میں سے ہے۔ وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا وَمِنَ الصَّالِحِينَ *۔ وہ لوگوں سے اپنے گہوارے میں باتیں کرے گا اور ادھیڑ عمر میں بھی اور وہ نیک لوگوں میں سے ہوگا۔ قَالَتْ رَبِّ أَنَّى يَكُونُ لِي وَلَدٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ قَالَ كَذَلِكِ اللَّهُ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ إِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ } کہنے لگیں الٰہی مجھے لڑکا کیسے ہوگا؟ حالانکہ مجھے تو کسی انسان نے ہاتھ بھی نہیں لگایا، فرشتے نے کہا، اسی طرح اللہ تعالیٰ جو چاہے پیدا کرتا ہے، جب کبھی وہ کسی کام کو کرنا جاہتا ہے تو صرف یہ کہہ دیتا ہے کہ ہو جا! تو وہ ہو جاتا ہے"۔ [آل عمران: ۴۵-۴۷]

ہمارا ایمان ہے کہ عیسی علیہ السلام گرچہ عجیب طرح سے پیدا ہوئے ہیں لیکن وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلًا لِبَنِي إِسْرَائِيلَ} "وہ ایک بندہ ہے جس پر ہم نے انعام کیا اور انہیں بنی اسرائیل کے لئے مثال بنادیا"۔ [الزخرف: ۵۹] وہ معبود نہیں تھے بلکہ ہماری طرح ایک انسان تھے، اور وہ بھی ہماری طرح کھاتے پیتے تھے،جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {مَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ وَأُمُّهُ صِدِّيقَةٌ كَانَا يَأْكُلَانِ الطَّعَامَ انْظُرْ كَيْفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ الْآيَاتِ ثُمَّ انْظُرْ أَنَّى يُؤْفَكُونَ} "مسیح ابن مریم سوا پیغمبر ہونے کے اور کچھ بھی نہیں، اس سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر ہوچکے ہیں ان کی والدہ ایک راست باز عورت تھیں دونوں ماں بیٹے کھانا کھایا کرتے تھے، آپ دیکھیے کہ کس طرح ہم ان کے سامنے دلیلیں رکھتے ہیں پھر غور کیجیئے کہ کس طرح وہ پھرے جاتے ہیں"۔ [المائدۃ: ۷۵]

جن لوگوں نے آدم علیہ السلام کو معبود تسلیم کر لیا ہے اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید میں بے شمار دلیلیں نازل کی ہیں، چند دلیلیں ملاحظہ کریں :۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّمَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۢ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰي بَعْضٍ ۭ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا يَصِفُوْنَ} "نہ تو اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا اور نہ اس کے ساتھ اور کوئی معبود ہے، ورنہ ہر معبود اپنی مخلوق کو لئے لئے پھرتا اور ہر ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتا، جو اوصاف یہ بتلاتے ہیں ان سے اللہ پاک (اور بےنیاز) ہے"۔ [المؤمنون: ۹۱] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ قُلْ فَمَنْ يَمْلِكُ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا إِنْ أَرَادَ أَنْ يُهْلِكَ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ } "یقیناً وہ لوگ کافر ہوگئے جنہوں نے کہا اللہ ہی مسیح ابن مریم ہے، آپ ان سے کہہ دیجئے کہ اگر اللہ تعالیٰ مسیح ابن مریم اور اس کی والدہ اور روئے زمین کے سب لوگوں کو ہلاک کردینا چاہے تو کون ہے جو اللہ پر کچھ بھی اختیار رکھتا ہو؟ آسمانوں اور زمین دونوں کے درمیان کا کل ملک اللہ تعالیٰ ہی کا ہے وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اللہ ہر چیز پر قادر ہے"۔ [المائدۃ: ۱۷]

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں کو فطرت پر پیدا کیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: { فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ} "پس آپ یک سو ہو کر اپنا منہ دین کی طرف متوجہ کردیں، اللہ تعالیٰ کی وہ فطرت جس پراس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، اس اللہ تعالیٰ کے بنائے کو بدلنا نہیں یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے"۔ [الروم : ۳۰] ابن زید، مجاہد اور عکرمہ رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ’’الفطرۃ : الإسلام ‘‘ یعنی فطرت سے مراد اسلام ہے۔ (تفسیر الطبری : 20/98)۔

اورابن عباس رضی اللہ عنہما، ابراہیم نخعی، سعید بن جبیر، مجاہد، عکرمہ، قتادہ، ضحاک اور ابن زید رحمہم اللہ فر ماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: {لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ} میں ’’ لِخَلْقِ اللَّہِ‘‘ کا معنی ہے ’’ لدین اللہ ‘‘یعنی دین الہی میں تبدیلی نہیں ہو سکتی ہے۔ اور امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری میں بات باندھا ہے’’بَابُ {لاَ تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ} [الروم: ۳۰]: لِدِينِ اللَّهِ {خُلُقُ الأَوَّلِينَ}: دِينُ الأَوَّلِينَ، وَ الفِطْرَةُ الإِسْلاَمُ‘‘ یعنی باب ہے اس بیان میں کہ {لاَ تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ} میں ’’خلق الله‘‘سے اللہ کا دین، {خُلْقُ الأَوَّلِينَ} سے دین الأولین اور ’’الفِطْرَةُ ‘‘ سے اسلام مراد ہے۔

اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فر مایا: ’’مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ وَيُمَجِّسَانِهِ، كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً جَمْعَاءَ، هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ؟۔ "ہر ایک بچہ فطرت پرپیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی ونصرانی اور مجوسی بنادیتے ہیں، جیسے چوپایہ ہمیشہ صحیح سالم جانور جنتا ہے کیا تم کسی کو اس میں کان کٹا ہوا دیکھتے ہو"۔ پھر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تلاوت کی: {فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لاَ تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ القَيِّمُ} [الروم: ۳۰] "یہ اللہ کی فطرت ہےجس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، اللہ کی فطرت میں کوئی تبدیلی ہو نے والی نہیں ہے، یہی سیدھا دین ہے"۔ [الروم: ۳۰]۔ (صحیح بخاری: ۴۷۷۵، صحیح مسلم: ۲۶۵۸، سنن أبی داود: ۴۷۱۴، جامع الترمذی: ۲۱۳۸۔ )

عیاض بن حمار المجاشعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ اپنے خطبہ کے دوران ایک دن فرمایا: ’’أَلَا إِنَّ رَبِّي أَمَرَنِي أَنْ أُعَلِّمَكُمْ مَا جَهِلْتُمْ، مِمَّا عَلَّمَنِي يَوْمِي هَذَا، كُلُّ مَالٍ نَحَلْتُهُ عَبْدًا حَلَالٌ، وَإِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ كُلَّهُمْ، وَإِنَّهُمْ أَتَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِمْ، وَ حَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَهُمْ، وَأَمَرَتْهُمْ أَنْ يُشْرِكُوا بِي مَا لَمْ أُنْزِلْ بِهِ سُلْطَانًا‘‘۔ "آگاہ رہو! میرے رب نے مجھ کو حکم دیا کہ میں تمہیں وہ سکھاؤں جو تم نہیں جانتے ہو ان باتوں میں سے جو اس نے آج کے دن مجھ کو سکھایا ہے، میں جو مال اپنے بند ے کو دوں وہ حلال ہے، اور میں نے اپنے تمام بندوں کو مسلمان بنایا، لیکن ان کے پاس شیطان آئے اور انہیں ان کے دین سے بھٹکا دیا،اور جو چیزیں میں نے ان کے لیے حلال کی تھیں وہ حرام کردیا، اور انہیں حکم دیا کہ میرے ساتھ ایسی چیز کو شریک کریں جس پر میں نے کوئی دلیل نہیں اتاری"۔ (صحیح مسلم: ۲۸۶۵)

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالى نے بَعث بعد الممات کے منکرین پر حجت کو تمام کیااس طرح سے کہ انہیں ان کى تخلیق اول یعنی مٹی سے پیدا کرنے والا واقعہ یاد دلایا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَنْ يُحْيِ الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ*۔ اور اس نے ہمارے لئے مثال بیان کی اور اپنی (اصل) پیدائش کو بھول گیا، کہنے لگا ان گلی سڑی ہڈیوں کو کون زندہ کر سکتا ہے؟ ۔ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنْشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ } آپ جواب دیجئے! کہ انہیں وہ زندہ کرے گا جس نے انہیں اول مرتبہ پیدا کیا ہے، جو سب طرح کی پیدائش کا بخوبی جاننے والا ہے"۔ [یس: ۷۸ - ۷۹]

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ بھی یاد دلایا کہ اس نے انہیں حقیر پانی سے پیدا کیا ہے، پھر وہ کیسے اپنے رب سے تکبر کرتے، اور حشر و نشر کا انکار کرتے ہیں؟ ! اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {الَّذِي أَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ وَبَدَأَ خَلْقَ الْإِنْسَانِ مِنْ طِينٍ*۔ "جس نے نہایت خوب بنائی جو چیز بھی بنائی اور انسان کی بناوٹ مٹی سے شروع کی۔ ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهُ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ مَاءٍ مَهِينٍ*۔ پھر اس کی نسل ایک بے وقعت پانی کے نچوڑ سے چلائی۔ ثُمَّ سَوَّاهُ وَنَفَخَ فِيهِ مِنْ رُوحِهِ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ قَلِيلًا مَا تَشْكُرُونَ *۔ "پھر جسے ٹھیک ٹھاک کر کے اس میں اپنی جانب سے روح پھونکی، اسی نے تمہارے کان آنکھیں اور دل بنائے (اس پر بھی) تم بہت ہی تھوڑا احسان مانتے ہو۔ وَقَالُوا أَإِذَا ضَلَلْنَا فِي الْأَرْضِ أَإِنَّا لَفِي خَلْقٍ جَدِيدٍ بَلْ هُمْ بِلِقَاءِ رَبِّهِمْ كَافِرُونَ*۔ انہوں نے کہا کیا جب ہم زمین میں مل جائیں گے کیا پھر نئی پیدائش میں آجائیں گے؟ بلکہ (بات یہ ہے) کہ وہ لوگ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں۔ {قُلْ يَتَوَفَّاكُمْ مَلَكُ الْمَوْتِ الَّذِي وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ إِلَى رَبِّكُمْ تُرْجَعُونَ} کہہ دیجئے ! کہ تمہیں موت کا فرشتہ فوت کرے گا جو تم پر مقرر کیا گیا ہے پھر تم سب اپنے رب کی طرف لوٹائے جاؤ گے"۔ [السجدۃ: ۷-۱۱]

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ ہی عبادت کا حق دارہے کیوں کہ وہی سب کا خالق ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِىْ خَلَقَكُمْ وَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ } "اے لوگوں! اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا، یہی تمہارا بچاؤ ہے"۔ [البقرۃ: ۲۱]

اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن مجید میں یہ بھی بتا دیا ہے کہ نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا کہ جب اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو کئی طرح سے پیدا کیا ہے، تو آخرلوگ اللہ تعالیٰ کی برتری کا عقیدہ کیوں نہیں رکھتے؟! اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {مَا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَارًا*۔ "تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی برتری کا عقیدہ نہیں رکھتے؟۔ وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارًا} حالانکہ اس نے تمہیں طرح طرح سے پیدا کیا ہے۔ [نوح: ۱۳-۱۴]

برزخ اور آخرت کی زندگی میں انسان کے کئی احوال ہوں گے، جس کی تفصیل - ان شاء اللہ - یوم آخرت پر ایمان لانے کے بیان میں آرہی ہے۔

باب: روح کی تخلیق کا بیان

ہمیں معلوم ہے کہ روح اللہ کے حکم سے ہے اور اس روح کی بابت انسان بس وہی جانتا ہے جو اللہ تعالی نے اسے بتا دیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا } "اور یہ لوگ آپ سے روح کی بابت سوال کرتے ہیں، آپ جواب دیجئے کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تمہیں بہت ہی کم علم دیا گیا ہے"۔ [الإسراء: ۸۵] اور عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ: ’’بَيْنَا أَنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرْثٍ، وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى عَسِيبٍ، إِذْ مَرَّ اليَهُودُ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: سَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ، فَقَالَ: مَا رَأْيُكُمْ إِلَيْهِ؟ وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لاَ يَسْتَقْبِلُكُمْ بِشَيْءٍ تَكْرَهُونَهُ، فَقَالُوا: سَلُوهُ، فَسَأَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ، فَأَمْسَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ شَيْئًا، فَعَلِمْتُ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ، فَقُمْتُ مَقَامِي فَلَمَّا نَزَلَ الوَحْيُ، قَالَ: {وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ، قُلْ: الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ العِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا} [الإسراء: ۸۵]‘‘۔ میں نبی ﷺ کے ساتھ ایک کھیت میں موجود تھا اور وہ کھجور کے ایک تنے پر ٹیک لگا ئے ہوئے تھے کہ اچانک کچھ یہودی گزرے تو ان میں سے بعض نے بعض کو کہا کہ ان سے روح کی بابت سوال کرو، تو اس نے کہا کہ اس سے پوچھنے کى تمہیں کیا حاجت؟ اور ان میں سے بعض نے کہا کہ کہیں وہ تمہارا استقبال ایسی چیز سے نہ کرے جو تمہیں نا پسند ہو (لیکن آپسی گفت و شنید کے بعد پوچھنے ہی پرسب کا اتفاق ہوا ) تو لوگوں نے کہا کہ ان سے پوچھو تو ان لوگوں نے نبى صلى اللہ علیہ وسلم سے روح کے بارے میں پوچھا لیکن نبی ﷺ رک گئے اور انہیں کوئی جواب نہ دیا تو میں سمجھ گیا کہ ان پر وحی نازل کی جا رہی ہے اس لئے میں اپنی جگہ کھڑا رہا، جب وحی نازل ہو گئی تو فر مایا {وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا } لوگ آپ سے روح کی بابت پوچھتے ہیں کہہ دیجئے کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تمہیں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے" ۔(الإسراء :۸۵) (صحیح بخاری: ۴۷۲۱، صحیح مسلم: ۲۷۹۴، جامع الترمذی: ۳۱۴۱)۔

ہمارا ایمان ہے کہ روحیں مخلوق ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اَللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ ۡ وَّهُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ وَّكِيْلٌ } "اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی ہر چیز پر نگہبان ہے"۔ [الزمر: ۶۲] اور جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کوپوری طرح سے بنا کران کے اندرروح پھونک دیا، تو اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ} "جب میں نے انہیں سنوارکر اپنی روح ان کے اندرپھونک دیا تو سب کے سب ان کے لئے سجدہ میں گر گئے"۔ [الحجر: ۲۹] اور جب جنین اپنی ماں کے پیٹ میں چار مہینے کا ہو جاتا ہے تو من جانب اللہ ایک فرشتہ آکر اس میں روح پھونکتا ہے، جیسا کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ: اللہ کے رسول ﷺ، جو صادق و مصدوق ہیں، نے ہم سے بیان کرتے ہوئے فرمایا: إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ مَلَكًا فَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ، وَيُقَالُ لَهُ: اكْتُبْ عَمَلَهُ، وَ رِزْقَهُ، وَ أَجَلَهُ، وَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ الرُّوحُ‘‘۔ تم میں سے ایک شخص کی پیدائش اس کے ماں کے پیٹ میں چالیس دنوں تک بشکل نطفہ جمع کیا جاتا ہے، پھر وہ اسی طرح گوشت کا لوتھڑا ہو جاتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ بھیجتا ہے تو اسے چار باتوں کا حکم دیا جاتا ہے، اسے کہا جاتا ہے کہ تو اس کا عمل، اس کی روزی، اس کی موت اور اس کی نیک بختی یا بد بختی لکھ، پھر اس میں روح پھوک دی جاتی ہے۔ (صحیح بخاری :۳۲۰۸، صحیح مسلم :۲۶۴۳، سنن أبو داود: ۴۷۰۸، جامع الترمذي: ۲۱۳۷، اور سنن ابن ماجه: ۷۶). سوائے مسیح عیسی بن مریم کے کیوں کہ ان کے حمل کی ابتداء فرشتے کے پھونکنے سے ہو ئی تھی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَالَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهَا مِنْ رُوحِنَا وَجَعَلْنَاهَا وَابْنَهَا آيَةً لِلْعَالَمِينَ } "اورجس نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی تو ہم نے اس میں اپنی روح پھونکا اور ہم نے اسے اور اس کے لڑکے کو تمام جہاں والوں کے لئے نشانی بنا دیا"۔ [الأنبیاء: ۹۱] اوراللہ تعالیٰ نے فر مایا: {إِنَّمَا الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُولُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ} "مسیح عیسیٰ بن مریم تو صرف اللہ کے رسول اور اس کے کلمہ (کن سے پیدا شدہ) ہیں جسے مریم کی طرف ڈال دیا گیا تھا اور اس کے پاس کی روح ہیں"۔ [النساء: ۱۷۱]

ہمارا اس بات پر بھی ایمان ہے کہ دوران نیند بھی روح قبض کی جاتی ہے، اور پھر اسے لو ٹا دیا جاتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: { اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَى إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى} "اللہ روحوں کو ان کی موت کے وقت قبض کرلیتا ہے اور جو مرے نہیں انکی روحیں سوتے میں (قبض کرلیتا ہے) پھر جن پر موت کا حکم کر چکتا ہے ان کو روک رکھتا ہے اور باقی روحوں کو ایک وقت مقرر تک کے لئے چھوڑ دیتا ہے"۔ [الزمر: ۴۲]

عبد اللہ بن ابو قتادہ سے مروی ہے وہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ ’’سِرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً، فَقَالَ: بَعْضُ القَوْمِ: لَوْ عَرَّسْتَ بِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: أَخَافُ أَنْ تَنَامُوا عَنِ الصَّلاَةِ، قَالَ بِلاَلٌ: أَنَا أُوقِظُكُمْ، فَاضْطَجَعُوا، وَأَسْنَدَ بِلاَلٌ ظَهْرَهُ إِلَى رَاحِلَتِهِ، فَغَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ فَنَامَ، فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ، فَقَالَ: يَا بِلاَلُ، أَيْنَ مَا قُلْتَ؟ قَالَ: مَا أُلْقِيَتْ عَلَيَّ نَوْمَةٌ مِثْلُهَا قَطُّ، قَالَ: ہم نبی ﷺ کے ساتھ ایک رات چلے تو کچھ لوگوں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! کاش آپ پڑاؤ ڈال دیتے، تو آپ نے فر مایا مجھے خوف ہے کہ تم سب نماز سے سو جاؤ گے لیکن بلال نے کہا کہ میں تم سب کو جگا دوں گا بنا بریں سب لیٹ گئے اور بلال نے اپنی سواری پر اپنی پیٹھ کو ٹیک دیا اتنے میں ان کی دونوں آنکھیں ان پر غالب آگئیں تو وہ بھی سو گئے، اب نبی ﷺاٹھے اس حال میں کہ سورج نکل چکا تھا پوچھا کہ اے بلال! اس کا کیا ہوا جو تم نے کہا تھا ؟ کہا اس کے مثل مجھ پر نیند کبھی نہیں طاری ہوئی، تب آپ نے فرمایا کہ: "إِنَّ اللَّهَ قَبَضَ أَرْوَاحَكُمْ حِينَ شَاءَ، وَرَدَّهَا عَلَيْكُمْ حِينَ شَاءَ‘‘ اللہ نے جب چاہا تو تمہاری روحوں کو قبض کرلیا اور جب چاہا تو لوٹا دیا۔ ( صحیح بخاری: ۵۹۵، سنن أبی داؤد: ۴۳۹، ۴۴۰، سنن النسائی: ۸۴۶)۔

اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ’’إِذَا أَوَى أَحَدُكُمْ إِلَى فِرَاشِهِ فَلْيَنْفُضْ فِرَاشَهُ بِدَاخِلَةِ إِزَارِهِ، فَإِنَّهُ لاَ يَدْرِي مَا خَلَفَهُ عَلَيْهِ، ثُمَّ يَقُولُ: بِاسْمِكَ رَبِّ وَضَعْتُ جَنْبِي وَبِكَ أَرْفَعُهُ، إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ‘‘۔ جب تم میں کا کوئی اپنے بستر پر پناہ لے تو وہ اپنے ازار کے کنارے سے اپنے بستر کو جھاڑ لے کیوں کہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے بعد اس پر کیا آیا، پھر کہے ’’بِاسْمِكَ رَبِّ وَضَعْتُ جَنْبِي وَبِكَ أَرْفَعُهُ، إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ‘‘۔ اے میرے رب ! تیرے ہی نام سے میں نے اپنا پہلو رکھا اور تیرے ہی نام سے میں اسے اٹھاؤں گا، اگر تونے میری جان کو روک لیا تو تو اس پر رحم فر ما اور اگر تو نے اسے چھوڑ دیا تو تو اس کی اسی طرح حفاظت کر جس طرح تو نے اپنے نیک بندوں کی حفاظت کی ہے۔ (صحیح بخاری: ۶۳۲۰، صحیح مسلم: ۲۷۱۴، سنن أبی داؤد: ۵۰۵۰، جامع الترمذی: ۳۴۰۱، سنن ابن ماجہ: ۳۸۷۴)۔

اس بات پر بھی ہمارا ایمان ہے کہ موت کے وقت روح بدن سے جدا ہو جاتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ثُمَّ إِلَيْنَا تُرْجَعُونَ} "ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے پھر تم ہماری ہی طرف لوٹا ئے جا ؤ گے"۔ [العنکبوت: ۵۷] گویا مرتے ہی روح بدن سے پوری طرح الگ ہو جاتی ہے اور نگاہ اس کا پیچھا کرتی ہے، جیسا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فر ماتی ہیں کہ’’دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ وَقَدْ شَقَّ بَصَرُهُ، فَأَغْمَضَهُ، ثُمَّ قَالَ: اللہ کے رسول ﷺ ابو سلمہ کے پاس آئے اس حال میں کہ ان کی نگاہ پھٹی ہوئی تھی تو آپ نے اسے بند کردیا پھر فرمایا: إِنَّ الرُّوحَ إِذَا قُبِضَ تَبِعَهُ الْبَصَرُ‘‘۔ کہ جب روح قبض کر لی جاتی ہے تو نگاہیں اس کا پیچھا کرتی ہیں۔ (صحیح مسلم : ۹۲۰ ، سنن أبی داؤد : ۳۱۱۸، سنن ابن ماجہ : ۱۴۵۴) گویا بدن کی طرح روح کی موت نہیں آتی، بلکہ روح کی موت اس کا بدن سے الگ ہو جانا ہے۔

ہمارا یہ بھی ایمان ہے کہ موت کے وقت فرشتے بدن سے روحیں نکالتے ہیں اور روحوں پر نعمتوں کی بارش ہوتی ہے یا ان پر عذاب نازل ہوتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {وَلَوْ تَرَى إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنْتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ} [الأنعام: ۹۳] "اور اگر آپ اس وقت دیکھیں جب کہ یہ ظالم لوگ موت کی سختیوں میں ہوں گے اور فرشتے اپنے ہاتھ بڑھا رہے ہوں گے کہ ہاں اپنی جانیں نکالو، آج تمہیں ذلت کی سزا دی جائے گی اس سبب سے کہ تم اللہ تعالیٰ کے ذمہ جھوٹی باتیں لگاتے تھے اور تم اللہ تعالیٰ کی آیات سے تکبر کرتے تھے"۔

گویا فرشتہ روح نکالتا ہے پھر اس پر نعمتوں کی بارش ہوتی ہے یا اس پر عذاب نازل ہوتا ہے جس طرح جسم پر نازل ہوتا ہے جیسا کہ براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ: ’’خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي جِنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ، وَلَمَّا يُلْحَدْ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ، كَأَنَّ عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرَ، وَفِي يَدِهِ عُودٌ يَنْكُتُ فِي الْأَرْضِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ مَرَّتَيْنِ، أَوْ ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ: ہم اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ ایک انصاری آدمی کے جنازہ میں نکلے اور قبر تک پہنچ گئے لیکن قبر اب تک تیار نہیں ہو ئی تھی تو اللہ کے رسول ﷺ بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ کے پاس اس طرح بیٹھ گئے گویا ہمارے سروں پر پرندے ہو ں، نبى صلى اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی جس سے وہ زمین کرید رہے تھے کہ اچانک انہوں نے اپنا سر اٹھایا اور دو یا تین مرتبہ کہا کہ عذاب قبر سے اللہ کی پناہ طلب کرو پھر فرمایا: إِنَّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْيَا وَإِقْبَالٍ مِنَ الْآخِرَةِ، نَزَلَ إِلَيْهِ مَلَائِكَةٌ مِنَ السَّمَاءِ بِيضُ الْوُجُوهِ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الشَّمْسُ، مَعَهُمْ كَفَنٌ مِنْ أَكْفَانِ الْجَنَّةِ، وَحَنُوطٌ مِنْ حَنُوطِ الْجَنَّةِ، حَتَّى يَجْلِسُوا مِنْهُ مَدَّ الْبَصَرِ، ثُمَّ يَجِيءُ مَلَكُ الْمَوْتِ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، حَتَّى يَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَيَقُولُ: أَيَّتُهَا النَّفْسُ الطَّيِّبَةُ، اخْرُجِي إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٍ. قَالَ: فَتَخْرُجُ تَسِيلُ كَمَا تَسِيلُ الْقَطْرَةُ مِنْ فِي السِّقَاءِ، فَيَأْخُذُهَا، فَإِذَا أَخَذَهَا لَمْ يَدَعُوهَا فِي يَدِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ حَتَّى يَأْخُذُوهَا، فَيَجْعَلُوهَا فِي ذَلِكَ الْكَفَنِ، وَفِي ذَلِكَ الْحَنُوطِ، وَيَخْرُجُ مِنْهَا كَأَطْيَبِ نَفْحَةِ مِسْكٍ وُجِدَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ قَالَ: فَيَصْعَدُونَ بِهَا، فَلَا يَمُرُّونَ، يَعْنِي بِهَا، عَلَى مَلَإٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، إِلَّا قَالُوا: مَا هَذَا الرُّوحُ الطَّيِّبُ؟ فَيَقُولُونَ: فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، بِأَحْسَنِ أَسْمَائِهِ الَّتِي كَانُوا يُسَمُّونَهُ بِهَا فِي الدُّنْيَا، حَتَّى يَنْتَهُوا بِهَا إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَسْتَفْتِحُونَ لَهُ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ فَيُشَيِّعُهُ مِنْ كُلِّ سَمَاءٍ مُقَرَّبُوهَا إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي تَلِيهَا، حَتَّى يُنْتَهَى بِهِ إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: اكْتُبُوا كِتَابَ عَبْدِي فِي عِلِّيِّينَ، وَأَعِيدُوهُ إِلَى الْأَرْضِ، فَإِنِّي مِنْهَا خَلَقْتُهُمْ، وَفِيهَا أُعِيدُهُمْ، وَمِنْهَا أُخْرِجُهُمْ تَارَةً أُخْرَى .قَالَ: فَتُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ‘‘۔ کہ مومن بندہ جب دنیا سے کٹ کر آخرت کو روانہ ہوتا ہے، تو اس کے پاس آسمان سے سفید چہرے والے فرشتے آتے ہیں، ان کا چہرہ سورج کی طرح ہوتا ہے، ان کے ساتھ جنتی کفن ہوتا ہے، جنتی خوشبو ہوتى ہے، وہ اس کے پاس اس کی نگاہ کی حد تک بیٹھ جاتے ہیں پھر ملک الموت علیہ السلام آتےہیں حتی کہ اس کے سر کے پاس بیٹھ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے پاک نفس ! تو اللہ کى مغفرت اورخوشنودی کی طرف نکل، آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ وہ آرام سے آہستہ آہستہ ایسے ہی نکلتی جیسے قطرہ مشکیزے سے نکلتا ہے اور وہ اسے لے لیتے ہیں، جب وہ اسے لے جاتے ہیں تو پلک جھپکنے کے برابر ان کے ساتھی اسے لےکر اسی کفن اور اسی خوشبو میں رکھ لیتے ہیں، اس سے مشک کی طرح خوشبو پھوٹتی ہے جو پوری زمین پر محسوس کی جاتی ہے، فرماتے ہیں کہ وہ اسے لے کر (آسمان پر) چڑھتے ہیں، وہ فرشتوں کی جس جماعت سے بھی گزرتے وہ یہی کہتے ہیں کہ یہ پاکیزہ روح کس کی ہے؟ یہ کہتے ہیں کہ فلاں ابن فلاں کی، اس کا وہی پیارا نام لیتے ہیں جس سے وہ دنیا میں پکارا جاتا تھا حتی کہ اسے لے کر یہ سب آسمان دنیا تک پہنچ جاتے ہیں اور اس کے لئے (دروازہ) کھلواتے ہیں تو کھولا جاتا ہے(کھولتے ہی) شروع سے آخر تک ہر آسمان کےمقرب فرشتے اس کے ساتھ یکساں برتاؤ کرتے ہیں حتی کہ وہ اسے ساتویں آسمان تک لے کر پہنچ جاتے ہیں، تو اللہ عزوجل کہتا ہے: کہ میرے بندے کے اعمال علیین میں لکھ دو اور اسے زمین کی طرف لوٹا دو کیوں کہ اسی سے میں نے انہیں پیدا کیا ہے اور اسی میں لو ٹائیں گے اور اسی سے دو بارہ نکا لیں گے، آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ تو اس کی روح ان کے جسم میں لو ٹا دی جاتی ہے۔ (سنن أبی داود: ۳۲۱۲، سنن النسائی :۲۰۰۱، سنن ابن ماجہ :۱۵۴۸، مسند أبوداود الطیالسی :۷۸۹ ، مصنف عبد الرزاق :۶۳۲۴، ۶۷۳۷، مسند أحمد :۱۸۵۳۴، اور یہ الفاظ مسند احمد کے ہیں) مذکورہ روایت میں نبی کریم ﷺ نے بتایا کہ روح نکلتی ہے، بہتی ہے، قبض کی جاتی ہے کفنائی جاتی ہے،اسے اوپرلے جایا جاتا ہے پھر اسے واپس کر دیا جا تا ہے اور یہ سب مخلوق کی شان ہے۔

اور ہمارا اس بات پر بھی ایمان ہے کہ بدن سے الگ ہونے کے بعد روح یا تو نعمتوں میں قرار پاتی ہے یا تا قیامت عذاب الہی سے دو چار ہوتی ہے، جیسا کہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اللہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’إِنَّمَا نَسَمَةُ الْمُؤْمِنِ طَائِرٌ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَبْعَثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى جَسَدِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ‘‘۔ مومن کی جان جنت کے درختوں میں اڑتی رہے گی تا آنکہ اللہ عزوجل بروز قیامت اسے اس کے جسم میں بھیج دے۔ (سنن النسائی: ۲۰۷۳، جامع الترمذی: ۱۶۴۱، سنن ابن ماجہ: ۴۲۷۱، تفسیر عبد الرزاق: ۴۸۴، ۲۶۸۱، مسند الحمیدی: ۸۹۷، مسند أحمد: ۱۵۷۷۶، ۱۵۷۷۷)۔

اور مسروق فر ماتے ہیں کہ ہم نے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں پوچھا: {وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ} "تم یہ نہ سمجھو کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کردیے گئے ہیں وہ مردہ ہیں بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں اور انہیں روزی دی جاتی ہے"۔ [آل عمران: ۱۶۹] تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ’’أَمَا إِنَّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: جہاں تک ہماری بات ہے، تو ہم نے اس کے بارے میں دریافت کیا، تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أَرْوَاحُهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ، لَهَا قَنَادِيلُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ، تَسْرَحُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءَتْ، ثُمَّ تَأْوِي إِلَى تِلْكَ الْقَنَادِيلِ‘‘۔ ان کی روحیں سبز پرندوں کے پیٹ میں ہیں، ان کے لئے عرش سے لٹکے ہوئے قندیل ہیں، وہ جنت میں جہاں چاہتی ہیں چرتی ہیں پھر انہی قندیلوں میں پاس واپس آجاتی ہیں۔ ( صحیح مسلم: ۱۸۸۷، جامع الترمذی: ۳۰۱۱، سنن ابن ماجہ: ۲۸۰۱)۔

کتاب: دین کے بیان میں

کتاب ہذا کا خلاصہ

٭ ہمارا ایمان ہے کہ بطور دین اللہ تعالی نے اسلام ہی کوپسند کیا ہے، اور سارے نبیوں کا دین یہی تھا اور یہی دین فطرت ہے جس پر اللہ تعالی نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے آدم اور ان کی ذریت سے عالم ارواح میں اسی کا وعدہ لیا تھا ۔

٭ ہم یہ بھی مانتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کو اسی اسلام کی وصیت کی تھی اور یعقوب علیہ السلام نے بھی اپنے بیٹوں کو اسی کی وصیت کی تھی اوریہی دین سب سے بہتر، کامل اور مکمل ہے، اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کے علاوہ کوئی اور دین قابلِ قبول نہیں ہے۔

٭ ہمارا اس بات پر بھی ایمان ہے کہ جبرائیل علیہ السلام یہی دین لے کر محمد عربی ﷺ کے پاس آئے تھے، اس دین کے مندرجہ ذیل مراتب ہیں: اسلام ، ایمان اور احسان اور ان میں سے ہر ایک کے ارکان ہیں۔

یہ دین ہر خیر کا مجموعہ ہے، قلبی و بدنی تمام اعمال کو شامل ہے۔

٭ اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ قول و عمل اور اعتقاد ہی کا نام ایمان ہے اور اہل ایمان میں ہر ایک کو اعمال ہی کی بنیاد پر فوقیت ملے گی۔ ہم یہ بھی مانتے ہیں کہ ایمان میں کمی زیادتی ہوتی ہے، اطاعت و فرماں برداری سے ایمان بڑھتا ہے اور معصیت و نا فرمانی سے گھٹتا ہے۔

٭ ہم اس بات پر بھی گواہ ہیں کہ اہل ایمان ہی دنیا و آخرت میں کامیابی سے ہم کنار ہوں گے، اور اس دین حق پر جو قائم ہیں، در جات و مراتب میں فرق ہونے کے باوجود سب کا ٹھکانہ جنت ہے۔

٭ ہمیں یہ معلوم ہے کہ کتاب و سنت کو لاز م پکڑنے، ان پر عمل کرنے اور ان کی مخالفت سے بچنے کے سلسلے میں قرآن و سنت میں بے شمار آیات واحادیث وارد ہیں اور ان کی مخالفت سے ایسے ہی روکا گیا ہے جیسے اختلاف وانتشار سے رو کا گیا ہے۔

باب: اسلام ہی اللہ کے یہاں دین ہے

٭ ہمارا ایمان ہے کہ اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ دین ’’دین اسلام‘‘ ہے، جیسا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے: {وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا} "اور میں تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوگیا"۔ [المائدۃ: ۳] ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: { إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ } "بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے"۔ [آل عمران: ۱۹] اور یہی دین سارے انبیاء کا دین رہا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کی وہ بات بیان کیا ہے، جو انہوں نے اپنی قوم سے کہا تھا: {وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ } "اور مجھ کو حکم کیا گیا ہے کہ میں مسلمانوں میں سے رہوں"۔ [یونس : ۷۲] اور اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کی بابت فرمایا: {إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ } "جب انہیں ان کے رب نے کہا، فرمانبردار ہوجا، انہوں نے کہا، میں نے رب العالمین کی فرمانبرداری کی"۔ [البقرۃ : ۱۳۱]

٭ ہم یہ بھی مانتے ہیں کہ دین اسلام مکمل ہے، اسے اللہ تعالی نے مکمل کر دیا ہے، اس میں کسی بھی قسم کا نقص نہیں ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا} "آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا"۔ [المائدۃ: ۳] اور یہی سب سے بہتر اور کامل دین ہےاوریہی دین حنیفیت ہے، جو کہ ابراہیم علیہ السلام کى ملت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: { وَمَنْ أَحْسَنُ دِينًا مِمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ وَاتَّبَعَ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا} "باعتبار دین کے اس سے اچھا کون ہے جو اپنے کو اللہ کے تابع کردے اور ہو بھی نیکو کار، ساتھ ہی یکسوئی والے ابراہیم کے دین کی پیروی کر رہا ہو اور ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اپنا دوست بنایا ہے"۔ [النساء: ۱۲۵] اور اللہ پاک نے فر مایا: { وَمَنْ يَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهُ وَلَقَدِ اصْطَفَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ } "اور دین ابراہیمی سے وہی بے رغبتی کرے گا جو محض بیوقوف ہو، ہم نے تو اسے دنیا میں بھی برگزیدہ کیا تھا اور آخرت میں بھی وہ نیکو کاروں میں سے ہے"۔ [البقرۃ: ۱۳۰] اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل ابراہیم علیہ السلام کے سلسلے میں فرمایا: { مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلَا نَصْرَانِيًّا وَلَكِنْ كَانَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ} "ابراہیم نہ تو یہودی تھے اور نہ ہی نصرانی تھے لیکن وہ خالص مسلمان تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے"۔ [آل عمران: ۶۷]

اور اسلام ہی وہ فطرت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: { فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ } "پس آپ یکسو ہو کر اپنا منہ دین کی طرف متوجہ کردیں، اللہ تعالیٰ کی وہ فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، اللہ تعالیٰ کے بنائے کو بدلنا نہیں یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے"۔ [الروم: ۳۰]

اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ، أَوْ يُنَصِّرَانِهِ، أَوْ يُمَجِّسَانِهِ، كَمَثَلِ البَهِيمَةِ تُنْتَجُ البَهِيمَةَ، هَلْ تَرَى فِيهَا جَدْعَاءَ»۔ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، لیکن اس کے ماں باپ اسے یا تو یہودی بنا دیتے ہیں، یا نصرانی بنادیتے ہیں یا مجوسی بنا دیتے ہیں، جیسا کہ چوپایہ صحیح سالم جانور جنتا ہے، کیا تم اس میں کوئی کن کٹا دیکھتے ہو؟"۔ پھر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تلاوت کی: {فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لاَ تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ القَيِّمُ} "یہ اللہ کی فطرت ہےجس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، اللہ کی فطرت میں کوئی تبدیلی ہو نے والی نہیں ہے، یہی سیدھا دین ہے"۔ [الروم: ۳۰] (صحیح بخاری: ۱۳۸۵، صحیح مسلم : ۲۶۵۸، سنن أبی داود : ۴۷۱۴، جامع الترمذی: ۲۱۳۸)۔ اوراللہ تعالیٰ نے عالم ارواح میں آدم اور ان کی ذریت سے یہی وعدہ لیا تھا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: { وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَ أَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ} "اور جب آپ کے رب نے اولاد آدم کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان سے ان ہی کے متعلق اقرار لیا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا کیوں نہیں ! ہم سب گواہ بنتے ہیں تاکہ تم لوگ قیامت کے روز یوں نہ کہو کہ ہم تو اس سے محض بے خبر تھے"۔ [الأعراف: ۱۷۲]

اورہمارا ایمان ہے کہ دین اسلام کے علاوہ اللہ تعالیٰ کوئی اوردین قبول نہیں کرے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ ۚ وَھُوَ فِي الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ} "جو شخص اسلام کے سوا اور دین تلاش کرے، اس کا دین قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا"۔ [آل عمران: ۸۵]

باب: اسلام کا بیان

٭ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالی نے محمد ﷺ پر یہی دین جبرئیل علیہ السلام کے ذریعہ نازل کیا، اس کے کل تین مراتب ہیں: (۱)اسلام (۲) ایمان (۳) احسان اور ان میں سے ہر ایک کے ارکان ہیں۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں ’’بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَجُلٌ شَدِيدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ، شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعَرِ، لَا يُرَى عَلَيْهِ أَثَرُ السَّفَرِ، وَلَا يَعْرِفُهُ مِنَّا أَحَدٌ، حَتَّى جَلَسَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْنَدَ رُكْبَتَيْهِ إِلَى رُكْبَتَيْهِ، وَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ، وَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْإِسْلَامُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ، وَ تَحُجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ سَبِيلًا، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَعَجِبْنَا لَهُ يَسْأَلُهُ، وَيُصَدِّقُهُ، قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ الْإِيمَانِ، قَالَ: أَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ، وَ مَلَائِكَتِهِ، وَكُتُبِهِ، وَرُسُلِهِ، وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ الْإِحْسَانِ، قَالَ: أَنْ تَعْبُدَ اللهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ، قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ السَّاعَةِ، قَالَ: مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنْ أَمَارَتِهَا، قَالَ: أَنْ تَلِدَ الْأَمَةُ رَبَّتَهَا، وَأَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَاءَ الشَّاءِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ، قَالَ: ثُمَّ انْطَلَقَ فَلَبِثْتُ مَلِيًّا، ثُمَّ قَالَ لِي: يَا عُمَرُ أَتَدْرِي مَنِ السَّائِلُ؟ قُلْتُ: اللهُ وَ رَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّهُ جِبْرِيلُ أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ‘‘۔ "ایک دن ہم اللہ کے رسول ﷺکے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ہمارے پاس ایک ایسا شخص آیا جس کے کپڑے نہایت سفید اور بال نہایت کالے تھے، اس پر سفر کی کوئی نشانی ظاہر نہیں ہو رہی تھی اور ہم میں سےاسے کو ئی پہچانتا بھی نہیں تھا، وہ نبی ﷺکے پاس آ کربیٹھ گیا اور اپنے گھٹنے نبی ﷺکے گھٹنوں سے ملا دیا اوراپنی دونوں ہتھیلیاں خود دونوں رانوں پر رکھ دیا، پھر عرض کیا: اے محمد! مجھے اسلام کے بارے میں بتا ئیے تو اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: اسلام یہ ہے کہ آپ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کو ئی معبود برحق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کریں، زکوۃ ادا کریں، ماہ رمضان کے روزے رکھیں اور اگر طاقت ہو تو خانہ کعبہ کا (کم از کم زندگی میں ایک بار) حج کریں، وہ بولا: سچ کہا آپ نے، ہمیں تعجب ہوا کہ و ہی آپ سے پوچھتا بھی ہے پھر وہی کہتا بھی ہے کہ آپ نے سچ کہا، پھر عرض کیا: مجھے ایمان کے بارے میں بتاؤ، فرمایا : اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر اور یوم آخرت پر ایمان لانا اور اس بات پر بھی ایمان لانا کہ تقدیر اچھی ہے یا بری (ایمان کہلاتا ہے)، کہا: آپ نے سچ کہا، پھر فرمایا: مجھے احسان کے بارے میں بتاؤ، (آپ ﷺ نے) فرمایا: آپ اللہ کی عبادت اس طرح کریں کہ جیسے آپ اسے دیکھ رہے ہوں اور اگر آپ اسے نہیں دیکھ رہے ہیں تو اللہ آپ کو دیکھ رہا ہے، فرمایا: قیامت کے بارے میں بتاؤ: فرمایا: سائل سے زیادہ وہ نہیں جانتا ہے جس سے سوال کیا گیا ہے، فرمایا: مجھے اس کی نشانیوں کے بارے میں بتاؤ، فرمایا: لونڈی اپنی مالکن جنے گی، آپ دیکھیں گے ننگے بدن، ننگے پاؤں والے، کنگال اور بکریاں چرانے والے فقراء عمارتیں بنانے میں فخر محسوس کریں گے، فرماتے ہیں کہ پھر وہ چلا گیا تو میں کچھ دیر ٹھہرا پھر (آپﷺ ) نے مجھے کہا کہ اے عمر ! تم کو معلوم ہے کہ وہ سائل کون تھا؟(فرماتے ہیں کہ) میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں، فرمایا: وہ جبرئیل تھے جو تمہارے پاس تم کو تمہارا دین سکھانے آئے تھے۔ (صحیح مسلم : ۸،سنن أبی داود: ۴۶۹۵، جامع الترمذي: ۲۶۱۰، سنن النسائي: ۴۹۹۰، سنن ابن ماجه:۶۳).

اور ارکان اسلام کی وضاحت نبی اکرم ﷺ نے دوسری حدیثوں میں بھی کی ہے، چنانچہ آپ نے فرمایا: "اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی برحق معبود نہیں ہے اورمحمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکاۃ دینا، حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔‘‘ (صحیح بخاری: ۸، صحیح مسلم: ۱۶، جامع الترمذی: ۲۶۰۹، سنن النسائی: ۵۰۰۱)۔ طلحہ بن عبید اللہ فر ماتے ہیں کہ’’جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ ثَائِرَ الرَّأْسِ، يُسْمَعُ دَوِيُّ صَوْتِهِ وَلاَ يُفْقَهُ مَا يَقُولُ، حَتَّى دَنَا، فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنِ الإِسْلاَمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي اليَوْمِ وَاللَّيْلَةِ. فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا؟ قَالَ: لاَ، إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَصِيَامُ رَمَضَانَ. قَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ؟ قَالَ:لاَ، إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ. قَالَ: وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّكَاةَ، قَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا؟ قَالَ: لاَ، إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ. قَالَ: فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُولُ: وَاللَّهِ لاَ أَزِيدُ عَلَى هَذَا وَلاَ أَنْقُصُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ‘‘۔ نجد والوں میں ایک شخص پریشان حال اللہ کے رسولﷺ کے پاس آیا، ہم اس کی آواز کی بھنبھناہٹ سنتے تھے اور اس کی بات سمجھ میں نہیں آرہی تھی یہاں تک کہ وہ قریب ہوگیا، اچانک اس نے اسلام کے بارے میں پوچھا تو اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: دن اور رات میں پانچ نمازیں پڑھنا ہے، اس نے کہا کیا اس کے علاوہ مجھ پر کچھ اور ہے؟ کہا: نہیں، مگر یہ کہ تو نفل پڑھ لے، اللہ کے رسول ﷺنے فرمایا: اور رمضان کے روزے رکھنا، اس نے کہا اس کے علاوہ مجھ پر کچھ اور ہے؟ کہا : نہیں، مگر تو نفل روزے رکھ لے، فر ماتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺنے اس سے زکوٰۃ کا تذکرہ کیا، وہ کہنے لگا کہ اس کے علاوہ مجھ پر کچھ اور ہے؟ کہا: نہیں مگر یہ کہ تو نفلی صدقہ دے دے، راوی کہتے ہیں کہ پھر وہ شخص پیٹھ پھیر کر یہ کہتے ہو ئے چلا کہ قسم اللہ کی میں نہ اس سے بڑھاؤں گا نہ گھٹاؤں گا، اللہ کے رسول ﷺنے فرمایا اگر یہ سچا ہے تو وہ کامیاب ہو گیا۔ (صحیح بخاری: ۴۶، صحیح مسلم: ۱۱، سنن أبی داود: ۳۹۱، سنن النسائی: ۴۵۸)۔

ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ} "انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اسی کے لئے دین کو خالص رکھیں ابراہیم حنیف کے دین پر اور نماز قائم رکھیں اور زکوٰۃ دیتے رہیں یہی ہے دین سیدھی ملت کا"۔ [البینۃ: ۵ ] اور اللہ عز وجل نے فرمایا: { فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ} "ہاں اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز کے پابند ہوجائیں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں تو تم ان کی راہیں چھوڑ دو یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے"۔ [التوبۃ: ۵] ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ} "اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوہ ادا کریں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں"۔ [التوبۃ: ۱۱] اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَيُقِيمُوا الصَّلاَةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّ الإِسْلاَمِ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ‘‘۔ "مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں، تا آنکہ لوگ اس بات کی گواہی دینے لگیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور محمد اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کریں، اور زکوۃ ادا کریں، اگر لوگوں نے یہ کر لیا تو انہوں نے مجھ سے اپنا خون، اپنا مال اسلام کے حق کے ساتھ بچا لیا، اور ان کا حساب اللہ پر ہے"۔ (صحیح بخاری: ۲۵، صحیح مسلم: ۲۲)

اور ابو موسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے پوچھا اے اللہ کے رسول ! کون سا اسلام سب سے افضل ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مَنْ سَلِمَ المُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ، وَيَدِهِ‘‘ : جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ (صحیح بخاری: ۱۱، صحیح مسلم : ۴۲، جامع الترمذی: ۲۵۰۴، سنن النسائی: ۴۹۹۹)۔

اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’إِذَا أَسْلَمَ العَبْدُ فَحَسُنَ إِسْلاَمُهُ، يُكَفِّرُ اللَّهُ عَنْهُ كُلَّ سَيِّئَةٍ كَانَ زَلَفَهَا، وَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ القِصَاصُ: الحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ، وَالسَّيِّئَةُ بِمِثْلِهَا إِلَّا أَنْ يَتَجَاوَزَ اللَّهُ عَنْهَا‘‘۔ جب بندہ اسلام لے آتا ہے اور اس کا اسلام بہتر ہوتا ہے، تو اللہ اس کے ہر گناہ جو اس نے پہلے کیا تھا مٹا دیتا ہے، اس کے بعد بدلہ ہے: ایک نیکی کا اسی کے مثل دس سے لے کر سات سو گنا تک، اور برائی کا اسی کے مثل الا یہ کہ اللہ اسے معاف کردے۔ (صحیح بخاری: ۴۱۔ معلقا، سنن النسائی: ۴۹۹۸)

باب: ایمان کا بیان

ہمارا ایمان ہے کہ دین کا دوسرا مرتبہ ایمان ہے۔ اس سے پہلےحدیث جبرئیل میں یہ بات آپ کو بتا دی گئی ہے کہ جبرئیل علیہ السلام نے آپ ﷺ سے ایمان کی بابت سوال کرتے ہوئے فرمایا: ’’فَأَخْبِرْنِي عَنِ الْإِيمَانِ، قَالَ:أَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ، وَمَلَائِكَتِهِ، وَكُتُبِهِ، وَرُسُلِهِ، وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَ تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: ثُمَّ انْطَلَقَ فَلَبِثْتُ مَلِيًّا، ثُمَّ قَالَ لِي:يَا عُمَرُ أَتَدْرِي مَنِ السَّائِلُ؟قُلْتُ: اللهُ وَ رَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّهُ جِبْرِيلُ أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ‘‘۔ مجھے ایمان کے بارے میں بتاؤ؟ فرمایا :اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر اور یوم آخرت پر ایمان لانا اور اس بات پر بھی ایمان لانا کہ تقدیر اچھی ہے یا بری (ایمان کہلاتا ہے)، کہا آپ نے سچ کہا۔،،،،فرماتے ہیں: کہ پھر وہ چلا گیا تو میں کچھ دیر ٹھہرا پھر (آپﷺ ) نے مجھ سے پوچھا: کہ اے عمر ! تم کو معلوم ہے وہ سائل کون تھا ؟(فرماتے ہیں کہ) میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں، فرمایا: وہ جبرئیل تھے جو تمہارے پاس تم کو تمہارا دین سکھانے آئے تھے۔ ( صحیح مسلم: ۸، سنن أبی داود: ۴۶۹۵، جامع الترمذي: ۲۶۱۰، سنن النسائي: ۴۹۹۰،سنن ابن ماجه: ۶۳).

ایمان کا ایک خصوصی معنی ہے اور دوسرا عمومی، خصوصی معنی تو گزشتہ روایت میں پیش کرتے ہو ئے نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’أَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ، وَمَلَائِكَتِهِ، وَكُتُبِهِ، وَرُسُلِهِ، وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ‘‘۔ اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر اور یوم آخرت پر ایمان لانا اور اس بات پر بھی ایمان لانا کہ تقدیر اچھی ہے یا بری (ایمان کہلاتا ہے)۔ اور عمومی معنی یہ ہے کہ ’’ھو جامع لکل خیر شامل لأعمال القلوب والجوارح ‘‘ ایمان ہر خیر کا جامع اور قلبی و بدنی اعمال کو شامل ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ * ۔ "بس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتیں ہیں تو وہ آیتیں ان کے ایمان کو اور زیادہ کردیتی ہیں اور وہ لوگ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔ الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ * جو کہ نماز کی پابندی کرتے ہیں اور ہم نے ان کو جو کچھ دیا ہے وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ أُولَئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا لَهُمْ دَرَجَاتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ} سچے ایمان والے یہی لوگ ہیں ان کے بڑے درجے ہیں ان کے رب کے پاس اور مغفرت اور عزت کی روزی ہے"۔ [الأنفال: ۲-۴]

اللہ کے نبی ﷺ نے عبد القیس کے وفد کے لیے ظاہری شعائر کی وضاحت کی ہے۔ صحیح میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ: ’’إِنَّ وَفْدَ عَبْدِ القَيْسِ لَمَّا أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنِ القَوْمُ؟ - أَوْ مَنِ الوَفْدُ؟ - قَالُوا: رَبِيعَةُ. قَالَ: مَرْحَبًا بِالقَوْمِ، أَوْ بِالوَفْدِ، غَيْرَ خَزَايَا وَلاَ نَدَامَى، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لاَ نَسْتَطِيعُ أَنْ نَأْتِيكَ إِلَّا فِي الشَّهْرِ الحَرَامِ، وَبَيْنَنَا وَبَيْنَكَ هَذَا الحَيُّ مِنْ كُفَّارِ مُضَرَ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ فَصْلٍ، نُخْبِرْ بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا، وَنَدْخُلْ بِهِ الجَنَّةَ، وَسَأَلُوهُ عَنِ الأَشْرِبَةِ: فَأَمَرَهُمْ بِأَرْبَعٍ، وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ، أَمَرَهُمْ: بِالإِيمَانِ بِاللَّهِ وَحْدَهُ، قَالَ: أَتَدْرُونَ مَا الإِيمَانُ بِاللَّهِ وَحْدَهُ، قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: شَهَادَةُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامُ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَصِيَامُ رَمَضَانَ، وَأَنْ تُعْطُوا مِنَ المَغْنَمِ الخُمُسَ وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: عَنِ الحَنْتَمِ وَالدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالمُزَفَّتِ، وَرُبَّمَا قَالَ: المُقَيَّرِ وَقَالَ: احْفَظُوهُنَّ وَ أَخْبِرُوا بِهِنَّ مَنْ وَرَاءَكُمْ‘‘۔ عبد القیس کا وفد جب نبی ﷺکے پاس آیا تو آپ نے پوچھا کہ یہ کون سی قوم کے لوگ ہیں یا یہ وفد کہاں کا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ربیعہ، آپ نے فرمایا خوش آمدید نہ ذلیل ہونے والے اور نہ شرمندہ ہونے والی قوم یا وفد کو، انہوں نے کہا کہ: اے اللہ کے رسول! ہم آپ کے پاس صرف حرمت والے مہینوں ہی میں آ سکتے ہیں کیونکہ ہمارے اور آپ کے درمیان کفار مضر کا یہ قبیلہ ہے، اس لئے آپ ہمیں ایسی بات بتا دیجئے کہ جس کی خبر ہم اپنے پچھلے لوگوں کو بھی کر دیں اور اس کے ذریعہ ہم جنت میں داخل ہو جائیں اور انہوں نے آپ سے پینے کے بارے میں بھی پوچھا، تو آپ نے ان کو چار باتوں کا حکم دیا اور چار سے منع کیا، ان کو حکم دیا کہ ایک اللہ پر ایمان لاؤ پھر آپ نے پوچھا کہ کیا تم جانتے ہو کہ ایک اللہ پر ایمان لانے کا مطلب کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی کو زیادہ معلوم ہے، آپ نے فرمایا کہ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی مبعود برحق نہیں ہے اور محمد اللہ کے سچے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور مال غنیمت میں سے جو ملے اس کا پانچواں حصہ ( بیت المال میں) دینا اور چار چیزوں سے انہیں منع کیا، سبز گھڑے سے، کدو کے بنائے ہوئے برتن سے، کھجور کے تنے کو کھود کر بنائے ہوئے برتن سے، اور روغنی برتن سے۔ اور فرمایا: کہ ان باتوں کو یادکر لو اورجو پیچھے رہ گئے ہیں اور یہاں نہیں آئے ہیں انہیں بھی بتادو۔ (صحیح بخاری: ۵۳، صحیح مسلم: ۱۷، سنن أبی داود: ۳۶۹۲، جامع الترمذی: ۲۶۱۱، سنن النسائی: ۵۰۳۱)۔

امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری میں ایک باب قائم کیاہے’’بَابُ أُمُورِ الإِيمَانِ‘‘ ایمان کے کاموں کا بیان، اس کے تحت اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نقل کیا ہے: {لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَ الْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ أُولَئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَ أُولَئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ} "ساری اچھائی مشرق ومغرب کی طرف منھ کرنے میں ہی نہیں بلکہ حقیقتاً اچھا وہ شخص ہے جو اللہ تعالی پر، قیامت کے دن پر، فرشتوں پر، کتاب اللہ پر اور نبیوں پر ایمان رکھنے والا ہو، جو مال سے محبت کرنے کے باوجود قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سوال کرنے والے کو د ے، غلاموں کو آزاد کرے، نماز کی پابندی اور زکوٰۃ کی ادائیگی کرے، جب وعدہ کرے تب اسے پورا کرے، تنگدستی، دکھ درد اور لڑائی کے وقت صبر کرے، یہی سچے لوگ ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں"۔ [البقرۃ: ۱۷۷]

اور ہمارا ایمان ہے کہ ایمان قول و عمل اور عقید ے کے مجموعے کا نام ہے، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ - أَوْ بِضْعٌ وَسِتُّونَ - شُعْبَةً، فَأَفْضَلُهَا قَوْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ‘‘۔ ایمان کی تہتر تا اناسی یا ترستٹھ تا انسٹھ شاخیں ہیں، ان میں سب سے افضل لا الہ الا اللہ کا اقرار کرنا، اور سب سے کم تر راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے، اور حیاء ایمان کا ایک شعبہ ہے۔ ( صحیح بخاری: ۹، صحیح مسلم: ۳۵ ، اور الفاظ مسلم کے ہیں، سنن أبی داود: ۴۶۷۶، جامع الترمذی: ۲۶۱۴، سنن النسائی: ۵۰۰۵ ، سنن ابن ماجہ: ۵۷)

اور ہمارا ایمان ہے کہ اہل ایمان کو ان کے اپنے اعمال کے حساب سے ایک دوسرے پر برتری اور فضیلت حاصل ہے، جیسا کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ’’يَدْخُلُ أَهْلُ الجَنَّةِ الجَنَّةَ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ، ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: أَخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ. فَيُخْرَجُونَ مِنْهَا قَدِ اسْوَدُّوا، فَيُلْقَوْنَ فِي نَهَرِ الحَيَا، أَوِ الحَيَاةِ - شَكَّ مَالِكٌ - فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الحِبَّةُ فِي جَانِبِ السَّيْلِ، أَلَمْ تَرَ أَنَّهَا تَخْرُجُ صَفْرَاءَ مُلْتَوِيَةً‘‘۔ جنتی جنت میں اور دوزخی دوزح میں داخل ہو جائیں گے، تو اللہ تعالیٰ کہے گا: اسے دوزخ سے نکال لو جس کے دل میں رائی کے برابر ایمان تھا۔ تو انہیں نکال لیا جا ئے گا اس حال میں کہ وہ سیاہ ہو چکے ہوں گے، پھر انہیں زندگی کے نہر میں ڈال دیا جائے گا، تو وہ اس طرح اگیں گے جیسے پانی کے بہاؤ کے کنارے دانے اگتے ہیں، کیا تم نے نہیں دیکھا کہ دانہ زردی مائل پیچ در پیچ نکلتا ہے؟ ! (صحیح بخاری: ۲۲، صحیح مسلم: ۱۸۴)

ابو امامہ بن سہل بن حنیف سے روایت ہے کہ انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو کہتے ہو ئے سنا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ، رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَيَّ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ، مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثُّدِيَّ، وَمِنْهَا مَا دُونَ ذَلِكَ، وَعُرِضَ عَلَيَّ عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ. قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: الدِّينَ‘‘ میں سو رہا تھا کہ ( خواب میں) دیکھا کہ لوگ مجھ پر پیش کئے جارہے ہیں، اور ان پر قمیصیں ہیں، ان میں سے بعض کی قمیص چھاتی تک پہونچتی ہے، اور بعض کی اس سے کم، اور مجھ پر عمر بن خطاب پیش کئے گئے اس حال میں کہ ان پر ایسی قمیص تھی جسے وہ گھسیٹ (کر چل) رہے تھے، لوگوں نے کہا: کہ اے اللہ کے رسول ! آپ نے اس کی کیا تاویل کیا؟ فر مایا: دین۔ (صحیح بخاری: ۲۳،صحیح مسلم: ۲۳۹۰، جامع الترمذی: ۲۲۸۵ اور اس میں ہے: نبی کے بعض صحابۂ کرام سے، سنن النسائی: ۵۰۱۱ )

٭ ہم یہ مانتے ہیں کہ ایمان گھٹتا بڑھتا ہے، اطاعت و فرماں برداری سے بڑھتا ہے اور نا فرمانی سے گھٹتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ نَبَأَهُمْ بِالْحَقِّ إِنَّهُمْ فِتْيَةٌ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ وَزِدْنَاهُمْ هُدًى} "ہم ان کا صحیح واقعہ تیرے سامنے بیان فرما رہے ہیں، یہ چند نوجوان اپنے رب پر ایمان ﻻئے تھے اور ہم نے ان کی ہدایت میں ترقی دی تھی"۔ [الکھف: ۱۳] اور فرمایا: {وَيَزْدَادَ الَّذِينَ آمَنُوا إِيمَانًا } "اور اہل ایمان کے ایمان میں اضافہ ہو جائے"۔ [المدثر: ۳۱]

اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَفِي قَلْبِهِ وَزْنُ شَعِيرَةٍ مِنْ خَيْرٍ، وَيَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَفِي قَلْبِهِ وَزْنُ بُرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ، وَيَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَفِي قَلْبِهِ وَزْنُ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ‘‘۔ لا الہ الا اللہ کہنے والا دوزخ سے نکلے گا اس حال میں کہ اس کے دل میں جو کے برابر خیر ہوگا، لا الہ الا اللہ کہنے والا دوزخ سے نکلے گا اس حال میں کہ اس کے دل میں گیہوں کے برابر خیر ہوگا اورلا الہ الا اللہ کہنے والا دوزخ سے نکلے گا اس حال میں کہ اس کے دل میں ذرہ برابر خیر ہوگا۔ (صحیح بخاری: ۴۴، صحیح مسلم: ۱۹۳، جامع الترمذی: ۲۵۹۳)

عمر بن عبد العزیز نے عدی بن عدی کو لکھا کہ: ’’إِنَّ لِلْإِيمَانِ فَرَائِضَ، وَشَرَائِعَ، وَحُدُودًا، وَسُنَنًا، فَمَنِ اسْتَكْمَلَهَا اسْتَكْمَلَ الإِيمَانَ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَكْمِلْهَا لَمْ يَسْتَكْمِلِ الإِيمَانَ، فَإِنْ أَعِشْ فَسَأُبَيِّنُهَا لَكُمْ حَتَّى تَعْمَلُوا بِهَا، وَإِنْ أَمُتْ فَمَا أَنَا عَلَى صُحْبَتِكُمْ بِحَرِيصٍ‘‘۔ ایمان کے کچھ فرائض، ضابطے، حدود اور سنتیں ہیں، جس نے انہیں مکمل کیا اس نے ایمان مکمل کیا، اور جس نے انہیں مکمل نہیں کیا اس نے ایمان مکمل نہیں کیا، اگر میں زندہ رہا تو تمہارے سامنے اس کی وضاحت کر دوں گا تا کہ تم سب اس پر عمل کر سکو، اور اگر مر گیا تو (جان لو ) کہ میں تمہاری صحبت پر حریص نہیں ہوں۔ (صحیح بخاری تعلیق کے ساتھ: ۱۰/۱، مصنف ابن أبی شیبہ: ۳۱۰۸۴، كتاب الإيمان لابن أبی شیبہ: ۱۳۵، السنۃ لأبی بکر ابن الخلال: ۱۱۶۲، ۱۵۵۳، الإبانة الكبرى لابن بطہ: ۱۱۶۲، شرح أصول اعتقاد أهل السنة للالكائي: ۱۵۷۲)۔

معمر، سفیان ثوری، مالک بن انس، ابن جریج اور سفیان بن عیینہ فر ماتے ہیں: ’’الْإِيمَانُ قَوْلٌ وَعَمَلٌ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ‘‘۔ ایمان قول وعمل کا نام ہے اور یہ گھٹتا اور بڑھتا رہتاہے۔ (الإبانۃ الکبری لإبن بطۃ: ۲/۸۰۶، الشریعۃ للآجری: ۲/۶۰۶)

حافظ ابو بکر عبد اللہ بن زبیر الحُمیدی فرماتے ہیں: ایمان قول و عمل کا نام ہے، جوکہ گھٹتا بڑھتا ہے، بلا عمل کوئی قول نفع بخش نہیں ہوگا، اور کو ئی بھی قول و عمل بغیر نیت کے نفع بخش نہیں ہوگا، اور کوئی بھی قول و عمل اور نیت بغیر سنت کے نفع بخش نہیں۔ (أصول السنۃ للحمیدی: ص: ۳۷)

اور خلال فرماتے ہیں: مجھے عبد الملک المیمون نے بتایا کہ مجھے یعلى بن عبید نے ساٹھ سال سے زیادہ پہلے یہ بات کہی تھی ’’الْإِيمَانُ قَوْلٌ وَعَمَلٌ، وَإِنَّ الَّذِي يَصُومُ وَيُصَلِّي وَيَفْعَلُ الصَّالِحَاتِ أَكْثَرُ إِيمَانًا مِنَ الَّذِي يَسْرِقُ وَيَزْنِي‘‘۔ ایمان قول و عمل کا نام ہے، جو روزہ رکھتا ہے، نماز پڑھتا ہے اور نیکیاں کرتا ہے اس کا ایمان اس کے بالمقابل زیادہ ہے جو چوری کرتا ہے اور زنا کرتا ہے۔ (السنۃ لأبی بکر إبن الخلال: ۳/۵۹۰)

اور ابن ابی حاتم فر ماتے ہیں: ’’سألت أبي وأبا زرعة عن مذاهب أهل السنة في أصول الدين، وما أدركا عليه العلماء في جميع الأمصار، و ما يعتقدان من ذلك، فقالا: أدركنا العلماء في جميع الأنصار حجازاً وعراقاً وشاماً ويمناً فكان من مذهبهم: الإيمان قول وعمل، يزيد و ينقص‘‘۔ میں نے اپنے والد سے اور ابو زرعہ سے اصول دین میں اہل السنہ کے مذاہب کے بارے میں سوال کیا اور اس کے بارے میں بھی پوچھا جس پر ان دونوں نے دیگر ممالک میں علماء کو پایا اوراس سلسلے میں ان دونوں کے اعتقاد کے بارے میں بھی۔ تو دونوں نے کہا: کہ ہم نے تمام ممالک میں مثلا حجاز، عراق، شام اور یمن میں جن علماء کو پایا ان کا مذہب تھا: ایمان قول وعمل کا نام ہے، اور یہ گھٹتا بڑھتا ہے۔ (شرح أصول اعتقاد أہل السنۃ و الجماعۃ: ۱۹۸/۱، عقیدۃ السلف -مقدمۃ أبی زید القیروانی لکتابہ الرسالۃ: ص: ۲۹)۔

امام لالکائی فر ماتے ہیں کہ: ’’الإيمان قول وعمل‘‘ ایمان قول وعمل کا نام ہے۔ اور یہی بات کئی فقہاء نے کہا ہے: جیسے مالک بن انس ، عبد العزیز بن أبو سلمہ الماجشون ، لیث بن سعد ، اوزاعی ، سعید بن عبد العزیز ، ابن جریج ، سفیان بن عیینہ ، فضیل بن عیاض ، نافع بن عمر الجمحی ، محمد بن مسلم الطائفی ، محمد بن عبد اللہ بن عمرو بن عثمان بن عفان ، المثنی بن الصباح ، الشافعی ، عبد اللہ بن الزبیر الحمیدی ، ابو ابراہیم المزنی، سفیان ثوری ، شریک ، ابو بکر بن عیاش ، وکیع ، حماد بن سلمہ ، حماد بن زید ، یحیی بن سعید القطان ، عبد اللہ بن المبارک ، ابو اسحاق الفزاری ، النضر بن محمد المروزی ، النضر بن شمیل ، أحمد بن حنبل ، اسحاق بن راہویہ ، ابو ثور اور ابو عبید۔ (شرح أصول إعتقاد أہل السنۃ والجماعۃ للإمام اللکائی: ۹۱۳/۴)

ابو عبد اللہ ابن أبی زمنین نے اپنی کتاب ’’أصول السنۃ‘‘ میں فرمایا: باب اس بات کا کہ ایمان قول و عمل پر مشتمل ہے: اہل سنت کے نزدیک: ایمان دلوں میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص، زبان سے گواہی دینا اور اعضاء و جوارح کے ذریعہ نیک نیتی کے ساتھ اور سنت کے مطابق عمل کرنا ہے " (أصول السنۃ: ص: ۲۰۷)۔

باب: احسان کا بیان

٭ ہمارا ایمان ہے کہ دین کا تیسرا مرتبہ احسان ہے۔ جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے جبرائیل علیہ السلام کے جواب میں فرمایا، جس وقت انہوں نے آپ سے سوال کیا کہ مجھے احسان کے بارے میں بتاؤ، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اگر تم اسے نہیں دیکھ سکتے تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ ۔ ۔‘‘۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر وہ چلا گیا، میں نے تھوڑی دیر انتظار کیا، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: "اے عمر، کیا تم جانتے ہو کہ سوال کرنے والا کون تھا؟" میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جبرائیل تھے، وہ تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے۔ ( صحیح مسلم : ۸، سنن أبو داود: ۴۶۹۵، جامع الترمذي: ۲۶۱۰، سنن النسائي: ۴۹۹۰، سنن ابن ماجه: ۶۳)

اللہ تعالی نے فرمایا جو اس دین پر ہیں وہی حق پر ہیں گرچہ ان کا درجہ و مرتبہ الگ الگ ہے لیکن ان کا ٹھکانہ جنت ہے خواہ اہل اسلام ہوں، یا اہل ایمان ہوں، یا اہل احسان ہوں، سب کا ٹھکانہ جنت ہے، جیسا کہ اللہ عز وجل نے فرمایا: {وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ إِنَّ اللَّهَ بِعِبَادِهِ لَخَبِيرٌ بَصِيرٌ *۔ "اور یہ کتاب جو ہم نے آپ کے پاس وحی کے طور پر بھیجی ہے یہ بالکل ٹھیک ہے جو کہ اپنے سے پہلی کتابوں کی بھی تصدیق کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی پوری خبر رکھنے والا خوب دیکھنے والا ہے۔ ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللَّهِ ذَلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ*۔ پھر ہم نے ان لوگوں کو (اس) کتاب کا وارث بنایا جن کو ہم نے اپنے بندوں میں سے پسند فرمایا پھر بعضے تو ان میں اپنی جانوں پرظلم کرنے والے ہیں اور بعضے ان میں متوسط درجے کے ہیں اور بعضے ان میں اللہ کی توفیق سے نیکیوں میں ترقی کئے چلے جاتے ہیں، یہ بڑا فضل ہے۔ جَنَّاتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا يُحَلَّوْنَ فِيهَا مِنْ أَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَلُؤْلُؤًا وَلِبَاسُهُمْ فِيهَا حَرِيرٌ*۔ باغات ہمیشہ رہنے کے جن میں یہ لوگ داخل ہوں گے سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جاویں گے اور پوشاک ان کی وہاں ریشم کی ہوگی۔ وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ إِنَّ رَبَّنَا لَغَفُورٌ شَكُورٌ } اور کہیں گے کہ تمام تعریفات اللہ کے لئے ہے جس نے ہم سے غم دور کیا، بےشک ہمارا رب بڑا بخشنے والا بڑا قدردان ہے"۔ [فاطر: ۳۱-۳۴]

باب: سنت کو لازم پکڑنے اور اس پر قائم رہنے کا حكم

سنت کو لا زم پکڑنے، اس پر چلنے، اس کی مخالفت نہ کرنے اور اختلاف و انتشار سے بچنے کی بے شمار دلیلیں قرآن و حدیث میں تواتر سے آئی ہیں۔ اللہ تعالی نے فر مایا: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللّٰهَ وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَكَرَ اللّٰهَ كَثِيْرًا} "یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے"۔ [الأحزاب: ۲۱] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ} "بے شک جن لوگوں نے اپنے دین کو جدا جدا کردیا اور گروہ گروہ بن گئے، آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں"۔ [الأنعام: ۱۵۹] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {شَرَعَ لَكُمْ مِنَ الدِّينِ مَا وَصَّى بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ} "اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے وہی دین مقرر کردیا ہے جس کے قائم کرنے کا اس نے نوح (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا اور جو (بذریعہ وحی) ہم نے تیری طرف بھیج دی ہے، اور جس کا تاکیدی حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو دیا تھا کہ اس دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا"۔ [الشوری: ۱۳]

جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللهِ، وَخَيْرُ الْهُدَى هُدَى مُحَمَّدٍ، وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ‘‘۔ اما بعد ! سب سے بہتر بات اللہ کی کتاب ہے، اور سب سے بہتر ہدایت محمد کی ہدایت ہے، اور سارے امور میں سب سے بُری نئی چیز کا ایجاد کرنا ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ (صحیح مسلم: ۸۶۷، سنن النسائی: ۱۵۷۸، سنن أبی داود: ۲۹۵۴، سنن ابن ماجہ: ۴۵)

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت کے سب لوگ جنت میں جائیں گے، ماسوا ان کے جنھوں نے انکار کیا۔ پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ! انکار کرنے والے کون ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی، وہ جنت میں جائے گا اور جس نے میری نافرمانی کی، اس نے انکار کیا۔ (صحیح بخاری: ۷۲۸۰)

اور عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ: ’’وَعَظَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بَعْدَ صَلَاةِ الغَدَاةِ مَوْعِظَةً بَلِيغَةً ذَرَفَتْ مِنْهَا العُيُونُ وَوَجِلَتْ مِنْهَا القُلُوبُ، فَقَالَ رَجُلٌ: إِنَّ هَذِهِ مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ فَمَاذَا تَعْهَدُ إِلَيْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالسَّمْعِ وَ الطَّاعَةِ ، وَإِنْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ، فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ يَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الأُمُورِ فَإِنَّهَا ضَلَالَةٌ فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَعَلَيْهِ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ المَهْدِيِّينَ، عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ‘‘۔ ہمیں اللہ کے رسول ﷺ نے صبح کی نماز کے بعد ایک ایسی بلیغ نصیحت کی کہ آنکھیں بہہ پڑیں اوردل دہل گئے تو ایک آدمی نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! (لگتا ہے) یہ الوداعی نصیحت ہے لہذا آپ ہمیں کیا نصیحت کرتے ہیں؟ فرمایا: میں تمہیں اللہ سے ڈرنے اور سمع و طاعت کی وصیت کرتا ہوں خواہ وہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، تم میں سے جو زندہ رہے گا وہ بہت زیادہ اختلاف دیکھے گا، اپنے آپ کونئے نئے امور سے بچاؤ کیوں کہ وہ گمراہی ہے، تم میں سے جو اس زمانے کو پا ئے اس پر میری اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کا پکڑنا لازم ہے، اسے تم سب ڈاڑھوں سے پکڑ لینا۔ (سنن أبی داود: ۴۶۰۷، جامع الترمذی: ۲۶۷۶، سنن ابن ماجہ: ۴۲، مسند أحمد: ۱۷۴۱۶، سنن الدارمی: ۹۶، اور اسے امام ترمذی نے صحیح کہا ہے۔)

امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں’’کتاب الإعتصام بالکتاب والسنۃ ‘‘ کے اندر فرمایا ہے: ’’باب الإقتداء بسنن رسول اللہ ﷺ ‘‘ یعنی اللہ کے رسول ﷺ کی سنتوں کی اقتداء کا بیان۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا { وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا} اورہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا۔(الفرقان :۷۴) یعنی ہمیں ایسا امام بنا دے کہ ہم اپنے سے پہلے والوں کی اقتداء کریں اور ہمارے بعد والے ہماری پیروی کریں۔ اور ابن عون فر ماتے ہیں: ’’ ثَلَاثٌ أُحِبُّهُنَّ لِنَفْسِي وَلِإِخْوَانِي هَذِهِ السُّنَّةُ أَنْ يَتَعَلَّمُوهَا وَيَسْأَلُوا عَنْهَا وَالْقُرْآنُ أَنْ يَتَفَهَّمُوهُ وَيَسْأَلُوا عَنْهُ وَيَدَعُوا النَّاسَ إِلَّا مِنْ خَيْرٍ‘‘۔ تین چیزیں ایسی ہیں جنہیں میں اپنے اور اپنے بھائیوں کے لئے پسند کرتا ہوں: (۱) یہی سنت ہے کہ لوگ اسے سیکھیں اور اس کے بارے میں پوچھیں (۲) قرآن ہے کہ اسے سمجھیں اور اس کے بارے میں پوچھیں (۳) اور لوگوں سے صرف بھلائی کا رابطہ رکھیں۔ (صحيح البخاري (8/ 139).)

کتاب: ایمان باللہ کے بیان میں

کتاب مذکور کا خلاصہ

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ ہی سب سے پہلے ہے، اس کے پہلے کوئی چیز نہیں اور اللہ ہی سب سے آخر ہے، اس کے بعد کو ئی چیز نہیں، اور اللہ تعالى نے ہم سے اپنا تعارف اس طور پر کرایا کہ وہ آسمان اور زمین کا خالق ہے، وہی آسمان اور زمین کا حقیقی مالک ہے، وہی رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے، یہ موجودہ کائنات اس بات پر گواہ ہے کہ اس کائنات کا موجد اور خالق وہی اکیلا اللہ ہے، اس کے علاوہ کو ئی اور اس کا خالق نہیں ہے۔

اور اللہ تعالى نے ایسى نشانیاں بھی ذکر کر دیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اس کا ئنات کا موجد اور خالق وہی اللہ ہے اور دلیلیں اتنی زیادہ ہیں کہ ان کا احاطہ کرنا نا ممکن ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہم پر اسی چیز کے ذریعہ حجت قائم کیا ہے جو ہم اپنے دل میں محسوس کرتے ہیں اور جو ہم اپنے ارد گرد دیکھتے ہیں۔

ہمارا ان تمام چیزوں پر ایمان ہے جن پر انبیاء ورسل کا ایمان تھا اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے وجود پر دلالت کرنے والی ان تمام دلیلوں پر ہمارا یقین ہے جو انبیاء ورسل لے کر آئے۔

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ ہی خالق ہے اور اس نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو بھی بے کار پیدا نہیں کیا اور اس کی تخلیق اتفاق کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک عظیم مقصد کے لئے ایک عمدہ تخلیق ہے۔

اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی ربوبیت پر دلالت کرنے والی اور بھی بہت سے بے شمار دلائل و شواہد قرآن مجید میں موجود ہیں اور یہ ساری دلیلیں عقلی ہیں اور نہایت عظیم براہین ہیں، اگر کوئی ان کی طرح یا ان سے ملتی جلتی کوئی اور دلیل لانا چاہے تو نہیں لا سکتا اور یہ ساری دلیلں اپنے تنوع کے باوجود تمام مخلوقات کے موافق ہیں اوران پرحجت قائم کرنے کے لئے کافی ہیں، گرچہ کافر اس کا انکار کریں اورباطل پرست انہیں نا پسند کریں، در اصل کافروں کے پاس سوائے انکار کے کوئی اور دلیل ہی نہیں ہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ اپنی ربوبیت میں اللہ ایک ہے، وہی اکیلا خالق ہے، اسی نے تخلیق کی ابتداء کیا اور اس کی تخلیق میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اللہ تعالیٰ اپنے حکم سے جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، اور اسی کے ساتھ حسب منشا اسباب پیدا کرتا ہے، اس کے علاوہ تمام چیزیں مخلوق ہیں۔

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ ہی ہر چیز کا رب، خالق اور مدبر ہے، وہی اس کا خالق اور مالک ہے، وہی اس میں تصرف کرنے والا ہے، کوئى مخلوق نہ تو اپنے نفس کى تدبیر کا اور نہ ہی اپنے سوا کسى اور کے تدبیر کا مالک ہے سوائے اتنا جتنا اللہ اس کو قوت وطاقت دے۔

ہمارا ایمان ہے کہ وہی حقیقی مالک ہے، اس کے علاوہ سب مملوک ہیں، اس کے علاوہ ہر بادشاہ کی ملکیت باطل ہے یا مؤقت اور زائل ہونے والی ہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ اکیلا اللہ ہی زندہ کرنے اور مارنے والا ہے، اسی نے موت و حیات کو پیدا کیا، اور وہی لوگوں کو موت سے دوچار کرتا ہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ وہی رزاق اور قوت وطاقت والا اور بہت زور آزور ہے، اس کے علاوہ کو ئی روزی رساں نہیں ہے اور نہ اس کے علاوہ کو ئی کفایت کرنے والا ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے علمی اعتبار سے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے، چھوٹی ہو یا بڑی ہر چیز کا جاننے والا ہے، وہی غیب اور شہادت کا جاننے والا ہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ اس نے غلبہ اور حکم کے اعتبار سے ہر چیز کو مقہور کر رکھا ہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ جل شانہ ہی کے لئے پیدا کرنا اور حکم دینا ہے، اس کے علاوہ کو ئی رب نہیں ہے، اس کے علاوہ شریعت سازی کا حق دارکوئی نہیں ہے، وہی شریعت سازی کرتا ہے، فرائض سے روشناس کراتا ہے، دین کی وضاحت کرتا ہے، وہی اللہ ساری مخلوق کا خالق ہے، اسی نے ان کے لئے احکام مرتب کیا ہے، وہی ان کا مالک ہے اور وہی اکیلا ان کے حساب و کتاب پر قادر اور مستحق ہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں کا بھی خالق ہے اور بندوں کے افعال کا بھی خالق ہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ مومن ہونے کے لئے انسان کا صرف توحید ربوبیت پر ایمان لے آنا کافی نہیں ہے، توحید ربوبیت صرف جنت میں داخلہ نہیں دلا سکتا بلکہ اللہ کے حقیقی معبود ہونے پر ایمان لانا ضروری ہے یعنی صرف اللہ کی عبادت کی جائے اور اس کے علاوہ کسی اور کی عبادت نہ کی جائے۔

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ اپنی الوہیت میں بھی یکتا اور اکیلا ہے، اس کے سوا کو ئی معبود نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کو ئی شریک نہیں، وہی حق ہے، اس کے علاوہ جسے لوگ پکارتے ہیں وہ سب باطل ہیں، یہ بہت بڑا امر ہے اور اسی لئے اللہ تعالیٰ نے کتابیں نازل کی، رسولوں کو مبعوث کیا، جنت اور جہنم پیدا کیا، اس پر تمام جمہور علماء کا اتفاق ہے اور فطرت سلیمہ بھی اسی پر دلالت کرتی ہے، عقل سلیمہ نے اسی کی گواہی دی ہے، ہمیں پور ے وثوق اور اعتماد کے ساتھ معلوم ہے کہ تمام انبیاء کے دعوت کی بنیاد یہی توحید ہوا کرتی تھی، سارے نبیوں نے اپنی امت کو یہی دعوت دیا کہ اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو۔

اور یہ بات یاد رہے کہ وہی عبادت حقیقی عبادت ہوگی جو اللہ رب العالمین کے لئے ہو اور جو نبی اکرم ﷺ کی سنت کے موافق ہو؛ کیوں کہ اللہ کے علاوہ ہر معبود کی عبادت باطل ہے۔

یعنی تنہا اللہ کے لئے الوہیت کو ثابت کرنا اور اس کے علاوہ کی عبادت کا انکار کرنا ہی دین الہی کی مضبوط بنیاد اور رکن رکین ہے، یہی دین کا محور و مرکز اور دعوت انبیاء کی اساس ہے، اورتوحید الوہیت کا معنى ہے: خالق کو مخلوق کے تمام اعمال کے ساتھ خاص کرنا یعنى ان اعمال کو صرف اللہ کے لئے بجا لانا۔

قرآن مجید میں توحید ربوبیت پر دلالت کرنے والی بہت ساری آیتیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ بندوں پر بطور دلیل پیش کرتا ہے، اور یہ اس کى یہ ربوبیت اس کی عبادت یعنی توحید الوہیت کوبھی مستلزم ہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ اللہِ واحد ہی کائنات کی تمام بڑی بڑی نشانیوں کا خالق ہے اور جب اس کے علاوہ کوئی اور خالق نہیں ہے تو اس کے علاوہ کوئی اور عبادت کے لائق بھی نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ نے توحید الوہیت کے سلسلے میں ساری دلیلیں مختلف انداز میں پیش کی ہیں تاکہ ان کے ذریعہ حجت قائم ہوجائے اور راستہ مکمل واضح ہوجائے اور پھرلوگوں کے لئے اللہ کے خلاف کوئی حجت باقی نہ رہے۔

اللہ کی الوہیت کا اقرار اور ساتھ ہی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اقرار ہی وہ عمل ہے جسے اللہ نے ایمان اور کفر کے درمیان حد فاصل قرار دیا ہے۔

اللہ پر ایمان لانے کے ساتھ طاغوت کا انکار ، شرک اور اہل شرک سے براءت کا اظہار بھی ضروری ہے۔

اور ایمان کا دل میں ہونا کافی نہیں ہے بلکہ زبان سے اس کا اقرار کرنا بھی ضروری ہے نیزاعضاء وجوارح سے عمل کے بغیر ایمان ثابت نہیں ہوگا، دل میں موجود ایمان میں کمی و زیادتی ہوتی ہے۔

ایمان کے سلسلےمیں بندے کا اللہ رب العالمین کے لئے مخلص ہونا ضروری ہے، یعنی بند ے کو پورا یقین ہو، کسی بھی قسم کا کوئی شبہ نہ ہو، اس کا ایمان علم، اخلاص، قبول، فرماں برداری، اطاعت وتسلیم اور قولی و فعلی ہر اعتبار سے سچائی پر مشتمل ہو، ساتھ ساتھ اس دین سے، اس دین کے قوانین سے، اس دین کے لانے والے اور اس دین کی اتباع کرنے والوں سے محبت ہو۔

جس طرح اللہ تعالیٰ نے ایمان کی حقیقت، اس کا تقاضا اور اس کے ارکان اور شروط کی وضاحت کردی ہے اسی طرح مشرکین کے شبہے کا ازالہ بھی کردیا ہے اوربتا دیا ہے کہ ان کے پاس ان کے شرکیہ اعمال کےلئے کوئی حجت نہیں ہے کیوں کہ یہ جنہیں اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں وہ سب مخلوق ہیں، وہ کچھ پیدا نہیں کر سکتے بلکہ وہ تو خود پیدا کئے گئے ہیں، وہ آسمان اور زمین میں ذرہ برابر کسی بھی چیز کے مالک نہیں ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے واضـح کردیا ہے کہ یہ شرکاء جن کی اللہ کے علاوہ عبادت کی جاتی ہے وہ کسی پکارنے والے کی پکار نہیں سن سکتے اور اگر وہ سن بھی لیں تو جواب نہیں دے سکتے، بروزِ قیامت یہ شرکاء ان کے شرک کا انکار اور ان سے براءت کا اظہار کریں گے۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے یہ بھی واضـح کردیا ہے کہ یہ شرکاء جن کی اللہ کے علاوہ عبادت کی جاتی ہے وہ نفع و نقصان سے دو چار نہیں کر سکتے ہیں تو جب ان معبودانِ باطلہ کی یہ کیفیت ہے، تو وہ اللہ کے علاوہ عبادت کے لا ئق کیسے ہو ئے؟!

اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی عبادت کو باطل قرار دے کر یہ بتا دیا کہ اللہ کے اتنا قریب ہونے کے باوجود فرشتے بھی اللہ کی اجازت کے بغیر شفاعت نہیں کر سکتے، تو جب فرشتوں کی یہ حالت ہے تو جن کی عبادت اللہ کے علاوہ کی جاتی ہے وہ عبادت کے لا ئق کیسے ہو ں گے؟!

اسی طرح انبیاء ورسل بھی جن کا مقام دنیا و آخرت میں کافی بلند ہے لیکن اس کے باوجود وہ اپنے ہی نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں، تو وہ شخص کیسے ہوگا جو ان سے بھی مرتبہ میں کم ہے؟ !

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ اپنی صفات و کمالات اور اپنی جلالت میں یکتا اور اکیلا ہے، اللہ تعالیٰ ہی کے لئے اچھے اچھے نام اور بہترین صفات ہیں، عقل کاملہ اس بات پر شاہد ہے اور فطرت سلیمہ اسے قبول کرتی ہے اور تمام علماءِ امت کا اس بات پر اجماع بھی ہے، بلکہ تمام رسالات الہیہ میں اللہ کی صفات، اسماء اور اس کے افعال کی وضاحت وبیان موجود ہے، اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے بنے بنا ئے معبودوں کی عیب جوئی کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ نہ ہی سن سکتے ہیں اور نہ ہی دیکھ سکتے ہیں۔

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ اسی طرح ہے جس طرح اس نےاور اس کے رسولﷺ نے بیان کیا ہے، بلکہ بندوں کے بیان سے اللہ کی ذات کہیں زیادہ فائق و برتر ہے، اس کے مثل کوئی چیز نہیں ہے، وہ سننے اور دیکھنے والا ہے، اس لئے ہم اللہ کے لئے وہی ثابت کرتے ہیں جو اس نے اپنے تئیں اور اس کے رسول ﷺ نے اس کے تئیں بیان کیا ہے، ہم ان تمام کا انکار کرتے ہیں جن کا انکار خود اللہ نے اپنے تئیں اور اس کے رسول نےاس کے تئیں کیا ہے، اور اس نفی واثبات کو ہم تعطیل، تمثیل، تکییف اور تحریف سے پرے رکھتے ہیں۔

ہمیں یقینی طورپر یہ معلوم ہے کہ مخلوق کی تخلیق سے پہلے ہی اللہ ان تمام صفات سے متصف تھا، وہ اجل سے ابد تک انتہائی درجے کے کمال، جلال اور جمال پر فائز ہے؛ وہی اول ہے اور وہی آخر ہے، اس کے پہلے کوئی چیز نہیں تھی، اور نہ اس کے بعد ہی کوئی چیز ہے، وہ اپنے اسماء و صفات کے ساتھ اول ہے کمال کے اعتبار سے بھی اور مجد وبزرگی کے اعتبار سے بھی اسی طرح وہ اپنے اسماء وصفات کے ساھ آخر ہے کمال کے اعبتار سے بھی اور مجد وبزرگى کے اعتبا رسے بھی۔

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالی کی بعض صفات کا تعلق اس کی ذات سے ہے جیسے حیات(زندگی)، علم(جاننا)، سماعت (سننا )، بصارت (دیکھنا )، ید (ہاتھ ) اور انگلیاں۔ اور بعض کا تعلق اس کی مشیئت سے ہے، جیسے غضب، رضا وخوشنودی اور نزول (اترنا)۔

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ فعال لما یرید ہے، وہ جو چاہے، جب چاہے، جیسا چاہے کر سکتا ہے، وہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کردے، اس کے حکم کو کو ئی ٹالنے والا نہیں، اس کی تقدیر اور فیصلے پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بعض صفات مطلق وارد ہو ئی ہیں اس لئے ہم انہیں ویسے ہی تسلیم کرتے ہیں جیسے وہ وارد ہوئی ہیں، جیسے سماعت، حیات اور بصارت غیرہ، اور بعض مقید وارد ہو ئی ہیں اور جو مقید وارد ہو ئی ہیں وہ اسی قید کے ساتھ باقی رہیں گى جیسے اللہ تعالی کی ایک صفت یہ ہے کہ جب اس کے دشمن اس کے ساتھ مکر کرتے ہیں تو وہ بھی ان کے ساتھ مکر کرتا ہےاور جب اس کے دشمن اسے بھول جاتے ہیں تو وہ بھی انہیں بھلا دیتا ہے

اللہ تعالیٰ کی چند صفات یہ ہیں : علم، سماعت، حیات، بصارت، قیومیت اور کلام۔ اللہ تعالیٰ مخلوق کی تخلیق سے پہلے ہی سے صفت کلام (بات کرنا) سے متصف تھا، اور قبل اس کے کہ وہ ان سے ہم کلام ہو، اور اللہ تعالیٰ کے کلام کا تعلق اس کی مشیئت سے ہے، وہ جب چاہتا ہے بات کرتا ہے، قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی صفت کلام کے حوالے سے کئی اعتبار سے کئی خبریں وارد ہوئی ہیں اور یہ بھی وارد ہوا ہے کہ اللہ اپنے بندوں سے کلام کرتا ہے، ان سے سر گوشی کرتا ہے، ان میں سے جسے چاہتا ہے پکارتا ہے، بروزِ قیامت بھی تمام مخلوق سے بات کرے گا، تمام مخلوق اللہ کی بات سنے گی۔

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود کو اپنی مخلوق سے نور کے حجاب میں چھپا لیا ہے، اس لئے دنیا میں اسے کوئی نہیں دیکھ سکتا، بعض نبیوں نے اللہ کی بات کو سنا ہے کیوں کہ اس نے ان نبیوں سے پردے کے پیچھے سے بات کیا، جیسا کہ موسی علیہ السلام سے بات کی۔

اللہ تعالیٰ کی بعض باتیں بعض کے مقابلے میں نئی اور بعض باتیں، بعض سے افضل ہوتی ہیں۔

اللہ کے کلام میں قرآن اور ہر وہ کتاب شامل ہے جو من جانب اللہ رسولوں پر نازل ہوئی ہیں، جیسے صحف ابراہیم ، صحف موسی ، تورات ، انجیل اور زبور ، یہ سب اللہ کا کلام ہیں، اور تمام کے ذریعہ اللہ نے بات کیا ہے، اسے جبرئیل علیہ السلام نے بلا واسطہ اللہ سے سنا اور اسے لے کر جبرئیل علیہ السلام تمام انبیاء ورسل علیہم السلام پر نازل ہو ئے، البتہ دیگر کتابوں کے مقابلے تورات کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے تختیوں پر لکھا ہوا نازل کیا، اللہ کا کلام اور اس کے کلمات مخلوق نہیں ہیں، کلام الہی کی تخلیق نہیں ہوئی ہے، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ وہ خلق اور امر کے درمیان فصل ہے، نیز ہم اللہ کے شرعی اور کونی کلام کے درمیان فرق کرتے ہیں۔

اوراللہ کی بعض صفات یہ ہیں: العزۃ (عزت)، القہر(قہر)، الجبروت( جبروت)، الملکوت( ملکوت)، الکبریاء(کبریائی)، العظمۃ( عظمت )، الإرادۃ( ارادہ)، المشیئۃ ( مشیئت)، القدرۃ (قدرت ) اور الرحمۃ( رحمت)۔ سو رحمت بھی اللہ کی ایک صفت ہے، اور اس کى اضافت اللہ کی طرف، اضافۃ الصفۃ إلی الموصوف کے باب سے ہے۔

اللہ تعالیٰ کی ایک صفت العلو(بلند ہونا) بھی ہے؛ اور یہ علو، قہر وغلبہ کے اعتبارسے بھی ہے، صفات میں بلندى کے اعتبار سے بھی ہے اور ذات میں علو کے اعتبار سے بھی ہے، اللہ تعالى ان تینوں اعبتارات سے صفت علو سے متصف ہے۔ قرآن مجید، سنت نبوی ﷺ، عقل اور فطرت نے کئی اعتبار سے یہ ثابت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات بلند ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے بلند وبالا ہونے پر دلالت کرنے والی دلیلوں کی بھی بہت ساری قسمیں ہیں، اورپھر ہرقسم کی نا قابل شمار قسمیں ہیں۔

اللہ تعالیٰ کی ایک صفت الإستواء علی العرش یعنی عرش پر مستوی ہونا بھی ہے اور اس صفت کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں سات مقام پر کیا ہے۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے صفت محبت اور صفت رضا وخوشنودى ہے، نیز اس کى صفات میں سے ایک صفت کراھیتہ لأعداءہ یعنی دشمنوں کو نا پسند کرنا بھی ہے؛ کیوں کہ انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ پر نازل کردہ احکام اورخوشنودئ الہی کو ناپسند کیا ہے۔

اللہ کی صفات میں سے ایک صفت اس کا اپنے اعداء پر غضب ناک ہونا ہے اوراس کى ایک صفت مقت ہے یعنى کافروں سے اس کى شدید ناراضگى۔

اللہ کی ایک صفت اپنے دشمنوں کے ساتھ مکر کرنا ہے جو اس کے اولیاء کے ساتھ مکر کرتے ہیں۔ اللہ کی ایک صفت اس کا شدید غصہ ہونا بھی ہے۔ اس کی ایک صفت مخادعۃ دھوکہ دینے والوں کو دھوکہ دینا بھی ہے، گویا اللہ ان منافقوں کو بھی دھوکہ دیتا ہے جو اسے دھوکہ دیتے ہیں (یعنی ان کی چالبازیوں کا اللہ انہیں بدلہ دیتا ہے)۔ اسی طرح اللہ کی ایک صفت اس شخص کے ساتھ استہزاء کرنا بھی ہے جو اس کے ساتھ استہزاء کرتے ہیں۔

اللہ تعالی کی تمام صفات میں الضحک (ہنسنا ) اور العجب (تعجب کرنا) ہے۔ اور اس کى ایک صفت المجئ (آنا ) بھی ہے کیوں کہ بروزِ قیامت وہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لئے آئے گا۔

ہم اس کی صفت نزول پر بھی ایمان لاتے ہیں یعنی ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ حقیقی معنوں میں آسمان دنیا پر نازل ہوتا ہے اور اس کے نزول کی کیفیت اس کے جلال اور عظمت کے اعتبار سے ہوتی ہے، دیگر مخلوق کی طرح اللہ کا نزول نہیں ہوتا ہے بلکہ یہ بھی ان تمام صفات کی طرح ہے جن پر ہم ایمان لاتے ہیں، جنہیں ہم جانتے ہیں لیکن اس کی کیفیت سے نا واقف ہیں بلکہ ہم اس پر اسی طرح ایمان لاتے ہیں جس طرح ہمیں صادق و مصدوق رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے۔

اور ہم اللہ تعالیٰ کی صفت معیت (اللہ مخلوق کے ساتھ ہے) پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔ اور اس معیت کی دو قسمیں ہیں: معیت خاصہ، یہ اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں اور اس کے رسولوں کے لئے ہوتی ہے، اور اس کا تقاضہ مدد اور نصرت ہے۔ معیت عامہ، یہ تمام بنی نوع انسان، مومنوں اور کافروں سب کے لئے ہے، اور اس کا تقاضہ: علم، احاطہ، قدرت اور غلبہ وحکمرانی کو شامل ہے۔

یہ معیت حلول اور اختلاط کو مستلزم نہیں ہے اور نہ ہی علو الہی کے منافی ہے کیوں کہ علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ اس کا معنی علم واحاطہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ اپنے علم، احاطہ اور قدرت کے اعتبار سے ہمارے ساتھ ہے۔

ہم اللہ کے لئے اسی طرح چہرے کو ثابت کرتے ہیں جس طرح اس کے جلال اور عظمت کو زیبا ہے، ہم اس کے لئے ہاتھ اسی طرح ثابت کرتے ہیں جس طرح اس کے جلال و کمال کو زیبا ہے، اس سلسلے میں قرآن اور احادیث میں کئی اعتبار سے دلیلیں پیش کی گئی ہیں، چناچہ یہ آیا ہے کہ اللہ کے لئے دو ہاتھ ہے، اللہ کبھی ہاتھ کی مٹھی بنالیتا ہے اور کبھی کھول دیتا ہے، اللہ تعالیٰ اسی اپنے اسى ہاتھ سے آسمان کو لپیٹ دے گا، زمین اس کى مٹھی میں ہوگى، اس کے ہاتھ کا یہ بھی وصف آیا ہے کہ وہ انگلیوں والا ہے، یہ سارى باتیں اس بات کو ثابت کررہی ہیں کہ اللہ کے جس ہاتھ کا ذکر قرآن وحدیث میں آیا ہے، وہ حقیقی ہاتھ ہے، لیکن اس کا ہاتھ اسی کے جلال کے شایان شان ہے، ہم اس پر دلالت کرنے والی آیات و احادیث کی تحریف ، تاویل اور تشبیہ نہیں کرتے ہیں۔ اس کی تمام صفتوں میں سے ایک انگلیوں کا ہونا بھی ہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ بروز قیامت تمام مومنوں کو دیدار الہی نصیب ہوگا، قرآن واحادیث میں اس سلسلے میں کئی دلیلیں وارد ہوئی ہیں، بے شمار حدیثوں میں اللہ کے رسول ﷺ نے مومنوں کو یہ بشارت سنائی ہے کہ بروز قیامت تمام مومنوں کواللہ کا حقیقی دیدار نصیب ہوگا، وہ اپنی آنکھوں سے اللہ کو دیکھیں گے۔

اللہ تعالیٰ نے جس طرح اپنے آپ کو صفت کمال، صفت جلال، صفت جمال، صفت عزت اور صفت کبریائی سے متصف بتایا ہے اسی طرح اس نے اپنے آپ کو ان تمام صفات سے عاری و خالی بتایا ہے جن میں نقص ہوتا ہے۔ صفات الہیہ میں نفی کا ذکر قرآن و سنت میں اصل نہیں ہے، کیوں کہ صفات الہی کى بابت اصل اثبات ہے۔ صفات الہیہ کے بیان سے قرآن و سنت بھر ے پڑے ہیں اور وہی صفتیں بیان کی گئیں ہیں جو اس کے جلال، اس کی عظمت اور اس کے کمال کو زیبا ہیں۔ اگر وہ اپنے آپ سے کسی صفت کا انکار کر دے تو اس کی ضد میں کمال صفت کو ثابت کرنے کے لئے اس کا انکار کر تا ہے کیوں کہ انسان نے اللہ کی طرف نقائص کو منسوب کیا تو اللہ نے اس نقص کی نفی کی جس کی نسبت اس کی طرف کی گئی۔

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ ہی کے لئے اچھے اچھے نام ہیں، اور انتہائی درجے کے حسن کو اس کے نام پہنچے ہو ئے ہیں یعنی اس سے بہتر کوئی نام نہیں ہے، اللہ کے ہر نام سے کوئی نہ کوئی صفت مشتق ہے، اس کے ناموں کی تعداد بہت زیادہ ہے، انہیں شمار نہیں کیا جا سکتا۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے ناموں میں الحاد کرنے، ان کا یا ان کے معانی کا انکار کرنے سے یا انہیں معطل کرنے سے منع کیا ہے۔

قرآن و احادیث میں اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ کسی ایک کتاب میں انہیں یکجا کرنا نا ممکن ہے، ہم اس کے اسماء و صفات پر اسی طرح ایمان لاتے ہیں جو رب العالمین کی مراد ہے اور رسول گرامی ﷺ کی مراد ہے، ہمیں معلوم ہے کہ ان کی حقیقت کوئی بھی انسان نہیں جان سکتا، نہ ان کا احاطہ کر سکتا ہے، نہ عقل ان تک پہونچ سکتی ہے اور ہم اپنے آپ کو ان کى تاویل کى مشقت سے بھی دور رکھتے ہیں۔

باب: اللہ تعالیٰ کے وجود پر ایمان لانے کا بیان

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ ہی سب سے پہلے ہے، اس سے پہلے کوئی چیز نہیں ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ} "وہی اول ہے وہی آخر ہے وہی ظاہر ہے اور وہی باطن ہے اور وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے"۔ [الحدید: ۳] اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’كَانَ اللَّهُ وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ قَبْلَهُ، وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى المَاءِ‘‘۔ اللہ تھا اس کے پہلے کوئی چیز نہیں تھی اور اس کا عرش پانی پر تھا۔ (صحیح بخاری: ۷۴۱۸، جامع الترمذي: ۳۹۵۱) اسے بخاری نے عمران بن حصين کی حدیث سے روایت کی ہے، اور ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں: ’’كَانَ اللَّهُ وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ غَيْرُهُ، وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى المَاءِ‘‘۔اللہ تھا اس کے پہلے اس کے علاوہ کوئی چیز نہیں تھی اور اس کا عرش پانی پر تھا۔ (صحیح بخاری : ۳۱۹۱) اللہ تعالى نے ہم سے اپنا تعارف بعیں طور کرایا ہے کہ وہ وہی ہے جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا، وہی آسمان اور زمین کا حقیقی مالک ہے، وہی رات کو دن اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {هُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِي الْأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمْ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ*۔ "وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر مستوی ہو گیا، وہ اس چیز کوجانتا ہے جو زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو اس سے نکلتا ہے اور جو آسمان سے نیچے آتا ہے اور جو اس میں چڑھ کرجاتا ہے اور جہاں کہیں تم ہوگے وہ تمہارے ساتھ ہوگا اور جو تم کر رہے ہو اللہ دیکھ رہا ہے۔ (۴) لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ*۔ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کے لئے ہے اور اللہ ہی کی طرف سارے امور لوٹائے جائیں گے۔ يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ وَهُوَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ} وہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کر تا ہے اور وہ سینوں کے بھیدوں کو جاننے والاہے"۔ [الحدید: ۴- ۶]۔

اور اللہ تعالیٰ نے یہ واضح کردیا کہ یہ موجودہ کائنات ہی اس بات پر شاہد ہے کہ اکیلا اللہ ہی اس کائنات کا موجد اور خالق ہے، اس کے علاوہ کوئی اس کا خالق نہیں ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {هَذَا خَلْقُ اللَّهِ فَأَرُونِي مَاذَا خَلَقَ الَّذِينَ مِنْ دُونِهِ} "یہ ہے اللہ کی مخلوق اب تم مجھے اس کے سوا دوسرے کسی کی کوئی مخلوق ہو تو دکھاؤ"۔ [لقمان: ۱۱] اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ایسی بے شمار نشانیاں ذکر کی ہیں جو اس بات پر دلیل ہیں کہ اس کائنات کا موجد اور خالق وہی اللہ ہے، جن میں سے چند یہ ہیں: -مردہ سے زندہ کو اور زندہ سے مردہ کو نکالنا۔ ۔ تمام انسانوں کو مٹی سے پیدا کرنا۔ ۔ ہمارے ہی نفس سے ہماری بیویوں کو نکا لنا۔ ۔ تمام مخلوقات کے رنگوں اور زبانوں میں اختلاف ہونا۔ ۔ بندوں کا رات میں سونا اور دن میں روزی تلاش کرنا۔ ۔ اس نے بجلی کو خوف وامید کا سبب بنایا ، اور یہ کہ وہى آسمان سے پانی نازل کرتا ہے۔ ۔ اسی نے تخلیق کی ابتدا کی جیسا کہ اللہ پاک کا فرمان ہے: { يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَيُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَكَذَلِكَ تُخْرَجُونَ* ۔ "(وہی) زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے۔ اور وہی زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کرتا ہے اسی طرح تم (بھی) نکالے جاؤ گے۔ {وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَكُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ إِذَا أَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُونَ*۔ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر اب انسان بن کر(چلتے پھرتے) پھیل رہے ہو۔ وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ*۔ اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے آرام پاؤ اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کر دی، یقیناً غور وفکر کرنے والوں کے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَانِكُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِلْعَالِمِينَ*۔ اس (کی قدرت) کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگتوں کا اختلاف (بھی) ہے، دانش مندوں کے لئے اس میں یقیناً بڑی نشانیاں ہیں۔ وَمِنْ آيَاتِهِ مَنَامُكُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَابْتِغَاؤُكُمْ مِنْ فَضْلِهِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَسْمَعُونَ*۔ اور (بھی) اس کی (قدرت کی) نشانی تمہاری راتوں اور دن کی نیند میں ہے اور اس کے فضل (یعنی روزی) کو تمہارا تلاش کرنا بھی ہے، جو لوگ (کان لگا کر) سننے کے عادی ہیں ان کے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ وَمِنْ آيَاتِهِ يُرِيكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَطَمَعًا وَيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَيُحْيِي بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ*۔ اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ (بھی) ہے کہ وہ تمہیں ڈرانے اور امیدوار بنانے کے لئے بجلیاں دکھاتا ہے اور آسمان سے بارش برساتا ہے اور اس مردہ زمین کو زندہ کر دیتا ہے، اس میں (بھی) عقلمندوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔ وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ تَقُومَ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ بِأَمْرِهِ ثُمَّ إِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً مِنَ الْأَرْضِ إِذَا أَنْتُمْ تَخْرُجُونَ*۔ اس کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ آسمان وزمین اسی کے حکم سے قائم ہیں، پھر جب وہ تمہیں آواز دے گا صرف ایک بار کی آواز کے ساتھ ہی تم سب زمین سے نکل آؤ گے۔ وَلَهُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ كُلٌّ لَهُ قَانِتُونَ*۔ اور زمین وآسمان کی ہر ہر چیز اس کی ملکیت ہے اور ہر ایک اس کے فرمان کے ماتحت ہے۔ وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ} وہی ہے جو اول بار مخلوق کو پیدا کرتا ہے پھر سے دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ تو اس پر بہت ہی آسان ہے"۔ [الروم: ۱۹- ۲۷]

اور اس کى ربوبیت کى نشانیوں میں سے یہ بہی ہے کہ اللہ تعالی نے بعیں طور مخلوق پر اپنی حجت قائم کردی کہ اس نے تمام مخلوق کو ایک ہی نفس سے پیدا کیا ہے، جیسا کہ اللہ تعلیٰ نے فرمایا: {خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَأَنْزَلَ لَكُمْ مِنَ الْأَنْعَامِ ثَمَانِيَةَ أَزْوَاجٍ يَخْلُقُكُمْ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ خَلْقًا مِنْ بَعْدِ خَلْقٍ فِي ظُلُمَاتٍ ثَلَاثٍ ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ} "اس نے تم سب کو ایک ہی جان سے پیدا کیا ہے پھر اسی سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور تمہارے لئے چوپایوں میں سے (آٹھ نر و مادہ) اتارے وہ تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں ایک بناوٹ کے بعد دوسری بناوٹ پر بناتا ہے تین تین اندھیروں میں، یہی اللہ تعالیٰ تمہارا رب ہے اس کے لئے بادشاہت ہے، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، پھر تم کہاں بہک رہے ہو؟!" [الزمر: ۶] چنانچہ اللہ نے ابتدائے تخلیق کا ذکر کیا اور یہ کہ سارے حیوان اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں، پھر ہمارے اوپر اپنی حجت تمام کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہمیں رحمِ مادر کے اندر تاریکیوں میں پیدا کیا، اللہ ہی کسی نطفے کو انسانی شکل دے سکتا ہے، اس کے علاوہ کوئی اور نہیں د ے سکتا ہے۔

گزشتہ آیتوں میں اللہ تعالیٰ کے وجود کی ایک عظیم ترین دلیل یہ ذکر کی گئی ہےکہ اس نے آسمان، زمین اور ان کے درمیان اور ان کے او پر کی تمام چیزیں بھی پیدا کیا۔

اللہ تعالیٰ کے خالق ہو نے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اللہ نے مخلوق پر توجہ دی اور اس چیز پر بھی توجہ دی جسے لوگ اپنے نفس اور اپنی ذریت میں پاتے ہیں، انہیں ان کے ماؤں کے پیٹ سے اس حال میں نکا لا کہ وہ کچھ نہیں جا نتے تھے، اس نے ان کی نگہ داشت کی تا آنکہ ان کی خلقت اور بناوٹ مکمل ہو گئی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَاللَّهُ أَخْرَجَكُمْ مِنْ بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْئًا وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ } "اللہ تعالیٰ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا ہے کہ اس وقت تم کچھ بھی نہیں جانتے تھے، اسی نے تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے کہ تم شکر گزاری کرو" ۔ [النحل: ۷۸ ] پھر جس طرح اس نے پیدا کیا اور انہیں تیار کیا اسی طرح اس نے اپنی تمام مخلوق کو صحیح باتوں اور صحیح راہ کی رہنمائی بھی کی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرعون کے بارے میں فرمایا: {قَالَ فَمَنْ رَبُّكُمَا يَامُوسَى} "اس نے کہا کہ اے موسی ! تم دونوں کا رب کون ہے؟" [طہ: ۴۹] تومن جانب اللہ جواب آیا: {قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَى} "(موسى نے) جواب دیا کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر ایک کو اس کی خاص صورت، شکل عنایت فرمائی پھر راہ سجھا دی۔" [طہ: ۵۰]

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ ہی نے زمین کو بچھایا، اس میں پہاڑوں کو نصب کیا اور اس میں ہر مناسب چیز کو اگایا، اس میں موجودہ توازن کا صحیح ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ وہی اس کا ئنات کا موجد ہے، اسی طرح اس نے ایک مخصوص ہیئت میں بارش نازل کیا حالانکہ یہ کام نہ کو ئی انسان کرسکتا ہے، اور نہ ہی اس بارش کو جمع کر سکتا ہے، اوریہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا ئنات کا حقیقی موجد اور خالق وہی اللہ ہے جو اکیلا اور قہار ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {وَالْأَرْضَ مَدَدْنَاهَا وَ أَلْقَيْنَا فِيهَا رَوَاسِيَ وَأَنْبَتْنَا فِيهَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَوْزُونٍ*۔ "اور زمین کو ہم نے پھیلا دیا ہے اور اس پر (اٹل) پہاڑ ڈال دیئے ہیں، اور اس میں ہم نے ہر چیز ایک معین مقدار سے اگا دی ہے۔ وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيهَا مَعَايِشَ وَمَنْ لَسْتُمْ لَهُ بِرَازِقِينَ *۔ اور اسی میں ہم نے تمہاری روزیاں بنا دی ہیں اور جنہیں تم روزی دینے والے نہیں ہو۔ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنَا خَزَائِنُهُ وَمَا نُنَزِّلُهُ إِلَّا بِقَدَرٍ مَعْلُومٍ*۔ اور جتنی بھی چیزیں ہیں ان سب کے خزانے ہمارے پاس ہیں، اور ہم ہر چیز کو اس کے مقررہ انداز سے اتارتے ہیں۔ وَأَرْسَلْنَا الرِّيَاحَ لَوَاقِحَ فَأَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَسْقَيْنَاكُمُوهُ وَمَا أَنْتُمْ لَهُ بِخَازِنِينَ} اور ہم بھیجتے ہیں بوجھل ہوائیں، پھر آسمان سے پانی برسا کرہم وہ تمہیں پلاتے ہیں اور تم اس کا ذخیرہ کرنے والے نہیں ہو"۔ [الحجر: ۱۹- ۲۲]

ہمارا ان تمام چیزوں پر ایمان ہے جن پر انبیاء ورسل ایمان لائے، اورانبیاء کی لائے ہوئے تمام دلائل و براہین پر ہمارا یقین ہے جو اللہ سبحانہ و تعالی کے وجود پر دلالت کرتے ہیں، جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام نے نمرود پر دلیل بنایا کہ اللہ سورج کو مشرق سے لاتاہے، اب اگر کوئی اسے مغرب سے لانا چاہے تو نہیں لا سکتا، جیسا کہ فر مان الہی ہے: {قَالَ إِبْرَاهِيمُ فَإِنَّ اللَّهَ يَأْتِي بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ} "ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کہ اللہ تعالیٰ سورج کو مشرق کی طرف سے لے آتا ہے اور تو اسے مغرب کی جانب سے لے آ اب تو وہ کافر بھونچکا رہ گیا، اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا"۔ [البقرۃ: ۲۵۸]

ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کے سامنے یہ دلیل پیش کہ اللہ تعالیٰ ہی نے آپ کو ہدایت دیا‘ وہی آپ کو کھلاتا پلاتا اور جب بیمار ہوتے ہیں تو شفا عطا کرتا ہے‘ وہ زندگی اور موت کا مالک ہے‘ جیسا کہ اس بابت فرمان باری تعالی ہے: {الَّذِي خَلَقَنِي فَهُوَ يَهْدِينِ*۔ "جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی میری رہبری فرماتا ہے۔ وَالَّذِي هُوَ يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِ*۔ وہی ہے جو مجھے کھلاتا پلاتا ہے۔ وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ*۔ اور جب میں بیمار پڑ جاؤں تو مجھے شفا عطا فرماتا ہے۔ وَالَّذِي يُمِيتُنِي ثُمَّ يُحْيِينِ} اور وہی مجھے مار ڈالے گا پھر زندہ کردے گا"۔ [الشعراء: ۷۸- ۸۱] اور موسی علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ انہوں نے فرعون کے خلاف یہ کہہ کر حجت پیش کہ ان کا رب وہ ہے: {قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَى} "(موسى علیہ السلام نے) جواب دیا کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر ایک کو اس کی خاص صورت، شکل عنایت فرمائی پھر راہ سجھا دی"۔ [طہ: ۵۰] قرآن مجید میں تو یہاں تک بتا دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو ہر نقص سے پاک بتایا ہے اور ہم سے اپنا تعارف پیش کرتے ہو ئے اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى*۔ ا"پنے بہت ہی بلند اللہ کے نام کی پاکیزگی بیان کر۔ الَّذِي خَلَقَ فَسَوَّى*۔ جس نے پیدا کیا اور صحیح سالم بنایا۔ وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدَى} اور جس نے (ٹھیک ٹھاک) اندازہ کیا اور پھر راہ دکھائی"۔ [الأعلی: ۱- ۳]

اللہ تعالیٰ کے اس کا ئنات کا خالق و موجد ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اسی نے ہرے بھرے باغات اگائے جب کہ انسان ایک درخت بھی نہیں اگا سکتا، اسی طرح ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اس نے زمین کو قرار گاہ بنایا، اس میں نہریں بنایا اور مضبوط پہاڑ نصب کئے، دو دریاؤں کے درمیان فاصلہ بنایا تاکہ دونوں ایک دوسرے سے نہ ملیں۔ تنہا وہی مجبوروں کی پکار سننے والا ہے۔ خواہ وہ غیر مومن ہی کیوں نہ ہو، وہی خشکی و تری کی تاریکی میں لوگوں کی رہنمائی کرتا ہے، وہی بارش سے پہلےخوش خبری دینے والی ہوائیں چلاتا ہے، وہی ہمیں روزی دیتا ہے، اس کے علاوہ روزی دینے والا، پالنے والا اور پیدا کرنے والا کوئی نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {أَمَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَأَنْزَلَ لَكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَنْبَتْنَا بِهِ حَدَائِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ مَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تُنْبِتُوا شَجَرَهَا أَإِلَهٌ مَعَ اللَّهِ بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَعْدِلُونَ*۔ "بھلا بتاؤ تو کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا؟ کس نے آسمان سے بارش برسائی؟ پھر اس سے ہرے بھرے بارونق باغات اگا دیئے؟ ان باغوں کے درختوں کو تم ہر گز نہ اگا سکتے، کیا اللہ کے ساتھ اور کوئی معبود بھی ہے؟ بلکہ یہ لوگ ہٹ جاتے ہیں(سیدھی راہ سے)۔ أَمَّنْ جَعَلَ الْأَرْضَ قَرَارًا وَجَعَلَ خِلَالَهَا أَنْهَارًا وَجَعَلَ لَهَا رَوَاسِيَ وَجَعَلَ بَيْنَ الْبَحْرَيْنِ حَاجِزًا أَإِلَهٌ مَعَ اللَّهِ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ*۔ کیا وہ جس نے زمین کو قرار گاہ بنایا اور اس کے درمیان نہریں جاری کر دیں اور اس کے لیے پہاڑ بنائے اور دو سمندروں کے درمیان روک بنا دی کیا اللہ کے ساتھ اور کوئی معبود بھی ہے؟ بلکہ ان میں سے اکثر کچھ جانتے ہی نہیں۔ أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَ يَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ أَإِلَهٌ مَعَ اللَّهِ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ*۔ بے کس کی پکار کو جب کہ وہ پکارے، کون قبول کر کے سختی کو دور کردیتا ہے اور تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے، کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور معبود ہے؟ تم بہت کم نصیحت و عبرت حاصل کرتے ہو۔ أَمَّنْ يَهْدِيكُمْ فِي ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَنْ يُرْسِلُ الرِّيَاحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهِ أَإِلَهٌ مَعَ اللَّهِ تَعَالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ*۔ کیا وہ جو تمہیں خشکی اور تری کی تاریکیوں میں راہ دکھاتا ہے اور جو اپنی رحمت سے پہلے ہی خوشخبریاں دینے والی ہوائیں چلاتا ہے، کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے جنہیں یہ شریک کرتے ہیں ان سب سے اللہ بلند وبالاتر ہے۔ أَمَّنْ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَمَنْ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَإِلَهٌ مَعَ اللَّهِ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ} کیا وہ جو مخلوق کی اول دفعہ پیدائش کرتا ہے پھر اسے لوٹائے گا اور جو تمہیں آسمان اور زمین سے روزیاں د ے رہا ہے، کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے؟ کہہ دیجئے کہ اگر سچے ہو تو اپنی دلیل لاؤ"۔ [النمل: ۶۰- ۶۴]

اوراللہ عزو جل نے فر مایا: {وَهُوَ الَّذِي مَدَّ الْأَرْضَ وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ وَأَنْهَارًا وَمِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ جَعَلَ فِيهَا زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ*۔ "اسی نے زمین پھیلا کر بچھا دی ہے اور اس میں پہاڑ اور نہریں پیدا کردی ہیں اور اس میں ہر قسم کے پھلوں کے جوڑے دوہرے دوہرے پیدا کردیئے وہ رات کو دن سے چھپا دیتا ہے۔ یقیناً غور و فکر کرنے والوں کے لئے اس میں بہت نشانیاں ہیں۔ وَفِي الْأَرْضِ قِطَعٌ مُتَجَاوِرَاتٌ وَجَنَّاتٌ مِنْ أَعْنَابٍ وَزَرْعٌ وَنَخِيلٌ صِنْوَانٌ وَغَيْرُ صِنْوَانٍ يُسْقَى بِمَاءٍ وَاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ فِي الْأُكُلِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ} اور زمین میں مختلف ٹکڑے ایک دوسر ے سے لگتے لگاتے ہیں اور انگوروں کے باغات ہیں اور کھیت ہیں اور کھجوروں کے درخت ہیں، شاخ دار اور بعض ایسے ہیں جو بے شاخ ہیں سب ایک ہی پانی پلائے جاتے ہیں پھر بھی ہم ایک کو ایک پر کھانے میں برتری دیتے ہیں اس میں عقلمندوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں"۔ [الرعد: ۳- ۴] چنانچہ اللہ پاک نے یہ ثابت کیا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہی نے تن تنہا زمین کو بچھایا، ہر درخت اور پھل کے جوڑے جوڑے بنائے، وہی تن تنہا دن کو رات سے ڈھانپتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس کا ئنات کا موجد ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ زمین کے مختلف ٹکڑے مشابہ و غیر مشابہ پھل پیدا کرتے ہیں، جب کہ سارے کے سارے ایک ہی پانی سے سیراب ہوتے ہیں، سو اللہ کی ذات پاک ہے، جس کے علاوہ کوئی رب اور کوئی خالق نہیں ہے۔

اللہ پاک نے بیان فرمایا کہ یہ پہاڑ اتنے سخت ہونے کے باوجود بھی‘ اپنے اندر خلقت کے اتنے انوکھے نمونے رکھتے ہیں کہ جو اللہ خالق کى انوکھى خلقت وکاریگرى کا بین ثبوت ہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَ مِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌۢ بِيْضٌ وَّحُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهَا وَغَرَابِيْبُ سُوْدٌ } "اور پہاڑوں کے مختلف حصے ہیں سفید اور سرخ کہ ان کی بھی رنگتیں مختلف ہیں اور بہت گہرے سیاہ"۔ [فاطر: ۲۷]

اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اسی نے سارے جہان کو پیدا کیا اور ان سب مخلوقات کو انسان کے تابع کردیا‘ اور اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اس نے سمندروں میں کشتیاں چلا دی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اللَّهُ الَّذِي سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِيَ الْفُلْكُ فِيهِ بِأَمْرِهِ وَلِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ *۔ "اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے دریا کو تابع بنادیا تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں اور تم اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم شکر بجالاؤ۔ {وَسَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ} اور آسمان و زمین کی ہر ہر چیز کو بھی اس نے اپنی طرف سے تمہارے لئے تابع کردیا ہے جو غور کریں یقیناً وہ اس میں بہت سی نشانیاں پالیں گے"۔ [الجاثیۃ: ۱۲-۱۳]

اللہ تعالى نے اپنے وجود کی دلیل یہ بھی بتائی کہ اس نے چوپایوں کو ہمارے لیے سواری‘ کھانے پینے اور پہننے اوڑھنے کا ذریعہ بنادیا‘ اور وہی ہے جو فضا میں پرندوں کو روکے رکھتا ہے‘ اللہ پاک وبرتر کا فرمان ہے: {أَلَمْ يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ مُسَخَّرَاتٍ فِي جَوِّ السَّمَاءِ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ*۔ "کیا ان لوگوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا جو تابع فرمان ہو کر فضا میں ہیں، جنہیں بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی اور تھامے ہوئے نہیں، بیشک اس میں ایمان ﻻنے والے لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔ وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ سَكَنًا وَجَعَلَ لَكُمْ مِنْ جُلُودِ الْأَنْعَامِ بُيُوتًا تَسْتَخِفُّونَهَا يَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَيَوْمَ إِقَامَتِكُمْ وَمِنْ أَصْوَافِهَا وَأَوْبَارِهَا وَأَشْعَارِهَا أَثَاثًا وَمَتَاعًا إِلَى حِينٍ*۔ اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تمہارے گھروں میں سکونت کی جگہ بنا دی ہے اور اسی نے تمہارے لیے چوپایوں کی کھالوں کے گھر بنا دیے ہیں، جنہیں تم ہلکا پھلکا پاتے ہو اپنے کوچ کے دن اور اپنے ٹھہرنے کے دن بھی، اور ان کی اون اور روؤں اور بالوں سے بھی اس نے بہت سے سامان اور ایک وقت مقررہ تک کے لیے فائدہ کی چیزیں بنائیں۔ وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمْ مِمَّا خَلَقَ ظِلَالًا وَجَعَلَ لَكُمْ مِنَ الْجِبَالِ أَكْنَانًا وَجَعَلَ لَكُمْ سَرَابِيلَ تَقِيكُمُ الْحَرَّ وَسَرَابِيلَ تَقِيكُمْ بَأْسَكُمْ كَذَلِكَ يُتِمُّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُونَ} اللہ ہی نے تمہارے لیے اپنی پیدا کردہ چیزوں میں سے سائے بنائے ہیں اور اسی نے تمہارے لیے پہاڑوں میں غار بنائے ہیں اور اسی نے تمہارے لیے کرتے بنائے ہیں جو تمہیں گرمی سے بچائیں اور ایسے کرتے بھی جو تمہیں لڑائی کے وقت کام آئیں۔ وه اسی طرح تمہیں اپنی پوری پوری نعمتیں دے رہا ہے کہ تم حکم بردار بن جاؤ"۔ [النحل: ۷۹ -۸۱] یہ تمام شواہد اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی ربوبیت پر دلالت کرتے ہیں‘ اللہ پاک کے علاوہ کون ہے جس نے ان تمام مخلوقات کو پیدا کیا؟ ! اللہ کے علاوہ ان کا کوئی موجد نہیں اور نہ ہی اس کے علاوہ ان کا کوئی رب ہے۔

اس نے ایک ایسی عظیم دلیل بھی بنائی ہے جو ایک دن میں کئی بار ظاہر ہوتی اور گواہی دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ موجود ہے اور وہی پالنے والا ہے، اسی نے صبح کو پھاڑا، دانے اور گٹھلیوں کو پھاڑا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوَى يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَمُخْرِجُ الْمَيِّتِ مِنَ الْحَيِّ ذَلِكُمُ اللَّهُ فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ*۔ "یبیشک اللہ تعالیٰ دانہ کو اور گٹھلیوں کو پھاڑنے والا ہے، وہ جاندار کو بےجان سے نکال لاتا ہے اور وہ بےجان کو جاندار سے نکالنے والا ہے، اللہ تعالیٰ یہ ہے، سو تم کہاں الٹے چلے جا رہے ہو۔ فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ} وہ صبح کا نکالنے والا‘ اس نے رات کو راحت کی چیز بنایا ہے اور سورج اور چاند کو حساب سے رکھا ہے یہ ٹھہرائی بات ہے ایسی ذات کی جو قادر ہے بڑے علم والا ہے"۔ [الأنعام: ۹۵۔ ۹۶]

جس طرح سورج اور چاند دو نشانیاں ہیں اسی طرح رات اور دن بھی دو ایسی نشانیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کے رب ہونے پر دلالت کرتے ہیں، جیسا کہ فرمان الہی ہے: {وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ آيَتَيْنِ فَمَحَوْنَا آيَةَ اللَّيْلِ وَجَعَلْنَا آيَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً} "ہم نے رات اور دن کو اپنی قدرت کی نشانیاں بنائی ہیں، رات کی نشانی کو تو ہم نے بے نور کردیا اور دن کی نشانی کو روشن بنایا ہے"۔ [الإسراء: ۱۲]

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے سمندر بنایا جس کا پانی میٹھا یا کڑوا ہوتا ہے، ان دونوں سے تازہ گوشت اور زیور نکالا جاتا ہے، یہ سب اللہ تعالیٰ کے وجود پر دلالت کرتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَهُوَ الَّذِي سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَأْكُلُوا مِنْهُ لَحْمًا طَرِيًّا وَتَسْتَخْرِجُوا مِنْهُ حِلْيَةً تَلْبَسُونَهَا وَتَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِيهِ} "اور دریا بھی اس نے تمہارے بس میں کردیے ہیں کہ تم اس میں سے (نکلا ہوا) تازہ گوشت کھاؤ اور اس میں سے اپنے پہننے کے زیورات نکال سکو اور تم دیکھتے ہو کہ کشتیاں اس میں پانی چیرتی ہوئی (چلتی) ہیں"۔ [النحل: ۱۴] ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَهُوَ الَّذِي مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ هَذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَهَذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَحِجْرًا مَحْجُورًا} "اور وہی ہے جس نے سمندر آپس میں ملا رکھے ہیں، یہ ہے میٹھا اور مزیدار اور یہ ہے کھاری کڑوا ان دونوں کے درمیان ایک حجاب اور مضبوط اوٹ کردی"۔ [الفرقان: ۵۳]

اور اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتا دیا ہے کہ عقل سلیم یہ جانتی ہے کہ ایسى کائنات بغیر خالق کے وجود میں نہیں آسکتی، جیسا کہ فرمان الہی ہے: {وَهُوَ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ وَلَهُ اخْتِلَافُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ} "اور وہی ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے اور رات دن کے رد و بدل کا مختار بھی وہی ہے۔ کیا تم کو سمجھ بوجھ نہیں؟" [المؤمنون: ۸۰] ایک اور جگہ اللہ عز وجل نے فرمایا: {قَالَ أَفَتَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنْفَعُكُمْ شَيْئًا وَلَا يَضُرُّكُمْ*۔ "اللہ کے خلیل نے اسی وقت فرمایا افسوس! کیا تم اللہ کے علاوہ ان کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہیں کچھ بھی نفع پہنچا سکیں نہ نقصان۔ أُفٍّ لَكُمْ وَلِمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ} تف ہے تم پر اور ان پر جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو۔ کیا تمہیں اتنی سی عقل بھی نہیں؟"۔ [الأنبیاء: ۶۶- ۶۷] اب کیا آپ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے وجود اور اس کی ربوبیت پر اس سے بھی بڑی دلیلیں دیکھنا چاہتے ہیں؟!

اللہ پاک نے ایسے لوگوں کی نکییر ہے جنہوں نے تخلیق کی نسبت اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کی طرف کی ہے، اور ان سے زجر و توبیخ کے انداز میں سوال کیا ہے: کیا وہ عدم سے وجود میں آگئے ہیں؟ کیا انہوں نے اپنے آپ کو پیدا کر لیا ہے؟ کیا انہوں نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا ہے؟ کیا ان کے پاس اللہ کے خزانے ہیں؟ یا وہ سب غالب وبا اختیار ہیں؟ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: أمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُون*۔ "یا کیا وہ بغیر کسی چیز کے خود ہی پیدا ہوگئے ہیں یا یہ خود اپنے خالق ہیں۔ أَمْ خَلَقُوا السَّمَوَاتِ وَ الأَرْضَ بَلْ لاَ يُوقِنُونَ*۔ کیا انہوں نے ہی آسمان اور زمین کو پیدا کیا ہے بلکہ وہ یقین نہیں کرتے۔ أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ المُسَيْطِرُونَ} کیا ان کے پاس تمہارے رب کے خزانے ہیں یا وہ لوگ نگراں ہیں"۔ [الطور: ۳۵-۳۷] یہ آیت ان عظیم آیتوں میں سے ہے جو اللہ تعالی کے وجود پر دلالت کرتی ہیں اوراسی لئے جبیربن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ’’ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي المَغْرِبِ بِالطُّورِ، فَلَمَّا بَلَغَ هَذِهِ الآيَةَ: میں نے نبی ﷺ کو مغرب میں الطور پڑھتے ہو ئے سنا ، جب وہ اس آیت پر پہونچے: أمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُون*۔ "یا کیا وہ بغیر کسی چیز کے خود ہی پیدا ہوگئے ہیں یا یہ خود اپنے خالق ہیں۔ أَمْ خَلَقُوا السَّمَوَاتِ وَ الأَرْضَ بَلْ لاَ يُوقِنُونَ*۔ کیا انہوں نے ہی آسمان اور زمین کو پیدا کیا ہے بلکہ وہ یقین نہیں کرتے۔ أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ المُسَيْطِرُونَ} کیا ان کے پاس تمہارے رب کے خزانے ہیں یا وہ لوگ غالب وبا اخیتار ہیں"۔ تو فرماتے ہیں: کہ قریب تھا کہ میرا دل اڑ جا ئے۔ ( صحیح بخاری: ۴۸۵۴، صحیح مسلم: ۴۶۳، سنن أبی داود: ۸۱۱، سنن النسا ئی: ۹۸۷، سنن ابن ماجۃ: ۸۳۲)۔ جبیر رضی اللہ عنہ نے یہ آیت اسلام لانے سے پہلے سنا تھا جس سے یہ بات طشت ازبام ہوگئی کہ دنیا کی تمام چیزیں مخلوق ہیں، مربوب ہیں اور مقہور ہیں اور لوگوں کے بیان کردہ عیوب سے اللہ کی ذات پاک ہے۔

ایک اور مقام پر اللہ عز و جل نے فرمایا: {مَا أَشْهَدتُّهُمْ خَلْقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَلاَ خَلْقَ أَنفُسِهِمْ وَمَا كُنتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّينَ عَضُدًا} "میں نے تو انھیں نہ اس وقت گواہ بنایا تھا جب آسمان اور زمین پیدا کئے تھے اور نہ اس وقت جب خود انھیں پیدا کیا تھا اور میں گمراہ کرنے والوں کو اپنا مددگار بنانے والا بھی نہیں"۔ [الكهف: 51] جب انسان کو نہ تو آسمانوں کی پیدائش کا کوئی علم ہے اور نہ اپنی ہی پیدائش کا کوئی علم ہے، تو کیوں وہ اپنے خالق اور موجد کا انکار کرتا ہے؟!

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو بے کار پیدا نہیں کیا بلکہ یہ ایک عظیم مقصد کے لئے ایک عمدہ تخلیق ہے، جیسا کہ فرمان الہی ہے: {وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لَاعِبِينَ*۔ "ہم نے آسمان وزمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو کھیلتے ہوئے نہیں بنایا۔ لَوْ أَرَدْنَا أَنْ نَتَّخِذَ لَهْوًا لَاتَّخَذْنَاهُ مِنْ لَدُنَّا إِنْ كُنَّا فَاعِلِينَ } اگر ہم یوں ہی کھیل تماشے کا ارادہ کرتے تو اسے اپنے پاس سے ہی بنا لیتے، اگر ہم کرنے والے ہی ہوتے"۔ [الأنبیاء: ۱۶- ۱۷]

اللہ تعالیٰ نے ان عیسائیوں کی بھی تردید کی ہے جن کا گمان ہے کہ عیسی علیہ السلام معبود اور پیدا کرنے والے ہیں، اس کائنات کے مدبر اور پالنہار ہیں، اور واضح کردیا کہ آسمان اور زمین میں موجود کوئی بھی چیز اللہ تعالیٰ سے مخفی نہیں ہے، وہی رحم مادر میں انسان کی تصویر کشی کرتا ہے اور عیسی علیہ السلام بھی انہیں میں سے ہیں جن کو اللہ نے پیدا کیا اور رحم مادر میں ان کی تصویر کشی کی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اِنَّ اللّٰهَ لَا يَخْفٰى عَلَيْهِ شَيْءٌ فِي الْاَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاۗءِ*۔ "یقیناً اللہ تعالیٰ پر زمین وآسمان کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ ھُوَ الَّذِيْ يُصَوِّرُكُمْ فِي الْاَرْحَامِ كَيْفَ يَشَاۗءُ ۭ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ } وہ ماں کے پیٹ میں تمہاری صورتیں جس طرح چاہتا ہے بناتا ہے، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ غالب ہے، حکمت والاہے"۔ [آل عمران: ۵- ۶] اس کے علاوہ اور بہت ساری دلیلیں قرآن مجید ۔جیسے سورۃ الأنعام اور سورۃ النحل وغیرہ میں موجود ہیں، جن کا شمار نا ممکن ہے اور یہ تمام کے تمام اس کی موجودگی اور اس کی ربوبیت پر دلالت کرتے ہیں۔

باب: اللہ تعالیٰ کی ربوبیت پر ایمان لانے کا بیان

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ربوبیت میں اکیلا ہے، وہی تنہا خالق ہے، اسی نے تخلیق کی ابتداء کی اور اس کی تخلیق میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اللَّهُ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ} "اللہ تعالیٰ ہی مخلوق کی ابتداء کرتا ہے پھر وہی اسے دوبارہ پیدا کرے گا پھر تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے"۔ [الروم: ۱۱] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَائِكُمْ مَنْ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ قُلِ اللَّهُ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ} "آپ یوں کہیے کہ تمہارے شرکاء میں کوئی ہے جو پہلی بار بھی پیدا کرے، پھر دوبارہ بھی پیدا کرے؟ آپ کہہ دیجئے کہ اللہ ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر وہی دوبارہ بھی پیدا کرے گا۔ تم کہاں پھرے جاتے ہو؟" [یونس: ۳۴]

اللہ تعالیٰ اپنے حکم سے جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ} "وہ جب کبھی کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے اسے اتنا فرما دینا (کافی ہے) کہ ہوجا، تو وہ اسی وقت ہوجاتی ہے"۔ [یس: ۸۲] اور اسی کے ساتھ حسب منشا اسباب پیدا کرتا ہے، جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالی نے فرمایا: {فَأَخْرَجْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِنْ نَبَاتٍ شَتَّى} "پھر برسات کی وجہ سے مختلف قسم کی پیداوار بھی ہم ہی پیدا کرتے ہیں"۔ [طہ: ۵۳] اور اللہ عز وجل نے فر مایا: {وَمِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ جَعَلَ فِيهَا زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ} "اور ہر طرح کے پھلوں کی دو دو قسمیں پیدا کیں"۔ [الرعد: ۳] اوراللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} "ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کیا تاکہ تم لوگ نصیحت حاصل کرو"۔ [الذاریات: ۴۹]

اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ وہی ہر چیز کا خالق ہے، اس کے علاوہ ہر چیز مخلوق ہے، جیسا کہ فرمان الہی ہے: {اَللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ ۡ وَّهُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ وَّكِيْلٌ} "اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی ہر چیز پر نگہبان ہے"۔ [الزمر: ۶۲]

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ ہی ہر چیز کا رب، خالق اور مدبرہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {يَاأَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ*۔ "اے لوگو! اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے کے لوگوں کو پیدا کیا، یہی تمہارا بچاؤ ہے۔ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فِرَاشًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَكُمْ} جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے پانی اتار کر اس سے پھل پیدا کرکے تمہیں روزی دی"۔ [البقرۃ: ۲۱۔۲۲] ایک اور مقام پر اللہ عز وجل نے فرمایا: {إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ} "بلا شبہ تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کردیا پھر عرش پر مستوى ہوا وہ ہر کام کی تدبیر کرتا ہے"۔ [یونس: ۳] سو وہی اللہ سبحانہ وتعالى آسمان اور زمین کا خالق و مالک ہے، وہی اس میں تصرف کرنے والا ہے، جیسا کہ اللہ جل شانہ نے فرمایا: {لَهُ مَقَالِيدُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ اللَّهِ أُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ} "آسمانوں اور زمین کی کنجیوں کا مالک وہی ہے جن لوگوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا وہی خسارہ پانے والے ہیں"۔ [الزمر: ۶۳] کوئی بھی مخلوق اپنے یا اپنے علاوہ کسی اور کے معاملے کا مالک نہیں ہے سوائے اس کے جسے اللہ کسی پر مقدر کردے، فرشتے ہوں یا انبیاء ہوں یا اولیاء، اس کائنات میں نہ کوئی تصرف کر سکتا ہے اور نہ کوئی نفع و نقصان کا مالک ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {قُلِ ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَا يَمْلِكُونَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ وَمَا لَهُمْ فِيهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَمَا لَهُ مِنْهُمْ مِنْ ظَهِيرٍ} "کہہ دیجئے! کہ اللہ کے سوا جن جن کا تمہیں گمان ہے (سب) کو پکار لو، نہ ان میں سے کسی کو آسمانوں اور زمینوں میں سے ایک ذرہ کا اختیار ہے نہ ان کا ان میں کوئی حصہ ہے نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مدد گار ہے"۔ [سبأ: ۲۲]

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ ہی حقیقی مالک ہے، اس کے علاوہ سب مملوک ہیں اور ہر بادشاہ کی ملکیت مؤقت اور زائل ہونے والی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ } "روز جزا کا مالک ہے"۔ [الفاتحۃ: ۴] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ} "آپ کہہ دیجئے اے اللہ! اے تمام جہان کے مالک! تو جسے چاہے بادشاہی دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے اور تو جسے چاہے عزت دے اورجسے چاہے ذلت دے، تیرے ہی ہاتھ میں سب بھلائیاں ہیں، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے"۔ [آل عمران: ۲۶] الله کے علاوہ سب مربوب اور مقہور ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمَنِ عَبْدًا} "آسمان و زمین میں جو بھی ہیں سب کے سب اللہ کے غلام بن کر ہی آنے والے ہیں"۔ [مریم: ۹۳]

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ وہی ہے جس نے آسمان اور زمین کو پیدا كيا، رات کو دن اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے، اسی نے سورج اورچاند کو مسخر کیا ہے، ان میں سے ہر ایک مقررہ وقت تک چلتے رہتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ يُكَوِّرُ اللَّيْلَ عَلَى النَّهَارِ وَيُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى اللَّيْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ يَجْرِي لِأَجَلٍ مُسَمًّى أَلَا هُوَ الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ} "نہایت اچھی تدبیر سے اس نے آسمانوں اور زمین کو بنایا وہ رات کو دن اور دن کو رات پر لپیٹ دیتا ہے اور اس نے سورج اور چاند کو کام پر لگا رکھا ہے۔ ہر ایک مقررہ مدت تک چل رہا ہے یقین مانو کہ وہی زبردست اور گناہوں کا بخشنے والا ہے"۔ [الزمر: ۵] الله ہى نے سورج کو روشن اور چاند کو نور بنایا اور شب و روز کے اختلاف کو اپنی تخلیق کی عظمت اور حسن تدبیرپر دلالت کرنے والی نشانی بنایا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ مَا خَلَقَ اللَّهُ ذَلِكَ إِلَّا بِالْحَقِّ يُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ*۔ "وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے جس نے آفتاب کو چمکتا ہوا بنایا اور چاند کو نورانی بنایا اور اس کے لیے منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کرلیا کرو، اللہ تعالیٰ نے یہ چیزیں بے فائدہ نہیں پیدا کیں، وہ یہ دلائل ان کو صاف صاف بتلا رہا ہے جو دانش رکھتے ہیں۔ إِنَّ فِي اخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمَا خَلَقَ اللَّهُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَّقُونَ} بلاشبہ رات اور دن کے یکے بعد دیگرے آنے میں اور اللہ تعالیٰ نے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں پیدا کیا ہے ان سب میں ان لوگوں کے واسطے دلائل ہیں جو اللہ کا ڈر رکھتے ہیں"۔ [یونس: ۵- ۶] اسی نے ہمیں ایک نفس سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا، اور اسی نے تمام چوپایوں کو پیدا کیا، جیسا کہ اللہ پاک وبرتر نے فرمایا: {خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَأَنْزَلَ لَكُمْ مِنَ الْأَنْعَامِ ثَمَانِيَةَ أَزْوَاجٍ يَخْلُقُكُمْ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ خَلْقًا مِنْ بَعْدِ خَلْقٍ فِي ظُلُمَاتٍ ثَلَاثٍ ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ} "اس نے تم سب کو ایک ہی جان سے پیدا کیا ہے پھر اسی سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور تمہارے لئے چوپایوں میں سے (آٹھ نر و مادہ) اتارے وہ تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں ایک بناوٹ کے بعد دوسری بناوٹ پر بناتا ہے تین تین اندھیروں میں، یہی اللہ تعالیٰ تمہارا رب ہے اس کے لئے بادشاہت ہے، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، پھر تم کہاں بہک رہے ہو"۔ [الزمر: ۶]

ہمارا ایمان ہے کہ وہی رزاق، قوت والا اور نہایت زور آور ہے، اس کے علاوہ کوئی رازق نہیں ہے اور نہ اس کے علاوہ کوئی کفایت کرنے والا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ} "اللہ تعالیٰ تو خود ہی سب کا روزی رساں قوت والا اور نہایت زور آور ہے"۔ [الذاریات: ۵۸] اور اللہ عز وجل نے فر مایا: {وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُبِينٍ} "زمین پر چلنے پھرنے والے جتنے جاندار ہیں سب کی روزیاں اللہ تعالیٰ پر ہیں وہی ان کے رہنے سہنے کی جگہ کو جانتا ہے اور ان کے سونپے جانے کی جگہ کو بھی، سب کچھ واضح کتاب میں موجود ہے"۔ [ھود: ۶]

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے، اللہ کو ہر چیز معلوم ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ} "وہ جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے جو ان کے پیچھے ہے اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر وہ جتنا چاہے"۔ [البقرۃ: ۲۵۵] ہر چھوٹی بڑی چیز کا جاننے والا ہے، اس سے کو ئی چھوٹی یا بڑی چیز پوشیدہ نہیں ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتَاْتِيَنَّكُمْ عَالِمِ الْغَيْبِ لَا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ وَلَا أَصْغَرُ مِنْ ذَلِكَ وَلَا أَكْبَرُ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ} "آپ کہہ دیجئے ! مجھے میرے رب کی قسم ! جو عالم الغیب ہے وہ یقیناً تم پر آئے گی۔ اللہ تعالیٰ سے ایک ذرے کے برابر کی چیز بھی پوشیدہ نہیں نہ آسمانوں میں نہ زمین میں بلکہ اس سے بھی چھوٹی اور بڑی ہر چیز کھلی کتاب میں موجود ہے"۔ [سبأ: ۳] اور اس کا علم اس کائنات کی ہر چیز کو محیط ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ} "اور اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہیں غیب کی کنجیاں (خزانے) ان کو کوئی نہیں جانتا بجز اللہ تعالیٰ کے اور وہ تمام چیزوں کو جانتا ہے جو کچھ خشکی میں ہے اور جو کچھ دریاؤں میں ہے اور کوئی پتہ نہیں گرتا مگر وہ اس کو بھی جانتا ہے اور کوئی دانہ زمین کے تاریک حصوں میں پڑتا اور نہ کوئی تر اور نہ کوئی خشک چیز گرتی ہے مگر یہ سب کتاب مبین میں ہیں"۔ [الأنعام: ۵۹] اور اس علم محیط کے ایک گوشے کی بھی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: {وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ} "اور جتنے قسم کے جاندار زمین پر چلنے والے ہیں اور جتنے قسم کے پرند جانور ہیں کہ اپنے دونوں بازؤں سے اڑتے ہیں ان میں کوئی قسم ایسی نہیں جو کہ تمہاری طرح کے گروہ نہ ہوں ہم نے دفتر میں کوئی چیز نہیں چھوڑی پھر سب اپنے رب کے پاس جمع کئے جائیں گے"۔ [الأنعام: ۳۸]

اور ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ حاضر وغائب کا جاننے والا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: {عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ} "ظاہرو پوشیدہ کا وہ عالم ہے (سب سے) بڑا اور (سب سے) بلند وبالا"۔ [الرعد: ۹] ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ غیب اور شہادت کا جاننے والا ہے، وہ اپنے غیب سے کسی کو با خبر نہیں کرتا سوائے اس کے جس سے وہ راضی ہو یعنی رسول کو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا *۔ "وہ غیب کا جاننے والا ہے اور اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا۔ إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا} سوائے اس رسول کے جسے وہ پسند کرلے لیکن اس کے بھی آگے پیچھے پہرے دار مقرر کردیتا ہے"۔ [الجن: ۲۶- ۲۷] غیب کا ہر دعوی دار جھوٹا اور افتراء پرداز ہے۔ رسول غیب نہیں جانتے تھے، اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ آپ فرمائیں: {قُلْ لَا أَقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزَائِنُ اللَّهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ} "آپ کہہ دیجئے کہ نہ تو میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب جانتا ہوں"۔ [الأنعام: ۵۰]

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ ہی زندہ کرنے اور مارنے والا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ} "بلا شبہ اللہ ہی کی سلطنت ہے آسمانوں اور زمین میں، وہی جلاتا اور مارتا ہے اور تمہارا اللہ کے سوا کوئی یار ہے اور نہ کوئی مدد گار"۔ [التوبۃ: ۱۱۶] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَهُوَ الَّذِي أَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَكَفُورٌ} "اسی نے تمہیں زندگی بخشی پھر وہی تمہیں مار ڈالے گا پھر وہی تمہیں زندہ کرے گا، بے شک انسان البتہ ناشکرا ہے"۔ [الحج: ۶۶] وہی موت و حیات کا بھی خالق ہے، جیسا کہ فرمان الہی ہے: {الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ} "جس نے موت اور حیات کو اس لئے پیدا کیا کہ تمہیں آزمائے کہ تم میں اچھے کام کون کرتا ہے، اور وہ غالب اور بخشنے والا ہے"۔ [الملک: ۲] وہی جانوں کو موت سے دو چار کرتا ہے، جیسا کہ فرمان الہی ہے: {اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا} "اللہ ہی روحوں کو ان کی موت کے وقت قبض کرلیتا ہے"۔ [الزمر: ۴۲]

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز پر حاکم اور غالب ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں خبر دیتے ہوئے فرمایا: {وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَ كَرْهًا وَظِلَالُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ} "اللہ ہی کے لئے زمین اور آسمانوں کی سب مخلوق خوشی اور ناخوشی سے سجدہ کرتی ہے اور ان کے سائے بھی صبح شام"۔ [الرعد: ۱۵] ایک اور مقام پر اللہ عز وجل نے فرمایا: {يَوْمَ هُم بَارِزُونَ لَا يَخْفَىٰ عَلَى اللَّهِ مِنْهُمْ شَيْءٌ لِّمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ} "جس دن سب لوگ ظاہر ہوجائیں گے ان کی کوئی چیز اللہ سے پوشیدہ نہ رہے گی۔ آج کس کی بادشاہی ہے؟ فقط اللہ واحد و قہار کی"۔ [غافر: ۱۶]

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو بنایا اور اسے بغیر کھمبے کے بلند کیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {خَلَقَ السَّمَاوَاتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا وَأَلْقَى فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَنْ تَمِيدَ بِكُمْ} "اسی نے آسمانوں کو بغیر ستون کے پیدا کیا۔ تم انھیں دیکھ رہے ہو اور اس نے زمین میں پہاڑوں کو ڈال دیا تاکہ وہ تمہیں جنبش نہ دے سکے"۔ [لقمان: ۱۰] اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کے لئے آسمانوں اور زمینوں کی ساری چیزوں کو مسخر(تابع) کردیا، اللہ عز وجل کا فرمان ہے : {وَسَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ} "اور آسمان و زمین کی ہر ہر چیز کو بھی اس نے اپنی طرف سے تمہارے لئے تابع کردیا ہے جو غور کریں یقیناً وہ اس میں بہت سی نشانیاں پالیں گے"۔ [الجاثیۃ: ۱۳]

ہمارا ایمان ہے کہ رب ذو الجلال ہی کے لئے پیدا کرنا اور حکم دینا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: { أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ} "یاد رکھو! اللہ ہی کے لئے خاص ہے خالق ہونا اور حاکم ہونا بڑی خوبیوں سے بھرا ہوا اللہ جو تمام عالم کا رب ہے"۔ [الأعراف: ۵۴] گویا اس کے علاوہ نہ کوئی رب ہے اور نہ کوئی شریعت ساز ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {شَرَعَ لَكُمْ مِنَ الدِّينِ مَا وَصَّى بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ} "اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے وہی دین مقرر کردیا ہے جس کے قائم کرنے کا اس نے نوح (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا اور جو (بذریعہ وحی) ہم نے تیری طرف بھیج دی ہے"۔ [الشوری: ۱۳] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا} "تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے شریعت بنائی اور ایک راستہ بنایا"۔ [المائدۃ: ۴۸] وہی شریعت سازی کرتا ہے، فرائض سے روشناس کراتا ہے، اور دین کی وضاحت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی سخت نکیر کی ہے جنہوں نے احبار اور رہبان کو رب بنالیا، اور جو کچھ ان کے احبار و رہبان نے ان کے لئے مشروع کیا ہے اس کو انہوں نے قبول کرلیا۔ اللہ تعالی نے فرمایا: {اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ} "ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو رب بنایا ہے"۔ [التوبۃ: ۳۱] ایک اور جگہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا: { أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَنْ بِهِ اللَّهُ} "کیا ان لوگوں نے ایسے (اللہ کے) شریک (مقرر کر رکھے) ہیں جنہوں نے ایسے احکام دین مقرر کردیئے جو اللہ کے فرمائے ہوئے نہیں ہیں"۔ [الشوری: ۲۱]

جس طرح اللہ ہی ساری مخلوق کا خالق و مالک ہے، اسی طرح اسی نے ساری مخلوق کے لئے احکام مرتب کیا ہے، اور وہی اکیلا ان سے ان کے کرتوت کا حساب لے گا اور انہیں جزا یا سزا دے گا، جیسا کہ فرمایا: {وَخَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ وَلِتُجْزَى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ} "اور آسمانوں اور زمین کو اللہ نے بہت ہی عدل کے ساتھ پیدا کیا ہے اور تاکہ ہر شخص کو اس کے کئے ہوئے کام کا پورا پورا بدلہ دیا جائے اور ان پر ظلم نہ کیا جائے"۔ [الجاثیۃ: ۲۲] اور اللہ عز و جل نے فر مایا: { إِنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ أَكَادُ أُخْفِيهَا لِتُجْزَى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعَى} "قیامت یقیناً آنے والی ہے جسے میں پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر شخص کو وہ بدلہ دیا جائے جو اس نے کوشش کی ہو"۔ [طہ: ۱۵]

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں کا بھی خالق ہے اور بندوں کے افعال کا بھی خالق ہے، جیسا کہ فرمان الہی ہے: {وَاللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ} "اور اللہ نے تمہیں بھی اور تمہارے اعمال کو بھی پیدا کیا"۔ [الصآفات ۹۶]

ہم گواہی دیتے ہیں کہ ہر آیتِ کونیہ میں اللہ کے خالق ہونے کی دلیل موجود ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: { أَفَمَنْ يَخْلُقُ كَمَنْ لَا يَخْلُقُ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ } "تو کیا وہ جو پیدا کرتا ہے اس جیسا ہے جو پیدا نہیں کرسکتا؟ کیا تم بالکل نہیں سوچتے"۔ [النحل: ۱۷] اور جنہیں اللہ کی ربوبیت اور الوہیت میں اس کا شریک بنالیا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے ان تمام کا انکار کیا ہے کیوں کہ وہی اکیلا خالق ہے، جیسا کہ فرمان الہی ہے: {أَمْ جَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكَاءَ خَلَقُوا كَخَلْقِهِ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَيْهِمْ قُلِ اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ} "کیا جنہیں یہ اللہ کا شریک ٹھرا رہے ہیں انہوں نے بھی اللہ کی طرح مخلوق پیدا کی ہے کہ ان کی نظر میں پیدائش مشتبہ ہوگئی ہو، کہہ دیجئے کہ صرف اللہ ہی تمام چیزوں کا خالق ہے وہ اکیلا ہے اور زبردست غالب ہے"۔ [الرعد: ۱۶]

مشرکین اللہ تعالیٰ کی ربوبیت پر ایمان لاتے تھے اور جانتے تھے کہ اللہ ہی پیدا کرنے والا، روزی دینے والا، زندہ کرنے والا اور مارنے والا ہے، وہی نفع و نقصان پہونچانے والا ہے، ان کے بت اور ان کے معبودان باطلہ نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں، ان بتوں کے تئیں ان مشرکین کا بس یہی عقیدہ تھا کہ وہ تقرب الی اللہ کا وسیلہ ہیں۔ لیکن اس اعتقاد کے باوجود اللہ تعالى نے ن کے اعمال کو قبول نہیں کیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ فَأَنَّى يُؤْفَكُونَ*۔ "اور اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ زمین وآسمان کا خالق اور سورج چاند کو کام میں لگانے والا کون ہے؟ تو ان کا جواب یہی ہوگا کہ اللہ تعالیٰ۔ پھر کدھر الٹے جا رہے ہیں۔ اللَّهُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَيَقْدِرُ لَهُ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ*۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے فراخ روزی دیتا ہے اور جسے چاہے تنگ۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز کا جاننے والاہے۔ وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ مِنْ بَعْدِ مَوْتِهَا لَيَقُولُنَّ اللَّهُ قُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ} اور اگر آپ ان سے سوال کریں کہ آسمان سے پانی اتار کر زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کس نے کیا؟ تو یقیناً ان کا جواب یہی ہوگا اللہ تعالیٰ نے۔ آپ کہہ دیں کہ ہر تعریف اللہ ہی کے لئے سزاوار ہے، بلکہ ان میں سے اکثر بے عقل ہیں"۔ [العنکبوت: ۶۱-۶۳] اس کے باوجود کہ زمانہ رسول کے مشرکین مصیبت میں اللہ ہی سے استغاثہ کرتے تھے، پریشانی میں اسی کی پناہ لیتے تھے، لیکن یہ کرنا ان کے کچھ کام نہ آیا کیوں کہ وہ اپنے شرک وکفر پر ہی قائم رہے، جیسا کہ فرمان الہی ہے: {فَإِذَا رَكِبُوا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ إِذَا هُمْ يُشْرِكُونَ *۔ "پس یہ لوگ جب کشتیوں میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں اس کے لئے عبادت کو خالص کر کے پھر جب وہ انہیں خشکی کی طرف بچا ﻻتا ہے تو اسی وقت شرک کرنے لگتے ہیں۔ لِيَكْفُرُوا بِمَا آتَيْنَاهُمْ وَلِيَتَمَتَّعُوا فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ } تاکہ ہماری دی ہوئی نعمتوں سے مکرتے رہیں اور برتتے رہیں، ابھی ابھی انہیں پتہ چل جائے گا"۔ [العنکبوت: ۶۵- ۶۶]

باب: اللہ تعالیٰ کی الوہیت پر ایمان لانے کا بیان

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ اپنی الوہیت میں یکتا اور اکیلا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، وہی حق ہے، اس کے علاوہ جسے لوگ پکارتے ہیں وہ باطل ہیں یہ بہت بڑا امر ہے اور اسی وجہ سے اللہ تعالی نے کتابیں نازل کی، رسولوں کو مبعوث کیا، جنت اور جہنم کوپیدا کیا، فطرت اور عقل سلیم بھی اس پر دلالت کرتی اور اس کى گواہی دیتی ہے، ہمیں پورا یقین ہے کہ تمام انبیاء کی دعوت کی بنیاد یہی توحید ہوا کرتی تھی، یعنی سارے نبیوں نے اپنی قوم کو اللہ کی عبادت کی طرف بلایا اور اس کے علاوہ کی عبادت سے روکا ہے، جیسا کہ اللہ جل شانہ نے فرمایا: {وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ} "تجھ سے پہلے بھی جو رسول ہم نے بھیجا اس کی طرف یہی وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں پس تم سب میری ہی عبادت کرو"۔ [الأنبیاء: ۲۵] اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فر مایا: {وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ} "ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو"۔ [النحل: ۳۶] اور اللہ حق سبحانہ نے فرمایا: {وَسْـَٔــلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَآ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً يُّعْبَدُوْنَ} "اور ہمارے ان نبیوں سے پوچھو ! جنہیں ہم نے آپ سے پہلے بھیجا تھا کہ کیا ہم نے سوائے رحمٰن کے اور معبود مقرر کئے تھے جن کی عبادت کی جائے؟"۔ [الزخرف: ۴۵] ہر نبی نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ کی عبادت کرو، اس کے علاوہ تمہارا کوئی معبود نہیں ہے، نوح علیہ السلام سے لے کر محمد عربی ﷺ تک سارے نبیوں نے یہی دعوت دیا، نوح علیہ السلام کی بابت اللہ تعالیٰ نے خبر دیتے ہوئے فرمایا: {يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ } "اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کی عبادت کرو اس کے علاوہ تمہارا کوئی معبود نہیں ہے"۔ [الأعراف: ۵۹] اور اللہ نے سب سے آخری رسول محمدﷺ کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرمایا: {قُلْ اِنَّمَآ اَنَا مُنْذِرٌ وَّمَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ} "کہہ دیجئے ! کہ میں تو صرف خبردار کرنے والا ہوں اور بجز اللہ واحد غالب کے کوئی لائق عبادت نہیں"۔ [ص: ۶۵] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ ۚ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۚ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ فَاعْبُدُوْهُ} "یہ اللہ تعالیٰ تمہارا رب ! اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے تم اس کی عبادت کرو"۔ [الأنعام: ۱۰۲]

اسی امر عظیم کے لئے اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوق کو پیدا کیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ} "میں نے جنات اور انسانوں کو محض اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں"۔ [الذاریات: ۵۶] ’’ يَعْبُدُوْنِ‘‘ کا معنی ہے ’’یوحدون‘‘ یعنی خالص ایک اللہ کی عبادت کرنا اور اس کو ایک جاننا۔ جیسا کہ اس آیت کی تفسیر میں امام بخاری رحمہ اللہ نےفرمایا: ’’مَا خَلَقْتُ أَهْلَ السَّعَادَةِ مِنْ أَهْلِ الْفَرِيقَيْنِ إِلَّا ليوحدون‘‘۔ میں نے دونوں فریقوں میں سے سعادت مندوں کو اسی لئے پیدا کیا ہے تاکہ وہ میری وحدانیت کا اقرار کریں"۔ (یہ قول صحيح البخاري: ۸/ ۶۰۰ میں بغیر کسى نسبت کے مذکور ہے، اور ابن حجر۔ رحمہ اللہ۔ نے ’’فتح الباری‘‘ میں اس کو ‘‘الفراء۔ ۸ /۶۰۰‘‘ کا قول بتایا ہے۔ )

اور ابن عباس رضی اللہ عنہما فر ماتے ہیں کہ’’لَمَّا بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى نَحْوِ أَهْلِ اليَمَنِ قَالَ لَهُ: إِنَّكَ تَقْدَمُ عَلَى قَوْمٍ مِنْ أَهْلِ الكِتَابِ، فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَى أَنْ يُوَحِّدُوا اللَّهَ تَعَالَى‘‘۔ جب نبی ﷺنے معاذ بن جبل کو اہل یمن کی طرف بھیجا تو ان سے فرمایا کہ تم اہل کتاب میں سے ایک قوم کے پاس جا رہے ہو،اس لیے سب سے پہلے انہیں اس کی دعوت دینا کہ وہ اللہ کو ایک مانیں"۔ (صحیح بخاری: ۱۴۵۸، صحیح مسلم: ۱۹) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے اس پر بایں انداز باب باندھا ہے: ’’بَابُ مَا جَاءَ فِي دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّتَهُ إِلَى تَوْحِيدِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى‘‘۔ باب ہے نبی ﷺ کا اپنی امت کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی توحید کی طرف دعوت دینے کے بیان میں۔

اور یہ بات یاد رہے کہ حقیقت میں عبادت وہی ہے جو خالص اللہ رب العالمین کے لئے ہو اور جو نبی اکرم ﷺ کی سنت کے موافق ہو، اور اللہ کے علاوہ ہر معبود کی عبادت باطل ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَاَنَّ مَا يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ هُوَ الْبَاطِلُ} "یہ سب اس لئے کہ اللہ ہی حق ہے اور اس کے سوا جسے بھی پکارتے ہیں وہ باطل ہے"۔ [الحج : ۶۲] اور لا الہ الا اللہ کا معنی ہے اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں کیوں کہ اسى معنى پر سابقہ آیتیں دلالت کررہی ہیں۔

صرف ایک اللہ پر ایمان لانا، اسی کی عبادت کرنا اور اس کے علاوہ کسی اور کی عبادت نہ کرنا ہی کلمہ ’’ لاالہ الا اللہ ‘‘ کا مضمون ہے، یہ ایسا عظیم کلمہ ہے جس میں اللہ کے علاوہ ہر معبود کی عبادت کی نفی کی گئی ہے اور اللہ کے علاوہ ہر معبود سے حقیقی الوہیت کا انکار کیا گیا ہے، حقیقی الوہیت کا اثبات صرف اللہ رب العالمین کے لئے کیا گیا ہے، عبادت صحیحہ صرف اللہ واحد کے لئے ہوگی، یہ کلمہ قرآن مجید میں کئی بار اور کئی مقام پر آیا ہے اور نفی و اثبات پر مشتمل اس معنی کی بے شمار آیتیں قرآن مجید میں آئی ہیں، جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: {وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ} "ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو"۔ [النحل: ۳۶] ایک اور مقام پر اللہ عزوجل نے فرمایا: {وَاعْبُدُوا اللّٰهَ وَلَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَـيْـــــًٔـا} "اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو"۔ [النساء: ۳۶]

یہ دین الہی کی مضبوط بنیاد اور رکن رکین ہے یعنی صرف ایک اللہ کے لئے الوہیت کو ثابت کرنا اور اس کے علاوہ کی عبادت کا انکار کرنا ہی دین کا محور و مرکز اور انبیاء کی دعوت کی بنیاد ہے، اس کا معنی یہ ہے کہ مخلوق کے تمام اعمال کو صرف ایک اللہ ہی نے پیدا کیا ہے، بنیادی یا تاکیدی طور پر قرآن مجید کی کوئی سورت آپ اس امر سے خالی نہیں پا ئیں گے، اور اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوق پر بے شمار دلیلوں اور ان گِنت شواہد کے ذریعہ حجت قائم کیا ہے، ان کا شمار کرنا نا ممکن ہے اور اس امر کی سب سے بڑی دلیل اللہ تعالیٰ کا اس بات پر گواہی دینا ہے؛ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: {قُلْ أَيُّ شَيْءٍ أَكْبَرُ شَهَادةً قُلِ اللّهِ شَهِيدٌ بِيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَذَا الْقُرْآنُ لأُنذِرَكُم بِهِ وَمَن بَلَغَ أَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُونَ أَنَّ مَعَ اللّهِ آلِهَةً أُخْرَى قُل لاَّ أَشْهَدُ قُلْ إِنَّمَا هُوَ إِلَـهٌ وَاحِدٌ وَإِنَّنِي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُون} "آپ کہیے کہ سب سے بڑی چیز گواہی دینے کے لئے کون ہے، آپ کہیے کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے اور میرے پاس یہ قرآن بطور وحی کے بھیجا گیا ہے تاکہ میں اس قرآن کے ذریعہ سے تم کو اور جس جس کو یہ قرآن پہنچے ان سب کو ڈراؤں کیا تم سچ مچ یہی گواہی دو گے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کچھ اور معبود بھی ہیں، آپ کہہ دیجئے کہ میں تو گواہی نہیں دیتا۔ آپ فرما دیجئے کہ بس وہ تو ایک ہی معبود ہے اور بیشک میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں"۔ [الأنعام: ۱۹]

اللہ تعالی نے بھی گواہی دی ہے اور اللہ کی مخلوق میں سب سے اہم لوگ یعنی فرشتے اور اہلِ علم نے بھی گواہی دی ہے اور یہ گواہی سب سے اہم چیز یعنی اللہ کی وحدانیت اور اس کی الوہیت کے لئے ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۙ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ وَاُولُوا الْعِلْمِ قَاۗىِٕمًۢا بِالْقِسْطِ ۭ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ} "اللہ تعالیٰ، فرشتے اور اہل علم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور وہ عدل کو قائم رکھنے والا ہے، اس غالب اور حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں"۔ [آل عمران: ۱۸] اور فرشتوں و اہل علم نے اللہ کے تئیں اسی چیز کی گواہی دی ہے جس چیز کی گواہی اللہ تعالیٰ نے خود اپنے لئے دی ہے، جیسا کہ فر مان الہی ہے: {وَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًا} "اور اللہ بطور گواہ کافی ہے"۔ [النساء: ۷۹]

اللہ تعالی نے اپنی تمام مخلوق پر یہ حجت تمام کردیا ہے کہ اللہ ہی اس کا ئنات کی تمام چیزوں کا خالق ہے، بلکہ ہر آیت کونیہ کو اس بات پر دلیل بنایا ہے کہ وہی الوہیت اور عبادت کا حق دار ہے اور اسی لئے قرآن مجید میں اس سلسلے میں بکثرت سوالات آئے ہیں اور اس بات کا اقرار کرنے کی تاکید کی گئی ہے کہ وہی خالق، وہی رازق، وہی زندہ کرنے والا اور مارنے والا ہے پھر ان کی تردید کی گئی ہے جو اللہ کی عبادت نہیں کرتے یا اللہ کی عبادت تو کرتے ہیں لیکن اس کی عبادت میں کسی اور کو شریک کر لیتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ فَأَنَّى يُؤْفَكُونَ*۔ "اور اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ زمین وآسمان کا خالق اور سورج چاند کو کام میں لگانے والا کون ہے؟ تو ان کا جواب یہی ہوگا کہ اللہ تعالیٰ۔ پھر کدھر الٹے جا رہے ہیں۔ اللَّهُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَيَقْدِرُ لَهُ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ*۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے فراخ روزی دیتا ہے اور جسے چاہے تنگ۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز کا جاننے والاہے۔ وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ مِنْ بَعْدِ مَوْتِهَا لَيَقُولُنَّ اللَّهُ قُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ} اور اگر آپ ان سے سوال کریں کہ آسمان سے پانی اتار کر زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کس نے کیا؟ تو یقیناً ان کا جواب یہی ہوگا اللہ تعالیٰ نے۔ آپ کہہ دیں کہ ہر تعریف اللہ ہی کے لئے سزاوار ہے، بلکہ ان میں سے اکثر بے عقل ہیں"۔ [العنکبوت: ۶۱- ۶۳] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِيزُ الْعَلِيمُ*۔ "اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو یقیناً ان کا جواب یہی ہوگا کہ انہیں غالب و دانا (اللہ) نے ہی پیدا کیا ہے۔ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ مَهْدًا وَجَعَلَ لَكُمْ فِيهَا سُبُلًا لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ*۔ وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو فرش (بچھونا) بنایا اور اس میں تمہارے لیے راستے کردیے تاکہ تم راہ پالیا کرو۔ وَالَّذِي نَزَّلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً بِقَدَرٍ فَأَنْشَرْنَا بِهِ بَلْدَةً مَيْتًا كَذَلِكَ تُخْرَجُونَ*۔ اسی نے آسمان سے ایک اندازے کے مطابق پانی نازل فرمایا، پس ہم نے اس سے مردہ شہر کو زندہ کردیا، اسی طرح تم نکالے جاؤ گے۔ وَالَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُمْ مِنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعَامِ مَا تَرْكَبُونَ} جس نے تمام چیزوں کے جوڑے بنائے اور تمہارے لیے کشتیاں بنائیں اور چوپائے جانور (پیدا کیے) جن پر تم سوار ہوتے ہو"۔ [الزخرف: ۹- ۱۲]

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر یہ حجت بھی تمام کردیا ہے کہ بندوں پر اللہ تعالیٰ کی جو نعمتیں ہیں‘ اللہ نے ان کا اقرار کرا لیا‘ جس سے ان پر نعمتوں کے پیدا کرنے والے کی عبادت واجب ہو جاتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {قُلْ مَنْ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَمَّنْ يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَمَنْ يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ فَسَيَقُولُونَ اللَّهُ فَقُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ*۔ "آپ کہیے کہ وہ کون ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق پہنچاتا ہے یا وہ کون ہے جو کانوں اور آنکھوں پر پورا اختیار رکھتا ہے اور وہ کون ہے جو زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور وہ کون ہے جو تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے؟ ضرور وہ یہی کہیں گے کہ اللہ۔ تو ان سے کہیے کہ پھر کیوں نہیں ڈرتے"۔ فَذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ} "وہی اللہ تمہارا حقیقی رب ہے اور حق کے بعد نہیں ہے مگر گمراہی، پھرتم کہاں پھیرے جارہے ہو؟"۔ [یونس: ۳۱- ۳۲]

اللہ تعالی نے اپنے بندوں پرقرآن مجید کی بہت ساری ایسی آیتوں کو بھی حجت بنایا ہےجو توحید ربوبیت پر دلالت کرنے کے ساتھ عبادت الہی یعنی توحید الوہیت کو بھی مستلزم ہیں، اس کائنات کی تمام بڑی بڑی نشانیوں کا خالق بھی وہی اکیلا ہے تو جب اس کے علاوہ کوئی اور خالق نہیں ہے تو اس کے علاوہ کوئی اور عبادت کے لائق بھی نہیں ہے، اسی لئے مندرجہ ذیل آیتوں میں اللہ تعالی نے ذیل میں آرہی آیات کو اپنے اس قول کے ساتھ کیا {أَإِلَهٌ مَّعَ اللَّهِ} "کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے": {أَمَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَأَنْزَلَ لَكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَنْبَتْنَا بِهِ حَدَائِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ مَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تُنْبِتُوا شَجَرَهَا أَإِلَهٌ مَعَ اللَّهِ بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَعْدِلُونَ*۔ "بھلا بتاؤ تو؟ کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا؟ کس نے آسمان سے بارش برسائی؟ پھر اس سے ہرے بھرے بارونق باغات اگا دیئے؟ ان باغوں کے درختوں کو تم ہر گز نہ اگا سکتے، کیا اللہ کے ساتھ اور کوئی معبود بھی ہے؟ بلکہ یہ لوگ ہٹ جاتے ہیں (سیدھی راہ سے)۔ أَمَّنْ جَعَلَ الْأَرْضَ قَرَارًا وَجَعَلَ خِلَالَهَا أَنْهَارًا وَجَعَلَ لَهَا رَوَاسِيَ وَجَعَلَ بَيْنَ الْبَحْرَيْنِ حَاجِزًا أَإِلَهٌ مَعَ اللَّهِ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ*۔ کیا وہ جس نے زمین کو قرار گاہ بنایا اور اس کے درمیان نہریں جاری کردیں اور اس کے لیے پہاڑ بنائے اور دو سمندروں کے درمیان روک بنا دی کیا اللہ کے ساتھ اور کوئی معبود بھی ہے؟ بلکہ ان میں سے اکثر کچھ جانتے ہی نہیں۔ {أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَ يَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ أَإِلَهٌ مَعَ اللَّهِ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ} بے کس کی پکار کو جب کہ وہ پکارے، کون قبول کر کے سختی کو دور کردیتا ہے اور تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور معبود ہے؟ تم بہت کم نصیحت و عبرت حاصل کرتے ہو۔ أَمَّنْ يَهْدِيكُمْ فِي ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَنْ يُرْسِلُ الرِّيَاحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهِ أَإِلَهٌ مَعَ اللَّهِ تَعَالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ} کیا وہ جو تمہیں خشکی اور تری کی تاریکیوں میں راہ د کھاتا ہے اور جو اپنی رحمت سے پہلے ہی خوشخبریاں دینے والی ہوائیں چلاتا ہے، کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے جنہیں یہ شریک کرتے ہیں، ان سب سے اللہ بلند وبالاتر ہے"۔ [النمل: ۶۰ - ۶۳]

اللہ تعالیٰ نے سورۃ الروم میں توحید ربوبیت پر دلالت کرنے والی بڑی بڑی مخلوقات کا ذکر کیا ہے لیکن وہ مخلوقات جہاں توحید ربوبیت پر دلیل ہیں وہیں وہ توحید الوہیت کو بھی مستلزم ہیں، جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا: {وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَكُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ إِذَا أَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُونَ*۔ "اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر اب انسان بن کر (چلتے پھرتے) پھیل رہے ہو۔ وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ*۔ اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے آرام پاؤ اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کر دی، یقیناً غور وفکر کرنے والوں کے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَانِكُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِلْعَالِمِينَ*۔ اس (کی قدرت) کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگتوں کا اختلاف (بھی) ہے، دانش مندوں کے لئے اس میں یقیناً بڑی نشانیاں ہیں۔ وَمِنْ آيَاتِهِ مَنَامُكُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَابْتِغَاؤُكُمْ مِنْ فَضْلِهِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَسْمَعُونَ*۔ اور (بھی) اس کی (قدرت کی) نشانی تمہاری راتوں اور دن کی نیند میں ہے اور اس کے فضل (یعنی روزی) کو تمہارا تلاش کرنا بھی ہے، جو لوگ (کان لگا کر) سننے کے عادی ہیں ان کے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ وَمِنْ آيَاتِهِ يُرِيكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَطَمَعًا وَيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَيُحْيِي بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ*۔ اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ (بھی) ہے کہ وہ تمہیں ڈرانے اور امیدوار بنانے کے لئے بجلیاں دکھاتا ہے اور آسمان سے بارش برساتا ہے اور اس سے مردہ زمین کو زندہ کر دیتا ہے، اس میں (بھی) عقلمندوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔ وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ تَقُومَ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ بِأَمْرِهِ ثُمَّ إِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً مِنَ الْأَرْضِ إِذَا أَنْتُمْ تَخْرُجُونَ*۔ اس کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ آسمان وزمین اسی کے حکم سے قائم ہیں، پھر جب وہ تمہیں آواز دے گا صرف ایک بار کی آواز کے ساتھ ہی تم سب زمین سے نکل آؤ گے۔ وَلَهُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ كُلٌّ لَهُ قَانِتُونَ* وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ وَلَهُ الْمَثَلُ الْأَعْلَى فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ*۔ اور زمین وآسمان کی ہر ہر چیز اس کی ملکیت ہے اور ہر ایک اس کے فرمان کے ماتحت ہے۔ وہی ہے جو اول بار مخلوق کو پیدا کرتا ہے پھر سے دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ تو اس پر بہت ہی آسان ہے۔ اسی کی بہترین اور اعلیٰ صفت ہے، آسمانوں میں اور زمین میں بھی اور وہی غلبے والا حکمت والاہے۔ ضَرَبَ لَكُمْ مَثَلًا مِنْ أَنْفُسِكُمْ هَلْ لَكُمْ مِنْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ مِنْ شُرَكَاءَ فِي مَا رَزَقْنَاكُمْ فَأَنْتُمْ فِيهِ سَوَاءٌ تَخَافُونَهُمْ كَخِيفَتِكُمْ أَنْفُسَكُمْ كَذَلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ*۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے ایک مثال خود تمہاری ہی بیان فرمائی، جو کچھ ہم نے تمہیں دے رکھا ہے کیا اس میں تمہارے غلاموں میں سے بھی کوئی تمہارا شریک ہے؟ کہ تم اور وہ اس میں برابر درجے کے ہو؟ اور تم ان کا ایسا خطرہ رکھتے ہو جیسا خود اپنوں کا، ہم عقل رکھنے والوں کے لئے اسی طرح کھول کھول کر آیتیں بیان کر دیتے ہیں۔ بَلِ اتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَهْوَاءَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَمَنْ يَهْدِي مَنْ أَضَلَّ اللَّهُ وَمَا لَهُمْ مِنْ نَاصِرِينَ} بلکہ بات یہ ہے کہ یہ ﻇالم تو بغیر علم کے خواہش پرستی کر رہے ہیں، اسے کون راہ دکھائے جسے اللہ تعالیٰ راہ سے ہٹا دے، ان کا ایک بھی مددگار نہیں"۔ [الروم: ۲۰- ۲۹] دیکھئے ہر آیت کی ابتداء {وَمِنْ آيَاتِهِ} سے ہوئی ہے یعنی یہ بتایا جا رہا ہے کہ ہر ربوبیت پر دلالت کرنے والی کوئی دلیل جس کا تذکرہ مذکورہ آیات میں آیا ہے وہ توحید الوہیت کو بھی مستلزم ہے پھر اس کےفورا بعد اللہ تعالی نے ان کے لئے مثال بیان کی ہے جو کسی مخلوق کو اس کے برابر مانیں۔ امام طبری رحمہ اللہ اپنی تفسیر میں اس آیت کا مفہوم بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’ أكان أحدكم مشاركا مملوكه في فراشه وزوجته؟! فكذلكم الله لا يرضى أن يعدل به أحد من خلقه‘‘۔ کیا تم میں سے کوئی اپنے غلام کو اپنے بستر اور اپنی بیوی میں شریک کرتا ہے؟ تو پھر اللہ کی مخلوق میں سے کسی کو اس کے برابر کرنے سے وہ کیسے راضی ہوگا ؟ ایسا قتادہ نے فرمایا۔ (تفسیر الطبری : ۲۰/۹۵). اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس بات پر آکر ختم کیا ہے کہ فطرت سلیمہ بھی اسی بات کا تقاضا کرتی ہے کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کی جا ئے جیسا کہ فرمایا: { فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ } "پس آپ یکسو ہو کر اپنا منہ دین کی طرف متوجہ کردیں، اللہ تعالیٰ کی وہ فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، اس اللہ تعالیٰ کے بنائے کو بدلنا نہیں یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے"۔ [الروم : ۳۰ ]

اللہ تعالی نے توحید الوہیت کے سلسلے میں ساری دلیلیں مختلف انداز میں پیش کی ہے تاکہ حجت قائم ہوجائے اور لوگوں کے لئے حق کا راستہ واضح ہوجائے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر قطعی اور خاموش کرنے والی دلیلیں پیش کی اور اپنی وحدانیت پر دلالت کرنے والے مضبوط شواہد پیش کیے‘ چنانچہ اللہ تعالى نے کئی مثالیں بیان کیں اور اللہ پاک نے حق بیان فرما دیا‘ ارشاد باری تعالی ہے: {وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلَيْنِ اَحَدُهُمَآ اَبْكَمُ لَا يَـقْدِرُ عَلٰي شَيْءٍ وَّهُوَ كَلٌّ عَلٰي مَوْلٰىهُ ۙ اَيْنَـمَا يُوَجِّهْهُّ لَا يَاْتِ بِخَيْرٍ ۭهَلْ يَسْتَوِيْ هُوَ ۙ وَمَنْ يَّاْمُرُ بِالْعَدْلِ ۙ وَهُوَ عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَــقِيْمٍ } "اللہ تعالیٰ ایک اور مثال بیان فرماتا ہے دو شخصوں کی، جن میں سے ایک تو گونگا ہے اور کسی چیز پر اختیار نہیں رکھتا بلکہ وہ اپنے مالک پر بوجھ ہے کہیں بھی اسے بھیج دو کوئی بھلائی نہیں لاتا، کیا یہ اور وہ جو عدل کا حکم دیتا ہے اور ہے بھی سیدھی راہ پر، برابر ہوسکتے ہیں؟"۔ [النحل: ۷۶] اس آیت کی تفسیر میں امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: ’’وهذا مثل ضربه الله تعالى لنفسه والآلهة التي تُعبد من دونه، فقال تعالى ذكره (وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلا رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا أَبْكَمُ لا يَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ) يعني بذلك الصنم أنه لا يسمع شيئا، ولا ينطق، لأنه إما خشب منحوت، وإما نحاس مصنوع لا يقدر على نفع لمن خدمه، ولا دفع ضرّ عنه وهو كَلٌّ على مولاه، يقول: وهو عيال على ابن عمه وحلفائه وأهل ولايته، فكذلك الصنم كَلّ على من يعبده، يحتاج أن يحمله، ويضعه ويخدمه، كالأبكم من الناس الذي لا يقدر على شيء، فهو كَلّ على أوليائه من بني أعمامه وغيرهم (أَيْنَمَا يُوَجِّهْهُ لا يَأْتِ بِخَيْرٍ) يقول: حيثما يوجهه لا يأت بخير، لأنه لا يفهم ما يُقال له، ولا يقدر أن يعبر عن نفسه ما يريد، فهو لا يفهم، ولا يُفْهَم عنه، فكذلك الصنم،لا يعقل ما يقال له، فيأتمر لأمر من أمره، ولا ينطق فيأمر وينهي، يقول الله تعالى (هَلْ يَسْتَوِي هُوَ وَمَنْ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ)يعني: هل يستوي هذا الأبكم الكلّ على مولاه الذي لا يأتي بخير حيث توجه ومن هو ناطق متكلم يأمر بالحقّ ويدعو إليه وهو الله الواحد القهار، الذي يدعو عباده إلى توحيده وطاعته، يقول: لا يستوي هو تعالى ذكره، والصنم الذي صفته ما وصف‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اور اپنے علاوہ دیگر معبودان باطلہ (جن کی اس کے علاوہ عبادت کی جاتی ہے )کی مثال بیان کرتے ہو ئے فرمایا {وَ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا أَبْكَمُ لَا يَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ} "اللہ تعالیٰ ایک اور مثال بیان فرماتا ہے، دو شخصوں کی، جن میں سے ایک تو گونگا ہے اور کسی چیز پر اختیار نہیں رکھتا"۔ یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کہ یہ بت نہ سنتے ہیں اور نہ ہی بو لتے ہیں کیوں کہ وہ لکڑی یا پیتل کے بنے ہو ئے مجسمے ہیں، یہ کسی خدمت گزار کو نہ نفع پہونچا سکتے ہیں اور نہ ہی ان پر آئی ہوئی کسی مصیبت کو ٹال سکتے ہیں، کیوں کہ وہ خود اپنےآقا پر بوجھ ہیں اور اللہ نے یہ بھی کہا کہ جیسے بچے اپنے چچا کے لڑکے، اپنے اتحادیوں اور اپنے حلیفوں پر بوجھ ہوتےہیں اسی طرح یہ بت بھی اپنے عبادت گزاروں کے لئے بوجھ ہوا کرتے ہیں کیوں کہ یہ اٹھا نے، رکھنے اور خدمت گزاروں کے محتاج ہوا کرتے ہیں اس گونگے کی طرح جو کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا بلکہ وہ اپنے سر پرستوں یعنی اپنے چچا زاد وغیرہ پر بوجھ ہوتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا (أَيْنَمَا يُوَجِّهْهُ لا يَأْتِ بِخَيْرٍ) "مالک اسے چاہےجہاں بھیج دے لیکن وہ بھلائی نہیں لا سکتا"۔ یعنی جس طرح سر پرست گونگے کو جس طرف چاہے پھیرے لیکن وہ اسے کوئی بھلائی نہیں پہونچا سکتا ہے کیوں کہ وہ نہ تو کوئی بات سمجھتا ہے اور نہ ہی وہ اپنے ما فی الضمیر کی ادائیگی کر سکتا ہے، اسی لئے وہ سمجھ نہیں سکتا اور نہ ہی اس کی بات سمجھی جا سکتی ہے اسی طرح یہ بت بھی ہیں، نہ یہ ہماری کوئی بات سمجھتے ہیں اور نہ ہی کسی حکم کی بجا آوری کر سکتے ہیں اور نہ ہی یہ بول سکتے ہیں کہ کسی کام کا ہمیں حکم دیں یا کسی کام سے روکیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فر مایا(هَلْ يَسْتَوِي هُوَ وَمَنْ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ) "کیا یہ اور وہ جو عدل کا حکم دیتا ہے برابر ہوسکتے ہیں"۔ یعنی کیا یہ گونگا جو اپنے آقا پر بوجھ بنا ہوا ہے، جو کو ئی خیر تک نہیں پہونچا سکتا ہے اسے چاہے جہاں لے کے چلے جاؤ لیکن کوئی فائدہ ہونے والا نہیں ہے کیا یہ وہ اور وہ برار ہو سکتا ہے جو بولتا ہے، جو صحیح بات کا حکم دیتا اور اسی کی طرف بلاتا ہے او رجو اللہ واحد ہے جو قہار اور زبردست ہے، جو اپنے بندوں کو توحید اور اطاعت کی طرف بلاتا ہے کیا دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ اللہ اور مذکورہ بت دونوں برابر نہیں ہو سکتے ہیں۔ (تفسیر الطبری : ۲۶۲/ ۱۷).

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے معبود حقیقی اور معبودان باطلہ کی ایک اور مثال بیان فرمائی ہے۔ (تفسیر الطبری: ۲۸۵/ ۲۱). اللہ تعالی فرماتا ہے: {ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا رَجُلًا فِيهِ شُرَكَاءُ مُتَشَاكِسُونَ وَرَجُلًا سَلَمًا لِرَجُلٍ هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلًا الْحَمْدُ لِلَّهِ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ} "اللہ تعالیٰ مثال بیان فرما رہا ہے ایک وه شخص جس میں بہت سے باہم ضد رکھنے والے ساجھی ہیں، اور دوسرا وه شخص جو صرف ایک ہی کا (غلام) ہے، کیا یہ دونوں صفت میں یکساں ہیں، اللہ تعالیٰ ہی کے لئے سب تعریف ہے۔ بات یہ ہے کہ ان میں کے اکثر لوگ سمجھتے نہیں". [الزمر: ۲۹]

یہ عمل - یعنی اللہ کی الوہیت کا اقرار اور ساتھ ہی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اقرار- اسے اللہ نے ایمان اور کفر کے درمیان حد فاصل قرار دیا ہے‘ اللہ تعالی کا فرمان ہے: {فَإِذَا انْسَلَخَ الْأَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ وَخُذُوهُمْ وَاحْصُرُوهُمْ وَاقْعُدُوا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ} "پھر حرمت والے مہینوں کے گزرتے ہی مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کرو انہیں گرفتار کرو، ان کا محاصرہ کرلو اور ان کی تاک میں ہر گھاٹی میں جا بیٹھو، ہاں اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز کے پابند ہو جائیں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں تو تم ان کی راہیں چھوڑ دو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے والامہربان ہے"۔ [التوبۃ: ۵] اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فر مایا: {فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ} "اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوہ ادا کریں تو وہ تمہارے دینی بھا ئی ہیں"۔ [التوبۃ: ۱۱] ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَيُقِيمُوا الصَّلاَةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّ الإِسْلاَمِ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ‘‘۔ "مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں تا آنکہ لوگ اس بات کی گواہی دینے لگیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں، اگر لوگوں نے یہ کر لیا تو انہوں نے مجھ سے اپنا خون، اپنا مال اسلام کے حق کے ساتھ بچا لیا اور ان کا حساب اللہ پر ہے"۔ ( صحیح بخاری: ۱۳۹۹، ۷۲۸۴، صحیح مسلم: ۲۰، سنن أبی داود: ۱۵۵۶، جامع الترمذی: ۲۶۰۷، سنن النسائی: ۲۴۴۳)۔

اور اس ایمان کا صرف دل میں ہونا کافی نہیں ہے، بلکہ زبان سے بھی اس کا اقرار ضروری ہے، اسی لئے اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے: ’’أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ‘‘۔ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں حتی کہ لوگ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کو ئی معبود برحق نہیں ہے۔ (صحیح بخاری: ۲۵، صحیح مسلم: ۲۲) اور ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوگا جب تک کہ اس کے تقاضے کے مطابق عمل نہ کیا جا ئے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ*۔ "بس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتیں ہیں تو وہ آیتیں ان کے ایمان کو اور زیادہ کردیتی ہیں اور وہ لوگ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں"۔ الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ*۔ "جو کہ نماز کی پابندی کرتے ہیں اور ہم نے ان کو جو کچھ دیا ہے وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ أُولَئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا} سچے ایمان والے یہ لوگ ہیں"۔ [الأنفال: ۲- ۴] ارشاد باری تعالی ہے: {لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَ الْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ أُولَئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَ أُولَئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ} "ساری اچھائی مشرق ومغرب کی طرف منھ کرنے میں ہی نہیں بلکہ حقیقتاً اچھا وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ پر، قیامت کے دن پر، فرشتوں پر، کتاب اللہ پر اور نبیوں پر ایمان رکھنے والا ہو، جو مال سے محبت کرنے کے باوجود قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سوال کرنے والے کو دے، غلاموں کو آزاد کرے، نماز کی پابندی اور زکوٰۃ کی ادائیگی کرے، جب وعدہ کرے تو اسے پورا کرے، تنگدستی، دکھ درد اور لڑائی کے وقت صبر کرے، یہی سچے لوگ ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں"۔ [البقرۃ: ۱۷۷]

اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ‘‘۔ تم میں سے جو منکر دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روکے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے، اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو اسے دل میں برا جانے، اور یہ ایمان کا سب سے کم تر درجہ ہے۔ (صحیح مسلم: ۴۹ ، سنن أبی داود: ۱۱۴۰ ، جامع الترمذی: ۲۱۷۲، سنن النسا ئی: ۵۰۰۸، سنن ابن ماجہ: ۱۲۷۵)۔ تو یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ایمان دل میں گھٹتا بڑھتا رہتا ہے۔

اور ایمان باللہ کے ساتھ ساتھ طاغوت کا انکار بھی ضروری ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنْ بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انْفِصَامَ لَهَا وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ} "اس لئے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے معبودوں کا انکار کرکے اللہ تعالیٰ پر ایمان ﻻئے اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا، جو کبھی نہ ٹوٹے گا اور اللہ تعالیٰ سننے والا، جاننے والا ہے"۔ [البقرۃ: ۲۵۶] اور شرک اور اہل شرک سے براءت کا اظہار بھی ضروری ہے کیوں کہ شرک سے براءت کا اظہار کئے بغیر کوئی بھی موحد نہیں ہو سکتا ہے، جیسا کہ فرمان الہی ہے: {وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ إِنَّنِي بَرَاءٌ مِمَّا تَعْبُدُونَ } "اور جبکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے اور اپنی قوم سے فرمایا کہ میں ان چیزوں سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو"۔ [الزخرف: ۲۶]

اس ایمان کے تئیں ضروری ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کے لئے مخلص ہو، جیسا کہ فرمان الہی ہے: {هُوَ الْحَيُّ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} "وہ زندہ ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں پس تم خالص اس کی عبادت کرتے ہوئے اسے پکارو، تمام خوبیاں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے"۔ [غافر: ۶۵] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ} "انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اسی کے لئے دین کو خالص رکھیں۔ ابراہیم حنیف کے دین پر"۔ [البینۃ: ۵] اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اللہ کے رسول سے پوچھا’’ مَنْ أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِكَ يَوْمَ القِيَامَةِ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَقَدْ ظَنَنْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَنْ لاَ يَسْأَلُنِي عَنْ هَذَا الحَدِيثِ أَحَدٌ أَوَّلُ مِنْكَ لِمَا رَأَيْتُ مِنْ حِرْصِكَ عَلَى الحَدِيثِ أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِي يَوْمَ القِيَامَةِ، مَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، خَالِصًا مِنْ قَلْبِهِ، أَوْ نَفْسِهِ‘‘۔ بروز قیامت لوگوں میں آپ کی شفاعت کا سب سے زیادہ حق دار کون ہوگا؟ تو اللہ کے رسول ﷺنے فرمایا: اے ابوہریرہ ! مجھے یقین تھا کہ تم سے پہلے اس حدیث کے بارے میں مجھ سےکوئی نہیں پوچھے گا کیونکہ میں نے حدیث کے تئیں تمہیں زیادہ حریص دیکھا ہے، بروز قیامت لوگوں میں میری شفاعت کا سب سے زیادہ حق دار وہ ہو گا جس نے سچے دل یا سچے جی سے لا إله إلا الله کہا ہوگا۔ (صحیح بخاری: ۹۹، ۶۵۷۰)۔

اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ: لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ‘‘۔ اللہ نے اسے جہنم پر حرام کردیا ہے جس نے لا إله إلا الله کہا اس حال میں کہ اس کے ذریعہ وہ اللہ کی رضا مندی تلاش کر رہا ہو۔ (صحیح بخاری: ۴۲۵، صحیح مسلم: ۳۳، سنن النسائی: ۷۸۸، سنن ابن ماجہ: ۷۵۴)

اور اس پر پورا یقین ہو کسی طرح کا کوئی شک و شبہ نہ ہو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا} "مومن تو وہ ہیں جو اللہ پر اور اس کے رسول پر (پکا) ایمان لائیں پھر شک و شبہ نہ کریں"۔ [الحجرات: ۱۵] اور باغ والے کافر کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دیتے ہوئے فر مایا: {وّمَآ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَاۗىِٕمَةً ۙ وَّلَىِٕنْ رُّدِدْتُّ اِلٰى رَبِّيْ لَاَجِدَنَّ خَيْرًا مِّنْهَا مُنْقَلَبًا} "اور نہ میں قیامت کو قائم ہونے والی خیال کرتا ہوں اور اگر (بالفرض) میں اپنے رب کی طرف لوٹایا بھی گیا تو یقیناً میں (اس لوٹنے کی جگہ) اس سے بھی زیادہ بہتر پاؤں گا"۔ [الکھف: ۳۶]

اور اس ایمان کا علم پر مشتمل ہونا بھی ضروری ہے کیوں کہ جب علم ہوگا تو ایمان کی حقیقت، ایمان کا تقاضا اور ایمان کے مخالف اعمال سے آگاہی ہوگی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ} "سو جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے"۔ [محمد: ۱۹]

اور علم اور اخلاص کے ساتھ پیغام رسول اور ایمان کے تمام مشتملات کا قبول کرنا بھی ضروری ہے، کلمہ {لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ} اسی مفہوم پر دلالت کرتا ہے یعنی یہ بتاتا ہے کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کی جائے اور اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کی جائے، کسی نے اس کلمے کا اقرار کر لیا لیکن صرف اللہ کی عبادت نہیں کی تو وہ انہیں لوگوں کی طرح ہے جن کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَسْتَكْبِرُونَ*۔ "یہ وہ (لوگ) ہیں کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں تو یہ سرکشی کرتے تھے۔ وَيَقُولُونَ أَئِنَّا لَتَارِكُو آلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَجْنُونٍ} اور کہتے تھے کہ کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک دیوانے شاعر کی بات پر چھوڑ دیں؟"۔ [الصافات: ۳۵-۳۶]

اور اس کی فرماں برداری کی جائے، اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کیا جا ئے، جیسا کہ رب ذو الجلال نے فرمایا: {وَمَنْ يُسْلِمْ وَجْهَهُ إِلَى اللَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى } "اور جو (شخص) اپنے آپ کو اللہ کے تابع کر دے اور ہو بھی نیکوکار تو یقیناً اس نے مضبوط کڑا تھام لیا"۔ [لقمان: ۲۲]

اور اس کلمے کا اقرار کرنے والا اپنے قول و فعل اور عقیدے میں اتنا سچا ہوکہ وہ نبی ﷺ کی دی گئی بشارتیں حاصل کرلے، جیسا کہ نبی کریمﷺ کے مندرجہ ذیل فرمان میں مذکور ہے: ’’مَا مِنْ أَحَدٍ يَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، صِدْقًا مِنْ قَلْبِهِ، إِلَّا حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ‘‘۔ نہیں ہے کوئی جو سچے دل سے گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، مگر اللہ اسے آگ پر حرام کر دیتا ہے"۔ (صحیح بخاری: ۱۲۸، صحیح مسلم: ۳۲)

اور وہ اس دین، اس شریعت، اس شریعت کے لانے والے اور اس پر عمل کرنے والے سے محبت کرنے والا ہو، جیسا کہ فرمان الہی ہے: {وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا يُّحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللّٰهِ ۭ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ ۭ} "بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے شریک اوروں کو ٹھہرا کر ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں، جیسی محبت اللہ سے ہونی چاہیے اور ایمان والے اللہ کی محبت میں بہت سخت ہوتے ہیں"۔ [البقرۃ: ۱۶۵] اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ، حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ‘‘۔ تم میں کا کوئی مومن نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے باپ، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔ (صحیح بخاری: ۱۵، صحیح مسلم: ۴۴، سنن النسائی: ۵۰۱۳، سنن ابن ماجہ: ۶۷ ) اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’ثَلاَثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلاَوَةَ الإِيمَانِ: أَنْ يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَأَنْ يُحِبَّ المَرْءَ لاَ يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ، وَأَنْ يَكْرَهَ أَنْ يَعُودَ فِي الكُفْرِ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ‘‘۔ تین خصلتیں جس کے اندرہوں گی وہی ایمان کی مٹھاس پا ئے گا۔ پہلا یہ کہ اللہ اور اس کا رسول اس کے نزدیک ان تمام سےزیادہ محبوب ہو جائیں جو ان دونوں کے علاوہ ہوں۔ دوسرا یہ کہ آدمی کسی آدمی سے محض اللہ کے لیے محبت کرے۔ تیسرا یہ کہ وہ کفر میں لوٹنا ایسے ہی نا پسند کرے جیسے وہ آگ میں ڈالے جانے کو نا پسند کرتاہے۔ (صحیح بخاری: ۱۶، صحیح مسلم: ۴۳، جامع الترمذی: ۲۶۲۴، سنن النسائی: ۴۹۸۷، سنن ابن ماجہ: ۴۰۳۳)۔

اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے ایمان کی حقیقت، اس کے تقاضے اور اس کے ارکان و شروط کی وضاحت کردی ہے اسی طرح عداوت پرست مشرکین کے شبہے کا ازالہ بھی کردیا ہے اور یہ بھی بتا دیا ہے کہ ان کے پاس ان کے شرکیہ اعمال کے لئے کوئی حجت نہیں ہے کیوں کہ یہ جنہیں اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں وہ سب مخلوق ہیں، وہ کوئی بھی چیز پیدا نہیں کرسکتے ہیں، وہ آسمان اور زمین میں ذرہ برابر کسی بھی چیز کے مالک نہیں ہیں، جیسا کہ فرمان الہی ہے: {أَيُشْرِكُونَ مَا لَا يَخْلُقُ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ*۔ "کیا ایسوں کو شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہ کر سکیں اور وہ خود ہی پیدا کئے گئے ہوں۔ وَلَا يَسْتَطِيعُونَ لَهُمْ نَصْرًا وَلَا أَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُونَ*۔ اور وہ ان کو کسی قسم کی مدد نہیں دے سکتے اور وہ خود بھی اپنی مدد نہیں کرسکتے۔ وَإِنْ تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَى لَا يَتَّبِعُوكُمْ سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ أَدَعَوْتُمُوهُمْ أَمْ أَنْتُمْ صَامِتُونَ *۔ اور اگر تم ان کو کوئی بات بتلانے کو پکارو تو تمہارے کہنے پر نہ چلیں تمہارے اعتبار سے دونوں امر برابر ہیں خواہ تم ان کو پکارو یا تم خاموش رہو۔ {إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ عِبَادٌ أَمْثَالُكُمْ فَادْعُوهُمْ فَلْيَسْتَجِيبُوا لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ*۔ واقعی تم اللہ کو چھوڑ کر جن کی عبادت کرتے ہو وہ بھی تم ہی جیسے بندے ہیں سو تم ان کو پکارو پھر ان کو چاہئے کہ تمہارا کہنا کر دیں اگر تم سچے ہو۔ {أَلَهُمْ أَرْجُلٌ يَمْشُونَ بِهَا أَمْ لَهُمْ أَيْدٍ يَبْطِشُونَ بِهَا أَمْ لَهُمْ أَعْيُنٌ يُبْصِرُونَ بِهَا أَمْ لَهُمْ آذَانٌ يَسْمَعُونَ بِهَا قُلِ ادْعُوا شُرَكَاءَكُمْ ثُمَّ كِيدُونِ فَلَا تُنْظِرُونِ} کیا ان کے پاؤں ہیں جن سے وہ چلتے ہوں یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے وہ کسی چیز کو تھام سکیں، یا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے ہوں یا ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئے! تم اپنے سب شرکاء کو بلا لو، پھر میری ضرر رسانی کی تدبیر کرو پھر مجھ کو ذرا مہلت مت دو۔ إِنَّ وَلِيِّيَ اللَّهُ الَّذِي نَزَّلَ الْكِتَابَ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِينَ *۔ یقیناً میرا مددگار اللہ تعالیٰ ہے جس نے یہ کتاب نازل فرمائی اور وہ نیک بندوں کی مدد کرتا ہے۔ وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَكُمْ وَلَا أَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُونَ *۔ اور تم جن لوگوں کی اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو وہ تمہاری کچھ مدد نہیں کرسکتے اور نہ وہ اپنی مدد کرسکتے ہیں۔ وَإِنْ تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَى لَا يَسْمَعُوا وَتَرَاهُمْ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ} اور ان کو اگر کوئی بات بتلانے کو پکارو تو اس کو نہ سنیں اور ان کو آپ دیکھتے ہیں کہ گویا وہ آپ کو دیکھ رہے ہیں اور وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے"۔ [الأعراف: ۱۹۱۔ ۱۹۸] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {قُلِ ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَا يَمْلِكُونَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ وَمَا لَهُمْ فِيهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَمَا لَهُ مِنْهُمْ مِنْ ظَهِيرٍ*۔ "کہہ دیجئے! کہ اللہ کے سوا جن جن کا تمہیں گمان ہے (سب) کو پکار لو، نہ ان میں سے کسی کو آسمانوں اور زمینوں میں سے ایک ذرہ کا اختیار ہے نہ ان کا ان میں کوئی حصہ ہے نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے۔ وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهُ إِلَّا لِمَنْ أَذِنَ لَهُ } شفاعت (سفارش) بھی اس کے پاس کچھ نفع نہیں دیتی بجز ان کے جن کے لئے اجازت ہوجائے۔ [سبأ: ۲۲- ۲۳] ان تمام آیتوں نے شرک کے تمام راستے مسدود کردیے۔

اللہ تعالیٰ نے واضـح کردیا ہے کہ یہ مشرکین جنہیں اللہ کے برابر مانتے ہیں اور اللہ کے علاوہ جن کی عبادت کرتے ہیں وہ ان کی پکار تک نہیں سن سکتے اور اگر وہ سن بھی لیں تو جواب نہیں د ے سکتے، بروز قیامت یہ شرکاء ان کے شرک کا انکار اور ان سے براءت کا اظہار کریں گے، جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے: {إِنْ تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ} "اگر تم انہیں پکارو وہ تمہاری پکار سنتے ہی نہیں اور اگر (با لفرض) سن بھی لیں تو فریاد رسی نہیں کریں گے بلکہ قیامت کے دن تمہارے شریک اس شرک کا صاف انکار کر جائیں گے۔ آپ کو کوئی بھی حق تعالیٰ جیسا خبردار خبریں نہ دے گا"۔ [فاطر: ۱۴]

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے یہ بھی واضـح کردیا ہے کہ یہ مشرکین اللہ کے علاوہ جن کی عبادت کرتے ہیں وہ نہ نفع پہونچا سکتے ہیں اور نہ نقصان سے دو چار کر سکتے ہیں تو جب ان کی یہ کیفیت ہے تو یہ عبادت کے لا ئق کیسے ہو ئے؟! فرمان باری تعالی ہے: {وَاتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ آلِهَةً لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ وَلَا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا وَلَا يَمْلِكُونَ مَوْتًا وَلَا حَيَاةً وَلَا نُشُورًا} "ان لوگوں نے اللہ کے سوا جنہیں اپنے معبود ٹھہرا رکھے ہیں وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کرسکتے بلکہ وہ خود پیدا کئے جاتے ہیں، یہ تو اپنی جان کے نقصان کا بھی اختیار نہیں رکھتے اور نہ موت وحیات کے اور نہ دوبارہ جی اٹھنے کے وہ مالک ہیں"۔ [الفرقان: ۳]

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے یہ بھی واضـح کردیا ہے کہ یہ مشرکین اللہ کے علاوہ جن کی عبادت کرتے ہیں وہ ان کے لئے روزی کے مالک نہیں ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًا مِنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ شَيْئًا وَلَا يَسْتَطِيعُونَ} "اور وہ اللہ تعالیٰ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین سے انھیں کچھ بھی روزی نہیں دے سکتے اور نہ قدرت رکھتے ہیں"۔ [النحل: ۷۳] سوچنے والی بات ہے کہ لوگ اس کی عبادت کیسے کررہے ہیں جو نہ نفع پہونچا سکتا ہے، نہ نقصان سے دو چار کر سکتا ہے، نہ روزی دے سکتا ہے اور نہ ہی کسی چیز کا مالک ہے؟!

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بطور دلیل یہ بھی پیش کیا ہے کہ جب انہیں کوئی مصیبت پہونچتی ہے اور وہ پریشانی کا شکار ہوتے ہیں تو دین کو اللہ کے لئے خالص کرتے ہو ئے اسی کی پناہ لیتے ہیں لیکن جب انہیں من جانب اللہ شفا مل جاتی ہے تو پھر شرکیہ اعمال انجام دینے لگتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فَإِذَا رَكِبُوا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ إِذَا هُمْ يُشْرِكُونَ } "پس یہ لوگ جب کشتیوں میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں اس کے لئے عبادت کو خالص کرکے پھر جب وہ انھیں خشکی کی طرف بچا لاتا ہے تو اسی وقت شرک کرنے لگتے ہیں"۔ [العنکبوت: ۶۵]

چونکہ مشرکوں کا یہ دعوی تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے اولاد بنایا ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اس باطل نظریہ کی بھی تردید کیا جس طرح ان کے گزشتہ دعوی یعنی اللہ تعالیٰ کے برابر کسی کو تسلیم کرنے کی تردید کیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّمَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۢ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰي بَعْضٍ ۭ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا يَصِفُوْنَ } "نہ تو اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا اور نہ اس کے ساتھ اور کوئی معبود ہے، ورنہ ہر معبود اپنی مخلوق کو لئے لئے پھرتا اور ہر ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتا۔ جو اوصاف یہ بتلاتے ہیں ان سے اللہ پاک (اور بےنیاز) ہے"۔ [المؤمنون: ۹۱] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا فَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ} "اگر ان دونوں ( آسمان و زمین) میں اللہ کے علاوہ کوئی اور معبود ہوتا تو دونوں درہم برہم ہوجا تے پس اللہ، عرش کے رب کی ذات پاک ہے ان تمام باتوں سے جو وہ لوگ بیان کرتے ہیں"۔ [الأنبیاء: ۲۲] جب یہود و نصاری نے اللہ تعالیٰ کے لئے اولاد ہونے کا گمان کیا تو اللہ تعالی نے فرمایا: {وَقَالَتِ الْيَهُودُ عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّهِ وَقَالَتِ النَّصَارَى الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّهِ ذَلِكَ قَوْلُهُمْ بِأَفْوَاهِهِمْ يُضَاهِئُونَ قَوْلَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ قَبْلُ قَاتَلَهُمُ اللَّهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ} "یہود کہتے ہیں عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور نصرانی کہتے ہیں مسیح اللہ کا بیٹا ہے یہ قول صرف ان کے منہ کی بات ہے، اگلے منکروں کی بات کی یہ بھی نقل کرنے لگے۔ اللہ انہیں غارت کرے وہ کیسے پلٹائے جاتے ہیں"۔ [التوبۃ: ۳۰] اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاری کے اصل عقیدے ہی کی تردید کردی ہے کہ کھانے پینے والا انسان کیسے معبود ہوسکتا ہے؟! کیوں کہ اللہ تعالیٰ نہ کھاتا ہے نہ پیتا ہے اور نہ ہی اسے ان چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے جن کا ایک انسان محتاج ہوتا ہے، جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے: {مَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ وَأُمُّهُ صِدِّيقَةٌ كَانَا يَأْكُلَانِ الطَّعَامَ انْظُرْ كَيْفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ الْآيَاتِ ثُمَّ انْظُرْ أَنَّى يُؤْفَكُونَ*۔ "مسیح ابن مریم سوائے پیغمبر ہونے کے اور کچھ بھی نہیں، اس سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر ہوچکے ہیں ان کی والدہ ایک راست باز عورت تھیں دونوں ماں بیٹے کھانا کھایا کرتے تھے، آپ دیکھیے کہ کس طرح ہم ان کے سامنے دلیلیں رکھتے ہیں پھر غور کیجیئے کہ کس طرح وہ پھر ے جاتے ہیں۔ قُلْ أَتَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا وَاللَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ } آپ کہہ دیجیئے کہ کیا تم اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہارے کسی نقصان کے مالک ہیں اور نہ کسی نفع کے، اللہ ہی خوب سننے اور پوری طرح جاننے والا ہے"۔ [المائدۃ: ۷۵- ۷۶]

اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی عبادت کو باطل قرار دے کر یہ بتا دیا کہ اللہ کے اتنا قریب ہونے کے باوجود فرشتے بھی اللہ کی اجازت کے بغیر شفاعت نہیں کر سکتے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَكَمْ مِنْ مَلَكٍ فِي السَّمَاوَاتِ لَا تُغْنِي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا إِلَّا مِنْ بَعْدِ أَنْ يَأْذَنَ اللَّهُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَرْضَى} "اور بہت سے فرشتے آسمانوں میں ہیں جن کی سفارش کچھ بھی نفع نہیں دے سکتی مگر یہ اور بات ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی خوشی اور اپنی چاہت سے جس کے لئے چاہے اجازت دے دے"۔ [النجم: ۲۶] حالانکہ فرشتے اللہ سے ڈرتے ہیں جو ان کے اوپر ہے، جیسا کہ فرمان الہی ہے: {وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ مِنْ دَاۗبَّـةٍ وَّالْمَلٰۗىِٕكَةُ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ*۔ "یقیناً آسمان و زمین کے کل جاندار اور تمام فرشتے اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدے کرتے ہیں اور ذرا بھی تکبر نہیں کرتے۔ يَخَافُونَ رَبَّهُمْ مِنْ فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ} اور اپنے رب سے جو ان کے اوپر ہے، کپکپاتے رہتے ہیں اور جو حکم مل جائے اس کی تعمیل کرتے ہیں"۔ [النحل: ۴۹- ۵۰] ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {لَنْ يَسْتَنْكِفَ الْمَسِيحُ أَنْ يَكُونَ عَبْدًا لِلَّهِ وَلَا الْمَلَائِكَةُ الْمُقَرَّبُونَ وَمَنْ يَسْتَنْكِفْ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُ هُمْ إِلَيْهِ جَمِيعًا} "مسیح (علیہ السلام) کو اللہ کا بندہ ہونے میں کوئی ننگ و عار نہیں یا تکبر و انکار ہرگز ہو ہی نہیں سکتا اور ان مقرب فرشتوں کو۔ اس کی بندگی سے جو بھی دل چرائے اور تکبر و انکار کرے اللہ تعالیٰ ان سب کو اکٹھا اپنی طرف جمع کرے گا"۔ [النساء: ۱۷۲] تو جب فرشتوں کا یہ حال ہے تو اللہ کے سوا ان کى عبادت کیسے کى جاسکتی ہے؟

اسی طرح انبیاء و رسل کا معاملہ بھی ہے یعنی ان کا مقام اللہ کے نزدیک کافی بلند ہونے کے باوجود وہ اپنے ہی نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں، تو وہ شخص کیسے ہوگا جومرتبہ میں ان سے بھی کم ہوگا؟ یہ انبیاء رغبت اور ڈر سے اللہ کی عبادت کرتے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ} "یہ بزرگ لوگ نیک کاموں کی طرف جلدی کرتے تھے اور ہمیں لالچ طمع اور ڈر خوف سے پکارتے تھے۔ ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے تھے"۔ [الأنبیاء: ۹۰] اور اس نے اپنے نبی محمد ﷺ کو یہ حکم دیا کہ وہ یہ فرمائیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان میں خبر دیا ہے : {قُلْ لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَ بَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ} "آپ فرما دیجئے کہ میں خود اپنی ذات خاص کے لئے کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا اور نہ کسی ضرر کا، مگر اتنا ہی کہ جتنا اللہ نے چاہا اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو میں بہت منافع حاصل کرلیتا اور کوئی نقصان مجھے نہ پہنچتا۔ میں تو محض ڈرانے والا اور بشارت دینے والا ہوں ان لوگوں کو جو ایمان رکھتے ہیں"۔ [الأعراف: ۱۸۸] اور جب غزوہ احد کے دن ان مشرکین پر اللہ کے رسول ﷺ نے بد دعا کی جنہوں نے آپ کو تکلیف پہونچایا تھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: {لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ} "اے پیغمبر! آپ کے اختیار میں کچھ نہیں اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کی توبہ قبول کرلے یا عذاب دے کیونکہ وہ ظالم ہی"ں۔ [آل عمران: ۱۲۸] زہری سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے سالم نے اپنے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی آخری رکعت کے رکوع سے سر مبارک اٹھاتے تو یہ دعا کرتے ”اے اللہ! فلاں، فلاں اور فلاں" کو اپنی رحمت سے دور کر دے۔“ یہ دعا آپ «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد» کے بعد کرتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت «ليس لك من الأمر شىء‏» سے «فإنهم ظالمون‏» (آل عمران: 128) تک نازل کی۔ ”اے محمد! آپ کے اختیار میں کچھ نہیں، اللہ چاہے تو ان کی توبہ قبول کرے یا عذاب دے،۔۔۔۔ کیونکہ وہ ظالم ہیں“۔ (صحیح بخاری: ۴۵۵۹، سنن النسا ئی: ۱۰۷۸)۔

باب: اللہ کے اسما ء و صفات پر ایمان لانے کا بیان

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی صفات و کمالات اور اپنی جلالت میں یکتا اور اکیلا ہے، اسی کے لئے اچھے اچھے نام اور اعلی صفات ہیں، کتاب وسنت کے نصوص اس بارے میں تواتر سے وارد ہیں، عقل کاملہ اسی بات پر شاہد ہے اور فطرت سلیمہ اسے قبول کرتی ہے، تمام علماء امت کا اس بات پر اجماع ہے، بلکہ تمام رسالات الیہ اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور افعال کو بیان کرنے والی ہیں، اللہ تعالیٰ نے بتوں کی عبادت کرنے والے مشرکوں کی عیب جوئی کی ہے؛ کیوں کہ وہ انہیں کی طرح ایک مخلوق ہیں بلکہ ان سے بھی ناقص اور کم تر ہیں، یہ نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ سن سکتے ہیں، نہ ان کے پاس پاؤں ہے کہ اس سے چلیں اور نہ ہاتھ ہے کہ اس سے پکڑسکیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ عِبَادٌ أَمْثَالُكُمْ فَادْعُوهُمْ فَلْيَسْتَجِيبُوا لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ*۔ "واقعی تم اللہ کو چھوڑ کر جن کی عبادت کرتے ہو وہ بھی تم ہی جیسے بندے ہیں سو تم ان کو پکارو پھر ان کو چاہئے کہ تمہارا کہنا کردیں اگر تم سچے ہو۔ {أَلَهُمْ أَرْجُلٌ يَمْشُونَ بِهَا أَمْ لَهُمْ أَيْدٍ يَبْطِشُونَ بِهَا أَمْ لَهُمْ أَعْيُنٌ يُبْصِرُونَ بِهَا أَمْ لَهُمْ آذَانٌ يَسْمَعُونَ بِهَا قُلِ ادْعُوا شُرَكَاءَكُمْ ثُمَّ كِيدُونِ فَلَا تُنْظِرُونِ} کیا ان کے پاؤں ہیں جن سے وہ چلتے ہوں یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے وہ کسی چیز کو تھام سکیں، یا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے ہوں یا ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے ہیں آپ کہہ دیجئے! تم اپنے سب شرکاء کو بلا لو، پھر میری ضرر رسانی کی تدبیر کرو پھر مجھ کو ذرا مہلت مت دو"۔ [الأعراف: ۱۹۴۔ ۱۹۵] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَاتَّخَذَ قَوْمُ مُوسَى مِنْ بَعْدِهِ مِنْ حُلِيِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَهُ خُوَارٌ أَلَمْ يَرَوْا أَنَّهُ لَا يُكَلِّمُهُمْ وَلَا يَهْدِيهِمْ سَبِيلًا اتَّخَذُوهُ وَ كَانُوا ظَالِمِينَ} "اور موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے ان کے بعد اپنے زیوروں کا ایک بچھڑا معبود ٹھہرا لیا جو کہ ایک قالب تھا جس میں ایک آواز تھی، کیا انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ ان سے بات نہیں کرتا تھا اور نہ ان کو کوئی راہ بتلاتا تھا۔ اس کو انہوں نے معبود قرار دیا اور بڑی بے انصافی کا کام کیا"۔ [الأعراف: ۱۴۸]

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ اسی طرح ہے جس طرح اس نے اور اس کے رسول نے بیان کیا ہے بلکہ بندوں کے بیان سے اللہ کی ذات کہیں زیادہ فائق و برتر ہے، اس کے مثل کوئی چیز نہیں ہے، وہ سننے اور دیکھنے والا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ} "اس کے جیسی کوئی چیز نہیں ہے اور وہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے"۔ [الشوری: ۱۱] اس لئے ہم اللہ کے لئے وہی ثابت کرتے ہیں جو اس نے اپنے تئیں یا اس کے رسول ﷺ نے اس کے تئیں ثابت کیا اور ہم ان تمام اوصاف کا انکار کرتے ہیں جن کا انکار خود اللہ نے اپنے سے یا اللہ کے رسولﷺ نے کیا ہے، اور یہ اثبات وانکار ہم ہم بلا تعطیل، بلا تمثیل، بلا تکییف اور بلا تحریف کرتے ہیں۔ ہمیں بالیقین یہ معلوم ہے کہ مخلوق کی تخلیق سے پہلے ہی سے اللہ تعالیٰ ان تمام صفات سے متصف ہے، وہ اجل سے ابد تک انتہائی درجے کے کمال، جلال اور جمال پر فائز ہے، کیوں کہ وہی اول ہے اور وہی آخر ہے، اس کے پہلے کوئی چیز نہیں تھی اور نہ اس کے بعد ہی کوئی چیز ہے، سو وہی اول ہے اپنے اسماء و صفات کے ساتھ جو کمال وبزرگى والے ہیں اور وہی آخر ہے اپنے اسماء وصفات کے ساتھ جو کمال اور بزرگی والے ہیں۔

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ کی طرح کوئی بھی مخلوق علمی اعتبار سے ساری چیزوں کا احاطہ نہیں کر سکتی ہے، اور نہ لوگوں کی نگاہیں اسے پا سکتی ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِهِ عِلْمًا} "جو کچھ ان کے آگے پیچھے ہے اسے اللہ ہی جانتا ہے مخلوق کا علم اس پر حاوی نہیں ہوسکتا"۔ [طہ: ۱۱۰] اللہ جل شانہ نے مزید فرمایا: {لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ } "اس کو تو کسی کی نگاہ محیط نہیں ہوسکتی اور وہ سب نگاہوں کو محیط ہوجاتا ہے"۔ [الأنعام: ۱۰۳] امام ابن قتیبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ’’الواجب علينا أن ننتهي في صفات الله حيث انتهى في صفته أو حيث انتهى رسوله صلى الله عليه و سلم ولا نزيل اللفظ عما تعرفه العرب وتضعه عليه ونمسك عما سوى ذلك‘‘۔ ہم پر واجب ہے کہ ہم اللہ کی صفات کی انتہا وہیں پر کریں جہاں پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے کیا ہے اور ہم لفظ کو اس مقام سے دور نہیں کریں جو عرب کے یہاں معروف ہے اور جیسا اسے اہل عرب استعمال کرتے ہیں اور اس کے علاوہ ہم ہر چیز سے رک جائیں۔ ( الاختلاف في اللفظ والرد على الجهمية و المشبهة، لابن قتیبۃ: ص: ۴۴)۔

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بعض صفات کا تعلق اس کی ذات کو لازم ہے، جیسے الحیات (زندہ رہنا )، العلم(جاننا)، السمع (سننا)، البصر (دیکھنا)، الید (ہاتھ )، اور الأصابع (انگلیاں)۔ اور بعض کا تعلق اس کی مشیئت سے ہے، جیسے الغضب (غصہ)، الرضا (خوشنودی)، النزول (اترنا)۔ اور ہمارا اس بات پر بھی ایمان ہے کہ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، وہ جو چاہے، جب چاہے، جیسا چاہے کر سکتا ہے، وہ جسے چاہے عزت د ے اور جسے چاہے ذلیل کرد ے، نہ اس کے امر کا کوئی ٹالنے والا ہے، اورنہ ہی اس کے قضاء اور اس کے حکم پر کوئی تعاقب کرنے والا ہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بعض صفات مطلق وارد ہوئی ہیں اس لئے ہم انہیں ویسے ہی تسلیم کرتے ہیں جیسے وہ وارد ہوئی ہیں، جیسے سمع ، حیات اور بصر وغیرہ، اور بعض مقید وارد ہوئی ہیں اور جو مقید وارد ہوئی ہیں انہیں اسی قید کے ساتھ باقی رکھتے ہیں، جیسے اللہ تعالیٰ کی ایک صفت یہ ہے کہ جب اس کے دشمن اس کے ساتھ مکر کرتے ہیں تو وہ بھی ان کے ساتھ مکر کرتا ہے اور جب اس کے دشمن اسے بھول جاتے ہیں تو وہ بھی انہیں بھلا دیتا ہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ کی بعض صفات ایک ہی طریقے پر وارد ہوئی ہیں، جیسے صفت حیات، صفت قیومیت، صفت عظمت، یہ تمام صفتیں قرآن و حدیث میں ایک ہی طرز پر وارد ہوئی ہیں اور بعض صفتیں کئی طرز پر وارد ہوئی ہیں، جیسے صفت کلام، صفت علو، صفت ید اور مومنوں کاجنت میں جانا اور قیامت کے میدان میں اپنے رب کا دیدار کرنا۔

اللہ تعالیٰ کی ایک صفت العلم (جاننا) اور ایک صفت السمع (سننا)ہے، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {قَالَ رَبِّي يَعْلَمُ الْقَوْلَ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ} "پیغمبر نے کہا كہ میرا رب ہر اس بات کو جو زمین و آسمان میں ہے بخوبی جانتا ہے، وہ بہت ہی سننے والا اور جاننے والا ہے"۔ [الأنبیاء: ۴]

اور اللہ تعالیٰ کی ایک صفت البصر(دیکھنا) ہے، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ} "اللہ ہی سننے اور دیکھنے والا ہے"۔ [غافر: ۲۰] ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے غلام ابو یونس سلیم بن جبیر نے فرمایا: میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ آیت پڑھتے ہو ئے سنا {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ إِنَّ اللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا} "اللہ تعالیٰ تمہیں تاکیدی حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں انہیں پہنچاؤ اور جب لوگوں کا فیصلہ کرو تو عدل اور انصاف سے فیصلہ کرو یقیناً وہ بہتر چیز ہے جس کی نصیحت تمہیں اللہ تعالیٰ کر رہا ہے، بیشک اللہ تعالیٰ سنتا ہے دیکھتا ہے"۔ (النساء : ۵۸) فرماتے ہیں کہ’’رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ إِبْهَامَهُ عَلَى أُذُنِهِ، وَالَّتِي تَلِيهَا عَلَى عَيْنِهِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا وَيَضَعُ إِصْبَعَيْهِ، قَالَ ابْنُ يُونُسَ: قَالَ الْمُقْرِئُ: يَعْنِي: إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ‘‘۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے (اس آیت کو پڑھتے ہوئے) اپنے انگوٹھے کو اپنے کان اور اس کے ساتھ والی انگلی(یعنی شہادت کی انگلی) کو اپنی آنکھ پر رکھا ہوا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ اس آیت کو پڑھ رہے ہیں اور آپ ﷺ نے اپنی دونوں انگلیوں کو (کان اور آنکھ پر) رکھا ہوا ہے۔ ابن یونس کہتے ہیں کہ: (عبداللہ بن یزید) مقری فر ماتے ہیں: یعنی’’إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے لئےسمع وبصر ہے۔ (سنن أبی داود: ۴۷۲۸ ، جزء فيه قراءات النبي صلى الله عليه وسلم لأبی حفص بن عمر: ۳۳، التوحید لابن خزیمۃ: ۴۹ ، التفسیر لابن أبی حاتم: ۵۵۲۴)

اللہ کی ایک صفت العین(آنکھ ) ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَلِتُصْنَعَ عَلَى عَيْنِي} "اور تاکہ تمہاری تربیت میری آنکھوں کے سامنے ہو"۔ [طہ: ۳۹] نیز اللہ تعالى نے فرمایا: {وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا} "تو اپنے رب کے حکم کے انتظار میں صبر سے کام لے، بیشک تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے"۔ [الطور: ۴۸ ] اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: { وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا} "اور ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی سے تیار کر"۔ [ھود: ۳۷ ] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {تَجْرِي بِأَعْيُنِنَا} "جو ہماری آنکھوں کے سامنے چل رہی تھی"۔ [القمر: ۱۴] اور نافع, عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نبی ﷺ کے پاس دجال کا تذکرہ کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’إِنَّ اللَّهَ لاَ يَخْفَى عَلَيْكُمْ، إِنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ - وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى عَيْنِهِ - وَإِنَّ المَسِيحَ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ العَيْنِ اليُمْنَى، كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ‘‘۔ اللہ تم پر مخفی نہیں ہے اور اللہ کانا نہیں ہے (اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے اپنی آنکھ کی طرف اشارہ کیا ) اور مسیح دجال کانا ہے داہنی آنکھ سے، جیسے اس کی آنکھ انگور کا ایک اٹھا ہوا دانہ ہو۔ (صحیح بخاری: ۷۴۰۷، صحیح مسلم: ۱۶۹ ، سنن أبی داود: ۴۷۵۷، جامع الترمذی: ۲۲۴۱)

اللہ کی ایک صفت الحیاۃ (زندگی) اور القیومیۃ (قائم رہنا)ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ} "اللہ اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اور وہ زندہ اور قائم رہنے والا ہے"۔ [آل عمران: ۲]

اللہ کی ایک صفت الکلام (بات کرنا ) بھی ہے، اللہ تمام مخلوق کو پیدا کرنے سے پہلے ہی سے اور قبل اس کے کہ ان سے کلام کرے اس صفت سے متصف ہے، اللہ تعالیٰ کے کلام کا تعلق اس کی مشیئت پر موقوف ہے، وہ جب چاہتا ہے بات کرتا ہے، قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی صفت کلام کئی اعتبار سے وارد ہوئی ہیں، اللہ نے جہاں کہیں بھی یہ خبر دی ہے کہ وہ حکم دیتا اور منع کرتا ہے تو در اصل یہ اس کی صفت کلام پر دلالت کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} "اللہ تعالیٰ عدل کا، بھلائی کا اور قرابت داروں کے ساتھ سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی کے کاموں، ناشائستہ حرکتوں اور ظلم و زیادتی سے روکتا ہے، وہ خود تمہیں نصیحتیں کر رہا ہے کہ تم نصیحت حاصل کرو"۔ [النحل: ۹۰] اسی طرح اللہ تعالیٰ کا (قال-کہا) یا (یقول-کہتا ہے) کہہ کر اپنے بارے میں خبر دینا بھی اللہ کی صفت کلام پر دال ہے، جیسا کہ فرمان الہی ہے: {إِذْ قَالَ اللَّهُ يَاعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ} "جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے عیسیٰ ! میں تجھے پورا لینے والا ہوں اور تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں"۔ [آل عمران: ۵۵] اسی طرح جن خبروں کی نسبت اللہ کی طرف کی گئی ہے ان میں بھی اللہ رب العالمین کی صفت کلام کا ثبوت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {قَالَتْ مَنْ أَنْبَأَكَ هَذَا قَالَ نَبَّأَنِيَ الْعَلِيمُ الْخَبِيرُ} "وہ کہنے لگی اس کی خبر آپ کو کس نے دی؟ کہا سب جاننے والے پوری خبر رکھنے والے اللہ نے مجھے یہ بتلایا ہے"۔ [التحریم: ۳]

اسی طرح جو ندا وپکار اور مناجات اللہ کی طرف منسوب ہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کی صفت کلام پر دلالت کرتی ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَنَادَيْنَاهُ مِنْ جَانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ وَقَرَّبْنَاهُ نَجِيًّا} "ہم نے اسے طور کی دائیں جانب سے آواز دی اور راز گوئی کرتے ہوئے اسے قریب کرلیا"۔ [مریم: ۵۲] اسی طرح قرآن مجید میں جو قول یا جو کلام اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہے وہ اللہ تعالیٰ کی صفت کلام ہی پر دلیل ہے۔ اور اس طرح کی دلیلیں قرآن مجید میں بے شمارہیں، انہیں میں سے اللہ تعالیٰ کا فرشتوں سے کلام کرنا بھی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً} "اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں خلیفہ بنانے والا ہوں"۔ [البقرۃ: ۳۰] اور آدم علیہ السلام سے بھی گفتگو کیا: {وَقُلْنَا يَاآدَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا} "اور ہم نے کہہ دیا کہ اے آدم تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور جہاں کہیں سے چاہو با فراغت کھاؤ پیو"۔ [البقرۃ: ۳۵] اللہ تعالى نے موسیٰ علیہ السلام سے بھی بات کیا: {قَالَ يَامُوسَى إِنِّي اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالَاتِي وَبِكَلَامِي} "ارشاد ہوا اے موسیٰ ! میں نے پیغمبری اور اپنی ہم کلامی سے اور لوگوں پر تم کو امتیاز دیا ہے"۔ [الأعراف: ۱۴۴]

اللہ رب العالمین کے کلام کی ایک شکل ندا یعنی پکارنا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو پکارا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَنَادَيْنَاهُ أَنْ يَاإِبْرَاهِيمُ} "تو ہم نے اسے آواز دی کہ اے ابراہیم!"۔ [الصآفات: ۱۰۴] اسی طرح اللہ تعالیٰ کی صفت کلام کی ایک شکل سر گوشی کرنا بھی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام سے سر گوشی کیا: {وَنَادَيْنَاهُ مِنْ جَانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ وَقَرَّبْنَاهُ نَجِيًّا} "ہم نے اسے طور کی دائیں جانب سے آواز دی اور راز گوئی کرتے ہوئے اسے قریب کرلیا"۔ [مریم: ۵۲] ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت {وَقَرَّبْنَاهُ نَجِيًّا} کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’حَتَّى سَمِعَ صَرِيفَ الْقَلَمِ‘‘ حتی کہ اس نے قلم کی آواز سنی۔ ( مصنف إبن أبی شیبۃ: ۳۲۵۰۶، الزہد لہنا د بن السری: ۱۴۹ ، السنۃ لعبد اللہ بن أحمد: ۱۲۳۱، التفسیر للطبری: ۵۵۹/ ۱۵، المستدرک علی الصحیحین للحاکم: ۳۴۷۲) اور سُدی رحمہ اللہ {وَقَرَّبْنَاهُ نَجِيًّا} کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ أُدْخِلَ فِي السماء فَكُلِّمَ ‘‘ انہیں آسمان میں داخل کردیا گیا پھر ان سے بات کی گئی۔ (تفسیر ابن کثیر: ۲۳۸/ ۵، الدر المنثور فی التفسیر بالماثور: ۵/۵۱۵) اورفرشتے ہمارے رب کی بات سن سکتے ہیں، جیسا کہ اللہ کے اس فرمان میں ہے: (یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کردی جاتی ہے تو پوچھتے ہیں تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ جواب دیتے ہیں کہ حق فرمایا، اور وه بلند وباﻻ اور بہت بڑا ہے.) [سبأ: ۲۳] اور مسروق، عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ” جب اللہ تعالیٰ وحی کے لیے کلام کرتا ہے تو سبھی آسمان والے آواز سنتے ہیں جیسے کسی چکنے پتھر پر زنجیر کھینچی جارہی ہو، پھر وہ بیہوش کر دیے جاتے ہیں اور اسی حال میں رہتے ہیں یہاں تک کہ ان کے پاس جبرائیل آتے ہیں، جب جبرائیل ان کے پاس آتے ہیں تو ان کی غشی جاتی رہتی ہے، پھر وہ کہتے ہیں: اے جبرائیل! تمہارے رب نے کیا کہا؟ وہ کہتے ہیں: حق فرمایا تو وہ سب کہتے ہیں حق فرمایا حق فرمایا“۔ (سنن أبی داود: ۴۷۳۸، الرد علی الجہمیۃ لعثمان بن سعید الدارمی: ۱۵۸، السنۃ لعبد اللہ بن أحمد: ۵۳۶، تعظیم قدر الصلاۃ لمحمد بن نصر: ۲۱۷)

بروز قیامت اللہ تعالیٰ تمام مخلوق سے بات کر ے گا، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺنے اس کے بارے میں خبردیتے ہوئے فرمایا: ’’ مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا سَيُكَلِّمُهُ رَبُّهُ، لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تُرْجُمَانٌ، وَلاَ حِجَابٌ يَحْجُبُهُ‘‘۔ تم میں کا کوئی نہیں ہے مگر یہ کہ اس کا رب اس سے کلام کر ے گا اس حال میں کہ اس کے اور اس (بند ے) کے درمیان کوئی ترجمان نہ ہو گا اور نہ کوئی حجاب ہو گا جو اسے چھپائے رکھے۔ (صحیح بخاری: ۷۴۴۳، صحیح مسلم: ۱۰۱۶ ، جامع الترمذی: ۲۴۱۵، سنن ابن ماجہ: ۱۸۵)

اور بروز قیامت تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی بات کو سنیں گے، جیسا کہ حدیث میں عبداللہ بن أنیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے اللہ کے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ’’يَحْشُرُ اللَّهُ العِبَادَ، فَيُنَادِيهِمْ بِصَوْتٍ يَسْمَعُهُ مَنْ بَعُدَ كَمَا يَسْمَعُهُ مَنْ قَرُبَ: أَنَا المَلِكُ، أَنَا الدَّيَّانُ‘‘۔ اللہ بندوں کو جمع کرکے انہیں ایسی آواز میں پکارے گا کہ اسے دور سے ایسے ہی سنیں گے جیسے قریب سے سنتے ہیں: میں بادشاہ ہوں، میں ہی بدلہ دینے والا ہوں۔ (صحیح بخاری معلقا: ۹/ ۱۴۱، الأدب المفرد: ۹۷۰ ، خلق أفعال العباد: ۹۰ ، مسند أحمد: ۱۶۰۴۲)

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود کو اپنی مخلوق سےچھپا لیا ہے، اس لئے دنیا میں اسے کوئی نہیں دیکھ سکتا، وہ اپنے نبیوں اور فرشتوں میں سے جس سے چاہتا ہے پردے کے پیچھے سے بات کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ } "ناممکن ہے کہ کسی بندے سے اللہ تعالیٰ کلام کرے مگر وحی کے ذریعے یا پردے کے پیچھے سے یا کسی فرشتہ کو بھیجے اور وہ اللہ کے حکم سے جو وہ چاہے وحی کرے، بیشک وہ برتر حکمت والا ہے"۔ [الشوری: ۵۱]

اور ابو موسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ: ’’قَامَ فِينَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ، فَقَالَ: إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنَامُ، وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ، يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَيَرْفَعُهُ، يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلَ عَمَلِ النَّهَارِ، وَعَمَلُ النَّهَارِ قَبْلَ عَمَلِ اللَّيْلِ، حِجَابُهُ النُّورُ لَوْ كَشَفَهُ لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ مَا انْتَهَى إِلَيْهِ بَصَرُهُ مِنْ خَلْقِهِ‘‘ ہمارے درمیان اللہ کے رسول ﷺ پانچ باتیں لے کر کھڑے ہو ئے اور فرمایا: اللہ عزوجل نہ سوتا ہے اور نہ اس کے لئے سونا مناسب ہے، وہ ترازو کو اوپر اور نیچے کرتا ہے، رات کا عمل دن کے عمل کے پہلے اور دن کا عمل رات کے عمل کے پہلے اس کے پاس پیش کیا جاتا ہے، اس کا حجاب نور ہے، اگر وہ اسے کھول دے تو اس کے چہرے کا جلال وجمال جہاں تک پہونچے گى وہاں تک مخلوقات کو جلا دے گی۔ (صحیح مسلم: ۱۷۹، سنن ابن ماجہ: ۱۹۵)

اللہ رب العالمین کا بعض کلام بعض سے نیا ہوتا ہے، جیسا کہ اللہ عز وجل نے فرمایا: {مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ ذِكْرٍ مِنْ رَبِّهِمْ مُحْدَثٍ إِلَّا اسْتَمَعُوهُ وَهُمْ يَلْعَبُونَ} "ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے جو بھی نئی نئی نصیحت آتی ہے اسے وہ کھیل کود میں ہی سنتے ہیں"۔ [الأنبیاء: ۲] اللہ تعالیٰ کا بعض کلام بعض کے مقابلے میں افضل ہوتا ہے۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: "ایک آدمی نے دوسرے آدمی سے سنا کہ وہ ﴿ قُل ھُوَ اللہُ أَحَد﴾ بار بار پڑھ رہا ہے، جب صبح ہوئی تو اس نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اس واقعے کا ذکر کیا گویا وہ اس عمل میں کوئی بڑا ثواب نہ خیال کرتا تھا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ سورت، قرآن کے ایک تہائی حصے کے برابر ہے‘‘۔ (صحیح بخاری: ۵۰۱۳، سنن أبی داود: ۱۴۶۱، سنن النسائی: ۹۹۵)

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ’’بَيْنَمَا جِبْرِيلُ قَاعِدٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ، سَمِعَ نَقِيضًا مِنْ فَوْقِهِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: هَذَا بَابٌ مِنَ السَّمَاءِ فُتِحَ الْيَوْمَ لَمْ يُفْتَحْ قَطُّ إِلَّا الْيَوْمَ، فَنَزَلَ مِنْهُ مَلَكٌ، فَقَالَ: هَذَا مَلَكٌ نَزَلَ إِلَى الْأَرْضِ لَمْ يَنْزِلْ قَطُّ إِلَّا الْيَوْمَ، فَسَلَّمَ، وَقَالَ: أَبْشِرْ بِنُورَيْنِ أُوتِيتَهُمَا لَمْ يُؤْتَهُمَا نَبِيٌّ قَبْلَكَ: فَاتِحَةُ الْكِتَابِ، وَخَوَاتِيمُ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، لَنْ تَقْرَأَ بِحَرْفٍ مِنْهُمَا إِلَّا أُعْطِيتَهُ‘‘۔ ایک مرتبہ جبرائیل نبی ﷺ کے پاس بیٹھے ہو ئے تھے کہ انہوں نے اپنے اوپر زور کی آواز سنی تو اپنا سر اٹھایا اور کہا یہ آسمان کا ایک دروازہ ہے جسے آج کھولا گیا ہے، آج سے پہلے کبھی نہیں کھو لا گیا تھا، اس سے ایک فرشتہ نکلا تو آپ نے کہا یہ فرشتہ جو زمین کی طرف آرہا ہے آج ہی صرف زمین کى طرف اترا ہے، تو اس نے سلام کیا اور کہا دو نور کی خوشخبری ہو جو آپ کو عطا کی گئی ہیں، آپ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں تھیں: فاتحۃ الکتاب اور سورۃ البقرۃ کا آخر، آپ ان میں کا ایک حرف نہیں پڑھیں گے مگر آپ کو (مانگی ہوئی ہر چیز) عطا کی جائے گی۔ (صحیح مسلم : ۸۰۶ ، سنن النسا ئی: ۹۱۲)

قرآن کریم اور تمام الہی یا آسمانی کتابیں جو اللہ کے رسولوں پر نازل ہو ئی ہیں، جیسے صحف ابراہیم، صحف موسی علیہما السلام، اور تورات، انجیل اور زبور، یہ سب اللہ کا کلام ہیں، اور سب کے ذریعہ اللہ نے کلام کیا ہے، انہیں جبرئیل علیہ السلام نے بلا واسطہ اللہ سے سناہے اور یہی لے کر انبیاء ورسل علیہم السلام پر نازل ہو ئے، البتہ دیگر کتابوں کے مقابلے تورات کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے تختیوں پر لکھا ہوا نازل کیا اورجبرئیل علیہ السلام تمام انبیاء و رسل علیہم السلام کے پاس وحی لیکر نازل ہوتے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ *۔ "اسے امانت دار فرشتہ لے کر آیا ہے۔ عَلَى قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنْذِرِينَ} آپ کے دل پر کہ آپ آگاہ کر دینے والوں میں سے ہو جائیں"۔ [الشعراء: ۱۹۳-۱۹۴] اور اللہ عز وجل نے فر مایا: {فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ الَّذِي يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَكَلِمَاتِهِ وَاتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ} "سو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاؤ اور اس کے نبی امی پر جو کہ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پر آجاؤ"۔ [الأعراف: ۱۵۸] اللہ کا کلام اور اور اس کے کلمات غیر مخلوق ہیں؛ اسی وجہ سے اللہ کے رسول ﷺ نے اللہ کے کلمات کے ذریعہ پناہ مانگی ہے۔ چنانچہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’مَنْ نَزَلَ مَنْزِلًا ثُمَّ قَالَ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ، حَتَّى يَرْتَحِلَ مِنْ مَنْزِلِهِ ذَلِكَ‘‘۔ جو کسی مقام پر پڑاؤ ڈالے پھر کہے :’’ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ‘‘۔ تو اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہونچا سکتی یہاں تک کہ وہ اپنے اس مقام سے کوچ نہ کر جا ئے۔ (صحیح مسلم: ۲۷۰۸، جامع الترمذی: ۳۴۳۷، سنن ابن ماجہ: ۳۵۴۷) اگر اللہ کا کلام مخلوق ہوتا تو اللہ کے نبی ﷺ اس کے ذریعہ استعاذہ نہیں کرتے، سو اللہ کا کلام مخلوق نہیں ہے، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ اللہ نے اپنے قول اور اپنی مخلوق کے درمیان فصل قائم کیا ہے، جیسا کہ فرمایا: {أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ} یاد رکھو اللہ ہی کے لئے خاص ہے تخلیق کرنا اور حکم دینا ۔(الأعراف : ۵۴) اللہ تعالیٰ کے اس کلام {أَلَا لَهُ الْخَلْقُ } میں ہر مخلوق داخل ہے، اب اس کے بعد جو ذکر کیا وہ مخلوق نہیں ہے چنانچہ فرمایا: {وَالْأَمْرُ} اور اس کا حکم ہی اس کا قول ہے اور اللہ تبارک و تعالی کا قول مخلوق نہیں ہو سکتا ہے۔ (دیکھئے: الرد علی الجہمیۃ للإمام أحمد : ص : ۲۲۴)

ہم تفریق کرتے ہیں اللہ کے کونی کلمات, جو کہ اللہ تعالى کے اس جیسے فرمان میں وارد ہیں: {وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوا عَلَى مَا كُذِّبُوا وَ أُوذُوا حَتَّى أَتَاهُمْ نَصْرُنَا وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِ اللَّهِ وَلَقَدْ جَاءَكَ مِنْ نَبَإِ الْمُرْسَلِينَ} "اور بہت سے پیغمبر جو آپ سے پہلے ہوئے ہیں ان کی بھی تکذیب کی جاچکی ہے سو انہوں نے اس پر صبر ہی کیا، ان کی تکذیب کی گئی اور ان کو ایذائیں پہنچائی گئیں یہاں تک کہ ہماری امداد ان کو پہنچی اور اللہ کی باتوں کا کوئی بدلنے والا نہیں اور آپ کے پاس بعض پیغمبروں کی بعض خبریں پہنچ چکی ہیں"۔ [الأنعام: ۳۴] اور جو اللہ تعالے کے اس فرمان میں مذکور ہیں: {قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا} "کہہ دیجئے کہ اگر میرے رب کی باتوں کے لکھنے کے لئے سمندر سیاہی بن جائے تو وہ بھی میرے رب کی باتوں کے ختم ہونے سے پہلے ہی ختم ہوجائے گا، گو ہم اسی جیسا اور بھی اس کی مدد میں لے آئیں"۔ [الکھف: ۱۰۹] اور اللہ کے شرعی کلام کے درمیان, وہ شرعی کلام جو اللہ کے اس جیسے فرمان میں واقع ہے: {وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ} "آپ کے رب کا کلام سچائی اور انصاف کے اعتبار سے کامل ہے اس کے کمات کو کوئى بدلنے والا نہیں اور وہ خوب سننے والا اور جاننے والا ہے"۔ [الأنعام: ۱۱۵] اور جو اللہ کے اس فرمان میں مذکور ہے: { وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ} "جب ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کے رب نے کئی کئی باتوں سے آزمایا اور انہوں نے سب کو پورا کردیا"۔ [البقرۃ: ۱۲۴]

امام دارمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’ ’فَلَا يُنْكِرُ كَلَامَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا مَنْ يُرِيدُ إِبْطَالَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَكَيْفَ يَعْجِزُ عَنِ الْكَلَامِ مَنْ عَلَّمَ الْعِبَادَ الْكَلَامَ، وَأَنْطَقَ الْأَنَامَ؟‘‘۔ اللہ عزوجل کے کلام کا انکار وہی کرے گا جو اللہ عزوجل کی نازل کردہ چیزوں کو جھٹلانا چاہے گا، بات کرنے سے وہ ذات کیسے عاجز ہو سکتی ہے جس نے بندوں کو بات کرنا اور ساری مخلوق کو بو لنا سکھایا ۔ ( الرد علی الجہمیۃ للدارمی : ص: ۱۵۵)

اللہ کی ایک صفت العزۃ (عزت) بھی ہے، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ} "پاک ہے آپ کا رب جو بہت بڑی عزت والا ہے ہر اس چیز سے (جو مشرک) بیان کرتے ہیں"۔ [الصآفات: ۱۸۰] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعِزَّةَ فَلِلَّهِ الْعِزَّةُ جَمِيعًا} "جو عزت چاہتا ہے تو تمام عزت اللہ ہی کے لئے ہے"۔ [فاطر: ۱۰]

اسی طرح اللہ کی ایک صفت القہر( قہر وغلبہ) بھی ہے، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {وَمَا مِنْ إِلَهٍ إِلَّا اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ} "اور حقیقی معبود کوئى نہیں ہے بجز اللہ واحد غالب کے"۔ [ص: ۶۵]

اسی طرح الجبروت(جبروت)، الملکوت(ملکوت)، الکبریاء(کبریاء)، العظمۃ(عظمت) بھی اللہ کی صفات میں سے ہیں، اللہ کے نبی ﷺ رکوع کے دوران کہا کرتے تھے: ’’سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ‘‘۔ طاقت وغلبہ والےوالے، بادشاہت والے، عزت نفس والے اور عظمت والے کی ذات پاک ہے۔ (سنن أبی داود: ۸۷۳، سنن النسائی: ۱۰۴۹، مسند أحمد: ۲۳۹۸۰، الشمائل للترمذی: ۳۱۴، مسند البزار: ۲۷۵۰) اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’ ’الْكِبْرِيَاءُ رِدَائِي، وَالْعَظَمَةُ إِزَارِي، فَمَنْ نَازَعَنِي وَاحِدًا مِنْهُمَا، قَذَفْتُهُ فِي النَّارِ‘‘۔ کبریائی میری چادر، اور عظمت میری تہبند ہے، لہذا جس نے ان میں سے کسى ایک میں بھى میرا شریک بننا چاہا تو اسے میں جہنم میں ڈال دوں گا۔ (سنن أبی داود : ۴۰۹۰، سنن ابن ماجہ: ۴۱۷۴، مسند الحمیدی: ۱۱۸۳، مصنف ابن أبی شیبۃ: ۲۷۱۱۱، مسند أحمد: ۷۳۸۲)

اسی طرح الإرادۃ ( ارادہ)اور المشیئۃ ( مشیئت) بھی اللہ کی صفات میں سے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: { يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ} "اللہ تعالیٰ کا ارادہ تمہارے ساتھ آسانی کا ہے سختی کا نہیں"۔ [البقرۃ: ۱۸۵] اور اس کا فرمان ہے: {وَيُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكَافِرِينَ} "اور اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ اپنے کلمات سے حق کا حق ہونا ثابت کردے اور ان کافروں کی جڑ کاٹ دے"۔ [الأنفال: ۷ ] اور اس کا فرمان ہے: {وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ} "اور تم بغیر رب کے چاہے کچھ نہیں چاہ سکتے"۔ [التکویر: ۲۹]

اسی طرح اللہ تعالیٰ کی ایک صفت القدرۃ (قدرت) بھی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَثَّ فِيهِمَا مِنْ دَابَّةٍ وَ هُوَ عَلَى جَمْعِهِمْ إِذَا يَشَاءُ قَدِيرٌ} "اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش ہے اور ان میں جانداروں کا پھیلانا وہ اس پر بھی قادر ہے کہ جب چاہے انہیں جمع کر دے"۔ [الشوری: ۲۹] اور اس کا فرمان ہے: {إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ} "یقینااللہ ہر چیز پر قادر ہے"۔ [البقرۃ: ۲۰]

اسی طرح اللہ تعالیٰ کی ایک صفت الرحمۃ ( رحمت) بھی ہے، جیسا کہ اللہ رحیم رحمان نے فرمایا: {وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ} "میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہو ئے ہے"۔ [الأعراف: ۱۵۶] اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا: {كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ} "تمہارے رب نے مہربانی فرمانا اپنے ذمہ مقرر کرلیا ہے"۔ [الأنعام: ۵۴] تو رحمت بھی اللہ کی ایک صفت ہے، اور اس کی اضافت اللہ کی طرف اضافۃ الصفۃ الی الموصوف کے قبیل سے کى گئى ہے۔ اور کبھی کبھی قرآن و احادیث میں بھی صفت رحمت کو اللہ تعالیٰ کی طرف اضافت کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے، خالق کى طرف مخلوق کی اضافت کے قبیل سے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَهُوَ الَّذِي أَرْسَلَ الرِّيَاحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهِ وَأَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُورًا} "اور وہی ہے جو باران رحمت سے پہلے خوشخبری دینے والی ہواؤں کو بھیجتا ہے اور ہم آسمان سے پاک پانی برساتے ہیں"۔ [الفرقان: ۴۸] اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ’ ’إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ الرَّحْمَةَ يَوْمَ خَلَقَهَا مِائَةَ رَحْمَةٍ‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے رحمت کو جس دن بنایا تو اس کے سو حصے کئے۔ (صحیح بخاری: ۶۴۶۹، صحیح مسلم: ۲۷۵۲، جامع الترمذی: ۳۵۴۱، سنن ابن ماجہ: ۴۲۹۳) تو یہ والى رحمت مخلوق ہے اور اس کی اضافت اللہ کی طرف کی گئی ہے، خالق کى طرق مخلوق کی اضافت کے باب سے۔

اور اسی طرح اللہ کی ایک صفت العلو (بلند ہونا ) ہے یعنی اللہ تعالی اپنے ہر کام، اپنی ہر صفت اور ذات میں بلند و بالا ہے، مثلا اللہ تعالیٰ قہار ہے تو وہ اپنی اس صفت قہر میں بلند وبالا ہے، اللہ قادر ہے تو وہ اپنی اس صفت قدرت میں بلند وبالا ہے، اسی طرح وہ اپنی ذات کے اعتبار سے بھی بلند وبالا ہے اور یہ تینوں صفتیں اللہ تعالیٰ کے کامل ہونے پر دلالت کرتی ہیں، قرآن مجید، سنت نبوی ﷺ، عقل اور فطرت نے بھی کئی اعتبار سے یہ ثابت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات بلند ہے، اللہ یا اللہ کے رسول ﷺکی بتائی تمام خبریں بلند و بالا ہیں اور دونوں اللہ کی بلندی پر دلالت کرتی ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے ناز ل ہونے والی تمام خبریں جیسے وحی کا نزول اور نازل ہونے والا حکم جو بروز قیامت فیصلے کے لئے آئے گا اور وہ حکم جو ہر رات اور یوم عرفہ کی شام میں نازل ہوتا ہے اور فرشتوں کا نزول یہ سب اللہ تعالیٰ کے بلند ہونے پر دلالت کرتے ہیں، اسی طرح ہر وہ خبر جس میں آیا ہے کہ اللہ آسمان میں ہے یا آسمان کے او پر ہے یا وہ عرش کے او پر ہے یا وہ عرش پر مستوی ہے، وہ سب خبریں اس کے بلند ہونے پر دلالت کرتی ہیں، اسی طرح ہر وہ خبر جس میں اللہ کی طرف چڑھنے کی بات آئی ہے یا اس سے ملتے جلتے کلمات کا استعمال ہوا ہے تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کے بلند ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔

ان میں سے چند یہ ہیں: ’’أن الملائکۃ تخاف ربہا من فوقہا‘‘ فرشتے اپنے رب سے اس کے او پر سے ڈرتے ہیں۔ ’’أنہا تعرج إلیہ‘‘ وہ اس کی طرف چڑھتے ہیں۔ ’’أن الأعمال ترفع إلیہ‘‘أعمال اس تک اٹھائے جا تے ہیں۔ ’’أنہ یصعد إلیہ‘‘وہ اس کی طرف چڑھتا ہے۔ ’’ أن اللہ رفع عیسی علیہ السلام‘‘ اللہ نے عیسی علیہ السلام کو اٹھا لیا۔ ’’أسری بنبینا محمد ﷺ ‘‘ہمارے نبی محمد ﷺ کو راتوں رات لے جایا گیا۔ ’’ عرج بہ إلی السماء‘‘ انہیں آسمان تک لے جایا گیا۔ یہ سارے جملے اللہ کے بلند ہونے پر دلالت کرتے ہیں بلکہ اللہ کے بلند و بالا ہونے پر دلالت کرنے والی دلیلوں کی بے شمار قسمیں ہیں، پھر ہرقسم کی کئی قسمیں ہیں، جن کا شمار بھارى مشفت وتکلیف کے بغیر ممکن نہیں۔

ان دلیلوں میں سے چند یہ ہیں: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ} "آسمان اور زمین کی ساری چیزیں اسی کے لئے ہیں اور وہ بلند و بالا اور عظمت والا ہے"۔ [الشوری: ۴] اور اس کا یہ فرمان: {ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ هُوَ الْبَاطِلُ وَأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ} "یہ سب اس لئے کہ اللہ ہی حق ہے اور اس کے سوا جسے بھی پکارتے ہیں وہ باطل ہے بیشک اللہ ہی بلندی والا کبریائی والا ہے"۔ [الحج: ۶۲] اور اس کا یہ فرمان بھی: {إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ} "تمام تر ستھرے کلمات اسی کی طرف چڑھتے ہیں اور نیک عمل ان کو بلند کرتا ہے"۔ [فاطر: ۱۰] اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا یہ قول بھی: {وَهَذَاكِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ فَاتَّبِعُوهُ وَاتَّقُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ} "یہ ایک کتاب ہے جس کو ہم نے نازل کیا بڑی خیر و برکت والی سو اس کا اتباع کرو اور ڈرو تاکہ تم پر رحمت ہو"۔ [الأنعام: ۱۵۵] نیز اس کا یہ فرمان بھی: {إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ} "یقینا ہم نے اسے عربی زبان میں نازل کیا تاکہ تم لوگ سمجھ سکو"۔ [یوسف: ۲] اوراس کےعلو کى دلیل یہ فرمان الہی بھی ہے: {يَخَافُونَ رَبَّهُمْ مِنْ فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ} "اور اپنے رب سے جو ان کے اوپر ہے، کپکپاتے رہتے ہیں اور جو حکم مل جائے اس کی تعمیل کرتے ہیں"۔ [النحل: ۵۰ ] اور اللہ کا یہ فرمان بھی اللہ کى صفت علو کى دلیل ہے: {إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ} "میں تجھے پورا لینے والا ہوں اور تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں"۔ [آل عمران: ۵۵] اور یہ فرمان الہی بھى اس کى دلیل ہے: {تَعْرُجُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ} "جس کی طرف فرشتے اور روح چڑھتے ہیں ایک دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے"۔ [المعارج: ۴] اللہ کا یہ ارشاد بھی صفت علو کى دلیل ہے: {اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ ۭ يَـتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ڏ وَّاَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا} "اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان اور اسی کے مثل زمینیں بھی پیدا کیا، اس کا حکم ان کے درمیان اترتا ہے تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو بہ اعتبار علم گھیر رکھا ہے"۔ [الطلاق: ۱۲] یہ ارشاد الہی بھی صفت علو کے دلائل میں سے ایک ہے: {بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا} "بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ بڑا زبردست اور پوری حکمتوں والا ہے"۔ [النساء: ۱۵۸] یہ قول الہی بھی اسى عظیم صفت الہی کى دلیل ہے: {سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ} "پاک ہے وہ اللہ تعالیٰ جو اپنے بندے کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے، اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائیں، یقیناً اللہ تعالیٰ ہی خوب سننے دیکھنے والاہے"۔ [الإسراء: ۱]

اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’ ’لَمَّا قَضَى اللَّهُ الخَلْقَ، كَتَبَ كِتَابًا عِنْدَهُ: غَلَبَتْ، أَوْ قَالَ سَبَقَتْ رَحْمَتِي غَضَبِي، فَهُوَ عِنْدَهُ فَوْقَ العَرْشِ‘‘۔ اللہ جب ساری مخلوق پیدا کر چکا تو اس نے اپنے پاس ایک کتاب لکھ کر رکھ لیا: (اس میں یوں ہے) میری رحمت میرے غصے پر غالب ہے یا میرے غصے سے آگے بڑھ چکی ہے، اور وہ اس کے پاس عرش کے اوپر ہے۔ (صحیح بخاری: ۷۵۵۳، صحیح مسلم : ۲۷۵۱، جامع ترمذی: ۳۵۴۳، سنن ابن ماجہ: ۱۸۹) اور معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ’’بَيْنَا أَنَا أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللهُ فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ، فَقُلْتُ: وَاثُكْلَ أُمِّيَاهْ، مَا شَأْنُكُمْ؟ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ، فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُصَمِّتُونَنِي لَكِنِّي سَكَتُّ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبِأَبِي هُوَ وَأُمِّي، مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ، فَوَاللهِ، مَا كَهَرَنِي وَلَا ضَرَبَنِي وَلَا شَتَمَنِي، قَالَ: إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ، إِنَّمَا هُوَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ، وَقَدْ جَاءَ اللهُ بِالْإِسْلَامِ، وَإِنَّ مِنَّا رِجَالًا يَأْتُونَ الْكُهَّانَ، قَالَ:فَلَا تَأْتِهِمْ ،قَالَ: وَمِنَّا رِجَالٌ يَتَطَيَّرُونَ، قَالَ: ذَاكَ شَيْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ، فَلَا يَصُدَّنَّهُمْ - قَالَ ابْنُ الصَّبَّاحِ: فَلَا يَصُدَّنَّكُمْ - قَالَ قُلْتُ :وَمِنَّا رِجَالٌ يَخُطُّونَ، قَالَ:كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ، فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ، قَالَ: وَكَانَتْ لِي جَارِيَةٌ تَرْعَى غَنَمًا لِي قِبَلَ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِيَّةِ، فَاطَّلَعْتُ ذَاتَ يَوْمٍ فَإِذَا الذِّيبُ قَدْ ذَهَبَ بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِهَا، وَأَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي آدَمَ، آسَفُ كَمَا يَأْسَفُونَ، لَكِنِّي صَكَكْتُهَا صَكَّةً، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَظَّمَ ذَلِكَ عَلَيَّ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَفَلَا أُعْتِقُهَا؟ قَالَ: ائْتِنِي بِهَا، فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَقَالَ لَهَا: أَيْنَ اللهُ؟ قَالَتْ: فِي السَّمَاءِ، قَالَ: مَنْ أَنَا؟ قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللهِ، قَالَ: أَعْتِقْهَا، فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ‘‘۔ ایک دن میں اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ قوم کے ایک آدمی کو چھینک آئی تو میں نے کہا ’’يَرْحَمُكَ اللَّه‘‘ تو لوگوں نے مجھے گھور کر دیکھا تو میں نے کہا کاش مجھ پر میری ماں رو چکی ہوتی (یعنی میں مرجاتا) کیا بات ہے کہ تم لوگ مجھے ( اس طرح سے) دیکھ رہے ہو، تو وہ لوگ اپنے ہاتھ رانوں پر مارنے لگے، جب میں نے دیکھا کہ وہ لوگ مجھے خاموش کر رہے ہیں تو میں چپ ہوگیا، جب اللہ کے رسولﷺ نماز پڑھ چکے تو (آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں ) میں نے ان سے بہتر ان سے پہلے کوئی معلم نہیں دیکھا اور نہ ان کے بعد، اللہ کی قسم! انہوں نے مجھے نہ جھڑکا، نہ مارا، نہ گالی دی، بلکہ فرمایا نماز میں لوگوں کا بات کرنا درست نہیں ہیں، یہ تسبیح، تکبیر اور قرآن پڑھنے کے لئے ہے یا جیسا بھی اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا، میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میرا جاہلیت کا زمانہ ابھی نیا ہے، (اب) اللہ نے اسلام نصیب کیا، ہم میں سے بعض لوگ کاہنوں کے پاس آتے ہیں، فرمایا: تو ان کے پاس مت جا، ( میں نےپھر) کہا: ہم میں سے کچھ لوگ بد شگونی لیتے ہیں،(آپ نے) فرمایا: یہ ان کے دلوں کی بات ہے تو یہ خیال کسی کام سے ان کو نہ روکے یا وہ تم کو نہ روکے، ( پھر میں نے ) کہا: ہم میں سے بعض لوگ لکیریں کھینچتے ہیں،( آپ نے) فرمایا: ایک پیغمبر بھی لکیریں کھینچاکرتے تھے، اس لئے جس کی لکیر ان سىے موافقت کرجائے تووہ درست ہے، (معاویہ رضی اللہ عنہ نے ) کہا کہ میری ایک لونڈی تھی جو احد اور جوانیہ (ایک مقام کا نام ہے) کی طرف بکریاں چرایا کرتی تھی، ایک دن میں اچانک وہاں آ نکلا تو دیکھا کہ بھیڑیا ایک بکری کو لے کر چلاگیا ہے، آخر میں بھی آدمی ہوں مجھ کو بھی غصہ آ جاتا ہے جیسے لوگوں کو غصہ آتا ہے، میں نے اس کو ایک طمانچہ ماردیا پھر میں اللہ کے رسول ﷺ کے پاس آیا تو انہوں نے مجھ پر اسے بہت بڑا قرار دیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اس لونڈی کو آزاد نہ کر دوں؟( آپ نے )فرمایا: اس کو میرے پاس لے کر آؤ ، تو میں اسے ان کے پاس لے کر آیا،توآپ نے اس سے پوچھا: اللہ کہاں ہے؟ اس نے کہا: آسمان میں، آپ نے فرمایا: میں کون ہوں؟اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، تب آپ( ﷺ) نے فرمایا: تو اس کو آزاد کر دے یہ مؤمنہ ہے۔ (صحیح مسلم : ۵۳۷ ، سنن أبی داود: ۹۳۰ ، سنن النسا ئی: ۱۲۱۸)

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ مَلَائِكَةٌ بِاللَّيْلِ، وَمَلَائِكَةٌ بِالنَّهَارِ، وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، وَصَلَاةِ الْعَصْرِ، ثُمَّ يَعْرُجُ الَّذِينَ بَاتُوا فِيكُمْ، فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ: كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي؟ فَيَقُولُونَ: تَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ، وَأَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ‘‘۔ رات اور دن میں فرشتوں کی ڈیوٹیاں بدلتی رہتی ہیں اور فجر اور عصر کی نمازوں میں اکٹھا ہوتے ہیں، پھر تمہارے پاس رہنے والے فرشتے جب اوپر چڑھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے حالانکہ وہ ان سے بہت زیادہ اپنے بندوں کے متعلق جانتا ہے، کہ میرے بندوں کو تم نے کس حال میں چھوڑا؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم نے جب انہیں چھوڑا تو وہ نماز پڑھ رہے تھے اور جب ان کے پاس گئے تب بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ (صحیح بخاری: ۵۵۵، صحیح مسلم :۶۳۲، سنن النسائی: ۴۸۵) اور ابو رزین عقیلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ’’أَيْنَ كَانَ رَبُّنَا قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ خَلْقَهُ؟ اللہ تعالیٰ اپنے مخلوق کو پیدا کرنے سے پہلے کہاں تھا؟ تو آپ نے فرمایا: قَالَ:كَانَ فِي عَمَاءٍ مَا تَحْتَهُ هَوَاءٌ وَمَا فَوْقَهُ هَوَاءٌ، وَخَلَقَ عَرْشَهُ عَلَى المَاءِ‘‘۔ ( آپ نے) فرمایا: باریک بادل پر بلند تھا، جس کے کے نیچے بھی ہوا تھی اور اس کے اوپر بھی، اور اس نے اپنا عرش پیدا کیا پانی پر۔ (جامع الترمذی: ۳۱۰۹، سنن ابن ماجہ: ۱۸۲، مسند الطیالسی: ۱۱۸۹ ، مسند أحمد: ۱۶۱۸۸، السنۃ لإبن أبی عاصم: ۶۲۵) یہ اور ان کے علاوہ اوربھی بہت سی آیات و احادیث ہیں جو اللہ تعالیٰ کےصفت علو یعنی اس کے بلند ہونے پر دلا لت کرتی ہیں۔

صفت علو پر بے شمار دلیلیں ہیں، چںانچہ علماء اسلام کا اس کے اثبات پر اجماع بھی ہے نیز اسے عقل اور فطرت سلیمہ نے بھی تسلیم کیا ہے، حافظ ابن بطہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’وَأَجْمَعَ الْمُسْلِمُونَ مِنَ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ، وَجَمِيعِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَى عَرْشِهِ، فَوْقَ سَمَاوَاتِهِ بَائِنٌ مِنْ خَلْقِهِ، وَعِلْمُهُ مُحِيطٌ بِجَمِيعِ خَلْقِهِ‘‘۔ مسلمانوں میں تمام صحابہ و تابعین اور مومنوں میں تمام اہل علم کا اجماع ہے کہ اللہ تبار ک و تعالی ساتوں آسمانوں کے او پراپنی مخلوق سے الگ اپنے عرش پر موجودہے، اس کا علم اس کی تمام مخلوق کا احاطہ کئے ہو ئے ہے۔ ( الإنابۃ الکبری لإبن بطۃ : ۱۳۶/ ۷)

امام دارمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن مبارک سے جب پوچھا گیا کہ ہم اپنے رب کے بارے میں کیسے جا نیں؟ تو آپ نے فرمایا: ’’بِأَنَّهُ فَوْقَ الْعَرْشِ، فَوْقَ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ عَلَى الْعَرْشِ، بَائِنٌ مِنْ خَلْقِهِ‘‘۔ وہ عرش کے اوپرہے اور ساتوں آسمانوں کے اوپر عرش پر ہے اپنی مخلوق سے جدا ہے۔ ( الرد علی الجہمیۃ للدارمی : ص: ۹۸)

اللہ تعالیٰ کی ایک صفت الإستواء علی العرش یعنی عرش پر مستوی ہونا بھی ہے اور اس کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں سات مقام پر کیا ہے، جن میں سے ایک اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: {إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ } "بیشک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے سب آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کیا ہے پھر عرش پر مستوی ہوا، وہ رات سے دن ایسے طور پر چھپا دیتا ہے کہ وہ رات اس د ن کو جلدی سے آ لیتی ہے اور سورج اور چاند اور دوسر ے ستاروں کو پیدا کیا ایسے طور پر کہ سب اس کے حکم کے تابع ہیں، یاد رکھو اللہ ہی کے لئے خاص ہے خالق ہونا اور حاکم ہونا بڑی خوبیوں سے بھرا ہوا اللہ جو تمام عالم کا رب ہے"۔ [الأعراف: ۵۴] اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’ ’لَمَّا قَضَى اللَّهُ الخَلْقَ، كَتَبَ كِتَابًا عِنْدَهُ: غَلَبَتْ، أَوْ قَالَ سَبَقَتْ رَحْمَتِي غَضَبِي، فَهُوَ عِنْدَهُ فَوْقَ العَرْشِ‘‘۔ اللہ جب ساری مخلوق پیدا کر چکا تو اس نے اپنے پاس ایک کتاب لکھ کر رکھ لیا ( اس میں یوں ہے) میری رحمت میرے غصے پر غالب ہے یا میرے غصے سے آگے بڑھ چکی ہےاور وہ اس کے پاس عرش کے اوپر ہے۔ (صحیح بخاری: ۷۵۵۳، صحیح مسلم : ۲۷۵۱، جامع الترمذی: ۳۵۴۳، سنن ابن ماجہ: ۱۸۹) لالکائى نے ابن عیینہ سے بیان کیا ہے کہ ابن عیینہ نے فرمایا کہ: ربیعہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى} کے سلسلے میں سوال کیا گیا کہ وہ کیسے مستوی ہوا؟ تو انہوں نے جواب دیا: الِاسْتِوَاءُ غَيْرُ مَجْهُوَلٍ وَالْكَيْفُ غَيْرُ مَعْقُولٍ ، وَمِنَ اللَّهِ الرِّسَالَةُ وَعَلَى الرَّسُولِ الْبَلَاغُ ، وَعَلَيْنَا التَّصْدِيقُ‘‘۔ استواء نا معلوم نہیں ہے اور اس کی کیفیت کى ادراک نہیں کیا جاسکتا، بس یہ اللہ کا پیغام ہے اور اسے رسول پر پہونچانے کی اور ہم پراس کی تصدیق کرنے کی ذمہ داری ہے۔ (شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة: ۳/۴۴۲، العرش للذہبی : ۲/۲۱۳) اور اسی طرح کا قول امام دار الہجرہ امام مالک رحمہ اللہ سے بھی نقل کیا گیا ہے۔ ( الحلية لأبی نعيم في: 6/ 325، 326، سنن البيهقي في الأسماء والصفات : 304/2، اور التمهيد لابن عبدالبر:7/ 138)۔ اور امام ذہبی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ علما نے امام مالک کے قول: ’’الاستواء معلوم، والكيف مجهول، والإيمان به واجب، والسؤال عنه بدعة‘‘ کواسماء وصفات کے باب میں قاعدہ بنا لیا ہے جس کے مطابق وہ اپنى بات اس باب میں کہتے ہیں۔( العلو للذہبی : ۱۱۷/ ۱)

اللہ تعالیٰ کی ایک صفت المحبۃ ( محبت کرنا) ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ} "اللہ تعالیٰ بہت جلد ایسی قوم کو لائے گا جو اللہ کی محبوب ہوگی اور وہ بھی اللہ سے محبت رکھتی ہوگی"۔ [المائدۃ: ۵۴] امام دارمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’ فَجَمَعَ بَيْنَ الْحُبَّيْنِ: حُبِّ الْخَالِقِ وَحُبِّ الْمَخْلُوقِ، مُتَقَارِنَيْنِ، ثُمَّ فَرَّقَ بَيْنَ مَا يُحِبُّ وَمَا لَا يُحِبُّ، لِيَعْلَمَ خَلْقُهُ أَنَّهُمَا مُتَضَادَّانِ غَيْرُ مُتَّفِقَيْنِ، فَقَالَ: {لَا يُحِبُّ اللَّهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنْ الْقَوْل} (النساء : ۱۴۸) ، وَ {إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِين}(الأنعام : ۱۴۱)‘‘۔ اللہ تعالى نے ایک ہی جگہ خالق کی محبت اور مخلوق کی محبت کو جمع کردیا ہے، پھر تفریق بیان کى ہے اس چیز جس سے محبت کرنا چاہئے کے درمیان اور اس چیز کے مابین جس سےمحبت نہیں کیا جانا چاہئے تاکہ اس کی مخلوق جان لے کہ دونوں الگ الگ چیزیں ہیں، ایک نہیں ہیں، اسی لئے فرمایا: {لَا يُحِبُّ اللَّهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنْ الْقَوْل} برائی کے ساتھ آواز بلند کرنے کو اللہ پسند نہیں فرماتا ہے اور فرمایا: {إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِين} وہ حد سے تجاوز کرنے والے کو پسند نہیں کرتا ہے۔ (نقض الدارمی : ۲/ ۸۶۵)

اور فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ} "اللہ توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے"۔ [البقرۃ: ۲۲۲] سھل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے خیبر کے دن فرمایا: ’’لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يُفْتَحُ عَلَى يَدَيْهِ، يُحِبُّ اللَّهَ وَ رَسُولَهُ، وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ‘‘۔ کل میں جھنڈا ایسے آدمی کو دوں گا جس کے ہاتھوں پر فتح کیا جا ئے گا، جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول ا س سے محبت کرتے ہیں۔ (صحیح بخاری: ۳۰۰۹، صحیح مسلم: ۲۴۰۶، سنن أبی داود: ۳۶۶۱) اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’ ’لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ، حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ‘‘۔ تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا تا آنکہ میں اس کے نزدیک اس کے باپ، اس کے لڑکے اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤ ں۔ (صحیح بخاری: ۱۵، صحیح مسلم: ۴۴، سنن النسا ئی: ۵۰۱۳، سنن ابن ماجہ: ۶۷ )

اور اللہ کی ایک صفت الرضاء ( خوش ہونا) ہے، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ} "اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وہ سب اس سے راضی ہوئے"۔ [التوبۃ:۱۰۰] اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں کہ ’’فَقَدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنَ الْفِرَاشِ فَالْتَمَسْتُهُ فَوَقَعَتْ يَدِي عَلَى بَطْنِ قَدَمَيْهِ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ وَهُمَا مَنْصُوبَتَانِ وَهُوَ يَقُولُ: میں نے ایک رات اللہ کے رسول ﷺ کو بستر سے غائب پایا تو میں نے انہیں تلاش کیا تو اچانک میرا ہاتھ آپ کے دونوں قدموں کے تلوے پر جا پڑا دراں حال کہ آپ سجدہ میں تھے اور آپ کے دونوں پاؤں کھڑے تھے اور(آپ ﷺ) کہہ رہے تھے: ’’اللهُمَّ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ‘‘۔ اے اللہ! میں پناہ مانگتا ہوں تیری رضا کے ذریعے سے تیری ناراضی سے اور تیری عافیت کے ذریعے سے تیری سزا سے، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں تیری ذات کے ذریعے سےتیرے قہر و غضب سے، میں تیری تعریف کا شمار نہیں کر سکتا، تو ویسا ہی ہے جیسے تو نے خود اپنی تعریف بیان کی ہے۔ ( صحیح مسلم: ۴۸۶، سنن أبی داود: ۸۷۹ ، جامع الترمذی: ۳۴۹۳، سنن النسا ئی: ۱۶۹ ، سنن ابن ماجہ: ۳۸۴۱)

اللہ کی ایک صفت کراھیتہ لأعداءہ (دشمنوں کو نا پسند کرنا) ہے، یہ اس لئے کہ انہوں نےاللہ کے رسول ﷺ پر نازل کردہ احکام اور خوشنودئ الہی کو ناپسند کیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {ذَلِكَ بِأَنَّهُمُ اتَّبَعُوا مَا أَسْخَطَ اللَّهَ وَكَرِهُوا رِضْوَانَهُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَهُمْ} یہ "اس بنا پر کہ یہ وہ راہ چلے جس سے انہوں نے اللہ کو ناراض کر دیا اورانہوں نے اس کی رضا مندی کو برا جانا، تو اللہ نے ان کے اعمال اکارت کر دیئے"۔ [محمد: ۲۸] اور اس کا فر مان ہے: {وَلَكِنْ كَرِهَ اللَّهُ انْبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَقِيلَ اقْعُدُوا مَعَ الْقَاعِدِينَ} "لیکن اللہ کو ان کا اٹھنا پسند ہی نہ تھا اس لئے انہیں حرکت سے ہی روک دیا اور کہہ دیا گیا کہ تم بیٹھنے والوں کیساتھ بیٹھے رہو"۔ [التوبۃ: ۴۶] ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’إِذَا أَحَبَّ عَبْدِي لِقَائِي أَحْبَبْتُ لِقَاءَهُ، وَإِذَا كَرِهَ لِقَائِي كَرِهْتُ لِقَاءَهُ‘‘۔ جب میرا بندہ میری ملاقات کو محبوب جانتا ہے ہے تو میں بھی اس کی ملاقات کو محبوب رکھـا ہوں، اور جب وہ میری ملاقات کو نا پسند کرتا ہے تو میں بھی اس کی ملاقات کو نا پسند کرتا ہوں۔ (صحیح بخاری: ۷۵۰۴، سنن النسا ئی: ۱۸۳۵)

اللہ کی ایک صفت الغضب علی أعدائہ( دشمنوں سے غصہ ہونا) ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَلَعَنَهُمْ} "اللہ ان پر ناراض ہوا اور انہیں لعنت کی"۔ [الفتح: ۶] ابن عباس رضی اللہ عنہما فر ماتے ہیں: ’’اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى مَنْ قَتَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى قَوْمٍ دَمَّوْا وَجْهَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‘‘ اللہ کا غصہ اس شخص پر سخت ہوگیا جسے نبی ﷺ نے اللہ کی راہ میں قتل کیا اور اللہ کا غصہ اس قوم پر سخت ہوگیا جنہوں نے نبی ﷺ کا چہرہ لہو لہان کردیا۔ (صحیح بخاری: ۴۰۷۴)

اللہ کی ایک صفت المقت( ناراض ہونا) یعنی اللہ کا کافروں سے نا راض ہونا ہے، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا يُنَادَوْنَ لَمَقْتُ اللَّهِ أَكْبَرُ مِنْ مَقْتِكُمْ أَنْفُسَكُمْ} بیشک "جنہوں نے کفر کیا انہیں آواز دی جائے گی کہ یقیناً اللہ کا تم پر غصہ ہونا اس سے بہت زیادہ ہے جو تم غصہ ہوتے تھے اپنے جی سے"۔ [غافر: ۱۰]

اللہ کی ایک صفت مکرہ بأعداءہ الذی یمکرون بأولیائہ ہے( اس کا اپنے ان دشمنوں کے ساتھ چال چلنا ہے جو لوگ اس کے اولیاء کے ساتھ چال چلتے ہیں یعنی اللہ ان کی چالبازیوں کا انہیں جواب دیتا ہے)، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَمَكَرُوا مَكْرًا وَمَكَرْنَا مَكْرًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ *۔ "انہوں نے مکر (خفیہ تدبیر) کیا اور ہم نے بھی اور وہ اسے سمجھتے ہی نہ تھے۔ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ أَنَّا دَمَّرْنَا هُمْ وَ قَوْمَهُمْ أَجْمَعِينَ} (اب) دیکھ لے ان کے مکر کا انجام کیسا کچھ ہوا؟ کہ ہم نے ان کو اور ان کی قوم کو سب کو غارت کردیا"۔ [النمل: ۵۰- ۵۱]

اللہ کی ایک صفت الأسف(شدید غصہ ہونا) ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فَلَمَّا آسَفُونَا انْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَأَغْرَقْنَاهُمْ أَجْمَعِينَ } "پھر جب انہوں نے ہمیں غصہ دلایا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور سب کو ڈبو دیا"۔ [الزخرف: ۵۵] قتادہ اور سدی فرماتے ہیں کہ: {فَلَمَّا آسَفُونَا } کا معنی ہے ’’أغضبونا‘‘ انہوں نے ہمیں غصہ دلایا۔ ( تفسیر الطبری : ۶۲۲/ ۲۱)

اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ایک صفت مخادعۃ من یخادعہ (دھوکہ دینے والوں کو دھوکہ دینا ) ہے، سو اللہ ان منافقوں کو دھوکہ دیتا ہے جو اسے دھوکہ دیتے ہیں (یعنی ان کی چالبازیوں کا اللہ انہیں بدلہ دیتا ہے)، جیسا کہ اللہ عزوجل نے فرمایا: {يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۚ وَمَا يَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ وَمَا يَشْعُرُوْنَ } "وہ اللہ تعالیٰ اور ایمان والوں کو دھوکا دیتے ہیں، لیکن دراصل وہ خود اپنے آپ کو دھوکا د ے رہے ہیں مگر سمجھتے نہیں"۔ [البقرۃ: ۹] اور اللہ نے فرمایا: {إِنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ} "بیشک منافق اللہ سے چال بازیاں کر رہے ہیں اور وہ انہیں اس چالبازی کا بدلہ دینے والا ہے"۔ [النساء: ۱۴۲]

اللہ تعالیٰ نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کو ایسے ہی بھلا د ے گا جیسے انہوں نے اس کی ملاقات کو بھلا دیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَهُمْ لَهْوًا وَلَعِبًا وَغَرَّتْهُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا فَالْيَوْمَ نَنْسَاهُمْ كَمَا نَسُوا لِقَاءَ يَوْمِهِمْ هَذَا} "جنہوں نے دنیا میں اپنے دین کو لہو و لعب بنا رکھا تھا اور جن کو دنیاوی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا سو ہم (بھی) آج کے روز ان کا نام بھول جائیں گے، جیسا کہ وہ اس د ن کوبھول گئے"۔ [الأعراف:۵۱]

اللہ کی ایک صفت اس شخص کے ساتھ استہزاء کرنا بھی ہے جو اس کے ساتھ استہزاء کرتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَ يَمُدُّهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ } "اللہ تعالیٰ بھی ان سے مذاق کرتا ہے اور انہیں ان کی سرکشی اور بہکاو ے میں اور بڑھا دیتا ہے"۔ [البقرۃ: ۱۵] ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ: ’’ يسخر بهم للنقمة منهم‘‘۔ وہ ان سے بطور عقوبت ان کے ساتھ مذاق کررہا ہے۔ ( تفسیر الطبری: ۳۰۴/ ۱، التفسیر لابن أبی حاتم: ۱۴۳)

اللہ تعالیٰ کی ایک صفت الضحک (ہنسنا)ہے، جیسا کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’يَضْحَكُ اللَّهُ إِلَى رَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الآخَرَ يَدْخُلاَنِ الجَنَّةَ‘‘۔ اللہ ان دونوں آدمیوں پر ہنستا ہے جن میں کا ایک دوسرے کو قتل کردیتا ہے لیکن پھر بھی دونوں جنت میں داخل ہو تے ہیں۔ ( صحیح بخاری: ۲۸۲۶، صحیح مسلم: ۱۸۹۰، سنن النسا ئی: ۳۱۶۶، سنن ابن ماجہ: ۱۹۱) بروز قیامت اللہ تعالیٰ کے دیدار کے سلسلے میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک طویل حدیث ہے جس میں جنت میں سب سے آخر میں داخل ہونے والوں کا ذکر کیا گیا، اسی میں ہے کہ: ’’فَيَقُولُ اللَّهُ: وَيْحَكَ يَا ابْنَ آدَمَ، مَا أَغْدَرَكَ، أَلَيْسَ قَدْ أَعْطَيْتَ العُهُودَ وَالمِيثَاقَ، أَنْ لاَ تَسْأَلَ غَيْرَ الَّذِي أُعْطِيتَ؟ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ لاَ تَجْعَلْنِي أَشْقَى خَلْقِكَ، فَيَضْحَكُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ، ثُمَّ يَأْذَنُ لَهُ فِي دُخُولِ الجَنَّةِ.....‘‘۔ پھر اللہ کہے گا کہ ابن آدم ! تجھ پر افسوس ہے تجھے کس چیز نے دھو کے میں ڈال دیا، کیا تو نے عہد و میثاق نہیں لیا تھا کہ اپنی دی ہوئی چیزوں کے علاوہ تو کچھ نہ مانگنا؟ تو وہ کہے گا اے رب ! تو مجھے اپنی مخلوق میں سب سے بد بخت شخص نہ بنا، تو اللہ عزوجل اس پر ہنسے گا پھر اسے جنت میں داخلے کی اجازت د ے د ے گا۔ (صحیح بخاری: ۸۰۶)

امام وکیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: ’’إِذَا سُئِلْتُمْ: هَلْ يَضْحَكُ رَبُّنَا؟ فَقُولُوا: كَذَلِكَ سَمِعْنَا‘‘۔ جب تم سے پوچھا جائے کہ کیا ہمارا رب ہنستا ہے؟ تو کہہ دو کہ اسی طرح ہم نے سنا ہے۔ ( شرح اعتقاد أہل السنۃ والجماعۃ : ۴۷۷/ ۳)

حافظ ابن بطہ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’الإبانۃ‘‘ میں باب باندھا ہے’’بَابُ الْإِيمَانِ بِأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَضْحَكُ‘‘۔ اس بات پر ایمان کا بیان کہ اللہ عزوجل ہنستا ہے۔ پھر اسی باب کے تحت فر مایا کہ: "جان لو - اللہ تم پر رحم کرے - کہ حق کے پیروکار مومنوں کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ صحیح آثار کی تصدیق کرتے ہیں اور ان کو قبول کرتے ہیں اور قیاس کے ذریعہ اس پر اعتراض نہیں کرتے ہیں اور نہ ہی ذاتی رجحانات کی بنیاد پر اپنی رائے قائم کرتے ہیں۔ بے شک ایمان تصدیق کا نام ہے اور مومن تصدیق کرنے والا ہے، اللہ عز وجل نے فرمایا: {فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَــرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا} "سو قسم ہے تیرے رب کی ! یہ مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کردیں ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کرلیں"۔ [النساء: ۶۵] پس مومنوں کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ اللہ کی وہی صفت بیان کریں جو اس نے اپنے لئے بیان کیا ہے اور جو اللہ کے رسول ﷺ نے بیان کیا ہے اور انہیں میں سے جو علماء نے نقل کیا اور ثقہ راویوں نے اسے روایت کیا ہے یعنی جو لوگ ان روایات یعنی حلال و حرام اور سنن و آثار میں حجت ہیں، اللہ کے رسول ﷺ سے جو ثابت ہے اس میں وہ کیوں اور کیسے (جیسے سوالات کے ذریعہ اعتراض) نہیں کرتے بلکہ اس کی اتباع کرتے ہیں، بدعت نہیں ایجاد کرتے ہیں،اسے تسلیم کرتے ہیں لیکن اعراض نہیں کرتے، وہ یقین کرتے ہیں لیکن شک نہیں کرتے کیوں کہ نبی ﷺ سے جو ثابت ہے اسے عادل علماء نے روایت کیا ہے، اسی لئے ان کی روایات کا قبول کرنا اور اس کی مخالفت سے بچنا مومنوں پر لازم ہے، یقینا اللہ تعالی ہنستا ہے اس کا انکار نہیں کیا جا سکتا، اس کا انکار وہی کرے گا جو علماء کے نزدیک قابل مذمت اور بدعتی ہے۔ ( الإبانۃ الکبری : ۹۱/ ۷)

اللہ کی ایک صفت المجئ یعنی آنا بھی ہے کیوں کہ بروز قیامت لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لئے وہ آئے گا، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ تَاْتِيَهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ اَوْ يَاْتِيَ رَبُّكَ اَوْ يَاْتِيَ بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ ۭ يَوْمَ يَاْتِيْ بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا اِيْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ كَسَبَتْ فِيْٓ اِيْمَانِهَا خَيْرًا ۭ قُلِ انْتَظِرُوْٓا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ } "کیا یہ لوگ اس امر کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا ان کے پاس رب آئے یا آپ کے رب کی کوئی (بڑی) نشانی آئے جس روز آپ کے رب کی کوئی بڑی نشانی آپہنچے گی کسی ایسے شخص کا ایمان اس کے کام نہیں آئے گا جو پہلے سے ایمان نہیں رکھتا یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی نیک عمل نہ کیا ہو آپ فرما دیجئے کہ تم منتظر رہو ہم بھی منتظر ہیں"۔ [الأنعام: ۱۵۸] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {وَجَاءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا} "اور آپ کا رب آئے گا اس حال میں کہ فرشتے صف بصف کھڑے ہو ںگے"۔ [الفجر: ۲۲] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَهُمُ اللَّهُ فِي ظُلَلٍ مِنَ الْغَمَامِ وَالْمَلَائِكَةُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ} "کیا لوگوں کو اس بات کا انتظار ہے کہ ان کے پاس خود اللہ تعالیٰ بادل کے سائبانوں میں آجائے اور فرشتے بھی اور کام انتہا تک پہنچا دیا جائے، اللہ ہی کی طرف سے تمام کام لوٹائے جاتے ہیں"۔ [البقرۃ: ۲۱۰] اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’ يَجْمَعُ اللهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ: مَنْ كَانَ يَعْبُدُ شَيْئًا فَلْيَتَّبِعْهُ۔ اللہ لوگوں کو قیامت کے د ن جمع کر ے گا تو کہے گا: جو جس کی عبادت کرتا تھا وہ اس کے پیچھے ہو جائے۔ اور حدیث آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول تک بیان فرمائی: وَتَبْقَى هَذِهِ الْأُمَّةُ فِيهَا مُنَافِقُو هَا فَيَقُولُونَ هَذَا مَكَانُنَا حَتَّى يَأْتِيَنَا رَبُّنَا، فَإِذَا جَاءَ رَبُّنَا عَرَفْنَاهُ، فَيَأْتِيهِمُ اللَّهُ فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَيَقُولُونَ: أَنْتَ رَبُّنَافَیَتْبَعُوْنَہ‘‘۔ اور یہ امت باقی رہ جا ئے اس حال میں کہ ان میں منافقین بھی ہوں گے، و ہ کہیں گے یہی ہماری جگہ ہے یہاں تک کہ ہمارا رب ہمارے پاس آ جا ئے گا اور جب ہمارا رب ہمارے پاس آجا ئے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے تو اللہ ان کے پاس آئے گا اور کہے گا میں تمہارا رب ہوں تو وہ لوگ بھی کہیں گے کہ تو ہمارا رب ہے اور اس کے پیچھے ہو جا ئیں گے۔ (صحیح بخاری: ۸۰۶، صحیح مسلم: ۱۸۲، سنن أبی داود: ۴۷۳۰ ، جامع الترمذی: ۲۵۵۴، سنن ابن ماجہ: ۱۷۸)

اور ابو العالیہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے تعلق سے مروی ہے: {هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَهُمُ اللَّهُ فِي ظُلَلٍ مِنَ الْغَمَامِ وَالْمَلَائِكَةُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ} "کیا لوگوں کو اس بات کا انتظار ہے کہ ان کے پاس خود اللہ تعالیٰ بادل کے سائبانوں میں آجائے اور فرشتے بھی اور کام انتہا تک پہنچا دیا جائے، اللہ ہی کی طرف سے تمام کام لوٹائے جاتے ہیں"۔ [البقرۃ: ۲۱۰] ابو العالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: فرشتے بدلی کے سایے میں آئیں گے اور اللہ عزوجل جہاں سے چاہے گا آئے گا۔ ( الأسماء و الصفات للبیہقی :۳۷۰/ ۲)

اللہ تعالیٰ کی ایک صفت آسمان دنیا پر نازل ہونا بھی ہے اور یہ نزول حقیقی ہے اور اس کے نزول کی کیفیت اس کے جلال اور عظمت کے اعتبار سے ہوگی، دیگر مخلوق کی طرح اس کا نزول نہیں ہوگا بلکہ یہ صفت بھی ان تمام صفات کی طرح ہے جن پر ہم ایمان لاتے ہیں اور جنہیں ہم جانتے ہیں لیکن اس کی کیفیت سے نا واقف ہیں اور ہم اسے رد بھی نہیں کر سکتے بلکہ ہم اس پر اسی طرح ایمان لاتے ہیں جیسا کہ ہمیں صادق و مصدوق رسولﷺ نے بتایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’ ’إِذَا مَضَى شَطْرُ اللَّيْلِ، أَوْ ثُلُثَاهُ، يَنْزِلُ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَقُولُ: هَلْ مِنْ سَائِلٍ يُعْطَى؟ هَلْ مِنْ دَاعٍ يُسْتَجَابُ لَهُ؟ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ يُغْفَرُ لَهُ؟ حَتَّى يَنْفَجِرَ الصُّبْحُ‘‘۔ جب رات کا آدھا یا دو تہائی حصہ گزر جاتا ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ آسمان دنیا پر نازل ہوتا ہےاور کہتا ہے کیا کوئی مانگنے والا ہے جسے دیا جا ئے؟ کیا کوئی پکارنے والا ہے جس کی پکار قبول کی جا ئے؟ کیا کوئی مغفرت طلب کرنے والا ہے کہ اس کی مغفرت کی جائے؟ یہاں تک صبح صادق ہو جاتی ہے۔ (صحیح مسلم: ۷۵۸)

امام الأئمہ امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’ التوحید ‘‘ میں یہ باب باندھا ہے: ’’بَابُ ذِكْرِ أَخْبَارٍ ثَابِتَةِ السِّنْدِ صَحِيحَةِ الْقَوَامِ رَوَاهَا عُلَمَاءُ الْحِجَازِ وَالْعِرَاقِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نُزُولِ الرَّبِّ جَلَّ وَعَلَا إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا كُلَّ لَيْلَةٍ، نَشْهَدُ شَهَادَةَ مُقِرٍّ بِلِسَانِهِ، مُصَدِّقٍ بِقَلْبِهِ ، مُسْتَيْقِنٍ بِمَا فِي هَذِهِ الْأَخْبَارِ مِنْ ذِكْرِ نُزُولِ الرَّبِّ مِنْ غَيْرِ أَنْ نَصِفَ الْكَيْفِيَّةَ، لِأَنَّ نَبِيَّنَا الْمُصْطَفَى لَمْ يَصِفْ لَنَا كَيْفِيَّةَ نُزُولِ خَالِقِنَا إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا، أَعْلَمَنَا أَنَّهُ يَنْزِلُ وَاللَّهُ جَلَّ وَعَلَا لَمْ يَتْرُكْ، وَلَا نَبِيُّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بَيَانَ مَا بِالْمُسْلِمِينَ الْحَاجَةُ إِلَيْهِ، مِنْ أَمْرِ دِينِهِمْ فَنَحْنُ قَائِلُونَ مُصَدِّقُونَ بِمَا فِي هَذِهِ الْأَخْبَارِ مِنْ ذِكْرِ النُّزُولِ غَيْرِ مُتَكَلِّفِينَ الْقَوْلَ بِصِفَتِهِ أَوْ بِصِفَةِ الْكَيْفِيَّةِ، إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَصِفْ لَنَا كَيْفِيَّةَ النُّزُولِ‘‘۔ صحیح اور مضبوط سند سے ثابت خبروں کے بیان کا باب جسے علماء حجاز اور علماء عراق نے نبی ﷺ سے اللہ تعالی کے ہر رات میں آسمان دنیا پر نازل ہونے کے سلسلے میں روایت کیا ہے، ہم اپنی زبان سے اقرار کرتے ہو ئے، دل سے تصدیق کرتے ہو ئے اور ان خبروں پر یقین کرتے ہو ئے گواہی دیتے ہیں کہ کسی کیفیت کو بیان کئے بغیر اللہ تعالی کے نزول کا ذکر آیا ہے کیوں کہ نبی ﷺ نے ہمارے لئے اللہ کے آسمان دنیا پر نازل ہونے کی کوئی کیفیت نہیں بیان کی ہے، آپ نے ہمیں یہ بتا دیا ہے کہ اللہ عز وجل نازل ہوتا ہے، آپ نے چھوڑا نہیں ہے اور نہ نبی علیہ السلام نے اس چیز کا بیان چھوڑا ہے جو مسلمانوں کی ضرورت ہے، یعنی دینی احکام و مسائل، ہم ان خبروں میں آئی ہوئی تمام باتوں یعنی نزول کا اقرار اور تصدیق کرتے ہیں، کیفیت بیان کئے بغیر یا اس صفت پر کچھ کہے بغیر کیوں کہ نبی ﷺ نے ہمارے لئے کیفیت نزول کو بیان نہیں کیا ہے۔ ( التوحید لابن خزیمۃ : ۱/۲۸۹)

اور حافظ ابن بطہ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’الإبانۃ‘‘ میں باب باندھا ہے’’بَابُ الْإِيمَانِ وَالتَّصْدِيقِ بِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَنْزِلُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا مِنْ غَيْرِ زَوَالٍ وَلَا كَيْفٍ. ثم قَالَ رَحِمَهُ اللَّهُ: اس بات پر ایمان اور تصدیق کا باب کہ اللہ تعالیٰ بغیر کسی زوال اور بلا کسی کیفیت کے ہر رات میں آسمان دنیا کی طرف نازل ہوتا ہے، پہر آن رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اعْلَمُوا رَحِمَكُمُ اللَّهُ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَى عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ طَاعَةَ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَبُولَ مَا قَالَهُ وَجَاءَ بِهِ، وَالْإِيمَانَ بِكُلِّ مَا صَحَّتْ بِهِ عَنْهُ الْأَخْبَارُ، وَالتَّسْلِيمَ لِذَلِكَ بِتَرْكِ الِاعْتِرَاضِ فِيهَا وَضَرْبِ الْأَمْثَالِ وَالْمَقَايِيسِ إِلَى قَوْلِ: لِمَ , وَلَا كَيْفَ؟ وَقَدْ صَحَّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: جان لو -اللہ تم پر رحم فرما ئے- اللہ نے اپنے مومن بندوں پر اپنے رسول ﷺ کی اطاعت اور ان کی کہی اور لائی ہوئی باتوں کا قبول کرنا، ہر اس بات پر ایمان لانا جس کے سلسلے میں خبریں صحیح ہیں‘ انہیں اعتراض اور مثال بیان کئے بغیر اور کیوں اور کیسے کہے بغیر تسلیم کرنا فرض قرار دیا ہے، نبی ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الآخِرُ يَقُولُ: مَنْ يَدْعُونِي، فَأَسْتَجِيبَ لَهُ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ، مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ‘‘۔ اللہ تبارک و تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف ہر رات ناز ل ہوتا ہے جب رات کا آخرى تہا ئی حصہ باقى رہ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ کون مجھے پکارے گا کہ میں اس کی پکار قبول کروں؟ کون مجھ سے مانگے گا کہ میں اسے دوں؟ کون مجھ سے مغفرت طلب کرنے والا ہے کہ میں اس کی مغفرت کرو ں۔ وَ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ سَنَذْكُرُهُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِتَمَامِهِ، رَوَاهُ الْأَئِمَّةُ الْمُحَدِّثُونَ الثِّقَاتُ، وَالْمُثْبِتُونَ وَالْفُقَهَاءُ الْوَرِعُونَ، الَّذِينَ نَقَلُوا إِلَيْنَا شَرِيعَةَ الْإِسْلَامِ وَدَعَائِمَهُ مِثْلَ الصَّلَاةِ، وَالزَّكَاةِ، وَالصِّيَامِ، وَالْحَجِّ، وَالْجِهَادِ، وَمَا يَتْلُو ذَلِكَ مِنْ سَائِرِ الْأَحْكَامِ مِنَ النِّكَاحِ، وَالطَّلَاقِ، وَالْبُيُوعِ، وَ الْحَلَالِ، وَالْحَرَامِ‘‘۔ ایک لمبی حدیث ہے ان شاء اللہ اسے ہم پورا ذکر کریں گے، جسے ثقات محدثین ائمہ، اہل اثبات اور پرہیز گار فقہاء نے روایت کیا ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہم تک اسلامی شریعت اور اس کے دعائم کو منتقل کیا جیسے نماز، زکوۃ، روزہ، حج اور جہاد اور ان کے علاوہ دیگر شرعی احکام، جیسے نکاح، طلاق، بیوع اور حلال و حرام تک سے ہمیں آگا ہ کیا ہے۔ (الإبانۃ الکبری: ۷/ ۲۰۱) ( حدیث کا حوالہ: صحیح بخاری: ۱۱۴۵، صحیح مسلم: ۷۵۸ ، سنن أبی داود: ۱۳۱۵، جامع الترمذی: ۴۴۶، سنن ابن ماجہ: ۱۳۶۶)

ہم اللہ رب العالمین کی صفت معیت پربھی ایمان لاتے ہیں، اس طرح سے کہ وہ اپنے علم، اپنے احاطہ اور اپنے مشیئت کے ساتھ ہےاپنی مخلوق کے ساتھ ہے، اللہ تعالیٰ کی اس صفت پر کتاب و سنت میں بے شمار دلیلیں موجودہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَا يَكُونُ مِنْ نَجْوَى ثَلَاثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَلَا أَدْنَى مِنْ ذَلِكَ وَلَا أَكْثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمْ أَيْنَ مَا كَانُوا ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ} "کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ آسمانوں کی اور زمین کی ہر چیز سے واقف ہے، تین آدمیوں کی سرگوشی نہیں ہوتی مگر اللہ ان کا چوتھا ہوتا ہے اور نہ پانچ کی مگر ان کا چھٹا وہ ہوتا ہے اور اس سے کم اور نہ زیادہ کی مگر وہ ساتھ ہی ہوتا ہے جہاں بھی وہ ہوں پھر قیامت کے دن انہیں اعمال سے آگاہ کرے گا، بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز سے واقف ہے"۔ [المجادلۃ: ۷]

اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’اِرْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ، إِنَّكُمْ لاَ تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلاَ غَائِبًا، إِنَّكُمْ تَدْعُونَ سَمِيعًا قَرِيبًا وَهُوَ مَعَكُمْ‘‘۔ اپنے آپ پر رحم کرو کیوں کہ تم کسی بہرے یا کسی غائب کونہیں پکار رہے ہو تم ایسے کو پکار رہے ہو جو سننے والا اور قریب ہے بلکہ وہ تمہارے ساتھ ہے۔ (صحیح بخاری: ۴۲۰۵، صحیح مسلم: ۲۷۰۴، سنن أبی داود: ۱۵۲۶، جامع الترمذی: ۳۴۶۱)

معیت الہیہ کی دو قسمیں ہیں:

خاص معیت: یہ تمام رسولوں اور اللہ تعالیٰ کے اولیاء کے لئےخاص ہے، اس کا تقاضہ: مدد اور تأیید ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {قَالَ لَا تَخَافَا إِنَّنِي مَعَكُمَا أَسْمَعُ وَأَرَى} "فرمایا کہ تم دونوں نہ ڈرو، میں تمہارے ساتھ ہوں اور تمہاری سنتا اور تمہیں دیکھتا ہوں"۔ [طہ: ۴۶]

(۲) معیت عامہ : یعنی اللہ تعالی تمام لوگوں کے ساتھ ہے، اس میں مومن و کافر سب شامل ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمْ} "جہاں بھی تم ہوگے وہ تمہارے ساتھ ہوگا"۔ [الحدید: ۴] لیکن یہ بات یاد رہے کہ یہ معیت علم، احاطہ اور قدرت وغلبہ کے اعتبار سے ہے۔

اللہ کی صفت معیت علو الہی کے منافی نہیں ہے کیوں کہ علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ صفت علم اور صفت احاطہ کا معنی ہے کہ اللہ اپنے علم، احاطہ اور قدرت کے اعتبار سے ہمارے ساتھ ہے۔

اللہ کی ایک صفت (العجب) یعنی تعجب کرنا ہے جیسا کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’عَجِبَ اللَّهُ مِنْ قَوْمٍ يَدْخُلُونَ الجَنَّةَ فِي السَّلاَسِلِ‘‘۔ اللہ کو ایسی قوم پر تعجب ہوا جو پابند سلاسل ہو کر جنت میں جا ئے گی۔ (صحیح بخاری: ۳۰۱۰، سنن أبی داود: ۲۶۷۷) عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ’’ يَعْجَبُ رَبُّكُمْ مِنْ رَاعِي غَنَمٍ فِي رَأْسِ شَظِيَّةٍ بِجَبَلٍ، يُؤَذِّنُ بِالصَّلَاةِ، وَيُصَلِّي، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا يُؤَذِّنُ، وَيُقِيمُ الصَّلَاةَ، يَخَافُ مِنِّي، قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي وَأَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ‘‘۔ تمہارا رب بکری کے اس چرواہے پر تعجب کرتا ہے جو کسی پہاڑ کی چوٹی میں رہ کر نماز کے لیے اذان دیتا اور نماز ادا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: دیکھو میرے اس بندے کو، یہ اذان د ے رہا ہے اور نماز قائم کر رہا ہے، مجھ سے ڈرتا ہے، میں نے اپنے بندے کو بخش دیا اور اسے جنت میں داخل کر دیا۔ (سنن أبی داود: ۱۲۰۳، سنن النسائی: ۶۶۶، مسند أحمد: ۱۷۳۱۲، السنۃ لابن أبی عاصم: ۵۸۴، مسند الرویانی: ۲۳۲)

ہمارا ایمان ہے کہ بروز قیامت تمام مومنوں کو دیدار الہی نصیب ہوگا، قرآن و احادیث میں اس پر کئی دلیلیں وارد ہوئی ہیں، بے شمار حدیثوں میں اللہ کے رسول ﷺ نے مومنوں کو یہ بشارت سنائی ہے کہ بروز قیامت تمام مومنوں کو اللہ کا حقیقی دیدار نصیب ہوگا، وہ اللہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے اور یہ بات یاد رہے کہ جنت کی تمام نعمتوں میں اللہ کا دیدار سب سے بڑی نعمت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ *۔ "اس روز بہت سے چہرے ترو تازہ اور بارونق ہوں گے۔ اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ} اپنے رب کی طرف دیکھتے ہونگے"۔ [القیامۃ: ۲۲- ۲۳] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ} "جن لوگوں نے نیکی کی ہے ان کے واسطے خوبی ہے اور مزید برآں بھی"۔ [یونس: ۲۶] ایک اور مقام پر اللہ عز وجل نے فرمایا: {كَلَّا إِنَّهُمْ عَن رَّبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوبُونَ} "ہرگز نہیں یہ لوگ اس دن اپنے رب سے اوٹ میں رکھے جائیں گے"۔ [المطففین: ۱۵] امام مالک رحمہ اللہ سے کہا گیا کہ’’يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ هَلْ يَرَى الْمُؤْمِنُونَ رَبَّهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: لَوْ لَمْ يَرَ الْمُؤْمِنُونَ رَبَّهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَمْ يُعَيِّرِ اللَّهُ الْكُفَّارَ بِالْحِجَابِ , فَقَالَ:۔ اے ابو عبد اللہ! کیا قیامت کے دن مومن اپنے رب کو دیکھ سکیں گے؟ تو آپ نے فر مایا اگر مومن بروز قیامت اپنے رب کا دیدار نہیں کرسکیں گے تو اللہ کافروں کو حجاب واوٹ میں رکھے جانے کا عار نہیں دلاتا چنانچہ اللہ تعالى کا فرمان ہے: {كَلَّا إِنَّهُمْ عَنْ رَبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَمَحْجُوبُونَ} ہرگز نہیں یہ لوگ اس دن اپنے رب سے اوٹ میں رکھے جائیں گے۔ ( شرح أصول إعتقاد أہل السنۃ والجماعۃ : ۴۶۸/ ۲)

اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ’’قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ القِيَامَةِ؟ قَالَ: هَلْ تُضَارُونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ وَالقَمَرِ إِذَا كَانَتْ صَحْوًا؟، قُلْنَا: لاَ، قَالَ: فَإِنَّكُمْ لاَ تُضَارُونَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ يَوْمَئِذٍ، إِلَّا كَمَا تُضَارُونَ فِي رُؤْيَتِهِمَا، ثُمَّ قَالَ: يُنَادِي مُنَادٍ: لِيَذْهَبْ كُلُّ قَوْمٍ إِلَى مَا كَانُوا يَعْبُدُونَ، فَيَذْهَبُ أَصْحَابُ الصَّلِيبِ مَعَ صَلِيبِهِمْ، وَأَصْحَابُ الأَوْثَانِ مَعَ أَوْثَانِهِمْ، وَأَصْحَابُ كُلِّ آلِهَةٍ مَعَ آلِهَتِهِمْ، حَتَّى يَبْقَى مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ، مِنْ بَرٍّ أَوْ فَاجِرٍ، وَغُبَّرَاتٌ مِنْ أَهْلِ الكِتَابِ، ثُمَّ يُؤْتَى بِجَهَنَّمَ تُعْرَضُ كَأَنَّهَا سَرَابٌ، فَيُقَالُ لِلْيَهُودِ: مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ؟ قَالُوا: كُنَّا نَعْبُدُ عُزَيْرَ ابْنَ اللَّهِ، فَيُقَالُ: كَذَبْتُمْ ، لَمْ يَكُنْ لِلَّهِ صَاحِبَةٌ وَلاَ وَلَدٌ، فَمَا تُرِيدُونَ؟ قَالُوا: نُرِيدُ أَنْ تَسْقِيَنَا، فَيُقَالُ: اشْرَبُوا، فَيَتَسَاقَطُونَ فِي جَهَنَّمَ، ثُمَّ يُقَالُ لِلنَّصَارَى: مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ؟ فَيَقُولُونَ: كُنَّا نَعْبُدُ المَسِيحَ ابْنَ اللَّهِ، فَيُقَالُ: كَذَبْتُمْ، لَمْ يَكُنْ لِلَّهِ صَاحِبَةٌ، وَلاَ وَلَدٌ، فَمَا تُرِيدُونَ؟ فَيَقُولُونَ: نُرِيدُ أَنْ تَسْقِيَنَا، فَيُقَالُ: اشْرَبُوا فَيَتَسَاقَطُونَ فِي جَهَنَّمَ، حَتَّى يَبْقَى مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ مِنْ بَرٍّ أَوْ فَاجِرٍ، فَيُقَالُ لَهُمْ: مَا يَحْبِسُكُمْ وَقَدْ ذَهَبَ النَّاسُ؟ فَيَقُولُونَ: فَارَقْنَاهُمْ، وَنَحْنُ أَحْوَجُ مِنَّا إِلَيْهِ اليَوْمَ، وَإِنَّا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي: لِيَلْحَقْ كُلُّ قَوْمٍ بِمَا كَانُوا يَعْبُدُونَ، وَإِنَّمَا نَنْتَظِرُ رَبَّنَا، قَالَ: فَيَأْتِيهِمُ الجَبَّارُ فِي صُورَةٍ غَيْرِ صُورَتِهِ الَّتِي رَأَوْهُ فِيهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ، فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَيَقُولُونَ: أَنْتَ رَبُّنَا، فَلاَ يُكَلِّمُهُ إِلَّا الأَنْبِيَاءُ، فَيَقُولُ: هَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ آيَةٌ تَعْرِفُونَهُ؟ فَيَقُولُونَ: السَّاقُ، فَيَكْشِفُ عَنْ سَاقِهِ، فَيَسْجُدُ لَهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ‘‘۔ ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ ! کیا ہم اپنے رب کو بروز قیامت دیکھیں گے؟ فرمایا کیا تم سب سورج اور چاند کو دیکھنے میں تکلیف محسوس کرتے ہو جب کہ مطلع صاف ہو؟ ہم نے کہا نہیں، فرمایا تم سب اس دن اپنے رب کی کا دیدار کرنے میں بھی تکلیف محسوس نہیں کرو گے جس طرح ان دونوں کے دیدار میں تم سب تکلیف محسوس نہیں کرتے، پھر کہا کہ ایک منادی پکارے گا تاکہ سب لوگ اس کے پاس چلے جا ئیں جس کی وہ عبادت کرتے تھے، بنا بریں اصحاب صلیب اپنے صلیب کے ساتھ چلے جا ئیں گے، اہل بت اپنے بتوں کے ساتھ چلے جا ئیں گے اور ہر معبود والا اپنے معبود کے ساتھ چلا جا ئے گا یہاں تک کہ اللہ کی عبادت کرنے والے چاہے نیک ہوں یا بد باقی رہ جا ئیں گے اور اہل کتاب میں سے بھی کچھ لوگ باقی رہ جائیں گے پھر ان کے پاس جہنم کو لاکر پیش کر دیاجا ئے گا جو ریت کی مانند چمک رہی ہوگی۔ یہودیوں کو کہا جا ئے گا کہ تم کس کی عبادت کرتے تھے؟ وہ کہیں گے ہم اللہ کے بیٹے عزیر کی عبادت کرتے تھے، تو انہیں کہا جا ئے گا کہ تم سب جھوٹ بول رہے ہو کیوں کہ اللہ کے پاس نہ بیوی تھی اور نہ بیٹے، تم کیا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے کہ ہم چاہتے ہیں کہ تو ہمیں سیراب کرے، تو کہا جا ئے گا پیو پھر وہ سب جہنم میں گرا دیئے جائیں گے۔ پھر نصاری کو کہا جا ئے گا تم کس کی عبادت کرتے تھے؟ وہ کہیں گے ہم اللہ کے بیٹے مسیح کی عبادت کرتے تھے تو انہیں کہا جا ئے گا کہ تم سب جھوٹ بول رہے ہو کیوں کہ اللہ کے پاس نہ بیوی تھی اور نہ بیٹے، تم کیا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے کہ ہم چاہتے ہیں کہ تو ہمیں سیراب کرے، تو کہا جا ئے گا پیو پھر وہ سب جہنم میں گرا دیئے جا ئیں گے۔ یہاں تک کہ اللہ کی عبادت کرنے والے چاہے نیک ہوں یا بد باقی رہ جا ئیں گے تو انہیں کہا جا ئے گا کہ تم لوگ کیوں رکے ہوئے ہو جب کہ سب لوگ جا چکے ہیں؟ وہ کہیں گے ہم دنیا میں ان سے جدا ہو گئے تھے جب کہ ہمیں ان کی دنیاوی فائدوں کے لیے بہت زیادہ ضرورت تھی اور ہم نے ایک منادی کو سنا جو کہہ رہا تھا کہ ہر قوم اس کے ساتھ ملحق ہو جائے جس کی وہ عبادت کرتی تھی اور ہم اپنے رب کے منتظر ہیں، بیان کیا کہ پھر جبار ان کے سامنے اس صورت کے علاوہ دوسری صورت میں آئے گا جس میں انہوں نے اسے پہلی مرتبہ دیکھا ہو گا اور کہے گا کہ میں تمہارا رب ہوں اور اس سے صرف انبیاء بات کر پا ئیں گے پھر پوچھے گا: کیا تمہارے درمیان اور اس کے درمیان کوئی ایسی نشانی ہے جسے تم پہچانتے ہو؟وہ کہیں گے : پنڈلی تو وہ اپنی پنڈلی کھول د ے گا اور سارے مومن اس کے لئے سجدے میں گر پڑیں گے۔ (صحیح بخاری: ۷۴۳۹، صحیح مسلم : ۱۸۳)

اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’ ’إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ، كَمَا تَرَوْنَ هَذَا القَمَرَ، لاَ تُضَامُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ‘‘۔ عنقریب تم سب اپنے رب کو دیکھو گے جیسا کہ تم اس چاند کو دیکھتے ہو اسے دیکھنے میں تمہیں کوئی زحمت نہیں ہوتى۔ (صحیح بخاری : ۵۵۴، صحیح مسلم : ۶۳۳، سنن أبی داود : ۴۷۲۹ ، جامع الترمذی : ۲۵۵۱، سنن ابن ماجہ : ۱۷۷)

اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ’ ’أَنَّ النَّاسَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ القِيَامَةِ؟ قَالَ: هَلْ تُمَارُونَ فِي القَمَرِ لَيْلَةَ البَدْرِ لَيْسَ دُونَهُ سَحَابٌ، قَالُوا: لاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَهَلْ تُمَارُونَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ، قَالُوا: لاَ، قَالَ: فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَهُ كَذَلِكَ، يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ القِيَامَةِ، فَيَقُولُ: مَنْ كَانَ يَعْبُدُ شَيْئًا فَلْيَتَّبِعْ، فَمِنْهُمْ مَنْ يَتَّبِعُ الشَّمْسَ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَتَّبِعُ القَمَرَ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَتَّبِعُ الطَّوَاغِيتَ، وَتَبْقَى هَذِهِ الأُمَّةُ فِيهَا مُنَافِقُوهَا، فَيَأْتِيهِمُ اللَّهُ فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَيَقُولُونَ هَذَا مَكَانُنَا حَتَّى يَأْتِيَنَا رَبُّنَا، فَإِذَا جَاءَ رَبُّنَا عَرَفْنَاهُ، فَيَأْتِيهِمُ اللَّهُ فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَيَقُولُونَ: أَنْتَ رَبُّنَا، فَيَدْعُوهُمْ فَيُضْرَبُ الصِّرَاطُ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ جَهَنَّمَ، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يَجُوزُ مِنَ الرُّسُلِ بِأُمَّتِهِ، وَلاَ يَتَكَلَّمُ يَوْمَئِذٍ أَحَدٌ إِلَّا الرُّسُلُ، وَكَلاَمُ الرُّسُلِ يَوْمَئِذٍ: اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ‘‘۔ لوگوں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! کیا ہم بروز قیامت اپنے رب کو دیکھ پا ئیں گے؟ فر مایا: کیا تم چودہویں رات کے چاند کو دیکھنے میں تکلیف محسوس کرتے ہو جب کہ اس کے اوپر بدلی نہ ہو، لوگوں نے کہا: نہیں اے اللہ کے رسول ! پھر آپ نے کہا: کیا تم سب سورج کو دیکھنے میں تکلیف محسوس کرتے ہو جب کہ اس کے او پر بدلی نہ ہو، لوگوں نے کہا: نہیں، فرمایا اسی طرح تم اپنے رب کو دیکھوگے، لوگوں کو قیامت کے دن جمع کیا جا ئے گا، تو وہ(اللہ ) کہے گا: جو جس چیز کی عبادت کرتا تھا وہ اس کے پیچھے ہو جا ئے تو ان میں سے سورج کی عبادت کرنے والا سورج کے پیچھے ہو جا ئے گا اور چاند کی عبادت کرنے والا چاند کے پیچھے ہو جا ئے گا، طاغوت کی عبادت کرنے والا طاغوت کے پیچھے ہو جا ئے گا، یہ امت باقی رہ جائے گی جس میں منافقین بھی ہوں گے تو اللہ ان کے پاس آئے گا اور کہے گا میں تمہارا رب ہوں تو وہ لوگ کہیں گے یہی ہماری جگہ ہے یہاں تک کہ ہمارا رب ہمارے پاس آ ئے گا اور جب ہمارا رب ہمارے پاس آ ئے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے، ان کے پاس اللہ آ ئے گا اور کہے گا میں تمہارا رب ہوں تو لوگ کہیں گے تو ہمارا رب ہے اور وہ لوگوں کو پکارے گا تو پل صراط جہنم کے بیچوں بیچ رکھ دیا جائے گا اور میں اپنی امت کے ساتھ اس سے گزرنے والا سب سے پہلا رسول ہوں گا، اس دن رسولوں کے علاوہ کوئی بھی بات نہ کر سکے گا اور اس دن رسول کہیں گے: اے اللہ! محفوظ رکھ! اے اللہ! محفوظ رکھ ۔ (صحیح بخاری: ۸۰۶، صحیح مسلم: ۱۸۲، سنن أبی داود: ۴۷۳۰ ، جامع الترمذی: ۲۵۵۴، سنن ابن ماجہ: ۱۷۸)

چنانچہ رؤیت الہی کی ساری حدیثیں ۔الحمد للہ۔ اللہ کے رسولﷺ سے تواتر کے ساتھ ثابت ہیں اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: {قَالَ رَبِّ أَرِنِي أَنْظُرْ إِلَيْكَ قَالَ لَنْ تَرَانِي وَلَكِنِ انْظُرْ إِلَى الْجَبَلِ فَإِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهُ فَسَوْفَ تَرَانِي} "فرمایا ! کہ اے میرے رب اپنا دیدار مجھ کو کرا دیجئے کہ میں ایک نظر تجھے دیکھ لوں۔ ارشاد ہوا کہ تم مجھ کو ہرگز نہیں دیکھ سکتے لیکن تم اس پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو وہ اگر اپنی جگہ پر برقرار رہا تو تم بھی مجھے دیکھ سکو گے"۔ (الأعراف : ۱۴۳) میں رویت کى نفى نہیں ہے؛ کیونکہ یہ آیت دنیا کے بارے میں ہے۔ اور یہ بعینہ اس جواب کی طرح ہے جو آپ ﷺ نے ابوذر رضی اللہ عنہ کے ایک سوال پر دیا تھا، ابو ذر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺسے پوچھا کہ کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ تو آپ ﷺ نے جواب دیا تھا کہ ’’نُورٌ أَنَّى أَرَاهُ‘‘ وہ ایک نور ہے، اسے میں کہاں دیکھ سکتا ہوں۔ (صحیح مسلم: ۱۸۷، جامع الترمذی: ۳۲۸۲) اسراء کی رات آپ ﷺ نےاللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کیا تھا، اللہ تعالى نے اسراء کی رات میں جن آیات ونشانیوں کے ساتھ رسول صلى اللہ علیہ وسلم کى تکریم کى تھی ان کے بارے میں ہمیں خبر دیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ} "پاک ہے وہ اللہ تعالیٰ جو اپنے بند ے کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا جس کے آس پاس ہم نے برکت د ے رکھی ہے، اس لئے کہ ہم اسے اپنی بعض آیات ونشانیوں کو دکھائیں، یقیناً اللہ تعالیٰ ہی خوب سننے دیکھنے والاہے"۔ [الإسراء: ۱] دیکھئے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ کہیں نہیں کہا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے، اگر دیکھا ہوتا تو اللہ تعالیٰ ضرور اپنے نبی ﷺ پر بطور احسان اس کا تذکرہ کرتا۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِير } "اس کو تو کسی کی نگاہ محیط نہیں ہوسکتی اور وہ سب نگاہوں کو محیط ہوجاتا ہے اور وہ بڑا باریک بیں بڑا باخبر ہے"۔ [الأنعام: ۱۰۳] یہ آیت بھی رؤیت کی نفی پر دلا لت نہیں کرتی ہے؛ کیوں کہ ادراک کا معنی رؤیت پر اضافہ ہے۔ کیونکہ اس آیت پر سابقہ آیتیں توحید کی تاکید اور اولاد کی نفی کے سلسلے میں آئی ہیں، قیامت کى خبروں کے سلسلے میں نہیں کہ اس آیت کو رؤیت سے جوڑا جاسکے۔

امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’فَهَذِهِ الْأَحَادِيثُ كُلُّهَا وَأَكْثَرُ مِنْهَا قَدْ رُوِّيَتْ فِي الرُّؤْيَةِ، عَلَى تَصْدِيقَهَا وَالْإِيمَانِ بِهَا أَدْرَكْنَا أَهْلَ الْفِقْهِ وَ الْبَصَرِ مِنْ مَشَايِخِنَا، وَلَمْ يَزَلِ الْمُسْلِمُونَ قَدِيمًا وَحَدِيثًا يَرْوُونَهَا وَيُؤْمِنُونَ بِهَا، لَا يَسْتَنْكِرُونَهَا وَلَا يُنْكِرُونَهَا، وَمَنْ أَنْكَرَهَا مِنْ أَهْلِ الزَّيْغِ نَسَبُوهُ إِلَى الضَّلَالِ، بَلْ كَانَ مِنْ أَكْبَرِ رَجَائِهِمْ، وَأَجْزَلِ ثَوَابِ اللَّهِ فِي أَنْفُسِهِمُ النَّظَرُ إِلَى وَجْهِ خَالِقِهِمْ، حَتَّى مَا يَعْدِلُونَ بِهِ شَيْئًا مِنْ نَعِيمِ الْجَنَّةِ ‘‘۔ یہ تمام احادیث بلکہ رؤیت کے سلسلے میں ان سے بھی زیادہ روایات مروی ہیں، ان کی تصدیق کرنا اور ان پر ایمان لانا ضروری ہے، ہم نے اپنے بابصیرت مشائخ بابصیرت اور سمجھ دار علماء کو اسی پر پایا ہے اور قدیم و جدید مسلمانوں نے اسی کو روایت کیا ہے اور اسی پر ایمان لا ئے ہیں، وہ نہ اس کی مذمت کرتے ہیں اور نہ اس کا انکار ہی کرتے ہیں، کجی اختیار کرنے والوں میں سے جس نے اس کا انکار کیا لوگوں نے اسے گمراہی کی طرف منسوب کر دیا۔ بلکہ ان کی سب سے بڑی امید اور ان کے نزدیک سب سے بڑا ثواب روئے باری کا دیدار اور دیکھ لینا ہى ہے، یہاں تک کہ وہ جنت کی نعمتوں کو بھی اس کے برابر نہیں سمجھتے ہیں۔ ( الرد علی الجہمیۃ للدارمی: ص: ۱۲۲)

اور مفسرین کے امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’وَأَمَّا الصَّوَابُ مِنَ الْقَوْلِ فِي رُؤْيَةِ الْمُؤْمِنِينَ رَبَّهَمْ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَهُوَ دِينُنَا الَّذِي نَدِينُ الِلَّهَ بِهِ، وَأَدْرَكْنَا عَلَيْهِ أَهْلَ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ، فَهُوَ: أَنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَرَوْنَهُ عَلَى مَا صَحَّتْ بِهِ الْأَخْبَارُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ‘‘۔ رہی بات مومنوں کے لئے بروز قیامت اپنے رب کو دیدار کرنے کی تو یہ ہمارا دین ہے جس کے ذریعہ ہم اللہ کو پہچانتے اور اس کی اطاعت کرتے ہیں، ہم اہل السنہ والجماعہ کو اسی پرپاتے ہیں، وہی یہ کہ اہل جنت اللہ کو اسی طرح دیکھیں گے جیسا اللہ کے رسول ﷺ نے بتایا ہے۔ ( صریح السنۃ للطبری: ص: ۲۰)

اور امام ابن بطہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’وَإِنَّمَا أَرَادُوا بِجَحْدِ رُؤْيَتِهِ إِبْطَالَ رُبُوبِيَّتِهِ، لِأَنَّهُمْ مَتَّى أَقَرُّوا بِرُؤْيَتِهِ أَقَرُّوا بِرُبُوبِيَّتِهِ؛ لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى جَعَلَ ثَوَابَ مَنْ صَدَّقَ بِهِ بِالْغَيْبِ إِيمَانًا أَنْ يَرَاهُ هَذَا عِيَانًا‘‘۔ اللہ کى رؤیت کے منکرین نے اپنے اس انکار سے درحقیقت اس کى ربوبیت کے ابطال کا قصد کیا ہے کیوں کہ لوگ جب رؤیت کا اقرار کریں گے تو ربوبیت کا بھی اقرار کریں گے؛ کیوں کہ اللہ تعالى نے ایمان بالغیب کے ذریعہ اس کى تصدیق کرنے والے بندے کا ثواب یہی ٹہرایا ہے کہ وہ اسے کھلی آنکھوں سے دیکھے گا۔ ( الإبانۃ الکبری لإبن بطۃ: ۲/ ۷)

اور ولید بن مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ’’سَأَلْتُ الْأَوْزَاعِيَّ، وَمَالِكَ بْنَ أَنَسٍ، وَسُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ، وَاللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ عَنْ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ الَّتِي، فِيهَا الرُّؤْيَةُ وَغَيْرِ ذَلِكَ فَقَالُوا: أَمْضِهَا بِلَا كَيْفٍ‘‘۔ میں نے اوزاعی، مالک بن انس، سفیان ثوری اور لیثث بن سعد سے ان احادیث کی بابت پوچھا جن میں رؤیت وغیرہ کا تذکرہ آیا ہے تو انہوں نے فرمایا بلا کسی کیفیت کے اسے گزارو۔ ( الصفات للدار قطنی: ص: ۷۵)

ہم مانتے ہیں کہ اللہ کا چہرہ ہے لیکن ہم یہ بھی مانتے ہیں کہ اس کا چہرہ اسی طرح ہے جو اس کے جلال اور عظمت کو زیبا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ لَهُ الْحُكْمُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ} "ہر چیز فنا ہونے والی ہے مگر اس کا چہرہ اسی کے لئے فرمانروائی ہے اور تم اس کی طرف لو ٹائے جاؤ گے"۔ [القصص: ۸۸] اور اللہ عز وجل نے فر مایا: {وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ} "صرف تیرے رب کی ذات جو عظمت اور عزت والی ہے باقی رہ جائے گی"۔ [الرحمن: ۲۷] اور اللہ عز وجل نے فر مایا: { وَالَّذِينَ صَبَرُوا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ} "اور وہ اپنے رب کی رضامندی کی طلب کے لئے صبر کرتے ہیں"۔ [الرعد: ۲۲] اور فرمایا: {إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلَى} "بلکہ صرف اپنے رب بزرگ و بلند کے چہرے کے دیدار کے لئے"۔ [اللیل: ۲۰] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: { يُرِيدُونَ وَجْهَهُ} "خاص اس کے چہرے کا قصد رکھتے ہیں"۔ [الأنعام: ۵۲] اور اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جَنَّتَانِ مِنْ فِضَّةٍ آنِيَتُهُمَا، وَمَا فِيهِمَا، وَجَنَّتَانِ مِنْ ذَهَبٍ آنِيَتُهُمَا، وَمَا فِيهِمَا، وَمَا بَيْنَ الْقَوْمِ وَبَيْنَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَى رَبِّهِمْ إِلَّا رِدَاءُ الْكِبْرِيَاءِ عَلَى وَجْهِهِ فِي جَنَّةِ عَدْنٍ‘‘۔ چاندی کی دو جنتیں ہوں گی اور ان دونوں کے برتن اوران دونوں کی چیزیں(چاندی کی ہوں گی)۔ اور سونے کی دو جنتیں ہوں گی اور ان دونوں کے برتن اوران دونوں کی چیزیں (سونےکی ہوں گی) اورقوم اور اس کے اپنے رب کے دیکھنے کے درمیان کوئی چیزنہیں ہوگی، سوائے اس کے چہر ے پر کبریاء کی چادر کے، جنت عدن میں۔ (صحیح بخاری: ۴۸۷۸، صحیح مسلم: ۱۸۰ ، جامع الترمذی: ۲۵۲۸، سنن ابن ماجہ: ۱۸۶)

اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنَامُ، وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ، يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَيَرْفَعُهُ، يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلَ عَمَلِ النَّهَارِ، وَعَمَلُ النَّهَارِ قَبْلَ عَمَلِ اللَّيْلِ، حِجَابُهُ النُّورُ - وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ: النَّارُ - لَوْ كَشَفَهُ لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ مَا انْتَهَى إِلَيْهِ بَصَرُهُ مِنْ خَلْقِهِ‘‘۔ اللہ عزوجل نہیں سوتا اور نہ ہی سونا اس کے لئے مناسب ہے، وہ ترازو کو اوپر نیچے کرتا ہے، رات کا عمل دن کے عمل سے پہلے اور دن کا عمل رات کے عمل سے پہلےاس کے پاس پیش کیا جاتا ہے، اس کا پردہ نور ہے۔ اگر وہ اسے کھول دے تو اس کے چہرے کا جمال وجلال ان تمام مخلوقات کو جلادے گا جہاں تک اس کى نگاہ پہونچے گى۔ (صحیح مسلم: ۱۷۹، سنن ابن ماجہ۔: ۱۹۵، ۱۹۶)

اور ابو عثمان الصابونی رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’وكذلك يقولون في جميع الصفات التي نزل بذكرها القرآن، ووردت به الأخبار الصحاح من السمع والبصر والعين والوجه والعلم والقوة والقدرة والعزة والعظمة والإرادة والمشيئة والقول والكلام والرضا والسخط والحب و البغض والفرح والضحك وغيرها من غير تشبيه لشيء من ذلك بصفات المربوبين المخلوقين، بل ينتهون فيها إلى ما قاله الله تعالى و قاله رسوله صلى الله عليه وسلم من غير زيادة عليه، ولا إضافة إليه، ولا تكييف له، ولا تشبيه، ولا تحريف، ولا تبديل، ولا تغيير، ولا إزالة للفظ الخبر عما تعرفه العرب وتضعه عليه بتأويل منكر مستنكر، ويجرونه على الظاهر، ويكلون علمه إلى الله تعالى، ويقرون بأن تأويله لا يعلمه إلا الله، كما أخبر الله عن الراسخين في العلم أنهم يقولونه في قوله تعالى: {وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُوْلُوا الأَلْبَابِ} [آل عمران:۷] اسی طرح لوگ ان تمام صفات کے سلسلے میں کہتے ہیں جن کا ذکر قرآن مجید میں آیا اور جن کے سلسلے میں صحیح خبریں واردہوئی ہیں جیسے:السمع(سننا)،البصر(دیکھنا)،العين(دیکھنا)،الوجه(چہرہ)،العلم(جاننا)، القوة(طاقت)،القدرة(قدرت )، العزة(غلبہ)، العظمة(عظمت)، الإرادة(ارادہ)، المشيئة(مشیئت)،القول(بولنا)، الكلام(بات کرنا)، الرضا(خوش ہونا)، السخط(ناراض ہونا )، الحب( محبت کرنا)، البغض(بغض رکھنا)، الفرح (خوش ہونا)،الضحك (ہنسنا) اور اس کے علاوہ ان تمام صفات کے سلسلے میں کسی مخلوق سے تشبیہ دیئے بغیر کہتے ہیں بلکہ اسی پر اکتفا کرتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے کہا ہے، اس میں وہ نہ زیادہ کرتے ہیں، نہ اضافہ کرتے ہیں، نہ اس کی کیفیت بیان کرتے ہیں، نہ اس سے کسی چیز کو تشبیہ دیتے ہیں، نہ اس میں تحریف کرتے ہیں، نہ اس میں تغیر و تبدل کرتے ہیں، نہ کسی لفظ کو اہل عرب کے استعمال سے ہٹ کر استعمال کرتے ہیں اور نہ اس کی فاسد تاویل کرتے ہیں، اسے اس کے ظاہری مفہوم پر استعمال کرتے ہیں اور اس کا علم اللہ تعالیٰ کے حوالے کرتے ہیں، وہ اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ اس کی تاویل صرف اللہ جانتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے مضبوط علم والوں کے بارے میں بتایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے سلسلے میں کہتے ہیں: {وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُوْلُوا الأَلْبَابِ} "اور پختہ اور مضبوط علم والے یہی کہتے ہیں کہ ہم تو ان پر ایمان لا چکے ہیں، یہ ہمارے رب کی طرف سے ہیں اور نصیحت تو صرف عقلمند حاصل کرتے ہیں"۔ [آل عمران: ۷] ( عقیدۃ السف أصحاب الحدیث لأبی عثمان الصابونی: ص: ۱۶-۱۷)

اللہ کی ایک صفت الید( ہاتھ) ہے، ہم اس کے لئے ہاتھ اسی طرح مانتے ہیں جو اس کے جلال و کمال کو مناسب ہے، اس سلسلے میں قرآن اور احادیث میں کئی اعتبار سے دلیلیں پیش کی گئی ہیں، کبھی یہ کہا گیا کہ اللہ کے لئےدو ہاتھ ہیں، تو کبھی یہ کہا گیا کہ وہ مٹھی بنالیتا ہےاور کبھی کھول دیتا ہے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنے ہاتھ کی مٹھی بنا کراسی زمین کو کو لے لے گا اور آسمان کو اپنے داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا، کبھی ہاتھ کو انگلیوں کے ساتھ متصف قرار دیا گیا ہے، سو قرآن و سنت میں ہاتھ کے حوالے سے جتنی دلیلیں آئی ہیں سب میں حقیقی ہاتھ کی طرف اشارہ ہے لیکن اس کا ہاتھ اسی کے جلال کے اعتبار سے ہوگا، نہ ہم اس کی تاویل کر سکتے ہیں، نہ اسے ہم کسی کے مشابہ قرار د ے سکتےہیں اورنہ اس پر دلالت کرنے والی آیتوں اور حدیثوں میں تحریف کر سکتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {قَالَ يَا إِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ أَسْتَكْبَرْتَ أَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِينَ} "(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا اے ابلیس ! تجھے اسے سجدہ کرنے سے کس چیز نے روکا جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا کیا تو کچھ گھمنڈ میں آگیا ہے؟ یا تو بڑے درجے والوں میں سے ہے"۔ [ص: ۷۵] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {اِنَّ الَّذِيْنَ يُبَايِعُوْنَكَ اِنَّمَا يُبَايِعُوْنَ اللّٰهَ ۭ يَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَيْدِيْهِمْ } "جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ یقیناً اللہ سے بیعت کرتے ہیں، ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے"۔ [الفتح: ۱۰] ایک اور جگہ اللہ عز وجل نے فرمایا: {وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ ڰ وَالْاَرْضُ جَمِيْعًا قَبْضَتُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِيّٰتٌۢ بِيَمِيْنِهٖ ۭ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ} "اور ان لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالیٰ کی کرنی چاہیے تھی نہیں کی۔ ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے وہ پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جسے لوگ اس کا شریک بنائیں"۔ [الزمر: ۶۷]

اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ عِنْدَ رَبِّهِمَا، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى، قَالَ مُوسَى: أَنْتَ آدَمُ الَّذِي خَلَقَكَ اللهُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ‘‘۔ آدم اور موسی علیہما السلام نے اپنے رب کے پاس جھگڑا کیا تو آدم موسی پر غالب آگئے، موسی نے کہا تو وہی آدم ہے جس نے تجھے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے اور تیرے اندر اس نے اپنی روح پھونکا۔ (صحیح بخاری: ۶۶۱۴، صحیح مسلم: ۲۶۵۲،سنن أبی داد: ۴۷۰۱، جامع الترمذی: ۲۱۳۴، سنن ابن ماجہ: ۸۰) ایک دوسری روایت میں اس طرح آیا ہے: ’’احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى، فَقَالَ لَهُ مُوسَى: يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُونَا خَيَّبْتَنَا وَأَخْرَجْتَنَا مِنَ الجَنَّةِ، قَالَ لَهُ آدَمُ: يَا مُوسَى اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِكَلاَمِهِ، وَخَطَّ لَكَ بِيَدِهِ‘‘۔ آدم اور موسی نے اپنے رب کے پاس جھگڑا کیا تو آدم سے موسی نے کہا : اے آدم ! تو ہمارا باپ ہے (لیکن ) تونے ہمیں گھاٹے میں ڈال دیا اور تونے ہمیں جنت سے نکلوا دیا تو آدم نے ان سے کہا کہ اے موسی ! تجھے اللہ نے اپنے کلام کے لئے چن لیا اور تورات تمہارے واسطے اپنے ہاتھ سے لکھی۔ (صحیح بخاری: ۶۶۱۴، صحیح مسلم: ۲۶۵۲،سنن أبی داد: ۴۷۰۱، جامع الترمذی: ۲۱۳۴، سنن ابن ماجہ: ۸۰)

اور صحیح حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’إِنَّ الْمُقْسِطِينَ عِنْدَ اللهِ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ، عَنْ يَمِينِ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ، وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ، الَّذِينَ يَعْدِلُونَ فِي حُكْمِهِمْ وَأَهْلِيهِمْ وَمَا وَلُوا‘‘۔ انصاف کرنے والے اللہ کے نزدیک نور کے منبروں پر ہوں گے رحمان عزوجل کے دائیں جانب اور اس کے دونوں ہاتھ داہنے ہیں, جو اپنے حکم، اپنے اہل و عیال اور جس کے وہ ذمہ دار بنا ئے گئے ہیں اس میں انصاف کرتے ہیں۔ (صحیح مسلم : ۱۸۲۷، سنن النسا ئی : ۵۳۷۹)

اور ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ’’إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْسُطُ يَدَهُ بِاللَّيْلِ لِيَتُوبَ مُسِيءُ النَّهَارِ، وَيَبْسُطُ يَدَهُ بِالنَّهَارِ لِيَتُوبَ مُسِيءُ اللَّيْلِ، حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا‘‘۔ اللہ عزوجل رات میں اپنا ہاتھ پسارتا ہے تاکہ دن کا گنہ گار توبہ کر لے اور دن میں اپنا ہاتھ پسارتا ہے تاکہ رات کا گنہ گار توبہ کرلے یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو جا ئے۔ (صحیح مسلم: ۲۷۵۹)

اور صحیح میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ السَّمَاءَ وَالأَرْضَ، فَإِنَّهُ لَمْ يَغِضْ مَا فِي يَدِهِ، وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى المَاءِ، وَبِيَدِهِ المِيزَانُ يَخْفِضُ وَيَرْفَعُ ‘‘۔ کیا تم نے دیکھا کہ جب سے اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے، خرچ کئے جا رہا ہے لیکن اس کے ہاتھ میں کوئی کمی نہیں ہوئی اور اس کا عرش پانی پر ہے اور اس کے ہاتھ میں میزان ہے جسے وہ جھکاتا اور اٹھاتا رہتا ہے۔ ( صحیح بخاری: ۴۶۸۴، صحیح مسلم: ۹۹۳، جامع الترمذی: ۳۰۴۵، سنن ابن ماجہ: ۱۹۷)

اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ وَنَفَخَ فِيهِ الرُّوحَ عَطَسَ فَقَالَ: الحَمْدُ لِلَّهِ، فَحَمِدَ اللَّهَ بِإِذْنِهِ، فَقَالَ لَهُ رَبُّهُ: رَحِمَكَ اللَّهُ يَا آدَمُ، اذْهَبْ إِلَى أُولَئِكَ المَلَائِكَةِ، إِلَى مَلَإٍ مِنْهُمْ جُلُوسٍ، فَقُلْ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، قَالُوا: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَ رَحْمَةُ اللَّهِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى رَبِّهِ، فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ تَحِيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ بَنِيكَ، بَيْنَهُمْ، فَقَالَ اللَّهُ لَهُ وَيَدَاهُ مَقْبُوضَتَانِ: اخْتَرْ أَيَّهُمَا شِئْتَ، قَالَ: اخْتَرْتُ يَمِينَ رَبِّي وَكِلْتَا يَدَيْ رَبِّي يَمِينٌ مُبَارَكَةٌ ثُمَّ بَسَطَهَا فَإِذَا فِيهَا آدَمُ وَذُرِّيَّتُهُ‘‘۔ جب اللہ نے آدم کو پیدا کیا اور ان میں روح پھونکا تو ان کو چھینک آئی تو انہوں نے اللہ کے حکم سے الحمد للہ کہا...." یہاں تک کہا: "تو اللہ نے ان (آدم) سے کہا اوراس کے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بند تھیں: ان میں سے جسے چاہو پسند کرلو، انہوں نے کہا: میں نے اللہ کے دایاں ہاتھ کو پسند کیا، اور میرے رب کے دونوں ہاتھ داہنے اور برکت والے ہیں، پھر اس نے مٹھی کھولی تو اس میں آدم اور ان کی ذریت تھی۔ (جامع الترمذی: ۳۳۶۸، السنۃ لابن أبی عاصم: ۵۹۶، مسند البزار: ۸۱۹۴، السنن الکبری للنسا ئی: ۹۹۷۷)

اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’إِنَّ قُلُوبَ بَنِي آدَمَ كُلَّهَا بَيْنَ إِصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ، كَقَلْبٍ وَاحِدٍ، يُصَرِّفُهُ حَيْثُ يَشَاءُ‘‘۔ یقینا تمام بنی آدم کا دل رحمن کی تمام انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ایک دل کی طرح ہے، وہ اسے جیسا چاہتا ہے پھیرتا ہے۔ (صحیح مسلم: ۲۶۵۴)

اور عبد اللہ بن امام احمد رحمہ اللہ نے اپنی کتاب السنۃ میں امام وکیع رحمہ اللہ کے حوالے سے فرمایا ’’نُسَلِّمُ هَذِهِ الْأَحَادِيثَ كَمَا جَاءَتْ وَلَا نَقُولُ كَيْفَ كَذَا وَلَا لِمَ كَذَا، يَعْنِي مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ: ان احادیث کو ہم اسی طرح تسلیم کرتے ہیں جس طرح یہ آئی ہیں، لیکن ایسا کیسے؟ یا ایسا کیوں؟ ہم نہیں کہتے ہیں جیسے عبد اللہ بن مسعود کی حدیث ہے: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَحْمِلُ السَّمَاوَاتِ عَلَى أُصْبُعٍ، وَالْجِبَالَ عَلَى أُصْبُعٍ۔ کہ اللہ عزوجل (بروز قیامت ) تمام آسمانوں کو ایک انگلی پر اٹھا لےگا، اور پہاڑ کو ایک انگلی پر۔ اور ایک حدیث میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: إِنَّ قُلُوبَ بَنِي آدَمَ كُلَّهَا بَيْنَ إِصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ‘‘۔ تمام انسانوں کے دل رحمان کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں۔ (صحیح مسلم: ۲۶۵۴) اس کے علاوہ اور بھی بہت ساری روایات اس سلسلے میں وارد ہوئی ہیں۔ (السنۃ لعبد اللہ بن أحمد: ۲۶۷/ ۱)

امام شریک رحمہ اللہ سےان لوگوں کے سلسلے میں سوال کیا گیا جنہوں نے صفات الہیہ پر دلالت کرنے والی بعض احادیث کا انکار کردیا تو آپ رحمہ اللہ نے جواب دیتے ہوئے فرمایا: ’’ إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِهَذِهِ الْأَحَادِيثِ هُمُ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْقُرْآنِ وَبِأَنَّ الصَّلَوَاتِ خَمْسٌ وَبِحَجِّ الْبَيْتِ وَبِصَوْمِ رَمَضَانَ فَمَا نَعْرِفُ اللَّهَ إِلَّا بِهَذِهِ الْأَحَادِيثِ‘‘۔ جولوگ یہ حدیثیں لائے ہیں وہی لوگ یہ قرآن بھی لا ئےہیں، پانچوں نمازیں، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزوں کی بابت ہمیں انہیں احادیث سے پتہ چلا ہے، سو ہم اللہ کو نہیں جانتے ہیں مگر ان ہى احادیث کے ذریعہ۔ (السنۃ لعبد اللہ بن أحمد: ۲۷۳/ ۱)

اور حافظ ابن بطہ رحمہ اللہ نے اللہ کے لئے ہاتھ پر دلالت کرنے والی تمام روایات کوبیان کرنے کے بعد فرمایا: ’’فَهَذِهِ الْأَحَادِيثُ وَمَا ضَاهَاهَا، وَ مَا جَاءَ فِي مَعْنَاهَا فِي كَمَالِ الدِّينِ، وَتَمَامِ السُّنَّةِ: الْإِيمَانُ بِهَا، وَالْقَبُولُ لَهَا، وَتَلَقِّيهَا بِتَرْكِ الِاعْتِرَاضِ عَلَيْهَا وَاتِّبَاعُ آثَارِ السَّلَفِ فِي رِوَايَتِهَا بِلَا كَيْفٍ وَلَا لِمَ‘‘۔ ان حدیثوں پراور ان کے مشابہ حدیثوں پر اوران حدیثوں پرجو کمال دین اور تمام سنت کے معنی میں آئی ہیں ان تمام پرایمان لانا، انہیں قبول کرنا، ان پر اعتراض سے بچنا اوران کی روایات میں کیوں اور کیسا کہے بغیر سلف کی اتباع کرنا واجب ہے۔ ( الإبانۃ لإبن بطۃ: ۳۱۳/ ۳)

اللہ تعالیٰ نے جس طرح اپنے آپ کو صفت کمال، صفت جلال، صفت جمال، صفت عزت اور صفت کبریاء سے متصف کیا ہے اسی طرح اس نےاپنے آپ کو ان تمام صفات سےمستثنی بتایا ہے جن میں نقائص ہیں، اور صفات میں بطرز نفی ذکر کرنا قرآن وسنت میں اصل نہیں ہے، کیوں کہ اصل صفات کو ثابت کرنا ہے، قرآن و سنت میں صفات الہیہ کی بے شمار دلیلیں بھری ہوئی ہیں اور اس کے لئے وہی تمام صفتیں ہیں جو اس کے جلال، اس کی عظمت اور اس کے کمال کو زیب دیتی ہیں، اللہ تعالیٰ جب اپنے آپ سے کسی صفت کا انکار کرتا ہے تو اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالى نفى شدہ کے ضد کے ساتھ على وجہ الکمال متصف ہے یا اس کى وجہ یہ ہوتی ہے کہ انسانوں نے اللہ کی طرف کسى خاص نقص کو منسوب کردیا ہوتا ہے تو اس کے ذریعہ اللہ تعالى اپنى طرف منسوب اس نقص کى نفى کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ سے اونگھ اور نیند کا انکار کیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے واضح ہے: {اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ} "اللہ ہى ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں جو زندہ اور سب کا تھامنے والا ہے، جسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند"۔ [البقرۃ: ۲۵۵] اور نسیان کا بھی انکار کیا ہے، جیسا کہ فرمایا {وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا } "اور آپ کا رب بھولنے والا نہیں ہے"۔ (مریم : ۶۴) اسی طرح اپنے آپ سے تھکان کا بھی انکار کیا ہے کیوں کہ یہودیوں نے (اللہ ان پر لعنت فرما ئے) اس کی طرف تھکان کا انتساب کیا ہے، کہا ہے کہ جب تمام مخلوق کو پیدا کرتے کرتے اللہ تعالیٰ تھک گیا تو آرام کرنے لگا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس بات کی بھی نفی کی ہے کہ تمام مخلوق کو پیدا کرنے کے بعد اس نے آرام کیا ہے، جیسا کہ اللہ عز وجل نے فرمایا: {وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَمَا مَسَّنَا مِنْ لُغُوبٍ } "یقیناً ہم نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ اس کے درمیان ہے سب کو (صرف) چھ دن میں پیدا کردیا اور ہمیں تکان نے چھوا تک نہیں"۔ [ق: ۳۸]

اوراللہ تعالیٰ نے یہ بھی ثابت کردیا ہے کہ تمام مخلوق کو ایک عظیم مقصد کے تحت پیدا کیا گیاہے، کسی کو بے کار نہیں پیدا کیا گیا ہے گویا اس نے اپنے آپ سے فعل عبث کا انکار کیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: { أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ} "کیا تم یہ گمان کئے ہوئے ہو کہ ہم نے تمہیں یونہی بیکار پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹائے ہی نہ جاؤ گے"۔ [المؤمنون: ۱۱۵] او ر یہ بتا دیا ہے کہ اس کا ہر حکم مبنی بر عدل اور ہر قول انصاف پر مشتمل ہے، وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا ہے، وہ پورا کا پورا عدل کرتا ہے جیسا کہ فرمایا: {وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا} "اور جو کچھ انہوں نے کیا تھا سب موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم و ستم نہ کر ے گا"۔ [الکھف: ۴۹] اور فرمایا: {وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ} "اور آپ کا رب بندوں پر ظلم نہیں کرنے والا ہے"۔ [فصلت: ۴۶]

یہود و نصاری نے اللہ کی طرف بیٹا منسوب کیا اور ہو بہو ویسے ہی کہا جیسے اس سے پہلے کافروں نے کہا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ سے بیٹے کا بھی انکار کردیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: { مَا اتَّخَذَ اللَّهُ مِنْ وَلَدٍ وَمَا كَانَ مَعَهُ مِنْ إِلَهٍ} "نہ تو اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا اور نہ اس کے ساتھ اور کوئی معبود ہے"۔ [المؤمنون: ۹۱] اور یہ ثابت کردیا کہ جس کے پاس لڑکے ہو ں گے اس کے پاس بیوی کا ہونا لازم اور ضروری ہے، اور اللہ کے پاس نہ بیوی ہے اورنہ بچے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَنَّى يَكُونُ لَهُ وَلَدٌ وَلَمْ تَكُنْ لَهُ صَاحِبَةٌ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ } "وہ آسمانوں اور زمین کا موجد ہے، اللہ تعالیٰ کے اولاد کہاں ہوسکتی ہے حالانکہ اس کے کوئی بیوی تو ہے نہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو پیدا کیا اور وہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے"۔ [الأنعام: ۱۰۱] اور فرمایا: {وَأَنَّهُ تَعَالَى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَلَا وَلَدًا} "اور بیشک ہمارے رب کی شان بڑی بلند ہے نہ اس نے کسی کو (اپنی) بیوی بنایا ہے نہ بیٹا"۔ [الجن: ۳]

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ ہی کے لئے اچھے اچھے نام ہیں، بے انتہا اچھے ہیں، اتنے اچھے کہ اب اس سے بہتر کوئی اور نام ہو ہی نہیں سکتا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: { اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى} "اللہ جس کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے اور اسی کے لئے اچھے اچھے نام ہیں"۔ [طہ: ۸] چند نام اس فر مان الہی میں وارد ہیں: {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ* "سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ*۔ بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا۔ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} بدلے کے دن (یعنی قیامت کا) مالک ہے"۔ [الفاتحۃ: ۲- ۴] کچھ نام اللہ کے اس فرمان میں بھی آئے ہیں: {هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ*۔ وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں چھپے کھلے کا جاننے والا مہربان اور رحم کرنے والا۔ هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ *۔ وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، بادشاہ، نہایت پاک، سب عیبوں سے صاف، امن دینے والا، نگہبان، غالب زور آور، اور بڑائی والا، پاک ہے اللہ ان چیزوں سے جنہیں یہ اس کا شریک بناتے ہیں۔ هُوَ اللَّهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} وہی ہے اللہ تخلیق کا خاص انداز مقرر کرنے والا وجود بخشنے والا صورت بنانے والا، اسی کے لئے نہایت اچھے نام ہیں ہر چیز خواہ وہ آسمانوں میں ہو خواہ زمین میں ہو اس کی پاکی بیان کرتی ہے اور وہی غالب حکمت والا ہے"۔ [الحشر: ۲۲- ۲۴]

اللہ کا مشتق ہیں، جامد نہیں ہیں، اور اللہ کے ہرنام سے اللہ کے صفت مشتق کى جاتی ہے، جیسے صفت رحمت اس کے نام الرحیم سے مشتق ہے، صفت عزت اس کے نام العزیز سے، صفت حکمت اس کے نام الحکیم سے اور حیات اس کے نام الحی سے مشتق ہے، اسی طرح تمام ناموں سے صفات مشتق کى جاتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ کے بے شمار نام ہیں، اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ‘‘۔ اے اللہ میں ہر اس نام کے ذریعہ تجھ سے سوال کرتا ہوں جو تو نے اپنے لئے منتخب کیا، یا جو تو نے اپنی کتاب میں نازل کیا، یا جسے تو نے اپنی مخلوق میں سے کسى کو سکھایا، یا جو نام تو نے اپنے پاس علم غیب میں چھپا کر رکھا ہے۔ ( الدعاء للضبی: ۶، المصنف لابن أبی شیبہ: ۲۹۹۳۰، مسند أحمد: ۳۲۹، أحمد: ۳۷۱۲، المسند لحارث بن أبی أسامہ: ۱۰۵۷) اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً إِلَّا وَاحِدًا، مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الجَنَّةَ‘‘۔ اللہ کے لئے سو میں ایک کم یعنی ننانو ے نام ہیں، جس نے انہیں شمار کرلیا وہ جنت میں داخل ہو گا۔ ( صحیح بخاری : ۲۷۳۶، صحیح مسلم : ۲۶۷۷،جامع الترمذي: ۳۵۰۶، سنن ابن ماجه: ۳۸۶۰)

اللہ تعالیٰ نے اپنے ناموں میں الحاد سےمنع کیا ہے، جیسا کہ اللہ عز وجل نے فرمایا: { وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ} "اللہ ہی کے لئے اچھے اچھے نام ہیں انہیں کے ذریعہ اسے پکارو اور انہیں چھوڑو جو اس کے ناموں میں کجروی کرتے ہیں عنقریب وہ بد لہ دیئے جا ئیں گے اس چیز کا جو کچھ وہ کرتے ہیں"۔ [الأعراف: ۱۸۰]

اللہ تعالیٰ کے ناموں میں الحاد کی کئی صورتیں ہیں جن میں سے چند یہ ہیں :۔ اللہ کے نام پر نام رکھ لینا جب کہ کسی انسان کے لئے یہ جائز ہی نہیں ہے، جیسے الخالق، الرحمن وغیرہ۔ بتوں کا ایسا نام رکھ لینا جواللہ کے ناموں سے مشتق ہوں، جیسے اللات، جو اللہ سے مشتق ہے، العزی جو اللہ کے نام العزیز سے مشتق ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں الحاد کی ایک صورت: اس کے سار ے ناموں کا، یا ان میں سے کسی ایک نام کا، یا ان کے معانی کا انکار کردینا، یا ان میں تعطیل سے کام لینا ہے۔

قرآن و احادیث میں اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ کسی ایک کتاب میں یکجا کرنا نا ممکن ہے، لیکن ہمارے شرف کے لئے یہی کافی ہے کہ ہم نے اس باب میں ان ناموں کے ایک تعداد کا ذکر کردیا ہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ کوئی بھی مسلم اللہ کی وہی صفت بیان کرے جو اس نے اپنے لئے بیان کیا ہے یا اللہ کو وہی نام دے جو اس نے اپنے لئے متعین کیا ہے اور ان تمام کی نفی کرے جن کی نفی اللہ نے یا اللہ کے رسول ﷺ نے کی ہے اور ان کے علاوہ سے خاموش رہے۔

ہم اللہ کے اسماء و صفات پر اس کی اور اس کے رسول کی مراد کے مطابق ایمان لاتے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ اس کی حقیقت کوئی نہیں جان سکتا، نہ اس کا احاطہ کر سکتا ہے، نہ کسی کی عقل وہاں تک پہونچ سکتی ہے اور نہ ہم ان کى تاویل کى مشقت میں اپنے آپ کو ڈالتے ہیں؛ کیوں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو یہ کہنے کا حکم دیا: {وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ} "اور نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں"۔ [ص: ۸۶] جس طرح جنت کی وہ تمام نعمتیں جن کا تذ کرہ قرآ ن و احادیث میں آیا ہے اور جو نعمتیں دنیا میں پائی جاتی ہیں دونوں کا نام یکساں ہونے کے باوجود دونوں میں اتنا فرق ہے کہ کوئی انسان جنت کی نعمتوں کا احاطہ نہیں کر سکتا لیکن جنت کی تمام نعمتوں پر ہمارا ایمان ہے گو ہم نے نہیں دیکھا یا گرچہ ہم ان کی حقیقت و کیفیت سے نا آشنا ہیں تو جب جنتی نعمتوں کا یہ معاملہ ہے تو أسماء و صفات میں مجرد اشتراک سے ایک انسان اللہ کی برابری بدرجہ أولی نہیں کر سکتا ہے، خالی لفظی اشتراک سے اللہ کے أسماء و صفات کی نفی لازم نہیں آتی ہے۔

اللہ تعالى کے ناموں اور صفات کے اثبات میں ائمہ علم وہدایت کے یہاں یکسانیت پائى جاتی ہے، ابن أبی زمنین فرماتے ہیں کہ: ’’فَهَذِهِ صِفَاتُ رَبِّنَا اَلَّتِي وَصَفَ بِهَا نَفْسَهُ فِي كِتَابِهِ، وَوَصَفَهُ بِهَا نَبِيُّهُ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنْهَا تَحْدِيدٌ وَلَا تَشْبِيهٌ وَلَا تَقْدِيرٌ فَسُبْحَانَ مَنْ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ اَلسَّمِيعُ اَلْبَصِيرُ. لَمْ تَرَهُ اَلْعُيُونُ فَتَحُدُّهُ كَيْفَ هُوَ كَيْنُونِيَّتُهُ، لَكِنْ رَأَتْهُ اَلْقُلُوبُ فِي حَقَائِقِ اَلْإِيمَانِ بِهِ‘‘۔ ہمارے رب کی یہی وہ صفات ہیں جنہیں اس نے اپنی کتاب میں بیان کیا ہے، اور جنہیں نبی ﷺ نے بیان کیا ہے، ان میں نہ کوئی تحدید ہے، نہ تشبیہ ہے اور نہ کوئی تقدیر (اندازہ) ہے، اس کی ذات پاک ہے‘ اس کے مثل کوئی چیز نہیں ہے وہی سننے اور دیکھنے والا ہے، اسے کسی آنکھ نے نہیں دیکھا ہے کہ اس کی کیفیت بیان کر سکے لیکن ایمانی حقائق کی روشنی میں تمام دلوں نے اسے دیکھا ہے۔ ( أصول السنۃ لإبن أبی زمنین: ص: ۷۴)

اور عبد الرحمن بن قاسم فرماتے ہیں کہ: ’’لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَصِفَ اَللَّهَ إِلَّا بِمَا وَصَفَ بِهِ نَفْسَهُ فِي اَلْقُرْآنِ، وَلَا يُشَبِّهُ يَدَيْهِ بِشَيْءٍ، وَلَا وَجْهَهُ بِشَيْءٍ، وَلَكِنْ يَقُولُ: لَهُ يَدَانِ كَمَا وَصَفَ نَفْسَهُ فِي اَلْقُرْآنِ، وَلَهُ وَجْهٌ كَمَا وَصَفَ نَفْسَهُ، يَقِفُ عِنْدَمَا وَصَفَ بِهِ نَفْسَهُ فِي اَلْكِتَابِ، فَإِنَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَا مِثْلَ لَهُ وَلَا شَبِيهَ وَلَكِنْ هُوَ اَللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ كَمَا وَصَفَ نَفْسَهُ، وَيَدَاهُ مَبْسُوطَتَانِ كَمَا وَصَفَهَما: ہر کوئی اللہ کی وہی صفت بیان کر ے جو اس نے اپنے لئے قرآن میں بیان کیا ہے، اس کے ہاتھوں اورچہرے کو کسی چیز سے تشبیہ نہ د ے بلکہ وہ کہے کہ اس کے پاس دو ہاتھ ہیں اور دونوں اسی طرح ہیں جس طرح اس نے قرآن میں بیان کیا ہے، اس کے پاس چہرہ ہے اور اسی طرح ہے جس طرح اس نے کتاب میں بیان کیا ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ کے مثل اور اس کے مشابہ کو ئی چیز نہیں ہے، وہی اللہ ہے، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور وہ اسی طرح ہے جس طرح اس نے اپنی صفت بیان کیا ہے، اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں اور اسی طرح کھلے ہو ئے ہیں جس طرح اس نے بیان کیا ہے: {وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ اَلْقِيَامَةِ وَ السَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ} "ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے"۔ [الزمر: ۶۷] تو یہ اسی طرح ہیں جس طرح اس نے اپنا وصف بیان کیا ہے۔ (أصول السنۃ: لابن أبی زمنین : ۷۵)

اور امام حمیدی رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’ (اللہ کے اسماء وصفات کے تعلق سے) جو قرآن وحدیث میں آیا ہے جیسے: {وَقَالَتِ الْيَهُودُ يَدُ اللَّهِ مَغْلُولَةٌ غلت أَيْديهم} "اور یہودیوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں انہی کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں"۔ [المائدۃ: ۶۴] اور جیسے: {وَالسَّمَاوَات مَطْوِيَّات بِيَمِينِهِ} "اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے"۔ [الزمر: ۶۷] اور اس طرح کى جو بھی چیزیں (اللہ کے اسماء وصفات کے تعلق سے) قرآن و احادیث میں موجود ہیں ہم اس میں نہ اضافہ کرتے ہیں اور نہ اس کى تفسیر (یعنی تکییف) بیان کرتے ہیں، بلکہ ہم اسی پر توقف اختیار کرتے ہیں، جس پر قرآن و سنت نے توقف اختیار کیا ہے۔ ( العلو للعلی العظیم للذہبی، ص: ۱۶۸)

اور امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’نَعْبُدُ اللَّهَ بِصِفَاتِهِ كَمَا وَصَفَ بِهِ نَفْسَهُ، قَدْ أَجْمَلَ الصِّفَةَ لِنَفْسِهِ، وَلَا نَتَعَدَّى الْقُرْآنَ وَالْحَدِيثَ، فَنَقُولُ كَمَا قَالَ وَنِصِفُهُ كَمَا وَصَفَ نَفْسَهُ، وَلَا نَتَعَدَّى ذَلِكَ، نُؤْمِنُ بِالْقُرْآنِ كُلِّهِ مُحْكَمِهِ وَمُتَشَابِهِهِ، وَلَا نُزِيلُ عَنْهُ تَعَالَى ذِكْرُهُ صِفَةً مِنْ صِفَاتِهِ شَنَاعَةً شُنِّعَتْ، وَلَا نُزِيلُ مَا وَصَفَ بِهِ نَفْسَهُ مِنْ كَلَامٍ، وَنُزُولٍ وَخُلُوِّهِ بِعَبْدِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَوَضْعِ كَنَفِهِ عَلَيْهِ، هَذَا كُلُّهُ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ اللَّهَ يُرَى فِي الْآخِرَةِ، وَالتَّحْدِيدُ فِي هَذَا بِدْعَةٌ، وَالتَّسْلِيمُ لِلَّهِ بِأَمْرِهِ، وَلَمْ يَزَلِ اللَّهُ مُتَكَلِّمًا عَالِمًا، غَفُورًا، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، عَالِمَ الْغُيُوبِ، فَهَذِهِ صِفَاتُ اللَّهِ وَصَفَ بِهَا نَفْسَهُ، لَا تُدْفَعُ، وَلَا تُرَدُّ، وَقَالَ: { لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ} [البقرة: ۲۵۵] {لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ} [الحشر: ۲۳]، هَذِهِ صِفَاتُ اللَّهِ وَأَسْمَاؤُهُ‘‘۔ ہم اللہ کی عبادت اس کی تمام صفات کے ساتھ ویسے ہی کرتے ہیں جیسا کہ اس نے بیان کیا ہے اور اس نے اپنی تمام صفات مجمل بیان کیا ہے، ہم قرآن و احادیث سے آگے نہیں بڑ ھ سکتے، بس ہم وہی کہتے ہیں جو اس نے کہاہے اور ہم وہی صفت بیان کرتے ہیں جو اس نے بیان کیا ہے، ہم اس سے آگے نہیں بڑھ سکتے، ہم محکم اور متشابہ سمیت پور ے قرآن پر ایمان لاتے ہیں اورکسی کی شناعت و ملامت کی وجہ سے ہم اللہ تعالی کی کسى صفت کو مٹا نہیں دیں گے، جیسے کلام کرنا، نزول كرنا، بروز قیامت اس كا اپنے بند ے کے ساتھ تنہا ہونا اور اپنے کنارے کا اس پر رکھنا، یہ تمام باتیں اس بات پر دلا لت کرتی ہیں کہ آخرت میں اللہ دکھائی د ے گا لیکن اس میں حد بندی بدعت ہے، بس اللہ کے لئے اس کا حکم تسلیم کرلیا جا ئے، اللہ تعالی متکلم (بات کرنے والا)، عالم( جاننے والا)، غفور(بخشنے والا)، عالم الغیب و الشہادۃ (غیب اور حاضر کا جاننے والا) اورعلام الغیوب (غیوب کا مکمل طور پر اور بخوبی جاننے والا ) ہے، یہ سب اللہ کی وہ صفات ہیں جو اس نے بذات خود اپنے لئے بیان کیا ہے، اس لئے اس کا نہ انکار کیا جا ئے اور نہ اس کا رد کیا جا ئے، اور فرمایا: {اللّهُ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ} "اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو زنده اور سب کا تھامنے واﻻ ہے"۔ [البقرۃ: ۲۵۵] {هُوَ اللّٰهُ الَّذِيْ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۚ اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ ۭ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ} "وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، بادشاہ، نہایت پاک، سب عیبوں سے صاف، امن دینے والا، نگہبان، غالب، زورآور، اور بڑائی والا، پاک ہے اللہ ان چیزوں سے جنہیں یہ اس کا شریک بناتے ہیں"۔ [الحشر: ۲۳] یہ سب اللہ کے أسماء و صفات ہیں۔ ( الإبانۃ الکبری لإبن بطۃ : ۳۲۶ / ۷)

امام اہل السنہ ابو القاسم سے اللہ تعالیٰ کے صفات کے تعلق سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ’’مَذْهَب مَالك وَالثَّوْري وَالْأَوْزَاعِيّ وَالشَّافِعِيّ وَحَمَّاد ابْن سَلمَة وَحَمَّاد بن زيد وَأحمد وَيحيى بن سعيد الْقطَّان وَعبد الرَّحْمَن بن مهْدي وَإِسْحَاق بن رَاهَوَيْه أَن صِفَات الله الَّتِي وصف بهَا نَفسه وَوَصفه بهَا رَسُوله من السّمع وَالْبَصَر وَالْوَجْه وَالْيَدَيْنِ وَسَائِر أَوْصَافه إِنَّمَا هِيَ على ظَاهرهَا الْمَعْرُوف الْمَشْهُور من غير كَيفَ يتَوَهَّم فِيهَا وَلَا تَشْبِيه وَلَا تَأْوِيل‘‘۔ مالک، ثوری، اوزاعی، شافعی، حماد بن سلمہ، حماد بن زید، احمد، یحیی بن سعید القطان، عبدالرحمن بن مہدی اور اسحاق بن راہویہ کا مذہب ہے کہ اللہ کی وہی صفات بیان کی جائیں جو اس نے اپنے لئے اور جو اس کے رسول نے اس کے لئے بیان کیا ہے، جیسے السّمع(سننا)، الْبَصَر(دیکھنا )، الْوَجْه (چہرہ)، الْيَدَيْنِ(ہاتھ )، اور ان کے علاوہ دیگر تمام اوصاف بھی اسی طرح تسلیم کئے جائیں اورساری صفات اپنے ظاہری مفہوم پربغیر کسی کیفیت، بغیر کسی تشبیہ اور تأویل کے تسلیم کئے جائیں گے جو سب کے نزدیک معروف و مشہور ہے۔ ( العلو للعلی العظیم للذہبی : ۲/ ۴۵۹) (توضیح المقاصد شرح الکافیۃ الشافیۃ نونیۃ إبن القیم : ۱؍ ۴۶۶)

اور یہ بھی فر مایا: ’’وَأَنا أذكر بِتَوْفِيق الله تَعَالَى جمَاعَة من أَئِمَّتنَا من السّلف مِمَّن شرعوا فِي هَذِهِ الْمعَانِي فَمنهمْ أَبُو عبد الله سُفْيَان بن سَعِيد بن مَسْرُوق الثَّوْريّ فَإِنَّهُ قد أظهر اعْتِقَاده، ومذهبه فِي السّنة فِي غير مَوضِع، وَقد أملاه عَلَى شُعَيْب بن حَرْب.وَمِنْهُم أَبُو مُحَمَّد سُفْيَان بن عُيَيْنَةَ الْهِلَالِي فَإِنَّهُ قد أجَاب فِي اعْتِقَاده حِين سُئِلَ عَنهُ كَمَا رَوَاهُ مُحَمَّد بن إِسْحَاق الثَّقَفِيّ، وَمِنْهُم أَبُو عَمْرو عبد الرَّحْمَن بن عَمْرو الْأَوْزَاعِيّ إِمَام أهل الشَّام فَإِنَّهُ قد أظهر اعْتِقَاده فِي زَمَانه، وَرَوَاهُ ابْن إِسْحَاق الْفَزارِيّ.وَمِنْهُم أَبُو عبد الرَّحْمَن بن عبد الله بن الْمُبَارك إِمَام خُرَاسَان، والفضيل ابْن عِيَاض، ووكيع بن الْجراح، ويوسف بن أَسْبَاط، قد أظهرُوا اعْتِقَادهم، ومذاهبهم بالسنن، وَمِنْهُم شريك بن عبد الله النَّخعِيّ، وَيحيى بن سَعِيد الْقطَّان، وَأَبُو إِسْحَاق الْفَزارِيّ، وَمِنْهُم أَبُو عبد الله مَالك بن أنس الأصبحي الْمَدِينِيّ إِمَام دَار الْهِجْرَة وفقيه الْحَرَمَيْنِ فَإِنَّهُ قد أظهر اعْتِقَاده فِي بَاب الْإِيمَان وَالْقُرْآن، وَمِنْهُم أَبُو عبد الله مُحَمَّد بن إِدْرِيس الشَّافِعِي المطلبي سيد الْفُقَهَاء فِي زَمَانه، وَمِنْهُم أَبُو عبيد الْقَاسِم بن سَلام، وَالنضْر بن شُمَيْل، وَأَبُو يَعْقُوب يُوسُف بن يَحْيَى الْبُوَيْطِيّ من تلاميذ الشَّافِعِي أظهر اعْتِقَاده حِين ظَهرت المحنة فِي بَاب الْقُرْآن، وَمِنْهُم أَبُو عبد الله أَحْمَد بن حَنْبَل سيد أهل الحَدِيث فِي زَمَانه،.......وَكَانَ أَبُو أَحْمَد ابْن أَبِي أُسَامَة الْقرشِي الْهَرَوِيّ من أفاضل من بخراسان من الْعلمَاء وَالْفُقَهَاء أمْلى اعتقادا لَهُ قَالَ: وَيَنْبَغِي لمن من الله بِعلم الْهِدَايَة والكرامة بِالسنةِ مِمَّن بَقِي من الْخلف الْقدْوَة مِمَّن مضى من السّلف، وَأَن مَذْهَبنَا وَمذهب أَئِمَّتنَا من أهل الْأَثر: أَن نقُول إِن الله عَزَّ وَجَلَّ أحد لَا شريك لَهُ، وَلَا ضد لَهُ وَلَا ند وَلَا شَبيه لَهُ، إِلَهًا وَاحِدًا صمدا لم يتَّخذ صَاحِبَة وَلَا ولدا وَلم يُشْرك فِي حكمه أحدا‘‘۔ اللہ کی توفیق سے میں أئمہ سلف کی ایک جماعت کا تذکرہ کر تا ہوں جنہوں نے ان مفاہیم کی وضاحت کی ہے، ان میں سے ابو عبد اللہ سفیان بن سعید بن مسروق الثوری بھی ہیں، انہوں نے اپنا عقیدہ اور اپنا مذہب کئی مقام پر ظاہر کیا ہے اورجنہوں نے اسے شعیب بن حرب پر املا کروایا ہے، ان میں سے ابو محمد سفیان بن عیینہ الہلالی ہیں، جس وقت ان سے سوال کیا گیا تو انہوں نے اپنے عقید ے کے سلسلے میں ویسے ہی جواب دیا جسے محمد بن اسحاق الثقفی نے روایت کیا ہے اور انہیں میں سے امام اہل الشام ابو عمرو عبد الرحمن بن عمر و اوزاعی بھی ہیں، انہوں نے بھی اس زمانے میں اپنا یہی عقیدہ ظاہر کیا اور جن سے اسے ابن اسحاق الفزاری نے روایت کیا ہے، ان میں امام خراسان ابو عبد الرحمن بن عبد اللہ بن مبارک، فضل بن عیاض، وکیع بن جراح اور یوسف بن أسباط بھی ہیں، ان تمام نے اپنا عقیدہ اور سنن پر اپنا یہی عمل ظاہر کیا ہے، انہیں میں سے شریک بن عبد اللہ نخعی، یحیی بن سعید القطان اور ابو اسحاق فزاری رحمہ اللہ بھی ہیں اور انہیں میں سے امام دار ہجرہ، فقیہ حرمین ابو عبد اللہ مالک بن انس الأصبحی المدینی بھی ہیں، ایمان اور قرآن کے باب میں انہوں نے بھی یہی عقیدہ بتایا ہے، انہیں میں سے اپنے زمانے کے سید الفقہاء ابو عبداللہ محمد بن ادریس الشافعی المطلبی بھی ہیں اورانہیں میں سے ابو عبید القاسم بن سلام، نضر بن شمیل اور امام شافعی کے شاگرد ابو یعقوب یوسف بن یحیی البویطی بھی ہیں جنہوں نے فتنہ خلق قرآن کے وقت اپنا عقیدہ ظاہر کیا، انہیں میں سے اپنے زمانے کے سید اہل الحدیث ابو عبد اللہ احمد بن حنبل بھی تھے... اور خراسان کے ایک فاضل عالم و فقیہ ابو احمد بن ابی اسامہ القرشی الہروی بھی تھے جنہوں نے اپنا عقیدہ املا کراتے ہو ئے فرمایا: بعد میں آنے والوں میں سے جو اللہ کی طرف سے علم ہدایت اور باوقار سنت سے سرفراز ہیں اور سلف کے نقشے قدم چلنے والے ہیں ان کے لئے ضرورى ہے (یہی مذہب جو ) ہمارا اور ہمارے ائمہ اہل الأثر کا مذہب ہے کہ ہم کہتے ہیں کہ اللہ عزوجل ایک ہے، اس کا کو ئی شریک و ساجھی نہیں ہے، نہ اس کے برابر کوئی ہے اور نہ اس کے مشابہ کوئی ہے، وہ اکیلا معبود ہے اور وہ بے نیاز ہے، اس کے پاس نہ بیوی ہے، نہ لڑکا ہے اور نہ اس کی حکو مت میں اس کا کوئی شریک ہے۔ ( الحجۃ فی بیان المحجۃ: ۲/ ۵۰۸)

اور آپ رحمہ اللہ نے یہ بھی فرمایا: ’’سبيل الأخبار الواردة في الصفات أن يؤمن بها ولا يتعرض لها وتمضي كما أمضاها الأسلاف من غير تمثيل ولا تأويل‘‘۔ صفات کے سلسلے میں وارد خبروں کا طریقہ یہی ہے کہ ان پر ایمان لا یا جائے، ان پر اعتراض نہ کیا جا ئے اور انہیں ویسے ہی استعمال کیا جا ئے جیسے اسلاف نے بغیر تمثیل اوربغیرتأویل کے استعمال کیا ہے۔ ( الترغیب والترہیب لقوام السنۃ: ۱/ ۲۵۳)

اور امام ابن قتیبہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’وعدل القول في هذه الأخبار أن نؤمن بما صح منها بنقل الثقات لها فنؤمن بالرؤية والتجلي وإنه يعجب وينزل إلى السماء الدنيا وأنه على العرش استوى وبالنفس واليدين من غير أن نقول في ذلك بكيفية أو بحد أو أن نقيس على ما جاء ما لم يأت فنرجو أن نكون في ذلك القول والعقد على سبيل النجاة غداً إن شاء الله تعالى‘‘۔ ان خبروں میں انصاف کی بات یہی ہے کہ ہم انہیں پر ایمان لا ئیں جو ان میں سے صحیح ہیں، جنہیں قابل اعتماد لوگوں نے نقل کیا ہے، اس لئے ہم رؤیت اور تجلی پر ایمان لاتے ہیں اور اس بات پر بھی ایمان لاتے ہیں کہ وہ تعجب کرتا ہے، وہ آسمان دنیا پر اترتا ہے، وہ عرش پر مستوی ہے اور ہم نفس اور دونوں ہاتھ پر بھی ایمان لاتے ہیں اس میں بغیرکیفیت اور حد بتائے ہو ئے یا کسی ایسی دلیل پر قیاس کئے ہو ئے جو اس پر مرتب نہ ہوتی ہواورہمیں امید ہے کہ اس قول و عقد میں کل ہم ان شاء اللہ نجات کی راہ پر ہوں گے۔ (الاختلاف في اللفظ والرد على الجهمية والمشبهة لإبن قتیبۃ : ص: ۵۳)

اور امام زہری رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’عَلَى الله الْبَيَان وعَلى رَسُول الله الْبَلَاغ، وعلينا التَّسْلِيم‘‘۔ اللہ پر بیان کرنا ہے, رسول پر تبلیغ کرنا ہے اور ہم پر تسلیم کرنا ضروری ہے۔ ( الحجۃ فی بیان المحجۃ: ۲/۵۱۲، شرح السنۃ للبغوی : ۱/۱۷۱)

كتاب:فرشتوں پر ایمان کے بیان میں

کتاب کا خلاصہ

٭ تمام فرشتوں پر ہمارا ایمان ہے اور ہمیں پورا یقین ہے کہ ارکان ایمان کا دوسرا رکن ایمان بالملا ئکہ یعنی فرشتوں پر ایمان لا ناہے۔

ایمان بالملا ئکہ میں کئی مفہوم شامل ہیں، مندرجہ ذیل سطور میں چند مفاہیم ملاحظہ کریں:

۱۔ فرشتوں کے وجود کی تصدیق کرنا۔

۲۔ انہیں وہی مقام دینا جس کے وہ حق دار ہیں اور یہ ماننا کہ وہ اللہ کے بند ے اور اس کی مخلوق ہیں جس طرح کہ جن و انس مخلوق ہیں جیسے جن و انس کو اللہ تعالیٰ نے مکلف بنایا ہے اسی طرح یہ بھی مکلف ہیں، یہ وہی کام کرسکتے ہیں جس پر اللہ تعالیٰ نے انہیں قدرت د ے رکھا ہے، انہیں بھی موت سے دو چار ہو نا ہے، ہاں یہ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں لمبی عمر عطا کیا ہے، زندگی کی آخری سانس لئےاور اپنی عمر کی انتہا کو پہونچے بغیر یہ موت سے دو چار نہیں ہو ں گے، یہ مخلوق کسى بھى ایسے وصف سے متصف نہیں کئے جائیں گے جس سے یہ لگے کہ یہ اللہ سبحانہ وتعالى کے ساجھى ہیں اور نہ ہی انہیں معبودان کے طور پکارا جاسکتا ہے، جیسا کہ ان سب کا مشرکین نے دعوى کیا تھا۔

۳۔ یہ اعتراف کیا جا ئے کہ ان میں بھی اللہ کے قاصد ہیں اور اللہ انہیں جس انسان کی طرف چاہتا ہے بھیجتا ہے اور بسا اوقات ان میں سے بعض کو اللہ انہیں میں سے بعـض کی طرف بھیجتا ہے۔ ان پر ایمان میں یہ اعتراف بھى داخل ہے کہ ان میں سے بعض عرش کو اٹھا ئے ہو ئے ہیں، بعض صف بصف ہیں، بعض جنت کے پہر ے دار ہیں اور بعض جہنم کے داروغہ ہیں، ان میں سے بعض اعمال کو لکھنے والے ہیں اور ان میں سے بعض بادل کو ہانکتے ہیں، قرآن مجید میں ان تمام پر یا ان میں سے اکثر پر گفتگو وارد ہو ئی ہے۔ (شعب الإیمان :۱/ ۲۹۶)

۴۔ فرشتوں پر مجمل و مفصل ہر اعتبار سے ایمان لانا واجب ہے، لہذا ہم مجمل طور پرتمام فرشتوں کے وجود پر ایمان لاتے ہیں، اورمفصل طور پر ان فرشتوں پر بھی ایمان لاتے ہیں جن کا نام، جن کی صفات اورجن کے اعمال ہم جانتے ہیں اور جن کا ذکر کتاب و سنت میں وارد ہے ۔

٭ ان فرشتوں پر بھی ہمارا ایمان ہے جنہیں ہم جانتے ہیں اور ان پر بھی جنہیں ہم نہیں جا نتے ہیں، ان کی صفات اور اعمال پر بھی ہمارا ایمان ہے، ہمیں یہ معلوم ہے کہ ان کی تعداد، ان کی صفات اور ان کے اعمال ہمیں جو معلوم ہیں ان سے کہیں زیادہ ہیں لیکن معلوم و نامعلوم ہر ایک پر ہمارا ایمان ہے اور اسی طرح ایمان ہے جس طرح اللہ اور اس کے رسول نے ہمیں خبردیا ہے۔ ہمیں ان کی کیفیت سے کوئی سرو کار نہیں، ہم انہیں عقل کی کسوٹی پر نہیں جانچتے، ان پر اپنی رائے قائم نہیں کرتے، ان کی بے جا تاویل میں نہیں پڑتے بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے جو مطلوب ہے اس پر ہم آمنا و صدقنا و سلمنا کہتے ہیں۔

٭ ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعا لیٰ نے فرشتوں کو نور سے پیدا کیا، یہ بھی اللہ کی مخلوق ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسی خاص ہیئت میں پیدا کیا کہ اس کی حقیقت سوائے اللہ کے کو ئی نہیں جانتا ہے، یہ اللہ کى خاص تربیت سے بہرہ ور بندے ہیں، انہیں بھی اللہ نے اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے، یہ حکم الہی کی بجا آوری کرتے اور اس کی عبادت کرتے ہیں، عبادت الہی سے اعراض نہیں کرتے۔

فرشتوں کی عبادات میں سے :تسبیح، سجد ے اورخوف و خشیت ہیں۔ اور اپنى عظیم عبادتوں کے ساتھ ساتھ یہ اپنے رب سے بہت ہی زیادہ ڈرتے ہیں۔ ان کی عبادت کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی کے لئے محبت کرتے اور اللہ ہی کے لئے دوستی کرتے ہیں۔

٭ ہمارا اس بات پر بھی ایمان ہے کہ اللہ تعا لیٰ نے انہیں ایک ایسی ہیئت پر بنایا ہے کہ اس کا احاطہ کوئی اور نہیں کر سکتا، صرف وہی کر سکتا ہے جس نے انہیں اس ہیئت پر بنایا ہے۔

٭ ہمارا یہ بھی ایمان ہے کہ اللہ تعا لیٰ نے ان کے لئے پر بنایا اوراللہ تعالیٰ نے انہیں انبیاء و رسل کے پاس انسانی شکل میں آنے کی اجازت دی اور جو مشرکین یہ سمجھتے ہیں کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں تو اللہ نے انہیں جھوٹا کہا ہے۔

٭ ہمارا ایمان ہے کہ فرشتے نہ کھا تے ہیں نہ پیتے ہیں کیوں کہ ان کے پاس خواہشات نفسانی ہے ہی نہیں، ان کے اخلاق میں حیاء شامل ہے اور یہ بھی اس سے تکلیف محسوس کرتے ہیں جس سے ابن آدم کو تکلیف ہوتی ہے۔

٭ ہمارا یہ ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اتنی قوت وطاقت عطا کردیا ہے کہ اس کا احاطہ نا ممکن ہے، فرشتے بے شمار ہیں، ان کی تعداد وہی جانتا ہے جس نے انہیں پیدا کیا ہے۔

٭ ہمارا ایمان ہے کہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے شرف عطا کیا ہے، انہیں بڑ ے بڑ ے، مختلف اور بہت سار ے اعمال کا مکلف بنایا ہے، ان کے لئے سب سے شرف کی بات یہ ہے کہ یہ اللہ اور بندوں کے درمیان واسطہ ہیں، یہ وحی الہی سے بندوں کو آشنا کرتے ہیں اور جو فرشتہ انبیاء و رسل کی طر ف وحی کے لانے کا ذمہ دار ہے اسے جبرئیل علیہ السلام کہا جاتا ہے، اور ان کو کبھی کبھی اللہ تعالى بطور ابتلاء و آزمائش غیر انبیاء کی طرف بھیجتا ہے۔

فرشتوں کے بعض اعمال: مندرجہ ذیل سطور میں فرشتوں کے بعض اعمال ملاحظہ کریں:۔ عرش کا اٹھانا، تقدیر کا لکھنا، رحم مادر میں پا ئی جا نے وا لی مخلوق کی شکل و صورت بنا نا اور اس میں روح پھونکنا، بندوں کو موت سے دو چار کرنا، دنیا و آخرت میں تمام جسموں میں روح پھونکنا، مومنوں کے ساتھ جہاد کرنا، مومنوں کے لئے دعا و استغفار کرنا، مومنوں کے عبادات کی گواہی دینا، ان کے پاکیزہ کلمات کو اوپر لے جانا اور اللہ رب العالمین کو ان بندوں کےاعمال کی بابت خبر دینا حالانکہ اللہ تعالی خبیر و علیم ہے، اسے کسى خبر دینے والے کی کو ئی ضرورت نہیں ہے۔

ان کے کاموں میں سے: بابرکت رات یا د ن میں ان کا اس دنیا میں نازل ہونا، جیسے یوم عرفہ، شب قدر اور جمعہ کا دن، وغیرہ۔

ان کے اعمال میں سے: امت محمدیہ کی طرف سے نبی ﷺ پر بھیجا گیا درود آپ تک پہونچانا ہے۔

نیز ان کے کاموں میں سے ہے: انسانوں کی حفاظت کرنا، نیکی بدی کا لکھنا، دجال سے مدینہ منورہ کو بچانا، قبر میں مرد ے سے سوال کرنا، موت کے وقت مومنین کو بڑی کامیابی کی بشارت دینا، دار آخرت میں ان کا استقبال کرنا، جنت کے دروازوں سے انہیں داخل کرنا اور یہ فرشتے بروز قیامت اللہ تعالیٰ کے ساتھ ساتھ صف بصف نازل ہو ںگے۔

ان میں سے بعض جنت کے اور بعض جہنم کے داروغہ ہو ںگے۔

٭ ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے لئے درجات اور مراتب بنائے ہیں، سب سے بڑا مقام جبرئیل، میکا ئیل، اسرافیل علیہم السلام کا ہے۔ اور فرشتوں میں سے نہایت شرف والے وہ فرشتے ہیں جو عرش کو اٹھانے والے ہیں اوراسى طرح وہ فرشتے بھى جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے۔ ہر آسمان میں فرشتوں کا اتنی تعداد ہے کہ ان کی تعداد سوا ئے اللہ کے کو ئی نہیں جانتا، ان میں سے ہر فرشتے کا مقام معلوم ہے اور ان میں کچھ مقرب ہیں۔

باب: فرشتوں پر ایمان لانے کے وجوب کا بیان

٭ تمام فرشتوں پر ہمارا ایمان ہے، کیوں کہ ہمیں پورا یقین ہے کہ ارکان ایمان کا دوسرا رکن ایمان بالملا ئکہ یعنی فرشتوں پر ایمان لانا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: { آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ} "رسول ایمان ﻻیا اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے اتری اور مومن بھی ایمان ﻻئے، یہ سب اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان ﻻئے"۔ [البقرۃ: ۲۸۵] ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ} "ساری اچھائی مشرق اور مغرب کی طرف منہ کرنے میں ہی نہیں بلکہ حقیقتاً اچھا وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ پر، قیامت کے دن پر، فرشتوں پر، کتاب اللہ اور نبیوں پر ایمان رکھنے والا ہو" ۔ [البقرۃ: ۱۷۷] اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ’’كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولُ اللهِ، مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: ‘‘۔ "اللہ کے رسولﷺ ایک دن لوگوں کے پاس تشریف رکھتے تھے کہ آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا، اے اللہ کے رسول! ایمان کیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا : أَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ، وَمَلَائِكَتِهِ، وَكِتَابِهِ، وَلِقَائِهِ، وَرُسُلِهِ، وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ الْآخِرِ‘‘۔ ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کی ملاقات پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور قیامت کے د ن پر ایمان لاؤ۔ (صحیح بخاری : ۴۷۷۷، صحیح مسلم :۹، سنن ابن ماجہ: ۶۴)

امام بیہقی رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’وَالْإِيمَانُ بِالْمَلَائِكَةِ يَنْتَظِمُ مَعَانِيَ أَحَدُهَا: التَّصْدِيقُ بِوُجُودِهِمْ. وَالْآخَرُ: إِنْزَالُهُمْ مَنَازِلَهُمْ، وَإِثْبَاتُ أَنَّهُمْ عِبَادُ اللهِ، وَخَلْقُهُ كَالْإِنْسِ، وَالْجِنِّ مَأْمُورُونَ مُكَلَّفُونَ لَا يَقْدِرُونَ إِلَّا عَلَى مَا قَدِّرُهُمُ اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ، وَالْمَوْتُ عَلَيْهِمْ جَائِزٌ، وَلَكِنَّ اللهَ تَعَالَى جَعَلَ لَهُمْ أَمَدًا بَعِيدًا، فَلَا يَتَوَفَّاهُمْ حَتَّى يَبْلُغُوهُ، وَلَا يُوصَفُونَ بِشَيْءٍ يُؤَدِّي وَصْفَهُمْ بِهِ إِلَى إِشْرَاكِهِمْ بِاللهِ تَعَالَى جَدُّهُ، وَلَا يَدَّعُونَ آلِهَة كَمَا ادَّعَتْهُمُ الْأَوَائِلُ. ایمان بالملائکہ کئی معانی کو شامل ہے: (۱) ان کے وجود کو تسلیم کرنا (۲)انہیں ان کے مقام ہی پر رکھنا اور یہ تسلیم کرنا کہ وہ اللہ کے بند ے ہیں، انہیں بھی انسانوں کی طرح پیدا کیا گیا ہے اور جن بھی مامور اور مکلف ہیں، یہ وہی کر سکتے ہیں جس کی اللہ نے انہیں طاقت دی ہے، موت ان پر بھی آئے گی لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں لمبی مدت عطا کیا ہے، انہیں موت نہیں آئے گی تا آنکہ وہ اس عمر کو پہونچ جا ئیں، یہ ایسی صفات سے متصف نہیں ہیں جو انہیں شرک باللہ تک لے جا ئے، یہ معبود ہونے کا دعوی نہیں کرتے جیسا کہ ان کے اگلوں نے دعوی کیا۔ (اور کچھ لوگ جب اوائل کہتے ہیں تو اس ان کا مقصود فلاسفہ ہوتے ہیں۔) (۳) ۔ یہ اعتراف کیا جا ئے کہ ان میں بھی اللہ کے قاصد ہیں اور اللہ انہیں جس انسان کی طرف چاہتا ہے بھیجتا ہے اور بسا اوقات ان میں سے بعض کو اللہ انہیں میں سے بعـض کی طرف بھیجتا ہے، اس بات کا اعتراف کرنا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ ان میں سے بعض عرش کو اٹھا ئے ہو ئے ہیں، بعض صف بصف ہیں، بعض جنت کے پہرے دار ہیں اور بعض جہنم کے داروغہ ہیں، ان میں سے بعض اعمال کو لکھنے والے ہیں اور ان میں سے بعض بادل کو ہانکتے ہیں، قرآن مجید میں ان تمام پر یا ان میں سے اکثر پر گفتگو وارد ہو ئی ہے۔ (شعب الإیمان :۱/ ۲۹۶)

تو امام بیہقی رحمہ اللہ نے یہاں ایمان بالملائکہ کے تین معانی کا ذ کر کیا ہے۔

(۴)۔ لیکن ایک چوتھا معنی یہ بھی ہے کہ فرشتوں پر مجمل و مفصل ہر اعتبار سےایمان لانا واجب ہے، لہذا ہم مجمل طور پرتمام فرشتوں کے وجود پر ایمان لاتے ہیں اورمفصل طور پر ہم ان فرشتوں پر بھی ایمان لاتے ہیں جن کا نام، جن کی صفات اورجن کے اعمال ہم جانتے ہیں اور جن کا ذکر کتاب و سنت میں وارد ہوا ہے۔

ہمیں یہ معلوم ہے کہ جتنے فرشتوں کی تعداد، صفات اور اعمال سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں با خبر کیا ہے ان کی تعداد ان فرشتوں کے بنسبت کم ہے جن کے احوال وکوائف، تعداد ، صفات اور اعمال سے ہم بے خبر ہیں، لیکن ہم تمام پر ایمان رکھتے ہیں اور اسی طرح ایمان رکھتے ہیں جیسا اللہ اور اس کے رسول کو مطلوب ہے، ہمیں ان کی کیفیت سے کوئی سرو کار نہیں، ہم انہیں عقل کی کسوٹی پر نہیں جانچتے، ان پر اپنی رائے قائم نہیں کرتے، اس چیز کی بے جا تاویل میں نہیں پڑتے بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے جو مطلوب ہے اس پرہم آمنا و صدقنا و سلمنا کہتے ہیں۔

باب: فرشتوں کی کثرت تعداد، انکی صفات اور ان کے مخلوق ہونے کا بیان

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو نور سے پیدا کیاہے، جیسا کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: ’’خُلِقَتِ الْمَلَائِكَةُ مِنْ نُورٍ‘‘۔ فرشتے نور سے پیدا کئے گئے ہیں۔ (صحیح مسلم: ۲۹۹۶) اوراللہ تعالی نے انہیں مخصوص ہیئت و کیفیت پربنایا ہے لیکن یہ نہ سمجھنا کہ فقط روح یا طاقت و قوت ہی کا نام ملائکہ ہے، بلکہ یہ غیبی مخلوق اور اللہ کے خاص تربیت یافتہ بند ے ہیں، انہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت اور فرماں برداری کے لئے پیدا کیا ہے، وہ اللہ کی عبادت کرتے ہیں اوراللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے میں ذرہ برابرکوتاہی نہیں کرتے۔

ان کی عبادتوں میں تسبیح، سجد ے، خوف اور ڈر وغیرہ شامل ہیں، اللہ تعالی نے فرمایا: {لَا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ} "اس کی نافرمانی نہیں کرتے جس کا اللہ انہیں حکم دے بلکہ جو حکم دیا جائے بجا ﻻتے ہیں"۔ [التحریم: ۶] اور مزید فر مایا: {وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ مِنْ دَاۗبَّـةٍ وَّالْمَلٰۗىِٕكَةُ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ} "یقیناً آسمان و زمین کے کل جاندار اور تمام فرشتے اللہ تعالیٰ کے سامنے سجد ے کرتے ہیں اور ذرا بھی تکبر نہیں کرتے"۔ [النحل: ۴۹] ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَتَرَى الْمَلَائِكَةَ حَافِّينَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ} "اور تو فرشتوں کو اللہ کے عرش کے اردگرد حلقہ باندھے ہوئے اپنے رب کی حمد و تسبیح کرتے ہوئے دیکھے گا"۔ [الزمر: ۷۵] اور وہ (فرشتے) -اپنی کثرت عبادت گزاری کے باوجود۔ اپنے رب سے بہت زیادہ خوف کھاتے ہیں، اللہ عز وجل نے فرمایا: {يَخَافُونَ رَبَّهُمْ مِنْ فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ} "اور اپنے رب سے جو ان کے اوپر ہے، کپکپاتے رہتے ہیں اور جو حکم مل جائے اس کی تعمیل کرتے ہیں"۔ [النحل: ۵۰]

فرشتوں کی ایک عبادت یہ بھی ہے کہ وہ اللہ کی خاطر دوستی اور اللہ ہی کے لئے محبت کرتے ہیں، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ العَبْدَ نَادَى جِبْرِيلَ: إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ فُلاَنًا فَأَحْبِبْهُ، فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ، فَيُنَادِي جِبْرِيلُ فِي أَهْلِ السَّمَاءِ: إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ فُلاَنًا فَأَحِبُّوهُ، فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ، ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ القَبُولُ فِي الأَرْضِ‘‘۔ جب اللہ بند ے سے محبت کرتا ہے تواللہ جبرئیل سے کہتا ہے: کہ اللہ فلاں سے محبت کرتا ہے لہدا تم بھی اس سے محبت کرو، تو جبرئیل اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، پھر جبرئیل آسمان والوں میں اعلان کرتے ہیں: کہ اللہ فلاں سے محبت کرتا ہے لہذا تم سب اس سے محبت کرو، تو آسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، پھر اس کے لئے زمین میں قبولیت رکھ دی جاتی ہے۔ (صحیح بخاری: ۳۲۰۹، صحیح مسلم : ۲۶۳۷، جامع الترمذی : ۳۱۶۱) فرشتے اللہ تعالیٰ ہی کے لئے دشمنی کرتے ہیں، اور اللہ ہی کے لئے بغض رکھتے ہیں، اللہ کی حرام کردہ چیزوں میں غیرت کا اظہار کرتے ہیں، جو اللہ کی نظرمیں ملعون ہے اس پر فرشتے بھی لعنت بھیجتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَمَاتُوا وَهُمْ كُفَّارٌ أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ } "یقیناً جو کفار اپنے کفر میں ہی مرجائیں، ان پر اللہ تعالیٰ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے"۔ [البقرۃ: ۱۶۱] اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ تَمَاثِيلُ أَوْ تَصَاوِيرُ ‘‘۔ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے ہیں جس میں تصویریں ہوتی ہیں۔ (صحیح مسلم: ۲۱۱۲)

ہمارا ایمان ہے کہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے ایسی ہیئت میں بنایا ہے کہ ان کی حقیقت وہی جانتا ہے، اس کے علاوہ کو ئی نہیں جان سکتاہے، جیسا کہ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’أُذِنَ لِي أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ مَلَكٍ مِنْ مَلَائِكَةِ اللَّهِ مِنْ حَمَلَةِ الْعَرْشِ، إِنَّ مَا بَيْنَ شَحْمَةِ أُذُنِهِ إِلَى عَاتِقِهِ مَسِيرَةُ سَبْعِ مِائَةِ عَامٍ‘‘۔ مجھے اجازت ملی ہے کہ میں عرش کے اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایک فرشتے کا حال بیان کروں، اس کے کان کی لو سے اس کے کاندھے تک کا فاصلہ سات سو برس (کی مسافت کے برابر) ہے۔ (سنن أبی داؤد: ۴۷۲۷، مشیخۃ إبن طہمان:۲۱، معجم الأوسط للطبرانی: ۱۷۰۹ ، العظمة لأبِي الشيخ: ۳۱۳)

ہم یہ مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے پر بنایا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {الْحَمْدُ لِلَّهِ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ جَاعِلِ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا أُولِي أَجْنِحَةٍ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ يَزِيدُ فِي الْخَلْقِ مَا يَشَاءُ} "اس اللہ کے لئے تمام تعریفیں سزاوار ہیں جو (ابتداء) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا اور دو دو تین تین چار چار پروں والے فرشتوں کو اپنا رسول (قاصد) بنانے والا ہے، تخلیق میں جو چاہے زیادتی کرتا ہے"۔ [الفاطر: ۱] اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ’’أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى جِبْرِيلَ لَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ‘‘ یقینا محمد ﷺ نے جبرائیل کو اس حال میں دیکھا کہ ان کے پاس چھ سو پر تھے۔ (صحیح بخاری: ۴۸۵۷، صحیح مسلم: ۱۷۴، جامع الترمذی: ۳۲۷۷) ان کے پاس بھی دل ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {حَتَّى إِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالُوا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ قَالُوا الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ } "یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کردی جاتی ہے تو پوچھتے ہیں تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ جواب دیتے ہیں کہ حق فرمایا اور وہ بلند و بالا اور بہت بڑا ہے"۔ [سبأ: ۲۳]

اور اللہ تعالیٰ نے انہیں انبیاء و رسل کے پاس کسی کی بھی انسان کی شکل میں آنے کی اجا زت دیا ہے اسی لئے فرشتے لوط اورابراہیم علیہما السلام کے پاس ان جان اورنا آشنا مہمانوں کی شکل میں آئے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فر مایا: {هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ ضَيْفِ إِبْرَاهِيمَ الْمُكْرَمِينَ*۔ "کیا تجھے ابراہیم (علیہ السلام) کے معزز مہمانوں کی خبر بھی پہنچی ہے؟ إِذْ دَخَلُوا عَلَيْهِ فَقَالُوا سَلَامًا قَالَ سَلَامٌ قَوْمٌ مُنْكَرُونَ} وہ جب ان کے ہاں آئے تو سلام کیا، ابراہیم نے جواب سلام دیا (اور کہا یہ تو) اجنبی لوگ ہیں"۔ [الذاریات: ۲۴- ۲۵] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {وَلَمَّا جَاءَتْ رُسُلُنَا لُوطًا سِيءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَقَالَ هَذَا يَوْمٌ عَصِيبٌ } "جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے لوط کے پاس پہنچے تو وہ ان کی وجہ سے بہت غمگین ہوگئے اور دل ہی دل میں کڑھنے لگے اور کہنے لگے کہ آج کا دن بڑی مصیبت کا دن ہے"۔ [ھود: ۷۷] اسی طرح جبرئیل علیہ السلام جب مریم علیہا السلام کے پاس آئے تو اول وہلہ میں وہ بھی انہیں نہ پہچان سکیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا قصہ بیان کرتے ہو ئے فرمایا: {فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا*۔ "پھر ہم نے اس کے پاس اپنی روح (جبرائیل علیہ السلام) کو بھیجا پس وہ اس کے سامنے پورا آدمی بن کر ﻇاہر ہوا۔ قَالَتْ إِنِّي أَعُوذُ بِالرَّحْمَنِ مِنْكَ إِنْ كُنْتَ تَقِيًّا* قَالَ إِنَّمَا أَنَا رَسُولُ رَبِّكِ} یہ کہنے لگیں میں تجھ سے رحمٰن کی پناہ مانگتی ہوں اگر تو کچھ بھی اللہ سے ڈرنے والا ہے۔ اس نے جواب دیا کہ میں تو اللہ کا بھیجا ہوا قاصد ہوں"۔ [مریم: ۱۷- ۱۹] اور ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا: ’’ وَكَانَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صُورَةِ دِحْيَةَ‘‘ جبرائیل علیہ السلام نبی ﷺ کے پاس دحیہ کی صورت میں آتے تھے۔ (مسند أحمد: ۵۸۵۷، تعظيم قدر الصلاة لمحمد بن نصر بن الحجاج المَرْوَزِي : ۳۷۲، الإبانة الكبرى لابن بطة: ۸۳۱)

فرشتے کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں کیوں کہ انہیں کسی چیز کی خواہش نہیں ہوتی ہے، اسی لئے جب ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئے تو انہوں نے ان کے پاس کھانا پیش کیا لیکن وہ نہیں کھا ئے، اللہ تعالیٰ نے اُس حقیقت کی وضاحت بایں الفاظ کرتے ہوئے فرمایا: { فَرَاغَ إِلَى أَهْلِهِ فَجَاءَ بِعِجْلٍ سَمِينٍ*۔ "پھر (چپ چاپ جلدی جلدی) اپنے گھر والوں کی طرف گئے اور ایک فربہ بچھڑے (کا گوشت) ﻻئے۔ فَقَرَّبَهُ إِلَيْهِمْ قَالَ أَلَا تَأْكُلُونَ*۔ اور اسے ان کے پاس رکھا اور کہا آپ لوگ کھاتے کیوں نہیں۔ فَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً قَالُوا لَا تَخَفْ وَبَشَّرُوهُ بِغُلَامٍ عَلِيمٍ } پھر تو دل ہی دل میں ان سے خوفزدہ ہوگئے انہوں نے کہا آپ خوف نہ کیجئے۔ اور انہوں نے اس (حضرت ابراہیم) کو ایک علم والے لڑکے کی بشارت دی"۔ [الذاریات: ۲۶- ۲۸] اور ان کے اخلاق میں سے حیاء و شرم کرنا بھی ہے، اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ’’أَلَا أَسْتَحِي مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ‘‘۔ کیا میں ایسے آدمی سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے حیا کرتے ہیں۔ (صحیح مسلم: ۲۴۰۱)

جن چیزوں سے عام انسان تکلیف محسوس کرتے ہیں ان سے فرشتے بھی تکلیف محسوس کرتے ہیں، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الْبَقْلَةِ، الثُّومِ - وقَالَ مَرَّةً: مَنْ أَكَلَ الْبَصَلَ وَالثُّومَ وَالْكُرَّاثَ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ بَنُو آدَمَ‘‘۔ جو اس سبزی یعنی لہسن کھا ئے اور ایک بار کہا جو پیاز، لہسن اور گند نا۱ کھا ئے وہ ہماری مسجد سے قریب نہ ہو، کیوں کہ فرشتے بھی اس چیز سے تکلیف محسوس کرتے ہیں جس سے انسان تکلیف محسوس کرتا ہے۔ (صحیح بخاری: ۸۵۴، صحیح مسلم: ۵۶۴ ،اور یہ لفظ صحیح مسلم ہی کے ہیں، سنن أبی داود: ۳۸۲۲، جامع الترمذی: ۱۸۰۶، سنن النسائی: ۷۰۷، سنن ابن ماجہ: ۳۳۶۵ )

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ نے انہیں اتنی طاقت عطا کیا ہے کہ انسانی فکر وہاں تک پہونچ ہی نہیں سکتی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {ذِي قُوَّةٍ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ} "جو قوت والا ہے عرش والے (اللہ) کے نزدیک بلند مرتبہ ہے"۔ [التکویر: ۲۰] ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {عَلَيْهَا مَلَائِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ } "جس پر سخت دل مضبوط فرشتے مقرر ہیں جنہیں جو حکم اللہ تعالیٰ دیتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو حکم دیا جائے بجا لاتے ہیں"۔ [التحریم: ۶] ان کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگا ئے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر ایک ہی فرشتے نے قوم لوط کی تمام بستیوں کو پلٹ دیا تھا(وہ کل سات بستیاں تھیں)، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِنْ سِجِّيلٍ مَنْضُودٍ} "پھر جب ہمارا حکم آپہنچا، ہم نے اس بستی کے اوپر کا حصہ نیچے کردیا اور ان پر کنکریلے پتھر برسائے جو تہ بہ تہ تھے"۔ [ھود: ۸۲]

اور ہمارا ایمان ہے کہ فرشتے بے شمار ہیں، ان کی تعداد لا محدود ہے، ان کی صحیح تعداد وہی جانتا ہے جس نے انہیں پیدا کیا ہے، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’ فَرُفِعَ لِي البَيْتُ المَعْمُورُ، فَسَأَلْتُ جِبْرِيلَ، فَقَالَ: هَذَا البَيْتُ المَعْمُورُ يُصَلِّي فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ، إِذَا خَرَجُوا لَمْ يَعُودُوا إِلَيْهِ آخِرَ مَا عَلَيْهِمْ‘‘ ۔ میرے لئے بیت معمور کو بلند کیا گیا تو میں نے جبرئیل سے پوچھا، تو انہوں نے کہا: کہ یہ بیت معمور ہے، اس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے نماز پڑھتے ہیں، جب وہ وہاں سے نکل جا تے ہیں تو دو بارہ اس کی طرف واپس نہیں ہو تے۔ (صحیح بخاری: ۳۲۰۷، صحیح مسلم: ۱۶۴، جامع الترمذی: ۳۳۴۶، سنن النسائی: ۴۴۸)

اور ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’إِنِّي أَرَى مَا لَا تَرَوْنَ، وَأَسْمَعُ مَا لَا تَسْمَعُونَ أَطَّتِ السَّمَاءُ، وَحُقَّ لَهَا أَنْ تَئِطَّ مَا فِيهَا مَوْضِعُ أَرْبَعِ أَصَابِعَ إِلَّا وَمَلَكٌ وَاضِعٌ جَبْهَتَهُ سَاجِدًا لِلَّهِ.....‘‘۔ بیشک میں وہ چیز دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ رہےہو، اور وہ سن رہا ہوں جو تم نہیں سن رہے ہو، آسمان چرچرا رہا ہے اور اسے چرچرانے کا حق دیا گیا ہے، (اس لیے کہ) اس میں چار انگلیوں کے برابر جگہ نہیں ہے مگر ایک فرشتہ اپنی پیشانی اللہ کے لئےسجد ے میں رکھے ہوئے ہے۔ (جامع الترمذی: ۲۳۱۲، سنن ابن ماجہ: ۴۱۹۰ ، مصنف ابن أبی شیبۃ: ۲۷۰۴۴، مسند أحمد: ۲۱۵۱۶، مسند البزار : ۳۹۲۴، ۳۹۲۵)

اور اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ’’يُؤْتَى بِجَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ لَهَا سَبْعُونَ أَلْفَ زِمَامٍ، مَعَ كُلِّ زِمَامٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ يَجُرُّونَهَا‘‘۔ جہنم کو اس دن لایا جائے گا اس حال میں کہ اس کے ستر ہزار لگام ہو ںگے اور ہر لگام کو ستر ہزار فرشتے کھینچ رہے ہوں گے۔ (صحیح مسلم: ۲۸۴۲، جامع الترمذی: ۲۵۷۳)

مشرکین مکہ کہتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کرتے ہو ئے فرما یا: {أَمْ خَلَقْنَا الْمَلَائِكَةَ إِنَاثًا وَهُمْ شَاهِدُونَ} "یا یہ اس وقت موجود تھے جبکہ ہم نے فرشتوں کو مؤنث پیدا کیا"۔ [الصافات: ۱۵۰] اور اس قول کے ذریعہ بھی ان کی تردید کیا، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {أَفَأَصْفَاكُمْ رَبُّكُمْ بِالْبَنِينَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِنَاثًا إِنَّكُمْ لَتَقُولُونَ قَوْلًا عَظِيمًا} "کیا بیٹوں کے لئے تو اللہ نے تمہیں چھانٹ لیا اور خود اپنے لئے فرشتوں کو لڑکیاں بنالیں؟ بےشک تم بہت بڑا بول بول رہے ہو"۔ [الإسراء: ۴۰]

باب: فرشتوں کے اعمال کا بیان

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ نےانہیں شرف والا مقام دیا، انہیں بہت بڑے بڑے طرح طرح اور مختلف اعمال کا مکلف بنایا، ان میں سب سے اشرف اور با عزت بات یہ ہے کہ وہ اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان قاصد ہیں کیوں کہ یہ وحی پہونچا تے ہیں اور ایک فرشتہ ایسا بھی ہے کہ انبیاء و رسل کی طرف وحی پہونچانے کی ذمہ داری اسی کے حوالے کی گئی ہے، اور وہ جبرئیل علیہ السلام ہیں، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {قُلْ نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدُسِ مِنْ رَبِّكَ بِالْحَقِّ} "کہہ دیجئے کہ اسے آپ کے رب کی طرف سے جبرائیل حق کے ساتھ لے کر آئے ہیں" ۔ [النحل: ۱۰۲] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {وَإِنَّهُ لَتَنْزِيلُ رَبِّ الْعَالَمِينَ*۔ "اور بیشک یہ (قرآن) رب العالمین کا نازل فرمایا ہوا ہے۔ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ*۔ اسے امانت دار فرشتہ لے کر آیا ہے۔ عَلَى قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنْذِرِينَ*۔ آپ کے دل پر اترا ہے کہ آپ آگاہ کر دینے والوں میں سے ہو جائیں۔ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُبِينٍ } صاف عربی زبان میں ہے"۔ [الشعراء: ۱۹۲- ۱۹۵]

اور اللہ تعالیٰ ان (فرشتوں کو) نبیوں کے علاوہ دوسرے لوگوں کے پاس بطور امتحان اور آزمائش کے بھی بھیج سکتا ہے، جیسا کہ بنی اسرائیل کے تین افراد کے قصہ میں آیا ہے‘ عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’ إِنَّ ثَلاَثَةً فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ: أَبْرَصَ وَأَقْرَعَ وَأَعْمَى، بَدَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَبْتَلِيَهُمْ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ مَلَكًا، فَأَتَى الأَبْرَصَ، فَقَالَ: أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: لَوْنٌ حَسَنٌ، وَجِلْدٌ حَسَنٌ، قَدْ قَذِرَنِي النَّاسُ، قَالَ: فَمَسَحَهُ فَذَهَبَ عَنْهُ، فَأُعْطِيَ لَوْنًا حَسَنًا، وَجِلْدًا حَسَنًا، فَقَالَ: أَيُّ المَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: الإِبِلُ، - أَوْ قَالَ: البَقَرُ، هُوَ شَكَّ فِي ذَلِكَ: إِنَّ الأَبْرَصَ، وَالأَقْرَعَ، قَالَ أَحَدُهُمَا الإِبِلُ، وَقَالَ الآخَرُ: البَقَرُ -، فَأُعْطِيَ نَاقَةً عُشَرَاءَ، فَقَالَ: يُبَارَكُ لَكَ فِيهَا وَأَتَى الأَقْرَعَ فَقَالَ: أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ شَعَرٌ حَسَنٌ، وَيَذْهَبُ عَنِّي هَذَا، قَدْ قَذِرَنِي النَّاسُ، قَالَ: فَمَسَحَهُ فَذَهَبَ وَأُعْطِيَ شَعَرًا حَسَنًا، قَالَ: فَأَيُّ المَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: البَقَرُ، قَالَ: فَأَعْطَاهُ بَقَرَةً حَامِلًا، وَقَالَ: يُبَارَكُ لَكَ فِيهَا، وَأَتَى الأَعْمَى فَقَالَ: أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: يَرُدُّ اللَّهُ إِلَيَّ بَصَرِي، فَأُبْصِرُ بِهِ النَّاسَ، قَالَ: فَمَسَحَهُ فَرَدَّ اللَّهُ إِلَيْهِ بَصَرَهُ، قَالَ: فَأَيُّ المَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ الغَنَمُ: فَأَعْطَاهُ شَاةً وَالِدًا، فَأُنْتِجَ هَذَانِ وَوَلَّدَ هَذَا، فَكَانَ لِهَذَا وَادٍ مِنْ إِبِلٍ، وَلِهَذَا وَادٍ مِنْ بَقَرٍ، وَلِهَذَا وَادٍ مِنْ غَنَمٍ، ثُمَّ إِنَّهُ أَتَى الأَبْرَصَ فِي صُورَتِهِ وَهَيْئَتِهِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِسْكِينٌ، تَقَطَّعَتْ بِيَ الحِبَالُ فِي سَفَرِي، فَلاَ بَلاَغَ اليَوْمَ إِلَّا بِاللَّهِ ثُمَّ بِكَ، أَسْأَلُكَ بِالَّذِي أَعْطَاكَ اللَّوْنَ الحَسَنَ، وَالجِلْدَ الحَسَنَ، وَالمَالَ، بَعِيرًا أَتَبَلَّغُ عَلَيْهِ فِي سَفَرِي، فَقَالَ لَهُ: إِنَّ الحُقُوقَ كَثِيرَةٌ، فَقَالَ لَهُ: كَأَنِّي أَعْرِفُكَ، أَلَمْ تَكُنْ أَبْرَصَ يَقْذَرُكَ النَّاسُ، فَقِيرًا فَأَعْطَاكَ اللَّهُ؟ فَقَالَ: لَقَدْ وَرِثْتُ لِكَابِرٍ عَنْ كَابِرٍ، فَقَالَ: إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا فَصَيَّرَكَ اللَّهُ إِلَى مَا كُنْتَ، وَأَتَى الأَقْرَعَ فِي صُورَتِهِ وَهَيْئَتِهِ، فَقَالَ لَهُ: مِثْلَ مَا قَالَ لِهَذَا، فَرَدَّ عَلَيْهِ مِثْلَ مَا رَدَّ عَلَيْهِ هَذَا، فَقَالَ: إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا فَصَيَّرَكَ اللَّهُ إِلَى مَا كُنْتَ، وَأَتَى الأَعْمَى فِي صُورَتِهِ، فَقَالَ: رَجُلٌ مِسْكِينٌ وَابْنُ سَبِيلٍ وَتَقَطَّعَتْ بِيَ الحِبَالُ فِي سَفَرِي، فَلاَ بَلاَغَ اليَوْمَ إِلَّا بِاللَّهِ ثُمَّ بِكَ، أَسْأَلُكَ بِالَّذِي رَدَّ عَلَيْكَ بَصَرَكَ شَاةً أَتَبَلَّغُ بِهَا فِي سَفَرِي، فَقَالَ: قَدْ كُنْتُ أَعْمَى فَرَدَّ اللَّهُ بَصَرِي، وَفَقِيرًا فَقَدْ أَغْنَانِي، فَخُذْ مَا شِئْتَ، فَوَاللَّهِ لاَ أَجْهَدُكَ اليَوْمَ بِشَيْءٍ أَخَذْتَهُ لِلَّهِ، فَقَالَ أَمْسِكْ مَالَكَ، فَإِنَّمَا ابْتُلِيتُمْ، فَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنْكَ، وَسَخِطَ عَلَى صَاحِبَيْكَ‘‘۔ بنی اسرائیل میں تین شخص تھے، ایک کوڑھی، دوسرا اندھا اور تیسرا گنجا، اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ ان کا امتحان لے، چنانچہ اللہ عزوجل نے ان کے پاس ایک فرشتہ بھیجا، فرشتہ پہلے کوڑھی کے پاس آیا اور اس سے پوچھا کہ تمہیں سب سے زیادہ کیا چیز پسند ہے؟ اس نے جواب دیا کہ اچھا رنگ اور اچھی چمڑی کیونکہ مجھ سے لوگ پرہیز کرتے ہیں، بیان کیا کہ فرشتے نے اس پر اپنا ہاتھ پھیرا تو اس کی بیماری دور ہو گئی اور اس کا رنگ بھی خوبصورت ہو گیا اور چمڑی بھی اچھی ہو گئی، فرشتے نے پوچھا کس طرح کا مال تم زیادہ پسند کرو گے؟ اس نے کہا کہ اونٹ، یا اس نے گائے کہی، اسحاق بن عبداللہ کو اس سلسلے میں شک تھا کہ کوڑھی اور گنجے دونوں میں سے ایک نے اونٹ کی خواہش کی تھی اور دوسرے نے گائے کی، چنانچہ اسے حاملہ اونٹنی دی گئی اور کہا کہ اللہ تمہیں اس میں برکت دے گا، پھر فرشتہ گنجے کے پاس آیا اور اس سے پوچھا کہ تمہیں کیا چیز پسند ہے؟ اس نے کہا کہ عمدہ بال اور موجودہ عیب میرا ختم ہو جائے کیونکہ لوگ اس کی وجہ سے مجھ سے گریز کرتے ہیں، بیان کیا کہ فرشتے نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اس کا عیب جاتا رہا اور اس کے بجائے عمدہ بال آ گئے، فرشتے نے پوچھا، کس طرح کا مال پسند کرو گے؟ اس نے کہا کہ گائے! بیان کیا کہ فرشتے نے اسے حاملہ گائے دے دی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ اس میں برکت دے گا۔ پھر اندھے کے پاس فرشتہ آیا اور کہا کہ تمہیں کیا چیز پسند ہے؟ اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ مجھے آنکھوں کی روشنی دیدے تاکہ میں لوگوں کو د یکھ سکوں، بیان کیا کہ فرشتے نے ہاتھ پھیرا اور اللہ تعالیٰ نے اس کی بینائی اسے واپس دے دی پھر پوچھا کہ کس طرح کا مال تم پسند کرو گے؟ اس نے کہا کہ بکریاں! فرشتے نے اسے حاملہ بکری دے دی پھر تینوں جانوروں کے بچے پیدا ہوئے، یہاں تک کہ کوڑھی کے اونٹوں سے اس کی وادی بھر گئی، گنجے کی گائے بیل سے اس کی وادی بھر گئی اور اندھے کی بکریوں سے اس کی وادی بھر گئی پھر دوبارہ فرشتہ اپنی اُسی پہلی شکل میں کوڑھی کے پاس آیا اور کہا کہ میں ایک نہایت مسکین و فقیر آدمی ہوں، سفر کا تمام سامان و اسباب ختم ہو چکا ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا اور پھر تمھارے سوا کسی سے حاجت پوری ہونے کی امید نہیں لیکن میں تم سے اسی ذات کا واسطہ د ے کر جس نے تمہیں اچھا رنگ اور اچھا چمڑا اور مال عطا کیا، ایک اونٹ کا سوال کرتا ہوں جس سے سفر کو پورا کر سکوں، اس نے فرشتے سے کہا کہ میرے ذمہ بہت سے حقوق ہیں، فرشتہ نے کہا، غالباً میں تمہیں پہچانتا ہوں، کیا تمہیں کوڑھ کی بیماری نہیں تھی جس کی وجہ سے لوگ تم سے گھن کھاتے تھے، تم ایک فقیر اور قلاش تھے پھر تمہیں اللہ تعالیٰ نے یہ چیزیں عطا کیں؟ اس نے کہا کہ یہ ساری دولت تو میرے باپ دادا سے چلی آرہی ہے، فرشتے نے کہا کہ اگر تم جھوٹے ہو تو اللہ تمہیں اپنی پہلی حالت پر لوٹا دے۔ پھر فرشتہ گنجے کے پاس اپنی اُسی پہلی صورت میں آیا اور اس سے بھی وہی درخواست کی اور اس نے بھی وہی کوڑھی والا جواب دیا، فرشتے نے کہا کہ اگر تم جھوٹے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی پہلی حالت پر لوٹا دے، اس کے بعد فرشتہ اندھے کے پاس آیا، اپنی اُسی پہلی صورت میں اور کہا کہ میں ایک مسکین آدمی ہوں، سفر کے تمام سامان ختم ہو چکے ہیں اور سوائے اللہ تعالیٰ کے اور پھر تمہارے کسی سے حاجت پوری ہونے کی توقع نہیں، میں تم سے اس ذات کا واسطہ دے کر جس نے تمہیں تمہاری بینائی واپس دی ہے، ایک بکری مانگتا ہوں جس سے اپنے سفر کی ضروریات پوری کر سکوں، اندھے نے جواب دیا کہ واقعی میں اندھا تھا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے فضل سے بینائی عطا فرمائی اور واقعی میں فقیر و محتاج تھا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے مالدار بنایا، تم جتنی بکریاں چاہو لے سکتے ہو، اللہ کی قسم جب تم نے اللہ کا واسطہ دیا ہے تو جتنا بھی تمہارا جی چاہے لے جاؤ، میں تمہیں ہرگز نہیں روک سکتا، فرشتے نے کہا کہ تم اپنا مال اپنے پاس رکھو، یہ تو صرف امتحان تھا اور اللہ تعالیٰ تم سے راضی اور خوش ہے اور تمہارے دونوں ساتھیوں سے ناراض ہے۔ (صحیح بخاری: ۳۴۶۴، صحیح مسلم: ۲۹۶۴)

بعض فرشتے عرش الہی کو اٹھا ئے ہو ئے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {وَالْمَلَكُ عَلَى أَرْجَائِهَا وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَمَانِيَةٌ} "اس کے کناروں پر فرشتے ہونگے اور تیرے رب کا عرش اس دن آٹھ (فرشتے) اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے"۔ [الحاقۃ: ۱۷]

اور ان کے اعمال میں: تقدیر کا لکھنا بھی شامل ہے، اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’ إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ مَلَكًا فَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ، وَيُقَالُ لَهُ: اكْتُبْ عَمَلَهُ، وَرِزْقَهُ، وَأَجَلَهُ، وَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ‘‘۔ تم میں سے ہر ایک کی پیدائش کی تیاری تمہاری ماں کے پیٹ میں چالیس دنوں تک (نطفہ کی صورت) میں کی جاتی ہے پھر وہ اسی کے مثل خون کا لوتھڑا ہو جاتا ہے پھر وہ اسی کے مثل گوشت کا ٹکڑا ہو جاتا ہے، پھر اللہ ایک فرشتہ بھیجتا ہے تواسے چار باتوں کا حکم دیا جاتا ہے، اس سے کہا جاتا ہے کہ اس کے عمل، اس کی روزی، اس کی مدت زندگی اور یہ کہ وہ بد ہے یا نیک، لکھ لے۔ (صحیح بخاری: ۳۲۰۸ ، صحیح مسلم: ۲۶۴۳، سنن أبی داود: ۴۷۰۸، جامع الترمذی: ۲۱۳۷، سنن ابن ماجہ: ۷۶)

بعض فرشتے رحم مادر ہی میں بچے کی شکل و صورت بنانے اور اس میں روح پھونکنے پر مامور ہیں، اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’ إِذَا مَرَّ بِالنُّطْفَةِ ثِنْتَانِ وَأَرْبَعُونَ لَيْلَةً، بَعَثَ اللهُ إِلَيْهَا مَلَكًا، فَصَوَّرَهَا وَخَلَقَ سَمْعَهَا وَبَصَرَهَا وَجِلْدَهَا وَلَحْمَهَا وَعِظَامَهَا، ثُمَّ قَالَ: يَا رَبِّ أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى؟ فَيَقْضِي رَبُّكَ مَا شَاءَ، وَيَكْتُبُ الْمَلَكُ، ثُمَّ يَقُولُ: يَا رَبِّ أَجَلُهُ، فَيَقُولُ رَبُّكَ مَا شَاءَ، وَيَكْتُبُ الْمَلَكُ‘‘۔ جب نطفے پر بیالیس رات گزر جاتی ہے تو اللہ اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کی تصویر کشی کرتا، اس کا کان، اس کی آنکھ ، اس کی چمڑی اور اس کی ہڈیاں بناتا ہے پھر کہتا کہ اے رب! یہ مذکر ہے یا مؤنث؟ پھر تیرا رب جو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے اور فرشتہ لکھتا ہے پھر کہتا ہے اے رب ! اس کی مدت حیات تو تیرا رب جو چاہتا ہے کہتا ہے اور فرشتہ لکھتا ہے۔ (صحیح مسلم: ۲۶۴۵)

انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’وَكَّلَ اللَّهُ بِالرَّحِمِ مَلَكًا، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ نُطْفَةٌ، أَيْ رَبِّ عَلَقَةٌ، أَيْ رَبِّ مُضْغَةٌ، فَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَقْضِيَ خَلْقَهَا، قَالَ: أَيْ رَبِّ، أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى، أَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ، فَمَا الرِّزْقُ، فَمَا الأَجَلُ، فَيُكْتَبُ كَذَلِكَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ‘‘۔ اللہ رحم مادرپر ایک فرشتہ مقرر کرتا ہے تو وہ کہتا ہے اے رب ! نطفہ ہے، اے رب ! خون کا لوتھڑا ہے، اے رب ! گوشت کا ٹکڑا ہے پھر جب اللہ اسے پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ کہتا ہے اے رب! مذکر یا مؤنث، نیک یا بد، اس کی روزی کیا ہے، اس کی مدت حیات کیا ہے پھر اسی حساب سے اس کی ماں کے پیٹ میں لکھ لیا جاتا ہے۔ (صحیح بخاری: ۶۵۹۵، صحیح مسلم:۲۶۴۶)

بعض فرشتے بندگان الہیہ کی روح قبض کرتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ} "یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آپہنچتی ہے، اس کی روح ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے قبض کرلیتے ہیں اور وہ ذرا کوتاہی نہیں کرتے"۔ (الأنعام:61) ایک اور مقام پر اللہ نے فر مایا: { فَكَيْفَ إِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَارَهُمْ} "پس ان کی کیسی (درگت) ہوگی جبکہ فرشتے ان کی روح قبض کرتے ہوئے ان کے چہروں اور ان کى پیٹھوں پر گے"۔ [محمد: ۲۷]

فرشتوں کے اعمال میں سے: فرشتوں کا دنیا و آخرت دونوں جگہ جسموں میں روح پھونکنے پر مکلف ہونا ہے، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ مَلَكًا فَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ، وَيُقَالُ لَهُ: اكْتُبْ عَمَلَهُ، وَ رِزْقَهُ، وَ أَجَلَهُ، وَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ الرُّوحُ‘‘۔ تمہاری پیدائش کی تیاری تمہاری ماں کے پیٹ میں چالیس دنوں تک (نطفہ کی صورت) میں کی جاتی ہے پھر وہ اسی کے مثل خون کا لوتھڑا ہو جاتا ہے پھر وہ اسی کے مثل گوشت کا ٹکڑاہو جاتا ہے، پھر اللہ ایک فرشتہ بھیجتا ہے تواسے چار باتوں کا حکم دیا جاتا ہے، اس سے کہا جاتا ہے کہ اس کا عمل، اس کی روزی، اس کی مدت زندگی اور یہ کہ وہ بد ہے یا نیک، لکھ لے پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے۔ (صحیح بخاری :۳۲۰۸ ، صحیح مسلم :۲۶۴۳، سنن أبی داود: ۴۷۰۷، جامع الترمذی: ۲۱۳۷، سنن ابن ماجہ: ۷۶) اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ} "پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا پس وہ ایک دم کھڑے ہو کر دیکھنے لگ جائیں گے"۔ [الزمر: ۶۸ ]

فرشتوں کے اعمال میں سے: ان کا مومنین کے ساتھ جہاد کرنا اور میدان جنگ میں مومنوں کو ثابت قدم رکھنا اور زندگی کی جد وجہد میں بھی ثابت قدم رکھنا ہے۔ اللہ عزوجل کا فرمان ہے: { إِذْ يُوحِي رَبُّكَ إِلَى الْمَلَائِكَةِ أَنِّي مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِينَ آمَنُوا سَأُلْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوا فَوْقَ الْأَعْنَاقِ وَ اضْرِبُوا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ } "اس وقت کو یاد کرو جب کہ آپ کا رب فرشتوں کو حکم دیتا تھا کہ میں تمہارا ساتھ ہوں سو تم ایمان والوں کی ہمت بڑھاؤ میں ابھی کفار کے قلوب میں رعب ڈالے دیتا ہوں سو تم گردنوں پر مارو اور ان کے پور پور کو مارو"۔ [الأنفال: ۱۲] اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’ إِنَّ لِلشَّيْطَانِ لَمَّةً بِابْنِ آدَمَ وَلِلْمَلَكِ لَمَّةً فَأَمَّا لَمَّةُ الشَّيْطَانِ فَإِيعَادٌ بِالشَّرِّ وَتَكْذِيبٌ بِالحَقِّ، وَأَمَّا لَمَّةُ المَلَكِ فَإِيعَادٌ بِالخَيْرِ وَتَصْدِيقٌ بِالحَقِّ،فَمَنْ وَجَدَ ذَلِكَ فَلْيَعْلَمْ أَنَّهُ مِنَ اللَّهِ فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ وَمَنْ وَجَدَ الأُخْرَى فَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، ثُمَّ قَرَأَ {الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الفَقْرَ وَيَأْمُرُكُمْ بِالفَحْشَاءِ} [البقرة: ۲۶۸] الآيَةَ‘‘۔ انسان پر شیطان کا بھی وسوسہ ہوتا ہے اور فرشتوں کا بھی وسوسہ ہوتا ہے، رہی بات شیطانی وسوسے کی تو وہ برا ئی کا وعدہ اور حق کی تکذیب کرتا ہے اور رہی بات فرشتوں کے وسوسے کی تو وہ اچھائی کا وعدہ اورحق کی تصدیق کرتا ہے، بنا بریں جو اسے پا ئے وہ اللہ کی تعریف کر ے اور دوسرا پا ئے تو شیطان رجیم سے اللہ کی پناہ طلب کر ے پھر یہ آیت پڑھا {الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الفَقْرَ وَ يَأْمُرُكُمْ بِالفَحْشَاءِ} "شیطان تم سے فقر کا وعدہ کرتا ہے اور تمہیں بے حیائی کا حکم دیتا ہے"۔ [البقرة: ۲۶۸]۔ (جامع الترمذی :۲۹۸۸، الزھد لابن مبارک: ۱۴۳۵، الزھد لأحمد: ۸۵۴، الزھد لأبی داود: ۱۶۴)

فرشتے کے اعمال میں سے ان کا مومنوں کے لئے مغفرت کی دعا کرنا ہے، جیسا کہ اللہ تعالی نے فر مایا: {الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُوا وَاتَّبَعُوا سَبِيلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ} "عرش کے اٹھانے والے اور اس کے پاس کے فرشتے اپنے رب کی تسبیح حمد کے ساتھ ساتھ کرتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کے لئے استغفار کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! تو نے ہر چیز کو اپنی بخشش اور علم سے گھیر رکھا ہے، پس انہیں بخش دے جو توبہ کریں اور تیری راہ کی پیروی کریں اور تو انہیں دوزخ کے عذاب سے بھی بچا لے۔ [غافر: ۷]

فرشتے خاص ایام جیسے: یوم جمعہ، یوم عرفہ، شب قدر اور فجر اور عصر کی نمازوں میں مومنوں کے ساتھ عبادتوں میں حاضر ہوتے ہیں، ان کی صحیح باتوں کو نوٹ کرتے ہیں، ان کے اعمال کی بابت اللہ تعالیٰ کو بتاتے ہیں، باوجود اس کے کہ وہ خبیر اور علیم ہے، اسے مخبر کی ضرورت نہیں ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا} "اور فجر کا قرآن پڑھنا بھی یقیناً فجر کے وقت کا قرآن پڑھنا حاضر کیا گیا"۔ [الإسراء: ۷۸] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ} "اس میں (ہر کام) کے سر انجام دینے کو اپنے رب کے حکم سے فرشتے اور روح (جبرائیل علیہ السلام) اترتے ہیں"۔ [القدر: ۴]

اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ مَلَائِكَةٌ بِاللَّيْلِ، وَمَلَائِكَةٌ بِالنَّهَارِ، وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، وَصَلَاةِ الْعَصْرِ، ثُمَّ يَعْرُجُ الَّذِينَ بَاتُوا فِيكُمْ، فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ: كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي؟ فَيَقُولُونَ: تَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ، وَأَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ‘‘۔ "رات اور دن میں فرشتوں کی ڈیوٹیاں بدلتی رہتی ہیں اور فجر اور عصر کی نمازوں میں اکٹھا ہوتے ہیں، پھر تمہارے پاس رہنے والے فرشتے جب اوپر چڑھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے حالانکہ وہ ان سے بہت زیادہ اپنے بندوں کے متعلق جانتا ہے، کہ میرے بندوں کو تم نے کس حال میں چھوڑا؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم نے جب انہیں چھوڑا تو وہ نماز پڑھ رہے تھے اور جب ان کے پاس گئے تب بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے"۔ (صحیح بخاری: ۵۵۵، صحیح مسلم :۶۳۲، سنن النسائی: ۴۸۵)

اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’إِنَّ لِلَّهِ مَلاَئِكَةً يَطُوفُونَ فِي الطُّرُقِ يَلْتَمِسُونَ أَهْلَ الذِّكْرِ، فَإِذَا وَجَدُوا قَوْمًا يَذْكُرُونَ اللَّهَ تَنَادَوْا: هَلُمُّوا إِلَى حَاجَتِكُمْ ، قَالَ: فَيَحُفُّونَهُمْ بِأَجْنِحَتِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا‘‘۔ "یقینا اللہ کے کچھ فرشتے ہوتے ہیں جو راستوں میں گھومتے رہتے ہیں اس حال میں کہ وہ اہل ذکر کو تلاش کرتے ہیں، جب وہ اللہ کا ذکر کرنے والی قوم کو پا جاتے ہیں تو کہتے ہیں آؤ اپنے حاجت کی طرف، (آپ ﷺ ) فرماتے ہیں کہ پھر وہ انہیں اپنے پروں سے آسمان دنیا تک گھیر لیتے ہیں۔ (صحیح بخاری: ۶۴۰۸، صحیح مسلم: ۲۶۸۹)

مخصوص ایام جیسے: یوم الجمعہ، یوم عرفہ، اور شب قدر میں فرشتوں کا نزول ہوتا ہے، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’فَإِذَا خَرَجَ الإِمَامُ حَضَرَتِ المَلاَئِكَةُ يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ‘‘۔ جب امام نکلتا ہے تو فرشتے حاضر ہو کر بغور ذکر ( خطبہ ) سنتے ہیں۔ (صحیح بخاری: ۸۸۱، صحیح مسلم: ۸۵۰ ، سنن أبی داود: ۳۵۱ ، جامع الترمذی: ۴۹۹، سنن النسائی: ۱۳۸۸)

اور فرشتوں کے اعمال میں سے : اللہ کے نبی ﷺ کی امتی کی طرف سے آپ پر بھیجا گیا درود آپ ﷺ تک پہونچانا شامل ہے، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’ وَصَلُّوا عَلَيَّ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ تَبْلُغُنِي حَيْثُ كُنْتُمْ‘‘۔ مجھ پر درود بھیجو کیوں کہ تم جہاں بھی رہو گے تمہارا درود مجھ تک پہونچ جا ئے گا۔ ( سنن أبی داود: ۲۰۴، مسند أحمد: ۸۸۰۴ ، معجم الأوسط للطبرانی: ۸۰۳۰، شعب الإيمان للبیہقی: ۳۸۶۵)

اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ فِي الْأَرْضِ يُبَلِّغُونِي مِنْ أُمَّتِي السَّلَامَ‘‘۔ یقینا اللہ کے لئےفرشتے زمین میں سیاحت کرتے ہیں اورمیری امت کا سلام مجھ تک پہونچاتے ہیں۔ ( سنن النسائی: ۱۲۸۲، مصنف عبد الرزاق: ۳۱۱۶ ، مصنف ابن أبی شیبۃ: ۸۷۰۵، مسند إبن أبی شیبۃ: ۲۶۹ ، مسند أحمد: ۳۶۶۶)

فرشتے ابن آدم کی حفاظت کرتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: { لَهُ مُعَقِّبَاتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ} "اس کے پہرے دار انسان کے آگے پیچھے مقرر ہیں، جو اللہ کے حکم سے اس کی نگہبانی کرتے ہیں"۔ [الرعد: ۱۱] علی بن ابو طلحہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ ’’فالمعقبات ‘‘ "ھی من أمر اللہ وھی الملائکۃ "رہی بات ’’ المعقبات ‘‘ کی تو یہ اللہ تعالیٰ کا امر ہے، اور یہ فرشتے ہیں۔ (التفسیر للطبری : ۱۳/ ۴۶۳ ، التفسیر لابن أبی حاتم :۱۲۱۹۸)

نیکی بدی کا لکھنا بھی فرشتوں کی ذمہ داریوں میں شامل ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {كِرَامًا كَاتِبِيْنَ} "لکھنے والے مقرر ہیں"۔ [الانفطار: ۱۱] ارشاد باری تعالی ہے: {إِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيَانِ عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيدٌ *۔ "جس وقت دو لینے والے جا لیتے ہیں ایک دائیں طرف اور ایک بائیں طرف بیٹھا ہوا ہے۔ مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ } (انسان) منہ سے کوئی لفظ نکال نہیں پاتا مگر اس کے پاس نگہبان تیار ہے"۔ [ق: ۱۷- ۱۸] اور فرمایا: {وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً } "وہ تمہارے پاس محافظ بھیتجا ہے"۔ [الانعام: ۶۱] اور اللہ تعالیٰ نے ان کے بار ے میں فرمایا: { أَمْ يَحْسَبُونَ أَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوَاهُمْ بَلَى وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُونَ } "کیا ان کا یہ خیال ہے کہ ہم ان کی پوشیدہ باتوں کو اور ان کی سرگوشیوں کو نہیں سن سکتے (یقیناً ہم برابر سن رہے ہیں) بلکہ ہمارے بھیجے ہوئے ان کے پاس ہی لکھ رہے ہیں"۔ [الزخرف: ۸۰ ] اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’يَقُولُ اللَّهُ: إِذَا أَرَادَ عَبْدِي أَنْ يَعْمَلَ سَيِّئَةً، فَلاَ تَكْتُبُوهَا عَلَيْهِ حَتَّى يَعْمَلَهَا، فَإِنْ عَمِلَهَا فَاكْتُبُوهَا بِمِثْلِهَا، وَإِنْ تَرَكَهَا مِنْ أَجْلِي فَاكْتُبُوهَا لَهُ حَسَنَةً، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَعْمَلَ حَسَنَةً فَلَمْ يَعْمَلْهَا فَاكْتُبُوهَا لَهُ حَسَنَةً، فَإِنْ عَمِلَهَا فَاكْتُبُوهَا لَهُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ‘‘۔ اللہ کہتا ہے کہ جب میرا بندہ برائی کا ارادہ کرتا ہے تو اسے نہ لکھو جب تک کہ وہ اسے کر نہ لے، اگر وہ اسے انجام د ے دیتا ہے تو اسی کے مثل اسے لکھ لو اور اگر اسے میری وجہ سے چھوڑ دیتا ہے تو اسے اس کے حق میں ایک نیکی لکھ لو اور جب نیکی کا ارادہ کرلے تو گرچہ اسے انجام نہ دے لیکن اس کے حق میں اسے ایک نیکی لکھ لواور اگر اسے وہ انجام دے دیتا ہے تو اس کا دس سے سات سو گنا تک اس کے حق میں اسے لکھو۔ (صحیح بخاری: ۷۵۰۱، صحیح مسلم: ۱۲۸، جامع الترمذی: ۳۰۷۳) اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’قَالَتِ الْملَائِكَةُ: رَبِّ، ذَاكَ عَبْدُكَ يُرِيدُ أَنْ يَعْمَلَ سَيِّئَةً، وَهُوَ أَبْصَرُ بِهِ، فَقَالَ: ارْقُبُوهُ فَإِنْ عَمِلَهَا فَاكْتُبُوهَا لَهُ بِمِثْلِهَا، وَإِنْ تَرَكَهَا فَاكْتُبُوهَا لَهُ حَسَنَةً، إِنَّمَا تَرَكَهَا مِنْ جَرَّايَ‘‘۔ فرشتے کہتے ہیں کہ اے میرے رب ! تیرا بندہ گناہ کرنا چاہتا ہے اور اسے میں دیکھ رہا ہوں تو اللہ کہتا ہے اس کا انتظار کرو، اگر وہ کر جا ئے تو اسے اسی کے مثل لکھ لو اور اگر وہ اسے چھوڑ د ے تو اس کے لئے ایک نیکی لکھ لو کیو ںکہ اس نے میرے خوف سے اسے ترک کیا ہے۔ (صحیح مسلم: ۱۲۹)

فرشتوں کے اعمال میں سے: ان کا دجال سے مدینہ منورہ کی حفاظت کرنا ہے، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’عَلَى أَنْقَابِ المَدِينَةِ مَلاَئِكَةٌ لاَ يَدْخُلُهَا الطَّاعُونُ، وَ لاَ الدَّجَّالُ‘‘۔ مدینہ کے تمام راستوں پر فرشتے ہیں اس میں طاعون اور دجال داخل نہیں ہو سکے گا۔ (صحیح بخاری: ۱۸۸۰، صحیح مسلم: ۱۳۷۹)

فرشتوں کےاعمال میں سے: ان کا قبر میں میت سے سوال کرنا بھی ہے۔ براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے اس انسان کی حالت پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا جسے قبر میں دفن کیا جاتا ہے: ’’وَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ فَيَقُولَانِ لَهُ: مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: رَبِّيَ اللَّهُ، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا دِينُكَ؟ فَيَقُولُ: دِينِيَ الْإِسْلَامُ، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ؟ قَالَ: فَيَقُولُ: هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‘‘۔ اس کے پاس دو فرشتے آکر اسے بٹھاتے اور کہتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے، وہ دونوں کہتے ہیں کہ تمہارا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے میرا دین اسلام ہے، وہ کہتے ہیں کہ وہ کون تھا جو تمہارے درمیان بھیجا گیا تھا؟ وہ کہتا ہے وہ اللہ کے رسول ﷺ تھے ۔ (سنن أبی داود: ۴۷۵۳، سنن النسائی: ۲۰۰۱، سنن ابن ماجہ: ۱۵۴۸ ، مسند الطیالسی: ۷۸۹ ، مصنف ابن عبد الرزاق: ۶۷۳۷ ، مصنف ابن أبی شیبۃ: ۱۲۱۸۵)

فرشتے جنت کے داروغہ ہیں، جیسا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "میں بروزِ قیامت جنت کے دروازے پر آؤں گا تو اسے کھولنے کا مطالبہ کروں گا، چنانچہ دربان کہے گا: تم کون ہو؟" میں کہوں گا: 'محمد'۔ وہ کہے گا: مجھے آپ کے لیے حکم دیا گیا ہے، کہ اسے آپ سے پہلے کسی اور کے لیے نہ کھولوں۔ (صحیح مسلم: ۱۹۷) اور جہنم کے بھی پہر ے دار ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {وَنَادَوْا يَامَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ قَالَ إِنَّكُمْ مَاكِثُونَ } "اور پکار پکار کر کہیں گے کہ اے مالک ! تیرا رب ہمارا کام ہی تمام کر د ے وہ کہے گا کہ تمہیں تو (ہمیشہ) رہنا ہے"۔ [الزخرف: ۷۷] ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ*۔ "اور اس پر اُنیس ( ۱۹فرشتے مقرر) ہیں۔ وَمَا جَعَلْنَا أَصْحَابَ النَّارِ إِلَّا مَلَائِكَةً } ہم نے دوزخ کے داروغے صرف فرشتے رکھے ہیں"۔ [المدثر: ۳۰- ۳۱] اور صحیح میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’يُؤْتَى بِجَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ لَهَا سَبْعُونَ أَلْفَ زِمَامٍ، مَعَ كُلِّ زِمَامٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ يَجُرُّونَهَا‘‘۔ جہنم کو اس دن لایا جائے گا اس حال میں کہ اس کے ستر ہزار لگام ہو ںگے اور ہر لگام کو ستر ہزار فرشتے کھینچ رہے ہوں گے۔ ( صحیح مسلم:۲۸۴۲، جامع الترمذی: ۲۵۷۳) (تفسیر القرطبی: ۱۹/۸۰)

باب: فرشتوں کے مراتب و درجات کا بیان

تمام فرشتے درجات و مراتب اور مقام و مرتبہ میں برابر نہیں ہیں، بلکہ ان میں بھی درجہ بندی ہے، ہمارا ایمان ہے کہ فرشتوں کے الگ الگ مراتب ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَمَا مِنَّآ اِلَّا لَهٗ مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌ*۔ "فرشتوں کا قول ہے کہ ہم میں سے تو ہر ایک کی جگہ مقرر ہے۔ وَّاِنَّا لَنَحْنُ الصَّاۗفُّوْنَ*وَاِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُوْنَ} اور ہم تو (بندگی الٰہی میں) صف بستہ کھڑے ہیں"۔ [الصافات: ۱۶۴- ۱۶۶]

فرشتوں میں سب سے بڑا مقام جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل علیہم السلام کا ہے؛ اسی لئے نبی ﷺ نے ربوبیت الہی کے ذریعہ ان میں سے پہلے تین کے لئے وسیلہ پکڑا ہے، جیسا کہ ابو سلمہ بن عبد الرحمن بن عوف سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ ’’بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ صَلَاتَهُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ؟ قَالَتْ: كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ افْتَتَحَ صَلَاتَهُ: ۔ جب آپ ﷺ رات میں قیام کے لیے کھڑے ہوتے تو کس چیز سے اپنے نماز کی ابتداء کرتے تھے؟ بولیں: جب آپ رات میں کھڑے ہو تے تو اپنے نماز کی ابتداء اس طرح کرتے تھے: ’’اللهُمَّ رَبَّ جَبْرَائِيلَ، وَمِيكَائِيلَ، وَإِسْرَافِيلَ، فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ، إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ‘‘۔ اے جبرئیل، میکا ئیل اور اسرافیل کے رب، آسمان اور زمین کے پیدا کرنے والے اور حاضر و غائب کو جاننے والے تو اپنے بندوں کے درمیان ان معاملات میں فیصلہ کرنے والا ہے جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں (لہذا ) تو مجھے مختلف فیہ معاملہ میں اپنے حکم سے حق کی رہنمائی کر (کیوں کہ ) تو جسے چاہے صراط مستقیم کی رہنمائی کرد ے۔ (صحیح مسلم: ۷۷۰ ، سنن أبی داود: ۷۶۷، سنن النسائی: ۱۶۲۵، سنن ابن ماجہ: ۱۳۵۷)

فرشتوں میں افضل ترین اور سب سے شرف والے فرشتوں میں وہ فرشتے ہیں جو عرش کو اٹھا ئے ہوئے ہیں، اسی طرح وہ فرشتے بھی ہیں جو غزو بدر میں شریک ہو ئے تھے۔ معاذ بن رفاعہ بن رافع زرقی اپنے باپ (جو بدری صحابی تھے ) سے روایت کرتے ہیں کہ ’’جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا تَعُدُّونَ أَهْلَ بَدْرٍ فِيكُمْ، قَالَ: مِنْ أَفْضَلِ المُسْلِمِينَ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا، قَالَ: وَكَذَلِكَ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ المَلاَئِكَةِ‘‘۔ جبرائیل نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہا تم سب اہل بدر کو اپنے ما بین کیسا شمار کرتے ہو؟ فرمایا: سب سے افضل مسلمان یا اسی طرح کا کوئی کلمہ کہا، فرمایا اور اسی طرح وہ فرشتے بھی جو بدر میں حاضر ہوئے تھے۔ ( صحیح بخاری: ۳۹۹۲)

آسمان کے ہر طبقے میں اتنے فرشتے ہیں کہ ان کی تعداد سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا اور ان میں سے ہر فرشتے کا مقام متعین ہے، کچھ اللہ تعالیٰ کے مقرب ہیں، اسی لئے جب اللہ کے رسول ﷺ نے فرشتوں کی اس حالت کا نقشہ بیان کیا جب فرشتے مومنوں کی روح لے کر چڑھتے ہیں تو فرمایا: ’’فَيَصْعَدُونَ بِهَا، فَلَا يَمُرُّونَ، يَعْنِي بِهَا، عَلَى مَلَإٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، إِلَّا قَالُوا: مَا هَذَا الرُّوحُ الطَّيِّبُ؟ فَيَقُولُونَ: فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، بِأَحْسَنِ أَسْمَائِهِ الَّتِي كَانُوا يُسَمُّونَهُ بِهَا فِي الدُّنْيَا، حَتَّى يَنْتَهُوا بِهَا إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَسْتَفْتِحُونَ لَهُ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ فَيُشَيِّعُهُ مِنْ كُلِّ سَمَاءٍ مُقَرَّبُوهَا إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي تَلِيهَا‘‘۔ وہ اسے لے کر چڑھتے ہیں اس حال میں کہ وہ فرشتوں کی کسی بھی جماعت سے نہیں گزرتے ہیں مگر وہ کہتے ہیں کہ یہ پاکیزہ روح کس کی ہے؟ وہ کہتے ہیں فلاں بن فلاں یعنی اس کا وہ بہترین نام لیتے ہیں جس سے لوگ دنیا میں اسے پکارتے تھے حتی کہ وہ اسے لے کر آسمان دنیا تک پہونچ جاتے ہیں، اس کے لئے (دروازہ) کھولواتے ہیں تو کھولا جاتا ہے پھر ہر آسمان کے مقرب (فرشتے) اگلے آسمان تک اس کے ساتھ چلتے ہیں۔ (سنن أبی داود: ۳۲۱۲، سنن النسائی: ۲۰۰۱، سنن ابن ماجه: ۱۵۴۸، مسند أبی داؤد الطیالسی: ۷۸۹، مسند عبدالرزاق:۶۷۳۷،۶۳۲۴، مسند أحمد: ۱۸۵۳۴، اور لفظ بھی مسند احمد کے ہیں۔)

کتاب: کتابوں پر ایمان لانے کے بیان میں

خلاصۂ کتاب

ہم ان کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں جو اللہ تعالی نے اپنے رسولوں اور انبیاء علیہم السلام پر نازل کیں۔ جن کتابوں کے بارے میں ہم جانتے ہیں، وہ ہیں: صحف ابراہیم، صحف موسیٰ، تورات، زبور، انجیل اور قرآن۔ ہم ان میں سے جن کے بارے میں جانتے ہیں ان پر اور جن کو نہیں جانتے ان پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔

ہم یہ ایمان رکھتے ہیں کہ یہ ساری آسمانی کتابیں اللہ کا کلام اور اس کى وحی ہیں، اور تورات کو تو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے لکھا ہے، یہ ساری کتابیں اللہ تعالیٰ نے نبیوں پربذریعۂ جبرئیل علیہ السلام نازل کیا، ساری کتابیں شریعت الہیہ، اخبار، پند و نصائح اور اوامر و انواہی پر مشتمل ہیں، ہر کتاب اپنے دور کی وہ وحی تھی جس پر عمل کرنا اوراسے حکم بنانا، اس امت پر جس پر وہ نازل ہوئى تھی، واجب تھا۔

ہمارا ایمان ہے کہ ان میں سے بعض، بعض سے افضل ہیں، جیسے تورات جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے لکھا ہے۔

ہم پورے یقین کے ساتھ جانتے ہیں کہ اللہ کی نازل کردہ تمام کتابوں پر ایمان لانا ارکان ایمان میں تیسرا رکن ہے، ہم تمام کتابوں پر ایمان لا تے ہیں، ہم ان کی طرح نہیں ہیں جو بعض پر ایمان لائے لیکن بعض کا انکار کر دیا۔

ہمارا ایمان ہے کہ قرآن کے سوا کسی بھی کتاب کے حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے نہیں لی ہے، اللہ تعالیٰ نے وہ کتاب جس قوم کے حوالے کیا اس کے حفاظت کی ذمہ داری بھی انہیں کو دیا، اسی لئے یہ کتابیں تحریف کا شکار ہو گئیں، نسیان و ضیاع سے دو چار ہو ئیں، افترا پردازوں نے اس میں کمی بیشی کیا، جھوٹ گھڑا، بہتان تراشی کیا اور اسے اللہ کی جانب منسوب کردیا، یہ لوگ انہیں لکھتے اور اپنى زبانوں سے ان کى تلاوت کرتے تاکہ عوام کو اچھے سے گمراہ کرسکیں حتى کہ لوگ انہیں من جانب اللہ سمجھیں۔

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالی کی نازل کردہ تمام کتابوں میں قرآن مجید ہی سب سے عظیم، سب سے کامل اور سب سے شریف کتاب ہے، اور یہی سب سے آخری کتاب ہے، جسے جبرائیل علیہ السلام نے محمد عربی ﷺ کے دل پر بزبان عربی نازل کیا، اس کتاب کے لئے اللہ تعالیٰ نے سب سے بہترین زبان کا انتخاب کیا؛ کیوں کہ عربی زبان ہی سب سے زیادہ فصیح و بلیغ، سب سے زیادہ واضح، سب سے زیادہ وسیع اور معانی کى ادائیگى میں سب سے زیادہ قادر ہے، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے سب سے بہترین کتاب، سب سے بہتر رسول پر سب سے بہتر زبان میں سب سے بہتر فرشتے کے ذریعہ، سب سے بہتر سر زمین میں نازل کیا اور سب سے بہتر مہینے یعنی ماہ رمضان سے اس کتاب کے نزول کی ابتداء کی، اسی لئے یہ کتاب ہر طرح سے مکمل ہے، اس کتاب کی سب سے پہلی نازل کردہ آیت، اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ } "پڑھ اپنے اس رب کے نام سے جس نے پیدا کیا"۔ [العلق: ۱] اور قرآن کی سب سے آخری آیت کے نزول کے بارے میں اللہ کا فرمان ہے: {اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا} "آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا"۔ [المائدۃ: ۳] اللہ تعالیٰ نے (قران کریم کو) رسول گرامی ﷺ پر نبوی سالوں میں بتدریج نازل کیا، اس کتاب میں کل ایک سو چودہ سورتیں ہیں، کچھ سورتیں مکی ہیں، اور کچھ مدنی ہیں، قرآن کی سب سے عظیم الشان سورت سورۃ الفاتحہ ہے اور سورۃ الاخلاص ثلث قرآن کے برابر ہے اور سب سے عظیم آیت آیت الکرسی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کی بڑی تعریف کیا ہے، اسے مومنوں کے لئے نور، ہدایت، رحمت، روحانی و بدنی علاج اور نصیحت کا سامان بنایا ہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ یہ عظیم کتاب اللہ تعالیٰ کی سب سے مکمل اور بہترین کتاب ہے، اس میں دلائل و براہین ہیں، مثالوں کا بیان ہے جن کے ذریعہ تا قیامت مخلوق پر حجت قائم ہوتی رہے گی، اس کتاب میں ہر وہ چیز ہے جو اس سے پہلی کتابوں میں تھیں بلکہ اس میں مزید باتیں موجود ہیں، اس میں ہر وہ چیز موجود ہے جو انسان کی ضرورت ہے، جیسے اصول ایمان، شریعت، دلائل و براہین، حکمت و مصلحت، نصیحت اورگزشتہ اقوام کی خبریں، اور یہ ساری چیزیں وضاحت کے ساتھ فصیح و بلیغ انداز میں مذکور ہیں، قرآن کا سب سے بڑا اعزاز یہ ہے کہ یہ رب العالمین کا کلام ہے اورمحمد ﷺ امی تھے، لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے، لیکن سب سے بڑی، کامل اور فصیح کتاب انہیں پر نازل کی گئی ۔

ہمارا ایمان ہے کہ قرآن لفظا و معنا ہر اعتبار سے بہت بڑی اور واضح نشانی ہے، اللہ تعالیٰ نے تمام جِن و انس کو چیلنج کیا کہ اس جیسی یا اس میں موجود دس سورتوں کے مثل یا کسی ایک سورت کے مثل کوئی لے آئے۔

ہمارا ایمان ہے کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ کلام ہے، مخلوق نہیں ہے، یہ سینوں میں محفوظ ہے، مصاحف میں لکھا ہوا ہے، گھر اور مسجد میں اس کی تلاوت کی جاتی ہے، یہ ساری چیزیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ یہ اللہ کا کلام ہے، اس لئے قرآن کے تئیں اللہ کا کلام ہونے سے انکار نہیں کیا جا سکتا، اللہ کا کلام اللہ کی تمام صفات میں سے ایک صفت ہے اور اللہ کی کوئی صفت مخلوق نہیں ہو سکتی، اگر یہ کتاب بھی مخلوق ہوتی تو اس پر وہ تمام قوانین صادق آتے جو دیگر مخلوقات پرآتے ہیں، جیسے فنا ہونا، ختم ہونا اور بدلنا وغیرہ۔

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ ہی نے اس کتاب کے حفاظت کی ذمہ داری لی ہے، اسے مخلوق کے حوالے نہیں کیا ہے، بے انتہا احکام سےمزین کرکے اسےاسی طرح محکم بنایاہے، جس طرح اسے متشابہ بنایا اور بتا دیا کہ گمراہ لوگ اس میں موجود متشابہ آیات کی اتباع کریں گے لیکن مومن تمام محکم اور متشابہ آیات پر ایمان لائیں گے۔

اللہ تعالیٰ نے اسے تمام کتابوں پر حاکم اور نگراں بنایا ہے، یہ کتاب ہمیں گزشتہ اقوام کے حالات سے آگاہ کرتی اور اہل کتاب کے اختلافی مسائل پر بحث کرتی ہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ یہ عظیم قرآن اللہ رب العالمین کا ہی کلام ہے، اسے امانت دار فرشتہ لے کر نازل ہوا۔ اور یہ بات اسلام میں معلوم و معروف ہے، اور تمام مسلمان بشمول علماء اور عام لوگ اس پر متفق ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی اس سے اختلاف نہیں کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ یہ قرآن اس کی طرف سے ہے، اور اسی طرح فرشتوں نے بھی گواہی دی ہے کہ یہ ایک حکیم اور قابل تعریف رب کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے۔ اسی طرح رسول کے زمانے میں رہنے والے اہل کتاب نے بھی ایسی ہی گواہی دی تھی اور اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں اس گواہی کا ذکر کیا ہے۔ نیز بعض جنوں نے اس بات کی گواہی دی کہ یہ قرآن اللہ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اور یہ اس پیغام سے ہم آہنگ ہے جس کے ساتھ موسیٰ علیہ السلام مبعوث ہوئے تھے۔ مزید یہ کہ کفار قریش نے گواہی دی کہ یہ قرآن انسانوں کا کلام نہیں ہے اور یہ ان کے کلام سے مختلف ہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ قرآن مجید کی تمام باتیں جیسے معارف الہیہ، احکام شرعیہ، رعایت کے لائق آداب اور وہ تمام چیزیں جس کا تعلق فطرت سے ہے، انبیاء علیہم السلام کے لائے ہوئے قوانین کے موافق ہیں، اور جن اصولوں پرقرآن میں زور دیا گیا ہے، نبیوں نے اسی کی طرف لوگوں کو دعوت دیا اور اسی کی تاکید کى ہے۔

قرآن مجید میں وہی باتیں موجود ہیں جو اللہ تعالیٰ مخلوق کے تئیں چاہتا ہے اور جو مخلوق اللہ کے تئیں چاہتی ہے، کیوں کہ اللہ ہی خالق ہے، وہ بندوں کی ضرورتیں جانتا ہے، وہ یہ بھی جانتا ہے کہ کون سی چیزیں ان کا دین، ان کا جسم، ان کے اموال اور ان کے گھروں کی اصلاح کرے گی، اللہ تعالیٰ کے ہر حکم میں غایت درجہ مصلحت اور ہر نہی میں بدرجہ غایت احتیاط اور حمایت ہے۔

قرآن وہی حکم دیتا ہے جس کا تقاضا عقل کرتی اور جسے واجب ٹھہراتی ہے، اسی لئے سورۃ الأنعام میں اصول المحرمات کا تذکرہ کرتے ہو ئے اللہ تعالی نے {لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ} "تاکہ تم سمجھو" پر اختتام کیا۔

قرآن مجید میں موجود تمام دلیلیں واضح اور فصاحت سے پُر ہیں، وہ قوی تر، انسانی فہم سے حد درجہ قریب اور بہت ہی آسان ہیں، انہیں ہر کوئی سمجھ سکتا ہے، کسى کے بس میں نہیں کہ وہ ان کا توڑ کرسکے یا ان کى تردید کرسکے، اور ایسا کسى بھی انسان کے کلام کے تعلق سے ممکن نہیں، قرآنی دلائل کسى بھی حالت میں باطل کى موافقت نہیں کرسکتی ہیں۔

قرآن مجید اللہ رب العالمین ہی کا کلام ہے اس کے باوجود وہ ہرایک کے لئے آسان ہے، کوئی انسان اس طرح کی کتاب نہیں لکھ سکتا جو ہر ایک کے لئے آسان ہو اور ہر ایک اس کا مخاطب ہو، یہ اعجاز صرف اسی کتاب کو حاصل ہے۔

قرآن مجید ہر طرح کے تغیر وتبدل اور اختلاف سے پاک اور تا قیامت باقی رہنے والی کتاب ہے اور یہی خوبی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، یہ کتاب ہمیشہ باقی رہنے والی اور محفوظ کتاب ہے، نئے نئے علوم و فنون اور ایجادات کے ظہور کے باوجود کسى بھی علم میں قرآنی تعلیمات کے خلاف کچھ نہیں ملتا ہے، بلکہ یہ تمام علوم قرآن مجید میں وارد باتوں، جیسے تخلیق آسمان، تخلیق بشر وغیرہ، کى موافقت کرتے ہیں۔

قرآن مجید سیدھی اور خیر سے پُر راہ کی طرف رہنما ئی کرنے والی کتاب ہے کیوں کہ یہ سراپا خیر ہے، اس میں خالق و مخلوق، دنیا و آخرت، جن و انس، اوامر و نواہی، آداب و واجبات، جنت و جہنم نیزاس میں ایمان، عمل اور جزاء کی تمام خبریں شامل ہیں۔

قرآن کریم بیماریوں کے لئے شفاء ہے، انسان کے کسی بھی کلام میں دل اور جسم کی تمام بیماریوں سے شفاء نہیں ہے، جس طرح اللہ کے اس کلام یعنی قرآن مجید میں تمام بیماریوں سے شفاء پایا جاتا ہے ۔

قرآن میں گزشتہ اقوام کی تمام خبریں ہو بہو بیان کی گئی ہیں، اہل مکہ کے مابین ان کی خبریں منتشر نہیں تھیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے بھی جوں کا توں ہمیں بتا دیا، یہ تمام باتیں اس بات پر بین ثبوت ہیں کہ یہ کتاب حکیم و حمید کی جانب سے ہے۔

قرآن مجید فصاحت و بیان، غیبی خبروں اور ربانی شریعتوں پر مشتمل ہے، اسے وہ رسول لا یا جو پڑھنا لکھنا نہیں جانتا تھا اوریہ دلیل ہے اس بات پر کہ یہ کتاب حکیم و حمید کی جانب سے ہے، قرآن مجید کی کچھ سورتیں مختلف اوقات اور مختلف مقامات پر نازل ہوئی ہیں لیکن بوقت تلاوت ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کا نزول بیک وقت ہوا ہے لیکن اگر کئی لوگ مختلف اوقات و مقامات میں کتابیں تصنیف کریں توسب کے اسالیب اور سب کی صلاحتیں الگ الگ نمایاں ہوں گی۔

قرآن ہی کی طرح اللہ نے نبی ﷺکو سنت عطا کیا ہے لیکن جس نے دونوں میں غور و فکر کیا اسے معلوم ہوگا کہ ان دونوں میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔

قرآن مجید میں نبی کریمﷺ کو ان تمام چیزوں کی رہنمائی کی گئی ہے جس کا ہونا مناسب یا جس کا کرنا ان کے لئے واجب تھا۔

باب: کتابوں پر ایمان لانے کے وجوب کا بیان

ان تمام کتابوں پرہمارا ایمان ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل پر نازل کیا ہے۔

ان تمام آسمانی کتابوں میں سےہمیں ان کتابوں کا علم ہے: صحف ابراہیم، صحف موسی، تورات، زبور، انجیل اور قرآن مجید۔

ان کتابوں میں موجود معلوم و نا معلوم تمام باتوں پر ہمارا ایمان ہے۔

ہم یہ مانتے ہیں کہ یہ ساری کتابیں اللہ کا کلام اور اس کی وحی ہیں، اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان تمام کتابوں کا نزول رسولوں پر ہواہے، جبرئیل علیہ السلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے انہیں نازل کیا ہے، یہ ساری کتابیں شریعت الہیہ، اخبار، پند و نصائح اور اوامر و نواہی پر مشتمل ہیں، ہر کتاب اپنے زمانے میں وہ وحی تھی، جس پر عمل کرنا اوراسے حکم بنانا، اس امت کے لئے، جس پر وہ اتاری گئى تھی، واجب تھا۔

ہم اس بات پربھی ایمان لاتے ہیں کہ ان کتابوں میں سے بعض بعض سے افضل ہیں، چنانچہ تورات کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے لکھا ہے،جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: { وَكَتَبْنَا لَهُ فِي الْأَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَوْعِظَةً وَتَفْصِيلًا لِكُلِّ شَيْءٍ} "اور ہم نے چند تختیوں پر ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل ان کو لکھ کردی"۔ [الأعراف: ۱۴۵] آدم علیہ السلام کی بابت اللہ کے رسول ﷺ نے خبر دیتے ہو ئے فر مایا کہ انہوں نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا: ’’يَا مُوسَى اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِكَلاَمِهِ، وَ خَطَّ لَكَ بِيَدِهِ‘‘۔ اے موسیٰ ! اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کے ساتھ تجھے منتخب کرلیا ہے اور تیرے لئے اپنے ہاتھ سے لکھا ہے۔ (صحیح بخاری: ۳۴۰۹، صحیح مسلم: ۲۶۵۲، سنن أبی داد: ۴۷۰۱، جامع الترمذی: ۲۱۳۴، سنن ابن ماجہ: ۸۰) اور اللہ تعالیٰ نے تورات کے سلسلے میں فر مایا: {اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِيْهَا هُدًى وَّنُوْرٌ ۚ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّوْنَ الَّذِيْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِيْنَ هَادُوْا وَالرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ} "ہم نے تورات نازل فرمائی ہے جس میں ہدایت و نور ہے، یہودیوں میں اسی تورات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ماننے والے (انبیاء علیہ السلام) اور اہل اللہ اور علماء فیصلے کرتے تھے"۔ [المائدۃ: ۴۴] اور انجیل کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {وَآتَيْنَاهُ الْإِنْجِيلَ فِيهِ هُدًى وَنُورٌ وَمُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةً لِلْمُتَّقِينَ} "اور ہم نے انہیں انجیل عطاء فرمائی جس میں نور اور ہدایت ہے اور اپنے سے پہلی کتاب تورات کی تصدیق کرتی تھی دوسرا اس میں ہدایت و نصیحت تھی پارسا لوگوں کے لئے"۔ [المائدۃ: ۴۶]

کتابوں پر ایمان لانا ہی ارکان ایمان کا تیسرا رکن ہے، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَ أَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ} "رسول ایمان لایا اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے اترے اور مومن بھی ایمان لائے یہ سب اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے، اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے انہوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی، ہم تیری مغفرت طلب کرتے ہیں اے ہمارے رب اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے"۔ [البقرۃ: ۲۸۵] اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ’’كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولُ اللهِ، مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: اللہ کے رسولﷺ ایک دن لوگوں کے پاس تشریف رکھتے تھے کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا، اے اللہ کے رسول! ایمان کیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ’’أَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ، وَمَلَائِكَتِهِ، وَكِتَابِهِ، وَلِقَائِهِ، وَرُسُلِهِ، وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ الْآخِرِ‘‘۔ کہ تو اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کی ملاقات، اس کے رسولوں پر اور دوبارہ زندہ کئے جانے پر لائے۔ (صحیح بخاری: ۴۷۷۷، صحیح مسلم :۹، سنن ابن ماجہ: ۶۴) ہم ان کی طرح نہیں ہیں جو بعض پر ایمان لاتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: { إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيُرِيدُونَ أَنْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ وَيُرِيدُونَ أَنْ يَتَّخِذُوا بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا } "جو لوگ اللہ کے ساتھ اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان فرق رکھیں اور جو لوگ کہتے ہیں کہ بعض نبیوں پر تو ہمارا ایمان ہے اور بعض پر نہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کے درمیان راہ نکالیں"۔ [النساء: ۱۵۰] یا جنہوں نے رسولوں پراللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتابوں کو جھٹلایا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرمایا: {الَّذِينَ كَذَّبُوا بِالْكِتَابِ وَبِمَا أَرْسَلْنَا بِهِ رُسُلَنَا فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ } "جن لوگوں نے کتاب کو جھٹلایا اور اسے بھی جو ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ بھیجا انہیں ابھی ابھی حقیقت حال معلوم ہوجائے گی"۔ [غافر: ۷۰]

ہمارا ایمان ہے کہ قرآن کریم سے پہلے سابقہ تمام آسمانی کتابوں کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے نہیں لیا ہے بلکہ ان کی حفاظت کی ذمہ داری انہیں کے حوالے کر دیا جن کے مابین ان کتابوں کو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {إِنَّا أَنْزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا لِلَّذِينَ هَادُوا وَ الرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ وَكَانُوا عَلَيْهِ شُهَدَاءَ} "ہم نے تورات نازل فرمائی ہے جس میں ہدایت و نور ہے یہودیوں میں اسی تورات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ماننے والے (انبیاء علیہ السلام) اور اہل اللہ اور علماء فیصلے کرتے تھے کیونکہ انہیں اللہ کی اس کتاب کی حفاظت کا حکم دیا گیا تھا اور وہ اس پر اقراری گواہ تھے"۔ [المائدۃ: ۴۴] اسی لئے یہ کتابیں تحریف کا شکار ہو گئیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: { فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِيثَاقَهُمْ لَعَنَّاهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوبَهُمْ قَاسِيَةً يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِهِ وَنَسُوا حَظًّا مِمَّا ذُكِّرُوا بِهِ } "پھر ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے ان پر اپنی لعنت نازل فرما دی اور ان کے دل سخت کردئے کہ وہ کلام کو اپنی جگہ سے بدل ڈالتے ہیں اور جو کچھ نصیحت انہیں کی گئی تھی اس کا بہت بڑا حصہ بھلا بیٹھے"۔ [المائدۃ: ۱۳]

اور یہ ساری کتابیں نسیان اور بربادی سے دو چار ہو گئیں، اس میں افترا پردازوں نے بہتان تراشی کیا اورجھوٹ لکھ کر اللہ کی طرف منسوب کردیا، جیسا کہ رب ذو الجلال والاکرام نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہو ئے فرمایا: { فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ يَكْتُبُونَ الْكِتَابَ بِأَيْدِيهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا يَكْسِبُونَ} "ان لوگوں کے لئے ’’ویل ‘‘ ہے جو اپنے ہاتھوں کی لکھی ہوئی کتاب کو اللہ تعالیٰ کی طرف کی کہتے ہیں اور اس طرح دنیا کماتے ہیں، ان کے ہاتھوں کی لکھائی کو ہلاکت اور افسوس ہے اور ان کی کمائی کو ہلاکت اور افسوس ہے"۔ [البقرۃ: ۷۹] اور وہ لوگوں کو الجھانے کے لئے اسے اپنی زبانوں سے تلاوت کرتے ہیں۔ تاکہ وہ یہ سمجھیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرمایا: {وَإِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِيقًا يَلْوُونَ أَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتَابِ لِتَحْسَبُوهُ مِنَ الْكِتَابِ وَمَا هُوَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَقُولُونَ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَمَا هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَيَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ} "یقیناً ان میں ایسا گروہ بھی ہے جو کتاب پڑھتے ہوئے اپنی زبان مروڑتا ہے تاکہ تم اسے کتاب ہی کی عبارت خیال کرو حالانکہ دراصل وہ کتاب میں سے نہیں، اور یہ کہتے بھی ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے حالانکہ دراصل وہ اللہ کی طرف سے نہیں، وہ تو دانستہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولتے ہیں"۔ [آل عمران: ۷۸]

باب: قرآن کریم پرایمان لانے کا بیان

ہمارا ایمان ہے کہ تمام آسمانی کتابوں میں قرآن مجید ہی سب سے عظیم، سب سے کامل اور سب سے شریف کتاب ہے، اور اس کا نزول تمام آسمانی کتابوں میں سب سے آخر میں ہوا ہے، جبرائیل علیہ السلام اسے لے کر نبی اکرم ﷺ کے دل پر نازل ہو ئے، اللہ تعالی نے فرمایا: {وَإِنَّهُ لَتَنْزِيلُ رَبِّ الْعَالَمِينَ*۔ "اور بیشک و شبہ یہ (قرآن) رب العالمین کا نازل فرمایا ہوا ہے۔ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ*۔ اسے امانت دار فرشتہ لے کر آیا ہے۔ عَلَى قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنْذِرِينَ} آپ کے دل پر کہ آپ آگاہ کر دینے والوں میں سے ہو جائیں"۔ [الشعراء: ۱۹۲- ۱۹۴] اوراللہ تعالیٰ نے اس کتاب کے لئے سب سے بہتر زبان منتخب کیا اور اسے عربی زبان میں نازل کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ} "یقینا ہم نے اسے عربی زبان میں نازل کیا تاکہ تم لوگ سمجھ سکو"۔ [یوسف: ۲] ابن قتیبہ رحمہ اللہ فر ماتے ہیں: ’’وإنما يعرف فضل القرآن من كثر نظره، واتسع علمه، وفهم مذاهب العرب وافتنانها في الأساليب، وما خصّ الله به لغتها دون جميع اللغات، فإنه ليس في جميع الأمم أمّة أوتيت من العارضة، والبيان، و اتساع المجال، ما أوتيته العرب خصّيصى من الله، لما أرهصه في الرسول، وأراده من إقامة الدليل على نبوّته بالكتاب، فجعله علمه، كما جعل علم كل نبي من المرسلين من أشبه الأمور بما في زمانه المبعوث فيه‘‘۔ قرآن کی فضیلت وہی جان پائے گا جو اس میں بکثرت غور و فکر کرے گا، جس کا علم وسیع ہوگا، جو عرب کے مذاہب، ان کا طرز تکلم اور اس زبان کو سمجھے گا جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تمام زبانوں کو چھوڑ کر اسے خاص کردیا ہے، تمام امتوں میں کسی بھی امت کو یہ خصوصیات جیسے طرز بیان، وضاحت کی صلاحیت اور بے شمار علوم و فنون کی وسعت نہیں دی گئی جو اہل عرب کو دی گئی، جب اسے رسول کو دیا اور اس کی نبوت پر کتاب کو دلیل بنانا چاہا تو اس نے اس کا علم بھی اسی طرح بنا دیا جس طرح اس نے رسولوں میں سے ہر ایک نبی کا علم ان امور کے مشابہ بنایا تھا جو ان کے زمانے میں تھے اور جس کے ساتھ انہیں مبعوث کیا گیا تھا۔ (تأویل مشکل القرآن: ۱۷]

قرآن میں سب سے پہلے نازل کیا گیا اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ } "پڑھ اپنے اس رب کے نام سے جس نے پیدا کیا"۔ [العلق: ۱] ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے وہ رسول گرامی ﷺ پر سب سے پہلے نازل ہونے والی وحی کے سلسلے میں فرماتی ہیں کہ’’حَتَّى جَاءَهُ الحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَاءٍ، فَجَاءَهُ المَلَكُ فَقَالَ: ‘حتی کہ ان کے پاس حق آیا اس حال میں کہ وہ غار حراء میں تھے تو ان کے پاس فرشتہ آیا اور عرض کیا: اقْرَأْ، قَالَ: مَا أَنَا بِقَارِئٍ، قَالَ: فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الجَهْدَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: اقْرَأْ، قُلْتُ: مَا أَنَا بِقَارِئٍ، فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الجَهْدَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: اقْرَأْ، فَقُلْتُ: مَا أَنَا بِقَارِئٍ، فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: ۔ پڑھو، تو آپ نے کہا: میں پڑھنا نہیں جانتا، فر ماتے ہیں کہ اس نے مجھے پکڑ ا اور ایسا ڈھانپا کہ میری طاقت جواب د ے گئی پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا پڑھ، تو میں نے کہا میں پڑھنا نہیں جانتا، فر ماتے ہیں کہ اس نے مجھے دوسری مرتبہ پکڑ ا اور ایسا ڈھانپاکہ میری طاقت جواب د ے گئی پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا پڑھ، تو میں نے کہا میں پڑھنا نہیں جانتا، فر ماتے ہیں کہ اس نے مجھےتیسری مرتبہ پکڑا اور خوب زور سے بھینچا کہ میری طاقت جواب د ے گئی پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا: ، {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَق*۔ "پڑھ اپنے اس رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ خَلَقَ الإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ*۔ جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الأَكْرَمُ} پڑھ اور تیرا رب کریم ہے"۔ [العلق: ۱۔۳] اللہ کے رسول ﷺ اس کے ساتھ واپس لوٹے اس حال میں کہ آپ کا دل لرز رہا تھا۔ (صحیح بخاری: ۳، صحیح مسلم :۱۶۰ ، جامع الترمذی: ۳۶۳۲) اور سب سےآخر میں نازل ہونے والى آیات میں سے اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: {اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا} "آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا"۔ [المائدۃ: ۳]

قرآن مجید اللہ کے رسول ﷺ پر نبوی سالوں میں بتدریج نازل ہوا ہے، اس میں کچھ سورتیں مکی ہیں اور کچھ مدنی ہیں اور کل سورتوں کی تعداد ایک سو چودہ ہے، سب سے عظیم سورت سورۃ الفاتحہ ہے۔ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ’’بَيْنَمَا جِبْرِيلُ قَاعِدٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ، سَمِعَ نَقِيضًا مِنْ فَوْقِهِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: هَذَا بَابٌ مِنَ السَّمَاءِ فُتِحَ الْيَوْمَ لَمْ يُفْتَحْ قَطُّ إِلَّا الْيَوْمَ، فَنَزَلَ مِنْهُ مَلَكٌ، فَقَالَ: هَذَا مَلَكٌ نَزَلَ إِلَى الْأَرْضِ لَمْ يَنْزِلْ قَطُّ إِلَّا الْيَوْمَ، فَسَلَّمَ، وَقَالَ: أَبْشِرْ بِنُورَيْنِ أُوتِيتَهُمَا لَمْ يُؤْتَهُمَا نَبِيٌّ قَبْلَكَ: فَاتِحَةُ الْكِتَابِ، وَخَوَاتِيمُ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، لَنْ تَقْرَأَ بِحَرْفٍ مِنْهُمَا إِلَّا أُعْطِيتَهُ‘‘۔ ایک مرتبہ جبرائیل علیہ السلام نبی ﷺ کے پاس بیٹھے ہو ئے تھے کہ انہوں نے اپنے اوپر زور کی آواز سنی تو اپنا سر اٹھایا اور کہا: یہ آسمان کا دروازہ ہے جسے آج کھولا گیا ہے، آج سے پہلے کبھی نہیں کھو لا گیا تھا، اس سے ایک فرشتہ نکلا اور کہا: یہ فرشتہ جو زمین کی طرف آرہا ہے آج ہی اترا ہے، تو اس نے سلام کیا اور کہا دونوں کی خوشخبری ہو جو تمہیں عطا کی گئی ہیں، تم سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں تھیں: فاتحۃ الکتاب اور سورۃ البقرۃ کا آخر، آپ ان میں کا ایک حرف نہیں پڑھیں گے مگر آپ کو (مانگی ہوئی ہر چیز) عطا کی جا ئے گی۔ (صحیح مسلم : ۸۰۶ ، سنن النسا ئی: ۹۱۲) اور سورۃ الاخلاص ثلث قرآن کے برابر ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں ’’خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ، فَقَرَأَ: قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ اللهُ الصَّمَدُ حَتَّى خَتَمَهَا‘‘ ہمارے پاس اللہ کے رسول ﷺ آئے اور کہا: میں تم پر ثلث قرآن پڑھتا ہوں تو آپ نے (قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ (۱)اللهُ الصَّمَدُ (۲)آخر تک پڑھی۔ (صحیح مسلم: ۸۱۲)

اور سب سے بڑی آیت آیت الکرسی ہے۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فر مایا ’’يَا أَبَا الْمُنْذِرِ، أَتَدْرِي أَيُّ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللهِ مَعَكَ أَعْظَمُ؟ قَالَ: قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: يَا أَبَا الْمُنْذِرِ أَتَدْرِي أَيُّ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللهِ مَعَكَ أَعْظَمُ؟ قَالَ: قُلْتُ: {اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ} [البقرة: ۲۵۵]. قَالَ: فَضَرَبَ فِي صَدْرِي، وَقَالَ: وَاللهِ لِيَهْنِكَ الْعِلْمُ أَبَا الْمُنْذِرِ‘‘۔ اے ابو منذر! کیا تمہیں معلوم ہے کہ کتاب الہی کی کون سی آیت آپ کے ساتھ سب سے عظیم ہے؟ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا :اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، فر مایا :اے ابو منذر ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ کے کتاب کی کون سی آیت آپ کے ساتھ سب سے بڑی ہے؟ فر ماتے ہیں کہ میں نے کہا {اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ} [البقرة: ۲۵۵] فرماتے ہیں کہ رسول صلى اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر مارا اور کہا اے ابو منذر! اللہ کی قسم علم تجھے مبارک ہو۔ (صحیح مسلم: ۸۱۰، سنن أبی داود:۱۴۶۰)

اور اللہ تعالی نے اس کتاب کو نازل کرکے اپنی تعریف کی، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنزَلَ عَلَى عَبْدِهِ الْكِتَابَ وَلَمْ يَجْعَل لَّهُ عِوَجَا} "تمام تعریفیں اسی اللہ کے لئے سزاوار ہیں جس نے اپنے بند ے پر یہ قرآن اتارا اور اس میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی"۔ [الكهف: 1]. اللہ تعالی نے اس کتاب کی بڑی پذیرائی کیا ہے، قرآن مجید میں ایک مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {لَوْ أَنْزَلْنَا هَذَا الْقُرْآنَ عَلَى جَبَلٍ لَرَأَيْتَهُ خَاشِعًا مُتَصَدِّعًا مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ} "اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر اتارتے تو تو دیکھتا کہ خوف الٰہی سے وہ پست ہو کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہم ان مثالوں کو لوگوں کے سامنے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غور و فکر کریں"۔ [الحشر: ۲۱] ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {وَلَوْ أَنَّ قُرْآنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ أَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْأَرْضُ أَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتَى بَلْ لِلَّهِ الْأَمْرُ جَمِيعًا} "اگر (بالفرض) کسی قرآن (آسمانی کتاب) کے ذریعہ پہاڑ چلا دیے جاتے یا زمین ٹکڑ ے ٹکڑ ے کردی جاتی یا مردوں سے باتیں کرا دی جاتیں (پھر بھی وہ ایمان نہ لاتے)، بات یہ ہے کہ سب کام اللہ کے ہاتھ میں ہے"۔ [الرعد: ۳۱] اور اللہ تعالى نے اس کتاب کو تمام مومنوں کے لئے ہدایت و رحمت کا سبب بنایا ہے، جیسا کہ فر مان الہی ہے: {هَذَا بَصَائِرُ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ} "یہ (قرآن) ان لوگوں کے لئے بصیرت کی باتیں اور ہدایت و رحمت ہے، اس قوم کے لئے جو یقین رکھتی ہے"۔ [الجاثیۃ: ۲۰] اس میں روحانی و جسمانی بیماریوں کاعلاج اور نصیحت کا سامان ہے، جیسا کہ اللہ رب العالمین نے فر مایا: { يَاأَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَتْكُمْ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَشِفَاءٌ لِمَا فِي الصُّدُورِ وَهُدًى وَ رَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ} "اے لوگوں ! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک ایسی چیز آئی ہے جو نصیحت ہے اور دلوں میں جو روگ ہیں ان کے لئے شفا ہے اور رہنمائی کرنے والی ہے اور رحمت ہے ایمان والوں کے لئے"۔ [یونس: ۵۷] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاۗءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ ۙ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا } "یہ قرآن جو ہم نازل کر رہے ہیں مومنوں کے لئے تو سراسر شفا اور رحمت ہے، ہاں ظالموں کو بجز نقصان کے اور کوئی زیادتی نہیں ہوتی"۔ (الإسراء: ۸۲ ]

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تمام کتابوں میں یہ کتاب عظیم سب سےکامل و شامل ہے کیوں کہ یہ کتاب دلائل و براہین اور ان مثالوں پر مشتمل ہے جن کے ذریعہ مخلوق پر تا قیامت حجت قائم ہو گی، جیساکہ اللہ تعالیٰ فر ماتا ہے: { يَاأَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمْ بُرْهَانٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكُمْ نُورًا مُبِينًا} "اے لوگو ! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے سند اور دلیل آپہنچی اور ہم نے تمہاری جانب واضح اور صاف نور اتار دی ہے"۔ [النساء: ۱۷۴] ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَلَا يَأْتُونَكَ بِمَثَلٍ إِلَّا جِئْنَاكَ بِالْحَقِّ وَأَحْسَنَ تَفْسِيرًا } "یہ آپ کے پاس جو کوئی مثال لائیں گے ہم اس کا سچا جواب اور عمدہ دلیل آپ کو بتادیں گے"۔ [الفرقان: ۳۳] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: { وَلَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِي هَذَا الْقُرْآنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ فَأَبَى أَكْثَرُ النَّاسِ إِلَّا كُفُورًا} "ہم نے تو اس قرآن میں لوگوں کے سمجھنے کے لئے ہر طرح سے مثالیں بیان کردی ہیں، مگر اکثر لوگ انکار سے باز نہیں آتے"۔ [الإسراء: ۸۹] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِي هَذَا الْقُرْآنِ لِيَذَّكَّرُوا وَمَا يَزِيدُهُمْ إِلَّا نُفُورًا} "ہم نے اس قرآن میں ہر ہر طرح بیان فرما دیا کہ لوگ سمجھ جائیں لیکن اس سے انھیں تو نفرت ہی بڑھتی ہے"۔ [الإسراء: ۴۱] ابن جریر رحمہ اللہ فر ماتے ہیں: "(وَلَقَدْ صَرَّفْنا) لهؤلاء المشركين المفترين على الله (فِي هَذَا القُرآن) العِبَر والآيات والحجج، وضربنا لهم فيه الأمثال، وحذّرناهم فيه وأنذرناهم (لِيَذَّكَّرُوا) يقول: ليتذكروا تلك الحجج عليهم، فيعقلوا خطأ ما هم عليه مقيمون، ويعتبروا بالعبر، فيتعظوا بها، وينيبوا من جهالتهم، فما يعتبرون بها، ولا يتذكرون بما يرد عليهم من الآيات والنُّذُر‘‘۔ ہم نے اللہ پر افترا ء پردازی کرنے والے مشرکوں کے لئے اس قرآن میں عبرت، آیات اور دلائل کا انبار لگا دیا اور ان کے لئے ہم نے اس میں مثالیں بیان کیا اور ہم نے انہیں اس میں ڈرایا اور چوکنا کیا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں یعنی یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنے خلاف پائی جانے والی دلیلوں سے نصیحت پکڑیں اور اپنے اندر پائی جانے والی کمیوں، کوتاہیوں کو سمجھیں، قابل عبرت باتوں سے نصیحت حاصل کریں اور جہالت سے رو گردانی کریں ورنہ اپنے خلاف پائی جانے والی آیات اور ڈرانے والی باتوں سے وہ نصیحت حاصل نہیں کر سکتے ہیں۔ (تفسیر الطبری: ۱۷/۴۵۳)

اس کتاب میں ہر وہ چیز ہے جو اس سے پہلی تمام کتابوں میں تھیں, بلکہ اس میں مزید باتیں موجود ہیں, جیسا کہ اللہ تعالیٰ فر ماتا ہے: {وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ} "آپ کے رب کا کلام سچائی اور انصاف کے اعتبار سے کامل ہے اس کے کلام کو کوئى بدلنے والا نہیں ہے اور وہ خوب سننے والا اور جاننے والا ہے"۔ [الانعام: ۱۱۵] اور کتاب میں ہر وہ چیز موجودہے جو مخلوق کی ضرورت ہے جیسے اصل ایمان، شریعت، دلائل، حکم و مصالح، وعظ و نصیحت اورگزشتہ اقوام کی خبریں ہیں، جیسا کہ اللہ عزوجل نے فر مایا: {إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ} "یہ قرآن سیدھی راہ کی رہنما ئی کرتا ہے"۔ [الإسراء: ۹] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ هَذَا الْقُرْآنَ وَإِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنَ الْغَافِلِينَ} "ہم آپ کے سامنے بہترین بیان پیش کرتے ہیں اس وجہ سے کہ ہم نے آپ کی جانب یہ قرآن وحی کے ذریعے نازل کیا اور یقیناً آپ اس سے پہلے بے خبروں میں تھے"۔ [یوسف: ۳] اور یہ کتاب فصاحت و بلاغت کى چوٹى پر ہے، جیسا کہ رب العزت نے فر مایا: {اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُتَشَابِهًا مَثَانِيَ} "اللہ تعالیٰ نے بہترین کلام نازل فرمایا ہے جو ایسی کتاب ہے کہ آپس میں ملتی جلتی اور بار بار دہرائی ہوئی آیتوں کی ہے"۔ [الزمر: ۲۳] اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الْكَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ‘‘۔ مجھے جامع کلمات کے ساتھ بھیجا گیا ہے اور رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی ہے۔ (صحیح بخاری: ۲۹۷۷، صحیح مسلم: ۵۲۳، جامع الترمذی: ۱۵۵۳، سنن النسائی: ۳۰۸۷)

اس قرآن کے اللہ کا کلام ہونے کا ایک مضبوط ترین ثبوت یہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ ایک ان پڑھ آدمی تھے جو نہ پڑھ سکتے تھے اور نہ لکھ سکتے تھے۔ اس کے باوجود ان پر سب سے بڑی اور فصیح ترین کتاب نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: {وَمَا كُنْتَ تَتْلُو مِنْ قَبْلِهِ مِنْ كِتَابٍ وَلَا تَخُطُّهُ بِيَمِينِكَ إِذًا لَارْتَابَ الْمُبْطِلُونَ} "اس سے پہلے تو آپ کوئی کتاب پڑھتے نہ تھے نہ کسی کتاب کو اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے کہ یہ باطل پرست لوگ شک و شبہ میں پڑتے"۔ (العنکبوت: ۴۸ ] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ الَّذِي يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَكَلِمَاتِهِ وَاتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ} "سو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاؤ اور اس کے نبی امی پر جو کہ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پر آجاؤ" ۔ [الاعراف: ۱۵۸]

ہمارا ایمان ہے کہ قرآن کے الفاظ و معانی بالکل ظاہر و باہر ہیں، یہی کتاب ہے جس کے تئیں اللہ تعالی نے تمام جن و انس کو چیلنج دیا تھا کہ اس طرح کی کتاب یا اس کے مثل دس سورت یا ایک ہی سورت کوئی لا کر دکھائے، لیکن کوئی نہیں لا سکا،جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {قُلْ لَئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا} "کہہ دیجئے کہ اگر تمام انسان اور کل جنات مل کر اس قرآن کے مثل لانا چاہیں تو ان سب سے اس کے مثل لانا ناممکن ہے گو وہ (آپس میں) ایک دوسرے کے مدد گار بھی بن جائیں"۔ [الإسراء: ۸۸] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ قُلْ فَأْتُوا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِثْلِهِ مُفْتَرَيَاتٍ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ } "کیا یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو اسی نے گھڑا ہے۔ جواب دیجئے کہ پھر تم بھی اسی کے مثل دس سورتیں گڑھی ہوئی لے آؤ اور اللہ کے سوا جسے چاہو اپنے ساتھ بلا بھی لو اگر تم سچے ہو"۔ [ھود: ۱۳] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: { وَإِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ} "اور ہم نے اپنے بند ے پر جو کچھ اتارا ہے اس میں اگر تمہیں شک ہو اور تم سچے ہو تو اس جیسی ایک سورت تو بنا لاؤ، تمہیں اختیار ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اپنے مدد گاروں کو بھی بلا لو" ۔ [البقرۃ: ۲۳]

ہمارا ایمان ہے کہ اس کتاب کے حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالی نے خود لی ہے، اسے مخلوق کے حوالے نہیں کیا ہے، جیسا کہ فر مان با ری تعالی ہے: {إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ } "یقینا ہم نے ہى ذکر نازل کیا ہے اور بلاشبہ ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں"۔ [الحجر: ۹] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {لَا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنْزِيلٌ مِنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ} "جس کے پاس باطل پھٹک نہیں سکتا نہ اس کے آگے سے اور نہ اس کے پیچھے سے، یہ ہے نازل کردہ حکمتوں والے خوبیوں والے (اللہ) کی طرف سے"۔ [فصلت: ۴۲] عمومی احکام کی حیثیت سے اللہ تعالیٰ نے اسے پوری طرح سے محکم بنایا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {الر كِتَابٌ أُحْكِمَتْ آيَاتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ} "الر، یہ ایک ایسی کتاب ہے کہ اس کی آیتیں محکم کی گئی ہیں پھر صاف صاف بیان کی گئی ہیں ایک حکیم باخبر کی طرف سے "۔ [ھود: ۱] جیسا کہ ( کسی اور اعتبار) سے اسے پورا متشابہ بنایاہے، جیسا کہ اللہ تعالی نے فر مایا: {اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُتَشَابِهًا مَثَانِيَ} "اللہ تعالیٰ نے بہترین کلام نازل فرمایا ہے جو ایسی کتاب ہے کہ آپس میں ملتی جلتی اور بار بار دہرائی ہوئی آیتوں کی ہے"۔ [الزمر: ۲۳] اور (بعض اعتبار سے) اس کى بعض آیتوں کو محکم اور بعض آیتوں کو مشابہ بنایا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّهُ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ} "وہی اللہ تعالیٰ ہے جس نے تجھ پر کتاب اتاری جس میں واضح مضبوط آیتیں ہیں جو اصل کتاب ہیں اور بعض متشابہ آیتیں ہیں، پس جن کے دلوں میں کجی ہے وہ تو اس کی متشابہ آیتوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں، فتنے کی طلب اور ان کی مراد کی جستجو کے لئے، حالانکہ ان کی حقیقی مراد کو سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا اور پختہ اور مضبوط علم والے یہی کہتے ہیں کہ ہم تو ان پر ایمان لا چکے ہیں، یہ ہمارے رب کی طرف سے ہیں اور نصیحت تو صرف عقلمند حاصل کرتے ہیں"۔ [ آل عمران: ۷] پتہ چلا کہ اہل ضلالت صرف متشابہ آیتوں کی اتباع کرتے ہیں لیکن اہل ایمان محکم اور متشابہ سب پر ایمان لاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نےاسے تمام سابقہ کتابوں پر حاکم اور نگراں بنایا ہے جیسا کہ اللہ رب العزت نے فر مایا: {وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْكِتَابِ وَ مُهَيْمِنًا عَلَيْهِ} "اور ہم نے آپ کی طرف حق کے ساتھ یہ کتاب نازل فرمائی ہے جو اپنے سے اگلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور ان کی محافظ ہے"۔ [المائدۃ: ۴۸] یہ کتاب ہمیں گزشتہ اقوام کی خبریں بتاتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالی نے فر مایا: {ذَلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ إِذْ أَجْمَعُوا أَمْرَهُمْ وَ هُمْ يَمْكُرُونَ} "یہ غیب کی خبروں میں سے ہے جس کی ہم آپ کی طرف وحی کر رہے ہیں۔ آپ ان کے پاس نہ تھے جب کہ انہوں نے اپنی بات ٹھان لی تھی اور وہ فریب کرنے لگے تھے"۔ [یوسف: ۱۰۲] ان کے علاوہ اس طرح کی کئی دلیلیں قرآن میں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ قرآن مجید نے ہمیں اہل کتاب کے اختلاف سے آگاہ کیا، جیسا کہ اللہ تعالی نے فر مایا: {إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَقُصُّ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ أَكْثَرَ الَّذِي هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ} "یقیناً یہ قرآن بنی اسرائیل کے سامنے ان اکثر چیزوں کا بیان کررہا ہے جن میں یہ اختلاف کرتے ہیں"۔ [النمل: ۷۶]

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے منبر پر کھڑے ہو کر کہا تھا: یہ قرآن اللہ عز وجل کا کلام ہے، لہٰذا اسے اس کی جگہ پر رکھو اور اس میں اپنی خواہشات کی پیروی نہ کرو۔ (الزہد لأحمد بن حنبل: ۱۹۱، سنن الدارمی: ۳۳۹۸، السنۃ لعبد اللہ بن أحمد: ۱۱۷، الشریعۃ للآجری: ۱۵۵، الإبانۃ لابن بطۃ: ۲۳)

اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ بھی فر مایا: ’’الْقُرْآنُ كَلَامُ اللَّهِ فَلَا تَصْرِفُوهُ عَلَى آرَائِكُمْ‘‘۔ قرآن اللہ کا کلام ہے، لہذا تم سب اسے اپنی آراء کے مطابق نہ پھیرو۔ ( الشریعۃ للآجری: ۱۵۶)

اور فرو ہ بن نوفل الأشجعی فر ماتے ہیں: ’’كَانَ خَبَّابُ بْنُ الْأَرَتِّ لِي جَارًا , فَقَالَ لِي يَوْمًا: يَا هَنَاهْ، تَقَرَّبْ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى مَا اسْتَطَعْتَ، وَاعْلَمْ أَنَّكَ لَسْتَ تَتَقَرَّبُ إِلَيْهِ بِشَيْءٍ هُوَ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ كَلَامِهِ‘‘۔ خباب بن ارت میرے پڑوسی تھے انہوں نے مجھے ایک دن کہا اے بھلے انسان ! تو حسب استطاعت اللہ کا تقرب حاصل کر اور جان لے کہ تقرب حاصل کرنے والی چیزوں میں اس کے نزدیک اس کے کلام سے محبوب کوئی چیز نہیں ہے۔ (فضائل القرآن للقاسم بن سلام: ۷۷، مصنف ابن أبی شیبۃ: ۳۰۷۲۲، الزہد لأحمد بن حنبل: ۱۹۲، الرد علی الجہمیۃ لعثمان بن سعید الدارمی: ۱۶۰، السنۃ لعبد اللہ بن أحمد: ۱۱۱)

ہمارا ایمان ہے کہ یہ قرآن مخلوق نہیں بلکہ اللہ کا نازل کردہ کلام ہے اور یہ سینو ں میں محفوظ ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: { بَلْ هُوَ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَمَا يَجْحَدُ بِآيَاتِنَا إِلَّا الظَّالِمُونَ } "بلکہ یہ (قرآن) تو روشن آیتیں ہیں جو اہل علم کے سینوں میں محفوظ ہیں اور ہمارى آیتوں کا منکر بجز ظالموں کے کوئى اور نہیں"۔ [العنکبوت: ۴۹] چاہے وہ مصاحف میں لکھا ہوا ہو یا مساجد وعبادت گاہوں میں اس کی تلاوت کی جاتی ہو، یہ ان تمام صورتوں میں کلام الہی ہى ہے، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: { إِنَّ الَّذِينَ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَنْفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً يَرْجُونَ تِجَارَةً لَنْ تَبُورَ} "یقینا جو لوگ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں پوشیدہ اور اعلانیہ خرچ کرتے ہیں وہ ایسی تجارت کے امید وار ہیں جو کبھی خسارہ میں نہ ہوگی"۔ [فاطر: ۲۹] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ*۔ "بیشک یہ قرآن بہت بڑی عزت والا ہے۔ فِي كِتَابٍ مَكْنُونٍ*۔ جو ایک محفوظ کتاب میں درج ہے۔ لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ*۔ جسے صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں۔ اللہ رب العالمین کی طرف سے نازل کردہ ہے"۔ [الواقعۃ: ۷۷- ۸۰]

قرآن مجید اللہ کا کلام ہے، اور کلام الہی اس کی تمام صفات میں سے ایک صفت ہے، اور اللہ کی کوئی بھی صفت مخلوق نہیں ہو سکتی کیوں کہ اگر یہ مخلوق ہوتی تو مخلوق کے سارے قوانین اس پر لا گو ہوتے، جیسے فنا اور زائل ہو نا، بدلنا وغیرہ، رب اللہ تعالى نے فر مایا: { أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا} "کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو یقیناً اس میں بھی کچھ اختلاف پاتے"۔ [النساء: ۸۲] ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَإِنْ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَعْلَمُونَ} "اگر مشرکوں میں سے کوئی تجھ سے پناہ طلب کرے تو اسے پناہ د ے دو یہاں تک کہ وہ کلام اللہ سن لے پھر اسے اپنی جائے امن تک پہنچا د ے یہ اس لئے کہ یہ لوگ بےعلم ہیں"۔ [التوبۃ: ۶]

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا کہ اللہ کے رسولﷺ حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے لیے اللہ کی پناہ مانگتے اور کہتے کہ: ’’إِنَّ أَبَاكُمَا كَانَ يُعَوِّذُ بِهَا إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ، مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لاَمَّةٍ ‘‘۔ تم دونوں کے باپ اسی کے ذریعہ اسماعیل اور اسحاق کے لئے پناہ طلب کیا کرتے تھے ’’أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ، مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لاَمَّةٍ ‘‘۔ میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے پورے کلمات کے ذریعہ ہر ایک شیطان اور زہریلے جانور سے اور ہر ملامت کرنے والی نظر سے۔ (صحیح بخاری: ۳۳۷۱، سنن أبی داود: ۴۷ ۳۷ ، اور ابو داود نے فر مایا" کہ یہ حدیث اس بات پر دلیل ہے کہ قرآن مخلوق نہیں ہے، جامع الترمذی: ۲۰۶۰، سنن ابن ماجۃ: ۳۵۲۵)

اسماعیل بن ابو أویس نے اہل مدینہ کا اس بات پر اجماع نقل کیا ہے کہ قرآن مخلوق نہیں ہے، جیسا کہ انہوں نے فرمایا: ’’كَانَ مَالِكٌ وَعُلَمَاءُ أَهْلِ بَلَدِنَا يَقُولُونَ: الْقُرْآنُ مِنَ اللَّهِ , وَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ شَيْءٌ مَخْلُوقٌ، وَعُلَمَاءُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ فِي وَقْتِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذِئْبٍ , وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ , وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي سَبْرَةَ , وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ الزُّهْرِيُّ , وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ , وَحَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ , وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعُمَرِيُّ الزَّاهِدُ , وَأَبُو ضَمْرَةَ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ‘‘۔ (امام )مالک اور ہمارے شہر کے دیگرعلماء کہتے تھے کہ قرآن من جانب اللہ ہے اور من جانب اللہ کوئی چیز مخلوق نہیں ہوتی، مالک بن انس کے وقت میں مدنی علماء میں محمد بن عبد الرحمن بن أبی ذئب، عبد العزیز بن أبی سلمہ الماجشون، ابو بکر بن أبی سبرہ، ابراہیم بن سعد الزہری، سعید بن عبد الرحمن الجمحی، حاتم بن اسماعیل، عبد اللہ بن عبد العزیز العمری الزاہد، ابو ضمرہ انس بن ایاض اور محمد بن اسماعیل بن أبی فد یک تھے۔ [شرح أصول إعتقاد أھل السنۃ والجماعۃ (۲/۳۰۰)]

شعیب بن حرب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابو عبد اللہ سفیان بن سعید ثوری رحمہ اللہ سے کہا: ’’حَدِّثْنِي بِحَدِيثٍ مِنَ السُّنَّةِ يَنْفَعُنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ , فَإِذَا وَقَفْتُ بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَسَأَلَنِي عَنْهُ. فَقَالَ لِي: مِنْ أَيْنَ أَخَذْتَ هَذَا؟ قُلْتُ: يَا رَبِّ حَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ , وَ أَخَذَتْهُ عَنْهُ فَأَنْجُو أَنَا وَتُؤَاخَذُ أَنْتَ . فَقَالَ: يَا شُعَيْبُ هَذَا تَوْكِيدٌ وَأَيُّ تَوْكِيدٍ , اكْتُبْ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الْقُرْآنُ كَلَامُ اللَّهِ غَيْرُ مَخْلُوقٍ , مِنْهُ بَدَأَ وَإِلَيْهِ يَعُودُ‘‘۔ مجھے سنت کی کوئی ایسی بات بتاؤ جس کے ذریعہ اللہ عزوجل مجھے نفع پہونچائے اور جب میں اللہ تبارک وتعالی کے سامنے کھڑا ہوں اور وہ مجھ سے اس کی بابت پوچھے اور کہے کہ تو نے اسے کہاں سے اخذ کیا تو میں کہوں کہ اے میرے رب ! مجھے یہ بات سفیان ثوری نے بتائى تھى، یہ بات میں انہیں سے اخذ کیا ہے تاکہ میں نجات پا جاؤں اور تمہارا مواخذہ ہو، تو انہوں نے کہا اے شعیب ! سب سے مضبوط اور پختہ بات یہ ہے لکھو بسم اللہ الرحمن الرحیم قرآن اللہ کا کلام ہے مخلوق نہیں ہے، اللہ سے ہی اس کی ابتداء ہوئی ہے، اور اس کی طرف اس کا لوٹنا ہے۔ (شرح أصول إعتقاد أھل السنۃ والجماعۃ: ۱/۱۷۰)

امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ فر ماتے ہیں کہ: ہمیں ابن عیینہ نے بتایا اور وہ فر ماتے ہیں کہ میں نے عمرو بن دینار کو کہتے ہو ئے سنا ’’ أَدْرَكْتُ مَشَايِخَنَا مُنْذُ سَبْعِينَ سَنَةً يَقُولُونَ: الْقُرْآنُ كَلَامُ اللَّهِ مِنْهُ بَدَأَ وَإِلَيْهِ يَعُودُ‘‘۔ میں اپنے مشائخ کو ستر سال سے یہی کہتے ہوئے پایا: کہ قرآن اللہ کا کلام ہے،اسی سے اس کی ابتداء ہوئی ہے اور اس کی طرف اس کا لوٹنا ہے۔ (صریح السنۃ للطبری، ص : ۱۹)

حسن بن ایوب فر ماتے ہیں کہ: "میں نے احمد بن حنبل کو فریابی کا قول نقل کرتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا: میں نے ثوری یعنی سفیان کو کہتے سنا: جو شخص یہ کہتا ہے کہ قرآن مخلوق ہے وہ زندیق ہے۔" عبداللہ بن احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو فرماتے ہوئے سنا: مجھے ابراہیم بن سعد، سعید بن عبدالرحمٰن الجمحی، وہب بن جریر، ابو نضر ہاشم بن القاسم اور سلیمان بن حرب سے یہ بات پہونچی کہ انہوں نے فرمایا: قرآن مخلوق نہیں ہے۔ (شرح أصول اعتقاد أھل السنۃ والجماعۃ: ۲/۲۷۷)

امام الائمہ محمد بن خزیمہ رحمہ اللہ نے اس مسئلے پر باب باندھا ہے، چنانچہ انہوں نے فرمایا: ’’بَابٌ مِنَ الْأَدِلَّةِ الَّتِي تَدُلُّ عَلَى أَنَّ الْقُرْآنَ كَلَامُ اللَّهِ الْخَالِقِ، وَقَوْلَهُ غَيْرُ مَخْلُوقٍ ‘‘باب ہے ان دلیلوں کے بیان میں جو اس بات پردلیل ہیں کہ قرآن خالق کا کلام ہے، اور اس کا قول مخلوق نہیں ہے۔ (التوحید لابن خزیمۃ:۴۰۴/ ۱)

ابو سعید دارمی رحمہ اللہ فر ماتے ہیں کہ: ’’فَفِي هَذِهِ الْأَحَادِيثِ بَيَانُ أَنَّ الْقُرْآنَ غَيْرُ مَخْلُوقٍ؛ لِأَنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ مِنَ الْمَخْلُوقِينَ مِنَ التَّفَاوُتِ فِي فَضْلِ مَا بَيْنَهُمَا كَمَا بَيْنَ اللَّهِ وَبَيْنَ خَلْقِهِ فِي الْفَضْلِ؛ لِأَنَّ فَضْلَ مَا بَيْنَ الْمَخْلُوقِينَ يُسْتَدْرَكُ، وَلَا يُسْتَدْرَكُ فَضْلُ اللَّهِ عَلَى خَلْقِهِ، وَلَا يُحْصِيهِ أَحَدٌ، وَكَذَلِكَ فَضْلُ كَلَامِهِ عَلَى كَلَامِ الْمَخْلُوقِينَ، وَلَوْ كَانَ كَلَامًا مَخْلُوقًا لَمْ يَكُنْ فَضْلُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَائِرِ الْكَلَامِ كَفَضْلِ اللَّهِ عَلَى خَلْقِهِ وَلَا كَعُشْرِ عُشْرِ جُزْءٍ مِنْ أَلْفِ أَلْفِ جُزْءٍ وَلَا قَرِيبًا وَلَا قَرِيبًا، فَافْهَمُوهُ، فَإِنَّهُ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ، فَلَيْسَ كَكَلَامِهِ كَلَامٌ، وَلَنْ يُؤْتَى بِمِثْلِهِ أَبَدًا‘‘۔ ان احادیث میں اس بات کا بیان ہے کہ قرآن غیر مخلوق ہے کیوں کہ مخلوقات کے درمیان کسى بھی خاصیت میں اتنا فرق نہیں جتنا کہ مخلوق کے کلام اور اس قرىں کے ما بین ہے اور یہ ویسا ہى ہے کہ جیسے اللہ اور اللہ کی مخلوق کے مابین فرق ہے کیوں کہ مخلوق کے مابین پا ئے جانے والے فر وق اور فضائل کا استدراک ممکن ہے جب کہ مخلوق کے مقابلے اللہ کی فضیلت کا استدراک نا ممکن ہے، اسے کو ئی نہیں شمار کر سکتا ہے، اسی طرح کلام مخلوق پر کلام الہی کی بھی فضیلت ہے، اگر یہ قرآن مخلوق کلام ہوتا تو تمام مخلوقات کے کلام اور اس کے درمیان فضائل میں ویسا فرق نہیں ہوتا جیسا کہ اللہ کى فضیلت اس کى مخلوق پر ہے بلکہ مخلوق کا کلام اس قرآن کے بالمقابل ایک کروڑ حصہ کے ایک حصہ کے برابر نہیں ہے بلکہ اس سے قریب بلکہ قریب تر بھی نہیں ہے لہذا اسے سمجھ لو کہ جس طرح اس کی طرح کوئی چیز نہیں ہے اسى طرح اس کے کلام کی طرح کوئی کلام نہیں ہے اوراس کے کلام کے مثل کبھی نہیں لا یا جا سکتا۔ (الرد علی الجھمیۃ للدارمی، ص : ۱۸۸)

ابو یوسف رحمہ اللہ سے مروی ہے، کہ انہوں نے فرمایا: ’’أما القرآن فإنہ کلام اللہ تعالی ، ووحیہ و تنزیلہ ، علی ھذا وجدت أبا حنیفۃ والأئمۃ ، ولم یکن عندھم مخلوقا، ولا خالقا‘‘۔ رہی بات قرآن کی تو یہ اللہ تعالیٰ کا کلام، اس کی وحی اور اس کی نازل کردہ کتاب ہے، اسی پر میں نے ابو حنیفہ اور أئمہ کو پایا ہے، ان کے نزدیک قرآن نہ خالق ہے اور نہ ہی مخلوق ہے۔ (الاعتقاد :للنیساپوری، ص: ۱۳۵)

باب: قرآن مجید اللہ رب العالمین کا نازل کردہ کلام ہے

ہمارا ایمان ہے کہ یہ عظیم قرآن رب العالمین کا کلام ہے اور اسے امانت دار فرشتہ لے کر نازل ہوا۔ اور یہ بات اسلام میں معلوم و معروف ہے، اور تمام مسلمان اس پر متفق ہیں اور ان میں سے کوئی بھی اس سے اختلاف نہیں کرتا۔ یہ مسئلہ کہ قرآن رب العالمین کا نازل کردہ ہے، بے شمار دلائل سے ثابت ہے، جن كا احاطہ نہیں کیا جا سکتا ہے، جن میں سے ایک یہ ہے:

خود اللہ تعالیٰ نے ہی اس بات کی شہادت دیا ہے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور یہ من جانب اللہ ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: { قُلْ أَيُّ شَيْءٍ أَكْبَرُ شَهَادَةً قُلِ اللَّهُ شَهِيدٌ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَذَا الْقُرْآنُ لِأُنْذِرَكُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ} "آپ کہیے کہ سب سے بڑی چیز گواہی دینے کے لئے کون ہے، آپ کہیے کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے اور میرے پاس یہ قرآن بطور وحی کے بھیجا گیا ہے تاکہ میں اس قرآن کے ذریعہ سے تم کو اور جس جس کو یہ قرآن پہنچے ان سب کو ڈراؤں"۔ [الانعام: ۱۹] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {لَكِنِ اللَّهُ يَشْهَدُ بِمَا أَنْزَلَ إِلَيْكَ أَنْزَلَهُ بِعِلْمِهِ} "لیکن جو کچھ آپ کی طرف اتارا ہے اس کی بابت خود اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ اسے اپنے علم سے اتارا ہے"۔ [النساء: ۱۶۶]

اور قرآن کے من جانب اللہ ہونے کے دلائل میں سے یہ بھی ہے کہ فرشتوں نے بھی اس بات کی گواہی دی ہے کہ قرآن اللہ ہی نے نازل کیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: { لَكِنِ اللَّهُ يَشْهَدُ بِمَا أَنْزَلَ إِلَيْكَ أَنْزَلَهُ بِعِلْمِهِ وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ وَكَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا} "جو کچھ آپ کی طرف اتارا ہے اس کی بابت خود اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ اسے اپنے علم سے اتارا ہے اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بطور گواہ کافی ہے"۔ [النساء: ۱۶۶]

اور قرآن کے اللہ کى طرف سے ہونے کے دلائل میں سے یہ بھی ہے کہ یہ انبیاء علیہم السلام کی لائی ہوئی شریعتوں کے موافق ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا} "اور تیرا رب صاف صاف حکم د ے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا، اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا یہ دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اف تک نہ کہنا، نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات چیت کرنا"۔ [الإسراء: ۲۳] اللہ تعالیٰ کے اس قول تک: {ذَلِكَ مِمَّا أَوْحَى إِلَيْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ وَلَا تَجْعَلْ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ فَتُلْقَى فِي جَهَنَّمَ مَلُومًا مَدْحُورًا} "یہ بھی منجملہ اس وحی کے ہے جو تیری جانب تیر ے رب نے حکمت سے اتاری ہے تو اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ بنانا کہ ملامت خوردہ اور راندہ درگاہ ہو کر دوزخ میں ڈال دیا جائے"۔ [الإسراء: ۳۹]

اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {نَزَّلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَاَنْزَلَ التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ} "جس نے آپ پر حق کے ساتھ اس کتاب کو نازل فرمایا جو اپنے سے پہلے کی تصدیق کرنے والی ہے اور اسی نے تورات اور انجیل کو اتارا تھا"۔ [آل عمران: ۳] سو یہ تمام اصول جن کى تاکید کى گئى ہے ان تمام کى طر ف انبیاء نے دعوت دی اور تاکید کے ساتھ ان کو بیان کیا۔

قرآن کے اللہ کى جانب سے منز ل ہونے کى ایک دلیل یہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺکے دور میں پائے جانے والے اہل کتاب نے بھی اس بات کی شہادت دی کہ یہ قرآن من جانب اللہ ہے اور اس کا تذکرہ قرآن مجید ہی میں اللہ تعالیٰ نے کیا ہے، جیسا کہ اللہ عز وجل نے فرمایا: {قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَكَفَرْتُمْ بِهٖ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ عَلٰي مِثْلِهٖ فَاٰمَنَ وَاسْـتَكْبَرْتُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْــقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ} "آپ کہہ دیجئے ! اگر یہ (قرآن) اللہ ہی کی طرف سے ہو اور تم نے اسے نہ مانا ہو اور بنی اسرائیل کا ایک گواہ اس جیسی کی گواہی بھی د ے چکا ہو اور ایمان بھی لا چکا ہو اور تم نے سرکشی کی ہو تو بیشک اللہ تعالیٰ ظالموں کو راہ نہیں دکھاتا"۔ [الأحقاف: ۱۰] صحیحین میں آیا ہے کہ جب نبی ﷺ نے ورقہ کو وہ ساری باتیں بتادی جو آپ ﷺ نے دیکھا تھا تو ورقہ نے کہا ’’هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي نَزَّلَ اللَّهُ عَلَى مُوسَى‘‘یہی وہ ناموس ہے جسے اللہ نے موسیٰ علیہ السلام پر نازل کیا تھا۔ (صحیح بخاری: ۳۳۹۲، صحیح مسلم: ۱۶۰)

اسی طرح جب جعفر رضی اللہ عنہ سے نجاشی نے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس رسول ﷺ کی لائی ہوئی شریعت میں سے کچھ ہے تو انہوں نے اس پر قرآن کا کچھ حصہ پڑھ دیا تو نجاشی نے کہا: ’’وَاللَّهِ إِنَّ هَذَا الْكَلَامَ وَالْكَلَامَ الَّذِي جَاءَ مُوسَى لَيَخْرُجَانِ مِنْ مِشْكَاةٍ وَاحِدَةٍ‘‘۔ اللہ کی قسم یہ وہی کلام ہے جو موسی کے پاس آیا تھا یقینا دونوں ایک ہی طاق سے ہیں (یعنی کہ دونوں کا مصدر ایک ہی ہے)۔ ( إسحاق بن راهويه: ۱۸۳۵، مسند أحمد: ۲۲۴۹۸، سنن ابن خزيمة : ۲۲۶۰، الطحاوي في شرح مشكل الآثار: ۵۵۹۸، الحلية لأبی نعیم: ۱۱۵/۱، دلائل النبوة لأبی نعیم : ۱۹۴)

قرآن کے اللہ کى جانب سے ہونے کى ایک دلیل جنوں کی شہادت ہے کہ یہ قرآن اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے اور یہ اسی کے موافق ہے جسے موسیٰ علیہ السلام لے کر آئے تھے، جیسا کہ فر مان الہی ہے: {وَإِذْ صَرَفْنَا إِلَيْكَ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ فَلَمَّا حَضَرُوهُ قَالُوا أَنْصِتُوا فَلَمَّا قُضِيَ وَلَّوْا إِلَى قَوْمِهِمْ مُنْذِرِينَ*۔ "اور یاد کرو! جبکہ ہم نے جنوں کی ایک جماعت کو تیری طرف متوجہ کیا کہ وہ قرآن سنیں، پس جب (نبی کے) پاس پہنچ گئے تو (ایک دوسرے سے) کہنے لگے خاموش ہو جاؤ پھر جب پڑھ کر ختم ہوگیا تو اپنی قوم کو خبردار کرنے کے لئے واپس لوٹ گئے۔ قَالُوا يَاقَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا كِتَابًا أُنْزِلَ مِنْ بَعْدِ مُوسَى مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ وَإِلَى طَرِيقٍ مُسْتَقِيمٍ} "کہنے لگے اے ہماری قوم! ہم نے یقیناً وہ کتاب سنی ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد نازل کی گئی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے جو سچے دین کی اور راہ راست کی طرف رہنمائی کرتی ہے"۔ [الأحقاف: ۲۹- ۳۰] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِنَ الْجِنِّ فَقَالُوا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا*۔ "آپ کہہ دیں کہ مجھے وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے (قرآن) سنا اور کہا کہ ہم نے عجب قرآن سنا ہے۔ يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ وَلَنْ نُشْرِكَ بِرَبِّنَا أَحَدًا} جو راہ راست کی طرف راہنمائی کرتا ہے ہم اس پر ایمان لا چکے (اب) ہم ہرگز کسی کو بھی اپنے رب کا شریک نہ بنائیں گے"۔ [الجن: ۱- ۲]

قرآن کے اللہ کے کلام ہونے کى دلیل کفار قریش کی دی ہوئ گواہی بھی ہے کہ یہ قرآن انسانی کلام نہیں ہے کیوں کہ یہ انسانی کلام کے عین مخالف ہے، جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ’’أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ الْمُغِيرَةِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ عَلَيْهِ الْقُرْآنَ، فَكَأَنَّهُ رَقَّ لَهُ فَبَلَغَ ذَلِكَ أَبَا جَهْلٍ، فَأَتَاهُ فَقَالَ: يَا عَمُّ، إِنَّ قَوْمَكَ يَرَوْنَ أَنْ يَجْمَعُوا لَكَ مَالًا. قَالَ: لَمَ؟ قَالَ: لِيُعْطُوكَهُ فَإِنَّكَ أَتَيْتَ مُحَمَّدًا لِتُعْرِضَ لِمَا قِبَلَهُ قَالَ: قَدْ عَلِمَتْ قُرَيْشٌ أَنِّي مِنْ أَكْثَرِهَا مَالًا. قَالَ: فَقُلْ فِيهِ قَوْلًا يَبْلُغُ قَوْمَكَ أَنَّكَ مُنْكِرٌ لَهُ أَوْ أَنَّكَ كَارِهٌ لَهُ قَالَ: وَمَاذَا أَقُولُ ؟فَوَاللَّهِ مَا فِيكُمْ رَجُلٌ أَعْلَمَ بِالْأَشْعَارِ مِنِّي، وَلَا أَعْلَمَ بِرَجَزٍ وَلَا بِقَصِيدَةٍ مِنِّي وَلَا بِأَشْعَارِ الْجِنِّ وَاللَّهِ مَا يُشْبِهُ الَّذِي يَقُولُ شَيْئًا مِنْ هَذَا وَوَاللَّهِ إِنَّ لِقَوْلِهِ الَّذِي يَقُولُ حَلَاوَةً، وَإِنَّ عَلَيْهِ لَطَلَاوَةً، وَإِنَّهُ لَمُثْمِرٌ أَعْلَاهُ مُغْدِقٌ أَسْفَلُهُ، وَإِنَّهُ لَيَعْلُو وَمَا يُعْلَى وَإِنَّهُ لَيَحْطِمُ مَا تَحْتَهُ‘‘۔ ولید بن مغیرہ نبی ﷺ کے پاس آیا تو آپ نے اس پر قرآن پڑھا، سنتے ہی اس پر رقت طاری ہو گئی، یہ بات جب ابو جہل کو پہونچی تو وہ اس کے پاس آیا اور کہا: چچا! آپ کی قوم والے آپ کے لئے مال جمع کرنا چاہتے ہیں، کہا کیوں؟ کہا تاکہ آپ کو دیں کیوں کہ آپ محمد کے پاس آئے تھے تاکہ وہ پاس سکیں جو محمد کے پا س ہے، کہا قریش کو معلوم ہے کہ میں ان کے مالداروں میں سے ہوں، کہا اس کے سلسلے میں آپ ایسی بات کہیں جس سے آپ کی قوم کو پتہ چلے کہ آپ ان کا انکار کرنے والے یا انہیں نا پسند کرنے والے ہیں، کہا میں کیا کہوں؟ اللہ کی قسم تمہارے ما بین مجھ سے زیادہ اشعار جاننے والا، مجھ سے زیادہ رجز (اشعار کی ایک قسم ہے)جاننے والا، مجھ سے زیادہ قصیدے جاننے والا اور مجھ سے زیادہ جنوں کے اشعار جاننے والا کوئی نہیں ہے، اللہ کی قسم وہ ان میں سے کسی بھی چیز کے مشابہ نہیں ہے، اللہ کی قسم اس کی بات میں حلاوت اور دلکشی ہوتی ہے، اس کا اوپری حصہ پھل دار اور اس کا نچلا حصہ بابرکت ہے، وہ غالب ہے مغلوب نہیں ہوتا اور وہ اپنے ماسوا کو مغلوب کردیتا ہے۔ (مستدرک علی الصحیحین للحاکم: ۳۸۷۲، شعب الإیان للبیھقی:۱۳۳، دلائل النبوة للبیھقی :۱۹۸/۲)

اورقرآن کے من جانب اللہ ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ قرآن اسی کے موافق ہےجو اللہ چاہتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالی نے فر مایا: {وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ} "اور یہ کہ دین میرا راستہ ہے جو مستقیم ہے سو اس راہ پر چلو دوسری راہوں پر مت چلو کہ وہ راہیں تم کو اللہ کی راہ سے جدا کردیں گی، اس کا تم کو اللہ تعالیٰ نے تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم پرہیزگاری اختیار کرو"۔ [الانعام: ۱۵۳]

اسی طرح قرآن کے من جانب اللہ ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ جو احکام، معرفت الہی اور آداب وغیرہ قرآن میں ہیں سب فطرت کے عین موافق ہیں، جیسا کہ فر مان الہی ہے: { فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ} "پس آپ یک سو ہو کر اپنا منہ دین کی طرف متوجہ کردیں، اللہ تعالیٰ کی وہ فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، اس اللہ تعالیٰ کے بنائے کو بدلنا نہیں یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے"۔ [الروم: ۳۰ ]

قرآن کے من جانب اللہ ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ قرآن میں وہی احکام ہیں جن میں تمام لوگوں کے لئے خیر ہے، چونکہ اللہ تعالیٰ ہی تمام مخلوق کا خالق ہے اس لئے اللہ تعالیٰ بندوں کى حاجتوں کو جانتا ہے اور ان کے ادیان، اجسام، اموال اور اوطان کے لئے خیر ومناسب باتوں کى خبر رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فر مایا: { أَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ } "کیا وہی نہ جانے جس نے پیدا کیا پھر وہ باریک بین اور باخبر ہو"۔ [الملک: ۱۴] اللہ تعالیٰ نے وہی کام کرنے کا حکم دیا ہے جس میں حد درجہ مصلحت ہے اور اسی کام سے منع کیا اور روکا ہے جس میں احتیاط کرنے ہی میں اچھائی ہے۔

اورایک دلیل یہ ہے کہ قرآن کریم عقلی تقاضوں کے مطابق ہے۔ چنانچہ سورۃ الانعام میں اللہ تعالیٰ نے بنیادی محرمات کا تذکرہ کرنے کے بعد ان کا اختتام اس فقرے سے کیا: {تاکہ تم سمجھو}۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ أَلَّا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ مِنْ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ} "آپ کہیے کہ آؤ تم کو وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں جن کو تمہارے رب نے تم پر حرام فرما دیا ہے وہ یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو اور اپنی اولاد کو افلاس کے سبب قتل مت کرو ہم تم کو اور ان کو رزق دیتے ہیں اور بے حیائی کے جتنے طریقے ہیں ان کے پاس مت جاؤ خواہ وہ اعلانیہ ہوں خواہ پوشیدہ اور جس کا خون کرنا اللہ تعالیٰ نے حرام کردیا اس کو قتل مت کرو ہاں مگر حق کے ساتھ، ان کا تم کو تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم سمجھو"۔ [الانعام: ۱۵۱]

جس طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بندوں سے اکثر مقام پر مامورات و منہیات سے عبرت و نصیحت حاصل کرنے اور اس میں غور و فکر کرنے کا مطالبہ کیا ہے اسی طرح بے شمار مقام پر سمجھ دار اور ہوش مندوں سے خطاب بھی کیا ہے۔

اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے: کہ قرآن مجید جن دلائل کے ساتھ آیا ہے، وہ انتہائی فصیح وبلیغ، حد درجہ قوی‘ قریب از فہم اور آسان ہیں، جن کو ہر کوئی سمجھ سکتا ہے، اور یہ خصوصیت کسی انسانی کلام میں نہیں پائی جاتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {هَذَا خَلْقُ اللَّهِ فَأَرُونِي مَاذَا خَلَقَ الَّذِينَ مِنْ دُونِهِ بَلِ الظَّالِمُونَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ} "یہ ہے اللہ کی مخلوق اب تم مجھے اس کے سوا دوسرے کسی کی کوئی مخلوق تو دکھاؤ (کچھ نہیں) بلکہ یہ ظالم کھلی گمراہی میں ہیں"۔ [لقمان: ۱۱] ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ کا یوں فر مان ہے: {لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا فَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ} "اگر ان دونوں ( آسمان و زمین) میں اللہ کے علاوہ کوئی اور معبود ہوتا تو دونوں درہم برہم ہوجا تے پس اللہ ، عرش کے رب کی ذات پاک ہےان تمام باتوں سے جو وہ لوگ بیان کرتے ہیں"۔ [الأنبیاء: ۲۲] مزید یہ کہ اس کے دلائل -کسی بھی حال میں- باطل کی طرف رہنمائی نہیں کر سکتے۔ وہ دلائل اتنے مضبوط ہیں کہ ان کی مخالفت یا تردید نہیں کی جا سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا} "اور اعلان کر د ے کہ حق آچکا اور ناحق نابود ہوگیا۔ یقیناً باطل تھا بھی نابود ہونے والا"۔ [الإسراء: ۸۱]

قرآن کا کلام الہی ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ یہ ہر ایک کے لئے آسان ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ} "اور بیشک ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے پس کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے"۔ [القمر: ۱۷] حالانکہ کوئی انسان کوئی ایسی کتاب نہیں لکھ سکتا کہ وہ سب کے لئے آسان ہو اور وہ کتاب سب کو مخاطب کرے، یہ خصوصیت صرف اسی قرآن کو حاصل ہے۔

قرآن کا کلام الہی ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ یہ تغیر و تبدل سےمحفوظ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ } "ہم نے ذکر نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں"۔ [الحجر: ۹] تا قیامت یہ کتاب باقی رہنے والی ہے اورتا قیامت اس کتاب کا باقی اور تغیر و تبدل سے محفوظ رہنا اس کے کلام الہی ہو نے کی دلیل ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: { أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا} "کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو یقیناً اس میں بھی کچھ اختلاف پاتے"۔ [النساء: ۸۲]

قرآن کے بقاء، ہمیشگی اور اس کی حفاظت کے ساتھ ساتھ عصر حاضر میں نئے نئے علوم وفنون اور نوع بہ نوع کھوجوں میں سے کسى میں قرآن میں پائی جانے والی تعلیمات کی کچھ بھی مخالفت پائى نہیں جاتی ہے، بلکہ تمام جدید علوم نے قرآن میں ان سے متعلق مذکور باتوں کی موافقت ہى کى ہے، جیسے تخلیق آسمان اور تخلیق بشر وغیرہ۔

قرآن کے من جانب اللہ ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ یہ سیدھی راہ کی رہنمائی کرتا ہے، یہ ہر خیر کو شامل ہے، یہ کتاب خالق، مخلوق، دنیا، آخرت، جن، انس، اوامر و نواہی، واجبات اور جنت و جہنم ہر ایک پر گفتگو کرتی ہے، اس میں ایمان، عمل اور جزاء ہر ایک کا تذکرہ ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ} "ہم نے دفتر میں کوئی چیز نہیں چھوڑی پھر سب اپنے رب کے پاس جمع کئے جائیں گے"۔ [الانعام: ۳۸] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ} "یہ قرآن سیدھی راہ کی رہنمائی کرتا ہے"۔ [الإسراء: ۹]

قرآن مجید میں تمام بیماریوں سے شفاء ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: { يَاأَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَتْكُمْ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَشِفَاءٌ لِمَا فِي الصُّدُورِ وَهُدًى وَ رَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ} "اے لوگوں ! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک ایسی چیز آئی ہے جو نصیحت ہے اور دلوں میں جو روگ ہیں ان کے لئے شفا ہے اور رہنمائی کرنے والی ہے اور رحمت ہے ایمان والوں کے لئے"۔ [یونس: ۵۷ ] ذرا بتاؤ کہ کیا اسی طرح کسی انسان کے کلام میں تمام بیماریوں سے خواہ وہ روحانی ہوں یا جسمانی شفاء موجود ہے؟ نہیں یہ صرف قرآن مجید کا خاصہ ہے اور یہی قرآن کے من جانب اللہ ہونے کی دلیل ہے۔

اللہ تعالیٰ نے تمام جن و انس کو چیلنج دیا ہے کہ اسی کے مثل یا اس کی دس سورتوں کے مثل یا اس کی ایک سورت کے مثل کوئی لا کر دکھا ئے، جیسا کہ فر مان الہی ہے: { أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ قُلْ فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِثْلِهِ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ} "کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ آپ نے اس کو گھڑ لیا ہے؟ آپ کہہ دیجئے کہ پھر تم اس کے مثل ایک ہی سورت لاؤ اور جن جن غیر اللہ کو بلا سکو، بلا لو اگر تم سچے ہو"۔ [یونس: ۳۸ ] اور واضح کر دیا کہ یہ کتاب شکوک و شبہات سے پاک ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {وَمَا كَانَ هَذَا الْقُرْآنُ أَنْ يُفْتَرَى مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلَكِنْ تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ الْكِتَابِ لَا رَيْبَ فِيهِ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ } "اور یہ قرآن ایسا نہیں ہے کہ اللہ (کی وحی) کے بغیر (اپنے ہی سے) گھڑ لیا گیا ہو۔ بلکہ یہ تو (ان کتابوں کی) تصدیق کرنے والا ہے جو اس سے قبل نازل ہوچکی ہیں اور کتاب (احکام ضروریہ) کی تفصیل بیان کرنے والا اس میں کوئی بات شک کی نہیں کہ رب العالمین کی طرف سے ہے"۔ [یونس: ۳۷]

قرآن کریم کے کلام اللہ ہونے کى یہ بھی دلیل ہے کہ قرآن مجید ہمیں گزشتہ اقوام کی خبریں ہو بہو بتاتا ہے حالانکہ ان کی خبریں اہل مکہ کے در میان منتشر نہیں تھیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں وہ سب بتایا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فر مان میں ہے: {نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ هَذَا الْقُرْآنَ وَإِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنَ الْغَافِلِينَ} "ہم آپ کے سامنے بہترین بیان پیش کرتے ہیں اس وجہ سے کہ ہم نے آپ کی جانب یہ قرآن وحی کے ذریعے نازل کیا اور یقیناً آپ اس سے پہلے بے خبروں میں تھے"۔ [یوسف: ۳] تو یہ بات قرآن کے من جانب اللہ ہونے کی ایک گواہ ہے۔

قرآن مجید فصاحت و بیان، غیبی خبروں اور ربانی شریعتوں پر مشتمل ہے، اسے وہ رسول لایا جو پڑھنا لکھنا نہیں جانتا تھا اوریہ دلیل ہے اس بات پر کہ یہ کتاب حکیم و حمید کی جانب ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {وَمَا كُنْتَ تَتْلُو مِنْ قَبْلِهِ مِنْ كِتَابٍ وَلَا تَخُطُّهُ بِيَمِينِكَ إِذًا لَارْتَابَ الْمُبْطِلُونَ} "اس سے پہلے تو آپ کوئی کتاب پڑھتے نہ تھے نہ کسی کتاب کو اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے کہ یہ باطل پرست لوگ شک و شبہ میں پڑتے"۔ [العنکبوت: ۴۸ ] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ} "جو لوگ ایسے رسول نبی امی کا اتباع کرتے ہیں جن کو وہ لوگ اپنے پاس تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں"۔ [الأعراف: ۱۵۷]

قرآن کریم کے کلام الہی ہونے کى دلیلوں میں سے یہ بھی ہے: کہ قرآنی سورتیں مختلف اوقات اور مختلف مقامات میں نازل ہوئی ہیں، لیکن بوقت تلاوت ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سب کا نزول یکبارگی ہوا ہے، حالانکہ یہ فطری تقاضا ہے کہ ایک انسان جب مختلف اوقات میں کتابیں تصنیف کرتا ہے تواس کی صلاحیت اوراسلوب میں فرق آجاتا ہے۔

اور انہیں دلائل میں سے ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اللہ کے رسول ﷺ کو قرآن عطا کیا اسی طرح آپ کو سنت (حدیث) بھی عطا کیا ہے، اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ’’أَلَا إِنِّي أُوتِيتُ الْكِتَابَ، وَمِثْلَهُ مَعَهُ‘‘۔ خبر دار! مجھے کتاب اور اس کے ساتھ اسی کے مثل دیا گیا ہے۔ (سنن أبی داود: ۴۶۰۴، جامع الترمذی: ۲۶۶۴، مصنف ابن أبی شیبۃ: ۲۴۸۱۶، مسند إبن أبی شیبۃ: ۹۲۷ ، مسند أحمد: ۱۷۱۷۴)

قرآن کریم کے کتاب الہی ہونے کى ایک دلیل یہ بھی ہے: کہ قرآن مجید میں نبی ﷺ کى رہنمائى ان تمام امور کى طرف کى گئى ہے جن کا ہونا یا جن کا کرنا واجب ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ} "اگر پہلے ہی سے اللہ کی طرف سے بات لکھی ہوئی نہ ہوتی تو جو کچھ تم نے لے لیا ہے اس بارے میں تمہیں کوئی بڑی سزا ہوتی"۔ [الأنفال: ۶۸ ] اور اللہ تعالیٰ کا فر مان ہے: {يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضَاتَ أَزْوَاجِكَ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ } "اے نبی! جس چیز کو اللہ نے آپ کے لیے حلال کر دیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں؟ (کیا) آپ اپنی بیویوں کی رضامندی حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اللہ مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہے"۔ [التحریم: ۱] اور اللہ تعالیٰ کا فر مان ہے: {عَبَسَ وَتَوَلَّى*۔ "وہ ترش رو ہوا اور منھ موڑ لیا۔ أَنْ جَاءَهُ الْأَعْمَى*۔ (صرف اس لئے) کہ اس کے پاس ایک نابینا آیا۔ وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّهُ يَزَّكَّى*۔ تجھے کیا خبر امید کہ وہ سنور جاتا۔ أَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرَى*۔ یا نصیحت سنتا اور اسے نصیحت فائدہ پہنچاتی۔ أَمَّا مَنِ اسْتَغْنَى*۔ لیکن جو بے پرواہی کرتا ہے۔ فَأَنْتَ لَهُ تَصَدَّى*۔ تو اس کی طرف تو تو پوری توجہ کرتا ہے۔ وَمَا عَلَيْكَ أَلَّا يَزَّكَّى} حالانکہ اس کے نہ سنورنے سے تجھ پر کوئی الزام نہیں"۔ [عبس: ۱- ۷] اور اللہ تعالیٰ کا فر مان ہے: {وَلَوْلَا أَنْ ثَبَّتْنَاكَ لَقَدْ كِدْتَ تَرْكَنُ إِلَيْهِمْ شَيْئًا قَلِيلًا*۔ "اگر ہم آپ کو ﺛابت قدم نہ رکھتے تو بہت ممکن تھا کہ ان کی طرف قدرے قلیل مائل ہوہی جاتے۔ إِذًا لَأَذَقْنَاكَ ضِعْفَ الْحَيَاةِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَيْنَا نَصِيرًا} پھر تو ہم بھی آپ کو دوہرا عذاب دنیا کا کرتے اور دوہرا ہی موت کا، پھر آپ تو اپنے لئے ہمارے مقابلے میں کسی کو مددگار بھی نہ پاتے"۔ [الإسراء: ۷۵،۷۴] اگر یہ قرآن رسول ﷺ کی طرف سے ہوتا تو آپ ﷺ اسے اپنے خلاف نہ لکھتے؛ جب کہ اس میں نبی کریم ﷺ کے لئے اس طرح کی واضح رہنمائی وارد ہے تو یہ اس بات کی صریح دلیل ہے کہ یہ ان کے پاس سے نہیں ہے بلکہ یہ کلام جاننے والے اور حکمت والے رب کی طرف سے ہے۔

باب: نبیوں اور رسولوں پر ایمان لانے کا بیان

خلاصۂ کتاب

ہمارا ایمان ہے کہ ارکان ایمان میں سے چوتھا رکن رسولوں پر ایمان لانا ہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ رسولوں کے دعوت کی بنیاد ہی، اللہ، اس کے اسماء و صفات اور اس کے افعال کاجاننا ہے، تمام رسولوں کو توحید کے ساتھ مبعوث کیا گیا اور انہوں نے لوگوں کواسی بات کی دعوت دی کہ اللہ وحدہ لا شریک ہی کی عبادت کرو اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو، تمام انسانوں میں انبیاء و رسل کی دعوت سب سے کامل تھی، ان کی توحید اور ان کا ایمان سب سے مکمل تھا، تمام مخلوق میں اللہ کے بارے میں، اللہ کے حق میں واجب باتوں اوراس کى ذات کے بارے میں ممتنع باتوں کے بارے میں سب سےزیادہ جاننے والے یہی لوگ تھے۔

ہر نبی نے اپنی اپنی قوم کو دو عظیم اصول کی طرف بلایا ہے: (۱) اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کرنا (۲) یوم آخرت پر ایمان، اور دار آخرت میں اللہ تعالیٰ کى طرف سے اس کے اولیاء کے لئے تیار کردہ نعمتوں اور اس کے دشمنوں کے لئے تیار عذاب پر ایمان لانا۔

ہمارا ایمان ہے کہ بڑ ے بڑ ے اصولوں میں تمام انبیاء کا اتفاق ہے اور انہیں اصولوں کی طرف تمام نبیوں نے بلایا ہے، تمام انبیاء کی دعوت میں ایمان باللہ، ایمان بالملائکہ، ایمان بالکتب، ایمان بالرسل، ایمان بالیوم الآخر اور اچھے اور برے تقدیر پر ایمان لانا شامل تھا، تمام نبیوں نےاصول عبادات کی دعوت دیا ہے، جیسے نماز، زکوۃ، روزہ اور حج کی طرف تمام نبیوں نے بلایا، اسی طرح تمام نبیوں نےان کاموں کی طرف بھی بلایا ہے جن سے انسانیت کا اخلاق سنورتا اور اچھا ہوتا ہے اور ان تمام کاموں سے منع کیا ہے جن سے انسانی کیرکٹر اور اخلاق پر سوالیہ نشان لگ جاتا اور انسان عوام کی نگاہ میں مذموم ہوجاتا ہے، اصول میں تمام انبیاء متفق ہیں لیکن شرعی احکام و تفاصیل میں مختلف ہیں۔

ہمارا ایمان ہے کہ تمام انبیاء پر ایمان لانا، ان کی بتائی ہوئی تمام غیبی باتوں کی تصدیق کرنا، ان کی طرف سے دیے گئے احکام پر عمل کرنا اور ان کی طرف سے منع کردہ قول و فعل سے رک جانا، ان سے محبت کرنا، ان کی عزت اور ان کی اقتداء کرنا واجب ہے، اسی طرح اس بات کی گواہی دینا بھی واحب ہے کہ انہوں نے پیغام پہونچا دیا ہے، امانت کی ادائیگی کردی ہے، اللہ اور اس کے بندوں کے لئے تمام نبیوں نے خیر خواہی کا کام کیا ہے، کما حقہ اللہ کی راہ میں جہاد کیا ہے، لہذا جس امت کی طرف جو رسول بھیجا گیا اس امت پر اپنے اس رسول کی لائی ہوئی شریعت پر عمل کرنا واجب ہے اور امت محمدیہ کے تمام جن و انس پر اللہ کے رسول ﷺ کی لائی ہوئی شریعت پر عمل کرنا واجب ہے کیوں آپ ﷺ تمام جن و انس کی طرف مبعوث کئے گئے تھے۔

تمام انبیاء و رسل علیہم السلام لوگوں کو تاریکی، کفر، شرک اور جہالت سے نکالنے کے لئے مبعوث کئے گئے تھے گرچہ لوگ دنیا میں با عزت رہنے والے ہوں، باد شاہ ہوں، طاقت ور ہوں اور کارخانوں اور کھیتیوں کے مالک ہی کیوں نہ رہے ہوں۔

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ نے رسولوں کو خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کرمبعوث کیا ہے تاکہ رسولوں کے بعد لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ پرکوئى حجت نہ رہ جائے۔

اور ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہرقوم میں ایک رسول بھیجا، ان میں سے جن کے نام کو ہم جانتے ہیں ان پر (تفصیلی) ایمان لانا واجب ہے، اور جن کا نام ہم نہیں جانتے ہیں ان پر اجمالی طور سے ایمان لانا واجب ہے، چنانچہ تمام انبیاء و رسل علیہم السلام پر ایمان لانا ہر مسلمان مرد اور عورت پر واجب ہے، اور جس نے کسی ایک نبی کا انکار کیا اس نے تمام انبیاء علیہم السلام کا انکار کیا۔

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ حکمت و مصلحت کے اعتبار سے اپنے رسولوں کو اپنے بندوں میں سے جس کی طرف چاہتا ہے بھیجتا ہے، حکم الہی کا تعاقب کرنے والا کوئی نہیں ہے، وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے منتخب کرتا ہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ نبوت من جانب اللہ احسان ہے، اللہ کی رحمت ہے، اس لئے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے نبوت عطا کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرشتو ں اور انسانوں دونوں میں سے رسول منتخب کرتا ہے۔

انبیاء و رسل علیہم السلام میں ہر ایک کا درجہ برابر نہیں ہے، بعض کو بعض پر فضیلت حاصل ہے، ان میں سب سے افضل اولو العزم انبیاء ہیں‘ اولو العزم میں سب سے افضل دونوں خلیل یعنی ابراہیم اور محمدﷺ ہیں، اللہ کے رسول ﷺنے انبیاء کے درمیان تفاضل یعنی کسی کو کسی پر فضیلت دینے سے منع کیا ہے جب کہ یہ فضیلت حمیت، عصبیت اور تنقیص کے طور پر ہو؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے جب ابراہیم اور محمد ﷺ کو خلیل بنایا تو موسیٰ علیہ السلام کو اپنی رسالت اور اپنی بات کے ذریعہ لوگوں پر منتخب کیا اور ہمارے نبی ﷺ کو اللہ سے دوستی کا شرف حاصل ہے، چونکہ اللہ تعالیٰ نے اسراء کی رات پردے کے پیچھے سے اپنے نبی سے کلام کیا تھا بنا بریں ہمارے نبی ﷺ کو دوستی کا بھی شرف حاصل ہوا اور اللہ تعالیٰ سے کلام کی بھی سعادت حاصل ہوئی۔

ہمارا ایمان ہے کہ انبیاء سب سے افضل انسان ہیں، ان کے مقام و مرتبہ کو کوئی نہیں پہونچ سکتا، نہ کوئی ولی پا سکتا ہے اور نہ کوئی دوسرا انسان، اس لئے کسی انسان کو کسی نبی پر فوقیت دینا جا ئز نہیں ہے، نبوت کوئی کسبی چیز نہیں ہے، نہ طاعات میں بہت کوشش اور لگن سے اسے حاصل کیا جا سکتا ہے، نہ نفس کا تزکیہ کر کے نہ مجاہدہ اورمحنت و مشقت کرکے، نہ دل کو صاف کر کے اور نہ اپنے آپ کو سنوار کرکے اسے پا یا جا سکتا ہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف مردوں کومنصب رسالت سے سر فراز کیا ہے، ہم جانتے ہیں کہ تمام انبیاء و رسل علیہم السلام بقیہ انسانوں کی طرح انسان ہیں لیکن اپنے دین، اپنے اخلاق اور اپنے عقل میں تمام انسانوں میں سب سے کامل ہیں، وہ تمام انسانوں کی طرح ایک انسان تھے لیکن ان کی طرف وحی کی جاتی تھی، وہ ان تمام کاموں میں معصوم ہیں جس کی وہ بحکم الہی تبلیغ کرتے ہیں، اگر اللہ کے رسول ﷺ نے کسی ایسے مسئلے میں اجتہاد کیا جس کی بابت وحی نازل نہیں ہوئی تھی اور آپ سے اس مسئلے میں غلطی ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی آپ ﷺ کی اصلاح کیا نہ کہ ان کے اس غلط اجتہاد کو باقی رکھا۔

انبیاء و رسل علیہم السلام کو اپنے نفع و نقصان کا اختیار نہیں تھا باوجود اس کے کہ دنیا و آخرت میں ان کا مقام بہت بلند اور ان کا درجہ بہت اونچا ہے، اور دینا وآخرت میں انہیں مقام محمود عطا کیا گیا، تو جب وہ خود اپنے ہی نفع و نقصان کے مالک نہیں تھے تو غیروں کو بدرجۂ اولی نفع و نقصان نہیں پہونچا سکتے اور جب وہ اپنی زندگی ہی میں اپنے نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے تھے تو وفات کے بعد تو بدرجۂ اولی نفع و نقصان کا اختیار انہیں حاصل نہیں ہوگا۔

انہیں غیب کی صرف وہی باتیں معلوم تھیں جن سے اللہ تعالیٰ نے انہیں مطلع کیا تھا اور جن کی بابت اللہ تعالیٰ نے انہیں بتایا تھا۔

انبیاء و رسل علیہم السلام خوف وطمع کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتے تھے، اللہ سے قریب کردینے والى چیزوں کى تلاش میں رہا کرتے تھے اور اس کا تقرب حاصل کیا کرتے تھے۔

ہمارا ایمان ہے کہ انبیاء ان تمام تکالیف اور مرض میں مبتلا ہوتے تھے جن میں ایک انسان ہوتا ہے، انہیں بھی غم لا حق ہوتا تھا اور موت سے وہ بھی دوچار ہوتے تھے، ان کے پاس بھی بیوی بچے تھے، وہ بھی کھانا کھاتے اور بازار جاتے تھے، ہمیں یہ معلوم ہے کہ جب عیسی علیہ السلام کو ان کی قوم نے قتل کرنا چاہا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ آسمان پراٹھا لیا۔

ہم گواہی دیتے ہیں کہ انبیاء پوری مخلوق کے خیر خواہ تھے، انہوں نےمن جانب اللہ امانت کی ادائیگی کردی ہے اور اپنے رب کا پیغام سب کو بتادیا ہے، اگران کى امت میں سے کسی نے ان کی دعوت کا انکار کیا یا قوم کے کسی بڑے شخص نےان کی دعوت سے اعراض کیا تو انہیں اس کا کوئی نقصان نہیں پہونچے گا۔

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نےانبیاء و رسل کو ایسى نشانیاں اور معجزات دیئے کہ جن کى طرح پر انسان ایمان لا سکتا ہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو کوئی نہ کو ئی ایسی نشانی عطا کیا تھى جو اس کی صداقت پر دلیل تھی، ہم اسے جانیں یا نہ جا نیں اس سے کو ئی فرق نہیں پڑتا، ان میں سے چند کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کردیا ہے، ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ بہت سارے معجزات اور نشانیوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے گزشتہ تمام رسولوں کى تائید کى ہے یہ اور بات ہے کہ ان کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے نہیں کیا ہے، اور کبھی کبھار اللہ تعالیٰ نے واضح نشانیوں اور معجزات کا تذکرہ کیا ہے اور کبھی کبھار واضح دلیلوں کا ذکر کیا ہے، اورہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالى نے جن معجزات اور واضح دلائل کے ساتھ اپنے رسولوں اور انبیاء کى تائید کى وہ وتعداد میں بہت ہی زیادہ ہیں۔

ان کی صداقت کی سب سے مضبوط دلیل وہ توحید ہے جس کی انہوں نے دعوت دی ہے، جو لوگوں کی فطرت میں بسی ہوئی ہے،اور صحیح سالم عقل یہ گواہی دیتی ہے کہ وہ جس شریعت کے ساتھ مبعوث ہوئے وہ درست ہے اور وہ جس علم نافع‘ عمل صالح‘ ہدایت‘ دین حق اور میزان کے ساتھ مبعوث ہوئے وہ بھی برحق ہے۔ اللہ تعالی بھی اس بات پر گواہ ہے کہ تمام انبیاء حق پر تھے اور ان کا لایا ہوا پیغام بھی بر حق تھا۔ ان کی تمام بڑی نشانیوں میں سے ایک ان پر من جانب اللہ نازل ہونے والی وحی ہے اور سب سے بڑی وحی قرآن مجید ہے اور یہی نبی آخر الزماں ﷺ کی سب سے بڑی نشانی ہے، اس وحی کے مثل کوئی انسان لا ہی نہیں سکتا؛ کیوں کہ یہ اللہ کا کلام اور اس کی وحی ہے، اس میں غیبی خبریں ہیں، اس میں ہدایت، نور، رحمت اور حکمت کا سامان ہے۔

کئی واضح دلائل اور نشانیوں میں سے وہ عقلی دلیلیں بھی ہیں جن کے ذریعہ اللہ اپنے رسولوں کی مدد کرتا ہے تو کافر ہکا بکا اور باطل پست ہو جاتا ہے۔

ان کی تمام بڑی بڑی نشانیوں اور معجزات میں سے ان غیبی خبروں کا بتانا بھی ہے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں بتا یا تھا اور انہیں دوسروں کو بتانے کی اجازت دیا تھا۔ ان نشانیوں میں سے ایک گزشتہ نبیوں اور ان کے پیرو کاروں کو دشمنان اسلام کے چنگل سے نجات دلانا اور مغرور اشخاص کو ہلاک کرنا بھی ہے، گزشتہ اقوام کے ساتھ جو بھی اللہ تعالیٰ نے کیا وہ سب بعد کے لوگوں کے لئے نصیحت ہے، اور یہ کہ اللہ سنت ہو کر رہتی ہے۔ ان انبیاء کى سچائى کى تمام نشانیوں میں سےایک ان کا بہترین عادات و اطوار، بہترین اخلاق، افعال اور سیرت کا حامل ہونا، ان کی باتوں کا سچ ہونا اورجھوٹ سے پاک ہونا ہے۔ اسی طرح انبیاء ورسل کے نبوت کی ایک دلیل ان کى نشانیوں اور معجزات اور ان کے لائے ہوئے علم وہدایت اور دین حق کا ایک عظیم تواتر کے ساتھ نقل کیا جانا ہے جس نقل کى موجودگى میں ان کا جھوٹ پر متفق ہونا مستحیل ہوجاتا ہے۔ اسی طرح ان کی تمام بڑی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ اپنی رسالت پر اجرت نہیں طلب کرتے تھے، انہیں بادشاہت کی خواہش نہیں تھی۔ ان کى نبوت وصداقت کى ایک دلیل: انبیاء کی نبوت پر جاہل ہی کا، جس نے انبیاء کے لائے ہوئے دین اور علم وہدایت میں غور نہیں کیا، قدح پایا جاتا ہے، یا کسى معاند اور متکبر کا۔

ان کے نبوت کی تمام بڑی دلیلوں میں سے ایک حسی دلیل بھی ہے، جسے تمام آنکھیں دیکھ رہی ہیں اور عقلیں انہیں قبول کر رہی ہیں جیسے نوح علیہ السلام کی قوم کا غرق ہونا، صالح علیہ السلام کی اونٹنی، ہود علیہ السلام کا اپنی قوم سے یہ چیلنج کرنا کہ تم سب مل کر چال چلو، ابراہیم علیہ السلام کا آگ سے بچنا، اور موسیٰ علیہ السلام کی نشانیاں جیسے: لا ٹھی، ٹڈی، جوں، مینڈھک، خون، طوفان اور فرعون اور اس کی قوم کا غرق ہونا،اور داؤد علیہ السلام کی نشانیاں جیسے پہاڑوں کا تسبیح پڑھنا اور لو ہے کا نرم کرنا اور سلیمان علیہ السلام کی نشانیاں جیسے ہواؤں اور جنوں کا ان کے لئے مسخر کرنا، پرندوں کی زبان سے انہیں آشنا کرنا اور عیسی مسیح علیہ السلام کی نشانیاں جیسے گونگوں، بہروں اور اندھوں کو شفا عطا کرنا، مردوں کو زندہ کرنا، اسی طرح عیسی علیہ السلام مٹی کا پرندہ بنا کر اس میں پھونکتے تو وہ باذن اللہ پرندہ ہو جاتا تھا، اور ہمارے نبی ﷺ کی نشانیاں تو بے شمار ہیں، آپ کی نشانیوں کا شمار کرنا بڑا مشکل ہے جیسے چاند کا پھٹنا، اسراء و معراج، اناج کا زیادہ ہو جانا، چوپائے کا بات کرنا، کنکری کا تسبیح پڑھنا، تنےکا رونا اور اللہ تعالیٰ کا آپ ﷺکے دشمنوں کے خلاف آپ کى مدد کرنا۔

انبیاء کی نشانیوں میں سےایک نشانی حق کی طرف بلانے والے نبی کی حالت بھی ہے کیوں کہ لوگ سچے اور جھوٹے داعی کے درمیان امتیاز کرتے ہیں۔ ان کے علاوہ بھی انبیاء ورسل کى نشانیاں اور ان کے معجزات بہت سے ہیں۔

قرآن مجید اور حضرت محمد ﷺ کی سنت کے علاوہ انبیاء ورسل کى تمام نشانیاں معدوم ہو گئیں، یہی دو نشانیاں باقی ہیں؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے بذات خود ان کے حفاظت کی ذمہ داری لی ہے، کتاب اللہ اور سنت رسول میں اللہ کے رسول ﷺ کی صداقت اور آپ کی سچی رسالت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی تا ئید اس چیز سے کرتا ہے جس کا تقاضا اس کی حکمت کرتی ہے جیسے کو نی و شرعی آیات اوردلائل و براہین، اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے ہدایت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اپنے عدل سے گمراہ کردیتا ہے لیکن دشمنوں کے دلوں پر کسی بھی آیت یا دلیل کا اثر نہیں ہوتا بلکہ ان کی دشمنی و کبرو غرور میں اضافہ ہوتا ہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر چاہے تو تمام لوگ ہدایت پا جا ئیں۔

ہمارا ایمان ہے کہ انبیاء کی تمام دلیلیں اور ان کی لائی ہوئی نشانیاں جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد کی ان تمام کا کسی بھی نبوت کے دعویدار، جا دوگر اور جھوٹے کے لئے لانا نا ممکن ہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ وہ صحیح دلیلوں کے ذریعہ کسی باطل پرست کی مدد اور سچی دلیلوں کے ذریعہ وہ کسی جھوٹے شخص کی تصدیق نہیں کر ے گا کیوں کہ اللہ تعالیٰ اپنی شریعت اوراپنے امور میں حکیم ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کی سنت جاریہ اس سے منع کرتی ہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ ہی اللہ کے رسول ہیں، وہی خاتم الأنبیاء والمرسلین ہیں، وہی ابن آدم کے سردار ہیں، وہ اللہ رب العالمین کے خلیل ہیں۔

ہمیں معلوم ہے کہ آپ ﷺ کی طرح کسی بھی رسول کو نشانی نہیں دی گئی، آپ ﷺ کی سب سے بڑی نشانی قرآن مجید ہے، وحی کی ابتداء سب سے پہلے بحالت نیند رؤیت صالحہ سے کی گئی ہے، آپ ﷺ جو خواب دیکھتے وہ صبح کی سفیدی کے مانند نمودار ہو جاتا اور سب سے پہلے سورۃ العلق کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں پھر سورۃ المدثر نازل ہوئی ہے، اس کے بعد یکے بعد دیگرے وحی کا نزول ہوتا رہا، دعوت توحید کے لئے آپ ﷺ مکہ میں تیرہ سال رہے اور شریعت الہیہ کی وضاحت، دعوت دین اور جہاد فی سبیل اللہ کے لئے مدینہ میں دس سال مقیم رہے تا آنکہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ترسٹھ سال کی عمر میں وفات سے دو چار کیا، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔

ہمیں یہ معلوم ہے کہ قرآن مجید کے بعد آپ ﷺ کی سب سے بڑی نشانیوں میں سے ایک اسراء و معراج ہے، آپ ﷺ کی نشانیوں میں سے چاند کا دو ٹکڑے ہونا بھی ہے، اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو بے شمار خصوصیات سے سرفراز کیا، ان تمام خصوصیات کو بہت سے علماء نے اپنی تصنیفات میں جگہ دیا ہے اور کچھ علماء نے تو اس پر مستقل کتابیں ہی لکھی ہیں۔

ہمارا ایمان ہے کہ جن و انس میں سے ہر ایک کو آپ ﷺ پر ایمان لانا، آپ ﷺ کی لائی ہوئی خبروں کی تصدیق کرنا، آپ ﷺ کے حکموں پر عمل کرنا واجب ہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت رسول صلى اللہ علیہ وسلم کے مشروع کئے طریقے کے مطابق کرنا واجب ہے، اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی مخالفت سے منع کیا اور آپ ﷺ کی توقیر، عزت، احترام اور محبت کا حکم دیا ہے اور یہ کہا ہے کہ ہر انسان کے نزدیک آپ ﷺ کا اس کی جان، اس کے والد، اس کے لڑکے اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہونا ضروری ہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی محمد ﷺ کا ذکر اپنے ساتھ شہادتین میں اور اذان میں کیا ہے۔ اور ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالى نے سابقہ کتب الہیہ اور قرآن مجید میں بھی آپ ﷺ کا ذکر بہت کثرت کے ساتھ کیا ہے، آپ ﷺ کی سنت، سیرت، شمائل، اخلاق اور غزوات پر ائمۂ اسلام نے بے شمار کتابیں تصنیف کی ہیں۔

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو پوری مخلوق کے لئے مبعوث کیا، آپﷺ جن و انس دونوں کے رسول تھے، اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی باتیں سننے کے لئے جنوں کی ایک جماعت آپ ﷺ کی طرف بھیجا تاکہ وہ اپنی قوم کو ڈرانے والے ہوجائیں اور ان پر حجت تمام ہو جا ئے، اللہ تعالی نے ہر نبی سے وعدہ لیا تھا کہ اگر محمد ﷺ کی بعثت کے وقت کوئی زندہ رہا تو وہ ان پر ضرور ایمان لا ئے گا۔

ہمارا ایمان ہے کہ انبیاء نے اپنی اپنی قوم کو بشارت دیا، تورات و انجیل میں آپ ﷺ اور آپ کے صحابہ کی تمام صفات وارد ہیں، خاص طور سے عیسی علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت دی، بنی اسرائیل آپ صلى اللہ علیہ وسلم کو اپنے لڑکوں کی طرح جانتے تھے، اہل کتاب کے نزدیک آپ ﷺ کی معروف نشانی آپ ﷺ کے مبارک کندھے پر مہر نبوت تھی۔

ہمارا ایمان ہے کہ آپ ﷺ کی رسالت تمام لوگوں کےلئے تھی اسى لئے نبی ﷺ نے رؤساء اور ملوک کو خط لکھا تاکہ ان کو اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کرنے, اپنی رسالت پر ایمان لانے اور آپ کی تصدیق کرنے کى دعوت دیں ۔

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کے لئے پوری زمین سمیٹ دیا تو آپ نے وہ تمام علاقے دیکھا جہاں تک امت محمدیہ کی حکومت پہونچے گی۔

آپ ﷺ کى رسالت کے عام ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ نجران کے نصاری نے آپ کے ساتھ مباہلہ کرنے سے گریز کیا اور جزیہ کی ادائیگی قبول کرلی کیوں کہ وہ لوگ جانتے تھے کہ آپ ﷺ نبی ہیں۔

آپ ﷺ کى رسالت کے عام ہونے کى ایک دلیل یہ بھی ہے کہ یہود و نصاری کے بہت سے علماء بلکہ اہل کتاب کے ہزاروں لوگوں نے اسلام قبول کیا۔ آپ کى رسالت عام اور سب کے لئے ہے اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ آپ نے رومیوں کے ساتھ غزوہ کیا اور اپنے بعد صحابۂ کرام کو فارس اور روم سے جہاد کرنے کا حکم دیا۔

آپ ﷺ کی رسالت کے عام ہونے اور سب کے لئے ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ آپ نے سراقہ سے وعدہ کیا کہ عنقریب وہ کسری کے دونوں کنگن پہنیں گے اور واقعتا انہوں نے ان کنگنوں کو عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت میں پہنا۔

اور ہمارا کامل یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اس بات کی متقاضی ہے کہ وہ جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے ہدایت عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے اپنے عدل سے گمراہ کر دیتا ہے، جیسا کہ اس کی حکمت کا تقاضا تھا کہ ہر نبی کے دشمن ہوں اور ان تمام دشمنوں کے درمیان باطل پر اتفاق اور ان کی باتوں میں موافقت ہو، اسی لئے ہر امت میں رؤسا کی بات متماثل اور برابر ہوا کرتی تھی، کبھی وہ سب آپ ﷺ کو جادو گر کہتے تو کبھی کاہن یا جھوٹا سے ملقب کرتے، کبھی آپ ﷺ کے پاس آئی ہوئی آیتوں کا انکار کرتے تو کبھی کہتے کہ آپ ﷺ نے اللہ پر بہتان باندھا ہے اور کبھی آپ ﷺ کو پاگل بھی کہتے، اور اللہ کے انبیاء علیہم السلام ان تمام الزامات سے بہت دور تھے۔ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ عقلمند اور ان کا دل سب سے زیادہ پاک تھا، کبھی کبھی آپ ﷺ کی دعوت یعنی اللہ وحدہ کی عبادت کی تعظیم کرتے تو کبھی اس کی تردید کرتے؛ کیوں کہ آپ ﷺ ان کی طرح انسان تھے، گاہے بگاہے کبر و غرور اور عناد کی بنیاد پر وہ نبی ﷺ سے ایسا مطالبہ کرلیتے کہ وہ کسی انسان کے بس میں نہیں ہوتا تھا، کہتے کہ محمد (ﷺ) زمین سے چشمہ نکال دیں، ان کے لئے ایک باغ میسر ہو جا ئے، ان پر موسلا دھار بارش کا نزول ہو، آپ ﷺ ان کے پاس اللہ اور فرشتوں کو لے آئیں، نبی ﷺ کے لئے سونے کا ایک گھر ہو جائے، آپ آسمان میں چڑھ جائیں، ان پر کتابوں کا نزول ہو اور کبھی کبھی کہتے کہ ان سے جن چیزوں کا وعدہ کیا ہے آپ ﷺ وہ ان تک لے کر آئیں، کبھی وہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے اور اپنے پیرو کاروں کو کہتے کہ قرآن نہ سنو بلکہ اس میں بے ہودہ گوئی کرو، کبھی وہ رسول کی تکذیب کرتے تو کبھی آپ ﷺ پر الزام لگاتے کہ وہ ایک انسان ہیں، انہیں نبی نہیں بلکہ ایک انسان سکھا رہا ہے، وہ باتیں من جانب اللہ وحی نہیں ہیں، بلکہ اس انسان کی باتیں ہیں۔

کبھی کبھی وہ رسول سے اعراض کرتے تھےکیوں کہ ان کی اتباع کرنے والے کمزور ہوا کرتے تھے، تو کبھی وہ رسولوں کا مذاق اڑاتے اور ان کے ساتھ مسخراپن کرتے، کبھی وہ رسول کو دھوکہ دیتے کبھی کبھی وہ ان سے مصالحت کرنا اور ان کی طرف مائل ہو نا چاہتے۔ اور کبھی کبھی دشمن ایسی چیز سے نبی کو موصوف کرتا جس کو وہ جانتا ہے کہ وہ اس میں جھوٹا ہے، جیسا کہ فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کو کفر سے تعبیر کیا۔

کبھی رؤسائے قوم نبى کو اپنی سر زمین سے نکالنے کی دھمکی دیتے، کفار قریش نے نبی ﷺ، ان کے ساتھیوں اور بنی ہاشم کا شعب أبی طالب میں تین سال تک محاصرہ کر رکھا تھا اور نبی ﷺ کو انہیں کے شہر سے انہوں نے نکال دیا، ابراہیم علیہ السلام کی قوم نے انہیں آگ میں جلانے کی کوشش کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں بچا لیا، بنی اسرائیل نے سارے نبیوں کو قتل کرنے کی کوشش کی بلکہ ان میں سے بہت سے نبیوں کو قتل بھی کردیا۔

یہ تھی رسولوں کے ساتھ کبرو غرور اور بغص و عناد رکھنے والوں کی حالت اور یہی حالت بعد کے ادوار میں دیگر مصلحین کے ساتھ بھی قوم کے بڑے لوگوں نے کیا۔

باب: رسولوں پر ایمان لانے کا بیان

ارکان ایمان میں چوتھا رکن رسولوں پر ایمان لانا ہے، جیسا کہ اللہ تعالی نے فر مایا: {آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَ مَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ} "رسول ایمان لایا اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے اترے اور مومن بھی ایمان لائے یہ سب اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے، اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے"۔ [البقرۃ: ۲۸۵] اور حق سبحانہ وتعالى کا ارشاد ہے: {لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ} "ساری اچھائی مشرق اور مغرب کی طرف منہ کرنے میں ہی نہیں بلکہ حقیقتاً اچھا وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ پر، قیامت کے دن پر، فرشتوں پر، کتاب اللہ اور نبیوں پر ایمان رکھنے والا ہو"۔ [البقرۃ: ۱۷۷] اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فر ماتے ہیں: کہ’’كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولُ اللهِ، مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: اللہ کے رسولﷺ ایک دن لوگوں کے پاس تشریف رکھتے تھے کہ آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا کہ اے اللہ کے رسول! ایمان کیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا : أَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ، وَمَلَائِكَتِهِ، وَكِتَابِهِ، وَلِقَائِهِ، وَرُسُلِهِ، وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ الْآخِرِ‘‘۔ کہ تو اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کی ملاقات پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور تو دوبارہ اٹھائے جانے پر ایمان لائے۔ (صحیح بخاری: ۴۷۷۷، صحیح مسلم :۹، سنن ابن ماجہ: ۶۴)

ہمارا ایمان ہے کہ تمام رسولوں کى دعوت کى بنیاد، اللہ کے بارے میں اور اس کے اسماء وصفات کے بارے میں علم ومعرفت تھی، تمام نبیوں کو اللہ تعالیٰ نے توحید کے ساتھ بھیجا اور سارے نبیوں نے اللہ وحدہ کی عبادت کرنے کی دعوت دیا اوراللہ کے علاوہ تمام کی عبادت سے منع کیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ} "تجھ سے پہلے بھی جو رسول ہم نے بھیجا اس کی طرف یہی وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں پس تم سب میری ہی عبادت کرو"۔ [الأنبیاء: ۲۵] اور ہر نبی نے اپنی قوم سے یہی فرمایا: {اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ أَفَلَا تَتَّقُونَ } "تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں سو کیا تم نہیں ڈرتے"۔ [الأعراف: ۶۵] سارے انبیاء اور رسل توحید وایمان میں تمام انسانوں میں سب سے مکمل ہیں, نیز وہ خالق سبحانہ وتعالى کے بارے میں, اس کے لئے واجب حقوق کے بارے میں اور اس سے متعلق ممتنع امور کے بارے میں تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ علم رکھتے ہیں۔

ہر نبی نے اپنی اپنی قوم کو دوعظیم اصل کی طرف بلایا اور وہ دونوں یہ ہیں: (۱) اللہ وحدہ کی عبادت کرنا(۲) اور یوم آخرت پر ایمان لانا اور اللہ تعالیٰ نے آخرت میں اپنے اولیاء کے لئےجو نعمتیں تیار کررکھی ہیں، اور اپنے دشمنوں کے لئے جو عذاب تیار کررکھا ہے اس پر بھی ایمان لانا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: { لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰي قَوْمِهٖ فَقَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ ۭ اِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ} "ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے فرمایا اے میری قوم تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود ہونے کے قابل نہیں مجھ کو تمہارے لئے ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے"۔ [الأعراف: ۵۹] اور اللہ عز وجل نے فر مایا: {وَإِلَى مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا قَالَ يَاقَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ وَلَا تَنْقُصُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ إِنِّي أَرَاكُمْ بِخَيْرٍ وَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ مُحِيطٍ } "اور ہم نے مدین والوں کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا، اس نے کہا اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اور تم ناپ تول میں بھی کمی نہ کرو میں تمہیں آسودا حال دیکھ رہا ہوں اور مجھے تم پر گھیرنے والے دن کے عذاب کا خوف (بھی) ہے"۔ [ھود: ۸۴] ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَاذْكُرْ أَخَا عَادٍ إِذْ أَنْذَرَ قَوْمَهُ بِالْأَحْقَافِ وَقَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا اللَّهَ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ } "اور عاد کے بھائی کو یاد کرو، جبکہ اس نے اپنی قوم کو احقاف میں ڈرایا اور یقیناً اس سے پہلے بھی ڈرانے والے گزر چکے ہیں اور اس کے بعد بھی یہ کہ تم سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کی عبادت نہ کرو بیشک میں تم پر بڑے د ن کے عذاب سے خوف کھاتا ہوں"۔ [الأحقاف: ۲۱]

ہمارا ایمان ہے کہ دعوتی میدان میں تمام انبیاء علیہم السلام بڑ ے بڑ ے اصولوں میں متفق ہیں، تمام نبیوں نے ایمان باللہ، ایمان بالملائکہ، ایمان بالرسل، ایمان بالکتب، ایمان بالیوم الآخر اور ایمان بالقدر خیرہ و شرہ کی دعوت دیا ہے، تمام نبیوں نے اہم اہم عبادات جیسے: نماز، زکوۃ، روزہ اورحج اور اخلاق محمودہ کی طرف بلایا اور مذموم اخلاق سے منع کیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {شَرَعَ لَكُمْ مِنَ الدِّينِ مَا وَصَّى بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ } "اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے وہی دین مقرر کردیا ہے جس کے قائم کرنے کا اس نے نوح (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا اور جو (بذریعہ وحی) ہم نے تیری طرف بھیج دی ہے، اور جس کا تاکیدی حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو دیا تھا کہ اس دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا"۔ [الشوری: ۱۳] چنانچہ تمام انبیاء علیہم السلام اصول میں متفق ہیں، لیکن شرعی احکام اور اس کی تفاصیل میں مختلف ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْكِتَابِ وَمُهَيْمِنًا عَلَيْهِ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ عَمَّا جَاءَكَ مِنَ الْحَقِّ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا} "اور ہم نے آپ کی طرف حق کے ساتھ یہ کتاب نازل فرمائی ہے جو اپنے سے اگلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور ان کی محافظ ہے اس لئے آپ ان کے آپس کے معاملات میں اسی اللہ کی اتاری ہوئی کتاب کے مطابق حکم کیجئے اس حق سے ہٹ کران کی خواہشوں کے پیچھے نہ جائیے تم میں سے ہر ایک کے لئے ہم نے ایک دستور اور راہ مقرر کردی"۔ [المائدۃ: ۴۸]

ہمارا ایمان ہے کہ تمام انبیاء پر ایمان لانا، ان کی بتائی ہوئی تمام غیبی باتوں کی تصدیق کرنا، ان کی طرف سے دیے گئے احکام پر عمل کرنا اور ان کی طرف سے منع کردہ قول و فعل سے رک جانا، ان سے محبت کرنا، ان کی عزت اور ان کی اقتدا کرنا واجب ہے، اسی طرح اس بات کی گواہی دینا بھی واحب ہے کہ انہوں نے پیغام پہونچا دیا ہے، امانت کی ادائیگی کردی ہے، اللہ اور اس کے بندوں کے لئے تمام نبیوں نے خیر خواہی کا کام کیا ہے، کما حقہ اللہ کی راہ میں جہاد کیا ہے، لہذا جس امت کی طرف جو رسول بھیجا گیا اس امت پر اپنے اس رسول کی لائی ہوئی شریعت پر عمل کرنا واجب ہے اور امت محمدیہ کے تمام جن و انس پر اللہ کے رسول ﷺ کی لائی ہوئی شریعت پر عمل کرنا واجب ہے کیوں آپ ﷺ تمام جن و انس کی طرف مبعوث کئے گئے تھے۔

تمام انبیاء و رسل علیہم السلام لوگوں کو تاریکی، کفر، شرک اور جہالت سے نکالنے کے لئے مبعوث کئے گئے تھے گرچہ لوگ دنیا میں با عزت رہنے والے ہوں، باد شاہ ہوں، طاقت ور ہوں اور کارخانوں اور کھیتیوں کے مالک ہی کیوں نہ رہے ہوں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فر مایا: {وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَى بِآيَاتِنَا أَنْ أَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ} (یاد رکھو جب کہ) "ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں د ے کر بھیجا کہ تو اپنی قوم کو اندھیروں سے روشنی میں نکال اور انھیں اللہ کے احسانات یاد دلا بیشک اس میں نشانیاں ہیں ہر صبر شکر کرنے والے کے لئے"۔ [ابراھیم: ۵] ارشاد باری تعالی ہے: { أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ *۔ "کیا تم ایک ایک ٹیلے پر بطور کھیل تماشا یاد گار (عمارت) بنا رہے ہو۔ وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ *۔ اور بڑی صنعت والے (مضبوط محل تعمیر) کر رہے ہو، گویا کہ تم ہمیشہ یہیں رہو گے۔ وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ} اور جب کسی پر ہاتھ، ڈالتے ہو تو سختی اور ﻇلم سے پکڑتے ہو" ۔ [الشعراء: ۱۲۸- ۱۳۰] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: { أَوَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ كَانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَأَثَارُوا الْأَرْضَ وَعَمَرُوهَا أَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوهَا وَجَاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا كَانَ اللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلَكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ} "کیا انہوں نے زمین پر چل پھر کر یہ نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے لوگوں کا انجام کیسا (برا) ہوا؟ وہ ان سے بہت زیادہ توانا (اور طاقتور) تھے اور انہوں نے (بھی) زمین بوئی جوتی تھی اور ان سے زیادہ آباد کی تھی اور ان کے پاس ان کے رسول روشن دلائل لے کر آئے تھے۔ یہ تو ناممکن تھا کہ اللہ تعالیٰ ان پر ﻇلم کرتا لیکن (دراصل) وہ خود اپنی جانوں پر ﻇلم کرتے تھے"۔ [الروم: ۹]

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ نے رسولوں کو خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کرمبعوث کیا ہے تاکہ رسولوں کے بعد لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ پرکوئى حجت نہ رہ جائے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {رُسُلًا مُّبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ لِئَلَّا يَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَي اللّٰهِ حُجَّــةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ ۭوَكَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِيْمًا } "ہم نے انہیں رسول بنایا، خوشخبریاں سنانے والے اور آگاہ کرنے والے تاکہ لوگوں کی کوئی حجت اور الزام رسولوں کے بھیجنے کے بعد اللہ تعالیٰ پر رہ نہ جائے، اللہ تعالیٰ بڑا غالب اور بڑا با حکمت ہے"۔ [النساء: ۱۶۵]

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ} "ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو"۔ [النحل: ۳۶ ] اور اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ’’كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الأَنْبِيَاءُ، كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ، وَإِنَّهُ لاَ نَبِيَّ بَعْدِي‘‘۔ انبیاء بنی اسرائیل کی رہنمائی اور پیشوائى کیا کرتے تھے، جب کوئی نبی ہلاک ہوجاتا تواس کے پیچھے ایک نبی آجاتا اوریقینا میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ (صحیح بخاری: ۳۴۵۵، صحیح مسلم: ۱۸۴۲، سنن ابن ماجہ: ۲۸۷۱) بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں خبر دیا ہے کہ اس نے بیک وقت ایک ہی بستی میں تین انبیاء کرام کو مبعوث کیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {إِذْ أَرْسَلْنَا إِلَيْهِمُ اثْنَيْنِ فَكَذَّبُوهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوا إِنَّا إِلَيْكُمْ مُرْسَلُونَ } "جب ہم نے ان کے پاس دو کو بھیجا سو ان لوگوں نے (اول) دونوں کو جھٹلایا پھر ہم نے تیسرے سے تائید کی سو ان تینوں نے کہا کہ ہم تمہارے پاس بھیجے گئے ہیں"۔ [یس: ۱۴]

ان میں سے ہمیں جن کا نام معلوم ہے ان پر ایمان لانا واجب ہے، اور جن کا نام نہیں معلوم ہے ان پر بھی اجمالا ایمان لانا واجب ہے، گویا تمام انبیا ء و رسل علیہم السلام پر ایمان لانا واجب ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنَاهُمْ عَلَيْكَ مِنْ قَبْلُ وَرُسُلًا لَمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَى تَكْلِيمًا} "اور آپ سے پہلے کے بہت سے رسولوں کے واقعات ہم نے آپ سے بیان کئے ہیں اور بہت کے رسولوں کے نہیں بھی کئے اور موسیٰ (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر کلام کیا"۔ [النساء: ۱۶۴] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَ أَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ} "رسول ایمان لایا اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے اترے اور مومن بھی ایمان لائے یہ سب اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے، اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے انہوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی، ہم تیری مغفرت طلب کرتے ہیں اے ہمارے رب اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے"۔ [البقرۃ: ۲۸۵] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {قُلْ آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ عَلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوسَى وَعِيسَى وَالنَّبِيُّونَ مِنْ رَبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ} "آپ کہہ دیجئے کہ ہم اللہ تعالیٰ پر اور جو کچھ ہم پر اتارا گیا ہے اور جو کچھ ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) اور ان کی اولاد پر اتارا گیا اور جو کچھ موسیٰ و عیسیٰ (علیہم السلام) پر اور دوسرے (انبیاء علیہما السلام) اللہ تعالیٰ کی طرف سے دئیے گئے ان سب پر ایمان لائے ہم ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ تعالیٰ کے فرماں بردار ہیں"۔ [آل عمران: ۸۴]

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت جس بات کا تقاضا کرتی ہے اسی حساب سے اپنے بندوں کی طرف اپنے رسول بھیجتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر ما یا: {وَلَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِي كُلِّ قَرْيَةٍ نَذِيرًا} "اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ایک ڈرانے والا بھیج دیتے"۔ [الفرقان: ۵۱] اور اللہ عز وجل نے فر مایا: {ثُمَّ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَى كُلَّمَا جَاءَ أُمَّةً رَسُولُهَا كَذَّبُوهُ فَأَتْبَعْنَا بَعْضَهُمْ بَعْضًا وَجَعَلْنَاهُمْ أَحَادِيثَ فَبُعْدًا لِقَوْمٍ لَا يُؤْمِنُونَ} "پھر ہم نے لگاتار رسول بھیجے جب جب جس امت کے پاس اس کا رسول آیا اس نے جھٹلایا، پس ہم نے ایک کو دوسرے کے پیچھے لگا دیا اور انھیں افسانہ بنادیا، ان لوگوں کو دوری ہے جو ایمان قبول نہیں کرتے"۔ [المؤمنون: ۴۴] حکم الہی کا تعاقب کرنے والا کوئی نہیں ہے، وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے منتخب کرتا ہے۔ فر مان الہی ہے: {وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَيَخْتَارُ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ سُبْحَانَ اللَّهِ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ} "اور آپ کا رب جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے چن لیتا ہے ان میں سے کسی کو کوئی اختیار نہیں اللہ ہی کے لئے پاکی ہے وہ بلند تر ہے ہر اس چیز سے کہ لوگ شریک کرتے ہیں"۔ [القصص: ۶۸]

اگرکسی نے ایک نبی کا انکار کیا؛ تو گویا اس نے سارے نبیوں کا انکار کیا، جیسا کہ اللہ رب العالمین کا فر مان ہے: {كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوحٍ الْمُرْسَلِينَ} "نوح کی قوم نے سارے رسولوں کو جھٹلایا"۔ [الشعراء: ۱۰۵] اسی طرح اللہ کا یہ فر مان بھی ملاحظہ کریں: {كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِيدِ}" ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا تو وعید آ پہونچى"۔ [ق: ۱۴]

ہمارا ایمان ہےکہ نبوت اللہ تعالیٰ کااحسان اور اس کی رحمت ہے، وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے، لہذا اللہ فرشتو ں اور انسانوں میں سے جسے چاہتا ہے بطور رسول منتخب کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {اللَّهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلاَئِكَةِ رُسُلاً وَمِنَ النَّاسِ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِير} "اللہ تعالیٰ فرشتوں میں سے اور انسانوں میں سے پیغام پہنچانے والوں کو چن لیتا ہے، بیشک اللہ تعالیٰ سننے والا دیکھنے والا ہے"۔ [الحج: ۷۵ ] اور اللہ عز وجل نے فر مایا: { اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ} "اس موقع کو تو اللہ تعالیٰ ہی خوب جانتا ہے کہ کہاں وہ اپنی پیغمبری رکھے"۔ [الأنعام: ۱۲۴] تو نبوت کسبی نہیں ہے اور نہ ہی کوئی بندہ اسے بہت زیادہ اطاعت و بندگی سے حاصل کر سکتا ہے، اور نہ ہی تزکیہ نفس، مجاہدہ اور تطہیر قلب کے ذریعہ اور نہ ہی اخلاق ومعاملات کو پاکیزہ بناکر اور ان کوسنوار کر اسے پایا جاسکتا ہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ تمام انبیاء و رسل علیہم السلام میں سے بعض کو بعض پر فضیلت حاصل ہے، جیسا کہ فر مان الہی ہے: {تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ مِنْهُمْ مَنْ كَلَّمَ اللَّهُ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَاتٍ وَآتَيْنَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنَاتِ وَأَيَّدْنَاهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ} "یہ رسول ہیں، جن میں سے بعض کو بعض پر ہم نے فضیلت دی ہے، انہیں میں سے بعض سے اللہ نے کلام کیا اور بعض کا درجہ بلند کیا ہے اور ہم نے عیسیٰ بن مریم کو واضح نشانیاں عطا کیا، روح القدس سے ان کی تائید کی"۔ [البقرۃ: ۲۵۳] انبیاء میں سب سے افضل اولو العزم انبیاء تھے اور ان تمام کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کیا ہے: {وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُوحٍ وَ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَأَخَذْنَا مِنْهُمْ مِيثَاقًا غَلِيظًا} "(اور یاد کرو اس واقع کو )جب کہ ہم نے تمام نبیوں سے عہد لیا اور (بالخصوص) آپ سے اور نوح سے اور ابراہیم سے اور موسیٰ سے اور مریم کے بیٹے عیسیٰ سے، اور ہم نے ان سے (پکا اور) پختہ عہد لیا"۔ [الأحزاب: ۷] اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کى طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: {فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ } "پس (اے پیغمبر ! ) تم ایسا صبر کرو جیسا صبر عالی ہمت رسولوں نے کیا"۔ [الأحقاف: ۳۵] اور ان اولو العز م نبیوں میں سب سے افضل دونوں خلیل تھے: (۱) ابراہیم علیہ السلام، اور (۲) محمد ﷺ ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: { وَمَنْ أَحْسَنُ دِينًا مِمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ وَاتَّبَعَ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا} "باعتبار دین کے اس سے اچھا کون ہے جو اپنے کو اللہ کے تابع کرد ے وہ بھی نیکو کار، ساتھ ہی یکسوئی والے ابراہیم کے دین کی پیروی کر رہا ہو اور ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اپنا دوست بنایا ہے"۔ [ النساء: ۱۲۵] اور جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کو وفات سے پانچ (دن ) پہلے یہ فرماتے ہو ئے سنا: ’’إِنِّي أَبْرَأُ إِلَى اللهِ أَنْ يَكُونَ لِي مِنْكُمْ خَلِيلٌ، فَإِنَّ اللهِ تَعَالَى قَدِ اتَّخَذَنِي خَلِيلًا، كَمَا اتَّخَذَ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا‘‘۔ میں اللہ کے سامنے یہ براءت ظاہر کرتا ہوں کہ تم میں سے میرا کوئی دوست ہو اس لئے کہ اللہ نے مجھے دوست بنایا ہے جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام کو دوست بنایا تھا۔ (صحیح مسلم: ۵۳۲)

ہم گواہی دیتے ہیں کہ ہمارے نبی محمد ﷺ تمام نبیوں اور رسولوں میں سب سے افضل ہیں، رسول ﷺ نے فرمایا: ’’أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ‘‘۔ میں بروز قیامت ابن آدم کا سردار ہوں گا۔ (صحیح مسلم : ۲۲۷۸، سنن أبی داود: ۴۶۷۳)

اور اللہ کے نبی ﷺ نے نبیوں کے درمیان بعض کو بعض پر فضیلت دینے سے منع کیا ہے جب کہ اس کی وجہ حمیت، عصبیت اور تنقیص ہو، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فر ماتے ہیں کہ’’اسْتَبَّ رَجُلاَنِ رَجُلٌ مِنَ المُسْلِمِينَ وَرَجُلٌ مِنَ اليَهُودِ، قَالَ المُسْلِمُ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُحَمَّدًا عَلَى العَالَمِينَ، فَقَالَ اليَهُودِيُّ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى العَالَمِينَ، فَرَفَعَ المُسْلِمُ يَدَهُ عِنْدَ ذَلِكَ، فَلَطَمَ وَجْهَ اليَهُودِيِّ، فَذَهَبَ اليَهُودِيُّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَانَ مِنْ أَمْرِهِ، وَأَمْرِ المُسْلِمِ، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المُسْلِمَ، فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:۔ دو لوگوں نے ایک دوسرے کو برا بھلا کہا جن میں کا ایک مسلمان تھا اور دوسرا یہودی، مسلمان نے کہا، اس ذات کی قسم! جس نے محمد کو تمام جہان والوں پر منتخب کیا اور یہودی نے کہا، اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ کو تمام دنیا والوں پر منتخب کیا، تو مسلمان نے اسی وقت اپنا ہاتھ اٹھایا اور یہودی کے چہرے پر دے مارا۔ یہودی نبی ﷺکے پاس گیا اور اپنا اور اس مسلمان کا واقعہ بیان کیا تو نبی ﷺ نے اس مسلمان کو بلایا اور اس سے واقعہ کے متعلق پوچھا تو اس نے آپ کو تفصیل بتادی، تو نبی ﷺ نے فرمایا: لاَ تُخَيِّرُونِي عَلَى مُوسَى، فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ يَوْمَ القِيَامَةِ، فَأَصْعَقُ مَعَهُمْ، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ، فَإِذَا مُوسَى بَاطِشٌ جَانِبَ العَرْشِ، فَلاَ أَدْرِي أَكَانَ فِيمَنْ صَعِقَ، فَأَفَاقَ قَبْلِي أَوْ كَانَ مِمَّنِ اسْتَثْنَى اللَّهُ‘‘۔ مجھے موسیٰ (علیہ السلام) پر ترجیح نہ دو، لوگ قیامت کے دن بیہوش کر دیئے جائیں گے، میں بھی ان کے ساتھ بے ہوش ہو جاؤں گا پھرمجھے ہی سب سے پہلے ہوش آئے گا تو موسیٰ (علیہ السلام) عرش کا کنارہ پکڑ ے ہوئے ہوں گے، مجھے یہ نہیں معلوم کہ موسیٰ بھی بیہوش ہونے والوں میں سے ہوں گے اور مجھ سے پہلے انہیں ہوش آجائے گا یا ان میں سے ہوں گے جنہیں اللہ نے مستثنیٰ کر دیا ہے"۔ (صحیح بخاری: ۲۴۱۱، صحیح مسلم: ۲۳۷۳، سنن أبی داود : ۴۶۷۱، جامع الترمذی: ۳۲۴۵ ، سنن ابن ماجہ: ۴۲۷۴) اور ایک لفظ میں ہے ’’ فَغَضِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى عُرِفَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ، ثُمَّ قَالَ: تو اللہ کے رسول ﷺ غصہ ہو گئے حتی کہ غصہ کے آثار آپ کے چہرے پر نمایاں ہوگئے، پھر آپ نے فرمایا: "لَا تُفَضِّلُوا بَيْنَ أَنْبِيَاءِ اللهِ‘‘۔ اللہ کے نبیوں کے در میان تفضیل کا کام نہ کرو(یعنی بعض کو بعض سے بہتر قرار نہ دو )۔ (صحیح مسلم: ۲۳۷۳)

اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ابراہیم اور محمد علیہما السلام کو اپنا خلیل بنایا، تو موسیٰ علیہ السلام کو اپنی رسالت اور گفتگو کے لئے لوگوں پر منتخب بھی کیا اور نبی محترم محمد ﷺ کو دوستی کا سب سے بڑا مرتبہ حاصل ہوا، چنانچہ آپ ﷺ نے اسراء کی رات پردے کے پیچھے سے اپنے رب سے کلام کیا ،جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى} "پس اس نے اللہ کے بند ے کو وحی پہنچائی جو بھی پہنچائی"۔ [النجم: ۱۰] چنانچہ ہمارے نبی محمد ﷺ کو شرف خلت (دوستی) اور شرف تکلم (بات چیت اور گفتگو) دونوں حاصل ہے۔

اور ہمارا ایمان ہے کہ انبیاء سب سے افضل انسان تھے، ان کا مقام و مرتبہ بہت بلند تھا، اتنا اونچا کہ اس تک کوئی شخص نہیں پہونچ سکتا خواہ وہ ولی ہو، یا ان کے علاوہ کوئی اور؛ اسی لئے کسی انسان کو کسی بھی نبی پر فوقیت دینا جائز نہیں ہے، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’ مَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَكُونَ خَيْرًا مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى‘‘۔ کسی کے لیے مناسب نہیں کہ وہ یونس بن متی علیہ السلام سے بہتر ہونے کا دعویٰ کر ے۔ (صحیح بخاری: ۴۸۰۴)

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بہت سارے رسول مبعوث کئے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ إِلَّا رِجَالًا نُوحِي إِلَيْهِمْ} "تجھ سے پہلے جتنے رسول ہم نے بھیجے سبھی مرد تھے جن کی طرف ہم وحی اتارتے تھے"۔ [الانبیاء: ۷]

اور ہم جانتے ہیں کہ انبیاء اور رسل علیہم السلام چنیدہ مخلوق ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: {اللَّهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلاَئِكَةِ رُسُلاً وَمِنَ النَّاسِ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِير} "اللہ تعالیٰ فرشتوں میں سے اور انسانوں میں سے پیغام پہنچانے والوں کو چن لیتا ہے، بیشک اللہ تعالیٰ سننے والا دیکھنے والا ہے"۔ [الحج: 75] انبیاء دین, عقل اور اخلاق میں تمام انسا نو ں کے مقابلے زیادہ کامل تھے جیسا کہ اللہ تعالی نے فر مایا: {قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَيَّ} "آپ کہہ دیجئے کہ میں تو تم جیسا ہی ایک انسان ہوں (ہاں) میری جانب وحی کی جاتی ہے"۔ [الکھف: ۱۱۰] گویا انبیاء بقیہ انسانوں کی طرح انسان تھے، بس فرق یہی تھا کہ انبیاء کی طرف وحی کی جاتی تھی، وہ احکام الہی کی تبلیغ میں معصوم تھے کیوں کہ انہوں نے وہی بتایا جس کی انہیں وحی کی گئی ہے، جیسا کہ اللہ تعالی نےاپنے نبی اور اپنے خلیل محمد ﷺ کی بابت فرمایا: {وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى *۔ "اور نہ وہ اپنی خواہش سے کوئی بات کہتے ہیں۔ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى *۔ "وہ تو صرف وحی ہے جو اتاری جاتی ہے۔ عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَى} اسے پوری طاقت والے فرشتے نے سکھایا ہے"۔ [ النجم : ۳- ۵]

اگر کوئی ایسا مسئلہ در پیش ہوا کہ جس سلسلے میں وحی کا نزول نہیں ہوا تھا تو آپ نے اجتہاد کیا، اگر اجتہاد میں غلطی ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نےوحی نازل کرکے آپ ﷺ کی اصلاح کیا لیکن اس غلط اجتہاد پر قائم نہیں رکھا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فر مان ہے: { مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللَّهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ} "نبی کے ہاتھ میں قیدی نہیں چاہئیں جب تک کہ ملک میں اچھی خونریزی کی جنگ نہ ہو جائے، تم تو دنیا کے مال چاہتے ہو اور اللہ کا ارادہ آخرت کا ہے اور اللہ زور آور باحکمت ہے"۔ [الأنفال: ۶۷] ایک اور مقام پر اللہ عز وجل نے فر مایا: {يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضَاتَ أَزْوَاجِكَ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ } "اے نبی! جس چیز کو اللہ نے آپ کے لیے حلال کر دیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں؟ (کیا) آپ اپنی بیویوں کی رضامندی حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اللہ مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہے"۔ [التحریم: ۱]

غور کیجئے کہ نبیوں کا مقام و مرتبہ کافی بلند اور ان کا درجہ کافی اونچا ہے، انہیں دنیا و آخرت میں مقام محمود عطا کیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود وہ بھی کسی نفع یا نقصان کے مالک نہیں ہیں، جیسا کہ اللہ رب العالمین نے فر مایا: {قُلْ لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي ضَرًّا وَلَا نَفْعًا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ إِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ فَلَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَ لَا يَسْتَقْدِمُونَ} "آپ فرما دیجئے کہ میں اپنی ذات کے لئے تو کسی نفع کا اور کسی ضرر کا اختیار رکھتا ہی نہیں مگر جتنا اللہ کو منظور ہو، ہر امت کے لئے ایک معین وقت ہے جب ان کا وہ معین وقت آپہنچتا ہے تو ایک گھڑی نہ پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور نہ اگے سرک سکتے ہیں"۔ [یونس: ۴۹]

سوچئے کہ جب وہ اپنے ہی نفس کے نفع اور نقصان کے کچھ بھی مالک نہیں ہیں تو غیروں کے نفع و نقصان کا مالک کیسے ہو سکتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اور اپنے خلیل محمد صلى اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فرمایا: {لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ} " آپ کے اختیار میں کچھ نہیں اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کی توبہ قبول کرلے یا عذاب د ے کیونکہ وہ ظالم ہیں"۔ [آل عمران: ۱۲۸] اور مسیح علیہ السلام کے سلسلے میں فر مایا: {قُلْ فَمَنْ يَمْلِكُ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا إِنْ أَرَادَ أَنْ يُهْلِكَ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا} "آپ ان سے کہہ دیجئے کہ اگر اللہ تعالیٰ مسیح ابن مریم اور اس کی والدہ اور روئے زمین کے سب لوگوں کو ہلاک کردینا چاہیے تو کون ہے جو اللہ پر کچھ بھی اختیار رکھتا ہو؟"۔ [المائدۃ: ۱۷]

اور اللہ کے رسولﷺ نے اپنے چچا اور اپنی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ’’ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ - أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا - اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ، لاَ أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ لاَ أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا عَبَّاسُ بْنَ عَبْدِ المُطَّلِبِ لاَ أُغْنِي عَنْكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، وَيَا صَفِيَّةُ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ لاَ أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، وَيَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَلِينِي مَا شِئْتِ مِنْ مَالِي لاَ أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا‘‘۔ ا ے قریش کی جماعت!- یا اسی طرح کا کوئی کلمہ کہا- اپنے آپ کو خرید لو میں تمہیں اللہ سے کچھ بے نیاز نہیں کر سکتا، اے بنی عبد مناف میں تمہیں اللہ سے کچھ بے نیاز نہیں کر سکتا، ا ے اللہ کے رسول کی پھوپھی صفیہ! میں تمہیں اللہ سے کچھ بے نیاز نہیں کر سکتا اور ا ے فاطمہ بنت محمد ! میرے مال میں سے تو جو چاہے مانگ لے میں تجھے اللہ سے کچھ بے نیاز نہیں کر سکتا۔ (صحیح بخاری: ۲۷۵۳، صحیح مسلم: ۲۰۶ ، جامع الترمذی: ۳۱۸۵ ، سنن النسائی: ۳۶۴۶) تو جب انبیاء علیہ السلام اپنی زندگی ہی میں کسی کے نفع و نقصان کے مالک نہیں تھے تو وفات کے بعد بدرجہ أولی کسی کے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہوں گے۔

ہمارا ایمان ہےکہ انبیاء کو اتنا ہی غیب حاصل تھا جتنا اللہ تعالیٰ نے انہیں بتایا تھا اور جتنے کے سلسلے میں انہیں اجازت دیا تھا، اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {قُلْ لَا أَقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزَائِنُ اللَّهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّي مَلَكٌ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَيَّ } "آپ کہہ دیجئے کہ نہ تو میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں، میں تو صرف جو کچھ میر ے پاس ہے وحی آتی ہے اس کی اتباع کرتا ہوں"۔ [الأنعام: ۵۰] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {قُلْ لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَ بَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ} "آپ فرما دیجئے کہ میں خود اپنی ذات خاص کے لئے کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا اور نہ کسی ضرر کا، مگر اتنا ہی کہ جتنا اللہ نے چاہا اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو میں بہت منافع حاصل کرلیتا اور کوئی نقصان مجھے نہ پہنچتا میں تو محض ڈرانے والا اور بشارت دینے والا ہوں ان لوگوں کو جو ایمان رکھتے ہیں"۔ [الاعراف: ۱۸۸] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا*۔ "وہ غیب کا جاننے والا ہے اور اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا۔ إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا} سوائے اس رسول کے جسے وہ پسند کرلے لیکن اس کے بھی آگے پیچھے پہرے دار مقرر کردیتا ہے"۔ [الجن: ۲۶- ۲۷]

انبیاء و رسل علیہم السلام خوف اور طمع کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ} "یہ بزرگ لوگ نیک کاموں کی طرف جلدی کرتے تھے اور ہمیں لالچ طمع اور ڈر خوف سے پکارتے تھے۔ ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے تھے"۔ [الأنبیاء: ۹۰] اور اللہ سے قریب کردینے والى چیزں کى تلاش میں رہتے تھے اور اسی کا تقرب حاصل کرتے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ يَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِـيْلَةَ اَيُّهُمْ اَقْرَبُ وَيَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَيَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ ۭ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا} "جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں خود وہ اپنے رب کے تقرب کی جستجو میں رہتے ہیں کہ ان میں سے کون زیادہ نزدیک ہوجائے وہ خود اس کی رحمت کی امید رکھتے اور اس کے عذاب سے خوف زدہ رہتے ہیں، (بات بھی یہی ہے) کہ تیرے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے"۔ [الإسراء: ۵۷]

نبیوں اور رسولوں کو وہ تمام چیزیں لاحق ہوتی تھیں جو ایک انسان کو لا حق ہوتی ہیں، جیسے مصیبت، بیماری اور موت، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: { إِنَّكَ مَيِّتٌ وَ إِنَّهُمْ مَيِّتُونَ} "یقینا آپ بھی مرنے والے ہیں اوروہ لوگ بھی مرنے والے ہیں"۔ [الزمر: ۳۰] اور اللہ تعالیٰ نے ایوب علیہ السلام کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فر مایا کہ انہیں بھی تکلیف پہونچی تھی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: { وَأَيُّوبَ إِذْ نَادَى رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَ أَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ} "اور ایوب نے جب اپنے رب کو پکارا کہ مجھے تکلیف پہونچی ہے اور تو ارحم الراحمین ہے"۔ [الانبیاء: ۸۳] ان کے پاس بھی بیوی بچے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِنْ قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً} "ہم آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیج چکے ہیں اور ہم نے ان سب کو بیوی بچوں والا بنایا تھا"۔ [الرعد: ۳۸] وہ بھی کھاتے پیتے اور بازار جاتے تھے،جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَيَمْشُونَ فِي الْأَسْوَاقِ} "ہم نے آپ سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب کے سب کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی چلتے پھرتے تھے"۔ [الفرقان: ۲۰] اور انہیں بھی رنج ہوتا تھا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نےیعقوب علیہ السلام کے بارے میں فر مایا: {وَتَوَلَّى عَنْهُمْ وَقَالَ يَاأَسَفَى عَلَى يُوسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌ} "پھر ان سے منہ پھیرلیا اور کہا ہائے یوسف ! ان کی آنکھیں بوجہ رنج و غم سفید ہوچکی تھیں اور وہ غم کو دبائے ہوئے تھے"۔ [یوسف: ۸۴] صحیحین میں اللہ کے رسول ﷺ کے نواسے کی وفات کے بارے میں آیا ہے کہ راوی صحابی نے فرمایا ’’فَلَمَّا قَعَدَ رُفِعَ إِلَيْهِ، فَأَقْعَدَهُ فِي حَجْرِهِ، وَنَفْسُ الصَّبِيِّ جُئِّثَتْ، فَفَاضَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ سَعْدٌ: مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: جب آپ بیٹھے تو اسے آپ کی طرف بڑھایا گیا تو آپ نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا اس حال میں کہ بچے کا نفس پھڑ پھڑا رہا تھا تو اللہ کے رسول ﷺ کی آنکھیں بہہ پڑیں، تو سعد نے کہا اے اللہ کے رسول ! یہ کیا ہے؟ تو نبی صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: هَذِهِ رَحْمَةٌ يَضَعُهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ، وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ‘‘۔ یہ رحمت ہے جسے اللہ اپنے بندوں میں سے جس کے دل میں چاہتا ہے ڈال دیتا ہےاور اللہ اپنے رحم کرنے والے بندوں پر رحم کرتا ہے۔ (صحیح بخاری: ۶۶۵۵، صحیح مسلم: ۹۲۳، سنن أبی داود: ۳۱۲۵، سنن النسائی: ۱۸۶۸، سنن ابن ماجہ: ۱۵۸۸) ( حدیث میں وارد لفظ: "جئث" یہ فزع، کے معنی میں ہے، اور اس سے اسم مفعول مجئوث آتا ہے، یعنی: گھبرایا ہوا۔ فتح الباري (722/8)، النهاية في غريب الحديث (1/ 232) )

ہمیں یہ معلوم ہے کہ انبیاء تمام مخلوق کے خیر خواہ تھے، انہوں نے امانت کی ادائیگی کردی ہے، اپنے رب کا پیغام پہونچا دیا ہے، اب اگر کچھ لوگوں نے ان کی بات تسلیم نہیں کی یا ان کی دعوت قبول نہیں کیا تو انہیں اس کا کوئی نقصان نہیں ہوگا، اسی طرح روسائے قوم کے کبرو وغرور سے بھی وہ کوئى گزند نہیں اٹھائیں گے، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فر مایا: ’’عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ الرُّهَيْطُ، وَالنَّبِيَّ وَمَعَهُ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ، وَ النَّبِيَّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ‘‘۔ مجھ پر کئی امتیں پیش کی گئیں تو میں نے کسى نبی ﷺ کو دیکھا کہ ان کے ساتھ ایک چھوٹى جماعت تھی اور کسى نبی (صلى اللہ علیہ وسلم) کو دیکھا کہ ان کے ساتھ ایک آدمی اور دو آدمی تھے اور ایسے نبی بھی دیکھا جن کے ساتھ کوئی نہیں تھا۔ (صحیح بخاری: ۵۷۰۵ ، صحیح مسلم: ۲۲۰ ، جامع الترمذی: ۲۴۴۶)

ہمارا ایمان ہے کہ جب عیسی علیہ السلام کی قوم نے انہیں قتل کرنے کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ آسمان پر اٹھا لیا، جیسا کہ فر مان الہی ہے: {فَلَمَّا أَحَسَّ عِيسَى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ أَنْصَارِي إِلَى اللَّهِ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ آمَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ*۔ "مگر جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ان کا کفر محسوس کر لیا تو کہنے لگے اللہ تعالیٰ کی راہ میں میری مدد کرنے والاکون کون ہے؟ حواریوں نے جواب دیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی راہ کے مدد گار ہیں، ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان ﻻئے اور آپ گواہ رہئے کہ ہم تابعدار ہیں۔ رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنْزَلْتَ وَ اتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ*۔ اے ہمارے رب! ہم تیری اتاری ہوئی وحی پر ایمان ﻻئے اور ہم نے تیرے رسول کی اتباع کی، پس تو ہمیں گواہوں میں لکھ لے۔ وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ} اور کافروں نے مکر کیا اور اللہ تعالیٰ نے بھی (مکر) خفیہ تدبیر کی اور اللہ تعالیٰ سب خفیہ تدبیر کرنے والوں سے بہتر ہے"۔ [آل عمران: ۵۲۔۵۴] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُونِ هَذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِيمٌ} "اور یقیناً عیسیٰ (علیہ السلام) قیامت کی نشانی ہے، پس تم (قیامت) کے بارے میں شک نہ کرو اور میری تابعداری کرو یہی سیدھی راہ ہے"۔ [الزخرف: ۶۱] ابن عباس رضی اللہ عنہ، مجاہد اورقتادہ رحمہما اللہ کے نزدیک اس سے مراد نزول عیسی بن مریم علیہ السلام ہے۔ ( تفسیر الطبری: ۲۰ / ۶۳۱- ۶۳۳)

اور اللہ تعالی نے فر مایا: {وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا} "اہل کتاب میں ایک بھی ایسا نہ بچے گا جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ لا چکے اور قیامت کے دن وہ (عیسى علیہ السلام) ان پر گواہ ہوں گے"۔ [النساء: ۱۵۹] ابن عباس رضی اللہ عنہما فر ماتے ہیں کہ{ قَبْلَ مَوْتِهِ} کا معنی ہے عیسی بن مریم کی موت سے پہلے۔ (تفسیر الطبری: ۹/۳۸۰ )

اور ہمارا ایمان ہے کہ عيسى عليه السلام آخری زمانہ میں ایک منصف حاکم کے طور پر نازل ہوں گے۔ جیسا کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَيُوشِكَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمْ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا مُقْسِطًا، فَيَكْسِرَ الصَّلِيبَ، وَيَقْتُلَ الخِنْزِيرَ، وَ يَضَعَ الجِزْيَةَ، وَيَفِيضَ المَالُ حَتَّى لاَ يَقْبَلَهُ أَحَدٌ‘‘۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، وہ زمانہ آنے والا ہے عنقریب تم میں ابن مریم ایک حاکم اور منصف کی حیثیت سے اتریں گے تو وہ صلیب توڑ یں گے، سوروں کو قتل کریں گے اور جزیہ کو ختم کر دیں گے، مال کی اتنی زیادتی ہو گی کہ اسے کوئی قبول نہیں کرے گا۔ (صحیح بخاری : ۲۲۲۲، صحیح مسلم : ۱۵۵ سنن أبی داود: ۴۳۲۴، جامع الترمذي : ۲۲۲۳، سنن ابن ماجه: ۴۰۷۸)

اور عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے سلسلے میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللهُ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ، فَيَنْزِلُ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ شَرْقِيَّ دِمَشْقَ، بَيْنَ مَهْرُودَتَيْن.‘‘۔ تو ان کے اسى حالت میں ہونے کے دوران اللہ تعالیٰ عیسٰی بن مریم علیہ السلام کو بھیجے گا۔ عیسٰی علیہ السلام دو جوڑے پہنے ہوئے دمشق کے مشرقی حصے میں سفید مینار کے پاس اتریں گے۔ یعنی دو جوڑے میں، اورکہا گیا کہ : ثوب مہرود ایسے کپڑے کو کہتے ہیں جو پہلے ورس سے رنگا گیا ہو پھر زعفران سے۔ ( النہایۃ فی غریب الحدیث: ۲۵۸/۵) اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے بازوؤں پر رکھے ہوئے، جب عیسٰی علیہ السلام اپنا سر جھکائیں گے تو قطرہ ٹپکے گا اور جب اپنا سراٹھائیں گے تو موتی کی طرح بوندیں گرنے لگیں گی۔ ( صحیح مسلم: ۲۹۳۷ ، سنن أبی داود: ۴۳۲۱، جامع الترمذی: ۲۲۴۰ ، سنن ابن ماجہ: ۴۰۷۵)

باب: انبیاء علیہم السلام کی نشانیاں اور ان کی نبوت کے دلائل کا بیان

ہمیں یہ معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو اسی قسم کی نشانیاں عطا کیں جن پر انسان ایمان لا سکتا ہے، جیسا کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’مَا مِنَ الأَنْبِيَاءِ نَبِيٌّ إِلَّا أُعْطِيَ مِنَ الآيَاتِ مَا مِثْلُهُ أُومِنَ، أَوْ آمَنَ، عَلَيْهِ البَشَرُ، وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللَّهُ إِلَيَّ، فَأَرْجُو أَنِّي أَكْثَرُهُمْ تَابِعًا يَوْمَ القِيَامَةِ‘‘۔ انبیاء میں سے کوئی نبی ایسا نہیں ہے مگر اسے ایسی نشانیاں دی گئی ہیں کہ جن کے مثل پر ایمان لایا گیا ہے یا جن پرانسان ایمان لاسکتا ہے اور مجھے جو (معجزہ) دیا گیا ہے وہ وحی ہے جو اللہ نے میری طرف بھیجا، پس میں امید کرتا ہوں کہ قیامت کے دن میری پیروی کرنے والے ان سے زیادہ ہوں گے۔ (صحیح بخاری: ۷۲۷۴، صحیح مسلم: ۱۵۲)

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو ایک نشانی ایسی عطا کیا ہے جو اس کی صداقت پر دلا لت کر ے، چاہے ہم اسے جا نیں یا نہ جا نیں، ان میں سے چند کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کیا ہے اور ہمیں یہ معلوم بھی ہے کہ سابقہ نبیوں کی تائید اللہ تعالیٰ نے بے شمار آیتوں سے کیا ہے لیکن سب کا تذکرہ اللہ تعالى نے ہمارے لئےنہیں کیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ} "جن لوگوں نے کفر کیا اور ہمارے احکام کو جھٹلایا وہ دوزخی ہیں"۔ [المائدۃ: ۱۰] اور اللہ تعالیٰ کا فر مان ہے: {كَدَأْبِ آلِ فِرْعَوْنَ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ وَاللَّهُ شَدِيدُ الْعِقَابِ} "جیسا آل فرعون کا حال ہوا اور ان کا جو ان سے پہلے تھے انہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا پھر اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں ان کے گناہوں پر پکڑ لیا اور اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والا ہے"۔ [آل عمران: ۱۱] کبھی کبھی اللہ تعالی واضح نشایوں اور مضبوط دلائل کا تذکرہ کرتا ہے، جیسا کہ اللہ کے اس فرمان میں ہے: {وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَى بِآيَاتِنَا وَسُلْطَانٍ مُبِينٍ} "اور یقیناً ہم نے ہی موسیٰ کو اپنی آیات اور روشن دلیلوں کے ساتھ بھیجا تھا"۔ [ھود: ۹۶] اور اللہ تعالیٰ کا فر مان ہے: {قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِأَخِيكَ وَنَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطَانًا فَلَا يَصِلُونَ إِلَيْكُمَا بِآيَاتِنَا} "اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم تیرے بھائی کے ساتھ تیرا بازو مضبوط کردیں گے اور تم دونوں کو غلبہ دیں گے فرعونی تم تک پہنچ ہی نہ سکیں گے بسبب ہماری نشانیوں کے"۔ [القصص: ۳۵] عکرمہ فر ماتے ہیں: ’’ ما كان في القرآن من’’سلطان‘‘ فهو: حجّة‘‘ قرآن میں وارد کسى بھی جگہ لفظ "سلطان" سے مراد دلیل وحجت ہے۔ ( تفسیر الطبری: ۸/۳۰ ، ۳۳۷/ ۹)

ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ جن دلیلوں اور جن نشانیوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں اور رسولوں کی تائید کی ہے ان کی تعداد بہت زیادہ ہے اور ان کی صداقت پر دلالت کرنے والی سب سے بڑی دلیل ان کا لایا ہوا پیغام یعنی وحی ہے، اب وہ وحی یا تو بلا واسطہ ہوا کرتی تھی جیسے خواب، اسی ضمن میں اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کی بابت خبر دی ہے: {فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَابُنَيَّ إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ} پھر "جب وہ (بچہ) اتنی عمر کو پہنچا کہ اس (ابراہیم علیہ السلام) کے ساتھ چلے پھرے تو اس نے کہا کہ میرے پیارے بچے! میں خواب میں اپنے آپ کو تجھے ذبح کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں"۔ [الصآفات: ۱۰۲] یا پرد ے کے پیچھے سے رسول ڈائریکٹ اللہ تعالیٰ کا کلام سنتے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ} "ناممکن ہے کہ کسی بند ے سے اللہ تعالیٰ کلام کر ے مگر وحی کے ذریعے یا پرد ے کے پیچھے سے"۔ [الشوری: ۵۱ ] جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام سے بات کیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فر مان ہے: {قَالَ يَامُوسَى إِنِّي اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالَاتِي وَبِكَلَامِي فَخُذْ مَا آتَيْتُكَ وَكُنْ مِنَ الشَّاكِرِينَ} "ارشاد ہوا اے موسیٰ ! میں نے پیغمبری اور اپنی ہم کلامی سے لوگوں پر تم کو امتیاز دیا ہے تو جو کچھ تم کو میں نے عطا کیا ہے اس کو لو اور شکر کرو"۔ [الأعراف: ۱۴۴] یا ان سے فرشتہ بات کرتا تھا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فر مان ہے: {أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ} "یا کسی فرشتہ کو بھیجے اور وہ اللہ کے حکم سے جو وہ چاہے وحی کرے، بیشک وہ برتر حکمت والا ہے"۔ [الشوری: ۵۱]

ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ ان کی صداقت پر دلالت کرنے والی سب سے بڑی دلیلوں میں سے ایک دلیل توحید ہے جس کى طرف تمام نبیوں نے دعوت دى ہے، جو فطرت انسانی میں مستقر ہے اور جس کى صداقت کى گواہی عقل بھى دیتی ہے، اس کے علاوہ انبیاء کا لایا ہوا علم نافع، عمل صالح، ہدایت، دین حق اور میزان بھی نبیوں کے صداقت کی بڑے دلائل میں سے ایک بڑی دلیل ہے۔ عبید اللہ بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں بتایا اور یہ فر ما تے ہیں کہ مجھے ابو سفیان نے بتایا کہ’’ أَنَّ هِرَقْلَ، قَالَ لَهُ: سَأَلْتُكَ، مَاذَا يَأْمُرُكُمْ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّهُ أَمَرَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَالصِّدْقِ وَالْعَفَافِ وَ الْوَفَاءِ بِالْعَهْدِ وَأَدَاءِ الْأَمَانَةِ ، قَالَ: وَهَذِهِ صِفَةُ نَبِيٍّ‘‘۔ ہرقل نے ان سے کہا تھا کہ میں نے تم سے پوچھا تھا کہ وہ تمہیں کیا حکم دیتے ہیں؟ تو تم نے بتایا تھا کہ وہ تمہیں نماز، سچائی، پا ک دامنی، عہد وفا اور امانت کی ادائیگی کا حکم دیتے ہیں، (اور ہرقل نے) کہا: یہی نبی کی صفت ہے۔ (صحیح بخاری: ۲۶۸۱، صحیح مسلم: ۱۷۷۳، جامع الترمذی: ۲۷۱۷)

اور جعفر رضی اللہ عنہ نے نجاشی کے پاس جب سورہ مریم کا ابتدائی حصہ تلاوت کیا تو اس نے کہا: ’’وَاللَّهِ إِنَّ هَذَا الْكَلَامَ وَالْكَلَامَ الَّذِي جَاءَ مُوسَى لَيَخْرُجَانِ مِنْ مِشْكَاةٍ وَاحِدَةٍ‘‘۔ اللہ کی قسم یہ کلام اور وہ کلام جو موسیٰ لائے تھے وہ دونوں ایک ہی طاق سے نکلتے ہیں۔ (مسند إسحاق بن راهويه: ۱۸۳۵، مسند أحمد:۲۲۴۹۸، سنن ابن خزيمة:۲۲۶۰، شرح مشكل الآثار للطحاوي : ۵۵۹۸، الحلية لابی نعیم: 1/ 115، دلائل النبوة لأبي نعيم :194)

اسی کی ایک دلیل اللہ کا یہ گواہی دینا بھی ہے کہ تمام رسول حق پر ہیں اور ان کا لایا ہوا پیغام بھی برحق ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: { لَكِنِ اللَّهُ يَشْهَدُ بِمَا أَنْزَلَ إِلَيْكَ أَنْزَلَهُ بِعِلْمِهِ وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ وَكَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا} "جو کچھ آپ کی طرف اتارا ہے اس کی بابت خود اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ اسے اپنے علم سے اتارا ہے اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بطور گواہ کافی ہے"۔ [النساء: ۱۶۶] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {وَيَقُولُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَسْتَ مُرْسَلًا قُلْ كَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَمَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْكِتَابِ} "یہ کافر کہتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول نہیں، آپ جواب دیجئے کہ مجھ میں اور تم میں اللہ گواہی دینے والا کافی ہے اور وہ جس کے پاس کتاب کا علم ہے"۔ [الرعد: ۴۳]

نبیوں کى ایک بڑی نشانی: وہ وحی ہے جو ان پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل ہوئی، اور سب سےعظیم وحی قرآن مجید ہے اور یہی ہمارے نبی محمد ﷺ کی سب سے بڑی نشانی ہے۔ کیوں کہ اس کے مثل کوئی لا ہی نہیں سکتا، یہ اللہ کا کلام اور اس کی وحی ہے، اس میں غیبی خبریں، ہدایت، نور، رحمت اور حکمت ہے۔

ان کی نشانیوں میں سے وہ واضح اور عقلی دلیلیں بھی ہیں جن کے ذریعہ اللہ اپنے رسولوں کی مدد کرتا ہے تو کافر ہکا بکا اور باطل پست ہو جاتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِي حَاجَّ إِبْرَاهِيمَ فِي رَبِّهِ أَنْ آتَاهُ اللَّهُ الْمُلْكَ إِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّيَ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ قَالَ أَنَا أُحْيِي وَأُمِيتُ قَالَ إِبْرَاهِيمُ فَإِنَّ اللَّهَ يَأْتِي بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ} "کیا تونے اسے نہیں دیکھا جو سلطنت پا کر ابراہیم (علیہ السلام) سے اس کے رب کے بارے میں جھگڑ رہا تھا، جب ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کہ میرا رب تو وہ ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے، وہ کہنے لگا میں بھی جلاتا اور مارتا ہوں، ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا اللہ تعالیٰ سورج کو مشرق کی طرف سے لے آتا ہے تو اسے مغرب کی جانب سے لے آ، اب تو وہ کافر بھونچکا رہ گیا، اور اللہ تعالیٰ ﻇالموں کو ہدایت نہیں دیتا"۔ [البقرۃ: ۲۵۸] ایک اور جگہ اللہ عز وجل کا فرمان ہے: {فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِي إِلَّا رَبَّ الْعَالَمِينَ * "رب العالمین کے علاوہ سب میرے دشمن ہیں۔ الَّذِي خَلَقَنِي فَهُوَ يَهْدِينِ *۔ جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی میری رہبری فرماتا ہے۔ وَالَّذِي هُوَ يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِ *۔ وہی ہے جو مجھے کھلاتا پلاتا ہے۔ وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ *۔ اور جب میں بیمار پڑ جاؤں تو مجھے شفا عطا فرماتا ہے۔ وَالَّذِي يُمِيتُنِي ثُمَّ يُحْيِينِ *۔ اور وہی مجھے مار ڈالے گا پھر زندہ کردے گا۔ وَالَّذِي أَطْمَعُ أَنْ يَغْفِرَ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ } اور جس سے امید بندھی ہوئی ہے کہ وہ روز جزا میں میرے گناہوں کو بخش د ے گا"۔ [الشعراء: ۷۷- ۸۴] اور اللہ تعالی نے موسیٰ علیہ السلام کا وہ قول نقل کیا ہے جو انہوں نے فرعون کو کہا تھا: {قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَى} "جواب دیا کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر ایک کو اس کی خاص صورت شکل عنایت فرمائی پھر راہ سجھا دی"۔ [طہ: ۵۰] اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ فر مان بھی ملاحظہ کریں: {لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا فَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ} "اگر ان دونوں (آسمان و زمین) میں اللہ کے علاوہ کوئی اور معبود ہوتا تو دونوں درہم برہم ہوجا تے، پس اللہ، عرش کے رب کی ذات پاک ہےان تمام باتوں سے جو وہ لوگ بیان کرتے ہیں"۔ [الأنبیاء: ۲۲] ایک اور مقام پر اللہ عز وجل کا فرمان ہے: {مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّمَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۢ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰي بَعْضٍ ۭ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا يَصِفُوْنَ } "نہ تو اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا اور نہ اس کے ساتھ اور کوئی معبود ہے، ورنہ ہر معبود اپنی مخلوق کو لئے لئے پھرتا اور ہر ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتا جو اوصاف یہ بتلاتے ہیں ان سے اللہ پاک (اور بےنیاز) ہے"۔ [المؤمنون: ۹۱] اس طرح کی توحید ربوبیت اور الوہیت کے باب میں بے شمار دلیلیں ہیں جن میں سے ہم نے بعض کا تذکرہ کیا ہے اور ان میں سب سے بڑی نشانی ان غیبی باتوں کا بتانا ہے جن کے بتانے کی اجازت اللہ نے ان کو د ے دیا ہے۔

اورانبیاء علیہم السلام کى حیرت انگیز نشانیوں میں شمار ہے: ابنیاء علیہ السلام کا اپنے پیروکاروں کے ساتھ اپنے دشمنوں کے مکرو فریب سے نجات پانا، اور ہٹ دھرم، سرکش، اور متکبر کافروں کا ہلاک وبرباد ہونا، اور اللہ تعالیٰ کا مدعو قوموں کو یاد دلانا کہ اس نے ماضی کی قوموں کے ساتھ کیا کیا اور یہ کہ اس کی سنت جاری وساری رہنے والی ہے۔ سورۃ الانبیاء کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {ثُمَّ صَدَقْنَاهُمُ الْوَعْدَ فَأَنجَيْنَاهُمْ وَمَن نَّشَاء وَأَهْلَكْنَا الْمُسْرِفِين} "پھر ہم نے ان سے کئے ہوئے وعد ے سچے کئے، انھیں اور جن جن کو ہم نے چاہا نجات عطا فرمائی اور حد سے نکل جانے والوں کو غارت کردیا"۔ [الأنبیاء: ۹] اور اس کے آخر میں فر مایا: {وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ} "ہم زبور میں پند ونصیحت کے بعد یہ لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے (ہی) ہوں گے"۔ [الأنبیاء: ۱۰۵] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا كُلِّهَا فَأَخَذْنَاهُمْ أَخْذَ عَزِيزٍ مُقْتَدِرٍ*۔ "انہوں نے ہماری تمام نشانیاں جھٹلائیں پس ہم نے انہیں بڑے غالب قوی کى پکڑ میں لے لیا۔ أَكُفَّارُكُمْ خَيْرٌ مِنْ أُولَئِكُمْ أَمْ لَكُمْ بَرَاءَةٌ فِي الزُّبُرِ} (اے قریشیو!) کیا تمہارے کافر ان کافروں سے کچھ بہتر ہیں؟ یا تمہارے لیے اگلی کتابوں میں چھٹکارا لکھا ہوا ہے؟۔ [القمر: ۴۲- ۴۳] سورۃ الشعراء میں اللہ تعالیٰ نے جب جب گزشتہ انبیاء کے نجات اور ان کے دشمنوں کی ہلاکت کا ذکر کیا تو اس کے معا بعد حق بات کا ذکر کیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: { إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ } یقیناً اس میں بڑی عبرت ہے اور ان میں کے اکثر لوگ ایمان والے نہیں۔ [الشعراء: ۶۷] ایک اور جگہ اللہ عز وجل نے فرمایا: {فَإِنْ أَعْرَضُوا فَقُلْ أَنْذَرْتُكُمْ صَاعِقَةً مِثْلَ صَاعِقَةِ عَادٍ وَثَمُودَ} "اب بھی یہ روگرداں ہوں تو کہہ دیجئے! کہ میں تمہیں اس کڑک (عذاب آسمانی) سے ڈراتا ہوں جو مثل عادیوں اورثمودیوں کی کڑک ہوگی"۔ [فصلت: ۱۳] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: { أَوَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ كَانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَأَثَارُوا الْأَرْضَ وَعَمَرُوهَا أَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوهَا وَجَاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا كَانَ اللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلَكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ} "کیا انہوں نے زمین پر چل پھر کر یہ نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے لوگوں کا انجام کیسا (برا) ہوا؟ وہ ان سے بہت زیادہ توانا (اور طاقتور) تھے اور انہوں نے (بھی) زمین بوئی جوتی تھی اور ان سے زیادہ آباد کی تھی اور ان کے پاس ان کے رسول روشن دلائل لے کر آئے تھے۔ یہ تو ناممکن تھا کہ اللہ تعالیٰ ان پر ﻇلم کرتا لیکن (دراصل) وہ خود اپنی جانوں پر ﻇلم کرتے تھے"۔ [الروم: ۹]

ان کی نبوت پر دلالت کرنے والی نشانیوں میں ان کی عادتوں، ان کے اخلاق و افعال اور ان کی سیرت کا بہتر ہونا اور جھوٹ سے پر ے ہو کر ان کی بات کا سچ ہونا بھی شامل ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے صالح علیہ السلام کے بارے میں فر مایا: {قَالُوا يَاصَالِحُ قَدْ كُنْتَ فِينَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هَذَا أَتَنْهَانَا أَنْ نَعْبُدَ مَا يَعْبُدُ آبَاؤُنَا وَإِنَّنَا لَفِي شَكٍّ مِمَّا تَدْعُونَا إِلَيْهِ مُرِيبٍ} "انہوں نے کہا اے صالح! اس سے پہلے تو ہم تجھ سے بہت کچھ امیدیں لگائے ہوئے تھے، کیا تو ہمیں ان کی عبادتوں سے روک رہا ہے جن کی عبادت ہمار ے باپ دادا کرتے چلے آئے، ہمیں تو اس دین میں حیران کن شک ہے جس کی طرف تو ہمیں بلا رہا ہے"۔ [ھود: ۶۲] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {قَالُوا يَاشُعَيْبُ أَصَلَاتُكَ تَأْمُرُكَ أَنْ نَتْرُكَ مَا يَعْبُدُ آبَاؤُنَا أَوْ أَنْ نَفْعَلَ فِي أَمْوَالِنَا مَا نَشَاءُ إِنَّكَ لَأَنْتَ الْحَلِيمُ الرَّشِيدُ } "انہوں نے جواب دیا کہ اے شعیب! کیا تیری صلاۃ تجھے یہی حکم دیتی ہے کہ ہم اپنے باپ دادوں کے معبودوں کو چھوڑ دیں اور ہم اپنے مالوں میں جو کچھ چاہیں اس کا کرنا بھی چھوڑ دیں تو تو بڑا ہی باوقار اور نیک چلن آدمی ہے"۔ [ھود: ۸۷]

اور ہرقل نے ابو سفیان رضی اللہ عنہ سے نبی ﷺ کے بارے میں پوچھنے کے بعد فرمایا: ’’وَسَأَلْتُكَ، هَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ، فَذَكَرْتَ أَنْ لاَ، فَقَدْ أَعْرِفُ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِيَذَرَ الكَذِبَ عَلَى النَّاسِ وَيَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ‘‘۔ اور میں نے تم سے پوچھا کہ اس بات کے کہنے سے پہلے کیا تم اس پر دروغ گوئی کا الزام لگاتے تھے؟ تو تم نے کہا کہ نہیں، تو میں نے سمجھ لیا کہ جو شخص آدمیوں کے ساتھ دروغ گوئی سے بچے وہ اللہ کے بارے میں کیسے جھوٹی بات کہہ سکتا ہے۔ (صحیح بخاری: ۷، صحیح مسلم: ۱۷۷۳)

اسی طرح ان کے نبوت کی ایک دلیل: ان کے لائے ہوے علم، دین حق اور ہدایت نیز ان کى نشانیوں اور معجزات کے نقل میں عظیم تواتر کا پایا جانا ہے، جس تواتر کى موجودگى میں ان کا جھوٹ کے نقل پر متفق ہونا محال ہوجاتا ہے۔

اسی طرح ان کی نبوت کی ایک نشانی ان کا اپنی رسالت پر اجرت کا مطالبہ نہ کرنا اور بادشاہت کا طلب گار نہ ہو نا بھی ہے، اللہ تعالیٰ نے کئى نبیوں کا قول قرآن مجید میں نقل کیا ہے، کہ ان میں سے ہر ایک نے اپنی قو م سے کہا: {يَاقَوْمِ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى الَّذِي فَطَرَنِي أَفَلَا تَعْقِلُونَ } "اے میری قوم! میں تم سے اس کی کوئی اجرت نہیں مانگتا، میرا اجر اس کے ذمے ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے تو کیا پھر بھی تم عقل سے کام نہیں لیتے"۔ [ھود: ۵۱]

انبیاء کی نبوت میں وہی شخص کمی نکالے گا جو جاہل ہوگا، جو نبیوں کے لائے ہوئے علم، دین اورہدایت میں غور و فکر نہیں کرتا ہوگا، جو غرور و تکبر اور دشمنی میں ڈوبا ہوگا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا} "انہوں نے انکار کردیا حالانکہ ان کے دل یقین کر چکے تھے صرف ﻇلم اور تکبر کی بنا پر"۔ [النمل: ۱۴] ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَيَحْزُنُكَ الَّذِيْ يَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُوْنَكَ وَلٰكِنَّ الظّٰلِمِيْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجْحَدُوْنَ} "ہم خوب جانتے ہیں کہ آپ کو ان کے اقوال مغموم کرتے ہیں، سو یہ لوگ آپ کو جھوٹا نہیں کہتے لیکن یہ ظالم تو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں"۔ [الانعام: ۳۳]

نبیوں کی کچھ نشانیاں تو حسی ہیں یعنی انہیں آنکھیں دیکھتیں اور دل تسلیم کرتا ہے، جیسے قوم نوح کا غرق ہونا، صالح علیہ السلام کی اونٹنی اور ابراہیم علیہ السلام کی نشانیاں جیسے ان کا آگ سے صحیح سالم بچنا، ہود علیہ السلام کا اپنی قوم کو چیلنج دینا کہ وہ سب مل کر چال چلیں، موسیٰ علیہ السلام کی نشانیاں جیسے لاٹھی، ٹڈی، جوں، مینڈھک، خون، طوفان اور فرعون اور ان کی قوم کا ڈوبنا اور داؤد علیہ السلام کی نشانیاں :جیسے پہاڑوں کا تسبیح پڑھنا، لوہے کا نرم ہونا اور سلیمان علیہ السلام کی نشانیاں جیسے ہوائیں چلانا اور جن کا ان کے لئے مسخر کرنا اور پرندوں کی زبان سمجھنا اور عیسی علیہ السلام کی نشانیاں جیسے گونگے، اندھے اور برص کی بیماری والے شخص کوشفا دے دینا اورمردوں کو زندہ کرنا، اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام مٹی کی چڑیا بنا کر اس میں پھونکتے تو حقیقی چڑیا بن جاتی ۔ اور رہی بات ہمارے نبی محمدﷺ کی تو ان کی بے شمار نشانیاں ہیں، اتنی زیادہ کہ انہیں شمار کرنا مشکل ہے جیسے چاند کا پھٹنا، اسراء و معراج، غلے کا زیادہ ہونا، چوپا ئے کا بات کرنا، کنکری کا تسبیح پڑھنا، اور دشمنوں کے خلاف اللہ کی نصرت و تائید۔

اسی طرح حق کی طرف بلانے والے نبی کی حالت بھی ایک نشانی ہے، یہی وجہ ہے کہ لوگ حق کی طرف بلانے والے سچے اور جھوٹے داعی کے درمیان فر ق کرتے ہیں اور اسی لئے عبد اللہ بن سلام نے کہا تھا: ’’ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المَدِينَةَ انْجَفَلَ النَّاسُ إِلَيْهِ، وَقِيلَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجِئْتُ فِي النَّاسِ لِأَنْظُرَ إِلَيْهِ، فَلَمَّا اسْتَبَنْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَفْتُ أَنَّ وَجْهَهُ لَيْسَ بِوَجْهِ كَذَّابٍ‘‘۔ "جب اللہ کے رسول ﷺ مدینہ تشریف لائے تو لوگ آپ کی طرف دوڑ پڑے اور کہنے لگے: اللہ کے رسولﷺ آ گئے، اللہ کے رسول ﷺ آگئے، چنانچہ میں بھی لوگوں کے ساتھ آیا تاکہ آپ کو دیکھوں، پھر جب میں نے اللہ کے رسول ﷺ کا چہرہ دیکھا تو پہچان گیا کہ ان کا چہرہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہے"۔ ( جامع الترمذی: ۲۴۸۵ ، سنن ابن ماجہ: ۱۳۳۴، مصنف ابن أبی شیبۃ: ۲۵۸۹۸ ، مسند أحمد: ۲۳۷۸۴، المنتخب من مسند عبد بن حميد: ۴۹۶) مذکور آیات ونشانیوں کے علاوہ انبیاء کى صداقت وسچائى کى دیگر نشانیاں بھی ہیں۔

لیکن قرآن مجید اور نبی کریم ﷺ کی سنت کے علاوہ انبیاء کی کوئی نشانی اس دنیا میں باقی نہیں ہے، صرف یہی دو نشانیاں باقی ہیں کیوں کہ یہ دونوں وحی ہیں جن کے حفاظت کی ذمہ داری اللہ نے لے رکھی ہے، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ } "ہم نے ذکر نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں"۔ [الحجر: ۹ ] آپ ﷺ کی صداقت اور آپ ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کی صداقت پر قرآن و احادیث دونوں میں بے شمار دلیلیں موجود ہیں۔

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ بتقاضائے حکمت شرعی و کونی دلائل سے انبیاء کی مدد کرتا ہے، اسی لئےاللہ جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے ہدایت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اپنے عد ل سے گمراہ کردیتا ہے، لیکن یہ بات یاد رہے کہ آیتیں اور نشانیاں دشمنوں کے کبرو غرور اور دشمنی ہی میں اضافہ کرتی ہیں، اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِي هَذَا الْقُرْآنِ لِيَذَّكَّرُوا وَمَا يَزِيدُهُمْ إِلَّا نُفُورًا } "ہم نے اس قرآن میں ہر ہر طرح بیان فرما دیا کہ لوگ سمجھ جائیں لیکن اس سے انھیں تو نفرت ہی بڑھتی ہے"۔ [الإسراء: ۴۱] ایک اور مقام پر اللہ عز وجل نے فرمایا: {وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيرًا مِنْهُمْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ طُغْيَانًا وَكُفْرًا } "جو کچھ آپ کی جانب آپ کے رب کی طرف سے اترا ہے وہ ان میں سے بہتوں کو شرارت اور انکار میں اور بھی بڑھائے گا"۔ [المائدۃ: ۶۸] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِنْ جَاءَهُمْ نَذِيرٌ لَيَكُونُنَّ أَهْدَى مِنْ إِحْدَى الْأُمَمِ فَلَمَّا جَاءَهُمْ نَذِيرٌ مَا زَادَهُمْ إِلَّا نُفُورًا } "اور ان کفار نے بڑی زور دار قسم کھائی تھی کہ اگر ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آئے تو وہ ہر ایک امت سے زیادہ ہدایت قبول کرنے والے ہونگے پھر جب ان کے پاس ایک پیغمبر آپہنچا تو بس ان کی نفرت ہی میں اضافہ ہوا"۔ [فاطر: ۴۲] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِنْ جَاءَتْهُمْ آيَةٌ لَيُؤْمِنُنَّ بِهَا قُلْ إِنَّمَا الْآيَاتُ عِنْدَ اللَّهِ وَمَا يُشْعِرُكُمْ أَنَّهَا إِذَا جَاءَتْ لَا يُؤْمِنُونَ} "اور ان لوگوں نے قسموں میں بڑا زور لگا کر اللہ تعالیٰ کی قسم کھائی اگر ان کے پاس کوئی نشانی آجائے تو وہ ضرور ہی اس پر ایمان لے آئیں گے، آپ کہہ دیجئے کہ نشانیاں سب اللہ کے قبضہ میں ہیں اور تم کو اس کی کیا خبر وہ نشانیاں جس وقت آجائیں گی یہ لوگ تب بھی ایمان نہ لائیں گے"۔ [الأنعام: ۱۰۹] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا وَمَا نُرْسِلُ بِالْآيَاتِ إِلَّا تَخْوِيفًا} "ہم نے ثمودیوں کو بطور بصیرت کے اونٹنی دی لیکن انہوں نے اس پر ظلم کیا ہم تو لوگوں کو دھمکانے کے لئے ہی نشانی بھیجتے ہیں"۔ [الإسراء: ۵۹]

اورابن عباس رضی اللہ عنہما فر ماتے ہیں: ’’سَأَلَ أَهْلُ مَكَّةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يَجْعَلَ لَهُمُ الصَّفَا ذَهَبًا، وَأَنْ يُنَحِّيَ الْجِبَالَ عَنْهُمْ، فَيَزْرَعُوا، فَقِيلَ لَهُ: إِنْ شِئْتَ أَنْ تَسْتَأْنِيَ بِهِمْ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ نُؤْتِيَهُمُ الَّذِي سَأَلُوا، فَإِنْ كَفَرُوا أُهْلِكُوا كَمَا أَهْلَكْتُ مَنْ قَبْلَهُمْ، قَالَ: لَا، بَلْ أَسْتَأْنِي بِهِمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذِهِ الْآيَةَ: اہل مکہ نے نبی ﷺسے سوال کیا کہ وہ ان کے لئے صفا پہاڑ کو سونے کا بنا دیں اور پہاڑوں کو ان سے دور کردیں تاکہ وہ کھیتی کر سکیں تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ اگر آپ چاہیں تو ان کے ساتھ انتظار کریں اور اگر چاہیں تو ہم انہیں ان کی مانگی ہوئی چیز دے دیں لیکن اگر انہوں نے کفر کیا تو ہلاک کر دیے جائیں گے، جیسا کہ میں نے ان سے پہلے کے لوگوں کو ہلاک کر دیا، فرمایا: نہیں بلکہ میں ان کے ساتھ انتظار کروں گا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائى: {وَمَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً} "ہمیں نشانیوں کے نازل کرنے سے نہیں روکا مگر اس بات نے کہ پہلے کے لوگ انہیں جھٹلاچکے ہیں، ہم نے ثمودیوں کو بطور بصیرت اونٹنی دی"۔ [الإسراء: ۵۹] (مسند أحمد: ۲۳۳۳، مسند البزار: ۵۰۳۶ ، سنن النسائی الکبری: ۱۱۲۲۶، المستدرك على الصحيحين للحاکم: ۳۴۳۷، دلائل النبوۃ للبیہقی: ۶۰۵)

اور ہم جانتے ہیں کہ اگر اللہ تمام لوگوں کو ہدایت دینا چاہے تو دے سکتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَكِنْ يُضِلُّ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ} "اگر اللہ چاہتا تم سب کو ایک ہی گروہ بنا دیتا لیکن وہ جسے چاہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہے ہدایت دیتا ہے"۔ [النحل: ۹۳] ایک اور جگہ اللہ عز وجل نے فرمایا: {وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدَى فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْجَاهِلِينَ} "اور اگر اللہ کو منظور ہو تو ان سب کو جمع کردینا سو آپ نادانوں میں سے نہ ہوجائیے"۔ [الانعام: ۳۵]

ہمارا ایمان ہے کہ انبیاء کی لائی ہوئی دلیلیں اور نشانیاں ومعجزات, نیز براہین جن کے ذریعہ اللہ نے ان کی مدد کی, کسی مدعی نبوت، جادو گر اور جھوٹے شخص کے لئے ان کا لانا محال ہے؛ کیوں کہ اللہ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ وہ کسی باطل پرست کی مدد صحیح دلیل کے ذریعہ نہیں کر ے گا اور سچی دلیل کے ذریعہ کسی جھوٹے کی تصدیق نہیں کر ے گا کیوں کہ اللہ اپنی شریعت اور اپنے حکم میں حکیم ہے اور اللہ کی حکمت اور اس کی سنت جاریہ اس سے منع کرتی ہے، جیسا کہ اللہ نے فر مایا: {وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ*۔ "اور اگر یہ ہم پر کوئی بھی بات بنا لیتا۔ لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ *۔ تو البتہ ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے۔ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ } پھر اس کی شہ رگ کاٹ دیتے" ۔ [الحاقۃ: ۴۴- ۴۶]

باب: ہمارے نبی محمد ﷺ کى نبوت کا بیان

ہمارا ایمان ہے کہ ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ, اللہ کے رسول ہیں، اور وہ خاتم الانبیاء والمرسلین ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ } "(لوگو) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ محمد ﴿ﷺ ) نہیں لیکن آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے"۔ [الأحزاب: ۴۰] ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’مَثَلِي وَمَثَلَ الأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي، كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بَيْتًا فَأَحْسَنَهُ وَأَجْمَلَهُ، إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ بِهِ، وَيَعْجَبُونَ لَهُ، وَيَقُولُونَ هَلَّا وُضِعَتْ هَذِهِ اللَّبِنَةُ؟ قَالَ: فَأَنَا اللَّبِنَةُ وَأَنَا خَاتِمُ النَّبِيِّينَ‘‘۔ میری اور مجھ سے پہلے کے انبیاء کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جس نے ایک گھر بنایا تو اسے حسن و جمال سے آراستہ و پیراستہ کر دیا سوائے کونے میں ایک اینٹ کی جگہ کے، تو لوگ اس کا طواف کرنے لگے اور اس پر تعجب کرنے لگے اور یہ کہنے لگے کہ یہ اینٹ کیوں نہیں رکھی گئی؟ فر مایا کہ میں ہی وہ اینٹ ہوں اور میں ہی خاتم النبیین ہوں"۔ (صحیح بخاری: ۳۵۳۵، صحیح مسلم: ۲۲۸۶)

اور وہ آدم علیہ السلام کی اولاد کے سردار ہیں، اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَوَّلُ مَنْ يَنْشَقُّ عَنْهُ الْقَبْرُ، وَأَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ‘‘۔ میں قیامت کے دن ابن آدم کا سردار ہوں گا اور سب سے پہلے میں ہی قبر سے نکلوں گا اور میں سب سے پہلا شافع ہو ںگا اور سب سے پہلے میری ہی سفارش قبول کی جا ئے گی۔ (صحیح مسلم : ۲۲۷۸، سنن أبی داود: ۴۶۷۳) اور نبی صلى اللہ علیہ وسلم اللہ رب العالمین کے خلیل (دوست) ہیں، اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنْ أُمَّتِي خَلِيلًا، لاَتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ، وَلَكِنْ أَخِي وَصَاحِبِي‘‘۔ اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو خلیل بناتا تو ابو بکر کو بناتا لیکن وہ میرا بھائی اور ساتھی ہے۔ (صحیح بخاری: ۳۶۵۶)

اورہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ نبی ﷺ کے جیسی نشانیاں کسی اور رسول کو نہیں دی گئی ہیں، آپ ﷺ کی سب سے بڑی نشانی قرآن مجید ہے جس کی ابتدائی پانچ آیتیں سب سے پہلے نازل ہوئی ہیں: عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں کہ’’ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ فِي النَّوْمِ، فَكَانَ لاَ يَرَى رُؤْيَا إِلَّا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ، ثُمَّ حُبِّبَ إِلَيْهِ الخَلاَءُ، وَكَانَ يَخْلُو بِغَارِ حِرَاءٍ فَيَتَحَنَّثُ فِيهِ - وَهُوَ التَّعَبُّدُ - اللَّيَالِيَ ذَوَاتِ العَدَدِ قَبْلَ أَنْ يَنْزِعَ إِلَى أَهْلِهِ، وَيَتَزَوَّدُ لِذَلِكَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى خَدِيجَةَ فَيَتَزَوَّدُ لِمِثْلِهَا، حَتَّى جَاءَهُ الحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَاءٍ، فَجَاءَهُ المَلَكُ فَقَالَ: اقْرَأْ، قَالَ: مَا أَنَا بِقَارِئٍ، قَالَ: فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الجَهْدَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: اقْرَأْ، قُلْتُ: مَا أَنَا بِقَارِئٍ، فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الجَهْدَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: اقْرَأْ، فَقُلْتُ: مَا أَنَا بِقَارِئٍ، فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ. خَلَقَ الإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ. اقْرَأْ وَرَبُّكَ الأَكْرَمُ} [العلق: ۲]فَرَجَعَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ يَرْجُفُ فُؤَادُهُ ‘‘۔ اللہ کے رسولﷺ پر سب سے پہلی وحی بحالت نیند نیک خواب کی شکل میں آئی، وہ جو خواب دیکھتے وہ صبح کی روشنی کی طرح صحیح ثابت ہوتا، پھر ان کے لئے تنہائی کو محبوب بنا دیا گیا، وہ غار حرا میں تنہا جا تے اور اپنے اہل کی طرف لوٹنے سے پہلے کئی کئی رات وہاں عبادت کرتے اور اس کے لئے وہ اپنے ہمراہ توشہ لئے جا تے،( توشہ ختم ہونے پر) خدیجہ کے پاس آتے اور اسی طرح توشہ (اپنے ہمراہ پھر ) لے جاتے یہاں تک کہ وہ غار حرا ہی میں قیام پذیر تھے کہ ان کے پاس حق آگیا، فرشتہ ان کے پاس آیا اورکہا پڑھو، آپ نے فرمایا کہ میں پڑھنا نہیں جانتا، فرماتے ہیں کہ اس(فرشتے ) نے مجھے پکڑ کر اتنے زور سے بھینچا کہ میری طاقت جواب دے گئی، پھر مجھے چھوڑ کر کہا کہ پڑھو، میں نے کہا کہ میں پڑھنا نہیں جانتا، اس (فرشتے ) نے مجھ کو اتنی زور سے بھینچا کہ مجھ کو سخت تکلیف محسوس ہوئی، پھر اس نے کہا کہ پڑھ ! میں نے کہا کہ میں پڑھنا نہیں جانتا، اس (فرشتے ) نے تیسری بار مجھ کو پکڑا اور تیسری مرتبہ پھر مجھ کو بھینچا پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہنے لگا کہ {پڑھو اپنے اس رب کے نام سے جس نے پیدا کیا، جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا، پڑھو اور آپ کا رب بہت ہی مہربانیاں کرنے والا ہے} چنانچہ انہیں آیتوں کے ساتھ اللہ کے رسول ﷺواپس ہوئے اس حال میں کہ ان کا دل کانپ رہا تھا۔ (صحیح بخاری: ۳، صحیح مسلم :۱۶۰، سنن الترمذی: ۳۶۳۲) ان آیتوں کے بعد آپ ﷺ پر سورۃ المدثر نازل ہوئی، جیسا کہ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کو وحی کے توقف کی بابت گفتگو کرتے ہو ئے سنا کہ: ’’ فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ، فَرَفَعْتُ بَصَرِي قِبَلَ السَّمَاءِ، فَإِذَا المَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ قَاعِدٌ عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، فَجَئِثْتُ مِنْهُ حَتَّى هَوَيْتُ إِلَى الأَرْضِ، فَجِئْتُ أَهْلِي فَقُلْتُ: زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي فَزَمَّلُونِي۔ میں چل رہا تھا کہ میں نے آسمان کی سے ایک آواز سنی تو اپنی نظر آسمان کی طرف اٹھا یا تو وہی فرشتہ آسمان اور زمین کے درمیان کرسی پر بیٹھا ہوا تھا جو میر ے پاس غار حرا میں آیا تھا، میں اسے دیکھ کر اتنا ڈرا کہ زمین پر گرپڑا تو میں اپنے گھر والوں کے پاس آیا اور کہا کہ مجھے کپڑا اوڑھا دو، مجھے کپڑا اوڑھا دو! مجھے کپڑا اوڑھا دو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے {يَا أَيُّهَا المُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ} سے {فَاهْجُرْ} تک نازل کی۔ ابوسلمہ فرماتےہیں کہ ’’الرجز‘‘ بت کے معنی میں ہے، پھر وحی کا آنا بہت بڑھ گیا اور اس کا سلسلہ لگاتار ہوگیا۔ (صحیح بخاری: ۴۹۲۶، صحیح مسلم: ۱۶۱، جامع الترمذی: ۳۳۲۵ )

اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ’’أَنَّ الحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يَأْتِيكَ الوَحْيُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ سے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول ! آپ کے پاس وحی کیسے آتی ہے؟ تو اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: أَحْيَانًا يَأْتِينِي مِثْلَ صَلْصَلَةِ الجَرَسِ، وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ، فَيُفْصَمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْهُ مَا قَالَ، وَأَحْيَانًا يَتَمَثَّلُ لِيَ المَلَكُ رَجُلًا فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِي مَا يَقُولُ۔ کبھی کبھی وہ میرے پاس گھنٹی بجنے کی طرح آتی تھی اور وہ مجھ پر بہت سخت ہوتی تھی، جب یہ سلسلہ ختم ہوجاتا تو ان کی کہی ہوئی بات میں یاد کر لیتا اور کبھی کبھی فرشتہ میرے پاس کسی آدمی کی شکل میں آتا تو وہ مجھ سے بات کرتا تو اس کی کہی ہوئی بات میں یاد کرلیتا۔ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ الوَحْيُ فِي اليَوْمِ الشَّدِيدِ البَرْدِ، فَيَفْصِمُ عَنْهُ وَإِنَّ جَبِينَهُ لَيَتَفَصَّدُ عَرَقًا‘‘۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں سخت ٹھنڈک میں آپ پر وحی نازل ہوتے ہو ئے دیکھا ہے، جب یہ سلسلہ ختم ہو جاتا تو آپ کی پیشانی سے پسینہ بہت کثرت کے ساتھ بہنے لگتا۔ (صحیح بخاری: ۲، صحیح مسلم: ۲۳۳۳، جامع الترمذی: ۳۶۳۴، سنن النسائی: ۹۳۳)

آپ ﷺ نے مکہ میں تیرہ سال رہ کر لوگوں کو توحید کی طرف بلایا اور مدینہ میں دس سال رہ کر شریعت الہیہ کی وضاحت کی، آپ دین الہی کی دعوت دیتے رہے اور اس کی راہ میں جہاد کرتے رہے تا آنکہ ترسٹھ سال کی عمر میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی۔ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔

ہم جانتے ہیں کہ قرآن مجید کے بعد سب سے بڑی نشانی اسراء و معراج ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فر ماتا ہے: {سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ} پاک ہے وہ اللہ تعالیٰ جو اپنے بند ے کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے، اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائیں، یقیناً اللہ تعالیٰ ہی خوب سننے دیکھنے والاہے۔ [الإسراء: ۱]

انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’أُتِيتُ بِالْبُرَاقِ، وَهُوَ دَابَّةٌ أَبْيَضُ طَوِيلٌ فَوْقَ الْحِمَارِ، وَدُونَ الْبَغْلِ، يَضَعُ حَافِرَهُ عِنْدَ مُنْتَهَى طَرْفِهِ، قَالَ: فَرَكِبْتُهُ حَتَّى أَتَيْتُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ، قَالَ: فَرَبَطْتُهُ بِالْحَلْقَةِ الَّتِي يَرْبِطُ بِهِ الْأَنْبِيَاءُ، قَالَ ثُمَّ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَصَلَّيْتُ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجْتُ فَجَاءَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِإِنَاءٍ مِنْ خَمْرٍ، وَإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ، فَاخْتَرْتُ اللَّبَنَ، فَقَالَ جِبْرِيلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اخْتَرْتَ الْفِطْرَةَ، ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ، فَقِيلَ: مَنَ أَنْتَ؟ قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: َ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ، فَفُتِحَ لَنَا، فَإِذَا أَنَا بِآدَمَ، فَرَحَّبَ بِي، وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ، ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقِيلَ: مَنَ أَنْتَ؟ قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ، فَفُتِحَ لَنَا، فَإِذَا أَنَا بِابْنَيْ الْخَالَةِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، وَيَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّاءَ، صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِمَا، فَرَحَّبَا وَدَعَوَا لِي بِخَيْرٍ، ثُمَّ عَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ، فَقِيلَ: مَنَ أَنْتَ؟ قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ، فَفُتِحَ لَنَا، فَإِذَا أَنَا بِيُوسُفَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا هُوَ قَدِ اُعْطِيَ شَطْرَ الْحُسْنِ، فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ، ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الرَّابِعَةِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قَالَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ، فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِإِدْرِيسَ، فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا} [مريم: ۵۷]، ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الْخَامِسَةِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ، فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِهَارُونَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَحَّبَ، وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ، ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّادِسَةِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ، فَفُتِحَ لَنَا، فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ، ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ، فَقِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ، فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِإِبْرَاهِيمَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْنِدًا ظَهْرَهُ إِلَى الْبَيْتِ الْمَعْمُورِ، وَإِذَا هُوَ يَدْخُلُهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ لَا يَعُودُونَ إِلَيْهِ، ثُمَّ ذَهَبَ بِي إِلَى السِّدْرَةِ الْمُنْتَهَى، وَإِذَا وَرَقُهَا كَآذَانِ الْفِيَلَةِ، وَإِذَا ثَمَرُهَا كَالْقِلَالِ ، قَالَ:فَلَمَّا غَشِيَهَا مِنْ أَمْرِ اللهِ مَا غَشِيَ تَغَيَّرَتْ، فَمَا أَحَدٌ مِنْ خَلْقِ اللهِ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَنْعَتَهَا مِنْ حُسْنِهَا، فَأَوْحَى اللهُ إِلَيَّ مَا أَوْحَى، فَفَرَضَ عَلَيَّ خَمْسِينَ صَلَاةً فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَنَزَلْتُ إِلَى مُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا فَرَضَ رَبُّكَ عَلَى أُمَّتِكَ؟ قُلْتُ: خَمْسِينَ صَلَاةً، قَالَ: ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ، فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا يُطِيقُونَ ذَلِكَ، فَإِنِّي قَدْ بَلَوْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَخَبَرْتُهُمْ ، قَالَ:فَرَجَعْتُ إِلَى رَبِّي، فَقُلْتُ: يَا رَبِّ، خَفِّفْ عَلَى أُمَّتِي، فَحَطَّ عَنِّي خَمْسًا، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى، فَقُلْتُ: حَطَّ عَنِّي خَمْسًا، قَالَ: إِنَّ أُمَّتَكَ لَا يُطِيقُونَ ذَلِكَ، فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ ، قَالَ: فَلَمْ أَزَلْ أَرْجِعُ بَيْنَ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى، وَبَيْنَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ حَتَّى قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّهُنَّ خَمْسُ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، لِكُلِّ صَلَاةٍ عَشْرٌ، فَذَلِكَ خَمْسُونَ صَلَاةً، وَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً، فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ عَشْرًا، وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ تُكْتَبْ شَيْئًا، فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ سَيِّئَةً وَاحِدَةً ، قَالَ: فَنَزَلْتُ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى مُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَقُلْتُ: قَدْ رَجَعْتُ إِلَى رَبِّي حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ ‘‘۔ میرے سامنے براق لایا گیا، وہ سفید رنگ کا ایک جانور ہے، گدھے سے اونچا اور خچر سے چھوٹا، اپنے کھر وہاں رکھتا ہے جہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی ہے، میں اس پر سوار ہوا اور بیت المقدس آیا اور اس جانور کو اس کھمبا سے باندھ دیا جس سے دیگر انبیاء علیہم السلام اپنے اپنے جانوروں کو باندھا کرتے تھے پھر میں مسجد میں داخل ہوا اور دو رکعتیں نماز ادا کی، فرماتے ہیں کہ پھر باہر نکلا تو جبرائیل علیہ السلام دو برتن لے کر آئے ایک میں شراب تھی اور ایک میں دودھ تو میں نے دودھ پسند کیا تو جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ نے فطرت کو پسند کیا، پھر ہمارے ساتھ آسمان پر چڑھے تو فرشتوں سے دروازہ کھولنے کیلئے کہا: انہوں نے پوچھا کون ہے؟ جبرائیل نے کہا: جبرائیل، انہوں نے کہا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ کہا: محمد، کہا گیا کہ کیا بلائے گئے ہیں، کہا: ہاں بلائے گئے ہیں، پھر ہمارے لئے دروازہ کھولا گیا تو میں نے آدم کو دیکھا، انہوں نے مرحبا کہا اور میرے لئے خیر کی دعا کی، پھر جبرائیل ہمارے ساتھ چڑھے دوسرے آسمان پر اور دروازہ کھلوایا، کہا گیا کہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: جبرائیل، پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد، کہا گیا کہ کیا ان کو بلانے کا حکم ہوا ہے؟ کہا: ہاں ان کو حکم ہوا ہے، پھر دروازہ کھلا تو میں نے دونوں خالہ زاد عیسیٰ بن مریم اور یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کو دیکھا، ان دونوں نے مرحبا کہا اور میرے لئے خیر کی دعا کی پھر ہمارے ساتھ تیسرے آسمان پر چڑھے اور دروازہ کھلوایا، کہا گیا کہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: جبرائیل، پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمدﷺ، کہا گیا کہ کیا ان کو بلانے کا حکم ہوا ہے؟ کہا: ہاں ان کو حکم ہوا ہے، پھر دروازہ کھلا تو میں نے یوسف علیہ السلام کو دیکھا کہ اللہ نے حسن (خوبصورتی) کا آدھا حصہ انہیں کو دیا تھا، انہوں نے مرحبا کہا اور میرے لئے خیر کی دعا کی، پھر جبرائیل ہمارے ساتھ چوتھے آسمان پرچڑھے اور دروازہ کھلوایا، کہا گیا کہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: جبرائیل، پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے ؟ انہوں نے کہا: محمد، کہا گیا کہ کیا ان کو بلانے کاحکم ہوا ہے؟ کہا: ہاں ان کو حکم ہوا ہے، پھر دروازہ کھلا تو میں نے ادریس کو دیکھا، انہوں نے مرحبا کہا اورمیرے لئے خیر کی دعا کی، اللہ عزو جل نے فرمایا: (ہم نےاس کواونچی جگہ پر اٹھا لیا)، پھر جبرائیل ہمارے ساتھ پانچویں آسمان پر چڑھے اور دروازہ کھلوایا، کہا گیا کہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: جبرائیل، پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد، کہا گیا کہ کیا ان کو بلانے کا حکم ہوا ؟ کہا: ہاں ان کو حکم ہوا ہے، پھر دروازہ کھلا تو میں نے ہارون علیہ السلام کو دیکھا انہوں نے مرحبا کہا اور میرے لئے خیر کی دعا کی پھر جبرائیل ہمارے ساتھ چھٹے آسمان پر پہنچے اور دروازہ کھلوایا، کہا گیا کہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: جبرائیل، پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد، کہا گیا کہ کیا ان کو بلانے کاحکم ہوا ہے؟ کہا: ہاں ان کو حکم ہوا ہے، پھر دروازہ کھلا تو میں نے موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا، انہوں نے کہا: مرحبا اور میرے لئے خیر کی دعا کی، پھرجبرائیل ہمارے ساتھ ساتویں آسمان پر چڑھے اور دروازہ کھلوایا، کہا گیا کہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: جبرائیل، پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد، کہا گیا کہ کیا ان کو بلانے کا حکم ہوا ہے؟ کہا: ہاں ان کو حکم ہوا ہے، پھر دروازہ کھلا تو میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ بیت معمور کی طرف ٹیک لگائے بیٹھے ہیں اور اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے جاتے ہیں جو پھر کبھی نہیں آتے پھر وہ مجھے سدرۃ المنتہیٰ کے پاس لے گئے، اس کے پتے ہاتھی کے کان کی طرح اور اس کے بیر قُلہ کی طرح تھے (قلہ بڑے گھڑے کو کہتے ہیں جس میں دو مشک یا اس سے زیادہ پانی آتا ہے) پھر جب اس درخت کو اللہ کے حکم نے ڈھانکا تو اس کا حال ایسا ہو گیا کہ کوئی مخلوق اس کی خوبصورتی بیان نہیں کر سکتی پھر اللہ نے میری طرف وحی کی اور ہر رات اور دن میں مجھ پرپچاس نمازیں فرض کیں جب میں اترا اور موسیٰ علیہ السلام تک پہنچا تو انہوں نے پوچھا: تمہارے رب نے تمہاری امت پر کیا فرض کیا ؟ میں نے کہا: پچاس نمازیں فرض کیا، انہوں نے کہا: پھراپنے رب کی طرف لوٹ جاؤ اور تخفیف کراؤ کیونکہ تمہاری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی اور میں نے بنی اسرائیل کو آزمایا ہے اور ان کا امتحان لیا ہے، فرماتے ہیں کہ میں اپنے رب کی طرف لوٹ گیا اور عرض کیا: اے رب! میری امت پر تخفیف کر دے، اللہ نے پانچ نمازیں گھٹا دیں، میں لوٹ کر موسٰی کے پاس آیا اور کہا کہ پانچ نمازیں اس نے مجھ سے معاف کر دیا، انہوں نے کہا: تمہاری امت کو اس کی بھی طاقت نہ ہو گی تم پھر جاؤ اپنے رب کے پاس اور تخفیف کراؤ، آپ ﷺ نے فرمایا: میں اس طرح برابر اللہ تبارک و تعالی اور موسٰی کے درمیان آتا جاتا رہا یہاں تک کہ( اللہ جل جلالہ نے) فرمایا: اے محمد! وہ پانچ نمازیں ہیں، ہر دن اور ہر رات میں اور ہر ایک نماز میں دس نماز کا ثواب ہے، تو وہی پچاس نمازیں ہوئیں، اور جو نیکی کا ارادہ کرے نیت کرے لیکن اسے نہ کرے تو بھی اس کے لئے ایک نیکی لکھی جا ئے گی اور اگر کرے تو اس کے لئے دس نیکیاں لکھی جائیں گی اور جو برائی کا ارادہ کرے لیکن اسے انجام نہ دے تو اس کے لئے کچھ نہ لکھا جائے گا اور اگر کر گزرے تو ایک ہی برائی لکھی جائے گی، آپ نے فرمایا کہ پھر میں اترا اور موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا اور انہیں خبر دیا تو انہوں نے کہا: پھر جاؤ اپنے رب کے پاس اور کم کراؤ، تو اللہ کے رسول اللہﷺ نے فرمایا میں اپنے رب کے پاس بار بار گیا یہاں تک کہ میں اس سے شرما گیا۔ (صحیح بخاری: ۷۵۱۷ ، صحیح مسلم: ۱۶۲، جامع الترمذی: ۳۱۳۱، سنن النسائی: ۴۵۰ ، سنن ابن ماجہ: ۱۳۹۹، اور یہاں مذکور الفاظ صحیح مسلم کے ہیں)

اور اللہ کے رسول ﷺ کى نشانیوں میں سے چاند کے دو ٹکڑے ہونا بھی ہے، اللہ عز و جل نے فرمایا: {اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ} "قیامت قریب آ گئی اور چاند دو ٹکڑے ہوگیا"۔ [القمر: ۱] اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے فر مایا کہ ’’انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِرْقَتَيْنِ، فِرْقَةً فَوْقَ الْجَبَلِ، وَفِرْقَةً دُونَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اشْهَدُوا ‘‘رسول ﷺ کے زمانے میں چاند دو ٹکڑے ہو گیا تھا،(جس کا ) ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر اور دوسرا اس کے پیچھے ہوگیا تھا تواللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: کہ تم سب گواہ رہنا۔ (صحیح بخاری: ۴۸۶۴، صحیح مسلم: ۲۸۰۰، جامع الترمذی: ۳۲۸۵)

اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو بہت ساری خصوصیات سے نوازا تھا، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے: ’’ فُضِّلْتُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ بِسِتٍّ: أُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَهُورًا وَ مَسْجِدًا، وَأُرْسِلْتُ إِلَى الْخَلْقِ كَافَّةً، وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ‘‘۔ مجھ کو چھ باتوں کی وجہ سے اور پیغمبروں پر فضیلت دی گئی ہے (۱) مجھے جوامع الکلم عطا کیا گیا ہے (۲) اور رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی ہے (۳) اور میرے لئے غنیمتیں حلال کی گئیں ہیں (۴) اور میرے لئے ساری زمین پاک کرنے والی اور مسجد بنا دی گئی ہے(۵) اور میں تمام مخلوقات کی طرف بھیجا گیاہوں (۶) اور میرے اوپر نبوت ختم کی گئی ہے۔ (صحیح مسلم: ۵۲۳، جامع الترمذی: ۱۵۵۳) ان تمام خصوصیات کا تذکرہ کچھ علماء نے تو کسی کتاب میں دوران گفتگو کردیا ہے اور کچھ نے تو اس پر باقاعدہ مستقل کتاب لکھا ہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ ہر مومن مرد اور ہر مومنہ عورت پر واجب ہے کہ آپ ﷺ پر ایمان لائے، آپ ﷺ کی دی گئی خبروں کی تصدیق کر ے اور آپ کی طرف سے دیئے گئے احکام کی پیروی کر ے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {لِتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ وَتُسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا} "تاکہ (اے مسلمانو) تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس (رسول) کی مدد کرو اور اس کا ادب کرو، اور اللہ کی پاکی بیان کرو صبح و شام"۔ [الفتح: ۹] ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالنُّورِ الَّذِي أَنْزَلْنَا وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ} "سو تم اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس کے نور پر جسے ہم نے نازل فرمایا ہے ایمان لاؤ اور اللہ تعالیٰ تمہارے ہر عمل پر باخبر ہے"۔ [التغابن: ۸]

اور ہمارا ایمان ہے کہ ہمارے نبی محمد ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے پر ہی اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جائے، جیسا کہ اللہ تعالی نےفرمایا: {وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَ مَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ} "اور تمہیں جو کچھ رسول دے لے لو، اور جس سے روکے رک جاؤ، اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو، یقیناً اللہ تعالیٰ سخت عذاب والا ہے"۔ [الحشر: ۷] اور اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کے حکم کی مخالفت سے منع کیا ہے، جیسا کہ اللہ عز و جل نے فرمایا: {فَلْيَحْذَرِ الَّذِيْنَ يُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖٓ اَنْ تُصِيْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ يُصِيْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ } "سنو جو لوگ حکم رسول کی مخالفت کرتے ہیں انھیں ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آپڑ ے یا انھیں دردناک عذاب نہ پہنچے"۔ [النور: ۶۳]

آپ ﷺ کی توقیر اور آپ ﷺ سے محبت کرنا واجب ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ ۭوَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ } "کہہ دیجئے ! اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کر ے گا اور تمہارے گناہ معاف فرما د ے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا مہربان ہے"۔ [آل عمران: ۳۱]

نبی ﷺ سے محبت کرنا ایمان کی ایک شاخ ہے، آپ ﷺکی محبت کو اللہ تعالی نے اپنی محبت کے ساتھ جوڑا ہے اور اس شخص کو وعید سنایا ہے جو کسی محبوب چیز جیسے رشتہ دار، اموال اور وطن وغیرہ کی محبت کو اللہ کے رسول ﷺ کی محبت پر مقدم کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {قُلْ إِنْ كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ} "آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے لڑکے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے کنبے قبیلے اور تمہارے کمائے ہوئے مال اور وہ تجارت جس کی کمی سے تم ڈرتے ہو اور وہ حویلیاں جنہیں تم پسند کرتے ہو اگر یہ تمہیں اللہ سے اور اس کے رسول سے اور اس کی راہ کے جہاد سے بھی زیادہ عزیز ہیں، تو تم انتظار کرو کہ اللہ تعالیٰ اپنا عذاب لے آئے اللہ تعالیٰ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا"۔ [التوبہ: ۲۴]

مومنوں پر واجب ہے کہ وہ اپنی جان، اپنے باپ، اپنى اولاد اور تمام چیزوں سے زیادہ اللہ کے رسول ﷺ سے محبت کریں۔ عبد اللہ بن ہشام سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا کہ ’’كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا مِنْ نَفْسِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِنْ نَفْسِكَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: فَإِنَّهُ الآنَ، وَاللَّهِ، لَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الآنَ يَا عُمَرُ‘‘ہم نبی ﷺ کے ساتھ تھے اس حال میں کہ وہ عمر بن خطاب کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے تو ان کو عمر نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے ہر چیز سے زیادہ عزیز ہیں، سوا ئے میری اپنی جان کے تو نبیﷺ نے کہا نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے حتی کہ میں تمہارے نزدیک تمہاری جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں تو عمر نے کہا: تو پھر اللہ کی قسم اب آپ میرے نزدیک میری جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں، تو نبیﷺ نے فرمایا کہ اب اے عمر!(یعنی اب تمہارا ایمان پورا ہوا)۔ (صحیح بخاری: ۶۶۳۲)

اللہ تعالیٰ نے اپنے ساتھ اپنے نبی ﷺ کا ذکر شہادتین اور اذان میں ملا دیا ہے، اور آپ ﷺ کا ذکر نہایت کثرت کے ساتھ سابقہ کتب الہیہ میں آچکا ہے اور قرآن مجید میں بھی کیا گیا ہے، ائمہ اسلام نے آپ ﷺ کی سنت، سیرت، شمائل، اخلاق اور غزوات پر بے شمار کتابیں تصنیف کی ہے، ہم یہاں پر صرف وہی چیز ذکر کررہے ہیں جن کا آپ ﷺ کی شان نبوت میں عقیدہ رکھنا واجب ہے۔

قاضی عیاض رحمہ اللہ فر ماتے ہیں: ’’إذَا كَانَتْ خِصَالُ الْكَمَالِ وَالْجَلَالِ مَا ذَكَرْنَاهُ وَرَأَيْنَا الْوَاحِدَ مِنَّا يَتَشَرَّفُ بِوَاحِدَةٍ مِنْهَا أَوِ اثْنَتَيْنِ إِنِ اتَّفَقَتْ لَهُ فِي كُلِّ عَصْرٍ إِمَّا مِنْ نَسَبٍ أَوْ جَمَالٍ أَوْ قُوَّةٍ أوْ عِلْمِ أَوْ حِلْمٍ أو شجاعةأَوْ سَمَاحَةٍ حَتَّى يَعْظُمَ قَدْرُهُ وَيُضْرَبَ بِاسْمِهِ الْأَمثَالُ وَيَتَقَرَّرَ لَهُ بِالْوَصْفِ بِذَلِكَ فِي الْقُلُوبِ أَثَرَةٌ وَعَظَمَةٌ وَهُوَ مُنْذُ عُصُورٍ خَوَالٍ رِمَمٌ بَوَالٍ فَمَا ظَنُّكَ بِعَظِيمِ قَدْرِ مَنِ اجْتَمَعَتْ فِيهِ كُلُّ هَذِهِ الْخِصَالِ إِلَى مَا لَا يَأَخُذُهُ عَدٌّ وَلَا يُعَبَّرُ عَنْهُ مَقَالٌ وَلَا يُنَالُ بِكَسْبٍ وَلَا حِيلَةٍ إِلَّا بِتَخْصِيصِ الْكَبِيرِ الْمُتَعَالِ مِنْ فَضِيلَةِ النُّبُوَّةِ وَالرِّسَالَةِ وَالْخُلَّةِ وَالْمَحَبَّةِ وَالاصْطِفَاءِ وَالْإِسْرَاءِ وَالرُّؤْيَةِ۔ جب جمال و کمال کی وہ تمام خصلتیں وہی ہیں جن کو ہم نے ذکر کیا ہے اور ہم نے اپنے میں سے ایک کو دیکھا کہ وہ ایک یا دو خصلتوں کے ساتھ متصف ہے ہر زمانہ میں اگر وہ اس کے موافق ہیں نسب کے اعتبار سے، یا جمال کے اعتبار سے یا قوت کے اعتبار سے یا علم کے اعتبار سے یا حلم کے اعتبار سے یا شجاعت یا سماحت کے اعتبار سے، تاکہ اس کی قدرو منزلت بڑھے، اور اس کے نام کی مثال بیان کی جائے یا وہ ضرب المثل بن جائے، اور اس کے ساتھ وصف بیان کرکے دلوں میں اس کی عظمت و بڑائی ثابت کی جائے، دلوں میں اس کو ترجیحی مقام حاصل ہوجائے حالانکہ وہ گزشتہ زمانے سےہی بوسیدہ ہڈیاں بنی ہوئی ہوں چنانچہ تمہارا کیا خیال ہے اس شخص کے عظیم قدرو نزلت کے متعلق جس کے اندر یہ ساری خصلتیں جمع ہوگئی ہوں جسے نہ احاطہ شمار میں لایا جاسکتا ہےاورنہ اس کی تعبیر کوئی مقالہ ہی کرسکتا ہے، اور نہ کوئی کسب اور نہ ہی کسی حیلہ و تدبیر سے وہاں تک پہونچا جا سکتا ہے مگر اللہ تعالی کے خاص کرنے کى بنا پر نبوت و رسالت، خلت و محبت، اصطفاء، إسراء اور رؤیت کے ساتھ ۔ (اسراء کی رات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رؤیت باری تعالیٰ میں اختلاف پایا جاتا ہے، اور صحیح بات یہ ہے کہ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسراء کی رات اپنے رب کو نہیں دیکھا تھا۔) وَالْقُرْبِ وَالدُّنُوِّ وَالْوَحْيِ وَالشَّفَاعَةِ وَالْوَسِيلَةِ وَالْفَضِيلَةِ وَالدَّرَجَةِ الرَّفِيعَةِ وَالْمَقَامِ الْمَحْمُودِ وَالْبُرَاقِ وَالْمِعْرَاجِ وَالْبَعْثِ إِلَى الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ وَالصَّلَاةِ بِالْأَنْبِيَاءِ وَالشَّهَادَةِ بَيْنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْأُمَمِ وَسِيَادَةِ وَلَدِ آدَمَ وَلِوَاءِ الْحَمْدِ وَالْبِشَارَةِ وَالنِّذَارَةِ وَالْمَكَانَةِ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ وَالطَّاعَةِ ثُمَّ وَالْأَمَانَةِ وَالْهِدَايَةِ وَرَحْمةٍ للْعَالَمِينَ وَإعْطَاءِ الرِّضَى والسُّؤْلِ وَالْكَوْثَرِ وَسَمَاعِ الْقَوْلِ وَإِتمَامِ النِّعْمَةِ وَالْعَفْوِ عَمَّا تَقَدَّمَ وَمَا تَأَخَّرَ وَشَرْحِ الصَّدْرِ وَوَضْعِ الإِصْرِ وَرَفْعِ الذِّكْرِ وَعِزَّةِ النَّصْرِ وَنُزُولِ السَّكِينَةِ وَالتَّأْيِيدِ بِالْمَلَائِكَةِ وإيناء الْكِتَابِ وَالْحِكْمَةِ والسَّبْعِ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنِ الْعَظِيمِ وَتَزْكِيَهِ الْأُمَّةِ والدُّعَاءِ إِلَى اللَّهِ وَصَلَاةِ اللَّهِ تَعَالَى وَالْمَلَائِكَةِ وَالْحُكْمِ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاهُ اللَّهُ وَوَضْع الْإِصْرِ وَالْأَغْلَالِ عَنْهُمْ وَالْقَسَمِ بِاسْمِهِ وَإِجَابَةِ دَعْوَتِهِ وَتَكْلِيمِ الجَمَادَاتِ وَالْعُجْمِ وَإِحْيَاءِ الْمَوْتَى وَإِسْمَاعِ الصُّمِّ وَنَبْعِ الْمَاءِ مِنْ بَيْنَ أَصَابِعِهِ وَتَكْثِيرِ الْقَلِيلِ وَانْشِقَاقِ الْقَمَرِ وَرَدِّ الشَّمْسِ وَقَلْبِ الْأَعْيَانِ وَالنَّصْرِ بِالرُّعْبِ وَالاطِّلَاعِ عَلَى الْغَيْبِ وَظِلِّ الْغَمَامِ وَتَسْبِيحِ الْحَصَى وَإبْرَاءِ الآلامِ وَالعِصْمَةِ مِنَ النَّاسِ إلى مالا بحويه مُحْتَفِلٌ وَلَا يُحِيطُ بعلمه إلا ما نحه ذَلِكَ وَمُفُضِّلُهُ بِهِ لَا إِلَهَ غَيْرُهُ إِلَى مَا أَعَدَّ لَهُ فِي الدَّارِ الآخِرَةِ مِنْ مَنَازِلِ الْكَرَامَةِ وَدَرَجَاتِ الْقُدْسِ وَمَرَاتِبِ السَّعَادَةِ وَالْحُسْنَى وَالزّيادَةِ التي تَقِفُ دُونَهَا الْعُقُولُ وَيَحَارُ دُونَ إدْراكِهَا الْوَهْمُ‘‘۔ (اور اسى طرح خاص کرنے کى بنا پر) قرب و دنو کے ساتھ، وحی وشفاعت، وسیلہ و فضیلت، درجہ رفیعہ و مقام محمود کے ساتھ، اور براق و معراج کے ساتھ ، نیز کالے گور ے کی طرف مبعوث فرما کرکے، نبیوں کو نماز پڑھانے، تمام انبیاء اور امتوں کے مابین شہادت عطا کرکے، اولاد آدم کا سردار بنا کرکے، حمد کا جھنڈا دے کر، بشیر و نذیر بنا کرکے، عرش والے کے نزدیک مکان و منزلت دیکر، طاعت دیکر، امانت و ہدایت دے کر، رحمۃ للعالمین بناکر، اپنى خوشودی اور مانگى ہوئى چیز کو عطا کرکے، کوثر عطا کرکے، بات کو قبولیت عطا کرکے، نعمت تمام کرکے، اور اگلے پچھلے گناہوں کی معافی، شرح صدر، ذکر کى بلندی، مدد سے نوازنے، سکون و اطمینان کے نزول، فرشتوں سے مدد کرنے، کتاب و حکمت کے عطا کرنے، سورۃ الفاتحہ دینے، امت کے تزکیہ، اللہ کى طرف بلانے، اللہ کی رحمت، فرشتوں کی دعا، لوگوں کے درمیان اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کرنے، لوگوں کے اوپر سے بوجھ اور طوق کو ختم کرنے، اللہ کے نام سے قسم کھانے، دعا کى قبولیت، جانوروں اورجمادات سے بات کرنے، بہروں کو سنانے، انگلیوں کے درمیان سے چشمہ پھوٹنے، قلیل کو زیادہ کرنے، شق قمر، سورج کو لوٹانے (یہ صحیح نہیں ہے) چیزوں کى ماہیت بدل دینے، رعب کے ذریعہ مدد کرنے، غیب پر مطلع ہونے (یہ مطلق نہیں) بدلیوں کا سایہ کرنے، کنکریوں کے تسبیح پڑھنے، بیماروں کو شفا دینے، لوگوں سے محفوظ رکھنے، وغیرہ وغیرہ اوصاف کے ساتھ خاص کرکے بھی، جن (خصائص وفضائل) کے علم کا احاطہ نہیں کر سکتا ہے مگر صرف ان کا عطا کرنے والا اور ان کے ساتھ فضل ومرتبہ سے نوازنے والا ، اس کے علاوہ کوئی معبود حقیقی نہیں، اس کے ساتھ ساتھ اس نے آخرت میں کرامت اور قدس کے مقام اس کیلئے تیار کر رکھا ہے اسی طرح سعادت کے مراتب اور حسنى اور زیادتی کو بھی تیار کر رکھا ہے، جس کے ورے عقل ٹھہرجاتی ہے اور وہم و گمان حیران و پریشان رہتے ہیں۔ ( الشفا بتعريف حقوق المصطفى: ۱/ ۵۵-۵۷)

باب: تمام مخلوق کے لئے اللہ کے رسول ﷺ کی رسالت کی عمومیت کا بیان

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالی نے محمد ﷺ کو پوری دنیا کے لیے رسول بنا کر بھیجا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {قُلْ يَاأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ يُحْيِي وَيُمِيتُ فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ الَّذِي يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَكَلِمَاتِهِ وَاتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ} "آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو ! میں تم سب کی طرف سے اس اللہ کا بھیجا ہوا ہوں، جس کی بادشاہی تمام آسمانوں پر اور زمین میں ہے اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے، سو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاؤ اور اس کے نبی امی پر جو کہ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے کلمات پر ایمان رکھتا ہے اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پر آجاؤ"۔ [الاعراف: ۱۵۸] اور اللہ عز وجل نے فر مایا: {وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ} "ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لئے خوشخبریاں سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے ہاں مگر (یہ صحیح ہے) کہ لوگوں کی اکثریت بےعلم ہے"۔ [سبأ: ۲۸]

اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’ أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ مِنَ الأَنْبِيَاءِ قَبْلِي: نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ، وَجُعِلَتْ لِي الأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، وَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَدْرَكَتْهُ الصَّلاَةُ فَلْيُصَلِّ، وَأُحِلَّتْ لِي الغَنَائِمُ، وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً، وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ‘‘۔ مجھے پانچ ایسی چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں عطا کی گئی ہیں: (۱) ایک مہینے کی مسافت کے رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی ہے۔ (۲) میرے لیے پوری زمین مسجد اور پاک بنا دی گئی ہے، میری امت میں سے جسے (جہاں بھی) نماز مل جا ئے وہ (وہیں) نماز پڑھ لے۔ (۳) میرے لیے مال غنیمت حلال کیا گیا۔ (۴) نبی خاص کرکے اپنی قوموں کی طرف بھیجے جاتے تھے اور میں تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ (۵) مجھے شفاعت عطا کی گئی ہے۔ (صحیح بخاری: ۴۳۸ ، صحیح مسلم: ۵۲۱، سنن النسائی: ۴۳۲)

تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی محمد ﷺ کو تمام جن و انس کی طرف مبعوث فرمایا، جنوں نے جب قرآن کریم سنا تو اپنی قوم کو ڈرانے کے لئے نکل پڑے، جیسا کہ اللہ تعالی نے اپنے رسول کو قرآن مجید میں اس بات کی خبر دیتے ہوئے فرمایا: {وَإِذْ صَرَفْنَا إِلَيْكَ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ فَلَمَّا حَضَرُوهُ قَالُوا أَنْصِتُوا فَلَمَّا قُضِيَ وَلَّوْا إِلَى قَوْمِهِمْ مُنْذِرِينَ*۔ "اور یاد کرو! جبکہ ہم نے جنوں کی ایک جماعت کو تیری طرف متوجہ کیا کہ وہ قرآن سنیں، پس جب [نبی کے] پاس پہنچ گئے تو [ایک دوسرے سے] کہنے لگے خاموش ہو جاؤ پھر جب پڑھ کر ختم ہوگیا تو اپنی قوم کو خبردار کرنے کے لئے واپس لوٹ گئے"۔ قَالُوا يَاقَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا كِتَابًا أُنْزِلَ مِنْ بَعْدِ مُوسَى مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ وَإِلَى طَرِيقٍ مُسْتَقِيمٍ*۔ "کہنے لگے اے ہماری قوم! ہم نے یقیناً وہ کتاب سنی ہے جو موسیٰ [علیہ السلام] کے بعد نازل کی گئی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے جو سچے دین کی اور راہ راست کی طرف رہنمائی کرتی ہے"۔ يَاقَوْمَنَا أَجِيبُوا دَاعِيَ اللَّهِ وَآمِنُوا بِهِ يَغْفِرْ لَكُمْ مِنْ ذُنُوبِكُمْ وَيُجِرْكُمْ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ *۔ "اے ہماری قوم! اللہ کے بلانے والے کا کہا مانو، اس پر ایمان ﻻؤ، تو اللہ تمہار ے گناہ بخش د ے گا اور تمہیں المناک عذاب سے پناہ د ے گا۔ وَمَنْ لَا يُجِبْ دَاعِيَ اللَّهِ فَلَيْسَ بِمُعْجِزٍ فِي الْأَرْضِ وَلَيْسَ لَهُ مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءُ أُولَئِكَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ} اور جو شخص اللہ کے بلانے والے کا کہا نہ مانے گا پس وہ زمین میں کہیں [بھاگ کر اللہ کو] عاجز نہیں کر سکتا، نہ اللہ کے سوا اور کوئی اس کے مدد گار ہوں گے، یہ لوگ کھلی گمراہی میں ہیں"۔ [الأحقاف: ۲۹- ۳۲]

اور اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء و رسل علیہم السلام سے یہ عہد ومیثاق لیا تھا کہ جب محمد ﷺ کی بعثت ہوگی اور آپ لوگ با حیات ہوں گے تو ان پر ایمان لانا آپ لوگوں کے لئے واجب ہوگا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: { وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ لَمَا آتَيْتُكُمْ مِنْ كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَ لَتَنْصُرُنَّهُ قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ إِصْرِي قَالُوا أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُوا وَأَنَا مَعَكُمْ مِنَ الشَّاهِدِينَ} "جب اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے عہد لیا کہ جو کچھ میں تمہیں کتاب و حکمت سے دوں پھر تمہارے پاس وہ رسول آئے جو تمہار ے پاس کی چیز کو سچ بتائے تو تمہار ے لئے اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا ضروری ہے، فرمایا کہ تم اس کے اقراری ہو اور اس پر میرا ذمہ لے رہے ہو؟ سب نے کہا کہ ہمیں اقرار ہے۔ فرمایا تو اب گواہ رہو اور خود میں بھی تمہار ے ساتھ گواہوں میں ہوں"۔ [آل عمران: ۸۱] علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں: ’’لم يبعث الله عز وجل نبيًّا، آدمَ فمن بعدَه إلا أخذ عليه العهدَ في محمد: لئن بعث وهو حيّ ليؤمنن به ولينصرَنّه ويأمرُه فيأخذ العهدَ على قومه، فقال: {وإذ أخذ الله ميثاق النبيين لما آتيتكم من كتاب وحكمة}(آل عمران : ۸۱) الآية‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے آدم اور ان کے بعد کے ہر نبی سے محمد کے سلسلے میں یہ عہد لیا ہے کہ ان کی زندگی ہی میں اگر وہ بھیجے گئے تو وہ ان پر ایمان لائے، ان کی مد د کر ے ( اپنی امت کو بھی ) اسی کی تلقین کر ے اور اپنی قوم سے اس کا عہد لے، چناں چہ اللہ تعالى کا فرمان ہے: "جب اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے عہد لیا کہ جو کچھ میں تمہیں کتاب و حکمت سے دوں" پورى آیت [آل عمران: 81]. (التفسیر للطبری : ۵/ ۵۴۰)

اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’دَعْوَةِ أَبِي إِبْرَاهِيمَ وَبِشَارَةِ عِيسَى قَوْمَهُ، وَرُؤْيَا أُمِّي الَّتِي رَأَتْ أَنَّهُ خَرَجَ مِنْهَا نُورٌ أَضَاءَتْ لَهُ قُصُورُ الشَّامِ‘‘۔ یہ میرے باپ ابراہیم کی دعا، عیسیٰ کا اپنی قوم کو بشارت دینا اور میری ماں کا دیکھا ہوا خواب ہے کہ اس سے ایسا نور نکلا کہ جس کے لئے شام کے محل روشن ہو گئے۔ (مسند أحمد: ۱۷۱۶۳، الرد على الجهمية للدارمی: ۲۶۱، السنة لابن اابی عاصم: ۴۱۸، السنة لعبد اللہ بن أحمد: ۸۶۵، صحیح ابن حبان: ۶۴۰۴، مسند الشاميين للطبرانی: ۱۴۵۵) اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے: "میں اپنے باپ ابراہیم کی دعا ہوں"۔ در اصل اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ہمیں ابراہیم علیہ السلام کی دعا بتانا چاہتا ہے، اور وہ دعا رب کے اس فرمان میں مذکور ہے: {رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} "اے ہمارے رب! ان میں، انہیں میں سے رسول بھیج، جو ان کے پاس تیری آیتیں پڑھے، انہیں کتاب و حکمت سکھائے اور انہیں پاک کر ے، یقیناً تو غلبہ والا اور حکمت والا ہے"۔ [البقرۃ: ۱۲۹]

اور ہمارا ایمان ہے کہ تمام نبیوں نے اپنی اپنی قوم کو نبی ﷺ کی بابت خوشخبری دی ہے، اور تورات و انجیل میں نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کی تمام صفات کا تذکرہ وارد ہوا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ ۭ وَالَّذِيْنَ مَعَهٗٓ اَشِدَّاۗءُ عَلَي الْكُفَّارِ رُحَمَاۗءُ بَيْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ و َرِضْوَانًا ۡ سِيْمَاهُمْ فِيْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ ۭ ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ ٻوَمَثَلُهُمْ فِي الْاِنْجِيْلِ ۾ كَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْــــَٔهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسْتَغْلَــظَ فَاسْتَوٰى عَلٰي سُوْقِهٖ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ ۭ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْهُمْ مَّغْفِرَةً وَّاَجْرًا عَظِيْمًا} "محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں کافروں پر سخت ہیں آپس میں رحمدل ہیں، تو انہیں دیکھے گا رکوع اور سجد ے کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں ہیں، ان کا نشان ان کے چہروں پر سجدوں کے اثر سے ہے، ان کی یہی مثال تورات میں ہے، اور ان کی مثال انجیل میں ہے مثل اس کھیتی کے جس نے انکھوا نکالا پھر اسے مضبوط کیا اور وہ موٹا ہوگیا پھر اپنے تنے پر سید ھا کھڑا ہوگیا اور کسانوں کو خوش کرنے لگا تاکہ ان کی وجہ سے کافروں کو چڑائے، ان ایمان والوں سے اللہ نے مغفرت کا اور بہت بڑ ے ثواب کا وعدہ کیا ہے"۔ [الفتح: ۲۹] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ يَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَ عَزَّرُوهُ وَ نَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنْزِلَ مَعَهُ أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ} "جو لوگ ایسے رسول نبی امی کا اتباع کرتے ہیں جن کو وہ لوگ اپنے پاس تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں وہ ان کو نیک باتوں کا حکم فرماتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے ہیں اور پاکیزہ چیزوں کو حلال بناتے ہیں اور گندی چیزوں کو ان پر حرام فرماتے ہیں اور ان لوگوں پر جو بوجھ اور طوق تھے ان کو دور کرتے ہیں۔ سو جو لوگ اس نبی پر ایمان لاتے ہیں اور ان کی حمایت کرتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں اور اس نور کا اتباع کرتے ہیں جو ان کے ساتھ بھیجا گیا ہے، ایسے لوگ پوری فلاح پانے والے ہیں"۔ [الأعراف: ۱۵۷] عیسیٰ علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو آپ ﷺ کی بابت خوش خبری سنایا تھا، عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو جو بات آپ ﷺ کی بابت بتایا تھا اسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن مجید میں بایں الفاظ ذکر کیا ہے: {يٰبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ فَلَمَّا جَاءَهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ قَالُوا هَذَا سِحْرٌ مُبِينٌ } "اے بنی اسرائیل ! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں مجھ سے پہلے کی کتاب تورات کی میں تصدیق کرنے والا ہوں اور اپنے بعد آنے والے ایک رسول کی میں تمہیں خوشخبری سنانے والا ہوں جن کا نام احمد ہے پھر جب وہ انکے پاس کھلی دلیلیں لائے تو کہنے لگے، یہ تو کھلا جادو ہے"۔ [الصف: ۶] بنی اسرائیل نبی صلى اللہ علیہ وسلم کو ویسے ہی جانتے تھے جیسے وہ اپنے بچوں کو جانتے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ وَإِنَّ فَرِيقًا مِنْهُمْ لَيَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ} "جنہیں ہم نے کتاب دی وہ تو اسے ایسا پہچانتے ہیں جیسے کوئی اپنے بچوں کو پہچانے، ان کی ایک جماعت حق کو پہچان کر پھر چھپاتی ہے"۔ [ البقرۃ: ۱۴۶]

اہل کتاب کے نزدیک نبی ﷺ کی نبوت کی سب سے معروف نشانی وعلامت آپ ﷺ کے کندھے پر مہر نبوت کا موجود ہونا ہے، جیسا کہ سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ’’ثُمَّ قُمْتُ خَلْفَ ظَهْرِهِ، فَنَظَرْتُ إِلَى خَاتَمِ النُّبُوَّةِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ، مِثْلَ زِرِّ الحَجَلَةِ‘‘۔ پھر میں ان کے پیٹھ کے پیچھے کھڑا ہوا تو میں ان کے دونوں کندھوں کے در میان کبوتری کے انڈ ے کے مثل نبوت کی مہر دیکھا۔ ( صحیح بخاری: ۱۹۰، صحیح مسلم: ۲۳۴۵، جامع الترمذی: ۳۶۴۳)

اور جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں کہ: ’’وَرَأَيْتُ الْخَاتَمَ عِنْدَ كَتِفِهِ مِثْلَ بَيْضَةِ الْحَمَامَةِ يُشْبِهُ جَسَدَهُ‘‘۔ میں نے کبوتری کے انڈ ے کے مثل ان کے کندھے کے پاس مہر دیکھا جو ان کے جسم کے مشابہ تھا۔ (صحیح مسلم: ۲۳۴۴، جامع الترمذی: ۳۶۴۴، سنن النسائی: ۵۱۱۴)

اور ہم آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کی عمومیت پر ایمان رکھتے ہیں، اسی لئے آپ ﷺ نے بادشاہوں اور سرداروں کے پاس کتابیں اور خطوط بھیجا، جس میں آپ ﷺ نے انہیں اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت اور آپ ﷺ کی رسالت پر ایمان لانے اور آپ کی تصدیق کرنے کی دعوت دی تھی، ابو بردہ اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ: ’’ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَنْطَلِقَ إِلَى أَرْضِ النَّجَاشِيِّ - فَذَكَرَ حَدِيثَهُ - قَالَ النَّجَاشِيُّ: أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَّهُ الَّذِي بَشَّرَ بِهِ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، وَلَوْلَا مَا أَنَا فِيهِ مِنَ الْمُلْكِ لَأَتَيْتُهُ حَتَّى أَحْمِلَ نَعْلَيْهِ‘‘۔ اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں نجاشی کی سر زمین میں چلے جانے کا حکم دیا تو نجاشی نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور وہ وہی شخص ہیں جن کی بشارت عیسیٰ بن مریم نے دی ہے اور اگر میں سلطنت میں نہ پھنسا ہوتا تو میں ان کے پاس آتا یہاں تک کہ میں ان کی جوتیاں اٹھاتا۔ (سنن أبی داود: ۳۲۰۵، مصنف ابن ابی شیبۃ: ۳۷۷۹۵، المنتخب من مسند عبد بن حميد: ۵۵۰، الآحاد والمثاني لابن أبی عاصم: ۳۶۶، مسند الرویانی: ۵۰۲، المستدرك على الصحيحين للحاکم: ۳۲۰۸)

اور اللہ کے رسول ﷺ کی بابت جب ہرقل کو پتہ چلا تو اس نے کہا: ’’قَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ أَنَّهُ خَارِجٌ، وَلَكِنْ لَمْ أَظُنَّ أَنَّهُ مِنْكُمْ، وَإِنْ يَكُ مَا قُلْتَ حَقًّا، فَيُوشِكُ أَنْ يَمْلِكَ مَوْضِعَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ وَلَوْ أَرْجُو أَنْ أَخْلُصَ إِلَيْهِ، لَتَجَشَّمْتُ لُقِيَّهُ، وَلَوْ كُنْتُ عِنْدَهُ لَغَسَلْتُ قَدَمَيْهِ‘‘۔ میں تو یہ سمجھتا تھا کہ وہ نکلنے والا ہوگا لیکن یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ تم میں کا (کوئی ) ہوگا اگر تمہاری بات صحیح ہے توعنقریب وہ میر ے ان دونوں قدموں کے مقام پر حکومت کر ے گا، اگر مجھے ان تک پہنچنے کی توقع ہوتی تو پہنچ کر میں ان سے ملاقات کرتا اور اگر میں ان کے پاس ہوتا تو ان کے پاؤں دھوتا۔ (صحیح بخاری: ۲۹۴۱، سنن ابی داود: ۵۱۳۶)

حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا کہ’’جَاءَ العَاقِبُ وَالسَّيِّدُ، صَاحِبَا نَجْرَانَ، إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدَانِ أَنْ يُلاَعِنَاهُ، قَالَ: فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: لاَ تَفْعَلْ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ كَانَ نَبِيًّا فَلاَعَنَّا لاَ نُفْلِحُ نَحْنُ، وَلاَ عَقِبُنَا مِنْ بَعْدِنَا، قَالاَ: إِنَّا نُعْطِيكَ مَا سَأَلْتَنَا، وَابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا أَمِينًا، وَلاَ تَبْعَثْ مَعَنَا إِلَّا أَمِينًا. فَقَالَ :لَأَبْعَثَنَّ مَعَكُمْ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ، فَاسْتَشْرَفَ لَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: قُمْ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الجَرَّاحِ! فَلَمَّا قَامَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذَا أَمِينُ هَذِهِ الأُمَّةِ‘‘۔ نجران کے دونوں سردار عاقب اور سید، اللہ کے رسول ﷺ سے مباہلہ کرنے کے ارادے سے آئے‘ فرماتے ہیں: کہ ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا کہ ایسا نہ کرو، اللہ کی قسم! اگر یہ نبی ہوئے اور ہم نے ان سے مباہلہ کرلیا تو ہم کامیاب نہیں ہوسکتے اور نہ ہمارے بعد ہماری نسلیں کامیاب ہوں گی، ان دونوں نے کہا کہ جو آپ مانگیں وہ ہم آپ کو دیں گے،آپ ہمارے ساتھ کوئی امانت دار آدمی بھیج دیجئے، ہمارے ساتھ امانت دار ہی بھیجئے گا، آپ نے فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ایک ایسا آدمی بھیجوں گا جو امانت دار ہو گا بلکہ پورا پورا امانت دار ہو گا، صحابہ رضی اللہ عنہم اللہ اس آدمى کے مشتاق ہوگے یہاں تکہ کہ آپ نے فرمایا کہ اے ابوعبیدہ بن الجراح! اٹھو، جب وہ کھڑے ہوگئے تو اللہ کے رسول ﷺنے فرمایا کہ یہ اس امت کے امین ہیں۔ (صحیح بخاری: ۴۳۸۰ ، صحیح مسلم: ۲۴۲۰ ، جامع الترمذی: ۳۷۹۶، سنن ابن ماجہ: ۱۳۵)

اور ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کے لئے پوری زمین کو سمیٹ دیا تو آپ نے وہ تمام علاقے دیکھے جہاں تک امت محمدیہ کی حکومت پہونچے گی،اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’إِنَّ اللهَ زَوَى لِي الْأَرْضَ، فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا، وَإِنَّ أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مُلْكُهَا مَا زُوِيَ لِي مِنْهَا‘‘۔ اللہ نے میرے لئے زمین کو سمیٹ دیا تو میں نے اس کا پورب اور پچھم دیکھا اور میری امت کی حکومت وہاں تک پہنچے گی جہاں تک زمین میرے لئے سمیٹی گئی تھی۔ (صحیح مسلم: ۲۸۸۹ ، سنن أبی داود: ۴۲۵۲، جامع الترمذی: ۲۱۷۶، سنن ابن ماجہ: ۳۹۵۲)

یہودی و عیسائی علماء کى ایک بڑى تعداد کا اسلام قبول کرنا بھی آپ ﷺ کے رسول ہونے کی ایک دلیل ہے، بلکہ بے شمار اہل کتاب نے اسلام قبول کیا ہے۔

اوراسی طرح آپ ﷺ کا روم سے غزوہ کرنا اوراس کے بعد اپنے صحابہ کو فارس اور روم سے غزوہ کی تلقین کرنا بھی آپ ﷺ کے نبوت و رسالت کی دلیل ہے۔

باب: رسالات الہیہ اور انبیاء ورسل علیہم السلام کے مخالفین کى باتوں کا بیان

اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ} "اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن بہت سے شیطان پیدا کئے تھے کچھ آدمی اور کچھ جن, جن میں سے بعض بعضوں کو چکنی چپڑی باتوں کا وسوسہ ڈالتے رہتے تھے تاکہ ان کو دھوکا میں ڈال دیں اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو یہ ایسے کام نہ کرسکتے, سو ان لوگوں کو اور جو کچھ یہ الزام تراشی کر رہے ہیں اس کو آپ رہنے دیجئے:۔ [الانعام: ۱۱۲] ایک اور مقام پر اللہ عز وجل نے فر مایا: {وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا مِنَ الْمُجْرِمِينَ وَكَفَى بِرَبِّكَ هَادِيًا وَنَصِيرًا} "اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن گناہگاروں کو بنادیا ہے اور تیرا رب بطور ہادی اور مدد گار کافی ہے"۔ [الفرقان: ۳۱]

جس طرح حکمت الہیہ کا تقاضا ہے کہ اپنے فضل سے وہ جسے چاہے ہدایت د ے اور اپنے عدل سےجسے چاہے گمراہ کرد ے اسی طرح یہ بھی تقاضا ہے کہ ہر نبی کا ایک دشمن ہو، اور یہ کہ ان اعداء کے مابین ایک دوسرے کے لئے باطل پر جمے رہنے کى تلقین ہو اوران کى باتیں باہم موافق ہوں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {مَا يُقَالُ لَكَ إِلَّا مَا قَدْ قِيلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ إِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَةٍ وَذُو عِقَابٍ أَلِيمٍ} "آپ سے وہی کہا جاتا ہے جو آپ سے پہلے کے رسولوں سے بھی کہا گیا ہے یقیناً آپ کا رب معافی والا اور دردناک عذاب والا ہے"۔ [فصلت: ۴۳] چناں چہ ہر امت میں سرداروں کی باتیں یکساں و برابر تھیں، کبھی وہ نبی کو کو جادو گر کہتے تو کبھی کاہن کہتے اور کبھی جھوٹا بھی کہا کرتے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرعون کی اس بات کا ذکر قرآن میں کیا ہے جو اس نے موسیٰ علیہ السلام کو کہا تھا، فر مایا: {وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَى بِآيَاتِنَا وَسُلْطَانٍ مُبِينٍ*۔ "اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی آیتوں اور کھلی دلیلوں کے ساتھ بھیجا۔ إِلَى فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَقَارُونَ فَقَالُوا سَاحِرٌ كَذَّابٌ } فرعون ہامان اور قارون کی طرف تو انہوں نے کہا (یہ تو) جادوگر اور جھوٹا ہے"۔ [غافر: ۲۳- ۲۴] اسی طرح کبھی کبھی نبی کی لائی ہوئی نشانیوں کا بھی انکار کرتے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فر ماتا ہے: { قَالُوا يَاهُودُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ وَمَا نَحْنُ بِتَارِكِي آلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ} "انہوں نے کہا اے ہود ! تو ہمارے پاس کوئی دلیل تو لایا نہیں اور ہم صرف تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں اور نہ ہم تجھ پر ایمان لانے والے ہیں"۔ [ھود: ۵۳] یہ دشمنان انبیاء ورسل کبھی کبھی نبی کے بارے میں کہتے کہ یہ اللہ تعالیٰ پرافتراء پردازی کرتا ہے، اللہ تعالى نے ان کى اس خبیث اور بے تکی بات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: {وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ قَالُوا مَا هَذَا إِلَّا رَجُلٌ يُرِيدُ أَنْ يَصُدَّكُمْ عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُكُمْ وَقَالُوا مَا هَذَا إِلَّا إِفْكٌ مُفْتَرًى وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُمْ إِنْ هَذَا إِلَّا سِحْرٌ مُبِينٌ} "اور جب ان کے سامنے ہماری صاف صاف آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ ایسا شخص ہے جو تمہیں تمہار ے باپ دادا کے معبودوں سے روک دینا چاہتا ہے (اس کے سوا کوئی بات نہیں)، اور کہتے ہیں یہ تو گھڑا ہوا جھوٹ ہے اور حق ان کے پاس آچکا ہے پھر بھی کافر یہی کہتے رہے کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے"۔ [سبأ: ۴۳]

اسی طرح یہ دشمنان اسلام کبھی کبھی نبی کو پاگل اور مجنو بھی کہتے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَقَالُوا يَاأَيُّهَا الَّذِي نُزِّلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ إِنَّكَ لَمَجْنُونٌ} "انہوں نے کہا اے وہ شخص جس پر قرآن اتارا گیا ہے یقیناً تو تو کوئی دیوانہ ہے"۔ [الحجر: ۶] ان کی اس بات کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے ایک اور مقام پر ان الفاظ میں کیا ہے: {قَالَ إِنَّ رَسُولَكُمُ الَّذِي أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ لَمَجْنُونٌ } "(فرعون نے) کہا: (لوگو ! ) تمہارا یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے یہ تو یقیناً دیوانہ ہے"۔ [الشعراء: ۲۷] ہر گز نہیں اللہ کے سارے رسول علیہ السلام لوگوں میں سب سے زیادہ عقل ودانش والے اور سب سے زیادہ پاک و صاف دل والے تھے۔

اور کبھی کبھی وہ لوگ آپ ﷺ کی دعوت کے مقابلے اپنے کرتوت اور عقید ے پر کبرو غرور کرتے، جب آپ ﷺ انہیں اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کی طرف بلاتے تو وہ اپنے معبودوں کے سامنے جھکنے اور ان کا سجد ے کرنے کو ترجیح دیتے، ان کے اس عقید ے پر اللہ تعالیٰ نےخبر دیتے ہوئے فرمایا: {قَالُوا أَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ وَنَذَرَ مَا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُنَا فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ} "انہوں نے کہا کہ کیا ہمار ے پاس اس واسطے آئے ہیں کہ ہم صرف اللہ ہی کی عبادت کریں اور جس کو ہمار ے باپ دادا پوجتے تھے ان کو چھوڑ دیں پس ہم کو جس عذاب کی دھمکی دیتے ہو اس کو ہمارے پاس منگوا دو اگر تم سچے ہو"۔ [الاعراف: ۷۰] اور انہوں نے فر مایا: {أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ} "کیا اس نے اتنے سارے معبودوں کا ایک ہی معبود کردیا واقعی یہ بہت ہی عجیب بات ہے"۔ [ص: ۵]

اسی طرح کبھی کبھی وہ آپ ﷺ کو ان کی دعوت کا جواب دیتے تھے کیوں کہ وہ بھی انہیں کی طرح ایک انسان تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {فَقَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ قَوْمِهِ مَا نَرَاكَ إِلَّا بَشَرًا مِثْلَنَا} "اس کی قوم کے کافروں کے سرداروں نے جواب دیا کہ ہم تو تجھے اپنے جیسا انسان ہی دیکھتے ہیں"۔ [ھود: ۲۷] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {لَاهِيَةً قُلُوبُهُمْ وَأَسَرُّوا النَّجْوَى الَّذِينَ ظَلَمُوا هَلْ هَذَا إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ أَفَتَأْتُونَ السِّحْرَ وَأَنْتُمْ تُبْصِرُونَ} "ان کے دل بالکل غافل ہیں اور ان ظالموں نے چپکے چپکے سرگوشیاں کیں کہ وہ تم ہی جیسا انسان ہے پھر کیا وجہ ہے جو تم آنکھوں دیکھتے جادو میں آجاتے ہو"۔ [الانبیاء: ۳]

کبرو غرور اور عناد کی بنیاد پر کبھی کبھی یہ دشمنان اسلام ان نبیوں سے ایسے امور کا مطالبہ کر لیا کرتے تھے جو کسی مخلوق کے بس میں نہیں ہوتے، کبھی انہوں نے نبی ﷺ سے زمین سے ایک چشمہ نکالنے کا مطالبہ کیا، تو کبھی کہا کہ تمہارے لئے ایک باغ ہو جائے اور اس میں نہریں جاری ہوں، کبھی کہا کہ ہم پر آسمان سے موسلادھار بارش ہو، تو کبھی یہ مطالبہ کیا کہ اللہ اور فرشتوں کو ہمارے پاس لے آؤ، کبھی یہ مطالبہ کیا کہ نبی ﷺ کے لئے سونے کا ایک گھر تیار ہو جائے یا آپ خود آسمان پر چڑھ جا ئیں یا ان پر کوئی کتاب نازل ہو جائے، ان تمام کا تذکرہ کرتے ہو ئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَقَالُوا لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنْبُوعًا*۔ "انہوں نے کہا کہ ہم آپ پر ہرگز ایمان ﻻنے کے نہیں تا وقتیکہ آپ ہمارے لئے زمین سے کوئی چشمہ جاری نہ کردیں۔ أَوْ تَكُونَ لَكَ جَنَّةٌ مِنْ نَخِيلٍ وَعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْأَنْهَارَ خِلَالَهَا تَفْجِيرًا*۔ یا خود آپ کے لئے ہی کوئی باغ ہو کھجوروں اور انگوروں کا اور اس کے درمیان آپ بہت سی نہریں جاری کر دکھائیں۔ أَوْ تُسْقِطَ السَّمَاءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا أَوْ تَأْتِيَ بِاللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ قَبِيلًا*۔ یا آپ آسمان کو ہم پر ٹکڑ ے ٹکڑ ے کرکے گرا دیں جیسا کہ آپ کا گمان ہے یا آپ خود اللہ تعالیٰ کو اور فرشتوں کو ہمارے سامنے ﻻکھڑا کریں۔ أَوْ يَكُونَ لَكَ بَيْتٌ مِنْ زُخْرُفٍ أَوْ تَرْقَى فِي السَّمَاءِ وَلَنْ نُؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتَّى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتَابًا نَقْرَؤُهُ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَسُولًا۔ یا آپ کے اپنے لئے کوئی سونے کا گھر ہوجائے یا آپ آسمان پر چڑھ جائیں اور ہم تو آپ کے چڑھ جانے کا بھی اس وقت تک ہرگز یقین نہیں کریں گے جب تک کہ آپ ہم پر کوئی کتاب نہ اتار ﻻئیں جسے ہم خود پڑھ لیں، آپ جواب دے دیں کہ میرا رب پاک ہے میں تو صرف ایک انسان ہی ہوں جو رسول بنایا گیا ہوں۔ وَمَا مَنَعَ النَّاسَ أَنْ يُؤْمِنُوا إِذْ جَاءَهُمُ الْهُدَى إِلَّا أَنْ قَالُوا أَبَعَثَ اللَّهُ بَشَرًا رَسُولًا *۔ لوگوں کے پاس ہدایت پہنچ چکنے کے بعد ایمان سے روکنے والی صرف یہی چیز رہی کہ انہوں نے کہا کیا اللہ نے ایک انسان کو ہی رسول بنا کر بھیجا؟ قُلْ لَوْ كَانَ فِي الْأَرْضِ مَلَائِكَةٌ يَمْشُونَ مُطْمَئِنِّينَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاءِ مَلَكًا رَسُولًا} آپ کہہ دیں کہ اگر زمین میں فرشتے چلتے پھرتے اور رہتے بستے ہوتے تو ہم بھی ان کے پاس کسی آسمانی فرشتے ہی کو رسول بنا کر بھیجتے"۔ [الإسراء: ۹۰۔ ۹۵]

اسی طرح کبھی یہ دشمنان اسلام نبی ﷺ سے کہتے کہ آپ جس عذاب کا وعدہ ہم سے کررہے ہیں اسے لاکر دکھاؤ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {قَالُوا أَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ وَنَذَرَ مَا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُنَا فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ} "انہوں نے کہا کہ کیا ہمار ے پاس اس واسطے آئے ہیں کہ ہم صرف اللہ ہی کی عبادت کریں اور جس کو ہمار ے باپ دادا پوجتے تھے ان کو چھوڑ دیں پس ہم کو جس عذاب کی دھمکی دیتے ہو اس کو ہمار ے پاس منگوا دو اگر تم سچے ہو"۔ [الاعراف: ۷۰] اور اللہ عز وجل نے فر مایا: {فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ وَقَالُوا يَاصَالِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ} "پس انہوں نے اس اونٹنی کو مار ڈالا اور اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی اور کہنے لگے کہ اے صالح ! جس کی آپ ہم کو دھمکی دیتے تھے اس کو منگوائیے اگر آپ پیغمبر ہیں"۔ [الاعراف: ۷۷]

اسی طرح کبھی کبھار یہ دشمنان رسول ﷺ پر گمراہ اور پاگل ہونے کا الزام لگاتے تھے، جیسا کہ اس کا تذکرہ ان کے اس قول میں ہے جس کا بیان اللہ تعالى نے اپنے اس ارشاد میں کیا ہے: {قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ قَوْمِهِ إِنَّا لَنَرَاكَ فِي سَفَاهَةٍ وَإِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكَاذِبِينَ } "ان کی قوم میں جو بڑ ے لوگ کافر تھے انہوں نے کہا ہم تم کو کم عقلی میں دیکھتے ہیں اور ہم بیشک تم کو جھوٹے لوگوں میں سمجھتے ہیں"۔ [الاعراف: ۶۶]

یہ دشمنان رسول کبھی کبھی اپنے ساتھیوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہو ئے کہتے تھے کہ یہ قرآن نہ سنو بلکہ جب اس کا بیان ہو یا کہیں اسے پڑھا جا ئے تو شور مچاؤ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَا تَسْمَعُوا لِهَذَا الْقُرْآنِ وَالْغَوْا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُونَ} "اور کافروں نے کہا: اس قرآن کی سنو ہی مت (اس کے پڑھے جانے کے وقت) اوراس کے بارے میں بےہودہ گوئی کرو کیا عجب کہ تم غالب آجاؤ"۔ [فصلت: ۲۶]

اور کبھی کبھی وہ رسول کو ان کے سامنے ہی جھوٹا کہتے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں با خبر کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ لوگ کہتے ہیں: {وَإِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكَاذِبِينَ} "اور ہم بیشک تم کو جھوٹے لوگوں میں سمجھتے ہیں" [الأعراف: ۶۶] اور اللہ کے رسول ﷺ پر الزام لگاتے تھے کہ انہیں ایک انسان سکھاتا ہے، اور ان پر من جانب اللہ کوئی وحی نہیں آتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّمَا يُعَلِّمُهُ بَشَرٌ لِسَانُ الَّذِي يُلْحِدُونَ إِلَيْهِ أَعْجَمِيٌّ وَهَذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُبِينٌ} "ہمیں بخوبی علم ہے کہ یہ کافر کہتے ہیں کہ اسے تو ایک آدمی سکھاتا ہے اس کی زبان جس کی طرف یہ نسبت کر رہے ہیں عجمی ہے اور یہ قرآن تو صاف عربی زبان میں ہے"۔ [النحل: ۱۰۳]

یہ کفار صرف اس بنا پر رسول ﷺ سے اعراض کرتے ہیں کہ ان کے پیرو کار ضعیف ہیں، جیسا کہ قوم نوح کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ تعالی نے فرمایا: {فَقَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ قَوْمِهِ مَا نَرَاكَ إِلَّا بَشَرًا مِثْلَنَا وَمَا نَرَاكَ اتَّبَعَكَ إِلَّا الَّذِينَ هُمْ أَرَاذِلُنَا بَادِيَ الرَّأْيِ وَمَا نَرَى لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍ بَلْ نَظُنُّكُمْ كَاذِبِينَ} "اس کی قوم کے کافروں کے سرداروں نے جواب دیا کہ ہم تو تجھے اپنے جیسا انسان ہی دیکھتے ہیں اور تیرے تابعداروں کو بھی ہم دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ واضح طور پر سوائے نیچ لوگوں کے اور کوئی نہیں جو بےسوچے سمجھے (تمہاری پیروی کر رہے ہیں) ہم تو تمہاری کسی قسم کی برتری اپنے اوپر نہیں دیکھ رہے، بلکہ ہم تو تمہیں جھوٹا سمجھ رہے ہیں"۔ [ھود: ۲۷] ہرقل نے ابو سفیان سے کہا تھا کہ ’’وَسَأَلْتُكَ: أَشْرَافُ النَّاسِ يَتَّبِعُونَهُ أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ، فَزَعَمْتَ أَنَّ ضُعَفَاءَهُمُ اتَّبَعُوهُ، وَهُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ‘‘۔ اور میں نے تم سے پوچھا کہ لوگوں کے سرداران اس کی اتباع کرتے ہیں یا ان میں کے کمزور تو تم نے جواب دیا کہ ان میں کے کمزور لوگ ہی ان کی اتباع کرتے ہیں اور وہی رسولوں کے پیرو کار ہیں"۔ (صحیح بخاری: ۷، صحیح مسلم: ۱۷۷۳)

اسی طرح کبھی کبھی وہ رسولوں کا مذاق اڑاتے اور ان کے ساتھ مسخراپن کیا کرتے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {قُلْ أَبِاللَّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ} "کہہ دیجئے کہ اللہ اس کی آیتیں اور اس کا رسول ہی تمہار ے ہنسی مذاق کے لئے رہ گئے ہیں؟" [التوبہ: ۶۵] اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بھی فرمایا: {وَيَصْنَعُ الْفُلْكَ ۣ وَكُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِهٖ سَخِرُوْا مِنْهُ ۭقَالَ اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُوْنَ} "وہ (نوح) کشتی بنانے لگے ان کی قوم کے جو سردار ان کے پاس سے گزر ے وہ ان کا مذاق اڑاتے وہ کہتے اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو تو ہم بھی تم پر ایک دن ہنسیں گے، جیسے تم ہم پر ہنستے ہو"۔ [ھود: ۳۸] بسا اوقات وہ رسول کو دھوکہ دیتے تو بسا اوقات رسول سے مداہنت کی توقع رکھتے یا اپنى طرف رسول کے جھکاؤ کى امید رکھتے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ} "وہ چاہتے ہیں کہ تو ذرا ڈھیلا ہو تو یہ بھی ڈھیلے پڑجائیں"۔ [القلم: ۹] اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {وَلَوْلَا أَنْ ثَبَّتْنَاكَ لَقَدْ كِدْتَ تَرْكَنُ إِلَيْهِمْ شَيْئًا قَلِيلًا} "اگر ہم آپ کو ثابت قدم نہ رکھتے تو بہت ممکن تھا کہ ان کی طرف قدر ے قلیل مائل ہوہی جاتے"۔ [الاسراء: ۷۴]

اور کبھی کبھی وہ لوگ نبی کے متعلق اوچھى باتیں کرتے جیسا کہ فرعون نے موسى علیہ السلام کے متعلق کیا جس کا ذکر اللہ تعالى کے اس فرمان میں ہے: {أَمْ أَنَا خَيْرٌ مِنْ هَذَا الَّذِي هُوَ مَهِينٌ وَلَا يَكَادُ يُبِينُ} "بلکہ میں بہتر ہوں بہ نسبت اس کے جو بے توقیر ہے اور صاف بول بھی نہیں سکتا"۔ [الزخرف: ۵۲ ]

اور ابو سفیان نے۔ شام میں۔ ہمارے نبی محمد ﷺ کے بارے میں کہا تھا کہ ’’ فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي حِينَ خَرَجْنَا: لَقَدْ أَمِرَ أَمْرُ ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ، إِنَّهُ لَيَخَافُهُ مَلِكُ بَنِي الأَصْفَرِ‘‘۔ جب ہم نکلے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ابن ابی کبشہ کا معاملہ تو اب اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ بنی الاصفر (رومیوں) کا بادشاہ (ہرقل) بھی اس سے ڈرنے لگا۔ (صحیح بخاری: ۴۵۵۳، صحیح مسلم: ۱۷۷۳، جامع الترمذی: ۲۷۱۷)

اسی طرح کبھی کبھی سرداران قوم اپنے ہی نبی کو اپنی سر زمین سے نکال دینے کی دھمکی دیا کرتے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قوم شعیب کے سلسلے میں فرمایا: {قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا مِنْ قَوْمِهِ لَنُخْرِجَنَّكَ يَاشُعَيْبُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَكَ مِنْ قَرْيَتِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا قَالَ أَوَلَوْ كُنَّا كَارِهِينَ} "اس کى قوم کے متکبر سرداروں نے کہا کہ اے شعیب ! ہم آپ کو اور آپ کے ہمراہ جو ایمان والے ہیں ان کو اپنی بستی سے نکال دیں گے الا یہ کہ تم ہمارے مذہب میں پھر آجاؤ شعیب (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ کیا ہم تمہار ے مذہب میں آجائیں گو ہم اس کو مکروہ ہی سمجھتے ہوں؟"۔ [الاعراف: ۸۸]

ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِنْ أَرْضِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا } "کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا ہم تمہیں ملک بدر کردیں گے یا تم پھر سے ہمار ے مذہب میں لوٹ آؤ" ۔ [ابراھیم: ۱۳] قوم لوط نے لوط اور ان پر ایمان لانے والوں سےکہا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {أَخْرِجُوهُمْ مِنْ قَرْيَتِكُمْ إِنَّهُمْ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ} "ان لوگوں کو اپنی بستی سے نکال دو۔ یہ لوگ بڑے پاک صاف بنتے ہیں"۔ [الاعراف: ۸۲] کفار قریش نے ہمارے نبی محمدﷺ ، آپ کے جاں نثار صحابہ اور بنی ہاشم کو تین سال تک شعب ابی طالب میں محصور کیے رکھا اور پھر ان لوگوں نے اللہ کے رسول ﷺ کو آپ کے شہر سے نکال دیا۔

اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں ’’ لَمَّا قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِسْمَةَ حُنَيْنٍ، قَالَ: رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ: مَا أَرَادَ بِهَا وَجْهَ اللَّهِ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَتَغَيَّرَ وَجْهُهُ ثُمَّ قَالَ: جب نبی ﷺ حنین (کا مال غنیمت) تقسیم کر رہے تھے تو انصار کے ایک شخص نے (جو منافق تھا) کہا کہ اس تقسیم میں آپ نےاللہ کی خوشنودی کا خیال نہیں رکھا، تومیں نے نبی ﷺ کے پاس آکر آپ اس کی اطلاع دی تو آپ کا چہرہ بدل گیا پھر کہا کہ : رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى مُوسَى، لَقَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ‘‘۔ اللہ تعالیٰ موسیٰ پر رحم فرمائے، انہیں اس سے زیادہ دکھ پہنچایا گیا لیکن انہوں نے صبر کیا۔ (صحیح بخاری: ۴۳۳۵، صحیح مسلم: ۱۰۶۲، جامع الترمذی: ۳۸۹۶ )

اور ابراہیم علیہ السلام کو جب ان کی قوم نے انہیں جلانے کے لئے آگ میں ڈال دیا تو اللہ نے انہیں بچا لیا، جیسا کہ فر مان الہی ہے: {فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَنْ قَالُوا اقْتُلُوهُ أَوْ حَرِّقُوهُ فَأَنْجَاهُ اللَّهُ مِنَ النَّارِ} "تو ان کی قوم کا جواب بجز اس کے کچھ نہ تھا کہ کہنے لگے کہ اسے مار ڈالو یا اسے جلا دو آخر اللہ نے انھیں آگ سے بچا لیا"۔ [العنکبوت: ۲۴] اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ان کرتوتوں کا ذکر کیا ہے جو انہوں نے اپنے نبیوں کے ساتھ کیا، فرمایا: {أَفَكُلَّمَا جَاءَكُمْ رَسُولٌ بِمَا لَا تَهْوَى أَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ فَفَرِيقًا كَذَّبْتُمْ وَفَرِيقًا تَقْتُلُونَ} "لیکن جب کبھی تمہارے پاس رسول وہ چیز لائے جو تمہاری طبیعتوں کے خلاف تھی تو تم نے جھٹ سے تکبر کیا، پس بعض کو تو جھٹلا دیا اور بعض کو قتل بھی کر ڈالا"۔ [البقرۃ: ۸۷]

یہ تھی رسولوں کے ساتھ کبرو غرور اور بغص و عناد رکھنے والوں کی حالت اور یہی حالت بعد کے ادوار میں ہر قوم کے بڑوں نے مصلحین کے ساتھ بھی کیا۔

اور اللہ کی یہ سنت چلتی آرہی ہے کہ وہ اپنے انبیاء ورسل علیہم الصلاۃ والسلام کی مدد کر ے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {إِنَّا لَنَنْصُرُرُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ} "یقیناً ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی مدد زندگانی دنیا میں بھی کریں گے اور اس دن بھی جب گواہی دینے والے کھڑے ہوں گے"۔ [غافر: ۵۱] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: "پھر ہم نے ان سے کئے ہوئے وعد ے سچے کئے، انھیں اور جن جن کو ہم نے چاہا نجات عطا فرمائی اور حد سے نکل جانے والوں کو غارت کردیا۔" [الانبياء: ۹]

کتاب: آخرت پر ایمان لانے کے بیان میں

خلاصۂ کتاب

ہم یوم آخرت پر ایمان لاتے ہیں۔ یہ ایمان کے چھ ارکان میں سے ایک رکن ہے، اسے یوم آخرت کا نام اس لئے دیا گیاہے کہ وہ دنیوی ایام کا آخری دن ہوگا، اس کے بعد کوئی دن نہیں ہوگا، اس کے کئی نام ہیں جن میں سے چند یہ ہیں: یوم القیامہ، یوم البعث، یوم الحساب، یوم الدین، الطامہ، الحاقہ، الواقعہ، الصاخہ اور الغاشیہ، یوم آخرت کا تذکرہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بے شمار مقامات پر کیا ہے۔

ایمان بالیوم الآخر میں علامات قیامت اور موت کے بعد ہونے والے تمام امور پر ایمان لانا شامل ہے، ہم یہاں سب سے پہلے علامات قیامت کا تذکرہ کریں گے پھر موت کے بعد ہونے والے تمام امور پر گفتگو ہوگی تاکہ یوم آخرت سے پہلے ہونے والے تمام امور اور اعمال کا ذ کرہو جا ئے۔

قیامت کی نشانیاں ہی یوم آخرت کے قریب ہو نے پر دلالت کرتی ہیں اور ان کا شماران غیبی امور میں ہوتا ہے جن پر ایمان لانا واجب ہے۔

علامات قیامت کی تین قسمیں ہیں:

(۱) قیامت کی وہ نشانیاں جو ظاہر ہوئیں اور ختم ہو گئیں اور یہ بہت زیادہ ہیں۔

(۲) وہ نشانیاں جوظاہرہوئیں لیکن ختم نہیں ہوئیں بلکہ ابھی تک جاری ہیں، یکے بعد دیگرے گاہے بگاہے ظاہر ہوا کرتی ہیں۔

(۳) وہ نشانیاں جواب تک ظاہر نہیں ہو ئی ہیں لیکن قرب قیامت سے پہلے ظاہر ہو ںگی۔

ایمان بالیوم الآخر میں اس بات پر ایمان لانا بھی شامل ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ذات کے علاوہ ہر چیز فنا ہونے والی ہے ، ملک الموت ہر چیز کی روحیں قبض کر ے گا، اسی طرح اس میں اس بات پر بھی ایمان لانا شامل ہے جو موت کے بعد ہوگا جیسے قبر میں میت سے سوال ہے اور قبر کا عذاب اور اس کی نعمتیں۔

اور ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ جب اس دنیا کا سرے سے خاتمہ کرنا چاہے گا تو فرشتے کو حکم دے گا تو وہ پہلی مرتبہ صور میں پھونک مارے گا، پھونک مارتے ہی آسمان اور زمین کی ہر مرجائے گی سوائے اس کے جسے اللہ چاہے، پھر اللہ بارش نازل کرے گا جس سے ان کے اجسام پودوں کی طرح اگ آئیں گے، پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرشتہ دوبارہ صور میں پھونک مارے گا جس سے سارے لوگ اپنی قبروں سے دوبارہ زندہ ہو کر اپنے رب کے سامنے اٹھ کھڑے ہو ں گے اور سب سے پہلے نبی ﷺ کو ہوش آئے گا اور وہی سب سے پہلے قبر سے بھی نکلیں گے اور سب سے پہلے اللہ کے نبی ابراہیم خلیل الرحمن کو کپڑا پہنا یا جائے گا، بروز قیامت تمام لوگوں کو ننگے پاؤں‘ ننگے جسم اور غیر مختون اٹھایا جائے گا اور محشر کی زمین سفید ہوگی۔

اور ہم اس بات پر بھی ایمان لاتے ہیں کہ بروز قیامت نبی ﷺ کو شفاعت نصیب ہوگی، ہمارا اس بات پر بھی ایمان ہے کہ بروز قیامت ہمیں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیا جائے گا اور ہمیں اپنے کرتوتوں کا حساب دینا ہوگا، ہمیں اپنے کرتوتو ں کی سزا یا جزا سے دوچار ہو نا پڑے گا، اللہ تعالى بہت جلد حساب لینے والا ہے اور اللہ تعالیٰ کا بندوں سے حساب و کتاب لینے کے مراحل و مراتب اور احوال الگ الگ ہیں، کچھ لوگوں کا حساب کافی مشکل ہوگا اور کچھ لوگوں کا بہت آسان ہوگا اور کچھ ایسے بھی ہیں کہ انہیں بلا حساب و کتاب کے جنت میں داخل کر دیا جائے گا۔

اس دن کسی پر ظلم نہیں ہوگا۔ قیامت کے دن سب سے پہلے جن لوگوں سے سوال کیا جائے گا وہ امت محمد ﷺ کے لوگ ہوں گے اور لوگوں کے درمیان سب سے پہلے خونریزی کا فیصلہ کیا جائے گا۔

ہمارا ایمان ہے کہ اس د ن تمام گواہوں کو لایا جائے گا، فرشتے گواہی دیں گے، وہ زمین گواہی د ے گی جس پر لوگوں نے عمل انجام دیا ہوگا اور خود انسانی اعضاء گواہی دیں گے۔

ہمارا ایمان ہے کہ بندو ں کے اعمال کو وزن کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ حقیقی ترازو رکھے گا۔

اس بات پر بھی ہمارا ایمان ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کو حوض کوثر عطا کیا جائے گا جس پر آپ کی امت وارد ہو گی، پھر بندوں میں سے کچھ کو جنت اور کچھ کو جہنم کی طرف ہانک دیا جائے گا، جہنم کے اوپر ایک پل بنا یا جائے گا، اس میں سعدان کے کانٹوں کی طرح آنکس ہوں گے، وہ لوگوں کو ان کے اعمال کے اعتبار سے اچک لیں گے، وہ پل سب سے پہلے ہمارے نبی ﷺ پار کریں گے۔

باب: آخرت پر ایمان لانے کے دلائل کا بیان

ہم یوم آخرت پر ایمان لاتے ہیں اور یہ ایمان کے ان چھ ارکان میں سے ایک رکن ہے، جن کا ذکر اللہ تعالى کے اس قول میں آیا ہے: {لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلٰۗئِكَةِ وَالْكِتٰبِ وَالنَّبِيّٖنَ } "ساری اچھائی مشرق اور مغرب کی طرف منہ کرنے میں ہی نہیں بلکہ حقیقتاً اچھا وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ پر، قیامت کے دن پر، فرشتوں پر، کتاب اللہ اور نبیوں پر ایمان رکھنے والا ہو"۔ [البقرۃ: ۱۷۷] اور ان ارکان ایمان کا تذکرہ اللہ عز وجل کے اس فرمان میں بھی ہے: { لَكِنِ الرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَالْمُؤْمِنُونَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَالْمُقِيمِينَ الصَّلَاةَ وَالْمُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَالْمُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أُولَئِكَ سَنُؤْتِيهِمْ أَجْرًا عَظِيمًا} "لیکن ان میں سے جو کامل اور مضبوط علم والے ہیں اور ایمان والے ہیں جو اس پر ایمان لاتے ہیں جو آپ کی طرف اتارا گیا اور جو آپ سے پہلے اتارا گیا اور نمازوں کو قائم رکھنے والے ہیں اور زکوٰۃ کو ادا کرنے والے ہیں اور اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والے ہیں ،یہ ہیں جنہیں ہم بہت بڑے اجر عطا فرمائیں گے"۔ [النساء: ۱۶۲]

اور یوم آخرت پر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث بھی دلالت کرتی ہے’’كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولُ اللهِ، مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: أَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ، وَمَلَائِكَتِهِ، وَكِتَابِهِ، وَلِقَائِهِ، وَرُسُلِهِ، وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ الْآخِرِ‘‘۔ اللہ کے رسول ﷺ ایک دن لوگوں کے سامنے حاضر ہو ئے تو آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا کہ اے اللہ کے رسول ! ایمان کیا ہے؟ فرمایا (ایمان یہ ہے کہ) تم اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کی ملاقات پر، اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ، اور دوبارہ زندہ کئے جانے پر ایمان لاؤ۔ ( صحیح بخاری : ۴۷۷۷، صحیح مسلم : ۹، سنن ابن ماجہ: ۶۴)

اور نہ صرف یہ کہ شرعی بلکہ عقلی دلیلیں بھی یوم آخرت پر دلالت کرتی ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَنْ يُحْيِ الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ *۔ "اور اس نے ہمارے لئے مثال بیان کی اور اپنی (اصل) پیدائش کو بھول گیا، کہنے لگا ان گلی سڑی ہڈیوں کو کون زندہ کر سکتا ہے؟ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنْشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ } آپ جواب دیجئے! کہ انہیں وہ زندہ کر ے گا جس نے انہیں اول مرتبہ پیدا کیا ہے، جو سب طرح کی پیدائش کا بخوبی جاننے والا ہے"۔ [یس: ۷۸- ۷۹] اور یوم آخرت پر علقلى دلیل اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں بھی ہے: {يَاأَيُّهَا النَّاسُ إِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِنَ الْبَعْثِ فَإِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُضْغَةٍ مُخَلَّقَةٍ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ لِنُبَيِّنَ لَكُمْ وَنُقِرُّ فِي الْأَرْحَامِ مَا نَشَاءُ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوا أَشُدَّكُمْ وَمِنْكُمْ مَنْ يُتَوَفَّى وَمِنْكُمْ مَنْ يُرَدُّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِنْ بَعْدِ عِلْمٍ شَيْئًا وَتَرَى الْأَرْضَ هَامِدَةً فَإِذَا أَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَأَنْبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ } "لوگو ! اگر تمہیں مرنے کے بعد جی اٹھنے میں شک ہے تو سوچو ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ سے پھر خون بستہ سے پھر گوشت کے لوتھڑ ے سے جو صورت دیا گیا تھا اور وہ بےنقشہ تھا، یہ ہم تم پر ظاہر کردیتے ہیں اور ہم جسے چاہیں ایک ٹھہرائے ہوئے وقت تک رحم مادر میں رکھتے ہیں پھر تمہیں بچپن کی حالت میں دنیا میں لاتے ہیں تاکہ تم اپنی پوری جوانی کو پہنچو، تم میں سے بعض تو وہ ہیں جو فوت کر لئے جاتے ہیں اور بعض بےغرض عمر کی طرف پھر سے لوٹا دئیے جاتے ہیں کہ وہ ایک چیز سے باخبر ہونے کے بعد پھر بے خبر ہوجائے تو دیکھتا ہے کہ زمین بنجر اور خشک ہے پھر جب ہم اس پر بارش برساتے ہیں تو وہ ابھرتی ہے اور پھولتی ہے اور ہر قسم کی رونق دار نباتات اگاتی ہے"۔ [الحج: ۵] اور اللہ پاک وبرتر کا یہ قول بھی یوم آخرت پر عقلی دلیل ہے: { أَأَنْتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ السَّمَاءُ بَنَاهَا} "کیا تمہارا پیدا کرنا زیادہ دشوار ہے یا آسمان کا؟ اللہ نے اسے بنایا"۔ [النازعات: ۲۷] اور اللہ عز وجل نے فر مایا: {وَمِنْ آيَاتِهِ أَنَّكَ تَرَى الْأَرْضَ خَاشِعَةً فَإِذَا أَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ إِنَّ الَّذِي أَحْيَاهَا لَمُحْيِ الْمَوْتَى إِنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ} "اور اس اللہ کی نشانیوں میں سے (یہ بھی) ہے کہ تو زمین کو دبی دبائی دیکھتا ہے پھر جب ہم اس پر مینہ برساتے ہیں تو وہی ترو تازہ ہو کر ابھرنے لگتی ہے جس نے اسے زندہ کیا وہی یقینی طور پر مردوں کو بھی زندہ کرنے والا ہے, یقینا وہ ہر چیز پر قادر ہے"۔ [فصلت: ۳۹] ایک اور مقام پر اللہ عز وجل نے فرمایا: {وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ} "وہی ہے جو اول بار مخلوق کو پیدا کرتا ہے پھر سے دوبارہ پیدا کر ے گا اور یہ تو اس پر بہت ہی آسان ہے"۔ [الروم: ۲۷] اور اللہ عز وجل کا فرمان ہے: {كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ } "جیسے کہ ہم نے اول دفعہ پیدائش کی تھی اسی طرح دوبارہ کریں گے۔ یہ ہمار ے ذمے وعدہ ہے اور ہم اسے ضرور کرکے (ہی) رہیں گے"۔ [الانبیاء: ۱۰۴]

یوم آخرت کا نام اس لئے دیا گیا کیوں کہ وہ دنیا کا سب سے آخری دن ہے، اس کے بعد کوئی دن نہیں ہوگا اور اس کے بے شمار نام ہیں۔ چند اسماء یہ ہیں: یوم القیامہ، یوم البعث، یوم الحساب، یوم الدین، الطامہ، الحاقہ، الواقعہ، الصاخہ اور الغاشیہ، یوم آخرت کا تذکرہ قرآن مجید میں اللہ تعالی نے بے شمار مقامات پر کیا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ} "(یاد کرو اس دن کو ) جس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہو ں گے"۔ [المطففین: ۶] ایک اور مقام پر اللہ عز و جل کا فر مان ہے: {يَوْمَ يَخْرُجُونَ مِنَ الْأَجْدَاثِ سِرَاعًا كَأَنَّهُمْ إِلَى نُصُبٍ يُوفِضُونَ} "جس دن یہ قبروں سے دوڑتے ہوئے نکلیں گے، گویا کہ وہ بتوں کی طرف تیز تیز جا رہے ہیں (جیسا کہ دنیا میں ان کا حال تھا)۔ [المعارج: ۴۳] ایک اور مقام پر اللہ عز وجل نے فر مایا: {فَإِذَا جَاءَتِ الطَّامَّةُ الْكُبْرَى } "پس جب وہ عظیم آفت آجائے گی"۔ [النازعات: ۳۴] اور اس کا فرمان ہے: {فَإِذَا جَاءَتِ الصَّاخَّةُ*۔ "پس جب کہ کان بہرے کر دینے والی (قیامت) آجائے گی۔ يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ*۔ اس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائی سے۔ وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ*۔ اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے۔ وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ*۔ اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے۔ لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ} ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایسی فکر (دامن گیر) ہوگی جو اس کے لئے کافی ہوگی"۔ [عبس: ۳۳- ۳۷ ] اور اس کا فرمان ہے: {يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ*۔ "لوگو! اپنے رب سے بچاؤ اختیار کرو! بلاشبہ قیامت کا زلزلہ بہت ہی بڑی چیز ہے۔ يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ} جس دن تم اسے دیکھ لو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور تمام حمل والیوں کے حمل گر جائیں گے اور تو دیکھے گا کہ لوگ مدہوش دکھائی دیں گے، حالانکہ درحقیقت وہ متوالے نہ ہوں گے لیکن اللہ کا عذاب بڑا ہی سخت ہے"۔ [الحج: ۱- ۲] اور اللہ عز وجل کا فرمان ہے: {يَوْمَ يَجْمَعُكُمْ لِيَوْمِ الْجَمْعِ ذَلِكَ يَوْمُ التَّغَابُنِ} "جس دن تم سب کو اس جمع ہونے کے دن جمع کرے گا, وہی دن ہے ہار جیت کا"۔ [التغابن: ۹]

باب: قیامت کی علامات پر ایمان لانے کا بیان

ایمان بالآخرت میں اس کی نشانیوں پر ایمان لانا بھی شامل ہے، اور ان نشانیوں سے مقصود قیامت کى نشانیاں ہیں، اور ان سے مراد ایسى نشانیاں ہیں جو قرب قیامت پر دلالت کرنے والى ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فَهَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ أَنْ تَأْتِيَهُمْ بَغْتَةً فَقَدْ جَاءَ أَشْرَاطُهَا} "تو کیا یہ قیامت کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس اچانک آجائے یقیناً اس کی علامتیں تو آچکی ہیں"۔ [محمد: ۱۸] اور یہ ساری نشانیاں ان امور غیبیہ میں سے ہیں جن پر ہمیں ایمان لانے کا حکم ہے۔

اور قیامت کی بعض نشانیاں ظاہر ہو ئیں اور ختم ہو گئیں اور اس طرح کی نشانیاں بہت زیادہ ہیں۔ انہی میں سے اللہ کے رسول ﷺ کا یہ فرمان ہے: ’’ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَذِهِ مِنْ هَذِهِ، أَوْ: كَهَاتَيْنِ وَقَرَنَ بَيْنَ السَّبَّابَةِ وَالوُسْطَى‘‘۔ میں اور قیامت اس سے اس کی طرح یا ان دونوں کی طرح بھیجے گئے ہیں اور(بطور تفہیم ) نبی صلى اللہ علیہ وسلم نے شہادت اور بیچ والی انگلی کو ملایا۔ (صحیح بخاری: ۵۳۰۱، صحیح مسلم: ۲۹۵۰) اور یہ فرمان رسول بھی: ’’اعْدُدْ سِتًّا بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ: مَوْتِي، ثُمَّ فَتْحُ بَيْتِ المَقْدِسِ، ثُمَّ مُوْتَانٌ يَأْخُذُ فِيكُمْ كَقُعَاصِ الغَنَمِ، ثُمَّ اسْتِفَاضَةُ المَالِ حَتَّى يُعْطَى الرَّجُلُ مِائَةَ دِينَارٍ فَيَظَلُّ سَاخِطًا‘‘...۔ قیامت سے پہلے چھ (نشانیاں ) شمار کر لو میری موت، پھر فتح بیت المقدس، پھر طاعون جو تمہارے درمیان بکریوں کی مہلک بيمارى كى طرح پھیلے گی، پھر مال کی کثرت حتی کہ ایک آدمی سو دینار دیا جائے گا تو وہ ناراض ہو جا ئے گا... ۔ (صحیح بخاری: ۳۱۷۶، سنن ابن ماجہ : ۴۰۴۲) اور اس فرمان رسول میں بھی ان میں سے بعض نشانیوں کا تذکرہ ہے: ’’لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَقْتَتِلَ فِئَتَانِ عَظِيمَتَانِ، يَكُونُ بَيْنَهُمَا مَقْتَلَةٌ عَظِيمَةٌ، دَعْوَتُهُمَا وَاحِدَةٌ، وَحَتَّى يُبْعَثَ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ، قَرِيبٌ مِنْ ثَلاَثِينَ، كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ، وَحَتَّى يُقْبَضَ العِلْمُ وَ تَكْثُرَ الزَّلاَزِلُ، وَيَتَقَارَبَ الزَّمَانُ، وَتَظْهَرَ الفِتَنُ، وَيَكْثُرَ الهَرْجُ: وَهُوَ القَتْلُ، وَحَتَّى يَكْثُرَ فِيكُمُ المَالُ فَيَفِيضَ حَتَّى يُهِمَّ رَبَّ المَالِ مَنْ يَقْبَلُ صَدَقَتَهُ، وَحَتَّى يَعْرِضَهُ عَلَيْهِ، فَيَقُولَ الَّذِي يَعْرِضُهُ عَلَيْهِ: لاَ أَرَبَ لِي بِهِ، وَحَتَّى يَتَطَاوَلَ النَّاسُ فِي البُنْيَانِ‘‘۔ قیامت قائم نہیں ہو گی تا آنکہ دو عظیم جماعتیں لڑائی نہ کر لیں، ان کے درمیان عظیم لڑائی ہوگی، ان دونوں کا دعوی ایک ہوگا۔ اور حتی کہ تقریبا تیس جھوٹے دجال بھیجے جا ئیں گے اور ان میں سے ہر ایک گمان کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔ اور حتی کہ علم قبض کر لیا جائے گا، زلزلے زیادہ ہو جا ئیں گے، زمانہ قریب ہو گا اور فتنے ظاہر ہوں گے، ہرج کی کثرت ہوگی اور وہ قتل ہے۔ اور حتی کہ تمہار ے پاس مال زیادہ ہو جا ئے گا اور رب المال فکر کر ے گا کہ اس کا صدقہ کون لے گا تو جس پر وہ اسے پیش کر ے گا وہ کہے گا کہ مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور حتی کہ عمارت کے سلسلے میں لوگ فخر کریں گے۔ (صحیح بخاری: ۳۶۰۹، صحیح مسلم: ۱۵۷، جامع الترمذی: ۲۲۱۸)

اور بعض نشانیاں ظاہرتو ہوئیں لیکن ختم نہیں ہوئیں ہیں بلکہ ابھی تک جاری ہیں، یکے بعد دیگرے گاہے بگاہے ظاہر ہوا کرتی ہیں، انہیں میں سے امت کا فتنوں میں مبتلا ہونا بھی شامل ہے۔ ( صحیحین میں فتنوں کے سلسلے میں بے شمار احادیث وارد ہوئی ہیں، لیکن ان میں اس بات کی صراحت نہیں ہے کہ یہ سارے فتنے قیامت کی نشانیوں میں سے ہیں، اسی لئے ہم نے یہاں سنن کی صرف دو روایتوں کا ذکرکیا ہے کیوں کہ ان میں اس بات کی صراحت موجود ہے )۔ اور یہ بہت زیادہ ہیں، اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا، وَيُمْسِي كَافِرًا، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا، وَيُصْبِحُ كَافِرًا، الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ، وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي، فَكَسِّرُوا قِسِيَّكُمْ، وَقَطِّعُوا أَوْتَارَكُمْ، وَاضْرِبُوا سُيُوفَكُمْ بِالْحِجَارَةِ، فَإِنْ دُخِلَ - يَعْنِي - عَلَى أَحَدٍ مِنْكُمْ، فَلْيَكُنْ كَخَيْرِ ابْنَيْ آدَمَ‘‘۔ قیامت سے پہلے کچھ فتنے تاریک رات کے ٹکڑوں کی طرح نمودار ہوں گے، اس میں آدمی ایمان کی حالت میں صبح کر ے گا اورکفر کی حالت میں شام کر ے گا،اور ایمان کی حالت میں شام کر ے گا اور کفر کی حالت میں صبح کرے گا، اس میں بیٹھا شخص کھڑ ے شخص سے بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا، لہذا تم ایسے فتنے کے وقت میں اپنی اپنی کمانیں توڑ و، ان کے تانت کاٹو اور اپنی تلواریں پتھروں پرمارو، پھر اگر تم میں سے کسی پر (کوئی ) داخل ہوجا ئے تو اسے چاہئے کہ وہ آدم کے نیک بیٹے کے مانند ہو جائے۔ ( سنن أبی داود: ۴۲۵۹ ، جامع الترمذی: ۲۲۰۴، سنن ابن ماجہ: ۳۹۶۱، مصنف ابن أبی شیبۃ: ۳۰۹۷۸، مسند أحمد: ۱۹۶۶۲، مسند الروياني: ۵۸۵)

اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’تَكُونُ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ فِتَنٌ كَقِطَعِ اللَّيْلِ المُظْلِمِ يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا، يَبِيعُ أَقْوَامٌ دِينَهُمْ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا‘‘۔ قیامت سے پہلے تاریک رات کے ٹکڑوں کی طرح کچھ فتنے نمودار ہو ںگے، اس میں آدمی ایمان کی حالت میں صبح کر ے گا اور کفر کی حالت میں شام کر ے گا اور ایمان کی حالت میں شام کر ے گا اور کفر کی حالت میں صبح کرے گا۔ (جامع الترمذی: ۲۱۹۷، مصنف ابن أبی شیبۃ: ۳۱۰۵۳، كتاب الإيمان لإبن أبی شیبۃ: ۶۴، صفة النفاق وذم المنافقين للفریابی: ۹۷)

اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُبْعَثَ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ قَرِيبٌ مِنْ ثَلَاثِينَ، كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللهِ‘‘۔ قیا مت قائم نہیں ہو گی تا آنکہ تقریبا تیس جھوٹے دجال نہ بھیج دیئے جا ئیں اور ہر ایک کا یہی دعوی ہوگا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔ (صحیح بخاری: ۳۶۰۹، صحیح مسلم: ۱۵۷، جامع الترمذی: ۲۲۱۸)

اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ’’ بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسٍ يُحَدِّثُ القَوْمَ، جَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: مَتَى السَّاعَةُ؟ فَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ، فَقَالَ بَعْضُ القَوْمِ: سَمِعَ مَا قَالَ فَكَرِهَ مَا قَالَ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ: بَلْ لَمْ يَسْمَعْ، حَتَّى إِذَا قَضَى حَدِيثَهُ قَالَ: أَيْنَ - أُرَاهُ - السَّائِلُ عَنِ السَّاعَةِ، قَالَ: هَا أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَإِذَا ضُيِّعَتِ الأَمَانَةُ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ، قَالَ: كَيْفَ إِضَاعَتُهَا؟ قَالَ: إِذَا وُسِّدَ الأَمْرُ إِلَى غَيْرِ أَهْلِهِ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ‘‘ ایک بار نبی ﷺ کسی مجلس میں لوگوں سے باتیں کر رہے تھے، اتنے میں ایک دیہاتی آپ کے پاس آیا اور کہا کہ قیامت کب آئے گی؟ لیکن اللہ کے رسول ﷺ اپنی گفتگو میں مصروف رہے، بعض لوگ (جو مجلس میں تھے) انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ نے دیہاتی کی بات سنی لیکن پسند نہیں کی اور بعض نے کہا کہ بلکہ آپ نے (اس کی بات) نہیں سنی حتی کہ جب نبي صلى الله عليه وسلم اپنى باتیں پورى کرچکے توآپ نے فرمایا کہ قیامت کے بارے میں پوچھنے والا کہاں گیا؟ اس نے کہا: ہاں اے اللہ کے رسول ! میں یہاں موجود ہوں، تو آپ نے فرمایا کہ جب امانت ضائع کردی جائے تو قیامت کا انتظار کرو، اس نے کہا امانت کے ضائع ہونے کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے فرمایا کہ جب معاملہ نا اہلوں کے حوالے کردیا جائے تو قیامت کا انتظار کرو۔ (صحیح بخاری: ۵۹)

اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ: أَنْ يُرْفَعَ العِلْمُ وَيَثْبُتَ الجَهْلُ، وَيُشْرَبَ الخَمْرُ، وَيَظْهَرَ الزِّنَا‘‘۔ علامات قیامت میں سے علم کا اٹھا لیا جانا، جہالت کا ثابت ہونا، شراب پیا جانا اور زنا کا ظاہر ہونا بھی ہے۔ (صحیح بخاری: ۸۰ ، صحیح مسلم: ۲۶۷۱، جامع الترمذی: ۲۲۰۵، سنن ابن ماجہ: ۴۰۴۵)

اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ لَأَيَّامًا، يَنْزِلُ فِيهَا الجَهْلُ، وَيُرْفَعُ فِيهَا العِلْمُ، وَيَكْثُرُ فِيهَا الهَرْجُ وَالهَرْجُ: القَتْلُ‘‘۔ قیامت سے پہلے ایسے ایام ہوں گے جس میں جہالت عام ہوگی، اس میں علم اٹھا لیا جائے گا اور اس میں ہرج کی کثرت ہوگی اور ہرج قتل ہے۔ (صحیح بخاری: ۷۰۶۲، صحیح مسلم: ۲۶۷۲، جامع الترمذی: ۲۲۰۰، سنن ابن ماجہ: ۳۹۵۹، ۴۰۵۰)

قیامت کی کچھ نشانیاں ابھی تک ظاہر نہیں ہوئی ہیں، اور وہ قیامت کے وقوع کے کچھ پہلے ظاہر ہوں گى، اور ان میں سے مسیح عیسیٰ ابن مریم کا نازل ہونا بھی ہے‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا} "اہل کتاب میں ایک بھی ایسا نہ بچے گا جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ لاچکے اور قیامت کے دن وہ (عیسى علیہ السلام) ان پر گواہ ہوں گے"۔ [النساء: ۱۵۹] یاجوج و ماجوج کا خروج ،جیسا کہ فرمان الہی ہے: {حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ} "یہاں تک کہ یاجوج اور ماجوج کھول دیئے جائیں گے اور وہ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے آئیں گے"۔ [الانبیاء: ۹۶] دابہ (چوپایہ) کا نکلنا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ أَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِنَ الْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا بِآيَاتِنَا لَا يُوقِنُونَ} "جب ان کے اوپر عذاب کا وعدہ ثابت ہوجائے گا، ہم زمین سے ان کے لئے ایک دابہ (چوپایہ) نکالیں گے جو ان سے باتیں کرتا ہوگا کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں کرتے تھے"۔ [النمل: ۸۲]

حذیفہ بن اسید الغفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ’’ اطَّلَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ، فَقَالَ: مَا تَذَاكَرُونَ؟قَالُوا: نَذْكُرُ السَّاعَةَ، قَالَ: إِنَّهَا لَنْ تَقُومَ حَتَّى تَرَوْنَ قَبْلَهَا عَشْرَ آيَاتٍ - فَذَكَرَ - الدُّخَانَ، وَالدَّجَّالَ، وَالدَّابَّةَ، وَطُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَنُزُولَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَأَجُوجَ وَمَأْجُوجَ، وَثَلَاثَةَ خُسُوفٍ: خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ، وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ، وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَ آخِرُ ذَلِكَ نَارٌ تَخْرُجُ مِنَ الْيَمَنِ، تَطْرُدُ النَّاسَ إِلَى مَحْشَرِهِمْ ‘‘۔ نبی ﷺ ہمارے پاس آئے اس حال میں کہ ہم باہم کسى بات پر چرچا کر رہے تھے تو فرمایا: تم سب کس بات کے بارے میں گفتگو کررہے ہو؟ ان سب نے کہا: ہم سب قیامت کا ذکر کررہے تھے، فرمایا: قیامت ہر گز قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ اس کے پہلے تم سب دس نشانیاں نہ دیکھ لو، پھر آپ نے ذکر کیا دھوئیں کا، دجال کا، دابہ (چوپایہ) کا، آفتاب کے مغرب سے نکلنے کا، عیسٰی ابن مریم علیہ السلام کے اترنے کا، یاجوج وماجوج ( کے نکلنے) کا اور تین (مقامات میں) زمین دھنسنے کا: ایک مشرق میں، دوسرا مغرب میں اور تیسرا جزیرہ ٔعرب میں اور ان سب کے بعد ایک آگ پیدا ہو گی جو یمن سے نکلے گی اور لوگوں کو محشر کی طرف ہانک لے جائے گی ۔ (صحیح مسلم: ۲۹۰۱، سنن أبی داود: ۴۳۱۱، جامع الترمذی: ۲۱۸۳، سنن ابن ماجہ: ۴۰۴۱)

اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا، فَإِذَا رَآهَا النَّاسُ آمَنَ مَنْ عَلَيْهَا، فَذَاكَ حِينَ: {لاَ يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ} [الأنعام: ۱۵۸]‘‘۔ قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو جا ئے، جب لوگ اسے دیکھیں گے تو تمام لوگ ایمان لے آئیں گے اور اس دن { کسى کو بھی اس کا ایمان نفع نہیں دے گا جو پہلے سے ایمان نہ رکھتا ہو یا اپنے ایمان میں خیر نہ کما یا ہو}[الأنعام: 158]۔ (صحیح بخاری: ۴۶۳۵، صحیح مسلم: ۱۵۷، سنن أبی داود: ۴۳۱۲، سنن ابن ماجہ: ۴۰۶۸)

اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَيُوشِكَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمْ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا مُقْسِطًا، فَيَكْسِرَ الصَّلِيبَ، وَيَقْتُلَ الخِنْزِيرَ، وَ يَضَعَ الجِزْيَةَ، وَيَفِيضَ المَالُ حَتَّى لاَ يَقْبَلَهُ أَحَدٌ‘‘۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، وہ زمانہ آنے والا ہے عنقریب جب تم میں ابن مریم ایک حاکم اور منصف کی حیثیت سے اتریں گے تو وہ صلیب توڑیں گے، سوروں کو قتل کریں گے اور جزیہ کو ختم کر دیں گے، مال کی اتنی زیادتی ہو گی کہ اسے کوئی قبول نہیں کرے گا۔ (صحیح بخاری : ۲۲۲۲، صحیح مسلم : ۱۵۵، سنن أبی داود: ۴۳۲۴، جامع الترمذی: ۲۲۳۳، سنن ابن ماجہ: ۴۰۷۸)

اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’مَا بَعَثَ اللَّهُ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا أَنْذَرَ قَوْمَهُ الأَعْوَرَ الكَذَّابَ، إِنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ، مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ‘‘۔ اللہ نے کوئی نبی نہیں بھیجا مگر اس نے اپنی قوم کو جھوٹے کانے سے ڈرایا ہے، یقینا وہ کانا ہوگا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے، اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا۔ (صحیح بخاری: ۷۴۰۸ ، صحیح مسلم: ۲۹۳۳، سنن أبی داود: ۴۳۱۶، جامع الترمذی: ۲۲۴۵)

باب: موت کے بعد ہونے والے امور پر ایمان لانے کا بیان

ہمارا ایمان ہے کہ ایمان بالیوم الآخر میں یہ بات بھی شامل ہے کہ سوائے اللہ کے دنیا کی ہر چیز فنا ہونے والی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: { كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ} "ہر چیز فنا ہونے والی ہے مگر اس کا چہرہ ( یعنی اس کی ذات)"۔ [القصص: ۸۸] اور اللہ عز وجل نے فرمایا: {كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ *۔ "زمین پر جو ہیں سب فنا ہونے والے ہیں۔ {وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ} صرف تیرے رب کا چہرہ جو عظمت اور عزت والا ہے باقی رہ جائے گا۔ [الرحمن: ۲۶- ۲۷] ملک الموت تمام روحیں قبض کرے گا، جیسا کہ اللہ رب العزت نے فرمایا: {قُلْ يَتَوَفَّاكُمْ مَلَكُ الْمَوْتِ الَّذِي وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ إِلَى رَبِّكُمْ تُرْجَعُونَ} "کہہ دیجئے ! کہ تمہیں موت کا فرشتہ فوت کر ے گا جو تم پر مقرر کیا گیا ہے پھر تم سب اپنے رب کی طرف لوٹائے جاؤ گے"۔ [السجدۃ: ۱۱]

ہم ان تمام امور پر ایمان لاتے ہیں جو موت کے بعد ہوں گے یعنی میت سے سوال، قبر کا عذاب اور اس کی نعمتیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ} "آگ ہے جس کے سامنے یہ ہر صبح شام لائے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہوگی (فرمان ہوگا کہ) فرعونیوں کو سخت ترین عذاب میں ڈالو"۔ [غافر: ۴۶] اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {سَنُعَذِّبُهُمْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَى عَذَابٍ عَظِيمٍ } "ہم ان کو دوہری سزا دیں گے پھر وہ بڑے بھاری عذاب کی طرف بھیجے جائیں گے"۔ [التوبۃ: ۱۰۱] اوراللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {وَلَوْ تَرَى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا الْمَلَائِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَارَهُمْ وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ *۔ "کاش کہ تو دیکھتا جب کہ فرشتے کافروں کی روح قبض کرتے ہیں ان کے منہ پر اور سرینوں پر مار مارتے ہیں (اور کہتے ہیں) تم جلنے کا عذاب چکھو۔ ذَلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيكُمْ} یہ بسبب ان کاموں کے جو تمہارے ہاتھوں نے پہلے ہی بھیج رکھا ہے اور اللہ تعالى بندوں پر ہر گز ظلم کرنے والا نہیں ہے"۔ [الأنفال: ۵۰- ۵۱] اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {وَلَوْ تَرَى إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنْتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ} "اور اگر آپ اس وقت دیکھیں جب کہ یہ ظالم لوگ موت کی سختیوں میں ہونگے اور فرشتے اپنے ہاتھ بڑھا رہے ہونگے کہ ہاں اپنی جانیں نکالو، آج تمہیں ذلت کی سزا دی جائے گی، اس سبب سے کہ تم اللہ تعالیٰ کے ذمہ جھوٹی باتیں لگاتے تھے اور تم اللہ تعالیٰ کی آیات سے تکبر کرتے تھے"۔ [الانعام: ۹۳] اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {وَإِنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا عَذَابًا دُونَ ذَلِكَ} "بیشک ظالموں کے لئے اس کے علاوہ اور عذاب بھی ہیں"۔ [الطور: ۴۷]

اور براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے اس آیت: {يُثَبِّتُ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ} [إبراهيم: ۲۷] کے بارے میں فرمایا’’ نَزَلَتْ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ، فَيُقَالُ لَهُ: مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: رَبِّيَ اللهُ، وَنَبِيِّي مُحَمَّدٌ ﷺ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يُثَبِّتُ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ } [إبراهيم: ۲۷] ‘‘ یہ (آیت ) عذاب قبر کے بارے میں اتری ہے، اس سے پوچھا جاتا ہے: تیرا رب کون ہے ؟ تو وہ کہتا ہے: میرا رب اللہ ہے اور میرے نبی محمد ﷺ ہیں، چنانچہ یہی اللہ عز و جل کے اس فرمان (میں مذکور) ہے کہ: (ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ پکی بات کے ساتھ مضبوط رکھتا ہے، دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی)۔ [ابراہیم: ۲۷] (صحیح بخاری: ۱۳۶۹، صحیح مسلم: ۲۸۷۱، اور مذکورہ الفاظ صحیح مسلم کے ہیں، جامع الترمذی: ۳۱۲۰، سنن النسائی: ۲۰۵۶، ۲۰۵۷، سنن ابن ماجۃ: ۴۲۶۹، ۴۷۵۰)

اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ یہ دعا انہیں ایسے ہی سکھاتے جیسے قرآن کى کوئى سورت سکھاتے تھے۔ کہتے کہ کہو: ’’اللهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ‘‘۔ اے اللہ ! ہم تیری پناہ چاہتے ہیں جہنم کے عذاب سےاور میں تیری پناہ چاہتا ہوں قبر کے عذاب سے اورمیں تیری پناہ چاہتا ہوں دجال کے فتنہ سے اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں زندگی اور موت کے فتنہ سے۔ ( صحیح مسلم: ۵۹۰، سنن أبی داود: ۱۵۴۲، جامع الترمذی: ۳۴۹۴، سنن النسائی: ۲۰۶۳، سنن ابن ماجہ: ۳۸۴۰ )

اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا کہ ’’خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَعْضِ حِيطَانِ المَدِينَةِ، فَسَمِعَ صَوْتَ إِنْسَانَيْنِ يُعَذَّبَانِ فِي قُبُورِهِمَا، فَقَالَ:يُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، وَإِنَّهُ لَكَبِيرٌ، كَانَ أَحَدُهُمَا لاَ يَسْتَتِرُ مِنَ البَوْلِ، وَكَانَ الآخَرُ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ ثُمَّ دَعَا بِجَرِيدَةٍ فَكَسَرَهَا بِكِسْرَتَيْنِ أَوْ ثِنْتَيْنِ، فَجَعَلَ كِسْرَةً فِي قَبْرِ هَذَا، وَكِسْرَةً فِي قَبْرِ هَذَا، فَقَالَ:لَعَلَّهُ يُخَفَّفُ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا ‘‘۔ نبیﷺ مدینہ کے کسی باغ سے نکلے تو دو (مردہ) انسانوں کی آواز سنی جنہیں ان کی قبروں میں عذاب دیا جا رہا تھا تو آپ نے فرمایا کہ ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے اور ان دونوں کو کسی بڑے گناہ کے سلسلے میں عذاب نہیں ہو رہا ہے، ان میں سے ایک پیشاب کے چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغل خور تھا۔ پھر کھجور کی ایک شاخ منگوایا اور اسے دو حصوں میں توڑا اور ایک ٹکڑا ایک کی قبر پر اور دوسرا دوسرے کی قبر پر گاڑ دیا، پھر فرمایا شاید ان کی وجہ سے ان دونوں کے عذاب میں اس وقت تک کے لیے کمی کر دی جائے، جب تک یہ دونوں سوکھ نہ جائیں۔ (صحیح بخاری: ۶۰۵۵، صحیح مسلم: ۲۹۲، سنن أبی داود: ۲۰ ، جامع الترمذی: ۷۰ ، سنن النسائی: ۳۱، سنن ابن ماجہ: ۳۴۷)

اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ: ’’بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ لِبَنِي النَّجَّارِ، عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ وَنَحْنُ مَعَهُ، إِذْ حَادَتْ بِهِ فَكَادَتْ تُلْقِيهِ، وَإِذَا أَقْبُرٌ سِتَّةٌ أَوْ خَمْسَةٌ أَوْ أَرْبَعَةٌ - قَالَ: كَذَا كَانَ يَقُولُ الْجُرَيْرِيُّ - فَقَالَ: مَنْ يَعْرِفُ أَصْحَابَ هَذِهِ الْأَقْبُرِ؟ فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا، قَالَ: فَمَتَى مَاتَ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: مَاتُوا فِي الْإِشْرَاكِ، فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ تُبْتَلَى فِي قُبُورِهَا، فَلَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا، لَدَعَوْتُ اللهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ الَّذِي أَسْمَعُ مِنْهُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: تَعَوَّذُوا بِاللهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِقَالُوا: نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ، فَقَالَ: تَعَوَّذُوا بِاللهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ قَالُوا: نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، قَالَ: تَعَوَّذُوا بِاللهِ مِنَ الْفِتَنِ، مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ قَالُوا: نَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، قَالَ: تَعَوَّذُوا بِاللهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ، قَالُوا: نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ‘‘۔ نبیﷺ بنی نجار کے باغ میں اپنے خچر پر (سوار ) تھے، ہم (بھی) آپ کے ساتھ تھے، اچانک وہ بدکا اور قریب تھا کہ آپ کو گرا دے، (مڑکر دیکھا ) تو وہاں پر چھ یا پانچ یا چار قبریں تھیں، فرمایا: کون ان قبر والوں کو جانتا ہے؟ ایک شخص بولا: میں جانتا ہوں، فرمایا: یہ لوگ کب مرے؟وہ بولا: شرک (کے زمانہ) میں، فرمایا: یہ امت اپنی اپنی قبروں میں آزمائی جارہی ہے، اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ تم دفن کرنا نہ چھوڑ دوگے تو میں اللہ سے دعا کرتا کہ تمہیں عذاب قبر کی وہ آواز سنا ئے جو میں سن رہا ہوں، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: عذاب جہنم سے اللہ کی پناہ مانگو، لوگوں نے کہا: ہم عذاب جہنم سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں پھر کہا: عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگو، لوگوں نے کہا: ہم عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: پناہ مانگو اللہ کے چھپے اور کھلے فتنوں سے، لوگوں نے کہا: پناہ مانگتے ہیں ہم اللہ کے چھپے اور کھلے فتنوں سے۔ پھر کہا ہر ظاہری و باطنی فتنے سے اللہ کی پناہ مانگو۔ تو لوگوں نے کہا کہ ہم ہر ظاہری و باطنی فتنے سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، کہا فتنہ ٔدجال سے اللہ کی پناہ مانگو۔ لوگوں نے کہا کہ ہم فتنہ ٔ دجال سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ (صحیح مسلم: ۲۸۶۷)

اور ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ’’خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ وَجَبَتِ الشَّمْسُ، فَسَمِعَ صَوْتًا فَقَالَ: يَهُودُ تُعَذَّبُ فِي قُبُورِهَا ‘‘ نبی ﷺ باہر تشریف لے گئے اس حال میں کہ سورج غروب ہو چکا تھا تو آپ نے ایک آواز سنی تو کہا: یہودیوں کو ان کى قبروں میں عذاب دیا جارہا ہے۔ (صحیح بخاری: ۱۳۷۵، صحیح مسلم: ۲۸۶۹، سنن النسائی: ۲۰۵۹)

اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں کہ’’دَخَلَتْ عَلَيَّ عَجُوزَانِ مِنْ عُجُزِ يَهُودِ المَدِينَةِ، فَقَالَتَا لِي: إِنَّ أَهْلَ القُبُورِ يُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ، فَكَذَّبْتُهُمَا، وَلَمْ أُنْعِمْ أَنْ أُصَدِّقَهُمَا، فَخَرَجَتَا، وَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَجُوزَيْنِ، وَذَكَرْتُ لَهُ، فَقَالَ:صَدَقَتَا، إِنَّهُمْ يُعَذَّبُونَ عَذَابًا تَسْمَعُهُ البَهَائِمُ كُلُّهَا فَمَا رَأَيْتُهُ بَعْدُ فِي صَلاَةٍ إِلَّا تَعَوَّذَ مِنْ عَذَابِ القَبْرِ‘‘ مدینہ کے یہودیوں کی دو بوڑھی عورتیں میرے پاس آئیں اور دونوں نے مجھ سے کہا کہ قبر والوں کو ان کی قبر میں عذاب دیا جاتا ہے لیکن میں نے ان دونوں کو جھٹلادیا اور ان دونوں کی تصدیق کو میں نے اچھا نہ جانا تو وہ دونوں چلی گئیں اور نبی ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میں نے آپ سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! دو بوڑھی عورتیں تھیں اور میں نے آپ سے اس کا ذکر کردیا تو (آپﷺ نے) فرمایا کہ ان دونوں نے سچ کہا، قبر والوں کو ایسا عذاب ہو تا ہے کہ اسے تمام چوپائے سنتے ہیں، میں نے اس کے بعد دیکھا کہ ہر نماز میں آپ قبر کے عذاب سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ (صحیح بخاری: ۶۳۶۶، صحیح مسلم: ۵۸۶، سنن النسائی: ۲۰۶۷)

اور جس طرح کافر، منافق اور مسلمانوں میں سے بعض گنہگاروں کو قبر میں عذاب سے دوچار کیا جاتا ہے، اسی طرح مومنوں پر قبر میں نعمتوں کی بارش کی جاتى ہے۔ چناں چہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے لوگوں سے حدیث بیان کی کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: بلا شبہ آدمی جب اپنی قبر میں رکھا جاتا ہے اور جنازہ میں شریک ہونے والے لوگ اس سے رخصت ہوتے ہیں تو ابھی وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہوتا ہے کہ دو فرشتے (منکر نکیر) اس کے پاس آتے ہیں‘ وہ اسے بٹھا کر پوچھتے ہیں کہ اس شخص یعنی محمد ﷺ کے بارے میں تو کیا اعتقاد رکھتا تھا؟ مومن تو یہ کہتا ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اس جواب پر اس سے کہا جاتا ہے کہ تو یہ دیکھ اپنا جہنم کا ٹھکانا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلہ میں تمہارے لیے جنت میں ٹھکانا دے دیا۔ اس وقت اسے جہنم اور جنت دونوں ٹھکانے دکھائے جائیں گے۔ فرمایا اورجب منافق وکافر سے کہا جاتا ہے کہ اس شخص کے بارے میں تو کیا کہتا تھا تو وہ جواب دے گا کہ مجھے کچھ معلوم نہیں‘ میں بھی وہی کہتا تھا جو دوسرے لوگ کہتے تھے۔ پھر اس سے کہا جائے گا نہ تونے جاننے کی کوشش کی اور نہ سمجھنے والوں کی رائے پر چلا۔ پھر اسے لوہے کے گرزوں سے اتنی زور سے مارا جاتا ہے کہ وہ چیخ پڑتا ہے اور اس کی چیخ کو جن اور انسانوں کے سوا اس کے آس پاس کی تمام مخلوق سنتى ہے۔ (صحیح بخاری: ۱۳۷۴، صحیح مسلم: ۷۳۱۸)

باب: ایمان بالبعث اور اس کے بعد والی زندگی پر ایمان لانے کا بیان

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ جب اس دنیا کا خاتمہ کرنا چاہے گا تو فرشتے کو حکم دے گا، حکم پاتے ہی فرشتہ صور میں پھونک مار ے گا جس سے آسمان و زمین کے درمیان کی تمام چیزیں بے ہوش ہو جا ئیں گی سوائے اس کے جسے اللہ چاہے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ } "اور صور پھونک دیا جائے گا پس آسمانوں اور زمین والے سب بےہوش ہو کر گرپڑیں گے مگر جسے اللہ چاہے، پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا پس وہ ایک د م کھڑ ے ہو کر دیکھنے لگ جائیں گے"۔ [الزمر: ۶۸] اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’ثُمَّ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ، فَلَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ إِلَّا أَصْغَى لِيتًا وَرَفَعَ لِيتًا، قَالَ: وَأَوَّلُ مَنْ يَسْمَعُهُ رَجُلٌ يَلُوطُ حَوْضَ إِبِلِهِ، قَالَ: فَيَصْعَقُ، وَيَصْعَقُ النَّاسُ........‘‘۔ پھر صور میں پھونکا جائے گا لیکن اسے کوئی نہ سن سکے گا مگروہ ایک طرف سے گردن جھکائے گا اور دوسری طرف سے اٹھالے گا، آپ نے فرمایا: سب سے پہلے اسے (صور کی آواز کو ) وہ سنے گا جو اپنے اونٹوں کے حوض کی اصلاح کر رہا ہوگا، آپ نے فرمایا: وہ بے ہوش ہو جائے گا اور دوسرے لوگ بھی بے ہوش ہو جائیں گے۔ (صحیح مسلم: ۲۹۴۰) اور اس حدیث میں وارد جملے "رفع لیتا" کا معنی یہ ہے کہ اس نے اپنی گردن ٹیڑھی کرلی۔ [النہایۃ فی غریب الحدیث، ۳۳/۳]

اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: پس قیامت آجائے گی اور دو آدمی کپڑا درمیان میں ( خرید وفروخت کے لئے ) پھیلائے ہوئے ہوں گے۔ ابھی خرید وفروخت بھی نہیں ہوچکی ہوگی اور نہ انہوں نے اسے لپیٹا ہی ہوگا ( کہ قیامت قائم ہوجائے گی ) اور قیامت اس حال میں قائم ہوجائے گی کہ ایک شخص اپنی اونٹنی کا دودھ لے کر آرہا ہوگا اور اسے پی بھی نہیں سکے گا اور قیامت اس حال میں قائم ہوجائے گی کہ ایک شخص اپنا حوض تیار کرارہا ہوگا اورا س کا پانی بھی نہ پی پائے گا۔ قیامت اس حال میں قائم ہوجائے گی کہ ایک شخص اپنا لقمہ اپنے منہ کی طرف اٹھائے گا اور اسے کھا بھی نہ پائے ہوگا۔

تو اللہ تعالیٰ اپنی ان مخلوقات میں سے جن پر فنا اور ہلاکت لکھ دیا ہے، جسے چاہے گا ہلاک کر د ے گا، یہاں تک کہ صرف اللہ رب العالمین کی ذات باقی بچے گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: {كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ*۔ "زمین پر جو ہیں سب فنا ہونے والے ہیں۔ {وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ} صرف تیرے رب کا چہرہ جو عظمت اور عزت والا ہے باقی رہ جائے گا"۔ [سورة الرحمن: 26، 27] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَلَا تَدْعُ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ ۘ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ ۚ لَهُ الْحُكْمُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ} "اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ پکارنا، بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی اور معبود برحق نہیں، ہر چیز فنا ہونے والی ہے مگر اس کا چہرہ، اسی کے لئے فرمانروائی ہے اور تم اس کی طرف لو ٹائے جاؤ گے"۔ [سورة القصص: 88] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {يَوْمَ هُم بَارِزُونَ لَا يَخْفَىٰ عَلَى اللَّهِ مِنْهُمْ شَيْءٌ لِّمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ} "جس دن سب لوگ ظاہر ہوجائیں گے ان کی کوئی چیز اللہ سے پوشیدہ نہ رہے گی۔ آج کس کی بادشاہی ہے؟، فقط اللہ واحد و قہار کی"۔ [سورة غافر: 16]

اس کے بعد اللہ تعالیٰ بارش نازل کرے گا جس سے تمام مخلوق کا جسم (پودوں کی طرح ) اگ آئے گا جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’ثُمَّ يُرْسِلُ اللهُ - أَوْ قَالَ يُنْزِلُ اللهُ - مَطَرًا كَأَنَّهُ الطَّلُّ أَوِ الظِّلُّ - نُعْمَانُ الشَّاكُّ - فَتَنْبُتُ مِنْهُ أَجْسَادُ النَّاسِ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ أُخْرَى، فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ‘‘۔ پھر اللہ ایسی بارش نازل کر ے گا جو بوندوں یا سایہ (نعمان کو یہاں شک ہوگیا) کی طرح ہو گا اس سے لوگوں کے جسم اگ آئیں گے پھراس میں دوبارہ پھونکا جائے گا تو سب لوگ کھڑے ہوئے دیکھ رہے ہوں گے۔ (صحیح مسلم: ۲۹۴۰)

پھر اللہ تعالیٰ فرشتے کو حکم د ے گا تو وہ صور میں دوسری بار پھونک مارے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَىٰ فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنظُرُونَ} "پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا پس وہ ایک دم کھڑ ے ہو کر دیکھنے لگ جائیں گے"۔ [سورة الزمر: 68]

اور اللہ کے نبی ﷺ نے دونوں پھونکوں کے درمیان کے فاصلہ کو بیان کیا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ أَرْبَعُونَ،قَالُوا: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَرْبَعُونَ يَوْمًا، قَالَ: أَبَيْتُ، قَالَ: أَرْبَعُونَ سَنَةً، قَالَ: أَبَيْتُ، قَالَ: أَرْبَعُونَ شَهْرًا، قَالَ: أَبَيْتُ وَيَبْلَى كُلُّ شَيْءٍ مِنَ الإِنْسَانِ، إِلَّا عَجْبَ ذَنَبِهِ، فِيهِ يُرَكَّبُ الخَلْقُ‘‘۔ دونوں پھونکوں (صوروں) کے درمیان چالیس (کا فاصلہ ) ہے، سب نے کہا: اے ابوہریرہ ! چالیس دن ؟ (ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ) فرماتے ہیں کہ میں نے انکار کردیا ، پھر سب نے کہا: چالیس سال؟ (ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ) فرماتے ہیں کہ میں نے پھر انکار کردیا۔ پھر سب نے کہا : چالیس مہینہ؟ (ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ) فرماتے ہیں کہ میں نے پھر انکار کردیا۔ اور انسان کی ہر چیز فنا ہو جائے گی، سوائے ریڑھ کى ہڈی کے بالکل آخرے حصے کے کہ اسی میں مخلوق جوڑی جائے گی۔ (صحیح بخاری: ۴۸۱۴، صحیح مسلم: ۲۹۵۵)

ہمارا اس بات پر بھی ایمان ہے جس کی خبر ہمارے نبی محمد ﷺ نے بروز قیامت آسمان اور زمین کے احوال و کوائف کے سلسلے میں ہمیں دی ہے، جیسا کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ’’جَاءَ حَبْرٌ مِنَ الأَحْبَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّا نَجِدُ: أَنَّ اللَّهَ يَجْعَلُ السَّمَوَاتِ عَلَى إِصْبَعٍ وَالأَرَضِينَ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالشَّجَرَ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالمَاءَ وَالثَّرَى عَلَى إِصْبَعٍ، وَسَائِرَ الخَلاَئِقِ عَلَى إِصْبَعٍ، فَيَقُولُ أَنَا المَلِكُ، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ تَصْدِيقًا لِقَوْلِ الحَبْرِ، ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ، وَالأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ القِيَامَةِ، وَالسَّمَوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ، سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ}(الزمر: ۶۷)‘‘۔ علماء یہود میں سے ایک شخص اللہ کے رسول ﷺکے پاس آیا اور کہا: اے محمد! ہم ( تورات میں) پاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا اور زمینوں کو ایک انگلی پر، درختوں کو ایک انگلی پر، پانی اور مٹی کو ایک انگلی پر اور دیگر مخلوقات کو ایک انگلی پر، پھر فرمائے گا کہ میں ہی بادشاہ ہوں، پس نبی ﷺ ہنس پڑے حتی کہ آپ کے سامنے کے دانت ظاہر ہو گئے یہودی عالم کے بات کی تصدیق میں، پھر اللہ کے رسول ﷺنے پڑھا: {وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ ڰ وَالْاَرْضُ جَمِيْعًا قَبْضَتُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِيّٰتٌۢ بِيَمِيْنِهٖ ۭ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ} "اور ان لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالیٰ کی کرنی چاہیے تھی نہیں کی ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے وہ پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جسے لوگ اس کا شریک بنائیں" ۔ [الزمر: ۶۷] (صحیح بخاری: ۴۸۱۱، صحیح مسلم: ۲۷۸۶، جامع الترمذی: ۳۲۳۸)

ہمارا اس بات پر بھی ایمان ہے کہ لوگ اپنے اپنے قبروں سے اٹھا ئے جا ئیں گے پھر جب دوبارہ صور میں پھونکا جائے گا تو اللہ تعالیٰ تمام مردوں کو زندہ کر دے گا اور لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑ ے ہوں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا { ثُمَّ إِنَّكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ لَمَيِّتُونَ *۔ "اس کے بعد پھر تم سب یقیناً مر جانے والے ہو۔ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تُبْعَثُونَ} پھر قیامت کے دن بلا شبہ تم سب اٹھائے جاؤ گے"۔ [المؤنون: ۱۵- ۱۶] اوراللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَإِذَا هُمْ مِنَ الْأَجْدَاثِ إِلَى رَبِّهِمْ يَنْسِلُونَ *۔ "تو صور میں پھونکے جاتے ہی سب کے سب اپنی قبروں سے اپنے رب کی طرف (تیز تیز) چلنے لگیں گے۔ قَالُوا يَا وَيْلَنَا مَنْ بَعَثَنَا مِنْ مَرْقَدِنَا هَذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمَنُ وَ صَدَقَ الْمُرْسَلُونَ *۔ کہیں گے ہائے ہائے! ہمیں ہماری خواب گاہوں سے کس نے اٹھا دیا، یہی ہے جس کا وعدہ رحمٰن نے دیا تھا اور رسولوں نے سچ سچ کہہ دیا تھا۔ إِنْ كَانَتْ إِلَّا صَيْحَةً وَاحِدَةً فَإِذَا هُمْ جَمِيعٌ لَدَيْنَا مُحْضَرُونَ} یہ نہیں ہے مگر ایک چیخ کہ یکایک سار ے کے سار ے ہمارے سامنے حاضر کر دیئے جائیں گے"۔ [یس: ۵۱- ۵۳]

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَإِنَّا لَنَحْنُ نُحْيِي وَنُمِيتُ وَنَحْنُ الْوَارِثُونَ *۔ "ہم ہی جلاتے اور مارتے ہیں اور ہم ہی (بالآخر) وارث ہیں۔ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِينَ *۔ اور تم میں سے آگے بڑھنے والے اور پیچھے ہٹنے والے بھی ہمارے علم میں ہیں۔ وَ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَحْشُرُهُمْ إِنَّهُ حَكِيمٌ عَلِيمٌ} آپ کا رب سب لوگوں کو جمع کر ے گا یقیناً وہ بڑی حکمتوں والا بڑے علم والاہے"۔ [الحجر: ۲۳- ۲۵]

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَقَالُوا أَإِذَا كُنَّا عِظَامًا وَرُفَاتًا أَإِنَّا لَمَبْعُوثُونَ خَلْقًا جَدِيدًا *۔ "انہوں نے کہا کیا جب ہم ہڈیاں اور (مٹی ہو کر) ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو کیا ہم ازسرنو پیدا کر کے پھر دوبارہ اٹھا کر کھڑے کر دیئے جائیں گے۔ قُلْ كُونُوا حِجَارَةً أَوْ حَدِيدًا *۔ جواب دیجئے کہ تم پتھر بن جاؤ یا لوہا۔ أَوْ خَلْقًا مِمَّا يَكْبُرُ فِي صُدُو رِ كُمْ فَسَيَقُولُونَ مَنْ يُعِيدُنَا قُلِ الَّذِي فَطَرَكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ فَسَيُنْغِضُونَ إِلَيْكَ رُءُوسَهُمْ وَيَقُولُونَ مَتَى هُوَ قُلْ عَسَى أَنْ يَكُونَ قَرِيبًا *۔ یا کوئی اور ایسی خلقت جو تمہار ے دلوں میں بہت ہی سخت معلوم ہو، پھر وہ پوچھیں کہ کون ہے جو دوبارہ ہماری زندگی لوٹائے؟ آپ جواب د ے دیں کہ وہی اللہ جس نے تمہیں اول بار پیدا کیا، اس پر وہ اپنے سر ہلا ہلا کر آپ سے دریافت کریں گے کہ اچھا یہ ہے کب؟ تو آپ جواب د ے دیں کہ کیا عجب کہ وہ (ساعت) قریب ہی آ لگی ہو۔ يَوْمَ يَدْعُو كُمْ فَتَسْتَجِيبُونَ بِحَمْدِهِ وَتَظُنُّونَ إِنْ لَبِثْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا} جس دن وہ تمہیں بلائے گا تم اس کی تعریف کرتے ہوئے تعمیل ارشاد کرو گے اور گمان کرو گے کہ تمہارا رہنا بہت ہی تھوڑا ہے"۔ [الاسراء: ۴۹۔ ۵۲] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَمَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِهِ وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى وُجُوهِهِمْ عُمْيًا وَبُكْمًا وَصُمًّا مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنَاهُمْ سَعِيرًا*۔ "اللہ جس کی رہنمائی کرے تو وہ ہدایت یافتہ ہے اور جسے وہ راہ سے بھٹکا د ے ناممکن ہے کہ تو اس کا مدد گار اس کے سوا کسی اور کو پائے، ایسے لوگوں کا ہم بروز قیامت اوندھے منھ حشر کریں گے، دراں حالیکہ وہ اندھے، گونگے اور بہرے ہوں گے، ان کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔ جب کبھی وہ بجھنے لگے گی ہم ان پر اسے اور بھڑکا دیں گے۔ ذَلِكَ جَزَاؤُهُمْ بِأَنَّهُمْ كَفَرُوا بِآيَاتِنَا وَقَالُوا أَإِذَا كُنَّا عِظَامًا وَرُفَاتًا أَإِنَّا لَمَبْعُوثُونَ خَلْقًا جَدِيدًا *۔ یہ سب ہماری آیتوں سے کفر کرنے اور اس کہنے کا بدلہ ہے کہ کیا جب ہم ہڈیاں اور ریز ے ریز ے ہوجائیں گے پھر ہم نئی پیدائش میں اٹھا کھڑ ے کئے جائیں گے؟ أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ قَادِرٌ عَلَى أَنْ يَخْلُقَ مِثْلَهُمْ وَجَعَلَ لَهُمْ أَجَلًا لَا رَيْبَ فِيهِ} کیا انہوں نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ جس اللہ نے آسمان وزمین کو پیدا کیا ہے وہ ان جیسوں کی پیدائش پر پورا قادر ہے، اسی نے ان کے لئے ایک ایسا وقت مقرر کر رکھا ہے جو شک شبہ سے یکسر خالی ہے"۔ [الاسراء: ۹۷۔ ۹۹] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيفًا} "جہاں جب آخرت کا وعدہ آئے گا ہم تم سب کو سمیٹ اور لپیٹ کر لے آئیں گے"۔ [الاسراء: ۱۰۴] ان کے علاوہ دوبارہ زندہ کئے جانے کے سلسلے میں بے شمار آیات ہیں جن کا استیعاب یہاں نا ممکن ہے، اس لئے چند ہی پر اکتفا کیا جا رہا ہے۔

اور سب سے پہلے قبر سے ہمارے نبی ﷺ نکلیں گے، جیسا کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَوَّلُ مَنْ يَنْشَقُّ عَنْهُ الْقَبْرُ، وَأَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ‘‘۔ میں قیامت کے دن ابن آدم کا سردار ہوں گا اور سب سے پہلے میں ہی قبر سے نکلوں گا اور میں سب سے پہلا شافع ہو ںگا اور سب سے پہلے میری ہی سفارش قبول کی جا ئے گی۔ (صحیح مسلم: ۲۲۷۸،سنن أبی داود: ۴۶۷۳)

اور سب سے پہلے ہمارے نبی ﷺ ہوش میں آئیں گے، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’لَا تُخَيِّرُونِي عَلَى مُوسَى، فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ، فَإِذَا مُوسَى بَاطِشٌ بِجَانِبِ الْعَرْشِ، فَلَا أَدْرِي أَكَانَ، فِيمَنْ صَعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِي أَمْ كَانَ مِمَّنِ اسْتَثْنَى اللهُ‘‘۔ تم سب مجھے موسیٰ پر ترجیح نہ دو جب لوگ بے ہوش ہو جائیں گے تو میں ہی سب سے پہلے ہوش میں آنے والا ہوں گا تو اچانک موسیٰ عرش کا کنارہ پکڑے ہو ںگے، اب یہ مجھے نہیں معلوم کہ وہ بے ہوش ہونے والوں میں سے ہوں گے لیکن مجھ سے پہلے انہیں ہوش آچکا ہو گا یا وہ ان میں سے ہوں گے جنہیں اللہ نے مستثنی کر رکھا ہے۔ (صحیح بخاری: ۲۴۴۱، صحیح مسلم: ۲۳۷۳)

اور بروز قیامت سب سے پہلے اللہ کے نبی ابراہیم خلیل الرحمن کو کپڑا پہنایا جایا گا جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’وَأَوَّلُ مَنْ يُكْسَى يَوْمَ القِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ‘‘۔ اوربروزقیامت سب سے پہلے جسے کپڑا پہنایا جا ئے گا وہ ابراہیم ہیں۔ (صحیح بخاری: ۳۳۴۹ ، صحیح مسلم: ۲۸۶۰ ، جامع الترمذی: ۲۴۲۳، سنن النسائی: ۲۰۸۲)

بروز قیامت لوگوں کو ننگے پاؤں ، ننگے بدن اور غیر مختون اٹھایا جا ئے گا، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا ‘‘۔ بروز قیامت لوگوں کو ننگے پاؤں، ننگے بد ن اور غیر مختون اٹھایا جا ئے گا۔ (صحیح بخاری: ۶۵۲۷، صحیح مسلم: ۲۸۵۹، سنن النسائی: ۲۰۸۳، سنن ابن ماجہ: ۴۲۷۶)

ہمارا ایمان ہے کہ وہ زمین جس پر بندو ں کو جمع کیا جا ئے گا وہ اس زمین کے علاوہ ہوگی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَ السَّمَاوَاتُ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ } "جس دن زمین اس زمین کے سوا اور ہی بدل دی جائے گی اور آسمان بھی، اور سب کے سب اللہ واحد غلبے والے کے روبرو ہوں گے"۔ [إبراھیم: ۴۸]

اور میدان محشر سفید ہوگا، اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ القِيَامَةِ عَلَى أَرْضٍ بَيْضَاءَ عَفْرَاءَ، كَقُرْصَةِ نَقِيٍّ‘‘۔ قیامت کے دن لوگوں کو سفید سرخ آمیز زمین پر جمع کیا جا ئے گا، جیسے باریک آٹے کی بنائی ہوئی صاف روٹی۔ (صحیح بخاری: ۶۵۲۱، صحیح مسلم: ۲۷۹۰)

اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’تَكُونُ الأَرْضُ يَوْمَ القِيَامَةِ خُبْزَةً وَاحِدَةً، يَتَكَفَّؤُهَا الجَبَّارُ بِيَدِهِ كَمَا يَكْفَأُ أَحَدُكُمْ خُبْزَتَهُ فِي السَّفَرِ‘‘۔ قیامت کے دن زمین ایک روٹی کی طرح ہو جائے گی جسے جبار اپنے ہاتھ سے الٹے پلٹے گا جس طرح تم میں کا ایک شخص اپنی روٹی سفر کے دوران الٹتا پلٹتا ہے۔ (صحیح بخاری: ۶۵۲۰، صحیح مسلم: ۲۷۹۲)

اس سلسلے میں صحیح احادیث وارد ہوئی ہیں کہ تبدیلی کے وقت لوگ کہاں ہوں گے: فعن ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم أنَّ حَبْرًا مِنْ أَحْبَارِالْيَهُودِ جَاءَ إلى رسول يسأله وفيه: «...فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: أَيْنَ يَكُونُ النَّاسُ يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: هُمْ فِي الظُّلْمَةِ دُونَ الْجِسْرِ». ثوبان، اللہ کے رسول ﷺ کے آزاد کردہ غلام سے روایت ہے کہ یہود کا ایک عالم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے متعدد سوالات کئے، جن میں سے ایک سوال یہ تھا: کہ اس دن لوگ کہاں ہوں گے جس دن زمین و آسمان دوسری زمین و آسمان سے بدل دیئے جائیں گے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اس وقت پل کے پاس تاریکی میں ہوں گے۔ (صحیح مسلم: ۳۱۵)

وعن عَائِشَةَ رضي الله عنها قَالَتْ: «سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ قَوْلِهِ عز وجل: {يَوْمَ تُبَدَّلُ الأَرْضُ غَيْرَ الأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ} فَأَيْنَ يَكُونُ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَقَالَ: عَلَى الصِّرَاطِ». عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالی کے اس قول {يَوْمَ تُبَدَّلُ الأَرْضُ غَيْرَ الأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ} (جس دن زمین اس زمین کے سوا اور ہی بدل دی جائے گی اور آسمان بھی) [ابراھیم: ۴۸]) کے بارے میں سوال کیا: کہ تب لوگ اس دن کہاں ہوں گے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (پل) صراط پر۔ (صحیح مسلم: ۲۷۹۱)

اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ یہ دن بہت عظیم ہوگا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {أَلَا يَظُنُّ أُولَئِكَ أَنَّهُمْ مَبْعُوثُونَ*۔ "کیا انہیں اپنے مرنے کے بعد جی اٹھنے کا خیال نہیں۔ لِيَوْمٍ عَظِيمٍ} اس عظیم دن کے لئے"۔ [المطففین: ۴- ۵] اور اللہ عز وجل نے فرمایا: {يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ } "لوگو ! اپنے رب سے ڈرو ! بلاشبہ قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے"۔ [الحج: ۱]

اور اس دن کى مدت پچاس ہزار سال کى ہوگى، جیسا کہ صحیح حدیث میں آیا ہے‘ چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’مَا مِنْ صَاحِبِ كَنْزٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهُ، إلى أن قال: حَتَّى يَحْكُمَ اللهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ، ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِمَّا إِلَى النَّارِ‘‘۔ کوئی صاحب کنز (یعنی خزانہ والا) ایسا نہیں ہے جو زکوٰۃ نہ دیتا ہو - اسی میں آگے ہے- یہاں تک کہ اللہ فیصلہ نہ کرد ے اپنے بندوں کا ایسے دن میں جس کا اندازہ پچاس ہزار برس ہے تمہاری زندگی کے حساب سے، پھر اپنى راہ دیھے گا جنت کی طرف یا دوزخ کی طرف۔ (صحیح بخاری: ۲۳۷۱، صحیح مسلم: ۹۷۸ ، سنن أبی داود: ۱۶۵۸، جامع الترمذی: ۱۶۳۶، سنن النسائی: ۳۵۶۳، سنن ابن ماجہ: ۲۷۸۸)

اور اس دن سورج زمین سے کافی قریب ہوگا، جیساکہ ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’تُدْنَى الشَّمْسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْخَلْقِ، حَتَّى تَكُونَ مِنْهُمْ كَمِقْدَارِ مِيلٍ- قَالَ سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ: فَوَاللهِ مَا أَدْرِي مَا يَعْنِي بِالْمِيلِ؟ أَمَسَافَةَ الْأَرْضِ، أَمِ الْمِيلَ الَّذِي تُكْتَحَلُ بِهِ الْعَيْنُ - قَالَ: فَيَكُونُ النَّاسُ عَلَى قَدْرِ أَعْمَالِهِمْ فِي الْعَرَقِ، فَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ إِلَى كَعْبَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ إِلَى حَقْوَيْهِ، وَ مِنْهُمْ مَنْ يُلْجِمُهُ الْعَرَقُ إِلْجَامًا‘‘۔ قیامت کے دن سورج مخلوق سے قریب کر دیا جائے گا یہاں تک کہ ان سے ایک میل کی مقدار کے برابر پر آ جائے گا۔ سلیم بن عامر کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ میل سے کیا مراد وہ لیتے تھے؟ کیا یہ زمین کی مسافت ہے یا وہ میل ہے جس سےآنکھ میں سرمہ لگایا جاتا ہے۔ فرماتے ہیں کہ لوگ اپنے اپنے اعمال کے مطابق پسینے میں شرابور ہوں گے، کوئی ٹخنوں تک (ڈوبا) ہو گا، کوئی گھٹنوں تک ہوگا، کوئی کمر تک ہوگا اور کوئی ایسا بھی ہوگا جس کو پسینہ کی لگام ہو گی۔ ( صحیح مسلم: ۲۸۶۴، جامع الترمذی: ۲۴۲۱)

اہل ایمان اپنی کی ہوئی نیکیوں کی وجہ سے سورج کی تپش سے بچ جائیں گے اور بعض کو تو عرش الہی کا سایہ نصیب ہوگا، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ، يَوْمَ لاَ ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ‘‘۔ سات لوگ ہیں جنہیں اللہ اس دن اپنے سایہ میں رکھے گا، جس دن اس کے سایے کے سوا کوئی اور سایہ نہ ہوگا۔ (صحیح بخاری: ۶۶۰، صحیح مسلم: ۱۰۳۱)

اور کچھ لوگوں کو سورۃ البقرۃ اور سورۃ آل عمران کا سایہ نصیب ہوگا، یہ دونوں سورتیں اس کی طرف سے حجت کریں گی، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’اقْرَءُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَفِيعًا لِأَصْحَابِهِ، اقْرَءُوا الزَّهْرَاوَيْنِ الْبَقَرَةَ، وَسُورَةَ آلِ عِمْرَانَ، فَإِنَّهُمَا تَأْتِيَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ، أَوْ كَأَنَّهُمَا غَيَايَتَانِ، أَوْ كَأَنَّهُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ، تُحَاجَّانِ عَنْ أَصْحَابِهِمَا، اقْرَءُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ، فَإِنَّ أَخْذَهَا بَرَكَةٌ، وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ، وَلَا تَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ‘‘۔ قرآن پڑھو اس لئے کہ وہ قیامت کے دن اپنے ساتھیوں کا سفارشی بن کر آئے گا اور دو کلیاں یعنی سورۃ البقرۃ اور سورۃ آل عمران پڑھو اس لئے کہ وہ بروز قیامت ایسے آئیں گی جیسے وہ دونوں بادل ہیں یا وہ دونوں سائبان ہیں یا وہ دونوں پر پھیلانے والے پرندوں کی دو ٹکڑیاں ہیں، دونوں اپنے ساتھیوں کی طرف سے حجت کرتی ہوئی آئیں گی، (اس لئے ) سورۃ البقرۃ پڑھو کیوں کہ اس کا لینا برکت ہے اور اس کا چھوڑنا حسرت ہے اور جادوگر اس کى سکت نہیں رکھتے۔ (صحیح مسلم: ۸۰۴) اور کچھ لوگوں کو اپنے صدقے کی وجہ سے سایہ نصیب ہوگا، اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’كُلُّ امْرِئٍ فِي ظِلِّ صَدَقَتِهِ حَتَّى يُفْصَلَ بَيْنَ النَّاسِ‘‘۔ ہر شخص اپنے صدقے کے سایے میں ہوگا تا آنکہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کردیا جا ئے۔ (مسند أحمد: ۱۷۳۳۳، مسند أبی یعلی: ۱۷۶۶، صحیح ابن خزیمہ: ۲۴۳۱، صحیح ابن حبان: ۳۳۱۰ ، اور اسے ابن خزیمہ اور ابن حبان نے صحیح کہا ہے )

باب: قیامت کے دن شفاعت اور رب کا اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے آنے کا بیان

ہمارا ایمان ہے کہ شفاعت کا مالک اللہ ہی ہے، جیسا کہ فرمان الہی ہے: {قُلْ لِلَّهِ الشَّفَاعَةُ جَمِيعًا لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ} "کہہ دیجئے! کہ تمام سفارش کا مختار اللہ ہی ہے تمام آسمانوں اور زمین کا راج اسی کے لئے ہے تم سب اسی کی طرف پھیرے جاؤ گے"۔ [الزمر: ۴۴]

ہمارا ایمان ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر اس کے پاس کوئی شفاعت نہیں کرسکتا، جیسا کہ رب ذو الجلال کا فرمان ہے: {مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ } "کون جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے؟" [البقرۃ: ۲۵۵] شفاعت کرنے والے اسى کے لئے شفاعت کریں گے جس کے قول وفعل سے رب راضی ہو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فر ماتا ہے: {وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضَى وَهُمْ مِنْ خَشْيَتِهِ مُشْفِقُونَ } "وہ کسی کی بھی سفارش نہیں کرتے بجز ان کے جن سے اللہ خوش ہو وہ خود ہیبت الٰہی سے لرزاں و ترساں ہیں"۔ [الاأنبیاء: ۲۸] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {يَوْمَئِذٍ لَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَنُ وَرَضِيَ لَهُ قَوْلًا} "اس دن سفارش کچھ کام نہ آئیگی مگر جسے رحمٰن حکم دے اور اس کی بات (شفاعت) کو پسند فرمائے"۔ [طہ: ۱۰۹]

ہمارا ایمان ہے کہ لوگوں میں شافعین کى شفاعت کے سب سے زیادہ حق دار اہل توحید اور اہل اخلاص ہوں گے، جیسا کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ پوچھا گیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ بروز قیامت آپ کی شفاعت کا سب سے زیادہ حق دار کون ہوگا؟ تو آپ ﷺ نے فر مایا: ’’لَقَدْ ظَنَنْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَنْ لاَ يَسْأَلُنِي عَنْ هَذَا الحَدِيثِ أَحَدٌ أَوَّلُ مِنْكَ لِمَا رَأَيْتُ مِنْ حِرْصِكَ عَلَى الحَدِيثِ أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِي يَوْمَ القِيَامَةِ، مَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، خَالِصًا مِنْ قَلْبِهِ، أَوْ نَفْسِهِ‘‘۔ اے ابو ہریرہ ! میں سمجھ رہا تھا کہ اس حدیث کے بارے میں مجھ سے تم سے پہلے کوئی نہیں پوچھے گا کیوں کہ میں نے حدیث پر تمہارا حرص دیکھا ہے۔ لوگوں میں قیامت کے دن میری شفاعت کا سب سے زیادہ حق دار وہ ہوگا جس نے اپنے دل یا اپنے نفس کو خالص کرتے ہوئے لا الہ الا اللہ کہا ہوگا۔ (صحیح بخاری: ۹۹، ۶۵۷۰)

ہمارا ایمان ہے کہ کافروں کو شافعین کى شفاعت نصیب نہیں ہوگی، جیسا کہ رب العالمین فرماتا ہے: {فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشَّافِعِينَ} "پس انہیں سفارش کرنے والوں کی سفارش نفع نہ دے گی"۔ [المدثر: ۴۸]

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے گا شفاعت کى اجازت دے گا، اور یہ اجازت شافع (شفاعت کرنے والے ) کے لئے بطور عزت و اکرام ہوگى اور مشفوع لہ(جس کے لئے شفاعت کی جائے گى) کے لئے رحمت۔ اور ہمیں یہ معلوم ہے کہ بروز قیامت سب سے بڑے شافع ہمارے نبی محمد ﷺ ہوں گے، آپ ﷺ کئی بار شفاعت کریں گے اور ان میں سب سے بڑی شفاعت اہل موقف کے سلسلے میں ہوگی تاکہ ان کے درمیان فیصلہ کیا جا سکے، اور وہ مقام محمود ہی ہے، جس کا ذکر اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں کیا ہے، جیسا کہ اللہ عز و جل نے فر مایا: {وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَكَ عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا} "رات کے کچھ حصے میں تہجد کی نماز میں قرآن کی تلاوت کریں یہ زیادتی آپ کے لئے ہے عنقریب آپ کا رب آپ کو مقام محمود میں کھڑا کر ے گا"۔ [الإسراء: ۷۹] اور صحیح بخاری میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں ہے کہ: ’’فَيَشْفَعُ لِيُقْضَى بَيْنَ الخَلْقِ، فَيَمْشِي حَتَّى يَأْخُذَ بِحَلْقَةِ البَابِ، فَيَوْمَئِذٍ يَبْعَثُهُ اللَّهُ مَقَامًا مَحْمُودًا، يَحْمَدُهُ أَهْلُ الجَمْعِ كُلُّهُمْ‘‘۔ تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم شفاعت کریں گے تاکہ مخلوق کے درمیان فیصلہ کیا جا سکے تو وہ چلیں گے حتی کہ درواز ے کا حلقہ پکڑ لیں گے تو اس دن اللہ انہیں مقام محمود عطا کر ے گا جس کی تمام لوگ تعریف کرتے ہیں۔ (صحیح بخاری: ۱۴۷۵) اس حدیث میں شفاعت کا تذکرہ فیصلے کے سلسلے میں کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ فیصلہ کرنے کا حق دار وہی ہے، جیسا کہ فرمان الہی ہے: {هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَهُمُ اللَّهُ فِي ظُلَلٍ مِنَ الْغَمَامِ وَالْمَلَائِكَةُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ} "کیا لوگوں کو اس بات کا انتظار ہے کہ ان کے پاس خود اللہ تعالیٰ بادل کے سائبانوں میں آجائے اور فرشتے بھی اور کام انتہا تک پہنچا دیا جائے، اللہ ہی کی طرف سے تمام کام لوٹائے جاتے ہیں"۔ [البقرۃ: ۲۱۰] ایک اور مقام پر اللہ عز وجل نے فرمایا: {وَجَاءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا} "اور تیرا رب (خود) آجائے گا اور فرشتے صفیں باندھ کر (آجائیں گے)"۔ [الفجر: ۲۲] اور اللہ عز وجل کا فرمان ہے: {هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُمُ الْمَلَائِكَةُ أَوْ يَأْتِيَ رَبُّكَ أَوْ يَأْتِيَ بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ} "کیا یہ لوگ اس امر کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا ان کے پاس رب آئے یا آپ کے رب کی کوئی (بڑی) نشانی آئے"۔ [الأنعام : ۱۵۸]

اس کے بعد جنتیوں کو جنت میں داخل کرنے کے سلسلے میں شفاعت ہوگی، اور ان شفاعتوں کے متعلق بہت ساری متواتر حدیثیں دلالت کرتی ہیں، ان میں ایک انس رضی اللہ عنہ کی یہ مشہور حدیث بھی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’إِذَا كَانَ يَوْمُ القِيَامَةِ مَاجَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ، فَيَأْتُونَ آدَمَ، فَيَقُولُونَ: اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، فَيَقُولُ: لَسْتُ لَهَا، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِإِبْرَاهِيمَ فَإِنَّهُ خَلِيلُ الرَّحْمَنِ، فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ، فَيَقُولُ: لَسْتُ لَهَا، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِمُوسَى فَإِنَّهُ كَلِيمُ اللَّهِ، فَيَأْتُونَ مُوسَى فَيَقُولُ: لَسْتُ لَهَا، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِعِيسَى فَإِنَّهُ رُوحُ اللَّهِ، وَكَلِمَتُهُ، فَيَأْتُونَ عِيسَى، فَيَقُولُ: لَسْتُ لَهَا، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَأْتُونِي، فَأَقُولُ: أَنَا لَهَا، فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي، فَيُؤْذَنُ لِي، وَيُلْهِمُنِي مَحَامِدَ أَحْمَدُهُ بِهَا لاَ تَحْضُرُنِي الآنَ، فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ المَحَامِدِ، وَأَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا، فَيَقُولُ: يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ يُسْمَعْ لَكَ، وَسَلْ تُعْطَ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، أُمَّتِي أُمَّتِي، فَيَقُولُ: انْطَلِقْ فَأَخْرِجْ مِنْهَا مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ شَعِيرَةٍ مِنْ إِيمَانٍ، فَأَنْطَلِقُ فَأَفْعَلُ، ثُمَّ أَعُودُ، فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ المَحَامِدِ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا، فَيُقَالُ: يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ يُسْمَعْ لَكَ، وَسَلْ تُعْطَ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، أُمَّتِي أُمَّتِي، فَيَقُولُ: انْطَلِقْ فَأَخْرِجْ مِنْهَا مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ - أَوْ خَرْدَلَةٍ - مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجْهُ، فَأَنْطَلِقُ، فَأَفْعَلُ، ثُمَّ أَعُودُ فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ المَحَامِدِ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا، فَيَقُولُ: يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ يُسْمَعْ لَكَ، وَسَلْ تُعْطَ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ أُمَّتِي أُمَّتِي، فَيَقُولُ: انْطَلِقْ فَأَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ أَدْنَى أَدْنَى أَدْنَى مِثْقَالِ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ، فَأَخْرِجْهُ مِنَ النَّارِ، فَأَنْطَلِقُ فَأَفْعَلُ ، فَلَمَّا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ أَنَسٍ قُلْتُ لِبَعْضِ أَصْحَابِنَا: لَوْ مَرَرْنَا بِالحَسَنِ وَهُوَ مُتَوَارٍ فِي مَنْزِلِ أَبِي خَلِيفَةَ فَحَدَّثْنَاهُ بِمَا حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، فَأَتَيْنَاهُ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ، فَأَذِنَ لَنَا فَقُلْنَا لَهُ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، جِئْنَاكَ مِنْ عِنْدِ أَخِيكَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فَلَمْ نَرَ مِثْلَ مَا حَدَّثَنَا فِي الشَّفَاعَةِ، فَقَالَ: هِيهْ فَحَدَّثْنَاهُ بِالحَدِيثِ، فَانْتَهَى إِلَى هَذَا المَوْضِعِ، فَقَالَ: هِيهْ، فَقُلْنَا لَمْ يَزِدْ لَنَا عَلَى هَذَا، فَقَالَ: لَقَدْ حَدَّثَنِي وَهُوَ جَمِيعٌ مُنْذُ عِشْرِينَ سَنَةً فَلاَ أَدْرِي أَنَسِيَ أَمْ كَرِهَ أَنْ تَتَّكِلُوا، قُلْنَا: يَا أَبَا سَعِيدٍ فَحَدِّثْنَا فَضَحِكَ، وَقَالَ: خُلِقَ الإِنْسَانُ عَجُولًا مَا ذَكَرْتُهُ إِلَّا وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُحَدِّثَكُمْ حَدَّثَنِي كَمَا حَدَّثَكُمْ بِهِ، قَالَ: ثُمَّ أَعُودُ الرَّابِعَةَ فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ المَحَامِدِ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا، فَيُقَالُ: يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ يُسْمَعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ ائْذَنْ لِي فِيمَنْ قَالَ: لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَيَقُولُ: وَعِزَّتِي وَجَلاَلِي، وَكِبْرِيَائِي وَ عَظَمَتِي لَأُخْرِجَنَّ مِنْهَا مَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ‘‘۔ قیامت کا دن جب آئے گا تو لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہوگا، پھر وہ آدم کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ آپ اپنے رب کے پاس ہمارے لئے شفاعت کر دیجئے، وہ کہیں گے کہ میں اس کے لائق نہیں ہوں، تم ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس جاؤ، وہ اللہ کے خلیل ہیں، لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے وہ بھی کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں، ہاں تم موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جاؤ کیونکہ وہ کلیم اللہ ہیں، لوگ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے لیکن وہ بھی کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں، تم عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جاؤ کیوں کہ وہ اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں، چنانچہ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے وہ بھی کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں، ہاں تم محمد ﷺکے پاس جاؤ، لوگ میرے پاس آئیں گے اور میں کہوں گا کہ میں اس کے لا ئق ہوں اور پھر میں اپنے رب سے اجازت چاہوں گا اور مجھے اجازت دی جائے گی اور اللہ تعالیٰ تعریفوں کے الفاظ مجھے الہام کرے گا جن کے ذریعہ میں اللہ کی حمد و ثنا بیان کروں گا جو اس وقت مجھے یاد نہیں ہیں، چنانچہ جب میں یہ تعریفیں بیان کروں گا اور اللہ کے سامنے سجدہ میں گر جاؤں گا تو مجھ سے کہا جائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ، جو کہو گے وہ سنا جائے گا، جو مانگو گے وہ دیا جائے گا، جو شفاعت کرو گے قبول کی جائے گی، پھر میں کہوں گا: اے رب! میری امت، میری امت، کہا جائے گا کہ جاؤ اور ان لوگوں کو دوزخ سے نکال لو جن کے دل میں جَو برابر بھی ایمان ہو، چنانچہ میں جاؤں گا اور ایسا ہی کروں گا، پھر میں لوٹوں گا تو اس کی تعریف انہیں تعریفی کلمات کے ذریعہ کروں گا پھراللہ کے لیے سجدہ میں گر جاؤں گا تو کہا جائے گا اے محمد ! اپنا سر اٹھاؤ کہو، تمہاری بات سنی جائے گی، ما نگو تم کو دیا جا ئے گا اور شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی تومیں کہوں گا: اے میرے رب! میری امت، میری امت، (رب) کہے گا: جاؤ اور جس کے دل میں ایک ذرہ یا رائی کے ایک دانہ کے برابر بھی ایمان ہو اسے نکال لو تو میں جاؤں گا اور ایسا ہی کروں گا، پھر میں لوٹوں گا تو اس کی تعریف انہیں تعریفی کلمات کے ذریعہ کروں گا پھر اللہ کے لیے سجدہ میں گر جاؤں گا تو کہا جائے گا اے محمد ! اپنا سر اٹھاؤ کہو، تمہاری بات سنی جائے گی، ما نگو تم کو دیا جا ئے گا اور شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جا ئے گی تو میں کہوں گا: اے میرے رب! میری امت، میری امت، (رب) کہے گا: جاؤ اور جس کے دل میں رائی کے دانے کے ادنى حصہ کے برابر ایمان ہو اسے نکال لو تو میں جاؤں گا اور نکالوں گا۔ پھر جب ہم انس کے پاس سے نکلے تو میں نے اپنے بعض ساتھیوں سے کہا کہ کاش حسن کے پاس چلتے، وہ اس وقت ابو خلیفہ کے مکان میں تھے اور ان سے وہ حدیث بیان کرتے جو انس بن مالک نے ہم سے بیان کیا ہے، چنانچہ ہم ان کے پاس آئے اور انہیں سلام کیا پھر انہوں نے ہمیں اجازت دی اور ہم نے ان سے کہا: اے ابو سعید! ہم آپ کے پاس آپ کے بھائی انس بن مالک کے یہاں سے آئے ہیں کیوں کہ ہم نے شفاعت کے سلسلے میں اس جیسی حدیث نہیں سنی ہے جو انہوں نے ہم سے بیان کیا ہے، انہوں نے کہا کہ بیان کرو تو ہم نے ان سے حدیث بیان کردیا جب اس مقام تک پہنچے تو انہوں نے کہا کہ اور بیان کرو، ہم نے کہا کہ انہوں نے اس سے زیادہ ہم سےنہیں (بیان) کیا تو انہوں نے کہا کہ انہوں نے مجھ سے یہ حدیث بیس سال پہلے بیان کیا تھا، مجھے معلوم نہیں کہ وہ بھول گئے یا ناپسند کیا کہ کہیں لوگ بھروسہ نہ کر بیٹھیں، ہم نے کہا اے ابو سعید! پھر ہم سے وہ حدیث بیان کیجئے، آپ اس پر ہنس پڑے اور فرمایا: انسان بڑا جلد باز پیدا کیا گیا ہے، میں نے اس کا ذکر ہی اس لیے کیا ہے کہ تم سے بیان کرنا چاہتا ہوں، انہوں نے مجھ سے اسی طرح بیان کیا جیسا کہ تم سے بیان کیا، فرمایا کہ پھر میں چوتھی مرتبہ لوٹوں گا اور وہی تعریفیں کروں گا اور اس کے لیے سجدہ میں چلا جاؤں گا، کہا جا ئے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ، جو کہو گے سنا جائے گا، جو مانگو کے دیا جائے گا، جو شفاعت کرو گے قبول کی جائے گی تو میں کہوں گا: اے رب! مجھے ان کے بارے میں بھی اجازت دیجئے جنہوں نے لا الہٰ الا اللہ کہا ہے تو وہ کہے گا میری عزت، میرے جلال، میری کبریائی اور میری بڑائی کی قسم! اس میں سے میں انہیں بھی نکالوں گا جنہوں نے کلمہ لا الہٰ الا اللہ کہا ہے۔ (صحیح بخاری: ۷۵۱۰ ، صحیح مسلم: ۱۹۳، سنن ابن ماجہ: ۴۳۱۲)

اور اسی سلسلے میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی یہ روایت بھی ملاحظہ کریں، یہ روایت بھی انس رضی اللہ عنہ سے مروی روایت کی طرح ہے، اس کے آخر میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ انہیں کہا جا ئے گا: ’’اذْهَبُوا إِلَى مُحَمَّدٍ، فَيَأْتُونِّي فَيَقُولُونَ: يَا مُحَمَّدُ، أَنْتَ رَسُولُ اللهِ، وَخَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ، وَغَفَرَ اللهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ، وَمَا تَأَخَّرَ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، أَلَا تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ؟ أَلَا تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا؟ فَأَنْطَلِقُ، فَآتِي تَحْتَ الْعَرْشِ، فَأَقَعُ سَاجِدًا لِرَبِّي، ثُمَّ يَفْتَحُ اللهُ عَلَيَّ وَيُلْهِمُنِي مِنْ مَحَامِدِهِ، وَحُسْنِ الثَّنَاءِ عَلَيْهِ شَيْئًا لَمْ يَفْتَحْهُ لِأَحَدٍ قَبْلِي، ثُمَّ يُقَالُ: يَا مُحَمَّدُ، ارْفَعْ رَأْسَكَ، سَلْ تُعْطَهْ، اشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَرْفَعُ رَأْسِي، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، أُمَّتِي أُمَّتِي، فَيُقَالُ: يَا مُحَمَّدُ، أَدْخِلْ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِكَ مَنْ لَا حِسَابَ عَلَيْهِ مِنَ الْبَابُِ الْأَيْمَنِ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ، وَهُمْ شُرَكَاءُ النَّاسِ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الْأَبْوَابِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إِنَّ مَا بَيْنَ الْمِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ لَكَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَهَجَرٍ، أَوْ كَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَبُصْرَى‘‘۔ جا ؤ محمد کے پاس تو وہ سب میرے پاس آئیں گے اور کہیں گے اے محمد ! آپ اللہ کے رسول اور خاتم الأنبیاء ہیں اور اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف کردیا ہے، (لہذا) اپنے رب سے آپ ہمار ے لئے سفارش کر دیجئے، کیا ہماری حالت آپ نہیں دیکھ رہے ہیں؟اور کیا آپ وہ نہیں دیکھ رہے ہیں جو ہمیں پہونچا ہے؟ (آپ نے فر مايا کہ) تو میں چلوں گا یہاں تک کہ عرش کے نیچے آؤں گا اور اپنے رب کے لئے سجدے میں گر جا ؤں گا، میرا دل کھول دے گا اور اپنی وہ حمد و ثنا کے کلمات مجھ پر الہام کرے گا جو مجھ سے پہلے کسی کے لئے نہیں کھولا پھر کہا جا ئے گا کہ اے محمد! اپنا سر اٹھا، مانگ دیا جائے گا، سفارش کر قبول کی جائے گی تومیں اپنا سر اٹھاؤں گا اور کہوں گا: اے میرے رب ! میری امت، میری امت، کہا جا ئے گا، اے محمد! اپنی امت میں سے ان لوگوں کو جن سے حساب کتاب نہ ہو گا جنت کے باب ایمن سے جنت میں داخل کر اور وہ اور لوگوں کے شریک ہیں باقی دروازوں میں جنت کے، قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! جنت کے درواز ے کے دونوں بازؤں میں اتنا فاصلہ ہے جیسے مکہ اور ہَجر یا جیسے مکہ اور بصرہ کے درمیان۔ (صحیح بخاری: ۳۳۴۰ ، صحیح مسلم: ۱۹۴، الفاظ صحیح مسلم کے ہیں )

اور اسی طرح انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی ایک اور روایت ہے، جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’أَنَا أَوَّلُ شَفِيعٍ فِي الْجَنَّةِ، لَمْ يُصَدَّقْ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ مَا صُدِّقْتُ، وَإِنَّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ نَبِيًّا مَا يُصَدِّقُهُ مِنْ أُمَّتِهِ إِلَّا رَجُلٌ وَاحِدٌ‘‘۔ میں جنت کے بارے میں سب سے پہلا شفاعت کرنے والا ہوں گا۔ انبیاء میں سے کسی نبی کی اتنی تصدیق نہیں کی گئی جتنا کہ میں کیا گیا اور ایک نبی ایسے بھی تھے کہ ان کی امت کا صرف ایک شخص انہیں تسلیم کرتا تھا۔ (صحیح مسلم: ۱۹۶، سنن الدارمی: ۵۲ )

اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ قَدْ دَعَا بِهَا فَاسْتُجِيبَ، فَجَعَلْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ القِيَامَةِ‘‘۔ ہر نبی کی ایک دعا تھی جس کے ذریعہ انہوں نے مانگا تو وہ قبول کی گئی لیکن میں اپنی دعا کو اپنی امت کے لئے قیامت کے دن شفاعت کے لئے بچا لیا ہوں۔ (صحیح بخاری: ۶۳۰۵) اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ يَدْعُو بِهَا، وَأُرِيدُ أَنْ أَخْتَبِئَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي فِي الآخِرَةِ‘‘۔ ہر نبی کی ایک قابل قبول دعا ہوتی ہے جسے وہ کرتا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ میں اپنی دعا آخرت میں اپنی امتی کے لئے بچا کر رکھوں۔ (صحیح بخاری : ۶۳۰۴، صحیح مسلم: ۱۹۹، جامع الترمذی: ۳۶۰۶، سنن ابن ماجہ: ۴۳۰۷)

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح ہمارے نبی محمد ﷺ کو شفاعت کا حق دار بنا کر آپ کو عزت و اکرام سے نوازا اسی طرح دیگر انبیاء، فرشتوں اور تمام مومنوں کو بھی شفاعت کا موقع دے کر عزت بخشے گا، جیسا کہ سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: شَفَعَتِ الْمَلَائِكَةُ، وَشَفَعَ النَّبِيُّونَ، وَشَفَعَ الْمُؤْمِنُونَ، وَلَمْ يَبْقَ إِلَّا أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ، فَيَقْبِضُ قَبْضَةً مِنَ النَّارِ، فَيُخْرِجُ مِنْهَا قَوْمًا لَمْ يَعْمَلُوا خَيْرًا قَطُّ‘‘۔ تو اللہ عزوجل فرمائے گا کہ فرشتوں نے شفاعت کی، انبیا نے شفاعت کى اور اہل ایمان نے شفاعت کى، سوائے ارحم الراحمین کے کوئى نہیں بچا تو وہ جہنم سے ایک مٹھی بھر ایسے لوگوں کو نکا لے گا جنہوں نے کبھی بھی نیکی نہیں کیا ہوگا۔ (صحیح بخاری: ۷۴۳۹ ،صحیح مسلم: ۱۸۳)

باب: پیشگی، حساب اور اعمال نامے کی تقسیم کا بیان

ہمارا ایمان ہے کہ ہر انسان کو اس کا نامۂ اعمال دیا جائے گا، بعض لوگ اپنا نامۂ اعمال دائیں ہاتھ میں لیں گے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَيَقُولُ هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ} "سو جس کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہنے لگے گا لو آؤ میرا نامۂ اعمال پڑھو"۔ [الحاقۃ: ۱۹]

اور بعض لوگ اپنا نامۂ اعمال با ئیں ہاتھ میں پائیں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِشِمَالِهِ فَيَقُولُ يَالَيْتَنِي لَمْ أُوتَ كِتَابِيَهْ} "لیکن جسے اس (کے اعمال) کی کتاب اس کے بائیں ہاتھ میں دی جائے گی، وہ تو کہے گا کاش کہ مجھے میری کتاب دی ہی نہ جاتی"۔ [الحاقۃ: ۲۵] اور بعض لوگ تو اپنا نامۂ اعمال اپنی پیٹھ کے پیچھے سے پکڑیں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ وَرَاءَ ظَهْرِهِ} "ہاں جس شخص کا اعمال نامہ اس کی پیٹھ پیچھے سے دیا جائے گا"۔ االانشقاق: ۱۰] اور انہیں کہا جا ئے گا: {اقْرَأْ كِتَابَكَ كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا} "لے ! خود ہی اپنی کتاب آپ پڑھ لے، آج تو تو آپ ہی اپنا خود حساب لینے کو کافی ہے"۔ [الإسراء: ۱۴] اور اللہ عز وجل نے فرمایا: {وَوُضِعَ الْكِتَابُ فَتَرَى الْمُجْرِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا فِيهِ وَيَقُولُونَ يَاوَيْلَتَنَا مَالِ هَذَا الْكِتَابِ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْصَاهَا وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا} "اور نامۂ اعمال سامنے رکھ دیئے جائیں گے۔ پس تو دیکھے گا گنہگار اس کی تحریر سے خوفزدہ ہو رہے ہونگے اور کہہ رہے ہونگے ہائے ہماری خرابی یہ کیسی کتاب ہے جس نے کوئی چھوٹا بڑا گناہ بغیر گھیرے کے باقی ہی نہیں چھوڑا، اور جو کچھ انہوں نے کیا تھا سب موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم و ستم نہ کرے گا"۔ [الکھف: ۴۹]

ہم اس بات پربھی ایمان رکھتے ہیں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے رو برو پیش ہو نا ہے جیسا کہ فر مان الہی ہے: {يَوْمَئِذٍ تُعْرَضُونَ لَا تَخْفَى مِنْكُمْ خَافِيَةٌ} "اس دن تم سب سامنے پیش کئے جاؤ گے تمہارا کوئی بھید پوشیدہ نہ رہے گا"۔ [الحاقۃ: ۱۸] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {وَعُرِضُوا عَلَى رَبِّكَ صَفًّا لَقَدْ جِئْتُمُونَا كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ بَلْ زَعَمْتُمْ أَلَّنْ نَجْعَلَ لَكُمْ مَوْعِدًا} اور سب کے سب تیر ے رب کے سامنے صف بستہ حاضر کیے جائیں گے، یقیناً تم ہمارے پاس اسی طرح آئے جس طرح ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا لیکن تم تو اس خیال میں رہے کہ ہم ہرگز تمہار ے لئے کوئی وعد ے کا وقت مقرر کریں گے بھی نہیں"۔ [الکھف: ۴۸] اور عدی بن حاتم سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’مَا مِنْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا سَيُكَلِّمُهُ رَبُّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تُرْجُمَانٌ، فَيَنْظُرُ أَيْمَنَ مِنْهُ فَلاَ يَرَى إِلَّا مَا قَدَّمَ مِنْ عَمَلِهِ، وَيَنْظُرُ أَشْأَمَ مِنْهُ فَلاَ يَرَى إِلَّا مَا قَدَّمَ، وَيَنْظُرُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلاَ يَرَى إِلَّا النَّارَ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ، فَاتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ‘‘۔ نہیں ہے تم میں سے کوئی مگر اس کا رب اس سے بات کر ے گا ا س حال میں کہ اس کے اور اس کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہو گا، وہ اپنے دائیں طرف دیکھے گا تو وہ اپنے اعمال کے سوا کچھ نہیں دیکھے گا، اور وہ اپنے بائیں طرف دیکھے گا تو وہ اپنے اعمال کے سوا کچھ نہیں دیکھے گا، اور وہ اپنے سامنے دیکھے گا تو وہ اپنے سامنے جہنم کے سوا کچھ نہیں دیکھے گا، پس جہنم سے بچو خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی کے ذریعہ ہو۔ (صحیح بخاری: ۶۵۳۹، صحیح مسلم: ۱۰۱۶)

ہم اس بات پر بھی ایمان رکھتے ہیں کہ ہم سے ہمار ے کرتوتوں کا حساب لیا جا ئے گا، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے حساب لے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {إِنَّ إِلَيْنَا إِيَابَهُمْ*۔ "بیشک ہماری طرف ان کا لوٹنا ہے۔ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُمْ} پھر بیشک ہمارے ذمہ ہے ان سے حساب لینا"۔ [الغاشیۃ: ۲۵- ۲۶] لہذا جو خیر پائے وہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرے اور جو شر پائے وہ اپنے آپ کو ملامت کرے، جیسا کہ یہ خبر اللہ کے رسول ﷺ سے ثابت ہے: ’’ يَا عِبَادِي إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ أُحْصِيهَا لَكُمْ، ثُمَّ أُوَفِّيكُمْ إِيَّاهَا، فَمَنْ وَجَدَ خَيْرًا، فَلْيَحْمَدِ اللهَ وَمَنْ وَجَدَ غَيْرَ ذَلِكَ، فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ‘‘۔ "اے میرے بندو! یہ تمہار ے ہی اعمال ہیں جن کومیں تمہار ے لیے شمار کرتارہتا ہو ں، پھر تمہیں ان کا پورا پورابدلہ دوں گا، لہذا جو بہتر بدلہ پائے وہ اللہ کا شکرادا کرے اور جو اس کے علاوہ پائے وہ اپنے آپ کو ملامت کرے"۔ ( صحیح مسلم: ۲۵۷۷)

اور اللہ سریع الحساب ہے یعنی جلدی حساب کرنے والا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {الْيَوْمَ تُجْزَى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ لَا ظُلْمَ الْيَوْمَ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ} "آج ہر نفس کو اس کے کرتوت کا بدلہ دیا جا ئے گا، آج کے دن کسی پر ظلم نہیں ہوگا، یقینا اللہ جلدی حساب کرنے والا ہے"۔ [غافر: ۱۷]

ہمارا ایمان ہے کہ بعض مومن بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہوں گے، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ‘‘۔ میری امت کے ستر ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ (صحیح بخاری: ۵۸۱۱، صحیح مسلم: ۲۱۶، اور الفاظ صحیح مسلم کے ہیں)

اور بندوں کے تئیں حساب الہی کے کئی مراتب اور کئی حالتیں ہوں گی، بعض بندوں کا حساب مشکل ہوگا جب کہ بعض کا آسان، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: {فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ *۔ "رہی بات اس کی جس کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جا ئے گا۔ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا} اس کا حساب تو بڑی آسانی سے لیا جائے گا"۔ [الانشقاق: ۷- ۸]

اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فر مایا: ’’لَيْسَ أَحَدٌ يُحَاسَبُ يَوْمَ القِيَامَةِ إِلَّا هَلَكَ۔ کوئی نہیں ہے کہ جس کا بروز قیامت حساب لیا جا ئے گا مگر وہ ہلاک ہو جا ئے گا۔ (صحیح بخاری: ۶۵۳۷ ، صحیح مسلم: ۲۸۷۶) فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَيْسَ قَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: تو میں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! کیا اللہ نے نہیں فرمایا: {فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ*۔ "رہی بات اس کی جس کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جا ئے گا۔ {فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا } تو اس کا حساب آسان کیا جائے گا"۔ [الانشقاق: ۸- ۷] تو اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: إِنَّمَا ذَلِكِ العَرْضُ، یہ فقط پیش کردینا ہے (اس کے اعمال کا) وَلَيْسَ أَحَدٌ يُنَاقَشُ الحِسَابَ يَوْمَ القِيَامَةِ إِلَّا عُذِّبَ‘‘۔ اور کوئی نہیں ہے جس کا قیامت کے دن حساب کے سلسلے میں مناقشہ کیا جا ئے گا مگر وہ عذاب دیا جا ئے گا۔ ( صحیح بخاری: ۶۵۳۷) اس دن کسی پر ظلم نہیں کیا جائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ تُوَفَّى كُلُّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ} "اور اس د ن سے ڈرو جس میں تم سب اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا"۔ [البقرۃ: ۲۸۱]

اور بروز قیامت تمام امتوں میں امت محمدیہ کا سب سے پہلے حساب و کتاب ہوگا، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے: ’’ نَحْنُ الْآخِرُونَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا، وَ الْأَوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، الْمَقْضِيُّ لَهُمْ قَبْلَ الْخَلَائِقِ‘‘۔ اور ہم دنیا والوں میں سب سے پیچھے ہیں اور قیامت کے دن سب سے آگے ہوں گے, تمام مخلوق کے پہلے ان کا فیصلہ ہو گا۔ ( صحیح مسلم: ۸۵۶ )

اور (بروز قیامت) لوگوں کے درمیان سب سے پہلے خون کے بارے میں فیصلہ کیا جا ئے گا، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے: ’’أَوَّلُ مَا يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ فِي الدِّمَاءِ‘‘۔ سب سے پہلے لوگوں کے ما بین خون کے سلسلے میں فیصلہ کیا جا ئے گا۔ (صحیح بخاری: ۶۸۶۴، صحیح مسلم: ۱۶۷۸ )

ہمارا اس بات پر بھی ایمان ہے کہ اس دن شہداء کو لایا جا ئے گا تو فرشتے بھی گواہی دیں گے اور وہ زمین بھی گواہی دے گی جس پر اس نے عمل کیا ہوگا اور اس کے جسمانی اعضاء بھی گواہی دیں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {إِنَّا لَنَنْصُرُرُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ} "یقیناً ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی مدد زندگانی دنیا میں بھی کریں گے اور اس دن بھی جب گواہی دینے والے کھڑے ہوں گے"۔ [غافر: ۵۱] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَأَشْرَقَتِ الْأَرْضُ بِنُورِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتَابُ وَجِيءَ بِالنَّبِيِّينَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ} "اور زمین اپنے رب کے نور سے جگمگا اٹھے گی نامہ ٔاعمال حاضر کئے جائیں گے نبیوں اور گواہوں کو لایا جائے گا اور لوگوں کے درمیان حق حق فیصلے کردیئے جائیں گے اور وہ ظلم نہ کیے جائیں گے"۔ [الزمر: ۶۹] اور اللہ عز وجل نے فرمایا: {يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا} "اس دن زمین اپنی سب خبریں بیان کردے گی"۔ [الزلزلۃ: ۴] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {الْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلَى أَفْوَاهِهِمْ وَتُكَلِّمُنَا أَيْدِيهِمْ وَتَشْهَدُ أَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ} "ہم آج کے دن ان کے منھ پر مہریں لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے اور ان کے پاؤں گواہیاں دیں گے، ان کاموں کی جو وہ کرتے تھے"۔ [یس: ۶۵]

اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی جس روایت میں اس بات کا بیان آیا ہے کہ بندوں کے جسمانی اعضاء بھی گواہی دیں گے، اسی میں ہے کہ: ’’الْآنَ نَبْعَثُ شَاهِدَنَا عَلَيْكَ، وَيَتَفَكَّرُ فِي نَفْسِهِ: مَنْ ذَا الَّذِي يَشْهَدُ عَلَيَّ؟ فَيُخْتَمُ عَلَى فِيهِ، وَيُقَالُ لِفَخِذِهِ وَلَحْمِهِ وَعِظَامِهِ: انْطِقِي، فَتَنْطِقُ فَخِذُهُ وَ لَحْمُهُ وَعِظَامُهُ بِعَمَلِهِ، وَذَلِكَ لِيُعْذِرَ مِنْ نَفْسِهِ، وَذَلِكَ الْمُنَافِقُ وَذَلِكَ الَّذِي يَسْخَطُ اللهُ عَلَيْهِ‘‘۔ اب ہم تیر ے اوپر گواہ کھڑا کرتے ہیں، وہ اپنے جی میں سوچے گا کہ کون مجھ پر گواہی د ے گا، پس اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اوراس کی ران، اس کےگوشت اور اس کی ہڈیوں سے کہا جا ئے گا: بولوتو اس کی ران، اس کا گوشت اور اس کی ہڈیاں اس کے عمل پر بو لیں گی اور یہ اس لئے ہو گا تا کہ اس کے لئے کوئى حجت نہ رہ جائے اس کى نفس کے ذریعے، اسی کی ذات کی گواہی سے اور یہ شخص منافق ہو گا، اور اسی پر اللہ ناراض ہوگا۔ (صحیح مسلم: ۲۹۶۸)

اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں کہ’’كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ، فَقَالَ: هَلْ تَدْرُونَ مِمَّ أَضْحَكُ؟ قَالَ قُلْنَا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: مِنْ مُخَاطَبَةِ الْعَبْدِ رَبَّهُ، يَقُولُ: يَا رَبِّ أَلَمْ تُجِرْنِي مِنَ الظُّلْمِ؟ قَالَ: يَقُولُ: بَلَى، قَالَ: فَيَقُولُ: فَإِنِّي لَا أُجِيزُ عَلَى نَفْسِي إِلَّا شَاهِدًا مِنِّي، قَالَ: فَيَقُولُ: كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ شَهِيدًا، وَبِالْكِرَامِ الْكَاتِبِينَ شُهُودًا، قَالَ: فَيُخْتَمُ عَلَى فِيهِ، فَيُقَالُ لِأَرْكَانِهِ: انْطِقِي، قَالَ: فَتَنْطِقُ بِأَعْمَالِهِ، قَالَ: ثُمَّ يُخَلَّى بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَلَامِ، قَالَ فَيَقُولُ: بُعْدًا لَكُنَّ وَسُحْقًا، فَعَنْكُنَّ كُنْتُ أُنَاضِلُ ‘‘ ہم اللہ کے رسول ﷺکے پاس تھے، کہ آپ ہنسے اور فرمایا: تم جانتے ہو کہ میں کیوں ہنس رہا ہوں؟ فر ماتے ہیں کہ ہم نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، فرمایا: (میں ہنس رہا ہوں) بندے کی اپنے رب سے گفتگو پر، وہ کہے گا: اے میرے رب! کیا تو مجھ کو پناہ نہیں دے چکا ہے ظلم سے؟ نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ کہے گا: کیوں نہیں، نبی ﷺ نے فر مایا : وہ کہے گا کہ میں جائز نہیں رکھتا کسی کی گواہی اپنے اوپر سوائے اپنی ذات کی گواہی کے، اللہ کہے گا کہ آج کے دن تجھ پر بطور گواہ تیرا نفس اور کراما کاتبین ہی کافی ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا: پھر مہر لگ جائے گی اس کے منہ پر اور اس کے اعضا وجوارح سے کہا جائے گا، تم بولو! نبی ﷺ نے فرمایا: وہ اس کے سارے اعمال بتا دیں گے پھر ان کے اور کلام کے درمیان جدائی کردی جائے گی، نبی ﷺ نے فرمایا: بندہ ( اپنے ہاتھ پاؤں سے) کہے گا: چلو دور ہو جاؤ، میں تو تمہارے لیے جھگڑا کرتا تھا۔ (صحیح مسلم: ۲۹۶۹ )

باب: میزان پر ایمان لانے کا بیان

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ بروز قیامت بندوں کے اعمال کو وزن کرنے کے لئے ترازو رکھے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَيْنَا بِهَا ۭ وَكَفٰى بِنَا حٰسِـبِيْنَ} "قیامت کے دن ہم درمیان میں لا رکھیں گے ٹھیک ٹھیک تولنے والی ترازو کو۔ پھر کسی پر کچھ ظلم بھی نہ کیا جائے گا اور اگر ایک رائی کے دانے کے برابر بھی عمل ہوگا ہم اسے لا حاضر کریں گےاور ہم کافی ہیں حساب کرنے والے"۔ [الأنبیاء: ۴۷] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَالْوَزْنُ يَوْمَئِذِۨ الْحَقُّ ۚ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِيْنُهٗ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ *۔ "اور اس روز وزن بھی برحق پھر جس شخص کا پلا بھاری ہوگا سو ایسے لوگ کامیاب ہوں گے۔ وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِيْنُهٗ فَاُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَهُمْ بِمَا كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يَظْلِمُوْنَ} اور جس شخص کا پلا ہلکا ہوگا سو یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنا نقصان کرلیا بسبب اس کے کہ ہماری آیتوں کے ساتھ ظلم کرتے تھے"۔ [الأعراف: ۸- ۹] اور یہ حقیقی میزان ہوگا جس سے بندوں کے اعمال وزن کئے جا ئیں گے۔

اور ہمارا ایمان ہے کہ اعمال کو ترازو پر رکھا جائے گا، اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ، ثَقِيلَتَانِ فِي المِيزَانِ، حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ، سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ العَظِيمِ‘‘ دو کلمے زبان پر ہلکے ہیں، میزان میں بھا ری ہیں اور رحمان کے نزدیک محبوب ہیں ( اور وہ کلمے یہ ہیں) سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ العَظِيمِ۔ (صحیح بخاری: ۶۶۸۲، صحیح مسلم: ۲۶۹۴، جامع الترمذی: ۳۴۶۷، سنن ابن ماجہ: ۳۸۰۶)

اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’الطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ......‘‘۔ پاکی آدھا ایمان ہے، اور الحمد للہ میزان کو بھر دیتا ہے۔ (صحیح مسلم: ۲۲۳، جامع الترمذی: ۳۵۱۷ ، سنن النسائی: ۲۴۳۷، سنن ابن ماجہ: ۲۸۰)

اور ہمارا اس بات پر بھی ایمان ہے کہ ترازو میں عمل کے ساتھ صاحب عمل کو بھی رکھا جائے گا، جیسا کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’ إِنَّهُ لَيَأْتِي الرَّجُلُ العَظِيمُ السَّمِينُ يَوْمَ القِيَامَةِ، لاَ يَزِنُ عِنْدَ اللَّهِ جَنَاحَ بَعُوضَةٍ، وَقَالَ: اقْرَءُوا، {فَلاَ نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ القِيَامَةِ وَزْنًا} [الكهف: ۱۰۵]‘‘۔ بلا شبہ قیامت کے دن ایک بھاری بھر کم اور موٹا شخص آئے گا لیکن اللہ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی وزن (قدر) نہیں ہوگا اور کہا پڑھو (قیامت کے دن ہم ان کا کوئی وزن قائم نہیں کریں گے)[الكهف: 105]۔ (صحیح بخاری: ۴۷۲۹، صحیح مسلم: ۲۷۸۵) اور اسی طرح ترازو میں اعمال کے صحیفے بھی رکھے جائیں گے، جیسا کہ اس پرحدیث بطاقہ دلالت کرتی ہے۔ (جامع الترمذی: ۲۶۳۹، سنن ابن ماجہ: ۴۳۰۰، مسند الإمام عبد الله بن المبارك: ۱۰۰، الزهد والرقائق لابن المبارك: ۲/ ۱۰۹، مسند أحمد: ۶۹۹۴)

باب: حوض پر ایمان لانے کا بیان

ہمارا ایمان ہے کہ ہمارے رسول محمد ﷺ کو حوض عطا کیا جائے گا جس پر آپ ﷺ کی امت وارد ہوگی، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {اِنَّآ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ} "یقیناً ہم نے تجھے (حوض) کوثر (اور بہت کچھ) دیا ہے"۔ [الکوثر: ۱]

اور انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا کہ’’ بَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ بَيْنَ أَظْهُرِنَا إِذْ أَغْفَى إِغْفَاءَةً ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مُتَبَسِّمًا، فَقُلْنَا: مَا أَضْحَكَكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آنِفًا سُورَةٌ، فَقَرَأَ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ {إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ. فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ. إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ} [الكوثر: ۱-۳] ثُمَّ قَالَ: أَتَدْرُونَ مَا الْكَوْثَرُ؟ فَقُلْنَا اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّهُ نَهْرٌ وَعَدَنِيهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ، عَلَيْهِ خَيْرٌ كَثِيرٌ، هُوَ حَوْضٌ تَرِدُ عَلَيْهِ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، آنِيَتُهُ عَدَدُ النُّجُومِ، فَيُخْتَلَجُ الْعَبْدُ مِنْهُمْ، فَأَقُولُ: رَبِّ، إِنَّهُ مِنْ أُمَّتِي فَيَقُولُ: مَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَتْ بَعْدَكَ‘‘ ایک دن ہم لوگ اللہ کے رسول ﷺ کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے کہ (اللہ کے رسول ﷺ) سوگئے پھر مسکراتے ہوئے (آپ ﷺ) نے اپنا سر اٹھایا تو ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کو کس چیز نے ہنسایا؟ فرمایا: مجھ پر ابھی ابھی ایک سورت نازل کی گئی ہے، اور آپ ﷺ نے پڑھا: بسم اللہ الرحمن الرحیم {إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ. فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ. إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ} (یقیناً ہم نے تجھے [حوض] کوثر [اور بہت کچھ] دیا ہے ۔پس تو اپنے رب کے لئے نماز پڑھ اور قربانی کر۔ یقیناً تیرا دشمن ہی ﻻوارث اور بے نام ونشان ہے)۔[الکوثر: ۱- ۳] پھر کہا: کیا تم لوگ جانتے ہو کوثر کیا ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں تو فرمایا: وہ ایک نہر ہے جس کا رب عز وجل نے مجھ سے وعدہ کیا ہے، اس میں بہت سی خوبیاں ہیں اور وہ ایسا حوض ہے جس پر میری امت قیامت کے دن وارد ہوگی، آسمان کے ستاروں کے برابر اس کے برتن ہوں گے، ان میں سے ایک شخص کو وہاں سے بھگا دیا جائے تو میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ میرا امتی ہے، تو وہ کہے گا کہ تمہیں نہیں معلوم ہے جو اس نے تمہارے بعد ایجاد کیا تھا۔ (صحیح مسلم: ۴۰۰)

اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’حَوْضِي مَسِيرَةُ شَهْرٍ، مَاؤُهُ أَبْيَضُ مِنَ اللَّبَنِ، وَرِيحُهُ أَطْيَبُ مِنَ المِسْكِ، وَكِيزَانُهُ كَنُجُومِ السَّمَاءِ ، مَنْ شَرِبَ مِنْهَا فَلاَ يَظْمَأُ أَبَدًا‘‘۔ میرا حوض ایک مہینے کی مسافت کے برابر ہو گا، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور اس کی خوشبو مشک سے زیادہ اچھی ہوگی اور اس کے کوزے آسمان کے ستاروں کی تعداد کے برابر ہوں گے، جو اس میں سے (ایک مرتبہ) پی لے گا وہ پھر کبھی بھی پیاسا نہ ہو گا۔ (صحیح بخاری: ۶۵۷۹، صحیح مسلم: ۲۲۹۲)

اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’إِنَّ حَوْضِي أَبْعَدُ مِنْ أَيْلَةَ مِنْ عَدَنٍ لَهُوَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ الثَّلْجِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ بِاللَّبَنِ، وَ لَآنِيَتُهُ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ النُّجُومِ وَإِنِّي لَأَصُدُّ النَّاسَ عَنْهُ، كَمَا يَصُدُّ الرَّجُلُ إِبِلَ النَّاسِ عَنْ حَوْضِهِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ أَتَعْرِفُنَا يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: نَعَمْ لَكُمْ سِيمَا لَيْسَتْ لِأَحَدٍ مِنَ الْأُمَمِ تَرِدُونَ عَلَيَّ غُرًّا، مُحَجَّلِينَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ‘‘۔ میرا حوض كى مسافت اس سے زیادہ ہے جتنی عدن سے ایلہ تک ہے، وہ برف سے زیادہ سفید اوردودھ سے ملے ہوئے شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور اس کے برتن ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہیں، میں لوگوں کو اس سے روکوں گا جیسا کہ آدمی لوگوں کے اونٹوں کو اپنے حوض سے روکتا ہے، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا اس دن آپ ہم کو پہچان لیں گے؟ فرمایا: ہاں، تمہارے لئے ایسا نشان ہو گا جو کسی اور امت کے لئے نہ ہو گا، تم آؤ گے میرے سامنے اس حال میں آؤ گے کہ وضو کے نشان سے تمہارے ہاتھ پاؤں سفید اور چمکدار ہوں گے اور تمہاری پیشانی بھی چمک رہی ہوگى۔ [صحیح مسلم : ۲۴۷]

اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’ بَيْنَا أَنَا قَائِمٌ إِذَا زُمْرَةٌ، حَتَّى إِذَا عَرَفْتُهُمْ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ بَيْنِي وَبَيْنِهِمْ، فَقَالَ: هَلُمَّ، فَقُلْتُ: أَيْنَ؟ قَالَ: إِلَى النَّارِ وَاللَّهِ، قُلْتُ: وَمَا شَأْنُهُمْ؟ قَالَ: إِنَّهُمُ ارْتَدُّوا بَعْدَكَ عَلَى أَدْبَارِهِمْ القَهْقَرَى. ثُمَّ إِذَا زُمْرَةٌ، حَتَّى إِذَا عَرَفْتُهُمْ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ بَيْنِي وَبَيْنِهِمْ، فَقَالَ: هَلُمَّ، قُلْتُ أَيْنَ؟ قَالَ: إِلَى النَّارِ وَاللَّهِ، قُلْتُ: مَا شَأْنُهُمْ؟ قَالَ: إِنَّهُمُ ارْتَدُّوا بَعْدَكَ عَلَى أَدْبَارِهِمْ القَهْقَرَى، فَلاَ أُرَاهُ يَخْلُصُ مِنْهُمْ إِلَّا مِثْلُ هَمَلِ النَّعَمِ‘‘۔ میں (حوض پر) کھڑا ہوں گا کہ ایک جماعت میرے سامنے آئے گی حتی کہ جب میں انہیں پہچان لوں گا تو ایک شخص (فرشتہ) میرے اور ان کے درمیان سے نکلے گا اور ان سے کہے گا کہ ادھر آؤ، میں کہوں گا کدھر؟ وہ کہے گا کہ واللہ جہنم کی طرف، میں کہوں گا ان کا کیا معاملہ ہے؟ وہ کہے گا یہ لوگ آپ کے بعد الٹے پاؤں (دین سے) واپس لوٹ گئے تھے، پھر ایک اور گروہ میرے سامنے آئے گی حتی کہ جب میں انہیں بھی پہچان لوں گا تو ایک شخص (فرشتہ) میر ے اور ان کے درمیان سے نکلے گا اور ان سے کہے گا کہ ادھر آؤ، میں کہوں گا کہ کہاں؟ تو وہ کہے گا، اللہ کی قسم! جہنم کی طرف، میں کہوں گا ان کا کیا معاملہ ہے؟ وہ کہے گا کہ یہ لوگ آپ کے بعد الٹے پاؤں واپس لوٹ گئے تھے، میرے خیال سے ان میں سے سوائے چند کے کوئی نہیں بچے گا۔ (صحیح بخاری: ۶۵۸۷)

اور انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ’’لَمَّا عُرِجَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّمَاءِ، قَالَ: جب نبی ﷺ کوآسمان کی طرف لے جایا گیا، تو فرمایا: أَتَيْتُ عَلَى نَهَرٍ، حَافَتَاهُ قِبَابُ اللُّؤْلُؤِ مُجَوَّفًا، فَقُلْتُ: مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَذَا الكَوْثَرُ‘‘۔ کہ میں ایک نہر پر پہنچا جس کے دونوں کناروں پر خولدار موتیوں کے خیمے لگے ہوئے تھے، میں نے کہا اے جبرائیل! یہ کیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ حوض کوثر ہے۔ (صحیح بخاری: ۴۹۶۴)

باب: پل صراط اور بدلے کا بیان

ہمارا ایمان ہے کہ بروز قیامت جہنم کی پیٹھ پر ایک پل نصب کیا جا ئے گا، اس پر قدم نہیں رکیں گے، اس پر پاؤں کا ثابت رہنا مشکل ہوگا اور اس پر سے تمام بندے اپنے اپنے اعمال کے اعتبار سے گزر سکیں گے، اس میں سعدان کے کانٹوں کی طرح آنکس ہوں گے جو ان کے اعمال کے مطابق انہیں کھینچ لیں گے، اس پل سے سب سے پہلے ہمار ے نبی محمد ﷺ ہی گزریں گے جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ القِيَامَةِ، فَيَقُولُ: مَنْ كَانَ يَعْبُدُ شَيْئًا فَلْيَتَّبِعْ، فَمِنْهُمْ مَنْ يَتَّبِعُ الشَّمْسَ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَتَّبِعُ القَمَرَ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَتَّبِعُ الطَّوَاغِيتَ، وَتَبْقَى هَذِهِ الأُمَّةُ فِيهَا مُنَافِقُوهَا، فَيَأْتِيهِمُ اللَّهُ فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَيَقُولُونَ هَذَا مَكَانُنَا حَتَّى يَأْتِيَنَا رَبُّنَا، فَإِذَا جَاءَ رَبُّنَا عَرَفْنَاهُ، فَيَأْتِيهِمُ اللَّهُ فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَيَقُولُونَ: أَنْتَ رَبُّنَا، فَيَدْعُوهُمْ فَيُضْرَبُ الصِّرَاطُ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ جَهَنَّمَ، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يَجُوزُ مِنَ الرُّسُلِ بِأُمَّتِهِ، وَلاَ يَتَكَلَّمُ يَوْمَئِذٍ أَحَدٌ إِلَّا الرُّسُلُ، وَكَلاَمُ الرُّسُلِ يَوْمَئِذٍ: اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ‘‘۔ لوگ قیامت کے دن جمع کئے جائیں گے، پھر اللہ فرمائے گا کہ جو جسے پوجتا تھا وہ اس کے ساتھ ہو جائے تو کچھ لوگ سورج کے پیچھے ہو لیں گے، کچھ چاند کے پیچھے ہو جائیں اور کچھ طاغوت کے ساتھ ہو لیں گے اور یہ امت باقی رہ جائے گی اس حال میں کہ اس میں منافقین بھی ہوں گے تواللہ ان کے پاس آئے گا اور کہے گا: میں تمہارا رب ہوں تو وہ کہیں گے کہ ہم یہیں اپنے رب کے آنے تک کھڑے رہیں گے، جب ہمارا رب آئے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے، پھر اللہ ان کے پاس (ایسی صورت میں جسے وہ پہچان لیں) آئے گا اور فرمائے گا کہ میں تمہارا رب ہوں تووہ کہیں گے کہ(ہاں بیشک) تو ہمارا رب ہے، پھر (اللہ) انہیں بلائے گااور پل صراط جہنم کے بیچوں بیچ رکھ دیا جائے گا تو میں ہی اپنی امت کے ساتھ اس (پل) پرسے گزرنے والا سب سے پہلا رسول ہوں گا، اس روز سوائے رسولوں کے کوئی بھی بات نہ کر سکے گا اوررسولوں کا کلام بھی اس د ن صرف یہی ہوگا: اے اللہ! مجھے محفوظ رکھیو! اے اللہ! مجھے محفوظ رکھیو!۔ (صحیح بخاری: ۸۰۶، صحیح مسلم: ۱۸۲، سنن أبی داود: ۴۷۳۰ ، جامع الترمذی: ۲۵۵۴، سنن ابن ماجہ: ۱۷۸)

اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ’’ثُمَّ يُؤْتَى بِالْجَسْرِ فَيُجْعَلُ بَيْنَ ظَهْرَيْ جَهَنَّمَ ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الجَسْرُ؟ قَالَ: مَدْحَضَةٌ مَزِلَّةٌ، عَلَيْهِ خَطَاطِيفُ وَكَلاَلِيبُ، وَحَسَكَةٌ مُفَلْطَحَةٌ لَهَا شَوْكَةٌ عُقَيْفَاءُ، تَكُونُ بِنَجْدٍ، يُقَالُ لَهَا: السَّعْدَانُ، المُؤْمِنُ عَلَيْهَا كَالطَّرْفِ وَ كَالْبَرْقِ وَكَالرِّيحِ، وَكَأَجَاوِيدِ الخَيْلِ وَالرِّكَابِ، فَنَاجٍ مُسَلَّمٌ، وَنَاجٍ مَخْدُوشٌ، وَمَكْدُوسٌ فِي نَارِ جَهَنَّمَ، حَتَّى يَمُرَّ آخِرُهُمْ يُسْحَبُ سَحْبًا‘‘۔ پھر اسے پل (صراط ) کو لایا جائے گا اور اسے جہنم کے بیچوں بیچ رکھ دیا جائے گا، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول ! پل کیا چیز ہے؟ فرمایا وہ ایک پھسل کر گرنے کا مقام ہے اس پر لٹکتے ہوئےآنکڑے ہوں گے، مضبوط اور چوڑ ے کانٹے ہوں گے، ان کے سر خمدار کانٹوں کی طرح ہیں جو نجد کے ملک میں ہوتے ہیں، اسے سعدان کہا جاتا ہے، مومن اس پر پلک مارنے کی طرح، بجلی کی طرح، ہوا کی طرح اور تیز رفتار گھوڑ ے اور سواری کی طرح گزر جائیں گے، ان میں بعض تو صحیح سالم نجات پانے والے ہوں گے اور بعض نجات پانے والے زخموں سے چور ہوں گے اور ان میں سے کوئى پیروں تلے کچل کچل کر جہنم میں جا گرے گا یہاں تک کہ آخری شخص اس پر سے گھسٹتے ہوئے گزر ے گا ۔ (صحیح بخاری: ۷۴۳۹)

اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’ وَفِي حَافَتَيِ الصِّرَاطِ كَلَالِيبُ مُعَلَّقَةٌ مَأْمُورَةٌ بِأَخْذِ مَنِ اُمِرَتْ بِهِ، فَمَخْدُوشٌ نَاجٍ، وَ مَكْدُوسٌ فِي النَّارِ‘‘۔ اور پل صراط کے دونوں طرف لٹکتے ہوئے آنکڑے ہوں گے جس کو حکم ہو گا اس کو پکڑ لیں گے پھر کچھ لوگ زخمی ہوکر نجات پائیں گے اور کچھ لوگ پیروں تلے کچل کچل کر جہنم میں جا گریں گے۔ (صحیح مسلم: ۱۹۵)

اور ابو الزبیر فرماتے ہیں کہ انہوں نے جابر بن عبد اللہ کو سنا اس حال میں کہ وہ ورود کے بارے میں پوچھ رہے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’نَجِيءُ نَحْنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَنْ كَذَا وَكَذَا، انْظُرْ أَيْ ذَلِكَ فَوْقَ النَّاسِ؟ قَالَ: فَتُدْعَى الْأُمَمُ بِأَوْثَانِهَا، وَمَا كَانَتْ تَعْبُدُ، الْأَوَّلُ فَالْأَوَّلُ، ثُمَّ يَأْتِينَا رَبُّنَا بَعْدَ ذَلِكَ، فَيَقُولُ: مَنْ تَنْظُرُونَ؟ فَيَقُولُونَ: نَنْظُرُ رَبَّنَا، فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَيَقُولُونَ: حَتَّى نَنْظُرَ إِلَيْكَ، فَيَتَجَلَّى لَهُمْ يَضْحَكُ، قَالَ: فَيَنْطَلِقُ بِهِمْ وَ يَتَّبِعُونَهُ، وَيُعْطَى كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ مُنَافِقًا، أَوْ مُؤْمِنًا نُورًا، ثُمَّ يَتَّبِعُونَهُ وَعَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ كَلَالِيبُ وَحَسَكٌ، تَأْخُذُ مَنْ شَاءَ اللهُ، ثُمَّ يُطْفَأُ نُورُ الْمُنَافِقِينَ، ثُمَّ يَنْجُو الْمُؤْمِنُونَ‘‘۔ ہم قیامت کے دن اس طرح اور اس طرح سے آئیں گے، دیکھو! یعنی سب آدمیوں کے اوپر، آپ نے فرمایا: پھر امتیں اپنے اپنے بتوں اور معبودوں کے ساتھ بلائی جائیں گی، پہلی امت پھر دوسری امت، پھر اس کے بعد ہمارا رب آئے گا اور کہے گا: تم کس کو دیکھ رہے ہو؟ وہ کہیں گے: ہم اپنے رب کو دیکھ رہے ہیں، وہ کہے گا: میں تمہارا رب ہوں، وہ کہیں گے: ہم تجھ کو دیکھیں گے، پھر وہ ان کے سامنے ہنستا ہوا ظاہر ہوگا، آپ ﷺ نے فرمایا: وہ ان کے ساتھ چلے گا اور سب اس کے پیچھے پیچھے جائیں گے اور ہر ایک آدمی کو خواہ وہ منافق ہو یا مؤمن ایک نور دیا جائے گا پھرلوگ اس کے پیچھے پیچھے جائیں گے اور جہنم کے پل پر آنکڑ ے اور کانٹے ہوں گے، وہ پکڑ لیں گے جن کو اللہ چاہے گا، پھر منافقوں کا نور بجھ جائے گا اور مؤمن نجات پائیں گے۔ (صحیح مسلم: ۱۹۱)

اور جب تمام مومنوں کو پل صراط سے چھٹکارا مل جائے گا، تو جنت اور جہنم کے درمیان ایک اور پل (قنطرہ) پر سب روک لئے جا ئیں گے، جیسا کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’يَخْلُصُ المُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ، فَيُحْبَسُونَ عَلَى قَنْطَرَةٍ بَيْنَ الجَنَّةِ وَالنَّارِ، فَيُقَصُّ لِبَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ مَظَالِمُ كَانَتْ بَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيَا، حَتَّى إِذَا هُذِّبُوا وَنُقُّوا أُذِنَ لَهُمْ فِي دُخُولِ الجَنَّةِ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَأَحَدُهُمْ أَهْدَى بِمَنْزِلِهِ فِي الجَنَّةِ مِنْهُ بِمَنْزِلِهِ كَانَ فِي الدُّنْيَا‘‘۔ مومنین جہنم سے چھٹکارا پا جائیں گے لیکن دوزخ و جنت کے درمیان ایک پل پر انہیں روک لیا جائے گا اور پھر ان میں سے بعض کو بعض کے ظلم کا بدلہ دیا جا ئے گا جو دنیا میں ان کے درمیان آپس میں ہوئے تھے اور جب کانٹ چھانٹ کر لی جائے گی اور صفائی ہو جائے گی تب انہیں جنت میں داخل کرنے کی اجازت دی جائے گی، پس اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! جنتیوں میں سے ہر کوئی جنت میں اپنے گھر کو دنیا کے اپنے گھر کے مقابلہ میں زیادہ بہتر طریقے پر پہچان لے گا۔ (صحیح بخاری: ۶۵۳۵)

باب: جنت اور جہنم کا بیان

ہمارا ایمان ہے کہ جنت اور جہنم دونوں دار الجزاء ہیں، قرآن و سنت میں دونوں کی صفات، ان دونوں میں داخل ہونے والوں کا مسکن اور ٹھکانہ، ان دونوں میں داخل ہونے والے اور داخل ہونے والوں کا لباس کیساہوگا؟ ان سب کا تذکرہ وارد ہوا ہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ بر وقت جنت اور جہنم دونوں مخلوق ہیں، اور آدم علیہ السلام ہمیشگی والی جنت میں تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَيَاآدَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ} "اور ہم نے حکم دیا کہ اے آدم ! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو پھر جس جگہ سے چاہو دونوں کھاؤ اور اس درخت کے پاس مت جاؤ ورنہ تم دونوں ظالموں میں سے ہوجاؤ گے"۔ [الأعراف: ۱۹] ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”آدم اور موسی علیہما السلام میں مباحثہ ہوا۔ موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا: اے آدم! آپ ہمارے باپ ہیں۔ آپ ہی ہماری محرومی کا سبب بنے اور آپ نے ہمیں جنت سے نکلوا دیا۔ (اس پر) آدم علیہ السلام نے ان سے کہا: اے موسی! آپ کو اللہ تعالیٰ نے ہم کلامی کے لیے منتخب كيا اور آپ کے لیے اپنے ہاتھ سے تورات کو لکھا۔ کیا آپ مجھے ایک ایسی بات پر ملامت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مجھے پیدا کرنے سے چالیس سال پہلے میری تقدیر میں لکھ دیا تھا؟ چنانچہ آدم علیہ السلام (دلیل میں) موسیٰ علیہ السلام پر غالب آگئے۔ آدم علیہ السلام (دلیل میں) موسیٰ علیہ السلام پر غالب آگئے“۔ تین دفعہ فرمایا۔ (صحیح بخاری: ۶۶۱۴، صحیح مسلم : ۲۶۵۲، سنن أبی داود: ۴۷۰۱، جامع الترمذی: ۲۱۳۴، سنن ابن ماجہ: ۸۰)

جنت ہی بہترین اورہمیشگی والا مقام ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {أُولَئِكَ جَزَاؤُهُمْ مَغْفِرَةٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَجَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَنِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ} "انہیں کا بدلہ ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے اور جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے ان نیک کاموں کے کرنے والوں کا ثواب کیا ہی اچھا ہے"۔ [آل عمران: ۱۳۶] اسی لئے اللہ تعالیٰ نے جنت کی ان تمام نعمتوں کی ترغیب دیتے ہو ئے فرمایا: {فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ } "کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لئے پوشیدہ کر رکھی ہے"۔ [السجدۃ: ۱۷]

اور ہمارا اس بات پر ایمان ہے کہ جنت کی سب سے عظیم نعمت دیدار الہی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ*۔ "اس روز بہت سے چہر ے ترو تازہ اور بارونق ہوں گے۔ اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ} اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے"۔ [القيامة: 22، 23] اور فرمایا: {كَلَّا إِنَّهُمْ عَن رَّبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوبُونَ} "ہرگز نہیں یہ لوگ اس دن اپنے رب سے اوٹ میں رکھے جائیں گے"۔ [المطففين: 15] صہیب رومی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، قَالَ: يَقُولُ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: تُرِيدُونَ شَيْئًا أَزِيدُكُمْ؟ فَيَقُولُونَ: أَلَمْ تُبَيِّضْ وُجُوهَنَا؟ أَلَمْ تُدْخِلْنَا الْجَنَّةَ، وَتُنَجِّنَا مِنَ النَّارِ؟ قَالَ: فَيَكْشِفُ الْحِجَابَ، فَمَا أُعْطُوا شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظَرِ إِلَى رَبِّهِمْ عَزَّ وَجَلَّ ‘‘۔ جب جنتی جنت میں داخل ہو جائیں گے، آپ نے صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تبارک وتعالیٰ کہے گا کہ تم لوگ کچھ اور چاہتے ہو کہ میں زیادہ کروں؟ تو لوگ کہیں گے کہ کیا تو نے ہمارے چہر ے سفید نہیں کیا؟ کیا تو نے ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا؟ اور کیا تونے ہمیں جہنم سے نجات نہیں دلایا؟ نبی صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اتنا سنتے ہی وہ پردہ ہٹادے گا تو انہیں جتنی چیزیں عطا کی گئی ہوں گی ان میں رب عزوجل کے دیدار سے زیادہ محبوب کچھ نہیں ہوگا۔ [صحیح مسلم : ۱۸۱]

اور ہمارا ایمان ہے کہ جنت کے مختلف درجات اور مراتب ہیں، چنانچہ اللہ کے رسول ﷺ نے جنت کے سب سے ادنی درجے اور سب سے اعلی درجے کے بارے میں باخبر کیا ہے، چنانچہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’سَأَلَ مُوسَى رَبَّهُ، مَا أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً، قَالَ: هُوَ رَجُلٌ يَجِيءُ بَعْدَ مَا أُدْخِلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، فَيُقَالُ لَهُ: ادْخُلِ الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، كَيْفَ وَقَدْ نَزَلَ النَّاسُ مَنَازِلَهُمْ، وَأَخَذُوا أَخَذَاتِهِمْ، فَيُقَالُ لَهُ: أَتَرْضَى أَنْ يَكُونَ لَكَ مِثْلُ مُلْكِ مَلِكٍ مِنْ مُلُوكِ الدُّنْيَا؟ فَيَقُولُ : رَضِيتُ رَبِّ، فَيَقُولُ: لَكَ ذَلِكَ، وَمِثْلُهُ وَمِثْلُهُ وَمِثْلُهُ وَمِثْلُهُ، فَقَالَ فِي الْخَامِسَةِ: رَضِيتُ رَبِّ، فَيَقُولُ: هَذَا لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ، وَلَكَ مَا اشْتَهَتْ نَفْسُكَ، وَلَذَّتْ عَيْنُكَ، فَيَقُولُ: رَضِيتُ رَبِّ، قَالَ: رَبِّ، فَأَعْلَاهُمْ مَنْزِلَةً؟ قَالَ: أُولَئِكَ الَّذِينَ أَرَدْتُ غَرَسْتُ كَرَامَتَهُمْ بِيَدِي، وَ خَتَمْتُ عَلَيْهَا، فَلَمْ تَرَ عَيْنٌ، وَلَمْ تَسْمَعْ أُذُنٌ، وَلَمْ يَخْطُرْ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ ، قَالَ: وَمِصْدَاقُهُ فِي كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ} [السجدة: ۱۷] الْآيَةَ‘‘۔ موسیٰ نے اپنے رب سے پوچھا: سب سے کم درجہ والا جنتی کون ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وہ شخص ہے جو آئے گا سب جنتیوں کے جنت میں داخل کئے جانے کے بعد، اس سے کہا جائے گا، جنت میں جا، وہ کہے گا: اے میرے رب ! کیسے؟ اس حال میں کہ لوگ اپنے اپنے مقام پر جا چکے اور اپنی اپنی جگہیں بنالئے ہیں، اس سے کہا جائے گا کہ کیا تو راضی ہے اس بات پر کہ تیرے لئے دنیوی بادشاہوں میں سے کسی بادشاہ کے مثل ہو جا ئے؟ وہ کہے گا: اے میرے رب ! میں راضی ہوں، وہ کہے گا تیر ے لئے اسی طرح ہے اور اتنا ہی اور، اور اتنا ہی اور، اور اتنا ہی اور، اور اتنا ہی اور، پس وہ پانچویں بار میں وہ کہے گا: اے میرے رب! میں راضی ہوں، تو وہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: یہ تیرے لئے ہے اور اسی کے مثل دس حصے اور تیرے لئے وہ چیز بھی ہے جو تیرا نفس چاہے، جو تیری آنکھ چاہے، وہ کہے گا: اے میرے رب ! میں راضی ہو گیا! پھر( موسیٰ علیہ السلام نے) کہا: سب سے بڑا درجے والا جنتی کون ہے؟ (اللہ نے) فرمایا: وہ تو وہ لوگ ہیں جن کو میں نے خود چنا اور جن کی کرامت کا پودا میں نے اپنے ہاتھ سے لگایا اور اس پر مہر کر دی، لہذا اسے نہ تو کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا، نہ کسی انسان کے دل پر گزرا۔ فرمایا: اس کی تصدیق اللہ عزوجل کی کتاب میں اس طرح آیا ہے {فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ } "اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ اس کے آنکھوں کی ٹھنڈک میں سےاس کے لئے کیا پوشیدہ رکھا گیا ہے"۔ (صحیح مسلم: ۱۸۹)

اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’ ’إِنَّ أَدْنَى مَقْعَدِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ أَنْ يَقُولَ لَهُ: تَمَنَّ فَيَتَمَنَّى، وَيَتَمَنَّى، فَيَقُولُ لَهُ: هَلْ تَمَنَّيْتَ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَيَقُولُ لَهُ : فَإِنَّ لَكَ مَا تَمَنَّيْتَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ‘‘۔ تم میں سے جنت میں سب سے معمولی ٹھکانے والے کو کہا جا ئے گا کہ آرزو کر، وہ آرزو کر ے گا تو اللہ اس سے پھر کہے گا کہ کیا تو آرزو کر چکا ہے، وہ کہے گا ہاں پھر اللہ اس سے کہے گا: تیرے لئے وہ سب ہے جس کی تو نے آرزو کی ہے اور اسی کے مثل اس کے ساتھ اور بھی ہے۔ (صحیح مسلم: ۱۸۲)

اور ہمیں معلوم ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’ جس شخص نے کہا کہ: " میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، وہ تنہا اور اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اور یہ کہ عیسیٰ اللہ کے بندے اور اس کی لونڈی کے بیٹے ہیں،اور اس کا وہ کلمہ ہیں جو اس نے مریم کى طرف ڈالا، اس کی روح ہیں، اور یہ کہ جنت برحق ہے، اور جہنم برحق ہے، اللہ اسے جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس سے چاہے گا داخل کرے گا‘‘۔ ( صحیح بخاری: ۳۴۳۵، صحیح مسلم: ۲۸)

ہمارا ایمان ہے کہ نعمتوں والے گھرمیں بے شمارباغات ہیں، جیسا کہ اللہ عزوجل نے فرمایا: {وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ} "اور اس شخص کے لئے جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا دو جنتیں ہیں"۔ [الرحمن: ۴۶] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَمِنْ دُونِهِمَا جَنَّتَانِ} "اور ان کے سوا دو جنتیں اور ہیں"۔ [الرحمن: ۶۲] اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’جَنَّتَانِ مِنْ فِضَّةٍ آنِيَتُهُمَا، وَمَا فِيهِمَا، وَجَنَّتَانِ مِنْ ذَهَبٍ آنِيَتُهُمَا، وَمَا فِيهِمَا، وَمَا بَيْنَ الْقَوْمِ وَبَيْنَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَى رَبِّهِمْ إِلَّا رِدَاءُ الْكِبْرِيَاءِ عَلَى وَجْهِهِ فِي جَنَّةِ عَدْنٍ‘‘۔ چاندی کی دو جنتیں ہوں گی اور ان دونوں کے برتن اوران دونوں کی چیزیں( چاندی کی ہوں گی)۔ اور سونے کی دو جنتیں ہوں گی اور ان دونوں کے برتن اوران دونوں کی چیزیں ( سونےکی ہوں گی) اور لوگوں اور ان کے اپنے رب کے دیکھنے کے درمیان کوئی چیزنہیں ہو گی، جنت العدن میں، سوائے اس کے چہر ے پر کبریائى کی چادر کے۔

اور ہمارا ایمان ہے کہ جنت کی نعمتیں دائمی ہوں گی، کبھی ختم نہیں ہوں گی، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَنْعَمُ لَا يَبْأَسُ، لَا تَبْلَى ثِيَابُهُ وَلَا يَفْنَى شَبَابُهُ "۔ جو شخص جنت میں داخل ہوگا وہ ناز و نعم میں ہو گا کبھی تنگ حال نہ ہو گا۔ اس کا لباس پرانا ہو گا نہ اس کی جوانی ڈھلے گی۔"

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: «يُنَادِي مُنَادٍ: إِنَّ لَكُمْ أَنْ تَصِحُّوا فَلَا تَسْقَمُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَحْيَوْا فَلَا تَمُوتُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَشِبُّوا فَلَا تَهْرَمُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَنْعَمُوا فَلَا تَبْتَئِسُوا أَبَدًا. فَذَلِكَ قَوْلُهُ عز وجل: ایک اعلان کرنے والا اعلان کر ے گا۔ یقیناً تمھارے لیے یہ (انعام بھی) ہے کہ تم ہمیشہ صحت مند رہو گے۔ کبھی بیمار نہ پڑوگے، اور یہ بھی تمھار ے لیے ہے کہ زندہ رہوگے۔ کبھی موت کا شکار نہیں ہو گے۔ اور یہ بھی تمھار ے لیے ہے کہ جوان رہو گے۔ کبھی بوڑھے نہ ہوگے۔ اور یہ بھی تمھار ے لیے ہے کہ ہمیشہ ناز و نعم میں رہوگے۔ کبھی زحمت نہ دیکھو گے۔ " یہی اللہ عزوجل کا فرمان(واضح کرتا)ہے: {وَنُودُوا أَن تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ} (اور انھیں ندا دے کر کہا جائے گا کہ یہی تمھاری جنت ہے جس کے تم ان اعمال کی وجہ سے جو تم کرتے رہے، وارث بنا دیے گئے ہو)۔ [الأعراف: 43]

اللہ تعالیٰ نے جہاں ہمیں جنت اور جنت کی تمام خوبیوں سے آگاہ کیا وہیں جہنم اور جہنم میں جانے والے لوگوں کی بابت بھی بتایا نیز ہمیں اس بات سے بھی آگاہ کیا کہ جہنم میں کتنی طرح کا عذاب ہوگا اور جہنم کی سختی کیسی ہوگی؟ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {إِنَّا أَعْتَدْنَا لِلظَّالِمِينَ نَارًا أَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا وَإِنْ يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ وَسَاءَتْ مُرْتَفَقًا} "ظالموں کے لئے ہم نے وہ آگ تیار کر رکھی ہے جس کے شعلے انھیں گھیر لیں گے۔ اگر وہ فریاد رسی چاہیں گے تو ان کی فریاد رسی اس پانی سے کی جائے گی جو تیل کی گرم دھار جیسا ہوگا جو چہر ے بھون د ے گا بڑا ہی برا پانی ہے اور بڑی بری آرام گاہ (دوزخ) ہے"۔ [الکھف: ۲۹] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {يُصْهَرُ بِهِ مَا فِي بُطُونِهِمْ وَالْجُلُودُ *۔ "جس سے ان کے پیٹ کی سب چیزیں اور کھالیں گلا دی جائیں گی۔ وَلَهُمْ مَقَامِعُ مِنْ حَدِيدٍ } اور ان کی سزا کے لئے لوہے کے ہتھوڑے ہیں"۔ [الحج : ۲۰- ۲۱] اور اللہ عز وجل نے فرمایا: {إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِنَا سَوْفَ نُصْلِيهِمْ نَارًا كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُمْ بَدَّلْنَاهُمْ جُلُودًا غَيْرَهَا لِيَذُوقُوا الْعَذَابَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَزِيزًا حَكِيمًا} "جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا، انہیں ہم یقیناً آگ میں ڈال دیں گے جب ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم ان کے سوا اور کھالیں بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب چکھتے رہیں یقیناً اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے"۔ [النساء: ۵۶]

اور اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتادیا کہ منافقین جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ ۚ وَلَنْ تَجِدَ لَھُمْ نَصِيْرًا} "منافق تو یقیناً جہنم کے سب سے نیچے کے طبقہ میں جائیں گے ناممکن ہے کہ تو ان کا کوئی مدد گار پالے"۔ [النساء: ۱۴۵] اور قرآن میں آیا ہے کہ جہنم کے سات درواز ے ہیں، جیسا کہ اللہ عز وجل نے فرمایا: {لَهَا سَبْعَةُ اَبْوَابٍ ۭ لِكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌ } "جس کے سات درواز ے ہیں، ہردرواز ے کے لئے ان کا ایک حصہ بنا ہوا ہے"۔ ( الحجر : ۴۴) یہ ہمیشگی والے عذاب کا گھر ہے، جیسا کہ اللہ رب العزت نے فرمایا: {إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَظَلَمُوا لَمْ يَكُنِ اللَّهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ طَرِيقًا*۔ "جن لوگوں نے کفر کیا اورظلم کیا، انہیں اللہ تعالیٰ ہرگز ہرگز نہ بخشے گا اور نہ انہیں کوئی راہ دکھائے گا۔ إِلَّا طَرِيقَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا وَكَانَ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرًا} بجز جہنم کی راہ کے جس میں وہ ہمیشہ ہمیش پڑے رہیں گےاور یہ اللہ تعالیٰ پر بالکل آسان ہے"۔ [النساء: ۱۶۸- ۱۶۹]

کتاب: ایمان بالقدرکے بیان میں

خلاصۂ کتاب

قضا ء و قدر پر ہمارا ایمان ہے اور ہمیں پورا یقین ہے کہ قضا و قدر پر ایمان لانا ارکان ایمان کا چھٹواں رکن ہے، ایمان بالقدر ایمان باللہ کی ایک شاخ ہے کیوں کہ تقدیر اللہ کے علم، اس کے تقدیر ، اس کی تدبیر، اس کی مشیئت اور اس کی تخلیق میں سے ہے۔

تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ایمان بالقدر ارکان ایمان میں سے ہے۔

ہم یہ بات جانتے ہیں کہ ایمان بالقضا و القدر اس بات کا متقاضی ہے کہ ہم ایمان لائیں کہ اللہ کا علم تمام چیزوں کو شامل اور محیط ہے، علمی اعتبار سے اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے، اس کا علم تمام بڑ ے اور چھوٹے امور کا احاطہ کئے ہوئے ہے، خواہ وہ چیز موجود ہو یا بعد میں وجود میں آنے والی ہو لیکن ابھى وجود میں نہ آئى ہو، ساری چیزیں لوح محفوظ میں ثبت کى ہوئى اور اس میں لکھی ہوئیں ہیں، اس کی تعداد، اس کى انتہا، اس کے وجود میں آنے کا وقت اور اس کے فنا ہو نے کی حالت ساری چیزیں اس میں لکھی ہوئی ہیں۔

اللہ تعالیٰ وہ ساری چیزیں جانتا ہے جو ہو چکی ہیں اور جو ہو ں گی اور اگر ہو ں گی تو کیسے ہو ں گی؟ یہ سب اللہ جانتا ہے، اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی تقدیر آسمان اور زمین کے پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے ہی لکھ دیا ہے جب کہ اس کا عرش پانی پر تھا۔

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر وہ کام لکھ دیا ہے جو ہو چکا ہے یا جو ہونے والا ہے اور وہ کتاب میں محفوظ ہے۔

اوراس بات پر بھی ہمارا ایمان ہے کہ اللہ جو چاہتا ہے لکھتا ہے اور جو چاہتا ہے مٹاتا اور ثابت کرتا ہے، اسی کے پاس أم الکتاب ہے۔

ہمارا اس بات پر بھی ایمان ہے کہ کوئی بھی کام اللہ کی قضا و قدر ہی سے ہوتی ہے، اللہ کی قضا ء و قدر کے بغیرکوئی بھی امر انجام پذیر نہیں ہوتا، اللہ تعالیٰ نے جو مقدر کردیا ہے وہ لا محالہ ہو کر رہے گا، اسے واقع ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا ہے، اللہ نے جسے نہیں لکھا ہے اسے کوئی مخلوق انجام نہیں د ے سکتی اور جو لکھ دیا ہے اسے کوئی ہٹا نہیں سکتا، جو بند ے کو نہیں پہونچی اسے کوئی پہونچا نہیں سکتا اورجو پہونچ گئی ہے اسے کوئی ہٹا نہیں سکتا۔

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتا ہے وہ نہیں ہوتاہے، اس کی مشیئت مکمل ہے اور اس کی قدرت نافذ ہونے والی ہے، اس کی بادشاہت میں وہی ہوگا جو وہ چاہے گا، ہمارا ایمان ہے کہ بند ے کی مشیئت حقیقت پر مبنی ہے لیکن وہ بھی مشیئت الہی کے تابع ہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے ہدایت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اپنے عدل سے رسوا کردیتا ہے، اللہ تعالیٰ سے اس کے فعل کی بابت کوئی نہیں سوال کرسکتا ہے ہاں لوگ اپنے اپنے کرتوتوں کی بابت سوال کئے جا ئیں گے، ہر اطاعت گزارشخص اللہ تعالیٰ کی توفیق ہی سے اطاعت کرتا ہے یعنی اگر اللہ کی توفیق شامل حال نہ ہو تو کوئی بھی شخص اطاعت نہیں کرسکتا، ہر نافرمان اسی وقت نافرمانی کرتا ہے جب اسے اللہ کی توفیق نصیب نہیں ہوتی ہے، نیک وہ ہے جس کی نیکی سبقت کرجا ئے اور بد بخت وہ ہے جس کی بد بختی سبقت کر جا ئے، اور بندوں کے تمام اچھے بر ے کام سب بندون کے افعال اور اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ ہیں۔

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ اطاعت اور اطاعت کرنے والوں سے محبت کرتا ہے، ہمارا ایمان ہے کہ اللہ فسق اور فاسق دونوں کو نا پسند کرتا ہے، اللہ جب کسی بند ے کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے تو اسے اپنی محبت، اطاعت اور ہراس کام کی توفیق دیتا ہے جس سے وہ راضی ہوتا ہے، اور جس کے ساتھ اس کے علاوہ کا ارادہ کرتا ہے اس پر حجت تمام کردیتا ہے، پھر اسے بغیر ظلم کئے عذاب سے دو چار کرتا ہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ فحاشی کا حکم نہیں دیتا ہے اور نہ اپنے بندوں کے لئے کفر کو پسند کرتا ہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے، اللہ بندوں کا بھی خالق ہےاور ان کے افعال کابھی خالق ہے، اس کی خلقت میں بھی کوئی شریک نہیں ہے، جیسا کہ اس کی ملکیت میں کوئی شریک نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے مخلوق پر یہ ثابت کردیا ہے کہ وہی اکیلا خالق ہے اور جو خلقت میں منفرد ہو اس کی خلقت میں کسی کے لئے بطور شریک دعوی کرنا جا ئز نہیں ہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ شریعت، امر اور خلق کے درمیان کوئی تعارض نہیں ہے، اللہ تعالی ہی کے لئے خلق ہے، اسی کے لئے امر ہے، وہ جو اور جیسا چاہتا ہے کرتا ہے، وہ اپنے افعال کے بار ے میں نہیں پوچھا جا ئے گا، وہی حکم دیتا ہے اور اس کے حکم یا فیصلے پرکوئی رد یا اس کا تعاقب نہیں کر سکتا ہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کی تقدیر آسمان اور زمین کی تخلیق سے پچاس ہزار سال پہلے ہی لکھ دیا ہے، لیکن اس کے باوجود اس نے اپنی اطاعت اور اپنے رسولوں اورنبیوں کی اطاعت کا حکم بھی دیا ہے، اور اپنی معصیت اور اپنے رسولوں کی معصیت سے منع کیا ہے، اور اسی بنا پراللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اپنى تقدیر کے بارے میں خبروں اور اور اپنى وحی اور اپنے امر کی اتباع دونوں کو یکجا کیا، جہاں یہ حقیقت واضح کردی ہے کہ ہدایت کی اتباع کرنا واجب ہے، وہیں یہ بھى بیان کردیا ہے کہ وہ جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے ہدایت دیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے اپنے عدل سے گمراہ کردیتا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اس کتاب میں اپنى عمومی مشیئت کے بارے میں خبر دینے کے ساتھ ساتھ نافرمانوں کى وعید کا بھى ذکر کیا ہے اور اپنے تمام مومن بندو ں کو اپنی عبادت کرنے اور اسی پر توکل کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور تقدیر پر ایمان اور شریعت پر عمل کے مابین جمع کرنا ممکن اور مقدور ہے۔ مولى عز وجل نے یہ بھی واضح کردیا کہ وہ کسی بھی نفس کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں بناتا۔

ہمارا ایمان ہے کہ جس طرح خلق، امر اور شرع کے درمیان کوئی تعارض نہیں ہے اسی طرح شرع، امر اور عقل کے درمیان بھی کوئی تعارض نہیں ہے، لہذا ہر وہ چیز جس کا اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے حکم دیا ہے یا جس سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے منع کیا ہے یا جسے اللہ تعالیٰ نے مقدر کر دیا ہے یا جس کی بابت خبر دی ہے وہ تمام چیزیں عقل سے معارض نہیں ہیں بلکہ جو عقل کا تقاضا ہے وہی ان احکام کا بھی تقاضا ہے اور یہی اصل حکمت ہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ تمام مخلوق پر حجت قائم کرنے کے لئےاللہ تعالیٰ نے کتابیں نازل کیااور رسولوں کو بھیجا، شریعت، امر اور تقدیر ہر ایک مکمل ہے اور ان میں کا بعض اپنے بعض سے مل کر مکمل ہوتا ہے اور تمام یہ چزیں نہایت ہی کمال اور بہتری کو پہونچی ہوئى ہیں اور ان سے بہتر ممکن نہیں ہے۔

جس کتاب کی تعریف کرتے ہو ئے اللہ تعالیٰ نے احسن الحدیث کہا ہے وہ شریعت اور امر دونوں کو شامل ہے، پس جسے اللہ نے مشروع کردیا یا جسے اللہ نے مقدر کردیا وہی بہتر اور کامل ہے؛ چاہے وہ ہماری سمجھ میں آئے یا نہ آئے، چاہے ہماری عقل وہاں تک پہونچے یا نہ پہونچے، ہم اپنی عقل اور اپنی رائے کواللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کی تقدیر پرترجیح نہیں د ے سکتے، نہ تو اچھا کہہ کر اور نہ ہی برا کہہ کر بلکہ ہر وہ چیز جسے اللہ تعالیٰ نے مشروع اورمقدر کردیا ہے وہ کمال وبہتری میں انتہا کو پہونچی ہوئى ہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ شریعت اور تقدیر پورا کا پورا خیر پر مشتمل ہے، اللہ تعالیٰ شر محض کو مقدر نہیں کرتا لیکن عمومی تقدیر کے ضمن میں شر بھی داخل ہوجاتا ہے، قرآن مجید میں شر کا ذکر آتا ہے اس کى طرف نسبت کے ساتھ جو شر کو کرنے والا ہو، اور ادب کا تقاضا یہ ہے کہ شر کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف نہ کی جا ئے۔

ہمارا ایمان ہے کہ اسباب کا اختیار کرنا ایمان بالقدر کے منافی نہیں ہے بلکہ اسباب کے اپنانے سے ایمان بالقضا والقدر مکمل ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اسباب کے اختیار کرنے کا حکم دیا ہےاور سب سے بڑے اسباب میں سے ایک سبب دعا ہے، اللہ نے ہمیں دعا کا حکم دیا ہے اس کے باوجود کہ تقدیر سبقت کرچکى ہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ عدل کا حکم دیتا ہے اور اسی کے ذریعہ شرعى، تقدیرى، اور بدلے کےطور پر وہ فیصلہ کرتا ہے اور اپنے آپ سے ظلم کا انکار کیا ہے اور کمال عدل کو ثابت کیا ہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ تقدیر کے سبقت کرجانے کی وجہ سے بندوں پر ظلم لازم نہیں آتا؛ کیوں کہ اللہ نے کتابیں نازل کیا اور رسولوں کو مبعوث کیا تاکہ رسولو ں کے بعد اللہ پر کوئی حجت نہ رہ جا ئے، اسی لئے اس نے تقدیر کو مخفی رکھا، بندوں کو اختیار دیا اور انہیں مشیئت عطا کیا، لہذا جو ہدایت حاصل کر ے گا اس کا فائدہ اسے ہی ملے گا اور جو گمراہی کے راستے پر چلے گا اس کا وبال اسی پر جائے گا۔

ہمارا ایمان ہے کہ نافرمانی کرنےاور اطاعت و فرماں برداری کے ترک کرنے پر تقدیر سے احتجاج کرنا جا ئز نہیں ہے، مشرکین مکہ جب شرک میں مبتلا ہو گئے تو انہوں نے اپنی اس غلطی میں وقوع کو تقدیرسے جوڑ دیا تو اللہ نے ان کا جھوٹ واضح کیا اور ان کے کرتوت کا انہیں مزہ چکھایا، اگر تقدیر ان کےلئے حجت ہوتی تو اللہ ان کے گناہوں کا مزہ انہیں نہ چکھاتا۔

ہمارا ایمان ہے کہ بندے کے لئے توبہ کے بعد گناہوں پر تقدیر کے ذریعہ احتجاج کرنا جا ئز ہے اور وہ مصائب پر بھى تقدیر کے ذریعہ احتجاج کر سکتا ہے۔

ہم گواہی دیتے ہیں کہ مومن جب کوئی معاملہ اللہ کے حوالے کردیتا ہے اور مصیبت کے وقت اللہ کى طرف رجوع کرتا ہے تو اس کے لئے من جانب اللہ تین بھلائیاں لکھی جا تی ہیں: (۱)وہ اللہ تعالیٰ کی مغفرت کا حق دار ہوجاتا ہے(۲)اس پر رحمت الہی کا نزول ہوتا ہے(۳)اس کے سامنے ہدایت کے راستے کھل جا تے ہیں۔

باب: تقدیر پر ایمان لانے کے وجوب کا بیان

ہم قضا و قدر پر ایمان لاتے ہیں، ہم جانتے ہیں کہ اللہ ہر وہ چیز جانتا ہے جو ہو چکی ہے اور جو ہونے والی ہے، اس نے اپنی مشیئت اور اپنی خلقت کو لکھ دیا ہے اور اسے مقدر کردیا ہے۔

ہمیں یقینی طور پر معلوم ہے کہ قضا ء وقدر پر ایمان لانا ایمان کا چھٹواں رکن ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "یقینا ہم نے ہر چیز کو اندازے سے پیدا کیا ہے"۔ [القمر: ۴۹ ] ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: { وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ قَدَرًا مَقْدُورًا} "اور اللہ تعالیٰ کے کام اندازے پر مقرر کئے ہوئے ہیں"۔ [الأحزاب: ۳۸] اور اللہ عز وجل نے فرمایا: { وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا} "اور ہر چیز کو اس نے پیدا کرکے ایک مناسب انداز ٹھہرایا ہے"۔ [الفرقان: ۲] ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "رسول ایمان لایا اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے اترى اور مومن بھی ایمان لائے یہ سب اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے"۔ [البقرۃ: ۲۸۵ ] اور ایمان بالقدربھی ایمان باللہ کا ایک حصہ ہے؛ کیوں کہ تقدیر اللہ کے علم، اس کی تقدیر اور تدبیر میں سے ہے۔

اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: "وہی ہے جو جلاتا ہے اور مار ڈالتا ہے پھر وہ جب کسی کام کا کرنا مقرر کرتا ہے تو اسے صرف کہتا ہے ہوجا پس وہ ہوجاتا ہے"۔ [غافر: ۶۸] اور اللہ عز وجل نے فرمایا: "اوراللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہیں غیب کی کنجیاں (خزانے) ان کو کوئی نہیں جانتا بجز اللہ تعالیٰ کے اور وہ تمام چیزوں کو جانتا ہے جو کچھ خشکی میں ہے اور جو کچھ دریاؤں میں ہے اور کوئی پتا نہیں گرتا مگر وہ اس کو بھی جانتا ہے اور کوئی دانا زمین کے تاریک حصوں میں پڑتا اور نہ کوئی تر اور نہ کوئی خشک چیز گرتی ہے مگر یہ سب کتاب مبین میں ہیں"۔ [الأنعام: ۵۹]

اور حدیث جبرئیل میں جبرئیل علیہ السلام کے اس سوال کہ مجھے ایمان کے بارے میں بتاؤ کے جواب میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’یہ کہ تو اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر اور یوم آخرت پر ایمان لائے اور تو تقدیر کے اچھی اور بری ہونے پر ایمان لا ئے، فرمایا : تونے سچ کہا"۔ ( صحیح بخاری: ۵۰، صحیح مسلم : ۸، سنن أبی داود: ۴۶۹۵، جامع الترمذی: ۲۶۱۰، سنن النسائی: ۴۹۹۰، سنن ابن ماجہ: ۶۳)

تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ایمان بالقدر ایمان کا چھٹواں رکن ہے، حافظ ابو القاسم لالکائی فرماتے ہیں کہ: ’’ دنیا میں یہی ایک مسئلہ ہے جس پر بغیر کسی انکار کے تمام لوگوں کا اجماع ہے، اب جو اس کی مخالفت کر ے گا وہ مخالف اور معاند تسلیم کیا جا ئے گا اور وہ اس وعید کے تحت داخل ہوگا جواللہ کے اس فرمان میں ہے’’جو شخص راہ ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد بھی رسول کی مخالفت اور مومنوں کی راہ کے علاوہ کی اتباع کر ے گا ہم اسے ادھر ہی موڑ دیں گے جدھر کو وہ مڑ ے گا اورہم اسے دوزخ میں ڈال دیں گے، (جو) بہت برا ٹھکانہ ہے [النساء: 115]‘‘۔ ( شرح أصول اعتقاد أہل السنۃ والجماعۃ : ۴/ ۷۲۶)

اور عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ’’ أَنَّ نَفَرًا كَانُوا جُلُوسًا بِبَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ كَذَا وَكَذَا؟ وَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ كَذَا وَكَذَا؟ فَسَمِعَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ كَأَنَّمَا فُقِئَ فِي وَجْهِهِ حَبُّ الرُّمَّانِ، فَقَالَ:بِهَذَا أُمِرْتُمْ؟ أَوْ بِهَذَا بُعِثْتُمْ؟ أَنْ تَضْرِبُوا كِتَابَ اللَّهِ بَعْضَهُ بِبَعْضٍ؟ إِنَّمَا ضَلَّتِ الْأُمَمُ قَبْلَكُمْ فِي مِثْلِ هَذَا، إِنَّكُمْ لَسْتُمْ مِمَّا هَاهُنَا فِي شَيْءٍ، انْظُرُوا الَّذِي أُمِرْتُمْ بِهِ، فَاعْمَلُوا بِهِ، وَالَّذِي نُهِيتُمْ عَنْهُ، فَانْتَهُوا‘‘۔ کچھ لوگوں پر مشتمل ایک گروپ نبی ﷺ کے دروازے پر بیٹھا ہوا تھا تو ان میں سے بعض نے کہا کہ کیا اللہ نے ایسا ایسا نہیں کہا ہے اور بعض نے کہا کہ کیا اللہ نے ایسا ایسا نہیں کہا ہے اور وہ سب اللہ کے رسول ﷺ نے سن لیا۔ بنا بریں (گھر سے باہر) نکلے تو آپ کی حالت یہ تھی کہ جیسے آپ کے چہرے پر انار کا دانہ نچوڑ دیا گیا ہو، کہا کیا تمہیں اسی کا حکم دیا گیا ہے؟ یا یہ کہا کہ کیا تم اسی کے ساتھ بھیجے گئے ہو کہ اللہ کی کتاب کے بعض حصے کو بعض سے ٹکراؤ، تم سے پہلے کی امتیں اسی طرح کی باتوں میں پڑکر گمراہ ہو گئیں، تمہارا ان چیزوں سے کوئى لینا دینا نہیں ہے، تم وہی دیکھو جس کا تمہیں حکم دیا گیا ہے اور اسی پر عمل کرو اور جس سے روک دیا گیا ہے اس سے باز آجا ؤ۔ (سنن ابن ماجۃ: ۸۵، مسند أحمد: ۶۸۴۵، اور الفاظ مسند احمد کے ہیں ، السنۃ لابن أبی عاصم: ۴۰۶ )

عبد الملک ابن جریج, عطاء بن أبى رباح سے روایت کرتے ہیں کہ: «میں ابن عباس کے پاس آیا اس حال میں کہ وہ زمزم کے کنویں سے پانی نکال رہے تھے اور ان کے کپڑے کا نچلا حصہ تر ہو چکا تھا، میں نے ان سے کہا کہ لوگ تقدیر کے معاملے میں بحث کررہے ہیں، تو انہوں نے کہا کہ کیا واقعی لوگوں نے ايسا کیا ہے؟ میں نے کہا ہاں؟ فرمایا کہ یہ آیت انہیں لوگوں کے سلسلے میں نازل ہو ئی ہے{ذُوقُوا مَسَّ سَقَر * إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ} [القمر:۴۸۔ ۴۹] "جہنم کا مزہ چکھو (۴۸) بیشک ہم نے ہر چیز کو ایک (مقررہ) مقدار پر پیدا کیا ہے( ۴۹)"۔ ان کے مریضوں کى عیادت نہ کرو، ان کے مردوں کى نماز جنازہ نہ پڑھو، اگر ان میں سے کوئى مجھے مل جائے تو میں اس کى آنکھ پوڑ دوں» ( شرح أصول اعتقاد أہل السنۃ والجماعۃ : ۵۹۷/ ۳)

عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے سے کہا ’’يَا بُنَيَّ، إِنَّكَ لَنْ تَجِدَ طَعْمَ حَقِيقَةِ الْإِيمَانِ حَتَّى تَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللَّهُ الْقَلَمَ، فَقَالَ لَهُ: اكْتُبْ قَالَ: رَبِّ وَمَاذَا أَكْتُبُ؟ قَالَ: اكْتُبْ مَقَادِيرَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ يَا بُنَيَّ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ مَاتَ عَلَى غَيْرِ هَذَا فَلَيْسَ مِنِّي‘‘۔ اے میرے بیٹے! تو اصل ایمان کا مزہ ہرگز نہیں پا سکتا یہاں تک کہ تو یہ نہ جان لے کہ جو تجھے ملا ہے وہ ایسا نہیں کہ وہ تجھے نہیں ملتا اور جو تجھے نہیں ملا ہے ایسا نہیں ہے کہ وہ تجھے مل جاتا، میں نے اللہ کے رسولﷺ کو فرماتے ہو ئے سنا ہے کہ نے قلم پیدا کرکے اس سے سب سے پہلے یہ کہا: لکھ، تو قلم نے کہا: اے میرے رب! میں کیا لکھوں؟ اللہ نے کہا: قیامت تک ہونے والی ساری چیزوں کی تقدیریں لکھ، اے میرے بیٹے! میں نے اللہ کے رسولﷺ کو فرماتے ہو ئے سنا ہے کہ جو اس کے علاوہ پر مرا تو وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔ ( سنن أبی داود: ۴۷۰۰، السنۃ لابن أبی عاصم : ۵۱ / ۱)

یحیی بن یعمر فرماتے ہیں کہ’’ كَانَ أَوَّلَ مَنْ قَالَ فِي الْقَدَرِ بِالْبَصْرَةِ مَعْبَدٌ الْجُهَنِيُّ، فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيُّ حَاجَّيْنِ - أَوْ مُعْتَمِرَيْنِ - فَقُلْنَا: لَوْ لَقِينَا أَحَدًا مَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْنَاهُ عَمَّا يَقُولُ هَؤُلَاءِ فِي الْقَدَرِ، فَوُفِّقَ لَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ دَاخِلًا الْمَسْجِدَ، فَاكْتَنَفْتُهُ أَنَا وَصَاحِبِي أَحَدُنَا عَنْ يَمِينِهِ، وَالْآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ، فَظَنَنْتُ أَنَّ صَاحِبِي سَيَكِلُ الْكَلَامَ إِلَيَّ، فَقُلْتُ : أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّهُ قَدْ ظَهَرَ قِبَلَنَا نَاسٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، وَيَتَقَفَّرُونَ الْعِلْمَ، وَذَكَرَ مِنْ شَأْنِهِمْ، وَأَنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنْ لَا قَدَرَ، وَأَنَّ الْأَمْرَ أُنُفٌ، قَالَ: فَإِذَا لَقِيتَ أُولَئِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنِّي بَرِيءٌ مِنْهُمْ، وَأَنَّهُمْ بُرَآءُ مِنِّي، وَالَّذِي يَحْلِفُ بِهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ لَوْ أَنَّ لِأَحَدِهِمْ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا، فَأَنْفَقَهُ مَا قَبِلَ اللهُ مِنْهُ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ‘‘سب سے پہلے جس نے تقدیر کے سلسلے میں گفتگو کی بصرے میں وہ معبد جہنی تھا تو میں اور حمید بن عبد الرحمن حج یا عمرہ کے لئے چلے تو ہم نے کہا کہ اگر ہماری کسی صحابی سے ملاقات ہوجاتی ہے تو ہم ان سے اس چیز کی بابت پوچھیں گے جو یہ لوگ تقدیر کے سلسلے میں کہہ رہے ہیں، تو اتفاق سے ہمیں مسجد کے اندر عبد اللہ بن عمر بن خطاب ہمارے سامنے نظر آئے تو میں اور میرے ساتھی دونوں نے انہیں بیچ میں کر لیا یعنی ہم میں کا ایک ان کے دائیں اور دوسرا بائیں جانب ہوگیا تو میں سمجھا کہ میرا ساتھی بات میرے حوالے کر دے گا تو میں نے کہا ابو عبد الرحمن ہمارے یہاں ایسے لوگ ظاہر ہو ئے ہیں جو قرآن پڑھتے اور علم حاصل کرتے ہیں اور ان کا پورا حال بیان کیا( اور کہا کہ ) وہ کہتے ہیں کہ تقدیر کوئی چیز نہیں اور چیزوں کا علم اللہ تعالى کو ان کے ہونے کے بعد ہوتا ہے، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب تو ان سے ملنا تو کہہ دینا کہ ان سے میں بری ہوں اور وہ مجھ سے بری ہیں اور قسم ہے اس ذات کی کہ جس کی قسم عبد اللہ بن عمر کھا رہے ہیں، اگر کسی کے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو پھر وہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کردے لیکن اللہ اسے قبول نہیں کرے گا جب تک کہ وہ تقدیر پر ایمان نہ لے آئے۔ (صحیح مسلم: ۸ ، الشريعة للآجری: ۲/۸۵۱)

ابو ہارون الآبلی ( یہ سہل بن عبد اللہ کے ساتھیوں میں سے تھے اوران سے روایت کرنے والے کا کہنا ہے کہ: یہ نیک آدمی تھے اور وہ ہمیں جامع مسجد میں قرآن پڑھاتے تھے ) فر ماتے ہیں کہ ’’سُئِلَ سَهْلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ الْقَدَرِ فَقَالَ: الْإِيمَانُ بِالْقَدَرِ فَرَضٌ، وَالتَّكْذِيبُ بِهِ كُفْرٌ، وَالْكَلَامُ فِيهِ بِدْعَةٌ، وَالسُّكُوتُ عَنْهُ سُنَّةٌ‘‘۔ سہل بن عبد اللہ سے تقدیر کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: "تقدیر پر ایمان لانا فرض ہے، اسے جھٹلانا کفر ہے، اس کے سلسلے میں بات کرنا بدعت اور خاموش رہنا سنت ہے"۔ ( شرح أصول اعتقاد أہل السنۃ والجماعۃ : ۴/۷۸۶ )

اور حسن بصری رحمہ اللہ فر ماتے ہیں کہ: ’’جَفَّ الْقَلَمُ، وَقُضِيَ الْقَضَاءُ، وَتَمَّ الْقَدَرُ بِتَحْقِيقِ الْكِتَابِ، وَتَصْدِيقِ الرُّسُلِ، وَسَعَادَةِ مَنْ عَمِلَ وَ اتَّقَى ، وَشَقَاوَةِ مَنْ ظَلَمَ وَاعْتَدَى، وَبِالْوِلَايَةِ مِنَ اللَّهِ لِلْمُؤْمِنِينَ، وَبِالتَّبْرِئَةِ مِنَ اللَّهِ لِلْمُشْرِكِينَ‘‘۔ "قلم سوکھ گیا، قضاء پوری کردی گئی، کتاب کی تحقیق اور رسولوں کی تصدیق کے مطابق تقدیر مکمل ہوگئی، وہ با سعادت ہوگیا جس نے عمل کیا اور تقوی اختیار کیا اور وہ ناکام رہا جس نے ظلم اور حد سے تجاوز کیا، اللہ سے مومنوں کے لئے دوستی کرکے اور اللہ سے مشرکوں کے تئیں برأت کا اظہار کرکے"۔ (الشریعۃ للآجری : ۲/۸۸۱)

ابن بطہ عکبری فرماتے ہیں کہ: ’’ثم من بعد ذالک الإیمان بالقدر خیرہ و شرہ ، و حلوہ ومرہ ، وقلیلہ و کثیرہ، و مقدورواقع من اللہ عزوجل علی العباد ، وفی الوقت الذی أراد أن یقع ، لا یتقدم ولا یتأخر، علی ما سبق بذالک علم اللہ ، وأن ما أصاب العبد لم یکن لیخطئہ ، و ما أخطأہ لم یکن لیصیبہ ، وما تقدم لم یکن لیتأخر، وما تأخر لم یکن لیتقدم، ....فالإیمان بہذا حق لازم ، فریضۃ من اللہ عزوجل علی خلقہ ، فمن خالف ذالک ، أو خرج عنہ ، أو طعن فیہ ، ولم یثبت المقادیر للہ عزوجل ، ویضفہا ، ویضف المشیئۃ إلیہ ، فہو أول الزندقۃ ‘‘۔ "پھر اس کے بعد تقدیر کے اچھی یا بری، میٹھا یا کڑوا،اس کے کم یازیادہ ہونے اور اللہ کی طرف سے بندوں پر واقع ہونے پر ایمان لانا ہے، اسی وقت میں جس میں وہ واقع کرنے کا ارادہ کرے اس سے مقدم یا مؤخر نہیں کرتا ہے، اسی پر اللہ کا علم سبقت کر چکا ہے،اس لئے جو تجھے ملا ہے وہ ایسا نہیں کہ وہ تجھے نہیں ملتا اور جو تجھے نہیں ملا ہے ایسا نہیں ہے کہ وہ تجھے مل جاتا، جو پہلے ہوگیا وہ مؤخر نہیں ہوتا اور جو مؤخر ہوگیا وہ مقدم نہیں ہوتا، اسی پر ایمان لانا لازمی حق ہے، من جانب اللہ تمام مخلوق پر فریضہ ہے، جو اس کی مخالفت کرے گا یا اس سے نکلے گا یا اس میں طعن کر ے گا، اللہ کے لئے تقدیر کا اثبات نہیں کر ے گا، تقدیر اور اس کی مشیئت کو اس کی طرف منسوب نہیں کر ے گا وہی سب سے پہلا زندیق ہوگا"۔ ( الشرح والإبانۃ علی أصول السنۃ والدیانۃ لابن بطۃ : ص: ۲۱۳-۲۱۶)

باب: ایمان بالقدر کے مشتملات کا بیان

ہمارا ایمان ہے کہ ایمان بالقدر اللہ کے شامل اور تمام چیزوں کے احاطہ کئے ہوئے علم کو شامل ہے، وہ آسمان اور زمین کی تمام چیزوں کوجانتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِنَّ ذَلِكَ فِي كِتَابٍ إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ} "کیا آپ نے نہیں جانا کہ آسمان و زمین کی ہر چیز اللہ کے علم میں ہے۔ یہ سب لکھی ہوئی کتاب میں محفوظ ہے۔ اللہ تعالیٰ پر تو یہ امر بالکل آسان ہے"۔ [الحج: ۷۰] علمی اعتبار سے اللہ نے ہر چیز کا احاطہ کررکھا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ ۭ يَـتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ڏ وَّاَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا} "اللہ وہ ہے جس نے سات آسمانوں اور انہی کے مثل زمینوں کو بھی پیدا کیا، اس کا حکم ان کے درمیان اترتا ہے تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو بہ اعتبار علم گھیر رکھا ہے"۔ [الطلاق: ۱۲]

اللہ کا علم تمام بڑ ے اور چھوٹے امور کو محیط ہے، جیسا کہ فرمان الہی ہے: {وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ} "اور اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہیں غیب کی کنجیاں (خزانے) ان کو کوئی نہیں جانتا بجز اللہ تعالیٰ کے اور وہ تمام چیزوں کو جانتا ہے جو کچھ خشکی میں ہے اور جو کچھ دریاؤں میں ہے اور کوئی پتا نہیں گرتا مگر وہ اس کو بھی جانتا ہے اور کوئی دانا زمین کے تاریک حصوں میں پڑتا اور نہ کوئی تر اور نہ کوئی خشک چیز گرتی ہے مگر یہ سب کتاب مبین میں ہیں"۔ [الأنعام: ۵۹] امام ابن جریر الطبری رحمہ اللہ مذکورہ آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ’’قول: ولا شيء أيضًا مما هو موجود، أو ممّا سيوجد ولم يوجد بعد،إلا وهو مثبت في اللوح المحفوظ، مكتوبٌ ذلك فيه، ومرسوم عددُه ومبلغه، والوقت الذي يوجد فيه، والحالُ التي يفنى فيها.ويعني بقوله:(مبين) أنه يبين عن صحة ما هو فيه، بوجود ما رُسم فيه على ما رُسم‘‘۔ "ایسا کچھ بھی نہیں ہے جو موجود ہے یا جو موجود ہوگا لیکن وہ ابھی تک موجود نہیں ہے مگر وہ لوح محفوظ میں محفوظ ہے، اس میں لکھا ہواہے، اس کی تعداد اور اس کى مقدار اور جس وقت میں یہ پایا جائے گا اور جس حالت میں یہ فنا ہوگا، سب کچھ لکھ دیا گیا ہے۔ اللہ کے فرمان (مبين) کا یہاں یہ معنى ہے کہ: یہ اپنے اندر موجود باتوں کى صحت کو بیان کرتی ہے بعیں طور کہ اس میں موجود باتیں وقوع پزیر ہوتی ہیں بالکل ویسے ہی جیسا کہ ان کو اس میں بیان کیا گیا ہے۔ (تفسیر الطبری: ۱۱/۴۰۳)

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِي الْأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا وَهُوَ الرَّحِيمُ الْغَفُورُ*۔ "جو زمین میں جائے اور جو اس سے نکلے جو آسمان سے اتر ے اور جو چڑھ کر اس میں جائے وہ سب سے باخبر ہے۔ اور وہ مہربان نہایت بخشش والا ہے۔ {وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَا تَأْتِينَا السَّاعَةُ قُلْ بَلَى وَرَبِّي لَتَأْتِيَنَّكُمْ عَالِمِ الْغَيْبِ لَا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ وَلَا أَصْغَرُ مِنْ ذَلِكَ وَلَا أَكْبَرُ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ} کفار کہتے ہیں ہم پر قیامت نہیں آئے گی۔ آپ کہہ دیجئے! مجھے میرے رب کی قسم ! جو عالم الغیب ہے وہ یقیناً تم پر آئے گی اللہ تعالیٰ سے ایک ذرے کے برابر کی چیز بھی پوشیدہ نہیں نہ آسمانوں میں نہ زمین میں بلکہ اس سے بھی چھوٹی اور بڑی ہر چیز کھلی کتاب میں موجود ہے"۔ [سبأ: ۲- ۳]

اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ’’ إِنِّي عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ قَوْمٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، فَقَالَ: اقْبَلُوا البُشْرَى يَا بَنِي تَمِيمٍ، قَالُوا: بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا، فَدَخَلَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ اليَمَنِ، فَقَالَ: اقْبَلُوا البُشْرَى يَا أَهْلَ اليَمَنِ، إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ، قَالُوا: قَبِلْنَا، جِئْنَاكَ لِنَتَفَقَّهَ فِي الدِّينِ، وَلِنَسْأَلَكَ عَنْ أَوَّلِ هَذَا الأَمْرِ مَا كَانَ، قَالَ: كَانَ اللَّهُ وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ قَبْلَهُ، وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى المَاءِ، ثُمَّ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ، وَ كَتَبَ فِي الذِّكْرِ كُلَّ شَيْءٍ، ثُمَّ أَتَانِي رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا عِمْرَانُ أَدْرِكْ نَاقَتَكَ فَقَدْ ذَهَبَتْ، فَانْطَلَقْتُ أَطْلُبُهَا، فَإِذَا السَّرَابُ يَنْقَطِعُ دُونَهَا، وَايْمُ اللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنَّهَا قَدْ ذَهَبَتْ وَلَمْ أَقُمْ‘‘۔ میں نبی ﷺکے پاس تھا کہ ان کے پاس بنو تمیم کے کچھ لوگ آئے تو آپ نے فرمایا: اے بنو تمیم! بشارت قبول کرو۔ انہوں نے اس پر کہا کہ آپ نے ہمیں بشارت دے دی، اب ہمیں( بخشش) بھی دیجئے، ( پھر) آپ کے پاس یمن کے کچھ لوگ آئے تو آپ نے فرمایا اے اہل یمن! بشارت قبول کرو کیوں کہ بنو تمیم نے اسے قبول نہیں کیا، انہوں نے کہا کہ ہم نے قبول کر لیا، ہم آپ کے پاس آئے ہیں تاکہ ہم دین کی سمجھ حاصل کریں اور تاکہ آپ سے اس امر کے متعلق پوچھیں جو ہو چکا ہے، فرمایا کہ اللہ تھا اور اس کے پہلے کوئی چیز نہیں تھی اور اللہ کا عرش پانی پر تھا پھر اس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا اور ذکر میں ہر چیز لکھ دیا (عمران بیان کرتے ہیں کہ) پھر میرے پاس ایک اور آدمی آیا اور کہا اے عمران! اپنی اونٹنی کو پکڑو وہ بھاگ گئی ہے، چنانچہ میں اس کی تلاش میں نکلا تو( میں نے دیکھا کہ) سراب اس کا راستہ کاٹ رہا ہے اور اللہ کی قسم میں چاہتا تھا کہ وہ چلی ہی گئی ہوتی اور میں( آپ ﷺ کی مجلس میں سے) نہ اٹھتا۔ (صحیح بخاری: ۷۴۱۸، جامع الترمذی: ۳۹۵۱)

جو ہو چکا ہے اور جو ہوگا اور اگر جو ہوتا تو کیسے ہوتا یہ سب اللہ جانتا ہے، اللہ تعالیٰ نے منافقوں کی بابت بتایاہے کہ اگر وہ مومنوں کے ساتھ نکلتے بھی تو فساد ہی میں وہ اضا فہ کرتے، اور یہ تو ابھى اہل ایمان کے ساتھ نکلے بھى نہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {لَوْ خَرَجُوا فِيكُمْ مَا زَادُوكُمْ إِلَّا خَبَالًا وَلَأَوْضَعُوا خِلَالَكُمْ يَبْغُونَكُمُ الْفِتْنَةَ وَفِيكُمْ سَمَّاعُونَ لَهُمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ} "اگر یہ تم میں مل کر نکلتے بھی تو تمہارے لئے سوائے فساد کے اور کوئی چیز نہ بڑھاتے اور یقینا تمہارے درمیان چغل خوری کے ذریعہ تباہى مچاتے اور تم میں فتنے ڈالنے کی تلاش میں رہتے ان کے ماننے والے خود تم میں موجود ہیں اور اللہ ان ظالموں کو خوب جانتا ہے"۔ [التوبۃ: ۴۷]

اور اللہ تعالیٰ نے جہنمیوں کے سلسلے میں فرمایا: {وَلَوْ تَرَى إِذْ وُقِفُوا عَلَى النَّارِ فَقَالُوا يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ (۲۷) بَلْ بَدَا لَهُمْ مَا كَانُوا يُخْفُونَ مِنْ قَبْلُ وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ} "اور اگر آپ اس وقت دیکھیں جب کہ یہ دوزخ کے پاس کھڑ ے کئے جائیں تو کہیں گے ہائے کیا اچھی بات ہو کہ ہم پھر واپس بھیج دیئے جائیں اور اگر ایسا ہو جائے تو ہم اپنے رب کی آیات کو جھوٹا نہ بتلائیں اور ہم ایمان والوں میں سے ہو جائیں۔ بلکہ جس چیز کو اس کے قبل چھپایا کرتے تھے وہ ان کے سامنے آگئی ہے اور اگر یہ لوگ پھر واپس بھیج دیئے جائیں تب بھی یہ وہی کام کریں گے جس سے ان کو منع کیا گیا تھا اور یقیناً یہ بالکل جھوٹے ہیں"۔ [الأنعام: ۲۷- ۲۸] تو اللہ تعالى نے بیان کیا کہ اگر انہیں اس دنیا میں واپس بھیج دیا جائے تو وہ اپنے کفر کی طرف لوٹ آئیں گے، بعد میں بھی وہ دوزح سے اعراض نہیں کریں گے۔ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَا تَأْتِينَا السَّاعَةُ قُلْ بَلَى وَرَبِّي لَتَأْتِيَنَّكُمْ عَالِمِ الْغَيْبِ لَا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ وَلَا أَصْغَرُ مِنْ ذَلِكَ وَلَا أَكْبَرُ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ}۔ "کفار کہتے ہیں ہم پر قیامت نہیں آئے گی۔ آپ کہہ دیجئے! مجھے میرے رب کی قسم ! جو عالم الغیب ہے وہ یقیناً تم پر آئے گی، اللہ تعالیٰ سے ایک ذرے کے برابر کی چیز بھی پوشیدہ نہیں نہ آسمانوں میں نہ زمین میں بلکہ اس سے بھی چھوٹی اور بڑی ہر چیز کھلی کتاب میں موجود ہے"۔ [سبأ: ۳]

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالى نے ہر ہونے والی بات کو لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے ،جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَمَا يَعْزُبُ عَنْ رَبِّكَ مِنْ مِثْقَالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَلَا أَصْغَرَ مِنْ ذَلِكَ وَلَا أَكْبَرَ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ} "اور آپ کے رب سے کوئی چیز ذرہ برابر بھی غائب نہیں نہ زمین میں نہ آسمان میں اور نہ کوئی چیز اس سے چھوٹی اور نہ کوئی چیز بڑی مگر یہ سب کتاب مبین میں ہے"۔ [یونس: ۶۱] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِنَّ ذَلِكَ فِي كِتَابٍ إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ } "کیا آپ نے نہیں جانا کہ آسمان و زمین کی ہر چیز اللہ کے علم میں ہے۔ یہ سب لکھی ہوئی کتاب میں ہے، اللہ تعالیٰ پر تو یہ امر بالکل آسان ہے"۔ [الحج: ۷۰] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَهَا إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ } "نہ کوئی مصیبت دنیا میں آتی ہے نہ (خاص) تمہاری جانوں میں مگر اس سے پہلے کہ ہم پیدا کریں وہ ایک خاص کتاب میں لکھی ہوئی ہے یہ کام اللہ تعالیٰ پر بالکل آسان ہے"۔ [الحدید: ۲۲]

عبد اللہ بن عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے ہو ئے سنا: ’’كَتَبَ اللهُ مَقَادِيرَ الْخَلَائِقِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِخَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، قَالَ: وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ‘‘۔ اللہ نے مخلوق کی تقدیر کو آسمان اور زمین پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے لکھ دیا اور فرمایا کہ اس کا عرش پانی پر ہے۔ (صحیح مسلم: ۲۶۵۳، جامع الترمذی: ۲۱۵۶)

اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللَّهُ القَلَمَ، فَقَالَ: اكْتُبْ، فَقَالَ: مَا أَكْتُبُ؟ قَالَ: اكْتُبِ القَدَرَ مَا كَانَ وَمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى الأَبَدِ‘‘. "اللہ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا تو فرمایا: لکھ، تو اس نے کہا: کیا لکھوں؟ اللہ نے فرمایا: تقدیر لکھ، جو ہو چکا ہے اس کو، اور جو ابد تک ہونے والا ہے"۔ ( سنن أبی داود: ۴۷۰۰، جامع الترمذی: ۲۱۵۵، ۳۳۱۹،مسند الطیالسی:۵۷۸، مسند أحمد: ۲۲۷۰۵، ۲۲۷۰۷،کتاب السنہ لابن أبی عاصم: ۱۱۵)

اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’ ’لَمَّا قَضَى اللَّهُ الخَلْقَ، كَتَبَ كِتَابًا عِنْدَهُ: غَلَبَتْ، أَوْ قَالَ سَبَقَتْ رَحْمَتِي غَضَبِي، فَهُوَ عِنْدَهُ فَوْقَ العَرْشِ‘‘۔ "اللہ جب ساری مخلوق پیدا کر چکا تو اس نے اپنے پاس ایک کتاب لکھ کررکھ لیا( اس میں یوں ہے) میری رحمت میر ے غصے پر غالب ہے -یا فرمایا- میر ے غصے سے آگے بڑھ چکی ہے اور وہ اس کے پاس عرش کے اوپر ہے"۔ (صحیح بخاری: ۷۵۵۳، صحیح مسلم: ۲۷۵۱، جامع الترمذی: ۳۵۴۳، سنن ابن ماجہ: ۱۸۹)

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ جو چاہے لکھے اور جو چاہے مٹاد ے اور جو چاہے باقی رکھے، اسی کے پاس أم الکتاب ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ} "اللہ جو چاہے مٹا دے اور جو چاہے ثابت رکھے، اور اس کے پاس ام الکتاب ہے"۔ [الرعد: ۳۹]

ہمارا ایمان ہے کہ کوئی بھی کام اللہ کے قضاء و قدر ہی سے رونما ہوتا ہے، کوئی بھی امر اللہ تعالیٰ کے فیصلے ہی سے ٹل پاتا ہے، اللہ نے جسے مقدر کردیا ہے وہ لا محالہ ہونے والا ہے، اسے واقع ہونے سے کوئی روک نہیں سکتا ہے، اللہ تعالیٰ نے تقدیر میں جو نہیں لکھا ہے اسے کوئی بھی شخص انجام نہیں دے سکتا اور جو لکھ دیا ہے اسے کوئی ٹال نہیں کر سکتا، بند ے کو جو چیز نہ ملے تو یہ سمجھو کہ وہ اسے نہیں ملنے والی تھی اور جو مل جائے تو یہ سمجھو کہ وہ اسے ملنے والی تھی، یہ نہ سمجھو کہ وہ اسے نہیں ملتی، چناچہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں اللہ کے رسول ﷺ کے پیچھے ایک دن بیٹھا تھا، چنانچہ آپ نے فرمایا: ’’ يَا غُلَامُ إِنِّي أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ، احْفَظِ اللَّهَ يَحْفَظْكَ، احْفَظِ اللَّهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ، إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ، وَاعْلَمْ أَنَّ الأُمَّةَ لَوْ اجْتَمَعَتْ عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ لَكَ، وَلَوْ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَضُرُّوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْكَ، رُفِعَتِ الأَقْلَامُ وَجَفَّتْ الصُّحُفُ‘‘۔ "اے بچے! بیشک میں تجھے چند کلمات سکھلارہا ہوں، تو اللہ کو یاد کر وہ تجھے یاد کرے گا، تو اللہ کو یاد کر تو اسے اپنے سامنے پا ئے گا، جب تو مانگ تو اللہ سے مانگ، جب تو مدد طلب کر تو اللہ سے مدد طلب کر اور جان لو کہ اگر ساری امت جمع ہو جائے اس بات پر کہ وہ تمہیں کچھ نفع پہنچانا چاہیں تو وہ تمہیں کچھ نفع نہیں پہنچا سکتے مگر وہی جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے اور اگر ساری امت جمع ہو جائے اس بات پر کہ وہ تمہیں کچھ نقصان پہنچانا چاہیں تو وہ تمہیں کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے مگر وہی جو اللہ نے تمہارے اوپر لکھ دیا ہے قلم اٹھا لیے گئے اور صحیفے خشک ہو گئے ہیں"۔ ( جامع الترمذی: ۲۵۱۶، کتاب القدر لابن وھب: ۲۸، مسند أحمد: ۲۶۶۹، مسند عبد بن حمید: ۶۳۶)

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ جو چاہے گا وہی ہوگا اور جو نہیں چاہے گا وہ نہیں ہوگا، اس کى مشیت کامل ہے، جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے: {وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَيَخْتَارُ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ سُبْحَانَ اللَّهِ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ} "اور آپ کا رب جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے چن لیتا ہے ان میں سے کسی کو کوئی اختیار نہیں اللہ ہی کے لئے پاکی ہے وہ بلند تر ہے ہر اس چیز سے کہ لوگ شریک کرتے ہیں"۔ [القصص: ۶۸] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ} "اور تم سارے جہانوں کے رب کے چاہے بغیر کچھ نہیں چاہ سکتے"۔ [التکویر: ۲۹] اور اسی کی قدرت نافذ ہونے والی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعْجِزَهُ مِنْ شَيْءٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ إِنَّهُ كَانَ عَلِيمًا قَدِيرًا } "اور اللہ ایسا نہیں ہے کہ کوئی چیز اس کو ہرا د ے نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں۔ وہ بڑے علم والا، بڑی قدرت والا ہے"۔ [فاطر: ۴۴] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ} "اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو یہ ایسے کام نہ کرسکتے سو ان لوگوں کو اور جو کچھ یہ الزام تراشی کر رہے ہیں اس کو آپ رہنے دیجئے"۔ [الأنعام: ۱۱۲]

اس کی بادشاہت میں وہی ہوگا جو وہ چاہے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِينَ مِنْ بَعْدِهِمْ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَلَكِنِ اخْتَلَفُوا فَمِنْهُمْ مَنْ آمَنَ وَمِنْهُمْ مَنْ كَفَرَ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا اقْتَتَلُوا وَلَكِنَّ اللَّهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ} "اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان کے بعد والے اپنے پاس دلیلیں آجانے کے بعد ہرگز آپس میں لڑائی بھڑائی نہ کرتے، لیکن ان لوگوں نے اختلاف کیا، ان میں سے بعض تو مومن ہوئے اور بعض کافر، اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو یہ آپس میں نہ لڑتے لیکن اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے"۔ [البقرۃ: ۲۵۳]

ہمارا ایمان ہے کہ بندو ں کی مشیئت مبنی بر حقیقت ہے اور یہ مشیئت الہی کے تابع ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا} "اور تم نہ چاہو گے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ چاہے بیشک اللہ تعالیٰ علم والا با حکمت ہے"۔ [الإنسان: ۳۰] ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: { لِمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ* "(بالخصوص) اس کے لئے جو تم میں سے سیدھی راہ پر چلنا چاہے۔ وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ } اور تم بغیر رب كائنات کے چاہے کچھ نہیں چاہ سکتے"۔ [التکویر: ۲۸- ۲۹] اور اللہ عز وجل نے فر مایا: {إِنَّ هَذِهِ تَذْكِرَةٌ فَمَنْ شَاءَ اتَّخَذَ إِلَى رَبِّهِ سَبِيلًا} "یقیناً یہ تو ایک نصیحت ہے پس جو چاہے اپنے رب کی راہ لے لے"۔ [الإنسان: ۲۹] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {ذَلِكَ الْيَوْمُ الْحَقُّ فَمَنْ شَاءَ اتَّخَذَ إِلَى رَبِّهِ مَآبًا} "یہ دن حق ہے اب جو چاہے اپنے رب کے پاس (نیک اعمال کر کے) ٹھکانا بنالے"۔ [النبأ: ۳۹]

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے ہدایت دیتا ہے اورجسے چاہتا ہے اپنے عدل سے رسوا کردیتا ہے، اللہ سے اس کے کسی کام کی بابت سوال نہیں ہوگا لیکن مخلوقات سے سوال کیا جا ئے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا صُمٌّ وَبُكْمٌ فِي الظُّلُمَاتِ مَنْ يَشَإِ اللَّهُ يُضْلِلْهُ وَمَنْ يَشَأْ يَجْعَلْهُ عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ} "اور جو لوگ ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں وہ تو طرح طرح کی ظلمتوں میں بہر ے گونگے ہو رہے ہیں، اللہ جس کو چاہے گمراہ کردے اور اللہ جس کو چاہے سیدھی راہ پر لگا د ے"۔ [الأنعام: ۳۹] اور اللہ عز وجل نے فر مایا: {فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ وَمَنْ يُرِدْ أَنْ يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقًا حَرَجًا كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاءِ} "سو جس شخص کو اللہ تعالیٰ راستہ پر ڈالنا چاہے اس کے سینہ کو اسلام کے لئے کشادہ کردیتا ہے جس کو بے راہ رکھنا چاہے اس کے سینے کو بہت تنگ کردیتا ہے، جیسے کوئی آسمان پر چڑھتا ہے"۔ [الأنعام: ۱۲۵] ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَلَوْ شِئْنَا لَآتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدَاهَا وَلَكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ} "اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو ہدایت نصیب فرما دیتے لیکن میری بات بالکل حق ہوچکی ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو انسانوں اور جنوں سے پُر کر دون گا"۔ [السجدۃ: ۱۳]

اور ابو بکر مروذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: میں نے ابو عبد اللہ یعنی امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کو کہتے ہو ئے سنا کہ: لوگوں نے عبد الرحمن بن مہدی سے تقدیر کے بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے جواب دیاکہ: ’’الْخَيْرُ وَالشَّرُّ بِقَدَرٍ‘‘: خیر و شر تقدیر تقدیر کے مطابق ہے"۔ (الإبانۃ الکبری: ۲۶۱/ ۴)

اور ابو بکر بن ابو عاصم رحمہ اللہ فرماتے: "تم نے سنت کے بارے میں پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ سنت ایک جامع نام ہے جو احکام اور دیگر چیزوں سے متعلق متعدد معانی پر مشتمل ہے۔ علماء نے جن چیزوں کو سنت کی طرف منسوب کیا ہے ان میں درج ذیل چیزیں شامل ہیں: تقدیر کا اثبات کرنا، کسی عمل کو کرنے کی استطاعت کام کے وقوع کے ساتھ ہوتی ہے، اچھی اور بُری تقدیر پرایمان لانا، تقدید کے خوشگوار اور ناخوشگوار پہلوؤں پربھی ایمان لانا، انسان جو بھی نیک عمل کرتا ہے وہ اللہ کی مدد سے ہوتا ہے اور جو گناہ بھی گناہ کار کرتا ہے تو اس کی وجہ اس سے اللہ کا سابق ترک تعلق ہوتا ہے جس کا سبب بھی وہی ہوتا ہے، خوش نصیب وہ لوگ ہیں جن کے لیے خوشیاں پہلے سے لکھی ہوئی ہیں اور بدبخت وہ لوگ ہیں جن کے لیے بد بختی پہلے سے مقرر ہے، کوئی چیز اللہ تعالیٰ کی مشیئت اور اس کے ارادے سے باہر نہیں ہے، اور لوگوں کے تمام اچھے اور برے اعمال، ان کے اپنے افعال ہیں اور اللہ کى تخلیق ہیں۔" (السنۃ لابن أبی عاصم: ۶۴۵ / ۲)

ہمارا ایمان ہے کہ اطاعت اور اطاعت کرنے والوں کو اللہ پسند کرتا ہے، جیسا کہ فرمان الہی ہے: {وَلَكِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيمَانَ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ أُولَئِكَ هُمُ الرَّاشِدُونَ} "لیکن اللہ تعالیٰ نے ایمان کو تمہار ے دلوں میں زینت د ے رکھی ہے اور کفر کو اور گناہ کو اور نافرمانی کو تمہاری نگاہوں میں ناپسندیدہ بنادیا ہے، یہی لوگ راہ یافتہ ہیں"۔ [الحجرات: ۷ ] اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا: {وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا} "اور جو بھی اللہ تعالیٰ کی اور رسولﷺ کی فرمانبرداری کرے، وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا، جیسے نبی اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ، یہ بہترین رفیق ہیں"۔ [النساء: ۶۹] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ} "اور سلوک و احسان کرو اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے"۔ [البقرۃ: ۱۹۵] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ} "اللہ توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے"۔ [البقرۃ: ۲۲۲] اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ العُطَاسَ، وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ‘‘۔ "اللہ چھینکنے کو پسند اور جمائی کو نا پسند کرتا ہے"۔ ( صحیح بخاری: ۶۲۲۳، صحیح مسلم: ۲۹۹۴، سنن أبی داود: ۵۰۲۸ ، جامع الترمذی: ۲۷۴۶، سنن ابن ماجۃ: ۹۶۸)

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا نَادَى جِبْرِيلَ: إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ فُلاَنًا فَأَحِبَّهُ‘‘۔ "جب اللہ کسی بند ے سے محبت کرتا ہے تو جبرئیل کو پکارتا ہے کہ اللہ فلاں سے محبت کرتاہے تم بھی اس سے محبت کرو...."۔ ( صحیح بخاری: ۶۰۴۰ ، صحیح مسلم: ۲۶۳۷ ، جامع الترمذی: ۳۱۶۱)

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ فسق اور فسق کرنے والوں کو نا پسند کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَى أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِنْ نِسَاءٍ عَسَى أَنْ يَكُنَّ خَيْرًا مِنْهُنَّ وَلَا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ وَمَنْ لَمْ يَتُبْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ} "اے ایمان والو ! مرد دوسرے مردوں کا مذاق نہ اڑائیں ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں کا مذاق اڑائیں ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہوں اور آپس میں ایک دوسر ے کو عیب نہ لگاؤ اورنہ کسی کو بر ے لقب دو ایمان کے بعد فسق برا نام ہےاور جو توبہ نہ کریں وہی ظالم لوگ ہیں"۔ [الحجرات: ۱۱] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ} "یقینا اللہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ہے"۔ [البقرۃ: ۱۹۰] اور اللہ عز وجل نے فر مایا: {وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ} "اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا ہے"۔ [البقرۃ: ۲۰۵]

عثمان البتی فرماتے ہیں کہ: ’’دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ سِيرِينَ، فَقَالَ لِي: مَا يَقُولُ النَّاسُ فِي الْقَدَرِ؟قَالَ: فَلَمْ أَدْرِ مَا رَدَدْتُ عَلَيْهِ، قَالَ: فَرَفَعَ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ، وَقَالَ: مَا أُرِيدُ عَلَى مَا أَقُولُ مِثْلَ هَذَا۔ "میں ابن سیرین کے پاس آیا تو انہوں نے مجھے کہا کہ لوگ تقدیر کے بارے میں کیا کہہ رہے ہیں، تو انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ میں نے کیا جواب دیا، وہ فرماتے ہیں: کہ انہوں نے زمین سے کچھ اٹھایا اور کہا جو میں کہنا چاہتا ہوں اس کے متعلق میں اس سے زیادہ نہیں کہتا ہوں۔ (کتاب الشریعہ للآجری: ۸۸۷/۲) إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَرَادَ بعبدٍ خَيْرًا، وفقه لمحابه وَطَاعَتِهِ، وَمَا يَرْضَى بِهِ عَنْهُ، وَمَنْ أَرَادَ بِهِ غَيْرَ ذَلِكَ، اتَّخَذَ عَلَيْهِ الْحُجَّةَ، ثُمَّ عَذَّبَهُ، غَيْرَ ظَالِمٍ لَهُ‘‘۔ "اللہ جب کسی بند ے سے خیر کا ارادہ کرتا ہے تو اسے اپنی محبت اور اطاعت کی توفیق دیتا ہے اور جس کے ذریعہ وہ اس سے راضی ہوتا ہے اور جس کے ساتھ اس کے علاوہ کا ارادہ کرتا ہے اس پر حجت تمام کردیتا ہے پھر اس پر ظلم کئے بغیر اسے عذاب دیتا ہے"۔ (القدر للفریابی: ۲۶۳)

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ فحش کاموں کا حکم نہیں دیتا ہے، اور نہ اپنے بندوں کے لئے کفر سے راضی ہوتا ہے، جیسا کہ فرمان الہی ہے: {إِنَّ اللَّهَ لَا يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ} "یقینا اللہ فحش کاموں کا حکم نہیں دیتا ہے"۔ [الأعراف: ۲۸] اور اللہ عز وجل نے فرمایا: {وَلَا يَرْضَى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ وَإِنْ تَشْكُرُوا يَرْضَهُ لَكُمْ} "اور وہ اپنے بندوں کی ناشکری سے خوش نہیں ہوتا ہے اور اگر تم شکر کرو تو وہ اسے تمہارے لئے پسند کرے گا"۔ [الزمر: ۷]

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ ہر چیز کا خالق ہے، جیسا کہ فرمان الہی ہے: {اَللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ ۡ وَّهُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ وَّكِيْلٌ } "اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی ہر چیز پر نگہبان ہے"۔ [الزمر: ۶۲] اللہ تعالیٰ نے بندوں سمیت ان کے افعال کو بھی پیدا کیاہے، جیسا کہ فرمان الہی ہے: {وَاللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ} "اور اللہ نے تمہیں بھی اور تمہار ے اعمال کو بھی پیدا کیا"۔ [الصآفات: ۹۶] اور اس کی تخلیق میں اسی طرح کوئی شریک نہیں ہے جس طرح اس کی بادشاہت میں کوئی شریک نہیں ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَّلَمْ يَكُنْ لَّهُ شَرِيْكٌ فِي الْمُلْكِ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِيْرًا} "اس اللہ کی سلطنت ہے آسمانوں اور زمین کی اور وہ کوئی اولاد نہیں رکھتا نہ اس کی سلطنت میں کوئی ساجھی ہے اور ہر چیز کو اس نے پیدا کیا اور اس کو ایک مناسب انداز پر ٹھہرایا"۔ [الفرقان: ۲]

اور اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق پر یہ حجت تمام کردیا ہے کہ وہی تنہا خالق ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: { نَحْنُ خَلَقْنَاكُمْ فَلَوْلَا تُصَدِّقُونَ*۔ "ہم ہی نے تم سب کو پیدا کیا ہے پھر تم کیوں باور نہیں کرتے؟ أَفَرَأَيْتُمْ مَا تُمْنُونَ *۔ "اچھا پھر یہ تو بتلاؤ کہ جو منی تم ٹپکاتے ہو۔ أَأَنْتُمْ تَخْلُقُونَهُ أَمْ نَحْنُ الْخَالِقُونَ} کیا اس کا [انسان] تم بناتے ہو یا پیدا کرنے والے ہم ہی ہیں؟"۔ [الواقعۃ: ۵۷- ۵۹] اگر یہ بعث بعد الممات پر دلیل ہے، تو یہی اللہ تعالیٰ کے تنہا خالق ہونے کی بھی دلیل ہے۔

امر، شریعت، خلق اور عقل کے درمیان کوئی تعارض نہیں ہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ شریعت، امر اور خلق کے درمیان کوئی تعارض نہیں ہے، خلق اور امر دونوں اللہ ہی کے لئے ہیں، وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، اس کے افعال کے بارے میں اس سے کچھ نہیں پوچھا جائے گا، وہ حکم دیتا ہے اور اس کے دیئے گئےحکم کو نہ کوئی ٹال سکتاہے اور نہ اس پر کوئی تعاقب کر سکتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ } "بیشک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے سب آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کیا ہے پھر عرش پر مستوى ہوا، وہ رات سے دن ایسے طور پر چھپا دیتا ہے کہ وہ رات اس دن کو جلدی سے آ لیتی ہے اور سورج اور چاند اور دوسر ے ستاروں کو پیدا کیا ایسے طور پر کہ سب اس کے حکم کے تابع ہیں، یاد رکھو اللہ ہی کے لئے خاص ہے خالق ہونا اور حاکم ہونا بڑی خوبیوں سے بھرا ہوا اللہ جو تمام عالم کا رب ہے"۔ [الأعراف: ۵۴]

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے تمام مخلوق کی تقدیر کو لکھ دیا ہے لیکن اس کے باوجود اپنی اطاعت اور اپنے انبیاء و رسل کی اطاعت کا حکم دیا اور اپنى نافرمانی اور اپنے انبیاء ورسل کى نا فرمانی سے منع کیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ وَإِنْ يُرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَادَّ لِفَضْلِهِ يُصِيبُ بِهِ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَهُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ*۔ "اور اگر تجھ کو اللہ کوئی تکلیف پہنچائے تو بجز اس کے اور کوئی اس کو دور کرنے والا نہیں ہے اور اگر وہ تجھ کو کوئی خیر پہنچانا چاہے تو اس کے فضل کا کوئی ہٹانے والا نہیں، وہ اپنا فضل اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے نچھاور کرد ے اور وہ بڑی مغفرت بڑی رحمت والا ہے۔ قُلْ يَاأَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكُمْ فَمَنِ اهْتَدَى فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا وَمَا أَنَا عَلَيْكُمْ بِوَكِيلٍ* آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! تمہارے پاس حق تمہارے رب کی طرف سے پہنچ چکا ہے، اس لیے جو شخص راہ راست پر آجائے سو وہ اپنے واسطے راہ راست پر آئے گا اور جو شخص بے راہ رہے گا تو اس کا بے راہ ہونا اسی پر پڑے گا اور میں تم پر مسلط نہیں کیا گیا۔ وَاتَّبِعْ مَا يُوحَى إِلَيْكَ وَاصْبِرْ حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ} اور آپ اس کی اتباع کرتے رہیے جو کچھ آپ کے پاس وحی بھیجی جاتی ہے اور صبر کیجئے یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کرد ے اور وہ سب فیصلہ کرنے والوں میں اچھا ہے"۔ [یونس: ۱۰۷- ۱۰۹] مذکورہ آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے تقدیر کی خبر اور اپنی وحی اور امر کے اتباع کا حکم دونوں کا ایک ساتھ ذکر کیا ہے، ایک دوسرے مقام پر فرمایا: {اتَّبِعْ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ*۔ "آ ٓپ خود اس طریق پر چلتے رہئے جس کی وحی آپ کے رب تعالیٰ کی طرف سے آپ کے پاس آئی ہے، اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور مشرکین کی طرف خیال نہ کیجئے۔ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا أَشْرَكُوا وَمَا جَعَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكِيلٍ } اور اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو یہ شرک نہ کرتے اور ہم نے آپ کو ان کا نگران نہیں بنایا اور نہ آپ ان پر مختار ہیں! "۔ [الأنعام : ۱۰۶- ۱۰۷] گویا ہدایت کی اتباع واجب ہے، وہ جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے ہدایت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اپنے عدل سے گمراہ کردیتا ہے، وہ پاک اور برتر ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ*۔ "اگر آپ کا رب چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی راہ پر ایک گروہ کر دیتا، وہ تو برابر اختلاف کرنے والے ہی رہیں گے۔ إِلَّا مَنْ رَحِمَ رَبُّكَ وَلِذَلِكَ خَلَقَهُمْ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ * بجز ان کے جن پرآپ کا رب رحم فرمائے، انہیں تو اسی لئے پیدا کیا ہے اور آپ کے رب کی یہ بات پوری ہے کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے پر کروں گا۔ وَكُلًّا نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنْبَاءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهِ فُؤَادَكَ وَجَاءَكَ فِي هَذِهِ الْحَقُّ وَمَوْعِظَةٌ وَ ذِكْرَى لِلْمُؤْمِنِينَ *۔ رسولوں کے سب احوال ہم آپ کے سامنے آپ کے دل کی تسکین کے لئے بیان فرما رہے ہیں۔ آپ کے پاس اس سورت میں بھی حق پہنچ چکا جو نصیحت ووعظ ہے مومنوں کے لئے۔ وَقُلْ لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ اعْمَلُوا عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنَّا عَامِلُونَ * ایمان نہ ﻻنے والوں سے کہہ دیجئے کہ تم اپنے طور پر عمل کئے جاؤ ہم بھی عمل میں مشغول ہیں۔ وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ۔ "اور تم بھی انتظار کرو ہم بھی منتظر ہیں"۔ وَلِلَّهِ غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ } زمینوں اور آسمانوں کا علم غیب اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، تمام معاملات کا رجوع بھی اسی کی جانب ہے، پس تجھے اسی کی عبادت کرنی چاہئے اور اسی پر توکل رکھنا چاہئے اور تم جو کچھ کرتے ہو اس سے اللہ تعالیٰ بے خبر نہیں"۔ [ھود: ۱۱۸- ۱۲۳] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عام مشیئت اور مخالفین کے لئے دھمکیوں کا ذکر کیا ہے اور اپنے مومن بندوں کو اپنی عبادت اور اس پر توکل کا حکم دیا ہے۔

ایمان بالقدر اور عمل بالشرع کے درمیان جمع کرنا ممکن ومقدور ہے، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا} "اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں بناتا"۔ [البقرۃ: ۲۸۶] اوراللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَلَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا} "ہم کسی نفس کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے"۔ [المؤمنون: ۶۲]

اللہ تعالیٰ نے ہمیں تکلیف دہ اقدار پر صبر کا حکم دیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ۭ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِيْنَ } "اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے، دشمن کے ڈر سے، بھوک پیاس سے، مال و جان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری د ے دیجئے۔ [البقرۃ: ۱۵۵] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ } "صبر کرنے والوں ہی کو ان کا پورا پورا بیشمار اجر دیا جاتا ہے"۔ [الزمر: ۱۰]

اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ بَلَاءً الْأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ‘‘۔ "لوگوں میں سب سے سخت آزمائش انبیاء کی ہوگی پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے۔ (مسند إسحاق بن راہویہ: ۲۴۱۳، مسند أحمد: ۲۷۰۷۹ ، المرض والكفارات لإبن أبی الدنیا: ۶، السنن الکبری للنسائی: ۷۴۴۰)

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’مَا يَزَالُ البَلَاءُ بِالمُؤْمِنِ وَالمُؤْمِنَةِ فِي نَفْسِهِ وَوَلَدِهِ وَمَالِهِ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ وَمَا عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ‘‘۔ "مومن مرد اور مومنہ عورت اپنی جان، اولاد، اور مال کے سلسلے میں آزمائش میں مبتلارہیں گے یہاں تک کہ وہ اللہ سے ملاقات کریں گے اس حال میں کہ ان پر کوئی گناہ نہیں ہوگا"۔ (جامع الترمذی: ۲۳۹۹، مصنف ابن أبی شیبۃ: ۱۰۹۱۶، مسند أحمد: ۷۸۵۹، الزہد لہناد بن السری: ۴۰۲)

اور علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ’’كُنَّا فِي جَنَازَةٍ فِي بَقِيعِ الغَرْقَدِ، فَأَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَعَدَ وَقَعَدْنَا حَوْلَهُ، وَمَعَهُ مِخْصَرَةٌ، فَنَكَّسَ فَجَعَلَ يَنْكُتُ بِمِخْصَرَتِهِ، ثُمَّ قَالَ:مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ، مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ إِلَّا كُتِبَ مَكَانُهَا مِنَ الجَنَّةِ وَالنَّارِ، وَإِلَّا قَدْ كُتِبَ شَقِيَّةً أَوْ سَعِيدَةً، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلاَ نَتَّكِلُ عَلَى كِتَابِنَا وَنَدَعُ العَمَلَ؟ فَمَنْ كَانَ مِنَّا مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَسَيَصِيرُ إِلَى عَمَلِ أَهْلِ السَّعَادَةِ، وَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنَّا مِنْ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ فَسَيَصِيرُ إِلَى عَمَلِ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ، قَالَ: أَمَّا أَهْلُ السَّعَادَةِ فَيُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ السَّعَادَةِ، وَأَمَّا أَهْلُ الشَّقَاوَةِ فَيُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ الشَّقَاوَةِثُمَّ قَرَأَ: {فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى(۵) وَصَدَّقَ بِالحُسْنَى} [الليل: ۶] الآيَةَ‘‘۔ ہم بقیع غرقد میں ایک جنازہ میں تھے کہ نبی ﷺ ہمارے پاس آگئے (آتے ہی) آپ بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ کے اردگرد بیٹھ گئے، آپ کے ساتھ ایک چھڑی تھی جسے آپ نے زمین کی طرف جھکا دیا اور اسی چھڑی سے زمین کریدنے لگے، پھر کہا کہ تم میں سے کوئی ایسا نہیں، کوئی جان ایسی نہیں مگر یہ کہ اس کا ٹھکانا جنت اور دوزخ دونوں جگہ لکھ دیا گیا ہو اور یہ بھی لکھ دیا گیا ہو کہ وہ نیک بخت ہوگی یا بدبخت، تو ایک آدمی نے کہا : اے اللہ کے رسول ! پھر کیوں نہ ہم اپنی تقدیر پر بھروسہ کر لیں اور عمل چھوڑ دیں کیونکہ ہم میں سے جو نیکو کاروں میں سے ہوگا وہ نیکو کارں کے عمل کی طرف جا ئے گا اور ہم میں سے جو بد بختوں میں سے ہوگا وہ بد بختوں والے عمل کی طرف جا ئے گا؟ تو( آپ ﷺ نے) فرمایا کہ رہی بات نیک بختوں کی تو ان کے لئے نیکی کا کام آسان کردیا جا ئے گا اور رہی بات بد بختوں کی تو ان کے لئے بد بختی کا کام آسان کردیا جا ئے گا پھر پڑھا {فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالحُسْنَى} "رہی بات اس کی جس نے دیا اور تقوی اختیار کیا اور بہترین بات کو سچ مانا"۔ (صحیح بخاری: ۱۳۶۲، صحیح مسلم: ۲۶۴۷، سنن أبی داود: ۴۶۹۴، جامع الترمذی: ۳۳۴۴)

اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے عرض کیا’’يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُعْرَفُ أَهْلُ الجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ؟ قَالَ:نَعَمْ، قَالَ: فَلِمَ يَعْمَلُ العَامِلُونَ؟ قَالَ:كُلٌّ يَعْمَلُ لِمَا خُلِقَ لَهُ، أَوْ: لِمَا يُسِّرَ لَهُ ‘‘۔ اے اللہ کے رسول! کیا اہل جنت جہنمیوں سے الگ جانے جائیں گے، فرمایا: ہاں، کہا کہ پھر عمل کرنے والے کیوں عمل کریں؟ فرمایا کہ ہر شخص وہی عمل کرے گا جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے یا جو اس کے لئے آسان کر دیا جا ئے گا۔ (صحیح بخاری: ۶۵۹۶، صحیح مسلم: ۲۶۴۹، سنن أبی داود: ۴۶۰۹)

اور جابرفر ماتے ہیں کہ: ’’جَاءَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ بَيِّنْ لَنَا دِينَنَا كَأَنَّا خُلِقْنَا الْآنَ، فِيمَا الْعَمَلُ الْيَوْمَ؟ أَفِيمَا جَفَّتْ بِهِ الْأَقْلَامُ، وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ، أَمْ فِيمَا نَسْتَقْبِلُ؟ قَالَ:لَا، بَلْ فِيمَا جَفَّتْ بِهِ الْأَقْلَامُ وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ، قَالَ: فَفِيمَ الْعَمَلُ؟ قَالَ زُهَيْرٌ: ثُمَّ تَكَلَّمَ أَبُو الزُّبَيْرِ بِشَيْءٍ لَمْ أَفْهَمْهُ، فَسَأَلْتُ: مَا قَالَ؟ فَقَالَ: اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ‘‘۔ سراقہ بن مالک بن جعشم آئے اور کہا اے اللہ کے رسول! ہمارا دین ہمارے سامنے بیان کیجئے گویا ہم ابھی پیدا ہوئے ہیں، کس چیز کے بارے میں آج عمل ہم کرتے ہیں؟ آیا اس کے بارے میں جس پر قلم سوکھ گئے اور جس پرتقدیریں جاری ہو گئیں؟ یا اس میں جو ہمارے سامنے آنے والا ہے؟ کہا: نہیں بلکہ اس میں جس پر قلم سوکھ گئے اورجس پر تقدیر یں جاری ہو گئیں، کہا: پھر عمل کیوں؟ (راوی حدیث ) زہیر فرماتے ہیں کہ پھر ابوالزبیر نے کچھ بات کہی جس کو میں نہیں سمجھ سکا تو میں نے پوچھا: نبی صلى اللہ علیہ وسلم نےکیا کہا؟ کہا عمل کرو ہر ایک کے لیے آسان کر دیا گیا ہے۔ (صحیح مسلم: ۲۶۴۸)

اور سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’إِنَّ العَبْدَ لَيَعْمَلُ، فِيمَا يَرَى النَّاسُ، عَمَلَ أَهْلِ الجَنَّةِ وَإِنَّهُ لَمِنْ أَهْلِ النَّارِ، وَيَعْمَلُ فِيمَا يَرَى النَّاسُ، عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ الجَنَّةِ، وَإِنَّمَا الأَعْمَالُ بِخَوَاتِيمِهَا‘‘۔ "ایک بندہ لوگوں کی نظر میں جنتیوں والا عمل کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ جہنمیوں میں سے ہوتا ہے، ایک دوسرا بندہ لوگوں کی نظر میں جہنمیوں والا عمل کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ جنتیوں میں سے ہوتا ہے اور اعمال کا اعتبار اس کے خاتمہ پر موقوف ہے"۔ ( صحیح بخاری: ۶۴۹۳، صحیح مسلم: ۱۱۲)

اور امام آجری -رحمہ اللہ۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ’’أَحَبَّ الطَّاعَةَ مِنْ عِبَادِهِ وَأَمَرَ بِهَا، فَجَرَتْ مِمَّنْ أَطَاعَهُ بِتَوْفِيقِهِ لَهُمْ، وَنَهَى عَنِ الْمَعَاصِي، وَأَرَادَ كَوْنَهَا مِنْ غَيْرِ مَحَبَّةٍ مِنْهُ لَهَا، وَلَا لِلْأَمْرِ بِهَا، تَعَالَى عَزَّ وَجَلَّ عَنْ أَنْ يَأْمُرَ بِالْفَحْشَاءِ، أَوْ يُحِبَّهَا وَجَلَّ رَبُّنَا وَعَزَّ مِنْ أَنْ يَجْرِي فِي مُلْكِهِ مَا لَمْ يُرِدْ أَنْ يَجْرِيَ، أَوْ شَيْءٌ لَمْ يَحُطْ بِهِ عِلْمُهُ قَبْلَ كَوْنِهِ، قَدْ عَلِمَ مَا الْخَلْقُ عَامِلُونَ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَهُمْ، وَبَعْدَ أَنْ خَلَقَهُمُ، قَبْلَ أَنْ يَعْلَمُوا قَضَاءً وَقَدَرًا قَدْ جَرَى الْقَلَمُ بِأَمْرِهِ تَعَالَى فِي اللَّوْحِ الْمَحْفُوظِ بِمَا يَكُونُ، مِنْ بِرٍّ أَوْ فُجُورٍ، يُثْنِي عَلَى مَنْ عَمِلَ بِطَاعَتِهِ مِنْ عَبِيدِهِ، وَيُضِيفُ الْعَمَلَ إِلَى الْعِبَادِ، وَيَعِدْهُمْ عَلَيْهِ الْجَزَاءَ الْعَظِيمَ، وَلَوْلَا تَوْفِيقُهُ لَهُمْ مَا عَمِلُوا بِمَا اسْتَوْجَبُوا بِهِ مِنْهُ الْجَزَاءُ، {ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ} وَكَذَا ذَمَّ قَوْمًا عَمِلُوا بِمَعْصِيَتِهِ، وَتَوَعَّدَهُمْ عَلَى الْعَمَلِ بِهَا وَأَضَافَ الْعَمَلَ إِلَيْهِمْ بِمَا عَمِلُوا، وَذَلِكَ بِمَقْدُورٍ جَرَى عَلَيْهِمْ، يُضِلُّ مَنْ يَشَاءُ، وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ‘‘۔ "وہ اپنے بندوں کی اطاعت کو پسند کرتا ہے اور انہیں اسی کا حکم دیتا ہے تو جس نے اس کى اطاعت کى تو یہ ان سے اللہ کے توفیق سےہوسکا۔ اور اس نے نا فرمانی سے روکا ہے اور اس نے نافرمانی ہونے کو کونی اعتبار سے پسند تو کیا لیکن نافرمانی سے نہ وہ محبت کرتا ہے نہ اس کا حکم دیا ہے، فحاشی کا حکم دینے یا اس سے محبت کرنے سے اللہ عزوجل پاک ہے، ہمارا رب تو اس بات سے بھی پاک ہے کہ اس کی بادشاہت میں وہ چیزیں رو نما ہوں جس کا اس نے ارادہ ہی نہ کیا ہو یا ایسی چیز سے بھی پاک ہے جس کے بارے میں اس کے ہونے سے پہلے وہ نہیں جانتا تھا، وہ پیدا کرنے سے پہلے بھی ساری مخلوق کی بابت جانتا تھا کہ وہ کیا کریں گے اور انہیں پیدا کرنے کے بعد بھی جانتا ہے کہ وہ کیا کرتے ہیں، قضا وقدر کے جاننے سے پہلے ہی اللہ تعالی کے حکم سے ہونے والی تمام چیزوں پرخواہ وہ نیکی ہو یا برائی لوح محفوظ میں قلم جاری ہوگیا، جو بندہ اس کی اطاعت کرتا ہے اس کی وہ تعریف کرتا ہے اور عمل کو اس کی طرف منسوب کرتا ہے اور اس پر جزائے عظیم کا ان سے وعدہ کرتا ہے، اگر اس کی توفیق شامل حال نہ ہوتی تو وہ ایسا عمل نہیں کرسکتے جس پر اس کی طرف سے انہیں جزا دیا گیا ہے ( یہ اللہ کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ عظیم فضل والا ہے) [الحديد: 21]، اسی طرح اس نے نافرمان قوم کی مذمت کیا، اس پر انہیں دھمکی دیا اور ان کے کرتوت کو ان کی طرف منسوب کیا ہے، اور ایسا ان پر مقدر کئے ہوئے تقدیر کے اعتبار سے ہوا ہے، وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ (کتاب الشریعۃ للآجری: ۲/ ۷۰۲)

ہمارا ایمان ہے کہ جس طرح خلق، امر اور شرع کے درمیان کوئی تعارض نہیں ہے اسی طرح شرع، امر اور عقل کے درمیان بھی کوئی تعارض نہیں ہے، اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے جس کا حکم دیا ہے یا جس سے منع کیا ہے یا جسے تقدیر میں لکھ دیا ہے یا جس کی بابت خبر دیا ہے ان میں سے کوئی بھی چیز عقل سے معارض نہیں ہے بلکہ ان سب کا وہی تقاضا ہے جس کام کا حکم عقل دیتی ہے اور یہی انتہائی درجے کی حکمت ہے جیسا کہ فرمان الہی ہے: {ذَلِكَ مِمَّا أَوْحَى إِلَيْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ وَلَا تَجْعَلْ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ فَتُلْقَى فِي جَهَنَّمَ مَلُومًا مَدْحُورًا} "یہ بھی منجملہ اس وحی کے ہے جو تیری جانب تیرے رب نے حکمت سے اتاری ہے تو اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ بنانا کہ ملامت خوردہ اور راندہ درگاہ ہو کر دوزخ میں ڈال دیا جائے"۔ [الإسراء: ۳۹] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {حِكْمَةٌ بَالِغَةٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُر} "اور کامل عقل کی بات ہے لیکن ان ڈراؤنی باتوں نے بھی کچھ فائدہ نہ دیا"۔ [القمر: 5] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ } "اللہ تعالیٰ نے تجھ پر کتاب اور حکمت اتاری ہے"۔ [النساء: ۱۱۳] اور اسی کے ذریعہ ساری مخلوق پر حجت قائم ہوگی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ ۚ فَلَوْ شَاۗءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِيْنَ} "آپ کہئے کہ بس پوری حجت اللہ ہی کی ہی رہی۔ پھر اگر وہ چاہتا تو تم سب کو راہ راست پر لے آتا"۔ [الأنعام: ۱۴۹] اللہ کى شریعت، امر اور تقدیر ہی سب سے بہتر چیز یں ہیں، اس سے بہتر کچھ نہیں ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُوْنَ ۭوَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُّوْقِنُوْنَ} "کیا یہ لوگ پھر سے جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں یقین رکھنے والے لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ سے بہتر فیصلے اور حکم کرنے والا کون ہوسکتا ہے"۔ [المائدۃ: ۵۰]

اور ابن دیلمی فرماتے ہیں کہ:’’ أَتَيْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ، فَقُلْتُ: لَهُ وَقَعَ فِي نَفْسِي شَيْءٌ مِنَ الْقَدَرِ، فَحَدِّثْنِي بِشَيْءٍ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُذْهِبَهُ مِنْ قَلْبِي، قَالَ: لَوْ أَنَّ اللَّهَ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ عَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ لَهُمْ، وَلَوْ رَحِمَهُمْ كَانَتْ رَحْمَتُهُ خَيْرًا لَهُمْ مِنْ أَعْمَالِهِمْ، وَلَوْ أَنْفَقْتَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا قَبِلَهُ اللَّهُ مِنْكَ حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ، وَتَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَأَنَّ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ، وَلَوْ مُتَّ عَلَى غَيْرِ هَذَا لَدَخَلْتَ النَّارَ، قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَحَدَّثَنِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ‘‘۔ میں ابی بن کعب کے پاس آیا اور ان سے کہا: میرے دل میں تقدیر کے بارے میں کچھ شبہ پیدا ہو گیا ہے، لہٰذا آپ مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جس سے اللہ اس شبہ کو میرے دل سے ختم کردے، فرمایا: اگر اللہ آسمان والوں اور زمین والوں کو عذاب سے دو چار کردے تو وہ عذاب دینے میں ظالم نہیں ہوگا اور اگر وہ ان پر رحم کرے تو اس کی رحمت ان کے لیے ان کے اعمال سے بہت بہتر ہے، اگر تم احد کے برابر سونا اللہ کی راہ میں خرچ کردو تو اللہ اس کو تمہاری طرف سے قبول نہیں فرمائے گا، یہاں تک کہ تم تقدیر پر ایمان لے آؤ اور تم جانتے ہو کہ جو کچھ تمہیں پہنچا ہے وہ ایسا نہیں ہے کہ نہ پہنچتا، اور جو کچھ تمہیں نہیں پہنچا وہ ایسا نہیں ہے کہ تمہیں پہنچ جاتا اور اگر تم اس کے علاوہ پر مر گئے تو جہنم میں داخل ہو گے، ( ابن دیلمی) کہتے ہیں کہ پھر میں عبداللہ بن مسعود کے پاس آیا تو انہوں نے بھی اسی طرح کہا، کہتے ہیں کہ پھر میں حذیفہ بن یمان کے پاس آیا تو انہوں نے بھی اسی طرح کہا۔ کہتے ہیں کہ پھر میں زید بن ثابت کے پاس آیا تو انہوں نے مجھ سے اسی کے مثل نبی ﷺ سے حدیث بیان کی۔ ( سنن أبی داود: ۴۶۹۹، سنن ابن ماجۃ: ۷۷، مسند أحمد: ۲۱۵۸۹، المنتخب من مسند عبد بن حميد: ۲۴۷، القدر للفریابی مخرجا: ۱۹۰، شرح أصول إعتقاد أہل السنۃ والجماعۃ: ۲۷۶/ ۴)

اور اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کی تعریف کرتے ہوئے اسے احسن القصص کہا ہے، کیوں کہ یہ شرع اور امر دونو ں کو متضمن ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ } "اللہ تعالیٰ نے بہترین کلام نازل فرمایا ہے جو ایسی کتاب ہے کہ آپس میں ملتی جلتی اور بار بار دہرائی ہوئی آیتوں کی ہے"۔ [الزمر: ۲۳] سو اللہ تعالیٰ نے جسے مشروع یا مقدر کیا ہے وہی پورا اور بہتر ہے، اب عقلیں اسے جان پائیں یا نہ جان پا ئیں، اسے سمجھ پائیں یا نہ سمجھ پائیں لیکن ہم اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کی تقدیر پر اپنی عقل اپنی رائے کو ترجیح نہیں دیتے، نہ تو اچھا کہہ کر اور نہ ہی برا کہہ کر، بلکہ ہر وہ چیز جسے اللہ تعالیٰ نے مشروع اور مقد ر کردیا وہی کمال والا اور مکمل طور پر بہتر ہے۔

ہم ایمان لاتے ہیں کہ شریعت اور تقدیر پورا کا پورا خیر پر مشتمل ہے، اللہ تعالیٰ شرح محض کو مقدر نہیں کرتا ہے، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ‘‘۔ پورا کا پورا خیر تیر ے ہاتھ میں ہے اور شر (کا انتساب ) تیری طرف نہیں ہے۔ (صحیح مسلم: ۷۷۱، سنن أبی داود: ۷۶۱، جامع الترمذی: ۲۶۶، سنن النسا ئی: ۸۹۷)

شر عمومی تقدیر کے ضمن میں آتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ} "یقینا ہم نے ہر چیز کو خاص مقدار پر پیدا کیا ہے"۔ [القمر: ۴۹] اور قرآن مجید میں شر کا انتساب اسے انجام دینے والے کی طرف کیا گیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ*۔ "آپ کہہ دیجئے! کہ میں صبح کے رب کی پناہ میں آتا ہوں۔ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ} ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے۔ [الفلق: ۱- ۲]

اور ادب کا تقاضا بھی یہی ہے کہ برائی کا انتساب اللہ تعالیٰ کی طرف نہ کیا جا ئے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے جنوں کی بابت فرمایا: {وَّاَنَّا لَا نَدْرِيْٓ اَشَرٌّ اُرِيْدَ بِمَنْ فِي الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًا} "ہم نہیں جانتے کہ زمین والوں کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے رب کا ارادہ ان کے ساتھ بھلائی کا ہے"۔ [الجن: ۱۰] اور اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل علیہ السلام کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فر مایا: {وَاِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِيْنِ} "اور جب میں بیمار پڑجاؤں تو مجھے شفا عطا فرماتا ہے"۔ [الشعراء: ۸۰] سو ابراہیم علیہ السالم نے بیماری کو اپنی طرف اور شفا کو اللہ کی طرف منسوب کیا۔

باب: اسباب کا اختیار کرنا تقدیر ہی سے ہے

ہمارا ایمان ہے کہ اسباب کا اختیار کرنا ایمان بالقدر کے منافی نہیں ہے، بلکہ اسباب کا اختیار کرنا ایمان بالقضاء والقدر کا تکملہ ہے، ایمان بالقدر ایمان کو مکمل کرنے والا ہے، ہمارے رب نے ہمیں روزی تلاش کرنے کا حکم دیا اور اس نے ہمیں یہ بھی بتا دیا ہے کہ اس نے اسے لکھ رکھا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {هُوَ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِيْ مَنَاكِبِهَا وَكُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ ۭ وَاِلَيْهِ النُّشُوْرُ} "وہ ذات جس نے تمہارے لئے زمین کو پست و مطیع کردیا تاکہ تم اس کی راہوں میں چلتے پھرتے رہو اور اللہ کی روزیاں کھاؤ (پیو) اسی کی طرف (تمہیں) جی کر اٹھ کھڑے ہونا ہے"۔ [الملک: ۱۵]

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فَاِذَا قُضِيَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِي الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ} "پھر جب نماز ہوچکے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو اور بکثرت اللہ کا ذکر کیا کرو تاکہ تم فلاح پالو"۔ [الجمعۃ: ۱۰]

اوراللہ تعالیٰٰ نے یعقوب علیہ السلام کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے اپنے بیٹوں سے کہا تھا: {يٰبَنِيَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ وَمَآ اُغْنِيْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ ۭ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ ۭعَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ۚ وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ} "اے میرے بچو! تم سب ایک درواز ے سے نہ جانا بلکہ کئی جدا جدا دروازوں میں سے داخل ہونا میں اللہ کی طرف سے آنے والی کسی چیز کو تم سے ٹال نہیں سکتا، حکم صرف اللہ ہی کا چلتا ہے میرا کامل توکل اسی پر ہے اور ہر ایک توکل کرنے والے کو اسی پر توکل کرنا چاہیئے"۔ [یوسف: ۶۷] سائب بن یزید سے روایت ہے کہ ’’أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ أَخَذَ دِرْعَيْنِ، كَأَنَّهُ ظَاهَرَ بَيْنَهُمَا‘‘ اللہ کے نبی ﷺ نےاحد کے دن دو زرہیں لیا گویا کہ آپ نے دونوں کو اوپر تلے پہن لیا"۔ (سنن ابن ماجۃ: ۲۸۰۶، سنن سعيد بن منصور: ۲۸۵۸، مسند أحمد: ۱۵۷۲۲، السنن الکبری للنسائی: ۸۵۲۹) اور اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کو کشتی بنانے کا حکم دیا جس طرح موسیٰ علیہ السلام کو سمندر میں لا ٹھی مارنے کا حکم دیا، مریم علیہا السلام کو کھجور کا تنہ ہلانے کا حکم دیا تاکہ ان پر تازہ کھجوریں گریں، ان کے علاوہ اور بھی بہت ساری دلیلیں ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اسباب اپنانے کا حکم دیا ہے۔

اور ایک بڑا سبب دعا ہے، جیسا کہ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے اللہ کے اس فرمان کو بیان کیا: {قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ} "اور تمہارے رب کا فرمان (سرزد ہوچکا ہے) کہ: مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا"۔ [غافر: ۶۰] اور فرمایا: دعا ہی عبادت ہے، اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان تلاوت کیا:(اور تمہارے رب کا فرمان (سرزد ہوچکا ہے) کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا، یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خودسری کرتے ہیں وه عنقريب ذلیل ہوکر جہنم میں پہنچ جائیں گے) [غافر:۶۰] (سنن أبی داود: ۱۴۷۹، جامع الترمذی: ۲۹۶۹، سنن ابن ماجۃ: ۳۸۲۸)

تقدیر کے اسباب میں سے ایک سبب علاج اور رقیہ شرعیہ بھی ہے۔ ابو خزامہ رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ ’’سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ رُقًى نَسْتَرْقِيهَا وَدَوَاءً نَتَدَاوَى بِهِ وَتُقَاةً نَتَّقِيهَا، هَلْ تَرُدُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ شَيْئًا؟ قَالَ: هِيَ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ‘‘۔ میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے پوچھا تو میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ کا کیا خیال ہے اس رقیہ کے بارے میں جس سے ہم جھاڑ پھونک کرتے ہیں اور اس دوا کے بارے میں جس سے ہم علاج کرتے ہیں اور اس ڈھال کے بارے میں جس سے ہم اپنا بچاؤ کرتے ہیں؟ کیا یہ اللہ کی تقدیر میں کچھ تبدیلی کرتی ہیں؟ فرمایا: یہ اللہ کی تقدیر میں سے ہے۔ (جامع الترمذی: ۲۰۶۵، سنن ابن ماجہ: ۳۴۳۷، الجامع في الحديث لابن وهب: ۶۹۹، مسند أحمد: ۱۵۴۷۲، الآحاد والمثاني لابن أبی عاصم: ۲۶۱۰)

باب: تقدیر عدل کے ساتھ متعارض نہیں ہے

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ عدل کا حکم دیتا ہے اور اسی کے ذریعہ شرعى، قدری اور بدلے اور جزا کے اعتبار سے فیصلہ کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ } "اللہ تعالیٰ عدل کا، بھلائی کا اور قرابت داروں کے ساتھ سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے"۔ [النحل: ۹۰] اور اللہ عز وجل نے فرمایا: {وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلَيْنِ اَحَدُهُمَآ اَبْكَمُ لَا يَـقْدِرُ عَلٰي شَيْءٍ وَّهُوَ كَلٌّ عَلٰي مَوْلٰىهُ ۙ اَيْنَـمَا يُوَجِّهْهُّ لَا يَاْتِ بِخَيْرٍ ۭهَلْ يَسْتَوِيْ هُوَ ۙ وَمَنْ يَّاْمُرُ بِالْعَدْلِ ۙ وَهُوَ عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَــقِيْمٍ} "اللہ تعالیٰ ایک اور مثال بیان فرماتا ہے دو شخصوں کی، جن میں سے ایک تو گونگا ہے اور کسی چیز پر اختیار نہیں رکھتا بلکہ وہ اپنے مالک پر بوجھ ہے کہیں بھی اسے بھیج دو کوئی بھلائی نہیں لاتا، کیا یہ اور وہ جو عدل کا حکم دیتا ہے اور ہے بھی سیدھی راہ پر، برابر ہوسکتے ہیں؟"۔ [النحل: ۷۶] اور ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے اللہ تبارک وتعالى سے روایت کیا کہ اللہ تعالى نے فرمایا: ’’يَا عِبَادِي إِنِّي حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلَى نَفْسِي، وَجَعَلْتُهُ بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا، فَلَا تَظَالَمُوا‘‘۔ "اے میرے بندو! میں نے اپنے او پر ظلم کو حرام کر رکھا ہے اور اسے تمہارے درمیان بھی حرام کردیا ہے لہذا تم آپس میں ایک دوسرے پرظلم نہ کرو"۔ (صحیح مسلم: ۲۵۷۷، جامع الترمذی: ۲۴۹۵)

اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ سے ظلم کا انکار کیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {مَنْ عَمِلَ صَالِحًــا فَلِنَفْسِهٖ وَمَنْ اَسَاۗءَ فَعَلَيْهَا ۭ وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّـلْعَبِيْدِ} "جو شخص نیک کام کر ے گا وہ اپنے نفع کے لئے اور جو برا کام کر ے گا اس کا وبال بھی اسی پر ہے۔ اور آپ کا رب بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں" ۔ [فصلت: ۴۶] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ ۚ وَاِنْ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفْھَا} "بیشک اللہ تعالیٰ ایک ذرہ برابر ظلم نہیں کرتا اور اگر نیکی ہو تو اسے دو گنی کردیتا ہے"۔ [النساء: ۴۰] اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا: {وَمَنْ يَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ مِنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَھُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰۗىِٕكَ يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُوْنَ نَقِيْرًا} "جو ایمان والا ہو مرد ہو یا عورت اور وہ نیک اعمال کر ے یقیناً ایسے لوگ جنت میں جائیں گے اور کھجور کی گٹھلی کے شگاف کے برابر بھی ان کا حق نہ مارا جائے گا"۔ [النساء: ۱۲۴] اور اللہ عز وجل نے فرمایا: {اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظْلِمُ النَّاسَ شَيْـــًٔـا وَّلٰكِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَھُمْ يَظْلِمُوْنَ} "یہ یونہی بات ہے کہ اللہ لوگوں پر کچھ ظلم نہیں کرتا لیکن لوگ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔ [یونس: ۴۴] ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {مَنْ جَاۗءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا ۚ وَمَنْ جَاۗءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزٰٓى اِلَّا مِثْلَهَا وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ} "جو شخص نیک کام کر ے گا اس کو اس کے دس گنا ملیں گے جو شخص برا کام کر ے گا اس کو اس کے برابر ہی سزا ملے گی اور ان پر ظلم نہ ہوگا"۔ [الأنعام: ۱۶۰] ان کے علاوہ اور بہت ساری آیات ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ عادل ہے، ہر کام پور ے انصاف کے ساتھ کرتا ہے، اس نے اپنے آپ سے ظلم کا انکار کیاہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ قضا ء و قدر کے سبقت کرجانے سے بندوں پر ظلم لازم نہیں آتا ہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے کتابیں نازل کیا، رسولوں کو مبعوث کیا تاکہ حجت کا کوئی راستہ بندوں کے پاس نہ رہ جائے، جیسا کہ فرمان الہی ہے: {رُسُلًا مُّبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ لِئَلَّا يَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَي اللّٰهِ حُجَّــةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ ۭوَكَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِيْمًا } "ہم نے انہیں رسول بنایا، خوشخبریاں سنانے والے اور آگاہ کرنے والے تاکہ لوگوں کی کوئی حجت اور الزام رسولوں کے بھیجنے کے بعد اللہ تعالیٰ پر رہ نہ جائے، اللہ تعالیٰ بڑا غالب اور بڑا باحکمت ہے"۔ [النساء: ۱۶۵]

اور اس نے تقدیر کو پوشیدہ راز کردیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {عٰلِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلٰي غَيْبِهٖٓ اَحَدًا} "وہ غیب کا جاننے والا ہے اور اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا"۔ [الجن: ۲۶] اور بندوں کو مشیئت اور اختیار د ے دیا ہے، جیسا کہ اللہ عز وجل نے فرمایا: {وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ ۣ فَمَنْ شَاۗءَ فَلْيُؤْمِنْ وَّمَنْ شَاۗءَ فَلْيَكْفُرْ} "اور اعلان کرد ے کہ یہ سراسر برحق قرآن تمہار ے رب کی طرف سے ہے۔ اب جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کر ے"۔ [الکھف: ۲۹] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا} "ہم نے اسے راہ دکھائی اب خواہ وہ شکر گزار بنے خواہ ناشکرا"۔ [الإنسان: ۳] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَتَقْوٰىهَا} "پھر سمجھ دی اس کو بدکاری کی اور بچ کر چلنے کی"۔ [الشمس: ۸]

تقدیر سے احتجاج کرنے کا بیان۱

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو مبعوث کیا، کتابیں نازل کیں؛ تاکہ لوگوں کے لئے اللہ کے خلاف کوئی حجت نہ رہ جا ئے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {رُسُلًا مُّبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ لِئَلَّا يَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَي اللّٰهِ حُجَّــةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ ۭوَكَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِيْمًا } "ہم نے انہیں رسول بنایا، خوشخبریاں سنانے والے اور آگاہ کرنے والے تاکہ لوگوں کی کوئی حجت اور الزام رسولوں کے بھیجنے کے بعد اللہ تعالیٰ پر رہ نہ جائے، اللہ تعالیٰ بڑا غالب اور بڑا باحکمت ہے"۔ [النساء: ۱۶۵] اور اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی بابت بتایا کہ انہوں نے شرک میں گرنے کی حد تک تقدیر سے احتجاج کیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کا جھوٹ واضح کیا اور انہیں ان کے کرتوت کا مزہ چکھا دیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {سَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ مَآ اَشْرَكْنَا وَلَآ اٰبَاۗؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِنْ شَيْءٍ ۭ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ حَتّٰي ذَاقُوْا بَاْسَـنَا ۭقُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوْهُ لَنَا ۭاِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَخْرُصُوْنَ} "یہ مشرکین (یوں) کہیں گے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم کسی چیز کو حرام کرسکتے اس طرح جو لوگ ان سے پہلے ہوچکے ہیں انہوں نے بھی تکذیب کی تھی یہاں تک کہ انہوں نے ہمارے عذاب کا مزہ چکھا آپ کہیے کیا تمہارے پاس کوئی دلیل ہے تو اس کو ہمار ے سامنے ظاہر کرو، تم لوگ محض خیالی باتوں پر چلتے ہو اور تم بالکل اٹکل پچو سے باتیں بناتے ہو"۔ [الأنعام: ۱۴۸] اگر ان کے لئے ان کے شرکیہ اعمال و افعال پر تقدیر حجت ہوتی تو اللہ انہیں عذاب کا مزہ نہیں چکھاتا۔

اور علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ’’كُنَّا جُلُوسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ عُودٌ يَنْكُتُ فِي الأَرْضِ، وَقَالَ: مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا قَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ أَوْ مِنَ الجَنَّةِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ القَوْمِ: أَلاَ نَتَّكِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: لاَ، اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ. ثُمَّ قَرَأَ: {فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى} [الليل: ۵] الآيَةَ ‘‘۔ ہم نبی ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے ساتھ ایک لکڑی تھی جس سے آپ زمین کرید رہے تھے (اسی دوران) آپ نے کہا کہ تم میں سے کوئی نہیں ہے مگر اس کا جہنم یا جنت کا ٹھکانا لکھ دیا گیا ہے تو قوم کے ایک آدمی نے کہا :اے اللہ کے رسول ! پھر کیوں نہ ہم اسی پر بھروسہ کر لیں؟ (نبیﷺ نے ) فرمایا : نہیں۔ عمل کرو کیونکہ ہر شخص (کے لئے اس کا عمل) آسان کر دیا گیا ہے، پھر(آپ ﷺ نے یہ آیت) پڑھی: {فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى} "رہی بات اس کی جس نے دیا اور تقویٰ اختیار کیا" ... پورى آیت۔ (صحیح بخاری: ۶۶۰۵، صحیح مسلم: ۲۶۴۷، جامع الترمذی: ۲۱۳۶، سنن ابن ماجہ: ۷۸) اسی لئے نبی ﷺ نے عمل کرنے کا حکم دیا اور صرف تقدیر پر بھروسہ کرنے سے روکا ہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ توبہ کرنے کے بعد گناہوں پر تقدیر کے ذریعہ احتجاج کرنا جا ئز ہے۔ حمید بن عبد الرحمن سے روایت ہے کی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا’’احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى، فَقَالَ لَهُ مُوسَى: أَنْتَ آدَمُ الَّذِي أَخْرَجَتْكَ خَطِيئَتُكَ مِنَ الجَنَّةِ، فَقَالَ لَهُ آدَمُ: أَنْتَ مُوسَى الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالاَتِهِ وَبِكَلاَمِهِ، ثُمَّ تَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قُدِّرَ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى مَرَّتَيْنِ‘‘۔ موسیٰ اور آدم نے بحث کیا تو موسیٰ نے ان سے کہا کہ تم وہی آدم ہو کہ جسے اس کى لغزشوں نے جنت سے نکلوا دیا، تو آدم نے ان سے کہا تم وہی موسیٰ ہو کہ جسے اللہ نے اپنی رسالت اور اپنے کلام کے ساتھ چن لیا تھا پھر بھی تم مجھے ایک ایسے معاملے پر ملامت کر رہے ہو جو مجھ پر میری پیدائش سے بھی پہلے مقدر کر دیا گیا تھا، تو اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ آدم، موسیٰ پر غالب آگئے، رسول اللہ ﷺ نے یہ جملہ دو مرتبہ فرمایا۔ (صحیح بخاری: ۶۶۱۴، صحیح مسلم: ۲۶۵۲، سنن أبی داد: ۴۷۰۱، جامع الترمذی: ۲۱۳۴، سننن ابن ماجہ: ۸۰)

اور مطرف بن عبد اللہ بن شخیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: ’’قرآن میں ہمیں تقدیر کے سپرد نہیں کیا گیا، لیکن ہمیں قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ہم تقدیر کی طرف لوٹنے والے ہیں‘‘۔ (السنۃ لعبد اللہ بن أحمد : ۲/۴۱۲) اور محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: ’’إِنْ لَمْ يَكُنْ أَهْلُ الْقَدَرِ مِنَ الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِي آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلَا أَدْرِي مَا هُمْ‘‘۔ "اگر قدریہ ان لوگوں میں سے نہیں ہیں جو اللہ عزوجل کی آیات میں مشغول ہوتے ہیں تو میں نہیں جانتا کہ وہ وہ کون ہیں"۔ (السنۃ لعبد اللہ بن أحمد : ۴۳۲/ ۲، شرح أصول إعتقاد أھل السنۃ والجماعۃ : ۶۹۶/ ۴)

ابن وہب وغیرہ فرماتے ہیں کہ: ’’سئل مالک عن أهل القدر أيكف عن كلامهم؟ قال نعم. إذا كان عارفاً بما هو عليه. قال ويأمره بالمعروف وينهاه عن المنكر؟ ويخبرهم بخلافهم ولا يواضع القول ولا يصلي عليهم، ولا تشهد جنائزهم ولا أرى أن يناكحوا زاد في رواية غيره، قال الله ولعبد مؤمن خير من مشرك. قال في رواية أشهب ولا يصلى خلفهم ولا يحمل عليهم الحديث وإن وافيتوهم في ثغر فاخرجوهم منه‘‘۔ "مالک سے قدریہ کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا ان کی بات سے کنارہ کشی اختیار کی جائے؟ کہا ہاں اگر اسے اپنے کلام کے حقیقت معلوم ہے۔ کہا: انہیں بھلائی کا حکم دیا جا ئے اور برائی سے روکا جا ئے اور انہیں ان کے خلاف عقائد و نظریات سے آگاہ کیا جا ئے، نہ ان سے نرم انداز میں بات کیا جا ئے، نہ ان پرجنازہ کی نماز ادا کی جا ئے، نہ ان کے جنازے میں شرکت کی جا ئے اور میں سمجھتا ہوں کہ نہ ان سے نکاح کیا جا ئے۔ اور ایک روایت میں یہ اضافہ کیا ہے: کہ اللہ نے فرمایا مومن بندہ مشرک سے بہتر ہے۔ اور اشہب کی ایک روایت میں فرمایا: ان کے پیچھے نماز نہ ادا کی جا ئے، نہ ان سے روایات لی جائیں اور انہیں کسی گڑھے میں پاؤ تو تم انہیں اس سے نکال دو"۔ ( ترتيب المدارك وتقريب المسالك: ۱/۹۱)

اور ہمارا ایمان ہے کہ بندے کے لئے جائز ہے کہ وہ مصائب و آلام پر تقدیر کے ذریعہ حجت قائم کر سکتا ہے، جیسا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ، خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ، وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ، وَاسْتَعِنْ بِاللهِ وَلَا تَعْجَزْ، وَإِنْ أَصَابَكَ شَيْءٌ، فَلَا تَقُلْ لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَانَ كَذَا وَكَذَا، وَلَكِنْ قُلْ قَدَرُ اللهِ وَمَا شَاءَ فَعَلَ، فَإِنَّ لَوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ‘‘۔ "طاقت ور مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن سے بہتراور محبوب ہے، ان کاموں میں حرص کرجو تجھ کونفع پہونچائیں، اللہ سے مدد مانگ اور ہمت نہ ہار اور تجھ پر کوئی مصیبت آئے تو یہ نہ کہہ کہ اگر میں ایسا کرتا تو ایسا ایسا ہوتا بلکہ یہ کہہ کہ یہ اللہ کی تقدیر ہے اس نےجو چاہا کیا، اگر مگر شیطان کا راستہ کھولتا ہے"۔ (صحیح مسلم: ۲۶۶۴، سنن ابن ماجہ: ۷۹)

اللہ تعالی کے اس فرمان: {الَّذِيْنَ اِذَآ اَصَابَتْهُمْ مُّصِيْبَةٌ ۙ قَالُوْٓا اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ} جنہیں جب کوئی مصیبت آتی ہے تو کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم تو خود اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ (البقرۃ : ۱۵۶)" کى تفسیر میں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں’’اللہ نے خبر دیا ہے کہ مومن جب معاملہ اللہ کے حوالے کرد ے اور مصیبت کے وقت اسی کی طرف رجوع کر ے تو اس کے لئے تین بھلا ئیاں لکھی جا تی ہیں (۱)من جانب اللہ مغفرت (۲) رحمت (۳) راہ ہدایت کی تک رسائى"۔ اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: مَنِ اسْتَرْجَعَ عِنْدَ الْمُصِيبَةِ جَبَرَ اللَّهُ مُصِيبَتَهُ، وَأَحْسَنَ عُقْبَاهُ، وَجَعَلَ لَهُ خَلَفًا صَالِحًا يَرْضَاهُ‘‘ کہ جس نے مصیبت کے وقت رجوع کیا، اللہ اس کی مصیبت کو دور کرد ے گا، اس کا انجام اچھا کرد ے گا اور اس کا ایک ایسا نعم البدل بناد ے گا جو اسے خوش رکھے گا۔ (تفسیر الطبری: ۲/ ۷۰۷، تفسیر ابن أبی حاتم: ۱۴۲۱، المعجم الكبير للطبرانی: ۱۳۰۲۷، شعب الإیمان للبیہقی: ۹۲۴۰ ، تفسیر الطبری : ۲۲۳/ ۳)

کتاب: عبادت کے بیان میں

خلاصۂ کتاب

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے اور احکام الہی کی بجا آوری کو عبادت کہا جاتا ہے، اسی کا نام حنیفیت اور ملت ابراہیمی ہے اور اللہ تعالیٰ نے تمام انس و جن کو اسی کا حکم دیا ہے، عبادت کی بے شمار قسمیں ہیں، اللہ کے علاوہ کسی اور کی عبادت کرنا جائز نہیں ہے، عبادت کی چند اقسام یہ ہیں: دعا، توکل، خشیت، خوف، رجا، استعاذہ، ذبح، استعانت اور استغاثہ۔

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوق کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے اور قرآن میں سب سے پہلا حکم یہی وارد ہوا ہے کہ اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو، ہر نبی نے اپنی قوم کو یہی دعوت دیا ہے: {اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ} "اے میری قوم! تم اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں (جو کہ عبادت کا مستحق ہو)"۔ [الأعراف: ۶۵]

ہمیں معلوم ہے کہ عبادت کی قبولیت کا انحصار دو شرطوں پر موقوف ہے: (۱)عبادت خالص اللہ ہی کے لئے ہو (۲) اور اللہ کے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے پر ہو۔

اورعبادت سے مقصود صرف اللہ وحدہ لا شریک کی ذات ہے، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کى شرک أصغر اوراکبر دونوں سے ڈرایا ہے، اپس گر کوئی نیک عمل خالص اللہ کے لئے کرتا ہے لیکن وہ رسول ﷺ کے طریقے سے ہٹ کر ہے تو اس کا عمل مردود ہے، اور اگر کوئى عمل رسول صلى اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مطابق کرتا ہے لیکن وہ اللہ کے لئے خالص نہیں ہے تو وہ بھى مردود ہے۔

ہمیں معلوم ہے کہ عبادت کے تین اصول ہیں: (۱) کمال محبت (۲) کمال رجاء (۳) کمال خوف ، اور تمام انبیاء ورسل علیہم السلام اس عبادت میں اعلیٰ مقام ومرتبہ سے سرفراز ہوئے۔

اور بروز قیامت سب سے بڑی چیز جس کی امید تمام مومنوں کو ہوگی وہ اللہ تعالیٰ کی رؤیت ہوگی، اللہ تعالیٰ کی رؤیت ہی جنتیوں کی سب سے اعلی نعمت ہوگی، بلکہ یہ تمام نعمتوں پر ایک اضافی نعمت ہوگی، جب جنتی جنت میں داخل کر دیئے جا ئیں گے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اپنے دیدار کی اجازت مرحمت فرما کر اہل ایمان کے ساتھ مزید احسان اور عزت افزائی کا معاملہ فرمائے گا، چونکہ صرف اپنے مومن دوستوں کو اللہ تعالیٰ نے اس نعمت کے ساتھ خاص کیا ہے اس لئے تمام مومنوں کو اس بات کا سب سے زیادہ خوف ہوتا ہے کہ کہیں ہمیں اس نعمت سے محروم نہ کردیاجائے۔ دشمنان الہی اس سے محروم رہیں گے، چنانچہ اللہ تعالى اپنے تمام دشمنوں جیسے مشرکین، یہود و نصاری، مجوس اور منافقین کو اپنى طرف دیکھنے سے روک دے گا۔

وسیلہ: ہر وہ کام جسکے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کیا جائے، جس سے اللہ راضی ہو خواہ وہ واجب ہو یا مستحب، حالانکہ وسیلہ دوسرے معنی میں بھی آیا ہے، جیسے اللہ کے رسول ﷺ کا یہ فرمان’’سَلُوا اللهَ لِيَ الْوَسِيلَةَ‘‘ میرے لئے اللہ سے وسیلہ طلب کرو۔

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندو ں کو دعا کا حکم دیا ہے اور ان سے قبولیت کا وعدہ کیا ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ اللہ کے أسما ئے حسنی اور صفات علیا کے ذریعہ اللہ کا وسیلہ طلب کیا جاتا ہے، انبیاء علیہم الصلاۃ والتسلیم اکثر و بیشتر اسما ئے حسنیٰ کے وسیلہ سے دعا کرتے تھے، دعا کے بعض مقامات یہ ہیں: نماز کے بعد دعا کرنا، ماہ رمضان میں افطار کے وقت دعا کرنا، دوران طواف دعا کرنا، صفا و مروہ پر دعا کرنا، مقام عرفہ و مزدلفہ میں دعا کرنا اور رمی جمار کے بعد دعا کرنا وغیرہ۔

جس طرح ایمان باللہ کے ذریعہ اللہ کاوسیلہ پکڑا جاتا ہے اسی طرح عمل صالح یعنی تمام عبادتوں کے ذریعہ بھی اللہ کا وسیلہ پکڑا جاتا ہے۔ اور اپنی کمزوریوں، اپنے مشکل حالات اور اللہ کے سامنے اپنی فقیری کا اظہار کرکے اللہ تعالیٰ کا وسیلہ پکڑا جاتا ہے؛ کیوں کہ بندہ اللہ کی رحمت ومدد کا محتاج ہے۔ اوروسیلہ اس طور پر بھی ہوتا ہے کہ مسلم کسى نیک حاضر زندہ آدمى سے اپنے لئے دعا کرنے کا مطالبہ کرے، جیسا کہ یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے اپنے باپ سے مغفرت طلب کرنے کا مطالبہ کیا تھا، اسی طرح جب اللہ کے رسول ﷺ وفات پا گئے تو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے استسقاء کے مسئلے میں آپ (کى دعا کے ذریعہ وسیلہ پکڑنے) سے اعراض کیا اور عباس رضی اللہ عنہ کى (دعا کے ذریعہ) وسیلہ پکڑا؛ کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ یہ وسیلہ مشروع ہے۔

غیر مشروع طریقے سے وسیلہ پکڑنا ناجا ئز اور حرام ہے، دور جاہلیت میں لوگ بتوں اور مورتیوں کے ذریعہ اللہ کا وسیلہ پکڑتے تھے جب کہ یہ غیر مشروع وسیلہ ہے۔

اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ﴾کا بیان

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالی نے تمام انس و جن کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ} "میں نے جنات اور انسانوں کو محض اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں"۔ [الذاریات: ۵۶] یعنی انہیں اس بات کا حکم ہے کہ وہ اللہ رب العالمین کے لئے عبادت کو خالص کریں۔ جس عبادت کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے وہی حنیفیت اور وہی ملت ابراہیمی ہے، جیسا کہ اللہ عز وجل نے فرمایا: {قُلْ اِنَّنِيْ هَدٰىنِيْ رَبِّيْٓ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ دِيْنًا قِــيَمًا مِّلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا ۚ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ} "آپ کہہ دیجئے: کہ مجھ کو میرے رب نے ایک سیدھا راستہ بتایا ہے کہ وہ دین مستحکم ہے جو طریقہ ہے ابراہیم (علیہ السلام) کا جو اللہ کی طرف یکسو تھے اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھے"۔ [الأنعام: ۱۶۱]

اوراللہ تعالیٰ نے جس عبادت کا حکم دیا ہے اس کی بے شمار قسمیں ہیں اور ان میں سے کوئی ایک عبادت بھی اللہ کے علاوہ کسی اور کے لئے جائز نہیں ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا} "اور یہ مسجدیں صرف اللہ ہی کے لئے خاص ہیں، پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو"۔ [الجن: ۱۸]

عبادت کی بعض قسمیں: ۱۔دعا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {وَمَنْ يَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ ۙ لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖ ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ ۭ اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ } "جو شخص اللہ کے ساتھ کسی دوسر ے معبود کو پکار ے جس کی کوئی دلیل اس کے پاس نہیں، پس اس کا حساب تو اس کے رب کے اوپر ہی ہے۔ بیشک کافر لوگ نجات سے محروم ہیں"۔ [المؤمنون: ۱۱۷] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ} "اور تمہار ے رب کا فرمان (سرزد ہوچکا) ہے کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خود سری کرتے ہیں وہ ابھی ابھی ذلیل ہو کر جہنم پہنچ جائیں گے"۔ [غافر: ۶۰]

۲۔ توکل، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَعَلَي اللّٰهِ فَتَوَكَّلُوْٓا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ} "اور تم اگر مومن ہو تو تمہیں اللہ تعالیٰ ہی پر توکل کرنا چاہیے"۔ [المائدۃ: ۲۳] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ} "اور جو شخص اللہ پر توکل کرے گا اللہ اسے کافی ہوگا"۔ [الطلاق: ۳]

۳۔ خشیت، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فَلَا تَخْشَوْھُمْ وَاخْشَوْنِيْ } "تم ان سے خشیت نہ کرو اور مجھ سے ہی خشیت اختیار کرو"۔ [البقرۃ: ۱۵۰]

۴۔ خوف، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فَلَا تَخَافُوْھُمْ وَخَافُوْنِ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ} "تم ان کافروں سے نہ ڈرو اور میرا خوف رکھو اگرتم مومن ہو"۔ [آل عمران: ۱۷۵]

۵۔ رجاء، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ يَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِـيْلَةَ اَيُّهُمْ اَقْرَبُ وَيَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَيَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ ۭ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا} "جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں خود وہ اپنے رب کے تقرب کی جستجو میں رہتے ہیں کہ ان میں سے کون زیادہ نزدیک ہوجائے وہ خود اس کی رحمت کی امید رکھتے اور اس کے عذاب سے خوف زدہ رہتے ہیں، (بات بھی یہی ہے) کہ تیرے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے"۔ [الإسراء: ۵۷] ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰٓى اِلَيَّ اَنَّمَآ اِلٰـــهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۚ فَمَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَاۗءَ رَبِّهٖ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖٓ اَحَدًا} "آپ کہ دیجئے کہ میں تو تم جیسا ہی ایک انسان ہوں (ہاں) میری جانب وحی کی جاتی ہے کہ سب کا معبود صرف ایک ہی معبود ہے، تو جسے بھی اپنے رب سے ملنے کی آرزو ہو اسے چاہیے کہ نیک اعمال کر ے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کر ے۔" [الکھف: ۱۱۰]

۶۔ استعاذہ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ} "آپ کہہ دیجئے ! کہ میں لوگوں کے رب کی پناہ میں آتا ہوں"۔ [الناس: ۱]

۷۔ ذبح، جیسا کہ اللہ رب العزت نے فرمایا: {قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ} "آپ فرما دیجئے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کا ہے جو سارے جہان کا رب ہے"۔ [الأنعام: ۱۶۲]

۸۔ استعانت (مدد طلب کرنا)، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ } "ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں"۔ [الفاتحۃ: ۴]

۹۔ استغاثہ (فریاد رسى کرنا)، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اِذْ تَسْتَغِيْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّىْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ مُرْدِفِيْنَ } "اس وقت کو یاد کرو جب تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے پھر اللہ نے تمہاری سن لی کہ میں تم کو ایک ہزار فرشتوں سے مدد دونگا جو لگاتار چلے آئیں گے"۔ [الأنفال: ۹]

ہمیں معلوم ہے کہ قرآن میں سب سے پہلا حکم یہی ہے کہ خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جا ئے، جیسا کہ فرمان الہی ہے: {يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِىْ خَلَقَكُمْ وَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ } "اے لوگوں! اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا، یہی تمہارا بچاؤ ہے"۔ [البقرۃ: ۲۱] اور ہر نبی نے اپنی قوم سے یہی کہاہے: {اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ} "اس نے کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں (جو عبادت کا مستحق ہو)"۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے رسول کے سلسلے میں فرمایا: { لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰي قَوْمِهٖ فَقَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ ۭ اِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ} "ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے فرمایا اے میری قوم! تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود ہونے کے قابل نہیں مجھ کو تمہارے لئے ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے"۔ [الأعراف: ۵۹] اور اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول محمد ﷺ کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا: {وَاعْبُدُوا اللّٰهَ وَلَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَـيْـــــًٔـا} "اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو"۔ [النساء: ۳۶] اور اللہ عز وجل نے فرمایا: {وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ} "ہم نے ہرامت میں رسول بھیجا کہ (لوگو) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو"۔ [النحل: ۳۶]

ہمیں معلوم ہے کہ عبادت کی قبولیت کا انحصار دو شرطوں پر موقوف ہے: (۱)عبادت خالص اللہ ہی کے لئے ہو (۲) اور اللہ کے رسول ﷺ کے بتائے طریقے پر ہو، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فَمَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَاۗءَ رَبِّهٖ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖٓ اَحَدًا} "تو جسے بھی اپنے رب سے ملنے کی آرزو ہو اسے چاہیے کہ نیک اعمال کر ے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کر ے"۔ [الکھف: ۱۱۰]

ہم جانتے ہیں کہ عبادت کا اصل مقصود ہے خالص اللہ واحد کی عبادت کرنا، جو تنہا اور اکیلا ہے، اور اس کا کوئی شریک اور ساجھی دار نہیں ہے، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ، وَ إِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ‘‘۔ "یقینا اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے اور آدمی کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی ہے، جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہوگی اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہوگی اور جس کی ہجرت دنیا پانے یا کسی عورت سے شادی کے لئے ہوگی تو اس کی ہجرت اسی کے لئے ہوگی جس کے لئے اس نے ہجرت کی ہے"۔ (صحیح بخاری: ۶۶۸۹، صحیح مسلم: ۱۹۰۷، سنن أبی داود: ۲۲۰۱، جامع الترمذی: ۱۶۴۷، سنن النسا ئی: ۷۵، سنن ابن ماجہ: ۴۲۲۷)

نبی ﷺ نے شرک کی تمام اقسام سے ڈرایا ہے خواہ شرک اصغر ہوں یا شرک اکبر، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرَى إِثْمًا عَظِيمًا } "یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جس کے لئے جو چاہے بخش دیتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک مقرر کر ے اس نے بہت بڑا گناہ اور بہتان باندھا"۔ [النساء: ۴۸] ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’أَنَا أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ، مَنْ عَمِلَ عَمَلًا أَشْرَكَ فِيهِ مَعِي غَيْرِي، تَرَكْتُهُ وَ شِرْكَهُ‘‘۔ "میں شرکاء میں شرک سے سب سے زیادہ بے نیاز ہوں جس نے کوئی ایسا عمل کیا کہ اس میں میرے ساتھ میرے علاوہ کو شریک کیا تو میں اسے اور اس کے شرک کو چھوڑ دیتا ہوں"۔ (صحیح مسلم: ۲۹۸۵)

اگر کسی نے خالص اللہ کے لئے عبادت کیا لیکن رسول ﷺ کے طریقے سے ہٹ کر تو اس کا عمل مردود ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللّٰهَ وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَكَرَ اللّٰهَ كَثِيْرًا} "یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی اور آخرت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے"۔ [الأحزاب: ۲۱] اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ‘‘۔ "جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا حکم نہیں ہے تو وہ مردود ہے"۔ (صحیح مسلم: ۱۷۱۸) اور اللہ عز وجل نے فرمایا: {فَلْيَحْذَرِ الَّذِيْنَ يُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖٓ اَنْ تُصِيْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ يُصِيْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ } "سنو! جو لوگ حکم رسول کی مخالفت کرتے ہیں انھیں ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آپڑ ے یا انھیں درد ناک عذاب نہ پہنچے"۔ [النور: ۶۳] اور اللہ عز وجل نے فرمایا: {قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ ۭوَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ } "کہہ دیجئے ! اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کر ے گا اور تمہارے گناہ معاف فرما د ے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا مہربان ہے"۔ [آل عمران: ۳۱]

ہمیں معلوم ہے کہ عبادت کے تین اصول ہیں: (۱) کمال محبت (۲) کمال رجاء (۳) کمال خوف، انبیاء ورسل کی کامیابی کا اصل سبب یہی ہے کہ انہوں نے عبادت الہی کو اپنی زندگی کا مشغلہ بنا لیا تھا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے احوال پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا: {إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ} "یہ بزرگ لوگ نیک کاموں کی طرف جلدی کرتے تھے اور ہمیں لالچ طمع اور ڈر خوف سے پکارتے تھے۔ ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے تھے"۔ [الأنبیاء: ۹۰] اور اللہ عز وجل نے فرمایا: {وَالَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَ*۔ "اور جو لوگ دیتے ہیں جو کچھ دیتے ہیں اور ان کے دل کپکپاتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ اُولٰۗىِٕكَ يُسٰرِعُوْنَ فِي الْخَــيْرٰتِ وَهُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ} یہی ہیں جو جلدی جلدی بھلائیاں حاصل کر رہے ہیں اور یہی ہیں جو ان کی طرف دوڑ جانے والے ہیں"۔ [المؤمنون: ۶۰-۶۱] اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا: {تَـتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا ۡ وَّمِـمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ} "ان کی کروٹیں اپنے بستروں سے الگ رہتی ہیں، اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انھیں د ے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں"۔ [السجدۃ: ۱۶] اور اللہ عز وجل نے فرمایا: {اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَاۗءَ الَّيْلِ سَاجِدًا وَّقَاۗىِٕمًا يَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَيَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖ} "بھلا جو شخص راتوں کے اوقات سجد ے اور قیام کی حالت میں (عبادت میں) گزراتا ہو، آخرت سے ڈرتا ہو اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتا ہو (اور جو اس کے برعکس ہو برابر ہوسکتے ہیں)"۔ [الزمر: ۹]

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی فرماتا ہےکہ: ’’أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، وَأَنَا مَعَهُ إِذَا ذَكَرَنِي، فَإِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي، وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَإٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلَإٍ خَيْرٍ مِنْهُمْ، وَإِنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ بِشِبْرٍ تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا، وَإِنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا، وَإِنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً ‘‘۔ "میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں اور میں اس وقت اس کے ساتھ ہو ں جب وہ مجھے یاد کرتا ہے، جب وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے مجلس میں یاد کرتا ہے تو میں اسے اس سے بہتر مجلس میں یاد کرتا ہوں، اگر وہ مجھ سے ایک بالشت قریب آتا ہے تو میں اس سے ایک گز قریب ہوتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے ایک گز قریب آتا ہے تو میں اس سے ایک بانہہ قریب آتا ہوں اور اگر وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آ تا ہوں"۔ (صحیح بخاری: ۷۴۰۵، صحیح مسلم: ۲۶۷۵، جامع الترمذی: ۳۶۰۳، سنن ابن ماجہ: ۳۸۲۲)

اور اللہ عز وجل نے فرمایا: {وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا يُّحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللّٰهِ ۭ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ ۭ} "بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے شریک اوروں کو ٹھہرا کر ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں، جیسی محبت اللہ سے ہونی چاہیے اور ایمان والے اللہ ہی سےزیادہ محبت کرنے والے ہیں"۔ [البقرۃ: ۱۶۵] اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’ثَلاَثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلاَوَةَ الإِيمَانِ: أَنْ يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَأَنْ يُحِبَّ المَرْءَ لاَ يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ، وَأَنْ يَكْرَهَ أَنْ يَعُودَ فِي الكُفْرِ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ‘‘۔ "تین خصلتیں جس کے اندرہوں گی وہی ایمان کی مٹھاس پا ئے گا: (۱) پہلا یہ کہ اللہ اور اس کا رسول اس کے نزدیک ان تمام سے زیادہ محبوب ہو جا ئیں جو ان دونوں کے علاوہ ہوں۔ (۲) دوسرا یہ کہ آدمی کسی آدمی سے محض اللہ کے لیے محبت کرے۔ (۳) تیسرایہ کہ وہ کفر میں لوٹنا ایسے ہی نا پسند کرے، جیسے وہ آگ میں ڈالے جانے کو ناپسند کرتاہے"۔ (صحیح بخاری: ۱۶، صحیح مسلم: ۴۳، جامع الترمذی: ۲۶۲۴، سنن النسا ئی: ۴۹۸۷، سنن ابن ماجہ: ۴۰۳۳)

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ‘‘۔ "قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں کا کوئی مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے باپ اور اس کى اولاد سے زیادہ محبوب نہ ہو جا ؤں"۔ ( صحیح بخاری: ۱۴، سنن النسا ئی: ۵۰۱۵) بندہ محبت الہی کی حلاوت اسی وقت پا ئے گا جب وہ اللہ کے رسول ﷺ کی اتباع کرے گا، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ ۭوَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ } "کہہ دیجئے ! اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو، خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کر ے گا، اور تمہارے گناہ معاف فرما د ے گا، اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا مہربان ہے"۔ [آل عمران: ۳۱]

اور مومنوں کو سب سے بڑی چیز جس کی امید ہے وہ برکتوں والے روئے الہی کا دیدار ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ *۔ "اس روز بہت سے چہرے ترو تازہ اور بارونق ہوں گے۔ اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ} اپنے رب کی طرف دیکھتے ہونگے"۔ [القیامۃ: ۲۲- ۲۳]

اور اللہ تعالیٰ کا دیدار ہی اہل جنت کی سب سے بڑی نعمت ہے بلکہ یہ تمام نعمتوں پراضافی نعمت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ ۭ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوْهَھُمْ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّةٌ ۭ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ۚ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ} "جن لوگوں نے نیکی کی ہے ان کے واسطے خوبی ہے اور مزید برآں بھی اور ان کے چہروں پر نہ سیاہی چھائے گی اور نہ ذلت، یہ لوگ جنت میں رہنے والے ہیں اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔" [یونس: ۲۶]

صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، قَالَ: يَقُولُ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: تُرِيدُونَ شَيْئًا أَزِيدُكُمْ؟ فَيَقُولُونَ: أَلَمْ تُبَيِّضْ وُجُوهَنَا؟ أَلَمْ تُدْخِلْنَا الْجَنَّةَ، وَتُنَجِّنَا مِنَ النَّارِ؟ قَالَ: فَيَكْشِفُ الْحِجَابَ، فَمَا أُعْطُوا شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظَرِ إِلَى رَبِّهِمْ عَزَّ وَجَلَّ ‘‘۔ جب جنتی جنت میں داخل ہو جائیں گے تو (اللہ کے رسول ﷺ) فرماتے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالی کہے گا کہ تم لوگ کچھ اور چاہتے ہو کہ میں زیادہ کروں؟ تو لوگ کہیں گے کہ کیا تو نے ہمار ے چہرے سفید نہیں کیا ؟ کیا تو نے ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا؟ اور کیا تو نے ہمیں جہنم سے نجات نہیں دلایا؟ (اللہ کے رسول ﷺ ) فرماتے ہیں کہ اتنا سنتے ہی وہ پردہ ہٹا د ے گا تو انہیں جتنی چیزیں عطا کی گئی ہوں گی ان میں اللہ عزوجل کے دیدار سے زیادہ محبوب کچھ نہیں ہوگا۔ (صحیح مسلم: ۱۸۱، جامع الترمذی: ۲۵۵۲، سنن ابن ماجہ: ۱۸۷)

باب: توسل اور وسیلہ کا بیان

وسیلہ : اللہ کے نزدیک ہر پسندیدہ کام کے ذریعہ، خواہ وہ واجب ہو یا مستحب، اللہ کا تقرب حاصل کرنا، وسیلہ کہلاتا ہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نےاپنے بندوں کو دعا کا حکم دیا ہے اور ان سے قبولیت کا وعدہ بھی کیا ہے، جیسا کہ فرمان الہی ہے: {وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ} "اور تمہارے رب کا فرمان (سرزد ہوچکا) ہے کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خود سری کرتے ہیں وہ ابھی ابھی ذلیل ہو کر جہنم پہنچ جائیں گے"۔ [غافر: ۶۰] اور اللہ عز وجل نے فرمایا: {وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ } "جب میرے بند ے میر ے بار ے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں ہر پکارنے والے کی پکار کو جب بھی وہ مجھے پکار ے قبول کرتا ہوں اس لئے لوگوں کو بھی چاہیے وہ میری بات مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں، یہی ان کی بھلائی کا باعث ہے"۔ [البقرۃ: ۱۸۶]

ہمیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وسیلہ اس کے اسما ئے حسنیٰ اور صفات علیا کے ذریعہ پکڑاجاتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: { وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ} "اللہ ہی کے لئے اچھے اچھے نام ہیں انہیں کے ذریعہ اسے پکارو اور انہیں چھوڑو جو اس کے ناموں میں کجروی کرتے ہیں عنقریب وہ بد لہ دیئے جا ئیں گے اس چیز کا جو کچھ وہ کرتے ہیں"۔ [الأعراف: ۱۸۰] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {قُلِ ادْعُوا اللَّهَ أَوِ ادْعُوا الرَّحْمَنَ أَيًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا} "کہہ دیجئے: کہ اللہ کو اللہ کہہ کر پکارو یا رحمٰن کہہ کر، جس نام سے بھی پکارو تمام اچھے نام اسی کے ہیں، نہ تو تو اپنی نماز بہت بلند آواز سے پڑھ اور نہ بالکل پوشیدہ بلکہ اس کے درمیان کا راستہ تلاش کرلے"۔ [الإسراء: ۱۱۰]

اسی لئے انبیاء علیہم الصلاۃ والتسلیم اکثر اسمائے حسنیٰ کے وسیلہ ہی سے دعائیں کرتے تھے جیسا کہ آدم اور حوا علیہما السلام نے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہو ئے دعا کیا: {قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ} "دونوں نے کہا: اے ہمارے رب ! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور اگر تو ہماری مغفرت نہ کر ے گا اور ہم پر رحم نہ کر ے گا تو واقعی ہم نقصان پانے والوں میں سے ہوجائیں گے"۔ [الأعراف: ۲۳] اور ابراہیم علیہ السلام نے یہ دعا کیا تھا: {رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ} "اے میرے رب ! مجھے نماز کا پابند رکھ اور میری اولاد سے بھی، اے ہمارے رب میری دعا قبول فرما"۔ [ابراہیم: ۴۰] موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کو بایں انداز پکارا: { رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِأَخِي وَأَدْخِلْنَا فِي رَحْمَتِكَ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ} "اے میر ے رب ! میری خطا معاف فرما اور میرے بھائی کی بھی۔ اور ہم دونوں کو اپنی رحمت میں داخل فرما اور تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے"۔ [الأعراف: ۱۵۱]

اسی طرح ایمان باللہ سے بھی وسیلہ پکڑا جاسکتا ہے، جیسا کہ فرمان الہی ہے: {رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ} "اے ہمارے رب! ہم تیری اتاری ہوئی وحی پر ایمان لائے اور ہم نے تیرے رسول کی اتباع کی، پس تو ہمیں گواہوں میں لکھ لے"۔ [آل عمران: ۵۳]

عمل صالح کے ذریعہ بھی وسیلہ پکڑا جاسکتا ہے، جیسا کہ ان تین لوگوں کے قصے میں اس کی وضاحت موجود ہے جن پر غار کا دروازہ بند ہوگیا تھا۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ’’نْطَلَقَ ثَلاَثَةُ رَهْطٍ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ حَتَّى أَوَوْا المَبِيتَ إِلَى غَارٍ، فَدَخَلُوهُ فَانْحَدَرَتْ صَخْرَةٌ مِنَ الجَبَلِ، فَسَدَّتْ عَلَيْهِمُ الغَارَ، فَقَالُوا: إِنَّهُ لاَ يُنْجِيكُمْ مِنْ هَذِهِ الصَّخْرَةِ إِلَّا أَنْ تَدْعُوا اللَّهَ بِصَالِحِ أَعْمَالِكُمْ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: اللَّهُمَّ كَانَ لِي أَبَوَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ، وَكُنْتُ لاَ أَغْبِقُ قَبْلَهُمَا أَهْلًا، وَلاَ مَالًا فَنَأَى بِي فِي طَلَبِ شَيْءٍ يَوْمًا، فَلَمْ أُرِحْ عَلَيْهِمَا حَتَّى نَامَا، فَحَلَبْتُ لَهُمَا غَبُوقَهُمَا، فَوَجَدْتُهُمَا نَائِمَيْنِ وَكَرِهْتُ أَنْ أَغْبِقَ قَبْلَهُمَا أَهْلًا أَوْ مَالًا، فَلَبِثْتُ وَالقَدَحُ عَلَى يَدَيَّ، أَنْتَظِرُ اسْتِيقَاظَهُمَا حَتَّى بَرَقَ الفَجْرُ، فَاسْتَيْقَظَا، فَشَرِبَا غَبُوقَهُمَا، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ، فَفَرِّجْ عَنَّا مَا نَحْنُ فِيهِ مِنْ هَذِهِ الصَّخْرَةِ، فَانْفَرَجَتْ شَيْئًا لاَ يَسْتَطِيعُونَ الخُرُوجَ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَقَالَ الآخَرُ: اللَّهُمَّ كَانَتْ لِي بِنْتُ عَمٍّ، كَانَتْ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَيَّ، فَأَرَدْتُهَا عَنْ نَفْسِهَا، فَامْتَنَعَتْ مِنِّي حَتَّى أَلَمَّتْ بِهَا سَنَةٌ مِنَ السِّنِينَ، فَجَاءَتْنِي، فَأَعْطَيْتُهَا عِشْرِينَ وَمِائَةَ دِينَارٍ عَلَى أَنْ تُخَلِّيَ بَيْنِي وَبَيْنَ نَفْسِهَا، فَفَعَلَتْ حَتَّى إِذَا قَدَرْتُ عَلَيْهَا، قَالَتْ: لاَ أُحِلُّ لَكَ أَنْ تَفُضَّ الخَاتَمَ إِلَّا بِحَقِّهِ، فَتَحَرَّجْتُ مِنَ الوُقُوعِ عَلَيْهَا، فَانْصَرَفْتُ عَنْهَا وَهِيَ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ، وَتَرَكْتُ الذَّهَبَ الَّذِي أَعْطَيْتُهَا، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ فَعَلْتُ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ، فَافْرُجْ عَنَّا مَا نَحْنُ فِيهِ، فَانْفَرَجَتِ الصَّخْرَةُ غَيْرَ أَنَّهُمْ لاَ يَسْتَطِيعُونَ الخُرُوجَ مِنْهَا، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَقَالَ الثَّالِثُ: اللَّهُمَّ إِنِّي اسْتَأْجَرْتُ أُجَرَاءَ، فَأَعْطَيْتُهُمْ أَجْرَهُمْ غَيْرَ رَجُلٍ وَاحِدٍ تَرَكَ الَّذِي لَهُ وَذَهَبَ، فَثَمَّرْتُ أَجْرَهُ حَتَّى كَثُرَتْ مِنْهُ الأَمْوَالُ، فَجَاءَنِي بَعْدَ حِينٍ فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ أَدِّ إِلَيَّ أَجْرِي، فَقُلْتُ لَهُ: كُلُّ مَا تَرَى مِنْ أَجْرِكَ مِنَ الإِبِلِ وَالبَقَرِ وَالغَنَمِ وَالرَّقِيقِ، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ لاَ تَسْتَهْزِئُ بِي، فَقُلْتُ: إِنِّي لاَ أَسْتَهْزِئُ بِكَ، فَأَخَذَهُ كُلَّهُ، فَاسْتَاقَهُ، فَلَمْ يَتْرُكْ مِنْهُ شَيْئًا، اللَّهُمَّ فَإِنْ كُنْتُ فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ، فَافْرُجْ عَنَّا مَا نَحْنُ فِيهِ، فَانْفَرَجَتِ الصَّخْرَةُ، فَخَرَجُوا يَمْشُونَ‘‘۔ پہلی امت کے تین لوگ نکلے حتی کہ رات گزارنے کے لیے انہوں نے ایک غار میں پناہ لیا اور اس کے اندر داخل ہو گئے، اچانک پہاڑ سے ایک چٹان لڑھکی اور اس نے غار کا منہ بند کر دیا، سب نے کہا کہ اب اس غار سے تمہیں کوئی چیز نکالنے والی نہیں ہے، سوائے اس کے کہ تم سب، اپنے سب سے زیادہ اچھے عمل کے ذریعہ اللہ سے دعا کرو، تو ان میں سے ایک آدمی نے کہا کہ اے اللہ ! میرے ماں باپ بہت بوڑھے تھے اور میں روزانہ ان سے پہلے گھر میں کسی کو بھی دودھ نہیں پلاتا تھا، نہ اپنے بال بچوں کو، اور نہ اپنے غلام وغیرہ کو، ایک دن مجھے ایک چیز کی تلاش میں رات ہو گئی اور جب میں گھر واپس ہوا تو وہ (میرے ماں باپ) سو چکے تھے، پھر میں نے ان کے لیے شام کا دودھ نکالا، جب ان کے پاس لایا تو وہ سوئے ہوئے تھے، مجھے یہ بات ہرگز اچھی معلوم نہیں ہوئی کہ ان سے پہلے اپنے بال بچوں یا اپنے کسی غلام کو دودھ پلاؤں، اس لیے میں ان کے سرہانے کھڑا رہا، دودھ کا پیالہ میرے ہاتھ میں تھا اور میں ان کے جاگنے کا انتظار کر رہا تھا، یہاں تک کہ صبح ہو گئی، اب میرے ماں باپ جاگے اور انہوں نے شام کا دودھ اس وقت پیا، اے اللہ ! اگر میں نے یہ کام محض تیری رضا کے لیے کیا تھا تو اس چٹان کی آفت کو ہم سے ہٹا دے، اس دعا کے نتیجہ میں وہ غار تھوڑا سا کھل گیا، مگر نکلنا اب بھی ممکن نہ تھا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ پھر دوسرے نے دعا کی، اے اللہ! میرے چچا کی ایک لڑکی تھی، جو سب سے زیادہ مجھے محبوب تھی، میں نے اس کے ساتھ برا کام کرنا چاہا لیکن اس نے نہ مانا، اسی زمانہ میں ایک سال قحط پڑا تو وہ میرے پاس آئی میں نے اسے ایک سو بیس دینار اس شرط پر دیئے کہ وہ خلوت میں مجھ سے برا کام کرائے، چنانچہ وہ راضی ہو گئی، اب میں اس پر قابو پا چکا تھا لیکن اس نے کہا کہ تمہارے لیے میں جائز نہیں کرتی کہ اس مہر کو تم حق کے بغیر توڑو، یہ سن کر میں اپنے برے ارادے سے باز آ گیا اور وہاں سے چلا آیا، حالانکہ وہ مجھے سب سے بڑھ کر محبوب تھی اور میں نے اپنا دیا ہوا سونا بھی واپس نہیں لیا، اے اللہ! اگر یہ کام میں نے صرف تیری رضا کے لیے کیا تھا تو ہماری اس مصیبت کو دور کر دے، چنانچہ چٹان ذرا سی اور کھسکی لیکن اب بھی اس سے باہر نہیں نکلا جا سکتا تھا، نبیﷺ نے فرمایا اور تیسرے شخص نے دعا کی کہ اے اللہ! میں نے چند لوگوں سے مزدوری کرایا تھا، پھر سب کو ان کی مزدوری پوری دے دی، مگر ایک مزدور ایسا نکلا کہ وہ اپنی مزدوری ہی چھوڑ گیا، میں نے اس کی مزدوری کو کاروبار میں لگا دیا اور بہت کچھ نفع حاصل ہو گیا پھر کچھ دنوں کے بعد وہی مزدور میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اےاللہ کے بندے! مجھے میری مزدوری دید ے، میں نے کہا یہ جو کچھ تو دیکھ رہا ہے، اونٹ، گائے، بکری اور غلام یہ سب تمہاری مزدوری ہی ہے، وہ کہنے لگا اللہ کے بندے! مجھ سے مذاق نہ کر، میں نے کہا میں مذاق نہیں کرتا، چنانچہ اس شخص نے سب کچھ لیا اور اپنے ساتھ لے گیا، ایک چیز بھی اس میں سے باقی نہیں چھوڑی، تو اے اللہ! اگر میں نے یہ سب کچھ تیری رضا مندی حاصل کرنے کے لیے کیا تھا تو تو ہماری اس مصیبت کو دور کر دے، چنانچہ وہ چٹان ہٹ گئی اور وہ سب باہر نکل کر چلے گئے۔ (صحیح بخاری: ۲۲۷۲، صحیح مسلم: ۲۷۴۳)

مختلف عبادتوں کے ذریعہ اللہ کا وسیلہ پکڑا جا سکتا ہے اور سب سے اہم عبادت دعا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کے سلسلے میں فر مایا: {إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ} "یہ بزرگ لوگ نیک کاموں کی طرف جلدی کرتے تھے اور ہمیں لالچ طمع اور ڈر خوف سے پکارتے تھے۔ ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے تھے"۔ [الأنبیاء: ۹۰] دعا کے چند اوقات و مقامات یہ ہیں: نماز کے بعد، ماہ رمضان میں افطار کے آس پاس، دوران طواف، صفا و مروہ پر، مقام عرفہ ومقام مزدلفہ میں اور جمرات پر کنکریاں پھینکنے کے بعد۔

اپنے مشکل حالات کا تذکرہ کرکے اور اپنی حاجت و ضرورت کو اللہ کے سامنے ظاہر کرکے وسیلہ پکڑا جائے، اور بندے اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کی رحمت کے محتاج ہیں۔ اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے کہا: {رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ } "اے مرے رب! تو جو کچھ بھلائی میری طرف اتار ے میں اس کا محتاج ہوں"۔ [القصص: ۲۴] اور ایوب علیہ السلام کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فر مایا کہ انہوں نے دعا کیا: {أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ } "مجھے یہ بیماری لگ گئی ہے اور تو رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے"۔ [الأنبیاء: ۸۳]

اور اسی طرح ایک مسلمان کسی نیک اور صالح، زندہ اور حاضر شخص کی دعا سے وسیلہ پکڑ سکتا ہے، جیسا کہ یوسف علیہ السلام کے بھایئوں نے اپنے والد سے ان کے حق میں استغفار کرنے کی درخواست کی، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرمایا: {قَالُوا يَاأَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا إِنَّا كُنَّا خَاطِئِينَ} "انہوں نے کہا: ابا جی آپ ہمارے لئے گناہوں کی بخشش طلب کیجئے بیشک ہم قصور وار ہیں"۔ [یوسف: ۹۷] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَحِيمًا } "اور اگر یہ لوگ جب انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا، تیرے پاس آجاتے اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے اور رسول (ﷺ) بھی ان کے لئے استغفار کرتے تو یقیناً یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو توبہ قبول کرنے والا مہربان پاتے"۔ [النساء: ۶۴] انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ اپنی خالہ ام حرام بنت ملحان سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتی ہیں کہ’’نَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ يَوْمًا قَرِيبًا مِنِّي، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ يَتَبَسَّمُ، فَقُلْتُ: مَا أَضْحَكَكَ؟ قَالَ: أُنَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ يَرْكَبُونَ هَذَا البَحْرَ الأَخْضَرَ كَالْمُلُوكِ عَلَى الأَسِرَّةِ، قَالَتْ: فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَدَعَا لَهَا، ثُمَّ نَامَ الثَّانِيَةَ، فَفَعَلَ مِثْلَهَا، فَقَالَتْ مِثْلَ قَوْلِهَا، فَأَجَابَهَا مِثْلَهَا فَقَالَتْ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ: أَنْتِ مِنَ الأَوَّلِينَ‘‘۔ ایک دن نبی ﷺ میرے قریب سو گئے، پھر بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے تو میں نے کہا کہ آپ کو کس چیزنے ہنسایا؟ فرمایا میری امت کے کچھ لوگ مجھ پر پیش کئے گئے جو تخت پر بیٹھے بادشاہوں کی طرح اس ہرے سمندر پر سوار تھے،(ام حرا م بن ملحان نے نبی ﷺ سے) عرض کیا کہ آپ میرے لیے اللہ سے دعا کر دیجئے کہ اللہ مجھے بھی انہیں میں سے بنا دے، تو آپ نے ان کے لیے دعاکردی، پھر دوبارہ سو گئے اور پہلے ہی کی طرح اس بار بھی کیا تو ( ام حرام رضی اللہ عنہا نے) پہلے ہی کی طرح اس باربھی عرض کیا تو آپ نے(پھر)وہی جواب دیا تو( ام حرام نے) عرض کیا: آپ دعا کر دیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی انہیں میں سے بنا دے تو( آپ ﷺنے) فرمایا تو سب سے پہلے لشکر میں سے ہے۔ (صحیح بخاری: ۲۷۹۹، صحیح مسلم: ۱۹۱۲، سنن أبی داود: ۲۴۹۰، سنن النسائی: ۳۱۷۲، سنن ابن ماجہ: ۲۷۷۶)

جب نبی ﷺ نے ان ستر ہزار لوگوں کی خوبیاں بیان کی جو بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہوں گے تو عکاشہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو ئے اور کہا: ’’ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ‘‘۔ آپ اللہ سے دعا کردیجئے کہ وہ مجھے بھی انہیں میں سے بنا د ے۔ (صحیح مسلم: ۲۱۸)

اور انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ’’أَنَّ عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، كَانَ إِذَا قَحَطُوا اسْتَسْقَى بِالعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ المُطَّلِبِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا فَتَسْقِينَا، وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا، قَالَ: فَيُسْقَوْنَ‘‘۔ "عمربن خطاب رضی اللہ عنہ (کے زمانہ میں) جب جب قحط پڑا تو عمر رضی اللہ عنہ عباس بن عبدالمطلب ( کى دعا ) کے وسیلے سے پانی طلب کرتے اور فرماتے کہ اے اللہ! ( پہلے) ہم تیری طرف اپنے نبی (کى دعا ) کا وسیلہ اختیار کرتے تھے تو تو ہمیں سیراب کرتا تھا ،( اب ) ہم تیری طرف اپنے نبی کے چچا (کى دعا) کا وسیلہ اپناتے ہیں لہذا تو ہمیں سیراب کر، تو وہ سیراب کئے جاتے تھے"۔ (صحیح بخاری: ۱۰۱۰) سو جب اللہ کے رسول ﷺ وفات پا گئے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے استسقاء کے مسئلے میں آپ صلى اللہ کى دعاء کے ذریعہ وسیلہ پکڑنے کوچھوڑ دیا کیوں کہ آپ وفات پاچکے تھے اور عباس رضی اللہ عنہ کا وسیلہ پکڑا کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ یہ مشروع توسل میں سے ہے، اسی لئے عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عباس رضی اللہ عنہ کی دعا کا وسیلہ پکڑا نا کہ بذات خود عباس کا وسیلہ پکڑا کیوں کہ اگر بذات خود عباس رضی اللہ عنہ سے وسیلہ پکڑنا مقصود ہوتا تو نبی ﷺ اس کے زیادہ حق دار تھے۔

اللہ تعالیٰ کى مشروع کردوں وسیلوں کے علاوہ کسى اور چیز کا وسیلہ پکڑنا جائز نہیں ہے۔ جاہلیت (قبل از اسلام) کے لوگ اپنے بتوں اور جھوٹے معبودوں کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کرتے تھے۔ ان کے اس گھناؤنے فعل کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّهِ زُلْفَى} "اور جن لوگوں نے اللہ کے علاوہ کارساز بنا رکھے ہیں (وہ کہتے ہیں کہ) ہم تو ان کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ سے قریب کردیں"۔ [الزمر: ۳]

کتاب: اصل ایمان یا کمال ایمان کى مخالف چیزوں کے بیان میں

خلاصۂ کتاب

ہم جانتے ہیں کہ ایمان باللہ کا مخالفت کرنا اللہ تعالیٰ کا انکار کرنا ہے۔

کفر کی دو قسمیں ہیں: (۱) کفراکبر(۲) کفر اصغر۔ کفر اکبر سے انسان ملت سے خارج ہوجاتا ہے اور کفر اکبر کا ارتکاب کرنے والے کی نفل اور فرض عبادات دونوں کو اللہ تعالی قبول نہیں کرتا، اس کے تمام اعمال برباد ہوجاتے ہیں اور اس کا مرتکب ہمیشہ ہمیش جہنم میں رہے گا۔ لیکن کفر اصغر کمال ایمان کے مخالف ہے۔

ہمیں معلوم ہے کہ کفر اکبر کی کئی قسمیں ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن مجید میں ہمیں اس بات سے آگاہ کیا ہے اور یہ بھی بتادیا ہے کہ کافروں کا کفر کبھی انکاری ہوتا ہے توکبھی حق سے روگردانی اور حق سےاپنےآپ کو بلند رکھنے کى وجہ سے ہوا کرتا ہے، کبھی کبھار جھٹلانے والا کفر ہوا کرتا ہے۔ اور یہ بات یاد رہے کہ چاہے زبانی اعتبار سے جھٹلایا جا ئے یا دلی اعتبار سے جھٹلایا جا ئے، دونوں برابر ہیں، دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اسی طرح کافروں کا کفرکبھی کبھار ظن اور شک کى بنیاد پر ہوا کرتا ہے یعنی اس وقت انسان حق بات کے سلسلے میں شک کرنے لگتا ہے، بعث بعد الممات اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے سلسلے میں شک کرنے لگتا ہے۔ اسی طرح کافروں کا کفر گاہے بگاہے استہزاء اور تحقیر کى بنا پر ہوا کرتا ہے۔ کبھی کبھار اعراض اور اللہ کے راستے سے روکنے کى وجہ سے ہوا کرتا ہے۔ اور کبھی کبھار ان کے کفر کى نوعیت حق سے بغض و عناد ہوتا ہے۔

ہمیں معلوم ہےکہ کفر اکبر کے علاوہ کفر کی اور بھی قسمیں ہیں اور یہی کفر اصغر ہے، یہ کفر اصل ایمان کے مخالف نہیں ہے لیکن کمال ایمان کے مخالف ضرور ہے، کفر اصغر کا مرتکب ہمیشہ جہنم میں نہیں رہے گا اور نہ اس کے ارتکاب سے تمام اعمال برباد ہو ں گے اور اس کی بھی بہت ساری قسمیں ہیں۔

اسی کفر اصغر ہی میں سے مسلمانوں سے قتال کرنا ہے، اس کفرکے ارتکاب سے کوئی بھی ملت سے خارج نہیں ہوگا۔ اور نہ وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا کیوں کہ اللہ تعالی نے قتال کرنے والے مومنوں کو بھائی بھائی کہا ہے۔ گویا قتال اور لڑائی کرنے کے باوجود انہیں اہل ایمان سے تعبیر کیا اور ان کا نام مومن بتایا ہے۔

ہمیں معلوم ہے کہ ایمان باللہ کى مخالف باتوں میں سے اللہ کے ساتھ شرک ہے، اور شرک سب سے بڑا ظلم ہے، شرک تمام اعمال کو برباد کردیتا ہے، اگر مشرک بغیر توبہ کئے مرجا ئے تو اللہ اسے معاف نہیں کرے گا، اسی طرح اگرمشرک بغیر توبہ کے مر جا ئے تو اس پر جنت حرام ہے اور اس کا ٹھکانہ ہمیشہ ہمیش کے لئے جہنم ہوگا۔

اللہ تعالیٰ نے شرک کو باطل قرار دیا اور مشرکین کے شرک پر ماتم کیا اور دوسروں کو اللہ کا ہمسر اور شریک بنانے کا نقصان بھی بتا دیا ہےکہ وہ نہ نفع پہونچا سکتے ہیں اور نہ نقصان سے دو چار کرسکتے ہیں، ان شرکاء کے حوالے سے اللہ نےکہیں یہ کہا کہ یہ سن ہی نہیں سکتے، اور اگر سن بھی لئے تو لوگوں کی پکار کا جواب نہیں د ے سکتے، اور کہیں یہ کہا کہ یہ نفع و نقصان اور موت و حیات کے مالک نہیں ہیں۔ اللہ کے علاوہ جن معبودان باطلہ کی عبادت کی جاتی ہے وہ اس انسان سے بھی کمزور ہیں جو ان کی عبادت کرتے ہیں کیوں کہ یہ نہ چل سکتے ہیں، نہ پکڑ سکتے ہیں، نہ سن سکتے ہیں اور نہ دیکھ سکتے ہیں، بسا اوقات اللہ تعالیٰ نے ان معبودان باطلہ کی عاجزی و کمزوری سے ہمیں آگاہ کیا، تو کبھی ان پر فقر و قلت کا حکم لگایا یہ کہہ کرکہ وہ آسمان اور زمین میں موجود چیزوں میں ذرہ برابر کے مالک نہیں ہیں اور نہ ہی یہ ان چیزوں کى ملکیت میں شریک ہیں، اور نہ ہی ان شرکا میں سے کوئى اللہ تعالى کا معین ومدد گار ہے، اور نہ ہی ان میں سے کسى کى شفاعت اللہ کے یہاں قبول ہوسکتى ہے۔ اور کبھى کبھار اللہ تعالى واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ کونی، عقلی اور شرعی ہر اعتبار سے اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کا ہونا ممنوع، محال اور باطل ہے۔

ہمیں معلوم ہے کہ شرک اکبر کی کئی قسمیں ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:۔

۱۔ اللہ کی ربوبیت میں، اس کی خلقت میں، اس کی ملکیت میں، اس کے رازق ہونے میں اور اس کی تدبیر میں اس کا شریک بنانا شرک اکبر ہے کیوں کہ پیدا کرنے اور حکم نافذ کرنے کا حق دار اکیلا اللہ ہے۔

۲۔ اللہ کے لئے اولاد ثابت کرنا بھی شرک اکبر ہے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے پاک اور بلند و بالا ہے۔

۳۔ ستاروں پر ایمان لانا اور ان کی عبادت کرنا، ستاروں سے پانی طلب کرنا اور یہ عقیدہ رکھنا کہ یہ ستارے روزی رساں ہیں تو یہ بھی شرک اکبر ہے۔

۴۔ اللہ کے اسماء و صفات میں کسی کو شریک ٹھہرانا اس شخص کی طرح جو اللہ کے علاوہ کسی اور کو عالم الغیب تسلیم کرتا ہے، شرک اکبر ہے۔ کوئی ایسا نام جو اللہ ہی کے شایان شان ہے، اللہ کے علاوہ کسی اور کے شایان شان نہیں ہے، جیسے اللہ یا رحمن، تو اس نام کا اپنے یا اپنے علاوہ کسی اور کے لئے منتخب کرنا صحیح نہیں ہے کیوں کہ اس پر شدید وعید آئی ہے ۔

۵۔ مخلوق میں سےکسی کے تئیں یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ ان تمام کمالات سے متصف ہے جن سے اللہ تعالیٰ متصف ہے یا یہ سمجھنا کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے شرک اکبر ہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے تمام عبادت گزاروں اور اپنے علاوہ تمام معبودان باطلہ کی کمزوری و عاجز ی کی وضاحت کر دیاہے۔

۶۔ اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود سمجھنا بھی شرک اکبر ہے۔

۷۔ جو عبادتیں اللہ کے لئے خاص ہیں وہ سب یا ان میں سے کسی ایک کو اللہ کے علاوہ کی طرف پھیرنا بھی شرک اکبر ہے۔

۸۔ کسی کی قربت حاصل کرنے کے لئے اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کے لئے ذبح کرنا جیسے تقرب حاصل کرنے کے لئےبتوں اورمردوں کے لئے ذبح کرنا۔

۹۔ غیر اللہ کے لئے نذر ماننا بھی شرک اکبر ہے چونکہ نذر ایک عبادت ہے اور عبادت صرف اللہ ہی کی جا ئز ہے، اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کی عبادت کرنا جائزنہیں ہے، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے نذر پورا کرنے والے مومنوں کی تعریف کیا ہے۔

۱۰۔ غیر اللہ سے استعاذہ (پناہ طلب کرنا) بھی شرک اکبر ہے۔

۱۱۔ جن چیزوں پر صرف اللہ قادر ہے ان میں, غیر اللہ سے استغاثہ (فریاد رسی کرنا), استعانت (مدد طلب کرنا), یا ان کو شرک اکبر ہے۔

۱۲۔ غیر اللہ کے لئے شرک طاعت کو کرنا، یعنی غیر اللہ کو اللہ کى اطاعت میں شریک کرنا بھی شرک اکبر ہے، جیسا کہ اہل کتاب نے اپنے علماء کو رب بنا لیا تھا، وہی ان کے لئے شریعت اور قانون بناتے اور ان پر اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام کردیتے تھے۔

۱۳۔ نماز، رکوع، سجدہ اور طواف میں شرک کرنا شرک اکبر ہے، اس کى وجہ یہ ہے کہ اور ان کے علاوہ دیگر عبادتیں اللہ کے لئے خاص ہیں، اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کے لئے انجام دینا جائز نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل علیہ السلام کو طواف کرنے والوں، اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے اپنا گھر پاک کرنے کا حکم دیا اور بتا دیا کہ اللہ کی عبادت اور اس کے ذکر سے صرف متکبر ہی روگردانی کر ے گا اور یہ بھی بتایا کہ ساری مخلوق اللہ کا سجدہ کرتی ہے۔

۱۴۔ اللہ تعالی کے نازل کردہ احکام کے علاوہ کسی اور قانون کی روشنی میں فیصلہ کرنا، غیر اللہ کو حکم اور فیصل بنانا شرک اکبر ہے جیسا کہ اہل کتاب وغیرہ نے کیا ہے، انہوں نےاللہ کا شریک بنا لیاتھا، وہی شرکاء ان کے لئے شریعت بناتے اور قانون سازی کرتے تھے، اور یہ کام کبھی کفر، کبھی ظلم اور کبھی فسق ہوتا ہے۔

۱۵۔ شرک محبت: یعنی آدمی کسی مخلوق سے ایسی محبت کر ے جس میں خشوع و خضوع اور تعظیم ہو۔

۱۶۔ خوف و خشیت کا شرک: یعنی ایک انسان کسی مخلوق سے ایسا خوف کھائے اور ایسی خشیت رکھے جس میں تذلل و خضوع اور تعظیم ہو، جیسے اس سے اس لئے ڈر ے کہ وہ کہیں کسی مصیبت میں مبتلا نہ کرد ے یا وہ خیر کا کو ئی راستہ بند نہ کردے، اس کا تقرب حاصل کرنے کے لئے اس کے واسطے کوئى واجب ترک کردے یا کوئى حرام کام کرڈالے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے ولیوں کا تذکرہ کیا تو اس بات کی بھی وضاحت کردیا کہ وہ صرف اللہ سے ڈرتےہیں۔

۱۷ ۔ امید ورجا کا شرک: یعنی جس پر صرف اللہ قادر ہو اس کام کی امید اللہ کے علاوہ کسی زندہ، حاضر یا غائب انسان سے لگانا یا کسی مرد ے سے تکلیف دور کرنے، ضرورت پوری کرنے اور قیامت کے دن شفاعت کرنے کی امید رکھنا شرک رجاء ہے اور یہ بھی شرک اکبر ہے۔

۱۸۔ جادو کرنا۔

۱۹۔ کہانت اور عرافہ بھی شرک اکبر ہے، کیوں کہ جو کہانت اور عرافہ کا پیشہ اپناتا ہے وہ علم غیب کا دعوی کرتا ہے۔

ہمیں معلوم ہے کہ شرک اصغر کے ارتکاب سے انسان ملت سے خارج نہیں ہوگا، کیوں کہ یہ اصل ایمان کے مخالف نہیں ہے لیکن کمال ایمان کے منافی ضرور ہے، یعنی شرک اصغر کے ارتکاب سے ایمان میں نقص ہو جاتا ہے، اور شرک اصغر کا مرتکب ہمیشہ ہمیش جہنم میں نہیں رہے گا اور نہ ہی اس کے ارتکاب سے سار ے اعمال برباد ہوں گے، شرک اصغر کی کئی قسمیں ہیں:

۱۔ بد شگونی، بدشگونی جیسا کہ حدیث رسول صلى اللہ علیہ وسلم میں ہے وہ ہے: جو آپ کو کسی کام کے کرنے پر آمادہ کر ے یا اس سے روک د ے۔

۲۔ تعویذ لٹکانا۔

۳۔ ریا کاری و دکھاوا : رہی بات اس کی جس کا دل ریاکاری و دکھاوا سے بھر جاتا ہے تو گر چہ وہ نیک عمل کرتا ہے لیکن اس کا عمل نیت صادقہ، ایمان اور خشیت الہی سے خالی ہوا کرتا ہے اور ایسا شخص خالص منافق ہے، اس کا عمل برباد، مردود اور غیر مقبول ہے، ایسے عمل کو اللہ کے رسول ﷺ نے شرک السرائر کا نام دیا اور بتایا ہے کہ ریاکاری حد سے زیادہ مخفی چیز ہے، نبی کریم ﷺ کو اپنی امت پرسب سے زیادہ اسی ریاکاری کا خوف تھا حتی کہ دجال سے بھی زیادہ خوف تھا۔

۴۔ انسان کا اپنے عمل کے ذریعہ دنیا کمانے کا ارداہ کرنا: بندے کى نیت کے اعتبار سے کبھی یہ شرک اکبر ہوگا اور کبھی شرک اصغر۔

۵۔ ستارہ سے تعلق رکھنا: یہ بھی نیت کے اعتبار سے کبھی شرک اکبر ہوتا ہے اور کبھی شرک اصغر ہوتا ہے۔

۶۔ آدمی کا یہ کہنا کہ’’ جو اللہ چاہے اور تو چاہے‘‘ یا اس سے ملتے جلتے جملے کہنا بھی شرک اصغر ہے۔

۷۔ غیر اللہ کی قسم کھانا۔

ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ ایمان باللہ کى مخالف چیزوں میں سے نفاق ہے، اسلام کا اظہار کرنا اور کفر کو چھپانا نفاق کہلاتا ہے، اس کی دو قسمیں ہیں: (۱)نفاق اصغر(۲)نفاق اکبر، نفاق ہی کفر ہے یعنی اللہ کے ساتھ کفر کیا جا ئے اور اس کے علاوہ کی عبادت کی جائے اور کھلے میں اسلام کا اظہار کیا جائے جیسے عہد نبوی ﷺ میں منافقین کرتے تھے، نفاق اکبر سے انسان دائرۂ ملت سے خارج ہوجاتا ہے، شہادت الہی کی بنیاد پر ہم گواہی دیتے ہیں کہ منافقین اپنے ایمانی دعوی میں جھوٹے ہیں۔

اللہ تعالیٰ منافقوں کے فرائض ونوافل قبول نہیں کرتا ہے اور اگرنفاق ہی پر منافقوں کا انتقال ہوا، تو یہ ہمیشہ ہمیش جہنم میں رہیں گے۔

ہمیں معلوم ہے کہ نفاق اکبر حق سے بغض اور کراہت کا سبب اور اسلام و اہل اسلام کی شکست و ریخت پر خوش ہونے کا ذریعہ ہے، نفاق وہ بیماری ہے کہ اسلام کی نصرت وفتح دیکھ کر افسوس دلاتا ہے۔ نفاق وہ برائی ہے کہ منافق شخص ایمان لانے کے بعد بھی کفر کرنے لگتا اور قانون شریعت کی قبولیت سے اعراض کرنے لگتا ہے، نفاق کے ارتکاب سے انسان اللہ سے ایسا بد ظن ہوجاتا ہے کہ وہ یہ کہنے لگتا ہے کہ اللہ اپنے نبی اور دین کی مدد ہر گز نہیں کرے گا، نفاق حق اور اہل حق کے ساتھ مذاق، تحقیر، استہزاء اور مسلمانوں کے حق میں طعن و تشنیع کا سبب ہے، یہ اہل ایمان کے ساتھ دھوکہ اور ریا کاری ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ اور مومنوں کو منافقوں سے جہاد کرنے کا حکم دیا ہے۔

ہمیں معلوم ہے کہ نفاق اصغر ملت کے دائرے سے خارج نہیں کرے گا، نہ عمل برباد کر ے گا، نہ اس کا مرتکب ہمیشہ ہمیش جہنم میں رہے گا، نہ یہ اصل ایمان کے مخالف ہے، ہاں وہ کمال ایمان کے مخالف ضرور ہے، نفاق کی چار شاخیں ہیں، جس شخص میں چاروں پائی جا ئیں گی وہ منافق ہوگا اور جس کے اندر ان چاروں میں سے کوئی ایک ہوگی اس کے اندر نفاق کی ایک خصلت شمار کی جا ئے گی تا آنکہ وہ اسے ترک کرد ے: (۱) بات کر ے تو جھوٹ بولے۔ (۲) وعد ہ کر ے تو وعد ہ خلافی کر ے۔ (۳) معاہدہ کر ے تو دھوکہ د ے۔(۴) جھگڑا کر ے تو حق كا دامن ہاتھ سے چھوڑ دے۔

* ساری بدعتیں سراپا گمراہی ہیں۔

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے دین مکمل کر دیا ہے، اس نے ہم پر اپنی نعمتیں تمام کردیا ہے، کما ل ایمان کی مخالف چیزوں میں سے ایک دین میں بدعت ایجاد کرنا بھی ہے، ہمیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اختلاف و انتشار سے روکا اور منع کیا ہے۔

ہمیں معلوم ہے کہ قبروں کی تعظیم کرنا اور ان پر عمارت بنانا بدعت ہے کیوں کہ یہ شرک کا ذریعہ ہے، مرنے کے بعد بغرض اقتداء صالحین کی تصویر بنانا بھی بدعت ہے۔

ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ ایسا جشن منانا جس کا اسلام میں کوئی تصور ہی نہ ہو اور کفار ومشرکین کی عیدوں میں شریک ہونا، بدعات و خرافات میں سے ہے۔

اسی طرح ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جسے برکت کا سبب نہیں بنایا ہے اس سے برکت طلب کرنا بدعت میں سے ہے، کیوں کہ اس سے انسان کبھی شرک تک پہونچ جاتا ہے۔

باب: اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنے کے بیان میں

ہمیں معلوم ہے کہ ایمان باللہ کی ضد کفر باللہ ہے اور کفر کی دو قسمیں ہیں: (۱) کفراکبر(۲) کفراصغر۔ کفر اکبر: اصل ایمان کے مخالف ہے۔ اور کفر اصغر: کمال ایمان کے مخالف ہے۔ کفر اکبر کے ارتکاب سے انسان دائرئہ ملت سے خارج ہوجاتا ہے اور ایسے کافر سے فرائض ونوافل کو اللہ تعالی قبول نہیں کرتا، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ ۚ وَھُوَ فِي الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ} "جو شخص اسلام کے سوا اور دین تلاش کرے، اس کا دین قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا"۔ [آل عمران: ۸۵] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَمَاتُوْا وَھُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِھِمْ مِّلْءُ الْاَرْضِ ذَھَبًا وَّلَوِ افْتَدٰى بِهٖ ۭ اُولٰۗىِٕكَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ وَّمَا لَھُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ} "ہاں جو لوگ کفر کریں اور مرتے دم تک کافر رہیں ان میں سے کوئی اگر زمین بھر سونا دے گو فد یے میں ہی ہو تو بھی ہرگز قبول نہ کیا جائے گا، یہی لوگ ہیں جن کے لئے تکلیف دینے والا عذاب ہے اور جن کا کوئی مدد گار نہیں"۔ [آل عمران: ۹۱] ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَاتَّقُوْا يَوْمًا لَّا تَجْزِىْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَـيْــــًٔـا وَّلَا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَّلَا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّلَا ھُمْ يُنْصَرُوْنَ} "اس دن سے ڈرتے رہو جب کوئی کسی کو نفع نہ د ے سکے گا اور نہ شفاعت اور نہ سفارش قبول ہوگی اور نہ کوئی بدلہ اس کے عوض لیا جائے گا اور نہ مدد کیے جائیں گے۔" [البقرۃ: ۴۸ ] کفر اکبرکے ارتکاب سےانسانوں کے تمام اعمال برباد ہوجاتے ہیں، جیسا کہ فر مان الہی ہے: {وَمَنْ يَّكْفُرْ بِالْاِيْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهٗ ۡ وَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ} "منکرین ایمان کے اعمال ضائع اور اکارت ہیں اور آخرت میں وہ گھاٹا اٹھانے والوں میں سے ہیں"۔ [المائدۃ: ۵] اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما {وَمَنْ يَكْفُرْ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ} "منکرین ایمان کے اعمال ضائع اور اکارت ہیں" کے سلسلے میں فرماتے ہیں کہ: ’’أَخْبَرَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ أَنَّ الْإِيمَانَ هُوَ الْعُرْوَةُ الْوثْقَى، وَأَنَّهُ لَا يَقْبَلُ عَمَلًا إِلَّا بِهِ، وَلَا تُحَرَّمُ الْجَنَّةُ إِلَّا عَلَى مَنْ تَرَكَهُ‘‘۔ اللہ سبحانہ نے بیان فرمایا کہ ایمان مضبوط رسی کا نام ہے، اس کے بغیر کوئی بھی عمل قابل قبول نہیں ہے اور جس نے اسے ترک کردیا اس پر جنت حرام ہے۔ ( تفسیر الطبری: ۳/ ۱۱۳، و ۹/ ۵۹۳، تفسیر ابن أبی حاتم : ۱۳۰۷، لیکن یہ بات ان دونوں نے ارشاد بارى: {فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمْ بِهِ قَدِ ٱهۡتَدَواْۖ}۱ [البقرة: ۱۳۷] کى تفسیر کے کے سلسلے میں فرمایا ہے )۔

اور کافر ہمیشہ ہمیش جہنم میں رہے گا، جیسا کہ فرمان الہی ہے: {اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَظَلَمُوْا لَمْ يَكُنِ اللّٰهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ طَرِيْقًا * اِلَّا طَرِيْقَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ۭوَكَانَ ذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ يَسِيْرًا} "جن لوگوں نے کفر کیا اور ظلم کیا، انہیں اللہ تعالیٰ ہرگز ہرگز نہ بخشے گا اور نہ انہیں کوئی راہ دکھائے گا۔ بجز جہنم کی راہ کے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ پڑے رہیں گے، اور یہ اللہ تعالیٰ پر بالکل آسان ہے"۔ [النساء: ۱۶۸- ۱۶۹]

ہمیں معلوم ہے کہ کفر اکبر کی کئی قسمیں ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن مجید میں اس کی وضاحت کیا ہے اور بتادیا ہے کہ کافروں کا کفر کبھی کبھی انکاری ہوا کرتا ہے ،جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَيَحْزُنُكَ الَّذِيْ يَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُوْنَكَ وَلٰكِنَّ الظّٰلِمِيْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجْحَدُوْنَ} "ہم خوب جانتے ہیں کہ آپ کو ان کے اقوال مغموم کرتے ہیں، سو یہ لوگ آپ کو جھوٹا نہیں کہتے لیکن یہ ظالم تو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں"۔ [الأنعام: ۳۳] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَمَا يَجْــحَدُ بِاٰيٰتِنَآ اِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُوْرٍ} "اور ہماری آیتوں کا انکار صرف وہی کرتے ہیں جو بدعہد اور ناشکر ے ہوں"۔ [لقمان: ۳۲] اور اللہ عز وجل نے فرمایا: {وَجَحَدُوْا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا ۭ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِيْنَ} "انہوں نے اس کا انکار کردیا حالانکہ ان کے دل اس کا یقین کرچکے تھے صرف ظلم اور تکبر کی بنا پر پس دیکھ لیجئے کہ ان فتنہ پرواز لوگوں کا انجام کیسا کچھ ہوا"۔ [النمل: ۱۴]

کفراکبر کبھی کبھی حق سے روگردانی کى شکل میں ہوا کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کے امام ابلیس کے بارے میں فرمایا: {وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِيْسَ ۭ اَبٰى وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ} "اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا۔ اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور وہ کافروں میں ہوگیا"۔ [البقرۃ: ۳۴] اور نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کے سلسلے میں فرمایا: {وَاِنِّىْ كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوْٓا اَصَابِعَهُمْ فِيْٓ اٰذَانِهِمْ وَاسْتَغْشَوْا ثِيَابَهُمْ وَاَصَرُّوْا وَاسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًا} "میں نے جب کبھی انہیں تیری بخشش کے لئے بلایا انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیں اور اپنے کپڑوں کو اوڑھ لیا اور اڑ گئے اور پھر بڑا تکبر کیا"۔ [نوح: ۷]

کبھی کفر اکبر تکذیب کى شکل میں ہوا کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سابقہ امتوں کے بارے میں فرمایا: {كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ ۙ وَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۭكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا ۚ فَاَخَذَھُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ وَاللّٰهُ شَدِيْدُ الْعِقَابِ} "جیسا آل فرعون کا حال ہوا اور ان کا جو ان سے پہلے تھے انہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا پھر اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں ان کے گناہوں پر پکڑ لیا اور اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والا ہے"۔ [آل عمران: ۱۱] اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {بَلِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُكَذِّبُوْنَ} "بلکہ کافر جھٹلا رہے ہیں"۔ [الانشقاق: ۲۲] اور یہ بات یاد رہے کہ یہ تکذیب چاہے زبانی ہو یاچاہےدلی، دونوں برابر ہیں، دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے، جیسا کہ منافقوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ نَافَقُوْا يَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِهِمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَىِٕنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَلَا نُطِيْعُ فِيْكُمْ اَحَدًا اَبَدًا ۙ وَّاِنْ قُوْتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّكُمْ ۭ وَاللّٰهُ يَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ } "کیا تو نے منافقوں کو نہ دیکھا؟ کہ اپنے اہل کتاب کافر بھائیوں سے کہتے ہیں اگر تم جلا وطن کیے گئے تو ضرور بالضرور ہم بھی تمہارے ساتھ نکل کھڑ ے ہوں گے اور تمہار ے بار ے میں ہم کبھی بھی کسی کی بات نہ مانیں گے اور اگرتم سے جنگ کی جائے گی تو ہم ضوربہ ضرور تمہاری مدد کریں گے، لیکن اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ یہ قطعاً جھوٹے ہیں"۔ [الحشر: ۱۱] اور اللہ عز وجل نے فرمایا: {اِذَا جَاۗءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ ۘ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُهٗ ۭ وَاللّٰهُ يَشْهَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ لَكٰذِبُوْنَ} "تیرے پاس جب منافق آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم اس بات کے گواہ ہیں کہ بیشک آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ یقیناً آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق قطعًا جھوٹے ہیں"۔ [المافقون: ۱]

کفراکبر کبھی کبھار ظن اور شک کى شکل میں ہوا کرتا ہے اور جب بطور شک ہوتا ہے توانسان احکام الہی، بعث بعد الممات اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے سلسلے میں بھی شک کرنے لگتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے جنتیوں کی بابت فر مایا کہ وہ کہیں گے: {وّمَآ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَاۗىِٕمَةً ۙ وَّلَىِٕنْ رُّدِدْتُّ اِلٰى رَبِّيْ لَاَجِدَنَّ خَيْرًا مِّنْهَا مُنْقَلَبًا} "اور نہ میں قیامت کو قائم ہونے والی خیال کرتا ہوں اور اگر (بالفرض) میں اپنے رب کی طرف لوٹایا بھی گیا تو یقیناً میں (اس لوٹنے کی جگہ) اس سے بھی زیادہ بہتر پاؤں گا"۔ [الکھف: ۳۶] تووہ اس مومن ساتھی سےکہے گا: {قَالَ لَهٗ صَاحِبُهٗ وَهُوَ يُحَاوِرُهٗٓ اَكَفَرْتَ بِالَّذِيْ خَلَقَكَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ سَوّٰىكَ رَجُلًا} "اس کے ساتھی نے اس سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ کیا تو اس (معبود) سے کفر کرتا ہے جس نے تجھے مٹی سے پیدا کیا پھر نطفے سے پھر تجھے پورا آدمی بنادیا"۔ [الکھف: ۳۷]

اسی طرح کفر گاہے بگاہے استہزاء اور تحقیر کى شکل میں ہوا کرتا ہے، جیسا کہ اللہ عز وجل نے کافروں کی بابت فرمایا: {وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِيْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ} "اور واقع آپ سے پہلے جو رسول ہوئے ہیں ان کے ساتھ بھی مذاق کیا گیا ہے۔ پھر جن لوگوں نے ان سے مذاق کیا تھا ان کو اس عذاب نے آگھیرا جس کا مذاق اڑاتے تھے"۔ [الأنعام: ۱۰] اور قوم نوح اور نوح علیہ السلام کے ساتھ ان کے مذاق وٹھٹہ کے سلسلے میں فر مایا: {وَيَصْنَعُ الْفُلْكَ ۣ وَكُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِهٖ سَخِرُوْا مِنْهُ ۭقَالَ اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُوْنَ} "وہ (نوح) کشتی بنانے لگے ان کی قوم کے جو سردار ان کے پاس سے گزر ے وہ ان کا مذاق اڑاتے وہ کہتے اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو تو ہم بھی تم پر ایک دن ہنسیں گے جیسے تم ہم پر ہنستے ہو"۔ [ھود: ۳۸]

اور کبھی کبھار کفر اکبر اعراض اور اللہ کى راہ سے بے پرواہ ہونے کى شکل میں ہوا کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کے اعراض کے سلسلے میں فر مایا: {اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖٓ اٰلِهَةً ۭ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ ۚ ھٰذَا ذِكْرُ مَنْ مَّعِيَ وَذِكْرُ مَنْ قَبْلِيْ ۭ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ ۙ الْحَقَّ فَهُمْ مُّعْرِضُوْنَ} "کیا ان لوگوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں، ان سے کہہ دو: لاؤ اپنی دلیل پیش کرو، یہ ہے میرے ساتھ والوں کی کتاب اور مجھ سے اگلوں کی دلیل بات یہ ہے کہ ان میں اکثر لوگ حق کو نہیں جانتے اسی وجہ سے منہ موڑے ہوئے ہیں"۔ [الأنبیاء: ۲۴] ایک اور مقام پر اللہ عز وجل نے فر مایا: {مَاخَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَآ اِلَّا بِالْحَـقِّ وَاَجَلٍ مُّسَمًّى ۭ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا عَمَّآ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ } "ہم نے آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان کی تمام چیزوں کو بہترین تدبیر کے ساتھ ہی ایک مدت معین کے لئے پیدا کیا ہے اور کافر لوگ جس چیز سے ڈرائے جاتے ہیں منہ موڑ لیتے ہیں"۔ [الأحقاف: ۳]

اور کبھی کبھارکفراکبر حق سے بغض و عناد کی کى شکل میں ہوا کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَرِهُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ} "یہ اس لئے کہ وہ اللہ کی نازل کردہ چیز سے ناخوش ہوئے، پس اللہ تعالیٰ نے (بھی) ان کے اعمال ضائع کردیئے"۔ [محمد: ۹]

ہمیں معلوم ہے کہ کفر اکبر کے علاوہ بھی کفر ہوتا ہے اور یہی کفر اصغر ہے، یہ کفر اصل ایمان کے مخالف نہیں ہے لیکن کمال ایمان کے منافی ضرور ہے، کفر اصغر کا مرتکب ہمیشہ ہمیش جہنم میں نہیں رہے گا اور نہ اس کے ارتکاب سے تمام اعمال برباد ہو ں گے اور اس کی بہت ساری قسمیں ہیں۔

اور اسى سے متعلق اللہ کے رسول ﷺ کا یہ فرمان ہے: ’’سِبَابُ المُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ‘‘۔ "مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے قتال کرنا کفر ہے"۔ (صحیح بخاری: ۴۸، صحیح مسلم: ۶۴، جامع الترمذی: ۱۹۸۳ ، سنن النسائی: ۴۱۰۸، سنن ابن ماجہ: ۶۹) اوراسى قبیل سے یہ فرمان نبوی بھی ہے: ’ ’اثْنَتَانِ فِي النَّاسِ هُمَا بِهِمْ كُفْرٌ: الطَّعْنُ فِي النَّسَبِ وَالنِّيَاحَةُ عَلَى الْمَيِّتِ‘‘۔ لوگوں میں دو باتیں موجود ہیں اور وہ کفر ہیں: (۱) نسب میں طعنہ کرنا (۲) میت پر نوحہ کرنا۔ (صحیح مسلم: ۶۷) اور اسى بات کا بیان اللہ کے رسول ﷺ کا یہ فرمان بھی کررہا ہے: ’’لاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ‘‘۔ تم میرے بعد کافر نہ ہو جاؤ کہ تم میں کا بعض بعض کی گردن مارے۔ (صحیح بخاری: ۱۲۱، صحیح مسلم: ۶۵، سنن النسا ئی: ۴۱۳۱، سنن ابن ماجہ: ۳۹۴۲)

کفر اصغر کا مرتکب دائرہ ملت سے خارج نہیں ہوگا اور نہ وہ ہمیشہ ہمیش جہنم میں رہے گا کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپس میں جنگ کرنے والے مومنوں کو بھائی بھائی کہا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَاِنْ طَاۗىِٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَيْنَهُمَا} "اور اگر مسلمانوں کی دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں میل ملاپ کرا دیا کرو"۔ [الحجرات: ۹] دیکھئے یہاں اللہ تعالیٰ نے تمام مومنوں کو بھائی بھائی کہا ہے جب کہ وہ سب آپس میں قتال کررہے ہوتے تھے۔ ان احادیث اور ان سے ملتی جلتی دیگر احادیث کا ذکر کرنے کے بعد امام اہل السنہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’وَهَذِهِ الْأَحَادِيثُ الَّتِي جَاءَتْ : ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ فَهُوَ مُنَافِقٌ هَذَا عَلَى التَّغْلِيظِ , نَرْوِيهَا كَمَا جَاءَتْ وَلَا نُفَسِّرُهَا، وَنَحْوُهُ مِنَ الْأَحَادِيثِ مِمَّا قَدْ صَحَّ وَحُفِظَ فَإِنَّا نُسَلِّمُ لَهُ وَإِنْ لَمْ يُعْلَمْ تَفْسِيرُهَا , وَلَا يُتَكَلَّمُ فِيهِ وَلَا يُجَادَلُ فِيهِ وَلَا تُفَسَّرُ هَذِهِ الْأَحَادِيثُ إِلَّا بٍمِثْلِ مَا جَاءَتْ‘‘۔ "ان مذکورہ احادیث میں جو یہ آیا ہے کہ تین چیزیں جس کے اندر پائی گئیں وہ منافق ہے، تو یہ بطور تغلیظ ہے، جس طرح یہ روایتیں آئی ہیں اسی طرح ہم انہیں روایت کردیتے ہیں لیکن اس کی تفسیرنہیں کرتے اور اس کے علاوہ اس جیسی دیگر روایات بھی جو صحیح اور محفوظ ہیں انہیں ہم تسلیم کرتے ہیں گرچہ ان کی تفسیر نا معلوم ہو، ان کے سلسلے میں بات نہ کى جائے گى اور نہ بحث ومباحثہ کیا جائے گا،اور ان احادیث کی تفسیر اسی کے مثل آئی ہوئی احادیث سے کی جاتی ہے"۔ (شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة: ۱/ ۱۸۲)

باب: اللہ کے ساتھ شرک کرنے کا بیان

ہمیں معلوم ہے کہ ایمان باللہ کا ضد شرک باللہ ہے اور اس کی بھی دو قسمیں ہیں: (۱) شرک اصغر(۲)شرک اکبراصل ایمان كا ضد ہے، اورشرک اصغر کمال ایمان کے منافی ہے، شرک اکبر سب سے بڑا ظلم ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَإِذْ قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ وَهُوَ يَعِظُهُ يَابُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ } "اور جب کہ لقمان نے وعظ کہتے ہوئے اپنے لڑکے سے فرمایا کہ میرے پیارے بچے! اللہ کے ساتھ شریک نہ کرنا، بیشک شرک بڑا بھاری ظلم ہے"۔ [لقمان: ۱۳] شرک اکبر تمام اعمال کی بربادی کا سبب ہے، جیسا کہ فرمان الہی ہے: {وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ } "یقیناً تیری طرف بھی اور تجھ سے پہلے (کے تمام نبیوں) کی طرف بھی وحی کی گئی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو بلاشبہ تیرا عمل ضائع ہوجائے گا، اور بالیقین تو زیاں کاروں میں سے ہوجائے گا"۔ [الزمر: ۶۵] اور اللہ عز وجل نے فرمایا: {ذَلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِي بِهِ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَلَوْ أَشْرَكُوا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ} "اللہ کی ہدایت ہی ہے جس کے ذریعہ سے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے اس کی ہدایت کرتا ہے اگر فرضاً یہ حضرات بھی شرک کرتے تو جو کچھ یہ اعمال کرتے تھے وہ سب اکارت ہوجاتے"۔ [الأنعام: ۸۸]

شرک اکبر کا مرتکب اگر بغیر توبہ کئے مرجا ئے، تو اللہ اسے معاف نہیں کر ے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرَى إِثْمًا عَظِيمًا } "یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جس کے لئے جو چاہے بخش دیتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک مقرر کر ے اس نے بہت بڑا گناہ اور بہتان باندھا"۔ [النساء: ۴۸] مشرک بغیر توبہ کے مرجائے تو اس پر جنت حرام ہے اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے، جس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہے گا،جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ} "یقین مانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کردی ہے، اس کا ٹھکانا جہنم ہی ہے اور گناہگاروں کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہوگا"۔ [المائدۃ: ۷۲]

اور جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ’’أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا الْمُوجِبَتَانِ؟ فَقَالَ: ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ اے اللہ کے رسول ! دو واجب کرنے والے چیزیں کون سی ہیں؟ تو (آپ ﷺ نے ) فرمایا: مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ‘‘۔ "جو مرجائے اس حال میں کہ وہ اللہ کے ساتھ شرک نہیں کرتا تھا وہ جنت میں داخل ہوگا، اور جو مرجائے اس حال میں کہ وہ اللہ کے ساتھ شرک کرتا تھا، وہ جہنم میں داخل ہوگا"۔ (صحیح مسلم: ۹۳)

اللہ تعالیٰ نے شرک کو باطل قرار دیا اور مشرکین کو شرک سے منع کیا ہے، اور دوسروں کو اللہ کا ہمسر اور شریک بنانے کا نقصان بھی بتا دیا ہے کہ وہ نہ نفع پہونچا سکتے ہیں اور نہ نقصان سے دو چار کرسکتے ہیں، ان شرکاء کے تئیں اللہ نے کہیں یہ کہا کہ وہ سن ہی نہیں سکتے اور اگر سن بھی لئے توان کی پکار کا جواب نہیں د ے سکتے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِنْ قِطْمِيرٍ* "یقین مانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کردی ہے، اس کا ٹھکانا جہنم ہی ہے اور گناہگاروں کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ إِنْ تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ } اگر تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری پکار سنتے ہی نہیں اور اگر (بالفرض) سن بھی لیں تو فریاد رسی نہیں کریں گے، بلکہ قیامت کے دن تمہار ے اس شرک کا صاف انکار کرجائیں گے"۔ [فاطر: ۱۳- ۱۴] مذکورہ آیت سے پتہ چلا کہ یہ گڑھے گئے شرکاء کسی چیز کے مالک نہیں ہیں اورنہ کوئی ان کی پکار کو سن سکتا ہے، بروز قیامت وہ اپنے ساجھى ہونے کا انکار کریں گے۔

اور اللہ نے کہیں یہ حقیقت بیان کی کہ یہ گمان کئے ہوئے شرکا نفع و نقصان اور موت وحیات تک کے مالک نہیں ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَاتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ آلِهَةً لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ وَلَا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا وَلَا يَمْلِكُونَ مَوْتًا وَلَا حَيَاةً وَلَا نُشُورًا} "ان لوگوں نے اللہ کے سوا جنہیں اپنے معبود ٹھہرا رکھے ہیں وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کرسکتے بلکہ وہ خود پیدا کئے جاتے ہیں، یہ تو اپنی جان کے نقصان کا بھی اختیار نہیں رکھتے اور نہ موت وحیات کے اور نہ دوبارہ جی اٹھنے کے وہ مالک ہیں"۔ [الفرقان: ۳] اور اللہ عز وجل نے فرمایا: {قَالَ هَلْ يَسْمَعُونَكُمْ إِذْ تَدْعُونَ*۔ "آپ نے فرمایا کہ جب تم انہیں پکارتے ہو تو کیا وہ سنتے بھی ہیں؟ أَوْ يَنْفَعُونَكُمْ أَوْ يَضُرُّونَ} یا تمہیں نفع نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں"۔ [الشعراء: ۷۲- ۷۳]

اور کہیں یہ کہا کہ اللہ کے علاوہ جن معبودان باطلہ کی عبادت کی جاتی ہے وہ اس انسان سے بھی کمزور ہیں جو ان کی عبادت کرتا ہے کیوں کہ یہ نہ چل سکتے ہیں، نہ پکڑ سکتے ہیں، نہ سن سکتے ہیں اور نہ دیکھ سکتے ہیں۔ " پس یہ معبودان باطلہ ہر اس چیز سے عاری ہیں جن کے ذریعہ حصول نفع اور تکلیف کے ازالے تک پہونچا جاتا ہے"۔ ( تفسیر الطبری: ۳۲۲/ ۱۳) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {أَلَهُمْ أَرْجُلٌ يَمْشُونَ بِهَا أَمْ لَهُمْ أَيْدٍ يَبْطِشُونَ بِهَا أَمْ لَهُمْ أَعْيُنٌ يُبْصِرُونَ بِهَا أَمْ لَهُمْ آذَانٌ يَسْمَعُونَ بِهَا قُلِ ادْعُوا شُرَكَاءَكُمْ ثُمَّ كِيدُونِ فَلَا تُنْظِرُونِ} "کیا ان کے پاؤں ہیں جن سے وہ چلتے ہوں یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے وہ کسی چیز کو تھام سکیں، یا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے ہوں یا ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے ہیں آپ کہہ دیجئے! تم اپنے سب شرکاء کو بلا لو، پھر میری ضرر رسانی کی تدبیر کرو پھر مجھ کو ذرا مہلت مت دو"۔ [الأعراف: ۱۹۵]

بسا اوقات اللہ تعالیٰ نے ان معبودان باطلہ کی کمزوری سے ہمیں آگاہ کیا ہے، جیسا کہ اللہ عز وجل نے فرمایا: {يَاأَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَنْ يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ وَإِنْ يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَا يَسْتَنْقِذُوهُ مِنْهُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الْمَطْلُوبُ} "لوگو ! ایک مثال بیان کی جا رہی ہے، ذرا کان لگا کر سن لو ! اللہ کے سوا جن جن کو تم پکارتے رہے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے گو سار ے کے سار ے ہی جمع ہوجائیں بلکہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز لے بھاگے تو یہ تو اسے بھی اس سے چھین نہیں سکتے، بڑا کمزور ہے طلب کرنے والا اور بڑا کمزور ہے وہ جس سے طلب کیا جا رہا ہے"۔ [الحج: ۷۳] اور اللہ عز وجل نے فرمایا: {وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَكُمْ وَلَا أَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُونَ} "اور تم جن لوگوں کی اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو وہ تمہاری کچھ مدد نہیں کرسکتے اور نہ وہ اپنی مدد کرسکتے ہیں"۔ [الأعراف: ۱۹۷]

کبھی کبھاراللہ تعالیٰ نے ان پر فقر و قلت کا حکم لگایا ہے، اور یہ کہ وہ آسمان اور زمین میں موجود اشیاء کى نہ کامل ملکیت رکھتے ہیں اور نہ ذرہ برابر، اور نہ ہی یہ ساجھی دار کے رو سے بھى ان میں سے کسى چیز کے مالک ہیں، اور نہ ہی ان میں سے کوئى اللہ تعالى کا معاون ومدد گار ہے، اور نہ اس کے سامنے ان میں سے کوئی سفارش کرنے والا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {قُلِ ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَا يَمْلِكُونَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ وَمَا لَهُمْ فِيهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَمَا لَهُ مِنْهُمْ مِنْ ظَهِيرٍ*۔ "کہہ دیجئے! کہ اللہ کے سوا جن جن کا تمہیں گمان ہے ان سب کو پکار لو، نہ ان میں سے کسی کو آسمانوں اور زمینوں میں سے ایک ذرہ کى ملکیت حاصل ہے نہ ان کا ان میں کوئی حصہ ہے نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مدد گار ہے۔ وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهُ إِلَّا لِمَنْ أَذِنَ لَهُ } شفاعت (سفارش) بھی اس کے پاس کچھ نفع نہیں دیتی بجز ان کے جن کے لئے اجازت ہوجائے"۔ [سبأ: ۲۲- ۲۳]

اور اللہ تعالیٰ نے کہیں کہیں یہ بھی واضح کردیا ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کا ہونا عقلی اعتبار سے ممتنع، کونی اعتبار سے محال اور شرعا باطل ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا فَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ} "اگر ان دونوں (آسمان و زمین) میں اللہ کے علاوہ کوئی اور معبود ہوتا تو دونوں درہم برہم ہوجا تے، پس اللہ عرش کے رب کی ذات پاک ہے ان تمام باتوں سے جو وہ لوگ بیان کرتے ہیں"۔ [الأنبیاء: ۲۲] ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {قُلْ لَوْ كَانَ مَعَهُ آلِهَةٌ كَمَا يَقُولُونَ إِذًا لَابْتَغَوْا إِلَى ذِي الْعَرْشِ سَبِيلًا} "'کہ دیجئے! کہ اگر اللہ کے ساتھ اور معبود بھی ہوتے جیسے کہ یہ لوگ کہتے ہیں تو ضرور وہ اب تک مالک عرش کى جانب راہ ڈھونڈ نکالتے"۔ [الإسراء: ۴۲] ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّمَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۢ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰي بَعْضٍ ۭ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا يَصِفُوْنَ } "نہ تو اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا اور نہ اس کے ساتھ اور کوئی معبود ہے، ورنہ ہر معبود اپنی مخلوق کو لئے لئے پھرتا اور ہر ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتا، جو اوصاف یہ بتلاتے ہیں ان سے اللہ پاک (اور بےنیاز) ہے"۔ [المؤمنون: ۹۱]

ہمیں معلوم ہے کہ شرک اکبر کی کئی قسمیں ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:۔

۱۔ پہلایہ کہ اللہ کی ربوبیت، خلقت، ملکیت، رزق اور تدبیر میں اس کا شریک بنایا جائے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے شرک کی بابت فرمایا: {أَمْ جَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكَاءَ خَلَقُوا كَخَلْقِهِ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَيْهِمْ قُلِ اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ} "کیا جنہیں یہ اللہ کا شریک ٹھرا رہے ہیں انہوں نے بھی اللہ کی طرح مخلوق پیدا کی ہے کہ ان کی نظر میں پیدائش مشتبہ ہوگئی ہو، کہہ دیجئے کہ صرف اللہ ہی تمام چیزوں کا خالق ہے وہ اکیلا ہے اور زبردست غالب ہے"۔ [الرعد: ۱۶] اور اگر کسی نے تخلیق الہی میں کسی کو شریک بنایا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی نکیر کیا اور بتایا کہ یہ مخلوق ہے خالق نہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {هَذَا خَلْقُ اللَّهِ فَأَرُونِي مَاذَا خَلَقَ الَّذِينَ مِنْ دُونِهِ بَلِ الظَّالِمُونَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ} "یہ ہے اللہ کی مخلوق، اب تم مجھے اس کے سوا دوسرے کسی کی کوئی مخلوق تو دکھاؤ، (کچھ نہیں) بلکہ یہ ظالم کھلی گمراہی میں ہیں"۔ [لقمان: ۱۱] اور بتایا کہ پیدا کرنے اور حکم دینے میں وہی یکتا اور اکیلا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ } "بیشک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے سب آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کیا ہے پھر عرش پر مستوی ہوا، وہ رات سے د ن ایسے طور پر چھپا دیتا ہے کہ وہ رات اس دن کو جلدی سے آلیتی ہے، اور سورج اور چاند اور دوسرے ستاروں کو پیدا کیا ایسے طور پر کہ سب اس کے حکم کے تابع ہیں، یاد رکھو اللہ ہی کے لئے خاص ہے خالق ہونا اور حاکم ہونا، بڑی خوبیوں سے بھرا ہوا اللہ جو تمام عالم کا رب ہے"۔ [الأعراف: ۵۴]

۲۔ شرک اکبر کى قسموں میں سے ہے اللہ کے لئے اولاد ثابت کرنا جب کہ اس کی ذات اس سے پاک اور بلند و بالا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَقَالَتِ الْيَهُودُ عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّهِ وَقَالَتِ النَّصَارَى الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّهِ ذَلِكَ قَوْلُهُمْ بِأَفْوَاهِهِمْ يُضَاهِئُونَ قَوْلَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ قَبْلُ قَاتَلَهُمُ اللَّهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ} "یہود کہتے ہیں عزیز اللہ کا بیٹا ہے اور نصرانی کہتے ہیں مسیح اللہ کا بیٹا ہے یہ قول صرف ان کے منہ کی بات ہے، اگلے کافروں کى بات کى مشابہت اختیار کررہے ہیں، اللہ انہیں غارت کر ے، وہ کیسے پلٹائے جاتے ہیں"۔ [التوبۃ: ۳۰] اور اللہ عز وجل نے فرمایا: {وَجَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكَاءَ الْجِنَّ وَخَلَقَهُمْ وَخَرَقُوا لَهُ بَنِينَ وَبَنَاتٍ بِغَيْرِ عِلْمٍ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يَصِفُونَ} "اور لوگوں نے شیاطین کو اللہ تعالیٰ کا شریک قرار د ے رکھا ہے حالانکہ ان لوگوں کو اللہ ہی نے پیدا کیا ہے اور ان لوگوں نے اللہ کے حق میں بیٹے اور بیٹیاں بلا سند تراش رکھی ہیں اور وہ پاک اور برتر ہے ان باتوں سے جو یہ کرتے ہیں"۔ [الأنعام: ۱۰۰] ایک اور جگہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا: {وَجَعَلُوا لَهُ مِنْ عِبَادِهِ جُزْءًا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَكَفُورٌ مُبِينٌ*۔ "اور انہوں نے اللہ کے بعض بندوں کو اس کا جز ٹھہرا دیا یقیناً انسان کھلا ناشکرا ہے۔ أَمِ اتَّخَذَ مِمَّا يَخْلُقُ بَنَاتٍ وَأَصْفَاكُمْ بِالْبَنِينَ} کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے بیٹیاں تو خود رکھ لیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا؟" [الزخرف: ۱۵- ۱۶]

۳۔ شرک اکبر کى قسموں میں سے ستاروں پر ایمان لانا اور ان کی عبادت کرنا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کے سلسلے میں خبر دیتے ہوے، کہ انہوں نے اپنی قوم سے ستاروں کی عبادت کے سلسلے میں احتجاج کیا، فرمایا: {وَكَذَلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ * "اور ہم نے ایسے ہی طور پر ابراہیم (علیہ السلام) کو آسمانوں اور زمین کی مخلوقات دکھلائیں اور تاکہ کامل یقین کرنے والوں میں سے ہوجائیں۔ فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ رَأَى كَوْكَبًا قَالَ هَذَا رَبِّي فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَا أُحِبُّ الْآفِلِينَ *۔ پھر جب رات کی تاریکی ان پر چھا گئی تو انہوں نے ایک ستارہ دیکھا آپ نے فرمایا کہ یہ میرا رب ہے مگر جب وہ غروب ہوگیا تو آپ نے فرمایا کہ میں غروب ہوجانے والوں سے محبت نہیں رکھتا۔ فَلَمَّا رَأَى الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هَذَا رَبِّي فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَئِنْ لَمْ يَهْدِنِي رَبِّي لَأَكُونَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّالِّينَ *۔ پھر جب چاند کو دیکھا چمکتا ہوا تو فرمایا کہ یہ میرا رب ہے لیکن جب وہ غروب ہوگیا تو آپ نے فرمایا کہ اگر مجھ کو میرے رب نے ہدایت نہ کی تو میں گمراہ لوگوں میں شامل ہو جاؤں گا۔ فَلَمَّا رَأَى الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هَذَا رَبِّي هَذَا أَكْبَرُ فَلَمَّا أَفَلَتْ قَالَ يَاقَوْمِ إِنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ *۔ پھر جب آفتاب کو دیکھا چمکتا ہوا تو فرمایا کہ یہ میرا رب ہے یہ تو سب سے بڑا ہے پھر جب وہ بھی غروب ہوگیا تو آپ نے فرمایا بےشک میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں۔ إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ * ۔ میں اپنا رخ اس کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا یکسو ہو کر، اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ وَحَاجَّهُ قَوْمُهُ قَالَ أَتُحَاجُّونِّي فِي اللَّهِ وَقَدْ هَدَانِ وَلَا أَخَافُ مَا تُشْرِكُونَ بِهِ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبِّي شَيْئًا وَسِعَ رَبِّي كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ *۔ اور ان سے ان کی قوم نے حجت کرنا شروع کیا، آپ نے فرمایا کیا تم اللہ کے معاملہ میں مجھ سے حجت کرتے ہو حالانکہ اس نے مجھ کو طریقہ بتلا دیا ہے اور میں ان چیزوں سے جن کو تم اللہ کے ساتھ شریک بناتے ہو نہیں ڈرتا، ہاں اگر میرا رب ہی کوئی امر چاہے، میرا رب ہر چیز کو اپنے علم میں گھیرے ہوئے ہے، کیا تم پھر بھی خیال نہیں کرتے۔ {وَكَيْفَ اَخَافُ مَآ اَشْرَكْتُمْ وَلَا تَخَافُوْنَ اَنَّكُمْ اَشْرَكْتُمْ بِاللّٰهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهٖ عَلَيْكُمْ سُلْطٰنًا} اور میں ان چیزوں سے کیسے ڈروں جن کو تم نے شریک بنایا ہے، حالانکہ تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ تم نے اللہ کے ساتھ ایسی چیزوں کو شریک ٹھہرایا ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نہیں فرمائی, سو دونوں گروہوں میں سے امن کا زیادہ حق دار کون ہے اگر تم علم رکھتے ہو"۔ [الأنعام: ۷۵- ۸۱]

شرک اکبر میں سے ستاروں سے پانی طلب کرنا اور ان کو روزی رساں سمجھنا بھی شرک ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ} "اور اپنے حصے میں یہی لیتے ہو کہ جھٹلاتے پھرو"۔ [الواقعۃ: ۸۲] عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ’’مُطِرَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَصْبَحَ مِنَ النَّاسِ شَاكِرٌ وَمِنْهُمْ كَافِرٌ، قَالُوا: هَذِهِ رَحْمَةُ اللهِ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَقَدْ صَدَقَ نَوْءُ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ:{فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ} [الواقعة: ۷۵]، حَتَّى بَلَغَ: {وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ} [الواقعة: ۸۲]‘‘۔ نبی ﷺ کے زمانے میں لوگوں پر پانی برسا تو نبی ﷺ نے فرمایا: لوگوں میں سے بعض لوگوں نے شاکر ہو کر اور بعض نے کافر ہو کرصبح کیا تو (جنہوں نے شکر پر صبح کی انہوں نے) کہا: یہ اللہ کی رحمت ہے اور ان میں سے بعض نے کہا کہ فلاں نچھتر اور فلاں نچھتر سچ ثابت ہوئے تو یہ آیت نازل ہو ئی: {فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ} سے {وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ } [الواقعة: ۸۲]تک۔ (صحیح مسلم: ۷۳، تفسیر الطبری: ۱۵۴/ ۲۳)

اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’ أَرْبَعٌ فِي أُمَّتِي مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ، لَا يَتْرُكُونَهُنَّ: الْفَخْرُ فِي الْأَحْسَابِ، وَالطَّعْنُ فِي الْأَنْسَابِ، وَ الْاسْتِسْقَاءُ بِالنُّجُومِ، وَالنِّيَاحَةُ‘‘۔ "میری امت میں جاہلیت کی چار چیزیں ایسی ہیں جنہیں لوگ نہیں چھوڑیں گے: (۱) حسب پر فخر کرنا۔(۲) کسی کے نسب پر طعن کرنا۔(۳) تاروں سے پانی طلب کرنا۔(۴) نوحہ کرنا۔ (صحیح مسلم: ۹۳۴، سنن ابن ماجہ: ۱۵۸۱)

اور زید بن خالد الجہنی سے مروی ہے‘ وہ فرماتے ہیں کہ ’’صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاَةَ الصُّبْحِ بِالحُدَيْبِيَةِ عَلَى إِثْرِ سَمَاءٍ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلَةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں حدیبیہ میں رات میں ہوئى بارش کے بعد صبح کی نماز پڑھائ ، جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف رخ کیا اور فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ لوگوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں، تو (آپ ﷺ نے)فرمایا: أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ، فَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَرَحْمَتِهِ، فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ بِالكَوْكَبِ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ: بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا، فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي وَمُؤْمِنٌ بِالكَوْكَبِ‘‘۔ "میرے بندوں میں سےکچھ نے مجھ پر ایمان کی حالت میں صبح کیا اور کچھ نے میرے ساتھ کفر کرکے، رہی بات اس کی جس نے کہا کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہم پر بارش ہوئی، تو وہ مجھ پر ایمان لایا اور ستاروں کے ساتھ کفر کیا، اور جس نے کہا کہ ان فلاں اور فلان نچھتر کى وجہ سے (بارش ہوئى)، تو وہ میرے ساتھ کفر کرنے والا اور ستاروں پر ایمان لانے والا ہے"۔ (صحیح بخاری: ۸۴۶، صحیح مسلم: ۷۱، سنن أبی داود: ۳۹۰۶، سنن النسا ئی: ۱۵۲۵)

۴۔ اللہ کے اسماء و صفات میں کسی کو شریک ٹھہرانا بھی شرک ہے، جیسے وہ شخص جو اللہ کے علاوہ کو عالم الغیب تسلیم کرتا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ آپ فرمائیں: {قُلْ لَا أَقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزَائِنُ اللَّهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّي مَلَكٌ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَيَّ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْأَعْمَى وَالْبَصِيرُ أَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ} "آپ کہہ دیجئے کہ نہ تو میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میر ے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں، میں تو صرف جو کچھ میر ے پاس ہے وحی آتی ہے اس کا اتباع کرتا ہوں آپ کہئے کہ اندھا اور بینا کہیں برابر ہوسکتے ہیں، سو کیا تم غور نہیں کرتے"۔ [الأنعام: ۵۰] اور اللہ عز وجل نے فرمایا: { إِنَّمَا الْغَيْبُ لِلَّهِ} "یقینا غیب صرف اللہ ہی کے لئے ہے"۔ [یونس: ۲۰] اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا’’مَنْ أَتَى كَاهِنًا- قَالَ مُوسَى فِي حَدِيثِهِ ،فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ ثُمَّ اتَّفَقَا -أَوْ أَتَى امْرَأَةً، قَالَ مُسَدَّدٌ: امْرَأَتَهُ حَائِضًا أَوْ أَتَى امْرَأَةً، قَالَ مُسَدَّدٌ: امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا فَقَدْ بَرِئَ مِمَّا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ‘‘۔ جو کسی کاہن کے پاس آئے۔ موسیٰ نے اپنی حدیث میں کہا۔ پھر جو وہ کہے اس کی تصدیق کرے، ۔ پھر دونوں راویوں نے باہم اتفاق کے ساتھ ذکر کیا۔ یا عورت کے پاس آئے، مسدد نے کہا: اپنے حائضہ عورت کے پاس آئے یا اپنی عورت کے پاس اس کی پچھلی شرمگاہ میں آئے، تو وہ ان چیزوں سے بری ہو گیا جو محمد ﷺپر نازل کی گئیں ہیں۔ (سنن أبی داود: ۳۹۰۴، جامع الترمذی: ۱۳۵، سنن ابن ماجہ: ۶۳۹ ، الصلاة لفضل ابن دکین: ۱۵، مسند اسحاق بن راہویہ: ۴۸۲، مسند أحمد: ۹۵۳۶) کوئی ایسا نام جو صرف اللہ کے شایان شان ہو، اللہ کے علاوہ کسی اور کے شایان شان نہ ہو تو اس نام کا اپنے یا اپنے علاوہ کسی اور کے لئے منتخب کرنا صحیح نہیں ہے کیوں کہ اس پر شدید وعید آئی ہے، جیسے لفظ جلالہ ’’اللہ‘‘ یا ’’رحمن‘‘، اللہ تعالی نےفر مایا: { وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ} "اللہ ہی کے لئے اچھے اچھے نام ہیں انہیں کے ذریعہ اسے پکارو اور انہیں چھوڑو جو اس کے ناموں میں کجروی کرتے ہیں، عنقریب وہ بد لہ دیئے جا ئیں گے اس چیز کا جو کچھ وہ کرتے ہیں"۔ [الأعراف: ۱۸۰] اور اللہ عز وجل نے فر مایا: { اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى } "اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے اور اسی کے لئے اچھے اچھے نام ہیں"۔ [طہ: ۸] اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’أَخْنَى الأَسْمَاءِ يَوْمَ القِيَامَةِ عِنْدَ اللَّهِ رَجُلٌ تَسَمَّى مَلِكَ الأَمْلاَكِ‘‘۔ "قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے ذلیل وخوار نام اس شخص کا ہو گا جس نے اپنا نام ملک الاملاک (شہنشاہ) رکھا ہوگا"۔ (صحیح بخاری: ۶۲۰۵، صحیح مسلم: ۲۱۴۳، سنن أبی داود: ۴۹۶۱، جامع الترمذی: ۲۸۳۷)

ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: ’’وَكَانَ سُفْيَان بن عُيَيْنَة يُفَسر قَوْله: ملك الْأَمْلَاك قَالَ: هُوَ مثل قَوْلهم: شاهان شاه أَي أَنه ملك الْمُلُوك وَقَالَ غير سُفْيَان: بل هُوَ أَن يتسمى الرجل بأسماء اللَّه كَقَوْلِه: الرَّحْمَن والجبار والعزيز قَالَ: فَالله هُوَ ملك الْأَمْلَاك لَا يجوز أَن تسمى بِهَذَا الِاسْم غَيره‘‘ "سفیان بن عیینہ نے ’’ملك الْأَمْلَاك‘‘۔ کی تفسیر کرتے ہو ئے فرمایا کہ: کہ یہ ان (عجمیوں) کے قول شہنشاہ کى طرح ہے، یعنی ملک الملوک۔ سفیان کے علاوہ لوگوں نے کہا کہ بلکہ اس کا مطلب اللہ کے نام پر آدمی کا نام رکھنا ہے، جیسے: الرحمن، الجبار، العزیز، پھر فرماتے ہیں کہ اللہ ہی ’’ ملك الْأَمْلَاك‘‘ ہے، کسی اور کے لئے یہ نام رکھنا جائز نہیں ہے"۔ (غریب الحدیث للقاسم بن سلام : ۲/ ۱۸)

۵۔ شرک اکبر کى ایک قسم ہے: مخلوق میں سے کسی کے تئیں یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ کمال الہی سے متصف ہے، یا وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: { وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ} "اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے"۔ [الإخلاص: ۴] اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا: {رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا فَاعْبُدْهُ وَاصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهِ هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا} "آسمانوں کا، زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب وہی ہے، تو اسی کی بندگی کر اور اس کی عبادت پر جم جا، کیا تیرے علم میں اس کا ہم نام ہم پلہ کوئی اور بھی ہے؟" [مریم: ۶۵] اور اللہ تعالیٰ نے اپنے کمال قدرت کی بابت خبر دیتے ہوئے فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ} "یقینااللہ ہر چیز پر قادر ہے"۔ [البقرۃ: ۱۴۸] اور اللہ عز و جل نے فرمایا: {وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعْجِزَهُ مِنْ شَيْءٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ إِنَّهُ كَانَ عَلِيمًا قَدِيرًا } "اور اللہ ایسا نہیں ہے کہ کوئی چیز اس کو ہرا د ے نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں۔ وہ بڑے علم والا، بڑی قدرت والا ہے"۔ [فاطر: ۴۴] اللہ تعالیٰ نے تمام عبادت گزاروں اور تمام معبودان باطلہ کی کمزوری وعاجزی کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: {يَاأَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَنْ يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ وَإِنْ يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَا يَسْتَنْقِذُوهُ مِنْهُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الْمَطْلُوبُ} "لوگو ! ایک مثال بیان کی جا رہی ہے، ذرا کان لگا کر سن لو ! اللہ کے سوا جن جن کو تم پکارتے رہے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے گو سار ے کے سار ے ہی جمع ہوجائیں، بلکہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز لے بھاگے تو یہ تو اسے بھی اس سے چھین نہیں سکتے، بڑا کمزور ہے طلب کرنے والا اور بڑا کمزور ہے وہ جس سے طلب کیا جا رہا ہے"۔ [الحج: ۷۳]

۶۔ اورشرک اکبر میں سے یہ بھی ہے: اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود سمجھنا، جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام کی قوم نے اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کو معبود بنا لیا تھا،اللہ تعالی نے ان کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرمایا: {وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهِيْمُ لِاَبِيْهِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصْنَامًا اٰلِهَةً ۚ اِنِّىْٓ اَرٰىكَ وَقَوْمَكَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ} "اور وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ آزر سے فرمایا کہ کیا تو بتوں کو معبود قرار دیتا ہے؟ بیشک میں تجھ کو اور تیری ساری قوم کو صریح گمراہی میں دیکھتا ہوں"۔ [الأنعام: ۷۴] اسی طرح اصحاب کہف کے بارے میں اللہ حق نے خبر دیا کہ وہ اپنی قوم سے الگ ہو گئے تھے کیوں کہ ان کی قوم نے اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کو معبود بنا لیا تھا، انہیں کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا: {هٰٓؤُلَاۗءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖٓ اٰلِهَةً ۭ لَوْلَا يَاْتُوْنَ عَلَيْهِمْ بِسُلْطٰنٍۢ بَيِّنٍ ۭ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا} "یہ ہے ہماری قوم جس نے اس کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں، ان کے معبود ہونے کی یہ کوئی صاف دلیل کیوں پیش نہیں کرتے؟ اللہ پر جھوٹ افترا باندھنے والے سے زیادہ ظالم کون ہے"۔ [الکھف: ۱۵] اسی طرح موسیٰ علیہ السلام کی قوم جنہوں نے اپنے نبی سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ وہ مشرکین کی طرح ان کے لئے بھی ایک معبود بنا دیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں کے بارے میں فر مایا: {وَجَاوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَائِيلَ الْبَحْرَ فَأَتَوْا عَلَى قَوْمٍ يَعْكُفُونَ عَلَى أَصْنَامٍ لَهُمْ قَالُوا يَامُوسَى اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ *۔ "اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے پار اتار دیا، پس ان لوگوں کا ایک قوم پر گزر ہوا جو اپنے چند بتوں سے لگے بیٹھے تھے، کہنے لگے اے موسیٰ! ہمارے لیے بھی ایک معبود ایسا ہی مقرر کر دیجئے! جیسے ان کے یہ معبود ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ واقعی تم لوگوں میں بڑی جہالت ہے۔ إِنَّ هَؤُلَاءِ مُتَبَّرٌ مَا هُمْ فِيهِ وَبَاطِلٌ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ} یہ لوگ جس کام میں لگے ہیں یہ تباہ کیا جائے گا اور ان کا یہ کام محض بےبنیاد ہے"۔ [الأعراف: ۱۳۸- ۱۳۹] اور اللہ کے علاوہ ہر معبود کی عبادت باطل ہے، جیسا کہ فرمان الہی ہے: {مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّمَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۢ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰي بَعْضٍ ۭ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا يَصِفُوْنَ } "نہ تو اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا اور نہ اس کے ساتھ اور کوئی معبود ہے، ورنہ ہر معبود اپنی مخلوق کو لئے لئے پھرتا اور ہر ایک دوسر ے پر چڑھ دوڑتا، جو اوصاف یہ بتلاتے ہیں ان سے اللہ پاک (اور بےنیاز) ہے"۔ [المؤمنون: ۹۱]

۷۔ شکر اکبر ہی کے اقسام میں سے یہ ہے کہ: جو عبادتیں اللہ کے لئے خاص ہیں وہ سب یا ان میں سے کوئی ایک عبادت اللہ کے علاوہ کسی اور کی طرف پھیردیا جائے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے احوال و کوائف پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا: {وَجَعَلُوا لِلَّهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْأَنْعَامِ نَصِيبًا فَقَالُوا هَذَا لِلَّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَذَا لِشُرَكَائِنَا فَمَا كَانَ لِشُرَكَائِهِمْ فَلَا يَصِلُ إِلَى اللَّهِ وَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَى شُرَكَائِهِمْ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ} "اور اللہ تعالیٰ نے جو کھیتی اور مویشی پیدا کئے ہیں ان لوگوں نے ان میں سے کچھ حصہ اللہ کا مقرر کیا اور خود کہتے ہیں کہ یہ تو اللہ کا ہے اور یہ ہمارے معبودوں کا ہے پھر جو چیز ان کے معبودوں کی ہوتی ہے وہ تو اللہ کی طرف نہیں پہنچتی اور جو چیز اللہ کی ہوتی ہے وہ ان کے معبودوں کی طرف پہنچ جاتی ہے، کیا برا فیصلہ وہ کرتے ہیں"۔ [الانعام: ۱۳۶] اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’أَنَا أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ، مَنْ عَمِلَ عَمَلًا أَشْرَكَ فِيهِ مَعِي غَيْرِي، تَرَكْتُهُ وَ شِرْكَهُ‘‘ ۔" میں شرکاء میں سب سے زیادہ شرک سے بے نیاز ہوں، جس نے کوئی ایسا عمل کیا کہ اس میں میر ے ساتھ میر ے علاوہ کو شریک کیا تو میں اسے اور اس کے شرک کو چھوڑ دیتا ہوں"۔ (صحیح مسلم: ۲۹۸۵)

۸۔ شرک اکبر کے اقسام میں سے ایک قسم ہے: قربت حاصل کرنے کے لئے اللہ کے علاوہ کسی اور کے لئے ذبح کرنا، جیسے قربت حاصل کرنے کے لئےبتوں اورمردوں کے لئے ذبح کرنا، کیوں کہ ذبح صرف اللہ کے لئے ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: {قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ} "آپ فرما دیجئے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کا ہے جو سارے جہان کا مالک ہے"۔ [الانعام: ۱۶۲] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ} "تم پر صرف مردار اور خون اور سور کا گوشت اور جس چیز پر اللہ کے سوا دوسر ے کا نام پکارا جائےاللہ نے حرام قرار دئے ہیں پھر اگر کوئی بے بس کردیا جائے نہ وہ خواہشمند ہو اور نہ حد سے گزر جانے والا ہو تو یقیناً اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے"۔ [النحل: ۱۱۵] اور ابو طفیل سے روایت ہے انہوں نے کہا: ہم نے علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمیں ایسی بات بتائے کہ جسے اللہ کے رسول ﷺ نے آپ سے رازدارانہ طور پر کہا ہو تو انہوں نے فر مایا ’’مَا أَسَرَّ إِلَيَّ شَيْئًا كَتَمَهُ النَّاسَ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ: لَعَنَ اللهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللهِ‘‘ مجھ سے انہوں نے رازدارانہ طور پر ایسا کچھ نہیں کہا ہے جسے لوگوں سے چھپایا ہو لیکن میں نے آپ کو یہ کہتے ہو ئے سنا ہے کہ اللہ نے اس پر لعنت کیا ہے جس نے غیر اللہ کے لئے ذبح کیا۔ (صحیح مسلم: ۱۹۷۸، سنن النسائی: ۴۴۲۲) چوں کہ یہ امر بہت عظیم ہے اسی لئے غیر اللہ کے لئے ذبح تو در کنار اللہ کے رسول ﷺ نے اس مقام پر بھی ذبح کرنے سے منع کیا ہے جہاں غیر اللہ کے لئے ذبح کیا جارہا ہو۔ ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ’’نَذَرَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْحَرَ إِبِلًا بِبُوَانَةَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ إِبِلًا بِبُوَانَةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ كَانَ فِيهَا وَثَنٌ مِنْ أَوْثَانِ الْجَاهِلِيَّةِ يُعْبَدُ ؟ قَالُوا: لَا، قَالَ: هَلْ كَانَ فِيهَا عِيدٌ مِنْ أَعْيَادِهِمْ؟، قَالُوا: لَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْفِ بِنَذْرِكَ، فَإِنَّهُ لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ، وَ لَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ‘‘۔ اللہ کے رسول ﷺ کے زمانہ میں ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ بوانہ (ایک جگہ کا نام ہے) میں ایک اونٹ ذبح کرے گا تو وہ نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے بوانہ میں ایک اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی ہے، تو نبیﷺ نے فرمایا: کیا وہاں جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت تھا جس کی عبادت کی جاتی تھی؟ لوگوں نے کہا: نہیں،(پھر) فرمایا: کیا ان کے عیدوں میں سے کوئی عید وہاں منائی جاتی تھی؟ لوگوں نے کہا: نہیں، تو اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: اپنی نذر پوری کر لو (اور جان لو کہ ) اللہ کى معصیت میں نذر کا پورا کرنا جائز نہیں اور نہ اس چیز میں نذر ہے جس کا آدمی مالک نہیں ہے۔ ( سنن أبی داود: ۳۳۱۳)

۹۔ شرک اکبر کى قسموں میں سے اللہ کے علاوہ کسی اور کے لئے نذر ماننا ہے، چونکہ نذر ایک عبادت ہے، اور عبادت صرف اللہ ہی کے لئے جا ئز ہے، اسے کسی اور کی طرف پھیرنا حرام اور نا جا ئز ہے، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان مومنوں کی تعریف کیا ہے جو اپنا نذر پورا کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {يُوفُونَ بِالنَّذْرِ وَيَخَافُونَ يَوْمًا كَانَ شَرُّهُ مُسْتَطِيرًا } "جو نذر پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی برائی چاروں طرف پھیل جانے والی ہے"۔ [الإنسان: ۷] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ نَفَقَةٍ أَوْ نَذَرْتُمْ مِنْ نَذْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُهُ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ} "تم جتنا کچھ خرچ کرو اور جو کچھ نذر مانو، اسے اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے، اور ظالموں کا کوئی مدد گار نہیں"۔ [البقرۃ: ۲۷۰] اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَهُ فَلاَ يَعْصِهِ‘‘ "جس نے اطاعت الہی کی نذر مانی تو وہ اس کی اطاعت کرے، اور جس نے اس کی نا فرمانی کی نذر مانی تو وہ اس کی نا فرمانی نہ کرے"۔ (صحیح بخاری: ۶۶۹۶، سنن أبی داود: ۳۲۸۹، جامع الترمذی: ۱۵۲۶، سنن النسا ئی: ۳۸۰۶، سنن ابن ماجہ: ۲۱۲۶)

۱۰۔ شرک اکبر میں سے غیر اللہ سے استعاذہ (پناہ مانگنا) بھى ہے، جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ: ’’كَانَ رِجَالٌ مِنَ الْإِنْسِ يَبِيتُ أَحَدُهُمْ بِالْوَادِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَيَقُولُ: أَعُوذُ بِعَزِيزِ هَذَا الْوَادِي، فَزَادَهُمْ ذَلِكَ إِثْمًا‘‘۔ "لوگوں میں سے ایک شخص دور جا ہلیت میں وادی میں رات گزارتا تھا تو وہ کہتا تھا کہ میں ا س وادی کے عزیز کی پناہ چاہتا ہوں تو وہ ان کے گناہ میں اضافہ کرتا تھا"۔ (تفسیر الطبری: ۲۳/ ۳۲۲) اور اللہ تعالیٰ نے دور جا ہلیت کے احوال و کوائف کا تذکرہ کرتے ہو ئے فرمایا: {وَأَنَّهُ كَانَ رِجَالٌ مِنَ الْإِنْسِ يَعُوذُونَ بِرِجَالٍ مِنَ الْجِنِّ فَزَادُوهُمْ رَهَقًا} "بات یہ ہے کہ چند انسان بعض جنات سے پناہ طلب کیا کرتے تھے جس سے جنات اپنی سرکشی میں اور بڑھ گئے"۔ [الجن: ۶] اور اللہ کے رسول ﷺ نے بتایا کہ جب کوئی شخص کسی جگہ پڑاؤ ڈالے، اور کہے: ’’أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ، حَتَّى يَرْتَحِلَ مِنْ مَنْزِلِهِ ذَلِكَ‘‘۔ "میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے پورے کلموں کے ذریعہ، اس کی برائی سے جو اس نے پیدا کیا۔ تو اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی یہاں تک کہ وہ اس منزل سے کوچ کرجائے"۔ (صحیح مسلم: ۲۷۰۸، جامع الترمذی: ۳۴۳۷، سنن ابن ماجہ: ۳۵۴۷)

۱۱۔ شرک اکبر کى بعض اقسام ہیں: غیر اللہ کو پکارنا، جن چیزوں پر اللہ کے علاوہ کوئى اور قادر نہ ہو ان میں غیر اللہ سے استغاثہ (فریاد رسى کرنا) اور استعانت (مدد طلب کرنا)، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا} "اور یہ مسجدیں صرف اللہ ہی کے لئے خاص ہیں پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو"۔ [الجن: ۱۸] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {إِنْ تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ} "اگر تم انہیں پکارو وہ تمہاری پکار سنتے ہی نہیں اور اگر (با لفرض) سن بھی لیں تو فریاد رسی نہیں کریں گے بلکہ قیامت کے دن تمہار ے شریک اس شرک کا صاف انکار کر جائیں گے، آپ کو کوئی بھی حق تعالیٰ جیسا خبردار خبریں نہ د ے گا"۔ [فاطر: ۱۴] اور اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر کہا کہ مشرکین کو جب تکلیف پہونچتی ہے تو اللہ سے استغاثہ کرتے ہیں پھر جب اللہ انہیں نجات د ے دیتا ہے تو وہ شرک کی طرف لوٹ آتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {فَإِذَا رَكِبُوا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ إِذَا هُمْ يُشْرِكُونَ } "پس یہ لوگ جب کشتیوں میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں اس کے لئے عبادت کو خالص کرکے پھر جب وہ انھیں خشکی کی طرف بچا لاتا ہے تو اسی وقت شرک کرنے لگتے ہیں"۔ [العنکبوت: ۶۵] اور اللہ عز و جل نے فرمایا: {وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنْ يَدْعُو مِنْ دُونِ اللَّهِ مَنْ لَا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ } "اور اس سے بڑھ کر گمراہ اور کون ہوگا ؟ جو اللہ کے سوا ایسوں کو پکارتا ہے جو قیامت تک اس کی دعا قبول نہ کرسکیں بلکہ ان کے پکارنے سے محض بیخبر ہوں"۔ [الأحقاف: ۵] اور اللہ تعالیٰ نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ وہی محتاجوں کی مدد کرتا ہےاور تکلیفوں کو دور کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَ يَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ أَإِلَهٌ مَعَ اللَّهِ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ} "بے کس کی پکار کو جب کہ وه پکارے، کون قبول کرکے سختی کو دور کر دیتا ہے؟ اور تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے، کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور معبود ہے؟ تم بہت کم نصیحت وعبرت حاصل کرتے ہو". [النمل: ۶۲]

۱۲۔ شرک اکبر میں سے ہے غیر اللہ کی اطاعت کا شرک: اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے بارے میں بتایا کہ انہوں نے اپنے علماء کو رب بنا لیا تھا، وہی ان کے لئے شریعت اور قانون بناتے اور ان پر اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام کرتے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلَهًا وَاحِدًا لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ} "ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو رب بنایا ہے اور مریم کے بیٹے مسیح کو، حالانکہ انہیں صرف ایک اکیلے اللہ ہی کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وہ پاک ہے ان کے شریک مقرر کرنے سے"۔ [التوبۃ: ۳۱] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: { أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَنْ بِهِ اللَّهُ} "کیا ان لوگوں نے ایسے (اللہ کے) شریک (مقرر کر رکھے) ہیں جنہوں نے ایسے احکام دین مقرر کردیئے جو اللہ کے فرمائے ہوئے نہیں ہیں"۔ [الشوری: ۲۱] اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اپنے او پر ایمان لانے اور اپنی شریعت کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم دیا ہے اور بتادیا ہے کہ شیطان تمہیں طاغوت کو فیصل بنانے کاحکم دیتا ہے، جیسا کہ اللہ عز وجل نے فر مایا: {أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُوا بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَنْ يَتَحَاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْأُمِرُوا أَنْ يَكْفُرُوا بِهِ وَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُضِلَّهُمْ ضَلَالًا بَعِيدًا} "کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس پر ایمان لے آئے ہیں جو آپ کی طرف اور آپ سے پہلے نازل کیا گیا ہے، وہ چاہتے ہیں کہ فیصلہ کے لئے طاغوت کے پاس لے جائیں حالانکہ انہیں اس کے انکار کا حکم دیا گیا ہے اور شیطان چاہتا ہے کہ انہیں دور کی گمراہی میں لے کر چلا جائے"۔ [النساء: ۶۰] اورعدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ’’ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي عُنُقِي صَلِيبٌ مِنْ ذَهَبٍ. فَقَالَ: يَا عَدِيُّ اطْرَحْ عَنْكَ هَذَا الوَثَنَ، وَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ فِي سُورَةِ بَرَاءَةٌ: {اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ} [التوبة: ۳۱]، قَالَ: أَمَا إِنَّهُمْ لَمْ يَكُونُوا يَعْبُدُونَهُمْ، وَ لَكِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا أَحَلُّوا لَهُمْ شَيْئًا اسْتَحَلُّوهُ، وَإِذَا حَرَّمُوا عَلَيْهِمْ شَيْئًا حَرَّمُوهُ‘‘۔ میں نبی ﷺکے پاس آیا اس حال میں کہ میرے گردن میں سونے کی صلیب لٹک رہی تھی، توانہوں نے فرمایا: اے عدی! اپنے سے یہ بت دور کردو، میں نے آپ کو سورۃ برأۃ کی آیت پڑھتے ہوئے سنا: {اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ} "ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو رب بنایا ہے"، فرمایا: وہ لوگ ان کی عبادت نہیں کرتے تھے لیکن جب وہ ان کے لئے کسی چیز کو حلال کر دیتے تو وہ اسے حلال سمجھ لیتے اور جب وہ لوگ ان کے لیے کسی چیز کو حرام ٹھہرا دیتے تو وہ اسے حرام سمجھ لیتے تھے۔ (جامع الترمذی: ۳۰۹۵، الطبقات ابن سعد: ۶/ ۲۱۹، تفسیر ابن أبی حاتم: ۱۰۰۵۷، المعجم الکبیر للطبرانی: ۱۷/ ۹۲/ ۲۱۸)

۱۳۔ شرک اکبر میں سے ہے: نماز، رکوع، سجدہ اور طواف میں شرک، کیوں کہ یہ اور ان کے علاوہ دیگر عبادتیں اللہ کے لئے خاص ہیں، یہ ساری عبادتیں اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کے لئے انجام دینا صحیح نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ طواف، اعتکاف اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے اس کا گھر پاک کردیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: {وَاِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِيْمَ مَكَانَ الْبَيْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِيْ شَيْـــــًٔا وَّطَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّاۗىِٕفِيْنَ وَالْقَاۗىِٕمِيْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ} "جبکہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے کعبہ کے مکان کی جگہ مقرر کردی، اس شرط پر کہ میر ے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا اور میر ے گھر کا طواف قیام رکوع سجدہ کرنے والوں کے لئے پاک صاف رکھنا"۔ [الحج: ۲۶] اور حکم دیا کہ صرف اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا سجدہ کریں، جیسا کہ اللہ عز و جل نے فرمایا: {لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِيْ خَلَقَهُنَّ اِنْ كُنْتُمْ اِيَّاهُ تَعْبُدُوْنَ} "تم سورج کو سجدہ نہ کرو نہ چاند کو بلکہ سجدہ اس اللہ کے لئے کرو جس نے سب کو پیدا کیا ہے اگر تمہیں اس کی عبادت کرنی ہے"۔ [فصلت: ۳۷] اللہ کی عبادت سے صرف متکبر ہی روگردانی کرے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {قَالَ يَاإِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ أَسْتَكْبَرْتَ أَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِينَ} "اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے ابلیس ! تجھے اسے سجدہ کرنے سے کس چیز نے روکا جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا۔ کیا تو گھمنڈ میں آگیا ہے؟ یا تو بڑ ے درجے والوں میں سے ہے"۔ [ص: ۷۵] اور اللہ تعالیٰ نے اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ ساری مخلوق اللہ ہی کے لئے سجدہ ریز ہوتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ مِنْ دَاۗبَّـةٍ وَّالْمَلٰۗىِٕكَةُ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ} "یقیناً آسمان و زمین کے کل جاندار اور تمام فرشتے اللہ تعالیٰ کے سامنے سجد ے کرتے ہیں اور ذرا بھی تکبر نہیں کرتے"۔ [النحل: ۴۹] اور اس خبر میں بھی اس بات کی دلیل موجود ہے کہ جعفر رضی اللہ عنہ جب نجاشی کے دربار میں حاضر ہوئے، تو بو لے: ’’أَنَا خَطِيبُكُمُ الْيَوْمَ فَاتَّبَعُوهُ حَتَّى دَخَلُوا عَلَى النَّجَاشِيِّ فَلَمْ يَسْجُدُوا لَهُ فَقَالَ: مَالَكُمْ لَا تَسْجُدُونَ لِلْمَلِكِ؟ فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ إِلَيْنَا نَبِيَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنَا أَنْ لَا نَسْجُدَ إِلَّا لِلَّهِ‘‘۔ آج کے دن میں تمہارا خطیب ہوں لہذا تم سب اس کی اتباع کرو یہاں تک کہ وہ لوگ نجاشی کے پاس گئے تو ان کا سجدہ نہیں کیا‘ اس پر اس نے کہا تمہیں کیا ہوگیا کہ تم نے بادشاہ کے سامنے سجدہ نہیں کیا ؟ تو انہوں نے کہا کہ اللہ عزوجل نے ہماری طرف اپنے نبی ﷺ کو مبعوث کیا تو آپ نے ہمیں صرف اللہ کے سجدہ کا حکم دیا۔ (مسند أبی داود الطیالسی: ۳۴۴، سنن سعيد بن منصور: ۲۴۸۱، مسند أحمد: ۴۴۰۰، جزء لوین: ۴، أحکام القرآن للطحاوی: ۴۱۸)

۱۴۔ شرک اکبر کى قسموں میں سے ہے: اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام سے ہٹ کر کسی اور قانون کی روشنی میں فیصلہ کرنا، اللہ کے علاوہ کسی اور کو حاکم تسلیم کرلینا۔ اور جو اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام سے ہٹ کر کسی اور قانون کی روشنی میں فیصلہ کرتا ہے اس کا حکم بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ} "اور جو لوگ اللہ کی اتاری ہوئی وحی کے ساتھ فیصلے نہ کریں وہ کافر ہیں"۔ [المائدۃ: ۴۴] اور اللہ عز وجل نے فرمایا: {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ} "اور جو لوگ اللہ کے نازل کئے ہوئے کے مطابق نہ کریں، وہی لوگ ظالم ہیں"۔ [المائدۃ: ۴۵] اور اللہ عز وجل نے فرمایا: {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ} "اور جو اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ سے ہی حکم نہ کریں وہ فاسق ہیں"۔ [المائدۃ: ۴۷] یہ اس لئے کہ تمام کا تمام حکم اللہ ہی کے لئے ہے،جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: { أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ} "یاد رکھو اللہ ہی کے لئے خاص ہے خالق ہونا اور حاکم ہونا، بڑی خوبیوں سے بھرا ہوا اللہ، جو تمام عالم کا رب ہے"۔ [الأعراف: ۵۴] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَقَالَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا لَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ نَحْنُ وَلَا آبَاؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ كَذَلِكَ فَعَلَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ} "مشرک لوگوں نے کہا" اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہم اور ہمارے باپ داد ے اس کے سوا کسی اور کی عبادت ہی نہ کرتے، نہ اس کے فرمان کے بغیر کسی چیز کو حرام کرتے۔ یہی فعل ان سے پہلے لوگوں کا رہا۔ تو رسولوں پر تو صرف کھلم کھلا پیغام پہنچا دینا ہے"۔ [النحل: ۳۵]

اہل کتاب نے اپنے علماء کو رب بنا لیا تھا، وہی ان کے لئے قانون بناتے تھے، انہیں کی بابت تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلَهًا وَاحِدًا لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ} "ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو رب بنایا ہے اور مریم کے بیٹے مسیح کو حالانکہ انہیں صرف ایک اکیلے اللہ ہی کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ پاک ہے ان کے شریک مقرر کرنے سے"۔ [التوبۃ: ۳۱] اور اللہ عز وجل نے فرمایا: { أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَنْ بِهِ اللَّهُ} "کیا ان لوگوں نے ایسے (اللہ کے) شریک (مقرر کر رکھے) ہیں جنہوں نے ایسے احکام دین مقرر کردیئے جو اللہ کے فرمائے ہوئے نہیں ہیں"۔ [الشوری: ۲۱] عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ’’ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي عُنُقِي صَلِيبٌ مِنْ ذَهَبٍ. فَقَالَ: يَا عَدِيُّ اطْرَحْ عَنْكَ هَذَا الوَثَنَ، وَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ فِي سُورَةِ بَرَاءَةٌ: {اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ} [التوبة: ۳۱]، قَالَ: أَمَا إِنَّهُمْ لَمْ يَكُونُوا يَعْبُدُونَهُمْ، وَ لَكِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا أَحَلُّوا لَهُمْ شَيْئًا اسْتَحَلُّوهُ، وَإِذَا حَرَّمُوا عَلَيْهِمْ شَيْئًا حَرَّمُوهُ‘‘۔ میں نبی ﷺکے پاس آیا اس حال میں کہ میرے گردن میں سونے کی صلیب لٹک رہی تھی، تو آپ نے فرمایا: اے عدی! اپنے سے یہ بت دور کردو، میں نے آپ کو سورۃ برأۃ کی آیت پڑھتے ہوئے سنا: {اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ} ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو رب بنایا ہے، فرمایا: وہ لوگ ان کی عبادت نہیں کرتے تھے لیکن جب وہ ان کے لئے کسی چیز کو حلال کر دیتے تو وہ اسے حلال سمجھ لیتے اور جب وہ لوگ ان کے لیے کسی چیز کو حرام ٹھہرا دیتے تو وہ اسے حرام سمجھ لیتے تھے۔ (جامع الترمذی: ۳۰۹۵، الطبقات ابن سعد: ۶/ ۲۱۹، تفسیر ابن أبی حاتم: ۱۰۰۵۷، المعجم الکبیر للطبرانی: ۱۷/ ۹۲/ ۲۱۸)

اس سلسلے میں اہل کتاب ان مشرکین کے مشابہ تھے جن کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَقَالَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا لَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ نَحْنُ وَلَا آبَاؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ كَذَلِكَ فَعَلَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ} "مشرک لوگوں نے کہا: اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہم اور ہمارے باپ داد ے اس کے سوا کسی اور کی عبادت ہی نہ کرتے، نہ اس کے فرمان کے بغیر کسی چیز کو حرام کرتے۔ یہی فعل ان سے پہلے لوگوں کا رہا۔ تو رسولوں پر تو صرف کھلم کھلا پیغام پہنچا دینا ہے"۔ [النحل: ۳۵]

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَــرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا } "سو قسم ہے تیرے رب کی ! یہ مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کردیں ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کرلیں"۔ [النساء: ۶۵] اور اللہ عز وجل نے فرمایا: { أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَنْ بِهِ اللَّهُ} "کیا ان لوگوں نے ایسے (اللہ کے) شریک (مقرر کر رکھے) ہیں جنہوں نے ایسے احکام دین مقرر کردیئے، جو اللہ کے فرمائے ہوئے نہیں ہیں"۔ [الشوری: ۲۱] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُوْنَ ۭوَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُّوْقِنُوْنَ} "کیا یہ لوگ پھر سے جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں یقین رکھنے والے لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ سے بہتر فیصلے اور حکم کرنے والا کون ہوسکتا ہے"۔ [المائدۃ: ۵۰]

۱۵۔ شرک اکبر میں سے ہے: محبت کا شرک، یعنی آدمی کسی مخلوق سے ایسی محبت کرے جس میں تذلل و خضوع اور تعظیم ہو، یہ شرک ہے کیوں کہ مشرکین بتوں سے اسی طرح محبت کرتے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی حقیقت بیان کرتے ہو ئے فرمایا: {وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْدَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ} "بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے شریک اوروں کو ٹھہرا کر ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسی محبت اللہ سے ہونی چاہیے"۔ [البقرۃ: ۱۶۵] عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ’’سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ؟ قَالَ: أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ.....‘‘ میں نے نبی ﷺ سے پوچھا کون سا گناہ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا ہے؟ فرمایا : آپ اللہ کا شریک بنائیں جب کہ اس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ (صحیح بخاری: ۴۴۷۷، صحیح مسلم: ۸۶، سنن أبی داود: ۲۳۱۰، جامع الترمذی: ۳۱۸۲، سنن النسائی: ۴۰۱۳)

۱۶۔ شرک کى قسموں میں سے ایک ہے: خوف وخشیت کا شرک، یعنی ایک انسان کسی مخلوق سے ایسا خوف کھائے یا اس سے ایسى خشیت رکھے کہ جس میں خضوع وتذلل اور تعظیم ہو، جیسے اس سے اس لئے ڈر ے کہ وہ کہیں اسے کسی مصیبت میں مبتلا نہ کردے، یا وہ خیر کا کوئی راستہ اس پر بند نہ کردے، یا اس کے ڈر کی وجہ سے اس کا تقرب حاصل کرنے کے لئے کسی حرام کام کا ارتکاب کر بیٹھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {إِنَّمَا ذَلِكُمُ الشَّيْطَانُ يُخَوِّفُ أَوْلِيَاءَهُ فَلَا تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ} "یہ خبر دینے والا شیطان ہی ہے جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے تم ان کافروں سے نہ ڈرو اور میرا خوف رکھو اگر تم مومن ہو"۔ [آل عمران: ۱۷۵] مشرکوں کا یہ عقیدہ تھا کہ ان کے معبود انہیں نفع و نقصان پہونچاتے ہیں، اسی لئے انہوں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ ان کے معبودوں نے اللہ کے نبی ہود علیہ السلام کو تکلیف پہونچایا ہے، جیسا کہ ان لوگوں نے کہا: {إِنْ نَقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ} "بلکہ ہم تو یہی کہتے ہیں کہ ہمار ے کسی معبود کے بڑے جھپٹے میں آگیا ہے، اس نے جواب دیا کہ میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں اللہ کے سوا ان سب سے بیزار ہوں، جنہیں تم شریک بنا رہے ہو"۔ [ھود: ۵۴] مذکورہ آیت کی تفسیر میں مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’{إِنْ نَقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ} قَالَ:أَصَابَتْكَ الْأَوْثَانُ بِجُنُونٍ‘‘۔ «بلکہ ہم تو یہی کہتے ہیں کہ ہمار ے کسی معبود کے بڑے جھپٹے میں آگیا ہے، فرمایا: کہ تمہیں بتوں نے جنون میں مبتلا کردیا ہے»۔ (تفسیر الطبری(۳۶۱/ ۱۵) اور اللہ تعالیٰ نے ملت حنیفیہ والے ابرہیم علیہ السلام کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرمایا: {وَكَيْفَ اَخَافُ مَآ اَشْرَكْتُمْ وَلَا تَخَافُوْنَ اَنَّكُمْ اَشْرَكْتُمْ بِاللّٰهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهٖ عَلَيْكُمْ سُلْطٰنًا} "اور میں ان چیزوں سے کیسے ڈروں جن کو تم نے شریک بنایا ہے حالانکہ تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ تم نے اللہ کے ساتھ ایسی چیزوں کو شریک ٹھہرایا ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نہیں فرمائی"۔ [الانعام: ۸۱]

دور جاہلیت میں لوگ جنوں کے سرداروں کی پناہ طلب کرتے تھے شرارتی جنوں کے خوف سے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَأَنَّهُ كَانَ رِجَالٌ مِنَ الْإِنْسِ يَعُوذُونَ بِرِجَالٍ مِنَ الْجِنِّ فَزَادُوهُمْ رَهَقًا} "بات یہ ہے کہ چند انسان بعض جنات سے پناہ طلب کیا کرتے تھے جس سے جنات اپنی سرکشی میں اور بڑھ گئے"۔ [الجن: ۶]

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ اِذَا فَرِيْقٌ مِّنْھُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللّٰهِ اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً } "پھر جب انہیں جہاد کا حکم دیا گیا تو اسی وقت ان کی ایک جماعت لوگوں سے اس قدر ڈرنے لگی جیسے اللہ تعالیٰ کا ڈر ہو، بلکہ اس سے بھی زیادہ"۔ [النساء: ۷۷] اللہ تعالیٰ نے اس بات کی بھی وضـاحت کردیا ہے کہ اس سے صرف اس کے اولیاء ہی ڈرتے ہیں، جیساکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {الَّذِيْنَ يُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰهِ وَيَخْشَوْنَهٗ وَ لَا يَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰهَ ۭوَكَفٰى بِاللّٰهِ حَسِيْبًا} "یہ سب ایسے تھے کے اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچایا کرتے تھے اور اللہ ہی سے ڈرتے تھے اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے تھے، اللہ تعالیٰ حساب لینے کے لئے کافی ہے"۔ [الأحزاب: ۳۹] اور یہ بھی فر مایا: {إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّهَ فَعَسَى أُولَئِكَ أَنْ يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ} "اللہ کی مسجدوں کی رونق و آبادی تو ان کے حصے میں ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں، نمازوں کے پابند ہوں، زکوٰۃ دیتے ہوں، اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے ہوں، توقع ہے یہی لوگ یقیناً ہدایت یافتہ ہیں"۔ [التوبۃ: ۱۸] اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جادوگروں نے اپنے ایمان لانے کے بعد اللہ کے خوف کو فرعون اور اس کے عذاب کے خوف پر فوقیت دی۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کے قول کے بارے میں بتاتے ہوئے فرمایا: {قَالُوا لَنْ نُؤْثِرَكَ عَلَى مَا جَاءَنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالَّذِي فَطَرَنَا فَاقْضِ مَا أَنْتَ قَاضٍ إِنَّمَا تَقْضِي هَذِهِ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا *۔ "انہوں نے جواب دیا کہ ناممکن ہے کہ ہم تجھے ترجیح دیں ان دلیلوں پر جو ہمارے سامنے آچکیں اور اس اللہ پر جس نے ہمیں پیدا کیا ہے اب تو، تو جو کچھ کرنا چاہے وہ کر گزر، تو جو کچھ بھی حکم چلا سکتا ہے وہ اسی دنیوی زندگی میں ہی ہے"۔ إِنَّا آمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغْفِرَ لَنَا خَطَايَانَا وَمَا أَكْرَهْتَنَا عَلَيْهِ مِنَ السِّحْرِ وَ اللَّهُ خَيْرٌ وَأَبْقَى } "ہم [اس امید سے ] اپنے رب پرایمان ﻻئے کہ وہ ہماری خطائیں معاف فرما د ے اور (خاص کر) جادوگری (کا گناہ)، جس پر تم نے ہمیں مجبور کیا ہے، اللہ ہی بہتر اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہے" ۔ [طہ: ۷۲- ۷۳]

۱۷۔ شرک اکبر کى قسموں سے ایک ہے: رجا وامید کا شرک، یعنی جس پر صرف اللہ قادرہو اس کی امید اللہ کے علاوہ کسی زند ہ حاضر مخلوق یا کسى غائب سے لگانار یا کسی مردے سے تکلیف دور کرنے، ضرورت پوری کرنے اور قیامت کے دن شفاعت کرنے کی امید رکھنا، مشرکین کو اپنے معبودوں سے یہی امید تھی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے اپنے معبودوں کی عبادت کا سبب بیان کرتے ہوئے فرمایا: {مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِيُقَرِّبُوْنَآ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى } "ہم ان کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ یہ اللہ کی نزدیکی کے مرتبہ تک ہماری رسائی کرا دیں"۔ [الزمر: ۳] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {إِنْ تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ} "اگر تم انہیں پکارو وہ تمہاری پکار سنتے ہی نہیں اور اگر (با لفرض) سن بھی لیں تو فریاد رسی نہیں کریں گے بلکہ قیامت کے د ن تمہار ے شریک اس شرک کا صاف انکار کر جائیں گے آپ کو کوئی بھی حق تعالیٰ جیسا خبردار خبریں نہ د ے گا"۔ [فاطر: ۱۴] اور یہ واضح کردیا کہ یہ شرکاء کسی بھی چیز کے مالک نہیں ہیں, جیسا کہ اللہ عز وجل نے فرمایا: {قُلْ أَرَأَيْتُمْ شُرَكَاءَكُمُ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَرُونِي مَاذَا خَلَقُوا مِنَ الْأَرْضِ أَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِي السَّمَاوَاتِ أَمْ آتَيْنَاهُمْ كِتَابًا فَهُمْ عَلَى بَيِّنَتٍ مِنْهُ بَلْ إِنْ يَعِدُ الظَّالِمُونَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا إِلَّا غُرُورًا} "آپ کہئے ! کہ تم اپنے قرار داد شریکوں کا حال تو بتاؤ جن کو تم اللہ کے سوا پوجا کرتے ہو، مجھے یہ بتلاؤ کہ انہوں نے زمین میں کون سا (جز) بنایا ہے یا ان کا آسمانوں میں کچھ ساجھا ہے یا ہم نے ان کو کوئی کتاب دی ہے کہ یہ اس کی دلیل پر قائم ہوں بلکہ یہ ظالم ایک دوسر ے سے نرے دھوکے کی باتوں کا وعدہ کرتے آتے ہیں"۔ [فاطر: ۴۰] اور یہ بھی واضح کردیا کہ بروز قیامت ان کے متبعین سے کہا جا ئے گا: {وَقِيْلَ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَهُمْ وَرَاَوُا الْعَذَابَ ۚ لَوْ اَنَّهُمْ كَانُوْا يَهْتَدُوْنَ} "کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو بلاؤ وہ بلائیں گے لیکن انھیں وہ جواب تک نہ دیں گے اور سب عذاب دیکھ لیں گے کاش یہ لوگ ہدایت پالیتے"۔ [القصص: ۶۴] اسی طرح مشرکین کے اپنے معبودوں کو پکارنے پر قرآن مجید میں جتنی دلیلیں آئی ہیں وہ سب شرک رجاء پر دلالت کرتی ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {لَا جَرَمَ أَنَّمَا تَدْعُونَنِي إِلَيْهِ لَيْسَ لَهُ دَعْوَةٌ فِي الدُّنْيَا وَلَا فِي الْآخِرَةِ وَأَنَّ مَرَدَّنَا إِلَى اللَّهِ وَأَنَّ الْمُسْرِفِينَ هُمْ أَصْحَابُ النَّارِ} "یہ یقینی امر ہے کہ مجھے جس کی طرف بلارہے ہو وہ تو نہ دنیا میں پکارے جانے کے قابل ہے نہ آخرت میں اور یہ بھی (یقینی بات ہے) کہ ہم سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے اور حد سے گزر جانے والے ہی (یقیناً ) اہل دوزخ ہیں"۔ [غافر: ۴۳] یعنی اگر وہ یہ یقین نہیں کرتے کہ وہ ان کا جواب دیں گے تو قوم فرعون کا مومن اس کا انکار نہیں کرتا۔

۱۸۔ شرک میں سے جادو کرنا بھى ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَمَا كَفَرَ سُلَيْمٰنُ وَلَكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّى يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ}۔ "سلیمان نے تو کفر نہ کیا تھا، بلکہ یہ کفر شیطانوں کا تھا، وہ لوگوں کو جادو سکھایا کرتے تھے اور وہ جو بابل میں ہاروت ماروت دو فرشتوں پر اتارا گیا تھا، وہ دونوں بھی کسی شخص کو اس وقت تک نہیں سکھاتے تھے، جب تک یہ نہ کہہ دیں کہ ہم تو ایک آزمائش ہیں تو کفر نہ کر"۔ [البقرۃ: ۱۰۲] اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ: ’’اجْتَنِبُوا السَّبْعَ المُوبِقَاتِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا هُنَّ؟ قَالَ: الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَالسِّحْرُ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالحَقِّ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَأَكْلُ مَالِ اليَتِيمِ، وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ، وَقَذْفُ المُحْصَنَاتِ المُؤْمِنَاتِ الغَافِلاَتِ ‘‘۔ ہلاک کرنے والے سات گناہوں سے بچو، لوگوں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! وہ کیا ہیں؟ فرمایا: (۱)اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا (۲)جادو کرنا (۳)اس نفس کو نا حق قتل کرنا جسے اللہ نے حرام کیا ہے (۴)سود کھانا (۵)یتیم کا مال کھانا (۶) لڑائی کے دن پیٹھ پھیر کر بھاگ جانا (۷) پاک دامن بھولی بھالی ایمان والی عورتوں پر تہمت لگانا۔ (صحیح بخاری: ۲۷۶۶، صحیح مسلم: ۸۹ ، سنن أبی داود: ۲۸۷۴، سنن النسائی: ۳۶۷۱)

اور عمرو بن دینار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اور یہ بات انہوں نے بجالہ سے سنا ہے، وہ عمرو بن اوس اور ابو الشعثاء سے بیان کررہے تھے کہ: "میں احنف بن قیس کے چچا جزء ابن معاویہ کا کاتب تھا کہ ہمارے پاس عمر کا خط ان کی وفات سے ایک سال پہلے آیا (اس میں لکھا تھا کہ) ہر جادو گر کو قتل کر دو"۔ (سنن أبی داود: ۳۰۴۳، مصنف عبد الرزاق الصنعانی: ۹۹۷۲، سنن سعيد بن منصور: ۲۱۸۰، مسند أحمد: ۱۶۵۷)

اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’مَنْ اقْتَبَسَ عِلْمًا مِنَ النُّجُومِ، اقْتَبَسَ شُعْبَةً مِنَ السِّحْرِ زَادَ مَا زَادَ‘‘۔ "جس نے علم نجوم کا کوئی حصہ اخذ کیا تو اس نے جادو کا ایک حصہ اخذ کیا، وہ جتنا اضافہ کر ے گا اتنا ہی اضافہ ہو گا"۔ (سنن أبی داود: ۳۹۰۵، سنن ابن ماجہ: ۳۷۲۶، مصنف ابن أبی شیبۃ: ۲۶۱۵۹، مسند أحمد : ۲۰۰۰، المنتخب من مسند عبد بن حميد: ۷۱۴)

۱۹۔ کہانت اور عرافہ بھی شرک اکبر ہے؛ کیوں کہ جو شخص یہ پیشہ اپناتا ہے وہ اصلاعلم غیب کا دعوی کرتا ہے اور علم غیب کے سلسلے میں اللہ تعالی فرماتا ہے: {عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا* "وہ غیب کا جاننے والا ہے اور اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا۔ إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا} سوائے اس رسول کے جسے وہ پسند کرلے لیکن اس کے بھی آگے پیچھے پہر ے دار مقرر کردیتا ہے"۔ [الجن: ۲۶- ۲۷] ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا بعض ازواج مطہرات سے روایت کرتی ہیں جنہوں نے نبی صلى اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’مَنْ أَتَى عَرَّافًا فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ، لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً‘‘۔ "جو کسی عراف کے پاس آیا اور اس سے کوئی چیز پوچھى تو چالیس رات اس کی کوئی نماز قبول نہیں کی جا ئے گی"۔ (صحیح مسلم: ۲۲۳۰)

ابو ہریرہ اور حسن رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’جو کسی کاہن کے پاس گیا اور اس کی بات کی تصدیق کی، اس نے محمد ﷺ کے لائے ہوئے دین کا انکار کیا‘‘۔ (یہ حدیث مسند أحمد: ۹۵۳۶ اور سنن أبی داود: ۳۹۰۴، میں ابو ہریرہ اور حسن سے مروى ہے۔ اورجامع الترمذی: ۱۳۵، سنن ابن ماجہ: ۶۳۹ ، مصنف ابن أبی شیبہ: ۱۷۰۷۷، مسند اسحاق بن راہویہ: ۴۸۲، ۲۔ مسند أحمد: ۹۲۹۰ میں ابو ہریرہ سے مروى ہے۔)

ہمیں معلوم ہے کہ شرک اصغر کے ارتکاب سے کوئی ملت کے دائر ے سے خارج نہیں ہوجاتا اور نہ وہ ہمیشہ ہمیش جہنم میں رہے گا اور نہ اس کے اعمال برباد ہوں گے اور اس کی بہت ساری قسمیں ہیں، جن میں سے چند کا تذکرہ مندرجہ ذیل سطور میں آرہا ہے:

۱۔ بدشگونی، بدشگونی اس کہتے ہیں جو آپ کو کسی کام کے کرنے پر آمادہ کر ے یا اس سے روک د ے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فَاِذَا جَاۗءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖ ۚ وَاِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَّطَّيَّرُوْا بِمُوْسٰي وَمَنْ مَّعَهٗ ۭاَلَآ اِنَّمَا طٰۗىِٕرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ} "سو جب خوشحالی آجاتی تو کہتے یہ تو ہمارے لئے ہونا ہی تھا اور اگر ان کو کوئی بدحالی پیش آتی تو موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کی نحوست بتلاتے، یاد رکھو! ان کی نحوست اللہ تعالیٰ کے پاس ہے لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے"۔ [الأعراف: ۱۳۱] اور اللہ عز وجل نے فرمایا: {قَالُوْا طَاۗىِٕرُكُمْ مَّعَكُمْ ۭ اَىِٕنْ ذُكِّرْتُمْ ۭ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ} "ان رسولوں نے کہا کہ تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہی لگی ہوئی ہے، کیا اس کو نحوست سمجھتے ہو کہ تم کو نصیحت کی جائے بلکہ تم حد سے نکل جانے والے لوگ ہو"۔ [یس: ۱۹] اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ، وَلاَ هَامَةَ وَلاَ صَفَرَ‘‘۔ (کوئی بیماری) متعدی نہیں ہوتی، نہ (کسی چیز میں) نحوست ہے، الو منحوس نہیں ہےاورماہ صفر بھی منحوس نہیں ہے"۔ (صحیح بخاری: ۵۷۰۷، صحیح مسلم: ۲۲۲۰، سنن أبی داود: ۳۹۱۱)

عروہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ’’ذُكِرَتِ الطِّيَرَةُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: نبی ﷺ کے پاس طیرہ (بدشگونی) کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: أَحْسَنُهَا الْفَأْلُ وَلَا تَرُدُّ مُسْلِمًا، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يَكْرَهُ فَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ لَا يَأْتِي بِالْحَسَنَاتِ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا يَدْفَعُ السَّيِّئَاتِ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ‘‘۔ "اس کی سب سے اچھی قسم نیک فال ہے اوروہ کسی مسلمان کونہیں روکتا، اس لئے جب تم میں کا کوئی ایسی چیز دیکھے جو اسے ناگوار ہو تو وہ یہ کہے:’’اللَّهُمَّ لَا يَأْتِي بِالْحَسَنَاتِ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا يَدْفَعُ السَّيِّئَاتِ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ‘‘۔ اے اللہ! تیرے سوا کوئی بھلائیوں کو نہیں پہنچاتا اور تیرے سواکوئی برائیوں کو دور نہیں کر سکتا، نیکیوں کى طاقت و قوت اور برائیوں سے پھرنا تیری ہی توفیق سے ہے"۔ (سنن أبی داود: ۳۹۱۹، مصنف ابن أبی شیبہ: ۲۶۹۲۰، الأدب لإبن أبی شیبہ: ۱۶۲، السنۃ لأبی بکر بن خلال: ۱۴۰۵)

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’«مَنْ رَدَّتْهُ الطِّيَرَةُ مِنْ حَاجَةٍ، فَقَدْ أَشْرَكَ»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا كَفَّارَةُ ذَلِكَ؟ قَالَ: «أَنْ يَقُولَ أَحَدُهُمْ: اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُكَ، وَلَا طَيْرَ إِلَّا طَيْرُكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ‘‘۔ ”جس کو بد شگونى کسی کام سے روکے اس نے شرک کیا۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! اس کا کفارہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کہنا چاہیے: اے اللہ، تیری خیر کے سوا کوئی خیر نہیں ہے، تیرے شگون کے سوا کوئی شگون نہیں، اور تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے‘‘۔ ( الجامع لإبن وھب: ۶۵۸، مسند أحمد: ۷۰۴۵، المعجم الکبیر للطبرانی : ۱۴۶۲۲، عمل الیوم والیلۃ لابن السنی: ۲۹۲۔ الفاظ مسند احمد کے ہیں۔)

۲۔ شرک اصغر کى اقسام میں سے ایک ہے: تعویذ کا لٹکانا ابو بشیر انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ’’أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: وَالنَّاسُ فِي مَبِيتِهِمْ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَسُولًا أَنْ: لاَ يَبْقَيَنَّ فِي رَقَبَةِ بَعِيرٍ قِلاَدَةٌ مِنْ وَتَرٍ، أَوْ قِلاَدَةٌ إِلَّا قُطِعَتْ ‘‘ وہ ایک سفر میں اللہ کے رسول ﷺکے ساتھ تھے، عبداللہ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا کہ لوگ اپنی خواب گاہوں میں تھے تو اللہ کے رسول ﷺ نے ایک قاصد( یہ اعلان کرنے کے لیے ) بھیجا کہ کسی اونٹ کى گردن میں تانت کا ہار ہو یا ہار ہو تو وہ باقی نہ رہے بلکہ اسے کاٹ دیا جا ئے۔ (صحیح بخاری: ۳۰۰۵، صحیح مسلم: ۲۱۱۵، سنن أبی داود: ۲۵۵۲)

اور عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا میں اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ’’إِنَّ الرُّقَى، وَالتَّمَائِمَ، وَالتِّوَلَةَ شِرْكٌ‘‘۔ جھاڑ پھونک، تعویذ اور عورت مرد کے درمیان محبت پیدا کرنے کے لئے کیا جانے والا جادو، شرک ہے۔ (سنن أبی داود: ۳۸۸۳، سنن ابن ماجہ: ۳۵۳۰، الجامع لمعمر بن أبي عمرو راشد الأزدي: ۲۰۳۴۳، مصنف ابن أبی شیبہ: ۲۳۹۲۴، مسند أحمد: ۳۶۱۵)

اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’مَنْ تَعَلَّقَ شَيْئًا وُكِلَ إِلَيْهِ‘‘۔ "جو کوئی چیز لٹکایا وہ اسی کے حوالے کردیا جا ئے گا"۔ (جامع الترمذی: ۲۰۲۷، مصنف ابن أبی شیبہ: ۲۳۹۲۳، مسند ابن أبی شیبہ: ۷۸۶، مسند أحمد: ۱۸۷۸۱)

۳۔ شرک اصغر کى ایک قسم ہے: ریا کاری و دکھاوا، جب کسی کا دل ریاکاری و دکھاوا سے بھر جاتا ہے تو وہ عمل صالح بغیر نیت، بغیر ایمان اور بغیر خشیت الہی کے کرتا ہے اور یہ شخص خالص منافق ہے، اس کا عمل برباد، مردود اور غیر مقبول ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فَمَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَاۗءَ رَبِّهٖ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖٓ اَحَدًا} "تو جسے بھی اپنے رب سے ملنے کی آرزو ہو اسے چاہیے کہ نیک اعمال کر ے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کر ے"۔ [الکھف: ۱۱۰] اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’أَنَا أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ، مَنْ عَمِلَ عَمَلًا أَشْرَكَ فِيهِ مَعِي غَيْرِي، تَرَكْتُهُ وَ شِرْكَهُ‘‘۔ میں تمام شرکاء میں شرک سے سب سے زیادہ بے نیاز ہوں جس نے کوئی ایسا عمل کیا کہ اس میں میر ے ساتھ میر ے علاوہ کو شریک کیا تو میں اسے اور اس کے شریک کو چھوڑ دیتا ہوں۔ (صحیح مسلم: ۲۹۸۵)

اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’ إِنَّ أَوَّلَ النَّاسِ يُقْضَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهِ رَجُلٌ اسْتُشْهِدَ، فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا، قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا ؟ قَالَ: قَاتَلْتُ فِيكَ حَتَّى اسْتُشْهِدْتُ، قَالَ: كَذَبْتَ، وَلَكِنَّكَ قَاتَلْتَ لِأَنْ يُقَالَ: جَرِيءٌ، فَقَدْ قِيلَ، ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ، وَعَلَّمَهُ وَقَرَأَ الْقُرْآنَ، فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا، قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ قَالَ: تَعَلَّمْتُ الْعِلْمَ، وَعَلَّمْتُهُ وَقَرَأْتُ فِيكَ الْقُرْآنَ، قَالَ: كَذَبْتَ، وَلَكِنَّكَ تَعَلَّمْتَ الْعِلْمَ لِيُقَالَ: عَالِمٌ، وَقَرَأْتَ الْقُرْآنَ لِيُقَالَ: هُوَ قَارِئٌ، فَقَدْ قِيلَ، ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ وَسَّعَ اللهُ عَلَيْهِ، وَأَعْطَاهُ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ كُلِّهِ، فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا، قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ قَالَ: مَا تَرَكْتُ مِنْ سَبِيلٍ تُحِبُّ أَنْ يُنْفَقَ فِيهَا إِلَّا أَنْفَقْتُ فِيهَا لَكَ، قَالَ: كَذَبْتَ، وَلَكِنَّكَ فَعَلْتَ لِيُقَالَ: هُوَ جَوَادٌ، فَقَدْ قِيلَ، ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ، ثُمَّ أُلْقِيَ فِي النَّار‘‘۔ لوگوں میں سب سے پہلے بروزِ قیامت جس کا فیصلہ ہو گا وہ ایک شہید کیا گیا ہوگا، اسے لایا جائے گا، تو اللہ اسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا تو وہ پہچان لے گا۔ ( اللہ ) پوچھے گا: تو نے اس سلسلے میں کیا کیا؟ وہ بولے گا: میں نے تیری راہ میں لڑائی کیا یہاں تک کہ شہید کر دیا گیا،( اللہ) کہے گا: تو نے جھوٹ کہا، تو نے اس لئے لڑائی کیا تھا تاکہ تو بہادر کہا جا ئے اور تجھے بہادر کہا گیا، پھر حکم دیا جا ئے گا، تو اسے چہر ے کے بل گھسیٹا جا ئے گا حتی کہ اسے جہنم میں ڈال دیا جا ئے گا، اور ایک اور شخص ہو گا جس نے دین کا علم سیکھا اور سکھایا ہوگا اور قرآن پڑھا ہوگا، اسے لا یا جائے گا اور اسے وہ (اللہ ) اپنی نعمتیں یاد دلا ئے گا تو وہ اسے پہچان لے گا، تب کہے گا کہ تو نے اس سلسلے میں کیا کیا؟ وہ کہے گا: میں نے علم حاصل کیا اور سکھایا اور تیر ے لئے قرآن پڑھا، (اللہ ) فرمائے گا: تو جھوٹ بولتا ہے، تو نے اس لیے علم حاصل کیا تھا تاکہ تجھے عالم کہا جا ئے اور قرآن اس لیے پڑھا تھا تاکہ تو قاری کہا جا ئے، اور کہا گیا، پھر حکم دیا جا ئے گا، تو اسے چہرے کے بل گھسیٹا جا ئے گا حتی کہ اسے جہنم میں ڈال دیا جا ئے گا، اور ایک ایسا شخص ہو گا جس پر اللہ نے مال نچھاور کیا ہوگا اور اسے ہر طرح کا مال دیا ہوگا، اسے لایا جائے گا تو ( اللہ ) اسے اپنی نعمتیں دکھلائے گا تو وہ پہچان لے گا، ( اللہ ) پوچھے گا: تو نے اس سلسلے میں کیا کیا؟ وہ کہے گا: میں نے کوئی ایسی راہ نہیں چھوڑی جس میں خرچ کرنا تو پسند کرتا ہے مگر یہ کہ اس میں، میں نے تیرے لئے خرچ کیا، ( اللہ )فرمائے گا: تو جھوٹا ہے، تو نے اس لیے خرچ کیا تھا تاکہ سخی کہا جا ئے اور تو کہا گیا، پھر حکم دیا جا ئے گا، تو اسے چہر ے کے بل گھسیٹا جا ئے گا حتی کہ اسے جہنم میں ڈال دیا جا ئے گا۔ (صحیح مسلم: ۱۹۰۵، جامع الترمذی: ۲۳۸۲، سنن النسا ئی: ۳۱۳۷)

اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ ، وَمَنْ يُرَائِي يُرَائِي اللَّهُ بِهِ‘‘۔جو شخص لوگوں کو سنانے کے لیے عمل کرے گا‘ اللہ اس کے بارے میں لوگوں کو سنائے گا اور جو دکھاوے کے طور عمل کرے گا اللہ اس کے ساتھ دکھاوے کا معاملہ کرے گا۔ (صحیح بخاری: ۶۴۹۹، صحیح مسلم: ۲۹۸۷، سنن ابن ماجۃ: ۴۲۰۷)

اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’مَنْ سَمَّعَ النَّاسَ بِعَمَلِهِ، سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ سَامِعَ خَلْقِهِ، وَحَقَّرَهُ وَصَغَّرَهُ‘‘۔ جو لوگ اپنے عمل کے ذریعہ لوگوں کو سنانا چاہے گا اللہ اس کے بارے میں اپنى مخلوق کو سنائے گا، اس کو حقیر بنادے گا اور اسے چھوٹا کردے گا۔ ( الزھد لإبن المبارک: ۱۴۱، مصنف ابن أبی شیبۃ: ۳۶۴۴۸، الزھد لھناد بن السری: ۸۷۲، مسند أحمد: ۶۵۰۹، الزھد للإمام أحمد بن حنبل: ۲۳۸)

ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ’’جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا القِتَالُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ فَإِنَّ أَحَدَنَا يُقَاتِلُ غَضَبًا، وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً، فَرَفَعَ إِلَيْهِ رَأْسَهُ، قَالَ: وَمَا رَفَعَ إِلَيْهِ رَأْسَهُ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ قَائِمًا، فَقَالَ: مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ العُلْيَا، فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ‘‘۔ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ اے اللہ کے رسول ! اللہ کی راہ میں لڑائی کیا ہے؟ کیونکہ ہم میں سے کوئی غصہ کی وجہ سے قتال کرتا ہے اور کوئی غیرت کی وجہ سے قتال کرتا ہے تو آپ نے اس کی طرف اپنا سر اٹھایا، فر ماتے ہیں کہ آپ نے اپنا سر نہیں اٹھایا مگر اس لیے کہ وہ کھڑا تھا، اور فرمایا: جو اعلاء کلمۃ اللہ کے لیے لڑے وہی اللہ عزوجل کی راہ میں (لڑتا) ہے۔ (صحیح بخاری: ۱۲۳، صحیح مسلم: ۱۹۰۴، سنن أبی داود: ۲۵۱۷، جامع الترمذی: ۱۶۴۶، سنن النسا ئی: ۳۱۳۶، سنن إبن ماجہ: ۲۷۸۳)

اور ہم جانتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے اس کا نام مخفی شرک رکھا ہے۔ محمود بن لبید سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ’’إِيَّاكُمْ وَشِرْكَ السَّرَائِرِ، قَالُوا: وَمَا شِرْكُ السَّرَائِرِ؟ قَالَ: أَنْ يَقُومَ أَحَدُكُمْ يُزَيِّنُ صَلَاتَهُ جَاهِدًا لِيَنْظُرَ النَّاسُ إِلَيْهِ، فَذَلِكَ شِرْكُ السَّرَائِرِ‘‘۔ اپنے آپ کو شرک السرائر (مخفی شرک) سے بچاؤ، لوگوں نے کہا کہ شرک السرائر کیا ہے؟ فرمایا تم میں کا ایک شخص اپنی نماز خوب مزین کرے تاکہ لوگ اس کی طرف دیکھیں یہی شرک السرائر ہے۔ ( مصنف ابن أبی شیبۃ: ۸۴۰۳، صحیح ابن خزیمۃ: ۹۳۷، المعجم الکبیر للطبرانی: ۴۳۰۱، السنن الکبری للبیہقی: ۳۶۲۹، شعب الإیمان للبیہقی: ۲۸۷۲)

اور اللہ کے رسول ﷺ نے واضح کیا کہ ریاکاری بہت ہی مخفی گناہ ہے، نبی کریمﷺ کو اپنی امت پر اسی ریاکاری کا خوف سب سے زیادہ تھا حتی کہ فتنۂ دجال سے بھی زیادہ، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا هُوَ أَخْوَفُ عَلَيْكُمْ عِنْدِي مِنَ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ؟ قَالَ: قُلْنَا: بَلَى، فَقَالَ: الشِّرْكُ الْخَفِيُّ، أَنْ يَقُومَ الرَّجُلُ يُصَلِّي، فَيُزَيِّنُ صَلَاتَهُ، لِمَا يَرَى مِنْ نَظَرِ رَجُلٍ‘‘۔ کیا تمہیں نہ بتادوں اس چیز کی بابت جس سے میں تم پر مسیح دجال سے بھی زیادہ خوف کھاتا ہوں؟ (صحابی رسول ) فرماتے ہیں کہ ہم نے کہا کیوں نہیں؟ تو (آپ ﷺ نے ) فرمایا شرک خفی یعنی آدمی نماز پڑھے تو اسے دیکھنے والے آدمی کے لئے مزین کرے۔ ( سنن ابن ماجہ: ۴۲۰۴، مسند أحمد: ۱۱۲۵۲، الفتن لحنبل بن اسحاق: ۳۰ ، تہذیب الآثار مسند عمر: ۱۱۱۷)

۴۔ دینی عمل کے ذریعہ دنیا کمانے کا ارادہ کرنا بھی شرک اصغرہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {مَنْ كَانَ يُرِيْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِيْ حَرْثِهٖ ۚ وَمَنْ كَانَ يُرِيْدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَمَا لَهٗ فِي الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِيْبٍ} "جس کا ارادہ آخرت کی کھیتی کا ہو ہم اسے اس کی کھیتی میں ترقی دیں گے اور جو دنیا کی کھیتی کی طلب رکھتا ہو ہم اسے اس میں سے ہی کچھ د ے دیں گے ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں"۔ [الشوری: ۲۰] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَيْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِيْهَا وَهُمْ فِيْهَا لَا يُبْخَسُوْنَ} "جو شخص دنیا کی زندگی اور اس کی زینت پر فریفتہ ہوا چاہتا ہو ہم ایسوں کو ان کے کل اعمال (کا بدلہ) یہیں بھرپور پہنچا دیتے ہیں اور یہاں انھیں کوئی کمی نہیں کی جاتی"۔ [ھود: ۱۵] البتہ یہ گناہ شرک اکبر بھی ہوسکتا ہے اور شرک اصغر بھی ہوسکتا ہے، نیت کے اعتبارسے اس پرحکم لگے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّــلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَاۗءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ ۚ يَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا} "جس کا ارادہ صرف اس جلدی والی دنیا (فوری فائدہ) کا ہی ہو اسے ہم یہاں جس قدر جس کے لئے چاہیں سردست دیتے ہیں بالآخر اس کے لئے ہم جہنم مقرر کردیتے ہیں جہاں وہ بر ے حالوں میں دھتکارا ہوا داخل ہوگا"۔ [الإسراء: ۱۸]

اور ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ’’جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يُقَاتِلُ لِلْمَغْنَمِ، وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِلذِّكْرِ، وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِيُرَى مَكَانُهُ، فَمَنْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ:مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ العُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ‘‘۔ ایک آدمی نبی ﷺکے پاس آیا تو اس نے کہا کہ ایک آدمی غنیمت حاصل کرنے کے لئے جہاد کرتا ہے، ایک آدمی شہرت کے لئے جہاد کرتا ہے اور ایک آدمی اس لئے جہاد کرتا ہے تاکہ اس کی اہمیت سمجھی جائے تو کون اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے؟ (آپ ﷺ نے ) فرمایا: جو کلمہ الہی کی بلندی کے لئے جہاد کرتا ہے وہ اللہ کی راہ میں ہے۔ (صحیح بخاری: ۲۸۱۰ ، صحیح مسلم: ۱۹۰۴، سنن ابی داؤد: ۲۵۱۷، سنن النسائی: ۳۱۳۶)۔ اور اللہ کے رسول ﷺ نے اس پر بدعا کی ہے جس کا مقصد محض دنیا کمانا ہو، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’تَعِسَ عَبْدُ الدِّينَارِ، وَالدِّرْهَمِ، وَالقَطِيفَةِ، وَالخَمِيصَةِ، إِنْ أُعْطِيَ رَضِيَ، وَإِنْ لَمْ يُعْطَ لَمْ يَرْضَ‘‘۔ "دینار و درہم اور چادر و کمبل کا بندہ ہلاک ہوگیا، اگر اسے دیا جا ئے تو خوش ہوتا ہے اور نہ دیا جا ئے تو نا خوش ہوتا ہے"۔ (صحیح بخاری: ۲۸۸۶، سنن ابن ماجہ: ۴۱۳۵)

۵۔ اسی طرح آدمی کا یہ کہنا کہ ’’جو اللہ چاہے اور تو چاہے‘‘ یا اس سے ملتے جلتے جملے کہنا بھی شرک اصغر ہے، جیسا کہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ:’’ ایک آدمی نے اللہ کے رسول ﷺ سے کہا:’’ جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں‘‘، تو اللہ کے رسول ﷺ نے اس سے فرمایا: ’’أجَعَلْتَنِي وَاللَّهَ عَدْلًا بَلْ مَا شَاءَ اللَّهُ وَحْدَهُ‘‘۔ "کیا، تونے مجھے اور اللہ کو برابر کردیا (ایسا نہ کہو ) بلکہ (کہو ) جو اکیلا اللہ چاہے۔" (مصنف ابن أبی شیبہ: ۲۷۲۲۷، مسند أحمد: ۱۸۳۹، الأدب المفرد: ۷۸۳،الصمت لإبن أبی الدنیا: ۳۴۲، أمالي الباغندي: ۳۶) اسی طرح انسان کا یہ کہنا کہ’’ یہ اللہ اور تیری طرف سے ہے‘‘ یا یہ کہنا کہ: "اگر اللہ اور فلاں نہ ہوتا تو ایسا نہیں ہوتا ‘‘ بھی اسی شرک اصغر کے قبیل سے ہے۔

اور ان ہی میں سے یہ بھی ہے: غیر اللہ کی قسم کھانا، اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’مَنْ كَانَ حَالِفًا فَلاَ يَحْلِفْ إِلَّا بِاللَّهِ، فَكَانَتْ قُرَيْشٌ تَحْلِفُ بِآبَائِهَا، فَقَالَ: لاَ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ‘‘۔ "خبر دار! جو قسم کھانا چاہے اللہ کے علاوہ کسی اور کی قسم نہ کھا ئے، قریش اپنے آباء کی قسم کھاتے تھے تو (آپ نے) فر مایا: اپنے آباء کی قسم نہ کھا ؤ"۔ (صحیح بخاری: ۳۸۳۶، صحیح مسلم: ۱۶۴۶، سنن النسائی: ۳۷۶۴) اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ فَقَدْ كَفَرَ أَوْ أَشْرَكَ‘‘۔ "جس نے غیر اللہ کی قسم کھائى اس نے کفر کیا، یا شرک کیا"۔ (جامع الترمذی: ۱۵۳۵، مسند أحمد: ۶۰۷۲، مستخرج أبي عوانہ: ۵۹۶۷، المستدرك على الصحيحين للحاکم: ۷۸۱۴)

باب: نفاق کا بیان

نفاق اکبر بھی ایمان باللہ کے مخالف ہے، اور اسلام کے ظاہر کرنے اور کفر کے چھپانے کا نام نفاق ہے، نفاق کی بھی دو قسمیں ہیں: (۱) نفاق اکبر۔(۲) نفاق اصغر۔ نفاق اکبراصل ایمان کی ضد ہے، اور نفاق اصغر کمال ایمان کی ضد ہے، امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اصول السنہ میں فر ماتے ہیں: ’’والنفاق هُوَ الْكفْر أَن يكفر بِاللَّه و يعبد غَيره وَيظْهر الْإِسْلَام فِي الْعَلَانِيَة مثل الْمُنَافِقين الَّذين كَانُوا على عهد رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم‘‘ اور نفاق کفر ہے یعنی اللہ کے ساتھ کفر کرے، اس کے علاوہ کی عبادت کرے اور اعلانیہ طور پر اسلام کا اظہار کرے، جیسے اللہ کے رسول ﷺ کے عہد میں منافقین کیا کرتے تھے۔ (اصول السنۃ لاحمد بن حنبل : ۵۵) اور نفاق اکبر کے ارتکاب سے انسان ملت کے دائرے سے خارج ہو جائے گا۔

شہادت الہی کی بنیاد پر ہم گواہی دیتے ہیں کہ منافقین اپنے ایمانی دعوی میں جھوٹے ہیں، جیسا کہ اللہ عزوجل نے فرمایا: {وَالَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّكُفْرًا وَّتَفْرِيْقًۢا بَيْنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَاِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ مِنْ قَبْلُ ۭوَلَيَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَآ اِلَّا الْحُسْنٰى ۭ وَاللّٰهُ يَشْهَدُ اِنَّھُمْ لَكٰذِبُوْنَ} "اور بعض ایسے ہیں جنہوں نے اغراض کے لئے مسجد بنائی ہے کہ ضرر پہنچائیں اور کفر کی باتیں کریں اور ایمانداروں میں تفریق ڈالیں اور اس شخص کے قیام کا سامان کریں جو اس سے پہلے اللہ اور رسول کا مخالف ہے، اور قسمیں کھائیں گے کہ بجز بھلائی کے اور ہماری کچھ نیت نہیں اور اللہ گواہ ہے کہ وہ بالکل جھوٹے ہیں"۔ [التوبۃ: ۱۰۷] اور اللہ عز وجل نے فرمایا: {وَاللّٰهُ يَشْهَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ لَكٰذِبُوْنَ} "اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافقین جھوٹے ہیں"۔ [المنافقون : ۱]

اللہ تعالیٰ منافقوں کا کوئی فرض ونفل قبول نہیں کرتا ہے، جیسا کہ فرمان الہی ہے: {قُلْ أَنْفِقُوا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا لَنْ يُتَقَبَّلَ مِنْكُمْ إِنَّكُمْ كُنْتُمْ قَوْمًا فَاسِقِينَ *۔ "کہہ دیجئے کہ تم خوشی یا ناخوشی کسی طرح بھی خرچ کرو قبول تو ہرگز نہ کیا جائے گا، یقیناً تم فاسق لوگ ہو۔ وَمَا مَنَعَهُمْ أَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقَاتُهُمْ إِلَّا أَنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ وَلَا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسَالَى وَلَا يُنْفِقُونَ إِلَّا وَهُمْ كَارِهُونَ} "کوئی سبب ان کے خرچ کی قبولیت کے نہ ہونے کا اس کے سوا نہیں کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کرنے والے ہیں اور بڑی کاہلی سے ہی نماز کو آتے ہیں اور بر ے دل سے ہی خرچ کرتے ہیں"۔ [التوبۃ: ۵۳- ۵۴]

اگر نفاق ہی پر منافق کی موت آجائے تواس کا ٹھکانہ جہنم ہے، جس میں وہ ہمیشہ ہمیش ہوگا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ ۚ وَلَنْ تَجِدَ لَھُمْ نَصِيْرًا} "منافق تو یقیناً جہنم کے سب سے نیچے کے طبقہ میں جائیں گے نا ممکن ہے کہ تو ان کا کوئی مدد گار پالے"۔ [النساء: ۱۴۵] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَعَدَ اللَّهُ الْمُنَافِقِينَ وَالْمُنَافِقَاتِ وَالْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا هِيَ حَسْبُهُمْ وَلَعَنَهُمُ اللَّهُ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُقِيمٌ} "اللہ تعالیٰ ان منافق مردوں، عورتوں اورکافروں سے جہنم کی آگ کا وعدہ کر چکا ہے جہاں یہ ہمیشہ رہنے والے ہیں، وہی انہیں کافی ہے ان پر اللہ کی پھٹکار ہے، اور ان ہی کے لئے دائمی عذاب ہے"۔ [التوبۃ: ۶۸]

ہمیں معلوم ہے کہ نفاق اکبر حق سے بغض اور کراہت کا سبب ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے منافقوں کے احوال پر گفتگو کرتے ہو ئے فرمایا: {ذَلِكَ بِأَنَّهُمُ اتَّبَعُوا مَا أَسْخَطَ اللَّهَ وَكَرِهُوا رِضْوَانَهُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَهُمْ *۔ "یہ اس بنا پر کہ یہ وہ راہ چلے جس سے انہوں نے اللہ کو ناراض کر دیا اور انہوں نے اس کی رضا مندی کو برا جانا، تو اللہ نے ان کے اعمال اکارت کر دیئے"۔ أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ أَنْ لَنْ يُخْرِجَ اللَّهُ أَضْغَانَهُمْ *۔ "کیا ان لوگوں نے جن کے دلوں میں بیماری ہے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اللہ ان کے کینوں کو ﻇاہر نہ کرے گا؟ وَلَوْ نَشَاءُ لَأَرَيْنَاكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُمْ بِسِيمَاهُمْ وَلَتَعْرِفَنَّهُمْ فِي لَحْنِ الْقَوْلِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَعْمَالَكُمْ } "(اے نبی ! ) اور اگر ہم چاہتے تو ان سب کو تجھے دکھا دیتے پس تو انہیں ان کے چہرے سے ہی پہچان لیتا، اور یقیناً تو انہیں ان کی بات کے ڈھب سے پہچان لے گا، تمہار ے سب کام اللہ کو معلوم ہیں"۔ [محمد: ۲۸- ۳۰]

نفاق وہ برائی ہے جو اسلام و اہل اسلام کی شکست و ریخت پر خوشی کاسبب ہے، کسی کو اسلام کی مدد کرتے ہو ئے دیکھ کرمنافقین کو افسوس ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ نے منافقوں کے دلوں کا حال بیان کرتے ہو ئے فرمایا: {اِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ ۚ وَاِنْ تُصِبْكَ مُصِيْبَةٌ يَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَآ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَيَتَوَلَّوْا وَّهُمْ فَرِحُوْنَ} "آپ کو اگر کوئی بھلائی مل جائے تو انہیں برا لگتا ہے اور کوئی برائی پہنچ جائے تو کہتے ہیں ہم نے اپنا معاملہ پہلے سے درست کرلیا تھا، اور وه بڑ ے ہی اتراتے ہوئے لوٹتے ہیں"۔ [التوبۃ: ۵۰]

نفاق وہ برائی ہے کہ ایمان لانے کے بعد بھی کفر اور قوانین شرعیہ کی قبولیت سے اعراض کا سبب بن جاتا ہے، جیسا کہ اللہ عزوجل نے فرمایا: {وَيَقُولُونَ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالرَّسُولِ وَأَطَعْنَا ثُمَّ يَتَوَلَّى فَرِيقٌ مِنْهُمْ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ وَمَا أُولَئِكَ بِالْمُؤْمِنِينَ * "اور کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ اور رسول پر ایمان ﻻئے اور فرماں بردار ہوئے، پھر ان میں سے ایک فرقہ اس کے بعد بھی پھر جاتا ہے، یہ ایمان والے ہیں ہی نہیں۔ وَإِذَا دُعُوا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ إِذَا فَرِيقٌ مِنْهُمْ مُعْرِضُونَ} "جب یہ اس بات کی طرف بلائے جاتے ہیں کہ اللہ اور اس کا رسول ان کے جھگڑ ے چکا دے تو بھی ان کی ایک جماعت منھ موڑنے والی بن جاتی ہے"۔ [النور: ۴۷ - ۴۸]

اسی نفاق کی وجہ سے انسان اللہ کے تعلق سے یہ بد گمانی رکھتا ہے کہ اللہ اپنے نبی اور دین کی مدد ہر گز نہیں کرے گا، جیسا کہ فرمان الہی ہے: {وَاِذْ يَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗٓ اِلَّا غُرُوْرًا} "اور اس وقت منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں (شک کا) روگ تھا کہنے لگے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے ہم سے محض دھوکا فریب کا ہی وعدہ کیا تھا"۔ [الأحزاب: ۱۲]

نفاق حق اور اہل حق کے ساتھ مذاق، تحقیر اور استہزاء کا سبب ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {يَحْذَرُ الْمُنَافِقُونَ أَنْ تُنَزَّلَ عَلَيْهِمْ سُورَةٌ تُنَبِّئُهُمْ بِمَا فِي قُلُوبِهِمْ قُلِ اسْتَهْزِئُوا إِنَّ اللَّهَ مُخْرِجٌ مَا تَحْذَرُونَ *۔ "منافقوں کو ہر وقت اس بات کا کھٹکا لگارہتا ہے کہ کہیں مسلمانوں پر کوئی سورت نہ اترے جو ان کے دلوں کی باتیں انہیں بتلا د ے۔ کہہ دیجئے کہ تم مذاق اڑاتے رہو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ اسے ظاہر کرنے والا ہے جس سے تم ڈر دبک رہے ہو۔ وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ قُلْ أَبِاللَّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ} اگر آپ ان سے پوچھیں تو صاف کہہ دیں گے کہ ہم تو یونہی آپس میں ہنس بول رہے تھے۔ کہہ دیجئے کہ اللہ، اس کی آیتیں اور اس کا رسول ہی تمہارے ہنسی مذاق کے لئے رہ گئے ہیں؟"۔ [التوبۃ: ۶۴- ۶۵]

اسی نفاق کی وجہ سے مسلمانوں کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جاتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اَلَّذِيْنَ يَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِيْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ فِي الصَّدَقٰتِ وَالَّذِيْنَ لَا يَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ فَيَسْخَرُوْنَ مِنْهُمْ ۭ سَخِرَ اللّٰهُ مِنْهُمْ ۡ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ} "جولوگ ان مسلمانوں پر طعنہ زنی کرتے ہیں جو دل کھول کر خیرات کرتے ہیں اور ان لوگوں پر جنہیں سوائے اپنی محنت مزدوری کے اور کچھ میسر ہی نہیں، پس یہ ان کا مذاق اڑاتے ہیں، اللہ بھی ان سے تمسخر کرتا ہے انہی کے لئے دردناک عذاب ہے" ۔ [التوبۃ: ۷۹]

نفاق درحقيقت اہل ایمان کو دھوکہ دینے اور اعمال کو دکھاوے لئے کرنے کا نام ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۚ وَمَا يَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ وَمَا يَشْعُرُوْنَ } "وہ اللہ تعالیٰ اور ایمان والوں کو دھوکا دیتے ہیں، لیکن دراصل وہ خود اپنے آپ کو دھوکا د ے رہے ہیں مگر سمجھتے نہیں"۔ [البقرۃ: ۹] اور فر مایا: {اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَھُوَ خَادِعُھُمْ ۚ وَاِذَا قَامُوْٓا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى ۙ يُرَاۗءُوْنَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِيْلًا} "بیشک منافق اللہ سے چال بازیاں کر رہے ہیں اور وہ انہیں اس چالبازی کا بدلہ دینے والا ہے اور جب نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو بڑی کاہلی کی حالت میں کھڑے ہوتے ہیں، صرف لوگوں کو دکھاتے ہیں اور یاد الٰہی تو یونہی برائے نام کرتے ہیں"۔ [النساء: ۱۴۲] اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِ، يَجْلِسُ يَرْقُبُ الشَّمْسَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ، قَامَ فَنَقَرَهَا أَرْبَعًا، لَا يَذْكُرُ اللهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا‘‘۔ یہ منافق کی نمازہے کہ وہ بیٹھ کرسورج کا انتظار کرتا رہے پھر جب وہ شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان ہو جائے تو اٹھ کر چار ٹھونگیں مارلے، اس میں اللہ کو یاد نہیں کرے مگر بہت کم۔ (صحیح مسلم: ۶۲۲، سنن أبی داود: ۴۱۳، جامع الترمذی: ۱۶۰ ، سنن النسائی: ۵۱۱)

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلَّا مُنَافِقٌ مَعْلُومُ النِّفَاقِ‘‘ ۔ میں نے دیکھا کہ ہم میں سے کوئی (بھی) جماعت سے پیچھے نہ رہتا تھا، سوائے ایسے منافق کے جس کا نفاق سب کو معلوم ہوتا ۔ (صحیح مسلم: ۶۵۴، سنن أبی داود: ۵۵۰، سنن النسائی: ۸۴۹، سنن ابن ماجہ: ۷۷۷)

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ’’فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ، إِلَّا كَمَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ أَحَدِهِمَا، قَالَ: فَيَلْقَى الْعَبْدَ، فَيَقُولُ..... إِلی أَنْ قَالَ: ثُمَّ يَلْقَى الثَّالِثَ، فَيَقُولُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ آمَنْتُ بِكَ، وَبِكِتَابِكَ، وَ بِرُسُلِكَ، وَصَلَّيْتُ، وَصُمْتُ، وَتَصَدَّقْتُ، وَيُثْنِي بِخَيْرٍ مَا اسْتَطَاعَ، فَيَقُولُ: هَاهُنَا إِذًا، قَالَ: ثُمَّ يُقَالُ لَهُ: الْآنَ نَبْعَثُ شَاهِدَنَا عَلَيْكَ، وَيَتَفَكَّرُ فِي نَفْسِهِ: مَنْ ذَا الَّذِي يَشْهَدُ عَلَيَّ؟ فَيُخْتَمُ عَلَى فِيهِ، وَيُقَالُ لِفَخِذِهِ وَلَحْمِهِ وَعِظَامِهِ: انْطِقِي، فَتَنْطِقُ فَخِذُهُ وَلَحْمُهُ وَعِظَامُهُ بِعَمَلِهِ، وَذَلِكَ لِيُعْذِرَ مِنْ نَفْسِهِ، وَذَلِكَ الْمُنَافِقُ وَذَلِكَ الَّذِي يَسْخَطُ اللهُ عَلَيْهِ‘‘۔ "قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم اپنے رب کے دیدار میں کوئى رکاوٹ اور عدم وضوح نہیں پاؤگے جیسا کہ ان دونوں (سورج وچاند) میں سے کسی ایک کے دیدار میں کوئى رکاوٹ اور عدم وضوح نہیں پاتے ہو، پھر وہ بند ے سے لقا کرے گا وہ کہے گا:....... یہاں تک کہ نبی صلى اللہ علیہ وسلم نے کہا: پھر تیسر ے بند ے سے لقا کر ے گا تواس سے بھی وہ اسی طرح کہے گا، تو وہ کہے گا: اے میرےرب! میں تجھ پر ایمان لایا اور تیری کتاب پر اور تیرے رسولوں پر اور میں نے نماز اداکی، روزہ رکھا، صدقہ دیا، وہ اسی طرح اپنی تعریف کرے گا جہاں تک اس سے ہو سکے گا تو(اللہ تعالیٰ) فرمائے گا: تب یہیں (دیکھ تیرا جھوٹ کھل جاتا ہے)، نبی ﷺ نے فرمایا: پھراسے کہا جائے گا اب ہم تیرے اوپر اپنا گواہ کھڑا کرتے ہیں، وہ اپنے جی میں سوچے گا کہ کون مجھ پر گواہی د ے گا؟ پھر اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کے ران، اس کی ہڈیوں اور اس کے گوشت سے کہا جا ئے گا بولو تو اس کے ران، اس کے گوشت اور اس کی ہڈیاں اس کے عمل کے بارے میں بو لیں گی اور یہ گواہی اس واسطے ہوگی تاکہ اس کا عذر باقی نہ رہے، اسی کی ذات کی گواہی سے اور یہی منافق ہو گا اور اسی پر اللہ ناراض ہوگا"۔ (صحیح مسلم: ۲۹۶۸)

اوراللہ تعالی نے اپنے نبی ﷺ اور مومنوں کو منافقوں سے جہاد کا حکم دیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنَافِقِينَ وَ اغْلُظْ عَلَيْهِمْ وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ*۔ "اے نبی! کافروں اور منافقوں سے جہاد جاری رکھو، اور ان پر سخت ہو جاؤ ان کی اصلی جگہ دوزخ ہے، جو نہایت بد ترین جگہ ہے۔ يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ مَا قَالُوا وَلَقَدْ قَالُوا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَكَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ وَهَمُّوا بِمَا لَمْ يَنَالُوا وَمَا نَقَمُوا إِلَّا أَنْ أَغْنَاهُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ مِنْ فَضْلِهِ فَإِنْ يَتُوبُوا يَكُ خَيْرًا لَهُمْ وَإِنْ يَتَوَلَّوْا يُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ عَذَابًا أَلِيمًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمَا لَهُمْ فِي الْأَرْضِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ} یہ اللہ کی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ انہوں نے نہیں کہا، حالانکہ یقیناً کفر کا کلمہ ان کی زبان سے نکل چکا ہے اور یہ اپنے اسلام کے بعد کافر ہوگئے ہیں اور انہوں نے اس کام کا قصد بھی کیا جو پورا نہ کر سکے، یہ صرف اسی بات کا انتقام لے رہے ہیں کہ انہیں اللہ نے اپنے فضل سے اور اس کے رسول (ﷺ) نے دولت مند کردیا، اگر یہ اب بھی توبہ کرلیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہے، اور اگر منھ موڑے رہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں دنیا وآخرت میں دردناک عذاب د ے گا اور زمین بھر میں ان کا کوئی حمایتی اور مددگار نہ کھڑا ہوگا"۔ [التوبۃ: ۷۳- ۷۴]

ہمیں معلوم ہے کہ نفاق اصغر کے ارتکاب سے کوئی ملت کے دائرے سے خارج نہیں ہوتا، نہ اس کاعمل برباد ہوتا ہے، اور نہ اس کا مرتکب ہمیشہ جہنم میں رہے گا، نفاق کی کئی شاخیں ہیں، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فر مایا: ’’أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا، وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَدَعَهَا: إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ، وَإِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ‘‘۔ "چار عادتیں جس کے اندر پائی گئیں وہ خالص منافق ہوگا اور جس کسی میں ان میں سے کوئی ایک عادت ہو تو اس میں نفاق کی ایک عادت ہوگی یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ د ے (۱)جب اسے امین بنایا جائے تووہ خیانت کر ے(۲) اور بات کر ے توجھوٹ بولے (۳)اور جب معاہدہ کر ے تو دھوکہ د ے اور جب (کسی سے) لڑائی کر ے توفسق و فجور بکے۔ (صحیح بخاری: ۳۴، صحیح مسلم: ۵۸ ، سنن أبی داود: ۴۶۸۸، جامع الترمذی: ۲۶۳۲، سنن النسائی: ۵۰۲۰)

اور ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’ ’المُؤْمِنُ الَّذِي يَقْرَأُ القُرْآنَ وَيَعْمَلُ بِهِ: كَالأُتْرُجَّةِ، طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَ رِيحُهَا طَيِّبٌ، وَالمُؤْمِنُ الَّذِي لاَ يَقْرَأُ القُرْآنَ، وَيَعْمَلُ بِهِ: كَالتَّمْرَةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلاَ رِيحَ لَهَا، وَمَثَلُ المُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَأُ القُرْآنَ: كَالرَّيْحَانَةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ، وَمَثَلُ المُنَافِقِ الَّذِي لاَ يَقْرَأُ القُرْآنَ: كَالحَنْظَلَةِ، طَعْمُهَا مُرٌّ - أَوْ خَبِيثٌ - وَرِيحُهَا مُرٌّ ‘‘۔ "وہ مومن جو قرآن مجید پڑھتا ہے اور اس پر عمل بھی کرتا ہے وہ اس میٹھے لیموں کی طرح ہے جس کا مزا بھی پاکیزہ ہوتا ہے اور خوشبو بھی پاکیزہ ہوتی ہے اور وہ مومن جو قرآن تو نہیں پڑھتا لیکن اس پر عمل کرتا ہے وہ اس کھجور کی طرح ہے جس کا مزہ تو پاکیزہ ہوتا ہے لیکن اس کے پاس خوشبو نہیں ہوتی ہے اور اس منافق کی مثال جو قرآن تو پڑھتا ہے اس ریحان کی طرح ہے جس کی خوشبو تو پاکیزہ ہوتا ہے لیکن مزا کڑوا ہوتا ہے اور اس منافق کی مثال جو قرآن بھی نہیں پڑھتا اندرائن کے پھل کی سی ہے جس کا مزہ بھی کڑوا ہوتا ہے (راوی کو شک ہے) کہ لفظ (مر) ہے یا (خبيث) اور اس کی بو بھی کڑوا ہوتی ہے"۔ (صحیح بخاری: ۵۰۵۹، صحیح مسلم: ۷۹۷، جامع الترمذی: ۲۸۶۵، سنن النسا ئی: ۵۰۳۸ ، سنن ابن ماجہ: ۲۱۴)

باب: بدعت کا بیان

ہمیں معلوم ہے کہ بعض بدعتیں اصل ایمان کی ضد ہیں اور بعض کمال ایمان کی ضد ہیں۔ اصل ایمان کی ضد شرکیہ و کفریہ بدعتیں ہیں، اور کفر وشرک سے متعلق بدعتوں کے علاوہ بقیہ بدعات کمال ایمان کے مخالف ہیں۔

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے دین مکمل کردیا اور ہم پر اپنی نعمتیں تمام کردی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا} "آج میں نے تمہار ے لئے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھر پور کردیا اور تمہار ے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا"۔ [المائدۃ: ۳] اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ فِيهِ، فَهُوَ رَدٌّ‘‘۔ جس نے ہمار ے اس امر(دین) میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی جو اس میں نہیں ہے تو وہ مردود ہے۔ (صحیح بخاری: ۲۶۹۷، صحیح مسلم: ۱۷۱۸، سنن أبی داود: ۴۶۰۶، سنن ابن ماجہ: ۱۴)

اور ہمیں معلوم ہے کہ کمال ایمان کى مخالف چیزوں میں سے ایک دین میں بدعتوں کا ایجاد کرنا بھی ہے، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ، فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ‘‘۔ نئی نئی بدعات و اختراعات سے اپنے آپ کو بچائے رکھنا، بلاشبہ ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ (سنن أبی داود: ۴۶۰۷، جامع الترمذی: ۲۶۷۶، سنن ابن ماجہ: ۴۲، مسند أحمد: ۱۷۱۴۴، السنۃ لابن أبی عاصم: ۲۶، البدع لابن وضاح: ۵۴)

اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’ ’مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى، كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ تَبِعَهُ، لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ، كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَهُ، لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا‘‘۔ جو ہدایت کی طرف بلائے گا اس کے لئے اتنا ہى اجر ہوگا جتنا اس کى اتباع کرنے والے کے لئے ہوگا اور اس کى وجہ سے ان دونوں کے اجر میں سے کوئی کمی نہیں ہوگی اور جو گمراہی کی طرف بلائے گا اس پر اتنا گناہ ہوگا جتنا کہ اس کى اتباع کرنے والے پر ہوگا اور اس کى وجہ سے دونوں کے گناہوں میں سے کوئی کمی نہیں ہوگی۔ (صحیح مسلم: ۲۶۷۴، سنن أبی داود: ۴۶۰۹، جامع الترمذی: ۲۶۷۴، سنن ابن ماجہ: ۲۰۶)

بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’صحیح‘‘ میں ایک باب قائم کیا ہے، اس کا عنوان ہے: "اس شخص کے گناہ کا باب جس نے گمراہی کی طرف بلایا یا برے عمل کا آغاز کیا"۔ اس میں انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کا يہ فرمان نقل کیا ہے: ’’لَيْسَ مِنْ نَفْسٍ تُقْتَلُ ظُلْمًا، إِلَّا كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْهَا - وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ مِنْ دَمِهَا - لِأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ سَنَّ القَتْلَ أَوَّلًا‘‘۔ "جو شخص بھی ظلم کے ساتھ قتل کیا جائے گا اس کے (گناہ کا) ایک حصہ آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے (قابیل) پر بھی پڑے گا، بعض اوقات سفیان نے اس طرح بیان کیا کہ ”اس کے خون کا“، کیونکہ اسی نے سب سے پہلے ناحق خون کی بری رسم قائم کی"۔ (صحیح بخاری: ۷۳۲۱، صحیح مسلم: ۱۶۷۷، جامع الترمذی: ۲۶۷۳، سنن النسائی: ۳۹۸۵، سنن ابن ماجہ: ۲۶۱۶)

ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسو ل ﷺ نے فرمایا: ’’لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ مَنْ قَبْلَكُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ، حَتَّى لَوْ سَلَكُوا جُحْرَ ضَبٍّ لَسَلَكْتُمُوهُ، قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ: اليَهُودَ، وَالنَّصَارَى قَالَ: فَمَنْ‘‘۔ تم لوگ پہلی امتوں کے طریقوں کی بالشت بہ بالشت اور ہاتھ بہ ہاتھ (یعنی مکمل اور ہر اعتبار سے) پیروی کرو گے یہاں تک کہ اگر وہ لوگ کسی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے تو تم بھی اس میں داخل ہو گے۔ ہم نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ ! کیا آپ کی مراد پہلی امتوں سے یہود و نصاریٰ ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا پھر کون ہو سکتے ہیں؟ (صحیح بخاری: ۳۴۵۶، صحیح مسلم: ۲۶۶۹)

ہمیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اختلاف و انتشار سے منع کیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ تَفَرَّقُوْا وَاخْتَلَفُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَھُمُ الْبَيِّنٰتُ ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ لَھُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ} "تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے اپنے پاس روشن دلیلیں آجانے کے بعد بھی تفرقہ ڈالا اور اختلاف کیا انہی لوگوں کے لئے بڑا عذاب ہے"۔ [آل عمران: ۱۰۵] اور اللہ عز وجل نے فرمایا: {فَلْيَحْذَرِ الَّذِيْنَ يُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖٓ اَنْ تُصِيْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ يُصِيْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ } "سنو! جو لوگ حکم رسول کی مخالفت کرتے ہیں انھیں ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آپڑ ے یا انھیں درد ناک عذاب نہ پہنچے"۔ [النور: ۶۳]

ہمیں معلوم ہے کہ قبروں کی تعظیم کرنا اور ان پر عمارت بنا نا بدعت ہے، اور ایسا کرنا کبھی کبھی شرک اکبر میں واقع ہونے کا سبب بن جاتا ہے۔ اسی طرح صالحین کے مرنے کے بعد ان کی اقتداء کرنے کے لئے ان کی تصویر بنانا بھی بدعت ہے، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’أَلَا وَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانُوا يَتَّخِذُونَ قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِدَ، أَلَا فَلَا تَتَّخِذُوا الْقُبُورَ مَسَاجِدَ، إِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِكَ‘‘۔ "! تم سے پہلے لوگ اپنے نبیوں اور اپنی (قوم کے ) نیک لوگوں کی قبروں کو مسجد بنا لیتے تھے، خبر دار! تم قبروں کو مسجد نہ بناؤ میں تم کو اس بات سے منع کرتا ہوں"۔ (صحیح مسلم: ۵۳۲)

اور عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ’’أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ، وَأُمَّ سَلَمَةَ ذَكَرَتَا كَنِيسَةً رَأَيْنَهَا بِالحَبَشَةِ فِيهَا تَصَاوِيرُ، فَذَكَرَتَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ أُولَئِكَ إِذَا كَانَ فِيهِمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَمَاتَ، بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا، وَصَوَّرُوا فِيهِ تِلْكَ الصُّوَرَ، فَأُولَئِكَ شِرَارُ الخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ القِيَامَةِ‘‘۔ ام حبیبہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما دونوں نے ایک کلیسا کا ذکر کیا جسے انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا، اس میں تصویریں تھیں، ان دونوں نے نبیﷺ سے اس کا ذکر کیا تو( نبی ﷺ ) نے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان میں کوئی نیک شخص مر جاتا تو وہ لوگ اس کی قبر پر مسجد بنا کر اس میں یہی تصویر یں بنا دیتے، اس وجہ سے یہ لوگ اللہ کے نزدیک قیامت کے دن سب سے بدتر مخلوق ہوں گے۔ (صحیح بخاری: ۴۲۷ ، صحیح مسلم: ۵۲۸ ، سنن النسائی: ۷۰۴)

اللہ کے نبی ﷺ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ تصاویر کو مٹا دیں اور قبریں برابر کر دیں۔ ابو الہیاج اسدی نے کہا کہ’’قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: أَلَا أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ أَنْ لَا تَدَعَ تِمْثَالًا إِلَّا طَمَسْتَهُ وَلَا قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ‘۔ مجھ سے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا میں تجھے اس مشن پر نہ بھیج دوں جس پر اللہ کے رسول ﷺ نے مجھے بھیجا تھا؟ یہ کہ تو کوئی مسجمہ نہ چھوڑے مگر یہ کہ تو اسے مٹا دےاور کوئی بلند قبر نہ چھوڑ ے مگر یہ کہ تو اسے برابر کردے۔ (صحیح مسلم: ۹۶۹، سنن أبی داود: ۳۲۱۸، جامع الترمذی: ۱۰۴۹، سنن النسائی: ۲۰۳۱)

ایسے جشن کا منانا جس کا اسلام میں کو ئی تصور ہی نہ ہواور کفار و مشرکین کی عیدوں میں شریک ہونا منکرات اور بدعات و خرافات میں سے ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ انہوں نے فرمایا کہ’’قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَلَهُمْ يَوْمَانِ يَلْعَبُونَ فِيهِمَا، فَقَالَ: مَا هَذَانِ الْيَوْمَانِ؟ قَالُوا: كُنَّا نَلْعَبُ فِيهِمَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَبْدَلَكُمْ بِهِمَا خَيْرًا مِنْهُمَا: يَوْمَ الْأَضْحَى، وَيَوْمَ الْفِطْرِ‘‘ اللہ کے رسول ﷺ مدینہ تشریف لائے (تو دیکھا کہ) ان کے لیے (سال میں) دو دن ایسے ہیں جن میں وہ کھیل کود کرتے ہیں تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ دو دن کیسے ہیں؟ تو ان لوگوں نے کہا: دور جاہلیت میں ہم ان دونوں دنوں میں کھیلتے تھے، تو اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: اللہ نے تمہیں ان دونوں کے عوض ان سے بہتر دو دن عطا فرما یا ہے:(۱)عید الاضحی کا دن (۲)اور عید الفطر کا دن۔ (سنن أبی داود: ۱۱۳۴، سنن النسائی: ۱۵۵۶، مسند أحمد: ۱۲۸۲۷، المنتخب من مسند عبد بن حميد: ۱۳۹۲)

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {لِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوهُ فَلَا يُنَازِعُنَّكَ فِي الْأَمْرِ وَادْعُ إِلَى رَبِّكَ إِنَّكَ لَعَلَى هُدًى مُسْتَقِيمٍ } "ہر امت کے لئے ہم نے عبادت کا ایک طریقہ مقرر کردیا ہے، جسے وہ بجا لانے والے ہیں، پس انھیں اس امر میں آپ سے جھگڑا نہ کرنا چاہیے، آپ اپنے رب کی طرف لوگوں کو بلائے۔ یقیناً آپ ٹھیک ہدایت پر ہی ہیں"۔ [الحج : ۶۷] عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: {لِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوهُ} کے سلسلے میں فرماتے ہیں کہ: "(عيد) ہیں"۔ یعنی یہاں (مَنْسَكًا) کےمعنی عید وتہوار کے ہیں۔ (تفسیر الطبری: ۶۷۹/ ۱۸، تفسیر ابن أبی حاتم: ۱۴۷۱۸) اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا وَهَذَا عِيدُنَا‘‘۔ "یقینا ہر قوم کی عید ہوتی ہے، اور یہ ہماری عید ہے"۔ (صحیح بخاری: ۹۵۲، صحیح مسلم: ۸۹۲، سنن أبی داود: ۱۵۹۳، سنن ابن ماجہ: ۱۸۹۸)

اسی طرح ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جسے برکت کا سبب نہیں بنایا ہے اس سے برکت طلب کرنا بدعت ہےاور کبھی کبھی ایسا کرنا شرک کا وسیلہ بن جاتا ہے۔ ابو واقد اللیثی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ’’ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ لَمَّا خَرَجَ إِلَى حُنَيْنٍ مَرَّ بِشَجَرَةٍ لِلْمُشْرِكِينَ يُقَالُ لَهَا: ذَاتُ أَنْوَاطٍ يُعَلِّقُونَ عَلَيْهَا أَسْلِحَتَهُمْ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اجْعَلْ لَنَا ذَاتَ أَنْوَاطٍ كَمَا لَهُمْ ذَاتُ أَنْوَاطٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:سُبْحَانَ اللَّهِ هَذَا كَمَا قَالَ قَوْمُ مُوسَى {اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ} [الأعراف: ۱۳۸] وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَرْكَبُنَّ سُنَّةَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ‘‘ جب اللہ کے رسول ﷺ حنین کے لیے نکلے تو آپ کا گزر مشرکین کے ایک درخت سے ہوا جسے ذات انواط کہا جاتا تھا، اس پر وہ اپنے ہتھیار لٹکاتے تھے، تو ان (صحابہ ) لوگوں نے کہا :اے اللہ کے رسول! ہمارے لیے بھی ایک ذات انواط بنا دیجئے جیسا کہ ان کے لئے ایک ذات انواط ہے، تو نبیﷺ نے فرمایا: سبحان اللہ! یہ تو وہی بات ہے جو موسیٰ کی قوم نے کہا تھا کہ {اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ} (ہمارے لیے بھی ایک الہ بنا دیجئے جیسا کہ ان (مشرکوں) کے لیےالہ ہیں)، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم ضرور اپنے سے پہلے کی امتوں کی پیروی کرو گے۔ (جامع الترمذی: ۲۱۸۰، جامع معمر بن راشد: ۲۰۷۶۳، تفسیر عبد الرزاق: ۹۳۱، مصنف ابن أبی شیبہ: ۳۸۵۳۰)

بڑے بڑے گناہوں کا بیان

ہمیں معلوم ہے کہ گناہوں کی دو قسمیں ہیں: (۱) گناہ کبیرہ۔ (۲)گناہ صغیرہ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلَّا اللَّمَمَ﴾ "اور ان لوگوں کو جو بڑ ے گناہوں سے بچتے ہیں اور بےحیائی سے بھی سوائے کسی چھوٹے گناہ کے"۔ [النجم: ۳۲] اور اللہ عز وجل نے فرمایا: ﴿إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُدْخَلًا كَرِيمًا﴾ "اگر تم بڑے گناہوں سے بچتے رہو گے جس سے تم کو منع کیا جاتا ہے تو ہم تمہارے چھوٹے گناہ دور کردیں گے اور عزت و بزرگی کی جگہ داخل کریں گے"۔ [النساء: ۳۱]

اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا کہ اے اللہ کے رسول !’’أَيُّ الذَّنْبِ أَكْبَرُ عِنْدَ اللهِ؟ قَالَ: أَنْ تَدْعُوَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ، قَالَ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ:أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مَخَافَةَ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ قَالَ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: أَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ جَارِكَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيقَهَا: {وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ، وَلَا يَزْنُونَ} (الفرقان : ۶۸)‘‘۔ اللہ کے نزدیک کون سا گناہ زیادہ بڑا ہے؟( آپ ﷺنے) فرمایا: یہ کہ تو اللہ کے ساتھ کسی اور کو بطور ہمسر وشریک پکار ے جبکہ اللہ ہی نے تجھے پیدا کیا ہے، اس نے کہا: پھر کون سا؟ ( آپ ﷺنے) فرمایا: یہ کہ تو اپنی اولاد کواس ڈر سے قتل کرد ے کہ وہ تیر ے ساتھ کھا ئے گا، اس نے کہا: پھرکون سا؟ ( آپ ﷺنے) فرمایا: یہ کہ تو اپنے ہمسایہ کی عورت سے زنا کرے، تو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اسی کے موافق اتارا {وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ، وَلَا يَزْنُونَ} اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی ایسے شخص کو جسے قتل کرنا اللہ تعالیٰ نے منع کردیا ہو وہ بجز حق کے قتل نہیں کرتے نہ وہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں"۔ (صحیح بخاری: ۶۰۰۱ ، صحیح مسلم: ۸۶)

ہمیں معلوم ہے کہ ایمان گھٹتا بڑھتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَإِذَا مَا أُنْزِلَتْ سُورَةٌ فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ أَيُّكُمْ زَادَتْهُ هَذِهِ إِيمَانًا فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَزَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَهُمْ يَسْتَبْشِرُونَ﴾ "اور جب کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو بعض منافقین کہتے ہیں کہ اس سورت نے تم میں سے کس کے ایمان کو زیادہ کیا، سو جو لوگ ایماندار ہیں اس سورت نے ان کے ایمان کو زیادہ کیا ہے اور وہ خوش ہو رہے ہیں"۔ [التوبۃ: ۱۲۴] اطاعت و فرماں برداری سے ایمان بڑھتا اور مضبوط ہوتا ہے اور گناہوں سے ایمان گھٹتا اور کمزور ہوتا ہے، کفر وشرک کے علاوہ ہر معصیت کمال ایمان کی منافی ہے، گناہ کبیرہ کے ارتکاب سے مطلق ایمان کی نفی نہیں ہوتی اور نہ ہی ایسے شخص کو علی الاطلاق مومن ہی کہا جا ئے گا؛ کیوں کہ اس نے جس گناہ کا ارتکاب کیا ہے اس سے اس کے ایمان میں کمی آئی ہے لیکن ایمان کے دائرے سے وہ نہیں نکلا ہے، اسی لئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’لاَ يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلاَ يَشْرَبُ الخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلاَ يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلاَ يَنْتَهِبُ نُهْبَةً، يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ فِيهَا أَبْصَارَهُمْ حِينَ يَنْتَهِبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ‘‘۔ "زانی زنا نہیں کرتا ہے جس وقت کہ وہ زنا کرہا ہوتا ہے اس حال میں کہ وہ مومن ہو، اور کوئى شراب نہیں پیتا ہے جس وقت وہ شراب پی رہا ہوتا ہو اس حال میں کہ وہ مومن ہو، کوئى چورى نہیں کررہا ہوتا ہے جس وقت وہ چورى کرہا ہوتا ہو اس حال میں کہ وہ مومن ہو اور کوئى شخص لوٹ وغارى نہیں کررہا ہوتا ہے اور لوگوں کی نظریں اس کی طرف اٹھی ہوئی ہوں جس وقت وہ لوٹ مچارہا ہو اس حال میں کہ وہ مومن ہو"۔ (صحیح بخاری: ۲۴۷۵، صحیح مسلم: ۵۷) اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ‘‘۔ "تم میں سے جو منکر دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روکے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو اپنے زبان سے اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو اسے دل میں برا جانے اور یہ ایمان کا سب سے کم تر درجہ ہے"۔ (صحیح مسلم: ۴۹) بروز قیامت کیا ہو گا اس کے بارے میں رسول ﷺ نے خبر دیتے ہوئے فرمایا: ’’فَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: اذْهَبُوا، فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ دِينَارٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ‘‘۔ اللہ تعالیٰ کہے گا جا ؤ اور جس کے دل میں دینار کے برابر ایمان پاؤ اسے نکال لو۔ (صحیح بخاری: ۷۴۹۳، صحیح مسلم : ۱۸۳) یہ روایتیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ گناہوں سے ایمان کمزور ہوجاتا ہے۔

گناہ کبیرہ کے مرتکبین کو سزاؤں کی دھمکی دی گئی ہے، اگر اس نے توبہ نہیں کیا تو اسے سزا ملے گی یا اگر ایسا کبیرہ گناہ کیا ہے جس پر حد متعین ہے تو اس پر حد قائم کی جائے گی، یا اسباب مغفرت میں سے کسی سبب کی بنیاد پر اللہ اسے معاف کرد ے گا اور اسباب مغفرت بے شمار ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ ﴾ "یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جو چاہے جس کے لئے چاہے بخش دیتا ہے"۔ [النساء: ۴۸]

کتاب: صحابہ اور امامت کے بیان میں

باب: صحابہ اور آل بیت رضی اللہ عنہم کا بیان

اور ہمارا ایمان ہے کہ اللہ عز وجل نے اپنے نبی ﷺ کے صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو چن لیا اور ان کو انبیاء علیہم السلام کے بعد اپنے بندوں میں سب سے افضل قرار دیا اور ان کی صفات کا ذکر کیا اور تورات اور انجیل میں ان کی تعریفیں کی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ ۭ وَالَّذِيْنَ مَعَهٗٓ اَشِدَّاۗءُ عَلَي الْكُفَّارِ رُحَمَاۗءُ بَيْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ و َرِضْوَانًا ۡ سِيْمَاهُمْ فِيْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ ۭ ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ ٻوَمَثَلُهُمْ فِي الْاِنْجِيْلِ ۾ كَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْــــَٔهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسْتَغْلَــظَ فَاسْتَوٰى عَلٰي سُوْقِهٖ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ ۭ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْهُمْ مَّغْفِرَةً وَّاَجْرًا عَظِيْمًا} "محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں کافروں پر سخت ہیں آپس میں رحم دل ہیں، تو انہیں دیکھے گا رکوع اور سجد ے کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں ہیں، ان کا نشان ان کے چہروں پر سجدوں کے اثر سے ہے، ان کی یہی مثال تورات میں ہے اور ان کی مثال انجیل میں ہے مثل اس کھیتی کے جس نے انکھوا نکالا پھر اسے مضبوط کیا اور وہ موٹا ہوگیا پھر اپنے تنے پر سید ھا کھڑا ہوگیا اور کسانوں کو خوش کرنے لگا تاکہ ان کی وجہ سے کافروں کو چڑائے، ان ایمان والوں سے اللہ نے بخشش کا اور بہت بڑے ثواب کا وعدہ کیا ہے"۔ [الفتح: ۲۹ ] اوراللہ تعالیٰ نے ان سے رضا مندی کا اعلان کیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِيْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ ۙ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ وَاَعَدَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ۭذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ} "اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں، اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وہ سب اس سے راضی ہوئے اور اللہ نے ان کے لئے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہ بڑی کامیابی ہے"۔ [التوبۃ: ۱۰۰]

اور اللہ کے نبی ﷺ نے واضح کردیا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مطلق طور پر خیر القرون میں سے ہیں۔ چنانچہ عبد اللہ فرماتے ہیں کہ’’سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ: قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ‘‘۔ نبی ﷺ سے پوچھا گیا کہ کون سے لوگ سب سے بہتر ہیں؟ فرمایا میرے دور کے لوگ، پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے، پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے۔ (صحیح بخاری: ۶۶۵۸ ، صحیح مسلم: ۲۵۳۳، جامع الترمذی: ۳۸۵۹ ، سنن ابن ماجہ: ۲۳۶۲)

ہمارا ایمان ہے کہ مہاجرین، انصار سے افضل تھے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی محکم کتاب قرآن مجید میں مہاجرین کا تذکرہ انصار سے پہلے کیا ہے، جیسا کہ سورۃ التوبۃ کی گزشتہ آیت میں آچکا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے مہاجرین کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: {لِلْفُقَرَاۗءِ الْمُهٰجِرِيْنَ الَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ وَاَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانًا وَّيَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ ۭ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ} "(فئ کا مال) ان مہاجر مسکینوں کے لئے ہے جو اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے نکال دیئے گئے ہیں وہ اللہ کے فضل اور اس کی رضامندی کے طلب گار ہیں اور اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں یہی راست باز لوگ ہیں"۔ [الحشر: ۸]

اور انصار کے سلسلے میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا: {وَالَّذِيْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَالْاِيْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ يُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُوْنَ فِيْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّآ اُوْتُوْا وَ يُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ڵ وَمَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ} "اور (ان کے لئے) جنہوں نے اس گھر میں (یعنی مدینہ) اور ایمان میں ان سے پہلے جگہ بنالی اور اپنی طرف ہجرت کرکے آنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور مہاجرین کو جو کچھ د ے دیا جائے اس سے وہ اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہیں رکھتے بلکہ خود اپنے اوپر انہیں ترجیح دیتے ہیں گو خود کتنی ہی سخت حاجت ہو (بات یہ ہے) کہ جو بھی اپنے نفس کے بخل سے بچایا گیا وہی کامیاب اور با مراد ہے"۔ [الحشر: ۹]

اور ہمارا ایمان ہے کہ امت محمدیہ میں اللہ کے نبی ﷺ کے بعد سب سے بہتر ابو بکر، پھر عمر، پھر عثمان، اور پھر علی رضی اللہ عنہم ہیں، فضیلت و برتری میں ان کی وہی ترتیب ہے جو ترتیب خلافت میں ہے۔

اور ہم ان دس صحابۂ کرام کے لیے جنت کی گواہی دیتے ہیں جن کو جنت میں داخل ہونے کی بشارت دی گئی تھی، جس طرح سے اللہ کے رسول ﷺ نے ان کے لیے گواہی دی ہے؛ جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’أَبُو بَكْرٍ فِي الجَنَّةِ، وَعُمَرُ فِي الجَنَّةِ، وَعُثْمَانُ فِي الجَنَّةِ، وَعَلِيٌّ فِي الجَنَّةِ، وَطَلْحَةُ فِي الجَنَّةِ وَالزُّبَيْرُ فِي الجَنَّةِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فِي الجَنَّةِ، وَسَعْدٌ فِي الجَنَّةِ، وَسَعِيدٌ فِي الجَنَّةِ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الجَرَّاحِ فِي الجَنَّةِ‘‘۔ "ابو بکر جنت میں ہیں، عمر جنت میں ہیں، عثمان جنت میں ہیں، علی جنت میں ہیں، طلحہ جنت میں ہیں، زبیر جنت میں ہیں، عبد الرحمن بن عوف جنت میں ہیں، سعد جنت میں ہیں، سعید جنت میں ہیں اورابو عبیدہ بن جراح جنت میں ہیں"۔ (جامع الترمذی: ۳۷۴۷، مسند أحمد: ۱۶۷۵، فضائل الصحابۃ لأحمد بن حنبل: ۲۷۸، الآحاد والمثاني لابن أبی عاصم: ۲۳۲)

ہمارا اس بات پر بھی یقین اور ایمان ہے کہ بدری صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرح کسی اور کی فضیلت نہیں ہے، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے حدیث میں فرمایا: ’’وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَكُونَ قَدِ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ‘‘۔ "اور تمہیں کیا معلوم کہ اللہ اہل بدر کے احوال سے اللہ تعالیٰ پہلے ہی سے واقف ہے اسی لئے اس نے کہا ہے کہ تم جو چاہو کرو میں تمہیں معاف کر چکا ہوں"۔ (صحیح بخاری: ۳۰۰۷، صحیح مسلم: ۲۴۹۴، سنن أبی داود: ۲۶۵۰، جامع الترمذی: ۳۳۰۵)

معاذ بن رفاعہ بن رافع الزرقی اپنےوالد سے روایت کرتے ہوئے ( اور ان کے والد بدری صحابی تھے ) فرماتے ہیں کہ ’’جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا تَعُدُّونَ أَهْلَ بَدْرٍ فِيكُمْ، قَالَ: مِنْ أَفْضَلِ المُسْلِمِينَ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا، قَالَ: وَكَذَلِكَ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ المَلاَئِكَةِ ‘‘۔ جبرائیل نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ آپ لوگوں کے مابین اہل بدر کا کیا مقام ہے؟ فرمایا: وہی سب سے افضل مسلمان ہیں یا اسی طرح کا کوئی کلمہ کہا، (جبرائیل علیہ السلام نے ) کہا: کہ ان فرشتوں کا بھی وہی درجہ ہے جو فرشتے بدر کی لڑائی میں شریک ہوئے تھے۔ (صحیح بخاری: ۳۹۹۲)

اور ہم اسی طرح گواہی دیتے ہیں جس طرح سے اللہ کے رسول ﷺ نے بیعت رضوان والوں کے سلسلے میں گواہی دی یے؛ جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’ ’لَا يَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ مِمَّنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ‘‘۔ "ان لوگوں میں سےجہنم میں کوئی داخل نہیں ہوگا جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کیاتھا"۔ ( سنن أبی داود: ۴۶۵۳، جامع الترمذی: ۳۸۶۰ ، جزء أبی الجھم: ۱، مسند أحمد : ۱۴۷۷۸، السنن الکبری للنسائی: ۱۱۴۴۴) یہی بیعت ہی ان کے کامیابی کا ذریعہ بنی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے سلسلے میں فرمایا: {اِنَّ الَّذِيْنَ يُبَايِعُوْنَكَ اِنَّمَا يُبَايِعُوْنَ اللّٰهَ ۭ يَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَيْدِيْهِمْ } "جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ یقیناً اللہ سے بیعت کرتے ہیں، ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے"۔ [الفتح: ۱۰] اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بیعت سے اپنی رضا مندی کا اعلان کیاہے، جیسا کہ اللہ عز وجل نے فرمایا: {لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِيْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِيْنَةَ عَلَيْهِمْ وَاَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيْبًا} "یقیناً اللہ تعالیٰ مومنوں سے خوش ہوگیا جبکہ وہ درخت تلے تجھ سے بیعت کر رہے تھے، ان کے دلوں میں جو تھا اسے اس نے معلوم کرلیا اور ان پر اطمینان نازل فرمایا اور انہیں قریب کی فتح عنایت فرمائی"۔ [الفتح: ۱۸]

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالی نے آل بیت کے بے شمار فضائل اور حقوق بیان کیے ہیں، اس لئے ان سے محبت کرنا، ان سے دوستی کرنا اور ان کے حقوق ادا کرنا ہم پر واجب ہے، ان کے چند حقوق ملاحظہ کریں :۔ اللہ تعالیٰ نے خُمس (غنیمت کے پانچویں حصے میں) اور مال فئ میں ان کا ایک حصہ مقرر کیا اور نبی کریم ﷺ نے اپنے ساتھ ان پر بھی درود بھیجنے کا حکم دیا ہے، چنانچہ آپ نے فرمایا: "کہو: اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔ اے اللہ! اپنی رحمت نازل فرما محمد اور آل محمد پر جیسا کہ تو نے اپنی رحمت نازل فرمائی آل ابراہیم پر، بیشک تو قابل تعریف اور بزرگی والا ہے، اے اللہ! برکت نازل فرما محمد پر اور آل محمد پر جیسا کہ تو نے برکت نازل فرمائی آل ابراہیم پر بیشک تو قابل تعریف اور بزرگی والا ہے"۔ ۱

اور ان کی بعض فضیلتیں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ملاحظہ کریں: {يٰنِسَاۗءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَاۗءِ اِنِ اتَّــقَيْتُنَّ فَلَا تَخْـضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِيْ فِيْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَّقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا*۔ "اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو، اگر تم پرہیزگاری اختیار کرو تو نرم لہجے سے بات نہ کرو کہ جس کے دل میں روگ ہو وہ کوئی برا خیال کر ے اور ہاں قاعد ے کے مطابق کلام کرو۔ وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلاَ تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الأُولَى وَأَقِمْنَ الصَّلاَةَ وَآتِينَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو، اور قدیم جاہلیت کے زمانے کی طرح اپنے بناؤ کا اﻇہار نہ کرو، اور نماز ادا کرتی رہو اور زکوٰة دیتی رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت گزاری کرو۔ اللہ تعالیٰ یہی چاہتا ہے کہ اے نبی کی گھر والو! تم سے وه (ہر قسم کی) گندگی کو دور کردے اور تمہیں خوب پاک کردے. [الأحزاب: ۳۲- ۳۳] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا {اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَاَزْوَاجُهٗٓ اُمَّهٰتُهُمْ ۭ} "نبي مومنوں پر خود ان سے بھی زیادہ حق رکھنے والے ہیں اور نبي کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں"۔ [الأحزاب: ۶]

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ ایک صبح کالے بالوں والی دھاری دار چادر اوڑھے باہر تشریف لے گئے۔ حسن بن علی رضی اللہ عنہ آئے تو انہیں اس کے اندر کرلیا۔ پھر حسین علیہ السلام آئے تو ان کو بھی اپنے ساتھ لپیٹ لیا۔ پھر فاطمہ آئیں تو آپ نے ان کو بھی اس کے اندر کرلیا۔ پھر علی رضی اللہ عنہ آئے تو ان کو بھی اندر کرلیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: (اللہ تعالیٰ یہی چاہتا ہے کہ اے نبی کی گھر والو! تم سے وه (ہر قسم کی) گندگی کو دور کردے اور تمہیں خوب پاک کردے.)[الاحزاب: ۳۳] (صحیح مسلم: ۲۴۲۴)

اور واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ’’إِنَّ اللهَ اصْطَفَى كِنَانَةَ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ، وَاصْطَفَى قُرَيْشًا مِنْ كِنَانَةَ، وَاصْطَفَى مِنْ قُرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ، وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ‘‘۔ "اللہ نے اسماعیل کی اولاد میں سے کنانہ کو چنا اور کنانہ سے قریش کو چنا اور قریش سے بنی ہاشم کو چنا اور بنی ہاشم سے مجھے چنا"۔ (صحیح مسلم: ۲۲۷۶)

اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ’’قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فِينَا خَطِيبًا، بِمَاءٍ يُدْعَى خُمًّا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَوَعَظَ وَذَكَّرَ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، أَلَا أَيُّهَا النَّاسُ فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ رَسُولُ رَبِّي فَأُجِيبَ، وَأَنَا تَارِكٌ فِيكُمْ ثَقَلَيْنِ: أَوَّلُهُمَا كِتَابُ اللهِ فِيهِ الْهُدَى وَالنُّورُ فَخُذُوا بِكِتَابِ اللهِ، وَاسْتَمْسِكُوا بِهِ ، فَحَثَّ عَلَى كِتَابِ اللهِ وَرَغَّبَ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ: وَأَهْلُ بَيْتِي أُذَكِّرُكُمُ اللهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي‘‘۔ ایک دن اللہ کے رسول ﷺ ہمارے مابین بحیثیت خطیب کھڑے ہوئے اس پانی کے پاس جو مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع ہے اور اسے خُم کہا جاتا ہے‘ آپ نے اللہ کی حمد وثنا بیان کی اور وعظ و نصیحت کیا پھر کہا اما بعد : خبر دار اے لوگو ! میں بھی انسان ہوں، قریب ہے کہ میرے رب کا قاصد آئے تو میں اسے جواب دوں اور میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ رہا ہوں، ان میں سب سے پہلے اللہ کی کتاب ہے جس میں نور اور ہدایت ہے لہذا تم سب اللہ کی کتاب کو پکڑ لو اور اس پر جم جاؤ۔ چنانچہ آپ نے اللہ کی کتاب پر ابھارا اور اس کی ترغیب دی پھر فرمایا اور میرے گھر والے، میں تمہیں اپنے گھر والوں کے سلسلے میں اللہ کا واسطہ دے رہا ہوں۔ تین دفعہ کہا۔ (صحیح مسلم: ۲۴۰۸)

اللہ کے رسول ﷺ کے قرابت داروں کا حق اور ان کی فضیلت سے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اچھی طرح آگاہ تھے، ابو بکر رضی اللہ عنہ نے تو علی رضی اللہ عنہ سے یہاں تک کہہ دیا کہ: ’’وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي‘‘ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اللہ کے رسول ﷺ کے قرابت دار میرے نزدیک زیادہ محبوب ہیں اس بات سے کہ میں اپنے قرابت داروں کے ساتھ صلہ رحمی کروں۔ ( صحیح بخاری: ۳۵۰۸، صحیح مسلم: ۱۷۵۹ )

اور اللہ کے رسول ﷺنے صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کو سب و شتم کرنے سے منع کرتے ہو ئے فرمایا: ’’ لاَ تَسُبُّوا أَصْحَابِي، فَلَوْ أَنَّ أَحَدَ كُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ، ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ، وَلاَ نَصِيفَهُ‘‘۔ "میرے صحابہ کو گالی نہ دو، اگر تم میں کا کوئی احد کے مثل سونا خرچ کرد ے تو بھی ان کے ایک مد یا آدھا مد کو نہیں پہنچے گا"۔ (صحیح بخاری: ۳۶۷۳، صحیح مسلم: ۲۵۴۱، سنن أبی داود: ۴۶۵۸، جامع الترمذی: ۳۸۶۱) نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ انصار سے محبت کرنا ایمان کی علامت ہے اور ان سے بغض رکھنا نفاق کی علامت ہے۔ چنانچہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’آيَةُ الإِيمَانِ حُبُّ الأَنْصَارِ، وَآيَةُ النِّفَاقِ بُغْضُ الأَنْصَارِ‘‘۔ "انصار کی محبت ایمان کی نشانی اور انصار سے بغض نفاق کی نشانی ہے"۔ (صحیح بخاری: ۱۷ ، صحیح مسلم: ۷۴، سنن النسائی: ۵۰۱۹)

اور سعید بن زید بن عمرو بن نفیل فر ماتے ہیں کہ: ’ ’لَمَشْهَدُ رَجُلٍ مِنْهُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْبَرُّ فِيهِ وَجْهُهُ، خَيْرٌ مِنْ عَمَلِ أَحَدِكُمْ عُمُرَهُ، وَلَوْ عُمِّرَ عُمُرَ نُوحٍ‘‘۔ ان میں سے کسی آدمی کا اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ کسى غزوہ میں حاضر ہونا جس میں ان کا چہرہ غبار آلود ہوجا ئے، تم میں سے کسی شخص کے عمر بھر عمل کر نے سے بہتر ہے، گر چہ اسے نوح کی عمر عطا کر دی جا ئے ۔ (سنن أبی داود: ۴۶۵۰)

باب: حاکم وقت کی اطاعت و فرمابرداری کے وجوب کا بیان

ہمیں معلوم ہے کہ حاکم وقت کے احکام کا سننا اور انہیں بجا لانا ہر مسلمان کے لیے واجب ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ﴾ "اے ایمان والو ! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو رسول(ﷺ) کی اور تم میں سے اختیار والوں کی"۔ [النساء: ۵۹] اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے: ’’السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ حَقٌّ مَا لَمْ يُؤْمَرْ بِالْمَعْصِيَةِ، فَإِذَا أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ، فَلاَ سَمْعَ وَلاَ طَاعَةَ‘‘۔ "(حاکم وقت کے احکام کا) سننا اور ان کی اطاعت کرنا (ہر مسلمان کے لیے) واجب ہے، جب تک کہ گناہ کا حکم نہ دیا جائے، اگر گناہ کا حکم دیا جائے تو نہ (ان کی بات) سننا چاہئے اور نہ ان کی اطاعت کرنی چاہئے"۔ (صحیح بخاری: ۲۹۵۵، صحیح مسلم: ۱۸۳۹)

اور صحیحین (بخاری اور مسلم) میں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروى ہے کہ انہوں نے فرمایا: ’’بَايَعْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ، وَالْمَنْشَطِ وَ الْمَكْرَهِ، وَعَلَى أَثَرَةٍ عَلَيْنَا، وَعَلَى أَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ، وَعَلَى أَنْ نَقُولَ بِالْحَقِّ أَيْنَمَا كُنَّا، لَا نَخَافُ فِي اللهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ‘‘۔ ہم نے پریشانی وآسانی، خوش حالی وتنگ دستی کے عالم میں سننے اور بات ماننے کی، اپنے او پر ترجیح دینے کی، حکمرانوں کی سرداری پر ان سے جھگڑا نہ کرنے کی، ہر مقام پر حق بات کہنے کی اور اللہ کی راہ میں کسی ملامت گر کی ملامت سے نہ ڈرنے کی اللہ کے رسول ﷺ سے بیعت کی ہے۔ (صحیح بخاری: ۷۰۵۵، صحیح مسلم: ۱۷۰۹)

امام أبو زرعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: ’’وَنُقِيمُ فَرْضَ الْجِهَادِ وَالْحَجِّ مَعَ أَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ فِي كُلِّ دَهْرٍ وَزَمَانٍ. وَلَا نَرَى الْخُرُوجَ عَلَى الْأَئِمَّةِ وَلَا الْقِتَالَ فِي الْفِتْنَةِ , وَنَسْمَعُ وَنُطِيعُ لِمَنْ وَلَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَمْرَنَا وَلَا نَنْزِعُ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ , وَنَتَّبِعُ السُّنَّةَ وَالْجَمَاعَةَ‘‘۔ ہم حاکم وقت کے ساتھ ہر وقت اور ہر زمانے میں جہاد اور حج کریں گے، ہم فتنہ کے وقت حکام کے خلاف بغاوت نہیں کریں گے اور نہ ان سے قتال کریں گے، ہم اس شخص کی سنیں گے اور اس کی اطاعت کریں گے جسے اللہ نے ہمار ے امر کا ذمہ داربنایا ہے، ہم (ان کی ) اطاعت سے ہاتھ نہیں کھینچیں گے اور ہم سنت وجماعت کی پیروی کریں گے۔ ( شرح أصول اعتقاد أهل السنة و الجماعة للإمام اللالکائی: ۱/۱۷۵)

اورحکمرانوں کی اطاعت صرف نیکی میں ہے۔ اور معصیت کے کاموں میں ان کی اطاعت ممنوع ہے، جیسا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی مذکورہ حدیث سے ثابت ہے: ’’السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ حَقٌّ مَا لَمْ يُؤْمَرْ بِالْمَعْصِيَةِ، فَإِذَا أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ، فَلاَ سَمْعَ وَلاَ طَاعَةَ‘‘. "(حاکم وقت کے احکام کا) سننا اور ان کی اطاعت کرنا (ہر مسلمان کے لیے) واجب ہے، جب تک کہ گناہ کا حکم نہ دیا جائے، اگر گناہ کا حکم دیا جائے تو پھر نہ ان کى سننا چاہئے اور نہ ان کی اطاعت کرنی چاہئے"۔ اور اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے: ’’لاَ طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةٍ، إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي المَعْرُوفِ‘‘۔ "نا فرمانی میں اطاعت ہے ہی نہیں، اطاعت صرف بھلائی میں ہے"۔ (صحیح بخاری: ۷۲۵۷، صحیح مسلم: ۱۸۴۰)

امام ابو ابراہیم المزنی رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’وَالطَّاعَة لأولي الْأَمر فِيمَا كَانَ عِنْد الله عز وَجل مرضيا وَاجْتنَاب مَا كَانَ عِنْد الله مسخطا وَترك الْخُرُوج عِنْد تعديهم وجورهم وَالتَّوْبَة إِلَى الله عز وَجل كَيْمَا يعْطف بهم على رعيتهم‘‘۔ حاکم وقت کی اطاعت ان کاموں میں سے ہے جن سے اللہ راضی ہوتا ہے، ان کاموں سے بچنے میں ہے جن سے اللہ نا راض ہوتا ہے، ان کے ظلم و تعدی پر بغاوت نہ کرنے میں ہے اور اللہ سے توبہ کرنے میں ہے تاکہ اللہ ان کو رعایا پر رحمت وشفقت والا کردے۔ ( شرح السنۃ للمزنی: ص: ۸۴)

خاتمہ

تمام تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس کے احسان اور فضل و کرم سے نیکیاں مکمل ہوتی ہیں اور ہم درود و سلام بھیجتے ہیں اس نبی پر جو رحمۃ للعالمین ہے۔ ہم رب العالمین کے شکر گزار ہیں جس کے احسان اور فضل و کرم سے یہ مبارک سفر مکمل ہوا ، اس موقع پر ہم وہی کہتے ہیں جو اہل جنت کہیں گے: {اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ} سب تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ [یونس: ۱۰] کیوں کہ رب ذو الجلال والاکرام نے حکم دیاہے: {قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَسَلٰمٌ عَلٰي عِبَادِهِ الَّذِيْنَ اصْطَفٰى ۭ اٰۗللّٰهُ خَيْرٌ اَمَّا يُشْرِكُوْنَ} "تو کہہ د ے کہ تمام تعریف اللہ ہی کے لئے ہے اور اس کے برگزیدہ بندوں پر سلام ہے کیا اللہ تعالیٰ بہتر ہے یا وہ جنہیں یہ لوگ شریک ٹھہرا رہے ہیں"۔ [النمل: ۵۹]

اور ہم دعا کرتے ہیں کہ ہمارا یہ عمل خالص اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لیے ہو، سید المرسلین ﷺ کی سنت کے موافق ہو، بندگان الہی کے لئے نفع بخش اور بروز قیامت ہمارے لئے شفاعت کا ذریعہ بنے ۔آمین

ہمیں معلوم ہے کہ ہم نے اس کتاب کی ترتیب میں کافی محنت کیا ہے لیکن اس کے باوجود اس موضوع کا پورا احاطہ نہیں کرسکے کیوں کہ اللہ، فرشتوں، کتابوں، رسولوں، یوم آخرت اورقضاء و قدر کے سلسلے میں بے شمار احادیث ہیں اور پورے کا استیعاب نا ممکن ہے لیکن ہم کتاب کا اختتام اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر کرتے ہیں: {وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ ڰ وَالْاَرْضُ جَمِيْعًا قَبْضَتُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِيّٰتٌۢ بِيَمِيْنِهٖ ۭ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ} "اور ان لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالیٰ کی کرنی چاہیے تھی، نہیں کی، ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے وہ پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جسے لوگ اس کا شریک بنائیں"۔ [الزمر: ۶۷]