Skip to content

میں تمام شریکوں سے بڑھ کر شرک سے بے نیاز ہوں۔ جو کوئی ایسا عمل کرے، جس میں میرے ساتھ کسی دوسرے کو بھی شریک کرے، میں اس کو اور اس کے شرک کو چھوڑ دیتا ہوں

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:

"اللہ تعالی کا ارشاد ہے : میں تمام شریکوں سے بڑھ کر شرک سے بے نیاز ہوں۔ جو کوئی ایسا عمل کرے، جس میں میرے ساتھ کسی دوسرے کو بھی شریک کرے، میں اس کو اور اس کے شرک کو چھوڑ دیتا ہوں۔"

«قال الله تبارك وتعالى: أنا أغنى الشركاء عن الشرك، من عمل عملًا أشرك فيه معي غيري، تركتُهُ وشركَهُ».

اسے مسلم نے روایت کیا ہے
حديث صحيح
شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا ہے کہ وہ تمام شریکوں سے زیادہ شرک سے بے نیاز ہے۔ وہ ہر چیز سے بے نیاز ہے۔ جب انسان نیکی کا کوئی کام کرتا ہے اور اسے اللہ اور غیراللہ دونوں کے لیے کرتا ہے، تو اسے اللہ قبول نہیں کرتا، بلکہ عمل کرنے والے کے منہ پر دے مارتا ہے۔ اس لیے کوئی بھی کام کرتے وقت خالص اللہ کی رضامندی کا حصول سامنے رکھنا چاہیے، کیوں کہ اللہ اسی عمل کو قبول کرتا ہے، جو خالص اسی کی رضامندی کے حصول کے لیے کیا جائے۔

کلمات کے معانی

.....:

حدیث کے بعض فوائد

اس میں تمام طرح کے شرک سے متنبہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ شرک عمل کی قبولیت کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔

اللہ کی بے نیازی اور عظمت کا احساس عمل کے اندر اخلاص پیدا کرنے میں ممد و مددگار ہوتا ہے۔

حوالہ جات
مزید (6)

صحیح مسلم (4/ 2289) (2985).

شرح النووي على مسلم (18/ 115).

الملخص في شرح كتاب التوحيد.

لصالح الفوزان (ص287).

الجديد في شرح كتاب التوحيد.

لمحمد القرعاوي (ص325).