”بے شک انصاف کرنے والے اللہ کے ہاں رحمن عز و جل کے دائیں جانب نور کے منبروں پر ہوں گے۔ جب کہ اللہ کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”بے شک انصاف کرنے والے اللہ کے ہاں رحمن عز و جل کے دائیں جانب نور کے منبروں پر ہوں گے۔ جب کہ اللہ کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوں گے، جو اپنی رعایا، اپنے اہل و عیال اور اپنے ماتحت لوگوں میں عدل و انصاف کرتے ہوں گے“
«إِنَّ الْمُقْسِطِينَ عِنْدَ اللهِ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ، عَنْ يَمِينِ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ، وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ، الَّذِينَ يَعْدِلُونَ فِي حُكْمِهِمْ وَأَهْلِيهِمْ وَمَا وَلُوا».
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جو لوگ اپنے ماتحت لوگوں اور گھر والوں کے بیچ اپنے فیصلوں میں انصاف سے کام لیتے ہيں اور حق کے تقاضوں کو پورا کرتے ہيں، وہ قیامت کے دن ایسی اونچی جگہوں میں بیٹھے ہوں گے، جو نور سے بنے ہوں گے۔ یہ نور سے بنی ہوئی اونچی جگہیں ان کی عزت افزائی کے لیے بنائی گئی ہوں گی۔ یہ اونچی جگہیں نہایت مہربان اللہ کے دائیں جانب واقع ہوں گی۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ اللہ کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں۔
المقسطين: العادلين.
في حكمهم: في قضائهم.
ما وَلُوا: الذي كانت لهم عليه ولاية.
انصاف کی فضیلت اور انصاف کرنے کی ترغیب۔
انصاف ایک عام لفظ ہے، جس کے دائرے میں سارے عہدے، لوگوں کے بیچ کیے جانے والے فیصلے، یہاں تک کہ بیویوں اور بچوں کے بیچ انصاف کرنا وغیرہ بھی آ جاتے ہیں۔
قیامت کے دن عدل و انصاف کرنے والوں کے مقام و مرتبے کا بیان۔
قیامت کے دن ایمان والوں کے منازل ان کے اعمال کے حساب سے متفاوت ہوں گے۔
ترغیب کا اسلوب دعوت کا ایک ایسا اسلوب ہے، جو نیکی کا کام کرنے کے لیے آمادہ کرتا ہے۔
مزید (11)
صحیح مسلم (3/ 1458) (1827).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين.
لمجموعة من الباحثين (1/ 547).
تطريز رياض الصالحين.
لفيصل المبارك (ص428).
كنوز رياض الصالحين.
لمجموعة من الباحثين (9/ 314).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين.
لسليم الهلالي (1/ 710).
شرح رياض الصالحين.
لابن عثيمين (3/ 640).
کتابوں میں مذکور
3 کتابیںمزید (2)
- رياض الصالحينرياض الصالحين مع فوائد وهدايات - 3«إِنَّ الْمُقْسِطِينَ عِنْدَ الله عَلىٰ مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ: الَّذِينَ يَعْدِلُونَ في حُكْمِهِمْ وأَهْلِيهِمْ وَمَا وَلُوا».
- نبراس طالب (1)1«إِنَّ المُقْسِطِينَ عِنْدَ اللهِ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ... الَّذينَ يَعْدِلُونَ في حُكْمِهِمْ وَأَهْلِيهِمِ وَمَا وَلُوا»