”ایمان کی تہتّر سے زیادہ -یا ترسٹھ سے زیادہ- شاخیں ہیں، جن میں سے سب سے افضل شاخ لا الہ الا اللہ کہنا ہے اور سب سے کم مرتبہ والی شاخ راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
”ایمان کی تہتّر سے زیادہ -یا ترسٹھ سے زیادہ- شاخیں ہیں، جن میں سے سب سے افضل شاخ لا الہ الا اللہ کہنا ہے اور سب سے کم مرتبہ والی شاخ راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے“۔
«الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ -أَوْ بِضْعٌ وَسِتُّونَ- شُعْبَةً، فَأَفْضَلُهَا قَوْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ».
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ اعمال، اعتقادات اور اقوال پر مشتمل ایمان کی بہت سی شاخیں ہيں۔ ایمان کی سب سے اعلی و افضل شاخ "لا الہ الا اللہ" کہنا ہے، اس کے معنی کو جانتے ہوئے اور اس کے تقاضوں پر عمل کرتے ہوئے۔ یعنی بس اللہ ہی ایک اکیلا معبود ہے، جو عبادت کے لائق ہے اور اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ جب کہ ایمان کا سب سے کم تر عمل راستے سے ہر اس چیز کو ہٹانا ہے، جو لوگوں کی اذیت کا سبب بنے۔ بعد ازاں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔ دراصل حیا انسان کا ایک ایسا رویہ ہے، جو اسے اچھا کام کرنے اور برے کام سے دور رہنے پر آمادہ کرتا ہے۔
بِضْع: من ثلاثة إلى تسعة.
شعبة: خصلة.
ایمان کے کئی مراتب ہیں، جن میں سے کچھ مراتب دوسرے مراتب کے مقابلے میں افضل ہيں۔
ایمان قول، عمل اور اعتقاد کا نام ہے۔
اللہ سے حیا کا تقاضا یہ ہے کہ انسان وہاں نظر نہ آئے، جہاں جانے سے اللہ نے منع کیا ہے اور اس جگہ سے غیر حاضر نہ ہو، جہاں جانے کا حکم اللہ نے دیا ہے۔
یہاں عدد کا ذکر مذکورہ تعداد کی تحدید کے لیے نہيں ہے، بلکہ ایمان کے اعمال کی کثرت کی کی دلیل ہے۔ کیوں کہ عرب کے لوگ کبھی کبھی کوئی عدد بیان کرتے ہيں اور ماسوا کی نفی مراد نہیں لیتے۔
مزید (9)
صحیح بخاری (1/ 11) (9).
صحیح مسلم (1/ 63) (35).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين (1/ 154).
شرح رياض الصالحين.
لابن عثيمين (2/ 169).
تطريز رياض الصالحين.
لفيصل آل مبارك (ص106).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين.
لسليم لهلالي (1/ 205).
کتابوں میں مذکور
7 کتابیںمزید (6)
- التوحيد في ضوء عقيدة الإمام الشافعي رحمه الله ونصوصه ومروياته"الإيمان بضع وسبعون أو بضع وستون شعبة فأفضلها قول لا إله إلا الله وأدناها إماطة الأذى عن الطريق، والحياء شعبة من الإيمان".([157])
- رياض الصالحينرياض الصالحين مع فوائد وهدايات - 4«الإيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ، أَوْ بِضْعٌ وَسِتُّونَ شُعْبَةً، فَأَفْضَلُهَا قَوْلُ لا إلهَ إلَّا الله، وَأَدْنَاهَا إمَاطَةُ الأَذَىٰ عَنِ الطّرِيقِ، وَالحَياءُ شُعْبَةٌ مِنَ الإيمَانِ».
- ما لا يسع أطفال المسلمين جهله«الإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ -أَوْ: بِضْعٌ وَسِتُّونَ- شُعْبَةً، فَأَفْضَلُهَا قَوْلُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَالحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الإِيمَانِ»[11].
- ما لا يسع أطفال المسلمين جهله«الإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ-أَوْ بِضْعٌ وَسِتُّونَ- شُعْبَةً، أَعْلَاهَا: قَوْلُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَدْنَاهَا: إِمَاطَةُ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ. وَالحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الإِيمَانِ»[191].
- مجموعة زاد الحديث (1)الحديث 1«الإيمان بضع وسبعون أو بضع وستون شعبة»
- نبراس طالب (1)1«الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ شُعْبَةً، فَأَفْضَلُهَا قَوْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ عز وجل، وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ»