سب سے زیادہ تلاش شدہ
منتخب تصانیف
المنتقى من المتجر الرابح في ثواب العمل الصالح - المعتمد
كتاب جامع لجملة من أحاديث النبي -صلى الله عليه وسلم- الصحيحية في ثواب الأعمال الصالحة كطلب العلم والطهارة والصلاة، وصلاة التطوع، والجمعة والجنائز، والصدقات والصوم والحج والجهاد، وقراءة القرآن، وذكر الرحمن وغيرها.
This PDF is generated automatically from the book's text; its layout may differ from the printed edition.
منتخب شدہ چیزیں عمل صالح کے ثواب کے لئے نفع بخش محل سے
علم اور علماء کا ثواب
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
بخاري (71)، مسلم (1037)
اور ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
صحیح مسلم (2699)
علم سکھانے کا ثواب
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
صحیح مسلم (1631)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :
صحیح مسلم (2674)
ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
صحیح مسلم (1893)
مکمل طور پر وضو کرنے کا ثواب
ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
صحیح مسلم (244)
اورحضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں كہ رسول اللہﷺ نے فرمايا:
صحیح مسلم (229)
ناگواری کے باوجود اچھی طرح وضو کرنے کا ثواب
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
صحیح مسلم (251)
مسواک کرنے کا ثواب
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اسے نسائی (1/ 10) نے روایت کیا ہے اور اسے امام بخاری نے اپنی صحیح (4/ 158) میں تعلیقا ذکر کیا ہے۔
وضو پر مداومت کرنے کا ثواب
ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’استقامت اختیار کرو اور تم راستبازی کے تمام کاموں کا احاطہ ہر گز نہیں کرسکتے۔ اور جان لو کہ تمہارے اعمال میں سب سے افضل عمل نماز ہے،اور وضو پر مداومت صرف مومن ہی کر سکتا ہے‘‘۔
مسند احمد (22378)
وضو کے بعد شہادتین (أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبد الله ورسوله) کہنے کا ثواب
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
صحیح مسلم (234)
وضو کے بعد نماز کا ثواب
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز کے وقت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں نے تو اپنے نزدیک اس سے زیادہ امید کا کوئی کام نہیں کیا کہ جب میں نے رات یا دن میں کسی وقت بھی وضو کیا تو میں اس وضو سے نفل نماز پڑھی جتنا پڑھنا میرے مقدر میں لکھا گیا تھا.
صحیح بخاري (1149)، صحیح مسلم(2458)
اورحضرت عقبة بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں كہ رسول اللہﷺ نے فرمايا:
صحیح مسلم (234)
اور عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"جس نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا اور پھر دو رکعت نماز پڑھی جس میں اس نے اپنے جی میں کوئی بات نہ کی، تو اس کے گزشتہ سب گناہ معاف کر دیے جائیں گے"۔
صحیح بخاري (164)، صحیح مسلم 2267)
مؤذن کا ثواب
ابن ابي صعصعة الأنصاري سے روایت ہے کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا:
”میں دیکھتا ہوں کہ تم کو جنگل میں رہ کر بکریاں چرانا بہت پسند ہے۔ اس لیے جب کبھی اپنی بکریوں کے ساتھ تم کسی بیابان میں موجود ہو اور (وقت ہونے پر) نماز کے لیے اذان دو تو اذان دیتے ہوئے اپنی آواز خوب بلند کرو، کیونکہ مؤذن کی اذان کو جہاں تک بھی کوئی انسان، جن یا کوئی چیز بھی سنے گی تو قیامت کے دن اس کے لیے گواہی دے گی“
ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ حدیث میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔
صحیح بخاری (3296)
طلحہ بن یحییٰ نے اپنے چچا کی زبانی بیان کیا کہ:
میں معاویہ بن ابي سفيان رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، اتنے میں انہیں مؤذن نماز کے لئے بلانے آیا،جس پر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”قیامت کے دن مؤذنوں کی گردنیں سب سے لمبی ہوں گی"۔
صحیح مسلم (387)
انس بن مالک سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح سویرے دشمنوں پر حملہ کرتے تھے اور اذان کی آواز پر کان لگائے رکھتے تھے اور اگر مخالفوں کى بستى میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذان کی آواز سنائی دیتی تو ان پر حملہ نہ کرتے تھے، ورنہ حملہ کرتے تھے، ایک مرتبہ ایک شخص کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر اللہ اکبر کہتے سنا تو فرمایا: ”فطرت پر ہے (یعنی یہ مسلمان ہے)۔“ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کہتے سنا تو ارشاد فرمایا: ”اے شخص! تو نے دوزخ سے نجات پائی۔“ اس کے بعد لوگوں نے دیکھا کہ وہ بکریوں کا چرواہا تھا۔
صحیح مسلم (382)
مؤذن کی پیروی (اذان کے جواب دینے) کا ثواب
عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
صحیح مسلم (385)
اذان کے بعد ذکر اور مشروع دعا کا ثواب
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:
صحیح مسلم (384)
جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
صحیح بخاری (614)
سعد بن ابي وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :
صحیح مسلم (386)
نماز کا ثواب
معدان بن ابی طلحہ یعمری سے روایت ہے کہ:
معدان نے کہا: پھر میں ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے بھی ایسا ہی کہا جیسا کہ ثوبان رضی اللہ عنہ نے کہا تھا۔
صحیح مسلم (488)
ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
میں رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہا کرتاتھا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو اور حاجت کا پانی لایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”مانگ کیا مانگتا ہے۔“ میں نے عرض کیا کہ میں جنت میں آپ کی رفاقت چاہتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ اور“ میں نے عرض کیا: بس یہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا تو کثرت سجود سے تو اپنے نفس پر میری مدد کر۔“
صحیح مسلم (489)
فرض نمازوں کا ثواب اور ان کی پابندی
ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”اگر تم میں سے کسی کے دروازہ پر کوئی نہر جاری ہو جس میں وہ ہر دن پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو تو کیا اس کے بدن پر کوئی میل کچیل باقی رہے گا؟ صحابہ کرام نے عرض کیا: کچھ بھی میل کچیل باقی نہیں رہے گا‘ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہی پانچوں نمازوں کی مثال ہے‘ اللہ تعالی ان کے ذریعہ خطاؤں کو مٹا دیتا ہے“
صحیح بخاری (528)، صحیح مسلم(667)
عمرو بن سعید بن عاص سے روایت ہے کہ:
میں عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، انہوں نے وضو کا پانی منگوایا، پھر کہا:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے ہوئے سنا:
صحیح مسلم (227)
فجر اور عصر دونوں نماز کا ثواب
ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"تم میں رات اور دن کے فرشتے آگے پیچھے آتے ہیں، اور وہ فجر اور عصر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں پھر رات والے فرشتے چلے جاتے ہیں تو ان سے ان كا رب سوال کرتا ہے کہ تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا, حالانکہ ان کا رب اپنے بندوں کے بارے میں زیادہ جانتا ہے؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ جب ہم ان کے پاس پہنچے تو وہ نماز ادا کررہے تھے اورجب ہم ان کے پاس سے واپس آئے تو وہ نماز ہی کی حالت میں تھے"۔
صحیح بخاری (555)، صحیح مسلم (632)
حضرت جرير بن عبد الله رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں :
صحیح بخاري(554)، صحیح مسلم(633)
عمارة بن رؤيبة سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
اس کا مطلب فجر اور عصر کى نماز ہے۔
صحیح مسلم (634)
أبو موسى رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :
صحیح بخاری (574)، صحیح مسلم (635)
حدیث میں وارد لفظ "البردان"-دو ٹھنڈی نمازوں-, سے مراد: عصر اور فجر کی نماز ہے-
عصر کی نماز کا ثواب
ابوبصرہ غفاری رضی اللہ عنہسے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ عصر کی نماز مخمص (نامی جگہ) میں پڑھی اور فرمایا: ”یہ نماز تم سے اگلوں کے سامنے پیش کی گئی اور انہوں نے اس کو ضائع کردیا، تو جو اس کی حفاظت کرےگا اس کو دوگنا ثواب ملے گا"۔
صحیح مسلم (830)
فجر کی نماز کا ثواب
جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
صحیح مسلم (657)
عشاء اور فجر کی نماز باجماعت ادا کرنے کا ثواب
عثمان رضي الله عنه روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نے رسو ل اللہﷺ کو کہتے ہوئے سنا:
”جس نے عشاء کی نماز جماعت سے پڑھی تو گویا آدھی رات تک نفل پڑھتا رہا اور جس نے صبح کی نماز جماعت سے پڑھی وہ گویا ساری رات نماز پڑھتا رہا۔“
صحیح مسلم (656)
وقت پر نماز پڑھنے کا ثواب
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں:
صحیح بخاری (527)، صحیح مسلم (85)
نماز میں آمین کہنے کی فضیلت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”جب امام (غير المغضوب عليهم ولا الضالين) کہے تو تم «آمين» کہو کیونکہ جس کی آمین فرشتوں کی آمين کے موافق ہوجائے گی اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دئے جائیں گے“۔
صحیح بخاری (782)، صحیح مسلم (410)
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے خطاب فرمایا اور ہمیں ہماری سنتیں اور ہماری نماز سکھلائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز پڑھو تو اپنی صفیں قائم کرو، پھر تم میں سے کوئی تمہاری امامت کرے، اور جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو، اور جب (غير المغضوب عليهم ولا الضالين) کہے تو تم آمین کہو، اللہ تمہاری دعا قبول کرے گا"۔
صحیح مسلم (404)
رکوع سے اٹھنے کے بعد (اللهم ربنا لك الحمد) کہنے کی فضیلت
ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”جب امام (غير المغضوب عليهم ولا الضالين) کہے تو تم «آمين» کہو کیونکہ جس کی آمین فرشتوں کی آمين کے موافق ہوجائے گی اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے“۔
صحیح بخاری (796)، صحیح مسلم (409)
ابو موسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ :
بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے خطاب فرمایا اور ہمیں ہماری سنتیں اور ہماری نماز سکھلائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز پڑھو تو اپنی صفیں درست کرلو، پھر تم میں سے کوئی تمہاری امامت کرے،... اور جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو، اور جب وہ (سمع الله لمن حمده) کہے توتم (اللهم ربنا لك الحمد) کہو اللہ تمہاری دعا قبول کرے گا"۔
صحیح مسلم (404)
رکوع سے اٹھنے کے بعد ’’ربَّنا ولَكَ الحَمْدُ حمدا كثيرا...‘‘ کہنے کی فضیلت
رفاعہ بن رافع زرقی سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ:
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز پڑھ رہے تھے، جب آپ نے رکوع سے سر اٹھایا تو «سمع الله لمن حمده» کہا۔ ایک شخص نے پیچھے سے کہا «ربنا ولك الحمد، حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه» آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر دریافت فرمایا کہ کس نے یہ کلمات کہے ہیں، اس شخص نے جواب دیا کہ میں نے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: "میں نے تیس سے زیادہ فرشتوں کو دیکھا کہ ان کلمات کو لکھنے میں وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانا چاہتے تھے"۔
صحیح بخاری (799)
باجماعت نماز کا ثواب
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”جماعت کی نماز تنہا پڑھنے والی نماز پر ستائیس درجہ فضیلت رکھتی ہے“
صحیح بخاری (645)، صحیح مسلم(650)
اور ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
صحیح بخاری (647)، صحیح مسلم (649)
پہلی صف میں نماز پڑھنے کا ثواب
ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
صحیح بخاری (615)، صحیح مسلم (437)
اور النداء سے مراد اذان ہے
اور الاستهام سے مراد قرعہ اندازی ہے
اور ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
صحیح مسلم (440)
مسجد حرام اور مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کا ثواب
ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
صحیح بخاری (1190)، صحیح مسلم (1394)
اللہ تعالیٰ کے لیے مسجد بنانے کا ثواب
عثمان رضي الله عنه روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نے رسو ل اللہﷺ کو بیان کرتے ہوئے سنا:
’’جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے مسجد بنائے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا۔‘‘
صحیح بخاری (450)، صحیح مسلم (533)
نماز کے لیے مساجد کی طرف چل کر جانے کا ثواب
ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"نماز میں ثواب کے لحاظ سے سب سے بڑھ کر وہ شخص ہوتا ہے جو (مسجد میں نماز کے لیے) زیادہ سے زیادہ دور سے آئے اور جو شخص نماز کے انتظار میں بیٹھا رہتا ہے اور پھر امام کے ساتھ پڑھتا ہے اس شخص سے اجر میں بڑھ کر ہے جو (پہلے ہی) پڑھ کر سو جائے"۔
صحیح بخاری (651)، صحیح مسلم(662)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
"جوشخص صبح کے وقت یا شام کے وقت مسجد جاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ضیافت تیار کرتا ہے جب بھی وہ صبح یا شام کے وقت مسجد جاتاہے"۔
صحیح بخاری(662)، صحیح مسلم (669)
ابي بن كعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں :
صحیح مسلم (663)
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں:
ہمارے لوگوں کے گھر مسجد سے دور تھے۔ ہم نے چاہا کہ ہم اپنے گھروں کو بیچ ڈالیں اور مسجد کے قریب آرہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو روکا اور فرمایا: ”تمہارے لئے ہر قدم پر ایک درجہ ہے۔“
صحیح مسلم (664)
اور ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
”جس شخص نے اپنے گھر میں پاکی حاصل کی (یعنی وضو کیا) پھر اللہ تعالی کے گھروں میں سے ایک گھر (یعنی مسجد) کی طرف چلا، تاکہ اللہ تعالی کے فرضوں میں سے کوئی فرض ادا کرے، تو اس کے دوقدموں كا یہ حال ہے کہ ایک سے ایک گناہ مٹ جاتا ہے، اور دوسرے سے ایک درجہ بلند ہوتا ہے“۔
صحیح مسلم (666)
اس شخص کا ثواب جس کا دل مسجدوں میں لٹکا ہوا ہے
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ كو یہ فرماتے ہوئے سنا :
صحیح بخاری (1423)، صحیح مسلم (1031)
مسجد میں بیٹھ کر نماز کا انتظار کرنے والے کا ثواب
ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"بندہ اس وقت تک نماز ہی میں رہتا ہے جب تک وہ مسجد میں نماز کا انتظار کرتا ہے، اور فرشتے کہتے ہیں کہ اے اللہ! اس کو بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم کر، یہاں تک کہ وہ چلا جائے یاحدث کرے"۔
صحیح بخاری (176)، صحیح مسلم(649)
گھر میں نفلی نماز کا ثواب
جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’جب تم میں سے کوئی اپنی مسجد میں نماز پڑھ لے تو اسے چاہیے کہ اپنے گھر کو اپنی نماز کا ایک حصہ بنا لے،(نفل نماز گھر پر پڑھے) کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کی نماز سے اس کے گھر میں بھلائی پیدا کرتا ہے۔‘‘
صحیح مسلم (778)
سنن مؤکدہ کی پابندی کا ثواب
ام حبيبة رضي الله عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ كو یہ فرماتے ہوئے سنا :
” جو بھی مسلمان ہر دن بارہ رکعتیں اللہ کے لئے فرض کے علاوہ نفل پڑھے تو اس کے لئے اللہ تعالی جنت میں ایک گھر تعمیر فرماتا ہے‘ یا فرمایا: اس کے لئے جنت میں ایک گھر تعمیر کیا جاتا ہے“۔
ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ان رکعتوں کو پڑھنا نہیں چھوڑا
اور عمرو نے کہا: جب سے میں نے یہ سنا ان رکعتوں کو پڑھنا نہیں چھوڑا
اور نعمان نے بھی اسی طرح کہا۔
صحیح مسلم (728)
فجر کی دو رکعتوں کا ثواب
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”فجر کی دو رکعتیں دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے افضل ہیں۔“
اور ایک روایت میں ہے: "وہ دو رکعتیں مجھے تمام دنیا سے زیادہ عزیز ہیں“
صحیح مسلم (725)
رات کے آخر میں وتر کا ثواب
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"جس آدمی کو یہ ڈر ہو کہ وہ رات کے آخری حصہ میں نہیں اٹھ سکے گا تو اسے چاہیے کہ وہ شروع رات ہی میں وتر پڑھ لے اور جس آدمی کو اس بات کی تمنا ہو کہ رات کے آخری حصہ میں قیام کرے تو اسے چاہیے کہ وہ رات کے آخری حصہ میں وتر پڑھے کیونکہ رات کے آخری حصہ کی نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ افضل ہے"۔
صحیح مسلم (755)
اس شخص کا ثواب جو رات کو اٹھے اور اپنے گھر والوں کو نماز کے لئے جگائے
ابو سعید خدری اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جو رات کو بیدار ہو اور اپنی بیوی کو جگائے پھر دونوں دو دو رکعتیں پڑھیں تو وہ کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مردوں اور ذکر کرنے والی عورتوں میں لکھے جائیں گے“۔
سنن ابی داؤد (1451)
اور ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھے اور نماز پڑھے اور اپنی بیوی کو بھی بیدار کرے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے، اللہ تعالیٰ اس عورت پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھے اور اپنے شوہر کو بھی جگائے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے"۔
مسند احمد (7410) ‘ سنن ابی داود (1308)
چاشت کی نماز کا ثواب
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”جب آدمی پر صبح ہوتی ہے تو اس کے ہر جوڑ پر ایک صدقہ واجب ہوتا ہے۔“ ہر بار «سبحان الله» کہنا ایک صدقہ ہے، اور ہر بار «الحمدالله» کہنا ایک صدقہ ہے اور ہر بار «لَا إِلَـٰہَ إِلَّا اللَّـہُ» کہنا ایک صدقہ ہے اور ہر بار «اللهُ اكبر» کہنا صدقہ ہے اور اچھی بات کا حکم کرنا ایک صدقہ ہے، اور بری بات سے روکنا ایک صدقہ ہے اور ان سب سے کافی ہو جاتی ہیں چاشت کی دو رکعتیں جس کو وہ پڑھ لیتا ہے۔“
صحیح مسلم (720)
جمعہ کی نماز کا ثواب
ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"پانچوں نمازیں، اور جمعہ سے لے کر جمعہ تک کی نماز ان کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے، جب تک کبیرہ گناہ نہ کرے۔“
صحیح مسلم (233)
غسل کرنے، خوشبو لگانے اور جمعہ کا خطبہ سننے کا ثواب
سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اور خوب پاکی حاصل کی اور تیل یا خوشبو استعمال کیا، پھر جمعہ کے لیے چلا اور دو آدمیوں کے بیچ میں تفریق نہ ڈالی اور جتنی اس کے لئے مقدر تھی، نماز پڑھی، پھر جب امام باہر آیا اور خطبہ شروع کیا تو خاموش ہو گیا تواس کے اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے تمام گناہ بخش دیے جائیں گے"۔
صحیح بخاری (910)
اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جس نے غسل کیا اور جمعہ میں آیا اور جتنی اس کے لئے مقدر تھی نماز پڑھی اور خطبہ سے فارغ ہونے تک چپ رہا پھر امام کے ساتھ نماز پڑھی تو اس کے گناہ بخشے گئے اس جمعہ سے گزشتہ جمعہ تک اور تین دن کے اور زیادہ"۔
صحیح مسلم (857)
جمعہ کی نماز کے لیے جلدی آنے کا ثواب
ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
صحیح بخاری (881)، صحیح مسلم (850)
اور ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
”جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو مسجد کے ہر دروازہ پر فرشتے لکھتے ہیں کہ فلاں سب سے پہلے آیا اس کے بعد وہ، اس کے بعد وہ، پھرجب امام منبر پر بیٹھتا ہے تو سارے فرشتے اعمال نامے لپیٹ دیتے ہیں اورآ کر خطبہ سننے لگتے ہیں،اور جو اول آیا اس کے ثواب کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی ایک اونٹ قربانی کرے، اس کے بعد جو آیا وہ ایسا ہے جیسے کوئی ایک گائےقربان کرے، اس کے بعد جو آیا وہ ایسا ہے جیسے کوئی ایک مینڈھا قربان کرے، اس کے بعد جو آیا وہ ایسا ہے جیسے کوئی مرغی اللہ کی راہ میں دے، اور اس کے بعد جو آیا وہ ایسا ہے جیسے کوئی ایک انڈہ اللہ کی راہ میں دے, پھر جب امام آجاتا ہے تو اپنے صحیفے لپیٹ لیتے ہیں اور خطبہ سننے لگتے ہیں۔“
صحیح بخاری (929)، صحیح مسلم(850)
جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی تلاش کرنےکا ثواب
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”بے شک جمعہ کے دن ایک گھڑی ایسی ہے جو بندہ مسلمان اس وقت نماز پڑھتا ہو اور اللہ سے جو کوئی چیز مانگے تو بے شک اللہ تعالیٰ اس کو دے دے گا۔“
فرمایا: وہ مختصر گھڑی ہے۔
صحیح بخاری(935)، صحیح مسلم(852) اور یہ لفظ مسلم کے ہیں۔
اس شخص کا اجر جس کا آخری کلام لاالہ الا اللہ ہو گا۔
معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’جس کا آخری کلام لاالہ الا اللہ ہو گا ، وہ جنت میں داخل ہوگا‘‘
سنن ابی داؤد (3116)
جنازہ کے ساتھ جانے کا ثواب
ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جو کوئی ایمان رکھ کر اور ثواب کی نیت سے کسی مسلمان کے جنازے کے ساتھ جائے اور نماز اور دفن سے فراغت ہونے تک اس کے ساتھ رہے تو وہ دو قیراط ثواب لے کر لوٹے گا ہر قیراط اتنا بڑا ہو گا جیسے احد کا پہاڑ، اور جو شخص جنازے پر نماز پڑھ کر دفن سے پہلے لوٹ جائے تو وہ ایک قیراط ثواب لے کر لوٹے گا"۔
صحیح بخاری (47)، صحیح مسلم (945)
جس کی نمازہ جنازہ سو یا چالیس مسلمان پڑھیں اس کا اجر
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”کوئی مردہ ایسا نہیں کہ اس پر ایک گروہ مسلمانوں کا نماز پڑھے جس کی گنتی سو تک پہنچتی ہو اور پھر سب اس کی شفاعت کریں (یعنی اللہ سے اس کی مغفرت کی دعا کریں) مگران کی شفاعت میت کے متعلق قبول ہو گی"۔
صحیح مسلم (947)
کریب عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ ان کا ایک فرزند قدید یا عسفان میں مر گیا (قدید اور عسفان مقام کے نام ہیں) تو انہوں نے کریب سے کہا کہ دیکھو کتنے لوگ جمع ہوئے ہیں، (یعنی نماز جنازہ کے لئے) کریب نے کہا: میں گیا اور دیکھا لوگ اس کے لئے جمع ہیں اور میں نےان کو خبر دی، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: تم کہہ رہے ہو کہ وہ چالیس ہیں؟ میں نے کہا: ہاں۔ کہا: جنازہ نکالو اس لئے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: ”جس مسلمان کے جنازے میں چالیس آدمی ایسے ہوں جنہوں نے اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کیا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے حق میں ان کی شفاعت قبول کرتا ہے۔“
صحیح مسلم (948)
مصیبت کے وقت(انا لله وإنا إليه راجعون)کہنے والے کا اجر
أم سلمة رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ كو یہ فرماتے ہوئے سنا :
ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب ابوسلمہ (یعنی ان کے شوہر) انتقال کر گئے تو میں نے کہا: اب ان سے بہتر کون ہو گا، اس لئے کہ ان کا گھر پہلا تھا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کی تھی، پھر میں نے یہی دعا پڑھی، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے بدلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور شوہر عطا کیا۔
صحیح مسلم (918)
طاعون سے مرنے والے کا ثواب
أنس رضي الله عنه روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نے رسو ل اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:
”طاعون ہر مسلمان کے لیے شہادت ہے“۔
صحیح بخاری (2830)، صحیح مسلم (1916)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے طاعون کے بارے میں پوچھا، آپ نے انہیں بتلایا کہ یہ عذاب ہے، جس پر اللہ تعالی چاہتا ہے اسے نازل فرماتا ہے، اوراللہ تعالی نے اسے مومنوں کے لئے رحمت (کا ذریعہ ) بنا دیا ہے، جو بندہ بھی اس طاعون کی بیماری میں مبتلا ہو جائے اور وہ اپنے (طاعون زدہ) شہر میں ہی صبر کر تا ہوا ثواب کی نیت سے ٹھہرا رہے، اسے یقین ہو کہ اسے وہی کچھ پہنچے گا جو اللہ نے اس کے لیے لکھ دیا ہے، تو ایسے شخص کے لیے شہید کے مثل اجر ہے۔
صحیح بخاری (3474)
اس شخص کا اجروثواب جس کے دو یا تین بچے بلوغت سے قبل وفات پاجائیں
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جس مسلمان کے تین نابالغ بچے وفات پاجائیں اسے اللہ تعالی ان پر اپنی رحمت کے فضل سے جنت میں داخل کردے گا۔"
صحیح بخاری (1248)
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عورتوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ہمیں بھی نصیحت کرنے کے لیے آپ ایک دن خاص فرما دیجئیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان کی درخواست منظور فرماتے ہوئے ایک خاص دن میں) ان کو وعظ فرمایا اور بتلایا کہ جس عورت کے تین بچے مر جائیں تو وہ اس کے لیے جہنم سے پناہ بن جاتے ہیں، اس پر ایک عورت نے پوچھا: یا رسول اللہ! اگر کسی کے دو ہی بچے مریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو بچوں پر بھی۔
صحیح بخاری (1249)، صحیح مسلم(2633)
اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا:
"جس مسلمان کے تین بچے فوت ہوجائیں اسے جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی، مگر قسم پوری کرنے کے لیے"۔
صحیح بخاری(1251)، صحیح مسلم (2632)
اس شخص کا اجروثواب جس کا پیارا اہل دنیا میں سے فوت ہوجائے اور وہ اس پر ثواب کی امید رکھے
ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے کہ جب میں اپنے کسی مومن بندے سے، اہل دنیا میں سے اس کا کوئی عزیز لے لیتا ہوں اور وہ اس پر ثواب کی نیت سے صبر کرتا ہے، تو اس کے لیے سوائے جنت کے میرے پاس کوئی اجر نہیں ہے"۔
صحیح بخاری (6424)
اور صفی سے مراد خالص پیارا شخص ہےجیسے لڑکا، بھائی اور ہر وہ شخص جس سے انسان محبت کرتا ہے۔
صدقہ کا ثواب
ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
صحیح مسلم (2588)
انس ابن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے کہا:
ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مدینہ میں انصار میں سب سے زیادہ مالدار تھے اپنے کھجور کے باغات کی وجہ سے، اور اپنے باغات میں سب سے زیادہ پسند انہیں بیرحاء کا باغ تھا،یہ باغ مسجد نبوی کے بالکل سامنے تھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں تشریف لے جایا کرتے اور اس کا میٹھا پانی پیا کرتے تھے۔
انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی «لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون» یعنی ”تم نیکی کو اس وقت تک نہیں پا سکتے جب تک تم اپنی پیاری سے پیاری چیز نہ خرچ کرو۔“ یہ سن کر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اس وقت تک نیکی کو نہیں پا سکتے جب تک تم اپنی پیاری سے پیاری چیز نہ خرچ کرو،اور مجھے میرے اموال میں بیرحاء کا باغ سب سے زیادہ پیارا ہے، اس لیے میں اسے اللہ تعالیٰ کے لیے خیرات کرتا ہوں، اللہ کے نزدیک اس کی نیکی اور اس کے ذخیرہ آخرت ہونے کا امیدوار ہوں، تو اللہ کے حکم سے جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم مناسب سمجھیں اسے استعمال کریں۔
یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ خوب! یہ تو بڑا ہی آمدنی کا مال ہے، یہ تو بہت ہی نفع بخش مال ہے، اور جو بات تم نے کہی میں نے وہ سن لی، اور میں مناسب سمجھتا ہوں کہ تم اسے اپنے نزدیکی رشتہ داروں کو دے ڈالو، ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ! میں ایسا ہی کروں گا، چنانچہ ابوطلحہ نے اسے اپنے رشتہ داروں اور چچا کے لڑکوں میں تقسیم کر دیا۔
صحیح بخاری(1461)، صحیح مسلم(998)
اور ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
”جس نے حلال کمائی سے ایک کھجور کے برابر بھی خیرات کی اور اللہ تک حلال کمائی ہی کی خیرات پہنچتی ہے، تو اللہ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے قبول کر لیتا ہے اور خیرات کرنے والے کے لیے اسے اس طرح بڑھاتا رہتا ہے جیسے کوئی تم میں سے اپنے بچھیرے کی پرورش کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ پہاڑ کے برابر ہو جاتی ہے۔“
صحیح بخاری(7430)، صحیح مسلم(1014)
صدقہ پر مقرر کئے گئے عامل اور خزانچی کا اجروثواب اگر وہ دونوں ایماندار ہوں
ابوموسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"مسلمان امانت دار خزانچی جسے کسی چیز کے دینے کا حکم دیا جائے اور وہ اس کی تعمیل کرتے ہوئے اسے پوری طرح بنا کسی کمی کے خوش دلی کے ساتھ اس شخص کو دے جسے دینے کا اسے حکم دیا گیا ہو تو اس کا شمار صدقہ کرنے والوں میں سے ہوتا ہے"۔
صحیح بخاری (1438))، صحیح مسلم (1023)
کم مال والے کے صدقہ کا ثواب
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”ایک درہم ایک لاکھ درہم سے بڑھ گیا“، لوگوں نے (حیرت سے) پوچھا: یہ کیسے اے اللہ کے رسول؟
آپ نے فرمایا: ”ایک شخص کے پاس دو درہم تھے، ان دو میں سے اس نے ایک صدقہ کر دیا، اور دوسرا شخص اپنی دولت (کے انبار کے) ایک گوشے کی طرف گیا اور اس (ڈھیر) میں سے ایک لاکھ درہم لیا اور اسے صدقہ کر دیا“
مسند احمد (8929) سنن نسائی (2527)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کم مال والے کا تکلیف اٹھا کر دینا اور پہلے ان لوگوں کو دو جن کا تم خرچ اٹھاتے ہو“۔
مسند احمد (8702) سنن ابی داود (1677)
خفیہ صدقہ کا ثواب
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ كو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:
صحیح بخاری(1423)، صحیح مسلم (1031)
اس شخص کا ثواب جسے بقدرِ کفایت روزی ملی پر اس نےقناعت اور صبر سے کام لیا اور وہ اللہ پر توکل اور بھروسہ کرتے ہوئے مانگنے سے بچا رہا اور اس نے کسی کے سامنے دست سوال دراز نہیں کیا
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
صحیح مسلم (1054)
ابو سعيد خدری رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ انصار کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے مانگا تو آپ نے انہیں دیا، انہوں نے پھر مانگا تو آپ ﷺ نے انہیں پھر دیا یہاں تک کہ جو مال آپ کے پاس تھا وہ ختم ہوگیا،جب آپ ﷺ اپنے پاس موجود سب کچھ دے چکے تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ ’’اگر میرے پاس مال ہو تو میں اسے تم سے ہرگز بچا کر نہیں رکھوں گا(تاہم یاد رکھو کہ) جو شخص سوال کرنے سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اسے سوال کرنے سے محفوظ رکھتا ہے، اور جو شخص بے نیاز ہونے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بے نیاز کر دیتا ہے اور جو شخص صبر کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اسے صبر عطا کرتا ہے، اور کسی کو بھی صبر سے زیادہ بہتر اور اس سے زیادہ بے پایاں بھلائی نہیں ملی‘‘۔
صحیح بخاری(1469)، صحیح مسلم (1053)
اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کھانا کھلانے کا ثواب
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”اللہ تعالیٰ فرمائے گا قیامت کے دن: ”اے آدم کے بیٹے! میں بیمار ہوا تو نے میری عیادت نہ کی؟“ وہ کہے گا: اے پروردگار! میں تیری کیوں کر عیادت کرتا تو تو رب ہے سارے جہاں کا؟
اللہ کہے گا: کیا تمہیں معلوم نہیں تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا اور تم نے اس کی عیادت نہ کی، کیا تمہیں معلوم نہیں تھا کہ اگر تم اس کی عیادت کرتے تو مجھے اس کے پاس پاتے؟
اے آدم کے بیٹے! میں نے تجھ سے کھانا مانگا، تو نے مجھ کو کھانا نہ دیا؟ وہ کہے گا: اے رب! میں تجھ کو کیسے کھلاتا، تو تو سارے جہان کا رب ہے۔
الله تعالى فرمائے گا: کیا تو نہیں جانتا میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تو نے اس کو نہ کھلایا کیا تجھے معلوم نہ تھا کہ اگر تو اس کو کھلاتا تو اس کا ثواب میرے پاس پاتا۔
اے آدم کے بیٹے! میں نے تجھ سے پانی مانگا، تو نے مجھ کو پانی نہ پلایا۔ بندہ بولے: گا: میں تجھے کیوں کر پلاتا تو سارے جہان کا رب ہے؟
اللہ عز وجل فرمائے گا: ”میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا تو نے اس کو نہیں پلایا اگر پلاتا تو اس کا بدلہ میرے پاس پاتا۔“
صحیح مسلم (2569)
انسان یا جانور کو پانی پلانے کا ثواب
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبیﷺ روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا:
" ایک شخص نے ایک کتے کو دیکھا، جو پیاس کی وجہ سے گیلی مٹی کھا رہا تھا، تو اس شخص نے اپنا موزہ لیا اور اس سے پانی بھر کر پلانے لگا، حتیٰ کہ اس کو خوب سیراب کر دیا، اللہ نے اس شخص کے اس کام کی قدر کی اور اسے جنت میں داخل کر دیا"۔
صحیح بخاری (173)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے روایت کی ہے:
"ایک فاحشہ عورت نے گرمی کے دنوں میں ایک کتے کو ایک کنویں کے گرد چکر لگاتے دیکھا جس کی پیاس کی وجہ سے زبان باہر نکلی ہوئی تھی ، اس عورت نے اپنے موزے میں پانی لے کر اس کتے کو پانی پلایا تو اس کی بخشش کردی گئی"۔
صحیح مسلم (2245)
بیج بونے والے یا پودا لگانے والے کا ثواب
انس بن مالك رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"کوئی بھی مسلمان جو ایک درخت کا پودا لگائے یا کھیتی میں بیج بوئے، پھر اس میں سے پرندے یا انسان یا جانور جو بھی کھاتے ہیں وہ اس کی طرف سے صدقہ ہے"۔
صحیح بخاری(2320)، صحیح مسلم (1553)
اور جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
”جو مسلمان درخت لگائے پھر اس میں سے کوئی کھالے تو یہ لگانے والے کى طرف سے صدقہ شمار ہو گا اور اس میں سےجو چوری کر لیا جائے تو یہ بھى اس کى طرف سے صدقہ ہوگا اور اس کا جو حصہ درندے کھا جائیں تو یہ بھی اس کى طرف سے صدقہ ہوگا اور جو پرندے کھا جائیں تو یہ بھى اس کى طرف سے صدقہ ہوگا اورکوئی بھى جو اس میں سے لے کر اس کو کم کرے گا تو وہ لیا ہوا حصہ اس کى طرف سے صدقہ ہوگا۔“
صحیح مسلم (1552)
فلاحی کاموں میں خرچ کرنے کا ثواب
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
صحیح بخاری(1442)، صحیح مسلم (1010)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :
صحیح بخاری(5352)، صحیح مسلم (993)
اس شخص کا اجر جو پریشان حال کو سہولت فراہم کرے یا اسے مہلت دے یا اسے معاف کردے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"ایک تاجر لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا جب کسی تنگ دست کو دیکھتا تو اپنے نوکروں سے کہہ دیتا کہ اس سے درگزر کر جاؤ، شاید کہ اللہ تعالیٰ بھی ہم سے (آخرت میں) درگزر فرمائے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے (اس کے مرنے کے بعد) اس کو بخش دیا"۔
صحیح بخاری(2078))، صحیح مسلم (1562)
عبداللہ بن ابی قتادہ سے روایت ہے کہ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک قرض دار کو ڈھونڈھا تو وہ چھپ گیا، پھر اس کو پایا تو وہ بولا: میں نادار ہوں، ابوقتادہ نے کہا: اللہ کی قسم! اس نے کہا: اللہ کی قسم! تب ابوقتادہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ”جس شخص کو بھلا معلوم ہو کہ اللہ اس کوقیامت کے دن کی سختیوں سے نجات دے تو وہ نادار کومہلت دے یا اس کومعاف کر دے۔“
صحیح مسلم (1563)
اور ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
صحیح مسلم (2699)
اور ابو یسیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے:
”جو شخص کسی تنگدست کو مہلت دے یا اس کو معاف کر دے اللہ تعالیٰ اس کو اپنے سایہ میں رکھے گا۔“
صحیح مسلم (3006)
روزے کا ثواب
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"اللہ پاک فرماتا ہے کہ انسان کا ہر نیک عمل خود اسی کے لیے ہے مگر روزہ کہ وہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، وہ اپنی خواہش اور اپنے کھانے کو میرے لیے چھوڑ دیتا ہے، اور قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ بہتر ہے، اور روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں جن سے وہ خوش ہوتا ہے: جب افطار کرتا ہے تو اپنے روزہ کى تکمیل پر خوش ہوتا ہے اور جب وہ اپنے رب سے ملاقات کرے گا تو اپنے روزے کا ثواب پا کر خوش ہو گا"۔
صحیح بخاری (1904)، صحیح مسلم(1151)
اور سهل رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ نے فرمایا:
صحیح بخاری(1896)، صحیح مسلم(1152)
ایمان اور ثواب کی امید کے ساتھ رمضان کے روزے رکھنے کا ثواب
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
صحیح بخاری (37)، صحیح مسلم (759)
اور ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیطانوں کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں"۔
صحیح بخاری(3277)، صحیح مسلم(1079) اور یہ لفظ بخاری کے ہیں۔
ایمان اور ثواب کی امید کے ساتھ رمضان میں قیام کرنے کا ثواب
ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”جس نے ایمان کے ساتھ اور اجر وثواب کے حصول کی نیت سے رمضان کا قیام کیا اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جائیں گے۔“
صحیح بخاری (37)، صحیح مسلم (759)
ایمان اور ثواب کی امید کے ساتھ شب قدر میں قیام کرنے کا ثواب
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
صحیح بخاری(1901)، صحیح مسلم (760)
سحری کا ثواب
انس بن مالك رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
صحیح بخاری(1923)، صحیح مسلم (1095)
جلدی افطار کرنے کا ثواب
سهل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
صحیح بخاری(1957)، صحیح مسلم(1098))
رمضان کے روزے پھر شوال کے چھ روزے رکھنے والے کا ثواب
ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ ہمیشہ کے روزے رکھنے کے برابر ہے۔‘‘
صحیح مسلم (1164)
عرفہ کے دن روزہ رکھنے کا ثواب
ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرفہ کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا گیا؟ توآپ نے فرمایا: "یہ ایک سال اگلے اور ایک سال پچھلے گناہوں کا کفارہ ہے"۔
صحیح مسلم (1162)
عاشوراء کے دن روزہ رکھنے کا ثواب
ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرفہ کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا گیا؟ توآپ نے فرمایا: "یہ ایک سال اگلے اور ایک سال پچھلے گناہوں کا کفارہ ہے"۔
صحیح مسلم (1162)
اللہ کے مہینے محرم کے روزوں کا ثواب
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے ہیں۔"
صحیح مسلم (1163)
ماہ شعبان کے روزوں کا ثواب
اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! جتنا میں آپ کو شعبان کے مہینے میں روزہ رکھتے ہوئے دیکھتا ہوں اتنا کسی اور مہینے میں نہیں دیکھتا؟
آپ نے فرمایا: ”رجب و رمضان کے درمیان یہ ایسا مہینہ ہے جس سے لوگ غفلت برتتے ہیں، یہ ایسا مہینہ ہے جس میں آدمی کے اعمال رب العالمین کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، تو میں چاہتا ہوں کہ جب میرا عمل پیش ہو تو میں روزہ سے رہوں“۔
سنن نسائی (2357)
ہر مہینے تین روزے رکھنے والے کا ثواب
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہﷺ نے فرمایا :
"ہر مہینے تین دن کے روزے رکھ لو، اس طرح روزہ رکھنا سال بھر روزہ رکھنا ہے، یا یہ سال بھر کى طرح روزہ رکھنا ہے۔"
صحیح بخاری(3419)، صحیح مسلم (1159)
اور بخاری ومسلم کی ایک اور روایت میں ہے:
"اور بے شک تمہارے لیے یہی کافی ہے کہ ہر مہینہ میں تین روزے رکھو، کیونکہ ہر نیکی کا بدلہ دس گنا ملتا ہے، اس طرح یہ سال بھر کا روزہ ہو گا"۔
صحیح بخاری(6134)، صحیح مسلم (1159)
اورابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
"ہر مہینے کے تین روزے، اور رمضان سے رمضان تک (رمضان کے روزے رکھنا) سال بھر روزہ رکھنے کی طرح ہے۔"
صحیح مسلم (1162)
دوشنبہ کے دن روزہ رکھنے کا ثواب
ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوموار کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ دن ہے جس دن میں پیدا ہوا، اور جس دن مجھے بھیجا گیا یا مجھ پر وحی نازل کی گئی"۔
صحیح مسلم (1162)
ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن روزہ نہ رکھنے کا ثواب
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہﷺ نے فرمایا :
"اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ روزہ داود کا روزہ ہے، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن روزہ نہیں رکھتے تھے۔"
صحیح بخاری(3420)، صحیح مسلم(1159)
حج اور عمرہ کا ثواب
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ كو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:
’’جس شخص نے حج کیا اور اس نے (اس دوران) کوئی فحش کلامی اور گناہ نہیں کیا تو وہ اس طرح لوٹتا ہے جیسے اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا‘‘۔
صحیح بخاری(1521)، صحیح مسلم(1350)
اورابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :
’’ایک عمرہ دوسرے عمرے تک ان گناہوں کا کفارہ ہے جو ان کےدرمیان کیے گئے ہوں اور حجِ مبرور (مسنون ومقبول حج) کا بدلہ جنت ہی ہے۔ "
صحیح بخاری(1773)، صحیح مسلم (1349)
رمضان میں عمرہ کا ثواب
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی ایک عورت سے جو ام سنان کہلاتی تھی، فرمایا: تمہیں ہمارے ساتھ حج کرنے سے کس چیز نے روکا؟ تو اس نے کہا کہ ہمارے پاس دو ہی اونٹ تھے جو ابو فلاں ۔یعنى اس کے شوہر۔ کے تھے، ان میں سے ایک پر وہ اپنے بیٹے کے ساتھ حج کو گئے اور دوسرا اونٹ جس پر ہمارا غلام پانی لاتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے۔“یا فرمایا: ”میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے"۔
صحیح بخاری (1782)، صحیح مسلم (1256)
عشرہ ذی الحجہ میں عمل کرنے کا ثواب
ابن عباس رضي الله عنهما سے مروی ہے وہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ نے فرمایا:
" ان دنوں (عشر ذى الحجہ)کے عمل سے زیادہ کسی دن کے عمل میں فضیلت نہیں، لوگوں نے پوچھا اور جہاد میں بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں جہاد میں بھی نہیں سوائے اس شخص کے جو اپنی جان و مال خطرہ میں ڈال کر نکلا اور واپس آیا تو ساتھ کچھ بھی نہ لایا (سب کچھ اللہ کی راہ میں قربان کر دیا)"۔
صحیح بخاری (969)
مدینہ نبویہ میں رہنے کا ثواب
سعد رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
”مدینہ ان کے لیے بہتر ہے کاش کہ وہ جانتے ، جو شخص اس سے بے رغبتی اختیار کرتے ہوئے اسے چھوڑ دے گا تو اللہ تعالی اس کے بدلے یہاں ایسے شخص کو لائے گا جو اس سے بہتر ہوگا، اور جو شخص اس کی سختیوں، تنگیوں اور مشقتوں پر ثابت قدم رہے گا تو قیامت کے دن میں اس کے لئے شفارشی یا گواہ ہوں گا۔“
صحیح مسلم (1363)
قرآن سیکھنے اور تلاوت کرنے کا ثواب
ابو موسى الأشعري رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
صحیح بخاری(5020)، صحیح مسلم (797)
اور ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
صحیح مسلم (802)
اورعقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور ہم لوگ صفہ میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کون چاہتا ہے کہ روز صبح کو بطحان یا عقیق کو جائے؟ (یہ دونوں بازار تھے مدینہ میں) اور وہاں سے دو اوٹنیاں بڑے بڑے کوہان کی لائے کسی گناہ کے بغیر اور بغیر اس کے کہ کسی رشتہ دار کی حق تلفی کرے۔“ تو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم سب اس کو چاہتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم میں سے ایک شخص مسجد کو کیوں نہیں جاتا اور کیوں نہیں سکھاتا یا نہیں پڑھتا دو آیتیں اللہ کی کتاب میں سے، جو اس کے لیے دو اونٹنیوں سے بہتر ہیں، اور تین آیتیں اس کے لیے تین اونٹنیوں سے بہتر ہیں، اورچار آیتیں اس کے لیے چاراونٹنیوں سے بہتر ہیں اور اسی طرح جتنی آیتیں ہوں اتنے اونٹوں سے بہتر ہیں"۔
صحیح مسلم (803)
اور عثمان رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا:
صحیح بخاری (5027)
انہیں سے ایک دوسری روایت مروی ہے:
”تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور اسے سکھلائے“
54- عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
صحیح بخاری(4937)، صحیح مسلم (798) اور یہ لفظ مسلم کے ہیں۔
اور ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے:
"قرآن پڑھا کرو کیوںکہ وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لیے سفارشی بن کر آئے گا"۔
صحیح مسلم (804)
اور عامر بن واثلہ سے روایت ہے کہ نافع بن عبد الحارث نے عمر رضی اللہ عنہ سے عسفان میں ملاقات کی اور عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو مکہ کا حاکم مقرر کیا تھا، عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ تم نے (اپنی غیرموجودگی میں) مکہ والوں پر کس کو حاکم بنایا؟ انہوں نے کہا: ابن ابزی کو، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابن ابزی کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہمارے آزاد کردہ غلاموں میں سے ایک غلام ہے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے آزاد کردہ غلام کو ان پر حاکم مقرر کردیا؟ انہوں نے کہا کہ وہ کتاب اللہ کے قاری ہیں اور میراث کا علم بخوبی جانتے ہیں ، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سنو تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اللہ تعالٰی اس کتاب کے ذریعہ کچھ لوگوں کو بلند کرے گا اور کچھ لوگوں کو گرا دے گا۔“
صحیح مسلم (817)
اورابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :
صحیح مسلم (2699)
سورۃ الفاتحہ پڑھنے کا ثواب
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:
صحیح مسلم (806)
سورۃ البقرہ پڑھنے کا ثواب
ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
صحیح مسلم (780)
اورابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے:
"سورۃ بقرہ پڑھو کیونکہ اس کا لینا برکت ہے اور اس کاچھوڑناحسرت ہے اور جادوگر اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔“
معاویہ نے کہا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ البطلة سے مراد : جادوگر ہیں۔
صحیح مسلم (804)
آیت الکرسی پڑھنے کا ثواب
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر کے غلہ کی حفاظت پر مجھے مقرر کیا، ایک شخص آیا اور دونوں ہاتھوں سے غلہ لپ بھر بھر کر لینے لگا، میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا کہ اب میں تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کروں گا، پھر انہوں نے آخر تک حدیث بیان کی، اس (چور) نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ جب تم اپنے بستر پر سونے کے لیے لیٹنے لگو تو آیۃ الکرسی پڑھ لیا کرو، اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم پر ایک نگہبان مقرر ہو جائے گا اور صبح تک شیطان تمہارے قریب نہ آ سکے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: "بات تو اس نے سچی کہی ہے اگرچہ وہ جھوٹا ہے، وہ شیطان تھا"۔
صحیح بخاری (3275)
سورہ بقرہ کی آخری آیات پڑھنے کا ثواب
ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
"سورۃ البقرہ کے آخر کی دو آیتیں جو ان کو رات کے وقت پڑھے گا وہ اس کے لیے کافی ہو جائیں گی"
صحیح بخاری(5009)، صحیح مسلم(807)
سورۃ البقرہ اور آل عمران کی تلاوت کا ثواب
ابو امامة الباهلي رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ كو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:
صحیح مسلم (804)
اور نواس بن سمعان الکلابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہاکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے:
”قرآن کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور ان کو بھی جو اس پر عمل کرتے تھے، اور سورہ بقرہ اور آل عمران آگے آگے ہوں گی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تین مثالیں دیں کہ میں ان کو آج تک نہیں بھولا ہوں۔ اول یہ کہ وہ ایسی ہوں گى جیسے دو بادل کے ٹکڑے یا ایسی ہوں گى جیسے دو کالے کالے سائبان کہ ان میں روشنی چمکتی ہو یا ایسی ہوں گى جیسے قطار بند چڑیوں کی دوٹکڑیاں اور وہ دونوں اپنے صاحب (پڑھنے والے) کی طرف سے حجت کرتی ہوں گی۔“
صحیح مسلم (805)
سورہ کہف کا ثواب
براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک صحابی سورۃ الکھف کی تلاوت کررہے تھے اور ان کے نزدیک ایک گھوڑا دو رسیوں میں بندھا ہوا تھا، پس انھیں ایک بادل نے ڈھانپ لیا اور ان کے نزدیک سے نزدیک تر ہونے لگا، اور ان کا گھوڑا اس کی وجہ سے بدکنے لگا، پھر جب صبح ہوئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس واقعہ کا ذکر کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ "سكينت تھی، جو تلاوت قرآن مجید کی وجہ سے اتری تھی"۔
صحیح بخاری (5011)، صحیح مسلم(795)
سورہ کہف کی ابتدائی دس آیات حفظ کرنے کا ثواب
ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
صحیح مسلم (809)
سورہ اخلاص (قل هو الله أحد) پڑھنے کا ثواب
ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
"کیا تم میں سے کوئی رات میں تہائی قرآن کی تلاوت کرنے سے عاجز ہے؟" انہوں نے کہا: تہائی قرآن کیسے پڑھا جا سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ» ایک تہائی قرآن کے برابر ہے"۔
صحیح مسلم (811)
اللہ تعالیٰ کے ذکر کاثواب۔
لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! المفردون سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: کثرت سے اللہ کو یاد کرنے والے مرد اور اللہ کو یاد کرنے والی عورتیں-
صحیح مسلم (2676)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’اللہ تعالی فرماتا ہے : میں اپنے بندے کے اس یقین کے مطابق ہوں جو وہ میری بابت رکھتا ہے اور میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں جب وہ مجھے یاد کرتا ہے، اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرے تو میں اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے کسی محفل میں یاد کرتا ہے تو میں اسے ایسی محفل میں یاد کرتا ہوں جو ان کی محفل سے زیادہ بہتر ہے اور اگر وہ ایک بالشت میرے قریب آئے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب آتاہوں اور اگر وہ ایک ہاتھ میرے قریب آئے تو میں اس کے دونوں بازوؤں کے پھیلاؤ کے برابر قریب آتا ہوں اور اگر وہ چلتا ہوا میرے پاس آتا ہے تو میں دوڑتا ہوا اس کے پاس آتا ہوں۔‘‘
صحیح بخاری(7405)، صحیح مسلم (2675)
ذکر کی مجلسوں کا ثواب
معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ایک حلقہ پر نکلے اور پوچھا: ”تم کیوں بیٹھے ہو“ انہوں نے کہا: ہم بیٹھ کر اللہ کو یاد کر رہے ہیں اور اس کا شکر ادا کر رہےہیں کہ اس نے ہمیں اسلام کی طرف رہنمائی کی اور اس نے اسلام کے ذریعہ ہم پر احسان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم تم اس لیے بیٹھے ہو یا کسی اور کام کے لیے؟ وہ بولے: اللہ کی قسم! ہم تو صرف اسی واسطے بیٹھے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تم سے اس لئے نہیں قسم طلب کیا کہ تم کو جھوٹا سمجھا بلکہ میرے پاس جبرئیل علیہ السلام آئے اور بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے تم پر فخر کرتا ہے۔‘‘
صحیح مسلم (2701)
ابوہریرہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان دونوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پرگواہی دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو قوم بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتی ہےاسے فرشتے گھیر لیتے ہیں اوررحمت ڈھانپ لیتی ہے اور سکینہ (اطمینان اور دل کی خوشی) ان پر اترتی ہے اور اللہ تعالیٰ ان کا ذکر اپنے ساتھ والوں(فرشتوں میں)کرتا ہے"۔
صحیح مسلم (2700)
کلمہ توحید (لا الہ الا اللہ) کاثواب
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! قیامت کے دن آپ کی شفاعت کی سعادت سب سے زیادہ کون حاصل کرے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: " اے ابوہریرہ! میرا بھی خیال تھا کہ یہ حدیث تم سے پہلے اور کوئی مجھ سے نہیں پوچھے گا، کیونکہ حدیث کے لینے کے لیے میں تمہاری بہت زیادہ حرص دیکھا کرتا ہوں، قیامت کے دن میری شفاعت کی سعادت سب سے زیادہ اسے حاصل ہو گی جس نے کلمہ «لا إله إلا الله» خلوص دل سے کہا"۔
صحیح بخاری (6570)
دن میں سو بار (لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك، وله الحمد، وهو على كل شيء قدير) کہنے کا ثواب
ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
صحیح بخاری(3293)، صحیح مسلم (2691)
دن میں سو بار (سبحان الله وبحمده)کہنے کا ثواب
ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
جس نے ”سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ“ سو مرتبہ کہا، اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں خواہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔
صحیح بخاری(6405)، صحیح مسلم (2692)
(سبحان الله وبحمده، سبحان الله العظيم) کہنے کا ثواب
ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
صحیح بخاری(6406)، صحیح مسلم (2694)
(سبحان الله، والحمد لله) کہنے کا ثواب
ابو مالک الأشعري رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
صحیح مسلم (223)
(سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَکْبَرُ) کہنے کا ثواب
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
صحیح مسلم (2695)
اور سمرة بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں كہ رسول اللہﷺ نے فرمايا:
صحیح مسلم (2137)
تسبيح کا ثواب
سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
صحیح مسلم (2698)
(سبحان الله وبحمده، عدد خلقه، ورضا نفسه، وزنة عرشه، ومداد كلماته)’’اللہ تعالی اپنی تعریفوں کے ساتھ پاک ہے، اپنى مخلوق کی تعداد کے برابر، اپنى ذات کی رضا کے برابر، اپنے عرش کے وزن اور اپنے کلمات کی روشنائی کے برابر‘‘ کہنے کا ثواب
صحیح مسلم (2726)
لا حول ولا قوة الا بالله پڑھنے کا ثواب۔
ابو موسى الأشعري رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
" کیامیں تجھ کو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتلاؤں۔“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لا حول ولا قوة الا بالله» (اللہ کی معصيت سے اس کی حفاظت کے بغیر بچ نہیں سکتے اور اس کی مدد کے بغیر اس کی اطاعت کی طاقت نہیں ہے۔)
صحیح بخاری(7386)، صحیح مسلم(2704)
سید الاستغفار کی فضیلت
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
جس نے اسے دن میں یقین کے ساتھ کہا اور شام سے پہلے مر گیا تو وہ اہل جنت میں سے ہے اور جس نے رات کو یقین کے ساتھ کہا اور صبح ہونے سے پہلے مر گیا تو وہ اہل جنت میں سے ہے۔"
صحیح بخاری (6306)
(أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق) (میں اللہ کے کامل کلمات کے ذریعے ہر اس چیز کے شر سے پناہ مانگتا ہوں جو اس نے پیدا فرمائی) کہنے کا ثواب
خولہ بنت حکیم السلمیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے:”جو شخص کسی منزل میں اترے پھر کہے: «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ» (میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے کامل کلمات کے ذریعہ ہر اس چیز کے شر سے جو االلہ نے پیدا کیا ہے) تو اس کو کوئی چیز نقصان نہ پہنچائے گی یہاں تک کہ وہ اس منزل سے کوچ کرجائے ۔“
صحیح مسلم (2708)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا:
ایک شخص رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے بڑی تکلیف پہنچی اس بچھو سے جس نے کل رات کو مجھے ڈنک مارا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اگر تو شام کو یہ کہہ لیتا «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ» تو تجھے نقصان نہ پہنچا سکتا"۔
صحیح مسلم (2709)
سونے سے پہلے پڑھی جانے والی دعاؤں کا ثواب
براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جب تم اپنے بستر پر لیٹنے آؤ تو اس طرح وضو کرو جس طرح نماز کے لیے کرتے ہو، پھر داہنی کروٹ پر لیٹ کر یوں کہو «اللهم أسلمت وجهي إليك، وفوضت أمري إليك، وألجأت ظهري إليك، رغبة ورهبة إليك، لا ملجأ ولا منجا منك إلا إليك، اللهم آمنت بكتابك الذي أنزلت، وبنبيك الذي أرسلت» ”اے اللہ! میں نے اپنا چہرہ تیری طرف جھکا دیا، اپنا معاملہ تیرے ہی سپرد کر دیا، میں نے تیرے ثواب کی توقع اور تیرے عذاب کے ڈر سے تجھے ہی پشت پناہ بنا لیا، تیرے سوا کہیں پناہ اور نجات کی جگہ نہیں، اے اللہ! جو کتاب تو نے نازل کی میں اس پر ایمان لایا، جو نبی تو نے بھیجا میں اس پر ایمان لایا۔“ تو اگر اس حالت میں اسی رات مر گیا تو فطرت پر مرے گا اور اس دعا کو سب باتوں کے اخیر میں پڑھ" ۔
صحیح بخاری(247)، صحیح مسلم (2710)
رات کو بیدار ہو کر عمل کرنے کا ثواب
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی کریمﷺ سے روایت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا:
"جو شخص رات کو بیدار ہو کر یہ دعا پڑھے «لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك، وله الحمد، وهو على كل شىء قدير، الحمد لله، وسبحان الله، ولا إله إلا الله، والله أكبر، ولا حول ولا قوة إلا بالله» ”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، ملک اسی کے لیے ہے، اور تمام تعریفیں بھی اسی کے لیے ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اللہ کی ذات پاک ہے، اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کی مدد کے بغیر نہ کسی کو گناہوں سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی ہمت“ پھر یہ پڑھے «اللهم اغفر لي» "اے اللہ! میری مغفرت فرما“۔ یا (یہ کہا کہ) کوئی دعا کرے تو اس کی دعا قبول ہوتی ہے، پھر اگر اس نے وضو کیا اور نماز پڑھی تو نماز بھی مقبول ہوتی ہے"۔
صحیح بخاری (1154)
حدیث میں وارد لفظ “تَعارَّ” راء کے تشدید کے ساتھ ہے, یعنی : بیدار ہوا۔
فرض نمازوں کے بعد پڑھے جانے والے اذکار کا ثواب
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ: نادار لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ امیر و رئیس لوگ بلند درجات اور ہمیشہ رہنے والی نعمت حاصل کر چکے۔ آپ نے کہا، "وہ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ جس طرح ہم نماز پڑھتے ہیں وہ بھی پڑھتے ہیں، اور جیسے ہم روزے رکھتے ہیں وہ بھی رکھتے ہیں اور وہ خیرات دیتے ہیں لیکن ہم خیرات نہیں کرتے، اور وہ غلام آزاد کرتے ہیں اور ہم غلام آزاد نہیں کرتے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "کیا میں تمہیں وہ چیز نہ سکھاؤں جس کے ذریعے تم اپنے سے پہلے آنے والوں پر سبقت لے جاؤ اور اپنے بعد آنے والوں پر بھی سبقت لے جاؤ اور تم سے بہتر کوئی نہ ہو سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے وہی کیا جو تم نے کیا ہے؟" توانہوں نے کہا: ہاں اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ تسبیح «سبحان الله» ،تینتیس مرتبہ تکبیر «الله أكبر» اور تینتیس مرتبہ تحمید «الحمد لله»،کہا کرو۔
ابوصالح نے کہا: مہاجرین کے غریب لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واپس آئے اور عرض کیا: ہمارے بھائیوں نے جو مالدار تھے سنا تو انہوں نے بھی ایسا ہی کیا۔ تورسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا "یہ اللہ کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے."
صحیح بخاری(843)، صحیح مسلم (595)
كعب بن عجرة رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا:
صحیح مسلم (596)
اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :
صحیح مسلم (597)
دعا کا ثواب
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"اللہ عزوجل فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں، اور ميں اس کے ساتھ ہوں جب وہ مجھ سے دعا کرے"۔
صحیح مسلم (2675)
اپنے بھائی کے لیےاس کی غیر موجودگی میں دعا کرنے والے کا ثواب
ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"کوئی مسلمان ایسا نہیں ہے جو اپنے بھائی کے لیے اس کی غیر موجودگی میں دعا کرے مگر فرشتہ کہتا ہے اور تجھ کو بھی یہی ملے گا۔“
صحیح مسلم (2732)
استغفار کا ثواب
ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ اللہ تبارک وتعالیٰ سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ اللہ نے فرمایا:
صحیح مسلم (2577)
نبیﷺ پر درود بھیجنے کا ثواب
ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’جو شخص مجھ پر ایک دفعہ درود پڑھتا ہے تو اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے‘‘۔
صحیح مسلم (408)
والدین کی فرماں برداری کا ثواب
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "وقت پر نماز پڑھنا اور والدین کے ساتھ نیکی کرنا"۔
صحیح بخاری(7534)، صحیح مسلم (140)
اور عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا:
ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: میں آپ سے ہجرت اور جہاد پر بیعت کرتا ہوں، میں اللہ سے اجر چاہتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے والدین میں سے کوئی زندہ ہے؟ "اس نے کہا : ہاں، بلکہ دونوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو کیا تم اللہ سے اجر چاہتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اپنے والدین کے پاس واپس جاؤ اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرو"۔
صحیح مسلم (2549)
اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
صحیح مسلم (2551)
صلہ رحمی (رشتہ جوڑنے) کا ثواب
انس بن مالك رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
صحیح بخاری (5986)، صحیح مسلم (2557)
اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
" اللہ تعالیٰ نے مخلوق پیدا کی اور جب تخلیق کرچکا تو رحم نے عرض کیا کہ یہ اس شخص کی جگہ ہے جو قطع رحمی سے تیری پناہ مانگے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہاں کیا تم اس پر راضی نہیں کہ میں اسےجوڑوں گا جو تم سے اپنے آپ کو جوڑے اور اس سے توڑ لوں گا جو تم سے اپنے آپ کو توڑ لے؟ رحم نے کہا کیوں نہیں، اے رب! اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پس یہ تجھ کو دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد فرمایا کہ اگر تمہارا جی چاہے تو یہ آیت پڑھ لو «فهل عسيتم إن توليتم أن تفسدوا في الأرض وتقطعوا أرحامكم» یعنی ”کچھ عجیب نہیں کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم ملک میں فساد برپا کرو اور رشتے ناطے توڑ ڈالو۔“
صحیح بخاری (5987)، صحیح مسلم (2554)
صحیح مسلم (2558)
حدیث میں وارد لفظ “المل” لام پر تشدید کے ساتھ ہے, یعنی: گرم راکھ ۔
بیوی اور بچوں کی کفالت کا ثواب
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
صحیح بخاری(55)، صحیح مسلم (21002
ام سلمہ رضي الله عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر میں ابوسلمہ (اپنے پہلے خاوند) کے بیٹوں پر خرچ کروں تو کیا اس پر مجھے اجر ملے گا؟ کیونکہ وہ میری بھی اولاد ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: " ہاں ان پر خرچ کر، تو جو کچھ بھی ان پر خرچ کرے گی اس کا ثواب تجھ کو ملے گا"۔
صحیح بخاری(1467)، صحیح مسلم (1001)
اور ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
صحیح مسلم (995)
اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ان کو خبردی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"بے شک تو جو کچھ خرچ کرے اور اس سے تیری نیت اللہ کی رضا حاصل کرنی ہو تو تجھ کو اس کا ثواب ملے گا، یہاں تک کہ اس پر بھی جو تو اپنی بیوی کے منہ میں ڈالے"۔
صحیح بخاری(56)، صحیح مسلم (1628)
اس شخص کا ثواب جس کی دو بیٹیاں یا دو بہنیں ہوں اور وہ ان پر صبر کرے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وه بیان کرتی ہیں کہ:
(ایک دن) میرے پاس ایک عورت آئی، اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں، اس نے مجھ سے مانگا لیکن اُسے میرے پاس سے ایک کھجور کے علاوہ کچھ بھی نہ مل سکا، چنانچہ میں نے اس کو وہی ایک کھجور دے دیا، اس نے اس کھجور کو اپنی دونوں بیٹیوں میں بانٹ دیا اور خود اس میں سے کچھ بھی نہ کھایا، پھر وہ اٹھ کر چلی گئی، اتنے میں نبی ﷺ گھر تشریف لائے، میں نے آپ ﷺ کو اس کے بارے میں بتایا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص ان بیٹیوں کی وجہ سے کسی آزمائش میں مبتلا کیا گیا اور اس نے ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا تو وہ اس کے لیے دوزخ کی آگ سے پردہ بن جائیں گی‘‘۔
صحیح بخاري (1418)، صحیح مسلم (2629)
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وه بیان کرتی ہیں کہ:
صحیح مسلم (2630)
انس بن مالك رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
صحیح مسلم (2631)
بیواؤں اور مسکین کے کام آنے والے کا ثواب
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
صحیح بخاری(5353)، صحیح مسلم (2982)
یتیم کی کفالت کا ثواب
سہل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
" میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے اور آپ نے شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی سے اشارہ کیا اور ان دونوں انگلیوں کے درمیان تھوڑی سی جگہ کھلی رکھی"۔
صحیح بخاری (5304)
اور ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
”یتیم کی کفالت کرنے والا خواہ وہ یتیم اس کا ہو یا کسى اور کا ہو اور میں جنت میں اس طرح سے ساتھ ہوں گے جیسے یہ دو انگلیاں۔“ اور مالک نے شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی سے اشارہ کیا۔
صحیح مسلم (2983)
اس حدیث میں وارد آپ کے فرمان : ’’اس کا ہو یا کسى اور کا‘‘ کا مطلب ہے: خواہ وہ یتیم اس کا قریبی ہو، یا وہ اس کے لیے اجنبی ہو ان دونوں کے درمیاں قرابت داری نہ ہو۔
اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے بھائی کی زیارت کرنے والے کا ثواب
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "ایک شخص اپنے بھائی کی زیارت کے لیے دوسری بستی گیا، تو اللہ نے اس کے راستے پر ایک فرشتے کو بیٹھا دیا، جب وہ شخص اس جگہ پہنچا، تو فرشتے نے پوچھا کہ کہاں کا ارادہ ہے؟ اس نے جواب دیا کہ اس بستی میں میرا ایک بھائی رہتا ہے، اُسی سے ملنے جا رہا ہوں۔ فرشتے نے پوچھا کہ کیا تمھارے اوپر اُس کا کوئی احسان ہے جسے تم چکا نا چاہتے ہو؟ اُس نے کہا: نہیں، میں محض اللہ کے لیے اس سے محبت رکھتا ہوں، فرشتے نے کہا کہ میں تمھارے پاس اللہ کا پیغام لے کر آیا ہوں کہ اللہ بھی تم سے ویسے ہی محبت کرتا ہے جیسے تم اللہ کی خاطر اس سے محبت کرتے ہو"۔
صحیح مسلم (2567)
اپنے مسلمان بھائیوں کی ضروریات پوری کرنے والوں کا اجر
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا:
"ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرے اور نہ اس کی مدد چھوڑے، جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرے، اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت پوری کرے گا، جو شخص کسی مسلمان کی ایک مصیبت کو دور کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی مصیبتوں میں سے ایک بڑی مصیبت کو دور فرمائے گا۔ اور جو شخص کسی مسلمان کے عیب کو چھپائے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے عیب کو چھپائے گا"۔
صحیح بخاری(2442)، صحیح مسلم (2580)
اور ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے:
صحیح مسلم (1563)
اور ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
صحیح مسلم (2699)
بیمار کی عیادت کرنے والے کا ثواب
ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جو شخص مریض کی عیادت کرتا ہے تو وہ برابر (خرفۃ الجنۃ) میں رہتا ہے (یعنى جنت کے پھل چنتا رہتا ہے)، کہا گیا: اے اللہ کے رسول! (خرفة الجنة) کا کیا مطلب ہے؟ توآپ ﷺ نے فرمایا: جنت کے پھل چننا"۔
صحیح مسلم (2568)
اور ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
" بے شک قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے! میں بیمار ہوا تو نے میری بیمار پُرسی نہیں کی، وہ کہے گا : اے میرے رب میں کیسے تیرى بیمار پرسی کرتا جب کہ تو رب العالمین ہے؟! اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا تو یہ نہیں جانتا کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا اور تُو نے اس کی بیمار پرسی نہیں کی! کیا تو یہ نہیں جانتا کہ اگر تو اس کی بیمار پرسی کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا! اے آدم کے بیٹے میں نے تجھ سے کھانا مانگا پر تُو نے مجھے نہیں کھلایا! وہ کہے گا: اے میرے رب، میں کیسے تجھ کو کھانا کھلاتا جب کہ تو رب العالمین ہے؟! اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تو یہ نہیں جانتا کہ میرے فلاں بندے نےتجھ سے کھانا مانگا تو تُو نے اسے کھانا نہیں کھلایا! کیا تُو یہ نہیں جانتا کہ اگر تُو اسے کھانا کھلاتا تواس کا اجر مجھ سے پاتا! اے آدم کے بیٹے، میں نے تجھ سے پینے کو کچھ مانگا تو نے مجھے نہیں پلایا! وہ کہے گا : اے میرے رب میں کیسے تجھ کو پلاتا تو تو رب العالمین ہے؟! اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تو یہ نہیں جانتا کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے پینے کو کچھ مانگا اور تُو نے اسے نہیں پلایا! کیا تُو یہ نہیں جانتا کہ اگر تُو نے اسے پلاتا تواس کا اجر مجھ سے پاتا!"
صحیح مسلم (2569)
سچ بولنے کا ثواب
حكيم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"بائع اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا ) دونوں کواس وقت تک اختیار ہے (چاہیں تو معاملہ رکھیں اور چاہیں تو توڑ ڈالیں گو ایجاب و قبول ہوچکا ہو) جب تک ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں،اور اگر ان دونوں نے سچ کہا اور عیب وغیرہ بیان کیا تو اس بیع میں برکت ڈالی جائے گی، اور اگر انھوں نے جھوٹ سے کام لیا اور عیب کو چھپایا تو ان کی خرید و فروخت میں بے برکتی ہو جائے گی"۔
صحیح بخاری(2079)، صحیح مسلم (1532)
عبد الله بن مسعود رضي الله عنه سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
صحیح بخاری(6094)، صحیح مسلم (2607)
عفو و درگزر اور تواضع وخاکساری کا ثواب
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
صحیح مسلم (2588)
تمام امور میں نرمی برتنے کا ثواب
اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
صحیح مسلم (2593)
صحیح مسلم کی ایک دوسری روایت (2594) میں ہے: "نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے، اسے سنوار دیتى ہے اور جس چیز سے بھی کھینچ لی جاتی ہے اسے بدنما اور عیب دار کردیتی ہے"۔
اپنے مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کا ثواب
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
صحیح مسلم (2590)
لوگوں کے درمیان صلح کروانے کا ثواب
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”ہر دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے انسان کے ہر جوڑ پر صدقہ کرنا واجب ہے، تمہارا دو آدمیوں کے درمیان انصاف کرنا صدقہ ہے، اور کسی آدمی کو اس کی سواری پر بٹھانے یا اس کا سامان اٹھا کر اس پر رکھوانے میں اس کی مدد کرنا بھی صدقہ ہے، اچھی بات کہنا صدقہ ہے، اور ہر اس قدم میں جس سے چل کر تو نماز کی طرف جائے صدقہ ہے، راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کا ہٹانا بھی صدقہ ہے۔“
بخاری اور مسلم نے اسے روایت کی ہے۔
اس حدیث میں وارد آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے فرمان“ يعدل بين الاثنين “ کامطلب ہے : دولوگوں کے درمیان انصاف کےساتھ صلح کرانا۔
مسلمان کی عدم موجودگی میں اس کی طرف سے جواب دینے اور اس کی عزت کا دفاع کرنے کا ثواب
ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور اسے حسن قرار دیا ہے۔
اللہ تعالی سے محبت کرنے کا ثواب
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم کسی چیز سے اتنا خوش نہیں ہوئے جتنا کہ ہم نبی صلى الله عليه وسلم کے اس فرمان "تم اس کے ساتھ ر ہو گے جس سے تم محبت کرتے ہو" سے خوش ہوئے۔
صحیح بخاری(3688)، صحیح مسلم (2639)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:
ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو کسی قوم سے محبت کرتا تھا اور ان سے ملا نہیں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی اسی کے ساتھ ہو گا جس سے اس نے محبت کى"۔
صحیح بخاری(6169)، صحیح مسلم (2640)
اور ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا: میرے جلال کی بنا پر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے کہاں ہیں؟ آج میں انھیں اپنے سایے میں رکھوں گا، آج کے دن جب کہ میرے سایے کے سوا کوئی اور سایہ نہیں ہوگا"۔
صحیح مسلم (2566)
مصیبت پر صبر کرنے کا ثواب اگرچہ کم ہی کیوں نہ ہو
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اور جو شخص اپنے اوپر زور ڈال کر صبر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے صبر و استقلال دے دیتا ہے، اور کسی کو بھی صبر سے زیادہ بہتر اور اس سے زیادہ بے پایاں خیر نہیں ملی۔"
صحیح بخاری(1469)، صحیح مسلم (1053)
ابو مالک الأشعري رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"صبر روشنی ہے"
صحیح مسلم (223)
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ مجھ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا، کیا میں تجھے جنتی عورت نہ دکھلاؤں؟ میں نے کہا، کیوں نہیں، (ضرور دکھلائیں!) فرمایا کہ یہ کالی عورت نبی ﷺ کے پاس آئی اور اس نے کہا: مجھے مرگی کا دورہ پڑتا ہے جس سے میں ننگی ہو جاتی ہوں، آپ میرے لیے اللہ سے دعا فرمائیں (کہ اس بیماری سے نجات مل جاۓ) آپ نے فرمایا: ’’اگر تو چاہے تو اس تکلیف پر صبر کر، اس کے بدلے تیرے لیے جنت ہے اور اگر تو چاہے تو میں اللہ سے دعا کر دیتا ہوں کہ اللہ تجھے اس بیماری سے عافیت دے‘‘ اس نے کہا (اچھا ٹھیک ہے، پھر) میں صبر ہی اختیار کرتی ہوں، تاہم (دورے کے وقت) میں ننگی ہو جاتی ہوں، آپ اللہ سے یہ دعا فرما دیں کہ میں ننگی نہ ہوا کروں۔ چنانچہ آپ نے اس کے لیے دعا فرمائی۔ صحیح بخاری 5652‘ صحیح مسلم2576۔
ابو سعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کو کوئی تھکاوٹ، بیماری، پریشانی، رنج و غم نہیں پہنچتا یہاں تک کہ ایک کانٹا بھی نہیں چبھتا مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کے بعض گناہوں کو مٹاد یتا ہے۔" اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے اور مسلم کے الفاظ اس طرح ہیں: "مومن کو کوئی بیماری، تھکن، مرض یا رنج نہیں پہنچتا، یہاں تک کہ فکر جو اسے لاحق ہوتی ہے مگر اللہ تعالی اس کے ذریعہ اس کے گناہوں کو دور کردیتا ہے"۔
حدیث میں وارد لفظ “النصب” کا معنى ہے: تھکن، اور اس میں وارد لفظ “الوصب” کا معنى ہے: مرض-
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کو کوئی مصیبت نہیں پہنچتی مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اسے اس کے گناہوں کا کفارہ بنادیتا ہے، یہاں تک کہ ایک کانٹا جو اسے چبھتا ہے۔" اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔
اور مسلم کی ایک روایت میں ہے: ’’مومن کو کوئی کانٹا یا اس سےاوپرکوئی تکلیف نہیں پہنچتی مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کے بعض گناہ کو ختم کر دیتا ہے۔‘‘
اور دوسری روایت میں ہے: "مگر اللہ تعالی اس کے ذریعہ اس کے ایک درجہ کو بلند کرتا ہے اور اس کے ذریعہ اس کے ایک گناہ کو مٹا دیتا ہے"۔
اور مسلم کی ایک اور روایت میں ہے، انہوں نے کہا: قریش کے چند جوان لوگ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے وہ منیٰ میں تھیں، وہ لوگ ہنس رہے تھے، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیوں ہنستے ہو؟ انہوں نے کہا: فلاں شخص خیمہ کی طناب پر گرا اس کی گردن یا آنکھ اللہ کے پاس جاتے جاتے بچی، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: مت ہنسو، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان کو اگر ایک کا نٹا لگے یا اس سے زیادہ کوئی دکھ پہنچے تو اللہ تعالى اس کے لیے اس کے بدلہ میں ایک درجہ لکھ دیتا ہے اور اس کے بدلے میں اس سے ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے۔“
اورابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”کوئی ایسا مسلمان نہیں جس کو تکلیف پہنچی بیماری کی یا اور کچھ مگر اللہ تعالیٰ اس کے عوض میں اس کے گناہ گرا دیتا ہے جیسے درخت اپنے پتے گرا دیتا ہے۔“ اسے بخاری ومسلم نے روایت کیا ہے۔
بخار کا ثواب
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ام سائب یا ام مُسیَّب کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اے ام سائب (یاپھر یہ فرمایا) اے ام مُسیَّب! تمھیں کیا ہوا ہے، کیوں کانپ رہی ہو؟ انھوں نے جواب دیا کہ بخار کی وجہ سے، اللہ اس میں برکت نہ دے! اس پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "بخار کو برا بھلا مت کہو، یہ تو بنی آدم کے گناہوں کو اس طرح صاف کر دیتا ہے جیسے بھٹی لوہے کے میل کچیل کو صاف کردیتی ہے"۔
صحیح مسلم (2575)
عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ کے مرض کے زمانہ میں حاضر ہوا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بڑے تیز بخار میں تھے، میں نے عرض کیا: (یا رسول اللہ!) آپ کو بڑا تیز بخار ہے، میں نے یہ بھی کہا کہ یہ بخار آپ کو اس لیے اتنا تیز ہے کہ آپ کا ثواب بھی دوگنا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: "ہاں جو مسلمان کسی بھی تکلیف میں گرفتار ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے گناہ اس طرح جھاڑ دیتا ہے جیسے درخت کے پتے جھڑ جاتے ہیں"۔
صحیح بخاری(5647)، صحیح مسلم (2571)
بینائی کھونے والے کا ثواب جب وہ صبر کرے اور ثواب کی امید رکھے
أنس بن مالك رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہاکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے:
" اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جب میں اپنے کسی بندہ کو اس کے دو محبوب اعضاء (آنکھوں) کے بارے میں آزماتا ہوں (یعنی نابینا کر دیتا ہوں) اور وہ اس پر صبر کرتا ہے تو اس کے بدلے میں اسے جنت دیتا ہوں"۔
حدیث میں وارد لفظ (حبيبتيه) سے نبى صلى اللہ علیہ وسلم کى مراد ہے: اس کی دونوں آنکھیں-
صحیح بخاری (5653)
راستے سے تکلیف دہ چیز کے ہٹانے کا ثواب
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"میری امت کے اچھے اور برے اعمال میرے سامنے پیش کیے گئے، تو میں نے ان میں سب سے بہتر عمل راستے سے تکلیف دہ چیز کے ہٹانے اور سب سے برا عمل مسجد میں بلغم نکال پھینکنے اور اسے دفن نہ کرنے کو پایا"۔
صحیح مسلم (553)
اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :
صحیح بخاری(652)، صحیح مسلم (1914)
اور ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"ایک آدمی نے راستے میں پڑے درخت کی ایک شاخ کے پاس سے گزر کر کہا: اللہ کی قسم! میں اسے ضرور ہٹاؤں گا تاکہ یہ مسلمانوں کو تکلیف نہ دے، پس وہ (اس نیکی کی وجہ سے)جنت میں داخل کر دیا گیا"۔
صحیح مسلم (1914)
اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"میں نے ایک آدمی کو جنت میں چلتے پھرتے دیکھا، اس نے اس درخت کو کاٹ دیا تھا جو راستے کے درمیان میں تھا اور لوگوں کو تکلیف دیتا تھا"۔
صحیح مسلم (1914)
سانپ یا چھپکلی مارنے والے کا ثواب
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جس نے چھپکلی کو پہلی ضرب میں مار دیا، اس کے لیے سو نیکیاں ہیں، اور دوسری ضرب کےاندر مارنے میں اس سے کم نیکیاں ہیں اور تیسری ضرب کےاندر مارنے میں اس سے کم نیکیاں ہیں۔"
صحیح مسلم (2240)
دیانت دار اور سچے سوداگر کا ثواب
حكيم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"خریدنے اور بیچنے والے دونوں کواس وقت تک اختیار ہے (چاہیں تو معاملہ رکھیں اور چاہیں تو توڑ ڈالیں گو ایجاب و قبول ہوچکا ہو) جب تک ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں، اور اگر ان دونوں نے سچ کہا اور عیب وغیرہ بیان کیا تو اس خرید وفروخت میں برکت ڈالی جائے گی، اور اگر انھوں نے جھوٹ سے کام لیا اور عیب کو چھپایا تو ان کی خرید و فروخت کی برکت مٹادی جائے گی"۔
صحیح بخاري (2110)، صحیح مسلم (1532)
خرید و فروخت میں نرمی و سخاوت کا ثواب
جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
صحیح بخاری (2076)
اللہ تعالیٰ کے خوف سے اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے کا ثواب
عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
صحیح بخاری (6474)
اس حدیث میں وارد لفظ “بين لحييه-دونوں جبڑوں کے درمیان” سے مراد زبان ہے- اور “بين رجليه-دونوں پیروں کے درمیان” سے مراد: شرمگاہ ہے.
توبہ کا ثواب
انس بن مالك رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"یقیناً جب اللہ کا کوئی بندہ اس کی طرف لوٹ آتا ہے تو اس کو اپنے بندے کی توبہ پر اس سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ہے جتنی تم میں سے کسی کو اس وقت ہوتی ہے کہ وہ بیاباں جنگل میں اپنی سواری پر ہو اور سواری اس سے گم ہو جائے، اس کا کھانا اور پینا (یعنى زادِ سفر) بھی اسی پر تھا تو وہ سواری سے ناامید ہو کر ایک درخت کے پاس آیا اور اس کے سایہ میں لیٹ گیا کہ اب سواری نہیں ملے گی، وہ ابھی اپنی اسی حالت میں تھا کہ اپنی سواری کو اپنے پاس کھڑی ہوئی پاتا ہے تو وہ اس کی مہار پکڑ لیتا ہے پھر شدتِ مسرت میں مدہوش ہو کر کہہ جاتا ہے : اے میرے اللہ! تو میرا بندہ ہےاورمیں تیرا اللہ ہوں! بے پایاں خوشی کی بنا پر غلطى کربیٹھا"۔
صحیح مسلم (2747)
زمانہ کے خراب ہونے کى صورت میں نیک عمل کا ثواب
معقل بن يسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
صحیح مسلم (2948)
اس حديث میں وارد لفظ “الهرْج“ - جو را کے سکون کے ساتھ ہے- کا معنی اختلاف اور فتنے ہے-
فقیروں اور کمزوروں کا ثواب
عمران بن حصين رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
"میں نےجنت میں جھانکا تو دیکھا کہ اس میں زیادہ تر غریب لوگ تھے اور میں نے جہنم میں جھانکا تو دیکھا کہ اس میں زیادہ تر عورتیں تھیں"۔
صحیح بخاری(3241)، صحیح مسلم (2737) اسے ابن عباس رضي الله عنهما نے روایت کیا ہے۔
اور اسامة رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ نے فرمایا:
" میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا تو اس میں اکثر داخل ہونے والے مساکین تھے اور مال وعظمت والوں کو روک دیا گیا البتہ دوزخ والوں کے لیے دوزخ میں داخل ہونے کا حکم دیا گیا اور میں جہنم کے دروازے پر کھڑا ہوا تو اس میں اکثر داخل ہونے والی عورتیں تھیں۔"
صحیح بخاری(5196)، صحیح مسلم (2736)
ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ:
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑا تھا کہ اتنے میں یہود کے عالموں میں سے ایک عالم آیا اور بولا: کہ میں آپ کے پاس کچھ پوچھنے کو آیا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا میں اگر تجھے کچھ بتلاؤں تو تجھ کو فائدہ ہو گا؟۔“ اس نے کہا: میں کان سے سنوں گا، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چھڑی سے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں تھی زمین پر لکیر کھینچی ،اور فرمایا: ”پوچھ۔“ یہودی نے کہا: جس دن یہ زمین آسمان بدل کر دوسرے زمین و آسمان ہوں گے لوگ اس وقت کہاں ہوں گے؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ اس وقت اندھیرے میں پل صراط کے پاس کھڑے ہوں گے۔“ اس نے پوچھا: پھر سب سے پہلے کون لوگ اس پل سے پار ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غریب مہاجرین ۔“
صحیح مسلم (315)
ابوعبدالرحمٰن حبلی سے روایت ہے، انہوں نے کہا:تین آدمی عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور میں ان کے پاس موجود تھا، وہ کہنے لگے، اے ابومحمد! اللہ کی قسم! ہم کو کوئی چیز میسر نہیں، نہ خرچ ہے، نہ سواری، نہ ساز وسامان، عبداللہ نے کہا: تم جو چاہو میں کروں اگر چاہتے ہو تو ہمارے پاس چلے آؤ ہم تم کو وہ دیں گے جو اللہ نے تمہاری تقدیر میں لکھا ہے اور اگر کہو تو ہم تمہارا ذکر سلطان سے کریں، اور اگر چاہو تو صبر کرو اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”مہاجرین محتاج مالداروں سے چالیس برس پہلے (جنت میں) جائیں گے۔“ وہ بولے: ہم صبر کریں گے اور کچھ نہیں مانگیں گے۔
صحیح مسلم (2979)
“الجد” جیم کے زبر کے ساتھ يعنی نصیب اور تونگری
اللہ کے ساتھ بہتر گمان کا اجر
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں ویسا ہی ہوں جیسا میرا بندہ میرے بارے میں سوچتا ہے"۔
صحیح بخاری(7405)، صحیح مسلم (2675)
سلام کو رائج کرنے کا ثواب
صحیح مسلم (93)
عبداللہ بن سلام - رضی اللہ عنہ - سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: "اے لوگو ! سلام کو عام کرو، کھانا کھلاؤ، صلہ رحمی کرو اور رات میں جب لوگ سوتے ہوں اس وقت نماز پڑھو، تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔"
سنن ترمذی (2485) اور امام ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
گھر والوں کو سلام کرنے پر اجر
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے میرے پیارے بیٹے! جب تم اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ تو انہیں سلام کیا کرو، یہ سلام تمہار ے لیے اور تمہارے گھر والوں کے لیے خیر وبرکت کا باعث ہوگا“۔اسے ترمذی ( 2698 ) نے روایت کیا ہے اور فرمایا :یہ حديث حسن صحيح ہے۔
رحم کرنے والوں کا ثواب
اسامة بن زيد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
"اللہ اپنے مہربان بندوں پر رحم کرتا ہے۔"
صحیح بخاری(1284)، صحیح مسلم (923)
قبولیت کی گھڑی میں دعا کرنے کا ثواب
جابر ضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نے رسو ل اللہﷺ کو بیان کرتے ہوئے سنا ہے:
"رات میں ایک گھڑی ایسی ہے جو کسی مسلمان آدمی کو میسر آجائے اور وہ اس میں دنیا اور آخرت کے معاملے میں کسی بھلائی کا سوال کرے تو اللہ تعالیٰ اسے اس سے ضرور نوازتا ہے، اور یہ گھڑی ہر رات آتی ہے"۔
صحیح مسلم (757)
اللہ کی طرف بلانے کا ثواب
سهل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
صحیح بخاری(3009)، صحیح مسلم (2406)
ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
صحیح مسلم (2674)
جرير بن عبد الله رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’جس نے اسلام میں کوئی اچھا عمل قائم کیا اور اس کے بعد اس پر عمل کیا گیا تو اس کے لیے اتنا ہی اجر لکھا جاتا ہے جتنا کہ اس پر عمل کرنے والے کے لئے لکھا جاتا ہے، اور جس نے اسلام میں کوئی برائی قائم کی، اور اس کے بعد اس پر عمل کیا گیا تو اس کے اوپر اس چیز پر عمل کرنے والے کے برابر بوجھ ہوگا، اور ان کے بوجھ میں سے کچھ بھی کم نہ کیا جائے گا۔"
صحیح مسلم (1017)
حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تبلیغ پر ثواب
ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے:
اس حدیث کو امام ترمذی(2657) نے روایت کیا ہے اور اسے حسن صحيح قرار دیا ہے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ بندے کی اس بات سے خوش ہوتا ہے کہ وہ لقمہ کھائے پس اس پر اللہ کی حمد و ثنا کرے یا پانی کا گھونٹ پئے اور اس پر اللہ کی حمد و ثنا کرے"۔
صحیح مسلم (2734)
Related books
All books- طہارت، نماز اور جنازے کے فقہی احکام14 زبانیں
طہارت، نماز اور جنازے کے فقہی احکام
کتاب "طہارت، نماز اور جنازے کے بعض فقہی احکام" فضیلۃ الشیخ علامہ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ کی تالیف ہے، جو کتاب وسنت کی روشنی میں طہارت، نماز اور جنازے کی عبادات کو وضاحت سے بیان کرتی ہے، اس کا مقصد مسلمان کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ بصیرت کے ساتھ اپنی عبادات کو نبی ﷺ کے طریقے پر انجام دے سکے، جو آسانی اور پابندی کا مجموعہ ہے اور اخلاص واتباع کی ترغیب دیتا ہے تاکہ قبولیت اور اللہ کی قربت حاصل ہو۔
- نبی ﷺ کی نماز کا طریقہ75 زبانیں
نبی ﷺ کی نماز کا طریقہ
کتاب 'كَيفِيَّةُ صَلَاةِ النَّبِيِّ ﷺ' میں سماحۃ الشیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ نے آسان اسلوب اور دقیق منہج کے ساتھ، نبی ﷺ کی نماز کا طریقہ، صحیح نصوص کی روشنی میں بیان کیا ہے، تاکہ یہ مسلمان کے لیے اس کی نماز میں رہنما ثابت ہو۔ اس کتاب میں نماز کے ارکان، سنتوں اور صفات کو وضو سے لے کر سلام تک بیان کیا گیا ہے، جو دلیل اور وضاحت کا مجموعہ ہے، اور اس عظیم ترین عبادت میں نبی ﷺ کی مکمل پیروی کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
- خوشگوار زندگی کے مفید وسائل55 زبانیں
خوشگوار زندگی کے مفید وسائل
فضیلۃ الشیخ علامہ عبد الرحمن بن ناصر السعدی رحمہ اللہ کی کتاب "خوشگوار زندگی کے مفید وسائل" حقیقی سعادت کے اسباب کو عمیق ایمانی نقطۂ نظر سے واضح کرتی ہے، چنانچہ ایمان اور عملِ صالح، ذکرِ الہی، قناعت، نعمتوں میں غور وفکر، احسان، توکل، صبر، اور امور کی صحیح قدر و فہم کے ذریعے یہ قاری کی رہنمائی قلبی اطمینان کی جانب کرتی ہے؛ خوبصورت اسلوب میں آپ کے سامنے ایسی زندگی کا خاکہ رکھتی ہے جو تقلباتِ زندگی کے باوجود مطمئن، متوازن اور خوشگوار ہو۔
- اسلام کے اصول و مبادی7 زبانیں
اسلام کے اصول و مبادی
تالیف ڈاکٹر محمد بن عبد اللہ بن صالح السحیم بسم الله الرحمن الرحيم مقدمہ بے شک ہر طرح کی تعریف اللہ ہی کے لئے ہے، ہم اسی کی تعریف کرتے ہیں، اُسی سے مدد مانگتے ہیں، اسی سے مغفرت طلب کرتے ہیں اور ہم اپنے نفسوں کے تمام شرور اور اپنے اعمال کی تمام برائیوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔ جسے اللہ تعالی ہدایت دے دے، اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں، اور جسے گمراہ کردے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے‘ اس کا کوئی شریک نہیں اور اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔آپ پررب کی بہت زیادہ رحمت…