رسول الإسلام محمد صلى الله عليه وسلم

رسول الإسلام محمد صلى الله عليه وسلم

رسولِ اسلام محمدﷺ

Language: lang_ur
Prepared by: مسجد حرام اور مسجد نبوی میں دینی امور کی سربراہی کے ما تحت علمی کمیٹی
Version: 1.0
Translations 64
Afrikanns Amharic Assamese Azerbaijani +60
Attachments 7
PDF
Audio
Video
+3

رسولِ اسلام محمدﷺ

مسجد حرام اور مسجد نبوی میں دینی امور کی سربراہی کے ما تحت علمی کمیٹی

شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم واﻻ ہے۔ رسولِ اسلام محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی کے مختصر حالات:اس میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ونسب، دیش، آپ کى شادى، رسالت، دعوت, نیز جن معجزات سے آپ کى نبوت کى تائید ہوئی ، ساتھ ہى آپ کى شریعت اور آپ سے متعلق آپ کے مخالفین کا موقف، یہ سارے موضوعات زیر بحث آئے ہیں۔

1- آپ کا نام اور نسب نامہ, جائے پیداشں اور نشو ونما:

رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا اسم گرامی محمد بن عبد الله بن عبد المطلب بن هاشم ہے, اور آپ حضرت اسماعیل بن ابراہیم علیہم السلام کى اولاد میں سےتھے۔

اور وہ یوں کہ اللہ کے نبی ابراہیم علیہ السلام ملک شام سے مکہ مکرمہ تشریف لائے, ان کی بیوى ہاجر علیہا السلام اور ان کے فرزند اسماعیل علیہ السلام بھی ساتھ میں تھے وہ ابھى ماں کى گود ہى میں تھے کہ ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے ان دونوں کو مکہ میں بسایا,جب وہ بچہ جوانی کى عمر کو پہنچا تو اللہ کے نبى ابراہیم علیہ السلام مکہ مکرمہ تشریف لائے, اور وہ اور ان کے فرزند اسماعیل دونوں نے مل کر کعبہ مشرفہ کى تعمیر کی, پھر اس گھر کے ارد گرد لوگوں کى بھیڑ اکٹھا ہونے لگی اور مکہ اللہ تعالى کى عبادت کرنے اور فریضہ حج ادا کرنے والوں کا مقام بن گیا, اورصدیوں تک لوگ ابراہیم علیہ السلام کے طریقے پر خالص اللہ کی عبادت اور اس کی وحدانیت کے ساتھ قائم رہے۔

پھر اس کے بعد بگاڑ نے جنم لیا, اور جزیرہ عرب کى حالت بھی اس کے آس پاس کے دوسرے شہروں ہی کی طرح تھی جہاں بت پرستی کے بہت سارے مظاہر موجود تھے, مثلا: مورتی پوجا, لڑکیوں کو زندہ دفنا دینا, عورتوں پر ظلم وستم, جھوٹی گواہیاں دینا, شراب نوشی, زنا کاری یتیموں کا مال ہڑپ کرجانا اور سودی کاروبار وغیرہ۔

ایسى جگہ اور اس ماحول میں سن 571ء میں اللہ کے رسول محمد بن عبد اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کى پیدائش ہوئى, آپ اسماعیل بن ابراہیم علیہما السلام کی ذریت میں سے تھے,آپ کى پیدائش سے پہلے ہی آپ کے والد وفات پاچکے تھے, اور جب آپ چھ سال کے ہوئے تو آپ کى والدہ بھى انتقال کر گئیں,آپ کے چچا ابوطالب نے آپ کى کفالت کى, آپ نے یتیمی اور فقر کى حالت میں زندگى گزارى, اپنے ہى ہاتھ سے کماتے اور کھاتے تھے۔

2- مبارک خاتون سے مبارک شادی

جب آپ کی عمر پچیس سال کی ہوئی تو آپ نے مکہ کى عورتوں میں سے ایک شریف عورت سے شادی کی جن کا نام خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا تھا, ان کے بطن سے آپ کے یہاں کل چار بیٹیاں اور دو بیٹے ہوئے, دونوں بیٹے بچپن ہی میں وفات پاگئے, آپ اپنی بیوی اور اہل خانہ کے ساتھ انتہائی درجہ کی محبت اور مہربانی سے پیش آتے, جس کے نتجہ میں ان کی بیوی خدیجہ کو آپ سے والہانہ محبت ہوگئی, اور آپ کو بھی ان سے ویسی ہی محبت تھی, یہی وجہ تھی کہ آپ ان کى وفات پر ایک لمبا عرصہ گزر جانے کے بعد بھى ان کو نہ بھول سکے, اور خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سہیلیوں کی عزت واکرام میں بکری ذبح کرکے تقسیم کردیا کرتے, اس میں حضرت خدیجہ کے ساتھ نیکى اور محبت کی حفاظت کا جذبہ کار فرما تھا۔

3- وحی کا آغاز

محمد رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم ابتدائے آفرینش سے ہی عظیم اخلاق کے حامل تھے, آپ کى قوم آپ کو صادق اور امین کے نام سے موسوم کرتى تھى. آپ ان کا بہت سارے مہتم بالشان کاموں میں ساتھ دیتے, لیکن ساتھ ہى ساتھ ان کى بت پرستی سے نفرت بھى کرتے اور اس میں کبھى ان کا ساتھ نہیں دیتے تھے۔

جب آپ چالیس سال کے ہوئے اور اس وقت آپ مکہ ہى میں تھے تواللہ تعالى نے رسالت کے لیے آپ کو منتخب کرلیا, چنانچہ آپ کے پاس جبریل علیہ السلام نزول کے اعتبار سے قرآن کى سب سے پہلى سورت کی ابتدائی آیات لے کر آئے اور وہ آیات اللہ تعالى کا یہ فرمان ہیں:

"پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔

جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔

تو پڑھتا ره تیرا رب بڑے کرم واﻻ ہے۔

جس نے قلم کے ذریعے (علم) سکھایا۔

’’انسان کو وہ باتیں سکھائیں جو وہ نہیں جانتا تھا۔‘‘

(سورہ العلق:1-5)۔

پھر آپ اپنى بیوى خدیجہ کے پاس آئے دراں حال کہ آپ کا دل کانپ رہا تھا, آپ نے ان کے سامنے سارا ماجرا بیان کیا تو انہوں نے آپ کو اطمینان دلایا اور اپنے چچازاد بھائى ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں وہ نصرانى مذہب اختیار کر چکے تھے اور تورات اور انجیل کا علم رکہتے تھے, ان سے خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے چچا کے بیٹے! اپنے بھتیجے کى بات سنو, آپ سے ورقہ نے کہا: اے میرے بھتیجے تم کو کیا نظر آرہا ہے, رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ دیکھا تھا سب بیان کر دیا, اس پر ورقہ نے آپ سے کہا:

یہ تو وہی ناموس ( معزز راز دان فرشتہ يعنى جبرئيل امين) ہے جسے اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وحی دے کر بھیجا تھا، کاش میں اس وقت تک زندہ رہتا جب آپ کی قوم آپ کو اس شہر سے نکال دے گی ۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر تعجب سے پوچھا کہ کیا وہ لوگ مجھ کو نکال دیں گے, ورقہ بولے ہاں جو شخص بھی آپ کی طرح امر حق لے کر آیا لوگ اس کے دشمن ہى ہو گئے، اگر مجھے آپ کی نبوت کا وہ دن مل جائے تو میں آپ کی زبردست مدد کروں گا۔

مکی زندگى میں قرآن کے نزول کا سلسلہ برابر جارى رہا, جبریل علیہ السلام اللہ رب العالمین کى جانب سے قرآن لے کر آپ کے پاس آتے, اور رسالت کى پورى تفاصیل بھى لاتے رہتے۔

آپ اپنی قوم کو برابر اسلام کى دعوت دیتے رہے, لیکن آپ کى قوم نے آپ کو دھتکار دیا اور مخالفت پر اتر آئى اور یہ پیش کش بھى کى کہ اگر آپ اس رسالت کى دعوت سے دست بردار ہوجاتے ہیں تو اس کے عوض میں مال ودولت اور بادشاہت کے منصب سے سرفراز کردیے جائیں گے, پر آپ نے ان تمام چیزوں سے انکار کردیا, ان لوگوں نے آپ کو جادوگر, جھوٹا, افترا پرداز تک کہا جیسا کہ گذشتہ قومیں اپنے نبیوں کو ان سب القاب سے متصف کرتى رہیں ہیں. انہوں نے آپ پر عرصہ دراز تنگ کردیا, آپ کے جسد پاک پر جور وستم ڈھائے اور آپ کے پیروکاروں کو طرح طرح کى تکلیفیں دى۔

رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم مکہ میں برابر دعوت الى اللہ کا کام کرتے رہے,حج کے موسم میں اور عرب کے موسمى بازاروں کے موقع پر آپ ان کے پاس جاتے اور لوگوں سے ملتے, ان پر اسلام پیش کرتے, نہ ان کو دنیا و ریاست کى لالچ دلاتے اور نہ تو تلوار کى دھمکى دیتے کیوںکہ آپ کے پاس قوت وسلطنت تھى ہى نہیں, آپ نے دعوت کے دور اول ہى میں اس چیلنج کا اعلان کردیا تھا کہ اس جیسا کوئى عظیم قرآن جو مجھے دیا گیا ہےتم بھى لاؤ, آپ برابر اپنے مخالفین کو یہ چیلنج کرتے رہے لہذا جس کو ایمان لانا تھا وہ ایمان لایا جنہیں ہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کى جماعت کے نام سے جانتے ہیں۔

اللہ تعالى نے آپ کو مکہ میں نبوت کى ایک عظیم نشانی اسراء اور معراج کى شکل میں عطا فرمائى, اسراء یعنى آپ راتوں ہى رات بیت المقدس لے جائے گئے, اور معراج یعنى آپ کو آسمانوں کى سیر کرائى گئى, اور یہ بات بھى معلوم ہے کہ اللہ نے نبى الیاس اور عیسى علیہما السلام کو آسمان میں اٹھا لیا ہے, اس کا ذکر مسلمانوں اور نصارى کے یہاں ملتا ہے۔

آسمان ہى میں نبی صلى اللہ علیہ و سلم کو اللہ تعالى کى طرف سے نماز کا حکم دیا گیا, یہ وہى نماز ہے جسے مسلمان دن میں پانچ بار ادا کرتے ہیں، اور مکہ مکرمہ ہى میں آپ کو دوسرى عظیم نشانى شق قمر کى شکل میں دى گئى یہاں تک کہ مشرکین نے اپنی آنکھوں سے چاند کو دو ٹکڑوں میں ہوتے دیکھا۔

قریش کے کافروں نے لوگوں کو آپ سے روکنے کے لیے ہر قسم کا حربہ اپنایا, آپ کے خلاف خوب چالیں چلیں اور آپ سے لوگوں کو نفرت دلائى, معجزات کى فرمائش میں سرکشى کا مظاہرہ کیا, آپ سے جھگڑنے کے لیے یہودیوں کاسہارا لیا تاکہ وہ طرح طرح کى دلیلوں کى مدد سے آپ کو ہرا سکیں اور لوگوں کو آپ کے پاس جانے سے روک سکیں۔

جب مسلمانوں پر کفار قریش کا ظلم و ستم مسلسل جارى رہا تو نبی صلى اللہ علیہ وسلم نے ان کو ملک حبشہ کى طرف ہجرت کرنے کى اجازت دے دى اور ان سے نبى صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہاں پر ایک انصاف پسند بادشاہ ہے اس کے یہاں کسی پر ظلم نہیں ہوتا, وہ ایک نصرانى باشاہ تھا, لہذا مسلمانوں کے دو گروہ نے حبشہ ہجرت کى, جب یہ مہاجرین حبشہ پہنچے تو ان لوگوں نے نجاشی بادشاہ پر دین اسلام کو پیش کیا جس کو لے کر نبی محمد صلى اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تھے, وہ بادشاہ مسلمان ہوگیا اور فورا بول پڑا: اللہ کى قسم ہے یہ اور جو کچھ موسى علیہ السلام لے کر آئے تھے دونوں ایک ہى طاق سے نکل رہے ہیں (یعنی دونوں کا منبع ومصدر ایک ہى ہے اور دونوں اللہ کا کلام ہیں)، اس کے بعد بھى آپ صلى اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں پر قوم کى ایذا رسانیاں جارى رہیں۔

جو لوگ موسم حج میں مسلمان ہوئے ان میں ایک جماعت وہ تھى جو مدینہ سے تشریف لائى تھى, ان لوگوں نے آپ سے اسلام پر بیعت کى اور یہ عہد کیا کہ جب آپ ان کے شہر ہجرت کرکے آئیں گے تو وہ لوگ آپ کى مدد کریں گے, مدینہ ان دنوں یثرب کے نام سے جانا جاتا تھا, جو لوگ مکہ میں رہ گئے تھے آپ نے ان کو مدینۃ النبی کے لیے ہجرت کرنے کى اجازت دے دى چنانچہ مسلمان مدینہ کى طرف نکل پڑے, وہاں اسلام خوب پھیلا یہاں تک کہ مدینہ کا کوئى گھر ایسا نہیں بچا جس میں اسلام نہ پہنچ گیا ہو۔

جب نبی صلى اللہ علیہ وسلم دعوت الى اللہ کے کام سے مکہ میں تیرہ سال کا عرصہ گزار چکےتو اللہ تعالى نے آپ کو بھى مدینہ کى طرف ہجرت کرنے کى اجازت دے دى, لہذا آپ صلى اللہ علیہ وسلم ہجرت کرگئے, اور دعوت الى اللہ کا کام برابر جارى رکھا, مدینہ میں اسلامی احکامات دھیرے دھیرے نازل ہوتے رہے, آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے اپنے قاصدوں کو مختلف قبائل کے سرداروں اور بادشاہوں کے پاس اپنے پیغامات دے کر بھیجنا شروع کیا جس میں ان کو اسلام کى دعوت دیتے تھے, جن کى طرف آپ نے پیغامات بھیجے ان میں روم, ایران اور مصر کے بادشاہ بھى تھے۔

مدنی زندگى میں سورج گرہن کا واقعہ پیش آیا, تو لوگ ڈر گئے, اتفاقا اسی دن نبی صلى اللہ علیہ وسلم کے فرزند ابراہیم فوت ہوئے تھے, چنانچہ لوگ کہنے لگے کہ سورج میں گرہن ابراہیم کى موت کى وجہ سے ہوا ہے, تو فورا نبی صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(بلاشبہ سورج اور چاند دونوں میں گرہن کسى کى موت یا زندگى کى وجہ سے نہیں لگتا, لیکن یہ دونوں تو اللہ تعالى کى نشانیوں میں سے دوعظیم نشانیاں ہیں جن کے ذریعہ اللہ تعالى اپنے بندوں کو ڈراتا ہے).[1]۔

پس اگر نبی صلى اللہ علیہ وسلم نبوت کے جھوٹے دعویدار ہوتے تو فورا لوگوں کو اپنی کذب بیانی سے خوف دلاتے اور کہہ دیتےکہ سورج محض میرے بیٹے کى موت کى وجہ سے گہنا گیا ہے تو جو میرى تکذیب کر رہا ہے بھلا اس کا کیا حال ہوگا.۔

[1] صحیح مسلم (901)

رسول صلى اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالى نے اعلى درجہ کے اخلاق سے مزین کیا تھااور اللہ نے رسول صلى اللہ علیہ وسلم کو اپنے فرمان میں یوں متصف کیا ہے:

"اور بے شک تو بہت بڑے (عمده) اخلاق پر ہے"۔

[سورة القلم:4]،

آپ ہر عمدہ اخلاق سے متصف تھے, مثلا: راست گوئى, اخلاص, شجاعت وبہادری, انصاف پسندى, وعدہ کى پاسداری یہاں تک کہ دشمن تک کے ساتھ بھى, سخاوت, فقیروں, مسکینوں, بیواؤں اور ضرورت مندوں پر خرچ کرنے کو محبوب رکھنا, اور لوگوں کى ہدایت کے لئے حریص ہونا, نیز ان کے ساتھ شفقت ورحمت اور انکسارى سے پیش آنا وغیرہ آپ کے اوصاف حمیدہ تھے, یہاں تک کہ بسا اوقات کوئى اجنبی آپ کو تلاش کرتا ہوا آتا اور آپ کے صحابہ رضى اللہ عنہم سے آپ کے متعلق پوچھتا اور کہتا کہ تم میں محمد کون ہے؟ حالانکہ آپ انہی کے بیچ ہوتے لیکن وہ آپ کو نہیں پہچان پاتا۔

آپ, دوست ودشمن, قریبى اور دور کا, چھوٹا اور بڑا, مرد وعورت یہاں تک کہ چرند وپرند سب کے ساتھ معاملات میں شرافت کا پیکر تھے, اور آپ کى سیرت لوگوں کےساتھ تعامل کرنے میں کمالیت کى واضح نشانى تھى ۔

جب اللہ تعالى نے دین کو مکمل کردیا, اور رسول صلى اللہ علیہ وسلم رسالت کاپیغام بحسن وخوبی لوگوں تک پہنچا چکے تو ترسٹھ سال کى عمر میں آپ وفات پاگئے, اس میں سے چالیس سال نبوت ملنے سے پہلے اور تیئس برس بحیثیت نبی اور رسول کے آپ اس دنیا میں رہے۔

آپ کى تدفین مدینہ نبویہ میں ہوئى, آپ نے مال ودولت اور بطور میراث کچھ نہیں چھوڑا سوائے اپنے سفید خچر کے جس پر آپ سوارى کیا کرتے تھے اور ایک زمین تھى جس کو آپ نے مسافروں کے لیے صدقہ کر دیا تھا.[2]۔

[2] صحیح بخاری (4461) 6/15.

جو لوگ اسلام لائے اور آپ کى تصدیق وپیروى کى ان کى تعداد بہت بڑی تھى, حجۃ الوداع جوکہ آپ نے وفات سے صرف تین مہینے قبل کیا تھا اس میں آپ کے ساتھ صحابہ کى ایک لاکھ سے زیادہ تعداد تھى, اور شاید یہى اس دین اسلام کى حفاظت اور پھیلاؤ کا راز ہے, نبی صلى اللہ علیہ وسلم نے اسلامى قدروں اور بنیادوں پر جن صحابہ کرام کى تربیت کى تھى وہ, عدل وانصاف, زہد وورع, اور وفاشعارى سے متصف ہونے میں روئے زمین کے سب سے بہترین لوگ تھےاور جس عظیم دین پر وہ ایمان لائے تھے اس کے لیے سب کچھ کر گزرنے کا جذبہ رکھتے تھے۔

پھر ان صحابہ میں, بحیثیت ایمان واخلاص, علم وعمل, تصدیق, جاں نثاری ولگن, دلیرى اور سخاوت, ابو بكر صديق، عمر بن الخطاب، عثمان بن عفان، اور علي بن أبي طالب، رضى الله عنهم سب سے عظیم ہستیاں تھیں, یہ سبھى لوگ شروع شروع میں ایمان لانے اور تصدیق کرنے والوں میں سے تھے, یہى لوگ آپ کى وفات کے بعد مسلمانوں کے خلیفہ اور دین کے علم بردار رہے, ان میں سے کسی کے اندر نبوت کى کوئى خاصیت نہیں تھى, اور نہ ہى نبی صلى اللہ علیہ وسلم کے نزدیک بقیہ دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم اجعین کے مقابلہ میں ان کو کوئى الگ خصوصیت حاصل رہى۔

اللہ تعالى نے آپ کو جو کتاب عطا کى اس کى خود حفاظت بھى کى, اسی طرح آپ کى سنت وسیرت, آپ کے اقوال وافعال کو آپ ہى کى زبان (یعنى عربی) میں محفوظ کردیا, دنیا کى پورى تاریخ میں کوئى ایسی سیرت نہیں ملتى جو نبى صلى اللہ علیہ و سلم کى سیرت کى طرح محفوظ ہو, بلکہ آپ کے سونے, کھانے پینے ہنسنے وغیرہ تک کى کیفیت ریکارڈ ہے۔

اندرون خانہ اہل خانہ کے ساتھ آپ کے معاملات کیسے رہے؟

آپ کی زندگى کے سارے حالات آپ کى سیرت کے ضمن میں مکمل طور سے محفوظ و مدون ہیں, آپ محض ایک انسان اور اللہ کے رسول تھے, آپ میں ربوبیت کى ادنى سی بھى خاصیت نہیں تھى, اور اپنے تئیں کسی نفع ونقصان کے مالک بھى نہیں تھے۔

4- آپ کا پیغام

اللہ تعالى نے محمد صلى اللہ علیہ وسلم کو اس وقت رسول بناکر بھیجا جب چہار دانگ عالم میں شرک وکفر اور جہالت عام ہو چکى تھى, اس روئے زمین پر اہل کتاب میں سے کچھ گنے چنے افراد کے علاوہ کوئى بھى ایسا نہ تھا جو صرف اللہ کى عبادت کرتا رہا ہو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہو, ایسے وقت میں اللہ تعالى نے اپنے رسول محمد صلى اللہ علیہ وسلم کو نبیوں اور رسولوں کے سلسلے کو ختم کرنے والا بنا کر بھیجا, اللہ نے آپ کو ساری کائنات کے لیے ہدایت اور دین حق کے ساتھ مبعوث فرمایا تاکہ اس دین کو تمام ادیان پر غلبہ عطا کرے, اور لوگوں کو بت پرستی, کفر اور جہالت کى تاریکیوں سے نکال کر وحدانیت اور ایمان کى روشنی کى طرف لے آئے، آپ کى رسالت سابقہ تمام انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کی رسالتوں کى تکمیل ہے۔

آپ نے بھى اسی چیز کى دعوت دى جس کى دعوت دیگر انبیاء ورسل علیہم السلام مثلا نوح, إبراهيم, موسى, سليمان, داود اورعيسى وغیرہم نے دی تھى, یعنی اس بات پر ایمان لانا کہ رب اللہ ہی ہےجو پیدا کرنے والا, رزق دینےوالا, زندگى اور موت دینے والا ہے, وہى شہنشاہ ہے, تمام کاموں کى تدبیر وہى کرتا ہے, وہ مہربان اور انتہائی رحم کرنے والاہے, اس کائنات میں جو کچھ بھى ہے خواہ ہم اسے دیکھ دیکھ سکتے ہوں یا نہ دیکھ سکتے ہوں سب کا خالق اللہ ہى ہے,اور اللہ کے سوا جتنی بھى چیزیں ہیں وہ سب کى سب اللہ کى پیدا کردہ ہیں۔

اسی طرح آپ نے صرف ایک اللہ کى عبادت اور اس کے علاوہ سب کى عبادت ترک کردینے کى دعوت دى, اور بالکل واضح انداز میں بتلادیا کہ اللہ صرف ایک ہےاس کى عبادت, بادشاہت, خلقت اور تدبیر میں اس کا کوئی شریک نہیں, اور یہ بھى بیان کردیاکہ نہ اس کی کوئى اولاد ہے اور نہ ہى وہ کسی کى اولاد ہے, اس کے برابر اور اس جیسا کوئى نہیں, وہ اپنی مخلوقات میں سے کسی کے اندر نہ تو حلول کرتا ہے اور نہ ہى کسی کى جسمانى ہیئت اختیار کرتا ہے۔

آپ نے آسمانی کتابوں پر ایمان لانے کى دعوت دی جیسے: ابراہیم اور موسى علیہما السلام کے صحیفے, تورات, زبور اور انجیل، اسی طرح تمام رسولوں پر ایمان لانے کى بھى دعوت دی اور آپ نے یہ معیار بھی قائم کیا کہ جو ایک نبی کى تکذیب کرے گا وہ تمام نبیوں کا منکر مانا جائے گا۔

تمام لوگوں کو اللہ تعالى کے رحمت کى بشارت دى کہ وہ اللہ تمہارے سارے دنیاوی امور کے لیے کافى ہےاور اللہ ہى تمہارا رب ہے جو نہایت رحم کرنے والا ہے اور قیامت کے دن جب سب کو قبروں سے زندہ کرے گا تو وہى تنہا تمام مخلوقات کا حساب لے گا, وہ مومنوں کو ان کے نیک اعمال کا بدلہ دس گنا بڑھا کر دے گا اور برائى کا اس کے بقدر, اور یہ کہ مومنوں کے لیے آخرت میں ہمیشہ رہنے والى نعمتیں ہیں, اور جو کوئى کفر اور برے اعمال کرے گا تو اس کا بدلہ اسے دنیا اور آخرت دونوں میں ملے گا۔

رسول محمد صلى اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیغام رسالت میں کبھى اپنے قبیلے, شہر,اور اپنی ذات شریفہ کى برترى نہیں جتلائى, بلکہ خود قرآن کریم میں دیگر انبیاء نوح ابراہیم موسى عیسى علیہم السلام کے نام آپ کے نام سے زیادہ آئے ہیں, آپ کى والدہ اور بیویوں کے نام بھى قرآن میں نہیں ہیں جبکہ موسى علیہ السلام کى ماں کانام قرآن میں کئى بار ذکر کیا گیا ہےاسی طرح مریم علیہا السلام کا ذکر پینتیس بار ہوا ہے۔

رسول محمد صلى اللہ علیہ وسلم ہر اس چیز سے معصوم ومحفوظ ہیں جس میں شریعت, عقل سلیم اور فطرت سلیمہ کى مخالفت پائى جاتى ہے یا جسے نیک خصلت قبول نہیں کرتى ہے, کیوں کہ انبیاء علیہم السلام جو کچھ اللہ کى جانب سے تبلیغ کرتے ہیں اس میں معصوم ہیں, اور وہ اللہ تعالى کے احکامات کو اس کے بندوں تک پہنچانے کے مکلف ہیں, اور ان انبیاء میں ربوبیت یا الوہیت کى کوئى خاصیت نہیں, بلکہ وہ بھى عام انسانوں کى طرح ایک انسان ہیں جن کى جانب اللہ تعالى اپنے پیغامات کى وحى کرتا ہے۔

رسول محمد صلى اللہ علیہ وسلم کى رسالت کا من جانب اللہ وحى ہونے کى سب سے بڑى دلیل یہ ہے کہ وہ آج بھى ویسی ہى حالت میں موجود ہے جیسے آپ کى حیات مبارکہ میں تھی اور ایک ارب سے زیادہ مسلمان اس کے متبع ہیں, اس کے شرعى واجبات مثلا نماز, زکاۃ روزہ اور حج وغیرہ پر بغیر کسی تبدیلى اور بگاڑ کے لوگ عمل پیرا ہیں۔

5- آپ کی نبوت کى نشانیاں, علامات اور دلیلیں

اللہ تعالى انبیاء کرام کى نبوت کى تائید مختلف قسم کے نشانیوں سے کرتا ہے اور ان کے لیے بہت سارے دلائل وبراہین قائم کرتا ہے جو ان کی رسالت کى سچائى کى گواہى دیتے ہیں, اور اللہ نے ہر نبی کو اتنی آیات عطا کی تھیں جو اس بات کے لئے کافی تھیں کہ انہى کے تعداد کےبقدر لوگ ان انبیاء پر ایمان لے آتے, اللہ تعالى نے انبیاء کرام کو جتنے بھى معجزات عطا کیے ان میں سب سے عظیم معجزۃ ہمارے نبی محمد صلى اللہ علیہ وسلم کو قرآن کریم کى شکل میں عطا فرمایا جو کہ نبیوں کے معجزات میں سے قیامت تک باقى رہنے والا معجزہ ہےاسى طرح اللہ تعالى نے دیگر بڑے بڑے معجزات سے آپ کى تائید فرمائى، رسول محمد صلى اللہ علیہ وسلم کے معجزات بہت زیادہ ہیں, ان میں سے چںد یہ ہیں:

اسراء ومعراج, شق قمر, قحط کے زمانے میں اللہ تعالى سے آپ کى دعا کى بدولت بارہا بارش کا نزول۔

تھوڑے سے کھانا اور پانى کا زیادہ ہوجانا چنانچہ لوگوں کى ایک بڑى تعداد اس کھانے سے شکم سیر ہوجاتی اور اس پانی سے سیراب ہوجاتی۔

اللہ تعالى کى وحى کى مدد سےگزشتہ زمانے کے غیب کى خبریں بتلانا جن کى تفصیل کسی کو معلوم نہیں تھى, جیسے کہ انبیاء علیہم السلام اور ان کى قوم کے قصے اور قصہ اصحاب کہف۔

اللہ سبحانہ وتعالى کى وحى کى مدد سے آئندہ پیش آنے والے غیبى امور سے باخبر کرنا, مثلا: سرزمین حجاز سے نکلنے والى آگ کى خبر دینا جو ظاہر ہو چکى ہے اور جس کو ملک شام میں رہنے والوں نے بھى دیکھا, اسی طرح لوگوں کا عمارتیں بنوانے میں فخر ومباہات کرنا۔

اللہ کا آپ کے لئے کافى ہونا اور اللہ تعالى کا لوگوں سے آپ کى حفاظت کرنا۔

اور صحابہ کرام سے آپ نے جو وعدہ کیا تھأ ان کا پورا ہونا جیسے کہ آپ کا ان سے کہنا:

(تم ضرور بالضرور فارس اور روم کو فتح کرو گے اور اس کے خزانوں کو اللہ کے راستے میں خرچ کروگے)۔

اور فرشتوں کے ذریعہ اللہ تعالى کا آپ کى مدد فرمانا۔

اور انبیاء کرام علیہم السلام کا اپنی قوموں کو رسول محمد صلى اللہ علیہ وسلم کے نبوت کى خوش خبرى دینا اورانبیاء میں سے جنہوں نے آپ کى بشارت دى ان میں سے بنو اسرائیل کے انبیاء موسى, داود, سليمان, اور عيسى عليهم السلام وغيره تھے۔

نیز اللہ تعالى کا آپ کى تائید فرمانا ان عقلى دلائل اور طرح طرح کى بیان کى ہوئى مثالوں کے ذریعے[3] جنہیں عقل سلیم فورا تسلیم کر لیتى ہے۔

[3] جیسے اللہ تعالى کا فرمان: "لوگو! ایک مثال بیان کی جا رہی ہے، ذرا کان لگا کر سن لو! اللہ کے سوا جن جن کو تم پکارتے رہے ہو، وه ایک مکھی بھی تو پیدا نہیں کر سکتے، گو سارے کے سارے ہی جمع ہو جائیں، بلکہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز لے بھاگے، تو یہ تو اسے بھی اس سے چھین نہیں سکتے۔ بڑا بودا ہے طلب کرنے واﻻ اور بڑا بودا ہے وه جس سے طلب کیا جا رہا ہے۔"[سورة الحج:۷۳]۔

اس طرح کى آیتیں, دلیلیں اور عقلى مثالیں قرآن کریم اور سنت نبوی میں بھرى پڑى ہیں جن کا شمار مشکل ہے, جو ان سے واقف ہونا چاہتا ہے اسے قرآن کریم,حدیث اور سیرۃ النبی کا مطالعہ کرنا چاہیے وہ ان میں ان نشانیوں اور معجرات کے بارے میں یقینی خبر پالے گا۔

یہ عظیم معجزات اگر وقوع پذیر نہ ہوتے تو آپ کے مخالفین کفار قریش اور جزیرہ عرب کے یہود ونصارى کو آپ کى تکذیب کا اور لوگوں کو آپ سے ڈرانے کا اچھا موقع ہاتھ آجاتا۔

اور قرآن کریم وہ کتاب ہے جس کو اللہ تعالى نے رسول محمد صلى اللہ علیہ وسلم پر وحى کى اور وہ اللہ رب العالمین کا کلام ہے, اللہ تعالى نے جن وانس کو چیلنج کیا کہ اس جیسا قرآن یا اس جیسی کوئى ایک سورہ بنا کر لائیں اور یہ چیلنج برابر آج تک باقى ہے، قرآن کریم میں بہت سارے اہم سوالوں کا جواب موجود ہے جس نے لاکھوں لوگوں کو حیرت زدہ کر رکھا ہے, یہ قرآن عظیم آج تک اپنی اسی عربى زبان میں محفوظ ہے جس میں وہ نازل ہوا, اس میں ایک حرف کى بھى کمى واقع نہیں ہوئى ہے, وہ چھپ کر پورى دنیا میں پھیلا ہوا ہے, وہ عاجز کر دینے والى عظیم کتاب ہے بلکہ بنی نوع انساں تک پہنچنے والى کتابوں میں سب سے عظیم الشان کتاب ہے, جو اس لائق ہے کہ اسے پڑھا جائے یا کم از کم اس کے معانی کا ترجمہ ہى پڑھا جائے, جو اس کتاب سے مطلع نہ ہو سکا اور اس پر ایمان نہیں لایا تو اس سے سارى بھلائى فوت ہوگئى۔

اسی طرح سے رسول محمد صلى اللہ علیہ وسلم کى سیرت طیبہ, سنت، اور طور طریقہ مکمل طور سے محفوظ ہیں اور باوثوق راویوں کے سلسلہ وار سند کے ذریعہ ہم تک پہنچے ہیں, سب عربی زبان میں مطبوع ہیں جو کہ رسول محمد صلى اللہ علیہ وسلم کى زبان تھى, اور بہت سارى دوسری زبانوں میں ان کے ترجمے بھى ہوئے، قرآن کریم اور سنت رسول صلى اللہ علیہ وسلم یہی دونوں اسلامى احکام اور شریعت سازى کا مرجع ومصدر ہیں۔

6- وہ شریعت جس کو رسول محمد صلى اللہ علیہ وسلم لے کر آئے۔

وہ شریعت جس کو رسول محمد صلى اللہ علیہ وسلم لے کر آئے اسے شریعت اسلام کہتے ہیں, یہ وہ شریعت ہے جو اللہ تعالى کى نازل کردہ شریعتوں اور رسالتوں میں سب سے آخر میں نازل ہوئی، یہ شریعت بھى اصولى اور بنیادى امور میں سابقہ انبیاء کى شریعتوں سے ہم آہنگ ہے اگرچہ ان کی کیفیتیں مختلف ہیں۔

وہ ایک مکمل شریعت ہے, ہر زمانے اور ہر جگہ کے لیے مناسب ہے, اسى میں لوگوں کے دین ودنیا کى بھلائى ہے یہ ہر اس عبادت کو شامل ہے جو اللہ رب العالمین کے لیے بندوں پر واجب کى گئى ہیں, جیسے نماز وزکاۃ وغیرہ, اس میں مالى لین دین, اقتصادى امور, اجتماعى مسائل, سیاسی اور جنگى اور ماحولیات سے متعلق جائز وناجائز تمام امور کا بیان موجود ہے, اس کے علاوہ ہر اس چیز کا بیان بھى ہے جس کا انسان کى دنیاوى اور اخروى زندگى تقاضا کرتى ہے۔

یہ شریعت لوگوں کے ادیان, خون, عزت, دولت, عقل اور نسلوں کى حفاظت کرتى ہے, یہ ہر نیکى اور فضیلت کو متضمن ہے اور ہر رذالت وشر سے آگاہ کرتی ہے, اس میں لوگوں کى عزت وتکریم, میانہ روى, عدل وانصاف, اخلاص, صفائى, پختگى, محبت, دوسروں کے لیے بھلائى کى چاہت, خون کى حفاظت, ملک و وطن کى سلامتى, ناحق طور پر لوگوں کو مرعوب اور خوف زدہ کرنے کى حرمت جیسے امور کى طرف دعوت دی گئى ہے.رسول صلى اللہ علیہ وسلم ہر قسم کى سرکشى اور فتنہ وفساد کے سامنے سراپا جنگ تھے, اور دینی خرافات, عزلت پسندى اور یکسر ترک دنیا کے بھى مخالف تھے۔

رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھى واضح طور پر بیان کردیا کہ اللہ تعالى نے انسان کو مکرم بنایا ہے چاہے مرد ہو یا عورت, اور اس کے سارے حقوق کے پاسداری کى ضمانت لی ہے, اور یہ کہ انسان کو اس کے سارے اختیارات واعمال اور تصرفات کا مسؤول بنایا ہے, نیز یہ کہ خود کو یا دوسروں کو ضرر رسانى کى سارى ذمہ دارى اسی کے سر جائے گى, اس کے ساتھ ایمان, ذمہ دارى اور جزاء وثواب میں مرد اور عورت دونوں کو برابر قرار دیا ہے نیز اس شریعت میں عورت پر بحیثت بیوی بیٹى اور بہن کے خاص عنایت کى گئى ہے۔

جس شریعت کو محمد صلى اللہ علیہ وسلم لے کر آئے اس میں عقل کى حفاظت پر توجہ دی گئى ہے, اورشراب نوشی جیسى ہر وہ چیز جو عقل میں بگاڑ پیدا کرے حرام قرار دى گئى ہے، لہذا اسلام نے دین کو روشنی سے تعبیر کیا ہے جس سے عقل کى راہ روشن ہوتى ہے اور انسان اپنے رب کى عبادت پورے علم وبصیرت کے ساتھ کرتا ہے, اسلامی شریعت نے عقل کى شان کو بلند کردیا ہے اور اسے ہى احکام شرعیہ کا مکلف ہونے کى علت قرار دیا ہے، اور اسلام ہى نے انسان کو تمام مذہبى خرافات اور بت پرستی کى قید وبند سے آزادى دلائى ہے۔

شریعت اسلامیہ صحیح علمى کاوشوں کى تعظیم کرتى اور ہوا پرستی سے الگ ہوکر خالص علمى بحث وتحقیق پر ابھارتی ہے, اپنی ذات اور کائنات میں غور فکر کى دعوت دیتى ہے, سائنس کے صحیح علمى نتائج رسول صلى اللہ علیہ وسلم کى لائى ہوئى تعلیمات کے کبھى مخالف نہیں ہوسکتے۔

شریعت اسلامیہ میں کسی خاص جنس کے لوگوں کو دوسرے جنس کے لوگوں پر کوئى برترى حاصل نہیں,اور نہ ہى ایک قوم کو دوسرى قوم پر کوئى فضیلت ہے, اسلامی احکامات کے سامنے سب برابر ہیں, کیوںکہ تمام انسان اپنی اصل کے اعتبار سے یکساں ہیں ایک جنس کو دوسرى جنس پر اور ایک قوم کو دوسری قوم پر کوئى فضیلت حاصل نہیں, برترى کا معیار صرف تقوى ہے, اور رسول محمد صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے اور کوئى ایسا انسان نہیں جو گناہ گار پیدا ہو یا کسی دوسرے کے گناہ کا وارث بن کر پیدا ہو۔

شریعت اسلامیہ میں اللہ تعالى نے توبہ کو مشروع قرار دیا ہے, اور توبہ یہ ہے کہ انسان اپنے رب کى طرف رجوع کرے اور گناہ سے باز آجائے, اور اسلام گزشتہ سارے گناہوں کو ختم کردیتا ہے, توبہ بھى گزشتہ سارے گناہوں کا کفارہ ہے, لہذا لوگوں کے سامنے انسان کو اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے کى کوئى ضرورت نہیں, دین اسلام میں اللہ اور بندہ کے درمیان بلا واسطہ تعلق ہوتا ہے لہذا تم کو کسی ایسے شخص کى کوئى ضرورت نہیں جو تمہارے اور اللہ کے مابین واسطہ بنے اسلام میں یہ حرام ہے کہ ہم کسی انسان کو معبود یا اللہ کى ربوبیت یا الوہیت میں اس کا کوئى ساجھى ٹھہرائیں۔

اور جو شریعت رسول محمد صلى اللہ علیہ وسلم لے کر آئے وہ سابقہ تمام شریعتوں کو منسوخ کرنے والى ہےکیوںکہ جو شریعت محمد صلى اللہ علیہ وسلم اللہ کے پاس سے لے کر آئے وہ پورى کائنات کےلیے تا قیامت آخرى شریعت ہے, اسی لیے اس نے ماقبل کى سارى شریعتوں کو منسوخ کردیا جیسا کہ سابقہ شریعتیں ایک دوسرے کے لیے ناسخ تھیں, اور اب اللہ تعالى اسلام کے علاوہ کوئى دوسرى شریعت قبول نہیں کرے گا اور نہ ہى جس دین اسلام کو محمد صلى علیہ وسلم لے کر آئے ہیں اس کے سوا کوئى دین مقبول ہوگا, اگر کوئى اسلام کے علاوہ کوئى دوسرا دین اختیار کرتا ہے تو ہرگز اس سے وہ دین قبول نہیں کیا جائے گا, اگر کوئى شریعت اسلامیہ کے احکامات کى تفصیل جاننا چاہتا ہے تو اسے دین اسلام کا تعارف کرانے والى موثوق کتابوں کى طرف رجوع کرنا چاہیے۔

دیگر الہى رسالتوں کى طرح شریعت اسلامیہ کا مقصد بھى یہى ہے کہ دین حق انسان کو سر بلند رکھے لہذا وہ خالص اللہ رب العالمین کا بندہ بن کر رہے اور انسانوں یا مادیات یاخرافات کى غلامى سے آزاد ہوجائے۔

شریعت اسلامیہ ہر زمانے اور جگہ کے لیے مناسب ہے, اس میں کوئى چیز بھى ایسی نہیں جو درست انسانی مصلحتوں کے مخالف ہو, کیوںکہ یہ شریعت اس اللہ تعالى کى جانب سے نازل کردہ ہے جو انسانی ضروریات سے بخوبى واقف ہے, اور لا ریب انسان ایسى مناسب اور درست شریعت کے محتاج ہیں جس کے احکامات میں باہمى تعارض نہ ہو, جو انسانیت کے لیے سودمند ہواور وہ کسی انسان کى وضع کردہ نہ ہو بلکہ اللہ کے پاس سے حاصل کى گئى ہو جو لوگوں کو نیکى اور ہدایت کى راہ د کھائے, جب لوگ اس کے مطابق فیصلہ کریں تو ان کے سارے امور سدھر جائیں اور لوگ ایک دوسرے کے ظلم سے محفوظ رہیں۔

7- آپ کے بارے میں آپ کے مخالفین کا موقف اور آپ کے حق میں ان کى گواہیاں

اس میں کوئى شک نہیں کہ تمام انبیاء کے مخالفین رہے ہیں جنہوں نے ان نبیوں سے دشمنى مول لی اور ان کى دعوت کى راہ میں رکاوٹیں کھڑى کیں, اور لوگوں کو ان پر ایمان لانے سے روکتے رہے, چنانچہ نبی صلى اللہ علیہ وسلم کے بھى آپ کى زندگى میں اور آپ کى وفات کے بعد بہت سارے مخالفین ہوئے لیکن ان سب پر اللہ تعالى نے اپنے نبی کى مدد فرمائى, زبانى ماضی اور حال میں بھى ان دشمنان رسول میں سے بہت ساروں نے اس بات کى گواہی دى ہے کہ آپ اللہ کے نبی ہیں اور یہ کہ سابقہ انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کى طرح آپ بھى ایک شریعت لے کر آئے تھے, وہ یہ بات بخوبى جانتے ہیں کہ آپ ہى حق پر تھے لیکن سرداری کی چاہت, سماج کا خوف یا اپنے جاہ ومنصب کى بدولت حاصل کردہ مال ومتاع کے فقدان کا خدشہ ان میں سے اکثر لوگوں کو آپ پر ایمان لانے کى راہ میں رکاوٹ کا سبب بنتا ہے۔

اور تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو سارے جہان کا رب ہے۔