شروط الصلاة وأركانها وواجباتها
كتاب نافع مختصر في بيان شروط الصلاة، وأركانها، وواجباتها، مبينًا تسعة شروط للصلاة. ويشرح أركانها الأربعة عشر، بالإضافة إلى واجباتها ومبطلاتها. يعتبر الكتاب مرجعًا مهمًا للمسلمين لفهم كيفية أداء الصلاة بشكل صحيح وفقًا لأحكام الشريعة الإسلامية، مستندًا إلى أدلة الوحي من القرآن الكريم والسنة النبوية المطهرة.
نماز کى شرطیں، ارکان اور واجبات
تالیف: شیخ الاسلام مجدد دین امام محمد بن عبد الوہّاب رحمه الله
1115- 1206 هـ
تحقیق و اہتمام اور تخریج احادیث
ڈاکٹر سعید بن علی بن وہَف القحطانی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مقدمہ از محقق
یقیناً تمام تعریفیں اللہ کے لیے سزاوار ہیں۔ ہم اس کی تعریف بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد طلب کرتے ہیں اور اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں۔ ہم اپنے نفسوں اور بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں۔ جسے اللہ تعالی ہدایت عنایت کر دے، اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے، اسے کوئی راہ نہیں دکھا سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں۔ وہ تنہا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل اور اصحاب پر ڈھیروں درود و سلام نازل فرمائے۔ امّا بعد :
’نماز کی شرطیں، ارکان اور واجبات‘ نامی امام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ کی تحریر کردہ یہ کتاب ایک مفید ترین کتاب ہے۔ بطور خاص کم جانکاری والے لوگوں اور عوام الناس کے لیے، بلکہ اللہ نے اس کے ذریعے عوام اور خواص دونوں کو فائدہ پہنچایا ہے۔ یہی حال شیخ الاسلام رحمہ اللہ کی تمام تصنیفات کا ہے کہ دنیا کے سارے اکناف واقطار کے لوگ ان سے فیض یاب ہوئے ہیں۔ یہ اللہ کا شیخ رحمہ اللہ اور لوگوں پر بہت بڑا فضل وکرم ہے۔
اس مبارک کتاب کی شرح سماحۃ الشیخ علّامہ امام عبدالعزیز بن عبد اللہ بن باز رحمہ اللہ نے 1410 ہجری میں اپنے گھر سے متصل مسجد میں فرمائی تھی۔ دراصل اس کتاب کو اس مسجد کے امام شیخ محمد الیاس بن عبد القادر نے اُن کے سامنے پڑھا تھا اور شیخ نے مصلیانِ مسجد کے سامنے پانچ دنوں میں صلاۃِ عشا کی اذان و اقامت کے درمیانی وقفہ میں اس کی شرح فرمائی تھی۔ اس طرح ایک امتیازی شان کی حامل، محقق، مختصر اور مفید شرح وجود میں آ گئی۔ یہ پانچ دروس کل نوّے (۹۰) منٹ پر محیط ہیں اور ان کو ایک ہی کیسیٹ میں ریکارڈ کر لیا گیا ہے۔ یہ کیسیٹ میرے پاس تقریبًا پچیس برسوں یعنی محرم 1435ہجری تک موجود رہی اور بعد میں اللہ تعالیٰ نے مجھے اسے کاغذ پر اتارنے کی توفیق بخشی۔
میں نے اس پر مندرجہ ذیل کام کیے ہیں:
1- اللہ کے فضل سے میں نے پوری باریک بینی سے لفظ بہ لفظ شیخ رحمہ اللہ کی ریکارڈ شدہ آواز سے متن اور شرح کا موازنہ کیا ہے۔
2- میں نے ’نماز کی شرطیں، ارکان اور واجبات‘ کے متن کے اُس نسخے کو، جسے قاری نے شیخ ابن باز کے سامنے پڑھا تھا اور شیخ نے اُسے سماعت فرمایا تھا، اصل نسخے کی حیثیت دیتے ہوئے، چار نسخوں سے اس کا مقابلہ کیا ہے۔ علاوہ ازیں دو قلمی نسخوں سے بھی اس کا مقابلہ کیا ہے: دونوں میں سے پہلا نسخہ مکمل ہے، جو واضح اور خوب صورت خط میں لکھا ہوا ہے۔ اسے ابراہیم بن محمد الضویان نے مؤرخہ 6/ 5/ 1307 ہجری کو نقل کیا تھا۔ یہ نسخہ ’مرکز الملک فیصل للبحوث والدراسات الاسلامیہ‘ میں، اندراج نمبر 5258 کے تحت، مائکرو فلم کی شکل میں محفوظ ہے اور اس کا اصل مخطوطہ جامع عنیزہ، قصیم کى لانبریری میں موجود ہے۔ دراصل یہ نسخہ دیگر تین مخطوطات ’ثلاثۃ الأصول‘، ’القواعد الأربع‘ اور ’كشف الشبهات‘ کے ساتھ وہاں محفوظ ہے اور یہ تینوں ۔مؤلف رحمہ اللہ کى تالیفات ہیں۔ دوسرا قلمی نسخہ ’مرکز الملک فیصل‘ میں مائکرو فلم نمبر 5265 کے تحت موجود ہے۔ جب کہ اس کا اصل مخطوطہ مکتبہ جامع عنیزہ، قصیم میں موجود ہے۔ یہ نسخہ بھی دیگر مخطوطات ’ثلاثۃ الأصول‘، ’أربع قواعد‘، ’كتاب التوحيد‘ اور ’آداب المشي للصلاة‘ کے ساتھ یکجا محفوظ ہے۔ اور یہ مذکورہ تمام کتابین مؤلف رحمہ اللہ کى تالیف ہیں۔ اسی طرح ان کے ساتھ شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب ’العقیدۃ الواسطیۃ‘ کا مخطوطہ بھی شامل ہے۔ یہ دوسرا نسخہ 1338 ہجری میں لکھا گیا ہے، تاہم اُس میں ناسخ کا نام درج نہیں ہے۔ اور یہ واضح اور خوب صورت تحریر میں لکھا ہوا ہے۔ لیکن اس میں مؤلف کے قول ’’والدليل قوله تعالى: ’’ومن يبتغ غير الإسلام ديناً فلن ..." سے ان کے قول: "عليه وسلم في الوقتين...‘‘ تک قدرے شگاف ہے۔ اس نسخے کا مقابلہ میں نے دیگر نسخوں سے بھی کیا ہے۔ چوتھا نسخہ جامعہ امام محمد بن سعود الاسلامیہ کا مطبوعہ نسخہ ہے، جس کی تصحیح اور قلمی نسخے (269/ 86) سے اس کا مقابلہ شیخ عبد العزیز بن زید الرومی اور شیخ صالح بن محمد الحسن نے کیا ہے۔
3- مختلف نسخوں کے مابین پائے جانے والے فرق کو میں نے حاشیہ میں درج کر دیا ہے۔
4- قرآنی آیات کا حوالہ ذکر کر دیا ہے۔
5- جملہ احادیث وآثار کی تخریج کی ہے۔
6- قرآنی آیات، احادیث اور آثار کی ایک جامع فہرست تیار کر دی ہے۔
7- میں نے اس شرح کا نام ’الشرح الممتاز لسماحة الشيخ الإمام ابن باز‘ رکھا ہے۔ جب میں اس نادر شرح کی تکمیل سے فارغ ہو گیا اور اس کی طباعت بھی عمل میں آ گئی، تو میری خواہش ہوئی کہ ’نماز کی شرطیں، ارکان اور واجبات‘ کے متن کو مذکورہ تحقیقی کاموں کے ساتھ 'الشرح الممتاز' سے الگ کر کے ایک مستقل کتاب کی حیثیت سے سامنے لایا جائے، تاکہ اللہ عز و جل کی توفیق سے اس سے لوگوں کو فیض اٹھانے کا موقع مل سکے۔ اس لیے کہ متن کو شرح سے الگ کر دینے سے خاص طور سے کم جان کاری رکھنے والے لوگوں کے لیے اُسے حفظ کرنا آسان ہو جائے گا اور جو شرح کی طرف رجوع کرنا چاہے گا، وہ اس کی جانب رجوع کر سکتا ہے۔
میں اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ اس کتاب کو خالص اپنی رضا کا سامان بنائے، اس سے کتاب کے مؤلف امام محمد بن عبدالوہّاب رحمہ اللہ اور اس کے شارح شیخ ابن باز رحمہ اللہ کو فائدہ پہنچائے، دونوں کے لیے اسے علمِ نافع بنائے، میری زندگی میں اور مرنے کے بعد بھی مجھے اس سے فیض یاب کرے، جس تک یہ کتاب پہنچے اس کو بھی فائدے سے ہم کنار کرے؛ وہ پاک ذات سب سے بہتر ذمہ دار اور بزرگ تر جائے امید ہے، وہ ہمارے لیے کافی اور ہمارا کارساز ہے۔ اس بلند و عظیم اللہ کی مدد کے بغیر نہ گناہوں سے بچنے کی طاقت ہے، نہ نیکی کی قوت۔ درود و سلام اور برکت نازل ہو ہمارے نبی محمد ﷺ پر اورآپ کی آل اور اصحاب پر۔
تحریر کردہ: ابو عبد الرحمٰن
سعید بن علی بن وہَف القحطانی
بعد صلاۃِ ظہر، بروز بدھ، بتاریخ: 25/ 5/ 1435 ہجری
پہلے مخطوطے کا صفحہ نمبر 6، جو مركز الملك فيصل میں اندراج نمبر5258 کے تحت موجود ہے۔ یہ نسخہ مکتبہ جامع عنيزہ، قصیم، سعودی عرب میں بھی محفوظ ہے۔
دوسرے مخطوطے کا صفحہ نمبر 5، جو مركز الملك فيصل میں اندراج نمبر 5265 کے تحت موجود ہے۔
یہ نسخہ مکتبہ جامع عنيزہ، قصیم، سعودی عرب میں بھی محفوظ ہے۔
مؤلف شیخ الاسلام مجدد دین امام محمد بن عبد الوہّاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نماز کی نَو (۹) شرطیں ہیں:
1. مسلمان ہونا 2. عقل مند ہونا 3. سن رشد کو پہنچنا 4. وضو کرنا 5. نجاست دور کرنا 6. شرم گاہ کو چھپانا 7. وقت کا داخل ہونا 8. قبلہ رخ ہونا 9. نیت کرنا
پہلی شرط: نماز صحیح ہونے کی پہلی شرط مسلمان ہونا ہے۔ مسلمان کی ضد کافر ہے اور کافر کا عمل، چاہے کیسا بھی ہو، اللہ کے یہاں قابل قبول نہیں ہے۔ [1]،[2]، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: (مشرکوں کا یہ کام نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدوں کو آباد کریں، حالاں کہ وہ اپنے اوپر کفر کے گواہ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال اکارت ہو گئے اور وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔) [3]۔ نیز یہ آیت کریمہ بھی اس کی دلیل ہے: (اور انہوں نے جو جو اعمال کیے تھے، ہم نےان کی طرف بڑھ کر انہیں پراگنده ذروں کی طرح کردیا۔) [4]۔ [1] پہلے اور دوسرے قلمی نسخوں میں ہے: ’’اور کافر کا عمل اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں ہے اور نماز بھی صرف مسلمان کی مقبول ہوتی ہے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: (وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ( "جو شخص اسلام کے سوا اور دین تلاش کرے، اس کا دین قبول نہ کیا جائے گا اور وه آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا"۔ اور کافر کا عمل اس پر مار دیا جائے گا خواہ کیسا ہی عمل کرے۔‘‘ [2] یہاں ’’أي عمل‘‘ کے بعد دوسرے قلمی نسخے میں کاغذ پھٹا ہوا ہے۔ اور یہ شگاف نویں شرط کے وسط جا کر ختم ہوا ہے۔ [3] سورہ التوبہ، آیت: 17۔ [4] سورہ الفرقان، آیت : 32۔
دوسری شرط [5] : عقل مند ہونا ہے۔ عقل کی ضد جنون یعنی پاگل پن ہے اور پاگل بن کا شکار شخص صحت یاب ہو جانے تک شرعی احکام کا پابند نہیں رہتا۔ اس کی دلیل یہ حدیث پاک ہے [6]: "(فرشتوں کے اعمال لکھنے کا) قلم تین آدمیوں سے اٹھا لیا گیا ہے: سونے والے سے جب تک وہ بیدار نہ ہو جائے، پاگل پن کے شکار شخص سے جب تک وہ صحت یاب نہ ہو جائے اور بچے سے جب تک وہ بالغ نہ ہوجائے۔" [7]۔ [5] قاری کے نسخے اورجامعہ کے دوسرے نسخے میں لفظ ’’شرط‘‘ نہیں ہے۔ [6] قاری کے نسخے اور جامعہ کے نسخہ میں ’’الحدیث‘‘ ہے۔ جب کہ پہلے مخطوطے میں ہے: ’’حتى يفيق لحديث...‘‘۔ [7] اسے ابوداؤد نے کتاب الحدود، 'باب فی المجنون يسرق أو يصيب حداً‘ میں حدیث نمبر (4405) کے تحت روایت کیا ہے۔ اس کے الفاظ ہیں: ’’عَنْ عَلِيٍّ -رضي الله عنه- عَنِ النَّبِيِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ: رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلاَثَةٍ عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَعْقِلَ۔‘‘ (علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: قلم تین آدمیوں سے اٹھا لیا گیا ہے: سونے والے سے جب تک وہ بیدار نہ ہو جائے، پاگل پن کے شکار شخص سے جب تک وہ صحت یاب نہ ہو جائے اور بچے سے جب تک وہ بالغ نہ ہوجائے۔)۔ ان کے علاوہ دوسرے لوگوں نے بھی اسے ملتے جلتے الفاظ اور سوئے ہوئے شخص، مجنوں اور بچے کی ترتیب میں قدرے فرق کے ساتھ علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ سنن ترمذی، کتاب الحدود، باب ما جاء فيمن لا يجب عليه الحد، حدیث نمبر 1423، مسند احمد (2/ 461) حدیث نمبر 1362 اور حاكم (2/ 59)۔ حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور ذ ہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔ جب کہ مسند احمد (2/ 461) کے محققین نے صحیح لغیرہ اور علّامہ البانی نے 'ارواء الغلیل' (2/ 5) میں صحیح کہا ہے۔ یہ روایت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اُن لفظوں کے ساتھ مروی ہے: ’’أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ: «رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلاَثَةٍ عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ وَعَنِ الْمُبْتَلَى حَتَّى يَبْرَأَ وَعَنِ الصَّبِىِّ حَتَّى يَكْبَرَ»‘‘ (اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: قلم تین لوگوں سے اُٹھا لیا گیا ہے: سونے والے شخص سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہوجائے، مبتلائے جنون سے یہاں تک کہ وہ صحت یاب ہوجائے اور بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہوجائے۔) ۔ساتھ ہی ابو داؤد، كتاب الحدود، باب في المجنون يسرق أو يصيب حداً، حدیث نمبر 4400 اور احمد (42/ 51) حدیث نمبر 25114 وغیرہ نے بھی اسے ملتے جلتے الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے، جس کی سند کو مسند احمد ( 42/ 51) کے محققین نے جید قرار دیا ہے اور علامہ البانی نے ’’إرواء الغليل‘‘ ( 2/ 4 ) میں صحیح قرار دیا ہے۔
تیسری شرط: سنّ رُشد ہے، جس کی ضد ’صغر سنی‘ ہے۔ اس کی حد سات سال ہے۔ اس حد کو پار کرنے کے بعد نماز پڑھنے کا حکم دیا جائے گا [8]۔ اس لیے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے: "تم اپنے بچوں کو نماز پڑھنے کا حُکم دو، جب وہ سات برس کے ہوجائیں اور دس برس کے ہوجائیں، تو انہیں اس پر (یعنی نماز نہ پڑھنے پر) مارو اور ان کے بستر الگ کردو۔" [9]۔ [8] پہلے مخطوطے میں ’’ثُمّ‘‘ (پھر) کا لفظ نہیں ہے، بلکہ صرف ’’يؤمر بالصلاة‘‘ ( انہیں نماز کا حکم دیا جائے گا) کے الفاظ ہیں۔ [9] ابو داؤد نے اسے کتاب الصلاۃ، باب ’متی یُضْرَبُ الغلام بالصلاۃ‘ حدیث نمبر (495) کے تحت ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: ’’مُرُوا أَوْلَادَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَهُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِينَ، وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا، وَهُمْ أَبْنَاءُ عَشْر سِنينَ، وَفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ۔‘‘ (جب تمہاری اولاد سات سال کی ہو جائے، تو تم ان کو نماز پڑھنے کا حکم دو۔ اور جب وہ دس سال کے ہو جائیں، تو انہیں اس پر (یعنی نماز نہ پڑھنے پر) مارو اور ان کے سونے کے بستر الگ کر دو۔) اسی طرح امام احمد (11/ 369) نے حدیث نمبر (6756) کے تحت ان الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے: ’’مُرُوا أَبْنَاءَكُمْ بِالصَّلَاةِ لِسَبْعِ سِنِينَ، وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا لِعَشْرِ سِنِينَ، وَفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ، وَإِذَا أَنْكَحَ أَحَدُكُمْ عَبْدَهُ أَوْ أَجِيرَهُ، فَلَا يَنْظُرَنَّ إِلَى شَيْءٍ مِنْ عَوْرَتِهِ، فَإِنَّ مَا أَسْفَلَ مِنْ سُرَّتِهِ إِلَى رُكْبَتَيْهِ مِنْ عَوْرَتِهِ۔‘‘ (جب تمہارے بچے سات سال کے ہوجائیں، تو انہیں نماز کا حکم دو اور دس سال کی عمر میں نماز (نہ پڑھنے) پر انہیں مارو اور ان کے سونے کے بستر الگ کردو۔ تم میں سے کوئی جب اپنے غلام یا ماتحت مزدور کی شادی کردے، تو اس کے قابلِ ستر اعضا کی طرف قطعًا نہ دیکھے، اس لیے کہ اس کے ناف کے نیچے سے لے کر اس کے گھٹنوں تک کا حصہ قابلِ ستر ہے۔) اسی طرح امام احمد نے اسے عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده کے طریق سے حدیث نمبر (6689) کے تحت ان لفظوں کے ساتھ روایت کیا ہے: ’’مُرُوا صِبْيَانَكُمْ بِالصَّلَاةِ، إِذَا بَلَغُوا سَبْعًا، وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا، إِذَا بَلَغُوا عَشْرًا، وَفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ۔‘‘ (جب تمہارے بچے سات سال کی عمر کو پہنچ جائیں، تو انہیں نماز پڑھنے کا حُکم دو اور جب دس برس کے ہو جائیں تو انہیں نماز (نہ پڑھنے ) پر مارو اور ان کے سونے کے بستر الگ کردو۔) مسند احمد (11/ 369) کے محققین نے اسے حسن کہا ہے اور علامہ البانی نے ’’ارواء الغلیل‘‘ (1/ 266) میں صحیح قرار دیا ہے۔
چوتھی شرط [10] : رفعِ حدث یعنی با وضو ہونا۔ وضو حدث کی بنا پر واجب ہوتا ہے۔ [10] پہلے مخطوطے میں صرف ’’چوتھی‘‘ لکھا ہے اور لفظِ ’’شرط‘‘ مذکور نہیں ہے۔ جب کہ وہ قاری کے نسخے اور جامعہ کے مطبوعہ نسخہ میں بھی لکھا ہوا ہے۔
وضو کى دس شرطیں ہیں1. مسلمان ہونا 2.عقل مند ہونا 3. سن رشد کو پہونچنا 4.نیت کرنا 5.وضو مکمل ہونے تک نیت باقی رکھنا[11] 6. وضو واجب کرنے والی کسی چیز کا نہ پایا جانا 7. وضو سے پہلے پانی یا ڈھیلے اور پتھر وغیرہ سے استنجا کرنا 8. پانی کا پاک اور مباح ہونا 9. جِلد تک پانی کے پہنچنے میں حائل رکاوٹ کو دور کرنا 10. ایسے شخص کے لیے نماز کا وقت داخل ہوجانا جس کی ناپاکی دائمی ہو۔[12] [11] پہلے مخطوطے میں ’’تَتِمَّ الطَّہارۃُ‘‘ کے بجائے بغیر الف لام کے’’تَتِمَّ طهارته‘‘ ہے۔ جب کہ قاری اور جامعہ کے مطبوعہ نسخے میں الف لام کے ساتھ ہے۔ [12] پہلے مخطوطے میں ’’وَدُخُولُ وَقْتٍ‘‘ کے بجائے ’’ودخول الوقت‘‘ ہے۔
جہاں تک وضو کے فرائض کی بات ہے، تو یہ کُل چھ (6) ہیں: (1) چہرے کا دھونا۔ اس میں کُلّی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا بھی داخل ہے۔ اس کی حد لمبائی میں سر کے بال اُگنے کی جگہ سے ٹھڈی تک کا حصہ ہے اور چوڑائی میں ایک کان کی لو سے دوسرے کان کی لو تک۔ (2) دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونا۔ (3) پورے سر کا مسح کرنا۔ اس میں دونوں کانوں کا مسح بھی شامل ہے۔ (4) دونوں پیروں کو ٹخنوں سمیت دھونا۔ (5) ترتیب کے ساتھ وضو کرنا۔ (6) ان کاموں کو تسلسل کے ساتھ کرنا[13]۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: (اے ایمان والو! جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو، تو اپنے چہروں کو اور دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک دھوؤ اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پیروں کو ٹخنوں تک دھوؤ۔) [14] الآية [15]۔ [13] پہلے مخطوطے میں موالات (تسلسل) کے بعد ’’وواجبه التسمية مع الذكر‘‘ کے الفاظ بھی ہیں۔ [14] سورة المائدہ، آیت: 6۔ [15]«الآية»: یہ لفظ نہ تو پہلے مخطوطہ نسخے میں ہے، نہ دوسرے میں۔
وضو میں ترتیب کے ضروری ہونے کی دلیل یہ حدیث ہے: "تم بھی وہیں سے شروع کرو، جہاں سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ہے۔" [16]۔ [16] امام نسائی نے اسے ’’کتاب مناسک الحج‘‘، ’’القول بعد رکعتَی الطواف‘‘ میں حدیث نمبر (2962) کے تحت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے ’’تمام المِنّہ‘‘ (صفحہ 88) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔ امام مسلم نے بھی کتاب ’الحج‘، باب ’’باب حجۃ النبی ﷺ‘‘ میں حدیث نمبر (1218) کے تحت ان لفظوں میں اسے روایت کیا ہے: ’’أَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ‘‘ (میں بھی وہیں سے شروع کرتا ہوں، جہاں سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ہے۔)
تسلسل کی دلیل خشکی باقی چھوڑ دینے والے صحابی کی حدیث ہے، جس میں ہے کہ آپ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا، جس کے قدم [17] میں ایک درہم کے برابر حصہ خشک رہ گیا تھا اور وہاں پانی نہیں پہنچا تھا۔ لہذا آپ ﷺ نے اسے [18] دوبارہ وضو کرنے کا حکم دیا۔[19]"۔ [17] پہلے مخطوطے میں ’’فی قَدَمِه‘‘ کی بجائے ’’فی رِجْلِه‘‘ کا لفظ ہے۔ [18] پہلے مخطوطے میں ’’فَأَمَرَهُ بالإعادة‘‘ کی بجائے ’’أمره بالإعادة‘‘ ہے۔ [19] ابوداؤد نے اسے 'کتاب الطہارۃ'، 'باب تفریق الوضوء'، حدیث نمبر (175) میں اور امام احمد 24/ 251 نے حدیث نمبر (15595) میں اللہ کے نبی ﷺ کے بعض اصحاب سے ان لفظوں کے ساتھ روایت کیا ہے: ’’أن النبي -صلى الله عليه وسلم- رأى رجلاً يصلي وفي ظهر قدمه لمعة قدر الدرهم لم يصبها الماء، فأمره النبي -صلى الله عليه وسلم- أن يعيد الوضوء والصلاة‘‘۔ (نبیﷺ نے ایک شخص کو نماز پڑھتے دیکھا۔ اس کے پاؤں کے اوپری حصے میں ایک درہم کے برابر حصہ خشک رہ گیا تھا اور وہاں پانی نہیں پہنچا تھا۔ چنانچہ نبی ﷺ نے اسے وضو اور نماز دونوں کے لوٹانے کا حکم دیا۔) مسند احمد (24/ 252) کے محققین نے اسے صحیح لغیرہ کہا ہے۔ علامہ البانی نے بھی صحیح سنن ابی داؤد (1/ 310) حدیث نمبر (168) میں اسے صحیح کہا ہے اور ابن دقیق العید نے ’’الإلمام‘‘ صفحہ 15 میں امام احمد کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اس کی سند جیّد ہے۔ کچھ اسی طرح کی حدیث ابن ماجہ نے اپنی سنن، 'كتاب الصلاة'، 'باب من توضأ فترك موضعاً لم يصبه الماء'، حدیث نمبر 666 میں عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔
وضو سے پہلے، اگر یاد رہے، تو 'بسم اللہ' کہنا واجب ہے۔ [20] [20] پہلے قلمی نسخہ میں یہ جملہ ’’والموالاة‘‘ کے معًا بعد ہی ہے۔
نواقض وضو آٹھ (8) ہیں: (1) سبیلین ( پاخانہ پیشاب کے راستے ) سے کسی چیز کا نکلنا۔ (2)بدن سے بالکل نجِس (ناپاک) [21] چیز کا خارج ہونا۔ (3) عقل کا زائل ہوجانا۔ (4) عورت کو شہوت کے ساتھ چھونا[22]۔ (5) ہاتھ سے شرم گاہ کو چھونا خواہ اگلی شرم گا ہو یا پچھلی[23]۔ (6) اونٹ کا گوشت کھانا۔ (7) میت کو غسل دینا[24]۔ (8) اسلام سے پھر جانا۔ (اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے محفوظ رکھے۔) [21] ’’النجس‘‘ پہلے قلمی نسخے میں یہ لفظ نہیں ہے۔ [22] ہمارے استاذ شیخ ابن باز رحمہ اللہ ’الشرح الممتاز' صفحہ 68 میں شہوت کے ساتھ عورت کو چھونے کے سلسلے میں، جب اس کی وجہ سے مذی وغیرہ خارج نہ ہو، کہتے ہیں : ’’صحیح بات یہ ہے کہ اس سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ اس لیے کہ رسول ﷺ اپنی بعض بیویوں کو بوسہ دیتے تھے اور اس کے بعد وضو نہیں کرتے تھے۔‘‘ ([اسے امام احمد نے مسند ابن حنبل ( 42/ 499)، حدیث نمبر ( 25766)، أبو داود نے حدیث نمبر ( 179) اور ترمذی نے حدیث نمبر (86) میں روایت کیا ہے۔ مسند احمد (42/ 499) کے محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور علامہ البانی نے بھی صحیح سنن ابی داؤد (1/ 322]) میں اسے صحیح کہا ہے۔ جہاں تک اللہ عزّ وجلّ کے فرمان: {أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ} [النساء: 43]، کا تعلق ہے، تو اس سے مراد جماع ہے۔‘‘ [23] پہلے مخطوطے میں لفظ ’’کانَ‘‘ نہیں ہے۔ [24] صحیح بات یہ ہے کہ میت کو غسل دینے سے وضو نہیں ٹوٹتا، اِلّا یہ کہ غسل دینے والے کا ہاتھ میت کی شرم گاہ سے چھو جائے۔ اسی موقف کو ہمارے استاذ شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے 'الشرح الممتاز' میں راحج قرار دیا ہے۔ صفحہ70 ۔
پانچویں شرط[25]: بدن، کپڑے اور نماز کی جگہ تینوں کی نجاست کو دور کرنا۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: (اور آپ اپنے کپڑے پاک رکھیں۔) [26]۔ [25] پہلے قلمی نسخہ میں صرف ’’‘الخامس‘‘ (پانچویں) ہے۔ لفظ شرط نہیں ہے۔ [26] سورہ المدثر، آیت: 4۔
چھٹی شرط: سترِ عورت : اہلِ علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اگر قدرت کے باوجود کوئی شخص برہنہ (ننگا) ہو کر نماز پڑھے، تو اس کی نماز فاسد ہوجاتی ہے۔ مرد کو ناف سے گھٹنوں تک کا حصہ ڈھانپنا ہے۔ لونڈی کو بھی اتنا ہی حصہ ڈھانپنا ہے۔ جب کہ آزاد عورت کو چہرے کے علاوہ پورے جسم کو ڈھانپنا ہے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: (اے اوﻻد آدم! تم مسجد کی ہر حاضری کے وقت اپنا لباس پہن لیا کرو۔) [27] یعنی ہر نماز کے وقت۔ [27] سورہ الأعراف، آیت: 31۔
ساتویں شرط: نماز کا وقت ہونا۔ اس کی دلیل سنتِ رسول سے یہ حدیثِ جبریل ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کی (ایک بار) اوّلِ وقت اور (دوسرى بار) آخرِ وقت میں امامت کرائی [28] اور فرمایا: "اے محمد ﷺ ! نماز کا وقت ان دونوں وقتوں کے درمیان ہے" [29]۔۔ [28] پہلے قلمی نسخہ میں ’’فی آخِرہ‘‘ کی بجائے صرف ’’وآخره‘‘ کا لفظ ہے۔ [29] ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "جبریل علیہ السلام نے خانۂ کعبہ کے پاس دو بار میری امامت کی؛ انھوں نے ظہر کی نماز مجھے اس وقت پڑھائی جب سورج ڈھل گیا اور سایہ جوتے کے تسمے کے برابر تھا، عصر اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے مثل ہو گیا، مغرب اس وقت پڑھائی جب روزہ دار روزہ کھولتا ہے اور عشا کی نماز شفق غائب ہو جانے پر پڑھائی اور فجر اس وقت پڑھائی جب روزہ دار پر کھانا پینا حرام ہو جاتا ہے۔ یعنی جب صبح صادق طلوع ہوتی ہے۔ پھر دوسرے دن مجھے ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو گیا، عصر اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے دو گنا ہو گیا، مغرب اس وقت پڑھائی جب روزہ دار روزہ کھولتا ہے، عشا تہائی رات میں پڑھائی اور فجر اجالے میں پڑھائی۔ پھر جبریل علیہ السلام میری جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا : اے محمد ﷺ! یہی وقت آپ سے پہلے انبیا کا بھی رہا ہے اور نماز کا وقت ان دونوں وقتوں کے درمیان ہے۔ اس حدیث کو ابوداود نے 'کتاب الصلاۃ' ، 'باب فرض الصلاۃ'، حدیث نمبر (393) میں، ترمذی نے 'کتاب الصلاۃ'، 'باب ماجاء فی مواقیت الصلاۃ'، حدیث نمبر (149) میں، شافعی نے اپنی مسند (1/ 26) میں، احمد نے مسند 5/ 202 حدیث نمبر (3081) میں، ابن خزیمہ 1/168 نے حدیث نمبر (325) میں اور حاکم 1/ 193 نے روایت کیا ہے۔ الفاظ سنن ابی داود کے ہیں۔ حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور مسند احمد کے محققین نے اس کی سند کو حسن کہا ہے 5/ 202 ۔ ابن عبدالبر نے ’التمہید‘ میں اسے صحیح قرار دیا ہے اور جن لوگوں نے اس پر کلام کیا ہے ان کا جواب بھی دیا ہے۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح سنن ابی داؤد میں حدیث نمبر (377) کے تحت اسے صحیح کہا ہے۔ جب کہ ایک حدیث سے، جسے امام مسلم نے 'کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ'، 'باب اوقات الصلوات الخمس'، حدیث نمبر (612) کے تحت روایت کیا ہے، ثابت ہوتا ہے کہ عشا کی نماز کا وقت نصف شب تک رہتا ہے۔ چنانچہ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "جب تم صبح کی نماز پڑھ چکو، تو اس کا وقت باقی رہتا ہے جب تک سورج کا اوپر کا کنارہ نہ نکلے، پھر جب تم ظہر کی نماز پڑھ چکو تو اس کا وقت باقی رہتا ہے جب تک کہ عصر کا وقت نہ آجائے، پھر جب عصر پڑھ چکو تو اس کا وقت باقی رہتا ہے جب تک کہ آفتاب زرد نہ ہو، پھر جب مغرب پڑھ چکو تو اس کا وقت باقی رہتا ہے جب تک شفق غروب نہ ہو، پھر جب تم عشا پڑھ چکو تو اس کا وقت باقی رہتا ہے آدھی رات تک۔" اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عشا کی نماز کا وقت نصف شب تک رہتا ہے اور یہی قول راجح اور قابل اعتماد ہے۔
اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان [30] بھی اس کی دلیل ہے: (یقیناً نماز مومنوں پر مقرره وقتوں پر فرض ہے) [31]۔ یعنی یہ نمازیں اپنے مقررہ اوقات میں فرض ہیں اور ان اوقات کی دلیل [32] اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: (نماز کو قائم کریں آفتاب کے ڈھلنے سے لے کر رات کی تاریکی تک اور فجر کا قرآن پڑھنا بھی۔ یقیناً فجر کے وقت کا قرآن پڑھنا حاضر کیا گیا ہے) [33]۔ [30]۔ یہاں پر, دوسرے قلمی نسخے میں جو شگاف ہے, ختم ہوجاتا ہے۔ [31] سورة النساء، آیت: 103۔ [32] پہلے قلمی نسخے میں ’دلیل الأوقات‘ کى بجائے ’دلیل الوقت‘ ہے۔ [33] سورہ الإسراء، آیت: 78.
آٹھویں شرط: قبلہ رو ہونا۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: (ہم آپ کے چہرے کو بار بار آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں [34]۔ اب ہم آپ کو اس قبلہ کی جانب متوجہ کریں گے، جس سے آپ خوش ہوجائیں۔ آپ اپنا منہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیں اور آپ جہاں کہیں ہوں، اپنا منہ اسی طرف پھیرا کریں۔) [35] [34] پہلے قلمی نسخے میں صرف {فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} موجود ہے اور باقی حصہ محذوف ہے۔ جب کہ دوسرے قلمی نسخے میں صرف {قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا} الآية پر ہی اکتفا کیا گیا ہے۔ [35] سورہ البقرہ، آیت: 144
نویں شرط: نیت ہے اور اس کا محل دل ہے۔ زبان سے نیت کرنا بدعت ہے۔ نیت کی دلیل یہ حدیث [36] ہے: (تمام اعمال کا دار و مدار نیت پر ہے اور ہر انسان کو اس کی نیت کے مطابق ہی ملے گا۔) [37]. [36] پہلے قلمی نسخے میں ہے : ’’حديث عمر، قال: قال رسول اللَّه -صلى الله عليه وسلم- :‘‘ (حدیث عمر میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ فرماتے ہیں:)۔ جب کہ دوسرے قلمی نسخے میں مؤلف کہتے ہیں: ’’والدليل: «إنما الأعمال بالنيات»"۔ (اس کی دلیل: ’’انما الأعمال بالنیاتِ" ہے)۔ [37] صحیح بخاری حدیث نمبر( 1) اور صحیح مسلم حدیث نمبر (1907)۔ اس حدیث کی تخریج گزر چکی ہے۔
نماز کے ارکان چودہ ہیں:1- قدرت ہو تو کھڑے ہونا، 2- تکبیر تحریمہ کہنا، 3- سورہ فاتحہ پڑھنا، 4- رکوع کرنا، 5- رکوع کے بعد کھڑے ہونا، 6- سات اعضا پر سجدہ کرنا [38]، 7- اس میں اعتدال سے کام لینا 8- دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا [39]، 9- نماز کے تمام افعال کو اطمینان و سکون کے ساتھ کرنا، 10- ارکان میں ترتیب ہونا [40]، 11- آخری تشہد پڑھنا، 12- آخری تشہد کے لیے بیٹھنا، 13- نبی ﷺ پر درود پڑھنا، 14- دونوں جانب سلام پھیرنا۔ [38] پہلے اور دوسرے دونوں قلمی نسخوں میں ’الأَعْضَاءِ السَّبْعَةِ‘ کی بجائے ’والسجود على سبعة الأعضاء‘ ہے۔ [39] دوسرے قلمی نسخے میں’وَالجَلْسَةُ بینَ السجدتَیْن‘ کی بجائے ’والجلوس بين السجدتين‘ ہے۔ [40] دوسرے نسخے میں ترتیب کے بعد ’والموالاة‘ (تسلسل) کا اضافہ ہے۔
پہلا رُکن: قُدرت ہونے کی صورت میں قیام کرنا۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: (نمازوں کی حفاظت کرو [41] خاص طور سے بیچ والی نماز کی اور اللہ کے سامنے ادب کے ساتھ کھڑے ہو۔) [42] [41] پہلے اور دوسرے قلمی نسخے میں صرف ’’وقوموا للَّه قانتين‘‘ ہے اور آیت کا بقیہ حصہ محذوف ہے۔ [42] سورہ البقرہ، آیت: 238.
دوسرا رُکن [43] : تکبیرِ تحریمہ۔ اس کی دلیل یہ حدیث ہے [44] : (نماز کے اندر غیر نماز سے متعلقہ امور کو حرام کرنے والی چیز تکبیر [45] ہے اور انھیں حلال کرنے والی چیز سلام ہے۔) [46] اس کے بعد دعائے استفتاح (ثنا) پڑھیں گے۔ یہ سنت ہے اور اس میں پڑھی جانے والی دعا یہ ہے [47]: (اے اللہ! تو پاک ہے، تیری ہی تعریف ہے، تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان سب سے اونچی ہے اور تیرے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ہے۔) [48] ’’سبحانك اللَّهم‘‘ کے معنی ہیں : ہم تیری جلالتِ شان کے مطابق تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔ [49] ’’وبحمدك‘‘ کے معنی ہیں : تیری تعریف وثنا بیان کرتے ہیں۔ ’’تبارك اسمك[50]‘‘ یعنی تیرے نام لینے سے برکت ملتی ہے۔ ’’وتعالى جدك‘‘ یعنی تیری عظمت بڑی بلند ہے۔ [51] ’’ولا إله غيرك‘‘ یعنی تیرے سوا زمین وآسمان میں کوئی اور معبودِ برحق نہیں۔ [52] [43] دوسرے قلمی نسخے میں ’الثانی‘ یعنی لفظ دوسرا نہیں ہے۔ [44] جامعہ کے مطبوعہ نسخے میں ’الحدیث‘ ہے۔ شیخ کے سامنے جس نسخے کو پڑھا گیا، اُس میں بھی لفظ ’حدیث‘ ہے، جب کہ پہلے اور دوسرے قلمی نسخے میں ’والدليل من الحديث قوله -صلى الله عليه وسلم-‘ ہے۔ [45] ’وتحليلها التسليم‘ کے الفاظ پہلے قلمی نسخے میں نہیں ہیں، جب کہ دوسرے قلمی نسخے میں ’يحرمها التكبير، ويحللها التسليم‘ ہے۔ [46] اسے ابو داؤد نے 'کتاب الصلاۃ'، 'باب الإمام يحدث بعدما يرفع رأسه من آخر ركعة'، حدیث نمبر 618 میں روایت کیا ہے۔ ان کے الفاظ ہیں: ’’عَنْ عَلِيٍّ -رضي الله عنه-، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- : ’’ مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ، وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ، وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ۔‘‘ (علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”نماز کی کنجی پاکی ہے اور اس میں غیر متعلقہ امور کو حرام کرنے والی چیز تکبیر ہے اور انھیں حلال کرنے والی چیز سلام ہے ۔) ترمذی نے 'أبواب الطهارة'، 'باب ما جاء أن مفتاح الصلاة الطهور'، حدیث نمبر (3) میں اسے اللہ کے رسول ﷺ سے روایت کیا ہے اور کہا ہے: "یہ اس باب میں صحیح ترین حدیث ہے۔" ساتھ ہی ابن ماجہ نے 'كتاب الطهارة وسننها'، 'باب مفتاح الصلاة الطهور'، حدیث نمبر 275 میں، شافعی نے اپنی مسند 1/34 میں، ابن ابی شیبہ نے 1/208، حدیث نمبر 2378 میں، احمد نے 2/ 292 ، حدیث نمبر 1006 میں، دار قطنی نے 1/360 میں اور ضياء المقدسي نے ’المختارہ‘ 2/341 میں اسے روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ علی رضی اللہ عنہ سے مروی اس کی سند حسن ہے۔ جب کہ مسند احمد 2/ 292 کے محققین نے اسے صحیح کہا ہے اور علامہ البانی نے صحیح ابو داود نے 1/ 102، حدیث نمبر 55 میں کہا ہے کہ اس کی سند حسن صحیح ہے۔ حاکم، ابن السکن اور حافظ نے بھی اسے صحیح کہا ہے۔ نووی نے ابھی اسے حسن قرار دیا ہے اور مقدسی نے اسے ’الأحادیث المختارہ‘ میں ذکر کیا ہے۔ [47] دوسرے قلمی نسخے میں ’’قول‘‘ کی بجائے ’’قولُہ‘‘ ہے۔ [48] ابو داود نے 'كتاب الصلاة'، باب 'من رأى الاستفتاح بسبحانك اللهم وبحمدك'، حدیث نمبر 775 میں، ترمذی نے 'كتاب الصلاة'، باب ’ما يقول عند افتتاح الصلاة‘، حدیث نمبر 243 میں اور ابن ماجہ نے 'كتاب الصلاة'، 'باب افتتاح الصلاة'، حدیث نمبر 806 میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسے روایت کیا ہے اور علامہ البانی نے صحيح ابی داود، 3/ 361، حدیث نمبر 748 میں صحیح قرار دیا ہے۔ اسی طرح امام مسلم نے اسے صحیح مسلم میں 'كتاب الصلاة'، 'باب حجة من قال لا يجهر بالبسملة'، حدیث نمبر 399 میں عمر رضی اللہ عنہ سے موقوفًا روایت کیا ہے، جس کے الفاظ ہیں: ’’عَنْ عَبْدَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَانَ يَجْهَرُ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ يَقُولُ: ’’سُبْحَانَكَ اللهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، تَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ‘‘۔ (عبدہ نے بیان کیا کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ دعائے ثنا یعنی ان کلمات کو بلند آواز سے پڑھتے تھے: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ تَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ» (اے اللہ! تو ہر قسم کے نقائص وعیوب سے پاک ہے اور سب تعریفوں والا ہے۔ تیرا نام بابرکت ہے اور تیری شان بلند ہے اور تیرے سوا کوئی سچّا معبود نہیں۔۔) [49] پہلے اور دوسرے قلمی نسخے میں ’بجلالك‘ کی بجائے’بجلالك يا اللَّه‘ کے الفاظ ہیں۔ [50] دوسرے قلمی نسخے میں ہے: ’’وتبارك اسمك، وتعالى جدك: أي ارتفع قدرك، وعظم شأنك۔‘‘ (تیرا نام بابرکت ہے، تیرا مرتبہ بلند تر ہے، یعنی تیری شان عالی ہے اور تیرا مقام بلند اور شان عظیم ہے۔) [51] پہلے قلمی نسخے میں ہے: ’’وتعالى جدُّك: ارتفع قدرك‘‘ (تیری شان عالی یعنی تیرا مقام بلند ہے۔) [52] دوسرے قلمی نسخے میں 'بحق' کی بجائے ’حق‘ ہے۔
اس بعد کہا جائے گا: ’’أعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطانِ الرَّجِيمِ‘‘ (میں شیطان مردودسے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔) [53] ’أعُوْذُ‘ کے معنی ہیں: اے اللہ میں شیطان [54] سے تیری پناہ میں آتا ہوں, تیرى پناہ ڈھوںڈھتا ہوں،اور تجھ سے تحفظ طلب کرتا ہوں۔ ’الرجیم‘ کے معنی ہیں: دھتکارا ہوا اور اللہ کی رحمت [55] سے دور کیا ہوا۔ نہ تو وہ میری عاقبت خراب کرپائے گا، نہ میری دنیا برباد کرسکے [56]۔ [53] دوسرے قلمی نسخے میں: ’’أعوذ باللَّه من الشيطان الرجيم، المطرود، المبعد من رحمة اللَّه ‘‘ ہے۔ [54] پہلے قلمی نسخے میں: «من هذا الشيطان» ہے۔ [55] پہلے قلمی نسخے میں: «المبعد عن رحمتك» ہے۔ [56] مؤلف کے قول ’معنى أعوذ: ألوذ‘ سے ’في دنياي‘ تک کی عبارت دوسرے قلمی نسخے میں نہیں ہے۔
ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ پڑھنا بھی نماز کا ایک رکن ہے۔ جیساکہ حدیث [57] میں ہے: (اس شخص کی نماز نہیں ہوتی، جو سورہ فاتحہ نہیں پڑھتا۔) [58] اس سورہ کا ایک نام 'ام القرآن' بھی ہے۔ [57] پہلے اور دوسرے قلمی نسخے نیز جامعہ کے مطبوعہ ایڈیشن میں ’كَمَا فِي حَدِيثِ‘ کی بجائے ’كما في الحديث‘ ہے۔ [58] امام بخاری نے 'کتاب الاذان'، 'باب وجوب القراءة للإمام والمأموم'، حدیث نمبر ( 756) میں اور امام مسلم نے اسے 'كتاب الصلاة'، 'باب وجوب قراءة الفاتحة في كل ركعة، وإنه إذا لم يحسن الفاتحة، ولا أمكنه تعلمها قرأ ما تيسر له من غيرها'، حدیث نمبر (394) میں روایت کیا ہے۔
’’بسم الله الرحمن الرحيم‘‘ [59]: بطورِ برکت اور استعانت (مدد طلبی) پڑھی جائے گی۔ [59] قاری کے نسخے اور پہلے قلمی مخطوطے میں صرف ’’بسم اللَّه الرحمن الرحيم‘‘ ہے، جب کہ دوسرے قلمی نسخے میں ’’قوله: بسم اللَّه الرحمن الرحيم ‘ ہے۔ یعنی 'قولہ' کا اضافہ ہے۔
’’الحَمْدُ لله‘‘ میں 'الحمد' کے معنی ہیں: تعریف و ستائش۔ اس میں الف لام اس لیے لایا گيا ہے، تاکہ حمد و ثنا کی ساری اصناف کو شامل کیا جا سکے۔ جہاں تک ایک خوب صورت شخص کی بات ہے، جس کی خوب صورتی میں اس کا کوئی دخل نہیں ہے، تو اس کی تعریف [60] کو مدح کہا جائے گا، حمد نہیں۔ [60] دوسرے قلمی نسخے میں ’به‘ موجود نہيں ہے۔
{رَبِّ العَالمَين} میں ’رب‘ سے مراد ہے : وہ [61] ذات جو معبود، خالق، رازق[62]، مالک, تصرف کرنے والی ہے اور ساری مخلوقات کو نعمتیں عطا کرکے پالنے والی ہے۔ [63]. [61] لفظِ ’ھو‘ (وہ) پہلے قلمی نسخے میں نہیں ہے۔ [62] ’الخالق، الرازق‘ یہ الفاظ پہلے اور دوسرے دونوں قلمی نسخوں میں نہیں ہیں۔ [63] پہلے اور دوسرے مخطوطات میں ہے: ’’مربي جميع العالمين بالنعم‘‘ (نعمتوں کے ذریعے سارے جہان کی پرورش وپرداخت کرنے والا۔)
{العَالَمِينَ} : اللہ کے سوا ساری چیزوں کو جہان کہتے ہیں اور وہ اُن سب کا رب ہے۔
{الرَّحْمـَنِ} :جس کی رحمت کا فیض ساری [64] مخلوقات کے لیے عام ہو۔ [64] جامعہ کے مطبوعہ نسخے اور دوسرے قلمی نسخے میں ’’جمیع المخلوقات‘‘ ہے۔ اسی طرح قاری کے نسخہ میں بھی یہی ہے۔ جب کہ پہلے قلمی نسخے میں ’’لجمیع المخلوقات‘‘ ہے۔
{الرَّحِيمِ} : جس کی رحمت صرف مممنوں کے لیے خاص ہو۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: {وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا} [65] (اور اللہ تعالیٰ مؤمنوں پر بہت ہی مہربان ہے۔) [65] سورہ الأحزاب، آیت: 43.
{مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} : 'یومُ الدین' سے جزا وسزا اور حساب کا دن [66] مراد ہے، جس دن ہر شخص کو اس کے عمل کا بدلہ دیا جائے گا۔ اگر اعمال اچھے ہوئے، تو اچھا بدلہ اور اگر بُرے ہوئے، تو بُرا بدلہ دیا جائے گا۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : (تجھے کچھ خبر بھی ہے کہ بدلے کا دن کیا ہے؟ میں پھر (کہتا ہوں کہ) تجھے کیا معلوم کہ جزا (اور سزا) کا دن کیا ہے؟ [67] (اس سے مراد وہ دن ہے) جس دن کوئی شخص کسی شخص کے لیے کسی چیز کا مختار نہ ہوگا اور (تمام تر) احکام اس روز اللہ کے ہی ہوں گے۔) [68] نیز آپ ﷺ کی یہ حدیث بھی اس کی دلیل ہے: "عقل مند وہ ہے، جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت [69] کے بعد آنے والی زندگی کے لیے عمل کرے اور بے وقوف وہ ہے، جو اپنے نفس کو خواہشات کے پیچھے لگادے اور اللہ سے آرزوئیں رکھے۔" [70] [66] ’یوم‘ کا لفظ پہلے قلمی نسخے میں نہیں ہے۔ [67] دوسرے قلمی نسخے میں پوری آیت نہیں ہے، بلکہ ’الآية‘ لکھا ہوا ہے۔ [68] سورہ الانفطار، آيات:17-19. [69] دوسرے قلمی نسخے میں پوری حدیث نہیں ہے، بلکہ ’اِلی آخِرِہ‘ لکھا ہے۔ [70] ترمذی، 'كتاب صفة القيامة والرقائق'، باب 25، حدیث نمبر 2459، ابن ماجہ، 'كتاب الزهد'، 'باب ذكر الموت والاستعداد له'، حدیث نمبر 4260، مسند احمد 28/ 350، حدیث نمبر 17123 اور حاكم 1/ 57۔ شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن کہا ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اس سے استشہاد کیا ہے اور اپنے ’’مجموع الفتاویٰ‘‘ (8/ 285) میں ترمذی کی موافقت کی ہے۔ چنانچہ کہتے ہیں: ’’ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَالتِّرْمِذِي ، وَقَالَ حَدِيثٌ حَسَنٌ‘‘ (ابن ماجہ اور ترمذی نے اسے روایت کیا ہے اور ترمذی نے ’حسن درجہ کی حدیث‘ قرار دیا ہے۔)
{إِيَّاكَ نَعْبُدُ} : ہم تیرے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرتے۔ یہ دراصل بندے اور اس کے رب کے درمیان اس بات کا عہد ہے کہ بندہ اس کے سوا کسی کی پرستش نہیں کرے گا۔ [71] [71] پہلے قلمی نسخے میں ’أن لا يعبد أحداً سواه‘ ہے، جب کہ دوسرے قلمی نسخہ میں’أن لا يستعين أحداً غيره‘ ہے۔
{وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ} : یہ بھی بندے اور اس کے رب کے بیچ اس بات کا عہد [72] ہے کہ بندہ اللہ کے سوا کسی اور سے مدد طلب نہیں کرے گا۔ [72] پہلے قلمی نسخے میں"عهد بين العبد وربه" (بندے اور اس کے رب کے بیچ عہد ہے) اور دوسرے قلمی نسخہ میں "عهد بين العبد وبين اللَّه أن لا يستعين أحداً غيره" (بندے اور اللہ کے بیچ عہد ہے کہ وہ اُس کے سوا کسی سے مدد طلب نہیں کرے گا) ہے۔
{اهْدِنَا الصِّرَاطَ المُسْتَقِيمَ} : اس میں ’اهْدِنَا‘ کے معنی ہیں: ہمیں بتا، ہماری رہنمائی فرما اور ہمیں ثابت قدم رکھ [73]۔ ’الصِّرَاطُ‘ سے مراد اسلام ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد ’رسول ﷺ‘ ہیں [74]۔ جب کہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سے مراد ’قرآن‘ ہے۔ ویسے، یہ سارے معانی درست ہیں۔ ’المُسْتَقِيَم‘ کے معنی ہیں: وہ راستہ، جس میں کوئی کجی نہ ہو۔ [73] دوسرے قلمی نسخے میں یہ الفاظ نہیں ہیں: ’’اهدنا: دلنا، وأرشدنا، وثبتنا‘‘ (ہمیں بتا، ہماری رہنمائی فرما اور ہمیں ثابت قدم رکھ)۔ [74] پہلے اور دوسرے قلمی نسخے میں ہے: ’’والصراط، قيل الرسول، وقيل الإسلام، وقيل القرآن‘‘ (’الصِّرَاطُ‘ سے مراد اسلام ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس مراد رسول ﷺ ہیں اور کچھ لوگوں کے مطابق اس سے سے مراد ’قرآن‘ ہے۔)
{صِرَاطَ الذِّينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ} کے معنی ہیں: ان لوگوں کا راستہ، جن پر تو نے انعام کیا ہے۔ اس کی دلیل [75] اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: (اور جو بھی اللہ تعالیٰ کی اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی فرماں برداری کرے، وه ان لوگوں کے ساتھ ہوگا، جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے۔ جیسے نبی اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ۔ یہ بہترین رفیق ہیں۔) [76] [75] مؤلف کے قول: ’’والدليل" سے "غير المغضوب عليهم، و‘‘ تک دوسرے قلمی نسخے میں موجود نہیں ہے۔ [76] سورہ النساء، آیت :69.
{غَيْرِ المَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ} (جن پر تیرا غضب نازل ہوا ہے، اُن کا راستہ نہیں) : ان سے مراد یہود ہیں، جن کے پاس علم تو تھا، لیکن وہ اس پر عمل نہیں کرتے تھے [77]۔ تم اللہ سے دعا مانگو کہ تمہیں ان کے راستوں سے محفوظ رکھے۔ [77] پہلے اور دوسرے نسخے میں ’’وَلَمْ يَعْمَلُوا‘‘ کی بجائے ’’ولا عملوا به‘‘ ہے۔
{وَلاَ الضَّالِّينَ} (نہ ہی جو گمراہ ہوئے) : ان سے مراد نصاریٰ ہیں، جو جہالت وگمراہی میں مبتلا ہوکر اللہ کی عبادت کرتے تھے[78]۔ تم اللہ سے دعا کرو کہ تمہیں اُن کی راہ چلنے سے محفوظ رکھے۔ گمراہ لوگوں کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: (آپ کہہ دیں کہ اگر (تم کہو تو) میں تمہیں بتا دوں کہ باعتبار اعمال سب سے زیاده خسارے میں کون ہیں؟ وه ہیں کہ جن کی دنیوی زندگی [79] کی تمام تر کوششیں بے کار ہوگئیں اور وه اسی گمان میں رہے کہ وه بہت اچھے کام کر رہے ہیں۔) [80] [81] اور آپ ﷺ کی یہ حدیث [82] بھی ان کی گمراہی کی دلیل ہے: (تم اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں کے مطابق ایسے چلو گے، جیسے تیار کیا ہوا تیر کا پر دوسرے تیر کے پرکے مطابق ہوتا ہے۔ حتى كہ اگر وہ گوہ کی سوراخ ميں داخل ہوئے ہوں گے، تو تم بھی اس ميں داخل ہونے كى كوشش كروگے. صحابہ كرام نے عرض كيا: یا رسول اللہ! ان سے مراد يہود و نصارىٰ ہيں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: پھر اور کون؟!) اس کو امام بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔ [83] [78] دوسرے قلمی نسخے میں لفظ جلالہ ’اللَّه‘ ساقط ہو گیا ہے۔ [79] دوسرے قلمی نسخے میں اس آیت کو اختصار سے پیش کیا گیا ہے چنانچہ مؤلف نے لکھا ہے: ’’الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا‘‘ سے فرمانِ باری تعالیٰ ’’فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا‘‘ تک۔ [80] سورہ الكہف، آیت: 103- 104. [81] جامعہ کے مطبوعہ نسخے اور پہلے نسخے میں یہ اضافہ ہے: ’’أُولَئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ وَلِقَائِهِ فَحَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا‘‘ [الكهف: 105] یہاں جو درج ہے، وہ سماحۃ الشیخ ابن باز رحمہ اللہ کے سامنے پڑھے جانے والے نسخے سے لیا گيا ہے۔ [82] پہلے قلمی نسخہ میں ہے : ’’ وفي الحديث عن النبي -صلى الله عليه وسلم- أنه قال‘‘۔ جب کہ دوسرے قلمی نسخے میں ’’ وفي الحديث عنه -صلى الله عليه وسلم- ‘‘ ہے۔ [83] صحیح بخاری، 'كتاب الاعتصام'، 'باب قول النبي -صلى الله عليه وسلم- : «لتتبعنّ سنن من كان قبلكم»'، حدیث نمبر 7320 اور صحیح مسلم، 'كتاب العلم'، 'باب اتباع سنن اليهود والنصارى'، حدیث نمبر 2669۔ , مسلم کے الفاظ اس طرح ہیں: عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ -صلى الله عليه وسلم- ، قَالَ: «لَتَتْبَعُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ شِبْرًا بشِبْر، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ تَبِعْتُمُوهُمْ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى قَالَ فَمَنْ؟‘‘( ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اگلی امتوں کی راہوں پر بالشت در بالشت اور ہاتھ در ہاتھ چلوگے۔ یہاں تک کہ اگر وہ گوہ کے سوراخ میں گھسے ہوں گے، تو تم بھی گھسو گے۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگلی امتوں سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اور کون ہیں؟) یہ حدیث مسند احمد، 18/ 322، حدیث نمبر 11800 میں بھی ہے اور مسند 18/ 322 کے محققین نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔ اسی طرح علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی اسے ’سلسلة الأحاديث الصحيحة‘ 6/ 999 میں صحیح کہا ہے۔
نیز یہ حدیث [84] بھی اسی کی دلیل ہے: "یہود اکہتر (71) فرقوں میں بٹ گئے تھے، نصاری بہتّر (72) فرقوں میں بٹ گئے تھے اور (میری) یہ امت تہتر(73) فرقوں میں بٹ جائے گی۔ یہ سارے فرقے جہنمی ہوں، سوائے ایک فرقے کے! ہم نے کہا: یا [85] رسول اللہ! وہ کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ لوگ جو میری اور میرے صحابہ کی روش [86] اور طریقے پر ہوں گے۔" [87] [84] پہلے قلمی نسخہ میں: ’’الحديث الثانی‘‘ بغیر واو کے ہے۔ [85] پہلے قلمی نسخہ میں: «قلنا: يا رسول اللَّه من هي» ہے۔ [86] پہلے قلمی نسخے میں: «من كان مثل ما أنا عليه اليوم وأصحابي» اور دوسرے قلمی نسخے میں«من كان على مثل ما أنا عليه وأصحابي اليوم» ہے۔ [87] ابن ماجہ نے اسے 'كتاب الفتن'، 'باب افتراق الأمم' حدیث نمبر 3992 میں ان لفظوں کے ساتھ روایت کیا ہے: ’’عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- : «افْتَرَقَتِ الْيَهُودُ عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، فَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ، وَسَبْعُونَ فِي النَّارِ، وَافْتَرَقَتِ النَّصَارَى عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، فَإِحْدَى وَسَبْعُونَ فِي النَّارِ، وَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَتَفْتَرِقَنَّ أُمَّتِي عَلَى ثَلاَثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ، وَثِنْتَانِ وَسَبْعُونَ فِي النَّارِ»، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ هُمْ؟ قَالَ: «الْجَمَاعَةُ»‘‘ (عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہود اکہتر (71) فرقوں میں بٹ گئے تھے، جن میں سے فرقہ ایک فرقہ جنت جائے گا اور ستر فرقے (70) جہنم میں۔ نصاریٰ کے بہتر فرقے ہوئے تھے، جن میں سے اکہتر (71) فرقے جہنم جائيں گے اور ایک فرقہ جنت میں۔ قسم ہے اس ذات کی، جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! میری امت تہتر (73) فرقوں میں بٹ جائے گی، جن میں سے ایک فرقہ جنت جائے گا اور بہتر (72) فر قے جہنم میں جائيں گے۔“ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! وہ کون ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "وہ جماعت ہوگی۔) اس کی ایک شاہد سنن ترمذی، 'كتاب الإيمان'، 'باب ما جاء في افتراق هذه الأمة'، حدیث نمبر 2641 میں ان الفاظ میں وارد ہے: ’’عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو -رضي الله عنهما- ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- : «لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أُمَّتِي مَا أَتَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ حَذْوَ النَّعْلِ بِالنَّعْلِ، حَتَّى إِنْ كَانَ مِنْهُمْ مَنْ أَتَى أُمَّهُ عَلاَنِيَةً لَكَانَ فِي أُمَّتِي مَنْ يَصْنَعُ ذَلِكَ، وَإِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرَّقَتْ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلاَثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلاَّ مِلَّةً وَاحِدَةً»، قَالُوا: وَمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي۔‘‘ (عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کے ساتھ ہو بہ ہو وہی صورت حال پیش آئے گی، جو بنی اسرائیل کے ساتھ پیش آ چکی ہے۔ یہاں تک کہ ان میں سے کسی نے اگر اپنی ماں کے ساتھ اعلانیہ زنا کیا ہو گا، تو میری امت میں بھی ایسا شخص ہو گا، جو اس فعل شنیع کا مرتکب ہو گا۔ بنی اسرائیل بہتر (72) فرقوں میں بٹ گئے تھے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی اور ایک فرقہ کو چھوڑ کر باقی سبھی فرقے جہنم میں جائیں گے۔" صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس ایک فرقے میں کون لوگ شامل ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہوں گے، جو میرے اور میرے صحابہ کے نقش قدم پر چل رہے ہوں گے“۔) اس کی ایک دوسری شاہد سنن ابو داؤد میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر 4596 کے تحت ان الفاظ میں مروی ہے: ’’افْتَرَقَتِ الْيَهُودُ عَلَى إِحْدَى أَوْ ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَتَفَرَّقَتِ النَّصَارَى عَلَى إِحْدَى أَوْ ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً۔‘‘ (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”یہود اکہتّر (71) یا بہتّر (72) فرقوں میں بٹ گئے تھے، نصاریٰ بھی اکہتر (71) یا بہتر (72) فرقوں میں بٹ گئے تھے اور میری امت تہتر (73) فرقوں میں بٹ جائے گی۔“) یہ حدیث سنن ترمذی میں حدیث نمبر 2640 اور سنن ابن ماجہ میں حدیث نمبر 3991 کے تحت روایت ہوئی ہے۔ علامہ البانی نے ’مشكاة المصابيح‘ حدیث نمبر 171 (تحقیق ثانی)، 'السلسلة الصحيحة'، حدیث نمبر 1348 اور صحيح ابن ماجہ حدیث نمبر 3982 میں اسے حسن قرار دیا ہے۔
نیز رکوع کرنا، رکوع سے سر اٹھانا، سات اعضا پر سجدہ کرنا, اس میں اعتدال برتنا اور دونوں سجدوں کےدرمیان جلسہ بھی نماز کے ارکان میں شامل ہیں۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: (اے ایمان والو! رکوع اور سجدہ کرو۔) [88] [89] اور ایک حدیث میں ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: [90]: "مجھے حکم دیا گیا کہ میں سات ہڈیوں پر سجدہ کروں۔" [91] [92] اطمینان [93] کے ساتھ نماز کے تمام افعال [94] کو بجا لانا اورسارے ارکان کو ترتیب کے ساتھ انجام دینا بھی نماز کے ارکان میں داخل ہے۔ اس کی دلیل ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی یہ ’’حدیث المُسِيء‘‘ ہے: "دریں اثنا کہ ہم نبی ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ایک آدمی [95] آیا، نماز پڑھی، پھر کھڑا ہوا [96] اور نبی ﷺ کو سلام کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا [97]: تم جاؤ اور نماز پڑھو، کیوں کہ تم نے نماز نہیں پڑھی ہے۔ اس نے تین بار نماز ادا کی اور پھر [98] بولا: قسم اس ذات کی، جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بناکر بھیجا ہے، اس سے [99] بہتر نماز میں نہیں جانتا! لہذا آپ مجھے سکھا دیں۔ چنانچہ آپ صلى الله عليه وسلم نے اس سے فرمایا [100]: جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو، تو تکبیر کہو۔ پھر جتنا قرآن پڑھ سکو، پڑھو۔ اس کے بعد اطمینان سے رکوع کرو۔ پھر سر اٹھا کر اعتدال [101] کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ۔ اس کے بعد پورے اطمینان کے ساتھ سجدہ کرو۔ پھر سر اٹھاؤ اور اطمینان کے ساتھ بیٹھو۔ پھر پوری نماز میں ایسا ہی کرو۔" [102] آخری تشہد بھی نماز کا ایک فرض رُکن ہے [103]۔ جیساکہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے۔ وہ کہتے ہیں: جب ہم پر تشہد فرض نہیں تھا، تو ہم کہتے تھے: ’’السَّلاَمُ عَلَى الله مِنْ عِبَادِهِ، السَّلاَمُ عَلَى جِبْرِيلَ، وَمِيكَائِيلَ۔‘‘ (اللہ تعالیٰ کو اس کے بندوں کی طرف سے سلام ہو۔ سلامتی ہو جبریل اور میکائیل پر۔) یہ دیکھ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا [104] : تم ’’السَّلاَمُ عَلَى الله مِنْ [105] عِبَادِهِ‘‘ نہ کہو۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ تو خود ہی سلامتی دینے والا [106] ہے۔ اس کی جگہ پر تم یہ کہو: ’’التَّحِيَّاتُ لله[107] وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِبَاتُ، السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ الله وَبَرَكَاتُهُ، السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ الله الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَن لاَ إِلَهَ إِلاَّ الله، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ ورَسُولُهُ۔‘‘ [108] (ساری تعظیمات, تمام دعائیں, اور پاکیزہ اقوال واعمال اللہ تعالی کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر اللہ تعالی کی جانب سے سلامتی، رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔ ہم پر اور اللہ تعالی کے تمام نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں ہے اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد -ﷺ- اللہ تعالی کے بندے اور رسول ہیں۔) ’تحیّات‘ کے معنی ہیں: تمام تر تعظیمات، چاہے وہ ملک کے اعتبار سے ہوں یا استحقاق کے اعتبارسے، اللہ [109] تعالی کے لیے ہیں۔ مثال کے طور پر جھکنے، رکوع کرنے [110] اور سجدے کرنے جیسے کام اسی کے سامنے روا ہیں۔ وہی باقی اور ہمیشہ رہنے والی ذات ہے اور سارے [111] وہ کام جن سے رب العالمین کی تعظیم مقصود ہو، وہ صرف اللہ تعالی کے لیے سزاوار ہیں۔ جس نے ان میں سے کسی بھی کام کا رخ غیر اللہ کی جانب پھیرا، وہ مشرک اور کافر [112] ہے۔ 'صلوات' کے معنی ہیں: ساری دعائیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد پانچ وقت کی نمازیں ہیں۔ ’سارے پاکیزہ اقوال و اعمال اللہ کے لیے ہیں[113]‘ : اللہ تعالیٰ سراپا طیّب یعنی مکمل طور پر پاکیزہ ہے، اسے صرف پاکیزہ [114] اقوال واعمال ہی قبول ہیں۔ ’’اے نبی ﷺ ! آپ پر سلامتی، اللہ کی رحمت اور برکت نازل ہو‘‘ : اس کے ذریعے آپ نبی ﷺ کے لیے سلامتی، رحمت [115] اور برکت [116] کی دعا کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ جو دعا آپ ﷺ کے لیے کی جارہی ہے، وہی دعا اللہ کے لیے قطعًا نہیں کی جائے گی۔ ’’سلامتی [117] ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر‘‘: اس کے ذریعے آپ اپنے آپ کی اور زمین وآسمان میں موجود ہر صالح بندے [118] کی سلامتی کے لیے دعا کر رہے ہیں۔ ’سلامتی‘ دعا ہے اور نیکو کاروں کے لیے دعا تو کی جائے گی، لیکن انھیں اللہ کے ساتھ پکارا نہیں جائے گا۔ ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی برحق معبود نہیں۔ وہ اکیلا ہے [119]۔ اس کا کوئی ساجھی نہیں" [120] : اس کے ذریعہ آپ یقینی گواہی دیتے ہیں کہ زمین [121] وآسمان میں عبادت کی مستحق ذات صرف اللہ کی ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے رسول ہونے کی گواہی دینے کا مطلب یہ ہے کہ [122] آپ اللہ کے بندے ہیں۔ چنانچہ آپ کی عبادت نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح آپ اللہ کے رسول ہیں، اس لیے آپ کو جھٹلایا نہیں جا سکتا، بلکہ آپ کی اطاعت ضروری ہے۔ آپ کو اللہ نے بندگی کے وصف سے سرفراز کیا ہے۔ اس کی دلیل اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے: (بہت بابرکت ہے وه اللہ، جس نے اپنے بندے [123] پر فرقان اتارا، تاکہ وه تمام لوگوں کے لیے آگاه کرنے واﻻ بن جائے۔) [124] (اس کے بعد یہ دردو شریف پڑھیں گے:) ’’اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، [وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ] [125]، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ [وعلى آل إبراهيم] [126] إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ[127]‘‘۔ (اے اﷲ! درود (رحمت) بھیج محمد ﷺ پر اور ان کی آل پر، جس طرح تونے درود بھیجا ہے ابراہیم علیہ السلام پر اور ان کی آل پر۔ بے شک تو تعریف کا مستحق بڑی بزرگی والا ہے۔) ’’صلوٰۃ‘‘ (درود) : دراصل اللہ کے ذریعہ کی جانے والی بندوں کی وہ تعریف [128] ہے، جو وہ اپنے مقرَّب فرشتوں [129] [130] کے درمیان کرتا ہے, جیسا کہ امام بخارى رحمہ اللہ نے اپنى صحیح میں ابو العالیہ سے نقل کیا ہے, کہ انہوں نے کہا: اللہ کى طرف سے صلوٰۃ (درود), بندوں کی وہ تعریف [128] ہے، جو وہ اپنے مقرَّب فرشتوں [129] [130] کے درمیان کرتا ہے ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ’’درود‘‘ کا مطلب اللہ کی رحمت ہے۔ مگر درست پہلا قول ہے۔ "فرشتوں کى طرف سے درود‘‘ کا مطلب استغفار طلب کرنا ہے، جب کہ ’’انسانوں کے درود‘‘ کا مطلب دعا کرنا ہے۔ نماز میں برکت کی دعا اور اس کے بعد کی دعائیں[131] اقوال وافعال پر مبنی سنتیں ہیں۔ [102] صحیح بخاری، حدیث نمبر 6251۔ ابوہريرہ رضي الله عنه سے مروی ہے۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر 397۔ اس کی تخریج گزر چکی ہے۔ [103] "مفروض" کا لفظ نہ پہلے قلمی نسخہ میں ہے، نہ دوسرے میں۔ [104] پہلے اور دوسرے قلمی نسخے میں ہے: "فقال -صلى الله عليه وسلم-" (تو آپ ﷺ نے کہا:) [88] سورہ الحج، آیت: 77۔ [89] دوسرے قلمی نسخے میں یہ اضافہ ہے: ’’واعبدوا ربكم وافعلوا الخير لعلكم تفلحون ‘‘ (اور اپنے پروردگار کی عبادت میں لگے رہو اور نیک کام کرتے رہو، تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ)۔ [90] پہلے اور دوسرے مخطوطات میں یہ عبارت کچھ اس طرح ہے: ’’وفي الحديث عنه -صلى الله عليه وسلم-‘‘ (اور حدیث میں آپ ﷺ سے روایت ہے۔) [91] دوسرے قلمی نسخہ میں ’’سَبْعَةِ أَعْظُمٍ‘‘ کی بجائے ’’على سبعة الأعظم‘‘ ہے۔ [92] صحیح بخاری، 'كتاب الأذان'، 'باب السجود على سبعة أعظم'، حدیث نمبر 810 اور صحیح مسلم، 'كتاب الصلاة'، 'باب أعضاء السجود والنهي عن كف الشعر والثوب وعقص الرأس في الصلاة'، حدیث نمبر 490۔ مسلم کے الفاظ کچھ اس طرح ہیں: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ -رضي الله عنهما- ، عَنِ النَّبِيِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ: ’’أُمِرْنَا أَنْ نَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ، وَلاَ نَكُفَّ ثَوْبًا وَلاَ شَعَرًا۔‘‘ (ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہمیں سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور بال و کپڑے کو سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔) [93] پہلے قلمی نسخہ میں ہے: ’’والترتيب كل ركن قبل الآخر، والطمأنينة في جميع الأركان‘‘، جب کہ دوسرے قلمی نسخہ میں ہے: ’’والترتيب بين الأركان كل ركن قبل الآخر، والطمأنينة في جميع الأركان۔‘‘ [94] پہلے اور دوسرے قلمی نسخوں میں ہے : ’’والطمأنينة في جميع الأركان‘‘ [95] دوسرے قلمی نسخہ میں ہے : ’’إذ دخل علينا رجل فصلى‘‘ (اچانک ایک آدمی ہمارے پاس آیا اور اُس نے نماز ادا کی۔) [96] پہلے اور دوسرے قلمی نسخے نیز جامعہ کے مطبوعہ نسخے میں ’’فَقامَ‘‘ (پھر کھڑا ہوا) کا اضافہ ہے۔ جب کہ یہ قاری کے نسخے میں نہیں ہے۔ [97] پہلے قلمی نسخہ میں ہے: ’’ فقال له النبي -صلى الله عليه وسلم- صلِّ فإنك لم تصلِّ۔‘‘ (تو نبی ﷺ نے اس سے کہا: تم پھر سے نماز پڑھو، اس لیے کہ تم نے نماز پڑھی نہیں ہے۔)، جب کہ دوسرے قلمی نسخے میں ہے: ’’ فقال له النبي -صلى الله عليه وسلم- : ’’ ارجع فصلِّ فإنك لم تصل‘‘۔ (تو اس سے نبی ﷺ نے فرمایا: تم لوٹ جاؤ اور پھر نماز پڑھو، اس لیے کہ تم نے نماز پڑھی نہیں ہے۔) [98] پہلے قلمی نسخے میں ہے: ’’فقال: والذي بعثك بالحق‘‘ (اس نے کہا: اس ذات کی قسم، جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔) [99] دوسرے قلمی نسخے میں ہے: "... لا أحسن غيرَهُ" (مجھے اس سے اچھی نماز نہیں آتی۔) [100] پہلے قلمی نسخے میں ہے: "قال: إذا قمت إلى الصلاة" (آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو)، جب کہ دوسرے قلمی نسخے میں ہے: "فقال النبي -صلى الله عليه وسلم- : إذا قمت إلى الصلاة..." (تو نبی ﷺ نے فرمایا: جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو ۔) [101] پہلے اور دوسرے قلمی نسخوں میں ہے: "تطمئن قائماً" (یہاں تک کہ اطمینان کے ساتھ کھڑ ہوجاؤ۔) [105] جامعہ کے مطبوعہ نسخے میں ’’مِنْ عِبادِہِ‘‘ کی بجائے ’’عن عباده‘‘ ہے۔ ممکن ہے یہ طباعت کی غلطی ہو۔ [106] دوسرے قلمی نسخے میں ہے: ’’لا تقولوا: السلام على اللَّه من عباده ولكن قولوا: التحيات للَّه‘‘ (تم ’’السلام على اللَّه من عباده‘‘ نہ کہو، بلکہ کہو: ’’التحيات للَّه‘‘) [107] پہلے اور دوسرے نسخے میں ’’والصلوات، والطيبات‘‘ سے ’’وأن محمداً عبده ورسوله‘‘ تک محذوف ہے۔ [108] امام بخاری نے صحیح بخاری، 'كتاب الأذان'، 'باب ما يتخير من الدعاء بعد التشهد وليس بواجب' حدیث نمبر 835 میں اسے ان لفظوں میں روایت کیا ہے : "عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ (پہلے) جب ہم نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے، تو ہم (قعدہ میں) یہ کہتے: "السَّلاَمُ عَلَى اللَّهِ مِنْ عِبَادِهِ، السَّلاَمُ عَلَى فُلاَنٍ وَفُلاَنٍ" (اللہ کے بندوں کی طرف سے اللہ پر سلام ہو اور فلاں پر اور فلاں پر سلام ہو۔) اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ نہ کہو کہ ”اللہ پر سلام ہو“، کیوں کہ اللہ تو خود سلام ہے۔ بلکہ یہ کہو "التحيات لله، والصلوات والطيبات، السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين" (تمام تر تعظیمات, ساری دعائیں اور سب پاکیزہ اقوال و اعمال اللہ تعالی کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر اللہ تعالی کی جانب سے سلامتی، رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔ ہم پر اور اللہ تعالی کے تمام نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو۔) جب تم یہ کہو گے، تو آسمان اور آسمان و زمین کے بیچ کے سارے بندے اس میں شامل ہو جائیں گے۔ "أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ" (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی برحق معبود نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔), اس کے بعد جو دعا اسے پسند ہو، اس کا انتخاب کر لے۔" جب کہ امام مسلم نے صحیح مسلم، 'كتاب الصلاة'، 'باب التشهد في الصلاة'، حدیث نمبر 402 میں ان لفظوں میں اسے روایت کیا ہے: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے ہوئے ہم لوگ یوں کہا کرتے تھے: "سلام ہے اللہ پر، سلام ہے فلاں شخص پر۔" چنانچہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا نام سلام ہے۔ اس لیے جب تم میں سے کوئی نماز کے دوران بیٹھے، تو کہے: "التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ" (تمام تر تعظیمات، ساری دعائیں اور پاکیزہ اقوال واعمال اللہ تعالی کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر اللہ تعالی کی جانب سے سلامتی، رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔ ہم پر اور اللہ تعالی کے تمام نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں ہے اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد -ﷺ- اللہ تعالی کے بندے اور رسول ہیں۔) ان کلمات کے کہنے سے آسمان و زمین میں موجود اللہ کے سارے نیک بندے شامل ہو جاتے ہیں۔ "أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ" (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں ہے اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد -ﷺ- اللہ تعالی کے بندے اور رسول ہیں۔) پھر جو مانگنا ہو، اللہ سے مانگے۔ [109] ’للَّه‘ پہلے اور دوسرے دونوں قلمی نسخوں میں نہیں ہے۔ [110] پہلے اور دوسرے نسخوں میں ’’والخضوع، والركوع، والسجود‘‘ ہے۔ [111] پہلے اور دوسرے نسخوں میں’’كل جميع ما يعظم به رب العالمين‘‘ ہے۔ [112] ’كافر‘ کا لفظ نہ پہلے نسخے میں ہے، نہ دوسرے میں۔ [113] ’للَّه‘ نہ پہلے نسخہ میں ہے، نہ دوسرے میں۔ [114] پہلے قلمی نسخے میں’’من الأعمال والأقوال إلا أطيبها‘‘ ہے، جب کہ دوسرے قلمی نسخے میں ’’من الأعمال والأقوال والأفعال إلا طيبها‘‘ ہے۔ [115] ’الرحمة‘ کا لفظ پہلے قلمی نسخے میں نہیں ہے۔ [116] پہلے قلمی نسخے میں’’ورفع الدرجات‘‘ ہے اور دوسرے میں ’’البرکۃ‘‘ کے ساتھ ’’ورفع الدرجة‘‘ کا اضافہ بھی ہے۔ [117] جامعہ کے مطبوعہ نسخے میں ’’والسلام علينا‘‘ واو کے اضافہ کے ساتھ ہے۔ [118] پہلے اور دوسرے قلمی نسخوں میں ’’من أهل السماء والأرض‘‘ ہے۔ [119] «وحده لا شريك له» نہ تو پہلے قلمی نسخے میں ہے، نہ دوسرے میں۔ [120] پہلے اور دوسرے قلمی نسخوں نیز جامعہ کے مطبوعہ نسخے میں ’’وأشهد أن محمداً عبده رسوله ‘‘ ہے۔ [121] پہلے قلمی نسخے میں: «أن لا يعبد في السماء، ولا في الأرض» ہے اور دوسرے قلمی نسخے میں «أن لا يعبد في السماء والأرض» ہے۔ [122] پہلے اور دوسرے قلمی نسخے میں’’وشهادة أن محمداً عبده، ورسوله عبد لا يعبد‘‘ ہے۔ [123] دوسرے قلمی نسخے میں مکمل آیت مذکورنہیں ہے، بلکہ مؤلف نے کہا ہے: ’’تبارك الذي نزل الفرقان على عبده‘‘ الآية [124] سورہ الفرقان، آیت: 10۔ [125] ’’وعلى آل محمد‘‘ قاری کے نسخے میں نہیں ہے، بلکہ یہ اضافہ جامعہ کے مطبوعہ اور پہلے اور دوسرے دونوں نسخوں میں ہے۔ [126] پہلے قلمی نسخے میں ’’كما صليت على آل إبراهيم‘‘ ہے اور دوسرے قلمی نسخے میں ’’كما صليت على إبراهيم، وعلى آل إبراهيم‘‘ ہے، جب کہ قاری اور جامعہ کے مطبوعہ نسخوں میں ’’كما صليت على إبراهيم‘‘ ہے۔ [127] صحیح بخاری، 'كتاب أحاديث الأنبياء'، باب 10، حدیث نمبر 3370 اور صحیح مسلم، 'كتاب الصلاة'، 'باب الصلاة على النبي -صلى الله عليه وسلم- بعد التشهد'، حدیث نمبر 406۔ صحیح مسلم کے الفاظ کچھ اس طرح ہیں: "کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ ان کا بیان ہے کہ ہم نے اللہ کے رسول ﷺ سے پوچھا: یا رسول اللہ! ہم آپ پر اور آپ کے اہل بیت پر کس طرح درود بھیجا کریں؟ اللہ تعالیٰ نے سلام بھیجنے کا طریقہ تو ہمیں خود ہی سکھا دیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یوں کہا کرو: "اللھم صل على محمد، وعلى آل محمد، كما صليت على إبراہيم وعلى آل إبراہيم، إنك حميد مجيد، اللھم بارك على محمد، وعلى آل محمد، كما باركت على إبراہيم، وعلى آل إبراہيم، إنك حميد مجيد" (اے اللہ ! اپنی رحمت نازل فرما محمد ﷺ پر اور آل محمد ﷺ پر، جیسا کہ تو نے اپنی رحمت نازل فرمائی ابراہیم پر اور آل ابراہیم پر ۔ بے شک تو بڑی خوبیوں والا اور بزرگی والا ہے ۔ اے اللہ! برکت نازل فرما محمد پر اور آل محمد پر، جیسا کہ تو نے برکت نازل فرمائی ابراہیم پر اور آل ابراہیم پر۔ بے شک تو بڑی خوبیوں والا اور بڑی عظمت والا ہے۔) [128] پہلے قلمی نسخے میں : "ثناءٌ على عبده في الملأ الأعلى" ہے، جب کہ دوسرے قلمی نسخے اور جامعہ کے مطبوعہ نسخے میں "ثناؤه على عبده" ہے۔ [129] پہلے اور دوسرے قلمی نسخے میں "عن أبي العالية: ثناء اللَّه على عبده في الملأ الأعلى" ہے۔ [130] صحیح بخاری، 'كتاب التفسير'، 'باب قوله تعالى: ’’إِنَّ اللَّهَ وَمَلاَئِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا‘‘، حدیث نمبر 4797 سے پہلے۔ اس روایت کے الفاظ کچھ اس طرح ہیں: ابو العالیہ کہتے ہیں: اللہ کے صلاۃ (درود) سے مراد اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کے پاس بندوں کی تعریف کرنا ہے، جب کہ فرشتوں کے صلاۃ (درود) سے مراد دعا ہے۔ [131] پہلے قلمی نسخے میں ’’وما بعدها من الدعاء‘‘ ہے۔
نماز کے واجبات آٹھ ہیں: 1. تکبیر تحریمہ کے علاوہ بقیہ ساری تکبیرات 2. رکوع میں ”سبحان ربی العظیم“ کہنا 3. امام اور منفرد کا ”سمع اللہ لمن حمدہ“ 4. سب کا ”ربنا ولک الحمد“ کہنا 5. سجدے میں ”سبحان ربی الأعلی“ کہنا 6. دونوں سجدوں کے درمیان ”رب اغفرلی“ کہنا 7. پہلا تشہد 8. پہلے تشہد کے لیے بیٹھنا
چنانچہ اگر جملہ ارکان [132] میں سے کوئی رکن بھول چوک سے چھوٹ جائے یا جان بوجھ کر چھوڑ دیا جائے، تو اس سے نماز باطل ہوجائے گی۔ اسی طرح واجبات میں سے کوئی واجب جان بوجھ کر چھوڑنے سے بھی نماز باطل ہو جاتی ہے، لیکن اگر بھول چوک سے چھوٹ جائے، تو اس کی بھر پائی سجدۂ سہو کے ذریعہ ہو جائے گی [133]۔ واللہ أعلم۔ [وصلى الله على سيدنا محمد، وعلى آله وصحبه، وسلّم تسليماً كثيراً][134]. [132] دوسرے قلمی نسخے میں ’’فالأرکان‘‘ کی بجائے ’’و الأركان‘‘ ہے۔ [133] پہلے اور دوسرے قلمی نسخے میں: "والواجبات ما سقط منها سهواً، جبره سجود السهو، وعمداً بطلت الصلاة" (واجبات میں سے جو سہوًا فوت ہوجائے اس کی بھرپائی سجدۂ سہو سے ہوجائے گی لیکن جان بوجھ کر ان واجبات میں سے کسی کو چھوڑنے سے نماز باطل ہوجاتی ہے) ہے، جب کہ دوسرے نسخے میں ’’بتركه‘‘ (اس کے چھوڑنے کی وجہ سے) کا اضافہ ہے۔ [134] بینَ القوسین عبارت (وصلى الله على سيدنا محمد، وعلى آله وصحبه، وسلّم تسليماً كثيراً ) دوسرے قلمی نسخہ سے لی گئی ہے۔