منبری خطبات کا انسائیکلوپیڈیا
منبری خطبات کا انسائیکلوپیڈیا، یہ خطباتِ جمعہ کا ایک جامع مجموعہ ہے، جس کا مقصد مسلمانوں میں اعتقادی اور ایمانی فہم کو مستحکم کرنا ہے، اس میں توحید، تربیت، اور نفس کی اصلاح جیسے متنوع موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے، تاکہ دینی شعور کو فروغ ملے، نفس کی اصلاح ہو سکے، اور معاشرے کو فضیلت اور حسنِ عمل کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔
This PDF is generated automatically from the book's text; its layout may differ from the printed edition.
منبری خطبات کا انسائیکلوپیڈیا
علمی کمیٹی برائے جمعیۃ خدمۃ المحتوى الإسلامی باللغات
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم واﻻ ہے۔
مقدمہ
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں اپنا سیدھا راستہ دکھایا اور تقویٰ کو اپنے دردناک عذاب سے بچاؤ کی ایک ڈھال بنایا۔ درود وسلام نازل ہو ہمارے نبی محمد ﷺ اور آپ کی آل اور تمام صحابہ کرام پر۔ اما بعد:
ایسے زمانے میں جب حالات بدل رہے ہوں، اور امت کو یکے بعد دیگرے مختلف چیلنجز کا سامنا ہو، تو ایسی صورت میں اچھی بات کی اشد ضرورت محسوس ہوتی ہے، جو راستہ روشن کرے اور ہدایت بخشے۔
مسجد کا منبر، دلوں پر اپنے گہرے اثرات کی وجہ سے، حق بات پہنچانے، ذہنوں کی رہنمائی کرنے اور دلوں میں اطمینان پیدا کرنے کا اولین ذریعہ رہا ہے۔
ان صفحات میں ہم آپ کے سامنے منبر سے دی جانے والی خطبات کا ایک مجموعہ پیش کر رہے ہیں، جس میں مضبوط عقیدے پر مبنی اسباق، گہرے ایمانی افکار، ایسی تربیتی رہنمائیاں شامل ہیں جو اعلیٰ اخلاقی اقدار کو فروغ دیتی ہیں، نیز تزکیۂ نفس سے متعلق ایسے مضامین ہیں جو انسان کی اصلاح، پاکیزگی اور بلندیِ کردار کے لیے معاون ہیں۔
اس كام کو جمعية خدمة المحتوى الإسلامي باللغات کی علمی کمیٹی نے جمعية الدعوة وتوعية الجاليات بالربوة کے تعاون سے تیار کیا ہے، اس یقین کے ساتھ کہ اس نافع علم کو پھیلانا نہایت ضروری ہے۔
ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ اس عمل کو اپنی رضا کے لیے خالص کرے، اور اسے دنیا اور آخرت میں شرف قبولیت سے نوازے اور نفع بخش بنائے۔
درود وسلام ہو ہمارے نبی محمد ﷺ پر۔
خطبہ کا عنوان
توحید دین کی اصل اور بنیاد ہے۔
پہلے خطبہ کا مقدمہ:
بے شک تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد چاہتے ہیں، اسی سے بخشش اور ہدایت طلب کرتے ہیں، اور ہم اپنے نفس اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا، اور جسے وہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل اور صحابہ پر ڈھیروں درود وسلام نازل فرمائے۔
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہیے اور دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا۔ [آل عمران: 102]۔
پہلا خطبہ:
اما بعد :
اے مومنو!.. ہم میں سے ہر ایک اپنے آپ سے سوال کرے:
وہ کیا مقصد ہے جس کے لیے اللہ نے آسمانوں اور زمین، جنت اور دوزخ کو پیدا فرمایا، جس کے لیے کتابیں نازل کی گئیں، رسول بھیجے گئے، شریعتیں مقرر کی گئیں، اور جہاد مشروع کیا گیا؟
وہ کونسی حقیقت ہے جس کے لیے مخلوق نیک بختوں اور بدبختوں میں تقسیم ہوئی، قبر میں اور قیامت کے دن جس کے بارے میں سوال ہوگا، باہمی نزاع و اختلاف بھی اسی کے بارے میں ہوگا، فیصلہ و محاکمہ بھی اسی کی بنیاد پر ہوگا، اور اسی کی بنیاد پر دوستی اور دشمنی ہوگی؟
جواب اللہ تعالیٰ کے فرمان میں ہے: میں نے جنات اور انسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وه صرف میری عبادت کریں۔ (الذاریات : 56)۔
یہ توحید ہے، جو بندوں پر اللہ کا حق ہے۔
چنانچہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی ﷺ کے پیچھے سوار تھے، تو نبی ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اے معاذ! کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کے کیا حق ہیں اور اللہ پر بندوں کے کیا حق ہیں؟” معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہيں کہ میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہيں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ بندے اللہ کی عبادت کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں، جب کہ اللہ عز وجل پر بندوں کا حق یہ ہے کہ وہ کسی ایسے شخص کو عذاب نہ دے جو کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراتا ہو۔“ [متفق علیہ]۔
اے مومنو!
توحید ہی رسولوں کی دعوت کی اصل اور بنیاد ہے، چنانچہ کوئی رسول ایسا نہیں جسے توحید کے ساتھ مبعوث نہ کیا گیا ہو، ہمارے رب تعالیٰ نے فرمایا: ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو... [النحل: 36]۔
ارشاد باری تعالی ہے : تجھ سے پہلے بھی جو رسول ہم نے بھیجا اس کی طرف یہی وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ پس تم سب میری ہی عبادت کرو۔ [الانبیاء: 25]۔
نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں۔ جب وہ یہ کر لیں گے تو مجھ سے اپنی جان اور اپنا مال محفوظ کر لیں گے سوائے اسلام کے حق کے، اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔“ [متفق علیہ]۔
اور جب رسول اللہ ﷺ نے معاذ بن جبل کو یمن کی طرف بھیجا تو انہیں حکم دیا کہ وہ سب سے پہلے انہیں اللہ تعالی کی توحید کی دعوت دیں، اور ان سے فرمایا: ”تم اہلِ کتاب کی ایک قوم کے پاس جارہے ہو۔ چنانچہ تم انہیں سب سے پہلے اس بات کی طرف دعوت دینا کہ وہ اللہ کی وحدانیت کا عقیدہ رکھیں۔“ [متفق علیہ]۔
اللہ کے بندو! یہ بات معلوم ہے کہ کوئی تعمیر بنیاد کے بغیر قائم نہیں ہو سکتی، اور نہ کوئی شاخ جڑ کے بغیر زندہ رہ سکتی ہے۔
اور اس دین کی اصل اور بنیاد کلمہ توحید: (لا الہ الا اللہ) ہے۔
چنانچہ تمام ظاہری و باطنی اعمال و اقوال کی قبولیت اس عظیم کلمہ کا تقاضا پورا کرنے پر موقوف ہے۔
لا الہ الا اللہ کا معنی یہ ہے کہ انسان اپنی زبان سے اقرار کرے اور اپنے دل سے یہ عقیدہ رکھے کہ اللہ عزوجل کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، رہے اس کے علاوہ دیگر تمام معبود؛ تو وہ سب باطل ہیں اور ناحق ان کی عبادت کی جاتی ہے۔
اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہم تمام تر عبادتیں صرف ایک اللہ تعالیٰ کے لیے خاص کریں، اور قلبی، قولی یا عملی عبادت کا کوئی بھی حصہ اللہ عزوجل کے سوا کسی اور کے لیے انجام نہ دیں، نیز شرک اور اہلِ شرک سے براءت کا اظہار کریں۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (مسلمانو!) تمہارے لیے حضرت ابراہیم میں اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے ، جبکہ ان سب نے اپنی قوم سے برملا کہہ دیا کہ ہم تم سے اور جن جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو ان سب سے بالکل بیزار ہیں۔ ہم تمہارے (عقائد کے) منکر ہیں، جب تک تم اللہ کی وحدانیت پر ایمان نہ ﻻؤ ہم میں تم میں ہمیشہ کے لیے بغض وعداوت ظاہر ہوگئی... [الممتحنۃ : 4]۔
اے اللہ کے بندو! بلاشبہ یہ انتہائی ناقص فہم ہے کہ توحیدِ عبادت سے ہٹ کر کلمہ توحید ’لا الہ الا اللہ‘ کی محض یہ تفسیر کی جائے کہ اللہ کے سوا کوئی خالق نہیں، اور اللہ کے سوا کوئی رازق نہیں!
یقیناً اس فہم کا اقرار نبی ﷺ کے عہد میں کفار و مشرکین نے بھی کیا تھا، لیکن اس اقرار نے انہیں اسلام میں داخل نہ کیا، اور نہ ہی ان کے خون و مال کو معصوم قرار دیا؛ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ زمین وآسمان کا خالق اور سورج چاند کو کام میں لگانے واﻻ کون ہے؟ تو ان کا جواب یہی ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ، پھر کدھر الٹے جا رہے ہیں؟ [العنکبوت: 61]۔
مشرکین اپنی جہالت اور گمراہی کے باوجود اس کلمہ کے صحیح معنی کو سمجھتے تھے، جوکہ یہ ہے: تمام طرح کی عبادتوں کو صرف اللہ کے لیے خالص کیا جائے، چنانچہ انھوں نے کہا : کیا اس نےاتنے سارے معبودوں کا ایک ہی معبود کر دیا، واقعی یہ بہت ہی عجیب بات ہے۔ [ص: 5]، یعنی: کیا اس نے اتنے سارے معبودوں کا ایک ہی معبود کر دیا! واقعی یہ بہت ہی عجیب بات ہے۔
اے اللہ! ہمیں اپنا سیدھا راستہ دکھا، ان لوگوں کا راستہ، جن پر تیرا انعام ہوا، انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین میں سے، اور ہمیں ان لوگوں کے راستے سے بچا جو غضب کے شکار ہوئے اور جو راہ بھٹک گئے۔
میں اپنی یہ بات کہتا ہوں اور اپنے لیے اور تمہارے لیے اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں۔
دوسرے خطبہ کا مقدمہ:
تمام تعریفات صرف اللہ کے لیے ہیں، اور درود وسلام ہو اس ذات پر جس کے بعد کوئی نبی نہیں آنے والا اور آپ کے آل واصحاب پر.. اما بعد:
دوسرا خطبہ:
اے مسلمانو!
جان رکھو کہ مخلوق میں سب سے کامل، اشرف اور اکرم وہی ہیں جو اللہ کی عبودیت میں سب سے کامل ہیں، اور توحید کو بروئے عمل لانے کے بقدر ہی بندے کو کمال اور بلند مقام حاصل ہوتا ہے۔
اور اللہ کی بخشش کا سب سے زیادہ امیدوار وہی شخص ہے جو موحّد ہو، جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا : ”اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: اے ابن آدم! جب تک تو مجھے پکارتا رہے گا اور مجھ سے امید رکھے گا، میں تجھے بخشتا رہوں گا، چاہے تیرے گناہ کیسے بھی ہوں اور میں پروا نہیں کروں گا۔ اے ابن آدم! اگر تیرے گناہ آسمان کی بلندیوں تک پہنچ جائیں، پھر تو مجھ سے مغفرت طلب کرے تو میں تجھے بخش دوں گا اور میں کوئی پروا نہیں کروں گا۔ اے ابن آدم! اگر تو میرے پاس زمین بھر گناہ لے کر آئے، پھر تو مجھ سے اس حال میں ملاقات کرے کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، تو میں تیرے پاس زمین بھر مغفرت لے کر آؤں گا۔“ [اسے ترمذی: 3540 نے صحیح سند سے روایت کیا ہے جیسا کہ شیخ البانی نے فرمایا]۔
ابن رجب رحمہ اللہ اپنی کتاب [جامع العلوم والحكم] میں رقم طراز ہیں: "معلوام ہوا کہ توحید سب سے بڑا سبب ہے؛ جو شخص اس سے محروم ہوا وہ مغفرت سے محروم ہوا، اور جو اسے بروئے عمل لایا اس نے مغفرت کے عظیم ترین سبب کو بروئے کار لایا"۔
موحد بندہ پر شیطان کا کوئی اختیار نہیں: ایمان والوں اور اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھنے والوں پر اس کا زور مطلقاً نہیں چلتا۔ [النحل: 99]۔
اور بندے کے اندر اللہ کی توحید جس قدر زیادہ ہوتی ہے، اللہ کی طرف سے اس کا دفاع اتنا ہی بڑھ جاتا ہے، اللہ سبحانہ نے فرمایا: یقیناً سچے مومنوں کے دشمنوں کو خود اللہ تعالیٰ ہٹا دیتا ہے۔ کوئی خیانت کرنے واﻻ ناشکرا اللہ تعالیٰ کو ہرگز پسند نہیں۔ [الحج: 38]۔
اور جو اللہ کی توحید کو بروئے عمل لاتا ہے؛ اللہ تعالیٰ اسے مہلک گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے محفوظ فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یوسف علیہ السلام کے بارے میں ارشاد فرمایا: ...ایسا ہی ہوا تاکہ ہم اس سے برائی اور بے حیائی کو دور کر دیں۔ بے شک وہ ہمارے برگزیدہ بندوں میں سے تھا۔ [يوسف: 24]۔
فرد اور معاشرے میں جس قدر توحید ہوگی، اسی قدر امن اور ہدایت بھی حاصل ہوگی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور اپنے ایمان کو شرک کے ساتھ مخلوط نہیں کرتے... یعنی: شرک سے محفوظ رکھتے ہیں ۔۔۔ ایسوں ہی کے لئے امن ہے اور وہی راه راست پر چل رہے ہیں۔ [الانعام: 82]۔
اور جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس کا آخری کلام لاالہ الا اللہ ہو گا ، وہ جنت میں داخل ہوگا۔“ [ابو داود: 3116۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے حسن کہا ہے۔]
نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے کہ وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے کہ وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو تو وہ جہنم میں داخل ہوگا۔“ [متفق علیہ]۔
ابن القیم رحمہ اللہ اپنی کتاب [مدارج السالکین] میں فرماتے ہیں: ”بندے کی توحید جس قدر عظیم ہوگی، اس کے لیے اللہ کی مغفرت اسی قدر کامل ہوگی؛ جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے کہ وہ اس کے ساتھ کسی کو ہرگز شریک نہ ٹھہراتا ہو، تو وہ اس کے تمام گناہ معاف کر دے گا۔“
اللہ جل وعلا سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اس حال میں زندہ رکھے کہ ہم اس کے موحد اور دین کو اسی کے لیے خالص کرنے والے ہوں، اور ہمیں ہر قسم کے شرک سے محفوظ رکھے، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، تھوڑا ہو یا زیادہ۔
پھر ان پر درود و سلام بھیجیں جن پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو درود و سلام بھیجنے کا حکم دیا ہے۔
***
خطبہ کا عنوان
توحید
پہلے خطبہ کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اور ہم اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے، ... اس کے لیے دین کو خالص کر کے گو کافر برا مانیں۔ [غافر: 14]، میں اس پاک ذات کی حمد و ثنا بیان کرتا ہوں اور اس کا شکر ادا کرتا ہوں، اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں اور اسی سے بخشش چاہتا ہوں، ... اسی کی تعریف ہے۔ اسی کے لیے فرمانروائی ہے اور اسی کی طرف تم سب پھیرے جاؤ گے۔ [القصص: 70]۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار اور ہمارے نبی محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، آپ نے حریمِ توحید کی حفاظت فرمائی، اور شرک تک پہنچنے والے ہر راستے کو بند کر دیا، چنانچہ اللہ نے آپ کے ذریعے اپنے دین کو تمام ادیان پر غالب کر دیا، خواہ مشرکوں کو یہ کتنا ہی ناگوار کیوں نہ گزرے۔ اللہ آپ پر، آپ کی آل پر، آپ کے صحابہ، تابعین اور قیامت کے دن تک اخلاص کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں پر اپنی رحمتیں، سلامتی اور برکتیں نازل فرمائے۔
پہلا خطبہ:
اے اللہ کے بندو!
وہ کیا مقصد ہے جس کے لیے اللہ نے آسمانوں اور زمین اور جنت وجہنم کو پیدا فرمایا؟ جس کی خاطر کتابیں نازل کی گئیں، رسول بھیجے گئے، حدود قائم ہوئیں، شریعتیں مقرر کی گئیں، اور جہاد مشروع کیا گیا؟
وہ کیا چیز ہے جس کے لیے مخلوق نیک بختوں اور بدبختوں میں تقسیم ہوئی، اور اسی کے ذریعے حاقہ برحق ہوئی اور واقعہ برپا ہوا، اور اسی کے ذریعے انصاف کے ترازو نصب کیے گئے، پل صراط نصب کیا گیا، جنت اور جہنم کا بازار قائم ہوا، اور اسی کی بدولت رب العالمین کی عبادت کی گئی اور اس کی حمد بیان کی گئی، اور قبر نیز روزِ بعث و نشور میں اسی کے بارے میں سوال ہوگا، اور اسی پر مخاصمت ہے، اسی کی طرف فیصلہ لے جایا جاتا ہے، اور اسی کی بنیاد پر دوستی اور دشمنی ہے؟
بے شک یہ توحید ہی ہے جو بندوں پر اللہ کا حق ہے؛ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے جنات اور انسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وه صرف میری عبادت کریں۔ میں ان سے کوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وه مجھے کھلائیں۔ بے شک اللہ ہی بڑا رزق دینے والا، قوت والا اور مضبوط ہے۔ [الذاريات: 56-58]
توحید ہی رسولوں کی دعوت کی بنیاد اور اس کا محور ہے، چنانچہ ہر رسول کو توحید کے ساتھ، اور توحید کی دعوت کے لیے ہی مبعوث کیا گیا۔
پروردگار کا ارشاد ہے: ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو۔ پس بعض لوگوں کو تو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی اور بعض پر گمراہی ثابت ہوگئی ، پس تم خود زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا کچھ ہوا؟ [النحل: 36]۔ معلوم ہوا کہ تمام پیغمبروں نے اپنی اپنی قوم سے کہا: ”(لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو“ اور انہوں نے اپنی قوموں سے یہ بھی کہا: ... اے میری قوم! تم اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں، سو کیا تم نہیں ڈرتے؟ [المؤمنون: 23]۔
تجھ سے پہلے بھی جو رسول ہم نے بھیجا اس کی طرف یہی وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ پس تم سب میری ہی عبادت کرو۔ [الانبیاء: 25]۔
چنانچہ نوح علیہ السلام پہلے نبی ہیں جو اپنی قوم میں نو سو پچاس سال تک رہے، اور اپنی قوم کو توحید کی دعوت دیتے رہے: یقیناً ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا، اس نے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو! اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، کیا تم (اس سے) نہیں ڈرتے۔ [المؤمنون: 23]۔
ابراہیم خلیل علیہ السلام، جو تمام موحدوں کے امام ہیں، وہ اپنے اور اپنی اوﻻد کے بت پرستی میں مبتلا ہونے سے ڈرتے ہیں؛ چنانچہ وہ اپنے پروردگار سے دعا فرماتے ہیں: (ابراہیم کی یہ دعا بھی یاد کرو) جب انہوں نے کہا کہ اے میرے پروردگار! اس شہر کو امن واﻻ بنادے ، اور مجھے اور میری اوﻻد کو بت پرستی سے پناه دے۔ [ابراھیم: 35]، تو بھلا ابراہیم علیہ السلام کے بعد آزمائش اور فتنے سے کون مامون رہ سکتا ہے۔
اسی طرح ان کے بعد آنے والے انبیاء و رسل سے لے کر ان سب کے سردار اور سب سے آخری نبی محمد ﷺ تک، سب کی یہی دعوت رہی۔ چنانچہ آپ ﷺ کی پوری زندگی اول سے لے کر آخر تک، مکی ہو یا مدنی، حضر کی ہو یا سفر کی، حالتِ امن کی ہو یا حالتِ جنگ کی، ساری کی ساری توحید، اس کی دعوت اور اس کے تکمیلی امور پر مشتمل تھی۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد ﷺ، جو امام الموحدین ہیں‘ ان سے فرمایا: پس تو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکار کہ تو بھی سزا پانے والوں میں سے ہوجائے۔ [الشعراء: 213] انہیں شرک سے منع کیا جاتا ہے حالانکہ وہ امام الموحدین ہیں اور شرک میں پڑنے سے مامون ہیں، تو پھر ہمارا کیا حال ہوگا جو شرک میں پڑنے سے مامون نہیں ہیں۔
چنانچہ توحید ہی کی خاطر صحابہ کرام نے جہاد کیا اور وہ اللہ کی راہ میں اور خالص اللہ کی رضا کی خاطر اس بنجر جزیرے سے نکل کھڑے ہوئے۔ وہ "لا إلہ إلا اللہ" کا پرچم بلند کیے مشرق و مغرب کی جانب نکل پڑے‘ جس کے نتیجے میں دنیا ان کے سامنے جھک گئی اور ان کی تابع ہو گئی، یہاں تک کہ مؤرخین حیران رہ گئے اور اس واقعے کی توجیہ پیش کرنے سے عاجز آ گئے۔ کیا پوری تاریخ میں اس سے زیادہ حیرت انگیز اور عقلوں کو دنگ کر دینے والا کوئی اور واقعہ ملتا ہے؟
ایک ایسی امت جو اس جزیرے -اس صحرا- سے اٹھتی ہے، جس کی نہ کوئی تہذیب تھی، نہ کوئی علم، نہ ہی کوئی ایسی شاندار تاریخ جس پر وہ فخر کر سکے، اور نہ جاہلیت کی موروثات اور اس کی عادات و روایات کے سوا اس کی اپنی اقدار تھیں، پھر بھی وہ نکل کھڑی ہوتی ہے تاکہ لوگوں کو اللہ کے دین میں جوق در جوق داخل کرے۔
اے اللہ کے بندو!
کلمۂ توحید کا مطلب اللہ عز وجل کے سوا تمام مخلوقات سے الوہیت کی نفی کرنا ہے، لہٰذا نہ بتوں، مقبروں اور درختوں کی عبادت کی جاسکتی ہے، نہ اولیا کی قبروں یا مزاروں کا طواف کیا جاسکتا ہے، اور نہ ہی خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت کی جاسکتی ہے، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔
لہذا اللہ کے سوا کسی سے محبت نہ کی جائے، نہ اس کے سوا کسی سے ڈرا جائے، اور نہ اس کے سوا کسی سے امید رکھی جائے، صرف اسی پر بھروسہ کیا جائے، صرف اسی کی طرف رغبت کی جائے، صرف اسی کا خوف رکھا جائے، صرف اسی کے نام کی قسم کھائی جائے، صرف اسی کے حضور توبہ کی جائے، صرف اسی کے لیے سجدہ کیا جائے اور صرف اسی کے لیے رکوع کیا جائے، صرف اسی سبحانہ کے سامنے جھکا جائے، مصیبتوں کے وقت صرف اسی سے مدد طلب کی جائے، تنگیوں کے وقت صرف اسی کی پناہ لی جائے، صرف اسی کے لیے اور اسی کے نام پر ذبح کیا جائے، کسی جادوگر کی تصدیق نہ کی جائے، نہ کسی کاہن کے پاس جایا جائے، اور نہ کسی ایسے نجومی اور شعبدہ باز کی اطاعت کی جائے جو غیب جاننے، نقصان کو دور کرنے اور نفع پہنچانے کا دعویٰ کرتا ہو۔ کہہ دیجیے کہ آسمانوں اور زمین والوں میں سے سوائے اللہ کے کوئی غیب نہیں جانتا، انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ کب اٹھا کھڑے کیے جائیں گے؟ [النمل: 65]
اے ایمان والو!
تمام ظاہری اور باطنی اعمال اور اقوال کی قبولیت توحید کی بجا آوری پر موقوف ہے: اور انہوں نے جو جو اعمال کیے تھے ہم نےان کی طرف بڑھ کر انہیں پراگنده ذروں کی طرح کردیا۔ [الفرقان: 23] ... اگر تو نے شرک کیا تو بلاشبہ تیرا عمل ضائع ہو جائے گا اور بالیقین تو زیاں کاروں میں سے ہوجائے گا۔ [الزمر: 65]، یہ بات کس سے کہی جا رہی ہے؟ رسول ﷺ سے، تو بھلا آپ کے علاوہ کسی اور کا کیا حال ہوگا؟
توحیدِ الٰہی: اللہ سبحانہ کی مکمل عبودیت کا نام ہے، جس پر مسلمان اپنی پوری زندگی استوار کرتا ہے؛ اپنی نماز اور اپنی قربانی، اپنا جینا اور اپنا مرنا۔ توحید عقیدے میں بھی ہے، عبادت میں بھی، اور شریعت و قانون سازی کو صرف اللہ تعالیٰ کا حق ماننے میں بھی۔ یہ ایسی توحید ہے جس کے ذریعے دل اور ضمیر، غیر اللہ کی الوہیت کے عقیدے سے پاک ہو جاتے ہیں، اسی کے ذریعے اعضاء اور تمام عبادات کو اس بات سے پاک رکھا جاتا ہے کہ وہ اللہ کے علاوہ کسی اور کے لیے انجام دی جائیں۔ اسی کے ذریعے احکام وشریعت کو اس بات سے محفوظ رکھا جاتا ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور سے حاصل کیا جائے۔
اے مسلمانو!
تمام مخلوق میں سب سے کامل وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی بندگی میں سب سے بڑھ کر کامل ہو۔ بندے کا کمال اور اس کا بلند مقام اسی قدر ہوتا ہے جس قدر وہ توحید کو اپنی زندگی میں عملی طور پر قائم کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ موحد کی دین اور دنیا، دونوں میں حفاظت فرماتا ہے، اور اللہ کی مغفرت کا سب سے زیادہ امیدوار بھی موحد ہی ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: اے ابن آدم! جب تک تو مجھے پکارتا رہے گا اور مجھ سے امید رکھے گا، میں تیرے گناہوں کو بخشتا رہوں گا، چاہے وہ جتنے بھی ہوں، میں اس کی پرواہ نہيں کروں گا۔ اے ابن آدم! اگر تیرے گناہ آسمان کی بلندیوں تک پہنچ جائیں، پھر تو مجھ سے بخشش طلب کرے، تو میں تجھے بخش دوں گا اور مجھے اس کی کوئی پرواہ نہيں ہوگی۔ اے ابن آدم! اگر تو میرے پاس زمین کے برابر گناہ لے کر اس حال میں آئے کہ تو نے کسی کو میرا شریک نہ ٹھہرایا ہو، تو میں تیرے پاس زمین کے برابر بخشش لے کر آؤں گا۔“ [اسے ترمذی: 3540 اور احمد: 13493 نے صحیح سند سے روایت کیا ہے۔]
ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ” معلوم ہوا کہ توحید سب سے بڑا سبب ہے؛ چنانچہ جو شخص اس سے محروم ہوا وہ مغفرت سے محروم ہوا، اور جو شخص اسے بروئے عمل لایا اس نے مغفرت کے عظیم ترین سبب کو بروئے کار لایا۔“
شیطان کو موحد تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں ملتا: ایمان والوں اور اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھنے والوں پر اس کا زور مطلقاً نہیں چلتا۔ [النحل: 99]۔
اس کی توحید کے بقدر ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا دفاع بڑھ جاتا ہے، اللہ پاک کا ارشاد ہے: سن رکھو! یقیناً سچے مومنوں کے دشمنوں کو خود اللہ تعالیٰ ہٹا دیتا ہے۔ کوئی خیانت کرنے واﻻ ناشکرا اللہ تعالیٰ کو ہرگز پسند نہیں۔ [الحج: 38]۔
جس نے اللہ کی توحید کو خالص کیا، تو اللہ اسے ہلاک کرنے والے گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے محفوظ رکھتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے یوسف علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: ...یونہی ہوا اس واسطے کہ ہم اس سے برائی اور بے حیائی دور کر دیں۔ بے شک وه ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھا۔ [يوسف: 24]۔
موحد بندہ کو دنیوی زندگی میں سکینت اور اطمینان حاصل ہوتا ہے، اور وہ دنیا میں اپنے ایمان کے بقدر امن و سکون میں رہتا ہے: جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور اپنے ایمان کو شرک کے ساتھ مخلوط نہیں کرتے، ایسوں ہی کے لئے امن ہے اور وہی راه راست پر چل رہے ہیں۔ [الانعام: 82]۔
مُردوں کو موحدین کی دعاؤں سے فائدہ پہنچتا ہے، اور نمازِ جنازہ میں سوائے ان کی دعاؤں کے کوئی اور دعا قبول نہیں کی جاتی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو مسلمان آدمی مر جائے اور اس کے جنازے پر ایسے چالیس آدمی نماز پڑھیں جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے ہوں تو اللہ تعالی میت کے حق میں ان کی سفارش قبول فرماتا ہے۔“ [صحیح مسلم: 948]۔
جب موحد بندہ کی وفات قریب آتی ہے تو اللہ اسے جنت کی بشارت دیتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس کا آخری کلام لاالہ الا اللہ ہو گا، وہ جنت میں داخل ہوگا۔“ [ابو داود: 3116، مذکورہ لفظ ابو داود کے ہیں، مسند احمد: 22034، اس کی سند کو البانی نے حسن قرار دیا ہے]، جس طرح اللہ تعالیٰ نے موحد بندہ کو دنیا میں عزت بخشی ہے، اسی طرح اللہ نے آخرت میں بھی اسے عزت سے نوازا ہے، اس کا مقام بلند فرمایا ہے اور اسے عمل کرنے والوں کی بہترین جزا عطا فرمائی ہے۔ جو شخص توحید پر مرے گا، اس کے لیے جنت ہے، خواہ ابتدا ہی میں ہو یا آخری ٹھکانے کے طور پر۔ اگر وہ اپنے گناہوں کے سبب جہنم میں داخل بھی ہوا، تو وہ اس میں ہمیشہ نہیں رہے گا، نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے کہ وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، تو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے کہ وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو، تو وہ جہنم میں داخل ہوگا۔“ [صحیح مسلم: 93]۔
ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "بندے کی توحید جس قدر عظیم ہوگی، اس کے لیے اللہ کی مغفرت اسی قدر کامل ہوگی؛ چنانچہ جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے کہ وہ اس کے ساتھ بالکل کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو اللہ اس کے تمام گناہ معاف فرما دے گا"۔
ہم اللہ عزیز وبرتر سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اس حال میں زندہ رکھے کہ ہم اللہ کے موحد ہوں، دین کو اسی کے لیے خالص کرنے والے ہوں، اللہ بزرگ وبرتر پر ایمان رکھنے والے ہوں، اس کی بارگاہ کی تعظیم کرنے والے ہوں، اور ہم سب کو ہر قسم کے شرک سے محفوظ رکھے، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، تھوڑا ہو یا زیادہ۔
اللہ میرے لیے اور آپ کے لیے برکت کرے۔
دوسرے خطبہ کا مقدمہ
ساری تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو اکیلا اور بے نیاز ہے، جس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ کسی سے جنا گیا، اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے، اور درود وسلام ہو اس کے بندے اور رسول محمد ﷺ پر، اور آپ کے اہل بیت اور تمام صحابہ پر۔
دوسرا خطبہ:
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں توحید کی قدر و قیمت سکھائی، اور ہمیں اس بات سے آگاہ کیا کہ ملتِ ابراہیمی سے وہی روگردانی کرتا ہے جس نے خود کو احمق بنا لیا ہو، اور ہمیں اس بات کی معرفت عطا کی کہ ہم میں کوئی بھلائی نہیں، نہ ہماری زندگی میں، اور نہ ہی ہمارے کسی بھی معاملے میں، سوائے اس کے کہ ہم اللہ کی توحید پر قائم ہوں، اس اللہ کی عبادت کرنے والے ہوں جو اکیلا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں، اور رسول اللہ ﷺ کی پیروی کرنے والے ہوں۔
میرے معزز بھائی!
اگر تم 'لا الہ الا اللہ' کی گواہی دینے والے ہو، تو عبادت اور دین داری کا کوئی بھی حصہ اللہ عز وجل کے سوا کسی اور کے لیے انجام نہ دو، صرف اللہ سے مانگو، صرف اسی کو پکارو، صرف اسی پر توکل کرو، اس کے سوا کسی سے امید نہ رکھو، قربانی اور نذریں صرف اسی کے لیے پیش کرو، کسی ضرر کے دور ہونے یا نفع کے حاصل ہونے کی امید صرف اسی سے رکھو۔ شیطان تمہیں کسی بھی موقع سے یا بے موقع مُردوں کے مزارات کی طرف ہرگز نہ لے جائے، کہ تم نیک وصالح اولیاء سے مدد طلب کرو، ان کے لئے قربانی پیش کرو اور ان سے نفع کی امید رکھو۔ تم ان لوگوں میں سے بھی نہ بنو جو جادوگروں کی تصدیق کرتے ہیں اور ان کے دروازے کھٹکھٹاتے ہیں، یا شعبدہ بازوں اور کاہنوں کے پیچھے بھاگتے ہیں اور ان سے فریاد کرتے ہیں اور کسی نقصان کے دور ہونے، یا نفع کے حصول، یا مریض کی شفایابی، یا کسی غائب کی واپسی کی امید رکھتے ہیں، اور نہ تم ایسے لوگوں میں سے ہو جاؤ جو ان خرافات بکنے والوں کے لکھے ہوئے دَم یا تعویذوں کے بوسیدہ ٹکڑوں کو لٹکائے رکھتے ہیں۔
اے میرے محترم بھائی! جان لیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ایسی عظیم وبیش بہا نعمت اور بڑے احسان سے نوازا ہے، جس کے سامنے تمام نعمتیں ہیچ ہو جاتی ہیں۔
میں اس پر اللہ تعالی کی حمد بیان کرتا ہوں، اور اس سے تادمِ حیات ثابت قدمی کی دعا کرتا ہوں، بے وہ پاک پروردگار بہترین کارساز اور بہترین ٹھکانہ ہے۔
***
خطبہ کا عنوان
دینِ اسلام کی حقیقت
پہلے خطبہ کا مقدمہ
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور نہ ہی اس کے سوا کوئی پروردگار ہے۔ میں اس پاک ذات کی حمد بیان کرتا ہوں جس نے یہ حکم دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، ایسی گواہی جس کے ذریعے میں اس کے عذاب سے نجات اور اس کی رضا پانے کی امید رکھتا ہوں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے، اس کے رسول اور اس کے برگزیدہ بندہ ہیں، جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے نبوت کو ختم کر دیا اور رسالت کا سلسلہ منقطع فرما دیا، اور آپ ﷺ کو قیامت تک کے لیے ایک جامع شریعت دے کر مبعوث فرمایا، چنانچہ وہ بندوں سے آپ ﷺ کے دین اور آپ کی لائی ہوئی ہدایت کے سوا کچھ قبول نہیں فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ آپ پر، آپ کی پاکیزہ و مطہّر آل پر، آپ کے ہدایت یافتہ ائمہ و خلفاء پر اور آپ کے ان صحابہ پر درود و سلام نازل فرمائے جو انبیاء اور مرسلین کے بعد تمام انسانوں میں سب سے افضل ہیں، ایسا درود و سلام جو کامل و مکمل ہو اور روزِ قیامت تک باقی رہنے والا ہو۔
پہلا خطبہ:
اما بعد :
اے لوگو! اللہ سے ڈرو اور اس پر اس کا شکر ادا کرو کہ اس نے تمھیں اس دین اور ہدایت کی رہنمائی فرمائی جس کے ساتھ اس نے اپنے نبی اور رسول محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ یقیناً یہ اللہ کا تم پر بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے تمھیں ایمان کی ہدایت دی اگر تم سچے ہو۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے اس (دین) کے سبب تمھیں دنیا و آخرت کی وہ بھلائی عطا فرمائی ہے جو مسلمانوں کے سوا سارے جہان کی کسی اور امت کو عطا نہیں کی۔ لہٰذا، تم لوگوں کے لیے بہترین امت قرار پائے اور تم لوگوں پر گواہ بنے، اسی کی بدولت قیامت کے دن تم سب سے آگے ہو گے، جن کا فیصلہ باقی تمام مخلوقات سے پہلے کیا جائے گا، اور تم ان ستر امتوں میں جن کی تعداد تم قیامت کے دن پوری کرو گے، اللہ کے نزدیک سب سے بہترین اور معزز ترین امت ہو گے۔ اسی کی بدولت تم سب سے پہلے پل صراط عبور کرنے والے، سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والے اور اہل جنت میں سب سے بڑی تعداد والے ہو گے۔ اسی کی بدولت تمھیں اجر عظیم اور بلند درجات حاصل ہوں گے، تمھارے لیے اس میں کس قدر کثیر بھلائی، بڑا اجر وثواب اور بڑے گناہوں کی معافی ہے، اور اس کے بدلے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ہاں تمھارے لیے کس قدر عزت، اجر کا ذخیرہ اور بہترین انجام ہے۔
اے لوگو! تمھیں علم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ تمھارے جسموں اور تمھاری شکلوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تمھارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے، بے شک اللہ تعالیٰ دنیا اسے بھی عطا کرتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے اور اسے بھی جس سے وہ محبت نہیں کرتا، لیکن دین صرف اسی کو عطا کرتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے۔ چنانچہ جسے اللہ نے دین عطا کیا، تو یقیناً اس نے اس سے محبت کی۔ لہٰذا اللہ نے تمھیں جو ہدایت دی ہے اس پر اس کی حمد بیان کرو اور اس نے تمھیں جو عظیم اور بیش بہا فضل و کرم عطا کیا ہے اس پر اس کا شکر ادا کرو، اور اپنے اوپر اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کو حقیر اور معمولی نہ سمجھو، ورنہ وہ تم سے چھین لی جائیں گی اور تمھارے سوا دوسروں کو دے دی جائیں گی؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ...اور اگر تم روگردان ہو جاؤ تو وه تمہارے بدلے تمہارے سوا اور لوگوں کو ﻻئے گا جو پھر تم جیسے نہ ہوں گے۔ [محمد: 38]، نیز ارشاد باری تعالی ہے: کیا آپ نے انہیں نہیں دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت کو ناشکری سے بدل دیا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں پہنچا دیا؟ جہنم ہے جس میں وہ داخل ہوں گے، اور وه بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔ [ابراھیم: 28-29]، یہ کتنی بلیغ نصیحت ہے! اور نعمت کی ناقدری کی سزا کتنی خطرناک ہے! کیونکہ نعمت جتنی عظیم ہوتی ہے، اس کے انکار اور ناقدری پر سزا بھی اتنی ہی سخت ہوتی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کا ان انعامات پر شکر ادا کرو جو اس نے تمہیں بطور خاص عنایت کیا ہے، جن باتوں کا اس نے تمھیں حکم دیا ہے ان میں اس کی اطاعت کرو، اور جن چیزوں سے اس نے تمھیں ڈرایا اور سختی سے روکا ہے ان سے بچو، تاکہ تم اپنی نعمتوں کو محفوظ رکھ سکو، اور جن باتوں کا اس نے تمھیں حکم دیا ہے ان کی بجا آوری کے ذریعہ مزید فضل حاصل کر سکو، اور ناگہانی سزا سے محفوظ رہ سکو۔
اے لوگو! بے شک عظیم اور برحق دین، دینِ اسلام ہی ہے، جو نہایت آسان اور کشادہ، بابرکت انجام والا اور دنیا و آخرت میں عمدہ اثرات کا حامل ہے۔ اس کی اصل، اس کی بنیاد اور اس کی قبولیت کی شرط یہ عقیدہ رکھنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، جیسا کہ اس کے سوا نہ کوئی خالق ہے، نہ کوئی رب ہے، اور نہ ہی کوئی تدبیر کرنے والا ہے، اور وہی اسمائے حسنیٰ اور اعلیٰ ترین صفات کا مالک ہے۔
اس عقیدہ کے لیے چند امور ضروری ہیں:
اول: لا الہ الا اللہ کہنا، اور بطور ثنا اور دعا اللہ تعالی کا کثرت سے ذکر کرنا۔
دوسرا: اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور انکساری کا اظہار کرنا، اس کا خوف رکھتے ہوئے، اس سے محبت کرتے ہوئے اور اللہ سبحانہ کا ڈر دل میں بسائے ہوئے؛ اس طور پر کہ انسان ثواب کی امید اور عذاب کے ڈر سے، برضا و رغبت اور عملی طور پر اللہ تعالیٰ کے اوامر کی بجا آوری کرنے اور منع کردہ چیزوں سے بچنے کے لیے اپنا سرِ تسلیم خم کر دے۔
اے لوگو! تیسری بات اللہ کے سوا ہر ایک معبود کا انکار کرنا، اور غیر اللہ کی ہر قسم کی عبادت سے براءت کا اظہار کرنا ہے، یہ سب اس لیے کہ اللہ ہی حق ہے اور اس کے سوا جسے بھی یہ پکارتے ہیں وه باطل ہے اور بے شک اللہ ہی بلندی واﻻ کبریائی واﻻ ہے۔ [الحج: 62]، یہ ہے اللہ تعالیٰ تمہارا رب! اس کے سوا کوئی عبادت کے ﻻئق نہیں، ہر چیز کا پیدا کرنے واﻻ ہے، تو تم اس کی عبادت کرو اور وه ہر چیز کا کارساز ہے۔ [الانعام: 102]۔
اے مسلمانو! تمہارے دین کا ستون اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اس کے لیے نماز قائم کرنا ہے، اس دین میں کوئی بھلائی نہیں جس کی بنیاد نماز پر نہ ہو۔ تو جس نے اس کا انکار کیا؛ اس نے کفر کیا، اور بے شک یہ مومنوں اور کافروں کے درمیان فرق ہے۔ جس نے اللہ کے لیے اسی طرح نماز ادا کی جیسا اس نے حکم دیا؛ تو وہ سید البشر محمد ﷺ کے پیروکاروں میں سے ہے، اور جو شخص نماز سے باز رہا، تو درحقیقت اس نے دین سے اعراض اور ابلیسِ لعین کی پیروی کا اعلان کر دیا: ان پر شیطان نے غلبہ حاصل کرلیا ہے، اور انہیں اللہ کا ذکر بھلا دیا ہے۔ یہ شیطانی لشکر ہے۔ کوئی شک نہیں کہ شیطانی لشکر ہی خسارے واﻻ ہے۔ [المجادلة: 19]۔
اے اللہ کے بندو! اسلام کے باقی ارکان بھی اس دین کی عظیم بنیادیں ہیں، اور سب کے سب اللہ، جو بادشاہ، نہایت پاک اور سلامتی والا ہے، کی توحید کا مظہر ہیں۔ جس طرح نماز قول و فعل کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی توحید کا اظہار ہے، اسی طرح زکوٰۃ مال کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی توحید کا اظہار ہے، روزہ خواہشات اور محبوب چیزوں سے رُک کر اللہ کی توحید کا عملی ثبوت ہے، اور حج تو ربِّ کائنات کی جامع توحید کا عظیم مظہر ہے۔ یہ عبادت حرمت والے ایام اور مقدس مقامات میں ادا کی جاتی ہے، اور اہلِ اسلام کے لیے توحید کا سب سے نمایاں اور ہمہ گیر مظاہرہ ہے، جس میں خواص و عوام، سب یکساں طور پر شریک ہوتے ہیں۔
اے امتِ اسلام! ایمان کے اصول وہ اعتقادی اور علمی بنیادیں ہیں جن پر دین قائم ہے، اور وہ یقینی حقائق کی دل سے تصدیق کا نام ہیں۔ ان کی اساس اللہ تعالیٰ کی طرف سے بتائی گئی غیبی حقیقتوں پر ایمان لانا، اور اس کے بھیجے ہوئے رسول ﷺ کی کامل پیروی کرنا ہے۔ پھر نیت، گفتار اور عمل میں احسان کو اختیار کرنا ہے۔ انہی امور کے ذریعے دین کے وہ تمام مراتب حاصل ہوتے ہیں جن کے ذریعہ بندہ رب العالمین کی عبادت کرتا ہے، تاکہ دنیا و آخرت میں سعادت حاصل کر سکے۔ اے اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو، اور اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا شکر ادا کرو کہ اس نے تمہیں یہ عظیم دین عطا فرمایا اور اس کے ذریعے تمہیں تمام جہانوں پر فضیلت بخشی، نیز قیامت کے دن اس دین پر عمل کرنے کے بدلے تمہارے لیے اجرِ عظیم کا وعدہ فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس فضل پر خوشی کا اظہار کرو، اس کے احسان کا شکر بجا لاؤ، اللہ ہی کے لیے اس دین پر عمل کرو، اور اللہ کے بندوں میں سے جسے بھی تم اس دین کی طرف بلانے اور ہدایت دینے کی استطاعت رکھتے ہو، اسے اس کی طرف رہنمائی کرو؛ تاکہ تم احسان کرنے والوں میں شمار ہو۔
دوسرے خطبہ کا مقدمہ
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو معبودِ برحق ہے، جس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور اس کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں۔ میں اس پاک ذات کی حمد بیان کرتا ہوں اس کی تدبیر کی حکمت پر، اس کی شریعت کی آسانی پر، اور اس کی ہدایت پر مبنی سنت پر، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اس نے حکم دیا ہے کہ ہم صرف اسی کی عبادت کریں، اور تمہیں منع فرمایا ہے کہ تم اس کے ہم پلہ (شریک) ٹھہراؤ جن سے تم اللہ جیسی محبت کرو، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے، اس کے رسول اور اس کے برگزیدہ ہیں، جنہیں ملتِ ابراہیمی اور عالمگیر شریعتِ محمدیہ کے ساتھ مبعوث کیا گیا، جو شخص اسلام کے سوا کوئی اور دین تلاش کرے گا، تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ آپ پر، آپ کی طیب وطاہر آل و اقارب، خلفائے راشدین اور بقیہ ہدایت یافتہ صحابہ پر، جو نبیوں اور رسولوں کے بہترین پیروکار ہیں، قیامت تک باقی رہنے والا کامل اور مکمل درود و سلام نازل فرمائے۔
دوسرا خطبہ:
اما بعد :
اے لوگو! اللہ سے ڈرو تاکہ تم فلاح پاؤ، اس کی اطاعت کرو تاکہ تم ہدایت پاؤ، اس کا شکر ادا کرو تاکہ تمھیں اور زیادہ عطا کیا جائے اور تمھیں رزق دیا جائے، اس کی ناشکری نہ کرو کہ تمھیں سزا دی جائے اور تم ہلاک ہو جاؤ، اور دنیا وآخرت میں خسارہ اٹھاؤ اور بدبخت ہو جاؤ۔
اے مسلمانو! یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں وہ کچھ عطا فرمایا ہے جو اس نے اکثر جہان والوں کو عطا نہیں فرمایا؛ کیونکہ اس نے تمہیں اپنے آپ پر اور اپنے رسول محمد ﷺ پر ایمان لانے کی ہدایت دی اگر تم سچے ہو، اس نے تمہارے لئے اس دین کو پسند فرمالیا اور اس کے ذریعے تمہیں جہان والوں پر فضیلت بخشی، اس لیے خبردار! تم مسلمان ہی مرنا۔
اے اللہ کے بندو! یقیناً اللہ تعالیٰ نے دینِ اسلام کے ذریعے تمھیں لوگوں پر فضیلت بخشی ہے، چنانچہ اس نے تمھیں وہ بہترین امت بنایا جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے، اور تمھیں لوگوں پر گواہ بنایا۔ تم قیامت کے دن سبقت لے جانے والے ہو، جن کا فیصلہ تمام مخلوقات سے پہلے کیا جائے گا، اور تم خالق و پروردگار کے نزدیک ستر امتوں میں سب سے زیادہ معزز ہو۔ تم سب سے پہلے پل صراط عبور کرنے والے، سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والے، اور اہلِ جنت کی اکثریت ہو۔ اسلام میں تمھارے لیے کس قدر عظیم اجر، بڑے اور بے شمار گناہوں کی معافی اور وافر بھلائی ہے۔ نیز تمھارے لیے کتنی ہی قسم کی عزت و تکریم، عظیم ذخیرہ اور دنیا وآخرت کا بہترین انجام ہے۔
***
خطبہ کا عنوان
اسلام کا معنی و مفہوم
پہلے خطبہ کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد چاہتے ہیں اور اسی سے بخشش طلب کرتے ہیں، ہم اپنے نفس اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا، اور جسے وہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل اور اصحاب پر ڈھیروں درود وسلام نازل فرمائے۔
پہلا خطبہ
اما بعد :
میرے ایمانی بھائیو! اسلام اللہ کا وہ دین ہے جسے اس نے اپنے بندوں کے لیے مقرر فرمایا اور ان کے لیے پسند فرمایا، اللہ پاک فرماتا ہے: ...آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا اور تمہارے لیے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا۔ [المائدۃ: 3]، اسلام ایک ایسا منہج ہے، جس کی انبیا نے اپنے خاندان اور اپنی قوموں کو وصیت کی۔ اسی کی وصیت ابراہیم اور یعقوب نے اپنی اوﻻدکو کی، کہ ہمارے بچو! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے اس دین کو پسند فرما لیا ہے، خبردار! تم مسلمان ہی مرنا۔ [البقرة: 132]، اسلام اپنے عقیدے اور شریعت کے ساتھ ایک جامع اور وسیع دین ہے، اسے محض کسی ایک لفظ کے کہہ دینے یا کسی مخصوص عبادت کے بجا لانے تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔
اے مسلمانو! اسلام‘ استسلام سے ماخوذ ہے؛ یعنی ہم اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیں، اور صرف اسی کو یہ حق دیں کہ وہ ہماری زندگی میں تصرف فرمائے اور اسے جس سمت چاہے، اپنی مرضی کے مطابق چلائے۔ ہمارا رب تعالیٰ فرماتا ہے: کیا وه اللہ تعالیٰ کے دین کے سوا اور دین کی تلاش میں ہیں؟ حاﻻنکہ تمام آسمانوں اور زمین والے اللہ تعالیٰ ہی کے فرماں بردار ہیں، خوشی سے ہوں یا ناخوشی سے، سب اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ [آل عمران: 83]،
جب کائنات نے خوشی سے یا ناخوشی سے اللہ کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیا ہے، تو انسان اس کے حضور کیسے سرِ تسلیم خم نہیں کرے گا جس نے خالق کی قدر و منزلت اور اس کی عظمت کو پہچان لیا ہے، اور اس وسیع و عریض کائنات میں اس کی صناعی اور تخلیق کے آثار دیکھ لیے ہیں؟ لہٰذا اللہ کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا اور اس کی فرماں برداری کرنا اسلام کے ان اہم ترین مفاہیم میں سے ہے جنہیں ہمیں عملی جامہ پہنانا چاہیے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ...سمجھ لو کہ تم سب کا معبود برحق صرف ایک ہی ہے، تم اسی کے تابع فرمان ہو جاؤ، عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجئے! [الحج: 34]۔
اے مسلمانو! اسلام یہ ہے کہ ہم اللہ سبحانہ کی طرف ایسے خالص عقیدے کے ساتھ متوجہ ہوں جو شرک یا خرافات کی ہر آمیزش سے پاک ہو، اللہ سبحانہ کو یکتا مانتے ہوئے اس کی توحید کا حق ادا کریں، اور سب کو چھوڑ کر ہر عمل اور عبادت کو اسی ایک اللہ کے لیے خالص کریں۔
اے مسلمانو! اسلام یہ ہے کہ ہم اسلام کے سوا کسی اور نسب پر فخر نہ کریں اور اس کے علاوہ کسی اور نسبت اور رجحان پر ناز نہ کریں؛ کیوں کہ یہی وہ برحق رشتہ ہے جو ہر مسلمان کو اس کے بھائی سے جوڑتا ہے، چاہے ان کے درمیان مسافتیں کتنی ہی طویل ہو جائیں اور فاصلے انہیں کتنا ہی جدا کر دیں، دنیا میں اللہ کے نزدیک سارے انسان یکساں اور برابر ہیں، جبکہ آخرت میں فرق صرف تقویٰ اور عمل صالح کی بنیاد پر ہوگا۔ اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک (ہی) مرد وعورت سے پیدا کیا ہے اور اس لیے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو کنبے اور قبیلے بنا دیے ہیں، اللہ کے نزدیک تم سب میں باعزت وه ہے جو سب سے زیاده ڈرنے واﻻ ہے۔ یقین مانو کہ اللہ دانا اور باخبر ہے۔ [الحجرات: 13]۔
اے بھائیو! اسلام یہ ہے کہ ہم اپنے تمام معاملات، فیصلوں، لڑائی جھگڑوں، اختلافات اور تعلقات میں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کے احکام پر راضی ہوں، اور یہ کہ ہر قانون یا نظام اللہ کے قانون کے مطابق ہو ورنہ یہ ظلم، فسق اور کفر ہوگا، اور یہ بات ہمیں سب سے زیادہ محبوب اور ہمارے دلوں کے سب سے زیادہ قریب ہو۔ سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے، جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں اور کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں۔ [النساء: 65]۔
اسلام - اے امتِ اسلام - یہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ ہمارے لیے اسوہ اور نمونہ ہوں: یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ میں عمده نمونہ (موجود) ہے ، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے۔ [الاحزاب: 21 ]، یہ اسوہ ہم پر آپ ﷺ کی اطاعت وپیروی واجب کرتا ہے، تاکہ ہم اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کر سکیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کہہ دیجیے! اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو ، خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناه معاف فرما دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے واﻻ مہربان ہے۔ [آل عمران: 31]، چنانچہ اس نبی کی اتباع ہر مسلمان پر واجب ہے، بلکہ اگر انبیاء کرام بھی رسول اللہ ﷺ کا زمانہ پاتے تو ان کے لیے بھی آپ کی اتباع کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا، آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ”قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر موسی علیہ السلام بھی زندہ ہوتے تو ان کے لیے بھی میری پیروی کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں ہوتا۔“ [مسند احمد : 15156، مسند ابو یعلی : 2135، اور البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے]، امام مالک جو امام دار الہجرہ کہلاتے ہیں، اللہ ان کے والد پر رحم فرمائے، ان کا کہنا ہے: ”ہم میں سے ہر شخص (دوسروں کی) بات رد کرتا ہے اور اس کی بات بھی رد کی جاتی ہے، سوائے اس قبر والے کے۔“ اور آپ علیہ السلام کی قبر کی جانب اشارہ کیا۔
اے مومنو! اسلام یہ ہے کہ ہم ہر جگہ مسلمانوں کے معاملات کی فکر کریں، ان کی خوشی میں خوش اور ان کے غم میں غمگین ہوں، اور ہم میں سے ہر ایک کی فکر صرف اپنی ذات تک محدود نہ ہو، بلکہ مسلمان کے لیے لازمی ہے کہ وہ اپنی ترجیحات میں اپنی امت اور ہر جگہ موجود اپنے مسلمان بھائیوں کی فکر کو بھی شامل کرے، اور ان کی تکالیف کو ایسے محسوس کرے گویا وہ تکلیف خود اسے پہنچی ہو، ہمارے نبی ﷺ فرماتے ہیں: ”مومنوں کی آپس میں ایک دوسرے سے محبت و مودّت اور باہمی ہمدردی کی مثال ایک جسم کی طرح ہے کہ جب اس کا کوئی عضو تکلیف میں ہوتا ہے، تو سارا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے، بایں طور کہ نیند اڑ جاتی ہے اور پورا جسم بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔“ [ متفق علیہ بروایت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ ]۔
اے مسلمانو! اسلام یہ ہے کہ دوسرے مسلمان ہم سے اور ہماری اذیت سے محفوظ رہیں، ہم مسلمانوں پر سخت گیر اور غیروں پر مہربان نہ ہوں، ہم اپنے بھائیوں کا عذر قبول کریں، عقیدہ اور دین کے معاملے میں اپنے بھائیوں کے ساتھ نرم خو، نرم دل اور مشفق رہیں، نہ ہم اپنی زبانوں سے انہیں تکلیف پہنچائیں اور نہ اپنے ہاتھوں سے، اور نہ ان کے مال یا ان کی عزت وناموس پر حملہ کریں، اس طرح ہم حقیقی مسلمان ہوں گے، اور اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے اپنے اس فرمان میں مسلمان کی تعریف بیان فرمائی ہے: ”(کامل) مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور (حقیقی) مؤمن وہ ہے جس سے لوگ اپنی جان اور مال کے بارے میں خطرہ محسوس نہ کریں۔“ [جامع ترمذی: (2627)، سنن نسائی: (4995)، مسند احمد (8918)، البانی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔]
اے مسلمانو! اسلام یہ ہے کہ ہم اہل فضل کی فضیلت کو پہچانیں، ان کا شکر ادا کریں اور ان کے ساتھ حسن سلوک کریں، اہل علم کے مقام کو جانیں اور ان کا ادب واحترام کریں، چنانچہ حدیث میں آیا ہے: ”وہ شخص میری امت میں سے نہیں جو ہمارے بڑے کی عزت نہیں کرتا، ہمارے چھوٹے پر شفقت نہیں کرتا اور ہمارے عالم کے حق کو نہیں پہچانتا۔“ [اسے احمد (22755) نے روایت کیا ہے اور البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے]۔
زندگی کے تمام شعبہ جات میں اصلاح کی کوشش کرنا ان امور میں سے ہے جنہیں اسلام، بلکہ تمام شریعتیں لے کر آئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی شعیب علیہ السلام کے بارے میں فرماتا ہے، اور یہ تمام معزز رسولوں -علیہم السلام- کے فرائض کا بیان ہے: ... میرا اراده تو اپنی طاقت بھر اصلاح کرنے کا ہی ہے۔ میری توفیق اللہ ہی کی مدد سے ہے، اسی پر میرا بھروسہ ہے اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔ [ھود: 88]۔
اے مسلمانو! اسلام یہ ہے کہ ہم نیک اعمال کا توشہ لے کر اس دنیا سے دارِ قرار کی طرف رخصت ہونے کی تیاری کریں، لہٰذا ہمارے لیے مناسب نہیں کہ ہم ایسے گھر سے چمٹے رہیں جسے ہم چھوڑ جانے والے ہیں، کیونکہ اسے تو وہ بھی چھوڑ گئے جو اللہ کے نزدیک ہم سے زیادہ محبوب ہیں، بلکہ وہ تو اللہ کے ہاں اس کی تمام مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہیں؛ یعنی اس کے رسول اور اس کے خلیل محمد ﷺ۔
مسلمان پر اللہ کی طرف دعوت دینا واجب ہے، جیسا کہ اللہ پاک نے فرمایا: آپ کہہ دیجیے میری راه یہی ہے۔ میں اور میرے متبعین اللہ کی طرف بلا رہے ہیں، پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ۔ اور اللہ پاک ہے اور میں مشرکوں میں نہیں۔ [یوسف: 108]، ہر مسلمان اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے پر مامور ہے؛ کیوں کہ وہ نبی خاتم ﷺ کے پیروکاروں میں سے ہے، اور اس ذمہ داری میں آپ ﷺ کا جانشین ہے، دعوت الی اللہ ہی وہ عمل ہے جو امت کو خیر و بھلائی کی طرف لے جاتا ہے۔ تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے کہ تم نیک باتوں کا حکم کرتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو، اور اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو... [آل عمران: 110]، دعوت الی اللہ سے خیر و بھلائی میں اضافہ اور شر میں کمی واقع ہوتی ہے، اور اللہ تعالیٰ امت سے ہر برائی کو دور فرما دیتا ہے، دعائیں قبول کرتا ہے اور خیر و ترقی عام ہو جاتی ہے؛ بلکہ دشمن بھی داعی اور مجاہد بن جاتا ہے جیسا کہ ان منگولوں کے ساتھ پیش آیا جنہوں نے خلافتِ عباسیہ کے اواخر میں اسلامی ممالک کو تاخت و تاراج کیا، اور جو جی میں آیا سو کیا، لیکن ان میں سے کثیر تعداد نے اسلام قبول کر لیا اور وہ قائدین اور مجاہدین بن گئے۔ دعوت الی اللہ نے بعض لوگوں کو گمراہی اور جہالت کی زندگی سے نکال کر روشن زندگی کی طرف لایا، بے راہ روی اور فسق وفجور کے داعی سے خیر وفضیلت کا داعی بنا دیا۔
اے مسلمانو! یہ بات اسلام کے مفہوم اور اس کے بعض ایسے شرائع اور احکام کے بارے میں ہے، جنھیں اسلام نے اپنے ماننے والوں کے لیے مقرر کیا ہے۔
اے ایمان والو! رکوع سجده کرتے رہو اور اپنے پروردگار کی عبادت میں لگے رہو اور نیک کام کرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔ اور اللہ کی راه میں ویسا ہی جہاد کرو جیسا جہاد کا حق ہے۔ اسی نے تمہیں برگزیده بنایا ہے اور تم پر دین کے بارے میں کوئی تنگی نہیں ڈالی، دین اپنے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کا قائم رکھو، اسی اللہ نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے۔ اس قرآن سے پہلے اور اس میں بھی تاکہ پیغمبر تم پر گواه ہو جائے اور تم تمام لوگوں کے گواه بن جاؤ۔ پس تمہیں چاہیے کہ نمازیں قائم رکھو اور زکوٰة ادا کرتے رہو اور اللہ کو مضبوط تھام لو، وہی تمہارا ولی اور مالک ہے۔ پس کیا ہی اچھا مالک ہے اور کتنا ہی بہتر مددگار ہے۔ [الحج : 77-78]۔
اللہ مجھے اور آپ کو قرآن عظیم کی برکت سے نوازے، اور ہمیں اس میں موجود آیات اور ذکرِ حکیم سے نفع پہنچائے۔ میں اپنی یہ بات کہتا ہوں، اور اللہ سے اپنے اور آپ کے لیے مغفرت طلب کرتا ہوں، بے شک وہ بہت بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔
دوسرے خطبہ کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں، ایسی پاکیزہ، کثیر اور بابرکت تعریفیں جیسا کہ ہمارا رب پسند فرماتا اور راضی ہوتا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کے آل واصحاب پر اور قیامت تک ان کی راہ پر چلنے والوں پر درود وسلام اور برکتیں نازل فرمائے۔
دوسرا خطبہ:
بلاشبہ جو لوگ اسلام کو قولی اور عملی طور پر، اور زندگی کے تمام شعبوں میں اپناتے ہیں، اللہ نے ان کے لیے عزت وسرخروئی کی ذمہ داری لی ہے۔ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے: تم میں سے ان لوگوں سے جو ایمان ﻻئے ہیں اور نیک اعمال کیے ہیں اللہ تعالیٰ وعده فرما چکا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسے کہ ان لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا جو ان سے پہلے تھے اور یقیناً ان کے لیے ان کے اس دین کو مضبوطی کے ساتھ محکم کرکے جما دے گا جسے ان کے لیے وه پسند فرما چکا ہے اور ان کے اس خوف وخطر کو وه امن وامان سے بدل دے گا، وه میری عبادت کریں گے میرے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ ٹھہرائیں گے۔ اس کے بعد بھی جو لوگ ناشکری اور کفر کریں وه یقیناً فاسق ہیں۔ [النور: 55]، ہر دشمن، گھات لگانے والے اور بد نیت کے مقابلے میں (مومنوں سے اللہ نے) مدد ونصرت کا وعدہ فرمایا ہے۔ اللہ پاک کا فرمان ہے: اے ایمان والو! اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وه تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا۔ [محمد: 7]، اللہ تعالیٰ نے ایمان اور تقویٰ کو بروئے عمل لانے والوں سے زمین و آسمان کی بھلائیوں کا وعدہ کیا ہے۔ اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے... [الاعراف: 96]، بہت سی آیات واحادیث امت کو نصرت اور خیر و بھلائی کی خوش خبری دیتی اور وعدہ کرتی ہیں، بشرطیکہ وہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لے اور ہر معاملے میں اسی کو فیصل مانے۔ لہٰذا امت مسلمہ پر لازم ہے کہ وہ قرآن کو مضبوطی سے تھام لے اور اپنے تمام معاملات میں اسی سے فیصلہ طلب کرے، اور ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اس دین کو باعثِ عزت سمجھے، حلال کو حلال اور حرام کو حرام جانے، وہی کہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب کیا ہے، نیک کاموں کا حکم دے اور منکرات سے روکے، حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ اللہ کی طرف دعوت دے۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ قائم ہے اور وہ پاک پروردگار کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ اس کے ساتھ ہی، آپ اپنے نبی ﷺ پر درود و سلام بھیجیں۔
***
خطبہ کا عنوان
اسلام کیا ہے؟
پہلے خطبہ کا مقدمہ
ساری تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں اسلام کے ذریعے عزت بخشی، چنانچہ جب بھی ہم اس کے سوا کسی اور میں عزت تلاش کریں گے تو اللہ ہمیں ذلیل کردے گا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کی ربوبیت، الوہیت اور اسماء وصفات میں اس کا کوئی شریک نہیں، اور ہم اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے، اس کے رسول اور اس کے برگزیدہ ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کے اہل وعیال پر، آپ کے صحابہ پر اور ان پر جو آپ سے محبت رکھتے ہیں، ڈھیروں درود وسلام نازل فرمائے۔
پہلا خطبہ:
اما بعد :
اے لوگو! ... اللہ تعالیٰ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہیے اور دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا۔ [آل عمران: 102]، اللہ پاک وبرتر نے فرمایا: ...آج میں نے تمہارے لیے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا اور تمہارے لیے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا۔ [المائدۃ: 3] ...دین اپنے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کا قائم رکھو، اسی اللہ نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے۔... [الحج: 78]، اسلام کو مضبوطی سے تھام لو، بے شک یہ نجات کا راستہ اور جنت تک پہنچانے والا ہے۔
اسلام یہ ہے: توحید کے ذریعہ اللہ کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا، اطاعت کے ذریعہ اس کی پیروی کرنا اور شرک اور مشرکوں سے براءت کا اظہار کرنا۔ اسلام محض نام رکھ لینے، نسبت جوڑنے یا ظاہری شناخت کا نام نہیں ہے، بلکہ اسلام تو وہ دین ہے جسے رسول اللہ ﷺ لے کر آئے، اور یہی تمام انبیاء کا دین ہے: بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے۔... [آل عمران: 19]، جو شخص اسلام کے سوا اور دین تلاش کرے، اس کا دین قبول نہ کیا جائے گا اور وه آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا۔ [آل عمران: 85]، چنانچہ تمام انبیاء اور ان کے پیروکار اسلام ہی پر تھے اگرچہ ان کی شریعتیں مختلف تھیں، یقیناً وہ سب اللہ عز وجل کے دینِ اسلام پر ہی قائم تھے۔ یہاں تک کہ محمد ﷺ مبعوث ہوئے، تو اسلام وہی قرار پایا جسے محمد ﷺ لے کر آئے، جو اپنے ماقبل کی کتابوں کی تصدیق کرنے والا اور ان پر نگہبان ہے، اور آپ ﷺ سے ماقبل کے تمام انبیاء و رسل کی تصدیق کرنے والا ہے۔ یہی اللہ کا وہ دین ہے جس کے سوا کسی سے کوئی دین قبول نہیں کیا جائے گا۔ لھٰذا اس کی حقیقت کو پہچانیں، اس کے احکام کو مضبوطی سے تھام لیں، اور اس کی شریعت پر عمل پیرا ہوں، کیوں کہ یہی وہ دین ہے جس نے عرب و عجم کو اپنے پرچم تلے جمع کر دیا اور وہ آپس میں محبت کرنے والے بھائی بن گئے: اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک (ہی) مرد وعورت سے پیدا کیا ہے اور اس لیے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو کنبے اور قبیلے بنادیے ہیں، اللہ کے نزدیک تم سب میں باعزت وه ہے جو سب سے زیاده ڈرنے واﻻ ہے۔ یقین مانو کہ اللہ دانا اور باخبر ہے۔ [الحجرات: 13]، اللہ عزیز وبرتر کا فرمان ہے: اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہیے اور دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا۔ [آل عمران: 102]، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر یہ آیت کریمہ مشکل معلوم ہوئی تو انہوں نے عرض کیا: کون طاقت رکھتا ہے کہ اللہ سے اس طرح ڈرے جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے، کیونکہ اللہ کا حق بہت بڑا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا: ...پس جہاں تک تم سے ہوسکے اللہ سے ڈرتے رہو۔... [التغابن: 16]، چنانچہ جو شخص اپنی استطاعت کے مطابق اللہ تعالیٰ سے ڈرے، تو یقیناً اس نے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا حق ادا کر دیا، اور اللہ تعالیٰ اس بات سے درگزر فرماتا ہے جس کی انسان طاقت وقدرت نہیں رکھتا: اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیاده تکلیف نہیں دیتا، جو نیکی وه کرے وه اس کے لیے اور جو برائی وه کرے وه اس پر ہے۔... [البقرۃ: 286]، ...اللہ تعالیٰ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہیے اور دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا۔ [آل عمران: 102]؛ کیونکہ اعمال کا دار ومدار خاتمے پر ہے، چنانچہ جو شخص اسلام کی حالت میں مرا وہ نجات پا گیا اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے ہاں فلاح و کامیابی سے ہمکنار ہوا، اور جو شخص دینِ اسلام کے علاوہ کسی اور دین پر مرا، تو وہ خسارہ پانے والوں اور ہلاک ہونے والوں میں سے ہے، جس میں اس کے نسب، اس کے مقام و مرتبہ، اس کے قبیلے، یا اس کے علاقے کو نہیں دیکھا جائے گا، بلکہ معیار تو صرف تقوی ہے: ...اللہ کے نزدیک تم سب میں باعزت وه ہے جو سب سے زیاده ڈرنے واﻻ ہے... [الحجرات: 13]، عزت نہ تو انسانیت سے حاصل ہوتی ہے، نہ نسب سے اور نہ قبیلے سے، بلکہ یہ تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے تقویٰ سے حاصل ہوتی ہے۔ وہ اللہ ہی ہے جو کسی سے اس کے سوا کچھ قبول نہیں فرماتا، چنانچہ اس کا فرمان ہے: ...اور دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا۔ [آل عمران: 102]، اس میں تا دم حیات اسلام کو مضبوطی سے تھامے رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے، انسان بالغ ہونے سے لے کر موت آنے تک اسے ہرگز نہ چھوڑے۔ وہ اسلام پر کاربند رہے کیونکہ اسے نہیں معلوم کہ موت کب اسے اچانک آلے، اگر اس نے اسلام کے معاملے میں کوتاہی کی اور اسے موت آ گئی تو وہ جہنمیوں میں سے ہو جائے گا، اور اگر وہ اسلام کو مضبوطی سے تھامے رہا اور اسی حالت میں اسے موت آئی کہ وہ اس پر کاربند تھا، تو وہ جنتیوں میں سے ہوگا۔ اسی لیے جب میت کو قبر میں رکھا جاتا ہے تو اس کا امتحان لیا جاتا ہے، اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اسے بٹھاتے ہیں، اس کی روح اس کے جسم میں لوٹا دی جاتی ہے، چنانچہ وہ دونوں اسے بٹھا کر اس سے پوچھتے ہیں: تیرا رب کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے؟ اور تیرے نبی کون ہیں؟ تو مسلمان جواب دیتا ہے: میرا رب اللہ ہے، میرا دین اسلام ہے اور میرے نبی محمد ﷺ ہیں۔ جبکہ منافق اور شک میں مبتلا شخص ہکلاتا اور گھبرا جاتا ہے اور کہتا ہے: ہائے ہائے! میں نہیں جانتا، میں نے لوگوں کو کچھ کہتے سنا تو میں نے بھی وہی کہہ دیا۔ اس پر وہ دونوں فرشتے اس سے کہتے ہیں: نہ تو نے جانا اور نہ ہی پڑھا۔ پھر اسے لوہے کے گرز سے ایسی ضرب لگائی جاتی ہے جس سے وہ ایسی چیخ مارتا ہے جسے جنوں اور انسانوں کے سوا ہر چیز سنتی ہے۔ معلوم ہوا کہ دنیا و آخرت میں اسلام کے سوا کوئی راہ نجات نہیں۔ دنیا میں انسان اسی کے ذریعے کفر اور شرک سے نجات پاتا ہے، فتنوں اور بدعات سے محفوظ رہتا ہے، اور گمراہ کن افکار سے بچتا ہے۔ آخرت میں اسی کے ذریعے وہ دوزخ سے نجات پاتا ہے اور جنت میں داخل ہوتا ہے۔ یہی ابدی سعادت اور خوش بختی ہے یا پھر ابدی شقاوت وبدبختی۔ غرض دنیا و آخرت میں اسلام کے بغیر نجات ممکن نہیں؛ لیکن ہم پر یہ جاننا واجب ہے کہ اسلام کیا ہے؟ ہم میں سے ہر شخص یہ کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں، لیکن سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ اسلام کیا ہے؟ پھر ہم اس پر عمل کریں، کیونکہ صرف جان لینا کافی نہیں ہے، نہ محض دعویٰ کافی ہے اور نہ ہی نسبت، اور نہ ہی محض واقفیت حاصل کر لینا کافی ہے، بلکہ اس کی حقیقت کو اپنانا اور عمل کرنا ضروری ہے۔
معلوم ہوا کہ اسلام یہ ہے: توحيد كو اپناتے ہوئے اللہ کے حضور سرِ تسلیم خم کردینا، لہٰذا مشرک اور کافر مسلمان نہیں، اگرچہ وہ مسلمان ہونے کا دعویٰ کرے، جیسا کہ ان قبر پرستوں کا حال ہے جو کہتے ہیں لا إله إلا الله، ہم مسلمان ہیں، پھر وہ کہتے ہیں: یا علی، یا حسین، یا عبدالقادر، یا بدوی، یا فلاں، یا فلاں، وہ اللہ کے سوا دوسروں کو بھی پکارتے ہیں، اور یہ لوگ اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ ان کو ضرر پہنچا سکیں اور نہ ان کو نفع پہنچا سکیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہیں۔... [يونس: 18]، چنانچہ وہ شرک کو وسیلہ اور طلبِ شفاعت کے نام سے موسوم کرتے ہیں، حالانکہ وہ شرک ہی ہے، اور اگر اس کا نام بدل بھی دیا جائے تو بھی وہ شرک ہی رہتا ہے، تبدیل نہیں ہوتا۔ ناموں کے بدلنے سے حقیقتیں تبدیل نہیں ہوتیں، درحقیقت وہ شرک ہی ہے۔
اس لیے مسلمان پر لازم ہے کہ اپنے دین کو جانے، اسے مضبوطی سے تھامے رکھے، اللہ تعالی سے اس پر ثابت قدمی کی دعا کرے، اور اسی پر اسے موت آئے، چنانچہ حدیث میں آیا ہے: ”ایک بندہ جنتیوں والا عمل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، پھر اس پر لکھی ہوئی تقدیر غالب آجاتی ہے، چنانچہ وہ جہنمیوں کا عمل کرنے لگتا ہے اور جہنم میں داخل ہوجاتا ہے۔ اور ایک دوسرا بندہ جہنمیوں والا عمل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کے اور جہنم کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، پھر اس پر لکھی ہوئی تقدیر غالب آجاتی ہے، چنانچہ وہ جنتیوں کا عمل کرنے لگتا ہے اور جنت میں داخل ہوجاتا ہے، اور اعمال کا دار ومدار خاتمہ پر ہے۔“ اللہ تعالیٰ سے ہم حسنِ خاتمہ کی دعا کرتے ہیں۔
اے اللہ کے بندو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو، اس دین کو مضبوطی سے تھام لو، یعنی دینِ اسلام کو جسے محمد ﷺ لے کر آئے۔ یہ وہ اسلام ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے عرب و عجم اور گورے اور کالے کے دل جوڑ دیے، اسی کے ذریعے سے اللہ نے سلمان، عمار، بلال اور صہیب، نیز ابوبکر صدیق، عمر بن خطاب، عثمان بن عفان، علی بن ابی طالب اور دیگر تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کے دل جوڑ دیے اور انھیں اسلام کی بدولت ایک دوسرے سے محبت کرنے والے بھائی بنا دیا، اسی لیے اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے نبی محمد ﷺ سے فرماتا ہے: ...اسی نے اپنی مدد سے تیری تائید کی ہے۔... یعنی اللہ تعالیٰ، ...اسی نے اپنی مدد سے اور مومنوں سے تیری تائید کی ہے۔ ان کے دلوں میں باہمی الفت بھی اسی نے ڈالی ہے۔ زمین میں جو کچھ ہے تو اگر سارا کا سارا بھی خرچ کر ڈالتا ہے تو بھی ان کے دل آپس میں نہ ملا سکتا۔ یہ تو اللہ ہی نے ان میں الفت ڈال دی ہے۔ وه غالب حکمتوں واﻻ ہے۔ [الانفال: 62-63]، اگر آپ مسجد حرام میں ہر وقت نماز ادا کرنے والوں پر نظر ڈالیں، تو آپ کو ان میں گورے، سرخ اور کالے، اور مختلف ممالک کے عربی اور عجمی نظر آئیں گے۔ کس نے انہیں جمع کیا اور ان کے درمیان الفت پیدا کی؟ اے اللہ کے بندو! یقیناً یہ اسلام ہے، یہ دین ہی ہے جس نے انہیں جمع کیا اور ان کے درمیان الفت پیدا کی، اور انہیں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ صفوں میں کھڑا کر دیا۔ کسی عربی کو عجمی پر، اور کسی گورے کو کالے یا سرخ پر کوئی برتری نہیں سوائے تقویٰ کی بنیاد پر۔
تو اے اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو، اپنے دین کو مضبوطی سے تھامے رکھو تاکہ تمھیں موت آئے تو تم اسی پر قائم ہو، اسی پر تمھیں دوبارہ اٹھایا جائے اور اسی کے ذریعے تم جنت میں داخل ہو سکو۔ اپنے دین کے معاملے میں کوتاہی نہ کرو کیونکہ اس وقت فتنے بہت شدید ہیں اور اسلام سے پھیرنے والے اسباب بہت ہیں۔ ہر طرف سے گمراہی کے داعی مسلمانوں کو دین سے نکالنا چاہتے ہیں، وہ سب سے پہلے تو انھیں اسلام سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں، پھر اگر وہ انھیں اس سے روک نہیں پاتے تو اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کے اسلام میں داخل ہو جانے کے بعد انھیں اس سے نکال دیں۔
اے اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرتے رہو، اپنے دین کی حفاظت کرو، اور ظاہری اور باطنی تمام آزمائشوں سے بچو، میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں: اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہیے اور دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا۔ اللہ تعالیٰ کی رسی کو سب مل کر مضبوط تھام لو اور پھوٹ نہ ڈالو، اور اللہ تعالیٰ کی اس وقت کی نعمت کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی، پس تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہوگئے، اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پہنچ چکے تھے تو اس نے تمہیں بچا لیا۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح تمہارے لیے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے تاکہ تم ہدایت پاؤ. تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو بھلائی کی طرف بلائے اور نیک کاموں کا حکم کرے اور برے کاموں سے روکے، اور یہی لوگ فلاح ونجات پانے والے ہیں۔ تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اپنے پاس روشن دلیلیں آ جانے کے بعد بھی تفرقہ ڈاﻻ، اور اختلاف کیا، انہیں لوگوں کے لیے بڑا عذاب ہے۔ [آل عمران: 102-105]۔
اللہ تعالى آپ کو قرآن عظیم کی برکت سے نوازے، ہمیں اس میں موجود بیان اور ذکرِ حکیم سے نفع پہنچائے، میں اپنی یہ بات کہتا ہوں اور اپنے لیے، آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے ہر گناہ سے اللہ کی مغفرت طلب کرتا ہوں، آپ بھی اسی سے مغفرت طلب کریں، بے شک وہی بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔
دوسرے خطبے کا مقدمہ
اللہ کے فضل اور احسان پر تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں، میں اس کی توفیق اور انعام پر اس کا شکر ادا کرتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کے آل واصحاب پر کثرت سے درود وسلام نازل فرمائے۔
دوسرا خطبہ
اما بعد :
اے لوگو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو، اور ان فتنوں سے خبردار رہو جو تمہیں تمہارے دین سے پھیر دیتے ہیں، کیونکہ آج کے دور میں فتنے بہت بڑے ہیں اور اندرونی و بیرونی طور پر گمراہی کی طرف بلانے والے بہت زیادہ ہیں، جو دن رات اس دین سے روکنے اور مسلمانوں کو ان کے دین سے نکالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ ان کی مدد ان ایجادات نے بھی کی ہے جنہیں اللہ نے لوگوں کے لیے ایک فتنہ بنا دیا ہے، جو ان ذرائع سے لوگوں کے گھروں تک پہنچتی ہیں جنہیں وہ سوشل میڈیا کا نام دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا میں جو کچھ نشر کیا جاتا ہے وہ چھوٹے اور بڑے، اور مرد و عورت سب کے ہاتھ تک پہنچتا ہے، بلکہ گھروں کے اندر تک پہنچ جاتا ہے۔ اس میں ہر قسم کی گمراہی، ہر قسم کا شر اور ہر طرح کی الحادی فکر کو فروغ دیا جاتا ہے، جس نے بہت سے لوگوں کو ان کے دین سے پھیر دیا اور ان کے دلوں کو بدل دیا، ہم اللہ سے عافیت کی دعا کرتے ہیں۔
چنانچہ آپ کو ان وسائل، ان سے وابستہ لوگوں اور جو کچھ ان میں نشر کیا جاتا ہے، اس سے خبردار رہنا چاہیے۔ آپ اپنی اولاد کی حفاظت کریں، اپنے بیٹوں، اپنی بیٹیوں، اپنی بیویوں اور اپنی عورتوں کو حتی المقدور ان فتنوں سے محفوظ رکھیں۔ انہیں ان فتنوں سے خبردار کریں اور ان میں موجود نقصانات کو ان کے سامنے واضح کریں۔ ان میں نشر ہونے والی باتوں کی تصدیق کرنے اور ان میں پھیلائی اور نشر کی جانے والی چیزوں سے دھوکہ کھانے سے انہیں خبردار کریں۔ کیونکہ یہ مہلک زہر ہیں، ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
لہٰذا آپ پر لازم ہے کہ خود بھی ہوشیار رہیں اور دوسروں کو بھی خبردار کریں، کیوں کہ راہِ حق سے پھیرنے والے اسباب اور فتنے بہت زیادہ ہیں، جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "بے شک یہ فتنے تاریک رات کے ٹکڑوں کی طرح ہوں گے؛ (حالت یہ ہوگی کہ) آدمی صبح کے وقت مؤمن ہوگا، تو شام کے وقت کافر اور شام کے وقت مؤمن ہوگا، تو صبح کے وقت کافر۔ دنیاوی ساز و سامان کے بدلے آدمی اپنا دین بیچ دے گا"۔ [صحیح مسلم : 118]، اے اللہ کے بندو! بے شک فتنے سخت ہیں، پہلے سے بھی زیادہ سخت، لہذا اب پہلے سے کہیں زیادہ خبردار رہنے کی ضرورت ہے، تم ان سے اور ان میں پھیلائی جانے والی باتوں سے دھوکہ نہ کھاؤ، اور ان کے بارے میں اپنے دشمنوں کی باتوں پر کان نہ دھرو، کیونکہ وہ تمہارے لیے شر کے سوا کچھ نہیں چاہتے۔ ... یہ لوگ تم سے لڑائی بھڑائی کرتے ہی رہیں گے یہاں تک کہ اگر ان سے ہوسکے تو تمہیں تمہارے دین سے مرتد کردیں اور تم میں سے جو لوگ اپنے دین سے پلٹ جائیں اور اسی کفر کی حالت میں مریں، ان کے اعمال دنیوی اور اخروی سب غارت ہوجائیں گے۔ یہ لوگ جہنمی ہوں گے اور ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں ہی رہیں گے۔ [البقرة: 217]، ہم اللہ تعالیٰ سے معافی، عافیت اور دائمی سلامتی کا سوال کرتے ہیں، ہم اللہ سے دعا گو ہیں کہ وہ اپنے دین کی مدد فرمائے، اپنے کلمہ کو بلند فرمائے، اپنے اولیاء کی حفاظت فرمائے اور اپنے دشمنوں کو تباہ وبرباد کرے، بے شک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
***
خطبہ کا عنوان
اسلام تمام انبیاء کا دین ہے۔
پہلے خطبہ کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد چاہتے ہیں اور اسی سے بخشش طلب کرتے ہیں، اور ہم اپنے نفس کی برائیوں اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا، اور جسے وہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل اور اصحاب پر ڈھیروں درود وسلام نازل فرمائے۔
پہلا خطبہ
امّا بعد: سب سے سچی بات اللہ کی کتاب ہے، سب سے بہتر طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے، بدترین امور (دین کے نام پر ایجاد کردہ) نت نئی چیزیں ہیں، اور ہر نت نئی چیز بدعت ہے، ہر بدعت گمراہی ہے، اور ہر گمراہی جہنم کی آگ میں لے جانے والی ہے۔
بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کو اپنی پسندیدہ شریعت کے مطابق اپنی عبادت بجا لانے کے لیے پیدا فرمایا۔ میں نے جنات اورانسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وه صرف میری عبادت کریں۔ نہ میں ان سے روزی چاہتا ہوں نہ میری یہ چاہت ہے کہ یہ مجھے کھلائیں۔ اللہ تعالیٰ تو خود ہی سب کا روزی رساں توانائی واﻻ اور زور آور ہے۔ [الذاريات: 56 - 58]۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو حکم دیا کہ وہ اپنی جانوں اور اپنے معاملات کو اس کے سپرد کر دیں اور اس کے آگے جھک جائیں، جیسا کہ اللہ سبحانہ نے فرمایا: تم (سب) اپنے پروردگار کی طرف جھک پڑو اور اس کی حکم برداری کیے جاؤ اس سے قبل کہ تمہارے پاس عذاب آ جائے اور پھر تمہاری مدد نہ کی جائے۔ [الزمر: 54]، اسلامی شریعت ہی کو وہ شریعت اور ملت قرار دیا جس کے ذریعے انہیں اپنی بندگی کا مکلف بنایا، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے، اور اہل کتاب نے اپنے پاس علم آجانے کے بعد آپس کی سرکشی اور حسد کی بنا پر ہی اختلاف کیا ہے... [آل عمران: 19]۔
شریعتِ اسلامیہ سے خروج، اس کی مخالفت اور اس کے علاوہ کسی اور شریعت کا طلب گار ہونا ظلم، سرکشی اور کفر ہے، اور اللہ تعالیٰ کسی شخص سے بھی دینِ اسلام اور اس کی شریعت کے سوا کوئی اور دین و شریعت ہرگز قبول نہیں کرے گا، چنانچہ فرمان باری تعالیٰ ہے: جو شخص اسلام کے سوا اور دین تلاش کرے، اس کا دین قبول نہ کیا جائے گا اور وه آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا۔ [آل عمران: 85]۔
تمام انبیا و رسل علیہم السلام شریعتِ توحید اور صرف اللہ عز وجل کی عبادت کی دعوت لے کر آئے، ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو... [النحل: 36]، اگر ہم قرآن مجید میں وارد انبیائے کرام کے قصوں کا جائزہ لیتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ان کی دعوت ایک تھی، ان کا دین ایک تھا اور ان کی ملت ایک تھی۔
امتِ اسلام: بلاشبہ اللہ تعالی نے واضح فرمایا ہے کہ اس کے خلیل ابراہیم علیہ السلام ہی نے اس دینِ حق کو، جس کے علاوہ کوئی اور دین اللہ کے نزدیک قابل قبول نہیں، دین اسلام سے موسوم کیا ہے، اور اس کی پیروی کرنے اور اس پر استقامت اختیار کرنے والوں کا نام مسلمان رکھا ہے: ...دین اپنے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کا قائم رکھو، اسی اللہ نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے... [الحج: 78]؛ ابو الانبیاء ابراہیم خلیل ﷺ اور تمام انبیاء -علیہم الصلاۃ والسلام- یک طرفہ (خالص) مسلمان تھے۔
موسیٰ علیہ السلام کے وہ پیروکار جو ان کی ملت اور شریعت کے مطابق مسلمان تھے، جب انہوں نے کہا: ... ہم تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔... [الاعراف: 156]، ان کو یہود کے نام سے موسوم کیا گیا، اسی طرح عیسیٰ ﷺ کے مسلمان پیروکار یعنی حواریوں نے جب عیسیٰ ﷺ سے کہا: ...ہم اللہ تعالیٰ کی راه کے مددگار ہیں، ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان ﻻئے اور آپ گواه رہیے کہ ہم تابعدار ہیں۔ [آل عمران: 52]، انھوں نے خود اپنے آپ کو نصاریٰ کے نام سے موسوم کیا، اور وہ اسی نام سے موسوم ہوئے، اور جو اپنے آپ کو نصرانی کہتے ہیں ہم نے ان سے بھی عہد وپیمان لیا، انہوں نے بھی اس کا بڑا حصہ فراموش کر دیا جو انہیں نصیحت کی گئی تھی... [المائدۃ: 14]۔
جب ان دونوں میں سے ہر ایک فریق نے دعویٰ کیا کہ ابراہیم علیہ السلام ان کے دین اور ملت پر تھے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ابراہیم تو نہ یہودی تھے نہ نصرانی تھے بلکہ وه تو یک طرفہ (خالص) مسلمان تھے، وه مشرک بھی نہیں تھے۔ [آل عمران: 67]۔
اے مسلمانو! اللہ تعالی نے اپنے انبیاء -علیہم الصلاۃ والسلام- پر کتابیں نازل فرمائیں؛ تاکہ وہ لوگوں کے لیے اسلام کی اس شریعت کو واضح کریں جو اس نے اپنے انبیاء پر نازل فرمائی، اور انہیں ایک دوسرے کی تصدیق کرنے والی بنایا؛ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ہم نے تورات نازل فرمائی ہے جس میں ہدایت ونور ہے، یہودیوں میں اسی تورات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ماننے والے انبیاء (علیہم السلام) اور اہل اللہ اور علما فیصلے کرتے تھے... [المائدۃ: 44]، اللہ تعالی نے عیسی علیہ السلام کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرمایا: ...اور ہم نے انہیں انجیل عطا فرمائی جس میں نور اور ہدایت تھی اور وه اپنے سے پہلے کی کتاب تورات کی تصدیق کرتی تھی اور وه سراسر ہدایت ونصیحت تھی پارسا لوگوں کے لیے۔ [المائدۃ: 46]، اور فرمایا: اور ہم نے آپ کی طرف حق کے ساتھ یہ کتاب نازل فرمائی ہے جو اپنے سے اگلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور ان کی محافظ ہے۔ اس لیے آپ ان کے آپس کے معاملات میں اسی اللہ کی اتاری ہوئی کتاب کے ساتھ حکم کیجیے... [المائدۃ: 48]۔
انبیاء کے بعد ان کے پیروکاروں نے اپنے انبیاء کی شریعت میں تحریف کی، اور اس میں تبدیلی اور رد وبدل کیا، چنانچہ انہوں نے لوگوں کو ان کے دین کے بارے میں گمراہ کر دیا، اللہ تعالیٰ کی کتابوں میں تحریف کی، اور انہیں اپنی طرف سے گھڑی گئی چیزوں سے بدل دیا، چنانچہ قرآن کے سوا کوئی بھی کتاب تحریف و تبدیلی کے بغیر باقی نہ رہی، جس کی حفاظت خود اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے۔ چنانچہ اس کا فرمان ہے: ہم نے ہی اس قرآن کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔ [الحجر: 9]۔
اے امتِ محمد! بلاشبہ قرآن نے یہود و نصاریٰ کے کفر کی صراحت کر دی ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بنی اسرائیل کے کافروں پر داؤد (علیہ السلام) اور عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کی زبانی لعنت کی گئی اس وجہ سے کہ وه نافرمانیاں کرتے تھے اور حد سے آگے بڑھ جاتے تھے۔ [المائدۃ: 78]، اس شخص کو کیسے کافر قرار نہ دیا جائے جس نے اللہ تعالیٰ کی طرف فقیری کی نسبت کی، اور اس کے انبیاء کو قتل کیا؟! یقیناً اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا قول بھی سنا جنہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فقیر ہے اور ہم تونگر ہیں۔ ان کے اس قول کو ہم لکھ لیں گے اور ان کا انبیا کو بلا وجہ قتل کرنا بھی، اور ہم ان سے کہیں گے کہ جلنے واﻻ عذاب چکھو! [آل عمران: 181]، ارشاد باری تعالی ہے: (یہ سزا تھی) بہ سبب ان کی عہد شکنی کے اور احکام الٰہی کے ساتھ کفر کرنے کے اور اللہ کے نبیوں کو ناحق قتل کر ڈالنے کے ، اور اس سبب سے کہ یوں کہتے ہیں کہ ہمارے دلوں پر غلاف ہے۔ حاﻻنکہ دراصل ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں پر اللہ تعالیٰ نے مہر لگا دی ہے، اس لیے یہ قدر قلیل ہی ایمان ﻻتے ہیں۔ [النساء: 155]، ارشاد باری تعالی ہے : بے شک وه لوگ کافر ہوگئے جن کا قول ہے کہ مسیح ابن مریم ہی اللہ ہے حاﻻنکہ خود مسیح نے ان سے کہا تھا کہ اے بنی اسرائیل! اللہ ہی کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا رب ہے، یقین مانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے، اس کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے اور گنہگاروں کی مدد کرنے واﻻ کوئی نہیں ہوگا۔ [المائدۃ: 72] وه لوگ بھی قطعاً کافر ہوگئے جنہوں نے کہا، اللہ تین میں کا تیسرا ہے، دراصل سوا اللہ تعالیٰ کے کوئی معبود نہیں۔... [المائدۃ: 73]۔
دین اسلام کے سوا نہ کوئی ملت صحیح ہے، نہ کوئی شریعت درست ہے اور نہ کوئی دین برحق ہے، اور اللہ کی کتابوں میں سے قرآن کے سوا کوئی کتاب برحق نہیں۔ چنانچہ جس شخص نے اس کے خلاف بات کہی، اس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا، جو کچھ قرآن میں آیا ہے اسے جھٹلایا، اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد ﷺ پر جو کچھ نازل فرمایا ہے اس کا کفر کیا۔
اے اللہ! ہمیں حق کو حق کی شکل میں دکھا اور ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما، اور ہمیں باطل کو باطل کی شکل میں دکھا اور ہمیں اس سے بچنے کی توفیق عطا فرما۔ میں اپنی یہ بات کہتا ہوں جو آپ سن رہے ہیں اور اپنے لیے اور آپ سب کے لیے اللہ سے ہر گناہ کی مغفرت طلب کرتا ہوں، آپ بھی اسی سے مغفرت طلب کریں؛ بے شک وہی بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔
دوسرے خطبہ کا مقدمہ
ساری تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، بہت زیادہ، پاکیزہ اور بابرکت تعریفیں، جیسا کہ ہمارا رب پسند فرماتا ہے اور راضی ہوتا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کے آل واصحاب پر اور قیامت تک ان کی ہدایت پر چلنے والوں پر درود وسلام اور برکتیں نازل فرمائے۔
دوسرا خطبہ
امابعد! بے شک جو لوگ دینِ اسلام کو نہیں مانتے، ان کے دلوں میں قیامت تک مسلمانوں کے لیے عداوت اور بغض کے سوا کچھ نہیں، اللہ تعالی فرماتا ہے: آپ سے یہود ونصاریٰ ہرگز راضی نہیں ہوں گے جب تک کہ آپ ان کے مذہب کے تابع نہ بن جائیں، آپ کہہ دیجیے کہ اللہ کی ہدایت ہی ہدایت ہے۔... [البقرۃ: 120]، ان کے اور مسلمانوں کے مابین نہ کوئی محبت ہے اور نہ رواداری۔ ...یہ لوگ تم سے لڑائی بھڑائی کرتے ہی رہیں گے یہاں تک کہ اگر ان سے ہوسکے تو تمہیں تمہارے دین سے مرتد کردیں... [البقرۃ: 217]۔
اللہ تعالیٰ نے صراحت فرمائی ہے کہ مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن یہود ہیں۔ چنانچہ فرمایا: یقیناً آپ ایمان والوں کا سب سے زیاده دشمن یہودیوں اور مشرکوں کو پائیں گے... [المائدۃ: 82]؛ ایسے میں ہم ان لوگوں سے کیسے محبت کر سکتے ہیں جو ہم سے دشمنی رکھتے ہیں، ہمارے زوال کے لیے کوشاں ہیں اور ہمارے دین کو بگاڑنے کی پوری کوشش کرتے ہیں؟ اور ہم ان سے کیسے محبت کر سکتے ہیں جو ہمارے دین سے دستبردار ہونے کے سوا کسی بات پر راضی نہیں ہوتے؟ ہم ان سے کیسے محبت کر سکتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہمیں ان سے محبت کرنے یا ان سے قربت بڑھانے سے منع فرمایا ہے؟! چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اے ایمان والو! تم یہود ونصاریٰ کو دوست نہ بناؤ یہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ تم میں سے جو بھی ان میں کسی سے دوستی کرے وه بے شک انہی میں سے ہے، ظالموں کو اللہ تعالیٰ ہرگز راه راست نہیں دکھاتا۔ [المائدۃ: 51]، اور اللہ تعالی نے فرمایا: مسلمانو! ان لوگوں کو دوست نہ بناؤ جو تمہارے دین کو ہنسی کھیل بنائے ہوئے ہیں (خواه) وه ان میں سے ہوں جو تم سے پہلے کتاب دیے گئے یا کفار ہوں۔ اگر تم مومن ہو تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔ [المائدۃ: 57]۔
اور کافروں سے براءت اللہ کے خلیل ابراہیم علیہ السلام کا طریقہ ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: (مسلمانو!) تمہارے لیے حضرت ابراہیم میں اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے، جبکہ ان سب نے اپنی قوم سے برملا کہہ دیا کہ ہم تم سے اور جن جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو ان سب سے بالکل بیزار ہیں۔ ہم تمہارے (عقائد کے) منکر ہیں جب تک تم اللہ کی وحدانیت پر ایمان نہ ﻻؤ ہم میں تم میں ہمیشہ کے لیے بغض وعداوت ظاہر ہوگئی... [الممتحنۃ : 4]۔
اے اللہ! جو شخص اسلام اور مسلمانوں کے لیے کسی نقصان، خیانت یا برائی کا ارادہ کرے، تو اس کی سازش اسی پر الٹ دے، برائی کی گردش اسی پر مسلط فرما، امتِ محمد ﷺ کی اصلاح فرما دے، اور انہیں اپنے دین کی طرف بہترین انداز میں لوٹا دے۔
اے اللہ! مسلم نوجوانوں، لڑکوں اور لڑکیوں کی اصلاح فرما، انہیں سلامتی کے راستے دکھا، ان کی پیشانیوں کو پکڑ کر انہیں ہدایت اور راستی کی طرف لے چل، اور انہیں ظاہری اور باطنی تمام فتنوں سے بچا۔
اے اللہ! ہم تیری پناہ مانگتے ہیں مہنگائی، وبا، سود، زنا اور زلزلوں سے، اور ان فتنوں سے جو ظاہر ہیں اور جو پوشیدہ ہیں۔ اے اللہ! ہمارے امن کی حفاظت فرما، ہمارے ملک کی نگہبانی فرما، ہمیں شریروں کے شر اور فاجروں کے مکر سے بچا، ہمیں رات اور دن کے وقت آنے والوں سے محفوظ رکھ، سوائے ایسے آنے والے کے جو خیر کے ساتھ آئے، اے بڑی قوت والے، اے زبردست۔
اے اللہ! ہماری، ہمارے والدین کی اور تمام زندہ ومردہ مسلمانوں کی مغفرت فرما، اور ہمارے حکمرانوں کو ہر خیر، نیکی، فلاح اور رشد وہدایت کی توفیق عطا فرما، اے جلال و اکرام والے۔
اور اپنے نبی ﷺ پر درود و سلام بھیجیں جیسا کہ آپ کے رب نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو۔ [الاحزاب: 56]، نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص مجھ پر ایک دفعہ درود پڑھتا ہے، اس کے بدلے اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔“ [صحیح مسلم: 384]۔
***
خطبہ کا عنوان
محاسنِ اسلام اور فضائلِ امت
پہلے خطبہ کا مقدمہ
بے شک ہر طرح کی تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، ہم اسی کی تعریف کرتے ہیں، اُسی سے مدد مانگتے ہیں، اسی سے مغفرت طلب کرتے ہیں اور اسی کی طرف رجوع کرتے ہیں، ہم اپنے نفسوں کے تمام شرور اور اپنے اعمال کی تمام برائیوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔
جسے اللہ تعالی ہدایت دے دے، اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں، اور جسے گمراہ کردے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔
بلاشبہ سب سے سچا کلام اللہ کی کتاب ہے، سب سے بہتر طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے، سب سے بدترین چیزیں دین کے نام پر وجود میں آنے والی نئی چیزیں ہیں، دین کے نام پر وجود میں آنے والی ہر نئی چیز بدعت ہے، ہر بدعت گمراہی ہے، اور ہر گمراہی آگ میں لے جانے والی ہے۔
جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرے گا اس نے ہدایت پا لی، اور جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرے گا وہ گمراہ ہو گیا، وہ صرف اپنا ہی نقصان کرتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکے گا، اور کچھ لوگ ہمیشہ پیچھے ہٹتے رہتے ہیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ انہیں قیامت کے دن پیچھے کر کے آگ میں ڈال دے گا۔
پہلا خطبہ:
اما بعد:
اے لوگو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اس کی اطاعت کرو، ہر گناہ سے اس کے سامنے توبہ کرو اور استغفار کرو، اور تم اپنے لیے جو بھی بھلائی آگے بھیجو گے اسے اللہ تعالیٰ کے پاس پا لو گے۔ جس دن ہر نفس (شخص) اپنی کی ہوئی نیکیوں کو اور اپنی کی ہوئی برائیوں کو موجود پالے گا، آرزو کرے گا کہ کاش! اس کے اور برائیوں کے درمیان بہت ہی دوری ہوتی۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی ذات سے ڈرا رہا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑا ہی مہربان ہے۔ [آل عمران: 30]۔
اللہ کے بندو!
بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے، جسے اللہ پاک نے مکمل فرما دیا اور اس کے ذریعے اس کے ماننے والوں پر اپنا انعام مکمل کر دیا، اس کے ذریعہ انہیں دیگر تمام لوگوں پر فضیلت عطا فرمائی، اور اس کے بارے میں ارشاد فرمایا: ...اور تمہارے لیے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا۔... [المائدة: 3]۔ اللہ نے مزید فرمایا: جو شخص اسلام کے سوا اور دین تلاش کرے، اس کا دین قبول نہ کیا جائے گا اور وه آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا۔ [آل عمران: 85]۔
اے مسلمانو!
یقیناً اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے اس دین کو پسند فرما لیا اور اس کے ذریعے تم کو فوقیت دی کہ اس نے تمام جہان والوں میں سے دوسروں کو چھوڑ کر تمہیں اس کی ہدایت دی، اس نے تمہیں سیدھے دین کی ہدایت عطا فرمائی، اور تمہیں اپنے رسولِ کریم محمد ﷺ کی امت میں شامل فرمایا، جن پر ان کے رب کی طرف سے کامل ترین درود اور پاکیزہ ترین سلام ہو، فرمانِ باری تعالی ہے: ...بلکہ دراصل اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت کی اگر تم راست گو ہو۔ [الحجرات: 17]، اور اللہ پاک کا فرمان ہے: بے شک مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ ان ہی میں سے ایک رسول ان میں بھیجا، جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے، یقیناً یہ سب اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔ [آل عمران: 164]، قرآن عظیم اور رسول کریم کے احسان کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: آپ کہہ دیجیے کہ بس لوگوں کو اللہ کے اس انعام اور رحمت پر خوش ہونا چاہیے۔ وه اس سے بدرجہا بہتر ہے جس کو وه جمع کر رہے ہیں۔ [يونس: 58]۔
اے مسلمانوں کی جماعت!
بے شک دینِ اسلامِ عظیم اور سیدھا راستہ دکھانے والا دین، گزشتہ آسمانی ادیان کا آخری سلسلہ اور نچوڑ ہے۔ یہ دین ان تمام ادیان کی بہترین اور عمدہ تعلیمات پر مشتمل ہے، ہمارے رب تبارک و تعالیٰ نے اس میں ایسی شریعتیں اور احکام شامل فرمائے ہیں جن میں انسانیت کے لیے مکمل مصلحت ہے اور جو قیامت تک کے لیے مناسب اور موزوں ہیں۔سابقہ آسمانی کتابوں میں جو اچھی اور مفید شریعتیں موجود تھیں، اللہ تعالیٰ نے اسلام میں ان جیسی بلکہ ان سے بہتر تعلیمات شامل فرما دیں۔ ان کتابوں میں جو احکام مخصوص وقت اور مدت کے لیے تھے، وہ اپنے مقررہ وقت کے گزرنے اور ان کے مخاطبوں کے ختم ہو جانے کے ساتھ منسوخ ہو گئے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے انہیں قرآنِ عظیم اور رسولِ کریم ﷺ کی ہدایت کے ذریعے منسوخ فرما دیا اور امتِ مسلمہ کو ان سے بے نیاز کر دیا۔ سابقہ کتابوں کے الفاظ، نصوص کے معانی اور ان پر عمل کرنے کے طریقوں میں جو تحریف، تبدیلی اور رد و بدل واقع ہوا، اس کی اصلاح کے لیے نبی کریم ﷺ کے ذریعے پہنچائے گئے قرآن، سنت اور واضح بیان میں اصل صحیح الفاظ، واضح احکام اور ان پر عمل کرنے کا بہترین طریقہ موجود ہے، جس میں آسانی اور سہولت بھی رکھی گئی ہے۔ رہی وہ سخت پابندیاں اور مشقتیں جو سابقہ کتابوں میں موجود تھیں اور جن کا تقاضا حکمتِ الٰہی کے مطابق ان کے ماننے والوں کو ان کا مکلف بنانا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل، لطف اور رحمت سے اس امت کو ان بوجھوں اور سختیوں سے محفوظ فرما دیا۔ چنانچہ قرآنِ عظیم بجا طور پر یہ مقام رکھتا ہے: اور ہم نے آپ کی طرف حق کے ساتھ یہ کتاب نازل فرمائی ہے جو اپنے سے اگلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور ان کی محافظ ہے۔... [المائدۃ: 48]، یعنی: ان میں موجود بہترین باتوں کی موافقت اور تائید کرنے والی ہے، ان کے ایسے احکام کو منسوخ کرنے والی ہے جو عارضی تھے یا جن کی امت کو ضرورت نہیں رہی، اور ایسے نئے احکام پر مشتمل ہے جو امت کے لیے مناسب اور باعثِ اصلاح ہیں، چنانچہ اللہ نے قرآن مجید اور نبی ﷺ کی سنت کے ذریعے ان سے بے نیاز کر دیا۔
اے مومنو!
چونکہ قرآنِ عظیم اور رسولِ کریم -آپ پر آپ کے رب کی جانب سے کامل ترین درود اور پاکیزہ ترین سلامتی ہو- کی سنت، حسن وخوبی، آسانی اور کفایت کے اس مقام پر فائز ہے، اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا ہوا کہ دینِ اسلام جس کو رسول محمد ﷺ لے کر آئے ہیں، ما قبل کے تمام ادیان کو منسوخ کرنے والا ہو، اور اللہ کی جانب سے آپ کی بعثت سے لے کر قیامت تک آنے والے تمام مکلف انسانوں اور جنوں کے لیے عام ہو۔
اے مومنوں کی جماعت!
چنانچہ جب اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت کا یہ تقاضہ ہوا کہ اس کے رسول محمد ﷺ خاتم النبیین، تمام رسولوں میں سب سے زیادہ بلند و برتر اور عظیم المرتبت، اور مومنوں کے لیے کامل ترین نمونہ واسوہ ثابت ہوں، آپ ﷺ کا دین بہترین، عظیم ترین اور سب سے زیادہ مکمل دین قرار پائے، اور روزِ جزا سے قبل یہ وہ آخری دین ہو جس کے ذریعے اللہ رب العالمین کی عبادت و بندگی کی جائے، تو اسی طرح اللہ تعالیٰ کی حکمت کا یہ بھی تقاضہ ہوا کہ آپ ﷺ کا دین مکمل اور ہر قسم کے نقص سے پاک ہو، آسان اور سہل ہو اور ہر حال اور زمانے کے لیے موزوں و مناسب ہو۔ چنانچہ اس دین میں کثرت سے ایسے احکام و شرائع اور خصلتیں رکھی گئیں جو گناہوں کو مٹانے، نیکیوں کو بڑھانے اور بندے کے درجات کو بلند کرنے والی ہیں، اس میں فضیلت والے ایام مقرر کیے گئے، اور ایسے بابرکت مقامات خاص کیے گئے جن میں عمل اور ثواب کو بڑھا دیا جاتا ہے، ایسے اعمال رکھے گئے جن کی بدولت (جہنم سے) گردنیں آزاد ہوتی ہیں، اور توبہ کے دروازے کھول دیے گئے اور اس کے اوقات کو وسیع کر دیا گیا۔ اس دین میں اعمالِ صالحہ کو متنوع بنایا گیا، اور جو عبادات چھوٹ جائیں ان کی قضا کو فرض کیا گیا، نیز ایسے امور میں آسانی پیدا کی گئی جن کے ذریعے موت کے بعد بھی مختلف قسم کے حقوق و واجبات سے سبک دوش اور بری الذمہ ہوا جا سکتا ہے۔ اس شریعت اور اس کے شعائر میں کچھ ایسے اہم امور مقرر کیے گئے جو نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں باہمی تعاون، علم و ہدایت کے اظہار، اور دشمنوں کو غیظ و غضب میں مبتلا کرنے کی خاطر باجماعت ادا کیے جاتے ہیں۔ ان سب خوبیوں کے ساتھ ساتھ، جس شخص کو کسی نیک عمل کی عادت ہو، پھر وہ کسی مشغولیت یا معذوری کی بنا پر اسے ادا نہ کر سکے، تو اس کے لیے اسی عمل کا ثواب لکھا جاتا ہے جس کا وہ معمول رکھتا تھا۔ جب کسی عمل میں مشقت زیادہ ہو تو اس کا اجر و ثواب بڑھ جاتا ہے اور اسے جہاد میں شمار کیا جاتا ہے۔ جس شخص کی عقل زائل ہو جائے، اس سے شرعی احکامات کی پابندی کا قلم اٹھا لیا جاتا ہے۔ جو شخص اسلام کی حالت میں بوڑھا ہو جائے، تو اللہ لطیف کے لطف و کرم کی بناء پر، اس کے بہترین اعمال تو لکھے جاتے ہیں لیکن اس کے ذمے کوئی برائی (گناہ) نہیں لکھی جاتی۔ جس شخص کا عمل اس کی موت کی وجہ سے منقطع ہو جائے، تو اس علم کے ذریعے جس سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہو، اس کے بعد جاری رہنے والے صدقے، اس کے حق میں دعا کرنے والی نیک اولاد، اور ہر اس نیکی کے سبب جس پر اس کے بعد بھی عمل ہوتا رہے، اس تک ثواب مسلسل پہنچتا رہتا ہے۔
اے مومنو!
ان سب سے بڑھ کر یہ کہ اسلام میں نیکوکار کو اس کے بہترین عمل کے مطابق بدلہ دیا جاتا ہے، اس کے لیے اس کا ثواب بڑھا دیا جاتا ہے، جہالت کی حالت میں کی گئی اس کی برائی پر اس کا مؤاخذہ نہیں کیا جاتا، اس پر مزید یہ کہ اسے بغیر کسی عمل کے بھی ثواب عطا کیا جاتا ہے، اسی طرح اسلام میں مسلمان اپنی موت کے بعد دعا کرنے والوں کی دعاؤں، نیکوکاروں کے صدقات، مقبول سفارشیوں کی شفاعت، اور قیامت کے دن رب العالمین، رحمٰن و رحیم کی جانب سے اس سے درگزر کرنے اور اس کی مغفرت فرمانے کے فضل و کرم سے مستفید ہوتا ہے۔
امت اسلامیہ!
اس دین کی خوبیوں میں سے ایک خوبی، اور اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنی اس امت پر ایک عظیم فضل یہ ہے کہ اس نے امتِ محمد ﷺ کو ان تمام امتوں پر فضیلت عطا فرمائی جو اس سے پہلے گزر چکی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے امتِ محمد ﷺ کو سب سے بہترین امت قرار دیا ہے جو لوگوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے پیدا کی گئی۔ یہ امتِ وسط، عادل، بہترین اور روزِ قیامت لوگوں پر گواہ بننے والی ہے۔ یہ تمام امتوں میں رب العالمین پر سب سے زیادہ ایمان لانے والی، اور اپنے رسول محمد خاتم النبیین ﷺ کی سب سے زیادہ پیروی کرنے والی امت ہے اور روزِ قیامت رب العالمین کے ہاں سب سے زیادہ معزز ہوگی۔ یہ وہ پہلی امت ہے جس کے درمیان تمام مخلوق سے پہلے فیصلہ کیا جائے گا۔ نیز یہ آپ ﷺ کے حوض پر سب سے زیادہ وارد ہونے والی امت ہے، جس سے ہر مرتد اور منافق کو دھتکار دیا جائے گا۔ یہی لوگ سب سے پہلے پل صراط عبور کریں گے اور جنت میں داخل ہونے والی پہلی امت ہوں گے۔ یہ اہل جنت میں سب سے زیادہ ہوں گے، چنانچہ یہ اہل جنت کا دو تہائی حصہ ہوں گے۔ ان کے خاص لوگ، تمام رسولوں اور نبیوں (ان سب پر میرے رب کی رحمتیں اور سلامتی نازل ہو) کے بعد، اہل جنت کے سب سے معزز افراد ہوں گے۔ تم نہ سستی کرو اور غمگین ہو، تم ہی غالب رہو گے، اگر تم ایماندار ہو۔ [آل عمران : 139]۔
اللہ میرے اور آپ کے لیے قرآنِ عظیم میں برکت دے، اور مجھے اور آپ کو اس میں موجود آیات اور حکمت والے ذکر سے نفع بخشے، میں اپنی یہ بات کہتا ہوں اور اللہ سے اپنے اور آپ کے لیے بخشش مانگتا ہوں، آپ بھی اس سے بخشش کی دعا کریں، بے شک وہی بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔
دوسرے خطبہ کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اس کے احسان اور ہدایت پر، ہم اس پاک ذات کا شکر ادا کرتے ہیں اس کی متواتر اور کامل نعمتوں پر، ہم اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں اور ہر اس کام سے اس کے حضور توبہ کرتے ہیں جسے وہ پسند نہیں کرتا اور جس سے وہ راضی نہیں ہوتا۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی برحق معبود نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، میرا رب ہمسروں اور مخالفوں سے بلند و برتر ہے، اس کے سوا کوئی رب نہیں اور اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے، اس کے رسول اور اس کے برگزیدہ ہیں، جنہیں ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ تمام مکلف مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا، جب سے اللہ نے آپ کو مبعوث فرمایا اس وقت سے لے کر سورج کے مغرب سے طلوع ہونے تک، جو کہ وعدۂ حق کے قریب آ جانے اور اللہ کے حضور کھڑے ہونے کا اعلان ہے۔
اللہ تعالیٰ آپ پر، آپ کی آل واصحاب پر اور آپ کے دین اور ہدایت پر اچھائی کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں پر درود وسلام اور برکتیں نازل فرمائے۔
دوسرا خطبہ
اما بعد :
اے اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے، اس طرح کہ اس کا ذکر کیا جائے اور اسے بھلایا نہ جائے، اس کی اطاعت کی جائے اور نافرمانی نہ کی جائے، اور اس کا شکر ادا کیا جائے اور ناشکری نہ کی جائے۔
اے لوگو!
اللہ تعالیٰ کے لیے الوہیت اور عبادت میں یکتائی کی گواہی دو۔ اور اللہ سبحانہ کی عبادت اس کی مقرر کردہ شریعت کے مطابق کرو، دین کو اسی کے لیے خالص کرتے ہوئے۔ یہ عبادت محض رسم و عادت کے طور پر نہیں، بلکہ کامل ایمان اور حصولِ ثواب کی نیت سے ہونی چاہیے۔ کفر، شرک، بدعات اور کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرو۔ تم نے جو بھی گناہ کیے ہیں، ان سے علام الغیوب کے حضور سچی توبہ کرو۔ یہ اس شخص کا شیوہ ہے جس نے کہا: میرا رب اللہ ہے، اور پھر اس پر استقامت اختیار کی۔
اللہ کے نبی ﷺ کے متعلق یہ گواہی دو کہ آپ ﷺ خاتم النبیین اور رب العالمین کے خلیل ہیں، جنہیں روزِ قیامت تک کے تمام مکلف بندوں کی طرف کامل ترین شریعت اور بہترین دین دے کر مبعوث کیا گیا، جو تمام مخلوقات کے لیے شفاعتِ عظمیٰ اور ربِ برحق کے حضور مقامِ محمود کے ساتھ خاص کیے گئے ہیں، اور آپ ﷺ ہی وہ واحد ہستی ہیں جو سچے وعدے کے مطابق جنت کا دروازہ کھلوائیں گے۔ چنانچہ آپ ﷺ پر ایمان لاؤ، آپ ﷺ نے جو خبریں دی ہیں ان کی تصدیق کرو، جو حکم دیا ہے اس میں آپ ﷺ کی اطاعت کرو، جن چیزوں سے آپ ﷺ نے منع کیا اور روکا ہے ان سے اجتناب کرو، اور اللہ کی عبادت صرف اسی شریعت کے مطابق کرو جو آپ ﷺ نے مقرر فرمایا ہے۔
اے مسلمانو!
اللہ تبارک و تعالیٰ کو یاد کرو اور اس کا شکر بجا لاؤ کہ اس نے تمہیں اسلام کی ہدایت دی، لوگوں کے درمیان اس پر اپنی خوشی و مسرت کا اظہار کرو، اور اس کی خوبیاں ظاہر کرو، بہترین استقامت اختیار کرو اور لوگوں کے ساتھ اس کے اخلاق کے مطابق حسنِ سلوک کرو تاکہ تم اسے محبوب بنا سکو اور خاص و عام کو اس کی ترغیب دے سکو۔ آپ کہہ دیجیے کہ مجھ کو میرے رب نے ایک سیدھا راستہ بتادیا ہے کہ وه ایک دین مستحکم ہے جو طریقہ ہے ابراہیم (علیہ السلام) کا جو اللہ کی طرف یکسو تھے۔ اور وه شرک کرنے والوں میں سے نہ تھے۔ آپ فرما دیجیے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کا ہے جو سارے جہان کا مالک ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو اسی کا حکم ہوا ہے اور میں سب ماننے والوں میں سے پہلا ہوں۔ [الانعام: 161-163]۔ اس طرح تم ہادی اور ہدایت یافتہ، اور پرہیزگاروں کے امام بن جاؤ گے، نہ کہ گمراہ اور نہ گمراہ کرنے والے۔
اے مومنو!
اس بات سے خبردار رہو کہ کہیں تم اپنے قول، فعل یا حال کے ذریعے، خود کو یا دوسروں کو اپنے رب تبارک و تعالیٰ کے احکام میں سے کسی حکم، یا اپنے نبی مصطفیٰ ﷺ کی سنتوں میں سے کسی سنت سے روکنے والے نہ بن جاؤ۔ کیوں کہ تم اسلام کے قطعی احکام میں سے کسی حکم، یا نبی محمد ﷺ کی معلوم سنتوں میں سے کسی سنت کی جو مخالفت بھی کھلے عام کرتے ہو، یہاں تک کہ اس مخالفت کے عادی ہونے اور اس پر قائم رہنے کی وجہ سے تم اسی سے پہچانے جانے لگو، تو اس سے یہ سمجھ میں آتا ہے یا یہ وہم پیدا ہوتا ہے کہ تم اس حکم کو تسلیم کرنے یا اس سنت میں نبی ﷺ کی اقتدا کرنے میں تردد کا شکار ہو۔ اور یہ شریعت کے معاملے میں اللہ تعالیٰ پر، یا تبلیغ و عمل کے معاملے میں نبی ﷺ پر ایک طرح کا اعتراض بھی ہے، اور یہی درحقیقت گناہ اور عین گمراہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اور (دیکھو) کسی مومن مرد و عورت کو اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ کے بعد اپنے کسی امر کا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا، (یاد رکھو) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی جو بھی نافرمانی کرے گا وه صریح گمراہی میں پڑے گا۔ [الاحزاب: 36]۔ اور اللہ عز وجل نے اس پر سخت ترین وعید سنائی ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کرے اور اس کی مقرره حدوں سے آگے نکلے اسے وه جہنم میں ڈال دے گا جس میں وه ہمیشہ رہے گا، ایسوں ہی کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔ [النساء: 14]۔
پاک ہے آپ کا رب جو بہت بڑی عزت واﻻ ہے ہر اس چیز سے (جو مشرک) بیان کرتے ہیں۔ پیغمبروں پر سلام ہے۔ اور سب طرح کی تعریف اللہ کے لیے ہے جو سارے جہان کا رب ہے۔ [الصافات: 180-182]۔
***
خطبہ کا عنوان
شہادتین کا معنی ومفہوم اور ان کے تقاضے
پہلے خطبہ کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو نہ اوﻻد رکھتا ہے، نہ اپنی بادشاہت میں کسی کو شریک وساجھی رکھتا ہے اور نہ وه کمزور ہے کہ اسے کسی حمایتی کی ضرورت ہو اور تم اس کی پوری پوری بڑائی بیان کرتے رہو، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، ظالم اور منکر جو کچھ کہتے ہیں وہ اس سے بہت ہی بلند و برتر ہے۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے قیامت سے قبل خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا، اور اپنے حکم سے اللہ کی طرف بلانے والا اور روشن چراغ بنا کر بھیجا، اللہ تعالیٰ ڈھیروں درود و سلام نازل فرمائے آپ پر، آپ کے اہلِ خانہ اور اولاد پر، آپ کے صحابہ پر اور قیامت تک آپ کی پیروی کرنے والوں پر۔
پہلا خطبہ:
اما بعد: اے لوگو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اس کی اطاعت کرو۔
اللہ کے بندو! اسلام کے ارکان میں سب سے پہلا رکن دو باتوں کی گواہی دینا ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہيں ہے اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ یہ رکن وہ بنیاد ہے جس پر باقی ارکان قائم ہیں، اور دین کے دیگر تمام احکام اسی پر مبنی ہیں۔ چناں چہ اگر یہ اساس درست اور مضبوط ہو تو دیگر تمام اعمال بھی درست رہتے ہیں، اللہ کے ہاں مقبول ہوتے ہیں اور عمل کرنے والا ان سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ اور اگر اس اساس میں خلل آ جائے تو دیگر تمام اعمال فاسد ہو جاتے ہیں اور بکھرے ہوئے غبار کی طرح ہو جاتے ہیں۔ ان کی مثال چٹیل میدان میں اس سراب کی سی ہو جاتی ہے جسے پیاسا شخص پانی سمجھتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس پہنچتا ہے تو اسے کچھ نہیں پاتا۔ نیز وہ اس راکھ کی مانند ہو جاتے ہیں جس پر آندھی والے دن تیز ہوا چلے۔ یہ اعمال دنیا میں ان کے کرنے والے کے لیے محض تھکن، اور قیامت کے دن حسرت اور خسارے کا باعث بنتے ہیں۔
اللہ کے بندو! بلاشبہ شہادتین کے کچھ معانی اور تقاضے ہیں، اور انہیں زبان سے ادا کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان معانی کو جانے اور ان تقاضوں کے مطابق عمل کرے، بصورتِ دیگر محض زبان سے انہیں ادا کر لینا اسے کچھ فائدہ نہیں دے گا۔
(لا الہ الا اللہ) کی شہادت کا معنی ہے: یہ اقرار کرنا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں، اور اس کے علاوہ سارے معبود باطل ہیں۔ یہ سب (انتظامات) اس وجہ سے ہیں کہ اللہ تعالیٰ حق ہے اور اس کے سوا جن جن کو لوگ پکارتے ہیں سب باطل ہیں اور یقیناً اللہ تعالیٰ بہت بلندیوں واﻻ اور بڑی شان واﻻ ہے۔ [لقمان: 30]۔
اور ’لا الہ الا اللہ‘ کی گواہی کا تقاضا یہ ہے کہ آپ عبادت کو صرف اللہ کے لیے خاص کریں اور اس کے ساتھ کسی غیر کی عبادت نہ کریں؛ چنانچہ جب آپ یہ کہتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں؛ تو درحقیقت آپ اللہ کے سوا ہر معبود سے براءت کا اعلان کر دیتے ہیں، اور صرف اللہ وحدہ کی عبادت کرنے، اس کے احکامات بجا لانے اور اس کی منع کردہ چیزوں کو چھوڑ دینے کو اپنے اوپر لازم کر لیتے ہیں۔ اسی لیے جب نبی ﷺ نے مشرکین سے فرمایا: ”تم لوگ ’لا الہ الا اللہ‘ کہو“؛ تو وہ اس سے یہی سمجھے کہ آپ ان سے صرف اللہ وحدہ کی عبادت کرنے اور بتوں کی پوجا چھوڑ دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں؛ چنانچہ انہوں نے یہ کلمہ کہنے سے انکار کر دیا، اس کی تردید کی، اور کہنے لگے: کیا اس نے اتنے سارے معبودوں کا ایک ہی معبود کر دیا۔ واقعی یہ بہت ہی عجیب بات ہے۔ ان کے سردار یہ کہتے ہوئے چلے کہ چلو جی اور اپنے معبودوں پر جمے رہو ، یقیناً اس بات میں تو کوئی غرض ہے۔ ہم نے تو یہ بات پچھلے دین میں بھی نہیں سنی، کچھ نہیں یہ تو صرف گھڑنت ہے۔ [صۤ: 5-7]، ’لا الہ الا اللہ‘ کا یہی معنی ہے: تمام معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود قرار دینا، اور اس کے علاوہ دوسروں کی عبادت کو ترک کر دینا۔ مشرکین بھی اسے سمجھتے تھے؛ کیونکہ وہ فصیح و بلیغ عرب تھے۔
لیکن آج کے قبر پرست ’لا الہ الا اللہ‘ کا معنی نہیں سمجھتے اور نہ ہی اس کے تقاضے پر عمل کرتے ہیں؛ اسی لیے وہ ’لا الہ الا اللہ‘ تو کہتے ہیں، لیکن مردوں کی عبادت بھی کرتے ہیں؛ چنانچہ پہلے کے مشرکین ان کی نسبت ’لا الہ الا اللہ‘ کے معنی کو زیادہ جانتے تھے، اور ان سے زیادہ اس کے تقاضوں سے واقف تھے۔ یہ قبر پرست لا الہ الا اللہ کہتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی پکارتے ہیں: یا علی، یا حسین، یا عبد القادر، وہ مردوں کو پکارتے ہیں اور حاجتیں پوری کرنے اور مصیبتیں دور کرنے کے لیے ان سے مدد طلب کرتے ہیں، ان کی قبروں کا طواف کرتے ہیں، اور ان کے نام پر قربانی کرتے ہیں؛ تو ان لوگوں کے نزدیک ’لا الہ الا اللہ‘ کا کیا معنی ہے؟ اور اس کا کیا فائدہ ہے؟! یقیناً یہ ایسے لوگ ہیں جو عقل نہیں رکھتے۔ ... یہ اللہ کو بھول گئے، پس اللہ نے انہیں بھلا دیا... [التوبۃ: 67]، ... انہیں ان کے برے کام بھلے دکھادیے گئے ہیں اور قوم کفار کی اللہ رہنمائی نہیں فرماتا۔ [التوبۃ: 37]۔
’لا الہ الا اللہ‘ کی گواہی کے تقاضوں میں سے یہ بھی ہے کہ زکوۃ ادا کرے، رمضان کے روزے رکھے، اگر مقامِ حج تک پہنچنے کی استطاعت ہو تو بیت اللہ کا حج کرے، دینی واجبات کو انجام دے، اور حرام کاموں کو چھوڑ دے؛ چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے -ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی قیادت میں- ان لوگوں سے جنگ کی جنہوں نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا تھا، حالانکہ وہ ’لا الہ الا اللہ‘ کہتے تھے، لیکن صحابہ کرام نے فرمایا: بلاشبہ زکوۃ ’لا الہ الا اللہ‘ کےحقوق میں سے ایک حق ہے۔
حسن بصری رحمہ اللہ سے کہا گیا: بے شک کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جس نے ’لا الہ الا اللہ‘ کہا، وہ جنت میں داخل ہوگا، تو آپ نے فرمایا: ”جس نے لا إله إلا الله کہا، پھر اس کا حق اور اس کا فرض ادا کیا؛ وہ جنت میں داخل ہوگا“، وہب بن منبہ نے اس شخص سے فرمایا جس نے ان سے پوچھا تھا: کیا لا إله إلا الله جنت کی کنجی نہیں ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ”کیوں نہیں، لیکن کوئی کنجی ایسی نہیں جس کے دندانے نہ ہوں؛ چنانچہ اگر تم ایسی کنجی لے کر آؤ گے جس کے دندانے ہوں تو تمہارے لیے کھول دیا جائے گا، ورنہ تمہارے لیے نہیں کھولا جائے گا۔“
اے اللہ کے بندو! جس طرح شرکِ اکبر ’لا الہ الا اللہ‘ کی ضد اور اس کے منافی ہے؛ اسی طرح شرک سے کم تر دیگر تمام نافرمانیاں اس کلمے کے تقاضے میں کمی لاتی ہیں اور بندے سے سرزد ہونے والے گناہ کے بقدر اس کے ثواب کو کم کرتی ہیں۔ مسلمان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ ’لا الہ الا اللہ‘ کہے، اس کے معنی کو جانے، ظاہر و باطن میں اس کے تقاضے پر عمل کرے، اور اس پر استقامت اختیار کرے؛ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جنہیں یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وه شفاعت کرنے کا اختیار نہیں رکھتے، ہاں (مستحق شفاعت وه ہیں) جو حق بات کا اقرار کریں اور انہیں علم بھی ہو۔ [الزخرف: 86] حق بات کا اقرار کیا۔ یعنی اس نے کہا: لا إله إلا الله، اور وه جانتے ہیں۔ ان کے دلوں میں وہی بات ہے جو ان کی زبانوں نے ادا کی ہے۔
اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرتے رہو، اس کلمۂ شہادت کے معانی کو جانو اور اس کے تقاضوں پر عمل کرو؛ کیونکہ اس کے معانی کو سمجھے، اس کے مفہوم پر اعتقاد رکھے اور اس پر عمل کیے بغیر اسے صرف زبان سے دہرا لینا مقصود نہیں ہے؛ یقیناً ایسا کرنا صحیح معنوں میں کچھ بھی فائدہ نہیں دیتا۔
میں شیطان مردود کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں۔ تجھ سے پہلے بھی جو رسول ہم نے بھیجا اس کی طرف یہی وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ پس تم سب میری ہی عبادت کرو۔ [الانبیاء: 25]۔
دوسرے خطبہ کا مقدمہ
تمام تعریفات اس اللہ کے لیے ہیں جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے تمام دینوں پر غالب کر دے، اور اللہ بطور گواہ کافی ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اس بات کا اقرار کرتے ہوئے اور اس کی توحید کو مانتے ہوئے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کے اہل وعیال پر اور آپ کے صحابہ پر بکثرت درود وسلام نازل فرمائے۔
دوسرا خطبہ
اما بعد:
اے لوگو! ’أشهد أن محمّدًا رسول الله‘ کا معنی ہے: اس بات کا اقرار کرنا کہ آپ ﷺ اللہ کی طرف سے رسول ہیں، اور دل میں اس کا عقیدہ رکھنا۔
اس گواہی کے تقاضے کا خلاصہ چار امور میں ہے: آپ ﷺ کے حکم کی اطاعت کرنا، آپ کی بتائی ہوئی باتوں کی تصدیق کرنا، آپ جن چیزوں سے روکیں ان سے باز رہنا، اور یہ کہ آپ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ہی اللہ کی عبادت کی جائے؛ لہٰذا جب آپ یہ گواہی دیں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں؛ تو آپ پر واجب ہے کہ وہ آپ کو جو حکم دیں اس میں آپ ان کی اطاعت کریں، جس چیز سے وہ آپ کو منع کریں اس سے اجتناب کریں، اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں، نیز ماضی اور مستقبل کے غیب کی جو خبریں انہوں نے دی ہیں، ان میں آپ ان کی تصدیق کریں، اور عبادات میں سے کسی بھی چیز کے ذریعے تقرب حاصل نہ کریں جب تک کہ وہ آپ ﷺ کی شریعت کے موافق نہ ہو۔ چنانچہ آپ بدعات اور نئی ایجاد کردہ چیزوں کو چھوڑ دیں، اور آپ ﷺ کی سنت کے مخالف اقوال کو ترک کر دیں خواہ ان کا کہنے والا علم و فقہ کے کسی بھی مقام پر فائز ہو؛ کیونکہ ہم میں سے ہر ایک کی بات لی بھی جا سکتی ہے اور چھوڑی بھی جا سکتی ہے سوائے رسول اللہ ﷺ کے۔
امام مالک بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ہم میں سے ہر ایک کی بات رد کی جا سکتی ہے اور وہ دوسروں کی بات رد کر سکتا ہے، سوائے اس قبر والے کے۔“ یعنی رسول اللہ ﷺ۔
امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”علما کا اس بات پر اجماع ہے کہ جس شخص پر رسول اللہ ﷺ کی سنت واضح ہو جائے، اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی کی بات کی بنا پر اسے ترک کر دے۔“
اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے ان لوگوں پر تعجب ہوتا ہے جو سند اور اس کی صحت کو جانتے ہیں، پھر بھی سفیان کی رائے کی طرف جاتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ...پس جو لوگ ان کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرنا چاہیے کہ کہیں ان پر کوئی فتنہ نہ آ پڑے یا انہیں دردناک عذاب نہ پہنچے۔ [النور: 63]، کیا تم جانتے ہو کہ فتنہ کیا ہے؟ فتنہ شرک ہے؛ ہو سکتا ہے کہ جب وہ ان کی کسی بات کو رد کرے تو اس کے دل میں کچھ کجی پیدا ہو جائے اور وہ ہلاک ہو جائے – اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ...اور رسول تمہیں جو کچھ دیں اسے لے لو اور جس چیز سے روکیں اس سے رک جاؤ... [الحشر: 7]۔
اے اللہ کے بندو: محمد ﷺ پر درود وسلام بھیجو۔
***
خطبہ کا عنوان
کلمۂ توحید کے فضائل
پہلے خطبہ کا مقدمہ
یقیناً تمام تعریفیں اللہ کے لیے سزاوار ہیں، ہم اسی کی تعریف بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد طلب کرتے ہیں، اسی سے مغفرت مانگتے ہیں اور اسی کے حضور توبہ کرتے ہیں، ہم اپنے نفسوں اور برے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں۔ جسے اللہ تعالی ہدایت عنایت کر دے، اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے، اسے کوئی راہ نہیں دکھا سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل اور تمام صحابہ پر ڈھیروں درود وسلام نازل فرمائے۔
پہلا خطبہ
اما بعد:
اے مومنو، اللہ کے بندو! میں تمہیں اور اپنے آپ کو خلوت وجلوت میں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے اور اس کی نگرانی کو یاد رکھنے کی وصیت کرتا ہوں، کیونکہ بلاشبہ اللہ عزوجل کا تقویٰ ہی سب سے بہتر توشہ ہے جو اللہ کی خوشنودی تک پہنچاتا ہے۔
پھر آپ جان لیں ۔ اللہ آپ پر رحم فرمائے ۔ کہ مطلق طور پر سب سے بہترین اور عظیم کلمہ، کلمۂ توحید ’لا الہ الا اللہ‘ ہے۔ یہ وہ کلمہ ہے جس کی وجہ سے زمین و آسمان قائم ہیں اور اسی کی وجہ سے تمام مخلوقات پیدا کی گئیں، اسی کے ساتھ تمام رسول بھیجے گئے، کتابیں نازل کی گئیں، شریعتیں وضع کی گئیں، اور اسی کی وجہ سے میزان نصب ہوئے، اعمال نامے مرتب کیے گئے اور جنت و جہنم کا بازار قائم ہوا، اور مخلوق؛ مومنوں اور کافروں، نیکوکاروں اور بدکاروں میں تقسیم ہوئی، اور یہ توحید ہی تخلیق، امر، ثواب اور عذاب کا منبع ہے۔ قیامت کے دن اگلے اور پچھلے سب لوگوں سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ یہی عروۃ الوثقیٰ (مضبوط کڑا) اور کلمۂ تقویٰ ہے، یہی کلمۂ شہادت ہے، دارِ سعادت کی کنجی ہے، اور دین کی بنیاد، اس کی اصل اور اس کا سرمایہ ہے؛ اللہ تعالیٰ، فرشتے اور اہل علم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور وه عدل کو قائم رکھنے واﻻ ہے، اس غالب اور حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے ﻻئق نہیں۔ [آل عمران: 18]، اس عظیم کلمہ کے اتنے جلیل القدر اور شاندار فضائل اور خوبیاں ہیں، جن کا شمار اور احاطہ ممکن نہیں۔
اللہ کے بندو!
ہر مسلمان کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ کلمۂ توحید ’لا الہ الا اللہ‘، جو کہ بہترین، اعلیٰ و افضل اور کامل ترین کلمہ ہے، محض زبان سے دہرا لینے سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک قبول نہیں ہوتا، جب تک کہ بندہ اس کے حقیقی مفہوم پر قائم نہ ہو اور اس کے بنیادی مقصد پر عمل پیرا نہ ہو؛ یعنی شرک کی نفی اور اللہ تعالیٰ کے لیے وحدانیت کا اثبات، نیز ان تمام باتوں پر پختہ اعتقاد جو اس کلمے میں شامل ہیں اور ان پر عمل۔ چنانچہ اسی سے بندہ حقیقی طور پر مسلمان ہوتا ہے، اور اسی سے وہ اہل ’لا الہ الا اللہ‘ میں شامل ہوتا ہے۔
اللہ کے بندو!
یہ ایسا عظیم کلمہ ہے جس میں یہ بات شامل ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، اللہ کے علاوہ کسی اور کی الوہیت سب سے بڑا باطل ہے، اور اس کا اثبات سب سے بڑا ظلم اور گمراہی کی انتہا ہے؛ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: اور اس سے بڑھ کر گمراه اور کون ہوگا؟ جو اللہ کے سوا ایسوں کو پکارتا ہے جو قیامت تک اس کی دعا قبول نہ کر سکیں بلکہ ان کے پکارنے سے محض بےخبر ہوں۔ اور جب لوگوں کو جمع کیا جائے گا تو یہ ان کے دشمن ہو جائیں گے اور ان کی پرستش سے صاف انکار کر جائیں گے۔ [الاحقاف: 5-6]، نیز ارشاد باری تعالی ہے : یہ سب اس لیے کہ اللہ ہی حق ہے اور اس کے سوا جسے بھی یہ پکارتے ہیں وه باطل ہے اور بے شک اللہ ہی بلندی واﻻ کبریائی واﻻ ہے۔ [الحج: 62]، مزید اللہ تعالى فرماتا ہے : ... بے شک شرک بڑا بھاری ظلم ہے۔ [لقمان: 13]، اللہ تعالی کا فرمان ہے : ...اور کافر ہی ظالم ہیں۔ [البقرة: 254]، اے اللہ کے بندو! کسی شے کو اس کے صحیح مقام کے بجائے کسی اور جگہ رکھنا ظلم کہلاتا ہے، اور بلاشبہ عبادت کو غیر اللہ کی طرف پھیر دینا ظلم ہے؛ کیوں کہ یہ اسے اس کے صحیح مقام کے بجائے کہیں اور رکھنا ہے، بلکہ یہ سب سے بڑا اور مطلق طور پر سب سے خطرناک ظلم ہے۔
اللہ کے بندو!
بلاشبہ عظیم کلمہ توحید ’لا الہ الا اللہ‘ کا ایک ایسا مفہوم ہے جسے سمجھنا ضروری ہے، اور ایک ایسا معنی ہے جسے ذہن نشین کرنا لازمی ہے؛ کیوں کہ اہل علم کے اجماع کے مطابق اس کے معانی کو سمجھے اور اس کے تقاضوں پر عمل کیے بغیر، اسے صرف زبان سے ادا کر لینا کچھ بھی فائدہ نہیں دیتا، جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے: جنہیں یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وه شفاعت کرنے کا اختیار نہیں رکھتے، ہاں (مستحقِ شفاعت وه ہیں) جو حق بات کا اقرار کریں اور انہیں علم بھی ہو۔ [الزخرف: 86]، مفسرین کے قول کے مطابق اس آیت کے معنی یہ ہیں: سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے ’لا الہ الا اللہ‘ کی گواہی دی اور وہ اپنی زبانوں سے جو کچھ ادا کرتے ہیں، اپنے دلوں میں اس کے معانی کو جانتے ہوں؛ کیونکہ گواہی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ جس چیز کی گواہی دی جا رہی ہے اس کا علم ہو، چنانچہ اگر یہ جہالت پر مبنی ہو تو یہ گواہی نہیں کہلائے گی، نیز یہ سچائی اور اس پر عمل کرنے کا بھی تقاضا کرتی ہے۔ اے اللہ کے بندو! اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اس کلمۂ عظیمہ کے علم کے ساتھ ساتھ عمل اور سچائی کا ہونا بھی ضروری ہے۔ چناں چہ علم کے ذریعہ بندہ نصاریٰ کے اس طریقے سے نجات پا جاتا ہے جو بغیر علم کے عمل کرتے ہیں، اور عمل کے ذریعہ وہ یہود کے اس طریقے سے نجات پا جاتا ہے جو جانتے ہیں لیکن عمل نہیں کرتے، اور سچائی کے ذریعہ وہ منافقوں کے اس طریقے سے نجات پا جاتا ہے جو اپنے باطن کے خلاف ظاہر کرتے ہیں، اس طرح وہ علم، عمل اور سچائی کے ذریعے اللہ کے صراطِ مستقیم پر چلنے والوں میں شامل ہو جاتا ہے، یعنی ان لوگوں میں جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے، نہ کہ ان لوگوں میں جن پر غضب نازل ہوا اور نہ ہی گمراہوں میں۔
اللہ کے بندو!
بلاشبہ کلمہ ’لا الہ الا اللہ‘ صرف اسی شخص کو فائدہ دیتا ہے جس نے نفی اور اثبات کے اعتبار سے اس کے مفہوم ومعانی کو سمجھا، اس کا عقیدہ رکھا اور اس پر عمل کیا۔ جس نے زبان سے اس کا اقرار کیا اور دل سے تصدیق کیے بغیر ظاہری طور پر اس پر عمل کیا تو وہ منافق ہے، اور جس نے زبان سے اس کا اقرار کیا لیکن اس کے برخلاف عمل کیا اور شرک کا ارتکاب کر کے اس کی مخالفت کی تو وہ کافر ہے، اسی طرح جس نے زبان سے اس کا اقرار کیا اور اس کے تقاضے اور حقوق میں سے کسی چیز کا انکار کر کے اسلام سے مرتد ہو گیا تو یہ کلمہ اسے کچھ بھی فائدہ نہیں دے گا، اسی طرح جس نے زبان سے اس کا اقرار کیا حالانکہ وہ مختلف قسم کی عبادات غیر اللہ کے لیے انجام دیتا ہے؛ جیسے دعا، ذبح، نذر، استغاثہ، توکل، انابت، امید، خوف، محبت اور اس طرح کے دیگر امور۔ چنانچہ جس شخص نے ایسی عبادتوں کو جو سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی اور کے لائق نہیں، غیر اللہ کے لیے انجام دیا تو وہ اللہ عظیم کے ساتھ شرک کرنے والا ہے، اگرچہ وہ اپنی زبان سے ’لا الہ الا اللہ‘ کہتا رہے؛ کیونکہ اس نے توحید اور اخلاص کے ان تقاضوں پر عمل نہیں کیا جو اس کلمہ کا معنی اور مفہوم ہے۔
اللہ کے بندو!
بے شک لا الہ الا اللہ کے معنی یہ ہیں: ایک معبود کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور وہ اکیلا اللہ ہے، جس کا کوئی شریک نہیں، اور لغت میں الہ کے معنی معبود کے ہیں، اور لا الہ الا اللہ کا مطلب ہے: اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تجھ سے پہلے بھی جو رسول ہم نے بھیجا اس کی طرف یہی وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ پس تم سب میری ہی عبادت کرو۔ [الانبیاء: 25]، ساتھ ہی اللہ تعالی کا فرمان ہے: ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو۔... [النحل: 36]، اس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ الہ کا معنی معبود ہے، اور لا الہ الا اللہ کا معنی یہ ہے کہ عبادت کو صرف ایک اللہ کے لیے خالص کیا جائے اور طاغوت کی عبادت سے اجتناب کیا جائے، اسی لیے جب نبی ﷺ نے کفارِ قریش سے فرمایا: ”کہو: لا الہ الا اللہ، تو انہوں نے کہا: کیا اس نے اتنے سارے معبودوں کا ایک ہی معبود کر دیا؟ واقعی یہ بہت ہی عجیب بات ہے۔ [صۤ: 5]“ [جامع ترمذی: 3232، سنن النسائی الکبری: 8769، مسند احمد: 2008، حافظ ابن کثیر نے اسے صحیح کہا ہے]، ہود نے جب اپنی قوم سے کہا کہ لا الہ الا اللہ کا اقرار کرو‘ تو ان کی قوم نے اپنے نبی سے کہا: انہوں نے کہا کہ کیا آپ ہمارے پاس اس واسطے آئے ہیں کہ ہم صرف اللہ ہی کی عبادت کریں اور جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے تھے ان کو چھوڑ دیں؟... [الاعراف: 70]، انہوں نے یہ بات کہی، حالانکہ آپ ﷺ نے انھیں صرف ’لا الہ الا اللہ‘ کی دعوت دی تھی؛ کیوں کہ وہ سمجھ گئے تھے کہ اس سے مراد اللہ کے سوا ہر کسی سے الوہیت کی نفی کرنا، اور اسے صرف اللہ وحدہ لاشریک کے لیے ثابت کرنا ہے۔ چنانچہ ’لا الہ الا اللہ‘ نفی و اثبات پر مشتمل ہے، چنانچہ اس کلمہ نے اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز سے الوہیت کی نفی کر دی ہے، لہذا اللہ کے سوا تمام فرشتے اور انبیاء، دیگر مخلوقات تو درکنار، کوئی الہ نہیں ہے اور ان کے لیے عبادت کا کوئی حصہ نہیں ہے، یہ کلمہ توحید الوہیت کو صرف اللہ واحد کے لیے ثابت کرتا ہے؛ اس معنی میں کہ بندہ اس کے علاوہ کسی اور کو معبود نہ بنائے؛ یعنی: کسی بھی قسم کی الوہیت اس کے لیے انجام نہ دے: اور یہ دل کا وہ لگاؤ ہے جو اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ عبادت کی کسی بھی قسم کے ذریعے اس کا قصد کیا جائے؛ جیسے دعا، ذبح، نذر اور دیگر عبادات۔
اللہ کے بندو!
’لا الہ الا اللہ‘ کوئی ایسا نام نہیں جس کا کوئی معنی نہ ہو، یا ایسا قول نہیں جس کی کوئی حقیقت نہ ہو، یا کوئی ایسا لفظ نہیں جس کا کوئی مفہوم نہ ہو، بلکہ یہ ایک عظیم معنی رکھنے والا نام ہے، اور ایک ایسا قول ہے جس کا معنی نہایت جلیل القدر اور تمام معانی میں سب سے عظیم ہے۔ اس کا خلاصہ اللہ کے سوا ہر چیز کی عبادت سے بیزاری، اور تن تنہا صرف ایک اللہ ہی کی طرف عاجزی و انکساری، امید و رغبت، انابت و توکل، رکوع و سجود اور دعا و طلب کے ساتھ متوجہ ہونا ہے۔ چنانچہ ’لا الہ الا اللہ‘ کا قائل صرف اللہ ہی سے مانگتا ہے، صرف اللہ ہی سے فریاد کرتا ہے، صرف اللہ ہی پر توکل کرتا ہے، اللہ کے سوا کسی سے امید نہیں رکھتا، صرف اللہ ہی کے لیے قربانی کرتا ہے، اور عبودیت وبندگی کا ادنیٰ ترین حصہ بھی اللہ کے سوا کسی غیر کے لیے انجام نہیں دیتا، وہ اللہ کے علاوہ تمام معبودوں کا انکار کرتا ہے اور اللہ کے حضور ان سے بیزاری کا اظہار کرتا ہے۔ اے اللہ کے بندو! درحقیقت یہی شخص ’لا الہ الا اللہ‘ کا سچا حامل ہے، اور سچے دل سے اس کے تقاضوں کو پورا کرنے والا ہے۔
میں اپنی یہ بات کہتا ہوں اور اپنے لیے، تمہارے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے ہر گناہ سے اللہ کی مغفرت کا طلب گار ہوں، تم بھی اس سے مغفرت طلب کرو، وہ تمہیں بخش دے گا؛ یقیناً وه بہت بڑا بخشنے واﻻ اور نہایت مہربانی کرنے وﻻ ہے۔
دوسرے خطبہ کا مقدمہ
ساری تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو عظیم احسان والا، وسیع فضل، جود و سخا اور انعام و اکرام والا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل اور تمام صحابہ پر ڈھیروں درود وسلام نازل فرمائے۔
دوسرا خطبہ
اما بعد:
اے اللہ کے بندو، اللہ تعالی سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے، اور اس کی نگرانی کا اس شخص کی طرح احساس کرو جو جانتا ہے کہ اس کا رب اسے سنتا اور دیکھتا ہے۔
اللہ کے بندو!
بلاشبہ کلمہ توحید لا الہ الا اللہ کی فضیلت میں وارد ہونے والی نصوص بہت زیادہ ہیں، جو اس کلمے کی عظمتِ شان، اس کی بلند قدر و منزلت، اس کی رفعتِ شان اور اس کے ماننے والوں پر اس کی بیش بہا بھلائیوں اور برکتوں پر دلالت کرتی ہیں، لیکن بندے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس عظیم کلمۂ لا الہ الا اللہ کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے کچھ شرائط اور ایسے عظیم ضوابط ہیں جن پر عمل کرنا لازم ہے، جن پر کتاب اللہ اور نبی کریم ﷺ کی سنت دلالت کرتی ہے۔ جلیل القدر تابعی وہب بن منبہ رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا: ”کیا لا إله إلا الله جنت کی کنجی نہیں ہے؟ کہا: کیوں نہیں، لیکن کوئی بھی کنجی ایسی نہیں جس کے دندانے نہ ہوں، چنانچہ اگر تم ایسی کنجی لے کر آئے جس کے دندانے ہوں، تو تمھارے لیے کھول دیا جائے گا، ورنہ نہیں کھولا جائے گا۔“ اس سے لا إلٰہ إلا اللہ کے شروط کی طرف اشارہ ہے۔
اور حسن بصری رحمہ اللہ، جو کہ جلیل القدر تابعی ہیں، ان سے کہا گیا: ”کیا ایسا نہیں کہ جس نے ’لا الہ الا اللہ‘ کہا، وہ جنت میں داخل ہوگا؟ فرمایا: کیوں نہیں، جس نے اس کا حق اور فرض ادا کیا، وہ جنت میں داخل ہوگا۔“
اللہ کے بندو! خلاصہ کلام یہ ہے کہ کلمۂ توحید: لا إِلٰهَ إِلا اللہ کی کچھ شرطیں ہیں جنہیں ذہن نشین کرنا، ان پر پوری توجہ دینا اور انہیں عملی طور پر پورا کرنا انتہائی ضروری ہے۔ علمائے کرام رحمہم اللہ نے جب کتاب اللہ اور اس کے نبی ﷺ کی سنت میں تلاش وجستجو کی، تو یہ بات واضح ہوئی کہ لا إِلٰهَ إِلا اللہ کی سات شرطیں ہیں جن کے بغیر وہ قابل قبول نہیں۔
وہ شرطیں یہ ہیں : 1- اس کے معنی کا ایسا علم جو جہالت کے منافی ہو۔ 2- اس پر ایسا یقین جو شک و شبہ کے منافی ہو۔ 3- ایسی تصدیق جو جھوٹ کے منافی ہو۔ 4- ایسا اخلاص جو شرک اور ریا کے منافی ہو۔ 5- ایسی محبت جو بغض اور نفرت کے منافی ہو۔ 6- ایسی اطاعت جو نافرمانی کے منافی ہو۔ 7- ایسا قبول جو انکار کے منافی ہو۔
اس عظیم کلمہ کی یہ سات شرطیں ہیں، جن میں سے ہر ایک پر اللہ عز وجل کی کتاب اور اس کے نبی ﷺ کی سنت میں دسیوں دلائل موجود ہیں، اے اللہ کے بندو! ہمارے اوپر واجب ہے کہ اس کلمہ کے تئیں ہم سب سے زیادہ اور سب بڑھ کر شدت کے ساتھ اہتمام کریں۔
ہم اللہ عزوجل سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اور آپ کو اس عظیم کلمہ پر عمل کرنے، اس کی شرائط پوری کرنے اور اس کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور اس کے سبب ہمیں اور آپ کو جنت میں داخل فرمائے۔ آئیے درود و سلام بھیجیں - اللہ آپ پر رحم فرمائے - محمد بن عبداللہ پر، جیسا کہ اللہ نے اپنی کتاب میں آپ کو اس کا حکم دیا ہے، چنانچہ فرمایا: اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو۔ [الاحزاب: 56]، نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جو شخص مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالی اس کى بنا پر اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔“ [صحیح مسلم: 408]۔
اے اللہ! رحمت نازل فرما محمد پر اور آل محمد پر۔
خطبہ کا عنوان:
ایمان کی فضیلت
پہلے خطبہ کا مقدمہ
بے شک تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد چاہتے ہیں، اسی سے بخشش طلب کرتے ہیں اور اسی کے حضور توبہ کرتے ہیں، اور ہم اپنے نفس اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا، اور جسے وہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اس کے برگزیدہ، اس کے خلیل، اس کی وحی کے امین، اور لوگوں تک اس کی شریعت پہنچانے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے درود وسلام نازل ہوں آپ پر، آپ کی آل اور تمام صحابہ پر۔
پہلے خطبہ کا متن
اما بعد:
اے مومنو! اللہ کے بندو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو، بے شک جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اللہ اسے محفوظ رکھتا ہے اور دین اور دنیا کے بہترین امور کی طرف اس کی رہنمائی فرماتا ہے، اللہ عز وجل کا تقویٰ یہ ہے کہ اللہ کی رحمت کی چاہت میں، اللہ کی طرف سے عطا کردہ نور پر چلتے ہوئے اللہ کی اطاعت گزاری کی جائے، اور اللہ کے عذاب کے خوف سے، اللہ کی طرف سے عطا کردہ نور پر چلتے ہوئے اس کی نافرمانی سے دور رہا جائے۔
اللہ کے بندو!
بے شک وہ اشرف ترین چیز جو نفوس نے کمائی اور دلوں نے حاصل کی، اور جس کے ذریعے بندہ دنیا و آخرت میں بلند مقام و مرتبہ حاصل کرتا ہے، وہ ایمان ہے۔
اے اللہ کے بندو! ایمان علی الاطلاق اشرف ترین مطلب، عظیم ترین مقصد اور اعلیٰ ترین ہدف ہے۔
اے اللہ کے بندو! ایمان دنیا و آخرت میں عزت، فلاح اور درجات میں بلندی کا باعث ہے، اے اللہ کے بندو! ایمان ہی کی بدولت تم اعلیٰ ترین مقصد اور عمدہ ترین عطیہ ونوازش حاصل کرتے ہو۔
اے اللہ کے بندو! ایمان کی بدولت بندہ قیامت کے دن ایک ایسی جنت حاصل کرے گا جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کی چوڑائی کے برابر ہے، جسے مومنوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
اے اللہ کے بندو! ایمان کے ذریعے بندہ جہنم کی آگ، اس کی شدید تپش اور اس کی عمیق گہرائی سے نجات پائے گا۔
اے اللہ کے بندو! ایمان ہی کی بدولت مومن وہ سب سے اعلیٰ شرف حاصل کرتا ہے جو حاصل کیا جاسکتا ہے، اور وہ قیامت کے دن اللہ عز وجل کا دیدار ہے، جیسا کہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا: ”عنقریب تم سب قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھو گے اور اسے دیکھنے میں تمہیں کوئی زحمت نہیں ہوگى۔“ [متفق علیہ]۔
اے اللہ کے بندو! ایمان ہی کی بدولت دنیا و آخرت میں ہر خیر، کامیابی اور بلندی نصیب ہوتی ہے، اور ہر شر، بلا اور مصیبت دور ہوتی ہے۔
اللہ کے بندو!
بلاشبہ اہل ایمان پر واجب ہے کہ وہ اس بات پر اللہ جل وعلا کی کثرت سے حمد وثنا کریں کہ اس نے ان پر اپنا احسان فرمایا اور انہیں اس کی ہدایت عطا فرمائی، جیسا کہ اللہ جل وعلا نے فرمایا: ...لیکن اللہ تعالیٰ نے ایمان کو تمہارے لیے محبوب بنا دیا ہے اور اسے تمہارے دلوں میں زینت دے رکھی ہے اور کفر کو اور گناه کو اور نافرمانی کو تمہارے نگاہوں میں ناپسندیده بنا دیا ہے، یہی لوگ راه یافتہ ہیں۔ [الحجرات: 7]۔
اللہ کے بندو!
ایمان تمنا اور ظاہری آرائش کا نام نہیں، بلکہ ایمان تو وہ ہے جو دل میں رچ بس جائے اور جس کی تصدیق اعمال کریں۔
اللہ کے بندو! ایمان صحیح عقائد اور پختہ ایمانیات کا نام ہے، جن کی بنیاد اور عمارت اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، آخرت کے دن پر اور اچھی و بری تقدیر پر ایمان لانے پر قائم ہے؛ چنانچہ صحیح مسلم میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ جبریل علیہ السلام نے نبی ﷺ سے ایمان کے بارے میں سوال کرتے ہوئے عرض کیا: مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کہ تو اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے، اور یہ کہ تو اچھی اور بُری تقدیر پر ایمان لائے۔“ [صحیح مسلم: 8]۔
اللہ کے بندو! ایمان پاکیزہ اطاعت، عظیم عبادات اور متنوع قربات سے عبارت ہے، جن کے ذریعے مسلمان اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرتا ہے، اور ان عبادات کی بنیادیں پانچ ہیں جن کا بیان نبی ﷺ کی حدیث میں آیا ہے، چنانچہ آپ نے فرمایا: ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور بیت اللہ الحرام کا حج کرنا۔“ [متفق علیہ]۔
یہ پانچوں اعمال اور دین کے دیگر تمام اعمال اور شعائر سب ایمان میں داخل ہیں؛ چنانچہ صحیحین میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عبد القیس کے وفد کے نبی ﷺ کے پاس آنے کے ذکر میں جو روایت آئی ہے اس میں ہے کہ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”میں تمہیں اللہ پر ایمان لانے کا حکم دیتا ہوں، کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر ایمان لانا کیا ہے؟“ انھوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ پر ایمان لانا اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور یہ کہ تم مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ ادا کرو۔“ [متفق علیہ]۔
یہ عظیم حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ شعائرِ اسلام اور اعمالِ دین، اور مختلف قسم کی اطاعات و عبادات، یہ سب ایمان میں داخل ہیں۔
اللہ کے بندو! ایمان کی بہت سی شاخیں اور مختلف اعمال ہیں؛ ان میں سے بعض زبان سے ہوتے ہیں، بعض دل سے ہوتے ہیں، اور بعض اعضا وجوارح سے ہوتے ہیں؛ چنانچہ نبی ﷺ سے مروی حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایمان کی ستّر سے زیادہ شاخیں ہیں، جن میں سے افضل ترین شاخ لا الہ الا اللہ کہنا ہے، اور سب سے کم درجہ کی شاخ راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے اور حیا بھی ایمان کی شاخوں میں سے ایک شاخ ہے۔“ [متفق علیہ]۔
اللہ کے بندو! ایمان حرام سے دور رہنے، برائیوں سے بچنے اور گناہوں کو ترک کرنے سے عبارت ہے؛ صحیحین میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں نبی ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی زنا کرنے والا جب زنا کرتا ہے تو وہ مومن نہيں ہوتا، کوئی چوری کرنے والا جب چوری کرتا ہے تو وہ مومن نہيں ہوتا، کوئی شراب پینے والا جب شراب پیتا ہے تو وہ مومن نہيں ہوتا، اور کوئی شخص جب ایسی لوٹ مار کرتا ہے جس کی طرف لوگ نظریں اٹھائے دیکھ رہے ہوں، تو وہ مومن نہیں ہوتا۔“ [متفق علیہ]۔
یہ عظیم حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حرام کو ترک کرنا اور گناہوں سے بچنا، یہ سب ایمان کے مفہوم میں داخل ہے۔
اللہ کے بندو! ایمان تکلیف دینے سے باز رہنے، ظلم سے دور رہنے، اور عہد و پیمان اور امانتوں کو پورا کرنے کا نام ہے؛ چنانچہ نبی ﷺ کی حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مؤمن وہ ہے جس سے لوگ اپنے خون اور مال کے بارے میں خطرہ محسوس نہ کریں۔“ [ترمذی: 2627، نسائی: 4995، احمد: 8918، اور البانی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔]
اور ایک دوسری حدیث میں آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ”اس شخص کے پاس ایمان نہيں، جس کے پاس امانت داری نہ ہو۔“ [اسے احمد: 12567، بزار: 7196، اور ابو یعلی: 2863 نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، اور البانی نے اسے صحیح کہا ہے۔]
اللہ کے بندو! ایمان باہمی محبت، اخوت، شفقت اور تعاون کا نام ہے، اور نبی ﷺ کی حدیث ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا، یہاں تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند کرے، جو اپنے لے کرتا ہو۔“ [متفق علیہ]۔
اور ایک دوسری حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا: ”مومنوں کی آپس میں ایک دوسرے سے محبت و مودّت اور باہمی شفقت کی مثال ایک ہی جسم کی طرح ہے کہ جب اس کا کوئی عضو تکلیف میں ہوتا ہے، تو سارا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے، بایں طور کہ پورا جسم بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے اور نیند اڑ جاتی ہے۔“ [متفق علیہ]۔
اللہ کے بندو! ایمان کا مطلب ہے کہ اہل ایمان آپس میں باہمی ہمدردی، شفقت و تعاون کا مظاہرہ کریں اور ایک دوسرے کے لیے دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اور (ان کے لیے) جو ان کے بعد آئیں جو کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان ﻻچکے ہیں اور ایمان داروں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ (اور دشمنی) نہ ڈال، اے ہمارے رب بے شک تو شفقت ومہربانی کرنے واﻻ ہے۔ [الحشر: 10]۔
اللہ کے بندو! ایمان اللہ کی اطاعت پر استقامت، اللہ کی عبادت پر ہمیشگی و پابندی، اور موت تک اللہ کے دین پر ثابت قدم رہنے کا نام ہے؛ رسول اللہ ﷺ سفیان بن عبد اللہ ثقفی کی حدیث میں فرماتے ہیں کہ جب انہوں نے نبی ﷺ سے عرض کیا: مجھے اسلام کے بارے میں کوئی ایسی بات بتائیں جس کے بارے میں آپ کے سوا کسی سے نہ پوچھوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کہو کہ میں اللہ پر ایمان لایا، پھر اس پر ثابت قدم رہو۔“ [صحیح مسلم: 38]۔
اللہ کے بندو!
ایمان انسان کے لیے جمال، زینت اور حلاوت ہے، اسی طرح اس کے لیے ایک ایسی لذت اور چاشنی ہے جس کی کوئی نظیر نہیں؛ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اللہ کو رب، اسلام کو دین اور محمد ﷺ کو اپنا رسول تسلیم کرلیا، اس نے ایمان کی چاشنی پالی۔“ [صحیح مسلم : 34]۔
اور ایک دوسری حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا: ”تین باتیں ایسی ہیں کہ جس بندہ کے اندر پائی گئیں، اس نے ان کے ذریعہ ایمان کی حلاوت ومٹھاس کو پالیا۔ پہلی بات یہ ہے کہ اس کے نزدیک اللہ اور اس کے رسول ساری دنیا سے بڑھ کر محبوب ہوں۔ دوسری بات یہ ہے کہ وہ جس آدمی سے محبت کرتا ہو، اس سے صرف اللہ کی رضا کی خاطر محبت کرتا ہو اور تیسری بات یہ ہے کہ اسے دوبارہ کفر میں لوٹ جانا، جب کہ اللہ تعالی نے اسے اس کفر سے نکال لیا ہے، ایسے ہی ناپسند ہو، جیسے وہ یہ ناپسندکرتا ہو کہ اسے آگ میں ڈالا جائے۔“ [متفق علیہ]، ایمان باعثِ زینت اور خوبصورتی ہے؛ آپ ﷺ اپنی دعاؤں میں فرماتے تھے: ”اے اللہ! ہمیں ایمان کی زینت سے آراستہ فرما اور ہمیں ہدایت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنا۔“ [سنن نسائی: 1305، مسند احمد: 18351، اور البانی نے اسے صحیح کہا ہے۔]
اور قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ...اور تقوے کا لباس، یہ اس سے بڑھ کر ہے... [الاعراف: 26]۔
اللہ کے بندو!
یقیناً اہل ایمان کی ذمے داری ہے کہ وہ ایمان کا کما حقہ پاس و لحاظ رکھیں، اس کے مقام اور قدر و منزلت کو پہچانیں، اور اس پر ان کی توجہ تمام دوسرے معاملات کی توجہ پر مقدم ہو؛ کیونکہ یہی دنیا اور آخرت میں بھلائی، سعادت، کامیابی اور رفعت کی بنیاد ہے۔
میں یہ بات کہتا ہوں اور اللہ سے اپنے لیے، تمہارے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے ہر گناہ کی مغفرت طلب کرتا ہوں، تم بھی اس سے مغفرت طلب کرو، وہ تمہیں بخش دے گا؛ بلاشبہ وه بہت بڑا بخشنے واﻻ اور نہایت مہربانی کرنے وﻻ ہے۔
دوسرے خطبہ کا مقدمہ
ساری تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو عظیم احسان، وسیع فضل، جود و سخا اور انعام والا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر اور آپ کے تمام آل واصحاب پر درود وسلام نازل فرمائے۔
دوسرا خطبہ
اما بعد :
اے اللہ کے بندو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اسے اپنا نگہبان جانو، حاکم نے مستدرک میں عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کی حدیث سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”بے شک تم میں سے کسی کے دل میں ایمان اسی طرح پرانا ہو جاتا ہے جس طرح کپڑا پرانا ہوتا ہے، لہذا تم اللہ سے سوال کرو کہ وہ تمہارے دلوں میں ایمان کی تجدید کر دے۔“ [اسے حاکم نے مستدرک: 5، اور طبرانی نے الکبیر: 14668 میں روایت کیا ہے، اور شیخ البانی نے السلسلة الصحيحة: 1585 میں اسے صحیح کہا ہے۔]
اللہ کے بندو!
ہاں، بے شک ایمان بوسیدہ ہو جاتا ہے؛ یعنی: کمزور ہو جاتا ہے اور اس میں کمی آ جاتی ہے، اور وہ پرانا اور بوسیدہ ہو جاتا ہے جس طرح کپڑا پرانا اور بوسیدہ ہو جایا کرتا ہے، اللہ کے بندو! اس کا سبب وہ چیزیں ہیں جن میں بندہ اس زندگی میں مبتلا ہوتا ہے؛ جیسے گناہ اور معاصی کا ارتکاب کرنا، چنانچہ ان سے ایمان میں کمی آ جاتی ہے، اسی طرح فتنے اور (دین سے) پھیرنے اور روکنے والی چیزیں بھی اسے ایمان سے پھیر دیتی ہیں جس ایمان کے لیے اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا کیا اور جس کی تکمیل کے لیے اسے وجود بخشا۔
چنانچہ اللہ کے بندو! یہ مقام اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اللہ کی طرف سچے دل سے رجوع کیا جائے، اور اللہ تبارک و تعالیٰ سے گڑگڑا کر یہ دعا کی جائے کہ وہ ایمان میں اضافہ فرمائے اور اسے قوت بخشے، دل میں اس کی تجدید فرمائے، اور اسے دل میں راسخ کر دے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ پکی بات کے ساتھ مضبوط رکھتا ہے، دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی... [ابراھیم: 27]۔
اللہ کے بندو! دوسری بات یہ ہے کہ بندہ ایمان کو پختہ کرنے، اسے مکمل اور اسے بلند کرنے میں خوب جد وجہد اور کوشش کرے؛ کیونکہ ایمان مضبوط اور کمزور ہوتا اور بڑھتا اور گھٹتا رہتا ہے؛ چنانچہ عمیر بن حبیب الخطمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ ایک جلیل القدر صحابی ہیں، انہوں نے فرمایا: ”ایمان بڑھتا اور گھٹتا ہے، پوچھا گیا کہ اس کا بڑھنا اور گھٹنا کیا ہے؟ فرمایا: جب ہم اللہ کا ذکر کرتے ہیں، اس کی حمد اور تسبیح بیان کرتے ہیں تو یہ بڑھتا ہے، اور جب ہم غفلت برتتے ہیں، (ایمان وعمل کو) ضائع کرتے ہیں اور بھول جاتے ہیں تو یہ گھٹ جاتا ہے۔“
یہی وجہ ہے کہ توفیق یافتہ بندہ اس زندگی میں اپنے ایمان کو مضبوط کرنے اور اس کی کمی اور کمزوری کے اسباب سے دور رہنے کے لیے ہمیشہ کوشاں رہتا ہے۔
اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے دین کو درست کردے، جو ہمارے حالات کے تحفظ کا ضامن ہے۔
***
خطبہ کا عنوان
ایمان اور اس میں کمی وزیادتی کے اسباب
پہلے خطبہ کا مقدمہ
بے شک تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد چاہتے ہیں، اسی سے بخشش طلب کرتے ہیں اور اسی کے حضور توبہ کرتے ہیں، اور ہم اپنے نفس اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا، اور وہ جسے گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اس کے برگزیدہ اور خلیل ہیں، اس کی وحی کے امین ہیں، اور لوگوں تک اس کی شریعت پہنچانے والے ہیں۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل اور تمام صحابہ پر بے شمار درود و سلام نازل فرمائے۔
پہلا خطبہ
اما بعد:
اے اللہ کے بندو! میں آپ کو اور اپنے آپ کو تقویٰ الٰہی کی تلقین کرتا ہوں؛ کیونکہ جو اللہ کا تقویٰ اختیار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے محفوظ رکھتا ہے اور دین و دنیا کے بہترین امور کی جانب اس کی رہنمائی فرماتا ہے۔ پھر جان لیجیے، اللہ آپ پر رحم فرمائے، کہ اس زندگی میں بندے پر جس چیز کا سب سے زیادہ اہتمام کرنا واجب ہے وہ ہے: ایمان۔ کیونکہ یہی وہ بہترین سرمایہ ہے جو نفوس نے کمایا اور دلوں نے حاصل کیا، اور اسی کی بدولت بندہ دنیا اور آخرت میں بلندی سے سرفراز ہوتا ہے۔ بلکہ دنیا اور آخرت کی ہر بھلائی صحیح ایمان پر ہی موقوف ہے۔ چنانچہ یہی سب سے بڑا مطلوب، عظیم ترین مقصد اور اعلیٰ ترین ہدف ہے۔ لہٰذا اللہ کے بندو! ایمان ہی کی بدولت بندہ دونوں جہانوں میں بہترین اور پاکیزہ زندگی گزارتا ہے، آفات و مصائب، برائیوں اور سختیوں سے محفوظ رہتا ہے، اور شاندار عطیات اور وسیع انعامات حاصل کرتا ہے۔ ایمان ہی کے ذریعے وہ آخرت کا ثواب پاتا ہے؛ چنانچہ وہ ایسی جنت میں داخل ہوگا جس کی وسعت آسمان اور زمین کی وسعت کے برابر ہے، جس میں ایسی دائمی نعمتیں اور عظیم فضل ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل پر اس کا خیال گزرا۔ اللہ کے بندو! ایمان ہی کی وجہ سے بندہ اس آگ (جہنم) سے نجات پاتا ہے جس کا عذاب سخت، جس کی گہرائی عمیق اور جس کی تپش دردناک ہے۔ ایمان ہی کی بدولت بندہ اپنے رب سبحانہ و تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے، جس کے بعد وہ اس پر کبھی ناراض نہیں ہوگا اور قیامت کے دن بغیر کسی نقصان دہ تکلیف اور گمراہ کن فتنے کے اس ذاتِ کریم کے دیدار سے لطف اندوز ہوگا۔ ایمان ہی کی بدولت دل کو راحت و اطمینان نصیب ہوتا ہے، نفس کو سکون ملتا ہے اور قلب مسرور ہوتا ہے۔ جو لوگ ایمان ﻻئے ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں۔ یاد رکھو اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو تسلی حاصل ہوتی ہے۔ [الرعد: 28] ایمان کے اتنے بڑے بیش بہا فوائد، بابرکت اثرات، شاندار ثمرات اور دنیا وآخرت میں ایسی دائمی بھلائی ہے کہ جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا نہ کوئی شمار کر سکتا ہے اور نہ ہی ان کا احاطہ کر سکتا ہے۔ کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لیے پوشیده کر رکھی ہے ، جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے۔ [السجدۃ: 17]۔
اللہ کے بندو!
یقیناً ایمان ایک بابرکت درخت ہے جو بڑا نفع بخش، بیش بہا فوائد اور پھلوں والا ہے۔ اس درخت کے لگائے جانے کی ایک خاص جگہ ہے، اس کی آبپاشی کا ایک خاص انتظام ہے، اور اس کی اپنی جڑ، شاخیں اور پھل ہیں۔ جہاں تک اس کے لگائے جانے کی جگہ کا تعلق ہے، تو وہ مومن کا دل ہے، جس میں اس کے بیج اور جڑیں رکھی جاتی ہیں، اور وہیں سے اس کی ٹہنیاں اور شاخیں پھوٹتی ہیں۔ جہاں تک اس کی آبپاشی کا تعلق ہے، تو وہ وحیِ مبین یعنی اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے۔ اسی کے ذریعے اس بابرکت درخت کی آبپاشی کی جاتی ہے، اور اس کے بغیر نہ اس کی کوئی زندگی ہے اور نہ ہی کوئی نشو ونما۔ اے اللہ کے بندو! جہاں تک اس کی جڑ کا تعلق ہے، تو وہ ایمان کے چھ اصول ہیں: اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، آخرت کے دن پر اور اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لانا۔ ان اصولوں میں سب سے اعلیٰ اصول: اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان لانا ہے، یہی اس بابرکت درخت کی تمام جڑوں کی اصل ہے۔ جہاں تک اس کی شاخوں کا تعلق ہے؛ تو وہ اعمالِ صالحہ، طرح طرح کی عبادات اور تقربات ہیں جو مومن بجا لاتا ہے جیسے نماز، زکوۃ، حج، روزہ، نیکی اور حسنِ سلوک وغیرہ۔ جہاں تک اس کے ثمرات کا تعلق ہے، تو مومن دنیا و آخرت میں جو بھی بھلائی اور سعادت حاصل کرتا ہے، وہ درحقیقت ایمان ہی کے ثمرات میں سے ایک ثمرہ اور اس کے نتائج میں سے ایک نتیجہ ہے۔ جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن باایمان ہو تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے ۔ اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے۔ [النحل: 97]۔
اللہ کے بندو!
ان اوصاف میں قوت و ضعف اور کمی وزیادتی کے فرق کے اعتبار سے، لوگوں کے درمیان ایمان میں بہت زیادہ فرق پایا جاتا ہے؛ لہذا اپنے حق میں خیر خواہ مسلمان بندے کو چاہیے کہ وہ ان اوصاف کو جاننے کی بھرپور کوشش کرے، ان پر غور و فکر کرے اور پھر انہیں اپنی زندگی میں عملی جامہ پہنائے؛ تاکہ اس کا ایمان بڑھے، اس کا یقین مضبوط ہو، اور خیر و بھلائی میں اس کا حصہ بڑا ہو۔ اللہ کے بندو! اسی طرح اس پر یہ بھی لازم ہے کہ وہ خود کو ان کاموں سے محفوظ رکھے جو ایمان کو گھٹاتے اور دین کو کمزور کرتے ہیں؛ تاکہ وہ ان کے سنگین انجام اور دردناک نتائج سے محفوظ رہے۔
اللہ کے بندو!
ایمان کو بڑھانے اور اسے مضبوط کرنے کے بہت سے اسباب ہیں، جن میں سب سے اہم یہ ہیں: علمِ نافع کا حصول، قرآن کریم کی تلاوت اور اس میں تدبر، اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ اور اس کی صفاتِ عُلیا کی معرفت، دینِ حنیف یعنی اسلام کے محاسن پر غور و خوض، ہمارے نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کی سیرتوں کا مطالعہ، نیز اس وسیع کائنات اور اس میں موجود واضح نشانیوں، ظاہر وباہِر حجتوں اور روشن نشانیوں میں غور و فکر کرنا۔ ... اے ہمارے پروردگار! تو نے یہ بے فائده نہیں بنایا، تو پاک ہے پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے۔ [آل عمران: 191]، ایمان اللہ کی اطاعت میں جد وجہد اور کوشش، اس کے احکامات کی پابندی، اور اپنے اوقات کو اس کی اطاعت اور اس کے قریب کرنے والے اعمال میں صرف کرنے سے بڑھتا ہے۔ اور جو لوگ ہماری راه میں مشقتیں برداشت کرتے ہیں ہم انہیں اپنی راہیں ضرور دکھا دیں گے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ نیکو کاروں کا ساتھی ہے۔ [العنکبوت: 69]۔
اللہ کے بندو!
ایمان کو گھٹانے اور کمزور کرنے کے بہت سے اسباب ہیں؛ مومن بندے پر واجب ہے کہ وہ ان سے خبردار رہے، اور ان میں سے کسی بھی چیز میں پڑنے سے احتیاط برتے، ان میں سب سے اہم اسباب یہ ہیں: اللہ کے دین سے ناواقفیت، اس سے غفلت اور اعراض کرنا، گناہ اور معاصی کا ارتکاب کرنا، برائی کی طرف بلانے والے نفس (نفس امارہ) کی پیروی کرنا، فاسق وفاجر لوگوں کے ساتھ میل جول رکھنا، خواہشات اور شیطان کی پیروی کرنا، دنیا کے دھوکے میں آنا اور اس کے فتنوں کا اس طرح شکار ہو جانا کہ وہی انسان کی سب سے بڑی تمنا اور اس کا سب سے بڑا مقصد بن جائے۔
اللہ کے بندو
جب امت کے سلف صالحین، اس کے اولین اور بہترین لوگوں نے ایمان کی شان و عظمت اور اس کی شدید ضرورت کو بخوبی جان لیا، اور یہ کہ اس کی ضرورت کھانے، پینے اور ہوا کی ضرورت سے بھی زیادہ ہے؛ تو ایمان پر ان کی توجہ بہت زیادہ تھی اور وہ اسے ہر کام پر مقدم رکھتے تھے۔ چنانچہ وہ اپنے ایمان کی نگہداشت کرتے تھے، اپنے اعمال کا جائزہ لیتے تھے اور آپس میں ایک دوسرے کو نصیحت کرتے تھے۔
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں سے کہا کرتے تھے: ”آؤ ہم اپنے ایمان میں اضافہ کریں،“ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: ”ہمارے ساتھ بیٹھ جاؤ تاکہ ہم ایمان میں اضافہ کریں،“ اور آپ اپنی دعاؤں میں فرماتے تھے: ”اے اللہ! میرے ایمان، یقین اور سمجھ کو بڑھا دے،“ اور عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ اپنے چند ساتھیوں کا ہاتھ پکڑتے اور فرماتے: ”آؤ کچھ دیر ایمان لائیں، آؤ ہم اللہ کا ذکر کریں، اور اس کی اطاعت کے ذریعے اپنے ایمان میں اضافہ کریں، شاید کہ وہ ہمیں اپنی بخشش کے ساتھ یاد فرمائے۔“ اور ابو درداء رضی اللہ عنہ کہتے تھے: ”بندے کے تفقہ کی ایک علامت یہ ہے کہ اسے پتہ ہو کہ وہ بڑھ رہا ہے یا گھٹ رہا ہے۔“ یعنی: یہ ایمان کا حصہ ہے، بے شک بندے کی سمجھ بوجھ اس میں ہے کہ وہ شیطانی وسوسوں سے خبردار رہے کہ وہ اسے کہاں سے آتے ہیں، اور عمیر بن حبیب الخطمی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: ”ایمان بڑھتا اور گھٹتا ہے۔“ تو پوچھا گیا: اس کا بڑھنا اور گھٹنا کیا ہے؟ فرمایا: ”جب ہم اللہ عز وجل کا ذکر کرتے ہیں، اس کی حمد اور تسبیح بیان کرتے ہیں؛ تو یہ اس کا بڑھنا ہے، اور جب ہم غافل ہو جاتے ہیں، کوتاہی کرتے ہیں اور بھول جاتے ہیں؛ تو یہ اس کا گھٹنا ہے۔“ اس معنی و مفہوم میں صحابہ کرام کے بہت سے اقوال موجود ہیں۔
اللہ کے بندو!
اسی لیے توفیق یافتہ مؤمن بندہ اپنی زندگی میں دو عظیم امور اور دو جلیل القدر مقاصد کی تکمیل کے لیے ہمیشہ کوشاں رہتا ہے:
پہلا مقصد: ایمان اور اس کی شاخوں کو مضبوط کرنا اور علمی و عملی طور پر ان کو بروئے کار لانا۔ دوسرا مقصد: ظاہری اور باطنی فتنوں میں سے ان چیزوں کو دفع کرنے کی کوشش کرنا جو ایمان کے منافی ہوں، اسے توڑتی ہوں یا اس میں کمی لاتی ہوں، نیز پہلی بات میں ہونے والی کوتاہی اور دوسری بات کے ارتکاب کی جسارت کا علاج سچی توبہ کے ذریعے کرنا، وقت گزرنے سے پہلے معاملے کا تدارک کرنا، اور اللہ عز وجل کی طرف رجوع کرنے والے دل اور اسی کی جانب عاجزی سے جھکنے والے، مطمئن اور یکسو نفس کے ساتھ سچے دل سے متوجہ ہونا، جو اللہ کی رحمت کی امید رکھے اور اس کے عذاب سے ڈرے۔ اللہ کریم سے اس کے اسمائے حسنیٰ اور صفاتِ علیا کے وسیلے سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ان امور کو بروئے کار لانے اور انہیں اس طریقے سے مکمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے جس سے وہ ہم سے راضی ہو جائے، اور ہم سب کو سچا ایمان، کامل یقین اور سچی توبہ نصیب فرمائے، اور ہماری، ہمارے والدین کی اور تمام مسلم مردوں، مسلم عورتوں، مومن مردوں اور مومن عورتوں کی مغفرت فرمائے؛ بے شک وہی بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔
دوسرے خطبہ کا مقدمہ
ساری تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو عظیم احسان والا، وسیع فضل، جود و سخا اور انعام والا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل اور تمام صحابہ پر ڈھیروں درود و سلام نازل فرمائے۔
دوسرا خطبہ
امابعد! اے اللہ کے بندو!
میں تمہیں اور اپنے آپ کو اللہ کے تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں؛ کیونکہ اللہ جل وعلا کا تقویٰ فلاح کی بنیاد، اور دنیا و آخرت میں سعادت کا عنوان ہے، اللہ جل وعلا کے تقویٰ کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اللہ کے ثواب کی امید میں اللہ کی طرف سے عطا کردہ نور پر چلتے ہوئے اس کی اطاعت بجا لائے، اور اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اللہ کی طرف سے عطا کردہ نور پر چل کر اس کی نافرمانی سے اجتناب کرے۔
اے اللہ کے بندو! حاکم نے مستدرک میں اور طبرانی نے معجم کبیر میں عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے، انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک تم میں سے کسی کے دل میں ایمان پرانا ہوتا ہے جیسا کہ کپڑا پرانا ہوتا ہے، لہذا تم اللہ سے سوال کرو کہ وہ تمہارے دلوں میں ایمان کی تجدید کر دے۔“ [اس حدیث کو طبرانی نے المعجم الکبیر کے مفقود حصے میں روایت کیا ہے، اور حاکم نے 1/4 میں اسے حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے جیسا کہ ہیثمی اور البانی نے الصحیحہ 1585 میں کہا ہے]، چنانچہ نبی ﷺ نے ایمان کے متعلق بتایا کہ یہ اسی طرح پرانا ہو جاتا ہے جس طرح کپڑا پرانا ہوتا ہے، یعنی ان گناہوں اور نافرمانیوں کے سبب جن کا انسان ارتکاب کر بیٹھتا ہے، اس زندگی میں درپیش مختلف غافل کر دینے والی چیزوں اور بڑے بڑے فتنوں کے باعث یہ بوسیدہ اور کمزور ہو جایا کرتا ہے اور اس میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ یہ چیزیں ایمان کی تازگی، اس کی حرارت اور قوت کو ختم اور اس کے جمال، حسن اور رونق کو ماند کر دیتی ہیں۔ اسی لیے آپ ﷺ نے اس عظیم حدیث میں ایمان کی نگہداشت، اسے مضبوط بنانے کے لیے عمل کرنے اور اللہ تبارک و تعالیٰ سے اس میں زیادتی اور استقامت کی دعا کرنے کی رہنمائی فرمائی ہے، اللہ عز وجل فرماتا ہے: .... لیکن اللہ تعالیٰ نے ایمان کو تمہارے لیے محبوب بنا دیا ہے اور اسے تمہارے دلوں میں زینت دے رکھی ہے اور کفر کو اور گناه کو اور نافرمانی کو تمہارے نگاہوں میں ناپسندیده بنا دیا ہے، یہی لوگ راه یافتہ ہیں۔ [الحجرات: 7]۔
اے اللہ کے بندو! مومن بندے کے لیے خیر اسی میں ہے کہ وہ ایمان کے معاملے میں اپنی خیر خواہی کرے، یہ اس کے پاس سب سے قیمتی شے ہے اور اس کے نزدیک سب سے بیش قیمت سرمایہ ہے، اور یہ اللہ کی ملاقات کے لیے بہترین زادِ راہ ہے۔
اے اللہ کے بندو! عقل مند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد آنے والی زندگی کے لیے عمل کرے، اور عاجز ودرماندہ وہ ہے جو اپنے نفس کو خواہشات کے پیچھے لگادے اور اللہ سے (بڑی بڑی) آرزوئیں وابستہ کرے، اور محمد بن عبد اللہ پر درود و سلام بھیجو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں تمہیں حکم دیا ہے، چنانچہ فرمایا: اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو۔ [الاحزاب: 56]، نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جو شخص مجھ پر ایک دفعہ درود پڑھتا ہے، اس کے بدلے اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔“ [صحیح مسلم: 408]۔
***
خطبہ کا عنوان
احسان
پہلے خطبہ کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے سزاوار ہیں، میں اس پاک ذات کی ایسی حمد بیان کرتا ہوں جو اس کی ذات کے جلال اور اس کی عظیم سلطنت کے شایان شان ہو، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمدﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اور اس کی مخلوق میں سے اس کے برگزیدہ اور خلیل ہیں، اے اللہ! ہمارے نبی محمد ﷺ پر، آپ کے تمام آل واصحاب پر، اور قیامت تک اخلاص کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں پر درود، سلام اور برکتیں نازل فرما۔
پہلا خطبہ
اما بعد: اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اس کی اطاعت کرو، نیک عمل کرو، اور اپنے اعمال کو سنوارو؛ کیونکہ عمل کی درستگی اور اس کا حسن ہی بندے کے لیے دنیا و آخرت میں نجات اور فلاح کا ذریعہ ہے۔ ایسے لوگوں پر جو کہ ایمان رکھتے ہوں اور نیک کام کرتے ہوں اس چیز میں کوئی گناه نہیں جس کو وه کھاتے پیتے ہوں جبکہ وه لوگ تقویٰ رکھتے ہوں اور ایمان رکھتے ہوں اور نیک کام کرتے ہوں، پھر پرہیزگاری کرتے ہوں اور ایمان رکھتے ہوں، پھر پرہیزگاری کرتے ہوں اور خوب نیک عمل کرتے ہوں، اللہ ایسے نیکوکاروں سے محبت رکھتا ہے۔ [المائدة: 93]۔
اے مسلمانو! احسان دین کے اعلى مراتب میں سے ہے، اور احسان جس چیز میں بھی داخل ہوتا ہے اسے خوبصورت، مکمل اور عمدہ بنا دیتا ہے، اور اسے اعلی مراتب تک پہنچا دیتا ہے؛ کیونکہ بندہ جب عمل میں احسان کرتا ہے تو وہ اس میں اللہ کے لیے مخلص اور نبی ﷺ کے طریقے کے موافق ہوتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”احسان یہ ہے کہ آپ اللہ کی عبادت اس طرح کریں گویا آپ اسے دیکھ رہے ہیں، اگر آپ اسے نہیں دیکھ رہے ہیں تو بلاشبہ وہ آپ کو دیکھ رہا ہے۔“ [متفق علیہ] اس سے خشیت، خوف، ہیبت اور تعظیم لازم آتی ہے... اور یہ احسان عبادت میں اخلاص، نیز اس کی تحسین، اتمام اور اکمال میں پوری کوشش صرف کرنے کو بھی واجب کرتا ہے۔
ہر وہ دینی یا دنیاوی عمل جس میں عمل کرنے والا اپنے رب سبحانہٗ وتعالیٰ کی نگرانی کا احساس رکھے، اس میں احسان پیدا ہو جاتا ہے اور وہ عمل بہترین صورت میں انجام پاتا ہے۔ خواہ وہ ایسا عمل ہو جس کا فائدہ صرف کرنے والے ہی تک محدود ہو، جیسے اس کی نماز، تلاوت اور عبادت، یا ایسا عمل ہو جس کا فائدہ دوسروں تک بھی پہنچتا ہو، یعنی لوگوں کے ساتھ بھلائی کرنا۔ چنانچہ احسان کا مطلب ہے: کسی بھی عمل کو بہترین طریقے، عمدگی اور کمال کے ساتھ انجام دینا، اور اس کا اصل محرک یہ ہے کہ انسان خلوت اور جلوت، ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی نگرانی اور اس کے علم و نظر کا احساس رکھے۔
احسان کی سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ یہ دین کے اعلی درجات میں سے ہے؛ کیونکہ دین اسلام، ایمان اور احسان سے عبارت ہے، اور اس کا سب سے اعلى درجہ احسان ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: باعتبار دین کے اس سے اچھا کون ہے؟ جو اپنے کو اللہ کے تابع کر دے اور ہو بھی نیکو کار، ساتھ ہی یکسوئی والے ابراہیم کے دین کی پیروی کر رہا ہو۔... [النساء: 125]، مزید فرمایا: سنو! جو بھی اپنے آپ کو خلوص کے ساتھ اللہ کے سامنے جھکا دے۔ بےشک اسے اس کا رب پورا بدلہ دے گا، اس پر نہ تو کوئی خوف ہوگا، نہ غم اور اداسی۔ [البقرۃ: 112]۔
اور نیک کار خوش نصیب ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہے: یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں اور نیک کاروں کے ساتھ ہے۔ [النحل: 128]، ارشاد باری تعالی ہے: اور جو لوگ ہماری راه میں مشقتیں برداشت کرتے ہیں ہم انہیں اپنی راہیں ضرور دکھا دیں گے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ نیکو کاروں کا ساتھی ہے۔ [العنکبوت: 69]۔
احسان کرنے والے اللہ عز وجل کی محبت سے سرفراز ہوتے ہیں، اس کا ذکر بہت سی آیتوں میں آیا ہے، جن میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی ہے: ...اور احسان کرو، اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ [البقرۃ: 195]، نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا کا ثواب بھی دیا اور آخرت کے ثواب کی خوبی بھی عطا فرمائی اور اللہ تعالیٰ نیک لوگوں سے محبت کرتا ہے۔ [آل عمران: 148]۔
احسان کی ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ جنت کو اسی سے موسوم کیا گیا ہے؛ چنانچہ وہ بہترین بدلے کا گھر (دار الحسنى) ہے، اور احسان کرنے والے ہی اس کے سب سے زیادہ حق دار ہیں، چنانچہ وہی ان کا گھر اور ان کا ٹھکانہ ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: جن لوگوں نے اپنے رب کے حکم کی بجا آوری کی ان کے لیے بھلائی ہے... [الرعد: 18] یعنی: ان کے لیے جنت ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے: البتہ بے شک جن کے لیے ہماری طرف سے نیکی پہلے ہی ٹھہر چکی ہے، وه سب جہنم سے دور ہی رکھے جائیں گے۔ [الانبياء: 101] آيت میں حسنیٰ سے مراد جنت ہے، یعنی وہ جہنم سے دور رکھے جائیں گے۔
نیکو کاروں کے لیے ان کی نیکی کے بدلے جنت ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس لیے ان کو اللہ تعالیٰ ان کے اس قول کی وجہ سے ایسے باغ دے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، یہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور نیک لوگوں کا یہی بدلہ ہے۔ [المائدۃ: 85]۔
بعض اوقات اللہ تعالیٰ نیکو کاروں کے بدلے کو پوشیدہ رکھتا ہے؛ تاکہ یہ ایسا عظیم بدلہ ہو جس کا کسی انسان کے دل میں خیال تک نہ گزرے، اور سخی اور محسن اپنی سخاوت اور احسان کے مطابق بدلہ دیتا ہے، اور اللہ تعالیٰ تو تمام سخیوں سے بڑھ کر سخی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ... اور اسی طرح ہم نیک کام کرنے والوں کو جزا دیا کرتے ہیں۔ [القصص: 22]، سورہ الصافات میں اللہ تعالیٰ نے کئی انبیاء علیہم السلام کا ذکر فرمایا، ان نعمتوں کا بھی ذکر کیا جن سے اللہ سبحانہ نے انہیں نوازا اور ان مصیبتوں کا بھی جو ان سے دور فرمائیں، پھر ان میں سے ہر ایک کے قصے کے آخر میں اللہ سبحانہ نے فرمایا: ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ [الصافات: 80]، اور اللہ پاک نے سورہ الانعام میں بعض انبیاء کا ذکر فرمایا اور ان کے ذکر کا اختتام اپنے اس فرمان سے کیا: ...اور اسی طرح ہم نیک کام کرنے والوں کو جزا دیا کرتے ہیں۔ [الانعام: 84]۔
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ احسان انبیاء و رسل علیہم السلام کا عظیم فریضہ اور وصف ہے۔ ان کی طرف سے لوگوں کو توحید کی دعوت دینا، اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ شریعتوں کی پابندی کی طرف بلانا، اور اعلیٰ اخلاق اختیار کرنے کی ترغیب دینا، سب لوگوں کے ساتھ ان کی طرف سے کیا جانے والا احسان ہے۔ اسی طرح اپنی قوم کے لوگوں کی طرف سے پہنچنے والی تکلیفوں اور اذیتوں پر صبر کرنا بھی ان کے احسان میں شامل ہے۔ چنانچہ انبیاء علیہم السلام اللہ تعالیٰ کی عبادت میں بھی اور مخلوق کے ساتھ حسنِ سلوک اور بھلائی کرنے میں بھی تمام انسانوں سے بڑھ کر احسان کرنے والے ہیں۔
اور نیکوکاروں (احسان کرنے والوں) کے لیے جو عظیم ترین اجر و انعام تیار کیا گیا ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ جنت میں اللہ تعالیٰ کا دیدار کریں گے، جبکہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوگا۔ انہیں اس سے بڑھ کر کوئی نعمت عطا نہیں کی جائے گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جن لوگوں نے نیکی کی ہے ان کے واسطے خوبی ہے اور مزید برآں بھی اور ان کے چہروں پر نہ سیاہی چھائے گی اور نہ ذلت، یہ لوگ جنت میں رہنے والے ہیں، وه اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ [یونس: 26]، آیت میں حسنیٰ سے مراد جنت ہے، اور اضافی نعمت اللہ تعالیٰ کا دیدار ہے۔
نیکو کار حضرات کی نیکی کا اجر و ثواب محفوظ ہے، چنانچہ اس میں سے کوئی چیز ہرگز ضائع نہیں ہوگی، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ...یہ اس سبب سے کہ ان کو اللہ کی راه میں جو پیاس لگی اور جو تکان پہنچی اور جو بھوک لگی اور جو کسی ایسی جگہ چلے جو کفار کے لیے موجب غیظ ہوا ہو اور دشمنوں کی جو کچھ خبر لی، ان سب پر ان کے نام (ایک ایک) نیک کام لکھا گیا۔ یقیناً اللہ تعالیٰ مخلصین کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ [التوبۃ: 120]، ارشاد باری تعالی ہے: آپ صبر کرتے رہیے یقیناً اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ [ھود: 115]، نیز ارشاد باری تعالی ہے: ... ہم جسے چاہیں اپنی رحمت پہنچا دیتے ہیں۔ ہم نیکو کاروں کا ثواب ضائع نہیں کرتے۔ [یوسف: 56]۔
اور احسان کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خوشخبری دی گئی ہے: ... اسی طرح اللہ نے ان جانوروں کو تمہارے مطیع کر دیا ہے کہ تم اس کی رہنمائی کے شکریے میں اس کی بڑائیاں بیان کرو، اور نیک لوگوں کو خوشخبری سنا دیجیے! [الحج: 37]۔
معلوم ہوا کہ نیکوکاروں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا اور آخرت کی سعادت کی خوشخبری ہے، اور اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ اسی طرح بھلائی فرمائے گا جس طرح انہوں نے اس کی عبادت میں اور اس کے بندوں کے ساتھ نیکی اور بھلائی کی۔
نیکو کاروں سے مزید اجر و ثواب کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ...اور زبان سے حِطّہ کہو ہم تمہاری خطائیں معاف فرمادیں گے اور نیکی کرنے والوں کو اور زیاده دیں گے۔ [البقرۃ: 58]، اور ایک دوسری آیت میں ہے: ...اور جھکے جھکے دروازه میں داخل ہونا ہم تمہاری خطائیں معاف کردیں گے۔ جو لوگ احسان کریں گے ان کو مزید برآں اور دیں گے۔ [الاعراف: 161]۔
احسان کرنے والے (نیکو کاروں) سے تنگی دور کر دی گئی ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ انہیں اس بات کا مکلف نہیں ٹھہراتا جس کی ان میں طاقت نہ ہو، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ضعیفوں پر اور بیماروں پر اور ان پر جن کے پاس خرچ کرنے کو کچھ بھی نہیں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ وه اللہ اور اس کے رسول کی خیر خواہی کرتے رہیں۔ ایسے نیک کاروں (احسان کرنے والوں) پر الزام کی کوئی راه نہیں، اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت ورحمت واﻻ ہے۔ [التوبۃ: 91]۔
اور نیک کام کرنے والوں سے رحمن سبحانہ و تعالیٰ کی رحمت کا وعدہ کیا گیا ہے: ...اور تم اللہ کی عبادت کرو اس سے ڈرتے ہوئے اور امیدوار رہتے ہوئے۔ بے شک اللہ تعالیٰ کی رحمت نیک کام (احسان) کرنے والوں کے نزدیک ہے۔ [الاعراف: 56].
قیامت کے دن کافر خواہش کرے گا کہ کاش! وہ نیکوکار ہوتا، اور دعویٰ کرے گا کہ اگر وہ دنیا میں واپس لوٹ جائے تو نیکوکاروں کی صف میں شامل ہو جائے گا، لیکن اب اس کا دوبارہ لوٹ کر آنا قطعی ناممکن ہوگا۔ یا عذاب کو دیکھ کر کہے کاش! کہ کسی طرح میرا لوٹ جانا ہوجاتا تو میں بھی نیکو کاروں میں ہوجاتا۔ [الزمر: 58]۔
ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ایمان کو کامل بنائے، ہمارے احسان کو مزین فرمائے، ہمارے اخلاص کو مضبوط بنائے، اور ہمیں اپنے نیک اور محسن بندوں میں شامل فرمائے، بے شک وہ سننے والا اور قبول فرمانے والا ہے۔
میں اپنی یہ بات کہتا ہوں اور اپنے اور تمہارے لیے اللہ سے مغفرت کا طلب گار ہوں، تم بھی اس سے بخشش مانگو، بے شک وه بہت بڑا بخشنے واﻻ اور نہایت مہربانی کرنے وﻻ ہے۔
دوسرے خطبہ کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، پاکیزہ، کثیر اور بابرکت تعریفیں، جیسا کہ ہمارا رب پسند فرماتا ہے اور راضی ہوتا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کے آل واصحاب پر اور قیامت تک ان کی ہدایت کی پیروی کرنے والوں پر درود وسلام اور برکتیں نازل فرمائے۔
دوسرا خطبہ
اما بعد: اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اس کی اطاعت کرو، اور احسان کے زیور سے آراستہ ہو جاؤ؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے، چنانچہ فرمایا: اللہ تعالیٰ عدل کا، بھلائی (احسان) کا اور قرابت داروں کے ساتھ بہتر سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے اور بےحیائی کے کاموں، ناشائستہ حرکتوں اور ظلم وزیادتی سے روکتا ہے، وه خود تمہیں نصیحتیں کر رہا ہے کہ تم نصیحت حاصل کرو۔ [النحل: 90]، امام سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”بلاشبہ اس مقام پر عدل کا معنی یہ ہے کہ اللہ کے لیے عمل کرنے والے ہر شخص کا ظاہر اور باطن یکساں ہو، اور احسان کا معنی یہ ہے کہ اس کا باطن اس کے ظاہر سے بہتر ہو۔“
اے مسلمانو! مومن احسان کے درجے کو اس وقت پہنچتا ہے جب وہ اپنی ذات اور اللہ کی مخلوق کے معاملے میں اللہ تعالیٰ کو نگہبان جانتا ہے۔ اپنی ذات کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کی نگرانی کا احساس اس پر حرام اور مشتبہات کے دروازے بند کر دیتا ہے، اور اس کے لیے نیکیوں کے دروازے کھول دیتا ہے، چنانچہ وہ انہیں بحسن و خوبی انجام دینے اور ان میں اخلاص پیدا کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے؛ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی نگرانی کر رہا ہے۔
اور مخلوق کے معاملے میں اللہ تعالی کی نگرانی کا احساس اسے اس بات پر آمادہ کرتا ہے کہ وہ ان کے ساتھ بھلائی اور احسان کرے، انھیں تکلیف نہ دے اور نہ ان پر زیادتی کرے، ضرورت مندوں کی مدد کرے، ان کی غلطیوں سے درگزر کرے، ان کی دی ہوئی تکلیف پر صبر کرے، اور ان کے آپسی معاملات کو درست کرے۔ وہ اس سے کوئی تعریف، بڑائی، یا دنیا کی کوئی چیز نہ چاہتا ہو، بلکہ وہ اپنے اس احسان سے صرف اللہ تعالی کی رضا اور آخرت کا گھر چاہتا ہو۔
احسان کی فوری جزا میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بندہ جب عبادت میں احسان کرتا ہے تو اسے اس کی لذت حاصل ہوتی ہے، وہ اس سے خوشی محسوس کرتا ہے، اس کا مشتاق رہتا ہے، اور اس کی ادائیگی اس کے لیے آسان اور ہلکی ہو جاتی ہے، نیز اس کے دل اور حالات کی اصلاح ہو جاتی ہے۔ اور جب وہ مخلوق کے ساتھ احسان کرتا ہے، اور ان کے ساتھ اپنے اس احسان میں اللہ تعالیٰ کے لیے مخلص ہوتا ہے؛ تو وہ اس احسان کی ایک ایسی لذت پاتا ہے جو جاہ و منصب، مال و دولت اور دیگر دنیاوی لذتوں سے کہیں بڑھ کر ہوتی ہے، اس کے ساتھ ہی وہ لوگوں کی نیک دعاؤں سے اور ایسی توفیق سے فیض یاب ہوتا ہے جو اس کے تمام معاملات میں اس کے ہم رکاب رہتی ہے، اور آخرت کا اجر وثواب تو سب سے بڑا اور عظیم ترین ہے۔
اے اللہ! یقیناً ہم تجھ سے نفع بخش علم، خوف کھانے والا دل اور ذکر کرنے والی زبان مانگتے ہیں۔
***
خطبہ کا عنوان
منہجِ سلف صالحین کے اصول
پہلے خطبہ کا مقدمہ
!اے مسلمانو
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، جس نے اپنے اوپر رحمت کو لازم فرما لیا اور تمام مخلوقات پر اپنی بے شمار نعمتیں نازل فرمائیں۔ اس نے اسلام کی طرف دعوت دی، پھر اپنی حکمت و فضل سے جسے چاہا ہدایت اور توفیق سے نوازا، اور اپنی حکمت و عدل کے مطابق ان لوگوں پر حجت قائم فرمائی جنہوں نے اس کی راہ کی مخالفت کی۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، ایسی گواہی جو اس کے بندے، اس کے بندے کے بیٹے، اور اس کی بندی کے بیٹے کی گواہی ہے؛ ایسے شخص کی جو ایک پلک جھپکنے کے برابر بھی اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار اور نبی محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اس کے برگزیدہ اور خلیل ہیں۔ آپ ﷺ تمام جہانوں کے لیے اللہ کی رحمت، عمل کرنے والوں کے لیے بہترین نمونہ، اور راہِ سلوک اختیار کرنے والوں کے لیے روشن راستہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ پر، آپ کی پاکیزہ و معزز آل پر، آپ کے روشن چہروں والے بابرکت صحابہ پر، اور ان تمام تابعین و متبعین پر جو قیامت تک اخلاص کے ساتھ ان کی پیروی کریں، اپنی رحمتیں، سلامتی اور برکتیں نازل فرمائے، اور انہیں بے شمار سلامتی عطا فرمائے۔
پہلا خطبہ
اما بعد:
اے لوگو! میں تمہیں اور اپنے آپ کو اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں، چنانچہ اللہ سے ڈرو -اللہ تم پر رحم فرمائے- اور جان لو کہ سب سے سچی بات اللہ کی کتاب ہے، اور سب سے بہترین طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے، بدترین کام (دین میں) نئے نئے کام ایجاد کرنا ہے، اور (دین میں) ایجاد کردہ ہر چیز بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے، اور ہر گمراہی آگ میں لے جانے والی ہے، جو تھوڑا ہو اور کفایت کر جائے وہ اس سے بہتر ہے جو زیادہ ہو اور غافل کر دے، بے شک جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ یقیناً آنے والی ہے، اور تم (اللہ کو) عاجز کرنے والے نہیں ہو۔ ... جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ کو تمہارے دلوں کی باتوں کا بھی علم ہے، تم اس سے خوف کھاتے رہا کرو، اور یہ بھی جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ بخشش اور علم واﻻ ہے۔ [البقرۃ: 235]۔
اے مسلمانو!
بے شک عقل اور حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اس حقیقت کو سمجھے کہ اسلام کے دشمن اور اس کے خلاف تاک میں رہنے والے لوگ ہر اس دعوت کے مقابلے میں سخت موقف اختیار کرتے ہیں جو حق کی طرف بلاتی ہے، اور اسلام کے اصولوں، اس کی ثابت شدہ تعلیمات، بنیادی اقدار اور حقائق کی طرف واپسی کی دعوت دیتی ہے؛ کیونکہ یہی وہ تعلیمات ہیں جو امت میں عزت و سربلندی کا جذبہ پیدا کرتی ہیں اور اسے عظمت و قوت کی راہ پر گامزن کرتی ہیں۔ یہاں تک کہ ان میں سے ایک شخص نے کہا: ”ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں کر رہے، بلکہ ہم اس لیے جنگ کر رہے ہیں تاکہ ہم وہ اسلام قائم کر سکیں جو ہم چاہتے ہیں۔“
اور ہمارے اس عالم میں، جسے تبدیلی کی لہریں اپنی لپیٹ میں لے رہی ہیں اور چیلنجز کے طوفان اسے گھیرے ہوئے ہیں، مختلف متضاد اور باہم متصادم رجحانات کے ظہور کے وقت منہجِ اتباع کی اہمیت نمایاں ہو جاتی ہے؛ ایسے رجحانات جو تکفیر (دوسروں کو کافر قرار دینے)، لوگوں کو حق سے دور کرنے، شخصیات کی حد سے بڑھ کر تعظیم کرنے، اور جماعتی و گروہی وابستگیوں کی بنیاد پر درجہ بندی کرنے پر قائم ہیں۔
جب فکری اور اعتقادی انتشار و اختلاف بڑھنے لگے، مختلف مذاہب، مناہج، تحریکیں اور فلسفے پروان چڑھنے لگیں، تو ایسے حالات میں منہجِ اتباع نمایاں ہو جاتا ہے۔ ان مختلف راستوں کے درمیان منہجِ سلفِ صالح اپنی امتیازی خصوصیات کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے اور اس کی نشانیاں واضح ہو جاتی ہیں۔ یہ منہج اللہ تعالیٰ کی توفیق، مدد اور طاقت سے اصولوں، علمی وسائل اور درست تیاریوں کے ایسے مضبوط پہاڑ سے وابستہ ہوتا ہے جو اسے لغزشوں اور انحرافات سے محفوظ رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ حالات کے فہم، غلبہ و استحکام کے اسباب کی معرفت، نرمی، مضبوطی، رحمت اور بہترین طریقے سے مقابلہ کرنے کی صفات کو بھی اختیار کرتا ہے۔
سلف صالح، صدرِ اول کے وہ لوگ ہیں جو علم میں رسوخ رکھنے والے، نبی ﷺ کی ہدایت پر چلنے والے اور آپ کی سنت کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ ان میں سب سے مقدم رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں، جنھیں اللہ نے اپنے نبی کی صحبت کے لیے چنا، اپنے دین کے قیام کے لیے منتخب فرمایا اور انھیں امت کے ائمہ کے طور پر پسند فرمایا۔
اللہ عز وجل فرماتا ہے: اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وه سب اس سے راضی ہوئے، اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، جن میں ہمیشہ رہیں گے، یہ بڑی کامیابی ہے۔ [التوبۃ: 100]۔
سفارینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "مذہبِ سلف سے مراد وہ راستہ اور طریقہ ہے جس پر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم، تابعینِ عظام رحمہم اللہ اور ان کے بعد آنے والے وہ ائمۂ اسلام گامزن تھے جو عدل و احسان کے حاملين تھے، جن کی امامت و پیشوائی کی گواہی دی گئی، دین میں ان کے عظیم مقام و مرتبے کو تسلیم کیا گیا، اور جن کے اقوال و تعلیمات کو بعد والوں نے پہلے والوں سے نسل در نسل قبول کیا؛ ایسے ائمہ جن پر کسی بدعت کی تہمت نہیں لگائی گئی اور نہ ہی انہیں کسی ناپسندیدہ لقب سے مشہور کیا گیا۔"
اور مروزی اپنی کتاب السنۃ میں صحیح سند کے ساتھ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا: ”بے شک آج تم دین فطرت پر ہو، اور عنقریب ہی تم نئی نئی چیزیں ایجاد کر لوگے اور تمہارے لیے نئی نئی چیزیں ایجاد کی جائیں گی؛ چنانچہ جب تم (دین کے نام پر ) کوئی نئی چیز دیکھو، تو تم پہلے عہد وپیمان کو مضبوطی سے تھام لینا۔“
اور امام بغوی ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ”جس شخص کو طریقہ اختیار کرنا ہو، وہ گزرے ہوئے لوگوں کا طریقہ اختیار کرے؛ کیونکہ زندہ کے بارے میں فتنے کا اندیشہ ہے۔ وہ لوگ محمد ﷺ کے صحابہ تھے۔ اس امت میں نیک ترین دل والے، گہرے علم کے مالک اور بے تکلف لوگ تھے۔“
اور امام الحرمین عبدالملک جوینی رحمہ اللہ اپنی کتاب غیاث الامم میں سوال کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”وہ کون سا حق ہے جس پر امام قدرت پانے کے بعد عقیدے کے معاملے میں مخلوق کو پابند کرتا ہے؟“، پھر شیخ رحمہ اللہ جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں: "امام جس چیز کی سب سے زیادہ کوشش کرتے ہیں، وہ یہ ہے کہ تمام لوگوں کو سلفِ صالحین کے طریقے پر جمع کیا جائے، اس سے پہلے کہ خواہشاتِ نفس سر اٹھائے اور آراء و نظریات میں کجی پیدا ہو جائے۔ کیونکہ سلفِ صالحین لوگوں کو پیچیدہ اور پوشیدہ امور میں پڑنے، مشکل مسائل میں حد سے زیادہ غور و خوض کرنے، الجھی ہوئی باتوں میں الجھنے، اور شبہات کو جمع کرنے اور ان کے پیچھے لگنے سے منع کیا کرتے تھے۔"
اور امام ذہبی فرماتے ہیں – جیسا کہ ان کی کتاب السیر میں ہے: ”چنانچہ حافظ کو جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ متقی، ذہین، نحوی، لغوی، باحیا اور سلفی ہو۔“
سلف کا کوئی ایسا لقب نہیں جس سے وہ معروف ہوں، اور نہ کوئی ایسا نسب ہے جس کی طرف وہ اپنی نسبت کرتے ہوں، جیسا کہ کسی امام کا قول ہے، جب ان سے سنت کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے فرمایا: ”سنت وہ ہے جس کا سنت کے علاوہ کوئی نام نہیں، جب کہ ان کے علاوہ دیگر لوگ کسی قول یا قائل کی طرف منسوب ہوتے ہیں۔“
اس کی وضاحت امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں، چنانچہ ان کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا: اے ابو عبداللہ! میں آپ سے ایک مسئلہ دریافت کرتا ہوں تاکہ آپ کو اپنے اور اللہ عزوجل کے درمیان حجت بناؤں، امام مالک نے فرمایا: ”ما شاء الله لا قوة إلَّا بالله؛ سوال کرو۔“ اس نے پوچھا: ”اہلِ سنت کون ہیں؟“ فرمایا: ”اہلِ سنت وہ ہیں جن کا کوئی ایسا لقب نہیں ہے جس سے وہ پہچانے جاتے ہوں، نہ جہمی اور نہ قدری۔“
اہلِ علم فرماتے ہیں: "دراصل سلف صالح کی طرف نسبت اُسی وقت نمایاں ہوئی جب امت میں وہ فرقے ظاہر ہوئے جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اور میری یہ امت تہتر (73) فرقوں میں بٹ جائے گی۔“، پھر آپ ﷺ نے اپنی اس حدیث میں حق کا راستہ یوں بیان فرمایا: ”جس پر میں ہوں اور میرے صحابہ ہیں۔“
صحابہ اور احسان کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والے تابعین اس امت کے بہترین لوگ ہیں، وہ دین کے اعتبار سے سب سے زیادہ پاکیزہ، مقام ومرتبے کے لحاظ سے سب سے بلند اور جس طریقے پر رسول اللہ ﷺ قائم تھے اسے سب سے زیادہ جاننے والے ہیں۔
اے مسلمانو!
منہجِ سلف صالحین نہ تو کوئی محدود تاریخی دور ہے اور نہ ہی کوئی مخصوص مذہبی جماعت؛ بلکہ یہ ایک ایسا مستقل منہج ہے جو نہ کسی زمانے کا پابند ہے اور نہ ہی کسی مقام تک محدود ہے۔ اس بنا پر؛ یہ منہج نہ کوئی فرقہ ہے، نہ کوئی دھارا، نہ کوئی تحریک، اور نہ ہی کوئی سیاسی اتحاد ہے، یہ ایک منہج ہے نہ کہ کوئی جماعت۔
اس کی وضاحت یہ ہے: قوموں اور ملکوں کے اعتبار سے مسلمانوں کا ایک وسیع طبقہ اس منہج سے وابستہ ہے؛ بلکہ عام مسلمانوں میں یہی اصل ہیں۔ چناں چہ مسلمان دلیل کی اتباع کرتا ہے اور اسی کے پیچھے چلتا ہے، سلف صالح کی تعظیم کرتا ہے، ان سے محبت کرتا ہے اور ان کی اقتدا کرتا ہے، اور مسلمانوں کے ائمہ میں سے ہر امام یہی کہتا ہے: ”جب حدیث صحیح ثابت ہو جائے، تو وہی میرا مذہب ہے۔“
اور ہمارے شیخ، شیخ امام عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ کے فتاویٰ میں آیا ہے: ”سلف صالح سے مراد صحابہ کرام -رضی اللہ عنہم- اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے والے تابعین اور اتباع تابعین ہیں، جن میں حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی اور ان کے علاوہ دیگر وہ لوگ شامل ہیں جو حق پر گامزن رہے، اور جنھوں نے توحید اور اسماء و صفات کے باب میں، نیز دین کے تمام امور میں کتابِ عزیز اور سنتِ مطہرہ کو مضبوطی سے تھامے رکھا۔“
اور نظر و فہم کی کوتاہی ہے کہ سلف صالح کے منہج کو مخصوص مسائل، یا کسی مخصوص علم، یا کسی مخصوص ملک، یا کسی مخصوص گروہ تک محدود کر دیا جائے۔
کوئی بھی شخص سلف صالحین کی نمائندگی کا دعوی نہیں کرتا اور نہ ہی کوئی عالم ان کے ترجمان کے طور پر بولتا ہے۔ چنانچہ کوئی ایسی متعین جماعت نہیں ہے جو اس منہج کی نمائندگی کرتی ہو، البتہ ایسے افراد اور جماعتیں ضرور موجود ہیں جو اس منہج سے وابستہ ہیں، اس کی طرف اپنی نسبت کرتے ہیں اور سلف صالحین کے مسلک پر عمل پیرا ہونے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ بلاشبہ یہ ایک ایسا منہج ہے جو محض انتساب میں محصور نہیں، اور ظاہری انتساب کا نہ ہونا، حقیقی انتساب کی نفی نہیں کرتا؛ کیوں کہ یہ ایک منہج اور نظریہ ہے۔
یہ منہج اس سے وابستگی کا اظہار کرنے والے کچھ لوگوں کی غلطیوں کا ذمے دار نہیں ہے، بلکہ ان کے اقوال، افعال اور تصرفات انہی افراد اور ان کی جماعتوں کی طرف منسوب کیے جائیں گے، نہ کہ منہج کی طرف۔
مسلمانو!
سلف صالحین کا منہج شرعی نص، سلف صالحین کی فہم، ان کے استدلال کے طریقوں اور ان کے مصادرِ اخذ واستفادہ پر انحصار کرتا ہے، اور یہ کسی ایک مخصوص عالم کی فہم تک محدود نہیں ہے۔
منہج سلف صالحین کے اصول ومبادی کسی انسانی فکر، تاریخی حالات یا کسی مجتہد کے اجتہاد کی پیداوار نہیں ہیں؛ بلکہ ان کی بنیاد قرآن وحدیث ہے۔
اس منہج کی بعض نمایاں خصوصیات یہ ہیں: کتابِ عزیز اور صحیح وثابت احادیث کی پیروی کو لازم پکڑنا، نفسانی خواہشات اور بدعات کی پیروی سے اجتناب کرنا، جیسا کہ آپ ﷺ کا فرمان ہے: ”(یاد رکھو!) تم میں سے جو زندہ رہے گا وہ یقینا بہت اختلاف دیکھے گا۔ چنانچہ تم میری سنت کو اور میرے بعد ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کو لازم پکڑنا، انہیں دانتوں سے خوب جکڑ لینا اور (دین میں) نئے نئے کام ایجاد کرنے سے بچنا، کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے۔“ [اسے احمد (17142) اور ابن ماجہ (43) وغیرہما نے روایت کیا ہے، اور اہل علم کی ایک جماعت کے مطابق یہ حدیث صحیح ہے۔]
اس منہج کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ جماعت کے ساتھ وابستگی کا اہتمام کیا جائے، اور خوشی و ناگواری، آسانی اور مشکل ہر حالت میں معروف (نیک اور جائز) امور میں سمع و طاعت اختیار کی جائے، جیسا کہ اللہ جل شأنہ کا فرمان ہے: اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو رسول ﷺ کی اور تم میں سے اختیار والوں کی۔ پھر اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ، اللہ تعالیٰ کی طرف اور رسول کی طرف، اگر تمہیں اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے۔ یہ بہت بہتر ہے اور باعتبار انجام کے بہت اچھا ہے۔ [النساء: 59]۔
اور عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ہمیں بلایا، تو ہم نے آپ سے بیعت کی، آپ نے ہم سے جو عہد لیا اس میں یہ فرمایا: ”آپ ﷺ نے ہم سے اس بات پر بیعت لی کہ چستی وسستی میں، مشکل اور آسانی میں اور خود پر ترجیح دیے جانے کی صورت میں بھی سنیں گے اور اطاعت کریں گے۔ اور اس بات پر بیعت لی کہ ہم اقتدار کے معاملے میں اصحاب اقتدار سے تنازع نہیں کریں گے۔ (آپ نے فرمایا:) سوائے اس کے کہ تم اس میں کھلم کھلا کفر دیکھو، جس کے (کفر ہونے پر) تمھارے پاس (قرآن اور سنت سے) واضح آثار موجود ہوں“۔ [متفق علیہ]۔
یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ سمع و طاعت کی بڑی اہمیت اور عظیم اثر ہے، حالات خواہ کتنے ہی سخت کیوں نہ ہو جائیں اور راستے کتنے ہی دشوار اور تاریک کیوں نہ نظر آئیں، پھر بھی اس کی پابندی ضروری ہے۔ تاہم ایک بات جسے اچھی طرح سمجھنا اور واضح کرنا چاہیے، وہ یہ ہے کہ سمع و طاعت کا مطلب حقوق کا ضائع کرنا یا ان میں کوتاہی کرنا نہیں ہے۔ چنانچہ اطاعت اور فرمانبرداری کی پابندی کے ساتھ ساتھ لوگوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے حقوق کا مطالبہ حکمرانوں اور ذمہ دار افراد سے کریں، خواہ وہ ظالم ہوں یا عادل۔ لہٰذا سمع و طاعت کو لازم پکڑنے، بعض مظالم کے ظاہر ہونے، اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے اور ظلم کے ازالے کی کوشش کرنے کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے۔
اس منہج کی نمایاں خصوصیات میں نصح وخیر خواہی بھی ہے جس پر آپ ﷺ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے: ”دین خیر خواہی کا نام ہے۔“ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کس کی خیر خواہی کا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی، اس کی کتاب کی، اس کے رسول کی، مسلم حکمرانوں کی اور عام مسلمانوں کی۔“ [صحیح مسلم: 55]۔
اخلاص، سچائی اور دیانت داری کے ساتھ خیرخواہی کرنا، حق اور مقام ومرتبے کا پاس و لحاظ رکھنا، طعن و تشنیع اور بدنام کرنے سے، یا تفرقہ اور بغض و عناد تک پہنچانے والے راستے اختیار کرنے سے دور رہنا۔
اس منہج کی نمایاں خصوصیات میں سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بھی ہے، جیسا کہ اللہ عز شأنہ کا ارشاد ہے: تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے کہ تم نیک باتوں کا حکم کرتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو، اور اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو... [آل عمران: 110]، ایک دوسری جگہ اللہ عز وجل کا فرمان ہے: مومن مرد وعورت آپس میں ایک دوسرے کے (مددگار ومعاون اور) دوست ہیں ، وه بھلائیوں کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں، نمازوں کو پابندی سے بجا ﻻتے ہیں، زکوٰة ادا کرتے ہیں، اللہ کی اور اس کے رسول کی بات مانتے ہیں، یہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ بہت جلد رحم فرمائے گا، بے شک اللہ غلبے واﻻ حکمت واﻻ ہے۔ [التوبة: 71]، نیز اللہ تعالی کا فرمان ہے: یہ وه لوگ ہیں کہ اگر ہم زمین میں ان کے پاؤں جما دیں تو یہ پوری پابندی سے نمازیں قائم کریں اور زکوٰتیں دیں اور اچھے کاموں کا حکم کریں اور برے کاموں سے منع کریں ۔ تمام کاموں کا انجام اللہ کے اختیار میں ہے۔ [الحج: 41]۔
اور اس منہج کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ اصل ماخذ وحیِ الٰہی ہے۔ اس منہج کے پیروکار اپنی عقلوں، فہم و ادراک اور آراء کو کتاب و سنت کے سامنے پیش کرتے ہیں؛ جو بات کتاب و سنت کے موافق ہو اسے قبول کر لیتے ہیں، اور جو ان کے خلاف ہو اس سے اعراض کرتے ہیں۔ کیوں کہ شریعت کے نصوص ہی اصل بنیاد ہیں، جن کے سامنے دل جھکتے ہیں، جن پر اعتماد کیا جاتا ہے، ان کی پیروی کی جاتی ہے، نہ کہ نصوص کو اپنی خواہشات اور آراء کا تابع بنایا جاتا ہے۔ ”تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک اس کی خواہشات میری لائی ہوئی شریعت کے تابع نہ ہوجائیں۔“ [اسے ابن ابی عاصم نے اپنی کتاب ’السنة‘ میں روایت کیا ہے اور امام نووی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔]
حجت نصِ شرعی ہی ہے، نص کے ظاہر پر عمل کیا جاتا ہے، دلیل کی بنیاد پر تاویل کی طرف رجوع کیا جاتا ہے، اور نص کی حجت کو رد نہیں کیا جا سکتا خواہ وہ نص قطعی ہو یا ظنی، کتاب و سنت کی نصوص کا التزام عقل اور اس کے مقام کا انکار نہیں کرتا؛ اس لیے کہ عقل وہ سب سے عظیم نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کی ہے اور جس کے ذریعے اسے ممتاز کیا ہے، اسی کے ذریعے شرعی احکام کو جانا جاتا ہے، اور یہی مکلف ہونے کی بنیاد اور استنباط کا ذریعہ ہے۔
یہی وہ مسلکِ مستقیم ہے جو نص کے لفظ اور معنی، نیز اس کے ظاہر اور مفہوم کے درمیان توازن قائم کرتا ہے۔ یہی سلفِ صالحین کا منہج تھا کہ وہ نصوص کے ظاہری مفہوم کو اختیار کرتے تھے، اور اس کے ساتھ ساتھ ان کے اشارات، دلالات اور مقاصد سے منظم اور اصولی طریقے سے فائدہ اٹھانے کو بھی ملحوظ رکھتے تھے۔
یہ طریقہ لفظی جمود اور دور از کار و بے تکلف تاویلات میں الجھ جانے کے درمیان ایک معتدل راستہ ہے۔ یہ ایک ایسا متوازن منہج ہے جو کسی ایک پہلو کو دوسرے کی قیمت پر ضائع کرنے کی اجازت نہیں دیتا، اور نہ ہی کسی ایک جانب کو دوسری پر غالب آنے دیتا ہے۔ چنانچہ اس میں نص کے حق اور مقام کو محفوظ رکھا جاتا ہے، ساتھ ہی اس کے مفاہیم، دلالات اور مقاصد کی گہرائی کو بھی ملحوظ رکھا جاتا ہے، نیز قدیم اور جدید علوم و معارف میں سے جس قدر ممکن ہو، ان سے استفادہ بھی کیا جاتا ہے۔
امام شاطبی رحمہ اللہ اپنی کتاب [الاعتصام] میں فرماتے ہیں: ”جب عقل شریعت کی پیروکار نہ ہو، تو خواہشِ نفس اور شہوت کے سوا کچھ باقی نہیں رہتا۔“
اے مسلمانو!
اس منہج کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ تعصب صرف حق کے لیے ہو، اور اسی بات کے لیے ہو جو اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی سنت میں ثابت ہے۔ عدمِ تعصب کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ دین کے کسی بھی عالم یا امام کے لیے عصمت کا دعویٰ نہ کیا جائے، خواہ وہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ہوں یا ان کے بعد آنے والے ائمہ و علماء میں سے، بلکہ ان کے علاوہ کسی اور کے لیے تو بدرجۂ اولیٰ نہیں۔ کیوں کہ عصمت کا مقام صرف رسول اللہ ﷺ کو حاصل ہے، وہ بھی ان امور میں جن کی آپ ﷺ اللہ عزوجل کی طرف سے تبلیغ فرماتے ہیں۔
اور اسی بنا پر؛ وہ ایسے مسائل میں اختلاف سے منع نہیں کرتے جن میں اختلاف کی گنجائش ہو، جس کی بنیاد نص کے فہم، مصالح و مفاسد کے صحیح اندازے اور اہداف و مقاصد کے حصول پر ہو، بشرطیکہ اجتہاد اس کے اہل کی جانب سے اپنے درست مقام میں صادر ہوا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ سلفِ صالح آپس میں اختلاف کرتے تھے اور ایک دوسرے کو معذور سمجھتے تھے۔
اس منہج کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ صفات و اعمال کے بارے میں حکم لگانے اور معین افراد کے بارے میں حکم لگانے کے درمیان واضح فرق رکھا جاتا ہے۔ چنانچہ کسی وصف یا عمل پر حکم لگانا اور کسی مخصوص شخص پر وہ حکم نافذ کرنا ایک جیسا نہیں؛ بلکہ کسی فردِ معین کے بارے میں فیصلہ کرنے میں اس منہج کے مطابق زیادہ احتیاط، تحقیق اور تقویٰ کو ملحوظ رکھا جاتا ہے، جو اس بابرکت منہج کی معروف خصوصیات میں سے ہے۔
اس کے بعد، اے اللہ کے بندو:
کیونکہ اس منہج کی وسعت اور اس کے علمی ورثے کی فراوانی کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ کسی دوسرے میں گھل مل جائے یا اس کی نمایاں خصوصیات غیر واضح ہو جائیں۔ البتہ اس کے دائرے میں اجتہاد کی گنجائش بہت وسیع ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو توفیق عطا فرماتا ہے اور وہ سنت کے قریب ہوتا جاتا ہے اور اس کی پابندی کو لازم پکڑتا ہے، تو وہ اتباع، موافقت اور اقتدا میں زیادہ کامل ہوتا جاتا ہے۔ جتنا بندے کی صالحیت اور سنت کی پیروی میں اس کی پختگی بڑھتی ہے، اتنا ہی وہ زیادہ گہرا علم رکھنے والا، کم تکلف کرنے والا اور زیادہ بصیرت و فہم رکھنے والا ہوتا ہے۔ ساتھ ہی وہ علوم کی بنیادی اصولوں، ان کے قواعد اور ان کے بنیادی مراکز و مباحث کی رعایت بھی رکھتا ہے؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے لیے ایک مقررہ مقدار اور ایک خاص نظام رکھا ہے۔ اور ان تمام امور میں رجوع اہلِ ذکر ہی کی طرف ہوتا ہے، یعنی ان اہلِ علم کی طرف جو کتاب اللہ کے حامل اور سنتِ رسول ﷺ کے حافظ ہیں؛ تاکہ وہ لوگ جو ان سے صحیح استنباط کی صلاحیت رکھتے ہیں، ان حقائق کو جان سکیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں اشارہ کیا گیا ہے: ... حاﻻنکہ اگر یہ لوگ اسے رسول ﷺ کے اور اپنے میں سے ایسی باتوں کی تہہ تک پہنچنے والوں کے حوالے کر دیتے، تو اس کی حقیقت وه لوگ معلوم کر لیتے جو نتیجہ اخذ کرتے ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو معدودے چند کے علاوه تم سب شیطان کے پیروکار بن جاتے۔ [النساء: 83]۔
اللہ مجھے اور آپ کو قرآنِ عظیم اور محمد ﷺ کی ہدایت سے نفع پہنچائے، میں اپنی یہ بات کہتا ہوں اور اپنے لیے، آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے ہر گناہ اور خطا پر اللہ کی مغفرت کا طلب گار ہوں، آپ بھی اسی سے مغفرت طلب کریں، بے شک وہی بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔
دوسرے خطبہ کا مقدمہ
اللہ کے احسانات پر تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں، اور اس کی نعمتوں پر اسی کا شکر ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، وہ اپنی بلندیوں میں بزرگ و برتر ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار اور ہمارے نبی محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، جو اس کی مخلوق میں سب سے برگزیدہ اور اس کے اولیاء میں سب سے مقرب ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل واصحاب پر، آپ کے برگزیدہ دوستوں پر، تابعین پر اور اخلاص کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں پر اس وقت تک درود، سلام اور برکتیں نازل فرمائے جب تک اس کی زمین اور آسمان کے درمیان اس کا حکم نازل ہوتا رہے، اور روزِ قیامت تک ڈھیروں درود وسلام نازل فرمائے۔
دوسرا خطبہ
اما بعد: اے مسلمانو!
منہجِ سلف دراصل دین کی تمام شرائع اور تعلیمات کا جامع نام ہے؛ خواہ وہ توحید و ایمان سے متعلق ہوں، یا نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج، جہاد، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے۔ اسی طرح یہ تعلقات، حقوق، معاملات اور سیاست کے ان تمام پہلوؤں کو بھی شامل ہے جو اپنی حقیقی صورت، حدود اور شرائط کے ساتھ شریعت میں بیان ہوئے ہیں۔ یہ سارے امور ایک مکمل وحدت کی صورت میں منہجِ سلف کا حصہ ہیں، ان میں کوئی تفریق نہیں۔
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ ایک جامع قول میں فرماتے ہیں جسے امام آجری نے کتاب الشریعہ میں نقل کیا ہے: "رسول اللہ ﷺ اور آپ کے بعد اولو الامر نے کچھ سنتیں مقرر فرمائی ہیں؛ ان پر عمل کرنا کتاب اللہ عزوجل کی اتباع، اللہ کی اطاعت کی تکمیل اور دینِ الہی پر قوت و مضبوطی کا باعث ہے۔ کسی بھی مخلوق کے لیے ان سنتوں کو بدلنے یا ان میں ردو بدل کرنے کی گنجائش نہیں، اور نہ ہی کسی ایسی چیز کی طرف توجہ دینا جائز ہے جو ان کے خلاف ہو۔ جس شخص نے ان کے ذریعے ہدایت طلب کی، وہی ہدایت یافتہ ہے، اور جس نے ان کے ذریعے مدد چاہی، وہ کامیاب ہوگا، اور جس نے انہیں ترک کر دیا، تو اس نے مومنوں کے راستے کے سوا کسی اور راستے کی پیروی کی؛ چنانچہ اللہ اسے اسی طرف پھیر دے گا جدھر وہ پھر گیا اور اسے جہنم رسید کرے گا، اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔"
اہلِ علم کے ائمہ اور ان کے بڑے پیشوا مجدد ہوتے ہیں، نئے دین کے بانی نہیں ہوتے۔ پس ہر وہ دعوت جو شرعی نصوص کی عظمت کو برقرار رکھے، ان کے صحیح مفاہیم کی حفاظت کرے، غلو کرنے والوں کی تحریفات، جاہلوں کی بے جا تاویلات، اور باطل پرستوں کی غلط نسبتوں سے ان کی حفاظت کرے، وہی حق کی دعوت ہے۔
کسی شخص کے طرزِ عمل کو اعتدال، میانہ روی اور وسعتِ نظر کا حامل اسی وقت کہا جا سکتا ہے جب وہ افراط و تفریط کی دونوں صورتوں سے محفوظ ہو؛ یعنی ایک طرف سختی، شدت پسندی اور بے جا تکلف سے، اور دوسری طرف بے قیدی، کمزوری اور حقائق میں گھل مل جانے سے۔ احکام کے معاملے میں ذاتی خواہشات، نفسانی رجحانات اور شخصی آراء کو شامل کرنا ایسا طرزِ عمل ہے جس کا نہ علم سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی فکری آزادی سے کوئی نسبت۔
چنانچہ اگر کوئی عالم کسی ایسی چیز کو حرام قرار دے جسے کوئی دوسرا حلال سمجھتا ہو، یا کسی ایسے عمل کو واجب قرار دے جسے اس کا ہم عصر عالم مستحب گردانتا ہو، تو اسے متشدد قرار نہیں دیا جا سکتا؛ کیونکہ ایسا کہنا نہ تو علم ہے اور نہ ہی علم سے متصف ہونا، چہ جائیکہ اس کا یہ موقف جمہور اہلِ علم کا قول ہو۔
سن لو! اللہ سے ڈرو - اللہ تم پر رحم کرے - اور سیدھے راستے کو لازم پکڑو، اور سنت کو اختیار کرو، اور اولین ہدایت کو مضبوطی سے تھام لو۔
پھر ہدیۂ رحمت اور عطا کردہ نعمت، یعنی اپنے نبی محمد رسول اللہ ﷺ پر درود و سلام بھیجو؛ کیونکہ تمہارے رب نے اپنی محکم کتاب میں تمہیں اس کا حکم دیا ہے، چنانچہ اس نے فرمایا اور وہ اپنی بات میں سب سے سچا ہے : اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو۔ [الاحزاب: 56]۔
***
خطبہ کا عنوان
اہلِ سنت و الجماعت کی امتیازی خصوصیات
پہلے خطبہ کا مقدمہ
بے شک تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد چاہتے ہیں اور اسی سے ہدایت طلب کرتے ہیں، ہم اپنے نفس کی برائیوں اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے وہی ہدایت یافتہ ہے، اور جسے وہ گمراہ کردے، تو آپ اس کے لیے کوئی کارساز راہنما نہیں پائیں گے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل اور تمام اصحاب پر اور ان کی پیروی کرنے والوں پر ڈھیروں درود وسلام نازل فرمائے۔
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہیے اور دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا۔ [آل عمران: 102]، اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کرکے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں، اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو۔ بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے۔ [النساء: 1]، اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سیدھی سیدھی (سچی) باتیں کیا کرو۔ تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے کام سنوار دے اور تمہارے گناه معاف فرما دے، اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرے گا اس نے بڑی مراد پالی۔ [الاحزاب: 70-71]۔
پہلا خطبہ
امّا بعد: سب سے اچھی بات کتاب اللہ ہے، سب سے بہتر طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے، بدترین امور (دین کے نام پر ایجاد کردہ) نت نئی چیزیں ہیں، اور ہر نت نئی چیز بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے، اور ہر گمراہی آگ میں لے جانے والی ہے۔
اے اللہ کے بندو! بے شک اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں اس کی جو سنتیں جاری ہیں‘ ان میں سے ایک اختلاف کی سنت ہے، اللہ تعالیٰ نے اس سے کسی بھی امت کو مستثنیٰ نہیں رکھا، اور نبی ﷺ نے خبر دی ہے "کہ یہ امت اسی طرح بٹ جائے گی جس طرح اس سے پہلے کی امتیں بٹ گئی تھیں، اور یہ تہتر (73) فرقوں میں بٹ جائے گی، اور سوائے ایک فرقے کے سارے فرقے جہنم میں ہوں گے۔" [سنن ابی داود: 4596، جامع ترمذی: 2640، مسند احمد: 8377، اور اس کی سند صحیح ہے۔]
اللہ کے بندو! بلاشبہ نجات پانے والا یہ واحد فرقہ اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے نبی ﷺ کی سنت کو مضبوطی سے تھامنے والا فرقہ ہے، اور اس راستے پر چلنے والا ہے جس پر نبی ﷺ اور آپ کے صحابۂ کرام قائم تھے۔ یہی اہل سنت والجماعت کا فرقہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ کے عذاب اور اس کی ناراضی سے نجات پانے والا ہے، ان لوگوں کے برخلاف جنہوں نے تحریف کی اور بدل ڈالا، اور اپنے رب تبارک و تعالیٰ کے راستے سے انحراف کیا۔ نبی ﷺ نے اس فرقۂ ناجیہ کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”جس پر آج میں ہوں اور میرے صحابہ ہیں۔“
اے مسلمانو!
ایسے حالات میں یہ بات بہت اہم ہے کہ اہلِ سنت والجماعت کے منہج کی خصوصیات، امتیازی اوصاف اور نمایاں علامات کو واضح کیا جائے؛ تاکہ اہلِ سنت خود اس منہج سے انحراف نہ کریں اور تفرقہ و اختلاف کی آزمائش میں مبتلا نہ ہوں۔
بلاشبہ اہلِ سنت و الجماعت کی نمایاں ترین علامات و خصوصیات میں سے چند یہ ہیں:
بے شک وہ اعتدال و میانہ روی کے حامل ہیں، چنانچہ ان کا منہج افراط و تفریط اور غلو و جفا کے درمیان ایک متوازن راستہ ہے؛ خواہ وہ عقیدے کا باب ہو یا احکام اور سلوک کا، وہ امت کے تمام فرقوں کے درمیان ایک معتدل راہ پر قائم ہیں؛ جیسا کہ یہ امت تمام ملتوں کے درمیان ایک معتدل امت ہے، اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے: ہم نے اسی طرح تمہیں عادل امت بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواه ہوجاؤ اور رسول ﷺ تم پر گواه ہوجائیں... [البقرۃ: 143]۔
ابن تیمیہ رحمہ اللہ اپنی کتاب [منہاج السنۃ النبویۃ] میں فرماتے ہیں: ”اہلِ سنت اسلام کے تمام امور میں اعتدال اور میانہ روی اختیار کرنے والے ہیں۔ چنانچہ وہ خوارج اور روافض کے درمیان ایک معتدل راستے پر ہیں۔ اسی طرح تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں بھی ان کا موقف ان لوگوں کے درمیان ہے جو ان کے بارے میں غلو کرتے ہیں اور ان لوگوں کے درمیان جو ان پر طعن و تشنیع کرتے ہیں، وعید کے باب میں وہ خوارج و معتزلہ اور مرجئہ کے مابین ہیں، اور قدر کے باب میں وہ معتزلہ وغیرہ کے فرقۂ قدریہ اور جہمیہ وغیرہ کے فرقۂ قدریہ مجبرہ کے مابین ایک درمیانی موقف رکھتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کی صفات کے باب میں وہ معطلہ (جو صفاتِ الٰہی کا انکار یا تاویل کرتے ہیں) اور ممثلہ (جو اللہ تعالیٰ کی صفات کو مخلوق کی صفات کے مشابہ قرار دیتے ہیں) کے درمیان راہِ اعتدال اختیار کرتے ہیں۔“
اہلِ سنت و الجماعت کی خصوصیات میں سے یہ بھی ہے: دین اخذ کرنے میں صرف کتاب و سنت پر اکتفا کرنا، ان پر توجہ دینا اور ان کی نصوص کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا۔ چنانچہ وہ اپنے عقائد، عبادات، معاملات، طرزِ زندگی اور اخلاق اسی شیریں چشمے سے اخذ کرتے ہیں۔ چنانچہ ہر وہ بات جو کتاب و سنت کے موافق ہو، وہ اسے قبول کرتے اور ثابت مانتے ہیں، اور ہر وہ بات جو ان دونوں کے خلاف ہو، اسے اس کے کہنے والے پر رد کر دیتے ہیں، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے: اور (دیکھو) کسی مومن مرد و عورت کو اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ آجانے کے بعد اپنے کسی امر کا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا ، (یاد رکھو) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی جو بھی نافرمانی کرے گا وه صریح گمراہی میں پڑے گا۔ [الاحزاب: 36]۔
اہلِ سنت والجماعت نے رسول اللہ ﷺ کی اس وصیت کو اختیار کر کے سعادت حاصل کی، جس میں آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میری سنت کو اور میرے بعد ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کو لازم پکڑنا، انہیں داڑھوں سے پکڑ لینا اور دین میں نئے نئے کام ایجاد کرنے سے بچنا، کیوں کہ دین میں ایجاد کردہ ہر چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔“ [اسے احمد (17142) اور ابن ماجہ (43) وغیرہ نے روایت کیا ہے، اور یہ حدیث اہل علم کی ایک جماعت کے نزدیک صحیح ہے۔]
ایمان والو!
بلاشبہ اہلِ سنت والجماعت شرعی نصوص کی تعظیم کرتے ہیں، اور ان کے سامنے مکمل طور پر سرِ تسلیم خم کرتے ہیں، خواہ ان کی حکمت ان کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ وہ شرعی نصوص کو اپنی عقلوں پر پیش نہیں کرتے، بلکہ اپنی عقلوں کو نصوص کے تابع رکھتے ہیں، اور نصوص کو اسی طرح سمجھتے ہیں جس طرح سلف صالحین نے ان کو سمجھا ہے۔ چنانچہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے آگے نہیں بڑھتے، اس لیے کہ وہ رسولِ ہدایت ﷺ کی ہدایت کے متبع اور آپ ﷺ کے فرماں بردار ہیں، وہ وحی کی محکم باتوں پر عمل کرتے ہیں، اس کی متشابہ باتوں پر ایمان لاتے ہیں اور تمام معاملات کو اللہ ہی کی طرف لوٹا دیتے ہیں؛ اہلِ سنت والجماعت کا رسول اللہ ﷺ کے سوا کوئی ایسا قابلِ تعظیم امام نہیں ہے جس کی ہر بات کو وہ تسلیم کریں اور جو اس کے خلاف ہو اسے چھوڑ دیں؛ چناں چہ آپ ﷺ ہی ان کے قابل اتباع امام ہیں اور جو بات آپ ﷺ سے صحیح ثابت ہو جائے وہ کبھی اس کی مخالفت نہیں کرتے۔ وہ آپ ﷺ کے احوال، اقوال اور افعال کو تمام لوگوں سے زیادہ جاننے والے ہیں۔ ان کے نزدیک رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی کے لیے بھی عصمت نہیں ہے، چناں چہ رسول اللہ ﷺ کے علاوہ ہر شخص کی بات لی بھی جاسکتی ہے اور چھوڑی بھی جاسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سنت سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے، اس کی اتباع کے سب سے زیادہ حریص اور اہلِ سنت سے سب سے زیادہ دوستی رکھنے والے ہیں۔
اور ان کی بعض صفات یہ ہیں: دین میں بحث و مباحثہ، کٹ حجتی اور لڑائی جھگڑوں کو ترک کرنا، ایسے لوگوں سے کنارہ کشی اختیار کرنا اور پورے کے پورے دین میں داخل ہونا۔
ان کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اسلام اور سنّت کے علاوہ ان کا کوئی دوسرا نام اور شعار نہیں ہوتا، اور وہ ایسے ناموں، شعاروں اور القاب سے راضی نہیں ہوتے جو ان کے درمیان تفریق اور انتشار کا باعث بنیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے: ...اسی اللہ نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے۔ اس قرآن سے پہلے اور اس میں بھی تاکہ پیغمبر تم پر گواه ہو جائے اور تم تمام لوگوں کے گواه بن جاؤ۔... [الحج: 78]۔
ان کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ اہلِ جماعت ہیں، آپ کو اہلِ سنت سے نکلنے والا کوئی بھی گمراہ فرقہ ایسا نہیں ملے گا جو افتراق وانتشار کا شکار ہو کر دسیوں دیگر فرقوں اور گروہوں میں پارہ پارہ نہ ہو گیا ہو، لیکن اہلِ سنت و الجماعت نبی ﷺ کی سنت کی اتباع اور سلفِ امت کے اجماع پر متفق رہے، چناں چہ وہ حق پر اور ہر قسم کی آمیزش سے پاک عقیدے پر قائم ہیں۔
میں اپنی یہ بات کہتا ہوں اور اللہ سے اپنے لیے اور تمہارے لیے ہر گناہ کی بخشش مانگتا ہوں، تم بھی اس سے بخشش مانگو؛ وه بہت بڑا بخشنے واﻻ اور نہایت مہربانی کرنے وﻻ ہے۔
دوسرے خطبہ کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور درود وسلام ہو اللہ کے رسول ﷺ پر۔
دوسرا خطبہ
اما بعد: اہلِ سنت و الجماعت کی خصوصیات میں سے یہ بھی ہے کہ وہ دین کے علاوہ کسی اور بنیاد پر نہ دوستی رکھتے ہیں اور نہ عداوت۔ چنانچہ وہ ہر اس شخص سے محبت کرتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہے، خواہ اس کا وطن کتنا ہی دور ہو، زبان عجمی ہو اور رنگ مختلف ہو، اور وہ ہر اس شخص سے عداوت رکھتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے عداوت رکھتا ہے، خواہ وہ قریب ترین شخص ہی کیوں نہ ہو۔
بلاشبہ وطن، نسل، رنگ، زبان، عصبیت اور نسب کی بنیاد پر دوستی اور دشمنی، دورِ جاہلیت کی وہ میراث ہے جسے اسلام نے اپنے قدموں تلے روند دیا۔
اہلِ سنت و الجماعت لوگوں میں سب سے اچھے اخلاق والے ہیں، اللہ تبارک و تعالیٰ کی اطاعت کے ذریعے اپنے نفس کے تزکیہ کے سب سے زیادہ حریص ہیں، سب سے زیادہ وسیع النظر اور دور اندیش ہیں، اختلاف کے معاملے میں سب سے زیادہ کشادہ ظرف ہیں اور اس کے آداب و اصول کو سب سے زیادہ جاننے والے ہیں۔ امام صابونی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب [عقيدة السلف أهل الحديث] میں فرمایا: اہل سنت کی ایک علامت ائمہ سنت اور اس کے علماء، اور اس کے انصار واولیاء سے محبت کرنا، اور بدعت کے ان پیشواؤں سے بغض رکھنا ہے جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں اور اپنے پیروکاروں کو ہلاکت کے گھر کا راستہ دکھاتے ہیں۔ بلاشبہ اللہ سبحانہ نے اہل سنت کے دلوں کو علمائے سنت کی محبت سے مزین اور منور کر دیا ہے، یہ اللہ جل جلالہ کی طرف سے خاص فضل اور احسان ہے۔
ان کی ایک علامت یہ بھی ہے: مسلمانوں کے لیے فکر مند رہنا، تمام مسلمانوں کے ساتھ بھلائی کرنا اور ان کے حقوق ادا کرنا اور انہیں اذیّت پہنچانے سے اجتناب کرنا، ابن تیمیہ نے اپنی کتاب ’منہاج السنۃ النبویۃ‘ نے میں ان کے بارے میں فرمایا: ”وہ حق کو سب سے زیادہ جاننے والے اور مخلوق پر سب سے زیادہ رحم کرنے والے ہیں۔“
اہل سنت والجماعت کو اللہ نے غلو اور تکفیر کے فتنے سے محفوظ رکھا ہے؛ چنانچہ وہ ایک دوسرے کی تکفیر نہیں کرتے، اور نہ ہی مسلمانوں کے خون اور ان کی حرمتوں کو حلال سمجھتے ہیں۔ وہ تکفیر کا معاملہ اللہ، اس کے رسول اور معتبر اہل علم کی طرف لوٹاتے ہیں، اس لیے وہ اپنی خواہشات اور آراء کی بنیاد پر کسی کو کافر قرار نہیں دیتے، بلکہ اس سلسلے میں نصوصِ وحی کے پابند رہتے ہیں۔
ان کی ایک صفت یہ بھی ہے: عدل وانصاف کا دامن تھامے رکھنا۔ اسی لیے وہ نہ دوستی میں غلو کرتے ہیں اور نہ دشمنی میں حد سے تجاوز کرتے ہیں، اور وہ کسی کے بارے میں اس وقت تک فیصلہ نہیں کرتے جب تک کہ اس کی بات سن نہ لیں اور اس کے معاملے کی تحقیق نہ کر لیں، اور وہ صرف ایک فریق کی بات تسلیم نہیں کرتے، خاص طور پر ہم عصروں کے درمیان۔
ان کے نزدیک عدل و انصاف سے متعلق ایک قاعدہ یہ بھی ہے کہ وہ اہل فضیلت کے فضل کا پاس ولحاظ رکھتے ہیں اور ان کی خوبیوں کا ذکر کرتے ہیں، خواہ بعض معاملات میں ان سے اختلاف ہی کیوں نہ ہو۔
اے اللہ! ہمیں اہل سنت والجماعت میں سے بنا، اور ہمارا حشر صاحبِ شفاعت کے جھنڈے تلے فرما، ہمیں ان کی سنت پر زندہ رکھ، اور ان کی ملت پر موت دے، ہمیں دنیا میں ان کی شریعت کی نصرت کرنے والوں میں سے، اور آخرت میں ان کی شفاعت سے سرفراز ہونے والوں میں سے بنا دے۔
یہ بات ذہن نشین رہے؛ اور رسول اللہ ﷺ پر درود و سلام بھیجیں...
***
خطبہ کا عنوان
سنت کی اتباع اور اس کی تعظیم کا وجوب
پہلے خطبہ کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد چاہتے ہیں، اسی سے بخشش طلب کرتے ہیں، اور اپنے نفس کی اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا، اور وہ جسے گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔
امّا بعد.. سب سے سچی بات کلام اللہ ہے، سب سے بہتر طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے، بدترین امور (دین کے نام پر) ایجاد کردہ نت نئی چیزیں ہیں، (دین میں ایجاد کردہ) ہر نئی چیز بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے، اور ہر گمراہی آگ میں لے جانے والی ہے۔
پہلا خطبہ:
اما بعد.. اے اللہ کے بندو! بے شک اللہ عز وجل نے اپنے رسول ﷺ کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ مبعوث فرمایا تاکہ اس دین کو تمام ادیان پر غلبہ عطا کرے، اور آپ پر اپنی وحی اور کتاب نازل فرمائی تاکہ آپ لوگوں تک وہ دین پہنچا دیں جو ان کے رب کی طرف سے ان کے لیے نازل کیا گیا ہے، اللہ عز وجل کا ارشاد ہے: ...یہ ذکر (کتاب) ہم نے آپ کی طرف اتارا ہے کہ لوگوں کی جانب جو نازل فرمایا گیا ہے آپ اسے کھول کھول کر بیان کر دیں، شاید کہ وه غور وفکر کریں۔ [النحل: 44]، اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہمیں اپنے رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ [آل عمران: 132]۔
ہمیں اختلاف کے وقت آپ ﷺ کی سنت کی طرف رجوع کرنے اور اپنے اختلافات کو آپ ﷺ کی طرف لوٹانے کا حکم دیا گیا ہے؛ چنانچہ اللہ جل شأنہ نے فرمایا: اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو رسول ﷺ کی اور تم میں سے اختیار والوں کی۔ پھر اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ، اللہ تعالیٰ کی طرف اور رسول کی طرف، اگر تمہیں اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے۔ یہ بہت بہتر ہے اور باعتبار انجام کے بہت اچھا ہے۔ [النساء: 59]۔
سنتِ نبوی ﷺ حجت اور عمل کے اعتبار سے قرآنِ کریم کے ساتھ لازم و ملزوم ہے۔ قرآنِ کریم میں جو احکام مطلق طور پر بیان ہوئے ہیں، ان کی وضاحت سنتِ نبوی ﷺ کے ذریعے معلوم ہوتی ہے، اور کتاب اللہ میں جو امور مجمل طور پر آئے ہیں، ان کی تفصیل بھی سنتِ رسول ﷺ ہی میں موجود ہے۔ ...اور ہر ہر چیز کو ہم نے خوب تفصیل سے بیان فرما دیا ہے۔ [الاسراء: 12]، سنت ہی کے ذریعے ہمیں نماز کا طریقہ اور اس کے ارکان و رکعات کی تعداد معلوم ہوئی، اور اسی سے ہمیں زکوٰۃ کے نصاب اور اس کی مقداریں معلوم ہوئیں، اور بقیہ احکام، اوامر اور نواہی کی تفصیلات بھی ہمیں سنت سے ہی معلوم ہوئیں۔ چنانچہ جس نے سنت کی پیروی کی اور اس پر عمل کیا؛ تو اس نے کتابِ عظیم پر عمل کیا، اور جس نے رسول ﷺ کی اطاعت کی اس نے اللہ عزوجل کی اطاعت کی، اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے: اس رسول ﷺ کی جو اطاعت کرے اسی نے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی اور جو منھ پھیر لے تو ہم نے آپ کو کچھ ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔ [النساء: 80]۔
صحیحین میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس نے میری اطاعت کی، اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی، اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی۔“
اے اللہ کے بندو! بلاشبہ امت جن آزمائشوں میں مبتلا ہے ان میں سے یہ بھی ہے کہ لوگوں کی ایک جماعت سنت کے مقام ومرتبہ کو کم جانتی ہے اور اس پر انسانی اقوال کو مقدم رکھتی ہے، بلکہ ان میں سے بعض تو حد سے تجاوز کر گئے اور اس کا مذاق اور استہزاء کرنے لگے، اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک خطرناک لغزش، بہت بڑا جرم اور اسے کہنے والے یا اسے سن کر اس کا انکار نہ کرنے والے پر ایک سنگین گناہ ہے، اللہ عز وجل کا فرمان ہے: ...کہہ دیجیے کہ اللہ، اس کی آیتیں اور اس کا رسول ہی تمہارے ہنسی مذاق کے لیے ره گئے ہیں؟ تم بہانے نہ بناؤ یقیناً تم اپنے ایمان کے بعد بے ایمان ہوگئے... [التوبہ: 65-66]، اللہ جل شأنہ کسی ایسے شخص کی اطاعت کا حکم نہیں دیتا جس کا حکم قبول نہ کیا جائے، اور نہ ہی کسی ایسے شخص کی پیروی کا حکم دیتا ہے جس کے طریقے کو حجت نہ مانا جائے۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے: اے ایمان والے لوگو! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرتے رہا کرو... [الحجرات: 1]، اللہ سبحانہ نے ہمارے نبی ﷺ کی لائی ہوئی شریعت میں ہدایت و رحمت اور حق و وضاحت رکھا ہے، اللہ عز وجل کا ارشاد ہے: اس کتاب کو ہم نے آپ پر اس لیے اتارا ہے کہ آپ ان کے لیے ہر اس چیز کو واضح کر دیں جس میں وه اختلاف کر رہے ہیں اور یہ ایمان والوں کے لیے رہنمائی اور رحمت ہے۔ [النحل: 64]۔
اے اللہ کے بندو! اس بات کی بہت سی دلیلیں موجود ہیں کہ ہدایت و استقامت، رحمت و نور اور نجات و سلامتی، یہ سب ہمارے نبی ﷺ کی سنت کی اتباع کرنے، آپ ﷺ کے طریقے کو اختیار کرنے، آپ ﷺ کی شان کی تعظیم کرنے اور آپ ﷺ جو کچھ لے کر آئے اس پر سچے دل سے ایمان لانے سے حاصل ہوتی ہیں۔ اور تمام تر شر آپ ﷺ کی سنت اور طریقے کی مخالفت اور اس سے روگردانی کرنے میں ہے۔ اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: آپ کہہ دیجیے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا ہوں، جس کی بادشاہی تمام آسمانوں اور زمین میں ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کے ﻻئق نہیں، وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے، سو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاؤ اور اس کے نبی امی پر جو کہ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہیں، اور ان کا اتباع کرو تاکہ تم راه پر آجاؤ۔ [الاعراف: 158]؛ اسی لیے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہمیں سنتِ نبوی اور اس میں وارد اوامر و نواہی کی مخالفت کرنے سے خبردار کیا ہے، چنانچہ جس کسی نے اس میں سے کسی چیز کا انکار کیا، یا اسے جھٹلایا، یا اس میں ثابت شدہ کسی بات پر شک کیا؛ تو وہ کفر اور گمراہی کی کھائی میں جا گرا، اور اسلام اور ایمان کے دائرے سے خارج ہو گیا۔ اللہ عزوجل نے فرمایا: سنو جو لوگ حکم رسول کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آ پڑے یا انہیں درد ناک عذاب نہ پہنچے۔ [النور: 63]۔
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جانتے ہو فتنہ کیا ہے؟ (سنو) اس سے مراد ’شرک‘ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ جو انسان آپ ﷺ کی بات کو چھوڑ دے، اس کے دل میں کجی آجائے اور وہ ہلاک ہوجائے۔“
اللہ کے بندو! بلاشبہ کتاب اور سنت دو لازم و ملزوم بنیادیں ہیں؛ ہر مسلمان پر واجب ہے کہ ہمارے نبی کریم ﷺ نے جس بات کا حکم دیا اور جو کچھ آپ ﷺ لے کر آئے، اسے مضبوطی سے تھام لے، اور جس چیز سے آپ ﷺ نے منع فرمایا اور خبردار کیا، اس سے اجتناب کرے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا: ...اور تمہیں جو کچھ رسول دے لے لو، اور جس سے روکے رک جاؤ... [الحشر: 7]، مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”خبردار! مجھے کتاب اور اس کے ساتھ اسی کے مثل دیا گیا ہے، خبردار رہو! قریب ہے کہ کوئی شکم سیر آدمی اپنی مسند پر بیٹھا ہو اور کہے: تم اس قرآن کو لازم پکڑو، اس میں جو چیز تم حلال پاؤ اسی کو حلال سمجھو، اور اس میں جو چیز تم حرام پاؤ اسی کو حرام جانو۔“ [اسے احمد (17174)، ابو داود (4604) اور طبرانی نے الکبیر (20/ 668) میں روایت کیا ہے اور البانی نے اسے صحیح کہا ہے۔]
ابن ابی رافع اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میں تم میں سے کسی کو ہرگز اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ اپنی مسند پر ٹیک لگائے بیٹھا ہو، اس کے پاس میرے احکام میں سے کوئی حکم آئے جس کا میں نے حکم دیا ہو یا جس سے میں نے منع کیا ہو، تو وہ کہے: ہم نہیں جانتے، جو کچھ ہم نے اللہ کی کتاب میں پایا، ہم نے اس کی اتباع کی۔“ [اسے ابو داود (4605)، ابن ماجہ (13) اور ترمذی (2854) نے روایت کیا ہے، اور البانی نے اسے صحیح کہا ہے۔]
لہٰذا ہم پر فرض ہے کہ ہم کتاب وسنت کی اتباع کریں اور ان دونوں کے درمیان فرق نہ کریں۔
اللہ میرے اور آپ کے لیے قرآنِ عظیم میں برکت دے، اور مجھے اور آپ کو اس میں موجود آیات اور ذکرِ حکیم سے نفع پہنچائے، میں اپنی یہ بات کہتا ہوں جو آپ سن رہے ہیں، اور میں عظمت والے اللہ سے اپنے لیے اور آپ کے لیے ہر گناہ کی مغفرت طلب کرتا ہوں، آپ بھی اسی سے مغفرت طلب کریں، بے شک وہی بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔
دوسرے خطبہ کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، میں اس کی حمد بیان کرتا ہوں اور اسی سے مدد چاہتا ہوں، اسی سے بخشش طلب کرتا ہوں اور اسی سے ہدایت مانگتا ہوں، میں اس پر ایمان لاتا ہوں اور اسی پر توکل کرتا ہوں، اور اس کا انکار نہیں کرتا، اور جو اس کا انکار کرے میں اس سے عداوت رکھتا ہوں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور یقیناً محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ جس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کی، یقیناً اس نے ہدایت پا لی، اور جس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی، یقیناً وہ بھٹک گیا، اور دور کی گمراہی میں جا پڑا۔
دوسرا خطبہ
اما بعد.. اے اللہ کے بندو! بے شک محمد رسول اللہ کی گواہی کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان نبی کریم ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کی تعظیم کرے، چنانچہ وہ آپ کے حکم کی اطاعت کرے، آپ جن چیزوں سے روکیں ان سے باز رہے، آپ کی بتائی ہوئی باتوں کی تصدیق کرے، اور آپ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ہی اللہ کی عبادت کرے۔ نیز اسے چاہیے کہ وہ آپ کی مخالفت کرنے یا آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں اس میں شک کرنے سے بچے۔ اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے: ایمان والوں کا قول تو یہ ہے کہ جب انہیں اس لیے بلایا جاتا ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان میں فیصلہ کردے تو وه کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مان لیا۔ یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔ [النور: 51]، اور اللہ عزّ وجل کا فرمان ہے: اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو رسول ﷺ کی اور تم میں سے اختیار والوں کی۔ پھر اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ، اللہ تعالیٰ کی طرف اور رسول کی طرف... [النساء: 59]۔
علامہ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ رسول ﷺ کی طرف لوٹانے سے مراد آپ کی زندگی میں آپ کی طرف رجوع کرنا، اور آپ کی وفات کے بعد آپ کی سنت کی طرف رجوع کرنا ہے، اور ان کا اس بات پر اتفاق ہے کہ لوٹانے کا یہ فرض آپ ﷺ کی وفات سے ساقط نہیں ہوا۔
صحیح بخاری میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میری امت کے سب لوگ جنت میں داخل ہوں گے، ماسوا ان لوگوں کے جنھوں نے انکار کیا۔“ پوچھا گیا کہ اے اللہ کے رسول! انکار کرنے والے کون ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے میری اطاعت کی، وہ جنت میں داخل ہو گا اور جس نے میری نافرمانی کی، اس نے انکار کیا۔“ [صحیح بخاری (7280)]
اے اللہ کے بندو! دلوں میں سنت کی تعظیم اور زندگی کے تمام معاملات میں اس پر عمل کے حوالے سے اللہ سے ڈرتے رہو؛ کیونکہ یہی نجات کی کشتی، فلاح و کامیابی کا ذریعہ اور ہدایت کا راستہ ہے۔ لہذا اس پر نہ کسی کی بات کو مقدم سمجھا جائے اور نہ کسی انسان کی رائے کو۔ بلاشبہ سنت میں جو کچھ آیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں آنے والے احکام ہی کی طرح ہے، اور حکم کے اعتبار سے یہ دونوں برابر ہیں۔ چنانچہ حسن بن جابر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن کچھ چیزیں حرام قرار دیں، پھر فرمایا: قریب ہے کہ تم میں سے کوئی اپنی مسند پر ٹیک لگائے بیٹھا ہو، اسے میری کوئی حدیث سنائی جائے تو وہ مجھے جھٹلائے اور کہے: ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب ہے۔ اس میں جو چیز ہم حلال پائیں گے اسی کو حلال سمجھیں گے اور اس میں جو چیز حرام پائیں گے اسی کو ہم حرام جانیں گے۔ سن لو! رسول اللہ ﷺ نے جس چیز کو حرام قرار دیا ہے، وہ ویسے ہی حرام ہے، جیسے کہ اللہ کی حرام کی ہوئی چیز۔“ اوزاعی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنے بعض اصحاب سے فرمایا: ”جب تم تک رسول اللہ ﷺ کی کوئی حدیث پہنچے تو اس کے خلاف کچھ کہنے سے بچنا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام پہنچانے والے تھے۔“
جلیل القدر امام سفیان بن سعید ثوری رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: ”حقیقی علم تو آثار (احادیث) کا علم ہے“، امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ہم میں سے ہر شخص کی بات رد کی جا سکتی ہے اور وہ دوسروں کی بات رد کر سکتا ہے، سوائے اس قبر والے کے“، اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی قبر کی طرف اشارہ کیا۔
یہ امت کے سلف صالحین کی وصیتیں ہیں، لہٰذا تم پر لازم ہے کہ تم اسی درست منہج اور صراط مستقیم پر قائم رہو جس پر وہ قائم تھے۔ کیونکہ فتنوں اور آزمائشوں کا شکار ہونے کے عظیم ترین اسباب میں سے ایک سبب اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے منہج کی مخالفت کرنا ہے، جس میں عقیدے کی خلاف ورزیاں اور دیگر ممنوعہ اعمال شامل ہیں۔ چنانچہ آپ ایک گروہ کو دیکھتے ہیں جو نبی ﷺ کی محبت اور اتباع کا دعویٰ کرتا ہے لیکن وہ آپ ﷺ کے صحابہ کرام کو گالیاں دیتا اور انہیں کافر قرار دیتا ہے، آپ ﷺ کی عزت و ناموس پر کیچڑ اچھالتا ہے اور آپ ﷺ کی ازواج مطہرات پر تہمتیں لگاتا ہے۔ آپ ایک ایسے گروہ کو دیکھتے ہیں جو نبی ﷺ کی محبت اور اتباع کا دعویٰ تو کرتا ہے مگر آپ ﷺ کے احکامات کی مخالفت کرتے ہوئے آپ ﷺ کی شان میں غلو کرتا ہے اور آپ ﷺ کو اللہ رب العالمین کی صفات سے متصف کرتا ہے۔ آپ کو ایسی جماعتیں ملیں گی جو رسول اللہ ﷺ کی محبت اور اتباع کی دعویدار ہیں لیکن انہوں نے آپ ﷺ کی سنت کی مخالفت کی، آپ ﷺ کی ہدایت اور طریقے کے خلاف راستے اپنائے، اور ایسے شیطانی طریقوں پر گروہ بندیاں کیں جن کا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں۔ آپ ایسے لوگوں کو دیکھیں گے جو نبی ﷺ کی محبت اور اتباع کا دعویٰ کرتے ہیں مگر وہ ایسی بدعات ایجاد کرتے ہیں جن کی اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی، اور وہ بدعی تہوار مناتے ہیں جیسے میلاد النبی اور شب معراج کی بدعت وغیرہ، جو نہ تو رسول اللہ ﷺ نے منائے اور نہ ہی آپ ﷺ کے صحابہ کرام نے، اور جن کا اسلام سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں۔ یہ تمام افعال نبی ﷺ کی محبت اور اتباع کے دعوے میں ان کے جھوٹے ہونے کی دلیل ہیں؛ کیونکہ جو آپ ﷺ سے سچی محبت کرتا ہے، وہ آپ ﷺ کے حکم کی پیروی کرتا ہے، آپ ﷺ کی ہدایت پر چلتا ہے، آپ ﷺ کے صحابہ کرام سے محبت رکھتا ہے اور انہی کے منہج پر قائم رہتا ہے۔
اے اللہ! ہمیں کتاب و سنت پر ثابت قدم رکھ، اے اللہ! اے دلوں کو الٹنے پلٹنے والے! ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ، اے اللہ! اے دلوں کو پھیرنے والے! ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر دے۔
اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا، اور اللہ تعالیٰ ہمارے نبی محمد پر درود و سلام اور برکت نازل فرمائے۔
***
خطبہ کا عنوان
اِخلاص
پہلے خطبہ کا مقدمہ
بے شک تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد چاہتے ہیں اور اسی سے بخشش طلب کرتے ہیں، اور ہم اپنے نفس اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا، اور جسے وہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور یہ کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔
اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کرکے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں، اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو۔ بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے۔ [النساء: 1]، اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر شخص دیکھ (بھال) لے کہ کل (قیامت) کے واسطے اس نے (اعمال کا) کیا (ذخيره) بھیجا ہے۔ اور (ہر وقت) اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے۔ [الحشر: 18]۔
پہلا خطبہ:
اما بعد!
بے شک سب سے اچھی بات کتاب اللہ ہے، سب سے بہتر طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے، بدترین امور دین کے نام پر ایجاد کردہ نت نئی بدعتیں ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔
اللہ کے بندو!
ہمارا عزیز وبرتر پروردگار مخلوقات کی تخلیق میں منفرد ہے، وہی ان کا رب، مالک اور خالق ہے، اور وہ ربوبیت میں منفرد ہے، اس کی ربوبیت میں اس کی کوئی مخلوق اس کا شریک نہیں، اسی طرح اس کی الوہیت میں بھی، وہی تن تنہا عبادت کا مستحق ہے، لہٰذا واجب ہے کہ عبادت خالص اسی کے لیے ہو جس میں کسی مخلوق کا کوئی حصہ نہ ہو، چنانچہ بندہ اپنے اقوال، اعمال اور ارادے میں صرف ایک اللہ ہی کا قصد کرے؛ آپ فرما دیجیے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کا ہے جو سارے جہان کا مالک ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو اسی کا حکم ہوا ہے اور میں سب ماننے والوں میں سے پہلا ہوں۔ [الانعام: 162-163]، تو مخلص وہ ہے جو اپنے عمل کو مخلوق کی پرواہ سے پاک کر لے۔ لہذا عبادت گزار کو نہ مخلوق کی ستائش کا انتظار ہوتا ہے، اور نہ ہی کسی دنیاوی مرتبے، یا کسی مالی اور معنوی مفاد کے حصول کا۔ چنانچہ ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک شخص اللہ کے نبی ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو جہاد میں اجر اور شہرت دونوں کی طلب میں شریک ہوتا ہو؟ اسے کیا ملے گا؟ اللہ کے رسول ﷺ نے جواب دیا: ”اسے کچھ نہيں ملے گا۔“ اس نے اپنا سوال تین بار دوہرایا اور اللہ کے رسول ﷺ نے ہر بار یہی کہا کہ ”اسے کچھ نہيں ملے گا۔“ پھر فرمایا : ”بلاشبہ اللہ اسی عمل کو قبول کرتا ہے، جو خالص اسی کے لیے اور اس کی رضامندی کے لیے کیا جائے۔“ [سنن نسائی: 3140، اور عراقی اور البانی نے اسے حسن کہا ہے]۔
اللہ نے اپنے بندوں کو خالص اپنی عبادت کا حکم دیا ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اسی کے لیے دین کو خالص رکھیں۔ ابراہیم حنیف کے دین پر اور نماز کو قائم رکھیں اور زکوٰة دیتے رہیں، یہی ہے دین سیدھی ملت کا۔ [البینۃ: 5]، چنانچہ اخلاص عبادت کا مغز اور اس کا جوہر ہے، لہٰذا اگر اس عبادت میں انسانوں کا کچھ بھی حصہ ہو، خواہ وہ معمولی سا ہی کیوں نہ ہو، تو اللہ تعالیٰ اسے قبول نہیں فرماتا۔ کیوں کہ ہمارا عزیز وبرتر پروردگار تمام شرکاء میں شرک سے سب سے زیادہ بے نیاز ہے، جس شخص نے کوئی ایسا عمل کیا جس میں اس نے اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کیا، تو وہ اسے اور اس کے شرک کو چھوڑ دیتا ہے۔ اس لیے واجب ہے کہ خالص اللہ کے لیے عمل کیا جائے، اور یہ اس طرح ممکن ہے کہ عبادت گزار اس عبادت میں اپنے دل سے صرف اپنے رب کی رضا کا قصد کرے۔
معلوم ہوا کہ اخلاص عبادات کی اصل بنیاد ہے، اور اعضاء کے اعمال دل کے تابع ہیں، چنانچہ نیت عمل کے لیے روح کی مانند ہے۔ نبی ﷺ نے ہمارے بارے میں جن باتوں کا اندیشہ ظاہر فرمایا ان میں اخلاص کا نہ ہونا اور اپنے اعمال میں لوگوں کو دکھانا (ریا کاری کرنا) بھی شامل ہے؛ چنانچہ محمود بن لبید سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”بلاشبہ مجھے تم پر جس چیز کا خوف سب سے زیادہ ہے، وہ شرک اصغر ہے۔“ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! شرک اصغر کیا ہے؟ آپ نے جواب دیا: ”ریا کاری۔ بلاشبہ جس دن بندوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا، اللہ تبارک و تعالیٰ کہے گا: ان لوگوں کے پاس جاؤ، جن کو دکھانے کے لیے تم دنیا میں اپنے اعمال کرتے تھے۔ دیکھو، کیا تم ان کے یہاں بدلہ پاتے ہو؟“؛ [احمد نے مسند : 23636 میں اور بغوی نے شرح السُنّہ: 4135 میں روایت کیا ہے اور اسے البانی نے حسن کہا ہے]۔
دنیا میں سب سے قیمتی اور عظیم چیز اخلاص ہے۔ جب کوئی عمل کرنے والا اپنے دل سے ریاکاری کو دور کرنے کی کوشش کرتا ہے تو شیطان کسی دوسرے انداز سے ریا کا راستہ پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے، عقلمند انسان اپنی تمام تر توجہ اپنی نیت کی درستگی اور اسے ہر قسم کی آلائشوں سے پاک کرنے پر صرف کرتا ہے، چنانچہ اخلاص کا اہتمام اس کے نزدیک ہر اہتمام سے بڑھ کر ہوتا ہے؛ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: ”اے لوگو، اس شرک سے بچو، کیونکہ یہ چیونٹی کی آہٹ سے بھی زیادہ پوشیدہ ہے۔“ اس پر ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم اس سے کیسے بچیں، جبکہ یہ چیونٹی کی آہٹ سے بھی زیادہ پوشیدہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کہو: اے اللہ! ہم تیری پناہ مانگتے ہیں کہ ہم جانتے بوجھتے تیرے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائیں، اور اس گناہ کی تجھ سے معافی مانگتے ہیں جسے ہم نہیں جانتے۔“؛ [مسند احمد: 19606، مصنف ابن ابی شیبہ: 30163، المعجم الاوسط للطبرانی: 3479، اور البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔]
عالم ربانی امام ابن القیم فرماتے ہیں: "کسی دل میں اخلاص، تعریف و توصیف کی محبت اور لوگوں کے پاس موجود چیزوں کی حرص وطمع ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے، سوائے اس کے کہ پانی اور آگ، اور گوہ اور مچھلی ایک ساتھ جمع ہو جائیں۔ چنانچہ اگر تمہارا نفس تم سے اخلاص کا تقاضا کرے، تو سب سے پہلے طمع کی طرف متوجہ ہو کر اسے نا امیدی کی چھری سے ذبح کر دو، اور تعریف و توصیف سے ایسی بے رغبتی اختیار کرو جیسی دنیا کے عاشق آخرت سے بے رغبتی اختیار کرتے ہیں۔ چنانچہ جب طمع کو ذبح کرنے اور تعریف و توصیف سے بے رغبتی اختیار کرنے میں تمہیں استقامت حاصل ہو جائے، تو تمہارے لیے اخلاص آسان ہو جائے گا۔
اگر آپ کہیں: کون سی چیز میرے لیے حرص وطمع کو ذبح کرنا اور تعریف وتوصیف سے بے رغبتی اختیار کرنا آسان بناسکتی ہے؟ تو میں کہوں گا: جہاں تک حرص وطمع کو ذبح کرنے کا تعلق ہے، تو اس بات کا یقینی علم اسے آپ کے لیے آسان کر دے گا کہ جس چیز کی بھی طمع کی جاتی ہے، اس کے خزانے صرف اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہیں، اس کے سوا کوئی ان کا مالک نہیں، اور اس کے سوا کوئی اور بندے کو ان میں سے کچھ عطا نہیں کر سکتا۔ جہاں تک تعریف وتوصیف سے بے رغبتی کا تعلق ہے، تو اس بات کا علم اسے آپ کے لیے آسان بنا دے گا کہ صرف اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ایسا نہیں جس کی تعریف نفع بخش اور باعثِ زینت ہو، اور جس کی مذمت نقصان دہ اور باعثِ عیب ہو؛ جیسا کہ کسی اعرابی نے نبی ﷺ سے عرض کیا تھا: بلاشبہ میری تعریف باعثِ زینت ہے اور میری مذمت باعثِ عیب ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اللہ عزیز وبرتر ہے۔“ [تفسیر عبد الرزاق: 3/ 231، تفسیر الطبری: 26/ 122، اور یہ مرسل ہے]
چنانچہ اس کی تعریف سے بے رغبتی اختیار کیجیے جس کی تعریف آپ کے لیے باعثِ زینت نہ ہو، اور اس کی مذمت سے جس کی مذمت آپ کے لیے باعثِ عیب نہ ہو۔ اور اس ذات کی تعریف کی رغبت کیجیے جس کی تعریف میں تمام تر زینت ہے، اور جس کی مذمت میں تمام تر عیب ہے۔ اس پر صبر اور یقین کے بغیر ہرگز قدرت حاصل نہیں کی جا سکتی۔ چنانچہ جب آپ صبر اور یقین سے محروم ہو جائیں، تو آپ اس شخص کی مانند ہو جاتے ہیں جس نے بغیر کشتی کے سمندر کا سفر کرنے کا ارادہ کیا ہو؛ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: پس آپ صبر کریں یقیناً اللہ کا وعده سچا ہے۔ آپ کو وه لوگ ہلکا (بے صبرا) نہ کریں جویقین نہیں رکھتے۔ [الروم: 60]، نیز ارشاد باری تعالی ہے : اور جب ان لوگوں نے صبر کیا تو ہم نے ان میں سے ایسے پیشوا بنائے جو ہمارے حکم سے لوگوں کو ہدایت کرتے تھے، اور وه ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے۔ [السجدہ: 24]؛ الفوائد [ص: 149]۔
دوسرے خطبہ کا مقدمہ
ساری تعریفیں اللہ کے لیے سزاوار ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے اور درود و سلام ہو نبی ﷺ پر جنہوں نے ہمیں وہ کچھ سکھایا جو ہمارے لیے نفع بخش ہے، ہمارے لیے حق اور باطل کے درمیان فرق واضح کیا، اور ہمارے سامنے شیطان کے راستوں کو بیان کیا۔
دوسرا خطبہ
اما بعد:
علمِ نافع کے ذریعے — جو کتاب وسنت کی نصوص کی دلیل پر مبنی ہے — حق و باطل کے درمیان تمیز ہوتی ہے، اور متشابہات واضح ہو جاتی ہیں۔
میرے بھائیو!
آدمی جب تنہا ہوتا ہے تو نیک اعمال میں سستی کرتا ہے، اور دوسروں کے ساتھ ہوتا ہے تو چست ہو جاتا ہے؛ جیسا کہ رمضان میں ہمارا حال ہوتا ہے کہ ایک شخص اپنے بھائیوں کے ساتھ مسجد میں قیام اللیل کرتا ہے، لیکن رمضان سے پہلے اور اس کے بعد قیام نہیں کرتا، اسی طرح وہ اکیلے نفلی روزے نہیں رکھتا، اور جب اپنے بھائیوں کے ساتھ ہوتا ہے تو روزہ رکھ لیتا ہے۔ ایک مسلمان جمعہ کے دن مسجد میں نماز کے لیے جس چستی وپھرتی کے ساتھ حاضر ہوتا ہے، ویسا ہر روز نہیں ہوتا، اسی طرح کی اور بھی عبادتیں ہیں جن میں انسان دوسروں کے ساتھ ہونے کی صورت میں چستی محسوس کرتا ہے۔ چنانچہ بسا اوقات اسے یہ گمان ہونے لگتا ہے کہ یہ ریا ہے، اور یہ کہ اس حالت میں اس عمل کو ترک کر دینا واجب ہے۔
جبکہ یہ بات کلی طور پر درست نہیں ہے، کیونکہ ہر مومن اللہ تعالیٰ کی عبادت، رات کے قیام اور دن کے روزے میں رغبت رکھتا ہے؛ لیکن بسا اوقات رکاوٹیں اسے روک دیتی ہیں، مصروفیات اسے مشغول رکھتی ہیں، خواہشات کی گرفت اس پر غالب آ جاتی ہے یا غفلت اسے اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ چنانچہ بسا اوقات دوسروں کو دیکھنا غفلت کے ختم ہونے کا سبب بن جاتا ہے، یا بعض مواقع پر رکاوٹیں اور مصروفیات دور ہو جاتی ہیں، تو اس کے اندر چستی و نشاط پیدا ہو جاتا ہے، چنانچہ وہ اپنے بھائیوں سے مقابلہ کرتا ہے، اور اس پر یہ بات گراں گزرتی ہے کہ وہ اللہ کی اطاعت میں اس سے سبقت لے جائیں۔ اس طرح اس کا نفس عبادات کے لیے متحرک ہوتا ہے، نہ کہ ریاکاری کے لیے، لہٰذا یہ ایک قابلِ ستائش امر ہے۔ اس لیے عبادت گزار کو چاہیے کہ وہ اس وقت اپنے نفس کو عبادت پر آمادہ کرے، اور اطاعت کی جانب نفس کی توجہ ورغبت کو غنیمت جانے۔ البتہ اگر اسے اپنے نفس میں ریاکاری کی طرف میلان، اور لوگوں کی تعریف و توصیف کی چاہت کا یقین ہو، تو وہ اسے چھوڑ دے۔
میرے بھائیو!
عبادات میں کسی اور نیت کو شریک کرنا رِیا نہیں ہے، لیکن یہ اس کمالِ اخلاص کے منافی ہے جو مستحب ہے۔ چنانچہ جو شخص کسی عبادت کا ارادہ کرے اور اس کے ساتھ کسی دنیاوی مفاد، مثلاً مال یا صحت وغیرہ کے حصول کی بھی خواہش رکھے، تو یہ جائز ہے، اور یہ رِیا نہیں ہے۔ لہذا اجر و ثواب اور مالِ غنیمت کے لیے جہاد کرنا جائز ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کی ہے۔ تو نبی ﷺ نے اس سے فرمایا: ”کیا تم نے اسے دیکھا ہے؟ کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ ہوتا ہے“۔ اس نے کہا: میں نے اسے دیکھ لیا ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تم نے اس سے کتنے مہر پر شادی کی ہے؟“ اس نے جواب دیا: چار اوقیہ پر۔ تو نبی ﷺ نے اس سے فرمایا: ”چار اوقیہ پر! گویا تم لوگ اس پہاڑ کے پہلو سے چاندی تراشتے ہو! ہمارے پاس تو ایسا کچھ نہیں جو ہم تمہیں دے سکیں، لیکن ہو سکتا ہے کہ ہم تمہیں کسی مہم پر بھیجیں جس سے تمہیں کچھ حاصل ہو جائے“۔ راوی کہتے ہیں: چنانچہ آپ ﷺ نے بنو عبس کی طرف ایک لشکر بھیجا، اور اس شخص کو بھی ان کے ساتھ بھیج دیا۔" [صحیح مسلم: 1424]۔
چنانچہ نبی ﷺ نے اسے لشکر کے ساتھ اس لیے بھیجا تاکہ وہ اجر اور مالِ غنیمت حاصل کرے۔
حج باعثِ قربت اور اطاعت ہے، چنانچہ مسلمان کے لیے جائز ہے کہ وہ حج کی نیت سے حج کرے، اور مشاعرِ حج میں خرید و فروخت وغیرہ کے ذریعے تجارت کو بھی اپنی نیت میں شامل کر لے؛ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: "ذو المجاز اور عکاظ زمانہ جاہلیت میں لوگوں کے بازار تھے، چنانچہ جب اسلام آیا تو گویا کہ لوگوں نے اس (کاروبار) کو برا سمجھا، یہاں تک کہ آیت نازل ہوئی، جس کا ترجمہ ہے: (تم پر اپنے رب کا فضل تلاش کرنے میں کوئی گناه نہیں ہے) یعنی حج کے موسم میں۔ [صحیح بخاری: 1770]۔
عبادت میں شریک ٹھہرانے کی چند صورتیں درجِ ذیل ہیں:
سند اور علم کی طلب: شرعی علم قربت اور اطاعت کا ذریعہ ہے، لہٰذا طالبِ علم کے لیے درست ہے کہ وہ اللہ کی رضا کی خاطر شرعی علم حاصل کرے، اور اپنی نیت میں اس سند کی طلب کو بھی شامل کر لے جس سے وہ اپنی دنیا میں فائدہ اٹھائے؛ حدیث کے اس مفہوم کی روشنی میں: ”جس نے ایسا علم حاصل کیا، جس سے اللہ کی خوش نودی حاصل کی جاتی ہے اور اسے صرف دنیاوی دولت کمانے کے لیے حاصل کیا، تو وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو تک نہيں پائے گا“؛ [مسند احمد: 8456، سنن ابی داود: 3664، ابن ماجہ: 260، اور امام البانی نے اسے صحیح کہا ہے۔]
حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جس شخص نے علمِ شرعی اس لیے حاصل کیا کہ اس کے ذریعے دنیا اور آخرت دونوں حاصل کرے، وہ اس وعید میں داخل نہیں ہے، واللہ اعلم۔
اسی طرح جو شخص دنیا اور آخرت حاصل کرنے کے لیے قرآن کی تعلیم دیتا ہو، اذان دیتا ہو یا لوگوں کی امامت کرتا ہو، تو وہ گناہ گار نہیں ہے۔ لیکن جس نے اپنے عمل کو خالص رکھا، اسے خالصتاً اللہ کے لیے انجام دیا، اور خود کو اس اخروی عمل کا پابند کر لیا -چاہے اسے دنیا حاصل ہو یا نہ ہو- تو اس کا عمل زیادہ کامل ہے اور اس کا ثواب بھی زیادہ ہے۔ چنانچہ پوری عبادت یا اس کے کسی حصے میں لوگوں (کی خوش نودی یا دکھاوے) کا ارادہ کرنا ایسا شرک ہے جو عمل کو ضائع کر دیتا ہے، اور اس کا مرتکب وعید کا مستحق ہے۔ جب کہ عبادت کی نیت کے ساتھ ساتھ کسی دنیوی منفعت کا ارادہ کرنا جائز ہے۔ ان دونوں مسئلوں کے درمیان فرق کا یہی راز ہے، اور اللہ ہی درست بات کی طرف رہنمائی فرمانے والا ہے۔
شیخ عبد الرحمن بن سعدی رحمہ اللہ القول السدید (ص: 128) میں لکھتے ہیں: دنیا اور اس کے مقاصد کے حصول کے لیے عمل کرنا؛ اگر بندے کا مکمل ارادہ اسی مقصد کے لیے ہو اور اللہ کی رضا اور آخرت کا کوئی ارادہ نہ ہو، تو آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ اس نوعیت کا عمل کسی مومن سے سرزد نہیں ہو سکتا، کیونکہ مومن، اگرچہ کمزور ایمان والا ہی کیوں نہ ہو، لازماً اللہ کی رضا اور آخرت کا طلب گار ہوتا ہے۔ البتہ وہ شخص جو اللہ کی رضا اور حصولِ دنیا دونوں کے لیے عمل کرے، اور اس کے یہ دونوں مقاصد آپس میں برابر یا ایک دوسرے کے قریب ہوں، تو ایسا شخص اگرچہ مومن ہے، لیکن اس کا ایمان، توحید اور اخلاص ناقص ہے، اور کمالِ اخلاص کے فقدان کی وجہ سے اس کا عمل بھی ناقص ہے۔ اور وہ شخص جس نے خالصتاً صرف اللہ کے لیے عمل کیا، اور اپنے عمل میں مکمل اخلاص سے کام لیا، لیکن وہ اپنے عمل پر کوئی مقررہ معاوضہ لیتا ہے تاکہ اس سے اپنے کام اور دین پر مدد حاصل کر سکے... تو اس کا یہ معاوضہ لینا بندے کے ایمان اور توحید میں خلل انداز نہیں ہوتا؛ کیونکہ اس کے اس عمل کا مقصد دنیا کا حصول نہیں تھا، بلکہ اس کا مقصود دین ہی تھا، اور اس کی نیت یہ تھی کہ جو کچھ اسے حاصل ہو، وہ دین پر عمل کرنے میں اس کے لیے معاون ثابت ہو۔
جو شخص کسی عبادت کا عادی ہو تو اسے چاہیے کہ وہ لوگوں کی موجودگی اور عدم موجودگی میں اسے جاری رکھے، چنانچہ جس کا معمول تلاوتِ قرآن، قیام اللیل یا روزے کا ہو، پھر وہ دوستوں کے ہمراہ سفر پر جائے، یا کسی دوسرے کے ہاں مہمان ٹھہرے، تو وہ اپنے معمول کی پابندی کرے، اور اسے ترک نہ کرے، کیونکہ بسا اوقات شیطان اس کے پاس آتا ہے اور مسلسل اس کے پیچھے لگا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ ریاکاری میں مبتلا نہ ہونے کے گمان سے اسے ترک کر دیتا ہے۔ فضیل بن عیاض فرماتے ہیں: ”لوگوں کے لیے عمل ترک کرنا ریا ہے، اور لوگوں کے لیے عمل کرنا شرک ہے۔“
اسی طرح اگر کوئی شخص چاشت کی نماز پڑھنے کا عادی ہو، تو اسے چاہیے کہ وہ اسے اپنے کام کاج کے دوران پڑھ لے اور اسے ترک نہ کرے، اگر اس کی نماز اس کے کام کاج پر اثر انداز نہ ہو۔
***
خطبہ کا عنوان
شرک کی خطرناکی
پہلے خطبہ کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد چاہتے ہیں، اسی سے بخشش طلب کرتے ہیں اور اسی کے حضور توبہ کرتے ہیں، اور ہم اپنے نفس اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا، اور جسے وہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل اور تمام اصحاب پر درود وسلام نازل فرمائے۔
پہلا خطبہ:
اما بعد: اللہ آپ پر رحم فرمائے، یہ جان لیں کہ ہر مسلمان مرد اور عورت پر سب سے اہم فریضہ توحید کا علم حاصل کرنا اور اس پر مضبوطی سے قائم رہنا ہے، نیز شرک کا علم حاصل کرنا، اس سے بچنا اور چھٹکارا پانا ہے۔ چنانچہ بندے کی توحید اسی وقت درست ہوتی ہے جب وہ شرک کی جانکاری حاصل کرے اور اس سے براءت اختیار کرے۔
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "لوگ رسول اللہ ﷺ سے خیر کی بابت سوال کیا کرتے تھے، جب کہ میں آپ ﷺ سے شر کے متعلق دریافت کیا کرتا تھا، اس خوف سے کہ کہیں وہ مجھے پانہ لے۔" [متفق علیہ]۔
اللہ کے بندو!
بے شک اللہ نے جنت میں ہماری کامیابی اور جہنم سے ہماری نجات کو اس بات پر معلق کر دیا ہے کہ ہم اس حال میں مریں کہ شرک سے محفوظ ہوں، چنانچہ صحیحین میں ہے: ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! واجب کر دینے والی دو چیزیں کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اس حال میں مرے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، وہ جنت میں داخل ہوگا، اور جو شخص اس حال میں مرے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو، وہ جہنم میں داخل ہوگا۔“
اور صحیحین میں اسی طرح ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور فرمایا: آپ کی امت کا جو شخص اس حال میں مرے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں جائے گا۔“ میں نے پوچھا: اگرچہ وہ زنا کرے اور چوری کرے؟ فرمایا: ”اگرچہ وہ زنا کرے اور چوری کرے۔“
شرک سب سے بڑا ظلم، سب سے بڑی معصیت اور کبیرہ گناہوں میں بھی سب سے بڑا گناہ ہے۔ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اللہ کے لیے شریک وساجھی بنائے جبکہ اسی نے تجھ کو پیدا کیا۔“ [متفق علیہ]؛ اس لیے کہ یہ اللہ کے خالص حق کو کسی اور کے لیے صرف کرنا ہے، اور اس لیے کہ یہ کمزور اور بے بس مخلوق کو برابر ٹھہرانے اور انھیں عظیم خالق کے ہم مثل قرار دینے کے مترادف ہے۔
نیک وصالح لقمان علیہ السلام نے وعظ کرتے ہوئے اپنے بیٹے سے کہا: ...میرے پیارے بچے! اللہ کے ساتھ شریک نہ کرنا۔ بے شک شرک بڑا بھاری ظلم ہے۔ [لقمان: 13]۔
اور قیامت کے دن مشرکین ان سے کہیں گے جنہیں وه شریک ٹھہراتے تھے: قسم اللہ کی! یقیناً ہم تو کھلی غلطی پر تھے۔ جبکہ تمہیں رب العالمین کے برابر سمجھ بیٹھے تھے۔ [الشعراء: 97-98]۔
چونکہ شرک میں جلال و اکرام والے اور سب کچھ جاننے والے بادشاہ کی شان میں تنقیص پائی جاتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ اگر انسان بغیر توبہ کیے اسی حالت میں مر جائے، تو شرک کو معاف نہیں کیا جائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کیے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے... [النساء: 48]، نیز اللہ عز وجل نے فرمایا: ...یقین مانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے، اس کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے۔.. [المائدۃ: 72]۔
شرک کے جرم کی سنگینی کو واضح کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے لوگوں میں مقام و مرتبے کے لحاظ سے سب سے عظیم اور اپنے نزديک سب سے بلند درجے والی ہستیوں ـ یعنی اپنے انبیاء اور رسولوںـ کی طرف یہ وحی فرمائی کہ اگر وہ بھی اس میں مبتلا ہو گئے تو شرک ان کے تمام اعمال کو ضائع اور باطل کر دے گا: یقیناً تیری طرف بھی اور تجھ سے پہلے (کے تمام نبیوں) کی طرف بھی وحی کی گئی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو بلاشبہ تیرا عمل ضائع ہو جائے گا اور بالیقین تو زیاں کاروں میں سے ہوجائے گا۔ بلکہ تو اللہ ہی کی عبادت کر، اور شکر کرنے والوں میں سے ہو جا۔ [الزمر: 65، 66]، مزید اللہ تعالی نے فرمایا: ...اور اگر فرضاً یہ حضرات بھی شرک کرتے تو جو کچھ یہ اعمال کرتے تھے وه سب اکارت ہوجاتے۔ [الانعام: 88]۔
لہذا تمام انبیا و رسل علیہم السلام دعوتِ توحید کے ساتھ ساتھ شرک سے منع کرنے اور اس سے خبردار کرنے کا پیغام لے کر آئے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو... [النحل: 36]۔
معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا سب سے بڑا گناہ ہے، جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا اللہ نے اس پر جنت حرام اور جہنم واجب کر دی ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اللہ سبحانہ نے فرمایا: ...یقین مانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے، اس کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے، اور گنہگاروں کی مدد کرنے واﻻ کوئی نہیں ہوگا۔ [المائدۃ: 72]۔
شرک اکبر یہ ہے کہ کسی بھی قسم کی عبادت کے ذریعے غیر اللہ کی عبادت کی جائے، جیسے پکارنا، ذبح کرنا، نذر ماننا، خشوع و خضوع اختیار کرنا اور ان کے علاوہ عبادت کی دیگر اقسام۔ غیر اللہ کے لیے کی جانے والی ہر عبادت شرک ہے، چاہے وہ انبیاء کے لیے ہو، یا فرشتوں کے لیے، یا رسولوں کے لیے، یا نیک لوگوں کے لیے۔ یہ سب اللہ عزوجل کے ساتھ شرک کے دائرے میں آتا ہے، اور ایسے شرک کے ہوتے ہوئے نہ کوئی عمل درست رہتا ہے اور نہ دین کبھی قائم رہ سکتا ہے۔ کیونکہ مشرک کا کوئی عمل قبول نہیں کیا جاتا، اگرچہ وہ رات دن اللہ کی عبادت کرتا رہے، جب تک کہ اس نے اپنی عبادت میں شرک کی آمیزش کر رکھی ہو۔ جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور اپنے ایمان کو ظلم (شرک) کے ساتھ مخلوط نہیں کرتے ظلم – یعنی شرک – ایسوں ہی کے لیے امن ہے اور وہی راه راست پر چل رہے ہیں۔ [الانعام: 82]
اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو قرآنِ عظیم کی برکت سے نوازے۔
دوسرے خطبہ کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے سزاوار ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کے آل واصحاب پر کثرت سے درود وسلام نازل فرمائے۔
دوسرا خطبہ:
اللہ کے بندو!
جب ہم نے شرک کو جان لیا اور یہ کہ وہ ہلاکت اور جہنم میں داخلے کا ذریعہ ہے، تو ہم پر ضروری ہے کہ ہم نجات اور جنت میں داخلے کا راستہ بھی جان لیں، اور وہ توحید ہے۔
توحید: صرف اللہ تعالی کی عبادت کرنے کا نام ہے، اور یہی وہ مقصد ہے، جس کے لیے اللہ نے جنوں اور انسانوں کو پیدا کیا ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: میں نے جنات اور انسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وه صرف میری عبادت کریں۔ [الذاریات: 56] یعنی: وہ صرف میری عبادت کریں اور میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں۔
توحید وہ چیز ہے جو جہنم میں ہمیشہ رہنے سے روکتی ہے، یہاں تک کہ گناہ گاروں اور کبیرہ گناہوں کے مرتکب افراد کو بھی، بے شک اللہ نے اس شخص کو آگ پر حرام کر دیا ہے، جو اللہ کی خوشنودی کی خاطر لا الہٰ الا اللہ کہے۔
صرف اللہ کی عبادت کرنے سے شرحِ صدر حاصل ہوتا ہے، دل مطمئن ہو جاتا ہے، اور انسان مخلوق کی بندگی سے آزاد ہو جاتا ہے۔ سو جس شخص کو اللہ تعالیٰ راستہ پر ڈالنا چاہے اس کے سینہ کو اسلام کے لیے کشاده کر دیتا ہے... [الانعام: 125]۔
اسی سے غم اور پریشانیاں دور ہوتی ہیں، ... بالآخر وه اندھیروں کے اندر سے پکار اٹھا کہ الٰہی تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے، بے شک میں ظالموں میں ہو گیا۔ [الانبياء: 87]۔
ابن القیم رحمہ اللہ اپنی کتاب الفوائد میں فرماتے ہیں: "دنیا کی سختیوں اور مصیبتوں کو توحید سے بڑھ کر کسی اور چیز کے ذریعے دور نہیں کیا جا سکتا۔"
توحید ہی پاکیزہ زندگی کا سبب ہے؛ بلکہ اس کے بغیر دنیا میں کوئی سعادت نہیں، اللہ سبحانہ کا فرمان ہے: جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن با ایمان ہو تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے... [النحل: 97]۔
اس پر ثابت قدم رہنے کے چند وسائل یہ ہیں: اللہ تعالیٰ سے ثابت قدمی کی دعا مانگنا، بدعات، شبہات اور شہوات سے دور رہنا، کثرت سے اطاعت وعبادت کرنا، شرعی علوم حاصل کرنا، اور ان میں جو مسائل مشکل معلوم ہوں ان کے بارے میں ربانی علماء سے دریافت کرنا۔
توحید کی تکمیل کے چند اہم اسباب یہ ہیں: مسلمان اللہ تعالی سے مدد طلب کرے اور اس عظیم کام میں اس کی مدد حاصل کرنے کے لیے اسی پر توکل کرے، کیونکہ اگر اللہ تعالی اس کی مدد نہ کرے تو یہ اس کے لیے آسان نہیں ہو سکتا، سورہ الفاتحہ میں اللہ تعالی کے اس فرمان کا یہی مطلب ہے: ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔ [الفاتحۃ: 5]، لہذا عبادت صرف ایک اللہ تعالی کے لیے ہونی چاہیے، اور اس عظیم مقصد کے حصول میں ہم اسی وقت کامیاب ہوسکتے ہیں جب صرف اللہ تعالی سے مدد طلب کریں۔
توحید کی تکمیل اور شرک سے بچنے کا ایک وسیلہ دعا بھی ہے، چنانچہ حدیث میں آیا ہے کہ نبی ﷺ نے ابو بکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یقیناً شرک چیونٹی کی آہٹ سے بھی زیادہ پوشیدہ ہے، کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ جب تم اسے کہو گے تو شرک کا تھوڑا اور زیادہ (ہر قسم کا اثر) تم سے دور ہو جائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کہو: اے اللہ! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ جان بوجھ کر کسی کو تیرا شریک ٹھہراؤں اور جو کچھ ان جانے میں ہو جائے اس کے لیے تیری بخشش چاہتا ہوں۔“ [ابو یعلی (60) نے اسے روایت کیا ہے، اور بخاری نے الادب المفرد میں، اور البانی نے اس کو صحیح کہا ہے]۔
اور درود بھیجیں، اللہ آپ لوگوں پر رحم فرمائے...
***
خطبہ کا عنوان
اسلام میں عبادت کا مفہوم
پہلے خطبہ کا مقدمہ
یقیناً تمام تعریفیں اللہ کے لیے سزاوار ہیں، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد چاہتے ہیں اور اسی سے بخشش طلب کرتے ہیں، اور اپنے نفس اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا، اور جسے وہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل اور اصحاب پر ڈھیروں درود وسلام نازل فرمائے۔
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہیے اور دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا۔ [آل عمران: 102]، اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کرکے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں، اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو، اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو، بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے۔ [النساء: 1]، اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سیدھی سیدھی (سچی) باتیں کیا کرو۔ تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے کام سنوار دے، اور تمہارے گناه معاف فرما دے، اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرے گا اس نے بڑی مراد پالی۔ [الاحزاب: 70-71]۔
پہلا خطبہ
امابعد! اللہ تعالی قرآنِ محکم میں ارشاد فرماتا ہے: میں نے جنات اور انسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وه صرف میری عبادت کریں۔ (الذاریات : 56)۔
یہ ربانی بیان اور الٰہی وضاحت ہمارے لیے اس بات کی تاکید کرتی ہے کہ جنوں اور انسانوں کی تخلیق کی غرض و غایت، اور وہ مقصد جس کی خاطر اللہ نے مخلوق کو پیدا فرمایا ہے، وہ عبادت ہی ہے؛ کیونکہ اللہ عز وجل نے تمام مکلف بندوں کی تخلیق کی حکمت کو اپنے اس ارادے میں محصور کر دیا ہے کہ وہ اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔
یہی وہ پیغام ہے جس کے ساتھ اللہ نے تمام رسولوں کو مبعوث فرمایا، چنانچہ انہوں نے اپنی قوموں کو اسی کی دعوت دی، ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو۔ [النحل: 36]۔
اے مسلمانو! یہ ایک بدیہی بات ہے کہ ہم میں سے ہر شخص اس حکمت کو جانے جس کی خاطر اللہ نے اسے پیدا کیا ہے، لیکن وہ عبادت کیا ہے جو اللہ ہم سے چاہتا ہے؟ اور اسلام میں اس کا مفہوم کیا ہے؟ کیا یہ وہی ہے جو بعض لوگ گمان کرتے ہیں کہ یہ محض نماز، زکاۃ، روزہ اور حج کی ادائیگی کا نام ہے، اور اس کا اخلاق، رویوں اور سماجی معاملات سے کوئی تعلق نہیں؟
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”عبادت ایک جامع نام ہے جس میں وہ تمام باطنی و ظاہری اقوال و اعمال شامل ہیں جو اللہ کو محبوب اور پسند ہیں۔“
چنانچہ نماز، زکاۃ، روزہ، حج، سچ بولنا، امانت ادا کرنا، والدین کی فرمانبرداری، عہد وپیمان پورا کرنا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا، کفار اور منافقین کے خلاف جہاد، پڑوسی، یتیم، مسکین اور غلاموں اور جانوروں کے ساتھ حسن سلوک، دعا، ذکر، تلاوت اور ان جیسی دیگر عبادتیں،
اسی طرح اللہ اور اس کے رسول کی محبت، اللہ کی خشیت اور اس کی طرف رجوع، اس کے لیے دین کو خالص کرنا، اس کے حکم پر صبر، اس کی نعمتوں پر شکر، اس کی قضا وقدر پر رضا، اس پر توکل، اس کی رحمت کی امید، اس کے عذاب کا خوف اور ان جیسے دیگر اعمال، اللہ تعالیٰ کی عبادات میں شامل ہیں۔
اے مسلمانو! بلاشبہ پورے انسانی وجود کی غرض و غایت عبادت ہی میں محصور ہے اور مطلق طور پر اس کے سوا کوئی اور مقصد نہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مسلمان کی پوری زندگی پر محیط ہے، اللہ تعالی فرماتا ہے: آپ فرما دیجیے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کا ہے جو سارے جہان کا مالک ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو اسی کا حکم ہوا ہے اور میں سب ماننے والوں میں سے پہلا ہوں۔ [الانعام: 162-163]۔
چنانچہ اسلام ہی زندگی ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ یہ زندگی کے تمام شعبوں پر محیط ہو، اور کسی ایک گوشے تک محدود نہ رہے۔
جب نجاشی نے جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے اسلام کے بارے میں پوچھا، تو وہ بیان کرنے لگے کہ زمانہ جاہلیت میں وہ کس حال میں تھے، اور نبی ﷺ کی دعوت کے بعد ان کی کیا حالت ہو گئی، اور فرمایا: ”یہاں تک کہ اللہ تعالی نے ہم ہی میں سے ایک ایسا رسول بھیجا جس کے حسب و نسب، صدق و راستی، امانت داری اور پاک دامنی سے ہم خوب واقف ہیں، اس نے ہمیں صرف ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور اس کے علاوہ جن پتھروں اور بتوں کو ہم اور ہمارے آبا و اجداد پوجا کرتے تھے انہیں چھوڑ دینے کی دعوت دی، اس نے سچ بولنے، امانت کو ادا کرنے، رشتوں ناطوں کو جوڑنے، پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرنے، حرام کاموں سے اور خوں ریزی سے باز آنے کا حکم دیا اور برائیوں سے، جھوٹ بولنے سے، یتیم کا مال کھانے اور پاک دامن عورت پر تہمت لگانے سے منع فرمایا، اس نے ہمیں حکم دیا کہ ہم صرف ایک اللہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، اس نے نماز پڑھنے، زکوۃ ادا کرنے اور روزہ رکھنے کا حکم دیا“، راوی کہتا ہے: ”انہوں نے اسلام کے کئی اور امور بھی گنائے۔“ مکمل حدیث۔ [اسے امام احمد (1740) نے اور ابو نعیم نے الحلية (1/115-116) میں، اور بیہقی نے دلائل النبوة (2/301- 304) میں روایت کیا ہے اور البانی نے اسے صحیح کہا ہے۔]
اس بنا پر؛ ضروری ہے کہ ہم عبادت کے اس غلط مفہوم کی اصلاح کریں جو اسے محض چند اطاعات، افعال اور فرائض تک محدود کر دیتا ہے، انسان کو یہ پختہ عقیدہ رکھنا چاہیے کہ اگر وہ کوئی بھی ایسا عمل کرے جس سے اللہ راضی ہو، اور اس میں وہ اللہ عز و جل کے لیے اپنی نیت خالص رکھے، تو اسے اس پر اجر ملے گا؛ بلکہ یہ بھی ان عبادات میں سے ہے جن کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کیا جاتا ہے۔ لہذا وہ کسی بھی عمل کو حقیر نہ سمجھے، چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا؛ چنانچہ تمہارا اپنے بھائی کے سامنے مسکرانا صدقہ ہے، اور راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا بھی صدقہ ہے۔
عبادات میں خیر کے بہت سے دروازے شامل ہیں؛ جیسے شرم وحیا، حسنِ اخلاق، حسنِ معاشرت، اللہ کی خاطر اخوت، سچ بولنا، دوسروں کو معاف کرنا اور ان کو درگزر کرنا، باہم ناراض لوگوں کے درمیان صلح کرانا، اور ان جیسے دیگر معاملات، مختلف رویے اور معاشرتی تعلقات عبادات کے ضمن میں آتے ہیں۔
مسلمان بھائیو! اگر ہم اس شخص کی غلطی کو واضح کرنا چاہیں جو عبادت کے دائرہ کار کو محدود سمجھتا ہے، تو ذرا غور کریں کہ عبادت کے یہ شعائر دن اور رات بلکہ انسان کی عمر میں کتنا وقت لیتے ہیں؛ نماز دن اور رات کا ایک حصہ لیتی ہے، روزہ سال بھر میں ایک مہینے کا ہوتا ہے، اور زکاۃ، جس شخص پر اس کی شرطوں کے مطابق واجب ہوتی ہے، اس پر سال میں ایک بار لازم ہوتی ہے، اور حج، طاقت رکھنے والے شخص پر عمر بھر میں بس ایک بار واجب ہے جسے چند دنوں میں ادا کیا جاتا ہے۔
لہذا ان شعائر میں صرف ہونے والے وقت اور انسان کی عمر کے درمیان کیا نسبت ہے؟ یہ ایک انتہائی معمولی نسبت ہے جو نا قابلِ ذکر ہے؛ تو کیا مسلمان عبادت کے ان شعائر کے ذریعے فرض عبادت کا حق ادا کر سکتا ہے، جبکہ یہ بات طے شدہ ہے کہ عبادت مسلمان کی پوری زندگی پر محیط ہے؟!
اے لوگو! جب مسلمان کے ذہن اور شعور میں عبادت کا مفہوم وسیع ہو جاتا ہے تو وہ جان لیتا ہے کہ تمام نیک اعمال، خواہ وہ خالص عبادتی صورت میں نہ بھی ہوں، نیت کو اللہ تعالیٰ کے لیے درست کرنے اور اس عمل کے ذریعے اس کی رضا حاصل کرنے کی خواہش رکھنے سے عبادت بن سکتے ہیں۔
چنانچہ متفق علیہ حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے، انسان کے ہر جوڑ پر صدقہ کرنا واجب ہے۔ دو آدمیوں کے درمیان انصاف کرنا صدقہ ہے، کسی آدمی کو اس کی سواری پر بٹھانے یا اس کا سامان اٹھا کر اس پر رکھوانے میں اس کی مدد کرنا بھی صدقہ ہے، اچھی بات کہنا صدقہ ہے، نماز کی جانب اٹھنے والا ہر قدم صدقہ ہے اور راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو ہٹانا بھی صدقہ ہے۔“
بلکہ رزق تلاش کرنا اور کمانا، اپنے لیے اور اہل و عیال کے لیے تگ و دو کرنا ان عظیم عبادات میں سے ہے جن پر بندہ اجر و ثواب کا مستحق ہوتا ہے، بشرطیکہ وہ اس میں شریعت کی پیروی کرنے والا ہو، اور اس کے پیچھے اس کا مقصد نیک ہو۔
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس سے گزرا، تو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے اس کی طاقت اور چستی دیکھ کر کہا: اے اللہ کے رسول! کاش یہ اللہ کی راہ میں ہوتا! تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر وہ اپنے چھوٹے بچوں کے لیے تگ و دو کرنے نکلا ہے، تو وہ اللہ کے راستے میں ہے، اگر وہ اپنے بوڑھے والدین کے لیے تگ و دو کرنے نکلا ہے، تو وہ اللہ کے راستے میں ہے، اگر وہ اپنی ذات کے لیے تگ و دو کرنے نکلا ہے تاکہ خود کو (سوال کرنے سے) بچائے رکھے، تو وہ اللہ کے راستے میں ہے، اور اگر وہ دکھاوے اور فخر و غرور کے لیے تگ و دو کرنے نکلا ہے، تو وہ شیطان کے راستے میں ہے۔“ [اسے طبرانی نے المعجم الکبیر (282)، اور الاوسط (6835) میں روایت کیا ہے، اور البانی نے صحیح الجامع (1428) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔]
صرف یہی نہیں؛ بلکہ مسلمان کے لیے مباح کام بھی ایسی اطاعت بن سکتے ہیں جن پر اسے ثواب ملتا ہے؛ چنانچہ فطری اعمال بھی نیک نیتی کی بنا پر عبادت بن جاتے ہیں، اور انسان کو ان پر اجر دیا جاتا ہے۔
چنانچہ ابو ذر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کا اپنی بیوی سے صحبت کرنا صدقہ ہے“، لوگوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے ایک شخص اپنی شہوت پوری کرتا ہے، کیا اس میں بھی اسے اجر ملتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بھلا بتلاؤ! اگر وہ اسے حرام جگہ سے پوری کرے تو اسے گناہ ہوگا؟ اسی طرح جب وہ اسے حلال طریقے سے پوری کرے گا تو اسے اجر ملے گا۔“ [صحیح مسلم: 1006]۔
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سچی نیتوں سے مباح كام نيكيوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔
اس بات کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ جب نبی ﷺ نے وفات سے قبل سعد بن ابی وقاص کی عیادت کی تو ان سے فرمایا: ”تم جو کچھ بھی اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرو گے، اس پر تمھیں ضرور اجر دیا جائے گا، حتی کہ اس لقمے پر بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو گے۔“ [متفق علیہ]
نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اس میں اس بات کا ذکر ہے کہ مباح کام کا مقصد جب اللہ تعالیٰ کی رضا ہو، تو وہ نیکی کا کام بن جاتا ہے اور اس پر اجر و ثواب ملتا ہے۔"
نبی ﷺ نے اس پر متنبہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”یہاں تک کہ وہ لقمہ بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتے ہو“۔ کیونکہ انسان کی بیوی اس کی دنیاوی نعمتوں، خواہشات اور مباح لذتوں میں سب سے خاص مقام رکھتی ہے، اور جب وہ اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ دیتا ہے تو عموماً ایسا باہمی دل لگی، پیار ومحبت اور مباح لطف اندوزی کے دوران ہوتا ہے۔ بظاہر یہ کیفیت عبادت واطاعت اور امورِ آخرت سے انتہائی دور معلوم ہوتی ہے، لیکن اس کے باوجود رسول اللہ ﷺ نے یہ بتایا کہ اگر وہ اس لقمے سے بھی رضائے الٰہی کا قصد کرے، تو اس پر بھی وہ اجر وثواب کا مستحق ہوگا۔
اس حالت کے علاوہ دیگر صورتوں میں اگر اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہو تو ان پر اجر و ثواب کا حصول بطریقِ اولیٰ ہوگا۔ اس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ انسان جب کوئی ایسا عمل انجام دے جو اصل میں مباح ہو لیکن اس سے اس کا مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا ہو تو اسے اس پر ثواب دیا جاتا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر قوت حاصل کرنے کی نیت سے کھانا کھانا، عبادت کے لیے چست و توانا ہو کر اٹھنے کے لیے آرام کی خاطر سونا، اور اپنی بیوی سے اس غرض سے لطف اندوز ہونا تاکہ وہ اپنے نفس، اپنی نگاہ اور ان جیسی دیگر چیزوں کو حرام سے محفوظ رکھ سکے، اس کا حق ادا کر سکے، اور نیک وصالح اولاد حاصل کر سکے۔
اے بھائیو! بے شک عبادت کا معنی سمجھنے میں ہمارا مرجع کتاب اور سنت ہے، اور اس کی عملی تصویر وہ صحابہ کرام ہیں جن کی تربیت رسول اللہ ﷺ نے فرمائی، اور جنہوں نے اس آیت کا معنی سمجھا: میں نے جنات اور انسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وه صرف میری عبادت کریں۔ [الذاریات: 56]، انہوں نے اس سے یہ سمجھا کہ عبادت انسانی وجود کا مقصد ہے، چنانچہ مسلمان زندگی کے مختلف شعبوں میں سرگرمِ عمل رہتے ہوئے عبادت بجا لاتا ہے، اور یہ کہ شہادتین، نماز، زکوٰۃ، روزہ اور حج عبادت کی بنیاد اور دین کے اہم ستون ہیں، لیکن صرف یہی عبادت نہیں ہیں؛ بلکہ یہ تو زادِ راہ حاصل کرنے کے مقامات ہیں جو بقیہ عبادت ادا کرنے میں ان کی مدد کرتے ہیں جو ان کی پوری زندگی پر محیط ہے۔
عبادت کے مفہوم کی یہ حقیقی سمجھ انہیں اس بات کا شعور عطا کرتی ہے کہ کام کرنا بھی ان کی ذمہ داری ہے جس طرح نماز ادا کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح وہ نکاح کی ضرورت، رزق حاصل کرنے، علم حاصل کرنے اور زمین کی آبادکاری کو بھی ضروری سمجھتے ہیں۔
چنانچہ ہمیں اسی طرح سمجھنا چاہیے اور یہ محسوس کرنا چاہیے کہ ہم حالتِ عبادت میں ہیں؛ اس وقت بھی جب ہم نفع بخش علم حاصل کر رہے ہوں، حصولِ رزق کی کوشش اور روئے زمین کو آباد کر رہے ہوں، کھا پی اور سو رہے ہوں، اپنے نفس کو راحت پہنچا رہے ہوں، اور اپنے بچوں کے ساتھ کھیل رہے ہوں۔ اسی طرح جب ہم بازار سے اپنی ضروریات کا سامان خریدنے جاتے ہیں، جب ہم اپنے اہل و عیال اور آل و اولاد پر خرچ کرتے ہیں، جب ہم صلہ رحمی کرتے ہیں اور اپنے پڑوسیوں اور دوستوں کے ساتھ میل ملاپ رکھتے ہیں، جب ہم دوسروں کی حاجت روائی کے لیے کوشش کرتے ہیں، اور جب ہم زندگی کے مختلف میدانوں میں سرگرمِ عمل ہوتے ہیں۔
۔یہ بات ہمارے ذہن سے اوجھل نہیں ہونی چاہیے کہ ہم اللہ سبحانہ کے لیے عبادت کو بروئے عمل لاتے ہیں، چنانچہ جب ہم نماز پڑھتے ہیں اور جب ہم یہ سارے اعمال انجام دیتے ہیں تو ہمارے احساس میں کوئی تضاد نہیں ہوتا۔
چنانچہ معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: ”لیکن میں تو سوتا بھی ہوں اور قیام بھی کرتا ہوں، میں اپنی نیند پر بھی اسی طرح ثواب کی امید رکھتا ہوں جس طرح اپنے قیام پر ثواب کی امید رکھتا ہوں۔“ [صحیح بخاری: 4341]
چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نیند میں بھی اسی طرح ثواب کی امید رکھتے تھے جس طرح قیام اللیل میں ثواب کی امید رکھتے تھے؛ کیونکہ سونے سے آپ کا مقصد عبادت اور اطاعت کے لیے قوت حاصل کرنا تھا۔
ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ راحت میں بھی اسی طرح ثواب طلب کرتے ہیں جس طرح تھکان میں طلب کرتے ہیں؛ کیوں کہ راحت سے جب عبادت پر مدد حاصل کرنے کا ارادہ کیا جائے تو اس سے بھی ثواب حاصل ہوتا ہے۔"
اے بھائیو! دین کو زندگی سے جدا کرنے کی دعوت دینے والی فکر نے بہت سے لوگوں کو متاثر کیا؛ چنانچہ انہوں نے عبادت کو زندگی کے مختلف معاشرتی، اقتصادی، فکری اور دیگر پہلوؤں سے نکال دیا، پھر وہ یہ سمجھنے لگے کہ عبادت صرف مسجد میں ادا کی جاتی ہے، جبکہ جب انسان دنیاوی کاموں اور معاملات میں مشغول ہو تو ان کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
یہاں تک کہ بعض لوگ عبادات کے شعائر کو ہی وہ کل عبادت سمجھتے ہیں جو مسلمان سے مطلوب ہے، اور ان کا ماننا ہے کہ جب انھوں نے انھیں ادا کر لیا تو گویا اپنے ذمے کی تمام عبادات ادا کر دیں، اب کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ان سے مزید کسی عمل کا مطالبہ کرے۔ چنانچہ اگر کوئی شخص انھیں نصیحت کرے اور ان کے واجبات کی یاددہانی کرائے، تو وہ کہتے ہیں: اے بھائی! آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں؟! ہم نے نماز پڑھ لی، زکوٰۃ ادا کر دی، روزے رکھ لیے اور حج کر لیا! جبکہ یہ عبادت کے مفہوم کو سمجھنے میں بہت بڑا انحراف ہے۔
اللہ میرے لیے اور آپ کے لیے عظمت والے قرآن میں برکت دے، اور اس میں موجود آیات اور حکمت والے ذکر کو میرے اور آپ کے لیے نفع بخش بنائے، میں اپنی یہ بات کہتا ہوں، اور اپنے لیے اور آپ کے لیے جلال والے اللہ سے مغفرت کا خواستگار ہوں، آپ بھی اس سے بخشش طلب کریں، بے شک وہی بخشش کرنے واﻻ نہایت مہربان ہے۔
دوسرے خطبہ کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اس نے ہمیں صرف اپنی عبادت کرنے اور اس کے ماسوا کی عبادت ترک کرنے کا حکم دیا ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے، اس کے خلیل اور اس کے برگزیدہ ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل واصحاب پر اور آپ سے محبت رکھنے والوں پر درود وسلام نازل فرمائے۔
دوسرا خطبہ:
امابعد! ارشاد ربانی ہے: اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہیں یہاں تک کہ آپ کو موت آجائے۔ [الحجر: 99]۔ یعنی: اپنے رب کی عبادت کرتے رہیں یہاں تک کہ آپ کو وہ موت آجائے جس کا آپ کو یقین ہے۔
قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس سے مراد اپنی زندگی کی مدت تک عبادت کا تسلسل ہے، جیسا کہ نیک بندے نے فرمایا: ﴿...اور اس نے مجھے نماز اور زکوٰة کا حکم دیا ہے جب تک بھی میں زنده رہوں﴾ [مریم: 31]۔”
لہذا اے اللہ کے بندو! ہمیں چاہیےکہ ہم اپنے پروردگار کی عبادت پر قائم رہیں یہاں تک کہ اس سے جا ملیں، اور اللہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اللہ کی شریعت پر استقامت اختیار کریں: پس آپ جمے رہیے جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے، اور وه لوگ بھی جو آپ کے ساتھ توبہ کر چکے ہیں، خبردار تم حد سے نہ بڑھنا... [ھود: 112]۔
زہری سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی: بے شک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر جمے رہے... [فصّلت: 30] اس کے بعد آپ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! انہوں نے اللہ کے لیے اس کی اطاعت پر استقامت اختیار کی، اور لومڑیوں جیسا ہیر پھیر نہیں کیا۔“ [اسے عبد اللہ بن مبارک نے «الزهد والرقائق» (1/ 311) (309) میں، ابن جریر نے اپنی تفسیر (21/ 465) میں اور احمد نے الزهد (ص 171) میں روایت کیا ہے، اور اس میں انقطاع ہے۔]
سفیان ثقفی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام کے بارے میں ایک بات بتا دیں، جس کے بارے میں آپ کے بعد کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہ پڑے۔ آپ نے فرمایا: ”تم کہو کہ میں اللہ پر ایمان لایا اور اس پر مضبوطی سے قائم رہو۔“ [صحیح مسلم: 38]۔
اللہ کے دین پر استقامت اختیار کرنے والے کی عزت و تکریم کس قدر عظیم ہے، ارشاد باری تعالی ہے: (واقعی) جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر اسی پر قائم رہے ان کے پاس فرشتے (یہ کہتے ہوئے) آتے ہیں کہ تم کچھ بھی اندیشہ اور غم نہ کرو (بلکہ) اس جنت کی بشارت سن لو جس کا تم وعده دیے گئے ہو۔ [فصّلت: 30]۔
لہذا انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے رب کی طرف اپنا سفر جاری رکھے، اللہ کے حضور اپنے عمل میں سچا رہے، ہمیشہ اس کی شریعت کا پابند رہے، اور اللہ کے لیے اپنی عبادت کو کسی وقت، جگہ یا اشخاص سے وابستہ نہ کرے؛ بلکہ ہر حال میں دینِ الہی پر سچائی کے ساتھ ثابت قدم رہے۔
چنانچہ یہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں جن سے صحابہ کرام نے استقامت کا درس لیا؛ جب نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد آپ نے ان کے درمیان کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ”سن لو! جو کوئی محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا، تو یقیناً محمد ﷺ انتقال فرما گئے ہیں، اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا، تو یقیناً اللہ تعالیٰ زندہ ہے، اسے کبھی موت نہیں آئے گی“ اور یہ آیت تلاوت فرمائی: ”بے شک آپ کو بھی موت آنی ہے اور انہیں بھی مرنا ہے۔“ [الزمر: 30]، اور یہ آیت: ”محمد ﷺ صرف رسول ہی ہیں، ان سے پہلے بہت سے رسول ہو چکے ہیں، کیا اگر ان کا انتقال ہو جائے یا یہ شہید ہو جائیں، تو تم اسلام سے اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے؟ اور جو کوئی پھر جائے اپنی ایڑیوں پر تو ہرگز اللہ تعالیٰ کا کچھ نہ بگاڑے گا، عنقریب اللہ تعالیٰ شکر گزاروں کو نیک بدلہ دے گا۔“ [آل عمران: 144]
اسی طرح عظیم لوگ اس اصول پر تربیت پاتے ہیں۔
عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ جب نبی ﷺ کی وفات ہوئی تو لوگ رونے لگے اور کہنے لگے: ”اللہ کی قسم! ہماری تمنا تھی کہ ہم آپ سے پہلے وفات پا جاتے، ہمیں ڈر ہے کہ ہم آپ کے بعد فتنے میں مبتلا نہ ہو جائیں۔“ اس پر معن بن عدی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”لیکن اللہ کی قسم! میں یہ پسند نہیں کرتا کہ میں آپ سے پہلے وفات پاتا، تاکہ میں آپ کی وفات کے بعد بھی آپ کی ویسے ہی تصدیق کروں جس طرح میں نے آپ کی زندگی میں آپ کی تصدیق کی تھی۔“ [صحیح بخاری: 6830]۔
اسی طرح اے اللہ کے بندو! ہمیں گناہوں کی طرف لوٹ کر اپنے نیک اعمال کو ضائع کرنے سے خبردار رہنا چاہیے، چنانچہ اللہ تعالی ہمیں خبردار کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: اور اس عورت کی طرح نہ ہو جاؤ جس نے اپنا سوت مضبوط کاتنے کے بعد ٹکڑے ٹکڑے کرکے توڑ ڈاﻻ... [النحل: 92]۔
اس بے وقوف اور احمق عورت کا یہ معمول تھا کہ وہ دن کے آغاز میں اون کاتتی، یہاں تک کہ جب دن کے آخر میں اس کا سوت مکمل ہونے کے قریب ہوتا تو وہ اسے ادھیڑ ڈالتی اور خراب کر دیتی، پھر وہ دوبارہ کاتنے اور ادھیڑنے کے کام میں لگ جاتی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کی مشابہت اختیار کرنے سے متنبہ فرمایا ہے، یعنی اس بات سے خبردار کیا کہ انسان اپنے نیک اعمال کو برے اعمال کے ذریعے ضائع نہ کر دے، جو ان نیکیوں کو ختم کر دیں اور ان کی برکت کو زائل کر دیں۔
نبی ﷺ الحور بعد الکور سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے؛ اس سے مراد ایمان کے بعد کفر کی طرف پلٹ جانا، یا اطاعت کے بعد گناہ اور نافرمانی کی طرف لوٹ جانا ہے۔
اے اللہ کے بندو! اپنے اعمال کی حفاظت کرو، اور انھیں ضائع یا برباد ہونے سے بچاؤ، نیک کاموں کی پابندی‘ نفس کا تزکیہ اور اس کی پاکیزگی کو جاری رکھو، ایک نیکی کے بعد دوسری نیکی اور ایک نیک عمل کے بعد دوسرا نیک عمل کرتے رہو۔
آئیے عبادت گزاروں کے امام اور مومنوں کے پیشوا پر درود وسلام بھیجیں، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبی ﷺ پر درود وسلام بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو۔ [الاحزاب: 56]۔
اے اللہ! درود وسلام اور برکت نازل فرما اپنے بندے اور اپنے رسول محمد ﷺ پر۔
***
خطبہ کا عنوان
اللہ کے اسما پر ایمان
پہلے خطبہ کا مقدمہ
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مومنوں کے دلوں میں ایمان کو ثبت کر دیا، یہاں تک کہ انہوں نے بصیرت کی آنکھ اور علم کے نور سے ان چیزوں کا مشاہدہ کر لیا جو نگاہوں سے اوجھل تھیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، وہ زندہ ہے جس کی حیات کامل ہے، وہ علیم ہے جس کا علم کامل ہے، وہ قدیر ہے جس کی قدرت کامل ہے، اس کی شان تو یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے فرماتا ہے 'ہو جا' اور وہ ہو جاتی ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، جو متقیوں کے امام، خاتم النبیین اور اہل یقین کے سردار ہیں، آپ ﷺ ایمان لائے تو کامل یقین کے ساتھ، عمل کیا تو نہایت عمدگی کے ساتھ، اور آپ اسی پر کاربند رہے یہاں تک کہ آپ کے پاس موت آگئی، اللہ تعالیٰ آپ پر، آپ کی آل واصحاب پر اور قیامت تک اخلاص کے ساتھ آپ کی پیروی کرنے والوں پر درود وسلام نازل فرمائے۔
پہلا خطبہ
اما بعد :
اے لوگو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اس پر ایمان لاؤ، اپنے رب کے اسماء وصفات اور افعال کی معرفت حاصل کر کے، اور ان اسماء و صفات کے تقاضوں اور واجبات پر عمل پیرا ہو کر اپنے ایمان کو حقیقی بناؤ۔ اس بات پر ایمان رکھو کہ اللہ حیّ (زندہ) اور قیوم ہے۔ اس کی حیات اس طرح کامل ہے کہ نہ اس سے پہلے عدم تھا اور نہ اسے فنا لاحق ہوگی، اور اس کی ذات کے سوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے۔ وہ اول ہے جس سے پہلے کوئی چیز نہیں، اور وہ آخر ہے جس کے بعد کوئی چیز نہیں، وہ ظاہر ہے جس کے اوپر کوئی چیز نہیں، اور وہ باطن ہے جس کے نیچے کوئی چیز نہیں۔ وہ آسمانوں اور زمین کو قائم رکھنے والا ہے، وہ بذات خود قائم ہے، اور وہ اپنی مخلوقات میں سے کسی کا محتاج نہیں۔ صحیح حدیث میں ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ”اے میرے بندو! تم سب کی رسائی مجھے نقصان پہنچانے تک نہیں ہو سکتی کہ تم مجھے نقصان پہنچاؤ اور نہ تمہاری رسائی مجھے نفع پہنچانے تک ہو سکتی ہے کہ تم مجھے نفع پہنچاؤ۔“ [صحیح مسلم: 2577] وہی ہے جس کے حکم سے آسمان اور زمین قائم ہیں اور اس کی مخلوق میں سے کوئی بھی اس سے بے نیاز نہیں، چنانچہ بندے اپنے تمام حالات اور اوقات میں اسی کے محتاج ہیں، وہ پلک جھپکنے کے برابر بھی اپنے رب سے بے نیاز نہیں ہو سکتے۔
یہ ایمان رکھیں کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے واﻻ ہے، وہ ہر چیز کا نگہبان اور نگران ہے، اور زمین و آسمان میں کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں: اور اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہیں غیب کی کنجیاں، (خزانے) ان کو کوئی نہیں جانتا بجز اللہ کے۔ اور وه تمام چیزوں کو جانتا ہے جو کچھ خشکی میں ہیں اور جو کچھ دریاؤں میں ہیں اور کوئی پتا نہیں گرتا مگر وه اس کو بھی جانتا ہے اور کوئی دانہ زمین کے تاریک حصوں میں نہیں پڑتا اور نہ کوئی تر اور نہ کوئی خشک چیز گرتی ہے مگر یہ سب کتاب مبین میں ہیں۔ [الانعام: 59] چنانچہ تمہاری تمام حرکات وسکنات اور اقوال وافعال تمہارے رب کے علم میں ہیں، تمہارے لیے محفوظ ہیں اور کتابِ مبین میں درج ہیں۔
-اللہ آپ پر رحم فرمائے- اس صفت، یعنی صفتِ علم پر حقیقی ایمان لائیں، اسے عملی اور تطبیقی طور پر بروئے کار لائیں، نیز آپ کو اسے علمی طور پر بھی بروئے عمل لانے کا حکم ہے۔ جب آپ جان لیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کے پوشیدہ اور ظاہر کو جانتا ہے اور اسے آپ کے لیے رکارڈ رکھتا ہے؛ تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ آپ خلوت اور جلوت میں اسی کی عبادت کریں، اس کی اطاعت اور خشیت کو ہر خشیت پر، اور اس کی شریعت کو ہر شریعت اور نظام پر مقدم رکھیں۔
اے مسلمان! ہو سکتا ہے کہ آپ بے پرواہی کے ساتھ کھلم کھلا اور علانیہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کریں، اور ہو سکتا ہے کہ آپ لوگوں کے خوف یا حیا کی وجہ سے مخفی اور پوشیدہ طور پر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کریں، تو جان لیں کہ ان دونوں حالتوں میں آپ کی حالت اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہیں، بے شک اللہ تعالیٰ آپ سے باخبر ہے، آپ جو کچھ کہتے ہیں اسے سنتا ہے، اور آپ جو کچھ کرتے ہیں اسے دیکھتا ہے، اور اسے کتابِ مبین میں محفوظ رکھتا ہے، تو کیا اس کے بعد آپ کو یہ زیب دیتا ہے کہ آپ اس کے حکم کی مخالفت کر کے یا اس کی منع کردہ باتوں کا ارتکاب کر کے اس کی نافرمانی کریں؟
اے اللہ کے بندو! ایمان رکھیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے اور یہ کہ وہ جواد و کریم ہے: ...اور اللہ ایسا نہیں ہے کہ کوئی چیز اس کو ہرا دے نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں۔ وه بڑے علم واﻻ، بڑی قدرت واﻻ ہے۔ [فاطر: 44] وہ چیزوں کو تبدیل کرنے اور انہیں پھیرنے، اور معاملات کو روکنے اور انہیں آسان کرنے پر پوری قدرت رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور ہمارا حکم صرف ایک دفعہ (کا ایک کلمہ) ہی ہوتا ہے جیسے آنکھ کا جھپکنا۔ [القمر: 50] آسمانوں اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جو اس کی قدرت پر دلالت کرتی ہیں، اور اس بات پر کہ تمام امور اسی کے ہاتھ میں ہیں، جب تم اس کا پختہ یقین کرلو؛ تو اس سے یہ واجب آتا ہے کہ تم مصیبتوں کے وقت اپنی امیدیں اسی سے وابستہ کرو، ضرورتوں کے وقت جو کچھ تم چاہو اسی سے مانگو، اور یہ جان لو کہ اس کی قدرت اور اس کا ارادہ اسباب سے بالاتر ہے، کتنے ہی ایسے امور رونما ہوئے جن کو لوگ بعید از قیاس سمجھتے تھے، اور کتنے ہی ایسے امور معدوم ہو گئے جن کی معدومی کو لوگ بعید از قیاس سمجھتے تھے، یہ سب اس بات کی دلیل ہے کہ اس کی قدرت ہر اندازے سے بالاتر ہے، اور اس کی تدبیر ہر تدبیر سے بالاتر ہے۔
اللہ کے بندو!
اس بات پر ایمان لاؤ کہ اللہ تعالیٰ حکیم ہے جو تمام چیزوں کو ان کے صحیح مقام پر رکھتا ہے، اس نے کوئی مخلوق بے کار پیدا نہیں کیا، اور نہ ہی کوئی شریعت بیکار مشروع کی۔ چنانچہ اس کی قضاء و قدر کا ہر فیصلہ حکمت پر مبنی ہے، اس نے اپنے بندوں کے لیے جو بھی حکم اور ممانعت مشروع کی ہے وہ بھی حکمت کے تحت ہے۔ اگر تم اس پر کما حقہ ایمان لے آؤ؛ تو تم پر فرض ہے کہ تم اللہ کے افعال اور اس کے احکام کے سامنے سرِ تسلیم خم کرو، اس کی شریعت اور اس کی تخلیق پر نکتہ چینی نہ کرو، اور اللہ کی حکمت کے سلسلے میں واجب ادب کو ملحوظ رکھو۔ چنانچہ اگر تم پر حکمت ظاہر ہو جائے؛ تو یہ اللہ کا فضل اور اس کی نعمت ہے، اور اگر تم پر حکمت پوشیدہ رہ جائے؛ تو معاملہ علیم وحکیم (اللہ) کے سپرد کر دو، اللہ تعالیٰ کے علم و حکمت کے کمال، اور اپنے علم اور حکمت کے نقص کا اعتراف کرو اور کہو: ہم اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر، اور محمد ﷺ کے نبی ہونے پر راضی ہیں۔
جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے علم و حکمت پر ایمان رکھتا ہو، وہ اللہ کی شریعت پر کیوں کر اعتراض کر سکتا ہے؟
میں اپنی یہ بات کہتا ہوں، اور اللہ سے اپنے لیے، آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے مغفرت کا طلب گار ہوں۔
دوسرے خطبہ کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، بہت زیادہ، پاکیزہ اور بابرکت تعریفیں، جیسا کہ ہمارا رب پسند فرماتا ہے اور راضی ہوتا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کے آل واصحاب پر اور قیامت تک ان کی ہدایت پر چلنے والوں پر درود وسلام اور برکتیں نازل فرمائے۔
دوسرا خطبہ:
اے مسلمانو!
اس بات پر ایمان رکھو کہ اللہ تعالیٰ فیصلہ کرنے والا، عادل ومنصف اور قہار ہے۔ جب تم اس پر پختہ ایمان لے آؤ گے، تو اس سے تم پر یہ لازم آئے گا کہ تم خود بھی انصاف سے کام لو اور ظلم سے باز رہو؛ کیوں کہ تمھارے ہاتھوں کے اوپر اسی واحد و قہار پروردگار کا ہاتھ ہے۔ جان لو کہ تمھیں اللہ عزوجل کے روبرو پیش ہونا ہے، جہاں وہ ظالم کے خلاف مظلوم کے حق میں فیصلہ فرمائے گا، یہاں تک کہ ظالموں کی پکڑ کو دیکھ کر ایک عادل قاضی بھی یہ تمنا کرے گا کہ کاش اس نے کبھی دو لوگوں کے درمیان ایک کھجور کے بارے میں بھی فیصلہ نہ کیا ہوتا۔ اسے خوف لاحق ہوگا کہ کہیں اس سے بھی کوئی ظلم نہ ہو گیا ہو، چنانچہ وہ تمنا کرے گا کہ کاش وہ اس سے محفوظ رہا ہوتا۔ لیکن وہ عادل قاضی جس نے حق کو جانا اور اسی کے مطابق فیصلہ کیا، اس پر کوئی گناہ اور وبال نہیں، بلکہ وہ جنت میں ہوگا۔ قاضی کے علاوہ دیگر حاکموں کا بھی یہی حال ہے۔ لہٰذا، جسے اللہ تعالیٰ نے کسی بھی چیز کا حاکم بنایا ہے، اسے ظلم کرنے سے بچنا چاہیے، اور یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ فیصلہ کرنے والا، عادل ومنصف اور قہار ہے۔
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: اور اچھے اچھے نام اللہ ہی کے لیے ہیں سو ان ناموں سے اللہ ہی کو موسوم کیا کرو اور ایسے لوگوں سے تعلق بھی نہ رکھو جو اس کے ناموں میں کج روی کرتے ہیں، ان لوگوں کو ان کے کیے کی ضرور سزا ملے گی۔ [الاعراف: 180]۔
پھر جان لو کہ اللہ نے تمہیں اپنے نبی ﷺ پر درود و سلام بھیجنے کا حکم دیا ہے، چنانچہ قرآن مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو۔ [الاحزاب: 56]۔
اے اللہ! ہمارے نبی محمد ﷺ پر درود و سلام نازل فرما۔
***
خطبہ کا عنوان
آسمانی کتابوں پر ایمان
پہلے خطبہ کا مقدمہ
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے سزاوار ہیں جو غالب، علم والا، بڑی حکمتوں واﻻ اور مکمل خبردار ہے، جس نے محکَم قرآن میں فرمایا: ...اور کہہ دیں کہ اللہ تعالیٰ نے جتنی کتابیں نازل فرمائی ہیں میرا ان پر ایمان ہے۔... [الشوریٰ: 15]، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی برحق معبود نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں؛ وہ اگلوں اور پچھلوں کا معبود، آسمانوں اور زمینوں کو قائم رکھنے والا، اور تمام مخلوقات کا خالق ہے۔ میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، جو وعدے کے سچے اور امین ہیں، آپ ﷺ نے پیغامِ رسالت پہنچا دیا، امانت ادا کر دی، امت کی خیر خواہی فرمائی، اور اللہ کی راہ میں جہاد کا حق ادا کر دیا یہاں تک کہ آپ کو موت آگئی۔ اللہ آپ پر، آپ کی آل پر اور آپ کے تمام اصحاب پر اپنی رحمتیں اور سلامتی نازل فرمائے۔
پہلے خطبہ کا متن
اما بعد :
اے ایمان والو! اپنے رب اللہ تعالیٰ سے ڈرو، اپنے تمام اعمال میں اس کی نگرانی کو یاد رکھو، اور یہ جان لو کہ دنیا و آخرت کی سعادت اس کا تقویٰ اختیار کرنے اور اس بلند و برتر ذات کی خوشنودی تلاش کرنے میں ہے۔
اے مومنو! یقیناً اللہ عزوجل حکیم و خبیر ہے؛ وہ اپنی شریعت، اپنی تخلیق اور اپنی جزا میں حکیم ہے، اس کے تمام امور کامل حکمت پر مبنی ہیں۔ اللہ عزیز وبرتر کی عزت اور اس کی حکمت کا ہی تقاضہ ہے کہ اس نے مخلوق کو بے کار پیدا نہیں کیا، اور نہ انہیں بے مقصد وجود بخشا، اور نہ انہیں یوں ہی چھوڑ دیا، بلکہ اس نے انہیں اس لیے پیدا کیا تاکہ وہ انہیں حکم دے اور منع کرے، اور وہ اس کی عبادت کریں اور اس کی توحید کو بجا لائیں، اس کے حکم کی تعمیل اور اس کی اطاعت کریں۔ اسی مقصد کے لیے اس نے اپنے رسول بھیجے اور واضح حق اور روشن ہدایت کے ساتھ اپنی کتابیں نازل فرمائیں۔
اے ایمان والو! اسی لیے ایمان کے عظیم بنیادی اصولوں اور دین کے مضبوط قواعد میں سے، اللہ کے معزز رسولوں پر نازل کی جانے والی کتابوں پر ایمان لانا بھی ہے، اور یہ کہ وہ حق اور ہدایت، نیز دنیا وآخرت میں بندوں کی فلاح اور سعادت پر مشتمل ہیں۔ یہ ایک بنیادی اصل اور مضبوط رکن ہے، اور یہ ان بنیادی اصولوں میں سے ہے جن کے بغیر دین کا قیام ممکن نہیں، اللہ تعالی فرماتا ہے: اے مسلمانو! تم سب کہو کہ ہم اللہ پر ایمان ﻻئے اور اس چیز پر بھی جو ہماری طرف اتاری گئی اور جو چیز ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب (علیہم السلام) اور ان کی اوﻻد پر اتاری گئی اور جو کچھ اللہ کی جانب سے موسیٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) اور دوسرے انبیا (علیہم السلام) دیے گئے۔ ہم ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے، ہم اللہ کے فرمانبردار ہیں۔ [البقرۃ: 136]، نیز اللہ تعالی نے فرمایا: رسول ایمان ﻻیا اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے اتری اور مومن بھی ایمان ﻻئے، یہ سب اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان ﻻئے، اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے، انہوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی، ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں اے ہمارے رب! اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔ [البقرۃ: 285]، ارشاد باری تعالی ہے : ساری اچھائی مشرق ومغرب کی طرف منھ کرنے میں ہی نہیں بلکہ حقیقتاً اچھا وه شخص ہے جو اللہ تعالی پر، قیامت کے دن پر، فرشتوں پر، کتاب اللہ پر اور نبیوں پر ایمان رکھنے واﻻ ہو... [البقرۃ: 177]، نیز اللہ تعالی نے فرمایا: اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ پر، اس کے رسول ﷺ پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول ﷺ پر اتاری ہے اور ان کتابوں پر جو اس سے پہلے اس نے نازل فرمائی ہیں، ایمان لاؤ! جو شخص اللہ تعالیٰ سے اور اس کے فرشتوں سے اور اس کی کتابوں سے اور اس کے رسولوں سے اور قیامت کے دن سے کفر کرے وه تو بہت بڑی دور کی گمراہی میں جا پڑا۔ [النساء: 136] اس معنی و مفہوم کی آیتیں بڑی تعداد میں موجود ہیں۔
اے مومنو! اس باب میں جامع قاعدہ یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ تمام کتابوں پر ایمان لائیں، جیسا کہ ہمارے عزیز وبرتر پروردگار کا ارشاد ہے: ...اور کہہ دیں کہ اللہ تعالیٰ نے جتنی کتابیں نازل فرمائی ہیں میرا ان پر ایمان ہے۔... [الشوریٰ: 15]، یعنی: ہر رسول پر (نازل ہونے والی کتابوں پر)، جن کا ہمیں علم ہے اور جن کا ہمیں علم نہیں، ہمارا ایمان ہے کہ وہ حق، ہدایت اور بندوں کی دنیا و آخرت کی فلاح و سعادت لے کر آئی ہیں، ہم یہ مانتے ہیں کہ وہ اللہ کی وحی، اس کا کلام اور اس کی طرف سے نازل کردہ ہیں، ہمارا یہ بھی ایمان ہے کہ بندوں کے لیے ان پر ایمان لائے بغیر نہ کوئی ہدایت ہے اور نہ کوئی فلاح، یہی وہ کتابیں ہیں جن کے ذریعے تاریکیوں میں ہدایت ملتی ہے، اور یہی لوگوں کے لیے راستہ روشن کرتی ہیں، جن کے ذریعے وہ حق اور باطل، ہدایت اور گمراہی، اور اللہ کے پسندیدہ اور ناپسندیدہ امور کے درمیان فرق کرتے ہیں؛ کیوں کہ یہ سب کچھ صرف اللہ عزیز وبرتر کی وحی، اس کے کلام اور اس کی کتاب کے ذریعے ہی جانا جا سکتا ہے۔
بلاشبہ یہ اللہ جل وعلا کی حکمت ہے کہ اس نے امتوں کی جانب پے در پے رسول بھیجے اور کتابیں نازل فرمائیں، اور جو کتاب بھی کسی امت پر نازل ہوتی تو اس امت کی فلاح وبہبود اسی کتاب پر ایمان لانے میں ہوتی تھی کیوں کہ اس کا خطاب انہی سے متعلق ہوتا تھا، یہاں تک کہ کتابوں کا یہ سلسلہ قرآن کریم پر ختم کر دیا گیا جو رب العالمین کی طرف سے نازل کردہ کتابوں کی آخری کڑی ہے، جس طرح محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں، اسی طرح آپ ﷺ کی کتاب کے بعد کوئی اور کتاب نہیں؛ اسی لیے قرآن تمام سابقہ شریعتوں کو منسوخ کرنے والا شمار ہوتا ہے، چنانچہ اس کے نزول کے بعد کوئی بھی ایمان، عمل اور فیصلہ قابلِ قبول نہیں سوائے اس کے جو قرآن کریم میں آیا ہے، یہی وجہ ہے کہ جب اللہ جل وعلا نے بعض نازل کردہ کتابوں کا ذکر کیا اور ان کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم دیا -یعنی ان لوگوں کو جو ان کتابوں کے مخاطب تھے- تو اس کے بعد اللہ سبحانہ نے ارشاد فرمایا: اور ہم نے آپ کی طرف حق کے ساتھ یہ کتاب نازل فرمائی ہے جو اپنے سے اگلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور ان کی محافظ ہے۔ اس لیے آپ ان کے آپس کے معاملات میں اسی اللہ کی اتاری ہوئی کتاب کے ساتھ حکم کیجیے... [المائدۃ: 48]، یعنی قرآن میں، جس پر اللہ عزیز وبرتر نے رب العالمین کی طرف سے نازل کردہ کتابوں کا سلسلہ ختم فرما دیا۔
اے ایمان والو! اور یہ قرآن عظیم سب سے آخری آسمانی کتاب ہے، وہ سب سے عظیم الشان، بلند مقام اور اعلیٰ مرتبہ والی ہے، نبی ﷺ کی بعثت کے بعد تمام انسانوں پر فرض ہے کہ وہ اس پر ایمان لائیں، اور جو اس پر ایمان نہیں لائے گا تو اللہ کا حق ہے کہ وہ قیامت کے دن اسے جہنم میں داخل کرے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے! اس امت کا کوئی بھی شخص چاہے وہ یہودی ہو یا نصرانی، اسے میری بعثت کی اطلاع ہوئی ہو اور وہ اس دین پر ایمان لائے بغیر مرجائے جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا ہے، تو وہ یقینًا جہنمیوں میں سے ہوگا۔“ [صحیح مسلم: 153]
اے مومنو! اس قرآن پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں موجود تمام غیبی امور اور خبروں کی تصدیق کی جائے، اس کے احکام کی پیروی کی جائے اور اس کی منع کردہ باتوں سے اجتناب کیا جائے، اس کی مثالوں سے عبرت حاصل کی جائے اور اس کے قصوں اور عبرتوں سے نصیحت حاصل کی جائے، اس کی محکم آیات پر ایمان لایا جائے اور اس کی متشابہ آیات کو تسلیم کیا جائے، رات کی گھڑیوں اور دن کے اوقات میں اس کی تلاوت کی جائے، نیز اس کی آیات پر تدبر کرنے، اس کے معانی و مفاہیم کو سمجھنے اور اس کی ہدایات سے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے اپنے نفس سے مجاہدہ کیا جائے۔ یقیناً یہ قرآن وه راستہ دکھاتا ہے جو بہت ہی سیدھا ہے... [الإسراء: 9]، نفس کے ساتھ مجاہدہ کرتے ہوئے اس بات کی کوشش کرے کہ بندہ اہلِ قرآن میں شامل ہو جائے؛ کیونکہ اہلِ قرآن اللہ تعالیٰ کے خاص بندے اور اس کے مقرب لوگ ہیں۔
میں اپنی یہ بات کہتا ہوں، اور اللہ سے اپنے لیے، تمہارے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے ہر گناہ کی مغفرت طلب کرتا ہوں؛ تم بھی اس سے بخشش مانگو وہ تمہیں بخش دے گا، بے شک وه بہت بڑا بخشنے والا اور نہایت مہربانی کرنے والا ہے۔
دوسرے خطبہ کا مقدمہ
اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی تمام آل اور اصحاب پر درود وسلام نازل فرمائے۔
دوسرا خطبہ:
اما بعد! اے مومنو: اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور زادِ راہ اختیار کرو، بے شک بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے۔
اللہ پر ایمان لانے میں یہ داخل ہے کہ اس بات پر ایمان رکھا جائے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اگر مشرکوں میں سے کوئی تجھ سے پناه طلب کرے تو تو اسے پناه دے دے یہاں تک کہ وه کلام اللہ سن لے... [التوبۃ: 6]، مزید فرمایا: ...حاﻻنکہ ان میں ایسے لوگ بھی جو کلام اللہ کو سن کر، عقل وعلم والے ہوتے ہوئے، پھر بھی بدل ڈاﻻ کرتے ہیں... [البقرۃ: 75]، اور اللہ تعالی نے اپنے پیغمبر سے فرمایا: آپ کہہ دیجیے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا ہوں، جس کی بادشاہی تمام آسمانوں اور زمین میں ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کے ﻻئق نہیں، وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے، سو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاؤ اور اس کے نبی امی پر، جو کہ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہیں... [الاعراف: 158] اور وہ قرآن ہے۔
محمد بن عبد اللہ ﷺ پر درود و سلام بھیجیں - اللہ آپ کی حفاظت فرمائے - جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں آپ کو اس کا حکم دیا ہے، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو۔ [الاحزاب: 56]۔
اے اللہ! محمد اور آل محمد پر رحمت نازل فرما۔
***
خطبہ کا عنوان
کتاب و سنت کو مضبوطی سے تھامے رہیں
پہلے خطبہ کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد چاہتے ہیں اور اسی سے بخشش طلب کرتے ہیں، اور ہم اپنے نفس اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا، اور جسے وہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ آپ نے پیغامِ رسالت پہنچا دیا، امانت ادا کر دی، امت کی خیر خواہی فرمائی، اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعے مصیبتوں کو دور فرما دیا، اور آپ نے اللہ کی راہ میں جہاد کا حق ادا کر دیا یہاں تک کہ آپ کے رب کی طرف سے آپ کو موت آ گئی۔ روزِ قیامت تک، جب تک رات اور دن یکے بعد دیگرے آتے رہیں، آپ پر اللہ کی رحمتیں اور سلامتی نازل ہو۔
پہلا خطبہ
اما بعد :
اے مسلمانو!
ارشاد ربانی ہے: اللہ تعالیٰ کی رسی کو سب مل کر مضبوط تھام لو اور پھوٹ نہ ڈالو... [آل عمران: 103]، ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ”﴿اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوط تھام لو﴾، ایک قول کے مطابق: اس سے مراد اللہ کا عہد ہے، اور دوسرے قول کے مطابق: قرآن ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ کے دین کو مضبوطی سے تھام لو، اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس سے مراد جماعت ہے۔“
مزید ارشاد ہے: اور پھوٹ نہ ڈالو۔ یعنی: انہیں جماعت سے جڑے رہنے کا حکم دیا، اور فرقہ بازی سے منع کیا۔
اختلاف وافتراق سے منع کرنے اور اتحاد و اتفاق کا حکم دینے کے حوالے سے بہت سی نصوص وارد ہوئی ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بے شک جن لوگوں نے اپنے دین کو جدا جدا کردیا اور گروه گروه بن گئے ، آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں... [الانعام: 159]۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ تمھارے لیے تین چیزوں کو پسند فرماتا ہے اور تین چیزوں کو ناپسند کرتا ہے، وہ تمھارے لیے یہ پسند فرماتا ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ، اور یہ کہ تم سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور جدا جدا نہ ہو، اور وہ تمھارے لیے ناپسند کرتا ہے: بے فائدہ بحث و تکرار کو، زیادہ سوال کرنے کو اور مال ضائع کرنے کو۔“ [صحیح مسلم: 1715]۔
کتاب وسنت کو مضبوطی سے تھامنے سے مراد یہ ہے کہ سلف صالحین کی فہم کے مطابق ان پر کاربند رہا جائے، اور سلف سے مراد صحابہ کرام، احسان کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والے تابعین اور مسلمانوں کے ائمہ ہیں؛ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: جو شخص باوجود راه ہدایت کے واضح ہو جانے کے بھی رسول ﷺ کا خلاف کرے اور تمام مومنوں کی راه چھوڑ کر چلے، ہم اسے ادھر ہی متوجہ کردیں گے جدھر وه خود متوجہ ہو اور دوزخ میں ڈال دیں گے ، وه پہنچنے کی بہت ہی بری جگہ ہے۔ [النساء: 115]، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ”یہودی اکہتر فرقوں میں اور نصاری بہتر فرقوں میں بٹ گئے تھے، اور یہ امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، یہ سارے فرقے جہنم میں ہوں گے سوائے ایک فرقے کے“، عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! وہ کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس روش اور طریقے پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔“؛ یعنی: یہ وہ جماعت ہے جو اس طریقہ پر ہوگی جس پر میں ہوں اور میرے صحابہ ہیں۔ [سنن ابی داود: 4596، جامع ترمذی: 2640، مسند احمد: 8377، اس کی سند صحیح ہے]۔
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کے دلوں پر نگاہ ڈالی، تو محمد ﷺ کے دل کو بندوں کے دلوں میں سب سے بہترین پایا؛ چنانچہ انہیں اپنے لیے چن لیا، اور اپنی رسالت دے کر مبعوث فرمایا۔ پھر محمد ﷺ کے دل کے بعد بندوں کے دلوں پر نگاہ ڈالی، تو آپ ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دلوں کو بندوں کے دلوں میں سب سے بہترین پایا، چنانچہ انہیں اپنے نبی ﷺ کے وزراء بنا دیا، جو اس کے دین کی خاطر جہاد کرتے ہیں۔ پھر فرمایا: تم میں سے جس شخص کو طریقہ اختیار کرنا ہو، وہ گزرے ہوئے لوگوں کا طریقہ اختیار کرے؛ کیونکہ زندہ کے بارے میں فتنےکا اندیشہ ہے۔ جب کہ وہ لوگ محمد ﷺ کے صحابہ تھے۔ وہ اس امت میں سب سے افضل، سب سے نیک دل والے، سب سے گہرے علم کے مالک اور سب سے بے تکلف لوگ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے نبی کی رفاقت اور اپنے دین کی اقامت کے لیے منتخب کیا تھا۔ لہٰذا ان کافضل پہچانو، ان کے نقش قدم کی پیروی کرو اور جس قدر ممکن ہو ان کے اخلاق اور سیرت کو اپناؤ۔ کیونکہ وہ لوگ سیدھے راستے پر گامزن تھے۔" [مسند امام احمد: 3600، اس کی سند حسن ہے۔]
اے مسلمانو! کتاب و سنت کو مضبوطی سے تھامنے اور انہیں مضبوطی سے پکڑے رہنے کی ترغیب میں بے شمار نصوص وارد ہوئی ہیں؛ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: تم لوگ اس کا اتباع کرو جو تمہارے رب کی طرف سے آئی ہے اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر من گھڑت سرپرستوں کی اتباع مت کرو۔ تم لوگ بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو۔ [الاعراف: 3]، مزید فرمایا: پس جو وحی آپ کی طرف کی گئی ہے اسے مضبوط تھامے رہیں۔ بے شک آپ راهِ راست پر ہیں۔ [الزخرف: 43]، مزید فرمایا: پھر ہم نے آپ کو دین کی (ظاہر) راه پر قائم کردیا ، سو آپ اسی پر لگے رہیں اور نادانوں کی خواہشوں کی پیروی میں نہ پڑیں۔ [الجاثیۃ: 18]۔
قرآن اور سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھنا بندے کے لیے گمراہی سے بچاؤ اور ہدایت کا ذریعہ ہے؛ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تمہارے درمیان ایسی چیز چھوڑی ہے کہ اگر تم اسے مضبوطی سے تھامے رہو گے تو اس کے بعد کبھی گمراہ نہیں ہوگے: اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت۔“ [صحیح مسلم: 1218]۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”بے شک میں تمھارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، ان کے بعد تم کبھی گمراہ نہیں ہوگے: اللہ کی کتاب اور میری سنت۔“ [اس حدیث کو حاکم نے المستدرک (319) میں، اور بزار (8993) نے روایت کیا ہے، اور البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔]
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اپنی کتاب [الفرقان] میں فرماتے ہیں: "ہر مومن پر لازم ہے کہ وہ دین کے کسی بھی معاملے میں گفتگو نہ کرے سوائے اس کی اتباع میں جو رسول اللہ ﷺ لے کر آئے، اور آپ ﷺ سے آگے نہ بڑھے؛ بلکہ وہ یہ دیکھے کہ آپ ﷺ نے کیا فرمایا ہے، چنانچہ اس کا قول آپ ﷺ کے قول کے تابع ہو، اور اس کا عمل آپ ﷺ کے حکم کے تابع ہو۔ صحابہ کرام، اور اخلاص کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والے تابعین اور ائمہ مسلمین کا بھی یہی طرز عمل تھا۔ اسی لیے ان میں سے کوئی بھی اپنی عقل کی بنیاد پر نصوص کا انکار نہیں کرتا تھا، اور نہ ہی رسول اللہ ﷺ کے لائے ہوئے دین کے علاوہ کسی اور دین کی بنیاد رکھتا تھا۔ جب کوئی شخص دین کی کسی بات کی معرفت حاصل کرنے اور اس بارے میں گفتگو کرنے کا ارادہ کرتا، تو وہ دیکھتا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے کیا فرمایا ہے؛ چنانچہ وہ اسی سے سیکھتا، اسی کی روشنی میں گفتگو کرتا، اسی پر غور و فکر کرتا اور اسی سے رہنمائی حاصل کرتا۔ اہل سنت کا یہی بنیادی اصول ہے۔"
اے مسلمانو!
احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ جو شخص اس طریقے پر مضبوطی سے قائم رہے جس پر آپ ﷺ اور آپ کے بعد خلفائے راشدین تھے، تو وہ نجات پانے والوں میں سے ہوگا؛ چنانچہ عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دن رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے، اور ہمیں ایک موثر وعظ فرمایا جس سے آنکھیں ڈبڈبا گئیں اور دل کانپ اٹھے۔ تو ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ وعظ تو گویا کسی الوداع کہنے والے کے وعظ کی طرح ہے۔ لہٰذا آپ ہمیں کس بات کی وصیت کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہیں اللہ سے ڈرنے، اور (امیر کی بات) سننے اور ماننے کی وصیت کرتا ہوں، اگرچہ تم پر کوئی حبشی غلام ہی کیوں نہ امیر بن جائے۔ (یاد رکھو!) تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا، وہ یقینا بہت اختلاف دیکھے گا۔ چنانچہ تم میری سنت کو اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کو لازم پکڑنا، اس پر مضبوطی سے قائم رہنا اور اسے دانتوں سے خوب جکڑ لینا۔ اور دین میں نئے نئے کام ایجاد کرنے سے بچنا، کیونکہ ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔“ [سنن ابی داود: 4607، جامع ترمذی: 2676، سنن ابن ماجہ: 43، اس کی سند صحیح ہے]۔
امام احمد نے اپنی مسند میں جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کی خدمت میں ایک کتاب لے کر حاضر ہوئے جو انہیں کسی اہلِ کتاب سے حاصل ہوئی تھی، چنانچہ انہوں نے اسے نبی ﷺ کے سامنے پڑھا، تو آپ ﷺ غصہ ہو گئے اور فرمایا: ”اے ابن خطاب! کیا تم اس میں حیرت کے شکار ہوکر مشکل میں پڑنا چاہتے ہو؟! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں تو تمہارے پاس سفید اور صاف ستھرا دین لے کر آیا ہوں۔ ان سے کسی چیز کے بارے میں نہ پوچھو، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تمہیں حق بات بتائیں اور تم اسے جھٹلا دو، یا باطل بات بتائیں اور تم اس کی تصدیق کر دو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر آج موسیٰ بھی زندہ ہوتے، تو ان کے پاس بھی میری پیروی کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا۔“ [اسے احمد (15156) نے، ابن ابی عاصم نے 'السنۃ' (50) میں اور بزار (124) نے حسن سند سے روایت کیا ہے]۔
یہ بات معلوم ہے کہ اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام جب آخری زمانے میں نزول فرمائیں گے، تو کوئی نئی شریعت لے کر نہیں آئیں گے؛ بلکہ نبی ﷺ کی شریعت کے مطابق ہی فیصلہ کریں گے، چنانچہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، وہ وقت بہت ہی نزدیک ہے، جب تمھارے درمیان مریم کا بیٹا اترے گا۔ اس وقت وہ منصِف حاکم ہوگا۔ صلیب توڑ دے گا۔ خنزیر کو قتل کرے گا۔ جزیہ ختم کر دے گا۔ مال کی اس قدر بہتات ہوگی کہ کوئی اسے قبول نہیں کرے گا۔“ [متفق علیہ]۔
میں اپنی یہ بات کہتا ہوں، اور عظمت اور جلال والے اللہ سے اپنے لیے، تمہارے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے ہر گناہ کی مغفرت طلب کرتا ہوں، تم اس کے حضور توبہ کرو اور اس سے بخشش مانگو، بے شک وه بہت بڑا بخشنے واﻻ اور نہایت مہربانی کرنے واﻻ ہے۔
دوسرے خطبہ کا مقدمہ
اللہ کے احسان پر تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں، اس کی توفیق اور انعام پر اسی کا شکر ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔
دوسرا خطبہ
اما بعد :
اے مسلمانو! اس امت کے آخری لوگوں کی اصلاح بھی انہی چیزوں سے ہوگی، جن سے پہلے لوگوں کی اصلاح ہوئی تھی؛ امام مالک نے فرمایا: ”اس امت کے آخری لوگوں کی اصلاح بھی انہی چیزوں سے ہوگی جن سے پہلے لوگوں کی اصلاح ہوئی تھی، اور جن چیزوں سے پہلے لوگوں کی اصلاح ہوئی تھی، وہ کتاب اللہ اور اس کے نبی ﷺ کی سنت ہیں۔“
طبرانی نے اپنی المعجم الکبیر (8636) میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث سے روایت کی ہے: "وہ مسجد میں کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو حلقوں کی صورت میں بیٹھے نماز کا انتظار کر رہے تھے۔ ہر حلقے میں ایک آدمی تھا اور ان کے ہاتھوں میں کنکریاں تھیں۔ اور ایک آدمی ان سے کہہ رہا تھا: سو بار سبحان اللہ کہو، تو وہ سو بار سبحان اللہ کہتے۔ سو بار اللہ اکبر کہو، تو وہ سو بار اللہ اکبر کہتے۔ سو بار لا الہ الا اللہ کہو، تو وہ سو بار لا الہ الا اللہ کہتے۔ عبد اللہ بن مسعود نے ان سے فرمایا: تم اپنے گناہوں کو شمار کرو، اور میں اس بات کی ضمانت دیتا ہوں کہ تمہاری نیکیوں میں سے کچھ بھی ضائع نہیں جائے گا۔ اے امتِ محمد ﷺ! تم پر افسوس ہے، تم کتنی جلدی ہلاکت و بربادی میں پڑ گئے! ابھی تو تمہارے نبی ﷺ کے صحابہ کرام اتنی بڑی تعداد میں موجود ہیں، اور یہ آپ ﷺ کے کپڑے ہیں جو ابھی بوسیدہ نہیں ہوئے، اور آپ کے برتن ابھی ٹوٹے نہیں ہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یا تو تم لوگ ایک ایسے طریقے پر ہو جو محمد ﷺ کے طریقے سے زیادہ ہدایت یافتہ ہے، یا پھر تم گمراہی کا دروازہ کھولنے والے ہو۔ ان لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم اے ابو عبدالرحمٰن! ہمارا ارادہ صرف خیر و بھلائی کا ہی تھا۔ آپ نے فرمایا: اور کتنے ہی بھلائی کے چاہنے والے ایسے ہیں جو اس سے محروم رہ جاتے ہیں!"
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: جس دن بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض سیاه... [آل عمران: 106]، ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”جس وقت اہل سنت والجماعت کے چہرے سفید ہوں گے، جب کہ بدعتیوں اور تفرقہ ڈالنے والوں کے چہرے سیاہ ہوں گے۔“
اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت وسرخ روئی عطا فرما، اور شرک اور مشرکوں کو ذلیل وخوار فرما۔
***
خطبہ کا عنوان
رسولوں پر ایمان
پہلے خطبہ کا مقدمہ
ساری تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو یکتا اور سب پر غالب ہے، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا اور منتخب فرماتا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، وہ نہایت رحم کرنے والا اور بہت بخشنے والا ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، جو برگزیدہ اور منتخب نبی ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل اور تمام صحابہ پر درود وسلام نازل فرمائے جب تک رات اور دن یکے بعد دیگرے آتے رہیں۔
پہلا خطبہ
اما بعد: اے ایمان والو، اللہ کے بندو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اس پاک ذات کو اس شخص کی طرح نگہبان جانو جسے یہ علم ہو کہ اس کا رب اسے سنتا اور دیکھتا ہے؛ یقیناً اللہ عزیز وبرتر کا تقویٰ وہ بہترین زادِ راہ ہے جو اللہ کی رضا تک پہنچاتا ہے: ...اور اپنے ساتھ سفر خرچ لے لیا کرو، سب سے بہتر توشہ اللہ تعالیٰ کا ڈر ہے اور اے عقلمندو! مجھ سے ڈرتے رہا کرو۔ [البقرۃ: 197]۔
اے ایمان والو! بے شک اللہ کے برگزیدہ رسول انسانیت کا بہترین اور چنیدہ طبقہ ہیں۔ وہ اللہ کے سب سے پسندیدہ بندے، تمام انسانوں کا خلاصہ اور ربِّ العالمین کی منتخب مخلوق ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے علمِ کامل کی بنا پر چن لیا، انہیں منتخب فرمایا، دوسروں پر فضیلت عطا کی، اپنی خاص عنایتوں اور کمالات سے نوازا، اور انہیں اپنی رسالت اور وحی کے شرف سے سرفراز فرمایا۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ جسے چاہتا ہے منتخب فرماتا اور برگزیدہ بناتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: فرشتوں میں سے اور انسانوں میں سے پیغام پہونچانے والوں کو اللہ ہی چھانٹ لیتا ہے... [الحج: 75]۔
اللہ عزیز وبرتر نے اپنے دین کو پہونچانے کے لیے انھیں منتخب فرمایا، چنانچہ انھوں نے پوری وضاحت کے ساتھ پیغام پہونچا دیا، اور انھوں نے اپنی اپنی امتوں کو ہر خیر کی راہ دکھائی اور ہر شر سے انھیں خبردار کیا، ...رسول کے ذمہ تو صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہی ہے۔ [النور: 54]۔
اے ایمان والو! رسولوں پر ایمان، ایمان کے اصولوں میں سے ایک اصل اور دین کی بنیادوں میں سے ایک بنیاد ہے، رسولوں (ان سب پر اللہ کی رحمتیں اور سلامتی ہو) پر ایمان کے بغیر نہ کوئی ایمان ہے، نہ کوئی اطاعت اور نہ ہی کسی عبادت کی قبولیت؛ اللہ تعالی فرماتا ہے: رسول ایمان ﻻیا اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے اتری اور مومن بھی ایمان ﻻئے، یہ سب اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان ﻻئے، اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے، انہوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی، ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں اے ہمارے رب! اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔ [البقرۃ: 285]۔
اے ایمان والو! رسولوں پر ایمان سے مراد اس بات کی پختہ تصدیق اور ایسا کامل یقین ہے جس میں کوئی شک نہ ہو کہ وہ اللہ کے رسول ہیں، اور یہ کہ اللہ عز و جل نے ان کو چنا اور منتخب کیا، انہیں اپنی واضح وحی اور سیدھے دین کے ساتھ بھیجا، اور یہ کہ وہ سچے، تصدیق شدہ، راہِ ہدایت دکھانے والے، ہدایت یافتہ، امانت دار اور متقی ہیں۔ انہوں نے واضح پیغام پہنچا دیا اور اللہ کے صراط مستقیم کی طرف بندوں کی رہنمائی کی۔ اور اس بات پر ایمان لانا کہ ان رسولوں (علیہم الصلوٰۃ والسلام) نے بندوں کو رشد و ہدایت کی جانب بلایا، چنانچہ انہوں نے کوئی ایسی بھلائی نہ چھوڑی جس کی طرف رہنمائی نہ کی ہو، اور نہ کوئی ایسی برائی چھوڑی جس سے انہوں نے بندوں کو ڈرایا اور خبردار نہ کیا ہو۔ اور اس بات کا عقیدہ رکھنا کہ وہ بندوں میں سب سے برگزیدہ اور سب سے بہترین جماعت ہیں، نیز یہ کہ وہ اللہ کے بہترین بندے اور ساری مخلوق میں سب سے افضل ہیں، ان سب پر اللہ کی رحمتیں اور سلامتی نازل ہو۔ اسی طرح معزز رسولوں کی محبت سے دلوں کو آباد کرنا، ان کی ہدایت سے رہنمائی حاصل کرنے اور ان کے نقش قدم پر چلنے کا اہتمام کرنا بھی (ایمان کا تقاضہ) ہے۔ یہی لوگ ایسے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی تھی، سو آپ بھی ان ہی کے طریق پر چلیے... [الانعام: 90]۔
اے مومنو! قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے مقامات پر ہمیں رسولوں کے واقعات بیان کیے ہیں، ان میں سے متعدد نبیوں کا ان کے ناموں کے ساتھ ذکر کیا ہے، اور ان میں سے بعض کے بارے میں تفصیلی حالات ذکر کیے ہیں۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اور یہ ہماری حجت تھی وه ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کی قوم کے مقابلے میں دی تھی، ہم جس کو چاہتے ہیں مرتبوں میں بڑھا دیتے ہیں۔ بے شک آپ کا رب بڑا حکمت واﻻ بڑا علم واﻻ ہے۔ اور ہم نے ان کو اسحاق دیا اور یعقوب‘ ہر ایک کو ہم نے ہدایت کی اور پہلے زمانہ میں ہم نے نوح کو ہدایت کی اور ان کی اوﻻد میں سے داؤد کو اور سلیمان کو اور ایوب کو اور یوسف کو اور موسیٰ کو اور ہارون کو اور اسی طرح ہم نیک کام کرنے والوں کو جزا دیا کرتے ہیں۔ اور زکریا کو اور یحيٰ کو اور عیسیٰ کو اور الیاس کو، سب نیک لوگوں میں سے تھے۔ اور اسماعیل کو اور یسع کو اور یونس کو اور لوط کو اور ہر ایک کو تمام جہان والوں پر ہم نے فضیلت دی۔ [الانعام: 83-86]۔
اے اللہ کے بندو! یہ ان انبیاے کرام کے اسماء ہیں جن کی قدر و منزلت کو اللہ تعالیٰ نے شرف بخشا اور ان کے مقام و مرتبہ کو بلند فرمایا، چنانچہ بندوں پر واجب ہے کہ وہ ان انبیاے کرام کو جانیں اور ان کے أسماء، فضائل، قصے، حالات اور ان کی عظیم سیرتوں سے واقف ہوں؛ تاکہ وہ ان سے رہنمائی حاصل کریں اور ان کے نقش قدم پر چلیں، اسی لیے جب اللہ جل وعلا نے ان کا ذکر فرمایا تو اس کے بعد یہ ارشاد فرمایا: یہی لوگ ایسے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی تھی، سو آپ بھی ان ہی کے طریق پر چلیے... [الانعام: 90]۔
اے ایمان والو!
رسولوں پر ایمان لانا لازم وملزوم امر ہے؛ چنانچہ ان میں سے بعض پر ایمان لانا سب پر ایمان لانے کو واجب کرتا ہے، اور کسی ایک کا انکار سب کا انکار ہے۔ اسی لیے جو شخص نبیوں کے درمیان تفریق کرے کہ بعض پر ایمان لائے اور بعض کا انکار کرے؛ تو وہ ان سب کا منکر ہے، اور اس کا بھی منکر ہے جس نے انہیں مبعوث فرمایا اور وہ رب العالمین ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: جو لوگ اللہ کے ساتھ اور اس کے پیغمبروں کے ساتھ کفر کرتے ہیں، اور جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان فرق رکھیں، اور جو لوگ کہتے ہیں کہ بعض نبیوں پر تو ہمارا ایمان ہے اور بعض پر نہیں، اور چاہتے ہیں کہ اس کے اور اس کے بین بین کوئی راه نکالیں۔ یقین مانو کہ یہ سب لوگ اصلی کافر ہیں ، اور کافروں کے لیے ہم نے اہانت آمیز سزا تیار کر رکھی ہے۔ [النساء: 150-151]۔
اے مومنو!
اللہ کے انبیاء اور اس کے رسولوں کی تعظیم کرو، اور ان کے مقام و مرتبے کو پہچانو، ان کی سیرت اور حالات سے واقفیت کا اہتمام کرو، اور ان کے نقش قدم پر چلنے کے لیے اپنے نفس سے مجاہدہ کرو؛ کیوں حقیقی زندگی تو دراصل رسولوں کی اتباع کرنے اور ان کے راستے پر چلنے اور صراط مستقیم کو لازم پکڑنے میں ہی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو انبیاء کرام کے منہج پر چلنے اور ان کے راستے اور ہدایت کو لازم پکڑنے کی توفیق دے، اور ہمارے تمام احوال کی اصلاح فرما دے، بے شک اللہ تبارک وتعالیٰ دعا سننے والا ہے۔ میں اپنی یہ بات کہتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں، تم بھی اس سے مغفرت طلب کرو، بے شک وہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔
دوسرے خطبہ کا مقدمہ
اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کے اہل وعیال پر اور آپ کے تمام صحابہ پر درود وسلام نازل فرمائے۔
دوسرا خطبہ
اما بعد! اے مومنو: انبیا پر ایمان لانے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ہم اس بات پر ایمان لائیں کہ محمد ﷺ کی نبوت پر نبوتوں کا سلسلہ ختم ہوگیا، چنانچہ آپ کے بعد نہ کوئی نبی آنے والا ہے اور نہ کوئی رسول، اور آپ کی شریعت کے بعد نہ کوئی شریعت ہے اور نہ کوئی کتاب، اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: (لوگو) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ محمد ﷺ نہیں لیکن آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے... [الاحزاب: 40]، نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”میری اور مجھ سے پہلے کے انبیاء کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جس نے ایک گھر بنایا تو اسے حسن و جمال سے آراستہ و پیراستہ کر دیا سوائے کونے میں ایک اینٹ کی جگہ کے، تو لوگ اس کا طواف کرنے لگے اور اس پر تعجب کرنے لگے اور کہنے لگے کہ یہ اینٹ کیوں نہیں رکھی گئی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: میں ہی وہ اینٹ ہوں اور میں ہی خاتم النبیین ہوں۔“ [متفق علیہ]؛ چنانچہ آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کے ذریعہ تمام نبوتوں اور رسالتوں کا سلسلہ ختم کر دیا گیا، آپ ان سب کے خاتم، ان میں سب سے بہتر اور سب سے افضل ہیں، بلکہ آپ اولین و آخرین کے سردار ہیں، اور آپ ﷺ کی امت بہترین امت ہے۔ تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے... [آل عمران: 110]۔
ہر مؤمن پر لازم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے کہ اس نے اسے بہترین امت میں شامل فرمایا، اور محمد ﷺ کا امتی بنایا۔ نیز اس پر واجب ہے کہ وہ اپنے نفس کو رسول اللہ ﷺ کی عظیم، نہایت باوقار اور جلیل القدر سیرت کو جاننے پر آمادہ کرے، اور اپنے نفس کو اس بات کا پابند بنائے کہ وہ آپ ﷺ کی اقتدا کرے، آپ کے منہج پر چلے، اور آپ ﷺ کے نقشِ قدم کی پیروی اختیار کرے۔ اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتیں اور سلامتی آپ ﷺ پر نازل ہوں۔ مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے دل کو رسول اللہ ﷺ کی محبت سے معمور کرے، ایسی محبت جو والد، اولاد اور تمام لوگوں کی محبت پر مقدم ہو۔ آپ ﷺ کی محبت درحقیقت اللہ تعالیٰ کی محبت ہی کا حصہ ہے، جس طرح آپ ﷺ کی اطاعت، اللہ تعالیٰ ہی کی اطاعت ہے، جو بلند و برتر ہے۔
اللہ تعالیٰ آپ پر، آپ کی تمام آل واصحاب پر اور قیامت تک آپ کی پیروی کرنے والوں پر درود نازل فرمائے۔
***
خطبہ کا عنوان
یومِ آخرت پر ایمان
پہلے خطبہ کا مقدمہ
ساری تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل کے اعتبار سے زیادہ اچھا ہے، اور وہ غالب اور بہت بخشنے والا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھنے والا ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، جو خوشخبری دینے والے، ڈرانے والے اور روشن چراغ ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل واصحاب پر اور روزِ حشر و انجام تک ان کی ہدایت کی پیروی کرنے والوں پر درود اور کثرت سے سلام نازل فرمائے۔
پہلا خطبہ
اما بعد: اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اس کی اطاعت کرو، اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہیے اور دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا۔ [آل عمران: 102]۔
اے مسلمانو! آخرت کے دن پر ایمان لانا ایمان کے ارکان میں سے ایک رکن ہے، چنانچہ حدیثِ جبریل علیہ السلام میں ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ سے فرمایا: آپ مجھے ایمان کے بارے میں بتائیں؟ آپ نے فرمایا: ”ایمان یہ ہے کہ تو اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، آخرت کے دن پر اور اچھی وبری تقدیر پر ایمان لائے۔“ [صحیح مسلم: 8]۔
یومِ آخرت پر ایمان سے مراد: ہر اس چیز کی پختہ تصدیق کرنا ہے جس کے بارے میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے خبر دی ہے، جیسے موت سے پہلے پیش آنے والی قیامت کی علامتیں اور اس کی چھوٹی اور بڑی نشانیاں، موت کے بعد پیش آنے والا قبر کا فتنہ، اس کا عذاب اور اس کی نعمتیں، اور اس کے بعد پیش آنے والے امور جیسے بعث اور حشر، حساب اور میزان، حوض اور پل صراط، اور جنت و جہنم، نیز اس کے علاوہ جو کچھ میدانِ قیامت میں پیش آئے گا۔
اللہ کے بندو! جو شخص قرآنِ کریم میں غور و فکر کرے، وہ دیکھے گا کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان آخرت کے دن پر ایمان کے ساتھ مربوط ہے، اللہ تعالیٰ کی کتاب میں یہ مضمون بیس مقامات پر دہرایا گیا ہے، اور مختلف موضوعات کے ضمن میں بیان ہوا ہے۔ چنانچہ قرآنِ کریم پر ایمان کے بیان میں اللہ تعالیٰ نے اس پر ایمان رکھنے والوں کے بارے میں خبر دی ہے کہ وہی لوگ اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھنے والے ہیں۔ لیکن ان میں سے جو کامل اور مضبوط علم والے ہیں اور ایمان والے ہیں جو اس پر ایمان ﻻتے ہیں جو آپ کی طرف اتارا گیا اور جو آپ سے پہلے اتارا گیا اور نمازوں کو قائم رکھنے والے ہیں اور زکوٰة کے ادا کرنے والے ہیں اور اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والے ہیں، یہ ہیں جنہیں ہم بہت بڑے اجر عطا فرمائیں گے۔ [النساء: 162]۔
اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھنے والوں کی تعریف میں آیا ہے: اور بعض اہل دیہات میں ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کو عند اللہ قرب حاصل ہونے کا ذریعہ اور رسول کی دعا کا ذریعہ بناتے ہیں، یاد رکھو کہ ان کا یہ خرچ کرنا بے شک ان کے لیے موجب قربت ہے، ان کو اللہ تعالیٰ ضرور اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت واﻻ بڑی رحمت واﻻ ہے۔ [التوبۃ: 99]۔
اور بیت اللہ کی تعمیر کے وقت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے دعا فرمائی: اے پروردگار! تو اس جگہ کو امن واﻻ شہر بنا اور یہاں کے باشندوں کو جو اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والے ہوں، پھلوں کی روزیاں دے... [البقرۃ: 126]۔
اور مودت و محبت کے بارے میں ان کی یہ صفت آئی ہے: اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والوں کو آپ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے محبت رکھتے ہوئے ہرگز نہ پائیں گے... [المجادلۃ: 22]۔
اور نبی ﷺ کے نقش قدم پر چلنے کی ترغیب میں آیا ہے: یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ میں عمده نمونہ (موجود) ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے۔ [الاحزاب: 21]۔
اور اختلاف کے وقت حدیث کی طرف رجوع کرنے سے متعلق آیا ہے: ...پھر اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ، اللہ تعالیٰ کی طرف اور رسول کی طرف، اگر تمہیں اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے۔ [النساء: 59]۔
اور مساجد کی تعمیر میں سے متعلق آیا ہے: اللہ کی مسجدوں کی رونق وآبادی تو ان کے حصے میں ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں... [التوبۃ: 18]۔
اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کے بارے میں وارد ہوا ہے: اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ویقین رکھنے والے تو مالی اور جانی جہاد سے رک رہنے کی کبھی بھی تجھ سے اجازت طلب نہیں کریں گے، اور اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے۔ یہ اجازت تو تجھ سے وہی طلب کرتے ہیں جنہیں نہ اللہ پر ایمان ہے نہ آخرت کے دن کا یقین ہے۔ جن کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں اور وه اپنے شک میں ہی سرگرداں ہیں۔ [التوبۃ: 45-44]۔
اور کافروں پر جزیہ فرض کرنے کے بیان میں آیا ہے: ان لوگوں سے لڑو، جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں ﻻتے جو اللہ اور اس کے رسول کی حرام کرده شے کو حرام نہیں جانتے، نہ دین حق کو قبول کرتے ہیں ان لوگوں میں جنہیں کتاب دی گئی ہے، یہاں تک کہ وه ذلیل وخوار ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں۔ [التوبۃ: 29]۔
اور اہلِ کتاب میں سے اہلِ ایمان کے وصف میں آیا ہے: یہ اللہ تعالیٰ پر اورقیامت کے دن پر ایمان بھی رکھتے ہیں، بھلائیوں کا حکم کرتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں اور بھلائی کے کاموں میں جلدی کرتے ہیں۔... [آل عمران: 114]۔
اور طلاق پر گواہ بنانے کے بارے میں آیا ہے: اور آپس میں سے دو عادل شخصوں کو گواه کر لو اور اللہ کی رضامندی کے لیے ٹھیک ٹھیک گواہی دو۔ یہی ہے وه جس کی نصیحت اسے کی جاتی ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو۔ [الطلاق: 2]۔
جب اللہ تعالی نے عورتوں کو نکاح سے روکنے کا ذکر فرمایا تو عورتوں کے اولیاء کو نصیحت فرمائی، چنانچہ اللہ سبحانہ نے فرمایا: ...یہ نصیحت انہیں کی جاتی ہے جنہیں تم میں سے اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر یقین وایمان ہو... [البقرۃ: 232]۔
اور زانیوں پر حد قائم کرنے کے بارے میں اللہ سبحانہ کا فرمان ہے: ...ان پر اللہ کی شریعت کی حد جاری کرتے ہوئے تمہیں ہرگز ترس نہ کھانا چاہیے، اگر تمہیں اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہو۔... [النور: 2]۔
اور ایمان کی نفی کے حوالے سے بھی قرآن کریم میں یہ بات دہرائی گئی ہے کہ جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں لایا اس سے ایمان کی نفی کی گئی ہے: بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، لیکن درحقیقت وه ایمان والے نہیں ہیں۔ [البقرۃ: 8]، اور ایک دوسری آیت میں ہے: اور جو لوگ اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لیے خرچ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے... [النساء: 38]۔
جہاں تک احادیث کی بات ہے، تو اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ انصار سے بغض نہیں رکھے گا۔“ [صحیح مسلم: 77]۔
”کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو، جائز نہیں کہ ایک دن اور رات کا سفر بغیر کسی محرم کے کرے۔“ [متفق علیہ]۔
”جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، تو جب وہ کسی معاملے میں حاضر ہو تو اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔“ [متفق علیہ]۔
"جو شخص اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، وہ (ایک ہی جنس کی ربوی چیزوں کے تبادلے میں) برابر کے بدلے برابر ہی لے، زیادہ نہ لے۔" [صحیح مسلم: 1591]۔
”جو شخص اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ جہنم سے محفوظ اور جنت میں داخل کر دیا جائے تو چاہیے کہ اس کو موت اس حال میں آئے کہ وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اور لوگوں کے ساتھ وہ برتاؤ کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے۔“ [صحیح مسلم: 1844]۔
اللہ کے بندو!
ان بہت سی آیات اور احادیث میں اللہ تعالیٰ پر ایمان اور آخرت کے دن پر ایمان کے دونوں ارکان کے درمیان گہرا ربط پایا جاتا ہے، اور اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لانے میں ہی فرشتوں، رسولوں، کتابوں، مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے اور تقدیر پر ایمان لانا شامل ہے۔
اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والا مؤمن دنیا میں اللہ تعالی کے لیے عمل کر کے اور اس کے ثواب کی امید رکھ کر خوش رہتا ہے، اور آخرت میں جب اسے اس کا بدلہ ملے گا تو وہ خوش ہوگا۔
اسی لیے سابقہ امتوں میں سے ان دو عظیم رکنوں پر ایمان لانے والوں سے بہت بڑے اجر و ثواب کا وعدہ کیا گیا ہے۔ مسلمان ہوں، یہودی ہوں، نصاریٰ ہوں یا صابی ہوں، جو کوئی بھی اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ﻻئے اور نیک عمل کرے ان کے اجر ان کے رب کے پاس ہیں اور ان پر نہ تو کوئی خوف ہے اور نہ اداسی۔ [البقرة: 62]، ان تمام امتوں کے ادیان ان تین ارکان پر قائم ہیں جن کے ساتھ تمام پہلے رسولوں کو مبعوث کیا گیا، اور وہ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان، اور عمل صالح ہیں۔
ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ ہمیں ایمان کی سمجھ عطا فرمائے، ہمیں قرآن کا علم عطا کرے، قرآن کے ذریعے ہمارے ایمان میں اضافہ فرمائے، اور جو علم ہمیں سکھایا ہے اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، بے شک وہ خوب سننے والا اور قبول فرمانے والا ہے۔
میں اپنی یہ بات کہتا ہوں جو تم سن رہے ہو، اور اپنے لیے اور تمہارے لیے اللہ سے مغفرت کا طلب گار ہوں، تم بھی اس سے بخشش مانگو، بے شک وه بہت بڑا بخشنے واﻻ اور نہایت مہربانی کرنے واﻻ ہے۔
دوسرے خطبہ کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، بہت زیادہ، پاکیزہ اور بابرکت تعریفیں، جیسا کہ ہمارا رب پسند کرتا ہے اور راضی ہوتا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل واصحاب پر اور قیامت تک ان کی ہدایت کی پیروی کرنے والوں پر درود و سلام اور برکتیں نازل فرمائے۔
دوسرا خطبہ
اما بعد: اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اس کی اطاعت کرو، اور قرآن سے اپنا حصہ حاصل کرو؛ کیوں کہ یہ تمھارے رب کی کتاب ہے، تم پر اللہ کی حجت ہے، اور تمھارے لیے شفاعت کرنے والی ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں خبر دی ہے کہ تمام رسول علیہم السلام نے اپنی قوموں کو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان لانے کی دعوت دی۔ اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا۔ انہوں نے کہا اے میری قوم کے لوگو! اللہ کی عبادت کرو‘ قیامت کے دن کی توقع رکھو اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو۔ [العنکبوت: 36]۔
عام خطبات، وعظ و نصیحت کی مجالس، یاد دہانی کی نشستوں، بلکہ ہر مقام پر لوگوں کو یومِ آخرت پر ایمان کی یاد دہانی کی شدید ضرورت ہے، تاکہ وہ اس دن کی تیاری کریں اور اس کے لیے بہترین زادِ راہ اختیار کریں۔ کیوں کہ اے اللہ کے بندو! جب لوگ اس دن سے غافل ہو جاتے ہیں تو دنیا اپنی فانی لذتوں اور عارضی زیب و زینت کے ذریعے انہیں آخرت کی تیاری سے غافل کر دیتی ہے۔
اس دن کی عظمت و اہمیت کے پیشِ نظر اللہ تعالیٰ نے اسے بہت سے ناموں سے یاد فرمایا ہے۔ اس کا ایک نام یومُ الفصل ہے، کیوں کہ اس دن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔ اور اس کا ایک نام یومُ التغابن بھی ہے، کیوں کہ اس دن ان لوگوں کی بہت بڑی محرومی ظاہر ہو جائے گی جو دنیا میں حق کو جھٹلاتے اور اس کا انکار کرتے تھے۔ اس دن اہلِ حق، اہلِ باطل پر غالب ہوں گے، اہلِ ایمان، اہلِ کفر پر، اور اہلِ اطاعت، اہلِ معصیت پر بازی لے جائیں گے۔ اور اہلِ جنت کے مقابلے میں اہلِ جہنم کی جو محرومی ہوگی، اس سے بڑھ کر کوئی اور محرومی نہیں۔
اور اللہ تعالیٰ نے اس دن کا ایک نام یومُ الجمع بھی رکھا ہے، کیوں کہ اس دن وہ تمام اولین و آخرین کو ایک ہی میدان میں جمع فرمائے گا، جہاں پکارنے والے کی آواز سب تک یکساں پہنچے گی، اور نگاہ سب کو ایک ساتھ دیکھ سکے گی۔
اور اس کا نام یوم التلاق اس لیے رکھا گیا ہے کہ اس میں بندہ اپنے رب سے ملاقات کرے گا، عمل کرنے والا اپنے عمل سے ملے گا، اور اس میں تمام اگلے اور پچھلے لوگ آپس میں ملیں گے۔
اور اللہ تعالی نے اسے یوم القیامہ کا نام دیا؛ کیوں کہ اس میں مخلوقات قبروں سے اٹھ کھڑی ہوں گی، اور اسے یوم التناد کا نام دیا؛ کیوں کہ بندے ایک دوسرے کو پکاریں گے، اور اس میں اللہ عزوجل اپنے بندوں کو پکارے گا، نیز اسے یوم القارعہ، اور یوم القیامہ کا نام دیا، اور اس کے علاوہ دیگر اسماء بھی دیے، چنانچہ اس کی عظمتِ شان کو بیان کیا، اپنے بندوں کو غفلت اور نسیان سے متنبہ کیا اور انہیں اس کے لیے تیاری کرنے کا حکم دیا۔
اے اللہ! ہم تجھ سے جنت کا سوال کرتے ہیں اور اس قول و عمل کا بھی، جو جنت سے قریب کر دے، اور ہم تیری پناہ چاہتے ہیں جہنم سے اور اس قول و عمل سے، جو جہنم سے قریب لے جائے۔
***
خطبہ کا عنوان
قضا و قدر پر ایمان
پہلے خطبہ کا مقدمہ
ساری تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو سب کچھ جاننے والا، بڑی قدرت والا، بڑی حکمت والا اور پوری خبر رکھنے والا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کی مثل کوئی چیز نہیں اور وہ خوب سننے والا اور خوب دیکھنے والا ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، جو خوش خبری سنانے والے، ڈرانے والے اور روشن چراغ ہیں؛ اللہ تعالی آپ پر، آپ کے آل واصحاب پر اور آپ کے نقش قدم پر چلنے والے ہر شخص پر درود وسلام نازل فرمائے۔
پہلا خطبہ
اما بعد: اے مومنو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور پوشیدہ و ظاہر میں، اور خلوت و جلوت میں اللہ سبحانہ کو یاد رکھو، اس شخص کی طرح جو جانتا ہے کہ اس کا رب اسے سنتا اور دیکھتا ہے۔
اے ایمان والو: یقیناً ایمان کے عظیم اصولوں اور عقیدے کی مضبوط بنیادوں میں سے قضا وقدر پر ایمان لانا بھی شامل ہے، اور اس بات پر ایمان لانا کہ جو اللہ نے چاہا وہ ہوا اور جو اس نے نہیں چاہا وہ نہیں ہوا، اور یہ کہ اے بندے! جو تجھے ملا ہے وہ ایسا نہیں کہ وہ تجھے نہیں ملتا اور جو تجھے نہیں ملا ہے ایسا نہیں ہے کہ وہ تجھے مل جاتا، اور یہ کہ یہ ساری مخلوق اپنے خالق کی تدبیر اور اپنے عزیز وبرتر موجد کے تصرف کے مکمل تابع ہے، اور تخلیق پر اس کی قدرت کی نشانی یہ ہے کہ اس نے ان تمام علوی اور سفلی مخلوقات کو عدم سے وجود میں لایا: اللہ وه ہے جس نے سات آسمان بنائے اور اسی کے مثل زمینیں بھی۔ اس کا حکم ان کے درمیان اترتا ہے تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو بہ اعتبار علم گھیر رکھا ہے۔ [الطلاق: 12]۔
اے ایمان والو!
کتاب اللہ اور اس کے نبی مصطفیٰ ﷺ کی سنت میں بہت سے مقامات پر اس اصول کی تائید و اثبات کے لیے بہت سے دلائل موجود ہیں، اللہ عزوجل کا فرمان ہے: بے شک ہم نے ہر چیز کو ایک (مقرره) اندازے پر پیدا کیا ہے۔ [القمر: 49]، نیز ارشاد باری تعالی ہے: پھر ہم نے اندازه کیا اور ہم کیا خوب اندازه کرنے والے ہیں۔ [المرسلات: 23]، مزید ارشاد باری تعالی ہے: ...پھر تقدیر الٰہی کے مطابق اے موسیٰ! تو آیا۔ [طہ: 40]، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اپنے بہت ہی بلند اللہ کے نام کی پاکیزگی بیان کر۔ جس نے پیدا کیا اور صحیح سالم بنایا۔ اور جس نے (ٹھیک ٹھاک) اندازه کیا اور پھر راه دکھائی۔ [الأعلی: 1-3]، اور فرمایا: ...اور اللہ تعالیٰ کے کام اندازے پر مقرر کیے ہوئے ہیں۔ [الاحزاب: 38]، اس معنی و مفہوم کی آیتیں بڑی تعداد میں موجود ہیں۔
اے مومنو! بے شک تقدیر پر ایمان لانا توحید کا نظام ہے؛ چنانچہ تقدیر پر ایمان لائے بغیر کسی شخص کی توحید درست نہیں ہو سکتی ہے اور نہ ہی اس کا ایمان صحیح ہو سکتا ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: "تقدیر پر ایمان، توحید کا نظام اور اس کی بنیاد ہے؛ جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار کیا، لیکن تقدیر کا انکار کیا، تو اس کا یہ انکار اس کی توحید کو باطل اور منہدم کر دیتا ہے۔"
اگر تقدیر پر ایمان توحید کا نظام ہے تو یقیناً توحید زندگی کا نظام ہے، چنانچہ انسان کی زندگی ایمان، رحمٰن کی توحید اور اسی عزیز وبرتر کے لیے دین کو خالص کیے بغیر درست نہیں ہو سکتی۔ اگر انسان موحد نہ ہو تو اس کی زندگی منظم نہیں ہوتی، بلکہ رائیگاں چلی جاتی ہے اور بے مقصد ضائع ہو جاتی ہے، جس میں کوئی نفع اور فائدہ نہیں ہوتا، نہ اس کی دنیا میں اور نہ اس کی آخرت میں۔
جلیل القدر صحابی عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے بیٹے ولید کہتے ہیں: "میں اپنے والد کے پاس گیا۔ وہ بیمار تھے اور مجھے اُن کی موت کا خدشہ تھا۔ لہذا میں نے اُن سے کہا: ابّا جان! مجھے کچھ وصیت کریں اور میرے لیے کچھ کوشش کریں۔ انہوں نے کہا: تم لوگ مجھے بٹھا دو۔ جب لوگوں نے ان کو بٹھا دیا، تو انہوں نے کہا: اے میرے پیارے بیٹے! تم اس وقت تک ایمان کا مزہ نہیں چکھ سکتے اور اللہ کی حقیقی معرفت حاصل نہیں کرسکتے، جب تک اچھی بری تقدیر پر ایمان نہ رکھو! میں نے کہا: ابّا جان! ذرا بتائیں، میں کیسے جانوں کہ بھلی بری تقدیر کیا ہے؟ انہوں نے کہا: جان لو کہ جو مصیبت تم سے خطا کر گئی، تم اُس سے ہرگز دوچار ہونے والے نہیں تھے، اور جس میں تم مبتلا ہوگئے، تم اُس سے قطعی بچنے والے نہیں تھے۔ اے میرے پیارے بیٹے! میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سُنا: ”اللہ نے سب سے پہلے قلم پیدا کیا، پھر فرمایا: لکھ۔ چنانچہ قلم اسی وقت وہ سب کچھ لکھنے لگ گیا جو قیامت تک ہونا ہے۔“ اے میرے پیارے بیٹے! اگر تم اس عقیدے پر نہ ہوئے اور مر گئے، تو تم آگ میں داخل ہوگے۔" [اسے امام احمد (22705) اور ترمذی (2155) نے روایت کیا ہے اور شیخ البانی نے اسے صحیح کہا ہے۔]
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے ہے، یہاں تک کہ عاجزی (بے بسی یا سستی) بھی، اور دانائی اور معاملہ فہمی بھی۔" [صحیح مسلم: 2655]، عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے مخلوقات کی تقدیریں تحریر فرما دی تھیں۔“ [صحیح مسلم: 2653]، اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسول ﷺ جو صادق و مصدوق ہیں، نے ہم سے بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک کے مادۂ تخلیق کو اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک نطفے کی شكل میں جمع كيا جاتا ہے، پھر اتنے ہی دن جمے ہوئے خون کی شکل میں رہتا ہے، پھر اتنے ہی دن گوشت کے لوتھڑے کی شکل میں رہتا ہے، پھر فرشتے کو بھیجا جاتا ہے جو اس میں روح پھونکتا ہے، اور اسے چار باتیں لکھنے کا حکم دیا جاتا ہے: اس كا رزق، مدتِ عمر، عمل اور وه نیک بخت ہے یا بد بخت۔ اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تم میں سے کوئی جنت والوں کا عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے بیچ صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، تو اس پر نوشتۂ تقدیر غالب آجاتا ہے اور وہ جہنم والوں کا عمل کرنے لگتا ہے اور بالآخر جہنم میں داخل ہو جاتا ہے۔ تم میں سے کوئی جہنم والوں کا عمل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کے اور جہنم کے بیچ صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ باقی رہ جاتا ہے، تو اس پر تقدیر کا لکھا ہوا غالب آجاتا ہے اور وہ جنت والوں کا عمل کرنے لگتا ہے اور بالآخر جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔“ [متفق علیہ]۔
یہی وجہ ہے کہ سلف رحمہم اللہ سوابق اور خواتیم سے بہت زیادہ خائف رہا کرتے تھے؛ سوابق: یعنی وہ نہیں جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ان کے لیے پہلے سے کیا طے ہوچکا ہے اور لوح محفوظ میں ان پر کیا لکھا جا چکا ہے، اور خواتیم: یعنی زندگی کے اختتام پر ان کا خاتمہ کس چیز پر ہوگا، اور ان سب کا معاملہ اللہ عز وجل کے ہاتھ میں ہے، حکم اسی کا ہے اور مخلوق اسی کی ہے، اور کوئی بھی چیز اس کی قضاء وقدر کے بغیر نہیں ہوتی۔
اللہ کے بندو!
بلاشبہ تقدیر پر ایمان بندے سے ان مواقع پر اوہام، خوف اور پریشانی کو دور کر دیتا ہے جن میں بندوں پر مصائب سخت ہو جاتے ہیں، چنانچہ تقدیر پر ایمان رکھنے والا مومن اپنے ایمان کی بدولت مطمئن رہتا ہے، یہ جانتے ہوئے کہ جو کچھ اسے پہنچا ہے وہ اس سے خطا ہونے والا نہیں تھا اور جو اس سے خطا ہو گیا وہ اسے پہنچنے والا نہیں تھا۔
اللہ عزیز وبرتر کی تقدیر پر ایمان رکھنے والے مردِ مومن کو جب کوئی مصیبت پہنچتی ہے اور اس پر کوئی بلا نازل ہوتی ہے، تو وہ جان لیتا ہے کہ اسے جو کچھ پہنچا ہے وہ اللہ کے اذن سے ہے، چنانچہ وہ راضی ہوجاتا ہے اور اللہ کی قضا کے سامنے سرِ تسلیم خم کردیتا ہے، اور اللہ عزیز وبرتر سے اس شاندار وعدے اور اجرِ عظیم کی امید رکھتا ہے جو اس نے صبر کرنے والوں کے لیے تیار کر رکھا ہے: ...اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجیے۔ جنہیں جب کبھی کوئی مصیبت آتی ہے تو کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم تو خود اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ [البقرۃ: 155-156]۔
ہم اللہ عزیز وبرتر سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہم سب کو آسانی کی توفیق عطا فرمائے، ہمیں تنگی سے محفوظ رکھے، ہمیں اپنی جانب صراطِ مستقیم کی ہدایت دے، اس نے ہمارے لیے جو بھی فیصلہ فرمایا ہے اسے ہمارے حق میں بہتر بنائے، اور ہمارے انجام اور خاتمے کو بہتر بنائے؛ بے شک اللہ تبارک وتعالیٰ دعا سننے والا ہے، وہی امید کے لائق ہے، وہ ہمیں کافی ہے اور بہترین کارساز ہے۔
دوسرے خطبہ کا مقدمہ
اللہ کے لیے بے شمار تعریفیں ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کے اہل وعیال پر اور آپ کے تمام صحابہ پر درود وسلام نازل فرمائے۔
دوسرا خطبہ
اما بعد: اے مومنو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔
جان لو -اللہ آپ کی حفاظت فرمائے- کہ اللہ عزوجل کی تقدیر پر ایمان لانا مومن کے لیے باعثِ اطمینان، اس کے لیے فلاح اور اس کی دنیا و آخرت میں کامیابی ہے۔ قضا و قدر پر ایمان رکھنے والا مومن اپنی پوری زندگی میں اللہ ہی پر توکل کرتا، اللہ سے مدد مانگتا اور اللہ عزیز وبرتر کی طرف ہی رجوع کرتا ہے، اور اسباب اختیار کرنا اللہ کی قضا و قدر پر ایمان لانے کا ہی حصہ ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”مضبوط مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن سے بہتر اور محبوب ہے۔ تاہم خیر تو دونوں ہی میں ہے۔ جو چیز تمہارے لیے فائدے مند ہو، اس کی حرص رکھو اور اللہ سے مدد مانگو اور ہرگز عاجز نہ بنو۔ اگر تم پر کوئی مصیبت آ جائے، تو یہ نہ کہو کہ اگر میں ایسا کر لیتا، تو ایسا ہوجاتا۔ بلکہ یہ کہو کہ اللہ تعالیٰ نے مقدر کیا تھا اور جو چاہا کر دکھایا۔ کیوں کہ ’اگر‘ شیطان کے عمل دخل کا دروازہ کھول دیتا ہے۔“ [صحیح مسلم]۔
ابن ابو العز رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "بعض لوگوں کا یہ گمان ہے کہ توکل روزی کے لیے کام کرنے اور اسباب اختیار کرنے کے منافی ہے، اور چونکہ تمام امور مقدر ہیں لہٰذا اسباب کی کوئی حاجت نہیں۔ یہ خیال فاسد ہے، کیونکہ روزی کے لیے کام کرنا فرض بھی ہوتا ہے، مستحب بھی، مباح بھی، مکروہ بھی اور حرام بھی... اللہ کے نبی ﷺ توکل کرنے والوں میں سب سے افضل تھے، اس کے باوجود آپ جنگ میں زرہ پہنتے اور حصولِ رزق کے لیے بازاروں میں تگ ودو کرتے تھے۔
اس بات کی تاکید بھی ضروری ہے کہ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ افواہوں کے ذریعے ایسی باتیں پھیلانے سے گریز کرے جن سے لوگوں میں خوف و ہراس پیدا ہوتا ہو؛ اور اسے ایسی افواہیں پھیلانے سے بھی بچنا چاہیے جو اس خطرے کی سنگینی کو کم کرنے کے لیے اڑائی اور پھیلائی جاتی ہیں۔
لہذا ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ بیماریوں اور وباؤں کے معاملے میں اعتدال سے کام لے، نہ تو ان سے خوفزدہ ہو اور نہ ہی انہیں معمولی سمجھے؛ اور ذمہ دار اداروں کی ہدایات کی پابندی کرے، نیز نہ اپنے آپ کو خطرے میں ڈالے اور نہ دوسروں کو۔
ہم اللہ عزیز وبرتر کے اسماء حسنی اور صفات علیا کے واسطہ سے اس سے دعا گو ہیں کہ وہ ہمارے حق میں کیے گئے ہر فیصلے کو باعث خیر بنا دے۔
***
خطبہ کا عنوان
اللہ پر بھروسہ
پہلے خطبہ کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو وسیع مہربانیوں اور نعمتوں والا ہے، سختیوں اور آفتوں کو دور فرمانے والا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، وہ جود و کرم والا ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، جنہیں تمام امتوں پر فضیلت عطا کی گئی، اللہ تعالیٰ آپ پر، آپ کی آل اور آپ کے صحابہ پر ڈھیروں درود وسلام نازل فرمائے۔
پہلا خطبہ
امابعد: اے اللہ کے بندو!
بلاشبہ بندے کی سعادت کا ایک مظہر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنے تمام امور میں بہترین توکل کی توفیق عطا فرمائے۔ اس مقام تک پہنچنا بندے پر عظیم ترین احسانات اور فضل و کرم میں سے ہے۔ چنانچہ جو شخص اللہ عز وجل پر توکل کرتا ہے، جیسا کہ توکل کرنے کا حق ہے؛ تو اس کا دل پرسکون ہو جاتا ہے، اس کا نفس مطمئن ہو جاتا ہے اور اس کی زندگی خوشگوار ہو جاتی ہے۔ اس لیے کہ توکل کی حقیقت یہ ہے کہ دنیاوی اور اخروی مصالح کے حصول اور نقصان دہ چیزوں سے بچنے کے لیے سچے دل کے ساتھ اللہ عز وجل پر بھروسہ کیا جائے، تمام امور اللہ سبحانہ کے سپرد کر دیے جائیں، اور اس بات پر پختہ ایمان رکھا جائے کہ اس کے سوا نہ تو کوئی دیتا ہے اور نہ کوئی روک سکتا ہے اور اس کے سوا نہ کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ کوئی نفع دینے کا اہل ہے۔ یہ ایک ایسا مقام ہے جس تک صرف صدیقین ہی پہنچ پاتے ہیں۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں: ”توکل ایمان کا مجموعہ ہے۔“ [مصنف ابن ابی شیبہ: 29589]۔
معلوم ہوا کہ توکل ایک خالص قلبی عبادت ہے، جس کا اثر زبان سے اقرار کرنے اور اعضاء و جوارح سے عمل کرنے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے؛ امام احمد نے فرمایا: ”اللہ پر بھروسہ دل کا عمل ہے۔“ [ابن القیم نے مدارج السالكين 2/ 114 میں اسے امام احمد کی طرف منسوب کیا ہے۔]
لہٰذا دل کو اللہ تعالیٰ سے پوری طرح وابستہ رکھنا ضروری ہے، اور بندے کے اندر یہ مضبوط یقین ہونا چاہیے کہ تمام معاملات کا اختیار اللہ ہی کے پاس ہے، وہ جو چاہتا ہے، وہی ہوتا ہے، اور جو وہ نہیں چاہتا، وہ نہیں ہوتا۔
توکل کی عظمت شان کی وجہ سے؛ ایسے بہت سے دلائل وارد ہوئے ہیں جو اس کی ترغیب دیتے اور اس کا مقام بیان کرتے ہیں؛ تاکہ مسلمان اسے اختیار کرے کیوں کہ اس میں زندگی کی مٹھاس اور حسنِ انجام پنہاں ہے؛ چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: ...اور جو شخص اللہ پر توکل کرے گا اللہ اسے کافی ہوگا۔.. [الطلاق: 3] اور فرمایا: ...اور تم اگر مومن ہو تو تمہیں اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ [المائدۃ: 23]۔
اور نبی ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”اگر تم اللہ پر ویسے بھروسہ کرو، جیسا کہ بھروسہ کرنے کا حق ہے، تو وہ تمہیں ایسے رزق دے گا جیسے پرندوں کو رزق دیتا ہے۔ وہ صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو آسودہ حال واپس آتے ہیں“۔ پرندہ ایک کمزور مخلوق ہے‘ اس کے باوجود اس حدیث میں نبی ﷺ نے اس کی مثال بیان فرمائی ہے، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے رزق کا ذمہ لیا ہے اور اسے اس کے اسباب کی طرف رہنمائی فرمائی ہے۔ یہ بات بندے کے اندر یہ یقین پیدا کرتی ہے کہ اس کی روزی کی کفالت لی گئی ہے، چنانچہ جب وہ یہ جان لیتا ہے؛ تو اس سے اس کے دل میں اپنے رب سبحانہ کے تئیں حسنِ ظن پیدا ہوتا ہے؛ کیونکہ حقیقت میں توکل کرنے والا وہ ہے جو یہ یقین رکھتا ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کے رزق اور اس کی کفایت کی ضمانت دے رکھی ہے۔ چنانچہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کی سچی تصدیق کرتا ہے، اس پر کامل اعتماد اور بھرپور بھروسا رکھتا ہے، اور رزق کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی ضمانت پر حقیقی توکل اختیار کرتا ہے۔ نیز وہ اس بات پر ایمان رکھتا ہے کہ رزق ہر شخص کے لیے تقسیم کیا جا چکا ہے، خواہ وہ نیک ہو یا بدکار، مؤمن ہو یا کافر، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: زمین پر چلنے پھرنے والے جتنے جاندار ہیں سب کی روزیاں اللہ تعالیٰ پر ہیں... [ھود: 6] یہ اس حال میں ہے کہ بہت سے جاندار نہایت کمزور ہوتے ہیں اور رزق کی تلاش کے لیے دوڑ دھوپ کرنے کی بھی طاقت نہیں رکھتے۔ اس کے باوجود جب تک بندہ زندہ ہے، اس کا رزق اللہ تعالیٰ کے ذمہ پر ہے۔ اللہ تعالیٰ چاہے تو اسے کسی کسب و محنت کے ذریعے رزق عطا فرماتا ہے، اور چاہے تو بغیر کسی ظاہری سبب اور کسب کے بھی اسے رزق پہنچا دیتا ہے، اگرچہ اسباب اختیار کرنا شریعت کی رو سے مطلوب ہے۔
توکل اس بات کی دلیل ہے کہ بندہ اپنے رب کے بارے میں حسنِ ظن رکھتا ہے۔ بندہ اپنے رب کے بارے میں جس قدر حسنِ ظن اور اس سے امید رکھتا ہے، اسی قدر اس کا توکل بھی مضبوط ہوتا ہے۔ کیوں کہ جس کے بارے میں بدگمانی ہو، اس پر توکل کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا، اور نہ ہی اس پر توکل ہو سکتا ہے جس سے کوئی امید وابستہ نہ ہو۔ یہی طرزِ عمل اللہ تعالیٰ کے اولیاء نے انتہائی مشکل حالات اور نہایت دشوار مواقع پر اختیار کیا۔ انہوں نے اپنے تمام معاملات اللہ عزیز وبرتر کے سپرد کر دیے، کیوں کہ انہیں اس بات کا کامل یقین اور حسنِ ظن تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کے لیے کافی ہے۔ چنانچہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ اچھا کارساز ہے“، یہ جملہ ابراہیم علیہ السلام نے اس وقت کہا تھا، جب وہ آگ میں ڈالے گئے تھے، اور محمد ﷺ نے اس وقت فرمایا تھا، جب لوگوں نے کہا: ”...بے شک لوگ تمھارے مقابلے کے لیے جمع ہو گئے ہیں، ان سے ڈرو! چنانچہ اس بات نے ان کے ایمان میں اور اضافہ کر دیا اور انھوں نے کہا: ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ بہت اچھا کارساز ہے۔“ [آل عمران: 173] [صحیح بخاری: 4563]۔
چنانچہ یہ انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کی حالت کا بیان ہے کہ شدید خوف اور تنگی میں مبتلا ہونے کے باوجود، اللہ تعالیٰ پر ان کا توکل اور حسنِ ظن کس مقام کو پہنچا ہوا تھا، چنانچہ انہوں نے کہا: ”ہمارے لیے اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہترین کار ساز ہے“؛ یعنی: ہمارے اہم کاموں اور مصیبتوں میں وہی ہمیں کافی ہے، اور وہ بہترین کفایت کرنے والا ہے اور وہی ہے جس کے سپرد ہم اپنا معاملہ کرتے ہیں۔
اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کی نعمت وفضل کے ساتھ یہ لوٹے، انہیں کوئی برائی نہ پہنچی، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی پیروی کی، اللہ بہت بڑے فضل واﻻ ہے۔ [آل عمران: 174]۔
اس میں اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ انسان خواہ کتنی ہی تنگی اور مشکلات سے کیوں نہ دوچار ہو، اگر وہ اپنے معاملات میں اللہ سبحانہ کی طرف رجوع کرتا ہے؛ تو وہ اس کی مدد کرتا ہے، اس کا کارساز بن جاتا ہے اور اس کی نصرت فرماتا ہے... لیکن بڑی مصیبت یہ ہے کہ بعض لوگوں کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ مادی اسباب کی طرف رجوع کرتے ہیں اور ان میں پریشانی کا حل تلاش کرتے ہیں، حالانکہ اگر ان کا دل اپنے خالق سے وابستہ ہوتا، تو وہ ان کی پریشانیوں کے لیے کافی ہو جاتا۔
اللہ کے بندو! بلاشبہ دل کا اللہ تعالیٰ پر اعتماد و بھروسہ کرنا، اسی کا سہارا لینا اور اسی سے سکون پانا، دلوں میں پیدا ہونے والی الجھن اور اسباب کے چھن جانے کے خوف کو دور کر دیتا ہے؛ کیوں کہ اسے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسباب مسبب الاسباب اللہ سبحانہ کے ہاتھ میں ہیں، اس لیے وہ ان اسباب کے میسر آنے یا چھن جانے کی پرواہ نہیں کرتا، اور اپنی پسندیدہ چیزوں کے چھن جانے اور ناپسندیدہ حالات کے پیش آنے پر اس کا دل بے چین و پریشان نہیں ہوتا ہے اور نہ ہی گھبراتا ہے؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ پر اس کا اعتماد و بھروسہ، اسی سے سکون پانا اور اسی کا سہارا لینا، اسے ان اسباب کے خوف اور امید سے محفوظ کر چکا ہوتا ہے۔ چنانچہ اس معاملے میں اس کی حالت اس شخص جیسی ہوتی ہے جس پر کوئی ایسا طاقتور دشمن حملہ آور ہو جائے جس کا مقابلہ کرنے کی اس میں طاقت نہ ہو، پھر وہ ایک کھلا ہوا قلعہ دیکھے اور قلعے کا مالک اسے اندر داخل کردے اور قلعے کا دروازہ بند کر دے، اب وہ اپنے دشمن کو قلعے کے باہر کھڑا دیکھ رہا ہو، تو ایسی حالت میں اس کے دل کا بے چین و پریشان ہونا اور اپنے دشمن سے خوفزدہ ہونا بالکل بے معنی ہے۔
اس معاملے میں اس کی مثال دودھ پیتے بچے کی سی ہے جس کا بھروسہ، سکون اور اطمینان اپنی ماں کے سینے سے وابستہ ہوتا ہے، وہ اس کے سوا کسی کو نہیں جانتا، اور اس کے دل میں کسی اور کی طرف کوئی التفات نہیں ہوتا۔ اسی لیے بعض علماء نے فرمایا: توکل کرنے والا بچے کی طرح ہوتا ہے؛ وہ پناہ کے لیے اپنی ماں کے سینے کے سوا کسی چیز کو نہیں جانتا، اسی طرح توکل کرنے والا بھی اپنے رب سبحانہ کے سوا کسی اور کی پناہ نہیں لیتا۔
اللہ تعالی نے آل فرعون سے تعلق رکھنے والے مومن کے بارے میں خبر دی ہے کہ انہوں نے کہا: ...میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں، یقیناً اللہ تعالیٰ بندوں کا نگراں ہے۔ [غافر: 44]، مفوِّض (جو اپنے تمام معاملات اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیتا ہے) اپنے معاملے کو اللہ تعالیٰ کے حوالے اسی لیے کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے حق میں وہی فیصلہ فرمائے جو اس کی دنیا اور آخرت کے لیے بہتر ہو۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فیصلہ اس کے اپنے گمان کے خلاف بھی ہو، جسے وہ اپنے لیے بہتر سمجھتا تھا، تب بھی وہ اس پر راضی رہتا ہے؛ کیوں کہ وہ یقین رکھتا ہے کہ حقیقت میں اسی میں اس کی بھلائی ہے، اگرچہ اس کے لیے اس مصلحت کا پہلو پوشیدہ ہو۔ متوکل کا حال بھی یہی ہوتا ہے، بلکہ اس کا مقام مفوِّض سے بھی بلند ہے؛ کیوں کہ توکل کا مقام یہ ہے کہ بندہ اپنے معاملات اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنے کے بعد اپنے پورے دل کے ساتھ صرف اللہ تعالیٰ ہی پر اعتماد کرے۔
اللہ تعالیٰ پر توکل کے عظیم ترین ثمرات میں سے ایک ثمرہ اللہ سبحانہ کی تقدیر پر راضی رہنا ہے، اور یہ عبودیت کے عظیم ترین درجات میں سے ہے؛ بشر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ان میں سے کوئی شخص کہتا ہے: میں نے اللہ پر توکل کیا، وہ اللہ پر جھوٹ بولتا ہے، اگر اس نے اللہ پر توکل کیا ہوتا تو اللہ اس کے ساتھ جو کچھ کرتا ہے وہ اس پر راضی رہتا۔“
جو شخص اس جزا پر غور کرے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر توکل کرنے والے کے لیے رکھی ہے، اور یہ کہ اسے کسی اور کے لیے نہیں رکھا؛ تو وہ جان لے گا کہ توکل اللہ سبحانہ تک پہنچانے والے راستوں میں سب سے زیادہ محبوب راستہ ہے، چنانچہ ارشاد باری تعالى ہے: ... اور جو شخص اللہ پر توکل کرے گا اللہ اسے کافی ہوگا... [الطلاق: 3]۔
میں اپنی یہ بات کہتا ہوں، اور اللہ سے اپنے لیے، تمہارے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے ہر گناہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں، تم بھی اس سے مغفرت طلب کرو، وہ تمہیں بخش دے گا؛ وه بہت بڑا بخشنے واﻻ اور نہایت مہربانی کرنے واﻻ ہے۔
دوسرے خطبہ کا مقدمہ
ساری تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو عظیم احسان فرمانے والا، وسیع فضل وکرم، جود و سخا اور احسان و انعام والا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کے اہل وعیال پر اور آپ کے تمام صحابہ پر درود وسلام نازل فرمائے۔
دوسرا خطبہ:
حمد وصلاۃ کے بعد...
اے مسلمانو! بلاشبہ اسباب اختیار کرنا کمالِ توکل کا تقاضہ ہے؛ کیوں کہ اسباب کو مکمل طور پر ترک کر دینا عقلی اور حسی اعتبار سے ناممکن ہے، اور نبی ﷺ نے اسباب اختیار کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں فرمائی؛ چنانچہ غزوہ احد کے دن آپ ﷺ نے دو زرہیں پہنیں، ہجرت کے راستے کی رہنمائی کے لیے ایک مشرک کو بطور رہبر اجرت پر رکھا، اور جب آپ حج یا جہاد کے لیے سفر کرتے تو زادِ راہ اور پانی کے مشکیزے ساتھ رکھتے تھے۔ اسی طرح آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی عمل کیا، اور حقیقت میں وہی سچے توکل والے تھے۔
اگرچہ اسباب اختیار کرنا کامل توکل کا حصہ ہے، تاہم مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ اس کا دل اسباب کی طرف متوجہ نہ ہو، بلکہ ان کو پیدا کرنے والے اللہ سبحانہ کی طرف متوجہ ہو؛ کیوں کہ بسا اوقات انسان تمام مادی وسائل جمع کر لیتا ہے، لیکن جس کام کا اس نے عزم کیا ہوتا ہے وہ مکمل نہیں ہوتا، یقیناً تمام معاملات اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔
جب بندہ اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں اس کے دل میں یہ پختہ یقین پیدا ہو جاتا ہے کہ نہ وہ خود اپنے لیے کسی نفع و نقصان کا اختیار رکھتا ہے اور نہ کسی دوسرے کے لیے، اور یہ کہ اس کی قوت و استطاعت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، اس کے اپنے اختیار میں نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی اس استطاعت کا مالک ہے، بندہ نہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ اسے استطاعت عطا نہ فرمائے تو وہ بالکل عاجز ہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کی توفیق و مدد کے بغیر محض اپنی ذات کی قوت سے حرکت بھی نہیں کر سکتا۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ اپنی دعا میں فرمایا کرتے تھے: ”اے ہمیشہ زندہ رہنے والے، اے قائم رکھنے والے، میں تیری رحمت کے وسیلے سے فریاد کرتا ہوں، میرے تمام کام درست فرما دے اور مجھے پلک جھپکنے کے برابر بھی میرے نفس کے حوالے نہ کر۔“ [سنن کبری از نسائی: 10330]۔
اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت و غلبہ عطا فرما، شرک اور مشرکین کو ذلیل و رسوا کر، اور دین کے دشمنوں کو تباہ و برباد کر دے، اے رب العالمین۔
***
خطبہ کا عنوان
محبتِ الہی اور اس کے اسباب وعوامل
پہلے خطبے کا مقدمہ
بے شک تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد چاہتے ہیں، اسی سے بخشش طلب کرتے ہیں، اور اسی کی طرف توبہ کرتے ہیں، اور ہم اپنے نفس اور اپنے اعمال کی خرائیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا، اور جسے وہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل اور تمام اصحاب پر درود وسلام نازل فرمائے۔
پہلا خطبہ
اما بعد! اے مومنوں کی جماعت! اے اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو؛ بلاشبہ جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کی حفاظت فرماتا ہے اور دین و دنیا کے معاملات میں اچھی چیز کی طرف اس کی رہنمائی کرتا ہے۔
اللہ کے بندو! اللہ آپ کی حفاظت فرمائے، جان لو کہ عبادت کا سب سے اونچا مقام اور راہ حق کی سب سے بڑی منزل، سارے جہاں کے پروردگار اور سبھی مخلوق کے خالق کی محبت ہے، اس اللہ کی محبت جس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، جو بادشاہ ہے، ہر عیب سے پاک ہے، ہر نقص سے سالم (اور سلامتی دینے والا) ہے، امن و امان دینے والا (اور معجزات کے ذریعے رسولوں کی تصدیق كرنے والا) ہے، محافظ و نگہبان ہے، غلبہ و عزّت والا ہے، زبردست عظمت اور سلطنت و کبریائی والا ہے۔ اس اللہ کی محبت جو بنانے والا، پیدا کرنے والا اور صورت گڑھنے والا ہے ،اس ذات کی محبت جو عزت اور عظمت والا ہے ، اس عظیم الشان پروردگار کی محبت جس کی تسبیح زمین و اسمان کی ہر چیز بیان کرتی ہے ، جس کے سب سے اچھے نام اور اعلی و بالا صفات ہیں۔ اللہ کے بندو! دراصل یہ محبت الہی دین کی روح، دماغوں کی غذا، خوش بختی کی بنیاد اور نیکی و دینداری کی اساس ہے۔
لوگو! یہ محبت الہی دراصل وہ چشمۂ حیواں ہے کہ جسے یہ نہ ملے، گویا وہ مردوں میں سے ہے، وہ نور ہے کہ جو اس سے محروم رہا، وہ تاریکیوں کے سمندروں میں ڈوب گیا، ایسی دوا اور شفا ہے کہ جس کے حصے میں نہ آئے، اس کا دل قسم قسم کی بیماریوں کی آماجگاہ بن جاتا ہے،اور یہ وہ لذت ہے کہ جو اس سے بے بہرہ رہا اس پر رنج وغم مسلط ہو جاتے ہیں۔
اللہ کے بندو! محبت الہی دنیا اور آخرت میں سعادت و کامرانی کی راہ ہے، اللہ تبارک وتعالیٰ کی محبت ہی اعمال پر ابھارنے والی، عروج و کمال سے ہم کنار کرنے والی اور بندے کو بہترین مقامات اور بلند منازل تک پہنچانے والی ہے۔ اللہ جل وعلا کی محبت بڑی اہم چیز ہے، اس کی حیثیت غیر معمولی ہے اور اللہ کے دین میں اس کا نہایت اعلی و بالا مقام ہے، اسی لیے ہمارے نبی ﷺ کی دعاؤں میں ایک یہ دعا بھی تھی: «اے اللہ ! میں تیری محبت، تجھ سے محبت کرنے والے کی محبت اور ہر اس عمل کی محبت کا سوال کرتا ہوں جو تیری محبت کے قریب کر دے» [اس حدیث کو ترمذی (3235) اور احمد (22162) نے روایت کیا ہے، اور البانی نے صحیح الترمذی میں اسے صحیح کہا ہے۔]
اور آپ علیہ الصلاۃ والسلام سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: "بے شک اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل علیہ السلام کو بلا کر فرماتا ہے: میں فلاں سے محبت کرتا ہوں، تم بھی اس سے محبت کرو۔ چنانچہ جبریل اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، پھر آسمان میں ندا لگاتے ہوئے کہتے ہیں کہ بے شک اللہ تعالیٰ فلاں سے محبت کرتا ہے، تم لوگ بھی اس سے محبت کرو۔ تو آسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ فرمایا: پھر وہ زمین پر بھی مقبول وہر دل عزیز بنادیا جاتا ہے۔" [متفق علیہ] اس ارشاد ربانی کا بھی یہی مطلب ہے: بےشک جنہوں نے ایمان لایا اور نیک کام کیا ان کے لیے رحمٰن (دلوں میں) محبت پیدا کردے گا۔ [مريم: 96].
دنیا و آخرت میں محبت الٰہی کے بے شمار فائدے اور ان گنت منافع و ثمرات ہیں، اللہ سے محبت کرنے والے کے لیے یہی کافی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس کے ساتھ ہوتا ہے، اس کی حفاظت فرماتا ہے، اسے صحیح راستے پر رکھتا ہے اور اسے کامیابی سے ہم کنار کرتا ہے۔
مسلمانو! آج لوگ فتنوں اور آزمائشوں کی بوچھار، گمراہ کن چیزوں کی کثرت، غافل کرنے والی اور راہِ حق سے روکنے والی نت نئی اشیاء کے نرغے میں پھنس چکے ہیں، ایسے حالات میں دلوں کے اندر اللہ کی محبت کمزور پڑ جاتی ہے اور نتیجتاً اس کے اثرات، ثمرات اور تقاضے بھی کمزور پڑ جاتے ہیں۔ اللہ کے بندو! یہ صورت حال اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ بندہ سچے دل سے اللہ کی طرف رجوع کرے، محبت الہی کے حصول کی راہ ڈھونڈے، اور ان چیزوں کو اپنائے جو اس کے دل میں اللہ کی محبت پیدا کرنے کا سبب بنیں، تاکہ اس کے دل کی صفائی و پاکیزگی اور اس کی رونق و نورانیت واپس لوٹ آئے، اور یہ سب دل کو اللہ جل وعلا کی محبت سے آباد کرنے سے ہی ممکن ہے۔
اللہ کے بندو! دلوں میں اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا کرنے والی چند اہم چیزیں یہ ہیں:
اللہ کے بندو! سب سے پہلی چیز ہے: قرآن کریم پر غور و فکر کے ساتھ پورا دھیان دینا۔ یہ بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف اس لئے نازل فرمایا ہے کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور وفکر کریں اور عقل مند اس سے نصیحت حاصل کریں۔ [ص: ۲۹]، کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو یقیناً اس میں بہت کچھ اختلاف پاتے ۔ [النساء: ۸۲] اور جب آپ قرآن پڑھیں تو آپ کا مقصد سورت ختم کرنا نہ ہو کر، بلکہ بات کو سمجھنا اور اس کی مراد جاننا ہو۔ مومنو! اللہ جل وعلا کی محبت پیدا کرنے والی عظیم ترین چیزوں میں سے ہے کہ آپ اس کے کلامِ عظیم اور ذکرِ حکیم میں غور و فکر کریں کہ جس کے پاس باطل پھٹک بھی نہیں سکتا نہ اس کے آگے سے نہ اس کے پیچھے سے... [فصلت: ۴۲]
اللہ کے بندو! محبت الہی کا ایک سبب یہ ہے کہ فرائض کی ادائیگی کے بعد نوافل پر توجہ دی جائے۔ اس سے دلوں میں اللہ کی محبت پیدا ہوتی ہے اور دلوں کو غذا ملتی ہے۔ اس کی دلیل اس حدیث قدسی پر غور کیجیے جس میں اللہ تعالی فرماتا ہے: "جو شخص میرے کسی ولی (دوست) سے دشمنی رکھے، میرا اس کے ساتھ اعلانِ جنگ ہے، اور میرا بندہ جن چیزوں کے ذریعہ میرا قرب حاصل کرتا ہے ، ان میں مجھے وہ چیز سب سے زیادہ محبوب ہے، جو میں نے اس پر فرض کی ہے۔ اور میرا بندہ نوافل کے ذریعہ میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ پھر جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں اسے ضرور عطا کرتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے پناہ مانگے تو میں اسے ضرور پناہ دیتا ہوں۔" [ صحیح بخاری: (6502)]، اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ سبحانہ اس کی سماعت و بصارت میں، اس کے پاؤں اور ہاتھ میں، اور اس کے تمام احوال میں اس کی تائید کرتا اور اسے درست رکھتا ہے۔
اللہ کے بندو! محبت الہی کا سبب بننے والی ایک چیز یہ بھی ہے کہ اپنی پسند پر اللہ کی پسند کو ترجیح اور فوقیت دی جائے، خواہ چاہت اور طلب جتنی بھی شدید ہو، چونکہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : "’’تین باتیں جس بندہ کے اندر پائی گئیں، اس نے ان کے ذریعہ ایمان کی حلاوت و مٹھاس کو پالیا۔ پہلی بات یہ کہ اللہ اور اس کے رسول اس کے نزدیک دوسری سبھی چیزوں سے زیادہ محبوب ہوں۔ دوسری بات یہ کہ وہ کسی سے صرف اللہ کی رضا کی خاطر محبت کرتا ہو، اور تیسری بات یہ کہ اسے دوبارہ کفر میں لوٹ جانا، جب کہ اللہ تعالی نے اسے اس کفر سے نکال لیا ہے، ایسے ہی ناپسند ہو، جیسے وہ یہ ناپسند کرتا ہو کہ اسے آگ میں ڈالا جائے۔‘‘" [متفق علیہ]
اللہ کے بندو! اللہ کی محبت کا باعث بننے والے امور میں سے اللہ کے اسمائے حسنی اور صفات علیا کی معرفت بھی ہے؛ کیوں کہ جو جتنا زیادہ معرفت الہی سے سرشار ہوگا وہ اللہ کا اتنا ہی دلدار، اس کی عبادت کا اسی قدر طلبگار اور گناہوں سے اتنا ہی بے زار ہوگا ۔ اللہ تبارک وتعالی کا ارشاد ہے : ... اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں.... [فاطر: ۲۸]
لوگو! محبت کا باعث بننے والے امور میں سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں، اس کے احسانات و انعامات اور کرم فرمائیوں کو یاد کرنا بھی ہے، کیوں کہ : تمہارے پاس جتنی بھی نعمتیں ہیں سب اسی کی دی ہوئی ہیں... [النحل: ۵۳] چنانچہ جب آپ اپنے اوپر اللہ کی انعامات، اس کے پیہم احسانات اور یکے بعد دیگرے نوازشات کو یاد کرتے ہیں تو آپ کے دل میں اللہ کی محبت بیدار ہو جاتی ہے، اس کی شان بڑھ جاتی ہے اور اس کا مقام بلند ہو جاتا ہے، آپ غور کریں کہ کس نے آپ کے لیے یہ جسم پیدا کیا!! اور کس نے آپ کو سننے اور دیکھنے کی صلاحیت سے نوازا!! اور کس نے آپ پر ہاتھوں اور پیروں کا احسان کیا!! اور کس نے آپ پر آپ کے کھانے، پینے، صحت اور عافیت کا انعام کیا!! اور کس نے آپ کو گھر،اولاد، امن و امان اور ان کے علاوہ دیگر نعمتیں اور آسائشیں دیں !!۔ ہمارے نبی علیہ الصلاۃ والسلام ہر رات جب اپنے بستر پر تشریف لے جاتے تو اللہ جل وعلا کی نعمتوں کو یاد کرتے، اور حمد وثنا بیان کرتے ہوئے فرماتے: ’’ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا، پلایا، ہماری ضرورتوں کو پورا کیا اور ہمیں ٹھکانہ دیا، کیوں کہ بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کی نہ ضرورتوں کو کوئی پوری کرنے والا ہے اور نہ کوئی ان کو ٹھکانہ دینے والا۔‘‘ [ صحیح مسلم: ۲۷۱۵]
اے اللہ کے بندو! محبت الہی کا باعث بننے والے امور میں سے نیک، پرہیزگار، ایمان اور استقامت آراستہ لوگوں کی ہم نشینی اور ان کے پاکیزہ اقوال، عمدہ اعمال اور حسین اخلاق و آداب سے استفادہ کرنا بھی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ” آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہٰذا تم میں سے ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے۔“ [سنن ابی داود: ۴۸۳۳، جامع ترمذی: ۲۳۷۸، مسند احمد: ۸۳۹۸، اور اسے البانی نے حسن کہا ہے۔]
اللہ کے بندو! محبت کا باعث بننے والے امور میں سے یہ بھی ہے کہ انسان ان چیزوں سے اجتناب کرے جو دل اور اس کے مالک و پروردگار کے درمیان حائل ہوتی ہیں۔ آج کے زمانے میں ایسی چیزوں کی کثرت ہے؛ جو دلوں کو اللہ کی محبت سے پھیرنے والی، روکنے والی اور دور کرنے والی ہیں، جیسے سیٹلائٹ چینلز، انٹرنیٹ اور ان کے علاوہ دیگر ایسے وسائل اور غافل کر دینے والی چیزیں جنہوں نے دلوں کو مشغول، نفس کو بیمار، ایمان کو کمزور کر دیا ہے اور دلوں اور رحمن کی محبت کے درمیان حائل ہو گئی ہیں۔ لہذا جو شخص اپنے دل کے لیے خالص اور سچی محبت الہی کا خواہاں ہے، اسے چاہیے کہ وہ ہر اس راستے کو چھوڑ دے جو اس کے اور محبتِ الہی کے درمیان حائل ہو۔
ایسی صورت حال میں اس کے حصول کا کوئی راستہ نہیں، سوائے اس کے کہ بندہ سچے دل سے اپنے رب کی طرف رجوع کرے اور اللہ سبحانہ کی رضا اور اس کی محبت کا طلب گار بنے۔ کیوں کہ اسی کے ذریعے اسے حاصل کیا جا سکتا ہے اور یہی اس کا راستہ ہے۔
ہم اللہ جل وعلا سے، اس کے اسمائے حسنیٰ اور صفات علیا کے وسیلے سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اپنی محبت، اپنے محبوب کی محبت، اور ایسے عمل کی محبت عطا فرمائے جو ہمیں اس کی محبت کے قریب کردے۔
اس کے ساتھ ہی میں اللہ سے اپنے لئے، آپ کے لیے لئے اور تمام مسلمانوں کے لئے ہر گناہ کی مغفرت طلب کرتا ہوں، آپ بھی اس سے مغفرت طلب کریں، وہ آپ کو بخش دے گا؛ وه بہت بڑا بخشنے والا اور بے حد مہربانی کرنے وﻻ ہے۔
دوسرے خطبے کا مقدمہ
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو بڑے احسان والا، وسیع فضل وکرم اور نعمتیں عطا کرنے والا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں؛ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل اور تمام صحابہ پر درود وسلام نازل فرمائے۔
دوسرا خطبہ
اما بعد :
اللہ کے بندو! امام بخاری نے اپنی صحیح میں امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ "نبی ﷺ نے ایک شخص کو ایک سریہ کا امیر بنا کر بھیجا، وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تھے اور نماز میں (قراءت کا) اختتام ﴿قُلۡ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ﴾ پر کرتے تھے۔ جب لوگ واپس آئے تو اس کا ذکر نبی ﷺ سے کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان سے پوچھو، وہ ایسا کیوں کرتے تھے؟“۔ چنانچہ لوگوں نے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ رحمن کی صفت ہے، اس لیے میں اسے پڑھنا پسند کرتا ہوں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم لوگ اسے بتا دو کہ اللہ بھی اسے پسند کرتا ہے“۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے: ’’تمہاری اس سے محبت نے تمہیں جنت میں داخل کر دیا۔‘‘ [متفق علیہ، راوی: عائشہ رضی اللہ عنہا]۔
مومنو! غور کرو کہ قرآن کی تلاوت، اللہ کے اسماء اور اس کی اعلیٰ صفات کی معرفت، ان پر غور وفکر کا اہتمام اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل، اللہ کی محبت کا سبب ہے، نیز جنت میں داخلے اور جہنم کی آگ سے نجات کا ذریعہ بھی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو یہ نصیب فرمائے؛ یقیناً اللہ تبارک و تعالیٰ خوب سننے والا اور دعائیں قبول فرمانے والا ہے۔
اے اللہ! اپنے بندے اور اپنے رسول محمد ﷺ پر درود نازل فرما۔
***
خطبہ کا عنوان
سنت کی آئینی حیثیت
پہلے خطبے کا مقدمہ
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو کارساز، قابل تعریف، اعلی اور بڑی شان والا ہے؛ اس نے مخلوق کو پیدا کیا پھر انہیں آزمایا، اور انہیں اپنے دین کی راہ دکھائی تو ان میں سے جسے ہدایت ملی وہ کامیاب رہا، اور ان میں سے جس نے منہ پھیرا وہ ناکام ونامراد ہوگیا۔ ہم شکرگزاروں کی طرح اس کی حمد کرتے ہیں، گناہ گاروں کی طرح اسی سے بخشش مانگتے ہیں، اور اس سے اس کے فضلِ عظیم کا سوال کرتے ہیں، بے شک وہ بہت سخی و کریم، بڑا محسن اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں؛ جو تمام جہانوں کا رب، اور اولین وآخرین کا معبود ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں؛ جنہیں تمام جہانوں کے لیے رحمت، مومنوں کے لیے ہدایت اور تمام مخلوق پر حجت بنا کر مبعوث فرمایا گیا۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل واصحاب پر اور قیامت کے دن تک نیکی وبھلائی کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں پر درود وسلام اور برکتیں نازل فرمائے۔
پہلا خطبہ
اما بعد: اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اس کی اطاعت کرو، اس کے دین کو مضبوطی سے تھام لو، اس کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور اس کی کتاب اور اس کے نبی محمد ﷺ کی سنت کو لازم پکڑ لو؛ کیوں کہ تمام تر بھلائی دین پر ثابت قدم رہنے، کتابِ مبین پر عمل کرنے اور سید المرسلین ﷺ کی سنت کو لازم پکڑنے میں ہے۔ ... اور تمہیں جو کچھ رسول دے لے لو، اور جس سے روکے رک جاؤ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو، یقیناً اللہ تعالیٰ سخت عذاب واﻻ ہے۔ [الحشر: ۷]
لوگو! جب اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اپنے دین کے ذریعے آزمایا اور انہیں اس کا پابند بنایا تو اللہ سبحانہ نے ان کی اس آزمائش کا حصہ یہ بھی رکھا کہ اس کے رسول علیہم السلام اس دین کو ان تک پہنچائیں، اور اس نے اپنا دین اپنے بندوں کے دلوں میں نہیں ڈال دیا کہ وہ سب کے سب مومن اور فرماں بردار بن جاتے۔ اگر اللہ سبحانہ چاہتا تو ایسا کر دیتا، جیسا کہ اللہ سبحانہ نے فرشتوں کو اطاعت گزار اور فرماں بردار بنا کر ہی پیدا کیا ۔ ... جو حکم اللہ تعالیٰ دیتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو حکم دیا جائے بجا ﻻتے ہیں۔ [التحریم: ۶] ...معزز بندے ہیں۔ کسی بات میں اللہ پر پیش دستی نہیں کرتے بلکہ اس کے فرمان پر کاربند ہیں۔ [الانْبِيَاء: 26-27]۔
اور بےشک اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے رسولوں کے ذریعہ پہنچائی گئی سبھی باتوں کی سچائی پر دلائل و براہین قائم کیے ہیں؛ تاکہ لوگ سچے رسول اور جھوٹے مدعی نبوت کے درمیان فرق کر سکیں۔ پھر اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے رسول کی اطاعت کو اپنی اطاعت کا لازمی حصہ قرار دیا؛ کیوں کہ رسول، اللہ ہی کی طرف سے پیغام پہنچانے والے ہوتے ہیں۔ چنانچہ جو شخص رسول کی سچائی پر ایمان لائے؛ اس پر لازم ہے کہ وہ اس کی اطاعت کرے، ورنہ وہ مؤمن نہیں ہوگا، اور جو شخص رسول پر ایمان لائے؛ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس کی لائی ہوئی ہر چیز قبول کرے، لیکن اگر اس نے بعض چیزوں کو قبول کیا اور بعض کا انکار کیا؛ تو وہ مؤمن نہیں ہوگا۔
ہمارے نبی محمد ﷺ نے اپنے پروردگار کی جانب سے اس کا دین پہنچا دیا، آپ کی یہ تبلیغ قرآن اور سنت کے ذریعے تھی، اور سنت آپ ﷺ کے اقوال، افعال اور تقریرات کو شامل ہے۔ قرآن میں ایسی بہت سی آیات ہیں جو نبی ﷺ کی سنت کو لازم پکڑنے کے وجوب پر دلالت کرتی ہیں؛ جس سے سنت پر اعتراض کرنے والوں اور اس میں شکوک و شبہات پیدا کرنے والوں کا راستہ بند ہو جاتا ہے۔ چنانچہ جس نے سنت کا انکار کیا، اس نے لازمی طور پر قرآن کا انکار کیا، اور جس نے سنت میں شک کیا، اس نے لازمی طور پر قرآن میں شک کیا؛ کیوں کہ قرآنِ کریم نے بہت ساری آیات میں سنت کا حوالہ دیا ہے، اور اس کی کئی قسمیں ہیں:
کچھ آیتیں یہ بتاتی ہیں کہ سنت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک وحی ہے: اور نہ وه اپنی خواہش سے کوئی بات کہتے ہیں۔ وه تو صرف وحی ہے جو اتاری جاتی ہے۔ [النجم: ۳-۴]، اس لیے کہ نبی ﷺ جو کچھ بولتے وہ یا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہوتی ، یا نبی ﷺ کا اجتہاد، جسے اللہ تعالیٰ نے برقرار رکھا تو وہ وحی بن گئی۔
اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس پر قائم نہیں رکھا تو وحی نازل کر کے اس کی اصلاح فرما دی، مثلاً بدر کے قیدیوں کا معاملہ، اور شہید کے سبھی گناہوں کی مغفرت سواۓ قرض کے، جیسا کہ جبریل علیہ السلام نے رسول اللہ ﷺ کو سرگوشی میں اس بات سے آگاہ فرمایا۔
اور کچھ آیتیں رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم دیتی ہیں: کہہ دیجئے! کہ اللہ تعالیٰ اور رسول کی اطاعت کرو، اگر یہ منھ پھیر لیں تو بے شک اللہ تعالیٰ کافروں سے محبت نہیں کرتا۔ [ آل عمران : 32]۔ اے ایمان والو! اللہ کا اور اس کے رسول کا کہنا مانو اور اس (کا کہنا ماننے) سے روگردانی مت کرو سنتے جانتے ہوئے۔ [الأنفال: ۲۰] اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کا کہا مانو اور اپنے اعمال کو غارت نہ کرو۔ [محمد: ۳۳] اور نبی ﷺ کی اطاعت آپ کی سنت کی اتباع کے بغیر ممکن نہیں۔
اللہ تعالى نے مزید فرمایا: اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اور تم میں سے اختیار والوں کی... [النساء: 59]۔
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کا حکم دیا، اور فعل کو یہ بتانے کے لیے دہرایا کہ رسول کی اطاعت مستقل طور پر واجب ہے، بغیر اس کے کہ آپ کے حکم کو کتاب پر پیش کیا جائے، بلکہ جب آپ حکم دیں تو آپ کی مطلق اطاعت واجب ہے، چاہے جس کا آپ نے حکم دیا ہے وہ کتاب میں ہو یا نہ ہو، کیوں کہ آپ کو کتاب اور اس کے ساتھ اسی جیسی (ایک اور) چیز عطا کی گئی ہے، اور صاحب اختیار کی مستقل اطاعت کا حکم نہیں دیا، بلکہ فعل کو حذف کر دیا اور ان کی اطاعت کو رسول کی اطاعت کے ضمن میں رکھا؛ اس بات سے آگاہ کرنے کے لیے کہ ان کی اطاعت صرف رسول کی اطاعت کے تابع ہو کر ہی کی جائے گی۔
کچھ آیتیں اللہ کے نبی ﷺ کو اپنا اسوہ بنانے کا حکم دیتی ہیں: یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمده نمونہ (موجود) ہے ، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے۔ [الاحْزَاب: 21]۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی، آپ کی مکمل سنت پر عمل کرکے ہی ممکن ہے۔
کچھ ایسی آیات بھی ہیں جن میں نبی ﷺ کے اپنی امت کو کتاب وحکمت کی تعلیم دینے کو اللہ تعالیٰ نے اپنا احسان بتایا ہے، کتاب سے مراد قرآن ہے، اور حکمت سے مراد سنت ہے، اور نبی ﷺ نے ہمیں قرآن اور سنت کے سوا کچھ نہیں سکھایا۔ بے شک مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ ان ہی میں سے ایک رسول ان میں بھیجا ، جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے... [ آل عمران: 164]، ...اور اللہ کا احسان جو تم پر ہے یاد کرو اور جو کچھ کتاب وحکمت اس نے نازل فرمائی ہے... [ البقرۃ: 231]، اور امہات المومنین سے اللہ تعالی کے خطاب میں ہے : ... اور اللہ کا احسان جو تم پر ہے یاد کرو اور جو کچھ کتاب وحکمت اس نے نازل فرمائی ہے... [ البقرۃ: 231]۔
اور کچھ آیتیں ایسی ہیں جو کسی بھی اختلاف میں نبی ﷺ کو حَکَم ماننے، آپ ﷺ کے قول پر عمل کرنے، اور آپ ﷺ کے فیصلے کو تسلیم کرنے کا حکم دیتی ہیں: ... پھر اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ، اللہ تعالیٰ کی طرف اور رسول کی طرف، اگر تمہیں اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے... [النساء: ۵۹]؛ یعنی: اسے کتاب وسنت کی طرف لوٹا دیں، سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے، جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں اور کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں۔ [النساء: ۶۵] لہذا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے سامنے مومن کو اسے قبول کرنے اور سرِ تسلیم خم کرنے کے سوا کوئی اختیار حاصل نہیں، بصورتِ دیگر کج روی اور گمراہی ہے۔
اور کچھ ایسی آیات ہیں جو نبی ﷺ کو حکم دیتی ہیں کہ لوگوں کے سامنے قرآن کو واضح کریں اور قرآن کے تعلق سے آپ کی وضاحت آپ کی سنت ہے۔ ... یہ ذکر (کتاب) ہم نے آپ کی طرف اتارا ہے کہ لوگوں کی جانب جو نازل فرمایا گیا ہے آپ اسے کھول کھول کر بیان کر دیں... [ النحل: 44]، اس کتاب کو ہم نے آپ پر اس لیے اتارا ہے کہ آپ ان کے لیے ہر اس چیز کو واضح کر دیں جس میں وه اختلاف کر رہے ہیں اور یہ ایمان والوں کے لیے رہنمائی اور رحمت ہے۔ [ النحل: 64]۔
بڑی تعداد میں موجود ان سبھی واضح اور روشن آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ سنت کی پیروی کے بغیر قرآن پر ایمان کا کوئی مطلب نہیں ، ورنہ یہ سبھی آیتیں بے معنی و بیکار ہو جائیں گی۔
علاماتِ نبوت میں سے یہ بھی ہے کہ نبی ﷺ کو اپنی امّت کے بارے میں ان کج رو اور گمراہ کرنے والوں کا خوف تھا جو سنت کے بغیر قرآن کو اپنانے کا دعویٰ کرتے ہیں، اور آپ نے اپنی امّت کو ان سے خبردار کیا؛ کیوں کہ ان کی حقیقت یہ ہے کہ وہ قرآن کو معطل کرنے والے ہیں، چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا: "میں تم میں سے کسی کو ہرگز اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ اپنی مسند پر ٹیک لگائے بیٹھا ہو، اس کے پاس میرے احکام میں سے کوئی ایسا حکم آئے جس کا میں نے حکم دیا ہو یا جس سے میں نے منع کیا ہو، تو وہ کہے: ہم نہیں جانتے، ہمیں جو کچھ اللہ کی کتاب میں ملا ہم نے اس کی اتباع کی۔" [مسند احمد، حدیث نمبر : 23876، سنن ابو داود، حدیث نمبر : 4605، جامع ترمذی، حدیث نمبر : 2663، اور البانی نے اسے صحیح کہا ہے]۔
ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ ہمیں کتاب وسنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے، ہمیں گمراہی، بدعت اور فتنے سے محفوظ رکھے، اور ہمیں اپنے نیک بندوں میں شامل کرے، بے شک وہ دعائیں سننے والا اور قبول کرنے والا ہے۔
میں اپنی یہ بات کہتا ہوں اور اللہ سے اپنے اور تمہارے لئے مغفرت کا طلب گار ہوں۔
دوسرے خطبے کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، بہت زیادہ، پاکیزہ اور بابرکت تعریفیں، جو ہمارا رب پسند فرماتا ہے اور جس سے خوش ہوتا ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل اور آپ کے اصحاب پر اور قیامت تک ان کی ہدایت کی پیروی کرنے والوں پر درود و سلام اور برکتیں نازل فرمائے۔
دوسرا خطبہ
اما بعد: اللہ سے ڈرو اور اس کی اطاعت کرو۔ اور اس آگ سے ڈرو جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔ اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ [آل عمران: 131-132]۔
مسلمانو! سنت نبوی پر تنقید کرنے والے اہل اہواء کا ایک تناقض یہ بھی ہے کہ وہ سنت میں سے جو ان کی خواہش کے موافق ہوتا ہے اسے لے لیتے ہیں، اور جو ان کی خواہش کے خلاف ہوتا ہے اسے چھوڑ دیتے ہیں۔ اور اگر وہ سنت کو کلیتاً قبول نہ کرنے کے اپنے اصول پر پوری طرح کاربند رہتے، تو وہ ہرگز یہ نہ جان پاتے کہ نماز کیسے پڑھیں، زکوٰۃ کیسے ادا کریں، روزے کیسے رکھیں اور حج کیسے کریں، اور وہ ان حقوق و واجبات اور عبادات کی تفصیلات کو ادا کرنے سے عاجز آجاتے جو اللہ تعالیٰ نے ان پر فرض کیے ہیں؛ کیوں کہ یہ سب کچھ سنت نبوی ہی سے لیا گیا ہے، اور قرآن میں اس کی تفصیلات موجود نہیں ہیں۔ چنانچہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے ایک ایسے شخص کی تردید کی جو سنت کو چھوڑ کر قرآن پر اکتفا کرنا چاہتا تھا، اور اس سے فرمایا: "بے شک تم ایک احمق آدمی ہو، کیا تم اللہ کی کتاب میں پاتے ہو کہ ظہر کی چار رکعتیں ہیں، جن میں بلند آواز سے قراءت نہیں کی جاتی؟! پھر انہوں نے اس کے سامنے نماز، زکوٰۃ اور اسی طرح کے دیگر احکام شمار کرائے، پھر فرمایا: کیا تم اسے اللہ کی کتاب میں مفصل پاتے ہو؟ بے شک اللہ کی کتاب نے اسے مبہم رکھا ہے، اور یقیناً سنت اس کی تفسیر کرتی ہے۔" [الشریعۃ للآجری: ۱/۴۱۷].
اور جب نبی ﷺ سے کوئی حدیث صحیح ثابت ہو جائے تو اسے ماننا، تسلیم کرنا، اس کے آگے سرِ تسلیم خم کرنا اور اس کی اتباع کرنا فرض ہے، اور اسے بعض فتنہ زدہ لوگوں کی عقل، ذوق یا کسی اور چیز کے باطل دعووں کی بنیاد پر رد نہیں کیا جائے گا؛ کیوں کہ عقل اور ذوق میں تفاوت اور اختلاف پایا جاتا ہے، لہذا ان کی بنیاد پر سنت کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
صحیح نصوص ایسی باتیں بھی لے کر آسکتی ہیں جن سے عقل حیران رہ جائے، اور یہ بات قرآن میں بھی ہے۔ تو کیا وہ قرآن کی کسی بات کو محض اس لیے رد کر دیں گے کہ ان کی عقل اس سے حیران رہ گئی اور اسے سمجھ نہ سکی؟! لیکن صحیح نصوص کوئی ناممکن بات لے کر نہیں آتیں؛ کیوں کہ وحی اور تخلیق کا سرچشمہ ایک ہی ہے، جو اللہ تعالی ہے: ... یاد رکھو اللہ ہی کے لئے خاص ہے خالق ہونا اور حاکم ہونا، بڑی خوبیوں سے بھرا ہوا ہے اللہ جو تمام عالم کا پروردگار ہے۔ [الاعراف: 54]
بسا اوقات کوئی نص عقل پر وارد ہوتی ہے تو انسان ایک مدت تک اس میں حیران رہتا ہے، پھر اس کے سامنے کوئی ایسی بات آجاتی ہے جو اس کے لیے اس کی تصحیح کر دیتی ہے اور اس کی حیرت جاتی رہتی ہے، جیسا کہ ابو اسحاق ابراہیم بن سیار کے ساتھ پیش آیا، انہوں نے اپنی حیرانی کا قصہ بیان کرتے ہوئے کہا: «مجھے کم عمری میں ہی یہ بات معلوم ہو گئی تھی کہ اللہ کے نبی ﷺ نے مشکیزے کے دہانے کو موڑ کر اس سے منہ لگا کر پانی پینے سے منع فرمایا ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں: چنانچہ میں کہا کرتا تھا کہ بلاشبہ اس حدیث کی کوئی خاص حکمت ہے، آخر مشکیزے کے دہانے سے منہ لگا کر پانی پینے میں ایسی کیا بات ہے کہ اس کے بارے میں یہ ممانعت آئی ہے؟ پھر جب انہیں بتایا گیا کہ ایک شخص نے مشکیزے کے دہانے سے منہ لگا کر پانی پیا تو اسے ایک سانپ نے ڈس لیا اور وہ مر گیا، اور یہ کہ سانپ مشکیزوں کے دہانوں میں داخل ہو جاتے ہیں؛ تو مجھے یقین ہو گیا کہ حدیث کی ہر وہ بات جس کی علت و حکمت کا مجھے علم نہیں، اس کی ضرور کوئی نہ کوئی درست توجیہ ہوتی ہے، خواہ میں اس سے بےخبر ہی کیوں نہ رہوں۔» [ابن عبدالبر نے اسے جامع بیان العلم وفضلہ (2/1197) میں نقل کیا]۔
اللہ کے بندو! ہمیں ان گمراہ لوگوں کی باتوں سے بچنا چاہئے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو رد کرتے ہیں، اور ان کے شبہات پر کان نہیں دھرنا چاہئے؛ کیوں کہ وہ جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے ہیں، جو ان کی بات مانے گا وہ اسے اس میں جھونک دیں گے۔ ہمیں اپنی اولاد کی تربیت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی تعظیم اور اسے اپنانے پر کرنی چاہئے؛ کیوں کہ تمام تر بھلائی اسی کی پیروی میں ہے۔
اپنے نبی ﷺ پر درود و سلام بھیجو...
***
خطبہ کا عنوان
بدعات کی سنگینی
پہلے خطبے کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، جو عزت، غلبے، بڑائی، عظمت اور بادشاہت کا مالک ہے، میں اپنے رب کی حمد بیان کرتا ہوں اور اس کا شکر ادا کرتا ہوں، اسی کے حضور توبہ کرتا ہوں اور اسی سے مغفرت طلب کرتا ہوں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، وہ زندہ ہے، جسے کبھی موت نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور آقا محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی نے آپ کے ذریعے دلوں کو زندہ کیا اور بصیرتوں کو منور فرمایا۔ اے اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ﷺ پر، اور آپ کی آل اور اصحاب پر جو ہدایت کے مینار اور تاریکیوں کے چراغ ہیں، درود و سلام اور برکتیں نازل فرما۔
پہلا خطبہ
اما بعد :
اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اس کی اطاعت کرو، یقیناً اللہ عزوجل نے تمام بھلائی اپنی اطاعت میں جمع کر دی ہے، اور تمام برائی اپنی نافرمانی میں جمع کر دی ہے۔
اللہ کے بندو:
اپنے آپ کو دینِ اسلام کے حقائق کا پابند بناؤ، اپنے رب کی کتاب اور اپنے نبی محمد ﷺ کی سنت کو لازم پکڑو، اور عظیم نبوی ہدایت کو مضبوطی سے تھام لو۔ تم اس زمانے میں مسلمانوں کی کثرت دیکھ رہے ہو — اللہ تعالیٰ ان کی کثرت اور نیکی میں مزید اضافہ فرمائے — لیکن اس کثرت کے باوجود، بدعات اور خواہشاتِ نفس نے انھیں انتشار و افتراق میں ڈال دیا ہے، باہمی اختلاف نے انھیں کمزور کر دیا ہے، اور آخرت پر دنیا کو ترجیح دینے اور شہوات کا ارتکاب کرنے کی وجہ سے دل کمزور پڑ گئے ہیں، سوائے ان کے جنہیں اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا۔
خبردار! بے شک گمراہ کن بدعات اور حرام خواہشات دین کو منہدم اور دلوں میں اسے کمزور کر دیتی ہیں۔ یقینا بدعتیں لاعلاج بیماری اور زہر ہلاہل کی طرح ہوتی ہیں، جو اندھا اور بہرا کر دیتی ہیں، آدمی کو ہلاک اور اس کے دین و دنیا کو تباہ کر دیتی ہیں۔
"اہل علم کے نزدیک بدعات سے مراد، دین میں ایجاد کردہ ایسے نئے امور ہیں جن کی شریعت میں کوئی ایسی اصل نہیں جو ان پر دلالت کرے۔"
بدعتی کی پہچان یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کی جماعت، ان کے امام اور قرآن وسنت کا علم رکھنے والے علما کی مخالفت کرتا ہے۔ جو شخص خود کو عالم سمجھے لیکن اللہ کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی سنت سے روگرداں اور اس سے بےخبر ہو، تو وہ علماء میں سے نہیں ہے، بلکہ وہ تو محض گمراہی اور فتنے کی طرف بلانے والا ہے۔ اسلام میں سب سے پہلی بدعت خوارج کی بدعت تھی، پھر اس کے بعد دیگر بدعتیں ظاہر ہوئیں۔
صحابہ رضی اللہ عنہم نے اپنے زمانے میں ظاہر ہونے والی بدعات کا مقابلہ کیا اور ان کی تردید کی، لوگوں کے سامنے رسول اللہ ﷺ کی سنت اور قرآن وحدیث کے ذریعے ہدایت و حق کو واضح کیا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعے اس تاریکی کو دور فرمایا اور بدعات کا قلع قمع کیا، صحابہ کے بعد تابعین اور قیامت تک احسان کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں نے اس امانت کی ادائیگی کی۔
اللہ تعالیٰ اپنے دین کی حفاظت اور اپنے کلمے کی نصرت فرمانے والا ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ہم نے ہی اس قرآن کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔ [الحجر: ۹ ] ارشاد باری تعالی ہے : ... اور اس نے کافروں کی بات پست کر دی اور بلند وعزیز تو اللہ کا کلمہ ہی ہے، اللہ غالب ہے حکمت واﻻ ہے۔ [التوبۃ: ۴۰]
اللہ عزوجل نے ہمیں بدعتوں سے خبردار کیا ہے، اور دین، دنیا اور آخرت میں ان کے سنگین نتائج ہمارے لیے بیان کر دیے ہیں، چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اپنے پاس روشن دلیلیں آ جانے کے بعد بھی تفرقہ ڈاﻻ، اور اختلاف کیا، انہیں لوگوں کے لئے بڑا عذاب ہے۔ جس دن بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض سیاه ، سیاه چہرے والوں (سے کہا جائے گا) کہ کیا تم نے ایمان ﻻنے کے بعد کفر کیا؟ اب اپنے کفر کا عذاب چکھو۔ [آل عمران: ۱۰۵-۱٠۶]، یہ آیت ان اہل بدعت کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جنہوں نے امت کے درمیان تفرقہ پیدا کیا ہوا ہے۔
ابن کثیر رحمہ اللہ اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں: یعنی: قیامت کے دن اہل سنت والجماعت کے چہرے روشن ہوں گے، جب کہ بدعتیوں اور تفرقہ ڈالنے والوں کے چہرے سیاہ، یہ قول ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ہے۔
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "جماعت کے ساتھ رہو، کیوں کہ اللہ کی مدد جماعت پر ہوتی ہے۔"
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: « بے شک دونوں اہل کتاب اپنے دین میں بہتر (72) فرقوں میں بٹ گئے تھے، اور یہ امت تہتر (73) فرقوں میں بٹ جائے گی - یعنی خواہشات پرستی میں -، سوائے ایک فرقے کے سارے فرقے جہنم میں ہوں گے، اور وہ اہل سنّت والجماعت ہے۔ بے شک میری امت میں کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جن میں یہ خواہشات اس طرح سرایت کر جائیں گی جس طرح ہلکاؤ کی بیماری مریض میں سرایت کر جاتی ہے، کہ کوئی رگ اور کوئی جوڑ ایسا نہیں بچتا جس میں وہ داخل نہ ہو جائے»؛ [سنن ابی داود: ۴۵۹۷، مسند احمد: ۱۶۹۳۷، اور البانی نے اسے صحیح لغیرہ قرار دیا ہے]۔
کلَب: ایک بیماری ہے جو کتے کے کاٹنے سے انسان کو لاحق ہوتی ہے، جس سے انسان کی طبیعت اور عقل بدل جاتی ہے، اور اس کی حالت روز بروز بدتر ہوتی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ ہلاک ہوجاتا ہے۔
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک موثر وعظ فرمایا جس سے دل کانپ اٹھے اور آنکھیں ڈبڈبا آئیں۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ وعظ تو گویا کسی الوداع کہنے والے کے وعظ کی طرح ہے۔ لہٰذا آپ ہمیں وصیت فرمائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہیں اللہ سے ڈرنے اور (امیر کی بات) سننے اور ماننے کی وصیت کرتا ہوں، اگرچہ تم پر کوئی حبشی غلام امیر بن جائے۔ (یاد رکھو!) تم میں سے جو (میرے بعد) زندہ رہے گا وہ یقینا بہت اختلاف دیکھے گا، چنانچہ تم میری سنت کو اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کو لازم پکڑنا، انہیں دانتوں سے خوب جکڑ لینا اور دین میں نئے نئے کام ایجاد کرنے سے بچنا، کیوں کہ ہر بدعت گمراہی ہے۔“ [سنن ابی داود: ۴۶۰۷، جامع ترمذی: ۲۶۷۶، سنن ابن ماجہ: ۴۲، مسند احمد: ۱۷۱۴۴، اور اسے اہل علم کی ایک جماعت نے صحیح کہا ہے۔]
ابنِ مسعود رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: "بے شک آج تم دین فطرت پر ہو، اور عنقریب ہی تم نئی نئی چیزیں ایجاد کر لوگے اور تمہارے لیے نئی نئی چیزیں ایجاد کی جائیں گی؛ لہذا جب تم (دین کے نام پر ) کوئی نئی چیز دیکھو، تو تم پہلے طریقے کو مضبوطی سے تھام لینا"؛ [اس حدیث کو محمد بن نصر المروزی نے السنۃ (80) اور ابن بطہ نے الإبانۃ (2/ 330) میں صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔]
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: "تم ایسے کام کرتے ہو جو تمہاری نظر میں بال سے زیادہ باریک ہیں (تم اسے حقیر سمجھتے ہو) جب کہ ہم لوگ رسول الله ﷺ کے زمانہ میں ان کاموں کو بڑے گناہوں میں شمار کرتے تھے۔" [ صحیح بخاری: 6492]۔
معلوم ہوا کہ بدعتیں دین کو منہدم کر دیتی ہیں، باہمی تعلقات میں بگاڑ پیدا کرتی ہیں، اور آخرت میں اللہ عز وجل کے غضب اور اس کی دردناک سزا کا موجب ہوتی ہیں۔ ان کی وجہ سے دنیا میں سزائیں عام ہو جاتی ہیں، ان کے سبب دلوں میں نفرتیں پیدا ہوتی ہیں، لوگوں کے مفادات کو نقصان پہنچتا ہے، یہ ذلت و رسوائی کا باعث بنتی ہیں، اور انھی کے ذریعے اسلام کے دشمن مسلمانوں پر مسلط ہو جاتے ہیں، جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ذلت و رسوائی اس شخص پر مسلط کر دی گئی ہے جس نے میرے حکم کی مخالفت کی۔“ [بخاری نے اسے معلقا حدیث نمبر (٢٩١٤) سے پہلے مختصرا اور ابو داود (4031) اور احمد (5114) نے موصولا روایت کیا ہے، اور اسے حافظ ابن حجر نے حسن کہا ہے۔]
جہاں تک حرام کردہ شہوات کا تعلق ہے تو یہ مسلمان کے دین کے لیے نقصان دہ ہیں؛ اس طور پر کہ یہ اس کے قلب کو فاسد اور سخت کر دیتی ہیں، اور جب انسان ان میں منہمک رہتا ہے اور بلا روک ٹوک ان کا ارتکاب کرتا ہے تو ان کی تاریکی دل پر چھا جاتی ہے، چنانچہ اس پر مہر ثبت کر دی جاتی ہے، اور انسان کی بصیرت اندھی ہو جاتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان ان چیزوں سے محبت کرنے لگتا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ ناپسند فرماتا ہے، اور ان چیزوں کو ناپسند کرنے لگتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں، اور یہ شہوات اسے گناہوں، خسارے اور محرومی اور طرح طرح کی سزاؤں میں مبتلا کر دیتی ہیں، اور آخرت میں اسے جن سزاؤں کا سامنا کرنا پڑے گا وہ ان سے کہیں زیادہ سنگین اور تلخ ہیں۔ جب یہ برائیاں معاشرہ میں عام ہو جائیں تو پورے معاشرے کو ہر طرح کی سزاؤں اور گوناگوں نقصانات کا شکار بنا دیتی ہیں۔ دوسری جانب ایک مسلمان اپنے نفس پر قابو رکھتا ہے، اور اسے تقویٰ کی لگام دے کر ہر نیک وصالح اور نفع بخش ومفید عمل کی طرف لے جاتا ہے، تاکہ وہ گناہوں کا شکار نہ ہو۔ لیکن جب انسان گناہوں پر مصر رہتا ہے اور ان پر مداومت اختیار کرتا ہے، تو اس کا نفس سرکش ہو جاتا ہے اور اس پر قابو پانا مشکل ہو جاتا ہے، چنانچہ وہ اسے ہر قسم کے شرور وفتن اور مصیبتوں کی طرف کھینچ لے جاتا ہے، اور وہ بدترین انجام سے دوچار ہو جاتا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: "پھر ان کے بعد ایسے ناخلف پیدا ہوئے کہ انہوں نے نماز ضائع کردی اور نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑ گئے، سو ان کا نقصان ان کے آگے آئے گا". [مریم: 59].
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ﴿فَسَوۡفَ يَلۡقَوۡنَ غَيًّا﴾ کے بارے میں مروی ہے، انہوں نے فرمایا: " ’غَیّ‘ جہنم میں پیپ کی ایک نہر - یا وادی - ہے، جس کی گہرائی بہت زیادہ ہے، جس کا ذائقہ بہت برا ہے، اس میں وہ لوگ ڈالے جائیں گے جو خواہشات کی پیروی کرتے ہیں۔" [اس حدیث کو طبرانی (9108)، حاکم 2/ 374، اور بیہقی نے البعث (519، 518) میں روایت کیا ہے]۔
اور ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”میری امت میں سے کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو کہ زنا، ریشم، شراب اور گانے بجانے کے آلات کو جائز سمجھیں گے۔“ [ صحیح بخاری : 5590]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا مطلب ہے: ’’وہ زنا کو حلال سمجھیں گے‘‘؛ یعنی: شرم گاہ کو حلال سمجھیں گے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جہنمیوں کی دو قسمیں ایسی ہیں جنہیں میں نے نہیں دیکھا: ایک وہ جن کے پاس کوڑے ہوں گے، جو گائے کی دُموں جیسے ہوں گے، جن سے وہ لوگوں کو ماریں گے اور دوسری قسم بظاہر کپڑوں میں ملبوس مگر حقیقتاً ننگی عورتوں کی ہے، جو سیدھی راہ سے بہکنے والی اور دوسروں کو بہکانے والی ہوں گی، جن کے سر بختی اونٹوں کی کوہانوں کی طرح ہوں گے۔ وہ جنت میں داخل نہ ہوں گی اور نہ ہی اس کی خوشبو پائیں گی، حالاں کہ اس کی خوشبو تو اتنے اور اتنے دور سے پائی جاتی ہے‘‘؛ [ صحیح مسلم: 2128]۔
نبیﷺ کے اس ارشاد «کپڑے پہنی ہوئی، ننگی عورتیں»؛ کا مطلب ہے: وہ لباس پہنی ہوں گی لیکن ننگی ہوں گی؛ اس معنی میں کہ وہ جسم کے ان حصوں کو ظاہر کریں گی جنہیں ظاہر کرنا اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے، جیسے بازؤوں اور پنڈلیوں وغیرہ کو۔
«مائلاتٌ»؛ یعنی بد اعمالی کی طرف مائل اور اس سے محبت کرنے والیاں، «ممیلات» یعنی دوسری عورتوں کو اس کی طرف مائل کرنے والیاں۔
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’اس اُمت میں زمین میں دھنسنے، شکل وصورت مسخ ہونے اور آسمان سے پتھر برسنے والے عذاب آئیں گے‘‘، تو ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اور یہ کب ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جب گانے والی کنیزیں اور گانے بجانے کے آلات [موسیقی] ظاہر ہو جائیں گے، اور شراب پی جائے گی‘‘۔ [اس حدیث کو ترمذی (٢٢١٢) اور دیلمی نے «الفردوس» (٨٧٢٥) میں روایت کیا ہے اور البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔]
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "لوگوں پر ایک ایسا زمانہ ضرور آئے گا کہ انسان اس بات کی پرواہ نہیں کرے گا کہ اس نے مال حلال سے حاصل کیا ہے یا حرام سے۔" [ صحیح بخاری : 2083]
لہذا اے مسلمان:
غور و فکر کرو اور تدبر و تفکر سے کام لو، اور ان دو دروازوں میں داخل ہونے سے بچو: فتنوں اور بدعات کا دروازہ، خواہشات اور محرمات کا دروازہ۔ کیوں کہ انہی دونوں نے اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ بدعات ومحرمات سے صرف نفع بخش علم، نیک عمل اور اللہ تعالیٰ کا خوف ہی محفوظ رکھ سکتا اور نجات دلاسکتا ہے۔ کیوں کہ جہالت ہر برائی کا سبب ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ... اور یہ یقینی بات ہے کہ بہت سے آدمی اپنے خیاﻻت پر بلا کسی سند کے گمراه کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ حد سے نکل جانے والوں کو خوب جانتا ہے۔ [الانعام: 119] نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور دنیا میں زیاده لوگ ایسے ہیں کہ اگر آپ ان کا کہنا ماننے لگیں تو وه آپ کو اللہ کی راه سے بے راه کردیں۔ وه محض بے اصل خیاﻻت پر چلتے ہیں اور بالکل قیاسی باتیں کرتے ہیں۔ [الانعام: ۱۱۶] اور ارشاد باری تعالی ہے : ... لیکن ان میں زیاده لوگ جہالت کی باتیں کرتے ہیں۔ [الانعام: ۱۱۱] اللہ تعالی کا مزید ارشاد ہے: بتاؤ تو علم والے اور بے علم کیا برابر کے ہیں... [الزمر: ۹]
ایک مسلمان کو کتاب و سنت سے دلائل کے ساتھ دینِ اسلام کی معرفت حاصل کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: سو (اے نبی!) آپ یقین کر لیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگا کریں... [محمد : 19] جب کہ بخاری میں اسے معلقاً ذکر کیا گیا ہے: "علم تو سیکھنے سے آتا ہے۔"
اور معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے۔» (متفق علیہ)۔
اور ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "جب تک زمین میں علم باقی ہے تو لوگ ہدایت پر ہیں، اور علم کی بقا اس کے حاملین کی بقا سے ہے، پھر جب اس کے حاملین اور اسے قائم رکھنے والے ختم ہو جائیں گے تو لوگ گمراہی میں پڑ جائیں گے". انتہی۔
لہذا (دین میں) ایجاد کردہ گمراہ کن بدعات سے بچنے اور نجات پانے کا راستہ کتاب وسنت کو مضبوطی سے تھامنا ہے، اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کی رسی کو سب مل کر مضبوط تھام لو اور پھوٹ نہ ڈالو... [آل عمران: 103] اسی مضبوطی سے تھامنے کی بنا پر لوگ ایک دوسرے پر فضیلت پاتے ہیں، اور اسی عملِ صالح پر قائم رہنے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے منہج پر کاربند رہنے سے مسلمان کی افادیت اور اپنے رب کے ہاں اس کا مقام و مرتبہ بڑھ جاتا ہے۔
جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو اسلام سے وابستگی کا اظہار تو کرتے ہیں لیکن اس کے اعمال اور اس صحیح عقیدے کو نہیں اپناتے جس پر سلف صالحین قائم تھے، تو وہ سیلاب کے خس و خاشاک کی طرح ہیں، جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : "قریب ہے کہ قومیں تمہارے خلاف ایک دوسرے کو اس طرح بلائیں، جیسے کھانے والے اپنے پیالے کی طرف ایک دوسرے کو بلاتے ہیں"۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اس دن ہماری تعداد کم ہوگی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "بلکہ اس دن تم بہت زیادہ ہو گے، لیکن تم سیلاب کے خس و خاشاک کی طرح ہو گے"۔ [سنن ابو داود، حدیث نمبر : 4297، اور بغوی نے شرح السنۃ، حدیث نمبر : 4224 میں اسے حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔]
مسلمانو!
اپنے نفس کا محاسبہ کرو، دینِ اسلام کی تعلیمات کو اپنے اوپر نافذ کرو، اور اللہ کے دیے گئے ہر حکم اور اس کی تمام منع کردہ چیزوں (منہیات) کے حوالے سے اپنے آپ کو پرکھو کہ کیا تم نے ان احکام پر عمل کیا جو اللہ کی کتاب میں آئے ہیں، اور جن کا رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا ہے، اور جو کچھ اللہ کی طرف سے اس کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کے ذریعے (ہم تک) پہنچا ہے؟ تاکہ تم اتباع کرنے والے اور دین میں بدعت ایجاد کرنے سے بچنے والے کے حق میں وارد اللہ کے سچے وعدے سے سرفراز ہو سکو، جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں، اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وه سب اس سے راضی ہوئے اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، جن میں ہمیشہ رہیں گے، یہ بڑی کامیابی ہے"۔ [التوبۃ: ۱۰۰]
اور من گھڑت بدعات سے بچنے کا ذریعہ یہ ہے کہ قرآن و سنت کو سلف صالح رضی اللہ عنہم یعنی صحابہ کرام اور احسان کے ساتھ ان کے نقش قدم پر چلنے والے تابعین کی فہم کے مطابق سمجھا جائے۔ کیوں کہ یہی وہ لوگ ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قرآن کریم اور حدیث شریف کی تفسیر کے معاملے میں راضی ہوا، ان کے عقیدے پر ان سے راضی ہوا، نیز ان کے اعمال اور اسلام پر ان کا عمل پیرا ہونا رب العالمین کے نزدیک پسندیدہ ہے، اور جس نے ان کی مخالفت کی اسے اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان میں وعید سنائی ہے: جو شخص باوجود راهِ ہدایت کے واضح ہو جانے کے بھی رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کا خلاف کرے اور تمام مومنوں کی راه چھوڑ کر چلے، ہم اسے ادھر ہی متوجہ کردیں گے جدھر وه خود متوجہ ہو اور دوزخ میں ڈال دیں گے ، وه پہنچنے کی بہت ہی بری جگہ ہے۔ [النساء: 115]۔
نیز نئی بدعات سے تحفظ کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام سے وابستہ رہا جائے اور ان کے خلاف خروج (بغاوت) نہ کیا جائے، کیوں کہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے: "مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام سے لازمی طور پر وابستہ رہو۔" [متفق علیہ، راوی: حذیفہ رضی اللہ عنہ]۔
بدعات سے محفوظ رہنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ دینی امور میں کتاب وسنت کے علماء کرام سے سوال کیا جائے اور ان سے علم اخذ کیا جائے، اللہ عز وجل نے فرمایا: ...پس اگر تم نہیں جانتے تو اہل علم سے دریافت کر لو۔ [النحل: 43]-
اور بدعتوں سے تحفظ اس میں بھی ہے کہ دل مسلمانوں کے تئیں دھوکہ ، ظلم، کینہ اور حسد سے پاک ہو، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "دین خیر خواہی کا نام ہے۔ یہ بات آپ نے تین بار دہرائی"۔ [اسے مسلم (55) نے تمیم داری رضی اللہ عنہ کی حدیث سے روایت کیا ہے]۔
جہاں تک ان چیزوں کا تعلق ہے جو حرام خواہشات اور گناہوں سے محفوظ رکھتی اور نجات دلاتی ہیں تو وہ ہیں: اللہ کا خوف اور ڈر، اس طرح کہ بندہ یہ جان لے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور اس کے ظاہر و باطن کو جانتا ہے، اور بندے کے اعمال کو ایک ایسی کتاب میں شمار کر رہا ہے جو کسی چھوٹی یا بڑی بات کو درج کیے بغیر نہیں چھوڑتی، اس موت کی یاد کہ جب وہ آتی ہے تو جسم کے ہر جوڑ میں شدید تکلیف ہوتی ہے، قبر اور اس کے بعد کی بھیانک ہولناکیوں کی یاد، ان لوگوں سے عبرت، جنہوں نے عمر بھر لذات وشہوات حاصل کیں پھر موت ان کے اور ان کی خواہشات کے درمیان حائل ہو گئی، لذتیں تو ختم ہو گئیں اور حسرت و ندامت اور وبال باقی رہ گئے۔ اللہ تعالی نے فرمایا: تو جس (شخص) نے سرکشی کی (ہوگی)۔ اور دنیوی زندگی کو ترجیح دی (ہوگی)۔ اس کا ٹھکانا جہنم ہی ہے۔ ہاں جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا رہا ہوگا اور اپنے نفس کو خواہش سے روکا ہوگا۔ تو اس کا ٹھکانا جنت ہی ہے۔ [النازعات: ۳۷-۴۱]
جب بندے کو گناہوں کو چھوڑنے پر اللہ کے عظیم ثواب کا یقین ہو جاتا ہے تو وہ ان سے بچتا ہے اور ان سے نفرت کرتا ہے، اللہ عزوجل نے فرمایا: اور اس شخص کے لیے جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا دو جنتیں ہیں۔ [الرحمن: ۴۶]
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہايت رحم والا ہے: اور یہ کہ یہ دین میرا راستہ ہے جو مستقیم ہے سو اس راه پر چلو اور دوسری راہوں پر مت چلو کہ وه راہیں تم کو اللہ کی راه سے جدا کردیں گی۔ اس کا تم کو اللہ تعالیٰ نے تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم پرہیزگاری اختیار کرو۔ [الانعام: ۱۵۳]
اللہ تعالیٰ میرے اور آپ کے لیے قرآنِ عظیم میں برکت عطا فرمائے، مجھے اور آپ کو اس میں موجود آیات اور ذکرِ حکیم سے فائدہ پہنچائے، اور ہمیں سید المرسلین کی ہدایت اور ان کے سچی بات سے فائدہ پہنچائے۔ میں اپنی یہ بات کہتا ہوں اور اللہ عظیم و جلیل سے اپنے لیے، آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے مغفرت طلب کرتا ہوں، اور آپ بھی اسی سے مغفرت طلب کریں۔
دوسرے خطبے کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو غیبوں کو خوب جاننے والا، فکر وتشویش کو دور کرنے والا اور غموں اور پریشانیوں کو مٹانے والا ہے۔ میں اپنے رب کی حمد بیان کرتا ہوں اور اس کا شکر ادا کرتا ہوں، اسی کے حضور توبہ کرتا ہوں اور اسی سے بخشش طلب کرتا ہوں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، گناہوں کو بے حد بخشنے والا ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور ہمارے آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، جو ہدایت اور یقین کے ساتھ مبعوث کیے گئے۔ اے اللہ! اپنے بندے اور اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر، اور آپ کی آل اور تمام اصحاب پر درود، سلام اور برکتیں نازل فرما۔
دوسرا خطبہ
اما بعد :
لوگو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے، اور ان کاموں کے ذریعے اس کا تقرّب حاصل کرو جو اسے پسند ہیں اور جن سے وہ راضی ہوتا ہے، اور گناہوں سے دور رہو؛ کیوں کہ یہ بندے کو اس کی دنیا اور آخرت میں ہلاک کرنے والے ہیں۔
مسلمانو!
اپنا حساب خود لے لو اس سے پہلے کہ تم سے حساب لیا جائے، مسلمان کو چاہیے کہ اپنے ظاہری وباطنی اعمال میں نیت کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کرنے کی کوشش اور اہتمام کرے، اور یہ کہ اس کے تمام ظاہری وباطنی اعمال رسول اللہ ﷺ کے طریقے اور سنتِ نبویِ محمدیہ کے مطابق ہوں۔
علماء فرماتے ہیں: "بلاشبہ نبی ﷺ کا فرمان: "مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ" یعنی: (جس نے کوئی ایسا کام کیا، جو ہمارے دین کا حصہ نہیں ہے، تو اسے ٹھکرا دیا جائے گا)، یہ حدیث ظاہری اعمال کی میزان، اور اسلام کی بنیادوں میں سے ایک اہم بنیاد ہے۔ اور آپ ﷺ کا فرمان: "إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ" یعنی: (اعمال (کی قبولیت) کا دار ومدار نیتوں پر ہے)، یہ باطنی اعمال کی میزان ہے۔"
مسلمانو! نیک نیتی پر آپ کی توجہ عمل سے زیادہ ہونی چاہیے، اور کثرتِ اعمال کی بنسبت سنت کے مطابق عمل کرنے کی جد وجہد زیادہ ہونی چاہیے۔
نبی ﷺ خطبے کے دوران فرمایا کرتے تھے: "بلاشبہ سب سے اچھی بات کتاب اللہ ہے، اور سب سے بہترین طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے، اور بدترین امور (دین کے نام پر ایجاد کردہ) نت نئی چیزیں ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے"۔ (صحیح مسلم۔)
آپ امت کو نصیحت کرنے کے لیے اپنے مقام پر اسے دہرایا کرتے تھے، اس طرح آپ ہدایتِ محمدی کی پیروی کے حکم کی بنیاد رکھتے اور اس پر زور دیتے، اور نئی ایجاد کردہ خلاف ورزیوں سے خبردار کرتے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ... اور تمہیں جو کچھ رسول دے لے لو، اور جس سے روکے رک جاؤ... [الحشر: ۷) اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: اور جو بھی اللہ تعالیٰ کی اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی فرمانبرداری کرے، وه ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے، جیسے نبی اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ، یہ بہترین رفیق ہیں۔ [النساء: ۶۹]
مسلمانو!
بے شک اللہ نے تمہیں ایک ایسے کام کا حکم دیا ہے جس کی ابتدا اس نے اپنی ذات سے کی، چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو۔ الاحزاب: 56] لہذا اولین اور آخرین کے سردار، اور تمام رسولوں کے امام پر درود و سلام بھیجیں۔
اے اللہ! محمدﷺ پر اور آل محمد پر درود نازل فرما۔
***
خطبے کا عنوان
سال کے آخر کی بدعات سے خبردار رہیں!
پہلے خطبے کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد چاہتے ہیں اور اسی سے بخشش طلب کرتے ہیں، ہم اپنے نفس اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا، اور جسے وہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل اور اصحاب پر اور ان پر جو قیامت کے دن تک خیر وبھلائی کے ساتھ آپ کی پیروی کرتے ہیں، ڈھیروں درود وسلام نازل فرمائے۔
پہلا خطبہ
اما بعد: اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو، اور جان لو کہ ہمارے نبی محمد ﷺ سیدھے اور آسان دین کے ساتھ بھیجے گئے، اور رسالتِ کاملہ لے کر آئے، آپ ﷺ کی وفات نہیں ہوئی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعے دین مکمل کردیا؛ چنانچہ جس نے اسلام میں کوئی نئی چیز ایجاد کی؛ تو یقیناً اس نے ایک نئی شریعت پیش کی، اور بلاشبہ نبی کریم ﷺ نے بدعتوں سے خبردار کیا اور فرمایا: ”(یاد رکھو!) تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ یقیناً بہت اختلاف دیکھے گا۔ چنانچہ تم میری سنت کو اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کو لازم پکڑنا، انہیں داڑھوں سے مضبوطی سے پکڑ لینا اور دین میں نئے نئے کام ایجاد کرنے سے بچنا، کیوں کہ (دین میں) ایجاد کردہ ہر چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔" [سنن ابی داود: ۴۶۰۷، جامع ترمذی: ۲۶۷۶، سنن ابن ماجہ: ۴۴، مسند احمد: ۱۷۱۴۴، اور اہل علم کی ایک جماعت نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔]
نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "بلاشبہ سب سے اچھی بات کتاب اللہ ہے، سب سے بہترین طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے، بدترین امور (دین کے نام پر ایجاد کردہ) نت نئی چیزیں ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے"، [ صحیح مسلم : 867]۔
نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی، جو اس میں نہیں ہے، تو وہ مردود ہے۔‘‘ [متفق علیہ]۔
معلوم ہوا کہ بدعت اللہ کے دین میں نئی چیز ایجاد کرنا ہے؛ چاہے بدعت ایجاد کرنے والے کی نیت اچھی ہی کیوں نہ ہو، کیوں کہ اچھی نیت کسی فعل اور قول کو درست نہیں بنا سکتی۔
مسلمانو! بے شک اللہ کی حکمتوں میں سے یہ بھی ہے کہ ہر نسل دین اور تقویٰ میں اپنے سے پہلی نسل سے کمتر ہو، چناچہ علم میں کمی آتی جاتی ہے اور جہالت عام ہوتی جاتی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: "آخری زمانے میں دجال اور جھوٹے لوگ پیدا ہو جائیں گے، جو تمہارے پاس ایسی حدیثیں لے کر آئیں گے جو نہ تم نے سنی ہوں گی اور نہ تمہارے باپ دادوں نے سنی ہوں گی۔ لہذا تم ان سے خبردار رہنا، کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کر دیں اور تمہیں فتنے میں نہ ڈال دیں۔" [ صحیح مسلم، مقدمہ (7)]
اس طرح آپ ﷺ اپنی وفات تک دین کے نام پر سامنے آنے والی نت نئی چیزوں یعنی بدعات سے خبردار کرتے رہے۔
پھر آپ ﷺ کے بعد آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے سنت کی نشر و اشاعت اور بدعات سے خبردار کر کے اپنا فریضہ انجام دیا۔ چنانچہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "اتباع کرو ( سنت پر چلو) اور نئی باتیں (بدعتیں) مت ایجاد کرو, یقینا تمہارے لیے (دین کا کام) کافی کر دیا گیا ہے". [اسے دارمی (212) نے روایت کیا ہے اور البانی نے اسے صحیح کہا ہے]، اور انہوں نے یہ بھی فرمایا: "سنت میں میانہ روی اختيار كرنا بدعت میں محنت كرنے سے بہتر ہے"۔ [اسے حاکم (352) نے روایت کیا ہے اور البانی نے اسے صحیح کہا ہے]۔
اسی طرح علماے ہدایت نے بھی ان لوگوں پر سخت نکیر فرمائی جنہوں نے اللہ کے دین میں نئی باتیں ایجاد کیں اور ایسی بدعات جاری کیں جن کی اللہ تعالیٰ نے اجازت نہیں دی۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: "جس نے اچھا سمجھ کر اسلام میں کوئی بدعت ایجاد کی، اس نے دراصل یہ دعویٰ کیا کہ محمد ﷺ نے اللہ کا پیغام پہنچانے میں خیانت سے کام لیا ہے۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿... آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے، اور تم پر اپنی نعمت تمام کر دی ہے، اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا ہے ...﴾، چنانچہ جو چیز اس دن دین نہیں تھی، وہ آج بھی دین نہیں ہو سکتی۔"
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "بے شک اہل بدعت، شہوانی گناہوں کے مرتکب لوگوں سے بھی بدتر ہیں۔"
یہ کلام کتنا ہی عمدہ ہے! ہمیں اسے جاننے اور سمجھنے کی کس قدر ضرورت ہے! بدعتوں کا تذکرہ کرنا، اور ان کے خطرے سے خبردار کرنا ایک شرعی فریضہ ہے؛ کیوں کہ بدعت پر عمل کرنا سنتوں کو مٹانے کا دروازہ ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: "ہر سال لوگ کوئی نہ کوئی بدعت ایجاد کرتے اور کسی نہ کسی سنت کا خاتمہ کر دیتے ہیں، یہاں تک کہ بدعتیں زندہ رہ جاتی ہیں، اور سنتیں ختم ہوتی جاتی ہیں۔"
اللہ کے بندو! لہذا ہمیں بدعات و منکرات سے دور رہنا چاہئے اور ان سے بچنا چاہئے، اور ان سے خبردار کرنے کے سلسلے میں اس منہج پر چلنا چاہئے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمایا ہے؛ دراصل زیادہ تر بدعتیں ان کافروں کی تقلید میں رونما ہوتی ہیں جن کی تقلید سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خبردار کیا ہے؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہی میں سے ہے“۔ [سنن ابی داود: ۴۰۳۱، مسند احمد: ۵۱۱۴، اس کی سند حسن ہے]، چنانچہ عیسائیوں نے مسیح علیہ السلام کے یومِ پیدائش کا جشن منایا، جو کہ ایک من گھڑت اور غلط تاریخ ہے، ان کی تقلید میں بعض مسلمانوں نے نبی ﷺ کے یومِ پیدائش کا جشن ایجاد کر لیا، اور عیسائیوں نے عیسوی سالِ نو کا جشن منایا؛ تو بعض مسلمان بھی ان کی تقلید میں ہجری سالِ نو کا جشن منانے لگے؛ یہاں تک کہ بعض اسلامی ممالک میں اس سے ایک دن قبل اور ایک دن بعد چھٹیاں ہونے لگیں۔
سال کے اختتام پر ہمیں ایسے لوگ ملتے ہیں جو لوگوں میں ایسی بدعات پھیلاتے ہیں جن کی اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔
چنانچہ ان دنوں آپ کو ایسے لوگ ملیں گے جو سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو پیغامات ارسال کرتے ہیں جن میں وہ کہتے ہیں: یہ آخری جمعہ یا سال کا آخری دن ہے؛ لہٰذا ان دونوں دنوں میں دعا کرنے میں کوتاہی نہ کریں؛ اور اپنے سال کا اختتام خیر پر کریں۔
سوشل میڈیا پر ایسا پیغام بھیجنے والوں کو یہ علم نہیں کہ خاتمہ تو دراصل عمر کا خاتمہ ہے، نہ کہ سال کا خاتمہ، اور عمر کے خاتمے کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے۔ اس لیے ہمیں ہر دن اور ہر رات، بلکہ ہر گھڑی اور ہر لمحے موت سے متنبہ رہنا چاہیے، نہ کہ صرف سال کے آخری اور پہلے دن۔
اور ایک پیغام آتا ہے کہ سال کے آخری دن فجر کی نماز باجماعت تم سے فوت نہ ہونے پائے!!! تو سوال یہ ہے کہ کس نے سال کے آخری دن، یا اس کے پہلے دن کی فجر میں باجماعت نماز کو دیگر نمازوں سے ممتاز کر دیا؟
اللہ کے بندو! سال کے آخر اور نئے سال کی ابتداء میں جو بدعات پھیل چکی ہیں ان میں سے سال کے آخری یا پہلے دن روزہ رکھنے کی ترغیب دلانے والے پیغامات بھی ہیں۔ چنانچہ ہم میں سے بعض لوگوں کو ایسے پیغامات آتے ہیں جن میں کہا جاتا ہے کہ ”سال کے آخری دن کا روزہ تم سے چھوٹنے نہ پائے؛ تاکہ تم اپنے سال کا اختتام خیر پر کرو؛ کیوں کہ اعمال کا دار ومدار خاتمے پر ہے“، اور دیگر پیغامات میں کہا جاتا ہے کہ ”سال کے پہلے دن کا روزہ تم سے نہ چھوٹنے پائے؛ تاکہ تم اپنے سال کی ابتداء بھلائی سے کرو“۔
جب کہ اللہ کے مہینے محرم کے روزے، رمضان کے روزوں کے بعد اللہ کے نزدیک سب سے افضل روزے ہیں؛ کیوں کہ اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے: ’’رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے ہیں۔‘‘ [ صحیح مسلم : 1163]۔ اس حدیث کی بنا پر روزہ رکھا جائےگا، نہ کہ اس بنیاد پر کہ یہ سال کا پہلا دن ہے، چنانچہ جس نے محرم کے روزے کی نیت اس لیے کی کہ یہ سال کا پہلا دن ہے؛ تو وہ غلطی پر ہے اور اس نے بدعت کا ارتکاب کیا؛ اور جس نے نبی ﷺ کی اقتدا کرتے ہوئے محرم کے روزے کی نیت اس لیے کی کہ یہ اللہ کے مہینے محرم میں سے ہے؛ تو اس نے سنت کو پا لیا، اور بدعت سے دوری اختیار کی۔
برائی سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت صرف اللہ ہی کی ذات سے حاصل ہوتی ہے جو بلند و برتر اور بڑی عظمت والا ہے!
میں اپنی یہ بات کہتا ہوں، اور اللہ سے اپنے اور آپ کے لئے مغفرت کا طلب گار ہوں۔
دوسرے خطبے کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں اس کے احسان پر اور اسی کا شکر ہے اس کی عظیم نعمتوں اور نوازشات پر، اور میں اس کی عظمتِ شان کا اقرار کرتے ہوئے گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے بندے، رسول اور خلیل ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل اور اصحاب پر اور قیامت تک اخلاص کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں پر ڈھیروں درود وسلام نازل فرمائے۔
دوسرا خطبہ
اما بعد: لوگو ! اللہ سے ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے، اور اسلام کے مضبوط کڑے کو مضبوطی سے تھامے رکھو، اور جان لو کہ تمھارے جسم آگ کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔
اللہ کے بندو! بدعتوں کو معمولی نہ سمجھیں، اور ان کے نقصانات کو کم نہ جانیں، کیوں کہ جب دلوں میں بدعت رچ بس جائے، اور مزاج، خواہشات اور عقلیں اسے اچھا سمجھنے لگیں، تو اسے نکالنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ لہٰذا اس کے پھیلنے کے بعد ختم کرنے کی نسبت، اس کے زور پکڑنے سے پہلے ہی اسے دبا دینا زیادہ آسان ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو بدعتوں کے شر سے محفوظ رکھے! ہمیں سنتوں کی ہدایت نصیب فرمائے! اور ہمیں خیر البشر (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اقتدا کرنے والا بنائے!
اے اللہ! ہمیں ان لوگوں میں سے بنا جو تجھ سے ڈریں، تیرا تقویٰ اختیار کریں، اور تیری رضا کی پیروی کریں۔
***
خطبے کا عنوان
اختلاف و انتشار کی مذمت
پہلے خطبے کا مقدمہ
یقیناً تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد چاہتے ہیں اور اسی سے بخشش طلب کرتے ہیں، اور ہم اپنے نفس اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا، اور جسے وہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل واصحاب پر ڈھیروں درود وسلام نازل فرمائے۔
پہلا خطبہ
اما بعد: اللہ کے بندو ! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے، اور تنہائی و سرگوشی میں اس کی نگرانی کا خیال رکھو۔
مسلمانو! اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور زمین میں اپنی عبادت کے لیے انہیں خلیفہ بنایا، اور ان کے بعد ان کی اولاد دس صدیوں تک اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی محبت پر قائم رہی، پھر شیطان نے انہیں بہکا دیا اور انہیں اللہ کے دین اور اس کی اطاعت سے پھیر دیا، اور وہ ایک امت ہونے کے بعد متفرق ہو گئے، اللہ تعالیٰ نے حدیث قدسی میں فرمایا: "میں نے اپنے تمام بندوں کو توحید پر پیدا کیا تھا، پھر ان کے پاس شیاطین آگئے اور انہیں ان کے دین سے پھیر دیا"۔ [ صحیح مسلم: 2865]
چنانچہ اللہ نے ان کے اختلاف پر ان کی مذمت کی، اور انھیں ایک کلمہ پر جمع کرنے اور حق پر ان کے دلوں میں الفت ڈالنے کے لیے ان میں رسولوں کو بھیجا، اللہ تعالی کا فرمان ہے: دراصل لوگ ایک ہی گروه تھے اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو خوشخبریاں دینے اور ڈرانے واﻻ بنا کر بھیجا... [ البقرۃ: 213]؛ یعنی: ان کے متفرق ہو جانے کے بعد۔
اور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو منتخب فرمایا اور ان میں انبیاء اور رسول مبعوث فرمائے، تو انہوں نے ان کی مخالفت کی اور کتاب کو پسِ پشت ڈال دیا، اور مختلف فرقوں اور جماعتوں میں بٹ گئے، آپ ﷺ نے فرمایا: "یہودی اکہتر فرقوں میں اور نصاری بہتر فرقوں میں بٹ گئے تھے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی" [اسے اہلِ سنن نے روایت کیا ہے اور اہلِ علم کی ایک جماعت نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔]
اور آپ ﷺ نے اس امت میں انتشار واقع ہونے کی خبر دی، اور جوں جوں زمانہ نبوت سے دور ہوتا گیا، تفرقہ اور اختلاف بڑھتا گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’(یاد رکھو!) تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ یقینا بہت اختلاف دیکھے گا۔‘‘ [سنن ابی داود: ۴۶۰۷، جامع ترمذی: ۲۶۷۶، سنن ابن ماجہ: ۴۲، مسند احمد: ۱۷۱۴۴، اس کی سند صحیح ہے]۔
اور نبی ﷺ نے انتشار سے منع فرمایا تاکہ اس سے وہ شخص محفوظ رہے جس کے لیے اللہ نے سلامتی چاہی ہو، جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: «تم انتشار سے بچو۔» [سنن ترمذی، حدیث نمبر : 2165، اور مسند احمد، حدیث نمبر : 23145، اس کی سند حسن ہے]۔
اور اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو باہمی اختلاف سے منع فرمایا ہے، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اللہ تعالیٰ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور پھوٹ نہ ڈالو... [آل عمران: 103]
اور اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ اس کا راستہ ایک ہی ہے، اور ہر وہ چیز جو کتاب و سنت کے خلاف ہے وہ شیطان کے راستے ہیں جو مخلوق میں تفرقہ ڈالتے ہیں اور انہیں رحمٰن سے دور کر دیتے ہیں۔
اور اللہ تعالیٰ نے امتوں کو اسی بات کا حکم دیا ہے جس کا اس نے انبیاء کو حکم دیا تھا کہ دین قائم کریں اور اختلاف و انتشار سے بچیں، چنانچہ فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کردیا ہے جس کے قائم کرنے کا اس نے نوح (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا اور جو (بذریعہ وحی) ہم نے تیری طرف بھیج دی ہے، اور جس کا تاکیدی حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو دیا تھا ، کہ اس دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا... [الشوری: ۱۳]
اللہ تعالیٰ نے تفرقے کی مذمت کی اور تفرقہ ڈالنے والوں کی برائی بیان کرتے ہوئے فرمایا: ... اور اس کتاب میں اختلاف کرنے والے یقیناً دور کے خلاف میں ہیں۔ [البقرۃ: 176]، اور ان کی حالت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ... ہر گروه اس چیز پر جو اس کے پاس ہے مگن ہے۔ [المؤمنون: ۵۳]
اور تفرقہ کی کوشش کرنا منافقین کی خصلتوں میں سے ہے، جیسا کہ اللہ سبحانہ نے فرمایا: اور بعض ایسے ہیں جنہوں نے ان اغراض کے لیے مسجد بنائی ہے کہ ضرر پہنچائیں اور کفر کی باتیں کریں اور ایمانداروں میں تفریق ڈالیں... [التوبۃ: ۱۰۷] اور یہی ان کی فطرت ہے: ...گو آپ انہیں متحد سمجھ رہے ہیں لیکن ان کے دل دراصل ایک دوسرے سے جدا ہیں... [الحشر: ۱۴]
اور یہ جاہلوں کے خاص ترین طریقوں میں سے ہے۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: ”جو (امیر کی) اطاعت سے نکل جائے اور (مسلمانوں کی) جماعت چھوڑ دے اور اسی حال میں اس کی موت ہو جائے، تو ایسی موت جاہلیت کی موت ہے۔“ [صحیح مسلم : 1848]۔
اللہ تعالیٰ نے اہل اختلاف کی مشابہت اختیار کرنے اور ان کے راستے پر چلنے سے منع کیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اپنے پاس روشن دلیلیں آ جانے کے بعد بھی تفرقہ ڈاﻻ، اور اختلاف کیا... [آل عمران: ۱۰۵]
اور اللہ نے اپنے رسول کو فرقہ بندی کرنے والوں سے بری کر دیا، چنانچہ فرمایا: بےشک جن لوگوں نے اپنے دین کو جدا جدا کردیا اور گروه گروه بن گئے ، آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں... [ الأنعام: 159].
دراصل انتشار پیدا کرنے والے، رسول ﷺ اور مومنوں کے مخالف ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جو شخص باوجود راه ہدایت کے واضح ہو جانے کے بھی رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کا خلاف کرے اور تمام مومنوں کی راه چھوڑ کر چلے، ہم اسے ادھر ہی متوجہ کردیں گے جدھر وه خود متوجہ ہو اور دوزخ میں ڈال دیں گے ، وه پہنچنے کی بہت ہی بری جگہ ہے۔ [النساء: 115]۔
اور سب سے بڑا افتراق ، سارے جہاں کے پروردگار کی ”توحید“ سے انحراف ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے : اور اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیز کی عبادت مت کرنا جو تجھ کو نہ کوئی نفع پہنچا سکے اور نہ کوئی ضرر پہنچا سکے۔ پھر اگر ایسا کیا تو تم اس حالت میں ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔ [يونس: 106]۔
اور دین کے نام پر نئی چیزیں پیدا کرنا، در اصل خیر المرسلین کی پیروی سے الگ ہونا ہے، آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: "جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا حکم نہیں ہے تو وہ مردود ہے"۔ [متفق علیہ].
ائمہ اور حکمرانوں کے خلاف بغاوت اور اہل اقتدار سے رسہ کشی بہت بڑا فساد ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی اطاعت سے ہاتھ کھینچ لیا تو وہ قیامت کے روز اس حال میں آئے گا کہ اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوگی، اور جس شخص کو اس حال میں موت آئی کہ وہ (مسلمانوں کی) جماعت کو چھوڑے ہوئے تھا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔“ [اسے مسلم (1851) اور احمد (5551) نے روایت کیا ہے، الفاظ مسند احمد کے ہیں۔]
علماء سماج میں نمونہ ہوتے ہیں، لہذا وہ لوگوں میں اس بات کے سب سے زیادہ حق دار ہیں کہ ان کے دلوں میں باہمی الفت ہو اور ان کی بات ایک ہو، ان کے درمیان اختلاف ان کی بات قبول نہ کیے جانے کا باعث بنتا ہے، اسی لیے نبی ﷺ نے معاذ اور ابو موسیٰ رضی اللہ عنہما کو جب یمن بھیجا تو انہیں یہ نصیحت فرمائی: "آسانی پیدا کرو، مشکل میں نہ ڈالو، خوش خبری دو، متنفر نہ کرو، اور آپس میں اتفاق رکھو اور اختلاف نہ کرو"۔ [متفق علیہ]
آپ نے حق کے معاملے میں اختلاف سے منع فرمایا ہے: "قرآن اس وقت تک پڑھو جب تک تمہارے دل اس پر متفق ہوں اور جب اس میں تمہارے مابین اختلاف ہونے لگے تو اٹھ جاؤ"۔ [متفق علیہ]
نماز قائم کرنے میں افتراق وانتشار، اور اس پر متفق نہ ہونا شیطان کے غالب آجانے کی وجہ سے ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : ’’جس بستی یا جنگل میں تین آدمی ہوں جن میں (باجماعت) نماز کا اہتمام نہ کیا جائے تو ان پر یقیناً شیطان غالب آگیا ہے۔ لہذا تم جماعت کو لازم پکڑو، یقیناً بھیڑیا اس بکری کو کھا جاتا ہے جو ریوڑ سے دور رہتی ہے۔‘‘ [اس حدیث کو ابوداود (۵۴۷) اور نسائی (۸۴۷) نے روایت کیا اور مذکورہ الفاظ ان دونوں کے روایت کردہ ہیں‘ نیز اسے احمد (۲۱۷۱۰) نے حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔]
آپ ﷺ نے نماز کے انتظار کے وقت متفرق ہونے کو ناپسند فرمایا، جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے تو آپ نے ہمیں حلقوں میں دیکھا، تو فرمایا: ”کیا بات ہے کہ میں تمہیں الگ الگ ٹولیوں میں دیکھ رہا ہوں؟“ - یعنی: متفرق - [صحیح مسلم: 430]۔
اور آپ ﷺ نے نمازیوں کو اپنی صفوں میں اختلاف کرنے (ٹیڑھا کھڑے ہونے)سے منع فرمایا، اور ایسا کرنے والوں کو یہ وعید سنائی کہ ان کے چہرے مختلف کر دیے جائیں گے، اور ان کے دلوں میں پھوٹ ڈال دی جائے گی؛ گویا ظاہر کا اختلاف باطن کے اختلاف کا سبب ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اپنی صفوں کو سیدھی رکھو؛ ورنہ اللہ تمھارے مابین تفرقہ ڈال دے گا۔“ [ متفق علیہ‘ راوی: نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ ]
نماز میں امام کی مخالفت، اختلاف و افتراق کے ان مظاہر میں سے ہے جن سے اسلام نے منع کیا ہے، اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، چنانچہ اس کی مخالفت نہ کرو۔‘‘ [صحیح بخاری: 722]
جس طرح اسلام نے دینی معاملات میں تفرقہ سے روکا ہے، ویسے ہی دنیوی معاملات میں بھی تفرقہ سے منع کیا ہے؛ چنانچہ بتایا گیا ہے کہ ساتھ مل کر کھانا کھانا برکت کا سبب ہے، اور الگ الگ کھانا اس برکت کو ختم کر دیتا ہے۔
کچھ لوگوں نے نبی ﷺ سے شکایت کی اور کہا: ’’ہم کھاتے ہیں لیکن سیر نہیں ہوتے‘‘، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”شاید تم الگ الگ کھاتے ہو؟“ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنا کھانا اکٹھے ہو کر کھایا کرو اور اس پر اللہ کا نام لیا کرو، اس میں تمہارے لیے برکت ڈال دی جائے گی“۔ [سنن ابو داود، حدیث نمبر : 3764، اور البانی نے اسے حسن کہا ہے۔]
سفر میں ساتھیوں کا منتشر ہو جانا شیطان کا راستہ ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: "بے شک تمہارا ان گھاٹیوں اور وادیوں میں بکھر جانا شیطان کی طرف سے ہے۔" [سنن ابی داود: ۲۶۲۸، صحیح ابن حبان: ۲۶۹۰، مستدرک حاکم: ۲۵۴۰، اور البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے]
معاشرے کے افراد کے باہمی تعلقات کے حوالے سے آپ ﷺ نے مسلمانوں کے درمیان آپس میں بول چال چھوڑنے اور قطع تعلقی کرنے سے منع فرمایا، اور خبر دی کہ پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہيں، اور ہر اس بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے جو اللہ کے ساتھ کسی کو شريک نہيں کرتا، سوائے اس آدمی کے، جس کے اور اس کے بھائی کے درميان کوئی عداوت ہو، « کہا جاتا ہے کہ ان دونوں کو مہلت دو یہاں تک کہ یہ آپس میں صلح کر لیں، ان دونوں کو مہلت دو یہاں تک کہ یہ آپس میں صلح کر لیں۔» [ صحیح مسلم: 2565]۔
آپ ﷺ نے عصبیت اور جاہلیت کے دعووں سے منع فرمایا، ایک انصاری نے کہا: اے انصاریو! میری مدد کے لیے آؤ, اور دوسرے نے کہا: اے مہاجرو! میری مدد کے لیے آؤ, تو نبی ﷺ نے فرمایا: "«یہ جاہلیت کی پکار کیسی! اسے چھوڑ دو، کیونکہ یہ بدبودار ہے۔»" [متفق علیہ]
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے باہمی اختلاف کو پسند نہیں فرماتا اور نہ ہی اس سے راضی ہوتا ہے، اور ان کے درمیان تفرقہ غیر اللہ ہی کی طرف سے ہوتا ہے۔ یہ شریعت کے اصول میں سے ہے کہ ہر وہ چیز حرام ہے جو تفرقہ اور اختلاف کا باعث بنے، اور رسولوں کے دین میں یہ ممانعت کے مقاصد میں سے ہے۔ چنانچہ ہر اس چیز سے منع کیا گیا ہے جو مسلمانوں کے اندر تفرقہ ڈالنے کی وجہ بن سکتا ہو؛ جیسے بدگمانی، حسد، تجسس، چغل خوری، سود، ایک مسلمان کا اپنے بھائی کے سودے پر سودا کرنا، اس کے پیغامِ نکاح پر پیغامِ نکاح دینا، اس کے عیوب کی ٹوہ میں رہنا اور دھوکہ دہی۔
اللہ تعالیٰ نے اچھی بات کا حکم دیا ہے اور بری بات سے منع فرمایا ہے تاکہ لوگوں میں اتحاد و یکجہتی قائم رہے،اور اس کی ضد یعنی تفرقہ بازی اور دشمنی کو دور کیا جا سکے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور میرے بندوں سے کہہ دیجیئے کہ وه بہت ہی اچھی بات منھ سے نکالا کریں کیوں کہ شیطان آپس میں فساد ڈلواتا ہے۔ [الإسراء : 53]۔
تفرقے کے اسباب میں سب سے بڑا سبب اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ہے، کیوں کہ یہ اختلاف اور اللہ تعالیٰ کے سوا متعدد معبود بنانے کا سبب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ... اور مشرکین میں سے نہ ہو جاؤ۔ ان لوگوں میں سے جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور خود بھی گروه گروه ہوگئے... [الروم: 31، 32]
اور کتاب وسنت سے منہ موڑنا، یا ان میں سے کچھ کو اپنانا اور بعض کو چھوڑ دینا، اختلاف وافتراق کا راستہ ہے، اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا: اور جو اپنے آپ کو نصرانی کہتے ہیں ہم نے ان سے بھی عہد وپیمان لیا، انہوں نے بھی اس کا بڑا حصہ فراموش کر دیا جو انہیں نصیحت کی گئی تھی، تو ہم نے بھی ان کے آپس میں بغض وعداوت ڈال دی جو تاقیامت رہے گی... [المائدۃ: 14]
نصوص شرعیہ میں سے متشابہ کی پیروی کرنا، ایسا کرنے والوں کے لیے گمراہی اور عام لوگوں کے لیے فتنہ ہے، ...پس جن کے دلوں میں کجی ہے وه تو اس کی متشابہ آیتوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں، فتنے کی طلب اور ان کی مراد کی جستجو کے لئے... [آل عمران: 7]-
شبہات کے دروازے میں داخل ہونا اور شہوات کے پیچھے چلنا ایک ایسا مرض ہے جس نے امتوں کو برباد کردیا، اور ان کی نسلوں میں تفرقہ ڈال دیا، اور ہر شیطانی راستے کا انجام تفرقہ ہے۔ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے: اور دوسری راہوں پر مت چلو کہ وه راہیں تم کو اللہ کی راه سے جدا کردیں گی... [الانعام: ۱۵۳]
اورجس کسی قوم نے سرکشی کی، وہ پارہ پارہ ہوگئ ، اللہ تعالی نے فرمایا: ...اور صرف ان ہی لوگوں نے جنھیں کتاب دی گئی تھی، اپنے پاس دﻻئل آچکنے کے بعد آپس کے بغض وعناد کی وجہ سے اس میں اختلاف کیا... [ البقرۃ: 213 ]
اور اگر اختلاف نفسانی خواہش، تعصب، سرکشی، اندھی تقلید، ذاتی غیرت اور گروہ بندی کی وجہ سے ہو، تو یہ تفرقے کا راستہ ہے جس سے دور رہنا واجب ہے۔
شیخ الاسلام رحمہ اللہ فرماتے ہیں: " فرقہ واریت اور اختلاف کے زیادہ تر مقامات(اسباب) ظن و گمان ( یعنی بے بنیاد باتوں) کی پیروی اور خواہشاتِ نفس کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں"۔
اور دنیا کے لیے مقابلہ بازی دشمنی اور بغض و کینہ کا سبب بنتی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: « اللہ کی قسم! مجھے تمھارے بارے میں فقر و ناداری کا ڈر نہیں ہے، بلکہ مجھے تمھارے بارے میں اس بات کا ڈر ہے کہ تم پر دنیا اسی طرح کشادہ کر دی جائے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر کشادہ کی گئی تھی، پھر تم اس کے حصول میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو جس طرح انہوں نے کی تھی، اور وہ تمہیں ہلاک کر دے جس طرح اس نے انہیں ہلاک کر دیا تھا۔» [متفق عليه].
اور جب لوگ تفرقہ کا شکار ہو کر گروہوں اور جماعتوں میں بٹ جاتے ہیں، تو شیطان ان پر قابو پا لیتا ہے، ارشادِ نبوی ﷺ ہے: "تم جماعت کو لازم پکڑو اور تفرقے سے بچو؛ اس لیے کہ شیطان اکیلے شخص کے ساتھ ہوتا ہے، اور وہ دو اشخاص سے زیادہ دور رہتا ہے۔‘‘ [اس حدیث کو ترمذی (2165) اور احمد (177) نے، اور نسائی نے السنن الكبرى (9219) میں روایت کیا ہے، اور البانی نے اسے صحیح کہا ہے۔]
ابلیس کے لشکروں میں مرتبے کے لحاظ سے اس کے سب سے قریب وہ ہوتا ہے جو امت میں سب سے زیادہ تفرقہ ڈالتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک ابلیس اپنا تخت پانی پر رکھتا ہے، پھر وہ اپنے لشکروں کو بھیجتا ہے تو مرتبے کے اعتبار سے اس کے نزدیک وہی مقرب ہوتا ہے جو فتنہ ڈالنے میں سب سے بڑا ہو۔ ان میں سے ایک آتا ہے اور کہتا ہے: میں نے اس طرح اور اس طرح کیا، تو شیطان کہتا ہے: تو نے کوئی (بڑا کام) سر انجام نہیں دیا۔ فرمایا: پھر ان میں سے ایک اور آتا ہے اور کہتا ہے: میں نے (فلاں آدمی) کو اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی نہ ڈال دی، چنانچہ شیطان اسے اپنے قریب کر لیتا ہے اور کہتا ہے: ہاں! تو (نے بڑا کام کیا) ہے“۔ [ صحیح مسلم : 2813]۔
دین میں اختلاف، اور خواہشات و گمراہ کن آراء کی پیروی، اللہ کی راہ اور اس کے دین سے، نیز انبیائے کرام کے راستے اور منہج سے روکتی ہے۔ کیوں کہ ان سبھوں نے اللہ کے لیے دین کو قائم رکھنے، حق پر متحد رہنے اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنے کا حکم دیا تھا۔
اور جب اختلاف پیدا ہو جائے تو لوگوں کا دین بگڑ جاتا ہے، وہ کتاب وسنت سے رہنمائی حاصل کرنے کی برکت سے محروم ہو جاتے ہیں، نفسانی خواہشات کا غلبہ ہو جاتا ہے اور علم و ہدایت کی بالا دستی ختم ہو جاتی ہے۔
اور تفرقہ بازی سے دلوں میں اختلاف پیدا ہوتا ہے، اور اخوت کے رشتے منقطع ہو جاتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: "اختلاف نہ کرو ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف پیدا ہو جائے گا۔" [ صحیح مسلم: 432]۔
یہ دشمنی اور بغض کا سبب ہے، اللہ سبحانہ نے فرمایا: ... اور پھوٹ نہ ڈالو، اور اللہ تعالیٰ کی اس وقت کی نعمت کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی... [آل عمران: 103]
اور جو قوم بھی تفرقہ کا شکار ہوئی وہ ذلیل اور کمزور ہو گئی، اللہ سبحانہ نے فرمایا: ... آپس میں اختلاف نہ کرو ورنہ بزدل ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی... [الانفال: 46]۔
اور جب تفرقہ بازی کسی امت میں واقع ہوتی ہے تو یہ ان سے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی علامت ہوتی ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے : آپ کہئے کہ اس پر بھی وہی قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب تمہارے اوپر سے بھیج دے یا تمہارے پاؤں تلے سے یا کہ تم کو گروه گروه کرکے سب کو بھڑا دے اور تمہارے ایک کو دوسرے کی لڑائی چکھا دے... [الانعام: ۶۵]
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: "یعنی: تمہیں خواہشات اور اختلاف کا مزہ چکھائے۔"
تفرقہ بازی کی فوری سزا دشمنوں کا مسلط ہو جانا ہے، اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے وعدہ فرمایا کہ وہ ان پر ان کے غیروں میں سے کوئی ایسا دشمن مسلط نہیں کرے گا جو ان کا نام و نشان مٹا دے، چاہے ان کے خلاف دنیا کے کونے کونے سے لوگ کیوں نہ جمع ہو جائیں۔ "یہاں تک کہ ان میں سے بعض بعض کو ہلاک کرنے لگیں، اور بعض بعض کو قیدی بنانے لگیں۔" [ صحیح مسلم: 2889]۔
تنازعات، اختلافات اور تفرقہ بازی سے حق کا ضیاع اور دین کے اصولوں کا انہدام ہوتا ہے، مشرکین کی مشابہت پیدا ہوتی ہے، گمراہی اور بغیر علم کے بات کرنے کا رواج عام ہوتا ہے، اور ان (تنازعات) میں الجھ کر دین پر عمل، اس کی تعلیم اور اس کی دعوت سے غفلت برتی جاتی ہے، نیز اس کے ساتھ ساتھ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر وغیرہ جیسے دین کے ظاہری شعائر بھی معطل ہو کر رہ جاتے ہیں۔
اور اسی کی وجہ سے نعمتیں اٹھا لی جاتی ہیں، نبی ﷺ کو شب قدر دکھلائی گئی، چنانچہ آپ ﷺ شب قدر کی خبر دینے کے لیے باہر تشریف لائے، تو مسلمانوں میں سے دو آدمیوں نے آپس میں جھگڑا کر لیا، جس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ’’میں نکلا تھا کہ تمھیں لیلۃ القدر کی خبر دوں، لیکن فلاں اور فلاں شخص آپس میں جھگڑ پڑے، چنانچہ اسے اٹھا لیا گیا‘‘۔ [ صحیح بخاری: 49]۔
تفرقہ بسا اوقات بڑے گناہوں کا پیش خیمہ ہوتا ہے، اور باہمی لڑائی اور خون ریزی کی طرف لے جاتا ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ... اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان کے بعد والے اپنے پاس دلیلیں آجانے کے بعد ہرگز آپس میں لڑائی بھڑائی نہ کرتے، لیکن ان لوگوں نے اختلاف کیا ... [البقرۃ: ۲۵۳]
اور اختلاف کا وبال ہلاکت ہے، اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "تم اختلاف نہ کرو؛ اس لیے کہ تم سے پہلے کے لوگوں نے اختلاف کیا تو وہ ہلاک ہو گئے“۔ [ صحیح بخاری: 3476]۔
اور آخرت میں تفرقہ بازی کرنے والوں کے چہرے سیاہ ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: جس دن بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض سیاه ، سیاه چہرے والوں (سے کہا جائے گا) کہ کیا تم نے ایمان ﻻنے کے بعد کفر کیا؟ اب اپنے کفر کا عذاب چکھو۔ [آل عمران: 106]
ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: "اہل سنت والجماعت کے چہرے سفید ہوں گے، جب کہ بدعتیوں اور تفرقہ ڈالنے والوں کے چہرے سیاہ ہوں گے۔"
اللہ کا ہاتھ جماعت کے ساتھ ہے، اور جو شخص الگ ہوا وہ جہنم میں جا گرا۔
اما بعد! مسلمانو: فرقہ بندی ذلت و رسوائی ہے، لڑائی جھگڑا شر اور آفت ہے، اختلاف کمزوری اور پریشانی ہے، اور انتشار میں دین و دنیا کی خرابی ہے۔ یہ تمام چیزیں دشمن کو خوش کرتی ہیں، امت کی قوت کو کمزور کرتی ہیں، اللہ کی طرف دعوت کے سفر کو مؤخر کرتی ہیں، علم کی اشاعت سے روکتی ہیں، سینوں میں کینہ پیدا کرتی ہیں، دلوں کو تاریک کرتی ہیں، زندگی کو تلخ بناتی ہیں، اوقات کو ضائع کرتی ہیں، اور بندے کو اعمالِ صالحہ سے غافل کر دیتی ہیں۔
عقل مند وہ ہے جو جھگڑے سے گریز کرے، کتاب و سنت کو مضبوطی سے تھام لے اور اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرے۔ تفرقے اور اختلاف سے بچنے کے لیے امت کے نام نبی ﷺ کی یہی وصیت ہے۔
میں شیطان مردود کے شر سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں: اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اور تم میں سے اختیار والوں کی ۔ پھر اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ، اللہ تعالیٰ کی طرف اور رسول کی طرف، اگر تمہیں اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے۔ یہ بہت بہتر ہے اور باعتبار انجام کے بہت اچھا ہے۔ [النساء : 59]۔
اللہ تعالیٰ میرے اور آپ کے لیے قرآن عظیم میں برکت عطا فرمائے، اور مجھے اور آپ کو اس میں موجود آیات اور ذکرِ حکیم سے فائدہ پہنچائے، میں اپنی یہ بات کہتا ہوں، اور اللہ سے اپنے لیے، آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے مغفرت طلب کرتا ہوں۔
دوسرے خطبے کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اس کے احسان پر اور اسی کا شکر ہے اس کی توفیق اور کرم نوازی پر، اور میں اس کی شان کی عظمت بیان کرتے ہوئے گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، اور آپ کے آل واصحاب پر مزید کثرت سے ڈھیروں درود وسلام نازل فرمائے۔
دوسرا خطبہ
مسلمانو! ہر وہ شخص جو قرآن و سنت اور آثارِ صحابہ کا جس قدر زیادہ پیروکار ہوگا، وہ اسی قدر کامل اور اجتماعیت، ہدایت اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے والا ہوگا، اور تفرقہ بازی، اختلاف اور فتنہ سے اتنا ہی دور ہوگا۔
اسلام کے اہم ترین مقاصد میں سے یہ بھی ہے کہ اہلِ اسلام کو ایک کلمہ پر جمع کیا جائے، ان کے دلوں کو آپس میں جوڑا جائے، اور ان کے باہمی معاملات کی اصلاح کی جائے۔ دراصل مخلوق کی بھلائی اسی میں ہے کہ وہ حق اور دین پر اکٹھے ہوجائیں ۔
اور اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ تمام مومنین آپس میں بھائی ہیں، چنانچہ ارشادِ الہی ہے: (یاد رکھو) سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں... (الحجرات: 10)۔
اور نبی ﷺ نے مومنوں کی آپسی محبت و مودّت اور باہمی ہمدردی کی حالت کو تشبیہ دیتے ہوۓ فرمایا: "مثلاً ایک جسم کہ جب اس کا کوئی عضو تکلیف میں ہوتا ہے، تو سارا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے، بایں طور کہ نیند اڑ جاتی ہے اور پورا جسم بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔" [متفق علیہ]۔
" ایک مومن دوسرے مومن کے حق میں عمارت کی مانند ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔‘‘ [متفق عليه].
یہ وہ نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اپنے بندوں کو عطا فرمائی ہے، فرمان باری تعالی ہے: ان کے دلوں میں باہمی الفت بھی اسی نے ڈالی ہے۔ زمین میں جو کچھ ہے تو اگر سارا کا سارا بھی خرچ کر ڈالتا ہے تو بھی ان کے دل آپس میں نہ ملا سکتا۔ یہ تو اللہ ہی نے ان میں الفت ڈال دی ہے... [الانفال: 63]
مسلمان پر واجب ہے کہ وہ صاف دلی، لوگوں کی خیرخواہی اور ان کے لیے بھلائی پسند کرنے کے ذریعے اس نعمت کی حفاظت کرے۔
پھر جان لو کہ اللہ نے تمہیں اپنے نبی ﷺ پر درود و سلام بھیجنے کا حکم دیا ہے، چنانچہ قرآن کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو۔ [الاحزاب : 56]۔
اے اللہ! ہمارے نبی محمد ﷺ پر درود و سلام اور برکت نازل فرما۔
***
خطبہ کا عنوان
اسباب اختیار کرنے کی اہمیت
پہلے خطبے کا مقدمہ
یقیناً تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد اور ہدایت طلب کرتے ہیں، اور ہم اپنے نفس اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے دے وہی ہدایت یافتہ ہے، اور جسے وہ گمراہ کر دے تو آپ اس کے لیے کوئی راہ دکھانے والا کارساز نہیں پائیں گے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل اور تمام اصحاب پر اور ان کی پیروی کرنے والوں پر ڈھیروں درود و سلام نازل فرمائے!
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہئیے اور دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا۔ [ آل عمران: 102]، اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کرکے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں، اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے۔ [النساء: 1] اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سیدھی سیدھی (سچی) باتیں کیا کرو۔ تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے کام سنوار دے اور تمہارے گناه معاف فرما دے ، اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرے گا اس نے بڑی مراد پالی۔ [ الاحزاب: 70-71]۔
امّا بعد: سب سے اچھی بات کتاب اللہ ہے، سب سے بہتر طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے، بدترین امور (دین کے نام پر ایجاد کردہ) نت نئی چیزیں ہیں، اور ہر نت نئی چیز بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے، اور ہر گمراہی آگ میں لے جانے والی ہے۔
پہلا خطبہ
اما بعد! اے لوگو! نبی ﷺ نے جن ربانی سنتوں پر عمل کیا، ان میں اسباب اختیار کرنے کی سنت بھی ہے۔ اسباب، سبب کی جمع ہے، اور یہ ہر وہ چیز ہے جس کے ذریعہ کسی دوسری چیز تک پہنچا جائے۔
اسباب اختیار کرنے کی سنت کائنات میں واضح طور پر مقرر ہے، چنانچہ اللہ نے اپنی قدرت سے اس کائنات کو پیدا کیا، اور اس میں ایسے قوانین اور ضابطے پیدا کردئے جو اس کے استحکام اور تسلسل کی ضمانت دیتے ہیں، اور اللہ تعالی نے اپنے ارادے کے تحت مسببات کو اسباب کے ساتھ وابستہ کر دیا؛ مثال کے طور پر اللہ سبحانہ نے اپنا عرش فرشتوں کے ذریعے اٹھوایا، زمین کو پہاڑوں کے ذریعے مستحکم کیا، اور پانی سے کھیتی اگائی... وغیرہ۔
اور اگر اللہ رب العالمین چاہتا تو اپنی قدرتِ مطلقہ سے ان تمام چیزوں اور دیگر اشیاء کو کسی سبب کا محتاج نہ رکھتا، لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسا ہی چاہا اور یہی فیصلہ فرمایا؛ اور یہ اس لیے تاکہ وہ اپنی مخلوق کو اس نظام کی رعایت کی ضرورت کی طرف متوجہ کرے، تاکہ نظامِ حیات اسی نہج پر استوار رہے جو اللہ پاک چاہتا ہے۔
جس طرح اللہ تعالیٰ کی کائنات میں اسباب اختیار کرنے کا طریقۂ کار واضح طور پر نمایاں ہے، اسی طرح یہ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں بھی ثابت ہے۔ اور یقیناً اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو اس بات کی ہدایت فرمائی ہے کہ وہ اپنے تمام معاملات میں، خواہ وہ دنیاوی ہوں یا اخروی، یکساں طور پر اس طریقۂ کار کو لازم پکڑیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: کہہ دیجئے کہ تم عمل کیے جاؤ تمہارے عمل اللہ خود دیکھ لے گا اور اس کا رسول اور ایمان والے (بھی دیکھ لیں گے) اور ضرور تم کو ایسے کے پاس جانا ہے جو تمام چھپی اور کھلی چیزوں کا جاننے واﻻ ہے۔ سو وه تم کو تمہارا سب کیا ہوا بتلا دے گا۔ [التوبۃ: 105] اور ارشاد باری تعالی ہے : وه ذات جس نے تمہارے لیے زمین کو پست ومطیع کردیا تاکہ تم اس کی راہوں میں چلتے پھرتے رہو اور اللہ کی روزیاں کھاؤ (پیو) اسی کی طرف (تمہیں) جی کر اٹھ کھڑا ہونا ہے۔ [الملک: ۱۵]
قرآن کریم نے ہمیں یہ خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مریم علیہا السلام کو اسباب اختیار کرنے کا حکم دیا، جبکہ وہ اپنی کمزوری کی شدید ترین حالت میں تھیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور اس کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلا، یہ تیرے سامنے تروتازه پکی کھجوریں گرا دے گا۔ [مریم: ۲۵] اس بات کے واضح ہونے کے باوجود کہ ان کی کمزوری اور تنے کی مضبوطی کے باعث یہ سبب اختیار کرنا ثمر آور نہیں ہوگا، لیکن یہ اسباب اختیار کرنے کے اصول کو راسخ کرنے کے لیے ہے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ تمام امور اور احوال میں اسباب اختیار کرنے کی ضرورت پر زور ڈالتا ہے، اور رسول اللہ ﷺ اس قانون الہی سے لوگوں میں سب سے زیادہ واقف تھے، چنانچہ آپ -اسلامی ریاست کی بنیاد رکھتے ہوئے- اپنی استطاعت کے مطابق تمام اسباب کو بروئے کار لاتے، اور کسی بھی چیز کو یونہی محض اتفاق پر نہیں چھوڑ دیتے تھے۔
بلاشبہ اللہ تعالیٰ پر توکل، اسباب اختیار کرنے میں مانع نہیں ہے؛ چنانچہ مومن اللہ پر ایمان اور اسباب اختیار کرنے سے متعلق حکمِ الہی کی تعمیل میں اسباب اختیار کرتا ہے، لیکن وہ یہ نہیں سمجھتا کہ اسباب ہی نتائج پیدا کرتے ہیں کہ وہ انہی پر بھروسا کر بیٹھے۔
بے شک جس طرح اللہ تعالیٰ اسباب پیدا فرماتا ہے، اسی طرح نتائج بھی وہی پیدا کرتا ہے، اور ایک مومن کے شعور میں سبب اور نتیجے کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ بطورِ اطاعت اسباب اختیار کرنا ایک عبادت ہے، اور نتیجے کا ظاہر ہونا سبب سے قطع نظر اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر پر موقوف ہے، جس پر اللہ کے سوا کوئی قادر نہیں۔ اس طرح مومن کا شعور اسباب کی بندگی اور ان سے وابستگی سے آزاد ہو جاتا ہے، اور ساتھ ہی وہ اطاعتِ الٰہی کے پیشِ نظر اسباب کو پوری طرح اختیار بھی کرتا ہے؛ تاکہ اسباب کو اختیار کرنے کی صورت میں اسے اللہ کی اطاعت کا ثواب حاصل ہو سکے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بہت سی احادیث میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے کے ساتھ ساتھ اسباب اختیار کرنے کی ضرورت کو واضح فرمایا ہے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس بات پر بھی متنبہ فرمایا کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے مخالف نہیں ہیں؛ چنانچہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ایک آدمی اپنی اونٹنی کے ساتھ مسجد کے دروازے پر رکا، اور اندر داخل ہونے کا ارادہ کیا، تو اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اپنی سواری کو کھلا چھوڑ دوں، اور توکل کروں؟ گویا کہ وہ یہ سمجھ رہا تھا کہ اسباب اختیار کرنا اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے کے خلاف ہے، تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی رہنمائی فرمائی کہ اسباب اختیار کرنا ایک مطلوب امر ہے، اور یہ کسی بھی صورت میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے کے خلاف نہیں ہے، بشرطیکہ اسباب اختیار کرنے میں نیت سچی ہو، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس سے فرمایا: ’’بلکہ اسے باندھو پھر بھروسہ رکھو۔‘‘ [مستدرک حاکم (6616)، اور بیہقی نے شعب الإیمان (284/2) میں ایسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے جسے شیخ البانی نے حسن قرار دیا ہے]، ایک اور روایت میں ان الفاظ کے ساتھ مروی ہے: ’’اسے باندھو پھر توکل کرو‘‘۔ [سنن ترمذی : 2517، اور ابن ابی الدنیا کی کتاب التوکل : 11، اور البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے]۔
یہ حدیث ان احادیث میں سے ہے جو یہ بیان کرتی ہیں کہ توکل اور اسباب اختیار کرنے کے درمیان کوئی تعارض نہیں ہے، اس شرط کے ساتھ کہ اسباب میں اعتقاد نہ رکھا جائے، یا ان پر اعتماد نہ کیا جائے، اور اللہ پر توکل کو فراموش نہ کیا جائے؛ چنانچہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اگر تم اللہ تعالیٰ پر ویسا ہی توکّل (بھروسہ) کرو جیسا کہ اس پر توکّل کرنے کا حق ہے، تو وہ تمہیں اس طرح رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے۔ وہ صبح كو خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر لوٹتے ہیں۔“ [ترمذی (2344)، ابن ماجہ (4164)، اور شیخ البانی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے]۔
اس حدیث شریف میں توکل کی ترغیب دی گئی ہے، اور ساتھ ہی اسباب اختیار کرنے کی اہمیت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے؛ کیوں کہ اس میں پرندوں کا صبح نکلنا اور شام کو واپس آنا ثابت کیا گیا ہے، باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے رزق کی ضمانت لے رکھی ہے۔
اے اللہ! اے سارے جہاں کے پروردگار! ہمیں تجھ پر بھروسہ کرنے اور اسباب اختیار کرنے کی توفیق عطا فرما۔ میں اپنی یہ بات کہتا ہوں اور اللہ سے اپنے اور آپ سب کے لیے مغفرت طلب کرتا ہوں۔
دوسرے خطبے کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، ایسی پاکیزہ، بہت زیادہ اور بابرکت تعریف جو ہمارا رب پسند فرماتا اور جس سے وہ راضی ہوتا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل اور آپ کے اصحاب پر اور قیامت تک ان کی ہدایت کی پیروی کرنے والوں پر درود وسلام اور برکتیں نازل فرمائے۔
دوسرا خطبہ
اما بعد: اے لوگو! سبب اور اسے اختیار کرنے کے بارے میں گفتگو کے بعد، جوکہ ایک شرعی اصول ہے جس پر عمل کرنا مسلمان سے مطلوب ہے، اس مسئلے کا خلاصہ درج ذیل امور میں پیش کیا جا سکتا ہے:
اسلام اسباب اختیار کرنے کا اصول مقرر کرتا ہے؛ کیوں کہ اسباب نہ اختیار کرنا شریعت اور دنیوی نظام کو معطل کرنا ہے۔
اللہ پر توکل چھوڑ کر صرف اسباب اختیار کرنے پر اعتماد کرنا شرک ہے۔
اسلام اسباب اختیار کرنے کو توحید سے جوڑتا ہے، اس اعتقاد کے ساتھ کہ تمام اسباب اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔
ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ کسی وبا پھیلنے کی صورت میں اسباب اختیار کرنے سے انکار کر دیتے ہیں اور اس کی وجہ اللہ پر توکل بتاتے ہیں، حالانکہ وہ اس سبب کو اختیار کرنے سے غافل ہوتے ہیں جو کہ خود توکل ہی کا حصہ ہے۔ اس کی مثال یوں ہے جیسے مریض کا شفا پانے کے لیے علاج کرانا۔ یہ تمام ایسے اسباب ہیں جنہیں اختیار کرنا مسلمان کے لیے مستحسن ہے، اور یہ توکّل کے منافی نہیں ہیں، جیسے کوئی زندہ رہنے کے لیے کھاتا ہے، حصولِ اولاد کے لیے نکاح کرتا ہے، اور مال کمانے کے لیے تجارت کرتا ہے۔
لہذا اسباب اختیار کرنا ایک شرعی اصول ہے، اور جو اسے چھوڑ دے اسے عقل مندوں میں شمار نہیں کیا جاتا ہے۔
اے اللہ! ہمیں ظاہر اور پوشیدہ تمام فتنوں کے شر سے محفوظ فرما۔
اور محمد اور ان کی آل اور تمام اصحاب پر درود و سلام بھیجیں۔
***
خطبہ کا عنوان
خوف
پہلے خطبے کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد چاہتے ہیں اور اسی سے بخشش طلب کرتے ہیں، اور اپنے نفس کی برائیوں اور اپنے اعمال کی خرابیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا، اور جسے وہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور یہ کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اے لوگو! اپنے اس پروردگار سے ڈرو، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کرکے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں، اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو، بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے۔ [النساء: 1] اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر شخص دیکھ (بھال) لے کہ کل (قیامت) کے واسطے اس نے (اعمال کا) کیا (ذخيره) بھیجا ہے۔ اور (ہر وقت) اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے۔ [الحشر: 18]۔
امّابعد؛ سب سے اچھی بات کتاب اللہ ہے، سب سے بہتر طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے، بدترین امور (دین کے نام پر ایجاد کردہ) نت نئی چیزیں ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔
پہلا خطبہ
اللہ کے بندو! اللہ نے ہم میں سے ہر ایک پر جو کچھ فرض کیا ہے اس میں اس کا خوف اور اس کی وعید کا ڈر بھی ہے؛ اللہ تعالی نے فرمایا: تم ان کافروں سے نہ ڈرو اور میرا خوف رکھو، اگر تم مومن ہو۔ [آل عمران: ۱۷۵] اور ارشاد باری تعالی ہے : ... پس تم سب صرف میرا ہی ڈر خوف رکھو۔ [النحل: ۵۱] اور اللہ نے اپنی کتاب میں اہلِ خوف کی مدح اور تعریف کی ہے۔
اللہ، اس کے وعدے اور وعید کا خوف، ان اہم ترین چیزوں میں سے ہے جن سے مسلمان اپنے رب کی طرف جانے والے راستے میں نفع اٹھاتا ہے، گویا یہ دنیا اور آخرت کی ہر بھلائی کا سرچشمہ ہے۔ چنانچہ دل، اللہ عزوجل کی طرف اپنے سفر میں ایک پرندے کی مانند ہے، محبت اس کا سر ہے اور خوف اور امید اس کے دو بازو ہیں۔ تو جب سر اور دونوں بازو سلامت ہوں تو پرندہ خوب اڑان بھرتا ہے، اور جب سر کٹ جائے تو پرندہ مر جاتا ہے، اور جب دونوں بازو نہ ہوں تو وہ ہر شکاری اور درندے کا نشانہ بن جاتا ہے۔
بسا اوقات یہ گمان کیا جاتا ہے کہ ہر خوف قابل تعریف ہے، لہٰذا وہ جتنا زیادہ اور قوی ہوگا، اتنا ہی بہتر ہوگا۔ لیکن یہ خیال غلط ہے، بلکہ خوف اللہ تعالیٰ کا ایک کوڑا ہے، جس کے ذریعے وہ اپنے بندوں کو علم اور عمل کی پابندی کی طرف ہانک لے جاتا ہے، تاکہ ان دونوں کے ذریعے وہ اللہ تعالیٰ کے قرب کا مرتبہ حاصل کر سکیں۔ جانور کے حق میں بھی یہی بہتر ہے کہ وہ کوڑے کے ڈر سے بے نیاز نہ رہے، لیکن مارنے میں مبالغہ کرنا قابل تعریف عمل نہیں ہوتا۔ خوف کی بھی تین حالتیں ہیں: کم، زیادہ اور معتدل، اور پسندیدہ صرف درمیانی حالت اعتدال ہی ہے۔ لہذا قابلِ تعریف خوف وہ ہے جو اعضاء کو گناہوں سے باز رکھے اور انہیں اطاعتوں کی طرف لے جائے۔ اور جو خوف اعضاء پر اثر انداز نہ ہو، وہ محض دل کا خیال اور وسوسہ ہے، وہ اس بات کا مستحق نہیں کہ اسے خوف کا نام دیا جائے، اور ہر وہ چیز جو کسی مقصد کے لیے مطلوب ہو، اس میں سے پسندیدہ وہی ہے جو مطلوبہ مقصد تک پہنچا دے، اور جو اس سے قاصر رہے یا اس سے تجاوز کر جائے، تو وہ ناپسندیدہ ہے۔
میرے بھائیو! ہمارا عزیز وبرتر پروردگار فرماتا ہے: تو جس (شخص) نے سرکشی کی اور دنیوی زندگی کو ترجیح دی (ہوگی)۔ اس کا ٹھکانا جہنم ہی ہے۔ ہاں جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا رہا ہوگا اور اپنے نفس کو خواہش سے روکا ہوگا۔ تو اس کا ٹھکانا جنت ہی ہے۔ [النازعات: ۳۷-۴۱]
تو جو شخص اپنے نفس پر غالب آ گیا، وہ کامیاب و بامراد ہو گیا، اور جس پر اس کا نفس غالب آ گیا وہ خسارے میں پڑا اور ہلاک ہو گیا۔ کیوں کہ نفس سرکشی اور دنیوی زندگی کو ترجیح دینے کی طرف بلاتا ہے، جبکہ پروردگار اپنے بندے کو اپنے خوف اور نفس کو خواہشات سے روکنے کی طرف بلاتا ہے۔ اور دل ان دونوں پکارنے والوں کے درمیان ہے، کبھی وہ اس کی طرف مائل ہوتا ہے تو کبھی اس کی طرف، اور یہی آزمائش اور امتحان کا مقام ہے۔ چنانچہ بندے کا ان کاموں کو انجام دینا جو اس پر ناگوار گزرتے ہیں کیوں کہ وہ اس کی خواہشات کے خلاف ہوتے ہیں، اور ان پر صبر کرنا، ناپسندیدہ دوا پینے کی طرح ہے۔ بعینہ یہ امور اگرچہ بعض اعتبار سے ناگوار ہوتے ہیں، لیکن وہ انہیں محض ارادے اور محبت کے باعث ہی انجام دیتا ہے، اگرچہ یہ محبت بذاتِ خود ان کاموں کے لیے نہیں ہوتی، بلکہ اس نتیجے کے لیے ہوتی ہے جس کی طرف وہ انجام کار لے جاتے ہیں۔ چنانچہ وہ اس صحت و عافیت سے محبت کرتا ہے جو دوا پینے کے ارادے کی متقاضی ہوتی ہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے عذاب سے نجات پانے کو محبوب رکھتا ہے جو اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ انسان اپنی خواہشات کو ترک کرنے کا ارادہ کرے۔ تو کوئی بھی زندہ انسان اپنی کسی پسند اور خواہش کو ترک نہیں کرتا مگر اپنی کسی دوسری پسند اور خواہش ہی کی خاطر، اور وہ زیادہ قوی محبت کی خاطر نسبتاً کمزور محبت کو ترک کر دیتا ہے۔
مرغوبات کو ترک کرنا شہوتوں کا قلع قمع کیے بغیر ممکن نہیں، اور شہوت کا قلع قمع کسی بھی چیز سے اس طرح نہیں ہوتا جس طرح خوف کی آگ سے ہوتا ہے۔ معلوم ہوا کہ خوف وہ آگ ہے جو شہوتوں کو جلا دیتی ہے اور اطاعتوں پر ابھارتی ہے، اور یہ خوف کے درجات کے اختلاف سے مختلف ہوتا ہے۔ خوف فضیلت والا کیسے نہ ہو، جب کہ اسی سے عفت، ورع، تقویٰ اور مجاہدہ حاصل ہوتا ہے، اور یہ وہ عمدہ اور پسندیدہ اعمال ہیں جو اللہ تعالیٰ کے خاص قرب کا باعث بنتے ہیں۔
چنانچہ دنیا میں خوف رکھنے والے ہی آخرت میں امن و سکون والے ہیں، کیوں کہ اللہ اپنے بندے پر دو خوف جمع نہیں کرتا، لہذا دنیا میں خوف رکھنے والے ہی آخرت میں اہل جنت ہیں؛ فرمان باری تعالی ہے: اور اس شخص کے لیے جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا دو جنتیں ہیں۔ [الرحمن: ۴۶] اور فرمایا : ہاں جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا رہا ہوگا اور اپنے نفس کو خواہش سے روکا ہوگا۔ تو اس کا ٹھکانا جنت ہی ہے۔ [النازعات: 40-41]، مُقَاتِل کہتے ہیں: " یہ وہ شخص ہے جو گناہ کا ارادہ کرتا ہے، پھر اسے اللہ کے سامنے اپنا کھڑا ہونا یاد آ جاتا ہے، تو وہ اللہ کے ڈر سے اسے چھوڑ دیتا ہے"۔ [تفسیر مقاتل بن سلیمان: 4/202]۔
دنیا میں خوف رکھنے والے لوگ ہی آخرت کے عذاب سے نجات پانے والے ہیں؛ ارشاد الٰہی ہے: کہیں گے کہ اس سے پہلے ہم اپنے گھر والوں کے درمیان بہت ڈرا کرتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ہم پر بڑا احسان کیا اور ہمیں تیز وتند گرم ہواؤں کے عذاب سے بچا لیا۔ ہم اس سے پہلے ہی اس کی عبادت کیا کرتے تھے ، بے شک وه محسن اور مہربان ہے۔ [الطور: 26-28]۔
دنیا میں اہلِ خوف ہی وہ لوگ ہیں جنہیں اس میں اقتدار عطا کیا جاتا ہے؛ جیسا کہ فرمان الہی ہے: اور ان کے بعد ہم خود تمہیں اس زمین میں بسائیں گے ۔ یہ ہے ان کے لئے جو میرے سامنے کھڑے ہونے کا ڈر رکھیں اور میری وعید سے خوفزده رہیں۔ [ابراھیم: ۱۴] چنانچہ اہل خوف کے لیے دنیا میں فتح و نصرت اور آخرت کے ثواب کا وعدہ کیا گیا ہے۔
دنیا میں اللہ کا خوف رکھنے والے قیامت کے دن رحمن کے عرش کے سائے میں ہوں گے؛ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ سات لوگوں کو اس دن اپنے (عرش کے) سایے میں جگہ دے گا، جس دن اس کے (عرش کے) سایہ کے سوا کوئی سایہ نہیں ہوگا‘‘، اور ان میں ایک ایسے شخص کا ذکر کیا جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا تو اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ [صحیح بخاری : 660، صحیح مسلم : 1031]
میرے بھائیو! خوف کی قوت اللہ تعالیٰ کی جلالتِ شان، اس کی صفات اور اس کے افعال، نیز نفس کے عیوب اور اسے درپیش خطرات اور ہولناکیوں کے علم کی قوت کے بقدر ہوتی ہے، اور خوف کا کم ترین درجہ وہ ہے جس کا اثر اعمال میں ظاہر ہو اور ممنوعات سے باز رکھے۔ بس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں... [ الانْفَال: 2]۔
اللہ کے ذکر سے دل کی گھبراہٹ میں اللہ کا خوف اور ڈر شامل ہے، جو بندے کو احکامات پر عمل کرنے اور ممنوعات کو چھوڑنے پر آمادہ کرتا ہے، چنانچہ جب وہ کسی نافرمانی یا کسی واجب کو چھوڑنے کا ارادہ کرتا ہے؛ تو وہ اللہ کو یاد کرتا ہے یا اسے اللہ کی یاد دلائی جاتی ہے، تو وہ ڈر جاتا ہے اور احکامات پر عمل کرتا ہے اور ممنوعات کو چھوڑ دیتا ہے۔
خوف کے عظیم ترین مراتب میں سے ایک اللہ عز وجل کی ہیبت بھی ہے، اور یہ ہیبت سب سے زیادہ مناجات کے اوقات میں طاری ہوتی ہے، یہ وہ وقت ہوتا ہے جب بندہ اپنے رب کے سامنے انتہائی عاجزی وانکساری کا اظہار کرتا ہے اور اس کے حضور گریہ وزاری کرتا ہے، اس کی رحمت و شفقت طلب کرتا ہے اور اس کی نعمتوں، اس کے اسماء اور اس کی صفات کے ذریعے اس کی ثنا بیان کرتا ہے، اور یہ مناجات اللہ تعالیٰ کی ہیبت، وقار اور عظمت وجلال کا موجب بنتی ہے، چنانچہ بندہ اپنے رب کی جتنی زیادہ معرفت رکھنے والا اور اس سے جتنا زیادہ قریب ہوتا ہے، اس کے دل میں اللہ کی ہیبت اور عظمت وجلالت اسی قدر زیادہ عظیم ہوتی ہے۔
اسی لیے خشیت خوف سے زیادہ خاص ہے، کیوں کہ خشیت اللہ تعالیٰ کی معرفت رکھنے والے علماء کے لیے ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ...اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں... [فاطر: ۲۸] تو یہ ایسا خوف ہے جس کے ساتھ معرفت بھی ہے۔
اور جس قدر علم و معرفت ہوتی ہے، اسی قدر خوف اور خشیت ہوتی ہے؛ جیسا کہ نبی ﷺ کا ارشاد ہے: ”یقیناً تم میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اسے جاننے والا میں ہی ہوں۔“ [ صحیح بخاری: 20]۔
جب (مرض الموت میں) رسول اللہ ﷺ کی تکلیف زیادہ شدید ہوگئی اور آپ سے نماز (باجماعت) کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : ’’ابو بکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔‘‘ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ابو بکر بہت رقیق القلب آدمی ہیں۔ وہ جب قرآن پڑھتے ہیں تو انہیں رونا آجاتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’انہیں کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔‘‘ [صحیح بخاری: 664، صحیح مسلم: 418]۔
اللہ تعالی نے خبر دی ہے کہ جو بھی اللہ سے خشیت رکھتا ہے وہ عالم ہے، چنانچہ علم ہی خشیت ہے؛ ہمارا رب تعالی فرماتا ہے: بھلا جو شخص راتوں کے اوقات سجدے اور قیام کی حالت میں (عبادت میں) گزارتا ہو، آخرت سے ڈرتا ہو اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتا ہو، (اور جو اس کے برعکس ہو برابر ہو سکتے ہیں) بتاؤ تو علم والے اور بے علم کیا برابر کے ہیں... [الزمر: ۹]
لہذا جو اللہ سے خوف کھاتے اور اس سے امید رکھتے ہیں، وہی اہلِ علم ہیں جن کی اللہ تعالیٰ نے تعریف فرمائی ہے۔
دوسرے خطبے کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو ڈرنے والوں کو امن دینے والا ہے، اور درود وسلام نازل ہو ڈرنے والوں کے امام پر۔
دوسرا خطبہ
امابعد!
خوف حاصل کرنے کے اسباب میں سے ہے کہ جس چیز کا خوف ہو اسے یاد رکھنا، اور اسے نگاہوں کے سامنے رکھنا؛ اس طرح کہ اسے بھلایا نہ جائے، کیوں کہ اسے بھول جانا اور اس کا دھیان نہ رکھنا دل اور خوف کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔
خوف کے حصول کے اسباب میں سے ہے کہ اپنے نفس کے عیوب سے واقف ہونا، اللہ تعالی کے جلال اور اس کی بے نیازی کی معرفت، اور یہ جاننا کہ وہ جو کچھ کرتا ہے اس سے باز پرس نہیں ہوتی، جبکہ لوگوں سے باز پرس ہوگی۔ چنانچہ جب یہ معرفت کامل ہو جاتی ہے، تو اس سے خوف پیدا ہوتا ہے، پھر اس کا اثر دل سے اعضاء و جوارح میں سرایت کر جاتا ہے۔
میرے بھائیو! خوف اور امید کی فضیلت سے متعلق بہت سی روایات وارد ہوئی ہیں، ممکن ہے کوئی سائل یہ سوال کرے کہ خوف افضل ہے یا امید؟ تو کہا جائے گا کہ خوف اور امید دو ایسی دوائیں ہیں جن سے دلوں کا علاج کیا جاتا ہے، لہذا ان کی فضیلت موجودہ بیماری کے اعتبار سے ہوگی ۔ چنانچہ اگر دل پر اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر سے مامون ہونے اور غرور کرنے کی بیماری غالب ہو؛ تو خوف افضل ہے، اور اگر زیادہ غلبہ اللہ کی رحمت سے مایوسی اور ناامیدی کا ہو؛ تو امید افضل ہے، اور اسی طرح اگر بندے پر معصیت غالب ہو، تو خوف افضل ہے؛ ابن قدامہ فرماتے ہیں: "لوگوں کے واعظ کو چاہیے کہ وہ نرمی برتے، بیماریوں کے مقامات پر نظر رکھے، اور ہر بیماری کا اس کے مناسب علاج کرے، اور اس زمانے میں مخلوق کے ساتھ امید دلانے والے اسباب استعمال نہیں کرنے چاہئیں؛ بلکہ ڈرانے میں مبالغہ کرنا چاہیے۔" [مختصر منهاج القاصدين: ص 300]-
لیکن حالتِ نزع میں امید کا پہلو غالب رکھے؛ چنانچہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو آپ کی وفات سے تین دن قبل یہ فرماتے ہوئے سنا: "تم میں سے کسی شخص کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ وہ اللہ عز وجل کے ساتھ اچھا گمان رکھتا ہو۔" [صحیح مسلم: 2877]۔
اور احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ نے وفات کے وقت اپنے بیٹے سے فرمایا: " مجھ سے وہ روایات بیان کریں جن میں امید اور حُسنِ ظن ہو"۔ [قوت القلوب: 1/ 366]۔
اور ان سبھی باتوں سے مقصود یہ ہے کہ جو شخص جاں کنی کے عالم میں ہو‘ وہ اللہ تعالی سے ملاقات کو پسند کرے، تو اللہ تعالی بھی اس سے ملاقات کو پسند فرماۓ گا۔
حسن بصری سے پوچھا گیا کہ ہم کچھ ایسے لوگوں سے ملتے ہیں جو ہمیں ڈراتے ہیں، تو انہوں نے فرمایا: "جو شخص تمہیں ڈرائے یہاں تک کہ تم امن پا لو، وہ اس شخص سے بہتر ہے جو تمہیں بے خوف میں رکھے یہاں تک کہ تم خوف سے دوچار ہو جاؤ۔" [اسے عبد اللہ بن احمد نے زیادات الزهد : 1454 میں روایت کیا ہے۔]
میرے بھائیو! کیا ہمیں توبہ سے قبل موت کا خوف نہیں؟ کیا ہمیں راہِ استقامت سے ہٹ جانے کا خوف نہیں؟ کیا ہمیں نعمتوں کی فراوانی کے ذریعے استدراج (مہلت دیے جانے) کا خوف نہیں؟ کیا ہمیں اپنی عبادات میں عدمِ اخلاص کے ظاہر ہو جانے کا خوف نہیں؛ بایں طور کہ ہمارے سامنے اللہ کی طرف سے وہ کچھ ظاہر ہو جاۓ جس کا ہم گمان بھی نہیں کرتے ؟ کیا ہمیں موت کے وقت برے خاتمے کا خوف نہیں؟ کیا ہمیں منکر و نکیر کے سوال کا خوف نہیں؟ کیا ہمیں عذابِ قبر اور حشر کی ہولناکی کا خوف نہیں؟ کیا ہمیں اللہ تعالیٰ کے روبرو پیشی کی ہیبت، پردہ فاش ہونے کی شرمندگی، اور چھوٹے بڑے اعمال کے بارے میں سوال کیے جانے کا خوف نہیں؟ کیا ہمیں پل صراط کا خوف نہیں؟ کیا ہمیں بروز قیامت اللہ تعالیٰ (کے دیدار) سے محروم رکھے جانے کا خوف نہیں؟ کیوں کہ آخرت کی تمام نعمتوں میں سب سے افضل، سب سے عظیم اور علی الاطلاق سب سے اعلی نعمت، عزیز وبرتر پروردگار کا دیدار اور اس کا خطاب سننا ہے۔ چنانچہ صہیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: «جب جنت والے جنت میں داخل ہو جائیں گے، تو ( اس وقت) اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا : تمہیں کوئی چیز چاہیے، جو تمہیں مزید عطا کروں؟ وہ جواب دیں گے : کیا تو نے ہمارے چہرے روشن نہیں کیے؟ کیا تو نے ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا اور دوزخ سے نجات نہیں دی؟ چنانچہ اللہ تعالیٰ پردہ ہٹا دے گا۔ لہذا انہیں کوئی چیز ایسی عطا نہیں ہو گی، جو انہیں اپنے عزیز وبرتر پروردگار کے دیدار سے زیادہ محبوب ہو۔» پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿۞ لِّلَّذِينَ أَحۡسَنُواْ ٱلۡحُسۡنَىٰ وَزِيَادَةٞۖ ...﴾ (جن لوگوں نے نیکی کی ان کے لیے بھلائی ہے اور مزید بھی...) [يونس: 26]» [صحیح مسلم: 181]، چنانچہ اس سے انہیں جو لذت، نعمت، خوشی، سرور اور آنکھوں کی ٹھنڈک حاصل ہوگی، وہ اس سے بڑھ کر ہوگی جو انہیں کھانے، پینے اور حورِ عین سے لطف اندوز ہونے سے حاصل ہوگی، اور ان دونوں لذتوں اور نعمتوں کے درمیان کوئی نسبت نہیں؛ اسی لیے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے کفار کے حق میں فرمایا: ہرگز نہیں یہ لوگ اس دن اپنے رب سےاوٹ میں رکھے جائیں گے۔ پھر یہ لوگ بالیقین جہنم میں جھونکے جائیں گے۔ [المطففین: 15- 16]۔
چنانچہ اس نے ان پر دو قسم کے عذاب جمع کر دیے؛ جہنم کا عذاب، اور اللہ پاک کے دیدار سے محرومی کا عذاب، جس طرح اس نے اپنے اولیاء کے لئے دو قسم کی نعمتیں جمع فرمائی ؛ جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کی نعمت، اور اس کے دیدار سے لطف اندوز ہونے کی نعمت۔
پھر جان لو کہ اللہ نے تمہیں اپنے نبی ﷺ پر درود و سلام بھیجنے کا حکم دیا ہے، چنانچہ محکمِ تنزیل میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو۔ [الاحزاب : 56]۔
اے اللہ! ہمارے نبی محمد ﷺ پر درود و سلام نازل فرما۔
***
خطبہ کا عنوان
خوف ورجا
پہلے خطبے کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو بلند اور سب سے برتر ہے، جس کی ملکیت آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان اور (کرہٴ خاک) کے نیچے کی ہر ایک چیز پر ہے۔ اگر تو اونچی بات کہے تو وه تو ہر ایک پوشیده، بلکہ پوشیده سے پوشیده تر چیز کو بھی بخوبی جانتا ہے۔ [طہ: ۶-۷] میں اپنے رب کی حمد بیان کرتا ہوں اور اس کی نوازش پر اس کا شکر ادا کرتا ہوں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے اسمائے حسنیٰ ہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور ہمارے آقا محمدﷺ اس کے بندے اور برگزیدہ رسول ہیں، اے اللہ! اپنے بندے اور رسول محمدﷺ پر، اور آپ کی نیک اور متقی آل واصحاب پر درود وسلام اور برکتیں نازل فرما۔
پہلا خطبہ
اما بعد :
مسلمانو! اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے، اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے، لہذا اس سے ڈرتے رہو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ پر زمین وآسمان کی کوئی چیز پوشیده نہیں۔ [آل عمران: ۵]
اللہ کے بندو!
بلاشبہ قلبی اعمال سب سے عظیم اور سب سے بڑی چیز ہیں؛ اس لیے ان کا ثواب سب سے عظیم ثواب ہے اور ان کا عذاب سب سے بڑا عذاب ہے، اور اعضاء وجوارح کے اعمال قلبی اعمال کے تابع اور انہی پر مبنی ہیں، اسی لیے کہا جاتا ہے کہ دل اعضاء کا بادشاہ ہے اور بقیہ اعضاء اس کے لشکر ہیں۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ”کسی بندہ کا ایمان اس وقت تک درست نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کا دل ٹھیک نہ ہو جائے۔“ [مسند احمد: 13048]۔
دل کی استقامت کا مطلب یہ ہے کہ اسے اللہ تبارک و تعالیٰ کی توحید، اس کی تعظیم، اس سے محبت، اس کا خوف اور اس سے امید ، اس کی اطاعت سے محبت اور اس کی نافرمانی سے نفرت پر قائم رکھا جائے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تمہارے جسموں اور تمہاری شکلوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے“ [ صحیح مسلم : 2564]۔
حسن بصری نے ایک شخص سے فرمایا: ”اپنے دل کا علاج کرو؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے ان کے دلوں کی اصلاح ہی مطلوب ہے۔“ [اسے ابن ابی الدنیا نے اپنی کتاب التواضع والخمول: 240 میں روایت کیا ہے]۔
بے شک ان قلبی اعمال میں سے جو اچھے اعمال پر آمادہ کرتے ہیں، دارِ آخرت کی رغبت دلاتے ہیں، برے اعمال سے باز رکھتے ہیں، دنیا سے بے رغبتی پیدا کرتے ہیں، اور سرکش نفس کو قابو میں رکھتے ہیں‘ وہ خوف اور امید ہیں، اللہ سے خوف، اور جو کچھ اس کے پاس ہے اس کی امید۔
اللہ تعالیٰ کا خوف دل کو ہر بھلائی کے کام کی طرف لے جانے والا، اور اسے ہر برائی سے روکنے والا ہے، اور امید بندے کو اللہ کی رضا اور اس کے ثواب کی طرف لے جانے والی، ہمتوں کو بڑے بڑے نیک اعمال پر ابھارنے والی، اور اسے برے افعال سے باز رکھنے والی ہے۔
اللہ کا خوف نفس کو اس کی خواہشات سے روکتا ہے، اسے اس کی گمراہی سے باز رکھتا ہے، اور اسے اس جانب لے جاتا ہے جس میں اس کی صلاح و فلاح ہے۔
اللہ کا خوف توحید کی شاخوں میں سے ایک شاخ ہے، جسے رب العالمین ہی کے لیے ہونا چاہیے، اور غیر اللہ کا خوف رکھنا اللہ تبارک و تعالیٰ کے ساتھ شرک کی شاخوں میں سے ایک شاخ ہے۔
اور اللہ تعالی نے اپنے خوف کا حکم دیا ہے، اور غیر اللہ کے خوف سے منع کیا ہے، چنانچہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے: یہ خبر دینے واﻻ صرف شیطان ہی ہے جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے تم ان کافروں سے نہ ڈرو اور میرا خوف رکھو، اگر تم مومن ہو۔ [آل عمران: ۱۷۵] اللہ تعالی کا مزید ارشاد ہے: ... پس تمہیں چاہیئے کہ لوگوں سے نہ ڈرو اور صرف میرا ڈر رکھو، میری آیتوں کو تھوڑے تھوڑے مول پر نہ بیچو... [المائدۃ : 44]، اللہ عزیز وبرتر کا مزید ارشاد ہے: ... پس تم سب صرف میرا ہی ڈر خوف رکھو... [البقرۃ: ۴۰]
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: "اگر تم وہ کچھ جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم ہنسو کم اور روؤ زیادہ۔" اس پر رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے اپنے چہروں کو ڈھانپ لیا اور وہ سسکیاں بھر بھر کر رو رہے تھے۔ [ صحیح بخاری : 4621، صحیح مسلم : 2359] یعنی ان کے رونے کی آواز سنائی دے رہی تھی۔
خوف سے مراد ہے: دل کی بے قراری اور اضطراب، کسی فعلِ حرام کے ارتکاب، ترکِ واجب، یا مستحب میں کوتاہی برتنے پر اللہ کے عذاب کا ڈر، اور اس بات کا اندیشہ کہ اللہ نیک عمل قبول نہ فرمائے گا؛ چنانچہ (اس خوف کے نتیجے میں) نفس حرام کاموں سے رک جاتا ہے اور بھلائیوں کی طرف جلدی کرتا ہے۔
خشیت، وجل، رہبت اور ہیبت مترادف الفاظ ہیں، اور یہ ہر اعتبار سے ’خوف‘ کے مترادف نہیں ہیں؛ بلکہ ’خشیت‘، ’خوف‘ سے زیادہ خاص ہے۔ ’خشیت‘ اللہ تعالیٰ کا ایسا خوف ہے جو اس عزیز وبرتر اللہ کی صفات کے علم کے ساتھ ہو، جیسا کہ اللہ عز وجل کا ارشاد ہے: ... اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں... [فاطر: 28]۔
اور صحیح بخاری میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "سن لو! میں تمہارے درمیان اللہ کا سب سے زیادہ خوف رکھنے والا اور اس کا سب سے زیادہ تقویٰ اختیار کرنے والا ہوں۔" [ صحیح بخاری: 5063]۔
اور وَجَل: اس ذات کے ذکر سے دل کے کانپنے اور گھبرانے کا نام ہے، جس کے غلبے اور سزا کا خوف ہو۔
اور رَہْبَت: ناپسندیدہ چیز سے فرار اختیار کرنے کا نام ہے۔
اور ہیبت: ایسا خوف جس کے ساتھ تعظیم اور اجلال ملا ہوا ہو۔
اللہ تبارک و تعالیٰ اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرا جائے اور اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کی ہیبت اور ڈر رکھا جائے۔
امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: خوف عام مومنوں کے لیے ہے، خشیت علماے عارفین کے لیے ہے، ہیبت محبت کرنے والے بندوں کے لیے ہے، اور اجلال مقرب بندوں کے لیے ہے، اور اللہ کے علم اور معرفت کے بقدر ہی اللہ تعالیٰ سے خوف اور خشیت ہوتی ہے۔ [مدارج السالكين: 1/ 508]۔
بے شک اللہ نے اس شخص سے جو اس سے ڈرتا ہے، اور اس کا خوف اسے (حرام) خواہشات سے روک دیتا ہے اور اسے اطاعت گزاری کی طرف لے جاتا ہے، بہترین اجر و ثواب کا وعدہ کیا ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اس شخص کے لیے جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا دو جنتیں ہیں۔ پس (اے انسانو اور جنو!) تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ (دونوں جنتیں) بہت سی ٹہنیوں اور شاخوں والی ہیں۔ [الرحمن: ۴۶ - ۴۸] "الأفنان" سے مراد: خوبصورت اور تر وتازہ شاخیں ہیں۔ عطاء نے فرمایا: "ہر وہ شاخ جس پر میووں کی کئی قسمیں جمع ہوں"۔ [التفسیر الوسیط للواحدی: 4/ 226]۔
اور ارشاد باری تعالی ہے : ہاں جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا رہا ہوگا اور اپنے نفس کو خواہش سے روکا ہوگا۔ تو اس کا ٹھکانا جنت ہی ہے۔ [النازعات: ۴۰-۴۱]، اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: وه ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال وجواب کرنے لگیں گے۔ کہیں گے کہ اس سے پہلے ہم اپنے گھر والوں کے درمیان بہت ڈرا کرتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ہم پر بڑا احسان کیا اور ہمیں تیز وتند گرم ہواؤں کے عذاب سے بچا لیا۔ ہم اس سے پہلے ہی اس کی عبادت کیا کرتے تھے ، بیشک وه محسن اور مہربان ہے۔ [الطور: 25-28]۔
چنانچہ اللہ نے اس بات کی خبر دی ہے کہ جو اس سے ڈرتا ہے، وہ اسے تکالیف سے نجات دے گا، وہ اس کے لیے کافی ہو گا اور اسے بہترین خاتمہ سے نوازے گا۔
عبدالعزیز بن ابی رواد سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیتِ کریمہ تلاوت فرمائی: اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر... [التحریم: ۶] اور آپ کے پاس بعض صحابۂ کرام موجود تھے، جن میں ایک بزرگ بھی تھے، تو اس بزرگ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا جہنم کے پتھر دنیا کے پتھروں کی طرح ہیں؟ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جہنم کی ایک چٹان دنیا کے تمام پہاڑوں سے بڑی ہے۔“ راوی کہتے ہیں: تو وہ بزرگ بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ نبی ﷺ نے ان کے دل پر اپنا ہاتھ رکھا تو وہ زندہ تھے۔ آپ ﷺ نے انہیں پکارا اور فرمایا: ”اے بزرگ! تم کہو: لا الٰہ الّا اللہ“، تو انہوں نے یہ کلمہ پڑھ لیا، چنانچہ نبی ﷺ نے انہیں جنت کی بشارت دے دی۔ تو آپ کے بعض صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہمارے درمیان سے (انہیں یہ بشارت ملی ہے)؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿...یہ اس کے لیے ہے جو میرے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرے اور میری وعید سے خوف کھائے﴾ [ابراہیم: 14]۔“ [اسے ابن ابی حاتم نے التفسیر: 7/ 2237 میں روایت کیا ہے]۔
بلاشبہ سلف صالحین پر اللہ تبارک وتعالیٰ کا خوف غالب رہتا تھا، وہ نیک عمل کرتے تھے، اور اللہ عز وجل کی رحمت کی امید رکھتے تھے، اسی لیے ان کے احوال درست ہو گئے، ان کا انجام اچھا ہوا، اور ان کے اعمال پاکیزہ ہو گئے۔
عمر رضی اللہ عنہ رات کے وقت گشت کر رہے تھے کہ انہوں نے ایک شخص کو سورۃ الطور پڑھتے ہوئے سنا، تو وہ اپنے گدھے سے اترے اور ایک دیوار سے ٹیک لگا لی، اور ایک ماہ تک بیمار رہے، لوگ ان کی عیادت کرتے تھے اور نہیں جانتے تھے کہ ان کا مرض کیا ہے۔
امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ نے فجر کی نماز سے سلام پھیرنے کے بعد، اس حال میں کہ آپ پر رنج و غم طاری تھا اور آپ اپنے ہاتھ الٹ پلٹ رہے تھے، فرمایا: ’’میں نے محمد ﷺ کے صحابہ کو دیکھا ہے، آج مجھے کوئی ان کے مشابہ نظر نہیں آتا، وہ اس حال میں صبح کرتے کہ ان کے بال بکھرے ہوئے، چہرے زرد اور بدن گرد آلود ہوتے، ان کی آنکھوں کے درمیان (پیشانیوں پر) بکری کے گھٹنوں جیسے نشانات ہوتے، وہ اللہ کے لیے سجدے اور قیام کی حالت میں راتیں گزارتے، اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے، کبھی اپنی پیشانیوں پر (سجدے میں) جھکتے اور کبھی اپنے قدموں پر (قیام میں) کھڑے رہتے، اور جب صبح ہوتی اور وہ اللہ کا ذکر کرتے تو اس طرح ہلتے جیسے تیز ہوا کے دن درخت ہلتے ہیں، اور ان کی آنکھوں سے اس قدر آنسو بہتے کہ ان کے کپڑے بھیگ جاتے۔‘‘ [اس حدیث کو امام ابن ابی الدنیا نے مقتل علی: ۶ میں روایت کیا ہے۔]
اور سفیان ثوری رحمہ اللہ خوف سے بیمار ہو گئے۔
اور جب عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے غزوہ موتہ کی طرف جاتے ہوئے اپنے ساتھیوں کو رخصت کیا تو رو پڑے اور کہنے لگے: ”اللہ کی قسم! میں تمہاری محبت کی وجہ سے نہیں رو رہا، اور نہ ہی دنیا کی جدائی کے غم سے، بلکہ مجھے اللہ عزوجل کی کتاب کی ایک آیت یاد آ گئی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَإِن مِّنكُمۡ إِلَّا وَارِدُهَاۚ كَانَ عَلَىٰ رَبِّكَ حَتۡمٗا مَّقۡضِيّٗا﴾ [مريم: 71] (اور تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس کا اس پر گزر نہ ہو، یہ آپ کے رب پر حتمی طے شدہ فیصلہ ہے)، تو وہاں پہنچنے کے بعد میری واپسی کیسے ہوگی؟“ [المعجم الکبیر للطبراني: 13/ 179، حدیث: 428]۔
اور اس بارے میں سلف صالحین سے بہت ساری روایات آئی ہیں، رضی اللہ عنہم۔
قابلِ تعریف خوف وہ ہے جو عملِ صالح پر ابھارے اور محرمات سے باز رکھے، لیک اگر خوف قابلِ تعریف حد سے بڑھ جائے تو یہ اللہ کی رحمت سے مایوسی اور ناامیدی بن جاتا ہے، اور یہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔
ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "خوف کی وہ مقدار جو واجب ہے، وہ یہ ہے کہ جو انسان کو فرائض کی ادائیگی اور حرام کاموں سے بچنے پر آمادہ کرے۔ اگر خوف اس سے بڑھ جائے، یہاں تک کہ وہ انسان کو نوافل کی ادائیگی میں زیادہ کوشش کرنے، مکروہات کی باریک باتوں سے بھی بچنے اور مباح امور میں ضرورت سے زائد وسعت اختیار کرنے سے روکنے کا سبب بن جائے، تو یہ ایک پسندیدہ اور قابلِ تعریف اضافہ ہے۔ لیکن اگر یہ خوف اس سے بھی بڑھ جائے کہ کسی بیماری، موت یا ایسے دائمی غم و پریشانی کا سبب بن جائے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کے یہاں مطلوب اور پسندیدہ فضائل کے حصول کے لیے کوشش کرنے سے روک دے، تو ایسا خوف قابلِ تعریف نہیں رہتا۔" [التخويف من النار والتعريف بحال دار البوار : ص 28]۔
ابو حفص نیسابوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "خوف اللہ کا تازیانہ ہے جس کے ذریعے وہ اپنے در سے بھٹکنے والوں کو سیدھا کرتا ہے"، اور فرمایا: "خوف دل میں ایک چراغ ہے جس کے ذریعہ وہ اس میں موجود خیر اور شر کو دیکھتا ہے۔"
ابو سلیمان دارانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: " جس دل سے خوف جدا ہوتا ہے وہ ویران ہو جاتا ہے۔"
مسلمان دو خوف کے درمیان ہوتا ہے: ایک وہ معاملہ جو گزر چکا، اسے نہیں معلوم کہ اللہ اس میں کیا کرنے والا ہے، اور دوسرا وہ معاملہ جو آنے والا ہے، اسے نہیں معلوم کہ اللہ اس میں کیا فیصلہ فرمانے والا ہے۔
اور رہی بات رجا (امید) کی تو یہ عمل صالح پر اللہ تبارک و تعالیٰ کے ثواب کی امید رکھنے کو کہتے ہیں، اور رجا کی شرط یہ ہے: نیک عمل کرنا اور حرام کاموں سے بچنا یا ان سے توبہ کرنا۔ لیکن واجبات کو ترک کرنا، خواہشات کی پیروی کرنا اور اللہ سے تمنا اور امید لگانا؛ یہ دراصل اللہ کی خفیہ تدبیر سے بے خوف ہونا ہے نہ کہ رجا (امید) کرنا، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ... سو اللہ کی پکڑ سے بجز ان کے جن کی شامت ہی آگئی ہو اور کوئی بے فکر نہیں ہوتا۔ [ الاعراف: 99]۔
اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا ہے کہ امید اعمال صالحہ کے بعد ہی ہو سکتی ہے اور ان کے بغیر نہیں ہو سکتی، اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے: جو لوگ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے پوشیده اور علانیہ خرچ کرتے ہیں وه ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی خساره میں نہ ہوگی۔ [فاطر: ۲۹] اور ارشاد باری تعالی ہے : البتہ ایمان ﻻنے والے، ہجرت کرنے والے، اللہ کی راه میں جہاد کرنے والے ہی رحمت الٰہی کے امیدوار ہیں، اللہ تعالیٰ بہت بخشنے واﻻ اور بہت مہربانی کرنے واﻻ ہے۔ [البقرة: 218].
اور رجا ایک ایسی عبادت ہے جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کے لئے جائز نہیں ہے، تو جس نے اپنی امید غیر اللہ سے لگائی تو اس نے شرک کیا، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ... تو جسے بھی اپنے پروردگار سے ملنے کی آرزو ہو اسے چاہئے کہ نیک اعمال کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے۔ [الکھف: ۱۱۰]
اور رجا اللہ سے قربت کا وسیلہ ہے، چنانچہ حدیث (قدسی) میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’میں اپنے بندے کے اس یقین کے مطابق ہوں جو وہ میری بابت رکھتا ہے، اور میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں جب وہ مجھے یاد کرتا ہے۔‘‘ [صحیح بخاری : 7405، صحیح مسلم : 2675]۔
واجب یہ ہے کہ خوف و رجا کو جمع کیا جائے، اور بندے کے لیے کامل ترین حالت خوف و رجا کے درمیان توازن کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی محبت ہے، اور یہی انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام اور مومنین کی صفت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا: یہ بزرگ لوگ نیک کاموں کی طرف جلدی کرتے تھے اور ہمیں ﻻلچ طمع اور ڈر خوف سے پکارتے تھے۔ اور ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے تھے۔ [الأنبیاء: ۹۰] اور ارشاد باری تعالی ہے : ان کی کروٹیں اپنے بستروں سے الگ رہتی ہیں‘ اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے وه خرچ کرتے ہیں۔ [السجدۃ: 16]۔
جب مسلمان اللہ کی رحمت کی ہمہ گیری، اس کے عظیم کرم، بڑے گناہوں سے اس کی معافی، اس کی جنت کی وسعت اور اس کے بے پایاں ثواب کو جان لیتا ہے؛ تو اس کا دل کشادہ ہو جاتا ہے اور وہ اللہ کے ہاں موجود عظیم بھلائی کی امید اور لالچ میں مگن ہو جاتا ہے۔ اور جب وہ اللہ کے عظیم عذاب، اس کی سخت پکڑ اور گرفت، اس کے کٹھن حساب، قیامت کی ہولناکیوں، آگ کی شدت اور اس میں موجود مختلف قسم کے عذابوں کو جان لیتا ہے؛ تو اس کا نفس باز آ کر دب جاتا ہے، اور وہ محتاط اور خوفزدہ ہو جاتا ہے۔ اسی لیے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر مومن یہ جان لے کہ اللہ کے یہاں کس قدر عذاب ہے، تو کوئی اس کی جنت کی امید نہ رکھے اور اگر کافر یہ جان لے کہ اللہ کی رحمت کس قدر ہے، تو کوئی اس کی جنت سے ناامید نہ ہو۔“ [ صحیح بخاری: 6469، صحیح مسلم: 2755]۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مغفرت اور عذاب کا کثرت سے ایک ساتھ ذکر کیا ہے، چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ... اور بے شک تیرا رب البتہ بخشنے واﻻ ہے لوگوں کے بے جا ظلم پر بھی۔ اور یہ بھی یقینی بات ہے کہ تیرا رب بڑی سخت سزا دینے واﻻ بھی ہے۔ [الرعد: ۶] اور ارشاد باری تعالی ہے : تم یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ سزا بھی سخت دینے واﻻ ہے اور اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت اور بڑی رحمت واﻻ بھی ہے۔ [المائدۃ: 98]۔
امام غزالی رحمہ اللہ مکحول دمشقی سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ’’جو شخص اللہ کی صرف ڈر اور خوف کے مارے عبادت کرتا ہے وہ حروری (خارجی) ہے، اور جو عبادت کا مطلب صرف (خوش) امیدی سمجھتا ہے وہ مرجئ (بے عمل) ہے، اور جو یہ سمجھتا ہے کہ اللہ کی عبادت صرف اس کی محبت ہے وہ زندیق (ملحد) ہے، اور جو اس کی عبادت خوف، امید اور محبت کے ساتھ کرتا ہے تو وہ موحد سنی ہے۔‘‘ [دیکھیں: مجموع الفتاوى: 10/ 81]۔
امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اللہ عز وجل کی جانب اپنے سفر میں دل ایک پرندے کی مانند ہے، چنانچہ محبت اس کا سر ہے، اور خوف اور امید اس کے دو پر ہیں۔ تو جب سر اور دونوں پر سلامت رہیں تو پرندہ بہترین اڑان بھرتا ہے، اور جب سر کٹ جائے تو پرندہ مر جاتا ہے، اور جب وہ دونوں پروں سے محروم ہو جائے تو وہ ہر شکاری اور درندے کا نشانہ بن جاتا ہے۔" [مدارج السالكين: 1/ 513]۔
لیکن سلف نے یہ مستحب قرار دیا ہے کہ صحت کی حالت میں امید کے پہلو پر خوف کا پہلو غالب رہے، اور دنیا سے رخصت ہوتے وقت خوف کے پہلو پر امید کا پہلو غالب رہے، گویا محبت گاڑی ہے، امید سواری ہے، خوف ڈرائیور ہے اور اللہ اپنے فضل وکرم سے منزل مقصود تک پہنچاتا ہے، اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: میرے بندوں کو خبر دے دو کہ میں بہت ہی بخشنے واﻻ اور بڑا ہی مہربان ہوں۔ اور ساتھ ہی میرے عذاب بھی نہایت دردناک ہیں۔ [الحجر: 49-50]۔
اللہ میرے اور آپ کے لیے قرآنِ عظیم میں برکت عطا فرمائے، اور مجھے اور آپ کو اس میں موجود آیات اور ذکرِ حکیم سے نفع پہنچائے، میں اپنی یہ بات کہتا ہوں اور عظمت والے اللہ سے اپنے لیے، آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے ہر گناہ کی مغفرت کا خواستگار ہوں، اور آپ بھی اسی سے مغفرت طلب کریں، بے شک وہی بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔
دوسرے خطبے کا مقدمہ
ساری تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جو بزرگی، احسان اور ایسی عزت والا ہے جسے مغلوب نہیں کیا جاسکتا، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، وہ زبردست ہے، انتقام لینے والا ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور ہمارے آقا محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، جو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں، اے اللہ! اپنے بندے اور رسول محمدﷺ پر، اور آپ کی آل اور معزز صحابہ کرام پر درود وسلام اور برکتیں نازل فرما۔
دوسرا خطبہ
اما بعد :
مسلمانو! اللہ سے ڈرو، اور اس کے ثواب کی امید رکھو، اور اس کے عذاب سے ڈرو، اور اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان سنو: تم یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ سزا بھی سخت دینے واﻻ ہے اور اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت اور بڑی رحمت واﻻ بھی ہے۔ [المائدۃ: ۹۸]، لہذا اس کے عقاب سے ڈریں، اور اس کی رحمت اور ثواب کی امید رکھیں۔
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے ثابت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”قیامت کے دن جہنمیوں میں سے سب سے کم عذاب اس شخص کو ہو رہا ہو گا جس کے قدموں کے نیچے دو انگارے رکھے ہوں گے، جن کی وجہ سے اس کا دماغ کھول رہا ہو گا۔ وہ سمجھے گا کہ اس سے زیادہ سخت عذاب کسی کو نہیں ہو رہا ہے حالانکہ اسے ان سب سے ہلکا عذاب ہو رہا ہو گا۔“ [ صحیح بخاری : 6561، صحیح مسلم : 213]۔
اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «موسیٰ ﷺ نے اپنے رب سے پوچھا کہ سب سے کم درجے والا جنتی کون ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وہ شخص ہے جو سب جنتیوں کے جنت میں جانے کے بعد آئے گا اور اس سے کہا جائے گا کہ جنت میں چلا جا۔ وہ کہے گا: اے میرے رب! کیسے جاؤں؟ وہاں تو سب لوگوں نے اپنے اپنے ٹھکانے بنالیے ہیں اور اپنی اپنی چیزیں لے لی ہیں؟! اس سے کہا جائے گا: کیا تو اس بات پر راضی ہے کہ تجھے اتنا ملے جتنا دنیا کے بادشاہوں میں سے کسی بادشاہ کے پاس ہوتا ہے؟ وہ کہے گا: میں راضی ہوں اے میرے رب! اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا: جا اتنا ہم نے تجھے دیا ہے اور اتنا ہی اور، اور اتنا ہی اور، اور اتنا ہی اور، اور اتنا ہی اور۔ پانچویں بار میں وہ کہے گا: میں راضی ہوں اے میرے رب! اللہ تعالیٰ فرمائے گا: یہ بھی تیرے لیے اور اس کا دس گنا اور بھی تیرا ہے۔ اور جو تیرا جی چاہے اور جو تجھے اچھا نظر آئے وہ بھی تیرا ہے۔ وہ کہے گا: اے میرے رب! میں راضی ہوگیا۔» [ صحیح مسلم: 189]۔
اللہ کے عذاب کا خوف اور اس کے ثواب کی امید ایک مسلمان کی استقامت کے لیے ناگزیر امر ہے۔ اس دور میں جس میں دلوں میں سختی، غفلت اور دنیا کی محبت غالب آ چکی ہے، اور اکثر بندے گناہوں اور معصیتوں کے ارتکاب پر دلیر ہو چکے ہیں، خوف کے پہلو کو مضبوط کیا جانا چاہیے؛ تاکہ نفوس راہِ راست پر رہیں اور دل پاکیزہ ہو جائیں، اور دنیا سے رخصت ہوتے وقت امید کا پہلو غالب ہونا چاہیے؛ جیسا کہ نبی ﷺ کا فرمان ہے: "تم میں سے کسی شخص کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ وہ اپنے رب کے ساتھ اچھا گمان رکھتا ہو۔" [ صحیح مسلم: 2877]۔
چنانچہ اللہ کا خوف اللہ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی کا متقاضی ہے، یہ مسلمان کو ان حقوق میں کوتاہی کرنے سے بچاتا ہے، بندے کو بندوں پر ظلم و زیادتی کرنے سے باز رکھتا ہے، اسے حق داروں کو ان کے حقوق ادا کرنے، انہیں ضائع نہ کرنے اور ان میں غفلت نہ برتنے پر ابھارتا اور آمادہ کرتا ہے، مسلمان کو خواہشات اور محرمات کے پیچھے لگنے سے روکتا ہے، اور اسے دنیا، اس کے فتنوں اور اس کی زیب وزینت سے ہوشیار رکھتا ہے، نیز آخرت اور اس کی نعمتوں کا مشتاق بناتا ہے۔
جس شخص نے اللہ تبارک و تعالیٰ کو ایک مانا، اور اللہ تعالیٰ نے اسے لوگوں کے خون، ان کے مال اور ان کی عزتوں سے محفوظ رکھا، تو وہ دنیا کی بدبختی، آخرت کی پریشانیوں، اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے عذاب سے نجات پا گیا، اور اس نے ایسی جنت پا لی جس کی نعمتیں نہ کبھی فنا ہوں گی اور نہ کبھی ختم ۔
اللہ کے بندو! اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو۔ [ الاحزاب: 56] اس لیے اولین اور آخرین کے سردار اور رسولوں کے امام پر درود و سلام بھیجیں۔
اے اللہ! رحمت نازل فرما محمد پر اور آل محمد پر۔
***
خطبہ کا عنوان
قرآن.. اے امتِ مسلمہ!
پہلے خطبے کا مقدمہ
سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو نہایت حلیم وبردبار اور بہت رحم کرنے والا ہے، بڑےاحسان اور وسیع فضل والا ہے۔ اس پاک ذات کے لیے ہی ساری تعریفیں ہیں یہاں تک کہ وہ راضی ہو جائے، اور اسی کے لیے ساری تعریفیں ہیں جب وہ راضی ہو جائے، اور اسی کے لیے ساری تعریفیں ہیں راضی ہونے کے بعد بھی، اور ہر حال میں ساری تعریفیں اسی کے لیے ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، اس کے خلیل اور اس کی مخلوق میں سے اس کے برگزیدہ ہیں۔ آپ اللہ کے لیے نماز پڑھنے اور روزہ رکھنے والوں میں سب سے بہترین ہیں، اور اپنے رب کی کتاب کی تلاوت کرنے اور قیام کرنے والوں میں سب سے افضل ہیں۔ آپ نے پیغامِ رسالت پہنچا دیا، امت کی خیر خواہی کی، اور اللہ کی راہ میں جہاد کا حق ادا کر دیا۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کے پاکیزہ اور طاہر اہل بیت پر، آپ کے روشن جبیں اور بابرکت صحابہ پر، اور قیامت کے دن تک ان کے راستے پر چلنے اور ان کی ہدایت کی پیروی کرنے والوں پر کثرت سے ڈھیروں درود وسلام نازل فرمائے۔
پہلا خطبہ
اما بعد :
لوگو! میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی اسی بات کی وصیت کرتا ہوں جس کی وصیت اس نے قرآن کریم میں اولین و آخرین کو فرمائی ہے: ... اور واقعی ہم نے ان لوگوں کو جو تم سے پہلے کتاب دیئے گئے تھے اور تم کو بھی یہی حکم کیا ہے کہ اللہ سے ڈرتے رہو... [النساء: 131]
مسلمانو!
بے شک قرآن کے بغیر انسان، پانی اور ہوا کے بغیر زندگی کی مانند ہے، قرآن زندگی کے لیے روح اور ہدایت کے لیے نور کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ایک ایسا بہترین ہم نشین ہے جس کی گفتگو سے اکتاہٹ نہیں ہوتی، اور اسے بار بار دہرانے سے انسان کی زینت و خوبصورتی میں اضافہ ہوتا ہے۔
یہ وہ کتاب ہے کہ جو اسے پڑھنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے، گویا وہ رحمٰن سے ہم کلام ہوتا ہے۔ ...یقیناً تمہارے پاس ہمارا رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) آچکا جو تمہارے سامنے کتاب اللہ کی بکثرت ایسی باتیں ظاہر کر رہا ہے جنہیں تم چھپا رہے تھے اور بہت سی باتوں سے درگزر کرتا ہے، تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے نور اور واضح کتاب آچکی ہے۔ جس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ انہیں جو رضائے رب کے درپے ہوں سلامتی کی راہیں بتلاتا ہے اور اپنی توفیق سے اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف ﻻتا ہے اور راه راست کی طرف ان کی رہبری کرتا ہے۔ [المائدۃ: 15- 16].
ابوجہل، ولید بن مغیرہ کے پاس آیا اور اسے نبی ﷺ اور آپ کے لائے ہوئے قرآن کے خلاف اکسانے لگا، تو ابوجہل نے ولید سے کہا: اس کے سلسلے میں آپ ایسی بات کہیں جس سے آپ کی قوم کو پتہ چلے کہ آپ انہیں نا پسند کرنے والے ہیں۔ ولید نے کہا: میں کیا کہوں؟ اللہ کی قسم! تمہارے ما بین مجھ سے زیادہ اشعار جاننے والا، مجھ سے زیادہ رجز (اشعار کی ایک قسم ہے)جاننے والا، مجھ سے زیادہ قصیدے جاننے والا اور مجھ سے زیادہ جِنوں کے اشعار جاننے والا کوئی نہیں ہے، اللہ کی قسم! اس کی بات ان میں سے کسی بھی چیز کے مشابہ نہیں ہے، اللہ کی قسم! اس کی بات میں مٹھاس اور دلکشی ہے، اس کا اوپری حصہ (اعلی مضامین و اصول) پھل دار اور اس کا نچلا حصہ (گہرے معانی و احکام) بابرکت ہے، وہ ہر کلام پر غالب ہے، اس پر کوئی کلام غالب نہیں آ سکتا اور وہ اپنے علاوہ ہر اس چیز کو توڑ کر رکھ دیتا ہے جو اس کے مقابلے میں آئے۔
ہاں ! اے اللہ کے بندو! یہی وہ قرآن ہے جس نے عقلوں کو حیرت زدہ ، آنکھوں کو اشکبار، اور دلوں اور دماغوں کو مسخر کر لیا، اور اس کے سامنے کفر کے سر جھک گئے۔ اور جب وه رسول کی طرف نازل کرده (کلام) کو سنتے ہیں تو آپ ان کی آنکھیں آنسو سے بہتی ہوئی دیکھتے ہیں اس سبب سے کہ انہوں نے حق کو پہچان لیا، وه کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے پس تو ہم کو بھی ان لوگوں کے ساتھ لکھ لے جو تصدیق کرتے ہیں۔ [المائدۃ: 83]۔
امام اور مسلم نے اپنی ”صحیحین“ میں روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے ایک گروہ کے ہمراہ عکاظ بازار کی طرف نکلے۔ ادھر شیاطین اور آسمان کی خبروں کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی تھی، اور ان پر شہابِ ثاقب چھوڑے جانے لگے تھے۔ چنانچہ شیاطین واپس لوٹے، تو انھوں نے پوچھا: تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ انھوں نے جواب دیا: ہمارے اور آسمانی خبروں کے درمیان رکاوٹ کھڑی کر دی گئی ہے۔ انھوں نے کہا: تمہارے اور آسمانی خبروں کے درمیان ضرور کوئی نیا واقعہ حائل ہوا ہے، لہٰذا زمین کے مشرق و مغرب میں پھیل جاؤ اور دیکھو کہ یہ کون سی نئی بات پیش آئی ہے؟ چنانچہ وہ نکل پڑے اور زمین کے مشرق و مغرب میں گھومنے لگے تاکہ دیکھیں کہ وہ کیا چیز ہے جو ان کے اور آسمانی خبروں کے درمیان حائل ہو گئی ہے۔ راوی کہتے ہیں: چنانچہ جو گروہ تہامہ کی طرف گیا تھا، وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس نخلہ کے مقام پر آن پہنچا۔ آپ ﷺ اس وقت عکاظ بازار کے ارادے سے نکلے ہوئے تھے اور اپنے صحابہ کو فجر کی نماز پڑھا رہے تھے۔ جب انھوں نے قرآن سنا تو اسے غور سے سننے لگے، اور کہنے لگے: یہی وہ چیز ہے جو تمہارے اور آسمانی خبروں کے درمیان حائل ہوئی ہے۔
وہاں سے وہ اپنی قوم کی طرف واپس لوٹے اور کہنے لگے: ... ہم نے عجیب قرآن سنا ہے۔ جو راه راست کے طرف رہنمائی کرتا ہے ۔ ہم اس پر ایمان ﻻ چکے (اب) ہم ہرگز کسی کو بھی اپنے رب کا شریک نہ بنائیں گے۔ [الجن: ۱- ۲]
اپنے رب کی کتاب کے ساتھ لوگوں کا یہی حال ہے - خواہ وہ انسان ہوں یا جن، مومن ہوں یا کافر - یقیناً یہ قرآن وه راستہ دکھاتا ہے جو بہت ہی سیدھا ہے اور ایمان والوں کو جو نیک اعمال کرتے ہیں اس بات کی خوشخبری دیتا ہے کہ ان کے لئے بہت بڑا اجر ہے۔ [الإسراء: ۹]
بلاشبہ بندے کے لیے اس کی دنیا اور آخرت میں کوئی چیز اس قدر نفع بخش، اور دونوں جہانوں میں اس کی نجات کے اس قدر قریب نہیں، جتنا رات کی گھڑیوں اور دن کے اوقات میں اپنے رب کی کتاب کی تلاوت، اس پر غور وفکر، اس میں غور وخوض، اور اس کی آیتوں کے معانی ومفاہیم پر اپنی توجہ مرکوز کرنا ہے۔ کیوں کہ یہ عمل بندے کو خیر وشر کے تمام پہلوؤں اور اہلِ خیر وشر کے حالات سے واقف کر دیتا ہے، اس کے دل میں دنیا کی حقیقی تصویر نمایاں کر دیتا ہے، اسے گزشتہ امتوں کے روبرو لا کھڑا کرتا ہے، اور اسے ان قوموں کے حق میں اللہ کے ایام (عبرت ناک واقعات) اور وہ سزائیں دکھاتا ہے جو ان پر یا ان کے گھروں کے قریب نازل ہوئیں۔
چنانچہ غور و فکر کرنے والا قومِ نوح کا غرق ہونا دیکھتا ہے، عاد اور ثمود پر گرنے والی بجلی کے اثرات کو سمجھتا ہے، فرعون کی غرق آبی اور ہامان کے زمین میں دھنسائے جانے کو جانتا ہے، اور شر کے راستے کی حقیقت اور اس پر چلنے والوں کے انجام، نیز خیر کے راستے کی حقیقت اور اس پر چلنے والوں کے انجامِ کار کو بخوبی سمجھ لیتا ہے، اور تیرا رب کسی پر ﻇلم وستم نہ کرے گا۔ [الکھف: ۴۹]
بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کو حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والا بنایا ہے، جس نے اس سے ہدایت طلب کی، اللہ تعالیٰ اسے عزت عطا فرمائے گا، اور جس نے اس کے سوا کسی اور سے ہدایت چاہی، اللہ تعالیٰ اسے ذلیل کر دے گا۔
عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے نافع بن عبد الحارث سے عُسفان میں ملاقات کی اور عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو مکہ کا حاکم مقرر کیا تھا، عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ تم نے (اپنی غیر موجودگی میں) مکہ والوں پر کس کو حاکم بنایا؟ انہوں نے کہا: ابن ابزی کو، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابن ابزی کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہمارے آزاد کردہ غلاموں میں سے ایک غلام ہے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے آزاد کردہ غلام کو ان پر حاکم مقرر کردیا؟ انہوں نے کہا کہ وہ کتاب اللہ کے قاری ہیں اور میراث کا علم بخوبی جانتے ہیں ، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سنو، تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے بہت سے لوگوں کو بلند کرتا ہے اور اسی کتاب کے ذریعے بہت سے لوگوں کو پست و ذلیل کرتا ہے۔ [ صحيح مسلم: 817]۔
یقیناً یہ وہ نور ہے جس کے چراغ کبھی بجھتے نہیں، اور وہ راستہ ہے جس پر چلنے والا گمراہ نہیں ہوتا، یہ ایمان کا معدن، علم کا سرچشمہ، علماء کا دسترخوان، دلوں کی بہار، پوری زندگی کا دستور اور ایسی شفا ہے جس کے بعد کوئی بیماری نہیں رہتی۔ ... آپ کہہ دیجئے! کہ یہ تو ایمان والوں کے لیے ہدایت و شفا ہے اور جو ایمان نہیں ﻻتے ان کے کانوں میں تو (بہراپن اور) بوجھ ہے اور یہ ان پر اندھاپن ہے، یہ وه لوگ ہیں جو کسی بہت دور دراز جگہ سے پکارے جا رہے ہیں۔ [فصلت: ۴۴]
یہ ایک ایسی کتاب ہے جو اللہ کی حفاظت کے سبب محفوظ ہے، اسے نہ تحریف کرنے والوں کی تحریف تبدیل کرسکتی ہے، نہ باطل پرستوں کی تاویل اور نہ ہی حق سے روگردانی کرنے والوں کی ہٹ دھرمی۔ یہ ہمیشہ سربلند رہتی ہے اور اس پر غلبہ نہیں پایا جاسکتا۔ اہل باطل تو یہ خواہش رکھتے ہیں کہ وہ اس کی آیات اور احکام کو سمندر کے پانی سے دھو ڈالیں تاکہ اس کا نام و نشان صفحۂ ہستی سے مٹ جائے، لیکن اللہ اپنے کام پر پوری طرح غالب ہے، اور اسی کا ارشاد ہے: ہم نے ہی اس قرآن کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔ [الحجر: ۹]
یحیی بن اکثم فرماتے ہیں: مامون (جو اس وقت امیر تھا) کی ایک علمی مجلس تھی، لوگوں کے ساتھ ایک یہودی بھی آگیا۔ راوی کا بیان ہے: "اس نے گفتگو کی تو بہت عمدہ کلام کیا اور بہترین اندازِ بیان اختیار کیا۔" راوی کہتے ہیں: "پھر جب مجلس برخاست ہوئی تو مامون نے اسے بلایا، اور اس سے پوچھا: کیا تم اسرائیلی ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ مامون نے اس سے کہا: اسلام قبول کر لو تاکہ میں تم پر نوازشات کروں اور تمہیں انعام و اکرام سے نوازوں۔ اور اس سے وعدہ کیا، وہ چلا گیا۔"
پھر جب ایک سال گزر گیا تو وہ مسلمان ہو کر آیا، تو مامون نے اسے بلایا اور کہا: کیا تم ہمارے وہی گزشتہ کل والے ساتھی نہیں ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ مامون نے پوچھا: تمہارے قبولِ اسلام کا کیا سبب بنا؟ اس نے جواب دیا: جب میں آپ کی خدمت سے واپس گیا تو میں نے چاہا کہ ان مذاہب کو پرکھ کر دیکھوں، اور جیسا کہ آپ دیکھتے ہیں، میں خوش خط ہوں۔ چنانچہ میں نے تورات کا قصد کیا اور اس کے تین نسخے لکھے، جن میں میں نے کمی بیشی کر دی، اور انہیں لے کر یہودی عبادت گاہ گیا، تو وہ مجھ سے خرید لیے گئے۔ پھر میں نے انجیل کا قصد کیا، اس کے تین نسخے لکھے، ان میں بھی کمی بیشی کی، اور انہیں گرجا گھر لے گیا، تو وہ بھی مجھ سے خرید لیے گئے۔ پھر میں نے قرآن کا قصد کیا، اس کے تین نسخے تیار کیے اور ان میں بھی کمی بیشی کر دی، اور انہیں کتب فروشوں کے پاس لے گیا۔ انہوں نے ان کی ورق گردانی کی، اور جب انہوں نے ان میں کمی بیشی پائی تو انہیں پھینک دیا اور مجھ سے نہیں خریدا۔ تب مجھے کامل یقین ہو گیا کہ یہ ایک محفوظ کتاب ہے، بس یہی میرے قبولِ اسلام کا سبب بنا۔ [دلائل النبوۃ للبیہقی : 7/159-160]۔
جن لوگوں نے اپنے پاس قرآن پہنچ جانے کے باوجود اس سے کفر کیا، (وه بھی ہم سے پوشیده نہیں) یہ بڑی باوقعت کتاب ہے۔ جس کے پاس باطل پھٹک بھی نہیں سکتا نہ اس کے آگے سے نہ اس کے پیچھے سے، یہ ہے نازل کرده حکمتوں والے خوبیوں والے (اللہ) کی طرف سے۔ [فصلت: 41- 42]
یہ اللہ کی وہ معزز کتاب ہے، جسے روح الامین لے کر نازل ہوئے؛ تو ہم اس کے ساتھ کیا سلوک کرنے والے ہیں؟! کیا یہ ہمارے قیام اور سفر میں، ہمارے غصے اور رضامندی میں، اور ہماری خوشی اور ناگواری میں ہمارا راہنما اور دستور ہوگا؟! یا پھر یہ طاقوں پر رکھا ایک ایسا مہمان بن کر رہ جائے گا، جس کے ساتھ صرف رمضان ہی میں حسنِ سلوک کیا جائے گا؟!
کیا ہم اس (قرآن) کو مضبوطی سے تھام لیں گے اور اس کی روشنیوں کو اپنی پوری قوت سے پکڑے رکھیں گے؟ یا پھر ہم ان اونٹوں کی مانند ہوجائیں گے جو بے آب و گیاہ صحرا میں پیاس سے ہلاک ہوجاتے ہیں، حالانکہ پانی ان کی پشتوں پر لدا ہوا ہوتا ہے؟ یا ہماری سماعتیں ایسی ہوجائیں گی جیسے قیف (فنل) ہوں کہ آیات ہمارے دائیں کان سے داخل ہوں اور بائیں کان سے نکل جائیں؟
مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے کہ اللہ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا: "میں نے تو تم کو اس لیے بھیجا ہے تاکہ تمہیں آزماؤں اور تمہارے ذریعے (لوگوں کو) آزماؤں، اور میں نے تم پر ایک ایسی کتاب نازل کی ہے جسے پانی نہیں دھو سکتا، تم اسے سوتے اور جاگتے میں پڑھتے ہو۔" [ صحیح مسلم: 2865]۔
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بے شک اس قرآن کو ایسے غلاموں اور بچوں نے بھی پڑھا ہے جنہیں اس کے معانی و تفسیر کا علم نہیں، حالانکہ قرآن کی آیات میں حقیقی تدبر اس کی پیروی کرنے ہی سے حاصل ہوتا ہے؛ محض اس کے حروف یاد کر لینا اور اس کی حدود و احکام کو ضائع کردینا تدبر نہیں۔ یہاں تک کہ ان میں سے کوئی کہتا ہے: ’’میں نے پورا قرآن پڑھ لیا ہے اور اس کا کوئی حرف بھی نہیں چھوڑا۔‘‘ حالانکہ اللہ کی قسم! اس نے پورا قرآن ہی ضائع کر دیا، کیونکہ اس کے اخلاق اور اعمال میں قرآن کا کوئی اثر دکھائی نہیں دیتا۔ حتیٰ کہ کوئی کہتا ہے: ’’میں ایک ہی سانس میں ایک سورت پڑھ لیتا ہوں۔‘‘ اللہ کی قسم! ایسے لوگ نہ حقیقی قاری ہیں، نہ عالم، نہ حکیم اور نہ ہی صاحبِ تقویٰ و ورع۔ [ابن المبارک : کتاب الزهد (793)]
لہذا، اے اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو اور تلاوت، تدبر، عمل اور ہدایت کے ذریعے اللہ کو اپنی طرف سے اس کی کتاب سے قربت دکھاؤ، پھر ہم نے ان لوگوں کو (اس) کتاب کا وارث بنایا جن کو ہم نے اپنے بندوں میں سے پسند فرمایا۔ پھر بعضے تو ان میں اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں اور بعضے ان میں متوسط درجے کے ہیں اور بعضے ان میں اللہ کی توفیق سے نیکیوں میں ترقی کئے چلے جاتے ہیں۔ یہ بڑا فضل ہے۔ [فاطر: ۳۲]
اللہ میرے اور آپ کے لیے قرآنِ عظیم میں برکت عطا فرمائے، اور مجھے اور آپ کو اس میں موجود آیات اور ذکرِ حکیم سے نفع پہنچائے۔ میں نے جو کچھ کہا ہے، اگر وہ درست ہے تو اللہ کی طرف سے ہے، اور اگر اس میں خطا ہے تو وہ میرے نفس اور شیطان کی طرف سے ہے، اور میں اللہ سے بخشش طلب کرتا ہوں، بے شک وہ بڑا بخشنے والا ہے۔
دوسرے خطبے کا مقدمہ:
سبھی تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں اس کے احسان پر، اور اس کا شکر ہے اس کی توفیق اور انعام پر۔
دوسرا خطبہ
اما بعد :
اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو، اور اس عمر کو اس کی کتاب کی تلاوت، اس کی آیات میں تدبر کرنے اور اس کی عبرتوں اور نصیحتوں سے خوب فائدہ اٹھانے میں لگاؤ؛ کیوں کہ اس میں ہم سے پہلے لوگوں کی خبریں، ہمارے بعد کے حالات اور ہمارے باہمی معاملات کا دو ٹوک فیصلہ ہے، لہذا خوشخبری ہے اس شخص کے لیے جس نے اپنے رب کی کتاب میں تدبر کیا جیسے تدبر کرنے کا حق ہے، اور مبارک بادی ہے ان لوگوں کے لیے جن کے جسموں کے رونگٹے اس سے کھڑے ہوجاتے ہیں اور ان کے جسم اور دل اللہ کے ذکر سے نرم ہوجاتے ہیں۔ اس میں ہر صاحب دل کے لئے عبرت ہے اور اس کے لئے جو دل سے متوجہ ہو کر کان لگائے اور وه حاضر ہو۔ [ق: ۳۷]
شاید کہ امتِ مسلمہ ان تیزی سے رونما ہونے والے واقعات اور تاریک طوفانوں کے بعد اپنے رب کی کتاب میں تدبر وتفکر کی نئی صورتوں کا تجربہ کر رہی ہے، تاکہ اپنی زبانِ حال سے یہ کہہ سکے کہ " آج کی رات گزشتہ رات سے اور آج کا دن گزشتہ کل سے کتنا مشابہ ہے"، اور یہ تاریخ ہے جو خود کو دہرا رہی ہے۔
ہاں، اس کی زبانِ حال کہہ رہی ہے کہ ہم تو یہ سمجھتے تھے کہ فرعون، قارون، ہامان، نمرود اور ذو نواس ایسی شخصیات ہیں جو تاریخ کے اوراق میں دفن ہو چکی ہیں، اور مرورِ زمانہ کے ساتھ وہ دوبارہ ظاہر نہیں ہوں گی، لیکن امتِ اسلامیہ اب ایک سے بڑھ کر ایک ایسے فرعون کو دیکھ رہی ہے جو جانوں اور آبروؤں کو مباح سمجھتا ہے، جس نے زمین میں سرکشی کر رکھی ہے اور وہاں کے لوگوں کو گروه گروه بنا رکھا ہے اور ان میں سے ایک فرقہ کو کمزور کر رکھا ہے اور ان کے لڑکوں کو تو ذبح کر ڈالتا ہے اور ان کی لڑکیوں کو زنده چھوڑ دیتا ہے۔
جی ہاں، یقیناً ہم نے پہلے کے فرعون کے جرائم پڑھے تو ہمارا گمان تھا کہ یہ ایسے قصے ہیں جن کی کوئی نظیر نہیں ہوگی، لیکن ہم نے ان کی طرف سے قتل اور دربدری کا مشاہدہ کیا، اور مسلمانوں کے جم غفیر نے ظلم و ستم اور عزتوں کی پامالی دیکھی۔ ہم نے انہیں دیکھا جو لوگوں کو زندہ درگور کرتے ہیں، اور ہم نے انہیں دیکھا جنہیں آروں سے چیرا جاتا ہے اور آگ میں جلایا جاتا ہے۔ گویا فرعون کی قوم، اصحابِ اخدود اور بدترین دورِ جاہلیت کے مناظر ہماری نظروں کے سامنے رونما ہو رہے ہیں،جبکہ اس سے پہلے یہ ایسی خبریں تھیں جو محض پڑھی اور سنی جاتی تھیں۔
اگر پہلے کے فرعون نے اپنی قوم سے کہا تھا: میں تو اپنے سوا کسی کو تمہارا معبود نہیں جانتا، تو یقیناً ہم نے بھی فرعون کے اس قول کی نظیر دیکھی اور سنی ہے، چنانچہ لوگوں کو ان کے طاغوتوں کی الوہیت تسلیم کرنے کی آزمائش میں مبتلا کیا گیا، انہوں نے لوگوں کو اپنی تصویروں کے آگے سجدہ کرنے پر مجبور کیا، اور انتقام، ظلم وستم اور سرکشی کی بنا پر شہروں اور بندوں کو تباہ وبرباد کر دیا تاکہ ان جیسے لوگ ہی مطلق العنان حاکم بن بیٹھیں، گویا وہ اور اس جیسے دیگر افراد پہلے فرعون کے اسی قول کی تجدید کر رہے ہیں: ... میں تو تمہیں وہی رائے دے رہا ہوں جو خود دیکھ رہا ہوں اور میں تو تمہیں بھلائی کی راه ہی بتلا رہا ہوں۔ [غافر: ۲۹]، یقیناً یہ قرآن بنی اسرائیل کے سامنے ان اکثر چیزوں کا بیان کر رہا ہے جن میں یہ اختلاف کرتے ہیں۔ اور یہ قرآن ایمان والوں کے لیے یقیناً ہدایت اور رحمت ہے۔ [النمل: ۷۶ - ۷۷]
اور قوم فرعون کے سرداروں نے کہا کہ کیا آپ موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کو یوں ہی رہنے دیں گے کہ وه ملک میں فساد کرتے پھریں ، اور وه آپ کو اور آپ کے معبودوں کو ترک کئے رہیں۔ فرعون نے کہا کہ ہم ابھی ان لوگوں کے بیٹوں کو قتل کرنا شروع کر دیں گے اور عورتوں کو زنده رہنے دیں گے اور ہم کو ان پر ہر طرح کا زور ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا اللہ تعالیٰ کا سہارا حاصل کرو اور صبر کرو، یہ زمین اللہ تعالیٰ کی ہے، اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے وه مالک بنا دے اور اخیر کامیابی ان ہی کی ہوتی ہے جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔ قوم کے لوگ کہنے لگے کہ ہم تو ہمیشہ مصیبت ہی میں رہے، آپ کی تشریف آوری سے قبل بھی اور آپ کی تشریف آوری کے بعد بھی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بہت جلد اللہ تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے گا اور بجائے ان کے تم کو اس سرزمین کا خلیفہ بنا دے گا پھر تمہارا طرز عمل دیکھے گا۔ [الاعراف: ۱۲۷۔ ۱۲۹]
لہٰذا، اللہ آپ پر رحم فرمائے! بہترینِ خلائق اور پاکیزہ ترین انسان، صاحبِ حوض و شفاعت محمد بن عبد اللہ ﷺ پر درود وسلام بھیجیں؛ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ایسے امر کا حکم دیا ہے جس کی ابتدا اس نے اپنی ذات سے کی، اور ثانیاً اپنی پاکی بیان کرنے والے فرشتوں کا ذکر کیا، اور اے مومنو! تمہیں اس کی دعوت دی، چنانچہ ارشادِ باری تعالى ہے: ... اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو۔ [الاحزاب: 56] اور آپ صلوات اللہ وسلامہ علیہ نے فرمایا: ’’جو شخص مجھ پر ایک دفعہ درود پڑھتا ہے، اس کے بدلے اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے‘‘۔ [ صحیح مسلم: 408]۔
***
خطبہ کا عنوان
کیا یہ قران میں غور وفکر نہیں کرتے؟
پہلے خطبے کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں، جو غالب، بہت بخشنے والا، یکتا، شدید قدرت رکھنے والا، بزرگی والا اور زبردست ہے، نہایت اچھی تدبیر سے اس نے آسمانوں اور زمین کو بنایا وه رات کو دن اور دن کو رات پر لپیٹ دیتا ہے اور اس نے سورج اور چاند کو کام پر لگا رکھا ہے۔ ہر ایک مقرره مدت تک چل رہا ہے۔ یقین مانو کہ وہی زبردست اور گناہوں کا بخشنے واﻻ ہے۔ [الزمر: ۵]
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور اس کے سوا ہمارا کوئی رب نہیں، ... ماده اپنے شکم میں جو کچھ رکھتی ہے اسے اللہ بخوبی جانتا ہے اور پیٹ کا گھٹنا بڑھنا بھی، ہر چیز اس کے پاس اندازے سے ہے۔ [الرعد: 8]۔
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اس کے برگزیدہ اور خلیل ہیں، مصطفیٰ اور مختار ہیں، اللہ تعالیٰ ڈھیروں درود و سلام اور برکتیں نازل فرمائے آپ پر، آپ کے پاکیزہ اہلِ خانہ اور اولاد پر، آپ کے نیک اصحاب پر، تابعین پر اور قیامت تک بھلائى کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں پر۔
پہلا خطبہ
اما بعد: اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو اور قرآن میں تدبر کرو، کیوں کہ قرآن میں تدبر ہی سے دل پاکیزہ اور درست ہوتے ہیں: کیا یہ قران میں غور وفکر نہیں کرتے؟ یا ان کے دلوں پر تالے لگ گئے ہیں۔ [محمد: ۲۴] اور صدقات کے ذریعہ اپنے آپ کو پاک وصاف کریں: آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لیجئے، جس کے ذریعہ سے آپ ان کو پاک صاف کردیں... [التوبۃ: ۱۰۳] اور وہ سیکھو جو تمہیں نفع پہنچائے اور تمہیں بلند کرے، ...اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کے جو ایمان ﻻئے ہیں اور جو علم دیئے گئے ہیں درجے بلند کر دے گا... [المجادلة:11]، اور اللہ کی خاطر نفس امارہ (برائی پر آمادہ کرنے والے نفس) کا مجاہدہ کرو: اور جو لوگ ہماری راه میں مشقتیں برداشت کرتے ہیں ہم انہیں اپنی راہیں ضرور دکھا دیں گے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ نیکو کاروں کا ساتھی ہے۔ [العنکبوت: 69]
معزز مسلمانو! کسی بھی مسلمان پر یہ بات پوشیدہ نہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر، وہ افضل ترین عمل ہے جو بندہ اپنے فضیلت والے اوقات کو مفید بنانے کے لیے انجام دیتا ہے؛ چنانچہ ایک حسن حدیث میں آیا ہے: ”کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتاؤں، جو تمہارے سارے اعمال سے بہتر، تمہارے مالک کے ہاں سب سے زیادہ پاکیزہ، تمہارے درجات کو سب سے زیادہ بلند کرنے والا ہے، تمہارے لیے سونا اور چاندی صدقہ کرنے سے زیادہ بہتر اور تمہارے لیے اس سے بھی زیادہ بہتر ہے کہ تمہارا مقابلہ تمہارے دشمن کے ساتھ ہو اور تم ان کی گردنیں اڑاؤ اور وہ تمہاری گردنیں اڑائیں؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا : کیوں نہیں! (ایسا عمل تو ضرور بتائیے)۔ آپ نے فرمایا : ”(وہ ہے) اللہ تعالیٰ کا ذکر۔“ [جامع ترمذی: 3377، مسند احمد : 27525، سنن ابن ماجہ : 3790، اور البانی نے اسے صحیح کہا ہے۔]
اے اللہ کے بندو! اس میں کوئی شک نہیں کہ افضل ترین ذکر قرآنِ کریم کی تلاوت ہے، کیوں کہ قرآنِ کریم: دلوں کا ہم نشین اور ان کی راحت، روحوں کا مونس اور ان کی تسکین، سینوں کا نور اور ان کی کشادگی، اور عقلوں کی نعمت اور ان کی غذا ہے۔ کیا انہیں یہ کافی نہیں؟ کہ ہم نے آپ پر کتاب نازل فرما دی جو ان پر پڑھی جا رہی ہے ، اس میں رحمت (بھی) ہے اور نصیحت (بھی) ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان والے ہیں۔ [العنكبوت: 51].
قرآن مبین ایسی ہدایت ہے جس کے انوار نہیں بجھتے، ایسا سمندر ہے جس کے اسرار ختم نہیں ہوتے، ایسا منہج ہے جس کا مینار راہ نہیں بھٹکتا، ایسی برہان ہے جس کا مدار مغلوب نہیں ہوتا، اور ایسی عزت ہے جس کے مددگاروں کو شکست نہیں ہوتی، (ایسی) کتاب ہے جس کی آیتوں کی واضح تفصیل کی گئی ہے ، (اس حال میں کہ) قرآن عربی زبان میں ہے اس قوم کے لیے جو جانتی ہے۔ [فصلت: ۳] اور ہم نے ان لوگوں کے پاس ایک ایسی کتاب پہنچادی ہے جس کو ہم نے اپنے علم کامل سے بہت واضح کر کے بیان کردیا ہے ، وه ذریعہ ہدایت اور رحمت ان لوگوں کے لئے ہے جو ایمان ﻻئے ہیں۔ [الاعراف: ۵۲]
قرآن مجید: اس سے وابستہ ہونے والے کے لیے لازوال عزت ہے، اس کے ذریعے بلندی پانے والے کے لیے منزل تک پہنچانے والی سیڑھی ہے، اور اس سے ہدایت طلب کرنے والے کے لیے سیدھی ہدایت ہے۔ اس کی تلاوت باعثِ درجات ہے، اس میں تدبر باعثِ فتوحات ہے، اور اس کا ہر حرف دس نیکیوں کے برابر ہے۔ یہ بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف اس لئے نازل فرمایا ہے کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور وفکر کریں اور عقلمند اس سے نصیحت حاصل کریں۔ [ ص : 29]۔
قرآن کریم: وہ صراطِ مستقیم ہے جس کی وجہ سے آراء میں کجی نہیں آتی، اور وہ ذکرِ حکیم ہے جس کی بدولت خواہشات گمراہ نہیں ہوتیں، اور وہ ایسی عجیب کتاب ہے جس سے علماء سیر نہیں ہوتے، جس نے اس کے مطابق بات کی اس نے سچ کہا، اور جس نے اس کے مطابق فیصلہ کیا اس نے انصاف کیا، اور جس نے اس پر عمل کیا اسے اجر دیا گیا، نگاہِ بصیرت اس میں جتنا زیادہ غور و فکر کرتی ہے، یہ اس کی ہدایت اور بصیرت میں اتنا ہی اضافہ کرتا ہے۔ اور یہ ایک کتاب ہے جس کو ہم نے بھیجا بڑی خیر وبرکت والی ، سو اس کا اتباع کرو اور ڈرو تاکہ تم پر رحمت ہو۔ [ الانعام: 155]۔
قرآن حکیم: مضبوط بنیاد والا، روشن بیان والا، طاقتور دلیل والا، واضح غلبے والا اور خوبصورت معانی والا ہے۔ ... یہ ایک ایسی کتاب ہے کہ اس کی آیتیں محکم کی گئی ہیں ، پھر صاف صاف بیان کی گئی ہیں ایک حکیم باخبر کی طرف سے۔ [ھود: 1]۔
قرآن کریم: اس کے بہت سے نام ہیں، اس کے اوصاف مختلف ہیں، اور اس کی صفات متنوع ہیں۔ یہ قرآن کریم ہے، یہ کتابِ عزیز ہے، یہ نورِ مبین ہے، یہ ذکرِ حکیم ہے، یہ فرقان ہے، یہ روح اور تبیان ہے۔ یہ مجید اور عزیز ہے، بلند مرتبہ اور مبارک ہے۔ یہ بصائر ہے، یہ شفا ہے، اور آیاتِ بینات ہے۔ یہ محفوظ ہے، یہ مہیمن ہے اور ذکر کے لیے آسان ہے۔ یہ اللہ کی مضبوط رسی ہے، صراطِ مستقیم ہے، یہ عروۃ الوثقیٰ ہے، یہ کلمۂ طیبہ ہے، اور یہ موعظہ اور ذکریٰ ہے۔۔ یہ بشیر اور نذیر ہے، یہ بشریٰ ہے، یہ وحی ہے، یہ رحمت اور یہ ہدایت ہے۔ یہ حق ہے، یہ قولِ فیصل ہے، اور یہ وہ تنزیلِ عزیز ہے جس کے آگے اور پیچھے سے باطل نہیں آ سکتا۔ اللہ عزیز وبرتر نے اس کی قسم کھائی اور فرمایا: یٰسٓ۔ قسم ہے قرآن باحکمت کی۔ [یس: ۱-۲] اللہ تعالی نے اسے نازل کرکے اپنی تعریف کی، اور فرمایا: تمام تعریفیں اسی اللہ کے لئے سزاوار ہیں جس نے اپنے بندے پر یہ قرآن اتارا اور اس میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی۔ [الكهف: 1].
اور اسے نازل فرما کر اپنی ذاتِ عالی کی عظمت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: بہت بابرکت ہے وه اللہ تعالیٰ جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا تاکہ وه تمام لوگوں کے لئے آگاه کرنے واﻻ بن جائے۔ [الفرقان: ۱] اور اس کی عظمت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: یقیناً ہم نے آپ کو سات آیتیں دے رکھی ہیں کہ دہرائی جاتی ہیں اور عظیم قرآن بھی دے رکھا ہے۔ [الحجر: ۸۷] اور اس کے بلند مقام ومرتبے کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: اور یقیناً یہ (خود) آپ کے لیے اور آپ کی قوم کے لیے نصیحت ہے اور عنقریب تم لوگ پوچھے جاؤ گے۔ [الزخرف: ۴۴] اور بیان کیا کہ یہ بہترین اور سب سے افضل کلام ہے، چنانچہ فرمایا: اللہ تعالیٰ نے بہترین کلام نازل فرمایا ہے جو ایسی کتاب ہے کہ آپس میں ملتی جلتی اور بار بار دہرائی ہوئی آیتوں کی ہے ، جس سے ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے رب کا خوف رکھتے ہیں آخر میں ان کے جسم اور دل اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف نرم ہو جاتے ہیں، یہ ہے اللہ تعالیٰ کی ہدایت جس کے ذریعہ جسے چاہے راه راست پر لگا دیتا ہے۔ اور جسے اللہ تعالیٰ ہی راه بھلا دے اس کا ہادی کوئی نہیں۔ [الزمر: ۲۳] اور اس کے لیے بلندی اور رفعت مقدر فرمائی، جیسا کہ ارشاد ہے: حٰم۔ قسم ہے اس واضح کتاب کی۔ ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے کہ تم سمجھ لو۔ یقیناً یہ لوح محفوظ میں ہے اور ہمارے نزدیک بلند مرتبہ حکمت والی ہے۔ [الزخرف: ۱- ۴] اور اس کی یہ صفت بیان کی ہے کہ وہ روح، نور اور ہدایت ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اپنے حکم سے روح کو اتارا ہے ، آپ اس سے پہلے یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ کتاب اور ایمان کیا چیز ہے؟ لیکن ہم نے اسے نور بنایا، اس کے ذریعہ سے اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں، ہدایت دیتے ہیں، بے شک آپ راه راست کی رہنمائی کر رہے ہیں۔ [الشوری: ۵۲]
اور اللہ تعالی نے سورۃ الواقعہ میں ایسی قسم کھائی ہے جس کی مثل اللہ نے کبھی کوئی قسم نہیں کھائی؛ چنانچہ اللہ عزیز وبرتر نے فرمایا: پس میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے گرنے کی۔ اور اگر تمہیں علم ہو تو یہ بہت بڑی قسم ہے۔ [الواقعۃ: ۷۵- ۷۶]، یہ قسم بہت عظیم ہے تاکہ جوابِ قسم کی عظمت کے مناسب ہو، اور وہ اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے: کہ بے شک یہ قرآن بہت بڑی عزت واﻻ ہے۔ [الواقعۃ: ۷۷]
اللہ تعالیٰ نے اس بات پر بڑی قسم کھائی ہے کہ بے شک یہ قرآن کریم ہے، بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے، پھر بے شک قرآن کی اس کثیر نوازش میں عظیم برکت ہے، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر غور کریں: یہ بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف اس لئے نازل فرمایا ہے کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور وفکر کریں اور عقلمند اس سے نصیحت حاصل کریں۔ [ص: ۲۹]، اور مبارک چیز وہ ہے جس کی افادیت زیادہ ہو، یعنی اس کی قلیل مقدار بھی اس کثیر مقدار سے افضل ہے جس میں برکت نہ ہو، تو اگر قرآنی نوازش قلیل بھی ہو، اور اس میں برکت ہو، تو وہ بڑی افادیت اور زیادہ فائدے والی ہوگی، تو پھر کیا حال ہوگا جب قرآنی عطا کثیر بھی ہو اور مبارک بھی، گویا وہ تو نور علیٰ نور ہے۔
اس حسن حدیث پر غور کریں : "قیامت کے دن قرآن آئے گا اور کہے گا: اے میرے رب! اسے پہنا (یعنی صاحبِ قرآن کو)، تو اسے عزت کا تاج پہنایا جائے گا۔ پھر وہ کہے گا: اے میرے رب! اسے مزید عطا فرما، تو اسے عزت کا حُلہ (لباس) پہنایا جائے گا۔ پھر وہ کہے گا: اے میرے رب! تو اس سے راضی ہو جا، چنانچہ وہ اس سے راضی ہو جائے گا۔ پھر اس سے کہا جائے گا: پڑھتا جا اور بلند ہوتا جا، اور ہر آیت کے بدلے ایک نیکی کا اضافہ کر دیا جائے گا۔" [سنن ترمذی : 2915، مسند احمد : 10087، اور البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے]۔
اور اس صحیح حدیث پر بھی غور کریں: ”اہل قرآن، اللہ والے اور اس کے خاص بندے ہیں“ [سنن ابن ماجہ : 215، مسند احمد : 12279، اور البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے]۔۔ تو جب بابرکت قرآنِ کریم صاحبِ قرآن کو اس مقام تک پہنچا دے گا کہ اسے کرامت کا جوڑا پہنایا جائے گا، اور اس کے سر پر کرامت کا تاج رکھا جائے گا، اور اللہ تعالی تمام مخلوقات کے سامنے اس سے راضی ہو جائے گا، اور اسے اپنے اہل اور خواص میں شامل فرما لے گا، تو کیا اس نوازش کے بعد بھی کوئی نوازش ہے؟ اور کیا اس برکت کے بعد بھی کوئی برکت ہے؟ اسی لیے صحیح حدیث میں آپ ﷺ کا یہ فرمان آیا ہے: "اہلِ جنت کو کسی چیز پر حسرت نہیں ہوگی سوائے اس گھڑی کے جو ان پر گزری اور جس میں انہوں نے اللہ عز وجل کا ذکر نہیں کیا۔" [المعجم الکبیر للطبرانی: (۲۰/۹۳) (۱۸۲)، شعب الإیمان للبیہقی: ۵۱۲، عمل الیوم واللیلۃ لابن السنی: ۳، اور البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے اور حافظ دمیاطی، منذری اور سیوطی رحمہم اللہ نے اسے حسن قرار دیا ہے۔]
میں شیطان مردود کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں: جو لوگ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے پوشیده اور علانیہ خرچ کرتے ہیں وه ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی خساره میں نہ ہوگی۔ تاکہ ان کو ان کی اجرتیں پوری دے اور ان کو اپنے فضل سے اور زیاده دے۔ بے شک وه بڑا بخشنے واﻻ قدردان ہے۔ [فاطر: ۲۹-۳۰]
اللہ تعالی مجھے اور آپ کو قرآنِ عظیم کی برکت سے نوازے...
دوسرے خطبے کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں اور وہی کافی ہے، اور درود وسلام نازل ہو اس کے برگزیده بندوں پر۔
اما بعد: اللہ کے بندو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو، اور ان میں سے ہو جاؤ، جو بات کو کان لگا کر سنتے ہیں۔ پھر جو بہترین بات ہو اس کی اتباع کرتے ہیں۔ یہی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی ہے اور یہی عقلمند بھی ہیں۔ [الزمر: ۱۸]
دوسرا خطبہ
معزز مسلمان بھائیو! بلاشبہ ایک مسلمان جس بہترین کام میں اپنا وقت صرف کر سکتا ہے وہ اپنے رب کی کتاب کی تلاوت، اس پر غور و فکر، اس کا مطالعہ اور اس کا اہتمام کرنا ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے: جنہیں ہم نے کتاب دی ہے اور وه اسے پڑھنے کے حق کے ساتھ پڑھتے ہیں... [البقرۃ: 121]، دوسری جگہ اللہ عزیز وبرتر نے فرمایا: ... اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر (صاف) پڑھا کر۔ [المزمل: ۴] نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: یہ بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف اس لئے نازل فرمایا ہے کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور وفکر کریں اور عقلمند اس سے نصیحت حاصل کریں۔ [ص: ۲۹]، ارشاد باری تعالی ہے : اور جب قرآن پڑھا جایا کرے تو اس کی طرف کان لگا دیا کرو اور خاموش رہا کرو امید ہے کہ تم پر رحمت ہو۔ [الأعراف: ۲۰۴]، دوسری جگہ اللہ عزیز وبرتر نے فرمایا: کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے... [النساء: ۸۲] چنانچہ ایک مسلمان کے احوال کی اصلاح اور اس کے حق میں برکت و نفع کے اعتبار سے، قرآن کریم میں تدبر سے بڑھ کر کوئی چیز بہتر اور عظیم نہیں۔ امام ابن القیم رحمہ اللہ اپنی کتاب [مدارج السالكين] میں فرماتے ہیں: "بندے کے لیے تدبر قرآن، اس میں دیر تک غور وفکر کرنے اور اس کے معانی پر فکر کو مرکوز کرنے سے زیادہ نفع بخش کوئی چیز نہیں۔" اگر لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ قرآن کریم کی قراءت تدبر کے ساتھ کرنے میں کیا کچھ (فضائل وبرکات) ہیں، تو وہ اس کے سوا ہر چیز کو چھوڑ کر اسی میں مشغول ہو جائیں۔ اور اگر قاریٔ قرآن کی کسی ایسی آیت سے گزرے جس کی اسے اپنے دل کی شفا اور اپنی بیماری کے علاج کے لئے ضرورت ہو، تو وہ اسے بار بار پڑھے، چاہے سو مرتبہ ہی کیوں نہ پڑھنا پڑے، اور چاہے اس میں پوری رات ہی کیوں نہ لگ جائے، تو یہ اس کے لئے بغیر تدبر وتفکر کے مکمل قرآن ختم کرنے سے کہیں زیادہ بہتر اور نفع بخش ہے۔
کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے... جس نے قرآن مجید میں غور و فکر کیا، قرآن نے ہر بھلائی کی طرف اس کی رہنمائی کی، اور اسے ہر برائی سے خبردار کیا، اس کے لیے حلال و حرام کو واضح کیا، اور اسے اپنے رب کے اسمائے حسنیٰ اور بلند صفات کی پہچان کرائی، اور اسے اس کے عظیم ثواب کا شوق دلایا، اور اس کے دردناک عذاب سے ڈرایا۔ کیا انہیں یہ کافی نہیں کہ ہم نے آپ پر کتاب نازل فرما دی جو ان پر پڑھی جا رہی ہے ، اس میں رحمت (بھی) ہے اور نصیحت (بھی) ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان والے ہیں۔ [ العنكبوت: 51].
کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے... وہ حضور قلب اور غور و فکر کے ساتھ، اطمینان اور ٹھہر ٹھہر کر ترتیل سے اس کی تلاوت کرتے ہیں۔ اس میں ہر صاحب دل کے لئے عبرت ہے اور اس کے لئے جو دل سے متوجہ ہو کر کان لگائے اور وه حاضر ہو۔ [ق: ۳۷]
کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے... چنانچہ اس کی آیت کھجور کی مانند ہے، آپ اسے جتنا زیادہ چباتے ہیں، اس کی حلاوت ومٹھاس میں اتنا ہی اضافہ ہوتا ہے.. اور جب بھی آپ اس کے کسی ایک پہلو سے پردہ ہٹاتے ہیں، تو اس کے نیچے سے آپ کے سامنے مزید کئی پہلو واضح ہوجاتے ہیں، اللہ عزیز وبرتر کا ارشاد ہے : ہم نے اسی طرح اس قرآن کو واضح آیتوں میں اتارا ہے۔ جسے اللہ چاہے ہدایت نصیب فرماتا ہے۔ [ الحج: 16]
کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے... چنانچہ وہ اس کی آیات کا مطالعہ کرتے ہیں، اس کی ہدایات سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں، اس کے علاج سے شفا پاتے ہیں، اور اس کے ارشادات اور رہنمائیوں کے مطابق اپنے اخلاق و کردار کو سنوارتے ہیں، تاکہ وہ منشائے الہی کی تکمیل کر سکیں اور اس کی رضا حاصل کر لیں۔
کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے... ان کے دلوں کے تالے کھل جاتے ہیں اور ان سے زنگ دور ہوجاتا ہے، پھر وہ اپنے رب کے کلام سے سیر نہیں ہوتے۔
جزائر کے علامہ امام عبد الحمید بن بادیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’ اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں! حالانکہ میرا نفس گناہوں اور عیبوں سے بھرا ہوا ہے، میں نے قرآن مجید کی تلاوت اور اسے سننے سے بڑھ کر دل کو نرم کرنے والی، آنسو جاری کرنے والی، خشیت پیدا کرنے والی، اور توبہ پر آمادہ کرنے والی کوئی اور چیز نہیں دیکھی۔‘‘ [آثار ابن بادیس]۔
لہذا اے اللہ کے بندو! اپنے رب کی کتاب کے پڑھنے کی پابندی کرو، بکثرت اس کی تلاوت کرو، اس پر غور وفکر کرو اور اس کا اہتمام کرو، چنانچہ صحیح حدیث میں ہے : ”جس نے کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھا، اس کے لیے ایک نیکی ہے اور ایک نیکی کا اجر اس طرح کی دس نیکیوں کے برابر ہوتا ہے..“ [سنن ترمذی : 2910، اور البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے]، صحیح مسلم میں ہے: «قرآن پڑھا کرو کیوں کہ وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لیے سفارشی بن کر آئے گا»، اور اسی روایت میں یہ بھی ہے: ”اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے بہت سے لوگوں کو بلند کرتا ہے اور اسی کتاب کے ذریعے بہت سے لوگوں کو پست و ذلیل کرتا ہے۔“ [صحیح مسلم: 804]
اے اللہ! ہمیں ان اہلِ قرآن میں سے بنا جو تیرے اہل اور تیرے خاص بندے ہیں..
***
خطبہ کا عنوان
اچھا مسلمان وہ ہے جو لا یعنی چیزوں کو چھوڑ دے۔
پہلے خطبے کا مقدمہ
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمارے لیے دین کو مکمل کیا، ہم پر نعمت کو بھرپور کیا، میں اس پاک ذات کی حمد بیان کرتا ہوں جس نے ہمارے لیے اسلام کو بطورِ دین پسند فرمایا اور ہمیں بہترین امت بنایا، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، ایسی گواہی جو اسے مضبوطی سے تھامنے والے کے لیے بہترین حفاظت ہو، ساتھ ہی اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے آقا اور ہمارے نبی محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں جنہیں تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر مبعوث فرمایا۔ اے اللہ! اپنے بندے اور اپنے رسول محمد ﷺ پر، اور آپ ﷺ کی آل اور اصحاب پر ایسا درود و سلام نازل فرما جو ہمارے لیے اندھیروں اور تاریکیوں میں نور ثابت ہو۔
پہلا خطبہ
اما بعد :
اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرتے رہو؛ بلاشبہ اللہ کا ڈر دنیا کی زندگی کے لئے اور اس دن کے لئے جب سارے گواہ کھڑے ہوں گے، سب سے بہتر توشہ ہے۔
مسلمانو!
آدمی کا اپنے دین کی سلامتی، اپنے اسلام کی خوبی اور اپنے ایمان کی صحت و پختگی کا حریص ہونا، اس کی عقل کی پختگی، اس کے طریقۂ کار کی درستگی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے حاصل ہونے والی کامل توفیق کی ایک واضح دلیل، روشن نشانی اور گواہ برہان ہے۔ اے اللہ کے بندو! مسلمان کا دین ہی اس کی دنیوی زندگی میں ہر سعادت، اور آخرت میں ہر کامیابی و بلندی کی جانب اس کی رہنمائی کرنے والا پیشوا ہے؛ کیوں کہ اس میں ایسے واضح دلائل اور ہدایت موجود ہے جس کے ذریعے وہ گمراہی سے محفوظ رہتا ہے، اور بدبختی کے راستوں اور خسارے کی راہوں سے دور رہتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے، جو اپنی امت کے لیے ہر بھلائی کے حریص اور ان پر نہایت شفیق و مہربان ہیں، ایک ایسے جامع ادب، اعلی خصلت، اور کریمانہ اخلاق کی جانب رہنمائی فرمائی ہے، جس سے انسان کا اسلام بہتر ہو جاتا ہے، اور وہ اس کے ذریعے اللہ کی رضا کے مقصد کو پا لیتا ہے۔
اور یہ اس حدیث میں آیا ہے جسے ترمذی اور ابن ماجہ نے اپنی سنن میں، اور ابن حبان نے اپنی صحیح میں، حسن سند کے ساتھ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”آدمی کے اسلام کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ اس چیز کو چھوڑ دے جس سے اسے کوئی سروکار نہیں۔“ [جامع ترمذی: ۲۳۱۷، سنن ابن ماجہ: ۳۹۷۶، صحیح ابن حبان: ۲۲۹، جبکہ امام مالک نے اسے موطا (۲۶۲۸) میں علی بن حسین کی مرسل کے طور پر روایت کیا ہے اور یہی درست ہے۔]
اور یہ حدیث جیسا کہ امام ابن عبد البر رحمہ اللہ نے فرمایا: "مختصر الفاظ میں بہت سے عظیم معانی کا احاطہ کرنے والا ایسا جامع کلام ہے، جو آپ ﷺ سے پہلے کسی نے نہیں کہا؛ کیوں کہ جس شخص کا اسلام بہتر ہو جائے، وہ ایسی باتوں اور کاموں کو چھوڑ دیتا ہے جن سے اس کا کوئی سروکار نہ ہو۔ دراصل اسلام کا تقاضا یہ ہے کہ واجبات پر عمل کیا جائے اور حرام کاموں کو چھوڑ دیا جائے، اور جب اسلام بہتر ہو جائے، تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسی حرام، مشتبہ، مکروہ اور فضول مباح چیزوں کو چھوڑ دیا جائے جن سے کوئی سروکار نہیں، اس سے مراد مباح کاموں کی وہ مقدار ہے جو ضرورت سے زائد ہو۔
ایک مسلمان کے لیے یہ سب کچھ کوئی معنی نہیں رکھتا جب اس کا اسلام مکمل ہو جائے، اور وہ احسان کے اس درجے تک پہنچ جائے جس کی حقیقت کو رسولِ ہدایت ﷺ نے اس حدیث میں واضح فرمایا ہے جس میں جبرائیل علیہ السلام نے اسلام، ایمان اور احسان کے بارے میں سوال کیا تھا، چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تم اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو کم از کم یہ کیفیت ضرور ہونی چاہیے کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔‘‘ [اسے مسلم نے اپنی صحیح (8) میں امیر المؤمنین عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کی حدیث سے روایت کیا ہے۔]
اور جو شخص اللہ کی عبادت اپنے دل میں اس احساس کے ساتھ انجام دے کہ وہ اپنے رب کے قریب ہے یا اس کا رب اس کے قریب ہے؛ تو یقیناً وہ اچھا مسلمان ہے، اور اس کے نتیجے میں اس پر لازم ہو جاتا ہے کہ وہ اسلام میں ان تمام چیزوں سے دور رہے جو اس سے سروکار نہ رکھتی ہوں، اور وہ ان چیزوں میں مشغول رہے جو اس سے متعلق ہیں، مثلاً عقیدے کی درستگی، کامل ایمان، نیک اعمال، اور مختلف قسم کی جائز چیزوں میں سے معاش کی ان ضرورتوں کو طلب کرنا جن کے بغیر اس کی زندگی قائم نہیں رہ سکتی۔
اس کے بر عکس، جس شخص نے اپنے قیمتی اوقات کو ان کاموں میں ضائع کر دیا جن کے لیے اسے پیدا نہیں کیا گیا، یعنی غیر متعلق چیزوں میں مشغول ہو کر، تو وہ ان چیزوں سے دور ہو جاتا ہے جو اس کے لیے سود مند ہوں، جو اس کا مقام بلند کریں اور اسے درست اہداف، اعلیٰ مقاصد اور بلند وبالا منازل تک پہنچائیں، اور اس نے صریح نقصان اٹھایا۔ خبردار! انسان کا بے مقصد کی چیزوں میں مشغول ہونے کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ وہ ایسے علوم سیکھے جو اس کے مطلب کے نہ ہوں، اور ان سے زیادہ اہم علوم کو چھوڑ دے جن میں اس کے دل کی اصلاح، اس کے نفس کا تزکیہ، اس کے بھائیوں کا فائدہ، اس کے وطن کی سربلندی اور اس کی امت کی ترقی ہو۔ اور اس میں یہ بھی شامل ہے کہ زبان کو لغو باتوں سے محفوظ نہ رکھا جائے، اور لوگوں کی خبروں، ان کے حالات، ان کے اموال، ان کے اخراجات اور بچت کی مقدار کی ٹوہ میں رہا جائے اور ان پر اس چیز کا حساب رکھا جائے، جو نہ اس کے مطلب کا ہو اور نہ ہی اس کے لیے سود مند ہو، اور کسی شرعی غرض کے بغیر ان کے گھروں کے اندر اور ان کے اہل و عیال اور بچوں کے درمیان ان کی باتوں اور کاموں کی کرید کی جائے، جس کا مقصد سوائے ان کے نجی معاملات اور پوشیدہ امور کی خبر لینے کے اور کچھ نہ ہو، جن سے اس کا کوئی سروکار نہیں ہے۔
اس میں یہ بھی شامل ہے کہ انسان ان موضوعات پر گفتگو کرے جنہیں وہ بخوبی نہیں جانتا اور نہ ہی ان پر عبور رکھتا ہو، جن میں نہ اس کا تخصص معروف ہو اور نہ ہی اسے ان کا کوئی سابقہ علم اور تجربہ ہو۔ بلکہ اس کا مقصد محض تفریح، وقت گزاری، اور محفلوں میں نمایاں مقام حاصل کرنے اور لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے میں اپنا وقت ضائع کرنے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اور کبھی یہ چیز ایسی باتوں میں بحث کرنے کا باعث بنتی ہے جس میں بحث کرنا جائز نہیں، جیسے بے حیائی اور نفسانی خواہشات کی باتیں، بے پردگی کی باتیں، پاک دامن، مومنہ اور بے خبر عورتوں پر تہمت، بری باتیں، افواہ، جھوٹ اور من گھڑت خبروں کی نشر واشاعت۔ بسا اوقات اس کے ساتھ نام نہاد (تجزیوں اور پیش گوئیوں) کا شوق بھی شامل ہو جاتا ہے، جو زیادہ تر وہم وگمان، اٹکل بازیوں، اور باطل کو حق کی صورت میں پیش کرنے کی جرات پر مبنی ہوتے ہیں۔ یہ سب ایسی باتیں ہیں جن کی پیش گوئی کرنا، ان میں پڑنا، انہیں معتبر سمجھنا، ان کے دھوکے میں آنا، اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرنا درست نہیں۔
آگاہ رہو! بلاشبہ انسان کو لایعنی امور ترک کرنے میں جو چیز مدد دیتی ہے وہ یہ یاد رکھنا ہے کہ ذمہ داریاں اوقات سے زیادہ ہیں اور زندگی مختصر ہے، جیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اس حدیث میں خبر دی ہے جسے ترمذی اور ابن ماجہ نے اپنی سنن میں اور حاکم نے اپنی مستدرک میں صحیح سند کے ساتھ ابو ہریرہ اور انس رضی اللہ تعالی عنہما کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: "میری امت کی عمریں ساٹھ سے ستر سال کے درمیان ہیں، اور ان میں سے بہت کم ایسے ہیں جو اس سے تجاوز کریں۔" [سنن ترمذی، حدیث نمبر : 3550، سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر : 4236، اور حافظ ابن حجر اور البانی نے اسے حسن کہا ہے]۔
تو ایسی عمر جس میں بمشکل ضروری اور لازمی کاموں کی گنجائش نکل پاتی ہو، کیا اس میں فضولیات اور بنا سروکار کی چیزوں کی گنجائش نکل سکتی ہے؟ انسان سے اس کی عمر کے بارے میں بھی پوچھا جائے گا کہ اس نے اسے کن کاموں میں بسر کیا، جیسا کہ اس حدیث میں آیا ہے جسے ترمذی نے اپنی جامع میں صحیح سند کے ساتھ ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "قیامت کے دن کسی شخص کے قدم اس وقت تک اپنی جگہ سے نہ ہٹیں گے، جب تک اس کی عمر کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے کہ اسے کس چیز میں لگایا، اس کے علم کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے کہ اس پر کتنا عمل کیا، اس کے مال کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے کہ اسے کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا اور اس کے جسم کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے کہ اسے کہاں کھپایا۔" [ سنن ترمذی: (2417)، سنن دارمی: (554)، اور البانی نے اسے صحیح کہا ہے]، انسان جو بات بھی زبان سے نکالتا ہے، وہ اس کے اعمال نامے میں لکھ لی جاتی ہے اور اس پر اسے بدلہ دیا جائے گا، تاکہ وہ جان لے کہ ہر ایک بات کی ایک ذمہ داری اور جواب دہی ہوتی ہے، جیسا کہ اللہ عز وجل کا ارشاد ہے: ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اس کے دل میں جو خیاﻻت اٹھتے ہیں ان سے ہم واقف ہیں اور ہم اس کی رگِ جان سے بھی زیاده اس سے قریب ہیں۔ جس وقت دو لینے والے جا لیتے ہیں ایک دائیں طرف اور ایک بائیں طرف بیٹھا ہوا۔ (انسان) منہ سے کوئی لفظ نکال نہیں پاتا مگر کہ اس کے پاس نگہبان تیار ہے۔ [ ق : 16-18]؛ آیت کا ظاہری مفہوم، جیسا کہ امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا ہے، یہ ہے کہ "فرشتہ ہر بات لکھتا ہے، اور اس کی تائید اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے اس عمومی فرمان سے بھی ہوتی ہے: ... منہ سے کوئی لفظ نکال نہیں پاتا... یہ ہر بات کو شامل ہے۔۔
اور امام مالک نے موطا میں، احمد نے اپنی مسند میں، اور ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے اپنی سنن میں صحیح سند کے ساتھ علقمہ لیثی سے، اور انہوں نے بلال بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی بات کرتا ہے، اس کو گمان بھی نہیں ہوتا کہ یہ کہاں تک پہنچے گی، اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے لیے قیامت کے دن تک اپنی رضامندی لکھ دیتا ہے، اور آدمی (بعض دفعہ) اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا ایسا کلمہ بولتا ہے، جس کے بارے میں اسے گمان بھی نہیں ہوتا کہ یہ کہاں تک پہنچے گا، اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس پر اپنی ملاقات کے دن تک اپنی ناراضگی لکھ دیتا ہے۔“ [موطا امام مالک، حدیث نمبر : 2818، مسند احمد، حدیث نمبر : 15852، سنن ترمذی، حدیث نمبر : 2319، سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر : 3969، اور اس کی اصل صحیح بخاری، حدیث نمبر : 6478 میں ہے]
چنانچہ علقمہ لیثی رحمہ اللہ فرماتے تھے: "کتنی ہی ایسی باتیں ہیں جن سے مجھے بلال بن حارث رضی اللہ عنہ کی حدیث نے روک دیا؛ یعنی یہ حدیث اور اس میں موجود وعید۔‘‘
جہاں تک نمایاں ہونے اور لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے کے حکم کا تعلق ہے، تو یہ ایک مذموم مقصد اور رذیل خصلت ہے۔ جو شخص اس میں مبتلا ہو جائے، اسے اللہ اور ایمان والوں کی شدید ناراضگی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
لہذا، اللہ کے بندو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور لا یعنی اقوال و اعمال کو ترک کرنے میں رحمٰن کے برگزیدہ بندوں کی اقتدا کرو، یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی اور یہی عقلمند بھی ہیں۔
اللہ مجھے اور آپ کو اپنی کتاب کی ہدایت اور اپنے نبی ﷺ کی سنت کے ذریعہ فائدہ پہنچائے۔
میں اپنی یہ بات کہتا ہوں، اور عظمت وبزرگی والے اللہ سے اپنے لئے، آپ کے لئے اور تمام مسلمانوں کے لئے ہر گناہ سے مغفرت کا خواستگار ہوں؛ بے شک وه بہت بڑا بخشنے والا اور نہایت مہربانی کرنے والا ہے۔
دوسرے خطبے کا مقدمہ
ساری تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو جسے چاہتا ہے صراطِ مستقیم کی طرف ہدایت دیتا ہے، میں اس کی حمد بیان کرتا ہوں، وہ بہت حسن سلوک کرنے والا، بڑا مہربان، اور نہایت رحم فرمانے والا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے آقا اور ہمارے نبی محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، جو درست راستے پر چلنے والے اور بہترین اخلاق کے حامل ہیں۔ اے اللہ! اپنے بندے اور اپنے رسول محمد ﷺ پر، اور آپ کی آل اور اصحاب پر بہترین درود اور کامل ترین سلام نازل فرما۔
دوسرا خطبہ
اما بعد :
اللہ کے بندو! حسن بصری رحمہ اللہ سے منقول ہے، وہ فرماتے ہیں: "اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے سے بےر خی کی ایک پہچان یہ ہے کہ وہ اسے ایسی چیزوں میں مشغول کر دے جو اس سے غیر متعلق ہوں"۔ [«التمہید لابن عبد البر»: (6/ 328)]۔
لہذا اللہ اور آخرت کی امید رکھنے والے عقل مند انسان پر واجب ہے کہ وہ اپنے کام سے کام رکھے، اپنی زبان کی حفاظت کرے، اپنے زمانے سے باخبر رہے اور اپنی گفتگو کو اپنے اعمال کا حصہ سمجھے؛ کیوں کہ جو شخص اپنی باتوں کو اپنے اعمال میں شمار کرتا ہے، وہ کم بات کرتا ہے اور جب کرتا ہے تو با مقصد بات کرتا ہے۔
اس لئے کہ غیر متعلق چیزوں کو چھوڑ دینے سے زیادہ تر یہی مراد لیا جاتی ہے۔ جیسا کہ حافظ ابن رجب رحمہ اللہ نے فرمایا: "بے کار کی باتوں سے زبان کی حفاظت کرے؛ اس کے نقصان کے لیے یہی کافی ہے کہ یہ انسان کو خیر و بھلائی کی ان بہت سی قسموں سے غافل کر دیتا ہے جن سے اس کا مقام بلند ہوتا ہے، اس کی قدر و منزلت بڑھتی ہے، اس کا مرتبہ اونچا ہوتا ہے، اس کی زندگی خوشگوار ہوتی ہے اور اس کا انجام بہتر ہوتا ہے۔
خبردار! اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو، اور ان کاموں کی کوشش کرو جو تمھاری دنیا اور آخرت میں تمہیں نفع دیں، اور ہمیشہ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں خاتم النبیین، امام المرسلین اور تمام جہانوں کے لیے اللہ کی رحمت پر درود و سلام بھیجنے کا حکم دیا ہے، چنانچہ اللہ سبحانہ کتابِ مبین میں ارشاد فرماتا ہے: اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو۔ [ الاحزاب : 56]۔
***
خطبے کا عنوان
شرعی علم کی فضیلت اور اس کے حصول کے ذرائع
پہلے خطبے کا مقدمہ
بے شک تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد چاہتے ہیں، اسی سے بخشش طلب کرتے ہیں اور اسی کے حضور توبہ کرتے ہیں، ہم اپنے نفس اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا، اور جسے وہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل اور تمام اصحاب پر درود وسلام نازل فرمائے۔
پہلا خطبہ
اما بعد :
اے مومنوں کی جماعت! اے اللہ کے بندو! میں آپ کو اور اپنے آپ کو اللہ کے تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں، کیوں کہ جس نے اللہ کا تقویٰ اختیار کیا، اللہ اس کی حفاظت فرماتا ہے اور اس کے دین اور دنیا کے معاملات میں خیر کی طرف اس کی رہنمائی فرماتا ہے۔ پھر آپ جان لیں، اللہ آپ کی حفاظت فرمائے، کہ دین میں علم کا مقام بہت عظیم اور اس کا مرتبہ بلند ہے، یقیناً اللہ جلّ وعلا نے علم اور اہل علم کو فضیلت عطا فرمائی ہے اور علماء کا مقام بلند کیا ہے، اور ان لوگوں کے درمیان جو علم رکھتے ہیں اور جو علم نہیں رکھتے، فرق کیا ہے، اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کے جو ایمان ﻻئے ہیں اور جو علم دیے گئے ہیں درجے بلند کر دے گا... [المجادلة:11]، اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: بتاؤ تو علم والے اور بے علم کیا برابر کے ہیں؟ یقیناً نصیحت وہی حاصل کرتے ہیں جو عقلمند ہوں۔ [الزمر: ۹] اور عزیز وبرتر اللہ کا فرمان ہے: اچھا وه شخص زیاده ہدایت واﻻ ہے جو اپنے منھ کے بل اوندھا ہو کر چلے یا وه جو سیدھا (پیروں کے بل) راه راست پر چلا ہو؟ [الملک: ۲۲] اور اللہ عزیز وبرتر نے فرمایا: کیا وه ایک شخص جو یہ علم رکھتا ہو کہ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے جو اتارا گیا ہے وه حق ہے، اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جو اندھا ہو... [الرعد: ۱۹] اس معنی و مفہوم کی آیتیں بڑی تعداد میں موجود ہیں۔
اللہ کے بندو! سنت ایسی اہم احادیث سے بھری پڑی ہے جو علم کی عظمت کو اجاگر کرتی ہیں، اس کے مقام ومرتبہ اور عظیم فضیلت کو واضح کرتی ہیں، اسے سیکھنے اور حاصل کرنے کی ترغیب دیتی ہیں، اور اللہ کے نزدیک علما کے مقام و مرتبہ اور ان کی قدر ومنزلت کو بیان کرتی ہیں، آپ ﷺ فرماتے ہیں: «جو شخص علم کی تلاش میں کسی راہ پر چل پڑے؛ اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کی راہ آسان فرما دیتا ہے، اور بے شک فرشتے طالب علم کے عمل سے خوش ہو کر اس کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں، اور بے شک علماء، انبیاء کے وارث ہیں، بے شک انبیاء نے کسی کو دینار اور درہم کا وارث نہیں بنایا، بلکہ انھوں نے علم کا وارث بنایا، اس لیے جس نے اسے اختیار کر لیا اس نے (علم نبوی اور وراثت نبوی سے) پورا پورا حصہ لیا۔» [ مسند احمد: (21715)، سنن ابو داود: (3641)، جامع ترمذی: (2682)، اور اس کی اصل صحیحین میں ہے]، نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے"۔ [متفق علیہ]، اللہ کے بندو! اس موضوع پر بہت ساری احادیث ہیں، یقیناً ایک مسلمان علم کی طرف بہت زیادہ توجہ دینے والا اور اسے حاصل کرنے کی شدید خواہش رکھنے والا ہوتا ہے، کیوں کہ اس کے دل میں علم کا مقام، اور اس کے ذہن ودماغ میں اس کا مرتبہ بہت بڑا ہوتا ہے،اور اس لیے بھی کہ وہ علم حاصل کرنے اور اسے سیکھنے کے قابل تعریف اثرات اور بابرکت نتائج کو دیکھتا ہے۔
مسلمانو! ہم ایک نئے تعلیمی سال کا استقبال کر رہے ہیں، چنانچہ کل، اے اللہ کے بندو! طلبہ مدارس کا رخ کریں گے اور ان کے دروازوں پر جمع ہوں گے، ایک نئے تعلیمی سال کا آغاز کرتے ہوئے ہر کوئی علم سیکھنے اور حاصل کرنے کے لیے اپنے اپنے تعلیمی مرحلے کی طرف متوجہ ہوگا۔ لیکن اے اللہ کے بندو! جب ہم اس سال کا استقبال کر رہے ہیں اور اس کے ایام کا آغاز کر رہے ہیں، تو کیا ہمارے ذہنوں میں علم کی غایت اور اس کا مقصد واضح ہو چکا ہے؟ کیا ہم پر یہ واضح ہو چکا ہے کہ ہمیں کیا سیکھنا چاہیے اور علم کا مقام و مرتبہ کیا ہے؟ کیا ہمارے نزدیک حصولِ علم کا طریقہ اور علم حاصل کرنے کے مفید ذرائع متعین ہو چکے ہیں؟
اللہ کے بندو! تین سوالات ایسے ہیں جن کا ذہنوں میں وارد ہونا اور خیالوں میں گردش کرنا ضروری ہے:
پہلا سوال : ہم علم کیوں حاصل کریں؟
اللہ کے بندو! دوسرا سوال : ہم کیا سیکھیں؟
اور تیسرا سوال: ہم کیسے سیکھیں؟
یہ تین اہم سوالات ہیں، ہر طالب علم کے لیے ضروری ہے کہ وہ انہیں اپنے ذہن میں یاد رکھے، ان پر غور و خوض کرے، اور اپنے پاس ان کا جواب مرتب کر لے، تاکہ علم سیکھنے میں اس کا سفر تیز تر ہو اور تحصیلِ علم میں اس کے قدم اس قدر مضبوط ہوں کہ وہ اپنی منزل مقصود تک پہنچ جائے۔
اے طالبِ علم! آپ پر لازم ہے کہ آپ اپنے آپ سے یہ تین سوالات کریں، میں کیوں سیکھ رہا ہوں؟ اور میں کیا سیکھ رہا ہوں؟ اور میں کیسے سیکھ رہا ہوں؟
اللہ کے بندو! جہاں تک پہلے سوال کا تعلق ہے، تو لوگوں کے اغراض، مقاصد اور نیتوں کے اختلاف کی بنا پر ان کے نزدیک اس کا جواب مختلف ہوتا ہے؛ مگر سچا مومن اور کامیاب مسلمان صرف ایک ہی غرض اور متعین ہدف کے لیے علم حاصل کرتا ہے، اور وہ اللہ جل وعلا کی رضا کا حصول ہے؛ کیوں کہ اللہ عز وجل نے اسے علم کا حکم دیا ہے، اسے حاصل کرنے کی دعوت دی ہے، اور اس کے حصول کی ترغیب دلائی ہے۔ پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا ۔ تو پڑھتا ره تیرا رب بڑے کرم واﻻ ہے۔ [العلق: ۱-۳] ایک مسلمان اس لیے علم حاصل کرتا ہے کہ اس کے رب، اس کے خالق اور اس کے آقا ومولیٰ نے اسے حصول علم کا حکم دیا، اس کی ترغیب دلائی ہے، اور زیادہ سے زیادہ علم حاصل کرنے پر ابھارا، اللہ عز وجل نے اپنے نبی ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ...ہاں یہ دعا کر کہ پروردگار! میرا علم بڑھا۔ [طه:114]۔ چنانچہ مسلمان علم اس لیے سیکھتا ہے تاکہ وہ اپنے علم سے اللہ کی خوشنودی پائے، اور علم کے ذریعے دنیا اور آخرت میں کامیابی، خوش نصیبی اور بلندی حاصل کرے، کیوں کہ یہ اللہ عزوجل کی کتاب اور اس کے نبی ﷺ کی سنت سے حاصل کردہ صحیح اور نفع بخش علم سے وابستہ ہے۔ اللہ کے بندو! ایک کامیاب مسلمان، علماء کے امام اور تمام مخلوق کے اسوہ ونمونہ نبی علیہ الصلاۃ والسلام کی اقتدا میں علم حاصل کرتا ہے، جنہوں نے علم طلب کرنے اور اسے حاصل کرنے میں اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی، اور اپنی امت کو علم کی دعوت دی اور اس کی ترغیب دلائی۔ ہمارے سامنے آپ کی بعض ایسی بلند پایہ احادیث گزر چکی ہیں جو علم کی ترغیب اور اسے حاصل کرنے کی دعوت دیتی ہیں۔ لہذا اے اللہ کے بندو! مسلمان اسی لیے علم سیکھتا ہے، اور اسی لیے سچی نیت کا ہونا ضروری ہے، اللہ عزیز وبرتر کے حضور ایسی سچی نیت کا ہونا لازمی ہے کہ علم حاصل کرنے سے اللہ پاک کی خوشنودی اور اس سبحانہ کے ثواب کے حصول کی نیت ہو۔ اہل سنت کے امام، امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اگر نیت درست ہو تو کوئی چیز علم کے برابر نہیں۔ پوچھا گیا: نیت کی درستگی کا کیا مطلب ہے؟ فرمایا: یہ کہ تم علم کے ذریعے اپنی اور دوسروں کی جہالت دور کرنے کی نیت کرو۔" [الآداب الشرعية لابن مفلح]، اللہ کے بندو! نیت کو درست کرنے کے لیے محنت اور نفس کشی کی ضرورت ہوتی ہے؛ کیوں کہ نفس بے قابو ہوتا رہتا ہے اور مقاصد بدلتے رہتے ہیں، لہذا اپنی نیت کی اصلاح اور مقصد کو پاکیزہ بنانے کے لیے نفس کشی ضروری ہے، نبی ﷺ نے فرمایا ہے: "اعمال (کی قبولیت) کا دار ومدار نیتوں پر ہے اور ہر آدمی کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہو گی۔‘‘ [متفق عليه].
اللہ کے بندو! رہا دوسرا سوال کہ میں کیا سیکھوں؟ تو بلاشبہ سب سے بہتر، سب سے کامل، سب سے مکمل ترین، سب سے پاکیزہ اور عمدہ ترین علوم، علومِ شریعت ہیں، یعنی "اللہ نے فرمایا اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا", کیوں کہ یہ علم مطلق طور پر سب سے پاکیزہ، سب سے عمدہ اور سب سے زیادہ فائدہ مند ہے۔ وہ تمام آیات و احادیث جن میں علم کی فضیلت اور علماء کی مدح وثنا بیان کی گئی ہے، ان میں علم سے مراد یہی علم ہے، یعنی کتاب اللہ اور سنتِ رسول ﷺ کا علم، یعنی اس مقصد کا علم جس کی خاطر بندے کو پیدا کیا گیا اور جس کی تکمیل کے لیے اسے وجود میں لایا گیا، یعنی توحید کا علم، صحیح دینی عقائد کا علم، اسلام کے ارکان اور دین کی بنیادوں کا علم، اور حلال و حرام کا علم۔ چنانچہ اے اللہ کے بندو! یہ مطلق طور پر سب سے پاکیزہ اور سب سے عمدہ علم ہے۔ اسی علم کا کچھ حصہ ایسا بھی ہے جسے نہ جاننے پر کسی کو معذور نہیں سمجھا جائے گا، اسے سیکھنا ہر مسلمان پر واجب ہے، اور یہ وہ علم ہے جس کے بغیر واجبات ادا ہی نہیں ہو سکتے: جیسے کہ آپ نماز کیسے پڑھیں، روزہ کیسے رکھیں، اللہ تعالیٰ کی عبادت کیسے کریں، شرک سے کیسے بچیں، اپنی عبادت کو خالص اللہ کے لیے کیسے بجا لائیں، اور حرام تجارت سے پاک، صحیح طریقے سے خرید وفروخت کیسے کریں، اس کے علاوہ دیگر واجب علوم بھی ہیں، جن کا سیکھنا ہر مسلمان کے لیے بہت ضروری ہے۔ پھر اے اللہ کے بندو! ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ علم میں اضافہ کرے، اور شرعی علوم کو سیکھنے کا شوق رکھے، جیسے کتاب اللہ کی تلاوت و تدبر، سنتِ رسول ﷺ کا مطالعہ وسمجھ، سیرتِ رسول ﷺ میں غور و خوض، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا طرزِ زندگی اور امت کی شاندار تاریخ سے بصیرت کا حصول، ان کے علاوہ شریعت کے دوسرے علوم اور ان کی تکمیل کرنے والے علوم بھی اس میں شامل ہیں۔۔ اے اللہ کے بندو! یہ وہ علم ہے جو راستے کو روشن کرتا ہے، مسلمان کو راہِ حق کی پہچان کرواتا ہے، اور اس کی شاہراہ کو منور کرتا ہے تاکہ وہ واضح ہدایت اور صراطِ مستقیم پر گامزن رہے۔ اللہ عزیز وبرتر نے فرمایا: اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اپنے حکم سے روح کو اتارا ہے، آپ اس سے پہلے یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ کتاب اور ایمان کیا چیز ہے؟ لیکن ہم نے اسے نور بنایا، اس کے ذریعہ سے اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں، ہدایت دیتے ہیں، بے شک آپ راه راست کی رہنمائی کر رہے ہیں۔ [الشوری: ۵۲]
اللہ کے بندو!
مزید برآں، دیگر علوم مثلاً طب، انجینئرنگ اور ان جیسے دیگر علوم کو سیکھنے والا اگر ان سے اپنی امت، یعنی امتِ مسلمہ کو نفع پہنچانے کا ارادہ رکھے اور انہیں نیک نیتی سے حاصل کرے، تو اسے اس پر اجر و ثواب ملے گا، اور جب وہ اللہ عزیز وبرتر سے ملاقات کرے گا تو اس کا یہ حصولِ علم اس کے اعمالِ صالحہ میں شمار ہوگا۔
اللہ کے بندو!
رہا تیسرا سوال کہ ہم کیسے سیکھیں؟ تو طلبِ علم اور اس کے حصول کے کچھ آداب ہیں جنہیں ملحوظ رکھنا ضروری ہے، اور کچھ ضوابط ہیں جن کی پابندی لازمی ہے؛ تاکہ حصولِ علم میں انسان کے قدم درست اٹھیں جو اسے قریب ترین اور آسان ترین راستے سے منزلِ مقصود تک پہنچا دیں، ان میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ طلبِ علم میں اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں، کیوں کہ علم اللہ کی طرف سے ایک نوازش اور اس کا احسان ہے، وہ جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور جس پر چاہتا ہے اس کے دروازے کھول دیتا ہے، اور وہ سبحانہ وتعالیٰ بڑا کھولنے والا اور خوب جاننے والا ہے۔ ہمارے نبی اور ہمارے اسوہ ونموہ نبی صلوات اللہ وسلامہ علیہ ہر روز نمازِ فجر کے بعد فرمایا کرتے تھے: "اے اللہ! بے شک میں تجھ سے نفع بخش علم، نیک عمل اور پاکیزہ رزق مانگتا ہوں۔" [سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر : 921، اور شیخ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے]، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ اپنی دعاؤں میں فرماتے تھے: "اے اللہ! مجھے وہ علم عطا فرما جو مجھے نفع دے، اور تو نے مجھے جو علم عطا فرمايا ہے اس سے مجھے نفع پہنچا، اور میرے علم میں اضافہ عطا فرما۔" [سنن ترمذی، حدیث نمبر : 3916، اور سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر : 251، حافظ ابن حجر نے اسے حسن اور البانی نے الصحیحہ : 3151 میں اسے صحیح کہا ہے]، بے شک ایک مسلمان اللہ سے مدد مانگنے اور اس کی اعانت طلب کرنے کے بعد، درست اسباب اختیار کرتا ہے اور علم سیکھنے کے لیے سیدھے راستوں پر گامزن ہوتا ہے۔ اور انہی اسباب میں سے یہ بھی ہے کہ وہ حصولِ علم میں صبر سے کام لے، طویل عرصے تک اس کے حصول سے جڑا رہے، اسے پانے کے لیے پوری محنت و کوشش کرے، علماء کی مجالس کو لازم پکڑے، ان سے مستفید ہونے کی بھرپور کوشش کرے، اور سنجیدہ اور ذہین و محنتی طالب علموں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ میل جول رکھے؛ کیوں کہ ساتھی (اپنی طرف) کھینچنے والا ہوتا ہے اور اپنے ہم نشین پر انتہائی گہرا اثر ڈالتا ہے۔ مزید برآں، علم کے مطابق عمل کرنا بھی ضروری ہے، لہذا جب تم کوئی حدیث سنو تو اس پر عمل کرو تاکہ تم اس کے اہل میں سے ہو جاؤ۔ لیکن جو شخص کثرت سے علوم حاصل کرے اور انہیں جمع کرے لیکن اپنے علم کے مطابق عمل نہ کرے، تو یقیناً اس کا یہ علم اس کے لیے وبال اور قیامت کے دن اس کے خلاف حجت بن جائے گا۔ چنانچہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "علم عمل کی دعوت دیتا ہے‘ اگر اس دعوت کو قبول کیا وہ تو باقی رہتا ہے ورنہ کوچ کر جاتا ہے۔" [اسے خطیب بغدادی نے "اقتضاء العلم العمل" میں روایت کیا ہے۔]
علم کے آداب میں سے بغور سننا، خاموشی اختیار کرنا، عمدگی سے سوال کرنا، اور سمجھنے اور مذاکرہ کرنے میں بھرپور کوشش کرنا شامل ہے، اے اللہ کے بندو! ان سب کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔
طالب علم کے لیے انتہائی ضروری امور میں سے یہ ہے کہ وہ اساتذہ کے ساتھ ادب کا معاملہ کرے اور ان کا احترام کرے، جو طالب علم اپنے اساتذہ کے ساتھ ادب کا معاملہ کرے گا تو قوی امید ہے کہ اسے عظیم فائدہ حاصل ہوگا۔ اسی طرح کتاب کے ساتھ ادب کا معاملہ کرنا اور اس کا احترام کرنا بھی ضروری ہے، خصوصاً کتاب الہی کا۔ لہذا کتاب کا احترام کرنا، اس کی دیکھ بھال کرنا اور اسے پھینکنے یا اس کی بے ادبی اور بے حرمتی کرنے سے بچنا انتہائی ضروری ہے، جو شخص کتاب کی بے ادبی اور بے حرمتی کرنے والا ہو، تو قوی اندیشہ ہے کہ وہ علم اور فائدے سے محروم رہے گا۔
علم کے بہت سے آداب ہیں جنہیں علماء نے متعدد ایسی کتابوں میں بیان کیا ہے، جو عالم اور متعلم کے آداب کے موضوع پر لکھی گئی ہیں۔ ایسے اوقات میں اس طرح کی کتابوں کا مطالعہ کرنا بہت مفید ہوتا ہے، تاکہ طالب علم، علم حاصل کرنے اور اسے سیکھنے میں ایک بہترین اور بابرکت راستے پر چل سکے۔
اللہ عزیز وبرتر سے، اس کے اسمائے حسنیٰ اور صفات عالیہ کے واسطے سے دعا ہے کہ وہ ہمارے اس سال کو سب کے لیے بابرکت بنائے، اور ہمیں اس میں خیر و برکت، ایمان، سلامتی، اسلام، نفع بخش علم اور نیک عمل کی نعمت عطا فرمائے، بے شک میرا رب دعا سننے والا، امید کے لائق، ضرورتوں کے لیے کافی اور بہترین کارساز ہے۔
دوسرے خطبے کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو بڑے احسان والا، وسیع فضل، جود و کرم اور انعام والا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل اور تمام صحابہ پر درود وسلام نازل فرمائے۔
دوسرا خطبہ
اللہ کے بندو!
بے شک علم ایک عظیم ذمہ داری ہے، اور قیامت کے دن ہم میں سے ہر ایک سے، جب وہ اللہ عزیز وبرتر کے سامنے کھڑا ہوگا، ہر اس علم کے بارے میں پوچھا جائے گا جو اس نے سیکھا، چنانچہ حدیث میں ثابت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: «قیامت کے دن کسی شخص کے قدم اس وقت تک اپنی جگہ سے نہ ہٹیں گے جب تک کہ اس سے چار چیزوں کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے» اور ان میں سے ایک یہ ذکر کیا گیا: «اس کے علم کے بارے میں کہ اس نے اس پر کیا عمل کیا» [سنن ترمذی، حدیث نمبر : 2417، اور سنن دارمی، حدیث نمبر : 543، اور شیخ البانی نے اسے صحیح کہا ہے]، اللہ کے بندو! اس میں ہر مسلمان کے لیے یہ تنبیہ ہے کہ اس بابت اس پر دو کام ضروری ہیں:
پہلا کام: حصولِ علم میں خوب محنت اور کوشش کرے؛ تاکہ وہ ان اہل علم اور اس کے حاملین میں شامل ہو جائے، جو دنیا اور آخرت میں کامیابی، بلندی اور سعادت پانے والے ہیں۔
اور دوسری بات یہ ہے کہ وہ جان لے کہ علم ایک عظیم ذمہ داری ہے، اس پر واجب ہے کہ وہ اسے صدق دل سے حاصل کرے اور اسے پوری طرح کمال کے ساتھ ادا کرے، کیوں کہ وہ ایک دن اللہ عزیز وبرتر کے سامنے کھڑا ہوگا اور وہ اس سے ہر اس علم کے بارے میں سوال کرے گا جو اس نے حاصل کیا، اسی لیے جو شخص یہ جانتا ہے کہ وہ اللہ عزیز وبرتر کے روبرو کھڑا ہوگا اور اللہ عزیز وبرتر اس سے سوال کرنے والا ہے، تو اسے چاہیے کہ سوال کے لیے جواب تیار رکھے، اور صحیح جواب تیار رکھے۔ اللہ کے بندوں میں عقل مند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کے لیے عمل کرے، اور عاجز وہ ہے جو اپنے نفس کو اس کی خواہشات کے تابع کر دے اور اللہ پر امیدیں باندھے۔ اللہ آپ کی حفاظت فرمائے، محمد بن عبداللہ ﷺ پر درود وسلام بھیجیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں آپ کو اس کا حکم دیا ہے، چنانچہ اس نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو۔ [ الاحزاب: 56] اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالی اس کى بنا پر اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے‘‘ اے اللہ! رحمت نازل فرما محمد پر اور آلِ محمد پر، جیسے تو نے رحمت نازل فرمائی ابراہیم پر اور آلِ ابراہیم پر، بے شک تو قابلِ تعریف اور بزرگی والا ہے، اور برکت نازل فرما محمد پر اور آلِ محمد پر، جیسے تو نے برکت نازل فرمائی ابراہیم پر اور آلِ ابراہیم پر، بے شک تو قابلِ تعریف اور بزرگی والا ہے۔
***
خطبے کا عنوان
علم اور علماء کی فضیلت
پہلے خطبے کا مقدمہ
یقیناً تمام تعریفیں اللہ کے لیے سزاوار ہیں، ہم اس کی تعریف بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد طلب کرتے ہیں، ہم اس سے مغفرت طلب کرتے ہیں اور اسی کی طرف توبہ کرتے ہیں، اور ہم اپنے نفس اور اپنے اعمال کی خرابیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا، اور جسے وہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ تعالی آپ پر، اور آپ کی آل واصحاب پر ڈھیروں درود وسلام نازل فرمائے۔ اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہئیے اور دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا۔ [آل عمران: 102] اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کرکے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں، اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو۔ بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے۔ [النساء: 1] اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سیدھی سیدھی (سچی) باتیں کیا کرو۔ تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے کام سنوار دے اور تمہارے گناه معاف فرما دے، اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرے گا اس نے بڑی مراد پالی۔ [الاحزاب: 71 -72]۔
پہلا خطبہ
اما بعد: لوگو! اللہ تبارک وتعالیٰ سے ڈرتے رہو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے، خلوت وجلوت میں بھی اس کی نگرانی کو یاد رکھو، اور جان لو کہ تم اس سے ملنے والے ہو اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ خود اپنے نفس کا جائزہ لو اور اپنے اعمال کو تول لو، اور اللہ کے حضور بڑی پیشی کے لیے خود کو سنوار لو۔ اس دن تم سب سامنے پیش کیے جاؤ گے، تمہارا کوئی بھید پوشیده نہ رہے گا۔ [الحاقۃ: ۱۸]
اللہ کے بندو! اللہ عز وجل فرماتا ہے: اور مسلمانوں کو یہ نہ چاہئے کہ سب کے سب نکل کھڑے ہوں سو ایسا کیوں نہ کیا جائے کہ ان کی ہر بڑی جماعت میں سے ایک چھوٹی جماعت جایا کرے تاکہ وه دین کی سمجھ بوجھ حاصل کریں اور تاکہ یہ لوگ اپنی قوم کو جب کہ وه ان کے پاس آئیں، ڈرائیں تاکہ وه ڈر جائیں۔ [ التوبہ : 122]۔
برادرانِ اسلام: بے شک اللہ تعالی نے علم اور اہلِ علم کے مرتبے کو بلند کیا ہے، ان کے مقام کو واضح کیا ہے، اور ان کی منزلت کو بڑھایا ہے، چنانچہ اللہ سبحانہ و تعالی کا ارشاد ہے: ...اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کے جو ایمان ﻻئے ہیں اور جو علم دیئے گئے ہیں درجے بلند کر دے گا، اور اللہ تعالیٰ (ہر اس کام سے) جو تم کر رہے ہو (خوب) خبردار ہے۔ [المجادلة:11]۔
اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو علم کے سوا کسی چیز میں اضافہ طلب کرنے کا حکم نہیں دیا، چنانچہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے آپ سے فرمایا: ۔۔۔اور دعا کر کہ پروردگار! میرا علم بڑھا۔ [طہ: 114]
اور یہ صرف انسانی زندگی میں علم کے اثر کی وجہ سے، کیوں کہ اہلِ علم ہی زندہ ہیں، اور باقی تمام لوگ مردہ ۔
اور اللہ تعالیٰ نے عالم اور جاہل کے درمیان برابری سے منع فرمایا ہے، کیوں کہ عالم کو علم کی فضیلت اور نورِ معرفت کی خصوصیت حاصل ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بھلا جو شخص راتوں کے اوقات سجدے اور قیام کی حالت میں (عبادت میں) گزارتا ہو، آخرت سے ڈرتا ہو اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتا ہو، (اور جو اس کے برعکس ہو برابر ہو سکتے ہیں) بتاؤ تو علم والے اور بے علم کیا برابر کے ہیں؟ یقیناً نصیحت وہی حاصل کرتے ہیں جو عقلمند ہوں۔ [الزمر: ۹]
علم ایک ایسا اعزاز ہے جس کی کوئی قیمت نہیں، اور علم کی اہمیت اور اس کی فضیلت سے صرف جاہل ہی ناواقف ہوتے ہیں۔ عبد الملک بن مروان نے اپنے بیٹوں سے کہا: "بیٹو! علم حاصل کرو؛ کیوں کہ اگر تم سردار ہو تو ممتاز ہو جاؤ گے، اور اگر تم درمیانے درجے کے ہو تو سردار بن جاؤ گے، اور اگر تم عام لوگ ہو تو گزر بسر کر لو گے"۔
اللہ کے بندو! بلاشبہ طلبِ علم وہ بہترین عمل ہے جس میں عمریں صرف کی جائیں اور اوقات خرچ کیے جائیں، کیوں کہ لوگ یا تو عالم ہیں یا علم سیکھنے والے، یا پھر جاہل گنوار۔ وه درمیان میں ہی معلق ڈگمگا رہے ہیں، نہ پورے ان کی طرف، نہ صحیح طور پر ان کی طرف اور جسے اللہ تعالیٰ گمراہی میں ڈال دے تو اس کے لئے کوئی راه نہ پائے گا۔ [النساء: ۱۴۳]
بلاشبہ کتاب اللہ اور سنت کی نصوص میں علم اور اہل علم کی فضیلت بیان کی گئی ہے، اور اسے سیکھنے اور حاصل کرنے کی رغبت دلائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو یہ شرف بخشا ہے کہ اسے ظلم اور جہالت والی امتوں سے ممتاز کرتے ہوئے بیک وقت علم وعمل کی امت بنایا ہے۔ اور اسلام نے اطرافِ عالم میں جو اپنی پہلی صدائے بازگشت بلند کی، اس کا مقصد علم اور علماء کی قدر ومنزلت کو اجاگر کرنا، اسے اونچا مقام عطا کرنا، اور افراد و اقوام کی تعمیر نیز امتوں اور معاشروں کی تشکیل میں پڑھنے اور لکھنے کو بنیاد کی پہلی اینٹ قرار دینا تھا۔
ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: «جو شخص علم کی تلاش میں کسی راہ پر چل پڑے، اللہ تعالیٰ اسے جنت کے راستوں میں سے ایک راستے پر چلا دیتا ہے۔ بے شک فرشتے طالب علم کے عمل سے خوش ہو کر اس کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں۔ یقیناً عالم کے لیے آسمانوں و زمین کی ساری مخلوقات اور پانی کے اندر کی مچھلیاں مغفرت طلب کرتی ہیں۔ اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے، جیسے چودھویں کی رات میں چاند کی فضیلت سارے ستاروں پر۔ بے شک علماء، انبیاء کے وارث ہیں اور انبیاء نے کسی کو دینار اور درہم کا وارث نہیں بنایا، انھوں نے علم کا وارث بنایا ہے۔ اس لیے جس نے اسے اختیار کر لیا، اس نے بھر پور حصہ حاصل کر لیا۔» [مسند احمد: (21715)، سنن ابو داود: (3641)، سنن ترمذی: (2682)، اور اس کی اصل صحیحین میں ہے]۔
اللہ کے بندو! علم ہی کے ذریعے عظمتیں تعمیر ہوتی ہیں، تہذیبیں استوار ہوتی ہیں، قومیں سرداری پاتی ہیں اور مملکتیں قائم ہوتی ہیں۔ بلکہ علم کے بغیر ایک مسلمان اللہ تعالیٰ کی شریعت کے موافق اس کی خالص بندگی بجا لانے کی استطاعت نہیں رکھتا، چہ جائیکہ وہ اپنی شخصیت کی اس طرح تعمیر کرے جیسا کہ اللہ سبحانہ نے چاہا ہے، یا اپنے معاشرے کو کوئی خیر پہنچائے، یا اپنی امت کے لیے عزت، عظمت اور نصرت کا باعث بنے۔
اورجب کبھی قوم میں جہالت پھیلی، اس نے اس کے ستونوں کو ڈھا دیا، اس کی عمارت میں دراڑیں ڈال دیں، اور اسے برائیوں اور ہلاکت خیز بھول بھلیوں میں ڈھکیل دیا۔
اور جو شخص علم کے بغیر کسی ایسی راہ پر چل پڑے جسے وہ اللہ تعالیٰ تک پہنچانے والا راستہ سمجھتا ہو؛ تو اس نے ایک دشوار راہ اختیار کی، اور ناممکن چیز کی طلب کی، کیوں کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی معرفت اور اس کی رضا تک پہنچنے کا اس علمِ نافع کے سوا کوئی راستہ نہیں، جس کے ساتھ اللہ نے اپنے رسولوں کو بھیجا، اور اپنی کتابیں نازل فرمائیں، لہذا وہی اس کا راہ نما ہے، اور اسی کے ذریعہ جہالت کی تاریکیوں، اور بگاڑ اور شکوک وشبہات میں رہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔
اور شرعی علم کتاب اللہ اور اس کے نبی ﷺ کی سنت کا علم ہے، اور یہ وہ سب سے بڑی بنیاد ہے جس پر دیگر تمام علوم استوار کیے جاتے ہیں۔
علمِ شرعی کے حاملین ہی انبیاء کے وارث اور میراثِ نبوت کے امین ہیں، اور جب وہ صحیح عقیدہ اور شرعی دلائل سے مزین علمِ شرعی کو اللہ سبحانہ کے لیے اخلاص اور علم و اہلِ علم کے آداب کے ساتھ یکجا کر لیتے ہیں، تو وہی ثقہ ائمہ اور ہدایت کے روشن مینار ہوتے ہیں۔ زمین میں ان کی مثال ان ستاروں کی سی ہے جن سے راہ نمائی حاصل کی جاتی ہے؛ ابو قلابہ اور ابو مسلم خولانی رحمہما اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "روئے زمین پر علما کی مثال آسمان میں ستاروں کی مانند ہے، جب وہ ان کے لیے ظاہر ہوتے ہیں تو وہ راستہ دیکھ لیتے ہیں، اور جب وہ ان سے اوجھل ہو جاتے ہیں تو وہ بھٹک جاتے ہیں۔"
حافظ ابن رجب رحمہ اللہ نے فرمایا: "یہ انتہائی مناسب مثال ہے؛ کیوں کہ توحید، اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کے احکام اور اس کے ثواب و عذاب کے راستے کا ادراک دلیل کے بغیر نہیں کیا جا سکتا، اور اللہ تعالیٰ نے ان تمام باتوں کو اپنی کتاب میں اور اپنے رسول ﷺ کی زبانی واضح فرما دیا ہے۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ پر جو کچھ نازل فرمایا ہے، اس کا علم رکھنے والے علماء ہی وہ راہ نما ہیں جن کے ذریعے جہالت، شبہات اور گمراہی کی تاریکیوں میں ہدایت پائی جاتی ہے، چنانچہ جب وہ نہ رہیں تو راستہ چلنے والا بھٹک جاتا ہے۔"
اللہ تعالیٰ اور اس کی شریعت کا علم رکھنے والے علماء ہی اللہ کی خشیت رکھنے والے ہیں، اس کی زمین میں اللہ کے گواہ ہیں، اور اس کی امت میں رسول ﷺ کے جانشین ہیں۔ چنانچہ جو بھی اللہ سے زیادہ واقف ہوگا وہ اس سے زیادہ خوف کھائےگا؛ کیوں کہ اس عظیم و کریم، صفاتِ کمال سے متصف اور اسمائے حسنیٰ سے موسوم ذات کی معرفت جتنی زیادہ مکمل ہوگی، اور اس کا علم جس قدر کامل ہوگا، اس کی خشیت اتنی ہی عظیم اور زیادہ ہوگی۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: "اس کے بندوں میں سے رحمٰن کو جاننے والا وہ ہے، جو اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائے، حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھے، اللہ کی وصیت کی حفاظت کرے، اور اس بات کا کامل یقین رکھے کہ وہ اس سے ملنے والا ہے، اور وہ اس کے عمل کا حساب لینے والا ہے۔"
خشیت وہ ہے جو بندے اور اللہ کی معصیت کے درمیان حائل ہو جاتی ہے، اور اسے اس کی اطاعت اور اس کی رضا کے حصول کی کوشش کی طرف بلاتی ہے، حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: "عالم؛ وہ ہے جو بن دیکھے رحمٰن سے ڈرے، اور اس چیز کی رغبت رکھے جس کی اللہ نے رغبت دلائی ہے، اور اس چیز سے بے رغبتی اختیار کرے جس میں اللہ کی ناراضگی ہے، پھر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان تلاوت کیا: ﴿...اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔ واقعی اللہ تعالیٰ زبردست بڑا بخشنے واﻻ ہے﴾؛ [فاطر: 28]".
یہی وہ حقیقی علم ہے جو اپنے حامل کو نفع پہنچاتا ہے؛ کیوں کہ علم محض معلومات اور حفظ کی کثرت کا نام نہیں، بلکہ علم تو کثرتِ خشیت کا نام ہے، گویا یہ ایک نور ہے جسے اللہ دل میں ڈال دیتا ہے۔
پرہیزگاری اور اطاعت کے بغیر علم اس چراغ کی مانند ہے جو اپنے نور سے گھر کو روشن کرتا ہے اور خود کو جلاتا ہے، اور علم محض باتیں جمع کرنے والے ایسے لوگوں کو کیا فائدہ دے گا جو اپنے گناہوں اور غلطیوں پر مصر رہتے ہیں، جو بات سنتے ہیں اور بہترین باتوں کی پیروی نہیں کرتے۔
عبداللہ بن وہب رحمہ اللہ نے سفیان رحمہ اللہ سے روایت کیا: "خضر نے موسیٰ علیہما السلام سے فرمایا: اے ابنِ عمران! علم اس لیے حاصل کرو کہ اس پر عمل کرو، اور اسے اس لیے حاصل نہ کرو کہ اسے بیان کرتے پھرو، ورنہ اس کا وبال تم پر ہوگا، اور اس کا نور دوسروں کے لیے ہوگا۔"
ابو درداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: "مجھے سب سے زیادہ ڈر اس بات کا ہے کہ جب میں اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہوں گا تو وہ فرمائے گا: تجھے علم تو تھا، پھر تو نے کیا عمل کیا؟"
اور منثور الحکم میں ہے: جس شخص نے اپنے علم پر عمل چھوڑ دیا، اس نے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا، کیوں کہ علم کا ثمرہ یہ ہے کہ اس پر عمل کیا جائے؛ چونکہ علم عمل کی دعوت دیتا ہے، اگر اس دعوت کو قبول کیا تو وہ باقی رہتا ہے ورنہ کوچ کر جاتا ہے۔
بہترین علم وہ ہے جو نفع بخش ثابت ہو، اور بہترین قول وہ ہے جو برائی سے باز رکھے۔ علم کا کمال اس پر عمل کرنا ہے، اور عمل کا کمال اسے کم تصور کرنا ہے۔ چنانچہ جو شخص اپنے علم پر عمل کرتا ہے وہ ہدایت سے محروم نہیں رہتا، اور جو اپنے عمل کو کم سمجھتا ہے وہ اپنے مقصود کے حصول میں پیچھے نہیں رہتا۔
یقیناً دل اس وقت شدتِ الم سے کٹ کر رہ جاتا ہے جب بعض ایسے لوگوں کو دیکھا جائے جنہوں نے شرعی علم کے دروازوں پر دستک تو دی لیکن اسے کوئی اہمیت نہ دی۔ انہوں نے علوم اور احکام تو بہت سیکھے، مگر ان کا کوئی اثر دکھائی نہیں دیتا۔
یقیناً انسان یہ سوال کرتا ہے کہ ان لوگوں کا شرعی علم کہاں گیا جنہوں نے نمازیں ضائع کر دیں، اور خواہشات کی پیروی کی؟! اور ان لوگوں کا شرعی علم کہاں ہے جنہوں نے (ٹخنے کے نیچے) کپڑے لٹکائے، داڑھیاں منڈوائیں، سودی لین دین کیا، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ترک کر دیا، اور گناہوں میں پڑ گئے، حالانکہ وہ یقینی طور پر جانتے ہیں کہ یہ تمام امور ایک مسلمان پر ممنوع اور حرام ہیں، ایسی صورت حال میں اللہ ہی سے مدد مانگی جاسکتی ہے۔
سلف کی ایک جماعت سے منقول ہے کہ وہ کتاب اللہ کی دس آیتوں سے آگے اس وقت تک نہیں بڑھا کرتے تھے، جب تک کہ ان میں موجود علم کو سیکھ نہ لیتے اور اس پر عمل نہ کر لیتے۔ بعض سلف نے فرمایا: "ہم علم کو یاد رکھنے کے لیے اس پر عمل کرنے سے مدد لیا کرتے تھے۔"
اس لیے علم پر عمل چھوڑ دینا اس کے اٹھ جانے اور بھول جانے کے قوی ترین اسباب میں سے ہے۔
علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "اے حاملینِ علم! اس پر عمل کرو، کیوں کہ عالم وہی ہے جو اپنے علم پر عمل کرے، اور اس کا عمل اس کے علم کے موافق ہو۔ عنقریب کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو علم حاصل کریں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، ان کا عمل ان کے علم کے خلاف ہوگا، اور ان کا باطن ان کے ظاہر کے خلاف ہوگا۔ وہ حلقوں میں بیٹھیں گے اور ایک دوسرے پر فخر کریں گے، یہاں تک کہ ایک شخص اپنے ہم نشین پر اس بات پر غصہ کرے گا کہ وہ اسے چھوڑ کر کسی اور کے پاس جا بیٹھا۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال ان کی ان مجالس سے اللہ عز وجل کی طرف بلند نہیں ہوتے"۔
بلاشبہ نبی مصطفیٰ ﷺ نے طلبہ علم اور جو کچھ انھوں نے سیکھا ہے اس سے فائدہ اٹھانے کے معاملے میں ان کے احوال کی ایک مثال بیان کی ہے؛ چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا: «اللہ نے مجھے جس علم و ہدایت کے ساتھ بھیجا ہے، اس کی مثال زبردست بارش کی سی ہے، جو زمین پر خوب برسی۔ چنانچہ زمین کا کچھ حصہ زرخیز تھا، سو اس نے پانی کو جذب کر لیا اور گھاس اور ہریالیاں اگائیں۔ جب کہ اس کا کچھ حصہ سخت تھا، جس نے پانی کو روک لیا اور اللہ نے اس سے لوگوں کو فائدہ پہنچایا۔ چنانچہ لوگوں نے وہاں کا پانی خود پیا، اپنے جانوروں کو پلایا اور کھیتوں کو سیراب کیا۔ اس کے مقابلے میں زمین کے ایک ایسے حصے پر بھی بارش ہوئی، جو چٹیل میدان ہے، جو نہ پانی روکتا ہے اور نہ گھاس اگاتا ہے۔ تو یہ اس شخص کی مثال ہے جو اللہ کے دین کی سمجھ حاصل کرے اور اس کو وہ چیز نفع دے جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں کہ وہ اسے سیکھے اور سکھائے اور اس شخص کی مثال ہے جس نے اس پر توجہ نہیں دی اور جو ہدایت دے کر میں بھیجا گیا ہوں اسے قبول نہیں کیا۔» [متفق عليه].
پھر جان لیجیے، اللہ آپ پر رحم فرمائے، کہ علم کی آفتوں اور اس کی برکت ختم ہونے کے اسباب میں سے یہ ہے کہ اس کے ذریعہ مخلوق پر سرداری طلب کی جائے، ان پر تکبر کیا جائے، اور طالب علم اپنے علم کے ذریعہ یہ ارادہ کرے کہ لوگ اس کے تابع ہو جائیں، اس کے مطیع ہو جائیں، اور لوگ اس کے گرویدہ ہو جائیں؛ وہ لوگوں کے سامنے علماء کے مقابلے میں اپنے علم کی بڑائی ظاہر کرے، تاکہ اس کے ذریعہ ان پر برتری حاصل کرے، اور اسی طرح کی دیگر باتیں، تو اس کا ٹھکانا آگ ہے - اللہ کی پناہ - چنانچہ نبی مصطفیٰ ﷺ نے فرمایا: «جو شخص علم اس لیے سیکھے کہ اس کے ذریعہ علما کا مقابلہ کرے، یا بے وقوفوں سے بحث کرے، یا اس کے ذریعہ لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لے، تو اللہ اسے جہنم میں داخل فرمائے گا»۔ [صحیح، سنن ترمذی : 2654، اور سنن ابن ماجہ: 253]۔
اور ابن ماجہ کی ایک روایت میں ہے: "علم اس لیے حاصل نہ کرو کہ علماء کے مقابلے میں فخر کا اظہار کرو، نہ اس لیے کہ کم عقل لوگوں سے بحث کرو، نہ اس لیے کہ مجلس میں ممتاز مقام حاصل کرو۔ جس نے ایسا کیا تو (اس کے لیے) آگ ہے، آگ ہے"۔
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "تم میں سے کسی کے علم کا نصیب محض یہ نہ ہو کہ لوگ اسے عالم کہیں، جس طرح اس پر لازم ہے کہ وہ حصولِ علم میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص سے کام لے، اس راہ میں اور اس کی مشقتوں پر صبر کرے اور ثابت قدم رہے، نیز ثمرہ حاصل کرنے میں جلد بازی سے بچے؛ کیوں کہ جلد بازی لغزش کا مقام ہوتی ہے، اور جو شخص اپنے وقت سے پہلے صدارت حاصل کر لیتا ہے، اللہ اسے اس کے وقت پر رسوا کر دیتا ہے۔"
اللہ میرے اور آپ کے لیے قرآنِ عظیم میں برکت عطا فرمائے، اور ہمیں اس میں موجود آیات اور ذکرِ حکیم سے نفع بخشے۔ میں اپنی یہ بات کہتا ہوں جو آپ سن رہے ہیں، اور میں اللہ سے مغفرت کا طلب گار ہوں، آپ بھی اس سے مغفرت طلب کریں اور اس کے حضور توبہ کریں؛ بے شک وہی بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔
دوسرے خطبے کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے سزاوار ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کے آل واصحاب پر کثرت سے درود وسلام نازل فرمائے۔
دوسرا خطبہ
اما بعد: اے لوگو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو، اس کا شکر ادا کرو اور اس کی اطاعت کرو، اسے نگہبان جانو اور اس کی نافرمانی نہ کرو؛ کیوں کہ تقویٰ ہی علم کی بنیاد اور فہم کی کنجی ہے۔ ۔۔۔اللہ تعالیٰ سے ڈرو، اللہ تمہیں تعلیم دے رہا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ [البقرة: 282]۔
اللہ کے بندو! اللہ تم پر رحم فرمائے، علم نافع سیکھو، اور اسے سکھاؤ، کیوں کہ جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے؛ بلاشبہ علم کا کچھ حصہ وہ ہے جو ہرمسلمان مرد وعورت پر واجب ہے، کوئی شخص اسے ترک نہیں کرسکتا؛ کیوں کہ اسے ترک کرنا اس کی زندگی اور اس کے دین میں خلل پیدا کرتا ہے؛ جیسے عقیدہ، طہارت، نماز، زکوٰۃ، روزہ، اور حج کے احکام، لہٰذا مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کے بارے میں سوال کرے، اور اپنے دین کے احکام کو سیکھے؛ کیوں کہ لاعلمی کا علاج سوال کرنا ہی ہے۔
اللہ کے بندو! دلوں پر یہ بات کس قدر شاق گزرتی ہے کہ لوگوں میں ایسا شخص دیکھا جائے جس کے بال سفید ہو چکے ہوں، اور ہڈیاں کمزور پڑ چکی ہوں، اور وہ بغیر بصیرت کے اللہ کی عبادت کر رہا ہو! بعض لوگ چالیس سال، یا بیس سال، یا اس سے کم یا زیادہ عرصہ تک نماز پڑھتے ہیں، جبکہ درحقیقت انہوں نے نماز پڑھی ہی نہیں ہوتی؛ کیوں کہ ان کی نماز کے ارکان ناقص ہوتے ہیں، یا شرائط اور واجبات میں خلل ہوتا ہے، اور اس کے باوجود وہ اس کے احکام سیکھنے کی کوشش نہیں کرتے، جبکہ اپنی دنیا کے لیے وہ حریص نظر آتے ہیں۔ یہ اس بات کی کافی دلیل ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ایسے شخص کے ساتھ بھلائی کا ارادہ نہیں فرمایا، خواہ اس نے دنیوی علوم حاصل کر لیے ہوں، اور ان میں گہری مہارت حاصل کر لی ہو؛ کیوں کہ یہ محض حصولِ معاش کے علوم ہیں، جو نہ تعریف کے مستحق ہیں اور نہ مذمت کے۔
اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا: وه تو (صرف) دنیوی زندگی کے ظاہر کو (ہی) جانتے ہیں اور آخرت سے تو بالکل ہی بے خبر ہیں۔ [الروم: ۷] اور فرمایا : بلکہ آخرت کے بارے میں ان کا علم ختم ہو چکا ہے ، بلکہ یہ اس کی طرف سے شک میں ہیں۔ بلکہ یہ اس سے اندھے ہیں۔ [النمل: ۶۶]
ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : "چنانچہ ان لوگوں کو صرف دنیا، اس کی کمائیوں، اس کے معاملات اور جو کچھ اس میں ہے، اسی کا علم ہے۔ تو یہ اس کے حصول اور اس کی کمائی کے طریقوں میں بڑے ماہر اور ذہین ہیں، البتہ وہ دین کے معاملات سے، اور ان چیزوں سے جو آخرت کے گھر میں انہیں نفع دیں، بالکل ہی غافل ہیں، گویا ان میں سے ہر ایک ایسا بے وقوف ہے جس کے پاس نہ کوئی ذہن ہے اور نہ کوئی فکر۔"
حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے : "اللہ کی قسم! ان میں سے کوئی شخص اپنی دنیا (کے معاملات) میں اس حد تک پہنچ جائے گا کہ وہ درہم کو اپنے ناخن پر پلٹے گا تو تمہیں اس کا وزن بتا دے گا، اور (حال یہ ہو گا کہ) اسے اچھی طرح نماز پڑھنی نہیں آتی ہو گی“۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: "اس سے مراد کفار ہیں؛ جو دنیا کی تعمیر وترقی سے تو واقف ہیں، اور دین کے معاملے میں جاہل ہیں۔"
پھر جان لیجیے، اللہ آپ پر رحم فرمائے کہ علم شرعی کی بقا اس کے حاملین کی بقا پر موقوف ہے، لہذا جب وہ رخصت ہو جائیں گے تو لوگ گمراہی میں پڑ جائیں گے؛ جس کے نتیجے میں علومِ شریعت کے بارے میں جہالت عام ہو جائے گی، اور یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے، اس لیے ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ علم حاصل کرنے کی کوشش کرے؛ سیکھنے، سکھانے اور اس پر عمل کرنے کے اعتبار سے۔
اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "علاماتِ قیامت میں سے علم کا اٹھا لیا جانا، جہالت کا ثابت ہونا، شراب پیا جانا اور زنا کا ظاہر ہونا بھی ہے۔" [متفق عليه]
اور علم کا اٹھا لیا جانا علماء کرام کی وفات سے ہی ہوتا ہے؛ کیوں کہ ان کا علم بھی ان کے ساتھ ہی ختم ہوجاتا ہے؛ چنانچہ عبدالله بن عمرو بن العاص - رضی الله عنہما - سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: «بے شک اللہ تعالیٰ علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ بندوں سے (یک بارگی) چھین کر ختم کردے، بلکہ علماء کو وفات دے کر علم کو اٹھائے گا، یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا، تو لوگ جاہلوں کو اپنا سردار بنالیں گے۔ پھر لوگ ان سے مسائل پوچھیں گے، تو وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے۔ سو وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔» [متفق عليه]
علم کو اٹھانے سے مراد علماء کی وفات، اور فضلاء و فقہاء کا اٹھ جانا ہے؛ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں آیا ہے: کیا وه نہیں دیکھتے؟ کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آرہے ہیں ، اللہ حکم کرتا ہے کوئی اس کے احکام پیچھے ڈالنے واﻻ نہیں، وه جلد حساب لینے واﻻ ہے۔ [الرعد: ۴۱] عطاء رحمہ اللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: "اس سے مراد علما کی موت، اور فضلا، زمین کے فقہا اور اس کے بہترین لوگوں کا رخصت ہو جانا ہے۔"
ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : "ہمیشہ کوئی نہ کوئی عالم وفات پاتا رہے گا، اور حق کا نشان مٹتا رہے گا، یہاں تک کہ جاہلوں کی کثرت ہو جائے گی، اور علم اٹھا لیا جائے گا۔"
لہٰذا اے مسلمانو! اللہ سے ڈرو۔ شرعی علم کی تعلیم حاصل کرنے کا اہتمام کرو، اس کے لیے سکینت اور وقار سیکھو، اس کے ذریعے اپنے اخلاق کو مہذب بناؤ، اور اس سے اپنے افعال اور اقوال کو درست کرو۔
پھر نبی کریم ﷺ پر درود و سلام بھیجیں جن پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو درود وسلام بھیجنے کا حکم دیا ہے، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو۔ [ الاحزاب : 56]۔
نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جو شخص مجھ پر ایک دفعہ درود پڑھتا ہے، اس کے بدلے اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے‘‘۔ [صحیح مسلم]۔
***
خطبے کا عنوان
صحابہ (رضی اللہ عنہم) کی فضیلت
پہلے خطبے کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد چاہتے ہیں اور اسی سے بخشش طلب کرتے ہیں، اور ہم اپنے نفس کی برائیوں اور اپنے اعمال کی خرابیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا، اور جسے وہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل واصحاب پر اور قیامت تک خیر وبھلائی کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں پر درود نازل فرمائے۔
پہلا خطبہ
اما بعد :
میں آپ کو اور خود کو اللہ عز وجل کے تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں، کیوں کہ اللہ کا تقویٰ تمام بھلائیوں کا مجموعہ ہے۔
اللہ کے بندو! اللہ تعالیٰ کی حکمت کا یہی تقاضا تھا کہ وہ انسانیت کی طرف اپنے رسولوں کو خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر مبعوث فرمائے اور ان کے ساتھ کتاب نازل فرمائے، چنانچہ ہر نبی اپنی قوم کو دعوت دیتا اور ان میں سے سچے مومنوں کو اپنا مددگار، وزیر، ساتھی اور حواری منتخب کرتا، جو ان کے ساتھ دعوت کی فکر اٹھاتے، ان کے ہمراہ جہاد کرتے اور ان تمام امور کو انجام دیتے جن کا رسالت کی مصلحت تقاضا کرتی۔
چنانچہ نوح علیہ السلام اور ان کے ساتھ ایمان لانے والے کشتی میں سوار ہوئے، اور موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بنی اسرائیل کے مخلص لوگ تھے، اور عیسیٰ علیہ السلام نے کہا ... کون ہے جو اللہ کی راه میں میرا مددگار بنے؟ حواریوں نے کہا ہم اللہ کی راه میں مددگار ہیں ... [آل عمران: ۵۲] ہمارے نبی محمد ﷺ کے لیے ایسے نیک اور بہترین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو چنا گیا، جو آپ ﷺ پر ایمان لائے، آپ کی پیروی کی، آپ کی تائید اور مدد کی، اور اپنی جان، مال اور وقت کو آپ ﷺ پر قربان کر دیا، چنانچہ وہ بہترین نبی ﷺ کے بہترین صحابہ ثابت ہوئے۔ بلاشبہ وہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں، یہ وہ عظیم نسل ہے جس کی نبی ﷺ نے تربیت کی اور بہترین تربیت کی، اس طرح وہ انبیاء اور رسل علیہم السلام کے بعد اس انسانیت میں سب سے افضل بن گئے۔ یقیناً ان میں خیر و بھلائی کے ایسے عوامل جمع ہو گئے تھے جو نہ ان سے پہلے کسی نسل میں جمع ہوئے اور نہ ہی ان کے بعد کسی نسل میں جمع ہوں گے، اگر آپ چاہیں تو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان پڑھ لیں: اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وه سب اس سے راضی ہوئے اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں ہمیشہ رہیں گے یہ بڑی کامیابی ہے۔ [التوبۃ: ۱۰۰] اس آیت میں اللہ تعالى نے صراحت فرمائی ہے کہ وہ مہاجرین اور انصار سے راضی ہے، اور اس نے ان کے لیے جنت تیار کی ہے، اور اللہ عز وجل کا فرمان ہے: یقیناً اللہ تعالیٰ مومنوں سے خوش ہوگیا جبکہ وه درخت تلے تجھ سے بیعت کر رہے تھے۔ ان کے دلوں میں جو تھا اسے اس نے معلوم کر لیا اور ان پر اطمینان نازل فرمایا اور انہیں قریب کی فتح عنایت فرمائی۔ اور بہت سی غنیمتیں جنہیں وه حاصل کریں گے اور اللہ غالب حکمت واﻻ ہے۔ [الفتح: ۱۸- ۱۹] یہ بیعت، بیعت رضوان ہے، اور یہ حدیبیہ میں ہوئی تھی، اور اس میں بیعت کرنے والے صحابہ کی تعداد ایک ہزار پانچ سو تھی، اور جس سے اللہ راضی ہو جائے اس کی موت کفر پر نہیں ہو سکتی، کیوں کہ اصل اعتبار اسلام پر وفات پانے کا ہے، اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "ان لوگوں میں سے جہنم میں کوئی داخل نہیں ہوگا جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کیا تھا۔" [اسے ابو داود (4653)، ترمذی (3860) اور احمد (14778) نے روایت کیا ہے اور البانی نے اسے صحیح کہا ہے]، ان کے علاوہ بھی بہت سی ایسی آیات وارد ہوئی ہیں جو اپنے نبی کے صحابہ کی تعریف اور تزکیہ کرتی ہیں اور ان سے رضامندی کا اظہار کرتی ہیں، اور رہی ان کی فضیلت سے متعلق احادیث تو وہ بکثرت اور متعدد ہیں، انہی میں سے اللہ کے نبی ﷺ کا یہ فرمان ہے: "سب سے اچھے لوگ میرے زمانے کے لوگ ہيں۔ پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے اور پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے"۔ [متفق علیہ]۔
برادرانِ اسلام ! یہ فضیلت صحابہ کرام کی جماعت کو ہر زمانے اور ہر جگہ کے مسلمانوں کے لیے ایک اعلیٰ نمونہ بنا دیتی ہے، چنانچہ وہ ان کی طرف دیکھتے ہیں، ان پر فخر کرتے ہیں، اور ان کی سیرت سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں، وہ متنوع سیرتیں جو امن و جنگ، عبادت ومجاہدے، معاملات اور ایثار و قربانی پر مشتمل ہیں، اور جو مختلف ادوار میں مسلمانوں کے لیے قابلِ اقتدا اور گوناگوں نمونے فراہم کرتی ہیں، ایک دوسری حدیث میں آپ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: ’’میرے صحابہ کو گالی نہ دو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم میں سے کوئی احد کے برابر بھی سونا خرچ کر دے، تو بھی ان کے ایک مد یا آدھا مد کو نہیں پہنچے گا۔‘‘ [متفق علیہ]، اور فرمایا: "ستارے آسمان کے امین ہیں، جب ستارے ختم ہوجائیں گے تو آسمان کے پاس وہ تمام چیزیں آئیں گی جن کا اس سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ اور میں صحابہ کا امین ہوں، جب میں چلا جاؤں گا تو صحابہ کے پاس وہ تمام چیزیں آئیں گی جن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ اور میرے صحابہ میری امت کے امین ہیں، جب میرے صحابہ چلے جائیں گے تو میری امت کے پاس وہ تمام چیزیں آئیں گی جن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔" [صحیح مسلم: 2531]۔
جی ہاں، اے نمازیو! یقیناً صحابہ کی فضیلت بہت بڑی اور عظیم ہے، ان کے عظیم مقام ومرتبہ، فضیلت اور قدر و منزلت کی وجہ سے، کیوں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی زیارت کی اور آپ ﷺ کا ساتھ دیا، اور وہ سب سے پہلے آپ ﷺ پر ایمان لائے اور آپ ﷺ کی تصدیق کی، اور وہ تمام لوگوں سے بڑھ کر آپ ﷺ سے محبت کرنے والے تھے۔ نیز ان بے شمار آزمائشوں اور معرکوں کی وجہ سے جن میں وہ آپ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں اور آپ ﷺ کے بعد شامل ہوئے۔ بلاشبہ نبی ﷺ نے دس سالوں میں پچیس معرکوں میں حصہ لیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر سال میں دو معرکے پیش آئے، یہ ان سرایا کے علاوہ ہے جو آپ ﷺ روانہ فرماتے تھے اور جن کی تعداد ایک سو سے زائد ہے۔ تو آپ خود تصور کر سکتے ہیں کہ ان معرکوں کی وجہ سے انہیں کس قدر مشقت اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑا اور ان میں کتنی بڑی تعداد میں جانوں کا نذرانہ پیش کیا گیا، مزید برآں، وہ اپنے آباء واجداد، بھائیوں اور اپنے خاندان والوں سے جنگ کر رہے تھے، اور انہوں نے اس دین کی راہ میں سخت ترین مصائب برداشت کیے، اور آلِ یاسر، بلال، صہیب اور خباب کے واقعات ہم سے کچھ دور نہیں، نیز اللہ کی راہ میں جہاد سے ان کی شدید محبت، اور اللہ عز وجل کی راہ میں بے حساب مال خرچ کرنے کی رغبت ہم سے مخفی نہیں۔
چنانچہ نبی ﷺ نے عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس جیش العسرہ میں مدد طلب کرنے کے لیے پیغام بھیجا، تو عثمان رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کی خدمت میں دس ہزار دینار بھیج دیے، جس پر نبی ﷺ نے فرمایا: «آج کے بعد عثمان جو بھی کریں، انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔» [سنن ترمذی: 3701، اس کی سند حسن ہے]۔
اس کے علاوہ بھی بہت سی صفات ہیں جنہیں ہم نے طوالت کے پیش نظر چھوڑ دیا ہے، جیسے: باہمی رحم دلی، کتاب وسنت کا علم، دنیا سے بے رغبتی، کثرتِ عبادت، اعلیٰ اخلاق، اور اللہ اور اس کے رسول کے احکام پر لبیک کہنا۔
مسلمانو! خبردار! اللہ سے ڈرتے رہو، اور اپنے نبی اور ان کے معزز ونیکوکار صحابہ کرام کی قدر پہچانو، میں شیطانِ مردود کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ لیکن خود رسول اللہ اور اس کے ساتھ کے ایمان والے اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرتے ہیں، یہی لوگ بھلائیوں والے ہیں اور یہی لوگ کامیابی حاصل کرنے والے ہیں۔ ان کے لئے اللہ نے وه جنتیں تیار کی ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں جن میں یہ ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ [التوبۃ: 88-89]
میں اپنی یہ بات کہتا ہوں اور اللہ سے اپنے اور آپ کے لیے مغفرت کا طلب گار ہوں۔
دوسرے خطبے کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، ایسی بہت زیادہ تعریف، جو پاکیزہ ہو، بابرکت ہو، اور ہمارے رب کے جلال اور اس کی عظیم سلطنت کے لائق ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کے آل واصحاب پر اور قیامت تک ان کی ہدایت کی پیروی کرنے والوں پر درود وسلام اور برکتیں نازل فرمائے۔
دوسرا خطبہ
اما بعد: اگر عام مومنوں کے درمیان آپسی محبت مشروع ہے، تو اس پاک اور پاکیزہ نسل کے ساتھ اس کا ہونا کہیں زیادہ ضروری اور اہم ہے۔
بےشک صحابہ رضی اللہ عنہم سے محبت، ایمان کی دلیل ہے، اور ان سے بغض رکھنا نفاق کی علامت۔ چنانچہ براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "انصار سے صرف مومن ہی محبت رکھے گا اور ان سے صرف منافق ہی بغض رکھے گا۔ تو جو شخص ان سے محبت کرے گا، اس سے اللہ محبت کرے گا اور جو اُن سے بغض رکھے گا، اس سے اللہ تعالیٰ بغض رکھے گا۔" [متفق علیہ]، اور ان کے حقوق میں سے یہ ہے کہ انہوں نے جو بھلائی اور احسان کیا ہے اس کی وجہ سے زبان سے ان کی تعریف کرنا، ان کے لیے دعا کرنا اور ان کا نام آنے پر ان کے لئے رضاے الہی کی دعا کرنا یعنی رضی اللہ عنہم کہنا مشروع ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے ایسی آیات میں رضا مندی کا اظہار فرمایا ہے جو قیامت تک تلاوت کی جاتی رہیں گی۔ اور (ان کے لیے) جو ان کے بعد آئیں جو کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان ﻻچکے ہیں اور ایمان داروں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ (اور دشمنی) نہ ڈال ، اے ہمارے رب بے شک تو شفقت ومہربانی کرنے واﻻ ہے۔ [الحشر: 10] اسی طرح ان میں سے بعض سے جو اجتہادات رونما ہوئے ان سے چشم پوشی کرنا بھی انتہائی ضروری ہے، جن کا مقصد دین کی نصرت اور ملت کی حفاظت کرنا تھا، اور ان کی غلطیاں ان کی نیکیوں کے سمندر میں غرق ہیں۔ ان کی پاکیزہ سیرت امت کے لیے ایک سبق ہے جس کی پیروی کرنا، اسے عام کرنا، اور اپنی اولاد اور آنے والی نسلوں کو اس کی تعلیم دینا امت پر لازم ہے۔
اسلاف کرام اپنی اولاد کو صحابہ کرام کی محبت اور ان کی سیرت کی تعلیم دیتے تھے، امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: "وہ ہمیں ابو بکر و عمر کی محبت یوں سکھاتے تھے جیسے وہ ہمیں قرآن کی سورت سکھاتے تھے"۔
اس کے بعد درود و سلام بھیجیں...
***
خطبے کا عنوان
دل اور بدن کی صفائی
پہلے خطبے کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد چاہتے ہیں اور اسی سے بخشش طلب کرتے ہیں، ہم اپنے نفس کی برائیوں اور اپنے اعمال کی خرابیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا، اور جسے وہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل اور اصحاب پر ڈھیروں درود و سلام نازل فرمائے۔
پہلا خطبہ
اما بعد:
اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے؛ کیوں کہ جو کچھ تم پوشیدہ رکھتے ہو اس میں سب سے معزز، اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اس میں سب سےخوبصورت چیز تقوی ہے۔
مسلمانو!
دینِ اسلام خوب صورتی اور کمال کا دین ہے، اس نے دل اور جسم کی طہارت کا حکم دیا ہے، ۔۔۔اللہ تعالیٰ تم پر کسی قسم کی تنگی ڈالنا نہیں چاہتا بلکہ اس کا اراده تمہیں پاک کرنے کا اور تمہیں اپنی بھرپور نعمت دینے کا ہے، تاکہ تم شکر ادا کرتے رہو۔ [ المائدۃ: 6]۔ اور عبادت گاہوں کو شرک اور گندگی سے پاک کرنے کا حکم دیا: ... اور میرے گھر کو طواف قیام رکوع سجده کرنے والوں کے لئے پاک صاف رکھنا۔ [الحج: 26]
اور اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو دلوں کی پاکیزگی سے متصف فرمایا؛ چنانچہ ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کے بارے میں ارشاد فرمایا: جبکہ اپنے رب کے پاس بے عیب دل ﻻئے۔ [ الصافات: 84]
اور ہمارے نبی محمد ﷺ کو ان کے بچپن میں سینوں کی بیماریوں سے محفوظ رکھا؛ انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "نبی ﷺ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے کہ جبریل علیہ السلام آپ کے پاس آئے، آپ کو پکڑ کر لٹا دیا، پھر آپ کے سینے کو چیرا، دل کو نکالا اور اس سے جمے ہوئے خون کا ایک ٹکڑا نکالنے کے بعد کہا: یہ آپ کے اندر شیطان کا حصہ تھا۔ پھر سونے کی طشت میں دل کو رکھ کر زمزم کے پانی سے دھویا، پھر اسے ملا دیا اور پھر اسے اس کی جگہ پر دوبارہ رکھ دیا۔" [صحیح مسلم : 162]۔
اور جب آپ کو مبعوث کیا گیا تو اللہ تعالی نے آپ کو اپنے قلب کی سلامتی کی حفاظت کرنے کا حکم دیا، چنانچہ آپ سے فرمایا: اپنے کپڑوں کو پاک رکھا کر۔ [المدثر: 4]
سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "اور اپنے دل اور اپنی نیت کو پاک رکھ"، چنانچہ اللہ کے نبی ﷺ جو دعائيں کیا کرتے تھے ان میں سے ایک دعا یہ بھی ہے : "اے اللہ! مجھے خطاؤں سے اس طرح صاف کر دے جس طرح سفید کپڑا میل سے صاف کیا جاتا ہے، اے اللہ! میری خطاؤں کو پانی، برف اور اولے سے دھو دے"۔ [متفق عليه]
اور جب اللہ تعالی نے آپ ﷺ کو اسرا و معراج کے شرف سے نوازنے کا ارادہ فرمایا تو آپ کے دل کو ایک بار پھر دھویا؛ کیوں کہ اللہ سبحانہ و تعالی کا قرب صرف وہی پا سکتا ہے جس کا سینہ صاف ہو، چنانچہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے: «جبریل علیہ السلام نازل ہوئے، تو انہوں نے میرا سینہ کھولا (یعنی اسے چاک کیا)، پھر اسے آبِ زمزم سے دھویا، پھر وہ سونے کا ایک طشت لائے جو حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا، پھر اسے میرے سینے میں انڈیل دیا، پھر اسے بند کر دیا، پھر انھوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے آسمان کی طرف لے گئے۔» [متفق عليه]
اہل قباء کے تقویٰ اور کمالِ طہارت کی پابندی پر ان کی تعریف کی؛ اللہ سبحانہ نے فرمایا: ۔۔۔البتہ جس مسجد کی بنیاد اول دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے وه اس ﻻئق ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوں، اس میں ایسے آدمی ہیں کہ وه خوب پاک ہونے کو پسند کرتے ہیں۔۔۔۔ [التوبة: 108]
اور طہارت نصف ایمان ہے، اور جو طہارت اختیار کرے اللہ اس سے محبت کرتا ہے؛ ۔۔۔اللہ توبہ کرنے والوں کو اور پاک رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ [ البقرہ : ۲۲۲]۔
نماز کی کلید طہارت ہے، اور نمازی اپنی نماز میں اس وقت تک داخل نہیں ہوتا جب تک کہ وہ طہارت حاصل نہ کر لے۔
اللہ سبحانہ و تعالی نے جنت میں داخلہ کو پاکیزگی اور طہارت پر موقوف کر دیا ہے، چنانچہ اس میں صرف پاک اور طاہر شخص ہی داخل ہو گا؛ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ۔۔۔تم پر سلام ہو، تم خوش حال رہو تم اس میں ہمیشہ کے لیے چلے جاؤ۔ [الزمر: ۷۳] تو جو شخص دنیا میں پاکیزگی اختیار کرے اور اللہ سے اس حال میں ملے کہ وہ پاک ہو، تو وہ جنت میں داخل ہوگا، اور جو شخص دنیا میں پاکیزگی اختیار نہ کرے، اگر اس کی طہارت کافر کی طرح معدوم ہو، تو وہ کسی حال میں جنت میں داخل نہیں ہوگا، اور اگر اس کی نجاست کسبی اور عارضی ہو اور اللہ اسے عذاب دینا چاہے، تو وہ جہنم میں اس نجاست سے پاک ہونے اور پھر وہاں سے نکلنے کے بعد جنت میں داخل ہوگا۔
اہل ایمان جب پل صراط سے گزر جائیں گے، تو انہیں جنت اور جہنم کے درمیان ایک پل (قنطرہ) پر روک لیا جائے گا، اور انہیں ان باقیات سے پاک اور صاف کیا جائے گا جو ان کے ذمے رہ گئی تھیں، جن کے باعث وہ جنت تک پہنچنے سے قاصر رہے اور جو انہیں جہنم میں داخل کرنے کی موجب نہیں بنی تھیں۔
اور دل کی طہارت دخول جنت کی شرط ہے؛ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جس دن کہ مال اور اوﻻد کچھ کام نہ آئے گی۔ لیکن فائده واﻻ وہی ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے سامنے بے عیب دل لے کر جائے. [الشعراء: 88-89]۔
ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "خواہشات اور ریاکاری کی گندگیوں سے آلودہ دل کبھی بھی رحمٰن کا قرب نہیں پا سکتا۔"
جس طرح ظاہر کی زینت ہوتی ہے اسی طرح باطن کی بھی زینت ہوتی ہے، اور اللہ کے نبی ﷺ جو دعائيں کیا کرتے تھے ان میں سے ایک دعا یہ بھی ہے : «اے اللہ! ہمیں ایمان کی زینت سے آراستہ فرما» [سنن نسائی: ١٣٠٥، مسند احمد: ١٨٣٥١، اور البانی نے اسے صحیح کہا ہے]
دل بھی جسموں کی مانند ہیں؛ ان میں سے کچھ صحیح سالم اور کچھ بیمار ہوتے ہیں، اور ان میں سے کچھ زندہ اور کچھ مردہ ہوتے ہیں، جب دل آلائشوں سے پاک صاف ہو جاتا ہے تو رحمت اور خیر وبھلائی سے بھر جاتا ہے، چنانچہ اسلام نے ہر اس چیز کا اہتمام کیا ہے جس سے دل کی اصلاح ہوتی ہے، اور اسے فاسد کرنے والی تمام چیزوں سے منع کیا ہے، اور اس کی سب سے عمدہ صحت توحید یعنی اعمال کو اللہ وحدہ کے لئے خالص کرنے میں ہے، جبکہ دل کی خرابی اور اس کی موت اللہ کے ساتھ شرک کرنے میں ہے؛ اللہ عز وجل کا ارشاد ہے: ۔۔۔بے شک مشرک بالکل ہی ناپاک ہیں۔۔۔ [التوبۃ: ۲۸]
اور انہیں رسوائی اور عبرت ناک سزا کی وعید سنائی ہے؛ چنانچہ فرمایا: ۔۔۔یہی وه لوگ ہیں جن کے دلوں کو پاک کرنا اللہ کو منظور نہیں، ان کے لئے دنیا میں بھی بڑی ذلت اور رسوائی ہے اور آخرت میں بھی ان کے لئے بڑی سخت سزا ہے۔ [المائدۃ: ۴۱]
اور منافقین کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ۔۔۔بے شک وه لوگ بالکل گندے ہیں۔۔۔ [التوبۃ: 95]۔ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یعنی وہ خبیث ہیں، ان کے باطن اور ظاہر نجس ہیں۔"
اور حسد و کینہ دلوں کی بیماری ہے، اگر دعاء اور سینے کی سلامتی کے ذریعے اس کا تدارک نہ کیا جائے تو اس سے دل تاریک ہو جاتا ہے؛ آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا: "ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، نہ حسد کرو، نہ منہ پھیرو، اور اللہ کے بھائی بندے بن کر رہو۔" [متفق علیہ]۔
ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا، تو آپ ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : ’’ابھی تمھارے سامنے ایک جنتی شخص آئے گا۔‘‘
اور جب ان سے ان کے عمل کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: «بے شک میں اپنے دل میں کسی مسلمان کے لیے کوئی کھوٹ نہیں پاتا، اور نہ میں کسی شخص سے اس خیر پر حسد کرتا ہوں جو اللہ نے اسے عطا فرمائی ہے۔» [نسائی، السنن الكبرى: 10699، مسند احمد : 12697، منذری، ابن کثیر اور ارناؤوط نے اسے صحیح کہا ہے]
ایمان والوں کی دعاؤں میں سے ایک دعا یہ بھی ہے : ۔۔۔اور ایمان داروں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ (اور دشمنی) نہ ڈال۔۔۔ [الحشر: ۱۰]
ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "میں نے ابن تیمیہ سے بڑھ کر کسی کو عفو ودرگزر اور سلامتیِ صدر کی خصلتوں کا جامع نہیں دیکھا"۔
اور دل انتہائی پاک صاف، بڑی سرعت سے متاثر ہونے والا ہوتا ہے، ادنیٰ سی نافرمانی بھی اسے متاثر کرتی ہے؛ آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: "بےشک جب بندہ کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے، پھر اگر وہ باز آ جاتا ہے، استغفار اور توبہ کر لیتا ہے تو اس کا دل صاف کر دیا جاتا ہے، اور اگر وہ دوبارہ گناہ کرتا ہے تو اس میں اضافہ کر دیا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ اس کے دل پر چھا جاتا ہے، اور یہی وہ 'ران' (زنگ) ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:(ہرگز نہیں! بلکہ ان کے اعمال کی وجہ سے ان کے دلوں پر زنگ لگ گیا ہے) [المطففين: 14] ۔" [اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔]
بندے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر دن اور رات میں اپنے دل کو دھوئے، اور اسے صاف کرنے والی چیزوں میں سے فرض نمازیں بھی ہیں؛ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ”تمھارا کیا خیال ہے، اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر کوئی نہر جاری ہو جس میں وہ ہر دن پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو، تو کیا اس کے بدن پر کوئی میل کچیل باقی رہے گا؟“ صحابہ کرام نے عرض کیا: کچھ بھی میل کچیل باقی نہیں رہے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہی پانچوں نمازوں کی مثال ہے، اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے خطاؤں کو مٹا دیتا ہے۔“ [متفق عليه]۔
جس نے طہارت حاصل کرنے کے بعد نماز ادا کی، تو یہ جنت میں داخل ہونے کا سبب بنے گا؛ آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا: "جو بھی مسلمان وضو کرتا ہے اور وہ اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر کھڑے ہو کر پوری یکسوئی اور توجہ کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھتا ہے تو اس کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے" [متفق علیہ]۔
وضو دلوں اور اعضاء کا علاج ہے، آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا: "جب مسلمان بندہ یا مومن وضو کرتا ہے اور منہ دھوتا ہے تو اس کے منہ سے وہ سب گناہ نکل جاتے ہیں جو اس نے آنکھوں سے کیا تھا، پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ، پھر جب ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں میں سے ہر ایک گناہ جو ہاتھ سے کیا تھا پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ نکل جاتا ہے، پھر جب پاؤں دھوتا ہے تو ہر ایک گناہ جس کو اس نے پاؤں سے چل کر کیا تھا، پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ نکل جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ تمام گناہوں سے پاک صاف ہو کر نکلتا ہے۔‘‘ [متفق عليه]۔
جس نے اپنے وضو کے ساتھ کلمۂ توحید کا اضافہ کیا، اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئے جاتے ہیں؛ آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا: ”تم میں سے جو کوئی بھی اچھی طرح وضو کرنے کے بعد یہ دعا پڑھتا ہے: (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں) اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں؛ جس میں سے چاہے داخل ہوجائے۔“ [صحیح مسلم: 234]
اور زکوٰۃ دل کو پاک اور منور کرتی ہے؛ اللہ سبحانہ نے ارشاد فرمایا: آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لیجئے، جس کے ذریعہ سے آپ ان کو پاک صاف کردیں... [التوبۃ : 103]۔
اور رب العالمین کا کلام جسم اور دل کی بیماریوں کے لئے شفاء ہے، جیسا کہ اللہ عز وجل نے فرمایا: یہ قرآن جو ہم نازل کر رہے ہیں مومنوں کے لئے تو سراسر شفا اور رحمت ہے... [الإسراء: 82]۔
اور مسلمانوں کی جماعت کو لازم پکڑنا اور خیرخواہی دلوں کی اصلاح کے اسباب میں سے ہیں، جیسا کہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا: "تین چیزیں ہیں کہ ان کے بارے میں کسی مسلمان کا دل راہ راست سے بھٹکتا نہیں ہے: اللہ کے لیے عمل کو خالص کرنا، ائمہ مسلمین کے تئیں خیر خواہی کرنا اور ان کی جماعت کو لازم پکڑنا۔‘‘ [سنن ترمذی : 2658، اور طبرانی، المعجم الأوسط : 5179، اور امام البانی نے اسے صحیح کہا ہے]
اور حجاب؛ طہارت اور پاک دامنی ہے؛ اللہ سبحانہ ارشاد فرماتا ہے: ۔۔۔اور جب تم نبی کی بیویوں سے کوئی چیز طلب کرو تو پردے کے پیچھے سے طلب کرو۔ تمہارے اور ان کے دلوں کے لئے کامل پاکیزگی یہی ہے۔۔۔ [ الاحزاب : 53]۔
نیک لوگوں کی ہم نشینی اور زبان کی حفاظت دل کی صفائی ہے، اور فتنوں سے دوری اس کے لیے پاکیزگی ہے؛ آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا: «فتنے دلوں پر چٹائی کے ایک ایک تنکے کی مانند پیش ہوتے ہیں، چنانچہ جس دل میں یہ فتنے جاگزیں ہو جائیں، اس میں ایک سیاہ نکتہ پڑ جاتا ہے اور جس دل نے ان کو ٹھکرا دیا، اس میں ایک سفید نکتہ پڑ جاتا ہے» [صحیح مسلم: 144]۔
اور ظاہری طہارت باطنی طہارت کی تکمیل ہے، چنانچہ اسلام نے انسان کی پیدائش سے لے کر اس کی وفات تک اس کے بدن کی طہارت کا خاص اہتمام کیا؛ جب وہ پیدا ہوتا ہے تو اس کا ختنہ کیا جاتا ہے اور سر مونڈا جاتا ہے، اور جب وہ وفات پا جاتا ہے تو اسے غسل دیا جاتا ہے اور بہترین انداز میں کفن پہنا کر خوشبو لگائی جاتی ہے۔
نبی علیہ الصلوۃ والسلام خوشبو پسند کرتے تھے اور آپ کے سر کی مانگ سے مشک کی خوشبو کی چمک بہتی ہوئی دیکھی جاتی تھی، اور آپ ہر وضو اور نماز کے وقت، گھر میں داخل ہوتے وقت اور جب نیند سے بیدار ہوتے تو مسواک کیا کرتے تھے۔
(شریعت نے)ان باتوں کا حکم دیا جو فطرت میں سے ہیں: مونچھیں کاٹنا، داڑھی بڑھانا، مسواک کرنا، ناک میں پانی چڑھانا، ناخن تراشنا، انگلیوں کے جوڑوں كو دھونا، بغل کے بال اکھیڑنا، زیر ناف بال مونڈنا، پانی سے استنجاء کرنا اور ختنہ کرنا، اور مونچھ تراشنے، ناخن کاٹنے، بغل کے بال اکھاڑنے اور موئے زیر ناف مونڈنے کا وقت مقرر کردیا کہ انھیں چالیس دنوں سے زیادہ نہ چھوڑا جائے۔
اور ہر مسلمان کو حکم دیا ہے کہ وہ ہر ہفتے غسل کرے؛ چنانچہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا: "ہر مسلمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ ہر سات دن میں ایک دن غسل کرے، جس میں وہ اپنے سر اور جسم کو دھوئے۔" [متفق عليه].
اور آپ علیہ الصلاۃ والسلام کو جب چھینک آتی تھی تو اپنا ہاتھ یا اپنا کپڑا منہ پر رکھ لیتے اور چھینکتے وقت اپنی آواز کو ہلکی یا پست کرتے۔ [سنن أبی داود: ۵۰۲۹، جامع ترمذي: ۲۷۴۵، مسند أحمد: ۹۶۶۲، اور اسے البانی نے صحیح کہا ہے]
نیز مسلمانوں کے راستوں سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کا حکم دیا، اور فرمایا: ”میری امت کے اچھے اور برے اعمال میرے سامنے پیش کیے گئے، تو میں نے ان کے اچھے اعمال میں سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا بھی پایا...“ [صحیح مسلم: 553]۔
اور آپ ﷺ نے قضائے حاجت کے بعد طہارت کا طریقہ بیان فرمایا، نیز یہ کہ کن چیزوں سے استنجا کیا جائے اور پتھروں کی تعداد کیا ہو؛ چنانچہ آپ ﷺ نے دائیں ہاتھ سے استنجا کرنے سے منع فرمایا، گوبر اور ہڈیوں سے استجمار کرنے سے منع فرمایا، اور اس بات سے بھی منع فرمایا کہ تین سے کم پتھروں سے استجمار کیا جائے۔
آپ ﷺ نے ہر اس عمل سے منع فرمایا جو صفائی ستھرائی یا اس کے کمال کے منافی ہو؛ چنانچہ آپ ﷺ نے پینے کے دوران برتن میں سانس لینے سے منع فرمایا، کھانے میں پھونک مارنے سے منع فرمایا، اور مشکیزے یا پانی کے برتن کے منہ سے پینے سے منع فرمایا؛ کیوں کہ یہ اسے بدبودار کر دیتا ہے۔
اور جب سونے والا نیند سے جاگے، تو اپنے ہاتھ کو برتن میں اس وقت تک نہ ڈبوئے، جب تک اسے تین بار نہ دھو لے۔ اور جب کتا برتن میں منہ ڈال دے، تو اسے سات بار دھونے کا حکم دیا، جن میں سے پہلی بار مٹی سے ہو۔ اور موزوں پر مسح کے لیے مقیم کے لیے ایک دن اور مسافر کے لیے تین دن کا وقت مقرر کیا، تاکہ پانی سے پاؤں دھونے میں تاخیر نہ ہو؛ بلکہ جس نے اپنا پورا پاؤں نہ دھویا، اسے آگ کی وعید سنائی؛ چنانچہ فرمایا: "ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔" [متفق علیہ]۔
اور ہر ایسی چیز سے سختی سے منع فرمایا جس میں تکلیف دہ بدبو ہو، چنانچہ فرمایا: ’’جس نے لہسن یا پیاز کھایا ہو، وہ ہم سے دور رہے، یا ہماری مسجد سے دور رہے اور اپنے گھر میں بیٹھا رہے۔‘‘ [متفق علیہ]۔
شراب کی نجاست اور اس کے نشہ آور ہونے کی وجہ سے، اسے پینے والے کو یہ وعید سنائی گئی ہے کہ اس کی نماز چالیس دن تک قبول نہیں کی جائے گی۔
آپ ﷺ نے لوگوں کے راستے یا ان کے سائے میں قضائے حاجت کرنے اور مسجدوں میں تھوکنے سے منع فرمایا، اور انہیں پاک صاف رکھنے کی ترغیب دی نیز ایسا کرنے والے کی قدر و منزلت بیان فرمائی؛ چنانچہ ایک سیاہ فام عورت یا کوئی مرد مسجد میں جھاڑو دیا کرتا تھا۔ آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے اسے گم پایا تو اس کے بارے میں پوچھا۔ لوگوں نے بتلایا کہ وہ تو فوت ہو گیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تم نے مجھے اس کی اطلاع کیوں نہ دی؟ گویا لوگوں نے اس (کی وفات) کے معاملے کو حقیر سمجھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے اس کی قبر بتلاؤ! چنانچہ لوگوں نے آپ کو اس کی قبر بتلائی تو آپ نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھی۔" [متفق عليه]۔
لباس اور دلوں کے درمیان ظاہری اور باطنی مناسبت پائی جاتی ہے، اور یہ دونوں ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ چنانچہ ریشم، سونا اور درندوں کی کھالیں پہننے، نیز اسبال (ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانے) سے منع کیا گیا ہے؛ کیوں کہ یہ چیزیں دل پر ایسی ہیئت و کیفیت طاری کرتی ہیں جو بندگی اور خشوع کے منافی ہے۔
اے مسلمانو!
دینِ اسلام سے زیادہ مکمل اور عظیم تر کوئی دین نہیں، اور بندے کے لیے اس کے سوا اس سے زیادہ پاکیزہ اور طاہر کرنے والا کوئی اور دین نہیں، اور خوش نصیب وہ ہے جس نے اپنے دل‘ اعضاء‘ زبان اور ظاہر کو ان تمام چیزوں سے پاک رکھا جن سے اس کا رب ناراض ہوتا ہے، اور انہیں ان کاموں میں استعمال کیا جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور جن سے خوش ہوتا ہے، اور اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کیا۔
میں شیطان مردود کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں: اے آدم (علیہ السلام) کی اوﻻد ہم نے تمہارے لئے لباس پیدا کیا جو تمہاری شرم گاہوں کو بھی چھپاتا ہے اور موجب زینت بھی ہے اور تقوے کا لباس، یہ اس سے بڑھ کر ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ یہ لوگ یاد رکھیں۔ [الأعراف: ۲۶]
اللہ میرے اور آپ کے لیے قرآنِ عظیم میں برکت عطا فرمائے، اور مجھے اور آپ کو اس میں موجود آیات اور ذکرِ حکیم سے نفع پہنچائے۔ میں اپنی یہ بات کہتا ہوں اور اپنے لیے، آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے ہر گناہ سے اللہ کی مغفرت کا خواستگار ہوں، لہذا آپ بھی اسی سے مغفرت طلب کریں، بے شک وہی بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔
دوسرے خطبے کا مقدمہ
سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اس کے احسان پر اور اس کا شکر ہے اس کی توفیق اور انعام پر۔ اس کی شان کی تعظیم کرتے ہوئے میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل واصحاب پر ڈھیروں درود وسلام نازل فرمائے۔
دوسرا خطبہ
اما بعد، مسلمانو!
دینِ اسلام ایک عظیم دین ہے، جو دن میں کئی بار کان کے اندرونی اور بیرونی حصوں کا مسح کرنے کا حکم دیتا ہے، اور پیشاب کا ایک قطرہ وضو توڑ دیتا ہے، اور کفر کا ایک کلمہ یا کوئی ایسا عمل جو اسلام کے منافی ہو، انسان کو دائرۂ دین سے خارج کر دیتا ہے۔
بندے کا ایمان اس وقت تک ٹھیک نہیں ہوتا جب تک اس کا دل ٹھیک نہ ہوجائے اور اس کا دل اس وقت ٹھیک نہیں ہوتا جب تک اس کی زبان ٹھیک نہ ہو جائے، اور بے عیب دل وہ ہے جو شرک، کینہ، بغض، حسد، بخل، تکبر اور دنیا کی محبت سے پاک ہو، اور ہر ایسی خواہش سے پاک ہو جو اللہ کے حکم کے خلاف ہو، اور ہر ایسے شبہ سے پاک ہو جو اس کی خبر کے مخالف ہو، اور بندہ جن چیزوں کے ذریعے اپنی زندگی کو پاک کرتا ہے ان میں سب سے اہم اس کی زبان اور اس کے مال کا حرام چیزوں اور شبہات سے پاک ہونا ہے۔
پھر جان لو کہ اللہ نے تمہیں اپنے نبی ﷺ پر درود و سلام بھیجنے کا حکم دیا ہے، چنانچہ قرآنِ محکم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو۔ [ الاحزاب : 56]۔
اے اللہ! ہمارے نبی محمد ﷺ پر درود و سلام نازل فرما۔
***
خطبے کا عنوان
فطری سنتیں
پہلے خطبے کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے سزاوار ہیں، جس نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا، اسے انعام و اکرام سے نوازا، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں: ۔۔۔ہر چیز خواه وه آسمانوں میں ہو خواه زمین میں ہو، اس کی پاکی بیان کرتی ہے، اور وہی غالب حکمت واﻻ ہے۔ [الحشر:24]۔
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: اور بے شک تو بہت بڑے (عمده) اخلاق پر ہے۔ (القلم: 4)۔
اللہ تعالیٰ آپ پر، آپ کی آل اور اصحاب پر جنہوں نے آپ کے پرچم تلے جہاد کیا، آپ کی سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھا اور صراطِ مستقیم پر گامزن رہے، ڈھیروں درود وسلام نازل فرمائے۔
پہلا خطبہ
امابعد!
لوگو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو، اور اپنے نبی کی سنت پر عمل کرو، جیسا کہ اللہ نے تمہیں اس کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: ۔۔۔اور تمہیں جو کچھ رسول دے لے لو، اور جس سے روکے رک جاؤ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو، یقیناً اللہ تعالیٰ سخت عذاب واﻻ ہے۔ الحشر: 7
خبردار! نبی کریم ﷺ کی سنت میں سے یہ بھی ہے کہ انسان ان امور کو اختیار کرے جو خصالِ فطرت میں شمار ہوتے ہیں۔ ان پر عمل کرنے سے انسان کی شخصیت میں خوبصورتی، پاکیزگی اور ظاہری حسن پیدا ہوتا ہے، نیز کافروں اور فاسقوں جیسے عیوب و نقائص رکھنے والوں کی مخالفت ہوتی ہے اور درندوں، چوپایوں اور دیگر حیوانات کی مشابہت سے اجتناب ہوتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "پانچ چیزیں فطرت میں سے ہیں: زير ناف بال مونڈنا، ختنہ کرنا، مونچھيں چھوٹی کرنا، بغل کے بال اکھیڑنا اور ناخن تراشنا“۔ [متفق عليه].
حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جس نے ان پانچ خصلتوں کو اپنایا، تو وہ اس فطرت سے متصف ہو گیا جس پر اللہ نے بندوں کو پیدا فرمایا ہے اور انھیں ان پر عمل کرنے کی ترغیب دی ہے، کیوں کہ ان میں ظاہری خوبصورتی، عمدہ ہیئت اور جسم کی صفائی ستھرائی ہے۔
اور فطرت سے مراد وہ قدیم سنت ہے جسے انبیاء نے اختیار کیا، اور جس پر تمام شریعتیں متفق ہیں۔
1- ان خصالِ فطرت میں پہلی خصلت استحداد ہے، یعنی زیرِ ناف بالوں کو مونڈنا یا کسی بھی ایسی چیز کے ذریعے انہیں زائل کرنا جو انہیں دور کرنے کے لیے استعمال کی جائے؛ کیوں کہ ان بالوں کا باقی رہنا بدن کی ظاہری حالت کو بدنما بناتا ہے اور میل کچیل جمع ہونے کا سبب بنتا ہے۔
خصالِ فطرت میں دوسری خصلت ختنہ ہے، یعنی مرد کے حشفے کو ڈھانپنے والی زائد جلد کو کاٹ کر دور کرنا۔
ختنہ کا مقصد انسان کو اس نجاست سے پاک کرنا ہے جو اگر یہ زائد جلد باقی رہے تو اس کے نیچے جمع ہوجاتی ہے۔
بچے کا ختنہ کرنے میں جلدی کرنا مستحب ہے؛ کیوں کہ اس سے زخم جلد مندمل ہوتا ہے، اور بچہ کامل ترین حالت میں پروان چڑھتا ہے۔
3- فطرت کے تقاضوں میں سے مونچھ چھوٹی کرنا یا اسے اچھی طرح کاٹنا بھی ہے۔
حدیث رسول ﷺ ہے: "جس نے اپنی مونچھیں نہیں تراشیں، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔" [جامع ترمذی: (2761)، سنن النسائی الکبری: (14)، مسند احمد: (19263)، اور البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے]
خصالِ فطرت میں سے مونچھوں کے دونوں کناروں کو تراشنا بھی ہے۔ مونچھوں کے ان دونوں سروں کو لمبا چھوڑنا جائز نہیں، جیسا کہ بعض جاہل لوگ کرتے ہیں۔ امام احمد رحمہ اللہ وغیرہ نے روایت کیا ہے: "اپنی مونچھیں تراشو، اور یہود سے مشابہت اختیار نہ کرو‘‘۔ [مسند ااحمد: ۲۲۳۳۷، المعجم الکبیر للطبرانی: ۷۹۲۴، شعب الإیمان للبیہقی: ۶۴۰۵، اور شیخ البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے]
علمائے کرام نے مونچھیں تراشنے کے کئی فوائد بیان کیے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہود ومجوس کی مشابہت سے بچا جا سکتا ہے، اور کھانے پینے کے وقت صفائی بھی برقرار رہتی ہے؛ کیوں کہ لمبی مونچھوں میں کھانے پینے کی کچھ چیزیں پھنس جاتی ہیں اور وہ گندی ہوجاتی ہیں۔ بعض اوقات مونچھیں مشروب میں بھی ڈوب جاتی ہیں، جس سے دوسرے لوگوں کو ناگواری محسوس ہوتی ہے۔ اسی طرح ناک سے نکلنے والی کوئی چیز بھی مونچھوں پر لگ کر جم سکتی ہے، اور اس میں جو ناگواری اور بدنمائی ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔
صحیح احادیث میں آیا ہے کہ فطرت کی خصلتوں میں سے داڑھی کو چھوڑ دینا بھی ہے، اور اس سے مراد اسے بڑھانا ہے، چنانچہ صحیحین میں ہے: "مشرکین کی مخالفت کرو، داڑھی بڑھاؤ اور مونچھیں چھوٹی کرو"۔
اور ایک روایت میں ہے: ”داڑھیاں بڑھاؤ“۔ یعنی اسے پورا چھوڑ دو۔
موجودہ دور میں بعض لوگ داڑھی اور مونچھوں کے معاملے میں رسول اللہ ﷺ کی احادیث اور آپ کی سنت کی مخالفت میں مبتلا ہیں۔ چنانچہ ان میں سے بعض مونچھوں کو بڑھاتے ہیں اور داڑھی کو مونڈتے ہیں، اور یہ عمل رسول اللہ ﷺ کے حکم کے بالکل برعکس ہے، بایں طور کہ اس نے ان بالوں کو بڑھایا جنہیں رسول اللہ ﷺ نے کاٹنے اور ختم کرنے کا حکم دیا تھا، اور انہیں ختم کر دیا جنہیں رسول اللہ ﷺ نے باقی رکھنے اور بڑھانے کا حکم دیا تھا۔ چنانچہ اس نے مشرکین کی تقلید اور سید المرسلین ﷺ کی سنت کی مخالفت کرتے ہوئے، اپنی داڑھی مونڈ دی اور مونچھیں باقی رکھیں۔ اور یہ اس وجہ سے ہے کہ شیطان نے اس کے برے عمل کو اس کے لیے خوش نما بنا دیا ہے، چنانچہ وہ اسے اچھا سمجھتا ہے۔
بلکہ معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ بعض اسلامی ممالک میں کچھ ادارے اپنے اہلکاروں پر داڑھی مونڈنا لازم قرار دیتے ہیں، اور جو لوگ اپنی داڑھیاں بڑھاتے ہیں، انہیں ملازمت سے برخاست کر کے سزا دیتے ہیں۔
کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنی داڑھی کاٹ لیتے ہیں، اور اس میں سے تھوڑا سا حصہ ہی باقی چھوڑتے ہیں، اور یہ عمل رسول ﷺ کے اس حکم کے خلاف ہے جس میں آپ ﷺ نے اسے بڑھانے اور اپنی حالت پر چھوڑ دینے کا حکم دیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں مکمل طور پر اسی حالت میں برقرار رکھا جائے، انہیں کاٹنے یا اکھاڑنے کی کوشش نہ کی جائے۔ لیکن جب شیطان ان کو بالکل ختم کروانے میں کامیاب نہ ہو سکا تو اس نے ان میں سے کچھ حصہ ختم کروانے پر اکتفا کیا؛ کیوں کہ وہ چاہتا ہے کہ کسی بھی طریقے سے سنت کی مخالفت کروائی جائے۔
اور بعض لوگ اپنی داڑھی کو کالے رنگ سے رنگنے میں مبتلا ہیں، اور یہ حرام ہے، اور اس کی سخت وعید آئی ہے؛ اس لیے کہ نبی ﷺ نے صحیح احادیث میں کالے رنگ سے رنگنے سے منع فرمایا، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’آخر زمانے میں ایسے لوگ ہوں گے جو اپنی داڑھیوں کو کبوتروں کی پوٹ جیسا کالا رنگ کریں گے، وہ جنت کی خوشبو تک نہ سونگھ پائیں گے‘‘۔ [سنن ابی داود: ۴۲۱۲، سنن نسائي: ۵۰۷۵، مسند احمد: ۲۴۷۰، اور البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے]
یہ ایک سخت وعید ہے جو اس بات كدليل ہے کہ یہ کام سخت حرام ہے۔
رہے سفید بالوں کا رنگ سیاہ کے علاوہ کسی دوسرے رنگ سے تبدیل کرنا تو یہ شرعاً جائز اور مشروع ہے، جیسے انہیں مہندی یا کَتَم سے رنگنا، یا کسی اور ایسی چیز سے رنگنا جس کا رنگ خالص سیاہ نہ ہو۔
اور جن چیزوں سے منع کیا گیا ہے ان میں سفید بال اکھاڑنا بھی شامل ہے، چنانچہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”سفید بال نہ اکھاڑو کیوں کہ وہ مسلمان کا نور ہیں“۔ [سنن ابی داود: ۴۲۰۲، مسند احمد: ۶۹۶۲، جامع ترمذی: ۲۸۲۱، سنن نسائی: ۵۰۶۸، سنن ابن ماجہ: ۳۷۲۱، اور شیخ البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے]
اور بعض لوگ دونوں برے کاموں کا ارتکاب کرتے ہیں؛ چنانچہ وہ اپنی داڑھی کاٹ لیتے ہیں اور اس میں سے تھوڑا سا حصہ باقی رکھتے ہیں، پھر اسے سیاہ رنگ سے رنگتے ہیں۔ یہ دونوں کام حرام اور گناہ ہیں۔
بےشک داڑھی مرد کی خوبصورتی اور اس کی ہیبت ہے، اور یہ مرد کے چہرے اور عورت کے چہرے کے درمیان فرق کرنے والی ہے۔
پھر بعض لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ اس سے عداوت رکھتے ہیں اور اس کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں، دراصل یہ اندھی تقلید اور خواہشاتِ نفس اور شیطان کی پیروی ہے۔
لہذا جس شخص سے ان میں سے کوئی فعل سرزد ہو جائے، اس پر واجب ہے کہ وہ اللہ کے سامنے توبہ کرے، اور اللہ کے رسول کی اطاعت کرے، کیوں کہ: اس رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جو اطاعت کرے اسی نے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی... [ النساء: 80 ]
اور اللہ کی ہدایت کی پیروی کی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ۔۔۔ہدایت تو تمہیں اسی وقت ملے گی جب رسول کی ماتحتی کرو۔۔۔ [ النور: 54].
فطرت کی خصلتوں میں سے چوتھی خصلت: بغل کے بال اکھیڑنا، یعنی: اس میں اگے ہوئے بالوں کو اکھاڑنا یا کسی بھی ذریعے سے انہیں صاف کرنا، جیسے مونڈنا، اور بال صاف کرنے والی مختلف اشیاء کا استعمال کرنا‘ کیوں کہ انہیں صاف کرنے سے بدبو ختم ہوتی ہے، ان پر جمع ہونے والی میل کچیل دور ہوتی ہے، اور اس کے علاوہ دیگر فوائد حاصل ہوتے ہیں۔
اور اس کے باقی رہنے میں خرابی ہے۔
خصائل فطرت میں سے پانچویں خصلت: ہاتھوں اور پیروں کے ناخن تراشنا ہے، یعنی انھیں کاٹنا؛ کیوں کہ انھیں بڑھانے میں بدشکلی اور درندوں سے مشابہت پائی جاتی ہے، اور ان کے اندر گندگی وغلاظت کا جمع ہونا شریعت میں مطلوب نظافت کے منافی ہے؛ اور اس لیے بھی کہ یہ نماز کی طہارت میں ان کے نیچے پانی پہنچنے سے روکتے ہیں۔
بعض خواتین اور بعض نوجوان، کافروں کی مشابہت اور نبی ﷺ سے ثابت سنت کی مخالفت کرتے ہوئے ناخن بڑھانے اور انھیں نہ تراشنے کی وبا میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ اور بعض عورتیں ناخنوں پر ایک گاڑھا رنگ لگاتی ہیں، جسے نیل پالش کہا جاتا ہے، جو ناخن پر جم جاتا ہے اور طہارت کے پانی کو اس تک پہنچنے سے روکتا ہے۔
اس کی طہارت صحیح نہیں ہوگی؛ کیوں کہ اس کے جسم کا کچھ حصہ باقی رہ گیا ہے جس تک پانی نہیں پہنچا، اور یہ ایک بہت بڑا خطرہ ہے جس سے خود متنبہ ہونا اور دوسروں کو متنبہ کرنا ضروری ہے۔
فطرت کی ان ثابت شدہ خصلتوں میں سے، جن کے بارے میں بہت سی صحیح احادیث وارد ہوئی ہیں، مسواک بھی ہے۔ اس کی فضیلت اور اس کی ترغیب کے بارے میں سو سے زیادہ احادیث وارد ہوئی ہیں۔ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مسواک سنتِ مؤکدہ ہے۔ مسواک سے مراد دانتوں پر لکڑی یا اس جیسی کسی چیز کا استعمال کرنا ہے، تاکہ دانتوں کی زردی وغیرہ اور بدبو دور ہو جائے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”مسواک منہ کی پاکیزگی اور رب کی رضا کا سبب ہے“۔ [سنن نسائی: ۵، مسند ابی یعلی: ۴۵۶۹، صحیح ابن خزیمۃ: ۱۳۵، اور بخاری نے اسے تعلیقاً ذکر کیا ہے]
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "اگر مجھے اپنی امت کے مشقت میں پڑنے کا اندیشہ نہ ہوتا، تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دے دیتا۔" [اسے جماعت نے روایت کیا ہے]۔
اور مسند احمد کی ایک روایت میں ہے: " میں انہیں ہر وضو کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا۔"
کسی بھی وقت مسواک کرنا مستحب ہے، البتہ وضو کے وقت کلی کرنے سے پہلے، نماز کے وقت، تلاوتِ قرآن، نیند سے جاگتے وقت اور منہ کی بو بدل جانے پر اس کی تاکید اور بھی بڑھ جاتی ہے؛ کیوں کہ مسلمان کے لیے مناسب ہے کہ اس کا منہ ہمیشہ صاف اور خوشبودار رہے، خاص طور پر اپنے رب کی عبادت اور اس سے ہم کلام ہوتے وقت، اور اس کے گھروں میں سے کسی گھر میں داخل ہوتے وقت۔ چنانچہ یہ رب سبحانہ کی خاطر ایک قسم کی مشروع طہارت ہے؛ کیوں کہ منہ کی پاکیزگی کے ساتھ عظماء سے ہم کلام ہونا ان کی تعظیم میں داخل ہے۔
مستحب ہے کہ پیلو کی لکڑی سے مسواک کی جائے، کیوں کہ یہ مسواک کی بہترین قسم ہے، یا کھجور کے خوشے کی ٹہنی سے، یا کسی بھی ایسی چیز سے جو منہ کی بدبو کو دور اور دانتوں کو صاف کرے، اور مسواک کے بہت سے فوائد بھی ہیں۔
چنانچہ مسلمان کے لیے اسے چھوڑنا مناسب نہیں ہے۔
اللہ ہی توفیق دینے والا ہے۔
میں شیطان مردود کے شر سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں: پس آپ یکسو ہو کر اپنا منھ دین کی طرف متوجہ کر دیں۔ اللہ تعالیٰ کی وه فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، اللہ تعالیٰ کے بنائے کو بدلنا نہیں، یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔ [الروم: ۳۰]۔
اللہ تعالیٰ میرے اور آپ کے لیے قرآنِ عظیم میں برکت عطا کرے...
دوسرے خطبے کا مقدمہ
سب تعریفیں اللہ ہی کی ہیں، جس نے انسان کو پیدا کیا، اور اس کائنات کی ہر چیز اس کے لیے مسخر کر دی۔
میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، جو عظمت اور بادشاہت کا مالک ہے، اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور تمام جن وانس کی طرف بھیجے گئے اس کے رسول ہیں، اللہ آپ پر، آپ کی آل پر اور آپ کے اصحاب پر ہر وقت اور ہر آن بہت زیادہ رحمتیں اور سلامتی نازل فرمائے۔
دوسرا خطبہ
امابعد!
لوگو! اللہ تعالیٰ کے احکام بجا لا کر اور اس کے منع کیے ہوئے کاموں سے باز آ کر اللہ تعالیٰ سے ڈرو، اور اس کے رسول کی پیروی کرو اور ان کی سنت پر عمل کرو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
اللہ کے بندو! ان چیزوں کی دیکھ بھال کرنی چاہیے جنہیں تراشنا مشروع ہے، جیسے مونچھ، ناخن، اور بغل اور زیر ناف کے بال، بایں طور کہ انہیں اتنا لمبا نہ چھوڑا جائے کہ وہ بدنما لگیں اور ان سے نقصانات پیدا ہوں، اور اس لیے بھی کہ انہیں زیادہ عرصہ تک باقی رکھنے سے سنت کی مخالفت ہوتی ہے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : "ہمارے لیے مونچھ تراشنے، ناخن کاٹنے، بغل کے بال اکھاڑنے اور موئے زیر ناف مونڈنے کا وقت مقرر کردیا گیا ہے کہ ہم انہیں چالیس دنوں سے زیادہ نہ چھوڑیں۔" [صحیح مسلم : 258]
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسے اس سے زیادہ ترک کرنا جائز نہیں، اور بہتر یہ ہے کہ ہر ہفتے اس کا اہتمام کیا جائے۔
اسی طرح مسلمان کو چاہیے کہ وہ صاف ستھرا اور عمدہ وضع قطع کا حامل ہو، سنتِ نبوی پر عمل پیرا ہو، اور سنت کے منافی رسم ورواج کی پیروی نہ کرے۔
کیوں کہ سب سے اچھی بات کتاب اللہ ہے، اور سب سے بہتر طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے۔
****
خطبے کا عنوان
قضائے حاجت کے آداب
پہلے خطبے کا مقدمہ
بے شک تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد چاہتے ہیں، اسی سے بخشش طلب کرتے ہیں اور اسی کے حضور توبہ کرتے ہیں، اور ہم اپنے نفس اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا، اور جسے وہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل اور تمام اصحاب پر درود و سلام نازل فرمائے۔
پہلا خطبہ
اما بعد :
بلاشبہ دینِ اسلام ایک مکمل دین ہے، اس نے کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جس کی لوگوں کو اپنے دین اور دنیا میں ضرورت پیش آسکتی ہو، مگر اسے بیان کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ۔۔۔ہم نے دفتر میں کوئی چیز نہیں چھوڑی۔۔۔ [الانعام: ۳۸] انہی میں سے قضائے حاجت کے آداب بھی ہیں، تاکہ وہ انسان، جسے اللہ تعالی نے عزت وفضیلت بخشی ہے، جانوروں سے ممتاز ہو جائے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: یقیناً ہم نے اوﻻدِ آدم کو بڑی عزت دی اور انہیں خشکی اور تری کی سواریاں دیں اور انہیں پاکیزه چیزوں کی روزیاں دیں اور اپنی بہت سی مخلوق پر انہیں فضیلت عطا فرمائی۔ [الإسراء: 70]۔
ارشاد باری تعالی ہے : ۔۔۔اس میں ایسے آدمی ہیں کہ وه خوب پاک ہونے کو پسند کرتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ خوب پاک ہونے والوں کو پسند کرتا ہے۔ [التوبۃ: ۱۰۸] کچھ ایسے شرعی آداب ہیں جو بیت الخلاء میں داخل ہوتے وقت اور قضاۓ حاجت کے وقت بجا لائے جاتے ہیں، ان میں سے چند یہ ہیں:
۱- بیت الخلاء میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھے: "اللہ کے نام کے ساتھ (داخل ہوتا ہوں)۔ اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں خبیثوں اور خبیثنیوں سے۔‘‘، چنانچہ ترمذی نے اپنی سنن میں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: «جنات کی آنکھوں اور بنی آدم کی شرمگاہوں کے مابین پردہ یہ ہے کہ جب ان میں سے کوئی بیت الخلا میں داخل ہو تو ’بسم اللہ‘ کہے»۔ [جامع ترمذی: (606)، سنن ابن ماجہ (297)، اور البانی نے اسے صحیح کہا ہے]۔
اور بخاری و مسلم نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ جب قضائے حاجت کی جگہ جاتے تو فرماتے: "اے اللہ! میں ناپاک جنوں اور جنّیوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔" ”الخبث“: نر اور مادہ شیاطین، اور ”الخبائث“: معاصی۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد مطلق مذموم افعال ہیں۔
اور ابو داود نے اپنی سنن میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: اللہ کے نبی ﷺ جب قضائے حاجت کی جگہ سے باہر آتے تو فرماتے: ’’(اے اللہ ! میں) تیری بخشش (چاہتاہوں۔)‘‘ [سنن ابوداود: (30)، جامع ترمذی: (7)، نسائی کی السنن الکبری: (9907) اور سنن ابن ماجہ (300)۔ البانی نے اسے صحیح کہا ہے۔]
2- جب وہ کسی کھلی جگہ - یعنی ایسی جگہ جو قضائے حاجت کے لیے تیار نہ کی گئی ہو - میں قضائے حاجت کا ارادہ کرے، تو اس کے لیے مستحب ہے کہ وہ لوگوں سے دور کسی خالہ جگہ میں چلا جائے، اور کسی دیوار، درخت یا کسی اور چیز کے ذریعے نظروں سے پردہ کرے۔
چنانچہ ابو داود اپنی سنن میں جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کے حوالے سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ "جب قضائے حاجت کے لیے تشریف لے جاتے تو دور چلے جاتے۔‘‘ [سنن ابوداود: 1، سنن نسائی: 17، سنن ابن ماجہ: 331 اور جامع ترمذی: 20۔ البانی نے اسے صحیح کہا ہے۔]
اس کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ قضائے حاجت کا ارادہ کرتے تو اس وقت تک آگے چلتے رہتے جب تک کہ لوگوں سے دور ایسی جگہ نہ پہنچ جاتے جہاں آپ قضائے حاجت کرتے۔
3- اسے چاہیے کہ قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف رخ یا پیٹھ نہ کرے، بلکہ اس سے رخ پھیر لے؛ کیوں کہ نبی ﷺ نے قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف رخ کرنے اور پیٹھ کرنے سے منع فرمایا ہے، بخاری اور مسلم نے صحیحین میں ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب تم قضائے حاجت کے لیے جاؤ، تو پیشاب پاخانہ کرتے ہوئے نہ تو قبلہ کی طرف رخ کرو اور نہ پشت۔ بلکہ یا تو مشرق کی طرف منہ کیا کرو یا مغرب کی طرف“۔ ابو ایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم شام آئے، تو ہم نے دیکھا کہ بیت الخلا کعبہ رخ بنائے گئے تھے۔ چنانچہ ہم (جب قضائے حاجت کے لیے جاتے تو) کعبہ کی سمت سے ہٹ کر بیٹھتے اور اللہ سے استغفار کرتے۔
4- اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنی شرم گاہ کو دائیں ہاتھ سے چھوئے، اسی طرح اس کے لیے یہ بھی جائز نہیں کہ وہ لوگوں کے راستوں، یا پھر ان کے سایے کی جگہوں، یا ان کے پانی کے گھاٹوں پر قضائے حاجت کرے، کیوں کہ نبی ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔ اس لیے کہ اس میں لوگوں کا نقصان ہے اور یہ ان کے لیے باعثِ اذیت ہے۔ بخاری اور مسلم نے ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "اور جب وہ قضائے حاجت کے لیے جائے تو دائیں ہاتھ سے اپنے عضوِ مخصوص کو نہ چھوئے، اور نہ اپنے دائیں ہاتھ سے استنجاء کرے۔"
اور اس لیے کہ ابو داود نے اپنی سنن میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، فرماتی ہیں: "رسول اللہ ﷺ کا دایاں ہاتھ وضو اور کھانا کھانے کے لیے اور بایاں ہاتھ قضائے حاجت اور ان چیزوں کے لیے ہوتا تھا جن میں گندگی ہوتی ہے۔" [سنن ابو داود : 33، مسند احمد : 26283، اور البانی نے اسے صحیح کہا ہے]۔
امام مسلم نے اپنی صحیح میں ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "دو چیزیں جو لعنت کا سبب بنتی ہیں ان سے بچو۔ صحابہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! وہ دو چیزیں کون سی ہیں جو لعنت کا سبب بنتی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جو لوگوں کے راستوں یا ان کی سایہ دار جگہوں پر قضائے حاجت کرے۔" [صحیح مسلم: (269)]
بیت الخلاء میں کوئی ایسی چیز لے کر داخل نہ ہو جس پر اللہ کا ذکر ہو، یا اس میں قرآن ہو، البتہ اگر اسے اپنے پاس موجود اللہ کے ذکر والی چیز کے حوالے سے کوئی اندیشہ ہو تو اسے اندر لے کر جانا جائز ہے البتہ وہ اسے ڈھانپ لے۔ نیز قضائے حاجت کے دوران اس کے لیے بات کرنا مناسب نہیں، کیوں کہ ایک حدیث میں، جسے بعض اہل علم نے حسن قرار دیا ہے، اس کی ممانعت وارد ہوئی ہے۔
بیت الخلاء میں قرآن پڑھنا حرام ہے، اور اس حال میں سلام کا جواب دینا مشروع نہیں ہے، چنانچہ سنن ابی داود میں مہاجر بن قنفذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اس حال میں کہ آپ پیشاب کر رہے تھے، تو انہوں نے آپﷺ کو سلام کہا اور آپ نے ان کے سلام کا جواب نہیں دیا یہاں تک کہ آپ نے وضو کر لیا، پھر آپ نے معذرت کی اور فرمایا: "میں نے بغیر پاکی کے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا ناپسند کیا، یا فرمایا: طہارت کے بغیر۔" [سنن ابو داود (17) اور البانی نے اسے صحیح کہا ہے]
5- اس پر لازم ہے کہ وہ گندگی کی جگہ کو پانی سے استنجاء کر کے، یا پتھروں یا ان کے قائم مقام چیزوں سے استجمار کر کے صاف کرے۔ اور اگر وہ ان دونوں کو جمع کر لے تو یہ افضل ہے، اور اگر ان میں سے کسی ایک پر اکتفا کرے تو کافی ہے۔ استجمار پتھروں یا ان کے قائم مقام چیزوں جیسے کھردرے کاغذ، ٹیشو پیپر یا کپڑے وغیرہ سے کیا جاتا ہے، جن سے گندگی کی جگہ صاف اور خشک ہو جائے۔
تین مرتبہ صاف کرنا شرط ہے اور اگر وہ زیادہ کرنا چاہے تو اس سے زائد مرتبہ کر لے، البتہ ہڈیوں اور چوپایوں کے گوبر سے استنجا کرنا جائز نہیں؛ کیوں کہ نبی ﷺ نے بتایا کہ یہ ہمارے جن بھائیوں کی غذا ہے۔ چنانچہ ابو داود نے اپنی سنن میں خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ سے استنجا کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: "تین پتھروں سے، جن میں گوبر نہ ہو۔‘‘ [سنن ابو داود: (41)، سنن ابن ماجہ: (315)، مسند احمد: (21856) اور البانی نے اسے صحیح کہا ہے]۔
اور صحیحین میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جنوں سے فرمایا: «تمہارے لئے ہر وہ ہڈی ہے جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے، جو تمہارے ہاتھ میں آئے گی تو گوشت سے بھرپور ہوگی، اور ہر مینگنی تمہارے جانوروں کا چارہ ہے»۔
دوسرے خطبے کا مقدمہ
اللہ کے احسان پر تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں، اور اس کی توفیق اور انعام پر اسی کا شکر ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔
دوسرا خطبہ
6- مسلمان پر لازم ہے کہ وہ پیشاب کے چھینٹوں سے بچے، اور ایسی جگہ تلاش کرے جو سخت نہ ہو تاکہ پیشاب کے چھینٹے پلٹ کر اس پر نہ پڑیں، کیوں کہ اکثر عذابِ قبر پیشاب کے چھینٹوں سے نہ بچنے کی وجہ سے ہوتا ہے، چنانچہ صحیحین میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: ایک دفعہ نبی ﷺ دو قبروں کے پاس سے گزرے، تو فرمایا: "ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے اور یہ عذاب کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں ہو رہا ہے، پھر فرمایا: بے شک، ان میں سے ایک تو چغل خوری کرتا پھرتا تھا اور دوسرا اپنے پیشاب کے چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا‘‘۔ اور ایک روایت میں ہے: "پیشاب سے بچنے کا اہتمام نہیں کرتا تھا‘‘۔
یہاں ایک بات پر متنبہ کرنا ضروری ہے، اور وہ یہ کہ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ استنجاء وضو کا حصہ ہے، چنانچہ جب وہ وضو کا ارادہ کرتے ہیں تو استنجاء سے ابتدا کرتے ہیں، اگرچہ وہ پہلے قضاۓ حاجت کے بعد استنجاء کر چکے ہوں، یہ غلط ہے، کیوں کہ یہ وضو کا حصہ نہیں ہے، اور استنجاء قضاءِ حاجت سے فارغ ہونے کے بعد کیا جاتا ہے، اور اسے دہرانے کی کوئی ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ۔۔۔اور تم پر دین کے بارے میں کوئی تنگی نہیں ڈالی۔۔۔ [ الحج : 78]۔
***
خطبہ کا عنوان
وضوء کی فضیلت اور اس کے اثرات
پہلے خطبے کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے شریعتیں مقرر کیں اور احکام کو نہایت مستحکم بنایا، اور انہیں حسنِ کمال اور غایت درجہ استحکام عطا فرمایا، میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتا ہوں اور اس کا شکر بجا لاتا ہوں، اور وہی حمد وثنا کا حقیقی مستحق اور انعام واکرام والا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، وہی حکمت والا اور علم والا ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، جو روشن و تاباں چہرے اور نہایت عمدہ و پسندیدہ افعال کے مالک ہیں، اللہ تعالیٰ آپ پر، آپ کی آل واصحاب پر، تابعین پر اور روزِ قیامت تک خیر وبھلائی کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں پر درود و سلام اور برکتیں نازل فرمائے۔
پہلا خطبہ
اما بعد: لوگو! میں تمہیں کو تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں کیوں کہ یہ بہترین توشہ اور بہترین لباس ہے، اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہئے اور دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا۔ [آل عمران: 102]۔
پھر جان لو -اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے- کہ تمہارے اعمال شمار کیے جا رہے ہیں، تمہاری عمریں کم ہو رہی ہیں، موت کا ہاتھ سرگرمِ عمل ہے اور موت کا وقت پوشیدہ ہے، اور تمہارے اور آخرت کے درمیان صرف تمہاری روح قبض ہونے کا فاصلہ ہے۔ تو جس نے اپنے نفس کا محاسبہ کیا وہ فائدے میں رہا، جس نے انجام پر نظر رکھی اس نے نجات پا لی، جو ڈر گیا وہ محفوظ رہا، اور جس نے اپنی خواہشات کی پیروی کی وہ گمراہ ہو گیا۔ لہذا خوشخبری ہے اس شخص کے لیے جس نے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی تیاری کی، دنیا کا بوجھ ہلکا رکھا، توبہ کی، ایمان لایا، نیک عمل کیا اور پھر سیدھے راستے پر قائم رہا۔
اے مسلمانو! یہ ایک نرم اور آسان ذمہ داری، ایک ہلکا پھلکا اور تخفیف والا الٰہی حکم ہے، جسے ہمارے رب نے نماز سے پہلے لازم قرار دیا ہے۔ یہ اس وقت نفس کے غصے کو بجھانے کا ذریعہ بنتا ہے جب زندگی انسان پر تنگ ہو جائے اور اسے طرح طرح کی پریشانیاں گھیر لیں۔ یہ مومن کے لیے ایک ہتھیار ہے، جس کے بعد دل کو سکون اور سینے کو کشادگی نصیب ہوتی ہے۔
اللہ کے بندو! احکام اور حکمتوں میں سے خوبصورت ترین احکام وہ ہیں جن کا تعلق طہارت اور وضو سے ہے؛ اس لیے کہ اسلام طہارت وپاکیزگی اور صفائی وشفافیت کا دین ہے۔
اسلام نے باطن اور ظاہر دونوں کی پاکیزگی کو جمع کر دیا ہے، اور وحیِ الٰہی کے ابتدائی آیات میں فرمایا گیا ہے: اے کپڑا اوڑھنے والے۔ کھڑا ہوجا اور آگاه کردے۔ اور اپنے رب ہی کی بڑائیاں بیان کر۔ اپنے کپڑوں کو پاک رکھا کر۔ ناپاکی کو چھوڑ دے۔ [ المدثر : 1 - 5].
غور و فکر کرنے پر آپ کے سامنے بے شمار عظیم احکام اور خوب صورت حکمتیں ظاہر ہوتی ہیں، جن سے اسلام کی عظمت، اس کے احکام کی بلندی اور اس کی شریعت کی رفعت واضح ہوتی ہے۔ کتنا ہی خوب صورت ہے کہ مسلمان باوضو رہے؛ اس میں فضائل بھی ہیں، اجر بھی، پاکیزگی بھی اور طہارت بھی۔ ۔۔۔اللہ توبہ کرنے والوں کو اور پاک رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ [البقرۃ: ۲۲۲] تھوڑا عمل اور بہت بڑا اجر وثواب، وضو کی آیت کے آخر میں آیا ہے: ۔۔۔اللہ تعالیٰ تم پر کسی قسم کی تنگی ڈالنا نہیں چاہتا بلکہ اس کا اراده تمہیں پاک کرنے کا اور تمہیں اپنی بھرپور نعمت دینے کا ہے، تاکہ تم شکر ادا کرتے رہو۔ [المائدۃ: 6]
’وضوء‘ کا لفظ ’وضاءۃ‘ سے ماخوذ ہے، جس کے معنی رونق، روشنی، نور، پاکیزگی، حسن اور صفائی کے ہیں، اور یہ وہ حالت ہے جس پر وضو کرتے وقت وضو کرنے والے کا باطن اور ظاہر ہوتا ہے؛ گویا یہ ایمان کی نشانی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: "اور مومن کے سوا کوئی وضو کی پابندی نہیں کرتا۔" [سنن ابن ماجہ : 277]۔
مسلمانو! اسلام میں وضو کا مقام بہت بلند ہے؛ یہ نصف ایمان ہے، جیسا کہ نبی ﷺ سے صحیح طورپر ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا : "طہارت نصف ایمان ہے۔" [صحیح مسلم : 223]۔
"وضو ایک مستقل عبادت اور مکمل ذریعۂ تقرب ہے، خواہ اس کے بعد نماز نہ بھی پڑھی جائے۔ یہ محض اعضاء کو دھونے اور گندگی دور کرنے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ اس سے کہیں اعلیٰ اور عظیم تر ہے؛ چنانچہ وضو ایک عبادت ہے، یہ گناہوں کو مٹانے والا، خطاؤں کا کفارہ، درجات کی بلندی کی وجہ، جنت میں داخلے کا سبب، شیطان سے بچاؤ، برائیوں سے حفاظت، اور دلوں اور جسموں کے لیے منافع بخش ہے۔"
اور اے وضو کرنے والو! یہ رہے نبی ﷺ کے چند ارشادات، جن میں بشارت اور ترغیب ہے: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جب مسلمان بندہ یا مومن وضو کرتا ہے اور اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے سے وہ تمام گناہ نکل جاتے ہیں جو اس نے اپنی آنکھوں سے کیے تھے، پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ، پھر جب ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں سے ہر وہ گناہ نکل جاتا ہے جو اس نے ہاتھوں سے کیا تھا، پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ، پھر جب پاؤں دھوتا ہے تو ہر وہ گناہ نکل جاتا ہے جس کو اس نے پاؤں سے چل کر کیا تھا، پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ، یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک صاف ہو جاتا ہے۔‘‘ [صحیح مسلم: 244]۔
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اچھی طرح سے وضو کرے، اس کے گناہ اس کے جسم سے نکل جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کے ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں“۔ [صحیح مسلم: 245]۔
اور عثمان رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو کوئی مسلمان فرض نماز کا وقت پائے، پھر اچھی طرح وضو کرے، دل لگا کر نماز پڑھے اور اچھی طرح رکوع (اور سجدہ) کرے، تو یہ نماز اس کے ماقبل کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گی جب تک کہ کبیرہ گناہ نہ کرے، اور ہمیشہ ایسا ہی ہوا کرے گا۔“ [صحیح مسلم: 228]۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "کیا میں تمہیں ایسی چیزیں نہ بتاؤں، جن سے اللہ تعالی گناہوں کو مٹاتا اور درجات کو بلند فرماتا ہے؟" صحابہ نے عرض کیا: ضرور، اے اللہ کے رسولﷺ۔ آپﷺ نے فرمایا: " تکلیف کے باوجود اچھی طرح وضو کرنا، مسجدوں تک زیادہ قدم چل کر جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا؛ اور یہی رباط (دشمنوں سے حفاظت کے لیے سرحد کی پہرہ داری کرنا) ہے، یہی رباط ہے"۔ [صحیح مسلم: 251]۔
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے وضو کیا، پھر فرمایا: "جس نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا، پھر کھڑا ہوا اور دو رکعت نماز پڑھی، جس میں اس نے اپنے جی میں کوئی بات نہ کی، اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“ [صحیح بخاری : 159، صحیح مسلم : 226]۔
مسلمانو! اے وضو کرنے والو! وضو مومنوں کی نشانی اور تمام جہانوں میں اس امت کا شعار ہے، اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’میری امت کے لوگوں کو قیامت کے دن اس حال میں پکارا جائے گا کہ وضو کے نشانات سے ان کے چہرے اور ہاتھ پاؤں روشن ہوں گے۔‘‘ [صحیح بخاری: 136، صحیح مسلم: 246]۔
نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "تم وضو کے اثرات سے روشن چہروں اور چمکتے ہاتھ پاؤں کے ساتھ میرے پاس آؤ گے، یہ (فضیلت) تمہارے سوا کسی اور کے لیے نہیں ہے۔" [صحیح مسلم: 248]۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے دونوں ہاتھ پھیلاتے اور کہتے کہ میں نے اپنے خلیل ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”مومن کا زیور وہاں تک پہنچے گا جہاں تک وضو پہنچے گا“ [صحیح مسلم: 250]۔
اللہ کے بندو! وضو اعضاء کو چست کرتا ہے، بدن میں خون کی گردش کو بڑھاتا ہے، اس کی قوت، چستی اور تازگی بحال کرتا ہے، بندے کو اپنے رب کے سامنے طہارت اور بلند روحانی کیفیت کے ساتھ کھڑا کرتا ہے، اور بندے کے لیے اللہ تعالیٰ کی محبت کا سبب بنتا ہے: ۔۔۔اللہ توبہ کرنے والوں کو اور پاک رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ [ البقرہ : ۲۲۲]۔ نیز ارشاد باری تعالی ہے : ۔۔۔اس میں ایسے آدمی ہیں کہ وه خوب پاک ہونے کو پسند کرتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ خوب پاک ہونے والوں کو پسند کرتا ہے۔ [التوبة: 108].
اور جن عبادات کے لیے وضو شرط ہے، ان میں سب سے عظیم نماز ہے، جوکہ شہادتین (دونوں گواہیوں) کے بعد اسلام کا سب سے عظیم رکن ہے، اور وضو اس کی کنجی ہے، اور کوئی بھی عبادت گزار وضو کے بغیر نماز کے محراب میں کھڑا نہیں ہوتا؛ چنانچہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "جب تم میں سے کسی کا وضو ٹوٹ جائے، تو جب تک وضو نہ کر لے، اس کی نماز قبول نہيں ہوتی۔" [صحیح بخاری : 135، صحیح مسلم : 225] اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "کوئی بھی نماز طہارت کے بغیر قبول نہيں ہوتی، اور نہ ہی خیانت کے مال سے کوئی صدقہ۔" [صحیح مسلم : 224]۔
وضو کے حکم اور اس کے طریقے کے بارے میں اللہ عز وجل کا ارشاد ہے: اے ایمان والو! جب تم نماز کے لئے اٹھو تو اپنے منھ کو، اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھو لو۔ اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھو لو،... آیت۔ [ المائدۃ: 6]۔ یہ عظیم ترین آیاتِ احکام میں سے ایک ہے، جیسا کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا ہے۔
اور ابن العربی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "بعض علماء کہتے ہیں کہ اس میں ایک ہزار مسائل ہیں۔" [احکام القرآن: 2/ 47]، انہوں نے سچ کہا، کیوں کہ اس میں ایسے احکام اور حکمتیں ہیں جن سے حیرت ختم نہیں ہوتی، اور انہی میں وضو کا طریقہ بھی ہے، جوکہ یہ ہے: کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کے ساتھ چہرہ دھونا، پھر دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک دھونا، پھر سر اور کانوں کا مسح کرنا، پھر دونوں پیروں کو ٹخنوں تک دھونا جیسا کہ نبی ﷺ نے وضو کیا؛ چنانچہ عثمان کے آزاد کردہ غلام حمران سے مروی ہے: عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے وضو کا پانی منگوایا اور وضو کیا؛ چنانچہ اپنے دونوں ہاتھوں کو تین بار دھویا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھا کر ناک جھاڑا، پھر اپنے چہرے کو تین بار دھویا، پھر اپنے دائیں ہاتھ کو تین بار دھویا، پھر بائیں ہاتھ کو اسی طرح دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنے دائیں پاؤں کو ٹخنوں سمیت تین بار دھویا، پھر بائیں پاؤں کو اسی طرح دھویا، پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو میرے اس وضو کی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا، پھر کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پڑھی، جس میں اس نے اپنے دل میں کوئی بات نہ کی، اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔" [صحیح بخاری : 159، صحیح مسلم : 226]۔
یہی وضو کا مکمل طریقہ ہے، جس کا مسلمان کو خیال رکھنا چاہیے، اور غفلت اور وسوسہ کیے بغیر وضو کے اعضاء کے تمام حصوں تک مکمل طور سے پانی پہنچانا چاہیے۔
نبی ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جس نے وضو میں جلدی کی اور اس کی ایڑی کا کچھ حصہ سوکھا رہ گیا جہاں پانی نہیں پہنچا تھا، تو فرمایا: "ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے، وضو اچھی طرح کیا کرو۔" [صحیح بخاری: 60، صحیح مسلم: 241]، اور ایک روایت میں ہے: "ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔" [صحیح مسلم: 242]۔
یہ ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے اعضاء کو ایک ایک بار دھویا، اور دوسری مرتبہ وضو کیا تو انہیں دو دو بار دھویا، اور ایک اور مرتبہ وضو کیا تو اپنے اعضاء کو تین تین بار دھویا، اور فرمایا: ”وضو (کا طریقہ) اسی طرح ہے؛ لہٰذا جس شخص نے اس سے کچھ زائد کیا، اس نے برا کیا، حد سے تجاوز کیا اور ظلم کیا۔“ [یہ صحیح حدیث ہے، سنن نسائی: 140]۔
اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ تین سے زیادہ کرنا شیطان کا وسوسہ، غلو، حد سے تجاوز اور اسراف ہے جس سے منع کیا گیا ہے، شیطان اس بات کی کوشش کرتا ہے کہ غلو اور وسوسہ کے ذریعہ انسان کی عبادت کو خراب کرے۔ حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”بے شک ایک شیطان ہے جو وضو میں لوگوں پر ہنستا ہے، جسے ولہان کہا جاتا ہے۔“ [اسے ابن ابی الدنیا نے مكائد الشيطان: 29 میں روایت کیا ہے]۔
بے شک وسوسہ ختم کرنے والی چیزوں میں سے یہ بھی ہے: شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگنا، اور اسی طرح وضو کے بعد شرمگاہ پر پانی چھڑکنا -جیسا کہ سنت سے ثابت ہے [دیکھیں سنن ابی داود: 168]- تاکہ اسے یقین ہو جائے کہ تری پانی کی ہے نہ کہ پیشاب کی، اس طرح وسوسے کا راستہ بند ہو جائے۔
اے مسلمانو! اے وضو کرنے والو! جب مسلمان شہادتین پڑھ کر اپنے وضو کا اختتام کرتا ہے تو اس کے لیے جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں؛ چنانچہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہمارے ذمے اونٹ چرانے کا کام تھا، میری باری آئی، تو میں شام کے وقت ان کو چرا کر واپس لایا تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو کھڑے ہوکر لوگوں کو کچھ ارشاد فرماتے ہوئے پايا، مجھے آپ ﷺ کی یہ بات (سننے کو) ملی: ’’جو مسلمان بھی وضو کرتا ہے اور وہ اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر کھڑے ہو کر پوری یکسوئی اور توجہ کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھتا ہے تو اس کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے۔‘‘ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بيان کرتے ہيں کہ میں نے کہا: کیا خوب بات ہے یہ ! تو میرے سامنے ایک شخص کھڑا کہنے لگا کہ اس سے پہلے والی بات اس سے بھی زیادہ عمدہ ہے۔ میں نے دیکھا تو وہ عمر رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے کہا: میں نے دیکھا ہے تم ابھی آئے ہو، آپ ﷺ نے (اس سے پہلے) فرمایا تھا: ’’تم میں سے جو شخص بھی وضو کرے اور اپنے وضو کو پورا کرے یا خوب اچھی طرح وضو کرے، پھر یہ کہے: ”أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ“ (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں)، تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جس سے چاہے داخل ہوجائے۔‘‘ [صحیح مسلم : 234]۔
اور ایک روایت میں ہے: (اے اللہ! مجھے بہت زیادہ توبہ کرنے والوں میں سے اور بہت پاک صاف رہنے والوں میں سے بنا۔) [سنن ترمذی: 55]۔
میں شیطان مردود کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں: اے ایمان والو! جب تم نماز کے لئے اٹھو تو اپنے منھ کو، اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھو لو، اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھو لو، اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو غسل کرلو، ہاں اگر تم بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو یا تم میں سے کوئی حاجت ضروری سے فارغ ہو کر آیا ہو، یا تم عورتوں سے ملے ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو تم پاک مٹی سے تیمم کرلو، اسے اپنے چہروں پر اور ہاتھوں پر مل لو۔ اللہ تعالیٰ تم پر کسی قسم کی تنگی ڈالنا نہیں چاہتا بلکہ اس کا اراده تمہیں پاک کرنے کا اور تمہیں اپنی بھرپور نعمت دینے کا ہے، تاکہ تم شکر ادا کرتے رہو۔ [المائدۃ: 6]
اللہ مجھے اور آپ کو قرآن وسنت کی برکت سے نوازے، اور ہمیں ان میں موجود آیات اور حکمت سے نفع پہنچائے، میں اپنی یہ بات کہتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے اپنے اور آپ کے لیے مغفرت طلب کرتا ہوں۔
دوسرے خطبے کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں.. اللہ ہی کے لیے بکثرت حمد و ثنا ہے جیسا کہ اس نے حکم فرمایا، اور بکثرت شکر ہے جبکہ اس نے شکر گزاروں کو مزید عطا کرنے کا اعلان فرمایا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، جو وضو اور طہارت اختیار کرنے والوں میں سب سے بہترین ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل اور بابرکت وبرگزیدہ صحابہ کرام پر درود و سلام اور برکتیں نازل فرمائے۔
دوسرا خطبہ
اما بعد :
مسلمانو! بے شک وضو صرف نماز ہی کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ یہ بہت سے مواقع پر مشروع ہے اور ہر حال میں مستحب ہے؛ چنانچہ سوتے وقت بھی یہ مشروع ہے، جیسا کہ براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے ان سے فرمایا: "جب تم اپنے بستر پر آؤ، تو اس طرح وضو کرکے آؤ جس طرح نماز کے لیے کیا جاتا ہے..." حدیث [صحیح بخاری: 247، صحیح مسلم: 2710]۔
اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: "جو شخص باوضو ہو کر رات گزارتا ہے تو ایک فرشتہ اس کے جسم سے لگے کپڑوں میں رات گزارتا ہے، پھر رات کو جس وقت بھی وہ بیدار ہوتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے: اے اللہ! اپنے اس بندے کی مغفرت فرما، کیوں کہ اس نے باوضو رات گزاری ہے۔“ [صحیح ابن حبان: 1051]۔
اسی طرح نیند سے بیدار ہونے کے وقت بھی وضو مشروع ہے، جیسا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "شیطان تم میں سے ہر آدمی کے سر کے پیچھے رات میں سوتے وقت تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پر یہ پھونک مارتا ہے کہ سوجا، ابھی رات بہت باقی ہے۔ پھر اگر کوئی بیدار ہو کر اللہ کو یاد کرنے لگے تو ایک گرہ کھُل جاتی ہے۔ پھر اگر وضو کر لے تو ایک اور گرہ کھل جاتی ہے۔ پھر اگر نماز پڑھے تو ایک اور گرہ بھی کھل جاتی ہے۔ اس طرح صبح کے وقت آدمی چاق وچو بند اور خوش مزاج رہتا ہے۔ ورنہ غمگین اور سست رہتا ہے۔‘‘ [صحیح بخاری: 1142، صحیح مسلم: 776]۔
غصہ آنے پر نفس کے ہیجان کو دبانے، اس کی حرارت کو بجھانے اور شیطان کو دفع کرنے کے لیے بھی وضو مشروع ہے، چنانچہ نبی ﷺ سے مروی حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’بے شک غصہ شیطان کی طرف سے ہے، اور شیطان آگ سے پیدا کیا گیا ہے، اور آگ پانی ہی سے بجھائی جاتی ہے، لہٰذا تم میں سے جب کسی شخص کو غصہ آئے تو وہ وضو کر لے۔‘‘ [سنن ابو داود: 4784]۔
اسی طرح جنبی (ناپاک) کے لیے مشروع ہے کہ جب وہ اپنی بیوی سے دوبارہ جماع کرنے کا ارادہ کرے تو وضو کر لے؛ کیوں کہ یہ اس کے لیے بہتر ہے اور اس کے جسم اور نفس کے لیے زیادہ چستی کا باعث ہے، جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس جائے (صحبت کرے) اور پھر دوبارہ صحبت کرنا چاہے، تو وضو کرے۔“ [صحیح مسلم: 308]۔
بلکہ یہاں تک کہ اگر جنبی غسل کرنے سے پہلے کھانا کھانے یا سونے کا ارادہ کرے تو اس کے لیے وضو کرنا مسنون ہے، جیسا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: "رسول اللہ ﷺ جب جنابت کی حالت میں ہوتے اور کھانے یا سونے کا ارادہ فرماتے، تو نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے۔" [صحیح بخاری : 288، صحیح مسلم : 305]۔
اے اللہ! ہمیں بہت زیادہ توبہ کرنے والوں اور بہت پاک صاف رہنے والوں میں سے بنا۔
پھر جان لیجیے - اللہ آپ پر رحم فرمائے - کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ایسے کام کا حکم دیا ہے جس کی ابتداء اس نے خود اپنی ذات سے فرمائی، چنانچہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو۔ [ الاحزاب : 56]۔ اے اللہ! درود وسلام اور برکت نازل فرما اپنے بندے اور اپنے رسول محمد ﷺ پر، اور آپ کے پاک و پاکیزہ آل بیت اور صحابہ کرام پر۔
***
خطبے کا عنوان
وضو کی فضیلت اور اس کے احکام
پہلے خطبے کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد چاہتے ہیں اور اسی سے بخشش طلب کرتے ہیں، اور ہم اپنے نفس اور اپنے اعمال کی خرابیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا، اور جسے وہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں: اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہئیے اور دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا۔ [آل عمران: 102] اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کرکے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں، اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو۔ بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے۔ [النساء: 1] اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سیدھی سیدھی (سچی) باتیں کیا کرو۔ تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے کام سنوار دے اور تمہارے گناه معاف فرما دے، اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرے گا اس نے بڑی مراد پالی۔ [ الاحزاب: 70 - 71]۔
پہلا خطبہ
اما بعد: بے شک مومن طہارت سے متصف ہوتا ہے، اور مشرک نجاست سے، چنانچہ مومن شرک اور اس کی گندگی سے پاک ہوتا ہے، اور وہ جتنا کمالِ ایمان کے قریب ہوتا ہے؛ اس کا دل حقد وحسد اور نفرت سے پاک ہوتا ہے، اس کا عمل ریا اور نمود ونمائش سے پاک ہوتا ہے، اور اس کے اعضاء نافرمانیوں اور گناہوں سے پاک ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کے دشمن، اس سے دشمنی رکھنے اور اس کی اطاعت سے اعراض کرنے کے باعث ناپاک ہو گئے، لہٰذا وہ ہر طرح کی نجاست کے زیادہ مستحق ہیں: ۔۔۔یہی وه لوگ ہیں جن کے دلوں کو پاک کرنا اللہ کو منظور نہیں، ان کے لئے دنیا میں بھی بڑی ذلت اور رسوائی ہے اور آخرت میں بھی ان کے لئے بڑی سخت سزا ہے۔ [المائدۃ: ۴۱] چوں کہ ان کا یہی حال تھا اس لیے وہ پاکباز مومنوں کے خلاف برسرِ جنگ رہتے، اور اپنی ناپاک مجلسوں میں ایک دوسرے کو یہ کہتے ہوئے وصیت کرتے: ۔۔۔ان لوگوں کو اپنی بستی سے نکال دو۔ یہ لوگ بڑے پاک صاف بنتے ہیں۔ [الاعراف: ۸۲]
بلاشبہ مومنوں کی طہارت اللہ تعالیٰ پر ایمان، اس کے لیے اخلاص، اور اعمال صالحہ کے ذریعے اس کی طرف سبقت کرنے سے حاصل ہوتی ہے، چنانچہ وضو اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے ہونے کے لیے طہارت ہے، اور نماز ایسی طہارت ہے جو گناہوں اور نافرمانیوں کے میل کچیل کو دھو دیتی ہے، اور زکوٰۃ مال کی طہارت ہے: آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لیجئے، جس کے ذریعہ سے آپ ان کو پاک صاف کردیں... [التوبۃ: ۱۰۳] اسی طرح دیگر تمام عبادات ہیں۔
اور محترَم اشیاء طاہر وپاک ہیں، اور مومن زندہ اور مردہ دونوں حالت میں محترم ہے، اس لیے وہ طاہر ہے، اور جو کچھ جنت میں ہے وہ محترم ہے لہذا وہ پاکیزہ ہے: ۔۔۔تقویٰ والوں کے لئے ان کے رب تعالیٰ کے پاس جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وه ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزه بیویاں اور اللہ تعالیٰ کی رضامندی ہے۔۔۔ [آل عمران: 15]، اور اللہ کے گھر محترم ہیں، اس لیے ان کو پاک صاف رکھنا واجب ہے: ... ہم نے ابراہیم ﴿علیہ السلام﴾ اور اسماعیل ﴿علیہ السلام﴾ سے وعده لیا کہ تم میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع سجده کرنے والوں کے لئے پاک صاف رکھو۔ [البقرۃ: ۱۲۵] اور اللہ تعالی کی کتاب قابل احترام، پاک اور پاکیزہ ہے: (یہ تو) پر عظمت صحیفوں میں (ہے)۔ جو بلند وباﻻ اور پاک صاف ہے۔ [عبس: ۱۳- ۱۴]۔ اللہ تعالیٰ کا ایک رسول جو پاک صحیفے پڑھے۔ [البینۃ: ۲] لہذا یہ واجب ہے کہ اسے صرف پاک شخص ہی چھوئے۔ کہ بیشک یہ قرآن بہت بڑی عزت واﻻ ہے۔ جو ایک محفوظ کتاب میں درج ہے۔ جسے صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں۔ [الواقعۃ: ۷۷- ۷۹]
اور حسی طہارت معنوی طہارت کی تکمیل کرتی ہے، کیوں کہ اسلام پاکی اور طہارت کا دین ہے؛ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر پانی نازل فرما کر احسان فرمایا: ۔۔۔اور ہم آسمان سے پاک پانی برساتے ہیں۔ [الفرقان: ۴۸]، ...اور تم پر آسمان سے پانی برسا رہا تھا کہ اس پانی کے ذریعہ سے تم کو پاک کر دے... [الانفال: ۱۱] اور رسول اللہ ﷺ کو بعثت کے وقت دی جانے والی اولین پکاروں میں سے یہ پکار تھی : اے کپڑا اوڑھنے والے۔ کھڑا ہوجا اور آگاه کردے۔ اور اپنے رب ہی کی بڑائیاں بیان کر۔ اپنے کپڑوں کو پاک رکھا کر۔ ناپاکی کو چھوڑ دے۔ [ المدثر : 1 - 5].
حسی طہارت کپڑوں کو پاک کرنے سے حاصل ہوتی، اور معنوی طہارت بتوں سے اجتناب کرنے سے، ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں ابن زید سے نقل کیا ہے: "مشرکین پاک نہیں رہتے تھے، اس لیے اللہ تعالی نے انہیں حکم دیا کہ وہ پاک رہیں، اور اپنے کپڑوں کو پاک صاف رکھیں۔" [تفسیر ابن کثیر: 8/ 263]-
اس عظیم شریعت کی ابتدائی پکاروں میں طہارت کا ذکر محض اسلام میں طہارت کی عظیم اہمیت ہی کی بنا پر آیا ہے؛ بلکہ یہ قرآنی خبر بھی آئی ہے کہ اللہ تعالیٰ صفائی رکھنے والوں سے محبت کرتا ہے: ...اس میں ایسے آدمی ہیں کہ وه خوب پاک ہونے کو پسند کرتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ خوب پاک ہونے والوں کو پسند کرتا ہے۔ [التوبۃ: 108] آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا: یہ آیت اہلِ قبا کے بارے میں نازل ہوئی: ﴿فِيهِۚ فِيهِ رِجَالٞ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُواْۚ﴾ (التوبہ:108) وہ پانی سے استنجا کرتے تھے، تو ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ [سنن ابو داود: 44]۔
سنتِ نبوی میں اس بات کی صراحت آئی ہے کہ ’’پاکیزگی نصف ایمان ہے۔‘‘ [مسلم: 223]؛ نماز کے لیے وضو کرنا ان عظیم ترین طہارتوں میں سے ہے جن پر بہت بڑا اجر و ثواب مقرر کیا گیا ہے، چنانچہ گناہوں کے مٹائے جانے اور درجات کی بلندی کے اسباب میں سے ہے کہ تکلیف کے باوجود مکمل وضو کیا جائے، کیوں کہ وضو سے اعضا و جوارح کے گناہ نکل جاتے ہیں، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب مسلمان بندہ وضو کرتا ہے اور منہ دھوتا ہے تو اس کے منہ سے وہ سارے گناہ نکل جاتے ہیں جو اس نے آنکھوں سے کئے پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرہ کے ساتھ، پھر جب ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں میں سے ہر ایک گناہ جو ہاتھ سے کیا تھا، پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرہ کے ساتھ نکل جاتا ہے، پھر جب پاؤں دھوتا ہے تو ہر ایک گناہ جس کو اس نے پاؤں سے چل کر کیا تھا پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرہ کے ساتھ نکل جاتا ہے یہاں تک کہ وہ تمام گناہوں سے پاک صاف ہو کر نکلتا ہے۔‘‘ [صحیح مسلم: 244]
وضو کی فضیلت اور مومن کی زندگی میں اس کے اثرات بہت عظیم ہیں؛ کیوں کہ قیامت کے دن یہی وہ علامت ہوگی جس کے ذریعے نبی کریم ﷺ اپنی امت کو تمام دوسری امتوں کے درمیان پہچانیں گے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ قبرستان تشریف لائے تو فرمایا: "تم پر سلامتی ہو اے مومن قوم کے گھر والو! تم ہم سے پہلے جانے والے ہو، اور ہم، اگر اللہ نے چاہا تو تم سے ملنے والے ہیں۔ میری آرزو ہے کہ ہم اپنے بھائیوں کو دیکھیں۔‘‘ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تم میرے اصحاب ہو، اور ہمارے بھائی وہ ہیں جو ابھی تک نہیں آئے۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کی امت کے وہ لوگ جو ابھی تک نہیں آئے، آپ انہیں کیسے پہچانیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’یہ بتلاؤ، اگر ایک آدمی کے ایسے گھوڑے جن کی پیشانی اور ٹانگیں سفید ہوں، خالص سیاہ رنگ کے گھوڑوں کے درمیان ہوں، کیا وہ اپنے گھوڑے پہچان نہیں لے گا؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اسی طرح وہ لوگ اس حال میں آئیں گے کہ وضو کی وجہ سے ان کی پیشانیاں اور ہاتھ پاؤں روشن ہوں گے، اور میں حوض پر ان کا پہلے سے انتظار کروں گا۔ خبردار ! بعض لوگ میرے حوض پر سے اس طرح ہٹائے جائیں گے، جیسے بھٹکا ہوا اونٹ ہنکا دیا جاتا ہے۔ میں ان کو پکاروں گا کہ آؤ آؤ۔ لیکن کہا جائے گا یہ لوگ آپ کے بعد بدل گئے تھے۔ تب میں کہوں گا: جاؤ دور ہو، دور ہو۔‘‘ [صحیح مسلم: 249]۔
اور ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے خلیل ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: "مومن کا زیور وہاں تک پہنچے گا جہاں تک وضو پہنچے گا“ [صحیح مسلم: 250]۔
رہا آپ ﷺ کے وضو کا طریقہ تو اسے امیر المومنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ چنانچہ انھوں نے وضو کا پانی منگوایا اور وضو کیا، اپنی دونوں ہتھیلیوں کو تین بار دھویا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، پھر اپنے چہرے کو تین بار دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ کہنیوں سمیت تین بار دھویا، پھر اپنا بایاں ہاتھ اسی طرح دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنا دایاں پیر ٹخنوں سمیت تین بار دھویا، پھر بایاں پیر اسی طرح دھویا، پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو میرے اس وضو کی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: "جس نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا، پھر کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پڑھی، جس میں اس نے اپنے جی میں کوئی بات نہ کی، اس کے گزشتہ گناہ بخش دیے جائیں گے۔" [صحیح بخاری : 164، صحیح مسلم : 226]۔
ابن شہاب زہری رحمہ اللہ نے فرمایا: "ہمارے علماء کہا کرتے تھے: یہ سب سے کامل وضو ہے جو کوئی شخص نماز کے لیے کرتا ہے۔" [صحیح مسلم : 226]۔
اور یہ ثابت ہے کہ نبی ﷺ نے وضو میں اعضاء کو ایک ایک بار دھویا۔ [صحیح بخاری: 157]، اور دو دو مرتبہ [صحیح بخاری: 158]، اور تین تین مرتبہ بھی ثابت ہے۔ [صحیح بخاری : 164، صحیح مسلم : 226]، اور آپ سے یہ بھی ثابت ہے کہ آپ نے اعضاء کو دھونے کی تعداد میں فرق کیا، چنانچہ اپنا چہرہ تین بار دھویا، اور دونوں ہاتھ دو بار اور دونوں پاؤں ایک بار دھوئے۔ [صحیح بخاری : 197، صحیح مسلم : 235]، یہ سب آپ ﷺ کی سنت سے ثابت ہے، اور بہتر یہ ہے کہ بندہ کبھی اس کو کرے اور کبھی اس کو، تاکہ آپ ﷺ کی مکمل سنت پر عمل ہو جائے۔
جب بندہ اپنے وضو سے نماز پڑھ لے تو اس کے لیے مستحب ہے کہ دوسری نماز کے لیے دوبارہ وضو کرے، لیکن اگر اس نے اپنے وضو سے نماز نہ پڑھی ہو تو وہ دوبارہ وضو نہ کرے، شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "فقہاء نے صرف اس شخص کے بارے میں کلام کیا ہے جس نے پہلے وضو کے ساتھ نماز پڑھ لی ہو کہ کیا اس کے لیے وضو کی تجدید مستحب ہے؟ البتہ جس نے نماز نہ پڑھی ہو، تو اس کے لیے وضو کا اعادہ مستحب نہیں؛ بلکہ اس جیسی صورت میں وضو کی تجدید بدعت، رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مخالف اور مسلمانوں کے اس طریقے کے بھی خلاف ہے جس پر وہ آپ ﷺ کی حیات مبارکہ میں اور آپ ﷺ کے بعد اس وقت تک قائم رہے ہیں۔" ان کی بات ختم ہوئی۔ [مجموع الفتاوى: 21/ 376]۔
جب مومن وضو کرتا ہے تو یقیناً وہ اپنے بدن کی پاکیزگی مکمل کر لیتا ہے، پھر وہ شرک سے اپنے دل کی پاکیزگی کی تاکید کے طور پر کلمۂ توحید پڑھتا ہے، اور اللہ سے دعا کرتا ہے کہ وہ اسے اس پاکیزگی پر قائم رکھے۔ یہ مصطفیٰ ﷺ کی سنت میں وارد ہوا ہے، چنانچہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «جس شخص نے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا، پھر کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اے اللہ! مجھے خوب توبہ کرنے والوں میں سے بنا اور خوب پاکیزگی حاصل کرنے والوں میں سے بنا، تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں، وہ جس میں سے چاہے داخل ہو جائے۔» [سنن ترمذی، حدیث نمبر: 55]۔
ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص وضو کرے اور اپنے وضو سے فارغ ہونے کے بعد یہ دعا پڑھے: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» (اے اللہ! تو اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں)، تو اسے ایک ورق پر لکھ دیا جاتا ہے، پھر اس پر مہر لگا دی جاتی ہے، اور اسے قیامت کے دن تک توڑا نہیں جاتا۔“ [السنن الکبری از نسائی: 9829، مستدرک حاکم: 2072، اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے]۔
ہمیشہ باوضو رہنا مومنوں کے لیے کمال کی صفات میں سے ایک صفت ہے، اس سے متصف ہونے کی پابندی صرف مومن ہی کر سکتے ہیں، آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا: «استقامت اختیار کرو، اور کیا ہی خوب ہے اگر تم استقامت اختیار کرو، تمہارے اعمال میں سب سے افضل عمل نماز ہے، اور وضو کی ہمیشہ پابندی صرف مومن ہی کر سکتا ہے» [سنن ابن ماجہ : 279]۔
حدَث (وضو ٹوٹنے) کے بعد وضو کرنا، پھر اس وضو کے ساتھ نماز پڑھنا، جنت کی طرف سبقت لے جانے والے میدانوں میں سے ہے، چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فجر کی نماز کے وقت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے بلال! مجھے اپنا سب سے زیادہ امید والا عمل بتلاؤ جو تم نے اسلام میں کیا ہے، اس لیے کہ میں نے جنت میں اپنے آگے تمھارے جوتوں کی آواز سنی۔ انھوں نے عرض کیا: میں نے کوئی عمل اپنے نزدیک اس سے زیادہ امید والا نہیں کیا کہ میں نے رات یا دن کی جس گھڑی میں بھی وضو کیا تو اس وضو سے اتنی نماز ضرور پڑھی جتنی میرے مقدر میں لکھی تھی۔" [صحیح بخاری: 1149، صحیح مسلم: 2458]۔
اللہ اکبر! تھوڑا عمل، اور بہت زیادہ خیر، ہر حدَث کے بعد وضو، اور ہر وضو کے بعد نماز، اور بدلہ جنت کی طرف سبقت ہے۔
ہمیشہ طہارت کی حالت میں رہنے سے بندہ اپنے رب کے سامنے طہارت کی حالت میں ہی حاضر ہوتا ہے، چاہے اس کی موت اچانک ہی کیوں نہ واقع ہو۔ اسی لیے مومن اس بات کے سوا کسی چیز پر راضی نہیں ہوتا کہ وہ ہمیشہ طہارت کی حالت میں رہے، یہاں تک کہ اپنی نیند میں بھی، اور ایسا کیوں نہ ہو جبکہ نبی ﷺ فرماتے ہیں: "ان جسموں کو پاک رکھو، اللہ تعالیٰ تمہیں پاک رکھے گا، بلاشبہ جو بندہ پاک ہو کر رات گزارتا ہے تو ایک فرشتہ اس کے پہلو میں اس کے ساتھ رات گزارتا ہے، وہ رات کی کسی بھی گھڑی میں جب کروٹ بدلتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے: اے اللہ! اپنے اس بندے کی مغفرت فرما، کیونکہ اس نے پاک ہو کر رات گزاری ہے۔" [المعجم الکبیر للطبراني: 13620]۔
یہ کتنی بڑی فضیلت ہے؟! ساری رات بندہ جب بھی اپنے بستر پر کروٹ بدلتا ہے تو فرشتے اس کے لیے استغفار کرتے ہیں، اور بندے کو اس فضیلت کے حصول کے لیے سونے سے پہلے محض وضو کرنا ہے۔ تو بھلا کون ہے جو خود کو اس خیر سے محروم رکھے؟! اور بغیر طہارت کے سو جائے؛ اگر اس کی روح قبض کر لی گئی تو وہ بغیر طہارت کے قبض کی جائے گی، اور اگر چھوڑ دی گئی تو اس سے فرشتوں کے استغفار کی فضیلت چھوٹ جائے گی۔
بھائیو! یہ وضو ہے اور یہ اسلام میں اس کی فضیلت ہے، تو دین اسلام کے علاوہ کون سا دین ہے جس نے طہارت اور نظافت پر اتنی زیادہ توجہ دی ہو؟! اس لیے اسلام پر اللہ کا شکر ہے، اور ہم اللہ سے موت تک اس پر ثابت قدمی کی دعا کرتے ہیں، میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ اے ایمان والو! جب تم نماز کے لئے اٹھو تو اپنے منھ کو، اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھو لو، اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھو لو، اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو غسل کرلو، ہاں اگر تم بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو یا تم میں سے کوئی حاجت ضروری سے فارغ ہو کر آیا ہو، یا تم عورتوں سے ملے ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو تم پاک مٹی سے تیمم کرلو، اسے اپنے چہروں پر اور ہاتھوں پر مل لو اللہ تعالیٰ تم پر کسی قسم کی تنگی ڈالنا نہیں چاہتا بلکہ اس کا اراده تمہیں پاک کرنے کا اور تمہیں اپنی بھرپور نعمت دینے کا ہے، تاکہ تم شکر ادا کرتے رہو۔ [ المائدۃ: 6] اللہ تعالیٰ قرآنِ عظیم میں مجھے اور آپ کو برکت دے۔
دوسرے خطبے کا مقدمہ
ساری تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، شکر کرنے والوں جیسی حمد، اور میں اس سے گناہ گاروں کی طرح بخشش طلب کرتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، وہ رب العالمین ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، جو تمام انسانوں کے سردار ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل واصحاب پر، تابعین پر، اور قیامت تک ان کے منہج پر چلنے والوں اور ان کے نقش قدم کی پیروی کرنے والوں پر درود وسلام اور برکتیں نازل فرمائے۔
دوسرا خطبہ
امابعد! میں تمہیں اور اپنے آپ کو اللہ عز وجل کا خوف رکھنے کی وصیت کرتا ہوں، لہذا اس سے ڈرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ، کیوں کہ: ...جو بھی پرہیز گاری اور صبر کرے تو اللہ تعالیٰ کسی نیکوکار کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ [یوسف: ۹۰] ...اگر تم ایمان ﻻؤ اور تقویٰ کرو تو تمہارے لئے بڑا بھاری اجر ہے۔ [آل عمران: 179]۔
اے بھائیو! وضو کے معاملے میں بہت سے لوگوں کی ایک کوتاہی یہ ہے کہ وہ وضو اچھی طرح مکمل نہیں کرتے؛ یا تو اس کی اہمیت سے غفلت برتتے ہیں، یا اس کے شرعی طریقے سے ناواقف ہوتے ہیں۔ حالانکہ وضو کا عظیم اجر اسی وقت مرتب ہوتا ہے جب اسے پورے اہتمام، کامل طریقے اور اچھی طرح ادا کیا جائے۔ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو بھی مسلمان وضو کرتا ہے اور وہ اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر کھڑے ہو کر پوری یکسوئی اور توجہ کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھتا ہے تو اس کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے"۔ [صحیح مسلم : 234]، عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "جس نے اس طرح مکمل وضو کیا جیسا کہ اللہ نے اسے حکم دیا ہے، تو فرض نمازیں ان کے درمیانی گناہوں کا کفارہ ہو جائیں گی۔“ [صحیح مسلم : 231]، امام بخاری فرماتے ہیں: " ابن سیرین جب وضو کرتے تو انگوٹھی کی جگہ دھوتے تھے۔" [صحیح بخاری: 1/ 44]۔
اور وضو کامل نہ کرنے پر سخت وعید آئی ہے۔ محمد بن زیاد روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ ہمارے پاس سے گزر رہے تھے اور لوگ وضو کے برتن سے وضو کر رہے تھے، تو انھوں نے فرمایا: ’’وضو کامل کیا کرو، کیوابوالقاسم ﷺ نے فرمایا ہے: "ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔" [صحیح بخاری: 165، صحیح مسلم: 242، اور مذکورہ الفاظ صحیح مسلم کے ہیں]، لہذا ایسے لوگوں کو اللہ سے ڈرنا چاہیے جو اس بات کی پروا نہیں کرتے کہ انہوں نے وضو کیسے کیا، اور نہ ہی وہ وضو کو کامل طریقے سے کرنے کا اہتمام کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔
یہ تو کوتاہی کرنے والوں کا گروہ ہے، اس کے مقابلے میں وضو میں وسوسوں کا شکار، خود کو مشقت میں ڈالنے والے، پانی بہانے میں اسراف کرنے والے اور اسے ناحق ضائع کرنے والے لوگوں کا گروہ ہے۔ حالاں کہ نبی ﷺ ایک صاع پانی سے غسل جنابت کر لیا کرتے تھے، اور ایک مد پانی سے وضو فرما لیا کرتے تھے۔ [اسے بخاری: 201، اور مسلم: 325 نے روایت کیا ہے]
جب ایک شخص نے جابر رضی اللہ عنہ سے ایک صاع پانی سے غسل کرنے کے بارے میں کہا کہ میرے لیے تو یہ کافی نہیں، تو جابر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: "یہ اس ذات کے لیے کافی ہوتا تھا جن کے بال تم سے زیادہ گھنے تھے اور جو تم سے بہتر تھے۔" [صحیح بخاری : 252، صحیح مسلم : 329]۔
امام احمد کہتے ہیں: "آدمی کی فقاہت میں سے یہ بھی ہے کہ وہ پانی کا کم استعمال کرے۔“
ان کے شاگرد مروزی نے فرمایا: "میں نے ابو عبداللہ کو وضو کرایا تو انہیں لوگوں سے چھپائے رکھا؛ تاکہ وہ پانی کم بہانے کی وجہ سے یہ نہ کہیں کہ وہ اچھی طرح وضو نہیں کرتے، اور آپ رحمہ اللہ وضو کرتے تو زمین بمشکل ہی تر ہوتی تھی۔" [اغاثة اللهفان: 1/ 222]۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "صحیح احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کثرت سے پانی نہیں بہاتے تھے، اور اخلاص کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والے تابعین بھی اسی پر کاربند رہے۔" [اسے ابن القیم نے اغاثة اللهفان: 1/ 221 میں نقل کیا ہے]۔
ابن القیم رحمہ اللہ نبی ﷺ کا طریقہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "آپ ﷺ وضو کا پانی بہانے میں لوگوں میں سب سے زیادہ اعتدال سے کام لینے والے تھے، اور اپنی امت کو اس میں اسراف کرنے سے خبردار کرتے تھے، نیز آپ نے یہ خبر دی کہ آپ کی امت میں ایسے لوگ ہوں گے جو طہارت کے معاملے میں حد سے تجاوز کریں گے۔" ان کی بات ختم ہوئی۔ [زاد المعاد: 1/ 184]۔
جب عبادات میں اسراف اور پانی بہانے سے منع کیا گیا ہے، تو دیگر امور میں بدرجہ اولیٰ اس کی ممانعت ہے۔
پانی میں اسراف اور وضو میں بدعت کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ تین بار سے زیادہ دھویا جائے۔ امام احمد فرماتے ہیں: "کسی مریض شخص کے علاوہ کوئی بھی تین سے زیادہ کا اضافہ نہیں کرتا۔" [اسے ترمذی نے اپنی سنن: 1/ 63 میں ذکر کیا ہے]۔
ابن المبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "جو شخص تین سے زیادہ کرے، میں اس کے گنہگار ہونے سے بے خوف نہیں ہوں۔" [اسے ابن قدامہ نے المغني میں ذکر کیا ہے: 103/1]۔
نخعی کہتے ہیں: "وضو میں غلو سے کام لینا شیطان کی طرف سے ہے، اگر یہ فضیلت ہوتی تو محمد ﷺ کے صحابہ کو اس پر ترجیح دی جاتی۔‘‘ [اسے ابن قدامہ نے المغني میں ذکر کیا ہے: 1/ 103]۔
اور حدیث میں آیا ہے کہ نبی ﷺ نے تین بار وضو کیا، پھر فرمایا: "وضو (کا طریقہ) یہ ہے، لہٰذا جس شخص نے اس سے کچھ زائد کیا، اس نے برا کیا اور ظلم کیا۔“ [سنن نسائی: 140]۔
لہذا اللہ سے ڈرو جو تمھارا رب ہے، اور اپنے دین کی سمجھ حاصل کرو، اور اچھی طرح وضو کرو: اے اوﻻد آدم! تم مسجد کی ہر حاضری کے وقت اپنا لباس پہن لیا کرو ۔ اور خوب کھاؤ اور پیو اور حد سے مت نکلو۔ بےشک اللہ حد سے نکل جانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ [ الاعراف : 31]۔
پھر محمد بن عبد اللہ ﷺ پر درود وسلام بھیجو، جیسا کہ تمہارے رب نے تمہیں اس کا حکم دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو۔ [ الاحزاب : 56]۔
***
خطبے کا عنوان
موزوں پر مسح کرنے کے احکام
پہلے خطبے کا مقدمہ
ساری تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو نہایت مہربان اور باخبر ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، جو اعلی اور بالا ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، جو خوشخبری سنانے والے، ڈرانے والے اور روشن چراغ ہیں، اے اللہ! آپ پر، آپ کے آل واصحاب پر درود، سلام اور برکتیں نازل فرما، ایسا درود وسلام جس کے ذریعے خیرِ کثیر اور اجرِ عظیم حاصل ہو۔
پہلا خطبہ
اما بعد :
مسلمانو! میں تمہیں اور اپنے آپ کو اللہ عزیز وبرتر کے تقویٰ اور اس کی اطاعت گزاری کی وصیت کرتا ہوں؛ كیوں کہ اسی سے ہر مطلوب حاصل ہوتا اور انسان ہر اس چیز سے محفوظ رہتا ہے جس کا اسے خوف ہو۔
مسلمانو! بندوں پر اللہ عز وجل کی رحمت ہے کہ اس نے ان کے لیے آسانی اور سہولت کے اصولوں کے مطابق ایسے احکام مقرر فرمائے جو ان کے کاموں کو آسان کر دیں، اور جن سے ان کے حالات درست ہو جائیں۔
چنانچہ شریعتِ اسلامیہ کے قواعد میں سے ایک قاعدہ ”المَشَقَّةُ تَجْلِبُ التَّيْسِيْرَ“ بھی ہے، یعنی سختی آسانی لاتی ہے۔ شریعتِ محمدی ﷺ میں آسانی کے پہلوؤں میں سے ایک پہلو موزوں پر مسح کی مشروعیت ہے جو کتابِ عظیم اور نبی کریم کی متواتر احادیث سے ثابت ہے، اے اللہ! ان پر درود وسلام اور برکتیں نازل فرما۔
چنانچہ جب تک انسان موزے پہنے ہوئے ہو، ان پر مسح کرنا سنت ہے۔
دینی بھائیو!
چمڑے کے بنے ہوئے موزوں (خفّ) پر مسح کے مشروع ہونے کے ساتھ جورب پر مسح کرنا بھی مشروع ہے۔ جورب سے مراد وہ موزے ہیں جو سوتی، اونی یا اسی طرح کے دیگر مروجہ کپڑوں سے بنائے جاتے ہیں، جیسے آج کل لوگوں میں رائج ہیں۔ لہٰذا وضو میں اس طرح کے موزوں پر مسح کرنا جائز ہے، بشرطیکہ انسان نے انہیں مکمل طہارت کی حالت میں پہنا ہو؛ یعنی پہلے مکمل وضو کیا ہو، یا کوئی شرعی غسل، مثلاً غسلِ جنابت کیا ہو، پھر اس کے بعد موزے پہنے ہوں۔
زیادہ احتیاط اس میں ہے کہ وضو کرنے والا چمڑے یا کپڑے کا موزہ اس وقت تک نہ پہنے جب تک کہ وہ اپنے دونوں پاؤں نہ دھو لے، پھر ایسی صورت میں اس کے لیے اس کے بعد مسح کرنا جائز ہوگا۔
مسح صرف حدثِ اصغر سے طہارت کے لیے ہے۔ رہی بات حدثِ اکبر کی، جیسے کسی کو جنابت لاحق ہو، تو اس حالت میں موزوں پر مسح کرنا جائز نہیں ہے؛ بلکہ موزوں کو اتار کر مکمل بدن دھونا ضروری ہے۔
اسلامی بھائیو!
موزوں پر مسح کی مدت مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات ہے، اور مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں ، اور مسح کی مدت اس حدث کے بعد پہلی بار مسح کرنے سے شروع ہوتی ہے جو انسان کو لاحق ہوتا ہے، جسے اہل علم کے ہاں "نواقضِ وضو" کہا جاتا ہے۔
مثلاً: اگر کسی نے ظہر کی نماز کے لیے وضو کیا، پھر موزے پہن لیا، پھر حدث لاحق ہوا، پھر عصر کی نماز کے وقت مسح کیا، تو اس وقت مسح کی مدت عصر کی نماز کے وقت مسح کرنے سے شروع ہوتی ہے۔
اور جس نے سفر کی حالت میں مسح کیا، پھر شہر میں مقیم ہو گیا، تو وہ مقیم کے مسح کو مکمل کرے گا - یعنی: ایک دن اور ایک رات - جب تک یہ مدت باقی ہے، اور جس نے شہر میں مقیم ہونے کی حالت میں مسح کیا، پھر اس مدت کے دوران سفر پر روانہ ہو گیا، تو وہ مسافر کے مسح کی مدت تک مسح کرے گا - یعنی: تین دن اور تین راتیں - اہل علم کے دو اقوال میں سے راجح قول کے مطابق۔
موزوں پر مسح کا تعلق وضو میں قدموں کو دھونے سے ہے؛ یعنی ضروری ہے کہ پانی سے شرعی وضو کیا جائے۔ البتہ اگر انسان تیمم کے جائز ہونے کی حالت میں تیمم کرے، پھر اپنے موزے پہن لے، تو پانی مل جانے پر اس کے لیے اس دلیل کی بنیاد پر مسح کرنا جائز نہیں ہے کہ اس نے شرعی طہارت کی حالت میں موزے پہنے تھے؛ کیوں کہ موزوں پر مسح میں طہارت کا تعلق دیگر اعضاء کے ساتھ قدموں کو بھی پانی سے دھونے سے ہے۔
مثال کے طور پر: جس شخص کو پانی نہ ملے یا وہ بیمار ہو اور وضو کے لیے پانی استعمال نہ کر سکتا ہو؛ تو اس کے لیے بغیر طہارت کے بھی موزے پہن لینے میں کوئی حرج نہیں اور وہ اس تیمم کے ساتھ نماز ادا کر لے، لیکن جب اسے پانی مل جائے یا بیمار شفا یاب ہو جائے تو اس پر مکمل وضو کرنا ضروری ہے جس میں دونوں پاؤں کا دھونا بھی شامل ہے۔
اور جب انسان کو مسح کی مدت کے آغاز میں شک ہو جائے؛ تو وہ یقین پر عمل کرے، جو عدم مسح ہے۔
مثلاً: کسی شخص کو شک ہو جائے کہ اس نے ظہر کی نماز سے آغاز کیا یا عصر کی نماز سے، تو اصل یہ ہے کہ یقین پر عمل کرے، اور وہ عدم مسح ہے، چنانچہ اس وقت مدت کا حساب عصر کی نماز سے کرے۔
مسلمانو! واجب یہ ہے کہ موزے کے اوپری حصے پر مسح کیا جائے، اس طرح کہ مسح پیروں کی انگلیوں سے شروع کر کے پنڈلی تک کرے، پہلے دائیں پیر کا مسح کرے، پھر بائیں کا، اور اگر دونوں پر ایک ساتھ مسح کر لے - یعنی: دائیں پیر کا دائیں ہاتھ سے اور بائیں پیر کا بائیں ہاتھ سے ایک ہی وقت میں مسح کرے - تو کوئی حرج نہیں۔
البتہ موزے کے نچلے حصے اور اس کی ایڑی کا مسح کرنا مسنون نہیں ہے، علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «اگر دین رائے کے مطابق ہوتا تو موزے کے نچلے حصے پر مسح کرنا اوپری حصے پر مسح کرنے سے بہتر ہوتا، حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے دونوں موزوں کے اوپری حصے پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔» [سنن ابوداؤد : 162، اور ابن حجر نے فرمایا: اس کی سند صحیح ہے۔]
داگر کوئی شخص موزے پہنے، پھر ان پر دوسرے موزے پہن لے، اور اوپر والے موزوں پر مسح کرے، تو اہل علم کے دو اقوال میں سے صحیح قول کے مطابق اس میں کوئی حرج نہیں، جب تک مسح کی مدت باقی ہے، اور مدت کا حساب پہلے موزے پر مسح سے ہوگا۔
اور اگر مسح کی مدت ختم ہو جائے جبکہ انسان پاکی کی حالت میں ہو، تو راجح قول کے مطابق اس سے اس کی پاکی نہیں ختم ہو گی، اور اس قول کو ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور دیگر محققین نے اختیار کیا ہے؛ کیوں کہ شریعت نے مسح کی مدت مقرر کی ہے، چنانچہ جب اس کی مدت پوری ہو جائے اور انسان طہارت پر ہو تو اس کی طہارت باقی رہے گی، لیکن اس کے لیے ان موزوں پر مسح کرنا جائز نہیں یہاں تک کہ وہ مکمل وضو کرے، اور مسح کی نئی مدت شروع ہو جائے۔
اس مسئلے کی مثال - یعنی موزوں پر مسح کی مدت ختم ہونے کا مسئلہ - یہ ہے کہ مسح کی مدت عصر کی نماز سے شروع ہو، اور انسان اپنی طہارت پر قائم رہے یہاں تک کہ دوسرے دن عصر کا وقت آ جائے، اور ایک دن اور ایک رات مسح کرنے کے بعد بھی انسان کی طہارت باقی ہو اور اس کا وضو نہ ٹوٹا ہو۔ تو اس وقت ہم کہیں گے: اس کے لیے جائز ہے کہ وہ اسی طہارت کے ساتھ نماز پڑھے، کیوں کہ اس وضو کے ٹوٹنے اور باطل ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔
اللہ تعالی مجھے اور آپ کو اپنے دین کی سمجھ رکھنے والوں میں سے بنائے، اور ہمیں ہمارے رب کی شریعت اور ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی بصیرت عطا فرمائے۔
اللہ تعالیٰ میرے اور آپ کے لیے قرآن میں برکت عطا فرمائے، اور اس میں موجود ہدایت اور بیان کو ہمارے لیے نفع بخش بنائے، میں اپنی یہ بات کہتا ہوں اور اللہ سے اپنے لیے، آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے ہر گناہ کی مغفرت طلب کرتا ہوں، لہذا آپ بھی اس سے مغفرت طلب کریں، بے شک وہی بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔
دوسرے خطبے کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اول و آخر اور ظاہر و باطن، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، دنیا اور آخرت میں اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعے اندھی آنکھوں، پردہ پڑے دلوں اور بہرے کانوں کو کھول دیا، اے اللہ! آپ پر، آپ کے آل واصحاب پر جو نیکی اور تقویٰ والے ہیں، درود وسلام اور برکتیں نازل فرما۔
دوسرا خطبہ
مسلمانو!
بےشک ہمارا دین، آسان دین ہے، مشقت اور تنگی کا دین نہیں، یہ ہر حالت کے لیے اس کے مناسب ایسے احکام مقرر کرتا ہے جن سے مصلحت پوری ہوتی ہے اور مشقت دور ہوتی ہے۔ انہی میں سے وہ حکم بھی ہے جو اللہ تعالیٰ نے وضو کی حالت کے لیے مشروع کیا ہے کہ اگر وضو کرنے والے کے اعضاء میں سے کسی پر کوئی ایسا حائل ہو جسے اتارنا مشقت کا باعث ہو اور اسے باقی رکھنے کی ضرورت ہو؛ تاکہ زخم وغیرہ کا بچاؤ ہو سکے، جیسے پٹی اور اس جیسی چیزیں؛ تو شریعت نے وضو کرنے والے کو اجازت دی ہے کہ وہ ان حائل چیزوں پر مسح کر لے، اور انہیں اتارنے اور ان کے نیچے والے حصے کو دھونے کے بجائے اسی پر اکتفا کرے؛ یہ اللہ سبحانہ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے آسانی پیدا کرنے اور ان سے تنگی کو دور کرنے کے قبيل سے ہے۔
چنانچہ جبیرہ پر مسح کیا جائے گا، اور جبیرہ سے مراد وہ لکڑیاں وغیرہ ہیں جو ٹوٹی ہوئی ہڈی پر باندھی جاتی ہیں۔ اسی طرح زخم پر باندھی جانے والی پٹی پر بھی مسح کیا جائے گا، اور پھوڑوں یا زخموں پر لگائی جانے والی چپکنے والی پٹیاں بھی اس حکم میں شامل ہیں۔ ان تمام چیزوں پر مسح کرنا جائز ہے، بشرطیکہ وہ ضرورت کے بقدر ہوں؛ یعنی ٹوٹی ہوئی جگہ یا زخم اور اس کے آس پاس اتنی ہی جگہ پر لگی ہوں جتنی ان کے مقصد کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہو۔ اگر وہ ضرورت کی مقدار سے زیادہ حصے پر لگی ہوں تو ضرورت سے زائد حصے کو اتارنا لازم ہوگا۔
پٹی اور اس جیسی چیزوں پر حدث اصغر اور حدث اکبر میں مسح کرنا جائز ہے، اور ان پر مسح کا وقت محدود نہیں ہے، بلکہ انہیں اتارنے یا ان کے نیچے کا حصہ ٹھیک ہونے تک ان پر مسح کیا جائے گا؛ کیوں کہ ان پر مسح کرنا ضرورت کی بنا پر ہے، لہٰذا یہ ضرورت کے بقدر ہی ہوگا۔
پلاسٹر یا پٹی پر مسح کرنے کی دلیل جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، وہ فرماتے ہیں: ہم ایک سفر پر نکلے تو ہم میں سے ایک شخص کو پتھر لگ گیا جس سے اس کے سر پر زخم آ گیا۔ پھر (اسی رات) اسے احتلام ہو گیا۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا: کیا تم سمجھتے ہو کہ میرے لیے تیمم کرنے کی رخصت ہے؟ انہوں نے جواب دیا: چونکہ تم پانی کے استعمال پر قادر ہو، اس لئے ہمارے نزدیک تمہارے لئے کوئی رخصت نہیں۔ لہٰذا اس نے غسل کر لیا اور اس کی وجہ سے اس کی موت واقع ہو گئی۔ جب ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ کو اس کی خبر دی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: انہوں نے اسے قتل کر دیا، اللہ انہیں قتل کرے۔ جب انہیں علم نہیں تھا تو (کسی سے) سوال کیوں نہیں کیا؟ کیوں کہ لا علمی کا علاج سوال ہی تو ہے۔ اس شخص کے لئے تو اتنا ہی کافی تھا کہ وہ تیمم کرلیتا اور اپنے زخم پر کپڑے کا کوئی ٹکڑا (پٹی) باندھ کر اس پر مسح کرلیتا۔ [سنن ابو داود: 336، ابن السکن نے اسے صحیح کہا ہے]۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو نفع بخش علم اور نیک عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
پھر بے شک اللہ نے ہمیں ایک عظیم کام کا حکم دیا ہے، اور وہ ہے: نبی کریم ﷺ پر درود و سلام بھیجنا۔
اے اللہ! ہمارے نبی، ہمارے حبیب اور ہماری آنکھوں اور دلوں کی ٹھنڈک، ہمارے نبی محمد ﷺ پر درود وسلام اور برکت نازل فرما۔
***
خطبے کا عنوان
غسل کے مسائل
پہلے خطبے کا مقدمہ
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ایک سیدھا دین مقرر فرمایا، اور جسے چاہا اسے صراطِ مستقیم کی ہدایت عطا فرمائی، اور میں اس کی جلالت وعظمت بیان کرتے ہوئے گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر اور آپ کی آل واصحاب پر ڈھیروں درود وسلام نازل فرمائے۔
پہلا خطبہ
اما بعد، اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو۔ اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو.... [البقرۃ: 278]
ایمان والو!
عبادات ایسے مقاصد اور حکمتوں کے لیے مشروع کی گئی ہیں، جن کا بنیادی محور اللہ سبحانہ کی بندگی کا حصول، اس کے حکم کی پیروی، اور گناہ کی آلائش سے پاک ہونا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: میں نے جنات اورانسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وه صرف میری عبادت کریں۔ ( الذاریات: 56)، اور اللہ پاک کا فرمان ہے: ...اللہ تعالیٰ تم پر کسی قسم کی تنگی ڈالنا نہیں چاہتا بلکہ اس کا اراده تمہیں پاک کرنے کا اور تمہیں اپنی بھرپور نعمت دینے کا ہے، تاکہ تم شکر ادا کرتے رہو۔ [المائدۃ: 6] ان مقاصد کا ادراک عبادت کو ادا کرنے اور اس کی تکمیل میں سب سے زیادہ معاون ثابت ہوتا ہے، خاص طور پر ان عبادات میں جو بار بار کی جاتی ہیں اور کثرت سے انجام دی جاتی ہیں۔ واضح رہے کہ ان افضل ترین عبادتوں میں سے جو قوتِ ایمان، رب کی نگرانی کے احساس، اور اس کے خوف سے دل کے معمور ہونے پر دلالت کرتی ہیں: جنابت کا غسل ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "پانچ اعمال ایسے ہیں کہ جو شخص ایمان کے ساتھ انہیں ادا کرے گا، وہ جنت میں داخل ہوگا: جو شخص پانچ نمازوں کی ان کے وضو، رکوع، سجود اور اوقات کی رعایت کرتے ہوئے پابندی کرے، رمضان کے روزے رکھے، اگر بیت اللہ تک پہنچنے کی استطاعت ہو تو حج کرے، خوش دلی کے ساتھ زکاۃ ادا کرے، اور امانت ادا کرے۔" عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! امانت کی ادائیگی کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "جنابت کا غسل کرنا؛ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ابنِ آدم کو اپنے دین کی کسی چیز پر اس کے سوا امین نہیں بنایا۔" [سنن ابو داود، مختصراً: 429، اور یہ سلسلہ صحیحہ (2998) میں بھی ہے]
یہ غسل گناہوں کی صفائی اور ان کے مٹائے جانے کے عظیم ترین اسباب میں سے ہے، جیسا کہ اللہ سبحانہ نے اس کا حکم دینے کے بعد فرمایا : ...اللہ تعالیٰ تم پر کسی قسم کی تنگی ڈالنا نہیں چاہتا بلکہ اس کا اراده تمہیں پاک کرنے کا ہے... [ المائدۃ: 6]۔ اور رسول اللہ ﷺ نے مزید فرمایا: «جب مسلمان بندہ یا مومن وضو کرتا ہے اور منہ دھوتا ہے تو اس کے منہ سے وہ سب گناہ نکل جاتے ہیں جو اس نے آنکھوں سے کئے، پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرہ کے ساتھ، پھر جب ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں میں سے ہر ایک گناہ جو ہاتھ سے کیا تھا پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرہ کے ساتھ نکل جاتا ہے، پھر جب پاؤں دھوتا ہے تو ہر ایک گناہ جس کو اس نے پاؤں سے چل کر کیا تھا پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرہ کے ساتھ نکل جاتا ہے یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک صاف ہو کر نکلتا ہے۔» [صحیح مسلم: 244]
یہ اس وضو کا حال ہے جو بعض اعضاء کے ساتھ خاص ہے؛ تو اس غسل کا کیا حال ہوگا جو پورے بدن کو شامل ہے؟!
مسلمانو!
غسل کے احکام ان انتہائی ضروری امور میں سے ہیں جن کا علم ہونا بندے کے لیے ضروری ہے؛ اور یہ غسل کے اسباب، اس کے ممنوعات، اس کے طریقے اور اس کے آداب جاننے کے ذریعے ممکن ہے؛ تاکہ وہ اس امانت کو مکمل طور پر اسی طرح ادا کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے مشروع کیا ہے اور جس سے وہ راضی ہے۔
غسل جنابت ایک عبادت ہے جو بیوی سے مباشرت کرنے کی وجہ سے واجب ہو جاتا ہے چاہے انزال نہ بھی ہو؛ جیساکہ نبی ﷺ کا فرمان ہے: ’’جب مرد عورت کی چاروں شاخوں کے بیچ بیٹھے، پھر کوشش کرے، تو اس پر غسل واجب ہو گیا، اگرچہ انزال نہ بھی ہوا ہو۔‘‘ [ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث متفق علیہ ہے۔]
اسی طرح نیند کی حالت میں منی نکلنے سے مطلقاً غسل واجب ہو جاتا ہے، اسی طرح بیداری کی حالت میں بھی اگر وہ شہوت کے ساتھ نکلے؛ چنانچہ ام سلیم رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: "یا رسول اللہ! اللہ تعالی حق کو بیان کرنے سے حیا نہیں کرتا۔ آپ یہ بتائیں کہ جب عورت کو احتلام ہو جائے تو کیا اس پر بھی غسل واجب ہے؟ نبی ﷺ نے فرمایا: "جب وہ پانی دیکھ لے"۔ (یعنی: منی) [متفق علیہ]، اور آپ نے فرمایا: ”جب تم مذی دیکھو تو اپنا عضو تناسل دھو لو، اور نماز کی طرح وضو کرو، اور جب پانی (منی) اچھل کر نکلے تو غسل کرو۔“ [علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث متفق علیہ ہے۔]
اور منی کی نشانی یہ ہے کہ یہ کثیر، لیس دار اور گاڑھی ہوتی ہے؛ اور یہی چیز اسے دوسری رطوبتوں سے ممتاز کرتی ہے۔
اگر خارج ہونے والی چیز کے بارے میں شک ہو کہ وہ منی ہے یا نہیں؟ تو اصل منی کا نہ ہونا ہے؛ لہٰذا اس پر غسل لازم نہیں، بلکہ اس پر صرف اپنا عضوِ تناسل دھونا اور وضو کرنا لازم ہے، اگر وہ نماز وغیرہ کا ارادہ کرے۔
اور عورت کے حیض و نفاس کا خون بند ہونا ان امور میں سے ہے جن سے غسل واجب ہوتا ہے؛ فرمان الٰہی ہے: ...حالت حیض میں عورتوں سے الگ رہو اور جب تک وه پاک نہ ہوجائیں ان کے قریب نہ جاؤ، ہاں جب وه پاک ہوجائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے اللہ نے تمہیں اجازت دی ہے...۔ [ البقرۃ : ۲۲۲]۔
جس شخص کو حدث اکبر لاحق ہو جائے، اس کے لیے غسل کرنے تک وہ عبادات ممنوع ہیں جن کے لیے پاک ہونا شرط ہے، اور یہ عبادات نماز، طواف، قرآن کریم کی تلاوت، مصحف کو چھونا اور مسجد میں ٹھہرنا ہیں۔ تاہم حائضہ اور نفساء کو قرآن کریم کی تلاوت کرنے اور کسی حائل کے ذریعے مصحف کو چھونے سے منع کرنے کی کوئی دلیل ثابت نہیں ہے، خصوصاً اگر انہیں اس کی ضرورت ہو، مثال کے طور پر حفظ دہرانا، پڑھنا اور پڑھانا؛ لہذا کوئی مانع (رکاوٹ) نہ ہونے کی وجہ سے ان کے لیے ایسا کرنا مباح ہے، جیسا کہ شیخ الاسلام نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ ان عبادات کے ماسوا حدث اکبر والے کے لیے دیگر اعمال ممنوع نہیں، جیسے اذکار، دعائیں، استغفار، سلام کا جواب دینا اور چھینکنے والے کا جواب دینا۔
اگر جنبی کو پانی نہ مل سکے، یا وہ حقیقتاً یا حکماً اسے استعمال کرنے سے عاجز ہو؛ تو وہ تیمم کرے؛ کیوں کہ یہ پانی کے قائم مقام ہے؛ جیسا کہ اللہ جل شانہ نے خبر دی ہے، اور جب بھی پانی مل جائے یا وہ اس پر قادر ہو جائے؛ تو اللہ سے ڈرے اور اسے اپنے جسم تک پہنچائے۔
اے ایمان والو!
غسل کی دو قسمیں ہیں، ان دونوں میں سے کسی سے بھی طہارت حاصل ہو جاتی ہے، اسی طرح حدث بھی دور ہو جاتا ہے، عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: "نبی ﷺ غسل کے بعد وضو نہیں کیا کرتے تھے۔" [جامع ترمذی: ۱۰۷، سنن نسائی: ۲۵۲، سنن ابن ماجہ: ۵۷۹، امام البانی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔]
پہلی قسم: کفایت کر جانے والا غسل؛ وہ یہ کہ اپنے بدن پر پانی بہائے اور اسے پورے بدن پر پہنچائے؛ چنانچہ نبی ﷺ نے اس شخص کو جسے جنابت لاحق ہوئی تھی پانی کا ایک برتن دیا اور فرمایا: "جاؤ اور اسے اپنے اوپر بہا لو۔‘‘ [صحیح بخاری : 344]، اور غسل میں یہی مقدار واجب ہے۔
دوسری قسم: مکمل غسل؛ وہ اس طرح کہ اپنے دونوں ہاتھوں کو تین بار دھوئے، پھر اپنی شرم گاہ کو دھوئے اور جہاں منی لگی ہو اسے دھوئے، پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کرے، پھر اپنے سر پر پانی کے تین چلو ڈال کر بالوں کی جڑوں کو تر کرے، پھر دائیں پہلو سے شروع کرتے ہوئے اپنے بدن پر پانی بہائے، اور نبی ﷺ ایسا ہی کیا کرتے تھے، جیسا کہ آپ کی دونوں ازواج مطہرات عائشہ اور میمونہ رضی اللہ عنہما نے اسے بیان کیا ہے، جسے بخاری اور مسلم رحمہما اللہ نے روایت کیا ہے۔
اگر غسل کے دوران اس کا ہاتھ اپنی شرم گاہ کو چھو جائے، تو اس کی طہارت ٹوٹ جائے گی اور اس پر وضو لازم ہو گا۔
غسل میں جلدی کرنا واجب نہیں ہے، مگر جب کسی ایسی عبادت کا وقت آجائے جس کے لیے طہارت شرط ہو۔ پانی کے استعمال میں اسراف کرنا حرام ہے، خواہ غسل ہی میں کیوں نہ ہو۔ چنانچہ نبی ﷺ ایک مد پانی سے وضو اور ایک صاع پانی سے غسل فرمالیا کرتے تھے، جیسا کہ صحیحین میں انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ غسل کرنے والے کو اس بات کی تنبیہ کی جاتی ہے کہ وہ جسم کے پوشیدہ حصوں جیسے بغل اور دونوں سرینوں کے درمیانی حصے کا خاص خیال رکھے، نیز ان جگہوں کا بھی جہاں تک پانی کا پہنچنا مشکل ہوتا ہے جیسے بالوں کی تہہ۔ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "جس نے جنابت کے غسل میں ایک بال کی جگہ چھوڑ دی اور اسے نہ دھویا؛ تو اس کے ساتھ آگ سے ایسا ایسا کیا جائے گا"۔ [اسے ابو داود (249)، ابن ماجہ (599) اور احمد (794) نے روایت کیا ہے اور درست بات یہ ہے کہ یہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے قول سے صحیح ہے۔]
البتہ یہ بات اسے وسوسہ کی حد تک نہ پہنچائے، بلکہ غالب گمان کے مطابق اس کا خیال رکھنا ہے۔
جس نے اس حال میں صبح کی کہ وہ روزہ دار اور جنبی ہو، تو اس کا روزہ صحیح ہوگا، اور روزہ صرف جماع یا شہوت کے ساتھ منی خارج ہونے سے فاسد ہوتا ہے۔
دوسرے خطبے کا مقدمہ
ساری تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو اکیلا ہے اور درود وسلام ہو اس نبی پر جس کے بعد کوئی نبی نہیں آنے والا، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔
دوسرا خطبہ
اے ایمان والو!
غسل کی مستحب سنتوں میں سے جمعہ کے دن غسل کرنا بھی ہے؛ کیوں کہ اس کا استحباب مؤکد ہے، بلکہ نبی ﷺ کے اس فرمان سے استدلال کرتے ہوئے بعض علماء اس کے وجوب کے بھی قائل ہیں: ’’جمعہ کا غسل ہر بالغ پر واجب ہے۔‘‘ [بخاری و مسلم]۔
اور اس کی فضیلت کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ’’جس نے غسل کیا، پھر جمعہ میں آیا اور جتنی اس کے لیے مقدر تھی نماز پڑھی، پھر خطبہ سے فارغ ہونے تک خاموش رہا، پھر امام کے ساتھ نماز پڑھی، تو اس کے اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے اور تین دن زیادہ کے تمام گناہ بخش دیے جائیں گے۔‘‘ [صحیح مسلم: (857)]۔ جنبی کے لیے کھانے، پینے اور سونے کا ارادہ کرتے وقت وضو کرنا مسنون ہے، عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: "نبی ﷺ جب حالت جنابت میں کھانے یا سونے کا ارادہ کرتے، تو نماز جیسا وضو کرتے تھے۔‘‘ [متفق علیہ، راوی: عائشہ رضی اللہ عنہا]۔
اسی طرح اگر وہ غسل کرنے سے پہلے دوبارہ اپنی بیوی کے پاس جانا (صحبت کرنا) چاہے تو اس کے لیے وضو کرنا مسنون ہے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: ’’جب تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس جائے (صحبت کرے) اور پھر دوبارہ صحبت کرنا چاہے، تو وضو کرے۔‘‘ [صحیح مسلم: 308]۔
اے اہلِ ایمان بھائیو! آخر میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسلام اپنے پیروکاروں کی زندگی کو ہر پہلو سے اللہ تعالیٰ کی بندگی کے رنگ میں رنگ دیتا ہے، حتیٰ کہ ان امور میں بھی جنہیں وہ اپنی جائز خواہش کے مطابق انجام دیتے ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ اسلام ان ذمہ داریوں کی حفاظت کے ذریعے، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے سپرد کی ہیں، انہیں ایمان کی منزلوں پر آگے بڑھاتا ہے۔ اور یہ بھی دیکھا کہ یہ شعائر جس طرح ان کے گناہوں کو پاک کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں، اسی طرح ان کے دلوں اور اعمال کو بھی پاکیزہ کرتے ہیں۔ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے ہمیں اس راہ کی ہدایت دی، اور اگر اللہ ہمیں ہدایت نہ دیتا تو ہم ہرگز ہدایت نہ پا سکتے۔
***
خطبہ کا عنوان
تیمم کے احکام
پہلے خطبہ کا مقدمہ
بے شک ہر طرح کی تعریف اللہ ہی کے لئے ہے، ہم اسی کی تعریف کرتے ہیں، اُسی سے مدد مانگتے ہیں، اسی سے مغفرت طلب کرتے ہیں، اسی سے ہدایت طلب کرتے ہیں، ہم اپنے نفسوں کے شرور اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔ جسے اللہ تعالی ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اور اس کے برگزیدہ، اس کے خلیل، اس کی وحی کے امین اور اس کی مخلوق میں سب سے افضل ہیں، اللہ آپ پر، آپ کی آل پر اور آپ کے صحابہ پر جو ہدایت کے علمبردار اور تاریکیوں کے چراغ ہیں، ان کی پیروی کرنے والوں اور انہی کے طریقے پر اکتفا کرنے والوں پر قیامت کے دن تک کثرت سے اپنی رحمت اور سلامتی نازل فرمائے۔
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہئیے اور دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا۔ [ آل عمران: 102]، اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کرکے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں، اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو۔ بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے۔ [النساء: 1]، اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سیدھی سیدھی (سچی) باتیں کیا کرو۔ تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے کام سنوار دے اور تمہارے گناه معاف فرما دے، اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرے گا اس نے بڑی مراد پالی۔ [الأحزاب: 70-71]۔
پہلا خطبہ
اما بعد:
اے اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو؛ بے شک اللہ عز وجل کا تقویٰ اعلیٰ ترین مقامات اور عظیم ترین درجات میں سے ہے، یہ وہ وصیت ہے جسے سننے اور دہرانے سے اکتاہٹ نہیں ہوتی، یہ ہمارے لیے ہمارے رب سبحانہ وتعالیٰ کی وصیت ہے: ...اور واقعی ہم نے ان لوگوں کو جو تم سے پہلے کتاب دیے گئے تھے اور تم کو بھی یہی حکم کیا ہے کہ اللہ سے ڈرتے رہو۔ [النساء: 131]۔
اللہ تعالی ہمیں اور آپ کو اپنے متقی بندوں اور نیک اولیاء میں شامل فرمائے؛ بے شک وہ دعائیں سننے اور قبول کرنے والا ہے۔
اے اسلامی بھائیو!
اس امت کے اچھے اوصاف اور خوبیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اس کے لیے ایک بابرکت شریعت مقرر فرمائی ہے، ایسی شریعت جس کی بنیاد آسانی پر ہے اور جو تنگی دور کرتی ہے۔ اس کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ اس کے تمام احکام طاقت اور استطاعت کے مطابق ہیں، اللہ عزوجل فرماتا ہے: ...اور تم پر دین کے بارے میں کوئی تنگی نہیں ڈالی... [الحج: 78]، نیز اللہ پاک کا فرمان ہے: ... اللہ تعالیٰ کا اراده تمہارے ساتھ آسانی کا ہے، سختی کا نہیں... [البقرۃ: 185]، اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ... پس جہاں تک تم سے ہوسکے اللہ سے ڈرتے رہو... [التغابن: 16]، فرمان باری تعالى ہے: اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیاده تکلیف نہیں دیتا... [البقرة: 286]۔
چنانچہ تمام شرعی احکام مثلاً واجبات وغیرہ مکلف پر صرف اسی صورت میں لازم ہوتے ہیں جب اسے ان پر قدرت حاصل ہو؛ یہ اللہ عز وجل کے فضل اور اس کے بندوں کے لیے آسانی اور وسعت کے پیشِ نظر ہے۔ البتہ واجب کی بجا آوری سے عاجز ہونے کی صورت میں، اگر اس کا کوئی بدل ہو تو مکلف بندہ اس بدل کی طرف منتقل ہو جاتا ہے، بصورت دیگر وہ اس سے ساقط ہو جاتا ہے یا اس کے ذمے باقی رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اسے ادا کرنے پر قادر ہو جائے۔
یاد رہے کہ بے شک وہ شرعی واجبات جنہیں اللہ عز وجل نے اپنے بندوں پر واجب کیا ہے؛ ان میں حدثِ اصغر اور حدثِ اکبر کو دور کرنے کے لیے پانی سے وضو اور غسل کرنا بھی شامل ہے؛ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: اے ایمان والو! جب تم نماز کے لئے اٹھو تو اپنے منھ کو، اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھو لو، اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھو لو، اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو غسل کرلو، ہاں اگر تم بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو یا تم میں سے کوئی حاجتِ ضروری سے فارغ ہو کر آیا ہو، یا تم عورتوں سے ملے ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو تم پاک مٹی سے تیمم کرلو، اسے اپنے چہروں پر اور ہاتھوں پر مل لو، اللہ تعالیٰ تم پر کسی قسم کی تنگی ڈالنا نہیں چاہتا بلکہ اس کا اراده تمہیں پاک کرنے کا اور تمہیں اپنی بھرپور نعمت دینے کا ہے، تاکہ تم شکر ادا کرتے رہو۔ [المائدۃ: 6]۔
اس بنا پر؛ ہر وہ شخص جو وضو اور غسل کے لیے پانی استعمال کرنے پر قادر ہو، اس کے لیے تیمم کرنا جائز نہیں، اور اگر اس نے ایسا کیا اور نماز پڑھ لی تو اس کی نماز صحیح نہیں ہوگی۔
اگر وضو اور غسل کے لیے پانی استعمال کرنے کی قدرت نہ ہو تو ایسی حالت میں شریعت مبارکہ نے تیمم کی رخصت دی ہے، بلکہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ یہ امت محمدیہ کی خصوصیات میں سے ہے، آپ ﷺ فرماتے ہیں: "مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں، جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی تھیں"، آپ ﷺ نے ان میں (تیمم کا) بھی ذکر فرمایا: ”پوری زمین کو میرے لیے مسجد اور ذریعۂ طہارت بنایا گیا ہے، چنانچہ میری امت میں سے جس کسی کو بھی نماز کا وقت آملے، وہ نماز پڑھ لے۔“ [صحیح بخاری: 335، صحیح مسلم: 521]۔
نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک پاک مٹی مسلمان کی طہارت (کے لیے پانی کے حکم میں) ہے، اگرچہ اسے دس سال تک پانی نہ ملے، پھر جب اسے پانی مل جائے، تو وہ اسے اپنی جلد پر بہائے، یہ اس کے لیے زیادہ اچھا ہے۔“ [سنن ترمذی: 124، ترمذی نے کہا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔]
چنانچہ یہ اور دیگر نصوص تیمم کو مباح (جائز) کرنے والے اسباب کی موجودگی میں تیمم کے جواز پر دلالت کرتی ہیں، چنانچہ پہلا سبب یہ ہے کہ مکلف بندہ کو پانی دستیاب نہ ہو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ...پانی نہ ملے تو پاک مٹی کا قصد کرو... [المائدۃ: 6]، چنانچہ اگر اس کے پاس پانی نہ ہو اور وہ اپنے گرد ونواح میں پانی تلاش کرے، لیکن اسے پانی نہ ملے، تو اُسے تیمم کرنے کی اجازت ہے۔ لیکن اگر پانی اس کے پاس موجود ہو، یا اس کے قریب ہو، اس طرح کہ اس کے لیے جا کر پانی لانا آسان ہو، تو اس صورت میں اس کے لیے تیمم کرنا جائز نہیں ہے۔ اور یہ آج کل کے بعض لوگوں کے عمل کے برعکس ہے کہ جب وہ سیر وتفریح کے لیے نکلتے ہیں اور ان کے پاس موجود پانی ختم ہو جاتا ہے، تو وہ پانی کے موجود ہونے اور آسانی سے پانی لانے پر قدرت رکھنے کے باوجود، تیمم کرنے میں جلدی کرتے ہیں۔
تیمم کے جواز کا دوسرا سبب: پانی کا استعمال نقصان دہ ہونے کا خوف ہو؛ جسمانی بیماری کی وجہ سے، جیسے وضو کی جگہوں پر جلنے کی وجہ سے پھوڑے ہوں ، یا جسم پر زخم اور اس جیسی دیگر تکالیف ہوں۔ اگر بیمار شخص کو یہ خطرہ محسوس ہو کہ وضو یا غسل کے لیے پانی کا استعمال کرنے سے اس کی بیماری بڑھ جائے گی، یا ہلاکت کا اندیشہ ہو، یا مستند طبیبوں کے مطابق پانی کے استعمال سے صحت یابی میں تاخیر ہوسکتی ہو؛ تو اس صورت میں اس کے لیے تیمم کرنا جائز ہے۔ چنانچہ وہ وضو کے اعضاء یا جسم کے ان حصوں کو دھو لے جنہیں دھونے پر وہ قادر ہو اور جن پر پانی کے استعمال سے کوئی نقصان نہ پہنچتا ہو، اور جس عضو کو وہ دھونے یا اس پر مسح کرنے سے قاصر ہو، اس کے بدلے تیمم کرلے۔ البتہ اگر ہاتھ بھگا کر اس پر مسح کرنا ممکن ہو تو اسی پر اکتفا کرے اور اس کا تیمم نہ کرے۔
تیمم کو مباح کرنے والا ایک سبب سخت ٹھنڈ بھی ہے۔ چنانچہ اگر سخت ٹھنڈ ہو اور انسان پانی گرم کرنے پر قادر نہ ہو اور اس کا غالب گمان ہو کہ اگر اس نے ٹھنڈے پانی سے وضو یا غسل کیا تو وہ بیمار یا ہلاک ہو جائے گا؛ تو اس کے حق میں تیمم کرنا متعین ہو جاتا ہے، جیسا کہ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے واقعے میں ہے کہ جب رسول ﷺ نے انھیں سریہ ذات السلاسل میں روانہ کیا، تو عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "مجھے ایک سرد اور سخت سردی والی رات میں احتلام ہو گیا، تو مجھے اندیشہ ہوا کہ اگر میں نے غسل کیا تو ہلاک ہو جاؤں گا، اور مجھے اللہ عز وجل کا یہ فرمان یاد آیا: ”اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بے شک اللہ تم پر نہایت مہربان ہے“ [النساء:29]، چنانچہ میں نے تیمم کر لیا، پھر اپنے ساتھیوں کو صبح کی نماز پڑھائی، نبی ﷺ نے ان کا یہ واقعہ جاننے کے بعد انھیں اس پر برقرار رکھا"۔ [سنن ابی داود : 334]۔
اگر انسان اپنے وضو اور غسل کے لیے گرم پانی استعمال کرنے پر قادر ہو جس سے اسے کوئی نقصان نہ پہنچے؛ تو ایسی صورت میں اس کے لیے تیمم کرنا ممنوع ہے۔ تیمم کے استعمال کو جائز کرنے والے اسباب میں سے یہ بھی ہے کہ انسان کے پاس صرف پینے کے لیے تھوڑا پانی ہو، اور اسے یہ خطرہ ہو کہ اگر اس نے اس پانی کو طہارت کے لیے استعمال کر لیا تو خود وہ، اس کے اہل وعیال، اس کے ساتھی یا اس کے مویشی پیاسے رہ جائیں گے۔ البتہ جس شخص کے پاس اپنے، اپنے اہل وعیال، ساتھیوں اور جانوروں کے پینے کی ضرورت سے زائد پانی موجود ہو؛ تو اس پر تیمم کرنا حرام ہے، اور اس پر وضو اور غسل کے لیے پانی کا استعمال واجب ہے۔
اس سے بعض مویشی پالنے والوں کی غلطی معلوم ہوتی ہے کہ ان کے پاس حوضوں اور برتنوں میں پانی وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے، اس کے باوجود وہ اپنے وضو اور غسل کے لیے پانی استعمال نہیں کرتے بلکہ تیمم کرتے ہیں، یہ ایک سنگین غلطی اور عظیم منکر ہے جس پر انہیں متنبہ کرنا اور اصرار کے ساتھ ایسا کرنے والوں کی نکیر کرنا ضروری ہے۔
یہ وہ اہم صورتیں ہیں جن میں تیمم کرنا جائز ہے۔ لہذا مسلمان کو اللہ سے ڈرنا چاہیے، اور یہ جان لینا چاہیے کہ وہ اپنی طہارت، وضو اور غسل کے معاملے میں امین ہے، لہٰذا وہ پانی کو چھوڑ کر اس وقت تک تیمم کی طرف منتقل نہ ہو، جب تک کہ کوئی ایسا شرعی عذر نہ ہو جو اس کے لیے تیمم کی طرف منتقل ہونا جائز قرار دے۔
جس طرح تیمم، وضو اور غسل کے بدلے کیا جاتا ہے، اسی طرح کسی ایسے عذر کی وجہ سے جو دھونے میں مانع ہو، وضو کے اعضاء میں سے کسی ایک عضو یا بدن کی کسی جگہ کو دھونے کے بدلے بھی تیمم کیا جاتا ہے؛ اس صورت میں پانی سے وضو کو، یا اگر اس کو جنابت لاحق ہو تو غسل کو اور تیمم کو جمع کیا جائے گا؛ چنانچہ وضو کے اعضاء یا بدن کی جگہوں میں سے جنھیں دھونے کی استطاعت رکھتا ہو انھیں دھو لے، پھر جب وہ اپنا وضو مکمل کر لے یا اپنے بدن کا جتنا حصہ دھونے کی استطاعت رکھتا ہو اسے دھو لے؛ تو اس عضو کے بدلے تیمم کرے جسے پانی سے دھونے اور اس پر پانی سے مسح کرنے کی وہ استطاعت نہ رکھتا ہو۔
اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے آسانی پیدا فرمائی اور اپنے بندوں پر رحم فرمایا، اللہ عز وجل اپنی مُحکم کتاب میں فرماتا ہے: اور اللہ کی راه میں ویسا ہی جہاد کرو جیسا جہاد کا حق ہے ۔ اسی نے تمہیں برگزیده بنایا ہے اور تم پر دین کے بارے میں کوئی تنگی نہیں ڈالی، دین اپنے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کا قائم رکھو، اسی اللہ نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے، اس قرآن سے پہلے اور اس میں بھی تاکہ پیغمبر تم پر گواه ہو جائے اور تم تمام لوگوں کے گواه بن جاؤ۔ پس تمہیں چاہئے کہ نمازیں قائم رکھو اور زکوٰة ادا کرتے رہو اور اللہ کو مضبوط تھام لو، وہی تمہارا ولی اور مالک ہے۔ پس کیا ہی اچھا مالک ہے اور کتنا ہی بہتر مددگار ہے۔ [الحج : 78]۔
اللہ میرے اور آپ کے لیے قرآنِ عظیم میں برکت عطا فرمائے، اور مجھے اور آپ کو اس میں موجود آیات اور ذکرِ حکیم سے فائدہ پہنچائے، میں اپنی یہ بات کہتا ہوں اور اپنے لیے، آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے ہر گناہ اور خطا کی اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں؛ آپ بھی اس سے مغفرت طلب کریں اور اسی کی طرف لوٹیں؛ بے شک وہ بڑا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔
دوسرے خطبے کا مقدمہ
اللہ کے احسان پر تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں، اس کی توفیق اور انعامات پر اسی کا شکر ہے، میں اس کی شان کی تعظیم کرتے ہوئے گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، جو اس کی رضا کی طرف دعوت دینے والے ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کے آل واصحاب پر اور آپ کی پیروی کرنے والوں پر قیامت تک ڈھیروں درود وسلام نازل فرمائے۔
دوسرا خطبہ
اما بعد: اے اللہ کے بندو! اللہ عزوجل سے ڈرو جیسے ڈرنے کا حق ہے، اسلام کے مضبوط کڑے کو تھامے رکھو، اور تمام چھوٹے بڑے گناہوں سے بچو، کیونکہ تمھارے قدم کمزور ہیں، وہ آگ برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔
اے مسلمان بھائیو! تیمم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ انسان اپنی دونوں ہتھیلیوں کو پاک زمین پر ایک دفعہ مارے، پھر سب سے پہلے اپنی ہتھیلیوں سے اپنے چہرے کا مسح کرے؛ اپنی ہتھیلیوں کو اپنے چہرے اور داڑھی پر پھیرتے ہوئے ایک ہی دفعہ میں پورے چہرے کا مسح کر لے، پھر اپنی دونوں ہتھیلیوں کا مسح کرے؛ اس طرح کہ دائیں ہتھیلی کی پشت پر بائیں ہتھیلی کے اندرونی حصے سے مسح کرے، پھر بائیں ہتھیلی کی پشت پر دائیں ہتھیلی کے اندرونی حصے سے صرف ایک دفعہ مسح کرے۔
تیمم صرف پاک مٹی سے ہی ہوتا ہے، اس سے مراد ہر وہ چیز ہے جو زمین کی سطح پر ہو جیسے مٹی، ریت اور اس جیسی دیگر چیزیں، گرچہ اس میں گرد وغبار نہ ہو۔ جہاں تک قالینوں، بستروں اور اس جیسی چیزوں سے تیمم کرنے کا تعلق ہے تو یہ درست نہیں؛ کیونکہ یہ زمین کی سطح پر موجود چیزویں نہیں ہیں، الا یہ کہ بستر یا قالین پر گرد وغبار ہو تو اس سے تیمم کرنا جائز ہے؛ کیونکہ گرد وغبار مٹی کا حصہ ہے۔
جب مسلمان تیمم کر لے تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے اس تیمم سے جتنی چاہے فرض اور نفل نمازیں پڑھے، اسے ہر وقت دوبارہ تیمم کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس کا تیمم صرف نواقضِ وضو میں سے کسی ناقض ہی سے ٹوٹتا ہے، جیسے پیشاب، پاخانہ اور ہوا کا خارج ہونا، اونٹ کا گوشت کھانا، یا پانی مل جائے اور اس کے استعمال پر قدرت حاصل ہو جائے۔ چنانچہ جب پانی مل جائے اور اس کے استعمال پر قدرت حاصل ہو جائے تو اس کا تیمم باطل ہو جاتا ہے، پھر اس وقت اگر وہ نماز کا ارادہ کرے تو پانی سے وضو کرنا ضروری ہے، کیوں کہ آپ ﷺ کا فرمان ہے: ”پھر جب وہ پانی پا لے تو اسے اپنی کھال (یعنی جسم) پر بہائے، کیونکہ بے شک یہ بہتر ہے۔“ [ترمذی : 124 ترمذی نے کہا: یہ حدیث حسن صحیح ہے]۔
ہم اللہ عزوجل سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں دین کی سمجھ عطا فرمائے، اور ہمیں سید المرسلین ﷺ کی سنت کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اخیر میں آپ اپنے نبی محمد بن عبداللہ ﷺ پر درود وسلام بھیجیں، کیونکہ آپ کے رب نے اپنی کتاب میں آپ کو اس کا حکم دیا ہے، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو۔ [الأحزاب : 56]۔
نیز اللہ کے نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ”جو شخص مجھ پر ایک دفعہ درود پڑھتا ہے، اس کے بدلے اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔“ [صحیح مسلم: 384]۔
***
خطبہ کا عنوان
نماز کی فضیلت
پہلے خطبے کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی حمد کرتے ہیں، اسی سے مدد چاہتے ہیں، اسی سے ہدایت طلب کرتے ہیں، اور ہم اپنے نفس اور اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ جس کو اللہ ہدایت دے دے اس کو کوئی گمراہ نہیں کرسکتا اور جس کو گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ تعالی نے آپ کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ مبعوث فرمایا تاکہ اسے تمام ادیان پر غالب کردے، گرچہ کافروں کو ناگوار گزرے۔ اے اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد پر، آپ کی آل اور تمام صحابہ پر درود وسلام اور برکتیں نازل فرما۔
پہلا خطبہ
اما بعد:
اللہ سے ڈرو جیسے ڈرنے کا حق ہے، اور دین کے مضبوط کڑے کو تھامے رکھو؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ڈر ہی میں معاملات کی درستی، ہمیشہ کی عزت اور قیامت کے دن کا بہترین انجام ہے؛ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ...اور جو شخص اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کے گناه مٹا دے گا اور اسے بڑا بھاری اجر دے گا۔ [الطلاق: 5]۔
اللہ کے بندو:
کیا تم ایک ایسے عظیم رکن، بہترین عمل اور دائمی بھلائی کے خواہاں ہو جس کے ذریعے اللہ تمہارے تمام اعمال درست فرما دے، تمہارے دلوں کا تزکیہ کر دے، تمہارے اخلاق سنوار دے، تمہارے رزق میں فراوانی عطا فرمائے، تمہاری دنیا آباد کر دے، جنتوں میں تمہارے درجات بلند فرما دے، جس کے ذریعے تم اپنے اسلاف كا مقام پا لو اور اپنی تمناؤں سے بڑھ کر حاصل کر لو؟ کیا تم یہ سب کچھ چاہتے ہو؟ تو پھر وہ کون سا عظیم رکن ہے جو تمہارے لیے یہ سب کچھ پورا کرتا ہے؟ سن لو! وہ نماز کو اس کی شرائط، ارکان، واجبات اور سنن کے ساتھ قائم کرنا ہے۔ چنانچہ نماز، شہادتین کے بعد سب سے بڑا رکن ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے مشروع کردہ ہر دین میں فرض قرار دیا، اور اللہ تعالیٰ اگلوں اور پچھلوں میں سے کسی شخص کا کوئی دین نماز کے بغیر قبول نہیں فرماتا؛ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اور ہر امت کے لئے ہم نے قربانی کے طریقے مقرر فرمائے ہیں تاکہ وه ان چوپائے جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نے انہیں دے رکھے ہیں۔ سمجھ لو کہ تم سب کا معبود برحق صرف ایک ہی ہے، تم اسی کے تابع فرمان ہو جاؤ، اور عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجئے! انہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل تھرا جاتے ہیں۔ انہیں جو برائی پہنچنے پر صبر کرتے ہیں، نماز قائم کرنے والے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے وه اس میں سے بھی دیتے رہتے ہیں۔ [الحج : 34 – 35]، لیکن اللہ نے اپنے فضل وکرم اور رحمت سے اس امت کو ایسے خصوصی فضائل سے نوازا جن سے اس سے قبل کسی امت کو نہیں نوازا گیا؛ اس کا سبب اس کی کتاب کی فضیلت اور اپنے رب کے نزدیک اس کے رسول ﷺ کی عظمت ہے۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو جو خصوصیات اور فضیلتیں بخشی ہیں ان میں سے یہ بھی ہے کہ اللہ عز و جل نے اس امت پر معراج کی رات آسمان میں پانچ نمازیں فرض کیں، اللہ نے اپنے بندے اور رسول محمد ﷺ کی طرف وحی کی اور آپ سے ایسا (واضح) کلام فرمایا جسے آپ نے رب العزت تبارک وتعالیٰ سے سنا اور کسی فرشتے کے واسطے کے بغیر آپ پر پانچ نمازیں فرض کیں؛ چنانچہ سید البشر کو بلند آسمانوں میں سدرۃ المنتہیٰ تک لے جایا گیا، پھر اللہ نے آپ کو اس مقام تک بلند کیا جہاں تک کوئی نہیں پہنچا، پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے جبریل علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ ہر نماز کے ابتدائی اور آخری وقت میں ہمارے نبی محمد ﷺ کی امامت کرائیں، اور ان سے فرمایا: ”اے محمد ﷺ ! یہ آپ سے پہلے آنے والے انبیاء کا وقت ہے، اور (صحیح) وقت ان دونوں وقتوں کے درمیان ہے۔“ [اسے ابو داود: 393، ترمذی: 149، اور احمد: 1/333، نے روایت کیا ہے اور البانی نے صحیح کہا ہے۔] چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اسے بلاواسطہ فرض قرار دیا، اور اس کی فرضیت کی مزید تاکید اور اس کا مقام ومرتبہ بیان کرنے کے لیے اسے جبریل علیہ السلام کی امامت کے ذریعہ اور ان کے واسطے سے بھی فرض قرار دیا۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نماز کے افعال واقوال کو بیان فرمایا، رسول اللہ ﷺ نے اس کے ارکان، واجبات اور مستحبات مقرر فرمائے، اور اپنے صحابہ کو ہر اس قول وفعل کی تعلیم دی جس سے اسے قائم کیا جا سکے، آپ ﷺ نے اپنی پوری زندگی اور حضر وسفر کے تمام تر حالات میں امام بن کر انہیں نماز پڑھائی، اور فرمایا: ”تم اسی طرح نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔“ [متفق علیہ بروایت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ]، ہر نسل نے اپنے سے پہلی نسل سے نمازوں کو نقل کیا؛ انہوں نے ان کا کوئی قول یا فعل ترک نہیں کیا، تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں مسلمان بنایا اور ہمارے لیے دین کی حفاظت فرمائی، اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ تعالیٰ کی رحمت کس قدر عظیم ہے، اور لوگوں پر اس کی نعمتیں کتنی بڑی ہیں۔
رب العالمین کی جانب سے اس امت پر کسی فرشتے کے واسطے کے بغیر، اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی اور خلیل محمد ﷺ سے براہِ راست کلام کے ذریعے نمازوں کو فرض کرنا، اللہ تعالیٰ کے نزدیک نمازوں کے مقام اور دین میں ان کے مرتبے کی ایک عظیم ترین دلیل ہے، یہ اس بات کی بھی (دلیل ہے) کہ نماز تمام بھلائیوں کا مجموعہ ہے۔ زمین پر دین اس وقت تک باقی رہے گا جب تک نماز باقی ہے، جب اس میں کمی واقع ہوگی تو دین میں بھی کمی آجائے گی اور جب قیامت کے قریب یہ ختم ہو جائے گی تو زمین سے دین بھی ختم ہو جائے گا۔ نماز قائم کرنے والوں کی کثرت سے زمین درست رہتی ہے اور نماز قائم کرنے والوں کی کمی سے زمین خراب ہو جاتی ہے۔ اگر ہر مسلمان مرد اور عورت نماز کو اسی طرح قائم کرے جس طرح رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام نے اسے قائم کیا تھا، تو یقیناً یہ امت فتنوں، برائیوں اور نافرمانیوں سے عافیت میں رہے گی، عذابوں سے محفوظ رہے گی، اللہ تعالیٰ اس کے دشمنوں کے شر سے بچانے کے لیے اس کے لیے کافی ہو جائے گا، ہر مسلمان مرد اور عورت کی حالت درست ہو جائے گی، اس کے معاملات منظم ہو جائیں گے اور اس کا انجام اچھا ہوگا۔
افراد کی اصلاح سے معاشرے میں بھلائی بڑھتی ہے اور برائی کم ہوتی ہے، لوگ نیکی سے محبت اور برائی سے نفرت کرتے ہیں، آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی ورحم دلی کا برتاؤ کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو بھلائی کا حکم دیتے اور نصیحت کرتے ہیں، لیکن جب لوگ نماز میں سستی برتنے لگیں اور ان میں سے بعض اسے ضائع کر دیں، یا بعض لوگوں کی نماز کے ارکان اور واجبات میں نقص آ جائے، یا بعض لوگ مساجد میں مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ اس کی ادائیگی سے بے رغبتی اختیار کر لیں، یا اسے اس کے مقررہ اوقات سے مؤخر کر دیں، تو نماز کی یہ کوتاہی لوگوں کے معاملات پر اثر انداز ہوتی ہے، چنانچہ اپنی نماز کو ضائع کرنے والے ہر شخص کے معاملات درہم برہم ہو جاتے ہیں، اس کی حالت بدل جاتی ہے اور اس کا شیرازہ بکھر جاتا ہے؛ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ...اور دیکھ اس کا کہنا نہ ماننا جس کے دل کو ہم نے اپنے ذکر سے غافل کردیا ہے اور جو اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہوا ہے اور جس کا کام حد سے گزر چکا ہے۔ [الکہف: 28]۔
جس کے دل میں زندگی ہو اسے سزا کا احساس ہوتا ہے...اور مردے کو زخم سے کوئی تکلیف نہیں ہوتی، ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ”رسول اللہ ﷺ کے عہد میں لوگ اپنی نگاہیں سجدے کی جگہ پر رکھتے تھے، ابوبکر کے عہد میں وہ اپنی نگاہیں سجدے کی جگہ کے قریب رکھتے تھے، عمر کے عہد میں وہ اپنی نگاہیں قبلے کی جانب اٹھاتے تھے، اور جب حضرت عثمان کے عہد میں وہ دائیں اور بائیں دیکھنے لگے تو فتنہ برپا ہو گیا۔“
آپ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی فقاہت ملاحظہ کیجیے کہ انہوں نے کس طرح جان لیا تھا کہ لوگوں کے حالات کی درستی یا بگاڑ پر نماز کا کیا اثر پڑتا ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ایک ساتھی ان کے پاس آئے تو دیکھا کہ وہ رو رہے ہیں، چنانچہ کہنے لگے: ”اے ابو حمزہ! آپ کیوں رو رہے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: میں (دین میں) لوگوں کی ایجاد کردہ نئی باتوں پر رو رہا ہوں، یہاں تک کہ انہوں نے اس نماز کو بھی اس کے وقت سے مؤخر کر دیا۔“
نماز دین ہے اور تمام امورِ اسلام کی جامع ہے، جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”دین کی بنیاد اسلام ہے اور اس کا ستون نماز ہے۔“ [اسے ترمذی: 2616، ابن ماجہ: 3973، اور نسائی نے «السنن الكبرى» : 11394 میں روایت کیا ہے، اور البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔]
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”پانچوں نمازیں اور جمعہ سے لے کر جمعہ تک کی نماز ان کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے، جب تک کہ کبیرہ گناہ نہ کرے۔“ [صحیح مسلم: 233]۔
اور حضرت عبادۃ بن الصامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: «پانچ نمازیں ہیں، جنہیں اللہ تعالی نے بندوں پر فرض کیا ہے، تو جس شخص نے انہیں ادا کیا، ان کی ناقدری کرتے ہوئے ان کا کوئی حق ضائع نہیں کیا، تو اس کے لیے اللہ کے ذمے یہ عہد ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا، اور جس شخص نے انہیں ادا نہیں کیا تو اس کے لیے اللہ کے ذمے کوئی عہد نہیں ہے۔» [سنن ابی داود: 1420، سنن نسائی: 461، سنن ابن ماجہ: 1401، مسند احمد: 22745، اور البانی نے اسے صحیح کہا ہے]
عبد اللہ بن قرط رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے نماز کا حساب ہو گا۔ اگر نماز صحیح رہی، تو سارے اعمال صحیح رہیں گے، اور اگر نماز کا معاملہ بگڑ گیا، تو سارے اعمال بگڑ جائیں گے۔“ [اسے طبرانی نے "المعجم الاوسط" (1859) اور ضیاء نے "المختارة" (2578) میں روایت کیا ہے اور البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔]
نماز کی روح یہ ہے کہ سنت کے مطابق اسے ادا کرتے ہوئے خشوع وخضوع اختیار کیا جائے اور مساجد میں جماعت کے ساتھ نماز ادا کی جائے؛ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یقیناً ایمان والوں نے فلاح حاصل کرلی۔ جو اپنی نماز میں خشوع کرتے ہیں۔ [المؤمنون: 1-2]، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "جس نے اذان کو سنا اور اس کا جواب نہ دیا، تو اس کی نماز نہیں، سوائے اس کے کہ کوئی عذر لاحق ہو"۔ [سنن ابی داود: 5519، سنن ابن ماجہ: 793، صحیح ابن حبان: 2064، اور البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے]
البتہ عورت کی نماز اس کے گھر میں افضل ہے، چنانچہ ام سلمة رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عورتوں کی بہترین مساجد ان کے گھروں کے اندرونی حصے ہیں۔“ [اسے امام احمد (26542)، ابن خزیمہ (1683)، حاکم 1/209 اور بیہقی نے "السنن" 3/131 میں روایت کیا ہے اور البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔]
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”عورت سراپا پردہ ہے، جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اسے جھانک کر دیکھتا ہے۔“ [اس حدیث کو ترمذی (1173)، بزار (2061) اور ابن خزیمہ (1685) نے روایت کیا ہے اور البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔]
ابن خزیمہ اور ابن حبان کی روایت میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”(عورت) اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتی ہے جب وہ اپنے گھر کے سب سے اندرونی حصے میں ہوتی ہے۔“ کیونکہ عورت اپنے گھر کے اندر فتنوں سے محفوظ اور پردہ نشیں رہتی ہے، نہ وہ کسی کو فتنہ میں مبتلا کرتی ہے اور نہ کوئی اسے فتنہ میں مبتلا کر پاتا ہے، لیکن اس کے برعکس جب وہ بے پردگی کے ساتھ زینت کا مظاہرہ کرتی ہے تو دوسروں کو بھی فتنہ میں مبتلا کرتی ہے اور خود بھی فتنہ کا شکار ہوجاتی ہے، جس کے نتیجے میں شر اور ہلاکت واقع ہوجاتی ہے؛ اللہ تعالی نے ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کوحکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ...اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم جاہلیت کے زمانے کی طرح اپنے بناؤ کا اظہار نہ کرو اور نماز ادا کرتی رہو اور زکوٰة دیتی رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت گزاری کرو... [الاحزاب: 33]، اور امہات المؤمنین مسلمان عورتوں کے لیے بہترین نمونہ ہیں۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ...اور نماز قائم کریں، یقیناً نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے، بے شک اللہ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے، تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے اللہ خبردار ہے۔ [العنكبوت: 45]۔
اللہ مجھے اور آپ کو قرآنِ عظیم کی برکت سے نوازے، مجھے اور آپ کو اس میں موجود آیات اور ذکرِ حکیم سے نفع پہنچائے، ہمیں سید المرسلین کی ہدایت اور آپ کی درست بات سے نفع پہنچائے۔
میں اپنی یہ بات کہتے ہوئے اپنے لئے، آپ کے لئے اور تمام مسلمانوں کے لئے عظمت والے اللہ سے مغفرت کا خواستگار ہوں؛ وه بہت بخشنے واﻻ اور نہایت مہربان ہے۔
دوسرے خطبے کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے سزاوار ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، وہ تمام پہلے آنے والوں اور بعد میں آنے والوں کا معبود ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور آقا محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، جنہیں ہدایت اور یقین کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہے؛ تاکہ وہ ہر زندہ شخص کو ڈرائیں اور کافروں پر حجت ثابت ہو جائے، اے اللہ! اپنے بندے اور رسول محمدﷺ پر، اور آپ کے تمام آل واصحاب پر درود وسلام اور برکتیں نازل فرما۔
دوسرا خطبہ
اما بعد:
اللہ تعالیٰ سے ڈرو جیسا کہ اس نے تمھیں حکم دیا ہے، اور اس کے منع کیے ہوئے کاموں سے دور رہو؛ بلاشبہ، تمھارا رب ہی اس لائق ہے کہ اس سے ڈرا جائے اور وہی معاف کرنے والا ہے۔
اے اللہ کے بندو! بے شک نماز کی بڑی شان وعظمت والی عبادت ہے، اس کا معاملہ بہت اہم ہے، لھٰذا اسے اسی طرح قائم کرو جس طرح تمہارے نبی ﷺ نے اسے مشروع فرمایا ہے، ان امور کا ہمیشہ آپس میں تذکرہ اور اعادہ کرتے رہو جو اسے قائم رکھتے اور اسے مکمل کرتے ہیں۔ ہر مسلمان مرد اور عورت کو چاہیے کہ وہ نماز کے فقہی مسائل کا اہتمام کرے اور سورہ فاتحہ کی قراءت کو درست کرے؛ کیونکہ بعض مسلم عوام اس کی قراءت میں پائی جانے والی خامیوں سے غافل رہتے ہیں، حالانکہ یہ امام اور منفرد (اکیلے نماز پڑھنے والے) کے لیے نماز کے ارکان میں سے ایک رکن ہے، اور علماء کے دو اقوال میں سے زیادہ صحیح قول کے مطابق مقتدی پر واجب ہے۔ نمازی حضرات اپنے رب کے ہاں ملنے والے اجرِ عظیم کی خوشخبری سن لیں:
اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: ...اور نماز کی پابندی رکھو اور زکوٰة دیتے رہا کرو اور اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دو۔ اور جو نیکی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ تعالیٰ کے ہاں بہتر سے بہتر اور ﺛواب میں بہت زیاده پاؤ گے۔ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے رہو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے۔ [المزمل: 20]۔
اے اللہ کے بندو: بے شک اللہ نے تمہیں ایک ایسے کام کا حکم دیا ہے جس کی ابتدا اس نے اپنی ذات سے کی، چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو۔ [الاحزاب: 56]، جب کہ آپ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ”جو شخص مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالی اس کی بنا پر اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔“ [صحیح مسلم: 408]۔
اس لیے آپ سب درود وسلام بھیجیے تمام اولین کے سردار اور رسولوں کے امام پر، جو قیامت کے دن شفاعت کریں گے اور آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔
اے اللہ! محمد اور آل محمد پر رحمت نازل فرما۔
***
خطبہ کا عنوان
نماز قائم کرنا
پہلے خطبے کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد چاہتے ہیں اور اسی سے بخشش طلب کرتے ہیں، اور ہم اپنے نفس اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا، اور جسے وہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں اس کی شان کی تعظیم کرتے ہوئے گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے، اس کے رسول، اس کے خلیل اور اس کی مخلوق میں سے اس کے برگزیدہ ہیں۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل واصحاب پر اور قیامت تک خیر وبھلائی کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں پر، ڈھیروں درود وسلام نازل فرمائے۔
پہلا خطبہ
اما بعد: اے اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے؛ اور جان رکھو کہ تمہارے جسم آگ برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتے: اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہیے اور دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا۔ [آل عمران : 102]۔
اے اللہ کے بندو: اسلام نے نماز کو بڑی عظمت بخشی ہے، اس کا نام اور مقام بلند کیا ہے؛ چنانچہ یہ شہادتین کے بعد اسلام کا عظیم ترین رکن ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور بے شک محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔“ [متفق علیہ]۔
اے ایمان والو! نماز تمام عبادتوں کی اصل اور سب سے افضل اطاعت ہے؛ اسی لیے کتاب وسنت کی نصوص میں نماز قائم کرنے، اس کی پابندی کرنے اور ہمیشہ اس کے متعینہ اوقات پر اسے ادا کرنے کی تاکید آئی ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: نمازوں کی حفاظت کرو، بالخصوص درمیان والی نماز کی اور اللہ تعالیٰ کے لئے با ادب کھڑے رہا کرو۔ [البقرة : 238]، نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور نمازوں کو قائم کرو اور زکوٰة دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔ [البقرۃ : 43]۔ اور نمازیوں کی صفات بیان کرتے ہوئے اللہ تعالی نے فرمایا: مگر وه نمازی جو اپنی نماز پر ہمیشگی کرنے والے ہیں۔ [المعارج: 22-23]، رفیقِ اعلیٰ کی طرف منتقل ہونے سے قبل اللہ کے نبی ﷺ کی آخری وصیتیں یہ تھیں: ”نماز کا خیال رکھو، نماز کا خیال رکھو، اور ان کا خیال رکھو جو تمہارے ما تحت ہیں۔“ [سنن ابی داود: 5156، سنن ابن ماجہ: 2698، مسند احمد: 585، اور البانی نے اسے صحیح قرار دیا]
اے اللہ کے بندو: نماز سب سے افضل عمل ہے؛ چنانچہ نبی ﷺ سے سب سے افضل عمل کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”نماز کو اس کے متعینہ وقت پر ادا کرنا۔“ [متفق علیہ بروایت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ]، نماز، طہارت اور مغفرت کی ایک نہر ہے؛ چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم میں سے کسی کے دروازہ پر کوئی نہر جاری ہو جس میں وہ ہر دن پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو تو کیا اس کے بدن پر کوئی میل کچیل باقی رہے گا؟“ صحابہ کرام نے عرض کیا: کچھ بھی میل کچیل باقی نہیں رہے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہی پانچوں نمازوں کی مثال ہے، اللہ تعالی ان کے ذریعہ خطاؤں کو مٹا دیتا ہے۔“ [متفق علیہ]۔
اے اللہ کے بندو! نماز کے ذریعہ گناہ اور خطا مٹائے جاتے ہیں؛ چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پانچوں نمازیں اور جمعہ سے لے کر جمعہ تک کی نمازیں ان کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہیں، جب تک کہ کبیرہ گناہ نہ کرے۔“ [صحیح مسلم: 233]۔
نماز دنیا میں بندے کے لیے امن اور حفاظت ہے؛ چنانچہ جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے صبح کی نماز پڑھی، وہ اللہ کی پناہ میں آگیا۔“ [صحیح مسلم : 657]۔
نماز آخرت میں دخولِ جنت کا اللہ کی طرف سے ایک عہد ہے؛ چنانچہ عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ” یہ پانچ نمازیں ہیں، جنہیں اللہ عزوجل نے بندوں پر فرض کیا ہے، جس شخص نے انہیں ادا کیا، اور ان کے حق میں ناقدری کرتے ہوئے ان کا کوئی حق ضائع نہیں کیا، تو اس کے لیے اللہ کے ذمے یہ عہد ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔“ [سنن اابی داود: 425، سنن نسائی: 461، سنن ابن ماجہ: 1401، اور البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے]۔
قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے نماز کا حساب لیا جائے گا؛ چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”بلا شبہ قیامت کے دن بندے کے اعمال میں سے سب سے پہلے اس کی نماز کا حساب ہو گا۔ اگر اس کی نماز صحیح رہی، تو پھر وہ کامیاب ہو گیا اور نجات پاگیا۔ لیکن اگر نماز کا معاملہ بگڑ گیا، تو پھر وہ نا کام ونامراد ہوگیا“۔ [ترمذی: 413، نسائی: 465)، ابن ماجه : 1425، اور البانی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے]۔
اے اللہ کے بندو: نماز نور ہے؛ نبی ﷺ نے فرمایا: ”نماز نور ہے۔“ [صحیح مسلم: 223]، اور نماز آگ سے امان ہے؛ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلے نماز پڑھے گا، وہ ہرگز جہنم کی آگ میں داخل نہ ہو گا۔“ [مسلم : 643]؛ اس سے فجر اور عصر کى نمازیں مراد ہیں۔
نماز کفر وشرک سے امن اور حفاظت ہے۔ چنانچہ جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”بے شک آدمی اور شرک وکفر کے درمیان فاصلہ مٹانے والا عمل نماز کا ترک کرنا ہے۔“ [صحیح مسلم: 82]۔
فجر اور عشاء کی نماز باجماعت پڑھنا نفاق سے امان ہے؛ چنانچہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”منافقوں پر فجر اور عشاء کی نماز سے زیادہ بھاری کوئی نماز نہیں اور اگر انھیں ان نمازوں کے ثواب کا اندازہ ہو جائے، تو گھٹنوں کے بل چل کر آئیں۔“ [متفق علیہ]۔
نماز کی اقامت سے کسی شہر کے اسلامی ہونے کا فیصلہ کیا جاتا ہے، انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ صبح سویرے دشمنوں پر حملہ کرتے تھے اور اذان کی آواز پر کان لگائے رکھتے تھے، اگر مخالفوں کى بستى میں سے آپ ﷺ کو اذان کی آواز سنائی دیتی تو ان پر حملہ نہیں کرتے، ورنہ حملہ کرتے تھے، ایک مرتبہ ایک شخص کو آپ ﷺ نے اللہ اکبر اللہ اکبر کہتے سنا تو فرمایا: ”فطرت پر ہے (یعنی یہ مسلمان ہے)۔“ اس کے بعد آپ ﷺ نے اس کو «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کہتے ہوئے سنا تو ارشاد فرمایا: ”تو نے دوزخ سے نجات پالی۔“ اس کے بعد لوگوں نے دیکھا کہ وہ بکریوں کا چرواہا تھا۔ [صحیح مسلم: 382]
نماز قائم کرنا حکمرانوں کے خلاف بغاوت کرنے سے روکتا ہے، چنانچہ عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے بہترین حکمراں وہ ہیں جن سے تم محبت کرو اور وہ تم سے محبت کریں، وہ تمہارے حق میں دعائے خیر کریں اور تم ان کے حق میں دعائے خیر کرو۔ جبکہ تمہارے بدترین حکمراں وہ ہیں جنہیں تم ناپسند کرو اور وہ تمہیں ناپسند کریں، تم ان پر لعنت کرو اور وہ تم پر لعنت کریں۔ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا ہم تلوار سے ان کے خلاف بغاوت نہ کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، جب تک وہ تم میں نماز قائم کرتے رہیں۔ جب تم اپنے حکمرانوں میں کوئی ایسی بات دیکھو جسے تم ناپسند کرتے ہو، تو ان کے اس عمل کو ناپسند کرو، لیکن اطاعت سے ہاتھ نہ ہٹاؤ (یعنی بغاوت نہ کرو)۔“ [صحیح مسلم: 1855]۔
اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو قرآن اور سنت کی برکت سے نوازے، میں اپنی یہ بات کہتے ہوئے اپنے لیے اور آپ سب کے لئے عظمت والے اللہ سے مغفرت کا خواستگار ہوں، آپ بھی اللہ سے بخشش طلب کریں؛ بے شک وه بہت بڑا بخشنے واﻻ اور نہایت مہربان ہے۔
دوسرے خطبے کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے سزاوار ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کے آل واصحاب پر اور اخلاص کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں پر درود وسلام نازل فرمائے۔
دوسرا خطبہ
اما بعد: اے اللہ کے بندو! نماز کی عظمت وشان کے پیشِ نظر اللہ تعالی نے اسے سابقہ نبیوں اور رسولوں علیہم السلام پر بھی فرض کیا تھا، لہذا یہ انبیاء کے درمیان متفق علیہ امور میں سے ہے، چنانچہ یہ ابراہیم علیہ السلام ہیں جو اپنے رب سے یوں دعا کر رہے ہیں: اے ہمارے پروردگار! میں نے اپنی کچھ اوﻻد اس بے کھیتی کی وادی میں تیرے حرمت والے گھر کے پاس بسائی ہے۔ اے ہمارے پروردگار! یہ اس لیے کہ وه نماز قائم رکھیں، پس تو کچھ لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کردے۔ اور انہیں پھلوں کی روزیاں عنایت فرما تاکہ یہ شکر گزاری کریں۔ [ابراھیم: 37]۔
اور اللہ عزوجل نے اسماعیل ﷺ کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: اس کتاب میں اسماعیل علیہ السلام کا واقعہ بھی بیان کر، وه بڑا ہی وعدے کا سچا تھا اور تھا بھی رسول اور نبی۔ وه اپنے گھر والوں کو برابر نماز اور زکوٰة کا حکم دیتا تھا، اور تھا بھی اپنے پروردگار کی بارگاه میں پسندیده اور مقبول۔ [مریم: 54-55]۔
اس کی اہمیت کا ایک منظر یہ بھی ہے کہ اللہ عزوجل نے عیسیٰ علیہ السلام کو اس کا حکم دیا، چنانچہ انہوں نے بچپن میں گود میں کلام کیا، تو فرمایا: ...اور اس نے مجھے نماز اور زکوٰة کا حکم دیا ہے جب تک بھی میں زنده رہوں۔ [مريم: 31]۔
یہ وہ واحد عبادت ہے جو سات آسمانوں کے اوپر سے فرض کی گئی ہے، یہ ہر مسلمان مرد اور عورت پر جو عاقل اور بالغ ہو، واجب ہے، اور یہ ہر حال میں یعنی صحت وبیماری، سفر وحضر، اور امن وخوف میں استطاعت کے مطابق واجب ہے۔
لہٰذا مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ شرائط، ارکان اور واجبات کی مکمل رعایت کرتے ہوئے اس کی پابندی کریں، اس میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی کرنے سے بچیں،
اور اپنے رب کے فرمان پر عمل کریں: اور نمازوں کو قائم کرو اور زکوٰة دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔ [البقرۃ: 43]۔
اے ہمارے رب! ہمیں نماز قائم کرنے والا بنا اور ہماری اولاد میں سے بھی، اے ہمارے رب! ہماری دعا قبول فرما۔
***
خطبہ کا عنوان
نماز کے ارکان، واجبات اور سنن
پہلے خطبہ کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں، جس نے نماز قائم کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: ... اور یہ چیز شاق ہے، مگر ڈر رکھنے والوں پر(نہیں)۔ [البقرۃ: 45]۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، وہ برحق اور واضح بادشاہ ہے، اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، جنہوں نے یہ خبر دی کہ نماز دین کا ستون ہے، اللہ آپ پر، آپ کی آل پر، آپ کے صحابہ پر اور قیامت کے دن تک اخلاص کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں پر بہت زیادہ رحمتیں اور سلامتی نازل فرمائے۔
پہلا خطبہ
اما بعد:
اے لوگو: اللہ تعالیٰ سے ڈرو، اور اپنی نماز کے احکام سیکھو، تاکہ اسے شریعت کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ادا کر سکو، اور اس میں بدعات اور ممنوعہ چیزوں سے اجتناب کرو، تاکہ وہ درست اور مقبول ہو سکے۔
نماز ایک عظیم عبادت ہے جو بہت سے اقوال اور افعال پر مشتمل ہے، جن سے اس کی ہیئتِ کاملہ تشکیل پاتی ہے، یہ افعال اور اقوال تین قسم کے ہیں: ارکان، واجبات اور سنن۔
چنانچہ اگر نمازی ارکان میں سے کوئی رکن بھول چوک سے یا جان بوجھ کر چھوڑ دے، تو اس کی نماز باطل ہوجائے گی۔
اگر نماز کے واجبات میں سے کوئی واجب جان بوجھ کر چھوڑ دے تو اس سے بھی نماز باطل ہو جاتی ہے، البتہ اگر بھول چوک میں چھوٹ جائے تو نماز باطل نہیں ہوتی، اور سجدۂ سہو کے ذریعہ اس کی تلافی ہوجاتی ہے۔
اور سنن کو جان بوجھ کر یا بھول کر چھوڑنے کی وجہ سے نماز باطل نہیں ہوتی، لیکن اس سے نماز کی کامل ہیئت میں کمی واقع ہوتی ہے، اس لیے کہ نبی ﷺ نے تمام ارکان، واجبات اور سنن کے ساتھ کامل نماز ادا کی اور فرمایا: ”تم اسی طرح نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔“ [متفق علیہ بروایت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ۔]
آپ کے جن صحابہ نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی، انھوں نے اپنی احادیث میں ہم سے آپ کی نماز کا طریقہ اس طرح بیان کیا کہ گویا ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہوں، اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو اور انھیں اسلام اور مسلمانوں کی جانب سے جزائے خیر عطا فرمائے۔
نماز کے ارکان چودہ ہیں:
پہلا رُکن: فرض نماز میں قیام کرنا، لہذا اجماع کے مطابق قیام پر قُدرت رکھنے کی صورت میں بیٹھ کر فرض نماز ادا کرنا صحیح نہیں ہے؛ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: نمازوں کی حفاﻇت کرو، بالخصوص درمیان والی نماز کی اور اللہ تعالیٰ کے لئے با ادب کھڑے رہا کرو۔ [البقرۃ: 238]۔
اور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: ”کھڑے ہوکر نماز پڑھو۔ اگر اس کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھو۔“
مذکورہ آیت اور حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قدرت ہونے کی صورت میں فرض نماز میں قیام کرنا واجب ہے، اور قیام سے مراد سیدھا کھڑا ہونا ہے۔ چنانچہ اگر اس نے اپنا سر اتنا جھکا لیا کہ رکوع جیسی ہیئت بن گئی، تو اس کی نماز صحیح نہیں ہوگی۔
البتہ اگر وہ اپنا سر اس طرح جھکائے کہ صرف نگاہیں نیچی ہوں، تو نماز باطل نہیں ہوگی، لیکن یہ مناسب نہیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو نماز میں اپنا سر جھکائے ہوئے دیکھا تو فرمایا: ”اے شخص! اپنا سر اٹھاؤ؛ کیونکہ خشوع اور عاجزی دلوں میں ہوتی ہے گردنوں میں نہیں۔“ [ابو نعیم نے الحلیہ: 7/ 71 میں سفیان ثوری رحمہ اللہ سے بطور بلاغ اس کے ہم معنی روایت نقل کیا ہے]۔
دوسرا رکن: تکبیر تحریمہ، یعنی قبلہ رخ ہوکر سیدھا کھڑا ہو اور کہے: اللہ اکبر۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ہر بڑے اور عظیم سے بڑا اور عظیم ہے، اور ہر نقص وعیب سے پاک ہے۔
نماز کا آغاز تکبیر سے کرنے کی حکمت اللہ کی عظمت کو یاد کرنا ہے، جس کے سامنے وہ کھڑا ہے، تاکہ اس کے لیے خشوع وخضوع اختیار کرے، اس سے حیا کرے، اور اس کا دل اس کے سوا کسی اور چیز میں مشغول نہ ہو۔
اسے تکبیرِ تحریمہ اس لیے کہا جاتا ہے؛ کیونکہ یہ ان چیزوں کو حرام کر دیتی ہے جو اس سے پہلے مباح تھیں، جیسے بولنا، کھانا اور دیگر امور، چنانچہ نمازی جب تکبیر کہہ کر نماز میں داخل ہوتا ہے تو نماز کے منافی اقوال وافعال اس کے لیے منع ہوجاتے ہیں۔
اور تکبیر تحریمہ کے وقت رفع الیدین کرے؛ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے: ”اللہ کے رسول ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اٹھاتے اور تکبیر کہتے۔“ [متفق علیہ]۔
تیسرا رکن: ہر رکعت میں سورۃ الفاتحۃ پڑھنا؛ جیسا کہ حدیث میں ہے: ”اس شخص کی نماز نہیں، جس نے سورہ فاتحہ نہیں پڑھی۔“ [متفق علیہ بروایت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ]۔
امام اور منفرد پر سورہ فاتحہ پڑھنا واجب ہے، اور احتیاط اسی میں ہے کہ مقتدی اسے سری نمازوں میں پڑھے، اور جہری نمازوں میں امام کے سکتوں کے درمیان پڑھے۔
چوتھا رکن: ہر رکعت میں رکوع کرنا، کیوں کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: اے ایمان والو! رکوع سجده کرتے رہو... [الحج : 77]۔
رسول اللہ ﷺ کا عمل اور ارشاد ہے: ”تم اسی طرح نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔“ [متفق علیہ]۔
لغت میں رکوع کا معنی: جھکنا ہے۔
رکوع کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ اس قدر جھکے کہ اس کی ہتھیلیاں اس کے گھٹنوں تک پہنچ جائیں، اپنی پشت کو بالکل سیدھا رکھے اور سر کو پشت کے برابر رکھے، نہ اسے بلند کرے اور نہ ہی پست؛ کیونکہ نبی ﷺ جب رکوع کرتے تو اپنی پشت کو اس قدر برابر رکھتے کہ اگر اس پر پانی ڈالا جاتا تو وہ ٹھہر جاتا۔ [سنن ابن ماجہ: 719، البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے]۔
صحیحین کی حدیث ہے: ”جب آپ رکوع کرتے تو نہ اپنا سر بلند کرتے اور نہ ہی اسے پست کرتے، بلکہ اس کے درمیان رکھتے۔“
کچھ لوگ اس میں کوتاہی کرتے ہیں، چنانچہ آپ انہیں دیکھتے ہیں کہ وہ رکوع میں اپنا سر اوپر اٹھائے رکھتے ہیں یا اسے نیچے کی طرف جھکائے رکھتے ہیں۔
پانچواں رکن: رکوع سے سر اٹھانا اور رکوع سے پہلے کی حالت کی طرح سیدھے کھڑے ہو جانا؛ کیوں کہ آپ ﷺ کا فرمان ہے: ”پھر (اپنا سر) اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ۔“ [متفق علیہ بروایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ]
اور اس لیے کہ آپ ﷺ نے ایسا ہی کیا اور اس پر مداومت برتی اور فرمایا: ”تم اسی طرح نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔“
چھٹا رکن: سجدہ کرنا، یہ سات اعضاء کو زمین پر رکھنا ہے: پیشانی بشمول ناک، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے، اور دونوں پاؤں کے کنارے۔ ضروری ہے کہ ان اعضاء میں سے ہر ایک عضو سجدہ کی جگہ سے لگے، خواہ براہِ راست زمین پر ہو یا کسی بچھونے پر یا جائے نماز پر۔ وہ اپنے جسم کو اتنا نہ پھیلائے کہ زمین پر پیٹ کے بل لیٹنے والے کی مانند ہو جائے، جیسا کہ آج کل بعض تکلف کرنے والے کرتے ہیں، کیونکہ ان میں سے بعض لوگ اپنا سر بہت آگے کر دیتے ہیں اور اپنے پاؤں بہت پیچھے کر لیتے ہیں، یہاں تک کہ بسا اوقات وہ اپنے آگے والی صف اور پیچھے والی صف کے لیے تنگی پیدا کردیتے ہیں، جبکہ یہ مذموم غلو ہے جس سے نبی ﷺ نے منع فرمایا ہے۔
اے اللہ کے بندو! بلاشبہ سجدہ نماز کا سب سے عظیم رکن ہے؛ کیونکہ اس میں بندہ اپنے رب کے سامنے خشوع وخضوع اختیار کرتا ہے، اپنے سب سے افضل اعضاء، یعنی پیشانی اور ناک کو قدموں کی جگہوں پر رکھتا ہے، اسی لیے سجدہ کرنے والا اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے، کیونکہ وہ اس کے سامنے انتہائی خشوع وخضوع کا اظہار کر رہا ہوتا ہے، یہ حالت دعا کی قبولیت کے سب سے قریب ہے، لہٰذا آپ اس کا خاص اہتمام کیا کریں، نبی ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا: ”جب تم سجدے کرو تو زیادہ سے زیادہ دعا کرو، کیوں کہ یہ (حالتِ سجود) اس بات کے زیادہ لائق ہے کہ تمہاری دعا قبول ہو جائے۔“ [صحیح مسلم: 479]
ساتواں اور آٹھواں رکن: سجدہ سے سر اٹھانا اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا، عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے: ”نبی ﷺ جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو اس وقت تک دوسرا سجدہ نہیں کرتے جب تک کہ سیدھے بیٹھ نہ جاتے۔“ [صحیح مسلم: 498]۔
نواں رکن: نماز کے تمام افعال میں اطمینان بحال رکھنا، اس سے مراد یہ ہے کہ واجب ذکر کی ادائیگی کے بقدر سکون حاصل ہو اور ہر عضو اپنی جگہ لوٹ جائے۔ جس نے اطمینان کو ترک کیا؛ تو رسول اللہ ﷺ نے خبر دی ہے کہ اس نے نماز نہیں پڑھی، اور اسے اپنی نماز کو بگاڑ کر پڑھنے والا کہا جاتا ہے، نبی ﷺ نے اسے نماز کو دوہرانے کا حکم دیا اور فرمایا: ”نماز پڑھو، کیوں کہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔“ [متفق علیہ بروایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ۔]
حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا جو رکوع اور سجدہ اچھی طرح ادا نہیں کررہا تھا، تو فرمایا: ”تو نے نماز نہیں پڑھی۔ اگر اسی حالت میں تو مرجائے تو جس فطرت پر اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو پیدا کیا، تو اُس فطرت کے علاوہ پر مرے گا۔“ [صحیح بخاری: 791]۔
اور نبی ﷺ نے بتایا ہے کہ نماز میں ٹھونگیں مارنا منافقوں کی صفات میں سے ہے۔
لہذا مسلمان کو چاہیے کہ وہ اس سے خبر دار رہے، اور اس بات سے بچے کہ وہ ظاہری شکل میں نماز پڑھے جبکہ حقیقت میں وہ نماز نہ پڑھ رہا ہو۔
دسواں اور گیارہواں رکن: آخری تشہد اور اس کے لیے بیٹھنا، نبی ﷺ کا ارشاد ہے: ”جب تم میں سے کوئی اپنی نماز میں بیٹھ جائے تو یہ کہے: تمام قولی، فعلی اور مالی عبادات اللہ کے لیے خاص ہیں۔ اے نبی! آپ پر اللہ کی رحمت، سلامتی اور برکتیں ہوں، نیز ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی سلامتی ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔“ [متفق علیہ]۔
بارہواں رکن: آخری تشہد میں نبی ﷺ پر درود بھیجنا۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: ”اے اللہ! محمد ﷺ پر اور آلِ محمد ﷺ پر رحمت نازل فرما جیسے تو نے ابراہیم علیہ السلام پر اور آلِ ابراہیم علیہ السلام پر رحمت نازل فرمائی، یقینََا تو قابلِ تعریف اور بڑی شان والا ہے۔ اور برکت نازل فرما محمد ﷺ اور آلِ محمد ﷺ پر جیسے تو نے ابراہیم علیہ السلام اور آلِ ابراہیم علیہ السلام پر برکت نازل فرمائی، یقینََا تو قابلِ تعریف اور بڑی شان والا ہے۔“
اس کی دلیل آپ ﷺ کا یہ حکم ہے کہ جب آپ ﷺ سے پوچھا گیا کہ ہم آپ پر کیسے درود پڑھیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: کہو: (اے اللہ! محمد پر درود بھیج)۔
تیرہواں رکن: ان ارکان کو اسی طریقے سے بالترتیب انجام دینا جس طرح نبی ﷺ نماز پڑھا کرتے تھے؛ کیونکہ آپ ﷺ کا فرمان ہے: ”تم اسی طرح نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔“
اور نبی ﷺ نے مسئ الصلاۃ (غلط طریقے سے نماز پڑھنے والے صحابی) کو لفظ "ثم" کے ذریعے بالترتیب نماز سکھائی تھی، جو ترتیب کا تقاضا کرتا ہے۔
چودہواں رکن: دو سلام پھیرنا، اس طرح کہ اپنی دائیں طرف ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ“ کہے اور اسی طرح بائیں طرف بھی، یہ نماز کا اختتام اور اس سے فارغ ہونے کی علامت ہے؛ آپ ﷺ کا فرمان ہے: ”نماز سے حلال ہونے کا ذریعہ سلام پھیرنا ہے۔“ [ابوداود: 61، ترمذی: 3، ابن ماجہ: 275 اور احمد: 1006 نے اسے روایت کیا ہے اور البانی نے اسے صحیح کہا ہے۔]
ایک دوسری روایت میں ہے: ”اور اس کا اختتام سلام کے ساتھ ہوتا ہے۔“
یہ سلامتی کی دعا ہے جو امام، مقتدی اور منفرد اپنے لیے اور حاضر فرشتوں کے لیے کرتے ہیں، اس کے ذریعے وہ نماز سے فارغ ہونے اور ان چیزوں کو مباح کرنے کی نیت کرتے ہیں جو نماز کے دوران ان پر حرام تھیں، جیسے کلام وغیرہ۔
اے اللہ کے بندو! جو شخص ان ارکان میں سے کوئی رکن چھوڑ دے، تو اگر وہ تکبیر تحریمہ ہو؛ تو اس کی نماز واقع ہی نہیں ہوگی، اور اگر چھوڑا گیا رکن تکبیر تحریمہ کے علاوہ ہو، اور جان بوجھ کر چھوڑا گیا ہو؛ تو اس کی نماز باطل ہو جائے گی، البتہ اگر بھول چوک میں چھوڑا ہو، اور اسے دوسری رکعت کی قراءت شروع کرنے سے پہلے یاد آ جائے، تو وہ واپس لوٹ کر اس رکن کو اور اس کے بعد والے افعال کو ادا کرے گا، اور اگر اسے دوسری رکعت کی قراءت شروع کرنے کے بعد یاد آئے؛ تو وہ رکعت باطل ہوجائے گی جس میں وہ رکن چھوٹ گیا تھا، اور بعد والی رکعت اس کی جگہ لے لے گی، اور وہ اپنی نماز مکمل کرے گا، پھر سلام پھیرنے سے پہلے سجدۂ سہو کرے گا۔ اگر چھوڑا گیا رکن سلام پھیرنے کے بعد یاد آئے؛ تو یہ پوری ایک رکعت چھوڑنے کے مترادف ہوگا، چنانچہ اگر سلام کے بعد طویل وقفہ نہ گزرا ہو، تو وہ ایک رکعت ادا کرے گا اور سجدۂ سہو کرے گا، اور اگر طویل وقفہ گزر گیا ہو یا اس کا وضو ٹوٹ گیا ہو، تو وہ پوری نماز دوبارہ پڑھے گا۔
اے ایمان والو! یہ نماز کے ارکان ہیں، اور یہ وہ مضبوط کھمبے ہیں جن پر اس کی عمارت کھڑی ہے، قدرت واستطاعت ہوتے ہوئے ان کے بغیر نماز صحیح نہیں ہوتی، اور جو شخص ان میں سے کسی رکن کو مکمل طور پر ادا کرنے سے عاجز ہو، وہ اپنی استطاعت کے مطابق اسے ادا کرے گا، کیونکہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ... پس جہاں تک تم سے ہوسکے اللہ سے ڈرتے رہو ... [التغابن: 16]۔
اور نبی ﷺ کا ارشاد ہے: ”کھڑے ہوکر نماز پڑھو۔ اگر اس کی طاقت نہ ہو، تو بیٹھ کر پڑھو اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو، تو پہلو کے بل لیٹ کر پڑھو۔“ [صحیح بخاری: 1117]
جو شخص رکوع وسجود کرنے سے عاجز ہو، تو وہ اپنے سر سے اشارہ کرے اور سجدے میں رکوع کی بنسبت سر کو زیادہ جھکائے، اور جو شخص سورہ فاتحہ کی تلاوت سے قاصر ہو، تو وہ اللہ کی حمد اور بڑائی بیان کرے اور لا الہ الا اللہ کا ورد کرے، پھر رکوع کرے، کیونکہ آپ ﷺ کا فرمان ہے: ”اگر تمہیں قرآن یاد ہے تو پڑھو، ورنہ ’الحمد للہ، اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ‘ کہہ کر رکوع میں چلے جاؤ۔“ [ابو داود: 861، ترمذی: 302، امام البانی نے اسے صحیح کہا ہے۔]
چنانچہ ایک شخص نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: ”میں قرآن مجید میں سے کچھ بھی یاد نہیں کر سکتا، مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیجیے، جو مجھے کافی ہو سکے؟“ آپ نے فرمایا: ”کہو: اللہ پاک ہے، ساری تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اللہ سب سے بڑا ہے، اور برائی سے بچنے کی ہمت ہے نہ نیکی کرنے کی قوت مگر اللہ ہی کی توفیق سے۔“ [ابو داود : 832، نسائی : 924، احمد: 19161 امام البانی نے اسے صحیح کہا ہے۔]
یہ حکم صرف اس شخص کے لیے ہے جو سیکھنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو یا اسے کوئی سکھانے والا نہ ملے، البتہ جو شخص سورہ فاتحہ سیکھنے پر قادر ہو، تو اس پر واجب ہے کہ وہ اسے اور اس کے ساتھ قرآن مجید کا جتنا حصہ ممکن ہو سیکھے، اس سے یہ معلوم ہوا کہ نماز کسی بھی حال میں ساقط نہیں ہوتی، بلکہ مسلمان (ہر حال میں) اپنی استطاعت کے مطابق نماز ادا کرے۔
اے اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو اور شرعی طریقے پر اپنی نماز کی ادائیگی کا اہتمام کرو، تاکہ تم اسلام کا ستون اور شہادتِ توحید ورسالت کے بعد اس کا دوسرا رکن قائم کر سکو، کیونکہ جو شخص نماز نہ پڑھے‘ اس کے دین کا کوئی اعتبار نہیں، اور جو شخص اپنی استطاعت کے مطابق نماز کی شرائط، ارکان اور واجبات کو مکمل نہ کرے اس کی نماز کا بھی کوئی اعتبار نہیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو نفع بخش علم اور نیک عمل کی توفیق عطا فرمائے، ہمیں اور آپ کو اخلاص اور قبولیت عطا فرمائے۔
میں شیطان مردود کے شر سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں: نمازوں کی حفاظت کرو، بالخصوص درمیان والی نماز کی اور اللہ تعالیٰ کے لئے با ادب کھڑے رہا کرو۔ اگر تمہیں خوف ہو تو پیدل ہی سہی یا سوار ہی سہی، ہاں جب امن ہوجائے تو اللہ کا ذکر کرو جس طرح کہ اس نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی جسے تم نہیں جانتے تھے۔ [البقرۃ: 238- 239]۔
اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو قرآن عظیم کی برکت سے نوازے۔
دوسرے خطبہ کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے سزاوار ہیں، جس نے مومنوں پر مقررہ وقتوں میں نماز فرض کی، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، دین کو اسی کے لیے خالص کرکے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، جو سچے، خیر خواہ اور امانت دار ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کے آل واصحاب پر اور قیامت تک اخلاص کے ساتھ آپ کی پیروی کرنے والوں پر کثرت سے درود وسلام نازل فرمائے۔
دوسرا خطبہ:
امابعد:
اے لوگو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو، کیوں کہ اس کا تقویٰ نفع بخش علم کے حصول کا سبب ہے، اللہ تعالی نے فرمایا: ...اللہ تعالیٰ سے ڈرو، اللہ تمہیں تعلیم دے رہا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ [البقرة: 282]۔
ہم اس سے قبل نماز کے ارکان اور اس کے احکام پر گفتگو کر چکے ہیں، اور اب ہم نماز کے واجبات اور اس کی سنتوں پر گفتگو کریں گے۔
چنانچہ نماز کے واجبات آٹھ ہیں، جوکہ یہ ہیں: تکبیرِ تحریمہ کے علاوہ بقیہ ساری تکبیرات...البتہ تکبیرِ تحریمہ رکن ہے جیسا کہ گزر چکا ہے۔
امام اور منفرد کا ”سَمِعَ الله لمن حمده“ کہنا، البتہ مقتدی اسے نہیں کہے گا۔
رکوع سے سیدھا کھڑے ہونے کے بعد سب کے حق میں ”ربَّنا ولك الحمد“ کہنا۔
رکوع میں ”سبحان ربي العظيم“ کہنا۔
سجدے میں ”سُبحانَ ربي الأعلى“ کہنا۔
دونوں سجدوں کے درمیان ”ربي اغفر لي“ کہنا۔
پہلا تشہد پڑھنا اور اس کے لیے بیٹھنا، تشہد کی دعا یہ ہے: التحيات لله... سے لے کر أشهَدُ أَنْ لا إلهَ إلا الله، وأشهَدُ أنَّ محمدًا عبدُه ورسوله تک۔
چنانچہ جو شخص ان واجبات میں سے کوئی واجب جان بوجھ کر چھوڑ دے، تو اس کی نماز درست نہیں ہوگی، اور اگر بھول چوک میں چھوٹ جائے، تو اس کے عوض سجدۂ سہو کرنا ہوگا۔ مذکورہ ارکان اور واجبات کے علاوہ سارے اعمال قولی اور فعلی سنت ہیں، جنہیں جان بوجھ کر یا بھول چوک میں چھوڑ دینے سے نماز باطل نہیں ہوتی، لیکن انہیں ادا کرنا نماز کے لیے زیادہ کامل اور افضل ہے۔
قولی سنتیں بہت سی ہیں: جیسے دعائے استفتاح پڑھنا، 'اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم' کہنا، 'بسم اللہ الرحمن الرحیم' کہنا، 'آمین' کہنا، نماز فجر میں اور ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے بعد جتنا میسر ہو‘ اتنا قرآن پڑھنا، رکوع اور سجدے کی تسبیحیں ایک بار سے زیادہ کہنا، دونوں سجدوں کے درمیان ایک بار سے زیادہ 'رب اغفر لي' کہنا، اور آخری تشہد میں سلام پھیرنے سے پہلے یہ دعا پڑھنا: ”اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ“، اور اس کے بعد حسبِ توفیق مزید دعا کرنا۔
جہاں تک فعلی سنتوں کا تعلق ہے، تو وہ بہت سی ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں: تکبیر تحریمہ، رکوع میں جاتے اور رکوع سے اٹھتے وقت دونوں ہاتھوں کو اٹھانا، قیام کی حالت میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھ کر اپنے سینے پر یا ناف کے نیچے رکھنا، سجدے کی جگہ پر نظر رکھنا، رکوع میں دونوں ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھنا، رکوع کی حالت میں پیٹھ کو بالکل سیدھی اور سر کو اس کے برابر رکھنا، سجدہ میں بازوؤں کو بغلوں سے دور رکھنا، پیٹ کو دونوں رانوں سے اور دونوں رانوں کو دونوں پنڈلیوں سے دور رکھنا، اس کے علاوہ اور بھی قولی وفعلی سنتیں ہیں جن کی تعداد پینتالیس یا اس سے زیادہ ہے۔
لیکن سنتوں پر عمل کرنے میں اس قدر شدت اختیار نہیں کرنی چاہیے کہ وہ فرائض کی مانند معلوم ہونے لگیں، یا ان کی ادائیگی کی صورت میں اتنا مبالغہ نہیں کرنا چاہیے کہ وہ اپنی شرعی کیفیت سے ہی خارج ہو جائیں، جیسا کہ ہم بعض لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ ان میں سے کوئی حالتِ قیام میں اپنے دونوں ہاتھ سینے پر یا ناف کے نیچے باندھنے کے بجائے گلے کے قریب باندھ لیتا ہے، اپنے سر کو اتنا جھکا لیتا ہے کہ رکوع کے قریب ہوجاتا ہے، جب سجدہ کرتا ہے تو اپنے پاؤں پیچھے کی جانب اور سر آگے کی جانب اس طرح پھیلا دیتا ہے کہ زمین پر اوندھے لیٹے ہوئے شخص کی مانند نظر آتا ہے، اور جب نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو اپنے دونوں قدموں کے درمیان دائیں اور بائیں اس قدر فاصلہ بنا لیتا ہے کہ وہ دو آدمیوں کی جگہ گھیر لیتا ہے اور اپنے پہلو والے نمازی کے لیے تنگی کا باعث بنتا ہے۔ ان میں سے بعض لوگ سترے کے معاملے میں اس قدر شدت اختیار کرتے ہیں کہ وہ سننِ راتبہ کی ادائیگی کے لیے صف میں کھڑا ہونے کی بجائے کسی دوسری جگہ جا کر سترہ تلاش کرتے ہیں، جس کے سبب ان سے وہ جگہ چھوٹ جاتی ہے جو شاید سترہ سے زیادہ افضل ہو، اور وہ پہلی صف میں امام کے قریب نماز پڑھنا ہے۔ اس کے علاوہ بعض سنتوں پر عمل کرنے میں شدت پسندی کی اور بھی کئی صورتیں ہیں، جو بسا اوقات انہیں ان کی مشروع کیفیت سے خارج کر دیتی ہیں، یا ان سے افضل سنتوں سے محرومی کا سبب بنتی ہیں۔
مطلوب ومقصود یہ ہے کہ بغیر کسی افراط وتفریط کے، کتاب وسنت کے تقاضوں کے مطابق اعتدال اور استقامت اختیار کی جائے۔
کیوں کہ سب سے اچھی بات کتاب اللہ ہے، سب سے بہتر طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے، اور بدترین امور (دین کے نام پر ایجاد کردہ) نت نئی بدعتیں ہیں۔“
***
خطبہ کا عنوان
نماز با جماعت ایمان کی علامت ہے۔
پہلے خطبہ کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے نماز کو مومنوں پر مقررہ اوقات میں فرض کیا، اسے قائم کرنے، اس کی پابندی کرنے اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ اسے ادا کرنے کا حکم دیا۔
میں اس کی نعمتوں پر اس کی حمد بیان کرتا ہوں، اس کے بے پایاں احسان اور کرم پر اس کا شکر ادا کرتا ہوں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل پر، آپ کے صحابہ پر اور قیامت تک آپ کی سنت کو مضبوطی سے تھامنے اور آپ کے راستے پر چلنے والوں پر بہت زیادہ درود وسلام نازل فرمائے۔
پہلا خطبہ:
اما بعد: اے مسلمانو! اللہ سے ڈرو جس پر تم ایمان لائے ہو، اس نمازِ پنجگانہ کے بارے میں اس کا خوف کھاؤ، کیونکہ تمھیں اس کا امین بنایا گیا ہے اور تم سے اس کے بارے میں سوال کیا جائے گا، اور یہی وہ پہلی چیز ہے جس کے بارے میں تم سے حساب لیا جائے گا۔
تم اسے ان اوقات میں ادا کرو جو تمہارے رب نے اس کے لیے خاص کیے ہیں؛ کیونکہ یہ سات آسمانوں کے اوپر سے تم پر تمہارے رب کا فرض کردہ حکم ہے، اور دنیا سے رخصت ہوتے وقت تمہارے نبی ﷺ کی جانب سے تمہارے لیے آخری وصیت ہے۔ یہ دین کا ستون اور ایمان کی دلیل ہے، چنانچہ جس نے اس کا حق پورا کیا، اللہ اس کا حق پورا فرمائے گا، اور جس نے اس میں کمی کی، تو تم سن چکے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے کمی کرنے والوں (مطففین) کے بارے میں کیا فرمایا۔
اے اللہ کے بندو! بے شک کتاب وسنت کی نصوص نمازِ با جماعت کے وجوب پر دلالت کرتی ہیں، اللہ تعالی نے فرمایا: اور نمازوں کو قائم کرو اور زکوٰة دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔ [البقرة: 43]۔
ابن سعدی رحمہ اللہ اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں: ”یعنی: نماز پڑھنے والوں کے ساتھ نماز پڑھو، معلوم ہوا کہ اس میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا حکم اور اس کے وجوب کا بیان ہے۔“
نیز اللہ تعالی نے فرمایا: جب تم ان میں ہو اور ان کے لئے نماز کھڑی کرو تو چاہئے کہ ان کی ایک جماعت تمہارے ساتھ اپنے ہتھیار لئے کھڑی ہو، پھر جب یہ سجده کر چکیں تو یہ ہٹ کر تمہارے پیچھے آجائیں اور وه دوسری جماعت جس نے نماز نہیں پڑھی وه آجائے اور تیرے ساتھ نماز ادا کرے اور اپنا بچاؤ اور اپنے ہتھیار لئے رہے... [النساء: 102]۔
یہ آیت نمازِ با جماعت کے وجوب اور اسے ترک کرنے والے کے گناہ پر دلالت کرنے والی واضح ترین آیتوں میں سے ہے۔ وہ اس طرح کہ مسلمان جنگ اور اپنے دشمنوں سے خوف کی حالت میں تھے، اس کے باوجود اللہ عزوجل نے انہیں جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کا حکم دیا، پھر ہمارے رب تبارک وتعالیٰ نے صرف اسی پر اکتفا نہیں فرمایا کہ پہلی جماعت قائم کر لی جائے، بلکہ امام کے ساتھ دوسری جماعت کا ہونا بھی ضروری قرار دیا۔ وہ شخص کہاں ہے جو امن اور راحت کی حالت میں بھی نمازِ با جماعت میں کوتاہی کرتا ہے؟
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اس آیت سے یہ اخذ کیا جاتا ہے کہ نمازِ با جماعت ہر ایک فرد پر واجب (فرضِ عین) ہے؛ کیوں کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿پس چاہیے کہ ان میں سے ایک گروہ آپ کے ساتھ کھڑا ہو﴾، اور فرمایا: ﴿اور دوسرا گروہ آئے جس نے نماز نہیں پڑھی، پس وہ آپ کے ساتھ نماز ادا کرے﴾؛ کیوں کہ اگر یہ فرضِ کفایہ ہوتی تو پہلے گروہ پر ہی اکتفا کر لیا جاتا، چنانچہ جب دوسرے گروہ کو بھی جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کا حکم دیا گیا؛ تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شخص پر جماعت واجب ہے۔"
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے؛ یقینا میں نے ارادہ کیا کہ میں لکڑیوں (کو اکٹھا کرنے) کا حکم دوں، چنانچہ انھیں اکٹھا کیا جائے، پھر نماز کا حکم دوں، چنانچہ اس کے لیے اذان دی جائے، پھر میں کسی ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے اور میں خود ان لوگوں کی طرف جاؤں جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے اور ان سمیت ان کے گھروں کو آگ لگا دوں۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے؛ اگر ان میں سے کسی کو یہ معلوم ہو جائے کہ اسے گوشت والی موٹی ہڈی یا دو عمدہ کُھر ملیں گے، تو وہ عشا کی نماز میں ضرور حاضر ہو۔“ [متفق علیہ]۔
اے مسلمانو: بے شک نمازِ با جماعت میں عظیم اجر وثواب اور بڑے فوائد ہیں جو ان پر غور کرنے والے کے لیے ظاہر اور ان کے طلب گار کے لیے واضح ہیں؛ چنانچہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مرد کی جماعت کے ساتھ نماز، گھر یا بازار میں پڑھی جانے والی نماز سے پچیس درجہ بہتر ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جب ایک شخص وضو کے تمام آداب کو ملحوظ رکھ کر اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر مسجد کی طرف نکلتا ہے اور سوائے نماز کے اور کوئی دوسرا ارادہ اس کا نہیں ہوتا، تو ہر قدم پر اس کا ایک درجہ بڑھتا جاتا ہے اور ایک گناہ معاف ہوتا جاتا ہے۔ وہ جب نماز سے فارغ ہو جاتا ہے، تو فرشتے اس وقت تک اس کے لیے برابر دعائیں کرتے رہتے ہیں، جب تک وہ نماز کی جگہ پر بیٹھا رہتا ہے۔ فرشتے دعا کرتے ہیں: اے اللہ! اس پر اپنی رحمتیں نازل فرما، اے اللہ! اس کی مغفرت فرما، اے اللہ! اس پر رحم فرما۔ جب تک آدمی نماز کے انتظار میں رہتا ہے، تب تک وہ گویا نماز ہی میں ہوتا ہے۔“ [متفق علیہ]۔
ابي بن كعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں: ایک آدمی تھا؛ میں نہیں جانتا کہ کسی اور شخص کا گھر اس کے گھر سے زیادہ مسجد سے دور تھا، لیکن اس سے کوئی نماز نہیں چھوٹتی تھی، تو اس سے کہا گیا: کیا ہی بہتر ہوتا کہ تو ایک گدھا خرید لے جس پر تو اندھیرے میں اور گرمی کی شدت میں سوار ہو کر آیا کرے؟ اس نے کہا: مجھے یہ پسند نہیں کہ میرا گھر مسجد کے بغل میں ہو، میں تو یہ چاہتا ہوں کہ میرا مسجد کی طرف چل کر جانا اور پھر وہاں سے اپنے گھر والوں کی طرف میرا لوٹنا، یہ سب کچھ میرے نامہ اعمال میں لکھا جائے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے یہ سب تیرے لیے جمع کردیا ہے۔“ [صحیح مسلم: 663]۔
اے اللہ کے بندو!.... نمازِ باجماعت کی اہمیت اور اس کی عظیم فضیلت میں سے یہ بھی ہے کہ نبی ﷺ نے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی ترغیب دی ہے، بالخصوص فجر اور عشا کی نماز؛ چنانچہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے عشاء کی نماز جماعت سے پڑھی تو گویا آدھی رات تک نفل پڑھتا رہا اور جس نے صبح کی نماز جماعت سے پڑھی تو وہ گویا ساری رات نماز پڑھتا رہا۔“ [صحیح مسلم : 656]۔
نبی ﷺ نے بیان فرمایا کہ اللہ عزوجل کے فرائض ادا کرنے کے لیے مساجد کی طرف کثرت سے آنے جانے سے جنت میں درجات حاصل ہوتے ہیں؛ چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص صبح کے وقت یا شام کے وقت مسجد جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ضیافت تیار کرتا ہے جب بھی وہ صبح یا شام کے وقت مسجد جاتا ہے۔“ [متفق علیہ]۔
اے مومنو! ہمارے نبی ﷺ کے ایک صحابی کا یہ عظیم کلام سنیں، اس میں عبرت حاصل کرنے والے کے لیے عبرت اور نصیحت پکڑنے والے کے لیے تنبیہ ہے؛ چنانچہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ”جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ کل وہ اللہ سے مسلم ہو کر ملے، تو اس کو چاہیے کہ وہ ان نمازوں کی اس جگہ پابندی کرے جہاں ان کے لیے اذان دی جائے، اس لیے کہ اللہ تعالی نے تمہارے نبی ﷺ کے لیے ہدایت کے طریقے مشروع فرمائے ہیں، اور بے شک یہ نمازیں بھی ہدایت کے طریقوں میں سے ہیں۔ اگر تم اپنے گھروں میں نمازیں پڑھو گے، جس طرح یہ پیچھے رہنے والا اپنے گھر میں نماز پڑھتا ہے، تو تم اپنے نبی کی سنت کو چھوڑ دو گے، اور اگر تم نے اپنے نبی کی سنت چھوڑ دی تو یقیناً گمراہ ہو جاؤ گے۔ جو شخص بھی اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر ان مساجد میں سے کسی مسجد کی طرف چل پڑتا ہے، تو اللہ تعالی اس کے ہر قدم کے بدلے ایک نیکی لکھتا ہے، اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے، اور اس کا ایک گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ میں نے تو اپنے لوگوں کا یہ حال دیکھا ہے کہ نماز سے وہی پیچھے رہتا جو کھلم کھلا منافق ہوتا، اور بیمار آدمی کو دو آدمیوں کے سہارے سے لایا جاتا یہاں تک کہ اسے صف میں کھڑا کر دیا جاتا تھا۔“ [صحیح مسلم : 654]
میں وه کہتا ہوں جو آپ سن رہے ہیں، اور میں اپنے اور آپ سب کے لئے اللہ سے بخشش مانگتا ہوں، آپ بھی اس سے بخشش مانگیں؛ یقیناً وه بہت بڑا بخشنے واﻻ اور نہایت مہربانی کرنے وﻻ ہے۔
دوسرے خطبہ کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں، جس نے نماز کو مومنوں کے لیے باعثِ راحت ورفعت بناکر فرض کیا، اور درود وسلام نازل ہو رحمۃ للعالمین کے طور پر مبعوث ہونے والے پر، اللہ کا درود نازل ہو آپ پر، آپ کی آل، آپ کے صحابہ اور تابعین پر، اور قیامت کے دن تک ان سب پر کثرت سے سلامتی نازل ہو۔
دوسرا خطبہ:
امابعد!
اے ایمان والو! سلف صالحین رحمہم اللہ نمازِ باجماعت کا بہت زیادہ اہتمام کیا کرتے تھے، چنانچہ وہ اس کی خاطر کام کاج چھوڑ دیتے اور دکانیں بند کر دیتے تھے۔ زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: ”ہم مغرب کی نماز نبی ﷺ کے ساتھ ادا کرتے، اور بازار کی طرف چلے جاتے…“ [اسے احمد (17029)، ابن ابی شیبہ 1/329، اور طبرانی نے "الکبیر" (5259) میں روایت کیا ہے اور یہ اپنے شواہد کی بنا پر صحیح ہے۔]
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ نماز کے بعد تک بازار میں کام روک دیتے تھے۔
عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں ایک دیہاتی کچھ مالِ تجارت لے کر بازار آیا، وہ اس وقت پہنچا جبکہ لوگ مسجدوں میں تھے، ان کا بیان ہے: ”جب لوگ اپنی نماز سے فارغ ہوئے، تو اپنے بازاروں کی طرف نکل گئے۔“ [اسے ابن ابی الدنیا نے ”اصلاح المال“ (ص 75) میں روایت کیا ہے]۔
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انہوں نے نماز کے وقت خرید وفروخت ترک کر دی اور مساجد کا رخ کیا، خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کے زمانے میں معاشرے کا یہی حال تھا۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: ”وہ بازار میں تھے، پھر نماز کی اقامت کہی گئی، تو انہوں نے اپنی دکانیں بند کر دیں اور مسجد میں داخل ہو گئے، یہ دیکھ کر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: انہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿ایسے لوگ جنہیں تجارت اور خرید وفروخت اللہ کے ذکر سے اور نماز قائم کرنے اور زکوٰة ادا کرنے سے غافل نہیں کرتی، اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن بہت سے دل اور بہت سی آنکھیں الٹ پلٹ ہوجائیں گی۔﴾ [تفسیرِ طبری: 18/113]۔
اور عمرو بن دینار سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ”میں سالم بن عبداللہ کے ہمراہ تھا اور ہم مسجد کی طرف جا رہے تھے، چنانچہ ہمارا گزر مدینہ کے بازار سے ہوا، لوگ نماز کے لیے کھڑے ہو چکے تھے اور انہوں نے اپنا سامان کپڑے سے ڈھانپ دیا تھا۔ سالم نے ان کے سامان کی طرف دیکھا جس کے پاس کوئی موجود نہ تھا، تو انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿ایسے لوگ جنہیں تجارت اور خرید وفروخت اللہ کے ذکر سے غافل نہیں کرتی...﴾، پھر فرمایا: یہ وہی لوگ ہیں۔“
اور حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اللہ کی قسم! یقیناً وہ بازاروں میں خرید وفروخت کیا کرتے تھے، پھر جب اللہ کے حقوق میں سے کسی حق کا وقت آجاتا تو سب سے پہلے اللہ کا حق ادا کرتے، پھر اپنی تجارت کی طرف لوٹ جاتے۔“
اور مطر الورّاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”سنو! بلاشبہ وہ لوگ خرید وفروخت کرتے تھے، لیکن جب ان میں سے کوئی اذان سنتا اور ترازو اس کے ہاتھ میں ہوتا، تو وہ اسے نیچے رکھ دیتا اور نماز کی طرف متوجہ ہوجاتا۔“
معلوم ہوا کہ اس امت کے دورِ اول کے سلف صالحین رحمہم اللہ اور ان کے پیروکار نماز کی تعظیم کیا کرتے تھے، باجماعت نماز کا اہتمام کرتے تھے اور مسجدوں میں حاضر ہونے اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کی خاطر کام کاج اور خرید وفروخت روک دیا کرتے تھے۔
اے اللہ! یقیناً ہم تجھ سے نفع بخش علم اور نیک عمل کا سوال کرتے ہیں۔
***
خطبہ کا عنوان
نماز چھوڑنے کی سنگینی
پہلے خطبہ کا مقدمہ
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمارے لیے دین کو مکمل کیا، ہم پر نعمت تمام کیا، ہماری امت کو بہترین امت بنایا، اور ہمارے درمیان ہم ہی میں سے ایک رسول مبعوث فرمایا، جو ہم پر اس کی آیتیں تلاوت کرتے ہیں، ہمارا تزکیہ کرتے ہیں اور ہمیں کتاب وحکمت کی تعلیم دیتے ہیں، میں اس کی بے شمار نعمتوں پر اس کی حمد بیان کرتا ہوں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور آقا محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، جنہیں ان کے رب نے تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر مبعوث فرمایا، اللہ تعالیٰ آپ پر، آپ کے اہل وعیال پر اور آپ کے صحابہ پر ایسا درود نازل فرمائے جو ہمیشہ باقی رہے اور ایسا سلام نازل فرمائے جو سدا جاری وساری رہے۔
پہلے خطبہ کا متن
اما بعد.. اے مسلمانو!
اللہ سے ڈرو کیونکہ اللہ کا خوف بہترین کمائی ہے، اور اس کی اطاعت اعلیٰ ترین نسب ہے: اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہیے اور دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا۔ [آل عمران: 102]۔
اے مسلمانو!
بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی بھرپور نعمتوں اور کامل عنایتوں سے سرفراز فرمایا ہے، ایسی نعمتیں جن سے آپ ما لامال ہیں اور ایسے احسانات جن کی چادروں نے آپ کو ڈھانپ رکھا ہے۔ یقیناً عظیم ترین نعمت اور سب سے بڑا احسان: اسلام اور ایمان کی نعمت ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے: اپنے مسلمان ہونے کا آپ پر احسان جتاتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ اپنے مسلمان ہونے کا احسان مجھ پر نہ رکھو، بلکہ دراصل اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت کی اگر تم راست گو ہو۔ [الحجرات: 17]، اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کرو اس پر جو اس نے تمہیں عطا کیا، اور اس کا شکر بجا لاؤ اس پر جس کی اس نے تمہیں رہنمائی فرمائی؛ یعنی اس نے تمہیں اس بہترین امت میں سے بنایا جو لوگوں کے لئے پیدا کی گئی ہے، اور تمہیں اس دین کے واضح اصولوں کی رہنمائی فرمائی جس میں کوئی ابہام نہیں۔
یاد رکھو! بے شک اس (دین) کی سب سے نمایاں علامات، سب سے عظیم شعائر، اور سب سے نفع بخش خزانوں میں سے ایک نماز بھی ہے، جو اسلام کا دوسرا رکن اور اس کا ایک عظیم ستون ہے۔ یہ شہادتین کے بعد سب سے اہم فرض، سب سے عظیم عمل، سب سے بڑی اطاعت، اور سب سے زیادہ امید افزا سرمایہ ہے۔ جس نے اس کی حفاظت کی، اس نے اپنے دین کی حفاظت کی، اور جس نے اسے ضائع کیا، وہ دیگر اعمال کو اس سے بھی زیادہ ضائع کرنے والا ہے۔ یہ دین داری کا ستون اور امانت داری کا سرچشمہ ہے۔ نبی ﷺ فرماتے ہیں: ”دین کی بنیاد اسلام ہے اور اس کا ستون نماز ہے۔“ [جامع ترمذی: 2616، سنن ابن ماجہ: 3973، مسند احمد: 22069، اور البانی نے اسے صحیح کہا ہے]، اللہ نے اسے آنکھوں کی ٹھنڈک اور غم زدہ کے لیے باعثِ تسلی بنایا ہے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ کو جب کوئی بات غم زدہ کرتی، تو آپ نماز کی طرف لپکتے۔ [اسے احمد (23299) اور ابو داود (1319) نے روایت کیا ہے اور حافظ ابن حجر نے اسے حسن قرار دیا ہے]، اور آپ ﷺ فرماتے تھے: ”میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔“ [سنن نسائی: 3940، مسند احمد: 14037، البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے]
اور آپ ﷺ پکارتے تھے: ”اے بلال! نماز کے ذریعے ہمیں راحت پہنچاؤ۔“ [سنن ابی داود: 4985، مسند احمد: 23088، اسے البانی نے صحیح کہا ہے]، نماز ہی آپ ﷺ کی خوشی، آپ کے دل کی راحت، اور آپ کے قلب کی سعادت تھی۔
یہ ہر اہم معاملے میں انسان کا بہترین مقصود، اور ہر سخت مصیبت کے وقت کیا جانے والا سب سے افضل عمل ہے۔ یہ خشوع وخضوع، محتاجی وبے قراری، دعا وثنا، حمد وتمجید، اور اللہ علی وحمید کے سامنے عاجزی وانکساری کا اظہار ہے۔ رسولِ ہدیٰ ﷺ فرماتے ہیں: ”جب تم میں سے کوئی نماز میں ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے مناجات کر رہا ہوتا ہے؛“ ّْْ[متفق علیہ]۔
اے مسلمانو!
نماز امن کے تحفظ اور جرائم کے خاتمے کا سب سے بڑا ذریعہ اور عفت وفضیلت کی تربیت کا سب سے مؤثر وسیلہ ہے: ...اور نماز قائم کریں، یقیناً نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے، بے شک اللہ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے... [العنكبوت: 45]۔
یہی کامیابی کا راز، اور فلاح کی بنیاد ہے، اور قیامت کے دن بندے کے اعمال میں سے سب سے پہلے اسی کا حساب ہوگا۔ اگر یہ صحیح رہی، تو پھر وہ کامیاب ہو گیا اور نجات پاگیا۔ لیکن اگر اس کا معاملہ بگڑ گیا، تو پھر وہ نا کام ونامراد ہوگیا۔ چنانچہ اس کی پابندی صدق اور ایمان کا مظہر ہے، اس میں غفلت برتنا رسوائی اور تباہی کی علامت ہے۔ اس کا راستہ معلوم ہے، اور اس کی راہ متعین ہے، جس نے اس کی حفاظت کی، وہ قیامت کے دن اس کے لیے نور، دلیل اور نجات ہوگی، اور جس نے اس کی حفاظت نہیں کی، اس کے لیے نہ کوئی نور ہوگا، نہ دلیل اور نہ ہی نجات، بلکہ وہ قیامت کے دن قارون، فرعون، ہامان اور اُبی بن خلف کے ساتھ ہوگا۔
”جس نے ان پنج وقتہ نمازوں، ان کے رکوع، ان کے سجدوں اور ان کے اوقات کی پابندی کی، اور یہ جان لیا کہ یہ اللہ کی طرف سے برحق ہیں، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔“
یہ ایسی عنایتیں اور رحمتیں، نوازشیں اور برکتیں ہیں، جن کے ذریعہ گناہ مٹائے جاتے ہیں، درجات بلند کیے جاتے ہیں اور نیکیوں میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ رسولِ ہدیٰ ﷺ نے فرمایا: ”تمھارا کیا خیال ہے کہ اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر کوئی نہر جاری ہو جس میں وہ ہر روز پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو، تو کیا اس کے بدن پر کوئی میل کچیل باقی رہے گا؟“ صحابہ کرام نے عرض کیا: میل کچیل باقی نہیں رہے گا، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہی پانچوں نمازوں کی مثال ہے، اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے خطاؤں کو مٹا دیتا ہے۔“ ّْْ[متفق علیہ]۔
ایک ایسی عبادت جو ظلمتوں کے بھنور میں امید بن کر روشن ہوتی ہے، گمراہی کی راہوں میں گرنے سے بچاتی ہے، بدحال کو اس کی بدحالی کی کھائی سے اور مایوس کو اس کی مایوسی کی پستی سے نکال کر نجات اور زندگی کی راہ پر لے جاتی ہے: دن کے دونوں سروں میں نماز برپا رکھ اور رات کی کئی ساعتوں میں بھی، یقیناً نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں۔ یہ نصیحت ہے نصیحت پکڑنے والوں کے لئے۔ [ہود: 114]۔
اے مسلمانو!
یقیناً یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ بہت سے مسلمانوں میں اس عظیم نماز کو ضائع کرنے اور اس میں کوتاہی سے کام لینے کا رویہ عام ہو چکا ہے، چنانچہ ان میں سے بعض تو اسے مکمل طور پر چھوڑ دیتے ہیں، جبکہ بعض ایسے ہیں جو کچھ نمازیں ادا کرتے ہیں اور باقی چھوڑ دیتے ہیں۔ اس زمانے میں اس کی اہمیت کم ہو گئی ہے، اسے ترک کرنے کا رجحان بڑھ گیا ہے، اس کے پابند لوگ کم رہ گئے ہیں، اور اس میں کوتاہی کرنے والے زیادہ ہو گئے ہیں۔ زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”میں دمشق میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو وہ رو رہے تھے۔ میں نے ان سے کہا: آپ کیوں رو رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے عہد میں جو کچھ میں نے پایا تھا، ان میں سے اس نماز کے سوا کچھ باقی نہیں رہا، اور یہ نماز بھی ضائع کر دی گئی ہے۔“ [صحیح بخاری: 530]۔
اے مسلمانو!
بے شک جان بوجھ کر نماز ترک کرنا، اور سستی اور کاہلی کی وجہ سے نماز کو اس کے وقت سے ٹال دینا، سب سے بڑے کبیرہ گناہوں اور عظیم ترین جرائم میں سے ہے۔ نبی ﷺ فرماتے ہیں: ”ہمارے اور ان کافروں کے درمیان فرق نماز کا ہے، چنانچہ جس نے نماز چھوڑدی اس نے کفر کیا۔“ [ترمذی: 2621، نسائی: 463، ابن ماجہ: 1079، احمد: 22987، اور البانی نے اسے صحیح کہا ہے]، نیز رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: ”آدمی اور کفر کے درمیان فاصلہ مٹانے والا عمل نماز کا ترک کرنا ہے“۔ [صحیح مسلم: 82]۔
بلاشبہ کسی ایک نماز کا چھوٹ جانا، مال ودولت کے چھن جانے اور بیوی، بیٹوں اور بیٹیوں کو کھو دینے کی مصیبت کی طرح ہے؛ نبی ﷺ فرماتے ہیں: ”جس کی کوئی نماز فوت ہو گئی، تو گویا اس کے اہل وعیال اور مال ودولت چھین لیے گئے“؛ [متفق علیہ بروایت نوفل بن معاویہ دیلی رضی اللہ عنہ۔]
اور نماز ترک کرنے والے پر اللہ کا غضب اور اس کا قہر نازل ہوتا ہے؛ نبی ﷺ فرماتے ہیں: ”جو شخص نماز چھوڑ دے، وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضب ناک ہوگا“؛ [معجم طبرانی: 11782، المختارة للضیاء: 100، سنن البیہقی: 3835، اور حافظ سخاوی نے اسے حسن قرار دیا ہے]، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ...جس پر میرا غضب نازل ہو جائے وه یقیناً تباه ہوا۔ [طہ: 81]، عبد اللہ بن شقیق رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نماز کے سوا کسی عمل کے ترک کرنے کو کفر نہیں سمجھتے تھے۔“ [جامع ترمذی: 2622، تعظیم قدر الصلاۃ لمحمد بن نصر المروزی: 948، اس کی سند صحیح ہے]۔
اے مسلمانو!
یقیناً نماز کے معاملے میں کوتاہی کرنا مصیبت اور بدبختی کی ایک عظیم ترین وجہ ہے، یعنی دنیاوی تنگی، برزخی عذاب اور اخروی سزا کا باعث ہے: پھر ان کے بعد ایسے ناخلف پیدا ہوئے کہ انہوں نے نماز ضائع کردی اور نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑ گئے، سو ان کا نقصان ان کے آگے آئے گا۔ [مریم: 59]، اور اللہ کے نبی ﷺ حدیثِ رؤیا میں فرماتے ہیں: ”رات کو (خواب میں) میرے پاس دو آنے والے آئے، انھوں نے مجھے جگایا، اور ان دونوں نے مجھ سے کہا : چلیے۔ میں ان کے ساتھ چل پڑا۔ چلتے چلتے ہمارا گزر ایک ایسے شخص کے پاس سے ہوا جو لیٹا ہوا ہے اور اس کے ساتھ ہی ایک دوسرا آدمی اس کے اوپر پتھر لیے کھڑا ہے۔ وہ پتھر اس کے سر پر مارتا ہے اور اس کے سر کو پاش پاش کر دیتا ہے - یعنی اسے پھاڑ دیتا ہے - تو وہ پتھر کے پیچھے جا کر اسے پکڑ لاتا ہے۔ اس کے دوبارہ واپس آنے تک اس کا سر پہلے کی طرح صحیح ہو جاتا ہے۔ وہ پھر اس کی طرف لوٹتا ہے اور وہی کچھ کرتا ہے جو اس نے پہلی مرتبہ کیا تھا۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے ان دونوں سے پوچھا : سبحان اللہ! یہ کیا ماجرا ہے؟...“ چنانچہ حدیث کے آخر میں ان دونوں نے رسول اللہ ﷺ کو آپ کے دیکھے ہوئے مناظر کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا: ”وہ پہلا آدمی جس کے پاس سے آپ گزرے اور اس کا سر پتھر سے کچلا جا رہا تھا، یہ وہ شخص ہے جو قرآن حاصل کرے اور پھر اسے چھوڑ دے (یعنی حفظ کر کے بھول جائے، یا قرآن کا علم حاصل کر کے بے عمل ہو جائے) اور فرض نماز چھوڑ کر سویا رہے۔“ [صحیح بخاری: 7047]۔
اے اللہ کے بندے.. اے اللہ کے بندے.. اے اللہ کے بندے!
تمھاری نماز تمھارے لیے کیسے معمولی ہو سکتی ہے جبکہ یہ تمھارا اصل سرمایہ ہے، اور اسی سے تمھارا ایمان درست ہوتا ہے؟ تمھاری نماز تمھارے لیے کیسے معمولی ہو سکتی ہے جبکہ تم اللہ عزیز وبرتر کے اس فرمان میں سخت وعید پڑھتے ہو: ان نمازیوں کے لئے افسوس (اور ویل نامی جہنم کی جگہ) ہے۔ جو اپنی نماز سے غافل ہیں۔ [الماعون: 4- 5] آپ منافقین کی کوئی صفت کیسے اپنا سکتے ہیں، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بے شک منافق اللہ سے چالبازیاں کر رہے ہیں اور وه انہیں اس چالبازی کا بدلہ دینے واﻻ ہے، اور جب نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو بڑی کاہلی کی حالت میں کھڑے ہوتے ہیں صرف لوگوں کو دکھاتے ہیں، اور یاد الٰہی تو یوں ہی سی برائے نام کرتے ہیں۔ [النساء: 142]۔
اے مسلمانو!
نماز ایک عظیم عبادت ہے جو کسی بھی حال میں بندہ مکلف سے ساقط نہیں ہوتی، چاہے خوف اور جنگ کی حالت ہو، یا مرض اور نقاہت کی حالت ہو، البتہ وہ خواتین اس سے مستثنی ہیں جو حیض یا نفاس کی حالت میں ہوں؛ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: نمازوں کی حفاظت کرو، بالخصوص درمیان والی نماز کی اور اللہ تعالیٰ کے لئے با ادب کھڑے رہا کرو۔ اگر تمہیں خوف ہو تو پیدل ہی سہی یا سوار ہی سہی، ہاں جب امن ہوجائے تو اللہ کا ذکر کرو جس طرح کہ اس نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی جسے تم نہیں جانتے تھے۔ [البقرة: 238- 239]۔
چنانچہ اے اللہ کے بندو!
نماز کو اس کے وقت پر ادا کرو، اس کے لیے اچھی طرح وضو کرو، اور اس کے قیام، رکوع، سجدے اور خشوع وخضوع کو مکمل کرو، تاکہ تم اس کا ثمرہ، برکت، اس کی قوت اور راحت حاصل کر سکو۔
اے مسلمانو!
اس بات کے صحیح، صریح، واضح، روشن، کثیر اور باہم تائید کرنے والے شرعی دلائل موجود ہیں کہ حضر اور سفر میں مردوں پر باجماعت نماز واجب ہے۔ اللہ جل وعلا نے فرمایا ہے: اور نماز کو قائم کرو اور زکوٰة دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔ [البقرۃ : 43]۔ آیت میں وارد ”مع“ جمعیت اور معیت کا تقاضا کرتا ہے، اور اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی اور رسول محمد ﷺ سے میدانِ جنگ اور شدید لڑائی کے عالم میں ارشاد فرماتا ہے: جب تم ان میں ہو اور ان کے لئے نماز کھڑی کرو تو چاہئے کہ ان کی ایک جماعت تمہارے ساتھ اپنے ہتھیار لئے کھڑی ہو، پھر جب یہ سجده کر چکیں تو یہ ہٹ کر تمہارے پیچھے آجائیں اور وه دوسری جماعت جس نے نماز نہیں پڑھی وه آجائے اور تیرے ساتھ نماز ادا کرے... [النساء: 102]۔
اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ کل وہ اللہ سے مسلم ہو کر ملے، تو اس کو چاہیے کہ وہ ان نمازوں کی اس جگہ پابندی کرے جہاں ان کے لیے اذان دی جائے، کیوں کہ اللہ تعالی نے تمہارے نبی کے لیے ہدایت کے طریقے مشروع فرمائے ہیں اور یہ نمازیں بھی ہدایت کے طریقوں میں سے ہیں۔ اگر تم اپنے گھروں میں نمازیں پڑھو گے، جس طرح یہ پیچھے رہنے والا اپنے گھر میں نماز پڑھتا ہے تو تم اپنے نبی کی سنت چھوڑ دو گے، اور اگر تم نے اپنے نبی کی سنت چھوڑ دی تو گمراہ ہو جاؤ گے۔ میں نے تو اپنے لوگوں کا یہ حال دیکھا ہے کہ نماز سے وہی پیچھے رہتا جو کھلم کھلا منافق ہوتا، اور بیمار آدمی کو دو آدمیوں کے سہارے سے لایا جاتا یہاں تک کہ اسے صف میں کھڑا کر دیا جاتا تھا۔“ [صحیح مسلم: 257]۔
اے اسلام کے نوجوانو... اے قوت اور جواں مردی والو!
یہ ابنِ اُمّ مکتوم رضی اللہ عنہ و ارضاہ ہیں‘ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں اور عرض کرتے ہیں: اے اللہ کے رسول! میری عمر زیادہ ہو گئی ہے، میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں، میری بینائی جا چکی ہے، اور میرا ایک راہنما ہے جسے لے کر ساتھ چلنا میرے لیے زیبا نہیں؛ تو کیا آپ میرے لیے ایسی رخصت پاتے ہیں کہ میں اپنی نمازیں گھر میں پڑھ لیا کروں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم اس گھر میں جس میں تم ہو، مؤذن کی آواز سنتے ہو؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”میں تمہارے لیے کوئی رخصت نہیں پاتا۔“ [طبرانی نے "الکبیر" (7886) میں اسے روایت کیا ہے اور البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے]، اگر نمازِ جماعت سے پیچھے رہنے والا شخص یہ جان لے کہ اس کی طرف چل کر جانے والے کے لیے کیا (اجر وثواب) ہے، تو وہ ضرور اس میں حاضر ہوگا، خواہ اسے اپنے ہاتھوں اور پیروں کے بل گھسٹ کر ہی کیوں نہ آنا پڑے۔
رسول اللہ ﷺ مسلمانوں کی جماعت سے پیچھے رہ جانے والوں پر سخت غضب ناک ہوئے، چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے ارادہ کر لیا تھا کہ نماز کا حکم دوں، جب وہ کھڑی ہو جائے تو کسی شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، پھر کچھ لوگوں کو ساتھ لے کر، جو لکڑی کے گٹھر لیے ہوئے ہوں، ایسے لوگوں کے یہاں جاؤں، جو نماز کے لیے نہيں آتے اور ان کو ان کے گھروں کے ساتھ جلا ڈالوں۔“ ّْْ[متفق علیہ]۔ اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ابن آدم کے کان پگھلے ہوئے سیسے سے بھر جائیں، یہ اس کے لیے اس بات سے بہتر ہے کہ وہ اذان کی پکار سنے اور اس کا جواب نہ دے۔“
اے اللہ کے گھروں میں حاضر ہوکر جماعت کے ساتھ نماز نہ پڑھنے اور اپنے گھر میں بیٹھے رہنے والے!
نبی ﷺ کا ارشاد گرامی غور سے سنیں: ”جس نے اذان سنی اور (باجماعت) نماز کے لئے نہیں آیا تو اس کی نماز نہیں، سوائے اس کے کہ کوئی عذر لاحق ہو۔“ [اس حدیث کو ابن ماجہ (793) نے روایت کیا ہے اور البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔]
یہ مصیبت مزید بڑی اور گناہ اس وقت اور بھی سنگین ہو جاتا ہے جب نماز باجماعت سے پیچھے رہ جانے والا کوئی ایسا شخص ہو جس کے عمل کی اقتدا اور پیروی کی جاتی ہو، یہ بات اس وقت زیادہ نقصان دہ اور انتہائی خطرناک ہو جاتی ہے جب پیچھے رہ جانے والا شخص علم اور اہل علم کی طرف منسوب ہو۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے : ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ نماز سے پیچھے رہ جاتے ہیں، پھر ان کے پیچھے رہ جانے کی وجہ سے دوسرے بھی پیچھے رہ جاتے ہیں۔ یا تو وہ لازماً نماز میں حاضر ہوں، یا میں ان پر ضرور ایسے لوگوں کو مسلط کر دوں گا جو ان کی گردنیں مار دیں گے۔“
اے مسلمانو!
یہ وہ دلائل اور نصوص ہیں جن کے گوشے گوشے سے حق پوری طرح نمایاں ہے، اور جن کے بیان میں ہدایت ورہنمائی آشکار ہے۔ بلاشبہ رسولوں نے پوری وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا ہے، اگرچہ بہت سے دل بہرے پن کے شکار ہیں، اور تمام راستے واضح ہوچکے ہیں، اگرچہ گناہوں کی کدورت (حق کو قبل کرنے میں) حائل ہے۔
اے مسلمانو!
ہمارے اس زمانے میں مسجدوں میں باجماعت نماز سے پیچھے رہ جانے والوں کی کثرت ہو گئی ہے۔ یہ طاقت ور اور توانا مرد حضرات ہیں جو صبح وشام اذان سنتے ہیں، لیکن نہ تو وہ اس کا جواب دیتے ہیں اور نہ ہی کوئی نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ ان کی زبانیں لغو گوئی میں اور ان کے دل غفلت میں مگن ہیں۔ ان کی کمائیوں نے ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا ہے اور دنیاوی زندگی میں ان کی تمام تر تگ ودو رائیگاں چلی گئی ہے۔ وہ اپنی گمراہی میں منہمک ہو چکے ہیں، اپنی جہالت میں حد سے گزر چکے ہیں، زمانے کی بدبختیوں کا شکار ہو گئے ہیں اور انھوں نے خبیث ترین اور بدترین برائی کا لبادہ اوڑھ لیا ہے۔ وہ اپنے کار وبار کو بڑھانے اور اپنے لہو ولعب میں مشغول ہونے کے سبب نماز سے غافل ہو گئے ہیں۔ اگر انھیں مسجدوں میں نماز ادا کرنے پر کوئی دنیاوی مفاد حاصل ہوتا، چاہے وہ کتنا ہی حقیر اور ادنیٰ کیوں نہ ہوتا، تو آپ انھیں مسجدوں کی جانب دوڑتے ہوئے اور ان کی پکار پر سرِ تسلیم خم کرتے اور فرمانبرداری کے ساتھ حاضر ہوتے دیکھتے۔ رسولِ ہدیٰ ﷺ فرماتے ہیں: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کسی کو معلوم ہو جائے کہ اسے گوشت والی موٹی ہڈی یا دو عمدہ کُھر ملیں گے تو وہ عشاء میں ضرور حاضر ہوگا۔“ ّْْ[متفق علیہ]۔
اے مسلمانو!
بلاشبہ مسلمانوں، ان کے حکمرانوں، ان کے علماء، ان کے ائمہ اور ان میں موجود دانشمندوں پر یہ واجب ہے کہ وہ ان (نماز سے) پیچھے رہنے والوں کی خبر گیری کریں، انہیں باجماعت نماز پر سختی سے مجبور کریں اور انہیں پوری طرح اس کا پابند بنائیں۔ چنانچہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی - یا فرمایا: ہمارے لیے فجر کی نماز پڑھائی -، پھر آپ ﷺ نے دو مرتبہ فرمایا: ”کیا فلاں شخص موجود ہے؟“ ہم نے عرض کیا: جی ہاں، لیکن وہ نماز میں حاضر نہیں تھا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا فلاں شخص موجود ہے؟“ ہم نے عرض کیا: جی ہاں، لیکن وہ نماز میں حاضر نہیں تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”منافقوں پر سب سے بھاری عشا اور فجر کی نماز ہے اور اگر تمھیں ان نمازوں کے ثواب کا اندازہ ہو جاتا، تو تم گھٹنوں کے بل چل کر آتے؛“ [ابوداود: 554، البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے]۔
اے اللہ کے بندے!
اے وہ شخص جو مساجد میں سستی اور کاہلی کے ساتھ آتا ہے، اور اکتاہٹ کے عالم میں تھوڑا سا وقت گزارتا ہے: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ مساجد اللہ کے گھر اور اس جل جلالہ کے نزدیک محبوب ترین جگہیں ہیں، آپ ﷺ فرماتے ہیں: ”اللہ سات لوگوں کو اس دن اپنے (عرش کے) سایے میں جگہ دے گا، جس دن اس کے (عرش کے) سایہ کے سوا کوئی سایہ نہیں ہوگا“ آپ نے ان تینوں میں سے ایک کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ”اور ایسا شخص جس کا دل مسجد میں اٹکا ہوا ہو“۔ ّْْ[متفق علیہ]۔
اے وہ شخص جو کوتاہی کرتا اور سستی دکھاتا ہے، لاپرواہی برتتا اور ٹال مٹول کرتا ہے:
یقیناً آپ بہت سی بھلائیوں اور بہت بڑے اجر وثواب سے محروم رہ گئے؛ اللہ کے نبی ﷺ فرماتے ہيں: ”جو شخص صبح کے وقت یا شام کے وقت مسجد جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ضیافت تیار کرتا ہے جب بھی وہ صبح یا شام کے وقت مسجد جاتاہے“۔ ّْْ[متفق علیہ]۔ ”جس شخص نے اپنے گھر میں پاکی حاصل کی (یعنی وضو کیا)، پھر وہ اللہ تعالیٰ کے گھروں میں سے کسی گھر (یعنی مسجد) کی طرف چلا تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے فرائض میں سے کوئی فریضہ ادا کرے، تو اس کے قدموں کا یہ حال ہے کہ ایک سے ایک گناہ مٹ جاتا ہے اور دوسرے سے ایک درجہ بلند ہوتا ہے، یقیناً نماز میں سب سے زیادہ اجر اس شخص کا ہے جو سب سے زیادہ دور سے چل کر آئے، اور کچھ لوگ ہمیشہ پیچھے ہی رہتے ہیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ بھی انہیں پیچھے کر دیتا ہے۔“ [صحیح مسلم: 622] ہم نامرادی اور خسارے سے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں۔
میں شیطان مردود کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں: ان گھروں میں جن کے بلند کرنے، اور جن میں اپنے نام کی یاد کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے، وہاں صبح وشام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔ ایسے لوگ جنہیں تجارت اور خرید وفروخت اللہ کے ذکر سے اور نماز کے قائم کرنے اور زکوٰة ادا کرنے سے غافل نہیں کرتی؛ اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن بہت سے دل اور بہت سی آنکھیں الٹ پلٹ ہوجائیں گی۔ اس ارادے سے کہ اللہ انہیں ان کے اعمال کا بہترین بدلے دے، بلکہ اپنے فضل سے اور کچھ زیادتی عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے بےشمار روزیاں دیتا ہے۔ [النور: 36 - 38]۔
اللہ مجھے اور آپ کو قرآنِ عظیم کی برکت سے نوازے، مجھے اور آپ کو اس میں موجود آیات اور ذکرِ حکیم سے فائدہ پہنچائے۔
میں یہ بات کہتا ہوں جو آپ سن رہے ہیں، اور اپنے لیے، آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے ہر گناہ اور خطا سے اللہ کی مغفرت طلب کرتا ہوں، آپ بھی اس سے بخشش مانگیں، بے شک وہ بہت بڑا بخشنے والا اور نہایت مہربانی کرنے والا ہے۔
دوسرے خطبہ کا مقدمہ
اللہ کے احسان پر تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں، اس کی توفیق اور انعام پر اسی کا شکر ہے، اور اس کی شان کی عظمت بیان کرتے ہوئے میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور آقا محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، جو اس کی رضا کی طرف دعوت دینے والے ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل واصحاب اور آپ کے بھائیوں پر ڈھیروں درود وسلام نازل فرمائے۔
دوسرا خطبہ
اما بعد.. اے مسلمانو!
اللہ سے ڈرو اور اس کی نگرانی کو یاد رکھو، اس کی اطاعت کرو اور اس کی نافرمانی سے بچو: اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو۔ [التوبۃ: 119]۔
اے مسلمانو!
اپنی اولاد کے بارے میں اللہ سے ڈرو.. اپنی اولاد کے بارے میں اللہ سے ڈرو.. اپنی اولاد کے بارے میں اللہ سے ڈرو.. جو تمھاری آنکھوں کی ٹھنڈک، تمھاری نسل اور تمھارے ذِکر كو زندہ رکھنے کا سبب ہیں، بلاشبہ وہ تمھارے ذمہ امانت ہیں، انھیں نمازوں کی پابندی اور جمعہ وجماعت میں حاضری کا حکم دو، انھیں ترغیب دو اور ڈراؤ، حوصلہ افزا کلمات اور انعامات کے ذریعے ان کی حوصلہ افزائی کرو، آخرت کی محبت پر ان کی پرورش کرو اور خود کو ان کے لیے نیک نمونہ بناؤ۔ اپنے گھرانے کے لوگوں پر نماز کی تاکید رکھ اور خود بھی اس پر جما ره، ہم تجھ سے روزی نہیں مانگتے، بلکہ ہم خود تجھے روزی دیتے ہیں، آخر میں بول باﻻ پرہیزگاری ہی کا ہے۔ [طہ: 132]، اور رسولِ ہدیٰ ﷺ فرماتے ہیں: ”جب تمہارے بچے سات سال کے ہو جائیں تو انہیں نماز پڑھنے کا حکم دو اور جب وہ دس سال کے ہو جائیں تو نماز میں غفلت پر انہیں مارو“ [سنن اابی داود: 495، مسند احمد: 6756، البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے] ان غافل کرنے والی اور پرکشش چیزوں سے ہوشیار رہو جو انھیں اللہ کے ذکر اور نماز سے روک دیتی ہیں، اور اللہ سے گڑگڑا کر دعا کرو کہ وہ تمھاری اور تمام مسلمانوں کی اولاد کی اصلاح فرمائے۔
اللہ کے بندو!
بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک ایسے کام کا حکم دیا ہے جس کی ابتدا اس نے اپنی ذات سے کی، اور پھر اپنی تسبیح وپاکی بیان کرنے والے فرشتوں کو اس میں شامل کیا، چنانچہ اس نے یہ معزز فرمان ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو۔ [الاحزاب: 56]۔
اے اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ﷺ پر درود وسلام نازل فرما۔
***
خطبہ کا عنوان
جنازے کے احکام
پہلے خطبہ کا مقدمہ
ساری تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پالنہار ہے، جس نے بنی نوع انسان پر موت کا فیصلہ کیا: زمین پر جو ہیں سب فنا ہونے والے ہیں۔ صرف تیرے رب کی ذات جو عظمت اور عزت والی ہے، باقی ره جائے گی۔ [الرحمن: 26-27]۔
مرنے کے بعد انہیں دوبارہ اٹھائے جانے تک اور حشر کے دن تک قبروں میں رکھ دیا جاتا ہے، میں ہر حال میں اسی کی حمد بیان کرتا ہوں۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، جو بہت بڑا اور بلند وبالا ہے، میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، جنہیں اس نے ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ، اور کفر وگمراہی کو مٹانے کے لیے بھیجا، اللہ آپ پر، آپ کی آل پر اور آپ کے صحابہ پر جو بہترین اصحاب اور آل ہیں، اپنی بہت زیادہ رحمتیں اور سلامتی نازل فرمائے۔
پہلا خطبہ
امابعد!
اے لوگو: اللہ تعالیٰ سے ڈرو، موت کو اور اس کی قربت کو یاد کرو، نیک اعمال کے ذریعہ اور گناہوں اور برائیوں سے توبہ کر کے اس کے لیے تیاری کرو، کیونکہ موت کو بھول جانا دل کو سخت کر دیتا ہے اور دنیا کی رغبت پیدا کرتا ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم لذتوں کو ختم کرنے والی چیز کو کثرت سے یاد کرو۔“ یعنی موت [سنن ترمذی: 2307، اور امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن غریب ہے]، ایک روایت میں یہ اضافہ ہے: ”کیوں کہ کوئی شخص اسے تنگی کے عالم میں یاد نہیں کرتا مگر یہ اس تنگی کو اس کے لیے کشادہ کر دیتی ہے، اور نہ ہی اسے خوش حالی کے عالم میں یاد کرتا ہے مگر یہ اس خوش حالی کو اس پر تنگ کر دیتی ہے۔“ [ابن حبان : 2993]۔
اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے میرا کندھا پکڑا اور فرمایا: ”تم دنیا میں ایسے رہو گویا تم ایک پردیسی یا راہ گیر ہو۔“ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے: ”جب تم شام کرو تو صبح کا انتظار مت کرو، اور جب صبح کرو تو شام کا انتظار مت کرو۔ اپنی صحت میں اپنی بیماری کے لیے اور اپنی زندگی میں اپنی موت کے لیے کچھ (عمل) کرلو۔“ [صحیح بخاری: 6416]۔
اور عبد اللہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جنت تمہارے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ تم سے قریب ہے اور اسی طرح دوزخ بھی۔“ [صحیح بخاری: 6488]۔
اللہ کے بندو! بلاشبہ موت کی یاد دنیا سے بے رغبت کرتی ہے، نیک اعمال، گناہوں سے توبہ، بندوں کے مظالم سے چھٹکارا پانے اور لوگوں کو ان کے حقوق ادا کرنے پر ابھارتی ہے۔ چوں کہ موت اس دنیا میں انسان کی زندگی کا خاتمہ ہے، اور اللہ تعالیٰ نے مُردوں کے لیے ایسے احکام مقرر فرمائے ہیں جن کا جاننا اور مسلمان مُردوں پر انہیں نافذ کرنا واجب ہے، جنہیں احکامِ جنائز کہا جاتا ہے؛ اس لیے ہم پر ان کا جاننا واجب ہے۔
امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "جنازوں کے حوالے سے نبی ﷺ کا طریقہ سب سے کامل طریقہ تھا، جو دیگر تمام امتوں کے طریقے کے برعکس تھا۔ یہ میت کے ساتھ احسان کرنے اور اس کے ساتھ ایسا معاملہ کرنے پر مشتمل تھا جو اسے اس کی قبر میں اور قیامت کے دن نفع دے، نیز اس میں میت کے اہل خانہ اور رشتہ داروں کے ساتھ بھلائی بھی ہے، اور میت کے حوالے سے کیے جانے والے معاملات میں زندہ شخص کی جانب سے صرف ایک اللہ کی بندگی قائم کرنے کا درس بھی ہے۔
جنازوں کے حوالے سے آپ ﷺ کا طریقہ مبارک یہ تھا: اللہ تبارک وتعالیٰ کی بندگی کو کامل ترین حالت میں بجا لانا، میت کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا اور اسے بہترین اور عمدہ ترین حالت میں اللہ کے حضور پیش کرنے کے لیے اس کی تجہیز و تکفین کرنا، آپ ﷺ اور آپ کے صحابہ کا صفیں باندھ کر کھڑے ہونا، اللہ کی حمد وثنا بیان کرنا، میت کے لیے استغفار کرنا، اس کے لیے مغفرت، رحمت اور درگزر کی دعاء کرنا، پھر جنازے کے آگے آگے چلنا یہاں تک کہ اسے اس کی قبر کے سپرد کر دیا جائے۔ پھر آپ ﷺ اور آپ کے صحابہ اس کی قبر پر کھڑے ہو کر اس کے لیے ثابت قدمی کی دعاء کرتے، جس کی اسے اس وقت سب سے زیادہ ضرورت ہوتی تھی، پھر آپ ﷺ اس کی قبر کی زیارت کرکے، اس پر سلام بھیج کر اور اس کے لیے دعاء کرکے اس کی اس طرح خبر گیری فرماتے، جیسے کوئی زندہ انسان دارِ دنیا میں اپنے ساتھی کی خبر گیری کرتا ہے۔
ان میں سب سے پہلی بات یہ ہے: اس کی بیماری میں اس کی دیکھ بھال کی جائے، اسے آخرت کی یاد دلائی جائے، اسے وصیت اور توبہ کرنے کا حکم دیا جائے، اور وہاں حاضر لوگوں کو حکم دیا جائے کہ وہ اسے شہادتِ "لا إله إلا الله" کی تلقین کریں، تاکہ یہی اس کا آخری کلام ہو..." [زاد المعاد : 1/ 479]۔
چنانچہ امام ابن قیم رحمہ اللہ نے ان پاکیزہ کلمات میں جنازے کے احکام کو اجمالی طور پر بیان کر دیا ہے، اور ہم حسبِ امکان ان احکام کی تفصیل بیان کریں گے۔
ان احکام میں پہلا حکم یہ ہے : موت کے وقت ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کی تلقین کرنا مستحب ہے، کیونکہ آپ ﷺ کا فرمان ہے: ”تم اپنے مرنے والوں کو لا الہ الا اللہ کی تلقین کرو۔“ [صحیح مسلم: 916]۔
یہ اس لیے تاکہ یہ اچھی بات اس کا آخری کلام ہو، اور اسی پر اس کا خاتمہ ہو، چنانچہ حدیث میں آیا ہے: ”جس کا آخری کلام لا الہ الا اللہ ہو گا ، وہ جنت میں داخل ہوگا۔“ [ابو داود: 3116]۔
اور اس لیے کہ شیطان حالتِ نزع میں انسان کے پاس آتا ہے تاکہ اس کا عقیدہ بگاڑ دے، چنانچہ جب اسے اس عظیم کلمہ کی تلقین کی جاتی ہے، اور وہ اسے زبان سے ادا کر لیتا ہے؛ تو یہ شیطان کو بھگا دیتا ہے اور اسے عقیدۂ توحید یاد دلاتا ہے۔
جنازے کے احکام میں سے یہ بھی ہے: جب کوئی وفات پا جائے تو اس کی تجہیز وتکفین میں جلدی کی جائے: یعنی اسے غسل دینے، کفنانے، اس کی نمازِ جنازہ پڑھنے، اور اسے قبر تک لے جانے میں جلدی کی جائے؛ کیونکہ نبی ﷺ کا ارشاد ہے: ”مسلمان کی میت کے لیے مناسب نہیں ہے کہ اسے اس کے گھر والوں کے درمیان روک کر رکھا جائے۔“ [ابو داود : 3159]۔
امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "آپ ﷺ کا یہ طریقہ تھا کہ میت کو اللہ کی طرف روانہ کرنے کی تیاری میں جلدی کی جائے، اسے پاک کیا جائے، اسے پاک صاف کیا جائے، اسے خوشبو لگائی جائے اور اسے سفید کپڑوں میں کفنایا جائے۔" [زاد المعاد: 1/ 481]۔
انھوں نے یہ بھی کہا: "آپ ﷺ میت کو تین، پانچ یا اس سے زیادہ مرتبہ غسل دینے کا حکم فرماتے تھے، جیسا کہ غسل دینے والا مناسب سمجھے، اور آخری غسل میں کافور (استعمال کرنے) کا حکم دیتے۔ آپ ﷺ میت کے سرپرست کو حکم فرماتے کہ وہ اسے اچھا کفن دے، اسے سفید کپڑوں میں کفنائے، اور کفن میں غلو کرنے سے منع فرماتے تھے۔" [زاد المعاد: 1/ 483]۔
مرد کو مرد ہی غسل دیں گے، اور عورت کو عورتیں ہی غسل دیں گی۔
البتہ مرد کے لیے اپنی بیوی کو غسل دینا جائز ہے۔
اور عورت بھی اپنے شوہر کو غسل دے سکتی ہے۔
جسے پانی نہ ملنے کی وجہ سے غسل دینا ممکن نہ ہو، یا اس کا جسم جلا ہوا یا کٹا پھٹا ہونے کی وجہ سے پانی برداشت نہ کر سکتا ہو؛ تو اسے مٹی سے تیمم کرایا جائے گا، اور اگر اس کے بعض حصے کو دھونا ممکن نہ ہو؛ تو جس حصے کو دھونا ممکن ہو اسے دھویا جائے گا، اور باقی کی طرف سے تیمم کرایا جائے گا۔
اگر مردہ پیدا ہونے والا بچہ چار مہینے کا ہو تو اسے غسل دیا جائے گا اور اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی؛ کیوں کہ نبی ﷺ کا فرمان ہے: ”ساقط (مردہ بچہ) کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی اور اس کے والدین کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا کی جائے گی۔“ [ابو داود: 3180]۔
جب میت کو غسل دے دیا جائے اور کفن پہنا دیا جائے تو اس کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے، اور اس کی نمازِ جنازہ باجماعت پڑھنا افضل ہے؛ کیونکہ نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کا یہی عمل ہے۔
امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "نماز جنازہ کا مقصد میت کے لیے دعا کرنا ہے۔" [زاد المعاد : 1/ 486]۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے متعلق فرماتے ہیں: ان میں سے کوئی مر جائے تو آپ اس کے جنازے کی ہرگز نماز نہ پڑھیں اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوں...۔ [التوبۃ: 84] "جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو منافقین کی نمازِ جنازہ پڑھنے سے منع فرمایا، تو اس سے ثابت ہوا کہ مومن کی تدفین سے پہلے اس کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی اور اس کے بعد اس کی قبر کے پاس کھڑا ہوا جائے گا۔" [مجموع الفتاوى: 24/ 330]۔
یہ آیت اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ مسلمانوں کی نمازِ جنازہ پڑھنا عظیم ترین نیکیوں اور بہترین عبادات میں سے ہے، اور شارع نے اس پر بہت بڑا ثواب مقرر کیا ہے، جیسا کہ الصحاح وغیرہ میں وارد ہے۔
مذکورہ آیت سے ثابت ہوا کہ میت کی نماز جنازہ پڑھنا مسلمانوں کے تئیں نبئ اکرم ﷺ کا معمول تھا، اور مسلمانوں کے نزدیک یہ ایک طے شدہ امر تھا۔
نمازیوں کی تعداد جتنی زیادہ ہو، اتنا ہی افضل ہے، کیوں کہ نبی ﷺ سے یہ ارشاد ثابت ہے: ”جس مسلمان میت پر مسلمانوں کا ایک گروہ نماز پڑھے جن کی تعداد سو تک پہنچتی ہو، سب میت کی بخشش کی سفارش کریں تو اس کے بارے میں ان کی سفارش قبول ہو گی۔“ [صحیح مسلم: 947]۔
اور جس شخص سے دفن سے پہلے میت کی نماز جنازہ فوت ہو جائے، تو وہ اس کی قبر پر نمازِ جنازہ پڑھے؛ کیونکہ صحیحین میں ہے کہ نبی ﷺ نے ایک قبر پر نماز پڑھی، وہ اس طرح کہ ایک سیاہ فام عورت مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے گم پایا تو اس کے بارے میں پوچھا۔ لوگوں نے بتلایا کہ وہ تو فوت ہو گئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے مجھے اس کی اطلاع کیوں نہیں دی؟“ گویا لوگوں نے اس (کی وفات) کے معاملے کو حقیر سمجھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اس کی قبر بتلاؤ!“ چنانچہ لوگوں نے آپ کو اس کی قبر بتلائی تو آپ نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھی۔“ [صحیح بخاری: 460، صحیح مسلم: 956]۔
پھر میت کی نمازِ جنازہ کے بعد اسے اس کی قبر تک لے جانے میں جلدی کرے۔
مسلمان کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی نماز جنازہ میں شریک ہو، سکون اور ادب ووقار کے ساتھ اس کی قبر تک اس کے جنازے کے ساتھ چلے، آواز بلند نہ کرے، نہ قراءت کے ذریعہ، نہ ذکر واذکار کے ذریعہ، اور نہ ہی کسی اور چیز کے ذریعہ، چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو جنازہ میں موجود ہو اور نماز جنازہ ادا کرے تو اس کے لیے ایک قیراط اجر ہے اور نماز جنازہ میں حاضری کے ساتھ تدفین کے وقت بھی موجود ہو تو اس کے لیے دو قیراط اجر ہے۔“ پوچھا گیا کہ دو قیراط کیا ہیں؟ فرمایا: ”دو بہت بڑے پہاڑوں کے برابر (اجر)۔“ [صحیح بخاری: 1325، صحیح مسلم: 945]۔
سنت یہ ہے کہ قبر کو وسیع اور گہرا کیا جائے، میت کو اس میں قبلہ رخ داہنے پہلو پر لٹایا جائے، اور اس پر لحد مضبوطی سے بند کر دی جائے، پھر اس پر مٹی ڈالی جائے۔
قبر زمین سے ایک بالشت کے برابر اونچی کی جائے، اور اسے کوہان نما بنایا جائے، تاکہ وہ نظر آئے اور پہچانی جائے کہ یہ قبر ہے، تاکہ اسے روندا نہ جائے، اور اس پر کوئی علامت مقرر کرنے میں کوئی حرج نہیں، بایں طور کہ اس پر کوئی پتھر وغیرہ رکھ دیا جائے، تاکہ جو شخص سلام اور دعا کرنے کی غرض سے اس کی زیارت کرنا چاہے، وہ اسے پہچان لے۔
قبر پر لکھنا جائز نہیں ہے، نہ میت کا نام اور نہ اس کے علاوہ کچھ اور۔
اسے پختہ کرنا اور اس پر عمارت بنانا جائز نہیں ہے۔
قبرستانوں کو برقی قندیلوں یا کسی اور چیز سے روشن کرنا جائز نہیں ہے؛ کیوں کہ جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے قبر کو پختہ بنانے، اس پر بیٹھنے اور اس پر عمارت تعمیر کرنے سے منع فرمایا ہے۔“ [صحیح مسلم : 970]۔
امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "رسول اللہ ﷺ کے طریقے میں نہ تو قبروں کو اونچا کرنا شامل تھا، اور نہ ہی انہیں پکی اینٹوں، پتھروں یا کچی اینٹوں سے بنانا، نہ ان پر عمارت تعمیر کرنا، نہ ان پر مٹی کا لیپ کرنا، اور نہ ہی ان پر گنبد تعمیر کرنا۔ یہ ساری مکروہ بدعتیں ہیں جو آپ ﷺ کے طریقے کے خلاف ہیں۔ آپ ﷺ نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تھا کہ وہ کوئی بھی مجسمہ نہ چھوڑیں مگر اسے مٹا دیں، اور نہ کوئی اونچی قبر چھوڑیں مگر اسے برابر کر دیں۔" [صحیح مسلم : 969]۔
چنانچہ آپ ﷺ کی سنت ہے کہ تمام اونچی قبروں کو برابر کر دیا جائے، آپ ﷺ نے قبر کو پختہ بنانے، اس پر تعمیر کرنے اور اس پر لکھنے سے منع فرمایا ہے۔ آپ ﷺ کے صحابہ کرام کی قبریں نہ زیادہ اونچی تھیں اور نہ بالکل زمین کے برابر (یعنی: نہ ایک بالشت سے زیادہ اٹھی ہوئی تھیں اور نہ زمین کے ساتھ ملی ہوئی تھیں)، آپ ﷺ کی قبر شریف اور آپ کے دونوں ساتھیوں کی قبریں بھی اسی طرح تھیں۔
چنانچہ آپ ﷺ کی قبر کوہان نما ہے، جس پر سرخ میدان کی کنکریاں بچھائی گئی ہیں (یعنی: اس پر بطحاء ڈالی گئی ہے جو کہ چھوٹے چھوٹے پتھر ہوتے ہیں)، نہ تو وہ پختہ بنائی گئی ہے اور نہ اس پر مٹی کا لیپ کیا گیا ہے، اسی طرح آپ ﷺ کے دونوں ساتھیوں کی قبریں بھی تھیں۔
نیز آپ ﷺ جس شخص کی قبر کو پہچاننا چاہتے، اس کی قبر پر ایک پتھر سے نشان لگا دیتے تھے۔
نبی ﷺ نے قبروں کو سجدہ گاہ بنانے اور ان پر چراغ جلانے سے منع فرمایا، اس بارے میں آپ ﷺ نے اس قدر سختی سے ممانعت فرمائی ہے کہ اس فعل کو انجام دینے والے پر لعنت بھی بھیجی ہے۔ آپ ﷺ نے قبروں کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھنے سے منع فرمایا، اپنی امت کو اس بات سے منع فرمایا کہ وہ آپ ﷺ کی قبر کو میلہ گاہ بنا لیں، اور قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی۔
آپ ﷺ کا طریقہ یہ تھا کہ قبروں کی اہانت نہ کی جائے اور نہ انہیں روندا جائے، نہ ان پر بیٹھا جائے اور نہ ان سے ٹیک لگائی جائے، اور نہ ہی ان کی اس قدر تعظیم کی جائے کہ انہیں مسجد بنا لیا جائے اور ان کے پاس یا ان کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی جائے، یا انہیں میلہ گاہ اور بت بنا لیا جائے۔
آپ ﷺ جب اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کی قبروں کی زیارت کرتے، تو اس زیارت کا مقصد ان کے حق میں دعا کرنا، ان کے لیے رحمت طلب کرنا اور ان کے لیے استغفار کرنا ہوتا تھا۔
یہی وہ زیارت ہے جو آپ ﷺ نے اپنی امت کے لیے مسنون فرمائی، ان کے لیے مشروع کی، اور انہیں حکم دیا کہ جب وہ قبروں کی زیارت کریں تو یہ کلمات کہیں: ”اے اس دیار کے رہنے والے مومنو اور مسلمانو! تم پر سلام ہو اور ہم بھی ان شاء اللہ تم سے ملنے والے ہیں۔ ہم اپنے لیے اور تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرتے ہیں۔“ [صحیح مسلم : 975]۔
آپ ﷺ کا طریقہ یہ تھا کہ قبروں کی زیارت کے وقت آپ ﷺ وہی کچھ فرماتے اور کرتے تھے، جو آپ ﷺ میت کی نمازِ جنازہ کے وقت فرماتے تھے، یعنی دعائے رحمت اور استغفار۔
البتہ مشرکوں نے انکار کیا اور محض میت کو پکارنے، اس کے ساتھ شرک کرنے، اس کے واسطے سے اللہ پر قسم کھانے، ضرورت کی چیزیں مانگنے، اس سے مدد طلب کرنے اور اسی کی طرف متوجہ ہونے کو اختیار کیا۔
یہ آپ ﷺ کے طریقے کے خلاف ہے، کیونکہ آپ کا طریقہ توحید کا اور میت کے ساتھ احسان کا طریقہ ہے، جبکہ ان لوگوں کا طریقہ شرک نیز اپنے ساتھ اور میت کے ساتھ بد سلوکی پر مبنی ہے۔
ان مشرکوں کی تین قسمیں ہیں: یا تو وہ میت کو پکارے، یا اس کے وسیلے سے دعا کرے، یا اس کے پاس دعا کرے، وہ اس کے پاس دعا کرنے کو مساجد میں دعا کرنے سے زیادہ واجب اور اولیٰ سمجھتے ہیں۔
[زاد المعاد: 1/ 504- 507]۔
اے مسلمانو! نئی ایجاد کردہ بدعتوں میں سے جنازوں یا قبروں کے پاس سورۃ الفاتحۃ یا قرآن کریم کے کسی حصے کی تلاوت کرنا بھی ہے۔
وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ اس سے میت کو فائدہ پہنچتا ہے، حالانکہ یہ بدعت ہے؛ اس لئے کہ یہ رسول ﷺ کی سنت میں سے نہیں ہے۔
کافروں اور ان کی تقلید کرنے والے جاہل مسلمانوں کی عادتوں میں سے ہے کہ وہ قبروں پر پھولوں کے ہار ڈالتے ہیں۔
آج کل کفار اور ان کی تقلید کرنے والے جاہل مسلمانوں کی رسومات میں یہ بھی شامل ہے: مُردوں پر سوگ کا اعلان کرنا، سیاہ لباس پہننا، پرچموں کو سرنگوں کرنا، اس غرض سے سرکاری امور کو معطل کرنا، میت کی روح کے لئے چند منٹ خاموشی سے کھڑے رہنا، اور زمانہ جاہلیت کی اس جیسی دیگر باطل رسومات۔
لہٰذا مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کی تقلید اور ان کی مشابہت اختیار کرنے سے اجتناب کریں۔
اے مسلمانو! بے شک میت کو اس کی موت کے بعد جس چیز سے نفع پہنچتا ہے، وہ وہی ہے جسے رسول اللہ ﷺ نے مشروع فرمایا ہے؛ یعنی اس کے قرض چکانے میں جلدی کرنا، کیوں کہ مسلمان اپنے قرض کے عوض گروی ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کی طرف سے اسے چکا دیا جائے، نیز اس کی شرعی وصیتوں کو پورا کرنا، اس کے لیے دعا کرنا، اس کی طرف سے صدقہ کرنا، اور اس کی طرف سے حج اور عمرہ کرنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے، سوائے تین اعمال کے: صدقۂ جاریہ، ایسا علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے، اور نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔“ [صحیح مسلم: 1631]۔
یہ بات بھی جان لینا ضروری ہے کہ عورتوں کے لیے جنازوں کے ساتھ جانا اور قبروں کی زیارت کرنا حرام ہے؛ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے، وہ فرماتی ہیں: ”ہمیں جنازوں کے ساتھ جانے سے منع کیا گیا، تاہم اس سلسلے میں سختی نہیں کی گئی۔“ [صحیح بخاری: 1278، صحیح مسلم: 938]۔
اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: ”رسول اللہ ﷺ نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی۔“ [اس حدیث کو امام ترمذی (320) نے روایت کیا ہے اور اسے حسن قرار دیا ہے۔]۔
اس لیے عورت قبروں کی زیارت نہ کرے، نہ نبی ﷺ کی قبر کی اور نہ ہی کسی اور کی قبر کی، قبروں کی زیارت صرف مَردوں کے لیے خاص ہے۔
اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو، اور موت کو نہ بھولو، ورنہ تم عمل سے غافل ہو جاؤ گے۔
میں شیطان مردود کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں: اے مسلمانو! تمہارے مال اور تمہاری اوﻻد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کر دیں ۔ اور جو ایسا کریں وه بڑے ہی زیاں کار لوگ ہیں۔ اور جو کچھ ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے (ہماری راه میں) اس سے پہلے خرچ کرو کہ تم میں سے کسی کو موت آ جائے تو کہنے لگے اے میرے پروردگار! مجھے تو تھوڑی دیر کی مہلت کیوں نہیں دیتا؟ کہ میں صدقہ کروں اور نیک لوگوں میں سے ہو جاؤں۔ اور جب کسی کا مقرره وقت آجاتا ہے پھر اسے اللہ تعالیٰ ہر گز مہلت نہیں دیتا اور جو کچھ تم کرتے ہو اس سے اللہ تعالیٰ بخوبی باخبر ہے۔ [المنافقون: 9-11]۔
اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو قرآن عظیم کی برکت سے نوازے۔
دوسرے خطبہ کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے: ... موت اور حیات کو اس لیے پیدا کیا کہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے کام کون کرتا ہے...۔ [الملک: 2]۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اس نے مخلوق کو پیدا کیا اور انہیں رزق دیا، اور انہیں یوں ہی بے مقصد نہیں چھوڑا، بلکہ ان پر کتابیں نازل فرمائیں اور ان کی طرف رسول بھیجے، میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ آپ پر، آپ کی آل پر اور آپ کے ان صحابہ پر اپنی رحمتیں اور بہت زیادہ سلامتی نازل فرمائے جنہوں نے آپ کی سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھا اور اس کے بدلے کسی اور چیز پر راضی نہ ہوئے۔
دوسرا خطبہ
امابعد!
اے لوگو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو، اور جان لو کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مصیبتوں کے وقت صبر کرنے کو مشروع قرار دیا ہے، صبر کرنے والوں سے بے پناہ ثواب کا وعدہ کیا ہے، ناراض ہونے اور بے صبری کرنے سے منع فرمایا ہے، اور اس پر دردناک سزا کی وعید سنائی ہے۔ چنانچہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ان قوموں کی عادتوں سے منع فرمایا ہے جو مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر ایمان نہیں رکھتیں؛ یعنی رخسار پیٹنے، گریبان پھاڑنے، سر منڈوانے، نوحہ وماتم کرتے ہوئے آواز بلند کرنے اور اس طرح کے دیگر کام کرنے سے منع فرمایا ہے۔
البتہ بغیر آواز کے رونے اور دل سے غمگین ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: ”آنکھوں سے آنسو جاری ہیں اور دل غم سے نڈھال ہے پر زبان سے ہم وہی کہیں گے جو پروردگار کو پسند ہے۔“ [صحیح بخاری : 1303، صحیح مسلم : 2315]۔
جس کے گھر میں کسی کی وفات ہوجائے، اس کی تعزیت کرنا اور اسے صبر کرنے اور اجر وثواب کی امید رکھنے کی تلقین کرنا مستحب ہے۔
تعزیت کے الفاظ یہ ہیں: ”اللہ تعالی تمھارا اجر بڑھائے، تمھیں اچھے طریقے سے تسلی دے اور تمھارے فوت شدہ کى مغفرت فرمادے۔“
تعزیت کے لیے نہ مجلس سجانا مناسب ہے اور نہ ہی تعزیت کے لیے بیٹھنے کی جگہ کا اعلان کرنا۔
امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "میت کے گھر والوں سے تعزیت کرنا آپ ﷺ کا طریقہ تھا، ليكن تعزیت کے لیے جمع ہونا اور میت کے لیے قرآن خوانی کرنا آپ ﷺ کا طریقہ نہیں تھا، نہ اس کی قبر کے پاس اور نہ کسی اور جگہ، بلکہ یہ سب ایجاد کردہ مکروہ بدعت ہے۔
آپ ﷺ کا طریقہ یہ تھا: پر سکون رہنا، اللہ کے فیصلے پر راضی رہنا، اللہ کی حمد بیان کرنا اور انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھنا۔
آپ ﷺ اس شخص سے بری ہیں جس نے مصیبت کی وجہ سے اپنے کپڑے پھاڑے، یا بلند آواز سے نوحہ وماتم کیا، یا اس کی وجہ سے اپنے بال منڈوا لیے۔
آپ ﷺ کا طریقہ یہ تھا کہ میت کے اہلِ خانہ کو لوگوں کے لیے کھانے کا مکلف نہ بنایا جائے، بلکہ آپ ﷺ نے حکم دیا کہ لوگ ان کے لیے کھانا بنائیں اور ان کے پاس بھیجیں، یہ اعلیٰ ترین مکارمِ اخلاق، بہترین خصلتوں، اور میت کے اہلِ خانہ کا بوجھ ہلکا کرنے کے مظاہر ہیں، کیونکہ وہ اپنی مصیبت میں مشغول ہونے کے باعث لوگوں کو کھانا کھلانے سے قاصر ہوتے ہیں۔
نبی ﷺ کا طریقہ یہ تھا کہ میت کی وفات کے اعلانِ عام نہ کیا جائے، بلکہ آپ ﷺ اس سے منع فرمایا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ جاہلیت کا عمل ہے۔
حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس بات کو مکروہ سمجھا کہ جب ان کی موت واقع ہو تو ان کے گھر والے لوگوں کو خبر دیں، اور فرمایا: ’’مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں یہ نَعْی (موت کی خبر کے اعلان) میں شمار نہ ہو۔‘‘ [اسے ترمذی: 986 نے روایت کیا اور حسن قرار دیا] [زاد المعاد: 1/ 508]۔
چنانچہ یہ وہی کام ہے جس سے ابنِ قیم نے خبردار کیا اور جسے آج بہت سے لوگ کرتے ہیں، وہ تعزیت کے مقصد سے جمع ہوتے ہیں، اور اخبارات میں تعزیت کی جگہ کا اعلان کرتے ہیں۔
بعض لوگ تعزیت کے لیے لوگوں کے جمع ہونے کے لیے مجلس سجاتے ہیں، کھانا تیار کرتے ہیں، اور قاریوں کو اجرت پر بلاتے ہیں۔
چنانچہ جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ”میت کو دفن کرنے کے بعد اہل میت کے گھر جمع ہونے اور (ان کا ہمارے لیے) کھانا تیار کرنے کو ہم لوگ نوحہ شمار کرتے تھے۔“ [ابن ماجہ: 1612، بوصیری نے اسے صحیح قرار دیا ہے]۔
چنانچہ مصیبت زدہ شخص کے لیے تعزیت کی غرض سے کسی جگہ بیٹھنا مناسب نہیں ہے، بلکہ وہ مصیبت سے پہلے کے معمول کے مطابق اپنے کام کے لیے نکلے، اور جو شخص اسے راستے میں یا کسی بھی جگہ ملے، تو وہ اس سے مشروع طریقے سے تعزیت کرے۔
بیان کیا جاتا ہے کہ بعض علاقوں میں لوگ دور و نزدیک سے تعزیت کے مقصد سے آتے ہیں اور اپنے ساتھ بھیڑ بکریاں اور اناج کی بوریاں لاتے ہیں، جو اہل میت کے ہاں جمع کی جاتی ہیں۔ پھر ان بھیڑ بکریوں کو ذبح کیا جاتا ہے اور کھانا تیار کیا جاتا ہے، اور مقررہ دنوں تک لوگوں کو کھلایا جاتا ہے۔
یہ عمل بدعت اور منکر ہے، اسے کرنا جائز نہیں، بلکہ یہ اموال اور اوقات کو بغیر کسی فائدے کے صرف کرنا ہے۔
واجب یہ ہے کہ اس معاملے میں اور اس کے علاوہ دیگر معاملات میں رسول ﷺ کی سنت پر عمل کیا جائے۔
بے شک سب سے اچھی بات کتاب اللہ ہے، سب سے بہتر طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے، بدترین امور (دین کے نام پر ایجاد کردہ) نت نئی بدعتیں ہیں۔
***
خطبہ کا عنوان
زکاۃ کی ادائیگی
پہلے خطبہ کا مقدمہ
ساری تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے دینِ اسلام کے ذریعہ ہم پر احسان فرمایا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، جو حقیقی بادشاہ اور سب کچھ جاننے والا ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، جو تمام مخلوقات کے سردار ہیں، اے اللہ! محمد پر، آپ کی آل اور آپ کے معزز صحابہ پر درود وسلام اور برکتیں نازل فرما۔
پہلا خطبہ
اما بعد: اے مسلمانو! میں تمہیں اور اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں: اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سیدھی سیدھی (سچی) باتیں کیا کرو۔ تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے کام سنوار دے اور تمہارے گناه معاف فرما دے، اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرے گا اس نے بڑی مراد پالی۔ [الاحزاب: 70-71]۔
اے مسلمانو! یہ ایک عظیم فریضہ اور اسلام کا ایک رکن اور اس کی ایک عظیم بنیاد ہے، اس کے ذریعے مصیبتیں ٹلتی اور نعمتیں حاصل ہوتی ہیں، یہ ایمان کی سچائی کی دلیل ہے، اور بڑھوتری، برکت اور کمی نہ ہونے کا سبب ہے؛ اس سے مراد زکوٰۃ ہے جس کا ذکر نماز کے ساتھ آیا ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے: اور نمازیں قائم رکھو اور زکوٰة دیتے رہا کرو... اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔“ [بخاری ومسلم]۔
زکوۃ دنیا اور آخرت میں کامیابی کے اہم ترین اسباب میں سے ایک ہے؛ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: یقیناً ایمان والوں نے فلاح حاصل کرلی۔ جو اپنی نماز میں خشوع کرتے ہیں۔ جو لغویات سے منھ موڑ لیتے ہیں۔ جو زکوٰة ادا کرنے والے ہیں۔ [المؤمنون: 1-4]۔
زکوۃ جنت میں داخل ہونے کا ایک عظیم ترین سبب ہے، چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ سے روایت ہے: ایک دیہاتی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کيا کہ اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا عمل بتلائیے جسے اگر میں کرتا رہوں، تو جنت میں داخل ہو جاؤں۔ آپ ﷺنے فرمایا : ”اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، فرض نماز قائم کرو، فرض زکوٰة کی ادائيگی کرو اور رمضان کے روزے رکھو۔“ اس دیہاتی نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں اس پر کبھی نہ کوئی اضافہ کروں گا اور نہ ہی اس میں کوئی کمی کروں گا۔ جب وہ واپس جانے لگا تو نبی کريم ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص کو کوئی جنتی ديکھنا پسند ہو، وہ اس شخص کو دیکھ لے۔“ [متفق علیہ]۔
زکاۃ گناہوں اور نافرمانیوں سے پاک کرتی ہے، دنیا اور آخرت میں انسان کا تزکیہ کرتی ہے، نیز اس کے مال کی پاکیزگی اور اس میں بڑھوتری اور برکت کا سبب بنتی ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا: آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لیجئے، جس کے ذریعہ سے آپ ان کو پاک صاف کردیں اور ان کے لیے دعا کیجئے، بلاشبہ آپ کی دعا ان کے لیے موجب اطمینان ہے اور اللہ تعالیٰ خوب سنتا ہے خوب جانتا ہے۔ [التوبۃ : 103]۔
زکوٰۃ معاشروں کو اس فساد وبگاڑ اور جرائم سے محفوظ رکھنے کا سبب ہے جو غریبی اور حاجت مندی سے پیدا ہوتے ہیں، اس سے مسلم معاشرے کے افراد کے درمیان محبت، مودت اور الفت کی بنیادیں مضبوط ہوتی ہیں؛ جس کی مثال ایک ایسی عمارت کی سی ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔
اے مسلمانو! ہر وہ مال جس کی زکوٰۃ ادا نہ کی جائے، وہ جمع شدہ خزانہ (کنز) ہے؛ اس کی برکت چھین لی جاتی ہے، اس کی بھلائی اور اجر کو روک دیا جاتا ہے، اور وہ دنیا اور آخرت میں اپنے مالک کے لیے وبال ہوتا ہے؛ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: جس دن اس خزانے کو آتش دوزخ میں تپایا جائے گا پھر اس سے ان کی پیشانیاں اور پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی۔ (ان سے کہا جائے گا) یہ ہے جسے تم نے اپنے لئے خزانہ بنا کر رکھا تھا۔ پس اپنے خزانوں کا مزه چکھو۔ [التوبہ: 35]۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے مال سے نوازا ہے اور وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا ہے تو قیامت کے دن اس (مال) کو اس کے لیے ایک زہریلے سانپ کی شکل میں پیش کیا جائے گا جس کی آنکھ کے اوپر دو سیاہ نقطے ہوں گے، جو اس کے گلے میں طوق کی طرح ڈال دیا جائے گا، پھر وہ اس کی دونوں باچھیں (جبڑوں کو) پکڑ کر کہے گا: میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں“۔ پھر نبی ﷺ نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان پڑھا: ”جنھیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے کچھ دے رکھا ہے، وہ اس میں اپنی کنجوسی کو اپنے لیے بہتر خیال نہ کریں، بلکہ وہ ان کے لیے نہایت بدتر ہے۔ عنقریب قیامت والے دن وہ اپنی کنجوسی کی چیز کے طوق ڈالے جائیں گے۔ آسمانوں اور زمین کی میراث اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے اور جو کچھ تم کر رہے ہو، اس سے اللہ تعالیٰ آگاه ہے۔“ [صحیح بخاری: 1403]۔
اللہ کے نبی ﷺ فرماتے ہیں: ”دینار کا پجاری ہلاک ہو، درہم کا پجاری ہلاک ہو، مخملی چادر کا پجاری ہلاک ہو، نقشے دار ریشمی کپڑے کا پجاری ہلاک ہو، جسے دیا گیا تو خوش ہوا اور نہیں دیا گیا تو ناراض ہوا۔ ایسا آدمی ہلاک ونامراد ہو اور اگر اسے کانٹا لگے، تو کوئی نکالنے والا نہ ملے۔“ [صحیح بخاری: 2887]، اور حدیث میں یہ بھی آیا ہے: ”ہر صبح اور شام دو فرشتے پکارتے ہیں: اے اللہ! ہر خرچ کرنے والے کو اس کا بدلہ دے، اور ہر روک کر رکھنے والے کے مال کو ہلاک فرما۔“ [متفق علیہ]۔
اے اللہ کے بندو! ہم پر واجب ہے کہ ہم زکوۃ کے احکام، اس کی شرائط، اس کے مصارف، اس کے مستحقین اور اس کی ادائیگی کا طریقہ سیکھیں، اور یہ آسان ہے، الحمد للہ۔
چنانچہ زکوٰۃ ارکانِ اسلام میں سے تیسرا رکن ہے، اور یہ سونا اور چاندی میں واجب ہے، اور ان کے حکم میں وہ کاغذی کرنسیاں بھی شامل ہیں جنہیں لوگوں نے قیمت اور مالیت کا معیار بنا لیا ہے۔ اسی طرح زمین سے پیدا ہونے والے ہر اس غلے اور پھل میں بھی زکاۃ واجب ہے جسے ماپا اور ذخیرہ کیا جاتا ہو، نیز چوپایوں اور سامانِ تجارت میں بھی زکاۃ واجب ہے۔ سامانِ تجارت سے مراد ہر وہ چیز ہے جسے بیچنے اور نفع کمانے کے لیے تیار کیا گیا ہو، چاہے اس کی جو بھی قسم ہو، خواہ وہ جائیداد ہو جیسے زمینیں اور مکانات، یا شیئرز ہوں یا ان کے علاوہ کچھ اور۔جب اس سامانِ تجارت پر سال گزر جائے تو اس کی بازاری قیمت کا اندازہ لگایا جائے گا اور اس کا مالک اس کی مالیت میں سے چالیسواں حصہ بطورِ زکوٰۃ نکالے گا۔ البتہ جس شخص نے کوئی جائیداد کرائے پر دینے کے لیے تیار کی ہو نہ کہ فروخت اور تجارت کے لیے، تو اس جائیداد کے کرائے پر سال گزر جانے کے بعد زکوٰۃ واجب ہوگی۔
زکوٰۃ ان آٹھ مستحقین کو دی جاتی ہے جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان میں کبا ہے: صدقے صرف فقیروں کے لئے ہیں اور مسکینوں کے لئے اور ان کے وصول کرنے والوں کے لئے اور ان کے لئے جن کے دل پرچائے جاتے ہوں اور گردن چھڑانے میں اور قرض داروں کے لئے اور اللہ کی راه میں اور راہرو مسافروں کے لئے، فرض ہے اللہ کی طرف سے، اور اللہ علم وحکمت واﻻ ہے۔ [التوبۃ: 60]۔
اے اللہ! ہم تجھ سے نیکیاں کرنے، برائیاں چھوڑنے اور مساکین سے محبت کرنے کی توفیق طلب کرتے ہیں۔ اور (ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ) جب تو اپنے بندوں کو فتنے میں مبتلا کرنا چاہے، تو ہمیں فتنے ميں مبتلا کیے بغير موت دے دینا، اے رب العالمین۔
میں اپنی یہ بات کہتا ہوں، اور اللہ سے اپنے اور تمہارے لئے ہر گناہ کی مغفرت طلب کرتا ہوں؛ بے شک وہ بہت بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔
دوسرے خطبہ کا مقدمہ
اللہ کے احسان پر تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں، اس کی توفیق اور انعام پر اسی کا شکر ہے، اور میں اس کی شان کی عظمت بیان کرتے ہوئے گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، جو اس کی رضا کی طرف بلانے والے ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کے آل واصحاب اور آپ کے بھائیوں پر ڈھیروں درود وسلام نازل فرمائے۔
دوسرا خطبہ
اما بعد! اے مسلمانو! ہمیں چاہیے کہ ہم زکاۃ اور صدقات کے احکام، ان کے مصارف اور انہیں نکالنے کا طریقہ سیکھیں، اور صدقات اور زکاۃ حق داروں کو دے کر احسان اور سخاوت کی صفت سے متصف ہوں، اپنے اردگرد موجود رشتہ داروں، پڑوسیوں اور دیگر محتاجوں کی خبر گیری کریں، نیز ہم خود سے زکاۃ ادا کرنے کا اہتمام کریں اور یہی افضل ہے، یا پھر زکاۃ اور عطیات جمع کرنے کے مجاز اداروں کے ذریعے ادا کریں، اور لا پرواہی کرتے ہوئے غیر مستحقین، یا نامعلوم افراد یا مجہول اداروں کو زکاۃ دینے سے گریز کریں۔
اللہ کے بندو! ...اور نماز کی پابندی رکھو اور زکوٰة دیتے رہا کرو اور اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دو۔ اور جو نیکی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ تعالیٰ کے ہاں بہتر سے بہتر اور ثواب میں بہت زیاده پاؤ گے۔ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے رہو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے۔ [المزمل: 20]۔
اے اللہ کے بندو! اللہ بزرگ وبرتر کا ذکر کرو، وہ تمہیں یاد کرے گا، اس کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو، وہ تمہیں مزید عطا فرمائے گا، واقعی اللہ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے جانتا ہے۔
***
خطبہ کا عنوان
اسلام میں زکوۃ کا مقام ومرتبہ
پہلے خطبہ کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد چاہتے ہیں اور اسی سے بخشش طلب کرتے ہیں، اور ہم اپنے نفس اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا، اور جسے وہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل واصحاب پر، اور قیامت کے دن تک خیر وبھلائی کے ساتھ آپ کی پیروی کرنے والوں پر، درود نازل فرمائے۔
پہلا خطبہ
اما بعد:
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہئیے اور دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا۔ [آل عمران: 102]، اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سیدھی سیدھی (سچی) باتیں کیا کرو۔ تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے کام سنوار دے اور تمہارے گناه معاف فرما دے ، اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرے گا اس نے بڑی مراد پالی۔ [الاحزاب: 70 -71]۔
اے مسلمانو!
جان لیجیے! اللہ آپ پر رحم فرمائے کہ اللہ عز وجل نے مسلمان مالداروں کے اموال میں زکوٰۃ فرض کیا ہے؛ اور اس کے عظیم مقام ومرتبہ کے پیشِ نظر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ستائیس مرتبہ اسے نماز کے ساتھ ذکر فرمایا ہے، اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے تین مقامات پر اسے نماز سے الگ تنہا ذکر فرمایا ہے، یعنی کل تِیس مرتبہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابِ عزیز میں اس کا ذکر فرمایا ہے۔
اور اللہ تعالیٰ کی کتاب میں متعدد مقامات پر زکوٰۃ کو صدقہ اور صدقات کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے، جیسا کہ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے: آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لیجئے، جس کے ذریعہ سے آپ ان کو پاک صاف کردیں... [التوبۃ : 103]۔
نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ...صدقات صرف فقیروں اور مسکینوں کے لیے ہیں... [التوبۃ: 60]۔ زکاۃ اسلام کا تیسرا رکن اور اس کا ایک عظیم ستون ہے، جیسا کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور خانۂ کعبہ کا حج کرنا۔“ [متفق علیہ]۔
زکاۃ کی عظمتِ شان کے پیش نظر؛ نبی ﷺ کی احادیث میں اس کے احکام تفصیل کے ساتھ وارد ہوئے ہیں۔ چنانچہ صحیح احادیث میں زکاۃ کا اہتمام، اسے نکالنے کا حکم اور اس کی فرضیت کا بیان آیا ہے، نیز یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ کس قسم کے مال میں زکاۃ واجب ہے: جیسے چوپائے، زمین کی پیداوار، سونا، چاندی اور تجارت کے سامان۔ ان کے نصاب اور مقداروں کو واضح کیا گیا ہے، حدیث نے زکاۃ کے احکام کو واضح انداز میں بیان کردیا اور زکاۃ کے مستحق آٹھ قسم کے لوگوں کی تفصیل بھی بیان کردی۔ سنت میں زکاۃ کے متعلق ایک سو دس سے زائد احادیث وارد ہوئی ہیں۔
اس کی عظمت شان کی بنا پر اللہ تعالی نے بہت سی آیتوں میں اسے قائم کرنے والے لوگوں کی مدح سرائی فرمائی ہے: اس کتاب میں اسماعیل (علیہ السلام) کا واقعہ بھی بیان کر، وه بڑا ہی وعدے کا سچا تھا اور تھا بھی رسول اور نبی۔ وه اپنے گھر والوں کو برابر نماز اور زکوٰة کاحکم دیتا تھا، اور تھا بھی اپنے پروردگار کی بارگاه میں پسندیده اور مقبول۔ [مریم: 54-55]۔
ارشاد باری تعالی ہے: ایسے لوگ جنہیں تجارت اور خرید وفروخت اللہ کے ذکر سے اور نماز کے قائم کرنے اور زکوٰة ادا کرنے سے غافل نہیں کرتی... [النور: 37]۔
اللہ نے زکاۃ کو ترک کرنے والوں اور مسکین کو کھانا نہ کھلانے والے کی مذمت کی ہے؛ اور اس کی عظمتِ شان کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ میں اس کا مطلق حکم دیا، پھر ہجرت کے دوسرے سال مقررہ نصاب اور مقدار کے ساتھ زکوٰۃ فرض کی گئی۔ اس کے عظیم مقام و مرتبہ کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کا امام اسے ادا نہ کرنے والے سے جنگ کرتا ہے، آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں تا آں کہ لوگ اس بات کی گواہی دینے لگیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں۔ جب لوگ یہ کرلیں گے تو وہ مجھ سے اپنی جان اور اپنا مال محفوظ کر لیں گے سوائے اس کے حق کے، باقی رہا ان کا حساب تو وہ اللہ کے ذمہ ہے۔“ [متفق علیہ]۔
زکوٰۃ نہ دینے والوں کے بارے میں ابو بکر رضی اللہ عنہ کا قول ہے: ”اللہ کی قسم! اگر وہ مجھے ایک رسی (عقال) بھی دینے سے انکار کریں گے جو وہ رسول اللہ ﷺ کو ادا کیا کرتے تھے، تو میں اس کے روکنے پر ان سے ضرور قتال کروں گا۔“
اور ایک روایت میں ہے: ”اللہ کی قسم! اگر انہوں نے مجھ سے بکری کا ایک بچہ بھی روک لیا...“ [متفق علیہ]، زکوٰۃ کی عظمت ومنزلت کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ جو شخص اس کے وجوب کا انکار کرے وہ کفر کا مرتکب ہے؛ اس کی عظمتِ شان اور بلند مقام کی وجہ سے کتاب وسنت کے اندر زکوٰۃ نہ دینے والے کی سزا کے بیان میں نصوص وارد ہوئی ہیں، جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: اور جو لوگ سونے چاندی کا خزانہ رکھتے ہیں اور اللہ کی راه میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی خبر پہنچا دیجیے۔ جس دن اس خزانے کو آتش دوزخ میں تپایا جائے گا پھر اس سے ان کی پیشانیاں اور پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی (ان سے کہا جائے گا) یہ ہے جسے تم نے اپنے لئے خزانہ بنا کر رکھا تھا۔ پس اپنے خزانوں کا مزه چکھو۔ [التوبة: 35-34]۔
اور نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو بھی سونا یا چاندی والا شخص اپنے اس مال کا حق (زکوٰۃ) ادا نہیں کرتا، اس کے لیے قیامت کے دن آگ کی تختیاں تیار کی جائیں گی اور انہیں جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر ان سے اس کے پہلو، اس کی پیشانی اور پشت کو داغا جائے گا۔ جب جب تختیاں ٹھنڈی ہو جائیں گی، انھیں دوبارہ گرمایا جائے گا۔ یہ عذاب ایک ایسے دن میں ہوگا، جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہوگی۔ (یہ سلسلہ جاری رہے گا) یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے اور (عذاب میں گرفتار شخص) جنت یا جہنم کی جانب اپنا راستہ دیکھ لے۔ پھر آپ ﷺ نے اونٹ، بکری اور گائے کا ذکر فرمایا۔“ [متفق علیہ]۔
نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے مال سے نوازا ہے اور وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا ہے تو قیامت کے دن اس (مال) کو اس کے لیے ایک زہریلے سانپ کی شکل میں پیش کیا جائے گا جس کی آنکھ کے اوپر دو سیاہ نقطے ہوں گے، جو اس کے گلے میں طوق کی طرح ڈال دیا جائے گا، پھر وہ اس کی دونوں باچھیں (جبڑوں کو) پکڑ کر کہے گا: میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں۔“ پھر نبی ﷺ نے یہ آیت پڑھی: ”جنھیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے کچھ دے رکھا ہے، وہ اس میں اپنی کنجوسی کو اپنے لیے بہتر خیال نہ کریں، بلکہ وہ ان کے لیے نہایت بدتر ہے۔ عنقریب قیامت والے دن وہ اپنی کنجوسی کی چیز کے طوق ڈالے جائیں گے۔ آسمانوں اور زمین کی میراث اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے اور جو کچھ تم کر رہے ہو، اس سے اللہ تعالیٰ آگاه ہے۔“ [آل عمران: 180] [صحیح بخاری: 1403]۔
اس کی بیش بہا اہمیت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا امام زکوۃ ادا کرنے میں کوتاہی کرنے والے کو سزا دیتا ہے۔
زکوٰۃ کے فوائد بہت زیادہ ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں: بندے کا اسلام اس کی ادائیگی کے بغیر مکمل نہیں ہوتا، اس کے ذریعے اللہ کے ثواب کی امید اور اس کے عذاب کے خوف سے اللہ کے حکم کی تعمیل ہوتی ہے، یہ امیر اور غریب کے درمیان محبت کے رشتوں کو مضبوط کرتی ہے، نفس کو پاک اور صاف کرتی ہے، مسلمان کو سخاوت کا عادی بناتی ہے، نفس کو بخیلی وکنجوسی سے محفوظ رکھتی ہے، اور اس کے ذریعے برکت حاصل ہوتی ہے۔ ...تم جو کچھ بھی اللہ کی راه میں خرچ کرو گے اللہ اس کا (پورا پورا) بدلہ دے گا اور وه سب سے بہتر روزی دینے واﻻ ہے۔ [سبا: 39]۔
نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا اور بندے کے معاف کردینے سے اللہ تعالیٰ اس کی عزت مزید بڑھا دیتا ہے اور جو شخص اللہ کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے‘ اللہ تعالی اسے بلند مقام عطا کرتا ہے۔“ [صحیح مسلم : 2588]۔
حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”اے ابن آدم ! خرچ کر، میں تجھ پر خرچ کروں گا۔“ [متفق علیہ]۔
یہ زکاۃ ادا کرنے والے کے اسلام کی صداقت کی دلیل وحجّت ہے، یہ مسلمان کا سینہ کشادہ کرتی ہے، اسے کامل مومنوں میں شامل کر دیتی ہے، یہ جنت میں داخل ہونے اور قیامت کے دن کی گرمی سے نجات پانے کا ایک سبب ہے، جیسا کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ”ہر شخص اپنے صدقے کے سایے میں ہوگا تا آنکہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کردیا جا ئے۔“ [اسے احمد (17333)، ابن خزیمہ (2431) اور ابن حبان (3310) نے روایت کیا ہے، اور البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔]
یہ معاشرے کو ایک خاندان کی طرح بنا دیتی ہے‘ یہ بھلائیوں کے نزول اور سزاؤں سے حفاظت کا ذریعہ ہے؛ جیسا کہ نبی ﷺ سے مروی عبداللہ بن عمرو کی حدیث میں ہے: ”جب بھی وہ اپنے مالوں کی زکوۃ روک لیتے ہیں تو آسمان سے بارش روک لی جاتی ہے، اور اگر چوپائے نہ ہوتے تو ان پر کبھی بارش نہ برستی۔۔“ [ابن ماجہ (4019)، طبرانی نے الأوسط (4671) میں، اور حاكم (8623) نے اسے روایت کیا ہے اور البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔]
زکاۃ گناہوں کو مٹاتی اور ان کا کفارہ ہو جاتی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”... اور صدقہ گناہ کو اسی طرح مٹا دیتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے۔“ [جامع ترمذی: 2616، سنن ابن ماجہ: 3973، سنن النسائی الکبری: 11330، مسند احمد: 22069، البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے]، یہ صاحبِ مال کے لیے عذاب سے بچاؤ ہے، مال اور نفس کو پاک کرتی ہے، مال کو بربادی سے بچاتی ہے، اسے ادا کرنا رحمت ونصرت کا سبب ہے، اور یہ احسان کی ایک عظیم ترین قسم ہے۔
اللہ کے بندو!
اپنے مالوں کی زکاۃ ادا کرو؛ بلاشبہ یہ دنیا اور آخرت میں تمہاری نجات اور سعادت کے اسباب میں سے ہے۔
اللہ میرے اور آپ کے لیے قرآنِ عظیم میں برکت دے، مجھے اور آپ کو اس میں موجود آیتوں اور ذکرِ حکیم سے فائدہ پہنچائے، میں اپنی یہ بات کہتا ہوں اور اپنے لیے، آپ کے لیے اور تمام مومنوں کے لیے اللہ سے مغفرت کا خواستگار ہوں، آپ بھی اس سے مغفرت طلب کریں، بے شک وہی بہت بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔
دوسرے خطبہ کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو سارے جہاں کا رب ہے، پرہیزگاروں کے لیے نہایت ہی عمدہ انجام ہے، ظالموں کے سوا کسی پر زیادتی روا نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، جو توبہ قبول کرنے والا، نہایت بخشنے والا اور بے حد رحم کرنے والا ہے، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کے آل واصحاب پر اور قیامت تک اخلاص کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں پر درود وسلام نازل فرمائے۔
دوسرا خطبہ:
اما بعد:
بلاشبہ سب سے اچھی بات کتاب اللہ ہے، سب سے بہتر طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے، بدترین امور (دین کے نام پر ایجاد کردہ) نت نئی بدعتیں ہیں، دین کے نام پر وجود میں آنے والی ہر نئی چیز بدعت ہے، ہر بدعت گمراہی ہے، اور ہر گمراہی آگ میں لے جانے والی ہے۔
اے اللہ کے بندو! بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پر تمہارے اموال میں زکوٰۃ واجب قرار دیا ہے جو تمہارے اموال اور تمہاری جانوں کے لیے پاکیزگی اور تمہارے اموال میں برکت کا باعث ہے۔ اس نے تمہیں بہت زیادہ عطا فرمایا ہے، تمہیں تھوڑا سا نکالنے کا حکم دیا ہے، اور تم سے نعم البدل اور برکت کا وعدہ فرمایا ہے۔ زکوٰۃ ہر اس آزاد مسلمان پر واجب ہے جو ایسے نصاب کا مالک ہو جس پر اسے پوری ملکیت حاصل ہو، اور اس پر پورا ایک سال گزر چکا ہو۔ وہ اموال جن میں زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، ان کی چار قسمیں ہیں:
پہلی قسم: چرنے والے چوپایے:
اور وہ ہیں اونٹ: اس کا کم از کم نصاب پانچ اونٹ ہے جن میں ایک بکری واجب ہے، اور گائے: اس کا کم از کم نصاب تیس گائے ہے جن میں ایک سال کا بچھڑا یا بچھڑی واجب ہے، اور بھیڑ، بکریاں: ان کا کم از کم نصاب چالیس ہے، جن میں ایک بکری واجب ہے، جس مسلمان کے پاس اس میں سے کچھ بھی موجود ہو، وہ اس کے بارے میں اہل علم سے سوال کر لے۔
دوسری قسم: زمین کی پیداوار کی زکوٰۃ: جیسے غلہ اور پھل، اس کا کم از کم نصاب پانچ وسق ہے، جو رسول اللہ ﷺ کے صاع کے مطابق تین سو صاع ہے۔ اگر اس کی سینچائی رہٹ، مشینوں یا دیگر ذرائع سے کی جائے تو اس میں پانچ فیصد زکاۃ نکالنا واجب ہے، البتہ جو فصل بارش یا چشموں سے سیراب ہو اس میں پورا دس فیصد نکالنا واجب ہے، جس شخص کے پاس اس میں سے کوئی پیداوار ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اہل علم سے دریافت کرلے۔
تیسری قسم: سونا، چاندی، اور کاغذی کرنسیاں: جیسے ریال، درہم، ڈالر، لیرا، اور نقدی اوراق کی دیگر قسمیں۔ اگر ان کرنسیوں کی قیمت سونے یا چاندی کے نصاب کو پہنچ جائے اور ان پر ایک سال گزر جائے تو ان میں زکوٰۃ واجب ہوگی۔ سونے کا نصاب بیس مثقال ہے، اور گرام کے اعتبار سے اس کی مقدار بانوے (92) گرام ہے۔ چاندی کا نصاب دو سو درہم ہے، جو ایک سو چالیس مثقال کے برابر ہے اور گرام کے اعتبار سے اس کا نصاب تقریباً چھ سو چوالیس (644) گرام ہے۔ جب کاغذی یا دھاتی کرنسی کی قیمت سونے یا چاندی کے نصاب کو پہنچ جائے تو اس کی زکوٰۃ نکالی جائے گی؛ کیونکہ اس کا وہی حکم ہے جو دونوں نقد یعنی سونے اور چاندی کا ہے۔ سونے اور چاندی میں چالیسواں حصہ نکالنا واجب ہے، یعنی سو میں ڈھائی (2.5)، اور ہزار میں پچیس (25)...
اموال کی چوتھی قسم: سامان تجارت، اس میں ہر وہ چیز داخل ہے جسے نفع کی غرض سے خرید وفروخت کے لیے تیار کیا گیا ہو، جیسے زمین وجائداد، جانور، غلہ اور ساز وسامان، چنانچہ سامان تجارت پر جب سال گزر جائے تو اس میں اڑھائی فیصد زکوٰۃ ہے، اس کی قیمت کا پیسوں میں اندازہ لگایا جائے گا، پھر اگر سونے اور چاندی کی قیمت کے حساب سے نصاب مکمل ہو جائے تو اس کی مالیت کی زکوٰۃ نکالی جائے گی، اور قیمت کا یہ اندازہ ہر سال کے اختتام پر لگایا جائے گا۔
اے اللہ کے بندو! جان لو کہ زکاۃ اللہ تعالیٰ کا حق ہے، اسے ان لوگوں کو دینا جائز نہیں جو اس کے مستحق نہیں ہیں، نہ ہی اس کے ذریعہ انسان اپنے لیے کوئی منفعت حاصل کرے یا اپنے آپ سے کوئی شر دور کرے، نہ ہی اس کے ذریعہ اپنے مال کی حفاظت کرے یا اپنی کسی پریشانی کو دور کرے۔ بلکہ واجب ہے کہ اسے اللہ کی رضا اور اس کے ثواب کی خاطر اس کے حق داروں کو ادا کرے۔
درود بھیجیں اللہ کی بہترین مخلوق محمد بن عبداللہ ﷺ پر۔
***
خطبہ کا عنوان
رمضان کے روزے
پہلے خطبہ کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو رحمن ورحیم، کریم اور منان ہے؛ جس نے اپنے بندوں کو اسلام، ایمان اور احسان کی نعمتوں سے نوازا، اور ان کے لیے روزے، تہجد اور تلاوتِ قرآن کو مشروع قرار دیا، ہم شکر گزاروں کی طرح اس کی حمد بیان کرتے ہیں، اور توبہ کرنے والوں کی طرح اس سے بخشش مانگتے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں؛ جس نے بطور خاص اس امت کو رمضان عطا کیا، اس میں قرآن نازل فرمایا، اور اسے بھلائی کے کام کرنے، مختلف عبادتیں بجا لانے، اور نیکیاں کمانے کا میدان اور بازار بنایا، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں؛ آپ رمضان کی آمد پر خوش ہوتے تھے، اور اپنے صحابہ کرام کو اس کی بشارت دیتے تھے، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل اور صحابہ پر اور قیامت کے دن تک احسان کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں پر درود وسلام اور برکتیں نازل فرمائے۔
پہلا خطبہ:
امابعد: اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اس کی اطاعت کرو، اور تجدیدِ توبہ، دلوں کی پاکیزگی اور نفوس کی تیاری کے ذریعے اس ماہِ مبارک کا بہترین استقبال کرو، نیز کثرت سے اطاعت کے امور انجام دے کر، حرام کاموں سے بچ کر، اعضا کی حفاظت کر کے، روزے کو محفوظ رکھ کر اور حسنِ تلاوت وقیام کا اہتمام کر کے رمضان سے فائدہ اٹھانے کا عزم کرو، کیوں کہ یہ گنتی کے چند ایام ہیں جو پھر گزر جائیں گے، چنانچہ رمضان میں جس نے نفع کمایا وہ خوش بخت ہو گیا، اور جس نے خسارہ اٹھایا وہ بدبخت ہو گیا؛ لہٰذا اپنی طرف سے اللہ تعالیٰ کے سامنے خیر وبھلائی پیش کرو۔ اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔ [البقرۃ: 183]۔
اے مسلمانو! اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے ہر بندے کی یہ تمنا ہوتی ہے کہ اس کا عمل قبول کیا جائے، اس کی کوشش کی قدر کی جائے، اور اسے اس کا پورا پورا اجر دیا جائے۔ چنانچہ جو شخص اپنے کسی بھی عمل کے قبول ہونے کی خواہش رکھتا ہو —جن میں روزہ اور قیام اللیل بھی شامل ہیں— تو اس پر لازم ہے کہ وہ چھ باتوں کو پیش نظر رکھے اور انہیں حاصل کرنے کی کوشش کرے:
پہلی بات: روزے، قیام اور تمام اعمال میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اسی کے لئے دین کو خالص رکھیں... نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے ایمان کے ساتھ اور اجر وثواب کے حصول کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے، اور جس نے شبِ قدر میں ایمان کے ساتھ ثواب کی غرض سے قیام کیا اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“ [متفق علیہ بروایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ۔]
دوسری بات: اپنے روزے اور دیگر تمام اعمال میں اللہ تعالیٰ کے لیے خیر خواہی (اخلاص) اختیار کرنا؛ جس کی دلیل نبی ﷺ کا یہ ارشاد ہے: ”بے شک دین خیر خواہی کا نام ہے، بے شک دین خیر خواہی کا نام ہے، بے شک دین خیر خواہی کا نام ہے۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کس کے لیے؟ فرمایا: اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، اس کے نبی کے لیے، مومنوں کے حکام کے لیے اور عام مومنوں کے لیے۔“ [صحیح مسلم: 55، مسند احمد: 16945، اور یہ احمد کے الفاظ ہیں۔]
اللہ تعالیٰ کے لیے خیر خواہی کا تقاضا یہ ہے کہ جو عمل اس کی رضا کے لیے کیا جائے اسے کمال خوبی سے انجام دیا جائے؛ چنانچہ جب کوئی روزہ رکھے تو اپنے روزے کو ہر اُس چیز سے محفوظ رکھے جو اسے باطل کر دے یا اس میں نقص پیدا کرے، اور جب نماز پڑھے، دعا مانگے، قرآنِ کریم کی تلاوت کرے یا اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے؛ تو ان اعمال کو تدبر اور خشوع وخضوع کے ساتھ بجا لائے، اور جب صدقہ وخیرات کرے، کھانا کھلائے یا مال خرچ کرے تو اپنا سب سے پسندیدہ مال خرچ کرے، اور احسان جتلانے، اذیت دینے، ریاکاری اور فخر وغرور سے دور رہے۔ جب تک تم اپنی پسندیده چیز سے اللہ تعالیٰ کی راه میں خرچ نہ کروگے ہرگز بھلائی نہ پاؤ گے... اسی طرح اپنے ہر عمل میں، اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کو ذہن نشیں رکھے اور اسے کامل طریقے سے انجام دینے کی پوری کوشش کرے۔
تیسری بات: روزہ، قیام، صدقہ، عمرہ اور دیگر تمام اعمال میں نبی کریم ﷺ کی پیروی کرنا، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: کہہ دیجئے! اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو ، خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناه معاف فرما دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے واﻻ مہربان ہے۔ [آل عمران : 31]۔ نیز ارشاد باری تعالی ہے: یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمده نمونہ (موجود) ہے، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے۔ [الاحزاب : 21 ]۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میرے طریقے كو لازم پکڑو۔“ [ابو داود: 2676، احمد: 17144، البانی نے اسے صحیح کہا ہے۔]
چنانچہ اسے چاہیے کہ وہ اپنے روزوں اور دیگر اعمال میں نبی ﷺ کی سنت کی جستجو کرے، اس کے بارے میں دریافت کرے اور اسے سیکھے تاکہ اس پر عمل کرسکے۔
چوتھی بات: اللہ تعالیٰ کی نگرانی کو یاد رکھنا۔ چنانچہ وہ جب روزہ رکھے تو اللہ تعالیٰ کی نگرانی کو ملحوظ خاطر رکھے، رمضان میں وہ جو بھی نیک اعمال کرے، اپنے ہر اس کام میں جسے وہ کرے اور جسے وہ چھوڑ دے، اللہ سبحانہ کی نگرانی کا دھیان رکھے؛ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ...بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے۔ نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس انداز سے کرو کہ تم اسے دیکھ رہے ہو، اگر ایسا نہ ہو تو پھر (یاد رکھو کہ) اللہ تو تمہیں دیکھ رہا ہے۔“ [متفق علیہ]۔
پانچویں بات: بندہ جو بھی عمل کرے، اس میں اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کے احسان کو یاد کرے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بے شک مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ ان ہی میں سے ایک رسول ان میں بھیجا ، جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے، یقیناً یہ سب اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔ [آل عمران: 164]، ارشاد باری تعالی ہے: اپنے مسلمان ہونے کا آپ پر احسان جتاتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ اپنے مسلمان ہونے کا احسان مجھ پر نہ رکھو، بلکہ دراصل اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت کی اگر تم راست گو ہو۔ [الحجرات: 17]، اللہ تعالی ہی ہے جس نے ایمان اور اعمالِ ایمان جیسے نماز، زکوۃ، روزہ، حج اور دیگر تمام اعمال کی طرف بندے کی رہنمائی فرمائی، اور اگر اللہ پاک نہ ہوتا تو وہ بھی اسی طرح گمراہ ہو جاتا جس طرح اکثر انسان گمراہ ہو گئے؛ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اگر اللہ تعالیٰ نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے، نہ ہم صدقہ کرتے اور نہ نماز پڑھتے...“ [متفق علیہ]۔
اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے بندے کو روزے کی فرضیت اور اس کے مسائل، دیگر تمام شرائع اور اعمال سکھائے، اور اگر اللہ تعالیٰ اسے تعلیم نہ دیتا تو وہ نہیں جان پاتا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کیسے کرے: اللہ کا ذکر کرو جس طرح کہ اس نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی جسے تم نہیں جانتے تھے۔ [البقرۃ: 239]۔
اسی طرح بندوں پر اللہ تعالیٰ کے اس احسان کو بھی یاد رکھا جائے کہ اس نے روزے، تمام فرائض اور نیک اعمال پر اجر وثواب بھی مقرر فرمایا ہے؛ جیسا کہ حدیث قدسی میں ہے: ”روزہ میرے ہی لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔“ [متفق علیہ بروایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ۔] چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ہی بندے کو ایمان اور روزے کی راہ دکھائی، اسے احکام وشرائع سکھائے اور ان پر عمل کرنے اور انہیں بجا لانے کی توفیق دی، پھر وہ پاک وبرتر پروردگار اسے اس پر بہت بڑی جزا دیتا ہے، لہذا یہ سب در اصل اللہ تعالیٰ ہی کا فضل واحسان ہے۔
چھٹی بات: بندہ اپنے ہر عمل میں اپنی کوتاہی کا احساس کرے؛ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عظمت سے واقف ہے، وہ یہ بھی جانتا ہے کہ بندہ خواہ کتنے ہی نیک اعمال انجام دے لے، اس کا عمل اس کے رب سبحانہ کی عظمت کے برابر ہرگز نہیں ہو سکتا؛ بلکہ بندے کا کیا ہوا کوئی بھی نیک عمل اس پر اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں میں سے کسی ایک نعمت کے بھی برابر نہیں ہو سکتا، اس پر مستزاد یہ کہ نیک اعمال خود بندے پر اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہیں؛ کیونکہ اسی نے اسے اس کی توفیق بخشی، اگر اللہ تعالی کی توفیق شاملِ حال نہ ہوتی تو وہ کوئی نیک عمل انجام نہیں دے پاتا، اور جب بندہ اللہ سبحانہ کی عظمت اور اس کے انعام واحسان کے باعث اللہ تعالیٰ کے حق میں اپنی کوتاہی کا احساس کرتا ہے؛ تو اس کی نگاہوں میں اس کا اپنا عمل حقیر ہو جاتا ہے اور وہ اسے بڑا تصور نہیں کرتا، وہ اس میں اضافہ کرتا ہے کمی نہیں کرتا، وہ اپنے رب سبحانہ کے ساتھ حسن ظن رکھتا ہے، اور اپنے نفس اور اپنے عمل کے بارے میں بدگمان رہتا ہے، اسے قبولیت کی فکر لگی رہتی ہے اور وہ رد کیے جانے سے خوفزدہ رہتا ہے۔
ہم اللہ تعالی سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں رمضان تک پہنچائے، اور اس میں ہمیں روزہ رکھنے، قیام کرنے اور اعمال صالحہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
میں اپنی یہ بات کہتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمہارے لئے ہر گناہ کی بخشش مانگتا ہوں، تم بھی اس سے بخشش مانگو، بے شک وه بہت بڑا بخشنے واﻻ اور نہایت مہربانی کرنے وﻻ ہے۔
دوسرے خطبے کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، بہت زیادہ، پاکیزہ اور بابرکت تعریفیں، جیسا کہ ہمارا رب پسند کرتا ہے اور راضی ہوتا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کے آل واصحاب پر اور قیامت تک ان کے نقش قدم کی پیروی کرنے والوں پر درود وسلام اور برکتیں نازل فرمائے۔
دوسرا خطبہ
اما بعد: اللہ سے ڈرو اور اس کی اطاعت کرو، اور نیک اعمال کے ذریعے اس کا قرب حاصل کرو؛ تاکہ تم انہیں اپنے سامنے پاؤ۔ پھر جو بھی نیک عمل کرے اور وه مومن (بھی) ہو تو اس کی کوشش کی بے قدری نہیں کی جائے گی۔ ہم تو اس کے لکھنے والے ہیں۔ [الانبیاء: 94]۔
اے مسلمانو!
مومن کو چاہیے کہ وہ جو بھی عمل صالح کرے، اس میں ان چھ امور کو ملحوظ رکھے اور انہیں حاصل کرنے کی کوشش کرے؛ تاکہ اس کا عمل قبول ہو، اور وہ یہ ہیں: عمل میں اخلاص، اس میں اللہ تعالیٰ کے لیے خیر خواہی، اس میں اللہ کے رسول ﷺ کی پیروی، عمل کے دوران مقام احسان کو پیشِ نظر رکھنا، اس عمل میں اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد رکھنا، اور اس عمل میں اپنی کوتاہی اور کمی کو محسوس کرنا۔
ماہِ رمضان بالکل قریب ہے، یہ نیک اعمال کا ایک بہت بڑا میدان ہے، مومن کے لیے ایک عظیم موقع ہے اور اس کی بہت ساری فضیلتیں ہیں، چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عز و جل فرماتا ہے: روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، وہ میرے لیے اپنی شہوت اور کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے، روزہ ڈھال ہے، اور روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک خوشی افطار کرتے وقت، اور دوسری خوشی جب وہ اپنے رب سے ملاقات کرے گا، اور روزے دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔“ [متفق علیہ۔]
لہٰذا اہلِ ایمان کو چاہیے کہ وہ رمضان کے لیے تیار رہیں، قرآن کو لازم پکڑیں اور زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کریں۔ ان لوگوں کی پیروی نہ کریں جو لہو ولعب، غفلت اور خسارے کی مجلسوں کے ذریعے اپنا رمضان برباد کر دیتے ہیں، یا ان اسکرینوں کے پیچھے وقت نہ لگائیں جو حرام چیزیں دکھاتی ہیں اور خبیث قسم کی شبہات اور شہوات پھیلاتی ہیں؛ کیونکہ جس نے اپنی جان، اپنے دین، اپنے دل اور اپنی عقل کو ان کے حوالے کر دیا، وہ کھلے خسارے میں پڑ گیا۔ اور جس نے اپنے اہل وعیال اور اولاد کو ان کے حوالے کر دیا، تو درحقیقت اس نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا اور ان کے معاملے میں اللہ تعالیٰ کی امانت کی حفاظت نہیں کی۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس بندے کو اللہ کسی رعایا کا نگران بناتا ہے اور مرنے کے دن وہ اس حالت میں مرتا ہے کہ اپنی رعیت کے ساتھ دھوکا کر رہا ہوتا ہے، تو اللہ اس پر جنت حرام کر دیتا ہے۔“ [اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے]۔
اس لیے اپنی جانوں، اپنے اہل وعیال اور اپنی اولاد کے معاملے میں اللہ سے ڈرو جو تمھارا رب ہے، انھیں نصیحت کرو، ان کے دلوں میں رمضان کی عظمت پیدا کرو، اور اس میں نیک عمل کی طرف ان کی رہنمائی کرو؛ تاکہ وہ تمھاری آنکھوں کی ٹھنڈک بن جائیں۔
اے اللہ ! ہمارے لیے رمضان میں برکت فرما، اور ہمیں اس میں تقویٰ، نیکی اور احسان کی توفیق عطا فرما۔
خطبہ کا عنوان
رمضان کا استقابل
پہلے خطبہ کا مقدمہ
ساری تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے اپنے بندوں پر خیر وبھلائی کے موسموں کا احسان فرمایا، تاکہ وہ اس کے ذریعے ان کے گناہ بخش دے، ان کی برائیاں مٹا دے، ان کے ثواب میں کئی گنا اضافہ فرما دے اور ان کے درجات بلند فرما ئے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، جو وسیع عطاؤں اور عظیم نوازشوں والا ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، جو تمام مخلوقات میں سب سے افضل ہیں۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل واصحاب پر اور ان پر جو خیر وبھلائی کے ساتھ آپ کی پیروی کرتے ہیں، ڈھیروں درود وسلام نازل فرمائے۔
پہلا خطبہ
اما بعد: اے لوگو! اپنے رب اللہ سے ڈرو، اس کی عبادت کرو، اس نے تم پر جو انعامات کیے ہیں ان پر اس کا شکر ادا کرو، اس کی حمد بیان کرو، اور نیکیوں کے ان موسموں کی شکل میں تمہارے اوپر اس کی جو نعمت ہر سال بار بار آتی ہے‘ اس کو پہنچانو، تاکہ ان موسموں میں تم پر اللہ کی طرف سے فضل اور انعام بھی بار بار ہو، اور تم نیک اعمال کرنے اور گناہوں سے بچنے کے لیے نئے سرے سے سرگرم عمل ہو جاؤ۔
اے اللہ کے بندو! تم پر ایک عظیم مہینہ اور ایک بابرکت موسم سایہ فگن ہوا ہے، جس میں نیکیاں کئی گنا بڑھا دی جاتی ہیں اور گناہ سنگین ہو جاتے ہیں، یہ ماہِ رمضان ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، یہ روزے اور قیام کا مہینہ ہے، صدقات، نیکی اور احسان کا مہینہ ہے، ایسا مہینہ جس کے ذریعہ اللہ نے اس امت کو پانچ ایسی خصوصیات سے نوازا جو کسی اور امت کو عطا نہیں کی گئیں:
1: روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے۔
2: فرشتے ان کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں، جب تک افطار نہ کر لیں۔
3: رمضان میں اللہ تعالی ہر روز اپنی جنت کو سجاتا ہے۔
4: اس ماہ میں سرکش شیاطین کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے، چنانچہ وہ انسانوں کو بہکانے میں اس طرح کامیاب نہیں ہو پاتے جیسے دوسرے ایام میں ہوتے ہیں۔
5: اللہ تعالیٰ اس مہینے کی آخری رات میں اس امت کی مغفرت فرما دیتا ہے۔ یہ ایسا مہینہ ہے کہ جس نے اللہ پر ایمان کے ساتھ اور ثوابِ الہی کی نیت سے اس ماہ کے روزے رکھے، اللہ اس کے پچھلے گناہ معاف فرما دے گا، اور جس نے ایمان کے ساتھ اور اجر وثواب کی نیت سے اس ماہ میں قیام کیا، اللہ اس کے پچھلے گناہ معاف فرما دے گا، یہ ایسا مہینہ ہے جس میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، صحیحین میں نبی ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے، نیکی کو دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: سوائے روزے کے کیونکہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، وہ میرے لیے اپنی شہوت اور کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے۔ روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک خوشی اس کے افطار کے وقت، اور ایک خوشی اپنے رب سے ملاقات کے وقت۔“ [متفق علیہ]، افطار کے وقت اسے دو باتوں کی خوشی ہوتی ہے: ایک اس دن کا روزہ مکمل ہونے کی جس کا اللہ نے اس پر احسان فرمایا اور اس کی اسے قوت عطا فرمائی، اور اللہ کی حلال کردہ کھانے پینے کی چیزوں کے استعمال کی۔ اپنے رب سے ملاقات کے وقت اسے روزے کے اس اجر وثواب کی خوشی حاصل ہوگی جسے وہ اپنے رب کے پاس اپنے لیے ذخیرہ کیا ہوا پائے گا۔
اے اللہ کے بندو! بے شک ماہِ رمضان غنیمت اور منافع کا مہینہ ہے، لہٰذا اسے عبادت، کثرت سے نماز، قرآن کی تلاوت، ذکر، لوگوں سے درگزر کرنے اور احسان وبھلائی کا بہترین موقع جانو، اپنے درمیان سے عداوت، بغض اور کینے کو ختم کردو، کیوں کہ پیر اور جمعرات کے دن اعمال اللہ عزوجل کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں، چنانجہ جو مغفرت طلب کرنے والا ہوتا ہے اس کی مغفرت کردی جاتی ہے، جو توبہ کرنے والا ہوتا ہے اس کی توبہ قبول کرلی جاتی ہے، اور کینہ رکھنے والوں کو ان کے کینے کے باعث واپس لوٹا دیا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ توبہ کرلیں اور آپس میں صلح کرلیں۔ ماہِ رمضان میں چار خصلتیں کثرت سے انجام دو، دو خصلتیں وہ ہیں جن سے تم اپنے رب کو راضی کرو گے، اور دو خصلتیں وہ ہیں جن سے تم بے نیاز نہیں ہو سکتے؛ چنانچہ وہ دو خصلتیں جن سے تم اپنے رب کو راضی کرو گے، وہ لا الہ الا اللہ کی گواہی دینا اور استغفار کرنا ہے، اور وہ دو خصلتیں جن سے تم بے نیاز نہیں ہو سکتے، وہ یہ ہیں کہ تم اللہ سے جنت کا سوال کرو اور جہنم کی آگ سے اس کی پناہ مانگو، اور افطار کے وقت دعا کا اہتمام کرو، کیوں کہ حدیث میں آیا ہے کہ روزہ دار کے لیے افطار کے وقت ایک ایسی دعا ہے جو رد نہیں کی جاتی۔
جان لو کہ روزہ اسی لیے مشروع کیا گیا ہے تاکہ انسان تقویٰ اختیار کرے، اور اپنے اعضاء کو اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے باز رکھے، اس لیے روزہ دار کو چاہیے کہ ہر حرام فعل سے باز آجائے؛ جیسے دھوکہ دہی، فریب، ظلم، ناپ تول میں کمی، حقوق مارنا، حرام نظر ڈالنا، اور حرام گانے سننا، کیونکہ گانے سننا روزہ دار کے اجر کو کم کر دیتا ہے، اسی طرح ہر حرام بات بھی ترک کر دے؛ جیسے جھوٹ، غیبت، چغل خوری اور گالی گلوچ، اور اگر کوئی اسے گالی دے یا برا بھلا کہے، تو وہ کہہ دے: میں روزے سے ہوں، اور اسے اسی جیسا جواب نہ دے، لہٰذا اے مسلمان! تم اپنے روزے کے دن اور افطار کے دن کو برابر نہ کرو، نبیﷺکا فرمان ہے: ”جو شخص جھوٹ بولنے، اس پر عمل کرنے اور جہالت سے باز نہ آئے تو اللہ تعالیٰ کو اس بات کی کوئی حاجت نہیں کہ وہ شخص اپنا کھانا اور پینا چھوڑ دے۔“ [صحیح بخاری : 1903]۔
اپنے بچوں، لڑکوں اور لڑکیوں کو روزہ رکھوائیں اگر وہ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہوں تاکہ وہ اس کے عادی بن جائیں، کیونکہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اپنے بچوں کو چھوٹی عمر میں ہی روزہ رکھواتے تھے، یہاں تک کہ بسا اوقات بچہ بھوک سے روتا تو وہ (اس کا دل بہلانے کے لیے) اسے کھلونا دے دیتے جس سے وہ اپنا دل بہلاتا رہتا یہاں تک کہ وہ افطار کر لیتے۔ روزے کا اجر تو خود ان (بچوں) کو ملتا ہے، لیکن والدین یا سرپرستوں کو ان کی تربیت اور رہنمائی کا اجر ملتا ہے۔
تم میں سے کوئی شخص رمضان سے ایک یا دو دن پہلے نفلی روزہ نہ رکھے، مگر جو شخص (پہلے سے) کسی دن کا روزہ رکھنے کا عادی ہو اور وہ مہینے سے ایک یا دو دن پہلے آ جائے، تو اس دن کا روزہ رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔
میں شیطان مردود کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں: اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔ [البقرۃ: 183]۔
اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو قرآنِ عظیم کی برکت سے نوازے۔
دوسرے خطبہ کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے سزاوار ہیں جو فضل واحسان فرمانے والا ہے، اپنے بندوں پر اتنی نعمتیں انعام کرنے والا ہے جنہیں گنا اور شمار نہیں کیا جا سکتا، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، جنہیں اس نے ہدایت اور دینِ حق دے کر بھیجا تاکہ اسے تمام ادیان پر غالب کر دے، اللہ تعالی آپ پر، آپ کے ان آل واصحاب پر جنہوں نے آپ کی نصرت اور مدد کی، اور وہ بہترین انصار اور بہترین مددگار تھے، اور جب تک زمانے کا سلسلہ جاری رہے اخلاص کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں پر کثرت سے درود وسلام نازل فرمائے۔
دوسرا خطبہ
اما بعد! اے لوگو: اللہ تعالیٰ سے ڈرو: اس کی عطا کردہ وافر اور کامل نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو، خصوصاً اس ماہِ کریم، ماہِ رمضان میں، اسی میں اللہ نے اپنی کتابِ مبین نازل فرمائی جو تمام جہانوں کے لیے رحمت، روشنی طلب کرنے والوں کے لیے نور، متقیوں کے لیے ہدایت، اور عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے سامانِ عبرت ہے۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیتیں محکم ہیں‘ پھر ایک حکمت والے اور باخبر کی جانب سے تفصیل سے بیان کی گئی ہیں، باطل نہ اس کے آگے سے آسکتا ہے اور نہ اس کے پیچھے سے، یہ حکمت والے، خوبیوں والے (اللہ) کی طرف سے نازل کردہ ہے۔ اس میں تم سے پہلے لوگوں کی خبریں، تمھارے بعد کے حالات کی اطلاع، اور تمھارے آپس کے معاملات کا فیصلہ ہے۔ جس نے اسے مضبوطی سے تھاما وہ نجات پا گیا، جس نے اس سے ہدایت طلب کی وہ ہدایت پا گیا، اور جس نے اس سے اعراض کیا وہ ہلاکت اور تباہی میں جا گرا، اعراض کرنے والوں اور ہلاک ہونے والوں کے لیے بڑی تباہی وبدبختی ہے۔
اسی مہینے میں غزوہ بدر کبرى پیش آیا جس میں اللہ تعالیٰ نے لشکرِ ایمان اور رحمن کے سپاہیوں کی نصرت و تائیدفرمائی، شیطانی لشکروں اور شرک وسرکشی کے حامیوں کو شکست دی، اسی ماہِ مبارک میں اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل اور افضل ترین نبی محمد ﷺ کے دستِ مبارک پر بلدِ امین مکہ کو فتح فرمایا، اسے بتوں اور مشرکین سے پاک کیا، اسی ماہِ مبارک میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر روزے فرض کر کے ان پر انعام فرمایا، اسے اسلام کا ایک رکن بنایا، اور جس شخص نے ایمان اور ثواب کی نیت سے اس کے روزے رکھے، اس کا ثواب یہ مقرر فرمایا کہ اس کے پچھلے تمام گناہوں کو مٹا دیا جائے۔
اس مبارک مہینے میں اللہ تعالیٰ نے بندوں پر قیام کو مشروع فرما کر انعام کیا، چنانچہ جس نے ایمان کے ساتھ اور اجر وثواب کی نیت سے اس کا قیام کیا اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، اور جس نے امام کے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ وہ فارغ ہو جائے، اس کے لیے پوری رات کا قیام لکھ دیا جاتا ہے۔
اس مبارک مہینے میں اللہ تعالیٰ نے اس امت پر شبِ قدر کا انعام فرمایا جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، جو شخص ایمان اور ثواب کی نیت سے اس رات میں قیام کرے، اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔
اس مہینے کی برکات بہت زیادہ اور بے شمار ہیں، لہٰذا اس میں اللہ نے تم پر جو انعام فرمایا ہے اس پر اللہ کا شکر ادا کرو، اور خبردار! اس کے دنوں اور راتوں کے جو مواقع میسر ہیں‘ انہیں ہرگز ضائع نہ کرنا، کیوں کہ اگر تم جان لیتے کہ ان میں کیا کچھ ہے، تو تم ضرور یہ تمنا کرتے کہ پورا سال ہی ماہِ رمضان ہو۔
***
خطبہ کا عنوان
قرآن کی تلاوت اور روزے کے آداب
پہلے خطبہ کا مقدمہ
تمام تعریفیں اسی اللہ کے لئے سزاوار ہیں جس نے اپنے بندے پر یہ قرآن اتارا اور اس میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی۔ بلکہ ہر طرح سے ٹھیک ٹھاک رکھا تاکہ اپنے پاس کی سخت سزا سے ہوشیار کردے اور ایمان ﻻنے اور نیک عمل کرنے والوں کو خوشخبریاں سنا دے کہ ان کے لئے بہترین بدلہ ہے۔ جس میں وه ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اور ان لوگوں کو بھی ڈرا دے جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اوﻻد رکھتا ہے۔ در حقیقت نہ تو خود انہیں اس کا علم ہے نہ ان کے باپ دادوں کو۔ یہ تہمت بڑی بری ہے جو ان کے منھ سے نکل رہی ہے، وه نرا جھوٹ بک رہے ہیں۔ [الكهف: 1 - 5]، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کا علم ہر چیز كو محیط ہے اور اس نے ہر چیز کو شمار کر رکھا ہے، اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ آپ پر، آپ کی آل واصحاب پر اور اخلاص کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں پر اپنی رحمتیں اور سلامتی نازل فرمائے۔
پہلا خطبہ:
اما بعد! اے لوگو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو، اس مہینے میں کثرت کے ساتھ قرآن کی تلاوت کرو، اس کے ذریعے اللہ تمہارے اجر کو بڑھا دے گا؛ کیونکہ قرآن کے ہر حرف کے بدلے میں دس نیکیاں ملتی ہیں۔ عمومی طور پر تلاوتِ قرآن اور خصوصی طور پر بعض سورتوں کی فضیلت کے بارے میں احادیث وارد ہوئی ہیں، چنانچہ صحیح مسلم میں ہے کہ جبریل نے نبی ﷺ سے فرمایا: ”آپﷺ کے لیے ایسے دو نور کی خوشخبری ہے جو آپﷺ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیے گئے: ایک سورۃ الفاتحۃ اور دوسری سورۃ البقرۃ کی آخری آیتیں۔ ان میں سے ایک حرف بھی آپ پڑھیں گے، تو وہ آپ کو ضرور عطا کیا جائے گا۔“ [صحیح مسلم : 806]، نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ گھر جس میں سورۃ البقرۃ پڑھی جاتی ہے، شیطان اس میں داخل نہیں ہوتا۔“ [صحیح مسلم : 780]۔
اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ رات کے وقت سورۃ البقرۃ پڑھ رہے تھے، ان کا گھوڑا ان کے پاس بندھا ہوا تھا اور ان کا بیٹا اس کے قریب تھا، گھوڑا اچانک بدکنے لگا، وہ خاموش ہوئے تو گھوڑا بھی ساکت ہو گیا، انہوں نے پڑھا تو گھوڑا دوسری بار بدکنے لگا، وہ خاموش ہوئے تو گھوڑا بھی ساکت ہو گیا، پھر انہوں نے پڑھا تو گھوڑا تیسری بار بدکنے لگا، تو انہیں ڈر لگا کہ کہیں وہ ان کے بیٹے کو نقصان نہ پہنچا دے، چنانچہ انہوں نے تلاوت ترک کر دی، پھر انہوں نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا، یہاں تک کہ وہ اسے دیکھ نہ سکے، اچانک انہیں آسمان میں ایسے دکھائی دیا جیسے اندھیرے میں چراغوں کی مانند روشنیاں ہوں، جب صبح ہوئی تو انہوں نے نبی ﷺ کو اس بات کی خبر دی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: آپ ﷺ نے فرمایا : ’’کیا تم جانتے ہو کہ وہ کیا تھا؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’نہیں۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’وہ فرشتے تھے جو تمہاری آواز سننے کے لیے قریب آگئے تھے، اگر تم تلاوت جاری رکھتے تو صبح کے وقت لوگ انہیں دیکھ رہے ہوتے، اور وہ ان سے چھپے ہوئے نہ ہوتے۔‘‘ [صحیح بخاری: 5018]،
نبی ﷺ نے بتایا کہ سورۃ البقرۃ اور سورۃ آل عمران قیامت کے دن اپنے پڑھنے والے کو سایہ فراہم کریں گی، اور اس کی طرف سے دفاع کریں گی۔ [صحیح مسلم: 805] سورۃ الانعام نبی ﷺ پر مکہ میں نازل ہوئی، اس کے ہمراہ تقریباً ستر ہزار فرشتے تھے، مشرق ومغرب کے درمیان ان کی تسبیح کی گونج بلند ہو رہی تھی اور ان سے زمین لرز رہی تھی، اور رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے: ”میں اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں، جو بہت بڑا ہے۔“ [اسے بیہقی نے شعب الإيمان (2434) میں، اور طبرانی نے المعجم الاوسط (3317) میں روایت کیا ہے، اور ابن حجر نے اس حدیث کو نتائج الافكار (3/228) میں حسن کہا ہے۔]
آپ ﷺ سے ثابت ہے: ”یقینا قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَد تہائی قرآن کے برابر ہے“، ایک شخص نے آپ ﷺ سے عرض کیا: بے شک مجھے اس سے محبت ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس سے تمہاری محبت نے تمہیں جنت میں داخل کر دیا۔“ [متفق علیہ]، ایک دوسرے آدمی نے کہا کہ (اس میں) رحمٰن کی صفت ہے، اور میں اسے پڑھنا پسند کرتا ہوں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اسے بتا دو کہ اللہ اس سے محبت کرتا ہے۔“ [متفق علیہ]، رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایک صحابی سے عرض کیا: ”کیا میں تمہیں وہ دو بہترین سورتیں نہ سکھاؤں جن کی لوگوں نے تلاوت کی ہے؟ ﴿قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلۡفَلَقِ﴾، اور ﴿قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ﴾“ [اسے نسائی نے ’’السنن الکبری‘‘ (10725) میں اور احمد (17296) نے روایت کیا ہے، اور البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے]۔
قرآن کو غور وفکر کے ساتھ سمجھ کر پڑھو، جب تم کسی آیتِ رحمت سے گزرو، تو اللہ سے اس کا فضل مانگو، جب تم کسی آیتِ وعید سے گزرو، تو اس کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو، اور جب تم کسی آیتِ سجدہ سے گزرو، تو سجدہ کرو چاہے کوئی بھی وقت ہو، کیونکہ سجدہ تلاوت کے لیے کوئی ممنوعہ وقت نہیں ہے؛ اس لیے کہ یہ تلاوت کے تابع ہے، جب تم سجدہ کرو، تو تکبیر کہو، اور سجدے میں سُبْحانَ رَبِّیَ الأعْلیٰ کہو، اور جب سجدے سے سر اٹھاؤ، تو نہ تکبیر کہو، اور نہ سلام پھیرو؛ کیونکہ یہ نبی ﷺ سے ثابت نہیں ہے، الا یہ کہ تلاوت کرنے والا نماز کے دوران سجدہ کرے، تو وہ سجدہ کرنے اور اس سے سر اٹھانے کے لیے تکبیر کہے گا۔
میں شیطان مردود کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں: جو لوگ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے پوشیده اور علانیہ خرچ کرتے ہیں، وه ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی خساره میں نہ ہوگی۔ تاکہ ان کو ان کی اجرتیں پوری دے اور ان کو اپنے فضل سے اور زیاده دے۔ بے شک وه بڑا بخشنے واﻻ قدردان ہے۔ [فاطر: 29-30]
اے اللہ! ہمارے لیے قرآنِ عظیم میں برکت عطا فرما۔
دوسرے خطبہ کا مقدمہ
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے نہایت بالغ حکمتوں اور اسرار کی بناء پر اپنے بندوں کے لیے شریعتیں مقرر فرمائیں، ایمان اور حصولِ ثواب کی نیت کے ساتھ رمضان کے روزے رکھنے اور قیام کرنے پر گناہوں کی مغفرت کا انعام رکھا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، جو بادشاہ اور نہایت بخشنے والا ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں جو مصطفیٰ اور مختار ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کے آل واصحاب پر اور دن اور رات کی مختلف ساعتوں میں اخلاص کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں پر کثرت سے درود وسلام نازل فرمائے۔
دوسرا خطبہ
اما بعد! اے لوگو: اپنے رب کی عبادت کرو، اپنے فرائض ادا کرو، اپنے مہینے کے روزے رکھو، اور جان لو کہ روزے کی حکمتوں اور اس کے اسرار میں سے یہ بھی ہے کہ وہ اللہ کی اطاعت اور اس کے تقویٰ پر بندے کے لیے مددگار ثابت ہو، چنانچہ وہ نیک اعمال بجا لانے اور حرام کردہ چیزوں سے بچنے میں جد وجہد کرے۔ جس نے جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑا تو اللہ کو اس کی کوئی حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا اور پینا چھوڑ دے۔ اس فضیلت والے مہینے کے اوقات کو ذکر، تلاوت اور نماز سے آباد کرو، اس میں کثرتِ دعا، مخلوق کے ساتھ کثرتِ احسان اور انہیں معاف کر کے اپنے مولا کی رحمتوں کے طلب گار بنو، اس لیے کہ اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے، اور خطاکاروں کو معاف کرنے کو پسند فرماتا ہے۔ اس مہینے میں زکوٰۃ اور صدقات کے ذریعے فقراء پر سخاوت کرو، بے شک اللہ سخی ہے اور سخاوت کو پسند فرماتا ہے۔ یقیناً ہمارے نبی ﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے، رمضان میں جب جبریل آپ ﷺ سے ملاقات کرتے اور آپ ﷺ کے ساتھ قرآن کا دور کرتے تو آپ ﷺ سب سے زیادہ سخی ہوا کرتے تھے، رسول اللہ ﷺ بھلائی کے کاموں میں تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی تھے۔ کسی نیکی کو ہرگز حقیر نہ سمجھو، اور جہنم کی آگ سے بچو خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو۔ کیونکہ جب کوئی شخص حلال کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ کرتا ہے، تو اللہ اسے اس کے لیے بڑھاتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے۔ اور جان لو، اللہ تم پر رحم فرمائے، کہ روزے کی کچھ سنتیں ہیں جن کی رعایت کرنا چاہیے، ان میں سے سحری کھانا بھی ہے، چنانچہ نبی ﷺ نے اس کا حکم دیا ہے اور فرمایا: ”سحری کھایا کرو، اس لیے کہ سحری میں برکت ہوتی ہے۔“ [متفق علیہ]۔
سحری کو رات کے آخری حصے تک مؤخر کرنا افضل ہے، اگر تم میں سے کوئی جلدی سحری کر لے اور طلوعِ فجر سے پہلے فارغ ہو جائے، اور روزے کی نیت کر لے، پھر اسے کھانے کی خواہش ہو، تو فجر طلوع ہونے تک کھانے میں کوئی حرج نہیں؛ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگہ سیاه دھاگے سے ظاہر ہوجائے۔ [البقرۃ: 187] سفید دھاگے سے مراد دن ہے اور سیاہ دھاگے سے مراد رات ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: ”بلال رات کو اذان دیتے ہیں۔ چنانچہ تم کھاؤ پیو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دیں، اور وہ اذان نہیں دیتے تھے یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی۔“ [صحیح بخاری: 622]۔ جب فجر واضح ہو جائے، تو روزہ دار کے لیے کوئی ایسی چیز کھانا پینا جائز نہیں جس سے روزہ ٹوٹ جائے۔ مؤذنوں پر واجب ہے کہ وہ خوب تحقیق کر لیں، چنانچہ جب تک طلوع فجر نہ ہو، وہ اذان نہ دیں۔ جب تم میں سے کوئی افطار کرے تو اسے چاہیے کہ وہ کھجور سے افطار کرے۔ اگر کھجور نہ ہو تو پانی سے افطار کرے۔ اگر یہ بھی میسر نہ ہو، تو اپنے دل میں افطار کی نیت کر لے۔ مثلاً سورج غروب ہو جائے اور وہ شہر سے باہر ہو، اور اس کے پاس کھانے اور پینے کو کچھ نہ ہو، تو وہ افطار کی نیت کر لے۔ اسے اپنی انگلی چوسنے کی ضرورت نہیں، جیسا کہ بعض عوام کہتے ہیں۔ افطار کے وقت دعا کا اہتمام کرنا چاہیے، کیونکہ افطار کے وقت روزہ دار کی دعا رد نہیں کی جاتی۔
اللہ تعالیٰ سے اپنے اعمال کی قبولیت کی دعا کریں، کیونکہ اصل دار ومدار اسی پر ہے، خلیل ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کعبہ کی بنیادیں اور دیواریں اٹھاتے جاتے تھے اور کہتے جارہے تھے: ہمارے پروردگار! تو ہم سے قبول فرما، تو ہی سننے واﻻ اور جاننے واﻻ ہے۔ بے شک قبولیت کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ بندے کو تقویٰ کی توفیق دی جائے، کیونکہ اللہ تو پرہیزگاروں ہی کا عمل قبول فرماتا ہے، چنانچہ جس نے ظاہر وباطن میں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کیا وہ قبولیت کا زیادہ مستحق ہے۔
اور جان رکھیں کہ کھانا، پینا، ہم بستری کرنا، اور سینگی کے ذریعہ خون نکالنا روزہ توڑنے والی چیزوں میں سے ہیں، چنانچہ سینگی لگانے والے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے، نیز جان بوجھ کر قے کرنا بھی انہی میں شامل ہے۔ اگر سینگی کے علاوہ کسی اور وجہ سے اس کا خون نکل آئے، مثلاً نکسیر پھوٹ جائے، یا اس کا دانت اکھڑ جائے، یا اس کے جسم کا کوئی حصہ زخمی ہو جائے اور خون نکل آئے، تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا ہے، اسی طرح اگر خود بخود قے آ جائے، یا وہ اپنی آنکھ یا کان کا علاج کرائے، یا ان میں قطرے ڈالے، تو بھی روزہ نہیں ٹوٹتا ہے۔
جب عورت کو حالتِ صوم میں حیض کا خون آجائے تو اس کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اگر وہ دن کے وقت پاک ہوجائے تو اس پر اس دن کی قضا واجب ہے جس دن اسے طہارت حاصل ہوئے، مسواک کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ہے، اور روزہ دار اور غیر روزہ دار ہر ایک کے لیے ہر وقت مسواک کرنا مستحب ہے چاہے وہ دن کے ابتدائی حصہ میں ہو یا اس کے آخری حصہ میں۔
ہم اللہ سے دعا گو ہیں کہ وہ روزہ، قیام اور تلاوتِ قرآن میں ہماری مدد فرمائے، اور ہمارے نیک اعمال کو شرف قبولیت سے نوازے۔
***
خطبہ کا عنوان
روزہ باطل کرنے والی چیزیں
پہلے خطبہ کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے سزاوار ہیں، جس نے رمضان کے روزوں کو اسلام کا ایک رکن بنایا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اس نے اپنے بندوں کو پکارا اور فرمایا: اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا... [البقرة: 183]، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، جو نماز پڑھنے اور روزہ رکھنے والوں میں سب سے افضل ہیں، اللہ تعالیٰ ڈھیروں درود وسلام نازل فرمائے آپ پر، آپ کے نیک اور معزز اہلِ خانہ اور اولاد پر۔
پہلا خطبہ
اما بعد، اے لوگو! اللہ تعالی سے ڈرو، اور نعمتِ اسلام پر اس کا شکر ادا کرو، بے شک اللہ سبحانہ وتعالی نے اس امت پر ماہ رمضان کے روزے فرض کیے ہیں، اور اسے اسلام کا ایک رکن بنایا ہے، چنانچہ رمضان کا روزہ ہر بالغ، عاقل مسلمان پر مہینے کے شروع سے لے کر آخر تک فرض ہے، ...تم میں سے جو شخص اس مہینہ کو پائے اسے روزه رکھنا چاہئے... [البقرہ: 184]، ماہ رمضان میں لوگوں کے مختلف حالات ہوتے ہیں، جو شخص صحت مند ہو اور مقیم ہو، اس پر ماہ رمضان کے ہر دن کا روزہ رکھنا فرض ہے۔ وہ مریض جس کے لیے روزہ رکھنا مشکل ہو یا اسے کھانے پینے کی ضرورت ہو؛ تو وہ روزہ توڑ سکتا ہے اور دوسرے ایام میں چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کرے گا۔ اسی طرح وہ مسافر جس کے لیے قصر کرنا جائز ہو اور اس کے سفر کی مسافت 80 کلومیٹر یا اس سے زیادہ ہو؛ تو وہ بھی روزہ چھوڑ سکتا ہے اور دوسرے ایام میں چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کرے گا، ارشاد ربانی ہے: پس تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وه اور دنوں میں گنتی کو پورا کر لے۔ [البقرۃ: 184]، جو شخص بڑھاپے یا عمر درازی کی وجہ سے روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتا ہو، یا کسی ایسی دائمی بیماری میں مبتلا ہو جس کے باعث وہ روزہ رکھنے پر قادر نہ ہو اور مستقبل میں اس کی قضا بھی نہیں کر سکتا ہو؛ تو وہ ہر دن کے بدلے میں ایک مسکین کو کھانا کھلائے گا، فرمان الٰہی ہے: ... اور جو لوگ [بمشکل] اس کی طاقت رکھتے ہوں ان پر فدیہ ایک مسکین کا کھانا ہے... [البقرۃ: 184]، روزے کے معاملے میں لوگوں کے یہی احوال ہیں۔
صیام کا لغوی معنی ’رک جانا‘ ہے، جب کہ شریعت میں: صیام نیت کے ساتھ طلوعِ فجر ثانی سے غروب آفتاب تک روزہ توڑنے والی حسی اور معنوی چیزوں سے باز رہنے کا نام ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگا سیاه دھاگے سے ظاہر ہوجائے۔ پھر رات تک روزے کو پورا کرو۔ [البقرۃ: 187]، طلوع فجر سے غروب آفتاب تک پورا دن نیت پر قائم اور برقرار رہنا ضروری ہے؛ کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس نے رات کو نیت نہیں کی اس کا کوئی روزہ نہیں۔“ ایک دوسری روایت میں ہے: ”اس شخص کے لیے جس نے طلوعِِ فجر سے پہلے نیت نہیں کی۔“ [ترمذی: 730، نسائی: 2334، ابن ماجہ: 1700]، معلوم ہوا کہ روزہ میں نیت کرنا ضروری ہے، چنانچہ اگر کوئی شخص بلا نیت کھانے، پینے اور روزہ توڑنے والی چیزوں سے رکا رہے؛ تو اسے شرعاً روزہ دار نہیں کہا جائے گا۔
یہ بھی جان لیجیے، اللہ آپ پر رحم فرمائے، کہ کچھ چیزیں روزے کو باطل کر دیتی ہیں جن سے بچنا روزہ دار پر واجب ہے:
پہلی چیز: جو چیز کسی بھی راستے سے پیٹ میں داخل ہو یا داخل کی جائے؛ اس سے روزہ دار کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے، جیسے جان بوجھ کر کھانا اور پینا، البتہ جس نے بھول چوک میں کچھ کھا پی لیا، تو اس کا روزہ باقی رہتا ہے اور وہ معذور ہے، آپ ﷺ کا یہ فرمان اس کی دلیل ہے: ”جس نے روزے کی حالت میں بھول کر کھا پی لیا وہ اپنا روزہ مکمل کرے۔ اسے اللہ نے کھلایا اور پلایا ہے۔“ [متفق علیہ بروایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ]، انہی میں ایسی ادویات کا استعمال بھی ہے جنہیں روزے دار نگلتا ہے، یا جو اسے انجکشن کے ذریعے لگائی جاتی ہیں اور پیٹ تک پہنچ جاتی ہیں، جیسے: گولیاں، سیرپ اور طبی محلول جو اس کے پیٹ تک پہنچتے ہیں، اس سے اس کا روزہ باطل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح غذا بخشنے والے انجکشن سے بھی روزہ ٹوٹ جاتا ہے؛ کیونکہ وہ کھانے اور پینے کے معنی میں ہے، یا وہ انجکشن جو نس میں دی جاتی ہے؛ کیونکہ وہ خون میں شامل ہو کر جسم میں گردش کرتا ہے، اس سے بھی روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ البتہ وہ انجکشن جو جلد کے نیچے یا پٹھوں میں لگائے جاتے ہیں؛ ان سے روزے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اسی طرح روزہ توڑنے والی چیزوں میں وہ چیز بھی شامل ہے جو معدے سے نکالی جائے، جیسے منہ کے راستے سے قے کرنا، بایں طور کہ روزے دار اپنے معدے میں موجود چیز کو منہ کے راستے سے نکال دے، چنانچہ اگر وہ جان بوجھ کر قے کرے تو اس کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے، لیکن اگر کسی کو بلا اختیار قے آ جائے اور اس میں اس کا کوئی اختیار نہ ہو، تو اس سے اس کے روزے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
اسی طرح ہمبستری، مشت زنی یا کچھ دیکھنے کی وجہ سے منی نکل آنا بھی روزہ کو فاسد کرنے والے امور میں سے ہے، مثلاً عورتوں کی طرف بار بار دیکھے اور اس سے منی نکل آئے؛ کیونکہ یہ بھی جماع کی ایک قسم ہے کہ بندہ جان بوجھ کر اپنی شہوت بھڑکائے، جب اس نے اپنے کسی عمل کی وجہ سے شہوت خارج کی تو اس سے اس کا روزہ فاسد ہو جائے گا؛ کیونکہ روزے کی حالت میں جن چیزوں سے رکنا ضروری ہے ان میں شہوت بھی شامل ہے، اللہ تعالیٰ نے حدیثِ قدسی میں روزہ دار کے بارے میں فرمایا ہے: ”وہ میری خاطر اپنی خواہشات، کھانا اور پینا چھوڑتا ہے۔“ [متفق علیہ بروایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ]، اس لیے ضروری ہے کہ جس طرح وہ کھانا اور پینا چھوڑ دیتا ہے، اسی طرح شہوت کا اخراج بھی چھوڑ دے؛ کیونکہ یہ ان روزہ توڑنے والی چیزوں میں سے ہے جو روزے کو باطل کر دیتی ہیں۔
اسی طرح جن باتوں سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ان میں حجامہ بھی ہے، یعنی یہ علاج کی غرض سے خون نکالنا؛ اس لیے کہ یہ روزہ دار کو کمزور اور اس کی طاقت کو ختم کر دیتا ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: ”پچنہ (سینگی) لگانے اور لگوانے والے نے روزہ توڑ دیا۔“ [ترمذی: 774، احمد: 15866، اسے متعدد اہل علم نے صحیح کہا ہے]، سینگی ہی کے حکم میں یہ بھی ہے کہ کسی مریض کی جان بچانے یا عطیہ دینے کے لیے طبی طریقے سے خون نکالا جائے؛ اس سے بھی روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اس لیے کہ یہ سینگی کی مانند ہے جس کے ذریعے زیادہ خون نکالا جاتا ہے، البتہ اگر تھوڑا سا خون نکالا جائے جیسا کہ جانچ کی غرض سے نکالا جاتا ہے اور اس کی مقدار کم ہوتی ہے، تو اس سے روزہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
اسی طرح عورتوں کو آنے والا حیض کا خون بھی روزے کے مبطلات میں سے ہے، کیونکہ یہ بھی عورت اور اس کی قوت کو کمزور کر دیتا ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اسے روزہ رکھنے سے منع فرمایا اور اس پر قضا واجب کی ہے۔ ...دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کرنی چاہیے... [البقرۃ: 184]، جہاں تک استحاضہ کی بات ہے، جوکہ بہنے والا وہ خون ہے جو عورت کو حیض کے مخصوص دنوں کے علاوہ آتا ہے، تو اس سے روزہ متاثر نہیں ہوتا، چنانچہ استحاضہ والی عورت روزہ رکھے گی کیوں کہ وہ پاک عورتوں کے حکم میں ہے۔ اسی طرح اگر انسان زخمی ہو جائے اور اس سے خون بہنے لگے، تو اس سے اس کا روزہ متاثر نہیں ہوتا، کیوں کہ یہ بلا اختیار ہے۔ لہٰذا، اللہ آپ پر رحم فرمائے، آپ اپنے روزوں کو روزہ توڑنے والی دیگر تمام چیزوں سے محفوظ رکھیں۔
اسی طرح، جیسا کہ ہم نے ذکر کیا، روزے دار پر واجب ہے کہ وہ اپنی نیت کو برقرار رکھے۔ چنانچہ اگر روزے دار روزہ توڑنے کی نیت کر لے تو اس کا روزہ باطل ہو جائے گا، خواہ اس نے کچھ بھی نہ کھایا ہو۔ اگر اس نے فرض روزے کی حالت میں روزہ توڑنے کی نیت کر لی تو اس کا روزہ باطل ہو جائے گا، کیونکہ اس نے نیت توڑ دی، گرچہ اس نے کچھ کھایا یا پیا نہ ہو۔ لہذا اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو، اور اپنے روزوں کو ہر اس چیز سے محفوظ رکھو جو روزے کو فاسد کر دے یا اس کے ثواب میں کمی پیدا کر دے۔ میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔ گنتی کے چند ہی دن ہیں لیکن تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وه اور دنوں میں گنتی کو پورا کر لے اور [بمشکل] اس کی طاقت رکھنے والے فدیہ میں ایک مسکین کو کھانا دیں، پھر جو شخص نیکی میں سبقت کرے وه اسی کے لیے بہتر ہے لیکن تمہارے حق میں بہتر کام روزے رکھنا ہی ہے، اگر تم باعلم ہو۔ ماه رمضان وه ہے جس میں قرآن اتارا گیا جو لوگوں کو ہدایت کرنے واﻻ ہے اور جس میں ہدایت کی اور حق وباطل کی تمیز کی نشانیاں ہیں، تم میں سے جو شخص اس مہینہ کو پائے اسے روزه رکھنا چاہیے، ہاں جو بیمار ہو یا مسافر ہو اسے دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کرنی چاہیے، اللہ تعالیٰ کا اراده تمہارے ساتھ آسانی کا ہے، سختی کا نہیں، وه چاہتا ہے کہ تم گنتی پوری کرلو اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی بڑائیاں بیان کرو اور اس کا شکر کرو۔ [البقرة: 183-185]۔
اللہ مجھے اور آپ کو قرآنِ عظیم کی برکت عطا فرمائے، اور ہمیں اس میں موجود بیان اور ذکرِ حکیم سے نفع پہنچائے۔ میں اپنی یہ بات کہتا ہوں اور اللہ سے اپنے لیے، آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے ہر گناہ کی مغفرت طلب کرتا ہوں، آپ بھی اس سے مغفرت طلب کریں، بے شک وہی بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔
دوسرے خطبہ کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اس کے فضل اور احسان پر، میں اس کی توفیق اور انعامات پر اس کا شکر ادا کرتا ہوں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل واصحاب پر کثرت سے درود وسلام نازل فرمائے۔
دوسرا خطبہ
اما بعد! اللہ کے بندو، اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ روزہ توڑنے والی چیزوں میں وہ محلولات بھی شامل ہیں جو گردوں کی صفائی یا معدے کی صفائی کے لیے استعمال کی جاتی ہیں، جنہیں پیٹ کے اندر داخل کیا جاتا ہے اور پھر نکال لیا جاتا ہے، کیونکہ یہ بھی روزہ دار کا روزہ توڑ دیتی ہیں۔ اسی طرح روزہ دار غیبت، چغلی، گالی گلوج اور جھوٹ بولنے سے بچے، اور اپنی زبان کو ہر اس چیز سے محفوظ رکھے جو اس کے روزے کو مجروح کرے۔ صرف کھانے، پینے اور مباح چیزوں سے رک جانا مقصود نہیں؛ بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ان حرام کردہ چیزوں کا ترک کرنا بھی مقصود ہے جن سے بچنا ویسے تو ہر وقت واجب ہے، لیکن روزہ دار کے لیے اس کی زیادہ تاکید آئی ہے۔ اس لیے کہ یہ چیزیں اس کے روزے کو مجروح کرتی ہیں، اور اس کے ثواب میں کمی پیدا کرتی ہیں یا اس کا اجر ختم کر دیتی ہیں، چنانچہ اس کے روزے کا حصہ محض بھوک اور پیاس رہ جاتا ہے اور اس کے لیے اس میں کوئی اجر نہیں ہوتا، اس وجہ سے کہ اس نے ان امور سے اپنی زبان کو محفوظ نہیں رکھا۔ اسی طرح وہ اپنے کان کی حفاظت کرے، چنانچہ گانے بجانے سے اور آلاتِ موسیقی سے دور رہے، نہ غیبت اور چغلی سنے، اور نہ ہی ذرائع ابلاغ میں نشر ہونے والے ایسے بیہودہ اور مزاحیہ پروگرام جو اسے اللہ عزوجل کے ذکر سے غافل کر دے، وہ ان چیزوں میں اپنا وقت ضائع نہ کرے کیونکہ ایسا کرنے سے وہ گنہگار ہوگا۔ اسی طرح وہ اپنی نگاہ کی بھی حفاظت کرے اور ٹی وی اسکرینوں اور سیٹلائٹ چینلز پر دکھائی جانے والی اللہ کی حرام کردہ فتنہ انگیز تصاویر اور مناظر سے اپنی نگاہ نیچی رکھے جن میں برہنہ یا نیم برہنہ عورتوں کو پیش کیا جاتا ہے، اس پر واجب ہے کہ وہ اپنی نگاہ کو ہر اس چیز سے محفوظ رکھے جو اس کے روزے کو مجروح کرے۔ لہٰذا اللہ کے بندو، اللہ سے ڈرو اور ہر کمزور کرنے والی اور فاسد کرنے والی چیز سے اپنے روزوں کی حفاظت کرو۔ جان لو کہ بہترین کلام اللہ کی کتاب ہے، بہترین طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے، اور بدترین کام دین میں نئی نکالی گئی بدعتیں ہیں، اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ تم پر جماعت کے ساتھ وابستہ رہنا لازم ہے، کیونکہ جماعت پر اللہ کا ہاتھ ہے، اور جو جماعت سے الگ ہوا وہ آگ میں جا گرا۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود بھیجو اور خوب سلام بھیجتے رہا کرو۔ [الاحزاب: 56]، اے اللہ! اپنے بندے اور رسول، ہمارے نبی محمد ﷺ پر درود وسلام نازل فرما۔ اے اللہ! خلفائے راشدین، ہدایت یافتہ ائمہ؛ ابوبکر، عمر، عثمان اور علی سے راضی ہو جا، اور تمام صحابہ کرام، تابعین اور قیامت تک احسان کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں سے بھی راضی ہو جا۔ اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، شرک اور مشرکین کو ذلیل ورسوا کر، دین کے دشمنوں کو ہلاک وبرباد کر، اس ملک کو اور عام طور پر مسلمانوں کے تمام ممالک کو امن وسکون کا گہوراہ بنا دے، اے رب العالمین! اے اللہ! جو شخص اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے، اسے اسی کی ذات میں الجھا دے، اس کی سازش کو ہم سے دور کر دے، اس کی سازش کو اسی کے گلے کا طوق بنا دے، اور اس کی تدبیر ہی کو اس کی تباہی کا سبب بنا دے، بے شک تو ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ اے اللہ! ہمیں ظاہری اور پوشیدہ ہر طرح کے فتنوں کے شر سے محفوظ رکھ۔ اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے اس دین کی حفاظت فرما جو ہمارے تمام معاملات کے بچاؤ کا ذریعہ ہے، ہماری اس دنیا کی اصلاح فرما جس میں ہماری روزی ہے، اور ہماری آخرت کو سنوار دے جس کی طرف ہمیں لوٹ کر جانا ہے۔ اے اللہ! ہمارے حکمرانوں کی اصلاح فرما، اور انہیں ہدایت کی طرف دعوت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنا، نہ کہ گمراہ اور گمراہی کی طرف بلانے والا۔ اے اللہ! ہماری باگ ڈور ان لوگوں کے سپرد کر دے جو تجھ سے ڈرتے ہوں، تیرا تقویٰ اختیار کرتے ہوں اور تیری رضا کی پیروی کرتے ہوں، اے رب العالمین! اے اللہ! ان کے رفقاء اور مشیروں کی اصلاح فرما، اور برے اور فساد پھیلانے والے رفقا کو ان سے دور رکھ۔ اے اللہ! انہیں ہدایت کی طرف دعوت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنا، نہ کہ گمراہ اور گمراہی کی طرف بلانے والا۔ اے اللہ! ہر جگہ مسلمانوں کے حکمرانوں کی اصلاح فرما، اے رب العالمین! اے اللہ! ہم سے ان مصیبتوں کو دور فرما جنہیں تیرے سوا کوئی دور نہیں کر سکتا۔ ہم تیرے اچانک عذاب، تیری دی ہوئی عافیت کے چھن جانے، اور تیری ہر طرح کی ناراضی سے تیری پناہ مانگتے ہیں، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ تو ہی ہمارا مولا ہے، اور تو سب سے اچھا مولا اور سب سے اچھا مددگار ہے، اللہ ہمارے لیے کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔
اللہ کے بندو! اللہ تعالیٰ عدل کا، بھلائی کا اور قرابت داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی کے کاموں، ناشائستہ حرکتوں اور ظلم وزیادتی سے روکتا ہے، وه خود تمہیں نصیحتیں کر رہا ہے کہ تم نصیحت حاصل کرو۔ اور اللہ کے عہد کو پورا کرو جب کہ تم آپس میں قول وقرار کرو اور قسموں کو ان کی پختگی کے بعد مت توڑو، حاﻻنکہ تم اللہ تعالیٰ کو اپنا ضامن ٹھہرا چکے ہو، تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس کو بخوبی جان رہا ہے۔ [النحل: 90-91]۔ اس لئے تم اللہ کا ذکر کرو، وہ بھی تمہیں یاد کرے گا، اس کی نعمتوں پر اس کی شکر گزاری کرو، وہ تمہیں مزید عطا فرمائے گا، یقیناً اللہ کا ذکر سب سے بڑی چیز ہے، اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اسے جانتا ہے۔
***
خطبہ کا عنوان
شبِ قدر اور زکوٰۃ الفطر کے احکام
پہلے خطبہ کا مقدمہ
ساری تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے اپنے فضل سے اپنے بندوں کو خیر وبھلائی کے بہت سے موسم عطا کیے، ان میں سے جسے چاہا نیک اعمال کے ذریعے ان موسموں کو غنیمت جاننے کی توفیق عطا فرمائی، اور ان میں سے جسے چاہا محروم کر دیا تو اس کے حصے میں کوتاہی، خسارہ اور ندامتیں آئیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، وہ زمین اور آسمانوں کا رب اور بے پناہ کرم، سخاوت اور نوازشوں کا مالک ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، جو تمام مخلوقات میں سب سے افضل ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل اور صحابہ پر اور ہر دور اور وقت میں احسان کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں پر ڈھیروں درود وسلام نازل فرمائے۔
پہلا خطبہ:
اما بعد: اے لوگو! اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور خیر کے موسموں کو غنیمت جانتے ہوئے انہیں ایسے اعمال سے آباد کرو جو تمھیں اپنے رب کے قریب کر دیں، اس میں کوتاہی کرنے اور موقع کو ضائع کرنے سے خبردار رہو، کیوں کہ تم اپنی کوتاہیوں اور ضائع کرنے پر نادم ہو گے۔
میرے بھائیو! جس نے اس مبارک مہینے میں نفع نہیں کمایا، تو وہ کس وقت نفع کمائے گا؟ جس نے اس ماہ میں اپنے مولا کی طرف رجوع نہیں کیا، تو وہ کس وقت رجوع کرے گا، اور اپنی اصلاح کرے گا؟ جو نیکیوں سے پیچھے رہا، اسے کس وقت استقامت حاصل ہوگی، اور کب وہ فلاح پائے گا؟ لہٰذا اللہ تم پر رحم فرمائے، اس مہینے کے مواقع کو غنیمت جانو اور عمل میں جلدی کرو قبل اس کے کہ وہ ہاتھ سے نکل جائیں، اور اپنی جانوں کو ان کاموں سے بچاؤ جن میں ان کی بدبختی اور ہلاکت ہے۔ جان لو! تمھارا یہ مبارک مہینہ کم اور ختم ہونے لگا ہے، اس کی قیمتی راتیں اور دن اپنے اختتام کے قریب آچکے ہیں۔ لہٰذا مسلمانو! اعمالِ صالحہ کے ذریعے اس کے باقی ماندہ حصے کو استعمال میں لاؤ، عظمت و جلال والے رب کے حضور اپنے گناہوں سے توبہ کرنے میں جلدی کرو، اور جان لو کہ اعمال کا دار ومدار اختتام پر ہے، لہٰذا اختتام میں اچھا عمل کرلو۔ یقیناً اس مبارک مہینے کے دو تہائی حصے گزر چکے ہیں، اور اس کا ایک تہائی حصہ یعنی دس بہترین دن باقی رہ گئے ہیں، چنانچہ پختہ ارداوں کے ساتھ بھلائی واحسان کے کاموں کے لیے انھیں غنیمت جانو، اور ان کی اندھیری راتوں میں اپنے رب کے سامنے عاجزی کے ساتھ قیام کرو، اس کی نیکیوں اور بھلائیوں کی امید رکھتے ہوئے، اور اس کے عذاب اور سزا سے پناہ اور امان مانگتے ہوئے۔ بے شک وہ اللہ تعالیٰ سب سے بڑھ کر کرم کرنے والا اور سب سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے، اور وہی فرماتا ہے: اور جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں ہر پکارنے والے کی پکار کو جب کبھی وه مجھے پکارے، قبول کرتا ہوں۔ اس لیے لوگوں کو بھی چاہیے کہ وه میری بات مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں، یہی ان کی بھلائی کا باعث ہے۔ [البقرۃ: 186]۔ وہی ہے جو ہر رات جب کہ رات کا آخری ایک تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے، آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے، پھر اپنے بندوں کے سامنے جود وکرم اور بخشش پیش فرماتا ہے اور اعلان کرتا ہے: ہے کوئی مجھ سے دعا کرنے والا کہ میں اس کی دعا قبول کروں؟ ہے کوئی مجھ سے مانگنے والا کہ میں اسے دوں؟ ہے کوئی مجھ سے بخشش طلب کرنے والا کہ میں اس کو بخش دوں؟
اسی عشرے میں مبارک شب قدر ہے، جس میں ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے اور اس میں اللہ عزیز، علیم اور حکیم کے حکم سے اس سال پیش آنے والے سارے معاملات مقدر فرمائے جاتے ہیں۔ اس میں آسمان سے فرشتے اترتے ہیں اور خیرات، فوائد وثمرات اور نعمتیں کثرت سے نازل ہوتی ہیں۔ جس شخص نے ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے اس رات قیام کیا تو اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، اور جس نے اس میں کوتاہی کی اور اس کی بھلائی سے محروم رہ گیا، تو درحقیقت وہی ملامت اور محرومی کا سزاوار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس عشرے میں شب قدر کو مخفی رکھا ہے اور اسے متعین نہیں فرمایا تاکہ لوگ اس عشرے کی تمام راتوں میں تہجد، تلاوتِ قرآن اور نیک اعمال کے ذریعے زیادہ سے زیادہ توشہِ آخرت اکٹھا کر سکیں، اور تاکہ اس کے ذریعہ بھلائیوں کی طلب میں چست اور سست انسان کے درمیان فرق بھی واضح ہو جائے، کیوں کہ اگر لوگوں کو یہ رات متعین طور پر معلوم ہو جاتی تو ان کی اکثریت اس کے ما سوا دیگر راتوں کو چھوڑ کر صرف اسی رات کے قیام پر اکتفا کر لیتی۔
اگر انھیں اس کی متعین رات کا علم ہو جاتا تو بلند ہمتی اور پست ہمتی کا امتحان کامل نہیں ہوتا۔ لہذا اللہ تم پر رحم کرے، اسے پوری کوشش اور اخلاص کے ساتھ تلاش کرو، اور اس میں اللہ سے نیکیوں اور بھلائیوں کی غنیمت اور (روحانی) افلاس سے سلامتی طلب کرو۔ چنانچہ جب تم کسی رحمت والی آیت سے گزرو، تو اللہ سے اس کا فضل مانگو، اور جب کسی عذاب کی وعید والی آیت سے گزرو، تو اس کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو، اپنے رکوع میں عظمت اور جلال والے (اللہ) کی کثرت سے بڑائی بیان کرو۔ اور رہی سجدے کی بات، تو اس میں تسبیح پڑھنے کے بعد اپنی پسند کی دعائیں مانگنے کی بھرپور کوشش کرو، کیوں کہ بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب وہ سجدے کی حالت میں ہوتا ہے۔ انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے لیے، اپنے والدین، اپنی اولاد، اپنے رشتہ داروں اور جن مسلمانوں سے وہ محبت کرتا ہے، ان کے لیے دعا کرے۔ رکوع کے بعد کھڑے ہونے اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے کو لمبا کرو تاکہ نماز کے ارکان یعنی قیام، رکوع، جلوس اور سجدہ کے درمیان مناسبت برقرار رہے۔ رکوع کے بعد کھڑے ہونے کا مقام حمد اور ثنا کا مقام ہے، لہذا اس میں کثرت سے حمد اور ثنا بیان کرو، اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے کا مقام مغفرت اور رحمت کی دعا کا مقام ہے، لہذا اس میں کثرت سے دعا کرو۔ قیام اللیل (تہجد) کا آغاز دو ہلکی رکعتوں سے کرو؛ کیوں کہ جب بندہ سو جاتا ہے تو شیطان اس کی گدی پر تین گرہیں لگا دیتا ہے۔ چنانچہ جب وہ اٹھ کر اللہ کا ذکر کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، پھر جب وہ طہارت حاصل کرتا ہے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے، پھر جب وہ نماز پڑھتا ہے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے۔ لیکن جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں آئے اور امام نماز کھڑی ہو چکی ہو، تو وہ جماعت میں شامل ہو جائے، چاہے اس نے قیام کا آغاز دو ہلکی رکعتوں سے نہ بھی کیا ہو؛ کیوں کہ امام کی پیروی کرنا زیادہ اہم ہے۔ یہاں اس بات کا دھیان رہے کہ بعض لوگ نماز شروع ہونے کے بعد صف میں مؤذن یا قاری کے لیے خالی جگہ چھوڑ دیتے ہیں، جو کہ شریعت کے خلاف ہے۔ کیوں کہ مشروع عمل یہ ہے کہ جب نماز شروع ہو جائے تو صفوں کی خالی جگہیں پُر کی جائیں اور مل کر کھڑے ہوا جائے۔ لہذا جب مؤذن یا قاری آئے، تو وہ وہاں کھڑا ہو جہاں صف ختم ہو رہی ہو۔
میں شیطان مردود کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں، اللہ تعالی نے لیلۃ القدر کی فضیلت کے بارے میں فرمایا: یقیناً ہم نے اسے قدر والی رات میں نازل فرمایا۔ اور آپ کو کیا معلوم کہ قدر والی رات کیا ہے؟ قدر والی رات ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس (میں ہر کام) سر انجام دینے کو اپنے رب کے حکم سے فرشتے اور روح (جبرائیل) اترتے ہیں۔ یہ رات سراسر سلامتی کی ہوتی ہے اور فجر کے طلوع ہونے تک (رہتی ہے)۔ [القدر: 1-5]
اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو قرآنِ عظیم کی برکت سے نوازے۔
دوسرے خطبہ کا مقدمہ
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم پر شریعتِ اسلام نازل کرکے احسان فرمایا، ہمارے لیے ایسے نیک اعمال مشروع کیے جو اس کی قربت کا باعث ہیں، تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے صیام وقیام کو آسان فرما کر ہم پر انعام کیا، اور ان اعمال کو انجام دینے والوں کا ثواب یہ مقرر فرمایا کہ ان کے گناہ مٹا دیے جاتے ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، وہ صاحبِ جلال واکرام ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، جو نماز پڑھنے، زکوٰۃ دینے، حج کرنے اور روزہ رکھنے والوں میں سب سے افضل ہیں۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل واصحاب پر اور ان پر جو خیر وبھلائی کے ساتھ آپ کی پیروی کرتے ہیں، ڈھیروں درود وسلام نازل فرمائے۔
دوسرا خطبہ
اما بعد! اے لوگو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو، اور اپنے احوال پر غور وفکر کرو کہ تم نے اپنے اس ماہِ مکرم میں کیا اعمال کیے ہیں، کیونکہ یہ ایک معزز مہمان ہے جس کے رخصت ہونے کا وقت قریب آ پہنچا ہے اور یہ کوچ کر جانے والا ہے۔ تم نے اس میں جو اعمال کیے ہیں، ان کی بنا پر یہ تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف گواہ ہوگا۔ اے مسلمانو! اس مہینے کے جو ایام باقی رہ گئے ہیں، ان میں نیک اعمال اور اللہ کے حضور توبہ واستغفار کرنے میں جلدی کرو، تاکہ تم سے جو کوتاہیاں اور غفلتیں سرزد ہوئی ہیں ان کی تلافی ہو سکے۔ بلاشبہ اس بابرکت مہینے کے دن روزے، ذکر اور قرآن سے آباد تھے اور اس کی راتیں نماز اور قیام سے روشن تھیں، اور اس میں متقیوں کا حال بالکل ویسا ہی تھا جیسا ہونا چاہیے اور جس کی طلب کی جاتی ہے۔ چنانچہ وہ روشن دن اور موتیوں جیسی راتیں دن کی ایک گھڑی کی مانند گزر گئیں۔ ان راتوں اور دنوں کے گزر جانے پر افسوس! ہمارے اس مہینے کے اوقات تیزی سے گزر گئے، اور ان کا بیشتر حصہ کوتاہیوں میں ضائع ہو گیا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ جو وقت گزر گیا ہے اس کا ہمیں بہترین نعم البدل عطا فرمائے، اور جو وقت باقی رہ گیا ہے اس میں ہمارے لیے برکت عطا فرمائے، ہمارے اس مہینے کا اختتام عفو و درگزر، بخشش، شرفِ قبولیت، جہنم کی آگ سے نجات اور ہماری امیدوں کی تکمیل کے ساتھ کرے، اور اس جیسے مہینے ہم پر خیر، امن اور ایمان کی حالت میں بار بار لوٹاتا رہے۔
اے مسلمانو! بلاشبہ ہمارے رب کریم نے اس مہینے کے اختتام پر ہمارے لیے ایسی عظیم عبادتیں مشروع کی ہیں جن سے ہمارے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے، ہماری عبادتیں مکمل ہوتی ہیں، اور ہم پر ہمارے رب کی نعمت تمام ہوتی ہے۔ ہمارے رب نے اس مہینے کے اختتام پر ہمارے لیے زکوۃ الفطر، تکبیر اور نماز عید کو مشروع کیا ہے۔ چنانچہ جہاں تک زکوۃ الفطر کا تعلق ہے، تو وہ ایک صاع طعام ہے؛ ایک صاع گیہوں یا چاول یا کھجور، یا ان کے علاوہ انسانوں کی عام غذا میں سے کوئی اور چیز۔ ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اللہ کے رسول ﷺ نے صدقۂ فطر ایک صاع اناج فرض کیا۔“ [متفق علیہ]، ان اجناس میں سے جو بھی فقرا کے لیے زیادہ عمدہ اور نفع بخش ہوگی، وہ اسی قدر افضل اور بڑے اجر کا باعث ہوگی، لہٰذا اسے خوش دلی سے ادا کریں، اور جو کچھ آپ کو میسر ہو اس میں سے سب سے عمدہ چیز نکالیں، کیوں کہ آپ ہرگز نیکی کو نہیں پا سکتے جب تک کہ اپنی پسندیدہ چیزوں میں سے خرچ نہ کریں۔ الحمد للہ، یہ ایک معمولی سی مقدار ہے جو سال میں صرف ایک بار واجب ہوتی ہے، تو پھر انسان سب سے عمدہ چیز کا انتخاب کرنے کا اہتمام کیوں نہ کرے جب کہ وہ اللہ کے نزدیک زیادہ افضل اور بڑے اجر کی حامل ہے۔ انسان کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ ایک صدقۂ فطر کئی فقرا میں تقسیم کر دے، اور ایک فقیر کو دو یا اس سے زیادہ صدقۂ فطر دے دے؛ کیونکہ نبی ﷺ نے صدقۂ فطر کی مقدار ایک صاع مقرر فرمائی ہے، اور جسے دیا جائے اس کے لیے کوئی مقدار متعین نہیں کی، جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملے میں وسعت ہے۔ اس بنا پر اگر گھر والے اپنا صدقۂ فطر ناپ کر ایک ہی تھیلے میں جمع کر لیں، اور پھر تقسیم کرنے کے لیے اس میں سے بغیر ناپے نکالتے رہیں، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
زکاۃ الفطر تمام مسلمانوں پر فرض ہے، چاہے وہ چھوٹے ہوں یا بڑے، مرد ہوں یا عورت۔ آپ اسے اپنی جانب سے اور ان تمام لوگوں کی جانب سے ادا کریں جن کا نفقہ آپ کے اوپر واجب ہے جیسے بیویاں اور رشتہ دار۔ پیٹ میں موجود حمل کی جانب سے اسے نکالنا واجب نہیں، البتہ اگر اس کی جانب سے بھی نکال دیا جائے تو یہ بہتر ہے۔ صدقۂ فطر عید کے دن نماز سے قبل نکالنا افضل ہے، اور اسے عید سے صرف دو دن پہلے نکالنا بھی جائز ہے۔ نمازِ عید کے بعد اسے ادا کرنا کفایت نہیں کرتا، سوائے اس کے کہ انسان لاعلم ہو اور نہ جانتا ہو، جیسے عید اچانک آ جائے اور وہ نماز سے قبل اسے ادا نہ کر سکے، یا وہ یہ سمجھتا ہو کہ اسے نماز کے بعد تک مؤخر کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، تو ایسے شخص کے لیے نماز کے بعد ادا کرنا بھی کفایت کر جائے گا۔ زکاۃ الفطر خاص طور پر صرف فقراء کو دینا ہی کفایت کرتا ہے، اور واجب یہ ہے کہ یہ اپنے وقت پر فقیر یا اس کے وکیل تک پہنچ جائے۔
جہاں تک تکبیر کا تعلق ہے تو اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں اس کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: ...اور تاکہ تم گنتی پوری کرو اور اللہ کی بڑائی بیان کرو اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت دی... [البقرۃ : 185]۔ یعنی: اس مہینے میں روزے، قیام اور دیگر عبادات کی جو اس نے تمہیں توفیق اور ہدایت دی اس پر، چنانچہ اے مسلمانو! عید کی رات کا سورج غروب ہونے سے لے کر نماز تک تکبیریں کہو، یہ کہو: "اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ"۔ مسجدوں، بازاروں اور گھروں میں اسے بلند آواز سے کہو، سوائے عورتوں کے، وہ بلند آواز کے بجائے پست آواز میں تکبیر کہیں۔
جہاں تک نماز کا تعلق ہے تو رسول اللہ ﷺ نے اس کا حکم دیا ہے یہاں تک کہ عورتوں کو بھی، اللہ تم پر رحم فرمائے، مرد اور عورت، چھوٹے اور بڑے سب نماز کے لیے نکلیں۔ عورتیں اس حال میں نکلیں کہ نہ بناؤ سنگھار کیے ہوں اور نہ خوشبو لگائی ہوں۔ حیض والی عورتیں عیدگاہ سے دور رہیں؛ کیونکہ عیدگاہ مسجد ہے۔ البتہ مردوں کے لیے سنت یہ ہے کہ وہ غسل اور صفائی ستھرائی کے بعد اپنا بہترین لباس پہن کر اور خوشبو لگا کر نکلیں۔ سنت یہ ہے کہ انسان نماز کے لیے نکلنے سے پہلے طاق عدد میں کھجوریں کھائے، تین، یا پانچ، یا سات، یا اسی طرح کا کوئی طاق عدد۔
اللہ سے دعا ہے کہ وہ اس ماہِ فضیلت میں ہماری تمام عبادت کو قبول فرمائے اور ہماری تمام لغزشوں اور خطاؤں کی مغفرت فرمائے، بے شک وہی اس کا سزاوار اور اس پر قادر ہے، اور وہی تقویٰ اور مغفرت کا اہل ہے، اور تمام تعریفات اللہ رب العالمین کے لیے ہیں۔
***
خطبہ کا عنوان
عید کا دن اور ایامِ تشریق
پہلے خطبہ کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد چاہتے ہیں اور اسی سے بخشش طلب کرتے ہیں، ہم اپنے نفس اور اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا، اور وہ جسے گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور یہ کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہئیے اور دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا۔ [آل عمران: 102]، اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کرکے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں، اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو۔ بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے۔ [النساء: 1]، اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سیدھی اور سچی باتیں کیا کرو۔ تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے کام سنوار دے اور تمہارے گناه معاف فرما دے، اور جس نے بھی اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کی اس نے بڑی مراد پالی۔ [الاحزاب: 70 - 71]۔
پہلا خطبہ
اما بعد، اے لوگو! میں تمہیں اور اپنے آپ کو اللہ عز وجل سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں، حدودِ الہی کی پاسداری کرو اور اس کی حرمتوں کی تعظیم کرو۔ یہ (حکم ہے)، اور جو کوئی اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے تو بے شک یہ دلوں کے تقویٰ میں سے ہے۔ [الحج: 32]۔
اے مسلمانو! ابھی خیر وبرکت اور نیکیوں سے بھرے ہوئے یہ بابرکت دن گزرے ہی تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بعد عید کا دن عطا فرمایا، جو ان دس دنوں کا اختتام ہے، پھر اس کے بعد ایامِ تشریق کے مقررہ دن آئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک سب سے عظیم دن قربانی کا دن ہے، پھر یوم القر ہے۔“ [ابوداود: 1765، ابن خزیمہ: 2917، اور البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے]
جہاں تک یوم النحر کا تعلق ہے تو وہ ہمارا آج کا دن ہے، جو اللہ کے نزدیک سب سے عظیم دن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس کا نام ’یوم الحج الاکبر‘ رکھا ہے؛ کیوں کہ اس دن حجاج کرام کے لیے حج کے اعمال جمع ہو جاتے ہیں، چنانچہ اس میں جمرہ عقبہ کی رمی، بال منڈوانا یا چھوٹے کرنا، قربانی کے جانوروں کو ذبح کرنا، طوافِ افاضہ اور سعی شامل ہیں، اور اس دن مقیم حضرات بھی عید کی نماز، اپنے جانوروں کی قربانی، تکبیر اور اللہ کے ذکر کے ذریعے اپنے حجاج بھائیوں کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔
اور یوم القر، ایامِ تشریق کا پہلا دن ہے، یہ وہ دن ہیں جن میں حجاج کرام اپنے حج کے مناسک مکمل کرتے ہیں اور قربانی کے جانوروں کو ذبح کرتے ہیں، اور مقیم حضرات ان دنوں میں اپنے باقی ماندہ قربانی کے جانوروں کو ذبح کرتے ہیں، چنانچہ سب لوگ کھاتے پیتے ہیں، اور اللہ عزوجل نے انہیں جو رزق عطا فرمایا اور جس کی انہیں ہدایت دی اس پر اس کا ذکر کرتے ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا: ”ایام تشریق کھانے پینے اور اللہ کے ذکر کے دن ہیں۔“ [صحیح مسلم: 1141]۔
اے مسلمانو! ایامِ تشریق میں جو ذکر مشروع ہے اور جس کا حکم دیا گیا ہے، اس میں یہ امور بھی شامل ہیں: فرض نمازوں کے بعد سلام پھیر کر تکبیرِ مقید کے ذریعے اللہ جل وعلا کا ذکر کرنا، ہدی یا قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لینا اور تکبیر کہنا، نیز کھانے پینے کے دوران اللہ کا ذکر کرنا، یعنی ان کے شروع میں اللہ کا نام لینا اور آخر میں اللہ کی حمد بیان کرنا۔ اس بارے میں اللہ کے رسول ﷺ کی حدیث ہے: ”اللہ تعالی بندے کی اس بات سے خوش ہوتا ہے کہ وہ کھانا کھائے تو اس پر اللہ کی تعریف کرے یا پانی پیے تو اس پر اللہ کی تعریف کرے۔“ [صحیح مسلم: 2734]۔
ان بابرکت دنوں میں اللہ عز وجل کے ذکر میں یہ بھی شامل ہے کہ ان میں مناسک کی ادائیگی کے ذریعے اس کا ذکر کیا جائے، جیسے مشاعرِ مقدسہ میں وقوف، طواف، سعی، رمیِ جمار، (منی میں) رات گزارنا اور دیگر اعمال انجام دینا، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: تاکہ وہ اپنے فائدوں کے لیے حاضر ہوں اور چند مقررہ دنوں میں ان چوپایوں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے انہیں عطا کیے ہیں، پس تم اس میں سے خود بھی کھاؤ اور تنگ دست محتاج کو بھی کھلاؤ۔ [الحج: 28]۔
نیز اللہ پاک کا فرمان ہے: اور اللہ تعالیٰ کی یاد ان گنتی کے چند دنوں (ایام تشریق) میں کرو ، دو دن کی جلدی کرنے والے پر بھی کوئی گناه نہیں، اور جو پیچھے ره جائے اس پر بھی کوئی گناه نہیں، یہ پرہیزگار کے لیے ہے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تم سب اسی کی طرف جمع کیے جاؤ گے۔ [البقرۃ: 203]۔
ارشاد باری تعالی ہے: پھر جب تم ارکان حج ادا کر چکو تو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو جس طرح تم اپنے باپ داداؤں کا ذکر کیا کرتے تھے، بلکہ اس سے بھی زیاده... [البقرۃ: 200]۔ اے اللہ کے بندو! جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان عظیم نعمتوں سے نوازا ہے، جن میں عقیدے کی درستگی، وطنوں میں امن وامان، عقلوں کی سلامتی، جسموں کی عافیت، اور ایسی بے شمار نوازشیں اور نعمتیں شامل ہیں جنہیں شمار نہیں کیا جا سکتا، تو ہمارے لیے یہ بہت ضروری ہوجاتا ہے کہ ہم ہر جگہ رہنے والے اپنے مسلمان بھائیوں کو یاد رکھیں، اس سچی دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ کافر دشمنوں کے مقابلے میں ان کی مدد فرمائے، یا ایسے صدقے کے ذریعے جسے ہم پوشیدہ رکھیں اور خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے ادا کریں؛ کیونکہ شکر کی حقیقت اور اس کا کمال یہ ہے کہ اس میں زبان کا اقرار اور دل کا اعتراف دونوں جمع ہو جائیں، اور نعمتوں سے مدد لیتے ہوئے انہیں منعِم سبحانہ کی اطاعت میں استعمال کیا جائے۔ جہاں تک نعمتوں کو کسی بھی قسم کی نافرمانی میں استعمال کرنے کا تعلق ہے، تو یہ نعمت کی ناشکری اور منعم کا انکار ہے۔ لہٰذا، ہمیں ان گنتی کے چند دنوں میں اللہ کے ذکر اور اس کے شکر کا پابندی سے اہتمام کرنا چاہئے، نیز ذکر سے غفلت برتنے، اور اطاعت وشکر سے روگردانی سے بچنا چاہیے، اور حجاج کرام کے ساتھ ثواب اور اجر کی طلب میں شریک ہونا چاہیے، کیونکہ بھلائی کے دروازے بہت زیادہ ہیں، اور اللہ کی نوازش اس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ عقل مند وہ ہے جو خیرات وبرکات کے ان موسموں کو غنیمت جانے، اور انہیں عبادتوں اور نیکیوں میں گزارے، نوافل ومستحبات کو بکثرت انجام دے، گناہوں اور برائیوں سے دور رہے۔ حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”میرے نزدیک میرے فرض کردہ امور سے زیادہ محبوب کوئی اور چیز نہیں ہے جس کے ذریعے میرا بندہ میرا تقرب حاصل کرے۔ میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرے قریب ہوتا جاتا ہے، یہاں تک میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ جب میں اس سے محبت کرتا ہوں، تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں اسے ضرور عطا کرتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے پناہ مانگے تو میں اسے ضرور پناہ دیتا ہوں۔“ [صحیح بخاری: 6502]۔
میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔ اور ہر امت کے لئے ہم نے قربانی کے طریقے مقرر فرمائے ہیں تاکہ وه ان چوپائے جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نے انہیں دے رکھے ہیں ۔ سمجھ لو کہ تم سب کا معبود برحق صرف ایک ہی ہے، تم اسی کے تابع فرمان ہو جاؤ اور عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجئے! یہ وہ لوگ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جو مصیبت ان پر آئے اس پر صبر کرنے والے ہیں اور نماز قائم کرنے والے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ اور قربانی کے اونٹوں کو ہم نے تمہارے لیے اللہ کی نشانیوں میں سے بنایا ہے، ان میں تمہارے لیے بھلائی ہے۔ پس انہیں قطار میں کھڑا کر کے ان پر اللہ کا نام لو، پھر جب وہ اپنے پہلوؤں کے بل گر جائیں تو ان میں سے کھاؤ اور قناعت کرنے والے اور مانگنے والے کو بھی کھلاؤ۔ اسی طرح ہم نے انہیں تمہارے تابع کر دیا ہے تاکہ تم شکر کرو۔ اللہ کو ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ ان کے خون، بلکہ اس تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ اسی طرح اس نے انہیں تمہارے تابع کر دیا ہے تاکہ تم اس ہدایت پر اللہ کی بڑائی بیان کرو جو اس نے تمہیں عطا فرمائی ہے، اور نیکی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجیے۔ [الحج : 34 - 37]۔
دوسرے خطبہ کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، میں اس کی حمد بیان کرتا ہوں، اسی سے مدد چاہتا ہوں، اسی سے بخشش طلب کرتا ہوں، اسی سے ہدایت طلب کرتا ہوں، میں اس پر ایمان لاتا ہوں، اسی پر توکل کرتا ہوں، اور اس کا انکار نہیں کرتا، اور جو اس کا انکار کرے میں اس سے عداوت رکھتا ہوں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور یہ کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے، یقیناً وہ ہدایت پا گیا، اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے، وہ بھٹک گیا اور دور کی گمراہی میں جا پڑا۔
دوسرا خطبہ:
اما بعد، اللہ تعالیٰ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے، اور اس کی مغفرت اور رضا کی طرف جلدی کرو۔ ...اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے۔ اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو... [الطلاق: 2- 3]۔
اے مسلمانو! بے شک تم ایسے دنوں میں ہو جن میں کھانا اور پینا مستحب ہے تاکہ اللہ کے ذکر اور اس کی اطاعت کے لیے تمہیں قوت حاصل ہو، اسی لیے ان دنوں میں روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان دنوں میں روزے نہ رکھو، کیونکہ یہ کھانے پینے کے دن ہیں۔“ [السنن الکبری للنسائی: 2883، سنن ابن ماجہ: 1719، مسند ااحمد: 10664، البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے]
صحیح بخاری میں عائشہ اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ دونوں نے فرمایا: ایام تشریق میں روزہ رکھنے کی رخصت صرف اسی کو دی گئی ہے جو قربانی کا جانور نہ پاسکے۔
چنانچہ کھاؤ اور پیو، ایک دوسرے کو تحفے دو اور صدقہ کرو، ایک دوسرے سے میل جول رکھو اور ایک دوسرے پر رحم کرو، ایک دوسرے سے ملاقات کرو اور ایک دوسرے سے در گزر کرو، صلہ رحمی کرو اور قطع رحمی سے بچو، اپنی عید کے دنوں کو خوشی، مسرت اور شادمانی کے دن بناؤ، دنیا تمھیں ہرگز دھوکے میں نہ ڈالے، نہ تمھیں غافل کرے اور نہ تمھیں تفرقہ بازی میں ڈالے؛ کیونکہ یہ تو محض ایک گزرگاہ ہے۔
اے بھائیو! بلاشبہ ہمارا رب عز وجل بڑے احسان اور بے پایاں نوازش والا ہے، اس کے فضل کی کوئی حد نہیں اور نہ ہی وہ کسی مکان یا زمان میں محصور ہے، لہذا جو شخص کسی عذر کی بنا پر حج کی استطاعت نہ رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ بقیہ ارکان اور شرائع کی پابندی کرے، اور جو ان عظیم مشاعر میں وقوف کرنے سے محروم رہ جائے، وہ ہمیشہ اللہ کی بندگی پر قائم رہے، جو حاجی کی حیثیت سے بیت اللہ کا رخ نہ کر سکے، تو وہ ہر وقت عاجزی وانکساری کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ رہے، ہر گھڑی اس سے ڈرتے اور لرزتے ہوئے دعا مانگے، اپنے اور اپنے رب کے مابین، نیز اپنے اور مخلوق کے مابین معاملات کو بہتر بنائے؛ ...بے شک اللہ تعالیٰ کی رحمت نیک کام کرنے والوں کے نزدیک ہے۔ [الاعراف: 56]۔
***
خطبہ کا عنوان
ذبح کے احکام
پہلے خطبہ کا مقدمہ
بے شک ہر طرح کی تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، ہم اسی کی تعریف کرتے ہیں، اُسی سے مدد مانگتے ہیں، اسی سے مغفرت طلب کرتے ہیں، ہم اپنے نفسوں کے شرور اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔ جسے اللہ تعالی ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی راہ نہیں دکھا سکتا۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول، اس کے برگزیدہ اور اس کے خلیل، اس کی وحی کے امین اور اس کی مخلوق میں سب سے چنیدہ ہیں، اللہ آپ پر، آپ کی آل پر، آپ کے اصحاب پر جو ہدایت کے پیشوا اور تاریکیوں کے چراغ ہیں، اور ان کی اقتدا وپیروی کرنے والوں پر قیامت تک اپنی بے شمار رحمتیں اور سلامتی نازل فرمائے۔
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہیے اور دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا۔ [آل عمران: 102]، اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کرکے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں، اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو۔ بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے۔ [النساء: 1]، اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سیدھی اور سچی باتیں کیا کرو۔ تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے کام سنوار دے اور تمہارے گناه معاف فرما دے، اور جس نے بھی اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کی اس نے بڑی مراد پالی۔ [الاحزاب: 70 -71]۔
پہلا خطبہ:
اما بعد:
اے اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو؛ بے شک اللہ عز وجل کا تقویٰ عظیم ترین مقامات اور بلند ترین درجات میں سے ہے، یہ وہ وصیت ہے جسے سننے اور دہرانے سے اکتاہٹ نہیں ہوتی، چنانچہ یہ ہمارے لیے ہمارے رب سبحانہ وتعالیٰ کی وصیت ہے: ...اور واقعی ہم نے ان لوگوں کو جو تم سے پہلے کتاب دیے گئے تھے اور تم کو بھی یہی حکم کیا ہے کہ اللہ سے ڈرتے رہو... [النساء: 131]۔
اللہ تعالی مجھے اور آپ کو اپنے متقی بندوں اور نیک ولیوں میں شامل فرمائے؛ بے شک وہ سننے والا اور دعائیں قبول کرنے والا ہے۔
اے اسلامی بھائیو! چونکہ بَری جانور کے حلال ہونے کے لیے یہ شرط ہے کہ اسے شرعی طریقے سے ذبح کیا جائے، اور جس جانور کو ذبح نہ کیا گیا ہو وہ مردار اور حرام ہے؛ اس لیے ذبح کے مسائل پر بحث کرنا اور اس سے متعلق ضروری امور کو جاننا نہایت اہم ہے۔
تذکیہ (شرعی ذبح): اس سے مراد ماکول اللحم بری جانور کی جان نکالنا ہے، اس طور پر کہ اگر وہ اونٹ ہو تو اس کی گردن کے نچلے حصے پر ضرب لگا کر اسے نحر کیا جائے، اور اگر وہ گائے، بکری یا ان جیسا کوئی اور جانور ہو تو اس کے حلق کو کاٹ کر اسے ذبح کیا جائے، یا اس کے بدن کی کسی بھی جگہ کو زخمی کر دیا جائے، جیسے شکار اور بدک جانے والے جانور کی صورت میں ہوتا ہے، جب کہ اس پر قابض ہونے کے لیے اس کے علاوہ کوئی اور طریقہ کارگر نہ ہو۔
ذبح کرنے کی حکمت:
اللہ تعالی کے نام پر جانور ذبح کر کے اس کی بندگی کا اظہار کرنا، اس کی عطا کردہ نعمت پر اس کا شکر ادا کرنا، جانور کو نقصان دہ رطوبتوں اور فضلات (جیسے خون وغیرہ) سے پاک کرنا، اور اسے مردار جانور سے ممتاز کرنا۔
ذبح کی شرطیں اور اس کے آداب:
ذبح کے کچھ شرائط اور آداب ہیں جن کا لحاظ رکھنا اور ان کی پابندی کرنا چاہیے، کچھ شرطیں ایسی ہیں جن پر ذبیحہ کے حلال ہونے کا انحصار ہے، جیسے:
پہلی شرط: شرعی ذبح کا ارادہ، یہ کہ ذبح کرنے والا عقل مند اور سمجھدار ہو، تاکہ اس سے شرعی ذبح کا ارادہ ممکن ہو؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ...لیکن اسے تم ذبح کر ڈالو (تو حرام نہیں)... [المائدۃ: 3]، چنانچہ جس شخص سے نیت کرنا ممکن نہ ہو؛ جیسے ضعیف العمر (سٹھیایا ہوا) شخص، کم سن بچہ، پاگل، نشے میں دھت اور ان جیسے دیگر افراد؛ چونکہ ان سے شرعی ذبح کی نیت ممکن نہیں، لہٰذا ان کا ذبیحہ حلال نہیں ہوگا۔
دوسری شرط: یہ کہ ذبح کرنے والا مسلمان ہو، خواہ وہ عورت ہو، یا ایسا فاسق ہو جس کا فسق کفر کا باعث نہ ہو، یا اہلِ کتاب ہو؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ساری پاکیزه چیزیں آج تمہارے لیے حلال کی گئیں اور اہل کتاب کا ذبیحہ تمہارے لیے حلال ہے اور تمہارا ذبیحہ ان کے لیے حلال ہے... [المائدۃ: 5]۔
بہت سے اہل علم نے اہلِ کتاب (یہودی یا عیسائی) کے ذبح کیے ہوئے جانوروں کے حلال ہونے پر تمام مسلمانوں کا اجماع نقل کیا ہے، سوائے اس کے جس میں ہمارے لیے یہ واضح ہو جائے کہ انہوں نے اس میں شرعی ذبح کی مخالفت کی ہے۔
تیسری شرط: یہ کہ وہ اللہ کے علاوہ کسی اور کے لیے نہ ہو؛ جیسے تقرب حاصل کرنے کے لیے بتوں اور مورتیوں وغیرہ کے لیے ذبح کیا جاتا ہے، جیسا کہ اہل شرک کرتے ہیں؛ تو وہ حلال نہیں ہوتا، اگرچہ اس پر اللہ کا نام ہی کیوں نہ لیا گیا ہو؛ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: تم پر حرام کیا گیا مردار... اسی سورت میں آگے فرمایا: ...اور جو آستانوں پر ذبح کیا گیا ہو... [المائدۃ: 3]۔
اور نبی ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا: ”جس نے غیر اللہ کے لیے ذبح کیا اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔“ [صحیح مسلم : 1978]۔
اسی طرح جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو، مثلاً کسی نبی، ولی، پیشوا یا کسی عظیم شخص کے نام پر ذبح کیا گیا ہو، تو وہ (ذبیحہ) حلال نہیں ہوگا، اگرچہ اسے ذبح کیا گیا ہو؛ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: تم پر حرام کیا گیا مردار... اسی سورت میں آگے فرمایا: ...اور جس چیز پر اللہ کے سوا دوسرے کا نام پکارا جائے... [المائدۃ: 3]، ابن کثیر نے اس چیز کی حرمت پر اجماع نقل کیا ہے جس پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔ [تفسیر ابن کثیر: 3/ 17]۔
چوتھی شرط: بسم اللہ کہہ کر ذبح کرے؛ کیوں کہ آپ ﷺ نے بسم اللہ اور اللہ اکبر کہا جیسا کہ صحیح احادیث سے ثابت ہے، اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ...سو جس جانور پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا جائے اس میں سے کھاؤ.... [الانعام: 118]، نیز ارشاد باری تعالی ہے: اور ایسے جانوروں میں سے مت کھاؤ جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اور یہ کام نافرمانی کا ہے... [الانعام: 121]، رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو چیز (ذبح کے وقت) خون بہا دے، اور اُس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو، تو اُسے کھا لیا کرو۔“ [صحیح بخاری : 2488، صحیح مسلم : 1968]، معلوم ہوا کہ کھانے کے حلال ہونے کے لیے دو باتوں کی شرط رکھی گئی ہے:
• إنهار الدَّم: یعنی خون کا بہانا۔
• اور اس پر اللہ کا نام لینا۔
جس جانور پر اللہ کا نام نہ لیا جائے، خواہ لاعلمی یا بھول چوک میں ہی کیوں نہ ہو، اس کا کھانا حلال نہیں۔ چنانچہ جس طرح اگر کوئی لاعلمی، بھول کر یا جان بوجھ کر خون نہ بہائے، تو اس کا ذبیحہ حلال نہیں ہوتا، اسی طرح جو شخص ذبح کرتے وقت اللہ کا نام نہ لے، اس کا ذبیحہ بھی حلال نہیں ہوتا۔
پانچویں شرط: ذبح تیز دھاردار آلے سے کیا جائے، جیسے چھری، پتھر اور اس جیسی دیگر چیزیں (سوائے دانت اور ناخن کے)؛ اس کی دلیل رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی وہ سابقہ حدیث ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو چیز خون بہا دے، اور اس پر اللہ کا نام لیا جائے، تو اسے کھاؤ، البتہ وہ چیز (جس سے ذبح کیا گیا ہو) دانت اور ناخن نہ ہو۔“
دوسرا خطبہ
اللہ کے احسان پر تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں، اور اس کی توفیق اور انعامات پر اسی کا شکر ہے، میں اس کی عظمتِ شان بیان کرتے ہوئے گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں جو اس کی رضا کی طرف بلانے والے ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل واصحاب پر اور آپ کے پیروکاروں پر قیامت تک ڈھیروں درود وسلام نازل فرمائے۔
دوسرا خطبہ:
اے مسلمانو! آئیے ہم ذبح کی شرائط اور اس کے آداب کے حوالے سے پہلے خطبے میں شروع کی گئی گفتگو کو مکمل کرتے ہیں، چنانچہ ہم کہتے ہیں اور توفیق اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے:
چھٹی شرط: یہ کہ خون بہے (یعنی: خون زور کے ساتھ اور کثرت سے بہے)، اس کی تفصیل حسب ذیل ہے:
1- اگر وہ جانور جسے ذبح کرنا مقصود ہو قابو میں ہو، کیونکہ اسے ذبح کے لیے لانا ممکن ہو، تو لازمی ہے کہ ایک مخصوص جگہ پر چھری چلائی جائے، جو کہ گردن ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”ذبح گردن کے اگلے حصے میں کیا جائے، یعنی گائے، بکری اور اس جیسے جانوروں میں۔ جبکہ اونٹ کو سینے کے اوپری حصے (لَبَّة) میں نحر کیا جائے“ [اسے بخاری نے معلقاً روایت کیا ہے: 7/ 93]، اور عطا کہتے ہیں: "ذبح صرف مذبح (حلق) میں اور نحر صرف منحر (سینے کے اوپری حصے) میں ہی کیا جائے"۔ [اسے بخاری نے معلقاً روایت کیا ہے: 7/ 93]، اس کا طریقہ یہ ہے کہ درج ذیل میں سے ہر ایک کو کاٹا جائے یا شدید زخم لگایا جائے:
• حلقوم: یہ سانس گزرنے کا راستہ ہے۔
• المریء: یہ کھانے پینے کی گزرگاہ ہے۔
• الودجین: یہ دو موٹی رگیں ہیں جو حلقوم (سانس کی نالی) اور مری (غذا کی نالی) کو گھیرے ہوئے ہوتی ہیں۔
اس طریقے سے اس خون کو خارج کیا جاتا ہے جس سے جانور کی زندگی قائم رہتی ہے، اور اسے رکے ہوئے خون اور دیگر نقصان دہ اور ناپاک رطوبتوں سے پاک کیا جاتا ہے۔
2- اگر وہ جانور جسے ذبح کرنا مقصود ہو وہ قابو میں نہ ہو؛ اس وجہ سے کہ وہ بھاگا ہوا ہو، یا کنویں میں گرا ہوا ہو، یا اس کا اگلا حصہ کسی غار میں داخل ہو گیا ہو، اور اس جیسی دیگر صورتیں جن کے باعث اسے نحر یا ذبح کرنے کے لیے اس کی گردن تک پہنچنا ممکن نہ ہو، تو اس حالت میں اس کے جسم کے کسی بھی حصے سے خون بہانا کافی ہے یہاں تک کہ وہ مرجائے، اور بہتر یہی ہے کہ اس کے جسم میں وہ جگہ تلاش کی جائے جس سے جان جلدی نکل جائے؛ جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: "تمھارے قبضے میں موجود جانوروں میں سے جو جانور تمھارے قابو سے باہر ہو جائے، تو وہ شکار کی طرح ہے۔ اور اگر کوئی اونٹ کنویں میں گر جائے: تو جہاں سے تمھیں اس پر قدرت حاصل ہو اسے ذبح کر دو"۔ [اسے بخاری نے معلقاً روایت کیا ہے: 7/ 93]۔
اس سلسلے میں ان کی دلیل وہ حدیث ہے جو صحیحین میں ثابت ہے کہ نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم ایک غزوے میں تھے، مالِ غنیمت کے طور پر بہت سے اونٹ اور بھیڑ بکریاں ان کے ہاتھ لگیں، تو ان میں سے ایک اونٹ بدک گیا، چنانچہ ایک آدمی نے اسے تیر مارا اور اسے روک دیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان اونٹوں کے اندر بھی جنگلی جانوروں جیسی وحشت پائی جاتی ہے۔ اس لیے جب ان میں سے کوئی تمھارے قابو سے باہر ہو جائے، تو اس کے ساتھ یہی کیا کرو۔“ [صحیح بخاری: 5503، صحیح مسلم: 1968]۔
ہم اللہ عزوجل سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں دین کی سمجھ عطا فرمائے، اور ہمیں سید المرسلین ﷺ کی سنت کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آپ اپنے نبی محمد بن عبداللہ ﷺ پر درود وسلام بھیجیں، آپ کے رب نے اپنی کتاب میں آپ کو اس بات کا حکم دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو۔ [الاحزاب: 56]۔
اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص مجھ پر ایک دفعہ درود پڑھتا ہے، اس کے بدلے اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔“ [صحیح مسلم: 384]۔
***
خطبہ کا عنوان
سفر کے احکام
پہلے خطبہ کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، جس نے مخلوق کو پیدا کیا تاکہ وہ اس کی عبادت کریں، اور انہیں رزق دیا تاکہ وہ اس کا شکر ادا کریں۔ میں اس پاک ذات کی عظیم نعمتوں پر حمد بیان کرتا ہوں، اور اس کے پے در پے احسانات پر اس کا شکر ادا کرتا ہوں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، آسمانوں اور زمین کے خزانے اسی کے ہاتھ میں ہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، کوئی بھلائی ایسی نہیں جس کی طرف آپ نے اپنی امت کی رہنمائی نہ فرمائی ہو، اور کوئی برائی ایسی نہیں جس سے آپ نے اسے خبردار نہ کیا ہو۔ اللہ تعالی آپ ﷺ پر، آپ کے آل واصحاب پر اور قیامت تک ان کے طریقے پر چلنے والوں پر درود وسلام نازل فرمائے۔
پہلا خطبہ:
اما بعد: اے لوگو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اس کی اطاعت کرو اور ہر جگہ اللہ کی نگرانی کو یاد رکھو؛ اللہ سبحانہ ہر چیز کی خوب نگرانی کرنے والا اور ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ تم کسی چیز کو ظاہر کرو یا مخفی رکھو اللہ تو ہر چیز کا بخوبی علم رکھنے واﻻ ہے۔ [الاحزاب: 54]۔
اے اللہ کے بندو! آپ دیکھتے ہیں کہ لوگوں میں نقل وحرکت اور سفر کا بڑا شوق پایا جاتا ہے، خاص طور پر چھٹیوں کے موسم میں، چنانچہ ان میں سے بعض لوگ ایک طویل سفر کے لیے اپنا سامانِ سفر باندھ لیتے ہیں، جس میں بسا اوقات گرمیوں کا بیشتر حصہ گزر جاتا ہے، آج کے خطبہ میں ہم اس موضوع کے حوالے سے چند اہم نکات پر بات کریں گے؛ کیونکہ سفر کے بھی کچھ آداب اور احکام ہیں:
1- جو شخص سفر کا ارادہ کرے، اسے چاہیے کہ وہ اپنے سفر کی سمت اور مقصد کو درست کرے۔ بہت سے مسافروں کے حالات پر غور کرنے والا ان کے مقاصد میں حیرت انگیز اور بہت بڑا فرق پائے گا؛ ان میں کچھ لوگ اللہ کی اطاعت کے لیے سفر کرتے ہیں، جبکہ کچھ اللہ کی نافرمانی کے لیے سفر کرتے ہیں۔ بھلا اس شخص میں کیا برابری ہو سکتی ہے جو خیر اور نیکی کی طرف مشرق کا سفر کر رہا ہو، اور اس شخص میں جو برائیوں اور شبہات کی طرف مغرب کا سفر کر رہا ہو! دونوں کے درمیان زمین وآسمان کا فرق ہے۔ آج مسافروں میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جس کے سفر کا مقصد اللہ کی رضا اور دارِ آخرت کی فلاح ہوتا ہے، انہوں نے اپنی سواریوں کا رخ ہر اچھائی اور ہدایت کی طرف موڑ دیا، چنانچہ حسن وجمال اور سیر و تفریح کی چاہت نے انہیں منکرات کی جگہوں پر جانے کے لیے آمادہ نہیں کیا، اور نہ ہی انہوں نے بگاڑ پیدا کرنے والوں اور مہلک گناہوں کے مرتکب لوگوں کی ہم نشینی اختیار کی، ان کی سیر وتفریح اسلامی تعلیمات کی پابند ہوتی ہے، ان کے اخلاق و آداب قرآنی آداب سے آراستہ ہوتے ہیں، اور وہ اپنے سفر میں ہر خیر اور ہدایت کے حریص ہوتے ہیں۔ ان کے سفری معمولات میں عزیز واقارب سے ملاقات اور صلہ رحمی شامل ہوتی ہے، وہ اپنے سفر کے دوران مختلف قسم کی عبادتوں میں مشغول رہتے ہیں، بھلائی کے کاموں میں حصہ لیتے ہیں، نیز ہر خیر اور مباح چیز سے لطف اندوز ہوتے ہیں، اور ان تمام کاموں میں اجر وثواب کی امید رکھتے ہیں؛ لہذا وہ اس بارش کی مانند ہیں جو جہاں بھی برسے نفع پہنچاتی ہے، لہذا ان کے لیے خوش خبری ہے کہ ان کی سیر وتفریح اللہ کی رضا کے حصول، اور شرعی حدود و آداب کے دائرے میں رہی۔
افسوس کہ مسافروں کا ایک اور طبقہ ایسے لوگوں کا ہے: جن کے قدم پھسل گئے اور ان کے مقاصد بھی برے تھے؛ چنانچہ انہوں نے اللہ کے آسمان میں اڑان بھری اور اللہ کی زمین پر چلے لیکن اس کی اطاعت کے لیے نہیں، ہرگز نہیں۔۔ بلکہ ان کے سفر کا مقصد ہی اللہ کی نافرمانی کرنا تھا! انہوں نے مختلف ملکوں کا سفر کیا تاکہ وہاں کثرت سے فساد پھیلائیں، ان کا مقصد صرف یہ تھا کہ ایسے کاموں کے ذریعے اپنی خواہشات کی تکمیل کریں جن سے زمین اور آسمانوں کا رب راضی نہیں ہوتا، چنانچہ انہوں نے اپنے سفر میں نمازیں ضائع کردیں اور نفسانی خواہشات کے پیچھے پڑ گئے، اور مہلک گناہوں میں مبتلا ہوگئے، ہم ان لوگوں کے حال سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں جنہوں نے اپنے سفر میں اپنا دین اور دنیا دونوں ضائع کردیا۔
اے مسافرو! جان لو کہ جہنم کو شہوات سے گھیر دیا گیا ہے، لہٰذا شیطان تفریح اور سیاحت کے نام پر ایسے پرخار مقامات میں جو شہوات اور شبہات سے بھرے ہوئے ہیں، تمھارے دین کو نقصان نہ پہنچائے۔ سفر وحضر میں اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اپنے دین کو اس طرح قائم کرو جیسا تمھارا رب پسند کرتا ہے، نہ کہ جیسا تم پسند کرتے ہو۔ اپنے فرائض کی پابندی کرو، اور تم جہاں کہیں بھی رہو، اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے دور رہو، اور جان لو کہ ہر جگہ اور ہر وقت تمھارا کوئی بھی معاملہ اللہ سبحانہ سے پوشیدہ نہیں ہے، اللہ جل جلالہ کے درج اس فرمان میں خوب غور وفکر کرو: اس دن تم سب پیش کیے جاؤ گے، تمہارا کوئی بھید پوشیده نہ رہے گا۔ [الحاقۃ: 18]۔
اللہ کے بندو! جان لو کہ شریعت مسافروں کے لیے آداب اور احکام لے کر آئی ہے، جنہیں ہر مسافر کو سفر سے پہلے جان لینا چاہیے۔
ان آداب واحکام میں سے چند یہ ہیں:
1: جانے اور واپس لوٹنے کے وقت دعائے سفر کا اہتمام کرنا، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ سفر میں جانے کے لیے جب اپنے اونٹ پر سوار ہو جاتے، تو تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے، پھر یہ دعا پڑھتے: ”پاک ہے وہ ذات جس نے اسے ہمارے تابع کر دیا ورنہ ہم اسے قابو میں کرلینے والے نہیں تھے، اور یقینا ہم اپنے رب ہی کی طرف واپس جانے والے ہیں، اے اللہ! ہم تجھ سے اپنے اس سفر میں نیکی، تقویٰ اور ایسے عمل کا سوال کرتے ہیں جسے تو پسند فرمائے، اے اللہ ! ہم پر ہمارا یہ سفر آسان کردے اور اس کی لمبی مسافت ہم سے لپیٹ دے، اے اللہ! اس سفر میں تو ہی ہمارا ساتھی ہے اور گھر والوں میں تو ہی ہمارا جانشین ہے، اے اللہ ! میں سفر کی مشقت، اس کے تکلیف دہ منظر اور مال اور گھر والوں میں بری تبدیلی سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔“ نبی اکرم ﷺ سفر سے واپسی پر بھی یہی الفاظ کہتے اور ان میں یہ اضافہ کرتے: ”(ہم) واپس لوٹنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں، اور اپنے رب ہی کی تعریف کرنے والے ہیں۔“ [صحیح مسلم: 1342]۔
2: مسافر کو چاہیے کہ وہ دورانِ سفر اللہ کا ذکر کرنا نہ بھولے، خصوصاً بلندی پر چڑھتے ہوئے اور پستی میں اترتے ہوئے، جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”جب ہم بلندی پر چڑھتے تو تکبیر (اللہ اکبر) کہتے اور جب نیچے اترتے تو تسبیح (سبحان اللہ) کہتے۔“ [صحیح بخاری: 2993]۔
3: مسافر کو چاہیے کہ سفر کی حالت کو غنیمت جانتے ہوئے کثرت سے دعائیں کرے، چنانچہ وہ اپنے لیے، اپنے اہل وعیال اور تمام مسلمانوں کے لیے دعا کرے؛ کیونکہ مسافر کی دعا -جیسا کہ آپ جانتے ہیں- قبول کی جاتی ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے: ”تین دعائیں قبول کی جاتی ہیں، ان کی قبولیت میں کوئی شک نہیں: والد کی دعا، مسافر کی دعا، اور مظلوم کی دعا۔“ [اس حدیث کو امام ترمذی (1905) نے روایت کیا ہے اور اسے حسن قرار دیا ہے۔]
4: سفر کے احکام میں سے یہ بھی ہے کہ مسافر کے لیے چار رکعت والی نماز قصر کر کے دو رکعت پڑھنا جائز ہے، اور وہ اپنی سہولت کے مطابق ظہر اور عصر، نیز مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کر سکتا ہے؛ خواہ جمع تقدیم ہو، یا جمع تاخیر، رہی بات سننِ رواتب کی، تو سفر میں انہیں چھوڑ دینا سنت ہے، جیسا کہ آپ ﷺ کیا کرتے تھے۔
5: مسافر کے لیے اپنی سواری پر نفل نماز پڑھنا جائز ہے، چنانچہ وہ اپنی سواری پر ہی نماز ادا کر سکتا ہے، رکوع وسجود کے وقت اشارہ کرے، اور تکبیر تحریمہ کے وقت قبلہ رخ ہونے کی کوشش کرے، اس کے بعد اگر سمت بدل جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
6: سفر کے احکام میں سے روزہ دار کے لیے روزہ نہ رکھنے کا جواز بھی ہے، اسی طرح اس کے لیے موزے اور جراب پر تین دن اور تین رات تک مسح کرنا جائز ہے، بجائے ایک دن اور ایک رات کے جیسا کہ مقیم کے حق میں ہے۔ یہ احکام اور سفر کے دیگر احکام اس وقت شروع ہوتے ہیں جب سفر کی نیت سے انسان آبادی سے باہر نکل جائے۔
جو شخص اپنے سفر سے فارغ ہو جائے تو اسے چاہیے کہ اپنے گھر والوں کی طرف جلدی واپس جائے؛ کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے؛ جو آدمی کو اس کے کھانے، پینے اور سونے سے روک دیتا ہے، لہذا جب تم میں سے کوئی اپنی غرض پوری کر لے تو اسے چاہیے کہ اپنے گھر لوٹنے میں جلدی کرے۔“ [صحیح بخاری: 1804، صحیح مسلم: 1927]۔
سفر سے آنے والے کے لیے مستحب ہے کہ وہ گھر میں داخل ہونے سے پہلے مسجد جائے، یہ ایک سنتِ متروکہ ہے جس پر بہت کم لوگ عمل کرتے ہیں، چنانچہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر سے واپس آتے تو پہلے مسجد میں تشریف لاتے اور دو رکعت نماز ادا فرماتے۔ [صحیح بخاری : 3088، صحیح مسلم : 2769]۔
جب مسافر زیادہ دنوں تک اپنے اہل خانہ سے دور رہنے کے بعد واپسی کا ارادہ کرے، تو اسے چاہیے کہ اچانک ان کے پاس واپس نہ جائے، بلکہ انہیں اپنی واپسی کی اطلاع دے، نبی ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے کہ آدمی رات کو اپنے گھر والوں کے پاس آئے، تاکہ پراگندہ بالوں والی عورت کو کنگھی کرنے (کا موقع مل جائے) اور جس کا شوہر غائب تھا وہ زیرِ ناف بال صاف کر لے۔ [صحیح بخاری: 5079، صحیح مسلم: 715]۔
مسافروں کے لیے یہ چند آداب اور احکام ہیں، جن کی میں نے خود کو اور آپ کو یاد دہانی کرائی ہے، میں اللہ سے دعا گو ہوں کہ وہ ہمیں اور آپ کو دین کی سمجھ عطا فرمائے، میں اپنی یہ بات کہتا ہوں اور اللہ سے اپنے اور آپ کے لیے مغفرت طلب کرتا ہوں، آپ بھی اس سے مغفرت طلب کریں، بے شک وہی بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔
دوسرے خطبہ کا مقدمہ
اللہ کے احسان پر تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں، اس کی توفیق اور انعام پر اسی کا شکر ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل واصحاب پر اور آپ کے بھائیوں پر ڈھیروں درود وسلام نازل فرمائے۔
دوسرا خطبہ
اے اللہ کے بندو! مسافر کو چاہیے کہ وہ اپنے سفر کے دوران ہر کام کے کرنے اور چھوڑنے میں اللہ سبحانہ کا تقویٰ یاد رکھے، اس پر لازم ہے کہ نیت درست رکھے، نیک ساتھیوں کی رفاقت اختیار کرے، اپنے ہم سفر ساتھیوں کے ساتھ فراخ دلی کا مظاہرہ کرے اور انہیں خوشی پہنچائے، اس کا سفر اطاعت کا سفر ہونا چاہیے جس کے ذریعے وہ اللہ عز وجل کا قرب حاصل کرے، اور اسے چاہیے کہ اللہ کی نافرمانی کے مقصد سے سفر نہ کرے، یا ایسی جگہوں پر نہ ٹھہرے جنہیں اللہ عز وجل ناپسند فرماتا ہے۔
اے لوگو! ہر اس شخص کے لیے جو دنیا کے اسفار میں سے کسی سفر کا ارادہ کرے، وہ سفر خواہ طویل ہو یا مختصر، مناسب ہے کہ وہ اپنے اس سفر سے آخرت کے طویل سفر کو یاد کرے۔ اسے چاہیے کہ وہ دنیا کے سفر کے بعد اپنی منزل پر غور کرے، اور اس کے ذریعے آخرت کے سفر کے بعد کی منزل کو یاد کرے، کہ کیا وہ ایسی جنت ہے جس کی وسعت آسمانوں اور زمین کے برابر ہے، یا بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔ ہم جہنم اور اس کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ ہم سب پر لازم ہے کہ ہم اپنے آپ سے گناہوں اور نافرمانیوں کا بوجھ ہلکا کریں، جس پر ہم نے ظلم کیا ہے اس سے معاف کرا لیں، اور آخرت کے سفر سے پہلے حق داروں کو ان کے حقوق واپس کر دیں؛ چنانچہ حدیث میں ہے: ”جس نے کسی کی عزت یا کسی اور شے میں حق تلفی کی ہو، تو اسے چاہیے کہ وہ آج ہی اس سے بری الذمہ ہو جائے، اس سے پہلے کہ (وہ دن آئے) جب نہ دینار ہوں اور نہ درہم۔ اگر اس کی کچھ نیکیاں ہوں گی تو جتنی اس نے حق تلفی کی ہو گی، اس قدر اس کی نیکیاں لے لی جائیں گی اور اگر اس کی نیکیاں نہیں ہوں گی، تو صاحب حق کی برائیوں کو لے کر اس پر ڈال دیا جائے گا۔“ [صحیح بخاری: 2449]۔
تمام متقیوں میں سب سے بہتر اور رسولوں کے سردار پر درود وسلام بھیجیں، جیسا کہ علیم وخبیر ذات نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے، چنانچہ اس صاحبِ عزت وعلم کا ارشاد ہے: اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو۔ [الاحزاب: 56]۔
اسی طرح اللہ کے نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ”جو شخص مجھ پر ایک دفعہ درود پڑھتا ہے، اس کے بدلے اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔“ [صحیح مسلم: 384]۔
خطبہ کا عنوان
موت کی یاد دہانی
پہلے خطبہ کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، میں اس کی حمد بیان کرتا ہوں، اسی سے مدد چاہتا ہوں، اسی سے بخشش طلب کرتا ہوں اور اسی سے ہدایت مانگتا ہوں، میں اس پر ایمان لاتا ہوں، اسی پر توکل کرتا ہوں اور اس کا انکار نہیں کرتا، اور جو اس کا انکار کرے میں اس سے دشمنی رکھتا ہوں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور یہ کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ تعالی نے آپ کو ہدایت، دینِ حق، نور اور نصیحت دے کر ایسے وقت میں بھیجا جب رسولوں کی آمد کا سلسلہ رکا ہوا تھا، علم کی کمی تھی، لوگ گمراہی کا شکار تھے، ایک طویل زمانہ گزر چکا تھا، قیامت قریب آچکی تھی اور موت نزدیک تھی۔ جس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کی، یقیناً وہ راہِ راست پر آگیا، اور جس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی، یقیناً وہ بھٹک گیا، اس نے کوتاہی کی، اور دور کی گمراہی میں جا پڑا۔
پہلا خطبہ:
اما بعد:
میں تمہیں اور اپنے آپ کو اللہ کے تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں؛ کیوں کہ ایک مسلمان اپنے آپ کو اور اپنے مسلمان بھائی کو جو بہترین وصیت کر سکتا ہے، وہ یہ ہے کہ اسے آخرت کی ترغیب اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا حکم دے۔ چنانچہ تم اس چیز سے ڈرو جس سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنی ذات کے متعلق ڈرایا ہے، اس سے بہتر کوئی نصیحت نہیں اور اس سے بڑھ کر کوئی یاددہانی نہیں۔ یقیناً جو شخص خوف اور ڈر کے ساتھ اس پر عمل کرے، یہ اس کے لیے تقویٰ ہے، اور آخرت کے جن امور کے تم طلب گار ہو ان میں یہ ایک سچی مدد ہے۔ جو شخص اپنے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان پوشیدہ اور علانیہ معاملات کو اس طرح درست کر لے کہ اس سے اس کا مقصد صرف اللہ کی رضا کا حصول ہو؛ تو یہ اس کی دنیاوی زندگی میں ذکرِ خیر کا باعث ہوگا، اور موت کے بعد کے لیے ذخیرہ ہوگا جب انسان اپنے آگے بھیجے ہوئے اعمال کا محتاج ہوگا۔ جو اس کے علاوہ ہوگا‘ وہ ...آرزو کرے گا کہ کاش! اس کے اور برائیوں کے درمیان بہت ہی دوری ہوتی۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی ذات سے ڈرا رہا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑا ہی مہربان ہے۔ [آل عمران: 30]۔
وہ ذات جس کا قول سچا ہے اور جس نے اپنا وعدہ پورا کیا، جس کی خلاف ورزی نہیں ہو سکتی؛ وہ باری تعالى ارشاد فرماتا ہے: میرے ہاں بات بدلتی نہیں اور نہ میں اپنے بندوں پر ذرا بھی ظلم کرنے واﻻ ہوں۔ [ق: 29]۔
لوگو!
اپنے دنیاوی اور اخروی معاملات میں، خفیہ اور اعلانیہ اللہ سے ڈرتے رہو؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ...اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے۔ اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو، اور جو شخص اللہ پر توکل کرے گا اللہ اسے کافی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اپنا کام پورا کرکے ہی رہے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ایک اندازه مقرر کر رکھا ہے۔ [الطلاق: 2 - 3]، اور اللہ تعالی نے فرمایا: ...اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرے گا اللہ اس کے (ہر) کام میں آسانی کر دے گا۔ [الطلاق: 4]، نیز فرمایا: ...اور جو شخص اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کے گناه مٹا دے گا اور اسے بڑا بھاری اجر دے گا۔ [الطلاق: 5]
بلاشبہ اللہ کا تقویٰ انسان کو اس کے غضب، اس کی سزا اور اس کی ناراضگی سے محفوظ رکھتا ہے، چہرے کو روشن کرتا ہے، رب کو راضی کرتا ہے اور درجات بلند کرتا ہے۔
لوگو!
مرنے سے پہلے اپنے رب کے سامنے توبہ کر لو اور مشغولیت سے پہلے جلدی جلدی نیک اعمال کر لو، اللہ کی اطاعت اور کثرتِ ذکر کے ذریعے اپنے اور اپنے رب کے درمیان تعلق کو استوار کرو، تم سعادت پاؤ گے، کثرت سے صدقہ کرو، تمھیں رزق دیا جائے گا، نیکی کا حکم دو، تمھیں خوش حالی عطا کی جائے گی، اور برائی سے منع کرو، تمھاری مدد کی جائے گی۔
اے لوگو!
”بے شک تم میں سب سے زیادہ عقل مند وہ ہے جو موت کو سب سے زیادہ یاد کرنے والا ہے، اور تم میں سب سے زیادہ دور اندیش وہ ہے جو اس کے لیے سب سے بہترین تیاری کرنے والا ہے۔ خبردار رہو! یقیناً عقل کی علامت دھوکے کے گھر (دنیا) سے کنارہ کش ہونا، ہمیشہ رہنے والے گھر (آخرت) کی طرف رجوع کرنا، قبروں کی رہائش کے لیے زادِ راہ تیار کرنا اور روز قیامت کے لیے تیاری کرنا ہے۔“
اے لوگو!
خود کو اطاعت سے مزین کر لو، خوف کی چادر اوڑھ لو، اپنی آخرت کو اپنے لیے اور اپنی کوششوں کو اپنے مستقل ٹھکانے کے لیے مختص کر لو۔ خوب جان رکھو کہ تم عنقریب کوچ کرنے والے ہو اور اللہ کی طرف لوٹ کر جانے والے ہو، وہاں تمھارے کچھ کام نہ آئے گا سوائے اس نیک عمل کے جو تم نے آگے بھیجا ہو، یا بہترین ثواب کے جو تم نے حاصل کیا ہو۔ تم بس اسی کے پاس پہنچو گے جو تم نے آگے بھیجا ہے اور تمھیں تمھارے پچھلے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا، لہٰذا اس حقیر دنیا کی زیب وزینت تمھیں بلند وبالا جنت کے درجات سے غافل کر کے ہرگز دھوکے میں نہ ڈالے، گویا کہ پردہ اٹھا دیا گیا ہے، شک وشبہ دور ہو گیا ہے، ہر انسان اپنے ٹھکانے کو پہنچ گیا ہے اور اس نے اپنی قیام گاہ اور آرام کی جگہ کو پہچان لیا ہے۔
اے لوگو!
تم اپنا حصہ حاصل کرو اور اللہ کے حق میں کوتاہی نہ کرو؛ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں اپنی کتاب سکھا دی ہے اور تمھارے لیے اپنا راستہ واضح کر دیا ہے۔ ...یقیناً اللہ تعالیٰ انہیں بھی جان لے گا جو سچ کہتے ہیں اور انہیں بھی معلوم کرلے گا جو جھوٹے ہیں۔ [العنکبوت: 3]۔
تم بھی احسان کرو جس طرح اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان کیا ہے، اور اس کے دشمنوں سے دشمنی کرو؛ ...اور اللہ کی راه میں ویسا ہی جہاد کرو جیسا جہاد کا حق ہے۔ اسی نے تمہیں برگزیده بنایا ہے اور تم پر دین کے بارے میں کوئی تنگی نہیں ڈالی، دین اپنے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کا قائم رکھو، اسی اللہ نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے... [الحج : 78]۔
جب کہ تم پاس والے کنارے پر تھے اور وه دور والے کنارے پر تھے اور قافلہ تم سے نیچے تھا۔ اگر تم آپس میں وعدے کرتے تو یقیناً تم وقت معین پر پہنچنے میں مختلف ہو جاتے۔ لیکن اللہ کو تو ایک کام کر ہی ڈالنا تھا جو مقرر ہو چکا تھا تاکہ جو ہلاک ہو، دلیل پر (یعنی یقین جان کر) ہلاک ہو اور جو زنده رہے، وه بھی دلیل پر (حق پہچان کر) زنده رہے۔ بیشک اللہ بہت سننے واﻻ خوب جاننے واﻻ ہے۔ [الانفال: 42]۔
کوئی طاقت نہیں مگر اللہ ہی کی توفیق سے، اس لیے اللہ کا ذکر کثرت سے کرو، اور موت کے بعد کے لیے عمل کرو؛ کیونکہ جس شخص نے اپنے اور اللہ کے درمیان کے معاملات کو درست کر لیا، تو اللہ اس کے اور لوگوں کے درمیان کے معاملات کے لیے کافی ہو جاتا ہے، یہ اس لیے کہ اللہ لوگوں پر فیصلہ صادر فرماتا ہے اور وہ اس پر کوئی فیصلہ صادر نہیں کر سکتے، اور وہی لوگوں پر کامل اختیار رکھتا ہے جبکہ لوگ اس پر کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ اللہ سب سے بڑا ہے، اور قوت صرف اللہ ہی کی ذات سے حاصل ہوتی ہے جو بلند وبرتر اور بڑی عظمت والا ہے۔
اے لوگو!
نادم شخص اللہ تعالیٰ کی رحمت کا امیدوار ہوتا ہے، اور خود پسند شخص اس کے غضب کا منتظر رہتا ہے۔ اے اللہ کے بندو! جان لو کہ ہر عمل کرنے والا اپنے اعمال کا سامنا کرے گا، اور وہ دنیا سے اس وقت تک رخصت نہیں ہوگا جب تک کہ وہ اپنے اعمال کی اچھائی اور برائی کو دیکھ نہ لے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اعمال کا دار ومدار ان کے خاتمے پر ہے۔ رات اور دن دو سواریاں ہیں، لہٰذا ان پر اپنا سفر اچھے انداز میں طے کرو۔
اللہ مجھے اور آپ کو قرآنِ عظیم کی برکت سے نوازے، اور ہم سب کو اس میں موجود آیات اور ذکرِ حکیم سے نفع عطا فرمائے۔
میں اپنی یہ بات کہتا ہوں اور عظمت وجلال والے اللہ سے اپنے لئے اور تمہارے لئے ہر گناہ کی مغفرت طلب کرتا ہوں، تم بھی اس سے بخشش مانگو وہ تمہاری مغفرت فرما دے گا، وه بہت بڑا بخشنے واﻻ اور نہایت مہربان ہے۔
دوسرے خطبہ کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، بہت زیادہ، پاکیزہ اور بابرکت تعریفیں، جیسا کہ ہمارا رب پسند فرماتا ہے اور راضی ہوتا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کے آل واصحاب پر اور قیامت تک ان کے راستے پر چلنے والوں پر درود وسلام اور برکتیں نازل فرمائے۔
دوسرا خطبہ:
لوگو!
بے شک دنیا میں جو کوئی بھی ہے وہ ایک مہمان ہے، اور جو کچھ اس کے ہاتھ میں ہے وہ ادھار ہے۔ مہمان کوچ کرنے والا ہے، اور ادھار واپس لوٹائے جانے والا ہے۔ سن لو! یقیناً دنیا ایک حاضر ساز وسامان ہے جس میں سے نیک اور بد دونوں کھاتے ہیں، اور آخرت ایک سچا وعدہ ہے جس میں ایک غالب بادشاہ فیصلہ فرمائے گا۔ اللہ اس شخص پر رحم فرمائے جس نے اپنے انجام کی فکر کی، اور اپنی قبر کے لیے تیاری کی، جب تک کہ اس کی مہلت کی لگام ڈھیلی ہے اور اسے کھلی چھوٹ حاصل ہے، اس سے پہلے کہ اس کی زندگی کی مہلت ختم ہو جائے، اور اس کا عمل منقطع ہو جائے۔
ابن آدم!
خواہشات کو کم کر؛ تجھ پر فقر آسان ہو جائے گا، گناہوں کو کم کر؛ تجھ پر موت آسان ہو جائے گی، اور اپنے مال کو اپنے آگے (آخرت کے لیے) بھیج دے؛ اس سے ملاقات تجھے خوش کر دے گی، جو تجھے عطا کیا گیا ہے اس پر قناعت کر؛ تجھ پر حساب ہلکا ہو جائے گا، اور اللہ نے جو تجھ پر فرض کیا ہے اس سے غافل ہو کر اس چیز میں مشغول نہ ہو جس کی اس نے تیرے لیے ضمانت دے دی ہے، بے شک جو تیرے لیے مقدر کیا گیا ہے وہ تجھ سے چھوٹنے والا نہیں، اور جو تجھ سے دور رکھا گیا ہے تو اسے ہرگز پا نہیں سکتا، اس لیے تو اس چیز کے حصول میں سرگرداں نہ ہو جو ختم ہو جانے والی ہے، اور اس بادشاہت کے لیے کوشش کر جسے زوال نہیں، ایسے گھر میں جہاں سے کوئی منتقلی نہیں، کیونکہ دنیا اور آخرت دونوں طالب بھی ہیں اور مطلوب بھی؛ چنانچہ جو آخرت کا طالب ہوتا ہے، دنیا اسے تلاش کرتی ہے یہاں تک کہ وہ اپنا رزق پورا کر لے، اور جو دنیا کا طالب ہوتا ہے، آخرت اسے ڈھونڈتی ہے یہاں تک کہ موت اس کی گردن دبوچ لیتی ہے، پھر وہ ایک وحشت ناک، غبار آلود اور گھٹا ٹوپ اندھیرے والے پیٹ (قبر) میں جا پہنچتا ہے، جہاں وہ نہ کسی نیکی میں اضافہ کر سکتا ہے اور نہ کسی برائی میں کمی، پھر اسے دوبارہ اٹھایا جائے گا اور جمع کیا جائے گا، یا تو اس جنت کی طرف جس کی نعمتیں ہمیشہ رہیں گی، یا اس آگ کی طرف جس کا عذاب کبھی ختم نہ ہوگا۔
اے اللہ! محمد پر اور آل محمد پر رحمت نازل فرما۔
***
خطبہ کا عنوان
حلال کمانے اور حرام کمائی سے دور رہنے کی ترغیب۔
پہلے خطبہ کا مقدمہ
بے شک تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد چاہتے ہیں، اسی سے بخشش طلب کرتے ہیں اور اسی کے حضور توبہ کرتے ہیں، اور ہم اپنے نفس اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا، اور جسے وہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل اور تمام صحابہ پر درود نازل فرمائے۔
پہلا خطبہ:
اما بعد:
اے ایمان والو اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو، کیونکہ جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کی حفاظت فرماتا ہے اور اسے دین ودنیا کی بھلائی کی رہنمائی فرماتا ہے۔ پھر جان لو، اللہ تعالیٰ تمھاری نگہبانی فرمائے، کہ ہم پر اللہ تعالیٰ کی نعمتیں اتنی زیادہ ہیں کہ گنی نہیں جا سکتیں۔ بے شک اللہ کی نعمتوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو زمین میں ٹھکانا اور اختیار عطا کیا، ان کے لیے مختلف اقسام کے رزق اور پاکیزہ پھلوں کا بندوبست کیا جن سے وہ خوراک حاصل کرتے ہیں اور جن سے ان کے جسموں کو غذا ملتی ہے؛ تاکہ وہ حلال اور پاکیزہ چیزیں کھائیں، ربِ کریم کی حمد بیان کریں، اور اس کے احسان، نوازش اور فضل پر اس کا شکر ادا کریں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اور بے شک ہم نے تم کو زمین پر رہنے کی جگہ دی اور ہم نے تمہارے لئے اس میں سامان رزق پیدا کیا، تم لوگ بہت ہی کم شکر کرتے ہو۔ [الاعراف: 10]، اس سلسلے میں مسلمان پر واجب ہے کہ وہ اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لے اور یہ جان لے کہ ربِ کریم اور پاک رزاق نے اس زمین میں پاکیزہ کمائی اور مباح روزی کے بہت سے ذرائع اور مختلف قسمیں مہیا فرمائی ہیں اور لوگوں کے لیے راستے ہموار فرمائے ہیں؛ اللہ جل وعلا کا فرمان ہے: وه ذات جس نے تمہارے لیے زمین کو پست ومطیع کردیا تاکہ تم اس کی راہوں میں چلتے پھرتے رہو اور اللہ کی روزیاں کھاؤ (پیو) اسی کی طرف (تمہیں) جی کر اٹھ کھڑا ہونا ہے۔ [الملک: 15]، اے مسلمان! یہاں رک کر اس بات پر غور کریں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس آیت کا اختتام اپنے اس فرمان پر کیا ہے: ...اسی کی طرف (تمہیں) جی کر اٹھ کھڑا ہونا ہے۔ [الملک: 15] یعنی: لوٹنے کی جگہ اور ٹھکانہ، معلوم ہوا کہ اس زندگی میں آپ کے لیے ایک محدود مدت اور گنتی کا وقت مقرر ہے، جس کے بعد آپ اللہ عزوجل کی طرف لوٹ جائیں گے، اور اس پاک پروردگار کے روبرو کھڑے ہوں گے، وہ آپ سے ان اعمال کے بارے میں پوچھے گا جو آپ نے اس زندگی میں کیے ہیں، اور بے شک قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آپ سے جن چیزوں کے بارے میں پوچھے گا ان میں آپ کا مال، آپ کا کھانا، اور آپ کا پینا سب شامل ہیں، جب آپ اس کے سامنے کھڑے ہوں گے تو وہ آپ سے ان سب چیزوں کے بارے میں پوچھے گا، اور یہ صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن کسی شخص کے قدم اس وقت تک اپنی جگہ سے نہیں ہٹیں گے جب تک کہ اس سے چار چیزوں کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے“، جن میں سے ایک یہ ہے: ”اس کے مال کے بارے میں کہ اس نے اسے کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا۔“ [ترمذی: 2417، اور دارمی: 537 نے اسے روایت کیا ہے اور البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے]، اے ہدایت یافتہ مسلمان اور اے خیر خواہ مومن! تم اللہ جل وعلا کے حضور پیش ہونے سے پہلے اس دنیا کی زندگی میں ہی اپنی فکر کر لو، سوال کے لیے جواب تیار کر لو، اور ایسا جواب تیار کرو جو درست ہو۔ کیونکہ اللہ کی قسم! تم اللہ جل وعلا کے سامنے جواب دہ ہو۔
اے مومنوں کی جماعت! بے شک اللہ کی اپنے بندوں پر یہ نعمت ہے کہ اس نے ان کے لیے پاکیزہ کمائی کے مختلف ذرائع اور جائز منافع کے مختلف طریقے مہیا کیے ہیں، اور حلال وحرام کے معاملے کو واضح کر دیا ہے، اس سلسلے میں اس حدیث پر غور کریں جو صحیحین میں نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”یقیناً حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں جن کو اکثر لوگ نہیں جانتے، چنانچہ جو شخص شبہہ کی چیزوں سے بچ گیا اس نے اپنے دین اور آبرو کو محفوظ کرلیا، اور جو شبہ والی چیزوں میں پڑ گیا وہ حرام میں پڑ جائے گا۔ اس کی مثال اس چرواہے کی ہے جو کسی محفوظ چراہ گاہ کے اردگرد چراتا ہے، تو قریب ہے کہ جانور اس چراگاہ میں سے بھی چر لیں۔ سنو! ہر بادشاہ کی ایک محفوظ چراہ گاہ ہوتی ہے (جس میں کسی کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوتی) آگاہ رہو! اللہ کی چراگاہ اس کى حرام کردہ چیزیں ہیں۔ سنو! جسم کے اندر گوشت کا ایک ٹکڑا ہے جب وہ درست ہو جاتا ہے تو سارا جسم درست رہتا ہے اور جب وہ بگڑ جاتا ہے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے، جان لو! وہ دل ہے۔“ [متفق علیہ]۔
اللہ کے بندو!
یہ حدیث کس قدر عظیم ہے، اس کا اندازِ بیان کتنا شاندار ہے، اور اس میں موجود نصیحت، رہ نمائی اور ہدایت کس قدر کامل ہے۔ اس میں نبی ﷺ نے تمام معاملات کو تین قسموں میں تقسیم کیا ہے:
ایک قسم واضح حلال ہے، یعنی: ہر مسلمان اس کی حلت کو جانتا ہے، اور اس کا معاملہ کسی پر مشتبہ نہیں ہوتا، یعنی: اس کا حلال ہونا واضح ہے، اس میں کوئی شبہ نہیں۔
اے اللہ کے بندو! دوسری قسم وہ ہے جسے نبی ﷺ نے واضح حرام قرار دیا ہے، یعنی جس کی حرمت ہر ایک کے لیے واضح ہو، چنانچہ کسی مسلمان پر اس کا حرام ہونا مشتبہ نہ ہو۔ اس میں حرام کردہ چیزوں کی وہ تمام قسمیں شامل ہیں جن کی حرمت پر کتاب وسنت کی دلیلیں موجود ہیں، جو ان کی شدید سنگینی اور برے انجام کو واضح کرتی ہیں۔ چنانچہ یہ ایسے حرام امور ہیں جن کی حرمت بالکل واضح ہے۔
اے اللہ کے بندو! تیسری قسم: جسے نبی ﷺ نے مشتبہ قرار دیا ہے، یہ تمام لوگوں اور تمام مسلمانوں پر مشتبہ نہیں، بلکہ بہت سے لوگوں پر مشتبہ ہے۔ یہ ایسے مشتبہ امور ہیں جنہیں بہت سے لوگ نہیں جانتے، جیسے مسلمانوں میں جاہل، عام لوگ اور وہ افراد جن کے پاس نہ علم ہے، نہ دین کی سمجھ اور نہ ہی اللہ کے دین کی گہری بصیرت ہے۔ چنانچہ ایسے لوگوں پر بعض امور مشتبہ ہو جاتے ہیں اور بعض چیزیں انہیں پیچیدہ معلوم ہوتی ہیں، وہ نہیں جانتے کہ یہ واضح حلال ہے یا واضح حرام؟ اے اللہ کے بندو! یہیں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ علماء کا کیا مقام ہے، ان کا مرتبہ کتنا بلند ہے اور ان پر اللہ کا کتنا احسان ہے کہ ان کے لیے کوئی بھی چیز مشتبہ نہیں اور سارے امور ان پر واضح ہیں۔ ”انہیں بہت سے لوگ نہیں جانتے“ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو انہیں جانتے ہیں، اور وہ پختہ علم والے علماء اور محقق فقہاء ہیں جن کی نصیحت ووضاحت سے، جن سے سوال کرنے، فتویٰ پوچھنے اور جن کے علم وفقہ سے رہنمائی حاصل کرنے سے مسلمان بے نیاز نہیں ہو سکتے۔ لوگوں پر ان کا اثر کتنا عظیم ہے اور ان کی افادیت کا دائرہ کتنا کشادہ ہے، اور ایسا کیوں نہ ہو جبکہ وہ انبیاء کے وارث ہیں۔
اللہ کے بندے!
یقیناً نبی ﷺ نے اس حدیث میں معاملات کے مشتبہ اور خلط ملط ہو جانے کی صورت میں وہ درست طریقہ اور سیدھا راستہ بیان کیا ہے کہ انسان کس طرف رخ کرے اور کیا کرے؟ چنانچہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا: ”جو شبہات سے بچ گیا اس نے اپنے دین اور اپنی آبرو کو بچا لیا۔“ جو شبہات سے بچ گیا یعنی ان سے دور رہا اور ان کے قریب نہ گیا؛ تو اس نے اپنے دین کو بچا لیا، یعنی اس معاملے میں جو اس کے اور اللہ کے درمیان ہے، اور اپنی عزت وآبرو کو بچا لیا، یعنی اس معاملے میں جو اس کے اور لوگوں کے درمیان ہے، بایں معنی کہ وہ اپنے دین اور اپنی عزت وآبرو کی حفاظت کا طلب گار ہوا۔ اے مومنو! اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ عزت وآبرو اور دین کی حفاظت محض شبہات سے بچنے اور ان سے دور رہنے ہی سے ممکن ہے۔ اس کے برخلاف اگر انسان مشتبہ کاموں کا ارتکاب کرے، انہیں معمولی سمجھے اور ان کی پرواہ نہ کرے؛ تو ایک نہ ایک دن یہ چیزیں لازماً اسے واضح حرام کی طرف لے جائیں گی اور اسے حرام کے دائرے میں گرا دیں گی، جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو شبہات سے بچ گیا اس نے اپنے دین اور اپنی آبرو کو بچا لیا، اور جو شبہات میں پڑ گیا وہ حرام میں پڑ گیا۔“ یعنی: شبہات، ان میں پڑنے والے کو واضح حرام کی طرف لے جاتے ہیں، ”چنانچہ جو شبہ والی چیزوں میں پڑ گیا، وہ حرام میں پڑ جائےگا۔ اس کی مثال اس چرواہے کی ہے جو کسی محفوظ چراگاہ کے اردگرد جانور چراتا ہے۔ ایسے میں اس بات کا امکان رہتا ہے کہ جانور اس چراگاہ میں سے بھی چر لے۔ سنو! ہر بادشاہ کی ایک محفوظ چراہ گاہ ہوتی ہے (جس میں کسی کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوتی)۔ آگاہ رہو! اللہ کی چراگاہ اس کى حرام کردہ چیزیں ہیں۔“ اللہ عزوجل کی ممنوعہ حدود جنہیں اس نے اپنے بندوں پر حرام کیا ہے، وہ محرمات ہیں، یہ وہ امور ہیں جن سے اس نے اپنے بندوں کو منع فرمایا ہے۔ دانش مندی، عقل مندی اور سمجھداری اس بات میں ہے کہ بندہ محرمات سے انتہائی حد تک دور رہے، ساتھ ہی حرام کام تک لے جانے والے تمام ذرائع اور اسباب سے بھی دور رہے، اور مشتبہ امور میں لاپرواہی برتنا بھی انہی اسباب میں شامل ہے۔
اللہ کے بندو!
بلاشبہ اس باب میں فقہ (دین کی سمجھ) کی سخت ضرورت ہے، خصوصاً اس زمانے میں جبکہ حق وباطل خلط ملط ہو چکے ہیں، اور لوگوں پر بہت سے معاملات مشتبہ ہو گئے ہیں۔ مسلمان پر واجب ہے کہ وہ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنے دین اور عزت کو بچانے کی کوشش کرے؛ تاکہ وہ اللہ عز وجل سے اچھی حالت میں ملاقات کرے، اور حرام کردہ چیزوں اور ان کے اسباب وذرائع سے دور رہے۔ امام احمد نے اپنی مسند میں وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، انہوں نے فرمایا: میں نبی ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نیکی کے بارے میں پوچھنے آئے ہو؟“ میں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے دل سے پوچھو، نیکی وہ ہے جس پر نفس مطمئن ہو اور دل راضی ہو جائے اور گناہ وہ ہے جو دل میں کھٹکے اور اس کی بابت سینے میں تردد ہو، اگرچہ لوگ تجھے (اس کے جواز کا) فتویٰ دیں اور مسلسل فتوی دیں۔“ [مسند احمد: 18028، سنن دارمی: 2533، شیخ البانی نے اسے حسن لغیرہ قرار دیا ہے]۔
امام مسلم نے نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے، اور گناہ وہ ہے جو دل میں کھٹکے، اور اس سے لوگوں کا با خبر ہونا تمھیں خوف زدہ کرے یا ناگوار ہو۔“ [صحیح مسلم: 2553]۔
اے بندہ مومن! جب تمھیں کسی معاملے میں یہ شک وشبہ ہو کہ آیا یہ واضح حلال ہے یا واضح حرام؟ تو جو چيز تمہیں شک میں ڈالے اسے چھوڑ کر وہ اختیار کرو جو شک میں ڈالنے والی نہ ہو، جیسا کہ نبی ﷺ کی صحیح حدیث سے ثابت ہے۔ چنانچہ ترمذی اور نسائی میں رسول اللہ ﷺ کے نواسے ابو محمد حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس چیز میں تمہیں شک ہو، اسے چھوڑ کر وہ چیز اختیار کر لو جس میں تمہیں کوئی شک نہ ہو۔“ [سنن ترمذی: 2518، سنن نسائی: 5711، مسند احمد: 1723، امام البانی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے]۔
اے اللہ! ہمیں اپنے دین کی سمجھ عطا فرما، ہمیں اپنے نبی ﷺ کی سنت کی بصیرت عطا فرما، اور اے اللہ! ہمیں پاکیزہ مال اور حلال کمائی کی توفیق عطا فرما، ہمارے اور حرام چیزوں کے درمیان دوری پیدا فرما دے، ہمیں مشتبہ چیزوں سے بچنے کی توفیق عطا فرما، اے ہمارے معبود! ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جو پاکیزہ چیزیں کھاتے ہیں، تیری نعمتوں پر تیری حمد بیان کرتے ہیں، اور تیرے انعامات واحسانات پر تیرا شکر ادا کرتے ہیں؛ بے شک تو دعائیں سننے والا ہے اور تو ہی اس لائق ہے کہ تجھ سے امید رکھی جائے، اور تو ہمارے لیے کافی اور بہترین کارساز ہے۔
دوسرے خطبہ کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو بڑا احسان کرنے والا، وسیع فضل، بے پناہ جود وکرم اور بیش بہا انعام والا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل اور تمام صحابہ پر درود وسلام نازل فرمائے۔
دوسرا خطبہ:
اما بعد! اے اللہ کے بندو!
یقیناً اس باب میں صحابہ کرام کے کمالِ حال کا یہ ایک نمونہ ہے جسے امام بخاری نے اپنی صحیح میں امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، وہ کہتی ہيں: ”ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ایک آدمی تھا جو ان کو ٹیکس دیتا تھا، یعنی ان کا ایک غلام تھا جو انہیں ٹیکس ادا کرتا تھا، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ اس ٹیکس میں سے کھاتے بھی تھے۔ ایک دن اس نے کوئی چیز آپ کو دی تو آپ نے اس میں سے کھا لیا۔ جب آپ رضی اللہ عنہ کھانے سے فارغ ہوئے تو اس آدمی نے آپ سے کہا: کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ کہاں سے آیا ہے؟ پھر اس آدمی نے کہا: یہ وہ مال ہے جو مجھے ایک ایسے شخص نے دیا ہے جس کے ساتھ میں نے زمانہ جاہلیت میں کہانت کا معاملہ کیا تھا، حالانکہ مجھے کہانت اچھی طرح نہیں آتی تھی، بلکہ میں نے اسے دھوکہ دیا تھا اور اس کے لیے کہانت کی تھی۔ پھر اس نے مجھے یہ مال دیا، اور میں نے اسی میں سے آپ کو یہ دیا۔ جب یہ بات ابوبکر رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوئی تو آپ نے اپنی انگلی منہ میں ڈالی اور جو کچھ آپ کے پیٹ میں تھا سب قے کر کے نکال دیا، رضی اللہ عنہ وارضاہ۔» [صحیح بخاری: 3842]۔
اس منظر کو دیکھیے، ایک چیز پیٹ میں حلت اور اباحت کی بنیاد پر داخل ہوئی، لیکن جب ان پر اس کی حرمت ظاہر ہو گئی اور اس مال کی حقیقت واضح ہو گئی؛ تو انھوں نے اسے اپنے پیٹ سے نکال دیا اور قے کر دی۔ آپ اندازہ لگائیے کہ ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جو ایسے کتنے مال ہڑپ کرجاتے ہیں جن کی حرمت سے وہ باخبر ہوتے ہیں، ان پر ایسے مال کا حلال نہ ہونا واضح ہوتا ہے، پھر بھی وہ اسے اپنے پیٹوں میں اتارتے ہیں اور اس سے اپنا، اور اپنے بال بچوں کا پیٹ بھرتے ہیں، کیا وہ اللہ سے نہیں ڈرتے؟ کیا وہ اللہ سے نہیں ڈرتے؟
اے اللہ! ہمیں پاکیزہ روزی عطا فرما، اے اللہ! رحمت محمد ﷺ اور آل محمد پر رحمت نازل فرما۔
***
خطبہ کا عنوان
پاکیزہ کمائی اور حرام کمائی
پہلے خطبہ کا مقدمہ
بے شک تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد چاہتے ہیں، اسی سے بخشش اور اسی سے ہدایت طلب کرتے ہیں، ہم اپنے نفس اور اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا، اور جسے وہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل اور صحابہ پر ڈھیروں درود وسلام نازل فرمائے۔
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہئے اور دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا۔ [آل عمران: 102]۔
پہلا خطبہ:
حمد وصلاۃ کے بعد: اے مومنو۔۔
بے شک مال کی محبت انسان کی طبیعت اور فطرت میں داخل ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: مرغوب چیزوں کی محبت لوگوں کے لئے مزین کر دی گئی ہے، جیسے عورتیں اور بیٹے اور سونے اور چاندی کے جمع کیے ہوئے خزانے اور نشاندار گھوڑے اور چوپائے اور کھیتی۔۔۔ [آل عمران: 14]۔
بلاشبہ شریعت میں حلال اور پاکیزہ رزق کی تلاش کا حکم دیا گیا ہے؛ اللہ تعالی نے فرمایا: وه ذات جس نے تمہارے لیے زمین کو پست ومطیع کردیا تاکہ تم اس کی راہوں میں چلتے پھرتے رہو اور اللہ کی روزیاں کھاؤ (پیو)۔ اسی کی طرف (تمہیں) جی کر اٹھ کھڑا ہونا ہے۔ [الملک: 15]۔
مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی نے اپنے ہاتھ کی کمائی سے زیادہ بہتر کمائی کبھی نہیں کھائی۔ اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ کی کمائی کھایا کرتے تھے۔“ [صحیح بخاری: 2072]۔
چنانچہ زمین میں تگ ودو کرنا اور روزی تلاش کرنا ایک پسندیدہ عمل ہے، یہ صرف اسی صورت میں پسندیدہ ہوتا ہے جب اسے تلاش کرنے والا شرعی طور پر جائز راستے اختیار کرے، اور ممنوعہ راستوں سے اجتناب کرے۔
بلاشبہ رسول اللہ ﷺ، آپ کے صحابہ کرام اور آپ کی امت کے نیک لوگ حرام کمائی کے ساتھ ایسی کمائی سے بھی احتیاط کرتے تھے جس میں شبہ ہو۔
بخاری اور مسلم نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، انھوں نے فرمایا: حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے صدقے کی کھجوروں میں سے ایک کھجور لیا اور اپنے منہ میں ڈال لیا، تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”تھو، تھو! تاکہ وہ اسے پھینک دے، پھر فرمایا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہم صدقہ نہیں کھاتے؟“ [متفق علیہ]
یہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، ان کا غلام ان کے پاس کوئی چیز لایا تو آپ نے اسے کھا لیا۔ غلام نے کہا: آپ کو معلوم ہے یہ کیا چیز تھی؟ میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک آدمی کو آئندہ ہونے والی بات (کہانت) بتادی تھی حالانکہ مجھے کہانت اچھی طرح نہیں آتی تھی بلکہ میں نے اسے دھوکہ دیا تھا۔ تو وہ مجھ سے ملا اور اس نے مجھے اسی کے عوض یہ چیز دی، اور اسی کو آپ نے کھایا ہے۔ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ منہ میں ڈالا اور پیٹ کی ہر چیز کو قے کر کے نکال دیا۔
ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ”اگر یہ میری جان کے ساتھ ہی نکلتی تب بھی میں اسے ضرور نکال دیتا، اے اللہ! میں تجھ سے اس چیز کی معافی مانگتا ہوں جو رگوں میں سرایت کر گئی اور آنتوں میں گھل مل گئی۔“ [صحیح بخاری: 3842]۔
یہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ ہیں کہ انھوں نے اپنے بیٹے کو ان سیبوں میں سے ایک سیب لیتے ہوئے دیکھا جو وہ مسلمانوں میں بانٹ رہے تھے، تو انھوں نے اس سے وہ سیب چھین لیا۔ بچہ رو پڑا اور اپنی ماں کے پاس چلا گیا۔ پھر جب ان کی بیوی نے اپنے شوہر سے اس بات کا شکوہ کیا، تو انہوں نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں نے اسے کھینچ لیا اور مجھے ایسا لگا گویا میں اسے اپنے دل سے کھینچ رہا ہوں، لیکن مجھے یہ گوارا نہ ہوا کہ مسلمانوں کے مالِ فے میں سے ایک سیب لوں اور اس کی خاطر اللہ عز وجل کے ہاں اپنے آپ کو ضائع کر دوں۔“
ایک نیک عورت کا شوہر جب حصولِ رزق کے لیے نکلتا ہے تو وہ اسے نصیحت کرتے ہوئے کہتی ہے: ”اے انسان! ہمارے رزق کے معاملے میں اللہ سے خوف کھانا؛ کیونکہ ہم بھوک پر صبر کر لیں گے لیکن آگ (کے عذاب) پر صبر نہیں کر سکتے۔“
اسی طرح مومن بندے اپنے دین کی حفاظت کرتے ہوئے، اپنے رب سے خوف کھاتے ہوئے اور شبہات سے دور رہ کر پرہیزگاری اختیار کرتے ہیں۔ چہ جائے کہ وہ محرمات میں ملوث ہوں۔
بھلا اس شخص کا کیا حال ہوگا جو جان بوجھ کر حرام کا رخ کرتا ہے اور اس سے اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ بھرتا ہے، اللہ کی پناہ؟!
اللہ کے نبی ﷺ فرماتے ہيں: ”لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ آدمی اس بات کی پرواہ نہیں کرے گا کہ اس نے جو کچھ حاصل کیا ہے وہ حلال ہے یا حرام۔“ [صحیح بخاری: 2059]۔
اے مومنو..
اس شخص کے بارے ميں آپ کا کيا خيال ہے جس کا ذکر کرتے ہوئے نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو لمبا سفر کرتا ہے، پراگندہ حال، گرد وغبار میں اٹا ہوا ہے، اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھاکر کہتا ہے: اے میرے رب! اے میرے رب! حالانکہ اس کا کھانا حرام ہے، اس کا پینا حرام ہے، اس کا لباس حرام ہے اور اس کی پرورش حرام سے ہوئی ہے، تو اس کی دعا کیوں کر قبول ہوگی؟“ [صحیح مسلم : 1015]۔
اس شخص میں عاجزی وانکساری، اور محتاجی وضرورت مندی کی ایسی صفات جمع ہو گئی ہیں، جو اس کے حال پر ترس کھانے کا تقاضا کرتی ہیں، اس کی شدید محتاجی کو ظاہر کرتی ہیں، اور اسے قبولیتِ دعا کا اہل بناتی ہیں، اس کا سفر لمبا ہو گیا ہے اور وہ پردیس میں ہے..، لیکن اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنا تعلق توڑ لیا، اور خود کو اپنے خالق ومالک کی مدد سے محروم کر لیا، لہذا اس کی دعا قبول نہیں سکتی؛ کیوں کہ اس نے حرام کھایا، حرام پیا، حرام پہنا اور اس کا گوشت حرام سے پلا بڑھا ہے، چنانچہ اس کے ہاتھ نامراد لوٹا دیے گئے، اور جو گوشت بھی حرام سے پلا بڑھا ہو، تو آگ ہی اس کی زیادہ حق دار ہے۔ ہم اللہ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
اے مومنو۔۔
تم پر لازم ہے کہ رزقِ حلال کی تلاش کرو، اور حرام ومشتبہ چیزوں سے دور رہو؛ تاکہ تمہارا دین اور آبرو محفوظ رہیں۔
لوگوں کے حقوق کی حفاظت کرو، ان کے کام مکمل کرو، اور معاہدوں اور عہد وپیمان کو پورا کرو۔
دھوکہ اور فریب کی تمام قسموں اور حالتوں سے اجتناب کرو، کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس نے ہمیں دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“ [متفق علیہ]۔
چنانچہ جو شخص نقلی سامان کو اصلی ظاہر کر کے فروخت کرتا ہے، تو اس نے ہمیں دھوکہ دیا۔
اور جو شخص عمدہ کھانے کو اوپر اور خراب کو نیچے رکھتا ہے؛ تو اس نے ہمیں دھوکہ دیا۔
رشوت سے بچو، کیونکہ اللہ کے رسول ﷺ نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی ہے۔
سود سے بچو خواہ وہ تھوڑا ہو یا زیادہ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے وہ چھوڑ دو، اگر تم سچ مچ ایمان والے ہو۔ اور اگر ایسا نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے لڑنے کے لئے تیار ہو جاؤ ، ہاں اگر توبہ کرلو تو تمہارا اصل مال تمہارا ہی ہے، نہ تم ظلم کرو نہ تم پر ظلم کیا جائے گا۔ [البقرۃ: 278- 279]
یتیموں کا مال کھانے سے بچو، کیونکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: جو لوگ ناحق ظلم سے یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں، وه اپنے پیٹ میں آگ ہی بھر رہے ہیں اور عنقریب وه دوزخ میں جائیں گے۔ [النساء: 10]
ناپ تول میں کمی بیشی کرنے سے بچو، اللہ تعالی کا فرمان ہے: بڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی۔ کہ جب لوگوں سے ناپ کر لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں۔ اور جب انہیں ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں۔ [المطففین: 1 - 3]
لوگوں پر ظلم کرنے اور باطل طریقے سے ان کے مال کھانے سے بچو، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ایمان والو! اپنے آپس کے مال ناجائز طریقہ سے مت کھاؤ... [النساء: 29]۔
اور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: ”جس نے اپنی قسم کے ذریعے (یعنی جھوٹی قسم کھا کر) کسی مسلمان کا حق مارا، اس کے لیے اللہ نے جہنم کو واجب اور جنت کو حرام کردیا ہے۔“ ایک شخص نے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! چاہے وہ چیز تھوڑی سی ہی کیوں نہ ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر چہ پیلو کے درخت کی ایک چھوٹی سی ٹہنی ہی کیوں نہ ہو۔“ [صحیح مسلم: 137]۔
قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنے سے بچو؛ کیوں کہ یہ ظلم اور زیادتی ہے، نبی ﷺ فرماتے ہیں: ”جس شخص نے لوگوں سے مال [قرض] لیا اور وہ اسے ادا کرنا چاہتا ہو تو اللہ تعالی اسے اس کی ادائیگى کى توفیق دیتا ہے، اور جس شخص نے ضائع وبرباد کرنے کے لیے قرض لیا تو اللہ تعالی اُسے ضائع کردیتا ہے۔“ [صحیح بخاری: 2387]۔
مزدوروں اور ملازموں کی مزدوری ادا کرنے میں تاخیر سے بچو، اللہ کے نبی ﷺ فرماتے ہيں: ”مزدور کا پسینہ سوکھنے سے پہلے اس کا حق ادا کردو۔“ [سنن ابن ماجہ: 2443، البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے]۔
اللہ کے بندو..
بلاشبہ حلال کھانے کا اہتمام کرنا اور حرام اور مشتبہ چیزوں سے بچنا، ان عظیم ترین خصلتوں میں سے ہے جن سے بندہ مومن آراستہ ہوتا ہے۔
اللہ کے نبی ﷺ فرماتے ہيں: ”چار چیزیں اگر تم میں ہوں، تو دنیا کی جو چیز بھی تم سے چھوٹ جائے اس کا تمہیں کوئی غم نہیں: بات میں سچائی، امانت داری، حسن اخلاق اور پاکیزہ رزق۔“ [اسے احمد (6652) اور طبرانی (14120) نے روایت کیا ہے، اور البانی نے اسے صحیح کہا ہے]۔ یعنی: کھانے پینے میں حلال کی پابندی کرنا۔
اے اللہ ! تو ہمیں اپنی حلال کردہ چیزوں کے ذریعہ اپنی حرام کردہ چیزوں سے کافی ہوجا اور ہمیں اپنے فضل کے ذریعہ، اپنے ماسوا سے بے نیاز کردے۔۔ میں اپنی یہ بات کہتا ہوں اور اللہ سے اپنے اور تمہارے لیے مغفرت طلب کرتا ہوں۔
دوسرے خطبہ کا مقدمہ
ساری تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو اکیلا ہے اور درود وسلام ہو اس نبی پر جس کے بعد کوئی نبی نہیں آنے والا اور آپ کے آل واصحاب پر۔
دوسرا خطبہ:
حمد وصلاۃ کے بعد: اے مومنو۔۔
امام ابن القیم اپنی کتاب [الوابل الصیب] میں لکھتے ہیں: "قیامت کے دن اللہ عز و جل کے ہاں ظلم کے تین دفتر ہوں گے: ایک دفتر وہ ہوگا جس میں سے اللہ کچھ معاف نہیں کرے گا، اور وہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے؛ بلاشبہ اللہ اس بات کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے۔
اور ایک دفتر ایسا ہوگا جس میں سے اللہ تعالیٰ کچھ بھی نہیں چھوڑے گا، اور وہ بندوں کا ایک دوسرے پر ظلم کرنا ہے؛ یقیناً اللہ تعالیٰ اس کا پورا پورا بدلہ لے گا۔
ایک دفتر ایسا ہوگا جس کی اللہ تعالیٰ کچھ پروا نہیں کرے گا، اور وہ بندے کا اپنی جان پر ایسا ظلم کرنا ہے جس کا تعلق اس کے اور اس کے رب عزوجل کے مابین ہو۔ یقیناً یہ دفتر تمام دفتروں میں سب سے ہلکا اور سب سے تیزی سے مٹنے والا ہے؛ کیونکہ یہ توبہ واستغفار، گناہوں کو مٹانے والی نیکیوں، کفارہ بننے والی مصیبتوں اور اس جیسی دیگر چیزوں سے مٹ جاتا ہے۔ شرک کے دفتر کا معاملہ اس کے برعکس ہے؛ کیونکہ وہ توحید کے بغیر نہیں مٹتا اور مظالم کا دفتر اس وقت تک نہیں مٹتا جب تک کہ انہیں ان کے حق داروں کو لوٹا کر ان سے معافی نہ مانگ لی جائے۔ ابن القیم رحمہ اللہ کا کلام ختم ہوا۔
اے مومنو۔۔
جان لو - اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے - بلاشبہ اللہ کی نافرمانی کرنے والے ہر شخص کے لیے توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے، اگر اس کی شرائط پوری ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: جو شخص کوئی برائی کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے استغفار کرے تو وه اللہ کو بخشنے واﻻ، مہربانی کرنے واﻻ پائے گا۔ [النساء: 110] نیز اللہ تعالی کا فرمان ہے: جو شخص اپنے گناه کے بعد توبہ کرلے اور اصلاح کرلے تو اللہ تعالیٰ رحمت کے ساتھ اس کی طرف لوٹتا ہے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ معاف فرمانے واﻻ مہربانی کرنے واﻻ ہے۔ [المائدۃ: 39]۔
توبہ کی شرائط یہ ہیں جیسا کہ علماء نے بیان کی ہیں:
گناہ چھوڑ دینا۔
جو گزر چکا اس پر شرمندہ ہونا۔
اس گناہ کو مستقبل میں دوبارہ نہ کرنے کا عزم کرنا۔
اور اگر معاملہ لوگوں کے حقوق سے متعلق ہو، خواہ اس کا تعلق ان کے مال، عزت وآبرو یا جان سے ہو، تو اس پر لازم ہے کہ جس کا اس پر حق ہے اس سے معافی تلافی کرا لے، یا حقوق ان کے حق داروں کو ادا کر دے۔
ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں ہر قسم کے ظلم سے محفوظ رکھے، اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے جن کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں۔
اخیر میں اس نبی پر درود وسلام بھیجیں جس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو درود وسلام بھیجنے کا حکم دیا ہے۔
***
خطبہ کا عنوان
قیامت کے دن کی ہولناکیاں
پہلے خطبہ کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد چاہتے ہیں اور اسی سے ہدایت طلب کرتے ہیں، اور ہم اپنے نفس اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے وہی ہدایت یافتہ ہے، اور جسے وہ گمراہ کردے تو آپ اس کے لیے کوئی راہ دکھانے والا کارساز نہیں پائیں گے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل، تمام صحابہ اور ان کے پیروکاروں پر ڈھیروں درود وسلام نازل فرمائے۔
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہیے اور دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا۔ [آل عمران: 102]، اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کرکے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں، اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو۔ بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے۔ [النساء: 1]، اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سیدھی اور سچی باتیں کیا کرو۔ تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے کام سنوار دے اور تمہارے گناه معاف فرما دے، اور جس نے بھی اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کی اس نے بڑی مراد پالی۔ [الاحزاب: 70-71]۔
اما بعد: سب سے اچھی بات کتاب اللہ ہے، سب سے بہتر طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے، بدترین امور (دین کے نام پر ایجاد کردہ) نت نئی چیزیں ہیں، ہر نت نئی چیز بدعت ہے، ہر بدعت گمراہی ہے، اور ہر گمراہی آگ میں لے جانے والی ہے۔
پہلے خطبہ کا متن
امابعد! اے لوگو! اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے کے لوگوں کو پیدا کیا، یہی تمہارا بچاؤ ہے۔ [البقرۃ: 21]۔
اے مسلمانو! قیامت کا دن ایک بہت بڑا دن ہے، جو شدید ہولناکیوں اور ہیبت ناک مصیبتوں والا ہے۔ اگر اس دن بالائی اور زیریں کائنات کے بدل جانے کے سوا کچھ اور نہ ہوتا، تو بھی یہی کافی تھا، تو پھر اعمال کی پیشی، حساب وکتاب، دوبارہ زندہ کیے جانے، پل صراط، میزان، حوض، اعمال ناموں کے اڑنے اور جہنم کی ہولناکیوں کا کیا عالم ہوگا؟ جبکہ جہنم کو اس کی تمام تر وسعت وعظمت کے ساتھ میدانِ حشر میں لایا جائے گا، جسے سخت گیر اور طاقتور فرشتے کھینچ کر لائیں گے؛ یہ ایک انتہائی ہیبت ناک اور بھیانک منظر ہوگا۔ اللہ عزوجل نے فرمایا: اور جس دن جہنم بھی ﻻئی جائے گی... [الفجر: 23]، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس دن جہنم کو اس حالت میں لایا جائے گا کہ اس کی ستر ہزار لگامیں ہوں گی، ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھینچ رہے ہوں گے۔“ [صحیح مسلم: 2842]
مسلمانو! قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا، ستارے بے نور ہو جائیں گے اور سیارے بکھر جائیں گے، سمندر بھڑکا دیے جائیں گے اور پھاڑ دیے جائیں گے، قبروں میں موجود لوگ اٹھائے جائیں گے اور قبریں زیر وزبر کر دی جائیں گی، اس وقت ہر شخص جان لے گا کہ اس نے آگے کیا بھیجا تھا اور اپنے پیچھے کیا چھوڑا تھا۔ جب کہ صور میں ایک پھونک پھونکی جائے گی۔ اور زمین اور پہاڑ اٹھا لیے جائیں گے اور ایک ہی چوٹ میں ریزه ریزه کر دیے جائیں گے۔ اس دن ہو پڑنے والی (قیامت) ہو پڑے گی۔ اور آسمان پھٹ جائے گا اور اس دن بالکل بودا ہوجائے گا۔ اس کے کناروں پر فرشتے ہوں گے، اور تیرے پروردگار کا عرش اس دن آٹھ (فرشتے) اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ اس دن تم سب سامنے پیش کیے جاؤ گے، تمہارا کوئی بھید پوشیده نہ رہے گا۔ [الحاقۃ: 13-18]۔
قیامت کے دن آسمان کا رنگ بدل جائے گا چنانچہ وہ سرخ ہو جائے گا جیسے کہ سرخ چمڑہ، اور خستہ وکمزور ہو کر مثل تیل کی تلچھٹ کے ہو جائے گا، سورج، چاند اور تمام ستارے لپیٹ دیے جائیں گے، پھر سارے آسمان بھی لپیٹ دیے جائیں گے۔ جس دن ہم آسمان کو یوں لپیٹ لیں گے جیسے طومار میں اوراق لپیٹ دیئے جاتے ہیں... [الانبیاء: 104]، جس وقت کہ نگاه پتھرا جائے گی۔ اور چاند بے نور ہو جائے گا۔ اور سورج اور چاند جمع کردیے جائیں گے۔ اس دن انسان کہے گا کہ آج بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟ [القیامۃ: 7-10] بے شک وہ چھٹکارا چاہتا ہے اور نجات کا طالب ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے لیے نہ کوئی جائے فرار ہے اور نہ کوئی پناہ۔ نہیں نہیں کوئی پناہ گاه نہیں۔ آج تو تیرے پروردگار کی طرف ہی قرار گاه ہے۔ آج انسان کو اس کے آگے بھیجے ہوئے اور پیچھے چھوڑے ہوئے سے آگاه کیا جائے گا۔ [القیامۃ:11-13] وہ کتنا ہولناک دن ہوگا، جس میں حاملہ اونٹنیاں بیکار اور لاوارث چھوڑ دی جائیں گی، وحشی جانور اکٹھے کر کے جمع کیے جائیں گے تاکہ ان میں سے بعض کا بعض سے بدلہ لیا جائے، جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی، اور جنت تیار کر کے قریب لائی جائے گی، یقیناً یہ وہ دن ہے جس میں نگاہیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی اور جھک جائیں گی، دل خالی اور خوفزدہ ہو جائیں گے، اور اپنے اردگرد رنج وغم اور خوف وہراس کا عالم دیکھ کر خشک ہو جائیں گے۔ ناانصافوں کے اعمال سے اللہ کو غافل نہ سمجھ وه تو انہیں اس دن تک مہلت دیے ہوئے ہے جس دن آنکھیں پھٹی کی پھٹی ره جائیں گی۔ وه اپنے سر اوپر اٹھائے دوڑ بھاگ کر رہے ہوں گے، خود اپنی طرف بھی ان کی نگاہیں نہ لوٹیں گی اور ان کے دل خالی اور اڑے ہوئے ہوں گے۔ [ابراہیم: 43-44] اس دن صحیح طور پر ملک صرف رحمٰن کا ہی ہوگا اور یہ دن کافروں پر بڑا بھاری ہوگا۔ [الفرقان: 26]۔
اس سب کے باوجود قیامت کا دن ایک طویل دن ہے، جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے، اور اس کی طوالت کے ساتھ اس دن سورج مخلوق کے قریب آ جائے گا یہاں تک کہ وہ ان کے سروں سے ایک میل کے فاصلے پر ہو گا؛ چنانچہ وہ شدید پسینے میں شرابور ہوں گے، اور اس دن وہ اپنے اعمال اور جو کچھ انہوں نے آگے بھیجا ہے اس کے لحاظ سے مختلف حالتوں میں ہوں گے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن سورج کو مخلوق کے نزدیک کر دیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ ان سے ایک میل کے فاصلے پر ہوگا۔ چنانچہ لوگ اپنے اعمال کے بقدر پسینے میں شرابور ہوں گے، ان میں سے بعض لوگ وہ ہوں گے جن کے ٹخنوں تک پسینہ ہوگا، بعض لوگ وہ ہوں گے جن کے گھٹنوں تک پسینہ ہوگا، بعض لوگ وہ ہوں گے جو کمر تک پسینے میں ڈوبے ہوں گے اور بعض لوگ وہ ہوں گے جن کے لیے ان کا پسینہ لگام بن جائے گا۔“ [صحیح مسلم: 2864]
آسمان اور ستاروں کی ان بالائی ہولناکیوں کے باوجود، نہ زمین کو کوئی قرار ہوگا اور نہ پہاڑوں کو، کیونکہ اس دن وہ تھرتھرا جائیں گے، ریزے ریزے کر دیے جائیں گے اور ہلا دیے جائیں گے، جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا: یقیناً جس وقت زمین کوٹ کوٹ کر برابر کر دی جائے گی۔ [الفجر:21]، اللہ عزيز وبرتر کا مزید ارشاد ہے: پس جب کہ صور میں ایک پھونک پھونکی جائے گی۔ اور زمین اور پہاڑ اٹھا لیے جائیں گے اور ایک ہی چوٹ میں ریزه ریزه کر دیے جائیں گے۔ اس دن ہو پڑنے والی (قیامت) ہو پڑے گی۔ [الحاقۃ : 13-15]۔ اللہ تعالی کا مزید ارشاد ہے: وه آپ سے پہاڑوں کی نسبت سوال کرتے ہیں، تو آپ کہہ دیں کہ انہیں میرا رب ریزه ریزه کر کے اڑا دے گا۔ اور زمین کو بالکل ہموار صاف میدان کر کے چھوڑے گا۔ جس میں تو نہ کہیں موڑ دیکھے گا نہ اونچ نیچ۔ [طہ: 105-107] اللہ تعالی مزيد فرماتا ہے: جس دن زمین اور پہاڑ تھرتھرا جائیں گے اور پہاڑ مثل بھربھری ریت کے ٹیلوں کے ہوجائیں گے۔ [المزمل: 14]، اور اللہ عزيز وبرتر نے فرمایا: جس دن آسمان مثل تیل کی تلچھٹ کے ہو جائے گا اور پہاڑ رنگین اون کی طرح ہو جائیں گے۔ [المعارج: 8-9]۔
یہ کس قدر ہولناک مناظر ہیں! یہ کس قدر عظیم اور سنگین واقعات ہیں! زمین میں گڑے ہوئے پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے یہاں تک کہ وہ اون کی طرح یا ریت کی طرح ہوجائیں گے، اللہ ہی مددگار ہے – اے اللہ کے بندو! – قیامت کے دن ہر چیز بدل جائے گی، نہ لوگ وہ لوگ رہیں گے جو پہلے تھے، اور نہ زمین وہ زمین رہے گی جو پہلے تھی۔ جس دن انسان بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہو جائیں گے۔ اور پہاڑ دھنے ہوئے رنگین اون کی طرح ہو جائیں گے۔ [القارعۃ: 4-5]، جس دن لوگ پکارنے والے کے پیچھے چلیں گے جس میں کوئی کجی نہ ہوگی اور اللہ رحمنٰ کے سامنے تمام آوازیں پست ہو جائیں گی سوائے کھسر پھسر کے تجھے کچھ بھی سنائی نہ دے گا۔ اس دن سفارش کچھ کام نہیں آئے گی مگر جسے رحمنٰ حکم دے اور اس کی بات کو پسند فرمائے۔ جو کچھ ان کے آگے پیچھے ہے اسے اللہ ہی جانتا ہے، مخلوق کا علم اس پر حاوی نہیں ہو سکتا۔ تمام چہرے اس زنده اور قائم دائم مدبر، اللہ کے سامنے کمال عاجزی سے جھکے ہوئے ہونگے، یقیناً وه برباد ہوا جس نے ظلم ﻻد لیا۔ [طہ: 108-111] قیامت کے دن کی ہولناکیوں کو سمجھنے کے لیے قرآن مجید میں بیان کردہ صفت ہی کافی ہے کہ یہ ایک نہایت ترش رو اور سخت دن ہے، جس کا شر ہر طرف پھیلا ہوا ہوگا، یہ ایک بھاری دن ہے، یہ دن بچوں کو بوڑھا کر دے گا، اور یہ حسرت اور ہار جیت کا دن ہے۔ جب زمین پوری طرح جھنجھوڑ دی جائے گی۔ اور اپنے بوجھ باہر نکال پھینکے گی۔ انسان کہنے لگے گا کہ اسے کیا ہوگیا؟ اس دن زمین اپنی سب خبریں بیان کردے گی۔ اس لیے کہ تیرے رب نے اسے حکم دیا ہوگا۔ اس روز لوگ مختلف جماعتیں ہو کر (واپس) لوٹیں گے تاکہ انہیں ان کے اعمال دکھا دیے جائیں۔ [الزلزلۃ: 1-6]، ایمانی بھائیو! آگاہ رہو! ہمیں اللہ سے ڈرنا چاہیے کیونکہ دو نتائج میں سے ایک ہی نتیجہ نکلنا ہے۔ پس جس نے ذره برابر نیکی کی ہوگی وه اسے دیکھ لے گا۔ اور جس نے ذره برابر برائی کی ہوگی وه اسے دیکھ لے گا۔ [الزلزلۃ: 7-8]، لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو! بلاشبہ قیامت کا زلزلہ بہت ہی بڑی چیز ہے۔ جس دن تم اسے دیکھ لو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور تمام حمل والیوں کے حمل گر جائیں گے اور تو دیکھے گا کہ لوگ مدہوش دکھائی دیں گے، حاﻻنکہ درحقیقت وه متوالے نہ ہوں گے لیکن اللہ کا عذاب بڑا ہی سخت ہے۔ [الحج: 1-2]، میں اپنی یہ بات کہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کا طلب گار ہوں، تم بھی اس سے اپنے گناه کی معافی طلب کرو، وه یقیناً توبہ کرنے والوں کے لیے بڑا بخشنے واﻻ ہے۔
دوسرے خطبہ کا مقدمہ
ساری تعریفیں اللہ کے لئے ہیں، بہت زیادہ، پاکیزہ اور بابرکت تعریفیں جیسا کہ ہمارا رب پسند کرتا ہے اور راضی ہوتا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کے آل واصحاب پر اور قیامت تک ان کی راہ پر چلنے والوں پر درود وسلام اور برکتیں نازل فرمائے۔
دوسرا خطبہ:
اما بعد، اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اس کی اطاعت کرو اور اس کی نافرمانی سے بچو۔
اے مسلمانو! کتاب اللہ میں روزِ قیامت، اس کی مصیبتوں اور ہولناکیوں کا کثرت سے بیان آیا ہے۔ اللہ عزیز وبرتر نے بتا دیا ہے کہ یہ ایسا دن ہے جس میں کوئی شک نہیں، تاکہ اللہ کی ملاقات پر لوگوں کا یقین پختہ ہو جائے، اس سے دل بیدار ہو جائیں، ضمیر زندہ ہو جائیں، سینے اللہ کی خشیت اور اس کے خوف سے بھر جائیں، انسان اللہ کی مقرر کردہ حدود پر رک جائے اور ان سے تجاوز نہ کرے، زمین کو اللہ کی عبادت سے آباد کرے، اور اپنی زندگی اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے ہوئے گزارے، تاکہ اس عظیم دن اور اس کی شدید ہولناکیوں کے باوجود، وہ اللہ کی رحمت اور اس کے عرش کے سائے تلے داخل ہو سکے، اور اس پر وہ دن ہلکا کر دیا جائے جس کی طوالت پچاس ہزار سال ہے، یہاں تک کہ وہ دن اسے چند لمحات یا گھڑیوں کے مانند محسوس ہونے لگے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کا دن مومنوں پر ظہر اور عصر کے درمیانی وقت کے برابر ہوگا۔“ [ اسے حاکم (283) نے اور دیلمی نے ’الفردوس‘ (8993) میں روایت کیا ہے، اور البانی نے اسے صحیح کہا ہے۔]
نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سات آدمی ایسے ہیں کہ اللہ انھیں اس دن اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا، جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہوگا: انصاف کرنے والا حکمران، وہ نوجوان جو اللہ کی عبادت میں پلا بڑھا، وہ آدمی جس کا دل مسجدوں کے ساتھ اٹکا ہوا ہو، وہ دو آدمی جنھوں نے صرف اللہ کے لیے ایک دوسرے سے محبت کی، اسی بنیاد پر جمع ہوئے اور اسی پر ایک دوسرے سے جدا ہوئے، وہ آدمی جسے کسی حسب ونسب اور حسن وجمال والی عورت نے دعوتِ گناہ دی، تو اس نے کہہ دیا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں، وہ آدمی جس نے اس طرح چھپ کر صدقہ کیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی پتہ نہ چلا کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا، اور وہ آدمی جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔“ [متفق علیہ]۔
آپ ﷺ نے فرمایا: «قرآن پڑھا کرو، کیوں کہ وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کا سفارشی بن کر آئے گا۔ دو روشن چمکتی ہوئی سورتیں، سورہ البقرۃ اور سورہ آل عمران پڑھا کرو، کیوں کہ وہ قیامت کے دن اس طرح آئیں گی، جیسے دو بادل یا دو سائبان ہوں یا اڑتے ہوئے پرندوں کے دو جھنڈ ہوں اور وہ اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے دفاع کریں گی۔“ [صحیح مسلم : 805]
اللہ کی رحمت سے اس دن کی ہولناکیوں سے بچانے والے اعمال میں نذروں اور وعدوں کو پورا کرنا، کھانا کھلانا، کثرت سے صدقہ کرنا، تنگ دستوں کو مہلت دینا اور ان کا قرض معاف کرنا شامل ہے، اور یہ سب کچھ صرف اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے کیا جائے۔ اللہ سبحانہ اپنے نیک بندوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: جو نذر پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی برائی چاروں طرف پھیل جانے والی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی محبت میں کھانا کھلاتے ہیں مسکین، یتیم اور قیدیوں کو۔ ہم تو تمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے لیے کھلاتے ہیں نہ تم سے بدلہ چاہتے ہیں نہ شکر گزاری۔ بے شک ہم اپنے پروردگار سے اس دن کا خوف کرتے ہیں جو اداسی اور سختی واﻻ ہوگا۔ پس انہیں اللہ تعالیٰ نے اس دن کی برائی سے بچا لیا اور انہیں تازگی اور خوشی پہنچائی۔ [الانسان: 7-11]، نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر شخص اپنے صدقے کے سایے میں ہوگا تا آنکہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کردیا جا ئے۔“ [اس حدیث کو احمد (17333)، ابن خزیمہ (2431) اور ابن حبان (3310) نے روایت کیا ہے، اور البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے]، نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی یا اس کے قرض کا کچھ حصہ معاف کردیا، اسے قیامت کے دن اللہ تعالی اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا، جس دن اس کے سائے کے سوا کوئی اور سایہ نہ ہو گا۔“ [اسے ترمذی: 1306 اور احمد: 8711 نے صحیح سند سے روایت کیا ہے۔]
یہ بھی اس امت کے ایمان والوں پر اللہ کی خاص رحمت یہ ہے کہ ان میں سے ستر ہزار افراد بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے، لہٰذا اے ایمانی بھائیو! ہمیں اللہ سے ڈرنا چاہیے، نیک اعمال کرنے چاہئیں، اپنے دین اور عقیدے کو مضبوطی سے تھام لینا چاہیے، اپنی نمازوں کی حفاظت کرنی چاہیے، اپنی تنہائیوں میں اللہ سے ڈرنا چاہیے، اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی بجا آوری کرنی چاہیے، اور کتاب وسنت میں جو کچھ آیا ہے اس کی مخالفت سے بچنا چاہیے۔ بدعات، دین میں نئے ایجاد کردہ امور اور حق کو اپنا لینے کے بعد اس سے پھر جانے سے پورے طور پر بچنا چاہیے؛ کیوں کہ یہ عذاب اور محرومی کے اسباب میں سے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "میں حوض پر موجود ہوں گا اور دیکھوں گا کہ تم میں سے کون میرے پاس آتا ہے، تو اللہ کی قسم! کچھ لوگوں کو مجھ سے الگ کر دیا جائے گا۔ تو میں ضرور کہوں گا: اے میرے رب! یہ میری امت کے لوگ ہیں۔ لیکن اللہ فرمائے گا: آپ کو پتہ نہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا بدعات گھڑی تھیں، یہ مسلسل الٹے پاؤں لوٹتے رہے۔“ [صحیح مسلم: 2294]۔
***
خطبہ کا عنوان
جاں کنی کی یاد
پہلے خطبہ کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو بقا میں یکتا ہے، مجد وثنا اور عظمت وکبریائی کا مالک ہے، میں اس کی نعمتوں پر اس کی حمد بیان کرتا ہوں، آزمائشوں پر اسی سے مدد چاہتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، جو زمین اور آسمان کا پیدا کرنے والا اور روشنی اور تاریکیوں کا بنانے والا ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، جو تمام موحدوں کے امام اور اولیاء کے سردار ہیں، اللہ تعالی آپ ﷺ پر، آپ کی آل واصحاب پر اور ان پر جنہوں نے ان کے منہج کو اپنایا اور حسن وخوبی کے ساتھ ان کی پیروی کی، درود وسلام نازل فرمائے۔
پہلا خطبہ:
اما بعد، اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو۔ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر شخص دیکھ (بھال) لے کہ کل (قیامت) کے واسطے اس نے (اعمال کا) کیا (ذخيره) بھیجا ہے۔ اور (ہر وقت) اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے۔ [الحشر: 18]۔
اے ایمان والو! دنیا کی ساعتیں محدود اور سانسیں گنی چنی ہیں، جو بڑی تیزی سے گزر کر ختم ہو جاتی ہیں۔ اس کے دن مختلف مراحل (سے عبارت) ہیں؛ ہر مرحلہ ہمیں اگلے مرحلے کے حوالے کر دیتا ہے، یہاں تک کہ ہم ایک ٹھکانے کے کنارے اور دوسرے ٹھکانے کی دہلیز پر آ کھڑے ہوتے ہیں، اور ہم پر وہ گھڑی آ پہنچتی ہے جس سے نہ ہم ایک لمحہ آگے بڑھ سکتے ہیں اور نہ پیچھے ہٹ سکتے ہیں؛ یہ نزع کی گھڑی، موت کے نازل ہونے، روح نکلنے، دنیا کو الوداع کہنے اور آخرت کا استقبال کرنے کا وقت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا ایسا نقشہ کھینچا ہے جس سے دل دہل جاتے ہیں اور آنکھیں اشکبار ہوجاتی ہیں۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: اور موت کی بے ہوشی حق لے کر آ پہنچی، یہی ہے جس سے تو بدکتا پھرتا تھا۔ [ق: 19]، اور اللہ کا فرمان ہے: پس جبکہ روح نرخرے تک پہنچ جائے۔ اور تم اس وقت آنکھوں سے دیکھتے رہو۔ ہم اس شخص سے بہ نسبت تمہارے بہت زیاده قریب ہوتے ہیں لیکن تم نہیں دیکھ سکتے۔ پس اگر تم کسی کے زیرفرمان نہیں۔ اور اس قول میں سچے ہو تو (ذرا) اس روح کو تو لوٹاؤ۔ [الواقعۃ: 83 - 87]، اور اللہ کا فرمان ہے: نہیں نہیں جب روح ہنسلی تک پہنچے گی۔ اور کہا جائے گا کہ کوئی جھاڑ پھونک کرنے واﻻ ہے؟ اور جان لیا اس نے کہ یہ وقت جدائی کا ہے۔ اور پنڈلی سے پنڈلی لپٹ جائے گی۔ آج تیرے پروردگار کی طرف چلنا ہے۔ [القیامۃ: 26-30]۔
اے مسلمانو!
موت کی سکرات شدید تکلیف دہ ہوتی ہیں، جو نبی ﷺ پر بھی طاری ہوئیں، چنانچہ آپ ﷺ پانی کے ایک برتن میں اپنا ہاتھ ڈال کر اپنے چہرہ مبارک پر پھیرتے اور فرماتے: ”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، بے شک موت کی سختیاں ہیں۔“ [صحیح بخاری: 6510]۔
جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کعب احبار رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا: ”ہمیں موت کے بارے میں بتائیے“، تو کعب نے کہا: ”جی ہاں، اے امیر المؤمنین! (یہ اس طرح ہے کہ گویا) بہت زیادہ کانٹوں والی ایک شاخ کسی آدمی کے پیٹ میں داخل کر دی جائے، اور ہر کانٹا کسی رگ کو پکڑ لے، پھر ایک شخص اسے پوری طاقت سے کھینچے، تو وہ جو کھینچ لائے سو کھینچ لائے، اور جو باقی چھوڑ دے سو چھوڑ دے۔“ [ابن ابی شیبہ: 36793]۔
اور سفیان ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں: ” (زندگی کا) کوئی بھی مرحلہ مجھ پر موت کی اذیت سے زیادہ سخت نہیں ہے؛ مجھے ڈر ہے کہ مجھ پر سختی کی جائے، تو میں اسے کم کرنے کی دعا کروں، اور میری دعا قبول نہ ہو؛ چنانچہ میں فتنہ میں مبتلا ہو جاؤں۔“
نزع کے وقت کی سختیوں میں سے اس کے بعد پیش آنے والے حالات کی ہولناکی بھی ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا جب آپ کو خنجر مارا گیا، تو میں نے عرض کیا: اے امیر المومنین! آپ کو جنت کی خوشخبری ہو۔ آپ اس وقت اسلام لائے جب لوگ کفر کر رہے تھے، آپ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مل کر اس وقت جہاد کیا جب لوگوں نے آپ کا ساتھ چھوڑ دیا تھا، رسول اللہ ﷺ کی وفات اس حال میں ہوئی کہ وہ آپ سے راضی تھے، اور آپ کی خلافت کے بارے میں دو لوگوں نے بھی اختلاف نہیں کیا، اور آپ شہید کردیے گئے۔ تو آپ نے فرمایا: ”میرے سامنے یہ دوبارہ دہراؤ۔“ چنانچہ میں نے آپ کے سامنے دوبارہ دہرایا، تو آپ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں! اگر روئے زمین کا سارا سونا اور چاندی میرے پاس ہو، تو میں اسے آخرت کی ہولناکی سے بچنے کے لیے فدیے میں دے دوں!“ [اس حدیث کو ابن ابی شیبہ نے المصنف (34494) میں اور احمد نے الزھد، ص 154 میں روایت کیا ہے اور ان تک اس کی سند صحیح ہے۔]
حسن بصری رحمہ اللہ اپنی موت کے وقت رونے لگے اور فرمایا: ”نفس کمزور ہے، اور معاملہ نہایت ہولناک اور عظیم ہے؛ یقیناً ہم اللہ ہی کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔“
جب سُلیمان تیمی پر موت کا وقت آیا تو ان سے کہا گیا: خوشخبری ہو؛ کیونکہ آپ اللہ تعالی کی اطاعت میں جان ودل سے لگے رہتے تھے۔ تو انہوں نے کہا: ایسا نہ کہو؛ کیونکہ میں نہیں جانتا کہ اللہ عزوجل کی طرف سے میرے لیے کیا ظاہر ہوگا۔ کیونکہ اللہ پاک فرماتا ہے: ...اور ان کے سامنے اللہ کی طرف سے وه ظاہر ہوگا جس کا گمان بھی انہیں نہ تھا۔ [الزمر: 47]۔
اللہ کے بندو!
حالتِ نزع کی سختیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اسی حال پر اعمال کا خاتمہ ہوتا ہے اور اسی حالت پر دوبارہ اٹھایا جانا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ فرماتے ہیں: ”اعمال کا دار ومدار خاتمے پر ہے۔“ [صحیح بخاری: 6493]، نیز فرمایا: ”ہر بندہ (روزِ قیامت) اسی حالت پر اٹھایا جائے گا جس پر اس کی موت واقع ہوئی ہوگی۔“ [صحیح مسلم: 2878]۔
یہی وہ چیز ہے جس نے نیک لوگوں کے دلوں کو بے چین کر دیا، سفیان ثوری ایک رات صبح تک روتے رہے۔ جب صبح ہوئی تو آپ سے پوچھا گیا: کیا یہ سب گناہوں کے خوف سے ہے؟ تو انہوں نے زمین سے ایک تنکا اٹھایا اور فرمایا: گناہ تو اس سے بھی ہلکے ہیں، میں تو صرف برے خاتمے کے ڈر سے روتا ہوں۔
ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ دین کی سب سے بڑی سمجھ کی بات ہے کہ انسان اس بات سے ڈرے کہ موت کے وقت اس کے گناہ اسے رسوا کر دیں، اور اس کے اور حسنِ خاتمہ کے درمیان حائل ہو جائیں۔“
اے اسلامی بھائیو!
جاں کنی کی گھڑی میں پردہ چھٹ جاتا ہے، اور وہ حقائق ظاہر ہو جاتے ہیں جنہیں دنیا نے اپنی لذتوں اور مدہوشی کے باعث ایک طویل عرصے تک پوشیدہ رکھا تھا؛ اسی لیے قریب المرگ افراد کی وصیتیں، سچے دل سے گہری بصیرت کے ساتھ صادر ہونے کی وجہ سے، انتہائی قیمتی اقوال، گہرے معانی اور مؤثر نصیحتوں کا درجہ اختیار کر لیتی ہیں۔
دوسرے خطبہ کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اس کے احسان پر، اور اسی کے لیے شکر ہے اس کی توفیق اور فضل وانعام پر، اس کی عظمتِ شان کا اقرار کرتے ہوئے میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، جو اس کی خوشنودی کی طرف دعوت دینے والے ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل واصحاب پر اور آپ کے بھائیوں پر ڈھیروں درود وسلام نازل فرمائے۔
دوسرا خطبہ:
اے ایمان والو!
بلاشبہ جاں کنی کے وقت کے لیے کچھ ایسے اعمال مشروع ہیں جن سے خاتمہ بالخیر ہوتا ہے اور روح پاکیزہ ہوتی ہے۔ ان میں سے چند اعمال یہ ہیں: نیک عمل کے ذریعہ اس آرام گاہ کی تیاری کرنا، مظالم اور گناہوں سے بچنا، مسلسل توبہ کرنا اور ہمیشہ اس کی تجدید کرتے رہنا ہے۔ قعقاع بن حکیم فرماتے ہیں: ”میں نے تیس سال سے موت کی تیاری کر رکھی ہے،“ ایک نیک شخص کی وفات کا وقت قریب آیا تو ان کی بیوی رونے لگیں، اس پر انہوں نے فرمایا: ”آپ کیوں رو رہی ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: میں آپ پر رو رہی ہوں، انہوں نے کہا: اگر آپ کو رونا ہی ہے تو اپنے آپ پر روئیں، جہاں تک میری بات ہے تو میں اس دن کے لیے چالیس سال سے رو رہا ہوں۔“
نیک اعمال کے ذریعہ مومن جب پیشگی تیاری کرتا ہے تو وہ اپنے رب سے ملاقات کا خواہش مند رہتا ہے، اللہ کے رسول ﷺ فرماتے ہیں: ”جو شخص الله سے ملاقات کو پسند کرتا ہے، اللہ بھی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے۔ اور جو اللہ سے ملنا ناپسند کرتا ہے تواللہ بھی اس سے ملنا ناپسند کرتا ہے۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا یا آپ ﷺ کی بعض ازواج مطہرات نے عرض کیا: ہم تو موت کو ناپسند کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ مراد نہیں ہے، بلکہ جب مومن کی موت کا وقت آتا ہے اور اسے اللہ کی رضامندی اور اس کے انعام واکرام کی خوش خبری دی جاتی ہے، تو اسے اپنے آگے آنے والی چیز سے زیادہ کوئی شے محبوب نہیں ہوتی؛ چنانچہ وہ اللہ کی ملاقات کو پسند کرنے لگتا ہے، تو اللہ بھی اس سے ملنا پسند کرتا ہے۔ اور جب کافر کی موت کا وقت آتا ہے اور اسے اللہ کے عذاب اور اس کی سزا کی وعید سنائی جاتی ہے، تو اسے اپنے آگے آنے والی چیز سے زیادہ کوئی شے ناپسند نہیں ہوتی؛ چنانچہ وہ اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرنے لگتا ہے اور اللہ بھی اس سے ملنے کو پسند نہیں کرتا۔“ [متفق علیہ]۔
موت کے وقت خوف سے زیادہ امید کا پہلو غالب رہنا چاہیے، اور اللہ تعالیٰ سے حسن ظن رکھنا چاہیے، نبی ﷺ فرماتے ہیں: ”تم میں سے ہر شخص کی موت اس حالت میں آنی چاہیے کہ وہ اللہ سے اچھا گمان رکھتا ہو۔“ [صحیح مسلم: 2877]، آپ ﷺ ایک شخص کے پاس تشریف لے گئے جبکہ وہ جاں کنی کی حالت میں تھا، تو آپ نے فرمایا: تم اپنے آپ کو کیسا پاتے ہو؟ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں اللہ سے امید رکھتا ہوں، اور یقیناً میں اپنے گناہوں سے بھی ڈرتا ہوں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس جیسے موقع پر کسی بندے کے دل میں یہ دونوں (خوف اور امید) جمع نہیں ہوتے، مگر اللہ تعالیٰ اسے وہ عطا فرما دیتا ہے جس کی وہ امید رکھتا ہے، اور اسے اس چیز سے محفوظ فرما دیتا ہے جس کا اسے خوف ہوتا ہے۔“ [اس حدیث کو ترمذی (983)، ابن ماجہ (4261)، اور نسائی نے «السنن الكبرى» (10901) میں روایت کیا ہے، اور البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔]
زبان سے اللہ کی وحدانیت کی گواہی دینا اور اس کی تلقین کرنا خاتمہ کے وقت کا سب سے بہترین عمل ہے، اللہ کے نبی ﷺ فرماتے ہیں: ”تم اپنے مرنے والوں کو ”لا الہ الا اللہ“ کی تلقین کرو۔“ [صحیح مسلم: 917]، نیز آپ ﷺ نے فرمایا: ”دنیا میں جس کا آخری کلام لاالہ الا اللہ ہو گا، وہ جنت میں داخل ہوگا۔“ [اسے ابو داود (3116) اور احمد نے مسند (22534) میں روایت کیا ہے اور البانی نے اسے صحیح کہا ہے۔]
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارا خاتمہ بالخیر فرمائے، اپنے فضل وکرم سے ہماری مغفرت فرمائے اور ہم سے درگزر فرمائے۔
***
خطبہ کا عنوان
قبر کا عذاب اور اس کی نعمتیں
پہلے خطبہ کا مقدمہ
تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے سزاوار ہیں جس کی ملکیت میں وه سب کچھ ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے، آخرت میں بھی تعریف اسی کے لیے ہے، وه (بڑی) حکمتوں واﻻ اور (پورا) خبردار ہے۔ [سبأ: 1]، میں اللہ سبحانہ کی حمد بیان کرتا ہوں ان تمام انعامات، اکرام اور خیرِ کثیر پر جو اس نے عطا فرمائے اور جن سے نوازا، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ کوئی مددگار، اور اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، جو روشن چراغ، خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے ہیں۔ اے اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ﷺ پر، آپ کی آل اور آپ کے اصحاب پر، اور ان تمام لوگوں پر جو اللہ کی طرف آپ کے راستے پر چلیں، بہت زیادہ رحمت اور سلامتی نازل فرما۔
پہلا خطبہ
امابعد!
اے لوگو! اللہ سے ڈر جاؤ جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے، اور اس کی مغفرت اور رضا کی طرف سبقت لے جاؤ۔ بلاشبہ اس نے تمھیں ایک عظیم مقصد کے لیے پیدا کیا، اور ایک بہت بڑے کام کے لیے تیار کیا ہے، اس نے تمھیں اپنی معرفت اور عبادت کے لیے پیدا کیا ہے، تمھیں اپنی توحید اور اطاعت کا حکم دیا ہے، اور اس بات پر تم سے پختہ عہد وپیمان لیا ہے، اور اپنے حق کے عوض تمھاری جانوں کو رہن رکھا ہے، اور تم پر نگران مقرر کر دیے ہیں۔ لکھنے والے مقرر ہیں۔ جوکچھ تم کرتے ہو وه جانتے ہیں۔ [الانفطار: 11- 12]، اور جوکچھ تم کرتے ہو، وه لکھتے ہیں۔
اے مسلمانو!
بے شک روح اور بدن دونوں کو اکھٹے لاحق ہونے والے عذابِ قبر اور اس کی نعمتوں پر ایمان لانا، اور قبر میں دو فرشتوں کا میت سے سوال کرنا اہل السنۃ والجماعۃ کے ہاں عقیدے کے متفق علیہ امور میں سے ہے، جس کی دلیل قرآنِ کریم، سنتِ نبویہ مبارکہ اور علمائے مسلمین کا اجماع ہے۔
اس خطبے میں ان شاء اللہ ہم سنت نبوی ﷺ میں موجود بعض دلائل پر گفتگو کریں گے، چنانچہ نبی ﷺ نے خبر دی ہے کہ: ”قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے۔“ [اسے ترمذی (2308) اور ابن ماجہ (4267) نے روایت کیا ہے اور شیخ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے]، اور نبی ﷺ نے یہ بھی خبر دی ہے کہ قبر دنیا کا سب سے ہولناک، سخت ترین اور بھیانک منظر ہے، چنانچہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میں نے کبھی کوئی منظر ایسا نہیں دیکھا مگر قبر اس سے زیادہ ہولناک ہے۔“ [ترمذی: 2308، ابن ماجہ: 4267، اور شیخ البانی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے]۔
اے اللہ کے بندو! رسول اللہ ﷺ سے عذابِ قبر اور اس کی نعمتوں کے بارے میں انچاس صحابہ نے روایت کیا ہے۔
انہی میں سے یہ بھی ہے کہ ہجرت کے بعد نبی ﷺ پر فتنۂ قبر کے بارے میں وحی کی گئی، چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وه بیان کرتی ہیں: رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور میرے پاس ایک یہودی عورت موجود تھی، وہ کہہ رہی تھی: کیا تمہیں معلوم ہے کہ تم لوگوں کو قبروں میں آزمایا جائے گا؟ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: یہ سن کر رسول اللہ ﷺ گھبرا گئے اور آپ نے فرمایا: ”صرف یہودیوں کو آزمایا جاتا ہے۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: پھر کچھ راتیں گزریں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے کہ میری طرف وحی کی گئی ہے کہ تم لوگوں کو قبروں میں آزمایا جائے گا؟“ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”اس کے بعد میں نے رسول اللہ ﷺ کو قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے ہوئے سنا۔“ [صحیح مسلم: 584]۔
انہی میں سے یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ نے بتایا کہ آپ نے نمازِ خسوف کے دوران دیکھا کہ اس امت کو قبروں میں آزمائش میں ڈالا جاتا ہے، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک میں نے دیکھا ہے کہ تم قبروں میں آزمائش میں ڈالے جاؤگے، مسیح دجال کی آزمائش کی مانند۔“ [صحیح بخاری: 1049 مختصرًا، صحیح مسلم مطولًا: 903۔]
انہی میں سے یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہر نماز میں اللہ تعالیٰ سے قبر کے عذاب سے پناہ طلب کرتے تھے، چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں: ”مدینہ کے یہودیوں کی دو بوڑھی عورتیں میرے پاس آئیں اور دونوں نے مجھ سے کہا کہ قبر والوں کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے لیکن میں نے ان دونوں کو جھٹلادیا اور ان دونوں کی تصدیق کو میں نے اچھا نہیں جانا، چنانچہ وہ دونوں چلی گئیں اور جب نبی ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میں نے آپ سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! دو بوڑھی عورتیں تھیں اور میں نے آپ سے اس کا ذکر کردیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان دونوں نے سچ کہا، قبر والوں کو ایسا عذاب ہو تا ہے کہ اسے تمام چوپائے سنتے ہیں“، میں نے اس کے بعد دیکھا کہ ہر نماز میں آپ قبر کے عذاب سے پناہ مانگا کرتے تھے۔“ [متفق علیہ]۔
انہی میں سے یہ بھی ہے: نماز میں دوسرے تشہد کے دوران قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگنے کا حکم نبوی ﷺ ، چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جب تم میں سے کوئی شخص تشہد پڑھ چکے تو چار چیزوں سے اللہ تعالی کی پناہ طلب کرے۔ وہ کہے : اے اللہ! میں تجھ سے جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، زندگی اور موت کے فتنے اور مسیح دجال کے فتنے کے شر سے پناہ مانگتا ہوں۔“ [صحیح مسلم: 588]۔
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ یہ دعا انہیں ایسے ہی سکھاتے جیسے قرآن کى کوئى سورت سکھاتے تھے۔ کہتے کہ کہو: ”اے اللہ! میں جہنم کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں، قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں، مسیح دجال کے فتنہ سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اور زندگی اور موت کے فتنہ سے تیری پناہ چاہتا ہوں“ مسلم بن حجاج فرماتے ہیں: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ طاوس نے اپنے بیٹے سے کہا: کیا تم نے اپنی نماز میں یہ دعا مانگی تھی؟ اس نے کہا: نہیں، انہوں نے کہا: اپنی نماز دہراؤ، کیونکہ طاوس نے اسے تین یا چار (صحابہ) سے روایت کیا ہے، یا جیسا انہوں نے کہا۔ [صحیح مسلم: 590]۔
ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ نے ذکر فرمایا کہ آپ نے اس ڈر سے ہمارے لیے عذابِ قبر سننے کی دعا نہیں کی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم مردوں کو دفن کرنا چھوڑ دیں، چنانچہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ کہتے ہیں: ”نبی ﷺ بنی نجار کے باغ میں اپنے ایک خچر پر جا رہے تھے اور ہم آپ ﷺ کے ساتھ تھے۔ اتنے میں وہ خچر بدکا اور قریب تھا کہ آپ ﷺ کو گرا ہی دیتا۔ اتنے میں وہاں چھ یا پانچ یا چار قبریں نظر آئیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا کہ کوئی جانتا ہے کہ یہ قبریں کن کی ہیں؟ ایک شخص بولا کہ میں جانتا ہوں۔ آپ ﷺ نے پوچھا کہ یہ لوگ کب مرے؟ وہ شخص بولا کہ شرک کے زمانہ میں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: اس امت کے افراد کی ان کی قبروں میں آزمائش ہوتی ہے۔ اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم ایک دوسرے کو دفن کرنا چھوڑ دو گے، تو میں اللہ سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں بھی وہ عذاب قبر سنوائے جو میں سنتا ہوں۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے چہرہ انور کا رخ ہماری طرف کر کے فرمایا: آگ کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو۔ لوگوں نے کہا: ہم آگ کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو۔ لوگوں نے کہا: ہم قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ظاہر و مخفی فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگو۔ لوگوں نے کہا: ہم ظاہر و مخفی فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگو۔ لوگوں نے کہا: ہم دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔“ [صحیح مسلم : 2867]۔
ان میں سے آپ ﷺ کا عذابِ قبر کے کچھ اسباب کا ذکر فرمانا بھی ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ”ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ دو قبروں کے پاس سے گزرے، تو فرمایا: ان دونوں قبر والوں کو عذاب ہو رہا ہے اور عذاب بھی کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں ہو رہا ہے؛ ان میں سے ایک پیشاب کے چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغل خوری کرتا پھرتا تھا۔“ [صحیح بخاری: 1361]۔
دوسرے خطبہ کا مقدمہ
یقیناً تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں اور اسی سے مدد چاہتے ہیں، جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا، اور جسے وہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور یہ کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔
دوسرا خطبہ
اما بعد:
اے مسلمانو! سلف صالحین کا اس بات پر اجماع ہے کہ عذابِ قبر اور اس کی نعمتیں برحق ہیں، ہر دور کے علماء نے اس کے ثبوت اور اس پر ایمان لانے کے واجب ہونے کی تاکید کی ہے، نیز اس کا انکار کرنے والے ملحدوں، فلسفیوں، زندیقوں اور بعض گمراہ اور منحرف فرقوں کا رد کیا ہے، اور انہوں نے یہ واضح کیا ہے کہ اس میں ان نصوصِ شرعیہ کو جھٹلانا شامل ہے جو اس کے ثبوت پر تواتر کے ساتھ وارد ہیں، اور ان باتوں کی تکذیب ہے جن کے اقرار اور جن پر ایمان لانے پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔
اللہ کے بندو!
حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ قبر ہر میت کو بھینچتی ہے، چاہے وہ بڑا ہو یا چھوٹا، ابن حجر فرماتے ہیں: ”اور یہ ثابت ہے کہ قبر ہر میت کو بھینچتی ہے“ ان کا کلام ختم ہوا۔
جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہم ایک دن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے گھر گئے جب ان کی وفات ہوئی۔ راوی کہتے ہیں: چنانچہ جب رسول اللہ ﷺ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی، اور انہیں ان کی قبر میں رکھا گیا، اور ان پر مٹی برابر کر دی گئی، تو رسول اللہ ﷺ نے تسبیح پڑھی، تو ہم نے بھی دیر تک تسبیح پڑھی، پھر آپ ﷺ نے تکبیر کہی تو ہم نے بھی تکبیر کہی۔ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے تسبیح کیوں پڑھی؟ اور پھر تکبیر کیوں کہی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نیک بندے پر اس کی قبر تنگ ہو گئی تھی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے اسے کشادہ کر دیا۔“ [سنن کبری للنسائی: 8224، مسند امام احمد: 14916، محققینِ مسند نے اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے]۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک بچے یا بچی کی نمازِ جنازہ پڑھائی تو فرمایا: ”اگر کوئی قبر کے بھینچنے سے بچ سکتا تو یہ بچہ بچ جاتا۔“ [اسے عبد اللہ نے السنۃ (1435) اور طبرانی نے الاوسط (2753) میں روایت کیا ہے اور حافظ ابن حجر نے اسے صحیح کہا ہے۔]
ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارا خاتمہ بالخیر فرمائے، اپنے فضل و کرم سے ہماری مغفرت فرمائے اور ہم سے درگزر فرمائے۔
***
خطبہ کا عنوان
مسلمان عورت کا لباس
پہلے خطبہ کا مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، جس نے حمد کو نعمتوں سے، اور نعمتوں کو شکر سے ملا دیا ہے۔ ہم اس کی نعمتوں پر اس کی حمد کرتے ہیں، جس طرح اس کی آزمائش پر اس کی حمد کرتے ہیں، ہم اپنے نفوس کے خلاف اسی سے مدد چاہتے ہیں جو ان کاموں میں سستی برتتے ہیں جن کا انہیں حکم دیا گیا ہے، اور ان کاموں کی طرف تیزی سے لپکتے ہیں جن سے انہیں روکا گیا ہے۔ ہم ہر اس چیز سے اس کی بخشش مانگتے ہیں جس کا اس کے علم نے احاطہ کر رکھا ہے اور جسے اس کی کتاب نے شمار کر رکھا ہے، ایسا علم جو قاصر نہیں، اور ایسی کتاب جو کوئی چیز نہیں چھوڑتی۔ اسی نے انسان کو پیدا کیا اور اسے زندگی میں موجود خیر اور شر کی بصیرت عطا کی: ہم نے اسے راه دکھائی اب خواه وه شکر گزار بنے خواه نا شکرا۔ [الانسان: 3]۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر اس کا ایک ٹھیک اندازہ مقرر کیا، میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، جنہیں اس نے تمام انسانوں اور جنوں کی طرف خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا، اور اس کے حکم سے اللہ کی طرف بلانے والا اور روشن چراغ بنا کر بھیجا، اللہ آپ پر، آپ کی آل پر اور آپ کے صحابہ پر اپنی بے شمار رحمتیں اور بکثرت سلامتی نازل فرمائے۔
پہلا خطبہ
اما بعد :
اے لوگو! میں تمہیں اور اپنے آپ کو اللہ سبحانہ کے تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں، کیونکہ یہ ایک مضبوط قلعہ ہے، جو اپنے مکینوں کی حفاظت کرتا ہے، جو اس کی پناہ میں آئے اسے محفوظ رکھتا ہے، اسی کے ذریعے گناہوں کا زہر کاٹا جا تا ہے، اور یہی کل (قیامت کے دن) نجات ہے، اور اللہ کے فضل سے ہمیشہ کے لیے جائے پناہ ہے۔
اے لوگو! انسان بالعموم کچھ حدود اور علامات کے پابند ہیں، جن کی بنیاد اصولی طور پر اللہ کی اس فطرت پر ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، اور اس شریعت پر ہے جس کی ہدایت و بصیرت کے ساتھ اتباع کرنے کا لوگوں کو حکم دیا گیا ہے۔ اس دوران بسا اوقات وہ ان حدود اور علامات کے سامنے اس قدر کمزور پڑ جاتے ہیں کہ غفلت اور لاپرواہی سے پیدا ہونے والی تباہی و محرومی کی حد تک جا پہنچتے ہیں، یا پھر دنیاوی زندگی کی چمک دمک اور مفادات کے حصول میں اس قدر شدت اختیار کر لیتے ہیں کہ سرکشی کی حد تک چلے جاتے ہیں: سچ مچ انسان تو آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔ اس لیے کہ وه اپنے آپ کو بے پروا (یا تونگر) سمجھتا ہے۔ [العلق: 6-7] ایک عقل مند مومن سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنی دونوں حالتوں میں ثابت قدم رہے اور خود پر قابو برقرار رکھے، کیونکہ شہوتوں کا دائیں بائیں اس طرح بھٹکنا کہ ہوا و ہوس کی آندھی انہیں ہر سمت دھکیلتی پھرے اور وہ اطاعت کے ساتھ فطرت اور شریعت کی حدود کے تابع نہ ہوں، تو یہ صورتِ حال لازماً انسان کو ایک بہت بڑی مصیبت میں مبتلا کر دیتی ہے۔ بلاشبہ اللہ عز وجل نے بنی آدم کے لیے خواہشیں اس لیے پیدا نہیں کیں کہ وہ دست درازی، فریب کاری یا دوسروں کی عزتوں پر زبان درازی کا ذریعہ بنیں، اور نہ ہی انہیں اس لیے پیدا کیا کہ بعض لوگ انہیں کچل دینے کو عبادت سمجھ بیٹھیں اور کسی ایسے تحفظ اور حصار کے بغیر ان سے کھلواڑ کریں جو ان کے دائرہ کار کا تعین کرے۔
اس زندگی میں انسان پر دو قابلِ ستر چیزیں ظاہر ہوتی ہیں، جن کی ستر پوشی کا اہتمام اور انہیں چھپانے کی حرص اسے اپنی طرف کھینچتی رہتی ہے: ۔۔۔ اللہ تعالیٰ کی وه فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔۔۔ [الروم: 30] اور جنہیں متحرک کیا جاتا ہے اور بحسن و خوبی پایہ تکمیل تک پہنچایا جاتا ہے، وہ ہماری روشن شریعت کی زندہ آوازیں ہیں۔
اسی بنا پر ایک سلیم الفطرت انسان اپنی دونوں شرم گاہوں کو انتہائی درجے تک چھپانے کی حرص رکھتا ہے؛ یعنی اپنا جسمانی ستر اور اپنا نفسیاتی یا معنوی ستر۔
بنی نوع انسان کی ابتدا دو معزز والدین سے ہے، شرم گاہوں کی آزمائش کا آغاز انہی دونوں سے ہوا، اور یہ امتحان کہاں پیش آیا؟ بلاشبہ یہ ہمیشگی والی جنت میں تھا: ۔۔۔ اور بادشاہت کہ جو کبھی پرانی نہ ہو۔ [طه: 120]، پھر شیطان نے ان دونوں کے دلوں میں وسوسہ ڈاﻻ تاکہ ان کی شرمگاہیں جو ایک دوسرے سے پوشیده تھیں دونوں کے روبرو بے پرده کردے... [الأعراف: 20]۔
بلاشبہ شیطان نے اس بات کی پوری کوشش کی کہ وہ سب سے پہلے اس بنیادی رکاوٹ اور حیا کے مسکن کو ختم کر دے، اور وہ ستر ہے: چنانچہ ان دونوں نے اس درخت سے کچھ کھا لیا پس ان کے ستر کھل گئے اور بہشت کے پتے اپنے اوپر ٹانکنے لگے۔۔۔ [طہ: 121] وہ دونوں اپنے ستر کھل جانے کی شرم سے اپنے آپ کو ڈھانکنے لگے، کیوں کہ برہنہ اور بے ستر صرف وہی ہوتا ہے جو اپنی فطرت کھو چکا ہو!
اور اللہ کی قسم! یقیناً آدم (علیہ السلام) بھول گئے تو ان کی اولاد بھی بھول گئی۔
اے مسلمانو! یقیناً ستر ایک فطرت ہے، جو اس پر پیدا کیے گئے انسان کو اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ حوادث کو اپنا پردہ چاک کرنے دے، چاہے وہ کچھ بھی ہوں۔ اگر کسی روز اسے لاحق ہونے والی کسی تکلیف کے باعث اپنا جسمانی ستر ظاہر کرنے پر مجبور ہونا بھی پڑے، تو کسی طبیب یا اس جیسے شخص کے سامنے انتہائی شرم و حیا کے ساتھ ہی ایسا کرے۔ اس کے اس طرح راضی ہونے کے پسِ پردہ ایک ضرورت کار فرما ہوتی ہے۔ یہی بات آپ قلبی ستر اور ان قبیح احوال کے بارے میں بھی کہیے جو انسان کے نفس سے صادر ہوتے ہیں، اور وہ ڈرتا ہے کہ کوئی دوسرا ان سے واقف ہو جائے، جیسا کہ نبی ﷺ کا فرمان ہے: ”اور گناہ وہ ہے جو تمھارے دل میں کھٹکے اور اس پر لوگوں کا مطلع ہونا تمھیں ناگوار ہو۔“ [صحیح مسلم: 2553]
اللہ کے بندو ! دونوں ستر کے معاملے کا خلاصہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: اے آدم (علیہ السلام) کی اوﻻد ہم نے تمہارے لئے لباس پیدا کیا جو تمہاری شرم گاہوں کو بھی چھپاتا ہے اور موجب زینت بھی ہے اور تقوے کا لباس، یہ اس سے بڑھ کر ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ یہ لوگ یاد رکھیں۔ [الأعراف: 26]۔
یقیناً اللہ جل وعلا نے اپنے بندوں پر احسان فرمایا ہے کہ ان کے لیے ایسا لباس پیدا کیا جس سے وہ اپنی شرم گاہوں کو چھپاتے ہیں اور جو موجبِ زینت بھی ہے۔
چنانچہ لباس کے ذریعے بنی آدم کی نگاہوں سے شرم گاہوں کی ستر پوشی کی جاتی ہے۔
لباس کے ذریعے منہ زور شہوت کی سرکشی کو لگام دی جاتی ہے، اور نگاہوں اور نظروں کو ان چیزوں کی طرف اٹھنے سے باز رکھا جاتا ہے جن سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے۔
اے لوگو! لباس کے ذریعے عورت اپنی نسوانیت کو چھپاتی ہے، اور اپنے وجود کو عورتوں کے لٹیروں کے جوتوں اور ہوس پرستوں کے ہاتھوں سے چپکی ہوئی کسی چبائی ہوئی حقیر چیز بننے سے محفوظ رکھتی ہے، تاکہ وہ سیپ میں محفوظ ایک ایسا موتی بن جائے جسے صرف خاص لوگ، یعنی شوہر ہی دیکھ سکیں۔
لباس اور ستر ہی کو دیکھ کر کوئی شخص قدم آگے بڑھاتا ہے یا پیچھے ہٹاتا ہے، جب اس کا دل کسی عورت کو حلال طریقے سے نکاح کا پیغام دینے کی طرف مائل ہوتا ہے۔
اے مسلمانو! لباس کے ذریعے ہی مرد و عورت کی حیا داری، استقامت اور ظاہری و باطنی طور پر ستر پوشی سے ان کی محبت کا اندازہ ہوتا ہے، اور اسی سے باعزت گھرانوں کی پہچان ہوتی ہے۔
لباس اور ستر پوشی کے ذریعے اس بنیادی رکن کی حفاظت ہوتی ہے جس پر تمام انبیاء اور رسل متفق ہیں، اور وہ عزت و آبرو اور نسب کی حفاظت ہے۔
پھر یہ کہ انسان عمدہ وشاندار لباس کے ذریعہ ظاہری حسن وجمال اور زیب و زینت حاصل کرتا ہے، کیونکہ اس کا لباس جسمانی ضروریات میں سے ہے، اور عمدہ وشاندار لباس ان تحسینی اور اضافی چیزوں میں سے ہے جن سے آدمی، اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ شریعت کے مطابق بغیر کسی اسراف کے، مستفید ہوتا ہے، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے: ”کھاؤ، پیو، پہنو اور صدقہ کرو، لیکن اسراف اور تکبر سے بچو، بے شک اللہ تعالی اپنے بندے پر اپنی نعمت کو دیکھنا پسند کرتا ہے۔“ [سنن نسائی: 2559، سنن ابن ماجہ: 3605، مذکورہ الفاظ انہی کے ہیں، مسند احمد: 6695، اور البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے]
امام بخاری رحمہ اللہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ: ”جو چاہو کھاؤ اور جو چاہو پہنو، لیکن دو خصلتوں سے بچو: اسراف اور غرور۔“ [اسے بخاری نے کتاب اللباس کے شروع میں معلقا روایت کیا ہے، مصنف ابن ابی شیبہ: 8/405، سنن ابن ماجہ: 3605]
اے مسلمانو! لباس کی نعمت اور اس احسان کے بدلے اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ انسان کے لیے اس چیز پر حمد و شکر ادا کرنا مشروع قرار دیا گیا ہے جس سے وہ اپنے عیوب کو ڈھانپتا ہے اور اپنی شرمگاہ چھپاتا ہے۔
اے اللہ کے بندو! یہ معاملہ محض ظاہری اور جسمانی سترِ عورت تک ہی محدود نہیں ہے، بلکہ لباسِ تقویٰ اور سترِ تقویٰ وہ بہترین زینت ہے جس سے انسان مزین ہوتا ہے؛ کیونکہ اگر دل ہی برہنہ ہو تو بدن کو چھپانا بھلا کیا نفع دے سکتا ہے؟!
ایک دن رسول اللہ ﷺ بیدار ہوئے، اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ سب سے بڑا ہے! آج کتنے ہی خزانے کھولے گئے ہیں؟! حجرے والیوں کو جگاؤ، کیونکہ دنیا میں بہت سی کپڑے پہننے والیاں قیامت کے دن ننگی ہوں گی۔“ [صحیح بخاری: 5844]۔
اے مسلمانو! فطرت سلیمہ اور پاکیزہ نفوس طبعی طور پر شرمگاہوں کے ظاہر ہونے سے کراہت محسوس کرتے ہیں اور انہیں چھپانے کا بھرپور اہتمام کرتے ہیں۔ اور جو لوگ دانستہ یا نادانستہ طور پر اپنی تقلید میں، ان نعروں اور دعووں کے ذریعے اس حقیقت سے روگردانی کی کوشش کرتے ہیں جو اس بے حیائی کی جڑیں مضبوط کرنے کے لیے اپنی زبانوں، قلموں اور صلاحیتوں سے یہاں وہاں پھیلاتے ہیں، تو درحقیقت یہی وہ لوگ ہیں جو انسانی فطرت کی خصوصیات کو سلب کرنا چاہتے ہیں، اور یہی وہ لوگ ہیں جو فرزندانِ اسلام کے درمیان بے راہ روی کو فروغ دینے کے لیے اپنی تحریر کردہ دستاویزات کے ذریعے خوفناک صہیونی مقاصد کو حرف بہ حرف نافذ کر رہے ہیں۔
اے اللہ کے بندو! اگر تمہیں تعجب ہو، تو یہ بات واقعی باعثِ تعجب ہے کہ یہود ہی وہ پہلے لوگ ہیں جنہوں نے پردہ ختم کرنے اور ستر ظاہر کرنے کی جنگ چھیڑی، جب بنو قینقاع کے بازار میں ان میں سے دو مردوں نے ایک عورت کا حجاب اتارنے اور اس کا ستر کھولنے کی سازش کی، جبکہ وہ بازار میں بیٹھی ہوئی تھی۔ چنانچہ انہوں نے اس کے خمار یعنی اوڑھنی کو اس کے کپڑے کے دامن سے باندھ دیا، جب وہ کھڑی ہوئی تو لوگوں کے سامنے اس کا ستر کھل گیا، جس پر اس نے اپنے اردگرد موجود لوگوں سے فریاد کی، پھر اس کے بعد اسی طرح کے واقعات پے در پے پیش آنے لگے۔
جیسا کہ ابن اثیر نے اپنی کتاب الکامل میں قریش کے دو نوجوانوں کے بارے میں بیان کیا ہے کہ انھوں نے عکاظ کے بازار میں بنو عامر کی ایک خوبصورت عورت کو دیکھا، اور اس سے کہا کہ وہ اپنے چہرے سے پردہ ہٹائے، تو اس نے انکار کر دیا۔ چنانچہ ان میں سے ایک نے اس کی بے حرمتی کی، تو اس نے اپنی قوم سے فریاد کی، یہاں تک کہ یہ (واقعہ) جنگِ فجار کے مشہور ایام میں سے دوسرے دن کا سبب بنا۔
اے مسلمانو! عریانیت ایک حیوانی اور بہیمانہ صفت ہے، اور اس کی طرف وہی مائل ہوتا ہے جو انسان سے کمتر ہو۔ اور جب عریانیت اور ننگے پن کو خوبصورتی، ذوق، ترقی اور غافلوں کے کارواں کی ہم رکابی سمجھا جانے لگے، تو فطرت کو الوداع کہہ دیں۔ ایسے میں کانوں کو فتنوں کے ان المیوں، بے دینی کی نت نئی شکلوں اور اسلامی اقدار سے عاری ہونے کی ان داستانوں کو سننے کے لیے ہمہ تن گوش ہو جانا چاہیے جو رلاتی اور غمگین کرتی ہیں، ان کے رسوا کن انجامِ بد کا ذکر ہی کیا کرنا، اس وقت ہم لازماً اس چیز کا شکار ہو جائیں گے جس سے باری تعالیٰ نے اپنے اس فرمان میں ہمیں ڈرایا ہے: اے اوﻻد آدم! شیطان تم کو کسی خرابی میں نہ ڈال دے جیسا اس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے باہر کرا دیا، ایسی حالت میں ان کا لباس بھی اتروا دیا تاکہ وه ان کو ان کی شرم گاہیں دکھائے۔۔۔ [الأعراف: 27]۔
اے اللہ کے بندو! بلاشبہ ہمارے درمیان ہر روز مردوں اور عورتوں کی ایسی نسلیں تروتازہ اور نرم و نازک حالت میں نشو ونما پاتی ہیں جن کی آبپاشی اور دیکھ بھال کا کوئی اہتمام نہیں کرتا، یہاں تک کہ انہیں کوئی آفت آن پہنچتی ہے تو وہ سوکھ کر مرجھا جاتی ہیں۔ اسی طرح مغربی زدگی، اپنی شناخت سے محرومی اور اندھی نقالی کے انجام کا وبال پردے اور شرم و حیا کی ان مضبوط جڑوں کو تباہ کر دیتا ہے جنہوں نے ایک طویل عرصے تک سایہ فراہم کیا اور سیراب کیا، یہاں تک کہ انہیں جڑ سے اکھاڑ دیا گیا، چنانچہ اب ان پر رونے والا کوئی نہیں ہے۔
عین اسی وقت! دونوں جنسوں کے کچھ افراد کے دل کھل اٹھتے ہیں، پھر وہ اپنا پکا ہوا اور میٹھا پھل دیتے ہیں، تو بعض عوام میں اس پر خوش ہونے والا کوئی ایسا شخص نہیں پایا جاتا جو پسماندگی کے دعووں کی چبھن، اور اپنے زعم کے مطابق نام نہاد 'رجعت پسندی' کے عیب سے محفوظ ہو!
بلاشبہ ایسی نسلیں پروان چڑھی ہیں جو اپنے ماضی اور اپنی ان جڑوں سے منحرف ہو چکی ہیں جنہیں شریعتِ اسلامیہ نے استوار اور پختہ کیا تھا۔
کچھ لوگ اس میدان میں کود پڑے، اور انہوں نے حسن و قبح کو مغربی تہذیب کی روش اور اس کی بے راہ روی کے تابع کر دیا، تولنے والے تو بدل گئے مگر ترازو بدستور ناقص ہی رہا، اس کا محور جھکا ہوا اور اس کے باٹ غائب رہے، یہاں تک کہ ہم میں سے کوئی شخص لباس اور اس جیسی دیگر چیزوں کے معاملے میں ماں اور بیٹی، یا باپ اور بیٹے کے درمیان اتنا وسیع فرق پاتا ہے جو ایک پوری صدی کے برابر ہوتا ہے۔
آگاہ رہو! ہم میں کتنے ہی زندہ لوگ ایسے ہیں جو درحقیقت مردہ ہیں؟! ایسے مرد و زن جو ایسا لباس زیب تن کرتے ہیں جو نہ ان کے جسمانی ڈھانچے کے مطابق سلا ہے اور نہ ہی ان کے ناپ کا ہے، بلکہ وہ تو دوسروں کے لیے سیا گیا تھا، لیکن انہوں نے اسے کسی رد و بدل کے بغیر ہی اپنا لیا، اور اسے پہن کر یوں خوشی خوشی ایسے چل پڑے جیسے کوئی بچہ اپنے باپ کا لباس پہن کر چلتا ہے، جس میں وہ الجھ کر لڑکھڑاتا ہے اور اس طرح گرتا ہے کہ ہنسی اور تمسخر کا نشانہ بن جاتا ہے۔
لباس اور ستر پوشی کے مسئلے میں متعدد اسلامی اقوام جس بگاڑ کا شکار ہیں، اس کا اصل سبب زندگی کے تمام تر معاملات میں شہری تہذیب کے ساتھ برتاؤ کے غلط طور طریقے اور حقیقی ترقی کے مفاہیم کے حوالے سے پائی جانے والی غلط فہمیاں ہیں۔ انھی چیزوں نے لوگوں کی صلاحیتوں اور قوتوں کو بھرپور انداز میں بروئے کار لانے سے معطل کر دیا، یہاں تک کہ وہ ترقی یافتہ قافلے کی مشابہت اختیار کر کے اور ان سے اخذ و اقتباس کے ذریعے ان میں شامل ہو گئے۔ اس ضمن میں ان کا عذر یہ ہوتا ہے کہ وہ خود کو اور اپنی امت کو پسماندگی کی پستی سے نکال کر مہذب اقوام کی صفوں میں کھڑا کرنا چاہتے ہیں، جبکہ بعض دلوں میں شریعت اور فطرت کے ساتھ محض ایک بنیادی نسبت کے سوا کچھ باقی نہیں رہا۔
جب آپ ان سے مرعوب شخص کا ایسا لباس دیکھیں جس سے جسم کے چھپائے جانے والے محض کچھ حصے ہی چھپتے ہوں، تو جان لیں کہ یہ ان کے ہاں موجود نئے نمونے کی ہی ایک تصویر ہے۔
بلاشبہ مسلمانوں میں لباس کے اس بخار میں مبتلا ہونے کا درجہ ایک جیسا نہیں ہے۔ چنانچہ ان میں سے بعض ایسے ہیں جن کے مردوں اور عورتوں، یا ان کی اکثریت کو بے پردگی، جسم کی نمائش اور مشابہت کی چاہت نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ان میں سے بعض ایسے ہیں جن میں یہ برائی ظاہر وباہر ہو چکی ہے، اگرچہ ابھی پوری طرح عام نہیں ہوئی ہے۔ اور بعض وہ ہیں جن کے دروازوں پر اس نے دستک دینا شروع کر دیا ہے اور اپنا ایک قدم رکھ دیا ہے۔
اے مسلمانو! تم بلا جھجک بیان کرو، لوگوں کے اس چیز میں حد سے زیادہ منہمک ہونے کے بارے میں جسے عصرِ حاضر کی زبان میں فیشن کہا جاتا ہے؛ جہاں کپڑوں کے ڈیزائن بنانے والے ہر نئے بنائے ہوئے لباس کی طرف دونوں صنفوں کی نظریں کھینچ کر ان کی نفسیات سے کھیلتے ہیں، چاہے وہ لباس مردانگی کے مفہوم یا پاک دامن اور محفوظ نسوانیت کی خصوصیات سے کتنا ہی عاری کیوں نہ ہو، یہ مال کا ضیاع، کم فہم لوگوں کی عقلوں سے کھلواڑ، اور چھپائے جانے والے اعضا اور کشش کے ذرائع کی نمائش کر کے بے حیائی کو ہر ممکن طریقے سے فروغ دینا ہے۔ یہاں تک کہ یہ فیشن بہت سی قوموں میں مال دار بننے اور پاک دامنی کو زندہ درگور کرنے کا ایک ذریعہ بن چکا ہے۔
زمانہ اس بات کا ضامن ہے کہ وہ نت نئی خرافات کو قبول کرنے کے لیے بے تاب لوگوں کے جم غفیر کو ابھارے، جس کا دائرہ گھٹنوں کے نیچے یا ان کے اوپر پہنے جانے والے لباس کے رواج، یا دونوں جانب سے ایسے کھلے لباس کے رواج کے درمیان گھومتا ہے جس سے جسم کا وہ حصہ ظاہر ہو جس پر ایک مسلمان موت کی تمنا تو کر لے، لیکن یہ کبھی گوارا نہ کرے کہ وہ اپنی محرمات یا رشتہ داروں میں ایسا کچھ دیکھے، اور نہ ہی وہ ایسے مناظر کا شکار ہونا گوارا کرے گا جو آنکھوں کو ان کے حلقوں سے باہر کھینچ لائیں، اس طور پر کہ پوشیدہ شہوتیں سینے میں بھڑکتی ہوئی آگ کی طرح دہک اٹھیں، اور جن کی قباحت غافل لوگوں کے اعضاء و جوارح کے ذریعے نمایاں ہوتی ہو۔
درحقیقت یہ اسلامی روایات و اقدار کو مٹانے اور قوموں کو ان چیزوں کی طرف مائل کرکے اپنے رب اور خالق سے دور کرنے کے نت نئے ہتھکنڈے اور فنکاریاں ہیں۔ یہ عورت کو بے پردہ رہنے کا عادی بنانے کی فنکاری ہے، اور اس بات کی کہ وہ خود کو اس بات کی قائل کر لے کہ اس کی زندگی اور مستقبل کا دار ومدار محض اس کی ہیجان انگیز نمائش پر ہے۔ اسی طرح نت نئے فیشن کے ملبوسات کے ذریعے جسمانی خد وخال کی نمائش کے نت نئے انداز اپنائے گئے ہیں، جو اس قدر تنگ ہوتے ہیں کہ ان کو پہن کر چلنا رسی پر چلنے یا لوہے کی بیڑیوں میں جکڑے ہوئے شخص کے چلنے سے بھی زیادہ دشوار ہوتا ہے، اور وہ اپنی پنڈلیوں کو ننگا کیے بغیر ایک سیڑھی بھی نہیں چڑھ سکتی۔ ان میں سے جو خواتین باپردہ ہیں، وہ بھی بسا اوقات حجاب کو مزین اور آراستہ کرنے میں ایسی فنکاری کا مظاہرہ کرتی ہیں کہ اسے اپنے لباس اور چہرے کی صورت سے بھی زیادہ فتنہ انگیز بنا دیتی ہیں، اور کتنی ہی مرتبہ بعض سیاہ برقعوں نے بھی مردوں کے دل و دماغ کو فتنے میں مبتلا کیا ہے؛ چنانچہ بہت سے برقعے تو حقیقت میں ایسے ہیں جنہیں پردے میں رکھنے کے لیے بذات خود کسی دوسرے برقعے کی شدید ضرورت ہوتی ہے!
نوجوانوں کی اپنے مردانہ لباس سے بے زاری کا تو کچھ نہ ہی پوچھیں، وہ فنکاروں اور بے حیا لوگوں کے لباس کے شرمناک حد تک دلدادہ ہو چکے ہیں، یہاں تک کہ ایک غیرت مند انسان ان کے ایسے حالات دیکھتا ہے جن سے بار بار اس کی آنکھیں جل اٹھتی ہیں، کیا مسلمان نوجوانوں کا لباس ایسا ہوتا ہے؟!
یقیناً ہم میں سے کوئی شخص شدید حیرت کے عالم میں اپنی ٹھوڑی پر ہاتھ رکھ لیتا ہے اور دانتوں تلے انگلی دبا کر اپنے آپ سے پوچھتا ہے: آخر کیوں، کس وجہ سے، اور کس لیے لوگ فطرت کی پکار، اللہ کی شریعت اور اس کی سنت کی حدود سے عار محسوس کرتے ہیں؟!
بلاشبہ اس سب کا اصل مقصد نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو بگاڑنا ہے؛ کیونکہ مغربی دارالحکومتوں میں لباس کے ڈیزائن اور فیشن کے اداروں کے پیشے سے وابستہ زیادہ تر افراد یہودی ہیں، لباس کے ادارے اور ان کے ڈیزائنر وہی ہیں، اور بناؤ سنگھار کے ماہرین اور اس کی دکانیں بھی انہی کی ہیں۔
بلکہ ان لوگوں نے عاقل مرد و عورت پر ہی اکتفا نہیں کیا، بلکہ ان کے مقاصد ان لڑکوں اور لڑکیوں تک بھی جا پہنچے جو ابھی سنِ بلوغت کو نہیں پہنچے۔ چنانچہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے بچوں کے ان ملبوسات کے ذریعے، جن کا شرم و حیا سے کوئی واسطہ نہیں، ان کے اندر رنگ برنگ کے کبھی تنگ لباس، کبھی عریاں لباس، اور کبھی بے ہودہ حد تک چھوٹے لباس کا ذوق بارہا رچا بسا دیا گیا! یہ کپڑے ایسی تصویروں یا بیہودہ عبارتوں سے بھرے ہوتے ہیں جن کا مطلب شاید پہننے والوں کی اکثریت سمجھتی ہی نہیں۔ اس کے بعد آپ بڑے ہونے پر اس بچے یا بچی کی حالت کے بارے میں نہ پوچھیں، کیونکہ یقیناً ان دونوں میں سے کسی کو بھی کبھی شرعی ستر پوشی کا عادی نہیں بنایا گیا۔
بلاشبہ والدین کو اگر اس کے بعد شعور اور ان کی ستر پوشی کی فکر نصیب ہو بھی جائے، تو وہ انہیں اس بات پر قائل کرنے میں تلخی اور عاجزی محسوس کریں گے، اور ہم والدین سے کہتے ہیں:
دو ہاتھوں نے باندھا اور منہ نے پھونک ماری!
جب ان میں سے ہٹ دھرمی کرنے والوں سے پوچھا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں: ہم کیا کریں؟! لوگ اسی طرح پہنتے ہیں، اور لوگ یہی چاہتے ہیں، اللہ کی قسم! اے مسلمانو! ایک سچا غیرت مند شخص اپنے بچوں کے لیے پوری کوشش کے ساتھ تلاش کرتا ہے، وہ ہر بازار میں خریداری کرتا ہے، لیکن اس کے لیے جسم کو ڈھانپنے والے کپڑے پانا دشوار ہو جاتا ہے، اور اس کی تلاش اسے تھکا دیتی ہے، بس اللہ ہی مددگار ہے!
مصلحین کی جانب سے ان مفاہیم اور سنگین خطرات کی تردید کا یہ مطلب نہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ ہر اعتبار سے ترقی کو محدود کرنا یا ہر پرانی چیز کو جوں کا توں باقی رکھنا چاہتے ہیں؛ جس سے بعض لوگ یہ گمان کر بیٹھیں کہ اس سے مراد ان تمام ملبوسات کی پابندی لازم کرنا ہے جو ہماری مائیں اور ان کی مائیں، یا ہمارے باپ دادا اور ان کے آباؤ اجداد پہنا کرتے تھے، ایسا ہرگز نہیں ہے۔
شریعت نے اس کو لازم قرار نہیں دیا، بلکہ ستر کھولنے سے منع کیا، ایسا لباس پہننے سے منع کیا ہے جو حیا کو مجروح کرے یا بے پردگی اور اظہار زینت والا ہو، مجموعی طور پر ہمیں ایسا لباس منتخب کرنے کا اختیار دیا ہے جو ہمارے لیے مناسب ہو اور ساتر ہو، خواہ اس کی وضع قطع کتنی ہی جدید کیوں نہ ہو؛ لیکن ہم پر لازم ہے کہ ہم ستر پوشی کو عیب اور پاک دامنی کو باعثِ عار نہ سمجھیں، اور ہمیں دوسروں کے دماغ سے سوچنے اور اپنے دشمن کی آشوب زدہ آنکھوں سے دیکھنے سے باز آ جانا چاہیے۔
ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: ”میں کون سے کپڑے پہنوں؟ تو فرمایا: وہ جن میں بے وقوف تمہیں حقیر نہ سمجھیں، اور عقلمند تم پر عیب نہ لگائیں۔“ [المعجم الکبیر للطبرانی: 13051]
پھر اے مسلمانو! یہ جان لو کہ اگر ہم ایک ہزار نوجوانوں کو جمع کریں، اور ان کے لیے دسیوں واعظین لے آئیں تاکہ وہ انہیں پورا ایک سال عفت وپاکدامنی کی تلقین کریں، پھر ان کے سامنے کوئی ایسی عورت لائی جائے جو لباس پہن کر بھی برہنہ ہو اور جس کے فتنے ہر سمت بکھر رہے ہوں، تو وہ گنتی کے چند لمحوں میں اس سب کو منہدم کر دے گی جو انہوں نے ایک سال میں تعمیر کیا تھا۔
لہٰذا اے مسلمانو! اللہ سے خوف کرو! لباس کے فتنے میں پڑنے اور اس کے ذریعے اس کے اصل مقصد اور منشا سے ہٹ جانے سے پورے طور پر خبردار رہو، اور شیطان تمھیں قول وعمل کی ظاہری چمک دمک کے ذریعے کسی دھوکے اور فریب میں نہ ڈال دے: آپ فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ کے پیدا کیے ہوئے اسبابِ زینت کو، جن کو اس نے اپنے بندوں کے واسطے بنایا ہے اور کھانے پینے کی حلال چیزوں کو کس شخص نے حرام کیا ہے؟ آپ کہہ دیجیے کہ یہ اشیا اس طور پر کہ قیامت کے روز خالص ہوں گی اہل ایمان کے لیے، دنیوی زندگی میں مومنوں کے لیے بھی ہیں ۔ ہم اسی طرح تمام آیات کو سمجھ داروں کے واسطے صاف صاف بیان کرتے ہیں۔ [الاعراف: 32]۔
اللہ تعالیٰ میرے اور آپ کے لیے قرآن وسنت میں برکت عطا فرمائے، ان میں موجود آیات، ذکر اور حکمت کو میرے اور آپ کے لیے مفید بنائے، میں وہی بات کہتا ہوں جو آپ نے سنی، اگر وہ درست ہے تو اللہ کی طرف سے ہے، اور اگر اس میں کوئی خطا ہے تو وہ میرے نفس اور شیطان کی طرف سے ہے؛ اور میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں۔
دوسرے خطبہ کا مقدمہ
اللہ کے احسان پر تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں، اور اس کی توفیق اور انعام پر اسی کا شکر ہے۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی برحق معبود نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اس کی شان کی تعظیم کرتے ہوئے، اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، جو اس کی رضا کی طرف دعوت دینے والے ہیں۔
دوسرا خطبہ:
اما بعد :
اے مسلمانو! اللہ سے ڈرو، اور یہ جان لو کہ دینِ اسلام میں لباس اور زینت کی بہت بڑی اہمیت ہے، اور اس بارے میں کتاب و سنت میں جو کچھ وارد ہوا ہے وہ کتابوں اور تصانیف میں ایک بڑا مقام رکھتا ہے۔ چنانچہ اہل علم نے اپنی کتابوں میں صرف لباس سے متعلق مستقل ابواب اور فصول قائم کیے ہیں، اور بحث وتحقیق سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ بعض لباسوں کو حرام قرار دینے کے اسباب، درج ذیل میں سے کسی ایک سے باہر نہیں ہیں:
ان میں سے ایک سبب: فتنے کا باعث بننے کے سبب حرام قرار دینا ہے:
جیسے عورت کے جسم کے چھپانے لائق حصوں کا ظاہر ہونا، یا اس کے جسم کے نشیب و فراز کا دکھائی دینا، یا آنکھیں، چہرہ، ہتھیلیاں، یا اس جیسی دیگر چیزیں ظاہر کرنا جنہیں چھپانے کا اسے حکم دیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر عمل کرتے ہوئے: اے نبی! اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتیں سے کہہ دو کہ وه اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں ، اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جایا کرے گی پھر نہ ستائی جائیں گی... [الاحزاب: 59]، ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ”جلباب سے مراد دوپٹہ کے اوپر اوڑھی جانے والی رداء (چادر) ہے۔“
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے مسلمان عورتوں کو حکم دیا ہے کہ جب وہ کسی ضرورت سے اپنے گھروں سے نکلیں تو اپنی چادریں سر کے اوپر سے لٹکا کر اپنے چہروں کو چھپا لیں، اور ایک آنکھ کھلی رکھیں۔“ [تفسیر طبری: 20/324]
اے مسلمانو! اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آج کل بہت سی عورتیں چہرہ ڈھانپنے کے ساتھ آنکھوں اور ان کے متصل ابرو، ناک کے اگلے حصے اور رخساروں کے کچھ حصے کو کھلا رکھنے کا جو عمل کرتی ہیں، بلاشبہ یہ سب واضح غلطی اور قبیح طرزِ عمل ہے۔
اللہ کی پناہ! اس صورت میں عورت نے اپنے حسن وجمال کا کونسا حصہ باقی چھوڑا؟! اس طرح تو بسا اوقات وہ اپنی بدصورتی کو چھپا لیتی ہے اور اپنے حسن کو نمایاں کر دیتی ہے، حالانکہ شارعِ حکیم نے اسے ایک آنکھ کھلی رکھنے کی اجازت صرف اس لئے دی تھی تاکہ وہ راستہ دیکھ سکے، نہ کہ اس لئے کہ راستے پر چلنے والے اجنبی مرد اسے دیکھیں۔
حرمت کا ایک سبب یہ بھی کہ وہ شہرت، فخر ومباہات اور اترانے کے لیے ہو:
اللہ کے نبی ﷺ کا فرمان ہے: ”جس نے شہرت کا لباس پہنا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے ذلت کا لباس پہنائے گا۔“ [اابو داود: 4029، السنن الکبری للنسائی: 9560، ابن ماجہ: 3607، مسند احمد: 6245، اور البانی نے اسے صحیح کہا ہے۔]
اسی طرح کپڑوں کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانا اور گھسیٹنا، خواہ وہ ازراہِ تکبر ہو یا نہ ہو، اور ازراہ تکبر کپڑا لٹکانے والے اور بغیر تکبر کے کپڑا لٹکانے والے کے درمیان فرق نہیں کرنا چاہیے۔ اس بارے میں درست جواب یہ ہے کہ جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہوگا، اگر وہ تکبر کے بغیر ہے تو وہ آگ میں ہوگا، اور اگر ازراہ تکبر ہے تو عذاب زیادہ سخت ہوگا؛ کیوں کہ آپ ﷺ کا فرمان ہے: ”جو شخص غرور سے اپنا کپڑا نیچے گھسیٹ کر چلا، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔“ [متفق علیہ]، اور ایک روایت میں ہے: ”جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہوگا، وہ آگ میں ہوگا۔“ یہ مرد کے حق میں ہے، لیکن عورت کے حق میں یہ ہے کہ وہ اپنا کپڑا اس قدر لٹکائے رکھے کہ اس کے دونوں پاؤں چھپ جائیں؛ کیوں کہ دونوں پاؤں اس کے لیے جسم کے چھپائے جانے والے حصے ہیں۔
تحریم کے اسباب میں سے تیسرا سبب مشابہت اختیار کرنا ہے: جیسے عورتوں کا مردوں سے اور مردوں کا عورتوں سے لباس میں مشابہت اختیار کرنا، یا عجمیوں اور کافروں سے ان کے طرزِ لباس میں مشابہت اختیار کرنا، عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں:
”رسول اللہ ﷺ نے مجھے دو معطَّر کپڑے پہنے ہوئے دیکھا تو فرمایا : یہ کافروں کا لباس ہے، لہذا تو اسے مت پہن۔“ [صحیح مسلم : 2077]۔
صحیحین میں ہے کہ عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے گورنروں کو لکھا: ”عیش و عشرت، مشرکوں کی وضع قطع اور ریشم پہننے سے بچو۔“ [صحیح مسلم: 2096]
فقہا نے یہ بھی کہا ہے: ایسا لباس حرام ہے جو عربوں کی وضع قطع کے خلاف ہو، اور عجمیوں کی وضع قطع اور ان کی عادات کے مشابہ ہو۔
اس عظیم قاعدے کو بیان کرتے ہوئے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کیا ہی خوب فرماتے ہیں: بلاشبہ ظاہری وضع قطع میں شراکت، باہم مشابہ لوگوں کے درمیان ایک ایسی مناسبت اور ہم شکلی پیدا کر دیتی ہے جو اخلاق اور اعمال میں موافقت کا باعث بنتی ہے۔ چنانچہ اہل علم کا لباس پہننے والا -مثلاً- اپنے اندر ان کے ساتھ ایک قسم کی وابستگی محسوس کرتا ہے، اور جنگجو لشکر کے لباس کا بھی یہی معاملہ ہے۔ یہ مشابہت جتنی زیادہ ہوگی، اخلاق اور صفات میں باہمی اثر پذیری اتنی ہی کامل ہوگی، یہاں تک کہ نوبت اس مقام تک جا پہنچتی ہے کہ ان میں سے ایک کو دوسرے سے محض آنکھ (دیکھنے) کے سوا کسی اور طرح ممتاز نہیں کیا جا سکتا۔
اے اللہ کے بندو! کافروں اور راہِ حق سے بھٹکے ہوئے دیگر فاسق وفاجر گلوکاروں اور فنکاروں کی مشابہت اختیار کرنے کے بارے میں بھی بعینہٖ یہی بات کہو۔
اے مسلمانو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو، اور جان لو کہ اس فریضے اور ذمہ داری کا اپنا اپنا حصہ ہر شخص کے کاندھے پر ہے، خواہ وہ حکمران ہوں، علما ہوں، داعیانِ دین ہوں یا خاندانوں کے سربراہ، اسی طرح اس سلسلے میں تاجروں پر بھی ایک بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے؛ کیونکہ ان پر لازم ہے کہ وہ مباح متبادل فراہم کریں، اور ایسی چیزیں بیچنے سے باز رہیں جو حیا کو مجروح کرتی ہوں یا ستر کو ظاہر کرتی ہوں، انہیں اپنے اس فعل کے برے انجام سے ڈرنا چاہیے، اور یہ جان لینا چاہیے کہ جو کچھ وہ بیچتے ہیں اس کا گناہ ان پر ہے، اور قیامت تک اسے پہننے والوں کا گناہ بھی انہی پر ہوگا، بغیر اس کے کہ پہننے والوں کے گناہوں میں کوئی کمی واقع ہو۔ انہیں اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ کہیں وہ اپنے اس عمل کی وجہ سے ان لوگوں میں شامل نہ ہو جائیں جو ایمان والوں میں بے حیائی کا پھیلنا پسند کرتے ہیں، نیز یہ کہ وہ اپنے مالوں کے بارے میں بھی جواب دہ ہیں کہ انہوں نے اسے کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟
اے اللہ! رحمت نازل فرما محمد پر اور آل محمد پر۔
***
Related books
All books
اسلام، اللہ کے تمام رسولوں کا دین ہے85 زبانیںاسلام، اللہ کے تمام رسولوں کا دین ہے
اسلام کا مطلب ہے کہ اللہ جو پوری کائنات کا خالق اور مدبر ہے اس کے سامنے سر تسلیم خم کرنا، محبت اور تعظیم کے ساتھ اس کی تابعداری کرنا۔ اسلام کی بنیاد ہی اس بات پر ہے کہ اللہ پر ایمان لایا جائے، یہ تسلیم کیا جائے کہ وہی تن تنہا خالق ہے اور اس کے سوا سب کے سب مخلوق ہیں، وہی تمام تر عبادتوں کا تنہا مستحق ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اس کے بہت سے خوب صورت نام اور بلند وبالا صفات ہیں، اس کے لیے کمالِ مطلق ہے جس میں کوئی کمی نہیں، نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ کسی نے اس کو جنا، نہ کوئی اس کا ہم سر ہے اور نہ کوئی اس کا نظیر، وہ اپنی کسی مخلوق میں حلول اور سرایت نہیں کرتا۔…
الإسلام دين رب العالمين
نبی ﷺ کی نماز کا طریقہ79 زبانیںنبی ﷺ کی نماز کا طریقہ
کتاب 'كَيفِيَّةُ صَلَاةِ النَّبِيِّ ﷺ' میں سماحۃ الشیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ نے آسان اسلوب اور دقیق منہج کے ساتھ، نبی ﷺ کی نماز کا طریقہ، صحیح نصوص کی روشنی میں بیان کیا ہے، تاکہ یہ مسلمان کے لیے اس کی نماز میں رہنما ثابت ہو۔ اس کتاب میں نماز کے ارکان، سنتوں اور صفات کو وضو سے لے کر سلام تک بیان کیا گیا ہے، جو دلیل اور وضاحت کا مجموعہ ہے، اور اس عظیم ترین عبادت میں نبی ﷺ کی مکمل پیروی کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
الشهادتين78 زبانیںالشهادتين
اگر آپ اسلام قبول کرنا چاہتے ہیں تو آپ کے لیے ضروری ہے کہ آپ بلند آواز سے نیچے دیے گئے کلمہ شہادتین کو پڑھیں‘ اس کے معنی ومفہوم کو سمجھیں اور اس پر ایمان لائیں: اگر آپ اسلام قبول کرنا چاہتے ہیں تو آپ کے لیے ضروری ہے کہ آپ بلند آواز سے نیچے دیے گئے شہادتین کو پڑھیں: أشهد أن لا إله إلا الله (یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں) میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وأشهد أن محمدًا رسول الله، وأن عيسى بن مريم هو عبد الله ورسوله. (یعنی: محمد اللہ کے رسول ہیں اور عیسی بن مریم اللہ کے بندے اور رسول ہیں) اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ…