"جب تم میں سے کسی کا وضو ٹوٹ جائے، تو جب تک وضو نہ کر لے، اللہ اس کی نماز قبول نہيں فرماتا۔"
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
"جب تم میں سے کسی کا وضو ٹوٹ جائے، تو جب تک وضو نہ کر لے، اللہ اس کی نماز قبول نہيں فرماتا۔"
«لَا يَقْبَلُ اللهُ صَلَاةَ أَحَدِكُمْ إِذَا أَحْدَثَ حَتَّى يَتَوَضَّأَ».
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ نماز کے صحیح ہونے کے لیے ایک شرط طہارت ہے۔ لہذا جس شخص کا پیشاب، پاخانہ اور نیند وغیرہ کی وجہ سے وضو ٹوٹ جائے اور وہ نماز پڑھنا چاہے، تو اس پر وضو کرنا ضروری ہوگا۔
لا يقبَل: لا يعتبر ولا يعتد.
ناپاکی کی حالت میں نماز قبول نہيں ہوتی، جب تک کہ حدث اکبر کی صورت میں غسل اور حدث اصغر کی صورت میں وضو نہ کر لیا جائے۔
وضو نام ہے منہ میں پانی ڈال کر اسے منہ کے اندر گھمانے، پھر سانس کے ساتھ ناک میں پانی چڑھانے، پھر اسے نکال باہر کرنے اور ناک جھاڑنے، پھر چہرے کو تین بار دھونے، پھر دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت تین بار دھونے، پھر پورے سر کا ایک بار مسح کرنے اور پھر دونوں پیروں کو ٹخنوں سمیت تین بار دھونے کا۔
مزید (6)
صحیح بخاری (9/ 23) (6954).
صحیح مسلم (1/ 204) (225).
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام.
للبسام (ص17).
تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام.
لابن عثيمين (1/ 11).
کتابوں میں مذکور
5 کتابیںمزید (4)
- الخطب المنبرية موسوعة الخطب المنبرية (القسم الثاني)«لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ أَحَدِكُمْ إِذَا أَحْدَثَ حَتَّى يَتَوَضَّأَ»
- المناهج التعليمية - الصف الرابعالمناهج التعليمية - الصف الرابع - الفقه«لَاْ يَقْبَلُ اللَّهُ صَلاةَ أَحَدِكُمْ إِذَا أَحْدَثَ حَتَّى يَتَوَضَّأَ» [16].
- ما لا يسع أطفال المسلمين جهله«لَا يَقْبَلُ اللهُ صَلَاةَ أَحَدِكُمْ إِذَا أَحْدَثَ حَتَّى يَتَوَضَّأَ»[36].
- مجموعة زاد التربية الإسلامية (1)، والسيرة النبوبة (1)، والعقيدة (1)، والفقه (1)مجموعة زاد الفقه (1)«لاَ يَقْبَلُ الله صَلاَةَ أَحَدِكُمْ إِذَا أَحْدَثَ حَتَّى يَتَوَضَّأَ»