Skip to content

"جنت تمہارے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہے اور اسی طرح دوزخ بھی۔"

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

"جنت تمہارے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہے اور اسی طرح دوزخ بھی۔"

«الْجَنَّةُ أَقْرَبُ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ، وَالنَّارُ مِثْلُ ذَلِكَ».

اسے بخاری نے روایت کیا ہے
حديث صحيح
شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جنت اور جہنم انسان سے اسی طرح قریب ہیں، جس طرح قدم کے اوپری حصے میں موجود جوتے کا تسمہ انسان کے قریب ہوتا ہے۔ کیوں کہ انسان اللہ کو راضی کرنے والا کوئی نیک کام کرتا ہے اور اس کی بنا پر جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اللہ کو ناراض کرنے والا گناہ کا کوئی کام کرتا ہے اور جہنم میں داخل ہو جاتا ہے۔

کلمات کے معانی

....:

حدیث کے بعض فوائد

نیک کام کی ترغیب، چاہے کم ہی کیوں نہ ہو۔ گناہ کے کام سے ترہیب، اگرچہ کم ہی کیوں نہ ہو۔

ایک مسلمان کو اپنی زندگی میں امید اور خوف دونوں رکھنا چاہیے اور ہمیشہ اللہ سے حق پر ثابت قدم رہنے کی دعا کرنی چاہیے، تاکہ اپنے حال سے دھوکہ کھانے سے محفوظ رہے۔

حوالہ جات
مزید (9)

صحیح بخاری (8/ 102) (6488).

شرح رياض الصالحين.

لابن عثيمين (2/ 99).

فتح الباري.

لابن حجر(11/ 321).

بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين.

لسليم الهلالي (1/ 186).

نزهة المتقين شرح رياض الصالحين.

لمصطفى الخِن وغيره (1/ 136).