Skip to content

"جس چیز میں تمہیں شک ہو، اسے چھوڑ کر وہ چیز اختیار کر لو جس میں تمہیں کوئی شک نہ ہو۔"

اللہ کے رسول ﷺ کے نواسے اور آپ کے عزیز ابو محمد حسن بن علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے یہ بات یاد کی ہے:

"جس چیز میں تمہیں شک ہو، اسے چھوڑ کر وہ چیز اختیار کر لو جس میں تمہیں کوئی شک نہ ہو۔"

«دَعْ مَا يَرِيبُك إلَى مَا لَا يَرِيبُكَ».

اسے ترمذی اور نسائی نے روایت کیا ہے
حديث صحيح
شرح

اللہ کے نبی ﷺ نے ایسے اقوال واعمال سے دور رہنے کا حکم دیا ہے، جن کے بارے میں یہ شک وشبہ پیدا ہو کہ ممنوع ہیں یا نہيں؟ حلال ہیں یا حرام؟ انسان کو ایسی چیزیں اپنانی چاہیے، جن کے اچھے اور حلال ہونے کا یقین ہو۔

حدیث کے بعض فوائد

مسلمان پر لازم ہے کہ اپنے تمام معاملات کی بنیاد یقین پر رکھے اور بصیرت وآگہی کے ساتھ دین پر عمل کرے۔

مشتبہ چيزوں میں پڑنے کی ممانعت۔

اگر آپ اطمینان اور آرام چاہتے ہیں تو مشکوک چیزوں کو ترک کر دیں اور ان سے دامن کش ہوجائیں۔

اللہ تعالی اپنے بندوں پر رحیم ومہربان ہے، بایں طور کہ اس نے انہیں ایسے کاموں کا حکم دیا ہے جن سے ذہن ودل کا سکون حاصل ہوتا ہے اور ایسے کاموں سے منع فرمایا ہے جن سے بے قراری اور حیرانگی پیدا ہوتی ہے۔

حوالہ جات
مزید (8)

سننِ نسائی (8/ 327) (5711).

سننِ ترمذی (4/ 286) (2518).

مُسنَد احمد (3/ 248) (1723).

التحفة الربانية في شرح الأربعين حديثًا النووية.

لإسماعيل الأنصاري (ص29).

شرح الأربعين النووية.

لابن عثيمين (ص153).

فتح القوي المتين في شرح الأربعين وتتمة الخمسين للنووي وابن رجب (ص56).