المختصر المفيد للمؤذن والإمام والخطيب وأحكام المساجد
كتاب "المختصر المفيد للمؤذن والإمام والخطيب وأحكام المساجد" يتناول مسؤوليات المؤذن والإمام والخطيب وأحكام الأذان والإقامة وصلاة الجمعة وأحكام المساجد. يوضح الكتاب تعريف الأذان والإقامة وحكمهما وفضلهما، كما يبين الصفات المطلوبة في المؤذن والشروط اللازمة لصحة الأذان والإقامة. بالإضافة إلى ذلك يستعرض الكتاب أحكام الإمامة، ومشروعيتها وفضلها، وشروط وصفات الإمام، مع التركيز على أهمية العلم والخلق في من يتولى هذه الوظيفة الشرعية.
مؤذن، امام، خطیب اور مساجد کے احکام سے متعلق ایک مختصر اور مفید کتاب
علمی کمیٹی برائے جمعیۃ خدمۃ المحتوى الإسلامی باللغات
ساری تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، ہم اسی کی تعریف کرتے ہیں، اُسی سے مدد مانگتے ہیں، اسی سے مغفرت طلب کرتے ہیں، ہم اپنے نفوس کے تمام شرور اور اپنے اعمال کی تمام برائیوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔ جسے اللہ تعالی ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی راہ نہیں دکھا سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ آپ پر، آپ کی آل پر، آپ کے اصحاب پر اور اخلاص کے ساتھ آپ کی پیروی کرنے والوں پر اپنی رحمتیں اور سلامتی نازل فرمائے۔
اما بعد: بے شک لوگوں کو ہمیشہ ان چیزوں کی ضرورت رہتی ہے جن سے ان کے احوال درست ہوں، اس لیے شریعت نے وہ تمام امور بیان کر دیے ہیں جو اس ضرورت کو پورا کرتے ہیں۔ انہی میں اذان، اقامت، لوگوں کی امامت، جمعہ کا خطبہ اور مساجد کے احکام شامل ہیں۔ اسی وجہ سے مسجد کے مؤذن، امام، اور جمعہ کے خطیب کی ذمہ داری نہایت عظیم ہے۔ اسی اہمیت کے پیشِ نظر ہم نے ’’المختصر المفید للمؤذن والإمام والخطیب وأحکام المساجد‘‘ (مؤذن، امام، خطیب اور احکامِ مساجد سے متعلق مختصر ومفید رہنما) کے عنوان سے ایک کتاب تیار کی ہے اور اسے کئی زبانوں میں ترجمہ کیا ہے۔
پہلا مبحث: اذان واقامت سے متعلق احکام
اذان اسلام اور اہلِ اسلام کا شعار ہے، جسے دن اور رات میں پانچ مرتبہ پکارا جاتا ہے۔ علما نے اپنی کتابوں میں اس کے احکام، سنتوں، مستحبات اور مبطلات کو بڑے اہتمام سے بیان کیا ہے، جو اس عبادت کی اہمیت ومنزلت پر دلالت کرتا ہے۔ [1]۔ [1] دیکھیں: فتح المنعم شرح صحيح مسلم: (2/ 460)۔
پہلا مطلب: اذان اور اقامت کی تعریف
اذان کی شرعی تعریف: شریعت کے مقرر کردہ مخصوص اور معلوم الفاظ کے ذریعے نماز کا وقت داخل ہونے کی اطلاع دینا۔ [2] [2] دیکھیں: المغني لابن قدامة: (1/ 292)، مختار الصحاح: (ص: 16)- مادہ أ ذ ن، الأذان والإقامة للقحطاني: (ص: 5)۔
اقامت کی شرعی تعریف: مخصوص ومشروع الفاظ کے ذریعہ نماز کھڑی ہونی کی اطلاع دینا۔ [3]۔ [3] دیکھیں: كشاف القناع: (1/ 230)۔
دوسرا مطلب: اذان اور اقامت کا حکم
اذان اور اقامت کتاب وسنت اور اجماع سے ثابت ہیں۔
جہاں تک قرآن کا تعلق ہے تو اللہ تبارک وتعالی نے فرمایا: "اور جب تم نماز کے لیے پکارتے ہو تو وہ اسے ہنسی کھیل ٹھہرا لیتے ہیں ۔ یہ اس واسطے کہ وہ بےعقل ہیں"۔ [المائدۃ : 58]
جہاں تک سنت کا تعلق ہے، تو بہت سی احادیث ان کی مشروعیت پر دلالت کرتی ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: جب مسلمان مدینہ منورہ آئے، تو نماز کے وقت کا اندازہ کر کے اس کے لیے جمع ہو جایا کرتے تھے، کیوں کہ اس وقت نماز کے لیے کوئی اعلان نہیں ہوتا تھا۔ ایک دن انھوں نے اس کے متعلق باہمی مشورہ کیا، تو کسی نے کہا کہ نصاریٰ کی طرح ایک گھنٹی بنا لی جائے اور کسی نے کہا کہ یہود کی طرح ایک سینگ بنا لیا جائے۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم ایک آدمی کو کیوں نہیں بھیج دیتے، جو نماز کا اعلان کردیا کرے؟ لہذا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اے بلال! کھڑے ہو جاؤ اور نماز کے لیے اذان دو۔‘‘[4] [4] صحیح بخاری: 604، صحیح مسلم: 377۔
جہاں تک اجماع کا تعلق ہے؛ تو امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ پنج وقتہ نمازوں کے لیے اذان اور اقامت مشروع ہیں۔
:امام ابن قدامہ المقدسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ’’امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ اذان پانچوں نمازوں کے لیے مشروع ہے۔‘‘ [5]۔ [5] المغنی (1/293)۔
اذان اور اقامت مردوں کے لیے فرض کفایہ ہیں، چاہے سفر میں ہوں یا حضر میں، یہ صرف پانچ فرض نمازوں کے لیے ہیں، دیگر نمازوں کے لیے نہیں۔ مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: ’’جب نماز کا وقت ہو جائے، تو تم میں سے کوئی ایک شخص اذان دے اور تم میں سے سب سے بڑا شخص امامت کرے‘‘۔ [6]- [6] صحیح بخاری: (628)، صحیح مسلم: (674)۔
کیونکہ یہ اسلام کے ظاہری شعائر میں سے ہیں، لہٰذا ان کو ترک کرنا جائز نہیں۔
عورتوں کے لیے نہ اذان مشروع ہے اور نہ اقامت۔ خواہ عورت اکیلی نماز پڑھے یا عورتوں کی امامت کرے۔ [7] [7] شرح العمدة لابن تیمیہ - کتاب الصلاۃ (ص: 101)۔
تیسرا مطلب: اذان اور اقامت کی فضیلت
اذان اور مؤذنوں کی فضیلت سے متعلق بہت سی نصوص وارد ہوئی ہیں، ان میں سے کچھ فضائل یہ ہیں :
مؤذن اللہ کی طرف دعوت دینے والا اور سب سے اچھی بات کرنے والا انسان ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا : "اور اس سے زیاده اچھی بات واﻻ کون ہے، جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک کام کرے اور کہے کہ میں یقیناً مسلمانوں میں سے ہوں۔" [فصلت: 33]۔
اذان دینے والے قیامت کے دن سب سے لمبی گردن والے ہوں گے؛ معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ’’قیامت کے دن اذان دینے والوں کی گردنیں تمام لوگوں سے لمبی ہوں گی۔‘‘ [8]- [8] صحیح مسلم: (387)۔
اذان اور اقامت شیطان کو بھگاتے ہیں؛ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : ’’جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان زور زور سے ہوا خارج کرتا ہوا بھاگنے لگتا ہے، تاکہ اذان کی آواز نہ سنے۔ جب اذان ختم ہو جاتی ہے تو واپس آجاتا ہے، یہاں تک کہ جب اقامت کہی جاتی ہے تو پھر بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ پھر جب اقامت مکمل ہو جاتی ہے تو واپس آجاتا ہے اور انسان کے دل میں وسوسے ڈالنے لگتا ہے۔ کہتا ہے: فلاں چیز یاد کر، فلاں چیز یاد کر۔ وہ چیزیں جو اس سے پہلے اسے یاد نہیں تھیں۔ یہاں تک کہ انسان کا یہ حال ہو جاتا ہے کہ اسے یاد نہيں رہتا کہ اس نے کتنی رکعت نماز پڑھی ہے۔‘‘ [9]- [9] صحیح بخاری: 1222 اور صحیح مسلم: 389۔
مؤذن کی اذان سننے والی ہر چیز اس کے حق میں گواہی دے گی۔ عبد اللہ بن عبد الرحمن انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میں دیکھتا ہوں کہ تمھیں بکریوں اور دیہات میں رہنا پسند ہے، اس لیے تم جب اپنی بکریوں کے درمیان یا دیہات میں رہو اور نماز کے لیے اذان دو تو بلند آواز سے اذان دیا کرو، کیوں کہ: ’’’’مؤذن کی آواز کو جو کوئی جن وانس یا اور کوئی سنے گا تو وہ اس کے حق میں قیامت کے دن گواہی دے گا۔‘‘۔‘‘ ابو سعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ [10] [10] صحیح بخاری: (609)۔
اگر لوگ اذان کی فضیلت کو صحیح طور پر جان لیں تو وہ اس کے لیے قرعہ اندازی کریں گے، یعنی وہ آپس میں قرعہ ڈالیں گے کہ کون اذان دے؛ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اگر لوگ جان لیں کہ اذان اور پہلی صف میں کیا (فضیلت) ہے، پھر انہیں اس کے لیے قرعہ اندازی کے سوا کوئی راستہ نہ ملے، تو وہ ضرور قرعہ اندازی کریں گے۔‘‘ [11]- [11] صحیح بخاری: (615)، صحیح مسلم: (437)۔
مؤذن کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں جہاں تک اس کی آواز پہنچتی ہے اور ہر تر وخشک جو بھی اس کی آواز سنتا ہےِ اس کی تصدیق کرتا ہے اور اسے اس کے ساتھ نماز پڑھنے والے ہر نمازی کے برابر ثواب ملتا ہے؛ کیونکہ نیکی کی طرف رہنمائی کرنے والا اسے کرنے والے کی طرح ہے۔ براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا : ’’بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے پہلی صف والوں پر درود بھیجتے ہیں، مؤذن کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں جہاں تک اس کی آواز پہنچتی ہے، ہر خشک وتر جو بھی اس کی آواز سنتا ہے اس کی تصدیق کرتا ہے اور اس کو اس کے ساتھ نماز پڑھنے والے ہر نمازی کے برابر ثواب ملتا ہے۔‘‘ [12]۔ [12] مسند احمد: 18506، سنن نسائی: 646۔ منذری نے الترغيب والترهيب (1/176) میں کہا کہ اس کی سند حسن اور جید ہے۔ ابن الملقن نے البدر المنير (3/385) میں کہا کہ یہ سند جید ہے۔
اذان اسلام کے عظیم ترین شعائر میں سے ہے، یہ دار الکفر اور دار الاسلام کے درمیان فرق ہے؛ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں ایک باب قائم کیا ہے جس کا عنوان ہے: ’’باب ما یحقن بالأذان من الدماء‘‘ (اذان سن کر خون ریزی سے رک جانا)، پھر انھوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث روایت کی ہے : ’’نبی ﷺ جب کسی قوم پر حملہ کرتے، تو صبح ہونے تک انتظار کرتے اور دیکھتے۔ اگر اذان سنتے تو حملہ نہ کرتے اور اگر اذان نہ سنتے تو حملہ کر دیتے۔‘‘ [13] [13] صحیح بخاری: (610) ۔ صحیح مسلم: (382)۔
امام خطابی فرماتے ہیں: ’’اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اذان دین اسلام کا شعار اور ایک واجب امر ہے، جسے ترک کرنا جائز نہیں ہے۔ اگر کسی بستی کے لوگ اذان ترک کرنے پر متفق ہو جائیں اور سب لوگ مل کر اذان دینا بند کر دیں، تو سلطان کو ان سے قتال کرنے کا حق ہے۔‘‘ [14] [14] اعلام الحديث شرح صحیح بخاری: 1/ 460۔
چوتھا مطلب: اذان واقامت کے صحیح ہونے کی شرطیں
1- اسلام: کافر کی طرف سے اذان اور اقامت صحیح نہیں ہوتی، کیونکہ یہ عبادتیں ہیں اور کافر کی طرف سے عبادت درست نہیں ہوتی۔
2- عقل: پاگل، نشے میں دھت اور نا بالغ بچے کی اذان و اقامت درست نہیں، جیسے دوسری عبادتیں درست نہیں ہوتیں۔
3- نیت: بغیر نیت کے اذان اور اقامت درست نہیں ہوتے کیونکہ یہ دونوں عبادتیں ہیں اور عبادت نیت کے بغیر درست نہیں ہوتی؛ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "اعمال (کی قبولیت) کا دار ومدار نیتوں پر ہے اور ہر آدمی کو وہی ملے گا، جس کی اس نے نیت کی۔" [15]۔ [15] صحیح بخاری: (1)، صحیح مسلم: (1907)۔ راوی: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ۔
4- مرد ہو: عورت کی اذان اور اقامت درست نہیں ہے۔
5- اذان نماز کے وقت میں دی جائے۔ لہٰذا نماز کے وقت داخل ہونے سے پہلے اذان دینا درست نہیں؛ اس کی دلیل حضرت مالک بن حُویرث رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’۔ ۔ ۔ جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے کوئی شخص اذان دے اور تم میں سے جو سب سے بڑا ہو وہ نماز پڑھائے۔‘‘ [16] اذان کا حکم نماز کے حاضر ہونے پر معلق ہے اور نماز کا حاضر ہونا وقت داخل ہونے کے بعد ہی ممکن ہے۔ اقامت اس وقت کہی جائے گی جب نماز کے لیے کھڑا ہو۔ [16] صحیح بخاری: (628)، صحیح مسلم: (674)۔
6- اذان اور اسی طرح اقامت بالترتیب ہو: ترتیب سے مراد یہ ہے کہ مؤذن اذان اور اقامت کے الفاظ کو اسی ترتیب سے ادا کرے جس طرح شریعت نے بیان کیا ہے، کسی لفظ یا جملے کو دوسرے پر مقدم یا مؤخر کیے بغیر؛ کیونکہ اذان ایک عبادت ہے جو اسی ترتیب سے ثابت ہے، لہٰذا اسے ویسے ہی ادا کرنا ضروری ہے جیسے وارد ہوئی ہے؛ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی، جو اس کا حصہ نہیں ہے، تو وہ مردود ہے۔‘‘ [17]- [17] صحیح بخاری: 2697، صحیح مسلم: 1718، راوی: عائشہ رضی اللہ عنہا۔
7- اذان اور اسی طرح اقامت (کے کلمات بغیر انقطاع کے) پے در پے ہوں: اس سے مراد یہ ہے کہ اذان کے کلمات کے درمیان تسلسل ہو، درمیان میں کوئی قول یا فعل حائل نہ ہو، اور نہ ان کے درمیان طویل وقفہ ہو۔
8- اذان اور اقامت عربی زبان میں اور ان الفاظ کے ساتھ ہوں جو سنت میں وارد ہوئے ہیں، نیز ایسے لحن اور غلطی سے پاک ہوں جو معنی کو بدل دے۔
9- اذان بلند آواز سے دی جائے؛ کیونکہ اگر مؤذن اپنی آواز اتنی پست کر دے کہ صرف خود ہی سن سکے تو اذان کا مقصد حاصل نہ ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی ایک تمھارے لیے اذان دے۔‘‘ [18] یہ حدیث بتاتی ہے کہ اذان بلند آواز سے دی جائے، تاکہ دوسرے لوگ سن سکیں اور اذان کے ذریعے اطلاع دینے کا مقصد پورا ہو۔ لیکن اگر کوئی شخص صرف اپنے لیے یا کسی موجود ساتھی کے لیے اذان دے، تو بلند آواز شرط نہیں ہوگی۔ البتہ اتنی بلند ضرور کرے کہ خود سن سکے یا اس کے آس پاس کے لوگ سن سکیں۔ تاہم اگر اس سے زیادہ آواز بلند کرے، تو یہ افضل ہے؛ جیسا کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت میں نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: ’’۔۔۔ جب تم اپنی بکریوں کے ساتھ یا صحرا میں ہو اور اذان دو تو اپنی آواز بلند کرو، کیوں کہ مؤذن کی آواز کو جو کوئی جن وانس یا اور کوئی سنے گا تو وہ اس کے حق میں قیامت کے دن گواہی دے گا۔‘‘ [19]- [18] اس حدیث کا حوالہ گزر چکا ہے۔ [19] اس حدیث کا حوالہ گزر چکا ہے۔
پانچواں مطلب: مؤذن کی مطلوبہ صفات
1- مؤذن نیک، دیانت دار اور سیدھی راہ پر چلنے والا ہو؛ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’امام ضامن ہے اور مؤذن امانت دار ہے۔ اے اللہ! اماموں کو ہدایت دے اور مؤذنوں کو بخش دے۔‘‘ [20] مؤذن نماز اور روزے کے وقت کا امین ہوتا ہے اور امانت کا حق صرف منصف شخص ہی ادا کر سکتا ہے۔ لہذا مؤذن فاسق، علانیہ گناہ کرنے والا یا بے مروت نہ ہو۔ [20] سنن ابو داؤد: 517، سنن ترمذی: 207۔
2- بالغ ہو؛ کیونکہ بالغ کی اذان زیادہ مکمل ہوتی ہے، اور نابالغ سمجھدار بچہ اگر وقت پر اذان دے تو اس کی اذان بھی درست اور کافی ہوگی، کیونکہ اس سے نماز کے وقت کے داخل ہونے کا اعلان ہو جاتا ہے۔
3- مؤذن اوقاتِ نماز کا علم رکھتا ہو، تاکہ وہ ان کا صحیح تعین کر سکے اور اول وقت میں اذان دے؛ اگر اسے اوقات کا علم نہ ہو تو غلطی یا خطا کا امکان رہتا ہے۔
4- مؤذن کی آواز بلند ہو؛ جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ کی اذان کے خواب سے متعلق حدیث میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: ’’یہ خواب سچا ہے۔ تم بلال کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ، کیوں کہ اس کی آواز تمھاری آواز سے زیادہ بلند ہے اور دور تک پہنچتی ہے، جو کلمات تمھیں سکھائے گئے ہیں وہ اسے بتاتے جاؤ اور وہ انھیں پکارتا جائے۔‘‘ [21]، حدیث کے الفاظ: «وَأَمْدُّ صَوْتًا مِنْكَ» کے معنی ہیں: وہ تم سے زیادہ بلند اور اونچی آواز والا ہے۔ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ مؤذن اونچی اور بلند آواز والے شخص کو رکھنا مستحب ہے۔ کیوں کہ بلند آواز اذان کی اطلاع دینے میں زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔ [22] [21] اس حدیث کو امام ترمذی (189) نے روایت کیا ہے اور اسے حسن صحیح قرار دیا ہے۔ [22] دیکھیں: تحفۃ الأحوذي: (1/ 481)۔
5- مؤذن خوش نوا ہو؛ جیسا کہ عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ کی مذکورہ حدیث میں نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے: ’’کیوں کہ اس کی آواز تمہاری آواز سے زیادہ شیریں اور دور تک پہنچنے والی ہے‘‘۔ یعنی وہ زیادہ خوش نوا اور شیریں آواز والا ہے۔
6- مؤذن حدث اصغر اور حدث اکبر سے پاک ہو؛ کیونکہ اذان اور اقامت اللہ عز وجل کا ذکر ہیں، اور ذکر کرنے والے کے لیے مستحب ہے کہ وہ پاک ہو۔
7- مؤذن کھڑے ہو کر اذان دے، کیوں کہ نبی ﷺ کا ارشاد ہے: ’’اے بلال! کھڑے ہو جاؤ اور نماز کے لیے اذان دو۔‘‘ [23] ابن المنذر فرماتے ہیں: ’’اس بات پر اجماع ہے کہ مؤذن کا کھڑے ہوکر اذان دینا سنت ہے۔‘‘ [24]۔ [23] صحیح بخاری: 604، صحیح مسلم: 377۔ اسے ابن عمر رضي الله عنهما نے روایت کیا ہے۔ [24] الإجماع لابن المنذر: (ص 38)۔
8- مؤذن قبلہ رخ ہو کر اذان دے، جیسا کہ عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ کے اذان کے خواب سے متعلق ایک روایت میں آیا ہے، انھوں نے کہا: "پھر قبلہ رخ ہو کر کہا: اللہ اکبر اللہ اکبر . . ."[25]، ابن المنذر نے فرمایا: ’’اس بات پر اجماع ہے کہ اذان کے وقت قبلہ کی جانب رخ کرنا سنت ہے۔‘‘ [26]۔ [25] سنن ابو داؤد: 507۔ [26] الإجماع لابن المنذر: (ص 38)۔
9- مؤذن اپنی دونوں شہادت کی انگلیاں دونوں کانوں میں رکھے؛ کیونکہ بلال رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے اذان دیتے ہوئے ایسا کیا تھا۔ ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ انھوں نے کہا: "میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دیتے دیکھا، وہ گھوم رہے تھے اور اپنا چہرہ ادھر اور ادھر پھیر رہے تھے اور ان کی انگلیاں ان کے دونوں کانوں میں تھیں، جب کہ رسول اللہ ﷺ اپنے سرخ رنگ کے خیمے میں تشریف فرما تھے ..."[27]۔ [27] اسے ترمذی نے روایت کیا ہے (197) اور کہا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اس کی اصل صحیح بخاری (634) میں ان الفاظ کے ساتھ موجود ہے: عون بن ابی جحیفہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دیتے دیکھا۔ (وہ کہتے ہیں:) میں اذان کے کلمات کے ساتھ ان کے منہ ادھر ادھر پھرتے ہوئے دیکھنے لگا۔
امام ترمذی نے اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد فرمایا: ’’اہلِ علم کے نزدیک اسی پر عمل ہے۔ وہ مؤذن کے لیے اذان کے دوران اپنی دونوں انگلیون کو اپنے کانوں میں داخل کرنے کو مستحب قرار دیتے ہیں۔‘‘
ابن شبرمہ سے پوچھا گیا کہ مؤذن کو اپنی انگلیاں کانوں میں ڈالنے کا حکم کیوں دیا گیا ہے، تو انھوں نے کہا: "آواز بلند کرنے کے لیے..."[28] [28] الأوسط (4/11)۔
امام نووی رحمہ اللہ نے فرمایا: "سنت یہ ہے کہ اپنی انگلیاں کانوں کے سوراخوں میں ڈال لے۔ یہ ایک متفق علیہ مسئلہ ہے۔ اسے المحاملي نے المجموع میں عام اہل علم سے نقل کیا ہے۔ ہمارے اصحاب نے کہا: اس میں ایک فائدہ اور بھی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص بہرے پن، دوری یا کسی اور وجہ سے مؤذن کی آواز نہ سن سکے اور کانوں میں انگلیاں دیکھ کر سمجھ جائے کہ اذان دے رہا ہے۔"[29] [29] شرح المهذب (3/113)۔
10- جب مؤذن ”حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ“ کہے تو دونوں دفعہ دائیں طرف رخ کرے، اور جب ”حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ“ کہے تو دونوں دفعہ بائیں طرف رخ کرے، جبکہ اس کے قدم ثابت رہیں؛ اس کی دلیل ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جس میں آیا ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کے سامنے اذان دی‘ انہوں نے فرمایا: ’’تو میں ان کے منہ کو غور سے دیکھنے لگا، جو اِدھر اور اُدھر پھر رہا تھا۔ یعنی دائیں اور بائیں گھوم کر حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الفَلَاحِ کہہ رہے تھے‘‘[30] اس لیے یہ اذان کو ان لوگوں تک پہنچانے میں زیادہ مؤثر ہے جو مسجد سے دور ہوں۔ [30] صحیح بخاری: (634)، صحیح مسلم: (503)، اور مذکورہ الفاظ صحیح مسلم کے ہیں۔
11- مؤذن جلدی جلدی نہیں، بلکہ ٹھہر ٹھہر کر اذان دے، لیکن حد سے زیادہ کھینچ تان نہ کرے؛ کیونکہ اذان مسجد سے دور لوگوں کو اطلاع دینے کے لیے دی جاتی ہے، اس لیے اس میں ٹھہراؤ زیادہ مؤثر ہے۔ جب کہ اقامت کے الفاظ جلدی جلدی کہے؛ کیونکہ یہ حاضرین کو اطلاع دینے کے لیے کہے جاتے ہيں، اس لیے اس میں جلدی کرنا مناسب ہے۔ ([31])۔ [31] دیکھیے: المغني لابن قدامة: (1/ 295)۔
12- مؤذن اذان کو شریعت کے مطابق نرم اور آسان آواز میں دے، نہ کہ بناوٹی انداز یا غلط تلفظ کے ساتھ، نہ ہی اسے گانے کی طرح ادا کرے، اور نہ ہی اسے اتنا کھینچے کہ اس کا مقصد فوت ہو جائے، بلکہ مؤذن اس کے شرائط اور شرعی آداب کا خیال رکھتے ہوئے اپنی آواز میں اذان دے۔
چھٹا مطلب: اذان واقامت کا طریقہ
اذان اور اقامت کی کچھ کیفیات ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں وارد ہوئی ہیں، ان میں سے ایک طریقہ اذان اور اقامت کی کیفیت کے بارے میں عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ کی حدیث میں مذکور ہے، جس میں اذان کے یہ الفاظ آئے ہیں:
اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبر۔ ’’اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے‘‘۔
أشھد أن لا إله إلا الله، أشھد أن لا إله إلا الله۔ ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔‘‘
أشهد أن محمدا رسول الله، أشهد أن محمدًا رسول الله، أشهد أن محمدًا رسول الله۔ ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔‘‘
حيَّ على الصلاة، حيَّ على الصلاة۔ ’’آؤ نماز کی طرف، آؤ نماز کی طرف۔‘‘
حيَّ على الفلاح، حيَّ على الفلاح۔ ’’آؤ کامیابی کی طرف، آؤ کامیابی کی طرف۔‘‘
الله أکبر، الله أکبر۔’’اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے۔‘‘
لا إله إلا الله۔ ’’اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔‘‘
اور اقامت کے الفاظ یہ ہیں:
الله أکبر، الله أکبر۔ ’’اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے۔‘‘
أشهد أن لا إله إلا الله۔ ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔‘‘
أشهد أن محمدا رسول الله. ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔‘‘
حيَّ على الصلاة، حيَّ على الفلاح۔ ’’آؤ نماز کی طرف، آؤ کامیابی کی طرف۔‘‘
قد قامت الصلاة، قد قامت الصلاة۔ ’’نماز کھڑی ہو گئی، نماز کھڑی ہو گئی۔‘‘
الله أكبر، الله أكبر۔ ’’اللہ سب سے بڑا ہے، سب سے بڑا ہے۔‘‘
لا إله إلا الله ’’اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔‘‘ [32] [32] اسے ابو داود (499) نے اور اختصار کے ساتھ ترمذی (189) نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے کہا: عبد الله بن زيد کی حديث حسن صحيح ہے۔
یہ اذان اور اقامت کا وہی طریقہ ہے جس پر بلال رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حضر وسفر میں ہمیشہ عمل کیا، یہاں تک کہ نبی ﷺ کی وفات ہو گئی۔
البتہ فجر کی اذان میں 'حيَّ على الفلاح' کے بعد دو دفعہ 'الصلاة خير من النوم' کہے؛ کیونکہ ابو محذورہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ’’اگر نماز صبح کی ہو تو کہو: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِّنَ النَّوْمِ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِّنَ النَّوْمِ۔’’نماز نیند سے بہتر ہے، نماز نیند سے بہتر ہے۔‘‘ [33]- [33] اسے ابو داؤد (500) نے روایت کیا ہے۔ امام نووی نے خلاصة الأحكام : 1/ 286 میں کہا: یہ حدیث حسن ہے۔
اذان کا ایک اور طریقہ ترجیع ہے، یعنی دہرانا، اس میں مؤذن شہادتین (أشهد أن لا إله إلا الله، أشهد أن محمدًا رسول الله) پہلے آہستہ آواز میں کہتا ہے، پھر انھیں بلند آواز سے دہراتا ہے اور اقامت کے وقت انہیں دو دو مرتبہ کہتا ہے۔ یہ طریقہ ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں وارد ہوا ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خود مجھے اذان سکھائی اور فرمایا: «کہو: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ - دو دو مرتبہ - فرمایا: پھر واپس آؤ اور بلند آواز میں کہو: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ»۔
«جب کہ اقات کے کلمات یہ ہیں: الله أكبر الله أكبر، الله أكبر الله أكبر، أشهد أن لا إله إلا الله، أشهد أن لا إله إلا الله، أشهد أن محمدًا رسول الله، أشهد أن محمدًا رسول الله، حي على الصلاة حي على الصلاة، حي على الفلاح حي على الفلاح، قد قامت الصلاة، قد قامت الصلاة، الله أكبر الله أكبر، لا إله إلا الله» [34] [34] اسے ابو داود (502، 503) نے روایت کیا ہے۔
یہ اختلاف تنوع میں سے ہے، مؤذن ان ثابت شدہ کیفیات میں سے جس کو بھی اختیار کرے وہ درست ہے، شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اذان کی بعض ثابت شدہ صورتوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ’’جب ایسا ہے تو محدثین اور ان کے موافقین کا مذہب درست ہے۔ وہ یہ ہے کہ وہ اذان واقامت کی جتنی صورتیں نبی کریم ﷺ سے ثابت ہیں، سب کو جائز قرار دیتے ہیں اور اس میں سے کسی صورت کو ناپسند نہیں کرتے؛ کیونکہ اذان اور اقامت کی صورتوں کا تنوع ویسا ہی ہے جیسے قراءت، تشہد اور دیگر اذکار کا تنوع۔ لہٰذا کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ اس چیز کو ناپسند کرے، جسے رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کے لیے سنت قرار دیا ہے۔‘‘ [35]- [35] مجموع الفتاوى: (22/ 66)۔
ساتواں مطلب: اذان سننے والا کیا کہے، اور اذان کے بعد کیا دعا کرے؟
اذان سننے والے کے لیے مستحب ہے کہ مؤذن کے الفاظ کو دہرائے؛ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب تم مؤذّن کو (اذان دیتے ہوئے) سنو، تو ویسے ہی کہو، جیسے وہ کہتا ہو“۔ [36]. البتہ مؤذن کے الفاظ حَيَّ على الصلاة اور حَيَّ على الفلاح کے جواب میں اذان سننے والے کے لیے ان الفاظ کا کہنا مستحب ہے: ’’لا حول ولا قوة إلا بالله‘‘ ’’اللہ کی توفیق کے بغیر برائی سے بچنے کی قوت ہے، نہ نیکی کرنے کی طاقت۔‘‘ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : ’’جب مؤذن 'اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ' کہے اور تم میں سے کوئی 'اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ' كہے، پھر مؤذن 'أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ' کہے اوروہ بھی 'أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ' کہے، پھرمؤذن 'أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ' کہے اور وہ بھی 'أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ' کہے، پھر مؤذن 'حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ' کہے اور وہ 'لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ' کہے، پھر مؤذن 'حَيَّ عَلَى الفَلَاحِ' کہے اور وہ 'لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ' کہے، پھر مؤذن 'اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ' کہے اور وہ بھی 'اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ' کہے، پھر مؤذن 'لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ' کہے اور وہ بھی اپنے دل سے 'لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ' کہے، تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔‘‘ [37]- [36] اسے بخاری (611) اور مسلم (383) نے روایت کیا ہے۔ [37] صحیح مسلم: 385۔
مؤذن کے شہادتین کہنے کے بعد یہ دعا پڑھے: ’’أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا۔‘‘ یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور بے شک محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ میں راضی ہو گیا اللہ کے رب ہونے پر، محمد ﷺ کے رسول ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر۔
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس نے مؤذن کی اذان سن کر کہا: ”أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا“ اس کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔ [38] [38] صحیح مسلم: 386۔
اور جب مؤذن فجر کی اذان میں: الصَّلاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ کہے تو سننے والا بھی اسی طرح کہے؛ کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب تم مؤذّن کو (اذان دیتے ہوئے) سنو، تو ویسے ہی کہو، جیسے وہ کہتا ہے“۔ [39]- [39] متفق علیہ۔
اس کے بعد نبی ﷺ پر درود بھیجے، پھر وہ دعا پڑھے جو حدیث میں آپ ﷺ سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: "جس نے اذان سنتے وقت یہ دعا پڑھی: "اللَّهُم ربِّ هذه الدَّعْوَة التَّامة، والصَّلاة القَائمة، آتِ محمدا الوَسِيلَة والفَضِيلة، وابْعَثْه مَقَامًا محمودًا الَّذي وعَدْتَه" (اے اللہ! اس کامل دعوت اور قائم ہونے والی نماز کے رب! محمدﷺ کو جنت کا وسیلہ نامی مقام اور فضیلت عطا فرما اور انہیں مقام محمود پر کھڑا کر جس کا تو نے وعدہ کیا ہے)۔ اس کے لیے قیامت کے دن میری شفاعت واجب ہو جائے گی۔" [40] دعا کے الفاظ: «الدَّعْوَةِ التَّامَّة» اذان کی دعوت، یہ مکمل اور جامع ہے؛ کیونکہ اس میں اللہ کی تعظیم، اس کی توحید، رسالت کی گواہی اور بھلائی کی طرف دعوت شامل ہے۔ «وَالصَّلَاةِ القَائِمَة» وہ نماز جو ابھی قائم کی جانے والی اور ادا کی جانے والی ہے۔ ’’الوَسِيلَة‘‘ جنت میں ایک مقام۔ ’’الفضیلة‘‘ وہ اعلیٰ مرتبہ اور بلند رُتبہ ہے جس میں نبی اکرم ﷺ کا کوئی شریک نہیں ہوگا۔ ’’مَقَامًا مَحْمُودًا‘‘ ہر وہ مقام و مرتبہ ہے جس میں لوگ نبی اکرم ﷺ کی تعریف و حمد کریں، اور ان میں سب سے بڑا مرتبہ شفاعتِ عظمٰی ہے، جو تمام مخلوق کے لیے ہوگی، جس میں آپ ﷺ اہلِ محشر کے لیے سفارش کریں گے، یہاں تک کہ ان کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے۔ [40] صحیح بخاری: 614۔ یہ حدیث جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔
عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انھوں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ’’جب تم مؤذن کو (اذان دیتے ہوئے) سنو تو اسی طرح کہو جیسے وہ کہتا ہو، پھر مجھ پر درود بھیجو، کیونکہ جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ مانگو، کیونکہ وہ جنت میں ایک مقام ہے، جو اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک بندے کو ملے گا اور مجھے امید ہے کہ وہ میں ہوں گا۔ چنانچہ جس نے میرے لیے وسیلہ طلب کیا اس کے لیے (میری) شفاعت واجب ہو گئی۔‘‘ [41]- [41] صحیح مسلم: 384۔
بعض ایسی بدعتیں جو اذان میں ایجاد کی گئی ہیں: مؤذن کا اذان کے بعد بلند آواز سے نبی اکرم ﷺ پر درود وسلام پڑھنا، اذان کے بعد وارد ذکر یعنی: (اللهم رب هذه الدعوة التامة . . .) کو اجتماعی طور پر پڑھنا، دعا کے وقت دونوں ہاتھوں کو اٹھانا، اور مؤذن کا جواب دیتے ہوئے (حقًّا) یا (أبدًا) کا اضافہ کرنا، جیسے کہ (حقًّا لا إله إلا الله) یا (أبدًا لا إله إلا الله) کہنا؛ کیونکہ اس کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔
آٹھواں مطلب: اذان کے بعد مسجد سے نکلنے کا حکم
اذان کے بعد مرد کا مسجد سے نکلنا حرام ہے جب تک کہ وہ نماز نہ پڑھ لے، سوائے اس کے کہ وہ معذور ہو یا مسجد میں واپسی کی نیت رکھتا ہو، تو اس پر کوئی حرج نہیں؛ ابو الشعثاء سے روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا: "ہم مسجد میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ مؤذن نے اذان دی، تو ایک آدمی کھڑا ہوا اور مسجد سے جانے لگا۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی نگاہ سے اس کا پیچھا کرتے رہے، یہاں تک کہ وہ مسجد سے نکل گیا، تو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس آدمی نے ابو القاسم ﷺ کی نافرمانی کی"۔ [42]۔ [42] صحیح مسلم: 655۔
ترمذی نے اس حدیث کو اپنی سنن میں روایت کرنے کے بعد فرمایا: "صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور بعد کے اہلِ علم کا عمل اسی پر رہا ہے کہ اذان کے بعد کوئی شخص مسجد سے نہ نکلے۔ ہاں! کوئی عذر ہو جیسے بے وضو ہو یا کوئی ضروری کام پیش آ جائے تو بات الگ ہے۔"[43]۔ [43] سنن ترمذی (1/ 397)، حدیث نمبر: 204۔
نواں مطلب: اذان اور اقامت کے درمیان کتنا وقت ہوتا ہے؟
سنت سے یہ بات ثابت ہے کہ اذان اور اقامت کے درمیان کافی وقت ہوتا تھا؛ عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے۔ ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے۔‘‘ پھر آپ نے تیسری بار فرمایا: ’’اس کے لیے جو چاہے۔‘‘ [44]۔ دونوں اذانوں سے مراد اذان اور اقامت ہے۔ مؤذن کو چاہیے کہ وہ اپنی اذان اور اقامت کے درمیان اتنا وقت رکھے کہ حاضرین دو رکعت نماز ادا کر سکیں اور مسجد کے لوگ آکر نماز میں شامل ہو سکیں۔ [44] صحیح بخاری: 627، صحیح مسلم: 838۔
امام احمد کہتے ہیں: ’’مؤذن کو چاہیے کہ جب اذان دے تو فوراً اقامت نہ کہے، بلکہ کچھ دیر انتظار کرے، تاکہ مسجد کے لوگ آجائیں اور جو شخص قضائے حاجت کے لیے جانا چاہتا ہے وہ فارغ ہو جائے۔ لہذا مؤذن کو چاہیے کہ اپنی اذان اور اقامت کے درمیان کچھ وقفہ رکھے۔‘‘ [45] [45] ابن تیمیہ کی کتاب 'شرح عمدة الفقه'، كتاب 'الصلاة' : (صفحہ 135)۔
دسواں مطلب: مؤذن کی ذمہ داریاں اور اس کے آداب
مؤذن کو چاہیے کہ وہ اپنی اذان کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا کا طالب ہو؛ جیسا کہ عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے، انھوں نے کہا: ”رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے جو آخری بات کہی تھی، وہ یہ تھی کہ ایسے مؤذن کو مقرر کرو، جو اذان دینے کی اجرت نہ لے۔“ [46] [46] اس حدیث کو امام ترمذی (209) نے روایت کیا ہے اور انھوں نے اسے حسن قرار دیا ہے۔
امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد فرمایا: ’’اہل علم کا اس پر عمل ہے کہ انھوں نے مؤذن کے لیے اذان پر اجرت لینے کو نا پسند کیا اور مؤذن کے لیے اس بات کو مستحب سمجھا کہ وہ اذان اللہ کی رضا کے لیے دے۔‘‘
مؤذن کو بیت المال سے دینے میں کوئی حرج نہیں ہے؛ کیونکہ بیت المال مسلمانوں کے فائدے کے لیے ہی ہوتا ہے اور اذان واقامت مسلمانوں کے مصالح میں سے ہیں۔ [47]۔ [47] دیکھیں: الأذان والإقامة للقحطاني: (صفحہ 19)۔
مؤذن کو یہ بات جان لینی چاہیے کہ وہ پانچوں نمازوں کے اوقات میں اذان دینے کا ذمہ دار ہے؛ جیسا کہ نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے: ’’امام ضامن ہے اور موذّن امین ہے‘‘۔ [48] یعنی: وہ نماز کے اوقات کا امین ہے۔ لہٰذا اسے اذان کے وقت سے کافی پہلے پاک صاف ہو کر مسجد آنا چاہیے، بغیر عذر کے اذان سے غیر حاضر نہیں ہونا چاہیے اور ایسی صورت درپیش ہو تو کسی کو اپنی جگہ اذان دینے کے لیے مقرر کردینا چاہیے۔ [48] اسے ابو داؤد (517) اور ترمذی (207) نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
مؤذن کو درج ذیل امور کا خیال رکھنا چاہیے:
(1) مؤذن کو چاہیے کہ مسجد کی صفائی ستھرائی اور اس کی حفاظت کا خیال رکھے، اس سلسلے میں مسجد کے خادموں اور نمازیوں کے ساتھ تعاون کرے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مسجدوں کو آباد رکھنے والوں کی تعریف کی ہے، چنانچہ فرمایا: "اللہ کی مسجدوں کی رونق وآبادی تو ان کے حصے میں ہے، جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں، نمازوں کے پابند ہوں، زکوٰة دیتے ہوں اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے ہوں، توقع ہے کہ یہی لوگ یقیناً ہدایت یافتہ ہیں۔" [سورہ توبہ : 18] خواہ ان کی آبادکاری کا ذریعہ ان کی تعمیر، دیکھ بھال اور صفائی ہو یا نماز کے قیام اور اللہ کا ذکر سے انہیں آباد کیا جائے؛ دونوں ہی معانی مسجد کی آبادکاری میں شامل ہیں[49]۔ [49] دیکھیں: فتح الباری از ابن حجر: 1/ 541۔
(2) مؤذن کو چاہیے کہ وہ صحیح عقیدہ، اذان، طہارت اور نماز کے احکام سیکھے، اور قرآن مجید کا مناسب حصہ حفظ کرے تاکہ امام کی غیر موجودگی میں نماز کی امامت کے قابل ہو سکے۔
(3) بھلائی کا حکم دے، برائی سے روکے، اللہ تعالیٰ کی طرف حکمت اور موعظت حسنہ کے ساتھ دعوت دے، لوگوں کے ساتھ نرمی برتے اور ان کی اذیتوں پر صبر کرے، اور اس کام میں امام مسجد کے ساتھ تعاون کرے۔
(4) مسجد کو صرف علم وعبادت اور ان چیزوں کے لیے خاص کرے جو نمازیوں کے لیے مفید ہوں، اور ہر اس کام سے گریز کرے جو ان کے دین ودنیا کو نقصان پہنچانے والا ہو۔
(5) وہ مسجد کی جماعت اور نمازیوں کے ساتھ اُلفت وتعاون کا معاملہ کرے، ان کی غیر حاضری پر ان کا حال پوچھے، ان کے مریضوں کی عیادت کرے، ان کے جنازوں اور تدفین میں شریک ہو اور مصائب ومشکلات کے وقت ان کے ساتھ کھڑا ہو۔
دوسرا مبحث: امامت کے احکام
پہلا مطلب: امامت کی تعریف
نماز کی امامت یہ ہے کہ ایک شخص نمازیوں کے آگے کھڑا ہو، تاکہ لوگ اس کی پیروی کرتے ہوئے نماز پڑھیں۔ نماز کا امام وہ ہے، جس کی اقتدا اور پیروی کرتے ہوئے لوگ نماز پڑھیں۔ [50] [50] دیکھیں: حاشية الروض المربع: (2/ 296) اور الإمامة في الصلاة للقحطانی: (ص 6)۔
دوسرا مطلب: امامت کی مشروعیت وفضیلت
نماز کی امامت ان بہترین اعمال میں سے ایک ہے، جنھیں بہترین لوگ انجام دیتے ہیں، جو علم، قراءت، عدل وانصاف اور دیگر اچھی صفات سے متصف ہوتے ہیں، جس کی تفصیل آگے آئے گی۔ باجماعت نماز کا تصوراس کے بغیر ممکن نہیں۔ باجماعت نماز اسلام کا ایک عظیم ترین شعار ہے۔ [51] [51] دیکھیں: الموسوعة الفقهية الكويتية: (6/ 201)۔
امامت کے چند فضائل یہ ہیں:
1- امامت کی فضیلت معلوم و مشہور ہے۔ خود نبی اکرم ﷺ نے امامت فرمائی، پھر آپ کے خلفائے راشدین نے بھی یہ ذمہ داری نبھائی اور ہمیشہ سے علم وعمل والے بہترین مسلمان اس منصب پر فائز رہے ہیں۔ [52] [52] دیکھیں: قحطانی کی کتاب الإمامة في الصلاة: (صفحہ: 9)۔
2- نماز میں امامت ایک شرعی ولایت ہے جو فضیلت رکھنے والے افراد کے سپرد کی جاتی ہے؛ جیساکہ نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے: ’’لوگوں کی امامت وہ کرے، جو اللہ کی کتاب (قرآن) کا سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہو...‘‘ [53]، یہ بات معلوم ہے کہ اللہ کی کتاب کا زیادہ علم رکھنے والا سب سے افضل ہے۔ لہذا اس کے ساتھ اس کا ذکر کرنا اس کی افضلیت کو ظاہر کرتا ہے۔ [54] [53] صحیح مسلم: 673۔ راوی: ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ۔ [54] دیکھیں: الشرح الممتع على زاد المستقنع: (2/41)۔
3- ائمہ کے لیے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی ہدایت کی دعا؛ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’امام ضامن ہے اور مؤذن امانت دار ہے۔ اے اللہ! اماموں کو ہدایت دے اور مؤذنوں کو بخش دے۔‘‘ [55]- [55] سنن ابو داؤد (517)، سنن ترمذی (207)۔
اور «الإمام ضامن» کا مطلب ہے: وہ مقتدیوں کی نماز کی صحت کا ذمہ دار ہے؛ کیونکہ ان کی نماز امام کی نماز سے مربوط ہے۔ «اللهم أرشد الأئمة» کا مطلب ہے: انھیں صحیح راستے دکھا کہ وہ نماز کو بہترسے بہتر انداز میں ادا کر سکیں۔ [56] [56] دیکھیں: شرح أبو داود للعيني: (2/ 468)، فيض القدير للمناوي: (3/ 182)-
تیسرا مطلب: امامت کا زیادہ حق دار کون
رسول اللہ ﷺ نے امامت کے سب سے زیادہ حق دار اور اس کے سب سے زیادہ اہل کی وضاحت کی ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’لوگوں کی امامت وہ کرے جو اللہ کی کتاب (قرآن) کا سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہو۔ اگر قرأت میں سب برابر ہوں تو جو سنت کا سب سے بڑا عالم ہو۔ اگر سنت میں سب برابر ہوں تو جس نے سب سے پہلے ہجرت کی ہو۔ اگر ہجرت میں سب برابر ہوں تو جس نے اسلام پہلے قبول کیا ہو۔ کوئی شخص کسی اور شخص کے دائرۂ اقتدار میں اس کی امامت نہ کرے۔‘‘ [57]. امامت کے سب سے زیادہ حق دار اور اولیٰ شخص حسب ذیل ہیں: [57] صحیح مسلم: 673
۱- قرآن کو سب سے زیادہ یاد کرنے والا اور سب سے عمدہ قراءت کرنے والا، اس سے مراد وہ شخص ہے جو قرآن کی قراءت میں مہارت رکھتا ہو اور اسے بہترین طریقے سے ادا کرتا ہو، نماز کے (مسائل و احکام) کا عالم ہو۔ اگر ایسا شخص ہو جو زیادہ قراءت کرتا ہو، اور دوسرا جو اس سے کم قراءت کرتا ہو لیکن فقہ میں اس سے بڑا ہو، تو فقہ میں زیادہ علم رکھنے والے قاری کو اس قاری پر ترجیح دی جائے گی جو فقہ میں کمزور ہو، کیونکہ نماز اور اس کے احکام کی فقہ کی ضرورت قراءت کی مہارت سے زیادہ ہے۔
2- پھر سنت کا سب سے بڑا عالم، اگر دو امام قرأت میں برابر ہوں، لیکن ان میں سے ایک زیادہ فقیہ اور سنت کا زیادہ علم رکھنے والا ہو، تو زیادہ فقیہ کو مقدم کیا جائے، جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اگر قرأت میں سب برابر ہوں، تو وہ شخص اس (امامت) کا حق دار ہے، جو سنت کا سب سے بڑا عالم ہو۔‘‘
3- پھر وہ شخص جو بلاد کفر سے بلاد اسلام کی طرف ہجرت کرنے میں سب سے پہلے اور سب سے آگے ہو، اگر دونوں قرأت اور سنت کے علم میں برابر ہوں؛ کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اگر سنت میں سب برابر ہوں، تو وہ شخص حق دار ہے، جس نے پہلے ہجرت کی ہو۔‘‘
4- پھر جو ان میں سب سے پہلے اسلام لایا ہو، اگر وہ ہجرت میں برابر ہوں؛ کیونکہ حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اگر وہ ہجرت میں برابر ہوں، تو وہ شخص مقدم ہوگا، جس نے پہلے اسلام قبول کیا ہو۔‘‘ یعنی : اسلام لانے میں پہل کرنے والا۔
5- پھر جو عمر میں بڑا ہو، اس وقت جب دونوں پچھلے تمام امور میں برابر ہوں؛ اس لیے کہ آپ ﷺ نے سابقہ حدیث کی ایک روایت میں فرمایا: ''پھر وہ جو زیادہ عمر والا ہو۔'' اور مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کی روایت ہے، انھوں نے کہا: ’’تم میں سے ایک شخص اذان دے اور جو تم میں سب سے بڑا ہو وہ امامت کرے۔‘‘ [58]- [58] صحیح بخاری: 628، صحیح مسلم: 674۔
اس حدیث میں نبی ﷺ کا بڑے عمر والے کو مقدم رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ علم میں تقریبا برابر تھے۔
جب وہ سارے مذکورہ امور میں برابر ہوں اور امامت کے لیے جھگڑا کریں، ہر ایک امامت کا خواہاں ہو، تو ان کے درمیان قرعہ ڈالا جائے، چنانچہ س جو قرعہ میں غالب آئے اسے مقدم کیا جائے؛ کیونکہ وہ استحقاق میں برابر ہیں اور جمع کرنا ممکن نہیں، تو ان کے درمیان دیگر حقوق کی طرح اس معاملے میں بھی قرعہ اندازی کی جائے۔
گھر کا مالک اپنے مہمان سے زیادہ امامت کا حق دار ہے، اسی طرح سلطان -جو امام اعظم ہے- امامت کا دوسروں سے زیادہ حق دار ہے، بشرطیکہ دونوں امامت کے اہل ہوں؛ کیونکہ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’کوئی شخص کسی دوسرے کے اہل خانہ کے درمیان یا اس کے اقتدار میں اس کی اجازت کے بغیر امامت نہ کرائے۔‘‘
ان دونوں کی طرح مسجد کا مقرر امام بھی ہے؛ کیونکہ وہ دوسروں سے زیادہ حقدار ہے - سوائے سلطان کے - چاہے دوسرا اس سے بڑا قاری اور عالم ہی کیوں نہ ہو؛ کیونکہ سابقہ حدیث عام ہے۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما کا ایک غلام تھا جو کسی مسجد میں نماز پڑھا تا تھا، جب ابن عمر رضی اللہ عنہما حاضر ہوئے تو ان کے غلام نے ان کو آگے بڑھایا، تو انہوں نے غلام سے کہا: ’’تم اپنی مسجد میں امامت کے زیادہ حق دار ہو۔‘‘ [59] [59] اسے امام شافعی نے "الأم" (1/185) میں، عبد الرزاق نے "المصنف" (2/399) میں اور بیہقی (3/126) (5531) نے روایت کیا ہے۔ امام نووی نے "الخلاصة" (2/701) میں کہا: اس کی سند حسن یا صحیح ہے۔ جب کہ البانی نے "إرواء الغليل" (2/302) میں اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے۔
کیونکہ اس کے علاوہ کسی اور کو اس پر مقدم کرنا اس کی حق تلفی اور دل شکنی ہے۔
نابالغ بچے کی امامت کے بارے میں اختلاف ہے، بعض اہل علم نے اس کو جائز قرار دیا ہے؛ اس کی دلیل عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے "کہ انھوں نے نبی ﷺ کے زمانے میں اپنی قوم کی امامت کی، جب کہ ان کی عمر چھ یا سات سال تھی"۔[60] [60] صحیح بخاری: (4302)۔
نفل پڑھنے والے کی امامت فرض پڑھنے والوں کے لیے درست ہے۔ اس کی دلیل معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی یہ روایت ہے کہ ’’وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ عشا کی نماز پڑھتے، پھر واپس جا کر اپنی قوم کے لوگوں کو (وہی) نماز پڑھایا کرتے تھے۔‘‘ [61] [61] صحیح بخاری: (701)، صحیح مسلم: (465)۔
چوتھا مطالب: جن کی امامت حرام ہے:
مندرجہ ذیل حالات میں امامت حرام ہے:
1- عورت کا مرد کی امامت کرنا، نبی کریم ﷺ کے عمومی قول کے مطابق: ’’وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی، جس نے اپنے معاملات کی باگ ڈور کسی عورت کو سونپ دی ہو۔‘‘ [62] پہلی بات یہ ہے کہ امامت دراصل ایک طرح کی ولایت ہے اوردوسری بات یہ ہے کہ عورت کے لیے اصل یہ ہے کہ وہ صفوں کے آخر میں رہیں، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔ چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’مردوں کی بہترین صف ان کی پہلی صف ہے اور بدترین صف ان کی آخری صف ہے۔ جب کہ خواتین کی بہترین صف ان کی آخری صف ہے اور بدترین صف ان کی پہلی صف ہے۔‘‘ [63] یہ بات اس پہلو کو مد نظر رکھتے ہوئے کہی گئی ہے کہ عورت کا تحفظ اور پردہ قائم رہے۔ چنانچہ اگرعورت کو امامت کے لیے آگے بڑھایا جائے تو یہ اس شرعی اصل کے خلاف ہوگا۔ اہلِ علم کا اس مسئلے میں اجماع ہے۔ امام ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’اہلِ علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عورت مردوں کی امامت نہیں کر سکتی جب مرد جان رہے ہوں کہ ان کا امام عورت ہے۔ اگر وہ ایسا کرتے ہيں تو ان کی نماز بالاجماع فاسد ہوگی۔‘‘ [64]- [62] صحیح بخاری (4425)۔ راوی: ابو بکرہ رضی اللہ عنہ۔ [63] صحیح مسلم: 440۔ [64] مراتب الإجماع: (ص 27)۔
2- بے وضو شخص اور وہ شخص جس کے بدن یا کپڑے پر نجاست ہو اور اسے اس کا علم بھی ہو، اس کی امامت جائز نہیں۔ البتہ اگر مقتدیوں کو اس کا علم نہ ہو اور نماز مکمل ہو جائے تو ان کی نماز درست ہوگی۔ جیسا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ’’انھوں نے لوگوں کو حالتِ جنابت میں نماز پڑھا دی اور اس کے بعد خود نماز دوبارہ پڑھ لی، لیکن لوگوں کو نماز دہرانے کا حکم نہیں دیا۔‘‘[65]. [65] سنن دارقطنی: (1371)۔
عبد الرحمن بن مہدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’اس مسئلے پر سب کا اتفاق ہے کہ اگر امام جنبی ہو تو وہ اپنی نماز دوہرائے گا، لیکن مقتدیوں کو نماز دوہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں اس مسئلے میں کوئی اختلاف نہیں جانتا۔‘‘ [66] [66] سنن دارقطنی: (2/ 188)۔
3- ایسے شخص کی امامت جائز نہیں جسے سورۃ الفاتحہ یاد نہ ہو، یا اسے صحیح طریقے سے تلاوت نہ آتی ہو یا وہ قراءت میں ایسے حروف کو مدغم کر دیتا ہو جنھیں مدغم نہیں کرنا چاہیے، جیسے کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں (الهاء کو راء میں) مدغم کر دے: "تمام تعریفیں اللہ کی ہیں جو سارے جہان کا رب ہے۔" [ الفاتحہ: 2] کیونکہ اس نے حرف کو ایسے حرف میں مدغم کیا جو نہ اس کے مثل ہے اور نہ ہی اس کے قریب، یا اس نے کسی حرف کو دوسرے حرف سے بدل دیا، جیسے کوئی راء کو یاء سے بدل دے، یا اس میں تلفظ کی ایسی غلطی کرے جو معنی کو بدل دے، تو اس کی امامت صحیح نہیں ہوگی سوائے اس کے جیسے کے ساتھ؛ کیونکہ وہ نماز کے رکن کو ادا کرنے سے قاصر ہے یا اس میں خلل ڈالتا ہے۔
4- ایسے بدعتی کی امامت (جائز نہیں) جس کی بدعت کفر تک پہنچا دیتی ہو؛ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "کیا وه جو مومن ہو مثل اس کے ہے جو فاسق ہو؟ یہ برابر نہیں ہو سکتے۔" [السجدۃ: ۱۸] یہاں فاسق سے مراد کافر ہے، جیسا کہ آیت کے سیاق سے واضح ہوتا ہے۔
5- ایسی مسجد میں کسی اور کا امام کرنا حرام ہے جس کا مقرر امام موجود ہو۔ لہٰذا اس کے ہوتے ہوئے کسی اور کی امامت درست نہیں، الا یہ کہ وہ اجازت دے دے یا وہ پیچھے رہ جائے اور وقت تنگ ہو۔ [67] [67] دیکھیں: الأسئلة والأجوبة الفقهية للسلمان: (1/ 163)۔
پانچواں مطالب: وہ لوگ جن کی امامت مکروہ ہے
ایسے افراد کی امامت مکروہ ہے:
1- اللَّحَّان: وہ شخص جو قراءت میں کثرت سے تلفظ کی غلطی کرتا ہو، بشرطیکہ اس سے معنی میں تبدیلی نہ آئے، خواہ یہ سورہ فاتحہ میں ہو یا کسی اور جگہ، جیسے اگر وہ (الحمدَ لله) میں دال کو زبر کے ساتھ پڑھے، تو اس کی نماز صحیح ہوگی، لیکن اس کی امامت مکروہ ہوگی؛ کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’لوگوں کی امامت وہ کرے جو اللہ کی کتاب (قرآن) کا سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہو۔‘‘ [68]- [68] اس حدیث کا حوالہ گزر چکا ہے۔
اگر لحن سورہ فاتحہ کے علاوہ کسی اور جگہ معنی کو بدل دے، خواہ یہ سہواً ہو یا لا علمی کی بنا پر یا زبان کی کسی کمزوری کی وجہ سے، تو اس کی امامت مکروہ ہونے کے باوجود درست ہوگی؛ کیونکہ اگر وہ سورہ فاتحہ کے علاوہ دوسری سورت بالکل نہ پڑھے تو بھی اس کی امامت درست ہو گی، اسی طرح اگر اس میں لحن ہو تو بھی درست ہے۔ لیکن اگر وہ جان بوجھ کر ایسا کرے تو اس کی نماز باطل ہوگی؛ کیونکہ یہ نماز میں کھیل تماشا کرنا ہے۔
2- وہ شخص جو بعض حروف کو بار بار دہراتا ہو، جیسے فاء، تاء یا کوئی اور حرف، اور اس طرح قراءت میں حروف کی زیادتی کر دیتا ہو، تو اس کی امامت مکروہ ہے۔
3- فاسق اور وہ بدعتی، جس کی بدعت کفر تک نہ پہنچتی ہو۔[69]۔ [69] دیکھیں: کشاف القناع: (1/ 475) اور اس کے بعد۔
4- وہ شخص جو لوگوں کی امامت کرے اور ان میں سے اکثر لوگ اسے جائز وجہ سے ناپسند کرتے ہوں۔ چنانچہ ابو امامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تین آدمی ایسے ہیں جن کی نماز ان کے کانوں سے آگے نہیں بڑھتی: ایک وہ غلام جو اپنے مالک سے بھاگا ہوا ہو جب تک کہ وہ واپس نہ آجائے، دوسری وہ عورت جس کا شوہر اس سے ناراض ہو کر رات گزارے اور تیسرا وہ امام جس کی قوم اس سے ناخوش ہو۔‘‘ [70]- [70] سنن ترمذی، حدیث نمبر: (360)۔ امام ترمذی نے کہا: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
امام ترمذی فرماتے ہیں: "بعض اہل علم نے اس بات کو مکروہ قرار دیا ہے کہ کوئی شخص ایسی قوم کی امامت کرے جو اسے ناپسند کرتی ہو۔ لیکن اگر امام ظالم نہ ہو تو گناہ ناپسند کرنے والوں کو ہوگا۔ امام احمد اور امام اسحاق نے اس بارے میں کہا کہ اگر ایک، دو یا تین افراد ناپسند کرتے ہوں تو امامت میں کوئی حرج نہیں ہے، جب تک کہ زیادہ تر لوگ ناپسند نہ کرنے لگیں"۔[71] [71] سنن ترمذی: (2/ 192)۔
اگر مقتدی اپنے امام کو اس لیے ناپسند کرتے ہوں کہ وہ نماز میں سنت کی پیروی کرنے کا اہتمام کرتا ہے، نماز میں مسنون سورتیں پڑھتا ہے اور ان کو اطمینان سے نماز پڑھاتا ہے، تو اس کی امامت مکروہ نہیں ہوگی؛ کیونکہ مقتدیوں کا ناپسند کرنا بلا وجہ ہے۔ لہذا ان کی ناپسندیدگی کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا۔ اگر وہ بلا وجہ ناپسند کرتے ہوں تو اسے چاہیے کہ انھیں نصیحت کرے، یاد دہانی کرائے اور ان کے ساتھ محبت سے پیش آئے۔ ساتھ ہی انھیں سنت کے مطابق نماز پڑھائے۔ اگر اللہ تعالیٰ اس کے ارادے میں اخلاص دیکھے گا تو لوگوں کے دلوں میں اس کی محبت ڈال دے گا۔ [72]۔ [72] دیکھیں: الشرح الممتع على زاد المستقنع: (4/ 253)۔
چھٹا مطلب: امام کی جگہ
سنت یہ ہے کہ امام مقتدیوں سے آگے کھڑا ہو، اور اگر مقتدی دو یا اس سے زیادہ ہوں تو وہ امام کے پیچھے کھڑے ہوں؛ کیونکہ نبی ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو آگے بڑھتے، اور صحابہ آپ کے پیچھے کھڑے ہوتے، جیساکہ ثابت ہے: "اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نماز پڑھ رہے تھے کہ جابر اور جبار رضی اللہ عنہما میں سے ایک آپ کے دائیں کھڑے ہوگئے اور دوسرا بائیں، تو آپ ﷺ نے ان دونوں کے ہاتھ پکڑ کر انھیں اپنے پیچھے کھڑا کر دیا"۔ [73] [73] اسے مسلم نے حدیث نمبر: 3010 کے تحت جابر رضی اللہ عنہ کی طویل حدیث کے ضمن میں روایت کیا ہے۔
اور اگر ایک شخص ہو تو وہ امام کے دائیں جانب، امام کے برابر کھڑا ہو؛ جیساکہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: "رسول اللہ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور میں آپ کے بائیں کھڑا ہو گیا، تو آپ ﷺ نے میرا کان پکڑ کر مجھے اپنے دائیں کر دیا"۔ [74] [74] صحیح بخاری: 6316، صحیح مسلم: 763۔
عورتیں مردوں کی صفوں کے پیچھے رہیں؛ انس رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے: «میں اور ایک یتیم نبی کریم ﷺ کے پیچھے صف میں کھڑے ہوئے اور بوڑھی عورت ہمارے پیچھے کھڑی ہو گئی۔» [75] [75] صحیح بخاری: 380، صحیح مسلم: 658۔
امام کو صف کے درمیان میں کھڑا ہونا چاہیے۔ علامہ ابن باز رحمہ اللہ کہتے ہیں: ’’سنت یہ ہے کہ امام مسجد کے درمیان میں کھڑا ہو۔ یہ وہ عملی سنت ہے جس پر مسلمان عمل پیرا رہے ہیں۔‘‘ [76]۔ [76] اسے شیخ سعید القحطانی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب "الإمامة في الصلاة" (صفحہ: 55) میں نقل کیا ہے۔
آپ رحمہ اللہ نے یہ بھی فرمایا: ’’صف امام کے پیچھے درمیان سے شروع ہوتی ہے اور ہر صف کی دائیں جانب بائیں جانب سے افضل ہے۔ واجب یہ ہے کہ دوسری صف اس وقت تک شروع نہ کی جائے، جب تک پہلی صف مکمل نہ ہو جائے۔‘‘
ساتواں مطلب: امام سے آگے بڑھنا
مقتدی پر لازم ہے کہ وہ نماز کے افعال امام کے بعد شروع کرے، اس کی پیروی اور اس کے افعال کی اتباع کرے۔ تابع اور مقتدی کا شیوہ یہ ہے کہ وہ نہ اپنے متبوع سے آگے بڑھے اور نہ اس کے برابر ہو، بلکہ اس کے احوال پر دھیان رکھے اور اس کے پیچھے اسی کے فعل کے مطابق عمل کرے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مقتدی کسی بھی حالت میں امام کی مخالفت نہ کرے؛ کیونکہ یہ بات ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ چنانچہ اس کی مخالفت نہ کرو۔ جب وہ رکوع کرے تو رکوع کرو، جب وہ "سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ" کہے تو "رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ" کہو، جب وہ سجدہ کرے تو سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو سب بیٹھ کر نماز پڑھو۔ نماز میں صف کو درست رکھو، کیونکہ صف کی درستگی نماز کی خوب صورتی میں سے ہے۔‘‘ [77]- [77] صحیح بخاری: (722)، صحیح مسلم: (417)۔
تمام ارکان میں امام پرسبقت کرنا حرام ہے؛ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ’’اے لوگو! بے شک میں تمھارا امام ہوں۔ لہٰذا تم رکوع، سجدہ، قیام اور سلام پھیرنے میں مجھ پر سبقت نہ کرو؛ کیونکہ میں تمھیں اپنے سامنے اور پیچھے دیکھتا ہوں۔‘‘ [78]۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "کیا تم میں سے وہ شخص جو امام سے پہلے اپنا سر اٹھاتا ہے، اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ اس کے سر کو گدھے کا سر بنا دے یا اس کی صورت گدھے کی صورت جیسی بنا دے؟" [79]- [78] صحیح مسلم: 426۔ [79] صحیح بخاری: (691)، صحیح مسلم: (427)۔
جس نے امام سے پہلے تکبیرِ تحریمہ کہہ دی، اس کی نماز منعقد نہیں ہوئی؛ کیونکہ شرط یہ ہے کہ وہ امام کے بعد تکبیر تحریمہ کہے اور یہ اس سے فوت ہو گیا اور اگر یہ چھوٹ جائے تو نماز مکمل نہیں ہوتی۔
آٹھواں مطلب: امامت اور جماعت کے مختلف احکام
امامت اور جماعت سے متعلق دیگر احکام جو پہلے بیان نہیں کیے گئے:
1- عقل ودانش رکھنے والے بالغ افراد کا امام کے قریب ہونا مستحب ہے: اس لیے عقل وفضل والے بالغ افراد کو امام کے پیچھے قریب کھڑا کیا جائے؛ جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "میرے قریب تم میں سے وہ لوگ (کھڑے) ہوں جو سمجھ دار اور عقل مند ہوں۔ پھر وہ جو (عقل و فہم میں) ان سے قریب ہوں، پھر وہ جو ان سے قریب ہوں۔‘‘ [80]- [80] صحیح مسلم: 432۔ راوی: عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔
2- پہلی صف کی حرص: مقتدیوں کے لیے مستحب ہے کہ وہ پہلی صف کی طرف بڑھیں اور اس کی حرص رکھیں اور اس سے پیچھے رہنے سے بچیں؛ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کے اندر (صفوں میں) پیچھے رہنے کا عمل دیکھا تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا:
’’آگے بڑھو اور میری اقتدا کرو۔ جو تمھارے بعد رہیں وہ تمھاری اقتدا کریں۔ کچھ لوگ برابر پیچھے ہٹتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ اللہ ان کو پیچھے ہی کر دیتا ہے۔‘‘ [81] ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر لوگوں کو اذان دینے اور پہلی صف میں نماز پڑھنے کے اجر وثواب کا علم ہو جائے اور پھر اس کے حصول کے لیے انھیں قرعہ اندازی بھی کرنی پڑے، تو وہ اس کا بھی سہارا لیں گے۔“ [82]، حدیث کے الفاظ: «لَاسْتَهَمُوا عَلَيْهِ» ان کے درمیان قرعہ ڈالنا تاکہ یہ طے ہو سکے کہ ان میں سے کون پہلی صف میں کھڑا ہوگا۔ [81] صحیح مسلم: 438۔ [82] صحیح بخاری: (615)، صحیح مسلم: (437)۔
جہاں تک عورتوں کا تعلق ہے تو ان کے لیے مستحب ہے کہ وہ پچھلی صفوں میں کھڑی ہوں، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’مردوں کی بہترین صف ان کی پہلی صف ہے اور بدترین صف ان کی آخری صف ہے۔ جب کہ خواتین کی بہترین صف ان کی آخری صف ہے اور بدترین صف ان کی پہلی صف ہے۔‘‘ [83] یہ اس صورت پر محمول ہے جب عورتیں مردوں کے پیچھے بغیر کسی حائل کے نماز پڑھ رہی ہوں۔ اگر وہ ایسی جگہ نماز پڑھ رہی ہوں، جو مردوں سے اوجھل ہو، تو وہ پہلے اگلی صفیں مکمل کریں گی۔ [84] [83] صحیح مسلم: 440۔ [84] دیکھیں: مجموع فتاوى ابن باز: (12/ 196)۔
3- امام کو سورۂ فاتحہ جلدی جلدی نہيں، بلکہ ٹھہر ٹھہر کر پڑھنی چاہیے، تاکہ مقتدی بھی پڑھ سکے۔ [85] [85] دیکھیں: المنظار في بيان كثير من الأخطاء الشائعة از صالح آل الشيخ ص (53)۔
4- اگر کوئی مرد اکیلا صف کے پیچھے کھڑا ہو کر نماز پڑھے، تو اس کی نماز درست نہیں ہوگی؛ جیسا کہ وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھ لی، تو نبی ﷺ نے اسے دوبارہ نماز پڑھنے کا حکم دیا۔ [86]۔ [86] سنن ترمذی: (230)۔ امام ترمذی نے کہا: وابصہ کی حدیث حسن ہے۔
نواں مطلب: ایسی سنتیں جن پر امام کو عمل کرنا چاہیے
امام کو چاہیے کہ وہ امامت میں نبی ﷺ کی سنت کی پیروی کرے، ان سنتوں میں سے کچھ یہ ہیں:
1- امام اپنی نماز کو مختصر کرے اور لوگوں کے احوال کا لحاظ رکھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امام نماز میں اتنی تیزی نہ کرے کہ مقتدی نماز کے ارکان اور واجبات بھی نہ ادا کر سکیں، بلکہ قراءت میں بھی اس قدر ٹھہراؤ رکھے کہ پیچھے کھڑے نمازی اپنی نماز مکمل طور پر ادا کر سکیں۔ ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول ﷺ! میں تو فجر کی نماز میں فلاں شخص کی وجہ سے دیر سے آتا ہوں، کیونکہ وہ ہمیں بہت لمبی نماز پڑھاتا ہے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو کسی نصیحت میں اس دن سے زیادہ غضب ناک نہیں دیکھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تم میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو (لوگوں کو دین سے) بد دل کر رہے ہیں۔ تم میں سے جو شخص بھی لوگوں کی نماز پڑھائے وہ اسے مختصر رکھے۔ کیونکہ مقتدیوں میں کمزور، بوڑھے اور ضرورت مند لوگ بھی ہوتے ہیں۔‘‘ [87]- [87] صحیح بخاری: (90)۔
2- امام نماز شروع کرنے سے پہلے صفیں سیدھی کرنے اور خالی جگہوں کو پُر کرنے کا حکم دے؛ کیونکہ نبی کریم ﷺ خود ایسا کرتے اور نمازیوں کو اس کا حکم دیتے تھے۔ چنانچہ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہﷺ ہماری صفوں کو (اس قدر) سیدھا اور برابر کراتے تھے، گویا آپﷺ ان کے ذریعے سے تیروں کو سیدھا کر رہے ہوں۔ حتیٰ کہ جب آپﷺ کو یقین ہو گیا کہ ہم نے آپﷺ سے (اس بات کو) اچھی طرح سمجھ لیا ہے، تو پھر ایک دن آپﷺ تشریف لائے، (نماز کے لیے) کھڑے ہو گئے اور تکبیر کہنے ہی والے تھے کہ ایک آدمی کو دیکھا کہ اس کا سینہ صف سے کچھ آگے نکلا ہوا ہے۔ لہذا فرمایا: ’’اللہ کے بندو! تم لازمی طور پر اپنی صفوں کو سیدھا کرلو، ورنہ اللہ تمہارے چہرے ایک دوسرے کے خلاف موڑ دے گا۔‘‘ [88]- [88] صحیح بخاری: 717، صحیح مسلم: 436۔ مذکورہ الفاظ مسلم کے روایت کردہ ہیں۔
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’القِداح (قاف کے کسرہ کے ساتھ) ان لکڑیوں کو کہا جاتا ہے جنہیں تراش کر ان سے تیر بنائے جاتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ صفوں کو اس قدر سیدھا اور برابر کیا جائے کہ گویا ان کے ذریعے تیر کو سیدھا کیا جا ئے گا۔‘‘ [89] [89] شرح صحیح مسلم للنووی: (4/ 157)۔
3- امام کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو حکم دے کہ پہلی صف کو پورا کریں، پھر اس کے بعد والی صف کو، اور اگر کوئی کمی ہو تو وہ آخری صفوں میں ہو؛ کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’کیا تم اس طرح صف بندی نہیں کرسکتے، جیسے فرشتے اپنے رب کے حضور صف بندی کرتے ہیں؟‘‘ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! فرشتے اپنے رب کے پاس کیسے صف بندی کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ’’وہ پہلی صفوں کو پہلے پورا کرتے ہیں اور صف میں مل کر کھڑے ہوتے ہیں۔‘‘ [90]- [90] صحیح مسلم: 430۔ راوی: جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ۔
4- امام کو چاہیے کہ نماز میں قراءت کے معاملے میں نبی کریم ﷺ کی اقتدا کرے، کیونکہ آپ ﷺ کی عادت یہ تھی کہ فجر میں عموماً طوالِ مفصل سے پڑھتے، مغرب میں قصارِ مفصل سے، عشاء، ظہر اور عصر میں اوسطِ مفصل سے قراءت فرماتے۔ چنانچہ سلیمان بن یسار، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا: ’’میں نے رسول کریم ﷺ سے زیادہ مشابہت والی نماز فلاں شخص کے علاوہ کسی کے پیچھے نہیں پڑھی۔ سلیمان نے کہا: وہ ظہر کی پہلی دونوں رکعتیں لمبی کرتے اور آخری دونوں رکعتیں ہلکی کرتے، عصر بھی ہلکی کرتے، مغرب میں قصار مفصل پڑھتے، عشا میں اوساط مفصل پڑھتے اور فجر میں طوال مفصل پڑھتے۔‘‘ [91]- [91] سنن نسائی: 982، بلوغ المرام حدیث نمبر: 286 میں حافظ ابن حجر نے فرمایا : اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
طوالِ مفصل ’’سورۂ حجرات“ سے "سورۂ بروج“ تک ہیں، اوساطِ مفصل ’’سورۂ بروج“ سے ’’سورۂ بینہ“ تک ہیں اور قِصار مفصل ’’سورۂ بینہ“ سے آخر قرآن تک ہیں۔ [92] [92] دیکھیں: مرقاة المفاتيح: (2/ 700)۔
دسواں مطلب: امام کی خصوصیات
مسجد کا امام مسجد کا ستون اور اس کی قوت ہوتا ہے۔ اس کے ذریعے مسجد اپنی دعوت عام کرنے اور معاشرے کو بیدار کرنے کی ذمہ داری ادا کرتی اور لوگوں کو ان کے دینی امور سے آگاہ کرتی ہے۔ اگر امام عالم، عقل مند، بصیرت مند، لوگوں کی عادات اور احوال سے واقف ہوگا، تو مسجد کی جماعت اور محلے کے رہائشیوں پر اس کا اچھا اور مفید اثر ہوتا ہے۔ وہ انہیں تعلیم دیتا، ان کی رہنمائی کرتا اور انہیں ہر خیر وفضیلت کی راہ دکھاتا ہے۔
وہ ائمہ جن کے اندر امامت کے شرائط پائے جاتے تھے‘ وہ اسی روش پر قائم تھے‘ صدر اسلام میں نبی ﷺ امام تھے، پھر خلفائے راشدین، پھر امراء، قائدین، علماء اور مشہور شخصیات نے یہ فریضہ انجام دیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس منصب کو سنبھالنے والے شخص کو دین، اخلاق، علم اور سلوک کے اعلیٰ مقام پر فائز ہونا چاہیے۔
اس سے لوگوں کی زندگی میں اس ذمہ داری کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے، کیوں کہ ائمہ کی طاقت ان کے معاشروں پر اثر انداز ہوتی ہے اور ان کی کمزوری بھی ان کے معاشروں میں دکھائی دیتی ہے۔ مسجد ہی وہ جگہ ہے جو معاشرے کو قول وعمل میں آہنگی سکھاتی ہے۔ اگر امام علم یا عقل میں کمزور ہو یا بد اخلاق وبد کردار ہو تو وہ فائدہ پہنچانے کے بجائے نقصان دہ ثابت ہوگا۔ کیوں کہ امام کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ نمازیوں کو بھلائی، نیکی اور اصلاح کی رہنمائی کرے، اس لیے ایک جاہل امام کے لیے یہ عظیم ذمہ داری ادا کرنا نہایت دشوار اور مشکل ہے۔
بعض اوقات امام اس ذمہ داری کی تمام شرائط پر پورا اترتا ہے‘ مثلا وہ علم ومعرفت اور ذاتی صلاحیت سے لیس ہوتا ہے، لیکن اپنی ذمہ داری کے ساتھ دیگر مشاغل میں اس قدر مصروف ہو جاتا ہے کہ اس کی کارکردگی متاثر ہو جاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ نماز کے اوقات میں تاخیر سے آتا ہے، اور اسے اتنا وقت نہیں ملتا کہ وہ ان سورتوں یا آیات کا اعادہ کرے جو وہ نماز میں پڑھنے والا ہے؛ اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ وہ مخصوص سورتوں یا آیات ہی پر اکتفا کرتا ہے اور ان سے آگے نہیں بڑھ پاتا۔
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ امام پر خواہشِ نفس، جہالت، جھگڑالو مزاج یا مذموم انتہا پسندی غالب آجاتی ہے، جس کے نتیجے میں وہ موضوعیت، تربیتی رہنمائی اور حکمت ونصیحت کے ساتھ دعوت دینے کے راستے سے بھٹک جاتا ہے۔
بے شک مسجد کا اس دین میں بہت بڑا کردار ہے؛ کیوں کہ یہ ہدایت کا مینار ہے جہاں بندہ اپنے رب سے جڑتا ہے، اپنا ایمان مضبوط کرتا ہے، اپنے بھائیوں سے ملتا اور ان کے ساتھ نیکی کو پھیلانے اور برائی کو مٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن مسجد اس مقصد کو اسی وقت پورا کرسکتی ہے جب اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایسا امام میسر فرمائے جو اس عظیم منصب کے لیے ضروری علمی اور اخلاقی اوصاف سے آراستہ ہو، اور اس عظیم منصب کی ذمہ داری کو صحیح طور پر ادا کرسکے۔
وہ اہم علمی اوصاف جو امام میں موجود ہونے چاہیے:
۱-عمل کو اللہ کے لیے خالص کرے تاکہ وہ اللہ کی مدد ونصرت سے سرفراز ہو اور اللہ تعالیٰ اور بندوں کے نزدیک محبوب بن سکے۔
2- ریاکاری اور دکھاوے سے بچے؛ کیوں کہ تمام امور کا دارومدار مقاصد پر اور تمام اعمال کا دار ومدار نیتوں پر ہوتا ہے، ہر شخص کو وہی ملتا ہے جس کی اس نے نیت کی ہو، اور جو شخص ایسی چیز سے زینت اختیار کرے جو اس میں نہیں ہو، تو اللہ اسے رسوا کر دیتا ہے۔
3- امام مکمل قرآنِ مجید کا یا کم از کم اس کے کچھ حصے کا حافظ ہو۔ جو حفظ کیا ہو‘ اس کا پابندی سے اعادہ کرتا رہے اور قرآن کی تلاوت اس کے روزانہ کا معمول ہو۔
4- کچھ احادیثِ نبویہ کا بھی حافظ ہو، جیسے ’’ریاض الصالحین‘‘ یا ’’اربعین نووی‘‘ یا ’’بلوغ المرام‘‘ یا حدیث کی دیگر معتبر کتابوں کی بعض احادیث کا حافظ ہو۔
5- صحیح عقیدہ یعنی سلف صالحین کے عقیدہ سے واقف ہو۔
6- امام کے لیے ضروری ہے کہ وہ دینی احکام کا علم حاصل کرے، بالخصوص عبادات کا علم، سب سے اہم طہارت، نماز، زکوۃ، اور روزہ سے متعلق مسائل ہیں، اسی طرح معاملات کی فہم بھی حاصل کرے؛ تاکہ کمائی اور خرچ کے اصول وضوابط سے واقف رہے، لوگوں کو دھوکہ دہی، فریب اور باطل طریقے سے لوگوں کا مال ہڑپنے سے ڈرائے، اور انھیں اسراف، فضول خرچی، بخل اور کنجوسی سے بھی خبردار کرے، تاکہ ان کے مالی معاملات کتاب وسنت پر مبنی رہیں۔
7- امام عربی زبان میں مہارت حاصل کرے تاکہ وہ ان معانی کو جان سکے جو اللہ نے اپنے رسول ﷺ پر نازل فرمایا، کیونکہ قرآن عربی زبان میں نازل ہوا۔
8 - امام سیرتِ نبویہ، شمائل محمدیہ، اور سلف صالحین کی سیرت کا مطالعہ کرے؛ کیوں کہ ان میں ایک صالح نمونہ، بہترین اسوہ ونمونہ، مفید علمی خزانہ اور اعلیٰ اسلامی ثقافت موجود ہے۔
9- اپنے ملک کے علماء اور دیگر ایسے علماء سے واقف ہو جو علمی رسوخ‘ عقیدہ وعلم اور عقل وخرد کی سلامتی میں شہرت رکھتے ہوں، اور دینی مسائل اور معاشرتی مشکلات کے حل کے لیے ان کی طرف رجوع کرے۔
10- خطیب کو چاہیے کہ وہ اسلامی فرقوں اور ان کے عقائد، فکری رجحانات اور ان کے مقاصد، اور گمراہ کن مذاہب اور ان کے اہداف سے با خبر رہے، تاکہ کتاب اللہ، سنتِ رسول اللہ ﷺ اور محقق علماء اسلام کی تحریرات کی روشنی میں ان کا جائزہ لے سکے، ان کی گمراہی کو بے نقاب کرسکے اور ان کے بطلان وفساد سے لوگوں کو خبردار کرسکے۔
11- امام وخطیب مختلف ذرائع ابلاغ سے واقفیت رکھے، ان کے مثبت اور منفی پہلوؤں کو جانے، یہ بھی جانے کہ ان سے دعوت الی اللہ میں کس طرح فائدہ اٹھانا ممکن ہے، نیز ان کے خطرات سے اپنی ذات اور اپنے معاشرے کو خبر دار کرے۔
جب یہ تمام اوصاف مسجد کے امام میں پائے جائیں تو اس کے نتیجے میں باذنہ تعالى استقامت اور توازن پیدا ہو گا۔
اہم اخلاقی خصوصیات:
1- مسجد کے امام کو چاہیے ہے کہ وہ مسجد کی جماعت اور محلے کے دیگر افراد کے لیے داعی اور معلم بن کر رہے، اس کے لیے لازم ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو اسوہ ونمونہ بنائے؛ کیوں کہ آپ ﷺ ہی بہترین نمونہ، اسوہ حسنہ اور امت وقائدین کے لیے اعلیٰ مثال ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ میں عمده نمونہ (موجود) ہے ، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے۔" [ الاحزاب: 21]۔
اپنے آپ کو اور مسجد کے آنے والوں کو دنیاوی اور سیاسی باتوں سے دور رکھے، اور مسجد کو صرف علم اور عبادت کے لیے خاص رکھے۔
2- امام خود کو صاف ستھرا اور منظم رکھے، اسی طرح مسجد کی صفائی ستھرائی، اس کے سامان کی ترتیب وتنظیم اور ان کی دیکھ بھال کرے، اور اس سلسلے میں فضول خرچی سے بچے، اور مسجد کی غیر ضروری آرائش سے اجتناب کرے۔
3- امام کا طرزِ عمل اور طور طریقہ اچھا ہو، نبی اکرم ﷺ کی سنت کی پیروی کرتے ہوئے داڑھی بڑھائے اور مونچھیں تراشے، کپڑوں کو ٹخنوں سے نیچے نہ لٹکائے، وقار وسکونت کو لازم پکڑے، اور سلف صالحین رحمہم اللہ کے نقش قدم کی پیروی کرے۔
4- امام نرم دل، بردبار اور رحم دل ہو؛ کیوں کہ نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے، اسے مزیّن کردیتی ہے اور جس چیز سے بھی نکال لی جاتی ہے، اسے بدنما اور عیب دار کردیتی ہے، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے؛ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے، اسے مزیّن کردیتی ہے اور جس چیز سے بھی نکال لی جاتی ہے، اسے بدنما اور عیب دار کردیتی ہے۔‘‘ [93]- [93] صحیح مسلم: 2594۔
اگر مسجد کے کسی نمازی سے کوئی غلطی سرزد ہو جائے تو امام کو چاہیے کہ اسے سختی سے نہ ڈانٹے، بلکہ نرمی سے نصیحت کرے اور اچھے طریقے سے تعلیم دے؛ معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ وہ کہتے ہیں: ’’ایک دن میں اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ اسی دوران ایک آدمی کو چھینک آئی اور میں نے ’’يَرْحَمُكَ اللَّه‘‘ کہہ دیا۔ اس پر لوگوں نے مجھے گھورنا شروع کردیا۔ لہذا میں نے کہا: میری ماں مجھے گم پائے، تم مجھے کیوں گھور رہے ہو؟ یہ سن کر لوگ اپنے ہاتھ رانوں پر مارنے لگے۔ پھر جب میں نے دیکھا کہ لوگ مجھے خاموش کرانا چاہتے ہیں، تو میں خاموش ہوگیا۔ جب اللہ کے رسول ﷺ نماز سے فارغ ہوئے، میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان جائیں، میں نے نہ آپ ﷺ سے پہلے اور نہ ہی آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ سے بہتر کوئی معلّم دیکھا۔ اللہ کی قسم، نہ آپ ﷺ نے مجھے جھڑکا، نہ ہی مجھے مارا اور نہ ہی گالی دی، بلکہ بس اتنا فرمایا: ’’نماز میں لوگوں کی بات چیت درست نہیں ہے۔ نماز تو تسبیح و تکبیر اور قرآن پڑھنے کا نام ہے۔‘‘ [94]- [94] صحیح مسلم : 537۔
5- امام نرم دل اور مشفق ہو، تاکہ لوگ اس کے گرد جمع ہوں اور اس کی شفقت، مدد اور علم سے فائدہ اٹھائیں، وہ ان کے مصائب اور ضروریات میں ان کے ساتھ کھڑا ہو، اور مسجد کے پیغام سے متعلق ان سے مشورہ کرے۔
رسول اللہ ﷺ ان سب میں اعلیٰ مقام پر فائز تھے، جیسا کہ اللہ تعالی نے ان کے بارے میں فرمایا: "اللہ تعالیٰ کی رحمت کے باعث آپ ان پر نرم دل ہیں۔ اگر آپ بد زبان اور سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے پاس سے چھٹ جاتے۔ سو آپ ان سے درگزر کریں اور ان کے لیے استغفار کریں اور کام کا مشوره ان سے کیا کریں۔ پھر جب آپ کا پختہ اراده ہو جائے تو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں۔ بے شک اللہ تعالیٰ توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔" [آل عمران: 159]۔
6- امام صبر اور یقین کے زیور سے آراستہ ہو؛ اور جو کچھ کہے اس میں صادق ہو، تاکہ اپنی مسجد اور جماعت میں امامت کا شرف حاصل کر سکے؛ کیوں کہ صبر اور یقین بندے کو دین میں امامت کے مقام تک پہنچاتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اور جب ان لوگوں نے صبر کیا، تو ہم نے ان میں سے ایسے پیشوا بنائے، جو ہمارے حکم سے لوگوں کو ہدایت کرتے تھے اور وه ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے۔" [ السجدۃ: 24]۔
7- امام کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی بات میں سچا ہو، چاہے وہ جمعہ کے خطبے میں ہو، یا کسی درس اور نصیحت میں، یا عام گفتگو میں، تاکہ وہ سچوں، ہدایت یافتہ اور کامیاب لوگوں میں شمار ہو سکے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک حدیث میں فرمایا: "تم صدق گوئی کو لازم پکڑو؛ بلاشبہ سچ نیکی کا راستہ بتلاتا ہے اور نیکی یقینًا جنت میں پہنچا دیتی ہے۔ انسان ہمیشہ سچ بولتا رہتا ہے اور سچ بولنے کا ہی ارادہ رکھتا ہے، تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ عز و جل کے یہاں صدیق (بہت سچا) لکھ دیا جاتا ہے۔ جھوٹ سے مکمل پرپیز کرو، کیوں کہ جھوٹ گناہ کا راستہ بتلاتا ہے، اور گناہ یقینًا جہنم میں پہنچا دیتا ہے، انسان ہمیشہ جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ بولنے کا ہی ارادہ رکھتا ہے، تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ عز وجل کے یہاں کذاب (بہت جھوٹا) لکھ دیا جاتا ہے۔" [95]- [95] صحیح بخاری: (6094)، صحیح مسلم: (2607)۔ راوی: عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔
جھوٹ شر اور بلا ہے، سب سے بڑا جھوٹ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنا اور بغیر علم کے اس کی طرف کوئی بات منسوب کرنا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "آپ فرمائیے کہ البتہ میرے رب نے صرف حرام کیا ہے ان تمام فحش باتوں کو جو علانیہ ہیں اور جو پوشیده ہیں اور ہر گناه کی بات کو اور ناحق کسی پر ﻇلم کرنے کو اور اس بات کو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک ٹھہراؤ جس کی اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی اور اس بات کو کہ تم لوگ اللہ کے ذمے ایسی بات لگادو جس کو تم جانتے نہیں"۔ [ الاعراف: 33]۔
یہ آیتِ کریمہ عظیم ترین گناہوں کو بیان کرتی ہے، اور انھیں ترتیب کے ساتھ ادنیٰ سے اعلیٰ تک ذکر کرتی ہے، جن میں سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ کے بارے میں بغیر علم کے بات کرے، خواہ وہ اس کے اسماء وصفات کے بارے میں ہو یا اس کے دین وشریعت کے بارے میں۔
رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ باندھنا سب سے بڑا جھوٹ اور بدترین گناہ ہے، یہ ان کبیرہ گناہوں میں سے ہے جن کے مرتکب کو جہنم کی وعید سنائی گئی ہے؛ چنانچہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ’’بے شک مجھ پر جھوٹ بولنا کسی اور پر جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے۔ جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولے، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔‘‘ [96]- [96] صحیح بخاری، حدیث نمبر: 1291۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر: 4۔
۔جھوٹ سے اجتناب کرے چاہے وہ نیک نیتی کے ساتھ بھلائی کی ترغیب دینے یا برائی سے ڈرانے کے لئے ہی کیوں نہ ہو، جیسا کہ بعض واعظین کرتے ہیں؛ یہ ایک قبیح عمل ہے جس میں نہ کوئی بھلائی ہے اور نہ ہی ہدایت، اور اس طرح کرنے والا اجر نہیں بلکہ گناہ کا مستحق ہوتا ہے۔
8- امام امانت داری کے ساتھ اقوال نقل کرے، خبروں کی صحت کی تحقیق کرے، افواہوں کو فورا قبول نہ کرے، اور صرف معتبر بات پر اعتماد کرے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے اس فرمان میں اس کا حکم دیا ہے: "اے مسلمانو! اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو۔ ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذا پہنچا دو، پھر اپنے کیے پر پشیمانی اٹھاؤ۔" [الحجرات: 6]۔
9- امام کو چاہیے کہ وہ لوگوں کی پردہ پوشی کرے اور ان کے راز چھپائے رکھے، جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ تعالی دنیا و آخرت میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا، اور جو شخص مسلمانوں کے عیوب کے پیچھے پڑتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے عیب کے پیچھے پڑے گا حتیٰ کہ اسے اس کے گھر میں ذلیل و رسوا کردے گا؛ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔‘‘ [97]۔ ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اے زبان سے ایمان کی بات کرنے والے اور دل میں ایمان کو جگہ نہ دینے والے لوگو! مسلمانوں کی غیبت نہ کرو اور ان کی چھپی ہوئی باتوں کے پیچھے نہ پڑو۔ کیوں کہ جو ان کی چھپی ہوئی باتوں کے پیچھے پڑے گا، اللہ اس کی چھپی ہوئی باتوں کے پیچھے پڑے گا اور جس کی چھپی ہوئی باتوں کے پیچھے اللہ پڑ جائے گا، اسے اس کے گھر میں رسوا کرکے چھوڑے گا۔" [98]۔ [97] صحیح بخاری: 2442، صحیح مسلم: 2580۔ [98] سنن ابو داؤد: 4880۔ ان خصوصیات کے لیے دیکھیے: امام المسجد مقوماته العلمية والخلقية از شيخ سعود بن محمد البشر۔
تیسرا مبحث: نمازِ جمعہ اور اس کا خطبہ
پہلا مطلب: نمازِ جمعہ
پہلا مسئلہ: نمازِ جمعہ کا مفہوم اور اس کا وقت:
اول : نمازِ جمعہ کا مفہوم:
جمعہ: ہفتے کا ایک دن، جس میں ایک خاص نماز ادا کی جاتی ہے، جسے نمازِ جمعہ کہا جاتا ہے۔ [99] [99] دیکھیں: معجم لغة الفقهاء، از محمد رواس قلعجي، صفحہ 166۔
اللہ تعالیٰ کا اس امت کو جمعہ کے دن کی رہنمائی کرنا بہت بڑا فضل واحسان ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ہم آخری زمانے کے لوگ ہيں، لیکن قیامت کے دن سب سے آگے ہوں گے۔ حالانکہ انھیں ہم سے پہلے کتاب دی گئی تھی اور ہمیں ان کے بعد۔ دراصل یہ ان کا دن ہے جو ان پر فرض کیا گیا تھا، لیکن انھوں نے اس میں اختلاف کیا، تو اللہ نے ہمیں اس کی راہ دکھا دی۔ لہذا وہ ہمارے پیچھے ہیں۔ یہودی کل اور نصاریٰ پرسوں۔‘‘ [100]- [100] صحیح بخاری: 876، صحیح مسلم: 855۔
جمعہ کا دن سب سے بہتر دن ہے جس میں سورج طلوع ہوتا ہے؛ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’سب سے بہتر دن، جس میں سورج طلوع ہوا، جمعہ کا دن ہے۔ اسی دن آدم کو پیدا کیا گیا، اسی دن وہ جنت میں داخل کیے گئے اور اسی دن وہاں سے نکالے گئے۔‘‘ [101]- [101] صحیح مسلم: 854۔
ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک (ہونے والے گناہوں کے لیے) کفارہ ہے؛ جیسا کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے: ”پانچوں نمازیں، ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک، اپنے مابین سرزد ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے“۔ [102]- [102] صحیح مسلم: 233۔
نمازِ جمعہ: اپنے آپ میں ایک مستقل نماز ہے، جو رکعات کی تعداد، جہری تلاوت، خطبہ اور اپنے معتبر شروط میں نمازِ ظہر سے مختلف ہے اور وقت میں اس سے موافقت رکھتی ہے۔
دوم : نمازِ جمعہ کا وقت:
جمعہ کا وقت وہی ہے جو ظہر کا وقت ہے۔ یعنی سورج ڈھلنے کے بعد سے لے کر اس وقت تک جب تک کہ کسی چیز کا سایہ زوال کے سایے کے بعد اس کے برابر نہ ہو جائے۔ جیسا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ جمعہ کی نماز سورج ڈھلنے کے وقت پڑھتے تھے[103]۔ یعنی جب سورج مغرب کی طرف جھک جاتا اور آسمان کے وسط سے ہٹ جاتا۔ یہی ظہر کی نماز کا وقت بھی ہے۔ [103] صحیح بخاری: (904)۔
دوسرا مسئلہ: نمازِ جمعہ کا حکم، اور یہ کن لوگوں پر واجب ہے؟
اول: نماز جمعہ کا حکم:
جمعہ مردوں پر فرضِ عین ہے؛ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "اے وه لوگو جو ایمان ﻻئے ہو! جمعہ کے دن نماز کی اذان دی جائے تو تم اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو اور خرید وفروخت چھوڑ دو۔ یہ تمہارے حق میں بہت ہی بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔" [الجمعۃ: 9]، عبد اللہ بن عمر اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے منبر کی سیڑھیوں پر فرماتے ہوئے سنا: ”خبر دار! لوگ جمعہ چھوڑنے سے باز آجائیں، ورنہ اللہ تعالی ان کے دلوں پر مہر لگادے گا اور پھر وہ غافلوں میں سے ہو جائیں گے۔“ [104]- [104] صحیح مسلم: 865۔
مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ جمعہ کی نماز واجب ہے، ابن المنذر رحمہ اللہ تعالی نے کہا: ’’ اس بات پر اجماع ہے کہ جمعہ آزاد، بالغ، مقیم اور ان لوگوں پر واجب ہے جن کے پاس کوئی عذر نہ ہو۔‘‘ [105] [105] الإجماع: (ص 40)۔
دوم : کن لوگوں پر واجب ہے؟
جمعہ کی نماز ہر آزاد، بالغ، عاقل اور قادر مسلمان مرد پر واجب ہے جو مقیم ہو۔ اور یہ غلام، عورت، بچہ، مجنوں، مریض یا مسافر پر واجب نہیں ہے۔ اس کی دلیل طارق بن شهاب رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جمعہ ہر مسلمان پر جماعت کے ساتھ ادا کرنا فرض ہے، سوائے چار افراد کے: غلام، عورت، بچہ اور بیمار۔‘‘ [106]- [106] سنن ابو داؤد: 1067۔
البتہ مسافر پر جمعہ فرض نہیں ہے؛ کیوں کہ نبی اکرم ﷺ سفر کے دوران جمعہ نہیں پڑھتے تھے، آپ کے حج کے موقع پر عرفہ کا دن جمعہ کے دن آیا، اس کے باوجود آپ نے ظہر کی نماز پڑھی اور عصر کو اس کے ساتھ جمع کیا۔
ابن المنذر رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس پر اجماع نقل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں: ’’اس بات پر اجماع ہے کہ بچے اور عورتوں پر جمعہ واجب نہیں ہے... اس بات پر بھی اجماع ہے کہ جمعہ آزاد، بالغ، مقیم اورایسے لوگوں پر واجب ہے، جن کے پاس کوئی عذر نہ ہو۔‘‘[107] [107] الإجماع: (ص 40)۔
اگر غلام، عورت، بچہ، بیمار یا مسافر جمعہ کی نماز میں شریک ہو جائیں تو ان کی نماز درست ہے اور وہ ان کے لیے ظہر کی نماز کے قائم مقام ہو گی۔
جمعہ کی نماز ان اہل بادیہ پر واجب نہیں جو چراگاہ اور پانی کی تلاش میں نقل مکانی کرتے رہتے ہیں، کیوں کہ نبی ﷺ کے زمانے میں اہل بادیہ مدینہ کے ارد گرد موجود تھے لیکن آپ ﷺ نے انھیں جمعہ کا حکم نہیں دیا۔ امام احمد نے فرمایا: ’’خانہ بدوشوں پر جمعہ فرض نہیں ہے، کیوں کہ وہ منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ جمعہ کی فرضیت ان کے منتقل ہونے کی وجہ سے ساقط ہو جاتی ہے۔ لیکن جو مستقل طور پر سکونت اختیار کرلے اور اپنی مرضی سے منتقل نہ ہو، وہ اہل قریہ میں شمار ہوگا۔‘‘ [108] [108] مجموع الفتاوى: (24/ 166)۔
جمعہ تین افراد سے قائم ہو جاتا ہے: ایک خطبہ دینے والا اور دو سننے والے؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "...اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو..." [الجمعہ: 9]۔ یہ جمع ہے، اور جمع کی کم سے کم تعداد تین ہوتی ہے۔
تیسرا مسئلہ: نمازِ جمعہ کا طریقہ:
نمازِ جمعہ دو رکعت ہے جن میں بلند آواز سے تلاوت کی جاتی ہے؛ کیوں کہ نبی ﷺ ایسا ہی کرتے تھے، اس پر اہلِ علم کا اجماع ہے، ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’اہلِ علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ جمعہ کی نماز، جب اس کی شرائط کے ساتھ ادا کی جائے، تو وہ دو رکعت ہے، جن میں بلند آواز سے تلاوت کی جاتی ہے۔‘‘ [109] [109] مراتب الإجماع: (ص 33)۔
پہلی رکعت میں سورۂ فاتحہ اور سورۂ اعلیٰ اور دوسری رکعت میں سورۂ فاتحہ اور سورۂ غاشیہ پڑھنا سنت ہے؛ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: ’’رسول اللہ ﷺ عیدین اور جمعہ کی نماز میں "سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى" اور "هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ" پڑھا کرتے تھے۔‘‘ [110] [110] صحیح مسلم: 878۔
یا پہلی رکعت میں سورۂ فاتحہ اور سورۂ جمعہ پڑھے اور دوسری رکعت میں سورۂ فاتحہ اور سورۂ منافقون پڑھے؛ چنانچہ ابن ابی رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مروان نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں اپنا نائب مقرر کیا اور خود مکہ چلے گئے، تو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں جمعہ پڑھایا اور آخری رکعت میں سورۂ جمعہ کے بعد سورۂ منافقون کی تلاوت کی۔ ابن ابی رافع کہتے ہیں: میں نماز کے بعد ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا اور عرض کیا: آپ نے وہی دو سورتیں پڑھیں جنھیں علی بن ابی طالب رضی اللہ کوفہ میں پڑھا کرتے تھے۔ تو ابو ہریرہ رضی اللہ نے فرمایا: ’’میں نے رسول اللہ ﷺ کو جمعہ کے دن یہ دونوں سورتیں پڑھتے سنا۔‘‘ [111]۔ [111] صحیح مسلم: 877۔
چوتھا مسئلہ: جمعہ کی (فضیلت) کیسے حاصل ہوتی ہے؟
’’جمعہ کی (فضیلت) اس وقت حاصل ہوتی ہے جب نمازی امام کے ساتھ ایک رکعت پا لے؛ چنانچہ عبد الله بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے جمعہ یا کسی اور نماز کی ایک رکعت پالی، یقینََا اس کی نماز مکمل ہوگئی۔‘‘ [112]- [112] سنن نسائی: (557)۔
اور اگر کسی نے ایک رکعت سے کم پائی تو وہ ظہر کی نماز پڑھے [113]۔ [113] دیکھیں: المغني لابن قدامة: (2/ 231)۔
چنانچہ جس کی نماز جمعہ کی ایک رکعت فوت ہو گئی اور اس نے امام کو دوسری رکعت کے دوران رکوع میں یا اس سے پہلے پا لیا، تو وہ صرف ایک رکعت قضا کرے گا، اس حدیث کی بنا پر: ’’جس نے رکعت پالی، یقینََا اس نے نماز پالی۔‘‘ [114]- [114] سنن ابو داؤد: 893۔
پانچواں مسئلہ: ایسے امور جو جمعہ کے دن حرام یا مکروہ ہیں
1- خطبہ کے دوران بات کرنا حرام ہے؛ کیوں کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب جمعہ کے دن امام خطبہ دے رہا ہو اور تم اپنے پاس بیٹھے ہوئے آدمی سے کہو کہ "خاموش ہو جاؤ" تو (ایسا کہہ کر) تم نے خود ایک لغو حرکت کی“۔ [115] یعنی تم نے لغو بات کہی۔ لغو سے مراد باطل اور مردود کلام ہے۔ یعنی تمھاری جمعہ کی فضیلت باطل ہو گئی۔ [115] صحیح بخاری: 934، صحیح مسلم: 851۔
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’اس حدیث میں خطبہ کے دوران ہر قسم کی گفتگو سے منع کیا گیا ہے اور اس کے ذریعے دیگر باتوں کی طرف اشارہ کر دیا گیا ہے۔ کیوں کہ جب خاموش ہو جاؤ کہنا، جو کہ اصلاً ایک نیکی کا حکم ہے، بھی لغو ہے، تو معمولی بات کرنا بدرجۂ اولیٰ منع ہوگا۔" [116] [116] شرح مسلم: (6/ 138)۔
بات کرنے کی ممانعت میں چھینکنے والے کا جواب دینا اور سلام کا جواب دینا بھی شامل ہے، یہ اس وقت جائز نہیں جب امام خطبہ دے رہا ہو۔ البتہ، خطیب کے خطبہ شروع کرنے سے پہلے اور دونوں خطبوں کے درمیان وقفے کے دوران بات کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
رہی بات خطیب سے مقتدی کا بات کرنے کی تو اس میں کوئی حرج نہیں، انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: "ایک شخص جمعہ کے دن مسجد میں اس دروازے سے داخل ہوا، جو دار القضا کی طرف تھا۔ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوکر خطبہ دے رہے تھے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف اپنا منہ کرکے کھڑا ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مال (جانور) تباہ ہو گئے اور راستے بند ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ ہم پر پانی برسائے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا فرمائی..." الحدیث [117]۔ [117] صحیح بخاری: 967، صحیح مسلم: 897۔
2- خطبہ کے دوران لغو کام کرنا حرام ہے، جیسے کنکریوں کو چھونا، تسبیح کے دانے استعمال کرنا، موبائل فون میں مشغول ہونا وغیرہ؛ کیوں کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے کنکر چھوا، اس نے لغو کام کیا۔‘‘ [118]، اس لیے کہ فضول کام فقہ وفہم اور خشوع وخضوع میں رکاوٹ بنتا ہے۔ [118] صحیح مسلم : 857
3- خطبہ کے دوران لوگوں کی گردنوں کو پھلانگ کر آگے جانا حرام ہے؛ کیوں کہ عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے آیا، جبکہ نبی ﷺ خطبہ دے رہے تھے، تو نبی ﷺ نے اس سے کہا: ’’بیٹھ جاؤ! تم نے لوگوں کو تکلیف پہنچائی ہے‘‘۔ [119]- [119] سنن ابو داؤد: 1118۔
کیوں کہ گردنوں کو پھلانگنے سے نمازیوں کو اذیت پہنچتی ہے اور یہ خطبہ سننے میں رکاوٹ بنتا ہے۔ البتہ امام کے لیے گردنوں کو پھلانگنا جائز ہے، اگر وہ بغیر اس کے اپنی جگہ تک نہ پہنچ سکے۔ اسی طرح جسے کسی ضروری کام کی وجہ سے گردن پھلانگنا پڑے، جیسے وضو کرنا یا سامنے کی خالی جگہ کو بھرنا وغیرہ، ، تو اس کے لیے بھی کوئی حرج نہیں ہے۔
4- کسی شخص کو اس کی جگہ سے اٹھانا اور اس کی جگہ بیٹھنا حرام ہے؛ کیوں کہ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے ثابت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے دن اپنے بھائی کواٹھاکر اس کی جگہ پر نہ بیٹھے۔ بلکہ (آنے والے کو) جگہ دے دیا کرو۔‘‘ [120]- [120] صحیح مسلم: 2178۔
5- دو لوگوں کے درمیان بیٹھ کر یا ان کو پھلانگ کر ان کو الگ کرنا مکروہ ہے؛ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے جمعہ کے دن غسل کیا... پھر جمعہ کے لیے گیا اور دو آدمیوں کے بیچ میں تفریق نہیں ڈالی اور جتنی اس کی قسمت میں تھی اتنی نماز پڑھی، پھر جب امام باہر آیا اور خطبہ شروع کیا تو خاموش ہو گیا، اس کے اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے تمام گناہ بخش دیے جائیں گے۔‘‘ [121]، اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جو دو افراد کے درمیان جدائی ڈالے، اسے یہ مغفرت حاصل نہیں ہوگی۔ [121] صحیح بخاری: 910۔
چھٹا مسئلہ: جمعہ کی سنتیں:
1- جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورۂ سجدہ اور سورۂ انسان کی تلاوت کرنا سنت ہے؛ کیوں کہ نبی ﷺ اس کی پابندی کرتے تھے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ جمعہ کے دن فجر کی نماز میں "الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ" اور "هَلْ أَتَى عَلَى الإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ" پڑھا کرتے تھے۔[122] [122] صحیح بخاری: 891، صحیح مسلم: 880۔
2- جمعہ کے دن غسل کرنا سنت مؤکدہ ہے؛ کیوں کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی جمعہ (کی نماز) کے لیے آئے تو اسے چاہیے کہ وہ غسل کرلے۔‘‘ [123] اس کا خاص اہتمام کرنا چاہیے اور اسے ترک نہیں کرنا چاہیے۔ خصوصاً اُن لوگوں کو جن کے جسم یا کپڑوں سے ناگوار بو آتی ہو۔ [123] صحیح بخاری: (877)، صحیح مسلم: (844)۔
جمعہ کے غسل کا وقت فجر کے طلوع ہونے سے شروع ہوتا ہے۔ غسلِ جنابت، غسلِ جمعہ کے لیے کافی ہے‘ کیوں کہ جمعہ کے غسل کا مقصد پاکیزگی حاصل کرنا اور جسم سے بدبو دور کرنا ہے، اور یہ مقصد غسلِ جنابت سے حاصل ہوجاتا ہے۔ لیکن مستحب ہے کہ غسلِ جنابت میں غسلِ جمعہ کی نیت بھی کر لی جائے تاکہ اسے اس کا اجر بھی حاصل ہو جائے۔
3- اس کے لیے خوشبو لگانا، صفائی حاصل کرنا اور بدن سے وہ چیزیں دور کرنا سنت ہے، جنھیں دور کرنا ضروری ہے۔ جیسے ناخن تراشنا، زیر ناف بال مونڈنا، بغل کے بال اکھیڑنا اور مونچھیں کتروانا۔ کیوں کہ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے جمعہ کے دن غسل کیا، خوب پاکی حاصل کی، تیل یا خوشبو کا استعمال کیا، پھر جمعہ کے لیے گیا، دو آدمیوں کے بیچ میں تفریق نہ ڈالی اور جتنی اس کی قسمت میں تھی اتنی نماز پڑھی، پھر جب امام باہر آیا اور خطبہ شروع کیا تو خاموش ہو گیا، اس کے اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے تمام گناہ بخش دیے جائیں گے۔‘‘ [124]۔ [124] صحیح بخاری: 910۔
اسی طرح جمعہ کے دن مسواک کرنا بھی مؤکد ہے؛ کیوں کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جمعہ کے دن ہر بالغ پر غسل کرناواجب ہے۔ نیز یہ کہ مسواک کرے اور اگر خوشبو میسر ہو تو لگائے"۔ [125]- [125] صحیح بخاری: 880۔
4- اپنی استطاعت کے مطابق بہترین لباس زیب تن کرنا سنت ہے۔ جیسا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے: ’’انہوں نے مسجد کے دروازے پر ایک ریشمی دھاری والا جوڑا دیکھا تو عرض کیا: یا رسول اللہ! بہتر ہوتا کہ آپ اسے خرید لیتے اور اسے جمعہ کے دن اور آپ کی خدمت میں حاضر ہونے والے وفود کے لیے پہنتے...‘‘ [126]- [126] صحیح بخاری: 886، صحیح مسلم: 2068۔
5- جمعہ کے دن مسجد جلدی جانا سنت ہے؛ کیوں کہ نبی ﷺ نے اس کی ترغیب دی ہے؛ چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص جمعہ کے دن غسلِ جنابت کی طرح غسل کرے - یعنی ایسا غسل جس کا طریقہ غسلِ جنابت کی مانند ہو - پھر پہلی گھڑی میں (مسجد) جائے تو گویا اس نے ایک اونٹ قربان کیا، جو دوسری گھڑی میں جائے تو گویا اس نے ایک گائے قربان کی، جو تیسری گھڑی میں جائے تو گویا اس نے سینگوں والا ایک مینڈھا قربان کیا، جو چوتھی گھڑی میں جائے تو گویا اس نے ایک مرغی صدقہ کی اور جو پانچویں گھڑی میں جائے تو گویا اس نے ایک انڈا صدقہ کیا۔ پھر جب امام نکل آتا ہے تو فرشتے حاضر ہوکر ذکر (خطبہ) سننے لگتے ہیں۔‘‘ [127]- [127] صحیح بخاری: 881، صحیح مسلم: 850۔
6- جمعہ کے دن جب کوئی شخص مسجد میں داخل ہو اور امام خطبہ دے رہا ہو تو اس کے لیے سنت یہ ہے کہ وہ بیٹھنے سے پہلے دو رکعت ہلکی نماز پڑھے؛ کیوں کہ نبی ﷺ نے خطبہ کے وقت داخل ہونے والے کو اس کا حکم دیا ہے۔ چنانچہ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے‘ انھوں نے کہا: سُلیک غطفانی رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن آئے اور بیٹھ گئے، جبکہ رسول اللہ ﷺ خطبہ دے رہے تھے، تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ’’اے سُليك، اٹھو اور دو رکعت نماز پڑھو اور ان میں تخفیف سے کام لو۔‘‘ پھر فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی جمعہ کے دن آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو اسے چاہیے کہ دو رکعت پڑھ لے اور ان میں تخفیف سے کام لے۔‘‘ [128]- [128] صحیح بخاری: (930)، صحیح مسلم: (875)۔
7- جمعہ کے دن سورۂ کہف کی تلاوت کرنا سنت ہے؛ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے جمعہ کے دن سورۂ کہف پڑھی، اس کے لیے دو جمعوں کے درمیان نور روشن ہو جاتا ہے۔‘‘ [129]- [129] مستدرك حاکم: (3392)۔ یہ حدیث ابو سعید پر موقوف ہونے کی وجہ سے معلول ہے۔
8- جمعہ کے دن اور اس کی رات میں نبی ﷺ پر بکثرت درود بھیجنا مسنون ہے؛ چنانچہ اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’بے شک تمھارے بہترین دنوں میں سے ایک بہترین دن جمعہ کا دن ہے۔ چنانچہ اس دن مجھ پر زیادہ سے زیادہ درود بھیجو؛ کیوں کہ تمھارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔‘‘ [130]- [130] سنن ابو داؤد: 1531۔
9- اس دن کثرت سے دعا کرنا اور قبولیت کی گھڑی تلاش کرنا مسنون ہے؛ کیوں کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جمعے کے دن کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’اس میں ایک گھڑی ہے کہ جب کوئی مسلمان بندہ اس وقت نماز پڑھتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگتا ہے، تو اللہ اسے وہ چیز عطا کر دیتا ہے۔‘‘ [131]- [131] صحیح بخاری: 935، صحیح مسلم: 852۔
جمعہ کے تمام اوقات میں قبولیتِ کی امید کی جا سکتی ہے، لیکن سب سے زیادہ امید والا وقت وہ ہے جب امام جمعہ کے دن خطبہ کے لیے بیٹھتا ہے یہاں تک کہ نماز مکمل ہو جائے، اور جمعہ کے دن کی آخری گھڑی اس شخص کے حق میں (زیادہ امید والی ہے) جو مغرب کی نماز کا انتظار کر رہا ہو، چاہے وہ مسجد میں ہو یا اپنے گھر میں؛ کیوں کہ ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے جمعہ کی (خاص) گھڑی کے بارے میں فرمایا: ’’یہ (وقت) امام کے بیٹھنے سے لے کر نماز مکمل ہونے تک ہے۔‘‘ [132]- [132] صحیح مسلم: 853۔
ساتواں مسئلہ: جمعہ کی نفل نماز:
جمعہ کی نماز سے پہلے کوئی سنتِ مؤکدہ نہیں ہے، لیکن جو شخص جمعہ کے لیے آئے، اس کے لیے مستحب ہے کہ وہ جتنی چاہے نفل نمازیں پڑھے، دو، چار، چھ یا اس سے زیادہ، اور ہر دو رکعت پر سلام پھیرے؛ کیوں کہ نبی ﷺ نے اس کی ترغیب دی ہے، جیسا کہ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے جمعہ کے دن غسل کیا ... پھر جمعہ کے لیے گیا اور دو آدمیوں کے بیچ میں تفریق نہ ڈالی اور جتنی اس کی قسمت میں تھی اتنی نماز پڑھی، پھر جب امام باہر آیا اور خطبہ شروع کیا تو خاموش ہو گیا، اس کے اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے تمام گناہ بخش دیے جائیں گے۔‘‘ [133]۔ یہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل سے بھی ثابت ہے اور ہر قسم کی نفل نماز کے بارے میں جو عمومی فضیلت آئی ہے، اس سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے۔ [133] صحیح بخاری: (910)۔
جہاں تک سنتِ مؤکدہ کا تعلق ہے تو وہ جمعہ کے بعد ہے، لہٰذا آدمی اپنے گھر میں دو رکعت پڑھے، یا پھر مسجد میں چار رکعت ادا کرے۔ "نبی کریم ﷺ جمعہ کے بعد اپنے گھر میں دو رکعت پڑھا کرتے تھے"۔ [134] ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی جمعہ کی نماز پڑھے تو اس کے بعد چار رکعتیں (نفل) پڑھے۔‘‘ [135]- [134] صحیح بخاری: 937، صحیح مسلم: 729۔راوی: ابن عمر رضی اللہ عنہما۔ [135] صحیح مسلم: 881۔
جمعہ کی سنت اگر مسجد میں پڑھی جائے تو چار رکعتیں ہیں، اور اگر گھر میں پڑھی جائے تو دو رکعتیں ہیں۔
دوسرا مطلب: خطبۂ جمعہ کا بیان
پہلا مسئلہ: خطبۂ جمعہ کا بیان
خطبہ دراصل وہ خطاب ہے جو نمازِ جمعہ سے پہلے لوگوں کے مجمع کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، جس میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا، نبی ﷺ پر درود وسلام، وعظ ونصیحت اور تذکیر شامل ہوتی ہے۔ [136] [136] دیکھیں: معجم لغة الفقهاء: (ص 197) اور خطبة الجمعة وأحكامها الفقهية للحجيلان: (ص 22)۔
دوسرا مسئلہ : خطبہ کا حکم:
خطبہ نماز جمعہ کے لیے شرط ہے اور اس کے بغیر نمازِ جمعہ درست نہیں ہوتی؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "اے وه لوگو جو ایمان ﻻئے ہو! جمعہ کے دن جب نماز کی اذان دی جائے، تو تم اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو..." [الجمعہ : 9]۔ اس آیت میں ’’ذکر الله‘‘ سے مراد خطبہ لیا گیا ہے [137]۔ اگر خطبہ واجب نہ ہوتا تو اس کی طرف دوڑ کر جانا واجب نہ ہوتا۔ اسی طرح نبی ﷺ کا اس پر پابندی سے عمل کرنا اور کبھی بھی اسے ترک نہ کرنا بھی اس کے وجوب کی دلیل ہے۔ [137] دیکھیں: تفسیر طبری: (22/ 642)۔
امام ابن قدامہ حنبلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’خلاصہ یہ ہے کہ خطبہ جمعہ کے لیے شرط ہے۔ اس کے بغیر جمعہ صحیح نہیں ہوتا۔‘‘[138]۔ [138] المغنی: (2/ 224)۔
تیسرا مسئلہ: خطبہ کے شرائط:
1- جمعہ کے دو خطبے ہیں؛ جیسا کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا: ’’نبی ﷺ دو خطبے دیتے اور دونوں کے درمیان بیٹھا کرتے تھے‘‘ [139]۔ [139] صحیح بخاری: 928۔
2- خطبہ نمازِ جمعہ کا وقت داخل ہونے کے بعد ہونا چاہیے، اگر خطبہ یا اس کا کوئی حصہ نماز کے وقت سے پہلے ہو تو وہ کافی نہیں ہوگا۔
3- دونوں خطبے نماز سے پہلے دیے جائیں؛ جیسا کہ سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا: ’’رسول اللہ ﷺ، ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں جمعہ کے دن اذان کا آغاز اس وقت ہوتا تھا جب امام منبر پر بیٹھتا تھا۔‘‘ [140] یہ حدیث دونوں خطبوں کو نماز پر مقدم کرنے کی واضح دلیل ہے۔ [140] صحیح بخاری: (916)۔
اور نبی ﷺ کا فرمان ہے: "تم اسی طرح نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔" [141]، نبی ﷺ نے خطبوں کے بعد ہی نماز پڑھی۔ مرداوی کہتے ہیں: "ان دو خطبوں کا نماز سے پہلے ہونا شرط ہے۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں"۔ [142] [141] صحیح بخاری: 631۔ راوی: مالک بن حویرث رضي الله عنہ۔ [142] الإنصاف: (2/ 389)۔
4- خطبے کے اجزا کے درمیان تسلسل ہونا چاہیے، امام ابن قدامہ رحمہ اللہ نے فرمایا: "خطبہ صحیح ہونے کے لیے تسلسل شرط ہے۔ اگر خطبہ کے درمیان لمبی بات چیت، لمبی خاموشی یا کوئی اور چیز حائل ہو جائے، جو تسلسل کو توڑ دے، تو نئے سرے سے خطبہ شروع کرنا ضروری ہوگا۔ واضح ہو کہ وقفہ کے لمبے یا مختصر ہونے کا معیارعرف ہے۔ اسی طرح خطبہ اور نماز کے درمیان بھی تسلسل شرط ہے۔ اگر طہارت کی ضرورت پڑ جائے تو طہارت حاصل کرے اور اپنے خطبہ کو وہیں سے جاری رکھے، بشرطیکہ وقفہ لمبا نہ ہوا ہو۔"[143] [143] المغنی: (2/ 230)۔
5- خطبہ بلند آواز سے دینا ضروری ہے؛ کیوں کہ خطبہ واجب اور جمعہ کی صحت کے لیے شرط ہے، بلند آواز سے خطبہ دینا اس کے مقصد یعنی وعظ و نصیحت کو بروئے کار لانے کا ذریعہ ہے، اور جس چیز کے بغیر واجب مکمل نہ ہو وہ بھی واجب ہے۔
6- جمعہ کے قیام کے لیے مطلوبہ تعداد کی موجودگی ضروری ہے؛ کیوں کہ خطبہ ایک ذکر ہے جس کی طرف دوڑ کر جانا واجب ہے، لہذا اس ذکر کو سننے کے لیے مطلوبہ تعداد کا موجود ہونا ضروری ہے۔
چوتھا مسئلہ: خطبہ کے ارکان:
1- اس کا آغاز اللہ عز وجل کی حمد وثنا سے کیا جائے۔ جیساکہ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کی روایت ہے: ”نبی ﷺ جمعہ کے دن خطبہ میں اللہ کی حمد وثنا کرتے، پھر اس کے بعد فرماتے...“ الحدیث [144]. [144] صحیح مسلم : 867۔
2- خطبہ میں نبی ﷺ پر درود بھیجنا شامل ہو۔ کیوں کہ خطبوں میں نبی ﷺ پر درود بھیجنا صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے نزدیک معروف و مشہور عمل تھا۔ [145] [145] دیکھیں: جلاء الأفهام لابن القيم: (ص 371)۔
3- خطبہ میں نصیحت اور اللہ تعالیٰ کے تقوی کی وصیت شامل ہو؛ جیسا کہ جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’نبی ﷺ کے دو خطبے ہوتے تھے۔ آپ ان کے درمیان بیٹھتے، قرآن پڑھتے اور لوگوں کو نصیحت کرتے تھے‘‘ [146]۔ کیوں کہ یہی خطبے کا مقصد ہے۔ [146] صحیح مسلم: 862۔
4- قرآنِ کریم کے کچھ حصے کی تلاوت کرنا؛ جیساکہ جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے: ’’نبی ﷺ کے دو خطبے ہوتے تھے۔ ان کے درمیان بیٹھتے، قرآن پڑھتے اور لوگوں کو نصیحت کرتے تھے۔‘‘
پانچواں مسئلہ: خطبہ کی سنتیں:
1- خطبہ منبر پر یا کسی اونچی جگہ پر دیا جائے؛ ’’آپ ﷺ کے لیے منبر بنایا گیا، تو آپ نے جمعہ کے دن اس پر خطبہ دیا‘‘ [147]، یہ بات صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک بڑی جماعت سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ نبی ﷺ منبر پر خطبہ دیا کرتے تھے[148]۔ امام نووی رحمہ اللہ نے اس کے استحباب پر اجماع نقل کیا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’علما کا اس بات پر اجماع ہے کہ خطبہ منبر پر دینا مستحب ہے‘‘۔ [149] کیوں کہ یہ بات پہنچانے میں زیادہ مؤثر ہے، اور اس لیے بھی کہ جب لوگ خطیب کو دیکھتے ہیں تو ان پر وعظ ونصیحت کا اثر زیادہ ہوتا ہے۔ [147] صحیح بخاری: 2095۔ راوی: جابر رضی اللہ عنہ۔ [148] دیکھیں: کتاب إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل: (3/ 75) اور اس کے بعد۔ [149] المجموع شرح المهذب: (4/ 527)۔
2- خطیب کھڑا ہوکر خطبہ دے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "اور جب کوئی سودا بکتا دیکھیں یا کوئی تماشا نظر آجائے تو اس کی طرف دوڑ جاتے ہیں اور آپ کو کھڑا ہی چھوڑ دیتے ہیں..." [الجمعۃ: ۱۱]، اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے‘ وہ کہتے ہيں: ’’نبی کریم ﷺ کھڑے ہوکر خطبہ ارشاد فرماتے، پھر بیٹھتے، پھر کھڑے ہوتے جیسے تم ابھی کرتے ہو‘‘ [150]۔ [150] صحیح بخاری: (920)، صحیح مسلم: (861)۔
3- خطیب کے لیے سنت ہے کہ وہ اپنا رُخ مقتدیوں کی طرف کرے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: ’’نبی ﷺ جب جمعہ کے دن اپنے منبر کے قریب پہنچتے تو وہاں بیٹھے ہوئے لوگوں کو سلام کرتے، پھر جب منبر پر چڑھتے تو لوگوں کی طرف رخ کر کے سلام کرتے۔‘‘ [151]۔ [151] السنن الکبرى للبیہقی: 5742۔
حافظ ابن رجب رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’امام کا مسجد میں موجود لوگوں کی طرف رخ کرنا اور قبلے کی طرف پشت کرنا متفق علیہ مسئلہ ہے اور نصوص بھی اس پر دلالت کرتے ہیں۔ امام لوگوں سے خطاب کرتا ہے تاکہ لوگ اس کی بات سمجھیں۔ یہ سب سنت ہے۔ اگر امام اس کے خلاف کرے تو اس نے سنت کی مخالفت کی، لیکن اس کا جمعہ صحیح ہے۔‘‘ [152]۔ [152] فتح الباری از ابن رجب: (8/ 250)۔
4- جب خطیب مقتدیوں کی طرف متوجہ ہو تو ان کو سلام کرنا سنت ہے؛ جیساکہ جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ ’’نبی ﷺ جب منبر پر چڑھتے تو سلام کرتے تھے۔‘‘ [153]۔ [153] سنن ابن ماجہ: 1109۔
5- خطیب کا مؤذن کے اذان مکمل کرنے تک منبر پر بیٹھے رہنا سنت ہے، جیساکہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ہے: ’’نبی کریم ﷺ دو خطبے دیا کرتے تھے۔ جب آپ ﷺ منبر پر چڑھتے تو مؤذن کے فارغ ہونے تک بیٹھے رہتے، پھر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے، پھر بیٹھ جاتے اور خاموش رہتے، پھر دوبارہ کھڑے ہوکر دوسرا خطبہ دیتے۔‘‘ [154]۔ اس کی تائید سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ہوتی ہے کہ انھوں نے فرمایا: ’’جمعہ کے دن اذان کا آغاز رسول اللہ ﷺ، ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں اس وقت ہوتا تھا جب امام منبر پر بیٹھتا تھا۔‘‘ [155] [154] سنن ابو داؤد: 1092۔ [155] صحیح بخاری: 916۔
6- خطبہ کے دوران اپنی آواز کو حسب استطاعت بلند کرنا؛ جیسا کہ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب خطبہ ارشاد فرماتے تھے تو آپ کی آنکھیں سرخ ہو جاتیں، آپ کی آواز بلند ہو جاتی اور آپ کا غصہ سخت ہو جاتا، حتی کہ ایسے ہو جاتے گویا آپ (دشمن کے) کسی لشکر سے خبردار کر رہے ہوں اور کہہ رہے ہوں: ’’وہ (لشکر) صبح یا شام (تک) تمھیں آ لے گا۔‘‘ [156]،(صَبَّحَكُم) کے معنی یہ ہیں کہ لشکر تم پر صبح کے وقت حملہ کردے گا اور (مسَّاكم) کے معنی یہ ہیں کہ لشکر تم پر شام کے وقت حملہ کردے گا۔ جب کوئی کسی کو ڈرانا چاہے تو ان الفاظ کے ذریعہ ڈراتا ہے۔ [156] صحیح مسلم : 867۔
7- دونوں خطبوں کے درمیان تھوڑی دیر بیٹھنا؛ جیساکہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے: "نبی ﷺ دو خطبے دیتے اور دونوں کے درمیان بیٹھا کرتے تھے" [157]۔ [157] صحیح بخاری: 928۔
۸- دونوں خطبے مختصر کرنا سنت ہے، البتہ دوسرا خطبہ پہلے سے زیادہ مختصر ہو، اور نماز لمبی ہو؛ کیوں کہ عمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’آدمی کا لمبی نماز پڑھنا اور اپنا خطبہ مختصر کرنا اس کی سمجھ داری کی علامت ہے۔ اس لیے تم نماز لمبی کیا کرو اور خطبہ مختصر دیا کرو۔‘‘ [158]- [158] صحیح مسلم: 869۔
9- مسلمانوں کے دین ودنیا کی بھلائی اور مسلمانوں کے حکمرانوں کی صالحیت اور ہدایت کے لیے دعا کرنا سنت ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’مسلم ائمہ اور حکمرانوں کے لیے صالحیت، حق پر مدد اور عدل کے قیام وغیرہ کی دعا کرنا اور اسی طرح اسلامی فوجوں کے لیے دعا کرنا بالاتفاق مستحب ہے۔‘‘ [159]۔ [159] المجموع شرح المہذب: (4/ 521)۔
امام کے لیے جمعہ کے خطبے میں دعا کے وقت ہاتھ اٹھانا مشروع نہیں ہے سوائے استسقاء کے، البتہ یہ مستحب ہے کہ وہ شہادت کی انگلی سے اشارہ کرے؛ جیسا کہ عمارہ بن رؤيبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے بشر بن مروان کو منبر پر ہاتھ اٹھائے ہوئے دیکھا تو کہا: ’’اللہ تعالیٰ ان دونوں ہاتھوں کو غارت فرمائے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تھا کہ آپ اپنے ہاتھ سے اس سے زیادہ کچھ نہیں کرتے تھے۔ پھر انھوں نے اپنی شہادت والی انگلی سے اشارہ کر کے دکھایا"۔ [160] [160] صحیح مسلم: 874۔
10- خطبہ دینے والا ہی نماز پڑھائے؛ کیوں کہ نبی ﷺ خود امامت فرماتے تھے اور آپ کے بعد خلفا بھی ایسا ہی کرتے رہے۔ اگر کسی عذر کی بنا پر ایک شخص خطبہ دے اور دوسرا نماز پڑھائے تو جائز ہے۔ [161] [161] المغني لابن قدامة: (228/2)۔
چھٹا مسئلہ: خطبہ جمعہ کا ترجمہ:
ایسے علاقوں میں جہاں لوگ یا ان کی اکثریت عربی زبان نہیں جانتی ہو، خطیب کے لیے جائز ہے کہ وہ ان کی زبان میں خطبہ دے تاکہ سامعین خطبے کو سمجھ سکیں، خطبہ کا مقصد حاصل ہو اور اس میں موجود علم ومعرفت، وعظ ونصیحت اور تذکیر ویاد دہانی سے لوگ فائدہ اٹھا سکیں۔ یہ اس لیے بھی جائز ہے کہ نبی ﷺ سے ایسا کوئی ثبوت نہیں ملتا جو یہ بتائے کہ جمعہ کے خطبے کا عربی زبان میں ہونا شرط ہے؛ آپ ﷺ تو عربی میں خطبہ اس لیے دیتے تھے کہ وہ آپ کی اور آپ کی قوم کی زبان تھی۔
بہتر یہ ہے کہ خطیب پہلے عربی زبان میں خطبہ دے، پھر اسے اپنی قوم کی زبان میں ترجمہ کرے؛ تاکہ نبی ﷺ کے خطبوں کی پیروی بھی ہو جائے اور اس مسئلے میں اختلاف سے بھی بچ جائے۔
ترجمہ میں سامعین کے لیے جو زیادہ مناسب ومفید ہو اس کا لحاظ رکھا جائے، یعنی خطبہ کے ہر حصے کے بعد ساتھ ساتھ ترجمہ کیا جائے، یا پھر عربی خطبہ مکمل ہونے کے بعد اور نماز شروع کرنے سے پہلے ترجمہ کیا جائے۔
اسی طرح خطبے کا فوری ترجمہ کرنا اور اس ترجمے کو نشریاتی مرکز کے ذریعے نشر کرنا بھی جائز ہے، جو نمازی عربی زبان نہیں جانتے وہ اس ترجمے کو سننے کے لیے ہیڈفون وغیرہ استعمال کر سکتے ہیں‘ یہ نہ سننے والے کی طرف سے اس لغو میں شمار ہوگا جس سے منع کیا گیا ہے اور نہ ترجمہ کرنے والے کی طرف سے؛ کیوں کہ اس میں عام لوگوں کا فائدہ ہے اور اس سے خطبہ کا مقصد حاصل ہوتا ہے۔
ساتواں مسئلہ: خطیب کی خصوصیات:
خطيب در اصل مسجد کی بنیاد اور اس کی قوت ہوتا ہے۔ اسی کے ذریعے مسجد اپنی دعوت کو عام کرنے، معاشرے کو آگاہ کرنے اور لوگوں کو ان کے دینى امور سے روشناس کرانے کا کام انجام دیتی ہے۔ اگر خطیب عالم، عقل مند، بصیرت مند، لوگوں کی عادات اور حالات سے واقف ہو تو مسجد کی جماعت اور محلے کے باشندوں پر اس کا اچھا اور مفید اثر پڑتا ہے۔ وہ انھیں تعلیم دیتا ہے، ان کی رہنمائی کرتا ہے اور انہیں ہر خیر وفضیلت کی راہ دکھاتا ہے۔
وہ تمام خطباء اسی روش پر قائم تھے جن کے اندر خطابت کے شروط پائے جاتے تھے۔ چنانچہ صدرِ اسلام میں نبی ﷺ خود خطیب تھے، پھر خلفائے راشدین، پھر امراء، قائدین، علماء اور مشہور شخصیات خطبہ دیتے تھے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس منصب کو سنبھالنے والا شخص دین، اخلاق، علم اور سلوک میں اعلیٰ مقام پر فائز ہو۔
یہاں لوگوں کی زندگی میں خطیب کی اس ذمہ داری کی اہمیت نمایاں ہوتی ہے؛ کیوں کہ خطیبوں کی قوت ان کے معاشرے پر اثر انداز ہوتی ہے، اسی طرح ان کی کمزوری بھی معاشرے میں اپنا اثر دکھاتی ہے؛ کیوں کہ مسجد ہی وہ جگہ ہے جو معاشرے کو قول وعمل کے ربط پیدا کرنے کی تعلیم دیتی ہے۔ اگر خطیب‘ علم، عقل اور شخصیت میں کمزور ہو یا بد اخلاق اور بد سلوک ہو تو وہ نقصان پہنچاتا ہے نہ کہ فائدہ۔ چوں کہ خطیب کا کام نمازیوں کو بھلائی، نیکی اور اصلاح کی طرف رہنمائی کرنا ہے‘ اس لیے جاہل خطیب کے لیے اس عظیم ذمہ داری کو ادا کرنا مشکل ہے۔
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ خطیب علم اور ذاتی صلاحیت کے اعتبار سے اس منصب کی تمام شرائط پر پورا اترتا ہے، لیکن وہ دوسری مصروفیات کی وجہ سے اپنی ذمہ داری سے غافل ہو جاتا ہے اور یہ مصروفیات اس کی کارکردگی کے معیار پر منفی اثر ڈال دیتی ہیں۔
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ خطیب کو حالات کے مطابق خطبہ تیار کرنے کے لیے کافی وقت نہیں ملتا، چنانچہ وہ لوگوں کے سامنے ایسا خطبہ پیش کرتا ہے - جیسا کہ ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں -جو نہ دل میں اللہ پر ایمان پیدا کرتا ہے، نہ اس کی توحید کو مضبوط کرتا ہے، نہ اس کی خاص معرفت دیتا ہے، نہ اسے آخرت کی یاد دہانی کراتا ہے، اور نہ ہی دلوں میں اللہ کی محبت اور اس سے ملاقات کی چاہت ابھارتا ہے۔ [162] [162] زاد المعاد في هدي خير العباد: (1/ 409)۔
اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ خطیب پر خواہشِ نفس، جہالت، باہمی جھگڑوں یا مذموم انتہا پسندی کا غلبہ ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ موضوعیت‘ تربیتی رہنمائی‘ حکمت اور عمدہ موعظت کے ساتھ دعوت دینے کی روش سے دور ہو جاتا ہے۔
مسجد کا اس دین میں بہت بڑا اثر ہے؛ کیوں کہ یہ ہدایت کا منارہ ہے جہاں بندہ اپنے رب سے جڑتا ہے، اپنا ایمان مضبوط کرتا ہے اور اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر نیکی کو پھیلانے اور برائی کو مٹانے میں تعاون کرتا ہے۔ مسجد اس کردار کو اسی وقت ادا کر سکتی ہے جب اللہ اسے ایسا امام مہیا کرے جس میں اس عظیم منصب کے لیے درکار علمی اور اخلاقی صلاحیتیں موجود ہوں اور جو اس جلیل القدر ذمہ داری کو صحیح طور پر انجام دے سکے۔
وہ اہم علمی خصوصیات جن کا خطیب میں پایا جانا ضروری ہے:
۱- عمل کو اللہ کے لیے خالص کرے تاکہ وہ اللہ کی مدد ونصرت سے سرفراز ہو اور اللہ تعالیٰ اور بندوں کے نزدیک مقبول ومحبوب بن سکے۔
2- ریاکاری اور دکھاوے سے بچے؛ کیوں کہ تمام امور کا دار ومدار مقاصد پر اور تمام اعمال کا دار ومدار نیتوں پر ہوتا ہے، ہر شخص کو وہی ملتا ہے جس کی اس نے نیت کی ہو، اور جو شخص ایسی چیز سے زینت اختیار کرے جو اس میں نہیں ہو تو اللہ اسے رسوا کر دیتا ہے۔
3- خطیب مکمل قرآن کا یا کم از کم اس کے کچھ حصوں کا حافظ ہو، جو کچھ حفظ کیا ہو اس کا با قاعدگی سے اعادہ کرتا رہے اور قرآن کی تلاوت اس کے روزانہ کا معمول ہو۔
4- خطیب کو کچھ احادیث بھی یاد ہوں، جیسے ’’ریاض الصالحین‘‘ یا ’’اربعین نووی‘‘ یا ’’بلوغ المرام‘‘ یا حدیث کی دیگر معتبر کتابوں کی منتخب احادیث۔
5- صحیح عقیدہ یعنی سلف صالحین کا عقیدہ سیکھے۔
6- خطیب کے لیے ضروری ہے کہ وہ دین کے احکام کا علم حاصل کرے، بالخصوص عبادات کا علم، ان میں سب سے اہم طہارت، نماز، زکوٰۃ، اور روزہ سے متعلق مسائل ہیں، اسی طرح معاملات کی فقہ وفہم بھی حاصل کرے؛ تاکہ کمائی اور خرچ کے اصول وضوابط سے واقف ہو اور لوگوں کو دھوکہ دہی، فریب اور باطل طریقے سے لوگوں کا مال ہڑپںے سے روکے، اور انھیں اسراف، فضول خرچی، بخل اور کنجوسی سے بھی خبردار کرے، تاکہ ان کے مالی معاملات کتاب و سنت پر مبنی ہوں۔
7- خطیب عربی زبان میں مہارت حاصل کرے تاکہ وہ ان معانی کو جان سکے جو اللہ نے اپنے رسول ﷺ پر نازل فرمائے، کیوں کہ قرآن عربی زبان میں نازل ہوا ہے۔
8- خطیب سیرتِ نبویہ، شمائل محمدیہ اور سلف صالحین کی سوانح کا مطالعہ کرے؛ کیوں کہ ان میں ایک صالح نمونہ، بہترین اسوہ، مفید علمی خزانہ اور اعلیٰ اسلامی ثقافت موجود ہے۔
9- اپنے ملک کے علماء اور عقیدہ ومعرفت اور عقل وخرد کی سلامتی میں شہرت رکھنے والے دیگر راسخ اہل علم سے واقف ہو، اور دینی مسائل اور معاشرتی مشکلات کے حل کے لیے ان کی طرف رجوع کرے۔
10- خطیب اسلامی فرقوں اور ان کے عقائد، فکری رجحانات اور ان کے مقاصد، گمراہ کن مذاہب اور ان کے اہداف کو جانے، تاکہ کتاب وسنت اور محقق علماء اسلام کی تحریرات کی روشنی میں ان کا جائزہ لے سکے، ان کی گمراہی کو بے نقاب کرسکے اور ان کے بطلان وفساد سے لوگوں کو خبردار کرسکے۔
11- خطیب مسلمانوں کے حالات، ان کی کمزوری اور دشمنوں کے تسلط پر دھیان دیے، نیز یہ یقین رکھے کہ یہ سب اللہ کے سیدھے راستے سے دوری‘ اللہ پر ایمان کی کمزوری اور اس کی شریعت کی پیروی نہ کرنے کا نتیجہ ہے، لہذا انہیں ایسی تعلیم دینے کی کوشش کرے جو دین ودنیا میں ان کے لیے مفید ثابت ہو۔
12- خطیب مختلف ذرائع ابلاغ سے واقف ہو، ان کے مثبت اور منفی پہلوؤں سے با خبر ہو، اور یہ بھی جانے کہ ان سے دعوت الی اللہ میں کس طرح فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، نیز ان کے خطرات سے خود کو اور اپنے معاشرے کو خبر دار کرے۔
جب یہ تمام خصوصیات خطیب میں پائے جائیں گے؛ تو باذن الہی اس کے نتیجہ میں استقامت اور توازن پیدا ہو گا۔
چند اہم اخلاقی خصوصیات:
1- مسجد کے خطیب کو چاہیے کہ وہ مسجد کی جماعت اور محلے کے دیگر افراد کے لیے داعی اور معلم بن کر رہے، اس کے لیے لازم ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو اسوہ بنائے؛ کیوں کہ آپ ﷺ ہی بہترین نمونہ، اسوہ حسنہ اور امت اور قائدین کے لیے اعلیٰ مثال ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ میں عمده نمونہ (موجود) ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے۔" [ الاحزاب : 21 ]۔
اپنے آپ کو اور مسجد کے آنے والوں کو دنیاوی باتوں اور سیاست سے دور رکھے، اور مسجد کو صرف علم اور عبادت کے لیے مخصوص کرے۔
2- خطیب خود کو صاف ستھرا اور منظم رکھے، اسی طرح مسجد کی صفائی ستھرائی، اس کے ساز وسامان کی ترتیب و تنظیم اور دیکھ بھال کا بھی خیال رکھے، اس میں فضول خرچی سے بچے، اور مسجد کی غیر ضروری آرائش سے اجتناب کرے۔
3- خطیب کا طرزِ عمل اور طور طریقہ اچھا ہو، نبی اکرم ﷺ کی سنت کی پیروی کرتے ہوئے داڑھی بڑھائے اور مونچھیں تراشے، کپڑوں کو ٹخنوں سے نیچے نہ لٹکائے، وقار وسکینت کو لازم پکڑے، اور سلف صالحین رحمہم اللہ کے نقش قدم کی پیروی کرے۔
4- خطیب نرم دل، بردبار اور رحم دل ہو؛ کیوں کہ نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے، اسے مزیّن کردیتی ہے اور جس چیز سے بھی کھینچ لی جاتی ہے، اسے بدنما اور عیب دار کردیتی ہے، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے؛ اُم المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے، اسے مزیّن کردیتی ہے اور جس چیز سے بھی نکال لی جاتی ہے، اسے بدنما اور عیب دار کردیتی ہے“۔ [163]- [163] صحیح مسلم : (2594)۔
اگر مسجد کے کسی نمازی سے کوئی غلطی سرزد ہو جائے تو خطیب کو چاہیے کہ اسے سختی سے نہ ڈانٹے، بلکہ نرمی سے نصیحت کرے اور اچھے طریقے سے تعلیم دے؛ معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ وہ کہتے ہیں: ’’ایک دن میں اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ اسی دوران ایک آدمی کو چھینک آئی اور میں نے ’’يَرْحَمُكَ اللَّه‘‘ کہہ دیا۔ اس پر لوگوں نے مجھے گھورنا شروع کردیا۔ لہذا میں نے کہا: میری ماں مجھے گم پائے، تم مجھے کیوں گھور رہے ہو؟ یہ سن کر وہ لوگ اپنے ہاتھ رانوں پر مارنے لگے۔ پھر جب میں نے دیکھا کہ وہ لوگ مجھے خاموش کرانا چاہتے ہیں، تو میں خاموش ہوگیا۔ جب اللہ کے رسول ﷺ نماز سے فارغ ہوئے، میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان جائیں، میں نے نہ آپ ﷺ سے پہلے اور نہ ہی آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ سے بہتر کوئی معلّم دیکھا۔ اللہ کی قسم، نہ آپ ﷺ نے مجھے جھڑکا، نہ مجھے مارا اور نہ ہی گالی دی، بلکہ آپ ﷺ نے بس اتنا فرمایا: ’’نماز میں لوگوں کی بات چیت درست نہیں ہے۔ نماز تو تسبیح وتکبیر اور قرآن پڑھنے کا نام ہے۔‘‘ [164] [164] صحیح مسلم: 537۔
5- خطیب نرم دل اور شفیق ہو، تاکہ لوگ اس کے پاس جمع ہوں اور اس کی شفقت، تعاون اور علم سے فائدہ اٹھائیں، وہ ان کے مصائب وضروریات میں ان کے ساتھ کھڑا ہو، اور مسجد کے پیغام سے متعلق ان سے مشورہ کرے۔
رسول اللہ ﷺ ان سب میں اعلیٰ مقام پر فائز تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے بارے میں فرمایا: "اللہ تعالیٰ کی رحمت کے باعث آپ ان پر نرم دل ہیں۔ اگر آپ بد زبان اور سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے پاس سے چھٹ جاتے۔ سو آپ ان سے درگزر کریں اور ان کے لیے استغفار کریں اور کام کا مشوره ان سے کیا کریں۔ پھر جب آپ کا پختہ اراده ہو جائے تو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریں۔ بے شک اللہ تعالیٰ توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔" [آل عمران : 159]۔
6- خطیب صبر اور یقین کے زیور سے آراستہ ہو، تاکہ اپنی مسجد میں جماعت کی امامت کا شرف حاصل کر سکے؛ کیوں کہ صبر اور یقین بندے کو دین میں امامت کے مقام تک پہنچاتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اور جب ان لوگوں نے صبر کیا تو ہم نے ان میں سے ایسے پیشوا بنائے جو ہمارے حکم سے لوگوں کو ہدایت کرتے تھے اور وه ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے۔" [ السجدہ : 24]۔
7- خطیب کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی بات میں سچا ہو، چاہے وہ جمعہ کے خطبے میں ہو، یا کسی درس میں‘ یا وعظ ونصیحت یا عام گفتگو میں۔ تاکہ وہ سچوں، ہدایت یافتہ اور کامیاب لوگوں میں شمار ہو سکے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک حدیث میں فرمایا: "تم سچ بولنے کو لازم پکڑو۔ بلاشبہ سچ نیکو کاری کا راستہ بتلاتا ہے اور نیکو کاری یقینًا جنت میں پہنچا دیتی ہے۔ انسان ہمیشہ سچ بولتا رہتا ہے اور سچ بولنے کا ہی ارادہ رکھتا ہے، تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ عز و جل کے یہاں صدیق (بہت سچا) لکھ دیا جاتا ہے۔ جھوٹ سے مکمل پرہیز کرو، کیوں کہ جھوٹ گناہ کا راستہ بتلاتا ہے اور گناہ یقینًا جہنم میں پہنچا دیتا ہے۔ انسان ہمیشہ جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ بولنے کا ہی ارادہ رکھتا ہے، تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ عز و جل کے یہاں کذاب (بہت جھوٹا) لکھ دیا جاتا ہے۔" [165]- [165] صحیح بخاری: (6094)، صحیح مسلم: (2607)۔ راوی عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔
جھوٹ شر اور بلا ہے، سب سے بڑا جھوٹ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنا اور بغیر علم کے اس کی طرف بات منسوب کرنا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "آپ فرما دیجیے کہ البتہ میرے رب نے صرف حرام کیا ہے ان تمام فحش باتوں کو جو علانیہ ہیں اور جو پوشیده ہیں اور ہر گناه کی بات کو اور ناحق کسی پر ﻇلم کرنے کو اور اس بات کو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک ٹھہراؤ جس کی اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی اور اس بات کو کہ تم لوگ اللہ کے ذمے ایسی بات لگادو جس کو تم جانتے نہیں۔" [الاعراف: 33]۔
یہ آیتِ کریمہ عظیم ترین گناہوں کو بیان کرتی اور انھیں ترتیب کے ساتھ ادنیٰ سے اعلیٰ تک ذکر کرتی ہے، جن میں سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ کے بارے میں بغیر علم کے بات کرے، خواہ وہ اس کے اسماء وصفات کے بارے میں ہو یا اس کے دین وشریعت کے بارے میں۔
رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ باندھنا عظیم ترین جھوٹ اور بدترین گناہوں میں سے ہے، یہ ان کبیرہ گناہوں میں سے ہے جن کے مرتکب کو جہنم کی وعید سنائی گئی ہے؛ چنانچہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ’’بے شک مجھ پر جھوٹ بولنا کسی اور پر جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے۔ جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولے، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔‘‘ [166]- [166] صحیح بخاری: (1291)، صحیح مسلم: (4)۔
جھوٹ سے اجتناب کرے چاہے وہ نیک نیتی کے ساتھ بھلائی کی ترغیب دینے یا برائی سے ڈرانے کے لئے ہی کیوں نہ ہو، جیسا کہ بعض واعظین کرتے ہیں؛ یہ ایک قبیح عمل ہے جس میں نہ کوئی بھلائی ہے اور نہ ہی ہدایت، ایسا کرنے والا اجر نہیں بلکہ گناہ کا مستحق ہوتا ہے۔
8- خطیب بات کو امانت داری سے نقل کرے، خبروں کی صحت کی تحقیق کرے، افواہوں کو فورا قبول نہ کرے، اور صرف معتبر بات پر اعتماد کرے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے اس فرمان میں اس کا حکم دیا ہے: "اے مسلمانو! اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے، تو اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو۔ ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذا پہنچا دو۔ پھر اپنے کیے پر پشیمانی اٹھاؤ۔" [الحجرات : 6]۔
9- خطیب کو چاہیے کہ وہ لوگوں کی پردہ پوشی کرے اور ان کے راز چھپائے رکھے، کیوں کہ جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ تعالی دنیا وآخرت میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا، جو شخص مسلمانوں کے عیوب کے پیچھے پڑے گا، اللہ تعالیٰ اس کے عیب کے پیچھے پڑے گا حتیٰ کہ اسے اس کے گھر میں ذلیل ورسوا کردے گا؛ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔‘‘ [167] ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اے زبان سے ایمان کی بات کرنے والے اور دل میں ایمان کو جگہ نہ دینے والے لوگو! مسلمانوں کی غیبت نہ کرو اور ان کی چھپی ہوئی باتوں کے پیچھے نہ پڑو۔ کیوں کہ جو ان کی چھپی ہوئی باتوں کے پیچھے پڑے گا، اللہ اس کی چھپی ہوئی باتوں کے پیچھے پڑے گا اور جس کی چھپی ہوئی باتوں کے پیچھے اللہ پڑ جائے گا، اسے اس کے گھر میں رسوا کرکے چھوڑے گا۔" [168]- [167] صحیح بخاری: (2442)، صحیح مسلم: (2580)۔ [168] سنن ابو داود: 4880۔
آٹھواں مسئلہ: خطبہ اور خطیب کے آداب
1- خطبۂ جمعہ کو کسی شخص، جماعت، ادارے یا کسی اور چیز کی تشہیر کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے بلکہ یہ خالص اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کے لیے ہونا چاہیے، اس کی دعوت کو پہنچانے اور اس کے کلمہ کو بلند کرنے کے لیے ہونا چاہیے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اور یہ کہ مسجدیں صرف اللہ ہی کے لیے خاص ہیں۔ لہذا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔" [الجن : 18]۔
2- خطیب کو چاہیے کہ خطبہ اتنا طویل نہ کرے کہ سننے والوں پر بوجھ بن جائے اور انھیں خطبہ سننے سے متنفر کر دے اور نہ ہی اتنا مختصر کرے کہ موضوع کا حق ادا نہ ہو اور وہ نامکمل رہ جائے۔
3- خطيب کو چاہیے کہ خطبہ دیتے وقت سامعین کے معیار کا خاص خیال رکھے، عام لوگوں کے لیے بات کو آسان اور قابل فہم انداز میں بیان کرے، ان الفاظ سے گریز کرے جو ان کی سمجھ سے بالاتر ہوں۔ متوسط طبقے کے لیے درمیانہ انداز اپنائے اور خاص لوگوں کے لیے ان کے شایان شان نفاست اختیار کرے، تاکہ وہ تمام طبقات کے ساتھ حکمت سے کام لے اور ہر بات کو اس کے مناسب مقام پر رکھے، اور ہر حال میں اپنی گفتگو کو ہر قسم کی باطل زینت سے دور رکھے۔
4- خطیب کو چاہیے کہ وہ ایسے متنازعہ امور سے گریز کرے جو دشمنی اور بغض پیدا کریں؛ کیوں کہ خطیب کی بنیادی ذمہ داری لوگوں کو تعلیم دینا، ان کے دلوں کو حق پر جمع کرنا اور آپسی اختلافات کے اسباب کو دور کرنا ہے۔
5- سجع اور تکلف سے پرہیز کرے، بلکہ اس کا پورا مقصد مفید معانی کو واضح اور مختصر الفاظ میں پہنچانا ہونا چاہیے۔
6- خطیب کو چاہیے کہ وہ نا پسندیدہ اور بناوٹی تقلید سے بچے اور مشہور خطباء کی ہو بہو نقل کرنے سے پرہیز کرے؛ کیوں کہ اس سے سامعین کے دلوں میں ناگواری پیدا ہوتی ہے۔ [169] [169] دیکھیں: أسلوب خطبة الجمعة، از عبد اللہ بن ضیف اللہ الرحیلی: (ص: 12، 20، 22)، خمسون وصية ووصية لتكون خطيبا ناجحا، از امیر بن محمد المدری (ص: 33، 73، 87)۔
نواں مسئلہ: خطبہ کے اغراض ومقاصد:
خطبہ جمعہ کا مقصد درج ذیل مقاصد کو حاصل کرنا ہونا چاہیے:
1- توحید کے بنیادی اصولوں کو بیان کرنا، اس کی اہمیت وفضیلت کو واضح کرنا، شرک کی تمام اقسام، صورتوں اور اس کے ذرائع سے خبردار کرنا۔
2- لوگوں کو نصیحت کرنا اور اللہ تعالیٰ، حساب و کتاب اور آخرت کی جزا وسزا کی یاد دہانی کرانا، ایسے ربانی معانی بیان کرنا جن سے دل زندہ ہوتے ہیں، خیر وبھلائی کی دعوت دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔
3- مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی کتاب اور رسول ﷺ کی سنت کی روشنی میں دین کے حقائق سکھانا، ساتھ ہی اخلاق وآداب کو غلو اور تفریط سے محفوظ رکھنے کا اہتمام کرنا۔
4- اسلام کے بارے میں پھیلی ہوئی غلط فہمیوں کی تصحیح کرنا اور اس کے مخالفین کی طرف سے ذہنوں کو پراگندہ کرنے کے لیے اٹھائے گئے شبہات اور باطل باتوں کا حکیمانہ اور قائل کرنے والے انداز میں رد کرنا، جو جھگڑے اور گالی گلوچ سے پاک ہو۔
5- گمراہ کن اور تباہ کن نظریات کا مقابلہ صحیح اسلام کو پیش کر کے کیا جائے، جو در اصل اس امت کا اصل اور خالص منہج ہے جسے اللہ نے اس کے لیے پسند فرمایا اور امت نے بھی اسے بطورِ دین قبول کیا ہے، ساتھ ہی اس کی امتیازی خصوصیات جیسے جامعیت، اعتدال، گہرائی اور مثبت پہلو کو نمایاں کیا جائے۔
6- خطبہ کو زندگی اور لوگوں کی موجودہ حالت سے جوڑنا، اس طرح کہ شریعت اسلامیہ کی روشنی میں معاشرتی امراض کا علاج اور مسائل کے حل پیش کیے جائیں، عقیدہ اور اس کی اصلاح پر توجہ دی جائے، ارکان اسلام وایمان، خواتین اور مسلم خاندان کے امور اور دیگر ایسے موضوعات جو لوگوں کی ضرورت سے متعلق ہوں، ان پر بھی توجہ دی جائے۔
7- سال بھر میں بار بار آنے والے مختلف مواقع کا لحاظ رکھنا، جیسے رمضان، حج اور دیگر مواقع، یہ وہ چیزیں ہیں جو سامعین کے ذہنوں کو مشغول رکھتی ہیں اور ان کے اندر یہ شوق پیدا کرتی ہیں کہ انھیں ان مواقع سے متعلق صحیح جانکاری ملے۔
8- مسلمانوں کے درمیان اسلامی اخوت کو مضبوط کرنا، ان میں تفرقہ ڈالنے والی نسلی، مذہبی اور علاقائی تعصبات اور اخلتلافات وغیرہ کی مخالفت کرنا۔
دسواں مسئلہ: خطبہ تیار کرنے کا طریقہ:
خطیب کو چاہیے کہ وہ اپنے خطبہ کی تیاری اچھی طرح کرے، اور درج ذیل باتوں کو مدِ نظر رکھے:
خطبہ عام طور پر تین حصوں پر مشتمل ہوتا ہے: مقدمہ، موضوع، اور خاتمہ۔ یہ ایسے عناصر ہیں جنھیں لکھتے یا پیش کرتے وقت صراحتا بیان نہیں کیا جاتا، بلکہ یہ عناصر آپس میں مربوط اور ہم آہنگ ہوتے ہیں، ان کا باہمی ربط خطیب کی قابلیت، علم کی وسعت، اور تجربے پر منحصر ہوتا ہے، یہی چیز خطبے کے اجزاء کو منظم کرتی ہے اور اس کی ساخت کو مضبوط بناتی ہے۔
یہی ربط و پختگی معانی کو واضح اور مقاصد کو نمایاں کرتی ہے، اور اس سے خطیب کو سامعین کی بھرپور توجہ اور حاضرین کی مکمل یکسوئی حاصل ہوتی ہے۔
مقدمہ: خطیب کو چاہیے کہ وہ اپنے مقدمے اور افتتاحی حصہ پر خاص توجہ دے، اس کی ابتدا ایسے جملوں سے کرے جو سامعین کو خطبے کے مقصد کی طرف توجہ دلائیں، سننے والوں کی توجہ مرکوز کریں اور دلوں کو آمادہ کریں۔ یہ کبھی خوف دلانے والی یا رغبت دلانے والی قرآنی آیات کے ذریعے ہو سکتا ہے، یا پھر نبی اکرم ﷺ کے بلیغ اقوالِ حکمت کے ذریعہ۔ تمہید وہ پہلی چیز ہے جو خطیب اپنے سامعین کے سامنے پیش کرتا ہے، اگر وہ اپنے اچھے اندازِ پیشکش سے لوگوں کو متوجہ کر لے تو سامعین بقیہ خطبہ بھی دلچسپی اور نشاط کے ساتھ سنیں گے۔
خطبہ کے آغاز میں ایسی بات ہونی چاہیے جو خطیب کے مقصد کو واضح کرے، جبکہ یہ معلوم ہے کہ جمعہ کا خطبہ اللہ کی حمد وثنا، شہادتین اور رسول اللہ ﷺ پر درود وسلام سے شروع کیا جاتا ہے، لہذا ان حمدیہ کلمات میں ایسے عمدہ الفاظ کا انتخاب کرے جو خطبے کے موضوع اور مقصد کو ظاہر کرے۔
موضوع: یہ خطبہ کا سب سے اہم مقصد ہوتا ہے، اور مناسب ہے کہ خطبے کے آغاز ہی میں اس کی صراحت کر دی جائے، مثلا خطیب یوں کہے: میں آپ سے فلاں موضوع پر بات کرنا چاہتا ہوں ... اس وقت جبکہ یہ حالت حاضرہ کے مسائل میں سے ہو جن پر معاشرہ بحث کر رہا ہو اور لوگ اس سلسلے میں مکمل وضاحت کے منتظر ہوں۔
کبھی کبھی موضوع کی صراحت کرنا مناسب نہیں ہوتا، کیوں کہ یا تو وہ موضوع نازک اور پیچیدہ ہوتا ہے، یا پھر لوگوں میں اختلاف پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔ ایسی صورت میں خطیب کو چاہیے کہ وہ موضوع کے اندر تدریجی انداز میں داخل ہو اور اسے غیر محسوس طریقے سے بیان کرے، تاکہ سامعین منطقی تسلسل کے ساتھ بغیر کسی اشتعال یا اختلاف کے اعتدال اور توازن کو برقرار رکھتے ہوئے مقصد تک پہنچیں۔ اس طرح خطیب لوگوں کو اس موضوع پر بات کرنے کے لیے تیار کرنے میں کامیاب ہوتا ہےِ خاص طور پر اگر لوگ اس موضوع سے گریزاں ہوں، یا یہ موضوع ان کی طبیعت اور مزاج کے خلاف ہو۔
خطبے کا موضوع عموماً دو بنیادی ستونوں پر مبنی ہوتا ہے: وضاحت اور استدلال۔
وضاحت: اس میں اُس موضوع کا تعارف کرایا جاتا ہے جس پر خطیب گفتگو کر رہا ہے، اور اس کی خصوصیات وامتیازات کو ذکر کیا جاتا ہے۔
استدلال: موضوع کو تقویت دینے کے لیے اکثر دلائل وبراہین اور شواہد کی ضرورت ہوتی ہے، جو عموماً قرآن و سنت اور سلفِ صالحین کے اقوال سے لیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بعض واقعات اور حادثات کو بھی قیاس واستدلال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں ایسے مشہور ائمہ اور حکما کے اقوال کا ذکر کرنا بھی فائدہ مند ہوتا ہے جو اپنی صلاحیت، امامت، اخلاق، تقویٰ، شجاعت اور پرہیزگاری کے لیے جانے جاتے ہوں۔ یہ سب کچھ موقع اور موضوع کی مناسبت سے بیان کیا جانا چاہیے۔
خطبے کا اختتام: جب خطیب اپنے موضوع کو بیان کرنے سے فارغ ہو جائے، تو بہتر ہے کہ وہ اپنے خطبے کو ایک مناسب خاتمے کے ساتھ ختم کرے، جو اس کے خیالات کو یکجا کرے اور اس کے موضوع کا خلاصہ مختلف اور مختصر الفاظ میں پیش کرے، کیونکہ اس حالت میں طوالت بیزاری پیدا کرتی ہے اور فکر کو منتشر کرتی ہے۔
خاتمہ میں نئے افکار اور نئے دلائل شامل نہ ہوں؛ کیوں کہ ایسی صورت میں یہ خاتمہ نہیں ہوگا، بلکہ خطبے کا ہی ایک حصہ اور اس کا تسلسل بن جائے گا۔
خاتمہ اپنی تعبیر اور تاثیر کے اعتبار سے مضبوط ہونا چاہیے، کیونکہ یہ آخری بات ہے جو سننے والے کے کانوں میں پڑتی ہے اور اس کے ذہن میں باقی رہتی ہے۔ اگر خاتمہ کا اسلوب کمزور اور اندازِ بیان سست ہو، تو خطبہ کا فائدہ ہی ختم ہو جاتا ہے۔
خاتمہ کبھی ایسی قرآنی آیات پر مشتمل ہوتا ہے جو پہلے نہ پیش کی گئی ہوں، جو اس کے موضوع کو ترغیب یا ترہیب یا دلیل اور اثبات کے طور پر جمع کرتی ہوں، کبھی یہ خاتمہ ایسی حدیث نبوی پر بھی مشتمل ہوتا ہے جو قرآنی آیات کی طرح ہی مفید ہوتی ہے، اور کبھی خطبے کے نکات کو ایک نئے اور جامع، واضح اور مؤثر اسوب میں دہرانا ہی خاتمہ ہوتا ہے۔
دو باتیں ایسی ہیں جن پر خطيب کو خاص توجہ دینی چاہیے: موضوع کی وحدت‘ جدت اور تنوع
موضوع کی وحدت: ضروری ہے کہ خطیب ایک ہی موضوع پر اکتفا کرے، اس کے تمام پہلوؤں کو بیان کرے، اس کے الفاظ کو سنوارے اور اس پر گہری بحث کرے؛ کیوں کہ ایک ہی خطبے میں مختلف موضوعات اور کئی مسائل چھیڑ دیے جائیں تو سامعین کی توجہ بٹ جاتی ہے، بعض باتیں بعض کو بھلا دیتی ہیں، اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ خطبہ طویل، بے اثر اور سطحی ہو جاتا ہے۔
جدت و تنوع: اس کا مطلب یہ ہے کہ خطبے ہمیشہ ایک ہی موضوع پر نہ ہوں، بلکہ موضوعات میں تنوع ہو؛ تاکہ شریعت کے تمام امور جیسے توحید، عبادات، معاملات اور اخلاقیات وغیرہ کو شامل کیا جا سکے۔
خطیب ہمیشہ ایک ہی طرز اور ایک ہی اندازِ بیان پر قائم نہ رہے، بلکہ کبھی استفہامی انداز اپنائے، کبھی تقريری اسلوب میں بات کرے، کبھی مثالیں پیش کریں اور کبھی حکمتوں اور اسرار کی جستجو میں بات کو آگے بڑھائے۔ ساتھ ہی معاشرتی حالات کا جائزہ لے، لوگوں کی ضروریات کو سمجھے، ان کی رہنمائی کرے اور ان کی بصیرت کو جلا بخشے، تاکہ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق ان کی رہنمائی ہو سکے۔ [170] [170] دیکھیں: منهج في إعداد خطبة الجمعة، از ڈاکٹر صالح بن عبد اللہ بن حمید، (صفحہ 22) اور اس کے بعد۔
چوتھا مبحث: مساجد کے احکام
پہلا مطلب: مسجد کی تعریف
شرعی اعتبار سے مسجد: وہ جگہ ہے جہاں پنج وقتہ فراض، جمعہ اور دیگر نمازیں ادا کی جاتی ہیں، اور جہاں اذان دی جاتی ہے۔ اسے مسجد اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے لیے سجدہ کرنے کی جگہ ہے۔
مسجد اور مُصلّی کے درمیان فرق
مسجد وہ جگہ ہے جو مستقل طور پر فرض نمازوں کی ادائیگی کے لیے خاص کی گئی ہو اور اسی مقصد کے لیے وقف ہو، جبکہ مصلیٰ وہ جگہ ہے جو کسی عارضی نماز کے لیے بنائی گئی ہو؛ جیسے کہ اسکولوں، اداروں، کمپنیوں اور سفر کے راستوں پر موجود نماز پڑھنے کی جگہیں وغیرہ، یہ پنج وقتہ نمازوں کے لیے وقف نہیں ہوتی، مصلیٰ میں داخل ہونے پر ’’تحیۃ المسجد‘‘ پڑھنا سنت نہیں ہے، بلکہ مسجد میں داخل ہونے پر ’’تحیۃ المسجد‘‘ پڑھنا سنت ہے۔
دوسرا مطلب: مسجد کی تعمیر اور اس کی فضیلت:
مساجد زمین کی سب سے بہترین اور معزز جگہیں ہیں، جہاں سب سے افضل عبادت یعنی نماز ادا کی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "ان گھروں میں جن کے بلند کرنے اور جن میں اپنے نام کی یاد کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ وہاں صبح وشام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔ ایسے لوگ جنہیں تجارت اور خرید وفروخت اللہ کے ذکر سے اور نماز کے قائم کرنے اور زکوٰة ادا کرنے سے غافل نہیں کرتی، اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن بہت سے دل اور بہت سی آنکھیں الٹ پلٹ ہوجائیں گی۔" [النور: 36 - 37]۔
اللہ تعالیٰ نے مسجدوں کو اپنی طرف اعزاز وتکریم کے طور پر منسوب کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اس شخص سے بڑھ کر ﻇالم کون ہے جو اللہ تعالیٰ کی مسجدوں میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کئے جانے کو روکے ..." [البقرۃ: 114]۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا: "اور یہ کہ مسجدیں صرف اللہ ہی کے لئے خاص ہیں، پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔" [ الجن : 18]۔
اسی لیے شریعت نے مسجدیں تعمیر کرنے اور ان کو ظاہری وباطنی طور پر آباد کرنے کی ترغیب دی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اللہ کی مسجدوں کی رونق وآبادی تو ان کے حصے میں ہے، جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں، نمازوں کے پابند ہوں، زکوٰة دیتے ہوں اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے ہوں۔ توقع ہے کہ یہی لوگ یقیناً ہدایت یافتہ ہیں۔" [التوبہ: 18]۔
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص اللہ کی رضا کے لیے مسجد بنائے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں اس کے مانند گھر بنائے گا۔‘‘ [171]- [171] صحیح بخاری: 450، صحیح مسلم: 533۔
اور حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے اللہ کے لیے پرندے کے گھونسلے کے برابر یا اس سے بھی چھوٹی مسجد بنائی، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا۔‘‘ [172]- [172] سنن ابن ماجہ: (738)۔ بوصیری نے «الزوائد» (1/ 94) میں کہا: یہ سند صحیح ہے۔
رسول اللہ ﷺ کے فرمان: ’’اگرچہ وہ پرندے (چڑیا) کے گھونسلے کے برابر ہو‘‘۔ کا مطلب ہے: وہ جگہ جو مادہ پرندے انڈے دینے کے لیے زمین میں تیار کرتے ہیں۔ یہاں مقصد چھوٹے پن میں مبالغہ کرنا ہے، تاکہ کوئی بھی شخص اپنی تعمیر کردہ مسجد کو حقیر نہ سمجھے، خواہ وہ کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو۔
اس ثواب میں ہر وہ شخص شامل ہوگا، جس نے اللہ کی رضا جوئی اور اجر وثواب کی نیت سے کسی بھی طرح سے مسجد کی تعمیر میں حصہ لیا ہو۔ اینٹیں یا مٹی دی ہو، ہاتھ سے کام کیا ہو، مزدوروں کی مزدوری دی ہو یا اس طرح کا کوئی اور کام کیا ہو، جسے مسجد کی تعمیر میں جانی یا مالی مساعدت کہا جا سکے۔ مسجد کی تعمیر کا ثواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں اس کی بنائی ہوئی مسجد کے جیسا یا اس سے بھی وسیع گھر تعمیر کرے گا۔ کیوں کہ جنت کے گھر کا دنیا کے گھر سے کوئی موازنہ نہیں ہے۔ یہ چیز ہر اس شخص کے لیے باعثِ ترغیب ہے جسے اللہ نے کشادگی عطا کی ہے کہ وہ نیکیوں میں سبقت کرے اور اس زندگی کے موقع کو غنیمت جانے، تاکہ اپنی آخرت کے لیے ایسے اعمال کرے جن کا اجر اپنے رب کے ہاں کئی گنا زیادہ پائے۔[173] [173] دیکھیں: 'فصول ومسائل تتعلق بالمساجد' از شيخ ابن جبرين رحمه الله (ص: 14)۔
تیسرا مطلب: مساجد کی تعمیر اور اس کی فضیلت
مساجد کی تعمیر اپنے عمومی معنی میں حسی اور معنوی دونوں طرح کی تعمیر کو شامل کرتی ہے، یعنی مساجد کی تعمیر ومرمت کرنا، ان میں روشنی کرنا اور فرش بچھانا، ان کی خدمت اور صفائی ستھرائی کرنا، ان میں اللہ کی عبادت واطاعت کرنا، ان کے لیے ائمہ اور مؤذنین کو بحال کرنا، ان میں حلقہ ہائے ذکر کو قائم کرنا؛ جیسے قرآن، فقہ، تفسیر، حدیث اور دیگر مفید علوم کے حلقات، ان میں کام کرنے والوں کے لیے تنخواہوں کا انتظام کرنا اور ان کے لیے ایسے وقف کا قیام عمل میں لانا جس میں ان کے لیے فائدہ ہو، جیسے امام، مؤذن، معلم اور طلبہ کے لیے رہائش کا وقف، وضو خانوں کی تعمیر اور دیگر وہ تمام کام جو مساجد کی مصلحتوں میں ہوں۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "اللہ کی مسجدوں کی رونق وآبادی تو ان کے حصے میں ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں، نمازوں کے پابند ہوں، زکوٰة دیتے ہوں اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے ہوں۔ توقع ہے کہ یہی لوگ یقیناً ہدایت یافتہ ہیں۔" [ التوبہ: 18]۔
چنانچہ آیت کریمہ نے ان لوگوں کے لیے ايمان كا اثبات کیا ہے جو مساجد کو نماز پڑھ کر، ان کی صفائی کر کے اور ان کی مرمت کر کے آباد کرتے ہیں۔ [174] [174] دیکھیں: «المشروع والممنوع في المسجد» از محمد العرفج (ص : 9)۔
چوتھا مطلب: مساجد کو گندگی سے پاک رکھنا اور ان کی حفاظت کرنا
چونکہ مساجد عبادت اور اللہ تعالی کی اطاعت کے ذریعے قرب حاصل کرنے کی جگہیں ہیں، اس لیے ان کی حفاظت اور انھیں گندگی، نجاست اور فضلات سے بچانے کا حکم دیا گیا ہے، تاکہ وہ صفائی ستھرائی اور حسن وجمال سے آراستہ رہیں۔
شیخ عبد الرحمن بن ناصر السعدی رحمہ اللہ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: "ان گھروں میں جن کے بلند کرنے اور جن میں اپنے نام کی یاد کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ وہاں صبح وشام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔" [النور : 36]۔ فرمایا: ﴿...جن کے بلند کرنے اور جن میں اپنے نام کی یاد کا...﴾ ان دو امور میں مساجد کے احکام جمع کردیے گیے ہیں۔ مساجد کو بلند کرنے میں ان کی تعمیر، ان میں جھاڑو دینا، ان کو نجاستوں اور تکلیف دہ چیزوں سے پاک رکھنا، ان کو ایسے بچوں اور مجنوں لوگوں سے محفوظ رکھنا جو نجاستوں سے نہیں بچتے، اسی طرح کفار سے، لغو باتوں سے اور ذکر الہی کے سوا دیگر بلند آوازوں سے محفوظ رکھنا بھی شامل ہیں۔ [175] [175] «تفسیر سعدی» (ص : 569)۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سیاہ فام عورت مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے گم پایا تو اس کے بارے میں پوچھا۔ لوگوں نے بتلایا کہ وہ تو فوت ہو گئی، تو فرمایا: ’’تم نے مجھے اس کی اطلاع کیوں نہیں دی؟‘‘ گویا لوگوں نے اس (کی وفات) کے معاملے کو حقیر سمجھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’مجھے اس کی قبر بتلاؤ!‘‘ چنانچہ لوگوں نے آپ کو اس کی قبر بتلائی تو آپ نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھی، پھر فرمایا: ’’ان قبروں میں اہلِ قبور پر تاریکی چھائی رہتی ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ میرے جنازہ پڑھنے کی وجہ سے ان قبروں کو ان کے لیے منور کردیتا ہے۔‘‘ [176]- [176] صحیح بخاری: 460، صحیح مسلم: 956۔
انس رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے کہ انھوں نے فرمایا: ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مسجد میں تھے کہ ایک دیہاتی آیا اور مسجد میں پیشاب کرنا شروع کر دیا۔ صحابہ نے اسے منع کرنے کے لیے آوازیں دیں: رک جاؤ، رک جاؤ، تو اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اسے مت روکو - یعنی اسے پیشاب کر لینے دو - اسے چھوڑ دو‘‘۔ چنانچہ صحابہ نے اسے چھوڑ دیا۔ جب وہ پیشاب کر چکا، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے بلایا اور فرمایا: ’’یہ مساجد اس طرح پیشاب یا کسی اور گندگی کے لیے نہیں ہیں۔ یہ تو اللہ عز وجل کے ذکر، نماز اور تلاوت قرآن کے لیے ہیں۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے ایک شخص کو حکم دیا، وہ پانی کی ایک بالٹی لایا اور اسے اس پر بہا دیا۔ [177] [177] صحیح بخاری: (219) مختصرًا، صحیح مسلم: (285)۔
اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ پیشاب اور اس جیسی دوسری نجاستیں ایسی چیزیں ہیں جن سے مساجد کو پاک رکھنا ضروری ہے، کیوں کہ مساجد کی پاکیزگی شرط ہے۔ لہذا مساجد، ان کے فرش اور ان سے متصل صحن اور چھت وغیرہ کو ہر قسم کی نجاست سے محفوظ رکھا جائے، اور جب بھی ان میں کوئی نجاست پڑ جائے تو انھیں فورا صاف کیا جائے۔
اسی طرح مساجد کو گندگیوں جیسے بلغم، ناک کی رطوبت، تھوک، خون، پیپ وغیرہ سے پاک رکھنے کا بھی ذکر آیا ہے۔ چنانچہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے قبلہ کی طرف (دیوار پر) بلغم لگا ہوا دیکھا، تو آپ کو ناگوار گزرا اور یہ ناگواری آپ کے چہرۂ مبارک پر دکھائی دینے لگی۔ پھر آپ ﷺ اٹھے اور خود اپنے ہاتھ سے اسے کھرچا اور فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو گویا اپنے رب کے ساتھ سرگوشی کرتا ہے، یا یوں فرمایا کہ اس کا رب اس کے اور قبلہ کے درمیان ہوتا ہے۔ اس لیے کوئی شخص (نماز میں اپنے) قبلہ کی طرف نہ تھوکے۔ البتہ بائیں طرف یا اپنے قدموں کے نیچے تھوک سکتا ہے‘‘۔ پھر آپ نے اپنی چادر کا کنارہ لیا، اس پر تھوکا، پھر اس کو الٹ پلٹ کیا اور فرمایا: ’’یا اس طرح کر لیا کرے۔‘‘ [178]- [178] صحیح بخاری: 405، صحیح مسلم: 551۔
مسجد میں تھوکنے اور ناک صاف کرنے کی ممانعت پر بہت سی احادیث دلالت کرتی ہیں، ان میں سے بعض میں قبلہ کی سمت یا دائیں جانب تھوکنے کی ممانعت ہے، جبکہ بائیں جانب یا بائیں پاؤں کے نیچے تھوکنے کی اجازت ہے، پھر اسے پاؤں سے رگڑ کر صاف کرنے کی ہدایت ہے۔ بلا شبہ تھوک اور ناک کی رطوبت فطری طور پر ناپسندیدہ چیزیں ہیں، اسی لیے نبی ﷺ نے جب مسجد کے قبلہ کی جانب تھوک دیکھا تو آپ ﷺ کو بہت ناگوار گزرا، یہاں تک کہ آپ ﷺ کا چہرہ سرخ ہو گیا، اور آپ ﷺ نے فوراً اسے کھرچ دیا اور پھر اس کی جگہ کو خلوق یا زعفران سے مل دیا۔
یہ معلوم ہے کہ اگر مسجد مٹی سے بنی ہو، تو اس کی صفائی آسان ہوتی ہے، اور زمین مٹیالی ہو تو اس میں پڑنے والی گندگی کو یا تو دفن کیا جا سکتا ہے یا ناپاک مٹی کو نکال کر باہر کیا جاسکتا ہے۔
چونکہ موجودہ دور میں مساجد عموماً صاف ستھرے فرشوں اور قالینوں سے مزین ہوتی ہیں، جو گندگی اور آلودگی سے بہت جلد متاثر ہوتی ہیں، ان پر تھوک، خون، پیپ وغیرہ کے نشانات فورا نمایاں ہو جاتے ہیں، اس لیے مسجد کی زمین پر تھوکنے سے مطلقاً منع کرنا ضروری ہے، چاہے وہ قالین پر ہو یا دیواروں پر، یا ٹائلز پر۔ جو شخص تھوکنے یا بلغم نکالنے پر مجبور ہو، تو اسے چاہیے کہ وہ باہر نکل جائے، یا رومال میں تھوک کر اسے باہر لے جائے، یا اپنے کپڑے کے کنارے میں تھوک کر اسے لپیٹ لے جیسا کہ حدیث میں ذکر ہوا ہے، تاکہ مسجد پاکیزہ اور صاف ستھری رہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: "رسول اللہ ﷺ نے محلوں میں مسجد بنانے، انھیں صاف رکھنے اور خوشبو سے معطر کرنے کا حکم دیا۔" سفیان رحمہ اللہ نے کہا: "محلوں میں مسجد بنانے کا مطلب ہے: قبائل میں مسجد بنانا"۔ [179] [179] سنن ترمذی: 594۔ اور دیکھیے: «فصول ومسائل تتعلق بالمساجد» (ص : 27)۔
پانچواں مطلب: قبر پر مسجد کی تعمیر یا مسجد میں قبر کو شامل کرنے کا حکم
کسی بھی شخص کی قبر پر مسجد بنانا جائز نہیں ہے، چاہے وہ کوئی بھی ہو، کیوں کہ اس سے منع کیا گیا ہے، جیسا کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’تمام ائمہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قبر پر مسجد نہیں بنائی جائے گی، کیوں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’بے شک تم سے پہلے لوگ قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا کرتے تھے۔ خبردار! تم قبروں کو سجدہ گاہ نہ بنانا۔ میں نے تمھیں اس سے روکا ہے۔‘‘
اسی طرح مسجد میں میت کو دفن کرنا بھی جائز نہیں ہے، اگر مسجد تدفین سے پہلے موجود ہو (اور اس میں میت کو دفن کردیا جائے) تو اس صورت میں تبدیلی کی جائے گی: یا تو قبر برابر کر دی جائے گی، یا اگر قبر نئی ہو تو اسے کھود کر نکال دیا جائے گیا‘‘۔
اگر مسجد قبر کے بعد بنائی گئی ہو تو یا تو مسجد کو ہٹا دیا جائے یا قبر کی صورت کو ختم کر دیا جائے، کیوں کہ قبر پر بنی ہوئی مسجد میں نہ فرض نماز پڑھنا جائز ہے اور نہ نفل؛ کیوں کہ اس سے منع کیا گیا ہے۔ [180] [180] «مجموع الفتاوى» (22/ 194)۔
شیخ الاسلام رحمہ اللہ نے جو دلائل ذکر کیے ہیں ان کے علاوہ ایک دلیل عائشہ اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی یہ حدیث ہے کہ انہوں نے کہا: جب اللہ کے رسول ﷺ پر موت کے آثار نمایاں ہوئے، تو آپ ﷺ (مرض الموت کی شدت سے) اپنے چہرے پر چادر اوڑھ لیتے اور جب دَم گھٹنے لگتا تو چادر ہٹا لیتے۔ اسی (بے چینی کی) حالت میں آپ ﷺ نے فرمایا: ’’یہود و نصاری پر اللہ کی لعنت ہو۔ انہوں نے اپنے انبیا کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔‘‘ (راوی کہتے ہیں کہ) آپ ﷺ اپنی امت کو یہود و نصاری کے عمل سے خبردار کر رہے تھے۔ [181]۔ [181] صحیح بخاری: 435، صحیح مسلم: 531۔
رسول اللہ ﷺ نے نزع کی حالت میں یہ بیان فرمایا کہ اللہ عز وجل نے یہود و نصاری پر لعنت کی کیونکہ انھوں نے اپنے انبیا کی قبروں کو سجدہ گاہ (مسجدیں) بنا لیا، آپ ﷺ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ یہ عمل پہلے کے کفار کی عادت تھی، تاکہ آپ ﷺ کی امت ان کی مشابہت سے بچ سکے، اور اللہ کے ساتھ شرک اور غیر اللہ کی عبادت کا دروازہ بند ہو سکے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام حبیبہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے نبیٔ کریم ﷺ سے ایک گرجا کا ذکر کیا، جس کو انھوں نے حبشہ کے علاقہ میں دیکھا تھا، اس میں تصویریں تھیں، ان دونوں نے نبی ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’وہ ایسے لوگ تھے کہ اگر اُن میں سے کوئی نیک آدمی مر جاتا، تو اس کی قبر پر مسجد بنا لیتے اور اس میں وہ تصویریں بناتے۔ یہ لوگ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک ساری مخلوقات میں سب سے بدترین مخلوق ہیں۔‘‘ [182]- [182] صحیح بخاری: (427)، صحیح مسلم: (528)۔
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے اس مرض میں فرمایا جس سے آپ ﷺ صحت یاب نہ ہوئے: "یہود و نصاری پر اللہ کی لعنت ہو۔ انہوں نے اپنے انبیا کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔" اگر یہ ڈر نہ ہوتا تو آپ ﷺ کی قبر بھی نمایاں رکھی جاتی، لیکن یہ ڈر تھا کہ کہیں اسے مسجد نہ بنا لیا جائے۔ [183] [183] صحیح بخاری: 1390، صحیح مسلم: 529۔
چھٹا مطلب: مساجد کی تزئین وآرائش کا حکم
مساجد کی آرائش وزیبائش اور ان میں فخر ونمود اختیار کرنا مناسب نہیں ہے، امام بخاری رحمہ اللہ نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا: ’’تم مسجدوں کو اسی طرح مزین کرو گے، جس طرح یہود ونصاری نے مزین کیا تھا۔‘‘
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: ’’لوگ مساجد بنانے میں بطور فخر ومباہات مقابلہ بازی تو کریں گے، مگر انھیں آباد بہت کم ہی کریں گے۔‘‘
عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انھوں نے مساجد کی تعمیر کا حکم دیا اور فرمایا: ’’لوگوں کو بارش سے محفوظ رکھنے کا بندوبست کرو، لیکن اسے سرخ یا زرد کرنے سے اجتناب کرو۔ مبادا رنگ کے استعمال سے لوگ فتنے میں مبتلا ہو جائیں۔‘‘ [184] [184] صحیح بخاری میں ان آثار کو صیغۂ جزم کے ساتھ تعلیقاً ذکر کیا گیا ہے (1/ 96- 97)۔
دور حاضر میں مساجد کے بارے میں مباہات بہت بڑھ گئی ہے اور لوگ ان کی آرائش وزیبائش میں حد سے زیادہ خرچ کرنے لگے ہیں۔ علماء نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ گھروں اور رہائش گاہوں کے معیار کے مطابق مساجد کو بہتر اور مضبوط بنانا جائز ہے، تاکہ مساجد گھروں اور مکانات کے مقابلے میں کمزور اور کمتر نہ لگیں، لیکن یہ سب اسراف اور مبالغہ آمیز تزئین وآرائش کے بغیر پونا چاہیے۔ رنگ وروغن، نقش ونگار، قیمتی پتھر، ٹائلز، فرش اور غیر ضروری چیزوں پر فضول خرچی درست نہیں۔ خاص طور پر جب یہ معلوم ہو کہ بہت سی مساجد ایسی ہیں جو معمولی مرمت اور تعمیر کی بھی محتاج ہیں۔ لہٰذا بہتر یہ ہے کہ پیسہ ان ضرورت مند مساجد کی تعمیر ومرمت پر خرچ کیا جائے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے : "رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں مسجد کچی اینٹوں سے بنی ہوئی تھی۔ اس کی چھت کھجور کی شاخوں کی تھی اور اس کے ستون کھجور کے تنوں کے تھے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس میں کوئی اضافہ نہیں کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس میں اضافہ کیا اور اسے رسول اللہ ﷺ کے زمانے کی طرح کچی اینٹوں اور کھجور کی شاخوں سے بنایا اور اس کے ستون دوبارہ لکڑی کے بنائے۔ پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے اس میں بہت زیادہ اضافہ کیا۔ اس کی دیواروں کو نقش ونگار والے پتھروں اور چونے سے بنایا، اس کے ستون نقش ونگار والے پتھروں کے بنائے اور اس کی چھت ساگوان کی لکڑی سے بنائی۔" [185] [185] صحیح بخاری: 446۔
علامہ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’عثمان رضی اللہ عنہ کا عمل اس بات کی دلیل ہے کہ مسجد کو نقش ونگار والے پتھروں، عمدہ لکڑیوں اور پینٹ سے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اگرچہ سلف کی زندگی زیادہ بہتر اور افضل ہے۔ لیکن، جب لوگ اپنے مکانات کو خوب صورت بناتے ہوں اور پرانی عمارتوں سے دوری اختیار کرتے ہوں، تو ایسی صورت میں مسجدوں کو اس کی پرانی حالت پر چھوڑ دینا انھیں نماز اور مساجد میں اجتماع سے دور کر سکتا ہے۔ ایسے میں عثمان رضی اللہ عنہ کے عمل کی پیروی کرنا جائز ہے، تاکہ لوگوں کو مساجد کی طرف راغب کیا جا سکے۔ البتہ فخر ومباہات کے لیے نہیں۔ مسجد میں تحریر نقش کرنا مکروہ ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ وہ سادہ ہو"۔ [186] [186] قحطانی کی کتاب «المساجد» (ص : 71) سے نقل کیا گیا ہے۔
ساتواں مطلب: مسجد میں کافر کے داخل ہونے کا حکم
مسلمانوں پر حرام ہے کہ وہ کسی بھی کافر کو مسجدِ حرام اور اس کے ارد گرد کے حرم میں داخل ہونے دیں۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "اے ایمان والو! بے شک مشرک بالکل ہی ناپاک ہیں۔ وه اس سال کے بعد مسجد حرام کے پاس بھی نہ پھٹکنے پائیں..." [التوبہ : 28]۔ جہاں تک دیگر مساجد کا تعلق ہے، تو اگر ان کے اندر داخل ہونا کسی شرعی مقصد کے لیے ہو، جیسے اسلام کے بارے میں سوال کرنا، مسجد سے متعلق کوئی کام، مسلمانوں کے مفادات سے متعلق کوئی کام، وعظ ونصیحت سننا یا کسی مباح امر جیسے مسجد کے اندر موجود پانی پینا وغیرہ، تو ایسی صورت میں داخل ہونا جائز ہے، کیونکہ نبی ﷺ نے ثمامہ بن اثال کو مسجد کے ستون سے باندھ دیا تھا۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ انھوں نے کہا: "نبی ﷺ نے گھڑ سواروں کا ایک دستہ نجد کی طرف روانہ کیا، جو قبیلہ بنو حنیفہ کے ایک آدمی کو پکڑ لایا، جسے ثمامہ بن اثال کہا جاتا تھا۔ انھوں نے اسے مسجد کے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا۔ نبی ﷺ (گھر سے) نکل کر اس کے پاس آئے اور پوچھا: ’’ثمامہ تمھارے پاس کیا ہے؟‘‘ اس نے جواب دیا: اے محمد! میرے پاس خیر ہے۔ اگر آپ مجھے قتل کریں گے تو ایک ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کے خون کا بدلہ لیا جائے گا اور اگر آپ احسان کریں گے تو ایک شکر کرنے والے پر احسان کریں گے۔ اگر آپ کو مال مطلوب ہے تو جتنا چاہیں مجھ سے مال طلب کر سکتے ہیں، آپ کو دیا جائے گا۔ آپ ﷺ نے اس کو (اس کے حال پر) اگلے دن تک کے لیے چھوڑ دیا…" الحدیث۔[187]. [187] متفق علیہ۔
اسی طرح نجران کا وفد مسجد میں داخل ہوا، جب کہ اس وفد میں شامل لوگ عیسائی تھے [188]۔ ضمام بن ثعلبہ بھی جب نبی ﷺ کے پاس آئے تھے، تو آپ مسجد میں موجود تھے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : "ایک دن ہم نبی ﷺ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص اونٹ پر سوار ہو کر آیا، اسے مسجد میں بٹھایا اور باندھ دیا۔ پھر پوچھنے لگا: تم میں محمد (ﷺ) کون ہیں؟ نبی ﷺ اس وقت صحابہ رضی اللہ عنہم کے درمیان تکیہ لگائے بیٹھے تھے۔ ہم نے کہا: یہ سفید شخص جو تکیہ پر ٹیک لگائے بیٹھے ہیں۔ چنانچہ وہ آپ سے کہنے لگا: اے فرزند عبد المطلب! نبی ﷺ نے فرمایا: ’’(پوچھ) میں تجھے جواب دیتا ہوں۔‘‘ اس نے نبی ﷺ سے کہا: میں آپ سے کچھ دریافت کرنے والا ہوں اور اس میں سختی کروں گا، آپ دل میں مجھ پر ناراض نہ ہوں۔ آپ نے فرمایا: ’’(کوئی بات نہیں) جو چاہے پوچھ!۔۔۔۔‘‘ اس کے بعد وہ شخص کہنے لگا: میں اس (شریعت) پر ایمان لاتا ہوں جو آپ لائے ہیں۔ میں اپنی قوم کا نمائندہ بن کر حاضر خدمت ہوا ہوں۔ میرا نام ضمام بن ثعلبہ ہے اور قبیلہ سعد بن بکر سے تعلق رکھتا ہوں"۔ [189]- متفق علیہ [188]۔ [189] اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ دیکھیے: مجموع فتاویٰ ومقالات ابن باز، جلد ۸، مساجد میں کافروں کے داخلہ کا حکم، نیز دیکھیے: فتاویٰ اللجنة الدائمة: 276/ 6۔
یہ وہ چند کلمات ہیں جو ہم مؤذن، امام، خطیب اور مساجد کے احکام کے بارے میں پیش کر سکے، ہم مؤذن، امام اور خطیب کو اللہ جل وعلا کے تقویٰ کی وصیت کرتے ہیں، علم کے حصول اور اس کی نشر واشاعت میں جد وجہد کرنے اور اس کا اہتمام کرنے کی تاکید کرتے ہیں۔
اللہ ہی توفیق دینے والا ہے، اے اللہ! درود وسلام نازل فرما ہمارے نبی محمد ﷺ پر اور آپ کی آل اور آپ کے تمام اصحاب پر، ہماری آخری بات یہ ہے کہ تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں۔
مؤذن، امام اور خطیب کے لیے بعض مفید مصادر ومراجع
الأذان والإقامة، از ڈاکٹر سعید بن علی بن وہف القحطانی، ناشر: مطبعہ سفیر، ریاض۔
أحكام الإمامة والإئتمام في الصلاة، از ڈاکٹر عبد المحسن المنیف۔
الإمامة في الصلاة في ضوء الكتاب والسنة، از سعيد بن علي بن وهف القحطانی۔
أسلوب خطبة الجمعة، از عبد اللہ بن ضیف اللہ الرحیلی، ناشر: وزارة الشئون الإسلامية والدعوة والإرشاد، المملكة العربية السعودية
الإمامة في الصلاة- مفهوم، وفضائل، وأنواع، وآداب، وأحكام في ضوء الكتاب والسُّنَّة، از ڈاکٹر سعید بن علی بن وہف القحطانی، ناشر: مطبعہ سفیر، ریاض۔
خطب الجمعة و مسؤوليات الخطباء ترتیب: مجلس الدعوة والإرشاد، وزارة الشئون الإسلامية والدعوة والإرشاد، مملکت سعودی عرب۔
خطبة الجمعة في الکتاب و السنة، از عبد الرحمن بن محمد الحمد، ناشر: وزارة الشؤون الإسلامية والدعوة والإرشاد، مملکتِ سعودی عرب۔
خطبة الجمعة وأحكامها الفقهية، از عبد العزیز بن محمد بن عبد اللہ الحجيلان، ناشر: وزارة الشؤون الإسلامية والدعوة والإرشاد، مرکز البحوث والدراسات الإسلامية۔
خطبة الجمعة ودورها في تربية الأمة، از عبد الغنی احمد جبر مزہر، ناشر: وزارة الشؤون الإسلامية والدعوة والإرشاد، مملکت سعودی عرب۔
خمسون وصية ووصية لتكون خطيبا ناجحا، از امیر بن محمد المدری، جو کہ وزارة الشؤون الإسلامية والدعوة والإرشاد، مملکت سعودی عرب کی ویب سائٹ پر منشور ہے۔
صلاة الجمعة-مفهوم، وشروط، وفضائل، وخصائص، وآداب، وأحكام في ضوء الكتاب والسنة، از ڈاکٹر سعید بن علی بن وہف القحطانی، ناشر: مطبعہ سفیر، ریاض۔
منبر الجمعة أمانة ومسؤولية، از عبد اللہ بن محمد بن حمید، ناشر: وزارة الشؤون الإسلامية والدعوة والإرشاد، مملکت سعودی عرب۔
منهج في إعداد خطبة الجمعة، از ڈاکٹر صالح بن عبد اللہ بن حمید، ناشر:وزارة الشؤون الإسلامية والدعوة والإرشاد، مملکت سعودی عرب۔
رسائل للأئمة والمؤذنين، از شیخ عبد اللہ بن صالح الفوزان، دار ابن الجوزی۔
رسالة إلى أئمة المساجد والمؤذنين والمأمومينن، از شیخ عبد اللہ بن جار اللہ الجار اللہ۔
موسوعة الفقه الكويتية، وأبواب الخطبة والإمامة والأذان والمساجد۔