”نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے، اسے مزیّن کردیتی ہے اور جس چیز سے بھی نکال لی جاتی ہے، اسے بدنما اور عیب دار کردیتی ہے“۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی زوجہ عائشہ رضی اللہ عنہا آپ سے روایت کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا :
”نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے، اسے مزیّن کردیتی ہے اور جس چیز سے بھی نکال لی جاتی ہے، اسے بدنما اور عیب دار کردیتی ہے“۔
«إِنَّ الرِّفْقَ لَا يَكُونُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ، وَلَا يُنْزَعُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ».
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ شفقت، نرمی اور قول و فعل میں ٹھہراؤ چیزوں کی خوب صورتی، کمال اور حسن میں اضافہ کرتا ہے اور اس بات کا امکان زیادہ رہتا ہے کہ ان خوبیوں کا حامل شخص اپنی ضرورت حاصل کر لے۔ جب کہ سختی وشدت چیزوں کو عیب دار اور بد نما بنا دیتی ہے اور ضرورت کی تکمیل کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کر دیتی ہے۔ ایسے شخص کی ضرورت پوری ہو بھی جائے، تو بڑی مشقت سے ہوتی ہے۔
...:
نرمی اختیار کرنے کی ترغیب۔
نرمی وشفقت انسان کی زینت ہے اور یہ دین و دنیا سے متعلق ہر بھلائی کا سبب ہے۔
مزید (5)
صحیح مسلم (4/ 2004) (2594).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين.
لسليم الهلالي (1/ 683).
تطريز رياض الصالحين.
لفيصل آل مبارك (ص414).
کتابوں میں مذکور
6 کتابیں- مؤذن، امام، خطیب اور مساجد کے احکام سے متعلق ایک مختصر اور مفید کتاب’’نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے، اسے مزیّن کردیتی ہے اور جس چیز سے بھی نکال لی جاتی ہے، اسے بدنما اور عیب دار کردیتی ہے۔‘‘
- مؤذن، امام، خطیب اور مساجد کے احکام سے متعلق ایک مختصر اور مفید کتاب”نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے، اسے مزیّن کردیتی ہے اور جس چیز سے بھی نکال لی جاتی ہے، اسے بدنما اور عیب دار کردیتی ہے“۔
مزید (4)
- الحقيقة المُبْهِرَة في العلاقة بين الإسلام والإنسان(إنَّ الرفق لا يكون في شيءٍ إلا زانَه، ولا يُنزَع من شيءٍ إلا شانَه﴾ [146].
- الله -جل جلاله- أنيس المحبين وملاذ القاصدين«إِنَّ الرِّفْقَ لَا يَكُوْنُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ، وَلَا يُنْزَعُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ»
- رياض الصالحينرياض الصالحين مع فوائد وهدايات - 3«إنَّ الرِّفقَ لا يَكُونُ في شَيْءٍ إلَّا زَانَهُ، وَلاَ يُنْزَعُ مَنْ شَيْءٍ إلاَ شَانَهُ».
- نبراس طالب (2)نبراس طالب (2) «إِنَّ الرِّفْقَ لاَ يَكُونُ فِي شَيْءٍ إلاَّ زَانَهُ، وَلاَ يُنْزَعُ مِنْ شَيْءٍ إلاَّ شَانَهُ»