Skip to content

”نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے، اسے مزیّن کردیتی ہے اور جس چیز سے بھی نکال لی جاتی ہے، اسے بدنما اور عیب دار کردیتی ہے“۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی زوجہ عائشہ رضی اللہ عنہا آپ سے روایت کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا :

”نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے، اسے مزیّن کردیتی ہے اور جس چیز سے بھی نکال لی جاتی ہے، اسے بدنما اور عیب دار کردیتی ہے“۔

«إِنَّ الرِّفْقَ لَا يَكُونُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ، وَلَا يُنْزَعُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ».

اسے مسلم نے روایت کیا ہے
حديث صحيح
شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ شفقت، نرمی اور قول و فعل میں ٹھہراؤ چیزوں کی خوب صورتی، کمال اور حسن میں اضافہ کرتا ہے اور اس بات کا امکان زیادہ رہتا ہے کہ ان خوبیوں کا حامل شخص اپنی ضرورت حاصل کر لے۔ جب کہ سختی وشدت چیزوں کو عیب دار اور بد نما بنا دیتی ہے اور ضرورت کی تکمیل کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کر دیتی ہے۔ ایسے شخص کی ضرورت پوری ہو بھی جائے، تو بڑی مشقت سے ہوتی ہے۔

کلمات کے معانی

...:

حدیث کے بعض فوائد

نرمی اختیار کرنے کی ترغیب۔

نرمی وشفقت انسان کی زینت ہے اور یہ دین و دنیا سے متعلق ہر بھلائی کا سبب ہے۔

حوالہ جات
مزید (5)

صحیح مسلم (4/ 2004) (2594).

بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين.

لسليم الهلالي (1/ 683).

تطريز رياض الصالحين.

لفيصل آل مبارك (ص414).