"مردوں کی بہترین صف ان کی پہلی صف ہے اور بدترین صف ان کی آخری صف ہے۔ جب کہ خواتین کی بہترین صف ان کی آخری صف ہے اور بدترین صف ان کی پہلی صف ہے"۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
"مردوں کی بہترین صف ان کی پہلی صف ہے اور بدترین صف ان کی آخری صف ہے۔ جب کہ خواتین کی بہترین صف ان کی آخری صف ہے اور بدترین صف ان کی پہلی صف ہے"۔
«خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا، وَشَرُّهَا آخِرُهَا، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ آخِرُهَا، وَشَرُّهَا أَوَّلُهَا».
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ نماز میں مردوں کی سب سے بہتر، زیادہ ثواب کی حامل اور فضیلت والی صف پہلی صف ہے۔ کیوں کہ پہلی صف میں کھڑے لوگ امام سے قریب ہوتے ہیں، آسانی سے اس کی قراءت سن سکتے ہيں اور عورتوں سے دور ہوتے ہيں۔ جب کہ مردوں کی سب سے بری، کم ثواب، کم فضیلت والی اور شرعی مقاصد سے سب سے دوری والی صف آخری صف ہے۔ اس کے برخلاف عورتوں کی سب سے بہتر صف آخری صف ہے۔ کیوں کہ یہ ان کے حق میں زیادہ پردے کی حامل، مردوں کے ساتھ اختلاط، ان کے دیدار اور ان کے فتنہ سے زیادہ دور ہے۔ جب کہ ان کی سب سے بری صف پہلی صف ہے، جو مردوں سے قریب ہوتی ہے اور اس میں فتنے کے امکانات بھی رہتے ہيں۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مردوں کو نیکی کے کاموں میں اور نماز کی پہلی صفوں میں جگہ پانے کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی ترغیب دی ہے۔
خواتین کے لیے مسجد میں مردوں کے ساتھ علاحدہ صفوں میں نماز پڑھنا جائز ہے۔ لیکن پردہ وحجاب اور شائستگى ووقار کے ساتھ ۔
عورتیں اگر مسجد میں یکجا ہوں، تو منتشر رہنے کے بجائے وہ بھی مردوں کی طرح ہی صف بندی کریں گی۔ مردوں ہی کی طرح مل کر کھڑی ہوں گی اور خالی جگہوں کو بھر لیا کریں گی۔
شریعت نے عورتوں کو مردوں سے الگ رہنے کی ترغیب پوری شدت کے ساتھ دی ہے۔ حتی کہ عبادت کی جگہوں میں بھی۔
اعمال کے مطابق لوگوں کے الگ الگ درجات ہوا کرتے ہیں۔
نووی کہتے ہیں: جہاں تک مردوں کی صفوں کی بات ہے، تو علی الاطلاق ان کی پہلی صف سب سے اچھی صف اور آخری صف سب سے بری صف ہوا کرتی ہے۔ لیکن جہاں تک عورتوں کی بات ہے، تو اس حدیث کی روشنی میں عورتیں جب مردوں کے ساتھ نماز پڑھ رہی ہوں، تو ان کی سب سے بری صف پہلی صف اور سب سے اچھی صف اخری صف ہے۔ لیکن جب ان کی الگ جماعت ہو رہی ہو، تو وہ مردوں ہی کی طرح ہیں۔ ان کی سب سے بہتر صف پہلی صف اور سب سے بری صف آخری صف ہوگی۔
نووی کہتے ہیں: قابل ستائش پہلی صف، جس کی فضیلت اور جس میں کھڑے ہونے کی ترغیب سے متعلق حدیثیں آئی ہيں، وہ صف ہے جو امام کے ٹھیک بعد ہو۔ خواہ اس میں کھڑا ہونے والا شخص پہلے آئے یا بعد میں۔ خواہ درمیان میں کوئی كمره وغیرہ حائل ہو یا نہ ہو۔
مزید (9)
صحیح مسلم (1/ 326) (440).
سبل السلام شرح بلوغ المرام.
للصنعاني (1/ 374 ).
توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام.
لعبد الله البسام (2/ 495).
فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام.
لابن عثيمين (2/ 272).
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح.
للتبريزي (3/ 851).
کتابوں میں مذکور
8 کتابیں- مؤذن، امام، خطیب اور مساجد کے احکام سے متعلق ایک مختصر اور مفید کتاب’’مردوں کی بہترین صف ان کی پہلی صف ہے اور بدترین صف ان کی آخری صف ہے۔ جب کہ خواتین کی بہترین صف ان کی آخری صف ہے اور بدترین صف ان کی پہلی صف ہے۔‘‘
- مؤذن، امام، خطیب اور مساجد کے احکام سے متعلق ایک مختصر اور مفید کتاب’’مردوں کی بہترین صف ان کی پہلی صف ہے اور بدترین صف ان کی آخری صف ہے۔ جب کہ خواتین کی بہترین صف ان کی آخری صف ہے اور بدترین صف ان کی پہلی صف ہے۔‘‘
- منتخب شدہ چیزیں عمل صالح کے ثواب کے لئے نفع بخش محل سےالمنتقى من المتجر الرابح في ثواب العمل الصالح”مردوں کے لیے سب سے بہتر صف پہلی صف ہے اور سب سے خراب آخری صف، اور عورتوں کے لیے سب سے بہتر صف آخری صف ہے اور سب سے خراب پہلی صف۔“
- مسجدِ نبوی کے فضائل وآداب اور نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے دونوں صحابہ رضی اللہ عنہما کی قبروں کی زیارت کے احکامفضائل وآداب المسجد النبوي، وأحكام زيارة قبر النبي عليه الصلاة والسلام وقبري صاحبيه’’مردوں کی بہترین صف ان کی پہلی صف ہے اور بدترین صف ان کی آخری صف ہے۔ جب کہ خواتین کی بہترین صف ان کی آخری صف ہے اور بدترین صف ان کی پہلی صف ہے۔‘‘ [14]،
مزید (4)
- الصلاة التي علمها النبي ﷺ الصحابة رضي الله عنهمالصلاة التي علمها النبي ﷺ الصحابة رضي الله عنهم«خيرُ صُفوفِ الرّجالِ أوَّلُها، وشَرُّها آخِرُها، وخيرُ صُفوفِ النساء آخِرُها، وشَرها أوَلُها»[321].
- الصلاة التي علمها النبي ﷺ الصحابة رضي الله عنهم«خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا، وَشَرُّهَا آخِرُهَا، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ آخِرُهَا، وَشَرُّهَا أَوَّلُهَا»[321].
- رياض الصالحينرياض الصالحين مع فوائد وهدايات - 5«خَيْرُ صفوفِ الرِّجالِ أوَّلُهَا، وشرُّها آخرُها، وخيُر صُفوفِ النِّساءِ آخرُها، وشرُّها أوَّلُها».
- مجموعة زاد الفقه (2)الفقه للمستوى الثاني ( مجموعة زاد )«خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا، وَشَرُّهَا آخِرُهَا، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ آخِرُهَا، وَشَرُّهَا أَوَّلُهَا».