"کیا تم میں سے کوئی شخص، جو امام سے پہلے اپنا سر اٹھاتا ہے، اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ اس کے سر کو گدھے کا سر بنا دے یا اس کی صورت گدھے کی صورت جیسی بنا دے؟"
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
"کیا تم میں سے کوئی شخص، جو امام سے پہلے اپنا سر اٹھاتا ہے، اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ اس کے سر کو گدھے کا سر بنا دے یا اس کی صورت گدھے کی صورت جیسی بنا دے؟"
«أَمَا يَخْشَى أَحَدُكُمْ - أَوْ: لاَ يَخْشَى أَحَدُكُمْ - إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ قَبْلَ الإِمَامِ، أَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ، أَوْ يَجْعَلَ اللَّهُ صُورَتَهُ صُورَةَ حِمَارٍ».
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے امام سے پہلے اپنا سر اٹھانے والے کو یہ سخت وعید سنائی ہے کہ کہیں اس کے سر کو گدھے کا سر نہ بنا دے یا اس کی صورت گدھے کی صورت جیسی نہ بنا دے۔
...:
امام کے ساتھ مقتدیوں کی چار حالتیں ہو سکتی ہيں۔ ان میں تین حالتیں ممنوع ہیں۔ یعنی امام سے آگے بڑھ جانا، اس کے ساتھ ساتھ چلنا اور اس سے پیچھے رہ جانا۔ جب کہ ہونا یہ چاہیے کہ مقتدی امام کے اتباع کرے۔
مقتدی کے لیے امام کی اتباع کرنا واجب ہے۔
امام سے پہلے اپنا سر اٹھانے والے کے سر کو گدھے کا سر بنا دیا جائے، ایسا ممکن ہے۔ یہ ایک طرح کا مسخ ہے۔
مزید (8)
صحیح بخاری (1/ 140) (691).
صحیح مسلم (1/ 321) (427).
الإلمام بشرح عمدة الأحكام.
لإسماعيل الأنصاري (1/ 111).
خلاصة الكلام شرح عمدة الأحكام.
لفيصل آل مبارك (ص65).
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام.
للبسام (ص133).