إعداد خطيب ماهر
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم واﻻ ہے۔
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم واﻻ ہے۔
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد چاہتے ہیں اور اسی سے بخشش طلب کرتے ہیں، ہم اپنے نفس کی برائیوں اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا، اور جسے وہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل واصحاب پر اور ان پر جو خیر وبھلائی کے ساتھ آپ کی پیروی کرتے ہیں، ڈھیروں درود وسلام نازل فرمائے۔
اما بعد: بے شک لوگوں کو ہمیشہ ان چیزوں کی ضرورت رہتی ہے جن سے ان کے احوال درست ہوں، اس لیے شریعت نے وہ تمام امور بیان کر دیے ہیں جو اس ضرورت کو پورا کرتے ہیں۔ انہی میں جمعہ کا خطبہ بھی شامل ہے اور اسی وجہ سے جمعہ کے خطیب کی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اسی اہمیت کے پیشِ نظر ہم نے ’’المختصر المفید للمؤذن والإمام والخطیب وأحکام المساجد‘‘ ([1]) (مؤذن، امام، خطیب اور احکامِ مساجد سے متعلق مختصر ومفید رہنما) کے عنوان سے ایک کتاب تیار کی اور اسے کئی زبانوں میں ترجمہ کیا ہے۔ اس کتاب میں کئی موضوعات شامل ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں: - https://islamcontent.com/ur/single-content/74839.
نمازِ جمعہ اور اس کا مفہوم، اس کا وقت اور مکلف بندہ سے متعلق اس کے بعض احکام، اسی طرح خطبہ جمعہ، اس کا حکم، اس کی شروط، اس کے ارکان، اس کی سنتیں اور اس کا ترجمہ، نیز خطیب کے لیے ضروری علمی اور اخلاقی اوصاف، خطبہ اور خطیب کے آداب، اس کے اغراض و مقاصد، اور اس کی تیاری کا طریقہ کار۔
چونکہ یہ موضوع انتہائی اہمیت کا حامل تھا، لہٰذا یہ دوسری کتاب (إعداد خطيب ماهر) کے نام سے سابقہ کتاب کی توسیع وتکمیل کے طور پر سامنے آئی۔
اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے عمل کو نیک اور اپنی رضا کے لیے خالص بنائے اور اس میں برکت نازل فرمائے۔ واللہ اعلم وصلى الله وسلم على نبينا محمد۔
(خُطبہ کی اہمیت)
جمعہ کا منبر لوگوں پر اثر انداز ہونے کا مؤثر - بلکہ سب سے مؤثر- وسیلہ ہے، بشرطیکہ اس کا بہترین استعمال کیا جائے۔ اس کے ذریعے خطیب سالہا سال تک ہر ہفتے لوگوں سے خطاب کرتا ہے، لوگ اس کے لیے اپنے ذہن کھول دیتے اور اپنے سینے کشادہ کر دیتے ہیں، چنانچہ وہ کسی اور چیز میں مشغول ہو کر اس سے توجہ نہیں ہٹاتے، خواہ وہ کنکریوں کو چھونا ہی کیوں نہ ہو، بلکہ تسلسل اور تواتر کے ساتھ اس سے نصیحت وموعظت اور درس وعبرت حاصل کرتے ہیں۔
ایک کامیاب اور توفیق یافتہ خطیب، جسے اللہ نے قائل کرنے والا اسلوب اور قوتِ بیان عطا کیا ہو، یقیناً وہ لوگوں پر بہت گہرا اثر ڈالتا ہے۔ یہ اثر بسا اوقات شاگردوں پر پڑنے والے معلم کے اثر سے اور سوشل میڈیا کی تاثیر سے بھی زیادہ شدید اور قوی ہوتا ہے؛ کیوں کہ خطبہ ایک عظیم عبادت یعنی نماز سے جڑا ہوا ہے؛ اور اس لیے بھی کہ ایک فصیح وبلیغ اور خیر خواہ خطیب لوگوں سے براہِ راست ان کے سامنے کھڑے ہو کر خطاب کرتا ہے، وہ اس کے چہرے کے تاثرات اور نگاہوں کا مشاہدہ کرتے ہیں، چنانچہ وہ سماعت اور بصارت کے ذریعے ان پر اثر انداز ہوتا اور ان کے دل و دماغ کو چھو لیتا ہے۔ لوگ پورا خطبہ ہمہ تن گوش ہوکر سنتے ہیں اور خطیب ان کے سامنے ایسے عقلی ونقلی دلائل وبراہین پیش کرتا ہے، جن کے ذریعے وہ - اللہ کے حکم سے - انہیں قائل کر لیتا ہے اور ان کے تصورات کی اصلاح کر دیتا ہے۔
کامیاب اور توفیق یافتہ خطیب وہ ہے جو منبر کو خیر اور علم پھیلانے کا ایک اہم ترین ذریعہ بناتا ہے اور صرف اسی پر اکتفا نہیں کرتا، بلکہ اپنی استطاعت کے مطابق خیر وبھلائی کے ہر میدان میں شریک اور حصہ دار ہوتا ہے۔ جہاں کہیں بھی خیر ہو، آپ اسے اس کا علمبردار پائیں گے، اور جہاں کہیں بھی اللہ کے لیے قربانی کا موقع ہو، آپ اسے اس کے سپاہیوں میں شامل پائیں گے۔
یہی وہ خطیب ہے جو اللہ کی طرف دعوت دینے اور مسلمانوں کو نفع پہنچانے کا اہتمام کرتا ہے -جیسا کہ انبیاء ورسل علیہم الصلاۃ والسلام، امتِ اسلام کے مخلص علماء اور داعی حضرات کا طریقہ رہا ہے-، اور جو اپنے سامعین کے لیے تجدید، کشش اور شوق پیدا کرنے کا حریص ہوتا ہے۔
چنانچہ بہت سے ایسے خطباء ہیں جن میں خطیب کے اوصاف تو پائے جاتے ہیں، لیکن ان کے خطبے کا وہ مطلوبہ ثمرہ حاصل نہیں ہوتا، جو اس خطیب سے متوقع ہے جو اس پیغام کو صدق واخلاص کے ساتھ پیش کرتا ہے۔
وہ ہر جمعے کو ایک ایسا موضوع پیش کرتا ہے جو ان کے جذبات وضروریات کو چھوتا اور ان کے دلوں کو موہ لیتا ہے۔ وہ ایک سال میں پچاس مرتبہ ان سے ملتا ہے، تو کیا اس وسیلے سے زیادہ مؤثر کوئی اور وسیلہ بھی ہو سکتا ہے؟
اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ خطبۂ جمعہ اسلام کے معزز ترین شعائر میں سے، اللہ کی طرف دعوت، اس کی شریعت کی تبلیغ، اور اس کے بندوں پر حجت قائم کرنے کا ایک اہم ترین میدان ہے۔ یہ وہ چیز ہے جس کی تمنا اسلام کے دشمن بھی کرتے ہیں کہ ان کے دین میں بھی اس کی مثل کوئی چیز ہو، یہاں تک کہ اسلام سے برسرِ پیکار جماعتوں کے ایک قائد نے کہا: ’’آہ! کاش کہ میرے پاس بھی اس قسم کے منبر (اور مواقع) ہوتے؟!‘‘
"علوم وفنون کی عظمت وشرف ان کے اہداف ومقاصد کی بلندی کے مطابق طے ہوتی ہے۔ فنِ خطابت کی بھی ایک نہایت عظیم الشان غایت ہے، اور وہ ہے لوگوں کی حقائق کی طرف رہنمائی کرنا، اور انہیں ان باتوں کا شوق دلانا جو انہیں اس دنیا اور آخرت میں نفع پہنچائیں۔
خطابت کو سیادت وقیادت کے وسائل میں شمار کیا جاتا ہے۔
چنانچہ خطابت ایک عظیم اعزاز اور شرف ہے، اور یہ شرف اس بات میں ہے کہ خطیب صاحبِ بصیرت، عالم اور فصیح وبلیغ ہو" ([2])۔ - "الخطابة عند العرب"، محمد الخضر حسین: 178- 179۔
اے خطیب! شارع نے نمازی پر واجب قرار دیا ہے کہ وہ آپ کے خطبے کے دوران خاموشی اختیار کرے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب جمعہ کے دن امام خطبہ دے رہا ہو اور تم اپنے پاس بیٹھے ہوئے آدمی سے کہو کہ "خاموش ہو جاؤ" تو تم نے ایک لغو حرکت کی“۔ متفق علیہ ([3]) عربی لفظ لَغَوتَ (تم نے لغو حرکت کی) کا معنی ہے: اسے جمعہ کا ثواب نہیں ملتا۔ - صحیح بخاری: 934، صحیح مسلم: 851۔
بلکہ لوگوں کے لیے مسنون ہے کہ وہ اپنے چہرے آپ کی طرف متوجہ رکھیں، امام نووی، ابن منذر اور ابن عبد البر رحمہم اللہ نے اس کے مستحب ہونے پر اجماع نقل کیا ہے ([4])۔ - "المجموع": 4/ 447۔
(رحمٰن کے فرشتے تمہیں سنتے ہیں، اس لیے ان کی قدر کرو)۔
اے خطیبِ جمعہ! آپ کے لیے یہ شرف وفخر ہی کافی ہے کہ رحمٰن کے فرشتے آپ کے خطبات ومواعظ سننے کے لیے حاضر ہوتے ہیں، جیسا کہ صحیحین میں ہے، اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا([5]): "جمعہ کے دن مسجد کے تمام دروازوں پر فرشتے کھڑے ہو جاتے ہیں اور مسجد میں آنے والے نمازیوں کے ناموں کا ترتیب وار اندراج کرتے ہیں، پھر جب امام خطبہ کے لیے منبر پر بیٹھ جاتا ہے تو وہ بھی اپنے اپنے رجسٹر بند کر کے اللہ تعالیٰ کا ذکر سننے کے لیے مسجد میں آ جاتے ہیں۔" - صحیح بخاری: 3211، صحیح مسلم: 850۔
جب آپ اس حقیقت کا ادراک کر لیں گے تو آپ کے دل میں خطبہ کی عظمت بڑھ جائے گی، اور آپ حق بات کہنے، امانت ادا کرنے، لوگوں کی خیر خواہی کرنے، نیز لوگوں کی پرواہ نہ کرنے اور ان سے مداہنت نہ برتنے کے مزید حریص ہو جائیں گے۔
اے مبارک خطیب! آپ جیسا کون ہے؟
اللہ نے لوگوں پر واجب کیا ہے کہ آپ کی بات کو غور سے سنیں اور آپ کی گفتگو کے دوران خاموش رہیں، یہاں تک کہ انہیں کنکریوں کو الٹنے پلٹنے میں مشغول ہونے اور آپ کی گفتگو کے دوران برائی سے روکنے سے بھی منع کیا گیا ہے، اللہ نے اپنے فرشتوں کو بھی آپ کی بات سننے کا حکم فرمایا۔
اس سے یہ لازم آتا ہے کہ آپ اللہ کے لیے مخلص ہوں، اپنے خطبات اور مواعظ میں بھرپور نصیحت کریں، آپ کے خطبات کا مقصد اللہ کا ذکر، لوگوں کو نصیحت، انہیں ان کے دینی امور اور دنیا کو سنوارنے والی باتوں سے آگاہ کرنا ہو۔
***
(افضل کیا ہے: خطبہ زبانی دینا یا دیکھ کر پڑھنا؟)
یقیناً خطیب کا کاغذ سے خطبہ دیکھ کر پڑھنے کے بہت سے فوائد ہیں، یہ بہت سے خطیبوں اور مقررین کے لیے برجستہ بولنے سے زیادہ مناسب ہے۔ یہ ایک مشاہداتی اور حقیقی امر ہے۔
برجستہ گفتگو کا خطیب کے اپنے جوش وولولے اور طرزِ بیان پر گہرا اثر ہوتا ہے، بلاشبہ یہی چیز سامعین کے تاثر، جوش اور جذبات پر بھی اثر انداز ہوتی ہے، اور اس کے برعکس بھی یہی ہوتا ہے۔
یہ بات معلوم ہے کہ جب بات کو اخذ کرنے میں سماعت اور بصارت، دونوں حواس شریک ہوں تو یہ بات کو سمجھنے، اس سے متاثر ہونے اور معلومات کے ذہن نشین ہونے کے لیے زیادہ قوی ذریعہ ہوتا ہے، برخلاف اس کے کہ ان میں سے کوئی ایک حس تنہا ہو۔ چنانچہ وہ خطیب جو برجستہ خطبہ دیتا ہے، لوگوں سے روبرو ہوتا ہے اور اپنی آنکھوں سے انہیں مخاطب کرتا ہے، وہ اس خطیب کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ہوتا ہے جو کاغذ سے دیکھ کر خطبہ دیتا ہے، جس سے لوگ صرف سماعت کے ذریعے ہی بات اخذ کر پاتے ہیں۔ حتیٰ کہ سماعت کا یہ عمل بھی اتنا قوی نہیں ہوتا جتنا برجستہ خطبہ دینے والے خطیب کی صورت میں ہوتا ہے، کیونکہ اس کی آواز زیادہ قوی اور انتہائی پُرجوش ہوتی ہے۔
جو شخص بار بار برجستہ خطاب کی کوشش کرے، اپنے اس خطاب میں بہت زیادہ تردد، لکنت، نسیان، یا خوف اور زیادہ گھبراہٹ پائے، اور دیکھے کہ یہ امور وقت کے ساتھ اور برجستہ گفتگو کی کثرتِ مشق کے باوجود کم نہیں ہو رہے، تو اسے چاہیے کہ وہ خطبہ پڑھ کر دے، کیونکہ ہر شخص کو برجستہ کلام کی توفیق نہیں ملتی۔ اللہ تعالیٰ نے جس طرح لوگوں کے درمیان مادی رزق تقسیم فرمایا ہے، اسی طرح ان کے درمیان معنوی رزق بھی تقسیم کیا ہے، مثلاً اخلاق، صلاحیتیں، قابلیتیں اور بلند ہمتیں۔
(آٹھ اقدامات جو خطابت میں کامیاب ادائیگی کی راہ کو آسان اور ہموار کرتے ہیں)
پہلا: اس پر مدد الہی حاصل کرنے کے لئے سچے دل سے دعا کرنا، اور اخلاص وگرگراہٹ کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے التجا کرنا۔
دوسرا: اللہ تعالی پر سچا توکل اور اس پر کامل بھروسہ کرنا۔ اللہ اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوتا ہے، جو اس پر توکل کرتا ہے، اللہ اسے کافی ہوجاتا ہے اور اس کی حاجات وضروریات کو پورا کرتا ہے۔
تیسرا: ماہر وممتاز خطیبوں کو سننا اور ان کے تجربات سے استفادہ کرنا۔
چوتھا: تنہا خطبہ دینا، اگر مسجد میں اندرونی لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے ہو تو یہ بہتر ہے، اور اگر منبر پر ہو تو یہ بہت زیادہ بہتر ہے۔
پانچواں: جذبات کا اظہار کرنے اور انہیں تقویت دینے کی مشق کرنا۔
میں نے خطابت، طرزِ سخن اور اثر انگیزی میں کامیاب لوگوں کے عظیم ترین رازوں پر جب غور وخوض کیا تو اللہ تعالیٰ کی توفیق کے بعد مجھ پر یہ راز کھلا کہ اس کا اصل سبب ان کے اندر پائی جانے والی جذباتی قوت، اور شرعی ضابطوں کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے احساسات وجذبات کا اجمال کے بجائے تفصیل سے اظہار کرنے کی صلاحیت ہے۔
کیونکہ جذبے کی قوت: صاحبِ فصاحت اور صاحبِ حکمت کو اپنی فصاحت وحکمت کو ظاہر کرنے پر آمادہ کرتی ہے، چنانچہ وہ اپنے جادو سے دلوں کو کھینچ لیتی ہے، اپنی خوبصورتی اور مہارت سے عقلوں کو مسحور کر دیتی ہے۔ جبکہ کمزور جذبے والے کا بہت سارا علم اس کے جذبے کے مرنے سے مر جاتا اور اس کے احساسات کے مرنے سے لوگوں پر اس کا اثر زائل ہو جاتا ہے۔
"لہذا خطیب پر لازم ہے کہ وہ جس چیز کی دعوت دے، اس کے لیے جوش وجذبے سے سرشار ہو اور اس کی سچائی پر پختہ یقین رکھتا ہو؛ کیونکہ جو بات دل سے نکلتی ہے، وہی دل میں اترتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ خطیب کا جوش وجذبہ اس کے سامعین سے زیادہ قوی ہو؛ تاکہ وہ اپنا یہ جذبہ ان تک منتقل کر سکے اور ان کی تشنگی بجھا سکے، ورنہ سامعین اس کی پزمردگی کو محسوس کر لیں گے اور اس کی بات کا اثر زائل ہو جائے گا"۔
اس کے لیے خیالات واحساسات کو لکھنے، تنہائی میں خود سے بات کرنے اور پھر کسی عزیز کے سامنے ان کا اظہار کرنے کی زیادہ سے زیادہ مشق لازم ہے۔
جب بھی جذبات روکے اور قید کیے جاتے ہیں تو خشک ہو کر سوکھ جاتے ہیں، اور جب بھی وہ آزاد ہوتے ہیں –بشرطیکہ شرعی ضوابط کے مطابق ہوں– تو پھوٹ پڑتے اور بہہ نکلتے ہیں، چنانچہ وہ اوراق کو تحریر وتصنیف سے، منبروں کو خطابت وبیان سے اور لوگوں کو محبت وشفقت سے سیراب کرتے ہیں۔
لہذا اے میرے خطیب بھائی! اپنے جذبات واحساسات کی باگیں ڈھیلی چھوڑ دیجیے؛ تاکہ آپ میں اور دوسروں میں زندگی، تخلیق، بیداری، نشو ونما اور رحمت کی روح بیدار ہو جائے۔
جس شخص کے جذبات واحساسات پاکیزہ ہوتے ہیں، وہ عمدہ اخلاق اور شریف نفس کا حامل ہوتا ہے، اس کے احباب زیادہ اور دشمن کم ہو جاتے ہیں، اس کی دلیل واضح ہوتی ہے، اس کی بلاغت میں قوت اور فصاحت میں عظمت آجاتی ہے۔
چھٹا: کسی سچے، عقلمند، تجربہ کار اور خیر خواہ شخص سے نصیحت طلب کرنا، جو اسے اس کے عیوب بتائے تاکہ وہ ان سے اجتناب کرے، اور اس کی خوبیوں سے آگاہ کرے تاکہ وہ ان پر ثابت قدم رہے اور ان میں اضافہ کرے۔
ساتواں: خطبے کی قبل از وقت تیاری۔
آٹھواں: خطبہ تیار کرنے اور خطبہ پیش کرنے سے متعلق کتابوں کا مطالعہ کرنا ([6])۔ - دیکھیں: المختصر المفيد للمؤذن والإمام والخطيب وأحكام المساجد: 95، https://islamcontent.com/ar/single-content/74839۔
خطبے کی ابتدا میں پریشانی اور گھبراہٹ ایک عام اور معمولی بات ہے۔
شروع شروع میں خطبہ دیتے ہوئے آپ کو بے قراری اور خوف لاحق ہو گا، یہ ایک فطری چیز ہے۔ بسا اوقات آپ کو یہ احساس بھی ہو گا کہ اس کی وجہ آپ پر لوگوں کی نظر اور آپ کا یہ گمان ہے کہ آپ علمی طور پر کمزور ہیں۔
اس احساس سے آپ کی بے چینی اور بڑھ سکتی ہے کہ لوگ اسے محسوس کر رہے ہیں اور ایک خطیب میں اس چیز کو ناپسند کرتے ہیں، اور ممکن ہے کہ کہ یہی امر آپ سے ان کی دوری کا سبب بن جائے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ سے آپ کے کثرتِ تعلق، اس پر توکل، اپنی سچی دعا اور طویل مشق کے ساتھ خوف مکمل طور پر زائل ہو جائے گا، یہاں تک کہ آپ خطبہ سے لطف اندوز ہونے کے مرحلے تک پہنچ جائیں گے اور خطابت کی لذت سے شاد کام ہونے کے لیے جمعہ کا انتظار کرنے لگیں گے۔
انسان کو صبر کا دامن تھامے رہنا چاہیے یہاں تک کہ اس کے لیے توفیق کے خزانے اور اس کریم اور بے حد نوازش والے پاک رب کی عنایتیں اور مہربانیاں کھول دی جائیں۔
ابتدا میں جدوجہد کی تنگی برداشت کرنے ہی سے انجام کار کشادہ نعمت، بلند مرتبہ اور سعادت حاصل ہوتی ہے۔
آپ اپنے دل میں کہیے: تنگی کے بعد کشادگی اور مشکل کا خاتمہ ہی ہے، اور مشقت کے بعد راحت ہی ہے۔ یہ تو بس گھڑی بھر کا صبر ہے، اس لیے صبر کریں اور ثابت قدم رہیں، تاکہ تم منبروں پر سرفراز ہوں اور دعوت الہی کا برملا اعلان کریں۔ اللہ نے سچ فرمایا، اور اللہ سے بڑھ کر اپنی بات میں کون سچا ہے؟ "اور جو لوگ ہماری راه میں مشقتیں برداشت کرتے ہیں، ہم انہیں اپنی راہیں ضرور دکھا دیں گے"۔ [العنکبوت: 69]
قتادہ رحمہ اللہ نے کیا ہی خوب فرمایا: «اے ابن آدم، اگر تو خیر کا کام صرف نشاط ہی کی حالت میں کرنا چاہتا ہے، تو بلاشبہ تیرا نفس اکتاہٹ، سستی اور کاہلی کی طرف مائل ہے۔ لیکن مومن تو مشقت برداشت کرنے والا، ڈٹے رہنے والا اور (دین میں) پختگی اختیار کرنے والا ہے» ([7])۔ متشدد سے مراد وہ شخص ہے جو نیک کاموں کی پابندی کرے اور انہیں مسلسل کرتے رہنے کو خود پر لازم کر لے۔ - تفسیر قرطبی: (1/251)۔ قتادہ رحمہ اللہ كا اثر ابو القاسم ابن بشران بغدادی نے اپنی کتاب الأمالي میں روایت کیا ہے: (1454)۔
(خطابت کے شدید خوف سے نجات پانے کے طریقے)
خوف -خاص طور پر ابتدا میں- جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے، ایک بہت ہی مانوس اور عام بات ہے، بلکہ یہ ایک مثبت امر ہے جو خطبہ کا اہتمام کرنے اور اس کی تیاری میں معاون ہوتا ہے اور نفس کو حد سے زیادہ خود اعتمادی میں مبتلا ہونے سے روکتا ہے، جو لوگوں کو حقیر جاننے، علمی مواد کے معیار کا اہتمام نہ کرنے اور مناسب الفاظ ومعانی کا انتخاب نہ کرنے کا سبب بنتی ہے۔
لیکن ہر خطبے میں اور طویل مدت تک خوف کا تسلسل ایک منفی امر ہے۔ جسے جدید دور میں ’سماجی فوبیا‘ کہا جاتا ہے۔ اس سے چھٹکارا پانے کے لیے اسباب اختیار کرنے چاہیے، چند اسباب یہ ہیں:
1: اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص اختیار کرنا، اسی سے التجا کرنا اور کثرت سے یہ دعا کرنا کہ وہ آپ کو اطمینان عطا فرمائے اور آپ کے دل پر سکینت نازل فرمائے۔
2: خطبہ سے قبل بعض سکون آور مشروبات جیسے پودینہ وغیرہ کا استعمال کرنا؛ کیوں کہ یہ گھبراہٹ اور خوف کو تسکین دینے میں مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔
3: نفس کو تنقید سننے اور اس سے خوش ہونے کا عادی بنانا؛ تاکہ یہ ترقی ومہارت کا زینہ بنے اور غلطی سے خائف نہ ہو۔
4: جلدی پہنچنا، بلاشبہ جو خطیب وقت کی تلافی کے لیے تیز چل کر آتا ہے، اس کا نفس منتشر ہو جاتا ہے، دل مضطرب ہو جاتا ہے اور اس پر ایسا قلق اور تناؤ طاری ہو جاتا ہے جو خطبے کے دوران بھی باقی رہتا ہے۔
5: اپنا سر اٹھا کر لوگوں کو دیکھیں اور کبھی کبھار فی البدیہہ بھی گفتگو کریں۔ خواہ ابتدا میں آپ کو دشواری، غلطی اور تردد کا ہی سامنا کیوں نہ ہو، کیونکہ آپ کا ہمیشہ کاغذ تک محدود رہنا اور جرأت کے ساتھ سامعین کو نہ دیکھنا آپ کی گفتگو کے تئیں ان کا جوش وخروش ختم کر دیتا ہے، اور آپ کو منبر کے خوف اور ہیبت میں مبتلا رکھتا ہے۔
بعض خطباء نے، جنہیں خطابت میں برسوں کا تجربہ ہے لیکن وہ لکھی ہوئی تحریر سے نہیں نکلتے اور نہ ہی مجمع کی طرف دیکھتے ہیں، اس بات کی صراحت کی ہے کہ انہیں ہر خطبے کے وقت خوف اور گھبراہٹ محسوس ہوتی ہے۔ بلکہ ان میں سے ایک کا کہنا ہے: ''سخت پریشانی اور خوف کے سبب میں ہر خطبے کے وقت یوں محسوس کرتا ہوں جیسے پہلی بار خطبہ دے رہا ہوں!''
لیکن اپنے خطبہ کے آغاز میں لوگوں کے چہروں پر نظر نہ ڈالیں، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ آپ کی نگاہ کسی ایسے شخص پر پڑ جائے جس سے آپ مرعوب ہوں اور گھبرا جائیں، لوگوں کی نگاہیں آپ کو ہیبت میں ڈال سکتی ہیں، بہتر یہ ہے کہ آپ ان کے چہروں اور آنکھوں پر توجہ مرکوز کیے بغیر، ان کے سروں کی طرف دیکھیں۔
6- جب آپ منبر پر چڑھ رہے ہوں تو اس دوران یہ نہ سوچیں کہ کہیں کوئی منفی بات یا غلطی نہ ہو جائے، بلکہ اللہ کے اذن سے متوقع مثبت نتائج کے بارے میں سوچیں اور اُن بڑے فوائد کو ذہن میں رکھیں جو آپ کو اپنے خطبے سے حاصل ہوں گے؛ جیسے لوگوں کو فائدہ پہنچانا، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو اس شعیرہ کی ادائیگی کی توفیق ملنا کہ نیکی کا حکم دیا جائے اور برائی سے روکا جائے، اور اللہ کی طرف دعوت دی جائے۔
7- خطبہ سے قبل صحیح طریقے سے سانس لیں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ ناک کے ذریعے گہرا سانس لیں، پھر چند لمحوں کے لیے ہوا کو روکیں، اور پھر اسے آہستگی سے باہر نکالیں۔ سانس لینے کا یہ عمل تناؤ کو دور کرنے میں بہت مؤثر ہے؛ طبی ماہرین نے ذکر کیا ہے کہ عام طریقے سے سانس لینے کی صورت میں دماغ کو سات سے دس لیٹر آکسیجن پہنچتی ہے، جبکہ صحیح طریقے سے سانس لینے کی صورت میں تقریباً پچھتر (۷۵) لیٹر آکسیجن پہنچتی ہے۔ اس سے بے چینی اور تناؤ کے ہارمونز کی سطح میں کمی واقع ہوتی ہے۔ اس عمل کو آزمایا گیا تو اسے تناؤ، فکر مندی اور پریشانی کو زائل کرنے میں بہت مؤثر پایا گیا۔
خطبہ کے دوران گہری سانس اس انداز سے لیں کہ حاضرین کی توجہ مبذول نہ ہو۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ کسی مناسب وقفے پر منہ یا ناک کے ذریعے تیزی سے اور زیادہ مقدار میں سانس لیں، پھر اس سانس کے بعد اپنی بات مکمل کریں، اور تقریباً ہر وقفے پر ایسا ہی کریں۔
(آپ پر کی جانے والی غلط تنقیدات کا بہترین حل)
اے میرے خطیب بھائی! جب آپ غور وفکر اور اہلِ علم وبصیرت سے مشورے کے بعد، اپنے کسی فیصلے، اپنے پسندیدہ اسلوب یا اپنے خاص انداز سے مطمئن ہوجائیں، تو پھر تنقید اور ملامت کرنے والوں پر توجہ نہ دیں، کیونکہ کوئی بھی شخص، خواہ وہ کچھ بھی کر لے اور اس کا مرتبہ کتنا ہی بلند کیوں نہ ہو، لوگوں کی تنقید سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔
اگر آپ نے ان کی تنقید پر توجہ دی تو آپ کی ہمت کمزور پڑ جائے گی، آپ کا دل تنگ ہو جائے گا اور آپ ترقی ومہارت کی خواہش سے محروم ہو جائیں گے۔
کوئی کتاب، مقالہ یا عمل ایسا نہیں جس میں کوئی عیب اور تنقید کی گنجائش نہ ہو۔
ناقدین کے ساتھ نرمی اور احترام سے پیش آئیں، ان کا جواب احسن طریقے سے دیں، ان کے پاس جو حق بات ہو اسے قبول کریں اور اس میں عار محسوس نہ کریں، بھلے ہی ناقد آپ کی نظر میں کوئی حیثیت نہ رکھتا ہو۔
(خطبہ سے پہلے خطیب کے لیے چند وصیتیں)
میرے خطیب بھائی! آپ کو خطبہ دینے سے پہلے چند امور انجام دینے چاہیے، جن سے آپ اللہ تعالیٰ کی مدد کے بعد منبر پر کھڑے ہونے اور اپنا خطبہ پیش کرنے میں مدد حاصل کریں گے؛ ان میں سے کچھ یہ ہیں:
1: اس بات کو ذہن نشیں رکھیں کہ آپ اللہ کے پیغامات کی تبلیغ کرنے اور اس کی طرف دعوت دینے کے لیے جا رہے ہیں، بعض اوقات اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی پڑھا کریں: "یہ سب ایسے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچایا کرتے تھے اور اللہ ہی سے ڈرتے تھے اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے تھے"۔ نیز کبھی کبھار اللہ تعالی کا یہ فرمان بھی پڑھا کریں: "اور اس سے زیاده اچھی بات واﻻ کون ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک کام کرے اور کہے کہ میں یقیناً مسلمانوں میں سے ہوں"۔ [فصلت: 33]۔
اور یہ ارشادِ باری تعالیٰ بھی پڑھا کریں: "آپ کہہ دیجئے میری راه یہی ہے۔ میں اور میرے متبعین اللہ کی طرف بلا رہے ہیں، پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ ۔ اور اللہ پاک ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں"۔ [يوسف: 108]
یہ بات آپ کو مزید اخلاص، ہمت اور نبی ﷺ کی اقتدا پر آمادہ کرے گی، اور خطابت کے اس عظیم ترین مقصد کو پیشِ نظر رکھنے پر بھی، جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیا ورسل کو مبعوث فرمایا، یعنی دین کی تبلیغ و اشاعت ہے۔ یہی دنیا کا سب سے بڑا منصب ہے۔
2: منبر پر چڑھنے سے پہلے اللہ سے دعا کریں کہ وہ آپ کو اخلاص، توفیق اور درستگی عطا فرمائے، اور آپ کی باتوں سے خود آپ کو اور دوسروں کو بھی نفع پہنچائے، کیونکہ کتنے ہی خطیب اور مقرر ایسے ہیں جو خود اپنی ہی باتوں سے نصیحت حاصل نہیں کرتے، اور اگر نصیحت پکڑ بھی لیں تو بہت جلد اپنی کہی ہوئی بات بھول جاتے ہیں، خاص طور پر جب لمبا وقت ہو جائے۔
اللہ تعالی سے ہمیشہ یہ دعا کریں کہ وہ آپ کو فصاحت وبلاغت عطا فرمائے۔
3: خطبات کا ایک مجموعہ اکثر انہیں پیش کرنے سے بہت پہلے تیار کر لیں، بسا اوقات خطبہ تیار کرنے اور اسے پیش کرنے کے درمیان مہینوں یا سالوں کا فاصلہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ جب آپ کے ذہن میں کوئی موضوع آئے، یا دورانِ مطالعہ آپ کی نظر سے کوئی قیمتی نکتہ گزرے، یا کوئی ایسی حدیث جو آپ کی توجہ مبذول کرے، یا کوئی ایسی آیت جس پر آپ نے غور وفکر کیا ہو تو اسے بلا تاخیر فوراً درج کر لیں، کیونکہ اس وقت جذبات تازہ دم ہوتے ہیں اور افکار ذہن میں حاضر اور باہم مربوط ہوتے ہیں۔ اگر آپ نے اس وقت لکھنے میں تاخیر کی تو افکار وخیالات ضائع ہو جائیں گے اور انہیں یاد کرنا اور ذہن میں لانا مشکل ہو جائے گا۔ پھر جو کچھ بھی ذہن میں آئے، اسے لکھ لیں۔ پھر اس کے بعد بلا تکلف کتاب وسنت اور ان اہل علم کے کلام پر مشتمل علمی مواد جمع کریں جن کے اقوال آپ کی نظر سے ان کی اپنی کتابوں یا ان سے منقول کتابوں کے مطالعہ کے دوران گزرے ہوں، اور بوقت ضرورت مکتبہ شاملہ یا انٹرنیٹ پر بھی تلاش کریں۔
قرآنی آیات، احادیثِ نبویہ، اقوالِ سلف اور ان کے آثار، تاریخ، اور معاصر علمائے ربانیین کے کلام کا اہتمام کریں، بالخصوص ان امور میں جن کا تعلق نو وارد مسائل (نوازل) اور جدید حالات وواقعات سے ہو۔
خطبہ کے موضوع سے متعلق جو کچھ ملے، اسے بغیر ترتیب وتدقیق کے کمپیوٹر کی کسی فائل میں محفوظ کر لیں۔
جو بھی موضوعات اور فوائد آپ کے ذہن میں آئیں یا سامنے سے گزریں، ان کے ساتھ ہمیشہ یہی طرزِ عمل اپنائیں اور اس وقت جو کچھ ذہن میں آئے اسے قلم بند کر لیں، اور جس قدر ممکن ہو تحقیق کر کے لکھیں۔ پھر اسے چھوڑ کر اپنے معمول کا مطالعہ جاری رکھیں۔ پھر جب آپ کو کوئی ایسا فائدہ، آیت یا حدیث ملے جس کا تعلق آپ کے لکھے ہوئے کسی مکمل یا نامکمل خطبے سے ہو، تو اسے اس میں شامل کر لیں۔
ممکن ہے کہ یہ خطبہ آپ کے پاس کئی سال تک رہے، اور آپ اسے اپنے دروس، لیکچرز یا مختصر بیانات میں بھی سنائیں؛ تو اس کے دوران آپ پر ایسے باریک نکات اور فائدے کھلیں گے جو اس سے پہلے آپ کے ذہن میں نہیں آئے ہوں گے، اور آپ وہ باتیں بھی یاد کر لیں گے جنہیں آپ بھول چکے تھے۔ پھر جب آپ اسے جمعہ کے خطبے میں پیش کریں گے تو وہ ممکنہ حد تک تیار اور مکمل حالت میں ہوگا۔
4: اسے مساجد یا اپنی خصوصی مجالس میں بیانات کے ذریعے مکمل یا قسطوں میں پیش کریں، اس کا مقصد ہے:
أ- معلومات کو پختہ اور ازبر کرنا۔
ب- اسے لوگوں میں پھیلانا، خصوصاً ان مساجد میں جو اس جامع مسجد سے دور ہوں جہاں آپ خطبہ دیتے ہیں، اور غالب امکان ہو کہ آپ کی جماعت وہاں حاضر نہ ہو۔
ج- موضوع کا مزید احاطہ ہوتا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ خطاب کے دوران یا اس کے بعد گفتگو کے لائق کئی اہم پہلو سامنے آتے ہیں، یا پھر سامعین کی طرف سے کوئی سوال یا استفسار آتا ہے۔
5: (مشق کے طور پر) اسے جمعہ کے دن خطبہ سے تقریباً دو گھنٹے قبل اپنے خطبہ ہی کی طرح پیش کریں۔
6: تحقیق اور تیاری میں زیادہ تکلف سے کام نہ لیں، بلکہ آپ کی ساری توجہ ایسا مواد جمع کرنے پر مرکوز ہونی چاہیے جو پہلے خود آپ کے لیے اور پھر مختلف طبقات کے سامعین کے لیے مفید ہو۔
میں نے دیکھا ہے کہ ہر چیز میں بے جا تکلّف نقصان دہ اور دشوار ہوتا ہے، عموماً یہ اپنے کرنے والے کو آخرکار یا تو کام چھوڑ دینے، یا اُکتاہٹ اور سستی و کم ہمّتی تک پہنچا دیتا ہے۔
(خطبہ کے دوران خطیب کے لئے نصیحتیں)
خطبہ کے دوران چند امور ضرور انجام دینے چاہیے، جن میں سے بعض امور یہ ہیں:
1- جب آپ قصے، واقعات اور مواعظ پیش رہے ہوں تو جذبات کو ظاہر کرنے میں بناوٹ سے کام نہ لیں اور نہ ہی انہیں چھپائیں، بلکہ سیاق وسباق کے مطابق اپنے چہرے کے تاثرات، آنکھوں کے اشاروں اور آواز کے اتار چڑھاؤ کے ذریعے ان کا اظہار کریں۔
یاد رہے کہ آپ کا اندازِ بیان جتنا فطری اور تکلف وبناوٹ سے پاک ہوگا، اس کی تاثیر اتنی ہی زیادہ ہوگی۔ اس لیے اپنے اسی فطری انداز اور اسلوب پر قائم رہیں جسے آپ خطبے کے علاوہ عام گفتگو میں استعمال کرتے ہیں، البتہ آواز کے اتار چڑھاؤ اور اندازِ سخن کو بہتر بنانے کا اہتمام کریں۔
بہت سے خطباء خطبہ کے لیے اپنے معمول کے اسلوب سے بالکل مختلف انداز اپناتے ہیں، گویا ان کے نزدیک خطابت کا ایک ہی متعین اور مخصوص اسلوب ہے، اسی وجہ سے وہ سامعین پر اپنا اثر نہیں چھوڑ پاتے اور ان کے دلوں تک نہیں پہنچ پاتے۔
2: خطبہ ایک ہی سانس میں نہ پڑھیں، اور نہ ہی اتنی تیزی سے بیان کریں کہ سامعین پوری طرح نہ سن پائیں، بلکہ ٹھہر ٹھہر کر خطبہ دیں اور حسبِ ضرورت مختصر وقفے لیں۔ موقع محل کی مناسبت سے اپنی آواز کے زیر وبم کا خیال رکھیں، چنانچہ جہاں حالات متقاضی ہوں وہاں آواز بلند کریں اور گفتگو میں تیزی لائیں۔
3: خطبہ کے متعینہ وقت کی مکمل پاسداری کریں، اور بلا ضرورت خطبے کو طویل نہ کریں۔
4: جب آپ خطبہ کے دوران نمازیوں سے کچھ خلاف ورزیاں سرزد ہوتی دیکھیں تو ان پر نرمی سے تنبیہ کریں۔ جیسے کہ آپ کسی کو خطبے کے دوران بات کرتے ہوئے دیکھیں، تو اس غلطی پر عمومی انداز میں تنبیہ کریں۔
(خطبہ کے بعد خطیب کے لئے کچھ نصیحتیں)
خطبہ کے بعد آپ کو چاہیے کہ چند امور انجام دیں، جن میں سے بعض یہ ہیں:
1: خطبہ کی ادائیگی کی توفیق پر اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا۔
2 : خطبات پیش کرنے کے بعد ان (کی رکارڈنگ) سننا، تاکہ مثبت پہلوؤں کو تقویت دے کر انہیں پختہ کیا جائے، اور منفی پہلوؤں سے گریز کرکے انہیں دور کیا جائے۔
ان سب کا حاصل یہ ہے:
1: خطبہ کے مقام کی تعظیم، کیونکہ اسلام میں اس کا بڑا مقام ومرتبہ ہے۔
2 : ان نمازیوں کا احترام جو اپنے رب کی اطاعت کرنے، اپنے خالق کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے، اور آپ کی بات سننے کی محبت میں حاضر ہوئے ہیں۔
یہ بھی ممکن ہے کہ آپ اپںا خطبہ کسی سچے خیر خواہ کے حوالے کردیں تاکہ وہ اس میں موجود خوبیوں اور خامیوں کی نشاندہی کرے۔
اسی طرح اگر اسے ریکارڈ کرکے نشر کرنا ممکن ہو، خاص طور پر ان ممالک میں جہاں خطیبوں کی کمی ہو، تو اسے آڈیو اور تحریری شکل میں نشر کرنا چاہیے تاکہ وہ عام لوگ بھی اس سے مستفید ہوسکیں جو آپ کے ساتھ نماز ادا نہیں کر پاتے۔
اگر ان کے لیے سوشل میڈیا پر ایک خاص پیج اور ایک خاص ویب سائٹ بنائی جائے، تو یہ بہتر ہوگا۔
اسی طرح خطبات نشر کرنے والے ویب سائٹس کے ساتھ تعاون کریں اور ان ویب سائٹس پر اپنے خطبات نشر کریں، خصوصاً ترجمہ شدہ خطبات، کیوں کہ ان کی تعداد بہت کم ہے۔
(خطیب اور داعی الی اللہ کے لئے عام نصیحتیں)
برادرِ عزیز خطیبِ جمعہ! آپ کی خدمت میں یہ چند نصیحتیں پیش کی جا رہی ہیں، جو ہمارے (اور آپ کے لیے) محض ایک تذکیر ہیں:
[1] (خوش خبری دیں، متنفر نہ کریں)
کامیاب اور توفیق یافتہ خطیب وہ ہے جو بشارت دیتا ہے اور متنفر نہیں کرتا، لوگوں میں امید اور نیک فال کی روح پھونکتا ہے، مایوسی اور سستی کا غبار زائل کرتا ہے اور جد وجہد اور عمل کی ترغیب دیتا ہے۔
اے میرے خطیب بھائی! آپ کے خطبات محض المیوں، مصیبتوں اور ان منفی باتوں کے گرد نہیں گھومنے چاہیے جو ہر زمانے میں اور ہر جگہ رونما ہو سکتی ہیں، بلکہ اپنے بیشتر خطبات میں امید کی بات کریں اور اخلاق وکردار اور شخصیات کی روشن مثالیں پیش کریں، تاکہ لوگ ان اخلاق وکردار اور ان شخصیات کو اپنے لیے نمونہ اور مشعل راہ بنائیں۔
اگر آپ کوئی غلطی دیکھیں تو اس پر شرعی طریقے اور مناسب اسلوب سے تنبیہ کرنے اور لوگوں کو اس سے خبردار کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
[2] (عوام الناس کو اپنے پیشِ نظر رکھیں)
اللہ آپ کی حفاظت فرمائے، آپ عوام الناس کو اپنے پیشِ نظر رکھیے؛ کیونکہ وہی آپ کے خطبات اور نصیحتوں کے سب سے زیادہ حق دار اور مستحق ہیں؛ جیسا کہ نبی ﷺ نے عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے اس وقت فرمایا، جب انہیں ان کی قوم کا امام مقرر کیا گیا تھا: ’’ان میں سب سے کمزور شخص کی اقتدا کرو‘‘[8] - اسے ابو داود (531)، ابن ماجہ (987)، احمد (17906) اور دیگر محدثین نے روایت کیا ہے اور البانی نے اسے صحیح کہا ہے۔
یعنی کمزور ترین شخص کی حالت کا خیال رکھا جائے اور ایسی نماز پڑھائی جائے جو ان پر گراں نہ گزرے، کم فہم لوگوں کا خیال رکھنا، جسمانی طور پر کمزور لوگوں کا خیال رکھنے سے کم اہم نہیں ہے۔
لیکن اگر آپ نے صرف خاص طبقہ اور چنیدہ افراد، اپنے چاہنے والوں اور شاگردوں کا خیال رکھا اور عوام الناس پر توجہ نہ دی، تو یہ عمل آپ کو کئی خرابیوں میں مبتلا کردے گا:
1- الفاظ کے انتخاب میں تکلف سے کام لینا اور عوام الناس کی غالب اکثریت کے معیار سے پہلو تہی کرتے ہوئے محض خاص طبقہ کے مطابق قافیہ بندی کرنا اور موضوعات تراشنا۔
2: عوام الناس کو ان کے لیے نفع بخش وعظ ونصیحت اور سماجی مسائل کے حل سے محروم کر دینا؛ کیونکہ آپ بطور مقرر یا عالم دانشوروں اور دیگر خاص طبقے کی دلچسپیوں میں مشغول ہو گئے۔ یہ لوگ تو علوم کی باریکیوں، علمی استنباطات، نئی اور انوکھی باتیں سننے کے خواہشمند ہوتے ہیں۔ ان میں سے بعض حضرات سیاست اور حالاتِ حاضرہ کی موشگافیوں میں ڈوب کر گفتگو سننا پسند کرتے ہیں، حالانکہ یہ سب باتیں انہیں ان کے دین اور دنیا میں کوئی فائدہ نہیں پہنچائیں گی۔
3: نیت کی خرابی، کیوں کہ آپ کا خطبہ خالص اللہ کی رضا کے لیے ہونے کے بجائے، آپ سے محبت کرنے والوں کی رعایت اور ان چیزوں کے اہتمام کی طرف پھر گئی ہے جو انہیں بھاتی اور راضی کرتی ہیں۔
لہٰذا جب آپ اپنے خطبوں کی عوامی مقبولیت اور ان میں شرکت اور ان کی سماعت کے لیے لوگوں کی دوڑ دھوپ دیکھیں گے، تو بلاشبہ آپ ان کا پاس ولحاظ رکھیں گے اور ان کی پسند کے مطابق خطبہ دیں گے۔
ایسے میں اللہ تعالیٰ آپ سے برکت، مقبولیت، نفع اور افادیت سلب کر لیتا ہے۔
خطیب کی جانب سے عوام الناس کے فائدے کا خیال رکھنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ وہ ایسے اہم مسائل پر بالکل بات نہ کرے جو بہت سے عام لوگوں کی فہم سے بالاتر ہوں، اور جن سے بعض خاص طبقہ جیسے طلبہ یا ذمہ داران وحکام وغیرہ ہی فائدہ اٹھا سکتے ہوں؛ البتہ ایسا حسبِ ضرورت ہی ہونا چاہیے۔
[3](خود پسندی یا لوگوں کی مدح سرائی سے اجتناب کریں)
جب جمعہ کا خطیب منبر پر چڑھتا ہے اور دیکھتا ہے کہ لوگوں کی بڑی تعداد اس کے سامنے موجود ہے، جو اس کی طرف متوجہ ہو کر اس کی باتوں کو سننے کے لیے آئے ہیں، اور ان میں عالم، طبیب، بڑی شخصیت، قاضی، امیر اور ذمہ دار لوگ بھی ہیں، تو ممکن ہے کہ اس کے دل میں خود پسندی پیدا ہو جائے، بالخصوص جب اسے یہ علم ہو کہ ان میں سے بہت سے لوگ اسی کی وجہ سے آئے ہیں۔ لہٰذا ایک عقل مند خطیب پر لازم ہے کہ وہ خود پسندی اور غرور سے اللہ کی پناہ مانگے، ہر جمعہ اپنے نفس سے اس خود پسندی کو دور کرنے کی کوشش کرے، اور اس فضل واحسان کو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف منسوب کرے جس نے لوگوں کو اس کی طرف متوجہ کیا۔
کسی سلف کا قول ہے: "جب تم لوگوں کی مجلس میں بیٹھو تو اپنے دل اور نفس کو نصیحت کرتے رہو، ان کا تمہارے گرد جمع ہونا تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے؛ کیونکہ وہ تمہارے ظاہر کی نگرانی کرتے ہیں، اور اللہ تمہارے باطن کی نگرانی فرماتا ہے۔" ([9]) - "مدارج السالكين بين منازل إياك نعبد وإياك نستعين": (2/ 66).
چنانچہ اللہ عزوجل کے لیے اخلاص اختیار کیجیے اور اپنے ایمان کو مضبوط بنائیے اور اس بات سے ہوشیار رہیے کہ کہیں لوگوں کی تعریف آپ کو خود پسندی میں نہ مبتلا کردے؛ کیونکہ اکثر لوگ جب تعریف کرتے ہیں تو مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں، جبکہ آپ اپنے نفس کو سب سے بہتر جانتے ہیں!
ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "سب سے بڑی آزمائش عوام کی مدح سرائی ہے، کہ اس نے کتنوں کو دھوکے میں ڈالا ہے!" [10]۔ - [صيد الخاطر: 67]
یہ کوئی عیب کی بات نہیں کہ آپ اپنی شخصیت یا اپنے خطبات کے تئیں لوگوں کی تعریف سے خوش ہوں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا: اس شخص کے بارے ميں آپ کا کيا خيال ہے جو نيک عمل کرتا ہے اور لوگ اس پر اس کی تعریف کرتے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’یہ مومن کے لیے پیشگی خوش خبری ہے۔‘‘ ([11]) - صحیح مسلم: (2642)۔
چنانچہ جب مومن کوئی عمل کرتا ہے ’’جس نے خالص اللہ کے لیے عمل کیا، پھر اللہ نے مومنوں کے دلوں میں اس کی اچھی تعریف ڈال دی، تو وہ اللہ کے فضل ورحمت پر خوش ہوا اور (لوگوں کی تعریف) پر بھی مسرور ہوا، تو اس سے اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔‘‘ ([12]) - جامع العلوم والحكم لابن رجب: 1/84
عیب اور گناہ تو بس یہ ہے کہ جب ان کی تعریف کی وجہ سے تمہارے اندر خود پسندی آ جائے، تو تم اپنی کوشش اور عمل پر خوش ہو اور فضل کو اپنی طرف منسوب کرو، اور تمہاری یہ خوشی اللہ تعالیٰ کے اس فضل، رحمت اور کرم کی وجہ سے نہ ہو جس نے تم تک بھلائی پہنچائی، اسے تمہارے لیے محبوب اور آسان بنا دیا۔
خودپسندی کی بیماری میں مبتلا ہونے کی نشانی یہ ہے کہ تنقید سے نفرت ہو اور ناصح کی نصیحت ناگوار گزرے۔
[4](ایسی باتیں کریں جو لوگوں کے دین ودنیا کے لیے مفید ہوں)
جو لوگ سننے کے لیے آئیں ان کو وہ باتیں سنائیں جو ان کے دین اور دنیا کے لیے نفع بخش ہوں، تیاری کے دوران اپنے آپ سے سوال کریں کہ جب لوگ مسجد سے نکلیں گے تو دین اور اخلاق کے تعلق سے کونسی مفید باتیں لے کر نکلیں گے؟
جس چیز سے انہیں فائدہ نہ ہو، اس کا ذکر نہ کریں۔
مثال کے طور پر اگر میں سیاست کی باریکیوں پر گفتگو کروں، یا مسلمانوں کے مصائب کا بکثرت تذکرہ کروں تو اس سے ان کو کیا فائدہ ملے گا؟
پھر میرے ایک ایسے موضوع کو پیش کرنے سے انہیں کیا فائدہ ہوگا جو اتنا حساس ہو کہ میں اس کی وضاحت کرنے سے خود خائف ہوں، چنانچہ میں ایسے اشاروں اور کنایوں سے کام لوں جنہیں خواص الخواص کے سوا کوئی نہ سمجھ سکے؟
بھلا اس سے لوگوں کو کیا فائدہ ہوگا کہ میں حاکم کو لوگوں کے سامنے صراحتاً یا اشارتاً نصیحت کروں، جبکہ حاکم کو علانیہ نصیحت کرنے سے سلف صالحین نے منع کیا ہے؛ کیونکہ یہ کام اکثر فتنوں کو ابھارتا اور خود خطیب کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔
[5](خطبہ کے دوران سکون کا اہتمام)
خطیب کو چاہیے کہ وہ خطبہ کے دوران پرسکون رہے، جوش و جذبے میں آکر موضوع سے نہ ہٹے، اور نہ ہی کوئی ایسی بات کہے جس پر بعد میں اسے افسوس ہو۔ جب خطیب کا جوش وخروش بڑھ جاتا ہے تو وہ اکثر اپنی توجہ اور گفتگو پر قابو کھو بیٹھتا ہے، بسا اوقات اس کی آواز اتنی بلند ہو جاتی ہے کہ بہت سے سامعین کو اذیت پہنچنے لگتی ہے۔
[6](خطبے میں طوالت سے احتیاط)
نبی ﷺ خطبہ مختصر فرماتے تھے، اسی طرح آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم اور ان کے بعد آنے والے اسلافِ امت رحمہم اللہ تعالی کا بھی یہی طریقہ تھا۔
ابو وائل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا، اور اسے مختصر مگر نہایت جامع رکھا۔ جب وہ منبر سے اترے تو ہم نے کہا: ”اے ابو الیقظان! آپ نے بہت جامع اور مختصر خطبہ ارشاد فرمایا ہے، کاش آپ اسے کچھ اور طویل فرماتے؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’آدمی کا لمبی نماز پڑھنا اور اپنا خطبہ مختصر کرنا اس کی سمجھ داری کی علامت ہے، اس لیے تم نماز لمبی کیا کرو اور خطبہ مختصر دیا کرو، بے شک بعض بیان میں جادو کا اثر ہوتا ہے۔‘‘ ([13]) (صحیح مسلم: 869)۔
حدیث میں وارد لف’تَنَفَّسْتَ‘‘ کا مطلب ہے: آپ خطبہ طویل فرماتے۔
حدیث میں وارد لفظ ’مَئِنَّةٌ‘ کے معنی علامت کے ہیں۔ «یعنی ان چیزوں میں سے ہے جن سے آدمی کی فقہ پہچانی جاتی ہے، اور ہر وہ شے جو کسی چیز پر دلالت کرے وہ اس کی علامت ہوتی ہے۔»
خطبہ مختصر رکھنے کے تین نفیس فائدے ہیں:
پہلا: سنت کی اتباع۔
دوسرا: خطبہ کی تیاری میں آسانی ہوتی ہے، اس کی تیاری کے وقت، خطبہ دینے کے دوران اور اس سے فارغ ہونے کے بعد ذہنی سکون واطمینان حاصل ہوتا ہے۔
بہت سے خطیبوں کو جمعہ کی فجر یا اس سے بھی پہلے سے خطبے کی فکر لاحق رہتی تھی اور وہ ذہنی طور پر اس کی تیاری میں مشغول رہتے تھے۔ لیکن جب انہوں نے خطبہ مختصر کیا اور دس منٹ کے اندر خطبہ سمیٹنے لگے، تو ساری فکر جاتی رہی یا اس کا بڑا حصہ زائل ہو گیا۔
تیسرا: سننے والوں کا خیال رکھنا، کیونکہ تقریباً تمام لوگ اس شخص سے خوش ہوتے ہیں جو اپنا خطبہ مختصر کرتا ہے، اور اس سے متنفر ہوتے ہیں جو لمبا خطبہ دیتا ہے۔
خطیب اور سننے والوں کے لیے مناسب وقت تقریباً دس سے پندرہ منٹ ہے؛ کیونکہ لوگ اس بات پر تقریباً متفق ہیں کہ خطبے کی طوالت کے مقابلے میں اس کا اختصار انہیں زیادہ پسند اور ان پر زیادہ آسانی کا باعث ہے۔
[7](مشکل اور غیر مانوس کلام سے بچیں)
نا مانوس اور غیر معروف گفتگو سے پرہیز کرنا، کیونکہ لوگوں کو ایسی باتوں کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی اور نہ ہی اس سے انہیں کوئی فائدہ پہنچتا ہے۔ بسا اوقات ایسی باتیں کرنے اور انہیں کثرت سے بیان کرنے میں نفس کے اپنے مقاصد بھی کارفرما ہوتے ہیں۔
جبکہ معتبر ادباء و بلغاء نے نا مانوس کلام سے منع کیا ہے۔
[8](تکلف کے ساتھ مسجَّع کلام سے گریز کریں)
مسجّع کلام سے مراد ہے: ’’نثری کلام کے آخری الفاظ کا ایک ہی وزن پر ہونا‘‘۔ شارعِ حکیم نے پُر تکلف سجع سے منع فرمایا ہے اور ادباء و بلغاء نے اسے ناپسند کیا ہے؛ «کیونکہ سجع ایسے پُر تکلف الفاظ سے خالی نہیں ہوتا جو سامعین کے ذہن کو معانی کے کامل فہم سے دور کر دیتے ہیں، البتہ اگر سجع کی گنجائش ہے تو صرف اس کی جو بے ساختہ اور بلا تکلف ہو، یعنی وہ سجع جو متکلم پر خود وارد ہو نہ کہ وہ جسے متکلم تلاش کرے» ([14])۔ - اصول الإنشاء والخطابۃ لابن عاشور: (ص: 126)۔
چنانچہ سجع میں تکلف سے پرہیز کریں؛ کیونکہ اس کا تکلف آپ کو اسے بنانے کی مشقت میں اور سننے والوں کو اسے سمجھنے کی مشقت میں ڈال دے گا۔ البتہ اگر یہ آپ کے ذہن پر آسانی سے آئے، اس کے الفاظ آپ کی زبان پر رواں ہوں اور سننے والے کے لیے قابلِ فہم ہوں، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
[9](ظاہری شکل وصورت کا اہتمام)
خطیب کا اپنے ظاہر کی بہتری کا اہتمام اپنے باطن کی بہتری کے اہتمام سے کم اہم نہیں ہے، ظاہر کی بہتری یا فساد تو باطن کی بہتری یا فساد ہی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ خطیب کے ظاہر کی بہتری درج ذیل امور سے ہوتی ہے:
1: مبالغہ اور فضول خرچی کے بغیر لباس خوبصورت اور صاف ستھرا ہو۔
2: جسمانی جمال؛ یعنی اس کی صفائی، اچھی خوشبو، مونچھیں منڈوانا یا تراشنا، اور داڑھی بڑھانا۔
3: چہرے کا جمال اس کی بشاشت اور مسکراہٹ ہے؛ بایں طور کہ وہ مسجد سے باہر لوگوں کو سلام کرے، جب خطبہ کے لیے داخل ہو اور اس سے فارغ ہو تو لوگوں کو سلام کرے۔ بے شک سچی مسکراہٹ، خندہ روئی اور اچھی بشاشت لوگوں کے دل میں خطیب اور اس کے خطبات ونصائح کی محبت پیدا کرتی ہے۔ یہ اس شخص کے لیے عبادت ہے جو اس میں اللہ کے لیے اخلاص سے کام لے۔ یہی وہ چیز ہے جو دل ودماغ کو مسخر کر لیتی ہے۔ خوش مزاج شخص کے افعال قابلِ ستائش اور اس کی لغزشیں قابلِ قبول ہوتی ہیں، برخلاف ترش رو اور تیوری چڑھانے والے کے، کہ وہ ان میں سے ہے جن سے پناہ مانگی جاتی ہے اور جس سے ملاقات کے وقت دل پر پریشانی اور گھٹن طاری ہو جاتی ہے۔
چنانچہ میرے خطیب بھائی! آپ ہشاش وبشاش رہیے، آپ دیکھیں گے کہ آپ کا سینہ کشادہ ہو جائے گا، لوگ آپ کی طرف مائل ہوں گے، ان کے درمیان آپ کا ذکرِ خیر ہوگا، وہ آپ کے وعظ ونصیحت کو قبول کریں گے اور آپ کی لغزشوں کے لیے عذر تلاش کریں گے۔
4: چلنے پھرنے، منبر پر چڑھنے اور اس پر بیٹھنے، اور نشست وخطبہ کے دوران لوگوں کا حسنِ استقبال کرنے میں تواضع اور ادب کا مظاہرہ کرنا۔
یہ بھی مشاہدے میں آیا ہے کہ بعض خطباء جب خطبے سے پہلے بیٹھتے ہیں تو ان کے انداز میں لوگوں کے تئیں لاپرواہی ہوتی ہے، اور وہ لوگوں کے چہروں کا جائزہ لینے میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ جب خطبہ شروع کرتے ہیں تو سامعین کی طرف ایسی نظروں سے دیکھتے ہیں جن سے بے اعتنائی کا تاثر ملتا ہے، گویا وہ انہیں یہ احساس دلا رہے ہوں کہ وہ بڑے بہادر اور جری ہیں۔ وہ ان سے سخت لہجے اور بلند آواز میں مخاطب ہوتے ہیں اور براہِ راست امر ونہی شروع کردیتے ہیں۔ یہ وہ اسلوب ہے جسے طبیعتیں قبول نہیں کرتیں، بلکہ اس سے متنفر ہوتی ہیں۔
5: بلا ضرورت داڑھی پر ہاتھ پھیرنے اور اسے چھونے سے گریز کریں، خاص طور پر منبر پر بیٹھنے کے دوران کثرت سے اِدھر اُدھر دیکھنے سے پرہیز کریں؛ کیوں کہ اس سے خطیب کی ہیبت میں کمی آتی ہے، یا سامعین کے تئیں اُس کی بے توجہی کا تاثر پیدا ہوتا ہے۔
6: نرمی اور ادب سے مسواک کرنا۔ بعض خطباء -اللہ انہیں ہدایت دے- جب مسجد میں داخل ہوتے ہیں تو بڑے نمایاں انداز سے مسواک کر رہے ہوتے ہیں، اور بعض تو خطبہ شروع ہونے سے کچھ دیر پہلے تک مسواک کرتے رہتے ہیں، جس کی وجہ سے مسواک کے کچھ اجزاء ان کے منہ میں باقی رہ جاتے ہیں، پھر وہ خطبہ دیتے ہوئے انہیں منہ سے نکالتے ہیں۔ یہ ایک قبیح عمل ہے، اس سے سامعین اور خطبہ کے عظیم مقام کے تئیں ان کی لاپرواہی کا تاثر پیدا ہوسکتا ہے۔
7: سنت کی پیروی کرتے ہوئے کپڑے ٹخنوں سے نیچے نہ کریں اور داڑھی بڑھائیں۔ کیونکہ خطیب ایک نمونہ ہوتا ہے، لوگ اس شخص کی پیروی کیسے کریں گے جس کا عمل اس کے قول کے خلاف ہو؟ اور اس شخص کی بات سے کیسے متاثر ہوں گے جو خود اپنی بات سے متاثر نہ ہوا ہو؟
8: گفتگو کے وقت جسمانی سکون، کیونکہ یہ نفس کے سکون کی دلیل ہے۔
[10](خطبہ تیار کرنے کی مدت میں تفاوت)
خطبہ تیار کرنے کی مدت: خطیب کے علم وثقافت اور پیش کیے جانے والے مواد کے اعتبار سے یہ مدت مختلف ہوتی ہے، چنانچہ مواد دو قسموں سے خالی نہیں ہوتا:
پہلی قسم: خطبہ علمی ہو، جیسے فقہی یا اعتقادی مسائل اور ان کی تفصیل، لہٰذا ان موضوعات کو ان کے شایان شان وقت دیا جانا چاہیے، ان میں تساہل نہیں برتنا چاہیے اور نہ ہی خطبے سے چند گھنٹے قبل ان کی تیاری کرنی چاہیے۔
دوسری قسم: خطبہ واعظانہ ہو یا سماجی موضوع پر ہو، تو اس کی تیاری میں عام طور پر وقت کم لگتا ہے۔
خطابت کے میدان میں نئے آنے والے شخص کے لیے میری نصیحت -جس کے پاس کافی تجربہ اور علم نہ ہو- یہ ہے کہ وہ ابتدا میں اپنے پیش رو خطباء کے خطبات سے استفادہ کرے، اور جس (خطیب) سے وہ استفادہ کرے، اس کے خطبات میں تین صفات ہونی چاہیے:
پہلی شرط: وہ مختصر ہو، تاکہ اسے پیش کرنے میں مشقت نہ ہو۔
دوسری شرط: وہ نحوی اور علمی اعتبار سے صحیح ہو۔
تیسری شرط: اس کے الفاظ اور مضامین تکلف سے پاک ہوں۔
اس میں کوئی حرج نہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ اس میں اپنی صواب دید سے ترمیم یا اضافہ کرلے، پھر اس کے بعد اپنے اسلاف سے استفادہ کرتے ہوئے خود خطبہ لکھنے کی کوشش کرے۔
[11] (سامعین کو براہ راست حکم دینے سے گریز کریں)
اللہ آپ کی حفاظت فرمائے اور آپ کو توفیق عطا فرمائے، ان الفاظ سے اجتناب کریں جن میں متکلم کے بجائے صرف سامعین کو حکم دیا گیا ہو، جیسے: ’تم کرو‘ یا ’تم نہ کرو‘۔ اس کے بجائے یہ استعمال کریں: ’ہمیں کرنا چاہیے‘ اور ’ہمیں نہیں کرنا چاہیے‘ وغیرہ۔ کیونکہ یہ اسلوب سامعین کو آپ کی تواضع کا اور اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ آپ ان کے لیے بھی وہی بھلائی پسند کرتے ہیں جو اپنے لیے کرتے ہیں، اور یہ کہ آپ ان سے دین واخلاق میں برتر نہیں ہیں۔
کامیاب خطیب وہ ہے جو دوسروں سے مخاطب ہونے سے پہلے خود سے مخاطب ہوتا ہے اور دوسروں کو نصیحت کرنے سے پہلے خود کو نصیحت کرتا ہے۔ اسی لیے اس کے کلام کا پہلا مخاطب لوگوں سے پہلے اس کی اپنی ذات ہوتی ہے۔ جب وہ ایسا کرتا ہے تو اللہ اسے بلند مقام عطا فرماتا ہے، اس کی اپنی باتوں سے اسے نفع پہنچاتا ہے، اس کی ہدایت، مقبولیت اور سچائی میں اضافہ فرماتا ہے۔
[12](خطابت میں نقالی کب مقبول اور کب معیوب ہے؟)
کسی مخصوص خطیب کے اسلوب یا مواد کی نقل نہ کریں، کیونکہ جو چیز اس کے لیے مناسب ہے، ممکن ہے وہ آپ کے لیے مناسب نہ ہو۔ نقالی آپ کی تخلیقی صلاحیتوں اور مہارتوں کو ضائع کر دیتی ہے، لہٰذا اپنے رب کی عطا کردہ صلاحیتوں، مہارتوں اور علم کے مطابق خطبہ دیں۔
البتہ مبتدی خطیب کے لیے اس میں کوئی حرج نہیں کہ وہ دوسروں کے اسلوب اور مواد سے استفادہ کرے، لیکن اس کی ہو بہو نقل نہ کرے، بلکہ اسے اپنی ترقی اور بہتری کے لیے ایک معاون کے طور پر اپنائے۔
[13](اپنے سامعین کی قلت پر رنجیدہ نہ ہوں، اور نہ ان کی کثرت سے خوش ہوں)
جان لیجئے -اللہ آپ کے ذریعہ دوسروں کو نفع پہنچائے- کہ نفس سامعین وحاضرین بطور خاص رشتہ دار اور احباب کی کثرت کا خواہش مند ہوتا ہے۔ بسا اوقات آپ ان کی حاضری کے بارے میں پوچھتے بھی ہیں یا ان میں سے کسی کے حاضر نہ ہونے پر -خواہ دل ہی دل میں سہی- گلہ شکوہ بھی کرتے ہیں۔ لہٰذا اس بیماری سے چھٹکارا پانے کے لیے اپنے نفس سے مجاہدہ کریں، کیونکہ کسی کا آپ کے پاس حاضر نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کمزور ہیں، بلکہ اس لیے کہ اسے دوسرے خطیب کے پاس زیادہ راحت اور فائدہ محسوس ہوتا ہے، یا (دوسری مسجد) اس کے گھر سے قریب ہے، یا اس کے علاوہ دیگر اسباب بھی ہو سکتے ہیں۔
سچا خطیب یہ سن کر خوش ہوتا ہے کہ لوگ اس کے علاوہ کسی دوسرے کے پاس بھی جاتے ہیں، اس کے لیے اللہ سے توفیق اور افادیت کی دعا کرتا ہے، اور جب اسے اس کی کوئی خوبی معلوم ہوتی ہے تو اس کی تعریف کرتا ہے۔
جب آپ دیکھیں کہ آپ کے پاس لوگوں کی حاضری کم ہو گئی ہے اور وہ آپ سے گریزاں ہیں، تو اپنا محاسبہ کریں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ کمی آپ ہی کی طرف سے ہو؛ یا تو آپ کے اندازِ بیان میں کمزوری ہے، یا آپ جو مواد پیش کرتے ہیں وہ کمزور ہے، یا آپ خطبہ طویل کر دیتے ہیں، یا آپ کے اخلاص میں کوئی کمی ہے، یا اسی طرح کی کوئی اور بھی وجہ ہو سکتی ہے۔
سچے اور خیر خواہ بھائیوں سے نصیحت طلب کریں، ان سے اپنے خطبہ میں حاضر ہونے یا اپنا خطبہ سننے کی درخواست کریں، اور ان سے صدق دل سے یہ بھی طلب کریں کہ وہ آپ کو اپنے تاثرات اور آراء سے آگاہ کریں۔ (ایسا کریں گے تو) اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ کو بڑے مفید نتائج حاصل ہوں گے۔
[14](اچھی تیاری کی اہمیت)
اگر آپ برجستہ خطبہ دیتے ہیں: تو اس کی اچھی طرح تیاری کریں، اس میں ہرگز کوتاہی نہ برتیں، بھلے ہی آپ کو موضوع آسان اور سہل لگے اور آپ اس پر پہلے بھی گفتگو کر چکے ہوں۔
اچھی تیاری خطباء کے نزدیک ایک نہایت ہی پر لطف کام ہے؛ بلکہ وہ تو جمعہ کے دن کے مشتاق رہتے ہیں تاکہ اپنی محنت سے تیار کردہ خطبہ پیش کر سکیں۔
خود تیاری نہ کرنے اور ہمیشہ دوسروں کے خطبات پر اکتفا کرنے کے بہت سے منفی نتائج ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:
پہلا: اس سے ہمت کمزور ہوتی، عزیمت پست ہوتی، اور نفس ذلیل ہوکر دوسروں کی تقلید پر اکتفا کرنے لگتا ہے۔
دوسرا: یہ کہ اس سے آپ کا جوش وخروش، سرگرمی اور لذت ختم ہو جاتی ہے، چنانچہ یہ ایک ایسا بوجھ بن جاتا ہے جسے آپ اپنے سر سے اتارنا چاہتے ہیں، اس کا آپ کے اسلوب اور لوگوں میں آپ کی مقبولیت پر اثر پڑتا ہے۔
تیسرا: بہت سے لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ خطیب نے خطبہ خود تیار نہیں کیا، بلکہ کسی اور سے نقل کیا ہے، کیونکہ خطبے کا اسلوب اور مواد خطیب کے اپنے اسلوب اور معیار سے مختلف ہوتا ہے، چنانچہ ان کے نزدیک اس خطبے کو قبولیت حاصل نہیں ہوتی۔
چوتھا: اس سے آپ کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا، اور اگر ہوا بھی تو بہت معمولی۔ کیونکہ وہ کام جس کی تحقیق و تیاری میں محنت نہ کی گئی ہو، وہ جلد ہی بھلا دیا جاتا اور مٹ جاتا ہے۔
آپ ہرگز آگے نہیں بڑھ سکتے، نہ آپ کا عزم وحوصلہ بڑھ سکتا ہے، نہ آپ کی ہمت بلند ہو سکتی ہے اور نہ آپ کے علم سے فائدہ پہنچ سکتا ہے، جب تک کہ اللہ تعالیٰ نہ چاہے۔
اسی لیے آپ دیکھیے کہ جس خطبے کی تیاری آپ نے اچھی طرح کی ہو، آپ اسے بھولتے نہیں ہیں، اور اگر سالوں بعد بھی اس کی طرف رجوع کریں تو آپ کو اس کا مضمون یوں یاد ہوتا ہے گویا آپ نے ابھی حال ہی میں اسے پیش کیا ہے۔
رہے وہ خطبے جو آپ دوسروں سے نقل کرتے ہیں، تو وہ بہت جلد ذہن سے محو ہو جاتے ہیں۔ آپ اس کا تجربہ کر کے دیکھ سکتے ہیں؛ ان خطبوں کو یاد کرنے کی کوشش کریں جن پر چار یا پانچ سال گزر چکے ہوں، آپ دیکھیں گے کہ آپ انہیں بھول چکے ہیں یا ان میں کہی گئی باتوں کا بہت معمولی حصہ ہی آپ کو یاد رہ گیا ہے۔
آپ اسے مفید کتابی شکل دینے کے لیے اس کا مواد جمع کرنے میں بھی اس سے فائدہ نہیں اٹھا پائیں گے۔
اس لیے خطبے کی تیاری میں یوں محنت کریں گویا کہ آپ اسے ایک کتاب کی صورت میں شائع کریں گے، چنانچہ احادیث کی تخریج کریں اور بعض محدثین کے کلام کی مدد سے ان کی صحت کا درجہ بیان کریں، جن مراجع ومصادر سے آپ نے استفادہ کیا ہے انہیں ذکر کریں، اور نحوی، املائی اور لغوی اعتبار سے خطبہ کا اہتمام کریں۔
[15](رُمُوزِ اَوقَاف کا اہتمام)
خطبہ پڑھتے وقت رموزِ اوقاف، جیسے وقفہ وغیرہ کا اہتمام کریں، اپنے سانس کی رعایت کرتے ہوئے ٹھہرنے کے لیے کچھ خاص علامات بھی مقرر کر لیں، تاکہ غیر مناسب مقامات پر بار بار رکنے سے دقت نہ ہو۔
[16](موضوعات اور اسالیب کے تنوع کی اہمیت)
موضوعات پیش کرنے میں تنوع لائیں، اور ایک ہی طرز تک محدود نہ رہیں، مثلاً آپ کے خطبے صرف احوالِ قلوب، امت کے عمومی معاملات یا اسی نوعیت کے دیگر موضوعات پر نہ ہوں، بلکہ لوگوں کی دینی اور دنیاوی ضروریات پر نظر رکھیں۔
بلکہ خوب تنوع پیدا کریں؛ تاکہ لوگوں کے دلوں میں آپ کے خطبات کا شوق پیدا ہو۔
اگر آپ نے اپنے خطبات کو باہم مربوط بنا رکھا ہے، تو بوقتِ ضرورت اس ربط کو توڑنے میں کوئی مانع نہیں۔
جان لیجیے کہ قرآن، صحیح حدیث اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اقوال سے ماخوذ قصوں کا سامعین پر نہایت گہرا اثر ہوتا ہے، اور ان میں بڑے اسباق وعبر، نصیحتیں اور موتیاں پنہاں ہوتی ہیں۔ چنانچہ ان (قصوں) کا خوب اہتمام کریں، انہیں پرکشش اسلوب میں پیش کریں اور ان سے فائدے اور عبرتیں مستنبط کریں۔
اپنے خطبے کو واقعات، قصوں، اور حقیقی مثالوں وغیرہ کے ذکر سے خالی نہ رکھیں؛ تاکہ آپ کے خطبے بیزار کُن اور بوجھل نہ بن جائیں۔
اس بات کا شدید اہتمام کریں کہ قصوں اور واقعات کو پیش کرنے کا اسلوب بہترین ہو، آپ ان کے ساتھ اپنے وجدان سے جڑ جائیں، اور اس کا اظہار آپ کے چہرے کے تاثرات اور آواز کے اتار چڑھاؤ سے ہو۔
اس بات کی کوشش کریں کہ آپ لوگوں کے حقیقی حالات اور ان کے غموں میں شریک ہو کر زندگی گزاریں، تاکہ ایسا نہ ہو کہ آپ ایک وادی میں ہوں اور وہ دوسری وادی میں۔
[17](تقریر اور تاثیر کی مہارتیں اور فنون حاصل کرنے کی اہمیت)
خطیب ہی وہ شخص ہے جو فنِ تقریر اور اندازِ بیاں کی مہارتیں حاصل کرنے کا سب سے زیادہ مستحق ہے؛ کیونکہ اسے لوگوں کو قائل کرنے اور ان کی توجہ اپنی طرف کھینچنے کی ضرورت ہوتی ہے، تاکہ وہ اس کی بات کو قبول کریں۔
مضبوط اسلوب اور عمدہ اندازِ بیاں والے خطیب سے لوگ اکثر اس شخص کے مقابلے میں زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں جس میں یہ خوبی نہ ہو، خواہ وہ علم اور منصب میں اسے سے فائق ہی کیوں نہ ہو۔
لہذا خطیب کو چاہیے کہ وہ فنِ خطابت سے متعلق دروس سنے، اور اگر ان دروس میں شریک ہو تو زیادہ بہتر ہے، یا اس فن سے متعلق کتابوں کا مطالعہ کرے۔
جو اللہ کے ساتھ سچائی کا معاملہ کرتا اور اپنی جان اور اپنا وقت اس کے لیے وقف کر دیتا ہے، تو اللہ اسے اپنے لطف وکرم سے وہ کچھ عطا کرتا ہے جو اس کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کے خیال میں گزرتا ہے۔ جو اللہ کو وہ دیتا ہے جو اسے محبوب ہے، اللہ اسے اس سے بڑھ کر عطا کرتا ہے جو اسے محبوب ہے۔ جو اپنے آپ کو اللہ کے لیے مسخر کر دیتا ہے، اللہ اس کے لیے اپنی مخلوق کو مسخر کر دیتا ہے، اور اس کے لیے سعادت، رفعت اور تمکین کے اسباب مسخر فرما دیتا ہے۔
چنانچہ ربِ جلیل کی نوازشوں تک پہنچنے کا راستہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ سچی عزیمت اختیار کی جائے، اللہ کے تئیں قوتِ ارادی سے کام لیا جائے، اللہ کی محبت اور رضا کی خاطر اپنی پسند اور خواہش کو ترک کردیا جائے، اور اس کے دین وشریعت کی سربلندی کے لیے انتھک جد وجہد کی جائے، خواہ اس کی وجہ سے دنیا داروں، خواہش پرستوں اور اہلِ منصب کی نظر میں آپ کا مقام گِر ہی کیوں نہ جائے۔
[18](تجدید کا اصول)
اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں جدت اور بہتر تبدیلی کی محبت رکھی ہے، چنانچہ لوگ ایک حال پر قائم نہیں رہتے اور جب بھی زندگی میں کوئی نئی چیز آتی ہے تو اپنی استطاعت کے مطابق اسے حاصل کرنے کے لیے جلدی کرتے ہیں۔
لہذا آج کا آدمی وہ نہیں ہے جو دس سال پہلے تھا، بلکہ آج اس نے اپنی زندگی، رہن سہن، سواری اور گھر کو تبدیل کر کے بہتر بنا لیا ہے۔
جمعہ کا خطیب سب سے زیادہ اس بات کا حقدار ہے کہ وہ اپنے اسلوب میں جدت اور بہتری لائے، اور خطابت وتاثیر کی مہارتوں کو فروغ دے۔ کیونکہ اگر وہ اسی ایک طرز پر چلتا رہے جس پر وہ منصبِ خطابت سنبھالنے کے وقت سے کاربند ہے، تو بلاشبہ اس میں بہتری کی طرف کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، بلکہ تنزلی آئے گی۔ اس لیے کہ یہ انسان کی فطرت ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کی ہمت اور چستی کمزور پڑ جاتی ہے، اس کی روح مرجھا جاتی اور اس کی تاثیر کم ہو جاتی ہے۔ لہٰذا اسے ایسی چیز کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے فعال بنائے، اس کی ہمت اور روح کو تقویت بخشے، اور اس کی مہارتوں اور اسالیب کو پروان چڑھائے، تاکہ وہ کمزوری کی ان کیفیات پر قابو پا سکے جو اس پر اور اس کے حواس وہمت پر طاری ہوتی ہیں۔
اکثر خطیبوں میں، جب سے انہوں نے خطابت کا آغاز کیا ہے، کوئی واضح تبدیلی نہیں آئی، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ شروع ہی سے درجۂ کمال کو پہنچے ہوئے ہیں؟
نہیں۔
تو پھر کیا وجہ ہے کہ وہ اپنی اسی پرانی روش پر قائم رہتا ہے جس کا وہ عادی ہے، اپنے اسلوب اور طرزِ ادا میں بہتری، جدت اور مہارت لانے کے لیے صحیح اقدامات نہیں کرتا، حالانکہ وہ اپنے معاشی اور دنیاوی معاملات کو بہتر بنانے کے لیے بھرپور کوشش کرتا ہے؟
وہ آخر اس کے لیے کوشش کیوں نہیں کرتا جبکہ خطبے کا مقام اس کی زندگی کے اشرف و اعظم امور میں سے ہے؟
[19](دو مؤثر آلات یعنی آواز اور نظر کا اہتمام)
کامیاب خطیب کو اِن دو آلات کے استعمال کی اشد ضرورت ہے:
1- آواز، جو کہ سب سے زیادہ مؤثر ذریعہ ہے، اس کی تاثیر مندرجہ ذیل باتوں کو مدنظر رکھنے سے مکمل ہوتی ہے:
ا- آواز کے اتار چڑھاؤ اور رفتار میں اعتدال ہو، نہ تو اتنی پست یا سست ہو کہ سامعین اکتاہٹ اور ملول کا شکار ہو جائیں، اور نہ ہی اس قدر بلند یا تیز ہو کہ ان کے لیے زحمت کا باعث بنے یا ان کے سمجھ ہی میں نہ آئے اور سر کے اوپر سے گزر جائے۔
ب- لہجہ یکساں نہ ہو، کیونکہ بعض خطباء کا لہجہ پورے خطبے میں ایک جیسا رہتا ہے۔ چنانچہ اگر لہجہ دھیما ہو تو اس سے سامعین اکتا جاتے ہیں، اور اگر بہت بلند ہو تو ان پر گراں گزرتا ہے۔
ایک ہی لہجے میں بات کرنے سے سامعین خطیب کی گفتگو سے اپنا تعلق کھو دیتے ہیں؛ کیونکہ وہ اہم اور دیگر مقامات کے درمیان فرق نہیں کر پاتے، اس میں کوئی شک نہیں کہ اہم اور مؤثر کلام کا یہ تقاضہ ہے کہ آواز کو تیز کرنے کے ساتھ نمایاں طور پر بلند کیا جائے، یا اس کی رفتار کم کرنے کے ساتھ اسے پست کیا جائے۔
ج- جملوں کی آواز کو ان کے موقع محل کے مطابق ڈھالنا، چنانچہ اگر جملہ استفہامیہ ہو تو اسے استفہام کے سیاق میں ادا کریں، اگر جملہ تعجبیہ ہو تو اسے تعجب کے سیاق میں ادا کریں، اور اسی طرح دوسرے جملوں کا خیال رکھیں۔
د- اپنی معمول کی گفتگو کی نسبت خطبہ میں منہ زیادہ کھول کر بات کریں، کیونکہ اس سے حروف کے مخارج واضح ہوتے ہیں، وہ آپس میں خلط ملط نہیں ہوتے اور آواز پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔ لیکن مبالغہ کرنے سے گریز کریں، کیونکہ منہ کھولنے میں مبالغہ بے جا جوش کا باعث بنتا ہے اور ایسا منظر پیش کرتا ہے جو خطیب کے شایانِ شان نہیں۔
ھ- اپنے معمول کی آواز میں خطبہ دیں، خطبہ کے لیے کوئی خاص آواز اور انداز مخصوص نہ کریں، کیونکہ یہ عمل آپ کے اور لوگوں کے درمیان فاصلہ پیدا کر دے گا اور سامعین پر اثرانداز ہونے کے سب سے مؤثر ذریعے سے آپ کو محروم کر دے گا۔
ان مواقع پر مختصر توقف کرنا بہتر ہو؛ چنانچہ جب خطیب کوئی اہم نکتہ بیان کرے جسے وہ سامعین کے ذہنوں میں راسخ کرنا چاہتا ہو، تو وہ ان کی طرف متوجہ ہو، اور ایک لمحے کے لیے کچھ کہے بغیر براہِ راست ان کی آنکھوں میں دیکھے۔
اس اچانک خاموشی کا ان پر گہرا اثر ہوتا ہے، اس طور پر کہ یہ ان کی توجہ کھینچ لیتی ہے اور ان میں سے ہر ایک کو اس امر کے لیے چوکنا کر دیتی ہے جو اس خاموشی کے بعد واقع ہوگا۔
لیکن واجب ہے کہ یہ توقف طویل فاصلہ اور تکلف کے بغیر ہو۔
مثلاً: علی رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کی خدمت میں سونے کا ایک ٹکڑا بھیجا، تو آپ نے اسے اپنے بعض صحابہ کے درمیان تقسیم فرما دیا۔
تو ایک شخص نے آگے بڑھ کر کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ سے ڈریے۔ (...)
صادق وامین ﷺ کے حق میں یہ کیسی جرأت ہے!
اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے اس جرأت پر تعجب کرتے ہوئے فرمایا: (...) ’’اگر میں ہی اللہ کی نافرمانی کروں تو پھر اس کی اطاعت کون کرے گا؟ اللہ تو مجھے اہل زمین پر امین بناتا ہے اور تم مجھے امین نہیں سمجھتے؟‘‘
قوسین کا نشان ایک مختصر وقفے کی طرف اشارہ ہے؛ کیونکہ مقام کا تقاضا یہ ہے کہ سامعین کی توجہ کھینچ کر بعد میں آنے والی بات کے لیے ان میں شوق پیدا کیا جائے۔
پہلا جملہ: (صادق وامین ﷺ کے حق میں یہ کیسی جرأت ہے!) اسلوبِ تعجب تھا، چنانچہ مقام کا تقاضا تھا کہ اسے ایک متعجب کے انداز میں ڈھالا جائے۔
دوسرا جملہ: (اگر میں ہی نافرمانی کروں تو اللہ کی اطاعت کون کرے گا؟ اللہ تو مجھے اہلِ زمین پر امین بناتا ہے مگر تم مجھے امین نہیں سمجھتے؟)، یہ استفہامِ انکاری کا اسلوب تھا، چنانچہ مقام کا تقاضا تھا کہ آپ اسے استفہامِ انکاری کے انداز میں بیان کریں۔
2- نگاہ: نگاہ کو تمام سامعین پر تقسیم کرنا اور اپنی آنکھوں کے ذریعہ اپنی گفتگو کے ساتھ تاثر ظاہر کرنا، اس کا طریقہ یہ ہے:
ا- ہلکے انداز میں دائیں اور بائیں متوجہ ہونا، بغیر اس میں مبالغہ کیے، نہ بہت تیزی سے اور نہ ہی بار بار مڑنا؛ کیونکہ خاص طور پر خطیب کے لیے یہ پسندیدہ نہیں، اس لیے کہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ خطیب اپنے جذبات کے زیرِ اثر ہے، اور اس سے یکسوئی میں خلل پیدا ہوتا ہے۔
ب- آنکھ کو کھولنا یا اس پر ہلکا سا دباؤ ڈالنا؛ آنکھ کی حرکات کا حاضرین پر بہت گہرا اثر ہوتا ہے، اور وہ اس سے ایسے معانی بھی اخذ کرلیتے ہیں جنہیں بسا اوقات زبان بیان کرنے سے قاصر ہوتی ہے۔
آواز اور نظر: سامعین پر خطیب کے اثر انداز ہونے کے یہ دو بنیادی اسباب ہیں، ان دونوں کے بغیر ایک خطیب اپنا پیغام سامعین تک پہنچانے، انھیں قائل کرنے، ان کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے اور ان میں جوش ونشاط پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتا ہے۔
ہر خطیب کے لیے ممکن ہے کہ وہ آواز اور نظر کا استعمال بغیر کسی حرج اور تکلف کے کرے، لیکن بغیر مبالغہ کے؛ کیونکہ اس میں مبالغہ کرنا خِفت اور بے سنجیدگی کی علامت ہے، اسی طرح حد سے زیادہ سنجیدگی اور سکون بھی اُکتاہٹ اور بیزاری کا سبب بنتا ہے، اور بہترین امور وہ ہیں جو درمیانی ہوں۔
کچھ کام ایسے ہیں جو خطیبِ جمعہ کے لیے مناسب نہیں ہیں، ان میں سے چند یہ ہیں:
1- دونوں ہاتھوں کو حرکت دینا۔
2- بِشت (عبا) یا عمامہ ہلانا، لاؤڈ اسپیکر سے کھیلنا اور آگے پیچھے ہونا وغیرہ۔
[20] (ایسے کسی متعین صیغے کی پابندی نہ کریں جو صحیح حدیث سے ثابت نہ ہو)۔
کسی متعین صیغے کی پابندی نہیں کرنی چاہیے، سوائے اس کے جو صحیح حدیث سے ثابت ہو، تاکہ یہ گمان نہ کیا جائے کہ یہ سنت ہے، جیسے پہلے خطبے کے آخر میں یہ کہنا: «بَارَكَ اللهُ لِي وَلَكُمْ فِي القُرْآنِ العَظِيم...»۔
بعض خطباء اکثر وبیشتر خطبے کے آخر میں ایک (مخصوص) دعا کی پابندی کرتے ہیں جس سے وہ تقریباً باہر نہیں نکلتے، اور بعض خطباء مکرر اور طویل دعا کرتے ہیں، یہاں تک کہ جب خطیب دعا شروع کرتا ہے تو بہت سے لوگ تنگی اور بیزاری محسوس کرنے لگتے ہیں؛ کیونکہ وہ اس کی کثرتِ تکرار سے تھک چکے ہوتے ہیں، جس میں اندازِ خواندگی غالب ہوتا ہے اور دعا میں مطلوب تاثر مفقود ہوتا ہے۔
[21](مخارجِ حروف کا اہتمام کرنا اور انہیں خلط ملط نہ کرنا)
حروف کو ان کے مخارج سے پوری پختگی کے ساتھ ادا کرنے کا اہتمام کریں، کیونکہ فصاحت وبیان اور کلام کی قوت پر اس کا گہرا اثر پڑتا ہے۔
خطیب کی ایک خامی یہ بھی ہے کہ وہ عجلت میں الفاظ اس طرح ادا کرے کہ پہلا حرف یا لفظ اپنی جگہ پر ٹھہرے بھی نہیں کہ اسے دوسرے سے ملا دے، بہترین طریقہ یہ ہے کہ وہ حروف کو پوری پختگی سے ادا کرے اور کلمات کو واضح کرکے الگ الگ بیان کرے۔ ([15]) - الخطابۃ عند العرب، از محمد الخضر حسين، ص 189۔
تمام مخلوق میں سب سے فصیح وبلیغ انسان محمد ﷺ کا کلام اسی طرح ہوتا تھا۔
امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہيں: ”رسول اللہ ﷺ تمہاری طرح جلدی جلدی نہیں بولتے تھے“۔ ([16]) - صحیح بخاری: (3568)، صحیح مسلم: (2493)۔
[22](خطبہ کا مقصد، اور وہ اہم ترین موضوعات جنہیں بیان کرنا خطیب کے لیے ضروری ہے)
خطیب کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو عالمِ دنیا اور اس کے افکار وواقعات سے نکال کر عالمِ آخرت اور اس کی تیاری کی طرف لے جائے، مسجد کو کوئی میڈیا پلیٹ فارم نہیں ہونا چاہیے، جس میں خطیب سیاسی امور پر گفتگو کرے اور ایسی باتوں میں سر کھپائے جو سامعین کے دین ودنیا کے لیے نفع بخش نہ ہوں۔
توفیق یافتہ خطیب کے اکثر خطبات ایمان کو بڑھانے اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کو مضبوط کرنے والے ہوتے ہیں؛ کیونکہ جب لوگوں کا ایمان بڑھ جاتا ہے اور اپنے رب سے ان کا تعلق مضبوط ہوجاتا ہے تو یہ ان کے لیے گناہوں سے بچنے اور لغو کاموں کو ترک کرنے کا سب سے بڑا سبب بنتا ہے۔
وہ موضوعات جن سے خطیب کو ہرگز غفلت نہیں برتنی چاہیے اور جنہیں ہمیشہ دہراتے رہنا چاہیے:
توحید اور اسلام کے ارکان
نماز کا طریقہ اور نماز میں خشوع وخضوع کی اہمیت۔
مختلف مواقع سے متعلق موضوعات، جیسے رمضان کا مہینہ آنے پر اس کے فضائل کا تذکرہ۔
فتنوں سے خبردار کرنا اور ان سے نمٹنے کا طریقہ بتانا۔
بدعات سے خبردار کرنا۔
شیطان کے مکر وفریب اور اس کے گمراہ کرنے کے طریقوں سے آگاہ کرنا۔
اخلاق وآداب اور ان کے متعلقات۔
ایمان اور اللہ سے تعلق بڑھانے والے چند موضوعات:
1- اللہ تعالیٰ کی صفات اور نعمتوں کا ذکر کر کے لوگوں کے دلوں میں اللہ کی تعظیم قائم کرنا۔
2- قرآن کی تعظیم جو اللہ کا کلام ہے۔
3- انبیاء علیہم السلام، ان میں سر فہرست خاتم الانبیاء ہمارے نبی محمد ﷺ، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے قصوں کا ذکر کرنا۔
4- جنت، اس کے اوصاف اور اس میں داخلے کے اسباب کا ذکر، اور اسی طرح جہنم کا بھی۔
5۔ قلبی عبادات کا اہتمام کرنا، جیسے توکل، انابت، توبہ، خشیت اور خشوع۔
علامہ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “جو شخص نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کے خطبات پر غور کرے، وہ دیکھے گا کہ وہ ہدایت اور توحید کی وضاحت کے لیے کافی ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات، ایمان کے بنیادی اصول، اور اللہ کی طرف دعوت پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ان میں اللہ کی ان نعمتوں کا ذکر ہے جو بندوں کے دلوں میں اللہ کی محبت پیدا کرتی ہیں، اور اللہ کے ان ایام کا تذکرہ ہے جو اس کے عذاب سے ڈراتے ہیں۔ نیز ان میں اللہ کے ذکر اور شکر کا حکم ہے، جو بندوں کو اس کے قریب کر دیتا ہے۔ وہ اللہ کی عظمت اور اس کے اسماء وصفات کو اس انداز سے بیان کرتے ہیں کہ وہ بندوں کے دلوں میں محبوب ہو جاتا ہے، اللہ کی اطاعت، شکر اور ذکر کا ایسا حکم دیتے ہیں جو بندوں کو اللہ کا محبوب بنا دیتا ہے۔ چنانچہ سامعین اس حال میں واپس لوٹتے ہیں کہ وہ اللہ سے محبت کرنے والے ہوتے ہیں اور اللہ بھی ان سے محبت کرنے والا ہوتا ہے۔
پھر زمانہ دراز ہو گیا اور نبوت کا نور مدھم پڑ گیا اور شرائع واحکام محض ایسی رسومات بن کر رہ گئے جنہیں ان کے حقائق اور مقاصد کو ملحوظِ خاطر رکھے بغیر ادا کیا جانے لگا۔ چنانچہ لوگوں نے انہیں ظاہری صورتیں دے دیں، جس چیز سے بن پڑا انہیں مزین کیا، رسوم ورواج کو ایسی سنتیں بنا لیا جن کی خلاف ورزی روا نہ رہی، اور ان مقاصد کو پسِ پشت ڈال دیا جن کی خلاف ورزی ہرگز روا نہ تھی۔ پھر خطبوں کو مسجع و مقفیٰ عبارتوں اور علمِ بدیع سے مرصع کر دیا، جس کے نتیجے میں دلوں میں ان کی تاثیر کم بلکہ معدوم ہو گئی، اور ان کا اصل مقصد فوت ہو گیا۔» ا.ہ ([17]) - زاد المعاد في هدي خير العباد : 1/ 409-410۔
خطبہ کے مقصد کو واضح کرتے ہوئے آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اس سے مقصود اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کرنا، اس کی وحدانیت اور اس کے رسول ﷺ کی رسالت کی گواہی دینا، بندوں کو اللہ کے ایام کی یاد دلانا، انہیں اس کی پکڑ اور عذاب سے خبردار کرنا، انہیں ان امور کی وصیت کرنا جو انہیں اللہ اور اس کی جنتوں کے قریب کریں، اور ان امور سے روکنا جو انہیں اللہ کی ناراضی اور آگ کے قریب کریں۔ یہی خطبے اور اس کے لیے جمع ہونے کا مقصد ہے»۔ ([18]) - سابقہ مرجع: 1/ 386۔
خطیب کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو عقیدہ، عبادات، اخلاق، معاملات، معاشرت اور تربیت وغیرہ سے متعلق غلطیوں سے متنبہ کرے، انہیں فتنوں میں پڑنے سے خبردار کرے اور انہیں دینی امور کی تعلیم دے۔
اللہ ہی بہتر جانتا ہے، اور درود وسلام ہو ہمارے نبی محمد ﷺ، آپ کی آل اور تمام صحابہ کرام پر۔