"تم سچ بولنے کو لازم پکڑو۔ بلاشبہ سچ نیکو کاری کا راستہ بتلاتا ہے اور نیکو کاری یقینًا جنت میں پہنچا دیتی ہے۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
"تم سچ بولنے کو لازم پکڑو۔ بلاشبہ سچ نیکو کاری کا راستہ بتلاتا ہے اور نیکو کاری یقینًا جنت میں پہنچا دیتی ہے۔ انسان ہمیشہ سچ بولتا رہتا ہے اور سچ بولنے کا ہی ارادہ رکھتا ہے، تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ عز و جل کے یہاں صدیق ( بہت سچا) لکھ دیا جاتا ہے۔ اور جھوٹ سے مکمل پرپیز کرو، کیوں کہ جھوٹ گناہ کا راستہ بتلاتا ہے اور گناہ یقینًا جہنم میں پہنچا دیتا ہے۔ انسان ہمیشہ جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ بولنے کا ہی ارادہ رکھتا ہے، تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ عز و جل کے یہاں کذاب (بہت جھوٹا ) لکھ دیا جاتا ہے۔"
«عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ، فَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ، وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ، وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَصْدُقُ وَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللهِ صِدِّيقًا، وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ، فَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ، وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ، وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَكْذِبُ وَيَتَحَرَّى الْكَذِبَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللهِ كَذَّابًا».
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے سچ بولنے کا حکم دیا اور بتایا کہ سچ بولنے کا اہتمام انسان کو دائمی عمل صالح کی جانب لے جاتا ہے اور اچھے کاموں کی پابندی انسان کو جنت تک لے جاتی ہے۔ انسان جب سری اور علانیہ طور پر مسلسل سچ بولنے کا اہتمام کرتا ہے، تو صدیق نام کا حق دار بن جاتا ہے، جس کے معنی ہیں سچ بولنے کا بہت زیادہ اہتمام کرنے والا۔ اس کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جھوٹ سے خبردار کیا۔ کیوں کہ جھوٹ انسان کو استقامت کی راہ سے ہٹا دیتا ہے اور شر و فساد اور گناہوں کی جانب لے جاتا ہے اور اس طرح اسے جہنم تک پہنچا دیتا ہے۔ انسان جب مسلسل بہ کثرت جھوٹ بولتا رہتا ہے، تو اللہ کے یہاں جھوٹوں میں لکھ دیا جاتا ہے۔
سچ بولنا ایک عمدہ خصلت ہے، جو اکتساب اور مجاہدہ سے حاصل ہوتی ہے۔ کیوں کہ جب انسان مسلسل سچ بولتا رہتا ہے اور سچ کی تلاش میں رہتا ہے، تو سچ بولنا اس کی طبیعت بن جاتا ہے اور وہ اللہ کے یہاں سچ بولنے والوں اور نیک لوگوں میں لکھ دیا جاتا ہے۔
جھوٹ بولنا ایک بری عادت ہے، جس کا انسان لمبے وقت تک جھوٹ بولتے رہنے اور قولی وفعلی طور اسی کو اوڑھنا بچھونا بنا لینے کی وجہ سے عادی بن جاتا ہے۔ پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ انسان اس کا عادی بن جاتا ہے اور اللہ کے یہاں جھوٹوں میں لکھ دیا جاتا ہے۔
صدق لفظا کا اطلاق زبان سے سچ بولنے پر بھی ہوتا ہے، جو کہ کذب کی ضد ہے، نیت کی سچائی پر بھی ہوتا ہے، جسے اخلاص کہا جاتا ہے، کسی خیر کی نیت میں سچے عزم پر بھی ہوتا ہے، اعمال کی سچائی پر بھی ہوتا ہے، جس کا کم ترین درجہ ظاہر و باطن کا برابر ہونا ہے اور احوال قلب کی سچائی پر بھی ہوتا ہے، جیسے خوف و رجا وغیرہ میں سچائی۔ ان تمام اوصاف کا حامل شخص صدیق کہلائے گا اور ان میں کچھ اوصاف کا حامل شخص صادق۔
مزید (10)
صحیح بخاری (8/ 25) (6094).
صحیح مسلم (4/ 2013) (2607).
توضيح الأحكام من بلوغ المرام.
لعبد الله البسام (7/ 479).
منحة العلام في شرح بلوغ المرام.
لعبد الله الفوزان (10/ 313).
فتح ذي الجلال والإكرام.
لابن عثيمين (6/ 417).
سبل السلام بشرح بلوغ المرام.
لمحمد الصنعاني (2/ 686).
کتابوں میں مذکور
14 کتابیں- اسلام کا مختصر تعارف قرآن کریم اور سنت نبوی کی روشنی میں"خبردار! جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتا ہے، ایک انسان جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ بولنے کو اپنا پیشہ بنا لیتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک اسے جھوٹا لکھ لیا جاتا ہے"۔
- مؤذن، امام، خطیب اور مساجد کے احکام سے متعلق ایک مختصر اور مفید کتاب"تم صدق گوئی کو لازم پکڑو؛ بلاشبہ سچ نیکی کا راستہ بتلاتا ہے اور نیکی یقینًا جنت میں پہنچا دیتی ہے۔ انسان ہمیشہ سچ بولتا رہتا ہے اور سچ بولنے کا ہی ارادہ رکھتا ہے، تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ عز و جل کے یہاں صدیق (بہت سچا) لکھ دیا جات
- مؤذن، امام، خطیب اور مساجد کے احکام سے متعلق ایک مختصر اور مفید کتاب"تم سچ بولنے کو لازم پکڑو۔ بلاشبہ سچ نیکو کاری کا راستہ بتلاتا ہے اور نیکو کاری یقینًا جنت میں پہنچا دیتی ہے۔ انسان ہمیشہ سچ بولتا رہتا ہے اور سچ بولنے کا ہی ارادہ رکھتا ہے، تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ عز و جل کے یہاں صدیق (بہت سچا) ل
- منتخب شدہ چیزیں عمل صالح کے ثواب کے لئے نفع بخش محل سےالمنتقى من المتجر الرابح في ثواب العمل الصالح"(تم سچ بولنے کو لازم پکڑو، بلاشبہ سچ نیکو کاری کا راستہ بتلاتا ہے اور نیکو کاری یقینًا جنت میں پہنچا دیتی ہے، انسان ہمیشہ سچ بولتا رہتا ہے اور سچ بولنے کا ہی ارادہ رکھتا ہے، تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ عزوجل کے یہاں صدیق ( بہت سچا) ل
مزید (10)
- الحقيقة المُبْهِرَة في العلاقة بين الإسلام والإنسان(عليكم بالصدق، فإنّ الصدق يهدي إلى البر، وإنّ البر يهدي إلى الجنة، وما يزال الرجل يصدق ويَتَحَرَّى الصدق حتى يُكتب عند الله صِدِّيقاً، وإياكم والكذب، فإنّ الكذب يهدي إلى الفجور، وإنّ الفجور يهدي إلى النار، وما يزال الرجل يكذب ويتحرى الكذب ح
- رسالة موجزة عن الإسلام كما جاء في القرآن الكريم والسنة النبوية (مشتملة على الأدلة)رِسَالَةٌُ مُوجَزَةٌُ عَنِ الْإِسْلَامِ كَمَا جَاءَ فِي الْقُرْآنِ الْكَرِيمِ وَالسَّنَةِ النَّبَوِيَّة-مشتملة على الأدلة -للحرمين-«وَإِيَّاكُمْ وَالكَذِبَ فَإِنَّ الكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الفُجُورِ وَإِنَّ الفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَكْذِبُ وَيَتَحَرَّى الكَذِبَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللهِ كَذَّابًا» [64].
- قاموس الكبائر موسوعة الكبائر - المجموعة الأولى«عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ، فَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى البِرِّ، وَإِنَّ البِرَّ يَهْدِي إِلَى الجَنَّةِ، وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَصْدُقُ وَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صِدِّيقًا، وَإِيَّاكُمْ وَالكَذِبَ، فَإِنَّ ال
- قاموس الكبائر«عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ، فَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى البِرِّ، وَإِنَّ البِرَّ يَهْدِي إِلَى الجَنَّةِ، وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَصْدُقُ وَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صِدِّيقًا، وَإِيَّاكُمْ وَالكَذِبَ، فَإِنَّ ال
- قاموس الكبائرموسوعة الكبائر - المجموعة الثانية«عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ، فَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى البِرِّ، وَإِنَّ البِرَّ يَهْدِي إِلَى الجَنَّةِ، وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَصْدُقُ وَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صِدِّيقًا، وَإِيَّاكُمْ وَالكَذِبَ، فَإِنَّ ال
- كتاب تعليم المسلم الجديد«عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ، فَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ»
- ما لا يسع أطفال المسلمين جهله«وَإِنَّ الكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الفُجُورِ، وَإِنَّ الفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا»[183].
- مباحث في أصول الدين1«إيّاكم والكذب، فإنّ الكذب يهدى إلى الفجور، وإنّ الفجور يهدى إلى النّار، وما يزال الرّجل يكذب ويتحرّى الكذب حتّى يكتب عند الله كذّابًا».
- مختصر الجواب الصحيح لمن بدل الدين المسيح1(عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ، فَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِـرِّ، وَإِنَّ الْبِـرَّ يَهْدِي إِلَى الْجنَّةِ، وَلَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَصْدُقُ وَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ الله صِدِّيقًا، وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ، فَإِنَّ
- مشروع المنهج التعليميمادة الحديث مستوى 1«عَلَيْكُمْ بِالصّدْقِ، فَإِنّ الصّدْقَ يَهْدِي إِلَىَ الْبِرّ، وَإِنّ الْبِرّ يَهْدِي إِلَىَ الْجَنّةِ، وَمَا يَزَالُ الرّجُلُ يَصْدُقُ وَيَتَحَرّىَ الصّدْقَ حَتّىَ يُكْتَبَ عِنْدَ اللهِ صِدّيقًا، وَإِيّاكُمْ وَالْكَذِبَ، فَإِنّ الْكَذِبَ