دعــــــاء الورد اللَّطيف والرُّقية الشرعية

دعــــــاء الورد اللَّطيف والرُّقية الشرعية

وردِ لطیف اور شرعی رقیہ

Language: lang_ur
Prepared by: منیرہ سیاف عامر آل خشیل
Version: 1.0
Translations 3
English French Urdu
Attachments 7
PDF
Audio
Video
+3

وردِ لطیف اور شرعی رقیہ

یہ کتاب اللہ کے لیے وقف ہے

مقدمہ

اللہ رب العالمین کے لیے بہت زیادہ، پاکیزہ اور بابرکت حمد وثنا ہے، اور درود وسلام ہو ہمارے نبی محمد ﷺ، آپ کی آل اور تمام صحابہ کرام پر۔ اما بعد:

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’مسلمانو! اللہ کا ذکر بہت زیاده کرو۔‘‘

نیز ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’بکثرت اللہ کا ذکر کرنے والے اور ذکر کرنے والیاں، ان (سب) کے لیے اللہ نے (وسیع) مغفرت اور بڑا ﺛواب تیار کر رکھا ہے۔‘‘

یقینََا اللہ عز وجل کا ذکر بہترین اور عظیم ترین اعمال میں سے ہے؛ اسی لیے میں نے اس کتاب میں ذکر، دعا اور شرعی رقیہ کے ذریعے علاج کو کتاب وسنت سے جمع کیا ہے؛ تاکہ یہ سب کے لیے آسان اور سہل ہو۔

میں اللہ تعالیٰ سے اس کے اسمِ اعظم کے وسیلے سے دعا گو ہوں کہ وہ اس عمل کو خالص اپنی رضا کے حصول کا ذریعہ بنائے، اسے ہر پڑھنے والے، شائع کرنے والے اور اس کی نشر واشاعت میں حصہ لینے والے کے لیے باعثِ نفع بنائے، اور اس کا اجر وثواب مجھے، میرے والدین، میرے بھائی بہنوں، میرے شوہر، میری اولاد اور تمام مسلمانوں کو عطا فرمائے۔

آپ کی دینی بہن

منیرہ سیاف عامر آل خشیل

تحریر کردہ: ماہِ رمضان

١٤٤٣ھ

پہلى فصل

وردِ لطیف

صبح وشام کے اذکار

سورۂ فاتحہ سات مرتبہ

شروع اللہ کے نام سے جو بہت مہربان نہایت رحم واﻻ ہے۔ ’’سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے واﻻ ہے۔ بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔ بدلے کے دن (قیامت) کا مالک ہے۔ ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔ ہمیں سیدھی (اور سچی) راه دکھا۔ ان لوگوں کی راه جن پر تو نے انعام کیا، ان کی نہیں جن پر غضب کیا گیا اور نہ گمراہوں کی۔‘‘ [سورة الفاتحة: 1-7]۔

سورۂ بقرہ کی پہلی پانچ آیات کی تلاوت:

’’الم، اس کتاب کے اللہ کی کتاب ہونے میں کوئی شک نہیں، پرہیزگاروں کو راه دکھانے والی ہے۔ جو لوگ غیب پر ایمان ﻻتے ہیں اور نماز کو قائم رکھتے ہیں اور ہمارے دیے ہوئے (مال) میں سے خرچ کرتے ہیں۔ اور جو لوگ ایمان ﻻتے ہیں اس پر جو آپ کی طرف اتارا گیا اور جو آپ سے پہلے اتارا گیا، اور وه آخرت پر بھی یقین رکھتے ہیں۔ یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ فلاح اور نجات پانے والے ہیں۔‘‘ [سورة البقرة: 1-5]۔

آیت الکرسی:

’’اللہ ہی معبودِ برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، جو زنده اور سب کا تھامنے واﻻ ہے، جسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند، اس کی ملکیت میں زمین وآسمان کی تمام چیزیں ہیں۔ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے، وه جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وه اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جتنا وه چاہے، اس کی کرسی کی وسعت نے زمین وآسمان کو گھیر رکھا ہے، وہ اللہ ان کی حفاﻇت سے نہ تھکتا اور نہ اکتاتا ہے، وه تو بہت بلند اور بہت بڑا ہے۔‘‘ [ سورة البقرة : 255]

- ’’رسول ایمان ﻻیا اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ کی جانب سے اتری اور مومن بھی ایمان ﻻئے، یہ سب اللہ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان ﻻئے، اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے، انھوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی، ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں، اے ہمارے رب! اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔ اللہ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیاده تکلیف نہیں دیتا، جو نیکی وه کرے وه اس کے لیے اور جو برائی وه کرے وه اس پر ہے، اے ہمارے رب! اگر ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا، اے ہمارے رب! ہم پر وه بوجھ نہ ڈال جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈاﻻ تھا، اے ہمارے رب! ہم پر وه بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہ ہو اور ہم سے درگزر فرما! اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر! تو ہی ہمارا مالک ہے، ہمیں کافروں کی قوم پر غلبہ عطا فرما۔‘‘ [سورۃ البقرۃ : 285-286]۔ ایک مرتبہ۔

- ’’آپ کہہ دیجیے کہ وه اللہ ایک (ہی) ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ نہ اُس سے کوئی پیدا ہوا نہ وه کسی سے پیدا ہوا۔ اور نہ کوئی اُس کا ہمسر ہے۔‘‘ [سورۃ الإخلاص: 1-4] تین مرتبہ۔

’’آپ کہہ دیجیے کہ میں صبح کے رب کی پناه میں آتا ہوں۔ ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے۔ اور اندھیری رات کی تاریکی کے شر سے جب اس کا اندھیرا پھیل جائے۔ اور گره (لگا کر) ان میں پھونکنے والیوں کے شر سے بھی۔ اور حسد کرنے والے کی برائی سے بھی جب وه حسد کرے۔‘‘ [سورۃ الفلق: 1-5]۔ تین مرتبہ۔

’’آپ کہہ دیجیے کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناه میں آتا ہوں۔ لوگوں کے مالک کی۔ لوگوں کے معبود کی (پناه میں)۔ وسوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے۔ جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ (خواه) وه جن میں سے ہو یا انسان میں سے۔ [سورۃ الناس: 1-6]۔ تین مرتبہ۔

’’کیا تم یہ گمان کیے ہوئے ہو کہ ہم نے تمھیں یوں ہی بیکار پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹائے ہی نہ جاؤ گے۔ اللہ سچا بادشاه ہے، وه بڑی بلندی واﻻ ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی بزرگ عرش کا مالک ہے۔ جو شخص اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو پکارے جس کی کوئی دلیل اس کے پاس نہیں، پس اس کا حساب تو اس کے رب کے اوپر ہی ہے۔ بے شک کافر لوگ نجات سے محروم ہیں۔ اور کہو کہ اے میرے رب! تو بخش اور رحم کر اور تو سب مہربانوں سے بہتر مہربانی کرنے واﻻ ہے۔‘‘ [سورۃ المؤمنون: 115-118]۔

’’اور دعا کریں کہ اے میرے پروردگار! میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناه چاہتا ہوں۔ اور اے رب! میں تیری پناه چاہتا ہوں کہ وه میرے پاس آجائیں۔‘‘ [سورۃ المؤمنون: 97-98]۔ تین مرتبہ

’’پس اللہ کی تسبیح پڑھا کرو جب کہ تم شام کرو اور جب صبح کرو۔ تمام تعریفوں کے ﻻئق آسمان وزمین میں صرف وہی ہے، تیسرے پہر کو اور ﻇہر کے وقت بھی (اس کی پاکیزگی بیان کرو)۔ (وہی) زنده کو مرده سے اور مرده کو زنده سے نکالتا ہے۔ اور وہی زمین کو اس کی موت کے بعد زنده کرتا ہے، اسی طرح تم (بھی) نکالے جاؤ گے۔‘‘ [سورۃ الروم: 17 - 18]۔

’’وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، چھپے کھلے کا جاننے واﻻ، مہربان اور رحم کرنے واﻻ۔ وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، بادشاه، نہایت پاک، سب عیبوں سے صاف، امن دینے واﻻ، نگہبان، غالب وزور آور اور بڑائی واﻻ، پاک ہے اللہ ان چیزوں سے جنھیں یہ اس کا شریک بناتے ہیں۔ وہی اللہ ہے پیدا کرنے واﻻ، بنانے واﻻ، صورت بنانے واﻻ، اسی کے لیے اچھے اچھے نام ہیں، ہر چیز خواه وه آسمانوں میں ہو خواه زمین میں، اس کی پاکی بیان کرتی ہے اور وہی غالب حکمت واﻻ ہے۔‘‘ [الحشر: 22 - 23]۔

’’اے اللہ! بے شک میں تجھ سے نفع بخش علم، پاکیزہ رزق اور قبول ہونے والا عمل مانگتا ہوں۔‘‘

’’اے اللہ! یقینََا میں تیرا بندہ ہوں، تیرے ہی بندے اور تیری ہی بندی کا بیٹا ہوں۔ میری پیشانی تیرے ہی ہاتھ میں ہے، مجھ میں تیرا ہی حکم جاری وساری ہے، میرے بارے میں تیرا فیصلہ مبنی بر انصاف ہے، میں تیرے ہر اس خاص نام کے ذریعے سے تجھ سے درخواست کرتا ہوں جو تو نے خود اپنا نام رکھا ہے یا اسے اپنی کتاب میں نازل فرمایا ہے یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا ہے یا تو نے اسے علمِ غیب میں اپنے پاس (رکھنے کو) خاص کیا ہے (میں درخواست کرتا ہوں) کہ تو قرآنِ مجید کو میرے دل کی بہار، میرے سینے کا نور، میرے غموں کا علاج اور میرے فکروں کا تریاق بنادے اور میرے لیے ہر بیماری اور تکلیف سے شفا، اور اسے تیری طرف اور نعمتوں والی جنتوں کی طرف لے جانے والا میرا رہنما بنا دے"۔ [1] [1] مسند احمد، حدیث نمبر: 3712، یہ الفاظ مسندِ احمد کے ہیں، صحيح ابن حبان، حدیث نمبر: 972، اسے طبرانی: 10/210، حدیث نمبر: 10352، نے تھوڑے الفاظ کے اختلاف کے ساتھ روایت کیا ہے، نیز ملاحظہ کیجیے: السلسلة الصحيحة للالبانی، حدیث نمبر: 199۔

"مجھے اللہ ہی کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور وہ عرشِ عظیم کا رب ہے"۔ (صبح و شام سات مرتبہ) [2]۔ [2] صحیح بخاری، حدیث نمبر: 4564۔

’’میں اللہ کے مکمل کلمات کی پناہ میں آتا ہوں، اس کی مخلوق کے شر سے۔‘‘ (تین مرتبہ)

’’میں اللہ عظیم کی ذات کی پناہ میں آتا ہوں جس سے بڑھ کر کوئی چیز عظیم نہیں، میں اللہ تعالیٰ کے ان مکمل کلمات کی پناہ میں آتا ہوں جن سے کوئی نیک اور کوئی برا آگے نہیں گزر سکتا، اللہ تعالیٰ کے ان تمام بہترین ناموں کی پناہ میں آتا ہوں جنھیں میں جانتا ہوں اور جنھیں میں نہیں جانتا، اس چیز کے شر سے جسے اس نے پیدا فرمایا، پھیلایا اور وجود عطا کیا، ہر اس شریر کے شر سے جس کے شر کی میں طاقت نہیں رکھتا، اور ہر اس شریر کے شر سے جس کی پیشانی اے میرے رب! تُو نے پکڑ رکھی ہے، بے شک میرا رب سیدھے راستے پر ہے۔‘‘ [3] [3] صحیح بخاری، حدیث نمبر: 3371۔

’’ہم نے صبح کی اور اللہ کے سارے ملک (بادشاہت) نے صبح کی اور سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے، اسی کے لیے سب تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔ اے میرے رب! میں تجھ سے آج کے دن کی بہتری کا سوال کرتا ہوں اور اس دن کی بہتری کا جو آج کے بعد آنے والا ہے اور میں آج کے دن کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور آج کے بعد آنے والے دن کے شر سے۔ اے میرے رب! میں کاہلی اور بڑھاپے کی خرابی سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ اے میرے رب! میں آگ کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘ [4] [4] صحیح مسلم، حدیث نمبر: 2723۔

’’اے اللہ! تیری ہی حفاظت میں ہم نے صبح کی اور تیری ہی حفاظت میں شام کی، تیرے ہی نام پر ہم زندہ ہوتے اور تیرے ہی نام پر ہم مرتے ہیں، اور تیری ہی طرف ہمیں لوٹنا ہے۔‘‘

اور جب شام ہوتی تو آپ فرماتے: ’’اے اللہ! تیری ہی حفاظت میں ہم نے شام کی اور تیری ہی حفاظت میں ہم صبح کریں گے اور تیری ہی طرف اٹھ کر جانا ہے۔‘‘

’’ہم نے صبح کی اور اللہ رب العالمین کے سارے ملک (بادشاہت) نے صبح کی۔ اے اللہ! میں تجھ سے آج کے دن کی بہتری، اس کی فتح ونصرت، اس کی برکت، اس کا نور اور اس کی ہدایت مانگتا ہوں، اور میں آج کے دن کے شر اور آج کے بعد کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔‘‘

’’ہم نے فطرتِ اسلام اور کلمۂ اخلاص، اپنے نبی محمد ﷺ کے دین اور اپنے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام، جو یک رخ (اور) فرماں بردار تھے، کی ملت پر صبح کی اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھے۔‘‘ [5] [5] مسند احمد، حدیث نمبر: 15367، السنن الکبری للنسائی: 9745۔

’’اے اللہ! یقینََا میں نے ایسی حالت میں صبح کی کہ تجھے، تیرا عرش اٹھانے والے فرشتوں، تیرے (دیگر) فرشتوں اور تیری تمام مخلوق کو اس بات پر گواہ بناتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں اور بلاشبہ محمد ﷺ تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں۔‘‘ [6] (چار مرتبہ)۔ [6] سنن ابی داؤد، حدیث نمبر: 5069۔

’’اے اللہ! میں نے تیری نعمت، عافیت اور ستر پوشی کے ساتھ صبح کی، چنانچہ تو میرے اوپر اپنی نعمت، عافیت اور ستر پوشی کو دنیا وآخرت میں مکمل فرما۔‘‘ [7] (تین مرتبہ) [7] عمل اليوم والليلة لابن سنی، حدیث نمبر: 55، نیز دیکھیے: السلسلة الضعيفة للالبانی، حدیث نمبر: 6070۔

’’اے اللہ! صبح کے وقت مجھ پر یا تیری مخلوق میں سے کسی پر جو بھی انعام ہوا ہے، وہ تیری ہی طرف سے ہے۔ تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، تیرے ہی لیے ساری تعریف ہے اور تیرے ہی لیے شکر ہے۔‘‘ [8] [8] سنن ابی داود، حدیث نمبر: 5073۔

”اے اللہ! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں، ایسی تعریف جو تیرے چہرے کے جلال اور تیری سلطنت کی عظمت کے شایانِ شان ہے۔“ [9] (تین مرتبہ)۔ [9] ضعيف الترغيب از شيخ البانی، حدیث نمبر: 961۔

’’میں اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر، اور محمد ﷺ کے نبی ہونے پر راضی ہوا۔‘‘ [10] (تین مرتبہ)۔ [10] سنن ابی داود، حدیث نمبر: 1529۔

’’اے زندۂ جاوید! اے قائم ودائم! اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے! اے بزرگی اور عزت والے! تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، میں تیری ہی رحمت کے ذریعے سے مدد طلب کرتا ہوں، تو میرا ہر کام سنوار دے اور آنکھ جھپکنے کے برابر بھی مجھے میرے نفس کے سپرد نہ کرنا اور نہ ہی اپنی مخلوق میں سے کسی کے سپرد کرنا، تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔‘‘ [11] [11] اسے امام حاکم نے روایت کیا ہے۔

’’اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے! غیب اور حاضر کے جاننے والے! ہر چیز کے رب اور اس کے مالک! میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔ میں تیری پناہ میں آتا ہوں اپنے نفس کے شر سے اور شیطان کے شر سے اور اس کے شرک سے اور اس بات سے کہ اپنے ہی خلاف کسی برائی کا ارتکاب کروں یا اسے کسی مسلمان کی طرف کھینچ لاؤں۔‘‘ [12] [12] سنن ابی داود، حدیث نمبر: 5067۔

’’اے میرے رب! میں تیری پناہ چاہتا ہوں پریشانی اور غم سے، عاجزی اور کاہلی سے، بزدلی اور بخیلی سے، قرض کے بوجھ اور لوگوں کے تسلط سے۔‘‘ [13] [13] سنن ابی داود، باب الاستعاذة، حدیث نمبر: 1541۔

’’اے اللہ! میں برص، کوڑھ اور تمام بری (خطرناک) بیماریوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ اے اللہ! میرے گناہ بخش دے؛ جو میں نے سنجیدگی سے کیے اور جو مذاق میں کیے، جو غلطی سے کیے اور جو جان بوجھ کر کیے، اور یہ سارے (عیوب) مجھ میں ہیں۔‘‘ [14] [14] سنن ابی داود، حدیث نمبر: 1554، مسند احمد، حدیث نمبر: 13027، مذکورہ الفاظ انہی دونوں کے روایت کردہ ہیں، نیز دیکھیں: سنن نسائی، حدیث نمبر: 5493۔

”اے اللہ! بے شک میں تجھ سے دین، دنیا اور آخرت میں معافی، عافیت اور دائمی سلامتی کا سوال کرتا ہوں، اے اللہ! بے شک میں تجھ سے اپنے دین، اپنی دنیا، اپنے اہل وعیال اور مال میں معافی اور عافیت کا سوال کرتا ہوں۔ اے اللہ! میرے عیوب پر پردہ ڈال دے اور میری گھبراہٹوں کو دور کر دے۔ اے اللہ! تو میری حفاظت فرما میرے سامنے سے، میرے پیچھے سے، میری دائیں طرف سے، میری بائیں طرف سے اور میرے اوپر سے، اور اس بات سے میں تیری عظمت کی پناہ مانگتا ہوں کہ ناگہاں اپنے نیچے سے ہلاک کیا جاؤں۔‘‘ [15] [15] صحیح سنن ابی داؤد: 3/957۔

’’اے اللہ! میں تجھ سے ناگہانی خیر کا سوال کرتا ہوں اور ناگہانی شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔‘‘

’’اے اللہ! مجھے میرے بدن میں عافیت عطا فرما، مجھے میری سماعت میں عافیت عطا فرما، اور مجھے میری بصارت میں عافیت عطا فرما، تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔‘‘ [16]۔ (تین مرتبہ) [16] سنن ابی داود، حدیث نمبر: 5090۔

’’اے اللہ! یقینََا میں کفر اور غربت سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور میں عذابِ قبر سے تیری پناہ میں آتا ہوں، تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔‘‘ [17]۔ (تین مرتبہ) [17] سنن ابی داؤد، حدیث نمبر: 5090۔

’’میں اللہ کی پاکیزگی بیان کرتا ہوں اس کی تعریفوں کے ساتھ، اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر، اس کے عرش کے وزن اور اس کے کلمات کی روشنائی کے برابر اور اس کی ذات کی رضا کے برابر۔‘‘ [18]۔ (تین مرتبہ) [18] صحیح بخاری، حدیث نمبر: 6405۔

’’اے اللہ! ساتوں آسمانوں کے رب اور ان چیزوں کے جن پر وہ سایہ فگن ہیں، اور زمینوں کے رب اور ان چیزوں کے جن کو وہ اٹھائے ہوئے ہیں، اور شیطانوں کے رب اور ان (لوگوں) کے جن کو انھوں نے گمراہ کیا، تو اپنی تمام مخلوقات کے شر سے میرا پناہ دہندہ بن جا، اس بات سے کہ ان میں سے کوئی ایک شخص بھی مجھ پر زیادتی یا سرکشی کرے۔ تو پاک ہے اے میرے رب! تیری پناہ مضبوط ہے، تیری تعریف عظیم ہے، تیرے نام مقدس ہیں اور تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔‘‘

’’اے میرے رب! مجھے آگ (جہنم) سے بچا۔‘‘ (سات مرتبہ) ’’اے میرے رب! میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں۔‘‘ [19] [19] مسندِ احمد، حدیث نمبر: 17362، سنن ابی داود، حدیث نمبر: 5079۔

’’اے اللہ! تو ہی میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، تو نے مجھے پیدا فرمایا اور میں تیرا بندہ ہوں اور میں اپنی طاقت کے مطابق تیرے عہد وپیمان اور وعدے پر قائم ہوں، میں اس چیز کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس کا میں نے ارتکاب کیا، میں تیرے سامنے تیرے انعام کا اقرار کرتا ہوں جو مجھ پر ہوا اور میں اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہوں، لہذا تو مجھے معاف کردے، حقیقت یہ ہے کہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو معاف نہیں کرسکتا۔‘‘ [20] [20] صحیح بخاری، حدیث نمبر: 6306۔

”اے اللہ! بلاشبہ میں نے اپنی جان پر بہت زیادہ ظلم کیا اور تیرے سوا کوئی گناہوں کو معاف نہیں کرسکتا، پس تو اپنی خاص بخشش سے مجھے معاف فرما دے اور مجھ پر رحم فرما، یقینََا تو بہت بخشنے والا، انتہائی مہربان ہے۔“[21] [21] سنن ترمذی، حدیث نمبر: 3531۔

’’اس اللہ کے نام کے ساتھ جس کے نام کی برکت سے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی، زمین کی ہو یا آسمانوں کی اور وہ خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے"۔ [22] (تین مرتبہ) [22] سنن ابی داؤد، حدیث نمبر: 5088، سنن ترمذی، حدیث نمبر: 3388۔

’’اللہ کے نام سے جو بڑی شان والا، عظیم سلطنت والا، مضبوط دلیل والا اور مطلق قدرت والا ہے۔ جو اللہ چاہتا ہے وہی ہوتا ہے۔ میں ہر شیطان، انسان اور جن سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔‘‘

’’اللہ کے نام سے جو بہت مہربان، نہایت رحم والا ہے، اللہ کے نام سے جو سب ناموں سے بہتر نام ہے، اس اللہ کے نام سے جس کے نام کے ساتھ کوئی تکلیف نقصان نہیں دیتی، اللہ کے نام سے جو کافی ہے، اللہ کے نام سے جو عافیت دینے والا ہے، اس اللہ کے نام کے ساتھ جس کے نام کی برکت سے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی، زمین کی ہو یا آسمانوں کی اور وہ خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے، اللہ کے نام سے میری جان اور میرے دین پر، اللہ کے نام سے میرے اہل وعیال اور میرے مال پر، اللہ کے نام سے ہر اس چیز پر جو میرے رب نے مجھے عطا کیا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں ہر اس چیز سے جس سے میں خوف کھاتا اور ڈرتا ہوں، اللہ میرا رب ہے، میں اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتا، تیری پناہ مضبوط ہے، تیری تعریف عظیم ہے، تیرے نام پاک ہیں اور تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔‘‘ [23] [23] الشمائل الکبری: 2/180

’’اے اللہ! آسمانوں کے رب! زمین کے رب! اور عرشِ عظیم کے رب! اے ہمارے رب اور ہر چیز کے رب اور اس کے مالک! اے دانے اور گٹھلیوں کو پھاڑنے والے! اے تورات وانجیل اور فرقان (قرآن) نازل کرنے والے! میں تجھ سے ہر اس چیز کے شر سے پناہ مانگتا ہوں جس کی پیشانی تیری گرفت میں ہے۔ اے اللہ! تو ہی اول ہے، تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں اور تو ہی آخر ہے، تیرے بعد کوئی چیز نہیں اور تو ہی غالب ہے، تیرے اوپر کوئی چیز نہیں، اور تو ہی باطن ہے، تجھ سے پوشیدہ کوئی چیز نہیں ہے، مجھ سے میرا قرض ادا کر دے اور مجھے فقر سے نکال کر غنی بنا دے۔‘‘

’’میں اپنا دین، اپنی جان، اپنی امانت، اپنا آخری عمل، اپنا گھر، اپنے اہل وعیال، اپنا مال اور اللہ کی مجھ پر کی ہوئی تمام نعمتوں کو اس اللہ کے سپرد کرتا ہوں جس کے سپرد کی ہوئی چیزیں ضائع نہیں ہوتیں۔ میں اپنی جان، اپنے والدین، اپنے بھائی بہنوں، اپنی اولاد، اپنے دین، اپنے مال اور اپنے آخری اعمال کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔‘‘

’’اے اللہ! میں تیری نعمت کے زوال سے، تیری دی ہوئی عافیت کے پھر جانے سے، تیرى ناگہانی گرفت سے اور تیری ہر قسم کی ناراضگی سے تيری پناہ مانگتا ہوں۔‘‘ [24] [24] صحیح مسلم، حدیث نمبر: 2739۔

’’اے اللہ، میرے رب! میں تیری پناہ مانگتا ہوں آزمائش کی سختی سے، بدبختی کے گھیر لینے سے، برے فیصلے سے، دشمنوں کے خوش ہونے سے، امید کے ٹوٹ جانے سے، لاعلاج بیماری سے اور نوازش کے بعد محرومی سے‘‘۔

’’اے اللہ! میں نے اپنا یہ دن خالص تیری رضا کے لیے وقف کیا ہے، چنانچہ اسے میرے لیے آسان فرما دے، اس میں میرے لیے برکت عطا فرما، اور اسے میری طرف سے قبول فرما۔ اے اللہ! مجھے وہ دکھا جو تجھے راضی کرے، مجھے وہ سنا جو تجھے راضی کرے، مجھ سے وہ کہلوا جو تجھے راضی کرے اور مجھے اپنی اطاعت میں استعمال فرما۔‘‘

’’اے اللہ، میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے، اور مجھے وہاں سے رزق عطا فرما جہاں سے مجھے گمان بھی نہ ہو، ایسا حلال رزق جس سے میں راضی ہو جاؤں۔‘‘

’’اے اللہ! میں اپنے گھر کو زنا، جھوٹ اور فساد وبگاڑ سے (حفاظت کے لیے) تیری سپردگی میں دیتا ہوں۔ اے اللہ! میرے گھر کی؛ اس کے شروع سے آخر تک اور اس کے اوپر سے نیچے تک حفاظت فرما، اور اس سے ہر قسم کے حرام کو دور رکھ ۔ اے اللہ! مجھے اس سے عزت کے ساتھ نکال اور اس میں زیادہ عزت کے ساتھ واپس لوٹا، اور ہمارے لیے اس میں ہمارے دین ودنیا کی سعادت رکھ دے۔‘‘

’’اے اللہ! میں تیرے سپرد کرتا ہوں ہر وہ چیز جو تو نے مجھے رزق کے طور پر دی اور عطا فرمائی، چنانچہ تو اپنی تمام مخلوق کے شر سے اس کی حفاظت فرما، اور میری اور میرے والدین کی مغفرت فرما، اے وہ ذات جس کے ہاں امانتیں ضائع نہیں ہوتیں۔‘‘

’’اے اللہ! میرے اس دن کی ابتدا کو بھلائی، اس کے درمیانی حصہ کو فلاح اور اس کے آخری حصہ کو کامیابی سے بھر دے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں ایسے دن سے جس کی ابتدا گھبراہٹ، جس کا درمیانی حصہ بے چینی اور جس کا آخری حصہ تکلیف (سے عبارت) ہو۔‘‘

’’اے اللہ! تو نے مجھے پیدا فرمایا اور تو ہی مجھے ہدایت دیتا ہے، تو ہی مجھے کھلاتا ہے اور تو ہی مجھے پلاتا ہے، تو ہی مجھے موت دے گا اور تو ہی مجھے زندہ کرے گا۔ اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما، آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔‘‘

’’اے اللہ! تو ہی میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔ میں نے تجھ ہی پر توکل کیا اور تو عرشِ عظیم کا رب ہے۔ جو اللہ چاہتا ہے، وہ ہوتا ہے اور جو وہ نہیں چاہتا، وہ نہیں ہوتا۔ گناہ سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے جو بلندی وعظمت والا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور یہ کہ اللہ نے ہر چیز کو اپنے علم سے گھیر رکھا ہے۔ اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اپنے نفس کے شر سے اور ہر اس جاندار کے شر سے جس کی پیشانی تیری گرفت میں ہے۔ بے شک میرا رب صراطِ مستقیم پر ہے۔‘‘

’’اے اللہ! اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ، اور اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر دے۔‘‘ [25] [25] مسند احمد، حدیث نمبر: 24604۔

’’اے اللہ! رحمت نازل فرما محمد ﷺ پر اور آلِ محمد ﷺ پر، جیسے تو نے رحمت نازل فرمائی ابراہیم علیہ السلام پر اور آلِ ابراہیم علیہ السلام پر، اور برکت نازل فرما محمد ﷺ پر اور آلِ محمد ﷺ پر جیسے تو نے برکت نازل فرمائی ابراہیم علیہ السلام پر اور آلِ ابراہیم علیہ السلام پر، یقیناً تو قابلِ تعریف اور بڑی شان والا ہے۔‘‘

جامع دعا

’’اے اللہ! تیرے ہی لیے ساری تعریف ہے، تو آسمانوں اور زمین اور ان میں موجود چیزوں کا رب ہے، اور تیرے ہی لیے ساری تعریف ہے، تو آسمانوں اور زمین اور ان میں موجود چیزوں کو تھامنے والا ہے، اور تیرے ہی لیے ساری تعریف ہے، تو آسمانوں اور زمین اور ان میں موجود چیزوں کا نور ہے۔ تو حق ہے، تیرا فرمان حق ہے، تیرا وعدہ برحق ہے، جنت برحق ہے، دوزخ برحق ہے، انبیاء برحق ہیں، اور محمد ﷺ برحق ہیں۔‘‘

’’اے اللہ! تو ہی سب سے زیادہ ذکر کیے جانے کا حقدار ہے، تو ہی سب سے زیادہ عبادت کیے جانے کا حقدار ہے۔ تو ہی سب سے بڑا مدد گار ہے جس سے مدد طلب کی جائے، تو ہی سب سے مہربان مالک ہے، تو ہی سب سے بڑا سخی ہے جس سے سوال کیا جائے، تو ہی سب سے زیادہ کشادہ دلی سے عطا کرنے والا ہے۔ تو ہی بادشاہ ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، اور تو یکتا ہے، تیرا کوئی ہمسر نہیں۔ تیری ذات کے سوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے، تیری اطاعت صرف تیرے ہی اذن سے کی جاتی ہے، تیری نافرمانی تیرے علم کے بغیر نہیں ہوتی، تیری اطاعت کی جائے تو تو قدردانی فرماتا ہے، اور تیری نافرمانی کی جائے تو تو معاف فرما دیتا ہے۔ تو سب سے قریب گواہ اور سب سے نزدیک نگہبان ہے۔ تو دلوں کے درمیان حائل ہے، تو نے پیشانیوں کو تھام رکھا ہے، اعمال قلمبند کر لیے ہیں اور (زندگی کی) مدتیں لکھ دی ہیں۔ دل تیرے سامنے کھلے ہیں اور راز تیرے نزدیک عیاں ہے۔ حلال وہی ہے جسے تو نے حلال ٹھہرایا، اور حرام وہی ہے جسے تو نے حرام ٹھہرایا۔ دین وہی ہے جو تو نے مقرر فرمایا، اور حکم وہی ہے جس کا تو فیصلہ فرما دے۔ مخلوق تیری ہی مخلوق ہے، اور بندے تیرے ہی بندے ہیں۔ تو اللہ ہے، نہایت شفیق، بے حد رحم والا۔ میں تجھ سے تیرے چہرے کے اس نور کے واسطے سے سوال کرتا ہوں جس سے آسمان اور زمین روشن ہیں، اور ہر اس حق کے واسطے سے جو تیرا ہے اور تجھ سے مانگنے والوں کے حق کے واسطے سے کہ تو اپنی رحمت سے مجھے قبول فرما لے اور اپنی قدرت سے مجھے آگ سے پناہ دے۔‘‘

’’اے اللہ! تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں، سارا شکر تیرے ہی لیے ہے، اور ہر معاملہ، خواہ ظاہر ہو یا پوشیدہ، تیری ہی طرف لوٹایا جاتا ہے۔ تو ہی حمد کے لائق ہے، تو ہی عبادت کے لائق ہے، اور تو ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘

’’اے میرے رب! میرے تمام گزشتہ گناہوں کو بخش دے، میری بقیہ عمر میں مجھے (گناہوں سے) بچا اور مجھے ایسا پاکیزہ عمل عطا فرما جس سے تو مجھ سے راضی ہو جائے۔‘‘

’’اے اللہ! ہمارے تمام معاملوں کو حسنِ انجام عطا فرما اور ہمیں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے بچا۔‘‘

’’اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کردے اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، یقیناً تو ہی بہت بڑی عطا دینے والا ہے۔‘‘

’’اے اللہ! مجھے سچا ایمان عطا فرما، ایسا یقین عطا کر جس کے بعد کفر نہ ہو، اور ایسی رحمت سے نواز جس سے میں دنیا اور آخرت میں تیری عزت وکرامت کا شرف حاصل کر سکوں۔‘‘

’’اے اللہ! میں تجھ سے تیری ایسی رحمت کا سوال کرتا ہوں جس کے ذریعے تو میرے دل کو ہدایت دے، میرے بکھرے کاموں کو جمع کر دے، میری پریشانی کو دور کر دے، میری محبت و الفت کو بحال کر دے، میرے دین کی اصلاح فرما دے، میرے غائب چیزوں کی حفاظت فرما، میری موجود چیزوں کو بلند فرما، میرے عمل کو پاکیزہ بنا دے، میرے چہرے کو روشن کر دے، مجھے میری ہدایت کی راہ دکھا دے، اور اس رحمت کے ذریعہ مجھے ہر برائی سے بچا لے۔‘‘

’’اے اللہ! میری مدد فرما، میرے خلاف کسی کی مدد نہ فرما، میری تائید فرما، میرے خلاف کسی کی تائید نہ فرما، میرے حق میں تدبیر فرما، میرے خلاف تدبیر نہ فرما، مجھے ہدایت دے اور ہدایت کو میرے لیے آسان فرما دے، اور جو مجھ پر زیادتی کرے اس کے مقابلے میں میری مدد فرما۔‘‘

’’اے اللہ! مجھے اپنا ذکر کرنے والا، اپنا شکر گزار، اپنا اطاعت گزار، اپنے سامنے عاجزی کرنے والا، گڑگڑانے والا اور اپنی طرف رجوع کرنے والا بنا۔ اے میرے رب! میری توبہ قبول فرما، میرے گناہ دھو دے، میری دعا قبول فرما، میری حجت کو ثابت کردے، میرے دل کو سیدھی راہ دکھا دے، میری زبان کو درست کر دے اور میرے سینے سے کدورت نکال دے۔‘‘

’’اے اللہ! میرے دین کی اصلاح فرما، جو کہ میرے تمام معاملات کا محافظ ہے، میری دنیا درست فرما، جس میں میری گزر بسر ہے، میری آخرت درست فرما، جہاں مجھے لوٹ کر جانا ہے، میری زندگی کو ہر خیر میں اضافے کا سبب بنادے اور موت کو میرے لیے ہر شر سے راحت کا ذریعہ بنادے۔‘‘

’’اے اللہ! میں تجھ سے معاملے میں ثابت قدمی اور ہدایت پر عزم کا سوال کرتا ہوں، میں تجھ سے تیری نعمت کا شکر اور تیری اچھی عبادت کا سوال کرتا ہوں، میں تجھ سے قلبِ سلیم کا اور سچی زبان کا سوال کرتا ہوں، تجھ سے اس بھلائی کا سوال کرتا ہوں جسے تو جانتا ہے، اس برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں جسے تو جانتا ہے اور میں تجھ سے اس گناہ کی بخشش چاہتا ہوں جسے تو جانتا ہے، اور تو ہی غیبوں کو جاننے والا ہے۔‘‘

’’اے اللہ! تو اپنے ذکر پر میری مدد فرما اور اپنے شکر پر اور اچھے طریقے سے اپنی عبادت بجالانے پر۔‘‘ [26] [26] سنن ابی داود، حدیث نمبر: 1522۔

’’اے اللہ! بے شک تو معاف کرنے والا ہے، معافی کو پسند کرتا ہے، لہذا مجھے معاف فرما دے۔‘‘ [27] [27] سنن ترمذی، حدیث نمبر: 3513، سنن کبری، حدیث نمبر: 7712، ابن ماجہ، حدیث نمبر: 3850، مسندِ احمد، حدیث نمبر: 25384۔

’’اے اللہ! میرے بڑھاپے کے دنوں میں اور میری عمر کے آخری حصے میں میری روزی میں زیادہ سے زیادہ وسعت فرما‘‘۔

’’اے اللہ! میں تجھ سے بہترین سوال، بہترین دعا، بہترین کامیابی اور بہترین ثواب کا سوال کرتا ہوں۔ تو مجھے ثابت قدم رکھ، میری نیکیوں کے پلڑے کو بھاری کر دے، میرے ایمان کو پختہ کر دے، میرے درجہ کو بلند فرما، میری نماز قبول فرما اور میرے گناہوں کو معاف فرما اور میں تجھ سے جنت کے اعلیٰ درجات کا سوال کرتا ہوں۔ اے اللہ! قبول فرما‘‘۔

’’اے اللہ! میں تجھ سے ایمان میں سلامتی، حسنِ اخلاق والا ایمان، ایسی کامیابی جس کے بعد فلاح ہو، تیری جانب سے رحمت، عافیت، مغفرت اور رضامندی مانگتا ہوں۔‘‘

’’اے اللہ! بے شک تو میرے پوشیدہ اور ظاہر حال کو جانتا ہے، چنانچہ میری معذرت قبول فرما، تو میرے دل کی بات جانتا ہے، لہذا میرے گناہ معاف فرما، اور تو میری حاجت کو جانتا ہے، مجھے میری مراد عطا فرما۔‘‘

’’اے اللہ! میں تجھ سے ایسے ایمان کا سوال کرتا ہوں جو میرے دل میں رچ بس جائے، ایسے سچے یقین کا کہ میں جان لوں کہ مجھے صرف وہی کچھ پہنچے گا جو تو نے میرے لیے لکھ دیا ہے، اور تیری تقسیم پر رضا مندی کا سوال کرتا ہوں۔ تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کارساز ہے، مجھے اسلام اور توحید کی حالت میں وفات دے اور مجھے نیک لوگوں میں شامل فرما دے، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔‘‘

’’اے خوبی کو ظاہر کرنے والے اور برائی پر پردہ ڈالنے والے، اے گناہ پر گرفت نہ کرنے والے اور پردہ فاش نہ کرنے والے، اے عظیم معافی والے، اے بہترین درگزر فرمانے والے، اے وسیع مغفرت والے، اے رحمت کے ساتھ اپنے دونوں ہاتھ کشادہ رکھنے والے، اے ہر سرگوشی کے ساتھی اور ہر شکایت کی انتہا، اے سخاوت کے ساتھ معاف فرمانے والے، اے عظیم احسان والے، اے استحقاق سے قبل ہی نعمتوں کی ابتدا کرنے والے، اے ہمارے رب، اے ہمارے آقا اور اے ہماری آرزو کی انتہا، ہم تجھ سے تیری اس رحمت کا واسطہ دے کر سوال کرتے ہیں جسے تو نے اپنے اوپر لازم کر لیا ہے کہ تو ہمیں، ہمارے والدین، ہماری اولاد، ان کو جو تیری خاطر ہم سے محبت کرتے ہیں اور ان کو جن سے ہم تیری خاطر محبت کرتے ہیں، جہنم کی آگ سے پناہ عطا فرما، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔‘‘

’’اے اللہ! آج کے دن کی ابتدا کو بھلائی، اس کے درمیانی حصہ کو فلاح اور اس کے آخری حصہ کو کامیابی سے معمور کر دے۔ میں تجھ سے دنیا اور آخرت کی بھلائی مانگتا ہوں، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔‘‘

’’اے اللہ! میں بے بسی کی عمر کی جانب لوٹائے جانے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔‘‘

’’اے اللہ! مجھے اچھے اعمال اور اچھے اخلاق کی رہنمائی نصیب فرما، یقینََا ان کی طرف تیرے سوا کوئی رہنمائی نہیں کرسکتا۔ مجھے برے اعمال اور برے اخلاق سے بچا، یقینََا تیرے سوا کوئی ان سے نہیں بچا سکتا۔‘‘

’’اے اللہ! تو میرے نفس کو تقویٰ عطا کر اور اسے (برائیوں سے) پاک کر دے، تو ہی بہترین پاک کرنے والا ہے، تو ہی اس کا مالک اور سر پرست ہے۔‘‘

’’اے اللہ! میں تجھ سے تیری محبت مانگتا ہوں، اس شخص کی بھی محبت مانگتا ہوں جو تجھ سے محبت کرتا ہے اور ایسے تمام اعمال کی محبت مانگتا ہوں جو مجھے تیری محبت کے قریب کر دے۔‘‘

’’اے اللہ! میں تجھ سے خیر کی ابتدا، خیر کی انتہا، خیر کے کمال، خیر کے آغاز، خیر کے آخر، خیر کے ظاہر، خیر کے باطن اور جنت کے اونچے درجات کا سوال کرتا ہوں۔‘‘ آمین۔

’’اے اللہ! میری عمر کا آخری حصہ سب سے بہتر بنا دے، میرے اعمال کا خاتمہ میرے بہترین اعمال پر فرما، میرا سب سے بہترین دن تجھ سے ملاقات کا دن بنا دے، اور دنیا میں میرا آخری کلام یہ شہادت ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔‘‘

’’اے اللہ! یہ دعا ہے اور قبول کرنا تیرے ذمے ہے، یہ کوشش ہے اور توکل تجھ ہی پر ہے، اور تیرے بغیر نہ کوئی طاقت ہے نہ کوئی قوت۔‘‘

اے اللہ! ہمارے سردار محمد ﷺ پر درود وسلام نازل فرما۔

اولاد کے لیے دعا:

’’اے اللہ ! بے شک تو نے مجھے [بیٹیاں اور بیٹے ’’نام ذکر کریں‘‘] میری کسی طاقت اور قوت کے بغیر عطا فرمائے ہیں، لہذا تو انھیں اپنی حفاظت میں رکھ، میری کسی طاقت اور قوت کے بغیر۔‘‘

’’اے اللہ! انھیں ہر ناگوار چیز سے جو ان کو پہنچے اور ہر شر ونقصان سے محفوظ رکھ۔‘‘

’’اے اللہ! انھیں بیماریوں اور امراض سے محفوظ رکھ۔‘‘

’’اے اللہ! مجھے ان کے سلسلے میں آزمائش میں مبتلا نہ کر۔‘‘

’’اے اللہ! انھیں ظاہری اور باطنی تمام فتنوں سے پناہ عطا فرما۔‘‘

’’اے اللہ! انھیں اپنے نیک بندوں اور اپنی کتاب کے حافظوں میں سے بنا، اور (انھیں) دین، عبادت اور اخلاق میں بہترین، زندگی میں سب سے سعادت مند اور گزر بسر میں سب سے خوشحال لوگوں میں سے بنا۔‘‘

’’اے اللہ! انھیں اپنا حلال رزق عطا فرما کر حرام سے اور اپنے فضل وکرم کے ذریعہ اپنے ماسوا سے بے نیاز کر دے۔‘‘

’’اے اللہ ! جس طرح تو نے اپنی کتاب کی حفاظت فرمائی ہے، اسی طرح انھیں بھی شیطانِ مردود کے وسوسوں سے محفوظ فرما۔‘‘

’’اے اللہ! انھیں نیک لوگوں کی صحبت، پاکیزہ لوگوں کی خصلتیں اور تجھ پر توکل (کرنے کی توفیق) عطا فرما، اے قادر، اے جبّار۔‘‘

’’اے میرے رب! مجھے ان کی فرمانبردای سے میری زندگی میں اور میری وفات کے بعد بھی بہرہ مند فرما، ان کے دلوں میں الفت پیدا فرما، ان کے اختلافات کو ختم کر دے اور انھیں سلامتی کے راستے دکھا۔‘‘

’’اے اللہ! انھیں حق کو حق کی شکل میں دکھا اور انھیں اس پر عمل کی توفیق عطا فرما، اور انھیں باطل کو باطل کی شکل میں دکھا اور انھیں اس سے بچنے کی توفیق عطا فرما۔‘‘

’’اے اللہ! اُنہیں دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں قولِ ثابت (شہادتین) پر ثابت قدم رکھ۔‘‘

انھیں ہادی اور ہدایت یافتہ بنا دے، نہ کہ گمراہ اور نہ گمراہ کرنے والے۔

والدین کے لیے دعا:

اے اللہ! تو نے فرمایا اور تیرا فرمان حق ہے: ’’اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔۔‘‘

’’اے اللہ! ہم تجھ سے تیری رضا مندی اور پھر والدین کی رضا مندی کا سوال کرتے ہیں۔‘‘

’’اے اللہ! میرے والدین کو بخش دے اور ان پر رحم فرما جیسے انھوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی ہے۔‘‘

’’اے اللہ! ان کی عمر میں برکت اور ان کے جسم میں صحت عطا فرما۔‘‘

’’اے اللہ! ان سے ہر بلا کو دور فرما اور انھیں ہر بدبختی سے نجات عطا فرما۔‘‘

’’اے اللہ! انھیں تیرا ذکر کرنے والوں اور تیرا شکر بجا لانے والوں میں سے بنا دے۔‘‘

’’اے اللہ! ان دونوں کا خاتمہ بالخیر فرما اور ان دونوں کو کلمہ شہادت کی توفیق عطا فرما۔‘‘

’’اے اللہ! ان دونوں کو بغیر حساب اور سابقہ عذاب کے جنتیوں میں شامل فرما۔‘‘

’’اے اللہ! مجھے ان دونوں کے ساتھ ان کی زندگی میں اور ان کی وفات کے بعد بھی حسنِ سلوک کی توفیق عطا فرما۔‘‘

اپنی حفاظت کریں

’’اللہ کے نام سے اپنی جان، اپنے اہل وعیال، اپنی اولاد، اپنے مال اور اپنے گھر پر(دم کرتا ہوں)۔ اللہ کے نام سے جو تمام ناموں سے بہتر ہے۔ اللہ کے نام سے جس کے نام کے ساتھ کوئی اذیت نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ اللہ کے نام سے جو کافی ہے، اللہ کے نام سے جو شفا دینے والا ہے۔ اللہ کے نام سے جس کے نام کے ساتھ زمین وآسمان میں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی، اور وہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ میں نے اپنی جان، اپنے اہل وعیال، اپنی اولاد، اپنے مال اور اپنے گھر کو ہمیشہ زندہ رہنے والے اور کائنات کو قائم رکھنے والے اس اللہ کی پناہ میں دیا جسے کبھی موت نہیں آتی، جبکہ تمام انسان اور جنات مرنے والے ہیں، اللہ نے ہم سے ہر برائی اور تکلیف کو اٹھا لیا، اور گناہ سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت صرف بلند وعظمت والے اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ اے اللہ! بے شک یہ وبا ہمارے ارد گرد پھیل چکی ہے اور اس کا معاملہ تیرے ہی ہاتھ میں ہے.. چنانچہ تو اپنے لطف، اپنے پردے، اپنے عفو ودرگزر اور اپنی رحمت کے ساتھ ہمارے اور اس (وبا) کے درمیان حائل ہوجا، اور ہمارے ملک کو اس کے شر اور اس کی آفت سے محفوظ فرما۔‘‘

’’میں نے صاحبِ عزت وجبروت کی پناہ لی، میں نے عالمِ ملکوت کے رب کا سہارا لیا، میں نے اس ہمیشہ زندہ رہنے والے پر بھروسہ کیا جسے کبھی موت نہیں آتی، اور شر کو اس اقرار کے ساتھ دور کیا کہ برائیوں سے پھرنے اور نیکیوں کے کرنے کى قوت وطاقت صرف بلند وبالا اور عظمت والے اللہ کى توفیق ہی سے ممکن ہے، اے اللہ! ہم سے اذیت کو دور فرما دے، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے اور (دعا کو) قبول فرمانے کے لائق ہے، اے بہترین فریاد رس، بہترین کارساز اور بہترین مددگار۔‘‘

’’اور اللہ کے اچھے نام ہیں، سو تم اللہ کو انھی ناموں سے پکارو۔۔‘‘

وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں، بہت بخشش کرنے والا، بڑا مہربان، بادشاہ، نہایت پاک، تمام عیبوں سے صاف، امن دینے والا، نگہبان، غالب، زور آور، بڑائی والا، پیدا کرنے والا، بنانے والا، صورت بنانے والا، بہت بخشنے والا، غلبے والا، بہت نوازنے والا، بہت رزق دینے والا، بہت زیادہ کھولنے والا، بہت علم والا، قبضے والا، بڑھا کر دینے والا، جھکانے والا، بلند کرنے والا، عزت دینے والا، ذلت دینے والا، سننے والا، دیکھنے والا، فیصلہ کرنے والا، انصاف کرنے والا، بڑا باریک بین، بہت زیادہ با خبر، انتہائی بردبار، نہایت عظمت والا، بے حد مغفرت کرنے والا، نہایت قدردان، بہت بلند، نہایت بڑائی والا، بہت حفاظت کرنے والا، نگرانی کرنے والا، حساب لینے والا، عظمت وجلال والا، بہت زیادہ کرم والا، نگہبان، دعاؤں کو قبول کرنے والا، کشادگی والا، حکمت والا، بہت محبت کرنے والا، بڑی شان والا، دوبارہ زندہ کرنے والا، ہر چیز کو دیکھنے والا، حق والا، اچھا کارساز، نہایت قوت والا، نہایت مضبوط، کارساز، بے حد تعریف والا، گننے والا، ابتدا کرنے والا، لوٹانے والا، زندہ کرنے والا، مارنے والا، زندگی والا، سب کو تھامنے والا، پانے والا، بزرگی والا، اکیلا، بے نیاز، قدرت والا، مقتدر، آگے کرنے والا، پیچھے کرنے والا، سب سے پہلے وجود رکھنے والا، سب کے بعد وجود رکھنے والا، سب پر غالب، سب سے مخفی، کارساز، سب سے اعلی، مہربان، بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا، انتقام لینے والا، گناہوں کو مٹانے والا، بڑا مہربان، بادشاہ، عظمت ونوازش والا، انصاف کرنے والا، اکٹھا کرنے والا، بے نیاز، بے نیاز کرنے والا، روکنے والا، نقصان پہنچانے والا، نفع پہنچانے والا، منور کرنے والا، ہدایت دینے والا، بے مثال موجد، ہمیشہ رہنے والا، حقیقی مالک، سیدھی راہ دکھانے والا اور بہت صبر کرنے والا۔

ذکر کے اقسام:

’’اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے سب تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔‘‘ [28] (سو مرتبہ) [28] صحیح بخاری، حدیث نمبر: 3293 اور صحیح مسلم، حدیث نمبر: 2691۔

’’پاک ہے اللہ اپنی خوبیوں سمیت، پاک ہے اللہ بہت عظمت والا۔‘‘ [29] (سو مرتبہ)۔ [29] صحیح بخاری، حدیث نمبر: 6405، اور سنن النسائی الکبریٰ، حدیث نمبر: 10662۔

’’گناہ سے بچنے کی ہمت ہے نہ نیکی کرنے کی طاقت مگر اللہ ہی کی توفیق سے۔‘‘ [30] (یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے)۔ [30] سنن ترمذی، حدیث نمبر: 3601۔

’’اللہ پاک ہے، ساری تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے۔‘‘ (یہ اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ کلمات میں سے ہے) [31] [31] السلسلۃ الصحیحۃ از شیخ البانی، حدیث نمبر: 3336۔

’’میں اللہ سے مغفرت مانگتا ہوں اور اس کے حضور توبہ کرتا ہوں۔‘‘ [32] (سو مرتبہ)۔ [32] صحیح بخاری، حدیث نمبر: 6307۔

جو شخص یہ کلمات کہے: ’’میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں، وہ (اللہ) جس کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں، زندہ ہے، کائنات کا نگران ہے اور میں اسی کے حضور توبہ کرتا ہوں۔‘‘ (تو اللہ اس کی مغفرت فرما دیتا ہے، اگرچہ وہ میدانِ جنگ سے ہی کیوں نہ بھاگا ہو)۔ [33] [33] سننِ ترمذی، حدیث نمبر: 3576۔

’’تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ظالموں میں ہو گیا۔‘‘ [34] [34] سنن ترمذی، حدیث نمبر: 3505۔

نبی ﷺ پر بہ کثرت درود بھیجنا۔

نبی ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! رحمت نازل فرما محمد (ﷺ) پر اور آلِ محمد پر، جیسے تو نے رحمت نازل فرمائی ابراہیم پر اور آلِ ابراہیم پر، یقینََا تو قابلِ تعریف، بڑی شان والا ہے۔ اور برکت نازل فرما محمد (ﷺ) پر اور آلِ محمد پر جیسے تو نے برکت نازل فرمائی ابراہیم پر اور آلِ ابراہیم پر، یقینََا تو قابلِ تعریف، بڑی شان والا ہے“ [35]۔ [35] صحیح مسلم، حدیث نمبر: 408۔

دوہرے اجر وثواب والا ذکر:

’’میں اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر۔

میں اللہ کی پاکیزگی بیان کرتا ہوں اُس کی مخلوق کے بھرپور (مقدار) کے برابر۔

میں اللہ کی پاکیزگی بیان کرتا ہوں آسمانوں اور زمین میں موجود چیزوں کی تعداد کے برابر۔

میں اللہ کی پاکیزگی بیان کرتا ہوں آسمانوں اور زمین میں موجود چیزوں کے بھرپور (مقدار) کے برابر۔

میں اللہ کی پاکیزگی بیان کرتا ہوں ان چیزوں کی تعداد کے برابر جن کا اس کی کتاب نے شمار کر رکھا ہے۔

میں اللہ کی پاکیزگی بیان کرتا ہوں ان چیزوں کے بھرپور (مقدار) کے برابر جن کا اس کی کتاب نے شمار کر رکھا ہے۔

میں اللہ کی پاکیزگی بیان کرتا ہوں ہر چیز کی تعداد کے برابر۔

میں اللہ کی پاکیزگی بیان کرتا ہوں ہر چیز کے بھرپور (مقدار) کے برابر۔

میں اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر۔

میں اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں اُس کی مخلوق کے بھرپور (مقدار) کے برابر۔

میں اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں آسمانوں اور زمین میں موجود چیزوں کی تعداد کے برابر۔

میں اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں آسمانوں اور زمین میں موجود چیزوں کے بھرپور (مقدار) کے برابر۔

میں اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں ان چیزوں کی تعداد کے برابر جن کا اس کی کتاب نے شمار کر رکھا ہے۔

میں اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں ان چیزوں کے بھرپور (مقدار) کے برابر جن کا اس کی کتاب نے شمار کر رکھا ہے۔

میں اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں ہر چیز کی تعداد کے برابر۔

میں اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں ہر چیز کے بھرپور (مقدار) کے برابر۔

میں اللہ کی بڑائی بیان کرتا ہوں اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر۔

میں اللہ کی بڑائی بیان کرتا ہوں اُس کی مخلوق کے بھرپور (مقدار) کے برابر۔

میں اللہ کی بڑائی بیان کرتا ہوں آسمانوں اور زمین میں موجود چیزوں کی تعداد کے برابر۔

میں اللہ کی بڑائی بیان کرتا ہوں آسمانوں اور زمین میں موجود چیزوں کے بھرپور (مقدار) کے برابر۔

میں اللہ کی بڑائی بیان کرتا ہوں اُن چیزوں کی تعداد کے برابر جن کا اس کی کتاب نے شمار کر رکھا ہے۔

میں اللہ کی بڑائی بیان کرتا ہوں ان چیزوں کے بھرپور (مقدار) کے برابر جن کا اس کی کتاب نے شمار کر رکھا ہے۔

میں اللہ کی بڑائی بیان کرتا ہوں ہر چیز کی تعداد کے برابر۔

میں اللہ کی بڑائی بیان کرتا ہوں ہر چیز کے بھرپور (مقدار) کے برابر۔

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر۔

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اس کی مخلوق کے بھرپور (مقدار) کے برابر۔

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، آسمانوں اور زمین میں موجود چیزوں کی تعداد کے برابر۔

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، آسمانوں اور زمین میں موجود چیزوں کے بھرپور (مقدار) کے برابر۔

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، ان چیزوں کی تعداد کے برابر جن کا اس کی کتاب نے شمار کر رکھا ہے۔

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، ان چیزوں کے بھرپور (مقدار) کے برابر جن کا اس کی کتاب نے شمار کر رکھا ہے۔

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، ہر چیز کی تعداد کے برابر۔

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، ہر چیز کے بھرپور (مقدار) کے برابر۔

گناہوں سے بچنے کی ہمت ہے نہ نیکی کرنے کی طاقت مگر اللہ ہی کی توفیق سے، اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر۔

گناہوں سے بچنے کی ہمت ہے نہ نیکی کرنے کی طاقت مگر اللہ ہی کی توفیق سے، اس کی مخلوق کے بھرپور (مقدار) کے برابر۔

گناہوں سے بچنے کی ہمت ہے نہ نیکی کرنے کی طاقت مگر اللہ ہی کی توفیق سے، آسمانوں اور زمین میں موجود چیزوں کی تعداد کے برابر۔

گناہوں سے بچنے کی ہمت ہے نہ نیکی کرنے کی طاقت مگر اللہ ہی کی توفیق سے، آسمانوں اور زمین میں موجود چیزوں کے بھرپور (مقدار) کے برابر۔

گناہوں سے بچنے کی ہمت ہے نہ نیکی کرنے کی طاقت مگر اللہ ہی کی توفیق سے، ان چیزوں کی تعداد کے برابر جن کا اس کی کتاب نے شمار کر رکھا ہے۔

گناہوں سے بچنے کی ہمت ہے نہ نیکی کرنے کی طاقت مگر اللہ ہی کی توفیق سے، ان چیزوں کے بھرپور (مقدار) کے برابر جن کا اُس کی کتاب نے شمار کر رکھا ہے۔

میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں، اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر۔

میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں، اس کی مخلوق کے بھرپور (مقدار) کے برابر۔

گناہوں سے بچنے کی ہمت ہے نہ نیکی کرنے کی طاقت مگر اللہ ہی کی توفیق سے، ہر چیز کی تعداد کے برابر۔

گناہوں سے بچنے کی ہمت ہے نہ نیکی کرنے کی طاقت مگر اللہ ہی کی توفیق سے، ہر چیز کے بھرپور (مقدار) کے برابر۔

میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں، اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر۔

میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں، اس کی مخلوق کے بھرپور (مقدار) کے برابر۔

میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں، آسمانوں اور زمین میں موجود چیزوں کی تعداد کے برابر۔

میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں، آسمانوں اور زمین میں موجود چیزوں کے بھرپور (مقدار) کے برابر۔

میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں، ان چیزوں کی تعداد کے برابر جن کا اس کی کتاب نے شمار کر رکھا ہے۔

میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں، ان چیزوں کے بھرپور (مقدار) کے برابر جن کا اس کی کتاب نے شمار کر رکھا ہے۔

میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں، ہر چیز کی تعداد کے برابر۔

میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں، ہر چیز کے بھرپور (مقدار) کے برابر۔

اے اللہ! ہمارے نبی محمد ﷺ پر درود وسلام نازل فرما، اپنی مخلوق کی تعداد کے برابر۔

اے اللہ! ہمارے نبی محمد ﷺ پر درود وسلام نازل فرما، اپنی مخلوق کے بھرپور (مقدار) کے برابر۔

اے اللہ! ہمارے نبی محمد ﷺ پر درود وسلام نازل فرما، آسمانوں اور زمین میں موجود چیزوں کی تعداد کے برابر۔

اے اللہ ! ہمارے نبی محمد ﷺ پر درود وسلام نازل فرما، آسمانوں اور زمین میں موجود چیزوں کے بھرپور (مقدار) کے برابر۔

اے اللہ! ہمارے نبی محمد ﷺ پر درود وسلام نازل فرما، ان چیزوں کی تعداد کے برابر جن کا تیری کتاب نے شمار کر رکھا ہے۔

اے اللہ ! ہمارے نبى محمد ﷺ پر درود وسلام نازل فرما، ان چیزوں کے بھرپور مقدار کے برابر جن کا تیری کتاب نے شمار کر رکھا ہے۔

اے اللہ! ہمارے نبی محمد ﷺ پر درود و سلام نازل فرما، ہر چیز کی تعداد کے برابر۔

اے اللہ ! ہمارے نبى محمد ﷺ پر درود وسلام نازل فرما، ہر چیز کے بھرپور (مقدار) کے برابر۔

اللہ سب سے بڑا ہے بہت بڑا، ہر قسم کی تعریف اللہ ہی کے لیے ہے بہت زیادہ، میں صبح و شام اللہ کی پاکیزگی بیان کرتا ہوں، اللہ کی رحمت اور سلامتی ہو ہمارے سردار محمد (ﷺ) پر، آپ کی آل اور آپ کے صحابہ پر اور بہت زیادہ سلامتی ہو۔ (حصن المسلم)۔

اے اللہ! تمام مسلمان مردوں اور عورتوں، اور تمام مومن مردوں اور عورتوں کی مغفرت فرما، ان میں سے جو زندہ ہیں اور جو فوت ہو چکے ہیں (سب کی مغفرت فرما)، اپنی رحمت سے، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔

’’اور دیکھتے رہیے یہ بھی ابھی ابھی دیکھ لیں گے۔ پاک ہے آپ کا رب جو بہت بڑی عزت واﻻ ہے۔ ہر اُس چیز سے (جو مشرک) بیان کرتے ہیں۔ پیغمبروں پر سلام ہے۔ اور سب طرح کی تعریف اللہ کے لیے ہے جو سارے جہان کا رب ہے۔‘‘ [الصافات: 179-182]۔

فرض نماز کے بعد کے اذکار

’’میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں، میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں، میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں۔‘‘

’’اے اللہ ! تو ہی سلامتی والا ہے اور تیری ہی طرف سے سلامتی ہے، تو بہت با برکت ہے اے بڑی شان اور عزت والے!۔‘‘ [36] [36] صحیح مسلم، حدیث نمبر: 591۔

’’اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے ساری تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔ اے اللہ ! اس چیز کو کوئی روکنے والا نہیں جو تو عطا کرے اور جس چیز کو تو روک لے، اس کو کوئی دینے والا نہیں اور کسی صاحبِ حیثیت کو اس کی حیثیت تیرے ہاں فائدہ نہیں دے سکتی۔‘‘ [37] [37] صحیح بخاری، حدیث نمبر: 844، صحیح مسلم، حدیث نمبر: 593۔

’’اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے ساری تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے، برائی سے بچنے کی ہمت ہے نہ نیکی کرنے کی طاقت مگر اللہ کی توفیق ہی سے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، ہم صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں، اسی کی طرف سے انعام ہے اور اسی کے لیے فضل اور اسی کے لیے بہترین ثنا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، ہم اسی کے لیے بندگی کو خالص کرنے والے ہیں، خواہ کافر (اسے) ناگوار سمجھیں۔‘‘ [38] [38] صحیح مسلم، حدیث نمبر: 594۔

آیۃ الکرسی [39]، سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس کی تلاوت۔ [39] سنن کبری از امام نسائی، حدیث نمبر: 9848۔

’’اللہ پاک ہے، ساری تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، اللہ سب سے بڑا ہے۔‘‘(33 مرتبہ) [40] [40] صحیح مسلم، حدیث نمبر: 596۔

’’اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے ساری تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔‘‘ (سو مرتبہ) [41] [41] صحیح مسلم، حدیث نمبر: 596۔

سونے کے اذکار:

نبی (ﷺ) دونوں ہتھیلیاں ساتھ ملا کر ان میں پھونکتے اور پڑھتے: ’’آپ کہہ دیجیے کہ وه اللہ ایک (ہی) ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ نہ اُس سے کوئی پیدا ہوا نہ وه کسی سے پیدا ہوا۔ اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے۔‘‘ [الإخلاص: 1-4]

’’آپ کہہ دیجیے کہ میں صبح کے رب کی پناه میں آتا ہوں۔ ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے۔ اور اندھیری رات کی تاریکی کے شر سے جب اس کا اندھیرا پھیل جائے۔ اور گره لگا کر ان میں پھونکنے والیوں کے شر سے (بھی)۔ اور حسد کرنے والے کی برائی سے بھی جب وه حسد کرے۔‘‘ [الفلق : 1-5]

’’آپ کہہ دیجیے کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناه میں آتا ہوں۔ لوگوں کے مالک کی۔ لوگوں کے معبود کی (پناه میں)۔ وسوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے۔ جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ (خواه) وه جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے"۔ [الناس : 1-6]۔ (تین مرتبہ)

پھر دونوں ہاتھوں کو جہاں تک ممکن ہوتا اپنے جسم پر پھیرتے تھے، سر اور چہرہ اور جسم کے سامنے کے حصے سے شروع فرماتے۔ (آپ ﷺ تین مرتبہ یہ عمل کرتے تھے)۔

’’اللہ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، جو زنده اور سب کا تھامنے واﻻ ہے، جسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند، اس کی ملکیت میں زمین اور آسمانوں کی تمام چیزیں ہیں۔ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے، وه جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وه اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جتنا وه چاہے، اس کی کرسی کی وسعت نے زمین وآسمان کو گھیر رکھا ہے، اور اللہ ان کی حفاﻇت سے نہ تھکتا اور نہ اکتاتا ہے، وه تو بہت بلند اور بہت بڑا ہے۔‘‘ [البقرۃ: 255] [42]۔ [42] صحیح بخاری، حدیث نمبر: 2311۔

’’رسول ایمان ﻻیا اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ کی جانب سے اتری اور مومن بھی ایمان ﻻئے، یہ سب اللہ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان ﻻئے، اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے، انھوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی، ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں، اے ہمارے رب! اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔ اللہ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیاده تکلیف نہیں دیتا، جو نیکی وه کرے وه اس کے لیے اور جو برائی وه کرے وه اس پر ہے، اے ہمارے رب! اگر ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا، اے ہمارے رب! ہم پر وه بوجھ نہ ڈال جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈاﻻ تھا، اے ہمارے رب! ہم پر وه بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہ ہو اور ہم سے درگزر فرما! اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر! تو ہی ہمارا مالک ہے، ہمیں کافروں کی قوم پر غلبہ عطا فرما۔‘‘ [البقرۃ: 285 - 286] [43]۔ [43] صحیح بخاری، حدیث نمبر: 4008، صحیح مسلم، حدیث نمبر : 807 ۔

’’اے میرے رب! تیرے ہی نام کے ساتھ میں نے اپنا پہلو (بستر پر) رکھا اور تیرے ہی نام کے ساتھ اسے اٹھاؤں گا، لہٰذا اگر تو میری روح قبض کر لے تو اس پر رحم فرمانا اور اگر تو اسے چھوڑ دے تو اس کی ایسے حفاظت فرمانا جیسے تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے۔‘‘ [44] [44] صحیح مسلم، حدیث نمبر: 2712۔

’’اے اللہ ! تو نے میری روح پیدا فرمائی اور تو ہی اسے فوت کرے گا، تیرى ہی ملکیت میں اس کی موت اور حیات ہے، اگر تو اسے زندہ رکھے تو اس کی حفاظت فرمانا اور اگر تو اسے موت دے تو اس کى مغفرت فرمانا۔ اے اللہ ! میں تجھ سے عافیت کا سوال کرتا ہوں۔‘‘ [45] [45] صحیح مسلم، حدیث نمبر: 2712۔

’’اے اللہ! مجھے (اس دن) اپنے عذاب سے بچانا جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا۔‘‘ (تین مرتبہ) [46]۔ [46] سنن ابو داود، حدیث نمبر: 5045۔

’’تیرے ہی نام کے ساتھ اے اللہ! میں مرتا اور زندہ ہوتا ہوں۔‘‘ [47] [47] صحیح بخاری، حدیث نمبر: 6314۔

’’اللہ پاک ہے۔‘‘ (تینتیس مرتبہ)۔

’’ساری تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔‘‘ (تینتیس مرتبہ)۔

’’اللہ سب سے بڑا ہے۔‘‘ (چونتیس مرتبہ)۔ [48] [48] صحیح بخاری، حدیث نمبر: 3705، صحیح مسلم، حدیث نمبر: 2727۔

’’ہر قسم کی تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں کھلایا، پلایا، ہمیں کافی ہو گیا اور ہمیں ٹھکانا دیا، (ورنہ) کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن کی نہ کوئی کفایت کرنے والا ہے اور نہ کوئی انہیں ٹھکانا دینے والا۔‘‘

سورہ ’’الم تَنْزِيلَ السَّجْدَةِ‘‘ پڑھتے اور سورہ تبارک الذی بیدہ الملک۔۔ [49] [49] السنن الکبری از نسائی، حدیث نمبر: 10479۔

’’اے اللہ ! میں نے اپنا نفس تیرے تابع کردیا، اپنا معاملہ تجھے سونپ دیا اور اپنی پشت تیری طرف جھکائی (تیرے عذاب سے) ڈرتے ہوئے اور ( تیرے ثواب کی) رغبت کرتے ہوئے، تیری بارگاہ کے سوا نہ کوئی پناہ گاہ ہے اور نہ کوئی جائے نجات، میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا جسے تو نے نازل فرمایا اور تیرے اس نبی پر جسے تو نے (ہماری طرف) بھیجا۔‘‘ [50] [50] صحیح بخاری، حدیث نمبر: 7488، صحیح مسلم، حدیث نمبر: 2710۔

نبی ﷺ نے فرمایا: "جو شخص رات کو کسی وقت بیدار ہو اور یہ کلمات کہے: ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے ہر قسم کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔ ساری تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، اللہ کی ذات پاک ہے، اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ کی مدد کے بغیر نہ کسی کو گناہوں سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی ہمت۔“ پھر یہ کہے: ’’اے میرے رب! مجھے بخش دے“۔ یا کوئی دعا کرے تو اس کی دعا قبول ہوتی ہے، پھر اگر وضو کر کے نماز پڑھے تو اس کی نماز قبول ہوتی ہے۔‘‘ [51]۔ [51] صحیح بخاری، حدیث نمبر: 1154۔

دوسری فصل

دَم (رقیہ) کرنے کی آیتیں

- ’’شروع اللہ کے نام سے جو بہت مہربان نہایت رحم واﻻ ہے۔ سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے واﻻ ہے۔ بہت بخشش کرنے والا بڑا مہربان۔ بدلے کے دن (قیامت) کا مالک ہے۔ ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔ ہمیں سیدھی (اور سچی) راه دکھا۔ ان لوگوں کی راه جن پر تو نے انعام کیا ان کی نہیں جن پر غضب کیا گیا اور نہ گمراہوں کی۔ [الفاتحۃ: 1-7]۔

- ’’الم۔ اس کتاب کے اللہ کی کتاب ہونے میں کوئی شک نہیں، پرہیزگاروں کو راه دکھانے والی ہے۔ جو لوگ غیب پر ایمان ﻻتے ہیں اور نماز کو قائم رکھتے ہیں اور ہمارے دیے ہوئے مال میں سے خرچ کرتے ہیں۔ اور جو لوگ ایمان ﻻتے ہیں اس پر جو آپ کی طرف اتارا گیا اور جو آپ سے پہلے اتارا گیا ، اور وه آخرت پر بھی یقین رکھتے ہیں۔ یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ فلاح اور نجات پانے والے ہیں۔‘‘ [البقرۃ: 1-5]۔

- "اللہ ہی معبودِ برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، جو زنده اور سب کا تھامنے واﻻ ہے، جسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند، اس کی ملکیت میں زمین اور آسمان کی تمام چیزیں ہیں۔ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے، وه جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وه اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جتنا وه چاہے، اس کی کرسی کی وسعت نے زمین وآسمان کو گھیر رکھا ہے، اور اللہ ان کی حفاظت سے نہ تھکتا اور نہ اکتاتا ہے، وه تو بہت بلند اور بہت بڑا ہے۔ دین کے بارے میں کوئی زبردستی نہیں، سیدھی راہ ٹیڑھی راہ سے ممتاز اور روشن ہوچکی ہے، اس لیے جو شخص اللہ کے سوا دوسرے معبودوں کا انکار کرکے اللہ پر ایمان ﻻئے اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا، جو کبھی نہ ٹوٹے گا اور اللہ سننے واﻻ، جاننے واﻻ ہے۔ ایمان ﻻنے والوں کا کارساز اللہ خود ہے، وه انھیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لے جاتا ہے اور کافروں کے اولیاء شیاطین ہیں۔ وه انھیں روشنی سے نکال کر اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں، یہ لوگ جہنمی ہیں جو ہمیشہ اسی میں پڑے رہیں گے۔‘‘ [البقرۃ: 255-257]۔

- ’’تم سب کا معبود ایک ہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔ وه بہت رحم کرنے واﻻ اور بڑا مہربان ہے۔ آسمان اور زمین کی پیدائش، رات دن کا ہیر پھیر، کشتیوں کا لوگوں کو نفع دینے والی چیزوں کو لیے ہوئے سمندروں میں چلنا، آسمان سے پانی اتار کر، مرده زمین کو زنده کردینا، اس میں ہر قسم کے جانوروں کو پھیلا دینا، ہواؤں کے رخ بدلنا، اور بادل، جو آسمان اور زمین کے درمیان مسخر ہیں، ان میں عقلمندوں کے لیے قدرتِ الٰہی کی نشانیاں ہیں۔‘‘ [البقرۃ: 163-164]۔

’’کیا تم میں سے کوئی بھی یہ چاہتا ہے کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو، جس میں نہریں بہہ رہی ہوں اور ہر قسم کے پھل موجود ہوں، اس شخص کا بڑھاپا آگیا ہو، اس کے ننھے ننھے سے بچے بھی ہوں اور اچانک باغ کو بگوﻻ لگ جائے جس میں آگ بھی ہو، پس وه باغ جل جائے، اسی طرح اللہ تمھارے لیے آیتیں بیان کرتا ہے تاکہ تم غوروفکر کرو۔‘‘ [البقرۃ: 266]۔

- ’’کیا سلطنت میں ان کا کوئی حصہ ہے؟ اگر ایسا ہو تو پھر یہ کسی کو کھجور کی گٹھلی کے شگاف کے برابر بھی کچھ نہ دیں گے۔ یا یہ لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ نے اپنے فضل سے انھیں دیا ہے، پس ہم نے تو آل ابراہیم کو کتاب اور حکمت بھی دی ہے اور بڑی سلطنت بھی عطا فرمائی ہے۔‘‘ [النساء: 53-54]۔

’’آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اللہ ہی کی ملکیت ہے۔ تمھارے دلوں میں جو کچھ ہے اسے تم ظاہر کرو یا چھپاؤ، اللہ اس کا حساب تم سے لے گا۔ پھر جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے سزا دے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ رسول ایمان ﻻیا اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ کی جانب سے اتری اور مومن بھی ایمان ﻻئے، یہ سب اللہ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان ﻻئے، اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے، انھوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی، ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں، اے ہمارے رب! اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔ اللہ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیاده تکلیف نہیں دیتا، جو نیکی وه کرے وه اس کے لیے اور جو برائی وه کرے وه اس پر ہے، اے ہمارے رب! اگر ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا، اے ہمارے رب! ہم پر وه بوجھ نہ ڈال جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈاﻻ تھا، اے ہمارے رب! ہم پر وه بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہ ہو اور ہم سے درگزر فرما! اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر! تو ہی ہمارا مالک ہے، ہمیں کافروں کی قوم پر غلبہ عطا فرما۔‘‘ [البقرۃ: 284-286]۔

’’الم۔ اللہ وه ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، جو زنده اور سب کو تھامنے والا ہے۔ جس نے آپ پر حق کے ساتھ اس کتاب کو نازل فرمایا ہے، جو اپنے سے پہلے کی تصدیق کرنے والی ہے اور اسی نے تورات اور انجیل کو اتارا تھا۔ اس سے پہلے، لوگوں کو ہدایت کرنے والی بنا کر، اور قرآن بھی اسی نے اتارا، جو لوگ اللہ کی آیتوں سے کفر کرتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے اور اللہ غالب ہے، بدلہ لینے واﻻ ہے۔ یقیناً اللہ پر زمین وآسمان کی کوئی چیز پوشیده نہیں۔ وه ماں کے پیٹ میں تمھاری صورتیں جس طرح چاہتا ہے بناتا ہے، اس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وه غالب ہے، حکمت واﻻ ہے۔‘‘ [آل عمران: 1-6]۔

’’اللہ، فرشتے اور اہلِ علم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور وه عدل کے ساتھ دنیا کو قائم رکھنے واﻻ ہے، اس غالب اور حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے ﻻئق نہیں۔‘‘ [آل عمران: 18]۔

’’آپ کہہ دیجیے: اے میرے معبود! اے تمام جہان کے مالک! تو جسے چاہے بادشاہی دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے اور تو جسے چاہے عزت دے اورجسے چاہے ذلت دے، تیرے ہی ہاتھ میں سب بھلائیاں ہیں، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔ تو ہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں لے جاتا ہے، تو ہی بے جان سے جاندار پیدا کرتا ہے اور تو ہی جاندار سے بے جان پیدا کرتا ہے، تو ہی ہے کہ جسے چاہتا ہے بے شمار روزی دیتا ہے۔‘‘ [آل عمران: 26-27]۔

’’بے شک تمھارا رب اللہ ہی ہے جس نے سب آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کیا ہے، پھر عرش پر قائم ہوا۔ وه رات سے دن کو ایسے طور پر چھپا دیتا ہے کہ وه رات اس دن کے پیچھے لپکی چلی آتی ہے اور سورج اور چاند اور دوسرے ستاروں کو پیدا کیا ایسے طور پر کہ سب اُس کے حکم کے تابع ہیں۔ یاد رکھو، اللہ ہی کے لیے خاص ہے خالق ہونا اور حاکم ہونا، بڑا ہی بابرکت ہے اللہ جو تمام عالم کا پروردگار ہے۔ تم لوگ اپنے پروردگار سے دعا کیا کرو گڑگڑا کر اور چپکے چپکے بھی۔ واقعی اللہ اُن لوگوں کو ناپسند کرتا ہے جو حد سے نکل جائیں۔ اور زمین کی اصلاح کے بعد اس میں فساد مت پھیلاؤ اور تم اللہ سے ڈرتے ہوئے اور (اس کی رحمت کی) امید رکھتے ہوئے اس کو پکارو، بے شک اللہ کی رحمت نیک کام کرنے والوں کے نزدیک ہے۔‘‘ [الاعراف: 54-56]۔

’’اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اپنا عصا ڈال دیجیے! سو عصا کا ڈالنا تھا کہ اس نے ان کے سارے بنے بنائے کھیل کو نگلنا شروع کیا۔ پس حق ظاہر ہوگیا اور انھوں نے جو کچھ بنایا تھا، سب جاتا رہا۔ پس وه لوگ اس موقع پر ہار گئے اور خوب ذلیل ہوکر پھرے۔ اور وه جو ساحر تھے سجده میں گر گئے۔‘‘ [الاعراف: 117-120]۔

’’اور فرعون نے کہا کہ میرے پاس تمام ماہر جادوگروں کو حاضر کرو۔ پھر جب جادوگر آئے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو۔ سو جب انھوں نے ڈاﻻ تو موسیٰ ﴿علیہ السلام﴾ نے فرمایا کہ یہ جو کچھ تم ﻻئے ہو جادو ہے۔ یقینی بات ہے کہ اللہ اس کو ابھی درہم برہم کیے دیتا ہے، اللہ فسادیوں کا کام درست نہیں کرتا۔ اور اللہ حق کو اپنے فرمان سے ثابت کردیتا ہے، گو مجرم لوگ برا ہی مانیں۔‘‘ [یونس: 79-82]۔

’’اور یہ کہہ دیجیے کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو نہ اوﻻد رکھتا ہے نہ اپنی بادشاہت میں کسی کو شریک وساجھی رکھتا ہے اور نہ وه کمزور ہے کہ کوئی اس کا حمایتی ہو اور تو اس کی پوری پوری بڑائی بیان کرتا رہ۔‘‘ [الإسراء: 111]۔

’’آسمانوں کا، زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب وہی ہے۔ تو اسی کی بندگی کر اور اس کی عبادت پر جم جا۔ کیا تیرے علم میں اس کا ہم نام ہم پلہ اور بھی ہے؟ اور انسان کہتا ہے کہ جب میں مرجاؤں گا تو کیا پھر زندہ کر کے نکالا جاؤں گا؟ کیا یہ انسان اتنا بھی یاد نہیں رکھتا کہ ہم نے اسے اس سے پہلے پیدا کیا، حاﻻنکہ وه کچھ بھی نہ تھا؟۔ تیرے پروردگار کی قسم! ہم انھیں اور شیطانوں کو جمع کر کے ضرور ضرور جہنم کے اردگرد گھٹنوں کے بل گرے ہوئے حاضر کر دیں گے۔ پھر ہم ہر ہر گروه سے انھیں الگ نکال کھڑا کریں گے جو اللہ رحمنٰ سے اکڑے اکڑے پھرتے تھے۔‘‘ [طہ: 65-69]۔

’’کیا تم یہ گمان کیے ہوئے ہو کہ ہم نے تمھیں یوں ہی بیکار پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹائے ہی نہ جاؤ گے۔ اللہ سچا بادشاه ہے، وه بڑی بلندی واﻻ ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی بزرگ عرش کا مالک ہے۔ جو شخص اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو پکارے جس کی کوئی دلیل اس کے پاس نہیں، پس اس کا حساب تو اس کے رب کے اوپر ہی ہے۔ بے شک کافر لوگ نجات سے محروم ہیں۔ اور کہو کہ اے میرے رب! تو بخش اور رحم کر اور تو سب مہربانوں سے بہتر مہربانی کرنے واﻻ ہے۔‘‘ [المؤمنون: 115-118]۔

’’پس اللہ کی تسبیح پڑھا کرو جب کہ تم شام کرو اور جب صبح کرو۔ تمام تعریفوں کے ﻻئق آسمان وزمین میں صرف وہی ہے، تیسرے پہر کو اور ظہر کے وقت بھی (اس کی پاکیزگی بیان کرو)۔ (وہی) زنده کو مرده سے اور مرده کو زنده سے نکالتا ہے۔ اور وہی زمین کو اس کی موت کے بعد زنده کرتا ہے، اسی طرح تم بھی نکالے جاؤ گے۔‘‘ [الروم: 17-19]۔

’’قسم ہے صف باندھنے والے (فرشتوں) کی۔ پھر پوری طرح ڈانٹنے والوں کی۔ پھر ذکر (قرآن) کی تلاوت کرنے والوں کی۔ یقیناً تم سب کا معبود ایک ہی ہے۔ آسمانوں اور زمین اور اُن کے درمیان کی تمام چیزوں اور مَشرقوں کا رب وہی ہے۔ ہم نے آسمانِ دنیا کو ستاروں کی زینت سے آراستہ کیا۔ اور حفاظت کی سرکش شیطان سے۔ عالم باﻻ کے فرشتوں (کی باتوں) کو سننے کے لیے وه کان بھی نہیں لگا سکتے، بلکہ ہر طرف سے وه مارے جاتے ہیں۔ بھگانے کے لیے اور اُن کے لیے دائمی عذاب ہے۔ مگر جو کوئی ایک آدھ بات اُچک لے بھاگے تو (فوراً ہی) اُس کے پیچھے دہکتا ہوا شعلہ لگ جاتا ہے۔ اُن کافروں سے پوچھو تو کہ آیا اُن کا پیدا کرنا زیاده دشوار ہے یا (ان کا) جنھیں ہم نے (ان کے علاوہ) پیدا کیا؟ ہم نے (انسانوں) کو لیس دار مٹی سے پیدا کیا ہے۔ بلکہ تُو تعجب کر رہا ہے اور یہ مسخرا پن کر رہے ہیں۔ اور جب اُنھیں نصیحت کی جاتی ہے یہ نہیں مانتے۔ اور جب کسی معجزے کو دیکھتے ہیں تو مذاق اڑاتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ یہ تو بالکل کُھلم کھلا جادو ہی ہے۔ کیا جب ہم مر جائیں گے اور خاک اور ہڈیاں ہو جائیں گے، پھر کیا (سچ مچ) ہم اٹھائے جائیں گے؟‘‘ [الصافات: 1-16]۔

’’پاک ہے آپ کا رب جو بہت بڑی عزت واﻻ ہے۔ ہر اُس چیز سے جو (مشرک) بیان کرتے ہیں۔ پیغمبروں پر سلام ہے۔ اور سب طرح کی تعریف اللہ کے لیے ہے جو سارے جہان کا رب ہے۔‘‘ [الصافات: 180-182]۔ (سات مرتبہ)۔

’’حٰمٓ۔ اس کتاب کا نازل فرمانا اُس اللہ کی طرف سے ہے جو غالب اور دانا ہے۔ گناه کا بخشنے واﻻ اور توبہ کا قبول فرمانے واﻻ، سخت عذاب واﻻ، انعام وقدرت واﻻ، جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اُسی کی طرف واپس لوٹنا ہے۔‘‘ [غافر: 1-3]۔

- ’’اے جنوں اور انسانوں کے گروہو! عنقریب ہم تمہاری طرف پوری طرح متوجہ ہو جائیں۔ پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ اے گروه جنات وانس! اگر تم میں آسمانوں اور زمین کے کناروں سے باہر نکل جانے کی طاقت ہے تو نکل بھاگو! بغیر غلبہ اور طاقت کے تم نہیں نکل سکتے۔ پھر اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟‘‘ [الرحمٰن: 31-34]۔

- ’’اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر اتارتے تو تو دیکھتا کہ خوفِ الٰہی سے وه پست ہوکر ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا، ہم ان مثالوں کو لوگوں کے سامنے بیان کرتے ہیں تاکہ وه غور وفکر کریں۔ وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، چھپے کھلے کا جاننے واﻻ مہربان اور رحم کرنے واﻻ۔ وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، بادشاه، نہایت پاک، سب عیبوں سے صاف، امن دینے واﻻ، نگہبان، غالب زور آور اور بڑائی واﻻ، پاک ہے اللہ ان چیزوں سے جنھیں یہ اس کا شریک بناتے ہیں۔ وہی اللہ ہے پیدا کرنے واﻻ بنانے واﻻ، وجود بخشنے والا، صورت بنانے واﻻ، اسی کے لیے (نہایت) اچھے نام ہیں، ہر چیز خواه وه آسمانوں میں ہو خواه زمین میں ہو، اس کی پاکی بیان کرتی ہے۔ اور وہی غالب حکمت واﻻ ہے۔‘‘ [الحشر: 21-24]۔

’’بہت بابرکت ہے وه اللہ جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے واﻻ ہے۔ جس نے موت اور حیات کو اس لیے پیدا کیا کہ تمھیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے کام کون کرتا ہے، اور وه غالب (اور) بخشنے واﻻ ہے۔ جس نے ساتوں آسمانوں کو اوپر تلے بنائے، (تُو اے دیکھنے والے!) رحمٰن کے پیدا کرنے میں تو کوئی بے ضابطگی نہ دیکھے گا، دوباره (نظریں ڈال کر) دیکھ لے کیا کوئی شگاف بھی نظر آرہا ہے۔ پھر دوہرا کر دو دو بار دیکھ لے۔ تیری نگاه تیری طرف ذلیل (و عاجز) ہو کر تھکی ہوئی لوٹ آئے گی۔‘‘ [الملک: 1-4]۔

’’اور قریب ہے کہ کافر اپنی تیز نگاہوں سے آپ کو پھسلا دیں، جب کبھی قرآن سنتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں یہ تو ضرور دیوانہ ہے۔ در حقیقت یہ (قرآن) تو تمام جہان والوں کے لیے سراسر نصیحت ہی ہے۔‘‘ [القلم : 51-52]۔

’’اور بے شک ہمارے رب کی شان بڑی بلند ہے، نہ اس نے کسی کو (اپنی) بیوی بنایا ہے نہ بیٹا۔‘‘ [الجن: 3]۔

’’آپ کہہ دیجیے کہ وه اللہ ایک (ہی) ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ نہ اُس سے کوئی پیدا ہوا نہ وه کسی سے پیدا ہوا۔ اور نہ کوئی اُس کا ہمسر ہے۔‘‘ [الاخلاص: 1-4]۔

’’آپ کہہ دیجیے کہ میں صبح کے رب کی پناه میں آتا ہوں۔ ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے۔ اور اندھیری رات کی تاریکی کے شر سے جب اس کا اندھیرا پھیل جائے۔ اور گره لگا کر ان میں پھونکنے والیوں کے شر سے بھی۔ اور حسد کرنے والے کی برائی سے بھی جب وه حسد کرے۔‘‘ [الفلق : 1-5]۔

’’آپ کہہ دیجیے کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناه میں آتا ہوں۔ لوگوں کے مالک کی۔ لوگوں کے معبود کی (پناه میں)۔ وسوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے۔ جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ (خواه) وه جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔‘‘ [الناس: 1-6]۔

’’آپ کہہ دیجیے کہ اے کافرو! نہ میں عبادت کرتا ہوں اُس کی جس کی تم عبادت کرتے ہو۔ نہ تم عبادت کرنے والے ہو اُس کی جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔ اور نہ میں عبادت کروں گا جس کی تم عبادت کرتے ہو۔ اور نہ تم اُس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کر رہا ہوں۔ تمھارے لیے تمھارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین ہے۔‘‘ [الكافرون: 1-6]۔

’’اور اللہ ہی کی ملک ہیں وه سب کچھ جو رات میں اور دن میں رہتی ہیں اور وہی بڑا سننے واﻻ بڑا جاننے واﻻ ہے۔‘‘ [ الانعام: 13]۔

’’اور اگر تجھ کو اللہ تعالى کوئی تکلیف پہنچائے تو اُس کا دُور کرنے واﻻ اللہ کے سوا اور کوئی نہیں اور اگر تجھ کو اللہ تعالى کوئی نفع پہنچائے تو وه ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے واﻻ ہے۔ اور وہی اللہ اپنے بندوں کے اوپر غالب ہے برتر ہے، اور وہی بڑی حکمت واﻻ اور پوری خبر رکھنے واﻻ ہے۔‘‘ [الانعام : 17-18]۔

’’اللہ نور ہے آسمانوں کا اور زمین کا، اس کے نور کی مثال مثل ایک طاق کے ہے جس میں چراغ ہو اور چراغ شیشے کی قندیل میں ہو اور شیشہ مثل چمکتے ہوئے روشن ستارے کے ہو۔ وه چراغ ایک بابرکت درخت زیتون کے تیل سے جلایا جاتا ہو جو درخت نہ مشرقی ہے نہ مغربی، قریب ہے کہ خود وہ تیل آپ ہی روشنی دینے لگے اگرچہ اسے آگ نہ بھی چھوئے، نور پر نور ہے، اللہ اپنے نور کی طرف جسے چاہے راہنمائی کرتا ہے۔ لوگوں (کے سمجھانے) کے لیے یہ مثالیں اللہ بیان فرما رہا ہے، اور اللہ ہر چیز کے حال سے بخوبی واقف ہے۔ ان گھروں میں جن کے بلند کرنے اور جن میں اپنے نام کی یاد کا اللہ تعالى نے حکم دیا ہے، وہاں صبح وشام اللہ تعالى کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔‘‘ [النور : 35 - 36]۔

- ’’اور اگر تم کو اللہ کوئی تکلیف پہنچائے تو بجز اس کے اور کوئی اس کو دور کرنے واﻻ نہیں ہے اور اگر وه تم کو کوئی خیر پہنچانا چاہے تو اس کے فضل کا کوئی ہٹانے واﻻ نہیں، وه اپنا فضل اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے نچھاور کردے اور وه بڑی مغفرت بڑی رحمت واﻻ ہے۔‘‘ [یونس : 107]۔

’’بے کس کی پکار کو جب کہ وه پکارے، کون قبول کرکے سختی کو دور کر دیتا ہے؟ اور تمھیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے، کیا اللہ کے ساتھ اور معبود ہے؟ تم بہت کم نصیحت وعبرت حاصل کرتے ہو۔ بھلا کون ہے جو تمھیں خشکی اور تری کی تاریکیوں میں راه دکھاتا ہے اور جو اپنی رحمت سے پہلے ہی خوشخبریاں دینے والی ہوائیں چلاتا ہے، کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے جنھیں یہ شریک کرتے ہیں، ان سب سے اللہ بلند وباﻻتر ہے۔ بھلا کون ہے جو مخلوق کی اول دفعہ پیدائش کرتا ہے، پھر اسے لوٹائے گا اور کون ہے جو تمھیں آسمان اور زمین سے روزیاں دے رہا ہے، کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے؟ کہہ دیجیے کہ اگر سچے ہو تو اپنی دلیل ﻻؤ۔‘‘ [النمل: 62-64]۔

- ’’ان سے تم جنگ کرو اللہ انھیں تمھارے ہاتھوں عذاب دے گا، انھیں ذلیل ورسوا کرے گا، تمھیں ان پر مدد دے گا اور مسلمانوں کے کلیجے ٹھنڈے کرے گا۔‘‘ [التوبہ: 14]۔

’’اے لوگو! تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے ایک ایسی چیز آئی ہے جو نصیحت ہے اور دلوں میں جو روگ ہیں ان کے لیے شفا ہے اور راہنمائی کرنے والی ہے اور رحمت ہے ایمان والوں کے لیے۔‘‘ [یونس: 57]۔

’’اور ہر طرح کے میوے کھا اور اپنے رب کی آسان راہوں میں چلتی پھرتی ره، ان کے پیٹ سے مشروب نکلتا ہے جس کے رنگ مختلف ہیں اور جس میں لوگوں کے لیے شفا ہے، غور وفکر کرنے والوں کے لیے اس میں بھی بہت بڑی نشانی ہے۔‘‘ [النحل: 69]۔

’’یہ قرآن جو ہم نازل کر رہے ہیں مومنوں کے لیے تو سراسر شفا اور رحمت ہے مگر ظالموں کے لیے خسارے کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہیں کرتا۔‘‘ [الاسراء : 82]۔

’’اور جب میں بیمار پڑ جاؤں تو مجھے شفا عطا فرماتا ہے۔‘‘ [الشعراء : 80]۔

- ’’اور اگر ہم اُسے عجمی زبان کا قرآن بناتے تو کہتے کہ اُس کی آیتیں صاف صاف بیان کیوں نہیں کی گئیں؟ یہ کیا کہ عجمی کتاب اور آپ عربی رسول؟ آپ کہہ دیجیے کہ یہ تو ایمان والوں کے لیے ہدایت وشفا ہے اور جو ایمان نہیں ﻻتے اُن کے کانوں میں تو (بہراپن اور) بوجھ ہے اور یہ اُن پر اندھاپن ہے، یہ وه لوگ ہیں جو کسی بہت دور دراز جگہ سے پکارے جا رہے ہیں۔‘‘ [فصلت : 44]۔

’’اے اللہ! اے لوگوں کے رب! بیماری دور کردے، شفا عطا فرما، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیری شفا کے علاوہ کوئی شفا نہیں، ایسی شفا دے جس کے بعد کوئی مرض باقی نہ رہے۔‘‘ [52]۔ [52] صحیح بخاری، حدیث نمبر: 5675۔

’’میں سوال کرتا ہوں بڑی عظمت والے اللہ سے جو عرشِ عظیم کا رب ہے کہ وہ تمھیں شفاء عطا فرمائے۔‘‘ (سات مرتبہ) [53]۔ [53] سنن ابو داؤد، حدیث نمبر : 3106، سنن ترمذی، حدیث نمبر : 2083۔

’’میں اللہ کے مکمل کلمات کے ذریعے سے پناہ مانگتا ہوں، اس کی ناراضی، اس کی سزا، اس کے بندوں کے شر اور شیطانوں کے وسوسوں سے اور اس بات سے کہ وہ (شیطان) میرے پاس آئیں (اور مجھے بہکائیں)۔‘‘ [54]۔ [54] ضعيف الجامع، از شیخ البانی، حدیث نمبر: 382۔

’’اللہ شافی کے نام سے، اے اللہ! اپنے بندے کو شفا عطا فرما اور اپنے رسول (ﷺ) کی تصدیق فرما۔‘‘

’’ہمارا رب اللہ ہے جو آسمان میں ہے، (اے اللہ!) تیرا نام مقدس ہے، آسمانوں اور زمین میں تیرا حکم نافذ ہے، تیری رحمت جس طرح آسمان میں (عام) ہے زمین میں بھی (عام) کردے، ہماری خطاؤں اور گناہوں کو معاف فرما، تو پاک بازوں کا رب ہے۔‘‘

اپنی رحمت، شفا اور برکت کا ایک حصہ اس بیماری پر نازل فرمادے۔

جسم کے جس حصے میں تکلیف ہو اس پر اپنا ہاتھ رکھیں اور تین دفعہ: ’’بسم اللہ‘‘ کہیں۔

اور سات مرتبہ یہ دعا پڑھیں: ’’میں اللہ کی عزت اور قدرت کی پناہ مانگتا ہوں اس چیز کی برائی سے جسے میں محسوس کرتا ہوں اور جس کا مجھے ڈر ہے۔‘‘ [55]۔ [55] سنن ترمذی، حدیث نمبر: 3588۔

تیسری فصل

ختمِ قرآن کی دعا

اے اللہ! یقیناً تو نے فرمایا، تیرا قول ہی سچا اور واضح ہے، اور تو ہی سب سے سچا ہے: ’’اور کون ہے جو اپنی بات میں اللہ سے زیاده سچا ہو؟‘‘ ’’اللہ سے زیاده سچی بات واﻻ اور کون ہوگا۔‘‘ ’’کہہ دیجیے کہ اللہ سچا ہے۔ تم سب ابراہیم حنیف کے دین کی پیروی کرو۔‘‘ ’’اے اللہ! بے شک ہم تیری حمد بیان کرتے ہیں، تجھ سے مدد مانگتے ہیں، تجھ سے ہدایت طلب کرتے ہیں، تجھ سے مغفرت مانگتے ہیں، تیرے حضور توبہ کرتے ہیں، تجھ پر ایمان لاتے ہیں، تجھ پر توکل کرتے ہیں، تیری ہر طرح سے بہترین تعریف کرتے ہیں، ہم تیرا شکر ادا کرتے ہیں اور تیری ناشکری نہیں کرتے، اور ہم اس سے علیحدگی اختیار کرتے اور اسے ترک کر دیتے ہیں جو تیری نافرمانی کرے۔ اے اللہ! ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں، تیرے لیے ہی نماز پڑھتے اور سجدہ کرتے ہیں، تیری طرف ہی کوشش اور جلدی کرتے ہیں، ہم تیری رحمت کی امید رکھتے ہیں اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں، بے شک تیرا سخت عذاب کافروں کو ملنے والا ہے۔‘‘

’’اے اللہ! تیرے ہی لیے حمد ہے اسلام پر، اور تیرے ہی لیے حمد ہے قرآن پر، اور تیرے ہی لیے حمد ہے مال، اہل وعیال اور عافیت پر۔ تو نے ہمارے دشمن کو مغلوب کیا، ہمارے امن کو قائم فرمایا اور ہمارے انتشار کو ختم فرمایا۔ اے ہمارے رب! ہم نے تجھ سے جو کچھ بھی مانگا تو نے ہمیں عطا فرمایا، تیرے ہی لیے بہت زیادہ حمد اور شکر ہے، جیسا کہ تو بہت زیادہ عطا فرماتا ہے۔‘‘

اے اللہ! تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں یہاں تک کہ تو راضی ہو جائے، تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں جب تو راضی ہو جائے، تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں تیرے راضی ہونے کے بعد اور تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں ہر حال میں۔ تیرے ہی لیے تعریف ہے ویسی ہی جیسی ہم بیان کرتے ہیں، اس سے بھی بہتر جو ہم بیان کرتے ہیں، اور تیرے لیے تعریف ہے ویسی ہی جیسی تو (خود اپنی تعریف) بیان کرتا ہے۔

اے اللہ! بے شک ہم تیرے بندے ہیں، تیرے بندوں اور تیری باندیوں کے بیٹے ہیں۔ ہماری پیشانیاں تیرے ہاتھ میں ہیں اور ہم پر تیرا حکم نافذ ہے۔

اے اللہ! ہم تجھ سے تیرے ہر اس نام کے وسیلے سے مانگتے ہیں جس سے تونے خود کو موسوم کیا ہے یا اسے اپنی کتاب میں نازل فرمایا ہے یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا ہے یا تو نے اسے علمِ غیب میں اپنے لیے خاص کیا ہے کہ تو قرآنِ عظیم کو ہمارے دلوں کی بہار، ہمارے سینوں کا نور، ہمارے غموں کا ازالہ، ہماری فکر مندیوں اور پریشانیوں سے نجات کا ذریعہ بنا دے، اور اسے اپنی رضامندی اور اپنی نعمتوں بھری جنتوں کی طرف ہمارا قائد ورہنما بنا دے۔

اے اللہ! اس (قرآن) میں سے جو ہم بھول چکے ہیں وہ ہمیں یاد کرا دے، اور جس سے ہم ناواقف ہیں اس کا علم ہمیں عطا فرما۔ ہمیں رات کی گھڑیوں اور دن کے اوقات میں اس کی اس انداز سے تلاوت کی توفیق عطا فرما جو تجھے ہم سے راضی کر دے اور اسے ہمارے حق میں حجت بنا، نہ کہ ہمارے خلاف۔ اے اللہ! ہمیں قرآن کی زینت سے مزین فرما، ہمیں قرآن کی کرامت سے مکرَّم فرما، ہمیں قرآن کے شرف سے مشرَّف فرما۔ ہمیں اس پر ویسے ہی عمل کرنے کی توفیق عطا فرما جیسا اس کا حق ہے اور جیسا تو چاہتا ہے، اور اسے ویسے ہی سیکھنے اور سکھانے کی (توفیق عطا فرما) جیسا کہ تیرے نبی نے ہمیں حکم دیا ہے۔

اے اللہ! ہمیں قرآنِ عظیم کے ذریعے نفع عطا فرما اور ہمارے درجات بلند فرما۔ اے اللہ! ہمیں ان لوگوں میں سے بنا دے جو اس کے حلال کو حلال اور اس کے حرام کو حرام سمجھتے ہیں، اس کی محکم (آیتوں) پر عمل کرتے ہیں، اس کی متشابہ (آیتوں) پر ایمان لاتے ہیں اور اس کی تلاوت کا حق ادا کرتے ہیں۔ اے اللہ! ہمیں ان لوگوں میں سے بنا جو اس کے حروف اور حدود کو قائم کرتے ہیں، اور ہمیں ان میں سے نہ بنا جو اس کے حروف کو تو قائم کرتے ہیں مگر اس کی حدود کو ضائع کر دیتے ہیں۔

اے اللہ! قرآن کے ذریعے ہمیں بدبختی سے خوش بختی کی طرف، جہنم سے جنت کی طرف، گمراہی سے ہدایت کی طرف، ذلت سے عزت کی طرف، اور ہر قسم کی برائیوں سے ہر قسم کی بھلائیوں کی طرف منتقل فرما، اے جلال و اکرام والے اور اے ہمیشہ زندہ اور قائم رہنے والے۔

اے اللہ! ہمیں اس (قرآن) کے ذریعے عزت کے لباس پہنا، اس کے ذریعے (جنت کے) سایوں میں ٹھکانہ عطا فرما، اس کے ذریعے ہم سے مصیبتیں دور فرما، اور اس کے ذریعے ہماری نعمتوں میں اضافہ فرما، اے جلال اور بزرگی والے۔ اے اللہ! ہمیں اہلِ قرآن میں سے بنا جو تیرے اہل اور تیرے خاص بندے ہیں، اے جلال اور بزرگی والے۔ اے اللہ! قرآنِ عظیم کو ہمارے دلوں کے لیے ضیا، ہماری آنکھوں کے لیے جِلا، ہماری بیماریوں کے لیے شفا، ہمارے گناہوں کو مٹانے والا اور آگ سے نجات دلانے والا بنا دے۔

اے اللہ! ہمیں اپنی کتاب کی تلاوت سے صاحبِ فہم، اس کے لذیذ خطاب کو شوق سے سننے والا، اس کے اوامر ونواہی کے سامنے سر تسلیم خم کرنے والا، اس کے ختم پر کامیاب ہونے والا، اس کا ثواب پانے والا، تمام مہینوں میں تیرا ذکر کرنے والا، اور اپنے تمام امور میں تجھی سے امید رکھنے والا بنا دے۔ اے اللہ! اس خاتمے کو بابرکت اور اس تلاوت کو نفع بخش بنا دے، اے تمام جہانوں کے رب۔

اے اللہ! اس کے ذریعہ ہمیں جنتوں میں داخل فرما، اس کے ذریعہ ہمیں (بلند) درجات عطا فرما، اس کے ذریعہ ہماری برائیاں دور فرما، اور اے ہمارے مولا! اس کے ذریعہ ہماری خطائیں معاف فرما، اے تمام جہانوں کے رب۔

اے اللہ! قرآن کے ذریعہ مجھ پر رحم فرما، اسے میرے لیے پیشوا، نور، ہدایت اور رحمت بنا دے۔ اے اللہ! اس (قرآن) میں سے جو میں بھول چکا ہوں وہ مجھے یاد دلا دے، جو میں نہیں جانتا وہ مجھے سکھا دے، مجھے رات اور دن کے اوقات میں اس کی تلاوت نصیب فرما، اور اسے میرے لیے حجت بنا دے، اے تمام جہانوں کے رب۔ اے اللہ! میرے لیے میرے دین کو درست کردے، جو میرے حالات کے تحفظ کا ضامن ہے، میری دنیا کو درست کردے، جس میں میری گزر بسر ہے، میری آخرت کو درست کردے، جہاں لوٹ کر مجھے جانا ہے، میری زندگی کو ہر خیر میں اضافے کا سبب بنادے اور موت کو میرے لیے ہر شر سے راحت کا ذریعہ بنادے۔ اے اللہ! میری عمر کا بہترین حصہ اس کا آخری حصہ بنا دے، میرے عمل کا بہترین حصہ اس کے آخری اعمال بنا دے، اور میرے دنوں میں سے بہترین دن اسے بنا جس دن میں تجھ سے ملاقات کروں۔

اے اللہ! میں تجھ سے خوشگوار زندگی، پر سکون موت، اور ایسی واپسی مانگتا ہوں جو رسوا کن اور شرمناک نہ ہو۔ اے اللہ! میں تجھ سے بہترین سوال، بہترین دعا، بہترین کامیابی، بہترین علم، بہترین عمل، بہترین ثواب، بہترین زندگی اور بہترین موت مانگتا ہوں۔ تو مجھے ثابت قدم رکھ، میری نیکیوں کے پلڑے کو بھاری کر دے، میری امیدوں کو پورا فرما، میرے درجات بلند فرما، میری نماز قبول کر، میرے گناہ معاف کر دے، اور میں تجھ سے جنت کے اونچے درجات کا سوال کرتا ہوں۔ اے اللہ! میں تجھ سے تیری رحمت کو واجب کردینے والی چیزوں کا، ایسے اعمال کا جن سے تیری مغفرت حاصل ہوجائے، ہر گناہ سے سلامتی کا، ہر نیکی سے فائدہ اٹھانے کا، جنت سے بہرہ ور ہونے کا اور جہنم سے نجات پانے کا سوال کرتا ہوں۔ اے اللہ! تمام معاملات میں ہمیں اچھے انجام تک پہنچا اور ہمیں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے محفوظ رکھ۔

اے اللہ! ہمارے حبیب محمد ﷺ پر، آپ کی آل اور صحابہ پر بکثرت درود وسلام اور برکت نازل فرما۔

دعائے استخارہ:

’’اے اللہ! بے شک میں تجھ سے تیرے علم کے وسیلے سے بھلائی طلب کرتا ہوں، تجھ سے تیری قدرت کے وسیلے سے طاقت طلب کرتا ہوں، تجھ سے تیرے فضلِ عظیم کا سوال کرتا ہوں، کیونکہ تو قدرت رکھتا ہے اور میں قدرت نہیں رکھتا، تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا اور تو غیبوں کو خوب جاننے والا ہے۔ اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام (یہاں اپنی حاجت کا نام لیں) میرے لیے میرے دین، میرے معاش اور میرے انجامِ کار کے لحاظ سے بہتر ہے تو اسے میرے لیے مقدر کر دے اور آسان کر دے، پھر میرے لیے اس میں برکت ڈال دے۔ اے اللہ! اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام (یہاں اپنی حاجت کا نام لیں) میرے لیے میرے دین، میرے معاش اور میرے انجامِ کار کے لحاظ سے بُرا ہے تو اسے مجھ سے دور کر دے اور مجھے اس سے دور کر دے، اور میرے لیے بھلائی مقدر کردے جہاں کہیں بھی وہ ہو، پھر مجھے اس پر راضی کر دے۔‘‘ [56]۔ [56] صحیح بخاری، حدیث نمبر: 1162۔

نمازِ جنازہ:

مقتدی اپنے امام کے پیچھے کھڑے ہو کر چار تکبیریں کہے، بغیر دعائے استفتاح، بغیر رکوع اور بغیر سجدے کے۔

پہلی تکبیر (کے بعد): سورۂ فاتحہ پڑھیں، ’’سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے واﻻ ہے۔‘‘ [الفاتحة : 1]۔

دوسری تکبیر (کے بعد): نبی ﷺ پر درودِ ابراہیمی پڑھیں جیسے نماز میں پڑھتے ہیں۔

تیسری تکبیر(کے بعد): میت کی مغفرت کے لیے دعائیں کرے جو دعائیں آسانی سے یاد ہوں، ان میں سے ایک یہ ہے: ”اے اللہ! ہمارے زندہ اور فوت شدہ کو، ہمارے حاضر اور غائب کو، ہمارے چھوٹے اور بڑے کو، اور ہمارے مرد اور ہماری عورتوں کو بخش دے۔ اے اللہ! ہم میں سے جسے تو زندہ رکھے، اسے اسلام پر زندہ رکھ، اور ہم میں سے جسے تو وفات دے، اسے ایمان پر وفات دے۔ اے اللہ! اسے بخش دے، اس پر رحم فرما، اسے عافیت عطا فرما اور اس سے درگزر فرما، اس کی باعزت مہمانی فرما، اس کی قیام گاہ (قبر) کو کشادہ کردے، اسے پانی، برف اور اولوں سے دھو دے، اور اسے گناہوں سے اس طرح پاک کردے جیسے سفید کپڑا میل کچیل سے پاک کیا جاتا ہے۔ اے اللہ! اسے اس کے گھر کے بدلے بہتر گھر اور گھر والوں كے بدلے ہتر گھر والے عطا فرما۔ اے اللہ! اسے جنت میں داخل فرما، اسے عذابِ قبر اور عذابِ جہنم سے بچا اور اس کے لیے اس کی قبر کو کشادہ اور منور کر دے۔ اے اللہ! ہمیں اس کے اجر سے محروم نہ کر، اور اس کے بعد ہمیں گمراہ نہ کر۔“ یہ دعا اور اس کے علاوہ دیگر ماثور دعائیں پڑھے۔

اور اگر (فوت ہونے والے) بچے ہوں تو یوں کہے : ’’اے اللہ! انھیں ان کے والدین کے لیے ذخیرہ بنا دے، ان کے ذریعہ ان کے والدین کے اعمال کا پلڑا وزنی کردے، انھیں مستجاب الدعوات بنا دے، اور (انھیں) ہمارے آقا ابراہیم علیہ السلام کی کفالت میں دے دے۔‘‘

اور اسی طرح کی دیگر ماثور دعائیں پڑھے۔

چوتھی تکبیر (کے بعد): تھوڑی دیر خاموش رہے، پھر اپنے دائیں جانب (السلام علیکم ورحمۃ اللہ) کہہ کر سلام پھیرے۔ یہ نمازِ جنازہ کا شرعی طریقہ ہے۔

یہ اس صورت میں ہے جب اس کے لیے ایسا کرنا ممکن ہو، لیکن اگر اس سے یہ چھوٹ جائے تو اس پر قضا لازم نہیں؛ کیوں کہ یہ فرض کفایہ ہے۔

حوالہ جات

قرآن مجید۔

اللؤلؤ والمرجان فیما اتفق علیہ الشیخان

از محمد فواد عبد الباقی۔

صحیح بخاری، کتاب الدعوات

صحیح مسلم، کتاب الأدعیہ

صحیح الجامع الصغیر و زیادتہ از البانی

الدعا من القرآن، ترتيب: ابراہیم محمد وزنہ۔

الدعاء من الکتاب و السنۃ، از سعید بن وھف القحطانی

دعاء ختم القرآن الکریم از الشیخ عبد اللہ الخلیفی۔

الرقیۃ الشرعیۃ – من القرآن الکریم و السنۃ النبویۃ