" اے اللہ! میں تجھ سے دنیا و آخرت کی ساری بھلائیاں مانگتا ہوں، جو مجھ کو معلوم ہیں اور جو نہیں معلوم، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں دنیا اور آخرت کی تمام برائیوں سے، جو مجھ کو معلوم ہیں اور جو نہیں معلوم۔
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو یہ دعا سکھائی :
" اے اللہ! میں تجھ سے دنیا و آخرت کی ساری بھلائیاں مانگتا ہوں، جو مجھ کو معلوم ہیں اور جو نہیں معلوم، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں دنیا اور آخرت کی تمام برائیوں سے، جو مجھ کو معلوم ہیں اور جو نہیں معلوم۔ اے اللہ! میں تجھ سے اس بھلائی کا طالب ہوں، جو تیرے بندے اور تیرے نبی نے طلب کی ہے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس برائی سے جس سے تیرے بندے اور تیرے نبی نے پناہ چاہی ہے۔ اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا طالب ہوں اور اس قول و عمل کا بھی، جو جنت سے قریب کر دے اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم سے اور اس قول و عمل سے، جو جہنم سے قریب کر دے۔ میں تجھ سے سوالی ہوں کہ میرے حق میں کیے گئے ہر فیصلے کو بہتر بنادے۔"
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ الْخَيْرِ كُلِّهِ، عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ الشَّرِّ كُلِّهِ، عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَاذَ بِهِ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ، وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ النَّارِ، وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَسْأَلُكَ أَنْ تَجْعَلَ كُلَّ قَضَاءٍ قَضَيْتَهُ لِي خَيْرًا».
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو کچھ جامع دعائيں سکھائی ہیں۔ یہ چار دعائيں ہيں : پہلی دعا : ساری بھلائیوں پر مشتمل ایک دعا : "اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ الْخَيْرِ كُلِّهِ، عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ۔" یعنی اے اللہ! میں تجھ سے دنیا و آخرت کی ساری بھلائیاں مانگتا ہوں، جو قریب وقت کى ہوں اور دور وقت کى ہوں جو مجھ کو معلوم ہیں اور جو نہیں معلوم, جنھیں بس تو ہی جانتا ہے۔ اس میں سارے معاملات کو اللہ کے حوالے کر دیا گیا ہے، جو سب کچھ جاننے والا، ہر بات کی خبر رکھنے والا اور رازہائے سربستہ سے واقف ہے، تاکہ وہ مسلمان کی جھولی میں وہی ڈالے جو افضل اور بہتر ہو۔ "وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ الشَّرِّ كُلِّهِ، عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ۔" یعنی میں تیری پناہ چاہتا ہوں دنیا اور آخرت کی تمام برائیوں سے، جو قریب زمانہ کى ہوں اور دور وقت کى ہوں، جو مجھ کو معلوم ہیں اور جو نہیں معلوم۔ دوسری دعا : یہ ایسی دعا ہے جس کے ذریعہ مسلمان دعا میں تجاوز کرنے سے محفوظ رہتا ہے۔ "اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَاذَ بِهِ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ"۔ یعنی اے اللہ! میں تجھ سے اس بھلائی کا طالب ہوں، جو تیرے بندے اور تیرے نبی نے طلب کی ہے، اور میں اس برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں، جس سے تیرے بندے اور تیرے نبی نے پناہ طلب کی ہے۔ اس میں اللہ سے دعا کی گئی ہے کہ وہ دعا کرنے والے کو وہ بھلائياں عطا کرے، جو آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے خود اپنے لیے مانگی ہیں۔ مختلف طرح کی ان دعاؤں کو گنوانے سے گریز کیا گیا ہے، جو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مانگی ہيں۔ تیسری دعا : جنت میں داخل ہونے اور جہنم سے دور رہنے کی دعا، جو ہر مسلمان کا مقصد ومنزل اور اس کے اعمال کى غایت ہے۔ "اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ، وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ النَّارِ، وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ۔" یعنی اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا طالب ہوں اور تجھے راضی کرنے والے ہر اس قول و عمل کا بھی، جو جنت سے قریب کر دے اور میں جہنم سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور تجھے ناراض کرنے والے ہر اس قول و عمل سے، جو جہنم سے قریب لے جائے۔ تیری مہربانی شامل حال نہ ہو، تو کوئی شخص برے اعمال سے بچ نہيں سکتا۔ چوتھی دعا : اللہ کے ہر فیصلے پر رضامند رہنے کی دعا۔ "وأسألك أن تجعل كل قضاء قضيتَه لي خيرًا۔" میں تجھ سے سوالی ہوں کہ تو اپںے کیے ہوئے ہر فیصلے کو میرے حق میں بہتر بنا دے۔ یہ دراصل راضی بہ رضا رہنے کی دعا ہے۔
ہر شخص کو چاہیے کہ اپنے اہل وعیال کو دین اور دنیا کی ایسی باتیں سکھائے، جو ان کے حق میں مفید ہوں، جس طرح اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو سکھایا ہے۔
بہتر یہ ہے کہ ہر مسلمان اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے وارد دعاؤں کو یاد کر کے ان کو پڑھا کرے۔ کیوں کہ یہ جامع ترین دعائیں ہيں۔
علما نے اس حدیث کے بارے میں کہا ہے کہ یہ اللہ سے بھلائی مانگنے اور برائی سے پناہ طلب کرنے کے سلسلے میں سب سے جامع دعا ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو جامع ترین الفاظ کے انتخاب کی جو صلاحیت دی گئی تھی، اس کا یہ ایک بہترین نمونہ ہے۔
اللہ کی رحمت کے بعد دخول جنت کا ایک سبب نیک اقوال اور اعمال ہيں۔
مزید (8)
سننِ ابن ماجہ (5/ 17) (3846).
مُسنَد احمد (41/ 474) (25019).
توضيح الأحكام من بلوغ المرام.
لعبد الله البسام (7/ 589).
منحة العلام في شرح بلوغ المرام.
لعبد الله الفوزان (10/ 477).
فتح ذي الجلال والإكرام.
لابن عثيمين (6/ 516).
کتابوں میں مذکور
10 کتابیں- جامع دعائیں [1]اے اللہ! میں تجھ سے اس بھلائی کا طلب گار ہوں، جو تیرے بندے اور تیرے نبی ﷺ نے طلب کی ہے، اور میں اس برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں، جس سے تیرے بندے اور تیرے نبی ﷺ نے پناہ مانگی ہے۔
- جامع دعائیں [1]اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا طالب ہوں اور اس قول و عمل کا بھی، جو جنت سے قریب کر دے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم سے اور اس قول و عمل سے، جو جہنم سے قریب لے جائے۔ میں تجھ سے سوالی ہوں کہ میرے حق میں کیے گئے ہر فیصلے کو بہتر بنادے۔
- حج و عمرہ اور زیارت کے بیش تر مسائل کی تحقیق و وضاحت کتاب وسنت کی روشنی میںالتحقيق والإيضاح لكثير من مسائل الحج والعمرة والزيارة - النسخة المعتمدة* ”اے اللہ! میں تجھ سے دنیا و آخرت کی ساری بھلائی مانگتا ہوں، جو مجھ کو معلوم ہے اور جو نہیں معلوم اور دنیا اور آخرت کی تمام برائیوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں، جو مجھ کو معلوم ہیں اور جو معلوم نہیں۔ اے اللہ! میں تجھ سے اس بھلائی کا طلب گار ہو
- کتاب و سنت کی دعائیں اور شرعی رُقیہ کے ذریعے علاجالدعاء من الكتاب والسنة80- ((اے اللہ! میں تجھ سے دنیا وآخرت کی ساری بھلائی مانگتا ہوں، جو مجھ کو معلوم ہے اور جو نہیں معلوم، اور دنیا اور آخرت کی تمام برائیوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں، جو مجھ کو معلوم ہیں اور جو نہیں معلوم۔ اے اللہ! میں تجھ سے اس بھلائی کا طلب گار
مزید (6)
- أدعية جامعةأدعية جامعة (للحرمين)39. «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَاذَ بِهِ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ».
- أدعية جامعةأدعية جامعة (للحرمين)40. «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ، وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ، وَمَا قَرَّبَ مِنْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَسْأَلُكَ أَنْ تَجْعَلَ كُلَّ قَضَاءٍ قَضَيْتَهُ لِي خَيْرًا».
- الذكر والدعاء والعلاج بالرقي من الكتاب والسنة"اللهم إني أسألك من الخير كله عاجله، وآجله ما علمت منه وما لم أعلم، وأعوذ بك من الشر كله عاجله، وآجله ما علمت منه وما لم أعلم. اللهم إني أسألك من خير ما سألك عبدك ونبيك، وأعوذ بك من شر ما عاذ به عبدُكَ ونبيك. اللهم إني أسألك الجنة، وما قرب
- المختصر في آداب السفر وصفة الحج والعمرة وآداب الزيارة والأدعية الجامعة مع ملحق بالفتاوى والمخالفات4- أدعية جامعة (للحرمين)«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَاذَ بِهِ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ».
- المختصر في آداب السفر وصفة الحج والعمرة وآداب الزيارة والأدعية الجامعة مع ملحق بالفتاوى والمخالفات4- أدعية جامعة (للحرمين)«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ، وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ، وَمَا قَرَّبَ مِنْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَسْأَلُكَ أَنْ تَجْعَلَ كُلَّ قَضَاءٍ قَضَيْتَهُ لِي خَيْرًا».
- تطبيق القرآن والأذكارأدعية النبي صلى الله عليه وسلم 80- ((اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ: عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ كُلِّهِ عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ. اللَّهُمَّ إِنِّي أَ