صفة الوضوء والصلاة (مرئي)
PROJ-187
میں وضو کیسے کروں؟
نمبر شمار
آواز
1
اذان کی آواز...
2
"يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرافِقِ وَامْسَحُوا بِرُؤُسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ"۔ (اے ایمان والو! جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو، تو اپنے چہروں کو اور دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھولو اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پیروں کو ٹخنوں سمیت دھولو۔)
(سورہ مائدۃ : 6)
3
وضو کے بغیر نماز نہیں ہوتی، نیت کے بغیر وضو نہیں ہوتا اور اخلاص کے بغیر نیت نہیں ہوتی۔ نیت کى چگہدل ہے، زبان نہیں۔
4
بسم اللہ...
وضو شروع کرتے وقت ’’بسم اللہ‘‘ کہنا مشروع ہے... ’’بسم اللہ‘‘ سے ہم اپنا وضو شروع کریں گے... پھر اگر ممکن ہو تو منہ کی صفائی کے لیے مسواک کریں گے...
5
ہم اپنى ہتھیلیوں کو تین بار دھوئیں گے۔ انگلیوں کے کناروں سے شروع کریں گے اور ہتھیلی کے جوڑ تک دھوئیں گے...
6
ہم اپنى ہتھیلیوں کو کلائیوں تک لگاتار تین بار دھوئیں گے۔
7
آغاز دائیں ہتھیلی سے کرنا ہے۔ اسے ہم تین بار دھوئيں گے اور اس کے بعد تین بار بائی ہتھیلی کو دھوئيں گے۔۔
8
اسی طرح دائیں ہتھیلی اور اس کے بعد بائیں ہتھیلی، پھر دائیں ہتھیلی اور اس کے بعد بائیں ہتھیلی اور پھر دائیں ہتھیلی اور اس کے بعد بائيں ہتھیلی کو دھونا بھی جائز ہے۔
9
اس بات کا یقین ہو جانا چاہیے کہ پانی انگلیوں کے درمیانی حصوں میں پنچ چکا ہے...
10
پھر کلی کریں گے اور ناک میں پانی لے کر ناک جھاڑیں گے...
11
کلی کرنے کا مطلب منہ میں پانی ڈالنا، اسے منہ کے اندر ہلانا اور پھر پھینک دینا ہے۔
12
جب کہ استنشاق کا مطلب ہے سانس کے ذریعے ناک میں پانی چڑھانا اور پھر بائیں ہاتھ سے ناک جھاڑ کر اسے نکال دینا۔
13
اگر روزہ سے نہ ہوں یا ضرر کا خدشہ نہ ہو، تو ان دونوں کاموں کو مبالغہ کے ساتھ کرنا سنت ہے...
14
کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈال کر ناک جھاڑنے کے دو طریقے ہیں :
15
دونوں کام ایک ساتھ کرنا۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ ایک چلو پانی لیا جائے اور اس کے کچھ حصے سے کلی کی جائے اور کچھ سے ناک جھاڑا جائے۔
پانی کو منہ میں ہلاکر کر باہر پھینک دیا جائے اور پھر ناک میں چڑھائے ہوئے پانی کو اپنے بائیں ہاتھ سے جھاڑ کر نکال دیا جائے۔
ایسا تین چلو پانی لے کر تین بار کیا جائے۔
16
دونوں کام الگ الگ کرنا۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ ناک جھاڑنے اور کلی کرنے کے لیے الگ الگ پانی لیا جائے۔ ایک چلو پانی لے کر منہ ڈالا جائے، اسے منہ کے اندر ہلایا جائے اور پھر پھینک دیا جائے۔ پھر دوسرا چلو پانی لیا جائے، اسے ناک میں چڑھایا جائے اور پھر بائیں ہاتھ سے جھاڑ دیا جائے...
17
کلی اور ناک جھاڑنے کے بعد چہرے کو دھوئیں گے...
18
لمبائی میں چہرے کی حد سر کے بال اگنے کی جگہ سے ٹھڈی کے آخری حصے تک ہے اور چوڑائی میں دونوں کانوں کے درمیان کا حصہ ہے۔
19
چہرے میں موجود ہر بال کو دھونا واجب ہے۔ جیسے داڑھی کے ہلکے بال، مونچھ، پلکیں بھوئیں اور نچلے ہونٹ کے نیچے اگنے والے بال۔
20
چہرہ دھونے کے دو طریقے ہیں :
21
پہلا طریقہ : اپنے دونوں ہاتھو سے پانی لیں گے اور چہرے کو سر کے بال اگنے کی معتاد جگہ سے ٹھڈی کے آخری سرے تک اور دائیں کان سے بائیں کان تک دھوئیں گے۔ اگر داڑھی گھنی ہو تو پانی کو تھڈی کے نیچے پہنچانا اور داڑھی کا خلال کرنا سنت ہے۔
ایسا ہم تین بار کریں گے۔ یہ کامل ترین تعداد ہے۔ دو بار بھی دھو سکتے ہيں اور ایک بار بھی۔ کم سے کم ایک بار دھونا واجب ہے۔
22
دوسرا طریقہ: صرف دائیں ہاتھ سے پانی لیں گے، اسے چہرے پر ڈالیں گے اور دونوں ہاتھوں سے چہرے کو سابقہ ر طریقے سے دھوئیں گے... ایسا تین بار کریں گے...
23
تمام اعضاۓ وضو کو ترتیب وار اور تسلسل کے ساتھ دھونا واجب ہے۔ نہ ہم ایک عضو کی جگہ پر دوسرے عضو کو پہلے دھو سکتے ہیں اور نہ ہم کسی عضو کے بعد اس کے بعد والے عضو کو دھونے میں دیر کر سکتے ہیں...
24
چہرہ دھونے کے بعد ہم اپنے دونوں ہاتھوں کو دھوئیں گے۔
25
دونوں ہاتھ، جن کو دھونا واجب ہے، ان کی حد انگلیوں کے کناروں سے کہنیوں تک ہے۔ کہنیوں کو بھی دھونا ہے۔
26
پہلے دائیں ہاتھ کو دھوئيں گے۔ اس کا آغاز انگلیوں کے کناروں سے کریں گے اور دونوں ہاتھ کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کرکے انگلیوں کا خلال کریں گے، پھر کہنی تک پانی پہنچائيں گے
27
... پھر بائیں ہاتھ کو انگلیوں سے کہنی تک دھوئیں گے اور انگلیوں کا خلال کریں گے...
28
پھر سر کا مسح کریں گے... اپنے ہاتھوں کو نئے پانی سے تر کریں گے، اپنے بھیگے ہوئے ہاتھوں سر کے اگلے حصہ میں رکھ کر گدی تک لے جائیں گے۔ پھر انھیں وہیں واپس لے آئيں گے، جہاں سے آغاز کیا تھا...سر کی تحدید کے سلسلے میں گنجے اور بال والے کے بیچ کوئی فرق نہیں ہے...
29
پھر سر کے مسح کے بچے ہوئے پانی سے ایک بار دونوں کانوں کا مسح کریں گے...
30
کانوں کے مسح کا طریقہ یہ ہے کہ ہم شہادت کی انگلیوں کو کان کے دونوں سوراخوں میں داخل کرکے ان کے اندرونی حصوں کا مسح کریں گے اور انگوٹھوں سے کان کے باہری حصوں کا مسح کریں گے۔ اس طرح دونوں کانوں کے اندرونی اور باہری حصوں کا مسح ہو جائے گا...
31
پھر دونوں پیروں کو دھوئیں گے۔ دونوں پیروں، جن کو دھونا واجب ہے، ان کی حد انگلیوں کے کناروں سے ٹخنوں تک ہے۔ سو ایڑیوں کو بھی دھونا واجب ہے۔
32
پہلے دائیں پیر کو دھوئیں گے اور اس کی انگلیوں کا خلال کریں گے۔ ایڑیوں اور قدموں کے بالائی حصوں کو خاص توجہ کے ساتھ دھوئیں گے...
33
پھر دائیں پیر کی طرح ہی بائیں پیر کو دھوئیں گے اور پاؤں کی انگلیوں کا خلال ضرور کريں گے۔ ایڑیوں کو دھونے اور ٹخنوں تک پانی پہنچنے کو یقینی بنائیں گے۔
34
«أشْهَدُ أنْ لا إلهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، وأشهدُ أنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ». (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اوراس کے رسول ہیں۔)
35
وضو کے بعد مذکورہ بالا ذکر اور دعا سنت ہے۔ اور مسنون یہ بھی ہے کہ آدمی ساتھ میں یہ دعا بھی پڑھ لے:
36
«اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَوَّابِينَ، واجْعَلْني مِنَ المُتَطَهِّرِينَ». (اے اللہ! مجھے بہت زیادہ توبہ کرنے والوں میں سے بنا اور مجھے بہت پاک صاف رہنے والوں میں سے بنا۔)
37
یا پھر یہ دعا پڑھے :
«سُبْحانَكَ اللَّهُمَّ وبِحَمْدِكَ، أشْهَدُ أنْ لا إلهَ إلَّا أنتَ، أسْتَغْفِرُكَ وأتُوبُ إلَيكَ». (اے اللہ! پاک ہےتو اپنی تعریفوں سمیت۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی برحق معبود نہیں ہے، میں تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں۔)
نمبر شمار
اسکریں پر لکھا ہوا
1
میں وضو کیسے کروں؟
2
"يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرافِقِ وَامْسَحُوا بِرُؤُسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ" (اے ایمان والو! جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو اپنے چہروں کو اور دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھولو اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پیروں کو ٹخنوں سمیت دھولو۔)
[سورہ مائدہ، آیت: 6]
3
دونوں ہتھیلیوں کو دھونا
4
کلی کرنا اور ناک میں پانی لے کر ناک جھاڑنا
5
دونوں ایک ساتھ کرنا
6
دونوں الگ الگ کرنا
7
چہرہ دھونا
8
پہلا طریقہ
9
دوسرا طریقہ
10
نیت کرنا اور ’بسم اللہ‘ کہنا
11
دونوں ہتھیلیوں کو دھونا
12
کلی کرنا
13
ناک میں پانی لے کر ناک جھاڑنا
14
چہرہ دھونا
15
2- دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونا
16
سر اور کانوں کا مسح کرنا
17
4- دونوں پیروں کو ٹخنوں سمیت دھونا
18
دونوں ہاتھوں کو دھونا
19
سر کا مسح کرنا
20
سر کی ابتدا = پیشانی کا جھکاؤ اور بال اگنے کى معتاد جگہ کا ابتدائی حصہ...
21
سر کی انتہا :گدی کا وہ حصہ، جہاں بال اگنا بند ہو جاتا ہے...
22
دونوں کانوں کا مسح کرنا
23
دونوں پیروں کو دھونا
24
نبی ﷺ نے فرمایا :
’’(خشک) ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے، وضو مکمل طور پر کیا کرو۔‘‘
اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔
25
«أشْهَدُ أنْ لا إلهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، وأشهدُ أنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ». (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اوراس کے رسول ہیں۔)
امام مسلم نے اسے روایت کیا ہے۔
26
«اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَوَّابِينَ، واجْعَلْني مِنَ المُتَطَهِّرِينَ». (اے اللہ! مجھے بہت زیادہ توبہ کرنے والوں میں سے بنا اور مجھے بہت پاک صاف رہنے والوں میں سے بنا۔)
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔
27
«سُبْحانَكَ اللَّهُمَّ وبِحَمْدِكَ، أشْهَدُ أنْ لا إلهَ إلَّا أنتَ، أسْتَغْفِرُكَ وأتُوبُ إلَيكَ». (اے اللہ! پاک ہےتو اپنی تعریفوں سمیت۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی برحق معبود نہیں ہے، میں تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں۔)
اسے امام نسائی نے "عمل اليوم والليلة" میں روایت کیا ہے۔
میں نماز کیسے پڑھوں؟
نماز کا طریقہ تکبیر تحریمہ سے سلام تک...
نمبر شمار
آواز
1
اقامت کی آواز...
2
اقامت کی آواز جاری ہے...
نیت کا استحضار۔ یہ پہلا کام ہے، جو ایک نمازی کرتا ہے۔ نیت کى جگہ دل ہے۔
3
ہم قبلہ رو ہوکر کھڑے ہو جائیں گے۔ اگر آپ امام یا منفرد ہوں تو اپنے سامنے سترہ رکھ لیں۔
4
اللہ اکبر... (اللہ سب سے بڑا ہے...)
تکبیرِ تحریمہ۔ اسی کے ذریعے ہم نماز میں داخل ہوں گے۔ اسے زبان سے ادا کرنا ضروری ہے۔
5
تکبیرِ تحریمہ کے وقت ہم اپنے دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھائیں گے اور اپنی انگلیوں کے اندرونی حصوں کو قبلہ رخ رکھیں گے...
یا:
اپنے دونوں ہاتھوں کو مذکورہ طریقے ہی سے کانوں تک اٹھائیں گے...
6
تکبیرِ تحریمہ کے بعد ہم دونوں ہاتھوں کو سینے پر، یا سینے کے نیچے اور ناف کے اوپر یا ناف کے نیچے رکھیں گے۔ یہ تمام طریقے صحیح ہیں...
دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر رکھیں گے
یا دائیں ہاتھ کی ہتھیلی سے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کے اوپری حصے کو پکڑے رہیں گے...
یا پھر دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ کی کلائی پر رکھ کر اسے پکڑے رہیں گے...
7
”اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنْ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ“۔ "اے اللہ! میرے اور میری خطاؤں کے درمیان ایسی دوری کر دے، جیسی دوری تو نے مشرق و مغرب کے درمیان رکھی ہے۔ اے اللہ! مجھے خطاؤں سے اسی طرح صاف کر دے، جس طرح سفید کپڑے کو میل سے صاف کیا جاتا ہے۔ اے اللہ! مجھے میری خطاؤں سے پانی اور برف اور اولے سے دھو دے"۔
تکبیرِ تحریمہ کے بعد اور قراءت سے پہلے دعائے استفتاح پڑھیں گے۔ نماز کے آغاز کے لیے کئی اور دعائیں آئی ہوئی ہیں۔ سنت یہ ہے کہ ان دعاؤں میں سے کبھی کسی کو پڑھا جائے تو کبھی کسی اور کو...
8
"أعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطانِ الرَّجِيمِ"... (میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں...)
دعائے استفتاح کے بعد أعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطانِ الرَّجِيمِ پڑھیں گے اور اس کے بعد سورۂ فاتحہ پڑھیں گے...
9
اس کی ایک ایک آیت پورے خشوع و اطمئنان کے ساتھ پڑھیں گے۔
10
آمین...
نمازی کے لئے, خواہ وہ امام ہو یا مقتدی ہو یا منفرد۔ ہو ’آمین‘ کہنا سنت ہے، یہ سورۂ فاتحہ کی آیت نہیں بلکہ یہ ایک دعائیہ کلمہ ہے، جس کے معنی ہیں : اے اللہ! قبول فرما۔
11
سورۂ فاتحہ کے بعد قرآن کا جتنا حصہ ہو سکے، پڑھیں گے, چاہے پوری سورت ہو یا اس کا کچھ حصہ ۔ قراءت پوری کرنے کے بعد اور رکوع کے لیے جھکنے سے پہلے تھوڑے سے وقت کے لئے خاموش رہیں گے۔
12
اللہ اکبر... (اللہ سب سے بڑا ہے...)
قیام سے رکوع میں جانے کے لیے تکبیر کہیں گے...
یہ نماز کا دوسرا مقام ہے، جہاں نبی ﷺ اپنے ہاتھوں کو اٹھایا کرتے تھے۔ اس لیے اس جگہ دونوں ہاتھوں کو کانوں یا کندھوں کے برابر اٹھانا سنت ہے...
13
دونوں ہتھیلیوں کو دونوں گھٹنوں پر رکھیں گے۔ انگلیوں کو ایک دوسرے سے الگ رکھیں گے اور انھیں گھٹنوں پر اس طرح جمائے رکھیں گے، جیسے انھیں پکڑے ہوئے ہوں۔
پورے اطمینان کے ساتھ رکوع کریں گے۔ دونوں ہاتھوں کو دونوں پہلؤوں سے الگ رکھیں گے اور کسی ایک جانب مائل نہیں ہوں گے کہ ایک جانب کا گال نمایاں طور پر نظر آئے۔
14
پیٹھ قوس نما ہونے کی بجائے سیدھی رہے اور سر پیٹھ کے برابر رہے۔ نہ اس سے اونچا اور نہ نیچا۔
15
"سبحانَ ربِّيَ العظيم". (پاک ہے میرا رب، جو بڑی عظمت والا ہے۔)
رکوع کی تسبیح تین بار پڑھیں گے۔ یہ کمال کا کم ترین درجہ ہے۔ ویسے ایک بار پڑھنا بھی کافی ہے۔ چاہیں تو تین بار سے زیادہ بھی پڑھیں سکتے ہیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے منقول تسبیحات کو پڑھنے میں تنوع سے کام لیں گے۔
16
رکوع میں پڑھنے کے لیے متعدد اذکار آئے ہوئے ہیں۔
17
"سَمِعَ اللهُ لمَنْ حَمِدَه"... (اللہ نے اس کی سن لی، جس نے اس کی تعریف کی...)
یہ ذکر رکوع سے کھڑے ہوتے وقت پڑھیں گے، جب منفرد یا امام کی حیثیت سے نماز پڑھ رہے ہوں...
18
اس کے ساتھ ہی دونوں ہاتھوں کو کانوں یا کندھوں کے برابر اٹھائیں گے۔ یہ تیسرا مقام ہے، جہاں ہم اپنے ہاتھوں کو اٹھائیں گے...
19
پھر سیدھے کھڑے ہو کر ہم یہ کہیں گے :
"رَبَّنَا ولكَ الحَمْدُ". (اے ہمارے رب! تمام تعریفیں تیری ہی ہیں۔)
20
رکوع سے اٹھنے کے بعد ہم اپنے دونوں ہاتھوں کو چھوڑ بھی سکتے ہیں اور باندھ بھی سکتے ہیں...
21
رکوع کے بعد پورے اطمینان سے دیر تک کھڑے رہنا سنت ہے۔
22
اللہ اکبر... (اللہ سب سے بڑا ہے...)
پھر قیام سے سجدے میں جانے کی تکبیر کہتے ہوئے زمین کی طرف جھکیں گے۔
دونوں ہاتھوں کو گھٹنؤوں سے پہلے یا دونوں گھٹنؤوں کو ہاتھوں سے پہلے رکھیں گے۔ دونوں میں سے وہی کریں گے، جو ہمارے لئے زیادہ آسان ہو۔
23
سجدہ سات اعضا پر کرنا واجب ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیں یہی سکھایا ہے۔
سات اعضا ہ یہ یں: : ناک کے ساتھ پیشانی، دونوں ہاتھ، دونوں پاؤں اور دونوں گھٹنے۔
24
پیروں کی انگلیوں کے کناروں کو قبلہ کی جانب موڑ دیں گے اور دونوں پیروں کو کھڑا رکھیں گے۔
دونوں رانوں کو ایک دوسرے سے جدا رکھیں گے اور پیٹ کو ان سے اٹھاکر رکھیں گے۔
اگر جماعت میں نماز نہ پڑھ رہے ہوں اور آس پاس کے لوگوں کو تکلیف ہونے کا اندیشہ نہ ہو، تو دونوں بازؤوں کو زمین سے اونچا اور پہلو سے الگ رکھیں گے۔
دونوں ہتھیلیوں کو کندھوں یا کانوں کے برابر رکھیں گے...
25
"سبحانَ ربِّي الأعلى"... (پاک ہے میرا رب، جو سب سے برتر ہے...)
اسے تین بار پڑھیں گے۔ یہ کمال کا کم ترین درجہ ہے۔ ویسے ایک بار پڑھنا بھی کافی ہے۔ چاہیں تو اس سے زیادہ بھی پڑھ سکتے ہیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے منقول تسبیحات کو پڑھنے میں تنوع سے کام لیں گے۔ اس کے ساتھ ہی دنیا اور آخرت کی بھلائی سے متعلق جو دعائیں چاہیں، کریں گے۔
26
اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے : "بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب سجدہ کی حالت ميں ہوتا ہے۔ لہٰذا تم (سجدے میں) خوب دعا کیا کرو۔"
27
اللہ اکبر... (اللہ سب سے بڑا ہے...)
"اللہ اکبر" کہتے ہوئے سجدے سے سر اٹھائیں گے...
بائیں پیر کو بچھا کر اس پر بیٹھ جائیں گے، دائیں پیر کو کھڑا رکھیں گے اور اس کی انگلیوں کو قبلہ رخ کرلیں گے۔
یا...
دونوں پیروں کو کھڑے کر لیں گے اور ایڑیوں پر بیٹھیں گے...
دایاں ہاتھ دائیں ران پر اور بایاں ہاتھ بائیں ران پر گھٹنوں کے پاس یا گھٹنوں پر رکھیں گے۔
28
ربِّي اغفر لي... (اے میرے رب! مجھے معاف فرما...)
دونوں سجدوں کے درمیان اطمینان سے بیٹھ جائيں گے اور گذری ہوئی دعا پڑھیں گے...
29
اللہ اکبر... (اللہ سب سے بڑا ہے...)
ہم "اللہ اکبر" کہتے ہوئے دوسرے سجدے کے لیے جھکیں گے۔ دوسرا سجدہ پہلے سجدے ہی کی طرح کریں گے اور اس میں بھی وہی دعا پڑھيں گے، جو پہلے سجدے میں پڑھی تھی...
30
اللہ اکبر... (اللہ سب سے بڑا ہے...)
اس کے بعد پہلی رکعت ہی کی طرح دوسری رکعت ادا کریں گے:
ہاتھ باندھیں گے، سورۂ فاتحہ پڑھیں گے اور قرآن کی ایک یا چند آیتوں کی تلاوت کریں گے...
پھر رکوع کریں گے...
اللہ اکبر... (اللہ سب سے بڑا ہے...)
اور کھڑے ہو جائیں گے...
سَمِعَ اللهُ لمَنْ حَمِدَه... (اللہ نے اس کی سن لی، جس نے اس کی تعریف کی...)
پھر سجدے کے لیے جھکیں گے۔
اللہ اکبر... (اللہ سب سے بڑا ہے...)
دو سجدے کریں گے اور اس کے بعد تشہد میں بیٹھیں گے...
اللہ اکبر... (اللہ سب سے بڑا ہے...)
اللہ اکبر... (اللہ سب سے بڑا ہے...)
اللہ اکبر... (اللہ سب سے بڑا ہے...)
31
دوسری رکعت سے فارغ ہونے کے بعد تشہد کے لیے بیٹھیں گے۔ یہاں بیٹھتے وقت ہم بائیں پیر کو بچھا کر اس پر بیٹھ جائیں گے، دائیں پیر کو کھڑا رکھیں گے اور اس کی انگلیوں کو قبلہ رخ کرلیں گے۔
32
دو رکعت والی نمازوں جیسے صبح، جمعہ اور عیدین کی نمازوں کے تشہد میں اور تیں یا چار رکعت والی نمازوں کے پہلے تشہد میں بھى ہم اسی طرح بیٹھیں گے...
33
جو شخص جسم بھاری ہونے یا پیر میں درد کی وجہ سے اس کیفیت سے نہ بیٹھ سکے، وہ جس طرح بیٹھ سکے، اسی طرح بیٹھے...
34
تشہد میں ہم دائیں ہاتھ کو دائیں ران پر رکھیں گے اور شہادت کی انگلی کے علاوہ ساری انگلیوں کو سمیٹ کر رکھیں گے اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کریں گے...
35
یا پھر انگوٹھے اور درمیانی انگلی کو باہم ملا کر حلقے کی شکل بنالیں گے اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کریں گے...
36
جہاں تک بائیں ہاتھ کی بات ہے، تو اسے یا تو بائیں ران پر رکھیں گے یا اس سے بائیں گھٹنے کو پکڑ لیں گے۔
تشہد میں نگاہ دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی پر رکھنا مستحب ہے۔
37
”التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ“ (ہر طرح کى تعظیم ,سبھی دعائیں اور تمام پاکیزہ باتیں اور کام اللہ کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکت نازل ہو۔ سلام ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے اور گواہی دیتا ہوں کہ بے شک محمد (ﷺ) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔)
تین یا چار رکعت والی نمازوں میں صرف پہلا تشہد پڑھیں گے۔
اگر نماز دو رکعت والی جیسے صبح، جمعہ اور عیدین کی ہو، تو تشہد مکمل کریں گے، بایں طور کہ درود ابراہیمی بھی پڑھیں گے:
”اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ“ (اے اللہ! محمد پر اور آل محمد پر رحمت نازل فرما، جیسے تو نے ابراہیم پر اور آل ابراہیم پر رحمت نازل کی ہے۔ بے شک تو قابل تعریف اور بزرگی والا ہے۔ اسی طرح محمد پر اور آل محمد پر برکت نازل فرما، جیسے ابراہیم پر اور آل ابراہیم پر برکت نازل کی ہے۔ بے شک تو قابل تعریف اور بزرگی والا ہے۔)
38
’’السلام عليكم ورحمة الله‘‘... (تم پر اللہ کی رحمت اور اس کی سلامتی ہو۔)...
’’السلام عليكم ورحمة الله‘‘... (تم پر اللہ کی رحمت اور اس کی سلامتی ہو...)
تشہد اور سنت نبوی میں وارد دعاؤں کے پڑھنے کے بعد سلام پھیرا جائے گا... یہ اس وقت ہوگا جب نماز دو رکعت والی ہو...
39
دھیمی آواز میں 'اللهُ أكبر' کہیں گے۔
لیکن اگر نماز تین رکعت والی جیسے مغرب یا چار رکعت والی جیسے ظہر، عصر اور عشا ہو
40
تو پہلے تشہد کے بعد، اگر ہم مغرب کی نماز ادا کر ہے ہوں تو ایک رکعت پڑھنے کے لیے اور اگر ظہر، عصر یا عشا کی نماز ادا کر رہے ہوں، تو دو رکعت پڑھنے کے لیے کھڑے ہو جائیں کے۔ جس میں سورۂ فاتحہ پڑھیں گے اور وہ سارے کام کریں گے، جن کی تفصیل رکوع، سجدہ اور قیام کے ضمن میں آچکی ہے...
41
اللہ اکبر... (اللہ سب سے بڑا ہے...)
42
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم دو تشہد والی نمازوں کے آخری تشہد میں تورک کیا کرتے تھے...
43
تورک تین اور چار رکعت والی نمازوں کے آخری تشہد میں ہوگا۔ اس کے مختلف طریقہ ہیں:
44
بائیں پیر کو بچھا دیا جائے، دائیں پیر کو کھڑا رکھا جائے اور پھر دونوں پیروں کو دائیں جانب نکال دیا جائے اور دونوں سرین کو زمین پر رکھ دیا جائے۔
یا
دونوں پیروں کو بچھا دیا جائے اور اس کے بعد دونوں کو دائیں جانب نکال دیا جائے۔
یا
دائیں پیر کو بچھا دیا جائے اور بائیں پیر کو دائیں پیر کی ران اور پنڈلی کے بیچ داخل کر دیا جائے۔
45
آخری تشہد میں ہم 'التحیات' پڑھیں گے اور اس کے بعد درودِ ابراہیمی پڑھیں گے۔
46
'التحیات' و درود ابراہیمی کے بعد اور سلام سے پہلے ہم چار چیزیں سے اللہ کی پناہ مانگیں گے : عذاب جہنم سے، عذاب قبر سے، موت و حیات کے فتنے سے اور مسیح دجال کے فتنے کے شر سے...
اس کے بعد دنیا و آخرت کی جس قدر بھلائیاں چاہیں گے، مانگیں گے...
47
’’السلام عليكم ورحمة الله‘‘ (تم پر سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو۔)
’’السلام عليكم ورحمة الله‘‘ (تم پر سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو۔)
نماز کے اختتام اور اس سےنکلنے کے لیے سلام ضروری ہے۔
48
سلام پھیرتے ہى ہم اپنى نماز کو پوری کرلیں گے۔
أسْتَغْفِرُ الله... أسْتَغْفِرُ الله... أسْتَغْفِرُ الله... (میں اللہ سے بخشش مانگتا ہوں... میں اللہ سے بخشش مانگتا ہوں... میں اللہ سے بخشش مانگتا ہوں...)
49
سلام پھیر نے کے بعد تین مرتبہ أستغفر اللہ کہنا سنت ہے۔ پھر نبی ﷺ سے ثابت اذکار کے ذریعے اللہ سبحانہ و تعالی کا ذکر اور اس کی تسبیح کریں...
نمبر شمار
اسکرین پر لکھا ہوا
1
آپ امام ہو ں یا منفرد
2
تکبیرِ تحریمہ
3
ہم دونوں ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اٹھائیں گے
4
یا مذکورہ طریقے ہی سے دونوں کانوں کے برابر اٹھائیں گے
5
دونوں ہاتھوں کو سینے پر رکھیں گے
6
یا ناف کے اوپر
7
یا ناف کے نیچے
8
ہم دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر رکھیں گے
9
یا دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ کی کلائی پر رکھ کر اسے پکڑے رہیں گے
10
دعائے استفتاح
11
”اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنْ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ“۔ "اے اللہ! میرے اور میری خطاؤں کے درمیان ایسی دوری کر دے، جیسی دوری تو نے مشرق و مغرب کے درمیان رکھی ہے۔ اے اللہ! مجھے خطاؤں سے اسی طرح صاف کر دے، جس طرح سفید کپڑے کو میل سے صاف کیا جاتا ہے۔ اے اللہ! مجھے میری خطاؤں سے پانی اور برف اور اولے سے دھو دے"۔
12
سنت یہ ہے کہ ان دعاؤں میں سے کبھی کسی کو پڑھا جائے تو کبھی کسی اور کو
13
تعوذ
14
أعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطانِ الرَّجِيمِ (میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں)
15
سورہ فاتحہ
16
"الحمد لله رب العالمين الرحمن الرحيم مالك يوم الدين إياك نعبد وإياك نستعين اهدنا الصراط المستقيم صراط الذين أنعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالين۔" (ساری تعریف اللہ کے لئے ہے، جو سارے جہان کا رب ہے۔ وہ بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ بدلے کے دن کا مالک ہے۔ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔ ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔ ان لوگوں کا راستہ، جن پر تیرا انعام ہوا۔ ان لوگوں کا راستہ نہیں، جو غضب کے شکار ہوئے اور نہ ان لوگوں کا راستہ جو راہ بھٹک گئے۔)
17
آمین
18
یہ ایک دعائیہ کلمہ ہے، جس کے معنی ہیں: اے اللہ! قبول فرما۔
19
قرآن کا جتنا حصہ پڑھ سکتے ہیں، پڑھیں گے
20
رکوع...
21
اللہ اکبر
22
پیٹھ قوس نما ہونے کی بجائے سیدھی رہے
23
سبحانَ ربِّيَ العظيم (پاک ہے میرا رب, جو بڑی عظمت والا ہے۔)
24
رکوع کے کچھ مأثور اذکار
25
"سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ، ربُّ الملائكةِ والرُّوح" (وہ نہايت ہی پاک، بڑا مقدس ہے۔ فرشتوں اور جيريل کا رب ہے۔)
26
"سُبحانَكَ ربَّنا وبحمدِك، اللهمَّ اغفِرْ لي"۔ (پاک ہے تو اے ہمارے رب! تو ہی تمام تعریفوں کے لائق ہے۔ الہی! مجھے بخش دے۔)
27
"سَمِعَ اللهُ لمَنْ حَمِدَه" (اللہ نے اس کی سن لی، جس نے اس کی تعریف کی۔)
28
"ربَّنا ولكَ الحمدُ، حمدًا كثيرًا طيِّبًا مُبارَكًا فيه"۔ (اے ہمارے رب! تیرے ہی واسطے بہت زیادہ تعریفیں ہیں پاکیزہ اور بابرکت۔)
29
ہم اپنے ہاتھ چھوڑ دیں گے
30
یا انھیں باندھ لیں گے
31
سجدے...
32
پیشانی، ناک کے ساتھ
33
دونوں ہتھیلیاں
34
دونوں گھٹنے
35
دونوں پاؤں
36
سبحانَ ربِّيَ الأعلى ... (پاک ہے میرا رب، جو سب سے برتر ہے۔)
37
"بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب سجدہ کی حالت ميں ہوتا ہے۔ لہٰذا تم (سجدے میں) خوب دعا کیا کرو۔"
38
بائیں پیر کو بچھا کر بیٹھنے والى بیٹھک.
39
نماز میں کچھ مکروہ بیٹھکیں جیسے کتے کے بیٹھک...
40
"ربِّ اغفِرْ لي" (اے میرے رب! مجھے معاف فرما۔) (تین بار پڑھیں گے)
41
"اللهمَّ اغفِرْ لي، وارحَمني، واجبُرني، واهدِني، وارزُقني"۔ (اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، ,میرى کمزوری دور کردے مجھے ہدایت دے اور روزی عطا کر۔)
42
صبح کى نماز
43
جمعہ کى نماز
44
عیدین کى نماز
45
ظہر
46
عصر
47
مغرب
48
عشا
49
”التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ“ (ہر طرح کى تعظیم ,سبھی دعائیں اور تمام پاکیزہ باتیں اور کام اللہ کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکت نازل ہو۔ سلام ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے اور گواہی دیتا ہوں کہ بے شک محمد (ﷺ) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔)
50
”اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ“ (اے اللہ! محمد پر اور آل محمد پر رحمت نازل فرما، جیسے تو نے ابراہیم پر اور آل ابراہیم پر رحمت نازل کی ہے۔ بے شک تو قابل تعریف اور بزرگی والا ہے۔ اسی طرح محمد پر اور آل محمد پر برکت نازل فرما، جیسے ابراہیم پر اور آل ابراہیم پر برکت نازل کی ہے۔ بے شک تو قابل تعریف اور بزرگی والا ہے۔)
51
ظہر- عصر- مغرب- عشا
52
صبح- جمعہ- عیدین...
53
”اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ“ (اے اللہ! محمد پر اور آل محمد پر رحمت نازل فرما، جیسے تو نے ابراہیم پر اور آل ابراہیم پر رحمت نازل کی ہے۔ بے شک تو قابل تعریف اور بزرگی والا ہے۔ اسی طرح محمد پر اور آل محمد پر برکت نازل فرما، جیسے ابراہیم پر اور آل ابراہیم پر برکت نازل کی ہے۔ بے شک تو قابل تعریف اور بزرگی والا ہے۔)
54
’’السلام عليكم ورحمة الله‘‘ (تم پر سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو۔)
55
’’اور جب (آپ ﷺ) آخری رکعت میں بیٹھتے تو بایاں پاؤں آگے کر دیتے اور دایاں پاؤں کھڑا رکھتے، پھر اپنی سرین کے بل بیٹھ جاتے۔‘‘ اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
56
تورک والی بیٹھک
57
”اللَّهمَّ إنِّي أَعُوْذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ القَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ المَحْيَا وَالمَمَاتِ وَمِنْ فِتْنَةِ المَسِيْحِ الدَّجَّالِ“ (اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم کے عذاب سےع قبر کے عذاب سے، زندگی اور موت کے فتنہ سے اور مسیح دجال کے فتنہ کے شر سے۔) اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
58
«اللَّهمَّ إنِّي ظلَمتُ نَفسي ظلمًا كثيرًا، ولا يغفرُ الذُّنوبَ إلَّا أنتَ، فاغفِر لي مغفرةً من عندِكَ وارحَمني إنَّكَ أنتَ الغفورُ الرَّحيمُ». (اے اللہ! میں نے اپنے نفس پر بہت ظلم کیا ہے اور تیرے سوا کوئی گناہوں کو معاف نہیں کرتا۔ لہٰذا اپنی مہربانی سے مجھے معاف کردے اور مجھ پر رحم فرما۔ بے شک تو بہت معاف کرنے والا، بہت رحم کرنے والا ہے۔) اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
59
"أسْتَغْفِرُ الله" (میں اللہ سے بخشش مانگتا ہوں۔) (تین بار پڑھیں گے۔)
60
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ كو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بلا شبہ قیامت کے دن بندے کے اعمال میں سے سب سے پہلے اس کی نماز کا حساب ہو گا۔ اگر اس کی نماز صحیح رہی، تو پھر وہ کامیاب ہو گیا اور نجات پاگیا۔ لیکن اگر نماز کا معاملہ بگڑ گیا، تو پھر وہ نا کام وتباہ ہوگیا“۔ اسے ابوداؤد، ترمذی اور نسائی نے روایت کیا ہے۔