صفة العمرة

صفة العمرة

Language: lang_ur
Prepared by:
Version: 3.1
Translations 2
Italian Urdu
Attachments 7
PDF
Audio
Video
+3

عمرہ کا طریقہ (مختصر عملی تشریح) آپ عمرہ کیسے کریں؟ (آسان تعلیمی ویڈیو) یہ ویڈیو احرام سے لے کر تحلل تک عمرہ کے تمام مناسک کو نہایت آسان اور واضح انداز میں ترتیب کے ساتھ بیان کرتی ہے، ویڈیو کلپ دیکھیں اور سیکھیں کہ اپنا عمرہ آسانی کے ساتھ احسن انداز میں کیسے ادا کریں۔ عمرہ کا طریقہ

جو شخص عمرہ کرنا چاہے، اس پر واجب ہے کہ وہ اپنے مقررہ میقات سے احرام باندھے۔

مواقیت: وہ مقامات ہیں جو نبی کریم ﷺ نے مقرر فرمائے ہیں تاکہ جو شخص حج یا عمرہ کرنا چاہے وہ وہاں سے احرام باندھے۔

لہٰذا جو شخص ان میں سے کسی میقات سے گزرے اور اس کا ارادہ حج یا عمرہ کرنے کا ہو، تو اس پر وہیں سے احرام باندھنا واجب ہے اور بغیر احرام کے آگے بڑھنا جائز نہیں۔

جو شخص ان میقاتوں کے بہ نسبت مکہ سے زیادہ قریب ہو، جیسے جدہ کے باشندے: تو اس کی اپنی جائے قرار ہی اس کی میقات ہوگی، چنانچہ وہ وہیں سے حج اور عمرہ کے لیے احرام باندھے گا۔

جہاں تک اہلِ مکہ کی بات ہے، تو وہ حج کے لیے مکہ میں اپنے گھروں سے احرام باندھیں گے لیکن عمرہ کے لیے حدودِ حرم سے باہر یعنی حِل کی طرف جائیں گے اور وہاں سے احرام باندھیں گے، جیسے تنعیم اور اس جیسے دیگر مقامات۔

جو شخص ہوائی جہاز میں ہو، وہ میقات کے برابر پہنچے تو احرام باندھ لے، چنانچہ وہ تیاری کرلے اور میقات کے برابر پہنچنے سے پہلے احرام کے کپڑے پہن لے اور جب اس کے برابر پہنچے تو فوراً احرام کی نیت کر لے۔ احتیاط کے طور پر میقات کے برابر پہنچنے سے پہلے بھی تلبیہ کہہ سکتا ہے، تاکہ جہاز کی تیز رفتاری کی وجہ سے تلبیہ کا مقام چھوٹ جانے کا خطرہ نہ رہے، اس کے لیے جائز نہیں کہ ایئرپورٹ پر اترنے تک اسے مؤخر کردے۔

احرام کا طریقہ اور اس کے احکام

جو شخص احرام کا ارادہ کرے:

1. اس کے لیے غسل کرنا مستحب ہے۔

2- مَردوں کے لیے خوشبو لگانا مستحب ہے، البتہ بدن اور داڑھی پر ہی خوشبو لگانا جائز ہے، احرام کے لباس پر نہیں۔

3. احرام کا لباس پہننا واجب ہے، جو مَرد کے لیے ایک تہبند اور ایک چادر ہے، سنت یہ ہے کہ دونوں کپڑے سفید اور صاف یا پھر نئے ہوں۔

عورت جو لباس چاہے پہن کر احرام باندھے، بشرطیکہ زیب وزینت کی نمائش نہ کرے، لیکن نقاب اور دستانے پہننے سے پرہیز کرے، اس کے علاوہ کسی اور چیز سے اپنا چہرہ اور ہاتھ ڈھک لے۔

4. احرام کا مطلب ہے: نسک یعنی عمرہ میں داخل ہونے کی نیت کرنا، چنانچہ یہ کہہ کر نیت کرے: لبَّیکَ اللھُمَّ عمرۃً لَبَّیْکَ اللھُمَّ عُمْرَۃً اگر وہ کسی اور کی طرف سے عمرہ کر رہا ہو، تو یوں کہے: (لبيك اللهمَّ عمرةً عن فلانٍ). لَبَّيْكَ اللهُمَّ عُمْرَةً عَنْ فُلَانٍ.

5. اگر احرام باندھنے والے کو کسی ایسی رکاوٹ کا خدشہ ہو جو اسے مناسکِ عمرہ مکمل کرنے سے روک دے، تو اس کے لیے جائز ہے کہ احرام باندھتے وقت شرط لگائے اور یوں کہے: (اے اللہ! میں عمرہ کے لیے حاضر ہوں، اور اگر کسی روکنے والے نے مجھے روک دیا تو میرے احرام کھولنے کی جگہ وہیں ہوگی جہاں مجھے روک دیا جائے)۔ لَبَّیْکَ اللّٰھُمَّ عُمْرَۃً، وَاِنْ حَبَسَنِیْ حَابِسٌ فَمَحِلِّیْ حَیْثُ حَبَسْتَنِیْ چنانچہ جب اس نے شرط لگا لی اور اسے کوئی ایسی رکاوٹ پیش آ گئی جو اس کے عمرہ کی تکمیل میں مانع ہو، تو اس کے لیے حلال ہونا جائز ہے اور اس پر کوئی فدیہ نہیں۔

6- پھر کثرت سے تلبیہ کہے: (اے اللہ میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، بلاشبہ ہر تعریف اور نعمت تیری ہے اور تیری ہی بادشاہت ہے، تیرا کوئی شریک نہیں)۔ لَبَّیکَ اللّٰہُمَّ لَبَّیک، لَبَّیکَ لا شَرِیکَ لَکَ لَبَّیک، إِنَّ الحَمْدَ وَالنِّعْمَۃ لَکَ وَالمُلکَ لا شَرِیکَ لَک مرد بلند آواز سے تلبیہ کہے، اور اسی طرح عورت بھی، بشرطیکہ اجنبی مرد موجود نہ ہوں۔

7- محرِم پر واجب ہے کہ وہ اپنا احرام کھولنے تک ممنوعاتِ احرام سے اجتناب کرے۔

ممنوعاتِ احرام کی تین قسمیں ہیں:

پہلی قسم: وہ چیزیں جو مَردوں اور عورتوں دونوں پر حرام ہیں:

جسم کے کسی بھی حصے کے بال منڈوانا، کاٹنا یا اکھاڑنا۔

ہاتھ یا پیر کے پورے یا کچھ ناخن کاٹنا۔

بدن یا احرام کے لباس پر خوشبو لگانا۔

خشکی کے شکار کو قتل کرنا یا اس کا شکار کرنا، خواہ اسے قتل نہ بھی کرے۔

نکاح کا پیغام بھیجنا، خواہ اپنے لیے ہو یا دوسروں کے لیے۔

نکاح کرنا۔

شرمگاہ کے علاوہ جسم سے مباشرت کرنا، جیسے بوسہ دینا یا شہوت کے ساتھ لمس کرنا۔

جماع یعنی ہمبستری کرنا۔

دوسری قسم: وہ چیزیں جو مَردوں پر حرام ہیں:

سَر کو کسی ایسی چیز سے ڈھانپنا جو سر سے لگی ہوئی ہو، جیسے: ٹوپی اور عمامہ، اور اپنے سر پر چادر یا اس کے علاوہ کوئی اور چیز رکھنا جس سے سر ڈھانپنا مقصود ہو۔

جسم کے اندازے سے سلا ہوا، عام لباس؛ اپنی عام ہیئت اور شکل کے ساتھ پہننا، جیسے سلا ہوا جبہ، پاجامہ اور قمیص۔

تیسری قسم: وہ چیزیں جو عورتوں پر حرام ہیں:

نقاب، برقع یا نقاب نما ماسک پہننا، البتہ عورت پر واجب ہے کہ اجنبی مردوں کے سامنے کسی اور چیز سے اپنے چہرہ کا پردہ کرے۔

عورت کے لیے دستانے پہننا منع ہے، البتہ اس پر واجب ہے کہ اجنبی مردوں کے سامنے اپنے ہاتھوں کا پردہ کرے۔

عمرہ کرنے والا اپنے عمرہ کا آغاز کعبہ کے طواف سے کرے۔

کعبہ کے طواف کے لیے باوضو ہونا شرط ہے۔

جب محرِم شخص مسجدِ حرام میں داخل ہو تو سنت ہے کہ پہلے دایاں قدم آگے بڑھائے اور مسجد میں داخل ہونے کی دعا پڑھے، جو کہ یہ ہے: (اے اللہ، میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے)۔ "اَللّٰہُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ"

جب کعبہ پر نظر پڑے تو تلبیہ پڑھنا چھوڑ دے۔

جب طواف شروع کرنے کا ارادہ کرے، تو اس کے لیے اضطباع کرنا سنت ہے، اس طرح کہ اپنی چادر کے درمیانی حصے کو دائیں بغل کے نیچے سے گزارے اور دونوں کناروں کو بائیں کندھے پر ڈال دے، جب طواف سے فارغ ہو جائے تو اپنی چادر سے دونوں کندھے ڈھانپ لے، کیوں کہ اضطباع صرف طواف کے دوران مسنون ہے۔

طواف حجرِ اسود سے شروع ہوتا ہے۔

مستحب یہ ہے کہ حجرِ اسود کے پاس آئے، اسے اپنے دائیں ہاتھ سے چھوئے اور بوسہ دے، اگر اسے بوسہ دینا ممکن نہ ہو تو ہاتھ سے چھوئے اور ہاتھ کو بوسہ دے۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو اپنے پاس موجود کسی چیز جیسے چَھڑی وغیرہ سے اسے چھوئے اور اسے بوسہ دے۔ اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو حجرِ اسود کی جانب رخ کر کے ہاتھ سے اشارہ کرے اور ہاتھ کو بوسہ نہ دے۔ افضل یہ ہے کہ بھیڑ بھاڑ میں نہ گھسے، تاکہ نہ لوگوں کو تکلیف دے اور نہ خود مشقت میں پڑے۔

مستحب ہے کہ حجرِ اسود کو چھوتے وقت یا اس کی طرف اشارہ کرتے وقت کہے: (اللہ سب سے بڑا ہے) (اللهُ أكبرُ).

پھر دائیں جانب آئے اور کعبہ کو اپنی بائیں طرف رکھے۔ جب رکن یمانی کے پاس پہنچے تو بغیر بوسہ دیے اس کا استلام کرے، اگر یہ ممکن نہ ہو تو بھیڑ بھاڑ میں گھسے اور نہ اس کی طرف اشارہ کرے۔

رکنِ یمانی اور حجرِ اسود کے درمیان یہ دعا پڑھے: (اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا)۔

جب بھی حجرِ اسود کے سامنے سے گزرے تو اس کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرے اور کہے: (اللهُ أكبرُ).

اور باقی طواف میں جو چاہے ذکر، دعا اور قرآن کی تلاوت کرے۔

سنت یہ ہے کہ اگر ممکن ہو تو صرف پہلے تین چکروں میں رمل کرے، اس کا طریقہ یہ ہے کہ چھوٹے چھوٹے قدموں کے ساتھ تیز چلے، باقی چار چکروں میں تیز نہیں چلے۔

طواف پورا کرنے کے بعد اگر ممکن ہو تو مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز ادا کرنا مستحب ہے، ورنہ مسجد میں کسی بھی جگہ دو رکعت پڑھ لے۔ پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد ﴿قُلۡ يَٰٓأَيُّهَا ٱلۡكَٰفِرُونَ﴾ کی تلاوت کرے اور دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد ﴿قُلۡ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ﴾کی تلاوت کرے۔

سعی کا طریقہ

جب طواف اور اس کے بعد کی دو رکعتیں مکمل کر لے تو سعی کے لیے صفا ومروہ کی طرف جائے، اگر صفا پہاڑی کے قریب پہنچے تو یہ دعا پڑھے: "صفا اور مروه اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں"۔ پھر کہے: "میں اسی سے شروع کرتا ہوں جس سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ہے۔" "أبدأُ بما بدأَ اللهُ بهِ"۔

پھر مستحب ہے کہ قبلہ یعنی کعبہ کی طرف رخ کرے اور کہے: (اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس نے اپنا وعدہ پورا کیا، اپنے بندے کی مدد کی اور اکیلے ہی لشکروں کو شکست دی)۔ (لا إلهَ إلا اللهُ وحدهُ لا شريكَ لهُ، لهُ الملكُ ولهُ الحمدُ، وهوَ على كلِّ شيءٍ قديرٌ، لا إلهَ إلا اللهُ وحدهُ، أنجزَ وعدَهُ، ونصرَ عبدَهُ، وهزمَ الأحزابَ وحدهُ"۔ اسے تین بار دہرائے اور اس کے درمیان دعا کرے۔

پھر صفا سے اتر کر مروہ کی طرف چل کر جائے، جب سبز نشان پر پہنچے تو صرف مرد تیزی سے دوڑے، اور جب دوسرے سبز نشان پر پہنچ جائے تو عام رفتار سے چلے۔

جب مروہ پر پہنچے تو اس کے لیے وہی عمل کرنا مسنون ہے جو اس نے صفا پر کیا تھا۔ یعنی تکبیر، دعا، قراءت اور کعبہ کی طرف رخ کرنا۔

پھر مروہ سے نیچے اتر کر صفا کی جانب چل کر جائے، جب سبز نشان پر پہنچے تو تیزی سے دوڑے، پھر جب دوسرے سبز نشان پر پہنچے تو عام رفتار سے چلے۔

اسی طرح وہ سات چکر مکمل کرے، صفا سے مروہ تک جانا ایک چکر شمار ہوگا، اور مروہ سے صفا واپس آنا دوسرا چکر شمار ہوگا؛ صفا سے شروع کرے اور مروہ پر ختم کرے۔

اور سعی کے دوران اپنی چاہت کے مطابق ذکر، دعا اور قرآن کی تلاوت کرے۔

بال منڈوانے اور چھوٹے کرانے کا طریقہ:

جب عمرہ کرنے والا طواف اور سعی مکمل کر لے تو مرد پر واجب ہے کہ وہ سر کے بال منڈوائے یا چھوٹے کروائے، اور واجب ہے کہ حلق یا تقصیر پورے سر کو شامل ہو۔

اور عورت اپنے بالوں کے کناروں سے انگلی کے ایک پور کے برابر کاٹے۔

اس کے ساتھ ہی عمرہ مکمل ہو گیا۔

میقات کے احکام

مدینہ منورہ ذو الحلیفہ ذاتِ عِرق جحفہ

یلملم قرنِ منازل میقات

مکہ مکرمہ میقات مکہ کے قریب رہنے والوں کا احرام اس کی جگہ

اہلِ مکہ کا احرام حج کے لیے ان کے گھروں سے عُمرہ کے لیے تَنْعِیم

ہوائی جہاز سے آنے والوں کا احرام میقات کے برابر پہنچنے سے قبل احرام کا لباس پہن لے میقات کے برابر پہنچ کر احرام کی نیت کرے تلبیہ کہنا شروع کرے احرام کو ایئرپورٹ پہنچنے تک مؤخر کرنا جائز نہیں۔

احرام کا طریقہ اور اس کے احکام

غسل کرنا

خوشبو لگانا

یہ مَردوں کے لیے ہے۔ عورتوں کے لیے نہیں۔ جسم داڑھی کپڑے

احرام کا لباس پہننا تہہ بند اور چادر مرد دو سفید عورت جو لباس وہ پہننا چاہے بے پردہ نہ ہو نقاب دستانے

عمرے کا احرام:

بیماری حادثہ

نیت میں شرط لگانا

وہ حلال ہو جائے گا اور اس پر کوئی چیز واجب نہیں ہوگی۔

تلبیہ کا طریقہ:

ممنوعاتِ احرام سے اجتناب

یہاں تک کہ اپنا احرام کھول دے ممنوعاتِ احرام مردوں اور عورتوں پر حرام ہے نکاح کا پیغام بھیجنا، خواہ اپنے لیے ہو یا دوسروں کے لیے نکاح کرنا مَردوں پر حرام ہے مَردوں عورتوں پر حرام ہے

طواف کا طریقہ طواف کے لیے باوضو ہونا شرط ہے۔

مسجد میں داخل ہونے کی دعا

دایاں پاؤں

اضطباع اضطباع صرف طواف کے کرنا ہے۔ طواف حجرِ اسود سے شروع ہوتا ہے۔

رکنِ یمانی

رکنِ یمانی اور حجرِ اسود کے درمیان یہ دعا پڑھے:

مرد دعا قرآن کی تلاوت رمل کی مشروعیت پہلے تین چکروں میں

مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھے اگر ممکن ہو

’’تم مقامِ ابراہیم کو جائے نماز مقرر کرلو‘‘۔

سعی کا طریقہ

مروہ صفا

تین مرتبہ دوڑے چل کر سعی کرے سبز نشان تکبیر کعبہ کی طرف رخ کرے سات چکر صفا سے مروہ تک ایک چکر شمار ہوگا ایک چکر بال منڈوانے اور چھوٹے کرانے کا طریقہ

مرد کے لیے بال منڈوانا اور چھوٹے کروانا واجب ہے۔ پورے سر کو شامل ہے عورت کے لیے بال کٹوانا واجب ہے۔ خواتین

عمرہ مکمل ہو گیا