صفة العمرة (للوزارة)

صفة العمرة (للوزارة)

وزارتِ اسلامی امور اور دعوت و رہنمائی

Language: lang_ur
Prepared by: عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز
Version: 1.0
Translations 11
Assamese English French Indonesian +7
Attachments 7
PDF
Audio
Video
+3

وزارتِ اسلامی امور اور دعوت و رہنمائی

عمرہ کا طریقہ

عالی جناب شیخ

عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز

رحمہ الله تعالى

الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على عبده ورسوله، وبعد،

یہ عمرہ کے مناسک کے اعمال کا ایک تعارف ہے۔ اس کی تفصیل قارئین کی خدمت میں پیش کی جاتی ہے:

1. جب کوئی شخص عمرہ کا ارادہ کرکے میقات پر پہنچے تو اس کے لیے مستحب ہے کہ وہ غسل اور صفائی ستھرائی کرے۔ یہی حکم عورت کے لیے بھی ہے، خواہ وہ حیض یا نفاس کی حالت میں ہی کیوں نہ ہو، تاہم وہ بیت اللہ کا طواف اس وقت تک نہیں کر سکتی جب تک کہ وہ پاک نہ ہو جائے اور غسل نہ کر لے۔

مرد کو چاہیے کہ وہ اپنے جسم پر خوشبو لگائے لیکن احرام کی چادروں پر نہ لگائے۔ اگر میقات پر غسل کرنا ممکن نہ ہو تو کوئی حرج نہیں، البتہ مستحب یہ ہے کہ اگر ممکن ہو تو مکہ پہنچ کر طواف سے پہلے غسل کر لے۔

2. مرد تمام سلے ہوئے کپڑے اتار کر صرف تہبند اور چادر پہن لے۔ مستحب ہے کہ یہ دونوں سفید اور صاف ستھرے ہوں۔

لیکن عورت اپنے عام لباس میں احرام باندھے گی، بشرطیکہ وہ لباس زیب و زینت اور شہرت و نمائش سے خالی ہو۔

3- پھر وہ دل میں عمرہ کی نیت کرے اور زبان سے یہ کہے: "لَبَّيْكَ عُمْرَةً" یا "اللّهُمَّ لَبَّيْكَ عُمْرَةً" (اے اللہ ! میں عمرہ کے لیے حاضر ہوں)۔ اگر محرم کو اپنی بیماری یا دشمن کے خوف کی وجہ سے یا کسى اور وجہ سے عمرہ کی عدم ادائیگی کا خدشہ ہو تو اس کو چاہیے کہ احرام باندھتے وقت شرط لگائے اور یوں کہے: "اگر کسى روکنے والے نے مجھے روک دیا تو میں وہیں حلال ہوجاؤں گا جہاں مجھے روک دیا جائے گا"۔ جیسا کہ ضباعۃ بنت زبیر رضی اللہ عنہا کی حدیث میں موجود ہے۔[1]

اس کے بعد نبی ﷺ کی طرح ان الفاظ میں لبیک پکارے: ’’لَبَّيْكَ اللّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكُ، لا شَرِيكَ لَكَ‘‘۔ یہ تلبیہ، ذکر الہی اور دعا کثرت سے کرتا رہے یہاں تک کہ بیت اللہ (کعبہ) تک پہنچ جائے۔

4- جب بیت اللہ پہنچے تو تلبیہ کہنا بند کر دے، پھر حجرِ اسود کا قصد کرے اور اس کے سامنے کھڑا ہو۔ دائیں ہاتھ سے حجرِ اسود کو چھوئے اور اگر ممکن ہو تو اس کا بوسہ لے، لیکن لوگوں کو دھکا دے کر انہیں تکلیف نہ پہنچائے۔ حجرِ اسود کو چھوتے وقت یہ کہے: "بسم الله والله أكبر" اگر بوسہ لینا ممکن نہ ہو تو ہاتھ یا کسی چھڑی وغیرہ سے حجرِ اسود کو چھو لے اور جس چیز سے چھوا ہو، اس کا بوسہ لے۔ اگر چھونا بھی ممکن نہ ہو تو دور سے حجرِ اسود کی طرف اشارہ کرے اور کہے: "الله أكبر" لیکن جس چیز سے اشارہ کرے، اسے بوسہ نہ دے۔

طواف صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ طواف کرنے والا حدث اصغر اور حدث اکبر سے پاک ہو، کیوں کہ طواف بھی نماز ہی کی طرح ہے، فرق صرف یہ ہے کہ طواف میں گفتگو کی اجازت ہے۔

5- طواف کرتے وقت کعبہ کو اپنے بائیں جانب رکھے اور سات چکر لگائے۔ جب رکنِ یمانی کے قریب پہنچے تو اگر ممکن ہو تو دائیں ہاتھ سے اسے چھوئے اور کہے : "بسم الله والله أكبر" لیکن اسے بوسہ نہ دے۔ اگر چھونا ممکن نہ ہو تو اسے چھوڑ دے اور طواف جاری رکھے، نہ اس کی طرف اشارہ کرے اور نہ تکبیر کہے، کیونکہ نبی اکرم ﷺ سے ایسا کرنا ثابت نہیں ہے۔

رہا حجرِ اسود، تو جب بھی اس کے سامنے پہنچے تو اسے چھوئے اور بوسہ دے، جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا ہے۔ اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو اس کی طرف اشارہ کرے اور تکبیر کہے۔ طوافِ قدوم کے پہلے تین چکروں میں صرف مردوں کے لیے رمَل کرنا مستحب ہے، یعنی چھوٹے چھوٹے قدموں سے تیز چلے۔

اسی طرح مرد کے لیے مستحب ہے کہ طوافِ قدوم کے دوران تمام چکروں میں اضطباع کرے۔ اضطباع یہ ہے کہ اپنی چادر کے درمیانی حصے کو دائیں کندھے کے نیچے سے گزارے اور دونوں کناروں کو بائیں کندھے پر ڈال دے۔

تمام چکروں میں حتى الامکان زیادہ سے زیادہ ذکر اور دعا کرنا مستحب ہے۔

طواف کی کوئی خاص دعا یا ذکر نہیں ہے، بلکہ جس قدر میسر ہو اللہ کا ذکر اور دعا کرے اور دونوں رکنوں کے درمیان یہ دعا پڑھے: "...اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا"۔ ہر چکر میں یہ دعا پڑھے؛ کیونکہ یہ نبی ﷺ سے ثابت ہے۔

ساتویں چکر کا اختتام حجرِ اسود کو چھونے اور اگر ممکن ہو تو بوسہ دینے سے کیا جائے، یا اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تکبیر کہی جائے، جیسا کہ پہلے تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے۔ طواف سے فارغ ہونے کے بعد، اپنی چادر اوڑھ کر اسے کندھوں پر ڈال لے اور اس کے دونوں کنارے سینے پر لٹکالے۔

6- پھر اگر ممکن ہو تو مقامِ ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھے۔ اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو مسجد کے کسی بھی حصے میں یہ دو رکعت نماز ادا کرے۔ ان رکعتوں میں سورۂ فاتحہ کے بعد: سورۃ الكافرون دوسری رکعت میں سورۃ الإخلاص یہ افضل ہے اور اگر ان کے علاوہ دوسری سورتیں یا آیات پڑھ لے تو بھی کوئی حرج نہیں۔ پھر ان دو رکعتوں سے فارغ ہونے کے بعد حجرِ اسود کا قصد کرے اور اگر ممکن ہو تو دائیں ہاتھ سے استلام کرے۔

7- پھر صفا پہاڑی کی طرف جائے اور اس پر چڑھے، یا اس کے قریب کھڑا ہو جائے، اور اگر ممکن ہو تو پہاڑی پر چڑھنا افضل ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو پڑھے : "بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ۔ ۔ ۔"۔ [سورۃ البقرۃ: 201]-

یہ مستحب ہے کہ قبلہ رخ ہو کر اللہ تعالی کی حمد وثنا بیان کرے، تکبیر کہے اوریہ دعا پڑھے: "اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور تمام تعریف اسی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس نے اپنا وعدہ پورا فرمایا اور اپنے بندے کی مدد فرمائی اور اس اکیلے ہی نے (مخالف) گروہوں کو شکست دی۔" پھر دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرے اور مذکورہ ذکر اور دعا تین مرتبہ دہرائے۔ پھر اتر کر مروہ کی طرف چلے، جب پہلے (سبز) نشان پر پہنچے تو مرد چلنے میں تیزی کرے، یہاں تک کہ دوسرے نشان تک پہنچ جائے۔

عورت کے لیے تیز چلنا مشروع نہیں ہے کیونکہ وہ پردہ کی چیز ہے۔ پھر چلتے ہوئے مروہ کی طرف جائے، اس پر چڑھے یا اس کے پاس کھڑا ہوجائے اور اگر ممکن ہو تو چڑھنا افضل ہے۔ مروہ پر وہی ذکر اور اعمال کرے جو صفا پر کہے اور کیے تھے۔ پھر نیچے اترے اور چلنے کے مقام پر عام رفتار سے چلے اور تیز چلنے کے مقام پر تیز چلے، یہاں تک کہ صفا تک پہنچ جائے۔ یہ عمل سات مرتبہ کرے، صفا سے مروہ تک جانا ایک چکر شمار ہوگا اور مروہ سے صفا تک واپس آنا دوسرا چکر۔ اور اگر کوئی سوار ہو کر سعی کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، خاص طور پر ضرورت کے وقت، اور مستحب یہ ہے کہ سعی میں جہاں تک ممکن ہو سکے کثرت سے ذکر ودعا کرے اور حدث اکبر اور حدث أصغر سے پاک ہو کر سعی کرے۔

اور اگر بغیر طہارت کے سعی کرے تو بھی وہ کافی ہے، پھر جب سعی مکمل کرلے تو مرد اپنا سر منڈوائے یا بال چھوٹے کروائے، البتہ بال منڈوانا افضل ہے۔

اگر اس کا مکہ آنا حج کے وقت سے قریب ہو تو اس کے لیے بال چھوٹے کروانا افضل ہے تاکہ حج میں باقی بال منڈوا سکے۔ رہی بات عورت کی تو وہ اپنے بالوں کو جمع کرے اور ان میں سے ایک پور کے برابر یا اس سے کم کاٹ لے۔ محرم اگر یہ تمام کام کر لے جن کا ذکر ہوا ہے تو اس کا عمرہ مکمل ہو گیا۔ والحمد لله۔ اس کے بعد اس پر احرام کی حالت میں حرام کیے گئے تمام امور حلال ہو جاتے ہیں۔

اللہ تعالی ہمیں اور ہمارے تمام مسلمان بھائیوں کو دین کی سمجھ عطا فرمائے اور اس پر ثابت قدم رکھے، اور سب کی عبادتیں قبول فرمائے۔ بے شک وہ بڑا سخی اور کریم ہے۔

اللہ تعالی اپنے بندے اور رسول، ہمارے نبی محمد ﷺ پر، اور آپ کی آل واصحاب پر نیز قیامت تک آپ کی پیروی کرنے والوں پر درود وسلام نازل فرمائے۔