آداب السفر وأحكامه
سفر کے آداب واحکام الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين۔
سفر کے آداب واحکام الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين۔
اما بعد:
یہ ایک مختصر رسالہ ہے جس میں سفر کے آداب اور احکام بیان کیے گئے ہیں، ہم نے اس میں ان امور کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے جن کی مسافر کو عام طور پر ضرورت ہوتی ہے۔
ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ اس عمل کو خالص اپنی رضا کے حصول کا ذریعہ بنائے اور اس سے تمام مسلمانوں کو فائدہ پہنچائے۔
علمی کمیٹی برائے جمعیۃ خدمۃ المحتوى الاسلامی باللغات
اول: سفر کے آداب
حج یا دیگر عبادتوں کے لیے سفر کرنے والے کو چاہیے کہ وہ درج ذیل باتوں کا خیال رکھے:
1. اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے وقت، سواری، رفیق سفر، اور اگر راستے بہت زیادہ ہوں تو راستے کے انتخاب کے بارے میں استخارہ کرے، اس بارے میں تجربہ کار اور نیکو کار لوگوں سے مشورہ کرے۔ جہاں تک حج اور عمرہ کا تعلق ہے، تو اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ خیر کے کام ہیں۔ استخارہ کا طریقہ یہ ہے کہ دو رکعت نماز پڑھے، پھر نبی ﷺ سے وارد دعا پڑھے۔
2. حاجی اور معتمر کو چاہیے کہ اس کے حج اور عمرہ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی قربت کا حصول ہو، اور دنیاوی مال ودولت، فخر ومباہات، القاب کا حصول یا دکھاوا اور شہرت کا ارادہ کرنے سے بچے؛ کیوں کہ یہ عمل کے باطل ہونے اور قبول نہ ہونے کا سبب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آپ کہہ دیجئے کہ میں تو تم جیسا ہی ایک انسان ہوں۔ (ہاں) میری جانب وحی کی جاتی ہے کہ سب کا معبود صرف ایک ہی معبود ہے، تو جسے بھی اپنے پروردگار سے ملنے کی آرزو ہو اسے چاہئے کہ نیک اعمال کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے۔ [الكهف: 110] اور حدیث قدسی میں ہے: ”میں تمام شریکوں کے مابین شرک سے سب سے زیادہ بے نیاز ہوں، جس نے کوئى عمل کیا اور اس میں میرے ساتھ کسى اور کو شریک کرلیا تو میں اس کو اور اس کے شرک کو چھوڑ دیتا ہوں۔“ [1] [1] صحیح مسلم: 2985۔
3. حاجی اور معتمر پر لازم ہے کہ وہ سفر سے پہلے حج وعمرہ اور سفر کے احکام کی فقہ وبصیرت حاصل کرے تاکہ کوئی واجب ترک نہ ہو یا کسی حرام میں مبتلا نہ ہو، جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے"۔ [2] [2] صحیح بخاری: 3116، صحیح مسلم : 100۔
4. حاجی یا معتمر کو چاہیے کہ وہ حج وعمرہ کے لیے حلال مال کا انتخاب کرے، کیونکہ اللہ پاک ہے اور پاکیزہ چیز ہی قبول کرتا ہے؛ اور حرام مال دعا کی عدم قبولیت کا سبب ہے۔
5. تمام گناہوں اور معاصی سے توبہ کرے، اور اگر لوگوں کے حقوق اس کے ذمہ ہوں تو انہیں واپس کرے اور ان سے معافی تلافی کر لے، چاہے وہ عزت و آبرو ہو یا مال ودولت، یا کچھ اور۔
6. مسافر کے لئے مستحب ہے کہ وہ اپنی وصیت لکھے، اور اس کا یا اس کے ذمہ جو کچھ ہو سب کو لکھ رکھے؛ نبی ﷺ نے فرمایا: "کسی مسلمان مرد کے لیے، جس کے پاس وصیت کے قابل کوئی چیز ہو، یہ جائز نہیں ہے کہ وہ دو راتیں بھی اس حالت میں گزارے کہ اس کے پاس وصیت لکھی ہوئی نہ ہو"۔ [3] نیز اس پر گواہ بنا ئے، اس کے ذمہ جتنے قرض ہوں ان کو ادا کرے، امانتیں ان کے مالکوں کو واپس کرے یا ان سے اجازت لے کر اپنے پاس رکھے۔ [3] صحیح بخاری: 2738، صحیح مسلم: 1627۔
7. مسافر کے لیے مستحب ہے کہ وہ نیک ساتھی کا انتخاب کرنے کی کوشش کرے اور اس بات کا خیال رکھے کہ وہ علم کے طلبہ میں سے ہو؛ کیونکہ یہ اس کی کامیابی کے اسباب میں سے ہے اور اس کے سفر، حج اور عمرہ میں غلطیوں سے بچنے کا ذریعہ ہے؛ کیوں کہ نبی ﷺ کا فرمان ہے: ”آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، چنانچہ تم میں سے ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ کس سے دوستی کررہا ہے۔“ [4] نیز اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے: ”مومن کے سوا کسی کو ساتھی نہ بناؤ، اور تمہارا کھانا سوائے پرہیزگار کے کوئی اور نہ کھائے۔“ [5] [4] سنن ابو داود : 4833۔ [5] سنن ابوداود : 4832، ترمذی : 2395۔
8. مسافر کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنے گھر والوں، رشتہ داروں، پڑوسیوں اور دوستوں کو الوداع کہے، نبی ﷺ نے فرمایا: جو شخص سفر کا ارادہ کرے تو وہ اپنے پیچھے رہ جانے والوں سے کہے: «أَسْتَوْدِعُكُمُ اللَّهَ الَّذِي لَا يُضِيعُ وَدَائِعَهُ» یعنی (میں تمہیں اس اللہ کے سپرد کرتا ہوں جس کو سپرد کی ہوئی چیزیں ضائع نہیں ہوتیں)۔ [6] نبی ﷺ سفر کے موقع پر اپنے صحابہ کو رخصت فرماتے اور کہتے: ”میں تمھارا دین، تمھاری امانت اور تمھارا آخری عمل اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔“ [7] اور نبی ﷺ ان مسافروں سے فرماتے جو آپ سے وصیت طلب کرتے: ”اللہ تمھیں تقویٰ کا زادِ راہ عطا فرمائے، تمھارے گناہ بخش دے اور تم جہاں بھی رہو تمھارے لیے بھلائی آسان کردے ۔“ [8] ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سفر کا ارادہ رکھتے ہوئے کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی نصیحت فرما دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "میں تمہیں اللہ کا تقوی اختیار کرنے اور ہر بلند جگہ پر اللہ اکبر کہنے کی وصیت کرتا ہوں۔" جب وہ چلا گیا تو آپ ﷺ نے دعا فرمائی: "اے اللہ! اس کے لیے زمین کو سمیٹ دے اور اس کے لیے سفر آسان کردے۔" [9] [6] الطبرانی: 823۔ [7] مسند احمد: 4524۔ [8] جامع ترمذی: 3444۔ [9] مسند احمد: 9724۔
9. سفر میں اپنے ساتھ گھنٹی، بانسریاں اور کتا نہ لے جائے؛ کیونکہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اس قافلے کے ساتھ فرشتے نہیں ہوتے جس میں کتا اور گھنٹی ہو"۔ [10] [10] صحیح مسلم: 2113۔
10. جب نبی ﷺ اپنی بیویوں میں سے کسی ایک کے ساتھ سفر کا ارادہ فرماتے اور ان کی تعداد ایک سے زیادہ ہوتی تو ان کے درمیان قرعہ ڈالتے اور جس بیوی کے نام قرعہ نکلتا اسے اپنے ساتھ لے جاتے؛ جیسا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا: "جب رسول اللہ ﷺ سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے اور جس کا نام نکل آتا اسے اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔" [11] [11] صحیح بخاری: 2593، صحیح مسلم: 2770۔
11. مستحب ہے کہ اگر ممکن ہو تو جمعرات کے دن صبح کے وقت سفر کے لیے نکلے؛ کیونکہ نبیٔ اکرم ﷺ نے ایسا کیا۔ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کم ہی ایسا ہوتا تھا کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر کے لیے نکلتے تو جمعرات کے علاوہ کسی اور دن میں نکلتے۔“ [12] [12] صحیح بخاری ۔: 2949۔
12. سفر یا دیگر مواقع پر گھر سے نکلتے وقت دعا پڑھنا مستحب ہے، چنانچہ نکلتے وقت کہے: "اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں، میں نے اللہ پر بھروسا کیا، اور اللہ کی مدد کے بغیر نہ کسی برائی سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ کوئی نیکی کرنے کی قوت۔ اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں خود گمراہ ہو جاؤں یا مجھے گمراہ کیا جائے، یا میں پھسل جاؤں یا مجھے پھسلایا جائے، یا میں کسی پر ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے، یا میں جاہلوں والا برتاؤ کروں یا میرے ساتھ جاہلوں والا برتاؤ کیا جائے"۔ [13] [13] سنن ابو داود: 5094۔
13. جب وہ اپنی اونٹنی یا ہوائی جہاز یا کسی اور سواری پر سوار ہو تو مستحب ہے کہ سفر کی دعا پڑھے، اور کہے: ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، پھر کہے: (پاک ہے وہ ذات جس نے اسے ہمارے تابع کر دیا ورنہ ہم اسے قابو میں کرلینے والے نہیں تھے۔ اور یقینا ہم اپنے رب ہی کی طرف واپس جانے والے ہیں) [الزخرف: 14]۔ اے اللہ! ہم تجھ سے اپنے اس سفر میں نیکی، تقوی اور ایسے عمل کا سوال کرتے ہیں جسے تو پسند کرتا ہے۔ اے اللہ! ہم پر ہمارا یہ سفر آسان کردے اور اس کی مسافت ہم سے لپیٹ دے۔ اے اللہ! اس سفر میں تو ہی (ہمارا) ساتھی ہے اور گھر والوں میں (تو ہی ہمارا) جانشین ہے۔ اے اللہ! میں سفر کی مشقت [14]، (اس کے) تکلیف دہ منظر [15] اور مال اور گھر والوں میں بری تبدیلی [16] سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔“ [17] [14] وعثاء السفر: یعنی سفر کی شدت۔ الإفصاح عن معاني الصحاح (4/ 284). [15] بری حالت اور غم سے ٹوٹا ہوا حال۔ الإفصاح عن معاني الصحاح (4/ 284)۔ [16] المنقلب: یعنی ’واپسی‘۔ الإفصاح عن معانی الصحاح (4/ 284). [17] مسند احمد : 6374۔
14. مستحب ہے کہ وہ بغیر ساتھی کے تنہا سفر نہ کرے؛ کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”اگر لوگوں کو تنہا سفر کرنے کا وہ نقصان معلوم ہو جائے جس کا مجھے علم ہے تو کوئی سوار رات کو اکیلا سفر نہ کرے۔“ [18] [18] صحیح بخاری: 2998۔
15. مسافرین اپنے میں سے ایک کو امیر بنائیں تاکہ وہ ان کے اتحاد کا باعث بنے، ان کے اتفاق کو بڑھائے، اور ان کے مقصد کے حصول میں مضبوطی فراہم کرے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جب تین آدمی سفر پر نکلیں تو انھیں چاہیے کہ وہ ان میں سے ایک کو امیر بنا لیں۔" [19] [19] سنن ابو داود : 2608۔
16. اسے چاہیے کہ اللہ کی طرف سے فرض کی گئی عبادات کو انجام دے اور حرام چیزوں سے بچے، اعلیٰ اخلاق اپنائے، محتاجوں کی مدد کرے، علم کے طلبگاروں اور ضرورت مندوں کو علم عطا کرے، اپنے مال میں سخاوت کرے، اسے اپنی اور اپنے بھائیوں کی ضروریات اور مفادات میں خرچ کرے۔
17. اسے چاہیے کہ وہ سفر میں خرچ کے لیے پیسے اور ضروریات زیادہ سے زیادہ لے لے، کیونکہ ممکن ہے کہ ضرورت پیش آجائے اور حالات مختلف ہو جائیں۔
18. پورے سفر میں اسے خوش اخلاق، خوش مزاج اور اپنے ساتھیوں کو خوشی پہنچانے کا حریص ہونا چاہیے تاکہ وہ مانوس اور محبوب بن سکے۔
19. اسے چاہیے کہ اپنے ساتھیوں کی طرف سے جو سختی اور اختلاف رائے کا سامنا ہو، اس پر صبر کرے اور ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے، تاکہ وہ ان کے درمیان محترم اور ان کے دلوں میں معظم بن سکے۔
20. مستحب ہے کہ جب مسافر کسی منزل پر اتریں تو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہیں، کیونکہ ایک دفعہ نبی کریم ﷺ کے بعض صحابہ جب کسی منزل پر اترے تو مختلف گھاٹیوں اور وادیوں میں بکھر گئے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "بے شک تمہارا ان گھاٹیوں اور وادیوں میں بکھر جانا شیطان کی طرف سے ہے"۔ [20] آپ کی بات سن کر وہ ایک دوسرے سے اتنے قریب ہوگئے کہ اگر ان پر ایک کپڑا اڑھا دیا جاتا تو ان سب کو ڈھانپ لیتا۔ [20] مسند احمد : 17736۔
21. مستحب ہے کہ جب دورانِ سفر یا سفر کے بغیر کسی جگہ ٹھہرے تو وہ دعا کرے جو رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے: ”میں اللہ کے مکمل کلمات کی پناہ میں آتا ہوں، اس کی مخلوق کے شر سے۔“ [21] اگر وہ یہ دعا پڑھ لے تو وہاں سے روانہ ہونے تک اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکے گی۔ [21] صحیح مسلم : 2708۔
22. مستحب یہ ہے کہ جب بلندی پر چڑھے تو تکبیر کہے اور جب نشیب یا وادی میں اترے تو تسبیح پڑھے، جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: "جب ہم بلندی پر چڑھتے تو تکبیر (اللہ اکبر) کہتے اور جب نیچے اترتے تو تسبیح (سبحان اللہ) پڑھتے"۔ [22] تکبیر میں اپنی آوازیں بلند نہ کریں، آپ ﷺ نے فرمایا: "اے لوگو! اپنی جانوں پر رحم کھاؤ، کیونکہ تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے ہو۔ بے شک وہ تمہارے ساتھ ہے، بے شک وہ بہت سننے والا اور بہت قریب ہے"۔ [23] [22] صحیح بخاری : 2994۔ [23] صحیح بخاری : 2993۔
23. مستحب ہے کہ وہ سفر کے دوران رات کو خصوصاً ابتدائی حصے میں سفر طے کرے؛ کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”رات کو سفر کیا کرو کیونکہ رات کے وقت زمین لپیٹ دی جاتی ہے۔“ [24] [24] سنن ابو داود: 2571۔
24. سفر کے دوران کثرت سے دعائیں کرنا مستحب ہے؛ کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا: "تین دعائیں قبول کی جاتی ہیں، ان کی قبولیت میں کوئی شک نہیں: مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا، اور والد کی اپنے بچے کے خلاف دعا"۔ [25] [25] مسند احمد : 10771۔
***
دوم: سفر میں طہارت
مسافر پر لازم ہے کہ اپنی طہارت کا خیال رکھے، چنانچہ حدث اصغر سے وضو کرے، اور جنابت سے غسل کرے۔
اگر پانی نہ ملے، یا اس کے پاس تھوڑا ہی پانی ہو جو کھانے پینے کے لیے درکار ہو، تو مٹی سے تیمم کرے۔
تیمم کا طریقہ: دونوں ہاتھوں کو زمین پر مارے اور ان سے اپنے چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کا مسح کرے۔
تیمم کی طہارت عارضی طہارت ہے، چنانچہ جب پانی مل جائے تو تیمم باطل ہو جاتا ہے اور پانی کا استعمال واجب ہو جاتا ہے۔ اگر کسی نے جنابت کی حالت میں تیمم کیا اور پھر پانی مل گیا تو اس پر غسل واجب ہے، اور اگر کسی نے قضائے حاجت کے بعد تیمم کیا اور پھر پانی مل گیا تو اس پر وضو واجب ہے۔ حدیث میں آیا ہے: ”پاک مٹی مسلمان کے لیے وضو (کے پانی کے حکم میں) ہے، گرچہ وہ دس سال تک پانی نہ پائے، پھر جب وہ پانی پا لے تو وہ اللہ سے ڈرے اور اسے اپنی کھال (یعنی جسم) پر بہائے“۔ [19] [26] مسند البزار: 10068۔
موزوں پر مسح قرآن، حدیث اور اہل سنت کے اجماع سے ثابت ہے۔
موزوں اور ان کی مانند چیزوں پر مسح کے لیے کچھ شرائط ہیں:
1- موزے یا جرابیں مباح اور پاک ہوں۔
2- ان کو طہارت کی حالت میں پہنا جائے۔
3- دونوں اس جگہ کو ڈھانپنے والے ہوں جو جگہ وضو کے لیے فرض ہے۔
4. مسح صرف چھوٹی نجاست کے لیے ہو، جنابت یا کسی ایسی حالت میں جس میں غسل واجب ہو، مسح جائز نہیں۔
5. مسح شرعی طور پر متعین وقت میں کیا جائے جو کہ مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات ہے، اور مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں ہیں، صحیح قول کے مطابق یہ مدت پہلی بار مسح کرنے کے بعد شروع ہوتی ہے اور مقیم کے لیے چوبیس گھنٹے اور مسافر کے لیے بہتر گھنٹے پر ختم ہوتی ہے۔
تین باتوں میں سے کسی ایک سے ان پر مسح باطل ہو جاتا ہے:
1. جب کوئی ایسی چیز پیش آئے جو غسل کو واجب کرتی ہے جیسے جنابت، تو مسح باطل ہو جاتا ہے اور غسل کرنا ضروری ہے۔
2. اگر مسح کرنے کے بعد ان کو اتار دے۔
3. جب شرعی طور پر معتبر مدت گزر جائے تو مسح باطل ہو جاتا ہے۔
***
سوم : سفر میں نماز قصر کرنے کے احکام:
سفر میں قصر کرنا پوری نماز پڑھنے سے افضل ہے؛ لیکن اگر مسافر چار رکعت والی نماز کو پوری چار رکعت پڑھ لے تو اس کی نماز صحیح ہے، تاہم اس نے افضل کے خلاف کیا۔
مسافر جب اپنے گاؤں یا شہر کے تمام گھروں سے باہر نکل جائے تو قصر کرے گا، اور یہی جمہور اہل علم کا مذہب ہے۔
جب نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد سفر کرے تو اس کے لیے قصر کرنا جائز ہے؛ کیونکہ اس نے نماز کا وقت ختم ہونے سے پہلے سفر کیا۔
رہا ظہر اور عصر یا مغرب اور عشاء کو جمع کر کے پڑھنا تو یہ بوقت ضرورت مسافر کے لیے سنت ہے، اگر سفر جاری وساری ہو تو جمع تقدیم یا تاخیر میں سے جو اس کے لیے زیادہ آسان ہو، وہی کرے۔
اگر مسافر کو جمع کرنے کی ضرورت نہ ہو تو جمع نہ کرے، جیسے کہ وہ کسی مقام پر ٹھہرا ہوا ہو اور وہاں سے دوسری نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد ہی روانہ ہونے کا ارادہ ہو، تو بہتر یہی ہے کہ جمع نہ کرے؛ کیونکہ اسے اس کی ضرورت نہیں ہے، اسی لیے نبی ﷺ نے حجۃ الوداع کے دوران منیٰ میں قیام کے وقت جمع نہیں کیا تھیا؛ کیونکہ اس کی ضرورت نہیں تھی۔
جہاں تک نفل نمازوں کا تعلق ہے، تو مسافر وہی نفل نمازیں پڑھ سکتا ہے جو مقیم پڑھتا ہے، چنانچہ وہ نمازِ اشراق، قیام اللیل، وتر اور دیگر نوافل ادا کر سکتا ہے، سوائے ظہر، مغرب اور عشاء کی سنت مؤکدہ کے، کیونکہ سنت یہ ہے کہ انہیں نہ پڑھے۔
سفر کے دوران سواری پر نفل نماز پڑھنا جائز ہے، چاہے وہ ہوائی جہاز ہو، گاڑی ہو، یا کشتی وغیرہ ہو، جبکہ فرض نماز کے لیے اترنا ضروری ہے، سوائے معذوری کی حالت کے۔
مسافر کی نماز مقیم کے پیچھے صحیح ہے، مسافر اپنے امام کی طرح پوری نماز پڑھے گا، چاہے اس نے پوری نماز پائی ہو، یا ایک رکعت، یا اس سے کم، حتیٰ کہ اگر وہ امام کے ساتھ آخری تشہد میں سلام سے پہلے شامل ہو تو بھی وہ پوری نماز پڑھے گا، یہی اہل علم کے اقوال میں سے صحیح قول ہے۔
***
چہارم: حج اور عمرہ یا سفر سے واپسی کے آداب
اسے چاہیے کہ وہ جلدی واپسی کرے اور بلا ضرورت سفر میں زیادہ دیر نہ ٹھہرے؛ کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا: "سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، جو تمھارے مسافر کو اس کے کھانے، پینے اور سونے سے روک دیتا ہے، لہذا جب تم میں سے کوئی اپنی غرض پوری کر لے تو اسے چاہیے کہ اپنے گھر لوٹنے میں جلدی کرے"۔ [27] [27] صحیح بخاری: 1804، صحیح مسلم : 1927۔
جب وہ اپنے وطن واپس جانے کا ارادہ کرے تو اپنی سواری پر سوار ہوتے وقت سفر کی دعا پڑھے اور اس میں یہ اضافہ کرے: ”(ہم) واپس لوٹنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں، اور اپنے رب ہی کی تعریف کرنے والے ہیں۔“ [28] [28] صحیح بخاری: 1797، صحیح مسلم : 1342۔
واپسی کے وقت مستحب ہے کہ وہ وہی کہے جو نبی ﷺ سے ثابت ہے کہ جب آپ ﷺ کسی غزوہ، حج یا عمرہ سے واپس ہوتے تو زمین کی ہر اونچی جگہ پر تین مرتبہ تکبیر کہتے اور فرماتے: ”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور سب تعریف اسی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔ ہم واپس لوٹنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں، سجدہ کرنے والے ہیں، اور اپنے رب ہی کی تعریف کرنے والے ہیں، اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اور اپنے بندے کی مدد فرمائی اور اس اکیلے نے تمام (مخالف) گروہوں کو شکست دے دی۔“ [29] [29] صحیح بخاری: 4116۔
جب وہ اپنے شہر کو دیکھے تو یہ دعا پڑھنا مستحب ہے: ”(ہم) واپس لوٹنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں، اور اپنے رب ہی کی تعریف کرنے والے ہیں۔“ [30] یہ عمل اس وقت تک دہراتا رہے جب تک کہ اپنے شہر میں داخل نہ ہو جائے؛ جیسا کہ آپ ﷺ کا عمل تھا۔ [30] صحیح بخاری: 1797، صحیح مسلم: 1342۔
جب کوئی بلا ضرورت زیادہ دنوں تک اپنے اہل خانہ سے دور ہو جائے تو وہ اچانک رات کے وقت اپنے گھر والوں کے پاس نہ آئے، سوائے اس کے کہ وہ انہیں اس بارے میں اطلاع دے اور اپنے رات کے وقت آنے کی خبر دے؛ کیونکہ نبی ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ آدمی اپنے گھر والوں کے پاس رات کو آئے۔“ [31] اس کی حکمت کو دوسری روایت نے یوں بیان کیا ہے: ”تا کہ پراگندہ بالوں والی کنگھی کرے [32]، اور (جس عورت کا شوہر) غائب ہو وہ استرا استعمال کرے۔“ [33]، ایک دوسری روایت میں ہے: ”رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ آدمی رات کو اپنے گھر والوں کے پاس آئے، ان پر شک کرے یا ان کی لغزشوں کی تلاش کرے۔“ [34] [31] صحیح مسلم : 715۔ [32] الشعثة: وہ عورت جس کے بالوں میں تیل اور کنگھی کیے ہوئے وقت گزر چکا ہو، الاستحداد: لوہے کا استعمال، المغيبة: وہ عورت جس کا شوہر غائب ہو۔ التحرير في شرح صحيح مسلم - الأصبهاني (ص292)۔ [33] سنن نسائی : 9099۔ [34] صحیح مسلم : 715۔
سفر سے آنے والے کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنے قریب کی مسجد سے آغاز کرے اور وہاں دو رکعت نماز ادا کرے، کیونکہ نبی کریم ﷺ کا یہی عمل تھا۔
مسافر کے لیے مستحب ہے کہ جب وہ سفر سے واپس آئے تو اپنے گھر کے بچوں اور پڑوسیوں کے ساتھ نرمی سے پیش آئے اور جب وہ اس کا استقبال کریں تو ان کے ساتھ حسن سلوک کرے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ مکہ مکرمہ تشریف لائے تو بنی عبد المطلب کے بچے آپ کا استقبال کرنے آئے، تو آپ ﷺ نے ایک بچے کو اپنے آگے اور دوسرے کو پیچھے بٹھا لیا۔ عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما نے کہا: "نبی ﷺ جب سفر سے واپس آتے تو ہم سے ملاقات ہوئی، فرمایا: مجھ سے اور حسن یا حسین سے ملاقات ہوئی، تو آپ ﷺ نے ہم میں سے ایک کو اپنے آگے اور دوسرے کو پیچھے بٹھا لیا یہاں تک کہ ہم مدینہ میں داخل ہو گئے"۔ [35] [35] صحیح مسلم : 2428۔
تحفہ دینا مستحب ہے، کیونکہ اس سے دلوں کو خوشی ملتی ہے اور کدورت دور ہوتی ہے، اسے قبول کرنا اور اس کا بدلہ دینا بھی مستحب ہے، اور بغیر کسی شرعی عذر کے اسے رد کرنا مکروہ ہے؛ اسی لئے نبی ﷺ نے فرمایا: "ایک دوسرے سے محبت کرنے کے لیے تحائف کا لین دین کریں۔" [36] ہدیہ مسلمانوں کے درمیان آپسی محبت کے اسباب میں سے ایک سبب ہے۔ [36] اسے بیہقی نے السنن الکبرى میں روایت کیا ہے: 11946۔
جب مسافر اپنا وطن واپس آتا ہے تو گلہ گیر ہونا اور معانقہ کرنا مستحب ہے؛ یہ نبی ﷺ کے صحابہ سے ثابت ہے، جیسا کہ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: "جب وہ آپس میں ملتے تو مصافحہ کرتے، اور جب سفر سے واپس آتے تو گلے ملتے"۔ [37] [37] اسے طبرانی نےالاوسط میں روایت کیا ہے : 97۔
درود وسلام ہو ہمارے نبی محمد ﷺ پر۔