المنهج لمريد العمرة والحج

المنهج لمريد العمرة والحج

كتيب يحتوي على دليل مفصل حول مناسك الحج والعمرة، يشرح بدقة الخطوات والآداب الواجب اتباعها خلال تأدية هذه الشعائر. يبدأ بالتأكيد على أهمية الحج في الإسلام كونه أحد أركان الإسلام الخمسة. ويشدد على ضرورة الإخلاص في النية واتباع سنة النبي محمد صلى الله عليه وسلم في جميع الأفعال والأقوال أثناء تأدية هذه الشعيرة المباركة.

Language: lang_ur
Prepared by: محمد بن صالح العثیمین
Version: 2.0
Translations 14
Bengali English Spanish Persian +10
Attachments 7
PDF
Audio
Video
+3

حج و عمرہ کے عازمین کے لیے مکمل رہنمائی

تالیف: فضیلۃ الشیخ علّامہ

محمد بن صالح العثیمین

اللہ تعالی ان کی، ان کے والدین اور تمام مسلمانوں کی مغفرت فرمائے

مقدِّمہ

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی حمد کرتے ہیں، اسی سے مدد چاہتے ہیں، اسی سے بخشش مانگتے ہیں اور اسی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، اور ہم اپنے نفوس کی برائیوں اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ جس کو اللہ ہدایت دے دے اس کو کوئی گمراہ نہیں کرسکتا اور جس کو گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل اور اصحاب پر اور قیامت کے دن تک احسان کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والے پر درود وسلام نازل فرمائے۔ امّا بعد :

بے شک حج افضل ترین عبادات اور عظیم ترین فرمانبرداریوں میں سے ہے؛ کیونکہ یہ اسلام کے ان ارکان میں سے ہے جن کے ساتھ اللہ نے محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا اور جن کے بغیر بندۂ مومن کا دین مکمل نہیں ہوتا۔

عبادت اس وقت تک قُربِ الٰہی کا ذریعہ نہیں بنتی اور قبولیت سے سرفراز نہیں ہوتی جب تک کہ اس میں دو شرطیں نہ پائی جائیں:

1: اخلاص: صرف اللہ عز وجل کے لیے عبادت کو خالص کرنا، وہ اس طرح کہ عبادت سے مقصود اللہ تعالی کی رضامندی اور دارِ آخرت ہو۔ عبادت کر کے اس سے ریا کاری اور دکھلاوا مقصود نہ ہو۔

2 : قولی اور عملی طور پر عبادت میں نبی کریم ﷺ کی پیروی کی جائے۔ نبی ﷺ کی اتباع اُسی وقت ممکن ہے جب آپ کی سنت کی معرفت ہو؛ اس لیے جو شخص واقعی اتباعِ نبوی کا خواہاں ہے، اُس پر لازم ہے کہ وہ نبی ﷺ کی سنت کو سیکھے۔ بایں طور کہ اُسے اہلِ علم سے حاصل کرے، چاہے وہ کتابوں کے ذریعے ہو یا براہِ راست۔ اہلِ علم پر لازم ہے، جو نبی ﷺ کے وارث ہیں اور آپ کے بعد امت میں آپ کے جانشنیں ہیں، کہ وہ اپنی عبادات، اخلاق، اور معاملات کو اپنے نبی ﷺ کی سنت کے مطابق ڈھالیں، اُسے امت تک پہنچائیں، اور اُنہیں اس کی طرف بلائیں، تاکہ نبی ﷺ کا ورثہ (علم، عمل، دعوت، اور تبلیغ) اُن کے حصے میں آئے، اور وہ اُن خوش نصیبوں میں شامل ہو جائیں جو ایمان لائے، نیک عمل کیے، حق کی وصیت اور صبر کی تلقین کی۔

یہ حج اور عمرہ کے مناسک کا خلاصہ ہے، جسے میں نے کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کے نصوص کی روشنی میں ترتیب دیا ہے، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ یہ خالص اسی کے لیے ہو اور اس کے بندوں کے لیے نفع بخش ثابت ہو۔

مؤلف

* * *

سفر کے آداب

حج یا دیگر عبادات کے لیے نکلنے والے کو چاہیے کہ وہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی نیت پیش نظر رکھے، تاکہ اُس کے تمام اقوال، افعال اور اخراجات اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ بن جائیں۔ کیوں کہ: ’’اعمال (کی قبولیت) کا دار و مدار نیتوں پر ہے اور ہر آدمی کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔‘‘ [1] [1] صحیح بخاری : كتاب بدء الوحي، باب كيف كان بدء الوحي إلى رسول الله ﷺ، حدیث نمبر: 1، صحیح مسلم: كتاب الإمارة، باب قوله ﷺ: «إنما الأعمال بالنية» وأنه يدخل فيه الغزو وغيره من الأعمال، حدیث نمبر: 1907، حدیث کے راوی عمر بن خطاب رضي الله عنہ ہیں۔

اسے چاہیے کہ وہ اعلیٰ اخلاق اپنائے، جیسے: سخاوت، فراخدلی، شجاعت، نیز اپنے ساتھیوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آئے اور ان کی مالی و جسمانی مدد کرے، اور ان کو خوشی پہنچائے، اس کے علاوہ اللہ کی طرف سے فرض کی گئی عبادات کو انجام دے اور حرام چیزوں سے بچے۔

اسے چاہیے کہ وہ سفر میں خرچ کے لیے پیسے اور ضروری سامان زیادہ سے زیادہ لے لے، اور زادِ راہ بھی ضرورت سے زیادہ ساتھ رکھے؛ تاکہ دورانِ سفر پیش آنے والی غیر متوقع ضروریات کے لیے احتیاطی سامان موجود ہو۔

اسے چاہیے کہ وہ اپنے سفر کے وقت اور دورانِ سفر نبی ﷺ سے جو دعائیں ثابت ہیں انھیں پڑھے، مثال کے طور پر:

1- اپنی سواری پر پاؤں رکھتے وقت ’’بِسْمِ اللَّهِ‘‘ کہے۔ اور جب سواری پر اچھی طرح بیٹھ جائے تو اللہ کی نعمتوں کو یاد کرے جو اس نے مختلف سواریوں کی صورت میں اپنے بندوں کے لیے آسان کی ہیں، پھر یہ دعا پڑھے: ’’اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے (پاک ہے وہ ذات جس نے اسے (سواری کو) ہمارے تابع کر دیا ورنہ ہم اسے قابو میں کرلینے والے نہیں تھے۔ اور یقینا ہم اپنے رب ہی کی طرف واپس جانے والے ہیں)۔ اے اللہ! ہم تجھ سے اپنے اس سفر میں نیکی، تقوی اور ایسے عمل کا سوال کرتے ہیں جسے تو پسند کرتا ہے۔ اے اللہ! ہم پر ہمارا یہ سفر آسان کردے اور اس کی لمبی مسافت ہم سے لپیٹ دے۔ اے اللہ! اس سفر میں تو ہی (ہمارا) ساتھی ہے اور گھر والوں میں (تو ہی ہمارا) جانشین ہے۔ اے اللہ! میں سفر کی مشقت، (اس کے) تکلیف دہ منظر اور مال اور گھر والوں میں بری تبدیلی سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘ [2] [2] صحیح مسلم: کتاب الحج، باب ما يقول إذا ركب إلى سفر الحج وغيره، حدیث نمبر: 1342۔ یہ حدیث ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔

2- جب بھی کسی اونچی جگہ پر چڑھے تو ’’اللہ اکبر‘‘ کہے، اور کسی نشیبی جگہ میں اترے تو ’’سبحان اللہ‘‘ کہے۔ [3] [3] صحیح بخاری: کتاب الجهاد والسي، باب التسبيح إذا هبط واديًا، حدیث نمبر (2993)۔ یہ حدیث حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

3- جب کسی جگہ پڑاؤ ڈالے تو یہ دعا پڑھے: ’’میں اللہ کے مکمل کلمات کی پناہ میں آتا ہوں، اس کی مخلوق کے شر سے۔‘‘ [4] جو شخص یہ دعا پڑھ لے تو جہاں اس نے یہ دعا پڑھی‘ وہاں سے اس کے روانہ ہونے تک اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکے گی۔ [4] صحیح مسلم : کتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار، باب في التعوذ من سوء القضاء ودرك الشقاء وغيره، حدیث نمبر: 2708، یہ حدیث خولة بنت حكيم رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔

* * *

عورت کا سفر

کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ حج یا کسی اور سفر پر محرم کے بغیر جائے؛ چاہے سفر طویل ہو یا مختصر، چاہے اس کے ساتھ دیگر خواتین ہوں یا نہ ہوں، اور چاہے وہ جوان ہو یا بوڑھی، کیونکہ نبی ﷺ کا عمومی فرمان ہے: ”عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔“ [5] [5] صحیح بخاری: کتاب جزاء الصید، باب حج النساء، حدیث نمبر: 1862، صحیح مسلم: کتاب الحج، باب سفر المرأة مع محرم إلى حج وغيره، حدیث نمبر: 1341، یہ حدیث حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما مروی ہے۔

عورت کو بغیر محرم کے سفر سے روکنے کی حکمت یہ ہے کہ عورت اپنی عقل وفکر اور اپنے دفاع کے معاملے میں کمزور ہوتی ہے، وہ مردوں کا مطمحِ نظر ہوتی ہے اور بسا اوقات فریب اور زور زبردستی کا شکار ہو سکتی ہے، یا دین میں کمزور ہو، تو اپنی خواہشات کے پیچھے بھٹک سکتی ہے، اورلالچ رکھنے والے اس میں لالچ رکھ سکتے ہیں۔ اسی لیے شریعت نے محرم کی موجودگی کو شرط بنایا ہے، کیونکہ محرم اس کی حفاظت کرتا ہے، اس کی عزت کی نگہبانی کرتا ہے، اور ضرورت پڑنے پر اس کا دفاع کرتا ہے۔ اسی لیے شرط ہے کہ محرم بالغ اور عاقل ہو؛ چنانچہ نا بالغ یا نا عاقل بچہ بطور محرم کے کافی نہیں ہے۔

محرم سے مراد عورت کا خاوند اور ہر وہ مرد ہے جس پر وہ خاتون قرابت، رضاعت یا مصاہرت کی بنا پر ہمیشہ ہمیش کے لیے حرام ہے۔ قرابت کی بنا پر محارم سات ہیں:

1- والدین اور اُن کے تمام اُوپر کے رشتہ دار، چاہے وہ ماں کی طرف سے ہوں یا باپ کی طرف سے (یعنی نانا، دادا، اور اُن سے اوپر کے تمام اجداد)، سب شامل ہیں۔

2- بیٹے اور پوتے اور نواسے، چاہے وہ کتنے ہی نیچے ہوں۔

3- بھائی، خواہ سگا ہو یا باپ کی جانب سے ہو یا ماں کی جانب سے۔

4- بھائیوں کے بیٹے، چاہے وہ سگے بھائیوں کے بیٹے ہوں، یا باپ کی طرف سے بھائیوں کے بیٹے ہوں، یا ماں کی طرف سے بھائیوں کے بیٹے ہوں۔

5- بہنوں کے بیٹے، چاہے وہ سگی بہنوں کے بیٹے ہوں، یا باپ کی طرف سے، یا ماں کی طرف سے۔

6- چچا، چاہے وہ سگے چچا ہوں، یا والد کی طرف سے، یا والدہ کی طرف سے۔

7- ماموں، چاہے وہ سگے ماموں ہوں، یا والد کی طرف سے، یا والدہ کی طرف سے۔

رضاعی محرم نسبی محرم کی طرح ہیں، کیوںکہ نبی ﷺ کا فرمان ہے: ”رضاعت کی وجہ سے بھی وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔“ [6] [6] صحیح بخاری، کتاب الشهادات، باب الشهادة على الأنساب، حدیث نمبر (2645)، اور صحیح مسلم، کتاب الرضاع، باب تحريم ابنة الأخ من الرضاعة، حدیث نمبر (1447)۔ یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔

سسرالی محارم:

1- عورت کے شوہر کے بیٹے، اور ان کے پوتے اور نواسے، چاہے یہ سلسلہ کتنا ہی نیچے تک کیوں نہ ہو، خواہ وہ اس کی پہلی بیوی سے ہوں یا اس کے ساتھ یا اس کے بعد کی بیوی سے۔

2- عورت کے شوہر کے والدین اور دادا، چاہے وہ کتنے ہی اوپر چلے جائیں، چاہے وہ اس کے والد کی طرف سے ہوں یا اس کی والدہ کی طرف سے۔

3- بیٹیوں کے شوہر، بیٹوں کی بیٹیوں کے شوہر، اور بیٹیوں کی بیٹیوں کے شوہر چاہے یہ سلسلہ جتنا بھی نیچے تک چلا جائے۔

اور ان تینوں میں محرمیت صرف عقد سے ہی ثابت ہو جاتی ہے، چاہے وہ موت، طلاق یا فسخ کے ذریعے جدائی ہی کیوں نہ ہوجائے، تب بھی ان کے لیے محرمیت باقی رہتی ہے۔

4- ماؤں کے شوہر، اور دادیوں کے شوہر، خواہ اوپر تک چلے جائیں، لیکن یہ شوہر اپنی بیویوں کی بیٹیوں، یا بیویوں کے بیٹوں کی بیٹیوں، یا بیویوں کی بیٹیوں کی بیٹیوں کے لیے محرم نہیں بنتے جب تک کہ وہ اپنی بیویوں سے ازدواجی تعلق قائم نہ کر لیں۔ جب ازدواجی تعلق قائم ہو جائے تو شوہر اپنی بیوی کی پچھلے یا بعد کے شوہر سے بیٹیوں، اور ان کے بیٹوں کی بیٹیوں اور بیٹیوں کی بیٹیوں کے لیے محرم بن جاتا ہے، چاہے بعد میں طلاق ہی کیوں نہ دے دے۔ البتہ اگر کسی عورت سے نکاح کیا اور ازدواجی تعلق قائم کرنے سے پہلے طلاق دے دیا، تو وہ اس کی بیٹیوں، بیٹوں کی بیٹیوں، یا بیٹیوں کی بیٹیوں کے لیے محرم نہیں بنتا۔

* * *

مسافر کی نماز

دینِ اسلام آسانی اور سہولت کا دین ہے، اس میں نہ کوئی تنگی ہے نہ مشقت۔ جب بھی مشقت پیش آتی ہے، اللہ تعالی آسانی کے دروازے کھول دیتا ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا: ’’...اسی نے تمھیں برگزیده بنایا ہے اور تم پر دین کے بارے میں کوئی تنگی نہیں ڈالی...‘‘ [سورۃ الحج : 78] اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’دین آسان ہے۔‘‘ [7] اور اہل علم نے یہ قاعدہ وضع کیا: "مشقت آسانی لاتی ہے"۔ [7] صحیح بخاری، کتاب الإیمان، باب الدین یسر، حدیث نمبر: 39، یہ حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ سے مروی ہے۔

چونکہ سفر میں اکثر مشقت کا اندیشہ ہوتا ہے، اس لیے اس کے احکام میں تخفیف کی گئی ہے؛ اس کی چند مثالیں یہ ہیں:

1- اگر مسافر کو پانی نہ ملے، یا اس کے پاس اتنا ہی پانی ہو جو کھانے پینے کے لیے ضروری ہو، تو اُسے تیمم کرنے کی اجازت ہے۔ لیکن جب اسے غالب گمان ہو کہ وہ وقتِ مختار کے نکلنے سے پہلے پانی تک پہنچ جائے گا، تو بہتر ہے کہ وہ نماز کو مؤخر کرے تاکہ وہ پانی سے طہارت حاصل کر کے ( نماز ادا کر سکے)۔

2- مسافر کے حق میں مشروع یہ ہے کہ وہ چار رکعت والی نماز کو قصر کر کے دو رکعت پڑھے۔ یہ حکم اس وقت سے نافذ ہوتا ہے جب وہ اپنے شہر سے روانہ ہو، اور واپسی تک جاری رہتا ہے، چاہے سفر کی مدت طویل ہی کیوں نہ ہو۔ کیونکہ (صحیح بخاری) میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ثابت ہے: ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال مکہ مکرمہ میں انیس دن قیام کیا اور آپ دو رکعت نماز پڑھتے رہے۔‘‘ [8] اور نبی کریم ﷺ نے تبوک میں بیس دن قیام فرمایا اور اس دوران نماز قصر کرتے رہے۔ [9] [8] صحیح بخاری: أبواب تقصير الصلاة، باب ما جاء في التقصير وكم يقيم حتى يقصر، حدیث نمبر: 1080، حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ [9] سنن ابو داود: تفريع صلاة السفر، باب إذا أقام بأرض العدو يقصر، حدیث نمبر: 1235، حدیث حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

لیکن جب مسافر کسی چار رکعت پڑھنے والے امام کے پیچھے نماز پڑھے تو وہ امام کی پیروی میں چار رکعت ہی پڑھے گا، چاہے امام کے ساتھ نماز کے شروع سے شامل ہو یا درمیان سے، اور جب امام سلام پھیرے تو وہ اپنی چار رکعت مکمل کرے؛ کیونکہ نبی ﷺ کا فرمان ہے: ’’امام اس لیے ہوتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے چنانچہ اس کی مخالفت نہ کرو۔‘‘ [10] اس کی تائید نبی ﷺ کے اس عام فرمان سے بھی ہوتی ہے: ’’امام کے ساتھ جو نماز تم کو ملے اسے پڑھ لو اور جو فوت ہو جائے اسے پوری کر لو۔‘‘ [11] ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا: مسافر اکیلا ہو تو دو رکعت نماز کیوں پڑھتا ہے، اور مقیم کی اقتداء کرتا ہے تو چار رکعت کیوں پڑھتا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ’’یہی سنت ہے۔‘‘ [12]۔ [10] صحیح بخاری، كتاب الأذان، باب إنما جعل الإمام ليؤتم به، حدیث نمبر: 689، اور صحیح مسلم، كتاب الصلاة، باب ائتمام المأموم بالإمام، حدیث نمبر: 411، حدیث حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ [11] صحیح البخاری: كتاب الأذان، باب لا يسعى إلى الصلاة وليأت بالسكينة والوقار، حدیث نمبر: 636، صحیح مسلم: كتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب استحباب إتيان الصلاة بوقار وسكينة والنهي عن إتيانها سعياً، حدیث نمبر: 602، حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ [12] مسند امام احمد (1/ 216)

’’حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب ان کے ساتھ نماز پڑھتے تو چار رکعتیں پڑھتے اور جب اکیلے نماز پڑھتے تو دو رکعتیں پڑھتے، یعنی سفر میں۔‘‘ [13] [13] صحیح مسلم: کتاب صلاة المسافرين وقصرها، باب قصر الصلاة بمنى، حدیث نمبر: 694

3- مسافر کے لیے مشروع ہے کہ اگر ضرورت درپیش ہو تو وہ ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء کو جمع کرکے ادا کرے، جیسے: اس کا سفر جاری وساری ہو۔ اس وقت بہتر یہ ہے کہ وہ جمع تقدیم یا تاخیر میں سے جو اس کے لیے زیادہ آسان ہو، وہی کرے۔

اگر جمع کرنے کی ضرورت نہ ہو تو افضل یہی ہے کہ جمع نہ کرے، اور اگر جمع کر لے تو کوئی حرج نہیں۔ مثال کے طور پر: اگر کسی مقام پر مقیم ہو اور وہاں سے دوسری نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد ہی روانہ ہونے کا ارادہ ہو، تو ہر فرض کو اس کے وقت پر ادا کرے؛ کیونکہ ایسی صورت میں اسے جمع کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

* * *

مواقیت

’’مواقیت‘‘ سے مراد وہ مقامات ہیں جو نبی کریم ﷺ نے حج یا عمرہ کرنے والوں کے لیے احرام باندھنے کے لیے مقرر فرمائے ہیں، اور یہ مواقیت پانچ ہیں:

1 : ذو الحلیفة: جسے (ابیار علی) بھی کہا جاتا ہے، اور کچھ لوگ اسے (الحَساء) کہتے ہیں، یہ مکہ سے تقریباً دس مراحل کے فاصلے پر ہے، یہ اہل مدینہ اور ان کے علاوہ جو وہاں سے گزرتے ہیں، ان کی میقات ہے۔

2- جُحفہ: یہ ایک قدیم بستی ہے جو مکہ سے تقریباً پانچ مراحل کے فاصلے پر واقع ہے، اب ویران ہو چکی ہے، لہٰذا لوگ اس کی بجائے مقام رابغ سے احرام باندھتے ہیں، اور یہ اہلِ شام اور ان کے علاوہ وہاں سے گزرنے والوں کی میقات ہے۔

3- یلملم: جو تہامہ میں ایک پہاڑ یا مقام ہے، جو مکہ سے دو مرحلے کے فاصلے پر ہے، یہ اہلِ یمن اور اس راستے سے گزرنے والوں کی میقات ہے۔

4- قرن منازل: جسے (سَیل) بھی کہا جاتا ہے، یہ مکہ سے تقریباً دو مرحلے کے فاصلے پر ہے، اور یہ اہلِ نجد اور ان کے علاوہ جو اس راستے سے گزرتے ہیں ان کی میقات ہے۔

5- ذات عِرق : جسے (الضَّریبة) بھی کہا جاتا ہے، اس کے اور مکہ کے درمیان دو مرحلے ہیں، یہ اہلِ عراق اور ان کے علاوہ جو اس سے گزرتے ہیں ان کی میقات ہے۔

جو شخص ان میقاتوں کے بالمقابل مکہ سے زیادہ قریب ہو، تو اس کی میقات اس کی جگہ ہے؛ وہیں سے احرام باندھے، یہاں تک کہ اہلِ مکہ بھی مکہ سے احرام باندھیں، یہ اس صورت میں جب وہ حج کا احرام باندھیں، لیکن عمرہ کے لیے وہ حدود حرم سے باہر جاکر احرام باندھیں گے؛ کیونکہ نبی کریم ﷺ نے عبد الرحمن بن ابی بکر سے فرمایا: ’’اپنی بہن - یعنی عائشہ - کو حرم سے باہر لے جاؤ، تاکہ وہ عمرہ کا احرام باندھ لے۔‘‘ [14] [14] صحیح بخاری: کتاب الحج، باب قول اللہ تعالیٰ : ﴿ٱلۡحَجُّ أَشۡهُرٞ مَّعۡلُومَٰتٞۚ فَمَن فَرَضَ فِيهِنَّ ٱلۡحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي ٱلۡحَجِّ﴾ [البقرة:197]، حدیث نمبر: 1560، اور صحیح مسلم: کتاب الحج، باب بیان وجوه الإحرام، وأنه يجوز إفراد الحج والتمتع والقران، وجواز إدخال الحج على العمرة، ومتى يحل القارن من نسكه، حدیث نمبر: 1211، حدیث حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔

جو شخص ان مواقیت کے دائیں یا بائیں سے گزرے، تو وہ اس وقت احرام باندھے جب وہ قریب ترین میقات کے برابر ہو، اور جو ہوائی جہاز میں ہو، وہ میقات کے اوپر سے گزرتے وقت احرام باندھے، لہٰذا میقات کے قریب پہنچنے سے پہلے احرام کی تیاری کرے اور احرام کے کپڑے پہن لے، جب میقات کے برابر پہنچے تو فوراً احرام کی نیت کرے، اور اس میں تاخیر جائز نہیں۔ بعض لوگ ہوائی جہاز میں ہوتے ہیں اور حج یا عمرہ کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن میقات کے برابر پہنچتے ہیں تو احرام نہیں باندھتے، بلکہ احرام کو مؤخر کرتے ہیں یہاں تک کہ ہوائی اڈے پر اترتے ہیں، یہ جائز نہیں؛ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز ہے۔ ہاں، اگر میقات سے گزرتے وقت حج یا عمرہ کا ارادہ نہ ہو، لیکن بعد میں حج یا عمرہ کی نیت کرے، تو وہ اپنی نیت کے مقام سے احرام باندھے، اور اس پر کوئی چیز لازم نہیں۔

اور جو شخص ان مواقیت سے گزرے اور اس کا ارادہ حج یا عمرہ کا نہ ہو، بلکہ وہ کسی رشتہ دار کی زیارت، تجارت، علم کی طلب، علاج یا دیگر مقاصد کے لیے مكہ جانا چاہتا ہو، تو اس پر احرام باندھنا واجب نہیں؛ اس کی دلیل ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ حدیث ہے کہ نبی ﷺ نے مواقیت مقرر کیے، پھر فرمایا: "یہ میقات ان مقامات کے باشندوں کے لیے ہیں اور ان لوگوں کے لیے بھی جو حج و عمرہ کا ارادہ کرتے ہوئے وہاں سے گزریں۔" [15] حکم کو حج یا عمرہ کی نیت کرنے والے پر معلق کیا گیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص حج اور عمرہ کی نیت نہ رکھتا ہو، اس پر احرام ضروری نہیں ہے، جو شخص (فرضیتِ) حج ادا کر چکا ہو اس پر حج یا عمرہ کی نیت کرنا واجب نہیں، کیوں کہ حج زندگی میں صرف ایک بار فرض ہے؛ جیسا کہ نبی ﷺ کا ارشاد ہے: ’’حج ایک مرتبہ فرض ہے اور جو اس سے زیادہ کرے تو نفل ہے‘‘۔ [16] لیکن بہتر یہ ہے کہ انسان خود کو نفلی عبادات سے محروم نہ کرے تاکہ اسے اجر حاصل ہو سکے، کیونکہ اس وقت احرام باندھنا آسان ہے، اورہر قسم کی حمد وثنا صرف اللہ کے لیے ہے اور اسی کا احسان ہے۔ [15] صحیح بخاری، کتاب الحج، باب مهل أهل مكة للحج والعمرة، حدیث نمبر: 1524، صحیح مسلم، کتاب الحج، باب مواقيت الحج والعمرة، حدیث نمبر: 1181، حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ [16] صحیح مسلم : کتاب الحج، باب فرض الحج مرة في العمر، حدیث نمبر: 1337ِِ، اور مسند احمد: 1/290، مذکورہ الفاظ أحمد کے روایت کردہ ہیں، یہ حدیث ابو هريرة رضي الله عنه سے مروی ہے۔

* * *

حج کے اقسام

حج کی تین قسمیں ہیں: حجِ تمتع، حجِ اِفراد اور حجِ قِران۔

تمتع: یہ ہے کہ حج کے مہینوں میں صرف عمرہ کا احرام باندھے، جب مکہ پہنچے تو عمرہ کے لیے طواف اور سعی کرے، اور بال منڈوائے یا چھوٹے کروائے، پھر جب یوم الترویہ یعنی آٹھویں ذی الحجہ کا دن آئے تو صرف حج کا احرام باندھے، اور اس کے تمام اعمال بجا لائے۔

افراد: یہ ہے کہ صرف حج کا احرام باندھے، جب مکہ پہنچے تو طواف قدوم کرے، پھر حج کے لیے سعی کرے، نہ بال منڈوائے‘ نہ چھوٹے کروائے، اور نہ احرام سے حلال ہو بلکہ حالتِ احرام میں ہی رہے یہاں تک کہ عید کے دن جمرہ عقبہ کی رمی کرے اور اس کے بعد حلال ہو جائے، اور اگر حج کی سعی کو طواف حج کے بعد مؤخر کر دے تو کوئی حرج نہیں۔

قِران: یہ ہے کہ عمرہ اور حج دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھے، یا پہلے عمرہ کا احرام باندھے پھر طواف شروع کرنے سے پہلے حج کو اس میں شامل کر لے، قارن کا عمل مفرد کے عمل کی طرح ہے، سوائے اس کے کہ قارن پر ہدی (قربانی) لازم ہے اور مفرد پر ہدی (قربانی) لازم نہیں ہے۔

ان تینوں قسموں میں سب سے افضل حج تمتع ہے، نبی ﷺ نے اپنے صحابہ کو اسی کا حکم دیا اور انہیں اس پر ابھارا، اگر کوئی شخص قارن یا مفرد کے طور پر احرام باندھے، تو اس پر لازم ہے کہ اپنے احرام کو عمرہ میں بدل لے تاکہ متمتع بن جائے، چاہے طواف اور سعی کے بعد ہی کیوں نہ ہو؛ کیونکہ نبی ﷺ نے جب حجۃ الوداع کے موقع پر طواف اور سعی کیا اور آپ کے ساتھ صحابہ بھی تھے، تو آپ نے ہر اس شخص کو حکم دیا جس کے ساتھ ہدی (قربانی) نہیں تھی کہ وہ اپنے احرام کو عمرہ میں تبدیل کرے، بال کتروا لے اور حلال ہو جائے، اور فرمایا : "اگر میں قربانی کا جانور نہ لایا ہوتا، تو میں بھی وہی کرتا جو میں نے تمھیں کرنے کا حکم دیا ہے۔" [17] [17] صحیح بخاری: کتاب الحج، باب التمتع والإقران والإفراد بالحج، حدیث نمبر: 1568، اور صحیح مسلم: کتاب الحج، باب بیان وجوه الإحرام، حدیث نمبر: 1216، حدیث جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ حاجی حج تمتع کا احرام باندھتا ہے لیکن وقوفِ عرفہ سے پہلے وہ عمرہ پورا نہیں کرپاتا، اس حالت میں اسے عمرہ میں حج کو بھی داخل کرلینا چاہیے اور اس صورت میں وہ قارن ہوجائے گا۔ اس کے لیے ہم دو مثالیں پیش کرتے ہیں:

پہلی مثال: کسی خاتون نے حج تمتع کے لیے عمرہ کا احرام باندھا لیکن وہ طواف سے پہلے ہی حیض یا نفاس میں مبتلا ہو گئی، اور عرفہ کے وقوف سے پہلے پاک نہ ہو سکی، تو وہ ایسی صورت میں عمرہ میں حج کو داخل کرنے کی نیت کرے گی اور قارن ہو جائے گی، اور جو اعمال حجاج کرتے ہیں وہ بھی کرے گی، البتہ غسل اور پاکی سے پہلے وہ نہ تو طواف کرے گی اور نہ صفا ومروہ کے مابین سعی کرے گی۔

دوسری مثال: کسی شخص نے حج تمتع کی نیت سے عمرہ کا احرام باندھا، لیکن اسے یومِ عرفہ سے پہلے مکہ میں داخل ہونے سے کوئی رکاوٹ پیش آگئی، تو وہ عمرہ میں حج کو داخل کرنے کی نیت کرے گا اور قارن بن جائے گا، اور حالت احرام میں ہی رہے گا، اور وہ سارے کام کرے گا جو حاجی کرتا ہے۔

* * *

وہ مُحرم جس پر ہَدی (قربانی) واجب ہے

محرم جس پر ہدی (قربانی) لازم ہے وہ متمتع اور قارن ہے؛ جبکہ مفرد پر لازم نہیں۔

متمتع وہ شخص ہے جو حج کے مہینوں میں عمرہ کا احرام باندھے، یعنی شوال کے داخل ہونے کے بعد اور عمرہ کی ادائیگی کے بعد حلال ہوجائے، پھر اسی سال حج کا احرام باندھے۔ اگر عمرہ کا احرام شوال کے داخل ہونے سے پہلے باندھے تو وہ متمتع نہیں ہے، اور اس پر ہدی (قربانی) لازم نہیں، چاہے اس نے مکہ میں رمضان کے روزے رکھے ہوں یا نہ رکھے ہوں، کیونکہ مکہ میں رمضان کے روزے رکھنے کا کوئی اثر نہیں ہے، بلکہ اصل اعتبار عمرہ کے احرام کے باندھنے کا ہے، چنانچہ اگر شوال داخل ہونے سے پہلے عمرہ کی نیت کرے تو اس پر ہدی لازم نہیں، اور اگر شوال داخل ہونے کے بعد کرے تو وہ متمتع ہے اور اس پر ہدی لازم ہے بشرطیکہ وجوب کی شرائط پوری ہوں۔ اور جو بعض عوام یہ سمجھتے ہیں کہ اصل اعتبار رمضان کے روزے رکھنے کا ہے، اور جو مکہ میں روزے رکھے اس پر ہدی(قربانی) نہیں، اور جو وہاں روزے نہ رکھے اس پر ہدی لازم ہے، تو یہ اعتقاد صحیح نہیں ہے۔

اور قارن وہ شخص ہے جو عمرہ اور حج دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھے، یا عمرہ کا احرام باندھے پھر طواف شروع کرنے سے پہلے حج کو اس میں شامل کر لے۔

حج تمتع اور قران کرنے والے پر اسی صورت میں قربانی واجب ہے جب کہ وہ مکہ کا باشندہ یا اس میں سکونت پذیر نہ ہو، اگر وہ حرم یا مکہ میں رہائش پذیر ہو تو اس پر قربانی واجب نہیں، اور مسجد حرام کے رہنے والے لوگ وہ ہیں جو حرم کے باشندے ہیں، اور جو اس کے اتنے قریب رہتے ہیں کہ ان کے اور حرم کے درمیان کوئی ایسی مسافت نہ ہو جو سفر شمار کی جائے، جیسے اہلِ شرائع وغیرہ، تو ان پر قربانی نہیں ہے۔ اور جو لوگ حرم سے اتنے دور رہتے ہیں کہ ان کے اور حرم کے درمیان ایسی مسافت ہو جو سفر شمار کی جائے، جیسے اہلِ جدہ، تو ان پر قربانی لازم ہے۔ جو شخص اہلِ مکہ میں سے ہو، پھر علم یا کسی اور مقصد کے لیے کہیں اور سفر کرے، اور متمتع کی حیثیت سے واپس آئے تو اس پر قربانی نہیں ہے؛ کیونکہ اعتبار اس کی اقامت اور سکونت کے مقام کا ہے جو کہ مکہ ہے، الا یہ کہ وہ مکہ سے کسی اور جگہ سکونت کے لیے منتقل ہو جائے، تو جب وہ متمتع کی حیثیت سے واپس آئے گا تو اس پر قربانی لازم ہو گی؛ کیونکہ وہ اس وقت مسجد حرام کے رہنے والوں میں سے نہیں ہے۔

حج تمتع وقران کرنے والے پر جو قربانی واجب ہے وہ ایک بکری ہے جو قربانی کے قابل ہو، یا اونٹ کا ساتواں حصہ، یا گائے کا ساتواں حصہ، اگر یہ نہ ملے تو ایام حج میں تین دن روزے رکھے اور جب گھر لوٹ جائے تو سات دن روزہ رکھے۔ ان تین دنوں کے روزے ایام تشریق میں رکھنا جائز ہے؛ یعنی گیارہ، بارہ، اور تیرہ ذی الحجہ کو، اور یہ بھی جائز ہے کہ عمرہ کے احرام کے بعد ایام تشریق سے پہلے ہی یہ روزے رکھ لے، لیکن عید کے دن اور عرفہ کے دن یہ روزے نہ رکھے؛ کیونکہ نبی ﷺ نے عیدین کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے [18]، اور عرفہ کے دن عرفہ میں روزہ رکھنے سے بھی منع فرمایا ہے [19]۔ ان تین دنوں کے روزے کے روزے مسلسل یا متفرق رکھنا جائز ہے، لیکن ایام تشریق کے بعد ان کو مؤخر نہ کرے، اور باقی سات روزے جب گھر لوٹ جائے تو رکھے؛ اگر چاہے تو مسلسل رکھے، اور اگر چاہے تو متفرق۔ [18] صحیح بخاری، کتاب الصوم، باب صوم یوم الفطر، حدیث نمبر: 1990، صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب النہی عن صوم یوم الفطر ویوم الأضحی، حدیث نمبر: 1137، حدیث عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ [19] سنن ابو داود: کتاب الصوم، باب في صوم يوم عرفة بعرفة، حدیث نمبر: 2440، ابن ماجہ: کتاب الصیام، باب صیام یوم عرفہ، حدیث نمبر: 1732، حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

اور قربانی کے دن چار ہیں: عید کا دن، اور اس کے بعد تین دن، جو شخص ان دنوں سے پہلے قربانی کرے تو اس کی قربانی گوشت کی قربانی ہے جو اس کے لئے کافی نہیں؛ کیونکہ نبی ﷺ نے عید کے دن سے پہلے قربانی نہیں کی۔ قربانی عبادت کا حصہ ہے، اور نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اپنے مناسکِ حج مجھ سے سیکھ لو‘‘[20]۔ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: "تمام ایامِ تشریق ذبح کے ہیں۔" [21]۔ ایام التشریق وہ تین دن ہیں جو عید کے بعد آتے ہیں۔ [20] صحیح مسلم: كتاب الحج، باب استحباب رمي جمرة العقبة يوم النحر راكبًا، وبيان قوله ﷺ: «لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُم»، حدیث نمبر: 1297، حديث جابر رضي الله عنه سے مروی ہے۔ [21] مسند احمد (4/ 82)، یہ حدیث جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

ان دنوں میں دن اور رات دونوں وقت قربانی جائز ہے، لیکن دن میں کرنا افضل ہے۔ اسی طرح منیٰ اور مکہ دونوں جگہ قربانی جائز ہے، لیکن منیٰ میں کرنا افضل ہے، الا یہ کہ مکہ میں قربانی کرنا فقراء کے لیے زیادہ فائدہ مند ہو جبکہ منیٰ میں اس کا فائدہ کم ہو، تو ایسی صورت میں جو زیادہ بہتر اور نفع بخش ہو، اس پر عمل کیا جائے۔ اس بنا پر اگر کوئی اپنے ہدی (قربانی) کو تیرہویں دن تک مؤخر کرے اور مکہ میں ذبح کرے تو کوئی حرج نہیں۔

جان لو کہ صاحب استطاعت پر قربانی کا وجوب یا جو قربانی نہ کر سکے اس پر روزہ کی فرضیت بندے پر کوئی بوجھ یا اس کے جسم کو بلا فائدہ مشقت میں ڈالنا نہیں ہے، بلکہ یہ مناسک کی تکمیل اور اتمام میں سے ہے، نیز یہ اللہ کی رحمت اور احسان ہے کہ اس نے اپنے بندوں کے لیے وہ چیزیں مشروع کی ہیں جن میں ان کی عبادت کی تکمیل، ان کا اپنے رب سے تقرب، ان کے اجر میں اضافہ اور ان کے درجات کی بلندی ہے۔

اس میں خرچ کیے جانے والے مال کا بہتر بدلہ دیا جاتا ہے، اس میں کی جانے والی کوشش قابلِ قدر ہے، بہت سے لوگ اس فائدے کو محسوس نہیں کرتے، اور نہ ہی اس اجر کا صحیح اندازہ لگاتے ہیں، چنانچہ آپ انہیں دیکھتے ہیں کہ وہ وجوبِ ہدی سے بچنے کے لیے ہر ممکن طریقہ اختیار کرتے ہیں، یہاں تک کہ بعض لوگ صرف حج افراد کرتے ہیں تاکہ ان پر ہدی واجب نہ ہو، اس طرح وہ اپنے آپ کو تمتع اور ہدی کے اجر سے محروم کر لیتے ہیں، یہ ایک غفلت ہے جس پر توجہ دینا ضروری ہے۔

عمرہ کا طریقہ

جب کوئی شخص عمرہ کا احرام باندھنے کا ارادہ کرے تو اس کے لیے مشروع ہے کہ اپنے کپڑے اتار دے، اور جنابت کے غسل کی طرح غسل کرے، اور اپنے سر اور داڑھی میں بہترین خوشبو جیسے عود وغیرہ لگائے، اور احرام باندھنے کے بعد اگر خوشبو کے اثرات باقی رہ گئے ہوں تو وہ نقصان دہ نہیں ہے؛ کیوں کہ صحیحین میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں آیا ہے، وہ فرماتی ہیں: ’’نبی ﷺ جب احرام باندھنے کا ارادہ کرتے تو بہترین خوشبو استعمال کرتے، پھر آپ کے سر اور داڑھی میں مشک کی چمک دیکھی جاتی تھی۔‘‘ [22] [22] صحیح بخاری: کتاب اللباس، باب الطیب فی الرأس واللحیة، حدیث نمبر: 5923، صحیح مسلم: کتاب الحج، باب الطیب للمحرم عند الإحرام، حدیث نمبر: 1190، حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔

احرام کے وقت غسل کرنا مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے سنت ہے، حتیٰ کہ جو عورتیں حیض ونفاس کی حالت میں ہوں، ان کے لیے بھی غسل کرنا سنت ہے، کیونکہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کو جب نفاس آیا تو نبی ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ احرام کے وقت غسل کریں، کپڑا باندھیں اور احرام کی نیت کریں۔ [23] [23] صحیح مسلم: کتاب الحج، باب حجة النبي ﷺ، حدیث نمبر: 1218، حدیث جابر رضي الله عنه سے مروی ہے۔

غسل اور خوشبو لگانے کے بعد احرام کے کپڑے پہن لے، پھر -حیض اور نفاس والی عورت کے علاوہ- اگر فرض نماز کا وقت ہو تو فرض نماز پڑھے، ورنہ وضو کی سنت کی نیت سے دو رکعت نماز ادا کرے، جب نماز سے فارغ ہو جائے تو احرام باندھے اور کہے: ’’میں عمرہ کے لیے حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، یا اللہ! میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں ہے، میں حاضر ہوں، تمام تعریفیں تیرے لیے ہی ہیں، تمام نعمتیں تیری ہی جانب سے ہیں، ساری کائنات میں تیری ہی بادشاہت ہے اور تیرا کوئی شریک نہیں ہے۔‘‘ [24] مرد اپنی آواز بلند کرے، اور عورت اتنی آواز سے کہے کہ اس کے پاس بیٹھے شخص کو سنائی دے۔ [24] صحیح بخاری: کتاب الحج، باب التلبية، حدیث نمبر: 1549، صحیح مسلم: کتاب الحج، باب التلبية وصفتها، حدیث نمبر: 1184، حدیث ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔

اگر احرام باندھنے والے کو کسی قسم کی رکاوٹ کا خدشہ ہو، جو اس کے مناسک کی تکمیل میں رکاوٹ بن سکتی ہو، تو اسے چاہیے کہ احرام باندھتے وقت شرط لگائے اور یوں کہے: ’’اگر کسی روکنے والے نے مجھے روک دیا تو میرے احرام کھولنے کی جگہ وہیں ہوگی، جہاں مجھے روک دیا جائے۔‘‘ [25] یعنی: اگر کوئی رکاوٹ جیسے بیماری یا تاخیر یا کوئی اور چیز مجھے میرے نسک کی تکمیل سے روکے تو میں اپنے احرام سے حلال ہو جاؤں گا؛ کیوں کہ ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا جب بیمار تھیں اور احرام باندھنا چاہتی تھیں، تو اللہ کے نبی ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ شرط لگا لیں [26]، اور فرمایا: ’’یقیناً تیرے رب پر وہی ہے جو تو نے استثنا کیا‘‘۔ [27] چنانچہ جب اس نے شرط لگا لی اور اسے کوئی ایسی رکاوٹ پیش آ گئی جو اس کے نسک کی تکمیل میں مانع ہو، تو اس کے لیے حلال ہونا جائز ہے اور اس پر کوئی فدیہ نہیں۔ [25] سنن نسائی: كتاب مناسك الحج، كيف يقول إذا اشترط، حدیث نمبر: 2766، حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ [26] صحیح بخاری: کتاب النكاح، باب الأكفاء في الدين، حدیث نمبر: 5089، صحیح مسلم: کتاب الحج، باب جواز اشتراط المحرم التحلل بعذر المرض وغيره، حدیث نمبر: 1207، حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔ [27] سنن نسائی، كتاب مناسك الحج، كيف يقول إذا اشترط، حدیث نمبر: 2766، حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔

جسے اپنے مناسک کی تکمیل میں کوئی رکاوٹ پیش آنے کا خدشہ نہیں ہو، تو اس کے لیے شرط لگانا مناسب نہیں ہے؛ کیونکہ نبی ﷺ نے خود شرط نہیں لگائی اور نہ ہی ہرایک کو شرط لگانے کا حکم دیا، بلکہ آپ ﷺ نے صرف ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا کو ان کی بیماری کی وجہ سے شرط لگانے کا حکم دیا۔

محرم کو چاہیے کہ تلبیہ کثرت سے کہے، خصوصاً حالات اور اوقات کی تبدیلی کے وقت، جیسے: اونچائی پر چڑھتے وقت، یا نیچے اترتے وقت، یا رات یا دن کے آنے پر، اس کے بعد اللہ سے اس کی رضا اور جنت مانگے، اور جہنم سے اس کی رحمت کی پناہ طلب کرے۔

عمرہ میں تلبیہ کہنا احرام سے لے کر طواف شروع کرنے تک مشروع ہے، اور حج میں احرام سے لے کر عید کے دن جمرہ عقبہ کی رمی شروع کرنے تک مشروع ہے۔

جب کوئی شخص مکہ کے قریب پہنچے تو اسے چاہیے کہ مکہ میں داخل ہونے کے لیے غسل کرے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں داخل ہوتے وقت غسل فرمایا تھا۔ [28] جب مسجدِ حرام میں داخل ہو تو پہلے دایاں قدم رکھے اور یہ دعا پڑھے: ’’اللہ کے نام کے ساتھ اور درود وسلام ہو اللہ کے رسول پر۔ اے اللہ! میرے گناہ بخش دے اور میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔ میں عظمت والے اللہ، اس کے معزز چہرے اور اس کی قدیم سلطنت کی پناہ میں آتا ہوں شیطان مردود سے‘‘۔ [29] پھر حجر اسود کی طرف بڑھے تاکہ طواف کا آغاز کرے، اپنے دائیں ہاتھ سے حجر اسود کا استلام کرے اور اس کا بوسہ لے۔ اگر بوسہ لینا ممکن نہ ہو تو جس ہاتھ سے استلام کیا ہو، اس کا بوسہ لے۔ اگر ہاتھ سے استلام کرنا ممکن نہ ہو تو حجر اسود کی طرف رخ کرے اور ہاتھ سے اشارہ کرے، لیکن ہاتھ کو بوسہ نہ دے۔ بہتر یہی ہے کہ لوگوں کو دھکا دے کر یا انھیں تکلیف پہنچا کر مزاحمت نہ کرے؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا: ’’عمر، بے شک تم ایک طاقتور آدمی ہو، حجر اسود پر زبردستی نہ کرو کہ کمزور کو تکلیف پہنچے، اگر تمہیں موقع ملے تو اس کا استلام کرو، ورنہ اس کی طرف رخ کر کے تہلیل وتکبیر کہو۔‘‘ [30] [28] صحیح بخاری، کتاب الحج، باب الإهلال مستقبل القبلة، حدیث نمبر: 1553، حدیث ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ [29] سنن ابو داود: کتاب الصلاة، باب: فیما یقوله الرجل عند دخوله المسجد، حدیث نمبر: 466، حدیث ابن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ [30] اسے امام احمد نے اپنی مسند (جلد 1، صفحہ 28) میں روایت کیا ہے۔ اور ہمارے فاضل شیخ مؤلف رحمہ اللہ نے کتاب کے ایک دوسرے نظرثانی شدہ نسخے میں اس حدیث پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’یہ حدیث ضعیف ہے۔‘‘

حجرِ اسود کو چھوتے وقت یہ دعا پڑھے: ’’اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں اور اللہ سب سے بڑا ہے، اے اللہ! تجھ پر ایمان رکھتے ہوئے، تیری کتاب کی تصدیق اور تیرے عہد کو پورا کرتے ہوئے، اور تیرے نبی محمد ﷺ کی سنت کی پیروی میں (یہ عمل کر رہا ہوں)۔‘‘ [31] [31] ابن حجر نے 'التلخيص الحبير' (2/ 472) میں کہا: میں نے اسے اس طرح نہیں پایا، صاحب 'المهذب' نے اسے جابر کی روایت سے ذکر کیا ہے، اور اس پر منذری اور نووی نے خاموشی اختیار کی ہے، جبکہ ابن عساكر نے اسے ابن ناجیہ کے طریق سے ایک ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

دعا پڑھنے کے بعد بیت اللہ کو بائیں جانب کرکے دائیں طرف سے طواف شروع کردے، جب رکن یمانی کے پاس پہنچے تو بغیر بوسہ دیے اس کا استلام کرے، اگر ممکن نہ ہو تو اس کے لیے دھکم پیل نہ کرے، اور رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان یہ کہے: ’’اے ہمارے رب! ہمیں اس دنیا میں بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی سے نواز اور جہنم کی آگ سے بچا۔‘‘ [سورۃ البقرۃ: 201] ’’اے اللہ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کرتا ہوں۔‘‘ [32] جب بھی طواف کے دوران حجر اسود کے سامنے سے گزرے تو ’’اللہ اکبر‘‘ کہے، اور طواف میں جو بھی پسندیدہ ذکر، دعا اور تلاوت قرآن کرنا چاہے، کرے۔ ’’بے شک طوافِ بیت اللہ، صفا و مروہ کی سعی، اور جمرات کی رمی، ‌ذکرِ الہی کو قائم کرنے کے لیے ہی مشروع کیے گئے ہیں۔‘‘ [33] [32] سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر: 2957 [33] سنن ابو داود: كتاب المناسك، باب في الرمل، حدیث نمبر: 1888، سنن ترمذی: ابواب الحج، باب ما جاء كيف تُرمى الجمار، حدیث نمبر: 902، حدیث حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔

اس طواف میں، یعنی : طوافِ قدوم میں مرد کے لیے دو چیزیں کرنا ضروری ہے:

1: طواف کے شروع سے لے کر اس کے اختتام تک اضطباع کرے، اور اضطباع کا طریقہ یہ ہے کہ اپنی چادر کے درمیانی حصے کو دائیں بغل کے نیچے سے گزارے اور دونوں کناروں کو بائیں کندھے پر ڈال دے۔ جب طواف سے فارغ ہوجائے تو اپنی چادر کو طواف سے پہلے کی حالت میں واپس کر لے؛ کیونکہ اضطباع کا محل صرف طواف ہے۔

2 : رمل صرف پہلے تین چکروں میں ہے۔ اور رمل کا مطلب ہے: چھوٹے چھوٹے قدموں کے ساتھ تیزی سے چلنا۔ باقی چار چکروں میں رمل نہیں ہے۔ ان میں معمول کے مطابق آہستہ آہستہ عام چال چلے۔

جب طواف کے سات چکر پورے کر لے، تو مقامِ ابراہیم کے پاس آکر یہ آیت پڑھے: ’’تم مقامِ ابراہیم کو جائے نماز مقرر کرلو۔‘‘ [سورۃ البقرة: 125] پھر مقامِ ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز ادا کرے؛ پہلی رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد سورۃ الکافرون پڑھے اور دوسری رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد سورۃ الاخلاص کی تلاوت کرے۔

مقامِ ابراہیم پر دو رکعتیں ادا کرنے کے بعد حجرِ اسود کی طرف آئے اور اگر میسر ہو تو اس کو چھوئے۔

بعد ازاں صفا ومروہ کی سعی کے لیے بڑھے، جب صفا پہاڑی کے قریب پہنچے تو یہ آیت پڑھے: ’’بے شک صفا اور مروه اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں...‘‘ [سورۃ البقرة: 158] پھر صفا پہاڑی پر اتنی بلندی تک چڑھے کہ بیت اللہ نظر آنے لگے۔ پھر بیت اللہ کی طرف منہ کر کے اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھائے اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کرے اور جو چاہے دعا کرے۔ اس موقع پر نبی کریم ﷺ یہ دعا پڑھا کرتے تھے: ’’اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور تمام قسم کی تعریفیں اسی کے لیے ہیں اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے، اس کے علاوہ کوئی بھی معبودِ حقیقی نہیں ہے، وہ اکیلا ہے، اس نے اپنا کیا ہوا وعدہ پورا کیا، اور اپنے بندے (محمد ﷺ) کی مدد و نصرت کی اور اپنے دین کی مخالفت کرنے والوں کی اسی نے اکیلے شکست دی۔‘‘ [34] اسے تین بار دہرائے اور اس کے درمیان دعا کرے۔ [34] صحیح مسلم: کتاب الحج، باب حجة النبي، حدیث نمبر: 1218، یہ حدیث جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

پھر اس کے بعد صفا سے نیچے اتر کر عام رفتار سے مروہ کی جانب چلے۔ جب سبز نشان پر پہنچے تو اپنی استطاعت کے مطابق تیز دوڑے اور کسی کو نقصان نہ پہنچائے، کیونکہ نبی کریم ﷺ سے مروی ہے: ’’آپ اس طرح دوڑتے کہ تیز دوڑنے کی وجہ سے آپ کے گھٹنے نظر آنے لگتے اور آپ کا تہبند گھوم جاتا‘‘، اور ایک روایت میں ہے: ’’ آپ کا تہبند تیز دوڑنے کی وجہ سے گھوم جاتا‘‘۔ [35] جب دوسرے (سبز) نشان تک پہنچے تو اپنی معمول کی رفتار سے چلتے ہوئے مروہ تک پہنچے، پھر مروہ پر چڑھ کر قبلہ رخ ہو کر ہاتھ اٹھائے اور وہی کہے جو صفا پر کہا تھا، پھر مروہ سے صفا کی طرف اترے، چلنے کی جگہ چلے اور دوڑنے کی جگہ دوڑے، جب صفا پر پہنچے تو وہی کرے جو پہلی بار کیا تھا، اسی طرح مروہ پر بھی کرے یہاں تک کہ سات چکر مکمل کرلے، صفا سے مروہ جانا ایک چکر ہے اور مروہ سے صفا لوٹنا دوسرا چکر ہے، اور اپنی سعی میں جو ذکر، دعا اور قرآن کی تلاوت چاہے کرے۔ [35] اس حدیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے (6/421) اور یہ حدیث حبیبہ بنت ابی تجراة رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔

صفا ومروہ کی سعی کے سات چکر مکمل کرنے کے بعد اگر مرد ہے تو اپنے سر کے بال منڈوالے، اور اگر عورت ہے تو اپنی ہر چوٹی سے ایک پور کے برابر بال کاٹے۔

پورے سر کے بال منڈوانا واجب ہے، اسی طرح تقصیر (بالوں کو چھوٹے کروانا) بھی سر کی تمام جہات کو شامل ہونی چاہیے۔ اور بال منڈوانا بال کٹوانے سے افضل ہے؛ کیونکہ نبی ﷺ نے بال منڈوانے والوں کے لیے تین بار اور کتروانے والوں کے لیے صرف ایک بار دعاِ رحمت فرمائی[36]، ہاں اگر حج کا وقت قریب ہو اور سر کے بال اگنے کے لیے وقت نہ ہو، تو بال کتروانا افضل ہے تاکہ حج میں حلق (منڈوانے) کے لیے بال باقی رہیں، جیسا کہ نبی ﷺ نے حجۃ الوداع میں اپنے صحابہ کو عمرہ کے لیے تقصیر کرنے کا حکم دیا تھا [37]؛ کیونکہ وہ ذی الحجہ کی چار تاریخ کی صبح مکہ پہنچے تھے۔ [36] صحیح بخاری: کتاب الحج، باب الحلق والتقصير عند الإحلال، حدیث نمبر: 1727، صحیح مسلم: کتاب الحج، باب تفضيل الحلق على التقصير وجواز التقصير، حدیث نمبر: 1301، یہ حدیث ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ [37] صحیح بخاری: کتابُ الحج، باب التمتع والإقران، حدیث نمبر: 1568، صحیح مسلم: کتابُ الحج، باب بیان وجوه الإحرام، حدیث نمبر: 1216، یہ حدیث جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

ان اعمال کے بعد عمرہ مکمل ہوجائے گا۔ چنانچہ عمرہ یہ ہے: احرام باندھنا، طواف کرنا، سعی کرنا، اور حلق یا تقصیر کرنا، پھر اس کے بعد احرام سے مکمل طور پر حلال ہو جاتا ہے اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے جو احرام کے بغیر لوگ کرتے ہیں جیسے لباس پہننا، خوشبو لگانا اور عورتوں کے پاس جانا وغیرہ۔

* * *

حج کا طریقہ

ترویہ کے دن یعنی آٹھ ذو الحجہ کو چاشت کے وقت اپنی قیام گاہ سے حج کا احرام باندھےاور حج کے احرام کے وقت وہی کرے جو عمرہ کے احرام کے وقت کیا تھا، یعنی غسل کرے، خوشبو لگائے اور نماز پڑھے۔ پھر حج کی نیت کرے اور تلبیہ پکارے۔ حج میں تلبیہ کا طریقہ وہی ہے جو عمرہ میں ہے، مگر یہاں: "لبیك عمرۃ" کے بجائے "لبيك حجّاً" کہے۔ اور اگر محرم کو ایسی رکاوٹ کا اندیشہ ہو جو حج مکمل کرنے میں مانع ہو تو وہ احرام باندھتے وقت شرط لگائے اور کہے: ’’اگر مجھے کوئی رکاوٹ درپیش ہوئی تو میں وہیں حلال ہو جاؤں گا جہاں رکاوٹ پیش آئے گی۔‘‘ [38] اگر حاجی کو کسی رکاوٹ کا اندیشہ نہ ہو تو وہ شرط نہ لگائے۔ [38] سنن نسائی: کتاب مناسك الحج، باب: كيف يقول إذا اشترط، حدیث نمبر: 2766، حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔

پھر منیٰ کی طرف روانہ ہو اور وہاں پہنچ کر ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازیں قصر کے ساتھ بغیر جمع کے ادا کرے؛ کیونکہ نبی ﷺ منیٰ میں قصر کرتے تھے اور جمع نہیں کرتے تھے [39]، قصر کا مطلب جیسا کہ معلوم ہے چار رکعت والی نماز کو دو رکعت پڑھنا ہے۔ اہل مکہ اور دیگر لوگ منیٰ، عرفہ اور مزدلفہ میں قصر کریں گے؛ کیونکہ نبی ﷺ نے حجۃ الوداع میں لوگوں کو نماز پڑھائی‘ آپ کے ساتھ اہل مکہ بھی تھے اور آپ ﷺ نے انھیں پوری نماز پڑھنے کا حکم نہیں دیا، اگر ان پر پوری نماز پڑھنا واجب ہوتا تو آپ ﷺ انھیں اس کا حکم دیتے جیسا کہ آپ ﷺ نے فتح مکہ کے سال انھیں حکم دیا تھا۔ [39] صحیح مسلم: کتاب الحج، باب حجة النبي ﷺ، حدیث نمبر: 1218، حدیث جابر رضي الله عنه سے مروی ہے۔

جب عرفہ کے دن سورج طلوع ہو جائے تو منیٰ سے عرفہ کی طرف روانہ ہو، اور اگر ممکن ہو تو زوال تک مقامِ نمرہ میں قیام کرے، ورنہ کوئی حرج نہیں؛ کیونکہ نمرہ میں قیام کرنا سنت ہے۔

جب سورج ڈھل جائے تو ظہر اور عصر کی دو دو رکعتیں جمع تقدیم کے ساتھ پڑھے، جیسا کہ نبی ﷺ نے کیا؛ تاکہ وقوف اور دعا کا وقت طویل ہوسکے۔

پھر نماز کے بعد ذکر ودعا اور اللہ عز وجل کے حضور عاجزی و انکساری میں مشغول ہو جائے، اور جو دعا چاہے مانگے، اپنے ہاتھ اٹھا کر قبلہ رخ ہو کر دعا کرے، چاہے پہاڑ اس کے پیچھے ہو ہی کیوں نہ ہو؛ کیونکہ سنت قبلہ کی طرف رخ کرنا ہے نہ کہ پہاڑ کی طرف۔ نبی کریم ﷺ نے پہاڑ کے پاس وقوف کیا اور فرمایا: [40] صحیح مسلم: کتاب الحج، باب ما جاء أن عرفة كلها موقف، حدیث نمبر: 1218، حدیث جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ ’’میں نے یہاں وقوف کیا لیکن پورا میدانِ عرفہ وقوف کی جگہ ہے‘‘۔ [40]

"بطن عُرَنة سے دور ہو جاؤ"۔ [41] [41]سنن ابن ماجہ، کتاب المناسك، باب الموقف بعرفة، حدیث نمبر: 3012، حدیث جابر رضي الله عنه سے مروی ہے۔

اس عظیم جگہ پر نبی کریم ﷺ اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے : ’’اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے سب تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔‘‘ [42] [42] صحیح بخاری، کتاب العمرة، باب ما يقول إذا رجع من الحج أو العمرة أو الغزو، حدیث نمبر: 1797، صحیح مسلم، کتاب الحج، باب ما يقول إذا قفل من سفر الحج وغيره، حدیث نمبر: 1344، حدیث ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔

اگر حاجی کو اس دوران اکتاہٹ محسوس ہو اور وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ نفع بخش بات چیت کرنا چاہے یا اللہ کے فضل وکرم اور اس کی عظیم نوازشوں کے بارے میں مفید کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہے تاکہ اس دن امید کا پہلو مضبوط رہے، تو اس کے لیے ایسا کرنا بہتر ہے۔ پھر وہ اللہ کے حضور عاجزی وانکساری کے ساتھ دعا کرے‘ بطور خاص دن کے آخری حصے میں دعا کرنے کا اہتمام کرے، کیونکہ سب سے بہترین دعا عرفہ کے دن کی دعا ہے۔

جب سورج غروب ہو جائے تو مزدلفہ کی جانب روانہ ہو... جب وہاں پہنچے تو مغرب اور عشاء کی نماز جمع کر کے پڑھے، اگر عشاء کے وقت سے پہلے مزدلفہ پہنچ جائے تو مغرب کی نماز اپنے وقت پر پڑھے، پھر عشاء کے وقت کا انتظار کرے اور عشاء کی نماز اپنے وقت پر پڑھے۔ اس مسئلے میں میری یہی رائے ہے۔

اصحاب رحمہم اللہ تعالیٰ کے قول سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ نماز کے اوقات میں مغرب کی نماز کو مقدم کرنا افضل ہے، سوائے اس رات کے جب مزدلفہ میں جمع کرنے کا ارادہ ہو اور غروب کا وقت فوت ہو جائے اور اگر غروب کے وقت وہاں پہنچ جائے تو مغرب کی نماز اپنے وقت پر ادا کرے اور اسے مؤخر نہ کرے۔ شرح الاقناع میں آیا ہے کہ اگر وہاں پہنچ کر وقت مل جائے تو اسے مؤخر نہ کرے بلکہ اپنے وقت پر ادا کرے کیونکہ اس کے پاس کوئی عذر نہیں ہے۔ اور جمع کے بارے میں آیا ہے کہ مزدلفہ میں مؤخر کرے۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ مغرب کا وقت مزدلفہ کی طرف کوچ کرنے میں چلا جاتا ہے۔ مالکیہ نے کہا کہ اگر امام کے ساتھ وقوف کیا اور اس کے ساتھ روانہ ہوا تو مزدلفہ میں جمع کرے، اور اگر امام کے ساتھ وقوف نہ کیا اور اس کے ساتھ روانہ نہ ہوا بلکہ اکیلا وقوف کیا یا امام کے روانہ ہونے کے بعد تاخیر کی تو مغرب اور عشاء کی نماز اپنے وقت پر ادا کرے۔ یہ بات (جواہر الاکلیل) (ص181 ج1) میں آئی ہے۔ ابن حزم رحمہ اللہ نے سختی سے کہا: اس رات مغرب کی نماز مزدلفہ میں ہی ادا کی جائے گی، اور شفق کے غروب کے بعد ہی ادا کرنا ضروری ہے۔ [43] [43] [المحلى: 3/ 165]۔

صحیح بخاری میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ’’ جب عشاء کا وقت قریب تھا یا عشاء کی اذان کا وقت تھا تو آپ ﷺ مزدلفہ پہونچے، چنانچہ آپ ﷺ نے ایک شخص کو حکم دیا کہ اذان دے اور اقامت کہے، پھر آپ ﷺ نے مغرب کی نماز پڑھی، اس کے بعد دو رکعتیں پڑھیں، پھر آپ ﷺ نے کھانا منگوایا اور کھانا کھایا، پھر ایک شخص کو حکم دیا کہ اذان دے اور اقامت کہے، پھر آپ ﷺ نے عشاء کی دو رکعتیں پڑھیں۔ اور ایک روایت میں ہے: "آپ ﷺ نے دونوں نمازیں الگ الگ اذان اور اقامت کے ساتھ پڑھی، اور عشاء کی نماز ان کے درمیان پڑھی۔‘‘ [44] [44] صحیح بخاری: کتاب الحج، باب من أذن وأقام لكل واحدة منهما، حدیث نمبر: 1675، حدیث عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

لیکن اگر جمع کرنے کی ضرورت ہو، مثلاً تھکاوٹ یا پانی کی کمی کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے، تو جمع کرنے میں کوئی حرج نہیں، اگرچہ عشاء کا وقت داخل نہ ہوا ہو، اور اگر یہ خدشہ ہو کہ مُزدَلِفَہ پہنچنے میں آدھی رات کے بعد کا وقت ہو جائے گا، تو وہ مُزدَلِفَہ پہنچنے سے پہلے بھی نماز پڑھ سکتا ہے، اور نماز کو آدھی رات کے بعد تک مؤخر کرنا جائز نہیں۔

مزدلفہ میں رات گزارے، جب فجر کا وقت واضح ہو جائے تو اذان اور اقامت کے ساتھ فجر کی نماز جلدی پڑھے، پھر مشعر حرام کی طرف جائے، وہاں اللہ کی وحدانیت بیان کرے اور تکبیر کہے، اور جو دعا چاہے مانگے یہاں تک کہ خوب روشنی ہو جائے، اگر مشعر حرام جانا ممکن نہ ہو تو اپنی جگہ پر ہی دعا کرے؛ کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’میں نے یہاں وقوف کیا اور سارا مزدلفہ جائے وقوف ہے۔‘‘ [45]۔ ذکر اور دعا کے وقت قبلہ کی جانب رُخ کرے اور دونوں ہاتھ اٹھاۓ۔ [45] صحیح مسلم: کتاب الحج، باب حجة النبي ﷺ، حدیث نمبر: 1218، یہ حدیث جابر رضي الله عنه سے مروی ہے۔

جب صبح خوب روشن ہو جائے تو سورج نکلنے سے پہلے منیٰ کی طرف روانہ ہو، اور وادی محسر میں تیز چلے، جب منیٰ پہنچے تو جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارے، جو مکہ کی طرف سے آخری جمرہ ہے، سات کنکریاں ایک کے بعد ایک مارے، ہر کنکری کھجور کی گٹھلی کے برابر ہو، اور ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہے، جب فارغ ہو جائے تو قربانی کرے، پھر اگر مرد ہو تو سر منڈوائے، اور عورت کے لیے حلق نہیں بلکہ قصر ہے، پھر مکہ جائے اور طواف کرے اور حج کی سعی کرے۔

سنت یہ ہے کہ جب کوئی رمی اور حلق کے بعد طواف کے لیے مکہ جانے کا ارادہ کرے تو خوشبو لگائے؛ جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ’’میں نبی ﷺ کو ان کے احرام کے لیے خوشبو لگاتی تھی، اس سے پہلے کہ وہ احرام باندھیں، اور ان کے حلال ہونے کے لیے، اس سے پہلے کہ وہ بیت اللہ کا طواف کریں۔‘‘ [46] [46] صحیح بخاری: کتاب الحج، باب الطيب عند الإحرام وما يلبس إذا أراد أن يحرم، ويترجل ويدهن، حدیث نمبر: 1539، صحیح مسلم، کتاب الحج، باب الطيب للمحرم عند الإحرام، حدیث نمبر: 1189، یہ حدیث حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔

پھر طواف اور سعی کے بعد منیٰ واپس آجائے اور گیارہویں اور بارہویں ذی الحجہ کی راتیں وہیں گزارے، ان دونوں دنوں میں زوال کے بعد تینوں جمرات کو کنکریاں مارے، افضل یہ ہے کہ رمی جمرات کے لیے پیدل جائے، اگر سواری پر جائے تو بھی کوئی حرج نہیں، چنانچہ جمرہ اولى کو کنکری مارے جو مکہ سے سب سے زیادہ دور ہے اور مسجد خیف کے قریب ہے، سات کنکریاں یکے بعد دیگرے مارے، ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہے، پھر تھوڑا آگے بڑھ کر لمبی دعا کرے اور جو چاہے مانگے، اگر لمبی دعا اور قیام میں دشواری ہو تو حسب سہولت مختصر دعا کرے تاکہ سنت پوری ہو جائے۔

پھر جمرہ وسطى کو یکے بعد دیگرے سات کنکریاں مارے، ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہے، پھر بائیں جانب ہٹ کر قبلہ رخ ہوکر کھڑا ہوجائے اور اگر ممکن ہو تو ہاتھ اٹھا کر لمبی دعا کرے، ورنہ جتنا ممکن ہو اتنا ہی کھڑا رہے۔ دعا کے لیے کھڑے ہونے کو ترک نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ سنت ہے، جبکہ بہت سے لوگ اسے یا تو جہالت کی وجہ سے چھوڑ دیتے ہیں یا سستی کی وجہ سے۔ اور جب بھی کسی سنت کو ترک کر دیا جائے، تو اُس پر عمل کرنا اور اُسے لوگوں کے درمیان عام کرنا مزید ضروری ہو جاتا ہے؛ تاکہ وہ سنت چھوڑ نہ دی جائے اور مٹ نہ جائے۔

پھر جمرہ عقبہ کو یکے بعد دیگرے سات کنکریاں مارے، ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہے، پھر واپس ہوجائے اور اس کے بعد دعا نہ کرے۔

چنانچہ جب وہ بارہویں تاریخ کو جمرات کی رمی مکمل کر لے، تو اگر چاہے تو جلدی کرے اور منیٰ سے نکل جائے، اور اگر چاہے تو تاخیر کرے اور تیرہویں تاریخ کی رات وہاں گزارے اور زوال کے بعد تینوں جمرات کو اسی طرح مارے جیسے پہلے ذکر ہوا، اور تاخیر کرنا افضل ہے لیکن واجب نہیں ہے الا یہ کہ بارہویں تاریخ کو وہ منی ہی میں ہو اور سورج غروب ہو جائے، تو اس پر لازم ہوگا کہ وہ تاخیر کرے یہاں تک کہ زوال کے بعد تینوں جمرات کو کنکری مارے، لیکن اگر بارہویں تاریخ کو اس کے اختیار کے بغیر اس پر سورج منیٰ میں غروب ہو جائے، جیسے: وہ روانہ ہو چکا ہو اور سوار ہو چکا ہو لیکن گاڑیوں کے ازدحام وغیرہ کی وجہ سے تاخیر ہو جائے، تو اس پر تاخیر لازم نہیں ہوگی؛ کیونکہ اس کا غروب تک تاخیر کرنا اس کے اختیار کے بغیر تھا۔

جب وہ مکہ سے اپنے وطن جانے کا ارادہ کرے تو طواف وداع کیے بغیر نہ نکلے؛ کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’کوئی آدمی اس وقت تک کوچ نہ کرے جب تک کہ بیت اللہ کے ساتھ اس کا آخری عہد نہ ہو جائے۔‘‘ (یعنی بیت اللہ کا آخری طواف نہ کر لے) [47] اور ایک روایت میں ہے: ’’لوگوں کو حکم دیا گیا ہے کہ مکہ میں ان کا آخری کام طواف بیت اللہ ہو، البتہ حائضہ کے لیے یہ حکم معاف کر دیا گیا ہے۔‘‘ [48] چنانچہ حیض اور نفاس والی عورت پر طوافِ وداع نہیں ہے، اور یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ مسجد حرام کے دروازے پر وداع کے لیے کھڑی ہوں، کیونکہ نبی کریم ﷺ سے اس عمل کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ [47] صحیح بخاری: کتاب الحج، باب طواف الوداع، حدیث نمبر: 1755، صحیح مسلم: کتاب الحج، باب وجوب طواف الوداع وسقوطه عن الحائض، حدیث نمبر: 1327، حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ [48] صحیح بخاری، کتاب الحج، باب طواف الوداع، حدیث نمبر: 1755، صحیح مسلم، کتاب الحج، باب وجوب طواف الوداع وسقوطه عن الحائض، حدیث نمبر: 1328، یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔

اور جب سفر کا ارادہ کرے تو طواف وداع کو بیت اللہ کا آخری عہد بنائے، اگر وداع کے بعد ساتھیوں کا انتظار کرے، یا سامان لادنے میں مشغول ہو، یا راستے میں کوئی ضرورت کی چیز خریدے تو اس میں کوئی حرج نہیں، ایسے میں دوبارہ طواف نہ کرے، الا یہ کہ سفر کو مؤخر کرنے کا ارادہ بن جائے، مثلاً: دن کے آغاز میں سفر کا ارادہ ہو اور طواف وداع کرلے، پھر سفر کو دن کے آخر تک مؤخر کر دے، تو اس پر طواف کا اعادہ لازم ہوگا؛ تاکہ اس کا آخری عہد بیت اللہ کا ہو۔

* * *

مسجدِ نبوی کی زیارت

اگر حاجی حج سے پہلے یا اس کے بعد مسجد نبوی کی زیارت کرنا چاہے تو نیت مسجد نبوی کی زیارت کی کرے نہ کہ قبر کی زیارت کی، کیونکہ عبادت کی نیت سے سفر کرنا قبروں کی زیارت کے لیے مشروع نہیں، بلکہ صرف تین مساجد کے لیے جائز ہے: مسجدِ حرام، مسجدِ نبوی، اور مسجدِ اقصیٰ۔ جیسا کہ نبی ﷺ سے ثابت حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ”تین مساجد: مسجد الحرام، میری اس مسجد (یعنی مسجد نبوی) اور مسجد الاقصیٰ کے علاوہ کسی اور مسجد کی جانب (ثواب کی نیت سے) سفر نہ کیا جائے“۔ [49] [49] صحیح بخاری: کتاب فضل الصلاة في مسجد مكة والمدينة، باب فضل الصلاة في مسجد مكة والمدينة، حدیث نمبر: 1189، صحیح مسلم: کتاب الحج، باب لا تشد الرحال إلا إلى ثلاثة مساجد، حدیث نمبر: 1397، یہ حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

جب مسجدِ نبوی پہنچے تو داخل ہوتے وقت پہلے اپنا دایاں پیر داخل کرے اور یہ دعا پڑھے: ’’اللہ کے نام کے ساتھ اور سلام ہو اللہ کے رسول پر۔ اے اللہ! میرے گناہ بخش دے اور میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔ میں عظمت والے اللہ، اس کے معزز چہرے اور اس کی قدیم سلطنت کی پناہ میں آتا ہوں شیطان مردود سے‘‘۔[50] پھر جتنی چاہے نماز پڑھے۔ [50] سنن ابو داؤد: کتاب الصلاۃ، باب فيما يقوله الرجل عند دخوله المسجد، حدیث نمبر: 466، یہ حدیث ابن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔

بہتر یہ ہے کہ وہ اپنی نماز روضہ میں ادا کرے، جو کہ نبیﷺ کے منبر اور اس حجرے کے درمیان ہے جس میں آپ کی قبر ہے؛ کیونکہ ان دونوں کا درمیانی حصہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔ [51] جب وہ نماز پڑھ لے اور نبیﷺ کی قبر کی زیارت کا ارادہ کرے تو ادب اور وقار کے ساتھ ان کے سامنے کھڑا ہو جائے اور کہے: ’’اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکت نازل ہو، اے اللہ! تو محمد اور آل محمد پر درود بھیج، جس طرح تو نے ابراہیم اور ان کی آل پر درود بھیجا ہے، تو حمد وستائش کے لائق ہے اور بزرگی والا ہے۔ اے اللہ! تو محمد اور آل محمد پر برکت نازل فرما، جس طرح تو نے ابراہیم اور ان کی آل پر برکت نازل فرمائی، تو حمد وستائش کے لائق ہے اور بزرگی والا ہے۔[52] میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں، بے شک آپ نے پیغام پہنچا دیا، امانت ادا کی، امت کی خیر خواہی کی، اور اللہ کی راہ میں کما حقہ جہاد کیا، اللہ آپ کو آپ کی امت کی طرف سے بہترین جزا دے، جو کسی نبی کو اس کی امت کی طرف سے دی گئی۔‘‘ [51] صحیح بخاری: كتاب فضل الصلاة في مسجد مكة والمدينة، باب فضل ما بين القبر والمنبر، حدیث نمبر: 1196، صحیح مسلم: كتاب الحج، باب ما بين القبر والمنبر روضة من رياض الجنة، حدیث نمبر: 1391، یہ حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ [52] صحیح بخاری، حدیث نمبر: 6350، صحیح مسلم‘ حدیث نمبر: 406

پھر تھوڑا دائیں طرف بڑھ کر ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پر سلام بھیجے اور ان کے لیے اللہ کی رضامندی طلب کرے، پھر تھوڑا دائیں طرف بڑھ کر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ پر سلام بھیجے اور ان کے لیے اللہ کی رضامندی طلب کرے، اور اگر ان دونوں کے لیے کوئی مناسب دعا کرے تو بہتر ہے۔

کسی کے لیے جائز نہیں کہ حجرۂ نبوی کو چھو کر یا اس کا طواف کر کے اللہ کا قرب حاصل کرے، اور نہ ہی دعا کے وقت اس کی طرف رخ کرے، بلکہ قبلہ کی طرف رخ کرے؛ کیونکہ اللہ کا قرب صرف اسی طریقے سے حاصل ہوتا ہے جو طریقہ اللہ اور اس کے رسول نے مشروع کیا ہے، اور عبادات کی بنیاد اتباع پر ہے نہ کہ بدعات پر۔

عورت کو نبی کریم ﷺ کی قبر یا کسی اور قبر کی زیارت کی اجازت نہیں، کیونکہ نبی ﷺ نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں اور ان پر مسجدیں بنانے اور چراغاں کرنے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔ [53] لیکن وہ اپنے مقام پر رہتے ہوئے نبی ﷺ پر درود وسلام بھیجے، اور یہ نبی ﷺ تک پہنچ جاتا ہے چاہے وہ جہاں بھی ہوں، کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’مجھ پر درود بھیجو کیونکہ تم جہاں بھی رہو گے تمھارا درود مجھ تک پہنچ جاتا ہے۔‘‘ [54] نیز آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں جو زمین میں گھومتے رہتے ہیں، وہ میری امت کا سلام مجھ تک پہنچاتے ہیں۔‘‘ [55] [53] سنن ابو داود: کتاب الجنائز، باب في زيارة النساء القبور، حدیث نمبر: 3236؛ سنن ترمذی: کتاب الصلاة، باب: ما جاء في كراهية أن يتخذ على القبر مسجدا، حدیث نمبر: 320، سنن نسائی: کتاب الجنائز، باب: باب التغليظ في اتخاذ السرج على القبور، حدیث نمبر: 2043، یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ [54] سنن ابو داود: كتاب المناسك، باب زيارة القبور، حدیث نمبر: 2042، یہ حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ [55] سنن نسائی: کتاب السهو، باب السلام على النبي ﷺ، حدیث نمبر: 1282، یہ حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

مَرد کو خاص طور پر چاہیے کہ وہ بقیع کی زیارت کرے جو مدینہ کا قبرستان ہے، اور یہ دعا پڑھے: ’’سلام ہو اس بستی کے رہنے والوں پر جو مؤمنین میں سے ہیں، اور (یقیناً) ہم بھی ان شاء اللہ تم سے آ ملنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم میں سے اور تم میں سے پہلے جانے والوں پر رحم فرمائے، اور ہم سب کو عافیت عطا فرمائے۔‘‘ [56] ’’اے اللہ! ہمیں ان کے اجر سے محروم نہ کر، ہمیں ان کے بعد فتنے میں نہ ڈالنا اور ہماری اور ان کی مغفرت فرما۔‘‘ [57] [56] صحیح مسلم: کتاب الجنائز، باب ما يقال عند دخول القبور والدعاء لأهلها، حدیث نمبر: 974، 975۔ یہ حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا اور بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ [57] سنن ابن ماجہ: کتاب الجنائز، باب: باب ما جاء فيما يقال إذا دخل المقابر، حدیث نمبر: 1546، یہ حدیث حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔

اور اگر کوئی چاہے کہ وہ "احد" جائے اور نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کے اس غزوہ میں پیش آنے والے جہاد، آزمائش، پاکیزگی اور شہادت کو یاد کرے، پھر وہاں پر مدفون شہداء پر سلام بھیجے، جیسے: حضرت حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ جو نبی ﷺ کے چچا تھے، تو اس میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ یہ روئے زمین میں سیر کرنے میں شامل ہو سکتا ہے جس کا حکم دیا گیا ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔

* * *

فوائد

یہ فوائد مناسک سے متعلق ہیں جن کی وضاحت اور معرفت کی ضرورت ہے:

پہلا فائدہ : حج و عمرہ کے آداب:

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’حج کے مہینے مقرر ہیں اس لیے جو شخص ان میں حج ﻻزم کرلے وه اپنی بیوی سے میل ملاپ کرنے، گناه کرنے اور لڑائی جھگڑے کرنے سے بچتا رہے، تم جو نیکی کرو گے اس سے اللہ تعالیٰ باخبر ہے اور اپنے ساتھ سفر خرچ لے لیا کرو، سب سے بہتر توشہ اللہ تعالیٰ کا ڈر ہے اور اے عقلمندو! مجھ سے ڈرتے رہا کرو۔‘‘ [سورۃ البقرۃ: 197] نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’بے شک خانۂ کعبہ کا طواف، صفا و مروہ کے درمیان سعی اور جمرات کو رمی کرنا اللہ کے ذکر کو قائم کرنے کے لیے مشروع کیے گئے ہیں۔‘‘ [58] [58] سنن ابو داود: کتاب المناسك، باب في الرمل، حدیث نمبر: 1888، سنن الترمذي: أبواب الحج، باب ما جاء كيف ترمى الجمار، حدیث نمبر: 902، یہ حدیث حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔

بندے کو چاہیے کہ حج کے شعائر کو تعظیم، توقیر، محبت اور خشوع وخضوع کے ساتھ اللہ رب العالمین کے لیے ادا کرے، اور انھیں سکون ووقار کے ساتھ اور رسول اللہ ﷺ کی اتباع کرتے ہوئے انجام دے۔

ان عظیم مشاعر کو ذکر، تکبیر، تسبیح، تحمید اور استغفار سے مشغول رکھنا چاہیے؛ کیونکہ (محرم) جب سے احرام باندھتا ہے تب سے لے کر احرام کھولنے تک وہ عبادت میں ہوتا ہے، حج کوئی تفریحی سفر نہیں ہے کہ انسان اپنی مرضی سے بغیر کسی حد کے لطف اندوز ہو جیسا کہ بعض لوگوں کو دیکھا جاتا ہے؛ وہ اپنے ساتھ لہو ولعب اور گانے بجانے کے ایسے آلات لے جاتے ہیں جو انھیں اللہ کے ذکر سے روکتے ہیں اور اللہ کی نافرمانی میں مبتلا کرتے ہیں، اور بعض لوگوں کو کھیل، ہنسی مذاق اور لوگوں کا مذاق اڑانے جیسے منکر اعمال میں حد سے بڑھتے ہوئے دیکھا جاتا ہے، گویا کہ حج کو تفریح اور کھیل کے لیے مشروع کیا گیا ہو۔

حاجی اور غیر حاجی پر واجب ہے کہ وہ اللہ تعالی کی طرف سے فرض کردہ نماز کو اس کے اوقات میں باجماعت ادا کرنے کا اہتمام کریں، اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ بھی انجام دیں۔

حاجی کو چاہیے کہ وہ مسلمانوں کو فائدہ پہنچانے اور ان کے ساتھ بھلائی کرنے کا خاص اہتمام کرے، ان کی رہنمائی کرے، ضرورت پڑنے پر مدد فراہم کرے، اور کمزوروں پر رحم کرے، خصوصاً اُن مواقع پر جہاں نرمی کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، جیسے ہجوم وغیرہ کی جگہوں میں۔ کیونکہ مخلوق پر رحم کرنا، خالق کی رحمت کو اپنی طرف کھینچنے کا ذریعہ ہے۔ ’’اللہ اپنے رحم کرنے والے بندوں پر رحم کرتا ہے۔‘‘ [59] [59] صحیح بخاری: کتاب الجنائز، باب قول النبي ﷺ: «يعذب الميت ببكاء أهله عليه» إذا كان النوح من سنته، حدیث نمبر: 1284، صحیح مسلم: کتاب الجنائز، باب البكاء على الميت، حدیث نمبر: 923، یہ حدیث اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔

نیز حاجی کو چاہیے کہ وہ ہر طرح کی بے حیائی، فسق و فجور، نافرمانی، اور جھگڑے سے بچے۔ البتہ وہ جھگڑا جو حق کی حمایت کے لیے ہو، وہ اپنے مقام پر واجب ہوتا ہے۔ اسی طرح اسے خلقِ خدا پر زیادتی کرنے اور ان کو تکلیف دینے سے پرہیز کرنا چاہیے، جیسے: غیبت، چغلی، گالی گلوچ، مارپیٹ، اور نامحرم عورتوں کو دیکھنا، کیونکہ یہ تمام چیزیں نہ صرف حالتِ احرام میں حرام ہیں، بلکہ احرام کے علاوہ بھی ناجائز ہیں، البتہ حالتِ احرام میں ان کی حرمت اور زیادہ یقینی ہو جاتی ہے۔

بہت سے لوگوں کی طرف سے جو نامناسب باتیں کی جاتی ہیں، ان سے اجتناب کرنا چاہیے، جیسے بعض لوگوں کا جمرات کو مارتے وقت یہ کہنا: ہم نے شیطان کو مارا! اور بعض اوقات وہ مشعر کو برا بھلا کہتے ہیں یا اسے جوتے سے مارتے ہیں وغیرہ، جو کہ خشوع وخضوع اور عبادت کے منافی اور جمرات کو مارنے کے مقصد کے خلاف ہے، جو کہ اللہ عز وجل کا ذکر قائم کرنا ہے۔

دوسرا فائدہ: ممنوعاتِ احرام:

ممنوعاتِ احرام: وہ امور جن سے حاجی یا معتمر کو حالتِ احرام کی وجہ سے روکا جاتا ہے، اس کی تین قسمیں ہیں:

بعض چیزیں مردوں اور عورتوں دونوں پر حرام ہیں، اور بعض چیزیں مردوں پر حرام ہیں مگر عورتوں پر نہیں، اور بعض چیزیں عورتوں پر حرام ہیں مگر مردوں پر نہیں۔

چنانچہ جو چیزیں مردوں اور عورتوں دونوں پر حرام ہیں، ان میں سے کچھ یہ ہیں:

1- مباشرت (جماع) کرنا : یعنی شرمگاہ میں جماع کرنا — یہ احرام کی ممنوعات میں سب سے سنگین عمل ہے۔ اگر یہ حج کے دوران پہلے تحلل سے قبل واقع ہو جائے، تو اس پر تین بڑے امور مرتب ہوتے ہیں:

1- حج فاسد ہو جاتا ہے، لیکن وہ اپنے حج کو مکمل کرے گا اور اسے چھوڑ نہیں سکتا۔

2 - آئندہ سال اس حج کی قضا واجب ہے، چاہے اس کا حج نفل ہی کیوں نہ ہو۔

3- حجِ قضا میں ایک بڑا جانور (اونٹ یا گائے) ذبح کرنا واجب ہے۔

2- عورت کی طرف شہوت کے ساتھ دیکھنا اور چھونا۔

3- دستانے پہننا۔

4- (احرام کی حالت میں) سر کے بال مونڈنا یا کاٹنا، یا کسی اور طریقے سے ہٹانا ممنوع ہے۔ اسی طرح مشہور قول کے مطابق جسم کے دوسرے حصوں کے بال ہٹانا بھی منع ہے۔ البتہ اگر کوئی بال آنکھ میں آ جائے اور تکلیف دے رہا ہو، اور تکلیف دور کرنا اس کے نکالے بغیر ممکن نہ ہو، تو اس صورت میں اُسے نکالنے کی اجازت ہے، اور اس پر کوئی فدیہ نہیں ہوگا۔ اسی طرح مُحرِم اپنے سر کو ہاتھ سے کھجا سکتا ہے، پھر اگر بال بے ارادہ گر جائے تو اس پر بھی کچھ لازم نہیں آتا۔

5- ہاتھ یا پیر کے ناخن تراشنا: البتہ اگر کوئی ناخن ٹوٹ جاۓ اور اس سے تکلیف ہو تو صرف تکلیف دہ حصہ کو کاٹنے میں کوئی حرج نہیں، اور اس پر کوئی فدیہ نہیں ہے۔

6۔ احرام کے بعد کپڑے یا جسم یا کسی اور چیز پر خوشبو کا استعمال: وہ خوشبو جو احرام سے پہلے لگائی گئی ہو، اس کا احرام کے بعد باقی رہنا نقصان دہ نہیں ہے، کیونکہ احرام میں ممنوع یہ ہے کہ خوشبو "نئے سرے سے لگائے"، نہ کہ یہ کہ پہلے سے موجود خوشبو باقی رہ جائے۔ محرم کے لیے زعفران والی کافی(coffee) پینا جائز نہیں ہے، کیونکہ زعفران خوشبو میں سے ہے، سوائے اس کے کہ پکانے سے اس کا ذائقہ اور خوشبو ختم ہو چکی ہو اور صرف رنگ باقی رہ جائے تو کوئی حرج نہیں۔

7- شکار کرنا: خشکی کے حلال جنگلی جانور جیسے ہرن، خرگوش، کبوتر اور ٹڈی وغیرہ کا شکار کرنا ممنوع ہے۔ البتہ سمندری شکار (جیسے مچھلی پکڑنا) جائز ہے، اور اسی طرح پالتو جانور (جیسے مرغی، بکری وغیرہ) ذبح کرنا جائز ہے۔

اور اگر راستے میں ٹڈیاں پھیل جائیں اور اس کے سوا کوئی اور راستہ نہ ہو، اور مُحرِم کا پاؤں بلا ارادہ اُن پر پڑ جائے اور کچھ ٹڈیاں مر جائیں۔ تو اس پر کچھ لازم نہیں آئے گا، کیونکہ اُس نے جان بوجھ کر ان کو قتل نہیں کیا، اور نہ ہی اُن سے بچنا ممکن تھا۔

جہاں تک درخت کاٹنے کا تعلق ہے، تو درخت کاٹنا مُحرِم پر حرام نہیں ہے، کیونکہ احرام کا اس پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ درخت کاٹنے کی حرمت کا تعلق "حرم کی حدود" سے ہے، یعنی جو شخص حدودِ حرم کے اندر ہو، خواہ وہ محرم ہو یا غیر محرم، اُس پر حرم کے درخت کاٹنا منع ہے۔ لہٰذا: عرفہ میں درخت کاٹنا جائز ہے، کیونکہ وہ حدودِ حرم سے باہر ہے۔ منیٰ اور مزدلفہ میں درخت کاٹنا جائز نہیں، کیونکہ وہ دونوں حدود کے اندر ہیں۔

اور اگر کوئی چلتے ہوئے غیر ارادی طور پر کسی درخت کو نقصان پہنچا دے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، اسی طرح مردہ درختوں کو کاٹنا حرام نہیں ہے۔

جو چیزیں صرف مردوں پر حرام ہیں (عورتوں پر نہیں)، وہ دو ہیں:

1- سلا ہوا لباس پہننا: یعنی ایسا لباس پہننا جو عام حالات میں بدن پر مخصوص انداز سے پہنا جاتا ہے، جیسے قمیص (اور بنیان) اور شلوار وغیرہ، مرد کے لیے حالتِ احرام میں ان چیزوں کو معروف طریقے سے پہننا جائز نہیں ہے۔ البتہ اگر انھیں غیر معروف طریقے سے پہنا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں، مثلاً قمیص کو چادر کی طرح اوڑھے یا عباء (کشادہ نقاب) کو اس طرح پہنے کہ اس کے اوپر کا حصہ نیچے ہو، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اور اسی طرح مرد پیوند لگا ہوا یا جوڑا ہوا احرام بھی پہن سکتا ہے (خواہ وہ چادر ہو یا تہبند)۔

کمر بند، کلائی گھڑی اور عینک پہننا جائز ہے اور چادر کو کلپ وغیرہ سے باندھنا بھی جائز ہے؛ کیونکہ ان اشیاء کے بارے میں نہ تو نبی کریم ﷺ سے کوئی ممانعت ثابت ہے اور نہ ہی یہ اُن چیزوں کے حکم میں داخل ہیں جنھیں صراحت کے ساتھ منع کیا گیا ہے، بلکہ نبی ﷺ سے محرم کے لباس کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: ’’(مُحرِم مرد) نہ قمیص پہنے، نہ عمامہ باندھے، نہ شلوار، نہ برنس، اور نہ چمڑے کے موزے۔‘‘ [60] نبی ﷺ نے جب لباس کے بارے میں سوال کا جواب ان چیزوں کے ذکر سے دیا جو پہننا منع ہے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے علاوہ جو چیزیں مذکور نہیں، وہ محرم کے لیے جائز ہیں۔ آپ ﷺ نے محرم کو اس صورت میں چمڑے کے موزے (خفاف) پہننے کی اجازت دی ہے جبکہ اُس کے پاس نَعلین (کھلی چپلیں) نہ ہوں کیونکہ اُسے پاؤں کی حفاظت کی ضرورت ہے۔ اسی طرح آنکھوں کی حفاظت کے لیے عینک پہننے کی اجازت ہے۔ فقہاء نے مشہور قول کے مطابق محرم مرد کے لیے انگوٹھی پہننے کی اجازت دی ہے۔ [60] صحیح بخاری: کتاب الحج، باب ما لا يلبس المحرم من الثياب، حدیث نمبر: 1543، صحیح مسلم: کتاب الحج، باب ما يباح للمحرم بحج أو عمرة وما لا يباح وبيان تحريم الطيب عليه، حدیث نمبر: 1177، یہ حدیث ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔

اگر محرم کے پاس تہبند نہ ہو، اور نہ ہی اُسے خریدنے کی استطاعت ہو، تو وہ شلوار پہن سکتا ہے۔ اسی طرح اگر اُس کے پاس کھلی چپلیں نہ ہوں، اور اُنھیں خریدنے کی استطاعت بھی نہ ہو، تو وہ چمڑے کے موزے پہن سکتا ہے۔ کیونکہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ نبی ﷺ نے عرفات میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ’’جس کو جوتے نہ ملیں وہ موزے پہن لے اور جس کے پاس تہبند نہ ہو وہ شلوار پہن لے۔‘‘ [61] [61] صحیح بخاری: کتاب جزاء الصید، باب لبس الخفین للمحرم إذا لم یجد النعلین، حدیث نمبر: 1841، صحیح مسلم: کتاب الحج، باب ما یباح للمحرم بحج وعمرة وما لا یباح و بیان تحریم الطیب علیہ، حدیث نمبر: 1178، یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔

2- سر کو کسی متصل چیز سے ڈھانکنا منع ہے‘ جیسے عمامہ، غترہ، ٹوپی اور ان جیسی چیزیں، لیکن غیر متصل چیز جیسے خیمہ، چھتری، اور گاڑی کی چھت کے ذریعہ سایہ حاصل کرنے میں کوئی حرج نہیں؛ کیونکہ ممنوع سر کو ڈھانکنا ہے نہ کہ سایہ حاصل کرنا، اور ام حصین الاحمسیہ کی حدیث میں ہے‘ وہ فرماتی ہیں : ’’ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حجۃ الوداع میں حج کیا، میں نے دیکھا کہ جب آپ ﷺ نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں اور واپس ہوئے تو آپ ﷺ اپنی سواری پر تھے، اور آپ ﷺ کے ساتھ بلال اور اسامہ تھے، ان میں سے ایک آپ ﷺ کی سواری کو ہانک رہا تھا اور دوسرا آپ ﷺ کے سر پر کپڑا اٹھائے ہوئے تھا تاکہ آپ ﷺ کو دھوپ سے سایہ فراہم کرے۔‘‘ ایک روایت میں ہے: ’’نبی ﷺ کو سورج کی گرمی سے بچانے کے لیے آپ پر سایہ کر رہے تھے، یہاں تک کہ آپ نے جمرۂ عقبہ کی رمی کر لی۔‘‘ اسے احمد اور مسلم نے روایت کیا ہے [62]۔ یہ عید کے دن تحلل سے پہلے تھا؛ کیونکہ نبی ﷺ عید کے علاوہ دنوں میں جمرات کو پیدل کنکری مارتے تھے، سوار ہو کر نہیں۔ [63] [62] مسند امام احمد: 6/402‘ صحیح مسلم: کتاب الحج، باب استحباب رمي جمرة العقبة یوم النحر راکبًا، وبيان قوله ﷺ: «لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ»، حدیث نمبر: 1298، یہ حدیث ام الحصین رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔ [63] سنن ابو داود: كتاب المناسك، باب في رمي الجمار، حدیث نمبر: 1969، یہ حدیث ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔

محرم شخص کے لیے اپنے سر پر سامان اٹھانا جائز ہے بشرطیکہ اس کا مقصد سر کو ڈھانکنا نہ ہو، اسی طرح اس کے لیے پانی میں غوطہ لگانا بھی جائز ہے، چاہے اس کا سر پانی سے ڈھک جائے۔

وہ چیز جو عورتوں کے لیے (احرام کی حالت میں) حرام ہے، مگر مردوں کے لیے نہیں، وہ نقاب ہے۔ یعنی: عورت اپنے چہرے کو کسی ایسے کپڑے سے نہ ڈھانکے جس میں آنکھوں کے لیے سوراخ ہوں جن سے وہ دیکھ سکے (یعنی نقاب نہ پہنے)۔ بعض علماء کا کہنا ہے کہ عورت کے لیے چہرہ چھپانا جائز نہیں، نہ نقاب سے اور نہ کسی اور چیز سے، الّا یہ کہ مرد اس کے قریب سے گزریں، تو اس وقت اس کے لیے چہرہ ڈھانپنا ضروری ہوگا، اور اس پر کوئی فدیہ لازم نہیں آئے گا، چاہے وہ کپڑا چہرے کو لگے یا نہ لگے۔

پہلے ذکر کردہ ممنوعات کا ارتکاب کرنے والے کی تین حالتیں ہیں:

پہلی حالت: اگر کوئی شخص (احرام کی حالت میں) ممنوع کام بلا کسی عذر یا ضرورت کے انجام دے، تو وہ گناہ گار ہوگا اور اس پر فدیہ لازم آئے گا۔

دوسری حالت: اگر کوئی شخص کسی حاجت کی وجہ سے ممنوع عمل کر لے، مثلاً: شدید سردی سے بچنے کے لیے قمیص پہننے کی ضرورت پیش آئے اور اگر نہ پہنے تو نقصان کا اندیشہ ہو، تو ایسی صورت میں یہ عمل کرنا جائز ہے، مگر اس پر فدیہ لازم ہوگا۔ جیسا کہ کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہوا کہ انہیں جب نبی ﷺ کے پاس لایا گیا اور ان کے سر سے جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی تھیں، تو نبی ﷺ نے انھیں سر منڈوانے اور فدیہ دینے کا حکم فرمایا۔ [64] [64] صحیح بخاری: ابواب المحصر، باب: الإطعام في الفدية نصف صاع، حدیث نمبر: 1816، صحیح مسلم: کتاب الحج، باب: باب جواز حلق الرأس للمحرم إذا كان به أذى، ووجوب الفدية لحلقه، وبيان قدرها، حدیث نمبر: 1201، یہ حدیث : کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ۔

تیسری حالت: اگر کوئی شخص معذور ہونے کی وجہ سے ممنوع عمل کرے، یا تو لاعلمی وجہالت کی بنا پر، یا بھول کر، یا نیند میں، یا زبردستی کی وجہ سے، تو اس پر نہ کوئی گناہ ہے اور نہ ہی فدیہ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’تم سے بھول چوک میں جو کچھ ہو جائے اس میں تم پر کوئی گناه نہیں، البتہ گناه وه ہے جس کا تم اراده دل سے کرو...‘‘ [سورۃ الأحزاب : 5] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’... اے ہمارے رب! اگر ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا۔ ۔ ۔‘‘ [سورۃ البقرة : 286] نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’یقیناً میں نے کر دیا ہے۔‘‘ [65] [65] صحیح مسلم، کتاب الإیمان، باب بيان قوله تعالى :، حدیث نمبر: 126، حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔

نبی ﷺ کی حدیث میں ہے: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے میری امت سے غلطی، بھول چوک اور جس پر انھیں مجبور کیا گیا ہو، اسے معاف کر دیا ہے۔“ [66] [66] سنن ابن ماجه: كتاب الطلاق، باب طلاق المكره والناسي، حدیث نمبر: 2043، حدیث حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

یہ احرام کی ممنوعات وغیرہ سے متعلق عمومی نصوص ہیں جو جہالت، بھول چوک اور جبر کی وجہ سے معذور شخص کو مؤاخذہ سے بری کرتی ہیں، اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر شکار کے بارے میں فرمایا جو احرام کی ممنوعات میں سے ایک ہے: ’’اے ایمان والو! جب تم احرام کی حالت میں ہو تو شکار نہ مارو، اور جو شخص تم میں سے جان بوجھ کر شکار مارے گا تو اس پر فدیہ واجب ہوگا جو کہ اس جانور کے برابر ہوگا جس کو اس نے مارا ہے...‘‘ [سورۃ المائدۃ : 95] (آیت مذکورہ میں) بدلہ کا واجب ہونا قصدا قتل کرنے کے ساتھ مقید ہے اور قصدا ایک ایسا وصف ہے جو سزا اور تاوان کا مستوجب ہے، اس لیے اس کا اعتبار ضروری ہے اور حکم اسی وصف پر منحصر ہوگا۔ اس لیے اگر قصدا قتل نہ کرے تو اس پر کوئی فدیہ نہیں اور نہ کوئی گناہ ہے۔

مگر جب عذر زائل ہو جائے یعنی حکم سے نا واقف حکم کو جان لے یا بھولنے والے کو یاد آجائے، یا سونے والا بیدار ہو جائے ، یا مجبوری کی حالت ختم ہو جائے، تو ممنوع چیز سے فوراً باز آجانا ضروری ہے۔ اگر عذرختم ہونے کے باوجود بھی وہ ممنوعات احرام کا ارتکاب کر تا رہے تو وہ گنہگار ہو گا اور اس پر فدیہ واجب ہو گا۔ مثال کے طور پر: اگر کوئی مرد سوتے ہوئے اپنا سر ڈھانپ لے، تو جب تک وہ سویا ہوا ہے اس پر کوئی چیز نہیں، لیکن جب وہ جاگ جائے تو فوراً اپنا سر کھولنا لازم ہے، اگر وہ جانتے ہوئے بھی سر ڈھانپے رکھے تو اس پر فدیہ لازم ہوگا۔

جن محظورات (احرام کی حالت میں ممنوع کاموں) کا ہم نے ذکر کیا ہے، ان پر فدیے کی مقدار درج ذیل ہے:

1- بال اور ناخن کاٹنا، خوشبو لگانا؛ شہوت کے ساتھ مباشرت کرنا؛ بار بار دیکھنے سے انزال ہونا؛ پہلے تحلل کے بعد وطی کرنا؛ عمرہ کے دوران وطی کرنا؛ دستانے پہننا؛ مرد کا سلا ہوا کپڑا پہننا؛ سر ڈھانپنا؛ اور عورت کا نقاب پہننا، ان تمام ممنوعات میں فدیہ ایک جیسا ہے۔ یا تو ایک بکری ذبح کی جائے یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے یا تین روزے رکھے جائیں، ان تینوں میں سے جو چاہے اختیار کرے؛ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سر منڈانے کے بارے میں فرمایا: ’’پس تم میں سے جو بیمار ہو، یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو...‘‘ [سورۃ البقرۃ : 196] دیگر محظورات کو بھی اسی پر قیاس کیا گیا ہے۔ اگر وہ بکری ذبح کرنے کا انتخاب کرے تو وہ ایسی بکری یا بکرے کو ذبح کرے جو قربانی میں جائز ہو، یا اس کے بدلے میں اونٹ یا گائے کا ساتواں حصہ، اور سارا گوشت فقراء میں تقسیم کرے اور خود کچھ نہ کھائے، اگر مساکین کو کھلانے کا انتخاب کرے تو ہر مسکین کو نصف صاع دے جو کھانے میں دیا جاتا ہے جیسے کھجور یا گندم یا دیگر اشیاء، اور اگر روزے کا انتخاب کرے تو تین دن کے روزے رکھے؛ چاہے تو مسلسل رکھے یا الگ الگ۔

2- شکار کے بدلے میں، اگر شکار کا مثل موجود ہو تو تین چیزوں میں اختیار ہے؛ یا تو مثل کو ذبح کرے اور اس کا سارا گوشت مکہ کے فقراء میں تقسیم کرے، یا دیکھے کہ اس مثل کی قیمت کتنی ہے اور اس کے برابر کی قیمت کا کھانا نکالے، جو مساکین میں تقسیم کیا جائے؛ ہر مسکین کو نصف صاع، یا ہر مسکین کے کھانے کے بدلے ایک دن کا روزہ رکھے۔

اگر شکار کا کوئی بدل نہ ہو تو دو چیزوں میں سے ایک کا اختیار ہے؛ یا تو دیکھے کہ شکار کی قیمت کتنی ہے اور اس کے برابر کھانا مسکینوں میں تقسیم کرے، ہر مسکین کو آدھا صاع، یا پھر ہر مسکین کے کھانے کے بدلے میں ایک دن کا روزہ رکھے۔

اس شکار کی مثال جس کا بدل مویشیوں میں پایا جاتا ہے: تو ہم اس شخص سے کہیں گے جس نے کبوتر قتل کیا: اس کا فدیہ ایک بکری ذبح کرنا ہے، تمھیں اختیار ہے یا تو بکری ذبح کرو یا بکری کی قیمت کے برابر کا غلہ خرید کر حرم کے فقراء کو دیدو، اور ہر مسکین کو آدھا صاع غلہ دیدو، یا ہر مسکین کے غلہ کے برابر ایک دن کا روزہ رکھو۔

اور اس شکار کی مثال جس کا کوئی بدل نہیں: ٹڈی، تو ہم اس شخص سے کہیں گے جس نے جان بوجھ کر ٹڈی کو مارا: اگر چاہو تو دیکھو کہ ٹڈی کی قیمت کتنی ہے اور اس کے مقابلے میں حرم کے مساکیین کو کھانا دو؛ ہر مسکین کو آدھا صاع، اور اگر چاہو تو ہر مسکین کے کھانے کے بدلے ایک دن کا روزہ رکھو۔

3- حج کے دوران پہلے تحلُّل سے پہلے جماع (ہم بستری) کرنے پر ایک بَدَنہ (اونٹ یا گائے) بطور فدیہ دینا ضروری ہے۔

تیسرا فائدہ: چھوٹے بچے کا احرام:

نا بالغ بچے پر حج فرض نہیں ہے، لیکن اگر وہ حج کرے تو اسے حج کا اجر ملے گا اور جب بالغ ہو جائے تو دوبارہ حج کرے۔ اس کے والد، والدہ یا کوئی اور جو اس کی سرپرستی کر رہا ہو، اس کو احرام باندھے، مناسک کا ثواب بچے کو ملے گا، اور اس کے ولی کو اس پر اجر ملے گا؛ جیسا کہ (صحیح) میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے کہ ایک عورت نے نبی ﷺ کی خدمت میں ایک بچے کو اٹھا کر کہا: یا رسول اللہ، کیا اس بچے کا حج ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’ہاں، اور تمھارے لیے اجر ہے۔‘‘ [67] [67] صحیح مسلم: کتاب الحج، باب صحة حج الصبي، حدیث نمبر: 1336، حدیث ابن عباس رضي الله عنهما سے مروی ہے۔

اگر بچہ باشعور ہو، یعنی جو بات اسے کہی جائے وہ سمجھتا ہو، تو وہ خود احرام کی نیت کرے، اور اس کا ولی اسے کہے: فلاں چیز کے لیے احرام کی نیت کرو، اور اسے حج کے ان اعمال کو کرنے کا حکم دے جو وہ کر سکتا ہو، جیسے: عرفات میں وقوف، منیٰ اور مزدلفہ میں رات گزارنا۔ اور جو اعمال وہ کرنے سے قاصر ہو، جیسے جمرات کی رمی، تو اس کا ولی یا کوئی اور اس کی اجازت سے اس کی طرف سے انجام دے، سوائے طواف اور سعی کے، اگر وہ ان کو کرنے سے قاصر ہو تو اسے اٹھا کر لے جایا جائے، اور اسے کہا جائے: طواف کی نیت کرو، سعی کی نیت کرو۔ اس صورت میں اٹھانے والا اپنے لیے بھی طواف اور سعی کی نیت کر سکتا ہے، اور بچہ اپنے لیے، تو طواف اور سعی سب کے لیے ہو جائے گا؛ کیونکہ ہر ایک نے نیت کی ہے، اور نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اعمال (کی قبولیت) کا دار ومدار نیتوں پر ہے اور ہر آدمی کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔‘‘ [68]۔ [68] صحیح بخاری: کتاب بدء الوحی، باب كيف كان بدء الوحي إلى رسول الله ﷺ، حدیث نمبر:1، صحیح مسلم: کتاب الإمارة، باب قوله ﷺ: «إنما الأعمال بالنية» وأنه يدخل فيه الغزو وغيره من الأعمال، حدیث نمبر: 1907، حدیث عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

جب بچہ تمیز کرنے کے قابل نہ ہو تو اس کا ولی اس کی طرف سے احرام کی نیت کرے، اس کی طرف سے رمی کرے، اور اسے حج کے مشاعر، عرفہ، مزدلفہ اور منیٰ میں حاضر کرے، اس کے ساتھ طواف اور سعی کرے، لیکن اس حالت میں ولی (نگران) کے لیے یہ درست نہیں کہ وہ طواف اور سعی کی نیت اپنے لیے کرے، جبکہ وہ بچے کو لیے ہوئے طواف و سعی کر رہا ہو، کیونکہ اس بچے سے نہ نیت ہوئی ہے نہ عمل، بلکہ نیت تو محض اس کے ولی کی طرف سے ہے، اور ایک عمل دو افراد کے لیے، دو مختلف نیتوں کے ساتھ درست نہیں ہوتا۔ برخلاف اس کے جب بچہ تمیز کے قابل ہو؛ کیونکہ اس کی طرف سے نیت صادر ہوتی ہے، اور اعمال نیتوں پر موقوف ہیں، میرے نزدیک یہی بات درست معلوم ہوتی ہے۔ لہذا ولی پہلے اپنی طرف سے طواف اور سعی کرے، پھر بچے کے ساتھ طواف اور سعی کرے یا اسے کسی معتمد شخص کے سپرد کرے جو اس کے ساتھ طواف اور سعی کرے۔

چھوٹے بچے کا احرام بڑے بچے کے احرام کی طرح ہے؛ کیونکہ نبی ﷺ نے اس کے لیے حج کو ثابت کیا ہے، چنانچہ جب حج ثابت ہوا تو اس کے احکام اور لوازمات بھی ثابت ہوئے، لہذا اگر بچہ لڑکا ہو تو اسے ان چیزوں سے بچایا جائے گا جن سے بڑا مرد بچتا ہے، اور اگر لڑکی ہو تو اسے ان چیزوں سے بچایا جائے گا جن سے بڑی عورت بچتی ہے، لیکن چھوٹے بچے کی غلطی بڑے کی خطا کے برابر ہے، چنانچہ اگر وہ خود سے احرام کی ممنوعات میں سے کچھ کرے تو اس پر اور نہ ہی اس کے ولی پر کوئی فدیہ ہے۔

چوتھا فائدہ: حج میں نیابت:

جب کسی شخص پر حج فرض ہو جائے، اور وہ خود حج کرنے کی استطاعت رکھتا ہو تو اس پر واجب ہے کہ وہ حج کرے، اور اگر وہ خود حج کرنے سے عاجز ہو؛ لیکن اسے اپنی عاجزی ختم ہونے کی امید ہو، جیسے مریض کو شفا کی امید ہو تو وہ حج کو مؤخر کر سکتا ہے یہاں تک کہ وہ استطاعت حاصل کر لے، اور اگر اس سے پہلے انتقال کر جائے تو اس کی طرف سے اس کے ترکہ میں سے حج کروایا جائے گا، اور اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔

اگر جس پر حج فرض ہو چکا ہو اور وہ ایسا معذور ہو جس کی معذوری ختم ہونے کی امید نہ ہو، جیسے کہ بہت عمر دراز یا لا علاج بیماری کا شکار ہو، یا جو سواری پر سوار ہونے کی طاقت نہ رکھتا ہو، تو وہ کسی کو اپنا نائب بنائے جو اس کی طرف سے حج کرے؛ جیسا کہ صحیحین میں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے: ایک خثعمی عورت نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ کا فریضہ حج میرے والد پر اس وقت لازم ہوا ہے جب وہ بہت بوڑھے ہیں اور سواری پر ٹھہر نہیں سکتے، کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ہاں۔‘‘ [69] یہ واقعہ حجۃ الوداع کے موقع پر پیش آیا تھا۔ [69] صحیح بخاری: کتاب الحج، باب وجوب الحج وفضله، حدیث نمبر: 1513، صحیح مسلم: کتاب الحج، باب الحج عن العاجز لزمانة وهرم ونحوهما أو للموت، حدیث نمبر: 1334، حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔

مرد عورت کی طرف سے (حج یا عمرہ میں) وکیل بن سکتا ہے، اور عورت بھی مرد کی طرف سے وکیل بن سکتی ہے۔

اور اگر وکیل پر حج فرض ہوچکا ہو اور اس نے اپنی طرف سے حج نہیں کیا ہو تو وہ دوسرے کی طرف سے حج نہیں کرے گا، بلکہ پہلے اپنی طرف سے حج کرے گا؛ کیوں کہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: نبی ﷺ نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا: "لبیک عن شبرمہ"۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "شبرمہ کون ہے؟" اس نے کہا: "میرا بھائی ہے یا میرا کوئی قریبی ہے"۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "کیا تم نے اپنی طرف سے حج کیا ہے؟" اس نے کہا: "نہیں"۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "پہلے اپنی طرف سے حج کرو، پھر شبرمہ کی طرف سے حج کرو"۔ اسے ابو دؤاد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ [70] [70] ابو داود، كتاب المناسك، باب الرجل يحج عن غيره، حدیث: 1811، ابن ماجہ: كتاب المناسك، باب الحج عن الميت، حدیث: 2903، حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔

وکیل کے لیے بہتر ہے کہ وہ اپنے موکل کا ذکر صراحت کے ساتھ کرے، چنانچہ کہے: ’’لبَّيك عن فُلانٍ‘‘، اور اگر موکل عورت ہو تو کہے: ’’لبَّيك عن أُمِّ فُلانٍ‘‘ یا ’’عن بِنتِ فُلانٍ‘‘۔

اور اگر دل میں نیت کرلی اور نام ذکر نہ کیا تو کوئی حرج نہیں، اور اگر موکل کا نام بھول جائے تو دل میں اس کی نیت کرے جس نے اسے وکیل بنایا ہے، اگرچہ اس کا نام یاد نہ ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کو خوب جانتا ہے، اور اس پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔

وکیل پر واجب ہے کہ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرے، اور نسک کو مکمل طور سے ادا کرنے کا حرص مند ہو؛ کیونکہ وہ اس پر امین ہے، اس لیے واجب کو انجام دینے اور حرام سے بچنے کی پوری کوشش کرے، اور نسک اور اس کی سنتوں کو حتی الامکان مکمل کرے۔

پانچواں فائدہ: احرام کے لباس کو تبدیل کرنا:

محرم مرد یا عورت کے لیے حج یا عمرہ کے دوران احرام کے کپڑوں کو بدلنا جائز ہے، بشرطیکہ دوسرے کپڑے بھی وہ ہوں جو محرم کے لیے پہننا جائز ہو۔ اسی طرح محرم کے لیے احرام کے بعد جوتے پہننا بھی جائز ہے، اگرچہ احرام باندھتے وقت وہ ننگے پاؤں تھا۔

چھٹا فائدہ: طواف کی دو رکعتوں کی جگہ:

سنت یہ ہے کہ جب طواف سے فارغ ہو جائے تو طواف کی دو رکعتیں مقام ابراہیم کے پیچھے پڑھے، اگر مقام کے قریب جگہ کشادہ ہو تو بہتر ہے، ورنہ دور بھی پڑھ سکتا ہے، اور مقام کو اپنے اور کعبہ کے درمیان رکھے، تاکہ یہ کہا جا سکے کہ اس نے مقام کے پیچھے نماز پڑھی، اور اس میں نبی ﷺ کی ہدایت کی پیروی کی، جیسا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں نبی ﷺ کے حج کی صفت میں آیا ہے: ’’آپ ﷺ نے مقام کو اپنے اور بیت اللہ کے درمیان رکھا۔‘‘ [71] [71] صحیح مسلم: کتاب الحج، باب حجة النبي ﷺ، حدیث نمبر: 1218، یہ حدیث جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

ساتواں فائدہ: سعی میں اور سعی اور طواف کے درمیان موالات:

افضل یہ ہے کہ سعی طواف کے فوراً بعد کی جائے، لیکن اگر اس میں تاخیر ہو جائے تو کوئی حرج نہیں، جیسے: کوئی شخص دن کے آغاز میں طواف کرے اور آخر میں سعی کرے، یا رات میں طواف کرے اور دن میں سعی کرے۔ اور جو شخص سعی میں تھک جائے، اس کے لیے جائز ہے کہ بیٹھ کر آرام کرے، پھر اپنی سعی کو پیدل یا گاڑی وغیرہ پر مکمل کرے۔

جب نماز قائم ہو جائے اور وہ سعی کر رہا ہو تو نماز میں شامل ہو جائے، پھر جب سلام پھیرے تو جہاں سعی ختم کی تھی وہاں سے سعی مکمل کرے۔

اسی طرح اگر نماز قائم ہو جائے جبکہ وہ طواف کر رہا ہو یا جنازہ حاضر ہو جائے تو وہ نماز پڑھے، پھر جب فارغ ہو جائے تو وہیں سے طواف مکمل کرے جہاں نماز سے پہلے پہنچا تھا، اور اس چکر کو دوبارہ کرنے کی ضرورت نہیں جسے اس نے کاٹا تھا، میرے نزدیک راجح قول یہی ہے؛ کیونکہ اگر نماز کے لیے طواف روکنا معاف ہے، تو پہلے چکر کے باطل ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔

آٹھواں فائدہ: طواف یا سعی کی تعداد میں شک:

جب طواف کرنے والے کو طواف کی تعداد میں شک ہوجائے، اور وہ بہت زیادہ شکوک کا شکار ہو، جیسے: جسے وسوسہ کا عارضہ ہو، تو وہ اس شک پر توجہ نہ دے، اور اگر وہ بہت زیادہ شکوک کا شکار نہ ہو، اور اس کا شک طواف مکمل کرنے کے بعد ہو تو وہ اس شک پر بھی توجہ نہ دے، سوائے اس کے کہ اسے یقین ہو کہ طواف ناقص ہے تو وہ جو کمی رہ گئی ہے اسے پورا کرے، اور اگر شک طواف کے دوران ہو، جیسے: اسے شک ہو کہ وہ جس چکر میں ہے وہ تیسرا ہے یا چوتھا؟ تو اگر اس کے نزدیک کوئی ایک بات غالب ہو تو اسی پر عمل کرے، اور اگر کوئی بات غالب نہ ہو تو یقین پر عمل کرے جو کہ کم ہے۔

تو مذکورہ مثال میں، اگر اس کے نزدیک تین غالب ہو جائیں تو وہ تین کو تین مانے اور چار ادا کرے، اور اگر اس کے نزدیک چار غالب ہو جائیں تو وہ چار کو چار مانے اور تین ادا کرے، اور اگر اس کے نزدیک کچھ غالب نہ ہو تو وہ تین کو مانے؛ کیونکہ وہ یقین ہے اور چار ادا کرے۔

سعی کی تعداد میں شک کا حکم، طواف کی تعداد میں شک کے حکم کی طرح ہے، جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے۔

نواں فائدہ: وقوفِ عرفہ:

یہ پہلے ہی بیان کیا جاچکا ہے کہ حاجی کے لیے افضل یہ ہے کہ آٹھویں ذی الحجہ کو حج کا احرام باندھے، پھر منیٰ جائے اور وہاں باقی دن گزارے، اور نویں کی رات وہیں گزارے، پھر صبح کے وقت عرفات کی طرف جائے۔ یہ افضل طریقہ ہے، اگر کوئی بغیر منیٰ جائے سیدھا عرفات چلا جائے تو اس نے افضل کو چھوڑ دیا، لیکن اس پر کوئی گناہ نہیں۔

عرفہ میں وقوف کرنے والے پر لازم ہے کہ وہ اس کی حدود کی تاکیدی واقفیت حاصل کرے، کیونکہ بعض حاجی لاعلمی یا دوسروں کی تقلید میں حدود سے باہر وقوف کرتے ہیں، اور جو لوگ حدود عرفہ سے باہر وقوف کرتے ہیں ان کا حج نہیں ہوتا؛ کیونکہ انہوں نے عرفہ میں وقوف نہیں کیا، جیسا کہ نبی ﷺ کا فرمان ہے: ’’حج عرفہ ہی ہے۔‘‘ [72] عرفہ میں کسی بھی مقام پر وقوف کرے تو یہ کافی ہے؛ کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’میں نے یہاں وقوف کیا ہے اور پورا عرفہ وقوف کی جگہ ہے‘‘۔ [73] [72] سنن ابو داؤد: كتاب المناسك، باب من لم يدرك عرفة، حدیث نمبر: 1949، سنن ترمذی: أبواب الحج، باب ما جاء فيمن أدرك الإمام بجمع فقد أدرك الحج، حدیث نمبر: 889، سنن نسائی: كتاب مناسك الحج، باب فرض الوقوف بعرفة، حدیث نمبر: 3016، سنن ابن ماجہ: كتاب المناسك، باب من أتى عرفة قبل الفجر ليلة جمع، حدیث نمبر: 3015، یہ حدیث عبد الرحمن بن یعمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ [73] صحیح مسلم: کتاب الحج، باب ما جاء أن عرفة كلها موقف، حدیث نمبر: 1218، یہ حدیث جابر رضي الله عنه مروی ہے۔

جو شخص عرفہ میں وقوف کرے، اس کے لیے جائز نہیں کہ غروبِ شمس سے پہلے عرفہ کی حدود سے روانہ ہو؛ کیونکہ نبیﷺ غروب تک وہاں ٹھہرے رہے، اور فرمایا: ’’اپنے مناسکِ حج مجھ سے سیکھ لو۔‘‘ [74] [74] صحیح مسلم: کتاب الحج، باب استحباب رمي جمرة العقبة يوم النحر راكبا، وبيان قوله ﷺ: «لتأخذوا مناسككم»، حدیث نمبر: 1297، یہ حدیث جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

عرفہ میں وقوف کا وقت عید کے دن فجر کے طلوع ہونے تک ہے، چنانچہ جس پر عید کے دن فجر طلوع ہو گئی اور اس نے عرفہ میں وقوف نہیں کیا تو اس کا حج فوت ہو گیا، اگر اس نے احرام کے آغاز میں یہ شرط لگائی ہو: ’’اگر مجھے کوئی روکنے والا روکے تو میری حلت کی جگہ وہی ہے جہاں تو نے مجھے روکا ہے۔‘‘ [75] تو وہ اپنے احرام سے حلال ہوجائے اور اس پر کچھ نہیں ہے، اور اگر اس نے شرط نہ لگائی ہو اور وقوف چھوٹ گیا ہو تو وہ عمرہ کر کے حلال ہوجائے، یعنی بیت اللہ جائے، طواف کرے، سعی کرے اور بال منڈوائے، اور اگر اس کے پاس قربانی کا جانور ہو تو اسے ذبح کرے، پھر اگلے سال وہ حج کرے جو اس سے چھوٹ گیا اور قربانی کرے، اور اگر قربانی کا جانور نہ ملے تو دس روزے رکھے؛ تین ایام حج میں اور سات جب اپنے گھر لوٹ جائے۔ [75] سنن نسائی: كتاب مناسك الحج، كيف يقول إذا اشترط، حدیث نمبر: 2766، یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔

دسواں فائدہ: مزدلفہ سے روانگی:

مضبوط وتوانا شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ مزدلفہ سے عید کے دن فجر کی نماز ادا کئے بغیر روانہ ہو، کیونکہ نبیﷺ نے عید کی رات وہاں قیام فرمایا اور فجر کی نماز ادا کئے بغیر وہاں سے روانہ نہیں ہوئے، اور فرمایا: ’’اپنے مناسکِ حج مجھ سے سیکھ لو۔‘‘ [76] [76] صحیح مسلم: کتاب الحج، باب استحباب رمي جمرة العقبة یوم النحر راکباً، وبيان قوله ﷺ: «لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ»، حدیث نمبر: 1297، یہ حدیث جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

اور صحیح مسلم میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں: ’’سودہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے مزدلفہ کی رات کو آپ سے اور لوگوں کے ہجوم سے پہلے روانہ ہونے کی اجازت طلب کی، کیونکہ وہ ایک بھاری خاتون تھیں، تو آپ ﷺ نے انھیں اجازت دے دی، چنانچہ وہ آپ سے پہلے روانہ ہو گئیں، اور آپ ﷺ نے ہمیں روکے رکھا یہاں تک کہ صبح ہوگئی، پھر ہم آپ کے ساتھ روانہ ہوئے۔‘‘ [77] [77] صحیح بخاری: کتاب الحج، باب من قدم ضعفة أهله بليل، فيقفون بالمزدلفة، ويدعون، ويقدم إذا غاب القمر، حدیث نمبر: 1680، صحیح مسلم: کتاب الحج، باب استحباب تقديم دفع الضعفة من النساء وغيرهن من مزدلفة إلى منى في أواخر الليل قبل زحمة الناس، واستحباب المكث لغيرهم حتى يصلوا الصبح بمزدلفة، حدیث نمبر: 1290، حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔

ایک اور روایت میں ہے: ’’کاش! میں نے بھی رسول اللہ ﷺ سے ویسے ہی اجازت لے لی ہوتی جیسے سودہ نے لی تھی، تاکہ میں منیٰ میں فجر کی نماز ادا کر لیتی، اور لوگوں کے آنے سے پہلے جمرہ (عقبیٰ) کو کنکریاں مار لیتی۔‘‘ [78] [78] صحیح بخاری: كتاب الحج، باب من قدم ضَعَفَةَ أهْلِهِ بليلٍ، فيقفون بالمزدلفة، ويدعون، ويُقَدِّمُ إذا غاب القمر، حدیث نمبر: 1681، صحیح مسلم: كتاب الحج، باب استحباب تقديم دفع الضعفة من النساء وغيرهن من مزدلفة إلى منى في أواخر الليل قبل زحمة الناس، واستحباب المكث لغيرهم حتى يصلوا الصبح بمزدلفة، حدیث نمبر: 1290، حدیث حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔

جہاں تک کمزور شخص کا تعلق ہے جس پر جمرہ کے پاس لوگوں کی بھیڑ میں داخل ہونا شاق ہو، تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ چاند غروب ہونے کے بعد فجر سے پہلے روانہ ہو جائے، اور لوگوں سے پہلے جمرہ کو کنکری مار لے، (صحیح مسلم) میں اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: ’’وہ چاند کے غروب ہونے کا انتظار کرتی تھیں اور اپنے خادم سے پوچھتی تھیں: کیا چاند غروب ہو گیا؟ جب وہ کہتا: ہاں، تو وہ کہتیں: مجھے لے چلو۔ راوی کہتے ہیں: پھر وہ روانہ ہوئیں یہاں تک کہ جمرہ (عقبہ) کو کنکریاں ماریں، پھر اپنے ٹھکانے پر فجر کی نماز ادا کی۔ میں نے ان سے کہا: اے محترمہ، ہم نے غسل کر لیا ہے۔ تو انھوں نے کہا : نہیں، اے میرے بیٹے! بے شک نبی کریم ﷺ نے عورتوں (یعنی کمزوروں کو) جلدی روانہ ہونے کی اجازت دی تھی۔‘‘ [79]۔ [79] صحیح بخاری: كتاب الحج، باب من قدم ضعفة أهله بليل، فيقفون بالمزدلفة، ويدعون، ويقدم إذا غاب القمر، حدیث نمبر: 1679، صحیح مسلم كتاب الحج، باب استحباب تقديم دفع الضعفة من النساء وغيرهن من مزدلفة إلى منى في أواخر الليل قبل زحمة الناس، واستحباب المكث لغيرهم حتى يصلوا الصبح بمزدلفة، حدیث نمبر: 1291، یہ حدیث اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔

جو ان کمزوروں میں سے ہو جنھیں فجر سے پہلے مزدلفہ سے روانہ ہونے کی اجازت ہے، تو وہ ان کے ساتھ فجر سے پہلے روانہ ہو سکتا ہے؛ کیونکہ نبی ﷺ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنے اہل خانہ کے کمزور افراد کے ساتھ رات کے وقت مزدلفہ سے روانہ کیا تھا۔ اگر وہ کمزور ہو تو جب منی پہنچے تو ان کے ساتھ جمرہ کی رمی کرے؛ کیونکہ وہ بھیڑ کا سامنا نہیں کر سکتا، لیکن اگر وہ لوگوں کی بھیڑ کا سامنا کر سکتا ہو تو رمی کو سورج طلوع ہونے تک مؤخر کرے؛ جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث میں آیا ہے: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں، یعنی بنی عبد المطلب کے چھوٹے بچوں کو، مزدلفہ کے مقام سے ہمارے گدھوں پر روانہ کیا۔ آپ ﷺ ہماری رانوں پر ہاتھ پھیرتے اور فرماتے : ’’میرے پیارے بیٹو! سورج طلوع ہونے سے پہلے کنکریاں نہ مارنا‘‘۔ اس حدیث کو پانچوں (محدثین) نے روایت کیا ہے، اور امام ترمذی اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔[80] [80] سنن ابو داود: كتاب المناسك، باب التعجيل من جمع، حدیث نمبر: 1940، جامع الترمذی: کتاب الحج، باب ما جاء في تقديم الضعفة من جمع بليل، حدیث نمبر: 893، سنن النسائي: كتاب مناسك الحج، باب النهي عن رمي جمرة العقبة قبل طلوع الشمس، حدیث نمبر: 3064، سنن ابن ماجہ: كتاب المناسك، باب من تقدم من جمع إلى منى لرمي الجمار، حدیث نمبر: 3025، اور صحیح ابن حبان، حدیث نمبر: 3869، حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔

خلاصہ: مزدلفہ سے روانگی اور عید کے دن جمرہ عقبہ کی رمی کا طریقہ حسب ذیل ہے :

1- جو شخص طاقتور ہو اور اس کے ساتھ کوئی کمزور نہ ہو، تو وہ مزدلفہ سے فجر کی نماز پڑھنے کے بعد ہی روانہ ہو، اور سورج نکلنے تک جمرہ کو کنکری نہ مارے؛ کیونکہ یہی نبی کریم ﷺ کا عمل تھا جو آپ نے کیا، اور آپ فرماتے تھے: ’’اپنے مناسکِ حج مجھ سے سیکھ لو۔‘‘ [81] کسی بھی طاقتور شخص کو مزدلفہ سے فجر سے پہلے روانہ ہونے یا سورج طلوع ہونے سے پہلے جمرہ کو کنکریاں مارنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ [81] صحیح مسلم: كتاب الحج، باب استحباب رمي جمرة العقبة يوم النحر راكباً، وبيان قوله ﷺ: «لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ»، حدیث نمبر: 1297، یہ حدیث حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

2- جو شخص طاقتور ہو اور اس کے ساتھ کمزور اہل خانہ ہوں، تو اگر وہ چاہے تو ان کے ساتھ رات کے آخر میں روانہ ہو سکتا ہے، اور کمزور شخص جب منیٰ پہنچے تو جمرہ کی رمی کرے، لیکن طاقتور شخص طلوعِ شمس تک رمی نہ کرے؛ کیونکہ اس کے پاس کوئی عذر نہیں ہے۔ [82] [82] ہمارے شیخ مؤلف رحمہ اللہ نے فتاویٰ حج (ج2، ص272 اور اس کے بعد) میں فرمایا: ”طاقتور شخص جو کمزوروں کے ساتھ ہو، اس کے لیے جائز ہے کہ وہ ان کے ساتھ جا کر جمرہ عقبہ کو فجر سے پہلے کنکری مارے، کیونکہ جو چیز تبعاً ثابت ہوتی ہے وہ مستقل طور پر ثابت نہیں ہوتی۔“

3 : کمزور کے لیے جائز ہے کہ وہ رات کے آخری حصے میں چاند غائب ہو جانے کے بعد مزدلفہ سے روانہ ہو، اور جب منیٰ پہنچے تو جمرہ کو کنکریاں مارے۔

جو شخص عید کی رات فجر کے طلوع ہونے کے بعد ہی مزدلفہ پہنچے اور وہاں نماز ادا کرے جبکہ وہ فجر سے پہلے عرفہ میں وقوف کر چکا ہو، تو اس کا حج صحیح ہے؛ کیوں کہ عروہ بن مضرِّس کی حدیث ہے جس میں نبیﷺ نے فرمایا: ’’جو ہمارے ساتھ اس نماز یعنی فجر میں حاضر رہا، اور ہمارے ساتھ (مزدلفہ سے) روانہ ہونے تک وقوف کیا، اور اس سے پہلے رات یا دن کو عرفہ میں ٹھہر چکا ہو تو اس کا حج پورا ہو گیا، اور اس نے اپنا میل کچیل دور کر لیا‘‘۔ اس حدیث کو پانچوں (محدثین) نے روایت کیا ہے، اور امام ترمذی اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔[83] [83] سنن ابو داود: كتاب المناسك، باب من لم يدرك عرفة، حدیث نمبر: 1950، جامع الترمذی: كتاب الحج، باب ما جاء فيمن أدرك الإمام بجمع فقد أدرك الحج، حدیث نمبر: 891، سنن نسائی: كتاب مناسك الحج، باب فيمن لم يدرك صلاة الصبح مع الإمام بالمزدلفة، حدیث نمبر: 3041، سنن ابن ماجہ: كتاب المناسك، باب من أتى عرفة قبل الفجر، حدیث نمبر: 3016، حاکم: 1/634، یہ حدیث عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

اس حدیث کا ظاہری مطلب یہ ہے کہ اس پر کوئی دم نہیں ہے؛ کیونکہ اس نے مزدلفہ میں وقوف کے وقت کا کچھ حصہ پایا اور مشعر حرام کے پاس اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جیسا کہ اس نے فجر کی نماز ادا کی، لہذا اس کا حج مکمل ہوا، اگر اس پر دم ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو ضرور بیان فرماتے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔

گیارہواں فائدہ: رمی کے متعلق:

1- جس کنکری سے رمی کی جاتی ہے وہ چنے اور اخروٹ کے دانے کے درمیان ہونی چاہیے، نہ بہت بڑی اور نہ بہت چھوٹی، کنکریاں منیٰ، مزدلفہ یا کسی اور جگہ سے ہر دن کے لیے الگ الگ چنی جائیں۔ نبی ﷺ سے یہ ثابت نہیں ہے کہ آپ نے مزدلفہ سے کنکریاں چنی ہوں، یا یہ کہ آپ نے تمام دنوں کی کنکریاں چن کر جمع کی ہوں، اور نہ ہی آپ ﷺ نے اپنے صحابہ میں سے کسی کو اس کا حکم دیا ہو، جتنا کہ مجھے علم ہے۔

2- رمی میں ضروری نہیں کہ کنکری ستون کو براہ راست لگے، بلکہ ضروری یہ ہے کہ وہ اسی حوض میں جا کر ٹھہر جائے جس میں کنکریاں جمع ہوتی ہیں، لہذا اگر کنکری ستون کو لگے اور حوض میں نہ گرے تو اس کی جگہ دوسری کنکری پھینکنا واجب ہے، اور اگر حوض میں گر کر ٹھہر جائے تو کافی ہے اگرچہ ستون کو نہ لگے۔

3- اگر کوئی شخص کسی ایک جمرہ کو بھول چوک میں سات کے بجائے چھ ہی کنکریاں مارے، اور اسے یاد نہ آئے یہاں تک کہ وہ اپنے مقام پر پہنچ جائے، تو وہ واپس آکر بھولی ہوئی کنکری مارے اور اس پر کوئی حرج نہیں ہے۔ اور اگر سورج غروب ہوجائے اس سے پہلے کہ اسے یاد آئے، تو وہ اسے دوسرے دن تک مؤخر کردے، پھر جب سورج زوال پذیر ہو تو سب سے پہلے بھولی ہوئی کنکری مارے، پھر اس دن کے لیے جمرات کو کنکریاں مارے۔

بارہواں فائدہ: پہلے اور دوسرے تحلل کے متعلق:

جب حاجی عید کے دن جمرۂ عقبہ کو کنکر مارے اور اپنے سر کا حلق کرائے یا بال کٹوائے تو تحلل اول حاصل ہوجاتا ہے اور اس کے لیے احرام کی تمام پابندیاں ختم ہوجاتی ہیں، جیسے خوشبو لگانا، لباس پہننا، بال اور ناخن کاٹنا وغیرہ، سوائے عورتوں کے، کیونکہ اس کے لیے جائز نہیں کہ اپنی بیوی سے مباشرت کرے یا اسے شہوت سے دیکھے جب تک کہ وہ بیت اللہ کا طواف اور صفا ومروہ کے درمیان سعی نہ کرلے، جب وہ طواف اور سعی کرلے تو تحلل ثانی حاصل ہوجاتا ہے اور اس کے لیے احرام کی تمام پابندیاں ختم ہوجاتی ہیں حتی کہ عورتیں بھی، لیکن جب تک وہ حرم کی حدود میں ہے اس کے لیے شکار کرنا، درخت کاٹنا اور سبز گھاس کاٹنا جائز نہیں، یہ حرم کی حرمت کی وجہ سے ہے نہ کہ احرام کی وجہ سے، کیونکہ احرام سے وہ آزاد ہوچکا ہے۔

تیرہواں فائدہ: کنکری مارنے کے لیے وکیل بنانے سے متعلق:

جو شخص خود سے جمرات کو کنکری مارنے کی قدرت رکھتا ہو، اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی کو اپنی طرف سے رمی کرنے کے لیے وکیل بنائے، خواہ اس کا حج فرض ہو یا نفل؛ کیونکہ نفل حج کو شروع کرنے کے بعد اس کا مکمل کرنا لازم ہے۔ جو شخص خود سے رمی کرنے میں مشقت محسوس کرے، جیسے بیمار، بوڑھا، حاملہ عورت اور ان جیسے دیگر افراد، تو ان کے لیے جائز ہے کہ وہ کسی کو اپنی طرف سے رمی کرنے کے لیے وکیل بنائیں، خواہ ان کا حج فرض ہو یا نفل، اور خواہ انھوں نے کنکریاں چن کر وکیل کو دی ہوں یا وکیل نے خود ہی چن لی ہو، یہ سب جائز ہے۔

وکیل پہلے اپنی طرف سے رمی کرے، پھر اپنے موکّل کی طرف سے؛ کیونکہ نبی ﷺ کا عام فرمان ہے: ’’اپنے آپ سے شروع کرو‘‘۔[84] اورآپ کا فرمان ہے: ’’پہلے اپنے لیے حج کرو، پھر شبرمہ کے لیے حج کرو‘‘۔[85] [85] سنن ابو داود: كتاب المناسـك، باب الرجـل يحـج عن غـيره، حدیث نمبر: 1811، سنن ابن ماجہ: كتاب المناسك، باب الحج عن الميت، حدیث نمبر: 2903، یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ [84] صحیح مسلم: کتابُ الزكاة، باب الابتداء في النفقة بالنفس ثم أهله، حدیث نمبر: 997۔

یہ جائز ہے کہ ایک ہی جگہ کھڑے کھڑے پہلے اپنی طرف سے رمی کرے، پھر اپنے موکل کی طرف سے، تو پہلی جمرہ کو سات کنکریاں اپنی طرف سے مارے، پھر سات کنکریاں اپنے موکل کی طرف سے، اور اسی طرح دوسری اور تیسری جمرہ کو بھی، جیسا کہ جابر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے: ’’ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا تو بچوں کی طرف سے تلبیہ کہا اور ان کی طرف سے رمی کی۔‘‘ اسے امام احمد اور امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ [86] بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے یہ عمل ایک ہی دفعہ میں انجام دیا؛ کیونکہ اگر وہ اپنی طرف سے تین مکمل کرتے پھر بچوں کی طرف سے دوبارہ شروع کرتے تو یہ بات نقل کی جاتی، واللہ اعلم۔ [86] مسند احمد 22/269 (14370) [طبعة الرسالة]، سنن ابن ماجه: كتاب المناسك، باب الرمي عن الصبيان، حدیث نمبر: 3038، حدیث جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

چودہواں فائدہ: عید کے دن کے مناسک:

حاجی عید کے دن چار مناسک ترتیب وار اس طرح انجام دے گا:

1- جمرۂ عقبہ کو کنکریاں مارنا۔

2- اگر ہدی کا جانور ہو تو اس کو ذبح کرنا۔

3 : بال منڈوانا یا کٹوانا۔

4 : بیت اللہ کا طواف کرنا۔

جہاں تک سعی کا تعلق ہے، تو اگر حاجی متمتع ہو تو حج کے لیے سعی کرے گا، اور اگر قارن یا مفرِد ہو اور اس نے طواف قدوم کے بعد سعی کی ہو تو اس کی پہلی سعی کافی ہوگی، ورنہ اس طواف کے بعد سعی کرے گا، یعنی: طواف حج کے بعد۔

مشروع یہ ہے کہ ان اعمال کو اسی ترتیب سے انجام دے، اگر ان میں سے بعض کو بعض پر مقدم کر دے؛ مثلاً رمی سے پہلے ذبح کر دے، یا ذبح سے پہلے حلق کر لے، یا حلق سے پہلے طواف کر لے، تو اگر وہ بھول گیا ہو یا نہ جانتا ہو تو اس پر کوئی حرج نہیں، اور اگر جان بوجھ کر اور علم کے باوجود ایسا کرے تو امام احمد کے مشہور مذہب کے مطابق اس پر بھی کوئی حرج نہیں؛ کیونکہ بخاری نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ سے پوچھا گیا کہ جس نے ذبح سے پہلے حلق کر لیا اور اسی طرح کے دیگر امور کے بارے میں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’کوئی حرج نہیں‘‘ [87]۔ [87] صحیح بخاری: کتاب الحج، باب الذبح قبل الحلق، حدیث نمبر: 1722، صحیح مسلم: کتاب الحج، باب من حلق قبل النحر، أو نحر قبل الرمي، حدیث نمبر: 1703، یہ حدیث ابن عباس رضي الله عنهما سے مروی ہے۔

اور انہی سے مروی ہے: نبی ﷺ سے قربانی کے دن منیٰ میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ’’کوئی حرج نہیں۔‘‘ ایک شخص نے آپ سے پوچھا: میں نے ذبح کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا۔ آپ نے فرمایا: ’’ذبح کرو، کوئی حرج نہیں۔‘‘ اور اس نے کہا: میں نے شام کے بعد کنکریاں ماری۔ آپ نے فرمایا: ’’کوئی حرج نہیں۔‘‘ [88]۔ [88] صحیح بخاری: كتاب الحج، باب إذا رمى بعد ما أمسى، أو حلق قبل أن يذبح، ناسيا أو جاهلا، حدیث نمبر: 1735، صحیح مسلم: کتاب الحج، ن حلق قبل النحر، أو نحر قبل الرمي، حدیث نمبر: 1703، حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔

اور انہی سے ایک اور روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ سے ذبح، حلق، رمی، تقدیم اور تاخیر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’کوئی حرج نہیں‘‘۔ [89]۔ [89] صحیح بخاری: كتاب الحج، باب إذا رمى بعد ما أمسى أو حلق قبل أن يذبح، حدیث نمبر: 1734، صحیح مسلم : كتاب الحج، باب من حلق قبل النحر أو نحر قبل الرمي، حدیث نمبر: 1307، حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔

نبی کریم ﷺ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے رمی سے پہلے طواف زیارت کر لیا، یا رمی سے پہلے قربانی کر دی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’کوئی حرج نہیں‘‘۔ اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے [90]۔ [90] صحیح بخاری: کتاب الحج، باب الذبح قبل الحلق، حدیث نمبر: 1722، صحیح مسلم : کتاب الحج، باب من حلق قبل النحر، أو نحر قبل الرمي، حدیث نمبر: 1703، حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔

عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے، انھوں نے کہا: اس دن نبی کریم ﷺ سے کسی چیز کے بارے میں نہیں پوچھا گیا جو پہلے یا بعد میں کیا گیا ہو مگر آپ نے فرمایا: ’’کروکوئی حرج نہیں‘‘۔[91]۔ [91] صحیح بخاری: كتاب العلم، باب الفتيا وهو واقف على الدابة وغيرها، حدیث نمبر: 83، صحیح مسلم: كتاب الحج، باب من حلق قبل النحر أو نحر قبل الرمي، حدیث نمبر: 1306، حدیث ابن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔

اگر کوئی شخص قربانی کو مکہ مکرمہ پہنچنے تک مؤخر کردے تو کوئی حرج نہیں، لیکن ایام تشریق کے بعد مؤخر نہ کرے۔ اگر کوئی طواف یا سعی کو یوم العید کے بعد مؤخر کردے تو کوئی حرج نہیں، لیکن انھیں ماہ ذی الحجہ کے بعد مؤخر نہ کرے، الا یہ کہ کوئی عذر ہو، جیسے: اگر عورت کو طواف سے پہلے نفاس ہو جائے تو وہ طواف کو پاک ہونے تک مؤخر کر سکتی ہے، چاہے یہ ماہ ذی الحجہ کے بعد بھی ہو تو اس پر کوئی حرج نہیں اور نہ ہی کوئی فدیہ لازم ہے۔

پندرھواں فائدہ: کنکری مارنے کے وقت، ترتیب، اور جمرات سے متعلق:

پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ عید کے دن رمی کا وقت اہلِ استطاعت کے لیے طلوعِ آفتاب کے بعد ہے، البتہ جس پر لوگوں کا ازدحام شاق گزرے تو اس کے لیے عید کی رات کے آخری حصے میں ہے، اور ایامِ تشریق میں رمی کا وقت زوالِ آفتاب کے بعد ہے، زوال سے پہلے رمی نہیں ہے؛ کیونکہ نبیﷺ نے ایامِ تشریق میں زوال کے بعد ہی رمی کی، اور فرمایا: ’’اپنے مناسکِ حج مجھ سے سیکھ لو۔‘‘ [92] [92] صحیح مسلم: كتاب الحج، باب استحباب رمي جمرة العقبة يوم النحر راكباً، وبيان قوله ﷺ: «لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ»، حدیث نمبر: 1297، حدیث حضرت جابر رضی اللہ عنہ مروی ہے۔

یومِ عید اور اس کے بعد رمی کا وقت غروبِ شمس تک جاری رہتا ہے، لہذا رات میں رمی نہیں کی جائے گی، بعض علماء کا کہنا ہے کہ اگر دن میں رمی فوت ہو جائے تو رات میں رمی کر سکتا ہے سوائے چودہویں رات کے؛ کیونکہ ایامِ منیٰ تیرہویں دن کے غروبِ شمس سے ختم ہو جاتے ہیں، پہلا قول زیادہ محتاط ہے، اسی بنا پر اگر کسی دن کی رمی فوت ہو جائے تو وہ اگلے دن زوالِ شمس کے بعد رمی کرے، اور جس دن کی رمی فوت ہوئی ہو اس سے شروع کرے، جب اسے مکمل کر لے تو موجودہ دن کی رمی کرے۔ [93] [93] ہمارے شیخ مؤلف رحمہ اللہ نے (فتاویٰ الحج) میں فرمایا : ’’حاجی کے لیے افضل یہ ہے کہ وہ دن میں جمرات کو کنکری مارے، لیکن اگر ازدحام کا خوف ہو تو رات میں مارنے میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ نبی ﷺ نے رمی کے آغاز کا وقت مقرر کیا تھا، لیکن اختتام کا وقت مقرر نہیں کیا، تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملے میں وسعت ہے۔‘‘

ترتیب کے ساتھ تینوں جمرات کو مارنا واجب ہے۔ پہلے جمرۂ اولیٰ کو مارے جو مسجد خیف کے قریب ہے، پھر جمرۂ وسطیٰ کو، اور پھر جمرۂ عقبہ کو۔ اگر کسی نے جمرۂ عقبہ سے یا جمرۂ وسطیٰ سے شروع کیا، تو اگر جان بوجھ کر اور علم کے باوجود کیا تو اس پر لازم ہے کہ جمرۂ وسطیٰ اور پھر جمرۂ عقبہ کو دوبارہ مارے، اور اگر بھول چوک یا لاعلمی کی وجہ سے کیا تو اس کے لیے کافی ہے اور اس پر کچھ لازم نہیں۔

سولہواں فائدہ: منیٰ میں رات گزارنے سے متعلق:

گیارہویں اور بارہویں (ذی الحجۃ) کی رات منیٰ میں گزارنا واجب ہے، اور واجب یہ ہے کہ رات کا زیادہ تر حصہ منیٰ میں گزارا جائے، چاہے رات کے شروع میں ہو یا آخر میں۔ چنانچہ اگر کوئی شخص رات کے شروع میں مکہ چلا جائے اور پھر نصف رات سے پہلے واپس آجائے یا نصف رات کے بعد مکہ سے منیٰ آئے تو اس پر کوئی حرج نہیں؛ کیونکہ اس نے واجب کو پورا کر لیا ہے۔

حاجی پر ضروری ہے کہ وہ منیٰ کی حدود سے اچھی طرح واقف ہوجائے، تاکہ حدود سے باہر رات نہ گزارے۔ اس کی حد مشرق کی طرف وادی محسر اور مغرب کی طرف جمرہ عقبہ ہے، البتہ نہ وادی منی شامل ہے اور اور نہ ہی جمرہ۔ جہاں تک منیٰ کو گھیرنے والے پہاڑوں کا تعلق ہے تو ان کا وہ حصہ جو منیٰ کی طرف ہے، وہاں رات گزارنا جائز ہے۔ حاجی کو وادی محسر یا جمرہ عقبہ کے پیچھے رات گزارنے سے بچنا چاہیے، کیونکہ یہ منیٰ کی حدود سے باہر ہیں، اور جو شخص وہاں رات گزارے گا اس کا مبیت پورا نہیں ہوگا۔ [94]۔ [94] ہمارے شیخ مؤلف نے [فتاویٰ الحج (ج2/ص436 وما بعده)] میں فرمایا: «یہ اس صورت میں ہے کہ جب منیٰ میں جگہ مل جائے، لیکن اگر جگہ نہ ملے تو کوئی حرج نہیں کہ منیٰ کی حدود کے باہر کسی بھی جانب رات گزارے اور اس کا مقام حاجیوں کے مقامات سے متصل ہو تاکہ وہ ایک امت بن کر جمع رہیں، جیسے ہم کہتے ہیں کہ اگر مسجد نمازیوں سے بھر جائے تو وہ اپنی نماز متصل صفوں میں ادا کریں گے چاہے وہ مسجد کے باہر ہی کیوں نہ ہوں اور اس میں ان پر کوئی حرج نہیں»۔

سترھواں فائدہ: طوافِ وداع کے بارے میں:

طواف وداع مکہ سے نکلتے وقت ہر حاجی اور معتمر پر واجب ہے، سوائے حائضہ اور نفاس والی عورت کے، لیکن اگر وہ دونوں مکہ کی حدود سے نکلنے سے پہلے پاک ہو جائیں تو ان پر طواف وداع لازم ہے۔ اگر کسی نے طواف وداع کر لیا اور پھر مکہ سے نکل کر ایک دن یا اس سے زیادہ قیام کیا تو اس پر طواف کا اعادہ لازم نہیں، چاہے اس کا قیام مکہ کے قریب ہی کیوں نہ ہو۔

والله أعلم! وصلى الله وسلم على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه اجمعين۔

ازقلم : محمد صالح العثیمین، ۷ شعبان، سنہ ۱۳۸۷ھ، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس کی نعمت سے نیک کام مکمل ہوتے ہیں۔ اس کی تصحیح ۱۳ رمضان، سنہ ۱۳۸۷ھ، بروز جمعرات، صبح کے وقت مکمل ہوئی، اور درود وسلام ہو محمد پر اور آپ کی آل واولاد اور تمام صحابہ کرام پر۔