فضائل وآداب المسجد النبوي
مسجدِ نبوی کے فضائل وآداب اور نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے دونوں صحابہ رضی اللہ عنہما کی قبروں کی زیارت کے احکام
مسجدِ نبوی کے فضائل وآداب اور نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے دونوں صحابہ رضی اللہ عنہما کی قبروں کی زیارت کے احکام
ترتیب
مسجد حرام اور مسجد نبوی میں دینی امور کے سربراہ ادارہ کے ماتحت علمی کمیٹی
1447ھ
مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو سارے جہانوں کا رب ہے، اور درود وسلام ہو اُس نبی پر جو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے، نیز آپ کے اہلِ بیت، صحابہ کرام، اور قیامت تک آنے والے ان تمام لوگوں پر جو آپ کی سنت پر چلیں اور آپ کی ہدایت کی پیروری کریں۔ اما بعد:
یہ ایک مختصر کتاب ہے جس میں مسجدِ نبوی کے اہم فضائل، اس کی زیارت کے آداب، نیز نبی ﷺ اور آپ کے دونوں صحابہ (ابو بکر وعمر) رضی اللہ عنہما کی قبروں کی زیارت کے آداب بیان کیے گئے ہیں۔ ہم نے اسے مسجدِ نبوی کے زائرین کے لیے ترتیب دیا ہے، تاکہ وہ نبیِ امت ﷺ کی مسجد کے فضائل، اس کی زیارت اور اس میں نماز پڑھنے کے آداب سے آگاہی اور بصیرت حاصل کر سکیں۔ ہم اللہ کریم ومنان سے دعا کرتے ہیں کہ وہ اس سے نفع پہنچائے اور اس عمل کو خالص اپنی رضا کے حصول کا ذریعہ بنائے، بے شک وہ بہترین سوال کیا جانے والا اور سب سے زیادہ کرم فرمانے والا ہے۔
علمی کمیٹی
پہلا باب: مسجدِ نبوی کے فضائل
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’اور آپ کا رب جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور جسے چاہتا چن لیتا ہے، ان میں سے کسی کو کوئی اختیار نہیں، اللہ ہی کے لیے پاکی ہے، وه بلند تر ہے ہر اس چیز سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں۔‘‘ [القصص : 68] اللہ تعالیٰ نے اس جگہ کو اپنے نبی ﷺ کی مسجد کے لیے منتخب فرمایا اور اسے بہت سے فضائل وخصوصیات سے نوازا، جن میں سے چند یہ ہیں :
یہ ان تین مساجد میں سے ایک ہے جن کی طرف رخت سفر باندھا جاتا ہے:
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں: ”تین مساجد کے علاوہ کسی اور جگہ کا رخت سفر نہ باندھا جائے: میری یہ مسجد (مسجدِ نبوی)، مسجد حرام اور مسجد اقصی۔“ [1] [1] صحیح بخاری: 1189، صحیح مسلم: 1397۔ مذکورہ الفاظ صحیح مسلم کے ہیں۔
مسجدِ نبوی میں مسجدِ حرام کے علاوہ دیگر مساجد کی نسبت نماز ادا کرنے کا ثواب ایک ہزار گنا زیادہ ہے:
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: "میری اس مسجد میں پڑھی گئی ایک نماز، مسجدِ حرام کے علاوہ دیگر مسجدوں میں پڑھی گئی ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے"۔[2] [2] صحیح بخاری: 1190، صحیح مسلم: 1395، مذکورہ الفاظ صحیح بخاری کے ہیں۔
یہ وہ مسجد ہے جس کی بنیاد پہلے ہی دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے:
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آپ کی ازواج مطہرہ میں سے کسی کے گھر حاضر ہوا تو میں نے عرض کیا: ’’اے اللہ کے رسول! دونوں مسجدوں میں سے وہ کون سی مسجد ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی؟‘‘ تو آپ ﷺ نے ایک مٹھی کنکریاں اٹھائیں، انھیں زمین پر مارا اور پھر فرمایا: ”وہ تمھاری یہی مسجد ہے“ (یعنی مسجدِ نبوی)۔ [3] [3] صحیح مسلم: 1398۔
مسجدِ نبوی میں علم حاصل کرنے والے کا اجر، اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے مجاہد کے اجر کی طرح ہے:
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ’’جو شخص میری اس مسجد میں آئے، اور اس کا ارادہ صرف خیر (علم) سیکھنا یا سکھانا ہو، (کوئی دنیوی غرض نہ ہو) تو اس کا مقام اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے۔ اور جو شخص کسی اور مقصد کے لیے (مسجد میں) آئے، تو وہ اس آدمی کی طرح ہے جس کی نظر کسی اور کے مال پر ہو۔‘‘ [4] [4] اسے ابن ماجہ نے صحیح سند سے روایت کیا ہے‘ حدیث نمبر: 227
اس میں روضۂ شریفہ ہے:
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان کا حصہ جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہے، اور میرا منبر میرے حوض پر ہے۔“[5] [5] متفق علیہ: صحیح بخاری، حدیث نمبر: 1195 اور صحیح مسلم، حدیث نمبر: 1390۔
باب دوم : مسجدِ نبوی ﷺ کی زیارت مستحب ہے
انہی فضائل وخصائص کی بنا پر، مسجدِ نبوی کی زیارت کرنا، اس میں نماز پڑھنا اور عبادت کرنا مستحب ہے۔
- حاجی اور دیگر لوگوں کے لیے حج سے پہلے یا اس کے بعد مسجدِ نبوی کی زیارت مسنون ہے، لیکن یہ زیارت حج کی شرائط، ارکان یا واجبات میں شامل نہیں ہے اور نہ ہی اس کا حج سے کوئی تعلق ہے۔
مسجد نبوی ﷺ کی زیارت کے لیے نہ تو نمازوں کی کوئی متعین تعداد شرط ہے اور نہ ہی مدینہ منورہ میں کسی متعین مدت تک قیام کرنا ضروری ہے، بلکہ ایک نماز پڑھنے سے ہی زیارت ہو جاتی ہے، خواہ وہ فرض ہو یا نفل، البتہ جتنی زیادہ نمازیں اس میں پڑھی جائیں گی، اتنا ہی زیادہ اجر وثواب ہوگا۔
مسجدِ نبوی کی زیارت کرنے والے کے لیے یہ مستحب ہے کہ وہ تمام فرض اور نفل نمازیں اسی میں ادا کرے؛ کیونکہ -جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے- اس میں نماز پڑھنا، مسجدِ حرام کے علاوہ دیگر مساجد میں (پڑھی گئی) ایک ہزار نماز سے بہتر ہے۔
باب سوم: مسجدِ نبوی کی زیارت کے آداب
جب کوئی مسلمان مسجدِ نبوی آئے، تو اس کے لیے مستحب ہے کہ وہ ان شرعی آداب سے آراستہ ہو جو عمومی طور پر تمام مساجد سے اور خصوصی طور پر مسجدِ نبوی سے متعلق ہیں، اور وہ یہ ہیں:
مسجد میں سکون، وقار، طہارت، اچھی ہیئت اور عمدہ خوشبو کے ساتھ آئے۔ چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب نماز کے لیے اقامت کہی جائے تو نماز کے لیے دوڑتے ہوئے نہ آؤ، بلکہ سکون اور وقار کے ساتھ آؤ۔ نماز کا جو حصہ تمھیں مل جائے اسے پڑھ لو اور جو نہ ملے اسے پورا کرلو، کیونکہ تم میں سے کوئی جب نماز کا ارادہ کرتا ہے تو وہ نماز ہی کی حالت میں ہوتا ہے‘‘ [6]، اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جمعہ کے دن ہر بالغ پر غسل کرنا واجب ہے۔ نیز یہ کہ (اس دن) مسواک کرے اور اگر خوشبو میسر ہو تو لگا لے۔‘‘ [7] عورت جب مسجد آئے تو اس پر واجب ہے کہ وہ مکمل پردہ میں رہے، اس کے لیے خوشبو لگانا یا عطر کا استعمال کرنا جائز نہیں ہے، نبی ﷺ کا ارشاد ہے: ”تم میں سے کوئی عورت اگر مسجد جانا چاہتی ہو تو خوشبو نہ لگائے۔“ [8] [6] صحیح بخاری، حدیث نمبر: 636، صحیح مسلم، حدیث نمبر: 602۔ [7] متفق علیہ: صحیح بخاری، حدیث نمبر: 846 اور صحیح مسلم، حدیث نمبر: 858، محتلم سے مراد بالغ ہے۔ [8] صحیح مسلم، حدیث نمبر: 443۔
مسجدِ نبوی میں داخل ہوتے وقت دایاں پاؤں پہلے رکھنا اور مسجد میں داخل ہونے کی دعا پڑھنا۔ زائر کے لیے مستحب ہے کہ وہ دیگر مساجد کی طرح مسجدِ نبوی میں داخل ہوتے وقت بھی پہلے اپنا دایاں پاؤں رکھے اور یہ دعا پڑھے: ’’اللہ کے نام کے ساتھ اور سلام ہو اللہ کے رسول پر۔ اے اللہ! میرے گناہ بخش دے اور میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے‘‘۔ [9] نیز یہ دعا بھی پڑھے: ’’میں عظمت والے اللہ، اس کے کرم والے چہرے اور اس کی قدیم قوت وشوکت کے ذریعہ شیطان مردود سے پناہ چاہتا ہوں۔‘‘ [10]۔ [9] اسے ابن ماجہ نے صحیح سند سے روایت کیا ہے، حدیث نمبر : 771۔ [10] اسے ابو داود نے صحیح سند سے روایت کیا ہے، حدیث نمبر: 466
تحیۃ المسجد ادا کرنا: جو شخص مسجدِ نبوی میں نماز پڑھنے کے غرض سے داخل ہو تو اس کے لیے مسنون ہے کہ وہ بیٹھنے سے پہلے دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھ لے، چنانچہ ابو قتادہ حارث بن ربعی انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو دو رکعت (تحیّۃُ المسجد) ادا کیے بغیر نہ بیٹھے۔‘‘ [11] [11] متفق علیہ: صحیح بخاری، حدیث نمبر: 1171 اور صحیح مسلم، حدیث نمبر: 714۔
پہلی صفوں میں نماز پڑھنے کا اہتمام کرے؛ کیونکہ پہلی صفوں میں نماز ادا کرنے کی بڑی فضیلت آئی ہے، اور یہ فضیلت اسی وقت حاصل ہو سکتی ہے جب آدمی نماز کے لیے مسجد جلد پہنچے۔ جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اگر لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ اذان دینے اور پہلی صف میں (نماز پڑھنے) کا کتنا ثواب ہے، پھر انھیں اس کے لیے قرعہ اندازی کے سوا کوئی راستہ نہ ملے، تو وہ ضرور قرعہ اندازی کریں گے۔‘‘ [12]، نیز نبی ﷺ نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ’’آگے بڑھو اور میری اقتدا کرو۔ تمھارے بعد جو لوگ آئیں گے وہ تمھاری اقتدا کریں، کچھ لوگ برابر پیچھے ہٹتے رہتے ہیں یہاں تک کہ اللہ ان کو پیچھے ہی کر دیتا ہے۔‘‘ [13] [12] متفق علیہ: صحیح بخاری، حدیث نمبر: 615 اور صحیح مسلم، حدیث نمبر : 437۔ [13] صحیح مسلم، حدیث نمبر: 438
البتہ عورتوں کے حق میں افضل یہ ہے کہ وہ پچھلی صفوں میں نماز پڑھیں اور مردوں سے دور رہیں، جیساکہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’مردوں کی بہترین صف ان کی پہلی صف ہے اور بدترین صف ان کی آخری صف ہے۔ جب کہ خواتین کی بہترین صف ان کی آخری صف ہے اور بدترین صف ان کی پہلی صف ہے۔‘‘ [14]، اگر عورتیں الگ تنہا نماز پڑھ رہی ہوں، یا اُن کے اور مردوں کے درمیان کوئی پردہ ہو، جیسا کہ مسجد نبوی میں ہوتا ہے، تو پھر اُن کی پہلی صف ہی افضل ہوگی؛ کیونکہ اس صورت میں مردوں سے اختلاط کا اندیشہ باقی نہیں رہتا۔ [14] صحیح مسلم، حدیث نمبر: 440
امام کے پیچھے نماز پڑھیں اور اس سے آگے بڑھنے سے پرہیز کریں؛ کیونکہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔‘‘ [15] [15] صحیح بخاری، حدیث نمبر: 722، صحیح مسلم، حدیث نمبر: 417۔
نمازی کے لیے امام سے آگے بڑھنا جائز نہیں ہے، سوائے اس مجبوری میں کہ جب مسجد نمازیوں سے اس قدر بھر جائے کہ اُسے نماز ادا کرنے کے لیے امام کے آگے کے علاوہ کوئی جگہ نہ ملے۔
صفوں کے درمیان خالی جگہوں کو پُر کرنے اور صفیں سیدھی کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے، لیکن لوگوں سے مزاحمت کرنے، انھیں تنگ کرنے، ان کی گردنیں پھلانگنے اور نمازیوں کے آگے سے گزرنے سے بچنا چاہیے؛ کیوں کہ یہ عمل انسان کو گناہ میں مبتلا کر دیتا ہے۔
جسے سہولت میسر ہو، وہ ریاض الجنۃ میں نماز پڑھے؛ کیونکہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان کا حصہ جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہے، اور میرا منبر میرے حوض پر ہے۔‘‘ [16] [16] متفق علیہ: صحیح بخاری، حدیث نمبر: 1195 اور صحیح مسلم، حدیث نمبر: 1390۔
ریاض الجنۃ میں نماز پڑھنے کی کوئی خاص فضیلت وارد نہیں ہوئی ہے، البتہ یہ ثابت ہے کہ وہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔ جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی گزشتہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے- زمان ومکان کی فضیلت کی وجہ سے عبادتوں کی فضیلت بڑھ جاتی ہے۔
* زائر کو چاہیے کہ ریاض الجنۃ میں نماز پڑھنے کے لیے مناسب اوقات کا انتخاب کرے اور ایسے اوقات کی جستجو کرے جن میں بھیڑ کم ہو۔ وہاں نماز پڑھنے کی خاطر اپنے مسلمان بھائیوں کو دھکا دینا، لوگوں کی گردنیں پھلانگنا اور نمازیوں کے سامنے سے گزرنا جائز نہیں ہے۔ کیوں کہ ریاض الجنۃ میں نماز پڑھنا ایک نفل عبادت ہے، لہٰذا اس کے لیے کسی حرام کام کا ارتکاب جائز نہیں۔ اسی طرح زائر کو چاہیے کہ وہ ریاض الجنہ میں داخلے کے لیے مقررہ اصول وضوابط اور انتظامی ہدایات کی پاسداری کرے، مناسب اوقات کا انتخاب کرے اور زائرین کے داخلے کو منظم کرنے والے افراد کا بھر پور تعاون کرے۔
اوقات کو غنیمت جانتے ہوئے کثرت سے ایسے نیک اعمال کرے جو بندے کو اپنے خالق کے قریب کرتے ہیں، جیسے نماز پڑھنا، قرآنِ کریم کی تلاوت کرنا، ذکر ودعا میں مشغول رہنا، ذکر کی مجلسوں اور علمی دروس میں حاضر ہونا اور قرآن کریم کی تعلیم کے حلقوں میں شرکت کرنا وغیرہ۔
کتاب الہی کا احترام کریں اور اس کے اوراق سے چھیڑ چھاڑ کرنے، اس پر لکھنے، یا اس کے پاس جوتا رکھنے یا اسے زمین پر رکھنے اور اسی طرح کے دیگر کاموں کے ذریعے اس کی بے ادبی اور بے حرمتی کرنے سے بچیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’یہ سن لیا، اب اور سنو! اللہ کی نشانیوں کی جو عزت وحرمت کرے تو فی الحقیقت یہ دلوں کی پرہیز گاری میں سے ہے۔‘‘ [الحج : 32]۔
اللہ عز وجل کی حرام کردہ چیزوں سے نگاہیں نیچی رکھیں: مسجد نبوی کے زائر پر واجب ہے کہ وہ اپنی نگاہیں اُن چیزوں سے بچا کر رکھے جنھیں دیکھنا اس کے لیے جائز نہیں ہے، اسے یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ ان مقدس مقامات میں گناہ کا ارتکاب کس قدر سنگین ہے اور اس پر کس طرح کی سزائیں مرتب ہوتی ہیں، کیونکہ گناہوں کی سنگینی زمان ومکان کی عظمت کے لحاظ سے بڑھ جاتی ہے، اسی طرح نیکیوں کا اجر بھی بڑھ جاتا ہے۔ مسلمان عورت کو چاہیے کہ وہ شرعی حجاب کی پابندی کرے اور اپنی زینت ظاہر نہ کرے، تاکہ وہ مردوں کو فتنے میں نہ ڈالے، کیونکہ یہ بہت بڑا گناہ ہے۔
موبائل میں تصویر کشی کرنے یا تصاویر اور ویڈیوز دیکھنے میں مشغول ہونے سے بچیں، یہ معاملہ اس وقت مزید سنگین ہوجاتا ہے جب تصاویر اور ویڈیوز حرام ہوں۔
مسجدِ نبوی کو ہر اس چیز سے پاک رکھیں جو اس کے شایان شان نہیں، مثلاً آپسی جھگڑوں سے، آواز بلند کرنے سے، گمشدہ چیز کا اعلان کرنے سے، خرید وفروخت اور اس طرح کے دیگر امور سے جو نہ اس میں اور نہ ہی دیگر مساجد میں مناسب ہیں؛ کیونکہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جب تم کسی کو مسجد میں خرید وفروخت کرتے دیکھو تو کہو: اللہ تعالیٰ تمھاری تجارت میں نفع نہ دے، اور جب کسی کو مسجد میں اپنی گمشدہ چیز کا اعلان کرتے دیکھو تو کہو: اللہ وہ چیز تمھیں واپس نہ لوٹائے۔‘‘ [17] [17] اسے ترمذی: 1321 اور ابن خزیمہ: 1305 نے صحیح سند سے روایت کیا ہے۔
ذاتی صفائی ستھرائی کا خاص اہتمام کریں، اور بدبو دار چیزوں سے بچیں جیسے: لہسن، پیاز، (تمباکو یا سگریٹ کا) دھواں، پسینے کی بو اور اس طرح کی دیگر چیزیں جو نمازیوں کے لیے تکلیف اور اذیت کا باعث ہوں؛ جیسا کہ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے لہسن یا پیاز کھایا ہو، وہ ہم سے دور رہے۔ یا آپ ﷺ نے فرمایا: وہ ہماری مسجد سے دور رہے اور اپنے گھر میں بیٹھا رہے۔‘‘ [18] [18] صحیح بخاری، حدیث نمبر: 7359، صحیح مسلم، حدیث نمبر: 564۔
مسجدِ نبوی کی پاکی و صفائی کا خاص خیال رکھیں، مسجد کے اندر اور اس کے صحنوں میں کوڑا کرکٹ مثلاً بچا ہوا کھانا اور افطار کے دسترخوان؛ خاص طور پر ماہِ رمضان میں، نہ پھینکیں، اور نہ ہی گزرگاہوں اور صحنوں میں تھوکیں۔
راہداریوں، دروازوں اور بھیڑ بھاڑ والی جگہوں پر نماز پڑھنے سے گریز کریں، کیونکہ اس سے بد نظمی پیدا ہوتی، راستے بند ہوتے ہیں اور مسلمانوں کو تکلیف پہنچتی ہے۔
مرد اور خواتین مسجدِ نبوی کے اندر یا اس کے صحنوں میں اپنی اپنی مخصوص جگہوں پر نماز ادا کریں، نہ مرد عورت کے برابر میں نماز پڑھے اور نہ ہی عورت مرد کے برابر میں، اور جہاں تک ممکن ہو امام سے آگے بڑھنے سے گریز کریں۔
مسجد سے نکلتے وقت پہلے بایاں پیر آگے بڑھائیں، اور یہ دعا پڑھیں: ’’اے اللہ، میں تجھ سے تیرے فضل وکرم کا سوال کرتا ہوں۔‘‘ [19]، یا نبی ﷺ پر درود وسلام بھیجیں اور کہیں: ’’اے میرے رب! میرے گناہوں کو معاف فرما اور میرے لیے اپنے فضل کے دروازے کھول دے۔‘‘ [20] [19] صحیح مسلم، حدیث نمبر: 713۔ [20] اسے ترمذی: 314 نے صحیح سند سے روایت کیا ہے۔
باب چہارم: نبی ﷺ کی قبر اور آپ کے صاحِبین (حضرت ابو بکر وعمر رضی اللہ عنہما) کی قبروں کی زیارت کے آداب و احکام۔
* نبی ﷺ کی قبر اور آپ کے صاحبَین حضرت ابو بکر وعمر رضی اللہ عنہما کی قبروں کی زیارت کرنا اہلِ مدینہ اور باہر سے آنے والے زائرین کے لیے مستحب ہے، کیونکہ عمومی دلائل قبروں کی زیارت کے مشروع ہونے پر دلالت کرتے ہیں، جن میں سے ایک آپ ﷺ کا یہ فرمان بھی ہے: ’’میں نے تمھیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا، چنانچہ اب ان کی زیارت کیا کرو‘‘۔ [21] [21] صحیح مسلم، حدیث نمبر: 977۔
نبی ﷺ کی وفات کے بعد آپ ﷺ پر سلام بھیجنے کی فضیلت کی دلیل آپ ﷺ کا یہ فرمان ہے: ’’جب کوئی مسلمان مجھ پر سلام بھیجتا ہے، تو اللہ عز وجل میری روح مجھے لوٹا دیتا ہے، تاکہ میں اس کے سلام کا جواب دے دوں‘‘۔ [22] [22] مسند احمد، حدیث نمبر: 10815، اس کی سند حسن ہے۔
* عورتوں کے لیے نہ تو رسول اللہ ﷺ کی قبر کی زیارت مشروع ہے اور نہ ہی کسی دوسرے مسلمان کی قبر کی، کیونکہ قبروں کی زیارت صرف مردوں کے لیے مشروع ہے۔ جبکہ عورتوں کو قبروں کی زیارت سے منع کیا گیا ہے، چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا: ’’رسول اللہ ﷺ نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں اور قبروں پر مساجد بنانے والے اور چراغ جلانے والے لوگوں پر لعنت فرمائی ہے۔‘‘ [23]۔ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ”رسول اللہ ﷺ نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔“ [24] [23] سنن ابو داود، حدیث نمبر: 3236، سنن ترمذی، حدیث نمبر: 320، سنن نسائی، حدیث نمبر: 2043۔ [24] سنن ترمذی، حدیث نمبر: 1056، سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر: 1576، اس کی سند حسن ہے۔
* صرف نبی ﷺ کی قبر کی زیارت کی نیت سے سفر کرنا جائز نہیں، بلکہ سفر کی نیت مسجد نبوی کی زیارت اور اس میں نماز پڑھنے کی ہو۔ البتہ جب وہ مدینہ میں قیام پزیر ہو جائے تو اس کے لیے قبر کی زیارت مشروع ہوگی، جیسا کہ مدینہ کے باشندوں کے لیے مشروع ہے؛ کیونکہ نبی ﷺ کا فرمان ہے: ”تین مساجد کے علاوہ کسی اور جگہ کا رخت سفر نہ باندھا جائے: میری یہ مسجد (مسجدِ نبوی)، مسجد حرام اور مسجد اقصی۔“ [25] [25] صحیح بخاری، حدیث نمبر: 1189، صحیح مسلم، حدیث نمبر: 1397، مذکورہ الفاظ صحیح مسلم کے ہیں۔
نبی ﷺ کی قبر اور آپ کے صاحبَین رضی اللہ عنہما کی قبروں کی زیارت کے مشروع آداب۔
زائر نبی کریم ﷺ کی قبر کے سامنے، قبر کی طرف منہ کر کے کھڑا ہو جائے، پھر ادب کے ساتھ پست آواز میں اس طرح سلام کرے: ’’اے اللہ کے رسول! آپ پر سلامتی اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔‘‘ اگر سلام کرنے والا اس پر اضافہ کرتے ہوئے یوں کہے: ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے پیغامِ رسالت پہنچا دیا، امانت ادا کردی، امت کی بھر پور خیر خواہی فرمائی اور راہِ الہی میں کما حقہ مجاہدہ کیا۔‘‘ تو اس میں کوئی حرج نہیں؛ کیونکہ یہ سب حق ہے۔
پھر اپنے دائیں جانب ایک قدم بڑھائے تاکہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی قبر کے روبرو ہو جائے، اور یوں کہے : ’’اے ابو بکر صدیق! آپ پر سلامتی ہو، اے رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ! آپ پر سلامتی ہو، اللہ آپ سے راضی ہو اور آپ کو بھی راضی کرے اور اُمتِ محمد ﷺ کی طرف سے آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے۔‘‘
پھر اپنے دائیں جانب ایک قدم اور بڑھائے تاکہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی قبر کے سامنے ہوسکے اور یوں کہے: ’’اے عمر فاروق! آپ پر سلامتی ہو، اللہ آپ سے راضی ہو اور آپ کو بھی راضی کرے اور اُمتِ محمد ﷺ کی طرف سے آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے‘‘۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب سفر سے واپس آتے تو نبی ﷺ کی قبر پر حاضر ہوتے اور کہتے: ”آپ پر سلامتی ہو اے اللہ کے رسول، آپ پر سلامتی ہو اے ابو بکر، اور اے میرے ابا آپ پر سلامتی ہو۔پھر وہاں سے واپس لوٹ جاتے۔‘‘ [26] [26] سنن کبرى للبیہقی، حدیث نمبر: 10271، اس کی سند صحیح ہے۔
قبر کی دیواروں اور جالیوں کو نہ چھوئے اور نہ ہی انھیں بوسہ دے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب کوئی نبی ﷺ پر سلام پیش کرے تو اپنا رخ قبر کی طرف کر کے کھڑا ہو، قبلہ کی طرف نہیں؛ اور قریب ہو کر سلام عرض کرے اور اپنے ہاتھ سے قبر کو نہ چھوئے۔“ [27] [27] الشفا للقاضي عياض: 2/ 199۔
تمام ائمہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ نبی ﷺ کی قبر کو ہاتھ سے نہ چھوا جائے اور نہ ہی اسے بوسہ دیا جائے۔
قبر پر زیادہ دیر نہ ٹھہرے، بلکہ سلام کہہ کر لوٹ جائے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ”میں یہ درست نہیں سمجھتا کہ کوئی نبی ﷺ کی قبر پر کھڑے ہو کر دعا کرے، بلکہ سلام عرض کرے اور آگے بڑھ جائے۔‘‘ [28] [28] الشفا للقاضي عياض: 2/ 199۔
حضرت نافع رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما قبر پر سلام بھیجا کرتے تھے۔ میں نے انھیں سو سے بھی زیادہ مرتبہ قبر پر آکر یہ کہتے ہوئے دیکھا: نبی ﷺ پر سلام ہو، ابو بکر رضی اللہ عنہ پر سلام ہو، میرے والد پر سلام ہو، پھر وہ وہاں سے واپس لوٹ جاتے۔‘‘ [29]۔ [29] کتاب الشريعة للآجری: 5/2374، نمبر: 1853۔
بعض زائرین نبی کریم ﷺ کی قبرِ مبارک کے پاس آواز بلند کرتے ہیں اور دیر تک کھڑے رہتے ہیں، یہ بھی خلافِ شرع ہے۔
رسول اللہ ﷺ یا کسی بھی مخلوق سے کوئی منفعت حاصل کرنے یا کوئی نقصان دور کرنے، یا کوئی حاجت پوری کرنے، یا کوئی مصیبت دور کرنے، یا مریض کو شفا دینے، یا شفاعت طلب کرنے، یا عذاب سے نجات پانے، یا اس جیسی دیگر دعائیں کرنا جائز نہیں ہے۔ کیوں کہ غیر اللہ سے ان معاملات میں دعا کرنا جن پر اللہ کے سوا کوئی قادر نہیں، حرام اور شرکِ اکبر ہے، اللہ تعالی نے فرمایا: ’’اور تمھارے رب کا فرمان ہے کہ مجھ سے دعا کرو میں تمھاری دعاؤں کو قبول کروں گا۔ یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خودسری کرتے ہیں وه ابھی ابھی ذلیل ہوکر جہنم میں پہنچ جائیں گے۔‘‘ [غافر: 60] نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’واقعی تم اللہ کو چھوڑ کر جن کی عبادت کرتے ہو‘ وہ بھی تم ہی جیسے بندے ہیں‘ سو تم ان کو پکارو‘ پھر ان کو چاہیے کہ تمہارا کہنا کردیں اگر تم سچے ہو‘‘ [الأعراف: 194] نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اور یہ کہ مسجدیں صرف اللہ ہی کے لیے خاص ہیں، پس اللہ تعالى کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔‘‘ [الجن: 18]۔
قبر کے پاس اللہ سے دعا نہ کرے۔ البتہ اگر دعا کرنا چاہے تو قبر سے آگے بڑھ جائے، قبلہ رخ ہو اور دعا کرے، اور دعا کرتے وقت قبر کی طرف رخ نہ کرے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’میں نبی ﷺ کی قبر کے پاس کھڑے ہو کر دعا کرنے کو درست نہیں سمجھتا۔‘‘
مسجد میں داخل ہوتے یا نکلتے وقت قبر پر بار بار حاضری دینا مشروع نہیں ہے، نہ اہلِ مدینہ کے لیے اور نہ ہی باہر سے آنے والے زائرین کے لیے، کیونکہ اس بات کا اندیشہ ہے کہ یہ طرزِ عمل قبر کو عید گاہ بنانے کے مترادف ہو جائے۔
جبکہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع کرتے ہوئے فرمایا: ’’میری قبر کو عید گاہ مت بناؤ اور نہ اپنے گھروں کو قبرستان، تم جہاں کہیں بھی ہو، مجھ پر درود بھیجا کرو، کیونکہ تمھارا درود مجھ تک پہنچتا ہے۔‘‘ [30] [30] مسند احمد، حدیث نمبر: 8804، اس کی سند حسن ہے۔
”میری قبر کو عید گاہ مت بناؤ“ اس کا مطلب ہے: کسی خاص وقت یا خاص حالت میں بار بار وہاں جانے کو لازم نہ کرلو، جیسے ہر دن، ہر ہفتے یا ہر مہینے اس کی زیارت کو خاص کر لینا، یا کسی مخصوص موقع یا حالت کے پیشِ نظر اس کی زیارت کرنا۔ اس کا ایک معنی یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسے ایسا میلہ مت بناؤ جہاں تم جمع ہوا کرو۔ [31] [31] دیکھیے: المفردات از راغب اصفہانی، ص: 594، شرح الصدور بتحريم رفع القبور از شوکانی، ص: 16۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’اہلِ مدینہ میں سے جو شخص مسجد میں داخل ہو یا وہاں سے نکلے، اس پر قبر کے پاس کھڑا ہونا لازم نہیں، یہ تو صرف (باہر سے آنے والے) کے لیے ہے۔‘‘ [32]۔ [32] الشفا للقاضي عياض:2/204، المدخل لابن الحاج: 2/262۔
امام مالک رحمہ اللہ کا قول : ”یہ تو صرف (باہر سے آنے والے) زائرین کے لیے ہے“، اس سے مراد مطلق زیارت ہے، نہ کہ داخل ہوتے اور نکلتے وقت بار بار زیارت کرنا۔
قبر کے سامنے نمازی کی طرح ہیئت بناکر ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر سینے پر یا سینے کے نیچے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہونا جائز نہیں؛ کیونکہ یہ ہیئت نماز کے ساتھ خاص ہے، یہ عاجزی وانکساری کی ہیئت ہے جو اللہ سبحانہ و تعالی کے سوا کسی کے لیے جائز نہیں۔
دور سے قبرِ مبارک کی طرف رُخ کر کے نبی کریم ﷺ کو سلام پیش کرنا درست نہیں، جیسا کہ بعض لوگ کرتے ہیں؛ کیونکہ یہ طریقہ نہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا تھا، نہ سلف صالحین کا اور نہ ہی ائمہ اربعہ وغیرہم کا۔
قبرِ شریف کی طرف رُخ کر کے دعا کرنا، قرآن پڑھنا یا اس قسم کے دیگر اعمال بجا لانا خواہ کسی بھی سمت سے ہو، درست نہیں ہے، کیوںکہ یہ بھی سابقہ امور ہی کی طرح بدعات میں سے ہے۔ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ دین میں ایسی باتیں ایجاد کرے جن کی اللہ نے اجازت نہ دی ہو۔ امام مالک رحمہ اللہ نے اس طرح کے کاموں کی سخت نکیر کی اور فرمایا: ’’اس امت کے بعد کے لوگوں کی اصلاح بھی انہی چیزوں سے ہوگی، جن سے پہلے لوگوں کی اصلاح ہوئی تھی۔‘‘ [33] [33] مجموع فتاوى ابن باز: (16/ 110)۔
نبی ﷺ پر سلام پیش کرتے وقت فوٹوگرافی اور لائیو اسٹریمنگ میں مشغول رہنا درست نہیں۔
درود وسلام ہو ہمارے نبی محمد ﷺ پر، آپ کی آل اور تمام صحابہ کرام پر۔